ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨
فہرست
1کھلی تنبیہ
2کملا کہیں کا
3جنگ
4بیوہ طوائف
5آنچل جلتا رہے گا
6من کا بوجھ
7بڑا آدمی
8حلالہ
9مائی جنتے زندہ باد
10ممتا عشق کی صلیب پر
11زینہ
12شیدا حرام دا
13آوارہ الفاظ
14دو دھاری تلوار
15چوتھی مرغی انگریزی فیل
16انا کی تسکین
17دو لقمے
18بازگشت
19تنازعہ کے دروازے پر
20ابا جی کا ہم زاد
21کامنا
22ماسٹر جی
23گناہ گار
14دائیں ہاتھ کا کھیل
25بڑے ابا
26جواب کا سکتہ
27الله جانے
28پاخانہ خور مخلوق
29پٹھی بابا
30ان پڑھ
31بڑا آدمی
32لاروا اور انڈے بچے
33سچائی کی زمین
34ابھی وہ زندہ تھا
35کریمو دو نمبری
36میں ابھی اسلم ہی تھا
37معالجہ
38سچائی کی زمین
39انگریزی فیل
40دوسری بار
41اسلام اگلی نشت پر
42پنگا
43وہ کون تھے
44دروازے سے دروازے تک
45یہ کوئی نئی بات نہ تھی
46اسے پیاسا ہی رہنا ہے
47پہلا قدم
48موازنہ
49سرگوشی
50ادریس شرلی
51علالتی استعارے
52قصہ ایک قلمی بیاض کی خریداری کا
53اپنے اکرام صاحب ڈاکٹر مس کال کی گرہ میں
54کردہ ناکردہ
55آگ کی بھٹی
56سچی کہوں گا
57لاٹری
58بابا جی شکرالله
59تاریخ کے سینے پر
60استحقاقی کٹوتی
61صبح کا بھولا
62سوچ کے دائرے
63کچھ بعید نہیں
64وہ اندھی تھی
65ببلو ماں
66شکوک کی گرفت
67برائی کا لاروا
68چوتھے کی چوتھی
69اہتمام
70اور تو اور
71حضرت بیوہ شریف
72میں ہی قاتل ہوں
73سراپے کی دنیا
74میں کریک ہوں
75ان ہونی‘ ان ہونی نہیں ہوتی
76دیکھتے جاؤ‘ سوچتے جاؤ
77لاحول ولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
78حقیقت پس پردہ تھی
79یقین مانیے
80اس سے بڑھ کر
81یہ ہی ٹھیک رہے گا
82پرایا دھن
83ڈی سی سر مائیکل جان
84آنٹی ثمرین
85میں مولوی بنوں گا
86چپ کا معاہدہ
87کرنسی ثبوت
88بڑوں کا ظرف بڑا
89اب صرف
90ہاں البتہ
91ضروری نہیں
92الله معاف کرے
93چالیس برس ہونے
94بات تو کوئی بڑی نہ تھی
95آسودہ وہ ہی ہیں
96وہ بھی سچے ہیں
97اگلی واردات
98ذات کا خول
99کیا تمہیں معلوم نہیں
100میری ناچیز بدعا
101کرنسی ثبوت
102شاہی ہاتھی
103حوصلہ
104چوگے کی چنتا
105دو منافق
106آخری کوشش
107اسے معلوم نہ تھا
108کردہ کا انتقام
109ہائے میں مر جاں
110نفاذ سلام
111ایسے لوگ کہاں ہیں
112عبرت کا نشان
113یک مشت
114کوئی بتائے کیا کروں
115دیکھتے جاؤ‘ سوچتے جاؤ
116ہے نہ کی قیامت
117کتا اس لیے بھونکا
118حفاظتی تدبیر
119لمحوں کا خواب
120انصاف کا قتل
121خیالی پلاؤ
کھ ی تنبیہ
» بروز :فروری ,2017 ,13صبح «
بیٹی مہر افروز ک خوا
اہل دنی ک لی
ایک کھ ی تنبیہ
مقصود حسنی
کچھ دن ہوئ مجھ ایک خوا آی اور میں ن کوئی غور نہ کی کہ
میں کون س کوئی درویش ی صوفی ہوں۔ ایک ع س آدمی ہوں۔ ہ ں
درویشوں صوفیوں اور اہل فقر ک لی دل میں عزت احترا اور محبت
ضرور رکھت ہوں۔ یہ خوا سحری قری ک تھ ۔
میں ن خوا میں دیکھ کہ ان ہی بوسیدہ اور تقریب پھٹ پران
س کپڑوں میں م بوس ہوں اور ایک ت حد نظر میدان میں اکیلا کھڑا
:ہوں۔ میں ن ب ند آواز میں کہ
لوگو! سنو سنو
کچھ لوگ جمع ہو گئ ۔
میں ن کہ :دیکھو اپن اللہ کی طرف پھر ج ؤ اسی میں تمہ ری
بھلائی ہ ۔
میری آواز ازخود ب ند ہو گئی اور چ روں طرف گونجن لگی۔ پہ چند
پھر اس ک ب د ت حد نظر لوگ جمع ہو گی ۔
میں میدان میں ہی کھڑا ہوں اور میری آواز س تک پہنچ رہی ہ ۔
آواز اتنی ب ند اور گرج دار کیس ہو گئی۔ حیرت کی ب ت تھی۔ میں ن
لوگوں کو خبردار کی کہ برا وقت آن کو ہ ۔ اس س پہ کہ برا
وقت آئ ج د اور کسی توقف اور تس ہل ک بغیر توبہ کرک اپن اللہ
کی طرف پھر ج ؤ ورنہ اچھ نہیں ہو گ ۔
میں ن خوا کو نظرانداز کر دی کہ بس یہ میرا ایک محض واہمہ تھ ۔
سمجھ ن ی کسی قس کی تنبیہ کرن تو بڑے لوگوں ک ک ہ ج کہ
میں سرے س کچھ بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔
مجھ تو خود ہدایت اور راستی پر چ ن کی ضرورت ہ ۔ میں کون
ہوت ہوں کسی کو تنبیہ کرن والا۔ میری اوق ت اور بس ت ہی کی ہ
اور یہ بھی کہ میں بھلا کسی کو کی ہدایت اور وارننگ دے سکت ہوں۔
دو روز ہوئ میری پی ری بیٹی مہر افروز ن اپن خوا سن ی جس کی
کڑی ں میرے خوا س م تی ہیں۔ بیٹی مہر افروز حضرت ب ب جی قب ہ
سید م ین الدین چشتی رح ک گھران س روح نی انسلاک رکھتی
ہ ۔ وہ ہ بھی درویش اور فقیر طبع۔
اس ن خوا میں دیکھ
وہ پہ ڑ ی چٹ ن کی چوٹی پر اکی ی کھڑی ہ نیچ ایک دنی آب د ہ ۔
آسم ن پر سی ہ ب دل امڈے چ آت ہیں۔ نیچ چ ت پھرت لوگ
خرابی ک شک ر ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر لوگوں کو خرابی س ب ز آ ج ن
کو کہہ رہی ہ ۔ لوگ اسکی آواز پر ک ن دھرن کی بج ئ اس ک مذا
اڑا رہ ہیں۔ وہ مذا برداشت کرک لوگوں کو راستی کی طرف پ ٹن
کو کہ ج رہی ہ لیکن لوگ خرابی س رک نہیں رہ ۔ پھر آن
واحد میں ب رش کی بج ئ آسم ن س برف کی س یں گرن شروع ہو
ج تی ہیں۔ دیکھت ہی دیکھت نیچ سوائ ویران ک کچھ ب قی
نہیں بچت اور آسم ن پھر س ص ف اور ش ف ہو ج ت ہ ۔
میں بیٹی مہر افروز ک خوا کو لای نی اور ب م نی نہیں سمجھت اور
اس ک اس خوا کو دنی ک س من لان کی جس رت کر رہ ہوں۔
مجھ س جتن ج دی ہو سک اس ک خوا لوگوں ک س من پیش کر
دی ہ کہ کہیں میری کوت ہی اور تس ہل ک سب دیر نہ ہو ج ئ ۔
لوگو! ج ن رکھو موت برح ہ ہر کسی کو حقیقی م لک ک پ س ج ن
ہ یہ ں ک یہ ں ہی رہ ج ئ گ ۔ یہ ں ک کچھ س تھ نہ ج سک گ ۔ جتن
ج د ہو سک توبہ کی ج ن پھرو۔
اللہ س زی دہ کوئی اور مہرب ن نہیں۔ وہ سچی توبہ ضرور قبول
فرم ئ گ ۔
اچھ ئی اور نیکی ک رستہ اختی ر کرو۔ انس ن ک ئت ت ک لی ہ ۔ اس
خلافت ارضی م ی ہ ۔ اپنی اخری ط قت تک ک ئن ت کی جم ہ مخ و ک
بلات ری وامتی ز بھلا کرو۔
س ک خی ل رکھو
ج ن رکھو تمہ را خی ل رکھن ک لی اللہ ہی ک فی ہ ۔
خدا ک لی اپن اللہ کی طرف پھرو ورنہ ج ن رکھو آخر کو خس رہ
اور پچھت وا ہی ہ تھ لگ گ ۔ اگر وقت گزر گی تو واپسی نہ ہو سک
گی۔
اے اللہ! گواہ رہن کہ میں ن لوگوں تک مہر بیٹی ک خوا پہنچ دی
ہ ۔ توبہ کی استدع کر دی ہ ۔ بدی س ب ز آن کو کہہ دی ہ ۔ بھلا
کرن اور راستی ک رستہ اپن ن ک لی بھی گزارش کر دی ہ ۔
اے اللہ! اپن اس حقیر اور ن چیز بندے کی توبہ قبول فرم بھلا کرن
اور راہ راست پر چ ن کی توفی عط فرم ۔
اے اللہ! میری بیٹی مہر افروز ک دانستہ اور ن دانستہ گن ہوں اور ہر
قس کی کمی کوت ہی کو م ف فرم دے۔
اس ک اچھ کرن کی شکتی میں اض فہ فرم ۔ ب شک تجھ س زی دہ
قری کوئی نہیں اور تجھ س بڑھ کر مدد کرن اور توفی عط کرن
والا کوئی نہیں۔
کملا کہیں ک
نمرود کو‘ اپنی ج ہ وحشمت پر ن ز تھ ۔ وہ سمجھت تھ ‘ کہ زندگی اسی
ک د قد س ‘ رواں دواں ہ ۔ اگر وہ نہ رہ ‘ تو چ ر سو برب دی
پھیل ج ئ گی۔ اس یہ بھی گم ن تھ ‘ کہ وہ ہر اونچ نیچ پر ق در ہ ۔
وہ کچھ بھی‘ کر سکت ہ ۔ اس ک رست میں آن والا‘ ذلت ن کی
س دوچ ر ہو گ ۔ وہ بلاشبہ‘ شیط ن کی بدترین ل نت تھ ۔ میری تخ ی ‘
اس س پہ وقوع میں آچکی تھی‘ لیکن میرا ظہور‘ نمرود کی
سرکشی ک موقع پر ہوا۔ بڑا بنت پھرت تھ پھن خ ں۔ ج مجھ س
پنجہ آزم ہوا‘ تو کئی سو س ل‘ چھتر کھ ت رہ اور آخر‘ م ک جہن کی
راہ لی۔ اس ک م ل و من ل‘ اس چھتروں س نہ بچ سک ۔
سکندر اعظ ‘ دنی فتح کرن چلا تھ ۔ ج میری زد میں آی ‘ پ نی م نگن
بھی نصی میں نہ رہ ۔ اس ن علاق ک علاق م ی میٹ کر دی ‘
لیکن مجھ فتح نہ کر سک ۔ ا غیرج ن دار تجزیہ نگ ر ملاحظہ کر
لیں‘ حقیر میں ہوں ی مجھ کہن ی سمجھن وال ‘ حقیر ہیں۔
زب نی کلامی اور عمل کی زندگی میں‘ زمین آسم ن ک فر ہ ۔
آج میرے خلاف ج س ہو رہ ہیں‘ ج وس نک ل ج رہ ہیں۔
سرع ‘ مجھ برا بھلا کہ ج ت ہ ۔ عج اندھیر ہ ‘ مجھ برا کہ
ج رہ ۔
۔۔۔۔۔ مجھ ؟!۔۔۔۔۔۔۔۔ میں انس نیت ک محسن ہوں۔
انس ن ن شکرا رہ ہ ۔ جو احس ن کرت ‘ اسی ک گلا ک ٹت ہ ۔ میں ن ‘
انس ن کو‘ ن صرف نمرود اور سکندر س نج ت دلائی‘ ب کہ خواتین کی
ب لب سی کو‘ خت کرن ک فریضہ بھی انج دی ہ ۔ یہ تو اللہ ک
