میں وقت پر ہی‘ مرغوں ک پڑ میں پہنچ گی ۔ میں یہ دیکھ کر‘ حیران
رہ گی ‘ کہ پڑ میں‘ بہت س رے لوگ موجود تھ ۔ میری آنکھیں‘
مونچھوں والی سرک ر کو‘ تلاش کر رہی تھیں۔ میں سوچ بھی نہیں
سکت تھ ‘ کہ مونچھوں والی سرک ر‘ سرپنچ ہو گی۔ میں اس لوگوں
میں تلاشت رہ ۔ وہ ع لوگوں میں‘ موجود نہ تھ ۔ میں زیرل مسکرای ‘
شیخ چ ی طبع ک لوگ‘ عم ی زندگی میں‘ اپن وجود ب قی نہیں رکھت ۔
میں گھر واپس ج ن ک لی مڑا ہی تھ ‘ کہ س من گ ؤ تکیہ لگی
چ رچ ئی پر‘مونچھوں والی سرک ر‘ اکی ہی تشریف فرم تھی۔ اس
ک ارد گرد‘ اس ک چی کھڑے تھ ۔ ایک چی ہ‘ اس ک کندھ ‘
ج کہ دوسرا پ ؤں دب رہ تھ ۔ میں ن پ س کھڑے‘ ایک شخص س ‘
مونچھوں والی سرک ر ک ‘ ت رف ج نن چ ہ ۔ جوا دین س پہ ‘
اس شخص ن مجھ ‘ سر س پ ؤں تک دیکھ ‘ پھر بڑی حیرت س
پوچھ ‘ کی ت سیٹھ ن در کو نہیں ج نت ۔ دیکھن مرغوں کی لڑائی آئ
ہو‘ اور سیٹھ ن در کو نہیں ج نت ‘ بڑے ہی افسوس کی ب ت ہ ۔ میں
ن مزید سوال جوا کی بج ئ ‘ سیٹھ ن در ک پ س ج ن من س
سمجھ ۔
میں سیٹھ ن در ک پ س ج کر کھڑا ہو گی ۔ سیٹھ ن در ن ‘ مجھ
پہچ ن تک نہیں۔ میں ن خود ہی‘ اپن ت رف کروای ‘ اور برسوں پہ
ک واق ہ ی د کرای ۔ سیٹھ ن در ن ‘ بڑا دھواں دھ ر قہقہ داغ ‘ اور کہ ‘
اللہ ن اس مرغی ک ط یل‘ بڑے پہ گ لگ ئ ہیں۔ آج میں لاکھوں
میں کھی ت ہوں۔ لوگ بڑی عزت کرت ہیں۔ وہ اس چوتھی مرغی کی
وجہ س ‘ امیر کبیر ہوگی تھ ۔ ج کہ میں‘ ابھی تک‘ اس پران عہدے
پر ہی ف ئز تھ ۔ س لانہ ترقیوں ک علاوہ‘ مجھ کچھ نہ ملا تھ ۔ مجھ
س تو‘ مرغی پ لن والا‘ ہزار گن بہتر اور خوش ح ل زندگی‘ گزار
رہ تھ ۔ ایک ان پڑھ‘ کہیں ک کہیں ج پہنچ تھ ۔ میں پڑھ لکھ کر بھی‘
کچھ نہ کر سک تھ ۔ ج ہل م شروں میں‘ ان پڑھ ہی ترقی کرت ہیں۔
ایس ح لات میں‘ پڑھن کھ ی حم قت ہوتی ہ ۔
جہ ں میں‘ اس زندہ تض د پر غ گین تھ ‘ وہ ں یہ بھی سوچ رہ تھ کہ
ہر م ڑے کی گردن‘ تگڑے کی دو انگیوں کی گرفت میں رہتی ہ ۔
احتج ج ک لی کھلا منہ‘ کھلا ہی رہ ج ت ہ اور احتج جی ک موں کو‘
منہ س ب ہر آن ک ‘ موقع بھی نہیں مل پ ت ۔ جنگل ک شروع س ‘ یہ
ہی وتیرا رہ ہ ۔ جہ ں میں بسیرا رکھت تھ ‘ وہ ں رہت توانس ن تھ ‘
لیکن ان ک اطوار اور ق نون‘ جنگل ک ق نون س ‘ کسی طرح ک نہ
تھ ۔ اس جبر کی فض ‘ اور م حول میں‘ ایک ب ت ضرور موجود تھی‘
کہ بچ ن والا‘ چوتھی مرغی کو‘ بچ ہی لیت ہ ۔ اس کی نسل‘ آت
وقتوں میں‘ اس ک ہون ‘ اور بچ ن وال مہ ک تکر‘ کی گواہی دیتی
رہتی ہ ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
بہت ہی خوبصورت تحریر ہ ۔ ٓاپ م ش اللہ بہت ہی گہری نظر رکھت
ہیں۔ اور پھر ٓاپ ک پ س نہ صرف خی لات کو ال ظ دین ک ہنر ہ
ب کہ وہ ط قت بھی ہ کہ آپ کی تحریر پڑھن والا نہ صرف ق ئل ہو
ج ت ہ ب کہ ہمیں یقین ہ کہ اثر بھی لیت ہ ۔ ایک م شرتی مسئ ہ
کہ آپ ن کہ ں مرغی س شروع کی ہ اور کیس تم کہ نی ک
ب د اس وہیں سمیٹ ہ ۔ ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ ٓاپ
کہ ں :اسیل :مرغی پر چھری پھروا رہ تھ جن یہ تو مرغ
لڑان والوں کی نظر میں :ک ر :س ک نہیں۔
آپ کی تحریر پڑھ کر کچھ ب تیں ذہن میں ٓائی ہیں ایک تو یہ کہ ع
خی ل ہہی ہ کہ پڑھن لکھن ک مط ہ رز میں اض فہ اور یقین
دہ نی۔ ایک ف رمولا کہہ لیج کہ جتن ذی دہ پڑھ لکھ ہو گ انس ن ،اتن
ہی ذی دہ اس ک رز ہون چ ہیئ ۔ اور دوسری ب ت یہ کہ جنگل ک
ق نون برا ہوت ہ ،انس نوں ک قوانین اچھ ہوت ہیں اور انہیں ہی
رائج ہون چ ہیئ ۔
رز ک ب رے تو ہم را خی ل ہ کہ اس ک کوئی ف رمولا نہیں ہ ۔ ہ
ن تو یہی دیکھ کہ اگر کوئی شخص ہم ری طرح اپنی ت یمی اخراج ت
کی رسیدیں جنہیں ڈگری ں بھی کہت ہیں لیئ پھرے ،چ ہ کوئی بڑا
س ئنس دان ہو ،چ ہ ع ل ہو ش طر ہو ،رز ک حقدار اس ن ط س
نہیں ٹھہرت ۔ اس کو ب نٹن ک قدرت ک اگر کوئی ف رمولا ہ تو ہمیں
ٹھیک س سمجھ نہیں ٓای آج تک۔ ایک طرف تو دین کہت ہ کہ رز
صرف اللہ ک ہ تھ میں ہ ،دوسری طرف بچ بھوک مر
ج ت ہیں۔ الزا کس دیں؟ ل دے کر اگر رز ک کوئی ف رمولا ہمیں
دین س ملا ہ تو یہی ہ کہ صدقہ خیرات دو کہ یہ دوگن ہو کر
واپس م گ ۔ جس ک پ س کچھ نہ ہو وہ کی کرے یہ کہیں نہیں ملا۔
دوسری طرف اگر رز اللہ ک ہ تھ نہ ہو تو پورے م ک کو وہ بیرونی
کمپنی ں کھ ج ئیں ،جو ایک ہی وقت میں نہ صرف کئی قس ک ص بن
بن کر اشتہ روں میں آپس میں لڑ کر دکھ تی ہیں ب کہ انہیں ص بنوں
ک دو نمبر بھی خود ہی بن تی ہیں کہ کوئی دوسرا فری کیوں بن کر
کم ئ ۔
جنگل ک ق نون س مت ہم را خی ل ہ کہ یہ انس ن کی ت ص س
بھری ہوئی سوچ ہ کہ خود کو ج نوروں س بہتر سمجھت ہ ۔
انس ن اشرف المخ وق ت ہ لیکن یہ ں انس ن کی جو :ت ریف :ہ وہ
کچھ اور ہ ۔ آپ خود ہی سوچئی کونسی ایسی برائی ہ جو
ج نوروں ن کی ہوں اور انس نوں ن وہ برائی نہ کی ہو۔ اچھ ئی ں
برائیں دونوں سوچ لیج ۔ ایک بھی ایسی نہ م گی۔ انس ن ،انس نوں
تک ک گوشت محوارت ً نہیں ب کہ حقیقت ً کھ رہ ہ ۔ ادھر انس نوں کی
وہ برائیں دیکھ لیج جو ج نوروں ن کبھی نہ کی ہوں۔ اتنی لمبی
فہرست نک گی کہ خدا کی پن ہ۔ سو ہم را خی ل ہ کہ اگر ت ص کو
تھوڑا س ایک طرف رکھ کر سوچ ج ئ تو ج نور بدرجح بہتر نظر
ٓائیں گ ۔ وہ تو م صو نظر آت ہیں ہمیں۔ جنگل ک قوانین میں
شک ر تبھی ہوت ہ ج بھوک لگ ۔ یہ ں الٹ م م ہ ہ ،بھوک لگن
س پہ انتظ کرن ہوت ہ ۔ بھیڑی کی خص ت تھی کہ وہ کمزور
پڑ ج ن وال بھیڑیئ کو مل کھ ج ت ہیں۔ لیکن یہ ں مل ب نٹ کر
بھی نہیں کھ ت ۔ واہ رے انس ن۔۔
سو ص ح ج تک دنی میں کمزور اور ط قتور موجود ہیں ،کمزور کی
گردن ط قتور کی دو انگ یوں میں رہ گی۔ یہ اصول ہ ن صرف
انس نوں ک گھٹی م شرے اور قوانین س ہی نہیں اخذ کی ب کہ
ج نوروں ک س جھ ہوئ اور مہذ م شرے اور جنگل ک قوانین
س بھی ث بت ہ ۔
ٓاپ کی تحریر بہت خو ہ ۔ امید ہ اگر ن انص فی کو دنی س ہ مٹ
نہیں سکت تو کسی حد تک ک کرن کی جستجو تو کر سکت ہیں۔
اور یہی آپ کر رہ ہیں۔ ٓاپ کی یہ تحریر بھی اسی ک وش ک حصہ ہ
اور مق رکھتی ہ ۔ ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ ۔ ۔ ۔
دع گو
وی بی جی
ان کی تسکین
وہ ہر اس بڑی دک ن ک ‘ ات پت ج نت تھ ‘ جن ک صرف ن ہی تھ ‘ لیکن
وہ ں س م ن دو نمبر م ت تھ ۔ یہ ہی نہیں‘ وہ اان کی اصولی ع دتوں
س بھی آگ ہ تھ ۔ رشوت‘ ب بو ک اصولی ح ہ ‘ اور اس کی ادائیگی
ک بغیر‘ س ئل کی مراد پوری نہیں ہو سکتی۔ یہ ں قدرے جبری
صورت م تی ہ ۔ بڑی دوک ن بھی‘ پہ سوال کی طرح‘ لازمی ک
درج پر ف ئز ہ ۔ بیگمی فرم ن ہو‘ ی دفتری فرم ئش‘ اس بڑی دک ن
ک رخ کرن ‘ مجبور شخص کی مجبوری ہو ج تی ہ ۔ م نگ ک تحت‘
اس دک ن ک م لک اور ک رکنوں ک ‘ مزاج بھی دفتری اور بیگمی ہو
ج ت ہ ۔ م ل دو نمبر‘ مزاج ش ہ نہ‘ یہ حیرت س خ لی نہیں
سوال یہ تھ ‘ کہ دو نمبری‘ اے پ س ک درج پر کیوں ف ئز ہو ج ت
ہ ۔ دوک ن کی تزئین وآرائش میں‘ کوئی کسر ب قی نہیں ہوتی۔ ہر چیر‘
شوکیسوں میں سجی سج ئی نظر آتی ہ ۔ م ل کی غ زہ ک ری پر‘ پورا
پورا زور دی گی ہوت ہ ۔ م ل کو دیکھت ہی‘ منہ س پ نی کی نہریں
ج ری ہو ج تی ہیں۔ ٹرن آوٹ ہی‘ عزت اور منگ ک سب بنت ہ ۔ شک
دوست‘ شک نواز‘ اس حسن ق تل پر‘ مر مٹت ہیں۔ ن چ ہت ہوئ ‘
مہنگ داموں خرید لیت ہیں۔ ان بڑی دوک نوں کی پیش کش‘ دہ ئی کی
ہوتی ہ ۔ ش پر دیکھ کر‘ ش پربردار ک اسٹیٹس ج ن ج ت ہیں۔
جہ ں س م ن ج ت ہ ‘ وہ ش پر‘ اور ش پر میں موجود ڈب ‘ ان ک ب ند
مرتب کی‘ نش ن دہی کر دیت ہ ۔ بن ؤ سنگ ر میں‘ م مولی م مولی
چیزوں کو بھی‘ نظر میں رکھ گی ہوت ہ ۔ اسی طور س ‘ دو نمبری
اے پ س میں تبدیل کی ج سکت ہ ۔ اگر بن ؤ سنگ ر کی کوئی م نویت
نہ ہو‘ تو دلہن کو سج ن ک لی ‘ سو جتن کیوں کی ج ئیں۔
وہ ج نت تھ ‘ اس نظری تی شہر و م شرہ میں‘ کوئی ک بلا دی ‘ نہیں
ہو سکت ۔ س رش کی عزت اپنی جگہ‘ لیکن مط وبہ میرٹ ک لی ‘
