لیتی ہیں۔ آدمی بہت کچھ کر گزرن کی خواہش رکھت ہوئ بھی‘ کچھ
نہیں کر پ ت ۔ اس کی اپنی جمع پونجی‘ اس کی اپنی نہیں رہتی۔ تجربہ‘
کمزور ح فظ ک منہ میں ج کر‘ خود ک نش ن بھی نہیں تلاش کر
پ ت ۔ جوانی تس ی کی خو کو قبول نہیں کرتی اس ک برعکس‘ بڑھ پ
ہ ں اور ن ں ک تذبذ میں لمح گزار کر‘ لحد میں اتر ج ت ہ ۔ میں
اپنی غ طی‘ ا بھی‘ تس ی نہیں کرن چ ہتی۔ غ طی تس ی کرتی ہوں‘ تو
ب وجود ہوتی ہوں۔ غ طی تس ی نہیں کرتی‘ تو میرا ضمیر مجھ
سکھ ک س نس نہیں لین دیت ۔ س ری عمر‘ اس ن نیند کی گولی ں
کھ ئ رکھی ہیں‘ آج ج ن کیوں ج گ اٹھ ہ ۔ زندگی ج بھرپور
ہوتی ہ ‘ اس وقت تمیز و امتی ز ک دروازے بند رہت ہیں۔ کوئی
دستک ک نوں تک نہیں آ پ تی۔
آج‘ ج ہر لمحہ‘ موت ک قری ہو رہ ہ ‘ مجھ اپن م ضی کی
غ طیوں ک احس س ہو رہ ہ ۔ اگر دیکھ ج ئ ‘ تو اس غ طی بھی
نہیں کہ ج سکت ۔ میں دینو ک گھر میں‘ م شی طور پر آسودہ نہ
تھی۔ دو وقت کی روٹی ب مشکل م تی تھی۔ روٹی ہ ‘ تو س لن نہیں۔
کپڑے ہیں‘ تو جوت نہیں۔ گھر میں کچھ بھی تو مکمل نہیں تھ جو
تھ ‘ ادھورا اور ن مکمل تھ ۔ ہم ری شخصیت بھی ادھوری اور ب سری
تھی۔ ب ت ب ت پر‘ ہ دونوں بحث وتکرار پر اتر آت تھ ۔ دور کی
مرگ پر ج ن ک لی ‘ ہم ری جی میں کرایہ تک نہ ہوت تھ ۔ زندگی
ک بیشتر لمح ‘ ادھ ر پر چ ت تھ ۔ اس میں دینو ک بھی کوئی
قصور نہ تھ ۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر مزدوری پر چلا ج ت تھ ۔ دھ ڑ
میں س بہت ق یل‘ اپنی ذات پر خرچ کرت تھ ۔ ب قی س ‘ میری ہتھی ی
پر رکھ دی کرت تھ ۔
میں اس ‘ اپن والدین ک بھی قصور نہیں سمجھتی۔ ان ک بیٹ اپنی
بیوی کو ل کر‘ الگ ہو گی تھ ۔ وہ بوڑھ تھ ۔ میں دینو کی کم ئی
ک آدھ ‘ ی کبھی اس س زی دہ‘ ان پر خرچ کر دیتی تھی اور گھر میں
زی دہ تر‘ ہ ن ڈال رکھتی تھی۔ خدا لگتی یہی ہ ‘ کہ دینو ن کبھی
حس تک نہیں م نگ تھ ۔ انہوں ن واجبی شکل ک ‘ مجھ س عمر
میں بڑے شخص کو‘ لڑکی اسی لی دی تھی‘ کہ میں ان ک م شی
س تھ دیتی رہوں۔
اس روز‘ دینو ک س لوٹ تو‘ وہ پسین میں شرابور تھ ۔ اس ک
چہرے پر‘ پریش نی کی لکیریں بڑی گہری تھیں۔ منہ ہ تھ دھو کر‘ بیٹھ
تو میں ن پریش نی کی وجہ دری فت کرن کی بج ئ ‘ دو ریپ ک
دین پر بحث شروع کر دی۔ اس ن ابھی دو چ ر لقموں س زی دہ
نہیں لی ہوں گ ‘ کہ اس ک چہرا غ آلود غص س سرخ ہو گی ۔
اس ن آگ پڑا کھ ن ‘ زمین پر پٹک دی ۔ اس ب ت پر ہم ری تو تکرار
میں اض فہ ہو گی ۔
اگر پورا نہیں کر سکت تھ ‘ تو ش دی کیوں کرائی تھی؟ میں ن اس
ک تیور دیکھت ہوئ کہ
گزارا کرن ہو تو‘ روکھی سوکھی پر بھی ہو سکت ہ ۔ اس ن جواب
کہ
گزارا ہی تو کر رہی ہوں۔۔۔۔ کون س کوفت اور ککڑ کھ ن کو دیت
ہو۔
شیداں گزارا کرو۔۔۔۔۔۔ گزارا۔۔۔۔۔۔۔۔ جو م اس پر اللہ ک شکر ادا کی
کرو۔
ج س تمہ رے گھر آئی ہوں گزارا ہی تو کر رہی ہوں۔
ب پ ک گھر میں کوفت کھ تی آئی ہو؟ میں انہیں بھی ج نت ہوں۔ ا
کہ دینو ک لہجہ بڑا ج رح نہ ہو گی ۔
میرے ب پ کو پن رہ تھ ‘ اس پر میں آپ س ب ہر ہو گئی۔ میں ن
اس ک خ ندان ک ہر فرد کی اوق ت اس ک س من رکھ دی۔ اس پر
وہ ت ملا اٹھ اور گھر س ب ہر ج ن لگ ۔ میں ن روک کر کہ ‘ اگر
گھر نہیں چلا سکت ‘ تو مجھ طلا دے دو۔ میرے منہ س طلا ک
ل ظ سن کر‘ وہ سکت میں آ گی ۔ اس ن میری طرف دیکھ اور طلا
طلا طلا کہت ہوا گھر س ب ہر نکل گی ۔
وہ طلا طلا طلا کہہ کر چلا گی لیکن مجھ حیرت اور پریش نی
ک سمندر میں پھینک گی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی‘ کہ دینو
جیس م ذور شکل ک شخص‘ اس سطح پر بھی اتر آئ گ ۔ میں اس
س بڑھ کر‘ بیسیوں ب ر ب عزتی کر چکی تھی‘ لیکن وہ اس سطح
تک کبھی نہیں آی تھ ب کہ م ذرت خواہی پر اتر آت تھ ۔ یہ س میری
توقع ک برعکس ہو گی تھ ۔
وہ رات دیر گی واپس لوٹ ۔ کچھ کہ سن بغیر‘ اپن بستر پر لیٹ
گی ۔ دونوں ج ن چپ ک روزہ تھ ۔ آخر میں ن ہی پہل کی۔
دینو بہت بڑی غ طی ہو گئی ہ ۔ میرے منہ س ل ظ طلا نکل گی ‘ ت
ہی چپ رہت ۔ ا کی کریں۔ مولوی ص ح س پوچھو۔ کوئی تو حل ہو
گ۔
پوچھ ہ ‘ انہوں ن کہ ہ ‘ حلال ک سوا‘ اس ک کوئی دوسرا حل
موجود نہیں۔
حلالہ ک لی کس س کہیں؟! میں ن پریش نی ک ع ل میں کہ
مولوی ص ح یہ قرب نی دین ک لی تی ر ہو گی ہیں۔
حلالہ ک ب د‘ مولوی ص ح مجھ اپن ہ ں ل گی ۔ ان ک ہ ں
کھ ن ک س م ن وافر تھ ۔ گھر بھی‘ ضرورت کی ہر ش س بھرا ہوا
تھ ۔ گھر دیکھ کر‘ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک دیندار
انس ن ک گھر‘ عیش وعشرت ک اتن س م ن۔۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں
سکتی تھی۔ وہ رات بڑی آسودہ گزری۔ کھ ن پین کو پیٹ بھر ہی
نہیں‘ وافر دستی تھ ۔
اگ ی صبح دینو آی اور اس ن مولوی ص ح س طلا ک لی کہ ۔
مولوی ص ح ن جواب کہ ‘ ت خود پوچھ لو‘ اگر طلا لین چ ہتی ہ
تو‘ میں ابھی دے دیت ہوں۔ اتنی جنسی اور پیٹ کی آسودگی ک ب د‘
مولوی ص ح کو طلا دین ک لی کہن ‘ کھ ی حم قت تھی۔ دینو
غیر تھ ‘ ا میرے لی ‘ غیرمحر ک س من آن ‘ غیر شرعی امر تھ ۔
ا میں ایک ب شرع شخص کی بیوی تھی۔
میں ن دینو کو ج ت ہوئ لاپرواہ نظروں س دیکھ ۔ یوں س یہ س ‘
لاش س مم ثل نظروں س اوجھل ہو گی ۔
میں اس حقیقت س انک ر نہیں کرتی‘ مولوی ص ح ک گھر میں
مجھ اور میرے پچھ وں کو‘ پیٹ بھر ملا ہ اور میرے ہوت ‘
مولوی ص ح کو دوسرے حلال کی جرآت نہیں ہوئی۔ چوری چھپ
کوئی کر گزرے ہوں‘ تو یہ الگ ب ت ہ ۔ ہم رے ہ ں م نگ ک رز آی
ہ ۔ یہ م نگ رز کوئی تھوڑا نہیں‘ بہت آی ہ ۔ مولوی ص ح م نگ
لین میں کوئی برائی نہیں سمجھت ۔ انہوں ن ایک درس بھی کھول
رکھ ہ ۔ چھوٹ چھوٹ بچ ‘ درس ک لی چندہ لین ک لی
چڑھ رہت ہیں۔ اچھ خ ص چندہ بٹور لات ہیں۔
مولوی ص ح اس انتظ ر میں رہ ہیں‘ کہ ک طلا م نگتی ہوں۔ میں
پ گل نہیں‘ کیوں کہ ا حلال کی نوبت نہیں آئ گی۔ مولوی ص ح
کو مجھ س ‘ کہیں بہتر‘ حلال میں مل ج ئ گی۔ اگر ایک فیصد
حلال کی نوبت آ بھی گئی تو‘ مولوی ص ح جیسی اس می نہ مل
سک گی۔
آج بڑھ پ ن ش ید ہوش غ رت کر دئ ہیں‘ ت ہی تو سوچتی ہوں‘
کہ دینو کی پسینہ آمیز کم ئی میں‘ ب حد سواد تھ ۔ اس وقت مجھ
کوئی بیم ری لاح نہ تھی۔ یہ ں حلال ک دو م ہ پ د ہی م دہ کی
بیم ری لاح ہوگئی۔ اس ک ب د شوگر ن آ گھیرا۔ کمردرد تو م مول
ک م م ہ ہ ۔ بی پی کی کسر رہ گئی تھی‘ وہ بھی گ ک ہ ر بن گئی
ہ ۔ مولوی ص ح کسی کی جی تو نہیں ک ٹت ‘ اس ک ب وجود ان ک
لای ہوا رز ‘ ذائقہ میں‘ دینو ک لائ س نہیں۔
1-2-1976
جن محتر ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح
سلا مسنون پیش خدمت ہ
ڈاکٹر ص ح آپ کی تحریریں ب س ن یس بولتی ہیں اپن پ س س
گزرن والوں کو مخ ط کر ک کہتی ہیں کہ آؤ ہمیں پڑھو ہ س
کچھ سیکھو کچھ اخذ کرو ،یہ دل کو چھو لین والی تحریر جو حقیقت
س قری ترین م شرے س جڑے کرداروں کو ب نق کرتی ہوئی
بہت س سوال بہت س ب تیں ذہن میں پیدا کرتی ہوئی اپن پڑھن
وال کو مجبور کر رہی ہ ۔ میرے ذہن میں بھی کچھ ب تیں آئیں جنک
اظہ ر خی ل ضروری سمجھت ہوں
حلال و حرا کی پ بندی و شرائط ک کہ ں اور کس لئ کی بنی د پر ان
ک ن ذ حکمیہ طور پر خ ل ک ئین ت ک مرت کردہ ہ
نک ح فرض ہ ،نک ح واج ہ ،نک ح سنت ہ ،نک ح مستح ہ
یہ وہ شک یں ہیں جنہیں ہ ج نت ہیں مگر نک ح حرا ہ جی نک ح
حرا ہ محر ک س تھ مگر نک ح ن محر کہ جس س نک ح حلال
ہ حرا بھی ہ وہ اس صورت میں کہ ج کوئی ایس شخص جو
نک ح تو کرل مگر حقو ذوجیت ادا کرن کی صلاحیت س محرو
ہو ن مرد ہو تو ایس شخص ک نک ح کہ جس کی منکوحہ اپنی جنسی
ضرورت اور خواہش کو کسی اور ذرائع س پورا کرے وہ بھی حرا
ہ
طلا دین حلال ہ مرد ک لئ مگر تم حلال ک موں میں یہ وہ حلال
ک ہ جس اللہ ب ری ت ل ٰی ن ن پسند فرم ی ہ ،عورت کو طلا
دین ک ح ح صل نہیں ہ ہ ں خ ع ل سکتی ہ ،اگر عورت کو
طلا ک اختی ر دے دی ج ت تو دن بھر میں بیسیوں ب ر طلا دے دیتی
اپن مرد کو ،مگر مرد اس م م میں ص بر ہ اور بہت ہمت و
برداشت والا ہوت ہ
شرعی طریقہ یہ ھ کہ عورت تین طلاقوں ک ب د اگر دوب رہ پہ
شوھر س نک ح کرن چ ھتی ھ تو وہ کسی دوسرے مرد س نک ح
کرے بغیر اس نیت ک کہ وہ پہ ک لی حلال ھون چ ھتی ھ ،
پھر وہ شوھر اس اپنی مرضی س طلا دے،مگر اس نیت س نہیں
کہ وہ پہ ک لی حلال ھو ج ئ ،ی پھر وہ مرج ئ ،اس طرح
!!!عورت پہ شوھر س نک ح کرسکتی ھ
لیکن جو حلالہ ک طریقہ ھم رے م شرےمیں رائج ھو
چک ھ ،جوکسی بھی ص ح ع س مخ ی نہیں ھ {اس قس ک
لوگوں پر نبی ص ی اللہ ع یہ وس ن ل نت کی ھ ،ی نی حلالہ کرن
والا اور جس ک لی کی ج ئ ،آپ ن اس کرائ ک س نڈ قرار دی
ھ }یہ ھ اندھی تق ید جس میں یہود ونص ر ٰی مبتلاء تھ ی نی بغیر
شرعی دلیل ک آنکھیں بند کرک کسی چیز پر عمل کرن ۔
سنن ابوداود
كت النك ح
نک ح ک احک و مس ئل
ب في التح یل
ب :نک ح حلالہ ک بی ن۔
حدیث نمبر 2076 :
حدثن حمد بن یونس ،حدثن زھیر ،حدثني إسم عیل ،عن ع مر ،عن
الح رث ،عن ع ي ،رضى اللہ عنه -ق ل إسم عیل و راہ قد رف ه إلى النبي
ص ى اللہ ع یه وس -ن النبي ص ى اللہ ع یه وس ق ل "ل ن اللہ المح ل
والمح ل له ".
