یو کے میں ڈی سی کیسے ہو گی ۔ آخر اس نے ایس کون س ک رن مہ
انج دی ہو گ ‘ جس کی پ داش میں اتن بڑا عہدہ ہ تھ لگ گی ۔ صوب ں
کی کوئی ایرا غیرا سہی ی نہ رہی تھی‘ جو کچھ دری فت کرتی۔ ان کے
ہ ں فقط بیگم ت ک آن ج ن تھ ۔ ہم رے ہ ں کسی کی خوش ح لی اور
ترقی دیکھ کر‘ گھروں اور گ یوں میں‘ بےچینی سی ضرور سر اٹھ تی
ہے۔ کسی کی خوش ح لی اور ترقی دیکھ کر‘ خوش ہون ‘ ہم ری ع دت
اور فطرت ک خ صہ نہیں۔ کی ہو سکت ہے‘ جسے الله دے‘ اسے زمین
پر کون لا سکت ہے۔ حقی سچی ب ت یہ بھی ہے کہ اپنی ذات کے
گریبوں کی‘ تھوڑی بہت مدد بھی کرتی تھی۔
چ ر س ل ب د‘ مہنگ دو م ہ کے لیے واپس را پور آی ۔ مہنگ ‘ مہنگ ک
ڈی سی سر م ئیکل ج ن زی دہ لگت تھ ۔ اس ک رنگ ڈھنگ‘ لب س‘ اٹھن
بیٹھن ‘ م ن ج ن ‘ کھ ن پین ‘ غرض س کچھ بدل گی تھ ۔ انگریزی فرفر
بولت تھ ۔ پھنے خ ں میڑک پ س بھی‘ اس کے س منے بھیگی چوہی بن
ج تے۔ س حیران تھے‘ آخر اس کے ہ تھ ایسی کون سی گیدڑ سنگی
لگی ہے‘ جو فقط چ ر س لوں میں‘ م لی‘ شخصی اور اطواری تبدی یوں
ک سب بنی۔ کچھ تو اس کے پیچھے رہ ہو گ ۔
مخبر اپنے ک میں بڑی ج ن فش نی سے مصروف تھے۔ ک تک
م م ہ مخمصے میں رہت ‘ خیر کی خبر آ ہی گئی۔ وہ وہ ں دری پر‘
میموں کے کتے نہلات تھ ۔ ڈی سی مراد ڈوگ ک ینر تھ ۔ کھودا پہ ڑ نکلا
چوہ ‘ وہ بھی مرا ہوا۔ س کھل ج نے کے ب د بھی‘ انڈر پریشر اور
احس س کہتری کے م رے لوگ‘ اسے سلا کرتے تھے۔ اسے کی ‘ یہ
دھن کو سلا تھ ۔
مغر میں ڈوگ ص ح بہ در وف داری کے حوالہ سے م تبر اور
ب عزت نہیں‘ بل کہ کئی ایک ذاتی اور خ یہ خدم ت کے تحت‘ ن و مق
رکھتے ہیں۔ یہ تو اچھ ہے‘ مط بری کے ب د کوئی دشواری پیش
نہیں آتی۔ گوری ں ڈوگ ص ح بہ در کی بڑی ہی عزت کرتی ہیں۔ اس
کی ہر ضرورت ک خی ل رکھتی ہیں۔ اسے نہلانے دھلانے والے کو‘
م قول عوض نہ پپش کرتی ہیں۔ دری کن رے‘ سن ب تھ کرنے آئی
گوری ں‘ ڈی سی کے حوالے اپنے ڈوگی کر دیتی ہیں۔ ڈی سی تہرا لابھ
اٹھ ت ہے۔
مختصر چڈی اور بریزئر میں م بوس پت ی‘ موٹی اور پیپ گوری ں
ملاحظہ کرت ہے۔ لاکھ ح جی شریف سہی‘ آنکھیں تو بند نہیں کر سکت ۔
بھیگی‘ سیکسی اور روم ن پرور مسکراہٹیں وصولت ہے۔
پ ؤنڈ گرہ لگتے ہیں۔
ہم رے ہ ں کے لوگ بھی عجی ہیں‘ گرمیوں میں مری ج تے ہیں۔
پگ ے س تھ گھر والی بھی لے ج تے ہیں۔ اچھ خ ص خرچہ کرتے ہیں۔
گرمیوں میں چ ر پیسے زی دہ خرچ کرکے‘ مغر کے کسی دری ک رخ
کریں۔ پیسے کم ئیں اور دوہری ٹھنڈک ح صل کریں۔
ہم رے ہ ں کت گری ک ہو ی امیر ک ‘ وف داری کے حوالہ سے ب ند مق
و مرتبہ رکھت ہے۔ اگرچہ یہ وف داری محض ایک دل کو بہلانے ک
ذری ہ ہے۔ میر ج ر نے ٹیپو کو اپنی وف داری ک یقین دلا رکھ تھ
لیکن اندرخ نے بک چک تھ ۔ اپنی وف داری کے ان میں‘ ٹیپو سے
بھی دو دن پہ ے ٹھک نے لگ گی ۔
سی نے چور‘ اپنے س تھ ہڈی والا گوشت لے کر ج تے ہیں۔ کت گوشت
پر‘ چور س م ن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کت م لک ک نہیں ہڈی ک وف دار ہوت
ہے۔
رشوت خور کو دیکھ لیں‘ جہ ں سے ہڈی م تی ہے‘ وہ ں میرٹ بن دے
گ ۔ ایم ن کوئی م دی شے نہیں‘ جو اس سے وف داری نبھ ئے۔ نوٹ اور
ڈبہ نظر آتے ہیں‘ ایم ن نظر نہیں آت ۔ کتے کو گوشت نظر آت ہے‘ م لک
نہیں‘ م لک تو سوی ہوت ہے۔ م لک رات کو پیٹ بھر کھلات ہے‘ لیکن
کتے کی آنکھ نہیں بھرتی‘ اسی لیے ہڈی اس کی ترجیح میں رہتی ہے۔
میرے کرائےدار سرور کو‘ الله نے تین پی رے پی رے بچوں سے نوازا۔
اس کی بیوی بیم ر پڑ گئی۔ کئی م ہ بیم ری سے لڑی‘ لیکن لڑائی ہ ر
گئی۔ میں نے اسے سمجھ ی کہ بچوں ک خی ل رکھن ۔ ا ت ہی ان کی
م ں اور ت ہی ان کے ب پ ہو۔ اسے ج د ہی‘ ایک کنوری مل گئی۔ ملا‘
پورے اد و آدا کے س تھ اس ک ذکر کرت رہ ۔ گن گنوانے میں زمین
آسم ن ایک کر دی ۔ بچے سکول سے اٹھ لیے گیے ہیں اور ان کے
مندے ح ل ہیں۔ مرحومہ بیم ری میں بھی بچوں ک خی ل رکھتی تھی۔ کت
کتن ہی نس ی اور اع ی پ ئے ک کیوں نہ ہو‘ اس کی وف داری ہڈی سے
مشروط رہتی ہے۔
ڈی سی سر م ئیکل ج ن نے‘ سترہ س ل گوریوں کے ڈوگ ص ح
بہ دران کی نہلائی دھلائی کی۔ ا وہ بوڑھ اور چڑ چڑا ہو گی تھ ۔
اسے ایک ایسے ڈوگ ص ح بہ در سے‘ پ لا پڑا جو نچلا نہیں بیٹھت
تھ ۔ اس نے ت ؤ میں آ کر‘ اسے پ ن س ت جڑ دیں۔ پھر کی تھ ‘ اچھی
خ صی مرمت ہوئی‘ جیل بھی گی ۔ جیل کی ی ترا کے ب د‘ گھر کی راہ
دکھ ئی گئی۔ ا وہ بےک ر اور نکمی شے سے زی دہ نہ تھ ۔ گھر میں
صوب ں تو ایک طرف‘ اس کے ن زوں پ ے بچے‘ اسے توئے کرتے
رہتے۔
غض خدا ک گھر پر نکم نہیں‘ گھر ک نس ی کت ٹومی بلان غہ دو ٹ ئ
نہلات ہے۔ اس کے ب وجود‘ بےوق ر ہو چک ہے۔ جس دن نہلانے میں
تھوڑا دیر ہو ج ئے‘ ٹومی غرات نہیں‘ بھونکت ہے۔ خدمت یہ کرت ہے‘
د گھر والوں ی ان کے م نے والوں کے س منے ہلات ہے۔ ٹومی خو
ج نت ہے‘ خدمت کرنے والا اس ک م لک نہیں‘ تھرڈ کلاس نوکر ہے۔
دروازے سے تختی اتر چکی ہے۔ اس کی انگریزی بےاوق ت ہو چکی
ہے۔ ب ہر نک ت ہے تو کل تک سلا کرنے والے‘ مذا اڑاتے ہیں۔ وہ
ا مہنگ نہیں‘ مہنگو کے ن سے ج ن پہچ ن ج ت ہے۔
بہت عمدہ تحریر ہے حسنی ص ح ۔ ڈی سی ی نی ڈاگ ک ینر اور اس کی
م شی و م شرتی زندگی کے ات ر چڑھ و کی نقشہ کشی واہ جن کی
ب ت ہے۔
ڈاکٹر سہیل م ک
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10269.0
آنٹی ثمرین
م ں کی محبت کے ب رے میں کچھ کہن سورج کو چ ند دکھ نے والی
ب ت ہے۔ یہ کسی دلیل ی ثبوت کی محت ج نہیں ہوتی۔ م ں بچوں کے
لیے جو مشقت اٹھ تی ہے کوئی اٹھ ہی نہیں سکت ۔ اس کی س نسیں
اپنے بچے کے س تھ اول ت آخر جڑی رہتی ہیں۔ وہ اپنے بچے کے لیے
کسی بھی سطع تک ج سکتی ہے۔ اس ک ہر کی بلا ک حیرت انگیز ہوت
ہے۔ م ں بچے کے لیے اپنی ج ن سے بھی گزر ج تی ہے۔ یہ محبت اور
ش قت اس کی ممت کی گرہ میں بندھ ہوا ہوت ہے اس لیے حیران ہونے
کی ضرورت نہیں۔ محبت اس کی ممت ک خ ص اور لازمہ ہے۔
عورت اپنے پچھ وں کے م م ہ میں اولاد سے بھی زی دہ حس س ہوتی
ہے۔ اس ذیل میں اس ک قول زریں ہے کہ نہ م ں ب پ نے دوب رہ آن
ہے اور نہ بہن اور بھ ئی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس ک دو نمبر بھ ئی بھی
قط نم اور ب پ کو نبی قری سمجھتی ہے۔ ان کی کوئی کمی خ می ی
خرابی اس کو نظر نہیں آتی ی ان سے کمی کوت ہی سرزد ہوتی ہی نہیں۔
ج کہ خ وند کی م ں عموم ف ے کٹن اور ب پ لوبھی اور لالچی ہوت
ہے۔ بہن بھ ئی تو خیر دو نمبری کی آخری سطع کو چھو رہے ہوتے
ہیں۔
کر بی بی بھی اول ت آخر عورت تھی اور وہ بھی یہ ہی اصولی اطوار
رکھتی تھی۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے بہن کی بیٹی لان چ ہتی تھی ج کہ
اس ک خ وند ادھر رشتہ نہیں کرن چ ہت تھ ۔ لڑکی میں کوئی کجی ی
خ می نہ تھی۔ بس وہ ادھر رشتہ نہیں کرن چ ہت تھ ۔ ان کے گھر میں
کئی م ہ سے یہ ہی رگڑا جھگڑا چل رہ تھ ۔ جوں ہی گھر میں وہ قد
رکھت کل ک ی ن شروع ہو ج تی اور یہ اگ ے دن اس کے ک پر ج نے
تک تھوڑے تھوڑے وق ے کے س تھ چ تی رہتی۔
ایک دن اس نے اپنے ایک قریبی دوست سے م م ہ شیئر کی ،وہ ہنس
پڑا
او ی ر اس میں پریش نی والی کی ب ت ہے۔ بھ بی کو اپنی ڈال دو س
ٹھیک ہو ج ئے گ ۔
اپنی کی ڈالوں۔
یہ ہی کہ ت درسری ش دی کرنے والے ہو۔ عورت ت نے پسند کر لی
ہے۔ اس نے کہ
ی ر میں پ گل ہوں جو ایک ب ر شدگی کے ب د کوئی عورت پسند کروں
گ۔
تمہیں کس نے کہ ہے کہ یہ حم قت کرو‘ ج ی کردار تخ ی کرو۔
اسے اپنے دوست ک آئیڈی پسند آی ۔ طے یہ پ ی کہ وہ ٹی ی فون پر مس
ک ل کرے گ ۔ اس کے ب د وہ ج ی عورت سے دیر تک روم ن پرور
ب تیں کرت رہے گ ۔ پہ ے ہ تے زب نی کلامی اگ ے ہ تے سے ٹی ی فونک
سسہچےگ۔
اس دن ج رشتے کی ب ت شروع ہوئی تو اس نے اپنی محبت کی
کہ نی چھیڑ دی۔ پہ ے تو اس کی بیوی کو یقین نہ آی ۔ اس ک خی ل تھ
کہ اسے کون پسند کرے گی۔ اس نے بت ی کہ وہ بڑے ب ند مرتبہ شخص
کی س لی ہے۔ اسے طلا ہو گئی ہے۔ بڑی ہی خو صورت ہے۔ اس
کی چھوٹی چھوٹی دو بیٹی ں ہیں۔
کر بی بی کچھ دن اسے لاف زنی خی ل کرتی رہی ۔ اگ ے ہ تے ٹی ی
فون آن شروع ہو گئے۔ وہ دیر تک ج ی عورت سے ج ی روم ن
پرور ب تیں کرت ۔ کئی ب ر ب توں کے درمی ن کہیں سے ٹی ی فون بھی آی ۔
کر بی بی اتنی پیدل ہو گئی کہ اس نے غور ہی نہ کی کہ ٹی ی فون
کرنے کے دوران ٹی ی فون کیسے آ سکت ہے۔
