The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2018-04-30 03:59:11

ایک سو بیس افسانے

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Keywords: short stories urdu

hai. mein ne socha hai afsanoon ka majmoa
kayoon na lay a'oon yah chota ho ga pehla 1991
main, dosra 1992 jab'kah tisra 1993 main shya
howa tha. on main 1969 se 1978 tak ke afsane
shamil thay. pehloon ke naam

zard khjil

woh akaili thi

jis hath main lathi

khuch ka angraizi tarjama najam ne kya tha. ab
prof arshad nadeem sahib tarjama ke kaam main
masroof hain.

khair mein kya bai'fazool batain lay kar baith gya
hoon

Allah aap ko asanioon main rakhe

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا‬
‫آپ کی مہرب نی جو یہ ں پر اپنی تخ یق ت پیش کرت رہت ہیں۔ سچ‬
‫پوچھیں تو ہ شروع میں یہ ں ٓائ تھ تو آپ ک لکھ کی طرف ٓان‬
‫دشوار س لگت تھ کہ لمبی تحریروں کو کون پڑھ اور وہ بھی توجہ‬

‫م نگتی ہیں۔ پھر ایک آدھ ب ر پڑھ تو دل کو بہت بھ ی ۔ پھر ان پر‬
‫لکھن کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ ص ح ہم ری داد کس لائ ہ اس‬

‫قدر ت کر آمیز تحریروں ک س من ‪ ،‬لیکن پھر ہ س رہ نہیں گی ۔ ٓاپ‬
‫ن ‪ 1993‬ک ب د کوئی کت ش ئع نہیں کروائی‪ ،‬وجوہ ت بھی ہونگی۔‬

‫لیکن ہم ری درخواست یہی رہ گی کہ جہ ں تک ہو سک ‪ ،‬ہمیں ان‬
‫س مست یض ہون ک شرف دیت رہیئ گ ۔ داد و تحسین‪ٓ ،‬اپ ج نت‬
‫ہی ہیں‪ ،‬کہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ‪:‬ہ تو پکھی واس ہوویں‪ :‬سو‬
‫ج ن یہ ں ک تک ہیں‪ ،‬لیکن یہ س س ہ ج ری رہ تو اچھ ہ ۔ کوئی‬
‫نہ کوئی ان س است ضہ ح صل کرت رہ گ ۔ ٓاپ ج نت ہی ہیں کہ‬
‫انٹرنیٹ پر اگر کوئی چیز لوگ پڑھت ہیں تو لوگ پسند‬
‫بھی کرت ہیں‪ ،‬لیکن اپنی پسند ک اظہ ر فقط کوئی ایک آدھ شخص ہی‬
‫کرت ہ ۔ بہ ر آتی ہ کویل کوکتی ہ ‪ ،‬کوئی سن نہ سن ۔ ایس ہی‬
‫ٓاپ ک یہ خوبصورت احس س ت ہیں‪ ،‬جو پڑھن والوں ک زہنوں کو‬
‫پختگی دیت ہیں۔ مردہ ضمیر کو زندہ کرت ہیں۔ آپ کو قدرت ن یہ‬
‫صلاحیت دی ہ کہ ٓاپ کی تحریر صرف ایک قول کی طرح اچھ ی برا‬
‫بت نہیں دیتی‪ ،‬ب کہ ضمیر کو جگ تی ہ ۔ صرف اچھ ئی کی تغی اور‬

‫برائی چھوڑن کی ت قین نہیں کرتی‪ ،‬ب کہ اچھ ئی کرواتی ہ اور‬
‫برائی کی طرف بڑھت ہ تھ روکتی ہ ۔ بقول ہم رے ہی‬

‫کھول نہ کھول در کوئی‪ ،‬ہ مجھ کو اس س کی‬

‫میں چیخت رہوں گ تیرے در ک س من‬

‫اللہ پ ک ک ہمیشہ کر رہ ٓاپ پر۔‬

‫دع گو‬

‫وی بی جی‬

‫خدا ج ن ‘ یہ س کس ع ل میں لکھ گی ہوں‘ لیکن وہ ہی لکھت ہوں‘‬
‫جو میرا ضمیر کہت ہ ۔ اگر میرا لکھ ‘ اچھ ئی کی ترغی دیت ہ ‘ تو‬
‫یہ اللہ کری ک ‘ مجھ ن چیز پر‘ احس ن اور کر ہ ۔ ہر کہ لکھ ‘ زندگی‬
‫ک تجربہ ہوت ہ ۔ اس س است دہ‘ انس ن کو‘ کوئی ن کوئی‘ نئی راہ‬
‫ضرور دکھ ت ہ ۔ ب قی منزل ک ت ین‘ شخص ک اندر ک م م ہ ہ ۔‬
‫ہ ں کہ ‘ سن اور پڑھ جھنجھوڑت ضرور ہ ۔ میں خدا لگتی کہت ہوں‘‬
‫آپ ک اندر‘ ایک ص ف ستھرا اور نکھرا نکھرا نق د‘ دیکھ رہ ہوں۔‬

‫اس مرن نہ دیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑا غض ہو گ ۔ آپ اہل ق ک س تھ‘‬
‫زی دتی کریں گ ۔ ہ ں ی د آی ‘ یہ ں ہی‘ کچھ اور افس ن ہیں‘ جو آپ‬

‫ک مط ل ہ میں نہیں آسک ۔ مثلا‬
‫جوا ک سکتہ‬
‫آوارہ ال ظ‬
‫زینہ‬

‫ممت عش کی ص ی پر‬
‫م ئی جنت زندہ ب د‬

‫اللہ آپ کو آس نیوں میں رکھ ۔‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8855.0‬‬

‫گن ہ گ ر‬

‫اس ک دادا ج ن فیس ‘ مشرقی چرچ میں پ سٹر تھ ۔ ع اور‬
‫پرہیزگ ری میں‘ شہرت رکھت تھ ۔ نرمی دلی اور محبت اس کی شخصیت‬

‫ک نم ی ں وصف تھ ۔ علاق میں دیگر مذاہ ک آن وال ع م‬
‫س ‘ اس کی ملاق تیں ہوتی رہتی تھیں۔ ایک ب ر‘ وہ تب یغی مشن پر‘‬

‫دور دراز مشرقی علاقوں میں بھی گی تھ ۔ اتھ رٹیز‘ ن صرف اس ک‬
‫ع وفضل کی م ترف تھیں‘ ب کہ اس ک شخصی خص ئل کو بھی‘ قدر‬

‫کی نگ ہ س دیکھتی تھیں۔‬

‫ج ن فیس ‘ ج فوت ہوا‘ تو اس کی ذاتی لائبریری س ‘ بڑی ش ن‬
‫دار اور ن ی کت دست ہوئیں۔ یہ کت ‘ چرچ ک کت خ نہ میں‘‬

‫منتقل کر دی گئیں۔ چرچ ک کت خ نہ کو‘ کت عطیہ کرن کی ہدایت‘‬
‫ج ن فیس ہی کر گی تھ ۔ یقین ‘ انہوں ن بڑی عقل مندی س ک‬
‫لی تھ ‘ ورنہ یہ ع می سرم یہ ردی چڑھت ۔ ان ک لڑک ‘ پڑھ لکھ تو تھ ‘‬

‫لیکن اس تھی لوجی س ‘ کوئی دل چسپی نہ تھی۔ اس ک لی یہ‬
‫کت ‘ کسی ک کی نہ تھیں‘ ہ ں کت ن ‘ اچھی خ صی جگہ گھیر رکھی‬

‫تھی۔ ج ن فیس ایک کت ‘ اس ب طور خ ص دے گی تھ اور‬
‫اس ‘ ح ظت میں رکھن کی ہدایت کر گی تھ ۔ انہوں ن یہ بھی‬

‫ت کید کی‘ کہ ج س ئینہ بڑی ہو گی‘ تو یہ کت ‘ اس اس ہدایت ک‬
‫س تھ دے دی ج ئ ‘ کہ وہ اس کت کو اپنی نسل کو خصوصی ہدایت‬

‫ک س تھ منتقل کرتی رہ گی۔‬

‫س وچ ن ‘ اس کت کو پڑھن کی سرتوڑ کوشش کی‘ لیکن وہ اس‬
‫کت ک ایک جم ہ بھی‘ نہ پڑھ سک ۔ کت ک خط مق می تھ ۔ وہ اس خط‬

‫میں کئی کت پڑھ چک تھ ۔ وہ کی ‘ اس علاق ک ہر فرد اس خط س‬
‫آگہی رکھت تھ ۔ س وچ کت کو خط ک حوالہ س پڑھ سکت تھ ‘‬

‫لیکن اس میں لکھ کی گی تھ ‘ اس کی سمجھ س قط ی ب لاتر تھ ۔ خط‬
‫علاق ک تھ ‘ لیکن اس کی زب ن علاق کی زب ن نہ تھی۔ اس پڑھن‬
‫کی‘ بہت س پڑھ لکھ لوگوں ن بھی کوشش کی۔ حرا ہ ‘ جو‬
‫کسی ک پ کچھ پڑا ہو۔ پھر اس ن ‘ دو ایک پروفیسر حضرات کو‬
‫بھی زحمت دی۔ وہ بھی اس کت کو پڑھن س م ذور رہ ۔ تھک‬
‫ہ ر کر‘ اس ن اس مقدس ام نت سمجھ کر‘ اپن ب کس میں مح وظ‬
‫کر دی ۔‬

‫اس ن س ئینہ کو‘ علاق کی اچھی درس گ ہوں میں‘ ت ی دلوائی۔‬
‫اس دور مشر ک ‘ ایک کثیر ال س ن علاق میں‘ پڑھن ک موقع‬

‫بھی میسر آ گی ۔ وہ بڑی خوش تھی‘ کہ اس ک دادا کو بھی‘ وہ ں‬
‫ج ن ک ات ہوا تھ ۔ ان ک وہ ں قی ‘ اگرچہ چند م ہ ک تھ ‘ لیکن وہ‬
‫ب تیں اس طرح کرت تھ ‘ جیس وہ اس علاقہ ک رہ ہوں۔ وہ اس‬

‫وقت بہت ہی چھوٹی تھی‘ لیکن بھول ہوئ خوا کی طرح‘ اس‬
‫کچھ کچھ ی د تھ ۔ ج ان ک انتق ل ہوا‘ پچ سی س تج وز کر چک‬
‫تھ ۔ وہ س ئینہ س ‘ بڑا پی ر کرت تھ ‘ لیکن وہ اس بڑا ہوت نہ‬
‫دیکھ سک تھ ۔ س ئینہ کی بھی یہ بدقسمتی تھی‘ کہ وہ دیر تک ان‬
‫کی محبت اور ش قت نہ دیکھ سکی تھی۔ موت ک رو رع یت س ‘ ک‬
‫لیتی ہ ‘ چپک س ‘ آتی ہ ‘ اور جیت ج گت انس ن کو ج ن کہ ں‬

‫ل کر چ ی ج تی ہ ۔‬

‫ا وقت آ گی تھ ‘ کہ س وچ ‘ س ئینہ کو‘ اس ک دادا کی ام نت دے‬
‫دے۔ س ئینہ اس کی صحیح ح دار بھی تھی۔ وہ ن صرف بلا کی ذہین‬
‫تھی‘ ب کہ اپن دادا کی طرح ہ درد‘ پی ر کرن والی اور تھی لوجی‬

‫س بھی‘ بڑی گہری دل چسپی رکھتی تھی۔ کت اس ک حوال‬
‫کرت وقت س وچ ن خوشی محسوس کی۔ اس یوں لگ ‘ جیس‬

‫بہت بڑا بوجھ‘ اس ک سر س سرک گی ہو۔ اس یہ بھی خوشی‬
‫ہوئی‘ کہ اس کی بیٹی اپن دادا ک قدموں پر تھی۔‬

‫س ئینہ‘ اپن عظی دادا کی کت پ کر بڑی خوش ہوئی۔ اس ک دادا‬
‫ن ‘ یقین ‘ اس ن ی اور قیمتی تح س نوزا تھ ۔ دو دن گزر ج ن‬
‫ک ب وجود‘ اس کی تھکن ابھی دور نہ ہوئی تھی۔ لیکن وہ‘ اپن دادا‬

‫کی کت پ کر‘ س کچھ بھول گئی۔ وہ اپن کمرے میں آ کر‘ بڑے‬
‫سکون س ‘ کت کو الٹ پ ٹ کر دیکھن لگی۔ اس کی حیرانی کی‬
‫انتہ نہ رہی‘ کہ رس الخط مق می تھ ‘ لیکن اس میں ہندوی زب ن میں‘‬
‫مضمون پیش کی گی تھ ۔ خوشی کی ب ت تو یہ تھی‘ کہ مق می زب ن ک‬
‫رس الخط‘ است م ل میں آی تھ ۔ اگر ہندوی رس الخط ‘ است م ل کی‬
‫ہوت ‘ تو ش ید وہ ایک ل ظ بھی نہ پڑھ پ تی۔ وہ ہندوی سمجھ سکتی‬
‫تھی‘ لکھن ‘ پڑھن اور بولن اس ک بس ک روگ نہ تھ ۔ وہ پورے دو‬
‫س ل اس ولایت میں رہ آئی تھی‘ لیکن وہ صرف سمجھن کی حد تک‬
‫رہ پ ئی تھی۔ وہ حیران رہ گئی‘ اس ک دادا صرف چند م ہ‘ اس ولایت‬
‫میں رہ تھ ۔ انہوں ن س وکین رس الخط میں بڑی روانی س بہت‬

‫کچھ لکھ دی تھ ۔‬

‫دادا جی ن ‘ دنی ک م روف مذاہ ک ‘ بہت س ‘ الہ می ک موں کو‘‬
‫کت کی زینت بن ی تھ ۔ ایک ایک شبد‘ آ زر س لکھ ج ن ک‬
‫ق بل تھ ۔ س ئینہ بڑی روانی‘ دل چسپی اور گہری عقیدت ک س تھ‬

‫پڑھتی گئی۔ اس لطف آ رہ تھ ۔ لگت تھ ‘ کہ آج ہی‘ ایک نشت میں‘‬
‫س ری کت پڑھ ج ئ گی۔ اس تھکن‘ اور نیند ک ‘ رائی بھر‘ احس س‬
‫نہ تھ ۔ پھر۔۔۔۔۔ ہ ں پھر۔۔۔۔۔۔ ایک جگہ پر آ کر رک گئی۔ اس س آگ ‘‬

‫بڑھ نہ سکی۔‬

‫عج الہ می ک م ت تھ ۔ لکھ تھ ‘ خدا تم رازقوں س ‘ بڑھ کر‘ اور‬

‫بہتر رز عط کرن والا ہ ۔ انہوں ن دلائل بھی دی تھ ۔ ان ک‬
‫کہن تھ ‘ ع ل ارواح میں‘ وہ ں ک مط ب خداوند ہی رز دیت ہ ۔‬
‫م ں ک پیٹ میں‘ اس م حول ک مط ب ‘ رز عط کرت ہ ۔ پیدائش‬
‫ک س تھ ہی‘ رز ک بندوبست کر دیت ہ ۔ دونوں پست نوں ک دودھ ‘‬

‫ذائقہ اور ت ثیر میں‘ ایک س نہیں ہوت ۔ یہ ہی نہیں‘ ضرورت ک‬
‫مط ب ‘ اس میں بھی تبدی ی ں آتی رہتی ہیں۔ مرن ک ب د بھی‘ اس‬
‫ہئیت ک مط ب ‘ خداوند رز فراہ کرت ہ ۔ بلاشبہ‘ اس س بڑھ کر‘‬

‫کوئی راز نہیں۔‬

‫انہوں ن ‘ اس س آگ فرم ی ‘ کہ اگر انس ن س زمینی استحص ل‬
‫پسند قوتیں‘ رز چھین لیں‘ تو وہ اس شخص ک اندر‘ رز فراہ‬

