عزازئیل! توبہ کی طرف آؤ اور ب قی زندگی‘ توبہ ک دروازے پر بت
دو۔ اللہ س زی دہ م ف کرن والا‘ کوئی ہو ہی نہیں سکت ۔
عزازئیل! اللہ ک کہ اور کی ‘ برح اور پرعدل ہوت ہ ۔ اللہ نہ غ ط کہت
ہ اور نہہی ‘ غ ط کرت ہ ۔ اللہ ن غ ط نہیں کہ تھ ‘ کہ آد ت س
برتر ہ ۔ نمرود‘ شداد‘ فرعون‘ ق رون‘ یزید‘ مقتدر‘ اورنگ زی ت پر
تھ ‘ ت ہی تو کوراہ رہ ۔ ابرہی ‘ موسی‘ حسین‘ منصور‘ سرمد‘
سقراط اور ان س لوگوں پر‘ اپن مکروفری ک ج دو چلا کر
دکھ ت ‘ تو پت چ ت ‘ کہ ت کتن پ نی میں ہو۔ کی وہ ں تمہ ری‘ بس
بس نہیں ہو گئی تھی‘ س ری پھن خ نی نکل گئی تھی ن ں۔
عزازئیل! ان گنت ب ر ت ہ رے ہو‘ اور تمہ ری ب ب ں بولی ہ ۔ تس ی
کرو‘ کہ ت اللہ ک بندوں کو‘ م ت نہیں دے سکت ۔ م ن لواللہ ک کہ
اور کی ‘ غ ط ہو ہی نہیں سکت ۔
تمہ را بس‘ مجھ س ‘ ک زورایم ن والوں پر چ ت ہ ۔ ہر کوئی ک زور
ہی ک سر پر چڑھت ہ ۔ وہ بھول ج ت ہ ‘ کہ مخ و کی شکتی‘ گن
چن دنوں کی ہ ۔ سکندر‘ محمود‘ چرچل وغیرہ خود کو بہت بڑا
تیس م ر خ ں سمجھت تھ ‘ آج کہ ں ہیں‘ س مٹی میں مل گی ۔ آج
ک بڑے بھی ب قی نہیں رہیں گ ۔ س مٹی میں مل ج ئیں گ ۔ اپن
س تھ کچھ نہ ل ج سکیں گ ۔ اچھ برے اعم ل ہی س تھ ج ئیں گ ۔
عزازئیل! مت بھولو‘ موت ک ذائقہ ت بھی چکھو گ ۔ ت اور تمہ رے
س تھی‘ کی س تھ ل ج ؤ گ ‘ ذرا سوچو اور غور تو کرو‘ تہی دست
اور تہی دامن ہی ج ؤ گ ۔ ہ ں بداعم لی اور بدکرداری ک بدنم دا ‘
تمہ ری پیش نی پر ہو گ اور تمہ رے برا ہون کی‘ گواہی دے رہ ہوگ ۔
ج تک زندہ ہو‘ برے ن ‘ تمہ رے ن ک س تھ‘ پیوست رہیں گ ۔ ت
اور تمہ رے احب پر‘ ل نتوں کی بوچھ ڑ رہ گی۔ تمہ رے س تھی‘
بھول میں ہیں‘ ان کی ت ریف صرف ان ک منہ پر ہوتی ہ ۔ وہ اپن
چمچوں کی ت ریف سن کر‘ خود کو ص ف ستھرا سمجھت ہیں۔ وہ نہیں
ج نت ‘ کہ یہ ہی ان ک چمچ کڑچھ اور گم شت ‘ ان کی پیٹھ
پیچھ غ یظ پ لوت بولت ہیں۔ یہ ہی نہیں‘ ان ک ہر کی ‘ کسی
ن کسی صورت میں‘ قرط س وقت پر رق ہو رہ ہ ۔ آت وقتوں میں‘
ان کی کرتوتوں پر‘ کوئی پردہ ڈالن والا نہ ہو گ ۔ یہ ہی ک زور طبقہ
ک لوگ‘ جنہیں وہ‘ کیڑے مکوڑے سجھت رہ ‘ ننگی گ لی ں دیں
گ ۔ انہیں‘ تمہ رے بھ ئی بندوں کی لسٹ میں رکھ ج ئ گ اور ت ‘
بدی ک سردار اور موڈھی ٹھہرو گ ۔
ج ن رکھو! یہ ہی حقیقت اور یہ ہی سچ ئی ہ ۔
عزازئیل! میں تمہیں اور تمہ رے پیروک روں کو‘ اللہ ک غض ‘ ابدی
سچ ئی اور آت وقتوں کی‘ ان گنت ل نتوں س ‘ آگ ہ کر رہ ہوں۔ اس
برے وقت س ڈرو اور ت ئ ہو کر‘ توبہ کو ش ر بن ؤ۔ اللہ کی رحمت
س ب ید نہیں‘ کہ م ف کر دی ج ؤ۔ صبح ک بھولا‘ اگر ش کو واپس
آ ج ئ ‘ تو اس بھولا نہیں کہت ۔ اللہ س زی دہ اور بڑھ کر درگزر
کرن والا بھلا اور کون ہو سکت ہ ۔ چ ج ن والوں کو دیکھو‘
کتن بدقسمت ہیں‘ کہ وہ توبہ سی انمول ن مت س ‘ یکسر محرو ہو
چک ہیں۔
میں ج نت ہوں‘ ت میرے ن س میں موجود ہو اور میرے ہر کہ کو‘
خو خو سن رہ ہو۔ ت یہ نہیں کہہ سکو گ ‘ کہ مجھ صورت
ح ل س آگ ہ نہیں کی گی اور اللہ ک غض س نہیں ڈرای گی ی پھر
رستہ نہیں دکھ ی گی ۔ ت ئ ہو کر‘ توبہ ک دروازے پر آ ج ن ہی فلاح
ک رستہ ہ ۔
اے ق در و قدیر! اس کی ہدایت و اصلاح ک لی ‘ کسی کو اس پر‘
ن زل فرم ۔ اس کی اصلاح ہو گئی‘ تو یہ بگڑا ہوا انس ن‘ اپنی اصل
فطرت پر آ ج ئ گ ۔ شیط ن کی اصلاح ہون کی صورت میں ہی‘ آج
ک انس ن کی درستی ک ‘ دروازہ کھل سکت ہ ۔ یہ کسی مص ح ک
بس ک روگ نہیں رہ ۔ اچھ لوگوں کی ج نیں ج ن ‘ اچھی اور صحت
مند ب ت نہیں۔ موڑ موڑ پر کربلا برپ ہون ‘ میرے م لک قی مت ہ ‘
قی مت ہ ۔ صلاحین کی موت‘ ا دل گردہ برداشت کرن کی ت نہیں
رکھت ۔ اچھ لوگ رہ ہی کتن گی ہیں۔ ان ک اٹھ ج ن ‘ درست نہیں ہو
گ۔
ش ہ ب ب ‘ اپنی ذات میں مگن‘ گردوپیش س ب خبر اور ب نی ز‘ اپن
اللہ س مخ ط تھ ۔ وہ شیط ن س بھی مخ ط ہوئ ۔ میں دع اور
شیط ن س مخ طب میں کسی قس ک خ ل نہیں ڈالن چ ہت تھ ۔ لگت
تھ ‘ یہ س س ہ کبھی خت نہ ہو گ ۔ اسی لی ‘ تھوڑی دیر ک لی ‘ وہ ں
بیٹھ اور پھر‘ گھر واپس لوٹ آی ۔ گھر آ کر مجھ خی ل آی ‘ کہ مجھ
وہ ں مزید بیٹھن چ ہی تھ ۔ میں اس م م ہ میں‘ نکم اور لای نی سہی‘
پر ان ک ہر دع ئیہ جم پر‘ آمین تو کہہ ہی سکت تھ ۔ نیکی اور
نیک ط بی میں‘ کسی بھی نہج کی م ونت‘ بذات خود نیکی ک مترادف
ہ ۔ ش ید میں بھی نیکی پسند نہ تھ ‘ ت ہی تو اٹھ آی تھ ‘ ورنہ کچھ
دیر وہ ں اور رکن س ‘ کی ہو ج ت ۔
سوچ ک دائرے
ہ جراں‘ مزاج کی مزاج کی تھوڑا کڑک تھی‘ لیکن سچی ب ت تو یہ ہی
ہ ‘ کہ وہ دل کی بری نہ تھی۔ ایسی ہ درد اور ب کردار عورتیں‘ ک ک
ہی دیکھن میں آتی ہیں۔ سسرال ک دور دراز ک رشتہ داروں س
بھی م تی۔ ان ک دکھ سکھ میں شریک ہوتی۔ ان س بڑے پی ر س
پیش آتی۔ خ وند ک بہن بھ ئیوں ک صدق واری ج تی۔ ان کی ہر
ن گزیر ضرورت پوری کرتی۔ س س اور سسر اس ک ہ ں ٹھہرے۔ ان
کی دوسری بہووں ن ‘ انہیں دھتک ر دی تھ ۔ بہووں س کی گ ہ‘ ان
ک بیٹ ہی‘ خودغرض اور مط پرست تھ ۔ اس ن س س اور
سسر کو‘ پھولوں کی سیج پر بیٹھ ئ رکھ ۔ س س تو چل بسی‘ ہ ں
سسر ا بھی زندہ تھ ‘ اور اسی ک س تھ رہ رہ تھ ۔ بڑھ پ ک ع ل
تھ ۔ ہ جراں‘ اس کی سگی بیٹیوں س بڑھ کر‘ خدمت کر رہی تھی۔
اچ نک ن ج ن سراج کو کی ہوا‘ چنگ بھلا تھ ‘ بستر لگ گی ۔ عورت
ہوت ‘ وہ سراج کو ہسپت لوں میں لی پھری۔ بوڑھ سسر بھی‘ اس
ک س تھ س تھ‘ بڑھ پ میں‘ ہسپت لوں کی خ ک چھ نت پھرا۔ اس کی
بیم ری ک دورانی میں‘ کسی ن ‘ ان کی جھوٹ موٹھ کی بھی خبر
نہ لی۔ وہ اپنوں کی یہ ب حسی دیکھ کر تنہ ئی میں سسک پڑتی۔ گھر
کی محنت اور مشقت س بن ئی‘ سوئی سلائی تک بک گئی‘ لیکن
سراج بچ نہ سک ‘ اور موت ک ب رح پننجوں ن اس دبوچ لی ۔
سراج کی لاش صحن میں پڑی تھی۔ درانی ں جیٹھ نی ں اور دونوں نندیں
منہ جوڑ کر ب تیں کر رہی تھیں۔ ان ک کہن تھ کہ سراج ک ڈھنگ س
علاج نہیں کرای گی ۔ ب چ رہ ب علاج مر گی ۔ چھوٹی نند ن کہہ بھی
دی ۔ ہ جراں سسک کر رہ گئی۔ وہ سراج پہوڑی خرا نہیں کرن چ ہتی
تھی ورنہ وہ بھی منہ میں زب ن رکھتی تھی۔ بوڑھ سسر بڑی حسرت
اور م یوسی س کبھی بیٹ کی لاش دیکھت اور کبھی بہو ک منہ
دیکھن لگت ۔ اس ک چہرے پر قی مت کی ب بسی اور ب چ رگی تھی۔
ب علاج مرن کی ب ت‘ غ ط اور درست ک درمی ن تھی۔ اس ک
خ وند‘ کون س کوئی سیٹھ تھ ۔ مزدور پیشہ تو تھ ۔ وہ گھر ک س را
س م ن‘ بیچ چکی تھی بس مک ن بکن ب قی تھ ‘ ش ید وہ بھی بک ج ت ‘
لیکن اس س پہ ہی‘ سراج چل بس تھ ۔ وہ لوگ ب تیں بن رہ
تھ ‘ م لی مدد تو دور کی ب ت‘ انہیں تو کبھی زب نی کلامی پوچھن
کی بھی توفی نہ ہوئی تھی۔ ہ جراں ن ‘ بوڑھ سسر کی ذہنی اور
ق بی ح لت کو بھ نپ لی تھ ‘ وہ اس ک پ س بیٹھ گئی‘ اور گ لگ
کر‘ پہ خو روئی‘ ج من ک بوجھ تھوڑا ہ ک ہوا‘ تو اس ن اپن
سسر س کہ :اب آپ کیوں پریش ن ہوت ہیں‘ مرا تو میرا خ وند اور
بچوں ک ب پ مرا ہ ‘ میں ابھی زندہ ہوں‘ میں آپ ک بیٹ ہوں‘ آپ
کیوں پریش ن ہوت ہیں۔
کوڑا وٹ ‘ ی نی مرگ کی روٹی‘ ہ جراں ک بھ ئیوں ن دی۔ اس موقع
پر بھی ب تیں ہوئیں‘ ہ ہ گ ہ بھی ہوا۔ اس کی چھوٹی نند ک موقف یہ
تھ ‘ کہ ص ف اور اچھی بوٹی ں‘ ہ جراں ک پچھ وں کو مہی کی ج رہی
ہیں‘ لمب شوربہ اور کھم کھ ڑی ں‘ اس ک سسرال والوں کو دی
ج رہی ہیں‘ ج کہ سرے س ‘ ایسی کوئی ب ت ہی نہ تھی۔ اتن ضرور
ہ ‘ دیگ پر ہ جراں ک بھ ئی بیٹھ تھ ۔ پ یٹیں سپلائی کرن وال ‘
سراج کی سلا دع وال تھ ۔ انہیں ن انص فی کرن کی‘ بھلا کی
ضرورت تھی۔ ہ جراں ن ‘ اس موقع پر بھی درگزر س ک لی ۔
ت ی اور لب س تو الگ رہ ‘ یہ ں تو روٹی ک لال پڑ گی تھ ۔
کچھ دن‘ ہ جراں ک چھوٹ بھ ئی‘ خرچہ پ نی دیت رہ ‘ لیکن مستقل طور
پر‘ کون کسی کی پنڈ اٹھ ت ہ ۔ یہ ں تو ہر کسی کو‘ اپنی اپنی پڑی
ہوئی ہ ۔ ح لات دیکھ کر‘ ہ جراں ن محت ج ہون کی بج ئ ‘ خود
س کچھ کرن ک لی ‘ لنگوٹ کس لی ۔ اس ن دو بڑے گھروں
میں‘ ک کرن شروع کر دی ۔ اس ک پ س‘ اس ک سوا کوئی چ رہءک ر
ب قی نہ رہ تھ ۔ کی کرتی‘ کس ک پ س ج تی۔ وہ صبح سویرے‘ سسر
کو بچوں ک پ س گھر چھوڑ کر‘ ک پر چ ی ج تی۔ دو گھروں ک ک
کرت کرت ‘ اچھ خ ص وقت لگ ج ت ۔ اس کی کمر دہری ہو ج تی۔ وہ
اکثر سوچتی‘ ج سراج زندہ تھ ‘ اس کسی قس ک فکر لاح نہ تھ ۔
ب چ رہ کس مشقت س رز لات تھ ۔ زی دہ مشقت ن ہی‘ اس کی
ج ن لی تھی۔ زندگی میں‘ اس ن قدر نہ کی تھی‘ اکثر لڑ پڑتی تھی۔