سیدن ع ی رضی اللہ عنہ س مروی ہ کہ نبی کری ص ی اللہ ع یہ
وس ن فرم ی ”حلالہ کرن والا اور جس ک لی کی گی ہ
“(دونوں) م ون ہیں۔
ق ل الشیخ الألب ني :صحیح
اسم عیل اعج ز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8684.0
م ئی جنت زندہ ب د
ج دیکھو‘ ب ب عمر اور م ئی جنت ‘ کسی ن کسی ب ت پر‘ بحث کر
رہ ہوت ۔ لوگ‘ ان کی تو تکرار س بدمزا ہون کی بج ئ ‘ لطف
اندوز ہوت اور رک کر‘ ان ک مک لم سنت ۔ وہ اس پھپھ کٹن
کہت ‘ م ئی جنت ب ب عمر کو‘ چ تر کہتی۔ ج ب ت بڑھتی‘ تو وہ
ط نوں پر اتر آت ۔ ب لکل بچوں کی طرح لڑت ۔ انہیں اس امر کی پرواہ
تک نہ ہوتی‘ کہ انہیں کوئی دیکھ سن رہ ہ اور وہ‘ زم ن ک مذا
بن رہ ہیں۔
میں ج منڈی س لوٹ ‘ تو تمہیں ت زہ ت زہ اور چنویں بیر دیئ تھ ۔
ت تو ہو ہی ن شکری۔
ج نتی ہوں‘ ت کتن کو سخی ہو۔ بیر ہی دیی ‘ امرود تو نہیں دی
ن ۔۔۔۔۔ م نگن پر‘ بچکی میں چھپ لی تھ ۔ بھوک کہیں ک ۔
جھوٹی کہیں کی۔ ک کی ب ت کرتی ہو۔ میں تو ب نٹ کر کھ ت ہوں۔
واہ! آگی ب نٹ کر کھ ن وال ۔ میں ن اپنی آنکھوں س ‘ تمہ رے
ہ تھ میں دیکھ لی تھ ۔
ت تو ہو ہی بکھی ندیدی۔ ت ہی تو‘ میرے پیٹ میں درد اٹھن لگ تھ ۔
یہ تو درد ہوا تھ ‘ ابھی تمہ رے پیٹ میں کیڑے پڑن ہیں۔
واہ‘ ت تو کیتی کرائی پر پ نی پھیر دیتی ہو۔
کی کیتی کرائی۔
!ج بھی ت ن ادھ ر م نگ ‘ میں ن دی نہیں؟
لو ا ط نوں پر اتر آئ ہو۔ لین دین تو دنی میں چ ت رہت ہ ۔
میں ن کبھی ادھ ر م را بھی ہ ؟
وعدے پر تو کبھی نہیں دی ۔ ت تو احس ن فرموش ہو۔ تمہ رے س تھ ب ت
کرن بھی‘ سو ک گہ ٹ ہ ۔
بس کرو۔۔۔۔ بڑے آئ سیٹھ ص ح ۔ مہ ج ک ج اب زندہ تھ ‘ ت
پوری گرمی ں‘ ہم رے گھر س لسی ل ج ت رہ ‘ میں ن کبھی
جت ی تک نہیں۔ ایک دو ب ر‘ میں ن بن م نگ ‘ مکھن بھی دے دی
تھ ۔ چ ئ ک لئ بھرا گلاس دودھ ل ج ی کرت تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ س
بھول گی ہو۔
غرض اس نوعیت کی تکرار اور نوک جھونک‘ دوسرے تیسرے‘
سنن میں آتی رہتی تھی۔ ہ میں س کسی ن غور ہی نہ کی ‘ کہ ان
کی یہ بحث وتکرار کیوں ہوتی ہ ۔ اس اٹ کت ک بیر کی‘ کوئی تو
وجہ ہو گی۔ عمومی طور پر‘ دونوں بڑے م ن س ر اور ہ درد قس ک
انس ن تھ ۔ دونوں ک درد ایک تھ ۔ بڑھ پ میں‘ ان ک س تھی چھوڑ
گی تھ ۔ ش ید وہ چڑچڑے ہو گی تھ ۔ جو بھی سہی‘ دونوں دل
ک برے نہیں تھ ۔ وقت اور ح لات ن ‘ انہیں اکت ی اکت ی س ‘ بن دی
تھ ۔ س تھی مر ج ن ک ب د‘ تنہ ئی ن ‘ ش ید انہیں اس طرح ک بن دی
تھ ۔ وہ ایک دوسرے س بحث کرک ‘ من ک بوجھ ہ ک کر لیت ہوں
گ۔
بچ اپنی اپنی دنی میں چ گی تھ ۔ وقت اور ح لات ک گردا
میں پھنس ‘ کسی دوسرے کی کی خبر رکھ سکت ہیں۔ میں ن
سوچ ‘ اگر بچ وقت دیں‘ تو بڑھ پ احس س محرومی ک شک ر نہیں
ہوت ۔ تنہ ئی‘ اور اوپر س عمر ک پچھلا پہر۔۔۔۔۔اف اللہ‘ ان ک لمح
کس قی مت س دوچ ر ہوت ہوں گ ۔ وہ لڑت نہیں‘ اپن بد قسمت
بڑھ پ اور اکلاپ ک رون روت ہیں۔ ا تو یہ رون س ری عمراں دا
اے۔
ج ن والوں کو کون واپس لا سکت ہ ۔ اس بستی میں گی ‘ ک کوئی
واپس آی ہ ۔ ایک ب ر نتھو ن کہ ‘ ان دونوں ک نک ح کرا دین چ ہی ۔
بھ ئی یہ تو ش تک ککڑوں کی طرح لڑت رہیں گ ۔
رہن دو‘ م ئی ن ج دو تین ب ر مسکرا کر دیکھ تو‘ ب ب عمر د
ہلان لگ گ ۔ فض و ن قہقہ لگ ت ہوئ کہ
ب ب بڑا ق غی والا ہ ‘ پیندی سٹ م ئی کو ڈھیر کر دے گ ۔ گ مو ن
لقمہ دی
اوہ چھڈ‘ چلا ج ت نہیں‘ در فٹ منہ گوڈی ں دا۔ ڈھیر کر دے گ ‘ م ئی
بڑے ش آ‘ توں نئیں ج ندا۔ ش کو ن ک نوں کو ہ تھ لگ ت ہوئ کہ
دیر تک ب ب عمر اور م ئی جنت ہم ری گ تگو ک موضوع بن رہ ۔
اتنی دیر میں ویرو آ گی اور آت ہی چھ گی ۔
کچھ سن
نہیں تو
ام ں جنت ‘ ب ب عمر ک س تھ نکل گئی ہ ۔
!ہ ئیں‘ کی بکت ہو؟
میں بکت نہیں‘ پھرم رہ ہوں۔
ہ س دوستوں کی آنکھیں‘ کھ ی کی کھ ی رہ گئیں۔ ان ک لڑن محض
ہم رے دکھ وے ک لی تھ ؟ یہ بوڑھ بھی بڑے کھلاڑی ہوت ہیں۔
اتن سیدھ س دے نہیں ہوت ۔ یہ ج یبی ک مواف سیدھ ہوت
ہیں۔ ب ب عمر ک پوت ‘ بڑے غصہ میں تھ ۔ م ئی جنت ک پوت ک
منہ س ‘ بڑے ت خ ک م نکل رہ تھ ۔ وہ کہہ رہ تھ ‘ م ئی ن
پوری برادری میں ہم ری ن ک کٹوا دی ہ ۔ اگر ہ تھ لگ گی ‘ تو میں
دونوں ک ڈکرے کر دوں گ ۔ یہ پہلا موقع تھ ‘ جو دو بوڑھوں ک
ب عث ان کی اولاد کی ن ک کٹی تھی‘ ورنہ آج تک‘ لڑک لڑکیوں ن
ہی‘ اپن بڑوں کی ن ک کٹوائی تھی۔
جوانوں کی جنسی شدت‘ ان کی عقل پر پردے ڈال دیتی ہ ۔ یہ ں تو یہ
م م ہ تھ ہی نہیں۔ جن جوان بچوں ک منہ س ‘ جھ گ نکل رہی تھی
اور وہ اپن بوڑھوں ک قتل ک درپ تھ ‘ انہوں ن کبھی بھی‘
اپن ان بھ گ ج ن وال بزرگوں ک پ س‘ دو لمح ٹھہرن ک
کشٹ نہیں اٹھ ی تھ ۔ وہ کس ح ل میں ہیں‘ ان کی اولاد میں س کسی
کو م و کرن کی توفی نہیں ہوئی۔
ہوں‘ آج ان کی غیرت ج گ گئی ہ ۔ اللہ کرئ ‘ وہ بہت دور نکل گی
ہوں اور ان جھوٹ غیرت مندوں ک ہ تھ میں ہی نہ آئیں۔ تجربہ ک ر
لوگ ہیں‘ کچی گولی ں نہیں کھی ہوں گ ۔
اللہ انہیں‘ ان مردودوں س مح وظ رکھ ۔ شہ بو‘ جو ان بوڑھوں ک
کچھ بھی نہیں تھ ‘ برستی آنکھوں س دع ئیں م نگ رہ تھ ۔
وہ م ئی جنت ک برے ح ل س آگ ہ تھ ۔ اسی طرح‘ اس یہ بھی
م و تھ کہ ب ب عمر‘ مرے کت س بھی بدتر زندگی گزار رہ تھ ۔
ب ب عمر‘ بنی دی طور پر بزدل اور رن مرید قس ک انس ن تھ ۔ وہ اتن
بڑا قد نہیں اٹھ سکت تھ ۔ م ئی کی دلیری ن ‘ اس ک ض یف گھٹنوں
میں بھ گ نک ن کی شکتی‘ بھری ہوگی۔
دتو ک وچ ر سن کر س کہہ اٹھ
م ئی جنت زندہ ب د
12-10-1969
ممت عش کی ص ی پر
جیراں اپنی بیٹی ک چ ن س ب خبر نہ تھی۔ وہ وقت فوقت ‘ اس کی
سرزنش بھی کرتی رہتی تھی۔ وہ زی دہ سختی بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اس کی دو وجوہ تھیں۔ جوان اولاد کو محبت اور اچھ طریقہ س
سمجھ ن ہی بہتر ہوت ہ ورنہ وہ بغ وت پر اتر آتی ہ ۔ جوانی‘ اونچ
نیچ اور برا بھلا سوچن کی ق ئل نہیں ہوتی۔ وہ کر گزرن کی طرف
م ئل رہتی ہ ۔ ب ض اوق ت‘ من ی بھگت ن ک ب وجود‘ واپسی ک س ر
اختی ر نہیں کرتی۔ ایس بھی ہوت ہ ‘ کہ ح لات واپی ک دروازے بند
کر دیت ہیں۔ آدمی لوٹن چ ہت ہ ‘ لیکن وقت کی زنجیریں اس
پھرن نہیں دیتیں۔ ایک وجہ یہ بھی تھی‘ کہ شیداں م ں کی دو تین
خوف ن ک کمزوریوں س آگ ہ تھی۔ اگر وہ ایک راز بھی افش کر دیتی‘
تو جیراں کی پوری عمر کی رکھی رکھ ئی کھوہ کھ ت پڑ ج تی۔ انس ن
ک من ی عمل ن صرف اس ک لی وب ل بن رہت ہیں‘ ب کہ ب ض
ذہنوں ک نہ ں گوشوں میں پڑے‘ اپن وجود ک انتظ ر کرت رہت
ہیں۔ شخص ہو‘ ی کوئی جذبہ
احس س ی پھر خی ل وجود پ ن ک لی ب کل رہت ہ ۔ ثقیل س
ثقیل غذا ہض ہو ج تی ہ ‘ لیکن یہ ہض ہوت ہی نہیں۔
ایک دو ب ر‘ ج جیراں ک لہجہ ت خ ہوا‘ تو شیداں ن م ں کو گزرے
کل ک ف ش کرن ک اش رہ دے دی ۔ جیراں جو خ وند کی ‘ برادری میں
بھی پھن خ ں تھی‘ موت کی جھ گ کی طرح‘ لمحوں میں ب وجود
ہو گئی۔ اس ک رع و دبدبہ ریت کی دیوار س زی دہ‘ پھوسڑ ث بت ہوا
اور وہ آزادی ک جذبہ رکھت ہوئ بھی‘ آزادی ح صل نہ کر سکی۔
اس ک ہ تھوں ک تراش ہوا صن ‘ جبری ہی سہی‘ دل و ج ن ک صن
خ ن میں خدا بن بیٹھ تھ ۔ وہ اس کی دہ یز پر ع جز و مسکین بنی
کھڑی رہتی تھی۔
ایک دو ب ر اس ن دع بھی کی‘ کہ شیداں مر ہی ج ئ ۔ اس ذیل میں‘
ممت کبھی آڑے نہ آئی تھی۔ وہ اپنی موت کی خواہش کر سکتی تھی
اسی طرح خودکشی ک دروازہ بھی کھلا تھ ۔ اس کی موت س ‘ راز کو
تو موت نہ آتی۔ وہ شیداں ک سین میں‘ زندہ رہت ۔ یہ راز ج شیداں
ک لاش ور س ش ور میں وارد ہوت ‘ تو اپنی ہی م ں کو‘ اپن ب پ
ک مجر سمجھتی۔ اس یہ ہمشیہ احس س رہت ‘ کہ اس کی م ں اس ک
ب پ کی دین دار تھی۔
شیداں اپن ب پ کی لاڈلی تھی۔ فتو اس پر اندھ اعتم د کرت تھ ۔ روپیہ
پیسہ اس ک پ س رکھت تھ ۔ رات کو ب پ بیٹی ج ن کی مشورے
کرت رہت تھ ۔ وہ تو صرف پک ن اور دھون تک محدود تھی۔
فتو س ‘ ان دونوں امور ک گلا بھی نہیں کر سکتی تھی۔ روپووں ک
م م ہ میں‘ وہ صرف دو ب ر‘ ب اعتب ری ہوئی تھی۔ اس ن جھگڑ
اور پھر رو کر‘ سچ ہون کی کوشش بھی کی تھی۔ فتو ن اس کی
قس پر بہ ظ ہر اطمن ن ک اظہ ر بھی کی ‘ لیکن اندر س مطمن نہیں ہوا
تھ ۔ چور ی ٹھگ کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اگر ان کی
قسموں کو اعتب ر مل ج ئ ‘ تو تھ ن اور کچہری بند ہو ج ئیں۔
فتو دراصل‘ جیراں کی لای نی کل کل کی وجہ س ‘ ہ ر م ن چک تھ ۔
گھر اور خ ندان ک م ملات جیراں ہی انج دیتی تھی۔ جہ ں اختلاف
ڈالت ‘ وہ ں دھ ئی کی راند پڑ ج تی۔ جیراں ن سرنڈر ہون سیکھ ہی نہ
تھ ۔ ا تو پچ س ک قری پہنچ گئی تھی اور فتو س ٹھ ک ہندسہ تج وز
