The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2018-04-30 03:59:11

ایک سو بیس افسانے

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Keywords: short stories urdu

‫لیتی ہیں۔ آدمی بہت کچھ کر گزرن کی خواہش رکھت ہوئ بھی‘ کچھ‬
‫نہیں کر پ ت ۔ اس کی اپنی جمع پونجی‘ اس کی اپنی نہیں رہتی۔ تجربہ‘‬
‫کمزور ح فظ ک منہ میں ج کر‘ خود ک نش ن بھی نہیں تلاش کر‬
‫پ ت ۔ جوانی تس ی کی خو کو قبول نہیں کرتی اس ک برعکس‘ بڑھ پ‬
‫ہ ں اور ن ں ک تذبذ میں لمح گزار کر‘ لحد میں اتر ج ت ہ ۔ میں‬
‫اپنی غ طی‘ ا بھی‘ تس ی نہیں کرن چ ہتی۔ غ طی تس ی کرتی ہوں‘ تو‬
‫ب وجود ہوتی ہوں۔ غ طی تس ی نہیں کرتی‘ تو میرا ضمیر مجھ‬
‫سکھ ک س نس نہیں لین دیت ۔ س ری عمر‘ اس ن نیند کی گولی ں‬
‫کھ ئ رکھی ہیں‘ آج ج ن کیوں ج گ اٹھ ہ ۔ زندگی ج بھرپور‬
‫ہوتی ہ ‘ اس وقت تمیز و امتی ز ک دروازے بند رہت ہیں۔ کوئی‬
‫دستک ک نوں تک نہیں آ پ تی۔‬

‫آج‘ ج ہر لمحہ‘ موت ک قری ہو رہ ہ ‘ مجھ اپن م ضی کی‬
‫غ طیوں ک احس س ہو رہ ہ ۔ اگر دیکھ ج ئ ‘ تو اس غ طی بھی‬
‫نہیں کہ ج سکت ۔ میں دینو ک گھر میں‘ م شی طور پر آسودہ نہ‬
‫تھی۔ دو وقت کی روٹی ب مشکل م تی تھی۔ روٹی ہ ‘ تو س لن نہیں۔‬
‫کپڑے ہیں‘ تو جوت نہیں۔ گھر میں کچھ بھی تو مکمل نہیں تھ جو‬
‫تھ ‘ ادھورا اور ن مکمل تھ ۔ ہم ری شخصیت بھی ادھوری اور ب سری‬

‫تھی۔ ب ت ب ت پر‘ ہ دونوں بحث وتکرار پر اتر آت تھ ۔ دور کی‬
‫مرگ پر ج ن ک لی ‘ ہم ری جی میں کرایہ تک نہ ہوت تھ ۔ زندگی‬

‫ک بیشتر لمح ‘ ادھ ر پر چ ت تھ ۔ اس میں دینو ک بھی کوئی‬
‫قصور نہ تھ ۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر مزدوری پر چلا ج ت تھ ۔ دھ ڑ‬
‫میں س بہت ق یل‘ اپنی ذات پر خرچ کرت تھ ۔ ب قی س ‘ میری ہتھی ی‬

‫پر رکھ دی کرت تھ ۔‬

‫میں اس ‘ اپن والدین ک بھی قصور نہیں سمجھتی۔ ان ک بیٹ اپنی‬

‫بیوی کو ل کر‘ الگ ہو گی تھ ۔ وہ بوڑھ تھ ۔ میں دینو کی کم ئی‬
‫ک آدھ ‘ ی کبھی اس س زی دہ‘ ان پر خرچ کر دیتی تھی اور گھر میں‬
‫زی دہ تر‘ ہ ن ڈال رکھتی تھی۔ خدا لگتی یہی ہ ‘ کہ دینو ن کبھی‬
‫حس تک نہیں م نگ تھ ۔ انہوں ن واجبی شکل ک ‘ مجھ س عمر‬

‫میں بڑے شخص کو‘ لڑکی اسی لی دی تھی‘ کہ میں ان ک م شی‬
‫س تھ دیتی رہوں۔‬

‫اس روز‘ دینو ک س لوٹ تو‘ وہ پسین میں شرابور تھ ۔ اس ک‬
‫چہرے پر‘ پریش نی کی لکیریں بڑی گہری تھیں۔ منہ ہ تھ دھو کر‘ بیٹھ‬

‫تو میں ن پریش نی کی وجہ دری فت کرن کی بج ئ ‘ دو ریپ ک‬
‫دین پر بحث شروع کر دی۔ اس ن ابھی دو چ ر لقموں س زی دہ‬
‫نہیں لی ہوں گ ‘ کہ اس ک چہرا غ آلود غص س سرخ ہو گی ۔‬
‫اس ن آگ پڑا کھ ن ‘ زمین پر پٹک دی ۔ اس ب ت پر ہم ری تو تکرار‬

‫میں اض فہ ہو گی ۔‬

‫اگر پورا نہیں کر سکت تھ ‘ تو ش دی کیوں کرائی تھی؟ میں ن اس‬
‫ک تیور دیکھت ہوئ کہ‬

‫گزارا کرن ہو تو‘ روکھی سوکھی پر بھی ہو سکت ہ ۔ اس ن جواب‬
‫کہ‬

‫گزارا ہی تو کر رہی ہوں۔۔۔۔ کون س کوفت اور ککڑ کھ ن کو دیت‬
‫ہو۔‬

‫شیداں گزارا کرو۔۔۔۔۔۔ گزارا۔۔۔۔۔۔۔۔ جو م اس پر اللہ ک شکر ادا کی‬
‫کرو۔‬

‫ج س تمہ رے گھر آئی ہوں گزارا ہی تو کر رہی ہوں۔‬

‫ب پ ک گھر میں کوفت کھ تی آئی ہو؟ میں انہیں بھی ج نت ہوں۔ ا‬
‫کہ دینو ک لہجہ بڑا ج رح نہ ہو گی ۔‬

‫میرے ب پ کو پن رہ تھ ‘ اس پر میں آپ س ب ہر ہو گئی۔ میں ن‬
‫اس ک خ ندان ک ہر فرد کی اوق ت اس ک س من رکھ دی۔ اس پر‬

‫وہ ت ملا اٹھ اور گھر س ب ہر ج ن لگ ۔ میں ن روک کر کہ ‘ اگر‬
‫گھر نہیں چلا سکت ‘ تو مجھ طلا دے دو۔ میرے منہ س طلا ک‬

‫ل ظ سن کر‘ وہ سکت میں آ گی ۔ اس ن میری طرف دیکھ اور طلا‬
‫طلا طلا کہت ہوا گھر س ب ہر نکل گی ۔‬

‫وہ طلا طلا طلا کہہ کر چلا گی لیکن مجھ حیرت اور پریش نی‬
‫ک سمندر میں پھینک گی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی‘ کہ دینو‬
‫جیس م ذور شکل ک شخص‘ اس سطح پر بھی اتر آئ گ ۔ میں اس‬
‫س بڑھ کر‘ بیسیوں ب ر ب عزتی کر چکی تھی‘ لیکن وہ اس سطح‬
‫تک کبھی نہیں آی تھ ب کہ م ذرت خواہی پر اتر آت تھ ۔ یہ س میری‬

‫توقع ک برعکس ہو گی تھ ۔‬

‫وہ رات دیر گی واپس لوٹ ۔ کچھ کہ سن بغیر‘ اپن بستر پر لیٹ‬
‫گی ۔ دونوں ج ن چپ ک روزہ تھ ۔ آخر میں ن ہی پہل کی۔‬

‫دینو بہت بڑی غ طی ہو گئی ہ ۔ میرے منہ س ل ظ طلا نکل گی ‘ ت‬
‫ہی چپ رہت ۔ ا کی کریں۔ مولوی ص ح س پوچھو۔ کوئی تو حل ہو‬

‫گ۔‬

‫پوچھ ہ ‘ انہوں ن کہ ہ ‘ حلال ک سوا‘ اس ک کوئی دوسرا حل‬
‫موجود نہیں۔‬

‫حلالہ ک لی کس س کہیں؟! میں ن پریش نی ک ع ل میں کہ‬

‫مولوی ص ح یہ قرب نی دین ک لی تی ر ہو گی ہیں۔‬

‫حلالہ ک ب د‘ مولوی ص ح مجھ اپن ہ ں ل گی ۔ ان ک ہ ں‬
‫کھ ن ک س م ن وافر تھ ۔ گھر بھی‘ ضرورت کی ہر ش س بھرا ہوا‬

‫تھ ۔ گھر دیکھ کر‘ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک دیندار‬
‫انس ن ک گھر‘ عیش وعشرت ک اتن س م ن۔۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں‬
‫سکتی تھی۔ وہ رات بڑی آسودہ گزری۔ کھ ن پین کو پیٹ بھر ہی‬

‫نہیں‘ وافر دستی تھ ۔‬

‫اگ ی صبح دینو آی اور اس ن مولوی ص ح س طلا ک لی کہ ۔‬
‫مولوی ص ح ن جواب کہ ‘ ت خود پوچھ لو‘ اگر طلا لین چ ہتی ہ‬
‫تو‘ میں ابھی دے دیت ہوں۔ اتنی جنسی اور پیٹ کی آسودگی ک ب د‘‬
‫مولوی ص ح کو طلا دین ک لی کہن ‘ کھ ی حم قت تھی۔ دینو‬

‫غیر تھ ‘ ا میرے لی ‘ غیرمحر ک س من آن ‘ غیر شرعی امر تھ ۔‬
‫ا میں ایک ب شرع شخص کی بیوی تھی۔‬

‫میں ن دینو کو ج ت ہوئ لاپرواہ نظروں س دیکھ ۔ یوں س یہ س ‘‬
‫لاش س مم ثل نظروں س اوجھل ہو گی ۔‬

‫میں اس حقیقت س انک ر نہیں کرتی‘ مولوی ص ح ک گھر میں‬
‫مجھ اور میرے پچھ وں کو‘ پیٹ بھر ملا ہ اور میرے ہوت ‘‬

‫مولوی ص ح کو دوسرے حلال کی جرآت نہیں ہوئی۔ چوری چھپ‬
‫کوئی کر گزرے ہوں‘ تو یہ الگ ب ت ہ ۔ ہم رے ہ ں م نگ ک رز آی‬
‫ہ ۔ یہ م نگ رز کوئی تھوڑا نہیں‘ بہت آی ہ ۔ مولوی ص ح م نگ‬
‫لین میں کوئی برائی نہیں سمجھت ۔ انہوں ن ایک درس بھی کھول‬

‫رکھ ہ ۔ چھوٹ چھوٹ بچ ‘ درس ک لی چندہ لین ک لی‬
‫چڑھ رہت ہیں۔ اچھ خ ص چندہ بٹور لات ہیں۔‬

‫مولوی ص ح اس انتظ ر میں رہ ہیں‘ کہ ک طلا م نگتی ہوں۔ میں‬
‫پ گل نہیں‘ کیوں کہ ا حلال کی نوبت نہیں آئ گی۔ مولوی ص ح‬
‫کو مجھ س ‘ کہیں بہتر‘ حلال میں مل ج ئ گی۔ اگر ایک فیصد‬
‫حلال کی نوبت آ بھی گئی تو‘ مولوی ص ح جیسی اس می نہ مل‬
‫سک گی۔‬

‫آج بڑھ پ ن ش ید ہوش غ رت کر دئ ہیں‘ ت ہی تو سوچتی ہوں‘‬
‫کہ دینو کی پسینہ آمیز کم ئی میں‘ ب حد سواد تھ ۔ اس وقت مجھ‬
‫کوئی بیم ری لاح نہ تھی۔ یہ ں حلال ک دو م ہ پ د ہی م دہ کی‬

‫بیم ری لاح ہوگئی۔ اس ک ب د شوگر ن آ گھیرا۔ کمردرد تو م مول‬
‫ک م م ہ ہ ۔ بی پی کی کسر رہ گئی تھی‘ وہ بھی گ ک ہ ر بن گئی‬
‫ہ ۔ مولوی ص ح کسی کی جی تو نہیں ک ٹت ‘ اس ک ب وجود ان ک‬

‫لای ہوا رز ‘ ذائقہ میں‘ دینو ک لائ س نہیں۔‬

‫‪1-2-1976‬‬

‫جن محتر ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح‬

‫سلا مسنون پیش خدمت ہ‬

‫ڈاکٹر ص ح آپ کی تحریریں ب س ن یس بولتی ہیں اپن پ س س‬
‫گزرن والوں کو مخ ط کر ک کہتی ہیں کہ آؤ ہمیں پڑھو ہ س‬
‫کچھ سیکھو کچھ اخذ کرو ‪ ،‬یہ دل کو چھو لین والی تحریر جو حقیقت‬
‫س قری ترین م شرے س جڑے کرداروں کو ب نق کرتی ہوئی‬
‫بہت س سوال بہت س ب تیں ذہن میں پیدا کرتی ہوئی اپن پڑھن‬
‫وال کو مجبور کر رہی ہ ۔ میرے ذہن میں بھی کچھ ب تیں آئیں جنک‬

‫اظہ ر خی ل ضروری سمجھت ہوں‬

‫حلال و حرا کی پ بندی و شرائط ک کہ ں اور کس لئ کی بنی د پر ان‬
‫ک ن ذ حکمیہ طور پر خ ل ک ئین ت ک مرت کردہ ہ‬

‫نک ح فرض ہ ‪ ،‬نک ح واج ہ ‪ ،‬نک ح سنت ہ ‪ ،‬نک ح مستح ہ‬
‫یہ وہ شک یں ہیں جنہیں ہ ج نت ہیں مگر نک ح حرا ہ جی نک ح‬
‫حرا ہ محر ک س تھ مگر نک ح ن محر کہ جس س نک ح حلال‬

‫ہ حرا بھی ہ وہ اس صورت میں کہ ج کوئی ایس شخص جو‬
‫نک ح تو کرل مگر حقو ذوجیت ادا کرن کی صلاحیت س محرو‬
‫ہو ن مرد ہو تو ایس شخص ک نک ح کہ جس کی منکوحہ اپنی جنسی‬
‫ضرورت اور خواہش کو کسی اور ذرائع س پورا کرے وہ بھی حرا‬

‫ہ‬

‫طلا دین حلال ہ مرد ک لئ مگر تم حلال ک موں میں یہ وہ حلال‬
‫ک ہ جس اللہ ب ری ت ل ٰی ن ن پسند فرم ی ہ ‪ ،‬عورت کو طلا‬
‫دین ک ح ح صل نہیں ہ ہ ں خ ع ل سکتی ہ ‪ ،‬اگر عورت کو‬

‫طلا ک اختی ر دے دی ج ت تو دن بھر میں بیسیوں ب ر طلا دے دیتی‬
‫اپن مرد کو ‪ ،‬مگر مرد اس م م میں ص بر ہ اور بہت ہمت و‬
‫برداشت والا ہوت ہ‬

‫شرعی طریقہ یہ ھ کہ عورت تین طلاقوں ک ب د اگر دوب رہ پہ‬
‫شوھر س نک ح کرن چ ھتی ھ تو وہ کسی دوسرے مرد س نک ح‬

‫کرے بغیر اس نیت ک کہ وہ پہ ک لی حلال ھون چ ھتی ھ ‪،‬‬
‫پھر وہ شوھر اس اپنی مرضی س طلا دے‪،‬مگر اس نیت س نہیں‬

‫کہ وہ پہ ک لی حلال ھو ج ئ ‪ ،‬ی پھر وہ مرج ئ ‪،‬اس طرح‬
‫!!!عورت پہ شوھر س نک ح کرسکتی ھ‬

‫لیکن جو حلالہ ک طریقہ ھم رے م شرےمیں رائج ھو‬
‫چک ھ ‪،‬جوکسی بھی ص ح ع س مخ ی نہیں ھ {اس قس ک‬
‫لوگوں پر نبی ص ی اللہ ع یہ وس ن ل نت کی ھ ‪،‬ی نی حلالہ کرن‬
‫والا اور جس ک لی کی ج ئ ‪ ،‬آپ ن اس کرائ ک س نڈ قرار دی‬
‫ھ }یہ ھ اندھی تق ید جس میں یہود ونص ر ٰی مبتلاء تھ ی نی بغیر‬