برتنوں پر پ نی پھرت رہت ‘ آنکھیں س ون ک ب دل کی طرح‘ مس سل
برستی رہتیں۔ کوشش ک ب وجود ضبط نہ کر پ تی۔
مشقت کی ص وبت اپنی جگہ‘ اپن ہی رشتہ داروں کی بھ نت بھ نت
کی بولی ں‘ کچوک لگ تی رہتیں۔ کوئی کہت ‘ ک ن میلا کر رہی ہ ۔ کسی
ک منہ میں تھ ‘ اس عورت ن ‘ سراج کی عزت ک جن زہ نک ل دی
ہ ۔ چھوٹی نند ن تو اس ک چ ن پر بھی انگ ی رکھ دی۔ غربت بری
بلا ہ ‘ مح ہ کی عورتیں بھی‘ دیکھ دیکھی‘ ب تیں کرن لگیں۔ وہ اپن
دکھ کس س کہتی‘ اور کی کہتی۔ اگر اس ک چ ن ٹھیک نہ ہوت ‘ تو
دیکھت ہی دیکھت زندہ لاش میں نہ بدل ج تی۔ لوگ اس کی بگڑتی
صحت کی وجہ‘ کچھ اور بت ن لگ تھ ۔
وقت گزرت رہ ‘ وہ ب توں کی پرواہ کی بغیر‘ مشقت اٹھ تی رہی‘ اور
کر بھی کی سکتی تھی۔ چھوٹی عید آئی‘ لوگ گھر پر موج مستی کرت
ہیں‘ اس اس روز بھی‘ مشقت ک لی ج ن تھ ۔ مشقت ہی ا اس کی
زندگی تھی۔ ب ب عمر بھی‘ لوگوں کی ب تیں سنت اور کڑھت ۔ وہ اپنی
بیٹی جیسی بہو‘ کی ع دات و اطوار اور کردار س خو آگ ہ تھ ۔ وہ
اس بڑھ پ میں‘ کس کس ک منہ لگت ۔ چپ اور صبر‘ اس ک مقدر
ٹھہرا تھ ۔ ہ ں ہ جراں گھر آتی‘ سو بس اللہ کرت ۔ ج گھر س ج تی‘
تو ڈھیر س ری دع ؤں ک س تھ رخصت کرت ۔ پھر س را دن بچوں ک
س تھ گزرات ۔ یہ کیسی عید آئی تھی‘ کہ بچوں کو غیروں ک اترن میسر
آی ۔ رات کو غیروں ک بچ کچ کھ ن ‘ کھ ن کو ملا۔ کچھ دین تو بڑی
دور کی ب ت‘ اپنوں کو تو حضرت ک سلا کہن کی بھی‘ توفی نہ
ہوئی۔ کہن کو وہ اپن تھ ‘ لیکن طور بیگ نوں جیس بھی نہ تھ ۔
وقت کو کون روک سک ہ ‘ اس تو گزرن ہوت ہ ‘ سو وہ گزر گی ۔
بڑی عید بھی آ گئی۔ ب ب عمر اور بچوں ن پورا دن‘ تنہ گزرا۔ بچ
تھوڑی دیر ک لی ‘ ب ہر چ ج ت اور پھر واپس لوٹ آت ۔ ب ب
عمر کس س دکھ سکھ کرت ۔ اس کی سگی اولاد‘ اس تنہ چھوڑ گئی
تھی۔ ہ جراں کو‘ بڑی عید پر بھی مزدوری پر ج ن پڑا۔ مح ک کئی
گھروں میں‘ قرب نی کی گئی‘ لیکن ان ک گھر‘ کسی ن ‘ ایک بوٹی
تک نہ بجھوائی۔
اچھ گوشت مح وظ کر لی گی ۔ تھوڑا ک اچھ ‘ عزیزوں اور رشتہ داروں
میں تقسی ہو گی ۔ تیسرے درج ک گوشت‘ آنڈ گوانڈ میں چلا گی ۔
لاوارث س ل ب د بھی‘ گوشت ک منہ نہ دیکھ سک ۔ ہ جراں ش کو
تھکی ہ ری لوٹی۔ اس ک انگ انگ دکھ رہ تھ ۔ ب ب عمر اور بچوں کی
یتی و مسکین صورتیں دیکھ کر‘ لرز لرز گئی۔ وہ اپن دکھ درد کی
پرواہ کی بغیر‘ چولہ کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دونوں گھروں س ‘
گوشت لائی تھی۔ س رے گوشت کو اب لا‘ اور کچھ پک کر‘ ب ب اور
بچوں ک آگ رکھ دی ۔ ج وہ کھ رہ تھ ‘ اس ک دل و ج ن میں
جنت ک سکون اتر رہ ۔ ب ب کھ تو رہ تھ ‘ لیکن ب چینی‘ دل و ج ن
میں مچل رہی تھی۔
اس رات‘ ب ب عمر دین کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ سوچ رہ تھ ‘
اپنوں ک ہوت ‘ وہ تنہ تھ ۔ ہ جراں س سراج ک حوالہ س رشتہ
تھ ۔ سراج نہ رہ تھ ‘ وہ گربت میں بھی رشتہ نبھ ئ ج رہی تھی۔
اگر خودغرض ہوتی‘ تو کہتی‘ سمبھ لو اپن بچ ‘ میں ج رہی ہوں‘
تو پھر ان بچوں ک ذمہ کون لیت ۔ یہ رشتوں ک ہوت ‘ گ یوں ک روڑا
کوڑا ہو ج ت ۔ سوچیں تھیں‘ کہ اس ک پیچھ نہ چھوڑ رہی تھیں۔
ہ جراں کو بھی‘ نیند نہ آ رہی تھی۔ سوچوں ک گردا میں گرفت ر‘
ب بسی اور مجبوری کی کر سکتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی‘ یہ کیسی
قرب نی دی گئی۔ کی اس س ‘ ان ک اللہ راضی ہو ج ئ گ ۔ سراج
من س دوا دارو نہ م ن کی وجہ س مر گی ‘ وہ اور بچ بھوکوں
سوت رہ ‘ کسی کو ایک پ ؤ آٹ ‘ ی نقد ایک اکنی دین کی توفی نہ
ہوئی۔ اس ک جیٹھ ن بکرا قرب ن کی ‘ گھر جوان بیٹی بیٹھی ہ ‘ اس
ک لی جہیز نہیں۔ نسرین ن ‘ مقروص ہوت ہوئ بھی‘ محض ن ک
ک رہ ج ن ک لی ‘ قرب نی کی ہ ۔
اس ن سوچ ‘ ہ کیس لوگ ہیں‘ بیم روں‘ بیواؤں‘ بن جہیز بیٹھی
جوان بچیوں کو‘ دو روپ تک دین ک لی تی ر نہیں ہیں۔ بکرے
چھترے قرب ن کرک ‘ اللہ کو خوش کرن کی‘ کوشش کرت ہیں۔
مولوی بھی‘ کتن سنگ دل اور کٹھور ہ ‘ جو چند سو روپ کی کھ ل
ک لی ‘ اس قرب نی کو اہمیت دیت ہ ۔ بیم روں ک علاج کی ترغی
نہیں دیت ۔ جوان بچیوں کو‘ بوہ س اٹھ ن ک مس کی اہمیت کو
اج گر نہیں کرت ۔ یہ غلا اور مقروض قو پت نہیں ک ج گ گی۔
غلا ‘ مقروض‘ بیم ر اور م شی مس ئل کی شک ر یہ قو ‘ آخر صدیوں
س ‘ سم جی حقو س ‘ منہ موڑ کر‘ ملاں ک کہ پر‘ آنکھیں بند
کی چل رہی ہ ۔ آخر اس ‘ خود سوچن کی ک ع دت پڑے گی۔
سوچ ک دائرے‘ ج حد س تج وز کر گی ‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس
ن ‘ ب ب عمر کو آواز دی :اب سو گی ہو‘ ی ج گ رہ ہو۔
ب ب عمر کو نیند ک آ رہی تھی‘ اس ن جواب کہ :ج گ رہ ہوں بیٹ ۔
پھر سون مت‘ چ ئ ک موڈ بن رہ ہ ۔
یہ کہہ کر وہ چولہ کی طرف بڑھ گئی۔
جن محتر ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح
سلا عرض ہ
جن ع لی بہت دلگداز
توجہ ط تحریر ہ م شرے کی ست ظری یوں اپنی غیر ذمہ داریوں
غ توں اور شک یتوں س مزین تحریر نظر نواز ہوئی بہت عمدہ انداز
بی ن ک س تھ کہیں کہیں م حول س مت ثر ل و لہجہ بھی اس تحریر
میں دیکھن کو ملا من ظر اپن متحرک عکس کو لئ دل و دم میں
اترت چ گئ ۔ دیہ تی من ظراور اور دکھی انس نیت کی عک سی کو
لئ زب ن و بی ن اور اس میں پنج بی زب ن اور رنگ ک آہنگ ,پڑھ کر
لطف آی ،درج ذیل سطر پر پہنچ کر خود پر ق بو نہ رہ کوشش ک
ب وجود ہونٹوں پر مسک ن ک بج ئ ٹوتھ پیسٹ ک اشتہ ر بنن پڑا
،آپ ن فرم ی کہ :D
ہ جراں ن محت ج ہون کی بج ئ ‘ خود س کچھ کرن ک ""
""لی ‘ لنگوٹ کس لی ۔
اصل میں لنگوٹ کس وہ بھی ہ جراں ن طبی ت شری نہ میں ہ چل
شوخی نہ ن ظراف کی طرح لمبی گردن نک ل کر اپن س تھ ہون
والی چھیڑخ نی ک پتہ دی بڑی مشکل س خود کو سمجھ کر تس ی دی
کہ بھئی ڈاکٹر ص ح ک کہن ک مقصد ہ کہ ہ جراں ن ح لات
س نمبردآزم ہون کو کمر کس لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ں پہنچ کر اپن م شرے ک موجودہ چہرہ نظرآی جس میں خود کو
پہچ نن کی کوشش کی اور اپنی اس غیر اخلاقی ح لت پر افسوس ہوا
اچھ گوشت مح وظ کر لی گی ۔ تھوڑا ک اچھ ‘ عزیزوں اور رشتہ ""
داروں میں تقسی ہو گی ۔ تیسرے درج ک گوشت‘ آنڈ گوانڈ میں چلا
"" گی ۔ لاوارث س ل ب د بھی‘ گوشت ک منہ نہ دیکھ سک ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہ جراں کو بھی‘ نیند نہ آ رہی تھی۔ سوچوں ک گردا میں گرفت ر‘ ""
ب بسی اور مجبوری کی کر سکتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی‘ یہ کیسی
قرب نی دی گئی۔ کی اس س ‘ ان ک اللہ راضی ہو ج ئ گ ۔ سراج
من س دوا دارو نہ م ن کی وجہ س مر گی ‘ وہ اور بچ بھوکوں
سوت رہ ‘ کسی کو ایک پ ؤ آٹ ‘ ی نقد ایک اکنی دین کی توفی نہ
ہوئی۔ اس ک جیٹھ ن بکرا قرب ن کی ‘ گھر جوان بیٹی بیٹھی ہ ‘ اس
ک لی جہیز نہیں۔ نسرین ن ‘ مقروص ہوت ہوئ بھی‘ محض ن ک
ک رہ ج ن ک لی ‘ قرب نی کی ہ ۔
اس ن سوچ ‘ ہ کیس لوگ ہیں‘ بیم روں‘ بیواؤں‘ بن جہیز بیٹھی
جوان بچیوں کو‘ دو روپ تک دین ک لی تی ر نہیں ہیں۔ بکرے
"" چھترے قرب ن کرک ‘ اللہ کو خوش کرن کی‘ کوشش کرت ہیں۔
یہ ں پہنچ کر بہت دیر تک آپ ک دکھ درد کو ال ظ ک جسموں میں
مقید م ت کن ں دیکھ ۔ واق ی ہ کہ ں پہنچ چک ہیں ،ہ وقتی طور پر
ایس من ظر دیکھ کر ان س اثر ل بھی لیں تو کچھ عرص میں
بھول ج ت ہیں اور اپنی دنی میں مگن ہو ج ت ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی بھی‘ کتن سنگ دل اور کٹھور ہ ‘ جو چند سو روپ کی ""
کھ ل ک لی ‘ اس قرب نی کو اہمیت دیت ہ ۔ بیم روں ک علاج کی
ترغی نہیں دیت ۔ جوان بچیوں کو‘ بوہ س اٹھ ن ک مس کی
اہمیت کو اج گر نہیں کرت ۔ یہ غلا اور مقروض قو پت نہیں ک ج گ
گی۔ غلا ‘ مقروض‘ بیم ر اور م شی مس ئل کی شک ر یہ قو ‘ آخر
صدیوں س ‘ سم جی حقو س ‘ منہ موڑ کر‘ ملاں ک کہ پر‘
آنکھیں بند کی چل رہی ہ ۔ آخر اس ‘ خود سوچن کی ک ع دت
""پڑے گی۔
یہ ں آکر ذرا تردد ہوا ،ذرا زی دتی محسوس ہوئی قرب نی کو مولوی
اہمیت دیت ہ اور ب قی ت یم ت کی ج ن توجہ نہیں دلات
خو کہ آپ ن ص ح ،اور ب ل رض م ن بھی لیں ب کہ اگر ایس ہو
بھی ج ئ تو کون س ہ م ن ج ئیں گ ،آپ اپنی ایم نداری س
بت ئی کی مولوی ک پ س الہ دین ک چرا ہ جس ک رگڑن س
جن برآمد ہوگ اور نک ت ہی حک بج وری ک لئ سراپ غلا ہوگ
اور کہ گ کی حک ہ میرے آق اور مولوی ص ح کہیں گ س ری
انس نیت کو ایک دوسرے ک حقو کی ادائیگی پر م مور کر دو اور