کر بی بی بھ نجی ک رشتہ لانے ک مس ہ بھول سی گئی اسے اپنی پڑ
گئی۔ اسے گھر میں اپنے وجود ک خطرہ لاح ہو گی ۔ گھر میں اکی ی
دھندن تی تھی سوت کے آ ج نے کے دکھ نے اسے ادھ موا کر دی ۔ ان
ہی دنوں لڑکے ک رشتہ آ گی جیسے سوت کے آنے سے پہ ے کر لی
گی مب دہ سوت کے آنے کے ب د کی ح لات ہوں۔ کر بی بی کے ذہن
میں یہ ب ت نقش ہو گئی کہ سوت کے آنے کے ب د ح لات برعکس ہو
ج ئیں گے۔
لڑکے کی ش دی کو ابھی دس دن ہی گزرے ہوں گے کہ ولی محمد اپنے
کمرے میں اداس بیٹھ ہوا تھ ۔ ب ت ب ت پر برہ ہوت اور کبھی رونے
لگت ۔ کوئی کچھ سمجھ نہیں پ رہ تھ کہ اسے اچ نک کی ہو گی ہے۔
اتن اداس اور رنجیدہ کیوں ہے۔ س ب ر ب ر پوچھتے کہ آپ اتنے
پریش ن اور اداس کیوں ہیں۔ ہر کسی سے یہ ہی کہت ک پریش ن ہوں۔
میں کیوں اور کس سے اداس ہونے لگ ۔
آخر کر بی بی ہی دور کی کوڑی لائی۔ کہنے لگی تمہ ری ثمرین تو
دغ نہیں دے گئی ۔ ولی محمد نے حیرت سے پوچھ تمہیں کیسے پت
چلا۔ کوئی ٹی ی فون تو نہیں ای ۔
کر بی بی کی ب چھیں کھل گئیں۔ کہنے لگی کہتی تھی ن کہ ت سے
عین غین بندے سے کون نبھ کر سکت ہے وہ میں ہی ہوں جو تمہ رے
س تھ نبھ کر رہی ہوں ۔ کر بی بی بلا تھک ن بولتی رہی وہ موٹے
موٹے آنسوبہ ت گی ۔ اس کی یہ کئی م ہ اور خصوص اس روز کی
اداک ری دلیپ کم ر بھی دیکھ لیت تو عش عش کر اٹھت ۔
اس گی میں اسے تین نوعیت کے دکھوں سے پ لا پڑا۔ س لی کی بیٹی ک
بیٹے کے لیے رشتہ نہ لینے کی وجہ سے ع رضی سہی قی مت سے
گزرن پڑا۔ ج ی ثمرین کی ج ی محبت ک ڈرامہ زبردست بےسکونی ک
سب بن لیکن اصل مس ہ حل ہو گی ۔ ج ی ثمرین آج بھی کنبہ میں اپنے
حقیقی وجود کے س تھ موجود ہے۔
آج ج وہ بوڑھ ہو چک ہے۔ چ نے پھرنے سے بھی ق صر وع جز ہے
اسے ثمرین سے دیوانگی کے س تھ محبت ک ط نہ م ت ہے۔ یہ ط نہ
اسے اتن ذلیل نہیں کرت جتن کہ اس کے چھوڑ ج نے ک ط نہ ذلیل کرت
ہے۔ کر بی بی کہتی آ رہی ہے اگر ت س ؤ پتر ہوتے تو وہ تمہیں
چھوڑ کر کیوں ج تی۔ یہ میں ہی ہوں جو ت ایسے بندے کے س تھ گزرا
کرتی چ ی آ رہی ہوں کوئی اور ہوتی تو ک کی چھوڑ کرچ ی ج تی۔
خ ندانی ہوں اور میں اپنے م ئی ب پ کی لاج نبھ رہی ہوں۔
میں مولوی بنوں گ
میں نے تنویر کے مستقبل کے بڑے سنہرے خوا دیکھ رکھے
تھے۔ ًمیں اسے بہت بڑا آدمی بن ن چ ہت تھ ۔ اس نے میٹرک میں اچھے
نمبر ح صل کرکے دل خوش کر دی ۔ اسے کھیل کود سے ک کت سے
زی دہ دلچسپی تھی۔ ج کبھی اسکول گی است د اس کی ت یمی ح لت
کی ت ریف کرتے۔ ان کے منہ سے اپنے بیٹے کی ت ریف سن کر دل
خوشی سے ب ب ہو ج ت ۔ منہ سے اس کے اچھے مستقبل کے لیے
بےاختی ر ڈھیر س ری دع ئیں نکل ج تیں۔
ایف اے میں بھی ت یمی م م ہ میں اچھ رہ ۔ تھرڈ ایئر میں آی تو اس
نے چھوٹی چھوٹی داڑھی رکھ لی۔ نم ز روزے ک بھی پ بند ہو گی ۔ یہ
دیکھ کر اور بھی خوشی ہوئی کہ چ و ت ی میں بہتر ک رگزاری کے
س تھ س تھ نیک راہ پر بھی چل نکلا ہے ورنہ آج کے م حول میں
بےراہروی ہی لڑکی لڑکوں ک وتیرہ بن گی ہے۔ یہ بےراہروی انہیں
بدتمیز بھی بن رہی ہے۔ بڑے چھوٹے ک کوئی پ س لح ظ ہی نہیں رہ ۔
تھرڈ ایئر تو خیر سے گزر گئی اور اس نے اچھے نمبر بھی ح صل
کیے۔ فورتھ ائیر ہ س کے لیے قی مت ث بت ہوئی۔ اس نے داڑھی بڑھ
دی اور ایک دن ک لج کی پڑھ ئی چھوڑنے ک اعلان کر دی ۔ اس ک یہ
اعلان میرے دل و دم پر اٹی ب بن کر گرا۔ مجھے پریش نی کے س تھ
س تھ حیرانی بھی ہوئی کہ آخر اسے اچ نک یہ کی ہو گی ہے۔ اس نے
یہ فیص ہ کیوں کی ہے کہ میں دینی مدرسے میں داخل ہو کر مستند
مولوی بنوں گ ۔ کہ ں ک لج کی پڑھ ئی کہ ں مولوی بننے ک اعلان‘
عج مخمصے میں پڑ گی ۔
میں دو تین دن اس کے پیچھے پڑا رہ کہ آخر اس نے مولوی بننے ک
کیوں ارادہ کی ہے۔ کچھ بت ت ہی نہ تھ ۔ چوتھے دن اس نے بڑے
غصے اور اکت ئے ہوئے لہجے میں کہ کہ میں ک ر کے فتوے ج ری
کرنے کے لیے مستند مولوی بنن چ ہت ہوں۔ ک ر کے فتوے۔۔۔ کس پر۔۔۔۔
مگر کیوں۔
میں پہلا ک ر ک فتوی آپ کے خلاف ج ری کروں گ ۔
یہ سن کر میرے طور پہوں گئے۔ میرے خلاف ی نی ب پ کے خلاف۔
میں اس ک کھلا اعلان سن کر د بہ خود رہ گی ۔
پھر میں نے پوچھ :می ں آخر ت نے مجھ میں کون سی ایسی ک ریہ
ب ت دیکھ لی ہے۔
کہنے لگ :میری م ں آپ کی خ لہ زاد ہے آپ انہیں خو خو ج نتے
تھے کہ بڑی بولار ہے تو ش دی کیوں کی۔ کی اور لڑکی ں مر گئی
تھیں۔ آپ دونوں نے لڑ لڑ کر ہ س ک جین حرا کر دی ہے۔ غ طی آپ
کی ہے کہ آپ اسے بولنے ک موقع دیتے ہیں۔ اییسی ب ت کیوں کرتے
ہیں کہ وہ س را س را دن اور پھر رات گئے تک بولتی رہے۔
اس کی اس ب ت نے مجھے پریش ن کر دی ۔ میں نے فیض ں کو ب وای
اور کہ بیٹے کے ارادے سنے ہیں ن ۔
ہ ں میں نے س کچھ سن لی ہے۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہ ہے۔ ایسی ب ت
کیوں کرتے ہیں جس سے مجھے غصہ آئے اور میں بولنے لگوں۔
چ و میں کسی دوسری جگہ تب دلہ کروا لیت ہوں لہذا ت ک لج کی پڑھ ئی
ج ری رکھو۔
ہ ں ہ ں اچھ فیص ہ ہے کہ پھر ہم رے س تھ ڈٹ کر بول بولارا کرتی
رہے۔ وہ ت خ اور طنز آمیز لہجے میں بولا
م ں آپ فکر نہ کرو آپ بھی میرے فتوے کی زد میں آؤ گی۔ خ وند کی
اتنی بےعزتی اسلا میں ج ئز نہیں۔
بیٹے کی یہ ب ت سن کر وہ ہک بک رہ گئی۔ اسے امید نہ تھی کہ تنویر
ایسی ب ت کرے۔ پھر ہ دونوں می ں بیوی کی نظریں م یں۔ ہ دونوں
کی آنکھوں میں دکھ اور پریش نی کے ب دل تیر رہے تھے۔ ہ اسے بہت
بڑا آدمی بن نے کے خوا دیکھ رہے تھے کہ بیٹ کچھ ک کچھ سوچ
رہ تھ ۔ پھر ہ دونوں کے منہ سے بےاختی ر نکل گی ۔ بیٹ ت ک لج کی
پڑھ ئی نہ چھوڑو ہ آگے سے نہیں لڑیں گے بل کہ م ملات ب ت چیت
سے طے کر لی کریں گے۔
تنویر م ن ہی نہیں رہ تھ ۔ اس ک اصرار تھ کہ وہ مولوی ہی بنے گ ۔
وہ کہے ج رہ تھ کہ آپ وعدہ پر پورا نہیں اترو گے۔ ک فی دیر تکرار
و اصرار ک س س ہ ج ری رہ ۔ تنویر کو آخر ہم رے تکرار اصرار کے
س منے ہتھی ر ڈالن ہی پڑے اور وہ ک لج کی کت لے کر بیٹھ گی اور ہ
چپ چ پ اس کے کمرے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چ ے گیے۔
چپ ک م ہدہ
ہم ری س تھ کی گ ی میں ایک ص ح رہ کرتے تھے جو آنٹ جی کے
ن سے م روف تھے۔ کی ک کرتے تھے۔ کوئی نہیں ج ن پ ی ن ہی
کسی کے پ س اتن وقت تھ کہ ان کی کھوج کو نک ت ‘ ان کی بیگ اتنی
م نس ر نہ تھی کہ اس کے پ س عورتیں آ کر بیٹھ ج تیں۔ وہ کسی سے
کوئی ب ت ہی نہ کرتی تھی۔ اگر کوئی عورت اس کے پ س ج تی تو
مسکرا کر م تی۔ آنے والی کی ب تیں سن لیتی لیکن خود ہوں ہ ں سے
زی دہ ب ت نہ کرتی۔ مح ہ میں کسی عورت سے م نے ی اس کے دکھ
سکھ میں نہ ج تی۔ ہ ں آنٹ جی کوئی مر ج ت تو اس ک جن زہ ہر
صورت میں اٹنڈ کرتے اور بس وہیں سے گھر لوٹ ج تے۔
ش کو گھر آتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ب د بیٹھک میں آ بیٹھ
ج تے اور دیر تک اکی ے ہی بیٹھے رہتے۔ ہ ں مح ہ کے چھوٹے
چھوٹے بچے ان کی بیٹھک میں جمع رہتے اور وہ ان کے س تھ بچوں
کی طرح کھی تے ان کے س تھ خو موج مستی کرتے۔ جی میں کھلا
رکھتے بلا ت ری بچوں کو پیسے دیتے۔ چھٹی والا دن ان بچوں کے
س تھ بیٹھک میں گزارتے۔ کسی بچے کو کوئی م رت تو لڑ پڑتے چ ہے
اس بچے ک ب پ ہی کیوں نہ ہوت ۔
میں نے غور کی ایک بچے کے س تھ وہ خصوصی برت ؤ کرتے۔ وہ بچہ
بھی ان کے س تھ بڑا م نوس تھ ۔ ایک ب ر میں نے دیکھ کہ اس بچے
ک ن ک بہہ رہ تھ اور وہ اس ک ن ک بڑے پی ر سے اپنے روم ل کے
س تھ صآف کر رہے تھے۔ میں ان کی بیٹھک میں داخل ہو گی ۔ انہوں
نے بڑی اپن ہت سے بیٹھنے کو کہ اور دوب رہ سے اس بچے ک ن ک
ص ف کرنے لگے۔ میں نے پوچھ ہی لی کہ یہ آپ ک بچہ ہے۔ انہوں نے
میری طرف دیکھنے کی بج ئے اس بچے سے پوچھنے لگے تمہ ری
م ں کو میں نے دیکھ ہوا ہے۔ بچے نے ن ی میں سر ہلای ۔ ج میں
نے اس کی م ں کو دیکھ ہی نہیں تو اس کی کیسے دیکھ لی۔ پھر
میری طرف دیکھ اور کہ نہیں جی یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ مجھے ان کی
اس حرکت پر حیرت ہوئی اور میں چپ چ پ اٹھ کر وہ ں سے چلا گی ۔
مجھے ان کی یہ حرکت بڑی عجی لگی۔ یہ حرکت تھی بھی عجی
نوعیت کی تھی۔
ایک دن م و ہوا آنٹ جی فوت ہو گئے ہیں اور بیٹھک میں ہی ان کی
موت ہوئی۔ کی وہ اندر نہیں سوتے تھے۔ اس روز وہ آنٹی دھ ڑیں م ر
م ر کر روئی اور انہیں اکلاپے ک احس س ہوا۔ وہ ان کی تھی تو بیوی