کر گی تھ ۔ جو بھی سہی‘ جیراں آج بھی بنتی پھبتی تھی۔ ج دنداس
اور چوٹی پٹی کرک ‘ فتو ک س من آتی‘ تو وہ مدہوش ہو کر‘ وش
وش ج ت تھ ۔
شیداں جوان ہو گئی تھی۔ اس ک ہ تھ پی کرن ک وقت آگی تھ ۔ فتو
اچھ رشت کی تلاش میں تھ ۔ وہ اپنی لاڈلی کو‘ آسودہ ح ل گھران
میں بی ن چ ہت تھ ۔ ل دے کر‘ اس کی نظر جیراں ک مسیر ک
لڑک پر‘ آ کر رک ج تی۔ جیراں یہ رشتہ نہ کرن چ ہتی تھی۔ وہ شیداں
ک لچھن س ب خبر نہ تھی۔ دوسرا کسی زم ن میں‘ جیراں کی
فج س بڑی گہری خ یہ سلا دع رہی تھی۔ وہ دوب رہ س ‘ پران
رشتہ نی نہیں کرن چ ہتی تھی۔ خدا م و ‘ شیداں ب پ ک فیص س
کس طرح مت ہو گئی اور یہ رشتہ ہو ہی گی ۔
اللہ ن اس تین بچوں س نوازا۔ شیداں ک گول مٹول اور پی رے
پی رے بچ ‘ جیراں س بڑے م نوس تھ ۔ فج اس م ضی کی طرف
ل ج کر‘ پرانی راہ پر لان چ ہت تھ ۔ ایک لمحہ بھی مل ج ت ‘ تو جیراں
ک ن زک اعض کو چھون میں دیر نہ کرت ۔ بیٹی ک گھر‘ م ضی کی
بھول اور بیٹی ک بچوں کی محبت ک درمی ن گھری جیراں‘ ہر لمحہ
اپن ہی ہ تھوں قتل ہوتی۔ وہ کسی س اپن دکھ بھی نہیں ب نٹ سکتی
تھی۔ اگر شیداں کو ع ہو ج ت ‘ کہ اس کی م ں اس ک سسر ک س تھ
موجیں م را کرتی تھی تو وہ اور تیز ہو ج تی۔ اس کی ن رت ک ح ق
مزید وسیع ہو ج ت ۔
جیراں کو جہ ں اپنی بدن می ک خدش ‘ ک گھن اندر ہی اندر کھ ئ ج
رہ تھ ‘ وہ ں یہ اطمن ن ضرور تھ ‘ شیداں اپھو ک کھیڑا چھوڑ چکی
ہ ۔ ج کبھی ات ق اس کی اپھو س ملاق ت ہو گی‘ تو ہی وہ فج
کی سی حرکتیں کر سک گ ۔ بیٹی ک ہ ں آن تو اس کی سم جی
مجبوری تھی۔ خدا لگتی تو یہی تھی‘ کہ فج کی حرکتیں اگرچہ کچھ
نئی نہ تھیں‘ اس ک ب وجود‘ اس ک جسد کو‘ ان ج نی سی‘ مسرت
اور کیف ومستی دان ضرور کرتی تھیں۔
شیداں کچھ دن ک لی آئی ہوئی تھی۔ اچ نک جیراں کو م و ہوا‘ کہ
شیداں کی گرفت میں ننھ آ گی تھ ۔ منہ متھ لگت چھوہر تھ ۔ اس
دیکھ کر بڑھ پ مچل مچل ج ت تھ یہ ں تو جوانی کی لہریں ٹھ ٹھیں م ر
رہی تھیں۔ جیراں کو اس ک گھر اجڑن ک خدشہ لاح ہو گی ۔ وہ
ب توں ب توں میں سمجھ ن کی کوشش کرتی۔ جواب شیداں کہتی میں
اپن گھر والی ہوں‘ میں اپن اچھ برا ت س بہتر ج نتی ہو۔ جیراں کو
شیداں ک زی دہ دیر میک رکن برا لگن لگ ۔ وہ ج بھی آتی‘ یہ اس
کسی ن کسی بہ ن ایک دو دن ب د ہی‘ سسرال بھیج دیتی۔ ج کبھی
اپن سسر ک س تھ آتی‘ چوڑی ہو ج تی۔ فج ک ک ج والا آدمی ہو کر
بھی‘ ٹکی ہو ج ت ۔ ح لاں کہ سوائ چوری چھپ ‘ چونڈی تپھ ک ‘
اس کچھ ح صل نہ ہو پ ت تھ ۔ اس ن فتو س گہرے اور دوست نہ
ت ق ت استوار کر لی تھ ۔
پھر ایک دن وہی ہوا جس ک اس ڈر تھ ۔ ننھ کی محبت کی گرفت
مضبوط ہو گئی۔ شیداں اپن تینوں بچوں کو چھوڑ کر آگئی۔ جیراں یقین
اچھی عورت نہ تھی۔ اس ن اپنی کسی محبت ک لی ‘ بچوں کو نہ
چھوڑا تھ ۔ وہ اول ت آخر ان کی بنی رہی۔ یہی اس کی سچی ممت تھی۔
شیداں ننھ کی محبت میں اپن بچوں کی نہ بنی تھی۔ سوچن کی
ب ت تو یہ تھی‘ کہ آت وقتوں میں وہ ننھ کی بن پ ئ گی۔ کی وہ
اس بچوں س بڑھ کر اسی طرح پی را رہ گ ؟ بچ تو رل خل کر پل
ہی ج ئیں گ لیکن یہ محبت ک کون س روپ ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔ کی اس
محبت ک ن دی ج سک گ ۔۔۔۔۔۔ م ں کی ممت س بڑھ کر کوئی اور
چیز بھی ہوتی ہ ‘ کیس م ن لی ج ئ گ ۔
شیداں ن اپن اب کو یقین دلا دی تھ ‘ کہ سسرال میں اس ک س تھ
بڑے ظ ہوت تھ ۔ وہ گھر کی فرد س بڑھ کر‘ ک می تھی۔ اس ک
ب پ کہت ‘ میری بیٹی بڑی م صو تھی۔ ان لوگوں ن تو اس کی قدر ہی
نہ پ ئی تھی۔ وہ تو تھ ہی ن شکرے۔ جیراں بھی فتو ک س من ‘
اس ب چ ری کرم ں م ری اور م صو ہی کہتی۔ جھوٹ سچ آنسو
بھی بہ تی۔ وہ فتو کو کس طرح بت ئ ‘ کہ اس م صو ن ش دی س
پہ تین عش نبھ ئ ۔ چوتھ عش اولاد پر بھی بھ ری ہو گی تھ ۔
عی ش تو وہ بھی تھی‘ لیکن ممت ن اس ک دامن پکڑے رکھ ۔ ممت
ک پردے میں اس ک س رے عش چھپ گی تھ ۔
وہ یہی سوچتی رہی‘ شیداں ک عش کس پردہ کی اوٹ میں ج کر اپنی
م صومیت کی گواہی دے سک گ ۔
شیداں اپن اب کی نظر میں م صو تھی۔ یہ م صومیت کیسی تھی‘ جو
ممت کی لاش پر ت میر ہوئی تھی۔ ممت کی آہیں کراہیں‘ شیداں کی خود
س ختہ م صومیت کی لحد میں‘ اتر گئی تھیں۔
3-1-1972
زینہ
مخت ف ن سی ت کی س میوں س ‘ ہر روز واسطہ رہت ہ ۔ ب ض تو‘
عج لچڑ ہوتی ہیں۔ ان کی جی س کچھ نک وان بڑا ہی مشکل ک
ہوت ہ ۔ جی س ‘ نوٹ ب ہر لات ‘ انہیں غشی سی پڑ ج تی۔ ب ض
س ‘ ان ک علاق کی سوغ ت‘ منگوان ک لی منہ پھ ڑن پڑت
ہ ۔ بہت ک سہی‘ کچھ بلاط کی ‘ ل آت ہیں۔ اس طرح‘ اس
علاق کی سوغ ت ک حوالہ س ‘ علاق کی پہچ ن بھی ہو ج تی ہ ۔
ایسی س میوں س بھی واسطہ رہت ہ ‘ جو دوسرے علاقوں کی‘
وجہءپہچ ن بڑے اہتم س لات رہت ہیں۔ اس طرح‘ ان ک
عزیزوں س بھی‘ غ ئب نہ ت رف ہوت رہت ہ ۔
مجھ ایسی س می س ‘ ہمیشہ چڑ رہی ہ جن کو ان ک علاق کی
سوغ ت ک مت ی د کران پڑت ہ ۔ ہ یہ ں بیٹھ ‘ کوئی فقیر نہیں
ہیں‘ جو لوگوں ک س من دست سوال دراز کرت پھریں۔ ہم رے ہ ں
اصول رہ ہ ‘ کہ آن والا کبھی خ لی ہ تھ نہیں آی ۔ تح ہ دین س ‘
ت ق ت میں مضبوطی پیدا ہوتی ہ ۔
ب ض تو‘ بڑے فراخ دل و دم ک لوگ ہوت ہیں۔ ان ک س تھ‘
خ تون بھی ہوتی ہ اور وہ‘ اس اپنی بیوی ظ ہر کرت ہیں۔ ایسی
عورتوں س ‘ ہ خو خو آگ ہ ہوت ہیں‘ لیکن ظ ہر نہیں کرت ‘ کہ
ہ محترمھ کو ن صرف ج نت ہیں‘ ب کہ تصرف میں بھی لا چک ہیں۔
ہمیں اس س ‘ کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کون‘ اور کس کی کی
لگتی ہ ۔ قس ل لیں‘ کہ اوپر جو کبھی‘ سچل م ل پنچ ی ہو۔ پہلا ح
ہم را ہوت ہ ۔ افسر دست خط ک سوا‘ کرت ہی کی ہ ۔ ف ئل پر
مغزم ری تو ہ کرت ہیں۔ یہ الگ ب ت ہ ‘ زب نی کلامی‘ سچل ہی
کہت ہیں۔ ہم ری ایم ن داری پر شک ک رسک‘ افسر بھی نہیں ل
سکت ۔ انہیں تو کیت کرای ہی مل ج ت ہ ۔ ایجنٹ اور نچلا اہل ک ر‘ جو
م ل لات ہ ‘ ہ اس میں نقص نہیں نک لت ۔ ویہ ر خرا ہو ج ئ ی
ٹوک ٹوک ئی ک عمل‘ ک روب ر حی ت میں‘ نحوست کی علامت ہ ۔ اعتب ر
اور اعتم د پر ہی‘ زندگی چل رہی ہ ۔
اس سی‘ س می آج تک دیکھن سنن میں نہ آئی ہو گی۔ وہ ج بھی
آت ‘ کسی ن کسی علاق کی‘ سوغ ت ضرور لات ۔ جو ط ہوا‘ اس س ‘
کہیں بڑھ کر جھڑا۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ بن کہ کھ ن کھلات ۔ سچی ب ت
تو یہ ہ ‘ خود ل کر ج ت ۔ تھوڑی دیر بیٹھن ک ب د کہت ‘ اوہ چھڈو
جی چ و پیٹ پوج کرت ہیں۔ ج وہ آت ‘ میں اس ک یہ ڈائیلاگ‘ سنن
ک لی ب چین ہو ج ت ۔ کچھ کہہ نہیں سکت ‘ وہ چہرا پڑھ لیت تھ ی
روٹین میں کہت تھ ۔ میرا ضمیر‘ اس ک ک کچھ دیر اور لمک ن پر
مجبور کر رہ تھ ‘ لیکن س تھیوں کی ترچھیں نگ ہوں میں‘ حسد اتر آی
تھ ۔ اس لی ‘ اس ب ر اس ک ک کر دین پر‘ میرا ضمیر آم دہ ہو گی ۔
اس روز‘ وہ کسی م ہر ج سوس کی طرح‘ وارد ہوا۔ دو تین منٹ
بیٹھن ک ب د‘ اس ن مجھ اپن س تھ آن ک اش رہ دی ۔ وہ اٹھ
کر چلا گی ۔ تین چ ر منٹ ب د میں ن بھی سیٹ چھوڑ دی۔ نکڑ پر‘ وہ
کھڑا میرا انتظ ر کر رہ تھ ۔ ہم ری نظریں م یں‘ وہ مسکرای ‘ اور آن
ک اش رہ دے کر چل پڑا۔ میں اس ک پیچھ پیچھ ہو لی ۔ وہ لال
ب زار ک ‘ بیک محل ہوٹل میں‘ داخل ہو گی ۔ ایس مک م ت پر‘ کھ ن
ک ‘ کبھی ات نہ ہوا تھ ۔ وہ ں اس ن ‘ کمرہ بک کروا رکھ تھ ۔
کمرے ک اندر‘ قی مت ج وہ فرم تھی۔ اس دیکھ کر‘ مجھ پر سکت
س ط ری ہو گی ۔ میری آنکھیں‘ بہت کچھ دیکھ چکی تھیں‘ لیکن اس
س ‘ پٹولا کبھی دیکھن میں نہ آی تھ ۔ کھ ن کی ٹیبل بھر گئی۔ ایسی
تواضح تو‘ اس ن کبھی نہ کی تھی۔
م ت ک م ل تھ ‘ میں ن ب تح ش کھ ی ۔ میں ن ‘ اس پٹول کو‘ پک
پک اپن بن ن ک فیص ہ کر لی ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ آج تک کسی
کھ ن ن ‘ ایس لطف نہ دی تھ ۔ اس قی مت ن بھی‘ اداؤں کی وہ وہ
بج ی ں گرائیں‘ کہ میں اپن آپ میں نہ رہ ۔ مجھ یوں لگ ‘ جیس
س ری کی س ری‘ خوش نصیبی میری ہی گرہ ک ‘ مقدر ٹھہر گئی ہو۔
میں ن ریح نہ س ‘ اپن دل کی ب ت کہہ دی۔ تھوڑی سی‘ پس و پیش
اور چند رسمی شرائط ک ب د‘ اس ن ہمیشہ ک لی میرا ہو ج ن
ک ارادہ ظ ہر کر ہی دی ۔
اس روز مجھ یقین ہو گی کہ میں دنی ک واحد خوش نصی آدمی
ہوں۔ میں ن بلاشبہ زندگی میں کوئی ایس اچھ ک ضرور کی تھ جس
ک ‘ دیوت اس اپسرا کی صورت میں‘ صلا عط کر رہ تھ ۔ جو بھی
سہی‘ میں ن آج تک کسی ک ک نہ روک تھ ۔ رہ گئی لین دین کی
ب ت‘ یہ ں کون ہل پر نہ ی ہوا ہ ۔
تنویر ن ہی‘ ایک مختصر‘ مگر پروق ر تقری ک ان ق د کی ۔ ریح نہ
ہمیشہ ک لی ‘ میری ہو گئی۔ ریح نہ بڑی وف دار بیوی ث بت ہوئی۔ رات