خصوصی ان اور احس ن ہ ‘ جو میرے خلاف‘ س کہن سنن تک
ہی محدود ہ ۔ عم ی صورت کی کوئی مث ل دیکھ ئی ‘م ن ج ؤں گ ۔
رولا ڈالن کی‘ اچھکل میں ن ہی دی ہ ۔ میں ن ‘ اس ذیل میں‘
کسی کو بھول میں نہیں رہن چ ہی ۔ اگر خود س ختہ ی درامدہ‘ سپرے
چھٹرک ج ت ‘ تو بھی‘ مجھ کچھ نہ ہوت ۔ اگرچہ میں حقیر کیڑا ہوں‘
لیکن ا میری تجسی ‘ حقیر کیڑے کی نہیں رہی۔
حضرت انس ن کی‘ ع دت رہی ہ ‘ کہ کسی دوسرے نظری ی مذہ
وال کو قبول نہیں کرت ۔ آواگون کو‘ صرف ہندو میتھ سمجھ ج ت ہ ‘
ح لاں کہ یہ ان ک ہ ں‘ میتھ نہیں‘ عقیدہ ہ ۔ آج میں نئ پران ک
س تھ‘ زندہ ہوں اور آت وقتوں میں بھی‘ اپنی نئی تجسی ک س تھ‘
زندہ رہوں گ ۔۔ دنی ک احتج ج‘ میرا کچھ بھی نہ بگ ڑ سک گ ۔ وہ
میرے نئ جن ک ‘ نئ رنگ روپ س ‘ آگ ہ نہیں ہ ۔ میں اپن
خلاف‘ انس نی ن رت ک انتق ہوں۔
آج‘ دنی ک ش ید ہی‘ کوئی ادارہ ہو گ ‘ جہ ں میرے‘ ہ ں میرے ہون
کو‘ سوالیہ بن ی ج سکت ہ ۔ وائٹ گ ہ ہو‘ ی ائی ای ایف کدہ‘ میرے
ہون س محرو نہیں ہیں۔ یہ چھوٹ موٹ ادارے‘ کس پ نی میں ہیں‘
یہ تو میرے جی حضوری ہیں۔ یہ س میری ایک چھینک پر۔۔۔۔۔۔
واہ۔۔۔۔۔۔ واہ‘ سبح ن اللہ‘ کہت ہیں۔ جس ن بھی سر کشی کی‘ جوتوں
کی ایڑ میں آ گی ۔ آج انس ن اپن کی بھگت رہ ۔ احس ن فروشی کی سزا‘
م ن فطری ض بطہ ہ ۔ انتق لین ‘ میرا اصولی ح ہ ۔
آخر برداشت کی بھی‘ کوئی حد ہوتی ہ ۔ انس ن ن ‘ چ در س ب ہر
پ ؤں نک لا ہ ‘ اپن کی کی بھگت بھی۔۔۔۔۔ چ در س نک ن وال
پ ؤں‘ نمرود ک پ ؤں پر ہوت ہیں۔ ان س ‘ جو بھی ہوت ہ ‘ غ ط ہی
ہوت ہ ۔ میں ہر غ ط ہون پر‘ انگ ی رکھت آی ہوں‘ رکھت رہوں گ ۔
ہ ں البتہ‘ میں زی دہ تر‘ س نس کی ن لی پر انگ ی رکھت ہوں۔ میں ن
س ڑھ چ ر ہزار س ل‘ انس ن س ت ون کی ہ ۔ انس ن ن میری قدر
نہیں پہچ نی‘ ا ہر گی سوکھ کو‘ میرا انتق میہ ادا کرن ہی پڑے۔
مس وات ک اصول تحت‘ میں رو رع یت س ک نہیں ل سکت ۔ کل
کی‘ میرے خلاف واک میں‘ ک زور اور ہر ایرا غیرا ش مل تھ ۔ ا اگر
کوئی خیر کی آش رکھت ہ ‘ تو اس س بڑھ کر‘ حم قت اور کی ہو
گی۔
مجھ پ کست ن ک ‘ شہر قصور میں بیٹھ ب ب ب ئی‘ بیم ر‘ ک زور
اور ڈھیٹ بڈھ ‘ مقصود حسنی پر بڑا ت ؤ آت ہ ۔ میرے س تھ‘ اڑی
لگ ئ بیٹھ ہ ۔ گرہ میں دا نہیں‘ ک ل کیڈر والا تھ ۔ اپن ای فل
الاؤنس ک لی ‘ برابر انیس سو ست نوے س ‘ درخواستیں گزار گزار
کر‘ میرا دم خرا کر رہ ہ ۔ پنج سرونٹس ہ ؤسنگ ف نڈیشن کی
!میرا اٹوٹ انگ نہیں؟
کی میرا انتق میہ دی بغیر کچھ ح حل کر ل گ ۔۔۔۔۔ نہیں کبھی نہیں۔
کہت ہ ‘ گرہ میں دا نہیں۔ فوٹو ک پیوں اور رجسٹرڈ ڈاک ک لی ‘
کہ ں س پیس آ ج ت ہیں۔ جتن اس لای نی ک پر خرچ کر چک ہ ‘
میرا انتق میہ‘ اس س کہیں ک بنت تھ ۔ احم ہ سسرا۔۔۔۔احم ۔
کل میرے خلاف‘ واک ک لی ‘ لوگوں کو اکس رہ تھ ۔ خیر یہ تو اتن
بڑا جر نہیں۔ وہ بکواسی اور پرے درج ک ی ووہ گو ہ ۔۔۔۔۔۔ پت ہ
کی کہہ تھ ۔۔۔۔۔ کہت تھ ‘ لوگو عم ی اقدا ک مط لبہ کرو۔ شر نہیں آتی
اس بڈھ کو۔ پ ؤں قبر میں لٹک ئ بیٹھ ہ ‘ لیکن شرارت اور
س زش کو ش ر رکھت ہ ۔
اس ک کہن س ‘ کی ہوت ہ ‘ لوگ تو زبردستی لائ گی تھ ۔
اگر ب ت مرضی پر رہتی‘ تو سڑک اور پنڈال‘ ویران ک نقشہ پیش
کرت ۔ میں نہیں چ ہت ‘ کہ اس چند روزہ مہم ن ک خون‘ اپن سر لوں۔
جو بھی سہی‘ انتق میہ وصول کی بغیر‘ میں ایک کوڑی بھی نہیں دوں
گ ۔ کسی کو اگر اس پر ترس آت ‘ اس کی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔ا تک میرا انتق میہ‘
میری گرہ میں‘ چپ چ پ رکھ دیت ۔ ب ب ب ئی ہو کر‘ ح ط کرت ہ
کملا کہیں ک ۔
11-4-2014
مکر بندہ جن حسنی س ح :سلا مسنون
آپ کی تحریر کی ان رادیت س کس ک فر کو انک ر ہ ! اس مرتبہ بھی
یہ انش ئیہ دلچسپی س پڑھ لیکن :کملا :ن پوری طرح لطف اندوز
ہون س روک دی ۔ کی یہ پنج بی زب ن ک کوئی مخصوص ل ظ ہ ؟
اردو میں ک س ک میں اس س ن ب د ہوں۔ رہنم ئی کی گزارش ہ ۔
سرور ع ل راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8780.0
جنگ
دور جدید ک م کرین ک موقف ہ کہ جنگ امن ک لی ن گزیر ہ ۔
جنگ کی ہولن کی ک اندازہ وہی کر سکت ہ جو جنگ ک سرخ ش وں
میں رہ چک ہو ی ان میں زندگی کر رہ ہو۔ تجربہ گ ہ میں ی کسی بند
کمرے میں بیٹھ کر بی ن داغن زی دہ مشکل نہیں ہوت ۔ اس ک تجربہ اور
تجزیہ کہیں بھی نک اور دشوار گزار ہوت ہ ۔ میں ارب فکرونظر کی
اس سوچ پر انگشت بدنداں ہوں کہ آخر وہ تصویر ک شر ن ک رخ
کیوں نہیں دیکھت ی سسکی ں آہیں کراہیں انہیں سن ئ نہیں دیتں۔ چش
زم نہ جنگ کی ہولن کی ں مت دد ب ر دیکھ چکی ہ ۔ مورخ ک حرف
تران سن ت ہیں۔ ف تح ک ک رن موں ک گن گ ت ہیں۔ سرخ لہو کی
ب حرمتی ب م نی‘ سنگدلی اور ہولن کی ث نوی سی چیز ہو کر رہ ج تی
ہ ۔ گوی وہ س ایک لای نی س کھیل رہ ہو۔ س کچھ دیکھ کر بھی
امن ک لی جنگ کو ن گزیر قرار دے دین بذات خود ظ اور زی دتی
ک مترادف ہ ۔
ہیروشیم ک ب گن ہ انس نوں کی سسکی ی اور کراہیں آج بھی انس نیت
ک منہ پر طم چ ک درجہ رکھتی ہیں۔ مخ و ف کی کی آنکھیں آج
بھی پرن ہوں گی۔ اس ک برعکس امن ک ح می امن ک لی جنگ
کو ن گزیر قرار دیت ہیں۔ یہ اندھیر نہیں تو اور کی ہ ۔ جنگ میں ف تح
ہو ی م توح‘ دونوں کی کمر ٹوٹ ج تی ہ ۔ فتح ک نشہ وقتی ہوت ہ ۔
برط نیہ ف تح جنگ عظی دو کی ع مداری ک دنی میں سورج غرو
نہیں ہوت تھ ۔ آج وہ ں سورج بمشکل ط وع ہوت ہ ۔ جنگ میں زندگی
ک ہر ش بہ مت ثر ہوت ہ ۔ خصوص م شی ڈھ نچہ تو م وج ہو کر رہ
ج ت ہ ۔ب گ ری وب روزگ ری زندگی کی رگوں میں اتر ج تی ہ ۔
خوش ب شی اور خوش مزاجی ن کو بھی ب قی نہیں رہتی۔ ذہن ج مد اور
روح مردہ ہو ج تی ہ ۔ جستجو اور کچھ کر لین کی آرزو پستیوں میں
د کر رہ ج تی ہ ۔
آپ حیران ہوں گ کہ میں یہ س کچھ کیس ج نت ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تو جن
میں جنگ ک سرخ ش وں میں رہ چک ہوں۔ مجھ اپنی روح کی آہیں
اور سسکی ں سون نہیں دیتیں۔ میرا چہرا اور رنگ و روپ ہمیشہ
س ایس نہیں۔ ک فی پرانی ب ت ہ اس وقت میری رگوں میں جوان اور
گر خون گردش کرت تھ ۔ زیست کی راہداری میں امنگوں ک خوش
رنگ پھول مجھ خوش آمدید کہ کرت تھ ۔ ش ور جوان تھ ۔ دل کی
دھڑکنیں پر شب تھیں۔ میرے گردوپیش امیدوں ک اک ہجو تھ ۔ تھکن
اور ب زاری ک دور تک ن ونش ن بھی نہ تھ ۔میرے ق میں ط قت
تھی۔ دوسرا مجھ چھپن چھپ ن ک جنون کی حد تک شو تھ ۔
رس ئل میں میرے افس ن اور مض مین بڑے اہتم س ش ءع ہوا
کرت تھ ۔ ق رئین میری بھرپور حوص ہ افزائ کی کرت تھ ۔ ڈاک
میں سیکڑوں خطوط موصول ہوت ۔ میرے فن کی ت ریف ہوتی۔ مجھ
خودست ئی مطو نہیں۔ میں ت ریف و تحسین کی ابجد س خو خو
آگ ہ ہوں۔ ت ریف سنن وال ک ن اور تحسین ک جم پڑھن والی
آنکھیں خودفریبی ک زنداں میں مقید ہوتی ہیں۔ ج سرا کھ ت ہ
س کچھ راکھ ہوچک ہوت ہ ۔
ا کوئ ت ریف ی تنقید میرے حواس پر اثر نہیں چھوڑتی۔ ب حس س
ہو گی ہوں۔ س کچھ جنگ ک ش وں کی نذر ہو چک ہ ۔ ا تو راکھ
بھی ب قی نہیں رہی۔ ب دی النظر میں میں خوش مزاج ہوں لیکن یہ س
بن وٹ س زی دہ نہیں۔ میرے پ س ب لطف اور پھیکی مسکرہٹ بھی
ب قی نہیں رہی۔ یہ مشینی دور ہ اور میں اس دور ک ب سی بھی نہیں۔
میرا اس دور س رشتہ ہی کی ہ
ہ ں تو عرض کر رہ تھ میرے ق ک سکہ ج چک تھ ۔ مجھ س
خطوط لکھواءے ج ت ۔ تقریبوں ک لی تق ریرکی فرم ءش کی ج تی
تھی۔ میں ن کبھی کسی کو نراش نہ کی ۔ اس عہد میں اپن اص ی ن
س لکھ کرت تھ ۔ ا س کچھ نق ی ہو گی ہ ‘ اس لی نق ی ن س
لکھت ہوں۔ س کچھ جنگ ک ش وں کی نذر ہو چک ہ ۔ ن بدلن
س درد میں کمی واقع نہیں ہوئ۔ ج ن بدستور ب قی ہ ۔۔۔۔۔ ی دیں ج
بھی سر اٹھ تی ہیں سسک ب ک ج ت ہوں۔ دیر تک آنکھیں شبنمی رہتی
ہیں۔۔۔۔۔۔ اس ک سوا کر بھی کی سکت ہوں۔ میرے پ س کرن کو رہ ہی
کی گی ہ ‘ جو کروں۔ ج ن کیوں ا بھی م ضی کی شکستہ سڑک پر
برہنہ پ مس سل اور متواتر دوڑے چلا ج رہ ہوں۔