‫کرن کی قدرت رکھت ہ ‘ اور کوئی نہیں‘ جو مزاح آ سک ۔ انہوں‬
‫ن لکھ ‘ تمہ ری دادی کو‘ ج بھی کوئی مہم ن آت ‘ رون پڑ ج ت ۔‬

‫اس رز میں کمی ک خدشہ‘ لاح ہو ج ت ۔ میں ن کئی ب ر سمجھ ی ‘‬
‫لیکن یہ ب ت‘ اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ ہم ری بحث بھی ہو ج تی۔‬

‫ایک ب ر‘ ایک بھوک میرے پ س آ گی ۔ اس ن اپنی بھوک ک تذکرہ کی ۔‬
‫میں ن تمہ ری دادی کو‘ اس کچھ دین کو کہ ۔ وہ اس پر بیھر گئی۔‬
‫مجھ اس کی اس حرکت پر افسوس‘ نہیں صدمہ ہوا۔ میں ن اپن کھ ن‬

‫اٹھ کر‘ اس بھوک کو دے دی ۔ تمہ ری دادی کی اس حرکت ن ‘‬
‫مجھ اس س ‘ ذہنی طور پر بہت دور کر دی ۔‬

‫م رکیکس‘ بہت اچھی عورت تھی۔ گریبوں اور ن داروں کی‘ بڑی ہ درد‬
‫تھی۔ مجھ غیرعورتوں س ‘ کبھی دل چسپی نہیں رہی‘ لکن اس کی‬
‫دی لو اور کرپ لو خص ت ن ‘ دلی طور پر‘ اس ک قری کردی ۔ وہ بھی‬

‫میرے قری ہوتی گئی اور پھر ہ ایک دوسرے ک ‘ جسموں ک‬
‫شن س ہو گی ۔ اس ک خ وند مکمل مرد نہ تھ ۔ اس ک ہ ں ہون وال‬

‫بچ ‘ میرے بچ ہیں۔ میں ج نت تھ ؛ اور ج نت ہوں کہ یہ گن ہ تھ ۔‬
‫میں اعتراف کر رہ ہوں۔‬

‫میں ن چرچ میں ج کر بھی‘ اعتراف کی ہ ۔ میرے اعتراف ک کوئی‬
‫گواہ نہ تھ ۔ ا ت میرے اعتراف کی گواہ ہو۔ میرے لی خداوند س‬

‫دع کرن ‘ کہ وہ مجھ م ف کر دے۔ مجوزہ ک رہ‘ میں ن ادا کر دی‬
‫ہ ‘ اس کی ت فکر نہ کرن ۔‬

‫س ئینہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی‘ کہ اس ک دادا گن ہ گ ر ہ ۔ وہ دیر‬
‫تک‘ سوچتی رہی‘ کہ ک ش اس ک دادا س ‘ یہ گن ہ سرزد نہ ہوت ۔‬
‫اچ نک خوشی کی ایک لہر؛ اس کی رگ وپ میں ابھری۔ پورے‬
‫علاق میں‘ ان ک دادا کی طرف س ‘ کوئی رشتہ دار نہ تھ ۔‬

‫وہ اس خوشی میں‘ سوچوں ک ت ن ب ن بنن لگی۔ اس بہت س‬
‫کزن میسر آگی تھ ۔ وہ دیر تک ان س م ن ک ‘ منصوب بن ن‬
‫لگی۔ دکھ سکھ پ ئیدار نہیں ہوت ‘ وہ یہ سوچ کر‘ دکھی ہوگئی‘ کہ یہ‬
‫س ع کرن ک نہیں ہ ۔ خداوند پردہ پوشی کرت ہ ‘ وہ پردہ اٹھ‬
‫کر‘ گن ہ گ ر کیوں ہوتی۔ اس س ف ئدہ کی بج ئ ‘ نقص ن ہوت ۔ یہ دو‬

‫مرحومین کو‘ ذلت کی کھ ئی میں ات رن ک مترادف تھ ۔ دوسری‬
‫طرف‘ اس اس ب ت ن بھی‘ پریش ن کر دی ‘ کہ اس ک دادا ن ‘‬
‫کت کی منتق ی کی ہدایت کرک ‘ خود کو کیوں ننگ کرن چ ہ ہ ۔ کی‬
‫وہ یہ ث بت کرن چ ہت ہیں‘ کہ آدمی جو دکھ ئی دیت ہ ‘ وہ نہیں ہوت ‘‬

‫اس ک ب طن میں‘ گن ہ گ ر کہیں ن کہیں ضرور چھپ ہوا ہوت ہ‬

‫محتر جن مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬

‫م ش اللہ جن یہ تحریر بھی بہت خو ہ ۔ کم ل یہ ہ کہ ٓاپ اس قدر‬
‫وس ت رکھت ہیں کہ آپ ک لکھ ج پڑھ ب لکل مخت ف س ہی ہوت‬
‫ہ اور یہ ان رادیت ٓاپ ک ق کی پہچ ن ہ ۔ ہر ب ر ایک نئی اور‬

‫ع یحدہ دنی کی ہی سیر کروات ہیں۔ اس ک لیئ شکر گزار بھی ہیں‬
‫ہ اور اپن س تھ بھرپور داد بھی لائ ہیں جو پیش خدمت ہ ۔‬

‫رز س مت چونکہ ب ت ہو رہی تھی سو ہ ن بہت غور س‬
‫پڑھ ٓاپ ک خی لات کو۔ لیکن ایک فقرہ ہ جس کی تشریح ہ ٹھیک‬
‫س نہیں کر پ رہ ہیں۔ وجہ ش ئید اس فقرے میں موجود یہ ال ظ‬
‫ہیں ‪ :‬تو وہ اس شخص ک اندر رز فراہ کرن کی قدرت رکھت ہ ‪:‬‬

‫۔ فقرہ درج ذیل ہ ۔‬

‫انہوں ن ‘ اس س آگ فرم ی ‘ کہ اگر انس ن س زمینی استحص ل ‪:‬‬
‫پسند قوتیں‘ رز چھین لیں‘ تو وہ اس شخص ک اندر‘ رز فراہ‬
‫‪:‬کرن کی قدرت رکھت ہ ‘ اور کوئی نہیں‘ جو مزاح آ سک‬

‫ممکن ہ کت بت کی چھوٹی سی کوئی غ طی ہو لیکن چونکہ ہ خود ک‬
‫فہ قس ک شخص ہیں تو ذی دہ تر امک ن اسی ب ت ک ہ کہ ہ آپ‬
‫ک م ہو تک نہ پہنچ پ رہ ہیں۔‬

‫مولان آزا ؔد ص ح بہت مثبت سوچ رکھن وال شخص تھ ‪ ،‬سنت‬
‫ہیں کہ ایک ب ر کسی ن ان س کہ کہ فلاں ب دش ہ ک دور میں‬

‫عورتیں کپڑے نہیں پہنتی تھیں ب کہ اپن جس پر کپڑوں کی سی‬
‫تصویر (پینٹنگ) بنوا لی کرتی تھیں۔ مولان ص ح ک مثبت جوا‬

‫دیکھیئ کہ فرم ی کہ اس ب ت س اس زم ن ک مصوروں کی فنی‬
‫صلاحیتوں ک پتہ چ ت ہ کہ کس قدر مہ رت رکھت تھ ۔‬

‫تو ص ح رز اور خدا س مط بھی ہم را ایس ہی مثبت اور س دہ‬
‫وطیرہ ہ ۔ اگر رز مل ج ئ تو اللہ ن دی ‪ ،‬نہ ملا تو حکومت ی‬

‫مس م نوں کی دین س دوری ذمہ دار۔ اگر ان می ب نڈ نکل ٓای تو اللہ ک‬
‫شکر‪ ،‬نہ ملا تو اسی میں بھلائی تھی‪ ،‬آپ ہی کی مث ل س دونوں‬

‫پست نوں ک دودھ ‘ ذائقہ اور ت ثیر میں‘ ایک س نہیں ہوت تو واہ کی ہی‬
‫خو قدرت ک کم ل ہ اگر ایک س ہ تو بھی واہ کی ہی خو قدرت‬
‫ک کم ل ہ کہ دو الگ الگ پست نوں س ایک س دودھ ۔ دنی کو دیکھ‬

‫کر اندازہ لگ ت رہت ہیں کہ فلاں ک اچھ ہؤا ی برا۔ اگر اچھ ہؤا ہ‬
‫تو واہ اللہ تیرا کم ل‪ ،‬اگر برا ہؤا تو شیط ن مردود۔ اللہ ک خوف ہ کہ‬
‫کہیں کچھ غ ط منہ س نکلا تو نقص ن نہ اٹھ ن پڑے اس لیئ ہمیں‬

‫کی ضرورت پڑی ہ ‪ ،‬کہ سوچت پھریں کہ دنی میں جو جتن ک لا ہ‬
‫اتن بدح ل اور جو جتن گورا ہ اتن خوشح ل کیوں ہ ۔ ی یہ کہ ان ک‬
‫ح لات ک ذمہ دار ان ک رنگ ہ ی ان کی رنگت ان کی خوشح لی کی‬

‫نسبت ٹھہری ہ ۔‬

‫آپ ک خی لات اس م م میں بہت اچھ ہیں اور مثبت ہیں‪ ،‬یہ اچھی‬
‫ب ت ہ ۔ افس نہ بھی بہت خوبصورت ہ ۔ اللہ پ ک ٓاپ ک ق کو مذید‬
‫وس ت دے۔‬

‫ایک چھوٹی سی شک یت بھی ہ کہ آپ داد وصول کرن کی بج ئ داد‬
‫دین لگ گئ ہیں ‪ ):‬۔۔۔ ہمیں احتی ط کرنی پڑے گی۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

‫جن توجہ ک لی بڑی بڑی مہرب نی‬
‫رز اندر فراہ ہون ک حوالہ س صرف تین مث لیں عرض کرت ہوں‬

‫حضرت عزیر ع یہ السلا سو س ل سوت رہ ۔‬
‫حضرت یونس ع یہ السلا مچھ ی ک پیٹ میں رہ ۔‬

‫اصح کہف کئی س ل غ ر میں سوئ رہ ۔‬
‫اللہ کری کی ذات گرامی ن ان ک اندر رز فراہ فرم ی ۔‬

‫م ش اللہ جن ۔ بہت ہی خو ۔ ایک تو ہم رے ع میں اض فہ ہؤا کہ‬
‫‪:‬رز اندر‪ :‬ک کی م نی ہیں دوسرا آپ ک اس فقرے ک م نی ج ن‬

‫کر بہت اچھ لگ ۔ واق ی وہ رز دیت ہ تو کہ ں نہیں دیت ۔‬
‫توجہ اور رہنم ئی ک شکریہ۔۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

aap daad daite hain yaqinun hosla milta hai
ta'hum mein ne is ke liay kabi arz nahain kiya
haan aap ki ra'ay mujhy mazeed behtar ki taraf
lay jati hai. dosra tehreer ki haisiat ka andaza ho
jata hai.
ab zara bare abba ko bhi eak nazar daikh lain
shaed acha lage

aap daad daite hain yaqinun hosla milta hai
ta'hum mein ne is ke liay kabi arz nahain kiya
haan aap ki ra'ay mujhy mazeed behtar ki taraf
lay jati hai. dosra tehreer ki haisiat ka andaza ho
jata hai.
ab zara bare abba ko bhi eak nazar daikh lain
shaed acha lage

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! آدا مکرر‬
‫جن داد کی ب ت نہیں کر رہ ‪ ،‬وہ تو ٓاپ کی تحریریں ہ س ہم را‬
‫گریب ن پکڑ کر ل لیتی ہیں‪ ،‬ایس ہی جیس ہ ہر م ہ کی پہ ی ت ریخ‬
‫کو اپنی تنخواہ کی پ ئی پ ئی تک مشین س وصول کرت ہیں۔ ہ اپن‬
‫خی لات کی اظہ ر کی ب ت کر رہ تھ کہ ہ ذرا ادھر ادھر کی ہ نکن‬
‫ک کر دیں‪ ،‬وگرنہ ہمیں یقین ہ کہ ٓاپ جس طرح کی نظر رکھت ہیں‬
‫ہ پر بھی ٓاپ کی تجزیہ کی تیز نگ ہ ہو گی‪ ،‬اور ممکن ہ کہ کسی دن‬
‫ایک عجی کردار کی صورت میں ٓاپ کی کسی تحریر ک حصہ بن ج ئیں‬
‫گ ۔ ‪ ):‬یہ بھی ازراہ ت نن کہ ہ ن ۔ ہ ابھی بڑے اب کی طرف ہی ج‬
‫رہ تھ تو ادھر گنہگ ر پر نظر پڑ گئی۔ وہیں ج ت ہیں‪ ،‬دیر سویر‬

‫پر م ذرت پہ ہی کیئ دیت ہیں‪ ،‬کہ بچوں ک پیٹ پ لان ک‬
‫پیچھ ٓاج کل اب بھول بھی ج ی کرت ہیں۔‬

‫آپ ک شکریہ کہ ہمیں ان تحریروں س فیضی ہون ک موقع فراہ‬
‫کرت ہیں۔‬

‫ط ل دع‬
‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8840.0‬‬

‫دائیں ہ تھ ک کھیل‬

‫س ی ص ح ک سسر محمد عمر ن ‘ ابتدا میں س ئیکل پر‘ پھیری ک‬
‫ک شروع کی ۔ صبح سویرے نکل ج ت ‘ ش کو‘ گھر لوٹ کر آت ۔ چھ ن‬

‫ٹکروں ک بورا‘ س تھ میں ہوت ۔ صبح سویرے‘ م ل ڈنگر وال آت ‘‬
‫اور س را ک س را م ل ل ج ت ۔ بڑے محنتی‘ اور بھ آدمی تھ ۔‬
‫ادھ ر دین ‘ ان ک اصول میں نہ تھ ۔ تول ک بڑے کھرے‘ اور ایک‬

‫نمبری تھ ۔ لین ک ب نٹ‘ ذرا بڑے تھ ۔ ہ ں دین ک ب نٹ‘‬
‫تھوڑا چھوٹ تھ ۔ جوان آدمی تھ ‘ وزن ک تھوڑا ک ی زی دہ‬
‫ہون س ‘ کی فر پڑت ہ ۔ زندگی‘ تگنی ک ن چ نچ تی ہ ‘ ایس‬
‫میں‘ م مولی ری ف بھی‘ غنیمت ہوت ہ ۔ گھر ک خرچہ چلان ‘ آس ن ک‬
‫نہیں‘ اوپر س ‘ غمی خوشی میں‘ ضرور شرکت کرت تھ ۔ کرایہ‬
‫خرچ کرک ج ت تھ ۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ ہر دو صورتوں میں‘ ان ک‬
‫پورا ٹبر‘ آدھی دیگ تو چٹ کر ج ت ہو گ ۔ س دا مہم ن نوازی‘ انہیں بڑا‬
‫بور کرتی تھی۔ ہ ں اپن ہ ں‘ دعوت شیراز ک ق ئل تھ ۔ ان ک اس‬
‫انداز کو‘ دوہرا م ی ر نہیں کہ ج سکت ۔ اس رواں زندگی ک ‘ اصولی‬
‫طریقہ کہن ‘ زی دہ من س ہو گ ۔ حیثیت س بڑھ کر خرچہ‘ زندگی کو‬
‫آسودگی س دور کر دیت ہ ۔ ہر کسی س کہت ‘ چ در ک مط ب‬
‫پ ؤں پھیلان س ‘ خرابی جن نہیں لیتی۔ ج کہیں س دہ سی تقری‬
‫ہوتی‘ تو فرم ت ی ر خوشی روز روز تو نہں آتی‘ اس ڈھنگ س‬

