The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2018-04-30 03:59:11

ایک سو بیس افسانے

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Keywords: short stories urdu

‫نے عمر کے آخری ای ' چھڑی کے سہ رے گزارے۔ ک ن بھی جوا‬
‫دے گئے تھے' ہ ئے بچ ری بھ بی۔‬

‫ا سم عت کی رخصتی ک کی ف ئدہ تھ ' لالہ تو عرصہ پہ ے قبرب سی‬
‫ہوگی تھ ۔‬

‫بھ ئی! آپ یہ کیسی ب تیں کر رہے ہیں۔ س دیہ ک انداز گھبرای اور‬
‫پریش نی آمیز تھ ' جیسے اس قس کی ب ت گراں ب ر ہوئی ہو۔ اس نے‬
‫ادھر ادھر دیکھ ' وہ ں کوئی بھی نہ تھ ۔ پھر یہ سوچ کر مسکرا دی '‬

‫دیواروں کے بھی ک ن ہوتے ہیں۔‬

‫یہ ان کے بھ ئی کی' ج ن کھچ خ تون تھی اور بھ ے وقتوں میں' ان‬
‫کے بھ ئی شوکت نے اپنے جگری دوست ع یے سے' بڑے ہی سستے‬
‫داموں میں' خرید کی تھی۔ وہ اسے ک بیچنے والا تھ ' اس کی بیوی'‬
‫صبح ش جھگڑا کرتی تھی' ح لاں کہ اس کے ب برکت قدموں کے ط یل'‬

‫انھیں چوپڑی دستی ہو رہی تھی۔‬

‫اس نے لالے شوکت ہوراں کے گھر آتے ہی' ن صرف لالے ہوراں کے‬
‫حواس پر قبضہ جم ی ' ب کہ اس کے بہن بھ ئیوں کے خلاف سرابی‬

‫کم د بو کر' اس کی س ری کم ئی کھیسے کرن شروع کر دی تھی۔ اس‬
‫کی سوت بھی' اسی طرح چ تی پھرتی' لالے ہوراں کے ہ تھ لگی تھی‬

‫اور خ ندان کی عورت کو' طلا ک زہر پلا دی گی تھ ۔ گوی وہ اپنی‬
‫کرامتوں کے حوالہ سے کچھ ک نہ تھی۔ اس حقیقت کے ب وجود' وہ‬
‫اس خ تون کے پ سنگ نہ تھی۔ لالے ہوریں ابتدا اک وتے ہوتے کے‬

‫سب ' لاڈوں پ ے تھے۔ م ں ب پ نے اس پر س ری انرجی صرف کر دی‬
‫تھی۔ ش ید اسی کے سب ' وہ شروع ہی پڑھے لکھے چول تھے۔‬

‫م ں ب پ نے' پڑھ ئی لکھ ئی کی غرض سے' اس ک چھوٹ بھ ئی اس‬
‫کے پ س چھوڑا تھ ۔ پڑھ نے لکھ نے کی بج ئے' سبزی سب ڑی لان اور‬

‫ن مہ بری ک فریضہ' اسے سونپ دی گی ۔ ج م ں ب پ کو خبر ہوئی'‬
‫پ نی سر سے گزر چک تھ ۔ انہوں نے سدھ ر کی پوری کوشش کی'‬
‫لیکن ا کی ہوت ج چڑی ں چگ گئیں کھیت۔ یہ ہی نہیں' چھوٹی بہن‬
‫کے خ وند' جس کی ع دتیں پہ ے ہی بگڑی ہوئی تھیں' اپن تھیلا بردار‬
‫بن لی ۔ گھر سے' ک کے لیے نک ت اور لالے ہوراں کے ہ ں ڈیرے لگ‬
‫لیت ۔ لالے ہوراں کے ہ ں' ن صرف گھر ک سودا س ف لات ' ب کہ طوائف‬
‫کدے' جوگن ب ئی ک ڈانس بھی دیکھنے ج ت ۔ ف می ہیرونوں کی زی رت‬

‫کے لیے' س تھ س تھ ہوت ۔ ب ض رنگین موق وں پر' چوکیداری ک‬
‫فریضہ انج دے کر' ح نمک ادا کرت ۔ ج گھر ج ت ' تو لالے ہوریں'‬

‫اس کی ہتھی ی پر سکے رکھ دیتے۔‬

‫آخر ک تک' م م ہ کھلا تو مرض تیسری اسٹیج پر آ چک تھ ۔ وہ ن اہل‬
‫اور نکم ہو چک تھ ۔ آخری عمر تک را توت بن رہ ۔ بیٹی کی خ طر م ں‬
‫ب پ اس ک بوجھ اٹھ تے رہے۔ بس اسی طرح روتے دھوتے عمر گزار‬
‫کر' م ک عد کو سدھ را اور اپنے توت ئی جراثی ' اولاد کو بھی دے گی '‬
‫جو نہ م نے ی انک ر کی صورت میں' م مے م سیوں کو برا بھلا کہنے‬

‫میں' پوری انرجی صرف کر دیتے۔‬

‫س دیہ اور شکیل کی خوش قسمتی تھی' کہ چھوٹے ہونے ب عث' لالے‬
‫ہوراں کی دست برد سے' ب ہر رہے' ورنہ ان ک حشر بھی' پہ وں سے‬

‫مخت ف نہ ہوت ۔ ت ہ ب لواسطہ سہی' ان دونوں کے گوڈوں گٹوں میں‬
‫بیٹھ ۔ ہ ں ان کی شخصیت م ں ب پ کے زیر اثر ترکی پ ئی۔‬

‫شکیل' ہنسی خوشی زندگی گزار رہ تھ ' کہ بچے کی پیدائش کے‬
‫تیسرے دن' اس کی بیوی ص یہ قض ئے الہی سے' انتق ل کر گئی۔ اس‬
‫کے سسر ع ل نے' اپنی دوہتری سے' اس ک نک ح طے کر دی ۔ لالے‬
‫ہوراں سے' شکیل کے ت ق ت ہی و ہ ئے سے زی دہ نہ تھے۔ اس خریدہ‬
‫خ تون نے' اپنی سوتن کے بڑے بیٹے کی منگنی' م دری سوس ئٹی کی‬
‫ایک لڑکی سے' کر رکھی تھی اور وہ' سوس ئٹی کے رواج کے مط ب '‬
‫نک ح دینے میں' حی ے بہ نے بن رہے تھے۔ ان کی بڑی بیٹی' چھتیس‬
‫س ل کی ہو چ ی تھی۔ اس کی حنطل سخنی کے سب ' کوئی رشتے کی‬
‫ذیل میں' نزدیک سے گزرنے سے خوف کھ ت تھ ۔ شکیل کی بیوی کی‬
‫موت کے ب د' اس خریدہ خ تون کے ہ تھ موقع لگ گی ۔ شکیل' ان س‬
‫کے اطوار اور طینت سے خو خو آگ ہ تھ ۔ دوسرا اس ک سسر جو‬
‫بھلا آدمی تھ ' اس کے مستقبل ک فیص ہ کر چک تھ ۔ لالے ہوراں کی‬
‫خریدہ لالی نے' شکیل کی' اس حنطل کلا خ تون سے منگنی کر دی‬
‫اور منگنی کی انگوٹھی' شک یل کے حوالے کر دی۔ شکیل نے' چ لیس‬
‫ب ر منگنی کی انگوٹھی واپس کی۔ اس کے ب د' قریبی رشتہ داروں کو‬

‫بھیجنے ک عمل شروع کر دی ' ان آنے والوں میں س دیہ بھی تھی۔‬

‫ک تک' آخر شکیل کو ہتھی ر ڈالن پڑے۔ نک ح کے روز' وہ پریش نی‬

‫سے' ری وے اسٹیشن کی کنٹین پر ج بیٹھ ۔ آخر تلاش لی گی اور پھر'‬
‫اس کی خریدہ دیوت کے چرنوں میں قرب نی پیش کر دی گئی' جس‬

‫سے' اس کی شکتی میں بےپن ہ اض فہ ہوا۔ گل حنطل سے' اس کی چند‬
‫روز سے زی دہ نبھ نہ سکی۔ شکیل ک ہر رشتہ دار' جو پہ ے سکندر‬
‫اعظ بنت تھ ' اس کے ب د سکندر اعظ کی طرح' د دب کر بھ گ گی ۔‬

‫شکیل کو بھی' ش شیر سے بکری بنن پڑا۔ کوئی قد اٹھ ت تو‬
‫بھتیجے ک بھی گھر اجڑت ۔ پہ ی قسط میں س دیہ سمیت' س رے رشتہ‬

‫دار گیے اور پھر گھر کی سوئی سلائی' اس کے وچ رے گری بہن‬
‫بھ ئیوں کے قد لینے لگی۔‬

‫س دیہ' اپنے بھ ئی کی ح لت زار پر' دکھی ہوتی۔ اس نے بھ ئی کے‬
‫لیے' دیکھنے میں' م صو اور بھولی بھ ئی لڑکی تلاش کی۔ شکیل عقد‬
‫ث نی پر رض مند نہ ہوا اور بڑا سمجھ ی ۔ وہ بھ ئی کی جدائی اور محبت‬

‫میں پ گل ہو گئی تھی۔ یہ ں بھی' چوتیے شکیل کو ہی ہ ر م نن پڑی۔‬
‫اس نے سوچ ش ید بہتری کی کوئی صورت نکل آئے۔ س دیہ کو یہ‬
‫موٹی سی ب ت سمجھ میں نہ آ سکی' کہ اس م صو اور بھولی بھ ئی‬
‫کو زب ن دانی اور میکہ پ لنی کی وجہ سے' دو ب ر طلا ہو چکی تھی۔‬
‫س دیہ نے قس کھ کر بت ی ' کہ وہ ان ب توں کی' خبر نہیں رکھتی تھی۔‬
‫شکیل چوتی بکری سے بھ بھیڑ ہو چک تھ ۔ ہ ں البتہ' گل حنطل‬

‫نکرے لگ چکی تھی۔ س دیہ سے خ یہ رابطہ بھی خت ہو گی ۔‬

‫ب ت کو' کئی س ل گزر گیے۔ ایک دن' شکیل کو خ یہ پیغ ملا کہ پ رک‬
‫میں کوئی' اسے بلات ہے۔ اس نے بڑا غور کی ' کون ہو سکت ہے۔ اس‬

‫کے اندر سے آواز آئی' س دیہ کے سوا اور بھلا کون ہو سکت ہے۔‬
‫پہ ے تو اس نے سوچ ' نہیں ج ت پھر اس کے ن دانستہ طور' پ رک کی‬
‫ج ن قد اٹھ ہی گیے۔ وہ س دیہ ہی تھی۔ وہ ج ی غصے سے پیچھے‬
‫مڑنے لگ ۔ س دیہ نے ج دی سے' اسے پکڑ لی ۔ پھر دونوں بہن بھ ئی‬

‫ایک دوسرے سے لپٹ کر خو روئے۔ من ک غب ر چھٹ ج نے کے‬
‫ب د' دوب ر ایک دوسرے سے پہ ے کی طرح ہو گیے۔‬

‫س دیہ نے' پچھلا دھون دھونے ک فیص ہ کی ۔ پہ ے تو ان کی' ہنسی‬
‫مذا میں ب ت چ تی رہی' پھر ایک دن شکیل فرضی سنجیدہ بھی ہو گی ۔‬
‫اس نے س دیہ سے کہ ' آج تک میں نے' ایک تقریب پڑھی لکھی ج ہل‬

‫سے اور دوسری مکمل ج ہل طلاقن کے س تھ' زندگی گزاری ہے۔ ا‬
‫میں صرف اور صرف' پڑھی لکھی بیوہ کے س تھ' نک ح کرن چ ہوں گ ۔‬
‫س دیہ حیران تھی کہ اس ک بھ ئی' کس قس کی شرط ع ئد کر رہ تھ ۔‬

‫ان کی اس مدے پر' کئی دن ب ت چ ی اور س دیہ نے' ع ئدہ شرط کی‬
‫عورت بھی تلاش لی۔ وہ ٹی ی فون پر اس ک ح ل دری فت کرتے ہوئے‬
‫پوچھت ' حضرت بیوہ شریف کیسی ہیں۔ وہ ہنس پڑتی' س تھ میں آنے‬
‫کے لیے بھی کہتی۔ م م ے کو س ت م ہ گزر گیے۔ ایک دن س دیہ نے'‬

‫ایک س تھ تین سوال جڑ دیے۔‬

‫نہ اس کے س تھ ب ت کرتے ہو' نہ آتے ہو اور یہ بھی نہیں بت تے' کہ‬
‫یہ شرط کیوں ع ئد کی تھی۔‬

‫اس نے زوردار قہقہ لگ ی ' اور کہ ' ب توں ک ڈس ہوا ہوں' ا ہر عوت‬

‫سے ب ت کرتے' مجھے کمبنی آتی ہے۔ شروع میں' شریں زب نی سے‬
‫ک لے گی' نک ح کے چند روز ب د ی اگ ے روز ہی' وکھی پرنے بولے‬

‫گی۔ دوسرے سوال ک جوا یہ ہے کہ ا میں نہیں' ت آؤ گی۔۔۔۔۔ہ ں‬
‫ت ۔۔۔۔۔۔ جس مقصد کے لیے' شرط ع ئد کی تھی' وہ یہ ں ہی پوری ہونے‬

‫والی ہے۔‬

‫کی مط ۔۔۔۔۔ شرط ک م ہو تو کہیں ن ۔‬

‫س دیہ' میں خود کشی کو حرا سمجھت ہوں۔ میرے لیے' مزید س نس‬
‫لین مح ل ہو گی تھ ۔ میرا خی ل تھ ' کہ بیوہ کے ہ تھوں نواں نکور‬
‫پھڑک گی ' میں اس کے س منے کی چیز ہوں گ ۔ حضرت بیوہ شریف‬

‫میرے نک ح میں نہیں آئیں' منسو تو ہوئی ہیں۔ یہ ان کی کرامت ہے'‬
‫کہ میں ا ج رہ ہوں۔ ا مجھے نہیں' تمہیں آن پڑے گ ۔ س دیہ کی‬

‫سسکی ں نکل گئیں۔ وہ آف لائین ہو چک تھ ا س دیہ اور حضرت بیوہ‬
‫شریف کو' اس ک آخری دیدار کرنے آن پڑا۔ لوگ اسے' اس ک کچھ‬
‫بھی نہیں سمجھ رہے تھے' ح لاں کہ وہ کچھ نہیں کی' دیوار پھ ند‬
‫چکی تھی۔ وہ بےچ ری ہنسی مذا میں' ایک ب ر پھر بیوہ ہو چکی‬