پ ک ک جھپکن میں س را م شرہ امن و ام ن انس نیت کی اع ٰی
م راج ک منہ بولت ثبوت نظر آئ گ ،امیر غری کی ضرورتیں پوری
کئ بغیر چین نہ پ ئ گ اور غری غربت کی دلدل س نکل کر
ص ح عزت ص ح ثروت کہلائ گ
کی آپ کو یقین ہ کہ مولویوں کی ب ت م ن لی ج ئ گی جس میں امن
و ام ن حقو کی ادائیگی انس نیت س مزین زندگی رواں دواں ہو گی
اور پھر تہذی و تمدن م شرت س جڑ کر مزاج میں ش مل ہوکرعم ی
نمونہ پیش کرے گی؟
کہ ں ص ح ہوگ ،ج تک کہ ایک نسل نہ تی ر کر لی ج ئ جو عم ی
زندگی کو م شرے ک ہر ش ب میں پیش کرے ایس میں ب چ رے
مولوی س خ گی ک اظہ ر کرن زی دتی ہوگی
بہر ح ل آپ کی تحریریں یقین ً توجہ ط ہوتی ہیں ق ری کو سوچن پر
مجبور کر دیتی ہیں
اللہ آپ کو جزائ خیر عط فرم ئ ،یہ کہن سنن بھی آج ک اس
پرفتن دور میں کسی ن مت س ک نہیں
اللہ پ ک آپ کو دونوں جہ نوں کی عزتیں مرحمت فرم ئ
آپ کی دع ؤں ک ط بگ ر
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9247.0
کچھ ب ید نہیں
میں ایک دفتر میں ملاز ہوں۔ س را دن‘ بہت س س ئل ی ان ک س ید
پوش اور چر زب ن دل دلال‘ جنہیں شورےف کی زب ن میں ایجنٹ کہ
ج ت ہ ‘ مک مک کرت ‘ چ ئ پ نی پلات لگ ت اور دو طرفہ
مسکراہٹ میں اپنی راہ لیت ۔ ہ لوگ‘ ایک دوسرے کی ج ن پہچ ن میں
ہیں۔ ن گہ نی ح لات میں‘ آنکھوں کی زب ن میں‘ ک فی کچھ کہہ سن لیت
ہیں۔ مق می افسر بھی‘ ان س ن واقف نہیں ہیں۔ آنکھوں کی زب ن ک
است م ل‘ کسی ب لا افسر ک آن کی صورت میں ہوت ہ ۔ بس ایک
ج ی سی پردہ داری ہ ۔ ح لاں کہ آن وال ک ہ ں‘ یہ ں س کہیں
بڑھ کر‘ انھی مچی ہوتی ہ ۔ م ہن نہ ل ف کی ترسیل کی‘ ہ میں س
کوئی ڈیوٹی انج دیت ہ ۔ بس ایک بھر س چلا آت ہ ۔ کہیں کھلا اور
کہیں فی صد بھی ط ہ ۔ عمو میں‘ ل فہ ہی متحرک رہت ہ ۔ گوی
ہ دفتر وال ‘ گردوپیش‘ ب لا دف تر اور دف تر س منس ک دل دلالوں
ک مزاج‘ روی اور اطوار س خو آگ ہ ہیں۔
دفتر آت ج ت ‘ ایک چھوٹ قد ک شخص س ملاق ت ہوتی رہتی
تھی۔ وہ کسی دفتر ک ملاز نہیں تھ ‘ کیوں کہ میں مق می دفتر ک ہر
ملاز س واقف ہوں۔ وہ یقین کسی دفتر ک مستند دلا تھ ۔ ج م ت ‘
ہ تھ اٹھ کر‘ بڑے اد س سلا کرت ۔ میں بھی خوش خ قی س سلا
ک جوا دیت ۔ یہ دلا حضرات بڑے عجی واقع ہوئ ہیں۔ چغ ی اور
مخبری میں بھی کم ل ک م ہر ہوت ہیں۔ بہت س ‘ میر ج ر ک
بھی پیو ہیں۔ کھٹی بھی چغ ی مخبری کی کھ ت ہیں۔
یہ اس قم ش ک دلا نہ تھ ۔ ب اد سلا بھی ح ظ م تقد کرت تھ ‘ کہ
کبھی اور کسی وقت بھی‘ کوئی ک پڑ سکت تھ ۔ اس قس ک ب اد
سلا ‘ ک نک وان میں م ون ث بت ہوت ہیں۔ وہ مجھ نہیں ج نت
تھ ۔ میں ک کی وصولی میں بڑا سخت اور کورا واقع ہوا ہوں۔ میرے
اس اصول س ‘ اپن پرائ خو خو آگ ہ ہیں۔ سلا دع ک حوالہ
س ‘ رو رع یت کو دو نمبری سمجھت ہوں۔ اگر رو رع یت س ک لیت
تو اتنی بڑی ج ئیداد کبھی بن نہ پ تی۔
ایک دن ملا‘ بڑے رومنٹک اور ملاپڑے س موڈ میں تھ ۔ میرے س تھ
س تھ چ ن لگ ۔
میں ن ہنس کر کہ ‘ بھئی خیر تو ہ ‘ کوئی ک تو نہیں۔ سلا دع
اپنی جگہ‘ لیکھ میں ب اصول ہوں۔
ہنس پڑا اور کہن لگ :سرک ر میں ج نت ہوں۔
تو کہو‘ کی ک ہ ۔
سرک ر بڑی ن یس اور ش ن دار بکری ہ تھ آئی ہ ۔ طبیت راضی ہو
ج ئ گی۔ صرف اور صرف ایک ہزار میں۔
میں حیران ہو گی ۔ کیس بندہ ہ ۔ بکری میں ن کی کرنی ہ ۔ پھر خی ل
گزرا‘ ایک ہزار میں مل رہی ہ ‘ ل لیت ہوں۔ چ ر دن چھوٹ گوشت
کھ ئیں گ ۔ ص ح اور پھر مخصوص احب کی دعوت بھی کر لوں گ ۔
میں ن ہنس کر پوچھ :ایسی ویسی تو نہیں۔
ایسی ویسی س میری مراد چوری کی تھی۔ ہوتی بھی تو کی فر پڑت ‘
مجھ تو ایک ہزار میں مل رہی تھی۔
:ب غیرت سی ہنسی میں کہن لگ
نہیں سرک ر‘ نمبر ون ہ ۔
پھر اس ن کئی ن گنوائ ‘ جو پ نچ وقت اور مونچھ چٹ تھ ۔
اس ن ب ت ج ری رکھت ہوئ کہ ۔ سرک ر مزا نہ آئ تو پھر کہن ۔
ج اس ن یہ ب ت کہی‘ تو بکری ک م ہو سمجھ میں آی ۔ مجھ
افسوس ہوا‘ کہ میں دلالوں کی ہر اصطلاح س آگ ہ ہوں۔ یہ اصطلاح‘
میرے لی قط ی الگ س تھی۔ دوسرا گشتوڑ اور بکری کی مم ث ت
میرے لی قط ی نئی تھی۔ میں م نت ہوں‘ رشوت ٹھوک کر لیت ہوں
لیکن زانی نہیں ہوں‘ ورنہ رشوت خور زانی اور گھونٹ نہ لگ ت ہو‘
بھلا کیس ہو سکت ہ ۔
مجھ اس پر بڑا ت ؤ آی ۔ میں ن پوچھ :تمہ ری کوئی جوان بہن بھی
ہ۔
کہن لگ :جی ہ ں
تو اس ل آؤ‘ میں اس ک س تھ موج مستی کروں گ ۔ ہزار ک دو
ہزار دوں گ ۔ چ تی پھرتی ہو تو بھی ل آؤ‘ چ گ ۔
اس ن بڑے قہر س میری ج ن دیکھ اور بڑبڑات ہوا دوسری ج ن
نکل گی ۔
میں ن بیوی ک ج ن بوجھ کر نہیں کہ تھ ‘ ایس ب غیرتوں س
کچھ ب ید نہیں‘ ش ید ل ہی آت ۔
وہ اندھی تھی
وہ لنکویل قبی ک س نپ ک ' چھلاوہ زی دہ تھ ۔ دوسرا حج اور لمب ئی
چوڑائی میں بھی' جہنمی بلا لگت تھ ۔ کسی ایک جگہ ٹھک نہ رکھت تو
گرفت ک کوئی ن کوئی رستہ ضرور نکل آت ' مصیبت تو یہ تھی کہ اس
ک کوئی مستقل ٹھک نہ نہ تھ ۔ لوگ سوچ میں تھ ' آخر کہیں ن کہیں
آرا تو کرت ہو گ ۔ یہ بلا' پت نہیں اچ نک کیوں ن زل ہو گئی تھی۔
علاق ک سربراہ مہ راج چرچی ن تھ کی آمد اچ نک نہ تھی' اس ک
پیچھ ایک عوامی خون خوار ت ریخی پس منظر تھ ۔ اس سپرپ ور'
جس ک س من علاق ک پھن خ ں بھی' قط ی مجبور وب بس
تھ ۔ گھروں میں بیٹھ ' ان پر ہراس ک موس کی کپکپی ط ری تھی۔
وہ گھری و مویشیوں ک لی بھی' عذا بن گی تھ ۔ نر مویشی ج ن
س ج ت ' ج کہ م دہ مویشیوں ک دودھ نچوڑ لیت ۔ جس ڈست پ ؤں
پر ٹکی ہو ج ت ۔ جگہ جگہ لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ بو اور ت ن س '
س نس لین مح ل ہو گی تھ ۔ علاق ک ہر چھوٹ بڑے کو' ب چ رگی
اور ب بسی ک یہ ع ل ' م یوسی ک دروازے تک ل آی تھ ۔
ذاتی اور اجتم عی طور پر' غوروفکر کی ج رہ تھ لیکن کوئی حتمی
حل ہ تھ نہیں لگ رہ تھ ۔ زب نی جمع خرچ بہت ہوا' مگرمیدان میں
کوئی اترن ک لی تی ر نہ ہو رہ تھ ۔ کون اترت ' ج ن ہر کسی کو
پی ری تھی۔ ایک دوسرے س توقع' وابستہ کی ج سکتی تھی ی پھر
کسی غیبی مدد ک انتظ ر کی ج سکت تھ ۔
کئی دن گزر گئ ' کچھ نہ ہو سک ۔ بھوک پی س اور ت نی گھٹن س '
موتیں ہو رہی تھیں۔ انس نوں اور مویشیوں کی لاشیں ٹھک ن نہیں لگ
رہی تھیں جس ک ب عث' ب ہر کی بدبو تو تھی ہی' گھروں میں بھی
بدبو پھیل گئی تھی۔ ہر کسی ک منہ لٹک ہوا تھ ۔ کمزوری ک سب
جیت ج گت انس ن' چ تی پھرتی لاشیں لگ رہ تھ ۔
ایک دن دوسری ولایت س آن والا گ مو سوچی ر' چونک دین
والی خوش خبری لای ۔ اس ن بت ی ادھر شہ دین ک کھیت میں'
ایک لنکویل قبی ک اژدھ ' ایک مریل اور کر خوردہ کت ک منہ
میں' ب بسی ک ع ل میں' پیچ و ت کھ رہ ہ ۔ یہ سنن تھ کہ
لوگ' گ مو سوچی ر س لپٹ گئ ۔ پھر لوگ' شہ دین ک کھیت کی
ج ن دوڑ پڑے۔ یہ دینو ن ئی ک بیم ر کت تھ ۔ س نپ ک درمی ن' اس
ک دانت گڑے ہوئ تھ ۔ س نپ آدھ ادھر آدھ ادھر ب بسی ک ع ل
میں' چھٹک رے کی کوشش میں تھ ۔ وہ ب ر ب ر اس ڈس رہ تھ ۔ ہر
ڈنگ' ہیروشیم پر پر گرے ب س ' کسی طرح ک نہ تھ ۔ الٹ سیدھ ہو
کر ڈرون گرا رہ تھ ۔ مگر کہ ں' کچھ بھی نہیں ہو پ رہ تھ ۔
اصول یہ ہی رہ ہ ' ط قت س ہر کوئی دور ہی رہ ہ اور اسی میں'
ع فیت خی ل کرت رہ ہ ۔ اس روی ک سب ' ط قت کو شہ م ی ہ
اور علاق میں دندن تی پھرتی ہ ۔ ہر س من آن والا ' ک زور ی
ط قتور' ج ن س ج ت ہ ' ت ہ ایک کی ب ی اوروں کی نج ت ک سب
بنتی ہ ۔ دینو ک کت ' ادھر س گزرا ہو گ ۔ اس گست خی کی سزا میں'
اس پر فرار ک چ روں رست بند کر دی گی ہوں گ اور اس پر
ترس کھ ن کی بج ئ ' جھپٹ پڑا ہو گ ۔ موتی ک پہ داؤ لگ گی ہو
گ ۔ ڈنگ لگن س اس کی موت واقع ہو گئی ہو گی اور اکڑاؤ آ گی ہو
گ ۔ ا اس کی کون اور کیوں مدد کرت ۔ تکبر تم ش بن چک تھ ۔ ط قت
عبرت نہیں لیتی کیوں کہ وہ اندھی ہوتی ہ ۔
بب و م ں
ش ہوں ک کی ' زی دہ تر' عمو پر آشک ر ہی نہیں ہو پ ت ۔ ک رے قض ‘
کوئی م م ہ‘ کسی کے س منے آ ج ئے تو اس پر نکتہ چینی‘ کھ ی
حم قت کے مترادف ہوت ہے۔ ی پھر کسی ک زور کے کندھوں ک سہ را
لی ج ت ہے۔ ص ح دانش م دیوں ک یہی وتیرا رہ ہے۔ ج ن بچ ؤ موج
اڑاؤ' ان ک پہلا اور آخری اصول ہوت ہے۔ ڈھونڈورچی ادارے' ش ہوں
اور اہل زر کو' پہ ے اور آخری نمبر پر رکھتے ہیں۔ ک زور اور بےزر
مظ و پہونکے' کسی نمبر پر نہیں اترتے۔ وہ اول ت آخر بےنمبر ہی
رہتے ہیں۔ بےنمبری اور بےرنگی کی سر بھی' اول الذکر کے قریبیوں
کے ہ تھ لگتی ہے۔ وہ ظ ل اور استحص ل پسندوں میں شم ر ہوتے ہیں۔
اصولی اور ب شری راجدھ نیوں میں‘ ب لا و زیریں طبقہ کے م زز اور