آتش نمرود برسوں پہ بھڑکی تھی مگر اس ک اثرات ا بھی ب قی
ہیں۔ لوگ مجھ پ گل سمجھت ہیں۔ نش نہءتضحیک بن ت ہیں۔ اللہ
ج ن کی کچھ کہت ہیں۔ وہ نہیں ج نت یہ آنکھیں پتھر ہو چکی ہیں۔
میرے چہرے کی انقلابی جھریوں کی زب ن وہ نہیں پڑھ سکت ۔ انھیں
پڑھن ک لی درد ک تنور میں ج ن پڑت ہ ۔
اس مشینی دور میں ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ س ‘ س کچھ غرض ک
س تھ وابستہ رہ ہ ۔ جہ ں کچھ نظر آت ہ لوگ اسی سمت دوڑن
لگت ہیں۔ ل ظوں کو کسی ن کی کرن ہوت ہ ۔ ل ظ پیٹ نہیں بھرت ‘
تن نہیں ڈھ نپت ۔ میں م س تھ ‘ م س ہوں۔ ا میرے پ س ل ظ رہ
ہیں اور ن ہی احس س ت۔۔۔۔۔۔ میں تو چ تی پھرتی جیتی ج گتی لاش
ہوں۔۔۔۔۔۔زندہ لاش۔۔۔۔۔ لاش س کسی کو کی لابھ ہو سکت ہ ۔ ا کسی
کو میرے پ س آن کی کی ضرورت ہ ۔ میں بھی کیس سن ر ہوں جس
ک پ س کوئ نی را آن کی حم قت نہیں کرت ۔ میں ریگ دری بھی نہیں
جو طلا دستی نہ ہو سک گ ۔
ش ید وہ ہ تہ کی ش تھی۔ میں ڈاک نک ل رہ تھ ۔ چوتھ خط پر میری
نظر پڑی۔ نی رنگ ک ل فہ تھ ۔
پشت پر مرقو تھ ۔۔۔۔۔
God is love love is God
میں ن اصول توڑت ہوءے س س پہ وہی خط پڑھن شروع کر
دی ۔ یہ خط پرانی ان ر ک ی س مس جیولی ن تحریر کی تھ ۔ خط میں
:مرقو تھ
ڈیر! سوچ رہی ہوں کی لکھوں اور کی ن لکھوں۔ خط ک آغ ز کس طرح
س کروں۔ اتن پی را لکھن وال کی انگ یوں کو چو لین کو دل
مچل رہ ہ ۔ محسوس نہ کرن کہ پہ ی ہی تحریر میں فرینک ہو گئ ہو۔
میں پی ر اور خ وص ک م م ہ میں کسی لگی لیپٹی کی ق ءل نہیں۔
اس ہر طرح س کھرا اور سچ ہون چ ہی ۔ یہ خ وص کی سچ ئ ہی
مجھ لکھن پر مجبور کر رہی ہ ۔ جس چ ہت س لکھ رہی ہوں
اسی خ وص س جوا دین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط جیولی
جیولی ک خط چ ر ص ح ت پر مشتمل تھ ۔ ہر ل ظ س خ وص ٹپک رہ
تھ ۔ میں ن اس خط کو تین س زی دہ مرتبہ پڑھ ۔ ہر ب ر نی لطف
میسر آی ۔ میں ن خط ک جوا اسی خ وص س دی ۔
یہ کسی پہ ی خ تون ک خط نہ تھ لیکن یہ خط من رد اور اپنی نوعیت ک
ضرور تھ ۔ پہل جیولی ن کی تھی لیکن گھ ءل میں ہوا۔ سوچ ک بطن
س سنہرے سپنوں ن جن لی ۔ سپن خوابوں پر بھی اثر انداز
ہوءے۔ مجھ تس ی ہ کہ یہ س غ ط تھ لیکن یہ س مجھ س ہوا۔
میں دل ک ہ توں ایک کھ ون س زی دہ نہ رہ تھ ۔ دل سمجھ ن
ک ب وجود نہ سمجھ ۔ جیولی میرے حواس پر گرفت کر گئ تھی۔ وہ
کیسی تھی میں نہیں ج نت مگر جو تصور ب ندھ تھ اس میں وہ رادھ
ہیرا اور ق وپطرہ س کسی طرح ک نہ تھی۔ کئ ب ر ذہن میں سوال
ابھرا کہ وہ بدصورت اور بدکردار بھی ہو سکتی ہ لیکن دل ن ہر
خدش ۔۔۔۔۔ ہر خی ل کی ن ی کر دی اور میں تصور ک برا پر سوار
عش ک عرش کی ج ن محو پرواز رہ ۔ بغیر دیکھ سن کسی ک
ہو رہن بلاشبہ حم قت تھی۔۔۔۔۔۔حیران کن حقیقت یہ ہ کہ یہ س ہوا۔
دو برس خط وکت بت ک س س ہ چ ت رہ ۔ نہ اس ن مجھ بلای اور ن ہی
میں ن کبھی م ن کی خواہش ک اظہ ر کی ۔ پہ ڈاکیہ ڈاک دے کر
ج ت تھ ا میں خود ہی صبح سویرےڈاک لین چلا ج ت ۔ جس دن ڈاک
میں جیولی ک خط ہوت میری روح خوشی ک نش س سرش ر ہو
ج تی۔ جیولی کی اسیری ن میرے ق پر بڑے گہرے اثرات مرت کی ۔
ج بھی کچھ لکھن بیٹھت یوں لگت جیس جیولی کو خط لکھ رہ
ہوں۔ افس نہ خؤبصورت ل ظوں ک س تھ نئ انوکھی کہ نی کی بھی
ڈیم نڈ کرت ہ ۔ مرے افس نوں میں یہ عنصر تقریب م قود ہو گی
تھ ۔اس بدلاؤ کو ہر کسی ن محسوس کی ۔ ق رءین میں وہ پہ سی
گر جوشی نہ رہی تھی۔ ایک پرچ ک ایڈٹر ن یہ ں تک کہہ دی کہ
میرے ن س کوئ اور لکھ رہ ہ ۔ ا میں ایک ن ک لکھ ری تھ ۔
کئ ب ر میں ن انداز بدلن اور پہ ی ڈگر پر آن کی کوشش کی مگر
کہ ں‘ ا لوٹن امک ن میں نہ رہ تھ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک رست پر آدمی ج چل
نک ت ہ تو پیچھ مڑن آس ن نہیں رہت ۔ جیولی کو چھوڑ دین میرے
ممکن ہی نہ رہ تھ ۔ میں بہت آگ نکل آی تھ ۔
آہ!
دس اکتوبر ک وہ منحوس لمحہ تھ ج میں ن جیولی ک آخری خط
پڑھ جس پڑھ کر میرا س را نشہ
ھرن ہو گی ۔ ابتدا اس کی ج ن س ہوئ تھی انتہ بھی اس کی ج ن
س ہوئ۔ گھ ءل میں ہوا۔ وہ چ ندی دیس چ ی گئ۔ میرے پ س کچھ
بھی نہ رہ تھ ۔ زخمی انگ ی ں اور رفتہ س جڑے ک غذ ک چند پرزے۔
ا میری کل یہی بس ط تھی۔ میں ن کبھی دولت دیکھی نہیں‘ ہ ں اس
ک ن ضرور سن س ہ ۔ یہ س آخر کی تھ ‘ میں ا تک اس گتھی کو
س جھ نہیں پ ی ۔ ان دیکھ سہی‘ یہ کچہ تھ ضرور۔ میں ن ایک خوا
کوسچ سمجھ کر وف ش ر ن درہ کو طلا دے دی۔ ننھی سی ج ن روبی
کو م یوسیوں ک جنگل میں اکیلا چھوڑ دی ۔ کون کہت ہ فرعون مر
گی ہ ۔ مجھ س لاکھوں فرعون خودغرضی ک اترن میں م شرے
ک ہر موڑ پر م یں گ ۔ ان میں س ہر کوئ ظ کرک ‘ مظ و شکل
بن کر س من آءے گ ۔ لای نیت ک ت ق کرن والوں ک یہی حشر ہوا
کرت ہ ۔ میں اپن کی پر پشم ن ہوں مگر کی ف ءدہ‘ چڑی ں کھیت
چگ کر ج چکی ہیں۔
عش کی جنگ ہو تو دل لہو لہو ہوت ہ ۔ دم کی جنگ تو اعص
ٹوٹ ج ت ہیں۔ توپ ٹینک کی جنگ ہو تو انس نی زندگی لقمہ بنتی ہ ۔
نظری تی جنگ ہو تو بدامنی اور ب پھی تی ہ ۔ مذہ کی جنگ ت سی
ک دروازے کھولتی ہ ۔ بیگ س جنگ ہو تو چولہ خود گر کرن
پڑت ہ ۔ غرض جنگ کوئ بھی ہو وہ مثبت نت ءج کی ح مل نہیں ہو
سکتی۔ اس ک انج ہولن ک ہوت ہ اور اس ک اثرات دیرپ ہوت ہیں۔
م رچ 3 1970
بیوہ طوائف
میں نہیں کہت کہ میں کوئ پری دیوت ہوں۔ ب لکل ع س ‘ گوشت پوست
ک ‘ ح ج ت میں گھرا انس ن ہوں۔ تم ت ریف ک ک م ‘ خداوند ع ل
کی طرف پھرت ہیں۔ جم ہ تخ ی و تجدید ک وہی سرچشمہ ہ ۔ اس
ک لطف و کر ک زندہ ثبوت یہی ہ ‘ کہ میں زندہ ہوں اور آپ ک
روبرو ہوں‘ ورنہ مجھ تو تخ ی ک پہ روز ہی‘ ن رت کی کند
چھری س ‘ زبح کرن کی س زش کی گئی۔ خود غرض اور ذات پرست
آج بھی خت نہیں ہوءے۔ ان کی ت داد میں ہر چند اض فہ ہی ہوا ہ ۔ شر
اور خیر کو متوازی چ ت رہن ہ ۔ دونوں ک رست الگ سہی‘ لیکن
انھیں ایک س تھ‘ ہر ذی ن س ک س تھ منس ک رہن ہ ۔ فر صرف
اتن ہ ‘ کہ خیر زندگی ک ہر موس میں‘ انس ن کی خیر خواہ رہتی
ہ ‘ ج کہ شر‘ خود غرضی ک خو صورت لب س میں‘ جس س
خیر ک آخری قطرہ نچوڑ کر‘ اپنی راہ لیتی ہ ۔
نورین! ج اعض ک زور پڑ ج ت ہیں‘ تو کوئ س تھ نہیں دیت ۔ محبت
ال ت اور پی ر ک رشت م نویت کھو دیت ہیں۔ دوسری طرف واپسی
ک س دروازے بند ہو ج ت ہیں۔ دکھ ک یہ موس ‘ تنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں تنہ
گزارن پڑت ہ ۔
لوگوں ک نئی منزلوں کی طرف س ر کرن ‘ بڑا پران وتیرہ ہ ۔ زندگی
ک اس موڑ پر‘ رون چیخن چلان ی مدد ک لی پک رن ‘ لای نیٹ کی
کھ ئی میں ج گرت ہ ۔ وقت ک زہریلا ن گ‘ آدمی کو ب بس کر دیت
ہ ۔ وہ چ ہت ہوءے بھی‘ کچھ نہیں کر پ ت ۔ یہی اصول فطرت اور یہی
اصول زم نہ ہ ۔
ب بسی اور ب کسی ک اس موڑ پر‘ فقط اہل اخلاص ک دروازے
کھ رہت ہیں۔ موسوں کی دھوپ‘ ان ک لی ایک آزم ئش س
زی دہ نہیں ہوتی۔ ہر آزم ئش انھیں نئ عز س سرفراز کرتی ہ ۔
نورین! ت زندگی کی ب زی ہ ر چکی ہو۔ یہ شکست تمہیں قبول کرن
پڑے گی۔ اس ک سوا‘ تمہ رے پ س کوئ چ رہءک ر ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر
بیوہ طواءف ک ‘ یہی حشر ہوا کرت ہ ۔ نخرے اٹھ ن اور م ل لوٹ ن
ا کوئی نہیں آئ گ ۔ دولت یوں ہی نہیں چ ی آتی‘ اس ک حصول ک
لی سو طرح ک پ پڑ بی ن پڑت ہیں۔ م ضی میں ت ن ‘ محبت پر‘
جنسی لذت کو ترجیع دی۔ ا ذلت کو بھی‘ سر آنکھوں پر رکھو۔ زندگی
ک یہ موس کٹھور سہی‘ لیکن ہر کی ک پرن اسی موس میں ہ تھ
لگت ہ ۔ فطرت ک یہی اصول اور وقت ک یہی فیص ہ ہ ۔ ویدی ک یہی
ویدن ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں یہی۔
میں ن کہ تھ ‘ ش ید تمہیں ی د ہو گ ۔ میرا ن محبت ہ ۔ محبت ک
دروازے بند نہیں ہوت ۔ محبت ک دروازے بند ہو ج ئیں تو‘ وہ محبت
نہیں فراڈ ہوتی ہ ۔ ن رت‘ محبت ک شیوہ نہیں۔ اگر یہ ن رت پر اتر
آئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو‘ شبنمی ہوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیزا برس ن لگیں گی۔ سمنرروں
میں آگ لگ ج ئ گی۔۔۔۔۔۔۔۔ ادی ک ق ‘ ق ہو ج ئ گ ۔ ج ن کی کچھ
ہو‘ خ مہ و قرط س اس ک تصور س بھی لرزہ بر اندا ہ ۔
ج ن آج کیوں بہکن لگ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ کی قندیل س پھوٹن
والی کرنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ی دوں ک جھروک میں جھ کن لگی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔عہد
رفتہ ک نیل گگن پر۔۔۔۔۔۔۔ننھ ننھ ۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹ چھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ست رے‘ کہکش نی صورت میں جھ ملان لگ ہیں۔ میں ی دوں ک ہڑ
میں بہت بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دور‘ نکل آی ہوں۔
کی گر ‘ مگر بھیگی سی کوئ ش تھی۔ رات ش ید وہ اگست
ک اندھی رے‘ سورج کی حدت اور روشنی کو اپن ح ق میں ل
چک تھ ۔ بج ی ک قمقم اندھیروں ک سینہ چیرن کی کوشش
میں مشغول تھ ۔ وہ کسی حد تک ک می بھی ہو چک تھ ۔ چوک
صراف ں میں خو گہم گہمی تھی۔ کوئی آ رہ تھ ‘ تو کوئی ج رہ تھ ۔
مسجد س نم زی نم ز پڑھ کر‘ اپن اپن گھروں کی راہ ل رہ
تھ ۔ میں اپنی دوک ن پر بیٹھ لون مرچ مص لحہ تولن میں مصروف
تھ ۔ میرا ذہن تول اور پیسوں ک لین دین میں مصروف تھ ۔ ب لکل
اچ نک‘ ایک چھ س ت س ک لڑک ‘ میرے ہ تھ میں ایک رق ہ دے کر
:چ ت بن ۔ رق پر صرف اتن درج تھ
ذرا گ ی ک موڈ پر تشریف لائیں۔
میں سوچ میں پڑ گی کہ یہ کون ص ح ہو سکت ہیں جو اکی میں
ملاق ت ک خواہش مند ہیں۔ پہ تو نظر انداز کرن چ ہ ‘ پھر چھوٹ
بھ ئی کو دوک ن پر بیٹھ کر‘ انھیں م ن چل دی ۔
وہ ں ص ح تو نہیں‘ ایک نق پوش ص حبہ محو انتظ ر تھیں۔
بشیر ص ح ذرا میرے س تھ آئی گ ۔ اس ک ل و لہجہ ب لکل سپ رٹ
تھ ۔
مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کون ہیں؟! میں ن حیرت اور پریش نی کی ح لت میں
پوچھ
آ ج ئی ‘ فکر کی کوئ ب ت نہیں۔ یہ ں گ ی ک موڑ پر‘ کھڑے ہو کر‘
ب ت کرن من س نہیں۔
میں حیران و پشیم ن اس ک پیچھ پیچھ چل دی ۔ عجی پراسرار
خ تون ہ ۔ کون ہو سکتی ہ ۔ کہ ں اور کیوں ل کر ج رہی ہ ۔
میری سوچ ک ح ق ‘ وسیع ہوت چ گی ۔
مک ن آ گی ۔ وہ اندر داخل ہو گئی۔ میں ب ہر کھڑا ہو گی ۔
اندر آ ج یی ۔۔۔۔۔۔ آ ج یی ن ۔ ا کہ‘ اس ک لہجہ ریش س زی دہ ملای
ہو گی تھ ۔ میں ن حس س ب اس ک حک کی ت میل کی۔ گھر میں
کوئ نہ تھ ۔
بیٹھ ج یی ۔ اس ن س من پڑی کرسی کی طرف اش رہ کرت ہوی
کہ ۔
یہ کہہ کر وہ اندر چ ی گئی۔
ڈر‘ خوف اور پریش نی ک سب ‘ میرا دل بند ہون لگ ۔ ج ن کی
ہون والا ہ ۔ ب شم ر خدش سر اٹھ ن لگ سن تھ ‘ فراڈ ہو
ج ت ہیں۔ میں ن بھ گ ج ن چ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ج ن کیوں بھ گ نہ سک ۔
ک ش! اس روز میں بھ گ گی ہوت ۔ ک ش! کسی چیز ن ‘ میرے پ ؤں
جکڑ لی تھ ۔
اتنی دیر میں‘ وہ برق ہ ات ر کر آ گئی۔ میں ن اس کی طرف دیکھ ‘ اور
پھر‘ دیکھت ہی رہ گی ۔ میرے س من ‘ گلابی رنگ میں م بوس‘ قی مت
کھڑی تھی۔ سی ہ دراز پ کوں کی اوٹ س ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو قمقم ‘ نور
بکھیر رہ تھ ۔ چوک صراف ں میں ج ت قمقموں میں اتنی ت کہ ں
تھی۔ ش نوں پر بکھری زل یں‘ مجھ ڈس سی گئیں۔ مگر چند ہی
لمحموں ک ب د میں اپن آپ میں لوٹ آی ۔
گھر وال ک س گی ہیں‘ سوچ ‘ آج اپن دیوت س ‘ دو ب تیں ہی
ہو ج ئیں۔
شہد میں م وف‘ یہ ل ظ‘ بلاشبہ حواس شکن تھ ۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں‘ آپ ک دیوت ؟! یہ آپ کی کہہ رہی ہیں؟ میں تو آپ کو
ج نت تک نہیں۔
اس س کی فر پڑت ہ ۔ میں تو آپ کو ج نتی ہوں۔
یہ کہہ کر‘ اس ن اپن ب زو میرے گ میں ح ئل کر دی ۔ پھر کی
تھ ‘ میں ریت ک تودے کی طرح‘ اس کی پ کوں کی آغوش میں‘ ریزہ
ریزہ ہو گی ۔ اچ نک ش ور ک کسی گوش س ‘ کسی ن کروٹ لی
اور میں پل بھر کو سمبھلا۔ میں اس شیط نی کھیل ک لی ‘ ذہنی طور
پر تی ر ہی نہ تھ ۔
محترمہ کوئی اور گھر ڈھونڈیں۔ میں اس گ ڑی ک بیل نہیں۔
آجی۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا ن محترمہ نہیں میرا نورین ہ ۔ گھر وال پی ر س ‘
ب ؤ کہہ کر پک رت ہیں۔ آپ بھی ب ؤ کہہ کر پک را کریں۔
ب ت ک دوران اس کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ حوازادی مجھ نئی اور
عجی راہ پر ڈال رہی تھی اور پھر میرے حواس جوا دے گئ ۔ میں
ن خود کو شر ک حوال کر ہی دی ۔
آگ ک ذاتی رنگ سی ہ ہوت ہ ۔ دیکھن میں وہ سرخ اور سنہری ہوتی
ہ ۔ میں ن خود کو‘ سی ہی جو ظ مت کی علامت ہ ‘ ک حوال کر
ہی دی ۔ آج سوج سوچت ہوں میری عقل کو کی ہو گی تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ش ید
میں پ گل ہو گی تھ ۔
میں انوکھی اور خطرن ک راہ پر۔۔۔۔۔۔۔۔ انج س ب خبر۔۔۔۔۔۔۔ گ مزن ہو
چک تھ ۔ مجھ کچھ م و نہ تھ ‘ کہ اس آنکھ مچولی ک نتیجہ کی
برآمد ہوگ ۔ کون تب ہ ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کون خوش ح ل ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کی آش
ک پھول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیچڑ میں بکھر ج ئیں گ ۔۔۔۔۔۔۔۔کون جیت کر ہ رے
گ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون احس س کی آگ میں ج گ ۔۔۔۔۔۔۔ کس پی ر کی ص ی پر
مص و کی ج ئ گ ۔۔۔۔۔کون درد ک سمندر میں ڈو ج ئ گ ۔۔۔۔۔۔ ک ش
میں ہوش ک ن خن لیت ۔۔۔۔۔۔۔ک ش۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی کروں‘ وقت بیت چک ہ اور
میں گزرے لمحوں کی راکھ میں‘ م نویت تلاش رہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کتن ن دان
ہوں میں بھی۔
محبت ک یہ کھیل‘ دیر تک ج ری رہ ۔ چھیڑ چھ ڑ۔۔۔۔۔۔۔عہدوپیم ن۔ میں
ن گھڑی دیکھی‘ رات ک پون ب رہ بج چک تھ ۔
اچھ تو ب ؤ ا میں چ ت ہوں۔ م ں انتظ ر کر رہی ہو گی۔
اف تنہ ئی۔۔۔۔۔۔۔ کی کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر ک لی اور رک ج ؤ۔ پھر
وہ کسی کٹی ہوئی ش خ کی طرح میری ب ہوں میں جھول گئی۔
ک ش وقت یہیں ٹھہر ج ئ ۔ میں ن سوچ ۔ وقت ک کسی ک پ بند رہ
ہ ۔ اس تو ہر ح ل میں گزرن ہی ہ ‘ سو گزر گی ۔ اس ن قدرت
س یہی سیکھ ہ ۔
پھر ک ملاق ت ہو گی۔
ج ی د کرو گی۔ میرا کی ہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں گزرا وقت تو نہیں‘ جو لوٹ کر
نہ آسکوں گ ۔
کل ہی۔
کہ ں
گھر آ ج ءی گ ۔
میری ہڈی پس ی ایک کران ک ارادہ ہ کی ۔
کیسی ب تیں کرت ہو‘ میں تمہ ری ہو چکی ہوں۔ تمہیں مجھ پر اعتم د
ہون چ ہی ۔ کہو تو تمہ رے گھر چ ی آؤں۔
خیر چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔ کل اسٹیش پر دس بج م ت ہیں۔ چ ی آن ۔ یہ کہہ کر
میں وہ ں س چلا آی ۔
گھر پہنچ تو سوائ م ں ک ‘ س سو چک تھ ۔ وہ میرا انتظ ر کر
رہی تھی۔ ج ن غری کی سوچ رہی ہو گی۔ م ں ک رشتہ بھی کتن
عجی ہوت ہ ۔ اتنی برداشت‘ اتن درگزر۔
کہ ں گئ تھ ؟ م ں ن مصنوعی غص س پوچھ
ب ب ایک دوست ک ہ ں رک گی تھ ۔ میں ن جھوٹ ک سہ را لی ۔
نہ پتر‘ اتنی رات گئ ب ہر نہ رہ کرو۔ زم نہ ٹھیک نہیں۔ م ں ن
سمجھ ن ک انداز میں کہ
اچھ ب ب ۔ ا ت سو ج ؤ۔ یہ کہہ کر‘ میں اپن بستر پر ج لیٹ ۔
جوں ہی بستر پر لیٹ ‘ گزرا ہر لمحہ آنکھوں ک س من گھو گھو
گی ۔ پھر سوچوں ک سیلا امڈ آی اور میں دیر تک سو نہ سک ۔ اسٹیشن
پر تو وہ آ ج ئ گی‘ کہ ں ل کر ج ؤں گ ۔ ک فی سوچ بچ ر ک ب د‘
میری نظر مجید ک کوارٹر پر پڑی۔ مجید میرا قریبی دوست تھ ۔ میں
ن ہر آڑے وقت میں‘ اس کی مدد کی تھی۔ مجھ یقین تھ کہ وہ
انک ر نہیں کرے گ ۔
حس توقع وہ مجھ صبح صبح ہی مل گی ۔ میں ن س را م م ہ
م وف ال ظ میں کہہ دی ۔ اس ن ح می بھر لی اور میں دوک ن پر آ
بیٹھ اور اپن ک روب ر میں مشغول ہو گی ۔
میں وقت س دس منٹ پہ ہی‘ ری وے اسٹیشن ک بینچ پر آ بیٹھ ۔