‫تھی۔ وہ کچھ ن کچھ ہو کر بھی' مرحو کی پنشن میں سے' کچھ نہیں‬
‫قرار پ کر' م مولی سے بھی محرو ہو گئی تھی۔‬

‫میں ہی ق تل ہوں‬

‫ک م کبو‘ تیز قدموں سے کھیتر کی طرف بڑھ رہ تھ ۔ آج کھیتر پر ک‬
‫ک فی تھ ۔ دوسرا چودھری کے موڈ ک بھی کچھ پت نہیں چ ت تھ ۔ اس‬
‫کے بگڑنے کے لیے‘ کسی وجہ ک ہون ضروری نہ تھ ۔ چودھرین سے‬
‫اپنے لچھنوں کی وجہ سے‘ چھتر کھ ت رہت تھ ۔ گھر ک غصہ ب ہر آ کر‬
‫ک موں پر نک لت ۔ ک ک ج کوئی کرت نہیں تھ ‘ گھر سے یوں سج سنور‬
‫کر نک ت جیسے جنج چڑھنے ج رہ ہو۔ س را دن ڈیرہ پر بیٹھ ‘ آئے‬
‫گئے کے س تھ گپیں ہ نکت ی پنڈ کی سوہنی کڑیوں کے ن ز و ادا کے‬

‫قصے سنت ۔ کوئی ہتھے چڑھ ج تی تو م فی ک دروازہ بند کر دیت ۔‬
‫ن ک می کی صورت رہتی‘ تو س را غصہ ک موں پر نک لت ۔ س چپ‬

‫رہتے‘ ہر کسی کو ج ن اور چمڑی بڑی عزیز ہوتی ہے۔‬

‫کھیتر پر آتے ج تے اس طرح کی سوچیں اسے گھیرے رکھتیں‪ ،‬غ طی‬
‫ی ظ ‘ زی دتی چودھری کرت ڈال گری ک موں پر دی ج تی۔ وہ سوچ رہ‬

‫تھ ‘ یہ زندگی بھی کیسی ہے گھر ج ؤ‘ کوئی ن کوئی مس ہ راہ روکے‬
‫کھڑا ہوت ۔ ب ہر آؤ تو ک مے پر وہ کچھ بیت ج ت جو اس کے خوا و‬

‫خی ل میں بھی نہ ہوت ۔‬

‫ج وہ کھیتر پہنچ ‘ وہ ں عج کھیل رچ ہوا تھ ۔ چودھری کے ہ تھ‬
‫میں خون آلودہ چھرا تھ اور س منے ک م ابی‘ خون میں لت پت پڑا تھ ۔‬
‫وہ یہ منظر دیکھ کر گھبرا گی ۔ چودھری سخت غصے میں تھ ۔ اس نے‬

‫چھرا ک مے کبو کی طرف بڑھ تے ہوئے کہ ‪ :‬ذرا اسے پکڑن ‘ کبو نے‬
‫پکڑ لی اور خود ک مے ابی کے پ س پہنچ گی اور افسردہ و پریش ن ہو‬

‫کر اس کے پ س بیٹھ گی ۔ دریں اثن پولیس پہنچ گئی اور کبو کو پکڑ لی ۔‬

‫چودھری غصے سے اٹھ اور پ ن س ت کبو کو رکھ دیں۔ مجھے پت نہ‬
‫تھ کہ ت اتنے ظ ل اور کمینے ہو۔ پولیس والوں نے کہ چودھری ت‬

‫چھوڑو‘ تھ نے ج کر ہ اس کی طبی ت ص ف کر دیں گے۔ وہ ں موقع‬
‫پر اور بھی دو تین ک مے موجود تھے‘ کسی کے منہ سے سچ نہ‬
‫پھوٹ ۔ اس اچ نک ن زلی آفت نے اس کے ہوش ہی گ کر دیے۔‬

‫تھ نے ج کر اس کی خو لترول کی گئی۔ وہ کہے ج رہ تھ ‘ میں نے‬
‫کچھ نہیں کی ۔ اس کی ک کوئی سن رہ تھ ۔‬

‫ایک شپ ئی بولا‪ :‬تمہیں ہ نے کچھ نہ کرنے سے روک تھ ۔‬
‫ایک اور نے ن رہ لگ ؤ‪ :‬کچھ کر لیتے ن‬

‫ایک نے کہ ‪ :‬ا یہ ں سے ج کر کچھ کر لین‬
‫پہ ے والا بولا‪ :‬یہ ں سے ج ئے تو ہی کچھ کرئے گ‬
‫ایک جو ذرا پرے کھڑا تھ کہنے لگ ‪ :‬تو پھر یہ قتل کس نے کی ہے۔‬

‫خون سے بھرا چھرا تو تمہ رے ہ تھ میں تھ ۔‬
‫حجور قتل کرن تو دور کی ب ت‘ میں تو ایس قیمتی چھرا خرید ہی نہیں‬

‫سکت ۔ چھرا تو چودھری نے مجھے پکڑای تھ ۔‬
‫الزا تراشی کرتے ہو۔ اس کے ب د لاتوں مکوں اور تھپڑوں کی برس ت‬

‫ہو گئی۔‬

‫تھ نہ تو تھ نہ‘ کورٹ کچہری بھی اس کی سن نہیں رہی تھی۔ لگت تھ ‘‬
‫کہ کورٹ کچہری بھی چودھری ہی کی تھی۔ ہر کوئی اسے دشن کر رہ‬

‫تھ ۔ اس کی تو کوئی سن ہی نہیں رہ تھ ۔ م جرے کو آنکھوں سے‬
‫دیکھنے والے‘ اس کے ہی گری س تھی تھے۔ وہ بھی دیکھ اور ج ن‬
‫کر‘ کبو ہی کو مجر ٹھہرا رہے تھے۔ اس کے ح میں‘ ایک بھی نہ‬
‫تھ ۔ ہر کوئی اسے ق تل کہے ج رہ تھ ۔ اس نے سوچ ‘ ج اتنے لوگ‬
‫کہہ رہے ہیں کہ میں ق تل ہوں تو یقین میں ہی ق تل ہوں۔ پھر اس نے‬
‫کہن شوع کر دی ‪ :‬ہ ں ہ ں میں ہی ق تل ہوں۔۔۔۔ابی کو میں نے ہی قتل کی‬

‫تھ ۔‬

‫سراپے کی دنی‬

‫اس کے حسن کی ت ریف کرنے بیٹھوں تو ش ید‘ بہت س ری تشبیہ ت‬
‫کے است م ل کے ب وجود‘ ب ت نہ بن پ ئے گی۔ اسے زمین پر الله ک‬

‫تخ ی کردہ م سٹر پیس کہن ‘ کسی طرح غ ط نہ ہو گ ۔ لب س کے اندر‬
‫بھی ش ید یہ ہی صورت رہی ہو گی۔ ہ لب س کے ب ہر پر مر مٹتے ہیں‘‬

‫ج لب س کے اندر جھ نکتے ہیں تو سخت م یوسی ہوتی ہے۔ اسی‬
‫طرح ج گوشت پوست اور ہڈیوں کے پیچھے جھ نکنے ک موقع م ت‬
‫ہے‘ تو سر پر گھڑوں پ نی پڑ ج ت ہے۔ ج تک یہ ج ننے ک موقع م ت‬

‫ہے‘ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گوی‬

‫نہ ج ئے م ندن نہ پ ئے رفتن‬

‫کی کی یت ط ری ہو ج تی ہے۔ وقت گزرنے کے ب د‘ پھسی کو پھڑکن‬
‫کیس‬

‫ہی ب قی رہ ج ت ہے۔‬

‫اس کے پ س میرا کسی ک کے س س ے میں ج ن ہوا تھ ۔ اسے دیکھ‬
‫کر‘ مجھے اصل مدع ہی ی د نہ رہ ۔ وہ تو اچھ ہوا کہ میں کچھ دیر‬

‫ب د‘ اپنے آپے میں آ گی ۔ میں قری چلا گی ‘ سلا بلای ۔ اس نے بلا اوپر‬
‫دیکھے‘ سلا ک تقریب س جوا دی ۔ میں نے اسے ہی غنیمت سمجھ‬
‫اور بڑے ملائ اور پری بھرے لہجے میں عرض کی ‘ میڈ میں ایک‬
‫سم جی م م ے پر ریسرچ کر رہ ہوں‘ اس ذیل میں چند ایک سوالات‬
‫کے جوا درک ر ہیں۔ اس نے سر اٹھ ی اور بڑی بے رخی سے جوا‬
‫دی ‪ :‬میں بہت مصروف ہوں جو پوچھن ہے ج دی سے پوچھ لو۔‬

‫جی میڈ ‘ آپ ک ن‬

‫ت نیہ‬

‫آپ مق می ہیں ی ب ہر سے تشریف لائی ہیں‬

‫کوئی ڈھنگ ک اور مت سوال پوچھو‬

‫بہتر میڈ ‘ پڑھ ئی سے وابستہ ہیں‬

‫ای فل ف رمیسی کر رہی ہوں‬

‫اس کے چہرے کی اکت ہٹ دیکھ کر میں نے آخری سوال کی‬

‫ای فل ف رمیسی کرنے کے ب د کی جذبہ اور ارادہ رکھتی ہیں۔‬

‫اس کے ب د کی کرن ہے‘ ٹیبل پر بیٹھی ون لیگ روزانہ ک کم ؤں گی۔‬

‫میرا خی ل تھ کہ کہے گی‘ انس ن کی بےلوث خدمت کروں گی۔ خو‬
‫صورت لب س اور خو صورت سراپے میں چھپ پیٹو شیط ن‘ میرے‬
‫سوچ کی دھجی ں بکھر رہ تھ ۔ میرے سوچ ک شیش محل کرچی کرچی‬

‫ہو کر گندگی کی دلدل میں دھنس چک تھ ۔ میں نے سوچ ‘ یہ کیس‬
‫انس ن س پتلا ہے جو من میں اپنی ذات سے ہٹ کر‘ کچھ نہیں رکھت ۔‬

‫آگہی ک حصول محض پیٹ کے لیے ہو گی ہے۔‬

‫پھر میں نے سوچ ‘ اتن کم کر آخر کی کر لے گی۔ کوٹھی بنگ ہ اور‬
‫بینک بی نس بن لے گی۔ اس سے کی فر پڑے گ ۔ قبر میں تو کچھ نہیں‬

‫ج سکے گ ۔ مر ج نے کے ب د‘ پی ر کرنے والوں کو بھی ج دی ں ہوں‬
‫گی۔ لاش کے لیے کون بےک ر میں وقت ض ئع کرت پھرے۔ اس کوٹھی‬
‫بنگ ے اور بینک بی نس کی تقسی پر‘ سگے بہن بھ ئیوں کے کئی یدھ‬

‫ہوں گے۔ کورٹ کچری چڑھیں گے۔ کسی کو کبھی اس کی قبر پر‬
‫بھولے سے بھی‘ چ ر پھول چڑھ نے کی توفی نہ ہو گی۔ مرنے والے‬

‫نے ڈگری لے لی‘ پیسے بھی کم لیے‘ لیکن آگہی اس ک مقدر نہ بن‬
‫سکی۔ حسین گوشت پوست کے پیچھے اتنی پوشیدہ غلاظت۔ توبہ بھی‬

‫میری روح میں‘ توبہ کرنے لگی۔ جھوٹ نہیں بولوں گ ‘ میں تو اس‬
‫کے سراپے کی دنی ک اسیر ہو کر‘ اسے جیون س تھی بن نے کی سوچ‬

‫بیٹھ تھ ۔ اگر الله کی عن یت ش مل نہ ہوتی‘ میں تو م را گی تھ ۔‬

‫میں کریک ہوں‬

‫ببو ہم رے مح ے ک اک وت دک ن دار ہے۔ برا نہیں تو اچھ بھی نہیں۔‬
‫بےایم ن نہیں تو اسے ایم ن دار بھی نہیں کہ ج سکت ۔ میری اس سے‬

‫کوئی گہری سلا دع نہیں‘ بس راہ چ تے ہی و ہ ئے ہو ج تی ہے۔‬

‫اس نے دک ن بدلی تو میں نے پوچھ ‪ :‬دک ن کیوں بدلی ہے۔ کہنے لگ ‪:‬‬
‫ایک تو تنگ تھی سودا پورا نہیں آت تھ دوسرا ٹپکنے لگی تھی۔‬

‫میں نے کہ چ و ت نے ٹھیک کی ۔ یہ کہہ کر ک پر روانہ ہو گی ۔‬

‫رستہ وہ ہی تھ واپسی پر سلا دع کے ب د میں نے دک ن بدلنے کی‬
‫وجہ دری فت کی۔ اس نے بلا تردد و ترمی وہ ہی وجہ بت ئی۔ اگ ے دن‬

‫جم ہ تھ ‘ چھٹی ہونے کے سب میں نے س را دن گھر پر ہی گزرا۔‬

‫ہ تے کو ک پر ج تے ہوئے اس کے پ س رک ۔ دع سلا اور ح ل احوال‬
‫پوچھنے کے ب د دک ن بدلنے کی وجہ پوچھی۔ اس نے میری طرف‬

‫بڑے غور سے دیکھ اور وہ ہی وجہ بت ئی۔ وہ مجھے بھ کڑ سمجھ‬
‫رہ تھ ۔‬

‫اس کے س تھ زی دہ ت ق ت ہی نہ تھے اور ب ت کی کرت ۔ یہ ہی ایک ب ت‬
‫تھی جو اس سے آت ج ت کرت ۔ واپسی پر حس م مول رک ۔ سلا بلای‬
‫ح ل احوال پوچھ اور دک ن بدلنے کی وجہ پوچھی۔ وہ اونچی اونچی‬
‫بولنے لگ اور مجھ سے لڑ پڑا۔‬

‫لگت تھ کہ ہ تھ پ ئی پر اتر آئے گ ۔ میں بھی ذہنی طور پر بھ گنے کے‬
‫لیے تی ر تھ ۔ مجھے م و تھ دوڑ میں وہ میرا مق ب ہ نہیں کر سکے‬