کو سوت وقت میرے پ ؤں دب تی۔ ن شتہ وقت پر میسر کرتی۔ اس کی
کو کنگ بڑے کم ل کی تھی۔ ایک ب ر‘ میں بیم ر پڑا‘ ہسپت ل ل ج ن
میں‘ اس ن بڑی پھرتی دکھ ئی۔ میں ہسپت ل میں دس دن رہ ۔ دوست
ی ر اور رشتہ دار م ن آئ ‘ ہر کسی س ‘ اس ن بڑے ش ن دار انداز
میں ڈی نگ کی۔ اس ک حسن س وک اور وضع داری کی ہر کسی ن
ت ریف کی۔ جس پر‘ میں پھولا نہ سم ی ۔ مجھ ریح نہ پر‘ ن ز ہون
لگ ۔
مجھ کئی ب ر‘ کسی ک غذ پتر ک لی گھر آن پڑا‘ میں ن ریح نہ کو
گھر پر پ ی ۔ میرا دل مطمن تھ ‘ کہ ریح نہ طب ‘ نیک اور ص لح ہ ۔
نیک اور ص لع س تھی ک مل ج ن ‘ ایسی م مولی ب ت نہ تھی۔ اس ن
کبھی‘ کریدن ی میرے ب رے کچھ ج نن کی‘ کوشش نہ کی۔ میں ن
بھی زندگی کی ہر خوشی اور ہر آس ئش‘ اس ک س ید‘ ش ف اور
ب دا قدموں میں‘ رکھ دی تھی۔
تنویر ایک ب ر بھی‘ ہم رے گھر نہ آی ‘ ہ ں دفتر دوسرے تیسرے‘ کوئی
ک ل کر چلا آت تھ ۔ سلا دع والا آدمی تھ ۔ دوست ی ر ک ک لی
کہہ دیت ‘ تو آ ج ت ‘ ت ہ آج تک‘ اس ن کوئی ک م ت نہ کروای ۔ چ ء
پ نی سوغ ت‘ لان نہ بھولت ۔ کھ ن بھی کھلات ۔ اس ن کبھی ریح نہ ک
ذکر بھی‘ نہ چھیڑا۔ ب لکل لات س ہو گی ۔ ایس لگت ‘ جیس گزرا
کل‘ اس کی ی د داشت س ‘ نکل گی ہو ی گزرے کل ک ب رے میں‘
کچھ ج نت ہی نہ ہو۔
ایک روز‘ میں ہیڈ آفس کسی ک س گی ۔ میں ن ‘ تنویر کو‘ بڑے
گیٹ س نک ت دیکھ لی تھ ‘ لیکن وہ مجھ نہ دیکھ سک ۔ وہ
پیچھ مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ مجھ ران ص ح ب ہر آت دیکھ ئی
دی ۔ وہ‘ تنویر ک پیچھ ج رہ تھ ۔ میں ران ص ح ک ‘ ط
کرن پر ہی‘ ح ضر ہوا تھ ۔ میں ن سوچ ‘ کیوں نہ‘ اس قی مت ک
دیدار کر لی ج ئ جو ران ص ح کو نہ ل کرن والی تھی۔
میں عقبی گیٹ س ‘ اس بڑے ہوٹل میں داخل ہو گی ۔ تنویر ن ‘ ایک
کمرے کی طرف اش رہ کی ۔ ران ص ح کمرے میں داخل ہو گی ۔ تنویر‘
ہوٹل ک کون میں پڑی میز پر‘ ج بیٹھ ۔ میں بھی‘ چھپ کر کون
کی ایک میز پر ج بیٹھ ۔ پون گھنٹ ب د‘ ران ص ح کمرے س ب ہر
نک اور انہوں ن تنویر کی طرف دیکھ ۔ مسکراہٹ ک تب دلہ ہوا اور
پھر وہ‘ ہوٹل س ب ہر نکل گی ۔ یہ اس ب ت کی طرف‘ کھلا اش رہ تھ ‘
کہ ران ص ح کی روح میں‘ اندر موجود قی مت ن ‘ سکون ک س غر
انڈیل دی ہیں اور رک ک ‘ آج ہی اپنی منزل پ ل گ ۔
مجھ مزید دس ب رہ منٹ‘ انتظ ر کرن پڑا۔ قی مت تنویر ک قری آ کر
رکی۔ دونوں ن کسی ب ت پر‘ قہقہ لگ ی ۔ مجھ اپنی آنکھوں پر یقین
نہیں آ رہ تھ ‘ وہ میری نیک اور ص لح بیوی‘ ریح نہ۔۔۔۔۔ ہ ں ریح نہ
کوثر تھی۔ میں ج دی س ‘ پچھ دروازے س نکلا۔ ٹیکسی س
گھر ک رخ کی ۔ میں‘ اس کی پرہیز گ ری‘ اس ک منہ پر م رن چ ہت
تھ ۔ گھر آی ‘ دروازے پر ت لا نہ تھ ۔ میں ج دی س ‘ گھر میں داخل ہو
گی ۔ وہ پ نگ پر لیٹی‘ بڑے سکون س ‘ ج سوسی ڈائجسٹ ک مط ل ہ
کر رہی تھی۔ مجھ پریش ن اور بیم ر س دیکھ کر‘ اس ن رس لہ
پرے پھینک ‘ اور گھبرائی گھبرائی‘ میری طرف بڑھی۔ س ٹھیک تو
ہ ‘ آپ بیم ر لگت ہیں۔ میرے م تھ پر‘ بڑے پی ر س ہ تھ رکھ کر؛
کہن لگی۔ آپ ک م تھ تو آگ کی طرح جل رہ ہ ۔ پھر اس ن ب ہر
ج ن والی چ در اوڑھی اور کہن لگی اٹھیں اٹھیں ڈاکٹر ک پ س
چ ت ہیں۔
میں ن کہ :گھبراؤ نہیں‘ میں ب لکل ٹھیک ہوں۔
کیوں نہ گھبراؤں‘ تمہ رے سوا‘ میرا دنی میں کون ہ ۔ تمہیں کچھ
ہوگی ‘ تو میں مر ج ؤں گی۔“ پھر وہ‘ زار و قط ر رون لگی۔
مجھ اس کی ایکٹنگ میں‘ کم ل کی اص یت دکھ ئی دی۔ ہم م لنی کو‘
اپنی اداک ری پر ن ز ہوگ ‘ لیکن ریح نہ ایکٹنگ میں‘ اس بہت پیچھ
چھوڑ گئی تھی۔ میں خود اس شش وپنج میں پڑ گی ‘ کہ وہ ریح نہ تھی
ی کوئی اور تھی۔ یوں لگ رہ تھ ‘ جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہ ں‘ اگر
وہ پکڑی ج تی‘ تو تنویر ک ‘ کھیس ج ت م ل‘ بند ہو ج ت ۔ ران
ص ح بڑے ب اختی ر عہدے دار تھ ۔ ن صرف م ل‘ میری جی کی
زینت بنت ‘ ب کہ میری ترقی‘ جو دو س ل س رکی پڑی تھی‘ میری
ذہنی الجھن ک سب نہ بنی رہتی۔ مجھ یہ اطمن ن تھ ‘ کہ ران ص ح
س ‘ نک ح نہ کر سک گ ‘ دوسرا‘ ایک نہ ایک روز‘ رنگ ہ تھوں
پکڑی ج ئ گی اور پھر ہیڈ آفس میرا ہو گ ۔ میں پہ س ‘ کہیں بڑھ
کر‘ آسودہ اور عیش کی زندگی بسر کر سکوں گ ۔
زندگی میں ترقی ک لی ‘ زینہ درک ر ہوت ہ ۔ ریح نہ سی‘ چنچل‘
حسین اور لاجوا اداک ر بیوی س ‘ بڑھ کر‘ زینہ ڈھونڈھ س ‘ نہ
مل سک گ ۔ پردہ اٹھن پر ہی‘ اس زین ک ‘ است م ل ممکن ہو سک
گ ۔ ہ ں ش ئد‘ اس ک لی ‘ تھوڑا اور انتظ ر ک جہن میں‘ ج ن پڑے
گ۔
شیدا حرا دا
اگرچہ‘ منہ پر اور منہ س ‘ کوئی کچھ نہیں کہت ‘ لیکن دیکھنی‘ س
کچھ کہہ دیتی ہ ۔ بہت سی ب تیں‘ ل ظوں کی محت ج نہیں ہوتیں‘
سمجھی سمجھ ئی ہوتیں ہیں ی پھر‘ دیکھن ک طور‘ ان ک م ہی
کھول دیت ہیں۔ لوگوں ک من ی روی اور ترچھی نظریں‘ مجھ
اپنی حیثیت اور حقیقی اوق ت س ‘ آگ ہ کر دیتی ہیں۔ ا میں ب حیثیت
اور شرف کی بستی میں‘ اق مت رکھت ہوں۔ میں سیٹھ ن سہی‘ کنگ ل اور
م وک الح ل بھی نہیں۔ زندگی کی ہر ضرورت‘ مجھ دستی ہ ۔
سلا دع میں‘ ہر طبقہ ک لوگ ش مل ہیں۔ دو نمبری لوگ‘ کبھی بھی
میرے دوست نہیں رہ ۔ ن خوش گوار لوگ‘ شروع س ‘ مجھ پسند
نہیں آت ۔ وہ بھی‘ مجھ پسند نہیں کرت ۔ ہر دو نمبری کو‘ شریف
طبع اچھ نہیں لگت ۔ یہ ایک طرح س ‘ ضدین کی حیثیت رکھت
ہیں۔ ایک جگہ رہت ہوئ بھی‘ م شی اور فکری حوالہ س ‘ ایک
دوسرے س ‘ کوسوں دور ہوت ہیں۔
میں ن پنج وقتوں کو‘ جھوٹ بولت ‘ رشوت لیت ‘ اور کمزوروں ک
ح دب ت دیکھ ہ ۔ وہ یہ س دھڑل س کرت ہیں۔ حج ک ب د
تو‘ بہت س ‘ سمجھ لیت ہیں‘ کہ پچھلا کی ‘ م ف ہو چک ہ اور
اس ک ب د‘ دو نمبری ک لی ‘ انہیں کھ ی چھٹی مل گئی ہ ۔
پوچھن والوں ک ‘ وہ گھی شکر س ‘ منہ بند کر چک ہوت ہیں ی
بہ وقت ضرورت‘ بھر دیت ہیں۔
عوا س ‘ ووٹ ح صل کرن وال ‘ خود کو‘ ب لائی مخ و خی ل
کرن لگت ہیں۔ وزارت ام رت کی کرسی‘ انہیں ن کرن وال ک ‘
کرن کی اج زت دے دیتی ہ ۔ وہ کسی ق نؤن‘ ض بط اور اصول ک
پ بند نہیں رہت ۔ عوا نم ئندوں کو‘ اہل رائ سمجھ کر‘ ووٹ دیت
ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیت ہیں‘ کہ یہ جو کریں گ ‘ اچھ ہی کریں گ ۔ ان
ک کی ‘ عوامی فلاح و بہبود ک لی ہی ہو گ ۔ ج اخب ر اور ریڈیو‘ ان
ک کی کی‘ خبر پ ت ہیں تو ان پر دکھ ک پہ ڑ ٹوٹ پڑت ہیں۔
آخر‘ میڈی والوں کو‘ خبر کیس ہوئی اور انہیں‘ رپوٹنگ کی جرآت ہی
کیوں ہوئی۔ وہ سمجھت ہیں میڈی صرف نغم سن ن اور ان کی
ک رگزاری کی تشریح اور ت ریف و توسیف ک لی ہ ۔
اخب ر اور ریڈیو‘ کوئی بہت بڑی ہی خبر سن ت ہیں۔ یہ بھی کہ‘ اخب ر
اور ریڈیو‘ اصل حقیقت کو بھی پیش نہیں کرت ۔ ح ل ہی میں‘ پ ک
بھ رت جنگ خت ہوئی ہ ۔ جنگ ک دوران‘ ریڈیو اور اخب ر بڑی
حوص ہ افزا خبریں سن ت تھ ۔ جنگ ک خ تم پر م و ہوا ہ ‘
کہ آدھ م ک ہی‘ ہ تھ س نکل گی ہ ۔ رگڑا کی دین تھ ‘ رگڑا لگ گی
ہ۔
روزہ‘ تزکیہءن س ک لی ‘ اع ی ترین ذری ہ ہ ۔ اس س ‘ بھوک کی
ت خی ک اندازہ ہوت ہ ۔ رک ج ن ہی‘ روزے ک پہلا اور آخری مقصد
ہوت ہ ۔ رکن کی ‘ یہ ں تو خرابی میں اور تیزی آ ج تی ہ ۔ روزے دار
کہت ہ ‘ میرے منہ میں روزہ ہ ‘ جھوٹ کیوں بولوں گ ۔ ح لاں کہ وہ
جھوٹ بول رہ ہوت ہ ۔ پہ ک تولت تھ ‘ روزہ رکھ کر‘ ک تولن
ک س تھ س تھ‘ ملاوٹ کو بھی ش ر بن ت ہ ۔
ان پڑھ لوگوں کو تو چھوڑی ‘ جو لوگ‘ ع ح صل کرت ہیں‘ وہ تو‘
ان پڑھ لوگوں کو بھی‘ پیچھ چھوڑ ج ت ہیں۔ پڑھ ئی‘ روشنی ک ن
ہ ۔ یہ کیسی روشنی ہ ‘ جو ت ریکیوں کی نم ئندہ ہ ۔ آج پڑھ لکھ ‘
ش طر بن گی ہ ۔ دفتر میں ہ ‘ تو رشوت لیت ہ ۔ دفتر ک ب ہر ہ ‘
تو تقسی ک دروازے کھولت ہ ۔ کت بیں اور است د‘ تو دو نمبری نہیں
سکھ ت ۔ ع ‘ سچ ئی کی طرف ل ج ت ہ ۔ آج ک سچ تو یہ ہ ‘ کہ
عدل و انص ف کو‘ رشوت کی نوک پر رکھو‘ اور خو کم کر جیبیں
بھ ری کرو۔ درحقیقت‘ ع کرسی ک حصول ک لی ح صل کی ج ت
ہ ۔ کرسی ک م ن ‘ رز میں فراخی ک سب بنت ہ ۔
جس پیٹ میں‘ رز حرا چلا گی ‘ وہ حلال دا کس طرح رہ ۔ حرا
لقموں س بنن والا خون‘ سر س پ ؤں تک‘ گردش کرت ہ ۔ جس
جس میں؛ حرا خون دوڑ رہ ہوت ہ ‘ اس پیٹ وال ک ‘ جس ک
جم ہ کل‘ کس طرح درست اور فطری
اصولوں پر‘ استوار ہو سکت ہیں۔ حرا کھ ن وال ‘ شرعی واجب ت
ک ذری ‘ خود کو حلال دا ث بت کرن کی‘ کوشش کرت ہیں۔ سوال
یہ ہ ‘ کہ وہ حلال دے ہو ج ت ہیں؟ اگر نہیں‘ تو انہیں اور ان کی
اولادوں کو‘ حرا دا کیوں نہیں کہ ج ت ی ترچھی اور م نی خیز‘
نظروں س کیوں نہیں دیکھ ج ت ۔
میں‘ پ نچ وقت‘ ب جم عت نم ز ادا کرن کی دل و ج ن س ‘ کوشش
