زم نے ک چ ن ہے کہ وہ کسی کو لمحوں کے لیے سہی‘ آسودہ اور
خوش نہیں یکھ سکت ۔ مجھے اصل افسوس یہ ہے کہ میری سرزنش
کر ڈالی لیکن بہن کو بلا کر کچھ نہیں کہ جو جواب طرح طرح کی
جگہوں پر مزے لے لے کر کھرک فرم رہی تھی۔ بہن تھی ن وہ اسے
لذت سے مرحو نہں کرن چ ہتی تھی۔ بہن تھی ن ۔ اپنے اپنے ہوتے
ہیں۔ میرا کی ہے بیگ نہ پتر ہوں میری خوشی اور لمح تی آسودگی
اسے کیونکر خوش آ سکتی تھی۔
پ کست ن سو نہیں ہزاروں طرح کی قرب نی ں دے کر ح صل کی گی ۔ ابتدا
سے لے آج تک کھرک زدہ دفتر ش ہی سے گزارہ کر رہ ہے۔ واپڈا ہو
کہ اک ؤنٹ آفس‘ ٹی ی فون والے ہوں کہ پوسٹ آفس والے‘ اع ی شکش
منشی ک دفتر ہو کہ پنج سرونٹس ف ؤنڈیشن والے غرض کوئ بھی
محکمہ لے لیں مس سل اور متواتر طرح طرح کی جگہوں پر کھرکے ج
رہے ہیں پوچھنے والے خود اس عظی ن مت ارضی سے لطف اندوز
ہو رہے ہیں۔ کچھ ہی ریٹ ئرمنٹ کے ب د رشوثی کھرک کی ت خی
دیکھتے ہیں ورنہ م م ہ اگ ے جہ ں تک التوا میں رہت ہے۔ گھر میں
فرد واحد کی کھرک اس سے برداشت نہ ہو سکی۔ میری بدع ہے اللہ
اسے اس ن مت بےمول سے ت مرگ محرو رکھے اور اس کے لیے
ترستی قبریں سدھ رے۔ وہ اس لذت کے لیے دع بھی کرے تو دع
قبولیت کے قری بھی نہ پھٹکے۔ س کہو آمین
کرنسی ثبوت
ش ہ‘ اس کے چی ے چمٹے گم شتے اور دفتری اہل ک ر زب نی کلامی
قسموں یہ ں تک کہ لکھتوں پڑتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے
نزدیک ج ل س زی ک عمل شروع سے چلا آت ہے۔ لالچ لوبھ میں آ کر
انس ن ایم ن تک بیچت آی ہے۔ دوسرا چور ی ر ٹھگ کی قسموں پر یقین
کر لین کھ ی حم قت کے مترادف ہے۔ زب نی ک کون یقین کرے‘ رائی
سے پہ ڑ بنت چلا آی ہے۔ وہ پریکٹیکل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے
نزدیک‘ کرنسی ثبوت ہی ح سچ ک ع بردار ہوت ہے۔ س تھ میں‘
ن یس خوش بو اور پرذائقہ پکوان ح سچ کو جلا بخشت ہے۔ پیٹ میں
کچھ ہو گ تو ہی ح سچ کی کہی ج سکتی ہے۔ خ لی پیٹ جو بھی
فیص ہ ہو گ غ ط ہو گ ۔ غ ط فیص ے سوس ئٹی میں انتش ر اور فس د ک
دروازہ کھولتے ہیں۔
اگرچہ اس سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑت کیوں کہ وہ ہر نئے
آنے والے کے بھی اس کی آمد کے ب د وف دار بن ج تے ہیں۔ جی
حضور جی سرک ر جی جن ک انہوں نے پوری توجہ سے وظی ہ کی
ہوت ہے۔ گیے کی کمی ں‘ کمزوری ں‘ کوت ہی ں اور خ می ں دل کے دفتر
پر رق کی ہوتی ہیں۔ اس کے ب وجود موجود کے م قول ہونے کی
صورت میں‘ نئے کی کچھ زی دہ خوہش نہیں کرتے۔ خدا ج نے نی کیس
ہو اور س تھ آئے چمچے کڑچھے‘ انہیں اس کے نزدیک ج نے دیں ی
نہ ج نے دیں۔ گوی نئے کے س تھ ایڈجسٹ ہونے میں‘ کچھ تو وقت
لگے گ ہی۔
نی آنے کی بج ئے‘ محدود وقت تک سہی‘ موجود پران گرہ سے ج ئے
گ ۔ گرہ ک احس س کہتری انہیں کسی بھی ح لت میں گوارہ نہیں ہوت ۔ رہ
گئی عزت ی وق ر کی ب ت‘ اس ک کی ک ی زی دہ ہوتی رہتی ہے۔ ہ ں
کھیسہ جتن فربہ ہو گ ‘ عزت میں اسی تن س سے اض فہ ہو گ ۔
لاڈو ک اصل ن تو منزہ خ ن تھ لیکن اس کے م ئی ب پ اک وتی ہونے
کے سب ‘ اسے پی ر سے لاڈو کہ کرتے تھے۔ پھر یہ ہی ن عرف میں
آ گی ۔ سسرال میں آ کر بھی‘ یہ ہی ن رواج پ گی ۔ یہ ں تک کہ اس ک
بندہ جیج بھی اسی ن سے پک رنے لگ ۔ لاڈلی ہونے کے ب عث اس کی
ع دتیں ہی نہ بگڑی تھیں‘ مزاج بھی بگڑ گی تھ ۔ سوہنی سونکھی اور
اچھ لب س زی تن کرنے سے اور بھی نکھر نکھر ج تی تھی۔ مح ے
کے گھبرو مر مر ج تے لیکن وہ کسی کو گھ س نہ ڈالتی۔ ج تک م ئی
ب پ کے گھر رہی‘ اس ک کردار یہ س ہونے کے ب وجود ص ف ستھرا
رہ ۔ کوئی اس کے کردار پر انگ ی نہ اٹھ سکت تھ ۔ ہر کوئی اس کے
ب کردار ہونے کی گواہی دیت تھ ۔
سسرال میں میں آ کر کچھ عرصہ سگنوں ک گزار کر اسے اپنے گھر
کی ذمہ داری سمبھ لن ہی تھی۔ کوئی ہنر اور کس اس کے ہ تھ میں نہ
تھ ‘ پکی پک ئی کھ تی تھی۔ ا اسے پک کر کھ ن اور خ وند کو کھلان
تھ ۔ جیج س را دن ک میں ج ن کھپ ت تھ ‘ رات کو گھر کی پکی کھ ن
اس ک ح تھ ۔ لیکن سوائے لاڈ نخرے کچھ ہ تھ نہ لگت ۔ بےچ رہ صبر
شکر کے گھونٹ پی کر رہ ج ت ۔ آتی ب ر ب زار سے کچھ لے آت ۔ مزے
کی ب ت یہ کہ وہ بھی بھوکی رہتی اور اس کے آنے ک انتظ ر کرتی کہ
آتے ہوئے ب زار سے کھ نے کے لیے کچھ لیت آئے گ ۔ یہ س س ہ ک
تک چل سکت تھ ۔ ب زار ک کھ ن وارہ بھی نہیں کھ ت ۔
ابتدا میں ک سے لیٹ ہو ج ت تو رٹ ڈال کر بیٹھ ج تی کہ اتنی دیر
کیوں ہو گئی۔ کہ ں اور کس کے پ س ج تے ہو۔ ضرور ت نے ب ہر کوئی
رکھی ہوئی ہے۔ لاکھ قسمیں کھ ت لیکن کہ ں‘ وہ کسی قیمت پر یقین
کرنے پر تی ر نہ ہوتی۔ اس ک اسے ایک حل مل گی آتے ہوئے کوئی
ن کوئی تح ہ س تھ لے آت ۔ کبھی نقدی دے دیت تو اس کی زب ن کو ت لہ
لگ ج ت ۔ اگر کبھی کوت ہی ی ک زور گرہ آڑے آ ج تی تو وہی کل ک ی ن
شروع ہو ج تی۔ شک کی زد میں آ کر سکون غ رت کر لیت ۔ ا اس کی
سمجھ میں آ گی کہ یہ ش ہ اور ش ہ والوں کے قدموں پر ہے۔ قسموں
وغیرہ کی یہ ں کوئی قدر قیمت نہیں‘ یہ ں تو کرنسی ثبوت ہی ک آ
سکتے ہیں۔ محنت اور حلال کی کم ئی میں‘ اوپر ت ے کرنسی ثبوت
فراہ کرن ممکن ہی نہیں۔ ہ ں ایک ب ت اس کے کریڈٹ میں ج تی تھی
کہ لاڈو م مولی سے کرنسی ثبوت پر بھی راضی ہو ج تی بل کہ بھرپور
خوشی ک اظہ ر کرتی۔
ب زار سے کھ ن لان اور ہر روز ب زاری کھ ن کھ ن ‘ بلا شبہ بڑا کھٹن
گزار ک تھ ۔آخر اس نے اس سے چٹھک رے ک بھی طریقہ سوچ ہی
لی ۔ ک سے آ کر تح ہ ی نقدی لاڈو کی ت ی پر دھرت پھر تھوڑا ریسٹ
کرنے کے ب د کچن میں گھس ج ت ۔ لاڈو کو آواز دیت ۔ کچن ک ک ج نت
تھ ۔ لاڈو کو بھی بڑے پی ر سے س تھ میں مصروف کر لیت ۔ ابتدا میں
اس سے چھوٹے موٹے ک لیت رہ ۔ آہستہ آہستہ لوڈ بڑھ ت گی ۔ ایک
وقت ایس آی کہ لاڈو کچن کے امور سے واقف ہو گئی۔ ب د ازاں تقریب
اس نے کچن کے ک سے ہ تھ کھینچ لی ۔ وہ ہی ک کرنے لگ جو ابتدا
میں لاڈو کی کرتی تھی۔ لاڈو کو یہ محسوس تک نہ ہوا کہ جیج کچن
کے اص ی ک سے دور ہٹ گی ہے۔
ایک دن وہ دونوں کچن میں مصروف تھے کہ جیجے ک پ ؤں اللہ ج نے
قدرتی ی ج ن بوجھ کر پھسلا اور وہ بلاتک ف کچن کے فرش پر آ رہ ۔
ہ ئے ہ ئے کی آوازیں نک لنے لگ ۔ لاڈو اسے سمبھ لا دے کر چ رپ ئی
تک لے آئی۔ اس کی کمر اور ٹ نگیں دب نے لگی۔ پریش نی اس کے
چہرے پر ص ف دکھ ئی دینے لگی۔ اس ک مط یہ تھ کہ وہ اس سے
پی ر بھی کرتی تھی۔ ٹ نگیں دب تے پورا زور لگ رہی تھی۔ جیجے کو
بڑا ای سواد آی ۔ یہ مزا ہی الگ سے تھ ۔ پھر وہ گھبرا کر مح ہ کے
ڈاکٹر کے پ س ج نے لگی۔
اس نے کہ :رہنے دو‘ میرے پ س اتنے ف لتو پیسے نہیں جو ڈاکٹر
کی دواؤں پر خرچ کرت پھروں۔ یہ ں سے ف ر ہو کر ریت گر کرکے
ٹکور کر دین ۔ ان پیسوں سے تمہ را گوٹے کن ری والا دوپٹہ لان ہے۔
کتنی اچھی اور پی ری لگو گی۔
جیجے کی ب ت سن کر لاڈو ک چہرا خوشی سے سرخ ہو گی ۔ اس نے
دل میں سوچ جیج مجھ سے کتن پی ر کرت ہے۔
لاڈو نے جواب کہ :ہ ئے میں مر ج ں ت سے پیسے اچھے ہیں۔
بہرطور اس نے نہ ج نے دی کیوں کہ وہ اس مزے سے ہ تھ دھون
نہیں چ ہت تھ جیج ش تک ن ز نخرے دکھ ت رہ لیکن اس نے کرنسی
ثبوت لاڈو کی ہتھی ی پر نہ رکھ کہ کہیں پیسوں کے نشہ میں‘ اپن
ج ری کرتوے ہی نہ فراموش کر دے۔
اس نے نے اگلا دن بھی گھر پر گزارا اور لاڈو سے ن زبرداری ں کروات
رہ ۔ ہ ں البتہ اگ ے دن چ رپ ئی سے اٹھ گی اور لاڈو ک کندھ پکڑ کر
غسل خ نے وغیرہ ج ت رہ ۔ اس دورانیہ میں لاڈو نے کچن سمبھ لے
رکھ ۔ ا وہ ٹھیک سے کوکنگ کرنے لگی تھی۔ تھوڑی بہت کمی رہ
ہی ج تی ہے‘ جو آہستہ آہستہ دور ہو ج تی ہے۔ اگ ے دن ک پر ج نے
لگ تو لاڈو نے کہ رہنے دو ک تو ہوتے رہتے ہیں۔ اپنی ج ن ک خی ل
کرو۔ وہ مسکرا کر کہنے لگ بھ ی لوکے ک نہیں کریں گے تو کھ ئیں
گے کہ ں سے۔ ہ ں وہ گوٹے کن ری والا دوپٹہ بھی تو لان ہے۔ پھر وہ
لاٹھی کے سہ رے چ ت ہوا دروازے سے ب ہر نکل گی ۔
وہ ج نت تھ ‘ آج لاڈو خلاف م مول دروازے پر کھڑی بڑے پی ر سے‘
اسے ج ت ہوا دیکھ رہی ہے۔ وہ جوں کی چ ل چل رہ تھ اور پیچھے
مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ لاڈو واق ی کھڑی تھی۔ کبھی وہ کسی گھر کی
دیوار کی ٹیک لے کر کھڑا ہو ج ت اور پی ر سے ہ تھ ہلات ۔ ا وہ نظر
نہیں آ رہ ۔ اس امر کی بہرطور اس نے تس ی کر لی۔ پھر اس نے لاٹھی