لیکن بیوی کے اطوار نہ رکھتی تھی۔ وہ اس ک ہر قس ک خرچہ پ نی
اٹھ ئے ہوئے تھے۔
دس بیس س ل پہ ے منہ میں ڈھ ئی گز زب ن رکھتی تھی۔ اس ک آگ
پچھ کوئی بھی نہ تھ ۔ ب نجھ بھی تھی۔ اس کے ب وجود انہوں نے اسے
برداشت کی ہوا تھ ۔ تین ب ر طلا طلا طلا کہنے سے ہمیشہ کے
لیے خلاصی ہو سکتی تھی۔ وہ ان کی خ لہ کی لے پ لک بیٹی تھی۔ م ں
نے مرتے وقت بیٹے سے اپنے سر پر ہ تھ رکھ کر قس لی تھی کہ
کبھی اور کسی صورت میں اس ک س تھ نہیں چھوڑے گ ۔ بس آنٹ جی
کے منہ کو ت لا لگ گی اور وہ بیٹھک اور مح ہ کے بچوں کے ہو رہے۔
آنٹی اور آنٹ جی کے درمی ن چپ ک م ہدہ ہو گی تھ ۔
ا وہ دروازے کی دہ یز پر بیٹھی رہتی تھی۔ ج بھی کوئی آنٹ جی ک
ذکر کرت تو زار و قط ر رونے لگتی لیکن منہ سے کچھ نہ کہتی۔ بڑی
ب ت ہے کہ اتن بڑا س نحہ گزر گی آنٹ جی ہمیشہ کے لیے چ ے گئے
پھر بھی اس نے چپ ک م ہدہ نہ توڑا۔
کرنسی ثبوت
ش ہ‘ اس کے چی ے چمٹے گم شتے اور دفتری اہل ک ر زب نی کلامی
قسموں یہ ں تک کہ لکھتوں پڑتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے
نزدیک ج ل س زی ک عمل شروع سے چلا آت ہے۔ لالچ لوبھ میں آ کر
انس ن ایم ن تک بیچت آی ہے۔ دوسرا چور ی ر ٹھگ کی قسموں پر یقین
کر لین کھ ی حم قت کے مترادف ہے۔ زب نی ک کون یقین کرے‘ رائی
سے پہ ڑ بنت چلا آی ہے۔ وہ پریکٹیکل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے
نزدیک‘ کرنسی ثبوت ہی ح سچ ک ع بردار ہوت ہے۔ س تھ میں‘
ن یس خوش بو اور پرذائقہ پکوان ح سچ کو جلا بخشت ہے۔ پیٹ میں
کچھ ہو گ تو ہی ح سچ کی کہی ج سکتی ہے۔ خ لی پیٹ جو بھی
فیص ہ ہو گ غ ط ہو گ ۔ غ ط فیص ے سوس ئٹی میں انتش ر اور فس د ک
دروازہ کھولتے ہیں۔
اگرچہ اس سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑت کیوں کہ وہ ہر نئے
آنے والے کے بھی اس کی آمد کے ب د وف دار بن ج تے ہیں۔ جی
حضور جی سرک ر جی جن ک انہوں نے پوری توجہ سے وظی ہ کی
ہوت ہے۔ گیے کی کمی ں‘ کمزوری ں‘ کوت ہی ں اور خ می ں دل کے دفتر
پر رق کی ہوتی ہیں۔ اس کے ب وجود موجود کے م قول ہونے کی
صورت میں‘ نئے کی کچھ زی دہ خوہش نہیں کرتے۔ خدا ج نے نی کیس
ہو اور س تھ آئے چمچے کڑچھے‘ انہیں اس کے نزدیک ج نے دیں ی
نہ ج نے دیں۔ گوی نئے کے س تھ ایڈجسٹ ہونے میں‘ کچھ تو وقت
لگے گ ہی۔
نی آنے کی بج ئے‘ محدود وقت تک سہی‘ موجود پران گرہ سے ج ئے
گ ۔ گرہ ک احس س کہتری انہیں کسی بھی ح لت میں گوارہ نہیں ہوت ۔ رہ
گئی عزت ی وق ر کی ب ت‘ اس ک کی ک ی زی دہ ہوتی رہتی ہے۔ ہ ں
کھیسہ جتن فربہ ہو گ ‘ عزت میں اسی تن س سے اض فہ ہو گ ۔
لاڈو ک اصل ن تو منزہ خ ن تھ لیکن اس کے م ئی ب پ اک وتی ہونے
کے سب ‘ اسے پی ر سے لاڈو کہ کرتے تھے۔ پھر یہ ہی ن عرف میں
آ گی ۔ سسرال میں آ کر بھی‘ یہ ہی ن رواج پ گی ۔ یہ ں تک کہ اس ک
بندہ جیج بھی اسی ن سے پک رنے لگ ۔ لاڈلی ہونے کے ب عث اس کی
ع دتیں ہی نہ بگڑی تھیں‘ مزاج بھی بگڑ گی تھ ۔ سوہنی سونکھی اور
اچھ لب س زی تن کرنے سے اور بھی نکھر نکھر ج تی تھی۔ مح ے
کے گھبرو مر مر ج تے لیکن وہ کسی کو گھ س نہ ڈالتی۔ ج تک م ئی
ب پ کے گھر رہی‘ اس ک کردار یہ س ہونے کے ب وجود ص ف ستھرا
رہ ۔ کوئی اس کے کردار پر انگ ی نہ اٹھ سکت تھ ۔ ہر کوئی اس کے
ب کردار ہونے کی گواہی دیت تھ ۔
سسرال میں میں آ کر کچھ عرصہ سگنوں ک گزار کر اسے اپنے گھر
کی ذمہ داری سمبھ لن ہی تھی۔ کوئی ہنر اور کس اس کے ہ تھ میں نہ
تھ ‘ پکی پک ئی کھ تی تھی۔ ا اسے پک کر کھ ن اور خ وند کو کھلان
تھ ۔ جیج س را دن ک میں ج ن کھپ ت تھ ‘ رات کو گھر کی پکی کھ ن
اس ک ح تھ ۔ لیکن سوائے لاڈ نخرے کچھ ہ تھ نہ لگت ۔ بےچ رہ صبر
شکر کے گھونٹ پی کر رہ ج ت ۔ آتی ب ر ب زار سے کچھ لے آت ۔ مزے
کی ب ت یہ کہ وہ بھی بھوکی رہتی اور اس کے آنے ک انتظ ر کرتی کہ
آتے ہوئے ب زار سے کھ نے کے لیے کچھ لیت آئے گ ۔ یہ س س ہ ک
تک چل سکت تھ ۔ ب زار ک کھ ن وارہ بھی نہیں کھ ت ۔
ابتدا میں ک سے لیٹ ہو ج ت تو رٹ ڈال کر بیٹھ ج تی کہ اتنی دیر
کیوں ہو گئی۔ کہ ں اور کس کے پ س ج تے ہو۔ ضرور ت نے ب ہر کوئی
رکھی ہوئی ہے۔ لاکھ قسمیں کھ ت لیکن کہ ں‘ وہ کسی قیمت پر یقین
کرنے پر تی ر نہ ہوتی۔ اس ک اسے ایک حل مل گی آتے ہوئے کوئی
ن کوئی تح ہ س تھ لے آت ۔ کبھی نقدی دے دیت تو اس کی زب ن کو ت لہ
لگ ج ت ۔ اگر کبھی کوت ہی ی ک زور گرہ آڑے آ ج تی تو وہی کل ک ی ن
شروع ہو ج تی۔ شک کی زد میں آ کر سکون غ رت کر لیت ۔ ا اس کی
سمجھ میں آ گی کہ یہ ش ہ اور ش ہ والوں کے قدموں پر ہے۔ قسموں
وغیرہ کی یہ ں کوئی قدر قیمت نہیں‘ یہ ں تو کرنسی ثبوت ہی ک آ
سکتے ہیں۔ محنت اور حلال کی کم ئی میں‘ اوپر ت ے کرنسی ثبوت
فراہ کرن ممکن ہی نہیں۔ ہ ں ایک ب ت اس کے کریڈٹ میں ج تی تھی
کہ لاڈو م مولی سے کرنسی ثبوت پر بھی راضی ہو ج تی بل کہ بھرپور
خوشی ک اظہ ر کرتی۔
ب زار سے کھ ن لان اور ہر روز ب زاری کھ ن کھ ن ‘ بلا شبہ بڑا کھٹن
گزار ک تھ ۔آخر اس نے اس سے چٹھک رے ک بھی طریقہ سوچ ہی
لی ۔ ک سے آ کر تح ہ ی نقدی لاڈو کی ت ی پر دھرت پھر تھوڑا ریسٹ
کرنے کے ب د کچن میں گھس ج ت ۔ لاڈو کو آواز دیت ۔ کچن ک ک ج نت
تھ ۔ لاڈو کو بھی بڑے پی ر سے س تھ میں مصروف کر لیت ۔ ابتدا میں
اس سے چھوٹے موٹے ک لیت رہ ۔ آہستہ آہستہ لوڈ بڑھ ت گی ۔ ایک
وقت ایس آی کہ لاڈو کچن کے امور سے واقف ہو گئی۔ ب د ازاں تقریب
اس نے کچن کے ک سے ہ تھ کھینچ لی ۔ وہ ہی ک کرنے لگ جو ابتدا
میں لاڈو کی کرتی تھی۔ لاڈو کو یہ محسوس تک نہ ہوا کہ جیج کچن
کے اص ی ک سے دور ہٹ گی ہے۔
ایک دن وہ دونوں کچن میں مصروف تھے کہ جیجے ک پ ؤں الله ج نے
قدرتی ی ج ن بوجھ کر پھسلا اور وہ بلاتک ف کچن کے فرش پر آ رہ ۔
ہ ئے ہ ئے کی آوازیں نک لنے لگ ۔ لاڈو اسے سمبھ لا دے کر چ رپ ئی
تک لے آئی۔ اس کی کمر اور ٹ نگیں دب نے لگی۔ پریش نی اس کے
چہرے پر ص ف دکھ ئی دینے لگی۔ اس ک مط یہ تھ کہ وہ اس سے
پی ر بھی کرتی تھی۔ ٹ نگیں دب تے پورا زور لگ رہی تھی۔ جیجے کو
بڑا ای سواد آی ۔ یہ مزا ہی الگ سے تھ ۔ پھر وہ گھبرا کر مح ہ کے
ڈاکٹر کے پ س ج نے لگی۔
اس نے کہ :رہنے دو‘ میرے پ س اتنے ف لتو پیسے نہیں جو ڈاکٹر
کی دواؤں پر خرچ کرت پھروں۔ یہ ں سے ف ر ہو کر ریت گر کرکے
ٹکور کر دین ۔ ان پیسوں سے تمہ را گوٹے کن ری والا دوپٹہ لان ہے۔
کتنی اچھی اور پی ری لگو گی۔
جیجے کی ب ت سن کر لاڈو ک چہرا خوشی سے سرخ ہو گی ۔ اس نے
دل میں سوچ جیج مجھ سے کتن پی ر کرت ہے۔
لاڈو نے جواب کہ :ہ ئے میں مر ج ں ت سے پیسے اچھے ہیں۔
بہرطور اس نے نہ ج نے دی کیوں کہ وہ اس مزے سے ہ تھ دھون
نہیں چ ہت تھ جیج ش تک ن ز نخرے دکھ ت رہ لیکن اس نے کرنسی
ثبوت لاڈو کی ہتھی ی پر نہ رکھ کہ کہیں پیسوں کے نشہ میں‘ اپن
ج ری کرتوے ہی نہ فراموش کر دے۔
اس نے نے اگلا دن بھی گھر پر گزارا اور لاڈو سے ن زبرداری ں کروات
رہ ۔ ہ ں البتہ اگ ے دن چ رپ ئی سے اٹھ گی اور لاڈو ک کندھ پکڑ کر
غسل خ نے وغیرہ ج ت رہ ۔ اس دورانیہ میں لاڈو نے کچن سمبھ لے
رکھ ۔ ا وہ ٹھیک سے کوکنگ کرنے لگی تھی۔ تھوڑی بہت کمی رہ
ہی ج تی ہے‘ جو آہستہ آہستہ دور ہو ج تی ہے۔ اگ ے دن ک پر ج نے
لگ تو لاڈو نے کہ رہنے دو ک تو ہوتے رہتے ہیں۔ اپنی ج ن ک خی ل
کرو۔ وہ مسکرا کر کہنے لگ بھ ی لوکے ک نہیں کریں گے تو کھ ئیں
گے کہ ں سے۔ ہ ں وہ گوٹے کن ری والا دوپٹہ بھی تو لان ہے۔ پھر وہ
لاٹھی کے سہ رے چ ت ہوا دروازے سے ب ہر نکل گی ۔
وہ ج نت تھ ‘ آج لاڈو خلاف م مول دروازے پر کھڑی بڑے پی ر سے‘
اسے ج ت ہوا دیکھ رہی ہے۔ وہ جوں کی چ ل چل رہ تھ اور پیچھے
مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ لاڈو واق ی کھڑی تھی۔ کبھی وہ کسی گھر کی
دیوار کی ٹیک لے کر کھڑا ہو ج ت اور پی ر سے ہ تھ ہلات ۔ ا وہ نظر
نہیں آ رہ ۔ اس امر کی بہرطور اس نے تس ی کر لی۔ پھر اس نے لاٹھی
بگو ن ئی کے حم میں رکھی اور تیز قدموں اپنے دھندے کی ج ن
بڑھ گی ۔ ش کو اس نے ب زار سے گوٹے کن ری والا دوپٹہ خریدا۔
واپسی پر بگو ن ئی کے حم سے لاٹھی لی اور گھر میں داخل ہوتے
ہی صبح والی ایکٹنگ دوہرائی۔ لاڈو نے دوڑ کر اسے پکڑا اور آرا
سے چ رپ ئی پر بٹھ دی ایسے جیسے ابھی ابھی چوٹ لگی ہو۔ گوٹے
کن ری والا دوپٹہ لے کر وہ اور بھی خوشی سے پ گل ہو گئی۔ اس نے
