دیکہو مجہ جو دیدہءعبرت نگ ہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجموعہءاش ر و غزلی ت و رب عیت
حس فرم ئش جن شیخ عبدالغنی ص ح ای ۔اے
سپرنٹنڈنٹ ڈاکخ نہ ج ت
مرتبہ
شم ئل حسین راغ بدایونی
اس میں اردو ک م روف ش عر ‘ غیر م روف ف رسی اور
کئی اش ر‘ ن م و ک تحت درج کی گی ہیں۔ راغ ک ت ‘ ان
ک ن ک حوالہ س ‘ بدایون س بنت ہ ۔ وہ خود بھی ش عر تھ ۔
ان ک اپن اش ر بھی بی ض میں ش مل ہیں۔ ان علاوہ‘ گی رہ بدایون
ک ش را ک کلا درج کی گی ہ ۔ ف نی ک علاوہ‘ کوئی ش عر م روف
:نہیں۔ ان ش را ک اسم ئ گرامی کچھ یوں ہیں
آفت بدایونی
ارشد بدایونی
امیر بدایونی
ج می بدایونی
راغ بدایونی
رند بدایونی
زلائی بدایونی
عیش بدایونی
ف نی بدایونی
قمر بدایونی
لطف بدایونی
منور بدایونی
:دیگر علاقوں ک غیر م روف ش را ک اش ر پڑھن کو م ت ہیں
بسمل آلہ آب دی
شوکت ب گرامی
اظہر امرتسری
ح یظ ج لندھری
حمید ج لندھری
م نی ج ئسی
ج یل حیدرآب دی
سہ حیدرآب دی
ت ب ں خورجوی
ن ظ نوا را پوری
خنجر لکھنوی
عزیز لکھنوی
محشر لکھنوی
محمد ہ دی لکھنوی
دلبر م رہروی
دس غیر م روف ش را ن علاق کو ن ک لاحقہ نہیں بن ی
امجد
جمیل
رضی
زی النس ء
س غر نظ می
سی ی
طیش
قمر بلالی
محمود اسرائیل
نظ بٹھی را
:اردو ک م روف ش را جن ک کلا بی ض میں م ت ہ
خواجہ حیدر ع ی آتش
احسن م رہروی
اصغر گونڈوی
علامہ اقب ل
اکبر الہ آب دی
خواجہ الط ف حسین ح لی
امیر مین نی
انش
ببر ع ی انیس
بہ در ش ہ ظ ر
جگر مرادآب دی
جوش م یح آب دی
چکبست لکھنوی
حسرت موہ نی
دا دہ وی
دبیر لکھنوی
ابراہی ذو
مرزا رفیع سودا
شب ی ن م نی
مرزا غ ل
محمد ع ی جوہر
مومن
میر تقی میر
:ف رسی میں نو ش را ک کلا ب طورذائقہ پڑھن کو م ت ہ
بیدل
زی انس ء
ح فظ شیرازی
خواجہ م ین الدین چشتی
س دی شیرازی
عمر خی
محمد ش ہ
ملا ج می
میر عبداللہ پی می
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
تحریر تو بی ض کی خریداری پر ہ ،لیکن فٹ پ تھ ی د ٓا گئی ہمیں۔ بج
فرم ی ،فٹ پ تھ دراصل وہ جگہ ہ جہ ں ہر طبقہ ک لوگوں ک ٓان ج ن
ہوت ہ ،چن نچہ فٹ پ تھ پر بیٹھ لوگ ،لوگوں ک چہرہ پڑھن میں
مہ رت ح صل کر لیت ہیں۔
ج کبھی لاہور ک چکر لگت ہ تو ہ دات ص ح ک درب ر س ل
کر مین ر پ کست ن چوک تک فٹ پ تھ سج ن والوں ک س تھ کچھ
گھنٹ ضرور گزارت ہیں۔ یہ ں بیٹھ ہوئ لوگوں ک مش ہدہ کرت
ہیں جو طوط ک ذری مستقبل ک ح ل دور دراز س ٓائ لوگوں
کو بت ت ہیں۔ جہ ں حضرات کو ش دی س ل کر نوکری ک حصول
تک کی بش رتیں م تی ہیں اور ان کی ڈھ رس بندھتی ہ ۔ یہ مستقبل
شن س لوگ ،دور دراز س ٓائی ہوئی عورتوں کو بہن ک رشتہ س
جوڑ کر ان ک دوپٹ میں بندھ پیس ی انگوٹھی ہتھی لیت ہیں۔
ہم رے مش ہدے ک مط ب وہ عورتیں اپن مستقبل کی م وم ت میں
اتنی دلچسپی نہیں رکھتیں ،ب کہ دراصل انہیں اپن دکھ رون ک
لیئ کوئی مل ج ت ہ جو انہیں کم ل تحمل س سنت ہ اور رحمدلی
س پیش ٓات ہ ۔ کت بیں ،البتہ بہت ک ہیں۔ لیکن ڈھونڈن وال ڈھونڈ
ہی لیت ہیں۔
ہمیں ی د پڑت ہ ،کہ ج ہم رے حقو مح وظ اور ہ بذات خود غیر
مح وظ ہو گئ تھ ،تو ہم ری نئی نوی ی دلہن ن ہم ری تم پرانی
ڈائیری ں ردی میں بیچ دی تھیں ،جن میں ہ ن ایک زندگی لکھ رکھی
تھی۔ سچ پوچھیں تو اس ک دکھ ہمیں نہ کل ہؤا تھ ،اور نہ آج ہ کہ
بیک ر ہی تھ جو بھی تھ ۔ علاوہ ازیں ہم را وہ م نگ ن ڈنڈا جس میں ہ
ن چھنک ب ندھ رکھ تھ اور ایک اک ت رہ جو ہم رے دادا مرحو کی
ام نت تھ ،وہ بھی ردی والا بغیر تول ل گی ۔ ب رہ س پندرہ عدد
مخت ف سپتک کی ب نسری ں اور ونجھ ی ں بھی اسی کی نذر ہو گئیں۔
افسوس نہیں ہ ،کہ نہ انہوں ن رہن تھ ،نہ ہ ن رہن ہ ،البتہ دل
چ ہت ہ کبھی ،کہ ا پھر اپن کھوئ ہوئ اس س م ن س لطف
اندوز ہوں اور کھوئ ہوئ دنوں کو ی د کریں۔
آپ ن جس ق می بی ض ک ذکر کی ہ ،خو ہ ۔ اس ک پہ ص حہ
پر لکھ ہؤا ش ر ہمیں بہت پسند ٓای ۔ یہ تحقیقی ک ،ہ ایس ن لائ ک
تو ش ید ک ک نہیں ہ ،لیکن ع کی خدمت کرن والوں ک لیئ
ایک خزانہ ہ ۔
بصد خ وص
دع گو
tovajo ke liay ehsan'mand hoon. aap bhi khoob
khoob jumlay sajatay hain. sath main tajarbay
bhi paish kar jatay hain. maslan
یہ مستقبل شن س لوگ ،دور دراز س آئی ہوئی عورتوں کو بہن ک
رشتہ س جوڑ کر ان ک دوپٹ میں بندھ پیس ی انگوٹھی ہتھی
لیت ہیں۔ ہم رے مش ہدے ک مط ب وہ عورتیں اپن مستقبل کی
م وم ت میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتیں ،ب کہ دراصل انہیں اپن دکھ
رون ک لیئ کوئی مل ج ت ہ جو انہیں کم ل تحمل س سنت ہ
اور رحمدلی س پیش ٓات ہ ۔
is par kya likhoon aur kya na likhoon
ہمیں ی د پڑت ہ ،کہ ج ہم رے حقو مح وظ اور ہ بذات خود غیر
مح وظ ہو گئ تھ ،تو ہم ری نئی نوی ی دلہن ن ہم ری تم پرانی
ڈائیری ں ردی میں بیچ دی تھیں ،جن میں ہ ن ایک زندگی لکھ رکھی
تھی۔ سچ پوچھیں تو اس ک دکھ ہمیں نہ کل ہؤا تھ ،اور نہ آج ہ کہ
بیک ر ہی تھ جو بھی تھ ۔ علاوہ ازیں ہم را وہ م نگ ن ڈنڈا جس میں ہ
ن چھنک ب ندھ رکھ تھ اور ایک اک ت رہ جو ہم رے دادا مرحو کی
ام نت تھ ،وہ بھی ردی والا بغیر تول ل گی ۔ ب رہ س پندرہ عدد
مخت ف سپتک کی ب نسری ں اور ونجھ ی ں بھی اسی کی نذر ہو گئیں۔
افسوس نہیں ہ ،کہ نہ انہوں ن رہن تھ ،نہ ہ ن رہن ہ ،البتہ دل
چ ہت ہ کبھی ،کہ ا پھر اپن کھوئ ہوئ اس س م ن س لطف
اندوز ہوں اور کھوئ ہوئ دنوں کو ی د کریں۔
aap nay farmaya hai
ہ ایس ن لائ ک تو ش ید ک ک نہیں ہ
agar aap na'laeq hain to laeq koon hai. na'laeq ne
itna khuch likh dala kisi laeq ko eak jumla tak
likhna naseeb na howa
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9266.0
اپن اکرا ص ح ڈاکٹر مس ک ل کی گرہ میں
پروفیسر محمد اکرا ہوشی رپوری گورنمنٹ اسلامیہ ک لج‘ قصور میں
صدر ش بہءاردو تھ ‘ اس حوالہ س ‘ میرا ان س ت واسطہ تھ ۔
یہ ت ملازمت ک تھ ۔ اس ت ک علاوہ‘ ایک ذاتی ت بھی تھ ۔
وہ سنجیدہ طب یت ک م لک تھ اور غیرسنجیدہ گ تگو‘ پسند نہیں
کرت تھ ۔ ہ دونوں میں‘ ایک بڑی اہ س نجھ تھی۔ کت س ‘ ان ک
رشتہ کبھی کمزور نہیں پڑا۔ میرا خی ل ہ ‘ وہ قبر میں بھی کت بینی
کر رہ ہوں گ ‘ کیوں کہ منہ س لگی چھٹتی نہیں‘ گوی یہ فطرت
ث نیہ بن ج تی ہ ۔
میں آج بھی‘ دوسرے تیسرے دن‘ ان کی قبر پر ح ضر ہوت رہت ہوں
اور پوچھت ہوں‘ کیوں ص ح ‘ کون سی کت مط ل ہ میں ج رہی ہ ۔
واپسی جوا تو خیر م ت نہیں‘ ہ ں مجھ اندزہ ہ ‘ کہ میر و غ ل
اور اقب ل پر ہی مغز م ری ہو رہی ہو گی۔ ہ ں تو عرض کر رہ تھ کہ ہ
دونوں میں‘ کت ہی س نجھ ک ذری ہ تھی۔ میں بھی کت ک رہ ہوں‘
اس لی ‘ ہم ری اللہ ک فضل س ‘ خو ‘ ب کہ بہت خو نبھی۔
وہ مر گی ہیں‘ خدا لگتی تو یہ ہی ہ ‘ کہ مرحو سچ کھرے اسلا
دوست اور پ کست ن س ب تح ش محبت کرن وال تھ ۔ پرخ وص‘
م ید اور سودمند مشوروں س ‘ نوازے تھ ۔ جس چیز ک مط ل ہ
کرت ‘ اس کی زبر زیر تک س آگ ہ کرک ‘ اپنی رائ دیت اور اپن
مخ ط کی‘ رائ ط کرت ۔ کسی مق پر سنجیدہ اختلاف‘ ان کی
طبع پر ن گوار نہیں گزرت تھ ۔ وہ اختلاف کو‘ پوری طرح چب اور ہض
کرک ہی‘ اپن خی ل ک اظہ ر کرت ۔ بہت ک لوگ‘ انہیں بطور شخص
ج نت ہوں گ ۔ ش ید یہ ہی وجہ ہ ‘ س تھیوں میں س ‘ ایک آدھ
ن ‘ ان ک کثیر مط ل ہ اور ان ک تجرب ت س ف ئدہ اٹھ ی ہو گ ۔ وہ
دیکھن میں بڑے سخت‘ لیکن داخ ی سطع پر‘ ریش س زی دہ ملائ
اور محبت کرن وال تھ ۔
مرحو صرف پڑھن ک ہی شوقین نہیں تھ ‘ ب کہ لکھت بھی