م تبر شورےف خواتین وحشرات‘ مست مل ش ہی اطوار کی اصول پسندی
کو‘ ہ تھ سے ج نے نہیں دیتے۔ ہ ں‘ ہ تھ آئے م ل کو‘ مستقل طور پر
ڈک ر ج تے ہیں۔ رشوت‘ بد دی نتی اور ہر دو نمبری کو‘ بےسرا اور بد
وضع نہیں رہنے دی ج ت ۔ رہ گیے عمو ‘ ان ک کی ہے‘ وہ تو ہزاروں
س ل سے‘ بےبسی اور بےکسی کی ٹکٹکی پر گزر بسر کر رہے ہیں۔
گوی وہ لاوارثی اور بےچ رگی کے‘ ک ی طور پرع دی ہو چکے ہوتے
ہیں۔ اس لیے‘ ان کی چنت اور کسی قس ک تردد‘ کوئی م نویت نہیں
رکھت ‘ کیوں کہ م مولی ارت ش کے ب د‘ فقط چہرے بدلتے ہیں اور
ک روان حی ت س ب لای نیت کی لنگز ٹی بی سے' اسی ت ب نی سے‘
نبردآزم ہو ج ت ہے۔ کی ہوا‘ زب نی کلامی سے زی دہ‘ نہیں رہ پ ت ‘ یہ
ہی م تو طبقے‘ ش ہوں کے ب نیہ بی ی بن ج تے ہیں۔ ان ہی میں سے‘
نئے کرسی قری پیدا ہو ج تے ہیں۔ نوا ص ح ‘ راجہ ص ح ‘ خ ں
ص ح ‘ چودھری ص ح ‘ م ک ص ح وغیرہ کے لق سے‘ م قو
ہوتے ہیں۔ ش ہی ب غی کنبوں کے زخ بھی‘ ایک وقت کے ب د‘ مندمل
ہو ج تے ہیں۔ آتے وقتوں میں‘ چند ی دوں کے سوا‘ کچھ ب قی نہیں
رہت ۔
ج کسی بھی حوالہ سے‘ زندگی چل رہی ہے تو اس پر انگ ی رکھن ‘
بدامنی ک رستہ ہی کھولن نہیں‘ کھ ی بغ وت بھی ہے۔ جس شخص کے‘
سوکھی پر گزر اوق ت ہو رہے ہیں‘ تو اسے چوپڑی دین ‘ اس پر ظ و
زی دتی کرن ہے۔ ایسے تو اس کی ع دتیں ہی بگڑیں گی۔ عیش و نش ط
ش ہوں اور ش ہ والوں کے چونچ ے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو آخر
تس ی کیوں نہیں کر لی ج ت ‘ کہ سوکھی خوروں کو‘ خو محنت و
مشقت کرنی چ ہیے‘ ت کہ ش ہ‘ اپنی محبوبوں کے لیے‘ ت ج محل اور
نور محل ت میر کے لیے‘ بیسیوں کے قتل و غ رت پر نہ اتر آئیں۔
زندگی صرف ایک ب ر م تی ہے‘ جو مر گی ‘ سو مر گی ۔ کسی مرے کو‘
آج تک واپس آتے‘ کسی نے نہیں دیکھ ۔ اس حوالہ سے‘ زندگی خدا ک
انمول تح ہ ہے‘ اسے خواہ مخواہ میں ض ئع نہیں ہون چ ہیے۔ روٹی
کے ٹکرے‘ زندگی ک متب دل نہیں ہو سکتے۔ روٹی کے لیے فس د کھڑا
کرن ‘ کہ ں کی دانش مندی ہے۔ ج ن کی ام ن کے لیے‘ انہیں خود کو
وف دار مشقتی بن ئے رکھن ہو گ ۔ یہ ہی سچ ئی اور یہ ہی حقیقت ہے۔
گیڈروں نے فص یں برب د کرکے رکھ دی تھیں۔ اکبرے کے دونوں
شک ری کتے بھی‘ ان کے س منے بھیڑ ہو کر رہ گیے تھے۔ گیڈروں ک
غول آت ‘ ایس چکم دیت ‘ کہ دونوں کتے‘ بےبس سے ہو کر رہ ج تے۔
اصل میں‘ ان میں سے ایک کت ‘ گیڈر کے بچے پر ٹوٹ پڑا تھ ۔ م دہ
گیڈر‘ جو پ س ہی تھی‘ نے اس گست خ کتے کو شدید زخمی کر دی
اوراس کی بھ گتے بنی۔ یہ ہی اگر وہ م دہ گیڈر پر ٹوٹ پڑت ‘ تو یقین
اسے ڈھیر کر دیت ۔ اس دن سے‘ اس ک کھیت پر ہون ی نہ ہون ‘ برابر
ہو گی تھ ۔ گوی گنتی میں دو کتے تھے‘ ورنہ حقیقت میں‘ ایک کت ہی
ک کر رہ تھ ۔
م ں اپنے بچوں کے لیے' کسی بھی سطع تک ج سکتی۔ اسے ہر
صورت اور ہر ح لت میں' بچوں کی ج ن اور آزادی عزیز ہوتی ہے۔ وہ
اپنے بچوں کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اس ذیل میں وہ اپنی ج ن
سے بھی گزر سکتی ہے۔ ہ ں مبین اور بب و جیسی م ئیں بھی ہوتی ہیں'
جو بچوں کو بےی ر و مددگ ر چھوڑ کر' ننے چھوہ رے کی خ طر' اپنی
ممت کے چہرے پر' بدقم شی ک طم نچہ م ر کر' نئی دنی آب د کر لیتی
ہیں۔ چھوہ رہ ہولڈر یہ نہیں سوچت ' جو اپنے ذاتی بچوں کی نہیں بنی'
اس کی خ ک بن پ ئے گی۔ لکیر ک زہریلا نشہ' اس کی رگ و پے میں
اتر کر' اس کے جم ہ حواس م طل کر چک ہوت ہے۔ ہر روکنے ٹوکنے
والا' انہیں میر ج ر ک پیٹی بھرا محسوس ہوت ہے۔
اولاد پر' چھوہ رے کو ترجیح میں رکھنے والی م ئیں' بہت ک ہوتی
ہیں' لیکن ہوتی ہیں۔ م ں کے قدموں میں جنت کی دعوےدار وہ بھی
ہوتی ہیں' ح لاں کہ ان کے کبھی قد ہی نہیں رہے ہوتے۔ پھر جنت
کہ ں سے آ گئی۔ ب بے ش ہ نے بب و کے سر پر' پی ر سے ہ تھ پھیرتے
ہوئے کہ ' بیٹ جو ت کرنے ج رہی ہو' کسی طور پر درست نہیں۔ اسے
ش ہ ب بے کی ب ت زہر لگی۔ اس نے اسے ج ی پیر کہ اور پھوں پھوں
کرتی کمرے سے ب ہر نکل گئی' ح لاں ب بے ش ہ نے' اس سے ایک
اکنی تک نہ لی تھی اور ن ہی' وہ لیت تھ ۔ بب و نے اسے ج ی پیر
مشہور کر دی ' جس سے' ب بے ش ہ کی صحت پر رائی بھر اثر نہ پڑا.
وہ کون س پروفیشنل پیر تھ ' جو رز رک ج نے کے خدشے سے
پریش ن ہوت ۔
بئےگر پیر دھورے ش ہ نے' بب و سے پیسے لیے' بڑے ب ذو انداز
میں' اس کی ہر دو اطراف سے پیٹھ سہلائی۔ ت ویز' تس ی اور ک ہو
ج نے کی گرنٹی دی۔ دو تین مرتبہ ج نے کے ب د' وہ اس کی دل و ج ن
سے ق ئل ہو گئی۔ ک ہو ج نے کے ب د بھی' وہ اس کے در دولت پر'
دوسرے تیسرے ح ضری دینے لگی۔ شہر بھر میں' اس کی کرام ت ک
ڈھنڈورا بھی پیٹ ۔ بئےگر پیر دھورے ش ہ کے ہ ں' عش حضرات کی
قط ریں لگ گئیں۔
حکومت بھی م ں کی طرح ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے' یہ شروع سے'
گیڈر م ں بھی نہیں بن سکی۔ یہ ہمیشہ بب و م ں ہی رہی ہے۔ اسے اپنی
اولاد کبھی عزیز نہیں رہی۔ اولاد کی بھوک' پی س' بےچ رگی اور
لاوارثی' ان ک ک یجہ ٹھنڈا کرتی آئی ہے۔ ان کی آہیں اور سسکی ں'
س م ن لطف بنی ہیں۔ گست خ بچوں کو' زہر پلا کر نش ن عبرت بن ن ' ان
ک کرتوے رہ ہے۔ پیش بند ہو ج نے کی صورت میں' اہل دانش اور
حکم کو جیل ک ب سی بن تی آئی ہے۔ گوی ن لائ اولاد کی ضرورت ہی
کی ہے۔ گست خ' ن لائ اور ن اہل اولاد سے صبر بھلا کو' زندگی ک
اصول بن تی ہے۔ جنت اپنی اصل میں' رع ی رہی ہے۔ اسے اولاد ہونے
ک اعزاز' کبھی ح صل نہیں ہوپ ی ۔ زب نی کلامی ہی سہی' حکومت کو
م ں کہن غ ط نہیں رہ ۔ جیسی بھی ہو' م ں خیر م ں ہوتی ہے' اس ک
احترا لاز ہے۔ بب و م ں ک احترا ' فرم برداری اور خذمت گزاری میں
کمی کوت ہی' ج ن لے سکتی ہے۔
میرے سمیت' ہر کوئی' گھر گرہستن م ں کے گن گ ت ہے۔ گھر گرہستن
م ں کے بچے' محنت کے بل بوتے پر' ع می ادبی ی اور حوالوں سے
چیتھڑوں میں م بوس' ف قہ گرہست' بڑے آدمی تو بن سکتے ہیں'
خوش ح ل بہت ی بہت ہی بڑے آدمی' کبھی بن نہیں پ تے۔ یہ بڑے
آدمی' م شرے میں گڑبڑی کے س م ن پیدا کرتے ہیں۔ حکومتی امور
میں' تو کون میں خواہ مخواہ کے مصدا ' چھتر کھ تے ہیں ی ان
لوگوں کی خ طر' اپنے چھوٹے چھوٹے بچے ذبح کرواتے ہیں' جو بب و
م ں کی اولادوں کے س تھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بب و م ں کے بچے' کی
پ تے نہیں ہیں۔ شداد بھی تو پل ہی گی تھ ۔ بب و م ں کے بچے' راج
کرتے آئے ہیں .راج کرتے آئے ہیں' راج کرتے رہیں گے اور یہ
کرامت بلاشبہ بئےگر پیروں کی ہے۔ بب و م ں ک است دہ' ہمیشہ سے
چ ر دیواری سے ب ہر کے لیے رہ ہے۔ اسے ح صل کرنے کے لیے'
کسی کو زی دہ تردد نہیں کرن پڑت ۔
شکوک کی گرفت
یہی کوئی' پچ س س ٹھ پہ ے کی ب ت ہے۔ ہم رے قری کے ایک گھر
میں پیر ص ح آنے والے تھے۔ تی ری کے س س ہ میں' پورے گھر کو
وخت پڑا ہوا تھ ۔ میں بھی مدعو تھ ۔ پورے گھر کو جھنڈیوں سے
سج ی گی تھ ۔ جہ ں پیر ص ح نے بیٹھن تھ ' وہ ں بڑا ن یس قس ک
ق لین بچھ ہوا تھ ۔ پیر ص ح کے لیے گ ؤ تکیہ رکھ گی تھ ۔ س تھ
والے کمرے میں ان کے سونے ک انتظ کی گی تھ ۔
نو بجے کے قری ' پیر ص ح کی آمد ہوئی۔ مریدوں ک ایک جھنڈ ان
کے س تھ تھ ۔ ج انہوں نے کمرے میں قد رکھ ' س مرید ان کے
احترا میں کھڑے ہو گیے۔ بڑے جوش اور ن روں سے ان ک استقب ل
کی گی ۔ پیر ص ح پورے ج ہ و جلال سے اپنی نشت پر ج بیٹھے۔
سردیوں کے دن تھے۔ پیر ص ح کے لیے' ان لگ ریشمی لح ف لای
گی ' جو ش ید ان ہی کے است م ل کے لیے بنوای گی تھ ۔ دو آدمی ن کی
ٹ نگیں اور پ ؤں دابنے لگے۔ اس کے ب د' پیر ص ح نے چند لمحوں
کے لیے' فو ال طرت قس کی اتیں کیں۔ بلاسمجھے ہر کسی نے
پرجوش آواز میں سبح ن الله سبح ن الله کہ ۔ پیر ص ح نے سر جھک
لی اور یوں خ موش ہو گیے' جیسے مراقبے میں چ ے گیے ہوں۔ پھر
الله اکبر الله اکبر کہتے ہوئے سر اٹھ ی اور آنکھیں کھول دیں۔ اس کے
ب د' ایک ایک کرکے ان کے مرید' ان کے پ س ج کر سلا کے ب د'
نقدی نذر نی ز پیش کرنے کے ب د' اپنے مس ئل پیش کرنے لگے۔ وہ
تھوڑی دور بیٹھے' اپنے ت ویز لکھ ر کو' کوئی اش رہ دیتے اور س ئل
کو اس کے پ س بھیج دیتے۔
ہم ری دوسری گ ی ک رہ ئشی' احم پ نڈی بھی پیر ص ح کے حضور
ح ضر ہوا' نذر نی ز پیش کرنے کے ب د' قرض سے مکتی کے لیے دع
کی گزارش کی۔ پیر ص ح نے' حس روٹین اسے ت ویز لکھ ر کے
پ س بھیج دی ۔ میں نے سوچ ' اگر پیر ص ح ' احمے پ نڈی کی دی