‫شرعی دلیل ک آنکھیں بند کرک کسی چیز پر عمل کرن ۔‬

‫سنن ابوداود‬

‫كت النك ح‬

‫نک ح ک احک و مس ئل‬

‫ب في التح یل‬

‫ب ‪ :‬نک ح حلالہ ک بی ن۔‬

‫حدیث نمبر ‪2076 :‬‬

‫حدثن حمد بن یونس‪ ،‬حدثن زھیر‪ ،‬حدثني إسم عیل‪ ،‬عن ع مر‪ ،‬عن‬
‫الح رث‪ ،‬عن ع ي‪ ،‬رضى اللہ عنه ‪ -‬ق ل إسم عیل و راہ قد رف ه إلى النبي‬
‫ص ى اللہ ع یه وس ‪ -‬ن النبي ص ى اللہ ع یه وس ق ل "ل ن اللہ المح ل‬

‫والمح ل له "‪.‬‬

‫سیدن ع ی رضی اللہ عنہ س مروی ہ کہ نبی کری ص ی اللہ ع یہ‬
‫وس ن فرم ی ”حلالہ کرن والا اور جس ک لی کی گی ہ‬
‫“(دونوں) م ون ہیں۔‬
‫ق ل الشیخ الألب ني‪ :‬صحیح‬
‫اسم عیل اعج ز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8684.0‬‬

‫م ئی جنت زندہ ب د‬

‫ج دیکھو‘ ب ب عمر اور م ئی جنت ‘ کسی ن کسی ب ت پر‘ بحث کر‬
‫رہ ہوت ۔ لوگ‘ ان کی تو تکرار س بدمزا ہون کی بج ئ ‘ لطف‬
‫اندوز ہوت اور رک کر‘ ان ک مک لم سنت ۔ وہ اس پھپھ کٹن‬

‫کہت ‘ م ئی جنت ب ب عمر کو‘ چ تر کہتی۔ ج ب ت بڑھتی‘ تو وہ‬
‫ط نوں پر اتر آت ۔ ب لکل بچوں کی طرح لڑت ۔ انہیں اس امر کی پرواہ‬

‫تک نہ ہوتی‘ کہ انہیں کوئی دیکھ سن رہ ہ اور وہ‘ زم ن ک مذا‬

‫بن رہ ہیں۔‬

‫میں ج منڈی س لوٹ ‘ تو تمہیں ت زہ ت زہ اور چنویں بیر دیئ تھ ۔‬
‫ت تو ہو ہی ن شکری۔‬

‫ج نتی ہوں‘ ت کتن کو سخی ہو۔ بیر ہی دیی ‘ امرود تو نہیں دی‬
‫ن ۔۔۔۔۔ م نگن پر‘ بچکی میں چھپ لی تھ ۔ بھوک کہیں ک ۔‬

‫جھوٹی کہیں کی۔ ک کی ب ت کرتی ہو۔ میں تو ب نٹ کر کھ ت ہوں۔‬

‫واہ! آگی ب نٹ کر کھ ن وال ۔ میں ن اپنی آنکھوں س ‘ تمہ رے‬
‫ہ تھ میں دیکھ لی تھ ۔‬

‫ت تو ہو ہی بکھی ندیدی۔ ت ہی تو‘ میرے پیٹ میں درد اٹھن لگ تھ ۔‬

‫یہ تو درد ہوا تھ ‘ ابھی تمہ رے پیٹ میں کیڑے پڑن ہیں۔‬

‫واہ‘ ت تو کیتی کرائی پر پ نی پھیر دیتی ہو۔‬

‫کی کیتی کرائی۔‬

‫!ج بھی ت ن ادھ ر م نگ ‘ میں ن دی نہیں؟‬

‫لو ا ط نوں پر اتر آئ ہو۔ لین دین تو دنی میں چ ت رہت ہ ۔‬

‫میں ن کبھی ادھ ر م را بھی ہ ؟‬

‫وعدے پر تو کبھی نہیں دی ۔ ت تو احس ن فرموش ہو۔ تمہ رے س تھ ب ت‬
‫کرن بھی‘ سو ک گہ ٹ ہ ۔‬

‫بس کرو۔۔۔۔ بڑے آئ سیٹھ ص ح ۔ مہ ج ک ج اب زندہ تھ ‘ ت‬
‫پوری گرمی ں‘ ہم رے گھر س لسی ل ج ت رہ ‘ میں ن کبھی‬
‫جت ی تک نہیں۔ ایک دو ب ر‘ میں ن بن م نگ ‘ مکھن بھی دے دی‬

‫تھ ۔ چ ئ ک لئ بھرا گلاس دودھ ل ج ی کرت تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ س‬
‫بھول گی ہو۔‬

‫غرض اس نوعیت کی تکرار اور نوک جھونک‘ دوسرے تیسرے‘‬
‫سنن میں آتی رہتی تھی۔ ہ میں س کسی ن غور ہی نہ کی ‘ کہ ان‬
‫کی یہ بحث وتکرار کیوں ہوتی ہ ۔ اس اٹ کت ک بیر کی‘ کوئی تو‬
‫وجہ ہو گی۔ عمومی طور پر‘ دونوں بڑے م ن س ر اور ہ درد قس ک‬
‫انس ن تھ ۔ دونوں ک درد ایک تھ ۔ بڑھ پ میں‘ ان ک س تھی چھوڑ‬

‫گی تھ ۔ ش ید وہ چڑچڑے ہو گی تھ ۔ جو بھی سہی‘ دونوں دل‬
‫ک برے نہیں تھ ۔ وقت اور ح لات ن ‘ انہیں اکت ی اکت ی س ‘ بن دی‬
‫تھ ۔ س تھی مر ج ن ک ب د‘ تنہ ئی ن ‘ ش ید انہیں اس طرح ک بن دی‬
‫تھ ۔ وہ ایک دوسرے س بحث کرک ‘ من ک بوجھ ہ ک کر لیت ہوں‬

‫گ۔‬

‫بچ اپنی اپنی دنی میں چ گی تھ ۔ وقت اور ح لات ک گردا‬
‫میں پھنس ‘ کسی دوسرے کی کی خبر رکھ سکت ہیں۔ میں ن‬

‫سوچ ‘ اگر بچ وقت دیں‘ تو بڑھ پ احس س محرومی ک شک ر نہیں‬
‫ہوت ۔ تنہ ئی‘ اور اوپر س عمر ک پچھلا پہر۔۔۔۔۔اف اللہ‘ ان ک لمح‬
‫کس قی مت س دوچ ر ہوت ہوں گ ۔ وہ لڑت نہیں‘ اپن بد قسمت‬
‫بڑھ پ اور اکلاپ ک رون روت ہیں۔ ا تو یہ رون س ری عمراں دا‬

‫اے۔‬

‫ج ن والوں کو کون واپس لا سکت ہ ۔ اس بستی میں گی ‘ ک کوئی‬
‫واپس آی ہ ۔ ایک ب ر نتھو ن کہ ‘ ان دونوں ک نک ح کرا دین چ ہی ۔‬

‫بھ ئی یہ تو ش تک ککڑوں کی طرح لڑت رہیں گ ۔‬

‫رہن دو‘ م ئی ن ج دو تین ب ر مسکرا کر دیکھ تو‘ ب ب عمر د‬

‫ہلان لگ گ ۔ فض و ن قہقہ لگ ت ہوئ کہ‬

‫ب ب بڑا ق غی والا ہ ‘ پیندی سٹ م ئی کو ڈھیر کر دے گ ۔ گ مو ن‬
‫لقمہ دی‬

‫اوہ چھڈ‘ چلا ج ت نہیں‘ در فٹ منہ گوڈی ں دا۔ ڈھیر کر دے گ ‘ م ئی‬
‫بڑے ش آ‘ توں نئیں ج ندا۔ ش کو ن ک نوں کو ہ تھ لگ ت ہوئ کہ‬

‫دیر تک ب ب عمر اور م ئی جنت ہم ری گ تگو ک موضوع بن رہ ۔‬
‫اتنی دیر میں ویرو آ گی اور آت ہی چھ گی ۔‬

‫کچھ سن‬

‫نہیں تو‬

‫ام ں جنت ‘ ب ب عمر ک س تھ نکل گئی ہ ۔‬

‫!ہ ئیں‘ کی بکت ہو؟‬

‫میں بکت نہیں‘ پھرم رہ ہوں۔‬

‫ہ س دوستوں کی آنکھیں‘ کھ ی کی کھ ی رہ گئیں۔ ان ک لڑن محض‬
‫ہم رے دکھ وے ک لی تھ ؟ یہ بوڑھ بھی بڑے کھلاڑی ہوت ہیں۔‬

‫اتن سیدھ س دے نہیں ہوت ۔ یہ ج یبی ک مواف سیدھ ہوت‬
‫ہیں۔ ب ب عمر ک پوت ‘ بڑے غصہ میں تھ ۔ م ئی جنت ک پوت ک‬

‫منہ س ‘ بڑے ت خ ک م نکل رہ تھ ۔ وہ کہہ رہ تھ ‘ م ئی ن‬
‫پوری برادری میں ہم ری ن ک کٹوا دی ہ ۔ اگر ہ تھ لگ گی ‘ تو میں‬

‫دونوں ک ڈکرے کر دوں گ ۔ یہ پہلا موقع تھ ‘ جو دو بوڑھوں ک‬
‫ب عث ان کی اولاد کی ن ک کٹی تھی‘ ورنہ آج تک‘ لڑک لڑکیوں ن‬

‫ہی‘ اپن بڑوں کی ن ک کٹوائی تھی۔‬

‫جوانوں کی جنسی شدت‘ ان کی عقل پر پردے ڈال دیتی ہ ۔ یہ ں تو یہ‬
‫م م ہ تھ ہی نہیں۔ جن جوان بچوں ک منہ س ‘ جھ گ نکل رہی تھی‬

‫اور وہ اپن بوڑھوں ک قتل ک درپ تھ ‘ انہوں ن کبھی بھی‘‬
‫اپن ان بھ گ ج ن وال بزرگوں ک پ س‘ دو لمح ٹھہرن ک‬

‫کشٹ نہیں اٹھ ی تھ ۔ وہ کس ح ل میں ہیں‘ ان کی اولاد میں س کسی‬
‫کو م و کرن کی توفی نہیں ہوئی۔‬

‫ہوں‘ آج ان کی غیرت ج گ گئی ہ ۔ اللہ کرئ ‘ وہ بہت دور نکل گی‬
‫ہوں اور ان جھوٹ غیرت مندوں ک ہ تھ میں ہی نہ آئیں۔ تجربہ ک ر‬

‫لوگ ہیں‘ کچی گولی ں نہیں کھی ہوں گ ۔‬

‫اللہ انہیں‘ ان مردودوں س مح وظ رکھ ۔ شہ بو‘ جو ان بوڑھوں ک‬
‫کچھ بھی نہیں تھ ‘ برستی آنکھوں س دع ئیں م نگ رہ تھ ۔‬

‫وہ م ئی جنت ک برے ح ل س آگ ہ تھ ۔ اسی طرح‘ اس یہ بھی‬
‫م و تھ کہ ب ب عمر‘ مرے کت س بھی بدتر زندگی گزار رہ تھ ۔‬

‫ب ب عمر‘ بنی دی طور پر بزدل اور رن مرید قس ک انس ن تھ ۔ وہ اتن‬
‫بڑا قد نہیں اٹھ سکت تھ ۔ م ئی کی دلیری ن ‘ اس ک ض یف گھٹنوں‬

‫میں بھ گ نک ن کی شکتی‘ بھری ہوگی۔‬

‫دتو ک وچ ر سن کر س کہہ اٹھ‬

‫م ئی جنت زندہ ب د‬

‫‪12-10-1969‬‬

‫ممت عش کی ص ی پر‬

‫جیراں اپنی بیٹی ک چ ن س ب خبر نہ تھی۔ وہ وقت فوقت ‘ اس کی‬
‫سرزنش بھی کرتی رہتی تھی۔ وہ زی دہ سختی بھی نہیں کر سکتی تھی۔‬

‫اس کی دو وجوہ تھیں۔ جوان اولاد کو محبت اور اچھ طریقہ س‬
‫سمجھ ن ہی بہتر ہوت ہ ورنہ وہ بغ وت پر اتر آتی ہ ۔ جوانی‘ اونچ‬
‫نیچ اور برا بھلا سوچن کی ق ئل نہیں ہوتی۔ وہ کر گزرن کی طرف‬
‫م ئل رہتی ہ ۔ ب ض اوق ت‘ من ی بھگت ن ک ب وجود‘ واپسی ک س ر‬
‫اختی ر نہیں کرتی۔ ایس بھی ہوت ہ ‘ کہ ح لات واپی ک دروازے بند‬

‫کر دیت ہیں۔ آدمی لوٹن چ ہت ہ ‘ لیکن وقت کی زنجیریں اس‬
‫پھرن نہیں دیتیں۔ ایک وجہ یہ بھی تھی‘ کہ شیداں م ں کی دو تین‬
‫خوف ن ک کمزوریوں س آگ ہ تھی۔ اگر وہ ایک راز بھی افش کر دیتی‘‬
‫تو جیراں کی پوری عمر کی رکھی رکھ ئی کھوہ کھ ت پڑ ج تی۔ انس ن‬
‫ک من ی عمل ن صرف اس ک لی وب ل بن رہت ہیں‘ ب کہ ب ض‬
‫ذہنوں ک نہ ں گوشوں میں پڑے‘ اپن وجود ک انتظ ر کرت رہت‬

‫ہیں۔ شخص ہو‘ ی کوئی جذبہ‬

‫احس س ی پھر خی ل وجود پ ن ک لی ب کل رہت ہ ۔ ثقیل س‬
‫ثقیل غذا ہض ہو ج تی ہ ‘ لیکن یہ ہض ہوت ہی نہیں۔‬

‫ایک دو ب ر‘ ج جیراں ک لہجہ ت خ ہوا‘ تو شیداں ن م ں کو گزرے‬
‫کل ک ف ش کرن ک اش رہ دے دی ۔ جیراں جو خ وند کی ‘ برادری میں‬
‫بھی پھن خ ں تھی‘ موت کی جھ گ کی طرح‘ لمحوں میں ب وجود‬
‫ہو گئی۔ اس ک رع و دبدبہ ریت کی دیوار س زی دہ‘ پھوسڑ ث بت ہوا‬

‫اور وہ آزادی ک جذبہ رکھت ہوئ بھی‘ آزادی ح صل نہ کر سکی۔‬

‫اس ک ہ تھوں ک تراش ہوا صن ‘ جبری ہی سہی‘ دل و ج ن ک صن‬
‫خ ن میں خدا بن بیٹھ تھ ۔ وہ اس کی دہ یز پر ع جز و مسکین بنی‬

‫کھڑی رہتی تھی۔‬

‫ایک دو ب ر اس ن دع بھی کی‘ کہ شیداں مر ہی ج ئ ۔ اس ذیل میں‘‬
‫ممت کبھی آڑے نہ آئی تھی۔ وہ اپنی موت کی خواہش کر سکتی تھی‬

‫اسی طرح خودکشی ک دروازہ بھی کھلا تھ ۔ اس کی موت س ‘ راز کو‬
‫تو موت نہ آتی۔ وہ شیداں ک سین میں‘ زندہ رہت ۔ یہ راز ج شیداں‬
‫ک لاش ور س ش ور میں وارد ہوت ‘ تو اپنی ہی م ں کو‘ اپن ب پ‬

‫ک مجر سمجھتی۔ اس یہ ہمشیہ احس س رہت ‘ کہ اس کی م ں اس ک‬
‫ب پ کی دین دار تھی۔‬

‫شیداں اپن ب پ کی لاڈلی تھی۔ فتو اس پر اندھ اعتم د کرت تھ ۔ روپیہ‬
‫پیسہ اس ک پ س رکھت تھ ۔ رات کو ب پ بیٹی ج ن کی مشورے‬

‫کرت رہت تھ ۔ وہ تو صرف پک ن اور دھون تک محدود تھی۔‬
‫فتو س ‘ ان دونوں امور ک گلا بھی نہیں کر سکتی تھی۔ روپووں ک‬
‫م م ہ میں‘ وہ صرف دو ب ر‘ ب اعتب ری ہوئی تھی۔ اس ن جھگڑ‬
‫اور پھر رو کر‘ سچ ہون کی کوشش بھی کی تھی۔ فتو ن اس کی‬
‫قس پر بہ ظ ہر اطمن ن ک اظہ ر بھی کی ‘ لیکن اندر س مطمن نہیں ہوا‬
‫تھ ۔ چور ی ٹھگ کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اگر ان کی‬