تھ ۔ ہم رے ایک مرحو ک لج س تھی‘ ہمیں ایک دوسرے ک پ س
دیکھ کر‘ طنزا اور مزاح کہ کرت تھ ‘ پڑھ لکھ بیٹھ ہیں۔
پڑھ اکرا ص ح ک لی ‘ اور میرے لی لکھ است م ل کرت تھ ۔
ان کی زندگی میں‘ مجھ ان کی۔۔۔۔۔۔۔ کت پ کست ن اور پ کست نیت۔۔۔۔۔۔۔
پر بھی لکھن ک موقع ملا۔ ا مجھ ی د نہیں‘ میری یہ تحریر کس
رس ل ی اخب ر میں چھپی‘ ت ہ میری کت اصول اور ج ئزے میں
ش مل ہ ۔
اس حوالہ س ‘ وہ صرف پڑھ ہوئ ہی نہ تھ ‘ ب کہ لکھ ہوئ
بھی تھ ۔ ان ک ہر ل ظ س ‘ پک مس م ن اور سچ پ کست نی دکھ ئی
دیت ہ ۔ بلاشبہ‘ پ کست نیت ان کی روح میں ش مل تھی۔
وہ کسی ک منہ س ‘ ایک ل ظ بھی‘ پ کست ن ک خلاف برداشت کرن
کی ہمت نہیں رکھت تھ ۔ پ کست ن ک حوالہ س ‘ کوئی اچھی خبر
سنت تو‘ مسرور ہو ج ت تھ ۔ کسی نئی ایج د ی دری فت پر‘ س را
س را دن خوش ہوت اور اسی ک حوالہ س ‘ ب ت کرن ک جواز
نک ل لیت ۔ موجد ک فرشتوں کو کبھی خبر نہ ہوتی‘ کہ لائبریری میں
بیٹھ ایک شخص‘ اس ک ک رن م س ‘ کس قدر خوش ہو رہ ہ ۔
مغر ک مجھ کچھ پتہ نہیں‘ لیکن ہم رے ہ ں ک رواج ہ ‘ کہ کسی
شخص ک مرن ک ب د‘ اس ک بچھ ک ن دفن ک ب د‘ اس ک
چھوڑے کو تقسی کرن بیٹھ ج ت ہیں۔ تقسی پر جھگڑ پڑت ہیں۔ یہ
جھگڑن ‘ پ نی پت ک نقش س من ل آت ہ ۔ ادی ش عر ی مط ل ہ
خور ک پ س‘ منوں ک حس س ردی جمع ہوئی ہوتی ہ ‘ جس
وہ س ری عمر‘ سین س لگ ئ رکھت ہ ۔ اس ک پچھ اس ردی
ک دا کھرے کرک ‘ کمرے ی گی ری ک بہتر اور ب م نی است م ل نک ل
لیت ہیں۔ اسی میں‘ انکی مسروری پنہ ں ہوتی ہ ۔
پروفیسر ص ح کی خوش قسمتی تھی‘ کہ ان کی اولاد پڑھی لکھی ہ ۔
ان میں ایک بیٹ ‘ اردو س مت ہ ۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ ان ک
ذخیرہء ع ‘ ردی میں‘ ردی ک بھ ؤ نہیں گی ب کہ مح وظ کر لی گی ۔
اس حوالہ س وہ ش ب ش ک مستح ہیں۔
سنن میں آ رہ ہ کہ سردست اد ادی اور پ کست نیت کمپوز کروای
ج رہ ہ ۔ کمپوزنگ پر اٹھن والا خرچہ بچ اٹھ رہ ہیں۔ بڑی ب ت
ہ ۔ ہ ں البتہ یہ ک ‘ چور اور بددی نت ڈاکٹر مس ک ل‘ ک ہ تھوں میں
چلا گی ہ ‘ دیکھی کی بنت ہ ۔ یہ ہ تھ مجھ بھی لگ چک ‘ جو
م ل ہٹرپ اور میری عمر بھر کی جمع پونجی اڑا چک ہیں۔ موقف
م قول اختی ر کی گی ہ ‘ ب ب ک دور خت ہو گی ہ ‘ اس ن یہ ردی
کی کرنی ہ ۔ ا ہم را دور ہ ‘ ا ہ ن عمر گزارنی ہ ۔
ب بوں کی چیزیں‘ ان ک بچوں کی ہوتی ہیں۔ اہل ق س ک ہوت
ہیں۔ ضروری نہیں‘ ان کی اولاد ف ئدہ اٹھ ئ ‘ ی اپن ن س چھ پ ۔
سقراط س ک تھ ‘ افلاطون ن اس ک کہ جمع کی ‘ بڑی ب ت ہ ‘ ا
یہ ق ری ک ک ہ ‘ کہ کون س سقراط ک ہ اور کون س افلاطون ک ‘
خود پہچ نن کی کوشش کرئ ۔ اس ک لی نظریہ اور اس و کو
پیم نہ بن ن ق ری کی ذمہ داری ہ ۔
کردہ ن کردہ
انس ن کو‘ اللہ ن احسن تخ ی کی اور اس کی جگہ جگہ بڑائی بی ن کی
ہ ۔ فرشت کی ‘ مجھ بھی‘ جو ان ک سردار تھ ‘ اس مٹی س بن
انس ن کو‘ سجدہ کرن کو کہ گی ۔ کم ل ہ ‘ کل تک میں سرداری کر
رہ تھ ‘ آج داری ک لی کہ ج رہ تھ ۔ ا بھلا میں‘ زحل کی گھڑی
میں تخ ی کی گئی مخ و کو‘ سجدہ کیوں کرت ۔ اللہ اس مشتری کی
بہترین س عت کی تخ ی قرار دیت ہ ۔ اس ک ک رن م ‘ مشتری کی
بہترین س عت وال نہیں ہیں۔ اپن کی ‘ اپن سر پر نہیں لیت اوروں ک
سر پر رکھ دیت ہ ‘ ی پھر میرے ن کر دیت ہ ح لاں کہ اس ب ت ی
م م ک میری ذات س ‘ کوئی ت واسطہ ہی نہیں ہوت ۔
مشتری کی بہترین س عت کی تخ ی تو دیکھو‘ قتل کرت ہ ‘ منصف
ک س من اپن ک رن م س ص ف انک ر کر دیت ہ ۔ وکیل یہ
ج نت ہوئ ‘ کہ اس ک موکل ق تل ہ ‘ وک لت کر رہ ہوت ہ ‘ ٹھوس
دلائل پیش کر رہ ہوت ہ ۔ ق تل کی طرف داری کرت ہوئ ‘ عجی
محسوس نہیں کرت ‘ ضمیر پر رائی بھر بوجھ نہیں لیت ۔ مقدمہ جیت
ج ن کی صورت میں‘ خوشی ں من ت ہ ۔ چند سکوں ک لی ‘ کسی ک
قتل اپن سر پر لین میں‘ ع ر نہیں سمجھت ۔ ایس وکیل کو ک می
وکیل قرار دی ج ت ہ ۔ جر پیشہ لوگ اپنی جگہ‘ سم ج بھی اس ‘
عزت اور قدر کی نگ ہ س دیکھت ہ ۔
رشوت‘ ملاوٹ‘ ہیرا پھیری‘ ن پ تول میں کمی اور دو نمبری کم ئی
س ‘ کوٹھی ں ک ریں بن لین وال ‘ اسی کم ئی س حج پر ج ن
ہیں۔ وہ ں ج کر مجھ کنکر م رن وال ب عزت اور م زز ہیں۔ آخر
کس منہ س وہ یہ کرت ہیں۔ میں م ون ہوں‘ ش ید اسی لی وہ
آلودہ ہ تھوں س ‘ مجھ کنکری ں م رت ہیں۔ جتنی دیر اور جس
حس س ‘مجھ کنکری ں م ری ج رہی ہیں‘ میرا تو کچومر ہی نکل
گی ہوت ۔ حرا کی کم ئی س آلودہ ہ تھوں کی کنکری ں‘ مجھ لطف
س ہ کن ر کرتی ہیں۔ ان ک سب مجھ استحق میسرآی ہ ‘ گوی
یہ مجھ مزید شکتی دان کرتی آئی ہیں۔
بلال‘ بورذر س م ن وغیرہ س لوگوں ک وجود‘ مجھ ازیت دیت تھ ۔
ا ان س لوگ نہیں رہ ۔ یہ اللہ کو ی د ہی نہیں کرت اور ن ہی اپن
اللہ س ‘ آگہی رکھت ہیں۔ چوری‘ ہیرا پھیری اور دونمبری پر ج ن
س پہ اپن اللہ کو ی د کرت ہیں۔ اللہ کو ی د کرن ک بھی یہ خو
موقع ہوت ہ ‘ کہت ہیں‘ ی اللہ تیرا ہی آسرا اور سہ را ہ ۔ کسی نیک
ک س تھ واسط ہڑے اور سلامتی س ‘ کھیسہ بھر کر واپس آئیں۔ وہ
سلامتی س کھیسہ بھر کر‘ واپس آت بھی ہیں۔
پکڑے ج ن ی ن ک می کی صورت میں‘ مجھ کوست ہیں۔ اس میں
میرا کوئی قصور نہیں ہوت ۔ میں ک چ ہوں گ ‘ کہ دونمبری کرن وال
کو‘ ن ک می ک س من کرن پڑے۔ اس کی ک می بی‘ میری ک می بی ہ ‘ اس
کی ن ک می‘ میری ن ک می ہ ۔ کتنی عجی ب ت ہ ‘ مجھ من ی کردار
سمجھت ہیں۔ من ی پر اکس ن والا بھی‘ مجھ قرار دیت ہیں۔ من ی
پر ن ک می پر بھی‘ مجھ کوسن دیت ہیں۔ میں فرعون کی‘ موسی
س ٹھنی پر خوش تھ ۔ دری میں اترن ک لی ‘ میں ن اس ک
کہ تھ ‘ وہ خود ہی‘ اپنی مرضی س ‘ دری میں اترا تھ ۔ اس کی موت‘
میرے وارے میں نہ تھی۔ اس ک یہ کی بھی میرے کھ ت میں ڈال دیں‘
کیوں کہ ہر خرابی ک میں ہی ذمہ دار ہوں۔ یہ میرے کھ ت میں کیوں
ڈالا نہیں ج ت ۔
کل ہی کی ب ت ہ ‘ کہ ایک دک ن دار دودھ اب ل رہ تھ ‘ س تھ میں‘
دوسرے دک ن دار س ‘ ب تیں بھی کر رہ تھ ۔ ب خی لی میں‘ کھرپ
م رت ‘ دودھ ک کچھ چھیٹ ‘ س من دیوار پر ج پڑے۔ مجھ
دیوار پر انگ ی س دودھ لگ ن کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ ہ س ئ
ک دک ن دار س بھی‘ وہ اپنی مرضی س ‘ اپنی مرضی کی ب تیں کر
رہ تھ ۔ دیوار پر دودھ ک چھینٹ ‘ اس کی ب خی لی‘ ب توجہگی
اور غ ت ک ب عث پڑے۔ دودھ پر مکھی ں آ ہی ج تی ہیں‘ یہ فطری
سی ب ت ہ ۔ مکھی ں جہ ں ہوں گی‘ وہ ں کرلی ں آئیں گی ہی۔ چھپک ی
دیکھ کر‘ بلا ی ب ی کیس چپک رہیں گ ۔
ہوا کی ‘ دک ن دار ک بلا‘ چھپک یوں پر پل پڑا۔ ات دیکھی ‘ عین اسی
وقت‘ سیٹھ نث ر اپن ٹومی جی ک س تھ‘ سٹرک پر مٹر گشت کرت
گزر رہ تھ ۔ ٹومی جی ن ‘ جوں ہی ب کو دیکھ ‘ وہ پوری رفت ر
س ‘ ب پر جھپٹ ۔ چھپک ی ک منہ میں مکھی اور ب ک منہ میں
چھپک ی تھی۔ تینوں ٹومی جی کی بروقت مثبت ک روائی پر‘ دودھ میں
ج گرے۔ دک ن دار ن غص میں آ کر‘ کھرپ ٹومی جی ک سر پر
جڑ دی اور وہ موقع پر ہی‘ ٹکی ہو گی ۔۔ یہ کتیت کی ہی نہیں‘ سیٹھیت
کی بھی‘ کھ ی اور برملا‘ توہین تھی۔ سیٹھ ص ح ن آؤ دیکھ نہ ت ؤ‘
دک ن دار ک سر کو گولی س اڑا دی ۔ بلاشبہ وہ اسی لائ تھ ‘ آدمی
میں برداشت ک م دہ ہون چ ہی ۔ برداشت کی کمی ک سب ‘ وہ موت
ک منہ میں گی ‘ اس میں میرا کوئی عمل دخل نہ تھ ۔
اس س رے م م میں‘ میرا کی قصور تھ ۔ دوک ن دار‘ ہ س یہ دوک ن
دار‘ دودھ‘ مکھی‘ بلا‘ ٹومی جی‘ سیٹھ ص ح س میرا کی لین دین ۔
یہ ں بھی‘ مجھ ہی دشن کی گی ۔ کہ گی غصہ حرا ہوت ہ ‘ دوک ن
دار پر شیط ن غ ل آ گی ‘ ت ہی تو اس ن ‘ ٹومی جی ک سر پر