‫گ ۔ وہ تو خیر ہوئی لوگ جمع ہو گئے اور لڑنے کی وجہ پوچھی۔ وہ‬
‫چوں کہ زور زور سے بول رہ تھ اس لیے میں نے بڑے تحمل سے‬

‫وجہ بت دی۔ س تھ میں یہ بھی کہ میرا ببو سے کوئی خ ص ت‬
‫واسطہ نہیں اس لیے سلا دع کی برقراری کے لیے پوچھ لیت ہوں۔ یہ‬

‫غصہ کر گی ہے۔ اس میں غصہ کرنے والی ایسی کون سی ب ت ہے۔‬
‫س ہنسنے لگے اور مجھے کہ ب ؤ جی آپ ج ئیں۔ اسی طرح کچھ ببو‬

‫کو ٹھنڈا کرنے لگے۔ ایک بندے نے ببو کی طرف دیکھ کر سر پر‬
‫انگ ی رکھی۔ جس ک مط یہ تھ کہ میں کریک ہوں۔ میں ج ی‬
‫سنجیدگی سے ہولے قدمدں سے اپنے گھر کی ج ن بڑھ گی ۔‬

‫ان ہونی‘ ان ہونی نہیں ہوتی‬

‫تھیلا مردود ہیرا پھیری اور دو نمبری میں بےمثل اور بےمث ل رہ‬
‫ج کہ تھیلا شکی زندگی کے ہر م م ے کو شک و شبہ کی نظروں‬

‫سے دیکھنے میں ضر المثل چلا آت تھ ۔ اس ک کہن کہ کچھ بھی‬
‫خ لص نہیں رہ ۔ ج ی بھی اص ی کے مواف دکھت ہے‘ کو سو فی‬

‫ن سہی کسی ن کسی فی صد تو درست م نن ہی پڑے گ ۔‬

‫تھیلا مردود ب ت اس انداز سے کرت کہ اس ک کہ اص ی سے بھی دو‬
‫چ ر قد آگے نکل ج ت ۔ جسے ہ تھ لگے ہوئے ہوتے وہ بھی دھوکہ کھ‬

‫ج ت ۔ ب ت کہے تک ہی محدود نہ تھی‘ اس ک کی بھی عین اص ی کی‬
‫چغ ی کھ رہ ہوت ۔ اسی وقت نہیں‘ بہت ب د میں کھ ت کہ وہ تو سراسر‬
‫فراڈ تھ لیکن اس وقت جھ نسے میں آنے والے ک کھیسہ خ لی ہو چک‬

‫ہوت ۔ لٹے کی ب ری بی کے لیے وہ مزید بل برابر اور ب ر ب ر لٹت چلا‬

‫جت۔‬

‫ہ س تھی ے شکی کے کہے کو بکواس ک ن دیتے رہے‘ بل کہ اس‬
‫ک مذا اڑاتے رہے۔ اس ک کہن تھ کہ پیرو نے اس کے ب پ اور بہن‬
‫کو ت ویز ڈال ڈال کر م را۔ میری م ں نے پیرو سے نک ح تو کر لی لیکن‬
‫اپنے خ وند اور بیٹی ک قتل اسے مرتے د تک م ف نہ کی ۔ اس ک یہ‬
‫کہ میں نے بمشکل ہنسی پر ق بو پ کر سن ۔ وہ ں تو اس کی ہ ں میں‬
‫ملائی لیکن گھر آ کر خو ہنس اور انجوائے کی ۔ ایسی ب ت پیٹ میں‬
‫ک رہتی ہے۔ دوستوں کو بھی لطف اندوز کی ۔ دشمنی ک یہ انداز‘ یقین‬

‫م نیں ب لکل انوکھ اور الگ سے لگ ۔ نک ح بھی خ وند اور بیٹی کے‬
‫ق تل سے کی اور م ف بھی نہ کی ۔ عجی اور سمجھ سے ب لا لوجک‬
‫تھی۔ دوسرا اگر ت ویزوں سے لوگ مرنے لگتے تو آج دنی میں ایک‬

‫بھی زندہ نہ پھرت ۔‬

‫یہ ب ت عجی بھی ہے اور فو ال طرت بھی۔ یہ تو ایسی ہی ب ت ہے کہ‬
‫کوئی آپ سے کہے کہ کل میں نے مگرمچھ کو ج گتے میں اڑتے‬

‫دیکھ ۔ ایسی ب ت کہنے والا پ گل ہی ہو سکت ہے ی وہ آپ سے شغلا‬
‫لگ رہ ہے۔ ہو سکت ہے‘ بےوقوف بن رہ ہو۔ بکری صدیوں سے‬

‫ہ تھی چٹ کرتے آئی ہے لیکن مگرمچھ اڑتے نہیں دیکھ گی ۔ علامت‬
‫مگرمچھ ہی اڑتے آئے ہیں۔ مزے کی ب ت دیکھیے اس کی عم ی‬

‫صورت دیکھنے میں آ گئی۔ اس ک مط یہ ٹھہرے گ ‘ ان ہونی‘ ان‬
‫ہونی نہیں رہی۔ گوی مگرمچھ ک اڑن ‘ غ ط نہیں رہ ۔ کہنے والے نے‬
‫مگرمچھ کو ضرور اڑتے دیکھ ہو گ ۔ ی نی مگرمچھ کی اڑان امک ن‬

‫میں داخل ہے۔‬

‫سدی پڑھ لکھ احم اور یبل ہے۔ لکھ ئی پڑھ ئی کی ب ت کرو‘ فٹ فٹ‬
‫وہ کچھ بتلا دے گ جو کسی کے خوا وخی ل میں نہیں ہو گ ۔ زب نی‬
‫کلامی سم جی ت میں بھی بڑا کم ل ک ہے۔ عم ی طور پر من ی ص ر‬
‫سے بھی گی گزرا ہے۔ الله نے اسے دو بیٹے عط فرم ئے۔ بڑا لڑک‬
‫کچھ س ل اور چھوٹ لڑک کچھ دن ک تھ کہ بیوی انتق ل کر گئی۔ بآمر‬

‫مجبوری اسے ش دی کرن پڑی‘ جس عورت سے ش دی کی زب ن طراز‬
‫تو تھی ہی‘ ب نجھ بھی تھی۔ تھیلا مردود جو اس ک بہنوئی تھ نے سدی‬

‫یبل کی بہن کو ہ تھوں میں کی اور اس ک س کچھ چٹ کر ج نے کے‬
‫طمع میں سدی کی ش دی انتہ ئی گھٹی اور چول عورت سے کروا دی۔‬
‫لوٹنے کے س تھ س تھ اپنی ہوس کی آگ بھی بجھ نے لگ ۔ تھوڑی ہی‬
‫مدت کے ب د اس عورت کی تھی ے مردود سے ان بن ہو گئی اور وہ‬

‫سدی یبل کو لے کر وہ ں سے نکل آئی۔‬

‫الله نے سدی یبل کو ایک بیٹے سے نوازا۔ سدی یبل کی خوشی کی‬
‫انتہ نہ رہی ہ ں البتہ اس عورت نے سدی ک س نس لین بھی حرا کر‬

‫دی ۔ پہ ے ہی چھوٹ مر گی تھ ا وہ اس بیٹے کی خ طر اس جہن‬
‫زادی کے س تھ نبھ کر رہ تھ ۔ وہ تھی ے شکی کی م ں کے گزارے ک‬
‫مذا اڑای کرت تھ لیکن ا اس کی سمجھ میں آی تھی ے شکی ک کہ‬
‫غ ط نہیں تھ ۔ ب ض ح لات کے تحت ن خوش گواری اور ن پسند کو بھی‬

‫سینے سے لگ ن پڑت ہے۔ گوی مگرمچھ ک ہوا میں پرواز کرن غ ط‬
‫نہیں۔‬

‫دیکھتے ج ؤ‘ سوچتے ج ؤ‬

‫زندگی ایسی س دہ اور آس ن چیز نہیں‘ اس کے اطوار کو سمجھن بڑا‬
‫ہی دقی ک ہے۔ ہر لمحہ‘ اس ک چہرا ہی بدل کر رکھ دیت ہے۔ تھوڑی‬

‫دیر پہ ے‘ آدمی ملا تھ ‘ پت چلا چل بس ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ چنگ‬
‫بھلا تو تھ ‘ یہ اچ نک اسے کی ہو گی ۔‬

‫اسی طرح اس کے انداز رویے‘ ایک ہی وقت میں‘ مخت ف ہوتے ہیں۔‬
‫ایک رو رہ ہے‘ تو دوسرا ہنس رہ ہے۔ ہنسے والے کو رونے والے‬
‫پر اور رونے والے کو ہنسے والے پر‘ اعتراض کی اج زت نہیں۔ اگر‬
‫اعتراض کریں گے‘ تو فس د ک دروازہ کھل ج ئے گ ۔ یہ فس د‘ لمحوں‬

‫ک بھی ہو سکت ہے‘ اس کے اثرات نس وں تک بھی ج سکتے ہیں۔‬

‫اس نے پوچھ ‪ :‬کیسے ہو‬
‫الله کے فضل سے ٹھیک ہو‬
‫اس نے سر ہلای اور منہ میں کچھ بڑبڑات ہوا چلا گی ۔‬
‫وہ اس بڑبڑاہٹ ک م ہو نہ سمجھ سک ۔ اس ک م ہو یہ تھ ‘ کہ ا‬
‫دیکھت ہوں‘ ٹھیک ہو ی نہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں‘ پ س آ گئی اور اسے‬

‫پکڑ کر لے گئی۔‬
‫پھر وہ تھ نے پہنچ اور پوچھ کیسے ہو۔‬

‫اس نے جواب کہ ‪ :‬مصیبت میں ہوں۔‬
‫ا آئے ن اصل ٹھک نے پر‬
‫جی کی کہ‬
‫کچھ نہیں‬

‫فکر نہ کرو‘ ضم نت کروا لیتے ہیں۔ ت ج نتے ہو‘ خرچ پ نی تو لگت‬
‫ہی ہے۔‬

‫میں گری آدمی ہوں‘ خرچ پ نی کدھر سے آئے گ ۔‬
‫اپنی اوق ت میں رہتے‘ غ ط ک کیوں کرتے ہو۔‬
‫مجھے نہیں پت ‘ میں نے کی کی ہے۔‬
‫س رے مجر اس طرح ہی کہتے ہیں۔‬

‫ت غری لوگ بھی بڑے عجی ہوتے ہو۔ کہ تھ ‘ بہن کو ہم رے ہ ں‬
‫ک کے لیے بھیج دی کرو۔ تمہ ری غیرت نے گوارا نہ کی ۔ ا بھگتو۔‬

‫آی بڑا غیرت مند‬

‫یہ ہی زندگی ہے۔ متض د رویے متوازی چل رہے ہیں۔ یہ ب ت آج ہی‬
‫سے ت نہیں کرتی‘ زندگی شروع ہی سے ایسی ہے۔ پوچھنے والے‘‬
‫خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان ح لات میں بھی لوگ زندگی کر رہے‬

‫ہیں‘ کرتے رہیں گے۔‬

‫اس نے پی سی ایس میں ک می بی ح صل کی۔ ہنسنے کی بج ئے‘ اس‬
‫کے آنسو نکل گئے۔‬

‫بیٹ مرا‘ دھ ڑیں م ر کر رونے کی بج ئے‘ چپ لگ گئی اور س کی‬
‫طرف‘ بٹر بٹر دیکھنے لگ ۔‬

‫ب پ مرا‘ ذہنی توازن ہی کھو بیٹھ ۔‬

‫بیٹی پیدا ہوئی‘ بیوی کو طلا دے دی‘ جیسے تخ ی ک ر اس کی بیوی‬
‫تھی۔‬

‫خ وند مرا بڑا ہی صدمہ ہوا۔ پچ س عورتوں میں اس قس کے بی ن ت‬
‫ج ری کرنے لگی۔‬

‫ہ ئے میں مر گئی۔ زندگی بھر دکھ دیتے رہے۔ ایک لمحہ بھی سکھ نہ‬
‫دے سکے۔ زندگی بھر غیروں کی محت ج رہی۔ ت پر رہتی تو گھر ویران‬

‫رہت ۔ ا مر کر دکھ دے گئے ہو کہ غیروں کی ہی محت ج رہوں۔‬

‫نشہ پ نی سے ہمیشہ منع کرتی رہی‘ ت نے میری ایک نہ سنی‘ اگر‬
‫م ن ج تے تو یہ دن تو نہ دیکھن پڑت ۔‬

‫جوئے نے تمہیں برب د کی ‘ پیسے بچ تے تو ک ن دفن ک س م ن ہی لے‬
‫آتی۔ آج میرے پ س پھوٹی کوڑی تک نہیں۔‬

‫میرے نصی ہی سڑ گئے‘ جو ت ی نے کچھ نہ دیکھ اور رشتہ دے دی ۔‬

‫ہ ئے میں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ لوکو میں لٹی گئی۔‬

‫یہ ں جسے دیکھو‘ امریکہ کے خلاف ب تیں کر رہ ہے۔ اگر کوئی‬
‫پیش سے بھی ت ک پڑت ہے‘ الزا امریکہ پر رکھت ہے۔ اسے اس‬

‫میں امریکہ کی‘ کسی ن کسی سطع پر‘ س زش محسوس ہوتی ہے۔‬
‫دوسری طرف اگر امریکہ ک ویزا ع ہو ج ئے تو میرے سوا‘ میں اس‬
‫لیے نہیں کہ بیم ر اور بوڑھ ہو چک ہوں‘ امریکہ ک ویزا ح صل کرنے‬
‫کے لیے‘ مرنے م رنے پر اتر آئے گ ۔ ش ید اس لیے کہ ک لی ں ی تقریب‬
‫ک لی ں‘ دیکھ دیکھ کر‘ ص ح اخگر اکت سے گئے ہیں۔ سن ہے‘ وہ ں‬
‫لکیر کی فقیری نہیں کرن پڑتی‘ بل کہ لکیر مضبوط ص حب ن اخگر کی‬

‫فقیری کرتی ہیں۔ ڈالر کم ؤ چٹی ں اڑاؤ‘ نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک۔‬

‫مذہبی مین ک رویہ بھی‘ م شرت سے الگ تر نہیں رہ ۔‬
‫ایک مذہبی مین سے کسی بی بی نے کہ ‪ :‬مجھے کسی سے پی ر ہو گی‬

