بھی روٹی ک ہی ہ ۔
تحریر بہت ہی اع ٰی ہ ۔ ہمیں ٓاپ ک ب توں س حرف بہ حرف ات
ہ ۔ اور یہ آپ کی ہی نظر ہ کہ جس س یہ ب تیں ڈھکی چھپی نہیں
رہ پ تیں۔ وگرنہ ہ جیس ٓانکھوں وال اندھ س کچھ دیکھت بھی
ہیں لیکن کچھ نظر بھی نہیں آت ۔
کچھ دن س آپ نظر نہیں ٓا رہ ہیں۔ امید ہ کہ خیریت س ہونگ ۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9033.0
پنگ
آدمی ک ‘ دنی کی جم ہ مخ و س برتر ہون میں‘ کسی قس ک
شک و شبہ کی‘ گنج ئش ہی نہیں‘ لیکن اس ک ذاتی گم ن ی چمچوں
کڑچھوں کی جھوٹی ت ریف و تحسین‘ اس وہ کچھ سمجھن پر
مجبور کر دیتی ہ ‘ جو وہ اپنی ذات میں ہوت نہیں۔۔ بلا ک ط قت ور
ہون ک ب وجود‘ لامحدود نہیں۔ اگر وہ ان حدود میں رہت ہوئ ‘
زندگی کرئ گ ‘ تو نقص ن س بچ ج ئ گ ۔ مورخ کو‘ محمود ک
سترواں حم ہ ی د ہ ‘ سولاں حم وں ک مت ‘ ایک ل ظ پڑھن
سنن کو نہیں م ت ۔ اس ک کتن ج نی نقص ن ہوا ی اس ن کتن ج نی
نقص ن کی ‘ ریک رڈ میں موجود نہیں۔ ب قی ب تیں چھوڑیں‘ بچ کو
جوان کرت کرت ‘ م ں ک کی ح ل ہو ج ت ہ ‘ کسی م ں س پوچھ
چ ہی ۔ یہ ب ت م ں س پوچھن کی ہ ۔ ج بھی شخص‘ اپن مت
غ ط اندازہ لگ ت ہ ‘ نقص ن اٹھ ت ہ ۔ وہ خود مرت ‘ ی اس ک اپن
مرت ‘ تو ہی اندازہ ہوت ۔ لوگ مرے تھ ‘ اس لی اس درد ک ‘ کی
اندازہ ہوت ۔
یہ غ لب چ لیس س ل س پہ کی ب ت ہ ۔ میری چن رینجرز کی
کسی پوسٹ پر ڈیوٹی تھی۔ ٹ ئیگر بڑا زبردست کت ‘ بھی اس پوسٹ پر
برسوں س چلا آت تھ ۔ ا وہ بوڑھ ہو گی تھ ‘ لیکن اس کی پھرتی ں
دیکھن لائ تھیں۔ اچ نک کھرک کی زد میں آ گی ۔ دیکھت ہی
دیکھت ‘ اس کی بڑی بری ح لت ہو گئی۔ چ تی ک ن گ ڑی ہ ‘ دھتک ر
دی گی ۔ جو بھی اس دیکھت ‘ ن صرف دھتک رت ‘ م رن ک لی بھی
دوڑت ۔
قری ک گ ؤں میں‘ ایک کوبرا نکل آی ۔ س نپ کی تھ ‘ بہت بڑی بلا
تھ ۔ اس ن رستہ ہی ڈک دی ۔ م ل ڈنگر تو الگ‘ اس ن لوگوں ک
رستہ بھی روک لی ۔ اس گولی م رن ک فیص ہ کی گی ۔ دریں اثن ‘
کھرک خوردہ بوڑھ ٹ ئیگر ک بھی‘ ادھر ج ن ہو گی ۔ رینجرز ک کت
تھ ‘ کوبرا اس دوسری طرف ج ن نہیں دے رہ تھ ۔ کی ہوا کہ وہ
بوڑھ اور کھرک خوردہ تھ ۔ تھ تو رینجر ک ٹ ئیگر۔ ہ ر م نن ‘ تو اس
ک ک غذوں میں ہی نہ تھ ۔
اسی کشمکش میں‘ کئی منٹ گزر گی ۔آخر کوبرے ک داؤ چڑھ گی ‘ وہ
ڈنگ م رن میں‘ ک می ہو گی ۔ اس ک س تھ ہی‘ ٹ ئیگر ک منہ میں‘
کوبرے ک درمی نہ حصہ آ گی تھ ۔ ٹ ئیگر ڈنگ لگت ہی‘ ج ن بح ہو
گی تھ ‘ لیکن اس ک دانت بھینچ گی ۔ دانت کی پڑے‘ جمور پڑ گی ۔
کوبرے کی ب چینی‘ ب بسی اور ب چ رگی‘ ایک زم نہ دیکھ رہ تھ ۔
ٹ ئیگر ک ‘ م ضی و ح ل ک قص ‘ ہر زب ن پر تھ ۔ خون اور کھرک
کی گند پر‘ چونٹیوں اور مکھیوں ک آن ‘ فطری سی ب ت تھی۔ ٹ ئیگر
ج ن دے کر‘ ق بل قدر جیت س ‘ ہ کن ر ہوا تھ ۔ کوبرا تڑپ پھڑک رہ
تھ ۔ چونٹیوں اور مکھیوں کی آمد س ‘ لطف میں ہر چند اض فہ ہو رہ
تھ ۔ مرا تو کس ک ہ تھوں‘ بوڑھ اور کھرک زدہ کت ک ہ تھوں۔
ٹ ئیگر امر ہو گی تھ ۔ اس ن اندھی اور ب لگ ط قت کو‘ ج ن دے
کر‘ ب بسی ب چ رگی اور عبرت ن ک موت مرن پر‘ مجبور کر دی
تھ ۔ اگر کوبرا ط قت ک نش میں‘ حدود تج وز نہ کرت ‘ تو نش ن
عبرت نہ بنت ۔ اس ن خود ہی‘ پنگ لی تھ ۔ اس پنگ ک بھگت ن‘ اس
بڑا مہنگ پڑا۔
کسی ب ددش ہ ک جی حضوریوں ن ‘ ت ری یں کر کر ک ‘ اس ط قت
ک آسم ن پر بیٹھ دی ۔ ایک ص ح ن ‘ تو یہ ں تک کہہ دی ‘ کہ
حضور کی تو‘ دری کی لہروں پر بھی حکومت ہ ۔ دنی کی ہر ش ‘ آپ
کی ت بع اور فرم بردار ہ ۔ ایک روز‘ اس ن دری کن رے‘ تخت لگ ن
ک حک دی ‘ تخت لگ گی ۔ جی حضوریوں ک ہجو میں‘ جی حضور‘
جی سرک ر ک ‘ سری بول سنت ہوا‘ بڑی ش ن اور بڑے ج ہ وجلال
ک س تھ‘ تخت پر ج وہ افروز ہوا۔ پرلطف فض و م حول ن ‘ نش کو
دو آتشہ کر دی ۔ پھر اچ نک ۔۔۔۔۔ ہ ں ب لکل اچ نک۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لہر آٹھی‘
بہت س جی حضوریوں کو‘ بہ کر ل گئی۔ ب دش ہ کی ٹ نگیں اوپر ہو
گیں۔ اس کی ح لت‘ پ نی س نک چوہ کی م نند ہو گئی۔ اس ن
ایک بچ رہن وال ‘ دری ئی گرفتہ س ‘ دری فت کی کہ فلاں تو کہت
تھ ‘ آپ کی دری کی لہروں پر بھی‘ حکومت ہ ‘ تو پھر دری کو‘ کس
طرح اور کیوں جرآت ہوئی۔ اس چمچ ن ‘ حقیقت کہن کی بج ئ ‘
پڑوس ک ‘ ایک حک ران پر الزا رکھ دی ‘ کہ یہ اس کی س زش ہ ۔
نمرود کی طرح اس کہوت کو‘ عقل نہ آئی اور وہ لاؤ لشکر سمیت‘
اس پر چڑھ دوڑا۔ جہ ں لامحدود اختی ر ک ‘ گم ن ل ڈوبت ہ ‘ وہ ں
چمچ کڑچھ بھی‘ لٹی ڈبو دیت ہیں۔
موسی خود کو ج نت تھ ۔ انہیں‘ اس امر س خو آگہی ح صل تھی‘
کہ انہیں اللہ کی ت ئید ح صل ہ ۔ اگر انہیں یہ اگہی ح صل نہ ہوتی‘ تو
وہ دری میں‘ اتن لوگوں کو‘ س تھ ل کر‘ س ر ج ری نہ رکھت ۔
فرعون کو‘ اپنی خدائی ک پورا پورا یقین تھ ‘ ی یقین دلوا دی گی تھ ‘
ت ہی تو‘ اس ن دری میں فوجیں ڈال دیں۔ اس س ‘ وہ ن صرف فوج
س ‘ ہ تھ دھو بیٹھ ب کہ عزت بھر اور پہ سی ش ن و شوکت س
بھی گی ۔ یہ عبرت‘ آتی نس وں ک لی ‘ حجت بنی رہی۔ ذاتی گم ن اور
چی وں چمٹوں کی لای نی اور مط بی جی حضوری‘ اندھی اور ب لگ
ط قت ن ‘ کچھ ب قی نہ رہن دی ۔
یون ن ک ‘ سکندر ک س تھ بھی‘ یہ ہی کچھ ہوا‘ چلا تھ دنی فتح
کرن ۔۔ وہ سمجھت تھ ‘ کہ میں ن ق بل فتح ہوں۔ چوری خور مورکھوں
ن ‘ اس سکندر اعظ ک الق س م قو کی ۔ حقیقت یہ ہ ‘ کہ وہ
تہری شکست س ‘ دو چ ر ہوا۔
اس کی اپنی فوج ن ‘ مزید آگ بڑھن س انک ر کی ۔
زخمی ہوا۔
ہدف کی حصولی ک بغیر ہی‘ واپسی ک ٹکٹ کٹوان پڑا۔
اٹھتی ط قت‘ جرمن اور ہٹ ر ک مت ‘ چرچل ن غ ط اندازہ لگ ی ۔
امریکہ درمی ن میں نہ آت ‘ تو برط نیہ ک تو‘ ستو بک چک تھ ۔
کوبرے کی سی‘ موت مرت ۔ جرمن اور ہٹ ر ک ‘ پوری انس نی برادری پر
احس ن ہ ‘ کہ اس ن کبھی نہ سیر ہون والی‘ جونک س نج ت
دلائی۔ اس ن م ش خور قو کو‘ وہ ں س نک ل ب ہر کی ۔ برط نیہ ن
اس آب د کی ۔ مصر س فرار ہون والا‘ یہ ب رہواں قبی ہ‘ آج پوری
دنی ک ب اختی ر اور م زز ترین‘ قبی ہ ہ ۔ ح سچ تو یہ ہی ہ ‘ کہ وہ
گر ہواؤں میں‘ چپک ہو گی اور تص د س دور رہ ۔ صبر و
برداشت س ‘ وقت گزارا۔ اندر خ ن ‘ وہ قو محنت کرتی رہی‘ آج
اس ‘ اس ک پھل مل رہ ہ ۔ برط نیہ ن پنگ لی ‘ اور اس پنگ ک
نتیجہ میں‘ ن ہیں ک گھنگھٹ میں مکھڑا چھپ ت اس کی بنی۔
خ وند کو غرور تھ ‘ کہ وہ کم کر لات ہ ‘ اور اس کی بیوی ک ہ تھ‘
نیچ ہ ۔ ایک جنگ میں‘ بیوی کو م ں بہن کہہ بیٹھ ۔ مولوی ن ‘
ک رے میں‘ مرغ کی دیگ ڈال دی۔ رات کو‘ چل قری بیٹھ ‘ آگ
ت پ رہ تھ ۔ بیوی ن بڑی ہ دردی س کہ ‘ کم ی م ں بہن نہ
کہت ‘ تو س ت سو روپ کی دیگ‘ تو نہ ٹہکتی۔ ت خر ابھی تک‘ سر
پر سوار تھ ۔ اس ن جواب کہ ‘ توں پیو نوں نہ چھیڑ دی۔
میں ن ‘ اس س م تی ج تی‘ بہت سی مث لیں‘ ثری ک گوش گزار
کیں‘ لیکن خود ک لتی ک بھوت‘ ابھی تک‘ اس ک سر پر س ‘ نہیں
اترا تھ ۔ اس ک خی ل میں وہ کسی کی محت ج نہیں‘ اور خود س ‘
ب آس نی زندگی کر سکتی ہ ۔ دو روپ کی م چس تک‘ پ س ‘ نہیں
منگواتی تھی۔ م ہ نہ م ن والی م قول پنشن س ‘ ایک اکنی صرف
کرن ‘ جر عظی سمجھتی تھی۔ مجھ س ‘ روپ ک اٹھ راں آن
وصول کرک بھی‘ اس روپیہ تس ی نہیں کرتی تھی۔
ایک ب ر‘ مجھ ضرورت پڑی‘ تو کہن لگی‘ میرے پ س‘ بیس ہزار
زکوات ک پڑے ہیں‘ جو میں ن ‘ اپنی بہن ب بی کو‘ دین ہیں۔ کئی
دن خجل خوار کرن ک ب د‘ دے تو دی ‘ لیکن ریڈیو پر اعلان کرن ‘
ب قی رہ گی ‘ ورنہ ش ئد ہی‘ کوئی رہ گی ہو گ ‘ جس بت ی نہ ہو گ ۔
اس زع تھ ‘ کہ وہ میرے بغیر‘ گزارہ کر سک گی‘ ب کہ اس ن
کہ ‘ اس ظ ل دنی س ‘ مجھ فوری طور پر‘ چھٹک را ح صل کر لین