بگو ن ئی کے حم میں رکھی اور تیز قدموں اپنے دھندے کی ج ن
بڑھ گی ۔ ش کو اس نے ب زار سے گوٹے کن ری والا دوپٹہ خریدا۔
واپسی پر بگو ن ئی کے حم سے لاٹھی لی اور گھر میں داخل ہوتے
ہی صبح والی ایکٹنگ دوہرائی۔ لاڈو نے دوڑ کر اسے پکڑا اور آرا
سے چ رپ ئی پر بٹھ دی ایسے جیسے ابھی ابھی چوٹ لگی ہو۔ گوٹے
کن ری والا دوپٹہ لے کر وہ اور بھی خوشی سے پ گل ہو گئی۔ اس نے
ج دی ج دی اس کے ہ تھ دھلائے اور کھ ن جو آج اس نے خود ہی بن ی
تھ ‘ جیجے کے س منے پروس دی ۔
یہ عمل کئی دن چلا۔ آخر ک تک‘ اسے پتہ چل گی کہ جیج یہ س را
ڈرامہ رچ ت رہ ہے۔ پھر کی تھ ‘ جوں ہی وہ اداک ری کرت ہوا گھر میں
داخل ہوا‘ لاڈو نے اس کے ہ تھ سے لاٹھی پکڑ کر زمین پر پٹخ دی۔
قسمت اچھی تھی‘ ورنہ غصہ میں دو چ ر اس کی ٹ نگوں پر بھی جڑ
سکتی تھی۔ اسے م و ہو گی کہ ڈھول ک پول کھل گی ہے۔ وہ مردہ
قدموں چل کر چ رپ ئی پر آ بیٹھ ۔ پھر کی تھ ‘ رانی توپ ک دھ نہ اپنے
شب میں آ گی ۔ جھوٹ تھ ‘ چپ رہنے کے سوا اور کر بھی کی سکت
تھ ۔ اسے اپنی غ طی ک احس س ہو گی کہ وہ لاٹھی حم میں رکھت رہ
ہے۔ حم میں ب ت ک ج ن ‘ پورے علاقہ کی پورے م ک میں آ ج نے
کے مترادف ہے۔
لاڈو نے گرج دار آواز میں کہ :ب ہر ٹھیک ہوتے ہو گھر میں داخل
ہوتے ہی تمہیں بیم ری پڑ ج تی ہے‘ تمہ ری ٹ نگیں دب دب کر میرے
ہ تھ رہ گئے ہیں۔
اس کے پ س اس ک کوئی جوا نہ تھ ‘ پھر بھی اس نے کہ :گرا گھر
میں تھ ی ب ہر۔ ب ہر گرت تو بیم ری ب ہر پڑتی۔
مزید گرجنے کی بج ئے اس ک جوا سن کر لاڈو ک ہ س نکل گی ۔ جوں
ہی لاڈو کے منہ سے یہ پھول پھوارہ پھوٹ اس نے ج دی سے لاڈو کو
گ ے سے لگ لی اور اس کے گ ے میں بڑا ہی خو صورت ارٹی یشل
ہ ر ڈال دی ۔ لاڈو ک بولارا خوشی میں بدل گی ۔ جو بھی سہی‘ اس کے
اس ڈرامے کے نتیجہ میں‘ لاڈو کھ ن پک نے کے س تھ س تھ گھر کے
دوسرے ک بھی انج دینے لگی۔ یہ س ری کرامت اس کرنسی ثبوت
کی تھی‘ جو لاڈو کے گ ے میں پڑا اپنی حیثیت اور اہمیت بڑے دھڑلے
سے جت اور منوا رہ تھ ۔
ش ہی ہ تھی لوک نہ
اوئی اوئی لینڈ ک ش ہی ہ تھی جنگل میں گ ہو گی ۔ م کی تلاش ک ر اور
ت تیش ک ر ادارے تلاشتے تلاشتے تھک ہ ر گئے لیکن ہ تھی نہ ڈھونڈا
ج سک ۔ ن چ ر فرانس سے اس ذیل میں مدد لی گئی۔ وہ ں کے اس
ش بہ سے مت ادارے بھی منہ لٹک کر رہ گئے۔ اس کے ب د جرمن‘
اٹ ی اور چین سے مدد ح صل کی گئی لیکن ان کے ہ تھ بھی م یوسی
کے سوا کچھ نہ لگ ۔ بھ رت کے م روف تلاش ک ر پریدی م ن اپنے
س تھیوں سمیت بڑے اعتم د کے س تھ مصروف تلاش رہ لیکن وہ اور
اس س تھی بھی اپنی ن ک می پر سر پکڑ کر رہ گئے۔ دین کے چوھوری
کے ب نٹک ادارے بڑے کروفر سے میدان میں اترے لیکن تلاش کے
حوالہ سے ان کے منہ پر بھی ب رہ بج گئے۔
ن امیدی کے ب دل گہرے ہوتے گئے۔ ان ن زک اور حس س لمحوں میں
پ کست ن کے تلاش ک ر اور ت تیش ک ر ادارے اس م یوس اور اداس
اداس ٍفض میں امید کی کرن بن کر حرکت میں آ گئے۔ س یہ ہی کہہ
رہے تھے دنی کے ترقی ی فتہ ادارے کچھ نہیں کر پ ئے‘ بھلا یہ کی کر
پ ئیں گے۔ ایک گھنٹہ بھی نہ گزر پ ی ہو گ کہ مثبت رزلٹ س منے آ گی ۔
ش ہی درب ر میں جم ہ م کوں کے اع ی عہدےدار تشریف فرم تھے کہ
ش ہی ہ تھی درب ر میں ح ضر کر دی گی ۔ س ہنس پڑے کہ وہ ہ تھی
نہیں گدھ تھ ۔ ان کے ہنستے پر کون ج ت ‘ جسے وہ گدھ قرار دے
:رہے تھے‘ وہ ب آواز ب ند اقرار کیے ج ت تھ
میں ہی گ شدہ ش ہی ہ تھی ہوں۔۔۔۔۔میں ہی گ شدہ ش ہی ہ تھی ہوں۔
اس کی اقراری آواز اور پراعتم د بی ن و لہجے کو جھٹلانے ک کسی
کے پ س جواز ہی ب قی نہ رہ تھ ۔
ک ن پھوسی ک دور شروع ہو گی ۔ ہر کسی نے کہن شروع کر دی کہ
گدھ ہی ش ہی سواری ک ج نور‘ ش ہی ہ تھی قرار پ ی ہو گ ۔ یہ ک ن
پھوسی ب ند آوازوں میں بدل گئی۔ ہر کوئی اسے گ شدہ ش ہی ہ تھی
قرار دے رہ تھ ۔ اوئی اوئی لینڈ کے ش ہ نے ج یہ صورت ح ل
دیکھی تو اس کے انک ر نے بھی ہ ں ک لب دہ اوڑھ لی ۔ ش ہی اعلان
ج ری ہوا کہ یہ ہی ش ہی ہ تھی تھ ۔
مب رک ب د کی صدائیں ب ند ہوئیں۔ بڑی ش ندار دعوت اڑائی گئی۔ ش ہی
ہ تھی کو ہ تھی ب ن کے حوالے کر دی گی ۔ وہ بھی کہے ج رہ تھ ‘ یہ
ہی ش ہی ہ تھی تھ اور میں اسی کی خدمت کی کرت تھ ۔ م کوں م کوں
کے عہدےدار اپنے اپنے وطن ٹر گئے۔
پ کست نی تلاش ک ر اور ت تیش ک روں کو ان و اکرا اور ش ہی میڈلوں
سے نوازا گی ۔ بلا شبہ انہوں نے بڑی محنت‘ لگن اور مشقت سے یہ
فریضہ انج دی تھ ۔ ان و اکرا اور ش ہی میڈلوں کے وہ ج ئز ح
دار تھے۔
حوص ہ
کری بخش نے چ لیس برس محنت مزدوری کی۔ بیوی بچوں ک مخ ص
س تھ نبھ ی ۔ کہیں سے شرینی بھنڈارا م ت ‘ تو وہ اسے بھی بڑی دی نت
سے‘ گھر لے آت ۔ اس میں سے‘ رائی بھر اپنے منہ میں نہ ڈالت ۔ اس
کی کوشش رہی کہ ہر ممکنہ خوشی‘ اپنے بیوی بچوں کو فراہ کرے۔
یہ اپنی جگہ پر حقیقت ہے‘ کہ کوشش کے ب وجود انہیں آسودہ‘ خوش
ح ل اور بڑے لوگوں کی سی‘ سہولی ت میسر نہ کر سک ۔
سک ان پڑھ تھ ۔ بچپن میں ہی والدین چل بسے تھے۔ لوگوں کے
دروازے پر رل خل کر بڑا ہوا۔ م موں نے‘ محنتی اورمشقتی دیکھتے
ہوئے‘ رشتہ دے دی ۔ یہ بھی بہت بڑی ب ت تھی‘ ورنہ ا س سے لوگوں
کو کون پوچھت ہے۔ اللہ نے کر فرم ی اور تین بیٹوں اورایک چ ند سی
بیٹی سے نوازا۔ اس نے چ روں پر‘ برابر کی محبت اور مشقت نچھ ور
کی۔ بلاشبہ یہ اس ک فرض اور بچوں ک ح تھ ۔ ا وہ بوڑھ ‘ ک زور
اور بیم ر ہو چک تھ ۔ بچے جوان ہو چکے تھے۔ اسے ان کی توجہ کی
ضرورت تھی۔ اسے اس کے اپنے ہی گھر میں‘ اس کے ان اپنوں میں
سے‘ کوئی پوچھنے والا نہ تھ ۔ اس کی بیوی س یدہ اسے س را دن
کوسنے دیتی رہتی تھی۔ ش کو تینوں بیٹے کوئی ن کوئی ج ی کٹی سن
دیتے۔ ہ ں مقبولاں‘ اس کی بیٹی‘ اس سے ہ دردی رکھتی تھی۔ اس
جر کی پ داش میں‘ اسے بھی رگڑا مل ج ت ‘ ح لاں کہ وہ س کی خدت
کرتی تھی۔ سگے بھ ئیوں کی کٹھور دلی پر‘ سسک پڑتی اور بھلا کر
بھی کی سکتی تھی۔
دونوں ب پ بیٹی‘ گ ی کے کتے سے بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ اس
دن تو تینوں بیٹوں اور س یدہ نے حد ہی کر دی۔ مقبولاں نے کہ ‘ اب ت
کہیں منہ کر ج ؤ‘ تمہ رے لیے اس گھرمیں گنج ئش نہیں رہی۔ کری
بخش کو بیٹی کی بےچینی اور پریش نی نے‘ س ری رات سونے نہ دی ۔
اس نے سوچ ‘ ک ش وہ مر ہی گی ہوت ۔ اس نے کوچ کر ج نے ک فیص ہ
کر لی ۔ پھر سورج چڑھنے سے پہ ے ہی گھر سے نکل گی ۔
ا اس کے حوص ے نے‘ یکسر جوا دے دی تھ ۔ اس سے زی دہ‘
برداشت کرنے کی اس میں ہمت ہی نہ تھی۔ دکھ‘ افسوس اور پرش نی
سے وہ نڈھ ل ہوگی تھ ۔ وہ ان کے لیے جی تھ ۔ اسے ہر لمحہ‘ ان کی
بھوک پی س کی فکر لگی رہتی تھی۔ آج ج وہ بوڑھ ہو گی تھ ‘ اس
اکی ے کے‘ دو لقمے ان پر بھ ری ہو گیے تھے۔ بیٹی بےچ ری‘ اس
کے لیے کی کر سکتی تھی۔ وہ تو خود‘ زر خرید غلاموں کی سی
زندگی کر رہی تھی۔ کسی درب ر پر‘ اسے اس سے کہیں بہتر‘ روٹی مل
سکتی تھی۔ ایسے ب وارث لاوارثوں کے لیے‘ صوفی کرا کے درب ر‘
کہیں بہتر ٹھک نہ ث بت ہوتے ہیں۔
ح جی ص ح کے پ س‘ اللہ ک دی س کچھ تھ ۔ دوست عزیز اور رشتہ
داروں کی بھی کمی نہ تھی۔ ہر کوئی ان کی عزت کرت تھ ۔ گھر میں
ایک چھوڑ‘ دو بیوی ں تھیں۔ نوکر چ کر‘ خدمت کے لیے موجود تھے۔
ک می ں اپنے فرائض انج دے رہی تھیں۔ ان س کے ہوتے‘ وہ زندگی
کو ادھورا اور کھوکھلا محسوس کرتے تھے۔ یہ س کچھ‘ ان کے لیے
بےم نی اور لای نی تھ ۔ یہ اپنے ان کے لیے غیر تھے۔ اکثر کہتے آج
آنکھ بند کرت ہوں‘ تو یہ س غیروں ک ہو گ ۔ بےاولاد ہونے سے بڑھ
کر‘ کوئی اور دکھ ہو ہی نہیں سکت ۔ کسی نے مشورہ دی ‘ ح جی ص ح
کسی گری سے‘ بیٹ ی بیٹی گود کیوں نہیں لے لیتے۔ مشورہ م قول
تھ ۔ انہوں نے بڑا غور کی ۔ پھر فیص ہ کر لی کہ وہ کسی بچے کو گود
ہی لے لیتے ہیں۔
سج د آج بہت غمگین س تھ ۔ خ ور نے پوچھ ‘ ی ر اتنے پریش ن سے
کیوں ہو۔ اس نے اداس لہجے میں کہ ‘ ی ر پہ ے ہی اللہ نے تین بیٹی ں
دے رکھی ہیں‘ آج رات کو چوتھی بھی ٹپک پڑی ہے۔ سوچ تھ ‘ اس
ب ر اللہ بیٹ دے دے گ ‘ مگر ہ گریبوں کی اتنی اچھی قسمت کہ ں۔
سج د نے سمجھ ی کہ فکر نہ کرو‘ ہر کوئی اپنی قسمت س تھ لات ہے۔
اس نے جواب کہ ‘ قسمت کی س تھ لانی ہے‘ مزید بوجھ پڑن تھ ‘ وہ پڑ
گی ہے۔ کس بوتے پر دل کو تس ی دوں۔
خ ور ح جی ص ح کے ہ ں ملاز تھ ۔ اس نے ح جی ص ح کو سج د