ادائیگی کی اپنی ہی ب ت ہ ۔ ادائیگی ک س تھ‘ خود س ی فرم ئشی
تح ئف کی اپنی ہی حیثیت ہوتی ہ ۔ پیٹ‘ ان س س ب زی ل ج ت
ہ ۔ بڑی اور شہرت ی فتہ دک ن س ‘ کھلان پلان کی صورت میں‘
ف ئل کی ب ند پروازی پر‘ ش ہین بھی شرمندہ ہو ج ت ہ ۔
وہ اعتب ری شخص تھ ۔ وہ برسوں س ‘ یہ ہی ک کرت چلا آ رہ تھ ۔
س ئل اور دف تر ک عم ہ‘ مطمن تھ ۔ وہ اطراف میں م م ہ ط کر لیت
تھ ۔ وہ کتن رکھت ہ ‘ اور کتن نہیں رکھت ‘ کسی کو اعتراض کرن کی
گنج ئش نہیں رہتی تھی۔ وہ سوغ ت اور کھ ن ک پیس بھی‘ شم ر
کر لیت تھ ۔ اگر وہ ان س کسی ایک کی ڈنڈی م ر لیت ‘ تو یہ اس کی
اپنی حکمت عم ی تھی۔ ص ف ظ ہر ہ ‘ اس بچت ک لی ‘ سو طرح
ک حرب ‘ است م ل کرت ہو گ ۔ بہت ک ات ہوا ہو گ کہ وہ کھ ن بچ
پ ی ہو گ ۔
پچھ کچھ س لوں س ‘ اس ن کھ ن خود ہی لازمی کر دی تھ ۔ جہ ں
کھ ن کی بچت ممکن ہوتی‘ وہ ں بھی‘ کھ ن ضرور کھلات ۔ دوسری
بڑی تبدی ی یہ آئی‘ پہ وہ خود بھی س تھ کھ ت تھ ‘ لیکن ا وہ اپن
لی ‘ محض دال روٹی منگوات ۔ اس ن چھوٹ اور درمی ن ہوٹ وں
کو طلا دے دی۔ ج بھی رخ کرت ‘ تو بڑے اور م روف ہوٹل ک رخ
کرت ۔ اس ب بو کی خودی کو تقویت میسر آتی۔ خودی ب ند ہو ج ن ک
سب ‘ م وض میں کمی کر دیت اورممکنہ ج دی میں ک کروا دیت ۔
عصمت پکوان ہ ؤس س ‘ کھ ن ‘ کھ ن ‘ ہر ایرے غیرے ک بس ک
روگ نہ تھ ۔ یہ ہوٹل‘ ایک سی سی شخصیت ک تھ ۔ کسی کو اس کی
ج ن می ی نظروں س دیکھن کی‘ جرآت نہ تھی۔ کھ ن تو خو
صورت ہوت ہی تھ ‘ لیکن اس ک برتن اور سروس ک ‘ کوئی جوا
ہی نہ تھ ۔ علاق ک ب لائی طبق ‘ پیٹ پوج ک لی ‘ عصمت پکوان
ہ ؤس ک رخ کرت ۔ اس س جہ ں مص لح اور چٹخ رے دار پکوان
میسر آت ‘ وہ ں عمو اور خصوص میں موجود گیپ کی وض حت بھی
ہو ج تی۔ عمو جو سڑکی کھ ن کھ ت تھ ‘ انہیں اپنی اوق ت میں
رہن ک س یقہ آ ج ت ۔
کسی کو یہ م و ہی نہ تھ ‘ یہ ں مردہ بکروں‘ چھتروں اور گ ئ
بھینسوں ک ‘ انتہ ئی خ یہ انداز س ‘ پکوان چڑھت تھ ۔ مزے کی
ب ت یہ کہ‘ ہوٹل ک منیجر س چوکی دار تک کو‘ اس کی خبر نہ
تھی‘ مگر شرافت‘ اس کی خبر رکھت تھ ۔ اس کی زب ن تک یہ ب ت نہ
آتی تھی۔ ہ ں‘ اس ن منیجر س مک مک کر رکھ تھ ‘ جس کی وجہ
س ‘ اس اوروں س ‘ ک دا ادا کرن پڑت تھ ۔
بیگ پ ئ ‘ تو دور دراز تک‘ اپن شہرہ رکھت تھ ۔ وہ ں س ‘ جو
ایک ب ر کھ لیت ‘ پھر ب ر ب ر ک چھوڑ کر وہ ں آت ۔ لذت میں‘ وہ اپن
جوا نہیں رکھت تھ ۔ اچھ خ ص بڑا ہوٹل ہون ک ب وجود‘ وہ ں
جگہ نہ م تی۔ اس بھیڑ ک ب وجود‘ لوگ ب ہر پڑے بنچوں پر‘ کھ ن
میں کوئی ع ر محسوس نہ کرت ۔ گ ہگ ت خ کلامی کر سکت تھ ‘
لیکن ملاز س م لک تک‘ برداشت اور تحمل س ک لیت تھ ۔
بیگ ص ح بھ اور شریف آدمی تھ ‘ لیکن ریٹ میں رو رع یت کو‘
گن ہ کبیرہ ج نت تھ ۔ سری پ ئ ‘ عصمت پکوان ہ ؤس میسر کرت
تھ ۔ بیگ ص ح ک فرشتوں کو بھی‘ ع نہیں تھ کہ یہ چھوٹ بڑے
پ ئ ‘ مردہ ج نوروں ک ہیں۔ شرافت یہ ں ہی س ‘ ب بو ب دش ہوں کی
صحت بن ت تھ ۔ شرافت کی ‘ زم نہ ج نت تھ کہ سپلائی‘ عصمت پکوان
ہ ؤس س آتی ہ ۔
لال ہوٹل‘ تیسرے نمبر پر تھ ۔ شوش تو بڑی تھی‘ لیکن دا ‘ عصمت
پکوان ہ ؤس س ک تھ ۔ ج بجٹ کی کمی آتی‘ تو شرافت بڑے
طریق س ‘ ان م تحت افسروں کو یہ ں ل آت تھ ۔ انص ف کی ب ت یہ
ہ ‘ کہ ان ک کھ نوں ک ذائقہ بھی‘ اپنی نوعیت ک ہوت تھ ۔ شرافت
ک ‘ ہوٹل ک م لک س بھی ہی و ہ ئ تھی۔ وہ اس ک س تھ مستقل
گ ہک ہون ک ب عث خصوصی رع یت برتت تھ ۔ شرافت ج نت تھ ‘
کہ عصمت پکوان ہ ؤس ک ڈر میں پھینک کھ ن کو‘ خصوصی
نکھ ر ک س تھ یہ ں سرو کی ج ت ہ ۔ براتوں میں لوگ‘ کھ ن بڑی
بدس یقگی ک س تھ کھ ت ہیں۔ کھ ن کی توہین‘ تقریبوں میں ہی
ہوتی ہ ۔ لال ہوٹل ک م لک ج وید ص ح ک بڑے بیٹ ‘ شرف
بدس یقہ س کھ ئی گئی بوٹیوں کو‘ بڑے طریقہ س ل آت تھ ۔
وہی توہین کی زد میں آن والا کھ ن ‘ احترا اور س یقہ س شرف کی
خدمت میں‘ بڑی عزت ک س تھ پیش کر دی ج ت ۔ شرافت ک ع میں
کھ ن کی عزت افزائی س مت م وم ت موجود تھیں۔
س ل فرائض کی ادئیگی ک بھی‘ دا اٹھ ت ہیں۔ حرا کھ ت ہیں۔
ان ک جو ہتھ چڑھ ج ت ہ ‘ اس چھیل کر رکھ دیت ہیں۔ گری
لوگوں پر بھی‘ ترس نہیں کھ ت ۔ س ئل لان والوں کی تو ان کی نظر
میں رائی بھر عزت نہیں۔ دا ل کر بھی‘ احس ن جت ت ہیں۔ احس ن ہی
کی ‘ دھتک رت بھی ہیں۔ شرافت دیر تک سوچت رہ ۔ ب بو ص بر ک طرز
عمل‘ اس کچکوک لگ ت رہ ۔ وہ ب آ م ہی کی طرح‘ دیر تک
چ رپ ئی پر کروٹیں بدلت رہ ۔ پھر اس ن ط کی ‘ کہ وہ ہر م م
ک ب بو کو کھ ن ضرور کھلائ ۔ حرا تو پہ کم ت ہیں۔ وہ حرا
ک کھ ن کھلا کر‘ انہیں ڈبل حرامی بن ن ک چ رہ کرے گ ۔ اس سوچ
ن ‘ ش ید اس کی ان کو تسکین بخش دی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی‘ کہ وہ
تھوڑی ہی دیر ب د‘ گہری نیند میں چلا گی ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت اچھی تحریر ہ ،داد قبول کیج ۔ (ہ :تحریر :اس لیئ کہت ہیں
کہ ک ع می ک سب ،ہ :انش ئیہ: ،:افس نہ :وغیرہ میں ت ری کرن
)س ق صر ہیں
ٓاپ ن فرم ی تھ کہ ہ خصوصی برت ؤ رکھت ہیں تو جن ایس ہرگز
نہیں ہ ۔ ہ تو جیس پڑھت ہیں ویس بی ن کرت ہیں۔ یہ ٓاپ کی
تحریریں ہیں جو ہمیں یہ ں لاتی ہیں۔ اگرچہ ٓاپ ج نت ہی ہیں کہ
مصروفی ت آج ک دور میں بہت زی دہ ہو چکی ہیں۔ ایک وقت تھ کہ
ایک :اب جی :کم ت تھ اور س را :ٹبر :کھ ت تھ ،اور ایک یہ وقت
ہ کہ :س را :ٹبر :کم ت ہ اور ایک :اب جی :کو نہیں کھلا سکت ۔ سو
ہم ری ح ضری ک رہتی ہ ،وجہ یہ بھی ہ کہ ٓاپ کی تحریر کو
سرسری نظر س دیکھن ،ہ س ممکن نہیں۔ یہ خود ہی توجہ چھین
لیتی ہ ۔ ٓاپ ک شکر گزار ہیں ہ کہ احب اگر ک توجہ بھی دیں تو
آپ ان تحریروں کو یہ ں پیش کرت رہت ہیں ،اور ک از ک ہ اس
س است ضہ کرت رہت ہیں۔
یہ تحریر بہت ت خ محسوس ہوئی ،اور ایس ہی ہون چ ہیئ تھ ۔ اس قدر
ال ظ میں ن رت بھری ہ کہ جیس ص ح ق کو خود بھی چوٹ پڑی
ہو۔ ایک جم ہ ہ آپ ک ،اس پر داد بھی قبول کیج ۔
اقتب س
بڑی اور شہرت ی فتہ دک ن س ‘ کھلان پلان کی صورت میں‘ ف ئل
کی ب ند پروازی پر‘ ش ہین بھی شرمندہ ہو ج ت ہ ۔
ہ لوگوں ن :حرا :پر تحقی کی اور اس کی بھی کئی اقس مرت
کیں۔ اقس بھی دو قس ک نقطہ نظر س کی گئی ہیں۔
پہلا نقطہ نظر۔
ایک تو :اپن لیئ حرا ،دوسرے ک لیئ حلال :اور
:دوسرا :اپن لیئ حلال ،دوسرے ک لیئ حرا
جیس کہ آپ کی تحریر ن بھی وض حت کی ہ ۔
دوسرا نقطہ نظر
اگرچہ یہ اقس بہت ہیں لیکن ہ چیدہ چیدہ ک ذکر کئی دیت ہیں۔
پہ ی قس :اس کبھی مس م ن اپن لیئ حلال نہیں سمجھت ۔ جیس :
سور اور کت ک گوشت۔
دوسری قس :اس حس طبی یت است م ل کی ج سکت ہ ۔ جیس :
شرا ،جؤا۔
تیسری قس :ایسی چیزیں جنہیں کہن تو حرا ہوت ہ لیکن ان ک :
است م ل پر کوئی پ بندی نہیں ،ب کہ ترغی دی ج تی ہ ۔ جیس سود،
کسی دوسرے مس م ن بھ ئی ک م ل و زن۔ کچھ م تی حضرات ک بھی
ہ احس نمند ہیں کہ انہوں ن اس کو کئی اور ن دے کر نہ صرف
عوا کو سہولت مہی کی ب کہ خود بھی لاکھوں روپ م ہ نہ ل کر دین
کی خدمت کر رہ ہیں۔ (ویس ہ خود بھی ایس ہی کسی ضمیر
فروش م تی کی تلاش میں ہیں جو ہمیں روزہ میں سگریٹ پین کی
اج زت ک فتو ٰی دے دے)۔
ٓاپ کی تحریریں ایسی ہوتی ہیں کہ ہ اپن رون بیٹھ ج ت ہیں۔ اس پر
م ذرت بھی چ ہت ہیں۔
یہ تحریر پڑھ کر ہم را نہیں خی ل کہ کوئی پڑھ گ اور اثر نہ ل گ ۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ۔
دع گو
وی بی جی
bari bari meharbani janab
Allah aap ko khush rakhe
aap acha tanqidi zooq rakhte hain. mujhy is ki
ba'haad khushi hoti hai. main aap ki ara ko eak
jaga jama karni ki soch raha hoon. ho sakta hai
urdu afsane par kaam karne waloon ke kaam ki
niklain. asal rola yah hai kah kis naam se jama
karoon. agar aap apna asal naam bata dain ya
message kar dain ge to asani ho gi. naam ke sath
city bhi likh dain.