چ ہی ‘ ت کہ وہ آزاد زندگی بسر کر سک ۔ ایک نہ ایک دن‘ مرن ہی
ہ ‘ ا ہی کیوں نہیں‘ مر ج ت ۔ گوی آج ک ک ‘ کل پر چھوڑن ‘ کسی
طرح من س نہیں۔
میرے مرن س ‘ وہ اور اس ک وچ را بھ ئی‘ اپن بیٹ س ‘ میری
بیٹی کی ش دی کرک ‘ میری اور ثری کی جمع پونجی س ‘ پچرے اڑا
سک گ ۔ فریحہ‘ اس کی بیوی مر گئی تھی۔ اس کی پنشن س ‘ تو گھر
نہیں چل سکت تھ ۔ محنت مزدوری س ‘ گھر چلای ‘ تو کی چلای ۔ ثری
کو جو میں ن ‘ سوا سولہ تول زیوار اور پ ؤ بھر چ ندی ک زیوار
بن کر دی تھ ‘ وہ بھی وچ رے بھ ئی زادے ک ک آ سک گ ۔
نمرودد ہو کہ فرعون‘ سکندر ہو کہ محمود‘ برط نیہ ہو کہ ثری ‘ بنی دی
رولا‘ تو سوا سولہ تول سون اور پ ؤ بھر چ ندی ک ہ ‘ ی تین
مک نوں ک ہ ‘ جو میری م کیت میں ہیں‘ اور پچ س لاکھ س زی دہ
م رکیٹ رکھت ہیں۔ ہوس‘ لالچ‘ زع اور ب لگ ط قت‘ خود بھی
ڈوبتی ہ ‘ اوروں کو بھی ل ڈوبتی ہ ۔ بدقسمتی یہ ہ ‘ کہ وہ میری
ب ت سمجھن ک لی تی ر ہی نہیں۔ یہ تو‘ قدرت ک نظ س ‘ پنگ
لین والی ب ت ہ ۔ قدرت ک نظ س ‘ پنگ لین والوں ک ‘ انج بڑا
ذلت ن ک ہوت رہ ہ ۔
محتر جن مقصود ص ح
آدا و تس یم ت ک ب د
بہت دلکش پیرائ میں لکھی ہوئی تحریر ہ ،داد آپ ک ح ہ
وصول پ ئی
خ کس ر
اظہر
مکر بندہ حسنی ص ح :سلا مسنون
آپ کو ع ہی ہ کہ میں آپ ک مض مین ک پران مداح ہوں۔ روز اول
س ہی میں اس خی ل ک ہوں کہ آپ کو اپن مض مین کت بی صورت
میں ش ئع کوادین چ ہئیں۔ خدا خدا کرک آپ ب لآخر اس پر راضی ہو
گئ ہیں سو بصد عجز و محبت عرض ہ کہ نصف "رائ ٹی" ک میں
مستح ہوں! یہ ں لکھ دے رہ ہوں ت کہ "سند رہ اور بوقت
ضرورت ک آوے"۔
آپ ک انش ئیہ "پنگ " آپ ک مخصوص انداز فکر و بی ن کی عک سی
کرت ہ ۔ اس میں حس م مول زندگی اور دنی ک چہرے س نق
اٹھ ن کی کوشش کی گئی ہ ۔ ہر چند کہ بہت سی ب تیں ظ ہر سی ہیں
لیکن
"گ ہ گ ہ ب ز خواں ایں قصہ پ رینہ را"
والی ب ت بھی تو اہ ہ ۔ بہت خو لکھ ہ آپ ن ۔ اللہ آپ کو سلامت
رکھ ۔ لکھت رہئ اور یہ بت ئیں کہ کت ک تک آ رہی ہ ۔ ب قی
راوی س چین بولت ہ ۔
سرور ع ل راز
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت خو تحریر ہ ۔ ہمیشہ کی طرح داد ح ضر۔ م ذرت بھی چ ہت
ہیں کہ فوری ح ضری نہیں دے پ ت ۔ جس کی وجہ یہ ہ کہ ٓاپ کی
تحریر کو ل ظ ل ظ پڑھن ہوت ہ ،اور اس انہم ک س پڑھت وقت
یکسوئی ضروری ہوتی ہ ۔ جبکہ ک روب ر زندگی اس کی اج زت ہی
نہیں دیت ۔ جیس ہی فرصت پ ت ہیں تو ح ضر ہو ج ت ہیں۔
ج ن کر بہت خوشی ہوئی کہ طب عت ک ک ج ری ہ ،اور ج د ٓاپ کی
کت بیں ش ئع ہون والی ہیں۔
ٓاپ کی تحریر بہت ج ندار ہ ،البتہ جن پنگ ک بغیر تو دنی میں
کوئی تبدی ی نہیں ٓا سکی۔ چ ہ تبدی ی اچھی ہو ی بری ،اس ک بغیر
ممکن نظر نہیں ٓاتی۔ اگرچہ ہم را یہ بی ن بھی پنگ لین ک مترادف
ہ ،لیکن چونکہ ہ پنگ لین ک خو ح میں ہیں ،سو یہ اعلامیہ
ج ری کرن ج ئز سمجھت ہیں۔
تقدیر کسی ک پنگ لین ی نہ لین کو دیکھتی ہی نہیں۔ ٹ ئگر کی ہی
مث ل لیج ،تحریر کہیں نہیں کہتی کہ اس کو خ رش لگن ک سب بھی
کوئی پنگ ہی تھ جو ٹ ئگر س سرزد ہؤا۔ وہ بغیر پنگ لیئ ہی
خ رش کی نظر ہو گی ۔ دوسری طرف پنگ لین والا ن گ خود تو اپن
پنگ کی سزا بھگت گی ،لیکن س تھ میں ٹ ئگر کو بھی ل گی ۔ ہٹ ر
ن جو پنگ لی سو لی ،لیکن ان لاکھوں لوگوں ن کی پنگ لی تھ کہ
بیچ رے ،ایٹ ب کی نذر ہو گئ ۔ ایس ہی سکندر کو تو جہ ک
مچھروں ن سزا دی ،لیکن اس ہ تھی بیچ رے ک کی قصور تھ جس
کی سونڈ ک ٹ گی ۔ نہ ہی راجہ پورس کی فوجوں ن کوئی پنگ لی تھ
کہ لت ڑی گئیں۔
سو ص ح جس ن پنگ لی ،اس ن دوسروں کو بھی بڑا نقص ن
پہنچ ی ۔ دوسری طرف خود پنگ نہ لو تو کسی دوسرے ک پنگ ک
شک ر ہو ج ن پڑت ہ ۔ مشت احمد یوس ی ص ح اپنی ایک کت میں
لکھت ہیں کہ ایک ب ر انہیں کچھ دوستوں ک س تھ خچروں پر دشوار
گزار پہ ڑی راستوں پر س ر کرن پڑا۔ ایک ص ح تھ ،کہ ج بھی
خچر کسی دشوار اور خطرن ک جگہ س پہ ر پر چڑھت تو وہ ص ح ،
خچر س نیچ اتر ج ت اور خود چڑھت ۔ کسی ن کہ کہ ص ح ،
یہ خچر م ہر ہیں یہ ں پہ ڑوں پر چڑھن ک ۔ آپ ک پ ؤں پھسلا تو آپ
ب موت گہری کھ ئی میں م رے ج ئیں گ ۔ ان ص ح ن جوا دی
کہ حضرت ج نت ہوں ،لیکن میں اپنی غ طی کی موت مرن چ ہت ہوں ،نہ
کہ اس خچر کی غ طی کی سزا میں مروں۔
تو ص ح اس س پہ کہ کوئی اور پنگ ل کر ہم ری زندگی میں
خ ل ڈال ،ہ خود پنگ ل لین من ست سمجھت ہیں۔
مزاح برطرف۔ اس ب ت س انک ر نہیں کہ قدرت س پنگ لین وال
ک انج بہت برا ہ ۔ احتی ط لاز ہ ۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ ۔۔
دع گو
وی بی جی
جن محتر مقصود حسنی ص ح
اللہ آپ کو سدا سلامت رکھ کی ہی دلچسپ پنگ ہ کی دلچسپ انداز
بی ں ہ آپ ک کیس کیس پنگ منظر ع پر آپ لائ ایک منظر
ابھی آنکھوں میں ہوت ہ کہ دوسرا منظر آ ج ت ہ ق ئ ہو ج ت ہ
اور سبھی میں دلچسپ پنگ بقول وی بی جی کہ ہر چیز میں پنگ لاز
ہ
پنگ نہیں ہ تو کچھ بھی نہیں ہ
یہ م ن کہ پنگ س جیون حسیں ہ
مجھ س آ پ کی تحریر پڑھ کر خ موش نہ رہ گی پنگ لین چلا
آی ص ح آپ ک اس پنگ ن مجھ ایک س تھی اس پنگ ی د دلا
دی اس پنگ ہم رے بہت اچھ س تھی تھ ہ ان دنوں91 , 1990
میں کراچی ایئر پورٹ کی ت میر میں مصروف تھ جہ ں ہم ری ایک
بڑی ٹی تین حصوں پر مشتمل تھی جن میں ایپرن ،ب ڈنگ اور روڈ اینڈ
ان را اسٹیکچر ورکس وغیرہ ش مل تھ ہم رے پ س ایپرن والا حصہ
تھ جس میں اس پنگ ہم رے س تھ ہوا کرت تھ ہ لوگ ایک فرنچ
ت میراتی کمپنی ـ’’ سوجی پ کست ن ‘‘ میں ک کر رہ تھ اس پنگ
آج آپ ک اس پنگ مضمون کو پڑھ کر ی د آئ ان ک ک ہر ایک س
پنگ لین ہوت تھ بغیر پنگ ک ان کی زندگی ادھوری تھی کھ ن گھر
س لای کرت تھ ایک دن انہوں ن انڈے اور بینگن کو ملا کر ایس
پنگ لی کہ پہچ نن مشکل ہو گی کہ اس خمیرہ گ ؤزب ن میں انڈہ کونس
ہ اور بینگن کونس ہ اللہ ت ل ٰی کی تخ ی کردہ دو الگ الگ ذائقوں
میں الگ الگ مزاج کی ح مل اجن س کو یکج کر ک ایس کشتہ تی ر کی
تھ کہ جس ک کھ ن ک کئی گھنٹ ب د تک یہ سمجھ نہیں آی کہ
کی کھ ی بس یہ لگ کہ کسی حکی ص ح ن اپنی زندگی ک آزمودہ
نسخوں س ح صل شدہ م جون کہہ لیں کشتہ کہہ لیں تی ر کی ہ کہ
جس کھ ی تو ج سکت ہ مگر اس میں ش مل اجزا ک تجزیہ نہیں کی
ج سکت جس ک کھ ن ک ب د بہت س رک ہوئ م ملات نہ
صرف حل ہو ج ت ہیں ب کہ ان س ہمیشہ ک لئ چھٹک رہ مل ج ت
ہ
تو ص ح کبھی یہ پنگ بھی لیجئ بینگن اور انڈے کچھ اسطرح
پک ئی کہ بینگن بینگن نہ رہ اور انڈہ انڈہ نہ رہ بینگنڈہ بن ج ئ
ہ کی سی ک لی مرچ اور نمک ک س تھ تن ول فرم ئی مزہ نہ آن پر
انڈہ الگ اور بینگن الگ پک ئی اور الگ الگ کھ ئی
اس دلکش تحریر س مست ید فرم ن ک شکریہ قبول فرم ئی جن
ڈاکٹر ص ح
اسم عیل اعج ز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8972.0
وہ کون تھ
افضل چنگ بھلا‘ ہٹ کٹ اور محنتی انس ن تھ ۔ پہ گند منڈی میں‘
پ داری کرت تھ ‘ ب د میں‘ دستی ریڑی بن لی۔ اس س ‘ جہ ں
مزدوری میں اض فہ ہوا‘ وہ ں آس نی بھی ہو گئی۔ اس کی بیوی
عن ئت ں‘ ن صرف نیک اور شریف عورت تھی‘ بلا کی ج کش بھی تھی۔
بڑے س یق س ‘ گھر چلا رہی تھی۔ اس ک منہ میں‘ ہر وقت شکر
ک ک مہ رہت ۔ لب س نی تو نہ ہوت ‘ ہ ں ص ف ستھرا ضرور ہوت تھ ۔ اس
جوڑی کو‘ توت مین کی جوڑی کہن زی دہ من س ہو گ ۔ ان ک گھر
س ‘ کبھی کسی ن ‘ اونچی آواز نہ سنی تھی‘ ش ئد وہ لڑت ہی نہ
تھ ۔ اس جوزی ک ب ہمی ت کو‘ بلامب لغہ مث لی قرار دی ج سکت
تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ کہ وہ ب ئی نیچر‘ ص ح جو اور ہ درد لوگ
تھ ۔ مح ک دکھ سکھ میں‘ اپنوں کی طرح شریک ہوت تھ ۔ ان