کی پریش نی کے مت بت ی ۔ ح جی ص ح نے‘ سج د کی نومولود بچی
کو گؤد لینے کی ٹھ ن لی۔ پھر وہ خود‘ بڑی بیگ ص ح کو س تھ لے
کر سج د کے گھر چ ے آئے۔ خ ور کو انہوں نے وہ ں آ ج نے کے لیے
کہہ دی تھ ۔ سج د کو حیرانی کے دورے پڑ رہے تھے۔ گوی چونٹی کے
گھر‘ ازخود بن بلائے نرائن چ ے آئے تھے۔ ح جی ص ح نے آج تک
دی ہی تھ ‘ کبھی کسی سے کچھ م نگ نہیں تھ ۔ وہ سمجھ نہیں پ رہے
تھے‘ کہ ب ت کس طرح سے کریں۔ خ ور نے ان کی مشکل آس ن کر
دی۔ سج د نے خوشی خوشی بچی ح جی ص ح کی گود میں ڈال دی۔
ننھی سی ج ن کو گود میں دیکھ کر‘ ح جی ص ح مسرور ہو گیے اور
اللہ ک شکرادا کی ۔
ح جی ص ح نے سج د کو رنگ دی ۔ سج د کے لیے یہ بچی لکشمی
دیوی ث بت ہوئی۔ انہوں نے کسی دور دراز علاقہ میں‘ اسےاس کے ن
سے‘ مک ن خرید دی ۔ س تھ میں‘ اسے ایک ک روب ر بھی شروع کرا دی ۔
سج د دنوں میں‘ علاقہ ک م زز شہری بن گی ۔ پہ ے وہ علاقہ کے م زز
شہریوں کو سلا کہت تھ ‘ ا لوگ اسے سلا بولاتے تھے۔ وقت وقت
کی ب ت ہوتی ہے۔ وقت کی کروٹ سے‘ ک کوئی آگ ہ ہو سک ہے۔ ک
کی ہو ج ئے‘ آج تک کسی پر نہیں کھل سک ۔
وقت پر لگ کر محو س ر رہ ۔ بچی‘ جس ک ن راحی ہ رکھ گی تھ ‘ لاڈ
پی ر اور ان گت آس ئشوں میں بڑی ہوئی۔ اچھی درس گ ہوں میں پڑھی۔
ح جی ص ح بوڑھے ہو گیے تھے۔ انہیں راحی ہ کے ہ تھ پی ے کرنے
کی فکر لاح ہوئی۔ رشتے تو بہت آتے تھے‘ لیکن ان کی پسند ک
م ی ر ب لکل مخت ف تھ ۔ انہیں لاڈوں پ ی راحی ہ کے لیے‘ ش ید کوئی
فو ال رت خوبیوں ک ح مل لڑک درک ر تھ ۔ پھر ایک دن‘ ب ند حوص ہ
کے م لک ح جی ص ح کے مرنے کی خبر س رے شہر میں پھیل گئی۔
ان کی موت‘ دل ک دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔ ہوا یہ کہ راحی ہ بگو
حج کے لڑکے‘ ق در کے س تھ بھ گ گئی تھی۔ ح جی ص ح یہ صدمہ
برداشت نہ کر سکے۔ بڑی بیگ ص ح ‘ اس صدمے سے ذہنی توازن
کھو بیٹھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے‘ چند لمحوں میں‘ کچھ ک کچھ ہو گی ۔
جو ہوا‘ کسی کے خوا و خی ل میں بھی نہ تھ ۔ اتنے بڑے جگرے کے
م لک بےوجود ہو چکے تھے۔ وہ اپنی اصل میں‘ ان کی کچھ بھی نہ
تھی۔ انہوں نے اسے محض پ لا پوس تھ ۔ اس کے ب وجود‘ وہ ان ک
س کچھ ہو گئی تھی۔
نذیراں ان پڑھ‘ بےس یقہ اور کچن کے امور میں ب لکل کوری اور پیدل
تھی۔ خو صورت ہونے کی غ ط فہمی‘ ہمیشہ اس کے سر پر‘ سوار
رہتی۔ خ وند کے رشتہ دار‘ اسے کبھی ایک آنکھ بھی نہ بھ ئے تھے۔
اس پہ طرہ یہ کہ زب ن اور کردار بھی‘ ص ئی ستھرائی سے ب لاتر
تھے۔ ایک روایت کے مط ب ایک جگہ سے‘ دوسری روایت کے
مط ب دو جگہوں سے‘ اسے ان چ ر خوبیوں کی بن پر‘ طلا ہو چکی
تھی۔ اس کی ان خوبیوں کے ب عث‘ ہر کوئی رشتہ کے حوالہ سے‘ ان
کے گھر کے قری سے بھی گزرنے سے ڈرت تھ ۔ اس ک ب پ ام
مسجد تھ ‘ اس ن تے لالچ‘ ہوس‘ آنکھ کی بھوک اور ن شکری گھٹی
میں میسر آئی تھی۔ آوارہ فکری‘ م ں کی طرف سے دودھ میں م ی
تھی۔
منظور ص ح کو اپنے چھوٹے بھ ئی کی یک پسری پر‘ ہر وقت
پریش نی رہتی۔ وہ چ ہتے تھے‘ چ و زی دہ نہیں‘ جوڑی تو ہو ج ئے۔
رضی اولاد پیدا کرنے کے ق بل نہ تھی۔ رشتے تو بہت تھے‘ لیکن
ص در عقد ث نی کے رپھڑ میں نہیں پڑن چ ہت تھ ۔ وہ موجود پر ق نع
تھ ۔ آخر منظور ص ح نے‘ بھ ئی کو ق ئل کر ہی لی ۔ بہت سے رشتوں
میں سے‘ کسی کے کہنے پر‘ نذیراں کو اس لیے پسند کر لی گی ‘ کہ
ٹھکرائی ہوئی ہے‘ غری اور دیہ تی ہے‘ خدمت کرے گی‘ س تھ میں
اللہ اولاد بھی عط فرم دے گ ۔
نذیراں کو کوئی زن نہ مرض لاح تھ ‘ جس ک علاج کروای گی ۔ اللہ نے‘
منظور ص ح کو ایک بھتیجے سے نوازا۔ اللہ کے اس احس ن پر‘ س
خوش ہوئے۔ دوسری طرف یہ بھی کھ ی حقیقت تھی‘ کہ پوتڑوں کے
بگڑے ک ہی سنورتے ہیں۔ بیٹ پیدا ہو ج نے کے ب عث‘ نذیراں ک ڈنگ
اور بھی تیز ہو گی ۔ ص در نے دوسری سے تیسری ب ر پ نی م نگ لی ‘
تو کہتی مجھ سے یہ سی پ نہیں ہوت ۔ یہ ں تک کہہ دیتی :مرت ہے نہ
ج ن چھوڑت ہے۔ ج بولتی‘ قی مت ہی توڑ دیتی۔ ص در ک چہرا
دیکھتے ہی‘ ج نے اسے کی ہو ج ت ‘ بلاوجہ اور بغیر کسی ب ت کے
لڑن شروع دیتی۔ حرامدہ‘ کنجر‘ سکھ‘ ک فر‘ بےبنی دا وغیرہ ایسے
ک م ت‘ کہہ ج تی۔ ص در ننھی سی ج ن کو دیکھ کر‘ برداشت کر ج ت ۔
بھ ئی کے اس ن ہنج ر تح ے پر‘ سسک کر رہ ج ت ۔ اس نے نذیراں کے
س منے ہ تھ جوڑے‘ پ ؤں پڑا‘ اپنے سر پر جوتے م رے اور کہ ‘ اگر
میں برا ہوں تو ت ہی اچھی بن کر دکھ دو‘ مگر کہ ں۔ ص در ک اصل
قصور‘ شریف اور پڑھ لکھ ہون تھ ۔ اگر کبھی بیم ر پڑ ج ت ‘ خدمت تو
دور کی ب ت‘ کہتی‘ ج ؤ یہ ں سے میرے سر نہ چڑھن ۔
بے پوچھے‘ گھر سے چ ے ج ن اور دیرتک ب ہر رہن ‘ س سے زی دہ
تک یف دہ حرکت تھی۔ گھر لوٹنے کے پ د‘ ص در کے کچھ پوچھنے
سے پہ ے ہی‘ بکواس کرن شروع کر دیتی۔ مت م ر کر رکھ دیتی۔ ایک
ب ر‘ ص در نے اپنے سسر کو بلای اور اس کے پ ؤں کو ہ تھ لگ کر
کہ ‘ خدا کے لیے اس کو س تھ لے ج ؤ اور اس کو سمجھ ؤ۔ تین چ ر
دن ب د‘ ڈنگ مزید تیز کرکے واپس آ گئی۔ آخر وہ ام مسجد تھ ‘ ت رقہ
نہیں ڈالے گ ‘ تو کھ ئے گ کہ ں سے۔ ص در ابھی تک پ گل نہیں ہوا
تھ ۔ مرا بھی نہ تھ ۔ پہ ڑ حوص ے ک م لک ہو کر بھی‘ ع رضہءق ک
شک ر ہو گی ۔
عزازئیل اپنے سے برتر سے منحرف ہوا‘ کیوں کہ اس کے ظرف کی
وس ت ہی اتنی تھی۔ م فی کی طرف نہ آی ‘ ب کہ من ی رستوں پر چل
پڑا۔ آد کو برتر تس ی کرن ‘ اس کے حوص ے سے ب ہر تھ ۔ وہ اللہ کے
ظرف سے آگے کیسے نکل سکت تھ ۔ مخ و اور خ ل کے ظرف ک
انتر‘ اس سے ب خوبی ہو سکت ہے۔
نمرود اپنے وجود سے ب ہر ہوا‘ خدا تو بہت آگے ک م م ہ ہے‘ وہ تو
حضرت ابراہی ع یہ السلا کی برتری تس ی کرنے کے لیے‘ تی ر نہ
تھ ۔ کسی کو‘ خود سے برتر تس ی کرنے کے لیے بھی‘ حوص ہ درک ر
ہوت ہے‘ کہ ں سے لات اور پھر اپنی ہی کرنی میں پکڑا گی ۔ چ ر سو
س ل‘ چھتر افش نی برداشت کرت رہ ۔ عبرت پکڑ کر‘ توبہ کے دروازے
پر نہ آی ۔
یہ ہی م م ہ‘ فرعون کے س تھ درپیش تھ ۔ تھوڑ ظرفی‘ تکبر اور
غصہ نے‘ اس کے حواس م طل کردیے تھے۔ ت ہی تو‘ دری میں
گھوڑے ڈال دیے۔ حواس ب قی ہوتے‘ تو یہ غ طی نہ کرت ۔
ق رون کے پ س وافر لقمے تھے۔ ان میں سے چند ایک لقمے دے
دینے سے کچھ فر نہیں پڑن تھ ۔ اتن حوص ہ لات کہ ں سے‘ تھ ہی
نہیں۔ اللہ تو م ننے اور نہ م ننے والوں کو بھی دیت ہے۔ مقررہ سے‘
ایک س نس بھی‘ منہ نہیں کرت ۔
کوئی کتن بھی حوص ے والا کیوں نہ ہو‘ دکھ کے میدان میں‘ قد چھوڑ
دیت ہے۔ مخ و ک حوص ہ‘ بموج ظرف حدود میں رہت ہے۔ حوص ہ
ج مجوزہ حدود سے ب ہر قد رکھت ہے‘ تو کٹ ی دیمک زدہ برگد بھی
زمین بوس ہو ج ت ہے۔ انس ن اور خدا میں‘ یہ ہی فر ہے‘ کہ وہ ہر
ح لت اور ہر صورت میں‘ ق ئ بذات رہت ہے۔ س ری مخ و اس کی
تخ ی ہے‘ اور ایسی ان حد مخ وق ت بیک جنبش‘ تخ ی کرنے پر ق در
ہے۔ ایس ان حد مرتبہ کرئے‘ تو بھی کچھ اس کے ظرف سے ب ہر نہ
ہو گ ۔ مخ و اور خدا کی ذات گرامی میں‘ یہ ہی بنی دی فر ہے۔ کوئی
کتن بھی بڑا ہو ج ئے‘ ان حد حوص ے اور ظرف ک م لک نہیں ہو پ ت ۔
من ی کے ردعمل میں‘ کچھ بھی ہو سکت ہے‘ ی کر سکت ہے۔ مجبوری
اور بےسی کی ح لت میں‘ اسی کی طرف پھرت ہے۔ متکبر لوگوں کو‘
اپنی کھ ل میں رہن چ ہیے‘ ورنہ ان کی اپنی ہی بدحوسی کی لاٹھی‘
انہیں برب د کرکے رکھ دیتی ہے۔ لوگ اسے قسمت کے کھیل ک ن
دیتے ہیں‘ ح لاں کہ یہ قسمت ک کھیل نہیں ہوت ‘ وہ تو اپنے کیے ک
پھل‘ اپنے ہی ہ تھوں سے پ رہے ہوتے ہیں۔
یہ کہ نی ک ر خدا بخش‘ جو کسی زم نے میں‘ ڈیرے کی ج ن ہوا کرت
تھ ‘ کی آخری کہ نی تھی۔ اس کے ب د اسے‘ چودھری کے ڈیرے پر آن
نصی نہ ہوا۔ ص در کی کہ نی تک‘ س کچھ گوارہ تھ ‘ اس کے ب د کی
کتھ میں‘ اگرچہ چودھری ص ح ک ذکر تک نہ تھ ‘ لیکن یہ س کچھ
اس نے‘ چودھری ص ح کی طرف منہ کرکے کہ تھ ۔ اس کی آنکھوں
سے‘ ن رت اور بغ وت کی زہری ی ش عیں نکل رہیں تھیں۔
چوگے کی چنت
اس روز‘ مین چپ ہی نہیں‘ اداس بھی تھی اور یہ‘ م مول سے ب ہر کی
چیز تھی۔ میں نے دو تین ب ر‘ اسے متوجہ بھی کی ‘ لیکن وہ اپنی
کی یت سے‘ ب ہر نہ آئی۔ ب میں‘ میرے ہ جنس‘ اٹھکی یوں میں
مشغول تھے۔ اس کے س تھ‘ مجھے شروع سے‘ ن دانستہ انسیت سی
تھی۔ اس ک دکھ‘ مجھے اپن دکھ محسوس ہوت تھ ۔ ج وہ دکھی ہوتی‘