email address note farma lain
[email protected]
na'cheez
maqsood hasni
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! اسلا ع یک
جن یہ تو آپ ن حد س بڑھ کر عزت دے دی ہم ری ع می نہ سی
رائ کو۔ ع می نہ اس لیئ کہ کہ ایک ع س ٓادمی کی رائ ہ ،ہ
نہ م کر ہیں اور نہ دبیر۔ اور نہ ہی کوئی ع ل ف ضل ہیں کہ :ع و
فضول :ح صل کر رکھ ہوں اور نہ ہم را ن :ع م فضلا :میں ٓات ہ
( ):اس ل ظوں ک مزاح ج نیئ گ مقصد تحقیر نہیں ہ ) سو ص ح
آپ ک شکر گزار ہیں کہ اس قدر خ وص اور محبت ک لائ سمجھ
ہمیں۔
ا ب ت یہ ہ کہ یہ وہ خی لات ہیں جو ٓاپ کی تحریر پڑھ کر ذہن میں
ابھرت ہیں اور زی دہ تر تو ہ آپ ک خی لات کو ہی اپن ال ظ میں
بی ن کر دیت ہیں۔ دوسری ب ت یہ کہ ہم ری ٹوٹی پھوٹی ب توں ک
جم ہ حقو ہمیشہ غیر مح وظ ہوت ہیں سو انہیں کوئی ن دین کی
ضرورت ہی کی ہ ۔ اگر کوئی شخص ہم ری کسی ب ت س ات کرت
ہ تو یہ اس ک خی لات سہی۔ اگر وقتی طور پر ٓاپ ہم رے خی لات کو
ہم رے ن ک س تھ منسو کر کہ کہیں مح وظ کرن چ ہیں تو ہ یہ
عجی س ن اسی لیئ لائ ہیں : ):وی بی جی :۔ سو ص ح ،اگر ہ
س کوئی ک کی ب ت سرزد ہو ج ئ تو اس س کی فر پڑت ہ کہ
یہ کس ن کی۔
ایک اور گزارش کرن چ ہیں گ کہ ہ اپن ن یہ ں نہیں لائ ہیں۔
ہم رے ہمذاد ہیں ،ایک کردار :وی بی جی :وہ یہ ں ٓائ ہیں اور ان ک
یہی ن ہ ۔ اگر وقت اج زت دیت ہو تو ہم ری یہ نظمیہ غزل ایک نظر
پڑھ لیج گ ۔
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8835.msg54856;t
opicseen#msg54856
امید ہ خ نہ ہونگ ۔
آپ ن اس ن لائ کو اس لائ سمجھ ہ جس پر سراپ سپ س ہیں
اور ایک ب ر پھر شکریہ ادا کرت ہیں۔ ہمیں :چوتھی :مرغی بھی ذبح
) :کرنی ہ سو وہ ں چ ت ہیں۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8809.0
دو لقم
ت ن میں اٹی
‘اندھی روں میں لیپٹی وہ بستی
جہ ں چھیتڑوں میں م وف زندہ لاشوں ک دل کی دھڑکنیں
دیوار پر آویزاں کلاک کی ٹک ٹک کی آوازیں تھیں۔
‘بھوک کی اہیں
ب بسی کی سسکیوں میں مدغ ہو رہی تھیں۔
آس ک س یہ آس پ س نہ تھ ۔ تھ کچھ تو ق تل خ موشی تھی۔
بھوک ک ن گ پھن پھیلائ بیٹھ تھ ۔
م یوسیوں کی اس بستی س رح ک دیوت ش ید خ تھ ی پھر وہ بھی
تہی دست تہی دامن ہو گی تھ ۔
اک مسکراہٹ ک ط بگ ر یہ لاش ب حس نہیں‘ ب بس تھ ۔
پھر اک لاشہ بھوک ن گ جس ک قری تر تھ ۔۔۔۔۔۔ تڑپ اور رینگ کر
روشنی کی شہراہ پر آ گی ۔ اس حرکت میں اس ن اپنی س ری توان ئ
صرف کر دی۔ ہر سو اج ل تھ لیکن وہ بھوک ک سی ہ ک ن میں
م بوس تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں پھر‘ بھی وہ زندہ تھ اور اج لوں کی
شہراہ پر پڑا ہ نپ رہ تھ ۔ س نسیں ب ترتی تھیں۔ خوش پوش راہی
ش ید اس دیکھ نہیں رہ تھ ۔ جو دیکھ رہ تھ ن ک پر روم ل
رکھ کر گزر رہ تھ ۔ وہ س اس ک ہ جنس تھ ۔ کتنی آس ل
کر وہ یہ ں تک آی تھ ۔ ان دیکھت کر لمحوں کو کون ج ن پ ت ۔
وہ اس بستی ک نہ تھ ۔
بھوک ن گ بولا :کہ ں تک بھ گو گ ‘ تمہیں میرا لقمہ بنن ہی ہو گ کہ
خود میں بھوک ہوں۔
پھر وہ تھوڑا آگ بڑھ ۔
لاشہ چلای :نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔۔ٹھہرو۔۔۔۔۔۔ روٹی ضرور آئ گی۔
س ب ک ر۔۔۔۔۔روٹی کوئی نہیں دے گ ۔۔۔۔۔۔ یہ پیٹ بھر کر بھی آنکھوں
میں بھوک لی پھرت ہیں۔ ان میں س کون دے گ روٹی۔ ان ک
ہش ش بش ش چہروں پر نہ ج ؤ۔ ان ک من کی بھوک کو دیکھو اور
میرے صبر ک امتح ن نہ لو۔
لاشہ سٹپٹ ی اور چلای :
لاشہ سٹپٹ ی اور چلای :
اج لوں ک ب سیو!
ع و فن ک دعوےدارو!
سی ست میں شرافت ک مدعیو!
جمہوریت ک ع بردارو!
اس حہ خرید کرن والو!
فلاحی اداروں ک نمبردارو!
‘ع لمی وڈیرو
کہ ں ہو ت س ؟
تمہ رے وعدے اور دعوے کی ہوئ ؟
اپنی بھوک س دو لقم میرے لی بچ لو۔ بھوک ن گ میرے قری آ
گی ہ ۔
دیکھو غور کرو‘ میں تمہ را ہ جنس ہوں
‘دو لقم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں فقط دو لقم
میری زندگی ک ض من ہیں۔
ایف سولہ ہ ئیڈروجن ب مجھ نہیں چ ہی ۔
میری ضرورت روٹی ک دو لقم ہیں۔
اس دور کی یہ تمہ ری بہت بڑی جیت ہو گی جو ت ریخ میں تمہیں امر
کر دے گی۔
ب زگشت
وہ ستمبر کی بھیگی سی ش تھی۔ روم ن کی پری ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چندا کی اج ی
اج ی نکھری نکھری روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھ مچولی کھیل رہی تھیں۔
چندا ان کی روح شکن اٹھکی ی ں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م نوشی پر اتر آی
تھ ۔ م کی ننھی منی بوندیں۔۔۔۔۔۔۔۔گلا ک پرشب چہرے پر ٹپک
رہی تھیں۔ یوں محسوس ہو رہ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلا مدہوش ہو کر اپنی
ہستی کھو دے گ ۔ گلا کی وہ آخری ش تھی۔ یہ دستور زم نہ رہ ہ
کہ ج گلا شب کی حدوں کو چھوت ہ تو گ چیں آ ٹپکت ہ ۔ پھر
وہی پھول زندگی ک مخ تف ش بوں میں غلامی کی س نسیں گزارت
ہیں۔ ان کی آہ و بک سنن والا کوئ نہیں ہوت ۔ ٹہنی س بچھڑے پھول
کی اوق ت ہی کی ہوتی ہ ۔ کچھ سہرے کی لڑیوں ک مقدر بنت ہیں تو
کچھ حسرتوں ک مزار پر۔۔۔۔۔۔۔۔اگست کی دھوپ میں۔۔۔۔۔۔۔۔نش ن عبرت
بنت ہیں۔ وہ آہ بھی نہیں کر پ ت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں بھی کیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون
سن گ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش خ س بچھڑے پھول ک پ س یہ ح نہیں ہوت ۔
اگر وہ ش خ پر ہوت تو اس کی کوئ حیثیت بھی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئ مق
ہوت ۔ میں بھی ش خ س جدا ایک ب ب س پھول ہوں۔ قط ی مجبور
ب بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاچ ر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپن احوال کہن ک مجھ س حقو چھین
لی گی ہیں۔ میں منہ میں زب ن رکھ کر بھی گونگ ہوں۔اگر آواز
اٹھ ؤں گ تو کون سن گ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ں کسی ک پ س اتن وقت کہ ں جو وہ
کسی ش خ بریدہ کو خ طر میں لاءے۔
اس ش دن بھر کی ف ءل ک ری ن ذہن پر ایک بوجھ س ڈال رکھ تھ
اور میں صوف پر نی درازز خود کو جھوٹی تس یوں س بہلان کی
ن ک س ی کر رہ تھ ۔ چ ر سو پھی ی چندا کی روم ن پرور کرنیں
میرے دل ودم پر ہتھوڑے برس رہی تھیں۔ میرے گرد تنہ ئ کی آگ
پھیل رہی تھی۔ ب غی دل و دم پر ق بو پ ن دشور ہو چلا تھ ۔ کئ ب ر
سوچ لاءٹ آن کرک خود کو مصنوعی روشنی ک ح قوں میں گ کر
دوں۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ میں ایس نہ کر سک ۔۔۔۔۔۔ایس کرن ممکن ہی نہ تھ ۔ اگر ہر
چیز انس ن ک بس میں ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مس ءل کبھی جن نہ لیں۔ مجبوری
ہی درحقیقت مس ءل کی جڑ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں مجبوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ب بسی کی
دراز ب ہوں ک حص ر س بچ نک ن منی من ک کوئ کھیل نہیں۔
پھر اچ نک کسی ن میرے ش ور دریچ پر دستک دی۔ کئ چہرے
میری آنکھوں ک س من رقصں کرن لگ ۔ میں گہری سوچ میں
ڈو گی ۔ کون ہو سکت ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پھر کسی ن چپک س میرے
ک ن میں سر گوشی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ی ر اپن ع مر کی چ پ کو نہیں
پہچ نت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہ را۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں تمہ را اپن ع مر۔ وہ ع مر ہی تھ ۔ جو
صدیوں س زندگی کی برہنہ لاش کو اپن نحیف کندھوں پر اٹھ ءے
مس سل اور متواتر دوڑے چلا ج رہ تھ ۔ا وہ ک فی لاغر ہو گی تھ ۔
چہرے کی سرخی ہ دی ہو گئ تھی۔ یوں محسوس ہوت تھ جیس اس
ک جس س کسی ن پورا خون نچوڑ لی ہو۔ اس ک قدموں میں
لڑکھڑاہٹ تھی۔ اس ک وجود لرز رہ تھ ۔ خود میرے اپن اعض بھی تو
ڈھی پڑ گی تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔چند لمح ۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں چند لمح خ موشی کی
لحد میں اتر گی ۔ پھر اس ن خ موشی ک ق ل توڑا۔
ش ہد ج گ رہ ہو؟ مگر کیوں‘ سو ج ؤ۔ ک تک یوں ہی گھ ت رہو
گ ۔ میں تمہ را اپن ہوں مجھ س بھی اپن دکھ چھپ ت ہو۔ اس دکھ
س آزادی ح صل کرو ورنہ میری طرح ت بھی اپن وجوو میں نہ رہو
گ ۔ تمث لی زندگی بڑی کٹھن ہوتی ہ ۔ یہ سسکن بھی نہیں دیتی۔
سو ج ؤ دوست ا سو ج ؤ
یہ ت کیسی ب تیں کر رہ ہو۔ کچھ کہو۔۔۔۔۔۔ کچھ تو کہو
ک تک سنو گ ۔ کی کچھ سنو گ ۔ فرزانہ ن خود کشی کر لی
ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی۔۔۔۔۔۔۔
!یہ ت کی کہہ رہ ہو؟
سچ کہہ رہ ہوں۔ اس کی آواز میں بیکراں کر تھ ۔
ش ہد بھلا کی کر سکت تھ ۔ سسک کر رہ گی ۔
فرزانہ بڑے اع ی اخلا و ذو کی م لک تھی۔ اس ن ع مر کو تنہ ئ
ک بحر عمی س نک ل کر گلابوں ک دیس میں لا کھڑا کی تھ ۔ اس
ک دامن مسکرہٹوں س بھر دی تھ ۔
ع مر ن ب ت ج ری رکھی اور دل پر پتھر رکھت ہوءے بت ی
اس روز ک فی گرمی تھی۔ فرزانہ اپن ابو ک سر دب رہی تھی۔ اس ک
ک نوں س شمی کی کرخت آواز ٹکرائ۔ فرزانہ اس ک تیور دیکھ کر
لرز ہی تو گئ۔
فرزانہ مجھ تخ یہ میں ت س کچھ کہن ہ ۔“ فرزانہ اس اپن “
کمرے میں ل آئ۔ چند لمح خ موشی ط ری رہی پھر اس ک زہر
آلود ال ظ س خ موشی ک بت ٹوٹ ۔
سنو فرزانہ! آج میں ت س آخری فیص ہ کرن آئ ہوں۔ اگر ت ن “
میری ب توں پر عمل نہ کی تو ج نتی ہو کی ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔ت ذلت ک گہرے
کھڈ میں ج گرو گی۔ تمہ رے س تھ وہ کچھ ہو گ جس ک ت تصور بھی
“نہیں کر سکتیں۔ ج ن رکھو ب کسی ک ع ل اتہ ئ عبرت ن ک ہوت ہ ۔
پھر وہ ایک لمح ک لی خ موش ہوئ۔ کیسی ہ راز سہی ی تھی۔
کوئ لح ظ کوئ مروت۔۔۔۔۔۔یوں لگت تھ جیس اس س یہ س چھن گی
ہو۔
میں ع مر اور تمہ ری تحریریں شہر بھر میں ب نٹ دوں گی۔ پھر “
رسوائ دیمک بن کر تمہیں اور تمہ رے امی ابو کو چ ٹ ل گی۔ ان
لمحوں کو آواز دو گی لیکن یہ لمح واپس نہیں آءیں گ ۔ مجھ
صرف اتن کہن ہ میرے رست س ہٹ ج ؤ یہی تمہ رے اور تمہ رے
خ ندان ک لی بہتر ہ ۔ میں نہ کچھ سنن اور ن ہی مزید کچھ کہن
“چ ہتی ہوں۔
وہ یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چ ی گئ۔ فرزانہ ک جس ٹھنڈا پڑ گی ۔
اس یوں لگ جیس گھڑی پل کی مہم ن ہو۔ ال ظ ک ہتھوڑے اس
ک سرد اور ب ج ن س جس پر ضربیں لگ ت رہ ۔ اس ن سوچ
اپنی ب ت اپنی اس وقت تک رہتی ہ ج تک دوسرے ک ن تک نہیں
پہنچتی۔ پھر اس ن اپنی اور اپن والدین کی عزت بچ ن ک فیص ہ کی
اور شمی کو زخمی مسکراہٹ ک س تھ یہ تحریر لکھ کر دے دی:
ع مر ص ح !