کی شرافت ک سب ‘ مح ک چھوٹ بڑے‘ ان کی عزت کرت
تھ ۔
ایک دن‘ افضل ک س آی ‘ تو وہ کچھ ٹھیک نہ تھ ۔ سین میں‘ درد
کی شک یت کر رہ تھ ۔ عن ئت ں ن ک فی اوڑ پوڑ کی ۔ نی گر کڑوے
تیل س ‘ م لش بھی کی۔ اس کی‘ اس پرخ وص خدمت س ‘ افضل کو
کچھ سکون ملا‘ اور پھر وہ‘ گہری نیند سو گی ۔ عن ئت ں بھی‘ س رے
دن کی محنت کی وجہ س ‘ تھکی ہوئی تھی‘ اوپر س ‘ افضل کی
پریش نی آ گئی تھی۔ اس بھی گہری نیند ن آ لی ۔
فجر کی نم ز ک لی ‘ افضل کو‘ عن ئت ں ن ‘ اٹھ ن چ ہ ‘ لیکن وہ نہ
اٹھ ۔ پھر اس ن ‘ اس زور س ہلای ‘ اس ک جس برف ہو چک تھ ۔
اس ک چہرے پر‘ کر ک ن و نش ن تک نہ تھ ۔ ب لکل ن رمل اور
ہش ش بش ش چہرا تھ ۔ وہ تو ابدی نیند سؤ چک تھ ۔ عن ئت ں لٹ گئی
تھی۔ وہ جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ قدرت ک ک موں میں‘ ک کوئی
دخل دے سکت ہ ۔ کچھ بھی کر لو ہونی ٹ تی نہیں۔
عن ئت ں ک سر پر‘ ن صرف اپن ‘ تین بچوں ک بوجھ بھی‘ آ پڑا۔ وہ
بلاشبہ‘ بڑی ص بر اور ش کر عورت تھی۔ اس ن ‘ کبھی کسی ک
س من ‘ دست سوال دراز نہ کی ۔ وہ سمجھتی تھی‘ کہ اس س ‘ افضل
ک ک ن میلا ہو گ ۔ رات کو جرخ ک تتی‘ صبح کو دو تین گھروں میں‘
برتن کپڑے وغیرہ ص ف کرتی۔ بڑی خوددار عورت تھی۔ اس کی ہمت
اور حوص کی‘ داد نہ دین ‘ سراسر زی دتی ک مترادف ہو گ ۔ چند
س لوں میں‘ محض ہڈیوں ک ‘ ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ لیکن ایک ب ت ہ ‘
اس ن بچوں کو‘ پھولوں کی طرح پ لا۔ وقت کی گرمی سردی‘ اس ن
اپنی ج ن پر برداشت کی۔ بچوں ک سکول ک ‘ لب س ص ف ستھرا ہوت ۔
ان ک بست ‘ خود تی ر کرتی۔ ہر بست میں‘ کھ ن کی کوئی ن کوئی
چیز‘ ضرور رکھتی۔ ج وہ سکول ج ن لگت ‘ انہیں گ لگ تی‘
چومتی اور پی ر کرتی‘ دروازے تک چھوڑن ج تی‘ اس ک موقف تھ
کہ میری تو جیس تیس گزر گئی ہ ‘ میرے بچ تو‘ آسودہ زندگی
بسر کریں گ ۔
جوان اور قبول صورت تھی‘ عقد ث نی‘ اس ک شرعی ح تھ ۔ دو تین
پیغ بھی آئ ‘ لیکن اس ن ص ف انک ر کر دی ۔ بچوں کی خ طر‘ اس
ن اپنی ذات کو‘ یکسر نظر انداز کر دی تھ ۔ اس دنی میں‘ شخص اپنی
ذات س ب ہر‘ ایک قد بھی ادھر ادھر نہیں ہوت ۔ شخص کو نقص ن
پچ ن س پہ ‘ نقص ن پنچ ن والا‘ یہ کیوں نہیں سوچت کہ اتن بڑا
کرن میں‘ کسی م ں کو‘ کی کچھ‘ کرن پڑا ہو گ ۔ کتنی مشقت اٹھ ن
پڑی ہوگی۔ اذیت دین والا بھی‘ کسی م ں ک بیٹ ہوت ہ ‘ اگر وہ غور
کرے‘ کہ اس کی م ں‘ اس بڑا کرن ک لی ‘ کن مراحل س گزری
ہو گی۔ م ں اس کی ہو‘ ی اس کی‘ عزت کی مستح ہوتی ہ ۔ م ں ک
منہ دیکھت ہوئ ‘ اگر م فی کو ش ر بن ی ج ئ ‘ تو خرابی جن ہی
نہیں ل سکتی۔
مجھ اچھی طرح ی د پڑت ہ ‘ کہ میری ام ں ن مرغی پ ل رکھی۔ وہ
اکیس دن انڈوں پر بیٹھی۔ ح جت اور کچھ کھ ن یین ک لی ‘ چند
لمحوں ک لی نیچ اترتی۔۔ اکیس دن ک ب د‘ چھوٹ چھوٹ ‘
ننھ ننھ بچ نک ۔۔ ایک انڈا گندا نکلا۔ وہ ب ر ب ر‘ اس کی طرف
پھرتی تھی۔ پ لتو ب ی تو الگ‘ آوارہ ب ی ک آن ‘ مرغی۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں مرغی
ن ‘ جو ک زور ترین ج نور ہ ‘ بند کر دی ۔ اڑا کر‘ اس کی آنکھوں کو
نش نہ بن تی۔ ح لاں کہ مرغی ب ی ک شک ر ہوتی ہ ۔
مرغی کو ایک طرف رکھی ‘ گیڈر بزدل ترین‘ ج نور شم ر ہوت ہ ۔
میں چش دید ب ت بت رہ ہوں‘ ایک گیدڑی ن بچ دی تھ ۔ اس ن
س نہہ کتوں ک ‘ ادھر گزرن بند کر دی ۔ آج سوچت ہوں‘ تو یقین نہیں آت ۔
لیکن یہ س ہوا‘ میں ن اپنی انکھوں س دیکھ ۔
میں ایک درخت ک نیچ ‘ تھوڑی دیری سست ن ک لی رک ۔ م دہ
کوا ن بچ نک ل رکھ تھ ۔ چند ہی لمح ب د‘ م دہ کوا ن ‘ میرے
م تھ پر ایس ٹہونگ م را‘ کہ مجھ ن نی ی د آ گئی۔ میں ن انہیں
نقص ن کی پنچ ن تھ مجھ تو ان ک ہون ک ع تک نہ تھ ۔
بچ ج نور ک ہوں‘ ی انس ن ک بڑے پی رے لگت ہیں۔ ان کی
اٹھکی ی ں دل کو موہ لیتی ہیں۔ انہیں م ر دین ‘ پتھر دلی کی حد ہوتی
ہ ۔ پیدائش س مک ش ہ تک‘ الف لا س والن س تک‘ بھگوت گیت
اور رام ئن میں س ‘ کوئی حوالہ نک ل کر دکھ دیں‘ جس میں بچوں پر
تشدد ی قتل کر دین ک حک موجود ہو۔ حضرت مہ آتم بدھ کی
ت یم ت‘ ہتھی کی اج زت نہیں دیتیں۔ گرو گرنتھ ص ح ک ‘ میں ن
ایک ایک شبد‘ ٹٹولا ہ ‘ کہیں بچوں ک قتل ی ان پر ظ ک حک
موجود نہیں۔
میں ن انٹرنیٹ پر‘ جنگ عظی دو ک حوالہ س ‘ ایک تصویر
دیکھی۔ چھوٹ چھوٹ ‘ م صو ‘ پی رے پی رے بچوں کو‘ ننگ پ ؤں
سپ ہیوں کی بندو کی نوک پر‘ بھ گت دیکھ ۔ ایک چھوٹی سی بچی‘
ب مشکل بھ گ رہی تھی۔ میری آنکھوں ک س من ‘ عن ئت ں گھو گئی۔
ان کی م ں‘ کس طرح‘ صبح سویرے اٹھ کر‘ انہیں لاڈ پی ر س ‘ گ
لگ کر‘ سکول بھیج کرتی ہو گی۔ اچھ ہوا‘ وہ مر گئیں۔ وہ یہ س
دیکھ نہ پ تیں۔ وہ ان سی ہیوں ک ڈکرے ڈکرے کرن کی کوشش
کرتیں۔ میرا اس دھرتی س ‘ کوئی رشتہ نہیں۔ وہ بچ ‘ میرے حس
ونس س مت نہیں ہیں۔ اس حقیقت ک ب وجود‘ میں س ری رات‘
ب چینی اور پریش نی س ‘ بستر پر کروٹیں لیت رہ ۔ میں سوچت رہ ‘
آخر وہ کون تھ ۔ انہیں انس ن کہن ‘ انس نیت کی تذلیل و توہین ہ ۔ وہ
کسی انس نی م ں کی اولاد ہو ہی نہیں سکت ۔ انہیں انس نی م ں کی
اولاد کہن ‘ کسی بھی سطح پر‘ درست قرار نہیں پ سکت ۔
کسی انس نی م ں کی اولاد‘ کسی دوسری م ں کی اولاد پر‘ ظ کی اس
حد تک ج ہی نہیں سکتی۔ بندو کی نوک‘ سر جھک ن پر مجبور کر
سکتی ہ ‘ لیکن اس س ‘ دل فتح نہیں ہو سکت ۔ قبضہ و تصرف کی
ہوس‘ تص د ک دروازے کھولتی ہ ۔ م ں کی محنت‘ مشقت اور پی ر
س ‘ پروان چڑھن وال بچوں کو لہو میں نہلاتی ہ ۔ ت وار کی فتح
کو‘ فتح ک ن دین ‘ کھ ی جہ لت ہ ۔ ہ ں م ں ک س ‘ پی ر س ‘ دل
جیتو‘ ت کہ کمزور طبق ‘ سکھ ک س نس ل سکیں اور انس نیت‘
سسکن ب کن س ‘ مکتی ح صل کر سک ۔
سلا ع جزانہ
جن ڈاکٹر مقصود ص ح آپ کی تحریر پڑھی دل میں برسوں سو
ہو جذبہ رح دلی جگ گئی
ہم ری طرف س اتنی اچھی تحریر لکھن پر بھرپور داد قبول کیجئ
جن ڈاکٹر ص ح ہم را ع اتن وسیع نہیں کہ ہ اس ب ت کی گہرائی
تک پہنچ سکیں
ل ظ "حضرت"جس ک ک فی ل ظی م نی ہیں لیکن اکثر یہ ل ظ ت ظیم
است م ل کی ج ت ہ لیکن زی دہ تر یہ ل ظ کسی پیغمبر ی اللہ ک ولی
ک ن ک س تھ آی
".......حضرت مہ تم بدھ کی ت یم ت"
ہمیں مہ تم بدھ ک ب رے میں زی دہ ع نہیں لیکن میں ن یہ ل ظ ان
ک ن ک س تھ پہ کبھی نہیں پڑھ
ہ چونکہ مہ تم بدھ ک ب رے میں کچھ نہیں ج نت ممکن ہ کہ
پہ بھی ان ک ن ک س تھ یہ ل ظ است م ل ہوا ہو لیکن پھر بھی آپ
س گزارش ہ کہ تس ی بخش جوا دیں جس س ہم رے ع میں
اض فہ ہو
غ طی گست خ م ف
دع ہ کہ اللہ آپ کو اور زور ق عط کرے
مجھ اپنی دع ؤں می ی د رکھیں
فی ام ن
وی بی جی
tovajo ke liay ehsan'man hoon
Allah aap ko khush rakhe
lafz hazrat kalma e tazeem bhi hai manfi
mafaheem main bhi mostamal hai.
lafz khalipha ki bhi yah hi surat hai.
mein nay ba'toor izzat istamal kya hai
Allah ne koee aisi jaga na ho gi jahan daranay
wala islah karnay wala sach bolnay wala bhaija
na ho ga
janab Soqrat, janab Zartusht, janab Kirishan
maharaj, janab Maha'atma Budh jin ka status
taqribun na'maloon main hai ta'hum oon ki
talimaat se wazay hota hai kah woh moslay thay
Imam Hussain nabi nahain thay, laikin sach
bonay aur sach ki khatar jan dainay waloon main
shaed oon ke moqam ko koee ponchta nazar
nahain aata
her sachay, islah karnay walay aur insaniat ke
khidmat'gar ki izzat karna lazam banta hai
kisi mazhab ke baray ko izzat se bolao ta'kah
woh bhi hamaray her baray ke liay izzat ke alfaf
istamal karain.