‫ہے۔‬
‫جواب مذہبی مین نے کہ ‪ :‬وہ کون جہنمی ہے۔‬

‫بی بی نے جوا دی ‪ :‬آپ سے۔‬
‫مذہبی مین فورا بول اٹھ ‪ :‬چل جھوٹی۔‬

‫اسی قم ش ک ایک اور لطی ہ م روف ہے۔ مذہبی مین بیٹھے ہوئے‬
‫تھے۔ طے ہوا عورت کو دیکھن بھی نہیں اور اس کی ب ت بھی نہیں ہو‬

‫گی۔ کچھ ہی دیر ب د ایک مذہبی مین بولا لڑکی۔۔۔۔۔‬
‫س ایک آواز میں پک ر اٹھے کہ ں ہے‘ کہ ں ہے۔‬

‫مذہبی مین کے مت ایک اور کہ وت مشہور ہے۔‬
‫کسی بی بی نے پوچھ ‪ :‬اگر میں وزیر اعظ سے پی ر کرنے لگوں تو‬

‫سیدھی دوزخ میں ج ؤ گی۔‬
‫وزیر اع ی سے پی ر کروں تو‬

‫تو بھی دوزخ ٹھک نہ ہو گ ۔‬
‫اگر آپ سے‬

‫بڑی سی نی ہو‘ جنت ج نے ک پروگرا ہے۔‬

‫چھوٹے والی روزانہ ط نہ دیتی تھی‘ نیچے سے کھ ت ہے۔ میں نے‬

‫سے روٹی کھ ن ہی چھوڑ دی۔ ا سوچت‬ ‫تنگ آ کر‘ دس اکتوبر‬

‫ہوں‘ کتنی بڑی غ طی کی تھی۔ آد ع یہ اسلا نے‘ گند ک دانہ کھ ی ‘‬

‫جنت بدر ہوئے۔ اگر میں روٹی نہ چھوڑت تو ش ید‘ میں بھی جہن بدر‬

‫ہو ج ت ۔ روٹی بھی تو گند سے ہی تی ر ہوتی ہے۔ اگر گند ک دانہ لکیر‬

‫ک است رہ ہے‘ تو یہ الگ ب ت ہے۔ ا الله ہی ج نت ہے‘ وہ دانہ گند ک‬

‫تھ ی اس سے مراد لکیر تھی۔‬

‫ط قت ہی‘ زندگی ک س سے بڑا سچ رہ ہے۔ ابراہی لودھی‘ کیس تھ ‘‬
‫کوئی نہیں ج نت ۔ اس ک اور اس کی م ں کے س تھ ب بر نے کی کی ‘‬

‫کوئی نہیں ج نت ۔ ب بر ت ریخ میں ہیرو ہے۔ لوگ فخر سے‘ اپنے بچوں‬
‫کے ن ب بر رکھتے ہیں۔‬

‫ب بر ک قول ہے‪ :‬ب بر عیش کوش کہ دنی دوب رہ نیست۔ ب بر نے خون‬
‫سے گ ی ب زار رنگ دئے‘ کوئی نہیں ج نت ‘ ب بر ف تح ٹھہرا‘ اس لیے‬

‫ہم را ہیرو ہے۔‬

‫ہم یوں کے بھ ئی س زشیں کرتے رہے‘ وہ م ف کرت رہ ۔ پوتے نے‘‬
‫تخت و ت ج کے لیے بھ ئی تو بھ ئی‘ ان کی الادیں بھی ذبح کر دیں۔‬
‫اپنی لاڈلی بیگ ک مقبرہ ت ج محل‘ بن ی ت ریخ میں زندہ ہے اور بڑا ن‬
‫رکھت ہے۔‬

‫ت ریخ کے نبی قری ب دش ہ اورنگ زی نے‘ بھ ئی تو بھ ئی‘ ب پ کو‬
‫بھی نہ بخش ۔ بہن جس نے مخبری کرکے‘ اس کی ج ن بچ ئی تھی‘ کو‬

‫بھی قید کیے رکھ ‘ کیوں‘ کوئی نہیں ج نت ۔ ت ریخ ہی نہ لکھنے دی۔‬
‫خ نی خ ں نے بھی چوری چھپے لکھی۔‬

‫ہندوست ن مس ری ست نہ تھی۔ مس م ن محض چند فی صد تھے۔ اسلا‬
‫ک م م بن کر‘ سرمد جیسے بندہءخدا کو شہید کر دی ۔ اصل م م ہ کوئی‬

‫اور تھ ‘ جو آج تک کھل نہیں سک ۔ سوال پیدا ہوت ہے‘ بہن کو کیوں‬
‫نظر بند کیے رکھ ۔ وہ ق ضی اور جلاد نہ تھ ‘ جو خود ہی فیص ہ کی‬
‫اور سرمد کو اپنے ہ تھوں سے‘ قتل کر دی ۔ مقتدرہ قوت تھ ‘ ت ریخ میں‬

‫زندہ ہے۔‬

‫حسین ابن ع ی م توح تھے‘ زندہ ہیں اور اپنے لاکھوں دیوانے رکھتے‬

‫ہیں۔‬
‫یزید ابن م ویہ کو جنتی اور حسین ابن ع ی کو ب غی کہنے والے بھی‬

‫موجود ہیں۔ حجت الله‘ اس کے رسول اور الامر کی اط عت کو پیش‬
‫کرتے ہیں۔ گوی دسترخوان پر ایک طرف کھیر‘ اس کے س تھ ح وہ اور‬

‫اس سے آگے گوبر رکھ دو۔ کون کھ ئے گ ۔ کوئی دسترخوان پر بیٹھن‬
‫بھی پسند نہیں کرے گ ۔ اس حس سے‘ نمررد‘ شداد اور فرعون‬
‫درست تھے۔‬

‫حیرت انگیز ب ت یہ کہ ٹیپو م توح ہے‘ لیکن بڑا ن رکھت ہے۔ کیوں‬
‫اپنے ت ج و تخت کے لیے لڑا تھ ۔ کیوں زندہ ہے‘ بہت بڑا سوالیہ ہے۔‬

‫سوچتے ج ؤ‘ دیکھتے ج ؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے روبرو چیز سمجھ میں نہ‬
‫آ سکے گی کیوں کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی ہوئی گھتی ہے‘‬
‫جسے سمجھن آس ن ک نہیں۔‬

‫لاحول ولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫میں خود سے پیدا نہیں ہوا‘ میری تخ ی میں الله کی مرضی اور رض‬
‫ش مل تھی۔ اس سے بڑھ کر ب ت یہ کہ وہ ہی میرا تخ ی ک ر ہے۔ میں‬
‫نہیں ج نت تھ کہ میں کون ہوں‘ اس نے مجھے شن خت دی۔ نوری و‬
‫ن ری مخ و کو‘ میں نے نہیں کہ کہ مجھے سجدہ کرو۔ یہ بھی الله‘‬

‫جو میرا خ ل ہے‘ نے حک دی ۔ س االله کی مرضی سے چ ت ہے‘‬
‫عزازیل خو ج نت تھ ۔ میں کی گرفت میں آ گی ۔ میں کی گرفت بڑی‬
‫بری ہوتی ہے۔ اس کی پکڑ میں آی ‘ اپنے آپے میں نہیں رہ پ ت ۔ حک‬
‫کی ت میل نہ کرکے‘ س کچھ کھو بیٹھ ۔ اسے اپنی شن خت تک ی د نہ‬

‫رہی۔ شن خت ی د میں آ ج تی‘ تو توبہ کے دروازے پر ضرور آت ۔‬

‫عج الٹی کھوپڑی ک م لک ہے۔ میرا اور اس ک ‘ سرے سے کوئی‬
‫مس ہ ہی نہیں‘ لیکن تنگ مجھے کرت ہے۔ آج صبح میں مسجد سے‬

‫نم ز پڑھ کر نکل رہ تھ کہ ایک ق تل حسینہ کے روپ میں‘ میرے‬
‫س منے آ گی ۔ میری طرف بڑی روم ن خیز مسکراہٹ کے س تھ دیکھ ۔‬
‫سچی ب ت تو یہ ہے‘ کہ میں قط بھول گی ‘ کہ نم ز پڑھ کر مسجد سے‬
‫نکل رہ ہوں۔ اس نے رفت ر ک کر دی اور میں اس کے پیچھے پیچھے‬
‫چل دی ۔ مجھے یہ بھی ی د نہ رہ ‘ ک پر بھی ج ن ہے۔ اس مسکراہٹ‬

‫میں مقن طیسی قوت تھی۔‬

‫میں تو خود کو بھول ہی گی تھ ‘ میرے اندر بیٹھے شخص نے کہ ‪:‬‬
‫کتے‘ یہ کی کررہے ہو۔ ہڈی دیکھی اور پیچھے پیچھے چل دیے ہو۔‬
‫ل نت ہے تمہ رے دوہرے رویے پر‘ مسجد میں نم ز پڑھتے ہو اور‬

‫ایک مسک ن پر مر مٹے ہو‘ ت کیسے بندے ہو۔‬

‫اس آواز نے‘ مجھے شر سے پ نی پ نی کر دی اور میں نے دل ہی دل‬
‫میں‘ لاحول ولا پڑی۔ پھر کی تھ ‘ اس نے میری طرف کھ ج نے والی‬

‫نظروں سے دیکھ اور دوسری گ ی میں داخل ہو گی ۔ اگر الله احس ن نہ‬
‫کرت ‘ تو میں م را گی تھ ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میری نم ز تو فس ہو‬
‫گئی ہے‘ میں جہ ں کھڑا تھ ‘ وہیں سجدہ ریز ہو گی ۔ میں نے لوگوں‬
‫اور زمین پر پڑی گندگی کی پرواہ نہ کی۔ یہ اس گندگی سے بڑھ کر نہ‬

‫تھی‘ جو میرے اندر گھس آئی تھی۔‬

‫دفتر میں میرا اور اس ک ٹ کرا ہوت رہت ہے۔ س ئل بن کر‘ نی ے پی ے‬
‫اور سرخ نوٹوں کے س تھ آت رہت ہے۔ ظ ل مجھے بک ؤ م ل سمجھت‬
‫ہے۔ میں طوائف نہیں ہوں‘ جو اس کے بہک وے میں آ ج ؤں گ ۔ اس کی‬
‫کمینگی کی حد تو دیکھیں‘ یہ ہی کوئی چھے س ت دن پہ ے کی ب ت‬
‫ہے۔ میں ابھی دفتر سے لوٹ ہی تھ ‘ کہ گھر پر آ گی ۔ میں نے بیٹھک‬
‫میں بٹھ ی ۔ ٹھنڈا پ نی پیش کی ۔ اس نے نوٹ وکھ ئے کہ ن ح کرنے‬
‫کے لیے‘ میرا موڈ بنے۔ مجھے بڑا ت ؤ آی اور میرا چہرا غصے سے‬
‫سرخ ہو گی ۔ گم ن تھ کہ اندر خبر نہیں ہوئی‘ ش زیہ کو چھپ چھپ کر‬
‫ب تیں سننے ک ٹھرک ہے۔ اسے حقیقت ک ع ہو گی تھ ۔ خیر‘ میں نے‬
‫جی میں لا حول ولا پڑی‘ اس نے کھ ج نے والی نظروں سے مجھے‬
‫دیکھ اور اٹھ کر چلا گی ۔ وہ تو چلا گی ‘ ہنستی مسکراتی ش زیہ دہکت‬
‫انگ رہ بن گئی۔ میرے س تھ جو ہوا‘ مت پوچھیے‘ وہ بھی سچی تھی کہ‬

‫میں نے آتے نوٹوں کو دھتک را تھ ۔‬

‫بڑا ڈھیٹ ہے‘ خواہ مخواہ میرے س تھ پنگ لیت رہت ہے۔ میں ن ک کی‬
‫سیدھ پر ج رہ ہوں‘ ج نے دے۔ میں کوئی بہت بڑا آدمی نہیں ہوں‘‬
‫مجھ سے اسے کی مل سکت ۔ کسی بڑے آدمی کے پ س ج ئے۔ اسے‬

‫م و ہے‘ کسی بڑے آدمی کے پ س گی تو وہ ن سیں سیک دے گ ۔ میں‬
‫ہوں کی ‘ کچھ بھی نہیں‘ یہ ج نتے ہوئے بھی میرے آس پ س میں‬
‫اق مت کئے ہوئے ہے۔‬

‫دفتر کی نوکری میں ایسے ح دثے‘ روز ک م مول تھ ۔ جھگڑے سے‬
‫میری بڑی ج ن ج تی ہے۔ شیط ن سے ہر روز کی لڑائی سے تنگ آ‬
‫کر‘‘ میں نے دفتر کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ مجھے فرار ہی میں ع فیت‬

‫نظر آئی۔ گھر میں بھی ک آمدنی پر ہر روز جھگڑا ہوت تھ ۔ پوری‬
‫تنخواہ ہتھی ی پر رکھ دیت تھ ۔ روز ک خرچہ ش زیہ سے لے کر ج ت‬

‫تھ ۔ ج بھی بس ک کرایہ وغیرہ م نگت ‘ بڑی لہ پہ کرتی‘ میں س‬
‫برداشت کر ج ت ۔ تنخواہ میں سے کچھ رکھت تو مجر ٹھہرت ۔ تنخواہ‬

‫کے علاوہ کدھر سے لات ۔ ج کہ وہ اوروں کی مث لیں دیتی۔‬

‫میں نے لاء کی ڈگری بھی ح صل کر رکھی تھی۔ سوچ وک لت کرت ہوں۔‬
‫اس طرح بےگن ہ لوگوں کی مدد بھی کر سکوں گ اور دال روٹی بھی‬
‫چ تی رہے گی۔ میدان عمل میں قد رکھ تو م م ہ ہی برعکس نکلا۔‬

‫کچری میں ج کر م و ہوا‘ کم ئی چوروں‘ ق ت وں‘ اور دو نمبر لوگوں‬
‫کی مدد کرنے سے ممکن تھی۔ ان کو بےگن ہ اور بےگن ہوں کو گن ہ‬
‫گ ر ث بت کرکے‘ لمے نوٹ کم ئے ج سکتے تھے۔ یہ ں کے طور‬

‫طریقے‘ دفتر کے طور طریقوں کے بھی پیو نک ے۔ چند ہی دنوں میں‘‬
‫میرا دل وہ ں سے بھی کھٹ ہو گی ۔ لگت تھ ‘ انص ف گ ہ میں تو اس نے‬