کھرپ دے م را۔ ٹومی جی ب لگ م کیوں ہوئ ‘ سیٹھ کو گرفت
مضبوط رکھنی چ ہی تھی‘ یہ کوئی کہن کوتی تی ر نہیں۔ دک ن دار کی
غ ت کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔ مچھر اور مکھی ں م رن کی‘ ذمہ
داری کس ہ ۔ مکھی ں تھیں ہی کیوں۔ س کو م و ہ ‘ کسی ک ن
لی تو ن سیں سلامت نہیں رہیں گی۔ کردہ ن کردہ مجھ پر ڈالت ہیں۔ یہ
انص ف ہ اس اشرف مخ و ک ‘ اپن کی اپن سر ل اور قبولن میں
ع ر محسوس نہ کرے‘ ت پت چ کہ یہ عظی مخ و ہ ۔
چوری خود کرے‘ ڈال کسی اور پر‘ یہ کس قس کی انس نیت‘ دلیری
اور جواں مردی ہ ۔ میں کچھ کروں ت بھی مجر ‘ ن کروں ت بھی
مجر ۔ واہ کی عج رنگ ہیں‘ اس عظی مخ و ک ۔ وہ کچھ کر گزرتی
ہ ‘ جو میرے بھی وہ گم ن نہیں ہوت ۔ میری ہدایت ک لی ‘ کوئی
موسی کوئی عیسی نہیں آی ‘ ۔س اسی کی ہدایت ک لی آت رہ
ہیں۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
بہت خو جن ۔ اس ب ر بھی ٓاپ ن ایک ن زک س نقطہ چن ہ اور
ب ریک بینی ک س تھ تجزیہ فرم ی ہ ۔ ہمیں مکمل ات ہ کہ
شیط ن پر الزا دھر کر گوی ہ خود جر و گن ہ س بری ہو ج ت ہیں۔
لیکن ہم را مش ہدہ کہت ہ کہ صرف شیط ن کو ہی اس پر شکوہ نہیں
ہون چ ہیئ ۔ انس ن کی خص ت ہ کہ وہ غ طی کوت ہی ،اپن زم
نہیں لگ ت ۔ اس کی کئی مث لیں ہم رے مش ہدے میں ہیں۔ مثلاً دروازے
میں سر م را ج ت ہ اور کہ ج ت ہ کہ :دروازہ سر میں لگ گی :۔۔۔
چ ت پھرت ،پتھر میں پ ؤں م ر کر زخمی کر دی ج ت ہ اور کہ ج ت
کہ :پ ؤں میں پتھر لگ گی ، :کوئی پوچھ ص ح ،پتھر ،جس ک ن
ہی جمود ہ ،ک ہ پ ؤں س ٓا ٹکرای ہوگ ۔ ب ت مزحقہ خیز ہوتی چ ی
ج تی ہ ،یہ ں تک کہ ایک محترمہ یہ فرم تی ہوئی پ ئی گئیں کہ :میں
سڑک پر ک ر لئی ج رہی تھی ،کہ اچ نک س من درخت آ گی :۔۔۔ حد
ہو گئی۔ انس ن کی کوشش ہوتی ہ کہ اس یہ نہ کہن پڑے کہ اس ن
خود کچھ کی ہ ۔ کسی ک قتل بھی کر ڈال تو کہت ہ کہ :قتل ہو گی :
۔۔ چھری س ہ تھ زخمی کر ل تو کہت ہ کہ :چھری ہ تھ میں لگ
گئی :۔۔۔ واہ رے انس ن
تو جن یہ حضرت انس ن چھوٹی موٹی غ طی گست خی ہی اپن سر
نہیں لیت تو اتن بڑے گن ہ بھلا کیوں اپن سر ل گ ۔ ٓاپکی یہ تحریر
بھی بہت اع ٰی ہ ۔ موضوع کوئی ڈھک چھپ نہیں ہ ،لیکن آپ ک
بی ن ن اس ب لکل س دہ اور ص ف ال ظ میں سمجھ ی ہ ۔ اس لیئ
امید ہ کہ کئی پڑھن وال اس س اثر بھی لیں گ ۔
دع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9293.0
آگ کی بھٹی
جنگ لمحوں کی ہو ی دنوں کی‘ جہ ں توڑ پھوڑ ک سب بنتی ہ ‘ وہ ں
ذات ک سکون بھی غ رت کر دیتی ہ ۔ سوچیں ہر لمحہ تذبذ کی
ص ی پر چڑھتی ہیں۔ کچھ کر گزرن کی است داد بھی مت ثر ہوتی ہ ۔
سم جی اطوار س میل کھ تی سوچیں‘ کھیس میں کچھ ن کچھ ضرور
ڈالتی ہیں۔ سم جی اطوار س متص د سوچیں‘ ذات ک استحص ل تو
کرتی ہی ہیں‘ سم ج تو سم ج‘ یہ ں تک کہ خ نگی ل ن ط ن بھی‘ مقدر
ٹھہرتی ہ ۔ ست یہ‘ جن کی بھلائی ک لی سوچ گی ہوت ہ ‘ وہ ہی
دشمن بن ج ت ہیں۔
ع م کی زب نی‘ ن ر جہن کی ہولن کی ک سنت آ رہ ہیں۔ یہ ب ت اکثر
سوچ میں آتی ہ ‘ کہ اس کی قہرم نی‘ کی سوچوں س بھی بڑھ کر
ہو گی! مجھ لوہ کی بٹھی میں لوہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں لوہ کو‘ جو
سخت ترین دھ ت ہ ‘ کو پ نی ہوت دیکھن ک ات ہوا۔ بلا کی آگ
تھی۔ اس کی دور کی تپش س ‘ جس پسین میں نہ گی ۔
میں پچھ پچپن س ل س ‘ سوچ کی بھٹی میں پگھل رہ ہوں۔ س
س بڑا دکھ تو یہ ہ ‘ کہ میری سوچوں کو‘ لای نی اور سم ج دشمن
سوچیں کہ اور سمجھ ج ت ہ ۔ جن ک لی سوچت ہوں‘ وہ ہی
مجھ اپن رز ک دشمن سمجھت ہیں۔ رشوت لین والوں س کہت
ہوں‘ ت جہن کی آگ جمع کر رہ ہو‘ تو وہ میرے کہ کو بکواس
اور دفترش ہی ک خلاف س زش سمجھت ہیں۔ ان ک خی ل میں‘
صدیوں س ج ری یہ عمل‘ کس طرح غ ط ہوسکت ہ ۔ اگر یہ غ ط
ہوت ‘ تو یہ اختی ر کیوں کی ج ت ۔ کسی روایت ی روٹین میٹر کو‘ کس
طرح غ ط قرار دی ج سکت ہ ۔ رشوت دین وال کو کہت ہیں‘ تو
وہ اس درست قرار دین ک لی تی ر نہیں۔ رشوت ہی‘ ڈی میرٹ کو
میرٹ میں تبدیل کر سکتی ہ ۔ اس حوالہ س ‘ رشوت دین لای نی نہیں
ٹھہرت ۔ کسی کی ح ت ی کیسی۔ لگ ن وال ہی ک کھیسہ میں پھل
گرت ہ ۔
ملاوٹ کرن وال س ب ت کرو‘ تو وہ دشمن بن ج ت ہ ۔ اس ک کہن
ہوت ہ ‘ ج خریدن وال کو اعتراض نہیں‘ تو تمہ رے پیٹ میں
کیوں مروڑ اثھت ہ ۔ میں اس ک خیرخواہ ہوں‘ چ ہت ہوں‘ وہ جہن کی
آگ ک لقمہ نہ بن ۔ میں سوچت ہوں‘ پ ؤ ک خریدار ہو ی ک و ک ‘ دین
دار تو وہ دونوں ک ہ ۔ انس ن جو اللہ کی بہترین مخ و ہ ‘ کی قیمت
محض چند ٹک ہیں۔
چوری کوئی آس ن ک نہیں۔ انس ن اگر اتنی محنت کرئ ‘ تو بھوک
مٹ ن اور تن ڈھ نپن ک لی ‘ رز دستی ہو ہی ج ت ہ ۔ غداری
کرن وال کیوں بھول ج ت ہیں‘ محض چوپڑی ک لی لوگوں ک
خون اپن سر پر کیوں لیت ہیں۔ ک تولن اور بڑی ہنرمندی س ‘
ن قص م ل فروخت کرن والوں کو ضمیر کیوں نہیں ست ت ۔ کی ان ک
ضمیر نہیں ہوت ۔ کی وہ بلاضمیر زندگی گزار کر دنی س ‘ رخصت ہو
ج ت ہیں۔ ان ک چھوڑے ب ضمیر لقم ‘ اگ ی نس وں کو منتقل ہو
ج ت ہیں۔
ہزار س ل تو بہت زی دہ ہوت ہیں‘ کوئی یہ نہیں بت سکت ‘ کہ کسی کی‘
موجودہ رہ ئش گ ہ دو سو س ل پہ کیسی اور کس کی تھی۔ آت
س لوں میں‘ یہ کیسی اور کس کی ہو گی۔ میری میری ک نغمہ بڑا پران
ہ ‘ لیکن اس ک ہر گ ئیک‘ تہ خ ک چلا گی ۔ ایس گی ‘ کہ اس دوب رہ
آن نصی نہ ہوا۔
میں اپنی ذات س ‘ اس م م پر بھی الجھت ہوں‘ کہ ہر دو نمبری
لائ عزت کیوں سمجھ ج ت ہ ۔ ایک ص ح ن ‘ س ت لاکھ کی ہیرا
پھیری کی۔ اس رق س وہ اور اس ک گھر وال ‘ حج کرک آئ ۔
س ان ک ہ تھ چومت ہیں۔ اس میں وہ بھی ش مل ہیں‘ جو اصل
حقیقت س آگ ہ ہیں۔ شرافت ک م ی ر پرت یش زندگی قرار پ ی ہ ۔
مجھ اس ب ت پر ق ہوت ‘ کہ ہ من ف کیوں ہیں۔ غ ط کو غ ط‘ منہ
پر کیوں نہیں کہت ۔ ایک طرف حضرت ابراہی ‘ حضرت سقراط‘
حضرت حسین‘ حضرت منصور ک احترا کرت ہیں۔ حضرت مہ آتم بدھ
جی ک ف ل پرحیرت زدہ ہوت ہیں۔ دوسری طرف‘ ان اصح ب ص
ک س تھ‘ پیش آن وال م ملات س ‘ عبرت لیت ہوئ ‘ غ ط کو
غ ط نہیں کہت ۔ ان کی پشت پیچھ پ وت بولت ہیں۔ ان ک منہ پر‘
ٹی سی میں کوئی دقیقہ اٹھ نہیں رکھت ۔ ٹی سی خور‘ خوش ہو کر
چوری س نوازت ہیں۔ ج نت ہوئ بھی‘ وہ خود کو نبی قری
سمجھت ہیں ی اپن کی کو‘ برح سمجھت ہیں۔ گوی دونمبری‘ ان
ک مرتبی استحق ہ ۔
آگ کی بھٹی کو دیکھ ہوئ ‘ ایک عرصہ گزر گی ہ ۔ اس آگ ک
سیک ‘ آج بھی محسوس کرت ہوں۔ یہ آگ اتنی زبردست تھی۔ جہن کی
کس بلا کی ہو گی۔ میں سوچت ہوں‘ اتن سوہن سوہن چہرے‘ جو
دیکھن میں نیک پرہیزگ ر لگت ہیں‘ جہن کی آگ میں ڈال ج ئیں
گ ! ان ک دو نمبری حج اور دکھ وے کی نم زیں‘ ک آ سکیں گی۔ کی
چوری خور مورکھ ک لکھ اللہ درست م ن ل گ ۔
اس قس کی سوچیں‘ مجھ بڑی ازیت دیتی ہیں۔ ک ش میں انہیں‘ جہن
کی آگ س بچ سکت ۔۔۔۔۔ ک ش۔۔۔۔۔ یہ مجھ ح سد سمجھت ہیں۔ ان
ک خی ل ہ ‘ سوکھی اور ق یل ن ‘ مجھ ی وہ گو بن دی ہ ۔ وہ
سمجھت ہیں‘ ان کی آسودگی‘ خوش ح لی‘ کوٹھی‘ ک روں کی
موجودگی ن پ گل کر دی ہ اور میں اس پر ج ت ہوں۔ کتنی عجی
ب ت ہ ‘ میں ان ک انج س لرزاں ہوں۔ میں اس امر پر بھی لرزاں
ہوں‘ کہ میں ن انہیں بت ی کیوں نہیں۔ انہوں ن آگ کی بھٹی میں‘
لوہ کو پگھل کر پ نی ہوت نہیں دیکھ ۔ اللہ پوچھ سکت ہ ‘ ت ن
تو دیکھ تھ ن ‘ پھر کیوں نہیں بت ی ۔ دیکھ کر‘ من فقت ک خول میں
کیوں مقید رہ ۔
میں اپنی حیثیت‘ حقیقت اور اوق ت س ‘ خو خو ہوں۔ میں ان ک