sachay aur kharay logoon ko khah woh koee bhi
hoon izzat daina darhahiqat khud ko izzat daina
hai
insaf ka bhi ya hi taqaza hai
ehtaram aur piyar karnay wale hi izzat aur
ehtaram ke mostahiq hotay hain
Munsoor riyasat ke matoob thay lain aaj bhi
diloon main jaga rakhtay hain
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
کہ پڑھن ک فوراً ب د دل چ ہت ہ کہ بس اس پر، تحریر ایسی ہ
اور پھر لکھن چ تو،کچھ لکھت چ ج ئیں۔ ہ ن پڑھ لی تھی
محتر س جد پرویز ٓانس ص ح ن کچھ وض حت ک لیئ درخواست
کر دی۔ ہ رک گئ کہ ا ٓاپ س مذید کچھ سیکھن سمجھن کو
م گ۔
فتح نہیں ہوتی۔ ب کہ، بندو ک زور پر فتح، جن ب لکل بج ہ
ط قت ک است م ل ہی ہم رے نذدیک بزدلی ہ ۔ کی ہی اچھ ہوت کہ وہ
تصویر بھی ہمیں دیکھن کو مل ج تی۔ درست ہ کہ کسی مذہ ن ،
چ ہ ہ اس کتن ہی جھوٹ کیوں نہ ث بت کریں ،کبھی جبر کو پسند
نہیں ،کی ۔ ہر مذہ ن نیکی اور بدی ک فر کو واضح کرن کی
کوشش کی ہ ۔ نیکی کرن اور بدی س پرہیز ک درس دی ہ ۔
سدھ رتو ک ٓاپ ن ذکر کی ۔ ایک ب ر فرم رہ تھ کہ دو ط قتیں
وجود رکھتی ہیں۔ نیکی کی اور بدی کی۔ نیکی پر چ و اور بدی س
رکو۔ تو کسی ن پوچھ کہ نیکی اور بدی ک کیس پتہ چ گ کہ
کونسی نیکی ہ اور کونسی بدی۔ مسکرا کر فرم ی کہ اپن آپ س
پوچھو۔ کی تمہیں نہیں م و کہ کی نیکی ہ اور کی بدی۔ پھر فرم ی
کہ نیکی کی ط قت س س کچھ وجود میں ٓای ہ ۔ ہر مخ و کی مٹی
میں نیکی اور بدی کی ت ری ک ع موجود ہ ۔ ان ک مق واق ی بہت
اونچ تھ ۔ ا اس طرح کی ت یم ت کوئی ع شخص نہیں دے سکت ۔
س ج نت ہیں کہ انہوں ن تخت ش ہی چھوڑ کر جنگل میں کتن ہی
دن چ ہ ک ٹ وہ بھی صرف اس لیئ کہ انس ن ک دکھوں ک حل ج ن
سکیں۔ کوئی خدا کو اس طرح پک رے اور اس جوا نہ م ایس تو
ہوت نہیں۔
آپ ن سقراط ک ذکر کی ۔ ان کی ت یم ت کو ہمیں ت صیل س پڑھن
کی ضرورت ہ ۔ البتہ سری گرو گرنتھ ص ح کو تو ہ ن بھی پڑھ
ہ ۔ چونکہ ب ب گرو ن نک کی ٓامد انبی ک ب د ہوئی ہ ،سو ان ک
ب رے یقین ً کہ ج سکت ہ کہ وہ پیغمبر نہ تھ ۔ لیکن ان کی ت یم ت
بھی ویسی ہی ہیں جو نیکی کی ترغی دیتی ہیں۔ ہم رے خی ل س تو
ب ب گرو ن نک ص ح راہ بھٹک ہوئ س لک تھ ۔ ہمیں راسپوٹین
ک مذہ ک ب رے بھی پڑھن ک ات ہؤا۔ جن وہ ں بھی تشدد
برطرف ہ اور وہ بھی بچوں پر۔ خدا کی پن ہ۔
آپ کی یہ تحریر خصوصی طور پر اہ ہ ۔ اس کی ت ی وقت کی اشد
ضرورت ہ ۔ ہر کوئی صرف اپنی بیوی ک بچ کو اپن بچہ سمجھت
ہ اور یہ ع ل ج نوروں پرندوں ک بھی ہ ۔ لیکن ہ سمجھت ہیں کہ
بچ س نجھ ہون چ ہیئں۔
پچھ دونوں ایک ص ح ن فیس بک پر کسی بھوک ننگ بچ
کی تصویر پر اپن خی لات ک اظہ ر ان ال ظ میں فرم ی کہ یہ خدا
ص ح ک بچہ ہ ۔ اس کہو سنبھ لت کیوں نہیں اپن بچہ ۔۔۔ ہ ن
جواب ً عرض کی تھی کہ :ص ح ! یہ خدا ص ح ک بچہ نہیں ہ ۔ یہ
میرا بچہ ہ ۔ آج ٓاپ اپنی بیوی ک بچوں ک منہ میں تو اس بچہ ک
س من خود آئس کری ک چمچ ڈالت ہیں اور یہ نہیں کہت کہ خدا
آ کر ڈال ،لیکن اس خدا ک بچہ کہہ کر اس ک حوال کرت ہیں۔
میرا وعدہ ہ آپ س کہ کل یہ بچہ ٓاپ ک بچوں کو بموں کی بھینٹ
چڑھ ئ گ اور ت آپ کہیں گ کہ یہ خدا ک نہیں شیط ن ک بچہ ہ
کچھ زی دہ ہی جذب تی کر دی آپ کی تحریر ن ۔ دع ہ کہ آپ کی اس
تحریر س زی دہ س زی دہ لوگ است ضہ ح صل کر سکیں۔
دع گو
وی بی جی
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت خو جن ۔ اندازہ ہوت ہ کہ ٓاپ کی نگ ہ کہ ں کہ ں تک پہنچی
ہ ۔ اور کونس م شرتی ،سی سی ،دینی م م ہ نہ ہوگ کہ جہ ں ٓاپ ن
اس قدر ع ح صل کر رکھ ہ اور ہ تو یہ سمجھت ہیں کہ فقط
م ملات پر ع ح صل کر لین ہی ک فی نہیں ہوت ،ب کہ ٓاپ کی تحریریں
ص ف بت تی ہیں کہ کس قدر غور بھی کرن پڑا ہو گ اور پھر کسی نتیجہ
کی طرف ذہن راغ ہؤا۔ ہم ری طرف س اس مضمون پر بھی داد
قبول کیج ۔
در اصل ایک ہی منظر کو دیکھن ک مخت ف مق م ت ہو سکت ہیں۔
آپ ن جس مق س اس منظر کو دیکھ اس بہت ہی خوبصورت
انداز میں بی ن بھی کر دی ۔ ٓاپ ک ق کو قدرت ن زور بخش ہ ،کہ
ہمیں وہ من ظر ص ف دکھ ئ ب کہ سیر کروائی۔ ہ اس م م ہ کو ایک
اور نقطہ نگ ہ س دیکھت ہیں۔ اس ک مقصد آپ ک ب ت س غیر
مت ہون ہر گز نہیں ہ ۔ ب کہ ایک نقطہ نگ ہ سمجھ لیج جو ہ
اپن ال ظ میں ٓاپ تک پہنچ ن کی کوشش کرت ہیں ،اگرچہ ہم رے
ہ تھ میں ایک کمزور ق ہ ۔
اہ نقطہ س ابتدا کرت ہیں کہ حضرت موس ٰی کی قو یہودی ،عیسی
کی قو عیس ئی ،اور محمد کی قو مس م ن کہلاتی ہ ۔ اگر مس م ن کی
پہچ ن ک مہ ک پہ حصہ تک سمجھی ج ئ تو دنی کی تقریب ً فی
صد ٓاب دی مس م ن نظر آئ گی۔ ی نی توحید پر ق ئ ۔ اگر نیک اور اچھ
اعم ل دیکھ ج ئیں تو بھی ایک بہت بڑی ت داد ک مہ کو م ن ی نہ
م ن ،مس م ن نظر آئ گی۔ مس م ن کی پہچ ن ی تشخص کو ک مہ ک
دوسرے حص س ہی پہچ ن ج ت ہ ۔
آپ ن جو ب تیں بی ن فرم ئی ہیں وہ بھی ب لکل بج ہیں۔ سکھ مذہ
صوفی نہ طرز ہ ۔ اس س ہ بھی فی صد مت ہیں۔ پھر
سوچن کی ب ت یہ آتی ہ ،کہ صوفی نہ طرز ع اسلا س الگ
کیس اور کیوں۔
ہ ن اس ب ت ک جوا جہ ں پ ی ی جس ہ ن جوا سمجھ وہ
صوفی ک کت بوں میں موجود ہ ۔ اور خ ص طور پر مجدد الف ث نی
ص ح ن یہ نقطہ واضح کر رکھ ہ ۔
فرم ت ہیں کہ صوفی ک رست پر ہر شخص ،چ ہ ہو مس م ن ہو ی
نہ ہو ،چل سکت ہ ،اور درج ت پ سکت ہ ۔ ایس کئی صوفی
ہندوست ن میں بھی مل ج ت ہیں جو ہندو ہیں ،لیکن نہ صرف س دھو
ب ب بن گئ ہیں ،ب کہ چھوٹ موٹ ایس م جزے بھی کر دکھ ت
ہیں جن کو دیکھ کر لوگ دنگ رہ ج ت ہیں اور ان ک پیروک ر ہیں۔
البتہ چونکہ وہ اسلا ک راست پر نہیں ہوت سو راہ بھٹک سکت
ہیں۔ یہ راستہ بہت کٹھن ہ اور ہر قد راستہ بھولن ک اندیشہ ہوت
ہ ۔ ایسی صورت میں ضروری ہ کہ ایک است د ی مرشد بھی ہو جو
آپ کو راستہ بھٹکن س بچ ئ رکھ ۔ مدد الف ث نی ص ح
فرم ت ہیں کہ است د کی غیر موجودگی میں ی پھر اسلا ک راستہ
س ہٹ کر کسی ن شدھ گی ن کی وہ راستہ ضرور بھول ج ت ہ ۔
اور ایس ش ید ہی کبھی ہؤا ہو کہ کوئی ان دو لازمی چیزوں س قطع
نظر رست پر چل کر منزل پ سک ہو۔
ان ک نذدیک کئی صوفی راستہ بھٹک گئ ہیں۔ اور ہ ن اس ب ت
س سکھوں س مت یہ نتیجہ اخذ کر لی کہ ممکن ہ کہ ب ب گرو
ن نک کہیں راستہ بھٹک ہوں۔ ان ک عمل میں نم ز ،روزہ ،وغیرہ
جیس اسلامی احک م ت کی پ بندی نہیں نظر ٓائی ،لیکن ان ک طرز
زندگی ،ان کی ت یم ت اسلا ہی کی ت یم ت ہیں۔ ان کی زندگی ک
آخری دن اسلا پر زی دہ پ بند ہوت چ گئ ۔ ش ید ی پھر یقین ً انہوں
ن اسلا کو دری فت کر لی تھ لیکن ان کی ت یم ت ن ایک ع یحدہ
مذہ کی بنی د رکھ دی۔ جس کی وجہ ہم رے ذہن میں یہی ٓاتی ہ ،کہ
اسلا ایک دین ہ جو اللہ ن بن بن ی مس م نوں ک حوال کر دی ۔
لیکن کوئی شخص محنت س ی گی ن س اس ک ایک ایک رکن اور
ایک ایک آیت قر ٰانی کو دری فت نہیں کر سکت ۔
یہ ہم رے خی لات ہیں اور جو چھوٹی موٹی سی اور محدود عقل ہ
اس ک بی ن ہ ۔ ہ سکھوں کو مس م ن نہیں سمجھ سکت ،لیکن ان ک
احترا اپنی جگہ ہ ۔ ہمیں یقین ہ کہ مس م نوں ک طرز عمل انہیں
کبھی مس م ن ہون نہیں دے گ اور نہ وہ خود کو مس م ن کہ وا کر
اپنی رہی سہی عزت گنوان چ ہیں گ ۔ لیکن س تھ یہ بھی یقین ہ کہ
انہیں تھوڑی ہی ت ی کی ضرورت ہ ۔ وہ دور نہیں ہیں۔
امید ہ اس آپ اختلاف رائ نہ سمجھیں گ ۔ اور اپنی محبتوں س
اس ن چیز کو محرو نہ فرم ویں گ ۔ کہ ہ فقط جو ح ل سو ح ضر ک
ف رمول پر عمل کرت ہیں۔
دع گو
وی بی جی
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
کی ہی خوبصورت مضمون پیش کی ٓاپ ن ۔ کئی ب ر سنت کہت رہ
کہ ہ لوگ کیس مس م ن ہیں کہ عمل نہیں س ع ری ہیں۔ لیکن جن
ال ظ اور انداز میں ٓاپ ن یہی ب ت کہی ہ ۔ دل میں چبھ سی گئی ہ ۔
بہت ہی ش ندار جن ۔ بھرپور داد۔
ٓاپ ن ہم ری ع دت خرا کر دی ہ کہ اپن خی لات ک اظہ ر اس
طرح کھل کر کرن لگ گئ ہیں ،گوی بڑے ع ل ف ضل ہوں۔ ح لانکہ
ہ خ موشی اختی ر کی کرت رہ ہیں ،کہ ص ح اپن خی لات کی ہمیں
خود اتنی سمجھ نہیں تو انہیں کی بی ن کی ج ئ ۔ دنی میں اتن سمجھ
رکھن وال لوگ ہیں۔ ہم ری فضولی ت کی یہ ں کی ضرورت ،لیکن ا
ٓاہستہ آہستہ ٓاپ ن ہمیں ع دت ڈال دی ہ کہ جو من میں ٓائ لکھ
چ ج ت ہیں۔ سو اسی ضمن میں ہم رے ذہن میں کچھ خی لات
:جمہوریت :ک حوال س گزرے ہیں۔ پیش کرن کی جس رت کر
رہ ہیں۔
ہم رے خی ل میں جمہوریت کی اس س کو سمجھن کی ضرورت ہ ۔
اس حوال س سی سی ت ب ت یہ ں س شروع کرتی ہ ،کہ دنی میں
ج کوئی بچہ پیدا ہوت ہ تو اس دنی کی ہر چیز پر اتن ہی ح ل کر
پیدا ہوت ہ ،جتن کسی اور ک ۔ یہ ں ہر کسی کو اتنی ہی آزادی ح صل