آج ک ب د مجھ س م ن ی پیغ بھجوان کی کوشش نہ کرن ۔
میرا آپ س نہ کوئ ت تھ اور نہ کوئ ت ہ ۔ میری اس تحریر
کو غیر سنجیدہ نہ لین ۔ میری ش دی ک فیص ہ میرے ابو کریں گ ۔
انہیں ت قط ی ن پسند ہو۔ ہ ایک دوسرے ک نہ کچھ تھ اور نہ کچھ
ہیں۔
فقط اپن ابو کی فرزانہ
شمی ج ن کو تو چ ی گئ لیکن خی لات ک منہ زور طوف ن چھوڑ گئ۔
یہ س اس ن دل پر پتھر رکھ کر لکھ کر دی تھ ۔ وہ سوچ رہی تھی
ا کی کرے۔ کی وہ ع مر ک بغیر زندہ رہ سک گی۔ وہ ع مر ک
بغیر زندہ رہن ک تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔ وہ سوچتی گئ جذب ت
س گت رہ ۔ پھر اس ن آخری فیص ہ کی اور الم ری کی ج ن بڑھ
گئ جہ ں خوا آوار گولیوں کی شیشی پڑی تھی۔ یہ گولی ں اس ک ابو
است م ل کرت تھ ۔ اس ن س گولی ں اپن ح میں انذیل لیں۔ یہ
حقیقت ہ کہ درد کی دوا درد ہی ہو سکتی ہ ۔ گولیوں ن اس ک
پی س من کی پی س بجھ دی۔فرزانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں اپن ع می کی فرزانہ
ابدی نیند سو چکی تھی۔
یہ داست ن زہر بجھ تیر س کسی طرح ک نہ تھی۔ اس ن دیکھ ‘
ع مر ک د گھٹن لگ ہ اور پھر اس ن روح س خ لی زندگی س
خلاصی ح صل کر لی۔ ہ ں اس ک چہرے پر ا سکون نم ی ں ہو گی
تھ ۔ یوں لگت تھ جیس بت دو روحوں ک سنگ دیکھ رہ ہو اور
زندگی کی کر ن کی ک بھ ری بوجھ ن اس ک ب حس و حرکت
پڑے وجود کو س ت عط کر دی ہو۔ ہو سکت ہ یہ میری سوچ ک
ک ش نہ ہو لیکن یہ س وہ وگم ن بھی نہیں ہو سکت ۔ کچھ ضرور تھ ۔
رخصت ہوت ‘ روح ن اپنی رخصتی ک آث ر چھوڑ دی تھ ۔
سرگوشی ک س س ہ منقطع ہو گی ۔ ع مر فرزانہ ک دیس ج چک تھ ۔
ہ ں اس کی سرگوشی کی خوشبو ابھی ب قی تھی۔
یہ س اس ن ج گتی آنکھوں س دیکھ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیس بھول پ ت ۔
کربن ک لحموں کی ب زگشت ت زیست ی دوں ک نہ ں گوشوں میں اپن
تمث لی وجود برقرار رکھتی ہ ۔ ی دوں ک تمث لی وجود نیند ک
جھونکوں ک انتظ ر نہیں کرت ۔ موق ہ بہ موق ہ اپن اٹوٹ وجود اور
ق بی رشت ک اظہ ر کرت رہت ہ ۔ اس اس س کوئ غرض نہیں
ہوتی کہ کسی پر کی گزرے گی۔ ب زگشت ک رشتہ اگر مٹی ہو ج ءے تو
گزرا کل اپنی م نویت کھو دے اور صیغہ تھ لای نی ہو کر رہ ج ءے۔
یک جولائی 1970
محترمی ڈاکٹر ص ح ۔ آدا
بہت عمدہ ۔ بہت لطف آی ،سلامت رہیں آپ
شکریہ
ضی ب وچ
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8431.0
تن زعہ ک دروازے پر
اس میں کوئی شک نہیں‘ کہ وہ ذہین ش طر اور بہ در تھ ‘ لیکن تس ط
وتصرف ک لی ‘ وس ئل کی بھی ضرورت ہوتی ہ ۔ وس ئل کی کمی‘
اس کی راہ میں بہت بڑی رک وٹ تھی۔ ج جذب اٹل اور کرن کی
خواہش میں ج ن ہو‘ تو کر گزرن مشکل نہیں رہت ۔ کرن ہدف س جڑا
رہت ہ ۔ اس ک ہدف م مولی اور ع نوعیت ک نہ تھ ۔ محنت مزدوری
س ‘ تو پیٹ ک جہن بھی نہیں بھر پ ت ۔ وہ اس ک ق ئل بھی نہ تھ اور
ن ہی‘ محدود دائرے ک قیدی ہون ‘ اس کبھی خوش آی تھ ۔ دائروں ک
قیدی‘ زندگی ک بڑے گراؤنڈ میں کھیل نہیں پ ت ہیں۔ چوری‘ محدود
وس ئل پیدا کرتی ہ ج کہ ڈاکہ‘ وس ئل ہی زی دہ میسر نہیں کرت ‘
ب کہ اس میں جرآت بہ دری اور سینہ زوری ک عن صر‘ بھی موجود
ہوت ہیں۔ گھنٹوں غور کرن ک ب د‘ اس پر کھلا‘ کہ اٹھت ہی‘
ڈاک کی راہ اختی ر کرن ‘ ممکن نہیں۔ اس آغ ز چھوٹی موٹی چوری
ہی س کرن پڑے گ ۔
شروع شروع میں‘ چھوٹ موٹ شور ہوا‘ لیکن ج چوریوں کی ت داد
بڑھی‘ تو علاق میں‘ ب چینی پھیل گئی۔ انتظ می ادارے بھی‘ تشویش
ک شک ر ہو گی ۔ ہ پیشہ و ہ مشر تو میسر آ ہی گی تھ ‘ ا
انتظ میہ کو‘ ہ تھ میں کرن ضروری ہو گی تھ ۔ اس ک میں بھی‘ اس
کچھ زی دہ تردد نہ کرن پڑا۔ انتظ میہ‘ خصوص گرفت کرن وال
اداروں کو‘ اس س ‘ لوگوں کی تلاش رہتی ہ ۔ اس س لوگوں ک کی ‘
چھوٹ مجرموں پر ڈال کر‘ م شرے میں انص ف ک بول ب لا کی ج
سکت ہ ۔
ا وہ ک فی مضبوط ہو گی تھ ۔ وہ دن دیہ ڑے‘ جہ ں اور جس ک ہ ں
بھی چ ہت ‘ ڈاکہ ڈالت ۔ وہ علاق میں‘ خوف کی علامت ک درج پر
ف ئز ہو چک تھ ۔ چودھری ک دھندا‘ م ند پڑن لگ ۔ انتظ میہ ن بھی‘
اس ک ک موں پر‘ گرفت ک آغ ز کر دی تھ ۔ چودھری حیران تھ ‘ کہ
اس ک آدمی موقع پر ہی‘ کیوں پکڑے ج ن لگ ہیں۔ اس ک پ س‘
انتظ میہ کو ٹھپ کرن ک کوئی رستہ ہی ب قی نہ رہ تھ ۔ بھتہ خور
انتظ میہ ن ‘ چودھری پر اتن احس ن ضرور کی ‘ کہ وہ لکھت پڑھت
میں‘ چودھری ک ذکر تک نہ کرت ۔ ک موں کو بھی ‘جرات نہ ہوتی‘ کہ
وہ چودھری ک ن تک‘ زب ن پر لائیں۔ ہ ں یہ ضرور ٹھ ن لیت ‘ کہ وہ
جیل س ب ہر آ کر‘ محودے زوراور ک گروپ میں‘ ش مل ہو ج ئیں
گ ۔ یہ غداری نہ تھی‘ چودھری ک ب اعتم د ک م ‘ اندر خ ن ‘
محودے زوراور ک گروپ میں ش مل ہو چک تھ ۔ ہر چھوٹی بڑی
خبر‘ ان ہی ک ذری ‘ زوراور تک پہنچتی تھی۔ اسی بن پر‘ انتظ میہ
انہیں موق ہءواردات پر پکڑ لیتی تھی۔ پب ک میں آ ج ن ک ب عث‘
چودھری ب بس ہو ج ت اور اپن بندوں ک لی ‘ کچھ نہ کر پ ت ۔
چودھری‘ علاق میں اپن ن و مق کھو چک تھ ۔ ب اعتم د ک رکن‘
درپردہ اس ک نہ رہ تھ ۔ دھندے ک لوگ‘ زوراور ک س تھ مل
چک تھ ۔ انتظ میہ میں وہ بہ در ش ہ ظ ر س زی دہ نہ رہ تھ ۔
لوگوں میں‘ بھی اس کی شہرت خرا ہو گئی تھی۔ اس ن زوراور کو
مروان کی کوشش بھی کی لیکن یہ کوشش اس بڑی مہنگی پڑی۔
دوسری طرف‘ زوراور ن ب اثر لوگوں کو‘ اپن کرن کی مہ تیز
کرن ک س تھ ک زور طبقوں ک لی روٹی ک دروازے کھول دی ۔
اس ن س س بڑھ کر ک یہ کی ‘ کہ علاق میں ڈاکوں کی ت داد کو‘
محدود کر دی ۔ ڈاکہ صرف منحرف لوگوں ک ہ ں ہی پڑت ۔ ہ ں آس پ س
ک تین علاق جن پر وہ تصرف وتس ط ک ارادہ رکھت تھ ۔ پر چوری
اور ڈاک ک دروازہ کھول دی ۔ وہ ں کی انتظ میہ اور چودھریوں ک
خ ص بندے‘ اس ک بندے تھ ۔
اس ک پ س‘ وس ئل کی کمی نہ رہی تھی‘ دوسرا ا وہ علاق ک
م تبر اور م زز ترین شخص تھ ۔ ایک کمزور‘ ن ک اور بدن شخص
کو‘ چودھراہٹ ک ح نہ رہ تھ ۔ یہ بھی کہ چودھری کو مروا کر‘ اس
ک وس ئل پر قبضہ کرن ‘ مشکل نہ رہ تھ اور یہ وقت کی اہ ترین
ضرورت تھی۔ اس ابھی بہت کچھ کرن تھ ۔ اس ک پ س‘ ض ئع کرن
ک لی وقت نہ تھ ۔ اس ن ایک ہی جھٹک میں‘ چودھری کو ف ر
کرک ‘ ن صرف ف ر کی ‘ ب کہ اس ک جم ہ وس ئل کو‘ اپن قبضہ
میں ل لی ۔ ک ک مردوں کو‘ چ برداری سونپ دی۔ خو صورت
لڑکی ں‘ خوا گ ہ میں پنچ دی گئیں۔ عورتوں پر ترس کھ ت ہوئ ‘
اپن ک موں کو‘ جنسی م ملات ک لی ‘ سونپ دیں۔ ا محدا زوراور‘
وہ نہ رہ تھ ‘ لوگ اس ‘ م ک محمود زوراور ک ن س پہچ نن
لگ ۔
پہچ ن کی تبدی ی ن ‘ اس ک اعتم د کو جلا بخشی۔ ا وہ کسی
واردات میں‘ خود نہ ش مل ہوت ب کہ اس ک ک م یہ ک انج دین
لگ ۔ ا وہ ڈیرے میں بیٹھ کر‘ آئ گی ک س تھ م ملات کرت ۔
اقتدار کی حصولی ک ب د اس ن یہی سیکھ ‘ کہ اعتم د اقتدار ک ‘ س
س بڑا دشمن ہ ۔ ج کسی پر‘ م مولی س بھی شبہ گزرت ‘ تو وہ
وقت ض ئع کی بغیر‘ اس ک اور اپن مخ لف تلاشت ۔ من س شخص
میسر آن پر‘ اس غدار اور غیر کی مخبر زندگی س ‘ آزادی دلا دیت ۔
دوسرے کو‘ انص ف ک ن پر سر ع لٹک دیت ۔ مرت شخص میں
بھی‘ اتنی جرآت نہ ہوتی‘ کہ م ک ص ح ک ن زب ن تک ل آئ ۔
اس ن علاق میں‘ چوری چک ری کی ضرورت کو طلا دے دی۔ اس
کی ضرورت ہی کی تھی۔ زمین س م ن کی حیثیت ہی کی ‘ لوگ اس ک ‘
ہتھ بدھ غلا تھ ۔ وہ اس ک اش روں پر‘ ن چت تھ ۔ مذہبی
ح قوں ک پیٹ اور منہ خ لی رکھن ‘ جر سمجھت تھ ۔ انہیں منہ م نگ ‘
ان کی ضرورت س کہیں بڑھ کر میسر آت تھ ۔ وہ بڑا اد نواز تھ ۔
قصیدہ خواں ش را کو نوازت رہت تھ ۔ وہ اس پر خوش تھ ۔ اس ن
ارد گرد ک علاقوں میں‘ اندھیر مچ دی ۔ لوٹ م ر اور ڈاکہ زنی الگ‘
علاقوں ک چودھریوں کی عزت کو مٹی میں ملان ک لی ‘ ہر حی ہ
اورحربہ اختی ر کر دی ۔
قبی ہ سلاح‘ خوش ح لی اور امن پسندی ک لی ‘ م روف چلا آت تھ ۔
اس قبی ک چودھری‘ بڑی ش بنت تھ ۔ چھوٹ قبی وں پر تس ط
ح صل کرن مشکل نہ تھ ‘ لیکن قبی ہ سلاح ذرا ٹیڑھی کھیر تھ ۔ اس ن