ج دی ج دی اس کے ہ تھ دھلائے اور کھ ن جو آج اس نے خود ہی بن ی
تھ ‘ جیجے کے س منے پروس دی ۔
یہ عمل کئی دن چلا۔ آخر ک تک‘ اسے پتہ چل گی کہ جیج یہ س را
ڈرامہ رچ ت رہ ہے۔ پھر کی تھ ‘ جوں ہی وہ اداک ری کرت ہوا گھر میں
داخل ہوا‘ لاڈو نے اس کے ہ تھ سے لاٹھی پکڑ کر زمین پر پٹخ دی۔
قسمت اچھی تھی‘ ورنہ غصہ میں دو چ ر اس کی ٹ نگوں پر بھی جڑ
سکتی تھی۔ اسے م و ہو گی کہ ڈھول ک پول کھل گی ہے۔ وہ مردہ
قدموں چل کر چ رپ ئی پر آ بیٹھ ۔ پھر کی تھ ‘ رانی توپ ک دھ نہ اپنے
شب میں آ گی ۔ جھوٹ تھ ‘ چپ رہنے کے سوا اور کر بھی کی سکت
تھ ۔ اسے اپنی غ طی ک احس س ہو گی کہ وہ لاٹھی حم میں رکھت رہ
ہے۔ حم میں ب ت ک ج ن ‘ پورے علاقہ کی پورے م ک میں آ ج نے
کے مترادف ہے۔
لاڈو نے گرج دار آواز میں کہ :ب ہر ٹھیک ہوتے ہو گھر میں داخل
ہوتے ہی تمہیں بیم ری پڑ ج تی ہے‘ تمہ ری ٹ نگیں دب دب کر میرے
ہ تھ رہ گئے ہیں۔
اس کے پ س اس ک کوئی جوا نہ تھ ‘ پھر بھی اس نے کہ :گرا گھر
میں تھ ی ب ہر۔ ب ہر گرت تو بیم ری ب ہر پڑتی۔
مزید گرجنے کی بج ئے اس ک جوا سن کر لاڈو ک ہ س نکل گی ۔ جوں
ہی لاڈو کے منہ سے یہ پھول پھوارہ پھوٹ اس نے ج دی سے لاڈو کو
گ ے سے لگ لی اور اس کے گ ے میں بڑا ہی خو صورت ارٹی یشل
ہ ر ڈال دی ۔ لاڈو ک بولارا خوشی میں بدل گی ۔ جو بھی سہی‘ اس کے
اس ڈرامے کے نتیجہ میں‘ لاڈو کھ ن پک نے کے س تھ س تھ گھر کے
دوسرے ک بھی انج دینے لگی۔ یہ س ری کرامت اس کرنسی ثبوت
کی تھی‘ جو لاڈو کے گ ے میں پڑا اپنی حیثیت اور اہمیت بڑے دھڑلے
سے جت اور منوا رہ تھ ۔
بڑوں ک ظرف بڑا
ایک عرصہ اس راز کو میں نے سینے میں دفن رکھ کہ کہیں مجھ
سے کچھ غ ط نہ ہو ج ئے۔ آج اچ نک ذہن میں یہ خی ل کودا کہ نہیں
پگ ے اس ک سینے میں دفن رکھن درست نہیں بل کہ اس کے کہہ
دینے سے میرے آق کری ص ی الله ع یہ وس کی حق نیت س منے آئے
گی کہ وہ سچ ہی کہتے ہیں سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ جس ک میں
مولا اس ک ع ی مولا۔
فتح خیبر کے لیے انہوں نے ام ع ی ع یہ السلا کو بلای تھ اور وہ
تشریف لے آئے۔ ہ ں حیرت اس ب ت پر ہے کہ وہ م مولی نہیں‘
م مولی ترین کے بلانے پر بھی تشریف لے آتے ہیں۔ بلاشبہ بڑوں ک
ظرف بھی بڑا ہوت ہے اور ان کی عط ئیں محدود نہیں ہیں۔
میں ج ہسپت ل سے واپس گھر لای گی تو اپنے حواس میں نہیں تھ ۔
مجھے چ رپ ئی پر لٹ دی گی ۔ میرے پ س رضیہ‘ میری بیوی اور میری
بیٹی ارح پریش ن بیٹھے ہوئے تھیں۔ الله کے حضور میری صحت اور
زندگی کے لیے دع ئیں م نگ رہی تھیں۔ انہوں نے بت ی کہ میں لیٹے
لیٹے اٹھ کر چ رپ ئی سے نیچے پ ؤں لٹک کر بیٹھ گی ۔ میں نے انہیں
مخ ط کرکے کہ ڈرن نہیں۔ پھر میں نے تین ب ر کہ :ی ع ی ادرقنی
فی سبیل الله اور پھر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ اور دروازے
کے دونوں پٹ پوری طرح کھول دیئے۔ ان سے کہ آپ تشریف لے آئے
ہیں۔ پھر دونوں م ں بیٹی نے دروازے سے آتی ہوئی مہک محسوس
کی۔ اس مہک نے پورے کمرے کو م طر کر دی ت ہ اس مہک نے ایک
ہ لے کی صورت میں میرے گرد چکر لگ ی اور جس طرح سے کمرے
میں داخل ہوئی تھی اسی طرح دروازے سے ب ہر نکل گئی۔
ان ک کہن ہے کہ میں آرا سے چ رپ ئی پر لیٹ گی ۔ گہری اور خراٹے
بھری نیند اس طرح سے ط ری ہوئی کہ ہ ئے ہ ئے کی آوازیں یکسر
بند ہو گئیں۔ وہ دیر گئے تک میرے پ س بیٹھی رہیں۔ یوں لگ رہ تھ
کہ میں بیم ر نہیں ہوں۔ ان ک کہن ہے کہ وہ اس مہک کو ت دیر
محسوس کرتی رہیں۔ ان کے نزدیک ایسی مہک انہوں نے زندگی بھر
نہیں محسوس کی۔
ا صرف
ایک سچ واق ہ
مقصود حسنی
یہ مئی ٧کی ب ت ہے۔ رات گی رہ بجے یوں محسوس ہوا جیسے
میرا س نس بند ہو رہ ہو۔ میں ج دی سے اٹھ کر صحن میں آ گی لیکن
بج ئے س نس ک س س ہ اپنے روٹین پر آت ‘ ح لت مزید بگڑتی گئی۔
مجھےیوں لگ جیسے میری ج ن نکل رہی ہو۔ رضیہ‘ ی نی میری بیوی
جو چ نے پھرنے سے م ذور سی ہے۔ بڑی پریش نی میں آ گئی۔ وہ
ب وجود اپنی سی کوشش کے مجھے سمبھ ل نہیں پ رہی تھی۔ ہ
دونوں کے سوا تقریب گھر میں کوئی نہ تھ ۔ پھر پت نہیں اس میں اتنی
شکتی کہ ں سے آ گئی۔ ہ س یہ کے گھر چ ی گئی۔ ہ س یہ میری سلا
دع میں تھ ۔ اس کے دونوں لڑکے آگئے اور مجھے ایک پرائیویٹ
ہسپت ل لے گئے۔ وہ ج نتے تھے کہ سرک ری ہسپت ل میں لے ج ن کسی
طرح خطرے سے خ لی نہیں۔ وہ ں ڈاکٹر اور عم ہ محض چ ت پھرت
لاشہ ہیں۔ رستہ میں میں بےسدھ ہو گی ۔
موٹر س ئیکل پر لے ج ن بلاشبہ ن ممکن ت میں تھ لیکن وہ مجھے
کسی ن کسی طرح لے ہی گئے۔ ایمرجنسی میں لے ج ی گی ۔ پوری توجہ
دی گئی۔ مکمل چیک اپ کی گی ۔ انہوں نے مجھے مردہ قرار دے دی ۔
انتیس منٹ کے ب د ایک لمب س نس آی ۔ مجھے اسٹیچر پر لٹ کر
برآمدے میں منتقل کر دی گی تھ ۔ ج انہیں بت ی گی کہ لمب س نس آی
ہے تو دوب رہ سے وارڈ میں لا کر بیڈ پر لٹ دی گی اور ڈاکٹری عمل
شروع کر دی گی ۔ س نس اور نبض کی بح لی ہوئی تو فورا سے پہ ے
لاہور لے ج نے کے لیے کہہ دی گی ۔ الله کے احس ن سے ٹھیک ہو گی ۔
:اس عمل نے مجھے تین تجربوں سے گزرا
ج ن نک ن کتن مشکل ہے اور یہ عمل انس ن پر کتن دشوار گزار -
ہوت ہے۔
مرنے کے ب د بھی ایک جہ ن ہے جو کہ نی نہیں حقیقت ہے۔ -
موت سے پہ ے مجھے ڈاکٹر ص ح پروفیسر ص ح کہہ کر پک را -
ج رہ تھ ۔ موت کے یقین پر کہ گی ڈیڈ ب ڈی لے ج ؤ‘ لاش لے ج ؤ۔
اتنی بےمکھی و بےرخی۔ عزت زندگی تک تھی۔ کچھ تو موت کے ب د
بھی پروٹوکول دی ہوت ۔ محترمہ دیڈب ڈی ی لاش ص حبہ لے ج ؤ۔ کی یہ
س س نسوں تک تھ ۔ مجھے اپنی حیثیت اور کرتوت ک اندازہ ہو گی ۔
س س نسوں تک ہے اس کے ب د کچھ نہیں۔
ان گنت آئے اور چ ے گئے‘ کوئی ان کے مت ج نت تک نہیں۔ لوگ
تو منہ پھیریں گے ہی اپنے بھی ج دیوں میں ہوتے ہیں۔ کسی کے پ س
اتن وقت کہ ں کہ نہیں اور م قود کے لیے اپن وقت برب د کرت پھرے۔ یہ
دنی ہے یہ اپنے ہیں جو شخص سے زی دہ چھنیوں اور کولیوں کو
محتر رکھتے ہیں۔ اسی روز میں نے چیزوں کو طلا دے دی۔ میں
نے جو تھوڑا بہت موجود ہے ان لوگوں کے ن کر دی ہے۔ یہ ج نیں
اور چیزیں ج نیں۔
ا صرف اس امر کی فکر دامن گیر ہے کہ الله کے احس ن ت ک کن
ال ظ اور کیسے شکریہ ادا کروں۔ دوسرا اپنے دانستہ اور ن داستہ
گن ہوں کی م فی کس طرح م نگوں۔ الله مجھے ہر دو ک س یقہ سجھ
دے۔ آپ س میرے لیے دع کریں۔
ہ ں البتہ
نئی نسل اسے جدی پشتی امیر کبیر سمجھتی تھی۔ وہ بھی یہ ہی بت ت
اور ظ ہر کرت تھ ۔ جو ج نتے تھے وہ بھی اس کے اثر و رسوخ سے
خوف زدہ ہو کر اس جھوٹ کو حقیقت کہتے تھے۔ کون اس خواہ
مخواہ کے م م ے میں پڑ کر گر ریت سے اپنی پس یوں کی ٹکور
کرت ۔ ہ ں البتہ یہ حقی سچی ب ت ہے کہ اس نے کوٹھی ں‘ ک ریں‘ بنک
بی نس‘ عزت‘ شہرت اور ش ہی اثر و رسوخ ش ہی گم شتگی کے حوالہ
سے نہیں کم ی تھ ۔ ش ہی اداروں کے ک رکن چوری کے لیے خود اس
کے قری آئے تھے۔ ان کی قربت ک اسے یہ ف ئدہ ہوا تھ کہ بہت سی
سرک ی کٹوتیوں سے نج ت پ گی تھ ۔ ا نئے زم نے میں اسے بج ی
پ نی اور گیس کی سہولت م ت میں ح صل ہو گئی تھی۔ مت قہ اہل ک ر
کھ نے پینے کے لیے ح ضر ہوتے رہتے تھے۔ منتھ ی کی ت ریخ طے
تھی۔ مقررہ ت ریخ پر آتے جی گر کرتے اور وہ ج تے۔ میٹر آگے
پیچھے کرنے کو اس کے منشی کو کہن نہیں پڑت تھ بل کہ وہ خود ہی
بڑی ذمہ داری سے اپن فرض نبھ تے۔ وہ ج نتے تھے کوت ہی ی بغ وت
کی صورت میں رسی ان کے تکیے کی زینت بن ج ئے گی۔
ہر موجود شے اس کے من ی عمل اور ی بئی م نیے تیرا آسرا ک ثمرہ
تھی۔ یہ ہی کوئی پچپن س ل پہ ے وہ م ک بدرالدین سیٹھ نہیں بدرا
م چھی تھ ۔ وہ لالہ جی را ک ب اعتم د گھری و ملاز تھ ۔ لالہ جی را کو
یقین تھ کہ وہ حد درجہ ایم ن دار ہے اور ہیرا پھیری سے کوسوں
دور ہے۔ وہ بڑی چ بکدسی سے لالہ جی را کی چیزوں پر پلاس ڈالت
تھ ح لاں کہ لالہ چ ر آنکھوں والا تھ ۔ اس نے پہ ے پہل نظرانداز
چیزیں کم ل ہوشی ری سے اینٹی کیں اس کے ب د اس نے زیر تصرف
اشی پر ب ری ب ری ہ تھ ڈالا۔ ہ ں البتہ فوری است م ل کی چیزوں سے
دور رہ ۔ کبھی کھب ر است م ل میں آنی والی اشی کی حیثیت سہی لیکن
فوری کی سی حیثیت نہیں ہوتی۔
دونوں می ں بیوی ہوشی ر چلاک تھے اس لیے انہوں نے گھر ک خرچہ
م ہ نہ عوض نے پر چلای ‘ ان کون اور چورائی گئی اشی سے
موصولہ رق کو پس انداز کی ۔ یہ رق ایک عرصے کے ب د م قولیت