ہ جتنی کسی اور کو۔ جمہوریت کسی مذہ ،تنگ ،نسل کو نہیں
م نتی ،ب کہ ایس نظ ہ جو لوگوں کو یہ ح دیتی ہ کہ وہ اپنی
مرضی س جو چ ہیں کریں۔ عیس یوں ک م ک میں عیس یت اور
مس م نوں ک م ک میں اسلا ۔ ا ب ت ٓائی کہ اختلاف رائ ک کی کی
ج ئ ۔ ایسی صورت میں یہ ط پ ی کہ ،زی دہ لوگ جو چ ہت ہونگ
وہ ہوگ ۔ مثلاً گھر میں وہی پک گ ،جو زی دہ لوگوں کی رض مندی
ہوگی۔ اس ک ف ئدہ یہ کہ زی دہ س زی دہ لوگ کھ ن س اف دہ ح صل
کر سکیں گ ۔ ک لوگ بدمزہ ہونگ ۔ ایک خی ل یہ بھی ہ کہ کسی
مرض ک علاج تو ڈاکٹر ہی بت سکت ہیں۔ ع لوگوں کی رائ تو غ ط
ہی ہو گی۔ ان کی ب ت بج ہ ۔ لیکن اس طرح ب ت ٓا ج تی ہ ڈاکٹروں
کی کہ وہ کتن ع ل ف ضل ہیں۔ دوسری ب ت کہ اسی ڈاکٹر ن صرف
ڈاکٹری نہیں کرنی ب کہ اس موچی ،مستری ،درزی اور ج ن کی کی
کرن ہ ۔ وہ س میں م ہر نہیں ہو سکت ۔ ایسی صورت میں ایس
شخص چ ہی جو ص ف نیت رکھت ہو۔ اور اس کو الیکٹ کرن ک
لیئ ہمیں صرف پڑھ لکھ لوگوں کو ووٹ ک ح نہیں دین ہوت ۔
ایک ح قہ یہ بھی کہت ہ کہ لوگ اپنی ن لی پکی کران ک لیئ ووٹ
دے دیت ہیں۔ جبکہ ہم را یہ خی ل ہ کہ وہ درست کرت ہیں۔ م ک
کی ترقی اسی میں ہ کہ ن لی ں پکی ہو ج ئیں۔ اگر ہم رے مح ک
گھروں کی ن لی پکی نہیں ہوتی تو کوئی ب ت نہیں گھروں کی
ن لی ں پکی ہو ج ئیں یہ بہتر ہ ۔ س لوگ اپن علاقہ کی ترقی ک م د
دیکھت ہوئ ووٹ دیں تو یقین ً ک می امیدوار جس علاقہ ک ہوگ
وہ ں زی دہ ٓاب دی اس ک مثبت ک س ف ئدہ ح صل کر سک گی۔
بندو دلوں کو فتح نہیں کر سکتی اور نہ ط قت ک ذری کچھ کسی
پر مس ط کی ج ن چ ہیئ ۔ ا کچھ لوگ اسلا کی ت ریف میں اس دنی
کی ہر چیز ک علاج کہت ہیں ،جبکہ ہمیں ذاتی طور پر اس س
اختلاف ہ ۔ جیس اسلا میں کہیں بھنڈی گوشت بن ن ک نسخہ
موجود نہیں ایس ہی نظ حکومت اسلا ک مضمون نہیں ہ ۔ وہ
ان رادی طور پر ہر شخص کو ت ی دیت ہ جو مل کر ایک س طنت بن
سکت ہیں۔ اسلا ہم ری نظر میں جمہوریت ہی ک درس دیت ہ ۔
کیونکہ دنی میں دو ہی طریق ہیں حکومت ک ۔ ایک یہ کہ کوئی جبراً
ح ک بن ج ئ اور کسی کو جوابدہ نہ ہو ،اور دوسرا یہ کہ لوگ خود
ح ک ط ین ت کریں۔
جمہوریت کی روح یہ ہ کہ عوا ک نم ئندہ چ ہ خود اختلاف ہی
کیوں نہ رکھت ہو۔ ہر مسئ ہ اپن لوگوں ک س من پیش کرے گ اور
جو کچھ لوگ اس کہیں گ ی چ ہت ہونگ ،وہ وہی اعوان میں
بی ن کرے گ ۔ لیکن ایس ہوت نہیں ہ ۔ جس کی وجہ جمہوریت کی
کمزوری ہ ۔ جمہوریت کو صدی ں لگ ج تی ہیں پ ت ہوئ ۔ جمہوریت
لوگوں کو سکھ تی چ ی ج تی ہ کہ کیس انہوں ن اپن نم ئندہ
الیکٹ کرن ہ ۔ سو اس وقت دین ہوت ہ ۔ ہم ری قو ہمیشہ س
غلامی میں ہی رہ ہ ،سو آج بھی ووٹ اسی کو دیتی ہ جو لمبی
گ ڑی س اترے اور اس ک س تھ بندو بردار لوگ ہوں۔ امیر کی بلا
وجہ بہت عزت کرتی ہ اور غری س ن رت کرتی ہ ۔ غری کو
ووٹ نہیں دیتی ،ب کہ اس پر ہنستی ہ ،اور امیر نہ بھی چ ہ تو اس
کی خ د بنن کی کوشش کرتی ہ ۔ ہم رے ذاتی خی ل میں جمہوریت
انہیں س کچھ سکھ دے گی۔ کچھ وقت لگ گ ۔
ہ ن کچھ زی دہ ہی لکھ دی ۔ م ذرت ک س تھ کہ آپ ک وقت برب د
کرت ہیں۔ آپ کی تص ویر دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ جن دکھ ئی
) :کیس دیت ہیں۔
مضمون پر ایک ب ر پھر داد کہ جس طرح مس م نوں کو ٓائینہ دکھ ن
کی کوشش کی ہ آپ ن ،امید ہ کہ کچھ سر شر س جھکیں گ
ضرور۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8981.0
دروازے س دروازے تک
تین چ ر س ل کی بچی ک س تھ‘ زی دتی کرن والا‘ انس نی روپ میں
درندہ‘ کئی روز‘ چ ت پھرت سوت ج گت ‘ اس ک دل و دم خ پر‘
دکھ اور درد ک ہتھوڑے‘ برس ت رہ ۔ انس نی م ررکیٹ میں‘ شوقین
ترین عورتوں کی موجودگی میں‘ اس ن چھوٹی سی‘ م صو سی‘
تین چ ر س ل کی بچی ہی کو‘ کیوں منتخ کی ۔ اتنی چھوٹی بچی کو‘ تو
بڑوں کی محبت‘ ش قت‘ لاڈ اور پی ر میسر آن چ ہی ۔ چھوٹ چھوٹ ‘
منہ س توت ی زب ن میں‘ نک ن وال ل ظ‘ تو روح و ق میں‘
آسودگی ات رت ہیں۔ انہیں اچھ ت کودت ‘ اور اٹھک ی ں بھرت دیکھ
کر‘ انس ن بڑے س بڑا دکھ‘ بھی بھول ج ت ہ ۔ ان کی ادائیں اور ن ز
نخرے‘ دیکھ کر فرشت کی ‘ س ری آسم نی مخ و جھو جھو ج تی
ہو گی۔ اس بصد غور کرن ک ب د بھی‘ م و نہ ہو سک ‘ کہ اس
انس ن س شخص ک ‘ کیسی اور کہ ں کی‘ مخ و س ت ہو گ ‘ جو
اس ن ق بل یقین سطح پر‘ اتر آئی ہ ۔
وہ گری آدمی نہیں تھ کھ ت پیت گھران ک تھ ۔ م ل ک حوال
س ‘ شوقین م ل‘ مل ج ن ‘ ن ممکن ت میں نہ تھ ۔ ج ک چلان ‘ اور
گزرا کرن ہو‘ تو روزن نش ط ک چھوٹ ‘ بڑا ی ب کن ر ہون س ‘
کچھ فر نہیں پڑت ۔ ہر دو صورتوں میں‘ ٹ ئ پ س ہو ج ت ہ ۔ قبروں
پر پھول چڑھت آئ ہیں‘ ان کھ غنچ ‘ توڑے نہیں ج ت ‘ ان ک
پھول بنن ک ‘ انتظ ر کی ج ت ہ ۔ ج غنچ قبروں پر چڑھن لگیں‘
سمجھو گ ست ن کی ا خیر نہیں۔ ایس گ ست ن ک پودے‘ کسی وقت
بھی‘ اس س ڈنگر ک ‘ پہوجن بن سکت ہیں۔ ڈنگر کی آنکھ‘ حسن
شن س نہیں ہوتی۔ وہ پیٹ ہی س دیکھت اور سوچت ہ ۔ کسی گھ س
خور ک ‘ چھوٹ س بچہ اور اس کی اٹھکی ی ں‘ کسی درندے ک لی ‘
م نویت نہیں رکھتیں۔ اس دیکھت ہی‘ درندے کو بھوک محسوس
ہون لگتی ہ ۔ درندے کی یہ فطرت ہ ‘ اور اسی لی اس درندہ کہ
جت ہ ۔
ک فی سوچن ‘ اور غور کرن ک ب د‘ اس م و ہوا‘ کہ وہ اسی
بستی ک ب سی تھ ۔ اس س طور اطوار ک ‘ بہت س ‘ انس ن س ‘
اس ک قر وجوار میں‘ بست تھ ۔ انس نوں کی بستی میں‘ آخر ان
ک کی ک ۔ یقین یہ راکھشش لوک س ‘ یہ ں انس نی بہروپ میں‘ وارد
ہوئ تھ ۔ انس نوں ک س تھ مل کر‘ مذہبی امور بھی انج دیت
تھ ‘ ب کہ یہ اس ذیل میں‘ اوروں س ‘ کہیں بڑھ کر تھ ۔ چرچ‘
مندر‘ گرو دوارے‘ مس جد وغیرہ میں‘ شریف صورت بن کر‘ ح ضر
ہوت تھ ۔ کسی پہٹھ ک ک ‘ ان ک مت سوچن بھی‘ گن ہ کبیرہ
محسوس ہوت ہ ۔
اکبر ص ح ‘ گریبوں اور بیواؤں کی مدد کرن میں‘ بڑی شہرت رکھت
تھ ۔ وہ ان کی بڑی عزت کرت تھ ۔ اس ان ک لب س اور چہرہ‘
فرشتوں جیس لگت تھ ۔ اس ن ‘ ان کی آنکھوں کو‘ کبھی پڑھن کی
ضرورت ہی محسوس نہ کی تھی۔ مزدور کی مزدوری‘ رو دھو کر عط
کرت تھ ۔ یہ ہی نہیں‘ اس میں ڈنڈی م رن ‘ فرض عین سمجھت
تھ ۔ سوہنی گری خواتین ک لی ‘ بڑا ہی نر گوشہ رکھت تھ ۔
بوڑھ ریٹ ئر م سٹر عیسی‘ آج بھی اس ک لی ‘ بڑا محتر اور م زز
تھ ‘ لیکن وہ اس ک ‘ کرتوت نہیں ج نت تھ ۔ پنشن لین ‘ دور دراز ک
گ ؤں س آت تھ ۔ پنشن ک رک ح جی ص ح کو‘ نقد نہ سہی‘ گ ؤں کی
کوئی سوغ ت‘ گن وغیرہ‘ تو لا کر دے سکت تھ ۔ مگر کہ ں اتنی
توفی ۔ ح جی ص ح ‘ اس کی پنشن بک‘ س س نیچ رکھ دیت
تھ ۔ وہ دور کھڑا‘ بک بک کرت رہت تھ ۔ اس کی بک بک س ‘ ح جی
ص ح تنگ آ گی تھ ۔ ایک دن‘ ج آخر میں ب ری آئی‘ تو ح جی
ص ح ن کہ ‘ یہ لو پنشن بک‘ کل آن ‘ دفتر ٹ ئ خت ہو گی ہ ‘ یہ کہہ
کر‘ کھڑکی بند کر دی۔ م سٹر ن ‘ مندا بولن کی حد ہی کر دی۔
اگ دن بھی‘ ح جی ص ح ن اس ‘ س را دن کھڑا کی رکھ ۔ دفتر
ٹ ئ خت ہون ک وقت کہ ‘ یہ لو پنشن بک‘ اور حی تی پروانہ‘ کسی
بڑے افسر س ‘ تصدی کروا کر لاؤ۔ م سٹر پھر بولن لگ ۔ ح جی ک
موقف درست تھ پنشن بک کی تصویر‘ ان کی موجودہ شکل س ‘ کسی
طرح‘ میل نہ کھ تی تھی۔ اس راکھشش آلواد بستی میں‘ اس ک سوا‘
کوئی م سٹر کو‘ درست قرار نہیں دے رہ تھ ۔ س ح جی ص ح ک
موقف کو‘ درست قرار دے رہ تھ ۔ وہ زندہ ہ ‘ ک تصد ن مہ لان
اشد ضروری تھ ۔
سوچوں ک اس ب سرے طوف ن ن ‘ اس ک اعص کو‘ بری طرح
مت ثر کی ۔ س ری دنی ‘ دوسروں ک دکھ درد س لات ہو کر‘ پیٹ
پوج ک س م ن‘ اکٹھ کرن میں مصروف تھی۔ وہ تھ ‘ کہ اوروں ک
لی ‘ سوچ سوچ کر‘ بلاوجہ ہ ک ن ہو رہ تھ ۔ ان ک لی ‘ جو اس
خبطی کہت تھ ۔ اور تو اور‘ اس ک گھر وال بھی‘ اس کریک
خی ل کرت تھ ۔ وہ اک وت کم ئی ک ذری ہ تھ ‘ اسی لی ‘ اس ب امر
مجبوری‘ برداشت کر رہ تھ ‘ ورنہ ک ک ‘ گھر س نک ل ب ہر
کرت ۔ ا وہ نڈھ ل س ہو گی تھ ۔ اس س چ ن دشوار ہو گی تھ ۔ پھر
وہ‘ ایک سڑکی ہوٹل میں‘ داخل ہو گی ۔ اس ہوٹل میں‘ تیسرے اور
چوتھ درجہ س مت لوگ‘ چ ئ وغیرہ پیت تھ ۔
ہوٹل میں بڑی گہم گہمی تھی۔ لوگ مخت ف موضوعت پر گ ت گو کر
رہ تھ ۔ ان کی گ ت گو ک حوالہ س ‘ سم جی‘ م شرتی اور
شخصی ن سی تی م ملات ک ‘ ب خوبی اندازہ لگ ی ج سکت تھ ۔ اصل
رون ‘ م ش ک روی ج رہ تھ ۔ یوں لگت تھ ‘ جیس ہر کوئی‘ صدیوں
کی بھوک‘ اٹھ ئ پھرت ہ ۔ وہ آسودگی ک لی ‘ یہ ں آی تھ ‘ لیکن
یہ ں آ کر‘ مزید بور ہوا۔ ہ ں البتہ‘ دو تین بنچوں پر ہون والی گ ت
گو‘ ب طور خ ص‘ اس کی توجہ ک سب بنی۔
ایک ص ح بت رہ تھ ‘ کہ فلاں علامہ ص ح ‘ خط ک لی