‫مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ قد قد پر میری اس سے ملاق ت ہوتی۔‬
‫مجھے دیکھ کر قہقہے لگ ت ‘ سرع میرا مذا اڑات ۔‬

‫علاقے کی مسجد میں‘ میری ملاق ت ح جی عمر سے ہوئی۔ پنج وقتے‬
‫تھے اور ش وار ٹخنوں سے اوپر رکھتے تھے۔ بڑے اصول پرست‬
‫سمجھے ج تے تھے۔ ان ک لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔ حس کت کے‬

‫م م ے میں‘ میں بھی م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں ٹھیک رہے گ ۔ میں ان‬
‫کے کھ تے میں منشی کی سیٹ پر ت ین ت ہو گی ۔‬

‫چند دن گزرنے کے ب د م و ہوا‘ یہ ں بھی‘ شیط ن مہ راج ک سکہ‬
‫چ ت ہے۔ بڑی حیرت ہوئی کہ ح جی ص ح ک ظ ہر کتن ص ف ستھرا‬
‫ہے اور ب طن غلاظتوں سے لبریز ہے۔ وہ ں بھی دہ ئی ک گھپلا تھ ۔‬

‫ک رکنوں کے س تھ جو ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو رہ تھ ‘ لیکن حس کت‬
‫کے دو کھ تے تھے‘ ایک سرک ر کو دیکھ نے کے لیے‘ دوسرا اص ی‬
‫کھ تہ جو دفتر میں نہیں رکھ ج ت تھ ۔ سرک ری کھ تے میں گھ ٹے کے‬

‫سوا کچھ نہ تھ ۔‬

‫بج ی کے لیے بھی‘ بج ی اہل ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی تھیں۔ یہ ں‬
‫حرا اور حرا کے سوا کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ تو ک از ک حلال‬
‫تھی۔ یہ ں سے م نے والی تنخواہ سرے سے ش ف نہ تھی۔ یہ م م ہ‬

‫تو پہ ے سے بھی کہیں بڑھ کر تھ ۔رکھتے تھے۔ بڑے اصول پرست‬
‫سمجھے ج تے تھے۔ ان ک لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔ حس کت کے‬
‫م م ے میں بھی م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں ٹھیک رہے گ ۔ میں ان کے‬

‫کھ تے میں منشی کی سیٹ پر ت ین ت ہو گی ۔‬

‫وہ ں ج کر م و ہوا کہ وہ ں بھی دہ ئی ک گھپلا ہے۔ ک رکنوں کے‬
‫س تھ ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو رہ تھ لیکن حس کت کے دو کھ تے‬
‫تھے‘ ایک سرک ر کو دیکھ نے کے لیے‘ دوسرا اص ی کھ تہ جو دفتر‬
‫میں نہیں رکھ ج ت تھ ۔ سرک ری کھ تے میں گھ ٹے کے سوا کچھ نہ‬
‫تھ ۔ بج ی کے لیے بھی‘ ایک بج ی اہل ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی‬
‫تھیں۔ یہ ں حرا اور حرا کے سوا کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ تو ک‬
‫از ک حلال تھی۔ یہ ں سے م نے والی تنخواہ سرے سے ش ف نہ تھی۔‬

‫یہ م م ہ تو پہ ے سے بھی کہیں بڑھ کر تھ ۔‬

‫میں نے وہ ملازمت چھوڑ کر‘ ک روب ر کرنے کی ٹھ ن لی۔ علاقے میں‘‬
‫لوگوں کو دودھ کی بڑی پریش نی تھی۔ سوچ ‘ دودھ ک ک روب ر برا نہیں۔‬

‫میں خود ج کر دودھ لات ۔ میرے س منے گوالا دودھ دھوت ۔ اس کے‬
‫ب وجود دودھ پتلا ہوت ۔ یہ تس ی تھی کہ وہ پ نی نہیں ڈالت ‘ کیوں کہ وہ‬

‫میرے س منے دودھ دھوت تھ ۔ ہ ں البتہ آخر میں‘ ہنگ ل کے طور پر‬
‫تین پ ؤ کے قری ‘ یہ دودھ نم پ نی ڈال دیت ۔ دو دن تو میں چپ رہ ‘‬
‫تیسرے دن مجھ سے رہ نہ گی ۔ منع کرنے پر کہنے لگ ‪ :‬یہ ں سے تو‬
‫دودھ ایس ہی م ے گ ‘ نہیں وارہ کھ ت تو کوئی اور بندوبست کر لو۔ اس‬
‫نے بڑی بدتمیزی سے جوا دی ۔۔ میں نے بھی کہ ‪ :‬چ و ٹھیک ہے‘‬
‫بندوبست کر لوں گ ۔ ب د میں پت چلا وہ برتن میں پہ ے ہی پ نی ڈال لیت‬
‫تھ ۔ دو چ ر اور لوگوں سے واسطہ رہ ‘ وہ ں بھی یہ ہی کچھ تھ ۔ کوئی‬
‫ش بہ تو چھوڑ دیت ‘ ظ ل نے ہر ش بے میں ٹ نگ پھنس ئی ہوئی تھی۔‬

‫خی ل گزرا‘ کیوں نہ صح فت اختی ر کر لوں۔ وہ ں قد رکھ تو بہت ہی‬
‫م یوسی ہوئی۔ جتن اچھ پیشہ ہے‘ اتن ہی آلودہ ہے۔ صح فت‘ صح فت‬

‫ک ‘ ب یک می نگ زی دہ نک ی۔ پراپرٹی ڈی نگ ک ک بھی راس نہ آی ‘‬
‫کیوں کہ وہ بھی کث فتوں سے لبریز نکلا۔ اس میں جھوٹی قسمیں اور‬

‫چکنی چوپڑی ب تیں‘ پہ ی سیڑھی تھی۔‬

‫ش زیہ میری ان حرکتوں سے اکت کر بچے لے کر‘ اپنے بھ ئی کے ہ ں‬
‫چ ی گئی۔ یہ حیران کن ب ت تھی۔ ایک دن بھی ایس نہیں گزرا تھ ‘ جس‬
‫دن میں ی گھر کے لوگ‘ بھوکے سوئے ہوں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے‬
‫کہ الله کی مخ و بھوکی سوئے۔ وہ اس کی بھوک کو خو خو ج نت‬
‫ہے اور رز فراہ کرنے میں‘ کسی قس کے تس ہل ک شک ر نہیں ہوت ۔‬

‫رز حلال کی تلاش میرا فطری ح تھ ۔ ہر موڑ اور ہر گھ ٹ پر شیط ن‬
‫سے ملاق ت رہی۔ اس ک اپن رستہ تھ ‘ میرا اپن رستہ تھ ۔ میں حلال‬
‫کھ ن چ ہت تھ ‘ وہ مجھے حرا کھ نے کی دعوت دے رہ تھ ۔ وہ بڑا‬

‫ضدی نکلا‘ اسے کی م و ‘ کہ میں ہر مشکل میں‘ الله کی مدد ط کر‬
‫لیت ہوں۔ میری ایک ب ر پڑھی لاحول ولاقوة الا ب لله‘ اس کے میدان‬

‫سے قد اکھیڑ دیتی تھی۔ جو بھی سہی‘ شیط ن جو مرضی کر لے‘ جتن‬
‫مرضی زور لگ لے‘ میرا الله مدد ط کرنے والوں کی‘ میدان عمل‬
‫میں کنڈ نہیں لگنے دیت ۔‬

‫حقیقت پس پردہ تھی‬

‫ص بر ع ی اور اس کی بیوی‘ زندگی ک آخری موس دیکھ رہے تھے۔‬
‫تم بچے اپنے اپنے گھروں میں آب د ہو گئے تھے‘ بس حمید‘ جو س‬

‫سے چھوٹ تھ ‘ ک گھر آب د کرن ب قی رہ گی تھ ۔ ان کی نظروں میں‬
‫اچھے اچھے رشتے بھی تھے‘ لیکن وہ ش دی کے ن سے بدک ج ت‬
‫تھ ۔ ایک دن‘ می ں بیوی نے پروگرا بن ی کہ یہ اس طرح سے م ننے‬
‫والا نہیں‘ زبردستی ش دی کر دیتے ہیں‘ ش ید ہ بھی اس کی اولاد ک‬
‫منہ دیکھ لیں۔ پھر انہوں نے‘ رشتہ ڈنڈھ نک لا اور ب ت بھی پکی کر‬

‫دی۔ حمید نے لاکھ عذر پیش کیے‘ لیکن انہوں نے اس کی ایک نہ‬
‫سنی۔ اش روں کن ئیوں میں‘ ش دی نہ کرنے کی وجوہ بھی پیش کیں۔‬

‫ش ید انہوں نے‘ اس کی ایک بھی نہ سننے کی قس کھ لی تھی۔‬

‫ش دی کے دن طے ہو گئے۔ ش دی کی تی ری ں ہونے لگیں۔ گھر میں‬
‫خوشیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔‬

‫جوں جوں ش دی کے دن نزدیک آتے گئے‘ گھر میں خوشی ں رقص‬
‫کرنے لگیں۔ بہنیں‘ رات کو ڈھولک لے کر بیٹھ ج تیں۔ ہنسی مذا ہوت ‘‬

‫اور خو چھیڑ چھ ڑ چ تی۔ لب س زیر گ تگو آتے۔ بڑی بوڑھیوں میں‘‬
‫جہ ں گھری و اور م لی مس ئل ک رون روی ج ت ‘ وہ ں چغ یوں بخی یوں‬
‫ک بھی جم ہ ب زار لگ ج ت ۔ مردوں کی بےرخی‘ لاپرواہی اور ان کی‘‬
‫ان کے اپنوں پر ش ہ خرچی ک دکھڑا بھی زیر بحث آت ۔ یہ ہی نہیں‘ ان‬
‫کی جنسی ک زوری وغیرہ ک بھی رون روی ج ت ۔ ہر کوئی اپنے ح لات‬

‫میں مست تھ ۔‬

‫کسی نے حمید کی ج ن توجہ نہ دی‘ کہ پریش ن اور چپ چپ کیوں‬
‫ہے۔ اسے غصہ آت ‘ کہ یہ کیسے م ئی ب پ اور بہن بھ ئی ہیں‘ جو اس‬

‫کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتے۔ خیر‘ یہ اس کی غ طی بھی تھی‘‬
‫کہ وہ اپنے کسی کزن ہی سے ب ت کر لیت ‘ کہ اس نے غ ط ک ری میں‬
‫س کچھ کھو دی ہے اور ا وہ ش دی کے ق بل ہی نہیں رہ ۔ اپنے طور‬
‫پر‘ حکیموں ڈاکٹروں کے نسخے آزم ت رہ ۔ بہتری کی بج ئے‘ خرابی‬
‫ک دروازہ ہی کھلا۔ کسی کو حمید کی رائی بھر فکر نہ تھی‘ کہ وہ دن‬

‫بہ دن‘ ذہنی اور جسم نی طور پر نیچے آ رہ تھ ۔‬

‫ب رات ج نے میں‘ تین دن ب قی رہ گیے تھے کہ حمید چ رپ ئی لگ گی ۔‬
‫فورا ایمرجنسی میں لے ج ی گی ۔ وہ ں بھی‘ اس کے گھر والوں سے‬
‫مم ثل لوگ‘ اق مت گزین تھے۔ وہ تک یف سے مر رہ تھ ‘ لیکن ہسپت ل‬
‫والے اپنے ح ل میں مست تھے۔ بےب ب ئی لوگ‘ ہمیشہ ذلت ک شک ر‬
‫رہے ہیں۔ ب ب ئی انڈر کیر تھے اور حمید ابھی تک‘ محض ایمرجنسی ک‬
‫مریض تھ ۔ جھڑنے کے ب د‘ اس کی بھی سنی گئی۔ سترہ گھنٹے وہ‬
‫ایمرجنسی میں رہ ۔ بوت یں شوت یں اور ٹیکے شیکے لگے تو بہتری‬
‫کی صورت نک ی۔ ب قی وقت ہی کتن رہ گی تھ ۔ انتظ ہو چکے تھے۔‬
‫پیغ م ت بھیجے ج چکے تھے۔ حمید بستر سے اٹھ بیٹھ تھ ۔ ہسپت ل‬

‫سے چھٹی لے لی گئی۔‬

‫بےسوادی میں ہی ب رات گئی۔ ب ہر ب پ اور بھ ئی‘ ج کہ اندر بہنیں‘‬
‫دلہ کے پ س اور کنقری رہیں۔ سسرال میں بھی چوں کہ اطلاع ہو‬

‫چکی تھی‘ کہ دلہ ہسپت ل کی ی ترا سے لوٹ ہے‘ لہذا کوئی ہ ہ غ ہ نہ‬
‫کی گی ۔ بس ہ کی پھ کی ہنسی مذا ک سم ں رہ ۔ دلہ کی خ موشی اور‬
‫چہرے کی زردی کو بیم ری کے اثرات پر محمول کی گی ۔ ج کہ اصل‬

‫حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ وہ آتے وقت کے جنسی م ملات کے خوف‬
‫سے نیلا پیلا ہو رہ تھ ۔‬

‫پھر اس ک چہرا کھل اٹھ ۔ اس اچ نک تبدی ی پر‘ س حیران تھے۔ س‬
‫نے اسے ش دی کی خوشی سمجھ ۔ اصل ب ت کوئی اور تھی۔ حمید کو‬
‫پہ خ د ک قول ی د آ گی تھ ۔ مرحو ک کہن تھ ‘ کہ خی لی پلاؤ میں رسد‬
‫کی کمی خطرن ک ث بت ہوتی ہے۔ اس قول کے زیر اثر اس نے‘ آتے‬
‫لمحوں ک منصوبہ تی ر کر لی تھ ۔ حمید کے چہرے پر رقص ں ش دابی‬
‫کے ب د‘ خوشیوں ک ن ک نقشہ ہی بدل گی ۔ دلہن کے گھر لانے تک‘ ہر‬
‫طرح کی رسمیں پوری کی گئیں۔ گھر آنے تک‘ رات کے نو بج چکے‬

‫تھے۔ دو گھنٹے لڑکیوں اور عورتوں نے لے لیے‘ سلامی ں وغیرہ‬
‫ہوتی رہیں۔ ادھر لڑکے حمید کے س تھ چھیڑ چھ ڑ میں مصروف رہے۔‬