تھوڑی ہی دیر میں‘ وہ بھی آ گئی۔ وہ پسین میں شرابور تھی۔ گرمی
س اس ک برا ح ل ہو رہ تھ ۔ میں س من دوک ن س ‘ شربت بنوا کر‘
ل آی ۔ ج وہ دو گلاس پی چکی‘ تو اس کچھ ہوش آی ۔
شکریہ۔ میرا تو گرمی س گلا خشک ہو گی تھ ۔ ا کی پروگرا ہ ۔
اس ن مسکرات ہوئ پوچھ ۔
میں ن اس س تھ آن ک اش رہ کی ۔ ج ہ مجید ک گھر پہنچ تو‘
وہ سو رہ تھ اور اس کی بیوی گھر ک ک موں میں مصروف تھی۔ اس
ن ن ک منہ چڑات ہوئ ‘ بیٹھک ک دروازہ کھول دی اور خود اندر
چ ی گئی۔ مجید ک ہ تھ‘ میری زندگی ک ن زک ترین لمحہ تھ ۔ وہ اس
س ہر قس ک ف ئدہ اٹھ سکت تھ ۔
ب ؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ بھی‘ ایک چھوٹ س گھر بن ئیں گ جہ ں ہم رے بچ
ہوں گ ۔ میں ن اس کی ج ن پی ر بھری نظروں س دیکھت ہوئ
کہ
وہ شرم گئی اور اپن منہ میرے سین کی وس توں میں چھپ لی ۔ میں
اس ک ریشمی ب نوں میں اپنی انگ یوں س کنگھی کرن لگ ۔ وہ
بہکن لگی۔ یوں لگت تھ جیس اس ن بڑی مقدار میں پی رکھی ہو۔
ملاق توں ک س س دراز ہوت چ گئ ۔ کیف و لذت ک س غر
چھ کت رہ ۔ مجید اپنی کر فرم ئیوں ک م وضہ وصوں کرت رہ ۔ ا
اس کی بیوی ن ئ ہ بھی بڑے تپ ک س م تی تھی۔ ایک دو ب ر اس ن
بھی‘ کسی خواہش ک اظہ ر کی ۔ میں اتن بھی گی گزرا نہیں تھ ‘ جو
تھ لی میں چھید کرت ۔
دوک ن بند رہن لگی۔ اور پھر یہ نوبت آ گئی کہ مس سل ن غ ہون
لگ ۔ ایسی ب ت ک چھتی ہ ۔ میں ی ر دوستوں اور گھر والوں کی
زب ن پر آگی ۔ ہر کوئی مجھ م نی خیز نظروں س دیکھن لگ ۔
مظ ر ش ہ ص ح جو ہم رے مح ہ ک بڑے م زز شخص سمجھ
ج ت تھ ‘ ن لمب چوڑا لیکچر پلای ۔ میرے ک ن پر جوں تک نہ
رینگی۔ سمجھ ن وال یقین میرے خیر خواہ تھ لیکن ان س کو
اپن پی ر ک دشمن سمجھت رہ ۔ اب یس میرے گرد لذت ک خوش رنگ
پھول بکھیر چک تھ ۔
اس روز میں دوک ن پر بیٹھ تھ کیونکہ مجید کی ایک بہت ضروری
ڈیم نڈ پوری کرن تھی۔ اچ نک ش ہ ص ح آ گئ اور بول :عقل ک
اندھ اٹھو‘ میں تمیں کچھ دکھ ت ہوں۔
ان ک رخ مجید ک کوارٹر کی ج ن تھ ۔ بیٹھک ک دروازے پر آ کر
رک گئ ۔ بڑی ہی دھیمی آواز میں کہ :ذرا ک ن لگ کر سنو
اندر س مجید‘ س ید‘ ن ئ ہ اور ب ؤ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ کسی
سودے میں مشغول تھ ۔ میں ان کی غ یظ ب تیں سن کر پسین میں نہ
گی ۔ ش ہ ص ح مجھ سہ را دے کر دوک ن میں ل آئ ۔
اس ح دث ن میرے دل و دم پر بڑے گہرے اثرات مرت کئ ۔ میں
ذہنی اعتب ر س م وج س ہو گی ۔
پھر میں دوسری غ ط راہ پر چل نکلا۔ شرا دکھ ک روگ سہی لیکن یہ
بذات خود بڑا خطرن ک روگ ہ ۔ یہ جونک کی م نند جس ک س را خون
نچوڑ لیتی ہ ۔
اس روز میں چ رپ ئی پر لیٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکست خوردہ کرواٹیں ل رہ تھ ۔
غ و غصہ ک ایک طوف ن س امڈا چلا آت تھ ۔ میں انج نی آگ میں جل
رہ تھ ۔ ج حواس گرفت میں نہ رہ تو‘ میں ب زار کیف کی ج ن بڑھ
گی ۔ میں عورت س انتق کی بھول میں‘ خود کو سزا دے رہ تھ ۔
وہ ں تو‘ دنی ہی نئی تھی۔ اس دنی میں چپ چپ پر پی ر ک سمندر
رواں دواں تھ مگر پی ر ک حصول دا و در س مشروط تھ ۔ حیران
تھ خدا کی زمین پر ن بکن والی چیزوں ک بھی دا لگت ہیں۔ ادی
ک ق ک خون۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد ک تقوی۔۔۔۔۔۔۔ مسیح کی مسیح ئی۔۔۔۔۔۔۔ سپ ہی
ک لہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب پ کی غیرت۔۔۔۔۔۔۔ م ں کی ممت ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں م ں کی
ممت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزت‘ غیرت‘ شر ‘ حی ‘ خونی رشت ‘ غرض کہ یہ ں س
بکت ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گرہ میں م ل ہون چ ہیئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کڑکت کڑکت نوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی نہیں پوچھ گ ۔ چمکت اور کھنکھن ت سک ‘ پوچھن والوں
کی ن سی تی کمزوری ہوت ہیں۔ اہل زر کو کون پوچھ سکت ہ ۔ ق نون
ب درم پر ہ تھ ڈالت ہ ۔ آج کی ‘ شروع س ‘ سکوں کو یہ شرف
ح صل رہ ہ ۔
میں عرصہ تک‘ کبھی اس کوٹھ پر‘ تو کبھی اس کوٹھ پر‘ بھٹکت
رہ ۔ ج ج ت ‘ ہ تھوں ہ تھ لی ج ت ۔ ہر طوائف صدق واری ج تی۔
چ ئ ‘ پ ن‘ شرا ‘ لذت غرض س کچھ وہ دستی تھ ۔ اگر کچھ نہیں
تھ ‘ تو وہ سکون تھ ۔
میں وہ ں اکیلا ک تھ ۔
ایک دن میں اس ج ن رواں دواں تھ ۔ اچ نک ایک خی ل کوندا اور
میری راہ بدل گئی۔ ب ؤ بھی تو ایک شریف طوائف تھی۔ میرے خون
پسین کی کم ئی پر پہلا اس ک ح تھ ۔ اسی ن مجھ اس راہ پر
ڈالا تھ ۔ ب ؤ ن مجھ کچھ بھی نہ کہ ۔ اس ن میری ضرورت پوری
کر دی۔ چ ت ہوئ میں ن اس کی جھولی میں اس ک محنت نہ رکھ
دی ۔ اس ن میری طرف دیکھ ‘ لیکن میں دروازے س ب ہر قد رکھ
چک تھ ۔ س بلا مک لمہ ط پ گی تھ ۔ اس پیش ک یہی اصول اور
ض بطہ شروع چلا آت ہ ۔ کچھ دو اور کچھ لو۔ سودا نقد و نقد۔ ن ادھ ر‘
ن کل ک وعدہ۔ آج ہی‘ اس پیشہ میں م نویت س زندہ ہ ۔
گرہ میں رہ ہی کی تھ ۔ نوے ہزار کی راس میں س چند دالیں اور دو
ک و نمک میری حم قت ک منہ چڑا رہ تھ ۔ ا میں ادھر ج ن ک
ق بل بھی نہ رہ تھ ۔ پھر مسجد س اللہ اکبر کی صدا گونجی۔ میں ک نپ
ک نپ گی ۔ اس س پہ بھی یہ آواز کئی ب ر سن چک تھ لیکن اج تو
اس آواز ن گھ ئل کر دی ۔ اللہ مجھ واپس لوٹن ک لئ کہہ رہ
تھ ۔ میں تیزی س مسجد کی ج ن بڑھ گی ۔ ج ن کتنی دیر سجدہ میں
رہ لیکن ج سر اٹھ ی س را غب ر چھٹ چک تھ ۔
اس رات میں ن م ں کی آغوش میں پن ہ لی۔ دیر تک اشک سوئی کرت
رہ ۔ م ں پی ر س میرے سر پر ہ تھ پھیرتی رہی۔
پچھت وے ک ج سیلا تھم تو بیوہ م ں ن میری ہتھی ی پر پ نچ سو
روپی ‘ جو آن ٹکوں ک روپ میں تھ ‘ رکھ دئی اور ص ر س
ک کرن کی ت قین کی۔ سوچت ہوں اس ب چ ری ن یہ رق کتنی دیر
میں جمع کی ہو گی۔ اس ک چہرے پر ملال ک دور تک ن و نش ن نہ
تھ ۔ م ں تھی ن ۔ م ں اپن بیٹ کو نہ ج ن گی تو اور کون ج ن گ ۔
ب ؤ! وہ م ں کی دی ہوئی رق تھی۔ آج میں علاق ک ب عزت اور ص ح
حیثیت شخص ہوں۔ کسی کو میرا م ضی ی د تک نہیں۔ لوگ اسٹیج پر
موجود کردار پر نظریں مرکوز رکھت ہیں۔ جو گی ‘ سو گی ۔ ب ؤ ک
چ ہن وال کچھ ک نہ تھ ۔ کسی ن اس ہمیشہ ک س تھی نہیں
بن ی ۔ وہ کسی ایک ک بنن بھی نہیں چ ہتی تھی۔ آج وہ ب نور ہڈیوں ک
ڈھ نچہ ہ ۔ ا اس پر ج ی ہی سہی‘ پی ر کون نچھ ور کرے۔ اس کی
جی کون اور کیوں بھرے۔ ا اس بیوگی ک ق س میں زندگی بسر
کرن ہو گی۔
مجید آج بھی مجھ م ن آت ہ ۔ میں اس کی ب لوث چ ہ پ نی س
سیوا کرت ہوں۔ میں ب مروت نہیں۔ ا وہ بوڑھ ہو چک ہ ۔ تھک
تھک قدموں س چ ت ہ ۔ وہ س تہی دست ہو چک ہیں کیونکہ
وقت بہت آگ نکل آی ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت آگ ۔
ب ؤ! مجھ ت س ہمدردی ہ ۔ اک وقت وہ تھ ج تمہ را طوطی
بولت تھ ۔ آج ت زندگی س بہت دور ج چکی ہو۔ تمہ را کوئ اپن نہیں
رہ ۔ لوگ تمہیں ن رت کی نگ ہوں س دیکھت ہیں۔
ب ؤ! میں ن تمہ رے س تھ وقت گزرا ہ ۔ میں تو ت س سچ پی ر
کرت تھ اور ت ن لذت اور سکوں کو ہی‘ س کچھ سمجھ لی تھ ۔
میرے پ س تمہ ری بیوگی ک کوئ حل نہیں۔ میں تمہیں اپن نہیں سکت ‘
کیوں کہ ت ذہنی طور پر آج بھی وہیں کھڑی ہو‘ جہ ں س لوں پہ
تھیں۔ جو بھی سہی‘ میں پی ر ہوں۔ میرا پی ر اللہ کی س ری مخ و ک
لی ہ ۔۔۔۔۔۔۔ تمہ رے لئ بھی۔ چ ی آی کرو‘ پیٹ ک دوزخ بھرے بغیر
ک سکون م ت ہ ۔
مئی 1976 27
حتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! اسلا ع یک
ٓاپ ک یہ چھوٹ س افس نہ پڑھ ۔ بہت اچھ لگ ۔ ٓاپ کی تحریریں م ش اللہ
بہت ج ندار ہوتی ہیں۔ اور آپ ک احس س ت کی وس ت کو سموئ
ہوتی ہیں۔ زندگی کو اس قدر قری س دیکھن اور محسوس کرن ک
فن ٓاپ کی تحریروں س واضح ہ ۔
اللہ پ ک ٓاپ کو ہمیشہ خوش و خر رکھ ۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8580.0
آنچل ج ت رہ گ
شہوت ک من ی چ ن‘ کوئی انوکھ اور نی نہیں۔ اس ک من ی طور کی