مجر ہوں‘ آنکھوں دیکھی چیز ک ‘ ل ظوں میں نقشہ نہیں کھنچ سکت ۔
یہ تو کوئی مصور ہی کر سکت ہ ‘ ی کوئی ب ہدایت ص ح اختی ر کر
سکت ہ ۔ ہر علاق ک ح ک پر لگ ئ ‘ کہ وہ بدعنوان لوگوں کو
س تھ ل کر‘ دہکتی آگ کی بٹھی کی زی رت کرے اور کرائ ۔ اینٹوں
ک پھٹ کی آگ بھی‘ اپنی ک رگزری میں کچھ ک نہیں۔ بٹھی کی آگ
ہو ی اینٹوں وال پٹھ کی آگ‘ جہن کی آگ ک مق ب ہ میں کچھ
“نہیں۔
ش ہ ب ب بولت رہ ‘ ہ س پتھر ک بت بن ‘ سنت رہ ۔ پھر ش ہ ب ب
ک منہ س نکلا‘ ک مہءشہ دت۔ س ن یک زب ن ہو کر ک مہءشہ دت
پڑھ ۔ اس ک ب د خ موشی چھ گئی۔ س ن سوچ ‘ ش ید ش ہ ب ب د
لین ک لی رک ہیں‘ لیکن ب ب تو اپن فرض ادا کرک ج چک تھ ‘
اس چ ج ن ہی چ ہی تھ ۔ یہ دنی ‘ اس س لوگوں ک رہن کی
جگہ نہیں ہ ۔ میں ن کئی ب ر‘ بٹھی دیکھن ک اردہ کی ہ ‘ ش ید
کچھ عبرت پکڑوں اور توبہ ک دروازے پر آ ج ؤں‘ یقین م نیں‘ دنی
کی ہم ہمی ن ‘ مجھ موقع ہی نہیں دی ۔ ی پھر ش ید عبرت پکڑن
اور کوئی ک رخیر کرن ک لی ‘ ہم رے پ س وقت ہی نہیں رہ ۔
سچی کہوں گ
یہ ں ایک ب ب پہ کئی دنوں اور ا کئی مہنوں س بیم ر چلا آت ہ ۔
حرا ہ جو مرن ک ن ل رہ ہو۔ اگرچہ وہ لمبی چوڑی عمر ک
نہیں۔ یہی کوئی س ٹھ ب ٹھ ک ہو گ ۔ عصری ح لات اور خ ندانی
ضروری ت ک پیش نظر ا تک اس مر ج ن چ ہی تھ ۔ اللہ ج ن
کس مٹی س اٹھ ہ ۔ بڑے بڑے پھن خ ن ب ب دیکھ ہیں‘ بیم ری
ک ایک ہی جھٹک س ان ل ه ہو گی ۔ ان ک اٹھن س گھر
والوں کی ب ج ڈاکٹروں ک پ س آنی ں ج نی ں خت ہو گیں۔ گھر والی
اور اولاد خوشی س ب ب کی بیم ری کی فٹیک برداشت کر نہیں رہ
تھ ۔ دنی داری بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہ ۔
ہم رے ہمس رے میں ایک م ئی تھی اور کپتی ک ن س پورے علاقہ
میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس ک می ں شریف آدمی اور بلا ک موقع شن س
تھ ۔ بیم ری ک پہ ہی جھٹک میں وہ گی ۔ م ئی بڑی دی لو تھی
بڑھ پ میں بھی دی ک ب ند مق پر ف ئز تھی۔ کوئی نہیں کہت تھ کہ
اس بھی کبھی موت آئ گی۔ فرشتہ اجل بھی اس ک قری آن س
لرزت ہو گ ۔ ہ ں فیض کی حصولی ک لی اس کبھی م م نت نہیں
رہی ہو گی۔ بیم ر پڑی؛ اہل ذو تو اہل ذو ‘ اس ک چھوٹ بیٹ پوری
دی نتت داری س اس ڈاکٹروں ک پ س لی پھرا ت ہ چند دن ہی چ ی
اور اہل ق و نظر ک لی پچھت وا چھوڑ گئی۔ اس کی بڑی بہو بڑی
روئی۔ لوگوں کو س س ک س تھ اس کی مخ صی ک یقین ہو گی ۔ جو
بھی سہی میں اس ب ب کی کرنی ک م تقد ضرور ہو گی جس ک
ت ویزوں ن بڑی بہو کو یہ دن دکھ ی ورنہ وہ فرشتہ اجل کی گرفت
میں آن والی م ئی ہی نہ تھی۔
خدا م و یہ س ٹھ ب ٹھ س لہ ب ب کس قس ک ہ جس اتنی کرنی
وال ب ب ک ت ویزوں ن بھی کچھ نہیں کی ۔ ب چی ں نک ی پڑی ہیں
اور حد درجہ کی کمزوری وارد ہو چکی ہ ‘ اس ک ب وجود مرن ک
ن نہیں ل رہ ۔ ب ید از قی س نہیں کہ اس زندگی لڑ گئی ہو۔ عین
ممکن ہ کہ خضر آ حی ت ک دوچ ر گھونٹ عط کر گی ہوں۔
دیوت ؤں س بھی اس ک بگ رڑ نہیں۔ ہو سکت ہ کوئی دیوت بصد
مشقت نک ل گی امرت میں س دو گھونٹ چپک س پلا گی ہو۔
پران اور تجربہ ک ر ہوت ہوئ نہیں سمجھ پ رہ کہ کتنوں ک مستقبل
خرا کر رہ ہ ۔۔ اس ک مرن س بڑا ک روب ر وسیع کر سکت ہ ۔
چھوٹ کی تین جوان بیٹی ں‘ جن کی ا ش دی ہو ج ن چ ہی جبکہ
منجھلا اپن بیٹ دوبئی بھیجن چ ہت ہ ۔ اس ب ہر م ت تو نہیں ببھج ج
سکت ‘ دا لگت ہیں۔ یہی صورت ح ل اس کی لڑکیوں کی ہ ۔ کئی
خ ندانوں کی ترقی خوش ح لی اور آسؤدگی ب ب کی موت س وابستہ
ہ ۔ اتنی موٹی اور واضح ب ت ب ب کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ بیم ر
اور لاغر زندگی س برابر ع یک س یک بڑھ ئ چلا ج رہ ہ ۔
ایک ہ تہ پہ میری اس س بستر حی ت پر ملاق ت ہوئی۔ بچ پرامید
نگ ہوں س اس کی آؤبھگت کر رہ تھ ۔ مجھ دیکھ کر بڑے
خوش ہوئ ۔ ب ب چ ت پھرت وقتوں میں میرے م ن والوں میں س
تھ ۔ بچ اس ک میرے ت ق ت س واقف تھ ۔ انہوں ن مجھ
امید بھری نظروں س دیکھ اور اندر چ گی ۔۔ ان ک خی ل تھ کہ
میں ان ک ڈھیٹ اور جین پر مصر ب ب کو سمجھ ؤں گ ۔ وہ کی
ج نیں کہ ان ک ب ب کتن ضدی ہ ۔
میں ن پوچھ ی ر ت ن رشوت کی کم ئی س اتنی ج ئیداد کیوں
بن ئی۔ مرن وال ہو اللہ کو جوا تو تمہیں ہی دین پڑے گ ۔
جوا میں کہن لگ مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔ اکی میں
ن تھوڑی بن ئی ہ ‘ س ری دنی اسی طرح ج ئیدایں اور بینک بی نس
بن تی ہ ۔ اتن لوگوں ک لی جہن میں جگہ ک ہو گی۔ میں وہ ں ج
کر بھی قبضہ گروپ ک لیڈر ہوں گ ۔ ٹہوہر میں گزاری ہ ‘ فکر نہ کرو‘
وہ ں بھی ٹہوہر کی گززے گی۔ بیشک اللہ بڑا ب نی ز ہ ۔
میں ن کہ ی ر یہ ج ئیداد اپن جیت جی ان میں تقسی کر دو۔
کیوں تقسی کر دوں۔ ج ئیداد میری ہ کسی کو دوں نہ دوں میری
مرضی۔ اگر میں ن تقسی کر دی تو ان میں س کسی ن پوچھن تک
نہیں۔ گھر س ب ہر نک ل دیں گ ۔
اس کی ب ت میں د بھی تھ اور خ بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں کر سک کہ
ان میں زی دہ کی تھ ۔ اس ک پ س میں قریب بیس پچیس منٹ اس
خوف ک س تھ بیٹھ رہ کہ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ ت بھی دو چ ر س ل
ک ہیر پھیر س میرے ہ عمر ہو ابھی مرے کیوں نہیں۔ ش ید اس
لی نہ بولا کہ میرے پ س ہ ہی کی ۔ زندہ ہوں کچھ ن کچھ تو لات ہوں۔
اور کچھ نہیں تو تھیلا برداری س تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا اور کوئی
اتنی ب عزتی کیوں کراے گ ۔ شوہر ک ب عزتی کرائی ک لی پہ
سوال کی طرح بہرطور لازمی ہ ۔
ا اس صورتح ل ک تحت میں کی عرض کر سکت ہوں ت ہ مجھ
بڈھ کی اولاد میں کمی اور خرابی نظر آئی۔ جو خود محنت اور مشقت
کرن کی بج ئ اوروں کی کم ئی پر مستقبل سنوارن کی آش کرن
وال زندگی میں ن ک رہت ہیں۔ یہ اور دو قس ک ہوت ہیں۔
ایک ب ب وغیرہ
دوسری دفتر ش ہی وغیرہ۔
ث نی الذکر کو اوروں میں شم ر نہ کریں۔ س ی ین س وصولی ں وغیرہ
دفتری لوگوں ک اصولی استحق ہوت ہ ۔ پڑھ ئی لکھ ئی اور نوکری
کی حصولی پر خرچہ کرک اگر بہت ی بہت س بڑھ کر وصولا نہ گی
تو کی ف ئدہ
ب ب ک اپن نم اپن خود کو پنج سرونٹس ہ ؤسنگ ف ؤنڈیشن
وال سمجھت ہیں جو سراپ دیسی گھی کی کڑاہی میں ہیں۔ کم وں کو
اتنی ب ت سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرک ری لٹیرے ہیں۔ انہیں تو پوچھ
کرن والوں ک اشیرب د ح صل ہ ۔ دوسرا وہ لوگوں ک ک کرت ہیں۔
تیسری بڑی ب ت یہ کہ وہ تو بھرتی ہی لوٹ مچ ن ک لی ہوئ
ہیں۔ لوٹ سیل تو ان ک فرائض منصبی میں داخل ہ ۔
م نت ہوں ب ب ک م ل بھی لوٹ ک ہ لیکن وہ م ل تو ہ اور م ل بھلا
کون کسی کو دیت ہ ۔ گچی پر ن خن آئ تو ہی کھیسہ ڈھیلا ہو سکت
ہ ۔ کم ب ب کو کسی پھسنی میں پھ س ئیں‘ خود ہی جڑے گ ۔
مجھ ب ب ک اپنوں پر افسوس ہوت ہ ۔ بیم ر ب ب ان س برداشت
نہیں ہو رہ ۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس کی ب ت ہ ۔ پ کست ن کو بن
ایک صدی ن سہی کچھ ہی س لوں ب د ہو ج ئ گی‘ بیم ر لاغر اور دمہ
گزیدہ دفتر اور افسر ش ہی س ک چل رہ ہ اور خو چل رہ ہ ۔
انہیں اپن بیم ر لاغر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھ س ک چلات ہوئ
مری پڑتی ہ ۔ بیم ر لاغر اور دمہ گذیدہ دفتر اور افسر ش ہی ک
مرن ک دور تک آث ر نہیں۔ سچی کہوں گ چ ہ بڈھ ک گھر
والوں کو غصہ ہی لگ ‘ ب ب ک مرن ک مجھ دور تک آث ر
نظر نہیں آئ ۔ ان کنبوں ک مستقبل اسی طرح تذبذ کی ص ی پر لٹک