ہوئی نذر نی ز' اپنی طرف سے میدان میں رکھ کر' بیٹھے لوگوں کو اس
کی مدد کے لیے کہتے تو اس ک قرضہ اتر سکت تھ ۔ ممکن ہے' ایک
آدمی ہی اسے قرضے سے نج ت دلا دیت ۔ نذر نی ز اکٹھ کرنے اور
ت ویزک ری ک س س ہ رات دیر گیے تک ج ری رہ .اس کے ب د دع ئے
خیر کی گئی اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چ ے گیے۔
م لک خ نہ ک منجھلا بیٹ ' میرا دوست تھ ۔ رات ک فی گزر گئی تھی۔ اس
کے اصرار پر' میں ان کے ہ ں ہی رک گی ۔ تھوڑی دیر ب د' پیر ص ح
بھی اٹھے اور خوا گ ہ میں تشریف لے گیے۔ میرا دوست مجھے پیر
ص ح کی کرام ت سن نے لگ ۔ یہ واق تی اور داست نی پریڈ کوئی سوا
دو بجے خت ہوا۔ ندی اٹھ اور ایک لح ف لے آی ۔ ہ اسی میں دبک کر
سو رہے۔
میں صبح اٹھنے ک ع دی ہوں۔ خی ل تھ ' آج ج د آنکھ کھل نہ پ ئے گی'
لیکن میں اپنے روٹین کے مط ب ' صبح سویرے ہی اٹھ گی اور اپنے
دوست کو بھی نم ز کے لیے اٹھ ی ۔ ہ پیر ص ح کے کمرے کے
س منے سے گزرے' پیر ص ح ب خراٹ استراحت فرم رہے تھے۔
مجھے حیرت ہوئی' پیر ص ح ہ سے پہ ے سوئے تھے' لیکن ابھی
تک ج گے نہیں تھے۔ ش ید نقدی ک نشہ ط ری تھ ۔ میں نے' پیر ص ح
کے کمرے کے دروازے پر' جو تقریب نی وا تھ ' ب احسن دستک دی۔
وہ بڑبڑا کر اٹھے اور مجھے کھ ج نے والی نظروں سے دیکھ ۔ پھر
ایسے بیٹھ گیے' جیسے مراقبے میں چ ے گیے ہوں۔ دو تین لمحوں
کے ب د لح ف منہ سے ہٹ ی اور سرد آہ بھرتے ہوئے فرم ی ' میرا ایک
مرید' جو سوات میں رہت ہے' چٹ ن سے گر پڑا تھ اور مجھے پک ر
رہ تھ ' میں اس کی مدد کے لیے وہ ں ج پہنچ تھ ۔ ان کی اس ی وہ
گوئی سے' ان کی اخلاقی سطح ک اندازہ ہؤ گی اور میں مسجد کی ج ن
بڑھ گی ۔
پیر ص ح کے ن شتے ک انتظ میرے سپرد تھ ۔ میں نے سوچ ' کیوں
ن حضرت ص ح ک امتح ن ہی لے لی ج ئے' چن چہ میں نے چ ولوں
سے بھری پ یٹ کی تہہ میں' مر کی دوٹ نگیں رکھ دیں۔ دہی م ی
چٹنی کی کٹوری س تھ میں مرغے ک شوربہ اور س دہ دو کمزور سی
:بوٹی ں بھی ڈال دیں۔ پیر ص ح میری دیکھنے لگے۔ پھر فرم ی
بھئی یہ کی ۔
مجھے غصہ آمیز دکھ ہوا۔ حضرت سوات تک کی خبر رکھتے ہیں'
لیکن اپنے س منے پڑی پ یٹ کی تہہ کی خبر نہیں رکھتے۔ جی میں آی '
پیر ص ح کی خو مرمت کروں' لیکن کچھ نہ کر سک ۔ اگر کچھ کرت '
تو میرا دوست اور اس کے گھر والے' مجھے اٹھنے بیھٹنے کے ق بل
نہ رہنے دیتے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ایسے ن ہنج ر لوگوں نے' حقیقی
شیوخ کو بھی شکوک کی گرفت میں دے دی ہے اور اس اع ی کردار
ش بے کو کم ئی ک ذری ہ بن کر رکھ دی ہے۔
1969
برائی ک لاروا
وہ س ل ہ س ل سے‘ انس نی لہو بہتے‘ دیکھ رہ تھ ۔ ک ر قض
کوئی ک زور لہو طراز‘ ق نون کے ہتھے چڑھ ج ت ‘ اسے قتل کرکے‘
لہو تو نہ بہ ی ج ت ‘ ہ ں البتہ‘ برسوں کورٹ کچہری میں‘ خو گھسیٹ
ج ت ۔ اس کے پچھ وں کے‘ جس کی ہڈی ں‘ ب قی رہ ج تیں‘ تو اس کی
گردن لمبی کر دی ج تی۔ یہ ں یہ ب ت‘ اولیت کے درجے پر ف ئز رہتی‘
کہ گردن اسی کی لمبی ہوتی‘ جس کے پچھ وں کے دانے بک ج تے۔
اس قتل و غ رت کے دھندے سے وابستہ‘ سرک ری س نڈ‘ گزر اوق ت کر
رہے تھے۔ یہ س ‘ ان کے لیے موسی کی قو پر‘ اترنے والے من
وس وی سے‘ کسی طرح ک نہ تھ ۔ مشقت ک کھ ی ‘ تو کی کھ ی ۔ مشقت
کے محدود لقمے‘ مص لحہ زدہ کھ نے کے‘ کبھی‘ ہ سر نہیں ہو
سکتے۔
وہ اگرچہ ان م ملات سے دور‘ الگ تھ گ‘ خوش ح ل اور
آسودہ زندگی گزار رہ تھ ۔ مرنے اور م رنے والے‘ اس سے مت نہ
تھے۔ اس ک ‘ ان س سے‘ الگ جہ ن تھ ۔ وہ یہ س ‘ سنت اور
اخب روں میں پڑھت رہت تھ ۔ قتل وغ رت اور افرات ری کی صورت ح ل‘
اسے ذہنی طور پر بڑا ڈسٹر کرتی۔ گرہ میں س کچھ ہوتے‘ وہ
بےاختی ر تھ اور اس ذیل میں‘ کچھ نہیں کر سکت تھ ۔ ح لات و م ملات
کی درستی‘ اقتدار میں آئے بغیر‘ ممکن نہ تھی۔ سی ست‘ شرف کی چیز
نہیں‘ لیکن شرف کی لسٹ میں‘ ن کے اندراج کے لیے‘ سی ست میں
آن ی ہون ضروری ہوت ہے۔
اس نے‘ سی ست میں آنے ک ‘ فیص ہ کر لی ۔ اس ش بے میں‘ ن
بن نے اور داؤ پیچ سیکھنے کے لیے‘ ن صرف اچھی خ صی رق صرف
کرن پڑی‘ ب کہ دو س ل بھی لگ ن پڑے۔ بلاشبہ‘ ا وہ پ ئے ک سی ست
دان بن چک تھ ۔ اس ک ڈیرہ چمک اٹھ تھ ۔ پ ئے کے سی ست دان‘ اس
کے ڈیرے پر‘ آنے لگے تھے۔ لوگوں کے ک نک وانے ک ‘ اسے ڈھنگ
آ گی تھ ۔ مست مل طور سے ہٹ کر‘ وہ لوگوں کے‘ بلام وضہ اور
خدمت خ سمجھ کر‘ ک کروات ۔ اس ک ک ‘ کوئی روکت بھی نہ تھ ‘
کیوں کہ اس کی پہنچ کھ نےداروں تک ہو گئی تھی۔ اگر کوئی آئیں
ب ئیں ش ئیں کرت ‘ تو وہ کھ نےداروں سے آرڈر لے آت ‘ س تھ میں کرارا
س ٹی ی فون بھی کروا دیت ۔ نوکری‘ ہر کسی کو عزیز ہوتی ہے۔ کوئی
انک ر کرت ‘ تو کیسے کرت ۔
ا وہ اس ق بل ہو گی تھ ‘ کہ پرانے سی ست دانوں کو بھی‘
کھڑے کھڑے بیچ ج ت ۔ ج ہ میں حصہ‘ اس ک ج ئز ح بن گی تھ ۔ ج ئز
کو کون م نت ہے۔ یہ ں چھین لینے والے ہی‘ مستح سمجھے ج تے
ہیں۔ چھین لین ‘ اسے پسند نہ تھ ‘ لیکن یہ سی سی اصول اور ض بطہ
ٹھہرا تھ اس لیے‘ اسے بھی یہ اختی ر کرن پڑا۔ تنویر وڑایچ سے‘
وزارت ک چھین لین ‘ مشکل نہ تھ ۔ کی کرت ‘ اپنے سے ک زور ہی‘
پھٹے چڑھ سکت تھ ۔ اقتدار کی حصولی ک ذری ہ‘ خون ریزی ی س زش
ہی رہے ہیں۔ وزارت ش ہ کی دائیں آنکھ پر آنے سے‘ ہی مل سکتی
تھی۔ آنکھ کی ‘ وہ تو‘ ش ہ کے م تھے پر تھ ۔ اسی بن پر‘ اس نے
تنویر وڑایچ کو پچھ ڑ کر‘ وزارت پر قبضہ جم لی ۔ یہ کوئی م مولی
ک می بی نہ تھی۔
نشہ‘ ہر مذہ میں حرا ٹھہرای گی ہے۔ نشے میں آدمی‘ اپنے
حواس میں نہیں رہت ۔ اقتدار ک نشہ‘ تم نشوں پر‘ بھ ری ہوت ہے۔ اس
ذیل میں‘ احب اور رشتے دار‘ کہنے سننے کی حد تک ہوتے ہیں۔ اس
کی حصولی ی برقراری کے لیے‘ ب پ بھ ئی یہ ں تک کہ اولاد کو بھی‘
لح ظ کے کھ تے میں نہیں رکھت ۔ جہ ں اور جس پر بھی‘ م مولی س
شک گزرت ہے‘ اسے اور اس کے قریبیوں‘ اگ ے جہ ں ک رستہ دکھ ت
ہے۔ یہ ش ہی کی حصولی کے لیے‘ اسے تنویر وڑایچ کوہی نہیں‘ ش ہ
مظ ر ع ل کو بھی‘ پچھ ڑن تھ ۔ ش ہ مظ ر ع ل ک ن ہی‘ دہشت کی
علامت تھ ۔ اس ک ن سن کر‘ بڑوں بڑوں ک پتہ پ نی ہو ج ت تھ ۔ اسے
ط قت سے‘ پچھ ڑن ممکن ہی نہ تھ ۔ خبرگیری ک ‘ ایس ج ل بچھ ہوا
تھ ‘ کہ م مولی سے م مولی ب ت‘ اس کے ک نوں تک پہنچ ج تی‘ اور
پھر وہ‘ س زشی اور اس کے س تھیوں‘ کی لاشوں کو‘ چوراہے میں
لٹک دیت ۔ یہ لاشیں‘ کووں اور چی وں ک ‘ بھوجن بنتیں۔ مٹی‘ ان کے
نصی میں نہ ہوتی۔ اس عبرت ن کی کو دیکھ کر‘ مخ و ف کی بھی
توبہ توبہ کر اٹھتی ہوگی۔
وزارت سے‘ اس کے ذہن میں‘ پنپنے والا منصوبہ‘ تکمیل کی منزل
چھو نہیں سکت تھ ۔ وہ اس خوش فہمی میں بھی نہ تھ ‘ کہ ش ہ مظ ر
ع ل ک اعتم د ح صل کر چک ہے۔ ب اعتم د اہل ک ر بھی‘ ب طنی سطع پر‘
ش ہ مظ ر ع ل کے‘ شک کے گردا میں رہتے تھے۔ اعتم د نہ کرن ‘
ص ح اقتدار کی سی سی اور ن سی تی مجبوری ہوتی ہے۔ اعتم د کی
صورت میں ہی‘ اقتدار ہ تھ سے ج ت ہے۔ اعتم د میں لا کر ہی ‘
حکومت گرائی ج سکتی ہے۔ جو بھی سہی‘ وہ ہر ح لت میں‘ حکومت
پر‘ قبضہ کرن چ ہت تھ ۔ ایک طرف وہ‘ ش ہ مظ ر ع ل ک اعتم د‘
ح صل کرنے کی کوشش میں تھ ‘ تو دوسری طرف‘اس کی ش ہ مظ ر
ع ل کی م مولی سے م مولی‘ غ طی پر نظر تھی۔
عموم ‘ کھوٹے سکوں کو‘ بے ک ر اور لای نی سمجھ ج ت ۔ ب ض
اوق ت‘ یہ وہ ک دیکھ ج تے ہیں‘ جو کھرے سکوں ک ‘ نصی نہیں
بنتے۔ ش ہ ک اک وت بیٹ ‘ ش ہ زادہ منصور ع ل ‘ ذہنی طور پر م ذور
تھ ‘ ہ تھی سے گرا‘ قری تھ ‘ کہ ہ تھی کے پ ؤں ت ے آ ج ت ۔ ش ہ
مظ ر ع ل ‘ ذہنی طور پر‘ اس ن گہ نی صورت ح ل کے لیے‘ تی ر نہ تھ ۔
بیٹے کو بچ نے کے لیے‘ آگے بڑھ ۔ یہ ہی موقع تھ ‘ جس کی ت ڑ میں‘
اس نے چ ر س ل انتظ ر کے نرک میں‘ گزارے۔ وہ بج ی کی سی تیز
رفت ری سے‘ آگے بڑھ ‘ کہ کوئی ج ن بھی نہ سک ‘ کہ اس نے ش ہ
مظ ر ع ل کو ہ تھی کے پ ؤں میں ڈال دی تھ ۔ دیکھنے والوں کو‘ یہ
لگ ‘ کہ منصور کی ن دانی‘ ی پھر ج ن بچ نے کی کوشش میں‘ ش ہ
مظ ر ع ل کو دھک لگ گی تھ ۔
م کہ ع لیہ کو‘ جہ ں اپنے سرت ج کے‘ مرنے ک دکھ ہوا‘ تو وہ ں
بیٹے کے بچ ج نے‘ کی خوشی بھی ہوئی۔ ط ہر کی بہ دری اور جواں
مردی کے قصے‘ ہر زب ن پر ج ری ہو گیے۔ م کہ تو‘ اس کی گرویدہ
ہو گئی تھی۔ ب ظ ہر ش ہی منصور ع ل کے ہ تھ آئی‘ لیکن درپردہ ‘
ط ہر جو ا ‘ ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی کے ن سے م روف تھ ‘ ک