‫قسموں کو اعتب ر مل ج ئ ‘ تو تھ ن اور کچہری بند ہو ج ئیں۔‬

‫فتو دراصل‘ جیراں کی لای نی کل کل کی وجہ س ‘ ہ ر م ن چک تھ ۔‬
‫گھر اور خ ندان ک م ملات جیراں ہی انج دیتی تھی۔ جہ ں اختلاف‬
‫ڈالت ‘ وہ ں دھ ئی کی راند پڑ ج تی۔ جیراں ن سرنڈر ہون سیکھ ہی نہ‬
‫تھ ۔ ا تو پچ س ک قری پہنچ گئی تھی اور فتو س ٹھ ک ہندسہ تج وز‬
‫کر گی تھ ۔ جو بھی سہی‘ جیراں آج بھی بنتی پھبتی تھی۔ ج دنداس‬

‫اور چوٹی پٹی کرک ‘ فتو ک س من آتی‘ تو وہ مدہوش ہو کر‘ وش‬
‫وش ج ت تھ ۔‬

‫شیداں جوان ہو گئی تھی۔ اس ک ہ تھ پی کرن ک وقت آگی تھ ۔ فتو‬
‫اچھ رشت کی تلاش میں تھ ۔ وہ اپنی لاڈلی کو‘ آسودہ ح ل گھران‬
‫میں بی ن چ ہت تھ ۔ ل دے کر‘ اس کی نظر جیراں ک مسیر ک‬

‫لڑک پر‘ آ کر رک ج تی۔ جیراں یہ رشتہ نہ کرن چ ہتی تھی۔ وہ شیداں‬
‫ک لچھن س ب خبر نہ تھی۔ دوسرا کسی زم ن میں‘ جیراں کی‬
‫فج س بڑی گہری خ یہ سلا دع رہی تھی۔ وہ دوب رہ س ‘ پران‬
‫رشتہ نی نہیں کرن چ ہتی تھی۔ خدا م و ‘ شیداں ب پ ک فیص س‬
‫کس طرح مت ہو گئی اور یہ رشتہ ہو ہی گی ۔‬

‫اللہ ن اس تین بچوں س نوازا۔ شیداں ک گول مٹول اور پی رے‬
‫پی رے بچ ‘ جیراں س بڑے م نوس تھ ۔ فج اس م ضی کی طرف‬
‫ل ج کر‘ پرانی راہ پر لان چ ہت تھ ۔ ایک لمحہ بھی مل ج ت ‘ تو جیراں‬

‫ک ن زک اعض کو چھون میں دیر نہ کرت ۔ بیٹی ک گھر‘ م ضی کی‬
‫بھول اور بیٹی ک بچوں کی محبت ک درمی ن گھری جیراں‘ ہر لمحہ‬
‫اپن ہی ہ تھوں قتل ہوتی۔ وہ کسی س اپن دکھ بھی نہیں ب نٹ سکتی‬
‫تھی۔ اگر شیداں کو ع ہو ج ت ‘ کہ اس کی م ں اس ک سسر ک س تھ‬

‫موجیں م را کرتی تھی تو وہ اور تیز ہو ج تی۔ اس کی ن رت ک ح ق‬
‫مزید وسیع ہو ج ت ۔‬

‫جیراں کو جہ ں اپنی بدن می ک خدش ‘ ک گھن اندر ہی اندر کھ ئ ج‬
‫رہ تھ ‘ وہ ں یہ اطمن ن ضرور تھ ‘ شیداں اپھو ک کھیڑا چھوڑ چکی‬
‫ہ ۔ ج کبھی ات ق اس کی اپھو س ملاق ت ہو گی‘ تو ہی وہ فج‬
‫کی سی حرکتیں کر سک گ ۔ بیٹی ک ہ ں آن تو اس کی سم جی‬
‫مجبوری تھی۔ خدا لگتی تو یہی تھی‘ کہ فج کی حرکتیں اگرچہ کچھ‬

‫نئی نہ تھیں‘ اس ک ب وجود‘ اس ک جسد کو‘ ان ج نی سی‘ مسرت‬
‫اور کیف ومستی دان ضرور کرتی تھیں۔‬

‫شیداں کچھ دن ک لی آئی ہوئی تھی۔ اچ نک جیراں کو م و ہوا‘ کہ‬
‫شیداں کی گرفت میں ننھ آ گی تھ ۔ منہ متھ لگت چھوہر تھ ۔ اس‬

‫دیکھ کر بڑھ پ مچل مچل ج ت تھ یہ ں تو جوانی کی لہریں ٹھ ٹھیں م ر‬
‫رہی تھیں۔ جیراں کو اس ک گھر اجڑن ک خدشہ لاح ہو گی ۔ وہ‬
‫ب توں ب توں میں سمجھ ن کی کوشش کرتی۔ جواب شیداں کہتی میں‬

‫اپن گھر والی ہوں‘ میں اپن اچھ برا ت س بہتر ج نتی ہو۔ جیراں کو‬
‫شیداں ک زی دہ دیر میک رکن برا لگن لگ ۔ وہ ج بھی آتی‘ یہ اس‬
‫کسی ن کسی بہ ن ایک دو دن ب د ہی‘ سسرال بھیج دیتی۔ ج کبھی‬

‫اپن سسر ک س تھ آتی‘ چوڑی ہو ج تی۔ فج ک ک ج والا آدمی ہو کر‬
‫بھی‘ ٹکی ہو ج ت ۔ ح لاں کہ سوائ چوری چھپ ‘ چونڈی تپھ ک ‘‬

‫اس کچھ ح صل نہ ہو پ ت تھ ۔ اس ن فتو س گہرے اور دوست نہ‬
‫ت ق ت استوار کر لی تھ ۔‬

‫پھر ایک دن وہی ہوا جس ک اس ڈر تھ ۔ ننھ کی محبت کی گرفت‬
‫مضبوط ہو گئی۔ شیداں اپن تینوں بچوں کو چھوڑ کر آگئی۔ جیراں یقین‬

‫اچھی عورت نہ تھی۔ اس ن اپنی کسی محبت ک لی ‘ بچوں کو نہ‬
‫چھوڑا تھ ۔ وہ اول ت آخر ان کی بنی رہی۔ یہی اس کی سچی ممت تھی۔‬

‫شیداں ننھ کی محبت میں اپن بچوں کی نہ بنی تھی۔ سوچن کی‬
‫ب ت تو یہ تھی‘ کہ آت وقتوں میں وہ ننھ کی بن پ ئ گی۔ کی وہ‬
‫اس بچوں س بڑھ کر اسی طرح پی را رہ گ ؟ بچ تو رل خل کر پل‬

‫ہی ج ئیں گ لیکن یہ محبت ک کون س روپ ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔ کی اس‬
‫محبت ک ن دی ج سک گ ۔۔۔۔۔۔ م ں کی ممت س بڑھ کر کوئی اور‬

‫چیز بھی ہوتی ہ ‘ کیس م ن لی ج ئ گ ۔‬

‫شیداں ن اپن اب کو یقین دلا دی تھ ‘ کہ سسرال میں اس ک س تھ‬
‫بڑے ظ ہوت تھ ۔ وہ گھر کی فرد س بڑھ کر‘ ک می تھی۔ اس ک‬
‫ب پ کہت ‘ میری بیٹی بڑی م صو تھی۔ ان لوگوں ن تو اس کی قدر ہی‬

‫نہ پ ئی تھی۔ وہ تو تھ ہی ن شکرے۔ جیراں بھی فتو ک س من ‘‬
‫اس ب چ ری کرم ں م ری اور م صو ہی کہتی۔ جھوٹ سچ آنسو‬

‫بھی بہ تی۔ وہ فتو کو کس طرح بت ئ ‘ کہ اس م صو ن ش دی س‬
‫پہ تین عش نبھ ئ ۔ چوتھ عش اولاد پر بھی بھ ری ہو گی تھ ۔‬
‫عی ش تو وہ بھی تھی‘ لیکن ممت ن اس ک دامن پکڑے رکھ ۔ ممت‬

‫ک پردے میں اس ک س رے عش چھپ گی تھ ۔‬

‫وہ یہی سوچتی رہی‘ شیداں ک عش کس پردہ کی اوٹ میں ج کر اپنی‬
‫م صومیت کی گواہی دے سک گ ۔‬

‫شیداں اپن اب کی نظر میں م صو تھی۔ یہ م صومیت کیسی تھی‘ جو‬
‫ممت کی لاش پر ت میر ہوئی تھی۔ ممت کی آہیں کراہیں‘ شیداں کی خود‬

‫س ختہ م صومیت کی لحد میں‘ اتر گئی تھیں۔‬
‫‪3-1-1972‬‬

‫زینہ‬

‫مخت ف ن سی ت کی س میوں س ‘ ہر روز واسطہ رہت ہ ۔ ب ض تو‘‬
‫عج لچڑ ہوتی ہیں۔ ان کی جی س کچھ نک وان بڑا ہی مشکل ک‬

‫ہوت ہ ۔ جی س ‘ نوٹ ب ہر لات ‘ انہیں غشی سی پڑ ج تی۔ ب ض‬
‫س ‘ ان ک علاق کی سوغ ت‘ منگوان ک لی منہ پھ ڑن پڑت‬

‫ہ ۔ بہت ک سہی‘ کچھ بلاط کی ‘ ل آت ہیں۔ اس طرح‘ اس‬
‫علاق کی سوغ ت ک حوالہ س ‘ علاق کی پہچ ن بھی ہو ج تی ہ ۔‬

‫ایسی س میوں س بھی واسطہ رہت ہ ‘ جو دوسرے علاقوں کی‘‬
‫وجہءپہچ ن بڑے اہتم س لات رہت ہیں۔ اس طرح‘ ان ک‬
‫عزیزوں س بھی‘ غ ئب نہ ت رف ہوت رہت ہ ۔‬

‫مجھ ایسی س می س ‘ ہمیشہ چڑ رہی ہ جن کو ان ک علاق کی‬
‫سوغ ت ک مت ی د کران پڑت ہ ۔ ہ یہ ں بیٹھ ‘ کوئی فقیر نہیں‬
‫ہیں‘ جو لوگوں ک س من دست سوال دراز کرت پھریں۔ ہم رے ہ ں‬
‫اصول رہ ہ ‘ کہ آن والا کبھی خ لی ہ تھ نہیں آی ۔ تح ہ دین س ‘‬
‫ت ق ت میں مضبوطی پیدا ہوتی ہ ۔‬

‫ب ض تو‘ بڑے فراخ دل و دم ک لوگ ہوت ہیں۔ ان ک س تھ‘‬
‫خ تون بھی ہوتی ہ اور وہ‘ اس اپنی بیوی ظ ہر کرت ہیں۔ ایسی‬
‫عورتوں س ‘ ہ خو خو آگ ہ ہوت ہیں‘ لیکن ظ ہر نہیں کرت ‘ کہ‬
‫ہ محترمھ کو ن صرف ج نت ہیں‘ ب کہ تصرف میں بھی لا چک ہیں۔‬
‫ہمیں اس س ‘ کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کون‘ اور کس کی کی‬
‫لگتی ہ ۔ قس ل لیں‘ کہ اوپر جو کبھی‘ سچل م ل پنچ ی ہو۔ پہلا ح‬

‫ہم را ہوت ہ ۔ افسر دست خط ک سوا‘ کرت ہی کی ہ ۔ ف ئل پر‬

‫مغزم ری تو ہ کرت ہیں۔ یہ الگ ب ت ہ ‘ زب نی کلامی‘ سچل ہی‬
‫کہت ہیں۔ ہم ری ایم ن داری پر شک ک رسک‘ افسر بھی نہیں ل‬
‫سکت ۔ انہیں تو کیت کرای ہی مل ج ت ہ ۔ ایجنٹ اور نچلا اہل ک ر‘ جو‬
‫م ل لات ہ ‘ ہ اس میں نقص نہیں نک لت ۔ ویہ ر خرا ہو ج ئ ی‬
‫ٹوک ٹوک ئی ک عمل‘ ک روب ر حی ت میں‘ نحوست کی علامت ہ ۔ اعتب ر‬

‫اور اعتم د پر ہی‘ زندگی چل رہی ہ ۔‬

‫اس سی‘ س می آج تک دیکھن سنن میں نہ آئی ہو گی۔ وہ ج بھی‬
‫آت ‘ کسی ن کسی علاق کی‘ سوغ ت ضرور لات ۔ جو ط ہوا‘ اس س ‘‬
‫کہیں بڑھ کر جھڑا۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ بن کہ کھ ن کھلات ۔ سچی ب ت‬
‫تو یہ ہ ‘ خود ل کر ج ت ۔ تھوڑی دیر بیٹھن ک ب د کہت ‘ اوہ چھڈو‬

‫جی چ و پیٹ پوج کرت ہیں۔ ج وہ آت ‘ میں اس ک یہ ڈائیلاگ‘ سنن‬
‫ک لی ب چین ہو ج ت ۔ کچھ کہہ نہیں سکت ‘ وہ چہرا پڑھ لیت تھ ی‬

‫روٹین میں کہت تھ ۔ میرا ضمیر‘ اس ک ک کچھ دیر اور لمک ن پر‬
‫مجبور کر رہ تھ ‘ لیکن س تھیوں کی ترچھیں نگ ہوں میں‘ حسد اتر آی‬
‫تھ ۔ اس لی ‘ اس ب ر اس ک ک کر دین پر‘ میرا ضمیر آم دہ ہو گی ۔‬

‫اس روز‘ وہ کسی م ہر ج سوس کی طرح‘ وارد ہوا۔ دو تین منٹ‬
‫بیٹھن ک ب د‘ اس ن مجھ اپن س تھ آن ک اش رہ دی ۔ وہ اٹھ‬
‫کر چلا گی ۔ تین چ ر منٹ ب د میں ن بھی سیٹ چھوڑ دی۔ نکڑ پر‘ وہ‬
‫کھڑا میرا انتظ ر کر رہ تھ ۔ ہم ری نظریں م یں‘ وہ مسکرای ‘ اور آن‬

‫ک اش رہ دے کر چل پڑا۔ میں اس ک پیچھ پیچھ ہو لی ۔ وہ لال‬
‫ب زار ک ‘ بیک محل ہوٹل میں‘ داخل ہو گی ۔ ایس مک م ت پر‘ کھ ن‬

‫ک ‘ کبھی ات نہ ہوا تھ ۔ وہ ں اس ن ‘ کمرہ بک کروا رکھ تھ ۔‬
‫کمرے ک اندر‘ قی مت ج وہ فرم تھی۔ اس دیکھ کر‘ مجھ پر سکت‬

‫س ط ری ہو گی ۔ میری آنکھیں‘ بہت کچھ دیکھ چکی تھیں‘ لیکن اس‬
‫س ‘ پٹولا کبھی دیکھن میں نہ آی تھ ۔ کھ ن کی ٹیبل بھر گئی۔ ایسی‬

‫تواضح تو‘ اس ن کبھی نہ کی تھی۔‬

‫م ت ک م ل تھ ‘ میں ن ب تح ش کھ ی ۔ میں ن ‘ اس پٹول کو‘ پک‬
‫پک اپن بن ن ک فیص ہ کر لی ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ آج تک کسی‬
‫کھ ن ن ‘ ایس لطف نہ دی تھ ۔ اس قی مت ن بھی‘ اداؤں کی وہ وہ‬
‫بج ی ں گرائیں‘ کہ میں اپن آپ میں نہ رہ ۔ مجھ یوں لگ ‘ جیس‬
‫س ری کی س ری‘ خوش نصیبی میری ہی گرہ ک ‘ مقدر ٹھہر گئی ہو۔‬
‫میں ن ریح نہ س ‘ اپن دل کی ب ت کہہ دی۔ تھوڑی سی‘ پس و پیش‬
‫اور چند رسمی شرائط ک ب د‘ اس ن ہمیشہ ک لی میرا ہو ج ن‬

‫ک ارادہ ظ ہر کر ہی دی ۔‬

‫اس روز مجھ یقین ہو گی کہ میں دنی ک واحد خوش نصی آدمی‬
‫ہوں۔ میں ن بلاشبہ زندگی میں کوئی ایس اچھ ک ضرور کی تھ جس‬

‫ک ‘ دیوت اس اپسرا کی صورت میں‘ صلا عط کر رہ تھ ۔ جو بھی‬
‫سہی‘ میں ن آج تک کسی ک ک نہ روک تھ ۔ رہ گئی لین دین کی‬