تبدی ی ک لی سیکڑوں نہیں‘ ہزاروں لوگ میدان عمل میں اترے ۔
انھوں ن اپنی سی کوشش کی۔ لاری فیہ‘ ان کی کوششوں میں
خ وص اور دی نت داری‘ اپن پورے وجود ک س تھ موجود تھی اور
اسی عمل ک دورانی میں زندگی کی اسٹیج س غ ئ ہو گی ۔ کچھ
کو مص ئ ک س من کرن پڑا۔ کچھ من ی چ ن کی ص ی پر مص و ہو
گی ۔ م ن ‘ ج ن کی قرب نی کوئی م مولی ب ت نہیں‘ بدلاؤ آن چ ہی تھ ‘
لیکن من ی چ ن کی ڈگر نہ بدلی۔ ہ ں اتن ضرور ہوا‘ کہ لمحہ دو لمحہ
ک لی ہی سہی‘ اس کھڑے پ نی میں‘ ارت ش تو پیدا ہوا۔ میدان عمل
میں اترن والوں ن قرط س حی ت پر اپن ہون ک ثبوت چھوڑا۔
وقت ک سین پر اپنی گواہی ک نقوش ثبت کر دی ۔ یہ کوئی ایسی
م مولی ب ت تو نہیں۔
شہوت ک منہ زور طوف ن امڈ آی تھ ۔ ک شف س ملاپ ک لی ‘
ب مشکل اور بصد کوشش‘ چند‘ ہ ں گنتی ک چند لمح ‘ دستی ہوئ
تھ ۔ راحیل ک گھر لوٹن میں‘ کوئی زی دہ وقت ب قی نہ تھ ۔ اگر یہ
موقع ہ تھ س نکل ج ت تو‘ ج ن ان چند لمحوں ک لی ‘ اس کتن
لمح انتظ ر کی بٹھی میں ج ن پڑت ۔ وہ ان لمحوں کی آسودگی کو
غ رت نہیں کرن چ ہتی تھی۔ ک شف اس ک سپنوں ک شہزادہ تھ ۔ اس
س م ن کی تپسی بڑی کڑی تھی۔ ک دیوا‘ لمحوں کو‘ م ن ک بردان
کٹری تپسی ک ب د ہی دیت ہ ۔
ج ن آج ک دیوا کس طرح مہرب ن ہو گی تھ ۔ عوفی اپنی م ں ک
برسوں ک انتظ ر بھرے جیون س آگ ہ نہ تھ ۔ پہ تو کبھی ایس نہ
ہوا تھ ۔ تھوڑی سی کوشش‘ اس نیند کی وادی میں ل ج تی تھی۔
پھر وہ پرسکون ہو کر‘ گھر ک ک ک ج کر لیتی تھی۔ آج تو حد ہو
چ ی تھی۔ یوں لگت تھ ‘ جیس عوفی ن آج نہ سون کی قس کھ لی
تھی۔ وہ اتن بڑا نہیں تھ ‘ لیکن اتن چھوٹ بھی نہ تھ ‘ کہ وہ اس ک
س من ہی‘ اپن یہ م م ہ ط کر لیتی۔ ش ید کسی ان ج نی قوت ن ‘
اس م ں ک ارادے س آگ ہ کر دی تھ ۔ یہ بھی ب ید از قی س نہیں‘
کہ نیکی ک دیوت ن اس س نیند چھین لی تھی۔ ک دیوا اپنی جگہ
پر سرخرو ہو چک تھ ۔ تپسی ک بردآن نہ دین پر‘ اس ک ک رے پر
حرف آت تھ ۔ ا خیر ک دیوا آڑے آ گی تھ ‘ اس میں اس ک کوئی قصور
نہ تھ ۔
خیر کی ج ن لذت ک لمحوں س کیوں نہیں بنتی۔ نہ خود آسودہ
رہتی ہ اور ن ہی دوسروں کی آسودگی برداشت کرتی ہ ۔ کسی سڑیل
سوت کی طرح‘ ب لح ظ اور ب مروت ہو کر‘ میدان میں اتر آتی ہ ۔
کسی ڈھیٹ مٹی س اٹھی ہ ۔ ب ر ب ر قتل ہون ‘ ج ن ‘ اس کیوں
خوش آت ہ ۔ موت تو‘ بڑے بڑوں ک پتہ پ نی کر دیتی ہ لیکن مر مر
کر بھی‘ اس عقل نہیں آئی۔ اپنی پرانی اور دقی نوسی ڈگر پر مس سل
گ مزن ہ ۔
خیر اور شر کی جنگ بڑی شدت س ج ری تھی۔ ک تک‘ آخر کسی کو
تو ہ رن تھ ۔ پنکی ک ضبط ک بندھن ٹوٹ گی ۔ شر ن خیر کو پچھ ڑ
ہی دی ۔ افسوس عوفی کو ج ن س ج ن پڑا۔ یہ کوئی نی م م ہ نہ تھ ۔
خیر کی رکھش ک لی ان گنت عوفی ج ن ہ ر چک تھ ۔ شر ک
بطن س ایک نئی ج ن ن اپن وجود ح صل کر لی تھ ۔
شہوت کی آگ ج سرد پڑ گئی تو نیکی ک دامن اشکوں س تر ہو
چک تھ ۔ ممت کو کھو دین ک روگ‘ لگ چک تھ ۔ آن والا‘ عوفی ک
قتل اور کردہ جر کی ی د دلان ک لی ‘ زندگی ک ہر گر سرد موس
میں‘ ممت ک چ ن پر قہقہ لگ ت رہ گ اور کبھی چبھتی اور ت خ
نگ ہوں س گھورت رہ گ ۔ زندگی ک ہر لمحہ سزا بن ج ئ گ ۔
پنکی کو پھر س نو م ہ زچگی ک ع ل میں گزارن ہوں گ ۔ عوفی
تک آت آت ‘ چ ر س ل اور نو م ہ لگ ج ئیں گ ۔ وہ ہر لمحہ‘ اس
سوچ میں ڈوبی رہ گی‘ کہ اگر عوفی زندہ ہوت تو اتن س ل اور
اتن م ہ ک ہو ج ت ۔ پیدا ہون والا‘ عوفی ک ب ی دان کی‘ زندگی کی
آخری س نسوں تک‘ شر اور خیر کی گواہی دیت رہ گ ۔ آن والا کتن
بھی دھل کر س من آئ گ ‘ شہوات ک طوف ن میں غر عوفی ک
تب دل نہ بن سک گ ۔ عوفی‘ عوفی تھ ۔ وہ تو خیر ک بردانی تھ ۔ محبت
ک بردان ک دیوا س ملا تو‘ شنی ن مہر ثبت کر دی تھی‘ ورنہ شر
سر چڑھ کر نہ بولتی۔
عوفی ن ک نبی ہون ک دعوی کی تھ ۔ ہ ں اس ک ف ل اور قرب نی‘
کسی نبی ک سچ اور کھرے پیرو کی سی تھی۔ وہ خیر کی علامت
تھ ۔
جنگ کی حکمت عم ی‘ ہر جرنل کی ایک سی نہیں ہوتی۔ ک می اسی
جرنل کو کہ ج سکت ہ ‘ جو موقع کی من سبت س حکمت عم ی ط
کرے۔ ٹیپو فرار ی سرنڈر ک رستہ اختی ر کر سکت تھ ۔ اور کتن جی
لیت ؟!اور جین ‘ ب توقیر جین ہوت ۔ اس کی زندگی موت س بدتر ہوتی۔
عوفی ن موت ک رستہ چن کر‘ ٹیپو کی حکمت عم ی پر‘ درستی کی
مہر ثبت کر دی تھی۔ یہ کوئ ایسی م مولی ب ت نہ تھی۔ عوفی ف تح
جرنیل ن سہی‘ لیکن کوئی تجزیہ نگ ر اس ن ک جرنیل بھی نہیں قرار
دے گ ۔ ک شف اور پنکی جیت کر بھی ہ ر چک تھ ۔ عوفی ن انھیں
عبرت ن ک شکست دی تھی۔ یہی حقیقت اور یہی وقت ک انص ف ہوگ ۔
ہر کی ک ‘ کوئی ن کوئی‘ پرین تو ہوت ہی ہ ۔ ک شف‘ ب پ ہو کر‘
م موں ک رشتہ استوار کرن پر مجبور ہو گ اور پنکی ک آنچل
پچھت وے کی آگ میں ج ت رہ گ ۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں ج ت رہ گ ۔
2-9-1973
من ک بوجھ
اس ک اصل ن تو کسی کو م و نہ تھ ‘ ہ ں البتہ‘ اولڈ بوائ ک ن
س ‘ پورے علاقہ میں شہرت رکھت تھ ۔ یہ بچوں ک دی ہوا ن تھ ۔ وہ
بچوں ک س تھ زی دہ وقت گزارت ۔ کھی ت ‘ انھیں کہ نی ں سن ت ۔ کسی
بچ کو ح جت ہوتی‘ تو اس ن لی پر بیٹھ ت ۔ اس کی طہ رت کرت ۔ اس
ک لب س درست کرت ۔ اگر کوئی اس کھ ن کی چیز دیت ‘ تو وہ اس ک
بڑا حصہ بچوں ک لی ‘ جی میں سمبھ ل لیت ۔ بچ بھی اپنی چیزیں
اس س ب نٹ کرت ۔ وہ ان ک دل رکھن ک لی ‘ برائ ن اس میں
س کچھ لیت ۔ وہ کھ ت پیت اور اٹھکی ی ں بھرت ‘ بچوں کو دیکھ کر
خوش ہوت ۔ بچ ‘ اس ک بغیر اپن ہر کھیل کو‘ ادھورا اور ن مکمل
سمجھت تھ ۔ ایک مرتبہ وہ بیم ر پڑا‘ تو بچوں ن اپن بوڑھ
س تھی ک ہر طرح س خی ل رکھ ۔ اس لمحہ بھر ک لی تنہ ئی ک
احس س نہ ہون دی ۔ یہی نہیں کوئی اس ک پ ؤں دا رہ ہ تو کوئی
سر دب رہ ہ
وہ کون تھ اور کہ ں س آی تھ ‘ کوئی نہیں ج نت تھ ۔ وہ اس مح ہ
میں پچھ پچیس س ل س اق مت رکھت تھ ۔ وہ کسی ک لی اجنبی
نہ رہ تھ ۔ مح ک بچوں ک بچ ‘ ا اس س کھیل رہ تھ ۔
عورتیں ج گھر ک ک موں میں مصروف ہوتیں‘ تو وہ ب ض ب کہ اکثر
اوق ت‘ اپن شیرخوار بچ اس ک حوال کر دیتیں۔ کسی شیرخوار
بچ کو لیت وقت‘ اس ک چہرے پر خوشی ک بیسیوں گلا کھل
اٹھت ۔ مج ل ہ ‘ کوئی بچہ اس ک پ س آ کر روت ی تنگ کرت ۔ ضدی
س ضدی بچ ‘ اس ک پ س آ کر ضد چھوڑ دیت اور اس ک س تھ
گھل مل ج ت ۔ بچوں ک م م ہ میں‘ اس مقن طیس کہ ج ئ ‘ تو
غ ط نہ ہو گ ۔
عورتیں اس دک ن س سودا لان بھیج دیتیں۔ اس ک منہ پر انک ر
نہ آت ‘ ب کہ گون ں فرحت اور آسودگی سی محسوس کرت ۔ ن صرف سودا
ص ف ستھرا لات ‘ ب کہ بق ی بڑے اہتم س واپس کرت ۔ م و ہوا‘ وہ
دک ن دار س بھ ؤ بھی کرت ۔ یوں بحث کرت ‘ جیس اپن گھر ک لی
سودا خرید کر رہ ہو۔ زی دتی کی صورت میں‘ اس ک لہجہ ہی بدل ج ت ۔
یوں لگت ‘ جیس کوئی نوا ص ح ہو‘ لیکن چند ہی س عتوں میں
ن رمل ہو ج ت ۔ اس ک یہ روپ ب لکل الگ س ہوت ۔
میں خود اس ‘ اولڈ بوائ س زی دہ‘ نہیں ج نت تھ ‘ ت ہ میرے ذہن
میں اس ک مت کئی سوال اٹھت رہت تھ ۔ میں ن کئی ب ر ان
سوالوں ک جوا تلاشن کی کوشش کی۔ اس ن بھی ایک زہری ی اور
زخمی مسکراہٹ ک سوا میرے پ کبھی کچھ نہ ڈالا تھ ۔ اس کی
موجودہ شن خت‘ دوسرے درج پر بھی نہیں آتی تھی۔ نس ی اور
علاق ئی شن خت کی‘ ہر سوس ئٹی میں م نویت رہی ہ ۔ اس کسی
سطح پر نظرانداز نہیں کی ج سکت ۔ وہ اچھ ‘ ذمہ دار‘ ہمدرد‘ ب ضرر‘
شریف اورپی ر کرن والا تھ ۔ یہ س اپنی جگہ‘ لیکن اس س شخصی
شن خت ترکی نہیں پ ئی۔ یہ ب ت کسی سطح پر نظرانداز نہیں کی ج
سکتی کہ اس ‘ اس ک موجودہ رہ ئشی علاقہ میں‘ کس حوالہ س
لی ج ئ ۔ وہ ں ک ہر رہ ئشی‘ رشتہ میں اس ک کچھ بھی نہیں لگت تھ ۔
رشتہ میں‘ اس ک لی س غیر تھ ۔ علاق ئی نسبت بھی موجود نہ
تھی۔ وہ کسی گھر میں بطور ب پ‘بیٹ ‘ م م ‘ چ چ ‘ بھ ئی‘ کزن وغیرہ‘
ٹ نگیں پس ر کر نہیں بیٹھ سکت تھ ۔ اس ک ہر رہ ئشی س دروازے
تک ک رشتہ تھ ۔ گھر ک اندر داخ ہ غیرمرد ہون ک حوالہ س ‘
قط ی ممنوع تھ ۔