رہ گ اور یہ میں پورے یقین ک س تھ کہہ رہ ہوں۔
لاٹری
کریم ں ک جوان کنوارے بیٹ ک ‘ وعدے پورے ہو گی ۔ م ں ک ‘
چیخیں م ر م ر کر رون ‘ فطری سی ب ت تھی۔ اللہ کسی دشمن کی م ں
کو بھی‘ اس صدم س دوچ ر نہ کرئ ۔ اولاد کو کچھ ہو ج ئ تو
م ؤں کو سچ میں‘ اس س پہ ہی دوگن کچھ ہو ج ت ہ ۔ یہ رشتہ
ہی کچھ ایس ہوت ہ ۔ ت ہی تو اس رشت کو ان مول اور مترادف
س م ذور رشتھ‘ قرار دی ج ت ہ ۔ اس رشت کی اہمیت ک انداز اس
قول س لگ ئیں‘ کہ م ں ک پیروں میں جوت ہو نہ ہو‘ اولاد کی جنت
ضرور ہوتی ہ ۔
م ں کی محبت کی کچھ مث لیں میری آنکھوں دیکھی ہیں۔ م ئی رمض نہ
ک منجھلا کوئی ک ک ج تو کرت نہیں تھ ہ ں البتہ نش پ نی ک ع دی
تھ ۔ پیسوں ک لی ہر وقت لڑت رہن اس ک مرغو مشغ ہ تھ ۔
لڑائی میں‘ بدتمیزی کی حدیں کراس کر ج ت تھ ۔ لاڈوں پلا تھ ۔ مرحومہ
کسی ک منہ س اپن بیٹ ک خلاف ایک جم ہ تک نہ سن سکتی
تھی۔ وہ اپن علاق ک م ن ہوا نشئی تھ لیکن م ئی رمض نہ کسی ک
منہ س بھی نہیں سن سکتی تھی کہ اس ک ییٹ نشئی ہ ۔
گ م ں کو اللہ ن چ ر بیٹی ں عط کیں۔ بیٹ کی خواہش ن ‘ اس بڑا
ب صبرا بن دی تھ ۔ دوا دارو ک س تھ س تھ‘ پیروں فقیروں ک پ س
بھی گئی۔ ہر ک اپن وقت پر ہوت ہ ۔ اللہ ن س ت س ل ب د‘ اس
چ ند س بیٹ عط فرم ی ۔ تم لاڈ لڈائ گی ۔ بڑا ہوا‘ تو اس کسی
مغربی م ک میں بھیج دی گی ۔ پھر وہ وہ ں ک ہی ہو کر گی ۔ شروع
شروع میں‘ خط وغیرہ لکھ دی کرت تھ ‘ پھر اس تک ف س بھی گی ۔
گ م ں‘ بیٹ کی جدائی ک صدمہ‘ برداشت نہ کر سکی۔ دم غی توازن
کھو بیٹھی اور گ یوں ک روڑا ہوکر رہ گئی۔ جو کوئی دیکھت افسوس
کرت ۔
ننھ لاکھوں میں ایک تھ ۔ گ ؤں کی لڑکی ں‘ اس پر مرتی تھیں۔ کوئی
ایک ہوتی تو وہ عش جیسی بیم ری میں مبتلا ہوت ۔ بس م مولی
نوعیت کی‘ بھونڈی تک محدود تھ ۔ آخر ک تک‘ ش زیہ ن ‘ اس اپنی
گرفت میں ل ہی لی ۔ ب ت ک تک پردہ میں رہتی ہ ‘ لوگوں کی زب ن
پر آ گئی ۔ اس م م پر گھر پ نی پت ک میدان بن گی ۔ س لوگ‘
ننھ ک پیچھ ہی پڑ گی ۔ ننھ کی م ں رانی‘ ہر وقت پتر ک
کرتوتوں پر پردہ ڈالن میں رہتی۔ اس ک موقف یہ ہی رہت ‘ لوگ یوں
ہی بکواس کرت ہیں‘ میرا بیٹ شریف ہ ‘ وہ ایسی حرکت کر ہی نہیں
سکت ۔ ش زیہ شوہر اور تین بچوں کو چھوڑ کر‘ میک آ گئی۔ یہ سوال
غ ط نہ تھ ‘ کہ عش ممت کی لاش س بھی گزر ج ت ہ ۔ ایسی مٹ لیں
ہزاروں میں‘ دو چ ر ہی ہوں گی۔
میں اپنی م ں س ‘ ب تح ش محبت کرت تھ ۔ اس کی آغوش‘ میرے
لی بڑی م نویت رکھتی تھی۔ آج ج ‘ بوڑھ ہو گی ہوں‘ بیم ر پڑت
ہوں‘ تو ن دانستہ طور پر‘ منہ س ہ ئ امی ہی نک ت ہ ۔ خدمت کرن
وال ک چڑن ‘ لای نی قرار نہیں دی ج سکت ‘ کہ بھئی خدمت میں کر رہ
ہوں‘ پک رے اپنی امی کو ج رہ ہ ‘ جو برسوں پہ انتق ل کر گئی
ہ ۔ یہ عمل‘ کوئی غیرفطری نہیں‘ عین فطری ہ ۔
کریم ں کو ڈھ رس بندھ ن وال ‘ کئی لوگ تھ ۔ اس قرار آ ہی
نہیں رہ تھ ۔ آت بھی کیس اور کس بوت پر‘ جوان بیٹ کی لاش
س من پڑی تھی۔ کبھی منہ کو ہ تھ لگ تی‘ کبھی سر پر ہ تھ پھیرتی۔
کبھی چ رپ ئی ک ب زو پر سر م رتی اور کر بھی کی سکتی تھی۔ آہ و
بک اور اس ک بین سن نہیں ج رہ تھ ۔ اس دوران اس ک منہ
س نکلا :میرے بیٹ ن دنی میں دیکھ ہی کی تھ ‘ کچھ دیکھ
بغیر چل بس ۔ فیج ں تی ن جو اس ک قری بیٹھی تھی‘ ن اس ک ک ن
میں کہ :اس کی ت فکر نہ کرو‘ میں ن س کچھ دکھ دی تھ ‘ گ و
اسی ک تو ہ ۔
حیرت آلود سکتہ ط ری ہو گی ‘ پھر تھوڑا سمبھ ی۔ اس ن ‘کریم ں پر
ڈیڑھ س لہ گ و کو ایک نظر دیکھ ۔ اس گ و میں‘ اپن بیٹ ص د
ک بچپن کی پرچھ ئیں نظر آئی۔ اس ن ب اختی ر ہو کر‘ گ و کو
سین س لگ لی ۔ یہ ایک ایسی پہی ی تھی‘ جو کسی کی سمجھ میں نہ
آ سکتی تھی۔ ہ ں فیج ں تی ن کی لاٹری لگ چکی تھی۔ یہ کیس رشتہ
تھ ‘ جو گ و کو بھی ت مرگ م و نہ ہو پ ن تھ ۔ س کچھ ہوت ‘ دنی
ک حس س ‘ وہ اس کی کچھ بھی نہ تھی۔ کریم ں اس اپن بیٹ
ص د کی نش نی سمجھت ہوئ ‘ اس پر محبتیں اور جی قرب ن کرتی
رہ گی‘ لیکن اپن رشتہ کسی پر کھول نہ سک گی۔ ب طور دادی‘ منہ
س کچھ کہہ کر‘ وہ گ و پر ن ج ئز اولاد ہون ک لیبل کس طرح چسپ ں
کر سکتی تھی۔ اس ک لی بس اتن ہی ک فی تھ کہ وہ ص د کی نش نی
تھ ۔
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
شرمندہ ہیں کہ ح ضری میں دیر ہوئی۔ ایک بہ نہ تو ٓاپ ج نت ہی ہیں
کہ دنی داری وقت نہیں دیتی۔ لیکن ایک وجہ اور بھی ہ ۔ اور وہ یہ
ہ کہ ہ کچھ موڈی قس ک شخص واقع ہوئ ہیں۔ کبھی کبھی،
اکت ئ س پھرت ہیں اور کچھ دن ایس ہی لاغر گزر ج ت ہیں۔ ٓاپ
کی تحریریں تو فوری پڑھت ہیں ،لیکن کچھ لکھن پر ذہن م ئل نہیں
ہوت ۔ فطری سی ب ت ہ سو جو ح ل سو ح ضر کر دی ہ ۔
ہمیں تحریر ک یہ انداز بہت پسند ہ ۔ واق ت کو ایک خ ص انداز میں
پرو کر پیش کر دین ۔ ظ ہر ہ کہ لکھن وال ک ال ظ ،واق ت میں
پوشیدہ احس س ت کو عی ں ضرور کر دیت ہیں لیکن تحریر کو کسی
خ ص عنوان کی طرف مکمل طور پر نہیں جھک ی ج ت ۔ ال ظ ک ج دو
چل چک ہوت ہ اور ق ری کی سوچ انہیں احس س ت ک بیچ ہی رہتی
ہ ۔ اس ک ب وجود ق ری ک پ س سوچ ک گھوڑے دوڑان ک
لیئ بہت کھلا میدان ہوت ہ ۔ انس ن کو کچھ سمجھ دین ی بت دین
ٓاس ن ہ ،لیکن ق ری کو اس پر مجبور کرن کہ وہ خود یہ س
سوچن ک ق بل ہو ج ئ اور نت ئج کو خود ہی ڈھونڈ نک ل ،یہ ٓاپ
جیس ق ک ر ہی ک بس کی ب ت ہ ۔
ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔
دع گو
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9288.0
ب ب جی شکراللہ
پیر فقیر درویش صوفی لوگ بھی‘ بڑے ہی عجی اور پراسرار قس
ک ہوت ہیں۔ انہیں سمجھن آس ن ک نہیں ہوت ۔ ان ک ہر ک ‘ عمو
اور مروجہ سم جی روی ت س ‘ ہٹ کر ی قط ی برعکس ہوت ہ ۔ یہ
ہی وجہ ہ ‘ کہ یہ لوگ م شی غیرآسودگی کو ایک طرف رکھی ‘ یہ
کوئی بڑی ب ت نہیں‘ یہ تو ک زور طبقوں ک مقدر رہی ہ ‘ یہ لوگ تو
اپنی برعکس کرنی ک سب ‘ ک نٹوں پر زندگی کرت آئ ہیں۔ یہ
زندگی سم جی وسی سی جبر ک نتیجہ نہیں ہوتی ہ ‘ ب کہ ان کی خود
س ‘ اختی ر کی ہوئی ہوتی ہ ۔ گوی یہ ان کی اپنی ذات ک جبر ک ‘
ثمرہ ہوتی ہ ۔
ا دیکھی ‘ جو بھی اہل ثروت اور اہل ج ہ کی بدم شیوں اور
بدک ریوں کو‘ ط قت ک استح سمجھت ہوئ ‘ تحسین کرت ہوئ ان
ک قد لیت رہ ہیں‘ ن صرف تمغوں‘ ایواڑوں اور خط ب ت س
نوازے ج ت رہ ہیں ب کہ ان کی گھت ی‘ منہ تک لبریز رہی ہ ۔
سرک ر انہیں‘ ج ئیدیں اور مراع ت س نوازتی رہی ہ ۔ م ی ر زندگی
کی سرب ندی ک س تھ س تھ‘ عوامی سطح پر‘ انہیں عزت و توقیر م ی
ہ ۔ ب شم ر جی حضرری میسر آئ ہیں۔ سلاموں اور پرن موں کی
کوئی تھوڑ نہیں رہی‘ ح لاں کہ ان جی حضرریوں کو محض ہڈی پر
ٹرخ ی ج ت رہ ہ ۔ ب ض اوق ت‘ یہ ہڈی بھی انہیں ترس ترس کر دی
ج تی رہی ہ ۔ اپنی زب ن ک لہو کو ہی‘ انہوں ن سووگی ط شرین
سمجھ ہ ۔
اس ک برعکس‘ ان درویشوں کو دیکھی ‘ وہ اہل ثروت ک ہر الٹ
چ ل پر‘ انگ ی رکھت آئ ہیں۔ پہ وں ک انج س ‘ انہوں ن کبھی
بھی عبرت نہیں پکڑی۔ ح لات کی ن گواری اور ط قت ک بگڑے تیور‘
ان کی راہیں بدل نہیں سک ہیں۔ وہ‘ وہ ہی کرت رہ ہیں‘ جو ان
س پہ وں ن کی ۔ ہر درویش کو ط قت وارننگ دیتی رہی ہ ۔ حرا
ہ ‘ جو انہوں ن کبھی کسی واننگ کو کوئی حیثیت دی ہو۔ ط قت کی
اپنی مجبوری ہوتی ہ ‘ آخر وہ کہ ں اور کس حد تک‘ برداشت س
ک ل ۔ برداشت اور درگزر ی لح ظ اور مروت کی بھی کوئی حد ہوتی
ہ ۔ ایکشن میں نہ آن کی صورت میں‘ بغ وت رہ پکڑ سکتی ہ ۔
لوگ درویشوں ک کہ میں آ کر‘ ط قت ک جین حرا کرسکت ہیں۔