اختی ر کر گئی۔ لالہ جی را سورگ ب سی ہوئے تو اس نے ملازمت
چھوڑ دی اور اپنے اب ئی گ ؤں جیج پور ج کر پرچون کی دوک ن ڈال
لی۔ مک ن آب ئی تھ اس لیے کوئی کرایہ بھ ڑا نہ دین پڑت تھ ۔ نم ز
روزے کی پ بندی کرنے لگ لوگ اسے نم زی پرہیزی سمجھ کر اسے
ایم ن دار خی ل کرتے تھے۔ وہ نہیں ج نتے تھے کہ وہ سیر میں آدھ
پ ؤ کی ڈنڈی لگ ت ہے۔ عمرہ کرکے آنے کے ب د آدھ پ ؤ ملاوٹ بھی
کرنے لگ ۔ ا کہ ہ تھ میں تسبیح سر پر ٹوپی بھی سج گئی تھی۔ گٹھ
مٹھ داڑھی رکھنے سے اس ک چہرا تقدسی س ہو گی تھ ۔ پھر اس نے
دوک ن پر دودھ رکھن شروع کر دی ۔ دودھ پ س کھڑے ہو کر ح صل
کرت ۔ قطرہ پ نی ک نہ ڈالنے دیت ۔ خود بھی ایم ن داری کے تق ضے کو
پورا کرنے کے لیے دودھ میں پ نی نہ ڈالت بل کہ پ نی میں دودھ ڈال کر
اس کی طہ رت ک اہتم ضرور کرت ۔
گ ؤں کو قصبہ اور قصبہ کو شہر ہونے میں س ل کے س ل لگ گیے
کرث کنجوسی اور دونمبری رنگ لائی۔ اس کم ئی سے اس نے تھوڑے
داموں کئی مک ن اور کئی ایکڑ زمین سستے اور اونے پونے داموں
میں خرید کر لی۔ گ ؤں ج قصبہ بن تو اس ج ئیداد کی قیمت بڑھ گئی۔
ج قصبہ شہر ہوا تو قیمتیں آسم ن سے ب تیں کرنے لگیں۔ اس نے
ت میرات کے س تھ س تھ زمین کو چھوٹے چھوٹے رہ ئشی پلاٹوں کی
شکل دے دی۔
اس کی بیوی بھی ہیرا پھیری کی شطرنج کی زبردست کھلاڑی تھی۔
بدقسمتی سے وہ ہیراپھری کی راہ میں اس کے س تھ آخر تک س ر نہ
کر سکی اور موت کی آغوش میں چ ی گئی۔ پہ ے وہ یک مکھی تھ
ج کہ ع ش ں سہ موکھی تھی۔ ا وہ اکیلا چومکھی ہیرا پھیری ک
گتک چلا رہ تھ ۔ دولت کے انب ر لگ چکے تھے۔ ہر کوئی اس سے
سلا دع میں فخر محسوس کرت تھ ۔ مقتدرہ اداروں کے اہل ک ر اس
کے اپنے ہو چکے تھے۔ شہر میں اس کی اپنی م رکیٹیں تھیں۔ ہر
طرف سے نوٹ اس کے کھیسے لگتے تھے۔
دوسری راتوں کی طرح اس رات بھی وہ حس کت کرکے چ رپ ئی پر
بلاع ش ں آ رہ ۔ دھندےک ر عورتوں میں ع ش ں ک س مزا نہ تھ ۔ ان ک
مزا اور پی ر ج ی اور ع رضی تھ ۔ وہ کسی دھندےک ر عورت کو
مستقل سر پر سوار کرکے م ل ک اج ڑا نہیں کرن چ ہت تھ ۔ ج
ضرورت پڑتی اس رات کے لیے کسی دھندےک ر کو ب وا لیت ۔ اس رات
وہ اداس اور کسی وجہ سے غ گین تھ ۔ کوئی دھندےک ر بھی نہ
ب وائی تھی۔ دیر تک بےچینی کی کروٹیں بدلت رہ ۔ آخر نیند نے آ گھیرا۔
خوا میں کی دیکھت ہے کہ وہ مر رہ ہے اور ج ن نک نے سے بڑی
خوف ن ک ازیت میں مبتلا ہے۔ آخر شدید ازیت ن کی کے ب د ج ن نکل
ہی گئی۔ اسے س ید لب س میں خ لی ہ تھوں لحد میں ات ر دی گی ۔ چند
پھول ہی ا کہ اس ک اث ثہ تھ ۔ کوئی دیر تک وہ ں نہ ٹھہرا۔ اس کی
اپنی اولاد بھی اسے اکیلا چھوڑ کر چ تی بنی۔ ہر کسی کو سیٹھ ص ح
کے دستر خواں پر پڑے کھ نے پر ٹوٹ پڑنے کی ج دی تھی۔
نئی رہ ئش ک اک متی ہوئے اسے زی دہ دیر نہ ہوئی ہو گی کہ حس
کت کرنے والے فرشتے آ دھمکے یہ ہی نہیں عج طرح کے کیڑے
مکوڑے بچھو اور س نپ بھی اس کی خبر گیری کو آ گیے۔ وہ دو
نمبری س کے لیے کرت تھ لیکن بھگت اس اکی ے کو پڑ رہ تھ ۔
اسے بڑا دکھ ہوا کہ ایک آدھ گھنٹے بھی اس ک س تھ نہ دے سک ۔ وہ
ان سے کتن پی ر کرت تھ ۔ ان کے منہ سے نک ی کو ٹھکرات نہ تھ ا
ج کہ وقت پڑا تھ کوئی اس کے س تھ نہ تھ ۔ یہ کیسی اولاد تھی۔
جھک کر سلا کرنے والے س تھ دینے ک وعدہ کرنے والے سکرین
سے ہٹ گیے تھے جیسے وہ ان ک اس سے کوئی رشتہ ن ت ہی نہ رہ
ہو۔ فرشتے کیڑے مکوڑے بچھو اور س نپ ہی کی دونمبری ک شک ر
ہونے اور موت کی آغوش میں چ ے ج نے والے چھینے کی واپسی
کے لیے آ دھمکے تھے۔ وہ تو خ لی ہ تھ اکیلا ہی اس گورکوٹھری میں
ح لات کے رح کر پر چھوڑ دی گی تھ ۔ اس خوف ن کی نے اس کی
نیند چرا لی اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھ ۔
وہ کئی لوگوں کو مرتے دیکھ چک تھ ۔ ان آخری رسوم ت میں ش مل ہو
چک تھ ۔ مرگ سوئ اور چ لیسموں کے پکوان بھی اڑا چک تھ ۔ اس
نے کئی ب ر دیکھ کہ مردہ خ لی ہ تھ منوں مٹی ت ے دب کر لوگ اپنی
راہ لیتے تھے۔ دور کی ج ن ہے وہ خود بھی اپنے م ئی ب پ کی قبر پر
وقت کی ق ت کے سب نہ ج سک تھ ۔ ع ش ں سے پی ر کے بڑے
دعوے ب ندھت تھ قبر پکی کروان تو بڑی تھی کہ اس پر دا اٹھتے
تھے دع ف تحہ کے لیے بھی اس کی قبر پر نہ ج سک تھ ۔ ح لاں کہ
اسے پیدل نہیں ج ن تھ ۔ اس نے ارادہ کی کہ س کچھ غریبوں
مسکینوں میں ب نٹ دے گ اور ت مرگ توبہ کے دروازے پر دستک دیت
رہے گ ۔
وہ ن شتے کے لیے ط گ ہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سیٹھ بدرالدین
نے گزری رات ک خوا اپنے بیٹوں اک وتی بیٹی اور بہوؤں کو سن ی ۔
س نے سن اور اس پر کوئی غور نہ کی ۔ ج اس نے اپن ارادہ ظ ہر
کی تو ان کے ہ تھوں کے لقمے منہ تک رس ئی ح صل نہ کر سکے۔
س نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ اور گ تگو کدے کی ج ن بڑھ
گئے۔ کچھ دیر ب د واپس لوٹے اور انہوں نے ب پ کو س تھ آنے ک
اش رہ دی ۔ وہ کچھ سمجھ نہ پ ی اور ان کے س تھ ہو لی ۔ کوئی کچھ نہ
بولا۔ س ر بڑی خ موشی سے کٹ رہ تھ ۔ پہ ے وہ ایک درب ر پر گئے۔
کچھ دیر رکے پھر چل دیے۔ ش ید وہ اسے وہ ں چھوڑن چ ہتے تھے
لیکن واپسی کے ڈر سے دور کے شہر کے بڈھ ہ ؤس کے دروازے پر
آ رکے۔ وہ ان کی اس حرکت سے حیران رہ گی ۔ انہوں نے وہ ں اس ک
ن رجسٹر کروای اور بلا سلا دع لیے اسے اکیلا چھوڑ کر چ ے گئے۔
اس عمل میں اس کی لاڈلی بیٹی اور انتہ ئی وف در ڈرائیور شوکی بھی
ش مل تھ ۔ اسے اپنی اولاد کے فیص ے پر بڑی حیرانی ہوئی لیکن یہ
سوچ کر بڈھ ہ ؤس میں داخل ہو گی کہ آخر اسے اکی ے ہون ہی تھ
ہ ں البتہ قبر اور بڈھ ہ ؤس کے لب س میں فر موجود تھ ۔
ضروری نہیں
ب دش ہ لوگ برے نہیں ہوتے۔ ت ریخ اٹھ کر دیکھ لیجیے ش ید ہی کوئی
ب دش ہ برا رہ ہوگ ۔ چمچے‘ کڑچھے‘ گم شتے‘ خوش مدی وغیرہ تو
الگ رہے‘ مورکھ بھی ان کے گن گ ت چلا آ رہ ہے۔ وہ وہ ک رن مے ان
کے ن کر دیے گیے ہیں‘ جو ان کے فرشتوں تک کو ع نہیں رہ ہو
گ ۔ ان کی دی و کرپ ایک طرف‘ زنجیر عدل کے ڈھنڈورے پیٹنے میں
کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ ح لاں کہ عدل و انص ف ک ان سے
کبھی کوئی ت اور واسطہ ہی نہیں رہ تھ ۔ چوری خور مورکھ کے
ل ظوں نے آتے وقت کے لوگوں کو گ راہ کی ہے۔ ان کی کرتوتوں
سے ن رت کی بج ئے‘ آتی نسل کی جذب تی وابستگی محبت اور
عقیدتوں کو چھوتی نظر آتی ہے۔
ان کے ت میر کیے گیے مح وں‘ عشرت کدوں اور ایسی بہت سی
لغوی ت کو تحسین کی نظروں سے دیکھ گی ہے۔ کبھی کسی نے ان پر
انگ ی نہیں رکھی کہ یہ س کن کی کم ئی سے بن ی گی ۔ انگ ی رکھنے
والے کی جذب ت میں آ کر انگ ی ک ٹی ج تی رہی ہے‘ جیسے کسی نبی
ی بزرگ کی ش ن میں گست خی کر دی گئی ہو۔
کی ش ہ نے گ یوں میں گول گپے بیچ کر س بن ی تھ ی وہ کسی سیٹھ
کے ہ ں مزدوری کرت رہ تھ ۔ عوا کی مشقت کی کم ئی جو ان کی
بہبود کے ن پر ح صل کی گئی‘ اپنی عیش کوشی پر صرف کی۔ ان
پہ ووں پر کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔
اس روز بوب اور اس کی بیوی اچھے اور روم نی موڈ میں بیٹھے
ہوئے تھے۔ اس کی بیوی نے بڑے نخرے اور لاڈ میں آ کر کہ :ش ہ
جہ ں نے اپنی بیوی کے لیے ت ج محل بن ی تھ اور آج وہ دنی جہ ں
کے لیے محبت کی خو صورت نش نی ہے۔ دور دور سے لوگ اسے
دیکھنے آتے ہیں۔ کی ت بھی میرے مرنے کے ب د میرے لیے ت ج محل
بن ؤ گے۔
بوبے نے یہ کہنے کی بج ئے کہ وہ ب دش ہ نہیں ایک مزدور ہے۔
دوسرا اس کی کم ئی لوٹ کی نہیں۔ یہ بھی کہ ت م کہ نہیں ہو جو م کہ
م ں ک ن دے کر لوگوں سے چندہ اکٹھ کر لے گ ۔
بوبے نے بھی پرروم ن انداز میں کہ :میں نے پلاٹ خرید لی ہے بس
ا دیر تمہ ری طرف سے ہے۔
اس کی کہنی اندر کی نہ تھی۔ اس نے ڈیڑھ مرلے ک پلاٹ نیچے دک ن
اور اوپر اپنی محبوبہ چھم کے س تھ رہ ئش کے لیے خرید کی تھ ۔
ضروری نہیں کہنی اندر کی پر استوار ہو۔ بیوی بھی خوش اور اندر کی
ک اظہ ر بھی ہو گی ۔
ہونی ک اندر کی پر استوار ہون ضروری نہیں۔ ہونی اپنی مرضی کی
م لک ہوتی ہے۔ بوب ب زار سے آ رہ تھ کہ کھتوتی ریڑھی سے ٹکرا
کر سر کے بل گرا اور گرتے ہی تھ ں پر ٹکی ہو گی ۔ اس کی موت پر
شنو نے رونے دھونے ک خو ڈرام رچ ی کہ زم نہ اس کی محبت
پرعش عش کر اٹھ ۔ یہ الگ ب ت ہے کہ ادھر عدت پوری ہوئی ادھر
اس نے اپنے بچپن کے سنگی سے نک ح کر لی ۔