کرت ہوں۔ ہر س ل‘ ب ق عدگی س روزے رکھت ہوں۔ پچھ س ل‘ حج
بھی کرک آی ہوں۔ اللہ مجھ ‘ میری ضرورت س ‘ کہیں بڑھ کر عط
کر دیت ہ ۔ اس لی ‘ میں رز حرا پر ل نت بھیجت ہوں۔ میں اپنی
بیوی‘ جو اسی علاق کی ہ ‘ ک سوا‘ ہر عورت کو‘ اپنی م ں بہن
سمجھت ہوں۔
میں اپن مح ہ چھوڑ کر‘ دور دراز علاق میں‘ آ بس ہوں۔ یہ ں مجھ
کوئی نہیں ج نت تھ ۔ ابتدا میں‘ صرف اطراف ک ‘ ہ س ئ ہی‘ میرے
ن اور ک س آگ ہ تھ ۔۔ ا تقریب پورا مح ہ مجھ ج نت ہ ۔ ایک
س ل پہ ‘ مجھ اچ نک‘ مسجد میں‘ اپن علاقہ ک ‘ م ک ص ح
مل گی ۔ ان ک ‘ یہ ں دور ک رشتہ دار رہت تھ ۔ وہ انہیں‘ کسی
ک ک س س میں م ن آئ تھ ۔ میں بڑے تپ ک س ‘ انہیں گ
م ن ک لی ‘ آگ بڑھ ۔ پہ تو‘ انہوں ن مجھ بڑے غور س
دیکھ ۔ گ م ن کی بج ئ بول اوے توں جین ں ی بھ دا پتر‘ شیدا
حرا دا ایں۔ مسجد میں دو چ ر نم زی رہ گی تھ ۔ یہ جم ہ کسی ایک
ک سن لین ‘ عزت کو خ ک کرن ک لی ‘ ک فی تھ ۔ میں جوا دی
بغیر‘ مسجد س نکل کر گھر آ گی اور سوچن لگ ۔
مح ہ میں‘ ایک ح جی ص ح بھی رہت ہیں۔ ض ی دفتر میں ملاز
ہیں۔ س ان کی عزت کرت ہیں۔ پنج وقت نم زی ہیں۔ پچھ س ل‘
حج کرک آئ ہیں۔ یہ حج‘ انہوں ن رشوت کی کم ئی س کی ۔
رشوت کی کم ئی س ‘ انہوں ن ٹھیک ٹھ ک ج ئداد بن لی ہ ۔ پچ س
س ‘ تج وز کر ج ن ک ب وجود‘ عورتوں ک بڑے شوقین ہیں۔ ان ک
بس چ تو‘ روزن نش ط میں ہی‘ بسیرا کر لیں۔ انہیں کوئی حرا دا
نہیں کہت ‘ ح لاں کہ ان ک کوئی ک حلالی نہیں۔
میں حرا دا ہوں‘ ی زن ک ر حرا دے ہیں۔ میں خود تو‘ تخ ی نہیں پ
گی ۔ طریقہء تخ ی تو مشترک ہ ‘ لیکن اس میں مذہبی اور سم جی
ضوابطہ س انحراف موجود تھ ۔ سم جی اور مذہبی انحراف‘ مجھ س
تو سرزد نہیں ہوا تھ ۔ انحراف کرن وال ‘ سم ج میں بہ طور حلال
دے دندن ت پھرت ہیں اور انہیں کوئی حرا دا نہیں کہت ۔ جس ک
انحراف س ‘ ت واسطہ ہی نہیں‘ آج اٹھ ئیس برس ب د بھی‘ اپنی
اور لوگوں کی نظر میں حرا دا ہ ۔
عجی روایت ہ ‘ رشوت خوروں کو کوئی حرا دا نہیں کہت ۔ جھوٹی
گواہی دین وال ‘ ہر قس کی دو نمری کرن وال ‘ حلال دے ہیں اور
میں‘ حرا دا ہوں‘ جو دینی واجب ت‘ خ وص نیتی س ادا کرت ہوں۔ دو
نمبری س ‘ دور بھ گت ہوں ان حق ئ ک ب د‘ ایک عرصہ گزر ج ن
ب د بھی‘ میں حرا دا ہوں۔
کوئی تو بتلائ ‘ کہ حرا دا کون ہ ‘ میں ی سم جی دو نمبر
م ززین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
7-4-1973
مکر بندہ حسنی ص ح :سلا ع یک
آپ ک انش ئیہ پڑھ اور کچھ سوچ کر بیٹھ گی ۔ یہ مسئ ہ کوئی آج ک تو
نہیں ہ ۔ یہ ہم رے م شرہ ک ازلی المیہ ہ ۔ ہ نم ز ،روزے ،حج کو
اسلا کی ابتدا اور انتہ ج نت ہیں اور اس پیم نہ پر ہر ایک کو
پرکھت ہیں۔ سو تو ٹھیک ہ لیکن ج ایم نداری ،رشوت ،بد
عنوانی ،حرا خوری ک مرح ہ آت ہ تو سوائ "میرے" ہر شخص
مجر ہوت ہ اور گردن زدنی۔ اپن گریب ن میں کوئی جھ نک کر نہیں
دیکھت ۔ پچھ دنوں ہندوست ن گی تو ایک بزرگ (جو کہ عمر بھر
کچہری میں صدر ق نونگو رہ ہیں اور رشوت پر گزارہ ہی نہیں کی
ب کہ مک ن دوک ن بنوائ ہوئ ہیں) س میں م ن گی ۔ وہ اپن
ص حبزادے کو سمجھ رہ تھ کہ دفتر نہ ج ی کرو۔ ج دوسرے نہیں
آت تو ت کیوں ج ت ہو۔ بس پہ ی ت ریخ کو ج کر تنخواہ ل آی کرو۔
موصوف ک ہ تھ بھر س ید داڑھی ہ اور پنج وقتہ نم ز پر سختی
س ع مل ہیں ۔ میں ن ج اد س عرض کی کہ آپ اپنی اولاد کو
حرا ک ک لئ ت کید کر رہ ہیں تو الٹ مجھ پر بگڑ پڑے کہ دنی
کرتی ہ تو ہ کیوں نہ کریں۔ عرض کی کہ دنی زن کرے گی تو آپ
بھی کریں گ اور ۔۔۔۔۔ کھ ئ گی تو وہ آپ بھی کھ ئیں گ ؟ ص ح وہ
ایس بکھرے کہ اللہ دے اور بندہ ل ۔ میں ن اپنی ع فیت اسی میں
ج نی کہ اٹھ کر چلا ج ئوں۔
ا امریکہ کی سنئ ۔ میں یہ ں تقریب پچ س س ل س مقی ہوں۔ اللہ کو
ح ضر و ن ظر ج ن کر کہت ہوں کہ اس عرصہ میں نہ تو میں ن کسی
کو ایک پیسہ رشوت دی اور نہ ایک پیسہ رشوت لی اور اللہ ک فضل
س سرک ری اور غیر سرک ری س رے ک ہوت چ گئ اور آج
بھی ہورہ ہیں۔ یہ ایک "ک فر م ک" ک ح ل ہ اور وہ ایک "مس "
مم کت کی کی یت ہ ۔ ببیں ت وت رہ از کج ست ت بکج ۔
اورکی عرض کروں۔ ب قی راوی س چین بولت ہ ۔
سرور ع ل راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8719.0
آوارہ ال ظ
وعدے۔۔۔۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔ س جھوٹ‘ فری مگر ہر کوئی‘ ان کی گرفت
میں آ ج ت ہ ۔ وعدوں ک دامن میں‘ امیدوں ک خوش رنگ اور
خوش مہک پھول‘ مسکراہٹ بکھیر رہ ہوت ہیں۔ میں بھی‘ وعدوں
ک گردا میں پھنس گی ۔ کوئی مجھ کیوں سمج ھت ۔ میں سمجھن ہی
نہیں چ ہت تھ ۔ ہدایت اسی ک لی ہوتی ہ ‘ جو ہدایت ک ط گ ر ہوت
ہ ۔ ا مجھ کوئی کیوں‘ تس ی دیت پھرے۔ میں تو‘ جھوٹ کی
ظ متوں ک مس فر تھ ۔ ج سچ ک سویرا ہوا‘ دامن دیکھ ‘ ت ر ت ر تھ ۔
دنوں ہ تھ خ لی۔۔۔۔۔ خلا کی وس توں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ رون چ ہ رو نہ سک ۔
چیخن چ ہ ‘ چیخ نہ سک ۔ ح میں ب کسی اور ب کسی ک ک نٹ
پیوست ہو گی تھ ۔
میرے رنج۔۔۔۔۔ کچھ موہو اور ن م و سی ی دیں۔۔۔۔۔۔ ویران وپشیم ن
آنکھیں۔۔۔۔۔۔ زخمی اور نی مردہ دل۔۔۔۔۔ بس یہ ہی کچھ ب قی رہ گی تھ ۔
زندہ لمحموں میں۔۔۔۔۔۔ ان کی کوئی اوق ت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ کچھ کہت ہوں‘
تو رسوائی ک ۔۔۔۔۔۔ گہرے کھڈ میں گرت ہوں۔ گرہ میں خ وص ومحبت
ک م ل ہوت ہوئ ۔۔۔۔۔ میں ن ک ٹھہرا ہوں۔۔۔۔۔۔ نہیں ج نت ‘ کھرے
سک ۔۔۔۔۔ عم ی زنندگی میں‘ کھوٹ اور ب دا کیوں ٹھہرے ہیں۔۔۔۔۔
!کیوں۔۔۔۔۔آخر کیوں؟
صغراں! ت ن فری کی ۔۔۔۔۔ مجھ اپن مکروفری ک نش نہ بن ی ۔۔۔۔۔
تمہ رے چہرے کی عی ر مسک ن میں‘ خودغرضی م وف تھی۔ بہ ظ ہر
اس میں‘ دور تک لالچ ک کہرا موجود نہ تھ ۔ میں تمہیں پوترت کی
علامت سمجھت رہ ۔ ج ن مکروفری اور چھل۔۔۔۔۔ زندگی ک کیوں
ض بط قرار پ ئ ہیں۔ سچ ک سورج۔۔۔۔۔۔ اپنی لاچ رگی پر۔۔۔۔۔ لہو روت
ہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ زندہ ہ ‘ لیکن مردوں کی سی زندگی کرت ہ ۔۔۔۔۔۔ وہ تو
فری د ک بھی ح نہیں رکھت ۔ اتن ب بس۔۔۔۔۔۔ ب کس۔۔۔۔۔ ش ید ہی کوئی
رہ ہو گ ۔ اس ک لی تو۔۔۔۔۔۔۔ کسی ن ۔۔۔۔۔۔۔ چ و بھر پ نی بھی نہیں
رہن دی ۔
نور! مجھ م ف کر دین ۔۔۔۔۔ میں ن تمہیں ذلیل کی ۔۔۔۔۔۔ مجھ
صغراں کی عی ر مسکرااہٹیں عزیز تھیں۔۔۔۔۔ ت ۔۔۔۔۔۔ ہ ں ت ۔۔۔۔۔۔۔ میرے
ہ تھوں ب وق ر ہوتی رہیں۔ میری آنکھیں‘ اص ی اور نق ی کی پہچ ن
س ‘ محرو ہو گئی تھیں۔ ان میں‘ لای نیت ک موتی اتر آی تھ ۔ ت تھیں‘
کہ میرا س تھ کبھی اور کسی موڑ پر نہ چھوڑا۔ تمہ را وجود ۔۔۔۔۔
برداشت ک رستوں ک لی ۔۔۔۔۔۔ سنگ میل ک درجہ رکھت ہ ۔ صبر
اور برداشت ن ق بل تسخیر ہیں۔ یہ ہم لہ کی سر بہ ف ک چوٹیوں کو بغل
میں ل کر چ ت ہیں۔ اگر یہ نہ ہوت تو زندگی ک کی د توڑ چکی
ہوتی۔ زمین پر ویرانی کی حک رانی ہوتی۔۔۔۔۔ ہ نپتی ک نپتی روحوں
کو۔۔۔۔۔۔ ان س حرات اور شکتی میسر آتی ہ ۔ س ری ت ب نی ں ان ہی
ک د تو س ہیں۔
س ری روشنی ں ان ہی ک د س تو ہیں۔
لوگو! ج ن لو‘ کسی بھول میں نہ رہن ۔۔۔۔۔۔ میں جھوٹ ک سوداگر ہوں۔۔۔۔۔
میں عی ر مسکراہٹیں خرید کرت ہو۔
مجھ س ‘ ہر سودگر کی گرہ ک سک ۔۔۔۔۔۔ کھرے ہو کر بھی‘ کھوٹ
ہوت ہیں۔ جھوٹ ک خریددار‘ سکوں کو کھرا کہن کھ ی بددی نتی ہ ۔
جھوٹ م نویت س تہی ہوت ہ ۔ اٹھو‘ خدا ک لی اٹھو‘ جھوٹ کی
تجوری کی‘ اینٹ س اینٹ بج دو۔ اسی میں پوری انس نیت کی بھلائی
پوشیدہ ہ ۔ اٹھو‘ ج دی کرو کہیں دیر نہ ہو ج ئ ۔ سچ ک
سورج۔۔۔۔۔عی ر مسک نوں کی ص ی پر‘ مص و ہو ج ئ گ ۔ چ ر سو
اندھیروں ک سوا کچھ نہیں ہو گ ۔
مجھ کند چھری س ذبح کرو۔۔۔۔۔ میں نور ک صبر ک ق تل ہوں۔
جھوٹ ک ہر خریدار اسی سزا ک مستح ہ ۔۔۔۔۔۔ میں سراپ جھوٹ
ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھ م ف کرو گ ‘ تو۔۔۔۔۔۔ عی ر مسک نوں ک ک روب ر ج ری
رہ گ ۔۔۔۔۔ نور سی ص بر عورتیں‘ ن کردہ جر کی سزا بھگتی رہیں
گی۔۔۔۔۔ ان ک کوئی پرس ن ح ل نہ ہو گ ۔۔۔۔۔۔ ح دار کو‘ کبھی اس ک ح
نہ مل سک گ ۔ جبر کی گر ب زاری‘ خت نہ ہو گی۔ ملاوٹ شدہ پوترت
ک ‘ مکروہ چہرے س ۔۔۔۔۔۔۔ گھونگھت کیس اٹھ گ ۔ لوگ‘ پیتل اور
سون میں‘ پہچ ن کیس کریں گ ۔ میری موت۔۔۔۔۔۔ اور زندگی ک
چوراہ پر لٹکی لاش۔۔۔۔۔۔ نور ک صبر ک لی ‘ پرس ہو گی۔۔۔۔۔۔۔ یہ
ہی نہیں۔۔۔۔۔ مک ر پوترت ۔۔۔۔۔۔۔عی ر مسکک نوں ک ‘ ہر سوداگر کو‘ ک ن
ہو ج ئیں گ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک کی موت‘ بہتوں کو ن ع دے گی۔۔۔۔۔۔۔ سچ تو یہ