‫اور جی کھول کر من ن چ ہی ۔۔‬

‫انہیں محنت اور عصری مزاج س ‘ میل کھ ت روی اور طور ک‬
‫سب ‘ بڑی برکت نصی ہوئی۔ یہ برکت‘ انہیں ان کی ترقی کرن کی‬
‫نیت‘ کی وجہ س ‘ میسر آئی۔ گ ی گ ی پھرن س ‘ انہیں خلاصی مل‬
‫گئی۔ انہوں ن گ ؤں ہی میں‘ پرچون کی دک ن کر لی۔ گ ؤں ک لوگوں‬

‫ک پ س‘ پیس ک ہی ہوت ہیں۔ سودا س ف خریدن ک لی ‘‬
‫اجن س ل آت ‘ اس طرح لین دین ک ب نٹ متحرک رہ ۔ چھ ن‬

‫بورے ک گ ہک‘ بھی ہ تھ س نہ ج ن دی ۔ ان کی بیگ ‘ جو‬
‫ک روب ری امور میں‘ ان کی بھی است د تھی۔ منہ متھ لگتی تھی۔ یہ‬
‫ہ ت میں ایک ب ر‘ اس دک ن پر بیٹھ کر پھیری پر نکل ج ت ۔ ان کی‬

‫بیگ ‘ ان کی عد موجودگی میں‘ دوہری کم ئی کرتی۔ ش کو‘ ج‬
‫محمد عمر واپس تشریف لات ‘ تو دوک ن کی وٹک‘ ان کی ہتھی ی پر‬
‫رکھ دیتی۔ اس کی ذاتی وٹک پر‘ محمد عمر ک کوئی ح نہ تھ ‘ اس‬

‫لی گرہ خود میں رکھتی۔‬

‫وقت پر لگ کر‘ اڑت رہ ‘ یہ ترقی ک زین ‘ ط کرت گی ۔ گ ؤں‬
‫میں دو مس لک کی مس جد تھیں۔ ایک مس ک ک ‘ مولوی ص ح کسی‬
‫غ ط ک میں‘ رنگ ہ تھوں پکڑے گی ۔ گ ؤں میں داڑھی اور لوگوں‬
‫ن بھی رکھی ہوئی تھی‘ لیکن محمد عمر کی داڑھی‘ شرع ک مط ب‬
‫تھی‘ دوسرا چودھری عثم ن‘ ان ک استحق ک ق ئل تھ ۔ محمد عمر‬
‫کی بیوی زرینہ ن ‘ چودھری کو پوری طرح‘ گرفت میں کر رکھ تھ ۔‬
‫آخر محمد عمر کی تقرری‘ ب طور ام مسجد ہو گئی۔ وہ سک ان پڑھ‬

‫تھ ۔ زرینہ‘ قرآن مجید پڑھی ہوئی تھی۔ اس ن دو چ ر سورتیں‘‬
‫انہیں رٹ دیں۔ اسی طرح آذان اور اس ک پورا طریقہ‘ ان ک ہ زلف‬
‫ن ‘ سیکھ دی ۔ ا ان ک ن ک س تھ‘ مولوی ک س بقہ بھی پیوست‬

‫ہو گی تھ ۔‬

‫رفتہ میں پھیری ک دوران‘ مس مس ئل سنت رہت تھ ۔ انہیں ب ت‬
‫کرن ‘ اور ب ت بن ن ک ڈھنگ بھی آت تھ ۔ زرینہ ن بھی‘ سنی سن ئی‬

‫ک حوالہ س ‘ بڑا ت ون کی ۔ نم ز جم ہ اور جم ہ ک خط بھی‬
‫فرم ن لگ ۔ جم ہ ک خطبہ ک لی ‘ ان ک ہ زلف ن بڑا ت ون‬

‫کی ۔ دو تین س ل میں‘ لہراں بہراں ہو گئیں۔ مخ تف نوعیت ک کھ ن ‘‬
‫دان اور چھوٹ سہی‘ نوٹ بھی آن لگ ۔ چودھری ن مسجد ک‬
‫مولوی ک لی ‘ ایک ک ہ زمین بھی مختص کر دی۔ ا وہ مولوی‬

‫محمد عمر س ‘ علامہ محمد عمر پکھوی ہو گی تھ ۔ وہ گ ؤں میں‘‬
‫ایک مذہبی مس ک ک ‘ لیڈر تھ ۔ جم ہ اور عیدین ک موقع پر‘‬
‫پورے مذہبی گٹ اپ ک س تھ‘ وارد ہوت ۔ ان ک خلاف ب ت کرن‬
‫کی‘ کسی میں جرآت نہ تھی‘ گوی ان ک خلاف کوئی ب ت منہ س‬
‫نک لن ‘ مذہ دشمنی ک مترادف تھ ۔‬

‫ان ک بڑا لڑک ‘ محمد صدی میٹرک پ س کرک ‘ گ ؤں واپس لوٹ آی ۔‬
‫علامہ ص ح کی خواہش تھی‘ کہ دوسرے مس ک کی مسجد کی ام مت‘‬
‫کسی ن کسی طرح‘ اس مل ج ئ ‘ لیکن یہ ک ‘ اتن آس ن نہ تھ ۔ اس‬

‫مسجد ک مولوی‘ مضبوط پیروں والا تھ ۔ اس ک خلاف س زشوں ک‬
‫آغ ز کر دی گی ۔ مخت ف حوالوں س ‘ اس کی ہوا خرا کر دی گئی۔‬
‫آدمی کتن ہی محت ط کیوں نہ ہو‘ اس س غ طی ہو ہی ج تی ہ ۔ گ ؤں‬
‫ک ایک ن پسندیدہ مس ک کی‘ کت ک حوالہ‘ اپن خط میں کوڈ کر‬
‫بیٹھ ۔ انہوں ن یہ حوالہ‘ ب طور ثبوت کوڈ کی تھ ۔ بس پھر کی تھ ‘‬
‫علامہ ص ح ن ‘ قی مت کھڑی کر دی۔ انہوں ن یہ ں تک کہہ دی ‘‬
‫جن ک نوں ن یہ حوالہ سن ہ ‘ توبہ کریں‘ ورنہ عذا س نہ بچ‬
‫سکیں گ ۔ اس مس ک س مت لوگوں ن ‘ اس مذہبی گست خی‬
‫ک مترادف سمجھ لی ۔ مولوی ص ح کی‘ بھ گت بنی۔ دو دن تو بلا‬
‫ام مسجد گزر گی ۔ ایک دن محمد صدی ‘ جو س زش ک پہ روز‬
‫ہی س ‘ ان کی مسجد میں‘ ان ک طریقہ ک مط ب ‘ نم ز ادا کر رہ‬
‫تھ ‘ ران ج ر ک اش رے پر‘ ام مت ک مص پر‘ کھڑا ہو گی کسی‬

‫ن ‘ چوں تک نہ کی۔ پھر یہ مص ہ محمد صدی ک ٹھہرا۔‬

‫دوہرے گپھ گھر آن لگ ۔ علامہ ص ح ن ‘ اپنی بڑی لڑکی ک ‘‬
‫ہ تھ پی کرن ک فیص ہ کی ۔ آخر من س رشتہ مل ہی گی ۔ غلا نبی‬

‫کی اپنی دک ن تھی۔ ٹھیک ٹھ ک کھ تی پیتی آس می تھ ۔ اس کی پہ ی‬
‫بیوی فوت ہو گئی تھی۔ اس س دو ننھ من ‘ پی رے پی رے بچ‬
‫تھ ۔ ش دی پر گ ؤں والوں ن ‘ دل کھول کر‘ ت ون کی ۔ ان ک ت ون‬
‫ک ہی یہ ثمرہ تھ ‘ کہ علامہ ص ح کو‘ صرف نک ح کرن کی تک یف‬
‫اٹھ ن پڑی۔ رخصتی ک وقت‘ انہوں ن دلہ می ں کو‘ جیون س تھی‬
‫ک خود س ختہ حقو س آگ ہ کی ۔ دلہن ی نی اپنی بیٹی کو‘ ایک دن‬
‫پہ ہی‘ والدین ک حقو س ‘ آگ ہ کر دی تھ ۔ س تھ میں‘ زندگی ک‬
‫اس اصول س بھی شن س کر دی ‘ کہ لس پڑن وال سکھ ک س نس‬
‫نہیں ل سکت ۔ کوئی ایک کرے ت سو کرو‘ کوئی ایک سن ئ ت‬
‫ایک سو ایک سن ؤ۔ دوہ جو ہ ‘ گھٹنوں ت رکھو‘ ورنہ تمہ رے‬

‫ہم رے پ کچھ نہیں پڑ سک گ ۔‬

‫ش دی ک پہ ہ ت ‘ فریقین ک م بین‘ پی ر اور ب ہمی ت ون کی‘‬
‫یقین دہ نی ہوتی رہی۔ وہ ایک مث لی جوڑی دکھ رہ تھ ۔ غلا نبی‬
‫ن ‘ اس ایک وف ش ر بیوی سمجھت ہوئ ‘ گھر کی سوئی سلائی‬
‫تک‘ اس ک سپرد کر دی۔ دن بھر کی س ری کم ئی‘ اس ک حوال‬

‫کرن لگ ۔ دو تین م ہ ب د ہی‘ گھر میں ہ ن ن ڈیرے جم لی ۔‬
‫ص لحہ ن والدین ک حقو کو‘ بڑی دی نت داری اور ج ن فش نی‬
‫س ‘ نبھ ن ک آغ ز کر دی تھ ۔ غلا نبی ن ‘ س ج نت ہوئ ‘‬
‫برداشت س ک لی ۔ پھر اس ن ‘ محسوس کی ‘ کہ بچ ‘ دن بہ دن‘‬

‫غیر آسودہ ہو رہ ہیں۔ ایک دن اس ن ‘ دب ل ظوں میں‘ اس‬
‫م م ک ذکر چھیڑا‘ بس پھر کی تھ ‘ ص لحہ کی سری ی آواز‘ پورے‬

‫علاق ن سنی۔ غلا نبی ک ن لپیٹ کر‘ نکل گی ‘ اور کی کرت ۔ اس‬

‫واپسی اس ردعمل ک ‘ گم ن تک نہ تھ ۔ ب ہر وہ بڑا ڈسٹر رہ ۔ ش کو‬
‫گھر لوٹ ‘ تو ص لحہ ن ‘ م م ہ الف س ‘ شروع کر دی ۔ ص لحہ ک یہ‬

‫ج رح نہ روپ دیکھ کر‘ غلا نبی حیران رہ گی ۔‬

‫سرد جنگ ایک دن بھی نہ چھڑی‘ آغ ز ہی‘ گر جنگ س ہوا۔ ہر‬
‫روز کبھی پ نی پت اور کبھی بکسر کی لڑائی چ تی۔ ایک ب ر وہ بیم ر‬
‫پڑا‘ ص لحہ ن ‘ ذرا برابر پرواہ نہ کی۔ غلا نبی ن ‘ اس ک یہ رویہ‬
‫بھی برداشت کی ۔ لڑک بیم ر پڑا‘ ص لحہ ن اس س ‘ رائی بھر ت ون‬
‫نہ کی ۔ غیروں کی طرح‘ جھوٹ موٹھ ک پوچھ ہی لیتی‘ مگر کہ ں۔ غلا‬
‫نبی بچ کو‘ اکیلا ہی‘ ہسپت لوں میں لی پھرا۔ آخر بچہ‘ اللہ کو پی را ہو‬

‫گی ۔ خ لی ہ تھ واپس آ گی ۔ بچی رل خل گئی تھی۔ ص لحہ ن ‘ تس ی‬
‫تش ی دین ‘ اور ڈھ رس بندھ ن کی بج ئ ‘ اپن ڈنگ تیز کر دی ۔ غلا‬
‫نبی کی براشت جوا دے گئی۔ م م ہ علامہ ص ح ک ع میں تھ ۔‬
‫اصل رولا یہ تھ ‘ کہ بچی ن نکوں ک پ س بھیج دی ج ئ ۔ غلا نبی‬
‫اس ک لی تی ر نہ تھ ۔ بیٹ س ‘ پہ ہی‘ وہ ہ تھ دھو بیٹھ تھ ۔‬
‫علامہ ص ح ن ‘ بیٹی کو سمجھ ن کی بج ئ غلا نبی کی خو لہ‬

‫پہ کی۔ علامہ ص ح ک ہ تھ میں‘ دوسری ش دی کی خواہش مند‘‬
‫ص ح حیثیت اس می موجود تھی۔ م م ہ الجھت گی ‘ آخر طلا ہو گئی۔‬

‫عدت خت ہون ک ‘ اگ ہی دن‘ ص لحہ ک نک ح‘ س ی ص ح س‬
‫کر دی گی ۔ س ی ص ح ‘ ص ح حیثیت اور ب وق ر شخصیت ک م لک‬
‫تھ ۔ پڑھ لکھ بھی تھ ۔ علامہ ص ح ن ‘ انہیں بھی‘ نصیحتوں‬
‫س سرفراز فرم ی ۔ عجی ب ت تھی‘ حقو ال ب د میں‘ انہیں زوجہ ک‬

‫‘حقو ہی‘ سر فہرست نظر آت تھ‬

‫وہ بھی خود س ختہ۔‬

‫اللہ ج ن ‘ شخص ک ذاتی حقو کو‘ کیوں گول کر دی ج ت ہ ۔ ذاتی‬
‫حقو ‘ پہ ی ترجیع پر ہوت ہیں۔ جو شخص‘ اپن حقو ادا کرے گ ‘‬

‫وہی اللہ اور اس کی پوری ک ئن ت کی مخ و ک ‘ حقو ادا کر سک‬
‫گ ۔۔ جو شخص‘ اپنی ذات س انص ف نہیں کرت ‘ لالچ اور خوف ک‬

‫زیر اثر‘ ضمیر کی نہیں کہت ‘ ی کہہ سکت ‘ رز حلال‘ اپن وجود کو‬
‫مہی نہیں کرت ‘ دوسروں کو کیس کر سک گ ۔ اللہ ک ب نی ز اور ہر‬

‫ح جت س ب لا ہون ‘ مس ہ ۔ اس کی خوشی‘ اسی میں ہ ‘ کہ‬
‫شخص‘ اس کی مخ و ک حقو پوری دی نت داری س ادا کرے۔‬

‫حقو ک م م ہ ذات س ‘ اللہ کی طرف پھرت ہ ۔‬

‫س ی ص ح ن ‘ اولاد ک لی ‘ عقد ث نی کی تھ اللہ ن انہیں‘ چ ند‬
‫س بیٹ عط کی ۔ گوی ج ئیداد ک وارث پیدا ہو گی تھ ۔ ص لحہ ک ڈنگ‘‬
‫پہ س زی دہ تیز ہو گی ۔ علا ص ح ‘ عمر رسیدہ س ی کی‘ موت کی‬
‫راہ دیکھن لگ ۔ دن رات یک طرفہ‘ بلاوجہ‘ جنگ چ تی۔ ش دی ک‬

‫وقت بھی‘ س ی ص ح کی عمر زی دہ تھی‘ لیکن ص لحہ اور علامہ‬
‫ص ح کو‘ آج یہ کجی زی دہ ہی نظر آن لگی تھی۔ س ی ص ح بچ‬
‫ک لی ‘ س برداشت کر رہ تھ ‘ اور کرت بھی کی ‘ کوئی رستہ‬
‫ب قی نہ رہ تھ ۔ علامہ ص ح ک لی س ی ص ح کی موت‘ کوئی‬
‫م نی نہ رکھتی تھی‘ کیوں کہ اس می تلاشن ‘ اور گھیرن ‘ ان ک دائیں‬