اس ک ک ن دقن میں وہ اس ک اپن نہیں ہوں گ ۔ اس کو لاوارث
سمجھ کر لوگ ک ن دیں گ ۔اس کی لاش پر رون والوں میں اس ک
کوئی اپن نہ ہو گ ۔ ایک بھی نہیں۔ نزدیک ک تو بڑی ب ت ہ ‘ دور ک
بھی کوئ نہیں ہو گ ۔ اس کی میت بھی علاقہ کی کتنی بدنصی ہو گی۔
اف میرے خدا‘ اس سوچ س میرا پورا جس لرز گی ۔ میں ن اس
سوچ کو جھٹک دین کی کوشش کی‘ لیکن میں اس سوچ کو جھٹک نہ
سک ۔ میں اس کی اس ب چ رگی پر سسک پڑا۔
میرا بچپن بھی اس ک ہ تھوں میں گزرا تھ ۔ میرے لی وہ اس لی
م تبر تھ ‘ کہ وہ دوسرے بچوں س الگ مجھ س س وک روا رکھت
تھ ۔ دوسروں ک س من مجھ بھی برابر ک حصہ دیت ‘ لیکن
دوسروں س آنکھ بچ کر زائد دے دیت ۔ کبھی کبھی مجھ پی ر کرن
ک بہ ن ‘ دوسرے بچوں کو گ لگ ت ‘ چومت اور لاڈ کرت ۔ مجھ ی د
پڑت مجھ گ لگ ت ہوئ اس کی آنکھوں میں ایک خ ص چمک
پیدا ہو ج تی۔ غ لب اس کی وجہ یہ تھی‘ کہ میں گول مٹول اور دوسرے
بچوں س الگ س تھ ۔ یہ بھی کہ اس ک قری رہ کر مجھ بہت
اچھ لگت ۔ ج وہ بچوں کو گنتی ی الف ب سکھ ت ‘ تو س زی دہ ب ر
مجھ س سنت اور میں اس فرفر سن دیت ۔ میں چونکہ دوسروں س
قدرے زی دہ ذہین تھ اسی وجہ س وہ میرا خ ص خی ل کرت تھ ۔
اب پڑھ لکھ تھ ۔ نوا تو نہیں‘ قدرے ص ح حیثیت ضرور تھ ‘
اسی لی مجھ شہر پڑھن ک لی بھیج دی گی ۔ میں بی اے پ س
کرک واپس لوٹ ۔ مجھ مل کر‘ اولڈ بوائ بہت خوش ہوا۔ ج اس
م و ہوا‘ کہ میرے چھوٹ بھ ئی رحمت اور نذیر بھی ت ی ح صل
کرن ‘ شہر چ گی ہیں تو‘ اس ن بڑی خوشی ک اظہ ر کی ۔ میں
ن محسوس کی ‘ جو چمک میرے لی اس کی آنکھوں میں نمودار
ہوئی تھی‘ وہ ان ک لی نہیں تھی۔ اس ب ت س ‘ اندازہ لگ ی ج
سکت ہ کہ اولڈ بوائ ‘ مجھ میری ذہ نت ک حوالہ س کتن چ ہت
تھ ۔ انس ن کی خصوصی کوالٹی ہی‘ اس کسی دوسرے ک قری لاتی
ہ اور اس وصف ک حوالہ س ‘ لوگ اس م تبر رکھت ہیں۔ اولڈ
بوائ بھی مجھ اسی حوالہ س عزیز رکھت تھ ۔
زندگی ع رضی چیز ہ ‘ اس ایک روز خت ہون ہی ہوت ہ ۔ اولڈ
بوائ اپن ننھ من ہنس مسکرات س تھیوں کو چھوڑ کر م ک
عد کو روانہ ہو گی ۔ میرا اندازہ یکسر غ ط نکلا۔ اس کی م یت پر میں
ہی نہیں‘ مح ہ ک ہر چھوٹ بڑا رو رہ تھ ۔ بچ ب چین و ب کل تھ ۔
ان ک چہروں پر قی مت خیز کر تھ ۔ عورتیں اس کی شرافت اور
دی نت کی قصیدہ خوان تھیں۔ اولڈ بوائ ک جن زہ کر ک طوف ن میں
اٹھ ۔ مح ہ میں اتنی سوگواری ک منظر‘ پہ کبھی نہیں دیکھ گی ۔ وہ
کسی ک ‘ کچھ بھی نہ ہو کر‘ بہت کچھ تھ ۔
ج ن والوں کو ج ن ہی ہوت ہ ۔ انھیں ج ن س کون روک سکت
ہ ۔ اب ج گی ‘ مح ہ ک لوگ ہم رے ہ ں افسوس ک لی آت
رہ ۔ اولڈ بوائ کی کہیں پھوڑی نہ بچھی‘ ہ ں رستہ م ت لوگ آپس
میں م ت ‘ اولڈ بوائ ک افسوس کرت ۔ دیر تک اس کی ی دوں ک
دیپ جلات ۔ یہی ح ل گھروں ک تھ ۔ ہر گھر میں اولڈ بوائ ک تذکرہ
چ ت اور سوگواری ک من ظر چھوڑ ج ت ۔ وہ کوی سی سی لیڈر‘ مذہبی
راہنم ی قومی ہیرو نہ تھ اس ک ب وجود اس ک تذکرہ‘ ان س کسی
طرح ک نہ تھ ۔
اب کی موت ک ب د‘ ام ں ک آنسو کئی س ل نہ تھم تھ ۔ اولڈ بوائ
کی موت ک ب د‘ اس ک ہونٹوں پر چپ لگ گئی۔ شروع شروع میں‘
میں ن اس م مول ک م م ہ سمجھ ۔ بہن اور دونوں بھ ئیوں ن
اس بڑھ پ ک نتیجہ سمجھ ۔ بڑھ پ اور موت ک قری وقت میں‘
ایسی صورتیں س من آتی ہی رہتی ہیں۔ ان تینوں ک برعکس‘ وہ
مجھ اولڈ بوائ کی کچھ لگن لگی۔ میں ن کئی ب ر ج نن کی
کوشش کی کہ آخر کون س دکھ اس اندر ہی اندر کھ ئ چلا ج رہ
ہ ۔ کسی رشتہ ک بغیر‘ اولڈ بوائ ک دکھ اس ک دل پر لگن ‘ حیرت
س خ لی نہ تھ ۔ ج اس س کچھ پوچھت ‘ خ سی ہو ج تی لیکن اس
کی خ گی‘ اداسی س خ لی نہ ہوتی تھی۔
ام ں شدید بیم ر پڑ گئی۔ میرے سوا‘ اس ک تینوں بچ ‘ اس تنہ
چھوڑ گی ۔ میری بیوی‘ میری م ں س قربت کو پسند نہ کرتی تھی۔
وہ جھگڑا بھی کرتی‘ لیکن میں اس کی بک بک کی پرواہ کی بغیر
م ں کی دل و ج ن س خدمت کرت ۔ مرن س چند لمح پہ کی
ب ت ہ ۔ خود ہی بولی‘ ب چ رہ خوشی کتن تنہ تھ اور اس کی آنگھوں
میں س ون اتر آی ۔ خوشی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کون تھ ؟! وہی جس ت لوگ اولڈ
بوائ کہ کرت تھ ۔ پھر اس احس س ہوا کہ وہ بہت کچھ غ ط کہہ
گئی ہ ۔ ت اس ج نتی تھیں۔ چھوڑو۔۔۔۔۔۔چھوڑو کس کہ نی کو ل
بیٹھ ہو۔ اس ن ٹ لن کی بڑی کوشش کی‘ لیکن میں سر ہو گی ۔
کی سنن چ ہت ہو‘ سن سکو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ت سن نہیں
سکت ۔ سن لوں گ ‘ س کہہ دو۔ کہہ دین س تمہ را دکھ ہ ک ہو
ج ئ گ اور تمہ ری تک یف میں کمی آئ گی۔ مگر تمہ را کی بن
گ ۔میرا؟! میرا‘ اس کہ س کی ت ہو سکت ہ ۔ پت نہیں کون اور
کس علاق ک تھ ۔
ج نت ہو وہ کون تھ ؟ مجھ کی م و ۔ وہ تمہ را اب تھ اور جبل پور
ک رئیس کنب س ت رکھت تھ ۔ ج میں رحمت ک اب ک س تھ
بی ہ کر آئی‘ ت میرے پیٹ میں تھ ۔ خوشی اس خبر س مسرور تھ
لیکن میں اس کی نہ ہو سکی۔ ص بر مجھ یہ ں ل آی ۔ خوشی بھی
یہ ں آ بس ۔ وہ فقط تمہ رے لی یہ ں آی اور تمہیں دیکھ دیکھ کر زندہ
رہ ۔
ام ں اس س آگ کچھ نہ کہہ سکی اور میں بھی اس س آگ کچھ
نہ سن سکت تھ ۔ پہ ام ں کو چپ لگی تھی‘ اس ک ب د مجھ چپ
لگ گئی۔ زمین س کی ‘ موجود ڈھیر س رے رشتوں س میرا رشتہ
ٹوٹ گی تھ ۔ میں آج اس سرزمین پر زندگی گزار رہ ہوں‘ جو سرے
س میری نہیں۔ میری ان رشتوں س ملاق ت ہوتی ہ ‘ جو میرے
نہیں ہیں۔ کسی س کی کہوں‘ کی بت ؤں۔ میں بھی اپن حقیقی رشت
ک س تھ بدقسمتی اور شن خت س محرو لحد میں اتر گی ہوں۔
خوشی ک میں تھ ‘ مگر میرا یہ ں کون ہ ؟ م ں منوں مٹی ت ‘ اپن
من ک بوجھ ہ ک کرک ج سوئی ہ ۔
میں کس س اپنی کہہ کر‘ من ک بوجھ ہ ک کروں؟ بیوی س ۔۔۔۔۔۔ اپن
بچوں س ؟! س بقوں کی بوچھ ڑ‘ مجھ س یہ مردہ اور ب نش ن
س نسیں بھی چھین ل گی۔ سوالوں ک بہت س دائرے میرے گرد
جگہ بن لیں گ ۔ میرے ج ی رشت ‘ جھوٹ ک س تھ بھی چھوڑ ج ءیں
گ ۔ کچھ بھی سہی‘ میں اپنی نس ی نسبی اور علاق ئی شن خت ج ن چک
ہوں۔ میں جبل پور ک رئیس زادہ ہوں۔ میرے ب پ دادا ن و مق وال
تھ ۔ بدقسمتی مجھ چوتھ درج ک لوگوں میں ل آئی‘ ورنہ
ایس تو ہم رے کمی کمین ہوت ہوں گ ۔
ک ش‘ میں کسی س یہ س کہہ پ ت ۔۔۔۔۔۔ ک ش میری موت ک ب د‘
میری قبر ک لوح پر کندہ کر دی ج ئ ۔۔۔۔۔ نوا زادہ نوید عمر ولد
نوا خوشی محمد جبل پوری
11-7-1974
بڑا آدمی
چ لیس س ل پہ ‘ ہر زب ن پر تھ ‘ کہ کورا نکم اور ک چور ہ ‘ وہ
زندگی میں کچھ نہیں بن سک گ ۔ یہ کہن س پہ ‘ کوئی نہیں
سوچت تھ ‘ کہ آخر کس بوت پر‘ بڑا آدمی بن سکوں گ ۔ میرے پ س
ت ی تھی نہ پیسہ۔ مجھ تو لمبڑوں ک کت تک نہ ج نت تھ ۔ اب
بچ رے‘ مزدور آدمی تھ ۔ پت نہیں کس طرح ہ ‘ چ ر بہنوں اور دو
بھ ئیوں ک پیٹ کی آگ بجھ ت تھ ۔ میں ن کبھی‘ ان ک بدن پر
اچھ کپڑا نہیں دیکھ تھ ۔ ب چ ری ام ں ک بھی یہی ح ل تھ ۔ ان دونوں
ک چہروں پر‘ ب کسی اور ب بسی ڈیرے جم ئ رہتی تھی۔ اس ک
ب وجود‘ ان ک منہ س ‘ میں ن ن شکری ک ک مہ نہیں سن تھ ۔ میں
نہیں کہت ‘ وہ لڑت ی بحث نہیں کرت تھ ۔ ہ ں‘ ہ بہن بھ ئیوں ک
س من ‘ ہنست مسکرات ی سنجیدہ رہت تھ ۔ ان کی زندگی میں‘
کسی ن ہ بہن بھ ئیوں ک مت ‘ اپن منہ س کوئی برا ک مہ نہیں
نک لا تھ ۔ وہ رشتہ داروں ک دکھ سکھ میں ش مل ہوت ۔ اس پر بھی
خرچہ اٹھت ہو گ ۔ انھوں ن مرن س پہ ‘ اپنی تینوں بیٹیوں ک
ہ تھ پی کی اور ب عزت گھر س رخصت کی ۔۔
انھوں ن ہ دونوں بھ ئیوں پر‘ بہنوں ک رائی بھر بوجھ نہ رہن دی ۔
اب ج مرے‘ گی رہ روپ قرضہ میں نک ۔ ام ں ن ہ دونوں
بھ ئیوں کو پ س بٹھ ی اور بدلی صورت ح ل س آگ ہ کی ۔ یہ بھی کہ ‘
کہ تمہ رے اب ن گربت میں بھی‘ شریک میں عزت بن ئ رکھی ہ ۔
محنت مشقت کرو‘ ت کہ شریکوں کی بولی ں اور ط ن نہ سنن پڑیں۔
بھ ئی منڈی میں مزدوری ک ک کرت ۔ سچی ب ت ہ ‘ انھوں ن ‘
مجھ محرومی ک احس س تک نہ ہون دی ‘ کہ میں یتی ہو گی ہوں۔
انھوں ن بچت کرک قرضہ ات را۔ ام ں کو پوت پوتی ں دیکھن کی