بلائ گی ۔ ان س خط وغیرہ س تھوڑا پہ ‘ دری فت کی گی ‘ کہ
حضرت کھ ن میں‘ کدو شریف پک لی ج ئ ۔ انہوں ن جواب فرم ی ‘
گن رگ ر آدمی ہوں‘ میں کدو شریف ک ک لائ ہوں۔ بس‘ کوئی آوارہ
س ‘ مرغ پکڑ لیں۔ خط ک ب د‘ بڑا مختصر کھ ی ۔ ہ نڈی کی‘ بڑی
عزت افزائی ہوئی۔ گھر والوں کو‘ خدشہ پیدا ہو گی ‘ کہ کہیں ہ نڈی ہی
نہ کھ ج ئیں۔ سحری پیٹ بھر کی۔ صبح اٹھ کر‘ ن شتہ پ نی ط کر لی ۔
میزب ن ن ‘ حیرانی س پوچھ ‘ حضرت آپ ک تو روزہ ہ ۔ بول
بھ ئی میں س ر میں ہوں۔
کچھ لوگ ک رک ش ہی کی داداگیری پر گ ت گو کر رہ تھ ۔ ان میں
س ایک کہن لگ طوائف اورک رک میں کی فر ہ ۔ دوسرا دونوں
سج سج ئ ہوت ہیں۔ ہ ں طوائف س ئل کی جی ہ کی کرن ک
لی اداؤں نخروں اور مسکراہٹوں س ک لیتی ہ ۔ ک رک ب دش ہ
گھرکیوں کو است م ل میں لات ہ ۔ س ئل اس ک س من بھیگی ب ی بن
رہت ہ ۔ پیس دیت ہ کھ ن کھلات ہ اس ک ب وجود خجل خواری
اس ک مقدر ٹھہرتی ہ ۔ دفتر میں بیٹھن تک کی زحمت نہیں دی
ج تی۔
ایک پیر ص ح کی بھی ب ت ہو رہی تھی۔ ان ک ایک مرید‘ انہیں بڑا
کرنی والا بت رہ تھ ۔ ان میں ایک ص ح وہ بی س تھ ‘ وہ
متواتر بحث چ ج رہ تھ ۔ ایک مقروض ک ‘ دع ک لی آن
ک قصہ چلا۔ اس ن ‘ پیر ص ح کی خدمت میں‘ نقدی نذر نی ز پیش
کی‘ اور قرض اترن کی دع ک لی ‘ گزارش کی۔ پیر ص ح ن دع
فرم ئی۔ اس وہ بی ک نقطہءنظر یہ تھ ‘ کہ یہ پیری مریدی س فراڈ
ہ ۔ وہ کرنی وال ت تھ ‘ اس مرید ن جو نذر نی ز پیش کی‘ پ
س ن سہی‘ وہ ہی میدان میں رکھ دیت ‘ اور ح ضرین کو‘ مدد کی
ترغی دیت ۔ قرض تو اسی وقت اتر سکت تھ ہو سکت ہ ‘ کوئی ایک
مرید ہی‘ اس مقروض ک قرض ات ر دیت ۔ ان میں س ‘ کوئی بھی‘ اپن
موقف س ‘ دست بردار ہون ک ‘ ن ہی نہ ل رہ تھ ۔ آخر‘ ب ت
تپھڑوں اور گھونسوں تک پنچ گئی۔ کچھ لوگ‘ انہیں چھڑان میں
مصروف ہو گی ‘ کچھ ن ‘ کھسکن میں ع فیت ج نی۔ دو ایک‘ لڑائی
ک اسکور ج نن ک لی ‘ رک گی ۔
اس ن سوچ ‘ م رن والا سمجھت ہ ‘ کہ وہ ب لا دست رہ ‘ ح لاں کہ
یہ سوچ‘ خود فریبی اور خوش فہمی س ‘ زی دہ اہمیت نہیں رکھی۔ اس
لای نی بحث اور لڑائی ک ب عث‘ سکون ک سر پر‘ پتھر لگ ۔ م رن
وال کی‘ توان ئی زی دہ خرچ ہوئی۔ دونوں فریقوں ک م بین‘ دوامی
رنجشن ن راہ پ ئی۔ دونوں فری اعص بی تن ؤ ک شک ر ہوئ ۔ جتنی
ب ر م را‘ اتنی ب ر چوٹ‘ م رن وال کو بھی لگی۔ ب ت بھی کوئی ایسی
بڑی نہ تھی۔ انہیں ایک دوسرے کو‘ دلائل س ‘ ق ئل کرن چ ہی تھ ۔
کی س را اسلا ‘ اسی مس میں آ گھس تھ ۔
وہ آرا اور سکون کی غرض س ‘ ہوٹل میں ج بیٹھ تھ ۔ وہ ں ہون
والی ب توں اور لڑائی س ‘ مزید آوازار ہو گی ۔ وہ بوجھل قدموں س ‘
گھر کی طرف چل دی ۔ لڑائی دیکھ کر‘ اس یقین ہو گی ‘ کہ انس نی
بستی میں‘ انس نی روپ میں‘ راکھشش بھی آ بس ہیں‘ ی یہ بستی‘
راکھششوں ک س یہ کی زد میں‘ ضرور آ گئی ہ ۔ سوچوں ک گہرے
س ئ ت ‘ آہستہ آہستہ چ ت ہوا‘ اپن گھر ک دروازے تک‘ پہنچ گی ۔
دروازے س دروازے تک ک یہ س ر‘ اس صدی ں ک س ر محسوس
ہوا۔ قدسیہ ک گرجن برسن ‘ یقین غ ط نہ ہو گ ۔ اس ن سوچ ‘ میں بھی
کیس شخص ہوں‘ صدی ں لای نیت میں گزار کر‘ گھر خ لی ہ تھ لوٹ آی
ہوں۔ مجھ غیر تو ی د رہ ‘ یہ ی د نہ رہ ‘ کہ بچوں ک لی ‘ چکی
س آٹ لین نکلا تھ ۔ پھر وہ سر جھک ئ ‘ گھر میں داخل ہو گی ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت ہی دلسوز تحریر ہ جن ۔ کی خو ق چلائی۔ یقین ج نی تحریر
پڑھ کر آپ ک ق کی ت ریف کرن کی بج ئ ،رون ک دل چ ہت ہ ۔
تحریر ک پہلا حصہ جس موضوع پر ق ری ک دل نر کرت ہ ،اس پر
کچھ کہت بھی شر محسوس ہوتی ہ لیکن اس دلسوز حقیقت کو
ج ن لین ک ب د تحریر ک دوسرا حصہ صحیح طور س سمجھ بھی
ٓات ہ اور دل پر اثر کرت ہ ۔ مس م ن م شرہ اتنی بیم ریوں ک شک ر
ہو چک ہ کہ بندہ کی کہ اور کی نہ کہ ۔ لوگ اس قدر ب حس ہو
چک ہیں کہ ہر م م ہ کو حکومت کی زمہ داری قرار دے کر ،پہ و
تہی کر ج ت ہیں۔ یہ ں تک کہ کبھی کبھی ہمیں لگت ہ کہ لوگ
چ ہت ہیں وہ گھروں میں سکون س بیٹھ رہ کریں اور حکومت
س کو گھر گھر ہر مہین پیسوں کی بوری دے ج ی کرے۔ انہیں
سمجھ نہیں ٓات کہ ان ج نہیں اگ ئیں گ تو نہیں کھ ئیں گ ۔ ریڑھی پر
لوگوں کو دھوک س گندے ٹم ٹر بیچن والا خود حکومت س
رنجیدہ ہ کہ وہ دھوک ب ز ہ ۔ لوگ نہیں سمجھت کہ وہ ایج دات،
ت ی ،زراعت وغیرہ میں محنت کر کہ دنی کو کچھ دیں گ نہیں تو دنی
انہیں موب ئل اور کمپوٹر م ت فراہ نہیں کرے گی۔ مذہبی م ملات میں
انتہ پسندی یہی ہ کہ ایک فرقہ قبر کو سجدے تک کرن پر راضی
ہ تو دوسرا قبروں کو لاتیں م رت پھرت ہ ۔ برداشت خت ہو چکی
ہ ۔ ایک انگریز بوڑھی سی خ تون ایک دن ٹی وی پر کسی پروگرا
میں بہت پی ر اور حیرت بھرے لہج میں فرم رہی تھیں کہ ٓاخر
مس م نوں کو کیوں کمیونٹی بن کر رہن نہیں ٓا رہ ہ ۔ وہ نہیں سیکھ
رہ اور نقص ن بھی وہ اپن ہی کرت ج رہ ہیں۔ اس ک نذدیک یہ
بہت م مولی سی ب ت تھی کہ اتنی سی ب ت نہیں سمجھ ٓا رہی۔
خیر ہمیں تو ا اپن آپ س ڈر لگن لگ گی ہ کہ اگر ہ اپن ق
پر ق بو نہ پ سک تو ہم را ح ل وہی ہو گ جو س ح ؔر اور ج ل ؔ ک ہؤا
تھ ۔ لیکن خیر ،ابھی ہمیں اپن اندر موجود ،اس ب حسی پر بھروسہ
ہ ،جو اس م شرہ ن ہمیں تح ہ میں دی ہ ۔
تحریر پر ہ آپ کو ایک ب ر پھر بھرپور داد دیت ہیں۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8987.0
یہ کوئی نئی ب ت نہ تھی
ح مد ص ح اور شکیل ص ح ‘ گہرے دوست ہی نہیں‘ کلاس فی و بھی
تھ ۔ دونوں ن پہ ی جم عت س بی اے تک‘ اکٹھی ت ی ح صل کی۔
ح مد ص ح ن ‘ لاء ک لج میں داخ ہ ل لی ‘ ج کہ شکیل ص ح ای
اے ن سی ت کرن ک لی ‘ لاہور چ گی ۔ ح مد ص ح وکیل بن کر
ض ع کچہری میں وک لت ک پھٹ لگ کر بیٹھ گی ۔ شکیل ص ح ن
بھی‘ ای اے ن سی ت کر لی ۔ پھر وہ لیکچرر منتخ ہو کر‘ کسی ک لج
میں خدمت انج دین لگ ۔ جم رات کو آت ‘ اور جم ہ کی چھٹی
گزار کر‘ واپس چ ج ت ۔ درمی ن میں کوئی اور چھٹی آ ج تی‘ تو
بھی گھر آ ج ت ۔
ج آت ‘ ح مد ص ح س ضرور ملاق ت کرت ۔ ش ید ہی‘ کوئی
چھٹی‘ ملاق ت ک بغیر‘ گزری ہو گی۔ وہ گھر میں بیٹھن کی بج ئ ‘
راج ٹی ہ ؤس میں‘ آ بیٹھت ۔ دو دو گھنٹ ‘ وہ ں بیٹھ رہت ۔اتنی دیر
میں‘ تین چ ر کپ چ ئ ‘ ڈک ر ج ت ۔ ان کی ب تیں‘ عمومی دل چسپی
س ‘ قط ی ہٹ کر ہوتیں۔۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ بہت ک لوگ‘ ان کی ٹیبل
پر آ کر بیٹھت تھ ۔ بس دور س ‘ سلا کرک ‘ کسی دوسری ٹیبل
پر‘ بیٹھ ج ت ۔ ان کی بحث میں‘ گرمی کی شدت بڑھ ج تی۔ ب ض
اوق ت‘ یوں لگت ‘ جیس لڑ رہ ہوں۔ غور کرن پر‘ م و ہوت ‘ وہ لڑ
نہیں رہ ‘ ان ک انداز بس لڑن ک س ہ ۔ ح مد ص ح یوں ب ت کر
رہ ہوت ‘ جیس کورٹ میں کھڑے‘ اپن کسی س ئل کی بھرپور
انداز میں‘ وک لت کر رہ ہوں۔ شکیل ص ح بھی کچھ ک نہ بولت
تھ ۔ ان کی گ ت گو پر‘ کلاس میں دی ج ن وال لیکچر ک گم ن
گزرت ۔۔ ہر ب ت‘ حوال ک س تھ کرت ۔
ب تیں‘ اگرچہ عصری و شخصی مس ئل ک مت ہوتیں‘ لیکن ان ک
انداز گ ت گو‘ عوامی نہ ہوت ۔ کچر مچر م رت رہت ۔ غیر سنجیدہ
ب توں ک لی بھی‘ سنجیدہ طرز اظہ ر اختی ر کرت ۔ دوران گ ت گو‘
اگر کوئی لطی ہ ب زی کرت ‘ تو وہ بھی جمہوریت کی طرح‘ ذو م نی
اور طرح دار ہوتی۔ وہ خود ہنس پڑت ‘ لیکن وہ ں بیٹھ کوئی شخص‘
رونی صورت بن ن کی زحمت تک نہ اٹھ ت ۔
اس دن‘ لال دلاور کی بیٹی‘ جو اپن آشن ک س تھ‘ رات گھر س ‘
زیور اور نقدی ل کر نکل گئی تھی‘ ان کی گ ت گو ک موضوع تھی۔
پہ مرک ۔۔۔۔۔ نکل ج ن ۔۔۔۔۔ زیر بحث رہ ۔
پروفیسر ص ح ک موقف تھ ‘ ل ظ نکل ج ن ‘ ب پ کی ان کو‘ مزید گرزند
پنچ ن ک مترادف ہ ۔ اس س ‘ ب پ ک مورال‘ مزید ڈاون ہو گ ۔
وکیل ص ح ک موقف یہ تھ ‘ کہ دغ دے گئی‘ فری دے گئی‘ کہہ لو
ی نکل گئی کہہ لو‘ ب ت ایک ہی ہ ۔
بلاکسی نتیج ‘ ب ت آگ بڑھی۔ وکیل ص ح ک نزدیک‘ ان ک گھر
ج کر‘ افسوس کرن چ ہی ۔ ق نونی امداد کی پیش کش کرنی چ ہی ۔
پروفیسر ص ح ک کہن تھ ‘ سردست ان لوگوں کو‘ ان ک ح ل پر‘
چھوڑ دین چ ہی ۔ وہ ش ک میں ہیں‘ اس موضوع پر ب ت کرن س ‘
تضحیک ک س تھ س تھ‘ یہ امر ذہن کو مشت ل کرن ک مترادف ہوگ ۔
اس بحث ک بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
ح مد ص ح ن کہ ‘ نک ح شخص ک ‘ فطری اور شخصی ح ہ ۔ گھر
والوں ن ‘ لڑک ک انتخ کر لی ی شخص ن ‘ خود اپن جیون س تھی
چن لی ‘ ب ت ایک ہی ہ ۔ اس میں انسرٹ والی‘ کی ب ت ہ ۔ اگر یہ غ ط
ہو‘ تو عدالت میں‘ روزانہ ہون وال ‘ سیکڑوں نک ح نہ ہوں۔ عدالت‘
انہیں اج زت ن مہ ج ری کرتی ہ ۔ ق نون اج زت دیت ہ ‘ ت ہی تو
عدالت‘ اج زت ن مہ ج ری کرتی ہ ۔