ری ستی امن وسکون تب ہ ہو سکت ہ ۔
سید غلا حضورالم روف ب ب شکر اللہ بھی‘ عجی ع دت اور مزاج ک
م لک تھ ۔ لوگ کسی کو حضرت ک سلا کہہ کر ی سلا ک جوا دے
کر‘ اپنی ج ن س ‘ عظی کر فرم ئی سمجھت ہیں۔ چھوٹی بڑی رق ‘
کوئی است م ل ی خوردنی چیز عن یت کر دین ‘ تو بڑی دور اور مشکل
کی ب ت ہ ۔ یہ ح ت کی قبر پر لات مرن ک مترادف ہوت ہ ۔ وصول
کنندہ‘ گوی ان ک ک ن ہو ج ت ہ ۔ سلا کہت رہن ‘ ان کی کوئی ن کوی
مشقت اٹھ ن ‘ گ ہ لوگوں میں‘ ان کی دری دلی ک چرچ کرن اور وقت
فوقت احس ن مندی ک اظہ ر کرن ‘ ان ک فرض منصبی میں داخل ہو
ج ت ہ ۔ ب ب شکر اللہ بڑے عجی تھ ۔ ان ک موقف تھ ‘ کسی کو کچھ
دے کر‘ ی د رکھن بھی درست نہیں‘ ب کہ اللہ اور لین وال ک ‘ شکریہ
ادا کرن چ ہی ۔ اللہ ک شکر اس لی کہ اس ن ‘ تمہیں ح جت مند کی
ح ج پوری کرن کی توفی عط فرم ئی اور س ئل کو تمہ ری طرف
پھیرا۔ ح جت مند ک اس لی کہ اس ن ‘ تمہیں ح جت پوری کرن
ک اہل سمھج ۔
اولاد تو اولاد‘ س ئل بھی‘ ب ب جی کی ہتھی ی پر س اٹھ ت اور اس ‘
اللہ ک شکر ادا کرن کی ت کید کرت ۔ ب ب جی امیر آدمی نہ تھ ت ہ
س ئل کی ح جت پوری کرن میں‘ کسی عذر بہ ن س ک نہ لیت
:تھ ۔ ایک ب ر کسی ن کہ
ب ب جی! دین وال ک تو ہ تھ اوپر ہوت ہ ‘ اس لی آپ س ئل کی
ہتھی ی پر کیوں نہیں رکھت ‘ ب کہ لین والا‘ آپ کی ہتھی ی پر س
اٹھ ت ہ ۔ آپ ک ہ ں یہ م م ہ الٹ کیوں ہ ۔
بھ ئی‘ میں دین والا کون ہوت ہوں‘ میرا تو ابنی س نسوں پر اختی ر
نہیں۔ م لک ک دی میں س دیت ہوں‘ کون س احس ن کرت ہوں۔
س ئل کو م لک ن بھیج ہوت ہ ‘ بھیجن والا م لک ہ ‘ اس لی
س ئل ک ہ تھ کیوں نیچ ہو۔ م لک بھیجت ہ ‘ کی م لک ک بھیج ک
‘ہ تھ نیچ ہون چ ہی
ایک ب ر ایک ص ح تشریف لائ ‘ کچھ کہن چ ہت تھ ‘ لیکن کہہ
نہیں پ رہ تھ ۔ ب ب شکراللہ ن ‘ انہیں کہ آپ بیٹھیں‘ میں تھوڑی
دیر میں آت ہوں۔ ب ب جی اندر چ گی ۔ کچھ دیر ب د واپس آ گی اور
انہیں بیٹھک س ب ہر آن ک اش رہ کی ۔ انہیں ب ہر ہی س ف ر کر دی
اور پھر‘ ہم رے پ س آ کر بیٹھ گی ۔ ذکر تک نہ کی ‘ کہ آن والا ح جت
مند تھ اور انہوں ن اس کی کس طرح مدد کی۔ اس انداز س ‘ جیس
کچھ ہوا ہی نہ ہو‘ ب ت وہیں س شروع کر دی‘ جہ ں س چھوڑی
تھی۔
ایک مرتبہ ان ک ایک م ن وال آئ ‘ بلا سلا دع برس ہی پڑے۔ وہ
ص ح بولت رہ ‘ ان ک گرجن برسن ک دوران‘ ب ب جی
شرمندہ سی مسکراہٹ کی خوش بو پھیلات رہ ۔ ج وہ بول چک ‘
:تو ب ب جی ن فرم ی
بھ ئی میں نبی نہیں جو مجھ پر وحی آ ج تی کہ آپ کسی مس س
دوچ ر ہیں۔
اس شخص ن کہ ‘ آپ سید پ ک ہیں آپ کو لوگوں ک دکھ سکھ س
آگ ہی رکھنی چ ہی ۔
فرم ن لگ ‘ ہ ں یہ درست ہ ۔ پھر ان کی آنکھوں س اشکوں ک
راوی ہہن لگ ۔ فرم ن لگ بھ ئی‘ بھ ئی ان ک تکیہءکلا تھ ‘ میں
تو سن سن ی سید ہوں۔ سید تو حسین ابن ع ی تھ ‘ جنہوں ن ن ن کی
امت ک لی ‘ اپن س کچھ قرب ن کر دی ۔
ایک مرتبہ ایک س ئل آی ۔ ب ب جی ن اس کی طرف دیکھ اور پھر‘
ایک بچ ک ہ تھ ایک سکہ بھجوا دی ۔ کسی ن پوچھ :ب ب جی یہ
کی ۔
انہوں ن فرم ی :یہ م لک ک بھیج ہوا نہیں تھ ۔ یہ م لک ک ن شکرا
تھ ۔ س کچھ پ ہوت ہوئ بھی‘ ہر کسی ک س من ‘ دست سوال
کرک اپن ضمیر ک قتل کرت پھر رہ تھ ۔
کسی ن سوال کی :حضور پھر آپ ن بچ ک ہ تھ سکہ کیوں
بجھوای ۔
کہن لگ :وہ میرے دروازے پر چل کر آی تھ ‘ میں اس خ لی
کیس بھیج سکت تھ ۔ اس ک عمل اس ک س تھ ہ اور میرا میرے
س تھ ہ ۔
ایک ب ر ایک بڑے م زز س شخص آئ اور دع فرم ن ک لی
کہہ دی ۔ ب ب جی ن اچھ خ ص لیکچر پلا دی ۔ ب ب جی م سٹر کری الدین
ہی لگ رہ تھ ۔ان ک لیکچر میں بلا کی روانی گرمی اور جوش و
خروش تھی۔ رومی‘ س دی‘ ح فظ‘ ب ھ ش ہ‘ ش ہ حسین لاہوری
وغیرہ ایک ہی نشت میں بیٹھ دی ۔ اس ن ب ب جی ک پ س
کچھ نہ م نگ تھ ‘ محض دع ک لی ہی تو کہ تھ ۔ ضرورت‘
ضروری ہو ی اختی ری ہو‘ ضرورت ہوتی ہ ۔ ب ب جی کی ب توں س
ایک ب ت ضرور واضح تھی کہ جس چیز ک بغیر ک چل سکت ہو ی
وہ اض فی نوعیت کی ہو‘ اس ک لی ب چین ہون ی دو نمبری رستہ
اختی ر کرن ‘ درست نہیں۔
ہ س ئ میں‘ کوئی نئ م ڈل کی چیز آ گئی ہ اورآپ ک ہ ں پران
م ڈل کی ہ ‘ اس س کی فر پڑت ہ ‘ ک تو چل رہ ہ ۔ کسی عزیز
ن گ ڑی ل لی ہ تو یہ خوشی کی ب ت ہ ‘ آپ خواہ مخواہ پریش ن
ہوت ہیں۔ ن ک ک لی گ ڑی ک حصول ک لی بھ گ دوڑ کرن ‘
کہ ں کی دانش مندی ہ ۔ اگر ک چل رہ ہ اور کوئی دقت محسوس
نہیں ہو رہی‘ تو بس ٹھیک ہ ۔ مہندی گ ن پر پہن گی م بوس ت‘
ش دی اور ولیم میں‘ پہن لین میں کون سی قب حت ہ ۔ مرگ پر
آدمی پرس دین ج ت ‘ وہ ں ک لی بن ٹھن کی‘ آخر کی ضرورت
ہ۔
ب ب جی کی تم ب تیں سولہ آن ٹھیک تھیں مگر کی ج ئ ‘ زندگی ک
چ ن یی ایس ہو گی ہ ‘ کی کریں۔ زندگی کی موجودہ روش ک مط ب ‘
چ ن پڑت ہ ۔ ب ب جی درویش تھ ‘ ان ک تو گزارہ ہو سکت تھ ‘ س ری
دنی درویش نہیں۔
بہت خو مقصود ص ح آنکھوں میں آنسو اتر آ -ہر آدمی ک ایک
ذو ہوت ہ 'لوگ دور دراز ک س ر کرت ہیں عجوب اور ت ریخی
و ت ریحی مق م ت کی زی رت ک لئ ' میرا ایک ذو ہ کہ میں
س رکروں اور ایس اللہ ک پی روں کی' ان کی زندگی میں 'زی رت ک
لئ ج ؤں ' ان س فیض ح صل کروں 'اس طرح کہ میری ذات س
انھیں کوئی تک یف نہ ہو -ویس کچھ کچھ زی رت ک لطف آپ کی تحر'یر
س بھی آی -دراز ی عمر کی دع کرت ہوں 'مع صحت وع فیت 'آپ
-ک لئ اور آپ ک ق ک لئ -جزاک اللہ وب رک اللہ
ی سر ش ہ
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9336.0
ت ریخ ک سین پر
م کہ س حرہ ج ن ش ہ کی ن گہ نی موت ن ‘ ش ہی محل ک در و دیوار‘
ہلا کر رکھ دی ۔ کہرا مچ گی ‘ دکھ ک بھونچ ل آ گی ۔ خود ش ہ کی‘
دھ ڑیں م ر م ر کر رون س ‘ ح لت غیر ہو گئی تھی۔ یہ اس کی
اک وتی م کہ نہ تھی۔ اصل وجہ یہ تھی‘ کہ ش ہ کی اس س کچھ زی دہ
ہی رغبت تھی۔ کوئی دوسری م کہ‘ اگر م کہ س حرہ ج ن ش ہ کی
بدمزاجی کی شک یت کرتی‘ تو وہ سنی ان سنی کر دیت ۔ ب ض اوق ت
ڈانٹ تک پلا دیت ۔ مرحومہ ک ‘ ہر کہ کو آسم نی صحی ک س
درجہ ح صل تھ ۔ نیچ ذات س تھی‘ اسی وجہ س ‘ ک م اور ک میوں
کی تقریب ہر وقت‘ ش مت آئی رہتی تھی۔ ان میں س ‘ کوئی چوں تک
نہیں کر سکت تھ ۔ وہ یہ کہن کی جرات نہیں رکھت تھ ‘ کہ کل تک
تمہ ری م ں‘ ہم رے س تھ ک کی کرتی تھی۔ یہ تو وقت وقت کی ب ت
ہوتی ہ ۔ وقت ش ہوں کو فقیر اور فقیروں کو ش ہی مسند پر بیٹھ دیت
ہ ۔ وقت کسی ک غلا ہوت اور ن ہی کسی س پوچھ کر گزرت ہ ۔
ش ہ ک پرس اور ش ہی قربت ک لی ‘ ہر کسی کو اص ی اور حقیقی
انداز میں‘ ب چینی وب قراری ک ن ٹک کرن تھ ۔ یہ ہی نہیں بین‘
نوحہ خوانی‘ اشک سوئی اور سینہ کوبی س ک لین تھ ۔ وف داری ک
مظ ہرے ک لی ‘ اس س مواقع‘ کبھی کبھی ہ تھ لگت ہیں۔ انہیں
ض ئع کرن ‘ اپنی قسمت ک س تھ کھ واڑ کرن ک مترادف ہوت ہ ۔
شدت غ میں بھی‘ ش ہی لطف و عط اپن م مول ک مرتب س
نہیں گرت ۔ کسی کنیز کی نوحہ کن ں آواز ی انداز‘ ش ہ کو بھ سکت
ہ ۔ وہ ہی لمحہ‘ اس عمو س خصوص میں‘ داخل کر سکت ہ ۔
قسمت لاٹری کی طرح ہوتی ہ ۔ س اپنی اپنی کلاک ری میں مصروف
تھ ۔ ش ہ کی دیگر بیگم ت بھی‘ کسی س پیچھ نہ رہن چ ہتی تھیں۔
ب طنی سطع پر پھوٹن وال لڈو‘ غ ن کی ک روپ میں ڈھل کر‘
چ رسو زردی بکھیر رہ تھ ۔
س رے مشیر‘ وزیراور انتظ می عم ہ‘ بڑا مصروف اور انتہ درجہ کی
پھرتی ں دکھ رہ تھ ۔ یوں لگت تھ ‘ جیس ان س بڑھ کر‘ محنتی‘
ک رگزار اور وف دار لوگ دنی میں نہ ہوں گ ۔ ح لاں کہ ہر کوئی
look busy but do nothing.