قبی ہ ث لی ہ‘ کو غیرت دلائی‘ کہ سلاح وال ‘ ان ک علاقوں پر ق بض
چ آت ہیں اور وہ اپن علاق واپس نہیں ل رہ ۔ قبی ہ اوخ اور
قبی ہ تنوخ والوں کو بھی‘ مخت ف حرب اختی ر کرک ‘ سردار سلاح ک
خلاف کر دی ۔
اول اول‘ ان چ ر قبی ہ ک سرداروں میں‘ سرد جنگ چ ی اور یہ پورے
دو س ل چ ی۔ ان چ روں ک م بین‘ ت خی اشت ل ک دروازے پر آ
پہنچی۔ ا بس آگ دکھ ن کی ضرورت تھی۔ م ک زوراور ن ‘ موقع
دیکھ کر ضر لگ ہی دی۔ پھر کی ‘ چ روں قبی آپس میں بھڑ گی ۔
م ک زوراور ن ‘ غیرج ن داری ک اعلان کر دی ۔ چ روں قبی ‘ قی مت
س دوچ ر تھ ۔ کئی دن قی مت خیزی رہی۔ بلاشبہ تینوں قبی بڑی
دلیری س لڑے‘ لیکن قب ہ سلاح کو زیر کرن میں ن ک رہ ۔ ہ ں
البتہ قب یہ سلاح بھی‘ م شی بیم ریوں ک شک ر ہو گی ۔ اس آویزش
میں‘ بہت س رے‘ ب گن ہ موت ک گھ ٹ اتر گی ۔ سرداروں ک
م دات میں‘ زی دہ تر لوگ ہی ک آت ہیں۔ امن ہو‘ تو لوگ سردار ک
لی کم ت ہیں۔ جنگ ہو‘ تو لوگ سردار ک م د کی لڑائی میں‘ زندگی
س ہ تھ دھوت ہیں
چ روں قبی وں میں بدامنی پھیل گئی۔ جنگ خت ہون ک ب د بھی‘
موت زندگی کی دشمن بنی رہی۔ انس نی تق ضوں ک پیش نظر‘ م ک
زوراور ن ‘ ایک ایک کرک ‘ چ روں قبی وں پر تس ط ح صل کر لی ۔
امن ق ئ کرن اور زندگی کی بح لی میں‘ کئی م ہ لگ گی ۔ وہ ان ک
سرداروں ک ‘ خون س ہ تھ رنگ کر‘ ت ریخ میں اپن کردار کو‘
بدنم نہیں کرن چ ہت تھ ۔ انہیں بہ طور جنگی مجر ‘ عدالت ک سپرد
کر دی ۔ ہر علاق س ‘ ایک ایک منصف لی گی ۔ چند دنوں کی ک روائی
ک ب د‘ ان چ روں کو موت کی سزا سن ئی گئی۔
تین چ ر س ل ب د ہی‘ لوگ م ضی میں برپ ہون والی قی مت کو‘ بھول
گی ۔ م ک زوراور ن امن کی بح لی ک لی ‘ ہر ن ج ئز قد اٹھ ی ۔
پ نچ علاق ایک علاقہ ہو گی ۔ وہ بہت بڑی قوت‘ قوت واحدہ بن گی
تھ ۔ ب غیوں اور سرکشوں ک سوا‘ کسی ک ہ ں ڈاکہ نہ ڈلوات تھ ۔
ہ ں‘ ان ک آس پ س ک سبھی قبی ‘ ڈاکوں کی زد میں آگی ۔ کسی
میں بولن اور آواز اٹھ ن کی ہمت نہ تھی۔
م ک زوراور اٹھت بیٹھت ‘ ان پر بھی قبضہ جم ن کی سوچت رہت ۔ کسی
ک فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو پ تی‘ کہ ک کی ہون والا ہ ۔ وہ
قبی وں ک سرداروں کو دعوتیں دیت ۔ ان س بڑی محبت اور خ وص
س پیش آت ۔ انہیں عزت اور احترا س نوازت ۔
ویر جی‘ علاق ک لوگوں کی ب حسی اور غلامی کو دیکھ کر‘ آزردہ
ہوت ۔ وہ شخصی آزادی کو‘ ترقی ک لی ‘ لازمہ سمجھت تھ ۔
انہوں ن ‘ لوگوں کو‘ اپن خی لات ک حص ر میں‘ لین شروع کر دی
تھ ۔ نئی سوچ‘ پروان چڑھن لگی۔ لوگ ان کی بڑی عزت کرت اور
احترا دین تھ ۔ وہ اپن لقم ‘ بھوکوں ک سپرد کر دیت ۔ انہیں
ہمیشہ‘ لوگوں ک دکھ درد کی چنت رہتی۔ ان ک موقف تھ ‘ انس ن کو‘
دوسرے انس ن کی خدمت ک لی ‘ پیدا کی گی ہ ۔ اکثر کہت ‘ حرا
لقموں کو‘ منہ میں رکھن کی بج ئ ‘ بھوک رہن ‘ ہزار درجہ بہتر
ہ ۔ وہ انس ن ک خ ل کی‘ ہر لمحہ ت ریف کرت ۔ ج کسی دکھی کو
دیکھت ‘ تو اس حوص ہ دیت ۔ فرم ت ‘ فکر نہ کرو‘ م لک تمہیں ت
س زی دہ ج نت ہ ۔ وہ کوئی ن کوئی‘ سب ضرور پیدا کر دے گ ۔ انہیں
مل کر‘ روح میں سکون اتر ج ت ۔ آنکھیں‘ ٹھندک س بھر ج تیں۔
ان ک پ س‘ لوگوں ک ہجو بڑھن لگ ۔ اس ایری ک سربراہ کو‘ ویر
جی کی مقبولیت کھٹکن لگی۔ اس گم ن گزرا‘ کہ ویر جی‘ یہ س
اقتدار پر ق بض ہون ک لی ‘ کر رہ ہیں۔ ویر جی‘ تو دلوں پر
حکومت کرت تھ ۔ انہیں اس جھوٹ اقتدار س ‘ کی غرض تھی۔ م ل
و دولت‘ ان ک ک کی چیزیں نہ تھیں۔ یہی عنصر‘ لوگوں کو ان ک
قری لا رہ تھ ۔ اقتداری طبق کو‘ ویر جی ک نٹ کی طرح‘ چھبن
لگ ۔ وہ ان پر‘ ہ تھ نہیں ڈال سکت تھ ۔ ہر روز‘ دو چ ر شک ئتیں
م ک زوراور ک پ س پہنچن لگیں۔ م ک زوراور ک ک ن کھڑے
ہوئ ۔ اس ک ذاتی مخبر ن ‘ بھی ویر جی کی عوا میں مقبولیت کو
بی ن کی ۔ ایک ب ر وہ خود‘ بھیس بدل کر آی ۔ ویر جی کی عزت احترا
اور عوا کی‘ ان س محبت ن اس بھی سوچن پر مجبور کر دی ۔
اس ن سوچ ‘ ویر جی کی بڑھتی مقبولیت‘ اس ک اقتدار ک لی ‘
کسی وقت بھی خرابی ک سب بن سکتی ہ ۔ اس ن ‘ ہر طبقہ ک
مذہبی ع م ک اجلاس ط کی ۔ ان کی دل کھول کر خدمت کی۔ ان ک
منہ میں‘ ضرورت س زی دہ رکھ دی ۔ ہر مذہبی لیڈر ن ‘ ویر جی کی
نقل وحرک ت کو‘ مذہ دشمنی قرار دے دی اور اس کی موت کو‘ وقت
کی اہ ضرورت ک ن دے دی ۔
آہ۔۔۔۔۔ کتنی بدنصی تھی وہ صبح‘ ویر جی کو‘ موت ک حوال کر دی ۔
وقت ک سرمد‘ چلا تو گی ‘ لیکن محبتوں کی ی دیں چھوڑ گی ۔ م ک
زوراور ک کوئی نہ منہ آ سک ۔ م ک پھر س دوسرے علاقوں ک
وس ئل پر تس ط وتصرف کی سوچ میں پڑ گی ۔ اس ی د تک نہ رہ کہ
اس ن کتن بڑا ظ ڈھ دی ہ ۔
ش عر اور مورخ‘ اس ک ک رن موں کو‘ درج کرن میں مصروف ہو
گی ۔ اگر کسی ن ‘ اس کی سی ہ ک ریوں ک تذکرہ کی ‘ تو علامتوں‘
است روں اور اش روں کن ئیوں میں کی ۔ ہ ں رحم ن ب ب س بھی‘
موجود تھ ۔ م ک زوراور ن اور علاق بھی تس ط میں ل لی ۔
عیش کی گزار کر وقت کی دھول میں گ ہو گی ۔
درسی کت میں‘ م ک زوراور ک ک رن م داخل ہو گی ۔ ویر جی کی
شہ دت‘ علامتوں است روں اور رحم ن ب ب ایس لوگوں ک ب عث‘
ص حب ن دل کی‘ آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل ک قرار ٹھہری۔ م ک
زوراور کبھی بھی‘ تن زعہ ک دروازے س ب ہر نہ نکل پ ی ۔ م ک
زورا ور کی‘ فتوح ت س انک ر ممکن نہیں‘ لیکن یہ کیسی ک می بی ں
ہیں‘ جو دی نت ک قتل‘ ک گواہ ویرجی‘ ک وجود کو‘ ب وجود نہیں
کر سکیں۔ لوگ‘ آج بھی‘ ویر جی ک ن سن کر‘ اد س سر جھک
لیت ہیں۔
م ک دروازے س ‘ ب ہر نک ن کی‘ ج بھی کوشش کرت ہ ‘ ویر
جی‘ س من آ کھزے ہوت ہیں‘ اور وہ‘ خوف کی چ در لپیٹ کر‘ واپس
مڑ ج ت ہ ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
واہ جن یہ پہ و بھی آپ نہیں چھوڑا۔ بہت اچھی تحریر ہ ۔ داد ح ضر
ہ۔
ا ب ت یہ ہ کہ جو کہ نی آپ ن لکھی ہ وہ ت ریخ میں قد قد پر
دہرائی گئی ہ ۔ سو سچ پوچھیں تو ہ ان کرداروں کی شن خت میں
ن ک رہ ہیں۔ اس کی ہم رے خی ل س دو وجوہ ت ہو سکتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ ہ اپنی کمزور سی سی بصیرت کی وجہ س کئی ت ریخی
نق ط س ن واقف ہیں سو ایس ہون لاز ہ ۔ دوسری ب ت یہ بھی ہو
سکتی ہ کہ ٓاپ ن کئی کہ نیوں ک کردار اپنی تحریر میں ایک واحد
کردار میں سمو دیئ ہوں۔ جس کی وجہ س اصل تک نہ پہنچ پ رہ
ہوں۔
ہ م ذرت بھی چ ہیں گ کہ اپنی ک ع می کی وجہ س ٓاپ کی تحریر
کو وہ خراج نہیں پیش کر پ ئ جس کی یقین ً یہ مستح ہو گی۔ آپ کی
تم گزشتہ تحریروں کو نظر میں رکھت ہوئ ہمیں یقین ہ کہ یہ
ہم ری ن سمجھی کی وجہ س ہ ۔
لیکن جس پہ و س بھی ہ دیکھ سک ہیں اور جہ ں تک سمجھ
سک ہیں تحریر اچھی ہ اور داد ٓاپ ک ح ۔
بھرپور داد ک س تھ
دع گو
وی بی جی
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8798.0
اب جی ک ہ زاد
اللہ ج ن ‘ آج ریح نہ کو کی ہو گی تھ ‘ ب ت ب ت پر اور بلاوجہ الجھ
رہی تھی۔ ج ب ت ک پتہ ہو‘ تو س جھ ؤ کی سو صورتیں نکل آتی ہیں۔
میرے ب ر ب ر پوچھن پر بھی۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔۔ ک سوا‘ کچھ کہہ نہیں
رہی تھی۔ چہرا‘ کدو کی طرح پھولا ہوا تھ ۔ میں اس ک ‘ اس روی
کو‘ متواتر کئی گھنٹوں س ‘ برداشت کر رہ تھ ۔ س را دن‘ کولہو ک
بیل کی طرح‘ ک کرو‘ گھرآت ‘ پ نڈی ک فریضہ انج دو۔ دن بھر ک ‘
غ ط س ط کی ‘ اپنی گردن پر لو‘ م ذرت خواہ نہ انداز اختی ر کی رکھو‘
یہ ہی نہیں‘ کھٹی کم ئی ت ی پر دھرن ک ب جود‘ بوتھ سیدھ نہ ہو‘
تو بڑی ذہنی اذیت ہوتی ہ ۔
میں کسی بحث ک موڈ میں نہیں تھ ۔ یہ بھی کہ ایک کہہ کر‘ سو
سنن کی‘ ا مجھ میں ت نہ رہی تھی۔ چخ چخ‘ ن صرف اعص بی
تن ؤ ک سب بنتی ہ ‘ ب کہ دو چ ر گھنٹ بھی چٹ کر ج تی ہ ۔ اس
ک ب د‘ موڈ سٹ ہون میں بھی‘ وقت لگت ہ ۔ میں ن ‘ ک ن لپیٹ
کر‘ اپن کمرے میں ج کر‘ لیٹ ج ن میں ع فیت اور سلامتی ج نی۔
میں لیٹ تو گی ‘ لیکن تذبذ میں لپٹی سوچوں ن ‘ آ لی ۔ عج ات