میں بھی دکھی ہو ج ت ۔ ج وہ خوش ہوتی‘ تو میرے بھی تن بدن میں‘
خوشیوں کے جل ترانگ بجنے لگتے۔ یہ کیس رشتہ تھ ‘ میں نہیں
ج نت ۔ اس ک س وک بھی میرے س تھ کچھ برا نہ تھ ۔ خدا م و ‘ آج وہ‘
اس طرح کیوں پیش آ رہی تھی۔ ضرور کوئی بہت بڑی ب ت رہی ہو گی۔
میں اسے‘ دکھی دکھی نہیں دیکھ سکت تھ ۔ سمجھ میں نہیں پ رہ تھ ‘
کہ کس طرح‘ اس کے دل ک ح ل م و کروں۔ اس سوچ نے‘ مجھے
بےکل س کر دی ۔ میں نے م م ہ ج ننے کی ٹھ ن لی۔ چ ہے وہ ن راض
ہی کیوں نہ ہو ج ئے‘ میں س کچھ ج ن کر ہی د لوں گ ۔ اس سے
پہ ے‘ کہ میں اصرار سے ک لیت ‘ وہ خود ہی بولی‘ اندر ک لاوا‘ ش ید
وہ بھی ہض نہ کر پ رہی تھی۔
انس ن کے مت سن ہے‘ کہ اس کی آنکھیں‘ سیر نہیں ہوتیں‘ کتن ہی
کیوں نہ مل ج ئے‘ وہ مزید کے لیے‘ الٹے سیدھے حربے اختی ر کرت
ہے۔ ہ میں‘ یہ ع دتیں کیوں آ گئی ہیں۔
جس ب میں‘ ہم رے ڈیرے ہیں‘ کسی جنگل میں نہیں ہے‘ انس نی
آب دی میں ہے۔ انس ن یہ ں آت ج ت رہت ہے۔ ہ بھی خوراک کی تلاش
میں‘ آب دی میں ج تے ہیں۔ قربت کے ب عث‘ ہ نے کی اچھی بری
ع دتیں لی ہیں‘ مگر یہ س ‘ ت کیوں سوچ رہی ہو۔ کی ہوا ہے‘ کچھ پت
بھی تو چ ے۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں‘ اگر کچھ بھی نہیں‘ تو ت چپ چپ اور دکھی
سی کیوں ہو؟ ب تیں بھی تو‘ م مول سے ہٹ کر رہی ہو۔ کوئی ب ت تو
ضرور ہے۔
کہہ جو دی ‘ کہ کچھ نہیں‘ بس یوں ہی پوچھ رہی تھی۔
م مول کی زندگی میں‘ بیٹھ نہیں ج ت ۔ دیکھو‘ س رے موج مستی کر
رہے ہیں‘ اور ت اداس بیٹھی ہو اور انس نوں کے طرز پر‘ سوچے ج
رہی ہو۔
تمہیں کی ہے‘ ت بھی تو بیٹھے ہو‘ ج ؤ‘ ت بھی موج مستی کرو‘ اور
مجھے میری ح لت پر چھوڑ دو۔
میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر‘ نہیں ج سکت ۔
میں تمہ ری جنس کی نہیں ہوں‘ پھر بھی‘ میری اتنی کیوں پرواہ کر
رہے ہو۔
مجھے ت اچھی لگتی ہو۔
مگر میں تمہیں کیوں اچھی لگتی ہوں۔ ہ نے کون س ایک س تھ چ ن
ہے۔ جنس کے اعتب ر سے‘ ہ ایک س تھ چل بھی نہیں سکتے۔
تمہ را ویہ ر اور م مول ک چ ن‘ س جھ اور رکھ رکھ ؤ ک س یقہ رکھت
ہے‘ اسی لیے‘ مجھے اچھی لگتی ہو۔
کم ل ہے‘ عمومی طور پر حسن‘ ضرورت اور مط کے تحت ہی‘
قربتیں جن لیتی ہیں۔ یہ ں تو‘ ایک چیز کی بھی س نجھ موجود نہیں۔
جن چیزوں ک ‘ ت ذکر کر رہی ہو‘ وہ تو خود غرضی کی راہ پر ہوتی
ہیں۔
انس ن ج نور پ لت ہے‘ ان پر خرچ بھی کرت ہے‘ کی وہ یہ س ‘ بےلوث
کرت ہے؟
نہیں۔۔۔۔۔
ہ جنس کی ب ت مخت ف ہے‘ لیکن کسی غیر جنس سے ت ‘ بلامط
کیسے استوار ہو سکتے ہیں۔
ہ جنس مخ و کی قربت اور س نجھ‘ مط کے بغیر بےم نی سی ہے۔
مجھے ت سے‘ کوئی مط نہیں۔
ت مجھے ادھر ادھر کی ب تیں کرکے الجھ رہی ہو۔ اصل مدے پر آؤ‘ ت
دکھی اور اداس کیوں ہو؟ کوئی وجہ تو ہو گی۔
میرا س تھی‘ کبھی ایک قس کے چوگے پر‘ مطمن نہیں ہوا۔ وہ نئے
ذائقے کے لیے‘ نئے قس کے چوگے کے لیے‘ بھٹکت رہت تھ ۔ کئی
ب ر‘ وہ اپنے شو اور نئے ذائقے کے جنون میں‘ خطروں میں گھرا
لیکن قدرت اسے موقع دے رہی تھی۔ خطروں کے پیش نظر‘ اسے آگ ہ
ہو ج ن چ ہیے تھ ۔ آخر اور کتنے موقع م تے۔
کئی دن پہ ے وہ گی ‘ میں نے سوچ ‘ آ ج ئے گ ‘ لیکن ج نہ آی ‘ تو
مجھے تشویش ہوئی۔ میں اسے تلاش کرنے نک ی۔ بہت سی‘ جگہیں
دیکھیں‘ لیکن وہ نظر نہ آی ۔ ش کو تھک ہ ر کر‘ واپس آ گئی۔ اگ ی
صبح‘ میں نے پھر سے‘ تلاش شروع کر دی‘ لیکن وہ کہیں نہ ملا۔
میری تلاش ک عمل‘ کئی دن ج ری رہ ۔ میں ن ک رہی۔
مجھے دن آ گیے۔ مجبورا‘ مجھے کسی دوسرے سے‘ رابطہ کرن پڑا۔
میں نے انڈے بھی دیے‘ بچے بھی نک ے۔ اگرچہ زندگی م مول پر آ
گئی تھی‘ ت ہ اس سوچ نے‘ کبھی پیچھ نہ چھوڑا‘ کہ آخر وہ گی ‘ تو
کہ ں گی ۔ م را گی ‘ ی کسی انس ن کے ہتھے چڑھ گی ۔
آج میں‘ بچوں کے لیے چوگ لا رہی تھی‘ کہ اچ نک‘ میری نظر اس پر
پڑی۔ میں رک گئی۔ وہ ایک مداری کے لیے‘ ک کر رہ تھ ۔ مداری نے‘
اسے پنجرے سے ب ہر نک لا۔ میرا خی ل تھ ‘ کہ فورا سے پہ ے‘ اڈاری
م ر کر‘ میرے پ س لوٹ آئے گ ۔ اس نے میری طرف دیکھ بھی‘ لیکن
وہ اس کے لیے‘ ک کرت رہ ۔ آزادی‘ اس سے چند قد دور تھی۔ پھر
بھی‘ وہ پنجرے ک ب سی رہن چ ہت تھ ۔
کی غلامی اسے راس آگئی تھی‘ ی مداری اسے نئے نئے ذائقے فراہ
کرکے‘ اس کی فطرت کو‘ تسکین دے رہ تھ ۔ یہ بھی ممکن ہے‘
غلامی‘ سوچ کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ اسے کسی ن کسی سطح پر‘
اطمن ن ضرور میسر آ گی ہے‘ ورنہ وہ ک ‘ نچلا بیٹھنے والا تھ ۔
مین بولتی رہی‘ اس کی آنکھوں میں‘ س ون کی گھٹ ئیں امڈتی چ ی
گئیں۔ وہ یہ نہ سمجھ سک ‘ کہ یہ پی ر ک موس تھ ی اس کے س تھی
کے بدلے رویے کے خلاف‘ مجبور اور بےبس احتج ج تھ ۔ یہ بھی ہو
سکت ہے‘ وہ اپنی نسل کے فرد کی غلامی پر دکھی دکھی ہے۔
مین چپ ہو گئی‘ لیکن توت ‘ سوچ سمندر میں بہت چلا گی ۔ مین اپنے من
ک بوجھ ہ ک کرکے‘ اپنے نئے س تھی کے پ س‘ ج چکی تھی‘ لیکن
توت ابھی تک‘ اسی ش خ پر بیٹھ ‘ سوچوں کے گردا میں پھنس ‘ اپنی
ذات سے‘ بہت دور چلا گی تھ ۔
ج نے کتنے‘ اس کی نسل کے‘ انس ن کی غلامی میں‘ اپن م ضی کھو
چکے ہوں گے۔ وقت کی گردش میں‘ م ضی گ ہو ج ت ہے۔ بس سنی
سن ئی کہ نی ں ہی‘ دل کو خوش رکھنے کے لیے‘ رہ ج تی ہیں۔
فردوسی نے کتن اور کہ ں تک‘ سچ کہ ‘ کوئی کیوں تلاشے۔ بس اتن
ک فی ہے‘ کیوں کہ ہر اگ ے لمحے‘ پھر سے‘ اور پہ ے سے الگ تر‘
چوگے کی چنت ‘ سچ ئی کھوجنے نہیں دیتی۔ موجود ہی کو‘ سچ ئی ک
درجہ ح صل ہو ج ت ہے۔ پنجرے کے س توتے مین ‘ م ضی کے
جھوٹے سچے قصے بھول ج تے ہیں۔ انہیں صرف اور صرف وہ ہی
ی د رہت ہے‘ جو مداری ان کے ک ن میں پھونک دیت ہے۔
دو من ف
ثری کو میرا دل ایک عرصہ پہ ے‘ طلا دے چک ہے لیکن دنی چ ری
کے طور پر‘ ہ ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں۔ ہم را کھ ن پین ‘ اٹھن
بیٹھن ‘ سون ج گن ‘ غرض بہت کچھ‘ مشترک ہے۔ میں ج نت ہوں‘ ثری
بھی میری کبھی نہیں رہی۔ اس کی ہر مسکراہٹ‘ ج ی ہوتی ہے۔ وہ
مجھے زندگی بھر دھوک دیتی آئی ہے۔ وہ سمجھتی ہے‘ کہ میں
بےخبر ہوں۔ سچی ب ت یہی ہے‘ کہ ہ میں سے کوئی ایک دوسرے
سے مخ ص نہیں۔ اتن قری اور بہت س ری س نجھیں موجود ہونے کے
ب وجود‘ ہ دلی اور دم غی اعتب ر سے‘ ایک دوسرے سے‘ کوسوں میل
کے ف ص ے پر ہیں۔ وہ ہی نہیں‘ میں بھی‘ اس رشتہ کے حوالہ‘ پرلے
درجے ک بےاعتب را اور غیر مت ہوں۔ وہ میری بیوی اور میں اس
ک خ وند ہوں۔ اس ک ثبوت گھر میں چ تے پھرتے بچے ہیں۔ میں ج نت
ہوں‘ ان میں سے بڑی لٹرکی ک ثو کے سوا‘ میرا کوئی بچہ نہیں ہیں۔
ب قی چ روں کی پہچ ن ہم رے دونوں کے حوالہ سے ہے۔ بچے بھی‘
اسے سچی اور پکی پہچ ن سمجھتے ہیں۔ وہ کہہ نہیں سکتی‘ کہ ص یہ
اور اقص کے بچے میرے بچے ہیں۔ ہ پرلے درجے کے جھوٹے عی ر
اور من ف ہیں۔ ایک دوسرے کو ج نتے اور پہچ نتے ہوئے بھی‘ اس
امر کے دعوی دار ہیں‘ کہ ہ ایک دوسرے سے مخ ص‘ ہمدرد اور
وف دار ہیں۔ ہم ری جوڑی‘ مث لی رہی ہے۔ اصل حقیقیت یہ ہے‘ کہ ایک
ہی چھت کے نیچے‘ دو من ف ‘ زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں۔
اول اول میں ثری ہی کو غ ط‘ بےوف اور دغ ب ز سمجھت تھ ۔ سچ ئی
تو یہ ہے‘ کہ میں بھی ٹیڑھ رہ ہوں۔ میں نے بھی اسی ک چ ن لی ہے۔
کہیں ن کہیں‘ غ ط میں بھی ہوں۔
آج ن سہی‘ اس زم نے میں‘ میٹرک بہت بڑی ت ی تھی۔ دور دور تک
میٹرک پ س نہیں م ت تھ ۔ آج ہر مح ہ میں‘ آس نی سے‘ بی اے پ س مل
ج ت ہے۔ اپنے بچے کو پڑھ ن ‘ ہر کسی کے بس ک روگ نہ تھ ۔ لوگ
زی دہ تر‘ اپنے بچوں کو ہنر سکھ نے پر توجہ دیتے تھے۔ ان ک خی ل
تھ ‘ کہ ہنر سیکھ کر‘ ان ک بچہ ب عزت روٹی کم نے کے ق بل ہو ج ئے
گ اور بھوک نہیں مرے گ ۔
ایسے وقت میں‘ میٹرک پ س کر لین م مولی ب ت نہ تھی۔ میں بڑی
آس نی سے‘ ض ع دار ک منشی منتخ ہو گی ۔ اب خوش تھے‘ لیکن
مطمن نہ تھے۔ وہ مجھے افسر دیکھن چ ہتے تھے۔ ادھر ملاز ہوا
ادھر میرے لیے اچھی اور پڑھی لکھی بہو کی تلاش شروع ہو گئی۔
اس دور میں‘ مرضی پوچھنے ک رواج نہ تھ ۔ دوسرا میری بھی کوئی
پسند نہ تھی۔ امی اپنی بہن کی بیٹی بی ہ کر لان چ ہتی تھیں‘ لیکن اس
پر ان پڑھ ہونے ک لیبل چسپ ں تھ ۔ ک فی سوچ بچ ر اور پرکھ پڑچول
کے ب د‘ شہ ص ح کی بیٹی پسند کر لی گئی۔ وہ میٹرک جے وی
تھی اور پ س کے گ ؤں میں پڑھ نے ج ی کرتی تھی۔ س سے بڑی ب ت