پروفیسر ص ح ‘ عدالت ک ج ری کردہ پروانوں کو‘ درست تس ی کر
رہ تھ ۔ وہ یہ بھی م ن رہ تھ ‘ کہ عدالت ری ستی ق نون ک
تحت ہی‘ پروان ج ری کرتی ہ ۔ انہیں‘ بچوں ک اس طریقہ ک ر س
اختلاف تھ ۔ بہت س ‘ ایس واق ہوت ہیں‘ جس میں والدین کو
خبر تک نہیں ہوتی۔ ب ض واق ت میں صرف والد ب خبر ہوت ہ ۔
وکیل ص ح ک موقف تھ ‘ کہ بچ یہ قد اس وقت ہی اٹھ ت ہیں‘ ج
انہیں یقین ہوت ہ ‘ کہ والدین راضی نہیں ہوں گ ۔ دوسری صورت
میں‘ م ئیں اور بچ ‘ اب حضور کی ہٹ دھرمی س ‘ آگ ہ ہوت ہیں۔
دنی کہ ں س ‘ کہ ں تک پہچ گئی ہ ‘ اور ہ ان لای نی مس ئل میں‘
الجھ ہوئ ہیں۔
پروفیسر ص ح ‘ ان ک اس موقف س ‘ مت نہ تھ ۔ ان ک کہن تھ ‘
کہ اس ذیل میں‘ ہ دوہرے م ی ر ک شک ر ہیں۔ ہ دوسروں ک لی ‘
اس پہ و س سوچت ہیں‘ لیکن اپن لی ‘ سوچ ک یہ انداز نہیں
رکھت ۔ پروفیسر ص ح ن کہ ‘ اگر تمہ ری بیٹی‘ اس قس کی
ب وف ئی کرئ ‘ ی تمہ ری م ں کسی س عش پیچہ ڈال ل ‘ اور پھر
خ ع ک مقدمہ دائر کر دے‘ تو تمہ را کی ردعمل ہو گ ۔
وکیل ص ح اچھل پڑے‘ اور کہن لگ ‘ یہ ت کی ب ت کر رہ ہو۔
ب ت سوس ئٹی کی ہو رہی
ہ ‘ اور ت پرسنل ہو گی ہو۔ میری م ں بیٹی شریف ہیں‘ وہ اس قس
کی‘ کیوں حرکت کریں گی۔
پروفیسر ص ح ن ‘ ف ک بوس قہقہ داغ اور کہ سوچ ک دوہرا م ی ر‘
س من آ گی ن ۔ دوسرا ت خود ہی‘ اس غیر شری نہ حرکت‘ قرار دے
رہ ہو۔ تمہ ری بیٹی اور م ں ک لی ‘ یہ حرکت غیر شری نہ ہ ۔
سوس ئٹی کی دوسری عورتوں ک لی شری نہ‘ اور ری ستی ق نون
ک دائرے میں آت ہ ۔
قہقہ ک س تھ ہی‘ انہوں ن چ ئ ک آرڈر ج ری کر دی ۔ یہ ان ک ‘
تیسرا کپ تھ ۔ وکیل ص ح ن کیک لان ک لی بھی کہہ دی ۔
وکیل ص ح ‘ تھوڑے دھیم پڑے‘ لیکن وہ اپنی ب ت پر‘ اڑے ہوئ
تھ ‘ وہ م م کو‘ ذاتی ت س ب لاتر ہو کر‘ اور سوس ئٹی ک تن ظر
میں‘ دیکھن پر زور دے رہ تھ ۔
پروفیسر ص ح ‘ فقط ایک قہق ک ب د ہی‘ سنجیدہ ہو گی ۔ فرم ن
لگ ‘ ی ر ہ مشرقی لوگ ہیں‘ ہم ری سوس ئٹی پدری ہ ۔ اس مغربی
سوس ئٹی پر‘ محمول نہ کرو۔ شخص جہ ں ری ستی ق نون ک پ بند ہ ‘
وہ ں سوس ئٹی ک اصولوں کو بھی‘ کسی سطح پر نظرانداز نہیں کر
سکت ۔ نظرانداز کرئ گ ‘ تو سکھ چین س ‘ جی نہ سک گ ۔ ہم ری
سوس ئٹی‘ م ں بہن اور بیٹی کی‘ اس نوعیت کی‘ ب وف ئی کی اج زت
نہیں دیتی۔ اس سوس ٹی میں‘ ب پ ہوت ہ ‘ اور وہ ہی امور انج دیت
ہ ۔ وہ اندر ب ہر ک ‘ جوا دہ ہوت ہ ۔ اچھ برا‘ اسی ک سر پر آت
ہ ۔ وہ ں‘ ب پ ث نوی درجہ بھی نہیں رکھت ۔ آج امریک ک طوطی نہیں‘
بھونپو بولت ہ ۔ ج ؤ‘ ج کر‘ ت ریخ ک مط ل ہ کرو‘ پھر تمہیں پت چل
ج ئ گ ‘ کہ وہ برط نیہ س فرار‘ لٹیروں کی نسل ہیں۔ وہ کی
سوس ئٹی بن ئیں گ ‘ جن کی پیروی میں‘ ت یہ س کہہ رہ ہو۔
اس ب ت پر‘ ح مد ص ح چمک ‘ اور بول ‘ ی ر کی بکواس کر رہ
ہو‘ میں چھ س ل‘ مغر میں رہ ہوں۔ تمہ ری بھ بی بھی‘ ادھر س
کی ہ ۔
دیکھو‘ وکیل ہو کر‘ پوائنٹ دے رہ ہو۔
کی مط
کی ت اپنی بیوی‘ ی نی میری بھ بی کو‘ اس کی م شرت ک لب س میں‘
اس کی م شرت ک مط ب ‘ آزادی دے سکت ہو۔
نہیں‘ ب لکل نہیں۔
گوی موصوفہ کو‘ ہم رے م شرتی لب س اور اصول اپن ن پڑے ہیں ن ۔
یہ م شرتی ض بط ہیں‘ جو اپن ن پڑت ہیں۔ ان کو اپن ئ بغیر‘ گ ڑی
نہیں چل سکتی۔
یہ راونڈ‘ بلاشبہ پروفیسر ص ح ک ہ تھ لگ تھ ۔
نک ح کی ہ
دو فریقین کی مرضی دری فت کرن ۔ دو فری ‘ بھ گ کر‘ ی کورٹ میرج
کر لیت ہیں۔ کی یہ فریقین کی مرضی کی صورت نہیں ہ ۔ دکھ ؤ‘
کہ ں گئی تمہ ری پروفیسری۔ اسلا ج نک ح کو‘ مرضی قرار دیت ہ ‘
تو ہ ی ہم ری سوس ئٹی‘ اس کی راہ میں کیس آ سکتی ہ ۔ اسلا ن
بولتی بند کر دی ن ں۔
ح مد بھ ئی‘ اسلا ہر عہد ک مذہ ہ ‘ اور یہ ہر عہد ک لی ‘ جدید
ترین مذہ ہ ۔ اسلا ‘ شخص کو خراف ت س نج ت دلات ہ ۔ یہ ہی
نہیں‘ یہ انس نی فطرت ک س تھ دیت ہ ۔ انس ن کی خیر خواہی اور ظ ر
مندی ک خواہ ں رہت ہ ۔
بلاشبہ‘ نک ح‘ طرفین کی ایم دری فت کرن ک ن ہ ‘ اور اس ضمن
میں‘ ہر قس ک ‘ جبر کی‘ اسلا مخ ل ت کرت ہ ۔
اسلا ‘ حج اور محر ن محر ک ب رے میں بھی‘ کچھ کہت ہ ۔
حج کی ت کید کیوں کرت ہ ‘ ت کہ ب حی ئی ک رستہ نہ کھل ج ئ ۔
حج نہ ہون کی صورت میں‘ مرد اور عورت مسکراہٹ س ‘
م م ک ‘ آغ ز کریں گ ۔ پھر قری قری بیٹھیں گ ۔ یہ بیٹھن ‘
عمومی چھون ک سب بن گ ۔ عمو خصوص کی طرف‘ مراج ت
کرئ گ ۔ ن زک اعض س ‘ مخصوص اعض کو چھون ‘ اور تصرف
میں لان ک ک شروع ہو ج ئ گ ۔ موصوفہ ک پیٹ پھول گ ۔ نوبت
اب رشن تک پہنچ گی۔ پیٹ نہ بھی پھول ‘ ویرج ک تو ضی ع ہو گ ۔
انس نی ویرج‘ کس پ ئ کی چیز ہ ‘ کسی س ئنس دان س ‘ ج کر
پوچھو۔ وکیل ص ح ‘ نک ح س پہ ‘ یہ س ‘ کی اسلا درست اور
ج ئز قرار دیت ہ ۔ اسلا ن ‘ خرابی روکن ک لی ہی تو‘ حج
کو‘ ازبس ضروری قرار دی ہ ۔
ح مد ص ح ن ‘ گھڑی پر ایک نظر ڈالی‘ اور پھر ایک د بول ‘ او
م ئی گ ڈ‘ چھوٹ کو‘ ڈاکٹر ک پ س ل ج ن ہ ۔ پھر وہ اٹھ کھڑے
ہوئ ۔ اٹھت ہوئ ‘ پروفیسر ص ح بول ‘ ا سمجھ میں‘ یہ ب ت آ
گئی ہو گی‘ کہ م دری اور پدری سوس ئٹی میں‘ کی فر ہوت ہ ۔ ب پ
ایک ذمہ دار رشتہ ہ ۔ دکھ سکھ‘ اچھ برا اس ک دامن میں ج ت ہ ۔
بیٹی ک دغ دین پر‘ اس ش ک تو ہو گ ۔
وکیل ص ح ن ‘ جوا میں‘ کی کہ ہو گ ‘ یہ تو م و نہ ہو سک ‘
کیوں کہ اس وقت تک‘ وہ ہوٹل س ‘ ب ہر نکل گی تھ ۔ ہ ں اتن
ضرور ہ ‘ کہ چ ر چ ہیں ڈک رن ‘ اور ڈھ ئی گھنٹ گ ت کرن ک
ب وجود‘ وہ کسی حتمی نتیج ک منہ‘ نہ دیکھ سک تھ ۔ یہ کوئی
نئی ب ت نہ تھی‘ ہر ب ر‘ یہ ہی کچھ ہوت تھ ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
کی ہی ب ت ہ جن ۔ بہت خو ۔ بہت ب ریک م م پر ق اٹھ ی ہ
اور کی ہی خو اٹھ ی ہ ۔ یہ انداز بھی بہت پسند آی جس طرح آپن
م م کو ایک مق لمہ کی شکل دی اور ب ت واضح س واضح طور
تر ہوتی چ ی گئی۔ ہمیں سو فی صد ات ہ ٓاپ کی اس ب ت س ۔
م م کو تھوڑا وسیع کر ک دیکھیں تو ب ت وہیں جنون و خرد کی
لڑائی پر آتی ہ ۔ ہم را ذاتی خی ل ہ کہ جنوں آورد کی طرح ہ اور
عموم ً کسی چیز ک حقیقی اور حتمی احس س ہوت ہ ۔ خرد کو دلائل
چ ہیئں۔ وہی فر جو وک لت اور ن سی ت ک آپ کی تحریر میں جھ کت
محسوس ہوت ہ ۔
ن سی ت چونکہ اس چیز ک مط ل ہ کرتی ہ :جو ہ ،:اس لیئ حقیقت
ک قری تر ہ ۔ جبکہ وک لت ک زی دہ تر زور اس پر ہ کہ :کی ہون
چ ہیئ :ح لانکہ ہم رے نذدیک :کی ہون چ ہیئ :ک اس وقت تک ت ین
ہی نہیں کی ج سکت ج تک یہ مکمل طور پر ج ن نہ لی ج ئ :جو
ہ :۔
ٓاپ ن بج فرم ی کہ ہم را م شرہ ،اکہرے نہیں ب کہ دوہرے م ی ر ک
شک ر ہ ب کہ ہ تو کہیں گ کہ کئی ہرے م ی روں ک شک ر ہ ۔ یہی
وجہ ہ کہ بقول شخص :ہر شخص چ ہت ہ کہ اس کی بیوی وہ
کچھ نہ کرے جو وہ چ ہت ہ کہ پڑوسی کی بیوی کرے ): :اس کی
وجہ ہمیں جو محسوس ہوتی ہ وہ بھی ٓاپ ن بی ن فرم ہی دی ہ ،
کہ ہ لوگوں ن اسلا کو اپنی ہندوست نی تہذی ک س تھ ہ ٓاہنگ
کرن کی کوشش کی ہ ۔ اسلا میں غیرت ک ایس تصور ہمیں کہیں
نہیں م ت ،وہ ں ک فی ب تیں کچھ مخت ف انداز میں ہیں۔
لیکن خیر یہ واق ی کوئی نئی ب ت نہیں ہ ،لیکن ٓاپ ن اس اپن
ق ک زور س نی بن دی ہ ۔ مق لمہ بہت اچھ لکھ ہ آپ ن ۔
ہمیں تو پڑھ کر بہت مزا آی جن ۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ ۔۔۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9000.0
اس پی س ہی رہن ہ
کری بخش ص ح ‘ س بقہ فوجی تھ ۔ بچوں کی ش دی س ف ر ہو
چک تھ ۔ ا دونوں می ں بیوی‘ اپن آب ئی مک ن میں‘ زندگی بسر
کر رہ تھ ۔ شدید بڑھ پ ک ب وجود‘ بڑے الڑٹ اور رکھ رکھ ؤ کی
زندگی‘ بسر کر رہ تھ ۔ جہ ں کہیں‘ کوئی مس ہ اٹھت ‘ اس ک حل
ک لی ‘ پیش پیش رہت ۔ ڈسپ ن‘ ان کی رگ وپ میں رچ بس گی
تھ ۔ ان ک کہن تھ ‘ کہ ڈسپ ن ک بغیر زندگی متوازن نہیں ہو سکتی۔ آج
ب چینی‘ ب سکونی اور چھین جھپٹی‘ ڈسپ ن س انحراف ک ب عث
ہ ۔ وہ صرف کہت ہی نہیں تھ ‘ ب کہ ان کی اپنی زندگی بھی‘ اسی
ک تحت گزری۔
سلا دع وال تھ ‘ کوئی ک بھی‘ پہ کروا سکت تھ ۔ قط ر میں
کھڑے ہوت ‘ اور اپنی ب ری پر‘ ک کروات تھ ۔ ٹ ئ ک بڑے پ بند
تھ ۔ جہ ں ج ن ہوت ‘ مقررہ وقت پر ج ت ۔ لوگ لیٹ ج ن میں‘ فخر
محسوس کرت ہیں۔ ان ک کہن تھ ‘ جو وقت کی قدر نہیں کرت ‘ ک می
زندگی گزار ہی نہیں سکت ۔ غرض ڈسپ ن اور ٹ ئ ک م م ہ میں‘ بڑے
سخت واقع ہوئ تھ ۔ وہ صرف کہن کی حد تک نہ تھ ۔ اور کوئی
پرواہ کرے ی ن کرے‘ خود کوت ہی نہ کرت تھ ۔
صبح ٹھیک پ نچ بج آٹھ کر‘ جم ہ ح ج ت س ف ر ہو کر‘ بیٹھک
کی ص ئی کرت ۔ مج ل ہ ‘ گرد ی کوئی تنک تک‘ کہیں نظر آ ج ت ۔
پھر نہ دھو کر‘ دھ اور استری شدہ کپڑے پہن کر‘ بیٹھک میں ج