‫ب ت‘ یہ ں کون ہل پر نہ ی ہوا ہ ۔‬

‫تنویر ن ہی‘ ایک مختصر‘ مگر پروق ر تقری ک ان ق د کی ۔ ریح نہ‬
‫ہمیشہ ک لی ‘ میری ہو گئی۔ ریح نہ بڑی وف دار بیوی ث بت ہوئی۔ رات‬

‫کو سوت وقت میرے پ ؤں دب تی۔ ن شتہ وقت پر میسر کرتی۔ اس کی‬
‫کو کنگ بڑے کم ل کی تھی۔ ایک ب ر‘ میں بیم ر پڑا‘ ہسپت ل ل ج ن‬
‫میں‘ اس ن بڑی پھرتی دکھ ئی۔ میں ہسپت ل میں دس دن رہ ۔ دوست‬
‫ی ر اور رشتہ دار م ن آئ ‘ ہر کسی س ‘ اس ن بڑے ش ن دار انداز‬
‫میں ڈی نگ کی۔ اس ک حسن س وک اور وضع داری کی ہر کسی ن‬
‫ت ریف کی۔ جس پر‘ میں پھولا نہ سم ی ۔ مجھ ریح نہ پر‘ ن ز ہون‬

‫لگ ۔‬

‫مجھ کئی ب ر‘ کسی ک غذ پتر ک لی گھر آن پڑا‘ میں ن ریح نہ کو‬
‫گھر پر پ ی ۔ میرا دل مطمن تھ ‘ کہ ریح نہ طب ‘ نیک اور ص لح ہ ۔‬
‫نیک اور ص لع س تھی ک مل ج ن ‘ ایسی م مولی ب ت نہ تھی۔ اس ن‬
‫کبھی‘ کریدن ی میرے ب رے کچھ ج نن کی‘ کوشش نہ کی۔ میں ن‬
‫بھی زندگی کی ہر خوشی اور ہر آس ئش‘ اس ک س ید‘ ش ف اور‬
‫ب دا قدموں میں‘ رکھ دی تھی۔‬

‫تنویر ایک ب ر بھی‘ ہم رے گھر نہ آی ‘ ہ ں دفتر دوسرے تیسرے‘ کوئی‬
‫ک ل کر چلا آت تھ ۔ سلا دع والا آدمی تھ ۔ دوست ی ر ک ک لی‬

‫کہہ دیت ‘ تو آ ج ت ‘ ت ہ آج تک‘ اس ن کوئی ک م ت نہ کروای ۔ چ ء‬
‫پ نی سوغ ت‘ لان نہ بھولت ۔ کھ ن بھی کھلات ۔ اس ن کبھی ریح نہ ک‬
‫ذکر بھی‘ نہ چھیڑا۔ ب لکل لات س ہو گی ۔ ایس لگت ‘ جیس گزرا‬
‫کل‘ اس کی ی د داشت س ‘ نکل گی ہو ی گزرے کل ک ب رے میں‘‬
‫کچھ ج نت ہی نہ ہو۔‬

‫ایک روز‘ میں ہیڈ آفس کسی ک س گی ۔ میں ن ‘ تنویر کو‘ بڑے‬
‫گیٹ س نک ت دیکھ لی تھ ‘ لیکن وہ مجھ نہ دیکھ سک ۔ وہ‬

‫پیچھ مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ مجھ ران ص ح ب ہر آت دیکھ ئی‬
‫دی ۔ وہ‘ تنویر ک پیچھ ج رہ تھ ۔ میں ران ص ح ک ‘ ط‬
‫کرن پر ہی‘ ح ضر ہوا تھ ۔ میں ن سوچ ‘ کیوں نہ‘ اس قی مت ک‬
‫دیدار کر لی ج ئ جو ران ص ح کو نہ ل کرن والی تھی۔‬

‫میں عقبی گیٹ س ‘ اس بڑے ہوٹل میں داخل ہو گی ۔ تنویر ن ‘ ایک‬
‫کمرے کی طرف اش رہ کی ۔ ران ص ح کمرے میں داخل ہو گی ۔ تنویر‘‬

‫ہوٹل ک کون میں پڑی میز پر‘ ج بیٹھ ۔ میں بھی‘ چھپ کر کون‬

‫کی ایک میز پر ج بیٹھ ۔ پون گھنٹ ب د‘ ران ص ح کمرے س ب ہر‬
‫نک اور انہوں ن تنویر کی طرف دیکھ ۔ مسکراہٹ ک تب دلہ ہوا اور‬
‫پھر وہ‘ ہوٹل س ب ہر نکل گی ۔ یہ اس ب ت کی طرف‘ کھلا اش رہ تھ ‘‬
‫کہ ران ص ح کی روح میں‘ اندر موجود قی مت ن ‘ سکون ک س غر‬

‫انڈیل دی ہیں اور رک ک ‘ آج ہی اپنی منزل پ ل گ ۔‬

‫مجھ مزید دس ب رہ منٹ‘ انتظ ر کرن پڑا۔ قی مت تنویر ک قری آ کر‬
‫رکی۔ دونوں ن کسی ب ت پر‘ قہقہ لگ ی ۔ مجھ اپنی آنکھوں پر یقین‬

‫نہیں آ رہ تھ ‘ وہ میری نیک اور ص لح بیوی‘ ریح نہ۔۔۔۔۔ ہ ں ریح نہ‬
‫کوثر تھی۔ میں ج دی س ‘ پچھ دروازے س نکلا۔ ٹیکسی س‬

‫گھر ک رخ کی ۔ میں‘ اس کی پرہیز گ ری‘ اس ک منہ پر م رن چ ہت‬
‫تھ ۔ گھر آی ‘ دروازے پر ت لا نہ تھ ۔ میں ج دی س ‘ گھر میں داخل ہو‬
‫گی ۔ وہ پ نگ پر لیٹی‘ بڑے سکون س ‘ ج سوسی ڈائجسٹ ک مط ل ہ‬

‫کر رہی تھی۔ مجھ پریش ن اور بیم ر س دیکھ کر‘ اس ن رس لہ‬
‫پرے پھینک ‘ اور گھبرائی گھبرائی‘ میری طرف بڑھی۔ س ٹھیک تو‬
‫ہ ‘ آپ بیم ر لگت ہیں۔ میرے م تھ پر‘ بڑے پی ر س ہ تھ رکھ کر؛‬
‫کہن لگی۔ آپ ک م تھ تو آگ کی طرح جل رہ ہ ۔ پھر اس ن ب ہر‬
‫ج ن والی چ در اوڑھی اور کہن لگی اٹھیں اٹھیں ڈاکٹر ک پ س‬

‫چ ت ہیں۔‬

‫میں ن کہ ‪ :‬گھبراؤ نہیں‘ میں ب لکل ٹھیک ہوں۔‬

‫کیوں نہ گھبراؤں‘ تمہ رے سوا‘ میرا دنی میں کون ہ ۔ تمہیں کچھ‬
‫ہوگی ‘ تو میں مر ج ؤں گی۔“ پھر وہ‘ زار و قط ر رون لگی۔‬

‫مجھ اس کی ایکٹنگ میں‘ کم ل کی اص یت دکھ ئی دی۔ ہم م لنی کو‘‬
‫اپنی اداک ری پر ن ز ہوگ ‘ لیکن ریح نہ ایکٹنگ میں‘ اس بہت پیچھ‬

‫چھوڑ گئی تھی۔ میں خود اس شش وپنج میں پڑ گی ‘ کہ وہ ریح نہ تھی‬
‫ی کوئی اور تھی۔ یوں لگ رہ تھ ‘ جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہ ں‘ اگر‬

‫وہ پکڑی ج تی‘ تو تنویر ک ‘ کھیس ج ت م ل‘ بند ہو ج ت ۔ ران‬
‫ص ح بڑے ب اختی ر عہدے دار تھ ۔ ن صرف م ل‘ میری جی کی‬
‫زینت بنت ‘ ب کہ میری ترقی‘ جو دو س ل س رکی پڑی تھی‘ میری‬
‫ذہنی الجھن ک سب نہ بنی رہتی۔ مجھ یہ اطمن ن تھ ‘ کہ ران ص ح‬
‫س ‘ نک ح نہ کر سک گ ‘ دوسرا‘ ایک نہ ایک روز‘ رنگ ہ تھوں‬
‫پکڑی ج ئ گی اور پھر ہیڈ آفس میرا ہو گ ۔ میں پہ س ‘ کہیں بڑھ‬

‫کر‘ آسودہ اور عیش کی زندگی بسر کر سکوں گ ۔‬
‫زندگی میں ترقی ک لی ‘ زینہ درک ر ہوت ہ ۔ ریح نہ سی‘ چنچل‘‬
‫حسین اور لاجوا اداک ر بیوی س ‘ بڑھ کر‘ زینہ ڈھونڈھ س ‘ نہ‬
‫مل سک گ ۔ پردہ اٹھن پر ہی‘ اس زین ک ‘ است م ل ممکن ہو سک‬
‫گ ۔ ہ ں ش ئد‘ اس ک لی ‘ تھوڑا اور انتظ ر ک جہن میں‘ ج ن پڑے‬

‫گ۔‬

‫شیدا حرا دا‬

‫اگرچہ‘ منہ پر اور منہ س ‘ کوئی کچھ نہیں کہت ‘ لیکن دیکھنی‘ س‬
‫کچھ کہہ دیتی ہ ۔ بہت سی ب تیں‘ ل ظوں کی محت ج نہیں ہوتیں‘‬

‫سمجھی سمجھ ئی ہوتیں ہیں ی پھر‘ دیکھن ک طور‘ ان ک م ہی‬
‫کھول دیت ہیں۔ لوگوں ک من ی روی اور ترچھی نظریں‘ مجھ‬

‫اپنی حیثیت اور حقیقی اوق ت س ‘ آگ ہ کر دیتی ہیں۔ ا میں ب حیثیت‬
‫اور شرف کی بستی میں‘ اق مت رکھت ہوں۔ میں سیٹھ ن سہی‘ کنگ ل اور‬

‫م وک الح ل بھی نہیں۔ زندگی کی ہر ضرورت‘ مجھ دستی ہ ۔‬
‫سلا دع میں‘ ہر طبقہ ک لوگ ش مل ہیں۔ دو نمبری لوگ‘ کبھی بھی‬
‫میرے دوست نہیں رہ ۔ ن خوش گوار لوگ‘ شروع س ‘ مجھ پسند‬

‫نہیں آت ۔ وہ بھی‘ مجھ پسند نہیں کرت ۔ ہر دو نمبری کو‘ شریف‬
‫طبع اچھ نہیں لگت ۔ یہ ایک طرح س ‘ ضدین کی حیثیت رکھت‬

‫ہیں۔ ایک جگہ رہت ہوئ بھی‘ م شی اور فکری حوالہ س ‘ ایک‬
‫دوسرے س ‘ کوسوں دور ہوت ہیں۔‬

‫میں ن پنج وقتوں کو‘ جھوٹ بولت ‘ رشوت لیت ‘ اور کمزوروں ک‬
‫ح دب ت دیکھ ہ ۔ وہ یہ س دھڑل س کرت ہیں۔ حج ک ب د‬
‫تو‘ بہت س ‘ سمجھ لیت ہیں‘ کہ پچھلا کی ‘ م ف ہو چک ہ اور‬

‫اس ک ب د‘ دو نمبری ک لی ‘ انہیں کھ ی چھٹی مل گئی ہ ۔‬
‫پوچھن والوں ک ‘ وہ گھی شکر س ‘ منہ بند کر چک ہوت ہیں ی‬

‫بہ وقت ضرورت‘ بھر دیت ہیں۔‬

‫عوا س ‘ ووٹ ح صل کرن وال ‘ خود کو‘ ب لائی مخ و خی ل‬
‫کرن لگت ہیں۔ وزارت ام رت کی کرسی‘ انہیں ن کرن وال ک ‘‬
‫کرن کی اج زت دے دیتی ہ ۔ وہ کسی ق نؤن‘ ض بط اور اصول ک‬

‫پ بند نہیں رہت ۔ عوا نم ئندوں کو‘ اہل رائ سمجھ کر‘ ووٹ دیت‬
‫ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیت ہیں‘ کہ یہ جو کریں گ ‘ اچھ ہی کریں گ ۔ ان‬
‫ک کی ‘ عوامی فلاح و بہبود ک لی ہی ہو گ ۔ ج اخب ر اور ریڈیو‘ ان‬

‫ک کی کی‘ خبر پ ت ہیں تو ان پر دکھ ک پہ ڑ ٹوٹ پڑت ہیں۔‬
‫آخر‘ میڈی والوں کو‘ خبر کیس ہوئی اور انہیں‘ رپوٹنگ کی جرآت ہی‬

‫کیوں ہوئی۔ وہ سمجھت ہیں میڈی صرف نغم سن ن اور ان کی‬

‫ک رگزاری کی تشریح اور ت ریف و توسیف ک لی ہ ۔‬

‫اخب ر اور ریڈیو‘ کوئی بہت بڑی ہی خبر سن ت ہیں۔ یہ بھی کہ‘ اخب ر‬
‫اور ریڈیو‘ اصل حقیقت کو بھی پیش نہیں کرت ۔ ح ل ہی میں‘ پ ک‬
‫بھ رت جنگ خت ہوئی ہ ۔ جنگ ک دوران‘ ریڈیو اور اخب ر بڑی‬

‫حوص ہ افزا خبریں سن ت تھ ۔ جنگ ک خ تم پر م و ہوا ہ ‘‬
‫کہ آدھ م ک ہی‘ ہ تھ س نکل گی ہ ۔ رگڑا کی دین تھ ‘ رگڑا لگ گی‬

‫ہ۔‬

‫روزہ‘ تزکیہءن س ک لی ‘ اع ی ترین ذری ہ ہ ۔ اس س ‘ بھوک کی‬
‫ت خی ک اندازہ ہوت ہ ۔ رک ج ن ہی‘ روزے ک پہلا اور آخری مقصد‬

‫ہوت ہ ۔ رکن کی ‘ یہ ں تو خرابی میں اور تیزی آ ج تی ہ ۔ روزے دار‬
‫کہت ہ ‘ میرے منہ میں روزہ ہ ‘ جھوٹ کیوں بولوں گ ۔ ح لاں کہ وہ‬

‫جھوٹ بول رہ ہوت ہ ۔ پہ ک تولت تھ ‘ روزہ رکھ کر‘ ک تولن‬
‫ک س تھ س تھ‘ ملاوٹ کو بھی ش ر بن ت ہ ۔‬

‫ان پڑھ لوگوں کو تو چھوڑی ‘ جو لوگ‘ ع ح صل کرت ہیں‘ وہ تو‘‬
‫ان پڑھ لوگوں کو بھی‘ پیچھ چھوڑ ج ت ہیں۔ پڑھ ئی‘ روشنی ک ن‬
‫ہ ۔ یہ کیسی روشنی ہ ‘ جو ت ریکیوں کی نم ئندہ ہ ۔ آج پڑھ لکھ ‘‬
‫ش طر بن گی ہ ۔ دفتر میں ہ ‘ تو رشوت لیت ہ ۔ دفتر ک ب ہر ہ ‘‬
‫تو تقسی ک دروازے کھولت ہ ۔ کت بیں اور است د‘ تو دو نمبری نہیں‬
‫سکھ ت ۔ ع ‘ سچ ئی کی طرف ل ج ت ہ ۔ آج ک سچ تو یہ ہ ‘ کہ‬
‫عدل و انص ف کو‘ رشوت کی نوک پر رکھو‘ اور خو کم کر جیبیں‬
‫بھ ری کرو۔ درحقیقت‘ ع کرسی ک حصول ک لی ح صل کی ج ت‬

‫ہ ۔ کرسی ک م ن ‘ رز میں فراخی ک سب بنت ہ ۔‬

‫جس پیٹ میں‘ رز حرا چلا گی ‘ وہ حلال دا کس طرح رہ ۔ حرا‬

‫لقموں س بنن والا خون‘ سر س پ ؤں تک‘ گردش کرت ہ ۔ جس‬
‫جس میں؛ حرا خون دوڑ رہ ہوت ہ ‘ اس پیٹ وال ک ‘ جس ک‬
‫جم ہ کل‘ کس طرح درست اور فطری‬