ان دنوں اس ڈیڑھ مرلہ پر بوبے کے س لے ک دھکے ش ہی قبضہ ہے۔
شنو ک سنگی ہ تھ م ت پھرت ہے کہ جس زمین کے لیے اس نے شنو
فٹ فٹی سے ش دی کی تھی وہ ہ تھ نہ آئی اور پ ے میں یہ سیکنڈ ہینڈ
شنو فٹ فٹی ہی رہ گئی ہے۔
الله م ف کرے
آدمی دکھ میں لاکھ کوشش کرئے‘ ہنسن تو دور کی ب ت‘ اص ی اور
خ لص مسکراہٹ سے بھی آوازار ہو ج ت ہے۔ خوشی ی کسی ہنسی کی
ب ت میں اس کے چہرے کی مسکراہٹ ج ی اور زبردستی کی ہوتی
ہے۔ یہ کی یت کسی م س اور ن دار سے مخصوص نہیں‘ بڑے بڑے
ن ڈو خ ں بھی دکھ درد اور بیم ری‘ اگرچہ وہ خود سم جی بیم ری ہی
کیوں نہ ہوں‘ میں اص ی مسکراہٹ دیکھ نہیں پ تے۔ مزے کی ب ت یہ
کہ ان کے ہ ں طواف کرنے والے‘ ان کے اپنے ی ان کے کسی کن
قری کے س منے بھی مسکرانے کی زحمت نہیں اٹھ تے۔ وہ بھی یوں
منہ بسورتے نظر آتے ہیں جیسے دکھ کی بھٹی میں پڑے س گ ہوں۔
گھر پر بھی ص ح کے دکھ ک تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔
نک واحد ایس بندہ دیکھ ہے جو دکھ درد تک یف اور بیم ری سے ب لا
تر ہو کر ہنست ہے اور مسکرات بھی ہے۔ کوئی اندازہ نہیں کر پ ت کہ
ان لمحوں میں وہ کسی دکھ درد ی مصیبت میں ہے۔ کہیں سے م و
پڑت کہ وہ فلاں پریش نی میں گرفت ر ہے۔ ج دیکھو ہنست مسکرات نظر
آت ہے۔ اس کی اس ادا کے سب س اس قری رہتے ہیں۔ کچھ بھی ہو
ج ئے عمومی لوگوں کی طرح م نند سگ بھونکت ی ٹونکت نہیں۔
بھونکن ٹوکن ی چپ اختی ر کرن اس کے ک غذوں میں نہیں۔
اس روز پت نہیں اسے کی ہوا تھ کہ خ موشی کی بکل سے نکل ہی
نہیں رہ تھ ۔ لاکھ پوچھ کریدا اس کی چپ ک کوئی سرا ہ تھ نہ لگ ۔ اس
کی ہوں ہ ں بھی کسی کی گرہ میں نہ پڑ رہی تھی۔ س را دن اسی ح لت
میں گزر گی ۔ ش کو پت چلا گ ؤں کی مسجد کے می ں ص ح نے بلای
تھ اور اسے کچھ کہ تھ ۔ ش نی عید نم ز بھی پڑھنے نہیں ج ت تھ ۔
اس دن عش ء کی نم ز پڑھنے چلا گی ۔ ہ جولی ڈیرے پر بیٹھے ش نی
ک انتظ ر کر رہے تھے۔ وہ نکے کی چپ ک راز ج نن چ ہتے تھے۔
ش نی ج مسجد سے لوٹ تو س اس کی ج ن لپکے۔ اس نے بت ی کہ
نکے کو مولوی ص ح نے بلای تھ اور اسے بت ی کہ وہ بہت بڑے
گن ہ ک مرتک ہوا ہے۔ فوری طور پر توبہ کرئے اور اپنے کیے ک
ک رہ ادا کرے۔ یہ ب ت تو چ تے چ تے ہوئی تھی۔ ج ش نی بیٹھ تو
س نے پوچھ آخر نکے سے ہوا کی جس کی وجہ سے گن ہ گ ر ٹھہرا۔
اس نے بت ی کہ اس سے ہوا تو برا ہے۔ کسی ک مذا اڑان واق ی
درست تو نہیں۔ ہ ہنسی ہنسی میں ایک دوسرے ک مذا اڑاتے رہتے
ہیں ہمیں اس سے پرہیز رکھن چ ہیے۔
او ی ر آخر ہوا کی جو اس کی بوکی گر گئی۔ کچھ پت بھی تو چ ے۔ بکی
نے الجھے الجھے لہجے میں کہ
نکے کی بیوی بین نے می ں ص ح سے شک یت لگ ئی تھی کہ نک
اٹھتے بیٹھتے اس ک مج کھ اڑات ہے۔ می ں ص ح نے اس کے اس
گن ہ پر حد لگ دی۔
کی مذا اڑات تھ ۔ شبو نے پوچھ
اس کی بیوی ک تکیہ کلا تھ الله م ف کرے۔ اس روز ج اس کے
منہ سے الله م ف کرے نکلا تو وہ دوڑا دوڑا اس کے پ س گی اور
مذاقیہ انداز میں پوچھنے لگ کہ کی کر بیٹھی ہو جو الله سے م فی ں
م نگ رہی ہو۔ پہ ے تو اس نے خود خو بول بولارا کی اس کے ب د
می ں ص ح سے شک یت کر دی۔
توبہ ت ئ کرتے رہن چ ہیے اس سے گن ہ ک ہوتے ہیں۔ نکے نے
واق ی گن ہ کی جو توبہ ت ئ ہوتے بندے کی راہ میں آ گی ۔ عمرے نے
لقمہ دی
ک فی دیر تک س دوست اس مدے پر گ ت گو کرتے رہے اور اس
نتیجے پر پہنچے کہ نکے نے بہت بڑا گن ہ کی ہے۔ اسے ک رہ ادا کرن
چ ہیے۔
وہ دن ج ئے اور آج ک آئے‘ لوگ ہنسی مذا کی روایت سے دست
بردار ہو گیے ہیں۔ ہنست مسکرات نک چپ کے ب دلوں میں کہیں کھو گی
ہے۔ اس کے ب د کسی نے اس کے منہ پر کبھی شوخی کے گلا
کھ تے ہوئے نہیں دیکھے۔
چ لیس برس ہونے
ب ب جی کھ ن تن ول فرم رہے تھے کہ ان کی دو ڈھ ئی س ل کی بچی ب ر
ب ر آ کر ن صرف ڈسٹر کر دیتی ب کہ اپنے مٹی م ے ہ تھ چپ توں کو
لگ تی۔ وہ مسکرا دیتے اور کھ ن ج ری رکھتے۔ مج ل ہے جو ان کے
م تھے پر س وٹ پڑتی۔ ان کی بیگ اسے اٹھ کر لے ج تی اور وہ
دوب رہ سے آ ج تی۔ ایک ب ر انہوں نے ڈانٹ اور ایک ہ کی سی چپت
بھی رکھ دی۔ ب ب ص ح خ ہوئے کہ بھئی م صو ہے اسے کی پت ۔
بڑے ن ز نخرے سے اس کی پرورش ہوئی۔ دینی ت ی کے س تھ
مدرسے کی ت ی سے بھی اسے اراستہ کی گی ،دھو سے اس کی
ش دی کی۔ اپنی بس ط سے بڑھ کر جہیز میں س م ن دی ۔ دع ؤں کے
س یہ میں اس کی رخصتی کی۔ الله کے احس ن مند ہوئے کہ اس نے
انہیں اس فرض سے سرخرو کی ۔
اپنے دونوں بچوں کے س تھ نصرت عرف نشو م ئی ب پ کے ہ ں آئی
ہوئی تھی۔ اپنی م ں سے ب تیں کرنے کے س تھ س تھ اپنے دونوں بچوں
کو ک ٹ ک ٹ کر آ کھلا رہی تھی۔ ب ب جی چ رپ ئی پر لیٹے ہوئے تھے۔
اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنی بیٹی نشو سے کہنے لگے :ایک آ ک ٹ کر
مجھے بھی دین ۔
ٹوکری میں آ ک فی پڑے ہوئے تھے۔ آ ک ٹ کر دینے کی بج ئے کہنے
لگی :منڈی آرڈر بھجوای ہوا ہے۔
ب ب جی مسکرائے اور کہنے لگے :بیٹ اولاد ہر رشتے یہ ں تک کہ
م ں ب پ سے بھی بڑھ کر پی ری ہوتی ہے۔ جن کی بیٹی ں بی ہ کر لان ان
سے اچھ اور پی ر بھرا س وک کرن ۔ انہیں بھی اپنی بچی ں اسے طرح
پی ری ہوں گی جس طرح تمہیں اپنے بیٹوں سے پی ر ہے۔
اس ب ت کو چ لیس برس ہونے کے قری ہیں۔ اس وقت تو ب ب جی کی
ب ت سمجھ میں نہ آ سکی تھی ا ج کہ دونوں کی بیوی ں آ چکی ہے۔
ان میں ایک سگی بھتجی ہے۔ اس نے ان ک جین حرا کی ہوا ہے۔ ج
ان کے خ وند ان کے پ س بیٹھتے ہیں ی اپنی بیویوں کے لیے کوئی
چیز لاتے ہیں تو فورا شور مچ دیتی ہے۔
ہ ئے میں مر گئی میرا دل بیٹھ رہ ہے۔ ہ ئے میرا س نس رک گی ۔
وہ اسی طرح اپنے کمرے میں قد رکھنے سے پہ ے ہی اس چیز
سمیت م ں کے حضور ح ضر ہو ج تے ہیں۔ وہ چیز ان کی بیویوں کے
نصی میں نہ ہوتی ح لاں کہ وہ اپنی بیویوں کے لیے لائے ہوتے۔ اس
کی بیٹی ں سسرال میں ک اس کے پ س بچوں سمیت زی دہ رہتیں۔ وہ ہی
چیزیں وہ اور ان کے بچے ڈک رتے۔
چھوٹ اپنی بیوی‘ جو نشو کی بھتیجی بھی تھی ک تھوڑا بہت خی ل
رکھت تھ ۔ وہ بھی اسے نہ بھ ی ۔ اس نے اپنی دونوں بیٹیوں سے صلاح
مشورہ کرکے ڈی وری سے پہ ے ہی اس پر الزا رکھ دی اور اسے چ ت
کی ۔ وہ سچی تھی کہ بچے کی پیدائش کے ب د اس کے بیٹے نے ک ی
طور پر بیوی اور بچے ک ہو رہن تھ ۔ ص ف ظ ہر ہے‘ دوسرے رشتے
ایک طرف‘ اولاد م ں ب پ سے بھی پی ری ہوتی ہے۔ اسے بھ ئی کی
عزت اور اس کے اپنے بیٹے کے گھر کے برب د ہونے ک رائی بھر
ملال نہ تھ ۔ اس سے بڑھ کر کھیڈ اس نے اپنے خ وند کی مرحو بیوی
کے بچوں کو گھر بدر کرنے کے لیے رچ ئی تھی۔
آج چ نے پھرنے سے م ذور ہے لیکن اس نے اپن چ لا نہیں بدلا۔ الله
کی الله ہی ج نت ہے کہ اس نے شیط ن کو اتنی لمبی عمر اور کھ ی
چھوٹ کیوں دے رکھی ہے۔ خود ل نت کی جیت ہے اوروں کی زندگی کو
بھی ل نتی بن کر دنی میں شر اور فس د کو ع کر دیت ہے۔ بڑے
بزرگوں ک کہ محض قصہ کہ نی ہو کر رہ ج ت ہے۔
ب ت تو کوئی بڑی نہ تھی
میری کی ‘ ہر کسی کی آنکھیں بین ئی موجود ہونے کی صورت میں
لوگوں کو اور زندگی کے بےشم ر من ظر دیکھتی ہیں۔ خو صورت
من ظر اور زن نہ و مردانہ چہرے طب یت پر اچھے ت ثرات چھوڑتے ہیں۔
زن نہ چہرے اور من س جثے قدرے بہتر ی ل ٹ کرانے والے ہوں تو
کی ہی ب ت ہے۔ طب یت بلاتک ف اور خواہ مخواہ م ئل و ق ئل اور مچل
مچل ج تی ہے۔ یہ ہی نہیں اکثر اوق ت ان میں حوروں اور پریوں کے
ج وے نم ی ں ہو ج تے ہیں۔ مط بری کے ب د کچھ ی د نہیں رہت کہ وہ
کون تھیں۔ ی دداشت کے م م ہ میں ش ید ان ک بھی یہ ہی ح ل رہ ہو
گ۔
یہ ہی آنکھیں طب یت اور مزاج سے میل نہ کھ تے من ظر کو خرا اور
بےک ر قرار دے دیتی ہیں۔ اس طرح بوڑھے آدھ کھڑے بےڈھبے ی
بےل ٹے چہروں پر ن پسندیدگی کی مہر ثبت کر دیتی ہیں۔
انس ن کی آنکھیں س کو اور س کچھ دیکھتی اور دیکھ سکتی ہیں
لیکن یہ کتنی عجی حقیقت ہے خود کو نہیں دیکھ سکتیں۔ جس چہرے
پر آویزاں ہوتی ہیں اس کو دیکھنے سے ع ری ہوتی ہیں۔ اپنی ہی پشت
کو دیکھنے سے م ذور رہتی ہیں۔ جس جس ک حصہ ہوتی ہیں اس
جس کے اندر کی کچھ ہے اور کیس ہے ان کی بص رت کی رس ئی اس
تک ممکن نہیں۔ جو آنکھیں خود کو نہیں دیکھ سکتیں اور مخت ف
ح لات میں اپنے چہرے کے ات ر چڑھ دیکھنے سے ع ری ہیں انہیں
کسی دوسرے میں موجود خرابیوں پر انگ ی رکھنے ک کی ح بنت ہے۔
یہ کوئی چ لیس پچ س س ل پی ے کی ب ت ہے میرے دوست شریف نے