ہی ہ ‘ کہ یہ صبر کی گرہ میں۔۔۔۔۔۔ اس کی کٹھور تپسی ک ان ہو
گ ۔۔۔۔۔۔ ص ہ اور عوض نہ ہو گ ۔ اس عوض نہ م ن چ ہی ۔۔۔۔۔۔۔اس ک
لی ن سہی۔۔۔۔۔۔ میرے س تھ‘ بہت بڑا پن ہوگ ۔ مجھ پچھت وے کی
دہکتی آگ س ‘ مکتی مل ج ئ گی۔۔۔۔۔ ا یہ آگ‘ میں سہن نہیں کر پ
رہ ۔۔۔۔۔۔ میری برداشت کی کمر ٹوٹ چکی ہ ۔ میں ہی نہیں‘ ہر کوئی
مکتی ک لی سرگرداں ہ ۔
م نت ہوں‘ اس میں میرا اپن سواد پنہ ں ہ ۔ ی دوں کی اذیت ن کی‘ بڑی
خوف ن ک ہوتی ہ ۔ زندگی س موت تک ک س ر۔۔۔۔۔۔۔۔مشکل بن دیتی
ہیں۔۔۔۔۔جین نہیں دیتیں۔۔۔۔۔۔مرن نہیں دیتیں۔۔۔۔۔۔۔زندگی ک ہر موس
کی س نجھ چھین لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔
اوہ ی ر ط ر ۔۔۔۔۔۔۔ا چپ ہو ج ؤ۔۔۔۔۔۔ خدا ک لی چپ ہو ج ؤ۔ گھڑی
دیکھو‘ رات ک دو بج چک ہیں۔ صبح دفتر بھی ج ن ہ ۔ میں
تمہ ری یہ بکواس ک تک سنت رہوں گ ۔ گولی م رو صغراں اور اس
کی ی دوں کو۔۔۔۔۔ کی رکھ ہ ان ب توں میں۔ ا تمہیں‘ نور پر ہون
والی زی دتیوں ک ‘ مدوے ک لی زندہ رہن ہو گ ۔ آوارہ ل ظوں ک
خول س ‘ نکل کر‘ حقیقت کی دنی میں آؤ۔۔۔۔۔۔ جھوٹ دھوکہ اور فری
کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔
ط ر ن اپنی کہہ دی تھی۔ اس ک من ک بوجھ‘ ہ ک ہو چک تھ ۔
میرے ل ظ‘ زندگی س م مور نہ تھ ‘ پھر بھی‘ مرہ ک ک کر گی ۔
میں دیکھ ‘ ط ر گہری نیند سو چک تھ ‘ جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
یک دسمبر
بروز ہ تہ
بوقت
دو دھ ری ت وار
ب شک‘ اللہ ن انس ن کو بہترین مخ و تخ ی فرم ی ہ ۔ اس سوچ
و بچ ر ک س تھ‘ کھوج و تلاش کی قوت بھی عط کی ہ ‘ اور یہ
کوئی م مولی اعزاز نہیں۔ میں ڈارون کی تحقی پر حیران تھ ۔ ہر ج نور
ن صرف رہن ک حوالہ س ‘ مخت ف ہ ‘ ب کہ کھ ن ک اطوار
بھی‘ الگ س رکھت ہ ۔ انس ن ن ‘ جہ ں ع لی ش ن عم رتیں تخ ی
کی ہیں‘ وہ ں حیرت انگیز‘ س ئیسی ایج دات س بھی‘ زندگی ک ہر
گوش کو م لا م ل کر دی ہ ۔
ج نور بھی‘ زمین پر عرصہ دراز س ‘ اق مت گزین ہ ‘ لیکن کوئی
ایک چیز ایج د نہیں کر سک ۔ عین ممکن ہ ‘ اس ن بھی چیزیں ایج د
کی ہوں‘ لیکن وہ انس ن ک تصرف میں نہیں ہیں۔ اس ک برعکس‘
انس ن ن ‘ ج نوروں ک لی ‘ بہت سی چیزیں بن ئی ہیں۔ انہیں
پکڑن ‘ رکھن اور تصرف میں لان کی اشی تک‘ غور کرت ہوں‘ تو
حیرانی کی انتہ نہیں رہتی۔
میں دیر تک‘ ڈارون کی تھیوری پر غور کرت رہ ‘ مجھ اس میں
سچ ئی کی کوئی جھ ک دکھ ئی نہ دی۔ یہ مغر وال عج احمق نہ
سوچیں سوچت رہت ہیں۔ ڈارون کی تھیوری ہی کو دیکھ لیں‘ ہ
کوئی اس میں عقل مندی کی ب ت۔ ب د میں‘ مجھ خی ل آی ‘ کہ میں ن
مردے کی ب ت پر غور کرک ‘ اچھ خ ص وقت برب د کر دی ہ ۔ س تھ
میں‘ چ ئ بھی برف کر دی ہ ۔ گر چ ئ ہی‘ چ ئ پین ک بنی دی
اصول ہ ۔ اسی میں‘ چ ئ ک لطف پنہ ں ہوت ہ ۔
س من والی میز پر‘ چ ر لوگ بیٹھ ہوئ تھ ۔ خوش لب س ہون
ک س تھ س تھ‘ خوش مزاج بھی تھ ۔ ان میں س ایک ص ح کی
زب ن منہ میں نہ پڑ رہی تھی‘ متواتر ک ئیں ک ئیں کرک ‘ دم کی
چولیں ڈھی ی کر رہ تھ ۔ دوسرے‘ زی دہ بول نہیں رہ تھ ‘ لیکن
متواتر قہقہ دا رہ تھ ۔ وہ اپن ح ل میں مست تھ ۔ انہیں کسی
دوسرے س ت واسطہ ہی نہ تھ ۔
ب ئیں ج ن ‘ تھوڑا ہٹ کر‘ ایک میز پر بڑے می ں اکی ہی بیٹھ
تھ ۔ چہرے پر جھری ں تو تھیں ہی‘ لیکن کسی ب طنی کر ن ان ک
چہرے کو‘ ن صرف ویران کر دی تھ ‘ ب کہ بیم ر س بن رکھ تھ ۔ وہ ہر
کسی کو‘ پھٹی پٹھی اور نظروں س دیکھ رہ تھ ۔ ان ک ہونٹوں
کی نقل و حرکت س ‘ لگت تھ ‘ کہ منہ میں بڑبڑا رہ ہیں‘ لیکن کسی
س ‘ کچھ کہہ نہیں پ رہ تھ ۔ پھر ان کی نگ ہیں‘ ایک بل ب ٹ میں
م بوس‘ نوجوان پر ج کر رہ گئیں‘ جو عن یت حسین بھٹی ک گرامون
فون پر لگ ‘ گ ن پر تھرک رہ تھ ۔ منہ ک جو پوز بن رہ تھ ‘ اس
س اندازہ ہو رہ تھ ‘ عن یت حسین بھٹی ک گ ن کی نقل ات ر رہ
تھ ۔ اس نوجوان ک قدموں کی تھرکت ک س تھ س تھ‘ بزرگ وار ک
چہرے ک رنگ بدل رہ تھ ۔ ان رنگوں میں‘ ب بس غض ‘ س
س واضح اور نم ی ں تھ ۔ وہ بٹر بٹر دیکھن ک سوا‘ کچھ کرن ی
کہن کی پوزیشن میں نہ تھ ۔
دائیں ج ن ‘ ایک گوش میں‘ تین مرد اور ایک خ تون‘ بیٹھ ہوئ
تھ ۔ ان ک انداز‘ قط ی خ یہ س تھ ۔ ان تینوں میں‘ دو جوان اور ایک
پچ س س زائد عمر ک تھ ‘ ت ہ ب حیثیت اور ت زہ د تھ ۔ خ تون بھی‘
ک عمر کی نہ تھی‘ ہ ں غ زہ ک ری ن ‘ اس قبول صورت بن دی تھ ۔
کچھ دیر‘ وہ کھسر پھسر کرت رہ ‘ پھر خ تون ب لائی منزل کی طرف
چل دی۔ ش ید‘ کمرہ بک کروای ہوا تھ ۔ اس ک ج ن ک ‘ تھوڑی دیر
ب د‘ عمر میں سنئیر حضرت بھی‘ ب لائی منزل کی طرف بڑھ گی ۔ ک فی
دیر ک ب د‘ کپڑے وغیرہ درست کرت ہوئ ‘ نیچ اترے‘ اور ادھر
ادھر دیکھ بغیر‘ ب ہر ک رستہ ن پ ۔
اس ک چ ج ن ک ب د‘ دونوں جوان‘ ب لائی منزل کی طرف ب ری
ب ری بڑھ ۔ انہوں ن زی دہ وقت ض ئع نہ کی ۔ یہ بھی ممکن ہ ‘ ان
ک پ ‘ دان ہی اتن ہوں۔ مل ب نٹ کر‘ است م ل ک اصول‘ ایک
کراہت ن ک ج نور س ‘ منسو چلا آت ہ ۔ ان دونوں میں س ایک‘
پیچھ مڑ مڑ کر‘ دیکھ رہ تھ ۔ ک فص یں اج ڑن وال ک س اور
حرکتیں پیچھ مڑ مڑ کر دیکھن وال کی سی‘ ہ ں فص یں اج ڑن
کی خص ت‘ دوئی ک دروازہ بند کر رہی تھی۔
ب سی ی جھوٹ ‘ ب ہوش نہیں کھ ت ۔ جو بھی سہی‘ جھوٹ کھ ن وال ‘
انس ن س ‘ دیکھ کر‘ حیرت زدہ ہون ‘ فطری عمل تھ ۔
پچھ ی نشتوں پر‘ تھوڑی دیر پہ ‘ بھنبھن ہٹ سی‘ سن ئی دے رہی
تھی۔ وہ ں کہرا س مچ گی ۔ میں ن گبھرا کر‘ پیچھ مڑ کر دیکھ ۔ دو
میزوں پر‘ لوٹ م ر کی کی یت ط ری تھی۔ پھر‘ ایک میز پر‘ چھین
جھپٹی ک ع ل میں‘ کھ ن ایک ص ح ک کپڑوں پر گر گی ۔ وہ
ص ح ‘ س کو ٹوٹ ٹوٹ پڑ رہ تھ ۔ الزا کی زد میں‘ کوئی نہیں
آن چ ہت تھ ۔ گرم گرمی میں‘ ب ت بھونکن س آگ نکل گئی۔
دیکھت ہی دیکھت ‘ س دست و گریب ن کی گرفت میں آ گی ۔ جن
ص ح پر س لن گرا تھ ‘ ان ک دونوں رخس ر آلو س مثل ہو گی
تھ ۔ کچھ نہ پوچھی ‘ ایسی م را م ری ہوئی‘ کہ چھڑان اور بچ بچ ؤ
کرن کی بج ئ ‘ وہ ں بیٹھ لوگوں ن ‘ فرار میں ع فیت ج نی۔ اسی
بھگ دوڑ ک دوران‘ پولیس آ گئی۔ سپ ہی بڑی سرعت رفت ری س
جھپٹ ‘ گرنیں دبوش کر اسی رفت ر س پ ٹ ۔ مث ثرہ شخص سمیت‘
س کو ل کر چ گی ۔ مجھ یہ تو م و نہیں‘ کہ رست میں ہی
لین دین ط پ گی ‘ ی وہ منزل مقصود تک پنچ دی گی ۔ جو بھی
سہی‘ لہو گر رکھن ک اس انداز س ‘ لطف ضرور ملا۔ درندہ فض
ک ہو‘ ی زمین پر دھ ڑ رہ ہو‘ چیرن پھ ڑن ک انداز مخت ف نہیں
ہوت ۔
میں ن غور کی ‘ کہ ڈارون ن انس نی ارتق ک ‘ پرندے س رشتہ نہیں
جوڑا‘ ح لاں کہ انس ن پرندوں ک خص ئل س ‘ الگ تر نہیں ہ ۔ سوچ
میں ہوں‘ آخر کن بنی دوں پر‘ ڈارون ک نظری کی ن ی کروں۔ خص ئل
ہی کی ‘ ان کی ب ض جب تیں‘ ایک جیسی ہیں۔ گوی موجودہ صورت میں‘
انس ن کسی ن کسی سطع پر‘ ڈارون کی تھیوری پر‘ اترت نظر آت ہ ۔
اتنی ترقی ک ب جود‘ ڈارون ک کہ پر‘ خط نہیں کھینچ ج سک ۔ اگر
م ہرین سم جی ت ن ‘ اس حس س م م کو‘ سنجیدہ نہ لی ‘ تو انس ن
ک تشخص اور شن خت‘ اس دو دھ ری ت وار کی گرفت س ‘ نہ نکل
پئ گ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! اسلا ع یک
بہت ج ندار تحریر ہ اور پھر آپ ک انداز بی ں ،منظر کشی بہت ہی
ج ندار اور خوبصورت ہ ۔ ہ سمجھت ہیں کہ ایسی تحریریں کردار
س زی ک لیئ بہت ضروری ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اچھ برے کی تمیز
سکھ تی ہیں ،ب کہ اچھ ئی کو پسند کرن اور برائی س ن رت کرن
پر مجبور کر دیتی ہیں۔ آپ ک انداز بی ں مشکل پسندی س دور ہ
اس لیئ ق ری ک ذہن پر اثر چھوڑت ہ ۔
ٓاپ ن ڈارون کی ب ت کی ،ہم را تو خی ل ہ کہ ان ک نظریہ میں ایک
م مولی سی تبدلی کر لی ج ئ تو ب لکل درست ہ ۔ اور وہ تبدی ی یہ
ہ کہ نظریہ کی مشہور تصویر میں دکھ ئ گئ قط ر میں موجود
تم ک تم اراکین اپن رخ موڑ کر پیچھ کی طرف کر لیں۔ انس ن
کی پریش ن ح ل زندگی کو دیکھ کر لگت ہ کہ اصل میں انس ن ترقی
کرت کرت بندر بن گئ ہیں۔ مغربی مم لک ک تیزی س ترقی
کرت ہوئ لوگوں میں یہ ترقی ص ف دکھ ئی بھی دیتی ہ ۔ ان کی
بڑھتی ہوئی م صومیت دیکھ کر ہمیں وہ ج نور ہی لگن لگ گئ ہیں۔
اس وقت جو ڈارون ک نظریہ موجود ہ اس میں ایک س س بڑا
سوال یہ ہ کہ اگر بندر ترقی کر کہ انس ن بن ہ تو پھر ابھی تک
ہم ری دنی میں اتن بندر کیوں ہیں اور ان کی ترقی میں کی رک وٹ
ہ ؟ ہم را ذاتی خی ل یہ ہ کہ ج نوروں ک خ ندان ہوت ہیں جیس ،
گھوڑا ،گدھ ،خچر ،زیبرا وغیرہ۔ خرگوش ،چوہ ،گ ہری ،نیولا وغیرہ۔
ایس ہی انس ن ک خ ندان بندروں ک ہی ہ ،لیکن یہ ع یحدہ نسل ہ ۔
اور جس چیز ن انہیں اتنی ترقی دی ہ وہ صرف زب ن ہ ۔ جس ن