‫اصولوں پر‘ استوار ہو سکت ہیں۔ حرا کھ ن وال ‘ شرعی واجب ت‬
‫ک ذری ‘ خود کو حلال دا ث بت کرن کی‘ کوشش کرت ہیں۔ سوال‬

‫یہ ہ ‘ کہ وہ حلال دے ہو ج ت ہیں؟ اگر نہیں‘ تو انہیں اور ان کی‬
‫اولادوں کو‘ حرا دا کیوں نہیں کہ ج ت ی ترچھی اور م نی خیز‘‬
‫نظروں س کیوں نہیں دیکھ ج ت ۔‬

‫میں‘ پ نچ وقت‘ ب جم عت نم ز ادا کرن کی دل و ج ن س ‘ کوشش‬
‫کرت ہوں۔ ہر س ل‘ ب ق عدگی س روزے رکھت ہوں۔ پچھ س ل‘ حج‬
‫بھی کرک آی ہوں۔ اللہ مجھ ‘ میری ضرورت س ‘ کہیں بڑھ کر عط‬

‫کر دیت ہ ۔ اس لی ‘ میں رز حرا پر ل نت بھیجت ہوں۔ میں اپنی‬
‫بیوی‘ جو اسی علاق کی ہ ‘ ک سوا‘ ہر عورت کو‘ اپنی م ں بہن‬

‫سمجھت ہوں۔‬

‫میں اپن مح ہ چھوڑ کر‘ دور دراز علاق میں‘ آ بس ہوں۔ یہ ں مجھ‬
‫کوئی نہیں ج نت تھ ۔ ابتدا میں‘ صرف اطراف ک ‘ ہ س ئ ہی‘ میرے‬
‫ن اور ک س آگ ہ تھ ۔۔ ا تقریب پورا مح ہ مجھ ج نت ہ ۔ ایک‬

‫س ل پہ ‘ مجھ اچ نک‘ مسجد میں‘ اپن علاقہ ک ‘ م ک ص ح‬
‫مل گی ۔ ان ک ‘ یہ ں دور ک رشتہ دار رہت تھ ۔ وہ انہیں‘ کسی‬

‫ک ک س س میں م ن آئ تھ ۔ میں بڑے تپ ک س ‘ انہیں گ‬
‫م ن ک لی ‘ آگ بڑھ ۔ پہ تو‘ انہوں ن مجھ بڑے غور س‬
‫دیکھ ۔ گ م ن کی بج ئ بول اوے توں جین ں ی بھ دا پتر‘ شیدا‬
‫حرا دا ایں۔ مسجد میں دو چ ر نم زی رہ گی تھ ۔ یہ جم ہ کسی ایک‬

‫ک سن لین ‘ عزت کو خ ک کرن ک لی ‘ ک فی تھ ۔ میں جوا دی‬

‫بغیر‘ مسجد س نکل کر گھر آ گی اور سوچن لگ ۔‬

‫مح ہ میں‘ ایک ح جی ص ح بھی رہت ہیں۔ ض ی دفتر میں ملاز‬
‫ہیں۔ س ان کی عزت کرت ہیں۔ پنج وقت نم زی ہیں۔ پچھ س ل‘‬

‫حج کرک آئ ہیں۔ یہ حج‘ انہوں ن رشوت کی کم ئی س کی ۔‬
‫رشوت کی کم ئی س ‘ انہوں ن ٹھیک ٹھ ک ج ئداد بن لی ہ ۔ پچ س‬
‫س ‘ تج وز کر ج ن ک ب وجود‘ عورتوں ک بڑے شوقین ہیں۔ ان ک‬

‫بس چ تو‘ روزن نش ط میں ہی‘ بسیرا کر لیں۔ انہیں کوئی حرا دا‬
‫نہیں کہت ‘ ح لاں کہ ان ک کوئی ک حلالی نہیں۔‬

‫میں حرا دا ہوں‘ ی زن ک ر حرا دے ہیں۔ میں خود تو‘ تخ ی نہیں پ‬
‫گی ۔ طریقہء تخ ی تو مشترک ہ ‘ لیکن اس میں مذہبی اور سم جی‬
‫ضوابطہ س انحراف موجود تھ ۔ سم جی اور مذہبی انحراف‘ مجھ س‬
‫تو سرزد نہیں ہوا تھ ۔ انحراف کرن وال ‘ سم ج میں بہ طور حلال‬

‫دے دندن ت پھرت ہیں اور انہیں کوئی حرا دا نہیں کہت ۔ جس ک‬
‫انحراف س ‘ ت واسطہ ہی نہیں‘ آج اٹھ ئیس برس ب د بھی‘ اپنی‬

‫اور لوگوں کی نظر میں حرا دا ہ ۔‬

‫عجی روایت ہ ‘ رشوت خوروں کو کوئی حرا دا نہیں کہت ۔ جھوٹی‬
‫گواہی دین وال ‘ ہر قس کی دو نمری کرن وال ‘ حلال دے ہیں اور‬
‫میں‘ حرا دا ہوں‘ جو دینی واجب ت‘ خ وص نیتی س ادا کرت ہوں۔ دو‬

‫نمبری س ‘ دور بھ گت ہوں ان حق ئ ک ب د‘ ایک عرصہ گزر ج ن‬
‫ب د بھی‘ میں حرا دا ہوں۔‬

‫کوئی تو بتلائ ‘ کہ حرا دا کون ہ ‘ میں ی سم جی دو نمبر‬
‫م ززین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‬

‫‪7-4-1973‬‬

‫مکر بندہ حسنی ص ح ‪ :‬سلا ع یک‬

‫آپ ک انش ئیہ پڑھ اور کچھ سوچ کر بیٹھ گی ۔ یہ مسئ ہ کوئی آج ک تو‬
‫نہیں ہ ۔ یہ ہم رے م شرہ ک ازلی المیہ ہ ۔ ہ نم ز‪ ،‬روزے‪ ،‬حج کو‬

‫اسلا کی ابتدا اور انتہ ج نت ہیں اور اس پیم نہ پر ہر ایک کو‬
‫پرکھت ہیں۔ سو تو ٹھیک ہ لیکن ج ایم نداری‪ ،‬رشوت ‪ ،‬بد‬
‫عنوانی‪ ،‬حرا خوری ک مرح ہ آت ہ تو سوائ "میرے" ہر شخص‬
‫مجر ہوت ہ اور گردن زدنی۔ اپن گریب ن میں کوئی جھ نک کر نہیں‬
‫دیکھت ۔ پچھ دنوں ہندوست ن گی تو ایک بزرگ (جو کہ عمر بھر‬
‫کچہری میں صدر ق نونگو رہ ہیں اور رشوت پر گزارہ ہی نہیں کی‬
‫ب کہ مک ن دوک ن بنوائ ہوئ ہیں) س میں م ن گی ۔ وہ اپن‬
‫ص حبزادے کو سمجھ رہ تھ کہ دفتر نہ ج ی کرو۔ ج دوسرے نہیں‬
‫آت تو ت کیوں ج ت ہو۔ بس پہ ی ت ریخ کو ج کر تنخواہ ل آی کرو۔‬
‫موصوف ک ہ تھ بھر س ید داڑھی ہ اور پنج وقتہ نم ز پر سختی‬
‫س ع مل ہیں ۔ میں ن ج اد س عرض کی کہ آپ اپنی اولاد کو‬
‫حرا ک ک لئ ت کید کر رہ ہیں تو الٹ مجھ پر بگڑ پڑے کہ دنی‬
‫کرتی ہ تو ہ کیوں نہ کریں۔ عرض کی کہ دنی زن کرے گی تو آپ‬
‫بھی کریں گ اور ۔۔۔۔۔ کھ ئ گی تو وہ آپ بھی کھ ئیں گ ؟ ص ح وہ‬
‫ایس بکھرے کہ اللہ دے اور بندہ ل ۔ میں ن اپنی ع فیت اسی میں‬

‫ج نی کہ اٹھ کر چلا ج ئوں۔‬

‫ا امریکہ کی سنئ ۔ میں یہ ں تقریب پچ س س ل س مقی ہوں۔ اللہ کو‬
‫ح ضر و ن ظر ج ن کر کہت ہوں کہ اس عرصہ میں نہ تو میں ن کسی‬

‫کو ایک پیسہ رشوت دی اور نہ ایک پیسہ رشوت لی اور اللہ ک فضل‬
‫س سرک ری اور غیر سرک ری س رے ک ہوت چ گئ اور آج‬

‫بھی ہورہ ہیں۔ یہ ایک "ک فر م ک" ک ح ل ہ اور وہ ایک "مس "‬
‫مم کت کی کی یت ہ ۔ ببیں ت وت رہ از کج ست ت بکج ۔‬
‫اورکی عرض کروں۔ ب قی راوی س چین بولت ہ ۔‬
‫سرور ع ل راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8719.0‬‬

‫آوارہ ال ظ‬

‫وعدے۔۔۔۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔ س جھوٹ‘ فری مگر ہر کوئی‘ ان کی گرفت‬
‫میں آ ج ت ہ ۔ وعدوں ک دامن میں‘ امیدوں ک خوش رنگ اور‬

‫خوش مہک پھول‘ مسکراہٹ بکھیر رہ ہوت ہیں۔ میں بھی‘ وعدوں‬
‫ک گردا میں پھنس گی ۔ کوئی مجھ کیوں سمج ھت ۔ میں سمجھن ہی‬
‫نہیں چ ہت تھ ۔ ہدایت اسی ک لی ہوتی ہ ‘ جو ہدایت ک ط گ ر ہوت‬

‫ہ ۔ ا مجھ کوئی کیوں‘ تس ی دیت پھرے۔ میں تو‘ جھوٹ کی‬
‫ظ متوں ک مس فر تھ ۔ ج سچ ک سویرا ہوا‘ دامن دیکھ ‘ ت ر ت ر تھ ۔‬
‫دنوں ہ تھ خ لی۔۔۔۔۔ خلا کی وس توں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔ رون چ ہ رو نہ سک ۔‬

‫چیخن چ ہ ‘ چیخ نہ سک ۔ ح میں ب کسی اور ب کسی ک ک نٹ‬
‫پیوست ہو گی تھ ۔‬

‫میرے رنج۔۔۔۔۔ کچھ موہو اور ن م و سی ی دیں۔۔۔۔۔۔ ویران وپشیم ن‬

‫آنکھیں۔۔۔۔۔۔ زخمی اور نی مردہ دل۔۔۔۔۔ بس یہ ہی کچھ ب قی رہ گی تھ ۔‬
‫زندہ لمحموں میں۔۔۔۔۔۔ ان کی کوئی اوق ت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ کچھ کہت ہوں‘‬
‫تو رسوائی ک ۔۔۔۔۔۔ گہرے کھڈ میں گرت ہوں۔ گرہ میں خ وص ومحبت‬

‫ک م ل ہوت ہوئ ۔۔۔۔۔ میں ن ک ٹھہرا ہوں۔۔۔۔۔۔ نہیں ج نت ‘ کھرے‬
‫سک ۔۔۔۔۔ عم ی زنندگی میں‘ کھوٹ اور ب دا کیوں ٹھہرے ہیں۔۔۔۔۔‬

‫!کیوں۔۔۔۔۔آخر کیوں؟‬

‫صغراں! ت ن فری کی ۔۔۔۔۔ مجھ اپن مکروفری ک نش نہ بن ی ۔۔۔۔۔‬
‫تمہ رے چہرے کی عی ر مسک ن میں‘ خودغرضی م وف تھی۔ بہ ظ ہر‬

‫اس میں‘ دور تک لالچ ک کہرا موجود نہ تھ ۔ میں تمہیں پوترت کی‬
‫علامت سمجھت رہ ۔ ج ن مکروفری اور چھل۔۔۔۔۔ زندگی ک کیوں‬
‫ض بط قرار پ ئ ہیں۔ سچ ک سورج۔۔۔۔۔۔ اپنی لاچ رگی پر۔۔۔۔۔ لہو روت‬
‫ہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ زندہ ہ ‘ لیکن مردوں کی سی زندگی کرت ہ ۔۔۔۔۔۔ وہ تو‬
‫فری د ک بھی ح نہیں رکھت ۔ اتن ب بس۔۔۔۔۔۔ ب کس۔۔۔۔۔ ش ید ہی کوئی‬
‫رہ ہو گ ۔ اس ک لی تو۔۔۔۔۔۔۔ کسی ن ۔۔۔۔۔۔۔ چ و بھر پ نی بھی نہیں‬

‫رہن دی ۔‬

‫نور! مجھ م ف کر دین ۔۔۔۔۔ میں ن تمہیں ذلیل کی ۔۔۔۔۔۔ مجھ‬
‫صغراں کی عی ر مسکرااہٹیں عزیز تھیں۔۔۔۔۔ ت ۔۔۔۔۔۔ ہ ں ت ۔۔۔۔۔۔۔ میرے‬
‫ہ تھوں ب وق ر ہوتی رہیں۔ میری آنکھیں‘ اص ی اور نق ی کی پہچ ن‬
‫س ‘ محرو ہو گئی تھیں۔ ان میں‘ لای نیت ک موتی اتر آی تھ ۔ ت تھیں‘‬

‫کہ میرا س تھ کبھی اور کسی موڑ پر نہ چھوڑا۔ تمہ را وجود ۔۔۔۔۔‬
‫برداشت ک رستوں ک لی ۔۔۔۔۔۔ سنگ میل ک درجہ رکھت ہ ۔ صبر‬
‫اور برداشت ن ق بل تسخیر ہیں۔ یہ ہم لہ کی سر بہ ف ک چوٹیوں کو بغل‬
‫میں ل کر چ ت ہیں۔ اگر یہ نہ ہوت تو زندگی ک کی د توڑ چکی‬

‫ہوتی۔ زمین پر ویرانی کی حک رانی ہوتی۔۔۔۔۔ ہ نپتی ک نپتی روحوں‬

‫کو۔۔۔۔۔۔ ان س حرات اور شکتی میسر آتی ہ ۔ س ری ت ب نی ں ان ہی‬
‫ک د تو س ہیں۔‬

‫س ری روشنی ں ان ہی ک د س تو ہیں۔‬

‫لوگو! ج ن لو‘ کسی بھول میں نہ رہن ۔۔۔۔۔۔ میں جھوٹ ک سوداگر ہوں۔۔۔۔۔‬
‫میں عی ر مسکراہٹیں خرید کرت ہو۔‬

‫مجھ س ‘ ہر سودگر کی گرہ ک سک ۔۔۔۔۔۔ کھرے ہو کر بھی‘ کھوٹ‬
‫ہوت ہیں۔ جھوٹ ک خریددار‘ سکوں کو کھرا کہن کھ ی بددی نتی ہ ۔‬
‫جھوٹ م نویت س تہی ہوت ہ ۔ اٹھو‘ خدا ک لی اٹھو‘ جھوٹ کی‬
‫تجوری کی‘ اینٹ س اینٹ بج دو۔ اسی میں پوری انس نیت کی بھلائی‬

‫پوشیدہ ہ ۔ اٹھو‘ ج دی کرو کہیں دیر نہ ہو ج ئ ۔ سچ ک‬
‫سورج۔۔۔۔۔عی ر مسک نوں کی ص ی پر‘ مص و ہو ج ئ گ ۔ چ ر سو‬

‫اندھیروں ک سوا کچھ نہیں ہو گ ۔‬

‫مجھ کند چھری س ذبح کرو۔۔۔۔۔ میں نور ک صبر ک ق تل ہوں۔‬
‫جھوٹ ک ہر خریدار اسی سزا ک مستح ہ ۔۔۔۔۔۔ میں سراپ جھوٹ‬
‫ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھ م ف کرو گ ‘ تو۔۔۔۔۔۔ عی ر مسک نوں ک ک روب ر ج ری‬
‫رہ گ ۔۔۔۔۔ نور سی ص بر عورتیں‘ ن کردہ جر کی سزا بھگتی رہیں‬
‫گی۔۔۔۔۔ ان ک کوئی پرس ن ح ل نہ ہو گ ۔۔۔۔۔۔ ح دار کو‘ کبھی اس ک ح‬
‫نہ مل سک گ ۔ جبر کی گر ب زاری‘ خت نہ ہو گی۔ ملاوٹ شدہ پوترت‬
‫ک ‘ مکروہ چہرے س ۔۔۔۔۔۔۔ گھونگھت کیس اٹھ گ ۔ لوگ‘ پیتل اور‬
‫سون میں‘ پہچ ن کیس کریں گ ۔ میری موت۔۔۔۔۔۔ اور زندگی ک‬
‫چوراہ پر لٹکی لاش۔۔۔۔۔۔ نور ک صبر ک لی ‘ پرس ہو گی۔۔۔۔۔۔۔ یہ‬
‫ہی نہیں۔۔۔۔۔ مک ر پوترت ۔۔۔۔۔۔۔عی ر مسکک نوں ک ‘ ہر سوداگر کو‘ ک ن‬
‫ہو ج ئیں گ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک کی موت‘ بہتوں کو ن ع دے گی۔۔۔۔۔۔۔ سچ تو یہ‬