یہ کہ‘ وہ ن ئ ص ح کی دختر نیک اختر تھی۔ میرے س منے اس کی
شرافت اور حسن کے شیش محل کھڑے کر دیے گیے۔ میرے اشتی
میں‘ ہر لمحہ اض فہ ہوا۔ وہ واق ی‘ خو صورت عورت تھی۔ ایک ب ت
تو سچ ث بت ہو گئی۔ کہتے تھے‘ ثری منہ میں زب ن نہیں رکھتی۔ یہ ب ت
بھی سچ نک ی۔ اس کی زب ن ہمیشہ منہ سے ب ہر رہتی۔ ب ض اوق ت‘
مح فل میں‘ اس ک منہ اور زب ن‘ متوازی س ر کرنے لگتے۔
بہت ک ‘ کسی کو کچھ کہنے ک موقع فراہ کرتی۔ رہ گئی شرافت کی
ب ت‘ وہ بھی ڈھکی چھپی نہ رہی۔ بڑے ب پ کی بیٹی تھی‘ کسی کو‘
چوں تک کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ میں اس ک می ں ہو کر بھی‘ اسے
کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھت تھ ۔ اس ک ب پ افسر تو تھ ہی‘ اوپر
سے بھولو پہ وان سے‘ کسی طرح ک نہ تھ ۔ بےتح ش کھ ت تھ ۔ پ ے
سے‘ اسے کبھی کھ ت نہیں دیکھ گی ۔ زب ن سے ک ‘ ہ تھ سے زی دہ
ک لیت تھ ۔ اس ک س را زور موچھوں پر تھ ۔ مونچھیں بڑی خوف ن ک
تھیں۔ تحقی سے م و ہوا‘ ذات کے تی ی ہیں لیکن لوگ بڑے م ک
ص ح کہہ کر پک رتے تھے۔ ان کی ت ریف میں زمین آسم ن کے قلابے
ملا دیتے۔ ب ض ایسی خوبی ں بی ن کرتے‘ جن ک خود م ک ص ح کے
فرشتوں کو بھی ع نہ ہو گ ۔ ایسے شخص کی بیٹی کی ہ ں میں ہ ں نہ
ملا کر‘ موت کو م سی کہنے کے مترادف تھ ۔
میں تنخواہ پر گزارا کرنے ک ق ئل تھ ۔ تنخواہ میں ٹھ ٹھ کی نہیں
گزاری ج سکتی۔ یقین یہ بہت بڑا جر تھ ۔ میرے ہ پ ہ کی ‘ میرے
جونیئر موجیں کر رہے تھے۔ کئی نے دیکھتے ہی دکھتے‘ عم رتیں
کھڑی کر لی تھیں۔ کپڑے نوابوں کے سے‘ زی تن کرتے۔ ان کے
بچے انگریز اور بیگم ت‘ پشتنی رائس زادی ں لگتی تھیں۔
ادھر ہم رے ہ ں‘ ان کے مق ب ہ میں‘ کمی کمینوں ک س م حول تھ ۔
ایک ب ر میرے کولیگ کے ہ ں کوئی فنکشن تھ ۔ ہمیں مدعو نہ کی گی ۔
ان کی بیوی نے برسرع کہہ دی ‘ کہ ہ شرف میں سے ہیں‘ اس لیے
ہ تھرڈ کلاس لوگوں کو بلا کر‘ فنکشن ک ستی ن س نہیں م رن چ ہتے۔
ثری روٹھ کر‘ اپنے ب پ کے گھر چ ی گئی۔ ددسرے دن‘ م ک ص ح
ہم رے ہ ں آ دھمکے اور بہہ ج بہہ ج کرا دی۔ میں حیران تھ ‘ آخر
شرافت اور ایم نداری‘ اس اسٹیج پر‘ بےم نی کیوں ہو ج تی ہے۔ اس
عزت افزائی کے ب د‘ میں نے ایم ن داری کو ط قچے میں رکھ دی ۔
لہریں بحریں ہو گئیں۔ ض ع دار ص ح بھی خوش تھے۔ ان ک حصہ
پہ ے نک لت ۔ ثری ک برادری میں ٹہوہر ٹپ ہو گی ۔ اس کے م نے والوں
میں بھی اض فہ ہوا۔ بچے آزاد م حول میں زندگی بسر کرنے لگے۔ میں
ب ہر ہی سے کھ نے لگ ۔ ک نک وانے کے لیے‘ مسکراہٹوں ک ‘ س ئل
اہتم کرنے لگے۔ بہتر ک رگزاری کی بن پر‘ آؤٹ آف ٹرن پروموشن
بھی مل گی ۔
گھر کے م ملات میں‘ ہ ایک دوسرے کے لیے‘ اجنبی سے ہو گیے۔
ایک دوسرے کی حرکتوں کو ج نتے ہوئے‘ اندھے‘ گونگے اور بہرے
سے ہو گیے۔ کسی کو انگ ی اٹھ نے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ میرا ت
مغل فیم ی سے ت تھ ‘ لیکن میں بھی م ک ص ح ہو گی ۔ بڑے م ک
ص ح کی موت ب د‘ یقین میں بڑے م ک ص ح کے لق سے م قو
ہونے والا تھ ۔ میں نے ان سے بڑھ کر شہرت کم ئی تھی۔ وہ ا ‘
صرف مونچھوں میں مجھ سے آگے تھے‘ ورنہ رز اور شخصی
آزادی‘ ہم رے ہ ں کہیں‘ زی دہ تھی۔ والد ص ح پڑھے لکھے ہو کر
بھی‘ پرانی وضع کے شخص تھے۔ انہوں نے ہمیں الگ کر دی تھ ۔ نہ
بھی کرتے تو ہ خود ع یدہ ہو ج تے۔ ان ک مک ن‘ مک ن ک ‘ مرغیوں
ک ڈرب زی دہ تھ ۔
میں نے میٹرک پ س کی تھ ۔ اتن پڑھنے اور خرچہ کرنے کے ب د بھی‘
رون دھون اور ب مشکل گزارا ہو‘ تو پڑھنے لکھنے ک ف ئدہ ہی کی ۔
دوسرا میں اکیلا تھوڑا‘ اس رستے ک راہی تھ ۔ ہر دفتر ک ‘ چھوٹے
سے چھوٹ اور بڑے سے بڑا اہل ک ر‘ اسی راہ ک راہی تھ ۔ لح ظ‘
مروت اور رواداری‘ عزت‘ شہرت اور خوش ح لی کے کھ ے دشمن
ہیں۔
مجھے ریٹ ئر ہوئے‘ آج س ت س ل ہو گیے ہیں۔ پنشن مل رہی ہے۔
ب لائی ک م ہن نہ بنک دے رہ ہے۔ کچھ ضرورت مندوں کو بھی دے
رکھ تھ ‘ وہ طے شدہ‘ من فع وقت پر دے ج تے ہیں۔ بڑے م ک ص ح
کی ج ئیداد سے‘ اچھ خ ص حصہ ملا ہے۔ میں نے‘ بس ک ثو کی
ش دی‘ اپنی مرضی اور دھو سے کی ہے۔ دوسری دونوں نے لو میرج
کر لی ہے۔ دقی نوسی کہتے ہیں‘ کہ وہ نکل کر گئی ہیں۔ مجھے کوئی
دکھ نہیں‘ وہ میری تھیں ہی ک ؟ لڑکے بھی‘ پسند کی ش دی ں کر چکے
ہیں۔ آج بھی میں ہمیشہ کی طرح آزاد ہوں۔ ثری اپنی مرضی کی گزار
رہی ہے۔
س درست سہی‘ گ مو سوچی ر ک یہ کہن ‘ گ ے میں پھ نس بن کر اٹک
ہوا ہے کہ حرا نسبی ہی نہیں‘ کسبی بھی ہوت ہے۔ حرا سے‘ بہرطور
حرامدا ہے۔ میری م ں نیک اور پرانی وضع کی عورت تھی۔ مجھے سو
فیصد یقین ہے‘ کہ میں ح لدا ہوں۔ ک ثو میری بیٹی ہے۔ کی حرا کھ
کر‘ ہ حرامدے ہو گیے ہیں۔
گ مو سوچی ر کے ان ل ظوں نے‘ میری اور سکون چھین لی ہے۔ میں
کئی ب ر‘ اپنے ضمیر کو مطمن کرنے کی کوشش کر چک ہوں۔ ک بخت‘
مطمن ہونے ک ن نہیں لے رہ ۔ گ مو سوچی ر جیسے لوگوں کو‘
مص و کی ج ت رہ ہے‘ اس کے ب وجود‘ کوئی ن کوئی‘ ہر عہد میں‘
ان کی جگہ لے ہی لیت ہے۔
گ مو سوچی ر ک کہ ‘ درست ہے‘ ی نہیں‘ یہ ب ت غور ط ہے‘ ت ہ یہ
طے ہے کہ اس گھر میں ہنستے مسکراتے دو من ف رہتے ہیں۔
21-2-1972
آخری کوشش
درندے کے قدموں کی آہٹ اور بھی قری ہو گئ تھی۔ اس نے سوچ
اگر اس کے دوڑنے کی رفت ر یہی رہی تو ج د ہی درندے کے پنجوں
میں ہو گ ۔ اس نے دوڑنے کی رفت ر اور تیز کر دی۔ پھر اس نے سوچ
کی وہ اور اس جیسے کمزور ط قتور کے آگے دوڑنے کے لیے پیدا
ہوئے ہیں؟ ج اور جہ ں کمزور کی رفت ر ک پڑ ج تی ہے ط قتور دبوچ
لیت ہے۔ اس کے ب د زندگی ک ہر لمحہ ط قتور کے رح و کر پر ہوت
ہے۔ چند لمحوں کے ذہنی سکون کے ب د ط قتور چیر پھ ڑ کر اپنی
مرضی کے حصے کھ پی کر ج ن بن ت ہے۔ لمحہ بھر کے لیے بھی وہ
یہ سوچنے کی ذحمت گوارا نہیں کرت کہ کمزور کے دودھ پیتے بچوں
ک کی ہو گ ۔ اس کے ج نے کے ب د اس سے ک ط قتور بقیہ پر بڑی
بے دردی سے ٹوٹ پڑتے ہیں اور وہ بوٹی بوٹی نوچ لیتے ہیں۔ یہ ں
تک کہ ہڈیوں پر بھی رح کھ ی نہیں ج ت ۔ کھ ی بھی کیوں ج ئے ہڈی ں
ف س ورس کی ک نیں ہیں۔ بٹنوں کے لیے ان کی ضرورت رہتی ہے۔
اس کے بھ گنے کی رفت ر میں مزید اض فہ ہو چک تھ ۔ سوچ خوف اور
بچ نک نے کی خواہش نے اس کے جس میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ ک
احس س تک نہ ہونے دی ۔ وہ ہر ح لت میں دشمن کی گرفت سے ب ہر
نکل ج ن چ ہت تھ لیکن دشمن بھی اسے بخش دینے کے موڈ میں نہ
تھ کیونکہ اس کی رفت ر میں بھی ہر اض فہ ہو گی تھ ۔
موت ک گھیرا تنگ ہو گی تھ ۔ اس کے س منے کھلا میدان دائیں دری
ب ئیں گہری کھ ئی اور پیچھے خونخوار درندہ تھ ۔ رستے کے انتخ
کے حوالہ سے یہ بڑی سخت گھڑی تھی۔ پھر وہ ب ئیں مڑ گی ۔ اس نے
جس کی س ری ط قت جمع کرکے کھ ئی تک پہنچنے کی کوشش کی۔
درندہ فقط ایک قد کے ف ص ے پر رہ گی تھ ۔ اس سے پہ ے درندے ک
پنجہ اس کی گردن پر پڑت اس نے کھ ئ میں چھلانگ لگ دی۔ درندے
کے اپنے قد اس کی گرفت میں نہ رہے۔ کوشش کے ب وجود رک نہ
سک اور وہ بھی گہری کھ ئی کی نذر ہو گی ۔
کمزور کے جس کی ہڈی ں ٹوٹ گئی تھیں اور د اکھڑ رہ تھ ۔ اس نے
سراٹھ کر دیکھ کچھ ہی دور درندہ پڑا کراہ رہ تھ ۔ اس کی ٹ نگیں
ٹوٹ گئی تھیں۔ بھوک درد کے زنداں میں مقید ہو گئی تھی۔ کمزور کے
چہرے پر آخری مسکراہٹ صبح ک ز کے ست رے کی طرح ابھری۔ اس
کی آخری کوشش رنگ لا چکی تھی۔ اسے اپنی موت ک رائی بھر دکھ
نہ تھ ۔ اس نے خود یہ رستہ منتخ کی تھ ۔ ا یہ درندہ کبھی کسی
کمزور ک وحشی نہ ت ق نہ کر سکے گ اور اس کی ٹ نگوں سے
ہمیشہ اف اف اف کے بزدل ن رے ب ند ہوتے رہیں گے۔
اسے م و نہ تھ
ایک شخص درخت کے نیچے منہ کھولے گہری نیند سو رہ تھ کہ
ایک سپولیہ اس کی ج ن بڑھ ۔ دریں اثن ایک گھڑ سوار وہ ں آ پہنچ ۔
وہ پھرتی سے گھوڑے سے نیچے اترا۔ اس کے نیچے اترتے اترتے
سپولیہ سوئے ہوئے شخص کے منہ میں گھس گی ۔
وہ بڑا پریش ن ہوا۔ اچ نک اسے کچھ سوجھ اور اس نے سوئے ہوئے
شخص کو زور زور سے چھ نٹے م رن شروع کر دیے۔ سوی ہوا
شخص گھبرا کر ج گ اٹھ اور اس نے گھڑسوار سے چھ نٹے م رنے
کی وجہ پوچھی‘ اس نے کہ وجہ چھوڑو اور تیز رفت ری سے بھ گو
ورنہ اور زور سے م روں گ ۔
اس شخص نے بھ گن شروع کر دی ۔ ج رکنے لگت تو وہ چھ نٹے