ک ی پر‘ عمل درآمد کر رہ تھ ۔ ان کی ان ہی چ نتریوں ن ‘ انہیں
اع ی مق اور اع ی درج عط کی تھ ۔ کسی ن کی ہی خو کہ
ہ
اسپ ت زی شدہ مجروع بر زیر پلان
طو زرین ہمہ در گردن خر میبین
خیر ک بھی تھ ‘ جن زے ک لی ‘ دیگر ولائیتوں س آن والوں
ک لی ‘ بیٹھن ک انتظ ‘ ک ن دفن ک خصوصی انتظ م ت‘ کھ ن
وغیرہ ک من س اور ش ہی وق ر ک ش ی ن ش ن بندوبست‘ ایس
چھوٹ موٹ بہت س امور تھ ‘ جنہیں خوش اس وبی س نبھ ن
اور نپٹ ن ‘ کوئی م مولی ب ت نہ تھی۔
م کہ س حرہ ج ن ش ہ ن ‘ ش ہ کو آخری لمحوں میں‘ ب طور وصیت
چ ر ب تیں کہی تھیں اور ان پر صد دل س عمل درآمد کرن کی ت کید
بھی کی تھی۔
اول -شہر ک ب رون علاقہ میں‘ اس ک ع لی ش ن مقبرہ ت میر کی
ج ئ اور دو بیگھہ زمین میں ب لگوای ج ئ ت کہ ہر آن ج ن
والا‘ اس کی‘ ب دش ہ کی نظروں میں‘ قدر وقیمت اور عزت ومق ک
اندازہ کر سک ۔
دو -اس س ‘ کسی ک ع لی ش ن مقبرہ‘ ت میر نہ ہون دی ج ئ ۔
سوئ -دل میں اس کی ی د ک سوا‘ کسی اور کو نہ بس ی ج ئ ۔
چہ ر ۔ اس کی جگہ‘ کسی اور کو نہ لای ج ئ ۔ اگر کوئی دوسری م کہ
ح ہوتی ہ ‘ تو خ لی جگہ پر کرن میں‘ کسی قس ک تس ہل س
ک نہ لی ج ئ ۔
وزیر بندوبست ک لی ‘ کسی بھی ب رون اور گنج ن آب د علاقہ میں‘
دو کی ‘ دس بیگھہ زمین خ لی کرا لین ‘ کوئی مشکل ک نہ تھ ۔ سروے
ک ب د‘ اس ک ر خیر ک لی ‘ شیر ش ہ چوک س زی دہ‘ کوئی علاقہ
من س م و نہ ہوا۔ پھر دیکھت یی دیکھت ‘ تین بیگھہ زمین ک
رہ ئشوں س ‘ علاقہ خ لی کرا کر‘ ب ڈوز کر دی گی ۔ وزیر بندوبست
اپنی سی نف اور دان ئی کی وجہ س ‘ شہرہ رکھت تھ ۔ دو ییگھہ مقبرہ
اور ب ک لی ‘ ج کہ ایک بیگھہ خدمت گ روں اور اس کی رہ ہش
ک لی ‘ مختص کر دی گی ۔ نگرانی ک حس س اور اہ ترین ک ‘ اس
ک سوا‘ بھلا اور کون انج دے سکت تھ ۔
اس عظی قومی مشن ک لی ‘ ب تح ش م لی وس ئل کی ضرورت تھی۔
ش ہی خزان س ‘ م لی وس ئل استم ل میں لان ‘ ن دانی ک متردف تھ
اور ش ہی خزانہ بھی‘ اس ک متحمل نہ تھ ۔ وزیر م لی ت ن کہ :جس
طرح ب دش ہ س ک ہوت ہ ‘ اسی طرح م کہ بھی س کی م ں ہوتی
ہ ‘ اس لی اس عظی قومی مشن ک لی ‘ جم ہ وس ئل فراہ کرن ‘
عوا ک قومی فریضہ ہ ۔ م لی ت ون ب دش ہ س اظہ ر وف داری بھی
تو ہ ۔
وزیر م لی ت کی تجویز پر‘ ہر درب ری‘ عش عش کر اٹھ اور اس کی
فراست کی ت ریف کرن لگ ۔
م لی وس ئل کی حصولی ک لی ‘ است م ل کی اور خوردنی اشی پر‘
م کہ م ں ٹیکس ع ئد کر دی گی ۔ لوگ مری م کہ م ں کو‘ برسرع
گ لی ں دین لگ ۔ اس ٹیکس س ‘ پورا پڑن مشکل تھ ۔ مجبورا‘ ممت
کونسل تشکیل دین پڑی‘ جو گھروں‘ دک نوں‘ م رکیٹوں‘ ک روب ری
جگہوں‘ راہ گیروں‘ مس فروں وغیرہ س ‘ م لی وس ئل جمع کرن
لگی۔ اس س ب چینی بڑھی‘ دنگ فس د بھی ہوا۔ اس میں کچھ زخمی
ہوئ ‘ چند سو ج ن س بھی گی ۔ زمین ح صل کرت وقت بھی‘ کچھ
اسی قس کی صورت ح ل پیش آئی تھی۔ انتظ میہ‘ ایس شر پسند
عن صر س ‘ نپٹن خو خو ج نتی ہ ۔ اتنی بڑی مم کت میں‘ گنتی
ک چند لوگوں ک مر ج ن ‘ اتن بڑا ایشو نہیں ہوت ۔ دوسرا‘ ایس
عن صر ک مر ج ن ہی‘ دوسروں ک لی بہتر اور عبرت ہوت ہ ۔ اس
طرح انہیں‘ ک ن ہو ج ت ہیں اور اس س بغ وت ک جراثی ‘ اپنی
موت آپ مر ج ت ہیں اور امن وام ن بح ل رہت ہ ۔
دیکھت ہی دیکھت ‘ ع لی ش ن مقبرہ ت میر ہو گی ۔ اس کی ت میر
میں‘ کوئی کسر اٹھ نہ رکھی گئی تھی۔ اس کی ت میر ک لی ‘ اع ی
سطح ک ک ری گروں کی خدم ت‘ ح صل کی گئی تھیں۔ جو دیکھت ‘
عش عش کر اٹھت ۔ ش ہ بھی‘ ہنرمندی پر ک مہء تحسین ادا کی بغیر‘
رہ نہ سک ۔ اطراف میں‘ مح فظ ملازمین اور وزیر بندوبست کی رہ ئش
گ ہ ن ‘ ب رونقی کو ہی خت نہیں کی تھ ‘ ب کہ حسن کو دوب لا کر دی
تھ ۔ ش ہ کی نشت گ ہ‘ تو دیکھن لائ تھی‘ لیکن اس کی زی رت‘ ش ہ
کی آمد پر ہی کی ج سکتی تھی۔
اس س رے عمل میں‘ جہ ں مقبرہ وغیرہ ت میر ہوا‘ وہ ں بندوبستیوں
کی بھی‘ چ ندی ہوئی۔ انہوں ن لمب چوڑا ہ تھ م را تھ ۔ وزیر م لی ت
اور وزیر بندوبست‘ پہ ہی رج کھ ت اور چھنڈ پہتت تھ ‘ ت ہ اس
پروجیکٹ ن بھی‘ انہیں م یوس نہ کی تھ ۔ آنکھ ک نہ بھرن ‘ اس س
قط ی مخت ف ب ت ہ ۔
وقت‘ بڑی تیزی س ‘ مستقبل کی طرف بڑھت رہ ۔ لوگ م ضی ک
دھرو‘ بھولت گی ۔ ش ہ ک زخ بھی‘ مندمل ہو گی اور ہر کوئی‘ اپن
اپن ک موں میں مشغول ہو گی ۔ مقبرے ک ب ‘ حسین ؤں کی ت ریح گ ہ
بن گی ۔ حسین ؤں کی آمد پر‘ کسی قس کی روک نہ تھی‘ ہ ں مرد
حضرات ک لی ‘ یہ ایری قط ی ممنوعہ تھ ۔ اگر مرد حضرات کو بھی‘
یہ ں آن کی اج زت دے دی ج تی‘ تو یہ فح شی ک اڈہ بن ج ت ۔ ش ہ
م کہ س حرہ ج ن ش ہ کو تقریب بھول چک تھ ۔ ہ ں البتہ‘ یہ ں اپنی نشت
پر‘ ب ق عدگی س ج وہ افروز ہون لگ ۔ ج وہ ج وہ افروز ہوت ‘
حسین ؤں ک غول ک غول‘ اٹھکی ی ں کرت نظر آت ۔ آج اگر شداد
زندہ ہوت ‘ تو حسد اور احس س کہتری س ‘ اس ک ک یجہ پھٹ پھٹ
جت۔
لوگ‘ آلہ ءنش ط پر دسترس اور اس س لطف افروزی ک لی ‘
کمینگی کی‘ کسی بھی سطع پر‘ اتر آت ہیں۔ ش ہوں ک دبدب اور
وج ہت ک حضور‘ کنویں پی س کی سیرابی ک لی ‘ ب چین و
ب قرار اور سبقت ل ج ن کی فکر میں‘ ہ ک ن ہوت ہیں اور یہ
شرف‘ چڑھ مقدر والوں کو ہی‘ ح صل ہو پ ت ہ ۔ پھر ایک روز‘
فرخ سیر کی محبوبہ‘ روپ کنور کی نسل کی‘ ایک شوخ و چنچل ڈومنی
ن ‘ ش ہ کی صدیوں کی‘ پی س کو بجھ کر‘ ش ہی محل میں جگہ بن ہی
لی۔ س ری راجدھ نی میں جشن من ی گی ۔ مب رک ب دوں ک پیغ م ن
لگ ۔
ا محل پر‘ م کہ قرتہ الش ہ ک سکہ چ ن لگ ۔ ش ہ بھی‘ اس کی مٹھی
میں بند ہو کر رہ گی ۔ جس طرح کہتی‘ ش ہ اسی طرح کرت ‘ ب کہ ا
ش ہ ک ‘ وہ زی دہ کہتی تھی۔ گوی م ک ک انتظ ‘ اس ک ہ تھ میں آ گی
تھ ۔ اس ک حضور کسی کو‘ چوں تک کرن کی جرآت نہ تھی۔ اس
ک خ ندان ک بہت س لوگ‘ اع ی عہدوں پر ف ئز ہو گی ۔ بہت س
پران نمک حرا ‘ م زول کر دی گی ۔
م کہ قرتہ الش ہ‘ فضول کی ق ئل نہ تھی۔ ہر م مولی اور گری پڑی چیز
بھی‘ تصرف میں آ گئی۔ کچرے س بھی‘ تصرف کی اشی ڈھونڈ
نک لتی۔ ک چور اور نکموں کو بھی‘ ک کرن پڑا۔ وہ اپن خ ندان ک
لوگوں ک کہ کو‘ درست اور سچ م نتی۔ چ پ وسی ک لی بھی‘ ان
ہی میں س منتخ کی گی ۔ ہر غیر خ ندان ک عہدےدار ک
پیچھ ‘ اپن خ ندان ک کوئی فرد چھوڑ دیتی۔ گربوتی ہون ک
ب وجود‘ وہ اسی چ بکدستی س ک انج دے رہی تھی۔ ج س امید
س ہوئی‘ ش ہ اس پر اور بھی مہرب ن ہو گی تھ ۔ کیوں نہ ہوت ‘ وہ
س طنت ک لی ‘ وارث کو جن دین والی تھی۔
مقبرے ک دو ایکڑ اور اس س م حقہ ایک ایکڑ زمین پر‘ ع لی ش ن
عم رتیں لای نی تصرف میں تھیں۔ اس ن تم عم رتیں‘ اپن خ ندان
ک م زز لوگوں کو‘ الاٹ کر دیں۔ ب مین ب زار ک لی مخصوص کر
دی ۔ ب میں داخ کی انٹری فیس مقرر کر دی۔ یہ ب زار‘ ہ ت میں
صرف دو ب ر لگت ۔ خود ش ہی نشت پر بیٹھ کر‘ اس کی نگرانی کرتی۔
س تھ آئی کنیزوں کی اشی وغیرہ ک رکھن ک لی ‘ مقبرے کو
ب طور سٹور است م ل کی ج ن لگ ۔ ب د ازاں‘ گھ س پر ننگ پ ؤں
چ ن والوں ک لی ‘ جوت گ ہ بن دی گی ۔
مواد دو نمبر است م ل کی گی تھ ‘ اوپر س کثرت است م ل ن ‘ اس
ڈھ را بن دی ۔ ش ہ کی حی ت میں ہی‘ مقبرہ زمین بوس ہو گی ۔ ش ہ کو ی د
تک نہ رہ ‘ کہ اس م ب ت ‘ اس کی س بقہ محبو م کہ س حرہ ج ن
ش ہ‘ ابدی نیند سو رہی ہ ۔ م بہ ص ف کرک ‘ آن ج ن والوں کی
سہولت ک لی ‘ طہ رت خ ن ت میر کرا دی گی ۔ ت ہ م کہ س حرہ
ج ن کی قبر کو‘ نقص ن نہ پنچ ی گی ۔ ہ ں تھوڑا مختصر کرک ‘ اس کو
دوب رہ س مرمت کروا دی گی اور یہ ث بت کر دی کہ وہ فراخ دل ہی
نہیں‘ اپنی مرحومہ سوت ک لی بھی‘ دل میں عزت اور احترا ک
جذبہ رکھتی ہ ۔ اس ک اس جذب کو‘ اطراف میں قدر کی نگ ہ س
دیکھ گی ۔ اس کی یہ ہی فراخ دلی‘ ت ریخ ک سین پر‘ ہمیشہ ک
لی ثبت ہو گئی۔
استحق قی کٹوتی
ص لحہ بلاشبہ‘ زمین پر چ ند ک اوت ر تھی۔ جو بھی اس دیکھت ‘ دل