تھ ‘ کٹھی مٹھی سنن ک ‘ ک ن متحمل نہیں رہ تھ ۔ روح‘ م م ہ
ج نن ک لی ات ولی ہو رہی تھی۔ میری ح لت‘ نہ ج ئ م ندن نہ
پ ئ رفتن‘ کی سی تھی۔
کی میں‘ ب عزتی کران ک موڈ میں تھ ؟ ی ریح نہ کی لاش ور میں
چھپی محبت‘ مجھ ب چین و ب کل کر رہی تھی۔ میں تو یہ ہی
سمجھ رہ تھ ‘ کہ می ں بیوی کی محبت‘ دل اور دم س نہیں‘ یہ منہ
کی حدود و قیود میں‘ بسیرا رکھتی ہ ۔ یہ بھی ہو سکت ہ ‘ کہ نک ح
ن ‘ انہیں ایک دوسرے ک لی ‘ لاز و م زو کر دی ہ ۔ ایک
دوسرے س ‘ خی نت کرت ہوئ بھی‘ ب ہمی ت میں‘ کسی ن کسی
سطع پر‘ ایک دوسرے کی ضرورت موجود ہوتی ہ ۔ اہل نک ح‘
بہرطور‘ ایک دوسرے کی کڑوی کسی ی سن کر بھی‘ ایک دوسرے
س ‘ ذہنی سطح پر‘ جدا نہیں ہوت ۔ لگ ؤ ن سہی‘ ان ک درمی ن‘ لاگ
ک رشتہ اول ت آخر موجود رہت ہ ۔
اگر ہم رے درمی ن‘ کوئی رشتہ موجود نہ ہوت ‘ تو میں سرہ ن لگی
چ رپ ئی پر لیٹ ‘ اس طرح ب چین و ب سکون نہ ہوت ۔ یہ م م ہ‘
صرف میری ذات تک محدود نہ تھ ۔ ریح نہ بھی‘ سوجھ منہ والا
چہرا‘ ہر پ ن س ت منٹ ب د‘ کرا رہی تھی۔ کیسی بندہ ہ ‘ منہ س کچھ
پھوٹتی نہیں‘ بس آنکھیں دیکھ کر‘ پ ؤں پٹختی‘ واپس چ ی ج تی ہ ۔
یہ م م ہ‘ رو بہ رو رہن س ‘ کہیں خوف ن ک تھ ۔ میں ن سوچ ‘
فرار ک نت ئج‘ س من کرن س کہیں زی دہ‘ ہول ن ک ہوں گ ۔ مجھ
م م ک ‘ س من کرن چ ہی ۔ خود ہی‘ کٹی کٹ نکل ج ئ گ ۔ نکرے
لگن س ‘ ب ت بنن ک بج ئ ‘ بگڑے گی۔
میں چ رپ ئی س اٹھ کر‘‘ ب ہر آ گی ۔ ریح نہ کچن میں ک کر رہی تھی۔
آخر ب ت ک کس طرح آغ ز کروں۔ اس کی م ں کی بیم ری ک پوچھ لیت
ہوں‘ لیکن اس حوالہ س ‘ تو صبح ن شت کی میز پر‘ سیرح صل
گ تگو ہو چکی تھی۔ ثری کی ش دی کی تی ری ک مت ب ت کرت ہوں۔
یہ موضوع صحت مند نہیں تھ ۔ ثری ‘ میری بہن تھی۔ ریح نہ تو پہ
ہی‘ کہتی آ رہی ہ کہ میں ن ‘ س ری کم ئی‘ اپن بہن بھ ئیوں پر
روہڑ دی ہ ‘ اور ہم رے پ ہی کی رہ ہ ۔ آخر ب ت ک آغ ز تو کرن
ہی تھ ۔
میں ن کہ :کی کر رہی ہو؟
دیکھ تو رہ ہو‘ تمہ را اور تمہ رے بچوں ک ‘ سی پ پیٹ رہی ہوں۔
ہ ہیں‘ کی بکواس کرتی ہو۔ آج یہ ک کوئی نی کر رہی ہو‘ جو سی پ ک
ن دے رہی ہو۔
پچھ دس س ل س ‘ آگ میں منہ ہ ۔ میرے لیکھ میں‘ ش ب ش
ہی نہیں لکھی۔
کم ل ہ ‘ کس ب ت کی ش ب ش چ ہتی ہو۔ یہ ک تو‘ س ری عورتیں
کرتی ہیں‘ ت کوئی الگ س کر رہی ہو۔
میں ج نتی ہوں‘ تمہ ری بہنیں کتن کو ک کرتی ہیں۔ میرا منہ کھ واؤ۔
یہ ج ی کٹی‘ کیوں سن رہی ہو‘ آخر مجھ س ‘ کی غ طی ہو گئی ہ ‘
جو ت خواہ مخواہ م حول خرا کر رہی ہو۔
اچھ ‘ تو میں م حول خرا کرتی ہوں‘ م حول خرا نہ کرن والی ل
آؤ۔ س ری کیتی کترائی کھوہ میں ڈال رہ ہو۔
مجھ اس کی ج ی کٹی پر غصہ نہیں آ رہ تھ ۔ یہ تو‘ روز ک م مول
تھ ۔ مجھ پر حیرت ک طوف ن ٹوٹ رہ تھ ۔ ہوا کی ہ ‘ جو آپ س ب ہر
نکل رہی ہ ۔ یہ تو یک طرفہ لڑائی تھی۔ ت ہ آگہی س محرومی‘ اس
ک ج کٹ ل ظوں س ‘ کہیں بڑھ کر‘ پریش ن کن تھی۔
تمہیں فقط اپنی ذات س ‘ پی ر ہ ۔ کوئی دوسرا مرت ہ ‘ تو مرت رہ ۔
بڑے ہی افسوس کی ب ت ہ ‘ میں اپن لی ‘ کی خ ص کرت ہوں۔ ب ہر
س ‘ کوفت کھ کر آ ج ت ہوں اور تمہیں محرو رکھت ہوں۔ اپن لی
الگ س کپڑے س وا لیت ہوں۔
دن میں‘ بیس ب ر شیشہ دیکھت ہو‘ اور اپن چہرا دیکھ دیکھ کر‘
خوش ہوت رہت ہو۔
تمہیں میرے آئینہ دیکھن س کی ہوت ہ ۔
کیوں نہیں ہوت ‘ ت ن آج تک‘ میری ت ریف نہیں کی۔ خود س فرصت
م گی‘ تو ہی‘ کوئی دوسرا نظر آئ گ ۔
م م ہ سمجھن میں کئی گھنٹ لگ گی ۔ وہ جو سمجھ رہی تھی‘ وہ
ب ت تو‘ سرے س تھی ہی نہیں۔ اب ‘ صرف اب ہی نہیں تھ ‘ وہ میرے
گہرے دوست بھی تھ ۔ ہ اپنی ہر چھوٹی موٹی ب ت‘ ایک دوسرے
س شیئر کرت تھ ۔ ہم را دکھ سکھ ایک تھ ۔ ان کی موت ک ب د‘
سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ میں تنہ ہو گی تھ ۔ یوں لگت تھ ‘ جیس دنی
میں‘ میرا کوئی بھی نہ ہو۔ دنی میں میرا دکھ سکھ ک کوئی س تھی ہی
نہیں رہ ۔
اس دن‘ ک پر ج ت وقت‘ میں ن آئین میں دیکھ ۔ مجھ اپن
چہرے میں‘ اب ک چہرا نظر آی ۔ وہ ہی آنکھیں‘ وہ ہی ن ک‘ وہی رخس ر
غرض س کچھ‘ اب ک چہرے س مم ثل تھ ۔ یہ دیکھ کر‘ مجھ
حیرت آمیز خوشی ہوئی۔ ت س ‘ ج اداس ہوت ‘ آئین میں جھ نک
کر‘ اب ک ہ زاد س ‘ ملاق ت کر لیت ۔ ج بھی کوئی پریش نی آتی‘ ی
مس ہ دریش ہوت ‘ آئین میں جھ نک لیت ۔ آئین میں‘ موجود چہرے
ک ات ر چڑھ ‘ س م م ی مس ک حل دری فت کر لیت ۔
آج بھی‘ کچھ ایس ہی ہوا تھ ۔ چھوٹی‘ سخت م لی بحران س گزر رہی
تھی۔ آج ج م ی‘ اس کی آنکھوں میں‘ ب بسی اور ب کسی ک ب دل‘
امڈے چ آت تھ ‘ لیکن وہ زب ن س کچھ کہہ نہیں پ رہی تھی۔
آج ج میں ن ‘ آئین میں دیکھ ‘ کسی قس ک ابہ نہ تھ ۔ چہرے
ک ات ر چڑھ کی زب ن پر‘ یہ ہی تھ ‘ تمہ ری چھوٹی بہن ہ ‘ اس ک
لی ‘ کچھ کرو۔ اب کی تو بیٹی تھی‘ اس لی ‘ ابہ ک نمودار ہون ‘
ممکن ہی نہ تھ ۔ وہ انہیں بڑی عزیز تھی۔ میں بھی اس عزیز رکھت
تھ ۔ میں اس کی بہ قدر ضرورت مدد کر سکت تھ ‘ لیکن یہ ں‘ ایک
دوسرا ہی م مہ درپیش تھ ۔ ریح نہ مجھ ‘ اپنی ذات س محبت کرن
کی اج زت نہیں دے رہی تھی‘ چھوٹی کی م لی مدد پر کس طرح تی ر ہو
سکتی تھی۔ اس ثری کی ش دی پر کچھ دین ‘ کھٹک رہ تھ ۔ فوزیہ کی
مدد ک ذکر‘ آ بیل مجھ م ر‘ س ک ب ت نہ تھی۔ ک ش‘ میں الگ
س ‘ پس انداز کر لیت ‘ تو آج فوزیہ کی ب چ رگی ک مداوا‘ ہو سکت
تھ ۔ میں دیر تک ان ہی سوچوں میں ڈوب رہ ۔ کوئی حل نہیں نک ل پ
رہ تھ ۔ پھر اچ نک میرے قد آئین کی طرف بڑھ گی ۔
9-2-79
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
ٓاپ کی یہ ش ندار تحریر پڑھی۔ بہت زورآور ہ اور اس میں ٓاپ ک ایک
نی انداز نظر آی ۔ ی من رد انداز کہہ لیج ۔ یقین ج نیئ کہ رشک آی
پڑھ کر اور دل س داد نک ی۔ آپ ن ایک جگہ کہ کہ ہ کچھ زی دہ
ت ریف کر ج ت ہیں لیکن ایس نہیں ہ ۔ اس تحریر کو ہی دیکھیئ ۔
جتنی ت یف کی ج ئ ک ہ ۔ اس موضوع کو اس انداس س سوچن ہر
کسی ک بس کی ب ت نہیں۔
ہ ایس کئی لوگ ج کسی مسئ ہ میں ہوت ہیں تو ویس ہی کرن
کی کوشش کرت ہیں جیس کہ ان ک والد ایس موقع پر کی کرت
تھ ،اور اگر کچھ لوگوں کو ایس خی ل نہیں ٓای تو انہیں بھی ایس ہی
کرن چ ہیئ ۔ یہ ہم را خی ل ہ اور ایس ہی ہ ن اس تحریر س بھی
اخذ کی ہ ۔ آپ کی تحریر اگرچہ سوچن پر مجبور کرتی ہ ،اور ہر
شخص اپنی سوچ ک حس س نتیجہ ی نت ئج اخذ کر سکت ہ ،
لیکن ہمیں ایس ہی محسوس ہؤا۔
ہم رے گھر میں کئی قسموں ک کردار تھ اور ہ انہی کو محسوس
کرت رہ ۔ ب ب ،م ں ،بہنیں ،بھ ئی وغیرہ ،لیکن دو ایس کردار تھ
جنہیں ہ ن کبھی محسوس نہیں کی ۔ اور وہ تھ ایک می ں اور ایک
بیوی۔ یہ کردار پس پردہ رہت ہیں اور انس ن کی ش دی ہو ج ن تک
کبھی محسوس نہیں ہوت ۔ ی پھر ہمیں نہیں محسوس ہؤے۔ ٓاپ ن
کہ ں س ب ت شروع کی اور کہ ں لا چھوڑی ،ق بل تحیسن ہ ۔ ہم ری
طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ اس ب ت ک شکریہ بھی کہ ہمیں ٓاپ
کی تحریر ک توسط س پتہ چلا ہ کہ ہ بہت س ک کیوں کرت
ہیں۔ ایک چھوٹی سی عرض بھی کرن چ ہیں گ کہ ی تو ٓاپ ن
:مق لموں :کو زی دہ توجہ نہیں دی ی پھر ہمیں افس ن اور کہ نی ں
وغیرہ پڑھن کی ع دت نہیں رہی۔ ہمیں مق لموں کو پڑھن اور
سمجھن میں کچھ دقت ہوئی ہ ۔ یہ ب ت بی ن کرن اس لیئ ضروری
سمجھ ت کہ آپ ک ع میں ہو کہ کچھ لوگ ایس بھی ہو سکت ہیں
جنہیں اس قس کی مشکلات بھی پیش ٓا سکتی ہیں۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ ۔۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8787.0
ک من
وہ جہ ں گی ‘ بددی نتی‘ بدم شی‘ حرا ک ری‘ ہیرا پھیری اور دغ ب زی
ک سوا کچھ نظر نہ آی ۔ کوئی بھوک س ‘ مرت ہ ‘ تو مرے‘ کسی
کو‘ بھوک پی س کی ضرورت س ‘ کوئی دل چسپی نہ تھی۔ دا
لائ ‘ ضرورت خریدے اور چ ت بن ۔ اگر ب دا ہ ‘ تو سم ج ک
بڑے بڑے دی لو اور کرپ لو‘ منہ موڑ لیت ہیں۔ سنت ہوئ ‘ انہیں