‫ہ تھ ک کھیل تھ ۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬

‫تحریر ہ کئی ب ر پڑھ چک ہیں‪ ،‬لیکن یکسوئی نصی نہ ہو سکی۔ ہر‬
‫ب ر دھی ن ادھر ادھر کرن پڑا اور ہ کچھ کہن ک لائ نہ ہو سک ۔‬

‫بہت خو تحریر ہ جن ۔ کی ہی ب ت ہ ۔ بھر پور داد قبول کیج ۔‬
‫دین ایسی چیز ہ کہ اس کو حوالہ بن کر جو چ ہ کی ج سکت ہ ۔‬

‫اس س اشت ل پھیلان بھی بہت آس ن س ک ہو گی ہ ۔ چند لوگ‬
‫اشت ل سچ مچ میں محسوس کرت ہیں‪ ،‬ب قی کی کثیر ت داد صرف‬
‫مشت ل نظر ٓا کر ثوا ح صل کرن چ ہتی ہ ۔ ایس ہی جس پہ و کی‬

‫طرف ٓاپ ن اش رہ فرم ی ہ ‪ ،‬وہ ں بھی زوجہ ک صرف حقو‬
‫ہوت ہیں اور خ وند ک صرف فرائض۔ ہمیں تو یہ بھی سمجھ نہیں‬
‫ٓاتی کہ صرف م ں کو اس قدر درجہ دے دی ج ت ہ کہ جیس ب پ کی‬

‫کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ ح لانکہ عموم ً ب پ‪ ،‬صرف اور صرف اپن‬
‫بچوں ک لیئ ‪ ،‬اپنی بیوی کی کئی غ ط ب تیں بھی برداشت کرت رہت‬
‫ہ ۔ اور عموم ً کوئی اور چیز طلا س م نع نہیں ہوتی۔ لیکن بچ‬
‫چونکہ اپنی م ں ک پ س زی دہ وقت گزارت ہیں‪ ،‬تو ظ ہر ہ ہمیشہ‬

‫چندا م موں ہی ہوت ہیں‪ ،‬کبھی چندا چ چو نہیں ہوت ۔‬

‫ٓاپ ن لکھ ہ‬

‫حقو ک م م ہ ذات س ‘ اللہ کی طرف پھرت ہ ۔‬

‫یہ ب ت سمجھن ‪ ،‬بہت مشکل ک ہ ۔ اور ش ئید اس ک لیئ کئی‬
‫تحریریں لکھنی پڑیں۔ لوگوں کی سمجھ کو اس مق تک لان ‪ ،‬اہل ق‬
‫کی ذمہ دارہ ہ اور ہمیں خوشی ہ کہ آپ کوش ں ہیں۔ اگر ایسی‬
‫تربیتی تحریریں لوگوں کو پڑھن کو م یں ی ٹی وی ڈرامہ وغیرہ میں‬

‫م تی رہیں‪ ،‬تو لوگوں کی سمجھ بڑھ سکتی ہ ۔ ہمیں تو محتر اش‬
‫احمد ک ب د کوئی ایس ڈرامہ نگ ر نہیں نظر ٓای ‪ ،‬جو ان ب توں کو اس‬
‫گہرائی میں نہ صرف محسوس کرے‪ ،‬ب کہ لوگوں کو بھی سمجھ ئ ۔‬

‫ٓاج کل ک دور کی فضول اور کردار کشی س بھرپور کہ نیوں ک‬
‫س تھ ٹکران کی اشد ضرورت ہ اور آپ یہ ک کر رہ ہیں۔ ہزار‬

‫دع ئیں جن ٓاپ ک لیئ ۔‬
‫تحریر پر بہت بہت داد جن ۔ ہزار داد‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8952.0‬‬

‫بڑے اب‬

‫میں یہ تو نہیں کہت ‘ کہ میرے دادا بہت بڑے پیر فقیر ی درویش تھ ‘‬
‫ہ ں اتن ضرور کہوں گ ‘ کہ ان ک بہت اچھ انس ن ہون میں‘ شک‬
‫نہیں کی ج سکت ۔ وہ ہ درد اور پی ر کرن وال انس ن تھ ۔ میں ن‬
‫تو‘ انہیں بڑھ پ ک ع ل میں دیکھ تھ ۔ ان کی جوانی ک ‘ بہت س‬

‫س تھی‘ چ گی تھ ۔ اگر کوئی ب قی رہ گی تھ ‘ تو گھر پر ک ہی آت‬

‫تھ ۔ میرا‘ گھر ک دوسرے لوگوں س زی دہ‘ دادا جی ک س تھ اٹھن‬
‫بیٹھن تھ ۔ یہ نہیں‘ کہ وہ کسی کو اپن قری آن نہیں دیت تھ ‘‬
‫اصل واق ہ یہ تھ ‘ کہ میری م ں کسی کو‘ ان ک قری نہ آن دیتی‬
‫تھی۔ ان ک خی ل میں‘ دادا پرانی اور گھسی پٹی ب تیں سن کر‘ بچوں‬
‫کی ع دتیں خرا کرت تھ ۔ دوسرا وہ کھ نست رہت تھ ۔ م ں اس‬
‫خدش س ‘ کہ کہیں کسی بچ کو‘ کوئی بیم ری لاح نہ ہو ج ئ ‘‬
‫ہ بچوں کو‘ ان س دور رکھتی تھیں۔ بس ایک میں تھ ‘ جو کسی‬

‫ن کسی طریق اور بہ ن س ‘ ان ک قری رہت ۔‬

‫دادا جی کو‘ ہ س بڑے اب ‘ کہہ کر پک رت تھ ۔ ہ میں س کوئی‘‬
‫ج ان ک پ س ج ت ‘ بڑے خوش ہوت ۔ تھوڑی دیر بھی نہ ہو پ تی‘‬
‫کہ امی بلا لیتیں۔ بڑے اب س ‘ میری قربت کی‘ کئی وجوہ تھیں‘ لیکن‬
‫دو ب طور خ ص تھیں۔ ایک یہ کہ‘ میں حس میں ب لکل نکم تھ اور‬
‫وہ میری‘ اس س س میں‘ بھرپور مدد کرت ۔ انہیں حس اچھ خ ص‬
‫آت تھ ۔ دوسری وجہ یہ تھی‘ کہ ج بھی‘ مجھ اپن پ س دیکھت ‘‬
‫بڑا خوش ہوت ۔ اپن حصہ س بچ کر‘ کھ ن پین کی چیزیں دے‬

‫دیت ۔‬

‫ایک دن‘ امی‘ اب ک س من ہی‘ ان ک منع کرن ک ب وجود‘ بڑے‬
‫اب کو کوسن دے رہی تھیں۔ میں ن ‘ امی کو ذرا سخت لہج میں‘‬
‫منع کرن کی کوشش کی۔ بڑے اب ن ‘ خوش ہون کی بج ئ ‘ مجھ‬
‫ڈانٹ ‘ کہ بڑے ک س من نہیں بولن چ ہی ۔ یہ ب ت‘ امی پر بھی فٹ‬
‫آتی تھی‘ لیکن انہوں ن امی کو کچھ نہ کہ ۔ ش ید‘ ان ک سمجھ ن‬
‫ک ‘ یہ ایک انداز تھ ۔ امی‘ اس پر اور تیز ہو گئیں کہ وہ بچوں کو‘‬
‫ڈانت رہت ہیں۔ انہوں ن ‘ یہ ں تک کہہ دی ‘ کہ بڈھ ن تو بچوں‬
‫ک س نس پی رکھ ہ ۔‬

‫حس کی اصطلاح ت ک ن ‘ بڑے عجی اور احمق نہ س ہوت ہیں۔‬
‫عم ی زندگی میں‘ ان ک ن سنن کو نہ م ت تھ ۔ خصوص یہ بٹ ‘‬

‫میری سمجھ میں نہیں آسک ۔ دو بٹ چ ر‘ چھ بٹ گی رہ۔ ج دو چ ر‬
‫پر‘ اور چھ گی رہ پر تقسی نہیں ہوت ‘ تو اس قس ک سوال‘ کت‬
‫میں ڈالن کی ضرورت ہی کی ہ ۔ مجھ ری ضی بن ن والوں کی‬
‫عقل پر افسوس ہوت ۔ وہ تو وہ‘ م سٹر بھی‘ اس حم قت خیز عمل ک‬
‫حصہ بن گی تھ ۔ایک دن‘ میں ن م م ہ‘ بڑے اب ک س من‬
‫رکھ ‘ انہوں ن بڑے پی ر اور مث لوں س ‘ م م کو واضح کرن‬

‫کی کوشش کی۔ میری سمجھ میں س کچھ آ گی ۔ ہ ں البتہ‘ ایک مث ل‬
‫بڑی ہی ٹیڑی تھی۔ کہن لگ ‘ بٹ ‘ بٹن س ہ ۔ ج بھی کوئی ش ‘‬
‫بٹن ک عمل میں داخل ہوتی ہ ‘ اس کی ابتدائی قیمت اور قدر میں‘‬

‫کمی واقع ہوتی چ ی ج تی۔ مثلا آپ ک پ س سو رپ تھ ‘ آپ ن‬
‫پچ س روپ ‘ اپن چھوٹ پھ ئی کو دے دی ‘ آپ ک پ س پچ س بچ‬
‫گی ۔ پچ س میں پچیس‘ آپ کی چھوٹی بہن ن ل لی ‘ اس طرح آپ‬

‫ک پ س سو میں پچیس ب قی رہ ‘ اسی کو‘ بٹن کہت ہیں۔ بٹوارا‬
‫بھی‘ بٹن س ہ ۔ ایک بٹ دو ک م م ہ‘ میری سمجھ میں آ گی تھ ۔‬

‫انہوں ن کہ ‘ م دی سوچیں اور م دی زندگی‘ ش س زی دہ حیثیت‬
‫اور اہمیت کی ح مل ہوتی ہ ۔ ش دی س پہ ‘ میں ایک تھ ‘ ش دی‬
‫ک ب د ایک نہ رہ ‘ ی یوں سمجھ لو‘ کہ ایک کی قدر سو ہ ۔ ش دی‬
‫ک ب د‘ بٹ کر پچ س رہ گی ۔ تمہ ری دادی بھی بٹی۔ بدقسمتی کی ب ت‬
‫یہ ہ ‘ کہ اس ک پچ س‘ میرے نہ ہوئ ‘ میرے پچ س‘ اس ک نہ‬
‫ہوئ ۔ تمہ رے اب پیدا ہوئ ‘ بقیہ پچ س تقسی ہو کر‘ پچیس رہ گی ۔‬
‫اس ک ب د‘ تمہ ری بڑی پھوپھو پیدا ہوئیں‘ تو پچیس بٹ کر‘ س ڑھ‬

‫ب رہ رہ گی ۔ پھر تمہ رے چچ کی پیدائش پر‘ س ڑھ ب رہ‘ چھ‬

‫اش ریہ پچیس گی ۔ تمہ ری چھوٹی پھوپھو کی پیدائش پر‘ چھ‬
‫اش ریہ پچیس بٹ کر‘ تین اش رہ س ڑھ ب رہ رہ گی ۔ اس ک ب د‬
‫تمہ رے س س چھوٹ چچ ‘ پیدا ہوئ تو تین اش رہ س ڑھ ب رہ‬
‫بٹ کر‘ ڈیڑھ اش رہ سوا چھ ب قی رہ گی ۔ اس ک ب د پوت ‘ پوتی ں‘‬
‫ہوئی ں‘ نواس ‘ نواسی ں پیدا ہوئیں‘ تو یہ ڈیڑھ اش رہ سوا چھ بھی‬
‫تقسی ہو گی ۔ اس طرح تمہ را بڑا اب ‘ سو س ص ر ہو گی ۔ ص ر کو‘‬

‫کون اہمیت اور عزت دیت ہ ۔‬

‫تمہ ری دادی ام ں‘ ص ر ہون ک صدمہ‘ برداشت نہ کر سکی اور اس‬
‫ن ‘ دنی کو خیرآب د کہہ دی ۔ اس پر یہ حقیقت واضح نہ تھی‘ کہ ہندسہ‬
‫ص ر ک بغیر‘ محدودیت س ب ہر نہیں نکل پ ت ۔ ہندسہ ج ص ر کو‬
‫س تھی بن ت ہ ‘ تو اس کی قیمت‘ ہزاروں‘ لاکھوں‘ کروڑوں ہو ج تی‬
‫ہ ۔ ص ر کچھ بھی نہ ہو کر‘ بہت کچھ ک درج پر ف ئز ہو ج تی ہ ۔‬
‫مجھ م و تھ ‘ کہ میں ج ہندس س مل ج ؤں گ ‘ کچھ نہیں ک ‘‬

‫حص ر ٹوٹ ج ئ گ ۔ آج ت ن ‘ ص ر س الح کی ہ ‘ اس س ‘‬
‫جہ ں ت دس ہوئ ‘ وہ ں میری قیمت نو ہو گئی ہ ۔ یہ احس س‘‬

‫مجھ زندہ رکھ گ ۔ پھر انہوں ن ‘ مجھ اپن سین س لگ لی ۔‬
‫ان کی آنکھوں میں‘ آنسو تھ ۔ میں آنسووں کی زب ن نہ سمجھ سک ۔‬

‫یہ آنسو‘ ط ل تس ی ک تھ ی میری قربت ن ‘ ن سی تی سطع پر‘‬
‫انہیں توان ئی عط کی تھی۔ میں کچھ نہ سمجھ سک ‘ ہ ں‘ ان ک سین‬

‫کی گرمی ن ‘ مجھ ایک س ‘ دس کر دی ۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا‬

‫بہت ہی خوبصورت تحریر ہ ۔ جہ ں ٓاپ ن انس ن ک بٹت چ‬

‫ج ن کی ب ت کی ہ وہ ں یہ تحریر ایک دوسرے ک س تھ محبتوں‬
‫ک س تھ جین ک بھی سب دیتی ہ ۔ تحریر میں موجود کر ک‬

‫احس س اس اور زی دہ ج ندار کر رہ ہ ۔ واق ی ص ر ک ہندسہ بہت‬
‫ط قت رکھت ہ ‪ ،‬اور ٓاپ ن اس اپن انداز میں بہت خوبصورتی‬
‫س م م ک س تھ جوڑا ہ ۔ ص ر ک س تھ صرف ایک ک اض فہ‬

‫اس بہت ط قتور کر دیت ہ اور خود بھی بہت ط قتور ہو ج ت ہ‬
‫بشرطیکہ کہ ‪:‬صحیح سمت‪ :‬میں اض فہ ہو۔ غ ط سمت میں اگر ایک ک‬
‫اض فہ ہو تو ایک‪ ،‬ایک ہی رہت ہ لیکن ص ر اپن وجود بھی کھو دیت‬
‫ہ ۔ ایک کو چ ہیئ کہ کوشش کرے کہ کئی ص روں ک س تھ لگ‬

‫ج ئ اور اسی طرح اپنی اور دوسروں کی قیمت میں اض فہ کرے۔‬
‫ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ بہت ہی عمدہ تحریر ہ ۔‬

‫ہ ن انس ن ک بٹن ک عمل کو ایک اور نقطہ نظر س بھی دیکھ‬
‫ہ ۔ شیکسپئر ک مط ب ‪ٓ :‬ال دا ورلڈ از سٹیج‪ :‬۔ انہوں ن انس ن کی‬
‫زندگی ک ادوار کو کردار دیئ ہیں‪ ،‬جبکہ ہم را خی ل ہ کہ انس ن‬
‫ایک ہی وقت میں کئی کردار بھی نبھ ت ہ ۔ ب پ بھی ہ بیٹ بھی۔ دفتر‬
‫میں ایک چہرہ تو رشتہ داروں ک س من کوئی اور چہرہ۔ کہیں آدا‬
‫بھری مح ل میں ایک مؤد شخص تو دوستوں ک س من ایک گ ل‬
‫گ وچ وال انس ن ک چہرہ۔ کہیں چ لاک اور مک ر تو مولوی ص ح ک‬