اپنے کسی م نے والے کے ک کے س س ہ میں اس کے س تھ مجھے
لاہور بھیج ۔ اس روز جم ہ تھ ۔ جم ے ک ٹ ئ بھی ہو رہ تھ لیکن ہ
اپنے ک میں مصروف تھے اور س تھ میں ب تیں بھی کیے ج تے تھے۔
وہ کہنے لگ :دیکھو جی‘ لوگ مذہ سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔ آج
جم ہ ہے لیکن بلاتردد اپنے اپنے ک موں میں مصروف ہیں کوئی مسجد
ک رخ نہیں کر رہ ۔
میں نے کہ :ی ر ت کہتے تو ٹھیک ہو۔ ہ مذہ سے دور ہو گئے ہیں‘
مذہ سے دوری ہی ہمیں ذلیل و رسوا کر رہی ہے۔ ت بھی تو مسجد
میں جم ہ پڑھنے نہیں گئے۔
میرے جوا پر وہ خ ہوگی اور کہنے لگ کہ آپ پرسنل ہو گئے ہیں۔
میں تو لوگوں کی ب ت کر رہ تھ ۔
اس نے مجھ سے اپن رستہ جدا اختی ر کر لی ۔ میں اس کے ک آی تھ
اور ک بھی کروا دی تھ ۔ ص ف ظ ہر ہے اس کے ک آی تھ آنے ج نے
ک کرایہ اسی نے بھرن تھ ۔ آتی ب ر تو اس نے بھرا لیکن ا ج تی ب ر
بھی اسی نے ادا کرن تھ ۔ میں نے رستہ ص ف کرنے کی بڑی کوشش
کی لیکن وہ نہ م ن ۔ اس ک ک نکل گی تھ اور ا اسے میری ضرورت
نہ تھی۔ ن چ ر مجھے اپن کرایہ بھر کر واپس آن پڑا۔ ب ت تو کوئی بڑی
نہ تھی کہ اس نے جسے بتنگڑ بن دی ۔ ش ید وہ بھی کرایہ بچ نے کے
لیے یہ ن ٹک رچ گی تھ ۔ اوپر سے شریف سے بہت کچھ الٹ سیدھ
کہہ دی ۔ وہ کئی دن تک مجھ سے نہ بولا۔
آسودہ وہ ہی ہیں
چھ ؤں ہو تو آدمی دھوپ کی خواہش کرت ہے۔ دھوپ ہو تو چھ ؤں کی
تمن ج گتی ہے۔ فراغت میں مصروفیت ج کہ مصروفیت میں فراغت
چ ہت ہے۔ گوی انس ن کی فطرت تبدی یوں سے عب رت ہے۔
میں کل اپنی بیٹی سے م نے ج رہ تھ ۔ رستے میں کئی گ ؤں آتے ہیں۔
کچے مک ن جن کی لپ ئی بھوسے م ی مٹی سے کی گئی تھی۔ گ ؤں کے
گرد و نواح میں ہرے بھرے کھیت تھے۔ گھنی چھ ؤں والے درختوں
کی موج بہ ر اور فطری حسن ق و روح میں سکون اور آسودگی بھر
رہے تھے خواہش ج گی کہ میرے پ س بھی ایک ایس کچ اور لپ ئی کی
مک ن ہون چ ہیے۔ پ نی ن ک چلا کر ح صل کروں اور مٹی کی ہ نڈی میں
س لن پکے جو کسی پیڑ جو ہرے بھرے کھیت میں ہو کی چھ ؤں میں
بیٹھ کر وہ کھ ن کھ ؤں۔ ص ف ظ ہر ہے گ ؤں کے کچے اور لپ ئی کیے
مک ن میں رہنے والے شہر میں ع لی ش ن مک ن میں رہنے کی خواہش
کرتے ہوں گے۔
میں جس مح ے میں رہت تھ وہ ں گری اور درمی نے طبقے کے لوگ
رہتے تھے۔ وہ ں ہر س ل روہی ن لہ قی مت توڑت ۔ اس کے ب وجود لوگ
وہ ں سے نقل مک نی نہ کرتے۔ ج بہتری آتی دوب رہ سے رہ ئش
اختی ر کر لیتے۔ دوچ ر مک ن کچے تھے جو بہہ ج تے رحمت م چھی ک
مک ن کچ اور روہی کن رے تھ ۔
رحمت م چھی صبح ش گھروں میں اپنی مشک سے پ نی سپلائی کرت
تھ ۔ اس کے ب د لکڑی ں وغیرہ لات اور اس کی بیوی تنور ک س س ہ
چلاتی۔ ش پہٹھ پر روٹیآں لگ تی اور رحمت پہٹھ میں آگ داخل کرت ۔
نقدی کی بج ئے آٹ ہی ب طور عوض نہ جسے بھ ڑہ -پہ ڑہ کہ ج ت
ح صل کرتی۔ عورتیں روٹی ں لگ نے آی کرتی تھیں۔ پیڑے بن کر دیتی
ج تیں ج کہ رحمت کی بیوی تنور میں روٹیآں بن کر لگ تی تھی۔ پہٹھ
پر وہ خود بی لگ لیتں۔ روٹیوں کے پکنے ک ک بھی ہوت رہت س تھ
میں ب تیں بھی کرتی ج تیں۔
کڑی مشقت کے ب د ان ک کچھ دال دلیہ ہو پ ت ۔ وہ پیٹ بھر کھ نے کی
ک من رکھتے تھے۔ کی کی ج ئے‘ آسودگی اور خوش ح لی ہمیشہ سے
گریبوں کی بیرن رہی ہے۔ وہ پہ وں میں تھے جو روہی ن لے کی زد
میں آتے تھے۔ ج یہ بلا ٹ تی تو دوب رہ سے ک ئی ک نوں ک جھونپڑا
ت میر کر لیتے۔
اس ب ر تو دوہ ئی ہو گئی۔ افرات ری مچ گئی۔ لوگ س م ن اٹھ ئے ب ند
مق کی طرف بڑھ رہے تھے۔ شدید پریش نی ک ع ل تھ ۔ درمی نے ی ان
سے قدرے بہتر لوگوں پر یہ دن قی مت کے تھے۔ رحمت بچوں کو س تھ
لیے ایک پوٹ ی سی ب ندھے اور مشک کندھے پر لٹک ئے دوسروں کے
:س تھ چ ے ج رہ تھ ۔ س تھ میں ب آواز ب ند کہے ج رہ تھ
بل اوے گریبیے اج ک آئی ایں
س س م ن کے حوالہ سے پریش ن ہوتے وہ موج مستی اور بےفکری
میں ہوت ۔ گوی کسی کے لیے س م ن وب ل اور کسی کے لیے
بےسروس م نی بے فکری ک ب عث ٹھہرتی۔ س را س ل وہ گربت ک رون
روت اور لوگ موج مستی کی گزارتے۔ ب ڑ کے دنوں لوگ اپنے س ز
وس م ن کے لیے روتے اور پریش ن ہوتے وہ بےس م ن ہونے کے
ب عث بےفکری کے دن گزارت ۔
بے شک آسودہ وہ ہی ہیں جو زندگی ک ہر موس قن عت اور
صبروشکر سے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ ری گربت آج ک آئی ہو
وہ بھی سچے ہیں
کتے کو وف دار ج نور سمجھ ج ت ہے ج کہ حقیقت یہ ہے کہ کتے کی
وف داری ہڈی سے مشروط ہوتی ہے۔ آج تو خیر چوری ک رواج نہیں
رہ ڈاکہ اور سینہ زوری ک رواج چل نکلا ہے۔ م ڑے کی گرہ ک م ل
اگر تگڑے نے ہ تھ کر لی ہے تو وہ تگڑے ک ہے۔ دعوی ب ندھنے کی
صورت میں م ڑہ دھر لی ج ت ہے۔ بھ ے زم نے تھے‘ چوری ں ہوا
کرتی تھیں۔ س را م ل چور ک ہوا کرت تھ ۔ آج کی طرح نہیں کہ ڈاکے
کے م ل ک غ ل حصہ ڈاک کشوں ک ہوت ہے۔
اگ ے وقتوں میں سی نے چور اپنے س تھ ہڈی رکھتے تھے۔ کتے کے
س منے ہڈی پھینک دیتے کت ہڈی ک ہو رہت اور وہ خود م ل سمیٹنے
میں مصروف ہو ج تے۔ گوی کتے کی وف داری م لک ی کسی شخص
سے نہیں ہڈی سے وابستہ ہے۔
شروع شروع میں اسے دانت ک درد ہوا۔ قری کے عط ئی ڈاکٹروں
سے دوا وغیرہ لے کر ک چلانے کی کوشش کی گئی۔ کبھی آرا آ ج ت
اور درد کچھ وق ہ ڈال کر پھر سے شروع ہو ج ت ۔ اس کے ب د دو ایک
دانت کے ڈاکٹروں سے دوا لی گئی۔ عط ئی ڈاکٹروں اور ان میں رائی
بھر ک فر نہ نکلا۔ ن چ ر دانت ہی نک وانے میں خلاصی خی ل کی گئی۔
ہ تہ بھر غرارے کرن پڑے اور دی گئی دوا کھ ن پڑی۔ اس سے تقریب
دو م ہ آف قہ رہ ۔ اس نے شکر ادا کی ۔
دو م ہ ب د مسوڑے سے درد نک ن شروع ہو گی ،حس س ب م لجے
ک ک شروع ہوا۔ درد تھ کہ ج ن ہی نہیں چھوڑ رہ تھ ۔ ن چ ر سرک ری
ہسپت ل لے ج ی گی ۔ وہ ں ج کر م و ہوا کہ چھوٹے بڑے ڈاکٹر اور
دوسرا عم ہ صرف اور صرف تنخواہ دینے کے لیے بھرتی کی گی ہے۔
تھک ہ ر کر لاہور کے سرک ری ہسپت لوں ک رخ کی گی ۔ وہ ں ج کر
م و ہوا کہ وہ ں تو مق میوں کے بھی پیو بیٹھے ہوئے ہیں۔
گھر والوں نے سوچ بندہ دوا دارو کی تھوڑ سے مرن نہیں چ ہیے۔
پرائیویٹ ڈاکٹروں کو آزم نے ک چ رہ کی گی ۔ انہوں نے علاج سے
زی دہ ٹسٹوں پر زور رکھ ۔ ایک ک رزلٹ دوسرے سے میچ نہ کرت تھ ۔
دو س ل ان ہی گھمن گھیریوں میں گزر گیے۔ زیور بک گی مک ن گروی
پڑ گی ۔ اس تگ و دو ک نتیجہ من ی ص ر رہ ۔ بےچ رہ ندی سوکھ کر
تیلا ہو گی لیکن اسے اپنے گھر والوں پر کوئی گلا نہ رہ ۔ ان
بےچ روں نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔ کہیں سے فیض ح صل نہ ہو
پ ی تھ ۔ ہ ں مسیح ئی سے وابستہ ن نہ د مسیح ؤں کے چہرے سے
نق ضرور اتر گی ۔ وہ مسیح ک قص بوں کے اب حضور زی دہ تھے۔
ایک روز ج ن تو ہے ہی‘ ندی بھی چلا گی اور اس حقیقت سے پردہ
ضرور سرک گی کہ کتے سے زی دہ بیم ری وف دار ہے اور وہ جس کے
س تھ س نجھ بن تی ہے اس ک آخر د تک س تھ دیتی ہے۔ اپنی راہ میں
آنے والی ہر روک وٹ ک ڈٹ کر مق ب ہ کرتی ہے۔ ہ ں اسے ڈاکڑوں سے
قط کوئی گلا ی شکوہ نہیں کیوں کہ وہ بیم ر سے زی دہ اسی کے
طرف دار ہوتے ہیں۔
وہ بھی سچے ہیں کہ اگر بیم ر تندرست ہو گئے تو ان کے طب ے الٹے
ہو ج ئیں گے۔ ان کی بڑی بڑی کوٹھی ں ک ریں اور دیگر عیش و عشرت
ان بیم روں کے د ہی سے تو ق ئ ہے۔ اگر بیم ر تندرست ہو گیے تو
وہ ن ک رہ شے ہو کر رہ ج ئیں گے۔
اگ ی واردات
انس ن تو انس ن ب ض ج نور بھی بڑے ڈھیٹ اور ضدی قس کے ہوتے
ہیں۔ کسی چیز سے لاکھ منع کرو‘ روکو‘ راکھی کرو لیکن وہ اپنی ہٹ
پر رہتے ہیں۔ ج ہر حربہ ن ک ہو ج ت ہے تو ہی ایسوں کو ٹیرھے
ہ تھوں لین پڑت ہے۔
بڑا ڈھیٹ اور ضدی قس ک بلا تھ ۔ ہر قس کی کڑی روک کے ب وجود
داؤ لگ ہی لیت ۔ وہ نہیں چ ہت تھ کہ ب ے کی ج ن لے۔ اس ج نور کو
کچھ نہ کہنے کی مذہبی روک بھی موجود تھی۔ زی دہ سے زی دہ روئی
ک بڑا م را ج سکت تھ ۔ ا بھلا روئی کے بڑے سے اس پر کی اثر
ہوت ۔ گوشت جو کبھی کبھ ر آت تھ ‘ کسی ن کسی طرح منہ م ر ہی ج ت ۔
یہ ہی صورت دودھ کے س تھ پیش تھی۔ ڈرای بھی لیکن اس پر کوئی
اثر نہ پڑا۔ بھ گ ج نے کی بج ئے تھوری دور ج کر لال لال آنکھیں
نک لت اور غ ت کے لمحے ڈھونڈت ۔
اس روز اس نے ب ے سے نپٹنے ک پک پک ارادہ کر لی ۔ اس نے
رض ئی کی پوری روئی نک لی اور اس میں پ نچ ک و ک ب نٹ چھپ کر
خو ب ندھ کر اسے بڑے کی شکل دے دی۔ دودھ سرہ نے رکھ دی ۔ دیر