سن ئی نہیں دیت ۔ دیکھت ہوئ ‘ انھیں دکھ ئی نہیں دیت ۔ سم ج کی اس
کٹھور رخی پر‘ کسی سر پھرے ی ضرورت ک مضرو ک ‘ ننگی
کرپ ن ل کر‘ نکل آن ‘ کوئی غیر فطری ب ت نہ تھی۔ کچھ آستین میں
خنجر چھپ کر نکل آئ تھ ۔ اس ن بھی‘ ت ج اور ظ لم نہ سم جی
اطوار ک خلاف‘ بغ وت کرن ک ‘ تہیہ کی ۔ پھر اس ن سوچ بہت
سووں ن یہ رستہ اختی ر کی ۔ کی ہوا‘ کچھ بھی تو نہیں۔ بغ وتیں کچل
دی گئیں۔ اگر ک می ہوئیں‘ تو تخت پر ق بض ہون وال بھی‘ پہ وؤں
ک رستہ پر چل نک ۔ وہی ب راہروی‘ زندگی ک حصہ و خ صہ رہی۔
وہ دیر تک سوچت رہ ‘ کہ آخر کی کرئ ‘ جس س بہتری کی کوئی
صورت نک ۔ دھی ن ک بطن س ہی گی ن جن لیت ہ ۔ وہ ویدی کی
تبدی ی پر ق در نہ تھ ۔ وہ سوچ ک ب ثمر ہون پر‘ یقین نہیں رکھت
تھ ۔ ہر کٹھن ئی کو‘ پ ر کرن ک رستہ ضرور موجود رہت ہ ۔ وہ سوچ
ک سمندر میں‘ کئی گھنٹ غر رہ ۔ ج واپس آی ‘ اس ک دامن میں
گی ن ک گلا مہک رہ تھ ۔
زی دہ دن نہ گزرے ہوں گ ‘ کہ علاق ک بچ بچ پر کھل گی ‘ کہ
گرداس مل ن تی گ اختی ر کر لی ہ ۔ سو طرح کی ب تیں ہوئیں۔
کسی ن کہ ‘ نکھٹو تھ ‘ گھرداری س فرار اختی ر کر گی ہ ۔
کسی ک کہن تھ َََ‘ کہ وہ مزاج دنی دار نہ تھ ۔ دنی میں رہت ہوئ
دنی میں نہ تھ ۔
غرض‘ جتن منہ‘ اتنی ب تیں سنن کو مل رہی تھی
اس تپسوی ہوئ ‘ دن‘ مہین ‘ پھر کئی س ل گزر گی ۔ لوگوں ک یہ
قی فہ‘ غ ط ث بت ہوا‘ کہ چند دن کی ب ت ہ ‘ بھوک‘ پی س عزیزوں کی
محبت‘ اس اسی دنی میں‘ واپسی پر مجبور کر دے گی۔ اسی دھی ن
ن اس ‘ دنی کی ہر ضرورت س ‘ ب لا کر دی تھ ۔ بھوک پی س محبت
ن ‘ اس ک دھی ن میں خ ل ڈالا‘ لیکن س ب اثر رہ ۔ وہ اٹل تھ ‘ اور
اٹل رہ ۔ ا علاق میں‘ اس ک مت ‘ پہ سی ب تیں نہ ہوتی تھیں۔
ا کسی کو‘ اس ک پہنچ ہوا‘ قی س کرن میں‘ کوئئ شبہ نہ رہ تھ ۔
لوگ اس گی نی سمجھ کر‘ اس ک پ س ح ضر ہوت ۔ ان میں ہر قو
اور مذہ کی عورتیں زی دہ تھیں۔ سلا و پرن ک ب د‘ دو زانو ہو کر‘
بیٹھ ج تیں۔ انتظ ر کرتیں‘ کہ ش ید آنکھیں کھول کر‘ خوشی ک پرش د
س سرفراز کرے گ ۔ ج خ موشی ک سوا کچھ نہ میسر آت ‘ تو سلا
وپرن ک ب د‘ الٹ قدموں واپس لوٹ ج تیں۔
سو طرح ک چڑھ وے چڑھن لگ ۔ وہ س ‘ لوگوں ک است م ل میں
آت ۔ کوئی یہ م و نہ کر پ ی ‘ کہ وہ ک اور کی کھ ت پیت ہ ۔ سوت ک
ہ ۔ ح جت ک لی ک ج ت ہ ۔ اس جس ن بھی دیکھ ‘ آنکھیں
بند کی ہوئ دیکھ ۔ ا وہ‘ ایک پہی ی کی صورت اختی ر کر گی تھ ۔
بہت س لوگوں ن ‘ غور کی ‘ لیکن کوئی اس ک دھی ن کو ج ن نہ
سک ۔ کچھ شریروں ن ‘ اس کی تپسی بھنگ کرن کی بھی کوشش کی‘
لیکن اس ک دھی ن میں‘ رائی بھر فر نہ آی ۔
اس کی تپسی پر‘ دیو گڑھ میں بھی‘ ہ چل مچ گئی۔ کچھ ن سوچ ‘ یہ
منش‘ برہم س سورگ پتی ہون ک ‘ بردان چ ہت ہ ۔ اگر یہ ہی ع ل
رہ ‘ تو برہم بردان دین پر مجبور ہو ج ئ گ ۔ شنی دیو کی ‘ اس کی
تپسی بھنگ کرن ک لی ‘ پون دیو‘ پھر اگنی دیو کو میدان میں اترن
پڑا۔ قی مت کی آگ ک گھیراؤ‘ اس کی تپسی میں آڑے نہ آ سک ۔ اسی
طرح کی‘ بیسیوں‘ زمین اور سورگ لوک س ‘ آفتیس اور آزم ئشیں
اتریں‘ لیکن وہ ٹس س مس نہ ہوا۔ برہم اول اول مسکرات تھ ‘ لیکن
ا وہ بھی فکرمند ہوا۔ ایس دھی نی ہی‘ بردان ک مستح ٹھہرا کرت
ہ ۔ وشنو اور شیو شنکر بھی‘ اس ک دھی ن س مت ثر ہوئ ۔ وہ
برہم ک پ س ح ضر ہوئ ۔ انہوں ن بردان دین کی س رش کی
برہم کو آخرک ر
اس دھی نی ک پ س آن ہی پڑا۔ پوتر میں برہم ہوں‘ کہو کی بردان ‘
میں چ ہت ہو‘ بولو ب دھڑک کہو
گرداس مل ن بڑے احترا س ‘ برہم دیو کو اپن پرن پیش
کرک ‘اس ک قد لی ۔ پھر بولا‘ پت شری! آپ دیکھ رہ ہیں‘ کہ
انس ن کس قدر وحشت پر اتر آی ہ ۔ ش نتی ن کی چیز‘ ڈھونڈے س
نہیں م تی۔ آپ مجھ سورگ لوک ک مقدس درخت ک روپ دے دیں۔
مجھ پر پھل کی بج ئ ‘ انس ن لگیں۔ اس کی م نگ میں بلاشبہ خ وص
موجود تھ ‘ لیکن اس م نگ ک کسی ن کسی گوش میں‘ میں اوروں
س برتر ہوں‘ ک احس س موجود تھ ۔ برہم بردان دے کر برہم لوک
لوٹ گی ۔
اس م م کو‘ صدی ں بیت گئیں۔ سورگ لوک ک شجر پتر اور دیوت ‘
خون ریزی میں مصروف تھ ۔ وہ ں ک انس نوں ن ‘ بڑی ع لی ش ن
عم رتیں ت میر کر لی تھیں۔ س ئنس کی ترقی عروج پر تھی۔ ہر شجر
پتر احس س برتری ک داعی تھ ۔ جنسی طوف ن زروں پر تھ ۔ سورگ
لوک کو‘ رہ ئش ک لی ‘ ن ک فی سمجھ ج رہ تھ ۔ مزید کی ہوس ن ‘
زمین پر قبض جم ن ک ‘ منصوب تی ر کرن شروع کر دی تھ ۔
اس منصوب پر‘ دن رات‘ بڑے زور و شور س ‘ سوچ ج رہ تھ ۔
م وم ت جمع کرن ک عمل‘ عروج پر تھ ۔ اس سوچ اور اس کی
تی ری ک نتیجہ میں‘ سورگ لوک ک ‘ امن اور سکون بھرشٹ ہو چلا
تھ ۔ ہر کوئی‘ زی دہ س زی دہ کو‘ وراثت بن ن ک منصوبہ بن رہ تھ ۔
ایک روز‘ لوگوں ن دیکھ ‘ کہ ایک شجر پتر‘ مقدس شجر‘ جو اس
نسل ک پت م تھ ‘ ک نیچ ‘ ایک ٹ نگ پر کھڑا‘ ج پ کر رہ تھ
وہ ب آواز ب ند کہہ رہ ۔۔۔۔۔۔برہم دیو پرگٹ ہوں۔۔۔۔۔۔برہم دیو پرگٹ
ہوں۔۔۔۔۔
اس ک انداز س لگت تھ ‘ کہ ٹ ن والا نہیں ہ ۔ لوگ اس ک پ س آ
رہ تھ ۔ وہ اس پوج رہ تھ ۔ اپنی ح جت روی ک لی کہہ
رہ تھ ‘ لیکن وہ اپن ک میں مصروف تھ ۔ سورگ ک دیو بھی
ششدر تھ کہ یہ شجر پتر‘ برہم جی س کی م نگن والا ہ ۔
کوئی کہہ رہ تھ ‘ یہ زمین پر قبض ک لی ‘ برہم کی حضوری ک
آرزو مند ہ ۔ یہ بھی کہ‘ ان ک پت م زمین ک ب سی تھ ‘ اس لی ‘ زمین
پر ان ک استحق کو‘ رد نہیں کی ج سکت ۔
کسی ک خی ل تھ ‘ کہ وہ دیوت ؤں کو‘ سورگ س ب ہر کرن ک لی ‘
کشٹ اٹھ رہ ہ ۔
غرض سو طرح کی ب تیں‘ سورگ ک ب سیوں میں چل رہی تھیں۔
ایک بوڑھ شجر پتر‘ مسکرا رہ تھ ۔ اس ن شجر مقدس کی پوری
کتھ پڑھ رکھی تھی۔ وہ ج نت تھ ‘ شخص کسی بھی لوک ک ہو‘ سیم بی
فطرت رکھت ہ ۔ ب چینی میں امن اور سکون کی ک من کرت ہ ۔ وہ
خرابی برداشت نہیں کرت ‘ لیکن خرابی کی بغیر رہ بھی نہیں سکت ۔
اس بوڑھ کو‘ گی ن ہو گی تھ کہ یہ تپسوی‘ منش پتر بنن ک لی ‘
برہم دیو کو کشٹ دے رہ ہ ۔ وہ یہ بھی ج نت تھ ‘ کہ یہ تپسوی‘
برہم س بردان ح صل کی بغیر‘ یہ ں س نہیں ٹ گ ‘ کیوں کہ جو
دھ ر کر آت ہیں‘ کٹ ج ت ہیں‘ قد پیچھ نہیں رکھت ۔ یہ اصول
بھی ہ ‘ اور ویدی ک ویدان بھی‘ یہ ہی چلا آت ہ ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
واہ جن واہ۔ آپ کی نظر کہ ں کہ ں تک ہ ،یہ تحریر پڑھ کر پتہ چلا۔
پھر آپ کہت ہیں کہ ریشم ں جوان نہیں رہی۔ ص ح اس تحریر ک
ٓاخر میں آپ ن مرہٹوں کی سرکوبی کی ت ریخ رق نہیں کی سو ہم را
خی ل ہ کہ تحریر نئی بھی ہ اور ریشم ں کی جوانی کی سند بھی۔
اور ص ح ہم رے خی ل س ریشم ں کبھی بوڑھی نہیں ہوتی ،اس پر
مرن والی آنکھیں بوڑھی ہو ج تی ہیں۔
اس تحریر ن ہمیں جیت لی ہ ۔ ایک تو اس س یہ پتہ چ ت ہ کہ
آپ کی نظر کہ ں کہ ں تک ہ ۔ ظ ہر ہ کہ یہ موضوع کوئی بچوں ک
کھیل نہیں ہ ۔ اور اس پر لکھن ک خی ل تک ٓان ،بہت بڑی ب ت ہ ۔
دوسرا آپ ک ع ک بھی پتہ چ ت ہ کہ کس گہرائی س آپ ن
مش ہدہ کی ہ ۔ اگر اس موضوع س مت ب ریک چیزوں ک ع نہ ہو
تو ظ ہر ہ کہ چند ٹوٹ پھوٹ فقروں ک سوا کوئی اس پر کچھ
نہیں لکھ سکت ۔ اور ٓاپ ن تو کم ل حک یت بی ن کی۔ دل عش عش کر
اٹھت ہ ۔
اس پہ پڑھ تو کئی ب تیں ذہن میں آئیں لیکن اس دوب رہ پڑھ اور
پھر ایس محسوس ہؤا کہ کچھ کہن کی ضرورت نہیں رہ ج تی۔ ٓاپ ن
کوئی کونہ خ لی نہ چھوڑا ہ ۔ ویدی ک ویدان ہم رے اپن خی ل س
مت بھی یہی ہ ۔ ج تک دنی ق ئ ہ کوئی نہ کوئی گی نی کہیں نہ
کہیں ایک ٹ نگ پر کھڑا ہوت رہ گ ۔ اور ش ئید ذات ب ری ت ل ٰی بھی
نہیں چ ہتی کہ آذان ک ہوت ہی س :مسیت :میں ج پڑیں۔ کچھ لوگ
سیمن گھروں میں بھی نظر آت رہیں گ ۔
ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ بہت ہی عمدہ تحریر ہ ۔ ٓاپ
جیس ص حب ن ع اس دنی ک سرم ی ہیں ،جس ب قدرے لوگ
صرف عی شی پر خرچ کرن چ ہت ہیں۔
اللہ پ ک ٓاپ ک ع اور صحت میں برکت عط فرم ئیں۔
دع گو
وی بی جی
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8794.0