‫س من عجز و انکس ر۔ کہیں خوشی نہ ہوت بھی ہنسن پڑت ہ تو‬
‫کہیں کسی کو موت پر زبردستی رون کی کوشش کرت ہ ۔ کردار‬

‫نبھ ت ہ ۔ اور انہیں کرداروں میں بٹت بٹت ‪ ،‬اپن اص ی چہرہ بھول ج ت‬
‫ہ ۔ ایس ہی ایک کردار یہ ‪:‬وی بی‪ :‬ہ جس میں ہمیں اپن چہرہ نظر‬
‫ٓات ہ اور ہ اس ک س تھ وقت گزارن کی کوشش کرت ہیں۔ ہ ن‬

‫آپ کی تحریر پڑھ کر زی دہ وقت نہیں لی ‪ ،‬سو جذب تی سی چند ب تیں جو‬
‫ذہن میں ابھریں بی ن کر گئ ہیں‪ ،‬جس پر م ذرت بھی چ ہت ہیں۔‬
‫ٓائندہ کوشش کریں گ کہ آپ کی تحریر ک س تھ زی دہ وقت گزاریں‬

‫ت کہ جذب ت کچھ ٹھنڈے ہو ج ئیں اور ہ کچھ عقل کو لگتی کہہ سکیں۔‬
‫آپ کی یہ تحریر بھی بہت خو ہ ‪ ،‬اور ہمیں یقین ہ کہ پڑھن‬

‫وال اس س ضرور اثر لیں گ ۔ کیونکہ یہ جذب ت اور احس س ت‬
‫س لبریز ہ ۔‬

‫ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ۔۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8844.0‬‬

‫جوا ک سکتہ‬

‫اس دن‘ کوئی س می نہ آئی۔ یہ میری نوکری ک ‘ غ لب پہلا ات تھ ‘‬
‫ورنہ دو س زی دہ‘ س می ں م مول میں ش مل تھیں۔ بھوک تھی‘ کہ سر‬

‫چڑھ کر بول رہی تھی۔ مجھ اپنی اس ب ق بو بھوک‘ ک احس س تو‬
‫تھ ہی‘ لیکن میرا دھی ن رقیہ اور اپن بچوں کی طرف‘ لگ ہوا تھ ۔ ان‬
‫ک کی ح ل ہو رہ ہو گ ۔ وہ ب چ رے تو گھر ک کھ ن ک ع دی ہی‬

‫نہ تھ ۔ اس ک مط یہ نہیں‘ کہ رقیہ کھ ن پک ن نہیں ج نتی تھی۔ وہ‬
‫سلائی کڑائی اور کوکنگ میں مہ رت رکھتی تھی‘ لیکن وہ اس ک کو‘‬

‫غیر ش ئشتہ اور غیر مہذ قس ک ک ‘ سمجھتی تھی۔ یہ ہنر رکھت‬
‫ہوئ بھی‘ اپن اب ک گھر میں‘ بہت ک ‘ کچن میں داخل ہوتی تھی۔‬

‫ش دی ک پہ دن ہی‘ اس ن اپنی اس کمزوری س ‘ آگ ہ کر دی‬
‫تھ ۔ میں ن چند لمحوں ک لی ‘ سنجیدگی اختی ر کی اور پھر‘ بڑے‬
‫افسردہ انداز میں کہ ‪ :‬چ و ٹھیک ہ ‘ کچھ کر لیں گ ۔ اصل ب ت تو یہ‬
‫تھی‘ کہ مجھ بڑی خوشی ہوئی۔ میں ن آج تک‘ گھر س کھ ی ہی‬
‫نہ تھ ۔ مجھ گھر ک کھ ن کبھی خوش نہیں آی ۔ وہ دن اور آج ک دن‘‬
‫میں اپنی کھ لیت اور رقیہ کی‘ نور محمد ک ہ تھ‘ گھر بھیج دیت ۔ یہ‬

‫ہی روٹین س لوں س چلا آت تھ ۔‬

‫گھر پر نہ کھ ن ک سب ‘ گھروں پر جھگڑے ہو ج ت ہیں۔ کھ ن‬
‫کی صورت میں‘ لون مرچ ک ک ی زی دہ ہون کی صورت میں‘ بھی‬

‫جھگڑے ک رستہ کھل ج ت ہ ۔ ا اس کی کمزوری میرے ہ تھ میں‬
‫تھی۔ محت جی بھی نہ رہی تھی۔ ا میرا پ ؤں‘ اوپر تھ اور وہ میری‬

‫محت ج تھی۔ گوی میں بیجھوں گ ‘ تو ہی کھ ئ گی۔‬

‫آج چوں کہ کوئی س می ہ تھ نہ لگی تھی‘ اس لی میں ن ‘ تیسرے‬
‫درج ک ہوٹل س کھ ی اور گھر بھی اسی ہوٹل س بھجوای ۔ سچی‬

‫ب ت تو یہی ہ ‘ کہ لقم ح ک نیچ اترت ہی نہیں تھ ۔ خیر‘‬
‫کی کرت ‘ پیٹ تو بھرن ہی تھ ۔ پیٹ بڑا ب لح ظ ہوت ہ ۔ روکھ سوکھ‬
‫ہی کیوں نہ م ‘ اس م ن شرط ہ ۔ ذائق کی ب ت‘ ب د میں آتی ہ ۔‬

‫آج ک ح دث ن ث بت کر دی تھ ‘ کہ بھوک کی صورت میں‘ گھٹی‬
‫س بھی‘ ک چل سکت ہ اور ذائقہ ث نوی حیثیت رکھت ہ ۔‬

‫میں کھ ن س فراغت ک ب د‘ سیٹ پر آبیٹھ ۔ آج پ س ‘ اور‬
‫بدمزہ کھ ن کھ ن ک ب عث‘ میرا موڈ بڑا اپ سٹ تھ ۔ اوپر س یہ‬
‫سوچ کر‘ گھبراہٹ سی ہون لگی کہ گٹھی کھ ن م ن ک ب عث‘ رقیہ‬

‫اور بچوں ک موڈ خرا ہو گی ہو گ ۔ ا میں کی کرت ‘ کوئی س می‘‬
‫ہتھ ہی نہیں چڑھی تھی۔ نور محمد بھی اداس اداس س تھ ۔ اس یہ‬

‫تو م و تھ ‘ کہ میں کھ ن کھ ن گی ہوں۔ وہ یہ نہیں ج نت تھ ‘ کہ‬
‫میں ن پ س کھ ی ہ ۔ میں ن ‘ کسی دوسرے ذری س ‘کھ ن‬

‫گھر بھجوای تھ ۔ اس کی دو وجوہ تھیں۔‬

‫نور محمد آگ ہ ہو ج ئ گ کہ میں ن گھٹی کھ ن گھر بھجوای ہ ۔‬

‫وہ یہ بھی ج ن ج ئ گ کہ رقیہ کی زب ن‘ قنچی س بڑھ کر کترن‬
‫میں ت ک ہ ۔‬

‫کھ ن کھ ئ ‘ ابھی پ نچ منٹ ہی ہوئ ہوں گ ‘ کہ ایک س می آ گئی۔‬
‫مجھ اس پر بڑا ت ؤ آی ۔ کتن فضول لوگ ہیں‘ وقت کووقت نہیں‬

‫دیکھت ۔ ج دل چ ہت ‘منہ اٹھ کر چ آت ہیں۔ پتہ نہیں‘ ان لوگوں‬
‫کو ک عقل آئ گی۔ وقت کی قدر نہ کرن کی وجہ ہی س ‘ یہ خطہ‬
‫ترقی کی دوڑ میں پیچھ رہ گی ہ ۔ غص س ‘ میرا بی پی ہ ئی ہو‬
‫گی اور مجھ چکر س آن لگ ۔ وہ میری ح لت دیکھ کر گھبرا گی ۔‬

‫ج ن لگ ‘ پھر ج ن کی سوچ کر‘ پیچھ مڑا اور مجھ ہسپت ل ل‬
‫گی ۔ میری ح لت ک پیش نظر‘ مجھ ایمرجنسی میں بھرتی کر لی گی ۔‬

‫سچی ب ت تویہ ہ ‘ اس شخص ن ‘ میری بڑی خدمت کی۔ پ س ‘‬
‫دوائیں وغیرہ لا کر دیت رہ ۔ دیگر‘ اس کی بھ گ دوڑ کو بھی‘ شک کی‬

‫نظر س ‘ نہیں دیکھ ج سکت ۔ میں ہسپت ل میں تین دن رہ ۔ تشخیص‬
‫پر‘ م و ہوا‘ کہ خرابی ن قص غذا ک ب عث ہوئی تھی۔ مجھ س می‬

‫پر غصہ آی ‘ کہ ک بخت تھوڑا پہ چلا آت ‘ تو مجھ ہسپت ل کی راہ‬
‫نہ دیکھن پڑتی۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود تھی‘ کہ اس ن‬
‫میری اپنوں س بڑھ کر‘ خدمت کی تھی۔‬

‫میں ن سیٹ پر آت ہی‘ اس کی ف ئل مکمل کی۔ موصولہ میڈیکل بل‘‬
‫مروجہ ریٹ س ک تھ ۔ دوسرا تک یف بھی‘ اس کی تس ہل پسندی کی‬

‫وجہ س ‘ ہوئی تھی‘ اس لی میں ن ‘ اس س وصولی کو‘ غیر‬
‫اصولی نہ سمجھ ۔‬

‫میرے لی ‘ ایک ب ت حیرت ک سب بنی رہی‘ کہ آخر رقیہ اور بچوں‬
‫پر‘ ن قص غذا ک اثر کیوں نہ ہوا۔ آخر ان ک م دوں ن ‘ اس گھٹی‬
‫خوراک کو‘ کیوں کر برداشت کر لی ۔ وہ تو مجھ س ‘ کہیں بڑھ کر‘‬

‫ن زک طبع ک م لک تھ ۔ ب ت آئی گئی ہو گئی اور م م ہ روٹین میں آ‬
‫گی ۔‬

‫ایک دن مجھ پر یہ راز کھلا‘ کہ کھ ن ‘ اس ک اب ام ں ک گھر‘ ج ت‬
‫تھ اور یہ نیک فریضہ‘ نور محمد انج دیت تھ ۔ رقیہ خود اور بچوں‬
‫کو گھر ک کھ ن کھلاتی تھی۔ اس ب ت کو‘ دو س ل ہو گی ہیں اور میں‬
‫اس گتھی کو‘ آج تک نہیں س جھ سک ‘ کہ کسی بچ ن ‘ بھول کر‬
‫بھی‘ نہیں بت ی ‘ کہ وہ کھ ن اپنی م ں ک ہ تھ ک پک ہوا‘ کھ ت ہ ۔‬
‫سوچ میں ہوں‘ کہ رقیہ ن آخر کھ ن نہ پک ن ک ‘ پہ ہی روز کیوں‬
‫عذر کی تھ ۔ آخر مجھ ہی کیوں‘ وہ کھ ن پک کر نہ دین چ ہتی تھی۔‬

‫میں خو ج نت ہوں‘ کہ میری کم ئی ک بڑا حصہ‘ اس کی ام ں اب کی‘‬
‫گرہ میں ج ت ہ ۔ یقین یہ بہت بڑا تی گ تھ ‘ کہ وہ بہترین کھ ن ‘ جو‬

‫اس ک ‘ اور اس ک بچوں ک منہ ک تھ ‘ اپن اب ام ں کو بھیج دیتی‬
‫تھی۔‬

‫مج ل ہ ‘ جو نور محمد ن ‘ کبھی اس حقیقت کو کھولا ہو۔ بلاشبہ‘ وہ‬
‫وف دار ملاز تھ ۔ میرا ن سہی‘ فری مخ لف ک سہی۔ ش ہوں ک ‘‬

‫گم شت بھی‘ یہ ہی کرت آئ ہیں۔ کھ ت ش ہ ک ہیں‘ وف داری ش ہ‬
‫ک دشمنوں س نبھ ت ہیں۔ اس میں ایک حقیقت یہ بھی موجود‬

‫تھی‘ کہ افسر کی بیگ س بن کر رکھو‘ اس س ن صرف افسر سیدھ‬
‫رہت ہ ‘ ب کہ دوہرا حصہ ہ تھ لگت ہ ۔ بہت س ک نک وات تھ ۔‬

‫مخصوص س میوں ک ک ‘ بیگ ‘ نور محمد ک ذری ‘ نک واتی تھی۔‬
‫اس میں س بھی‘ نور محمد اپن حصہ وصولت تھ ۔‬

‫یہ ب تیں تو ضمن کہہ گی ہوں‘ اصل سوالات ک جوا ‘ میرے لی چی نج‬
‫بن ہوا ہ ۔ میں کسی ک س من اپن م م ہ نہیں رکھ سکت ۔ بیگم ت‬
‫لین دین میں‘ موثر کردار ادا کرتی آئی ہیں‘ لیکن میرے سوال‘ یقین‬
‫اپنی نوعیت ک ہیں‘ اور دفتری ت ریخ میں‘ اپنی مث ل نہیں رکھت ۔‬

‫خدا ک لی ‘ کوئی بت ئ ‘ یہ س کی تھ ۔ آخر میں‘ ک تک‘ سوال‬
‫ک ‘ جوا ک سکت پر‘ حیرت زدہ کھڑا رہوں گ ۔‬

‫‪2-4-1972‬‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا‬

‫م فی چ ہت ہیں کہ آپ کو ی د دہ نی کروانی پڑی۔ ایس نہیں کہ ہ ن‬
‫یہ افس نہ پہ نہ پڑھ ہو‪ ،‬لیکن ٓاپ کی کچھ تحریریں ایسی ہوتی ہیں‪،‬‬

‫کہ انہیں پڑھ کر انس ن کو لگت ہ کہ ابھی اور اس پر سوچن کی‬
‫ضرورت ہ ۔ اور کبھی ایس بھی ہوت ہ کہ کچھ پڑھ کر انس ن جو‬
‫کچھ محسوس کرت ہ اس ال ظ نہیں دے پ ت ۔ کئی افس ن آپ ک‬

‫ایس بھی ہوت ہیں کہ کہت کچھ نظر آت ہیں لیکن کہہ کچھ اور‬
‫رہ ہوت ہیں۔ ‪:‬نق د‪ :‬تو بہت اونچ مرتبہ ہ ‪ ،‬ہ تو صرف ایک ع‬
‫ٓادمی کی سی عقل ک ح مل ہیں اور صرف یہ سوچ کر اپنی رائ ک‬
‫اظہ ر کرت ہیں کہ جو ہ ن محسوس کی وہ ٓاپ تک پہنچ ج ئ ۔ ایس‬
‫بھی ممکن ہ کہ جو کچھ ٓاپ اپنی تحریر میں کہہ رہ ہوت ہیں‪ ،‬ہ‬
‫جزوی ی پھر ہو سکت ہ کہ ک ی طور پر بھی نہ سمجھ پ ئ ہوں۔‬
‫ہم رے بی ن س آپ کو اتن تو ع ہو ہی ج ئ گ کہ ایک ع شخص‬

‫ن پڑھ کر کی محسوس کی ۔‬

‫یہ تحریر بھی سوال چھوڑ ج تی ہ ‪ ،‬افس ن ک ہیرو چونکہ خود ایک‬
‫اس می ں پھنس ن والا شخص ہ اس لیئ اس ک اپنی بیوی ک‬

‫ب رے جو بھی خی لات ہیں وہ مشکوک ہیں اور بھروس ک لائ نہیں۔‬
‫دوسری طرف بیویوں ک ع رویوں کی طرف اش رہ ہ کہ اپن‬