‫وہ بھی خوش دلی سے‘ اس ہنسی مذا میں ش مل رہ ۔‬

‫گی رہ بجے حمید‘ دلہن کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس ک امتح ن شروع‬
‫ہو چک تھ ۔ وہ کم ل کی اداک ری ک مظ ہرہ کر رہ تھ ۔ اس کی اداک ری‬
‫کو‘ دلیپ کم ر بھی دیکھ لیت ‘ تو عش عش کر اٹھت ۔ اس ک کمرے میں‬
‫داخل ہون ‘ اداک ر امریش پوری سے مم ثل تھ ۔ دلہن ک گھونگھٹ اٹھ ن ‘‬

‫وحید مراد ک س تھ ۔ ج ی بےاختی ری سے‘ واہ واہ کر اٹھ ۔ وہیں‬
‫سجدہ میں گر گی ۔ پھر دلہن کے پ س ہی بیٹھ گی اور کہنے لگ ‪ :‬الله ک‬

‫لاکھ لاکھ شکر ہے‘ کہ ت جیسی حسین بیوی مجھے م ی۔ حوریں بھی‬
‫کی ہوں گی‘ ت لاکھوں میں ایک ہو۔ میں تمہ رے مق ب ے میں کچھ بھی‬

‫نہیں ہوں‘ دیکھو کبھی بھی میرا س تھ نہ چھوڑن ۔‬

‫دلہن اس ب ت پر فخریہ مسکرائی۔ میک اپ نے اسے تھوڑا بن سنوار‬
‫دی تھ ‘ ورنہ حسن ن کی چیز اس میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔‬

‫پھر وہ تھوڑا فرینک ہو کر‘ اس کے پ س ہی بیٹھ گی اور کہنے لگ ‪:‬‬
‫س کچھ ہوت رہے گ ‘ آج پہ ے دن ہی زندگی ک منصوبہ بن لیتے ہیں‬
‫اور پھر‘ اس کے ب د‘ اس منصوبے پر عمل کرکے‘ زندگی کو سکھی‬

‫بن لیں گے۔ ت ہی بت ؤ‘ کیسی زندگی گزارن چ ہتی ہو۔‬

‫دلہن تھوڑا شرم ئی اور کہنے لگی‪ :‬ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را اپن‬
‫ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور صرف ہ دونوں ہوں۔ مجھے غیروں کی‬

‫مداخ ت قط ی پسند نہیں۔‬

‫دیر تک ب تیں ہوئیں۔ ع لی ش ن کوٹھی خریدی گئی۔ اس کوٹھی میں‬
‫ضرورت کی ہر چیز سج ئی گئی۔ سواری کے لیے نئی اور اچھے والی‬
‫ک ر خریدی گئی۔ ب توں کے دوران اس نے ایسی کوئی حرکت نہ کی کہ‬
‫کوئی گلاواں گ ے پڑت اور اص یت کھل ج تی۔ ب توں ب توں میں صبح کی‬

‫آزان ہونے لگی۔‬

‫اف میرے خدا‘ تمہ رے س تھ گزرے لمحے کتنی ج دی گزر گیے ہیں کہ‬
‫پت بھی نہیں چلا۔ کتن اچھ س تھ ہے۔ ہم ری زندگی خو گزرے گی۔‬

‫پریش نی ک دور تک ن و نش ن نہیں ہو گ ۔ ت سے اچھ س تھی مل ہی‬
‫نہیں سکت ۔ اچھ ا ت سو رہو‘ میں مسجد ج رہ ہوں۔ نم ز پڑھوں گ ۔‬

‫ت س س تھی م نے پر شکرانے کے نوافل ادا کروں گ ۔ مجھے ت مل‬
‫گئی ہو‘ ا کسی اور چیز کی تمن ہی نہیں رہی۔ دلہن مسکرائی‘ اس کی‬
‫مسکراہٹ میں بلا کی گرمی تھی‘ کوئی اور ہوت تو وہیں ڈھیر ہو ج ت ۔‬

‫ہر ایمرجنسی اور ج دی س کت و ج مد ہو ج تی۔ وہ بھی ٹھٹھک ‘ مگر‬
‫گزرے کل کی غ طیوں نے‘ اسے دروازے سے ب ہر دھکیل دی ۔‬

‫مجبوری تھی‘ کی کر سکت تھ ۔ دلہن دکھ ئے گئے سبز ب غوں کی‬
‫آغوش میں چ ی گئی اور سکون کی نیند نے اسے آ لی ۔‬

‫صبح ہوئی‘ س خیر خیریت سے گزر گی ۔ رات گئی ب ت گئی۔ دلہن‬
‫خوش تھی کہ اسے اتن اچھ شوہر مل گی ہے۔ پھر میکے والے آئے‬
‫اور اسے س تھ لے کر چ ے گیے۔ دلہن نے م ں کے گھر ج کر حمید‬

‫کی ت ری وں کے پل ب ندھ دیے۔ دلہن کے گھر میں خوشی ں من ئی ج‬
‫رہی تھیں کہ پہ ی رات میں ہی دلہ کو گھٹنوں ت ے رکھ لی گی ہے‘‬
‫ورنہ اس میں کچھ تو وقت لگت ہی ہے۔ اس نے ع لی ش ن کوٹھی‘ ک ر‘‬
‫فریج کی خریداری کے علاوہ لاکھوں روپیے کی ش پنگ کی۔ ش دی نے‬

‫تو بجنے ہی تھے۔‬

‫ادھر حمید نے مسئ ہ کھڑا کر دی کہ میں اس عورت کے س تھ زندگی‬

‫نہیں گزار سکت ‘ جو پہ ے روز ہی م ں ب پ اور بہن بھ ئیوں سے‬
‫مجھے دور کر رہی ہے‘ آتے وقتوں میں پت نہیں کی کی گل کھلائے‬

‫‪:‬گی۔ اگر نہیں یقین آت تو یہ ریک رڈنگ سن لیں‬
‫ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را اپن ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور صرف ہ‬

‫دونوں ہوں۔ مجھے غیروں کی مداخ ت قط ی پسند نہیں۔‬

‫ریک رڈنگ سن کر‘ س سیخ پ ہو گیے۔ طرح طرح کے بی ن ت ج ری‬
‫ہوئے۔ ص بر اور اس کی بیوی کو بڑا دکھ ہوا۔ حمید کی م ں بولی‘‬
‫بوتھی سے کتنی شریف اور بھولی بھ لی لگ رہی تھی۔‬

‫ص بر بولا‘ بڑی سی نی بنی پھرتی ہو‘ ت نے ہی میرے بیٹے کی زندگی‬
‫برب د کی ہے۔‬

‫دونوں میں ک فی بحث چ ی۔ کنیز ک یہ بی ن برادری کی ‘ آس پ س میں‬
‫خو مشہور ہوا۔ کئی م ہ دونوں خ ندانوں میں ٹھنی رہی اور آخرک ر‬
‫طلا ہو گئی۔ چ ًؤں کہ حقیقت پس پردہ تھی‘ اس لیے حمید کی ک می‬

‫اداک ری کی‘ کوئی داد نہ دے سک ۔‬

‫یقین م نیے‬

‫کچھ ہی دن ہوئے‘ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ‬

‫کھولا۔ دو بڑے ٹوہری آدمی دروازے پر کھڑے تھے۔‬

‫انہوں نے تقریب ب ب رع آواز میں کہ ‪ :‬بڑے می ں‘ مقصود حسنی‬
‫ص ح گھر پر ہیں۔‬

‫میں نے جھک کر عرض کی ‪ :‬حضور تشریف رکھیے اور خود اندر چلا‬
‫گی ۔‬

‫اندر بیٹھی ایک بوڑھی خ تون سے پوچھ ‪ :‬بڑی بی‘ مقصود حسنی‬
‫ص ح گھر پر ہیں۔‬

‫بڑی بی نے گھور کر میری طرف دیکھ ‘ پھر یہ گل افش نی فرم ئی‪:‬‬
‫تمہ را دم تو نہیں چل گی ۔‬

‫اصل میں وہ ل ظ بڑی بی پر سیخ پ ہوئی تھی۔ میرا دم نہیں چلا؛‬
‫میرے س تھ اتن فرینک ہونے کی ضرورت نہیں‘ میں ایس ویس آدمی‬

‫نہیں ہوں‘ جو پوچھ ہے‘ پہ ے اس ک جوا دو۔ بیٹھک میں ب رع‬
‫شخصی ت تشریف فرم ہیں‘ جو حسنی ص ح سے م نے کی خواہش‬

‫مند ہیں۔‬

‫ا کہ اسے یقین ہو گی کہ میں ی دداشت کھو بیٹھ ہوں۔ زور زور سے‬
‫اور زار و قط ر رونے لگی۔ اس کی آواز ک فی ب ند تھی۔ میں نے ج ی‬

‫حیرت دکھ تے ہوئے کہ ‪ :‬بڑی بی کی ہو گی ہے‘ میں نے تو آپ کو‬
‫کچھ نہیں کہ ۔ آپ خواہ مخواہ رونے لگی ہیں۔ اس کی آواز اور ب ند ہو‬

‫گئی۔ میں نے دوب رہ سے کہ ‪ :‬رو ب د میں لین ‘ پہ ے میرے سوال ک‬
‫جوا دے دیں۔‬

‫ت کون ہو‘ خود اپن ہی پوچھ رہے ہو۔‬

‫اچھ تو میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ پھر میں نے اپنی بس ط اور اوق ت‬
‫کے مط ب قہقہ لگ ی اور واپس بیھٹک میں آ گی ۔‬

‫ج میں دوب رہ سے بیٹھک میں آ گی ‘ تو انہوں نے میری ج ن سوالیہ‬
‫نطروں سے دیکھ ۔ میں فخریہ س مسکرای ‘ کیوں کہ مجھے ک مل یقین‬
‫ہو گی تھ کہ میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ بظ ہر م مولی ب ت ہے‘ لیکن‬

‫اپنی اصل میں‘ یہ م مولی ب ت نہیں۔ شخص‘ ہزاروں س ل سے اپنی‬
‫کھوج میں ہے۔ اس کی شخصیت تو ش ہوں کی تجوری میں مقید چ ی‬

‫آتی ہے۔ بلا شبہ یہ خوش نصیبی کی ب ت تھی‘ کہ مجھے خود کو‬
‫ج ننے میں‘ ہزاروں س ل نہیں لگے۔‬

‫پھر میں نے ان سے کہ ‘ جن میں ہی مقصود حسنی ہوں۔‬
‫ہر دو حضرات نے میری طرف دیکھ ۔‬

‫سچ کہہ رہ ہوں‘ میں ہی اص ی مقصود حسنی ہوں۔ وہ بھی سچے تھے‬
‫کہ آج اصل اور نقل کی پہچ ن‘ تقریب د توڑ گئی ہے۔ انہوں نے پوچھ ‪:‬‬

‫یہ آپ پہ ے ہی بت سکتے تھے۔ میں تصدی کرنے گی تھ ۔ ب کھڑ س‬
‫بندہ ہوں‘ بیگ نے تصدی کر دی ہے کہ ت ہی مط وبہ شخص ہو۔‬

‫انہیں میرے انداز اور طور طریقے پر حیرت ہوئی۔ ہونی بھی چ ہیے‬
‫تھی۔ بیشک یہ خبطیوں کی ی کی سی حرکت تھی۔‬

‫سر سید احمد خ ن افسر تھے‘ وہ بھی ح ضر سروس۔ میں ح ضر ی‬
‫غیرح ضر سروس افسر نہیں تھ ‘ جو لب س بدل کر آت ۔ اسی پرانے‬

‫لب س میں واپس آ گی تھ ۔‬

‫سر سید احمد خ ں ک بہت پہ ے سے ذکر سنت آ رہ تھ ‘ حیران تھ کہ‬
‫وہ بیک وقت سید بھی ہیں اور خ ن بھی۔ ج بڑا ہوا ہوش آی ‘ ہوش‬
‫سے مراد عقل نہ لی ج ئے۔ عقل آئی ہوتی تو اس جہنمیوں کی آئی جی‬

‫سے ش دی کیوں کرت ۔ نومبر میں اسے گرمی لگتی ہے۔ بج ی چ ی‬
‫ج ئے تو میرا اگلا پچھلا س پن کر رکھ دیتی ہے۔‬

‫انہوں نے خ ن بہ دری کے اظہ ر کے لیے‘ ن کے س تھ ل ظ خ ں ک‬
‫لاحقہ سج کر‘ سید ذات کو لیک لگ ئی۔ یہ ہی ایک خط نہیں‘ انہیں‬
‫اور بھی چٹ بہ در کی طرف اسن د م یں۔ کتنی عجی ب ت ہے‘ ہ سچ‬
‫بول ہی نہیں سکتے‘ بل کہ کوئی بھی بول نہیں سکت ۔ جو سچ بولے گ ‘‬

‫پولے کھ ئے گ ۔ سچ بولنے والے‘ ہمیشہ سے پولے کھ تے آ رہے‬
‫ہیں۔‬

‫چٹ س ‘ بہ در ک تھ ‘ یہ ل ظ محض ٹی سی کی غرض سے‘ اض فی‬
‫است م ل میں کی ج ت رہ ہے۔ بہ دری کی ب ت ہے‘ تو سکندر ایس‬

‫یودھ ‘ یہ ں سے چھتر کھ کر گی ‘ چٹ س کی تھ ۔ وہ تو برا ہو دھرتی‬
‫کے غداروں ک ی بیڑا غر ہو‘ چٹ س کی عی ری ک ۔ دھرتی کے‬
‫غداروں ک شروع ہی سے یہ ہی چ لا رہ ہے۔ یہ ں کے مق می‬

‫سربراہ ن‘ ن لائ اور عی ش رہے ہیں‘ ورنہ برصغر کے لوگ بلا کے‬
‫ذہین اور محنتی ہیں۔ ن لائ اور عی ش قی دت کے ب عث نقص ن ک زور‬

‫عوا کو ہوت رہ ہے۔ تگڑا ہی تحت پر بیٹھت آی ہے‘ جمہوریت ی اور‬
‫کوئی نط ‘ محض دیکھ وا ہی رہے ہیں۔‬

‫دوسرا میں بھی تو پران اور بوسیدہ ہو چک ہوں۔ ا کوئی پہچ ن لے‬
‫تو اس کی مہرب نی‘ ورنہ گ ہ شکوہ کیس اور کیوں۔ یہ شو ش اور‬
‫ٹہوہر ٹپ امیر‘ افسر اور چ تے پرزوں کے لیے ضروری ہے۔ گری‬