‫ہی ہ ‘ کہ یہ صبر کی گرہ میں۔۔۔۔۔۔ اس کی کٹھور تپسی ک ان ہو‬
‫گ ۔۔۔۔۔۔ ص ہ اور عوض نہ ہو گ ۔ اس عوض نہ م ن چ ہی ۔۔۔۔۔۔۔اس ک‬
‫لی ن سہی۔۔۔۔۔۔ میرے س تھ‘ بہت بڑا پن ہوگ ۔ مجھ پچھت وے کی‬
‫دہکتی آگ س ‘ مکتی مل ج ئ گی۔۔۔۔۔ ا یہ آگ‘ میں سہن نہیں کر پ‬
‫رہ ۔۔۔۔۔۔ میری برداشت کی کمر ٹوٹ چکی ہ ۔ میں ہی نہیں‘ ہر کوئی‬

‫مکتی ک لی سرگرداں ہ ۔‬

‫م نت ہوں‘ اس میں میرا اپن سواد پنہ ں ہ ۔ ی دوں کی اذیت ن کی‘ بڑی‬
‫خوف ن ک ہوتی ہ ۔ زندگی س موت تک ک س ر۔۔۔۔۔۔۔۔مشکل بن دیتی‬

‫ہیں۔۔۔۔۔جین نہیں دیتیں۔۔۔۔۔۔مرن نہیں دیتیں۔۔۔۔۔۔۔زندگی ک ہر موس‬
‫کی س نجھ چھین لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔‬

‫اوہ ی ر ط ر ۔۔۔۔۔۔۔ا چپ ہو ج ؤ۔۔۔۔۔۔ خدا ک لی چپ ہو ج ؤ۔ گھڑی‬
‫دیکھو‘ رات ک دو بج چک ہیں۔ صبح دفتر بھی ج ن ہ ۔ میں‬

‫تمہ ری یہ بکواس ک تک سنت رہوں گ ۔ گولی م رو صغراں اور اس‬
‫کی ی دوں کو۔۔۔۔۔ کی رکھ ہ ان ب توں میں۔ ا تمہیں‘ نور پر ہون‬
‫والی زی دتیوں ک ‘ مدوے ک لی زندہ رہن ہو گ ۔ آوارہ ل ظوں ک‬

‫خول س ‘ نکل کر‘ حقیقت کی دنی میں آؤ۔۔۔۔۔۔ جھوٹ دھوکہ اور فری‬
‫کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔‬

‫ط ر ن اپنی کہہ دی تھی۔ اس ک من ک بوجھ‘ ہ ک ہو چک تھ ۔‬
‫میرے ل ظ‘ زندگی س م مور نہ تھ ‘ پھر بھی‘ مرہ ک ک کر گی ۔‬

‫میں دیکھ ‘ ط ر گہری نیند سو چک تھ ‘ جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔‬

‫یک دسمبر‬

‫بروز ہ تہ‬

‫بوقت‬

‫دو دھ ری ت وار‬

‫ب شک‘ اللہ ن انس ن کو بہترین مخ و تخ ی فرم ی ہ ۔ اس سوچ‬
‫و بچ ر ک س تھ‘ کھوج و تلاش کی قوت بھی عط کی ہ ‘ اور یہ‬

‫کوئی م مولی اعزاز نہیں۔ میں ڈارون کی تحقی پر حیران تھ ۔ ہر ج نور‬
‫ن صرف رہن ک حوالہ س ‘ مخت ف ہ ‘ ب کہ کھ ن ک اطوار‬
‫بھی‘ الگ س رکھت ہ ۔ انس ن ن ‘ جہ ں ع لی ش ن عم رتیں تخ ی‬

‫کی ہیں‘ وہ ں حیرت انگیز‘ س ئیسی ایج دات س بھی‘ زندگی ک ہر‬
‫گوش کو م لا م ل کر دی ہ ۔‬

‫ج نور بھی‘ زمین پر عرصہ دراز س ‘ اق مت گزین ہ ‘ لیکن کوئی‬
‫ایک چیز ایج د نہیں کر سک ۔ عین ممکن ہ ‘ اس ن بھی چیزیں ایج د‬

‫کی ہوں‘ لیکن وہ انس ن ک تصرف میں نہیں ہیں۔ اس ک برعکس‘‬
‫انس ن ن ‘ ج نوروں ک لی ‘ بہت سی چیزیں بن ئی ہیں۔ انہیں‬

‫پکڑن ‘ رکھن اور تصرف میں لان کی اشی تک‘ غور کرت ہوں‘ تو‬
‫حیرانی کی انتہ نہیں رہتی۔‬

‫میں دیر تک‘ ڈارون کی تھیوری پر غور کرت رہ ‘ مجھ اس میں‬

‫سچ ئی کی کوئی جھ ک دکھ ئی نہ دی۔ یہ مغر وال عج احمق نہ‬
‫سوچیں سوچت رہت ہیں۔ ڈارون کی تھیوری ہی کو دیکھ لیں‘ ہ‬

‫کوئی اس میں عقل مندی کی ب ت۔ ب د میں‘ مجھ خی ل آی ‘ کہ میں ن‬
‫مردے کی ب ت پر غور کرک ‘ اچھ خ ص وقت برب د کر دی ہ ۔ س تھ‬
‫میں‘ چ ئ بھی برف کر دی ہ ۔ گر چ ئ ہی‘ چ ئ پین ک بنی دی‬

‫اصول ہ ۔ اسی میں‘ چ ئ ک لطف پنہ ں ہوت ہ ۔‬

‫س من والی میز پر‘ چ ر لوگ بیٹھ ہوئ تھ ۔ خوش لب س ہون‬
‫ک س تھ س تھ‘ خوش مزاج بھی تھ ۔ ان میں س ایک ص ح کی‬

‫زب ن منہ میں نہ پڑ رہی تھی‘ متواتر ک ئیں ک ئیں کرک ‘ دم کی‬
‫چولیں ڈھی ی کر رہ تھ ۔ دوسرے‘ زی دہ بول نہیں رہ تھ ‘ لیکن‬
‫متواتر قہقہ دا رہ تھ ۔ وہ اپن ح ل میں مست تھ ۔ انہیں کسی‬

‫دوسرے س ت واسطہ ہی نہ تھ ۔‬

‫ب ئیں ج ن ‘ تھوڑا ہٹ کر‘ ایک میز پر بڑے می ں اکی ہی بیٹھ‬
‫تھ ۔ چہرے پر جھری ں تو تھیں ہی‘ لیکن کسی ب طنی کر ن ان ک‬
‫چہرے کو‘ ن صرف ویران کر دی تھ ‘ ب کہ بیم ر س بن رکھ تھ ۔ وہ ہر‬
‫کسی کو‘ پھٹی پٹھی اور نظروں س دیکھ رہ تھ ۔ ان ک ہونٹوں‬
‫کی نقل و حرکت س ‘ لگت تھ ‘ کہ منہ میں بڑبڑا رہ ہیں‘ لیکن کسی‬
‫س ‘ کچھ کہہ نہیں پ رہ تھ ۔ پھر ان کی نگ ہیں‘ ایک بل ب ٹ میں‬
‫م بوس‘ نوجوان پر ج کر رہ گئیں‘ جو عن یت حسین بھٹی ک گرامون‬
‫فون پر لگ ‘ گ ن پر تھرک رہ تھ ۔ منہ ک جو پوز بن رہ تھ ‘ اس‬

‫س اندازہ ہو رہ تھ ‘ عن یت حسین بھٹی ک گ ن کی نقل ات ر رہ‬

‫تھ ۔ اس نوجوان ک قدموں کی تھرکت ک س تھ س تھ‘ بزرگ وار ک‬
‫چہرے ک رنگ بدل رہ تھ ۔ ان رنگوں میں‘ ب بس غض ‘ س‬
‫س واضح اور نم ی ں تھ ۔ وہ بٹر بٹر دیکھن ک سوا‘ کچھ کرن ی‬

‫کہن کی پوزیشن میں نہ تھ ۔‬

‫دائیں ج ن ‘ ایک گوش میں‘ تین مرد اور ایک خ تون‘ بیٹھ ہوئ‬
‫تھ ۔ ان ک انداز‘ قط ی خ یہ س تھ ۔ ان تینوں میں‘ دو جوان اور ایک‬
‫پچ س س زائد عمر ک تھ ‘ ت ہ ب حیثیت اور ت زہ د تھ ۔ خ تون بھی‘‬
‫ک عمر کی نہ تھی‘ ہ ں غ زہ ک ری ن ‘ اس قبول صورت بن دی تھ ۔‬
‫کچھ دیر‘ وہ کھسر پھسر کرت رہ ‘ پھر خ تون ب لائی منزل کی طرف‬
‫چل دی۔ ش ید‘ کمرہ بک کروای ہوا تھ ۔ اس ک ج ن ک ‘ تھوڑی دیر‬
‫ب د‘ عمر میں سنئیر حضرت بھی‘ ب لائی منزل کی طرف بڑھ گی ۔ ک فی‬
‫دیر ک ب د‘ کپڑے وغیرہ درست کرت ہوئ ‘ نیچ اترے‘ اور ادھر‬

‫ادھر دیکھ بغیر‘ ب ہر ک رستہ ن پ ۔‬

‫اس ک چ ج ن ک ب د‘ دونوں جوان‘ ب لائی منزل کی طرف ب ری‬
‫ب ری بڑھ ۔ انہوں ن زی دہ وقت ض ئع نہ کی ۔ یہ بھی ممکن ہ ‘ ان‬

‫ک پ ‘ دان ہی اتن ہوں۔ مل ب نٹ کر‘ است م ل ک اصول‘ ایک‬
‫کراہت ن ک ج نور س ‘ منسو چلا آت ہ ۔ ان دونوں میں س ایک‘‬
‫پیچھ مڑ مڑ کر‘ دیکھ رہ تھ ۔ ک فص یں اج ڑن وال ک س اور‬

‫حرکتیں پیچھ مڑ مڑ کر دیکھن وال کی سی‘ ہ ں فص یں اج ڑن‬
‫کی خص ت‘ دوئی ک دروازہ بند کر رہی تھی۔‬

‫ب سی ی جھوٹ ‘ ب ہوش نہیں کھ ت ۔ جو بھی سہی‘ جھوٹ کھ ن وال ‘‬
‫انس ن س ‘ دیکھ کر‘ حیرت زدہ ہون ‘ فطری عمل تھ ۔‬

‫پچھ ی نشتوں پر‘ تھوڑی دیر پہ ‘ بھنبھن ہٹ سی‘ سن ئی دے رہی‬
‫تھی۔ وہ ں کہرا س مچ گی ۔ میں ن گبھرا کر‘ پیچھ مڑ کر دیکھ ۔ دو‬

‫میزوں پر‘ لوٹ م ر کی کی یت ط ری تھی۔ پھر‘ ایک میز پر‘ چھین‬
‫جھپٹی ک ع ل میں‘ کھ ن ایک ص ح ک کپڑوں پر گر گی ۔ وہ‬
‫ص ح ‘ س کو ٹوٹ ٹوٹ پڑ رہ تھ ۔ الزا کی زد میں‘ کوئی نہیں‬
‫آن چ ہت تھ ۔ گرم گرمی میں‘ ب ت بھونکن س آگ نکل گئی۔‬
‫دیکھت ہی دیکھت ‘ س دست و گریب ن کی گرفت میں آ گی ۔ جن‬
‫ص ح پر س لن گرا تھ ‘ ان ک دونوں رخس ر آلو س مثل ہو گی‬
‫تھ ۔ کچھ نہ پوچھی ‘ ایسی م را م ری ہوئی‘ کہ چھڑان اور بچ بچ ؤ‬
‫کرن کی بج ئ ‘ وہ ں بیٹھ لوگوں ن ‘ فرار میں ع فیت ج نی۔ اسی‬
‫بھگ دوڑ ک دوران‘ پولیس آ گئی۔ سپ ہی بڑی سرعت رفت ری س‬
‫جھپٹ ‘ گرنیں دبوش کر اسی رفت ر س پ ٹ ۔ مث ثرہ شخص سمیت‘‬
‫س کو ل کر چ گی ۔ مجھ یہ تو م و نہیں‘ کہ رست میں ہی‬
‫لین دین ط پ گی ‘ ی وہ منزل مقصود تک پنچ دی گی ۔ جو بھی‬
‫سہی‘ لہو گر رکھن ک اس انداز س ‘ لطف ضرور ملا۔ درندہ فض‬
‫ک ہو‘ ی زمین پر دھ ڑ رہ ہو‘ چیرن پھ ڑن ک انداز مخت ف نہیں‬

‫ہوت ۔‬

‫میں ن غور کی ‘ کہ ڈارون ن انس نی ارتق ک ‘ پرندے س رشتہ نہیں‬
‫جوڑا‘ ح لاں کہ انس ن پرندوں ک خص ئل س ‘ الگ تر نہیں ہ ۔ سوچ‬

‫میں ہوں‘ آخر کن بنی دوں پر‘ ڈارون ک نظری کی ن ی کروں۔ خص ئل‬
‫ہی کی ‘ ان کی ب ض جب تیں‘ ایک جیسی ہیں۔ گوی موجودہ صورت میں‘‬

‫انس ن کسی ن کسی سطع پر‘ ڈارون کی تھیوری پر‘ اترت نظر آت ہ ۔‬
‫اتنی ترقی ک ب جود‘ ڈارون ک کہ پر‘ خط نہیں کھینچ ج سک ۔ اگر‬
‫م ہرین سم جی ت ن ‘ اس حس س م م کو‘ سنجیدہ نہ لی ‘ تو انس ن‬

‫ک تشخص اور شن خت‘ اس دو دھ ری ت وار کی گرفت س ‘ نہ نکل‬
‫پئ گ۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! اسلا ع یک‬

‫بہت ج ندار تحریر ہ اور پھر آپ ک انداز بی ں‪ ،‬منظر کشی بہت ہی‬
‫ج ندار اور خوبصورت ہ ۔ ہ سمجھت ہیں کہ ایسی تحریریں کردار‬
‫س زی ک لیئ بہت ضروری ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اچھ برے کی تمیز‬
‫سکھ تی ہیں‪ ،‬ب کہ اچھ ئی کو پسند کرن اور برائی س ن رت کرن‬

‫پر مجبور کر دیتی ہیں۔ آپ ک انداز بی ں مشکل پسندی س دور ہ‬
‫اس لیئ ق ری ک ذہن پر اثر چھوڑت ہ ۔‬

‫ٓاپ ن ڈارون کی ب ت کی‪ ،‬ہم را تو خی ل ہ کہ ان ک نظریہ میں ایک‬
‫م مولی سی تبدلی کر لی ج ئ تو ب لکل درست ہ ۔ اور وہ تبدی ی یہ‬
‫ہ کہ نظریہ کی مشہور تصویر میں دکھ ئ گئ قط ر میں موجود‬
‫تم ک تم اراکین اپن رخ موڑ کر پیچھ کی طرف کر لیں۔ انس ن‬
‫کی پریش ن ح ل زندگی کو دیکھ کر لگت ہ کہ اصل میں انس ن ترقی‬

‫کرت کرت بندر بن گئ ہیں۔ مغربی مم لک ک تیزی س ترقی‬
‫کرت ہوئ لوگوں میں یہ ترقی ص ف دکھ ئی بھی دیتی ہ ۔ ان کی‬
‫بڑھتی ہوئی م صومیت دیکھ کر ہمیں وہ ج نور ہی لگن لگ گئ ہیں۔‬