‫بچ اس اپن بچ ہی ہوت ہیں جبکہ شوہر کسی اور ک بچہ ہوت‬
‫ہ ۔ دوسری طرف یہ بھی محسوس ہوت ہ کہ ہو سکت ہ کہ رقیہ‬
‫کو م و ہو کہ اس ک شوہر ب ہر ک کھ ن پسند کرت ہ سو اس ن‬
‫پہ دن ہی اس کو خوش کر دی ہو)۔ یہ بھی اخض نہیں کی ج سکت‬
‫کہ وہ اپن بچوں کو حرا نہیں کھلان چ ہتی تھی کیونکہ گھر ک کھ ن‬

‫بھی تو اسی کم ئی ک ہو گ ۔‬

‫ویس بیوی ک م م میں زی دہ سوچن نہیں چ ہیئ کیونکہ اس‬
‫ک کئی ک عقل س ب ہر ہی ہوت ہیں ‪ ):‬اور عورتوں ک منطقی طرز‬

‫ع مردوں س یکسر مخت ف ہوت ہ ۔‬

‫اس م م کو م شرتی طرز عمل س دری فت کرن اور پھر ال ظ‬
‫دین پر داد قبول کیج ۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

‫نق د‘ درحقیقت مط ل ہ ک س یقہ سکھ ت ہ ۔ اس کی‘ ب ریک س‬
‫ب ریک‘ گوش کی طرف نظر چ ی ج تی ہ ۔ عمومی ق ری کی نظر‘ اس‬
‫ج ن نہیں ج تی۔ کھرا نق د‘ زب ن کی آگہی ک حوالہ س ‘ اوروں س ‘‬

‫الگ تر ہوت ہ ۔ وہ ص ح رائ ہوت ہ ۔ رائ ک ترکی پ ن ہی‘‬
‫اصل کم ل ہ ۔ آپ ک ہ ں یہ چیز‘ نظر آتی ہ ۔ میں یہ‘ تک اور‬
‫مروت نہیں کہہ رہ ‘ ب کہ حقیقت عرض کر رہ ہوں۔ آپ ص ح رائ‬
‫ہیں‘ اور اس پر میرا اصرار ہ ۔ آپ کی رائ س ‘ کوئی اختلاف کرت‬
‫ہ ‘ ی مسترد کر دیت ہ ‘ یہ م م ہ الگ س ہ ۔ یہ غیر فطری نہیں‘‬
‫ب کہ صحت مند عنصر ہ ‘ اور یہ اختلاف‘ مزید کی تلاش میں نک ن‬

‫بر مجبور کرت ہ ۔‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8753.0‬‬

‫اللہ ج ن‬

‫ایک خ تون س ‘ راہ چ ت ‘ ایک تھ ن دار ن ‘ جو گھوڑی پر سوار‬
‫تھ ‘ چودھری ک گھر ک رستہ دری قت کی ۔ اس خ تون ن ‘ ت صیل اور‬
‫تس ی س ‘ رستہ بت ی ۔ گھر آ کر‘ ب رع خ موشی اختی ر کر لی۔ گھر ک‬
‫کوئی بھی فرد بلات ‘ ب رع دیکھنی ک س تھ‘ منہ دوسری طرف پھیر‬

‫لیتی۔ ش کو خ وند آی ‘ اس ن بھی بلای ‘ تو اس ب رع اور م زز‬
‫خ تون ن ‘ وہ ہی انداز اختی ر کی ۔ پھر اس ن ‘ اپن بچوں س ‘‬
‫م م ہ دری فت کی ۔ انہوں ن کہ ‘ ہمیں وجہ ک تو ع نہیں‘ لیکن ام ں‬
‫صبح س ہی‘ ہ س س ‘ اسی طرح ک ‘ برت ؤ کر رہی ہ ۔ خ وند ن‬
‫دو چ ر گ لی ں کھڑک ئیں‘ اور بوتھ پھیلان اور سوجھ ن کی وجہ‬
‫دری فت کی۔ اس بی بی ن ‘ بڑے فخر اور تمکنت س فرم ی ‪ :‬میں ن‬
‫اس منہ س ‘ تھ ن دار س ب ت کی ہ ‘ اور ا اسی منہ س ‘ کتوں‬

‫ب وں ک س تھ ب ت کروں۔‬

‫ری ض ک کراچی میں‘ بڑا لمب چوڑا ک روب ر تھ ۔ لاکھوں میں کھی ت تھ ۔‬
‫کسی ک س ‘ اس ک منیجر کر پور آی ۔ واپسی پر‘ ہم رے ہ ں بھی‬
‫رک ۔ اس ن ری ض کی ج ن س ‘ ہ س ک ح ل احوال دری فت کی ۔‬

‫چ ت وقت‘ ری ض کی ج ن س ‘ مجھ پ رکر ک پن‘ اور زرینہ کو‘‬
‫پ نچ صد روپ دی ۔ منیجر چلا گی ‘ تو ذرا دکھ ن ‘ کہہ کر پن مجھ س‬
‫ل لی اور پھر مستقل قبضہ کر لی ۔ میں ن ‘ اس پرمکر قبض پر‘‬
‫صبر ک گھونٹ بھر لی ‘ اور کر بھی کی سکت تھ ۔ اس ک بھ ئی ن یہ‬

‫پن دی تھ ۔ مجھ دین س ‘ میرا تو نہیں ہو گی تھ ۔‬

‫زرینہ پڑھی لکھی ہ ‘ اس لی ‘ یہ ن ج ئز قبضہ‘ ق بل مذمت نہیں۔ اصل‬
‫م م ہ یہ ہوا‘ کہ اس ک مزاج میں‘ رعونت آ گئی۔ یہ تو منیجر آی‬
‫تھ ‘ اگر ری ض خود آ ج ت ‘ تو خدا م و ‘ اس ک مزاج میں‘ کس‬

‫نوعیت کی تبدی ی آ ج تی۔ م توح کو‘ فتح کرن ک لی ‘ میدان میں‬
‫اترن ‘ کسی طرح‘ بڑے ک رن م ک زمرے میں نہیں آت ۔ چھری ک‬
‫خربوزے کو‘ ظ ل کہن وال کو‘ عقل مند نہیں کہ ج سکت ۔ م نت‬
‫ہوں‘ ری ض‘ زرینہ ک ‘ چ لیس س ل س بھ ئی ہ ‘ لیکن پندرہ س ل‬

‫س ‘ میرا بھی تو‘ عزت م س لہ ص ح ہ ۔ پندرہ برسوں کو‘ کسی‬
‫کھ ت میں نہ رکھن ‘ سراسر زی دتی ک مترادف ہ ۔ ہم رے حک‬

‫رانوں کی طرح‘ زرینہ بھی‘ م توح‘ ی نی مجھ ‘ مزید فتح کرن ک ‘‬
‫چکر میں رہتی ہ ۔‬

‫عجی دھونس تو یہ ہ ‘ لوگ‘ ط قت کی ہ ں میں ہ ں ملات ہوئ ‘‬
‫خربوزے کو‘ ظ ل قرار دے دیت ہیں۔ ظ یہ کہ اس ذیل میں‘ ان ک‬

‫پ س‘ ن ق بل تردید دلائل بھی ہوت ہیں۔ ان دلائل ک منکر‘ ج ن س‬
‫ج ئ ن ج ئ ‘ جہ ن س ضرور چلا ج ت ہ ۔ اس ہر اگ لمح ‘‬
‫چھبتی اور طنزیہ نظروں ک ‘ س من کرن پڑت ہ ۔ ص ح حیثیت اور‬

‫ص ح ثروت بھ ئی کی بہن ہون ‘ بلاشبہ کوئی م مولی اعزاز نہیں‘‬
‫لیکن اس بوت پر‘ اوروں کو م مولی اور حقیر سمجھن ‘ اور ان کو‬
‫حق رت کی نظر س دیکھن ‘ بھی تو کوئی اچھی ب ت نہیں۔ پورے کنبہ‬
‫کی عورتیں‘ زرینہ کو سچ سمجھتی ہیں۔ کہتی ہیں‘ یہ ہی ہ ‘ جو‬

‫گزرا کر رہی ہ ‘ کوئی اور ہوتی‘ تو ک کی‘ چھوڑ کر چ ی ج تی۔‬

‫لڑن اور ب عزتی کرن ک لی ‘ بہ ن تراشن ‘ کوئی اچھی ع دت‬
‫نہیں۔ کل ہی کی ب ت ہ ‘ اس ب ت پر اچھ خ ص بولی‘ کہ انڈے چھوٹ‬
‫لای ہوں۔ ا ان س کوئی پوچھ ‘ انڈے میں دیت ہوں! انڈے مرغی‬
‫دیتی ہ ‘ اور مرغی کسی کی م تحت نہیں‘ یہ اس کی مرضی ہ ‘ کہ‬

‫انڈے چھوٹ دے ی بڑے دے۔‬

‫ب ت یہ ں تک ہی محدود نہیں‘ ج س ‘ ری ض ک منیجر‘ پ نچ سو‬

‫روپ اور پ کر ک ق ‘ دے کر گی ہ ‘ زرینہ ک طور ہی بدل گی ہ ۔ ہر‬
‫چیز میں‘ نقص نک لن اور اس گھٹی ث بت کرن ‘ اس ن ابن ‘ فرض‬

‫منصبی بن لی ہ ۔ ا میں ن ‘ ب زار کی چیزیں‘ لان چھوڑ دی ہیں وہ‬
‫خود ہی‘ لاتی ہ ۔ ب زار س واپسی پر‘ پہ بڑبڑاتی ہ ‘ پھر‬

‫مہنگ ئی ک رولا ڈالتی ہ ۔ اوہ خدا کی بندی‘ مہنگ ئی میں ن کی ہ ۔‬
‫مہنگ ئی کی شک یت‘ صدر فی ڈ م رشل محمد ایو خ ں س بنتی ہ ۔‬

‫ایک ب ر ن کہہ دی ‘ ت ری ض بھ ئی س کیوں نہیں کہتیں‘ کہ وہ‬
‫مہنگ ئی ک س س میں‘ ایو خ ں س ب ت کرے۔ میں ن غص‬
‫میں ہی کہ تھ ۔ کہن تو یہ چ ہی تھ ‘ کہ جس ک بوت پر اتراتی ہو‘‬
‫مہین ک خرچہ بھی‘ بھیج دی کرے‘ لیکن میں‘ پھر بھی‘ مروت میں‬
‫رہ ۔ میری کہ پر‘ بڑا چمکی‘ س را دن بلاوق برسی۔ خدا م و ‘ م ں‬
‫ن کی کھ کر پیدا کی تھ ‘ تھکن ک ن ہی نہ لیتی تھی۔ لوہ ک سر‬
‫رکھتی تھی۔ اتنی گرمی تو‘ لوہ کو بھی‘ پ نی بن دیتی ہ لیکن اس‬
‫ک سر پر‘ تو رتی بھر اتر نہ پڑت ۔ ہ ں البتہ‘ سر پر پٹی ب ندھ لیتی۔‬
‫پٹی تو م مول میں داخل تھی۔ خصوص ‘ ج ک س آت ‘ تو وہ مجھ‬

‫پٹی بردار ہی م تی۔‬

‫تنخواہ میں‘ مجھ ب سٹھ روپ م ت تھ ۔ یہ کوئی‘ م مولی رق نہ‬
‫تھی۔ عمو اتنی تنخواہ‘ خوا میں بھی نہ دیکھ سکت تھ ۔ میں جو‬

‫لات ‘ پ ئی پ ئی اس ک حوال کر دیت ۔ اپن خرچ ک لی ‘ ایک‬
‫آڑھت پر دو گھنٹ ک کرت ۔ وہ ں س ‘ جو پ ن س ت روپ م ت ‘‬
‫اسی پر گزرا کرت ۔ ب کہ اس میں س بھی‘ ایک آدھ روپیہ‘ گھر پر‬
‫خرچ کر دیت ۔ اس ک خی ل میں‘ میں جھوٹ بولت ہوں‘ اوور ٹ ئ میں‘‬
‫پندرہ بیس روپ کم لیت ہوں۔ یہ ک ‘ اس ک ٹ ئ میں کرت ہوں۔ کئی‬
‫ب ر قس بھی کھ ئی‘ لیکن اس ن ‘ یقین نہ کرن کی ٹھ ن رکھی تھی۔‬

‫پندرہ بیس روی ‘ اوور ٹ ئ میں ک م ت ہیں۔ زرینہ کی‘ اوور ٹ ئ کی‬
‫آمدن پر‘ بڑی گہری نظر تھی۔ مرد ہوں‘ ب ہر دوستوں میں رہت ہوں‘‬

‫چھوٹی موٹی‘ سو ضرورتیں ہوتی ہیں۔ ب ہر خ لی جی رہن س ‘ نہیں‬
‫بنتی۔ اس اس ب ت ک ‘ احس س تک نہ تھ ۔ کتنی ب حس تھی۔‬

‫گھر میں‘ م قول رق آن ک ب وجود‘ چ ر پ نچ روپ ہر م ہ‘ قرض‬
‫میں نکل ہی آت ۔ بڑا ت ؤ آت ‘ لیکن چپ ک آنسو پی کر رہ ج ت ۔ نیچ‬
‫دیکھن ‘ تو اس ن سیکھ ہی نہ تھ ۔ ہم رے اردگرد میں‘ مزدور لوگ‬

‫اق مت رکھت تھ ۔ ب چ رے پت نہیں‘ کس طرح‘ گزر اوق ت کرت‬
‫تھ ۔ درمی ن طبق ک لوگوں کو‘ اونچی اڑان وارہ نہیں کھ ئی۔‬
‫اونچی اوڑان ک لی ‘ پر بھی اونچی اوڑان ک درک ر ہوت ہیں۔ ا‬
‫ہ ‘ ری ض کی اڑان‘ تو نہیں بھر سکت تھ ۔ میں ملاز تھ ‘ ک روب ری‬
‫آدمی نہ تھ ۔ وہ تو شروع س ‘ پ کست نی م ل پر‘ میڈ ان ج پ ن ک ٹھپ‬

‫لگ کر‘ م ل بیچ رہ تھ ۔ میرے پ س‘ یہ آپشن تھ ہی نہیں۔‬

‫زرینہ‘ پ کست نی حکمرانوں ک قدموں پر تھی۔ پ کست نی عوا ک ‘ خون‬
‫پسینہ‘ ان ک کھیس لگت تھ ۔ اس ک ب وجود‘ ان ک پیٹ نہیں بھر‬
‫رہ تھ ۔ اللہ ج ن ‘ پیٹ تھ ی کوئی اندھ کنواں۔ س کچھ‘ ہڑپن ک‬
‫ب جود‘ م ک لاکھوں ڈالر ک مقروض ہو گی تھ ۔ یہ بوجھ بھی‘ تو عوا‬
‫پر ہی تھ ۔ عوا کی بہبود ک ن پر‘ لی گی قرضوں س ‘ موجیں‬
‫اڑا رہ تھ ۔ غری عوا ن ‘ ڈالر تو بڑی دور کی ب ت‘ ایک ہزار ک‬
‫نوٹ‘ کبھی نہیں دیکھ تھ ۔‬

‫زرینہ ک چڑھ ی قرضہ‘ مجھ ہی دین تھ ۔ اس اس امر کی‘ قط ی‬
‫پرواہ نہ تھی‘ کہ قرض ات رن ک لی ‘ رق کہ ں س آئ گی۔ بچت‬
‫ک ن س ‘ وہ جیس الرجک تھی۔ اس ک خی ل تھ ‘ اوور ٹ ئ میں‘‬
‫ک فی کچھ کم لیت ہوں۔ دوسرا موج کرن ‘ اس ک ح ہ ‘ قرض ات رن ‘‬