انہیں ایک دوسرے ک تجرب ت س بھی سیکھن کی ط قت دی۔
خیر ،آپ کی تحریر ک صرف ایک حصہ ہ ڈارون ک نظریہ ،اصل تو
یہی ہ کہ انس ن کو انس نوں اور ج نوروں میں فر رکھن چ ہیئ ۔
آپ کی تحریر بہت پسند آئی۔ بہت شکریہ کہ ٓاپ یہ ں رق کر دیت ہیں
اور ہ فیضی ہو پ ت ہیں۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8770.0
انگریزی فیل
میں اور اس ‘ ایک س تھ‘ ایک ہی سکول میں‘ پڑھت تھ ۔ ہم را بڑا
ی رانہ تھ ۔ ہ ایک دوسرے ک ہ ں‘ اکثر آت ج ت رہت تھ ۔ اس
بلاشبہ‘ بڑا محنتی ط ل ع تھ ‘ لیکن غیر م مولی ذہین نہیں تھ ۔ اس
ک برعکس‘ مجھ ذہین ط ب میں شم ر کی ج ت تھ ۔ است د ک منہ
س نک ی ب ت‘ میرے ح فظ میں بیٹھ ج تی تھی۔ اس ک مط یہ
نہیں‘ کہ میں گھر آ کر پڑھت نہیں تھ ۔ پڑھ ہوا سب ‘ گھر آ کر ضرور
دھرات ‘ ب کہ اس زب نی لکھت بھی تھ ۔ مجھ کئی ب ر‘ اس تذہ ن
ش ب ش بھی دی تھی۔ اس کو ش ید ہی‘ کبھی کسی است د س ‘ ش ب ش
م ی ہو گی۔ ہ ں رٹ ب زی میں‘ میں ب لکل نکم تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘
کہ رٹ ب زی س ‘ مجھ گھن سی آتی تھی۔ میرے برعکس‘ اس
رٹ ب زی میں اپن جوا نہیں رکھت تھ ۔ انگریزی ک سوا‘ میں دوسرے
مض مین میں‘ اس س زی دہ نمبر ح صل کرت ۔ انگریزی س ‘ میری
ج ن ج تی تھی۔ انگریزی ن پسندیدہ مضمون ہو کر بھی‘ میں اس زی دہ
وقت دیت ۔ کئی ب ر سوچت ‘ کہ م سٹر انگریزی پڑھ کر‘ ش ید مجھ
صدر کنیڈی کی سیٹ پر بیٹھ ن چ ہت ہیں۔
اس رٹ ک بل بوت پر‘ میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن ل کر‘ پ س ہو
گی ۔ میں ن ‘ انگریزی ک سوا‘ دوسرے مض مین میں‘ اس س کہیں
بڑھ کر‘ نمبر ح صل کی ‘ لیکن انگریزی میں‘ انیس نمبر س زی دہ
ح صل نہ کر سک ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ دوسرے مض مین میں‘ م قول
نمبر ح صل کرن ک ب وجود‘ فیل قرار دے دی گی ۔ والد ص ح ن ‘
ن صرف جھڑکیں دیں‘ ب کہ پہنٹی بھی لگ ئی۔ مجھ جھڑکوں اور پہنٹی
ک سرے س ملال نہیں۔ وہ سچ تھ ‘ اگر میں میٹرک میں ک می
ہو ج ت ‘ تو میری زندگی بن ج تی۔ مجھ اصل ملال یہ رہ ‘ کہ میں پڑھ
لکھ کر بھی‘ ان پڑھوں میں شم ر ہوا۔
والد ص ح ن ‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ بڑا زور دی ‘ لیکن میرا اصرار
تھ ‘ ج تک انگریزی کورس میں ش مل ہ ‘ میں دوب رہ امتح ن نہیں
دوں گ ۔ والد ص ح میرے اس موقف پر‘ ت ؤ میں آ ج ت اور م رن
ک لی آگ بڑھت ‘ تو والدہ آڑے آ ج تیں۔ وہ گری سر پکڑ کر بیٹھ
ج ت ‘ اس ک سوا اور کر بھی کی سکت تھ ۔ میں کی ج نو‘ کہ
انگریزی تو جنرل ایو بھی‘ خت نہیں کر سکت تھ ‘ وہ خود انگریزی
بولت تھ ۔ اس کی پڑی‘ کہ میری خ طر‘ انگریزی مضمون سکولوں
س خت کرا دے۔ اس میٹرک میں پ س ہو ج ن ک ب د‘ کسی دفتر
میں ب بو بھرتی ہو گی ۔
والد ص ح مجھ ایک خرادی ک پ س چھوڑ آئ ۔ انہوں ن اس
کہ ‘ ٹھوک کر ک لو۔ ان ک خی ل تھ ‘ کہ م وکڑا س ہوں‘ محنت س
تنگ آ کر‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ تی ر ہو ج ؤں گ ۔ میں ن ٹھ ن لی‘
کہ محنت کر لوں گ ‘ لیکن انگریزی ک خ تم تک‘ دوب رہ امتح ن
نہیں دوں گ ۔ ب ت تو بڑی شر والی تھی‘ کہ اس جو میرا ہ جم عت
تھ ‘ اجلا لب س پہن کر‘ دفتر ج ت اور میں‘ میلا کچیلا لب س اور قنچی
چپل پہن کر مزدوری ک لی ج ت ۔
شریف خرادی ن ‘ ایک وقت میں‘ کئی شو پ ل رکھ تھ ۔ ب ل
بچ دار ہو کر‘ اس ک ‘ کئی عورتوں س مراس تھ ۔ اس ک
علاوہ بھی‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک س ب ز نہ آت ۔ ہر عورت س ‘
ایک ہی ڈائیلاگ بولت :قس ل لو‘ تمہ رے سوا‘ میری زندگی میں
کوئی نہیں۔ ت میری پہ ی اور آخری محبت ہو۔ اس کی پہ ی اور آخری
محبت‘ کوئی بھی نہ تھی۔ وہ ابھی جوان اور صحت مند تھ ‘ اس لی ‘
کسی کو‘ اس کی آخری محبت کہن ‘ کھ ی حم قت تھی۔
اطوار یہ ہی بت ت ‘ کہ ابھی تو آغ ز محبت ہ ۔ وہ اس میدان میں
قن عت ک ق ئل نہ تھ ۔ مجھ ان ک پی بر ہون ک اعزاز ح صل رہ
ہ ۔ فرم ئشی اشی بھی‘ میں پنچ کر آت تھ ۔ انہوں ن ت کید کر رکھی
تھی‘ کسی دوسری ک ذکر نہیں کرن ۔ ان ک گھر بھی سودا س ف
پنچ ن ‘ میرے فرائض میں داخل تھ ۔ بیگ ص ح ن کئی ب ر کریدا‘
میں ن کبھی‘ کسی م م ک اش رہ تک نہ دی ۔ اس ک ص ہ میں‘
جس میں اعزازیہ سمجھت ہوں‘ عط فرم ت ۔ دوسرے ک سیکھن
والوں میں س ‘ میں انہیں بہت عزیز تھ ۔
شریف ص ح ک دوستوں میں‘ دو تین پین ک بھی شغل رکھت
تھ ۔ س ش گردوں کو چھٹی ہو ج تی‘ لیکن مجھ ک وغیرہ ک
لی ‘ روک لیت ۔ کھ ن کی چیزیں بچ رہتی تھیں‘ ان س پر میں ہ تھ
ص ف کرت ۔ ش ک ب د‘ وہ مل بیٹھت ‘ اور ایک دو پیک بھی لگ ت ۔
ان میں ایک ص ح ج د بہک ج ت ۔ خم ر میں تو س ہی ہوت ‘ لیکن
وہ کچھ زی دہ ہی اوور ہو ج ت ۔ ہر قس کی ب تیں کرت ۔ بہت سی ب تیں
خی لی ہوتیں۔
ایک ص ح ‘ سی ست س دل چسپی رکھت تھ ۔ وہ ں دری پر بیٹھ
بیٹھ اکبراعظ بن ج ت ۔ ب قی س انہیں جی حضور‘ جی سرک ر
کہت ۔ ت لی بج ت ‘ میں ت لی کی آواز سن کر‘ ح ضر ہو ج ت ۔ مجھ
مخ ط کرت ہوئ فرم ت ‘ خ د خ ص! ان رک ی س کہہ دو‘ ہ اس
ک گ ن سنن ک لی ب ت ہیں۔ میں ب ہر آ کر ف مغل اعظ ک یہ
گ ن ۔۔۔۔۔۔۔ ج پی ر کی تو ڈرن کی ۔۔۔۔۔۔۔ گراموں فون پر لگ دیت ۔ س
جھومن لگت ۔ ان کی ح لت‘ بڑی عجی اور مضحکہ خیز ہو ج تی۔
شریف ص ح ‘ اپن جدید و قدی م شقوں کی داست نیں‘ چسک ل
ل کر سن ت ۔ ان داست نوں میں جنسی واہی تی ں بھی ش مل کرت
جت ۔
ایک ص ح ‘ قم رب زی ک شو رکھت تھ ۔ ان کی ہر کہ نی ک انج
یہ ہی ہوت ‘ کہ ب زی سو فی صد میری تھی‘ لیکن فلاں پتہ دغ دے گی ‘
ورنہ ہ س نوٹوں میں کھی ت ۔ انہیں ہر ب ر یقین ہوت ‘ کہ اگ ی ب زی
ان کی ہی رہ گی۔ پھر وہ نوٹوں میں زب نی کھی ت ۔ بڑے بڑے
منصوب بن ت ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ ایک ب ر بھی‘ جیت ان ک مقدر نہ
بنی۔ ہمت وال تھ ‘ جیت کی امید میں‘ اگ ی ب ر بھی میدان میں
اترت ۔
شریف ص ح ک س تھ‘ میں پورے س ت س ل رہ ۔ ایک دن‘ پت چلا کہ
وہ دنی س کن رہ کر گی ہیں۔ ان کی دک ن اور س م ن پر‘ ان ک
س لوں ن قبضہ کر لی ۔ ہ س ش گرد پیشہ لوگوں کو‘ چ ت کی گی ۔ اس
ک ب د میں ن ‘ کئی اس ہنر س مت لوگوں ک س تھ‘ ک کی ۔
شریف ص ح ک س تھ ک ک جو مزا ملا تھ ‘ کسی اور ک ہ ں س
نہ مل سک ۔ س سڑیل اور ٹوٹ ٹوٹ کر پڑن وال تھ ۔ اکنی اکنی ک
حس کرت تھ ۔ اپن کھ ن ‘ لوازم ت ک س تھ منگوات تھ لیکن
ہم رے لی ‘ بس ٹوٹل پورا کرت ۔ کھ ت وقت ہ میں س کوئی‘ ان
ک قری نہیں ج سکت تھ ۔ اجرت بھی رو رو کر ادا کرت ۔ کئی ب ر
جی چ ہ ‘ کہ اس پیش کو چھوڑ کر‘ کوئی اور پیشہ اختی ر کر لوں‘ ی
اپن ک شروع کر دوں۔ ہر نئ ک ک لی ‘ رق درک ر ہوتی ہ ‘ لیکن
میرے پ س تو کچھ بھی نہ تھ ۔ اگر اب زندہ ہوت ‘ وہ ضرور کچھ
ن کچھ کرت ۔ اس بڑا ب بو بن چک تھ اور مجھ انگریزی ل ڈوبی
تھی۔ پت نہیں‘ اور کتن لوگ ہوں گ ‘ جنہیں انگریزی ن ‘ کسی ک
ک نہیں چھوڑا ہو گ ‘ وہ بھی میری طرح‘ دنی ک دھکوں کی زد میں
ہوں گ ۔
یقین م نی ‘ میں ن آج تک کسی لڑکی س ج ئز ی ن ج ئز ت ق ت
استوار نہیں کی ۔ کسی لڑکی ن ‘ مجھ کبھی ل ٹ نہیں کرائی۔ یہ ب ت
بھی سچی ہ ‘ کہ میں ن کسی لڑکی کو‘ اپنی م ں بہن نہیں سمجھ ۔
اس ک ب وجود‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک میرا محبو مشغ ہ ہ ۔
ت ش ک ب رہ پت ‘ میرا پیچھ کرت رہت ہیں اور میں‘ شکیل ک
ہ ں‘ چلا ج ت ہوں رات گی تک‘ لطف اندوز ہوت ہوں۔ فری میں کھی ی
ج ن والی‘ ایک دو ب زی ں بھی لگ لیت ہوں۔ میں اکیلا ہی نہیں‘
دیکھن وال اور لوگ بھی موجود ہوت ہیں۔ ہ چھوٹی موٹی شرطیں
لگ کر‘ اپن رانجھ راضی کر لیت ہیں۔
شرا پین س ‘ مجھ کوئی دل چسپی نہیں۔ ہ ں شرابیوں کی لذیز
ب تیں‘ سنن ک لی کم ل ص ح ک ہ ں چلا ج ت ہوں۔ ان س کی
خدمت کرت ہوں۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ وہ مجھ اپن آدمی سمجھت ہیں۔
کھ ن پین ک چھوڑا ہوا س م ن‘ میرے حوال کر دین میں بخل
نہیں کرت اور نہ ہی برا محسوس کرت ہیں۔
ج میں شرا نہیں پیت ‘ تو لوگ مجھ شرابی کیوں سمجھت ہیں۔
جوا کھی ن س ‘ میرا کوئی ت واسطہ ہی نہیں‘ اس ک ب وجود
مجھ جواری کیوں سمجھ ج ت ہ ۔ کسی لڑکی ن مجھ س ت
استوار ہی نہیں کی ۔ میں بھی‘ گرہ کی ک زوری ک ب عث‘ کسی حسینہ
س ‘ م شقہ نہیں کر سک ۔ م مولی ت نک جھ نک ی رسمی س ٹھرک
بھورن ک سب ‘ علاقہ میں ذلیل و رسوا ہو گی ہوں۔ کوئی مجھ
شریف آدمی‘ سمجھن ک لی تی ر ہی نہیں اور اپنی دختر نیک اختر
ک رشتہ‘ دین ک لی تی ر نہیں۔ کنواری تو دور کی ب ت‘ کوئی طلا