م رن شروع کر دیت ۔ رستے میں ایک ندی آ گئی۔ گھڑسوار نے کہ پ نی
پیو۔ اس نے پی ۔ اس نے چھ نٹ م رتے ہوئے کہ اور پیو۔ اس نے اور
پی اور کہ ا مزید نہیں پی سکت ۔ اچھ نہیں پی سکتے تو بھ گو۔
وہ بھ گت ج رہ تھ اور س تھ میں وجہ بھی پوچھے ج ت ۔ گھڑسوار
وجہ نہیں بت رہ تھ ہ ں البتہ بھ گنے کے لیے کہے ج ت تھ ۔
تھوڑا آگے گئے تو ایک سیبوں ک ب آ گی ۔ گھڑ سوار نے کہ نیچے
گرے ہوئے سی کھ ؤ۔ اس نے کھ ئے اور کہ مزید نہیں کھ سکت ۔
گھڑسوار نے زوردار چھ نٹ م رتے ہوئے کہ ‘ میں کہت ہوں اور کھ ؤ۔
اس نے کھ ن شروع کر دی ۔ پھر کہنے لگ اور نہیں کھ سکت مجھے
قے آ رہی ہے۔ ہ ں ہ ں کھ تے ج ؤ ج تک قے نہیں آ ج تی تمہیں سی
کھ تے رہن ہوگ ۔
وہ سی کھ ت رہ کہ اسے زوردار قے آ گئی۔ قے کے س تھ ہی سپولیہ
بھی ب ہر آ گی ۔ ت اس پر اصل م جرا کھلا۔ وہ گھڑسوار ک شکرگزار
ہوا اور اس نے م فی م نگی کہ وہ بھ گتے پ نی پیتے اور سی کھ تے
ہوئے جی ہی جی میں اسے گ لی ں اور بددع ئیں دے رہ تھ اور اس
مصبیت سے چھٹک رے کے لیے دع ئیں کر رہ تھ ۔
تمہ ری بددع ئیں مٹی ہوئیں ہ ں البتہ دع ئیں ک رگر ث بت ہوئیں۔۔
اسے قط ً م و نہ تھ کہ اس ظ ہری برائی میں خیر چھپی ہوئی ہے۔
گھڑسوار مسکرای اور اپنی منزل کو چل دی ۔
کردہ ک انتق
اس ک اصل ن ممت ز تھ ‘ ممو کپتی سسرالی نہیں‘ اس کے میکے ک
دی ہوا ن تھ ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اطراف میں‘ اسی ن سے م روف
تھی۔ یہ ن اص ی س ہو گی تھ ۔ اصل ن محض ک غذوں کی زینت ہو کر
رہ گی تھ ۔ یہ تو م و نہیں کہ یہ ن کس نے دی ‘ لیکن ایس چلا کہ
س اس کے اصل ن کو ہی بھول گیے۔ جس کے پیچھے پڑ ج تی‘
اسے ج ن چھڑانی مشکل ہو ج تی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی کوئی ہ ں
کی نہ کرت ‘ بل کہ ج ن چھڑنے میں ہی ع فیت سمجھت ۔ س س نندیں تو
ایک طرف‘ چودھری ب ع ی ک علاقے میں وجکرہ اور بڑا ٹوہر ٹپ
تھ ‘ وہ بھی ممو سے کنی کترات تھ ۔ ن دانی کے پی ر کی سزا بھگت رہ
تھ ۔ جو بھی سہی‘ اسے ممو کے پی ر اور کردار پر پورا پورا بھروسہ
:تھ ۔ اس ک کہن تھ
ممو میری بیوی ہے‘میں اسے ج نت ہوں‘ وہ زب ن کی ت خ اور کوتھری
ضرور ہے‘ لیکن دل کی بری نہیں۔
زم نہ بھی کتن من ف ہے‘ منہ پر سچ کہنے سے کترات ہے۔ بہنیں ممو
کی اص یت سے آگ ہ تھیں لیکن وہ بھی چپ کے روزے میں رہتیں۔ کی
کرتیں‘ وہ ج نتی تھیں کہ ان ک بھ ئی‘ بیوی کی ہی م نے گ اور وہ منہ
کی سلا دع سے بھی ج ئیں گی۔ اپنوں کی یہ ح لت تھی تو کسی غیر
کو کی پڑی کہ آ بیل مجھے م ر کی راہ لیت ۔ اس کی بیوی ہے‘ وہ
ج نے اور اس ک ک ج نے۔
چودھری ب ع ی‘ بنی دی طور پر شریف آدمی تھ ۔ گھر میں س دہ لب س
پہنت ‘ ج پرے پنچ یت میں آت تو پورے بن ٹھن کے س تھ آت ۔ سچی
ب ت تو یہ ہے کہ ب ت اور قول ک بڑا پک اور سچ تھ ۔ جو کہت ی وعدہ
کرت ‘ ہر ح ل میں پورا کرت ۔ ایک طرف پوری دنی ‘ یہ ں تک کہ ممو
بھی ہوتی‘ چودھری اپنی ب ت سے رائی بھر بھی ادھر ادھر نہ ہوت ،یہ
ہی وجہ تھی کہ لوگ‘ دل سے اسے اپن چودھری تس ی کرتے تھے۔
زندگی کے ہر م م ے میں‘ اس ک اعتب ر کرتے اور اس ک س تھ دیتے۔
دکھ سکھ میں‘ اس کے س تھ کھڑے ہوتے۔ بہنیں اسے رن مرید
سمجھتی تھیں ح لاں کہ اصولوں پر سمجھوت کرت ہی ن تھ ۔ جو کرت
راہ خدا کرت ۔
بھ وں کے س تھ آزم ئش ہمیشہ کھڑی رہتی ہے۔ ممو ہر م م ے میں
فٹ ف ٹ تھی۔ گوشت کی دو دو پ یٹں ڈک ر ج تی۔ تیز تیز چ تی‘ فٹ فٹ
بولتی بل کہ چلاتی‘ مج ل ہے‘ جو کبھی د آی ہو۔ دیکھنے میں چنگی
بھ ی تھی۔ عجی ب ت ہے‘ دسمبر کی سردیوں میں بھی‘ اسے سخت
گرمی لگتی تھی۔ چودھری نے کوئی حکی ‘ ڈاکٹر‘ پیر فقیر نہ چھوڑا‘
لیکن کہیں سے فیض نہ ملا۔ ا تو وہ م یوس س ہو گی تھ ۔
پرائمری سکول کے س تھ ہی‘ ایک یک کمرہ مسجد تھی۔ مسجد کے
پچھواڑے میں‘ ایک شخص پڑا رہت تھ ۔ لوگ اس کی ج ن کوئی دھی ن
نہیں دیتے تھے۔ پت نہیں صبح و ش ‘ اسے روٹی کون دے ج ت تھ ۔
ایک کت اس کے پ س آت رہت تھ ۔ کچھ دیر بیٹھت اور چلا ج ت ۔ ب د میں
م و ہوا کہ وہ کت ‘ اس کے لیے روٹی لات ہے۔ کتے کے منہ کی
روٹی کھ ت ۔ لوگوں کی ن رت کے لیے یہ انکش ف ک فی تھ ۔ لوگ ش ید
اسے گ ؤں سے نک ل ہی دیتے‘ لیکن چودھری نے ایس کرنے سے
سختی سے منع کر دی تھ ۔ لوگوں نے اسے کبھی بولتے ی کسی سے
ب ت کرتے نہیں دیکھ تھ ۔ ج کبھی موڈ میں ہوت تو کہت
واہ م لک توں توں ای ایں ی نی واہ م لک ت ت ہی ہو
ایک دن چ روں طرف سے م یوس چودھری‘ اس کے پ س چلا گی ۔
چودھری حیران ہوا کہ لوگ کہتے ہیں‘ اس سے بدبو آتی ہے۔ اسے
بدبو کی بج ئے‘ اس سے ایسی خوش بو آئی کہ اس کے تن بدن میں
عجی طرح کی ت زگی اور سرش ری گردش کرنے لگی۔ وہ س کچھ
بھول گی ۔ دیر تک یوں ہی اس کے پ س بیٹھ رہ ۔ دونوں طرف گہری
خ موشی ک ع ل ط ری رہ ۔ پھر اس نے اش رے سے اٹھ ج نے کو کہ
اور وہ اٹھ کر چلا گی ۔ وہ اپن تجربہ اوروں سے بھی شیئر کرن چ ہت
تھ ‘ لیکن اس نے سوچ ایک فقیر ک بھید ہے‘ جسے کھولنے ک اسے
کوئی ح نہیں۔
پھر وہ وہ ں آنے ج نے لگ اور خوش بو سے حظ لینے لگ ۔ کئی دن یہ
س س ہ چ ت رہ ۔ وہ ں ج کر‘ وہ س کچھ بھول ج ت ۔ اسے ان ج ن س
آنند م ت ۔ ایک دن‘ تھوڑی دیر ہی بیٹھ ہو گ ‘ کہ وہ بندہءخدا بولا :رز
حرا ‘ بد نیتی‘ م لک سے غداری‘ ن شکری اور تکبر سے بھرے جس
میں زمین پر ہی جہن رکھ دی ج تی ہے۔ یہ مس ہ ممو ک ہی نہیں‘ س
ک ہے۔“ اس کے ب د اس نے چودھری کو وہ ں سے اٹھ دی اور ایک
لمحہ بھی مزید بیٹھنے کی اج زت نہ دی۔
وہ س رے رستے غور کرت رہ ‘ اس درویش ک کہ غ ط نہ تھ ۔
چودھری کی بڑے بڑے چودھریوں سے ملاق ت رہتی تھی۔ دو منٹ کے
لیے یہ چودھری‘ اے سی والے کمرے سے ب ہر آ ج تے تو ان کی ج ن
لبوں پر آ ج تی۔ وہ س رے پرلے درجے کے حرا خور‘ بد نیت‘
ن شکرے اور متکبر تھے۔
اصل گھتی تو ممو کی تھی۔ چودھری حرا رز کھ ن تو دور کی ب ت‘
اس پر تھوکن بھی پسند نہیں کرت تھ ۔ اسی طرح ب قی چ روں ب تیں
بھی‘ حیرت سے خ لی نہ تھیں۔ اسے یقین تھ کہ وہ درویش غ ط بھی
نہیں کہہ سکت ۔ کہیں ن کہ ًیں گڑبڑ ضرور ہے۔ پھر اس نے حقیقت
کھوجنے ک ارادہ کر لی ۔ اسے دکھ ہو رہ تھ کہ وہ ممو پر اندھ اعتم د
کرت رہ ۔ وہ اس کے اعتم د کو بڑی بیدردی سے پ ئم ل کرتی رہی۔
غصہ کی آن تھ ‘ دکھ ک ہم لہ اس پر آن گرا تھ ۔
اس نے پوری دی نت کے س تھ‘ پ نچوں امور کی تہہ تک ج نے کی
کوشش کی۔ وہ نہیں چ ہت تھ کہ اس سے غصہ کے ع ل میں کچھ غ ط
س ط ہو ج ئے۔
ممو متکبر تو شروع ہی سے تھی۔ اسے اپنے خو صورت ہونے ک
احس س‘ کچھ زی دہ ہی تھ ۔ خیر ا تو وہ چودھرین تھی‘ گوی
ایک کریلا اوپر سے نی چڑھ ۔
کھوج کی تکمیل کے ب د‘ اسے مزید دکھی ہون پڑا‘ جسے وہ سیت و
مری کی طرح پوتر سجھ رہ تھ ‘ وہ گندگی کے ڈھیر سے زی دہ نہ
تھی۔ ا اسے سجھ آی ‘ کہ وہ اپنے کپتےپن سے‘ اپنے کرتوتوں پر
پردے ڈالن چ ہتی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس کے اس کپتےپن سے ڈر
کر‘ منہ پر چپ کے ت لے ڈالے رکھیں۔ وہ اپنے اس ہنر کی بدولت‘ س
کچھ کرکے بھی‘ عمو و خصوص میں بی حجن بنی ہوئی تھی۔
چور کو پکڑ کر بھی‘ چودھری اسے چور نہیں کہہ سکت تھ ۔ بچے اس
کے پ ؤں کی زنجیر بنے ہوئے تھے۔ عین ممکن ہے‘ ان میں سے
کوئی بچہ بھی اس ک نہ ہو۔ اس نے انہیں بڑے لاڈ پی ر سے پ لا تھ ‘
ا وہ انہیں چھوڑ بھی نہیں سکت تھ ۔ اسے ان سے بڑا پی ر تھ ۔ اس
نے بڑا سوچ کہ کوئی حل ڈھونڈ نک لے‘ لیکن س رے رستے جیسے
بند ہو گئے تھے۔
ج سوچ سوچ کر تھک گی اور کوئی حل تلاش نہ سک تو اس درویش
کی ج ن چل دی ۔ اسے یقین تھ ‘ کوئی ن کوئی رستہ نکل ہی آئے گ ۔
ج وہ ں پہنچ تو دیکھ ‘ وہ ں کچھ بھی نہ تھ ۔ ک فی دیر وہ ں بیٹھ رہ
لیکن درویش لوٹ کر نہ آی ۔ کت بھی دور تک دکھ ئی نہ دے رہ تھ ۔
ج نے والے لوٹ کر ک آتے ہیں۔ اگر انہیں لوٹ آن ہو تو ج ئیں ہی
کیوں۔
ا ممو کے بدن میں دہکت جہن ‘ اسے قدرت کی ج ن سے کردہ ک
انتق محسوس ہوا۔ وہ بڑ بڑای ممو کو ت مرگ اس جہن میں ج تے رہن
ہو گ ۔ قدرت اسے پی ر اور اعتم د سے سے غداری کی سزا دے رہی
ہے۔ پھر اس کے منہ سے بےاختی ر نکل گی
واہ م لک توں توں ای ایں
اس نے پگڑی کھسہ ات را اور پرے روڑی پر پھینک دی اور خود
آنکھیں بند کرکے‘ اس درویش کی جگہ پر بیٹھ گی ۔ لوگ اسے فرار ک
ن دے رہے تھے‘ لیکن اس کے دل میں یہ ب ت گھر کر گئی‘ کہ دنی