حک چ ت تھ ۔ م کہ اس کی ک رگزاری اور ت بع فرم نی کی‘ دل و ج ن
سے‘ ق ئل تھی۔ اگلا مرح ہ‘ بس نک ح ک ہی رہ گی تھ ۔
ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی کو‘ صرف س ت م ہ‘ محنت کرن
پڑی۔ م کہ اس کی آغوش میں آ گئی۔ گوشت پوست کی انس ن‘ اور ان ج
خور ہونے کے ب عث‘ اتن عرصہ ہی برداشت کی سکت تھ ۔ کچھ لوگوں
کو‘ یہ م ن‘ کھٹک لیکن انہیں لگ دینے والے بھی موجود تھے۔ ا
ش ہ منصور ع ل اور م کہ ع لیہ کی‘ ش ہ ہند جہ ں گیر کی سی حیثیت
رہ گئی تھی۔ اچھ برا‘ ش ہ ہند جہ ں گیر کی کھتونی پر‘ چڑھ رہ تھ ۔
ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی ک ‘ ہر کی ش ہ منصور ع ل کے کھ تے لگ
رہ تھ ۔ نورجہ نی ک لطف اپن ہی ہوت ہے۔
ش ہ منصور ع ل نے‘ تم مذاہ کے‘ لیڈروں ک اجلاس بلای ۔ ان
کے لیے‘ سو طرح کے‘ پکوان چڑھ دیے گیے‘ خصوصی اور آرا دہ‘
نشتوں ک بندوبست کی ۔ کھ نوں کی خوش بو نے‘ اس نشت گ ہ پر‘
آسیبی اور خ دی‘ کی یت ط ری کر دی تھی۔ آرا دہ نشتوں نے‘ ب ہمی
اختلاف ت کو‘ اپنے حص ر میں لے لی تھ ۔ اگر کسی کو‘ کچھ ی د تھ ‘ تو
وہ ش ہ منصور ع ل کی‘ دری دلی‘ ب ند پ ی فراست‘ اور اع ی ذو ۔ ہر
کوئی پکوان کے فوری طور پر‘ چنے ج نے ک ‘ منتظر تھ ۔ وقت گزرنے
کےس تھ س تھ بے قراری میں شدت آ رہی تھی۔
س اس انتظ ر میں تھے‘ کہ ش ہ آئے‘ اور اپن مختصر مختصر
ل ظوں میں‘ خط کرئے‘ اور پھر وہ‘ س ری خوش بو لپیٹ لیں۔ ہر
کوئی ب ند فہمی اور اع ی ت ی رکھنے ک ‘ مدعی تھ ۔ اسی بن پر س ری
خوش بو کو‘ اپن استحق سمجھت تھ ۔
انتظ ر کی گھڑی ں‘ خت ہو گیئں۔ ش ہ منصور ع ل وارد ہو گی ۔ ش ہ
منصور ع ل زندہ ب د کے ن روں نے‘ پوری عم رت کو ہلا کر رکھ دی ۔
ہر کوئی‘ اپنی وف داری‘ کی یقین دہ نی میں سبقت لے ج ن چ ہت تھ ۔
ش ہ منصور ع ل ‘ س منے چوترے پر بیٹھ ‘ یہ س دیکھ رہ تھ ۔ دل ہی
دل میں‘ اپنی م ں اور ط ہر زم نی کے‘ گن گ رہ تھ ۔ اہل ک ر خ ص
نے‘ س سے مودب نہ التم س کی کہ خ موش ہو ج ئیں‘ ا ش ہ منصور
ع ل ‘ اپن افت حی خطبہ دیں گے۔ ش ہ منصور ع ل نے‘ طوطے کی طرح
رٹ ہوا خط شروع کی ۔ ابتدا ہی میں‘ واہ واہ کے آوازے‘ ک نوں سے‘
ٹکران شروع ہو گیے۔ خط کو‘ ابھی پ ن س ت منٹ ہی ہوئے ہوں
گے‘ کہ عم رت کی چھت ایک دھم کے کے س تھ‘ نیچے آ گئی۔ ب ہر
شور مچ گی ۔ لاشوں کو نک لنے ک ‘ ک شروع ہو گی ۔ ش ہ منصور ع ل
اور اس کے خصوصی اہل ک ر‘ جہ ں تھے‘ وہ ں م بے ک انب ر س ‘ لگ
ہوا تھ لیکن وہ ں سے‘ چھت صرف کریک ہوئی تھی۔ ان تینوں کو‘
م مولی خراشیں آئی تھیں۔ اسے ش ہ کی‘ درویشی قرار دے دی گی ۔ ان
تینوں ک بچ ج ن ‘ کرامت سے کسی طرح ک ب ت نہ تھ ۔
پک ہوا کھ ن ‘ ش ہ منصور ع ل کی ج ن ک صدقہ کہہ کر‘ گرب میں
تقسی کر دی گی ۔ گرب کو کھ نے کو‘ وہ کچھ ملا‘ جس ک وہ خوا میں
بھی‘ تصور نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو مذہبی اخلاقی ت سے زی دہ‘
روٹی کی ضرورت تھی۔ ہر دل سے‘ یہ دع نکل رہی تھی‘ کہ ی الله‘
اس قس کے ح دثے‘ ہر روز ہوتے رہیں‘ اور انہیں پیٹ بھر‘ م ت رہے۔
مزدور کو‘ مزدوری ک موقع میسر آ گی تھ ۔ م بہ ہٹ نے‘ جگہ ص ف
کرنے‘ لاشوں کو نک لنے پر‘ پ نچ دن لگ گیے۔ س کو ن سہی‘ کچھ کو
تو‘ پ نچ دن کی مزدوری میسر آ گئی تھی۔ چ و ان کے‘ گھر ک چولہ تو
گر ہوا۔
یہ کوئی‘ م مولی ح دثہ نہ تھ ‘ جو چپ رہ ج ت ۔ ٹھیکے دار سے
لے کر‘ اع ی افسروں کو بھی‘ انکوائری میں ش مل کر لی گی ۔ م کہ
ع لیہ اور ش ہ منصور ع ل ‘ سخت غض میں تھے۔ ش ہ منصور ع ل
بھی‘ ج ن سے ج سکتے تھے۔ یہ نقص ن‘ یقین ن ق بل تلافی ہوت ۔ م ک
بھر میں‘ ش ہ منصور ع ل کے زندہ بچ رہنے کے‘ بڑی دھو سے
جشن من ئے گیے۔ ش ہ منصور ع ل نے‘ تم سرک ری عم رتوں‘ کے
م ئنے ک حک دے دی ۔ دو تہ ئی عم رتوں کو‘ خطرن ک قرار دے کر‘
ت میر سے جڑے افسروں کو گرفت میں لے لی گی ۔۔
لوگ‘ افسر ش ہی سے پہ ے ہی نک نک تھے۔ چ و‘ چند اک تو
گرفت میں آئے۔ ب لا و زیریں افسروں کے خلاف‘ پہ ے ہی ک فی
درخواستیں پڑی تھیں۔ م ک میں اعلان کر دی گی ‘ کہ اگر کسی کو‘
کسی افسر ی م تحت اہل ک ر سے‘ شک یت ہو‘ تو بلاخوف درخواست
گزارے۔ درخواستوں کے انب ر لگ گیے۔ ش ہ منصور ع ل نے‘
خصوصی مشیران ک اجلاس بلای ۔ س نے‘ درخواستوں ک انب ر دیکھ ۔
کس کس درخواست کو دیکھ ج ئے۔ اگر یہ ک شروع کر دی گی ‘ تو
کوئی اور ک ‘ نہ ہو سکے گ ۔ ب ہمی مشورے سے‘ یہ ہی ٹھہرا‘ کہ
تم ب ختی ر افسران اور اہل ک روں کو‘ نوکری سے ف ر کر دی ج ئے۔
ملازمت سے پہ ے‘ کی ج ئیداد کے سوا‘ ب قی س ‘ ب ح سرک ر ضبط
کر لی ج ئے۔ ان کی جگہ‘ نئے لوگ‘ بھرتی کر لیے ج ئیں۔ سنگین
جرائ میں م وث افسر اور اہل ک ر‘ جیل بھجوا دیے ج ئیں۔
م ک میں‘ صن تیں ق ئ کرنے ک اعلان کی گی ۔ م ک میں بہت
سے‘ ج گیردار تھے۔ جن کے پ س ک فی سے زی دہ‘ اراضی تھی۔ انہیں
غداری کے ص ہ میں‘ ج گیریں م ی تھیں۔ یہ ہی طبقہ‘ م کی سی ست ک
مہرہ چلا آت تھ ۔ ش ہ منصور ع ل نے‘ ان ک ایوان خ ص میں‘ اجلاس
بلای ۔ ان کی خدم ت کی‘ بڑھ چزھ کر ت ریف کی۔ ان میں سے ہر کسی
کو‘ خط ب ت اور حسن ک ر گزاری کے‘ تمغہ دی گی ۔ پھر کی تھ ‘ ش ہ
منصور ع ل کی‘ جئے جئے ک ر کے ن رے گونج اٹھے۔ کھ نے کے
دوران‘ صن توں کے لیے‘ گرانٹس ک اعلان کی گی ۔ س ش ہ منصور
کی‘ فراست اور دری دلی پر‘ عش عش کر اٹھے۔ دو ایک نے دبے
ل ظوں میں اس منصوبے کی‘ مخ ل ت کی‘ لیکن سکوں کی چمک نے‘
ان کی بین ئی‘ زائل کر دی‘ سوچ کے درواز بھی بند کر دیے۔
منصوبے کی تکمیل میں‘ چ ر س ل لگ گیے۔ م ک میں‘ صن توں
ک ج ل بچھ گی ۔ لوگوں پر‘ مزدوری کے‘ بےشم ر مواقع پیدا ہو گیے۔
جونک‘ اپنی فطرت میں‘ جونک ہی رہتی ہے۔ مزدور ک ‘ بڑی بےدردی
سے‘ استحص ل ہونے لگ ۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ م م ہ کنڑول
سے ب ہر ہوت ج رہ تھ ۔ افرات ری اور اس م ک گیر‘ گڑبڑی کے سب ‘
کئی ج نیں چ ی گئیں۔ اس بغ وت کی سی‘ کی یت کو روکنے کی‘ جبری
کوشش نہ کی گئی تھی۔ ش ہ منصور ع ل نے‘ مشیران خ ص ک اجلاس
بلا لی ۔ مخت ف نوعیت کے‘ مشورے س منے آئے۔ ت ہ ‘ اس مشورے کو
سراہ گی ‘ کہ جم ہ صن تیں‘ ش ہی طویل میں‘ لے لی ج ئیں۔ سرم یہ اور
زمین ک ‘ اصل م لک ش ہ ہی ہوت ہے۔ اگ ے لمحے صن توں کو‘ ش ہی
طویل میں لیے ج نے ک بی ن‘ ج ری کر دی گی ۔ س تھ میں‘ نوا
ص حب ن کی‘ میٹنگ ط کر لی گئی۔
نوا ص حب ن‘ کی میٹنگ میں‘ گرم گر بحث ہوئی۔ صورت ح ل
کی سنگینی کو‘ زیر بحث لای گی ۔ آخر یہ بغ وت‘ کہ ں سے‘ شروع
ہوئی اور کیوں ہوئی۔ الزا تراشیوں ک میدان‘ گر ہو گی ۔ ش ہ منصور
ع ل یہ کہہ کر‘ تخ یہ میں چلا گی ‘ کہ گڑبڑی کس کی صن ت سے‘
شروع ہوئی‘ جس کے نتیجہ میں‘ بغ وت ک آغ ز ہوا‘ اور کئی قیمتی
ج نیں ض ئع ہو گئیں۔ یہ محض‘ ایک ڈائیلاگ تھ ‘ ورنہ مقتدرہ ط قت
کے لیے‘ رع ی کی حیثیت‘ کیڑوں مکوڑوں سے بھی‘ ک ہوتی ہے۔
الزا تراشی ک ‘ پٹ را کھل گی ‘ جو دیکھتے ہی دیکھتے‘ میدان جنگ
میں‘ بدل گی ۔ قتل وغ رت ک میدان‘ چوالیس منٹ گر رہ ۔ دو چ ر کے
سوا‘ کوئی زندہ نہ بچ تھ ۔
ش ہ منصور ع ل نے‘ ش ہی بی ن میں‘ گہرے دکھ اور صدمے ک
اعلامیہ ج ری کی ۔ س تھ میں‘ دو دن ک ‘ سوگ من نے ک ‘ حک ج ری کر
دی ۔ جو دو چ ر‘ زندہ بچ گیے تھے‘ وہ بھی شدید زخمی تھے۔ ضروری
م لجے کے ب د‘ ان ک م م ہ‘ مرکزی ق ضی کے‘ سپرد کر دی گی ۔
ص ف ظ ہر ہے‘ وہ ق تل تھے۔ ق تل ک ‘ تختہءدار پر ج ن ہی انص ف کے
تق ضوں کو پورا کرن ہے۔
انس نی تقسی کے‘ اہ ترین ذمہ دار لوگ‘ عبرت کو پنہچ چکے
تھے۔ ط ہر ک خی ل تھ ‘ ا لوگ‘ ایک دوسرے کے قری ‘ اور پھر اور
قری ہو ج ئیں گے۔ دو م ہ کے ب د‘ اس نے‘ سروے کروای ۔ م م ہ
پہ ے سے‘ رائی بھر مخت ف نہ تھ ۔ وہ سوچ میں پڑ گی ‘ کہ تبدی ی
کیوں نہیں آئی۔ جوں جوں غور کرت گی ‘ الجھ ؤ بڑھت ہی گی ۔ اچ نک
اسے خی ل گزرا‘ روزوں میں‘ شیط ن کے قید کر دیے ج نے کی‘
روایت موجود ہے۔ بدقسمتی دیکھیے‘ رمض ن میں ہی‘ س سے زی دہ
خرابی سر اٹھ تی ہے۔ روپیے کی چیز کے‘ پ نچ روپے وصولے ج تے
ہیں۔ اس نے سوچ ‘ شیط ن کے قید ہو ج نے کے ب د‘ اس کے انڈے
بچے‘ شیط ن سے بڑھ کر‘ اندھیر مچ تے ہیں۔ اسے اپنے منصوبے
کے‘ ن ک ہو ج نے ک اعتراف کرن پڑا۔ وہ اپنی ذات سے‘ شرمندہ تھ ۔
اس منصوبے کی ک ی بی کے لیے‘ برائی ک لاروا‘ پہ ے ت ف ہون
چ ہیے۔ لاروا خت ہو ج ئے‘ تو ہی آت کل مح وظ ہو سکت ہے۔