بیٹھت ۔ یوں ج دی ج دی تی ری کر رہ ہوت ‘ جیس دفتر ج ن ہو
اور کہیں لیٹ نہ ہو ج ئیں۔ بیٹھک میں‘ میز کرسی لگی ہوتی‘ جس پر
کت ‘ ق اور ایک ڈائری پڑی ہوتی۔ لوگوں ک ‘ ان ک پ س آن ج ن
رہت تھ ۔ کوئی‘ خط لکھوان ک لی آ رہ ہ ‘ تو کوئی خط پڑھ ن
ک لی ۔ لوگ‘ اپن ک موں ک س س میں‘ درخواستیں لکھوان
ک لی آن ۔ غور وفکر ک ب د‘ درخواستیں لکھت ۔ درخواست میں‘
کم ل ک نقط اٹھ ت ۔ پڑھ کر‘ عقل دنگ رہ ج تی۔ وہ لوگوں ک یہ
چھوٹ موٹ ک ‘ م ت میں کرت تھ ۔ ج ف ر ہوت ‘ کت
پڑھن بیٹھ ج ت ۔ ان ک پ س‘ کت بوں ک اچھ خ ص ‘ ذخیرہ تھ ۔ ان
میں‘ ش عری‘ ن ول اور ت ریخ کی بھی کت بیں تھیں۔
اصولی ب توں پر سمجھوت کرن ‘ انہوں ن سیکھ ہی نہ تھ ۔ ایک ب ر‘
وہ اپن بیٹ س بھی خ ہو گی ۔ ہوا یہ‘ کہ ان ک بڑا بیٹ ‘ جو بڑا
م ڈرن قس ک تھ ‘ اللہ ک ‘ اے چھوٹ ڈالت تھ ۔ انہوں ن اس ‘ کئی ب ر‘
اللہ ک اے‘ بڑا ڈالن ک لی کہ ۔ اس ک ب وجود‘ وہ اللہ ک اے چھوٹ
ڈالت رہ ۔ انہوں ن اس بڑے سخت انداز میں ڈانٹ ۔
جواب ط ہر ن کہ :ابو بڑا ہو ی چھوٹ ‘ اس س کی فر پڑت ہ ۔
کی فر پڑت ہ ‘ یہ ت کی پکت ہو۔ کی اللہ اس خ ص نہیں ہ ! اگر
ہ تو اصولی طور پر‘ اے بڑا ہی ڈالن چ ہی ۔ یہ اصول کی کھ ی
خلاف ورزی ہ ۔
دوسرا جو شخص‘ اپن اللہ کی‘ عزت نہیں کرت ‘ گوی وہ اپنی عزت
نہیں کر رہ ہوت ۔ ایس شخص‘ دوسروں کی خ ک عزت کرے۔ زندگی ک
ہر قرینہ‘ اد س وابستہ ہ ۔ ۔۔۔۔۔۔ب اد ب مراد‘ ب اد ب نصی ۔
اس س ‘ انہوں ن ‘ بول چ ل ہی بند کر دی۔ ط ہر ن ‘ توبہ کی اور
اس گست خی کی‘ ہ تھ جوڑ کر م فی م نگی۔ دیکھن میں‘ یہ کوئی‘
ایس بڑا م م ہ نہیں لگت ‘ لیکن اپنی اصل میں یہ م م ہ م مولی نہیں
ہ۔
ایک دن میں اور فتح خ ں‘ ان کی بیٹھک میں ج بیٹھ ۔ وہ مط ل ہ کر
رہ تھ ۔ سلا ک جوا دین ک ب د‘ بیٹھ ج ن ک اش رہ کی ۔ پیرہ
خت ہون ک ب د‘ انہوں ن ہم ری طرف بڑی ش قت اور پی ر س
دیکھ ۔ اس ک ب د‘ چ ئ پ نی ک پوچھ ۔
ہ ن کہ :نہیں جن ‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
پھر مجھ مخ ط کرک بول :جی م سٹر ص ح ‘ آج آن کی کیس
زحمت اٹھ ئی۔
سر ایک مس پر‘ آپ س گ ت گو کرن ک ‘ ارادہ ل کر ح ضر
ہوئ ہیں۔
تو پھر بلاتک ف کہی
بچپن میں ایک کہ نی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی س کوا۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھ کرت تھ ۔ آج بھی‘ وہ
ہی کہ نی‘ کورس میں ش مل ہ ۔
م سٹر ص ح ‘ یہ کہ نی‘ ہم رے کورس میں بھی ش مل تھی اور اس
کہ نی کو‘ کورس میں ش مل رہن ہ ۔ کوئی ع آدمی ہوت ‘ تو ہمیں
ڈانٹ پلا کر کہت ‘ یہ بھی کوئی سوال ہ ۔ ہوش ک ن خن لیں‘ اور کوئی
ڈھ ک سوال کریں۔ انہوں ن تو دانش ک دری بہ دی ۔ ان کی گ ت
گو میں‘ کم ل کی روانی تھی۔ سچی ب ت ہ ‘ میں عش عش کر اٹھ ۔
مجھ اپنی کوڑ مغزی پر‘ دکھ ہوا۔ مجھ تو‘ ہ ت میں ایک دو ب ر‘
ان ک پ س بیٹھن چ ہی تھ ۔
کہن لگ تمہیں ی مجھ ‘ گنتی ک س لوں س ‘ کوا پی س نظر آ رہ
ہ ۔ کوا تو ہزاروں س ل س ‘ پی س ہ اور اس پی س ہی رہن ہ ۔ وہ
اس مشقت میں پڑا آ رہ ہ ۔ اللہ تمیں‘ مزید سو س ل زندگی دے۔ لکھ
لو‘ سو س ل ب د بھی‘ ت کوے کو‘ پی س ہی دیکھو گ ۔ محنت ک ب د
بھی‘ کنکری ں چوسن کو م تی ہیں۔ وہ بھی تو پی سی ہوتی ہیں۔ پ نی
س م لاق ت ک ب د‘۔۔۔۔۔۔۔ اول خویش ب د درویش۔۔۔۔۔۔ ک مصدا ‘ وہ
اپنی پی س بجھ ئیں گی۔ اہل ثروت‘ گھڑا خ لی کرک ‘ گی تھ ۔ گھڑا
انہوں ن ‘ خود س نہیں بھرا تھ ۔ گھڑا بھر کر لان والا‘ کوئی اور
ہوت ہ ۔ بھرن وال کو‘ اس میں س ‘ ایک گھونٹ نہیں م ت ۔ ح لاں
کہ پہلا استحق ‘ اسی ک ہوت ہ ۔ استحق ک تس ی نہ ہون ‘ ہی تو
م شی ڈسپ ن کو ڈسٹر کرن ک مترادف ہ ۔
کی شداد ن ‘ اپن خون پسین کی کم ئی س ‘ ار ت میر کی تھ ۔
نہیں‘ ب لکل نہیں۔ کم ئی تو لوگوں کی تھی۔
فرعون‘ جس ٹھ ٹھ س رہت تھ ‘ اس ک تصور بھی‘ آج ک حک
ران نہیں کر سکت ۔ مرت تو‘ ن صرف عم رت ت میر ہوتی س ز و
س م ن اور خدا بھی‘ س تھ میں بند کر دی ج ت ۔ کی یہ س ‘ ان کی
کم ئی س کی ج ت تھ ۔ انہیں‘ کوے کی پی س س کوئی غرض نہ تھی۔
یون ن ک برسر اقتدار طبق ک ‘ رہن سہن کھ ن پین اور ش ن و شوکت
مث لی تھی۔ یہ س ‘ انہیں ذاتی مشقت ک ص ہ مل رہ تھ ۔ کوے کو‘ گھڑا
ت بھی خ لی م ت تھ ۔ یہ تو ک فی پہ کی ب تیں ہیں‘ کی ش ہ جہ ں
ن ‘ پ داری کرک ‘ پیس کم ئ اور پھر اس س ‘ ت ج محل ت میر
کی ۔ لوگوں ک م ل تھ ‘ اسی لی م ل م ت دل ب رح کی سی ب ت تھی۔
م کہ نور جہ ں‘ جس جہ ں گیر ن ‘ اس ک خ وند کو‘ جنگ میں
مروا کر‘ ح صل کی ‘ اس ک مقبرہ اتنی لمبی چوڑی زمین پر ت میر
‘کروای ‘ جو خرچہ اٹھ ‘ کی وہ اس کی محنت کی کم ئی س
اٹھ تھ ۔ نورجہ ں ہو‘ کہ ممت ز محل‘ نبی زادی ں تھیں‘ نبی زادی کی تو
قبر بھی ب ڈوز کر دی گئی۔ پ نی بھرن والوں کو‘ ایک گلاس پ نی
نصی نہ ہوا۔ کوے کو کس طرح میسر آ ج ت ۔ گورا ہ ؤس اور اس ک
گم شتوں ک ‘ ایوان ج کر دیکھو‘ پھر سوچن ‘ کوا آج بھی‘ ترقی ی فتہ
دور میں‘ کیوں پی س ہ ۔
ع آدمی ک حصہ میں‘ جوٹھ میٹھ بھی‘ بڑے سرفہ کی آتی ہ ۔
جوٹھ میٹھ پر‘ ایوانوں ک گم شت ٹوٹ پڑت ہیں۔ وہ ں س ‘ جو
بچت ہ ‘ وہ لوگوں کو میسر آت ہ ۔ ایس ح لات میں‘ کوے کی پی س‘
کس طرح بجھ سکتی ہ ۔ یہ س ‘ م شی ڈسپ ن میں خرابی ک سب
ہوا‘ اور ہو رہ ہ ۔
سر آپ جو فرم رہ درست فرم رہ ہیں۔ کی یہ پی س‘ آب دی بڑھ
ج ن ک سب نہیں ہ ۔
ن ں ن ں‘ ن ں یہ س بکواس‘ اور اللہ ک راز ہون س ‘ انک ر ک
مترادف ہ ۔ ہر پیدا ہون والا‘ اپن رز ل کر پیدا ہوت ہ ۔ ایس ہو
ہی نہیں سکت ‘ کہ اس ک رز ‘ اس ک س تھ نہ آئ ۔ اس ک رز ار
بن ن والوں‘ ی اس ک رز کھ کر‘ مر ج ن والوں کو‘ فراہ کی ج ت
ہ ۔ م سٹر ص ح ‘ یہ ں شخص ہزاروں س ل س ‘ بھوک پی س ہ ۔
ایس ح لات میں‘ کوے کی پی س کون دیکھت ہ ۔ اس پی س ہی رہن
ہ ۔ اللہ ن ‘ اس ک حصہ میں پی س نہیں رکھی۔ م شی ڈسپ ن کو‘
تب ہ کرن ک ب عث‘ کوے کی پی س نہیں بجھ رہی۔
ب تیں ہو رہی تھیں‘ کہ فج آرائیں آ گی ۔ اس ن سلا بولای ‘ اور راشن
ک رڈ ک مط ب ‘ راشن نہ م ن ک خلاف درخواست لکھن کی‘
گزارش کی۔ فوجی ص ح ن ‘ ب ت وہیں خت کر دی ۔ ہمیں مخ ط ہو
کر کہ ‘ سوری م سٹر ص ح ‘ م شی ڈسپ ن کی خرابی ک ‘ کیس آ گی
ہ ۔ پہ اس نپٹ ن کی ضرورت ہ ۔ پھر وہ‘ درخواست لکھن
میں مصروف ہو گی ۔ ہمیں یوں نظرانداز کر دی ‘ جیس ہ وہ ں
موجود ہی نہ ہوں۔
مکر بندہ حسنی ص ح :سلا مسنون
آپ س شرمندہ ہوں کہ کئی ہ توں س ح ضری نہ دے سک ۔آپ کی
نثری نگ رش ت دیکھت تھ لیکن زندگی ک دوسرے تق ض اتنی مہ ت
نہ دیت تھ کہ لکھوں۔ آپ حس م مول نہ یت ذمہ داری اور دلسوزی
س ہم رے م شرہ ک ح لات پر لکھ رہ ہیں۔ حقیقت ہمیشہ ت خ
ہوتی ہ لیکن اس س م ر بھی نہیں ہ ۔ میں بھی اسی م شرہ ک
فرد ہوں جس ک م ت آپ کرت رہت ہیں۔ ا تو ایس نظر آن لگ ہ
کہ ہم را اللہ بھی مح فظ نہیں ہ کیونکہ ہ خود اپنی ذمہ داریوں س
ہ تھ کھینچ چک ہیں۔ یہ کوا پی س تھ ،پی س ہ اور پی س ہی رہ گ ۔
آپ کی تحریر میں بہت درد ہوت ہ اور ہر ب ت آپ ک دل س نک ی
ہوئی لگتی ہ ۔ نئی نسل ہم راہی عکس ہ ۔ ہ ن ان ک لئ جو
روای ت چھوڑی ہیں وہ ان س الگ کیونکر ہو سکت ہیں۔ لوگوں س
ج ذکر ہوت ہ تو ہم رے یہ ں بندھ ٹک جم ہ ہوت ہ کہ "دع
کیجئ " اور ظ ہر ہ کہ صرف دع س کی ہوت ہ ۔ اونٹ تو بھ گ
چک ہ ۔ ا ہ لاکھ دع م نگیں وہ لوٹ کر نہیں آن ک ۔ اللہ اللہ خیر
سلا۔
سرور ع ل راز
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت ہی ش ندار تحریر ہ ۔ ایک تو جس طرح یہ کہ نی کوے ک پی س
ہون کی تشریح کرتی ہ بہت ہی خو ہ اور پھر اختت تو سبھ ن
اللہ ۔۔ ہم ری طرف س بھرپور داد۔ محتر سرور ع ل راز سرو ؔر
ص ح کی ب توں س بھی است ضہ ح صل کی ۔
آپ کی ب تیں بج ہیں۔ ح ک ہمیشہ محکو کی کی وجہ س ح ک رہ ہ
اور رہ گ ۔ ہمیں اس س کی کہ ہم ری ت ریخ میں کی کچھ بھرا پڑا
ہ ۔ ہمیں اس س کوئی غرض نہیں کہ ہ رون الرشید اور م مون
الرشید ک دور میں فرقہ م تض ہ کی کی حیثیت تھی۔ خ ندان برامکہ
ک س تھ کی ہؤا۔ کیس کی لاش ب زار میں کتن دن لٹکی رہی۔ اور
حضرت ام احمد بن حنبل ک س تھ کی کی گی ۔ ہمیں صرف ان ک دور
حکومت کی ت ریف کرنی ہ کیونکہ وہ مس م ن خ تھ ۔ ہمیں مغ یہ
دور کی بھی ت ریف کرنی ہ ہ کیوں ج نیں ی م نیں کہ نور جہ ں شیر
افغن کی بیوی تھی ی نہیں۔ اس کس ن کیوں قتل کروای ۔ ہمیں ان کی
ت ریف ہی کرنی ہ ۔ ٓاپ کئی ب ر کہہ چک ہیں کہ مورخین ن بہت
ظ کی ہ ۔ ب لکل درست کہت ہیں ٓاپ۔
جن کوا پی س رہ گ ۔ درست۔ لیکن کوے کو پ نی کی تلاش ج ری
رکھنی چ ہیئ اور ہ اس ک لیئ کوش ں رہیں گ ۔ قدرت ک کھیل ہی