‫اس کی سر درد نہیں۔ اس ذیل میں‘ میں ج نوں‘ ی میرا ک ج ن ۔ اللہ‬
‫ہی ج ن ‘ میری زرینہ س ‘ ک اور کس طرح‘ خلاصی ہو گی۔ مجھ‬
‫لگت ہ ‘ زرینہ اور زرینہ ک ہ خی ل حک رانوں س ‘ میری اور‬
‫عوا کی‘ کبھی بھی‘ خلاصی نہ ہو سک گی اور ہ ‘ اسی طرح‘ سسک‬

‫سسک کر‘ قبروں ک رستہ ن پیں گ ۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا‬

‫جن کی ہی ب ت ہ ۔ بہت عمدہ تحریر ہ ۔ داد داد داد ۔۔ ٓاپ کی‬
‫تحریروں ک خ صہ ہ کہ ب ت کو ایس زاویوں س گھم کر لات ہیں‬

‫کہ وہ و گم ن میں نہیں ہوت کہ یہ ت ن کہ ں ج کر خت ہو گی۔ اور‬
‫اختت بھی ش ندار ہوت ہ ۔ یہ ں بھی آپ ن جس طرح زرینہ کو‬
‫تشبیہہ دی ہ ‪ ،‬بہت ہی خو ہ ۔ عوا کی سمجھ بھی کچھ بڑھ ن‬
‫کی ضرورت ہ ‪ ،‬ت کہ وہ ایسی تحریروں ک درست رخ سمجھ سکیں‬

‫اور نت ئج اخذ کر سکیں۔‬

‫دراصل ایسی کم ئی جس میں مزدوری س زی دہ مل ج ئ ی بغیر‬
‫مزدوری ک مل ج ئ ہم رے اپن خی ل ک مط ب سود ہ ۔ انس ن‬

‫کی ٓارا پسندی یہی چ ہتی ہ کہ ک س ک محنت س زی دہ س‬
‫زی دہ کم ئی ہو اور ک می بی کی صورت میں انس ن مذید ٓارا پسند ہوت‬
‫چلا ج ت ہ ۔ یہی ح ل اس قرض پر پ والی عوا ک ہو گی ہ ۔ قرض‬
‫حکومتی خزان میں ج ت ہ ‪ ،‬اور حکومتی خزان ک کوئی م لک نہیں‬

‫ہوت جس کی وجہ س اس کی ح ظت کی کوشش بھی نہیں کی ج‬
‫سکتی وگرنہ یہی سنن پڑت ہ کہ ‪:‬تمہ رے ب پ ک ہ کی ‪ :‬۔۔ یہ کسی‬

‫ک ب پ ک نہیں ہوت اور ویس ہی اس ک س تھ س وک کی ج ت ہ ۔‬
‫لالچ ایسی ہی چیز ہ کہ اگر پیٹ بھرا بھی ہو تو بقول غ ل‬

‫گو ہ تھ کو جنبش نہیں‪ ،‬آنکھوں میں تو د ہ‬
‫رہن دو ابھی س غر و مین میرے ٓاگ‬

‫سو مذید س مذید کی لالچ کبھی ج ن نہیں چھوڑتی۔ ٓاپ کی تحریریں‪،‬‬
‫امید کی کرن ہیں۔ جتن لوگ پڑھیں گ اپن کردار میں ضرور‬

‫جھ نک کر دیکھیں گ ۔ انہیں کردار کی خرابیوں کو عوا تک پہنچ ن‬
‫اور سمجھ ن کی ضرورت ہ ۔‬

‫ہم ری طرف س ایک ب ر پھر بھرپور داد جن ۔‬
‫دع گو‬

‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8976.0‬‬

‫پ خ نہ خور مخ و‬

‫میں ن ‘ اپن ہ ں ک ‘ مس م ن انس ن ک ‘ شخصی تجزی ک ‘ سروے‬
‫کرن ک ‘ ارادہ کی ۔ اس ک لی ‘ کچھ سوالات‘ ترتی دی ۔ میں چوں‬
‫کہ خود بھی‘ دن میں ایک دو ب ر مسجد ج ت ہوں‘ اس لی ‘ مسجد میں‬
‫آن وال لوگوں کو ہی‘ پہ ی ترجیع میں رکھ ۔ دوسری کھیپ میں‬
‫‪:‬دیگر م ززین کو رکھ ۔ سوال کچھ یہ تھ‬

‫آپ پ نچ وقت نم ز ادا کرت ہیں۔ ‪-‬‬

‫رمض ن میں‘ ب ق عدگی س ‘ روزے رکھت ہیں۔‪-‬‬

‫زکوات کی ادائیگی میں‘ بخل س ک تو نہیں لیت ‪-‬‬

‫حج کرن کی س دت میسر آئی ‪-‬‬

‫م ئی ب پ ک س تھ ہی‘ رہت ہیں‘ ی الگ س ‘ رہ ئش رکھت ۔ ‪-‬‬

‫م ئی ب پ س ‘ م لی ت ون کرت ہیں۔ ‪-‬‬

‫اگر ایک حی ت ہ ‘ تو وہ آپ ک س تھ ہی رہت ہیں ‪-‬‬

‫تم بہن بھ ئیوں س ‘ ملاق ت اور لین دین‘ چ ت رہت ہ ۔ ‪-‬‬

‫ادھ ر ل کر‘ وقت پر‘ واپس کر دیت ہیں‘ ی دیر سویر ہو ج تی ‪-‬‬
‫ہ ی قرض دہندہ کی‘ فوری موت ک ‘ خواں رہت ہیں۔‬

‫بیم روں کی تیم رداری کرت ہیں۔ ‪-‬‬

‫ضرورت مندوں کی مدد کرت ہیں۔ اس س آپ کو سکون م ت ‪-‬‬
‫ہ۔‬

‫کی گئی مدد ک ذکر تو چ ت رہت ہو گ ۔ مط یہ کہ لوگوں کو ‪-‬‬
‫ترغی کی غرض س‬

‫جھوٹ بولت ہیں ‪-‬‬

‫حرا کی کم ئی‘ کھ ن ک کبھی ات ہوا۔ ‪-‬‬

‫آپ دونوں می ں بیوی‘ ایک دوسرے س ‘ مخ ص ہیں اور آپسی ‪-‬‬
‫اعتم د‘ موجود ہ ی بس گزرا چل رہ ہ ۔‬

‫جوا بڑا حیران کن تھ ۔ میرے سمیت‘ چ ر سو س زائد لوگوں میں‬
‫س ‘ ایک بھی‘ جوا دی نت دار ک دروازے س ‘ گزرت ہوا نہ ملا۔‬
‫کچھ لوگ‘ ایس بھی تھ ‘ جو دن میں‘ ایک آدھ ب ر س زی دہ مسجد‬

‫گی ہوں گ ۔ ایک ص ص ‘ پیش کرن کی غرض س ‘ مسجد‬
‫تشریف ل ج ت تھ ۔ دیکھن والا‘ یہ ہی سمجھت ‘ مسجد س نم ز‬
‫پڑھ کر‘ نک ہیں۔ یہ بھی‘ ان کی سم جی مجبوری تھی۔ ان کی دک ن‘‬

‫مسجد ک س من تھی۔ ایک ص ح ‘ صبح سویرے‘ غسل ش فرم ن‬
‫ک لی ‘ تشریف ل ج ت تھ ۔ س ‘ خود کو پ نچ وقت بت رہ‬
‫تھ ۔‬

‫می ں ط ر ص ح کو‘ میں ذاتی طور پر‘ ج نت تھ ۔ زکوت دین ‘ تو بڑی‬
‫دور کی ب ت‘ فقیر کو دو ٹیڈی پیس دیت ‘ موت پڑتی تھی۔ می ں ط ر‬
‫ص ح بڑے م ل دار تھ ۔ ان ک والد‘ خیر خیریت س گزر گی ‘ ہ ں‬

‫البتہ‘ م ں بیم ر بڑی‘ تو خیراتی ہسپت ل ک ‘ برآمدے میں پ نچ دن‘‬
‫سسکتی ب کتی رہی۔ اس ک نصی میں‘ ان پر‘ دو دمڑی خرچ کرن‬
‫نصی نہ ہوئی۔ ہ س ئ تو دور کی ب ت‘ اپن سگ بہن بھ ئیوں ک‬

‫س تھ‘ میٹھ بولن پر ان ک خرچ اٹھت تھ ۔‬

‫ران نصیر ص ح ‘ رمض ن ک بڑا احترا کرت تھ ۔ رمض ن ج بھی‘‬
‫ان ک ہ ں تشریف لات ‘ ان کی بیوی ص لحہ کی مسکراہٹوں ک‬

‫عوض نہ‘ ان ک بچوں کی ت ی پر‘ بڑے کھ دل س ‘ دھر کر ج ت ۔‬

‫ویس ران ص ح بھی‘ ب ہر رمض ن کی برکتوں اور رحمتوں ک ‘ لابھ‬
‫اٹھ ت ۔ سموس بن کر‘ پرچون فرشوں کو فراہ کرت تھ ۔ تکوں‬

‫کی‘ ان کی ذاتی دک ن تھی۔ س رے جہ ں ک گند بلا‘ مہنگ داموں‘‬
‫لوگوں ک پ پی پیٹ میں‘ بلاتک ف چلا ج ت تھ ۔ گھر میں‘ س کچھ‬
‫ہوت ‘ وہ بھوک رہن ک ‘ ق ئل نہیں تھ ۔ محنت اور حلال کم ئی‬

‫کم ؤ‘ ان ک مقولہ م روف تھ ۔‬

‫ح جی سکندر ص ح ‘ کسی م لی ت ک دفتر میں‘ ہیڈ ک رک تھ ۔ جس‬
‫وج ن س ‘ تو ب رع نہ تھ ‘ ہ ں ان ک دفتری ٹہک ‘ صدر کنیڈی کو‬

‫بھی‘ م ت کرت تھ ۔ کسی ک م ت میں ک کرن ‘ ان ک اصول ک ‘‬
‫زمرے میں نہیں آت تھ ۔ اسی وجہ س ‘ وہ بڑے اصول پرست‘‬

‫سمجھ ج ت تھ ۔ ان ک ٹہک ک زیر اثر‘ لوگ انہیں‘ ح جی‬
‫ص ح کہت تھ ۔ وہ لکھت بھی ح جی تھ ۔ ح جی کہ وان ‘ انہیں‬

‫خوش آت تھ ۔ ح لاں کہ انہوں ن حج نہیں کی ہوا تھ ۔ ج ئز ج ئز‬
‫ب لائی لیت تھ ‘ کیوں کہ رز حرا س ‘ انہیں سخت چڑ تھی۔‬

‫سردار جہ ں گیر ص ح ‘ ہم رے ہمس ئ میں‘ رہ کر گی تھ ۔ بھ‬
‫آدمی تھ ۔ بس تھوڑا بہت‘ تقریب روزانہ ہی‘ ادھر ٹھرک بھور لیت‬

‫تھ ۔ انہیں ن ک ٹھرکی کہن ‘ بڑی زی دتی اور ان کی شخصیت ک‬
‫خلاف‘ س زش ہو گی۔ ان ک کچھ تیر‘ نش ن پر بھی بیٹھت تھ ۔ ان‬
‫کی زوجہ م جدہ بھی‘ بنتی پھبتی خ تون تھیں۔ جوان اور ضرورت مند‘‬

‫ان کی است دہ‘ ح صل کرت رہت ۔ ن نہہ تو خیر‘ میرے لی بھی‘ نہ‬
‫تھی‘ لیکن میری مردانہ بزدلی ن ‘ ہمیشہ مجھ ‘ میری اوق ت میں‬
‫رکھ ۔ ان ک گھر‘ تقریب روزانہ ہی‘ چ ن م ری ہوتی رہتی تھی۔ سردار‬
‫جہ ں گیر ص ح ن ‘ بڑے اعتم د س ‘ اپن ازدواجی ت کو‘ اے‬

‫ون قرار دی تھ ۔‬

‫مح میں س س ب ند عم رت‘ چودھری محمود ص ح کی ہ ۔ پنج‬
‫وقت نم زی ہیں۔ دودھ ک ک روب ر کرت ہیں۔ گ ڑی پر‘ گ ؤں گ ؤں‬
‫س ‘ دودھ اکٹھ کرک ‘ سرف اور ب ل ص پورڈر وغیرہ س ‘ خو‬
‫مدھ نی پھیری ج تی ہ ۔ اس ک ب د‘ دودھ کو اچھی طرح‘ پ نی س‬

‫نہلای دھلای اور پ ک ص ف کی ج ت ۔ گوی لوگوں اور دک نوں پر‘ ص ف‬
‫ستھرا دودھ‘ سپلائی کرت تھ ۔‬

‫ٹھیک دار ب بر ص ح ‘ پچھ برس حج کرک واپس آئ ہیں۔ دو‬
‫نمبری س ت ئ ہو گی ہیں۔۔ اک گھٹ اک مٹھ داڑھی بھی‘ رکھ لی‬
‫ہ ۔ سر پر ٹوپی‘ اور ہ تھ میں‘ ایک سو ایک دانوں کی تسبیح رکھن ‘‬
‫نہیں بھولت ۔ عمو میں بیٹھ کر‘ فحش ب تیں کرن ‘ ی سنن ‘ پسند نہیں‬
‫کرت ۔ پران م شقوں س ‘ منہ پھیر گی ہ ۔ نی کوئی م شقہ‘ سنن‬

‫میں نہیں آی ۔ ا ‘ ح جت س فراغت ک ب د‘ دا چک کر‘ کی ک‬
‫چھ ک کی طرح‘ وہ پھینکت ہ ۔ شرا س ‘ منہ موڑ گی ہ ۔ اس‬
‫شیط ن ٹوٹی ک ن دیت ہ ۔ ا پہ کی طرح‘ پیٹو یھی نہیں رہ ۔‬
‫م دے ک السر ن آ لی ہ ۔ ا دن میں صرف چ ر مرتبہ‘ کسی ص ف‬

‫ستھرے ہوٹل س ‘ پیٹ بھر کھ ت ہ ۔‬

‫جہ ں یہ اچھی تبدی ی ں آئی ہیں‘ وہ ں دو تین پرانی ع دتوں کو‘ تقویت‬
‫م ی ہ ۔ پہ رو دھو کر سہی‘ م وضہ ادا تو کر دیت تھ ‘ لیکن ا ‘‬
‫م وضہ اگ ک پر اٹھ رکھت ہ ۔ مج ل اے‘ جو مزدور اگ ک پر‬
‫آن س ‘ چوں چرا کرے۔ ہ ں زب ن میں‘ سرزنش آمیز میٹھ س سی آ‬
‫گئی ہ ۔ ک خت کرن ک وقت‘ اس کوئی ایمرجنسی ی د آ ج تی ہ ۔‬
‫اس طرح‘ مزدور س ‘ ڈیڑھ دو گھنٹ ‘ زی دہ ک ل لیت ہ ۔ م ل دو‬

‫نمبر سہی‘ است م ل پورا کرت ہ ۔ اس ک کہن ہ ‘ پت نہیں ک ج ن‬
‫نکل ج ئ ‘ اس لی حرا کم ئی کو حرا ہی سمجھت ہوں۔‬

‫الح ج صلاح الدین‘ علاق ک بڑا م زز اور م تبر شخص ہ ۔ اسی‬
‫لی ‘ بھ ری اکثریت ک س تھ‘ علاق ک ممبر چن گی ۔ کبھی کسی کو‘‬

‫م یوس نہیں کرت ۔ جو بھی اس ک ڈیرے پر آت ہ ‘ آس امید کی پنڈ‬
‫ب ندھ کر‘ ل ج ت ہ ۔ یہ ب ت‘ ب لکل الگ س ہ ‘ کہ ک صرف اپنوں‬