بڑی تمن تھی۔ ان کی‘ سگی خ لہ کی بیٹی س ‘ بڑی س دگی س ‘ نک ح
کر دی گی ۔ پندرہ بیس دن خوشی خوشی گزر گی ۔ پھر بھ بی‘ جو خ لہ
زاد بہن بھی تھی‘ پہ ہ ک پھ ک اور ب د میں‘ بھ ری ل ظوں ک
پھتر برس ن لگی۔ ب چ ری ام ں بھی رینج میں آ ج تیں۔
بہنیں کبھی کبھ ر آ ج ی کرتی تھیں۔ ام ں کی موت ک ب د‘ بھ بی کی
چخ چخ س تنگ آ کر‘ آن ہی بند کر دی ۔ دل دکھت ۔ میں کی کر سکت
تھ ۔ بھ ئی تو جیس گونگ بہرے ہو گی تھ ۔ پ س بیٹھ ‘ اپنی
بیوی ک زہر بھرے تیر‘ اپنی بہنوں پر برست دیکھت رہت ۔ ان ک
منہ پر چپ ک ت لہ س لگ گی تھ ۔ میں زی دہ ن سہی‘ کچھ تو کم کر لات
ہی تھ ۔ اس ک ب وجود اس کی زب ن پر میرے لی ‘ نکم نکھٹو اور
حرا خور ایس ثقیل ل ظ رہت ۔ اسی پر اکت نہیں کرتیں‘ ہر آن
ج ن وال ک س من میری ب ک ری ک رون روتی۔ ش ید ہی‘ کوئی
خرابیی رہ گئی ہو‘ جو میرے ن منسو کی گئی ہو گی۔
ب ض اوق ت‘ اس کی چھوٹی اور چچی آنکھوں میں‘ موٹ موٹ آنسو
اتر آت ‘ جیس اس کی کسی ن پھڑک پھڑک کر ہڈی پس ی ایک کر
دی ہو۔ میں ن بھی چپ میں ع فیت سمجھی تھی۔ میں ج نت تھ کہ اگر
میرے منہ س ایک ل ظ بھی نکل گی ‘ تو بھ ئی پر قی مت ٹوٹ پڑے
گی۔ ب چ رہ س را دن محنت کرت ہ ‘ ش کو آت ہی‘ اس کی ج ن کھ
ل گی۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ کھ ن کھ ت ی ک پر ج ت وقت‘ اس ک
منہ کھ ت ۔ یوں برستی‘ جیس رانی توپ گول برس رہی ہو۔ ایک آدھ
ب ر بھ ئی ن چوں کرن کی کوشش کی۔ چپ ہون کی بج ئ ‘ وہ اور
تیز ہو گئی۔ ب ض اوق ت تو یوں لگت ‘ جیس اس ن مکتی ب ہمی
والوں س ب ق عدہ ٹرینگ ح صل کر رکھی ہو۔
م سی جنت ‘ جو میری ام ں کی اک وتی سہی ی تھی‘ اور پورے گ ؤں
میں پرانی عمر کی عورت تھی‘ ورنہ س اللہ کو پی ری ہو چکی تھیں‘
مجھ پی ر کرتی اور تس ی دلاسہ دیتی۔ اس ن مجھ الگ ہو ج ن
ک مشورہ دی ۔ گ ؤں کی عورتیں مجھ یوں دیکھتیں‘ جیس میں ان
ک پ س کھ ت ہوں۔ میں نکم اور ک چور نہ تھ ‘ بس محدود سی
کم ئ بھ بی کی ہتھی ی پر دھرت تھ ۔ وہ لمب چوڑے بوب کی خواہش
کرتی تھی‘ مگر بوب ‘ آت کہ ں س ۔ بوب تو‘ م شی لٹیروں‘
اسمگ روں‘ دفتری ب دش ہوں‘ چھ ڑ حضرات ی پھر‘ ح کموں اور ان ک
د چھ وں ک کھیس لگت ہ ۔
ج دیکھو‘ اپن میک والوں کی شرافت اور محنت و مشقت ک
قص سن تی رہتی۔ م سی تو ہم ری تھی‘ کی ہ انھیں ج نت نہیں تھ ۔
بس چپ چ پ اس کی جھوٹی پھوٹیں سنت رہت ۔ اخلاقی جرات کہ ں
س آتی‘ ہ میں اخلا ہی ک تھ ۔ اخلا گری لوگوں کی چیز نہیں۔ یہ
بنگ وں اور مح وں میں بست ھ ۔ اس وہ ں ہی آسودگی محسوس
ہوتی ہ ۔
اس رات‘ میں ن گھر س چ ج ن ک فیص ہ کر لی ۔ سوال یہ تھ ‘
ج ؤں گ کہ ں؟ میرے پ س پھوٹی کوڑی تک نہ تھی۔ میں ن یہ سوچ
کر‘ خود کو سمبھ لا دی ‘ کہ اللہ اپنی جن س ضرور کوئی ن کوئی
بندوبست کر دے گ ۔ میں ن صبح کو‘ بھ ئی س ‘ بھ بی ک س من ‘
اپن ارادہ ظ ہر کی ۔ بھ ئی سکت میں آ گی ‘ اور بجھ س گی ‘ لیکن بھ بی
ن کہ ‘ ج ن دو‘ ج کم کر کھ ئ گ ‘ تو سمجھ آ ج ئ گی۔ پت نہیں
اورکی کچھ کہ ۔ میں ن بھیگی آنکھوں س گھر کو خیر آب د کہ ۔
بھ بی م ں تو نہیں تھی‘ جو کٹ کٹ ج تی اور راہ کی دیوار بن ج ئ
گی۔ وہ تو مجھ لای نی بوجھ سمجھتی تھی۔ میرے چ ج ن س ‘
اس کی مردود آتم کو‘ ش نتی مل گئی ہو گی۔
س را دن پریش نی‘ بیت لمحوں کی ی د اور اگ وقت کی پلانگ کرن
میں گزرا۔ وہ رات‘ میں ن اپن ایک دوست ک ہ ں گزاری۔ صبح
اٹھ ‘ زندگی میں پہ ی مرتبہ مسجد ک رخ کی ۔ وہ ں میری ملاق ت‘ ح جی
ولی محمد ص ح س ہوئی۔ مجھ نم ز پڑھت دیکھ کر‘ انھوں ن
اندازہ لگ لی ‘ کہ پہ ی ب ر نم ز پڑھ رہ ہوں۔ انھوں ن مجھ اپن
پ س بلای اور نم ز کی فضی ت اور نم ز پڑھن ک طریقہ س آگ ہ
کرن لگ ۔ میں سر جھک کر‘ بڑھ احترا س ‘ ان کی ب تیں سنت
رہ ۔ ج انھوں ن ‘ ب ت خت کی تو میری آنکھیں‘ ب اختی ر چھ ک
پڑیں۔ انھوں ن مجھ س رون کی وجہ پوچھی۔ میں ن س را م جرا
کہہ دی ۔ بڑے پریش ن ہوءے۔ پھر وہ مجھ اپن س تھ ل گی ۔
ان کی م رکیٹ میں بہت بڑی کپڑے کی دک ن تھی۔ دک ن پر گ ہکی بہت
تھی۔ مجھ انھوں ن چ ئ وغیرہ لان ک ک سونپ ۔ رات کو سو
رہن ک لی ‘ گودا ک ایک کمرہ عن یت کی ۔ میں ن دلی ایم ن داری
س ک کی ۔ ح جی ص ح کی چھ بیٹی ں تھیں‘ بیٹ ایک بھی نہ تھ ۔
انھوں ن مجھ سچ ب پ ک پی ر دی ۔ میں پک نم زی ہو گی ۔ پھر میں
گھر ک سودا س ف لا کر دین لگ ۔ میں ان ک گھر ک فرد س ہو گی ۔
م ئی ص حبہ‘ مجھ بڑا پی ر کرتی تھیں۔ ح جی ص ح کی بیٹی ں
مجھ اپن بھ ئی سمجھن لگیں۔ جس دن ح جی ص ح بیم ر ہوت ‘ ی
کہیں ج ت ‘ میں دک ن سمبھ ت ۔ پھر ح جی ص ح مس سل بیم ر رہن
لگ ۔ میں دک ن سمبھ لن ک س تھ س تھ ڈاکٹروں ک پ س لی پھرا۔
رات کو ان ک پ ؤں دب ت ۔ میں ن ان کی خدمت کرن میں اپنی سی
پوری کوشش کی۔ مجھ ان میں اپن ب پ نظر آت تھ ۔
ک تک‘ موت ن ‘ میرا یہ ب پ بھی چھین لی ۔ ہ ں‘ اس ب پ ن ‘
مجھ لکھ پتی بن دی ۔ ا میں علاقہ ک ‘ م زز ترین شخص تھ ۔ میرے
بھی ‘ بھ بی کی ت وار زب ن ک ہ تھوں‘ چھوٹ چھوٹ بچ چھوڑ کر
زبح ہو گی ۔ ا میں کورا نہیں‘ ح جی عبدالشکور تھ ۔ ح جی ص ح
کی بیوہ ی نی م ں ن ‘ مجھ بھ وج س نک ح کر لین ک مشورہ دی ۔
ان ک خی ل تھ ‘ بچ رل ج ئیں گ ۔ میں ان ک اس مشورے پر حیران
تھ لیکن ان ک کہ ‘ کیس ٹ ل سکت تھ ۔ ا وہ‘ کمو کی بیوی نہیں‘
ح جی عبدالشکور کی بیوی تھی۔ اس کئی ب ر بولن ک دورہ پڑا‘
لیکن اپن چھوٹ بھ ئی‘ ہدات ک ہ تھوں پٹ ج تی۔ یہ وہی بھ ئی
تھ ‘ جس ک گن گ تی نہ تھکتی تھی۔ ہدیت ان دنوں میرا ب ڈی گ رڈ تھ ۔
میرے انگ ی ک اش رے پر‘ وہ کچھ بھی کر سکت تھ ۔ یہ فریضہ‘
میرے کہ ی میرے کسی اش رے ک بغیر ہی انج دیت تھ ۔
میں ن پچھلا الیکشن بھی جیت ۔ اللہ ن بڑی عزت دی ہ ۔ کسی چیز
کی کمی ب قی نہیں رہی۔ ح جی ص ح قصہ پ رینہ ہو گی ہیں۔ بہت ک
لوگوں کو‘ وہ ی د رہ ہیں۔ آج میں‘ س کو ی د ہوں۔ آت کل کو‘ لوگ
میرے بیٹ کو ی د رکھیں گ ۔ دونوں طرف کی بہنیں آتی ہیں۔ میں ان
کی عزت اور خدمت کرت ہوں۔ اپنی ضرورت س زی دہ‘ کم ئی میں
س نہیں رکھت ۔ یہ بہنیں‘ مجھ سگی بہنوں س زی دہ عزیز ہیں۔
س کچھ‘ ان ہی ک تو ہ ‘ میری اصل اوق ت تو چ ئ لان وال کی
ہ ۔ م ل و دولت اور عزت مجھ محنت کرک دستی نہیں ہوئی۔
محنت کی کم ئی س تو‘ میں ایک بکری بھی نہیں خرید سکت تھ ۔ یہ
اوپر وال ک خصوصی احس ن تھ ۔ وقت کی خوش گوار کروٹ تھی۔
آج میں بڑا اور ص ح حثیت آدمی ہوں‘ مگر ک تک‘ بس س نسوں
ک آن ج ن تک۔ اس ک ب د‘ کسی ک خوا وخی ل میں بھی نہیں
رہوں گ ۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ لوگ میرے س من اور پشت پیچھ ‘
مجھ بڑا آدمی کہت ہیں اور سمجھت بھی ہیں۔ سوچت ہوں‘ یہ کیس
بڑاپن ہ ‘ جو س نسوں س مشروط ہ ۔ بڑا تو سقراط تھ ‘ جو مر کر
بھی‘ مرا نہیں۔ وقت ک فیص ہ بھی کتن عجی ہ ‘ کہ ش ہ حسین س
بھوک ننگ ‘ آج بھی زندہ اورلاکھوں دلوں میں‘ اپنی عزت اور محبت
رکھت ہیں۔ ق رون ک سوا‘ مجھ س لاکھوں لکھ پتی‘ جو وقت ک
بہت بڑے آدمی تھ ‘ آج کسی کو ی د تک نہیں ہیں۔ یہ بڑاپن کیس ہ ‘
جو کیڑوں مکوڑوں س مخت ف نہیں۔
9-2-1978
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
یہ تحریر واق ی میں بہت کر رکھتی ہ ۔ اور پھر آپ ک لکھن ک
انداز ن اس بیش قیمت بن دی ہ ۔ ق ری کو ایس جہ ن کی سیر
کروا کر نتیجہ کی طرف لاتی ہ اثر روح تک اتر ج ت ہ ۔ پھر جس
قدر ٓاپ ن ح لات و واق ت لکھ ہیں ٓاپ ک تجزیئ کی ط قت اور
احس س کی وس ت اس س ظ ہر ہ کہ جیس م و نہیں کتن ہی
قری س آپ ن یہ س دیکھ ہ ۔
ہمیں وقت کی کمی رہتی ہ ،لیکن ٓاپ ک مض مین اور افس ن پڑھن
کی کوشش کرت ہیں۔ اور بہت پسند آت ہ ہمیں ٓاپ ک لکھ ۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8673.0
حلالہ
جوانی ک دورانیہ‘ اگرچہ کچھ زی دہ نہیں ہوت ‘ لیکن آدمی اس مختصر
سی مدت میں‘ بہت کچھ کر گزرت ہ ی کر سکت ہ ۔ اس ک گزر
ج ن ک ب د‘ اعص اور دم غی صلاحتیں‘ ڈھ ت س ئ ک اترن ل