رہنے کی جگہ نہیں۔ اس ک اور دنی ک رستہ‘ ایک نہیں ہو سکت ۔
ہ ئے میں مر ج ں
جھوٹ بولن ‘ سی ست کی فطرت ک لازمہ و لوازمہ ہے۔ جھوٹ اور دو
نمبری کے بغیر‘ اقتداری کرسی پر قبضہ جم ن ممکن ہی نہیں۔ ط قت
بلا شبہ بڑی شے ہے‘ لیکن سی ست کے بغیر‘ زی دہ دیر تک اور زی دہ
دور تک نہیں چل نہیں پ تی۔ م ل و من ل بھی اپنی ذات میں‘ بہت بڑی
شے ہیں لیکن سی ست کے بغیر زیرو ہیں۔ میں نے پیسے والوں کو
اپنی زوجہ کے حضور‘ بھ بھیڑ بنے دیکھ ہے۔ مجھ سے تو خیر پ
پتنی کے س منے‘ بھ بھیڑ سے بھی ک تر ہوتے ہیں۔ ان کے برعکس
سی سی مزاج کے‘ بھوکے ننگے شوہر‘ مزے اور تقریب موج کی گزار
رہے ہیں۔ گوی سی ست دو نمبری ی دو نمبری سی ست ک مترادف ہے۔
پہ ے کچھ رواج اور تھ ‘ جو ووٹ دینے سے انک ری ہوت ‘ امیدوار اس
کے داروازے پر ب ر ب ر ج ت ۔ وعدے کرت ۔ اگر ووٹر پھر بھی نہ م نت ‘
تو اس کے قریبوں کو ب طور پنچ یت لے کر ج ت ۔ ا ایس نہیں ہے۔
م ملات پیسے سے حل کر لیے ج تے ہیں۔ لوگ بھی سمجھتے ہیں۔
اسے ہی غنیمت خی ل کرتے ہیں‘ کیوں کہ وہ ج نتے ہیں کہ اس کے
ب د‘ یہ متھے ہی ک لگے گ ۔ سی ست دار دے گ نہیں‘ لے گ س کچھ۔
ج پیسے سے ک نہ نکل رہ ہو تو ڈنڈا کس لیے ہوت ہے۔ اس
مقولے کے ش ید وہ ہی ب نی ہیں :ڈنڈا پیر اے وگڑی ں تگڑی ں دا۔ ان
لوگوں نے گولے پ لے ہوتے ہیں۔ انہیں عین موقع پر‘ شیط نی خدمت
گ ر بھی میسر آ ج تے ہیں۔
سی ست دار‘ منہ پر جھوٹ بولتے ہیں کہ ہ نے علاقہ میں یہ ک کی ‘
وہ ک کی ‘ ح لاں کہ انہوں نے‘ سرے سے کوئی ک ہی نہیں کی ہوت ۔
ب کل اسی طرح‘ عرصہ کے اڑے پھسے ک کرنے ی کروانے ک وعدہ
کرتے ہیں‘ بل کہ دعوے ب ندھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں لوگ یقین کر
رہے ہیں‘ ح لاں کہ لوگ خو خو ج نتے ہوتے ہیں کہ س محض
کہہ رہے ہیں‘ کرن ان کے ک غذوں میں ہی نہیں۔ کرنے کروانے کے
لیے‘ ان کے اپنے بہت سے ک ہوتے ہیں۔ لوگ شہری نہیں‘ ان کی
رع ی ہیں۔ رع ی کم نے کے لیے ہوتی ہے۔ انہوں نے اپن جگ اشی ء پر
ٹیکس لگ کر‘ وصول لین ہوت ہے۔
ٹیکس ب ل ص پوڈر پر بھی لگ ہوت ہے۔ ان ک موقف اپنی جگہ پر
درست ہوت ہے‘ مرد ص ئی کے لیے ب یڈ لیتے ہیں‘ کی وہ ب یڈ پر ع ئد
ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ دوسرا مرد اوپر داڑھی رکھتے ہیں اور کسی
قس کی پریش نی ک شک ر نہیں ہوتے‘ اگر ان کے دو چ ر گز ب ل نیچے
بڑھ گیے‘ تو کون سی قی مت آ ج ئے گی۔
مرد حضور کری ص ی اللہ ع یہ وس کی سنت سمجھتے ہوئے‘ داڑھی
مب رک رکھتے ہیں۔ خواتین اسے سی ست داروں ک لطف و احس ن
سمجھیں۔ گھر میں آٹے کے لیے پیسے نہیں‘ یہ ٹیکس آلودہ کریمیں ی
پھر ب ل ص پوڈر پر‘ پیسے برب د کرتی ہیں۔ بچے کی فیس ضروری
ہے ی زیر ن ف ص ئی ضروری ہے۔۔ سی ست دار اپنی رع ی کو فضول
خرچیوں سے بچ ن چ ہت ہے۔ ان کے پ ے ہی کچھ نہ چھوڑو۔ نہ ف لتو
ی بہ قدر ضرورت پیسے ہوں گے‘ نہ فضول خرچی کریں گے۔ گوی نہ
رہے گ ب نس نہ ب جے گی ب نسری۔
یہ ہی ح ل مذہبی لوگوں ک ہے۔ خیر اس میں ان ک قصور نہیں‘ جس
طرح سے پڑھ ہوت ہے‘ اسی طرح سے پڑھ تے ہیں۔ ان کے ہ ں
م م ہ‘ ب ت کے غ ط اور صحیح ہونے ک نہیں۔ اکثر کہتے سن ہو گ ‘
اس ب ت کو چھوڑیے‘ کیوں کہ یہ فلاں فرقے کی کت بوں میں ہے۔
دوسرا اڑ ج ن ‘ ان کی فطرت ث نیہ ہے۔ کہہ دی کہ ہ تھی انڈا دیت ہے‘ تو
طے پ گی ہ تھی انڈا دیت ہے۔ اس مس ے کے بیچ شک کرنے والا ک فر
ہے۔ مولوی نم عب س ہوا کرتے تھے۔ ایک دیہ تی مسجد کے ام
مسجد تھے۔ غ لب نہیں‘ سچ مچ انہوں نے چھے چھوٹی سورتیں ی د کر
رکھی تھیں۔ ان ہی سے‘ س ری عمر ک چلای ۔ ج پ نچ وقت کی مشقت
سے تھک ج تے تو بیٹی کے ہ ں آرا کی غرض سے چ ے ج تے اور
پ نچ وقت کی نم ز پڑھنے اور پڑھ نے سے چھٹک رہ پ لیتے۔
مس ے مس ئل بھی کرتے۔ ان کی روای ت‘ سنی سن ئی اور گھڑی گھڑائی
پر استوار ہوا کرتی تھیں۔ اگر کوئی نہ کرت ‘ تو موقع پر ک فر قرار پ ت ۔
چپ میں بھی سکھ نہ تھ ۔ ہ ں میں ہ ں ملان پڑتی تھی۔ یہ ہی نہیں‘
سبح ن اللہ کہن بھی ضروری تھ ۔ تقریب ہر مذہبی مین‘ عد وجود کو
وجود دے کر‘ ایم ن لانے پر اصرار کرت ہے۔ نہ تس ی کرنے والے کے
لیے‘ ک ر ک فتوی کھیسے میں رکھت ۔ ضروری نہیں‘ کہ وہ خود بھی
ع مل ہو۔ سی ست دان بھی گ کی بدولت اپن سکہ جم تے ہیں۔ مذہبی
مین بھی اس سی سی اصطلاح گ پر اپنے کہے کی بس ط اٹھ تے ہیں۔
زکراں بی بی کے اقوال زریں کی بس ط بھی‘ ان ہی دو سی سی اصول و
امور پر استوار ہے۔ میں روز اؤل سے اس کے منہ سے سنت آ رہ
ہوں :ہ ئے میں مر گئی۔ گہرے غور و فکر کی ضرورت ہی نہ پڑی‘
س منے نظر آ رہی ہوتی‘ کہ زندہ ہے۔ اللہ م فی‘ منہ پر اتن بڑا جھوٹ۔
اسے دیدہ دلیری اور سینہ زوری کہتے ہیں۔ زندہ ہے‘ اور کہہ رہی
ہے‘ ہ ئے میں مر گئی۔
یہ بھی کہتی آ رہی ہے :ہ ئے میں مر ج ں۔۔۔۔۔۔ میں کئی دن انتظ ر کرت
کہ ا مری‘ ا مری‘ مگر کہ ں۔ آدمی کو زب ن ک اتن بھی کچ نہیں
ہون چ ہیے‘ اپنے کہے پر ہر ح ل میں پورا اترن چ ہیے۔ کچھ ہی دن
ہوئے‘ حس س ب اپن یہ سی سی بی ن داغ :ہ ئے میں مر گئی۔ میرے
منہ سے بےاختی ر نکل گی :میری اتنی کہ ں چڑھی۔ پھر کی ہوا‘ مت
پوچھیے‘ پ یز خود ہی سمجھ ج ئیے اور اس کے حضور میری بخشش
اور توبہ کے لیے دل سے دع کیجیے۔
ن ذ سلا
)مقصود حسنی ,قصور(
ضروری نہیں آدمی جیس سوچے حقیقت میں بھی ویس ہی ہو ج ئے ی
جو جیس دکھت ہو اپنی اصل میں بھی ویس ہی ہو۔ کوبرا دکھنے میں
بڑا خو صورت رینگنے والا کیڑا ہے لیکن اس ک ڈس پ نی نہیں
م نگ پ ت ۔ شہید کی مکھیوں کی آواز دور سے بھ ی لگتی ہے لیکن
جس کے پیچھے پڑتی ہیں اس ک بوتھ ہی نہیں پنڈا بھی سوجھ کر
رکھ دیتی ہیں۔ پیجو نے ی سین کی چکنی چوپڑی ب توں میں آ کر خ وند
کو ذلیل و خوار کی پھر اپنی دو چھوٹی چھوٹی بچیوں کو نظر انداز
کرکے اس سے طلا لے لی۔ موج مستی کے ش ئ زب نی کلامی کے
خو م ہر ہوتے ہیں لیکن عم ی طور پر من ی ص ر بھی نہیں ہوتے۔
پہ ے ی سین کے ب د کئی ی سین آئے پیجو کی زب نی کلامی کی دنی آب د
کرکے اپنی اپنی دنی میں لوٹ گئے۔
مثل مشہور ہے جیسی کوکو ویسے بچے‘ پیجو کی دونوں بیٹی ں م ں
کے قدموں پر تھیں۔ اینی کی ہمیشہ گرفت مضوط رہی۔ اس نے فص ی
بٹیروں کو اش روں پر خو نچ ی اور انہیں موج مستی کی تپتی دھوپ
میں اکیلا چھوڑ کر چ تی بنی۔ اؤل فول بکتے رہیں اس سے کی فر
پڑت ہے۔ آخر ک تک می ں جولاہی ص ح اس م م ہ میں اس کے بھی
پیو نک ے اور پھر اسے اپنی دنی میں لے گئے۔ پیجو کے لیے یہ کوئی
خ ص اور صدمہ خیز ب ت نہ تھی۔ اینی کی اس کی دنی میں قد پڑن تھ
کہ وہ ہزارپتی سے لکھ پتی اور کروڑوں پتی ہوا۔ دولت کی آئی اینی ک
نٹک آسم ن ج لگ ۔ لوگ کی جن بھومی بھی اسے پہ ے می ی می ی پھر
گندی غ یظ لگنے لگی۔ پھر وہ اپنی دانست کی ص ف ستھری
دھرتی پر ج بسی۔
پیجو پہ ے ہی تکبر اور نخوت میں شیط ن کی ن نی تھی۔ منہ متھے ہی
نہیں لگتی تھی بل کہ اردگرد کی کم ئی بھی بہت تھی۔ ہ ں البتہ یہ کم ئی
ان حد نہ تھی۔ اینی کی ٹیک نے اسے پہ ے سے زی دہ ب حوص ہ
خداوندی سے سرفراز کی ۔ اس نے اپنے دور میں کچے پکے سے لوگ
دائرہءاسلا میں داخل کیے تھے اس لیے اینی نے انہیں دائرہءسلا
سے نک ل ب ہر کی ۔ یہ لوگ میں کی بھی حس رکھتے تھے۔ کچھ زی دہ
تگ و دو نہ کرن پڑی۔ انو اور بوچھو نے اس کے سلا میں مکمل
طور پر داخل ہو گئے۔ پھر کی تھ ‘ دنوں میں رنگے گئے اور لاکھوں
کی گنتی ان پر بھی اترنے لگی۔
انو اور بوچھو پر اینی نم پیجو کے سلا نے گہرے اثرات مرت کیے۔
انہیں بھی اردگرد کے لوگ غیر مہذ م و ہونے لگے۔ ان کے دلوں
میں یہ خواہش شدت اختی ر کرنے لگی کہ کنبہ کے س لوگ ن صرف
ان کے قد لیں بل کہ ان کی خدا کو جھک کر سلا کریں اور انہیں اپنی
وف داری ک یقین دلائیں۔ رجو اور نجو شدت سے ان کے مخ لف ٹھہرے۔
بےبی کو بٹوں میں خ رج کر دی کہ حصہ داری ک دعوی نہ کر دے ی
سلا میں کہیں آگے نہ نکل ج ئے۔
پیجوی سلا سے مت ثرہ صودی ب بے ش ہ کے پ س گی ۔ ب ب ص ح
سوکھی روٹی پ نی میں بھگو بھگو کر کھ رہے تھے۔ س تھ میں کوئی
کت پڑھ رہے تھے۔ وہ حیران ہوا اور سوچ میں پڑ گی کہ ب ب ص ح
تو سوکھی روٹی کے ذائقے سے بھی ب لاتر ہو گئے تھے۔ انہوں نے
صودی کی طرف دیکھ مسکرائے اور کھ نے میں شم ولیت کی دعوت