بہت اع ی اور فکر انگیز تحریر ہے مقصود ص ح میری ج ن سے
ایسے اہ موضوع پر ق اٹھ نے پر ڈھیروں مب رکب د۔ یقین ً برائی کو
خت کرن اتن سیدھ عمل نہیں جیس کچھ لوگوں کو غ ط فہمی ہوتی ہے۔
والسلا
ڈاکٹر سہیل م ک
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
10248.0
چوتھے کی چوتھی
ہم رے گھر سے خ لہ ک گھر کوئی بیس پچیس منٹ پیدل ف ص ے ک
رستہ تھ ۔ دونوں گھروں کے مراس بھی خوش گوار تھے۔ ہ ایک
دوسرے کے ہ ں بلا کسی ٹوک آتے ج تے رہتے تھے۔
دونوں گھروں ک م حول ع دات رویے طور و اطوار م شی ح لات ایک
جیسے تھے۔ مثلا میری خ لہ‘ خ لو کی عزت نہیں کرتی تھی ہم ری
ام ں بھی اب کی دن میں دو چ ر ب ر بےعزتی ضرور کرتی تھی۔ ان کی
م شی ح لت درمی نی تھی ہم را گھرانہ بھی کھ ت پیت نہ تھ ۔ وہ تین
بہنیں اور تین بھ ئی تھے ج کہ ت دادی اعتب ر سے ہ بھی اتنے ہی
تھے۔ جی ک گھر میں چوتھ نمبر تھ میرا بھی چوتھ نمبر تھ ۔ جی کے
اب پرلے درجے کے جھوٹے تھے ج کہ سچ میرے اب کے بھی قری
سے نہ گزرا تھ ۔
خ لہ دیوار کے اس پ ر کی ہمس ئی سے دو دو گھنٹے کھڑی ہو کر
ب تیں کرتی تھی۔ میری م ں بھی یہ ہی طور رکھتی تھی۔ گھر میں آئی
ہمس ئی کے س تھ گھنٹوں ب تیں کر لینے کے ب د بھی ام ں دروازے پر آ
کر اس سے دیر تک مک لمہ کرتی خ لہ بھی اس ع دت سے دور نہ
تھی۔ کہیں ج رہے ہوتے رستہ میں اگر کوئی مل ج تی ام ں اسے گ ے
م تی جیسے صدیوں ب د ملاق ت ہوئی ہو اور پھر وہ ں کھڑے ہو کر دیر
تک ان کی بیت ب زی ہوتی اور ہ س ان کی ب توں کے اختت ک انتظ ر
کرتے۔ خ لہ بھی اس م نس ری کے طور سے بہرہ ور تھی۔
بج ی کے ج نے آنے کے اوق ت ایک سے تھے۔ بج ی خرا ہو ج تی تو
بلاوصولی نہ ادھر نہ ادھر بج ی والے آتے تھے۔
سردیوں میں دونوں طرف گیس ک کرفیو لگ ج ت ۔ عمومی اطوار ایک
طرف میرے اور جی کے شخصی اطوار بھی ایک سے تھے مثلا بھوک
وہ برداشت نہ کرتی تھی بھوک کے م م ہ میں میں بھی بڑا ک زور
واقع ہوا تھ ۔ لگ پیس اسے خوش آتے تھے لگ پیس میری بھی ک
زوری تھی۔ کسی کی جی سے کھ ن ہمیں اچھ لگت تھ ۔ جی سیر
سپ ٹے کی بڑی شوقین تھی پھرن ٹرن مجھے بھی اچھ لگت تھ ۔ جی
بڑی ک چور تھی اس م م ے میں میں اس سے پیچھے نہ تھ ۔
ع دات اطوار ایک سے ہونے کی وجہ سے میرا خی ل تھ کہ ہم ری
جوڑی خو جمے گی۔ خ لہ منتیں ترلے کروانے کی ع دی تھی اسی
لیے اڑی ہوئی تھی۔ میری م ں بھی اس کی بری بہن تھی۔ ہر دوسرے
ان کے ہ ں چ ی ج تی۔ خو بول بلارا کرکے آتی اور ہر ب ر دوب رہ سے
نہ آنے ک کہہ کر چ ی آتی۔ آخر خ لہ کو ہتھی ر ڈالن پڑے اور ہم ری
ش دی ہو ہی گئی۔
اتن قری ہو کر بھی میں جی کے ب طن کو نہ پڑھ سک ‘ ش دی کے ب د
جی ‘ جی وہ نہ رہی۔ حد درجہ کی ہٹ دھر تھی۔ میری م ں ک بول
بلارے میں چ ر سو ڈنک بجت تھ لیکن جی کے س منے بھیڑ ہو گئی۔
کسکتی بھی نہ تھی۔ ہمہ وقت کی قربت کے ب د م و پڑا کہ ہم را ظ ہر
ایک س کنورپن میں ضرور تھ لیکن ش دی کے ب د ب طن تو ب طن‘
ظ ہر میں بھی زمین آسم ن ک فر تھ ۔
وہ کھ نے‘ سونے اور لڑنے میں اپنی مث ل آپ تھی۔ ہر اچھی چیز م ں
کے گھر بھجوا دیتی اور پھر ہے ن کی گردان پڑھن شروع کر دیتی۔ ہ
میں سے کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پہ ی ک تذکرہ بھی کر پ ت ۔ وہ
ہی چیز دوب رہ سے لان پڑتی۔
جنسی م ملات میں بھی کچھ ک نہ تھی۔ اسے تو لوہے ک مرد چ ہیے
تھ ۔ ہم را ظ ہر ب طن تو ایک ث بت نہ ہوا ہ ں البتہ بچوں کے حوالہ سے
ہ اپنی م ؤں پر ضرور گئے۔ ہم رے بھی گنتی میں چھے بچے ہوئے۔
مم ث ت میں ایک ان ہونی ضرور ہوئی۔ ہم را چوتھ اپنی خ لہ کی بیٹی
ک دیوانہ ہو گی ۔ میرے سمجھ نے پر بھی نہ سمجھ ۔ وہ مجھے کھپت
خی ل کرت تھ ۔ اس کی م ں نے میری م ں ک س کردار ادا کرن شروع کر
دی ۔ آخر ان کی ش دی ہو گئی۔ ہ ں البتہ جی اور چوتھے کی چوتھی میں
یہ فر ب قی رہ کہ وہ دس دن ب د ہی ہ سے الگ ہو گئے۔ جی اپنی
خ لہ کی بےعزتی کرنے کے س تھ س تھ اس ک خی ل بھی رکھتی تھی۔
زندگی بھر س س سسر کے ہ ں ہی رہی۔ یہ تو آدھ مہینہ بھی ہم رے
س تھ نہ رہے۔
اہتم
بھیڑیے کے بہ نے کی محض ایک مثل ہے ورنہ اسے تو کسی بہ نے
کی ضرورت ہی نہیں۔ ط قت کسی جواز ی بہ نے کی محت ج نہیں ہوتی۔
وہ ج اور جسے چ ہے دبوچ لے اور چیر پھ ڑ ڈالے۔ ت ریخ میں ان
گنت مث لیں موجود ہیں۔ مقتدرہ طبقے ک زوروں کو دبوچتے اور
گھسیٹتے آئے ہیں۔ اسی طرح ط قتور ب دش ہ ک زور ب دش ہوں کی عزت
و آبرو کو اپنے گوبر آلود پ ؤں ت ے روندتے آئے ہیں۔ یہ ہی نہیں اس
علاقے کی پہ ے سے مظ و عوا ک بھی قیمہ بن تے آئے ہئں۔
بدقسمتی دیکھیے مورکھ ہی نہیں آتے وقتوں کے چھتر گرفتہ لوگ
بھی جئے جئے ک ر کرتے آئے ہیں۔ کسی کو توفی اور جرآت نہیں
ہوئی کہ وہ ان کے اص ی چہرے عوا کو دیکھ پ ئے کیوں کہ بےخبر
عوا کی بھی جذب تی وابستگی ان بھیڑیوں سے وابستہ رہی ہے۔
مجھے یہ ب ت سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر زکرا نے اس روز بہ نہ
تلاش کر میری عزت افزائی ک اہتم کیوں کی ۔ بہ نہ تراشے کی
ضرورت ہی کی تھی۔ میں تو پہ ے ہی بھ بھیڑ سے بھی ک درجے پر
ف ئز ہوں۔
ہوا یہ کہ میں رات گیے پیش کے لیے اٹھ ۔ وہ سو رہی تھی ی سونے
ک ن ٹک کر رہی تھی۔ واپس آ کر چ رپ ئی پر لیٹ گی ۔ اسی لمحے وہ
اٹھی اور گرجنے برسنے لگی۔ میں حیران ہو گی کہ آدھی رات کو مجھ
سے ایس کون س جر سرزد ہو گی ہے جو یہ بھونکن شروع ہو گئی
ہے۔ میں نے پوچھ
آخر مجھ سے کون سی غ طی ہو گئی ہے جو یہ قتل و غ رت ک ب زار
گر کر دی گی ہے۔
س کچھ کر گزر کے ب د بھی پوچھتے ہو کہ کی غ طی ہوئی ہے۔
میں نے دوب رہ سے عرض کی کہ بت دینے میں حرج ہی کی ہے۔
میرا سرہ نہ نیچے گرا پڑا تھ ت نے اٹھ ی نہیں۔ اس پر پ ؤں رکھ کر
گزر گئے ہو۔
اس میں آخر لڑنے والی ایسی کون سی ب ت ہے۔
یہ کوئی ب ت ہی نہیں۔ کتنے م صو بن رہے ہو۔
ج میں گی سرہ نہ گرا نہیں تھ ج واپس آی تو گرا پڑا تھ ۔ میں نیند
کے غ بے میں تھ ۔ چ رپ ئی پر لیٹ گی ۔ یہ ب ت غ ط ہے کہ میں اس پر
پ ؤں رکھ کر گزرا ہوں۔ حیرت کی ب ت ہے کہ یہ تو سوئی ہوئی تھی
اسے کیسے پت چل گی کہ میں پ ؤں دے کر گزرا ہوں گوی ج گ رہی
تھی اور ج نتی تھی کہ آدھی نیند میں سرہ نہ نہیں اٹھ ؤں گ ۔
ب قی رات اسی کل ک ی ن میں گزر گئی‘ صبح ہوئی۔ اٹھتے ہی کہنے
لگی‘ تمہیں میری صحت ک ذرا بھر احس س نہیں۔
پوچھ صحت کو کی ہو گی ہے۔
کہنے لگی‘ جو ت نے پیٹھی والے ن ن لا کر دیے تھے‘ اس ک ایک
ٹکرا گ ے میں پھنس گی ہے۔
میں کوئی نبی نہیں‘ جو مجھ پر وحی اتر آتی کہ ایک م ہ ب د‘ ن ن ک
ٹکڑا گ ے میں پھنس ج ئے گ ‘ جو یہ آخری فیص ہ کرنے پر اتر آئے
گی۔ ن ن کے ٹکڑے کے گ ے میں پھنسنے میں‘ میرا کوئی عمل دخل
ہی نہ تھ ۔ خیر مجھے ٹکڑا نک وائی ادا کرن پڑی۔ ب ہر سے واپسی پر‘
چ ر پر لیٹ گئی‘ جیسے بڑا اپریشن کروا کر آئی ہو۔
بیم ر کی دیکھ بھ ل اور خ طر مدارت ذمے آ پڑی۔ میں اس خوف سے
لرزت ہی رہ کہ اگر کوت ہی ہو گئی تو اس پس دہ یز امریکہ کے
ک سڑوں کی زد میں آ ج ؤں گ ۔
اور تو اور
م سٹر خدا بخش' از خود رحم نی ص ح کے ہ ں نہیں گیے تھے' ب کہ
ط کیے گیے تھے۔ س دہ اور غری آدمی تھے۔ بڑے آدمیوں کے ہ ں
ج نے ک شو ' شروع سے ہی نہیں پ لا تھ ۔ ٹ ٹ سکول کے م سٹر
تھے' اس لیے ان ک غری لوگوں سے ہی واسطہ تھ ۔ وہ امیر لوگوں
میں سے نہیں تھے' اس لیے' میسر خوش لب سی کے س تھ گیے تھے۔
ان کی یہ خود فری خوش لب سی' حقیقی م نویت سے محرو تھی۔ ت ہ
وہ اپنے طور پر' اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ م زز شخص دکھ
رہے ہیں۔
وہ س ل رکش لے کر گیے تھے۔ شہر کے چھوٹے بڑے' ان کی عزت
کرتے تھے۔ ان ک خی ل تھ کہ ان ک ن سنتے ہی' چوکی دار احترا
سے اٹھ کر کھڑا ہو ج ئے گ اور بھ گ بھ گ ' رحم نی ص ح کو اطلاح
کرنے ج ئے گ ۔ آدمی سوچت کچھ ہے اور ہوت کچھ ہے۔ گیٹ پر ایک
نہیں تین' صحت مند پچر مونچھوں والے' جدید اس حہ کے س تھ
تشریف فرم ' خوش گپیوں میں مشغول تھے۔
م سٹر ص ح سوچنے لگے' رحم نی ص ح اتنے ہی اہ ہیں' جو چ ر
مرلے کے گیٹ پر اس حہ بردار بیٹھ رکھے ہیں۔ یہ خ ی ہ عمر بن
عبدال زیزسے بھی بڑھ کر ہیں۔ ان کے دروازے پر تو کوئی بھی نہیں
ہوت تھ ۔ وہ ح ک تھے۔ کی ان کی ج ن' ان کی ج ن سے زی دہ قیمتی
ہے۔ رحم نی ص ح ح ک نہیں' ح ک کے ادنی کن قری تھے۔ یہ تو
ادنی کن قری کے ٹھ ٹھ ہیں' اع ی کن قری اور ح ک کے کی ہوں گے.