‫گرب اپنی اصل میں‘ ہی بھ ے لگتے ہیں۔ اپنی عزت کی برقراری کے‬
‫لیے دانستہ یہ ب ت نہیں کی‘ کہ ان میں سے ایک کے منہ سے نکل گی‬
‫تھ ‪ :‬ایسے ہوتے ہیں مقصود حسنی۔ ایسی ب تیں اس لیے چھوڑ دیتے‬

‫ہیں‘ آخر بھر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‬

‫میں اپنی ب ت نہیں کرت ‘ میں بےچ را کی ہوں‘ یہ ں سوچ سے بھی‬
‫بڑے لوگ ہو گزرے ہیں لیکن ص ح ج ہ کی پہچ ن میں نہیں آ سکے۔‬
‫م ڑے‘ ڈر کے م رے کسک بھی نہیں سکے۔ تگڑا اپنے سوا‘ کسی کو‬
‫تگڑا نہیں سمجھت ‘ اوپر سے پھٹ پران اور گری ہو۔ رشوت نہیں لے‬
‫گ ‘ ک زور ک ح نہیں دب ئے گ ‘ لوٹ کھسوٹ ک ب زار گر نہیں کرے‬

‫گ ‘ تو تگڑا کیسے ہو گ ۔ تگڑا نہیں ہو گ تو عزت کیسے پ ئے گ ۔ یہ‬
‫نقطہ بڑی دیر ب د میری سمجھ میں آی ہے۔‬

‫یقین م نیے‘ ا مجھے اپنے م ڑے ہونے ک رائی بھر دکھ نہیں۔ میں‬
‫سوا لاکھ ل نت بھیجت ہوں‘ ایسے تگڑے ہونے پر‘ دو نمبر کی جی‬

‫حضوری سے‘ یہ رنگ روپ بھلا۔ میں اپنے لیے سید کے س تھ خ ن ک‬

‫سرک ری لاحقہ لگ نے سے‘ بےلاحقی زندگی کو ہزار گن اچھ اور بہتر‬
‫خی ل کرت ہوں۔‬

‫اس سے بڑھ کر‬

‫اس کی ہر طور کی مسکراہٹ میں د تھ ۔ ویسے زی دہ تر س ت قس کی‬
‫پھ جڑی ں‘ اس کے ل و رخس ر پر‘ نم ی ں ہوتی تھیں۔‬

‫غصی ی مسکراہٹ‪ :‬اس کی اس مسکراہٹ سے‘ س ہی گھبراتے تھے۔‬
‫س منے کھڑے شخص کی‘ یہ مسکراہٹ جڑ پٹ کر رکھ دیتی۔ مط‬

‫بری میں‘ یہ مسکراہٹ بڑی ک رگر ث بت ہوتی۔ خوف ڈر ایک طرف‬
‫رکھیے‘ اس غض ن کی میں‘ بلا کی چ شنی تھی۔ ش ہوں کی بیگم ت‬
‫دری میں بیڑا غر ہوتے دیکھ کر‘ سرش ری سی محسوس کرتی تھیں۔‬
‫اسی طرح کسی کی اس مسکراہٹ کے حوالہ سے‘ بوکی گرتے دیکھ‬

‫کر بڑا ہی لطف آت ۔‬

‫طنزیہ مسکراہٹ‪ :‬یہ مسکراہٹ روزن پشت سے پسینے ج ری کر دیتی۔‬
‫مخ ط آنکھ ملانے کے ق بل نہ رہت ۔‬

‫پوشیدہ مسکراہٹ‪ :‬یہ ظ ہر تو نہ ہوتی‘ لیکن اس کی آنکھوں میں‬
‫ابھرتی ضرور تھی۔ اس کے ب د سمجھو‘ اس بندے ک ستی ن س م را‬

‫گی ۔‬

‫ش ب شی مسکراہٹ‪ :‬ش ب ش دینے میں بڑی بخیل تھی‘ لیکن اس کی‬
‫ش ب شی مسکراہٹ میں قی مت پوشیدہ ہوتی۔‬

‫روم ن پرور مسکراہٹ‪ :‬اس مسکراہٹ ک ت دینے سے ب لا ہوت ‘‬
‫لیکن شکوک کے داروازے ضرور کھل ج تے۔‬

‫خوشی کی مسکراہٹ‪ :‬اس مسکراہٹ میں س منے والے دانت نم ی ں ہو‬
‫ج تے‘ دیکھنے والا مسرور ہو ج ت ۔‬

‫مط بی مسکراہٹ‪ :‬دیکھنے والے کو تذبذ میں ڈال دیتی۔ تجربہ ک ر ہی‬
‫سمجھ پ ت ‘ کہ گوہر مقصود نہیں مل پ ئے گ ‘ بل کہ دین اس کے مقدر‬
‫میں لکھ ج چک ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکت کہ بلا جھڑے‘ سلامت گھر‬

‫لوٹ ج ئے۔‬

‫اس کی ان مول مسکراہٹوں کے س تھ‘ ان گنت قصے وابستہ تھے۔‬
‫ک ش آج پنڈت رتن ن تھ سرش ر زندہ ہوتے تو ایک اور فس نہءآزاد‬
‫تخ ی ضرور پ ج ت ۔ ایسی بڑی تخ ی ‘ مجھ سے لوگوں کے بس ک‬
‫روگ نہیں۔ ش ید اس قس کی کمی ں ہمیشہ سے محسوس کی ج تی رہی‬

‫ہیں۔ ایسی چیزیں ہی پرانی ی دوں کو ت زا کرتی رہتی ہیں۔‬

‫یہ خ تون‘ لاہور کی ایک یونی ورسٹی سے ای فل کر رہی تھیں۔ انہیں‬
‫نگران کھ ؤ پیؤ اور جی ہولی کراؤ م ے۔ آت ج ت تو خیر کچھ بھی‬

‫نہیں تھ ۔ خ تون ک م م ہ بھی ب لکل یہ ہی تھ ۔ است د تیس فی صد‘ ج‬
‫کہ ش گرد سو فی صد نقل پر یقین رکھتی تھی۔ خ تون انہیں شیشے میں‬

‫نہ ات ر سکی تھی‘ ہ ں البتہ وہ اس کی مسک نوں سے‘ لطف اندوز‬
‫ضرور ہوتے اور م مولی نوعیت ک ٹھرک بھی جھ ڑ لیتے۔ ش ید وہ‬
‫اسی ق بل تھے۔ چ و جو بھی سہی‘ اطراف میں ب ذوقی موجود تھی۔‬

‫سن ہے لمبے آدمی کی عقل گٹوں میں اور عورت کی عقل‘ کھتی میں‬
‫ہوتی ہے۔ وہ قد کی لمبی تھی‘ لیکن اس کے گٹوں میں عقل نہ تھی۔‬
‫کتھی میں روم ل کی سی کسی چیز کی گرہ رکھتی تھی‘ لہذا وہ ں عقل‬
‫کے ہونے ک سوال ہی پیدا نہیں ہوت ۔ میں نے بڑا غور کی ‘ ہر بیس‬
‫پچیس منٹ کے ب د گیس چھوڑتی کہ س نس لین بھی دوبھر ہو ج ت ۔‬

‫پشتی پہ ڑ‘ قط ی ن رمل تھے۔ بدزیب نہ تھے۔ کتن مغزم ری کر لو‘‬
‫تھوڑی ہی دیر میں ب ت بھول ج تی۔ ت ج کر مجھے اندازا ہوا‘ کہ‬
‫موصوفہ کی عقل روزن پشت میں ہے۔ ج عقل ک بوجھ محسوس‬
‫کرتی ی محسوس ہوت ‘ فورا سے پہ ے‘ ایک جھٹکے سے نک ل ب ہر‬

‫کرتی۔‬

‫خیر وہ تو ایک ک زور عورت ہے۔ مسکرا کر‘ عقل کے دشمنوں کی‬
‫عقل پر پردے ڈال سکتی ہے۔ مجھے آج احس س ہوا‘ کہ میں بھی عقل‬
‫سے پرے پرے ہوں۔ سودا لینے ج ت ہوں تو‘ انتہ ئی م ڑے کپڑے پہن‬

‫کر ج ت ہوں ت کہ دوک ن دار کو میری ح لت زار پر ترس آ ج ئے اور‬
‫وہ قیمت میں رع ئت سے ک لے۔ آج کوئی چیز لینے‘ ذرا ہٹ کر چلا‬
‫گی ۔ میں نے سودا لی اور دوک ن دار سے رع یت کرنے کی گزارش کی۔‬

‫اس نے جواب کہ ‪ :‬می ں جی فکر نہ کریں‘ ہ بندہ کوبندہ دیکھ کر‘‬
‫قیمت ط کرتے ہیں۔ آپ کے کہنے سے پہ ے رع یت کر دی ہے‘ فکر‬

‫نہ کریں۔ اس کے اس جم ے سے یہ م و ہوا‘ ک روب ری رویے بھی‬
‫دو طرح کے ہیں اور کپڑے اس میں ک یدی کردار ادا کرتے ہیں۔‬

‫کو‬
‫مڑے ہوئے کے لیے س بقہ است م ل کرتے ہیں۔ کوبندہ‘ مڑا ہوا بندہ‘‬
‫ی نی ٹیڑھ بندہ۔ میں نے گھر آ کر غور کی ‘ کہ میں ٹیڑھ شخص ہوں‘‬
‫تو اس میں کوئی شک نہ پ ی ۔ ب لکل مرا ہوا نہیں ہوں‘ چند سکوں کی‬
‫بچت کے لیے‘ بہروپ اختی ر کرت ہوں۔ یہ ٹیڑھ پن نہیں تو پھر اور کی‬

‫ہے۔‬

‫میں تو کچھ بھی نہیں ہوں‘ یہ ں س کچھ ٹیڑھ ہے‘ ت ہی تو ذلت و‬
‫خواری ہم را مقدر بن گئی ہے۔ ہ ذلت برداشت کر سکتے ہیں‘ لیکن‬
‫پیٹ سے سوچن بند نہیں کر سکتے۔ مقتدرہ طبقے تو ایس کرتے آئے‬
‫بیں‘ ص حب ن کت و ق بھی‘ اسی راہ کے راہی چ ے آ رہے ہیں۔ سچ‬
‫اور ح ‘ ہمیں ایک آنکھ نہیں بھ ت ۔ مذہبی طبقے اختلافی طبقوں کو‘‬
‫ک فر قرار دینے پر کمر بستہ ہیں۔ مورکھ ب دش ہوں کو‘ نبی قری قرار‬

‫دینے پر ت ے ہوئے ہیں۔ یہ ہی ح لت‘ ش ہی ش را کی رہی ہے۔‬
‫ب دش ہوں اور ایسے ش عروں کے ب رے من ی رائے دینے والے‘ غ ط‬
‫ال قیدہ سمجھے ج تے ہیں۔ گوی سچ کہن ہی جر چلا آت ہے۔ اس سے‬

‫بڑھ کر بھلا اور اندھیر کی ہو سکت ہے۔‬

‫یہ ہی ٹھیک رہے گ‬

‫افس نہ‬

‫اسے اپنے بےمثل اور یکت ئے ع ل ہونے ک شک گزرا۔ نر شیر ببر‬
‫ہونے کے شک سے‘ اس کی رگ وپے سے تکبر کے آتش فش نی‬
‫ش ے‘ ب ند ہونے لگے۔ اس امر کے اعلان کے لیے‘ تکبر کی ک مل‬
‫شکتی کے س تھ دھ ڑا۔ اس منہ سے دھ ڑ تو نہ سک ‘ ہ ں البتہ اس کے‬
‫منہ سے‘ صور اسرافیل سے مم ثل غرغراہٹ ضرور نکل گئی کہ‬
‫مخ و ارضی ڈر اور خوف سے لرز لرز گئی۔ اس سے‘ اس کی ان کو‬
‫تسکین م ی اور ان نے اس کی میں کو مزید شکتی دان کی۔ پھر کی تھ ‘‬
‫جس و ج ن تکبر کی مستی کے کھڈ میں ج گرے۔ ہ ں یہ ہوش رہ ‘ کہ‬
‫کہ ں دولتی چلان ہے۔ اس نے دور کے ایک علاقے میں پوری ش ن‬
‫سے دولتی چلائی کہ وہ علاقہ مٹ گی ۔ چھوٹے بڑے ک زور اور ط قت‬
‫ور نر م دہ د توڑ گیے۔ کچھ ر گھونس ے گھروندے زمین بوس ہو‬
‫گیے۔ سرش ری میسر نہ آ سکی۔ سرش ری کے لیے دوب رہ سے‘ بلا‬
‫غرارئے‘ ایک اور دولتی جڑ دی۔ ایک اور علاقہ خ ک و خون میں نہ‬

‫گی ۔‬

‫بھوک اور سیری‘ حددوں کی چیزیں نہیں ہیں۔ توکل سیری کی من‬
‫بھ تی کھ ج ہے‘ ج کہ بھوک‘ مزید کی گرفت میں رہتی ہے۔ اس نے‬

‫لوٹ م ر اور قتل وغ رت ک ب زار گر کر دی ۔ اس نے ہر تکڑے کے‘‬
‫ن صرف ن خن کٹوا دیے بل کہ اپ ہج کرکے‘ عزت وشرف سے سرفراز‬
‫کی ۔ اس ک کھ کر‘ ہڈی اس کے س منے پھینک دیت ت کہ وہ مصروف‬
‫رہے اور اس کی دی کے‘ گن گ ت رہے۔ ہ ں البتہ گ ہے بگ ہے بھونکت ‘‬
‫ٹونکت اور غرات رہت ت کہ سرکشی جن ہی نہ لے اور کسی کو‘ میں ک‬

‫دورہ نہ پڑے۔ ہڈی اور ح ظ م تقد کے لیے‘ علاقے کے سبھی‬
‫لگڑبگڑ اس کے سآتھ ہو لیے تھے۔ انہیں پیٹ اور جی بھر ہڈی ں میسر‬

‫آ رہی تھیں۔‬

‫کسی کی خوارک بند کر دیت ۔ کسی کی خوراک کی ترسیل کے رستے‘‬
‫بند کر دیت ۔ کسی پر جھپٹ پڑت ۔ خبرگیری کے توتے‘ اسے لمحہ لمحہ‬

‫کی‘ اطراف کی خبریں پہنچ تے رہتے تھے۔ توتے کبھی کسی کے‬
‫سگے نہیں رہے۔ وف داری ان کی فطرت میں داخل نہیں۔ وف داری ان کی‬