تک ج گت رہ اور ب ے کی ت ڑ کرت رہ لیکن ب ے کی ش ید ایک دن اور
لکھی ہوئی تھی‘ انتظ ر کے ب وجود وہ نہ آی ۔ اس نے من ہی من میں
کہ ‘ کوئی ب ت نہیں بچو‘ اگ ی رات سہی‘ ا ت روئی کے بڑے سے نہ
بچ پ ؤ گے۔
بکرے کی م ں ک تک خیر من ئے گی۔ اگ ی رات بلا بڑا ہی محت ط اور
ادھر ادھر دیکھت ہوا اس کے سرہ نے پڑے دودھ کے کجے کی ج ن
بڑھ ۔ وہ ج گ رہ تھ اور اس کی آنی ں ک نی آنکھ سے دیکھ رہ تھ ۔
جوں ہی بلا دودھ پینے میں مصروف ہوا اس نے تی ر کی ہوا وہ روئی
ک بڑا اس کے سر پر م را۔ بلا پ ؤں پر ٹکی ہو گی ۔ پھر اس نے راتوں
رات اسے روڑی پر پھینک دی ۔
صبح لوگوں نے مرے ب ے کو روڑی پر دیکھ لی ۔ پھر کی تھ پورے
گ ؤں میں خبر پھیل گئی۔ ب ت چھپی نہیں رہتی۔ ب ے کے بےدردی سے
قتل ہونے کی خبر ام مسجد ص ح کے پ س پہنچ گئی۔ جیدے مشٹنڈ
ک ن س منے آ گی ۔ دیگ پڑ ج نی تھی۔ اس نے عقل مندی سے ک لی
اور ح وے کے س تھ آوارہ ککڑ ک پکوان تی ر کر لی ۔ دیگ اور روز کے
نقص ن سے یہ کہیں ک ح ضری تھی۔
مولوی ص ح آ گئے۔ وہ سخت غصہ میں تھے۔ جیدے مشٹنڈ نے ان ک
بڑے والہ نہ انداز سے استقب ل کی ۔ اس کے ب د نبو پ نی کی ۔ وہ کچھ
ٹھنڈے ہوئے۔ ابھی پوری طرح سے بیٹھے نہ تھے کہ تری سے
بھرپور ہر دو پکوان ان کے س منے چن دیے۔ پکون سے ج پیٹ کو
کچھ آسرا ہوا۔ انہوں نے موق ہءواردات ملاحظہ فرم ی ۔ روئی ک وہ بڑا
بھی دیکھ ۔۔ اس کے ب د انہوں نے کہ :بلا اپنی آئی سے مرا ہے‘ اسے
م را نہیں گی ۔ حک کے مط ب محض روئی ک بڑا ہی م را گی تھ ۔
بےشک ب ے کو بڑا م رن جر نہ تھ ۔ ت ہ بڑے ک س ئز اور وزن اگ ی
واردات کی حآضری تک التوا میں رکھ لی گی ۔
ذات ک خول
اہل فقر ک عصری ش ہ ی اس کے چمچوں کڑچوں سے کبھی کوئی ذاتی
مس ہ نہیں رہ ۔ سقراط‘ پ دری وی نٹ ئن‘ حسین ع‘ منصور ہوں کہ
سرمد‘ نے کسی ذاتی مس ہ کی وجہ سے ط قت کے خلاف آواز نہیں
اٹھ ئی اور ن ہی کسی حصولی کی پ داش میں موت کو گ ے لگ ی ۔
حصولی کے گ ہک موت کے خریددار نہیں ہوتے۔ وہ لوگوں کے س تھ
ہونے والے ان جسٹ کے خلاف میدان میں اترتے آئے ہیں۔ ظ اور
ن انص فی کے خلاف آواز اٹھ تے رہے ہیں۔ موت کے منہ میں لوگوں
:کی خ طر گیے۔ لوگ
مرے تھے جن کی خ طر وہ رہے وضو کرتے
ایک ہی چیز ک ایک ہی فروخت کنندہ لوگوں سے الگ الگ بھ ؤ کرت
ہے۔ ح لاں کہ اصولا ایک ہی بھ ؤ ہون چ ہیے۔ کئی طرح کے بھ ؤ
م شی ن ہمواری ک سب بنتے ہیں۔
اس روز مجھ میں بھی فقیری نے سر اٹھ ی اور میں نے سوچ کہ یہ
کئی بھ ؤ ک رواج خت ہون چ ہیے۔ میں نے ایک دوک ن دار سے اس
طرح سے آخری بھ ؤ کے لیے اچھی خ صی بحث کی جیسے میں
پرچون ک نہیں‘ تھوک ک گ ہک ہوں۔ میں نے اسے ص ف ص ف ل ظوں
میں کہ کہ وہ بھ ؤ بت ؤ جو لین ہے۔ اس نے آخری بھ ؤ بت دی جو اس
کے منہ سے نک نے والے بھ ؤ سے کہیں ک تھ ۔ مجھے بڑا برا لگ کہ
یہ کیسے لوگ ہیں۔ اتن من فع کم تے ہیں۔
میں نے اسے اس طرح سے آرڈر ج ری کی ‘ جیسے میں م رکیٹ ک بڑا
منشی ہوں ح لاں کہ بڑے منشی کو ک ی زی دہ بھ ؤ سے کوئی غرض
نہیں ہوتی۔ وہ تو م م ے کو اپنی حصولی تک محدود رکھت ہے۔
دوک ن دار کو ج م و ہوا کہ میں نے کچھ لین دین نہیں بل کہ ایک
ریٹ مقرر کرنے کے لیے بحث کر رہ ہوں‘ پہ ے تو اس نے مجھے
کھ ج نے والی نظروں سے دیکھ ‘ پھر پ ن س ت نہ یت آلودہ گ لی ں
نک لیں۔ وہ اسی پر ہی نہ رہ بل کہ پھرتی سے اٹھ اور میرے بوتھے
پر کرارے کرارے کئی تھپڑ بھی جڑ دیے۔ میں اس ن گہ نی حم ے کی
توقع نہ کرت تھ لہذا اللہ کی زمین پر آ رہ ۔
اچھے خ صے لوگ جمع ہو گیے۔ میں نے تو لوگوں کی بھلائی اور
آس نی کے لیے یہ س کی تھ ۔ لوگ میری سننے کے لیے تی ر ہی نہ
تھے۔ دوک ن دار جو فروخت کے م م ہ میں کئی زب نیں رکھت تھ ‘ کی
اونچی اونچی ی وہ گوئی پر توجہ کر رہے تھے۔ کسی کو یہ کہنے کی
توفی نہ ہوئی کہ ی ر وہ تو ٹھیک‘ ح اور م شی توازن کی ب ت کر
رہ ہے۔ ہر کوئی مجھ پر ہنس رہ تھ میرا ہی مذا اڑا رہ تھ ۔
اس واق ے کے ب د مجھ پر کھل گی کہ ح سچ کے لیے لڑن میرے
بس ک روگ نہیں یہ منصور سے لوگوں ک ہی ک ہے۔ وہ دن ج ئے
اور آج ک آئے میں نے بھی اوروں کی طرح م ملات کو اپنی ذات تک
محدود کر لی ہے۔ لوگ آج بھی مجھے دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں۔ ان ک
ہنسن مجھے ا ذات کے خول سے ب ہر نہیں ہی دیت ۔
کی تمہیں م و نہیں
ش کو ک ک ج سے فراغت کے ب د دونوں دوست قریبی پ رک میں
چ ے ج تے۔ چہل قدمی کے س تھ س تھ ت ڑا ت ڑی ک شغل بھی ج ری و
س ری رہت ۔
علاقے کی یہ واحد ت ریح گ ہ تھی جہ ں ش کو شوری اور عمو بھی
گھر والوں کے س تھ ت زہ اور ص ف ش ف ہوا خوری کے لیے چ ے
آتے تھے۔ ہوا خوری کے س تھ س تھ پہونڈی ک عمل بھی زور و شور
سے ج ری رہت ۔ یہ م م ہ یک طرفہ نہ تھ ۔ صنف ن زک ادائیں اور
صنف غیر ن زک مردانہ جواہر ک مظ ہرہ کرتے۔ مسک نوں اور اش روں
کی زب ن میں بہت کچھ کہ سن ج ت ۔
کچھ جوان اور جواننی ں ک آن ہی ت ڑا ت ڑی کے لیے ہوت تھ لہذا ان
کے م م ے کو ان س سے الگ رکھ ج سکت ہے۔ ایک آدھ اڑپھس
بھی ہو رہتی۔ پہ ے سے پھسوں کی انجوائےمنٹ دوسروں سے قط ی
الگ تر ہوتی۔
بوڑھے اپنی بیم ری ک رون روتے۔ دواؤں اور ٹسٹوں پر گ تگو کرتے۔
جگہ جگہ بیبیوں کے چغ یوں اور بخ یوں پر مشتمل مش ہرے ہو رہے
ہوتے۔ آنسو اور بےم نی و ب م نی ج ی اور نی اص ی ل ظوں کے
رونے دیکھنے کو م تے۔
ایک دن ان دونوں میں سے ایک دوست ک دوست بھی چہل قدمی کے
لیے س تھ آی ہوا تھ ۔ وہ دونوں حس روٹین چہل قدمی کے س تھ س تھ
ت نک جھ نکی میں مصروف تھے۔ وہ جوان حوروں کے حسن سے
لطف اندوز ہو رہے تھے لیکن یہ مہم ن دوست بوڑھی اور آدھ کھڑھ
بیبیوں ک حدود ارب ہ ن پ رہے تھے۔
حمید نے توقیر سے م جرہ پوچھ کہ تمہ را دوست بھی عجی ہے۔
حسن کی شہزادیوں کو چھوڑ کر پرانی بوسیدہ اور بوریوں کو ہی کیوں
اتنی دل چسپی اور پی ر سے دیکھ رہ ہے۔ وہ کھ کھلا کر ہنس پڑا اور
کہنے لگ :کی تمہیں م و نہیں کہ یہ کب ڑہ ہے۔ کب ڑ میں جو
جوہروگوہر اسے نظر آتے ہیں ہمیں نظر نہیں آتے۔
حمید نے اپنے دوست تنویر سے کہ ی ر کسی دن اس کے پ س ج کر
اس فی ڈ ک بھی ن لج ح صل کرتے ہیں۔ وہ پھر ہنس اور کہنے لگ :
چھوڑو اپنی اپنی فی ڈ ہے ہر کسی کو اپنی ہی فی ڈ سے وابستہ رہن
چ ہیے۔ یہ ہی درست اور بہتر ہوت ہے۔
میری ن چیز بدع
کچھ ہی دن ہوئے‘ میری ادھ گھروالی ای بی بی ایس ی نی می ں بیوی
بچوں سمیت ہم رے ہ ں پدھ ریں۔ میں اپنی بیگ کی ٹی سی کرنے کے
لیے بڑے ہی خوشگوار انداز میں اس کے کرسی قری بڑے ہی فصیح
و ب یغ طور سے‘ ٹی سی کر رہ تھ ۔ بیگ ص ح نے تھوڑی دیر میری
لای نی بکواس برداشت کی۔ پھر کچن میں ج کر آواز دی۔ ڈاکٹر ص ح
ذرا ب ت سنن ۔ میں فورا سے پہ ے ح ضر ہو گی ۔ دو ہی ب تیں ہو سکتی
تھیں۔ شک نے لپیٹ لی ہو۔ اس بڑھ پے میں کیس شک۔ برتن دھونے ک
حک نہ ص در کر دے۔ پھر میں نے سوچ جو ہو گ دیکھ ج ئے گ ‘ اللہ
م لک ہے۔
وہ ں ان میں سے کوئ ب ت درست نہ نک ی۔ فرم نے لگیں کتنی ب ر کہہ
چکی ہوں کہ ج کر دوا لے آؤ‘ پر ت نے کہن نہ م ننے کی قس کھ
رکھی ہے۔ کہ ں کہ ں کھرک رہے تھے اس کی تمہیں ہوش ہی نہ تھی۔
اس کی ب ت میں خ سمیت د تھ لیکن سوال یہ تھ کہ مہم نہ مرد کے
کس کہ ں سے واقف نہ تھی۔ خیر یہ غ طی نہیں کھ ی گست خی تھی۔
میں نے حس م مول اور حس روایت سوری کی اور دوا لینے کے
لیے چل دی ۔
میں آج تک بیگمی حک عدولی ک سزاوار نہیں ہوا۔ یہ واحد حک تھ
جسے آج ت کل ٹ لت آ رہ تھ ۔ میں وچ ی ب ت کسی سے شئیر نہیں کرن
چ ہت تھ ۔ آپ بر مجھے بھروسہ ہے کہ آپ میری ب ت ہر ک ن تک نہیں
پہنچ ئیں گے۔ شدہ ہوں اور ہر شدہ‘ شدہ حضرات کی دہ یز کے اندر کی
سے خو آگ ہ ہوت ہے۔ میں بوڑھ ضرور ہوں‘ بدذو نہیں۔ جو احب
کھرک کی لذت سے آگ ہ ہیں وہ میری ب ت کی ت ءد کریں۔ دنی میں ش ید
ہی کوئ بیم ری ہو گی جو اتنی لذت انگیز ہو گی۔
ذندگی بےلذت اور بے ذائقہ ہو گئ ہے۔ دکھ درد مصیبت جھڑکی ں
وغیرہ اس ک نصیبہ ٹھہرا ہے۔ ایک یہ لذت ک ذری ہ تھی جو بیگ
حضور کو گوارہ نہ ہوئ۔ م نت ہوں ہر ب ر خ رش ک انج بڑا ت خ ہوت
ہے۔ زندگی میں پہ ے ہی کی ت خی ک ہے۔ ت خی ک آغ ز اور انج ت خی
ہوت ہے۔ ت خی کے آخر میں لذت مل ج ءے تو آدمی بردشت بھی کر
لے۔ خ رش ہی وہ ت خی اور آزار ہے جو آغ ز میں ت دیر چسک و سواد
فراہ کرتی ہے۔ مجھ سے ع رضی اور لمح تی آسودگی چھینی ج رہی
تھی۔