‫اس وقت جو ڈارون ک نظریہ موجود ہ اس میں ایک س س بڑا‬
‫سوال یہ ہ کہ اگر بندر ترقی کر کہ انس ن بن ہ تو پھر ابھی تک‬
‫ہم ری دنی میں اتن بندر کیوں ہیں اور ان کی ترقی میں کی رک وٹ‬
‫ہ ؟ ہم را ذاتی خی ل یہ ہ کہ ج نوروں ک خ ندان ہوت ہیں جیس ‪،‬‬
‫گھوڑا‪ ،‬گدھ ‪ ،‬خچر‪ ،‬زیبرا وغیرہ۔ خرگوش‪ ،‬چوہ ‪ ،‬گ ہری‪ ،‬نیولا وغیرہ۔‬
‫ایس ہی انس ن ک خ ندان بندروں ک ہی ہ ‪ ،‬لیکن یہ ع یحدہ نسل ہ ۔‬
‫اور جس چیز ن انہیں اتنی ترقی دی ہ وہ صرف زب ن ہ ۔ جس ن‬

‫انہیں ایک دوسرے ک تجرب ت س بھی سیکھن کی ط قت دی۔‬

‫خیر‪ ،‬آپ کی تحریر ک صرف ایک حصہ ہ ڈارون ک نظریہ‪ ،‬اصل تو‬
‫یہی ہ کہ انس ن کو انس نوں اور ج نوروں میں فر رکھن چ ہیئ ۔‬

‫آپ کی تحریر بہت پسند آئی۔ بہت شکریہ کہ ٓاپ یہ ں رق کر دیت ہیں‬
‫اور ہ فیضی ہو پ ت ہیں۔‬

‫دع گو‬
‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8770.0‬‬

‫انگریزی فیل‬

‫میں اور اس ‘ ایک س تھ‘ ایک ہی سکول میں‘ پڑھت تھ ۔ ہم را بڑا‬
‫ی رانہ تھ ۔ ہ ایک دوسرے ک ہ ں‘ اکثر آت ج ت رہت تھ ۔ اس‬

‫بلاشبہ‘ بڑا محنتی ط ل ع تھ ‘ لیکن غیر م مولی ذہین نہیں تھ ۔ اس‬
‫ک برعکس‘ مجھ ذہین ط ب میں شم ر کی ج ت تھ ۔ است د ک منہ‬
‫س نک ی ب ت‘ میرے ح فظ میں بیٹھ ج تی تھی۔ اس ک مط یہ‬
‫نہیں‘ کہ میں گھر آ کر پڑھت نہیں تھ ۔ پڑھ ہوا سب ‘ گھر آ کر ضرور‬
‫دھرات ‘ ب کہ اس زب نی لکھت بھی تھ ۔ مجھ کئی ب ر‘ اس تذہ ن‬
‫ش ب ش بھی دی تھی۔ اس کو ش ید ہی‘ کبھی کسی است د س ‘ ش ب ش‬

‫م ی ہو گی۔ ہ ں رٹ ب زی میں‘ میں ب لکل نکم تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘‬
‫کہ رٹ ب زی س ‘ مجھ گھن سی آتی تھی۔ میرے برعکس‘ اس‬

‫رٹ ب زی میں اپن جوا نہیں رکھت تھ ۔ انگریزی ک سوا‘ میں دوسرے‬
‫مض مین میں‘ اس س زی دہ نمبر ح صل کرت ۔ انگریزی س ‘ میری‬

‫ج ن ج تی تھی۔ انگریزی ن پسندیدہ مضمون ہو کر بھی‘ میں اس زی دہ‬
‫وقت دیت ۔ کئی ب ر سوچت ‘ کہ م سٹر انگریزی پڑھ کر‘ ش ید مجھ‬
‫صدر کنیڈی کی سیٹ پر بیٹھ ن چ ہت ہیں۔‬

‫اس رٹ ک بل بوت پر‘ میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن ل کر‘ پ س ہو‬

‫گی ۔ میں ن ‘ انگریزی ک سوا‘ دوسرے مض مین میں‘ اس س کہیں‬
‫بڑھ کر‘ نمبر ح صل کی ‘ لیکن انگریزی میں‘ انیس نمبر س زی دہ‬
‫ح صل نہ کر سک ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ دوسرے مض مین میں‘ م قول‬
‫نمبر ح صل کرن ک ب وجود‘ فیل قرار دے دی گی ۔ والد ص ح ن ‘‬

‫ن صرف جھڑکیں دیں‘ ب کہ پہنٹی بھی لگ ئی۔ مجھ جھڑکوں اور پہنٹی‬
‫ک سرے س ملال نہیں۔ وہ سچ تھ ‘ اگر میں میٹرک میں ک می‬

‫ہو ج ت ‘ تو میری زندگی بن ج تی۔ مجھ اصل ملال یہ رہ ‘ کہ میں پڑھ‬
‫لکھ کر بھی‘ ان پڑھوں میں شم ر ہوا۔‬

‫والد ص ح ن ‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ بڑا زور دی ‘ لیکن میرا اصرار‬
‫تھ ‘ ج تک انگریزی کورس میں ش مل ہ ‘ میں دوب رہ امتح ن نہیں‬
‫دوں گ ۔ والد ص ح میرے اس موقف پر‘ ت ؤ میں آ ج ت اور م رن‬
‫ک لی آگ بڑھت ‘ تو والدہ آڑے آ ج تیں۔ وہ گری سر پکڑ کر بیٹھ‬
‫ج ت ‘ اس ک سوا اور کر بھی کی سکت تھ ۔ میں کی ج نو‘ کہ‬
‫انگریزی تو جنرل ایو بھی‘ خت نہیں کر سکت تھ ‘ وہ خود انگریزی‬
‫بولت تھ ۔ اس کی پڑی‘ کہ میری خ طر‘ انگریزی مضمون سکولوں‬
‫س خت کرا دے۔ اس میٹرک میں پ س ہو ج ن ک ب د‘ کسی دفتر‬
‫میں ب بو بھرتی ہو گی ۔‬

‫والد ص ح مجھ ایک خرادی ک پ س چھوڑ آئ ۔ انہوں ن اس‬
‫کہ ‘ ٹھوک کر ک لو۔ ان ک خی ل تھ ‘ کہ م وکڑا س ہوں‘ محنت س‬

‫تنگ آ کر‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ تی ر ہو ج ؤں گ ۔ میں ن ٹھ ن لی‘‬
‫کہ محنت کر لوں گ ‘ لیکن انگریزی ک خ تم تک‘ دوب رہ امتح ن‬
‫نہیں دوں گ ۔ ب ت تو بڑی شر والی تھی‘ کہ اس جو میرا ہ جم عت‬
‫تھ ‘ اجلا لب س پہن کر‘ دفتر ج ت اور میں‘ میلا کچیلا لب س اور قنچی‬
‫چپل پہن کر مزدوری ک لی ج ت ۔‬

‫شریف خرادی ن ‘ ایک وقت میں‘ کئی شو پ ل رکھ تھ ۔ ب ل‬
‫بچ دار ہو کر‘ اس ک ‘ کئی عورتوں س مراس تھ ۔ اس ک‬

‫علاوہ بھی‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک س ب ز نہ آت ۔ ہر عورت س ‘‬
‫ایک ہی ڈائیلاگ بولت ‪ :‬قس ل لو‘ تمہ رے سوا‘ میری زندگی میں‬

‫کوئی نہیں۔ ت میری پہ ی اور آخری محبت ہو۔ اس کی پہ ی اور آخری‬
‫محبت‘ کوئی بھی نہ تھی۔ وہ ابھی جوان اور صحت مند تھ ‘ اس لی ‘‬

‫کسی کو‘ اس کی آخری محبت کہن ‘ کھ ی حم قت تھی۔‬

‫اطوار یہ ہی بت ت ‘ کہ ابھی تو آغ ز محبت ہ ۔ وہ اس میدان میں‬
‫قن عت ک ق ئل نہ تھ ۔ مجھ ان ک پی بر ہون ک اعزاز ح صل رہ‬
‫ہ ۔ فرم ئشی اشی بھی‘ میں پنچ کر آت تھ ۔ انہوں ن ت کید کر رکھی‬

‫تھی‘ کسی دوسری ک ذکر نہیں کرن ۔ ان ک گھر بھی سودا س ف‬
‫پنچ ن ‘ میرے فرائض میں داخل تھ ۔ بیگ ص ح ن کئی ب ر کریدا‘‬
‫میں ن کبھی‘ کسی م م ک اش رہ تک نہ دی ۔ اس ک ص ہ میں‘‬
‫جس میں اعزازیہ سمجھت ہوں‘ عط فرم ت ۔ دوسرے ک سیکھن‬

‫والوں میں س ‘ میں انہیں بہت عزیز تھ ۔‬

‫شریف ص ح ک دوستوں میں‘ دو تین پین ک بھی شغل رکھت‬
‫تھ ۔ س ش گردوں کو چھٹی ہو ج تی‘ لیکن مجھ ک وغیرہ ک‬
‫لی ‘ روک لیت ۔ کھ ن کی چیزیں بچ رہتی تھیں‘ ان س پر میں ہ تھ‬
‫ص ف کرت ۔ ش ک ب د‘ وہ مل بیٹھت ‘ اور ایک دو پیک بھی لگ ت ۔‬
‫ان میں ایک ص ح ج د بہک ج ت ۔ خم ر میں تو س ہی ہوت ‘ لیکن‬
‫وہ کچھ زی دہ ہی اوور ہو ج ت ۔ ہر قس کی ب تیں کرت ۔ بہت سی ب تیں‬

‫خی لی ہوتیں۔‬

‫ایک ص ح ‘ سی ست س دل چسپی رکھت تھ ۔ وہ ں دری پر بیٹھ‬
‫بیٹھ اکبراعظ بن ج ت ۔ ب قی س انہیں جی حضور‘ جی سرک ر‬
‫کہت ۔ ت لی بج ت ‘ میں ت لی کی آواز سن کر‘ ح ضر ہو ج ت ۔ مجھ‬

‫مخ ط کرت ہوئ فرم ت ‘ خ د خ ص! ان رک ی س کہہ دو‘ ہ اس‬
‫ک گ ن سنن ک لی ب ت ہیں۔ میں ب ہر آ کر ف مغل اعظ ک یہ‬
‫گ ن ۔۔۔۔۔۔۔ ج پی ر کی تو ڈرن کی ۔۔۔۔۔۔۔ گراموں فون پر لگ دیت ۔ س‬
‫جھومن لگت ۔ ان کی ح لت‘ بڑی عجی اور مضحکہ خیز ہو ج تی۔‬

‫شریف ص ح ‘ اپن جدید و قدی م شقوں کی داست نیں‘ چسک ل‬
‫ل کر سن ت ۔ ان داست نوں میں جنسی واہی تی ں بھی ش مل کرت‬
‫جت ۔‬

‫ایک ص ح ‘ قم رب زی ک شو رکھت تھ ۔ ان کی ہر کہ نی ک انج‬
‫یہ ہی ہوت ‘ کہ ب زی سو فی صد میری تھی‘ لیکن فلاں پتہ دغ دے گی ‘‬
‫ورنہ ہ س نوٹوں میں کھی ت ۔ انہیں ہر ب ر یقین ہوت ‘ کہ اگ ی ب زی‬

‫ان کی ہی رہ گی۔ پھر وہ نوٹوں میں زب نی کھی ت ۔ بڑے بڑے‬
‫منصوب بن ت ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ ایک ب ر بھی‘ جیت ان ک مقدر نہ‬

‫بنی۔ ہمت وال تھ ‘ جیت کی امید میں‘ اگ ی ب ر بھی میدان میں‬
‫اترت ۔‬

‫شریف ص ح ک س تھ‘ میں پورے س ت س ل رہ ۔ ایک دن‘ پت چلا کہ‬

‫وہ دنی س کن رہ کر گی ہیں۔ ان کی دک ن اور س م ن پر‘ ان ک‬
‫س لوں ن قبضہ کر لی ۔ ہ س ش گرد پیشہ لوگوں کو‘ چ ت کی گی ۔ اس‬

‫ک ب د میں ن ‘ کئی اس ہنر س مت لوگوں ک س تھ‘ ک کی ۔‬
‫شریف ص ح ک س تھ ک ک جو مزا ملا تھ ‘ کسی اور ک ہ ں س‬
‫نہ مل سک ۔ س سڑیل اور ٹوٹ ٹوٹ کر پڑن وال تھ ۔ اکنی اکنی ک‬
‫حس کرت تھ ۔ اپن کھ ن ‘ لوازم ت ک س تھ منگوات تھ لیکن‬
‫ہم رے لی ‘ بس ٹوٹل پورا کرت ۔ کھ ت وقت ہ میں س کوئی‘ ان‬
‫ک قری نہیں ج سکت تھ ۔ اجرت بھی رو رو کر ادا کرت ۔ کئی ب ر‬
‫جی چ ہ ‘ کہ اس پیش کو چھوڑ کر‘ کوئی اور پیشہ اختی ر کر لوں‘ ی‬
‫اپن ک شروع کر دوں۔ ہر نئ ک ک لی ‘ رق درک ر ہوتی ہ ‘ لیکن‬

‫میرے پ س تو کچھ بھی نہ تھ ۔ اگر اب زندہ ہوت ‘ وہ ضرور کچھ‬
‫ن کچھ کرت ۔ اس بڑا ب بو بن چک تھ اور مجھ انگریزی ل ڈوبی‬
‫تھی۔ پت نہیں‘ اور کتن لوگ ہوں گ ‘ جنہیں انگریزی ن ‘ کسی ک‬
‫ک نہیں چھوڑا ہو گ ‘ وہ بھی میری طرح‘ دنی ک دھکوں کی زد میں‬

‫ہوں گ ۔‬

‫یقین م نی ‘ میں ن آج تک کسی لڑکی س ج ئز ی ن ج ئز ت ق ت‬
‫استوار نہیں کی ۔ کسی لڑکی ن ‘ مجھ کبھی ل ٹ نہیں کرائی۔ یہ ب ت‬

‫بھی سچی ہ ‘ کہ میں ن کسی لڑکی کو‘ اپنی م ں بہن نہیں سمجھ ۔‬
‫اس ک ب وجود‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک میرا محبو مشغ ہ ہ ۔‬

‫ت ش ک ب رہ پت ‘ میرا پیچھ کرت رہت ہیں اور میں‘ شکیل ک‬
‫ہ ں‘ چلا ج ت ہوں رات گی تک‘ لطف اندوز ہوت ہوں۔ فری میں کھی ی‬

‫ج ن والی‘ ایک دو ب زی ں بھی لگ لیت ہوں۔ میں اکیلا ہی نہیں‘‬
‫دیکھن وال اور لوگ بھی موجود ہوت ہیں۔ ہ چھوٹی موٹی شرطیں‬

‫لگ کر‘ اپن رانجھ راضی کر لیت ہیں۔‬

‫شرا پین س ‘ مجھ کوئی دل چسپی نہیں۔ ہ ں شرابیوں کی لذیز‬
‫ب تیں‘ سنن ک لی کم ل ص ح ک ہ ں چلا ج ت ہوں۔ ان س کی‬
‫خدمت کرت ہوں۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ وہ مجھ اپن آدمی سمجھت ہیں۔‬

‫کھ ن پین ک چھوڑا ہوا س م ن‘ میرے حوال کر دین میں بخل‬
‫نہیں کرت اور نہ ہی برا محسوس کرت ہیں۔‬

‫ج میں شرا نہیں پیت ‘ تو لوگ مجھ شرابی کیوں سمجھت ہیں۔‬
‫جوا کھی ن س ‘ میرا کوئی ت واسطہ ہی نہیں‘ اس ک ب وجود‬

‫مجھ جواری کیوں سمجھ ج ت ہ ۔ کسی لڑکی ن مجھ س ت‬
‫استوار ہی نہیں کی ۔ میں بھی‘ گرہ کی ک زوری ک ب عث‘ کسی حسینہ‬

‫س ‘ م شقہ نہیں کر سک ۔ م مولی ت نک جھ نک ی رسمی س ٹھرک‬
‫بھورن ک سب ‘ علاقہ میں ذلیل و رسوا ہو گی ہوں۔ کوئی مجھ‬

‫شریف آدمی‘ سمجھن ک لی تی ر ہی نہیں اور اپنی دختر نیک اختر‬
‫ک رشتہ‘ دین ک لی تی ر نہیں۔ کنواری تو دور کی ب ت‘ کوئی طلا‬
‫ی فتہ ی بیوہ بھی‘ میرے س تھ نک ح کو‘ شجر ممنوعہ خی ل کرتی ہ ۔‬