‫فطرت میں ہوتی تو توتے کیوں کہلاتے۔ توتے ہمہ وقت چوری کے‬
‫متمنی رہتے ہیں۔ وف داری‘ چوری آمد کے س تھ مشروط ہوتی ہے۔ آمد‬

‫لوٹ م ر سے وابستہ ہے۔‬

‫قتل و غ رت سے گدھ بھی لابھ اٹھ تے ہیں۔ جنگ ی حی ت میں‘ ح سچ‬
‫کی کوئی م نویت نہیں ہوتی۔ گدھوں کی آواز‘ کوئل کی آواز سے بڑھ‬
‫کر سری ی محسوس ہوتی ہے۔ آت کل‘ گزرے کل کو‘ ان آوازوں کے‬

‫حوالہ سے پہچ نت ہے۔ کوئل کی آواز‘ س ت پردوں کے پیچھے ج چکی‬
‫ہوتی ہے۔ ڈھول کے س منے ہر س ز کی آواز‘ اپنے وجود سے ع ری‬
‫ہو ج تی ہے۔‬

‫چ ر پرانے بیٹھے ہوئے تھے۔ عصری ح لات و م ملات پر گ ت گو کر‬
‫رہے تھے۔ ک زوروں کی ح لت زار ک رون رو رہے تھے۔ س م یوس‬

‫اور بےبس ہو چکے تھے۔‬
‫ان میں سے ایک بولا‪ :‬ی ر اپنے لیڈر سے کی امید ب ندھیں‘ وہ تو اپ ہج‬

‫گیڈر ہے۔ شیر ک ٹ ئیٹل تو اعزازی ہے۔ بولیں گے تو جوتے کھ ئیں‬

‫گے۔‬
‫دوسرا بولا‪ :‬جو چل رہ ہے چ نے دیں‘ جنگل میں جنگل ک ق نون چ ت‬

‫ہے۔‬
‫تیسرا بولا‪ :‬کچھ تبدلی آئے گی۔‬
‫چوتھے نے کہ ‪ :‬ہ ں ی ر‘ کچھ تو تبدی ی آئے گی۔‬
‫پہلا‪ :‬س ایک جگہ جمع ہو کر دع تو کر سکتے ہیں۔‬
‫اگر اسی پت چل گی تو دولتی سے کیسے بچیں گے‬

‫دوسرا ہ ں یہ تو ہے‬
‫پہلا تو پھر کی کریں۔‬
‫چوتھے‪ :‬گھروں میں بیٹھ کر دع کر سکتے ہیں۔‬
‫پہلا‪ :‬یہ ٹھیک رہے گ ۔‬
‫تیسرا‪ :‬مخبری ہو گئی تو‬
‫پہلا‪ :‬ہ ں ب ید از قی س نہیں‬
‫دوسرا‪ :‬کچھ تو کرن پڑے گ ۔‬
‫دوسرا‪ :‬کرن کی ہے‘ جو چل رہ ہے‘ چ نے دیں۔‬
‫چوتھ ‪ :‬ہ ں یہ ہی درست رہے گ ۔‬
‫پھر س یک زب ن ہو کر بولے‪ :‬ہ ں ہ ں یہ ہی ٹھیک رہے گ ‪ ،‬یہ ہی‬
‫ٹھیک رہے گ اور وہ چ روں اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔‬

‫پرای دھن‬

‫ہنسی مذا میں‘ احمق نہ گ ت گو ی حرکت چل ج تی ہے لیکن سنجیدہ‬
‫اور دکھ سکھ کے م ملات میں‘ احمق نہ گ ت گو ی حرکت کی‘ سرے‬
‫سے گنج ئش نہیں ہوتی۔ بخشو کے بیٹے ک ‘ اس کی سگی س لی کی‬

‫بیٹی سے نک ح ہونے ج رہ تھ ۔ شوکے کی م ں اور بہنیں‘ مخت ف‬
‫نوعیت کے شگن کر رہی تھیں۔ وہ س خوش تھیں۔ بذات خود شوک بڑا‬

‫ہی خوش تھ ۔ بخشو بھی‘ خوشی خوشی جم ہ م ملات انج دے رہ‬
‫تھ ۔ جوں ہی شوک سہرہ ب ندھے‘ گ ے میں م لا ڈالے‘ سجی پھبی‬

‫گھوڑی پر بیٹھنے لگ ‘ بخشو نے نی ہی تم ش کھڑا کر دی ۔ اس نے‬
‫شوکے کو گ ے لگ لی اور زاروقط ر رونے لگ ۔ یہ ب لکل الگ سے ب ت‬

‫تھی اور سمجھ سے ب لاتر تھی۔ لوگ بیٹوں کی ش دی پر خوشی ں‬
‫من تے‘ یہ احم رو رہ تھ ۔‬

‫پہ گ ں حس س ب اور حس ع دت آپے سے ب ہر ہو گئی۔ اس دن کچھ‬
‫زی دہ ہی ہو گئی۔ اس نے بخشو کی بہہ بہہ کرا دی۔ بخشو کے لیے‘ یہ‬

‫کوئی نئی اور الگ سے ب ت نہ تھی۔ برداشت کر گی ۔ برداشت کیوں نہ‬
‫کرت ‘ جھوٹ تھ ‘ س فٹکیں دے رہے تھے۔ خوشی ں غ و غصہ میں‬
‫بدل گئیں۔ وہ تو خیر ہوئی‘ چ چ فض و س تھ تھ ۔ اس نے بیچ میں پڑ‬
‫کر‘ بچ بچ ؤ ک رستہ نک ل لی ‘ ورنہ جنگ عظی چہ ر ک آغ ز تو ہو ہی‬

‫گی تھ ۔‬

‫تم رسمیں ہوئیں۔ شوکے اور گھر والوں نے‘ ج ی ہنسی اور خوشی‬
‫میں س نبھ ی ۔ ہ ں البتہ براتیوں کی ہنسی اور قہقہے قط ی ج ی نہ‬
‫تھے۔ بخشو نے حرکت ہی ایسی کی تھی‘ آج تک دیکھنے سننے میں‬
‫نہ آئی تھی۔ دوسری طرف لوگ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ بخشو نے‬
‫ایس کی ‘ تو کیوں کی ۔ بخشو پ گل نہیں‘ سی ن بی ن اور چ ر بندوں میں‬

‫بیٹھنے والا تھ ۔ م ملات میں لوگ اس سے مش ورت کرتے تھے۔ اس‬
‫دن پت نہیں اسے کی ہو گی تھ ۔‬

‫س خ موشی اور حیرت میں‘ تم ہوا۔ دلہن گھر لے آئے۔ شوکے کی‬
‫م ں اور بہنوں نے نئے جی کے گھر آنے کی خوشی ں من ئیں۔ رات دیر‬
‫گیے تک‘ بخشو پلا جھ ڑت رہ ۔ جی ڈھی ی رکھنے کے ب وجود‘ چھبتی‬
‫اور زہرن ک نگ ہوں ک شک ر رہ ۔ روٹی پ نی تو دور کی ب ت‘ کسی نے‬
‫اس کی طرف دیکھن تک گوارا نہ کی ۔ اس نے بھی خود کو‘ بری طرح‬

‫نظرانداز کی ۔ سگریٹ پہ سگریٹ پیت رہ اور دیر تک چ رپ ئی پر‬
‫کروٹیں لیت رہ ۔‬

‫دھو ک ولیمہ ہوا۔ اچھے خ صے لوگ بلائے گیے تھے۔ خو‬
‫وصولی ں ہوئیں۔ کھتونی کے کئی کورے پنے ک لے ہوئے۔ تم خرچے‬
‫بخشو کی گرہ سے ہوئے‘ لیکن ہر قس کی وصولی ں‘ پہگ ں کے پ ے‬
‫بندھیں۔ اس روز بھی اسے کسی نے پوچھ تک نہیں۔ اس کی حیثیت‘‬

‫گرہ دار موئے کتے سے زی دہ نہ رہی تھی۔‬

‫ش دی گزر گئی‘ لوگ اپنے اپنے ک موں میں مصروف ہو گیے۔ ص ف‬
‫ظ ہر ہے‘ بخشو کے س تھ بری ہوئی ہو گی۔ یہ واق ہ دوستوں ی روں‬
‫میں کئی دن‘ ب طور مذا چ ت رہ اور پھر گزرے دنوں کی ی د سے‬

‫زی دہ نہ رہ ۔ ہر کوئی فکر م ش میں گرفت ر ہے‘ کون م م ے کی‬
‫کھوج میں پڑت ۔‬

‫ایک دن بخشو دوستوں میں بیٹھ ہوا تھ ۔ اچھو نے شرارت اور مذاق‬
‫پوچھ ہی لی ۔‬

‫ی ر بخشو تمہیں کی سوجھی کہ بیٹے کی ش دی پر‘ خوش ہونے کی‬
‫بج ئے‘ اس گ ے لگ کر ب ں ب ں کرنے لگے۔ کتنے احم ہو ت بھی۔‬

‫بخشو جذب تی س ہو گی اور کہنے لگ ‪ :‬آج تک سنتے آئے ہیں‘ بیٹی ں‬
‫پرای دھن ہیں۔ میں کہت ہوں یہ غ ط ہے‘ بیٹی ں نہیں‘ بیٹے پرای دھن‬
‫ہیں۔ میری ام ں نے‘ اب کے م ں ب پ بہن بھ ئی‘ س چھڑا دیے۔ یہ ہی‬
‫ت ئی ام ں اور مم نی نے کی ۔ خیر ان کو چھوڑو‘ ت س بھ ئی‘ الگ ہو‬
‫گیے ہو۔ تمہ رے بڈھ بڈھی بےچ رگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ‬

‫دین لین تو دور کی ب ت‘ زب نی کلامی نہیں پوچھتے ہو۔ شوک بھی‬
‫دوسرے ہ تے ہی ہمیں چھوڑ گی ۔ کہ ں گی م ں ک پی ر اور م ں کی‬
‫ممت ۔ وہ ں شوکے کی س س ک آرڈر چ ت ہے۔ ہر جگہ ایس ہی ہو رہ‬
‫ہے۔ میں بھی‘ چوری چھپے ام ں اب سے م نے ج ت تھ ۔ ت س اپنے‬
‫گریب نوں میں جھ نک کر دیکھو‘ کتنے کو اپنے م ئی ب پ کے فرم ں‬
‫بردار ہو۔ بہن بھ ئیوں سے‘ کتنی اور کس سطع کی قربت رکھتے ہو۔‬
‫میں کہت ہوں‘ بیٹی ں نہیں‘ بیٹے پرای دھن ہیں۔ میرا بیٹ دور ہو رہ‬

‫تھ ‘ کیوں نہ روت ۔‬

‫بخشو کی کھری کھری سن کر‘ س کو چپ سی لگ گئی۔ ایک کرکے‬
‫س اٹھ گیے۔ بخشو اکیلا ہی رہ گی ۔ یہ م و نہ ہو سک ‘ کہ سچ کی‬
‫کڑواہٹ برداشت نہ کر سکے ی ندامت ک گھیراؤ کچھ زی دہ ہی گہرا ہو‬

‫گی تھ ۔‬

‫م شرے کی ایک ت خ سچ ئی پر کی خو نشتر چلای ہے۔ شکریہ جن‬
‫حسنی ص ح اس اع ی تحریر سے نوازنے پر۔‬
‫ڈاکٹر سہیل م ک‬

‫مکرمی حسنی ص ح ‪ :‬سلا مسنون‬
‫آپ نےجس مسئ ے کی "پول کھولی" ہے وہ ہ س پر گزر چک‬
‫ہے‪،‬پہ ے خود اپنے حوالے سے اور پھر اولاد کے حوالے سے۔ اور‬
‫یقین ہمیشہ گزرت رہے گ ۔ میرے مرحو بڑے بھ ئی کہ کرتے تھے کہ‬

‫"عورت کو س روپوں میں دیکھ ۔ بس اس ک ایک ہی روپ‬
‫خوبصورت ہے اور وہ ہے م ں کی شکل میں" میرا خی ل ہے کہ وہ‬
‫کچھ ضرورت سے زی دہ جذب تی ہوگئے۔ لیکن اس میں تو کوئی شک‬
‫نہیں کہ اگر بیوی نیک اور خدا ترس نہ ہو (اورایسی نیک بخت ک ہی‬

‫م تی ہے!) تو شوہر کی زندگی دوزخ ہو سکتی ہے۔ ایک اچھے‬
‫مضمون ک شکریہ۔‬

‫سرور ع ل راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10271.0‬‬

‫ڈی سی سر م ئیکل ج ن‬

‫لامبے قد ک مہنگ م چھی‘ غربت کی آخری سطع پر تھ ۔ جوتے ہیں تو‬
‫کپڑے نہیں‘ کپڑے ہیں تو جوتے نہیں۔ س را دن جنگل سے لکڑی ں‬
‫ک ٹ کر لات ‘ رات کو آگ کے س منے بیٹھت ۔ ج ہی‘ رنگ توے سے‬
‫زی دہ سی ہ ہو گی تھ ۔ نہ ت بھی ش ید ضرورت بری کے ب د تھ ۔ اس‬
‫سے گوڈے گوڈے بو آتی تھی۔ پت نہیں‘ کی درک لگی کہ یو کے ج‬
‫پہہنچ ۔ اس کی بیوی صوب ں سگھڑ عورت تھی۔ اس نے مہنگے کی‬
‫کم ئی سے‘ جہ ں میکے کی بھوک نک لی‘ وہ ں گھر کی ح لت بھی‬

‫سنوار دی۔ تین س ل میں‘ جھونپڑی نم مک ن نے‘ ع لی ش ن کوٹھی کی‬
‫شکل اختی ر کر لی۔ خود اور بچے‘ ش ن دار کپڑے پہننے لگے۔ شرف‬
‫کی خواتین سے ع یک س یک ہو گئی۔ صوب ں‘ صوب ں ک ‘ می زی دہ‬
‫لگتی تھی۔ چوتھے س ل دروازے پر تختی آویزاں ہوگئی۔‬
‫ڈی سی سر م ئیکل ج ن یو کے‬
‫گ ی نبر چ ر‘ کوٹ امر ن تھ‬
‫را پور خ ص‬

‫چ روں اور ب تیں ہونے لگیں۔ ی ر مہنگ تو سک ان پڑھ‘ بل کہ ان پ ڑ ‘‬


Click to View FlipBook Version