‫ک کروات ہ ۔ ان کو م یوس کیوں کرئ ‘ وہ ہی تو‘ اس ک ڈیرہ‘‬
‫رواں دواں رکھ ہوئ ہیں۔ پہ ڈھ ئی مرلہ ک خستہ ح ل مک ن‬
‫میں‘ اق مت رکھت تھ ‘ ا خیر س ‘ ڈیڑھ کن ل کی کوٹھی میں‘ گزرا‬

‫کرت ہیں۔‬

‫آج کل‘ دلال کو دلال نہیں‘ ایجنٹ کہت ہیں۔ م ک اورنگ زی الم روف‬
‫ج نگو‘ آج کل‘ دلال نہیں‘ خود کو‘ پراپرٹی ایجنٹ کہت ہیں۔ جھوٹ‬
‫س سخت ن رت کرت ہیں۔ ہر ب ت پر‘ بلاکہ ‘ قس کھ ن ‘ نہیں‬
‫بھولت ۔ علاق ک کھ ت پیت اور خوش ح ل لوگوں میں‘ شم ر‬
‫ہوت ہیں۔ ان ک جھوٹ کو‘ جھوٹ کہ نہیں ج سکت ۔ یہ ب ت اپنی‬

‫جگہ سچ ہ ‘ سچ س پرہیز میں رہت ہیں۔ جو بھی سہی‘ پ نچ وقت‬
‫ک نم زی ہیں۔ مزے کی ب ت یہ‘ کہ ہر نم ز ب جم عت پڑھت ہیں۔ ان‬

‫کی اس خوبی ک ‘ پورا علاقہ م ترف ہ ۔‬

‫خ ن ق س خ ن‘ کچہری میں ک کرت ہیں۔ علاق ک لوگ‘ خصوص‬
‫جرائ پیشہ ک تو گرو ہیں۔ مجر کو بھی‘ ان پوشیدہ امور ک ‘ پت نہیں‬
‫ہوت ‘ جن ک وہ ن لج رکھت ہیں۔ گواہی‘ ح ف اٹھ کر دیت ہیں۔ وہ وہ‬

‫بی ن کرت ہیں‘ کہ مخ لف وکیل کی بھی‘ بس بس کرا دیت ہیں۔ مجر‬
‫کو بھی‘ اپنی ب گن ہی ک ‘ یقین آ ج ت ہ ۔ ان ک کسی کہ کو‘‬
‫جھٹلان س ‘ سرک ری پ پ لگت ہ ۔‬

‫ایک ب ت ہ ‘ کہ وہ ہیں پ نچ وقت نم زی‘ اور ح سچ کی ت قین‬
‫کرن ‘ اور اچھ اور پک مس م ن بنن‬

‫کی ہدایت‘ کرت رہت ہیں۔ اس ذیل میں‘ تس ہل اور کوت ہ کوسی‘ گن ہ‬
‫کبیرہ سمجھت ہیں۔ اگرچہ ان کی ب توں پر ‘عمل ایک آدھ بھی‘ نہیں‬

‫‪:‬کرت ۔ اس پر وہ م یوس نہیں ہوئ ۔ ان ک قول ہ‬
‫نم ز میرا فرض گواہی میرا پیشہ۔‬

‫محترمہ ڈاکٹر نور جہ ں ص حبہ‘ علاقہ کی‘ ب بدل سی نی ہیں۔ پچھ‬
‫س ل‘ حج کرک آئی ہیں۔ س تھ میں‘ بوڑھی م ں کو بھی‘ حج کرا کر‘‬

‫ثوا دورین ح صل کر چکی ہیں۔ ان کی موت ک ب د‘ ان کی قبر کو‘‬
‫پک ہی نہیں ‘ سنگ مرمر س ‘ آراستہ بھی کروای ہ ۔ تھوڑی دور‘‬
‫ب پ کی قبر‘ اپنی لاوارثی ک ‘ شکوہ کرتی نظر آتی ہ ۔ م دری سوس ئٹی‬

‫کی پیدائشی و رہ ئشی ہیں۔‬

‫پہ ایل ایچ وی تھیں۔ ڈاکٹر ک س بق ک لی ‘ ہومیو پیتھک‬
‫کورس کی ۔ ویس علاج‘ ای وپیتھک طریقہ س ہی‘ کرتی ہیں۔ ڈی وری‬

‫اور اب رشن کیسز میں م ہر ہیں۔ زی دہ تر‘ ث نی الذکر کیسز کرتی ہیں‘‬
‫ت ہ منکوعہ اب رشن‘ م ل م قول نہ م ن ک سب ‘ انس نی قتل‬

‫سمجھتی ہیں۔ اس طرح انہیں‘ کنبوں کی عزت کی مح فظ‘ قرار دی ج‬
‫سکت ہ ۔ غیر منکوحہ اب رشن میں‘ منہ م نگی رق مل ج تی ہ ۔ نم ز‬
‫اور زکوت میں‘ کوت ہی نہیں کرتیں۔ زکوت کی رق ‘ غیری بہنوں کو‘ ہ‬

‫دری کیسز قرار دے کر‘ عط کرتی ہیں۔‬

‫رز حرا کو‘ میں ن س ری عمر‘ پ خ نہ کھ ن ک مترادف سمجھ ‘‬

‫م ن اور کہ ہ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ میں ن بھی‘ ب رہ یہ پ خ نہ‬
‫کبھی کھ ی ‘ اور کبھی محض ٹیسٹ کی ہ ۔ اپنی جی اور غیر کی جی‬

‫س ‘ کھ ن میں‘ بڑا فر ہ ۔ اس علاقہ میں بس ‘ مجھ ایک‬
‫عرصہ بیت گی ہ ۔ س س ‘ میری اچھی سلا دع ہ ۔ ان م ززین‬

‫میں س ‘ کوئی میرے ہ ں آ ج ت ہ ‘ چ ئ پ نی پلان پڑت ہ ۔ ان‬
‫لوگوں کی غمی خوشی میں‘ ج ن اور کھ ن پڑت ہ ۔ یہ ج نت ہوئ ‘‬

‫کہ وہ کس قس کی کم ئی س بن ہ ‘ مروت کھ ن ہوں‘ اور پھر کی‬
‫کروں۔ یہ سم جی م ذوری ہ ‘ کی کریں۔‬

‫سروے ک مط ب ‘ یہ ں ک شرف بڑے نیک اور ح جی ثن ءاللہ ہیں‬
‫لیکن عم ی اعتب ر س ‘ حرا خور ہیں۔ م نیں نہ م نیں‘ آپ کی مرضی۔‬

‫حقیقت یہ ہی ہ ‘ کہ ہ کسی ن کسی سطح پر‘ حرا خور ہیں۔۔۔۔۔ حرا‬
‫خور۔۔۔۔۔۔۔اسی وجہ س ہ پوری دنی میں ذلیل وخوار ہیں۔‬

‫سروے ک ب د‘ مجھ بڑا دکھ ہوا‘ کہ اس انس نوں کی اس بستی‬
‫میں‘ مجھ سمیت‘ جھوٹ ‘ انس ن س ‘ پ خ نہ خور مخ و ‘ بھی آب د‬
‫ہ ‘ جس ک سب ‘ خرابیوں ن ‘ جن ل کر‘ اس چ ند س خطہ کی‘‬

‫خو صورتی کو‘ گہن دی ہ ۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬
‫بہت اع ٰی تحریر ہ جن ‪ ،‬کی ہی ب ت ہ ۔ ن زک مسئ کو چھیڑ دی‬

‫ٓاپ ن ۔ البتہ اپن ح رائ دہی آزاد ج ن کر اور آپ کی پرخ وص‬

‫طب یت کو دیکھت ہوئ درخواست کریں گ کہ اس ک عنوان کچھ‬
‫تبدیل کرن کی ضرورت محسوس ہوئی ہمیں۔ ہم را خی ل ہ کہ عنوان‬

‫ایس ہون چ ہیئ کہ پڑھن وال کی طب یت کو م ئل کرے۔‬

‫دوسری طرف‪ ،‬اس تحریر ک لاجوا ہون میں کوئی کلا نہیں۔ عوا‬
‫کو ایس مض مین پڑھن کی اشد ضرورت ہ ‪ ،‬ش ئید کسی ک ضمیر‬
‫ج گ ۔ ش ہ عبدالطیف بھٹ ئی ص ح ایک جگہ فرم ت ہیں کہ اے خدا‪،‬‬
‫تو ن میرے ہ تھ ب ندھ کر مجھ دری میں پھینک دی ہ اور حک دی‬

‫ہ کہ کپڑے گی نہ ہوں۔ تو جن حم ہ یہ تو۔‬

‫ہمیں ی د پڑت ہ ‪ ،‬کہ بچپن میں ہ ‪:‬زم نہ قبل از اسلا میں ک ر کی‬
‫جہ لت‪ :‬پر نوٹ لکھ کرت تھ ‪ ،‬اور جن کی کی برائی نہ ان ک سر‬

‫لگ ت تھ ‪ ،‬اور خو نمبر سمیٹ کرت تھ ۔ یہ ں تک کہ یہ بھی‬
‫لکھ دیت تھ کہ ‪:‬قبل از اسلا ‪ ،‬ک ر ک یہ ع ل تھ کہ ن ک میں انگ ی‬

‫تک ڈالت تھ ‪ :‬۔ لیکن ص ح ! ا سوچت ہیں‪ ،‬کہ اسلا س کی‬
‫سیکھ ہ مس م نوں ن تو حیرت ہوتی ہ ۔ ابھی تک دو ایسی چیزیں‬

‫دری فت ہو پ ئی ہیں جو اسلا س سیکھی ہیں ہ ن اور س اس پر‬
‫مت بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی بت کی پوج نہیں کرت ‪ ،‬اور‬

‫دوسری یہ کہ خنزیر نہیں کھ ت ۔ ٓاخر الزکر اگرچہ مشکوک ہ کہ‬
‫یہ ں تو مح ورت ً نہیں ب کہ حقیقت ً انس ن انس ن کو کھ ج ت ہ ۔ کی‬
‫اسلا ن اتن ہی سکھ ی ہمیں؟ ہ ن غور کی تو م و ہؤا کہ انس ن‬
‫کو امن میں رہن ک طریق سمجھ ن وال مذاہ کی وجہ س‬
‫دنی میں س س زی دہ قتل و غ رت ہوئی ہ ۔ مذہ کی بنی د پر جتن‬

‫ کسی اور چیز کی وجہ س نہیں کی ۔ توبہ‬، ‫نقص ن انس ن ن کی ہ‬
‫ہ صح ۔‬

‫خیر یہ تو تھ ہم رے کچھ بکھرے ہوئ خی لات۔ ٓاپ کی تحریر ہم ری‬
‫نظر میں بہت اع ٰی اور عمدہ ہ ۔ ہم ری طرف س بھرپور داد قبول‬
‫کیج ۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

aap ne darust farmaya onwan main tabdili ki
zarorat hai. jazbat main nahain, hosh main likha
hai. mein ne apne taraf se awaz otha di hai kah
haram pakhana hai pakhanay ka motradaf
nahain. agar koee kha raha hai to os par wazay
ho ja'y ga kah woh pakhana kha raha hai.
soch raha tha shaed aap masroof ho ge hain.
yaqein manain aap bare zabar'dast admi hain.
sach ko tasleem karne wala ghalt'khoor ho hi
nahain sakta.
Allah aap ko asanioon main rakhe

yah raz sb kidhar hote hain. mujhy bhool se ge
hain.

Allah kare woh sehat'mand hoon

‫ ش ہ عبدالطیف بھٹ ئی ص ح‬mujh se na'cheez ki soch se
bhi bare admi thay.oon ki talimaat afaqi hain.
aise log roz roz thora paida hote hain.

aap ne darust farmaya onwan main tabdili ki
zarorat hai. jazbat main nahain, hosh main likha
hai. mein ne apne taraf se awaz otha di hai kah
haram pakhana hai pakhanay ka motradaf
nahain. agar koee kha raha hai to os par wazay
ho ja'y ga kah woh pakhana kha raha hai.

soch raha tha shaed aap masroof ho ge hain.

yaqein manain aap bare zabar'dast admi hain.
sach ko tasleem karne wala ghalt'khoor ho hi
nahain sakta.

Allah aap ko asanioon main rakhe

yah raz sb kidhar hote hain. mujhy bhool se ge
hain.

Allah kare woh sehat'mand hoon

‫قب ہ حسنی ص ح ‪ :‬سلا مسنون‬

‫بھ ئی یہ کیس ہو سکت ہ کہ آپ کو بھول ج ئوں۔ آج کل اہ یہ ع یل‬
‫ہیں۔ ان کی تیم رداری میں دن نکل ج ت ہ ۔ گ ہ گ ہ آکر کچھ لکھ‬

‫ج ت ہوں۔ آپ س م ذرت خواہ ہوں کہ اپ ک مض مین پر نہ لکھ‬
‫سک ۔‬

‫زیر نظر مضمون پر وی بی جی ک خی لات س میں ک ی طور پر مت‬
‫ہوں۔ عنوان کو بدلن کی سخت ضرورت ہ ۔ ق ری عنوان دیکھ کر اگر‬

‫ٹھٹک تو اچھ نہیں ہ ۔ مضمون ہم رے م شرے کی تصویر کی‬
‫عک سی کرت ہ ۔ آپ یقین کیجئ کہ اپن آس پ س مس م نوں ک ح ل‬
‫دیکھ کر طبی ت پر مستقل انقب ض رہت ہ ۔ ب ض اوق ت محسوس ہوت‬
‫ہ کہ ا ا س قو ک کوئی پرس ن ح ل نہیں ہ ۔ یہ دنی میں خوار ہ‬
‫اور خوار ہی رہ گی کیونکہ یہ اپنی اس س س دور ہو چکی ہ ۔ دنی‬
‫میں ڈیڑھ سو "اسلامی" مم لک ہیں۔ افسوس کہ ان میں ایک بھی ایس‬

‫نہیں ہ جہ ں ہ اور آپ اپنی اولاد کو پڑھن لکھن ی رہن ک‬
‫لئ بھیج سکیں۔ ان للہ و ان الیہ راج ون۔ میں امریکہ میں رہت ہوں‬
‫اور اس ک ق ئل ہوں کہ ہم رے مق ب ہ میں دوسرے مذاہ ک لوگوں ک‬
‫اخلا اور کردار بدرجہ بہتر اور "اسلامی" ہ ۔ اور اس صورت ح ل‬

‫ک علاج بھی کوئی نظر نہیں آت ۔‬

‫لکھت رہئ ۔ میں کوشش کروں گ کہ یہ ں آمدورفت بڑھ دوں۔ ب قی‬
‫راوی س چین بولت ہ ۔‬

‫سرور ع ل راز‬

aap ne darust farmaya onwan main tabdili ki
zarorat hai. jazbat main nahain, hosh main likha
hai. mein ne apne taraf se awaz otha di hai kah
haram pakhana hai pakhanay ka motradaf
nahain. agar koee kha raha hai to os par wazay
ho ja'y ga kah woh pakhana kha raha hai.

soch raha tha shaed aap masroof ho ge hain.

yaqein manain aap bare zabar'dast admi hain.
sach ko tasleem karne wala ghalt'khoor ho hi
nahain sakta.
Allah aap ko asanioon main rakhe

yah raz sb kidhar hote hain. mujhy bhool se ge
hain.
Allah kare woh sehat'mand hoon

‫!محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح‬
‫ آپ کی ذرہ نوازی ہ ۔ ہ‬، ‫اس ن چیز کو بہتر انس ن سمجھ آپ ن‬
‫ کبھی کسی پہ ڑ پر بیٹھ شہر کی‬،‫بیچ رے آوارہ قس ک آدمی ہیں‬
‫ٹمٹم تی روشنیوں س گوٹ بن کر کسی پیراہن میں ٹ نکن میں‬
‫مصروف تو کبھی رات رات بھر کسی فٹ پ تھ پر بیٹھ کر کسی کتی ک‬


Click to View FlipBook Version