م سٹر جی
م سٹر جی‘ پچھ تیس س ل س ‘ گ ؤں ک بچوں کو پڑھ رہ تھ ۔
خدا لگتی تو یہ ہی ہ ‘ کہ وہ بڑی ایم ن داری س ‘ اپن یہ فریضہ
انج دے رہ تھ ۔ ج کبھی بیم ر پڑت ‘ تو بیم ری کی ح لت میں
بھی‘ سکول چ آت ۔ بچوں س ‘ اس طرح محبت کرت ‘ جیس وہ
ان ک اپن بچ ہوں۔ اگر کوئی بچہ بیم ر پڑت ‘ تو اس ک پوچھن ‘
اس ک گھر ج ت ۔ بچ بھی ان س بڑے م نوس تھ ۔ یہ ہی نہیں‘
ہر کسی کی غمی خوشی میں‘ شریک ہوت ۔ وہ بچوں کو‘ ن صرف ت ی
کی دولت س م لا م ل کرت ‘ ان کی تربیت کو بھی‘ اپن فرض
سمجھت تھ ۔ ا تو‘ بچوں ک بچ بھی‘ سکول میں داخل ہوچک
تھ ۔ بہت س بچ ‘ مڈل اور ہ ئی سکول دور ہون کی وجہ س ‘
صرف پرائمری تک‘ ت ی ح صل کر سک تھ ۔ بیسیوں بچوں ن ‘
میٹرک تک ت ی ح صل کر لی تھی۔
ان س ب توں ک ب وجود‘ ان میں ایک دو ع دتیں‘ ہمیشہ س ‘ خرا
چ ی آ رہی تھیں۔ کئی ایک ن خوشگوار تجربوں ک ب وجود‘ انہوں ن
اپنی یہ ع دت ترک نہ کی تھی۔ کوئی غ ط ک کرت ‘ تو منہ پر‘ اور س
ک س من ہی‘ ٹوک دیت ۔ وہ اس حوالہ س ‘ بڑے ب لح ظ اور منہ
پھٹ واقع ہوئ تھ ۔ وہ اس ذیل میں‘ بندہ کوبندہ بھی نہیں دیکھت
تھ ۔ وہ بلاط ‘ مشورہ دین ک ‘ ضرورت س زی دہ‘ شو رکھت
تھ ۔ لوگوں ک م م ہ میں‘ یوں ہی ٹ نگ اڑا لیت تھ ۔ یوں لگت
تھ ‘ کہ جیس اصلاح ک انہوں ن ٹھیکہ ل رکھ تھ ۔
ایک مرتبہ‘ شہ ب کمہ ر اور جیرا تی ی‘ کسی لین دین ک مس پر‘
الجھ پڑے۔ ب ت ہ تھ پ ئی تک پہنچ گئی۔ م سٹر جی‘ بن بلائ وہ ں ج
پہنچ ۔ لوگ بچ بچ ؤ کرا رہ تھ ‘ یہ بھی میدان میں کود گی ‘ اور
بچ بچ ؤ کران ک س تھ س تھ اپن لیکچر پلان لگ ۔ شہ ب کمہ ر
ن ‘ مروت س ہ تھ روک لی ۔ اس ک بچہ‘ م سٹر جی ک پ س پڑھت
تھ ‘ لیکن جیرے تی ی ن انہیں زور دار دھک دی ‘ اور وہ دور ج گرے۔
ان ک سر پر چوٹ آئی۔ شہ ب کمہ ر یہ برداشت نہ کر سک اس ن
دوب رہ لڑائی ج ئین کر لی‘ اور بڑی ب جگری س لڑا۔ دونوں کو
ٹھیک ٹھ ک ضربیں آئیں۔ کسی ک ک میں‘ م ت میں پنگ لین کی کی
ضرورت تھی۔
ش مو گوجر‘ اور اس کی بیوی ک جھگڑا ہو گی ۔ ب ت‘ کورٹ کچری تک
ج پہنچی۔ انہوں ن ‘ م م ہ ادھر ادھر س م و کرای ۔ انہیں بت ی گی ‘
کہ ش مو گوجر جھوٹ ہ ۔ م سٹر جی‘ ش مو گوجر ک پ س ج پہنچ ‘
اور اس اس کی ب ت سن بغیر ہی‘ جھوٹ کرن بیٹھ گی ۔ اس پر‘
وہ ت ؤ میں آ گی ۔ اس ن بلا سوچ سمجھ ‘ م سٹر جی پر‘ اپنی
بیوی ک الزا دھر دی ۔ م سٹر جی‘ اس قس کی امید نہ رکھت تھ ۔
وہ ں دو چ ر اور لوگ بھی بیٹھ ہوئ تھ ۔ یہ خبر‘ دیکھت ہی
دیکھت ‘ پورے گ ؤں میں پھیل گئی۔ بہت طرح کی ب تیں ہوئیں۔ کچھ
ن ‘ ب ت کو سچ بھی م ن لی ۔ ح لاں کہ سرے س ‘ ایسی کوئی ب ت ہی
نہ تھی۔
راجو دودھی‘ م سٹر جی کی بڑی عزت کرت تھ ۔ ج بھی‘ رست میں
م سٹر جی اس م ت ‘ جھک کر سلا کرت ۔ دونوں ہ تھوں س ‘ مص فہ
کرت ۔ خوش گوار موڈ میں ہوت ‘ تو ایک گلاس دودھ انہیں بھجوات ۔
م سٹر جی ک ک ن میں کسی ن ڈال دی ‘ کہ وہ دودھ میں پ نی ملات
ہ ۔ اس الزا ک ‘ حقیقت س دور ک بھی‘ واسطہ نہ تھ ۔ وہ تو‘ پ نی
کو دودھ س آلودہ کرت تھ ۔ م سٹر جی ب طور خ ص‘ اس ک گھر
گئ ۔ اس حوالہ س ‘ سمجھ ن بیٹھ گی ۔ ص ف ظ ہر ہ ‘ اس غصہ
آن ہی تھ ۔ راجو دودھی ن ‘ انہیں پ نی تک ک نہ پوچھ ‘ اور بڑی
کرختگی س ‘ چ ت کی ۔ اس ک لڑک ‘ م سٹر جی ک پ س پڑھت تھ ‘
اس بھی اٹھ لی ۔ اس ک موقف تھ ‘ ہ ن کون س ‘ پڑھ لکھ کر‘
پٹواری بن ن ہ ۔ بڑا ہو کر‘ ک تو یہ ہی کرن ہ ۔ پٹواری‘ دودھ میں
پ نی ملات ہ ‘ اس کوئی پوچھت نہیں۔ راجو تو‘ پ نی میں دودھ ملات
تھ اور م سٹر جی اس پوچھن بیٹھ گی تھ ۔
م سٹر جی کی ان اوٹ پٹنگ حرکتوں س شرف سخت پریش ن تھ ۔ وہ
کئی ب ر چودھری س ان کی ان خلاف م شرت نقل و حرکت کی
شک یت کر چک چک تھ ۔ چودھری دل گردے ک آدمی تھ متواتر
برداشت س ک ل رہ تھ ۔ اس دن تو حد ہی ہو گئی۔ م سٹر جی
گرفت میں چودھری ک بڑا بیٹ آ گی ۔ انہوں ن کڑیوں ک شو ک
خلاف پورے دس منٹ لیکچر دی ۔ اتنی دیر جیرے ن ئی کی بیٹی سکی
بچ کر نکل گئی۔ اگر حسن س چودھری اور اس ک بیٹ لطف اندوز
نہیں ہوں گ تو چودھری ہون ک ف ئدہ ہی کی ہ ۔ گ ؤں کی عزت
رور مشقت ک تصرف ک پہلا ح چودھری اور اس کی اولاد ک ہوت
ہ ۔ کمی کمین آخر ہوت کس لی ہیں۔
چودھری ک بیٹ کو بڑا ت ؤ آی ۔ ہ تھ آی شک ر‘ جھٹک س بچ گی
تھ ۔ اس ن ب پ س ‘ م سٹر جی کی بداطواری اور چودھراہٹی امور
میں‘ ب ج دخل اندازی کی شک یت کر دی۔ بیٹ ک منہ نک ال ظ
ن ‘ چودھری کو چکرا کر رکھ دی ۔ دو ٹک ک منشی‘ اور چودھراہٹ
میں مداخ ت‘ بلاشبہ‘ جر عظی تھ ۔ ط قت کسی قس کی روک ٹوک اور
نکتہ چینی‘ برداشت کرن کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سرمد ک یہ ہی
قصور تھ ن ‘ کہ عصری ط قت دشمن‘ دارا شکوہ س سلا دع رکھت
تھ ۔ یہ ہی نہیں‘ تنقید بھی کرت تھ ۔ مذہ ک کوئی چکر ہی نہ تھ ۔ ہ ں
ع م ن ‘ سرمد ک خلاف فتوی دی ی ان س لی گی ۔ ہند‘ کوئی
اسلامی ری ست نہ تھ ‘ مس م ن تو‘ اق یتی آب دی تھ ۔ غیرمس ک مہ‘
اس ک منہ س نک ن ‘ جر نہ تھ ۔ ب غی‘ ب غیوں ک دوست ی ط قت
ک نق د‘ ط قت کو خوش نہیں آ سکت ۔
م سٹر جی کو‘ چودھری ن ڈیرے پر بلا لی ۔ م سٹر جی وہ ں آئ ۔
وہ ں کچھ لوگوں کو‘ پتہ ب زی کرت دیکھ لی ۔ ان ک دم گھو گی ۔
انہوں ن ‘ اد آداپ بج لان کی بج ئ ‘ پتہ ب زی اور اس کی پشت
پن ہی پر‘ چودھری ہی کو لیکچر پلان شروع کر دی ۔ وہ ں ام مسجد
ص ح بھی تشریف رکھت تھ ۔ م سٹر ص ح کی یہ حرکت‘ کھ ی
گست خی تھی۔ چودھری ص ح ک ک یجہ دیکھی ‘ س پی گی ۔ م سٹر
ص ح کی بڑی عزت کی گئی۔ ان کی چ ٹی کی لسی س ‘ تواضح
کرک ‘ رسمی سی دو چ ر ب تیں کرک ‘ رخصت کر دی گی ۔ م سٹر جی‘
چودھری ک رز پر‘ ک ہ ڑا چلا گی تھ ۔
اس ب ت کو‘ دو م ہ گزر گی ۔ پھر ایک دن‘ پت ‘ چلا کہ م سٹر جی
مذہ کی توہین ک مرتک ہوئ ‘ اور ان ک یہ جر ‘ ن ق بل م فی ہ ۔
دیکھت ہی دیکھت ‘ م سٹر جی جوتوں‘ تھپڑوں اور ٹھوکروں کی زد
میں آگی تھ ۔ ان پر چھتروں کی ب رش کرن وال ‘ ان ک بہت
س چہت ش گرد بھی تھ ۔ کہ ں تک برداشت کرت ‘ آخر انس ن
تھ ‘ چل بس ۔ ان کی لاش‘ مسجد کی سڑھیوں پر‘ لاوارث پڑی تھی۔
انس ن س کچھ برداشت کر سکت ہ ‘ مذہ ک خلاف کچھ نہیں سن
سکت ۔
اس ب ت کو عرصہ گزر چک ہ ۔ چودھری ک بڑا بیٹ ‘ چودھری ہ ۔
قہقہوں اور ٹھٹھوں میں م بوس‘ م سٹر جی ک ذکر ہوت رہت ہ ۔
مرحو سراج‘ جو پولیس مق ب میں م را گی تھ ‘ ک حوالہ س ‘ یہ
بھی سنن میں آت ہ ‘ کہ م سٹر جی کی گست خ آنکھوں ن ‘ ام
مسجد ص ح کو‘ حجرے میں‘ ایک لڑک ک س تھ‘ رویتی ف ل میں
مصروف‘ دیکھ لی تھ ۔ اصل حقیقت کی ہ ‘ آج بھی پردہ پڑا ہوا ہ ۔
ت ہ اس ب ت پر س مت ہیں‘ کہ م سڑ جی مذہ دشمن تھ ۔ ان ک
س تھ جو ہوا‘ عین ح ‘ انص ف اور مذہ بچ ؤ ک تحت ہوا۔ ہر مذہ
دشمن ک س تھ یہ ہی ہون چ ہی ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
بہت اچھی تحریر جن ۔ ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ ٓاپ
ب ت کرن ک فن ج نت ہیں۔ خوبی یہ ہ کہ م شرے ک ایک ت خ
رویئ کو ٓاپ ن ایک چھوٹی سی کہ نی میں سمو دی ہ ۔ اور پھر پر
اثر بھی ہ ۔ پڑھ کر ہمیں کچھ کچھ محسوس ہؤا کہ م سٹر جی شکل ہ
س کچھ م تی ج تی سی ہ ۔ لیکن مسئ ہ یہ ہ کہ لوگوں کو ت قین
کرن م سٹر جی ک اص ی روپ ،ی اص ی چہرہ تھ ۔ اور اس پر کتن ہی
نق ڈال لیئ ج ئیں وہ اس س بچ نہیں سکت تھ ۔ مذہ والا
نقطہ بھی فی صد درست ہ ،کہ اس میں ویس ہی عقل کو ایک
طرف رکھ دی ج ن ہوت ہ سو ان م م وں میں سمجھ کی ضرورت تو
ہوتی نہیں۔ مولوی ص ح ک س تھ بھی یہی ہؤا کہ ایک دن اص ی
چہرہ س من ٓا ہی گی ۔
ہم ری طرف س بھروپر داد قبول کیج ۔
دع گو
وی بی جی
shukarriya janab
sachi baat to yah hai kah aap ke lafz mujhy bara
hosla daite hain aur mein type karne baith jata
hoon warna mare baad yah sab khuch raddi
bikta. ab chalo kisi haad tak mehfooz to ho gya