دی۔ وہ بھوک سے تھ لیکن اینٹ پر پڑی پون روٹی میں سے کی لیت ۔
ج اس نے نہ لی تو ب ب ص ح نے خود ہی آدھی روٹی اسے تھم
دی۔ وہ بھی ب ب ص ح کی پیروی میں پ نی میں بھگو بھگو کر روٹی
کھ نے لگ ۔ وہ روٹی دیکھنے میں ع روٹیوں کی طرح کی تھی لیکن
اس ک ذائقہ قن عت و صبر کی لذت سے م لا م ل تھ ۔ ایسے لقمے آج
تک اس کے ح سے نیچے نہ اترے تھے۔
کھ نے سے فراغت کے ب د ب ب ص ح نے فرم ی بیٹ نمرود‘ فرعون‘
یزید اور مقتدر لذت کے لوگ تھے۔ ی د رکھو لذت ہمیشہ کی چیز نہیں۔
عبرت ن ک موت اس ک مقدر ہے۔ ی د رکھو کہ صبر برداشت شکر اور
قن عت کے لیے موت نہیں۔ یہ ہی زندگی ہیں۔ ان سے پیوست شخص
مرت نہیں اور ن ہی یہ موت و م ت کی گرفت کی چیزیں ہیں۔ ب بے ش ہ
کے ل ظوں میں د تھ اور ل ظوں نے صودی کو ان تھک شکتی دان
کی۔ وہ ب بے ش ہ کے پ س آی تھ زندگی کی سرحدوں سے ب ہر نکل
-چک تھ لیکن ا وہ زندگی کی ب ہوں میں تھ
ایسے لوگ کہ ں ہیں
یہ دنی سرائے کی م نند ہے‘ کوئی آ رہ ہے تو کوئی ج رہ ہے۔
سرائے میں مستقل کوئی اقمت نہیں رکھت ۔ ہ ں ہر آنے والا اپن ایک
ت ثر ضرور چھوڑ ج ت ہے۔ کوئی اچھ تو کوئی برا۔ اس ت ثر کے حوالہ
سے ہی‘ اس مس فر کو ی د میں رکھ ج ت ہے۔
ب ب ص ح بھ ے آدمی تھے۔ طب مہرب ن‘ ش ی اور اپنے پرائے کے
غ گس ر تھے۔ کسی کو دکھ میں دیکھتے‘ تو تڑپ تڑپ ج تے۔ ج تک
اس کی تک یف دور کرنے ک پربند نہ کر لیتے‘ سکھ ک س نس نہ لیتے
تھے۔ اچھ ئی اور خیر کے م م ہ میں‘ دھر اور مس ک ان کے
نزدیک‘ کوئی م نویت نہ رکھت تھ ۔ ان ک موقف تھ ‘ جس طرح اللہ س
ک نگہب ن ہے‘ اسی طرح انس ن بھی س ک نگہب ن ہے۔ اس کی پیدا کی
ہوئی کوئی بھی مخ و ‘ دکھ میں ہے تو انس ن کو‘ اس ک ہر ح ل میں
دکھ دور کرن چ ہیے۔ کوئی برا کرت ہے تو یہ اس ک ک ہے‘ برائی کے
بدلے برائی کرن ‘ تمہ را ک نہیں۔ ت جو بھی کرو‘ اچھ اور اچھے کے
لیے کرو۔
ان کے پ س‘ ہر دھر سے مت لوگ آتے۔ کوئی خیر و برکت کی دع
کے لیے آت ‘ تو کوئی ع واد اور مذہ سے مت گ تگو ی
مش ورت کے لیے آت ۔ س کے س تھ یکس ں س وک روا رکھتے۔ تحمل
سے اس کی سنتے اور پھر اپن موقف پیش کرتے۔ ج تک وہ مطمن
نہ ہو ج ت ‘ رخصت نہ کرتے۔
ب ئیبل مقدس‘ روم ئن‘ بھگوت گیت ‘ گرنتھ ص ح ک ور ور انہوں
نے پڑھ رکھ تھ ۔ بدھ مت کے مت بھی اچھ خ ص ن لج رکھتے
تھے۔ پہ ے تو مت قہ کی کت اور پھر قرآن مجید کے حوالہ سے ب ت
کرتے۔ ی ر کم ل کے شخص تھے۔ کوئی نذر نی ز لے آت تو رکھ لیتے‘
ج ج نے لگت تو اس ت کید کے س تھ واپس کر دیتے‘ کہ چیزیں صرف
اپنے بیوی بچوں میں تقسی کرن ۔ اصرار کے ب وجود کچھ نہ رکھتے۔
فرم تے بیٹ ‘ ت چنت نہ کرو‘ اللہ مجھ اور میری بھوک پی س سے خو
خو واقف ہے۔
ایک ب ر ایک اجنبی آی ۔ کچھ کہے سنے بغیر ہی‘ دروازے پر کھڑے ہو
کر‘ ب ب ص ح کو برا بھلا کہنے لگ ۔ ج حد سے گزرنے لگ ‘ تو
بیٹھے لوگوں میں سے ایک اٹھ کر اس کی ٹھک ئی کرنے لگ ۔ ب ب
ص ح نے اسے منع کر دی ۔ بہت کچھ کہہ لینے کے ب د وہ چلا گی ۔
ایک بولا بیڑا غر ہو اس خ نہ خرا ک ‘ کتنی بکواس کر رہ تھ ۔ اگر
ب ب ص ح نہ روکتے‘ تو آج میں اسے اس بدتمیزی ک ایس مزا چکھ ت
کہ نس وں کو بھی منع کر ج ت ۔ ب ب ص ح اس کے اس طرز تک سے
سخت پریش ن ہوئے۔ پھر فرم نے لگے‘ بیٹ کبھی اور بھی کسی بھی
صورت میں‘ گ تگو میں ش ئستگی کو ہ تھ سے نہ ج نے دو۔ ی د رکھو‘
ایک طرف نیکیوں ک انب ر لگ ہو تو دوسری طرف ایک بددع ‘ بددع
اس پر بھ ری ہے۔ کی تمہیں حضرت یونس ع یہ السلا کی بددع ک
انج ی د نہیں۔ انہیں مچھ ی کے پیٹ میں ج ن پڑا۔ پھر فرم ی بددع کی
بج ئے ت دع بھی دے سکتے ہو کہ اللہ اسے ہدایت دے۔ ب ید نہیں وہ
وقت قبولیت ک وقت ہو۔
تھوڑی دیر کے ب د وہ شخص دوب رہ سے آ گی اور دروازے پر کھڑا
ہو کر‘ اندر آنے کی اج زت ط کرنے لگ ۔ ا کہ وہ اور اس ک انداز
بڑا مہذ اور ش ئستہ تھ ۔ س اس کے اس دوہرے روپ سے حیران
رہ گئے۔ ب ب ص ح نے اسے اندر آنے کی اج زت دے دی۔ اندر آ کر وہ
ب ب ص ح کے پ ؤں پڑنے لگ تو ب ب ص ح نے اسے سختی سے منع
کر دی اور پھر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ کی تھی‘
جنت کی ہوا ک ایک جھونک تھ ‘ جو س کو نہ ل کر گی ۔
وہ شخص کہنے لگ :سرک ر میں تو آپ کے ظرف ک امتح ن لے رہ
تھ ۔ جیس اور جو سن ویس ہی پ ی ۔ آپ سچے ولی ہیں۔
نہیں بیٹ ‘ یہ ت محبت میں کہہ رہے ہو۔ میں بےچ رہ کہ ں اور ولایت
کہ ں۔ ہ ں یہ اللہ ک احس ن اور لطف وکر ہے‘ جو اس نے توفی دی
اور میں اس امتح ن میں ک می ہوا۔
سوچت ہوں‘ ا ایسے لوگ کہ ں ہیں۔ اگر کوئی ہے‘ تو چلا کیوں ج ت
ہے۔ کی کریں‘ یہ ں کوئی ٹھہرنے کے لیے نہیں آت ۔ اچھ ہو کہ برا‘
گری ہو کہ امیر‘ ش ہ ہو کہ فقیر‘ اسے ایک روز ج ن ہی تو ہے۔ لالچ‘
ہوس اور حرص نے انس ن کو‘ انس ن نہیں رہنے دی ۔ ک ش ہمیں یقین
ہو ج ئے‘ کہ ہمیں ہر صورت میں ج ن ہی ہے اور کوئی یہ ں ہمیشہ
رہنے کے لیے نہیں آی ۔ جمع پونجی س تھ نہ ج سکے گی۔ ج تے وقت
ہ تھ خ لی ہوں گے اور اپنے قدموں پر نہیں ج سکیں گے۔
عبرت ک نش ن
اس ک ب پ مشقتی تھ ‘ اس کے ب وجود اک وت ہونے کی وجہ سے‘
اسے بڑے پی ر اور لاڈ و ن ز سے پ ل رہ تھ ۔ اچھ بھلا تھ ‘ پت نہیں
کی ہوا رات کو ہ جراں سے بچے کے ب رے ب تیں کرت ہوا سوی لیکن
صبح اٹھ نہ سک ۔ ہ جراں پر یہ ن گہ نی آفت ٹوٹ پڑی تھی۔ وہ تو سوچ
بھی نہیں سکتی تھی کہ بھری جوانی میں یہ قی مت اس ک نصیب
ٹھہرے گی۔ ابھی تو ان کے خوشیوں اور ارم نوں کے دن تھے۔ ہونی
کو ک کوئی ٹ ل سک ہے۔ یہ پوچھ کر ک آتی ہے۔ اگر پوچھ کر آتی ہو
تو اس کے خوف اور صدمے سے کوئی سڑک پر چ ت پھرت نظر نہ
آئے۔
بہن بھ ئیوں اور قریبی رشتہ داروں نے ہ جراں کو عقد ث نی ک مشورہ
دی ۔ وہ جوان تھی‘ خو صورت تھی۔ عقد ث نی اس ک شرعی ح تھ
مگر اس نے ص ف انک ر کر دی اور بیٹے کے لیے بقیہ زندگی وقف کر
دی۔ حقی سچی ب ت یہ ہی ہے‘ ص ف ستھری زندگی بسر کی۔ عیدے کی
موت سے پہ ے سی ہ جراں‘ ہ جراں نہ رہی۔ اس نے جی ج ن سے
مشقت اٹھ ئی اور بیٹے کو لاڈ لاڈائے۔ بدقسمی سے زی دہ دیر نہ چل
سکی اور اللہ کو پی ری ہو گئی۔ م مے چ چے ک پوچھتے ہیں‘ اسے
ا اکی ے ہی زندگی کی مشقتوں اور کراہتوں کو بھوگن تھ ۔
بڑے م مے نے بڑی ش قت کی اور اس ن زوں پ تے بچے کو ایک سیٹھ
کے ہ ں گ پ کی نوکری دلوا دی۔ مہینے ب د آت ‘ سیٹھ سے عوض نہ
وصولت اور چلا ج ت ۔ ج ذرا بڑا ہوا تو اسے اپنے س تھ ہونے والے
دھرو ک پت چلا تو اس نے عوض نہ خود وصولن شروع کر دی ۔ اس پر
م مے کو سخت غصہ آی ۔ اس نے چراغے سے تو تکرار بھی کی۔ پھر
س ری عمر ط نہ دیت رہ کہ میں تمہیں سیٹھ ص ح کے ہ ں ملاز نہ
کروات تو ت گ یوں ک روڑا کوڑا ہو کر رہ ج تے۔
سیٹھ صح دیکھنے میں بڑے نیک اور پرہیزگ ر تھے۔ ان کی ش وار
ٹخنوں سے اوپر رہتی۔ مونچھیں بھی ص ن ص رکھتے۔ پنج وقت نم ز
ادا کرتے۔ روزہ میں ب ق عدگی رہتی۔ حج بھی کر آئے۔ ان ک ک روب ر
خو چ ت تھ ۔ ہ ں البتہ دو نمبر م ل کو ایک نمبر بن کر بیچتے۔ سخت
بخیل واقع ہوئے تھے۔ مرتے کے منہ میں بلا مط پ نی بھی نہ ڈالتے
تھے۔ بج ی والوں سے م ے ہوئے تھے۔ ان کی پوری زندگی دو نمبری
میں گزری۔ ان کے بیٹے دو نمبری میں اپنے پ پ کے بھی ب پ نک ے۔
ان ک ہر ک دو نمبری پر انج کو پہنچت ۔ بےشم ر دولت تھی۔ دولت
کے سب سرک رے درب رے بڑی عزت رکھتے تھے۔ بڑا بیٹ چن ؤ بھی
جیت ۔
اچھے شریف اور محنتی لوگوں کی اولاد تھ لیکن یہ ں آ کر اس پر
کھلا کہ دو نمبری کے بغیر سیٹھی مل ہی نہیں سکتی۔ پھر وہ چون
لگ نے میں پ کٹ ہو گی ۔ سیٹھ کے انتہ ئی قرہبوں کے س منے سیٹھ
ص ح کے وہ وہ قصیدے کہت کہ وہ سیٹھ ص ح کے مرید ہو ج تے۔
سیٹھ ص ح کی ایم ن داری کو صف اول پر رکھت ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ
سیٹھ ص ح اسے ب اعتم د ملاز سمجھتے تھے۔ سیٹھ ص ح کے
بچوں کی ش دی کے س م ن کی خریدداری اسی نے کی اور جی بھر کر
م ل کم ی ۔ م ل کے ہوتے بوسیدگی اور ہے نہ کو ہ رک رکھت ۔
وقت کو گزرن تھ ‘ گزر گی ۔ بڑھ پ آ گی ۔ اپنے پ ؤں چ نے سے بھی
م ذور ہو گی ۔ جن بچوں کے لیے دونمبری کو اس نے ش ر بن ی تھ ‘
جھوٹے منہ سے بھی اسے نہ پوچھتے تھے۔ زندگی مذا ہو کر رہ
گئی۔ اس ت خ زندگی سے وہ سخت بےزار تھ لیکن وہ مرن نہیں چ ہت
تھ ۔ م ذور زندگی اسے گھر سے تھڑوں اور پھر فٹ پ تھ تک لے آئی۔