‫سوچت ہوں‘ مجھ اس ح ل تک‘ کس ن پنچ ی ہ ؟ میں خود اس ک‬
‫ذمہ دار ہوں‘ ی یہ س ‘ انگریزی ک کی دھرا ہ ؟ انگریزی کو لازمی‬

‫مضمون بن ن کی آخر کی ضرورت ہ ۔ کون س ‘ ہر کسی ن ‘ غیر‬
‫مم لک میں س یر بن کر ج ن ہوت ہ ۔ ب زار ک ک ک انگریزی ک‬

‫س تھ چ ت ہ ۔ کورٹ کچیری اور دف تر میں ک ک انگریزی میں چ ت‬
‫ہیں۔ کچیری میں‘ مب حث مق می زب ن میں ہوتی ہ ۔ بس لکھ ئی‘‬

‫انگریزی میں ہوتی ہ ۔ انگریزی میں لکھ ج ن ک سب ‘ کئی کئی‬
‫دن فصی ہ م ن میں لگ ج ت ہیں۔ غیروں کی زب ن ہون ک ب عث‘‬
‫کئی نکت نکل آت ہیں‘ اور اس طرح‘ کوئی ب ت اٹل قرار نہیں پ تی۔‬

‫اپی و اپی ی ہی کی گھمن گھیریوں میں‘ مس ئل پھنس رہت ہیں۔ اس‬
‫جو‘ رٹ ب ز تھ ‘ بڑا ب بو بن بیٹھ ہ ۔ رع جم ن ک لی ‘ گلابی‬
‫ارو بولت ہ ۔ میں اس کی اصل حقیقت س آگ ہ ہوں۔ میں کچھ بھی‬
‫کہت رہوں‘ محض بکواس ہو گ ۔ لوگ ب ت کو نہیں‘ ب ت کرن وال ‘‬

‫اور اس کی حیثیت کو دیکھت ہیں۔‬

‫سم ج ن ‘ شریف ص ح س لوگوں کو‘ کیوں ڈھیل دے رکھی۔ سم ج‬
‫میں‘ ہنر ک لی ‘ اس س لوگ ہی تو است د ہیں۔ میں اپنی ص ئی‬
‫میں‘ کچھ بھی کہت رہوں‘ کوئی نہیں م ن گ ۔ مجھ س انگریزی ک‬
‫م رے‘ سم ج ک دو نمبری ہی رہیں گ ۔ انہیں کوئی اپنی بیٹی ک‬

‫رشتہ نہیں دے گ ۔ کرسی پر بیٹھ لوگوں کی دو نمبری‘ کسی کو نظر‬
‫نہیں آتی۔ لوگ اس کی حیثیت کو دیکھیں گ ۔ رشوت‘ ب ایم نی‘ ہیرا‬
‫پھیری اور حرا خوری‘ ان کی کرسی ی کرسی وال س انسلاک‘ ک‬
‫پیٹ میں چلا ج ئ گ ۔ کتن بھی غ ط ہوت رہ ‘ انگریزی ک دامن نہیں‬
‫چھوڑا ج ئ گ ۔ انگریزی ذہ نیں نگ تی رہ گی‘ اور کوئی کچھ نہیں‬
‫کر سک گ ۔ میں ی مجھ س ‘ انگریز فیل‘ کچھ بھی کر لیں‘ بیوی‘ ان‬

‫ک نصی س ‘ ب ہر رہ گی۔‬

‫محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬

‫م ذرت خواہ ہیں کہ دیر س ح ضر ہوئ ۔ یہ موضوع اگرچہ اس قدر‬
‫انوکھ نہیں ہ ‪ ،‬لیکن آپ ک ق ن اس اپنی طرز س بی ن کی ہ‬
‫اور بہت ہی خو کی ہ ۔ ہک پھ ک انداز میں ٓاپ ن کہ نی بی ن کی‬
‫ہ جو پڑھن وال کو کسی ذہنی دب ؤ میں نہیں ڈالتی۔ اس ک ف ئدہ یہ‬
‫ہ کہ وہ ق رئین جو گہرے ف س وں س کترات ہیں ی سمجھ نہیں‬
‫پ ت وہ بھی اس س محظوظ ہو پ ت ہیں اور کچھ نہ کچھ ب ت ک اثر‬

‫ضرور ل کر ج ت ہیں۔ ہم ری طرف س بھپور داد قبول کیج ۔‬

‫ویس ہم را خی ل اس س مت تو یہ ہ کہ ایک تو جو ش گرد رٹہ‬
‫نہیں لگ سکت ان کو اس تذہ س ش ب ش بھی ش ز و ن در ہی م تی‬
‫ہ ‪ ،‬وگرنہ نہیں م تی۔ ہم را اپن المیہ یہی رہ ہ ۔ دوسری ب ت یہ کہ‬
‫اس میں صرف انگریزی ہی ک رفرم نہیں ہ ‪ ،‬ب کہ کئی ایسی چیزیں‬
‫ہم رے نص ک حصہ ہیں جس کی کوئی تک نہیں م تی۔ یقین ج نئی‬

‫ٓاج تک ہمیں الجبرا ‪ ،‬جس جبراً پڑھ ی ج ت ہ ‪ ،‬کو است م ل کرن ک‬
‫کوئی موقع زندگی ن نہیں دی ۔ ہ ایکسوں میں س وائی ں ت ری‬

‫کیئ بغیر زندگی گزار رہ ہیں۔ نہ مرہٹوں کی لڑائیوں کی ت ریخوں‬
‫کی کہیں ضرورت پڑی ہ ۔ اور تو اور ق ئداعظ ک چودہ نق ط جس‬
‫ہ چوتھی جم عت س ل کر مس سل چودھویں جم عت تک ی د کرن‬
‫کی کوشش کرت رہ ہیں‪ ،‬نہ تو ٓاج تک کبھی ی د ہوئ ہیں اور نہ‬

‫کبھی اس کی ضرورت پڑی ہ ۔‬

‫یہ ں کسی ک کو کرن ک لیئ اس ک لیئ موزوں ترین شخص‬
‫بھی تلاش کرن ک کوئی اصول درست نہیں ہ ۔ ہ جہ ں ک کر رہ‬

‫ہیں وہ ں بھی صرف اس لیئ کہ ہمیں ‪:‬ڈائریکٹ‪ ،‬ان ڈائریکٹ‪،:‬‬
‫‪:‬ایکٹو‪ ،‬پیسو‪: ،:‬دع ئ قنوت‪ ،:‬اور اپن وزیر اطلاع ت ک ن ی د تھ ۔‬
‫ہ اس س بھی اچھ عہدہ پ سکت تھ لیکن چونکہ ہمیں نہ صرف‬

‫‪:‬امریکہ ک صدر کینڈی‪ :‬ک ق تل ک ن ی د نہیں تھ ب کہ یہ تک‬
‫م و نہ تھ کہ ‪:‬ب بل‪ :‬کی اوسط عمر کتنی ہوتی ہ ‪ ،‬اس لیئ ہ اس‬

‫عہدے ک لائ نہ تھ ۔‬

‫اس لیئ ہ سمجھت ہیں کہ نہ صرف یہ ش ور دین ضروری ہ کہ‬
‫ت ی ک مقصد کی ہ اور اس میں کردار س زی کی کی اہمیت ہ ۔ ب کہ‬

‫یہ بھی کہ کسی ک کو کرن ک لیئ موزوں ترین شخص ک انتخ‬
‫کیس کرن چ ہیئ ۔ اگر ہم رے بس میں ہو تو ‪ ،‬ح فظ‪ ،‬س دی اور‬

‫عرفی جیس لوگوں ک کلا ‪ ،‬ب کہ قصہ چہ ر درویش کو نص ک حصہ‬
‫بن ئیں اور بہت سی خراف ت کو اس میں س نک ل پھینکیں۔ ورنہ ہم را‬
‫تو یہی ح ل ہ بقول س دی کہ اگر کوئی شخص ع ح صل کرے اور‬

‫پھر اس است م ل نہ کرے تو ایس ہی ہ جیس کسی گدھ پر‬
‫کت بوں ک بوجھ لدا ہو۔‬

‫تحریر پر ایک ب ر پھر داد ک س تھ۔‬

‫دع گو‬

‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8808.0‬‬

‫چوتھی مرغی‬

‫اس س پہ ‘ اس ن تین مرغی ں ذبح کیں۔ ہر مرغی ن ‘ گردن پر‬
‫چھری والا ہ تھ آن س پہ ‘ تھوڑا بہت شور مچ ی ۔ جوں ہی گردن‘‬
‫قص کی دو انگ یوں میں آتی‘ وہ اس ک ب د‘ شور بھی نہ مچ سکی۔‬

‫وہ کھ ی آنکھوں س ‘ اپنی موت ک منظر دیکھتی۔ پھر وہ دیکھن‬
‫س بھی‘ ہمیشہ ک لی محرو ہو گئی۔ چوتھی مرغی کی گردن پر‬
‫چھری آن ہی کو تھی‘ کہ بڑی بڑی مونچھوں وال ‘ رست نم ایک‬
‫ص ح آ گی ۔ انہوں ن مرغی ذبح کرن س منع کر دی ۔ اس مرغی‬
‫ک گوشت‘ مجھ م ن والا تھ ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی ‘ لیکن ان ک جثہ اور‬
‫مونچھیں‘ حد درجہ خطرن ک ہی نہیں‘ خوف ن ک بھی تھی۔ اس پر طرہ‬
‫یہ کہ انہوں ن ‘ س ت آن زی دہ دے کر‘ مرغی خرید لی۔ قص م ن‬
‫والوں میں س تھ ۔ اس ن ہی و ہ ئ کو ب لائ ط رکھت ہوئ ‘‬

‫س ت آنوں کو‘ اہمیت دی۔ خ موشی ک سوا کی ہو سکت تھ ۔‬
‫میں ن اس شخص س دری فت کی ‘ کہ آخر اس مرغی میں کی خ ص‬
‫ب ت ہ ‘ جو وہ س ت آن زی دہ دے کر‘ اس ح صل کر رہ ہ ۔ میری‬
‫ب ت کو سن کر‘ وہ ہنس دی ۔ بولا ب ؤ جی آپ نہیں ج نت ‘ کہ یہ مرغی‬

‫کی چیز ہ ۔ یہ مرغی‘ بڑی نس ی مرغی ہ ۔ اس نسل ک ایک مرغ ‘‬
‫میرے پ س ہ ۔ یہ میری قسمت بن دے گی۔ میں اگ چند س لوں میں‘‬
‫امیر ہوج ؤں گ ۔ آپ دیکھت رہن ۔۔۔۔۔۔ کتن احم تھ ‘ جو یہ کہہ رہ تھ ۔‬

‫میرے پ س اتن وقت کہ ں‘ جو میں مرغی کو دیکھت پھروں۔ میں ن‬
‫پھر پوچھ ‘ کی قص اس حقیقت س آگ ہ نہ تھ ۔ وہ آگ ہ تھ ‘ لیکن‬
‫اس نسل ک مرغ نہ ہون کی وجہ س ‘ یہ مرغی اس ک لی کوئی‬

‫م نویت نہ رکھتی تھی۔‬

‫میں ن یہ سوچ کر‘ خ موشی اختی ر کی‘ کہ گوشت ہی کھ ن ہ ‘ اس‬
‫مرغی ک ہو‘ ی اس مرغی ک ‘ اس س کی فر پڑت ہ ۔ مجھ لوگوں‬
‫کی جہ لت پر‘ افسوس ہوا۔ شیخ چ ی کی سی سوچ رکھت ہیں۔ مرغوں‬

‫ک حوالہ س ‘ ام رت آتی ہو‘ تو دنی س رے ک ک ج چھوڑ کر‘ اسی‬
‫ج ن لگ ج ئیں۔ میں دیر تک‘ ان سوچوں ک گردا میں پھنس رہ ‘‬
‫کہ ہ بھی کیسی عجی قو ہیں‘ دنی ترقی کرک کہ ں کی کہ ں‘ پہنچ‬
‫گئی۔ ہ ابھی تک‘ ان لای نی اور ب م نی اشغ ل میں پڑے ہوئ ہیں۔‬

‫آخر ان اشغ ل کی‘ کی م نویت ہ ۔ غری قوموں کو‘ اس قس ک‬
‫اشغ ل‘ وارہ نہیں کھ ت ۔ ایک طرف بھوک ن نڈھ ل کر رکھ ہ ‘ تو‬
‫دوسری طرف انگریز ک سجن طبقہ‘ جس ک ہ تھ میں‘ وہ زندگی کی‬

‫طن بیں دے گی تھ ‘ جونک کی طرح‘ اس عظی خطہ ک لوگوں ک ‘‬
‫خون چوس رہ ہ ۔ لوگوں پر ب ور کر دی گی ہ ‘ کہ یہ اس قو ک‬
‫ہیرو ہیں۔ قو ک لی ‘ لڑن مرن اور جی وں میں ج ن وال ‘ ڈاکو‬
‫قرار دے دی گی ہیں۔ وہ جنہوں ن ‘ لمحہ بھر کی بھی ص وبت نہیں‬
‫اٹھ ئی‘ عظمتوں ک م م ر قرار پ ئ ہیں۔ آج تک‘ یہ ک ی طور پر‘‬
‫ط نہیں پ ی ‘ کہ تقسی ‘ خطہ کی ہوئی ہ ‘ ی مسم ن قو کی ہوئی‬
‫ہ ۔ اوپر س مذہبی طبقہ‘ انس نوں کو قری نہیں آن دیت ۔ دیر تک‬

‫سوچن ک ب د‘ میں اس نتیجہ پر پہنچ ‘ کہ منتشر اور حق ئ س‬
‫دور قوموں کی زندگی‘ مرغوں اور بٹیروں ک گرد طواف کرتی رہتی‬

‫ہ۔‬

‫م شی بھ گ دوڑ ن ‘ مجھ اس قس کی سوچوں س ‘ کوسوں دور‬
‫کر دی ۔ ج فرد‘ ذات ک خول میں گ ہو ج ت ہ ‘ تو اجتم ع ک‬
‫اچھ برے‘ کی سوچوں س دور۔۔۔۔۔ بہت دور چلا ج ت ہ ۔ اس‬

‫صرف اور صرف‘ اپنی بھوک ی د رہتی ہ ۔ خونی رشت بھی‘ اس‬
‫بھ گ دوڑ میں‘ اپنی شن خت س محرو ہو ج ت ہیں۔ ایس ع ل‬
‫میں‘ چھین جھپٹی اصول اور ض بطہ ٹھہرتی ہ ۔ میں بھی‘ یہ س‬
‫بھول گی ۔ مجھ کی پڑی‘ جو مرغوں اور بٹیروں کی سوچ میں‘ پڑ‬
‫کر‘ جی ہ ک ن کرت ۔ کسی کو کہ بھی تو نہیں ج سکت ۔ سچ کہن والا‘‬
‫سم ج دشمن قرار پ کر‘ زہر ک مسح سمجھ ج ت ہ ۔ ا ہر کوئی‘‬

‫سقراط بنن س رہ ۔‬

‫ایک دن‘ میں ب زار س گزر رہ تھ ۔ شہر ک بڑے چوک ک ب ئیں‘‬
‫ایک اشتہ ر آویزاں تھ ۔ یہ اشتہ ر‘ مرغوں کی لڑائی س مت تھ ۔‬

‫ایک عرصہ پہ کی ب ت‘ ایک ب ر پھر میرے ذہن میں گھو گئی۔‬
‫اشتہ ر پڑھ کر‘ میرا دم چکرا گی ۔ کیسی ب حس اور لاپرواہ قو ہ ۔‬
‫جنگ س نک ‘ ابھی چند م ہ ہی گزرے ہوں گ ‘ اور یہ‘ مرغوں کی‬
‫لڑائی ں کروا رہی ہ ۔ جس جنگ س ‘ قو گزری تھی‘ کی وہ ک فی نہ‬

‫تھی۔ کی ا بھی لڑائی دیکھن کی‘ کوئی کسر ب قی رہ گئی تھی۔ میں‬
‫ان ہی سوچوں میں گرفت ر‘ ضروری خریداری ک ب د‘ گھر واپس آگی ۔‬
‫اچ نک‘ میرے ذہن میں‘ چوتھی مرغی گردش کرن لگی۔ ایک تجسس‬

‫س نمودار ہوا۔ پھر میں ن ‘ مرغوں کی لڑائی دیکھن ک ‘ فیص ہ کر‬
‫لی ۔‬


Click to View FlipBook Version