ی فتہ ی بیوہ بھی‘ میرے س تھ نک ح کو‘ شجر ممنوعہ خی ل کرتی ہ ۔
سوچت ہوں‘ مجھ اس ح ل تک‘ کس ن پنچ ی ہ ؟ میں خود اس ک
ذمہ دار ہوں‘ ی یہ س ‘ انگریزی ک کی دھرا ہ ؟ انگریزی کو لازمی
مضمون بن ن کی آخر کی ضرورت ہ ۔ کون س ‘ ہر کسی ن ‘ غیر
مم لک میں س یر بن کر ج ن ہوت ہ ۔ ب زار ک ک ک انگریزی ک
س تھ چ ت ہ ۔ کورٹ کچیری اور دف تر میں ک ک انگریزی میں چ ت
ہیں۔ کچیری میں‘ مب حث مق می زب ن میں ہوتی ہ ۔ بس لکھ ئی‘
انگریزی میں ہوتی ہ ۔ انگریزی میں لکھ ج ن ک سب ‘ کئی کئی
دن فصی ہ م ن میں لگ ج ت ہیں۔ غیروں کی زب ن ہون ک ب عث‘
کئی نکت نکل آت ہیں‘ اور اس طرح‘ کوئی ب ت اٹل قرار نہیں پ تی۔
اپی و اپی ی ہی کی گھمن گھیریوں میں‘ مس ئل پھنس رہت ہیں۔ اس
جو‘ رٹ ب ز تھ ‘ بڑا ب بو بن بیٹھ ہ ۔ رع جم ن ک لی ‘ گلابی
ارو بولت ہ ۔ میں اس کی اصل حقیقت س آگ ہ ہوں۔ میں کچھ بھی
کہت رہوں‘ محض بکواس ہو گ ۔ لوگ ب ت کو نہیں‘ ب ت کرن وال ‘
اور اس کی حیثیت کو دیکھت ہیں۔
سم ج ن ‘ شریف ص ح س لوگوں کو‘ کیوں ڈھیل دے رکھی۔ سم ج
میں‘ ہنر ک لی ‘ اس س لوگ ہی تو است د ہیں۔ میں اپنی ص ئی
میں‘ کچھ بھی کہت رہوں‘ کوئی نہیں م ن گ ۔ مجھ س انگریزی ک
م رے‘ سم ج ک دو نمبری ہی رہیں گ ۔ انہیں کوئی اپنی بیٹی ک
رشتہ نہیں دے گ ۔ کرسی پر بیٹھ لوگوں کی دو نمبری‘ کسی کو نظر
نہیں آتی۔ لوگ اس کی حیثیت کو دیکھیں گ ۔ رشوت‘ ب ایم نی‘ ہیرا
پھیری اور حرا خوری‘ ان کی کرسی ی کرسی وال س انسلاک‘ ک
پیٹ میں چلا ج ئ گ ۔ کتن بھی غ ط ہوت رہ ‘ انگریزی ک دامن نہیں
چھوڑا ج ئ گ ۔ انگریزی ذہ نیں نگ تی رہ گی‘ اور کوئی کچھ نہیں
کر سک گ ۔ میں ی مجھ س ‘ انگریز فیل‘ کچھ بھی کر لیں‘ بیوی‘ ان
ک نصی س ‘ ب ہر رہ گی۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
م ذرت خواہ ہیں کہ دیر س ح ضر ہوئ ۔ یہ موضوع اگرچہ اس قدر
انوکھ نہیں ہ ،لیکن آپ ک ق ن اس اپنی طرز س بی ن کی ہ
اور بہت ہی خو کی ہ ۔ ہک پھ ک انداز میں ٓاپ ن کہ نی بی ن کی
ہ جو پڑھن وال کو کسی ذہنی دب ؤ میں نہیں ڈالتی۔ اس ک ف ئدہ یہ
ہ کہ وہ ق رئین جو گہرے ف س وں س کترات ہیں ی سمجھ نہیں
پ ت وہ بھی اس س محظوظ ہو پ ت ہیں اور کچھ نہ کچھ ب ت ک اثر
ضرور ل کر ج ت ہیں۔ ہم ری طرف س بھپور داد قبول کیج ۔
ویس ہم را خی ل اس س مت تو یہ ہ کہ ایک تو جو ش گرد رٹہ
نہیں لگ سکت ان کو اس تذہ س ش ب ش بھی ش ز و ن در ہی م تی
ہ ،وگرنہ نہیں م تی۔ ہم را اپن المیہ یہی رہ ہ ۔ دوسری ب ت یہ کہ
اس میں صرف انگریزی ہی ک رفرم نہیں ہ ،ب کہ کئی ایسی چیزیں
ہم رے نص ک حصہ ہیں جس کی کوئی تک نہیں م تی۔ یقین ج نئی
ٓاج تک ہمیں الجبرا ،جس جبراً پڑھ ی ج ت ہ ،کو است م ل کرن ک
کوئی موقع زندگی ن نہیں دی ۔ ہ ایکسوں میں س وائی ں ت ری
کیئ بغیر زندگی گزار رہ ہیں۔ نہ مرہٹوں کی لڑائیوں کی ت ریخوں
کی کہیں ضرورت پڑی ہ ۔ اور تو اور ق ئداعظ ک چودہ نق ط جس
ہ چوتھی جم عت س ل کر مس سل چودھویں جم عت تک ی د کرن
کی کوشش کرت رہ ہیں ،نہ تو ٓاج تک کبھی ی د ہوئ ہیں اور نہ
کبھی اس کی ضرورت پڑی ہ ۔
یہ ں کسی ک کو کرن ک لیئ اس ک لیئ موزوں ترین شخص
بھی تلاش کرن ک کوئی اصول درست نہیں ہ ۔ ہ جہ ں ک کر رہ
ہیں وہ ں بھی صرف اس لیئ کہ ہمیں :ڈائریکٹ ،ان ڈائریکٹ،:
:ایکٹو ،پیسو: ،:دع ئ قنوت ،:اور اپن وزیر اطلاع ت ک ن ی د تھ ۔
ہ اس س بھی اچھ عہدہ پ سکت تھ لیکن چونکہ ہمیں نہ صرف
:امریکہ ک صدر کینڈی :ک ق تل ک ن ی د نہیں تھ ب کہ یہ تک
م و نہ تھ کہ :ب بل :کی اوسط عمر کتنی ہوتی ہ ،اس لیئ ہ اس
عہدے ک لائ نہ تھ ۔
اس لیئ ہ سمجھت ہیں کہ نہ صرف یہ ش ور دین ضروری ہ کہ
ت ی ک مقصد کی ہ اور اس میں کردار س زی کی کی اہمیت ہ ۔ ب کہ
یہ بھی کہ کسی ک کو کرن ک لیئ موزوں ترین شخص ک انتخ
کیس کرن چ ہیئ ۔ اگر ہم رے بس میں ہو تو ،ح فظ ،س دی اور
عرفی جیس لوگوں ک کلا ،ب کہ قصہ چہ ر درویش کو نص ک حصہ
بن ئیں اور بہت سی خراف ت کو اس میں س نک ل پھینکیں۔ ورنہ ہم را
تو یہی ح ل ہ بقول س دی کہ اگر کوئی شخص ع ح صل کرے اور
پھر اس است م ل نہ کرے تو ایس ہی ہ جیس کسی گدھ پر
کت بوں ک بوجھ لدا ہو۔
تحریر پر ایک ب ر پھر داد ک س تھ۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8808.0
چوتھی مرغی
اس س پہ ‘ اس ن تین مرغی ں ذبح کیں۔ ہر مرغی ن ‘ گردن پر
چھری والا ہ تھ آن س پہ ‘ تھوڑا بہت شور مچ ی ۔ جوں ہی گردن‘
قص کی دو انگ یوں میں آتی‘ وہ اس ک ب د‘ شور بھی نہ مچ سکی۔
وہ کھ ی آنکھوں س ‘ اپنی موت ک منظر دیکھتی۔ پھر وہ دیکھن
س بھی‘ ہمیشہ ک لی محرو ہو گئی۔ چوتھی مرغی کی گردن پر
چھری آن ہی کو تھی‘ کہ بڑی بڑی مونچھوں وال ‘ رست نم ایک
ص ح آ گی ۔ انہوں ن مرغی ذبح کرن س منع کر دی ۔ اس مرغی
ک گوشت‘ مجھ م ن والا تھ ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی ‘ لیکن ان ک جثہ اور
مونچھیں‘ حد درجہ خطرن ک ہی نہیں‘ خوف ن ک بھی تھی۔ اس پر طرہ
یہ کہ انہوں ن ‘ س ت آن زی دہ دے کر‘ مرغی خرید لی۔ قص م ن
والوں میں س تھ ۔ اس ن ہی و ہ ئ کو ب لائ ط رکھت ہوئ ‘
س ت آنوں کو‘ اہمیت دی۔ خ موشی ک سوا کی ہو سکت تھ ۔
میں ن اس شخص س دری فت کی ‘ کہ آخر اس مرغی میں کی خ ص
ب ت ہ ‘ جو وہ س ت آن زی دہ دے کر‘ اس ح صل کر رہ ہ ۔ میری
ب ت کو سن کر‘ وہ ہنس دی ۔ بولا ب ؤ جی آپ نہیں ج نت ‘ کہ یہ مرغی
کی چیز ہ ۔ یہ مرغی‘ بڑی نس ی مرغی ہ ۔ اس نسل ک ایک مرغ ‘
میرے پ س ہ ۔ یہ میری قسمت بن دے گی۔ میں اگ چند س لوں میں‘
امیر ہوج ؤں گ ۔ آپ دیکھت رہن ۔۔۔۔۔۔ کتن احم تھ ‘ جو یہ کہہ رہ تھ ۔
میرے پ س اتن وقت کہ ں‘ جو میں مرغی کو دیکھت پھروں۔ میں ن
پھر پوچھ ‘ کی قص اس حقیقت س آگ ہ نہ تھ ۔ وہ آگ ہ تھ ‘ لیکن
اس نسل ک مرغ نہ ہون کی وجہ س ‘ یہ مرغی اس ک لی کوئی
م نویت نہ رکھتی تھی۔
میں ن یہ سوچ کر‘ خ موشی اختی ر کی‘ کہ گوشت ہی کھ ن ہ ‘ اس
مرغی ک ہو‘ ی اس مرغی ک ‘ اس س کی فر پڑت ہ ۔ مجھ لوگوں
کی جہ لت پر‘ افسوس ہوا۔ شیخ چ ی کی سی سوچ رکھت ہیں۔ مرغوں
ک حوالہ س ‘ ام رت آتی ہو‘ تو دنی س رے ک ک ج چھوڑ کر‘ اسی
ج ن لگ ج ئیں۔ میں دیر تک‘ ان سوچوں ک گردا میں پھنس رہ ‘
کہ ہ بھی کیسی عجی قو ہیں‘ دنی ترقی کرک کہ ں کی کہ ں‘ پہنچ
گئی۔ ہ ابھی تک‘ ان لای نی اور ب م نی اشغ ل میں پڑے ہوئ ہیں۔
آخر ان اشغ ل کی‘ کی م نویت ہ ۔ غری قوموں کو‘ اس قس ک
اشغ ل‘ وارہ نہیں کھ ت ۔ ایک طرف بھوک ن نڈھ ل کر رکھ ہ ‘ تو
دوسری طرف انگریز ک سجن طبقہ‘ جس ک ہ تھ میں‘ وہ زندگی کی
طن بیں دے گی تھ ‘ جونک کی طرح‘ اس عظی خطہ ک لوگوں ک ‘
خون چوس رہ ہ ۔ لوگوں پر ب ور کر دی گی ہ ‘ کہ یہ اس قو ک
ہیرو ہیں۔ قو ک لی ‘ لڑن مرن اور جی وں میں ج ن وال ‘ ڈاکو
قرار دے دی گی ہیں۔ وہ جنہوں ن ‘ لمحہ بھر کی بھی ص وبت نہیں
اٹھ ئی‘ عظمتوں ک م م ر قرار پ ئ ہیں۔ آج تک‘ یہ ک ی طور پر‘
ط نہیں پ ی ‘ کہ تقسی ‘ خطہ کی ہوئی ہ ‘ ی مسم ن قو کی ہوئی
ہ ۔ اوپر س مذہبی طبقہ‘ انس نوں کو قری نہیں آن دیت ۔ دیر تک
سوچن ک ب د‘ میں اس نتیجہ پر پہنچ ‘ کہ منتشر اور حق ئ س
دور قوموں کی زندگی‘ مرغوں اور بٹیروں ک گرد طواف کرتی رہتی
ہ۔
م شی بھ گ دوڑ ن ‘ مجھ اس قس کی سوچوں س ‘ کوسوں دور
کر دی ۔ ج فرد‘ ذات ک خول میں گ ہو ج ت ہ ‘ تو اجتم ع ک
اچھ برے‘ کی سوچوں س دور۔۔۔۔۔ بہت دور چلا ج ت ہ ۔ اس
صرف اور صرف‘ اپنی بھوک ی د رہتی ہ ۔ خونی رشت بھی‘ اس
بھ گ دوڑ میں‘ اپنی شن خت س محرو ہو ج ت ہیں۔ ایس ع ل
میں‘ چھین جھپٹی اصول اور ض بطہ ٹھہرتی ہ ۔ میں بھی‘ یہ س
بھول گی ۔ مجھ کی پڑی‘ جو مرغوں اور بٹیروں کی سوچ میں‘ پڑ
کر‘ جی ہ ک ن کرت ۔ کسی کو کہ بھی تو نہیں ج سکت ۔ سچ کہن والا‘
سم ج دشمن قرار پ کر‘ زہر ک مسح سمجھ ج ت ہ ۔ ا ہر کوئی‘
سقراط بنن س رہ ۔
ایک دن‘ میں ب زار س گزر رہ تھ ۔ شہر ک بڑے چوک ک ب ئیں‘
ایک اشتہ ر آویزاں تھ ۔ یہ اشتہ ر‘ مرغوں کی لڑائی س مت تھ ۔
ایک عرصہ پہ کی ب ت‘ ایک ب ر پھر میرے ذہن میں گھو گئی۔
اشتہ ر پڑھ کر‘ میرا دم چکرا گی ۔ کیسی ب حس اور لاپرواہ قو ہ ۔
جنگ س نک ‘ ابھی چند م ہ ہی گزرے ہوں گ ‘ اور یہ‘ مرغوں کی
لڑائی ں کروا رہی ہ ۔ جس جنگ س ‘ قو گزری تھی‘ کی وہ ک فی نہ
تھی۔ کی ا بھی لڑائی دیکھن کی‘ کوئی کسر ب قی رہ گئی تھی۔ میں
ان ہی سوچوں میں گرفت ر‘ ضروری خریداری ک ب د‘ گھر واپس آگی ۔
اچ نک‘ میرے ذہن میں‘ چوتھی مرغی گردش کرن لگی۔ ایک تجسس
س نمودار ہوا۔ پھر میں ن ‘ مرغوں کی لڑائی دیکھن ک ‘ فیص ہ کر
لی ۔