یہ سوچتے ہوئے انہوں نے رکش والے کو پیسے ادا کیے اور رحم نی
ص ح کے' بنگ ے کے گیٹ کی ج ن بڑھ گیے۔ انہوں نے گیٹ
برداروں سے اپن ت رف کرای ۔ پہ ے تو انہوں نے م سٹر ص ح کو
سر سے پ ؤں تک' بڑے غور سے دیکھ ۔ م سٹر خدا بخش ....پھر زور
دار قہقہ لگ ی ۔ ت رف تو یوں کروا رہے ہو جیسے کوئی مشیر وزیر ہو۔
ان کے قہقے اور انداز نے' انہیں احس س کہتری کی دلدل میں دھکیل
دی ۔ انہوں نے سوچ ' م دی دنی میں' ع نہیں سے بھی' کمتر ہے۔
اس قہقہ ب ری کے دوران ہی' مسز رحم نی تقریبنی لب س میں' تشریف
لے آئیں۔ وہ عورت ک ' بھوسے کی بوری زی دہ لگ رہی تھیں۔ گریب نی
لکیر' مرکزے کو چھوتی ص ف نظر آ رہی تھی۔ اس کے ب وجود' نظرب ز
کے ہردے ی کسی اور اعض میں' ہ چل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اسے
دیکھتے ہی' تینوں اس حہ بردار احترا میں کھڑے ہو گیے۔
اس نے پوچھ ' س ٹھیک ج رہ ہے۔ س سے بڑی مونچھوں والے
نے' فوجی انداز میں' پ ؤں جوڑتے ہوئے کہ :یس میڈ
یہ کون ہے اور یہ ں کی کر رہ ہے۔
میڈ یہ خود کو م سٹر خدا بخش بت رہ ہے۔ شکل اور ح یے سے تو
بھیک منگ رہ ہے۔
میڈ نے ان کی ب ت کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھ :آپ م سٹر خدا
بخش ہیں۔
جی ہ ں' میں م سٹر خدا بخش ہوں۔
اچھ اچھ ' ہ نے ہی آپ کو بلای ہے۔ اندر آ ج ئیے۔
وہ انہیں لے کر' دروازے سے تھوڑا ہی دور کھڑی ہو گئی۔ بنگ ہ کی
تھ ' اندر ایک دنی آب د تھی۔ ب غیچے پر م لی اور اس کے م ون'
مصروف ک ر تھے۔ میڈ کو دیکھتے ہی' ان کی پھرتی ں بڑھ گئیں۔ گیٹ
کے دائیں' دو کمرے' دو ولائتی کتوں کے تھے۔ ہر کتے کے لیے' دو
دو الگ سے ملاز تھے۔ ہر کتے ک ن ' ت ریخی تھ ۔ ش ید اسی وجہ
سے' عزت و احترا کے مسح ٹھہرے تھے۔ چ روں ملاز جو بڑے
ب صحت تھے' ان ولائتی کتوں کی بڑی ج ن فش نی سے' خدمت کر رہے
تھے۔ یہ ش ب شی بھی' ان ولائتی کتوں کے کمروں میں فرم تے تھے۔
گیٹ کے ب ئیں' دیگر خدمت گ روں کے کوارٹر تھے۔ یہ س یہ ں مع
اہل و ای ل اق مت رکھتے۔ رحم نی کنبہ کے دل و ج ن سے ت بع فرم ن'
ج کہ اوروں کے دست ونظر سے ت بع دار تھے۔
بہت سے م سٹر' ہم رے بچوں کو پڑھ نے کے خواہش مند ہیں۔ آپ کی
اہ یت ک شہرہ سن تو سوچ ' کیوں نہ یہ خدمت آپ سے لی ج ئے۔ اور
تو م ت یہ خدمت انج دینے کو تی ر ہیں' اگرچہ آج کل ہ تھ تنگ پھنگ
ج رہ ہے' اس کے ب وجود' آپ م وضہ ط کریں گے تو ضرور دی
ج ئے گ ۔ فکر نہیں کرن ۔
م سٹر خدا بخش' ترسیل ع میں' کبھی بخیل نہیں رہے تھے۔ ع کے
شیدائیوں کے لیے دل و ج ن سے' ح ضر رہے تھے۔ اس کے بیچنے
کو' سم جی جر سمجھتے تھے۔ کوئی راہ چ تے مل ج ت اور کچھ
پوچھ لیت ' تو وہ وہ ں ہی کسی تھڑے پر بیٹھ ج تے' پوچھنے والے ک
اپنی حد تک اطمن ن کرتے۔ اس ذیل میں' ج ن پہچ ن م نویت نہ رکھتی
تھی۔ ترسیل ع کے س س ہ میں' وہ کبھی چ ئے کی پی لی تک کے
روادار نہ ہوئے تھے۔
انہیں رحم نی ص ح کے بچوں کو پڑھ نے پر کوئی اعتراض نہ تھ ۔
انہیں یہ بھی گلا نہیں تھ ' کہ س یقے سے بیٹھ کر ب ت نہیں کی گئی۔
پیٹو تو وہ شروع سے نہیں تھے۔ جو' جیس ' جتن اور ج مل ج ت کھ
کر' الله ک لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے۔ ش ید یہ ہی وجہ تھی' کہ الله نے
انہیں ع کی بےپن ہ دولت سے سرفراز کی تھ ۔ ع کی ہر بند مٹھی
کے اندر ک بھید' ان کے ہ ں آ کر کھل ج ت ۔ انہیں اصل دکھ' مسز
رحم نی کے طور تک ک ہوا۔ وہ یوں مخ ط تھی' جیسے اس کے
س منے کوئی دیسی کت سرونٹ کھڑا ہو۔
دیکھیے مسز رحم نی' میں کسی کے گھر ج کر نہیں پڑھ ت ' جسے
پڑھن ہوت ہے' میرے پ س آت ہے۔ سوری' میں یہ ں آ کر یہ خدمت
انج نہ دے سکوں گ ۔ رہ گئی ٹیویشن فیس' اس کی آپ فکر نہ کریں۔
بس آپ پڑھنے کے لیے بچے بھیج دی کریں۔
مسز رحم نی کو' اس قس کے جوا کی توقع نہ تھی۔ دوسرے اسے
اعزاز سمجھتے تھے' ج کہ م سٹر خدا بخش' اس اعزاز کو جوتے پر
رکھ رہے تھے۔ وہ غصے سے نی ی پی ی ہو گئی۔ اس نے ایک زوردار
تھپڑ م سٹر ص ح کے منہ پر رکھ ۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ سکے
اور زمین پر آ رہے۔ م م ے کے فورا ب د' س رے ملاز وہ ں آ گئے۔
ان میں سے دو کے بچے' م سٹر ص ح سے پڑھتے تھے۔ م سڑ
ص ح کو پیٹ بھی گی ۔ ایک کت مین نے دو جڑنے کے س تھ یہ بھی
کہ :دو ٹکے ک م سٹر اور زب ن اتنی لمبی۔
م ر کٹ ئی کے ب د انہیں گیٹ کے ب ہر پھینک دی گی ۔
حواس بح ل ہونے کے ب د' وہ کمزور اور درد سے لبریز قدموں کے
س تھ' گھر کو چل دیے۔ ان کی آنکھوں کے س منے' ک زور زندگی کے
ان گنت واق ت' گھو گیے۔ ک زور زندگی اپنی حیثیت میں' کن قریبیوں
کے گم شتوں کے کتے' تو بہت دور کی ب ت' وہ تو ان کتوں کے گولوں
کی سی' اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ جین تو کیڑوں مکوڑوں ک س بھی جین
نہیں۔ یہ ری ستی جونکیں' کتنی بڑی اور ع لی ش ن عم رتوں میں زندگی
کرتی ہیں۔ ک زور جیون کے ع کدے' ص ر کو بھی چھونے سے
ق صر و ع جز رہے ہیں۔ وہ ں کچھ کرتے ی دیتے' انہیں پیٹ سول ہو
ج ت ہے۔
اور تو اور' رقی ں جس کے س تھ' انہوں نے پچیس س ل بسر کیے
تھے' اس ترقی کے موق ے کو ض ئع کرنے کو' حم قت ک ن دے گی
اور پھر اسے' گزری زندگی کی' تم پیڑیں ی د آ ج ئیں گی۔ اس خوف
سے کہ رحم نی ص ح کے ہ ں سے عم ی ضربیں لگی تھیں وہ ل ظی
ضربیں لگ ئے گی' ہر قد بہ مشکل اٹھ رہ تھ ۔ خیر کی کرتے گھر تو
ج ن ہی تھ ۔
حضرت بیوہ شریف
وہ اس کی بہن ک ' دوست زی دہ تھی۔ بچپن' پھر جوانی اور ا بڑھ پ '
ایک دوسرے سے رابطے میں گزار رہے تھے۔ دکھ سکھ شیئر کرنے
کے س تھ س تھ' ب ہمی خوش طب ی بھی چ تی۔ گوی رونے دھونے کے
س تھ س تھ' قہقوں ک بھی تب دلہ ہوت ۔ پرانے قصے اور پرانی ی دوں کو
دہرا کر' من ک بوجھ ہ ک کر لیتے۔ اسے س دیہ سے ایک گ ے کے
سوا' کوئی گ ہ نہ تھ ۔ قصور س دیہ ک بھی نہ تھ ' اسے بہن کی اندھی
ہونی ک ن دین ' زی دہ من س لگت ہے۔ وہ تو اپنے بھ ئی کو' دکھ
دینے کے مت ' سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
پورے کنبے کو نقص ن پہچ نے والا' آخری کردار' دنی سے چلا گی ' تو
ان دونوں کی نشت ہوئی۔ س دیہ نے بت ی ' کہ بھ بی کی موت ک افسوس
کرنے والے' مس سل اور متواتر آ رہے ہیں۔ اس نے کہ ' لوگ بھی
کیسے ہیں' افسوس انہیں کرنے آ رہے ہیں' جنھیں افسوس ہی نہیں
ہوا۔
س دیہ نے افسوس س منہ بن کر کہ ' کیوں افسوس نہیں ہوا۔ بےچ ری