تھ کر رہ ج ت ۔ کوئی چیز‘ خواہ کتنی قیمتی اور حسن و جم ل میں
لاجوا ہو‘ جس کی ہ ‘ اسی کی ہی ہ ۔ اس ‘ دوسری ب ر دیکھن
س ‘ پ پ لگت ہ ۔ ص لحہ ایک ش ہ قری بندے کی بیوی تھی‘ اسی
وجہ س ‘ وہ مغرور اور خودپسند بھی تھی۔ خو صورت نہ بھی
ہوتی‘ تو بھی خ وند ک اع ی منص ک ب عث‘ متکبر اور خودپسند
ہوتی۔ اس کی طرف‘ اس ک خ وند س ک تر منص ک شخص ک
دیکھن ‘ گچی لمی کران ک مترادف تھ ۔
ایک روز‘ کسی تقری میں‘ ش ہ بھی موجود تھ ۔ کرسی قریبوں کی
بیگم ت‘ رنگ برنگ لب سوں اور بن ؤ سنگ ر ک پورے پہ ر ک س تھ‘
تشریف لائی تھیں۔ ب ض تو ک رٹون لگ رہی تھیں۔
ان میں س ایک‘ میکی م ؤس کی خ لہ زاد لگ رہی تھی۔ نقل وحرکت
بھی‘ میکی م ؤس س مم ثل تھی۔ ن ز و نخرہ‘ممت زمحل س کہیں
زی دہ‘ دکھ رہی تھی۔ یہ‘ طرل خ ں کی حضرت زوجہ م جدہ تھیں۔
شوقین حضرات‘ محض ت ریخ اور موڈ میں شوخی ک لی ‘ اس کی
زی رت س مست یذ ہو رہ تھ ۔ ب ض چمچ ‘ اس ک منہ پر اس
ک ٹرن آؤٹ‘ ش ئستگی اور س ی ہ ش ری کی ت ریف کر رہ تھ ۔
کچھ اس ذیل میں‘ حد میں اور کچھ حد س ب ہر‘ نکل رہ تھ ۔
عطیہ خ ن ‘ اپن ن ک نقشہ ک حوالہ س ‘ کچھ ک نہ تھی۔ زب ن کی
مٹھ س‘ شہد کی مٹھ س کو بھی‘ پیچھ چھوڑ رہی تھی۔ ہر ل ظ‘
گلابوں کی خوش بو س لبریز تھ ۔ ہول ہول ‘ دھیمی آواز میں‘
ب تیں کرتی تھی۔ پر کی کی ج ئ ‘ فربہ جسمی‘ اس ک شک ی اور
لس نی حسن کو‘ غ رت کر رہی تھی۔
بیگ ع ئشہ خ ں‘ کسی س بھی‘ ک نہ تھی لیکن اس کی کرل کرل‘
سر میں سوراخ کی دے رہی تھی۔ س ب زار س ہو رہ تھ ۔ پت
نہیں اس ک خ وند‘ اس کی کرل کرل کو‘ کس طرح ہض کرت ہو گ ۔
ع رفہ ج ن اوور ایکٹنگ اور آنکھیں مٹک مٹک کر ب تیں کرک ‘ اپن
حسن کی حقیقی ج زبیت ک ستی ن س م ر رہی تھی۔
ص لحہ ک حسن‘ سنجیدگی ک لب س میں م بوس تھ ۔ کسی ب ت ک
جوا میں‘ محض ایک قی مت خیز مسکراہٹ س ک لیتی۔ چ ل میں
دیوت ؤں ک س وق ر تھ ۔ آنکھوں میں فطری خم ر اور لالہ رنگی اپن
عروج پر تھی۔
جوبھی سہی‘ مونچھیں ہوں تو نتھو لال جیسی ہوں‘ ورنہ نہ ہوں‘ ک
مصدا حسن اور ن زونخرہ ہو تو میڈ ص لحہ جیس ہو‘ ورنہ نہ ہو۔
ش ہ شروع س ‘ دین دار طبع ک م لک تھ ۔ اس ن ہر سجی اور بنی
سنوری گڑی کو‘ فقط ایک کھوجی اور گوہر شن س نظر س دیکھ ۔
ص لحہ کو بھی ایک‘ مگر دیرپ اور فیص ہ کن نظر س دیکھ ۔
نظرشن س‘ ش ہ کی اس نظر الت ت کو پہچ ن گی ۔ ان ک چہروں پر
خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چ و‘ تقری کو س ت میسر آ گئی۔ یہ دن‘
بلاشبہ نوازشوں اور عط ؤں ک دن تھ ۔ ش ید ہی کوئی نوازشوں کی
گنگ ک اشن ن س محرو رہ ہو گ ۔
ص لحہ ک خ وند کو‘ زب نی حک موصول ہو گی ‘ کہ وہ ص لحہ کو فورا
س پہ ‘ طلا دے دے۔ ش ہ ک فرم ن خصوصی تھ ‘ فورا س پہ
ت میل کیوں نہ ہوتی۔ چوں کہ یہ من من ک می ہ تھ ‘ لہذا عدت ک ‘
خت ہون ک انتظ ر کی ضرورت ہی نہ تھی۔ نک ح ک ب د‘ م کہ
ص لحہ ص ح کو‘ بڑی عزت اوراحترا ک س تھ‘ عج ہء عروسی میں
پہنچ دی گی ۔ یہ کوئی اچیرج ب ت نہ تھی۔ یہ توروٹین ورک تھ ۔ مقدر
اور نصیب کی ب ت تھی۔ سج سج کر آئی گم شتہ زوجگ ن‘ کی قسمت
میں ش ہی عج ہء عروسی نہ تھ ۔ ص لحہ کو بھی رائی بھر ق نہ تھ ۔
ا وہ گم شت کی نہیں‘ گم شتہ طراز‘ ش ہ کی زوجہ تھی۔ دوسرا یہ
غیر شرعی‘ غیراصولی اور غیر فطری‘ ک نہ ہوا تھ ۔ ب ق ئدہ اور
ب ض بطہ طور پر‘ طلا ک ب د نک ح ہوا تھ ۔ س ی ن تو شیرافگن
کو مروا‘ کر اس کی بیگ پر تصرف ح صل کی تھ ۔
چند م ہ تصرف میں رکھن ک ب د‘ حس م مول‘ ص لحہ کو طلا
دے دی گئی۔ بڑی مہرب نی فرم ت ہوئ ‘ اس ک س بقہ خ وند کو‘
نک ح کر لین ک زب نی احک م ت ج ری کر دی گی ۔ م کہ م زمہ ک ‘
کسی ش ہی گم شت ک تصرف میں آن ‘ کوئی م مولی اعزاز نہ تھ ۔ یہ
بھی کہ شیر ک اپن شک ر‘ کسی گیڈر لومٹر کو دے دین ‘ ان ہونی ک ہو
ج ن تھ ۔ دوسرا م کہ س گہری مخ صی اور یک جہتی ک اظہ ر بھی
تھ ‘ ت کہ بوقت ضرورت راضی بر رض ک آتی رہ ۔ دوسری طرف
گم شت کو‘ اس کی ام نت واپس کر دی گئی تھی۔
ہر کم ئی س ‘ بہبودی ٹیکس ک ن پر‘ ش ہ ک غ ل حصہ‘ جبری
سہی‘ وصولا ج ت رہ ہ ۔ کرسی قری تو‘ اس ک اپن ہوت ہیں۔ ہر
دی ‘ ش ہ ہی کی‘ خصوصی عن یت ک نتیجہ ہوت ہ ۔ لین دین تو زندگی
ک حصہ ہوت ہیں۔ اس نوع کی کٹوتی‘ بہبودی نہیں‘ استحق قی ہوتی
ہ ۔ یہ بھی بلاشبہ‘ خصوصی نظر الت ت تھی‘ ورنہ اتن بڑا اعزاز‘
کسی اور کو بھی ح صل ہو سکت تھ ۔ ہر ش ہ ک ‘ شروع ہی س ‘ یہ ہی
طور اور وتیرا رہ ہ ‘ کہ وہ اپن چہولی چکوں پر‘ کرپ اور دی ک
دروازے بند نہیں کرت ۔
صبح ک بھولا
ب ب ش ہ جیس لوگوں کی‘ ایک رگ ہی الگ س ہوتی ہ ۔ وہ ہر
عصری طور اور روایت کی ب اصولی کو بھی‘ من ی عینک لگ کر
دیکھت ہیں۔ ہر ش ہی درستی میں بھی‘ کیڑے نک لن بیٹھ ج ت ہیں۔
سقراط‘ حسین‘ منصور اور سرمد س لوگ‘ مرن س بھی نہیں
ڈرت ‘ ج کہ ش ہ ب ب س لوگ‘ دع مومن ک ہتھی ر ہ ‘ ک مصدا
دع ہی کو ذری ہءاصلاح بن لیت ہیں۔
پرسوں میں‘ ش ہ ب ب کی زی رت ک لی ‘ ان ک ہ ں گی ۔ بیٹھک میں‘
اکی ہی‘ تشریف فرم تھ ۔ آنکھیں بند کی ‘ بڑی دل سوزی اور
خ وص دل س ‘ دع اور عج طور کی خودکلامی فرم رہ تھ ۔
:بڑی عجی اور م مول س ہٹ کر‘ دع اور خودکلامی تھی
اے اللہ! تو خو ج نت ہ ‘ تیرا یہ ع جز اور حقیر بندہ‘ ک زور اور
ن تواں ہ ۔ ظ لموں س ٹکر لین کی‘ ط قت نہیں رکھت ۔ زب نی کلامی
کو‘ یہ بگڑے لوگ م نت نہیں ہیں۔
کہت ہیں :ب ب پران زم ن ک بندہ ہ ‘ اس آج ک م ملات ک کی
پت ۔ یہ ب ب تو محض خبطی ہوت ہیں۔
ب شک‘ تو ق دراور رحی و کری ہ ۔ تدابیر کی‘ ک تیرے پ س کمی
ہ۔
تیرے بندے‘ حد درجہ ب راہرو ہو گی ہیں۔ یہ تیرے م نن وال
ہیں‘ لیکن تیرا خوف ان ک دل س اٹھ گی ہ ۔
اے اللہ! ظ ‘ زی دتی اورخرابی ک ب زار گر ہ ۔ ایسی خرابی آئی ہ ‘
کہ اس ن اگ پچھ ‘ س رے ریک رڈ توڑ دی ہیں۔
اے اللہ! میں‘ یہ س نہیں دیکھ سکت ۔ مجھ س ا ‘ مزید دیکھ نہیں
ج ت ۔ میری برداشت کی قوتیں جوا دے گئی ہیں۔
بلا شبہ‘ شر شیط ن کی طرف س اٹھتی ہ ۔ روز اول س ‘ وہ
انس نوں کو اکس ت چلا آرہ ہ ۔ ا تواس ک ‘ دانت اور ن خن کچھ
زی دہ ہی تیز ہو گی ہیں۔ میں اس کی موت نہیں م نگت ‘ کیوں کہ کسی
ذی روح کی موت م نگن ‘ ققیر ک مس ک میں داخل نہیں۔
میرے م لک! آج ک انس ن تو‘ اس ک ایک جھٹک برداشت کرن کی
استط عت نہیں رکھت ۔ وہ تو گرفت میں آن ک لی ‘ پہ ہی پر تول
رہ ہوت ہ ۔ بہت ہو چک ‘ ا اس ب راہ روی ک دروازہ بند ہون
چ ہی ۔ اگر بند نہ ہوا‘ تو آتی نس وں ک طور‘ اس س بھی بدتر
ہوں گ ۔ برائی ک کینسر تیسری اسٹیج پر نہیں آن چ ہی ۔
عزازئیل! انس ن ک دل میں وسوسہ ڈال کر‘ ت اس ک ن س میں جگہ
بن لیت ہو اور پھر‘ ہر موڑ پر اس گ راہ کرت ہو۔ ت سمجھت ہو‘
میں بہت بڑا م رکہ سر کر رہ ہوں۔۔۔۔ ب لکل نہیں۔۔۔۔۔ ت بہت بڑی بھول
اور خس رہ میں ہو۔ ہر برا‘ تمہ رے کھ ت میں پڑ رہ ہ ۔ ت اتن
توان نہیں ہو‘ جتن خود کو سمجھ رہ ہو۔
ج ن رکھو! ت مخ و ہو‘ خ ل نہیں ہو۔ مخ و ‘ خ ل کی دسترس
س ‘ ب ہر نہیں ج سکتی۔ میں تمہیں اللہ‘ وہ ہی اللہ‘ جو س ک خ ل و
م لک ہ ‘ ک غض س ڈرات ہوں۔ ا بھی وقت ہ ‘ توبہ کی طرف
لوٹ آؤ۔ قی مت ک روز‘ کی منہ ل کر ج ؤ گ ۔ کتن افسوس اور
دکھ کی ب ت ہو گی‘ کہ تمہ رے کھ تہ میں ایک بھی نیکی نہ ہو گی‘ ج
کہ بدیوں ک شم ر‘ حد س ب ہر ہو گ ۔ کی ت ‘ اللہ ک قہر و غض ک
س من کرسکو گ ۔ خود کو تولو‘ پھر دیکھو‘ کہ میں کہ ں تک درست
کہہ رہ ہوں۔
میں ج نت ہوں‘ ت میری ب توں پر‘ قہقہ لگ رہ ہو گ ۔ ہ ں‘ میں
خود غرض ہوں۔ میں یہ س ‘ انس ن کی بھلائی اور خیر خواہی میں
کررہ ہوں۔ میری یہ خود غرضی‘ اس نیکی س اچھی ہ ‘ جو ذات
تک محدود ہوتی ہ ۔ میری اس خودغرضی ک نتیجہ میں‘ تمہ رے
کھ ت میں‘ مزید گن ہ نہیں پڑیں گ ۔ تمہ را کھ تہ کچھ تو ہ ک ہو گ ۔
دوسری طرف‘ انس ن بھلائی کی طرف راغ ہو سک گ اور امن کی
فض ق ئ ہو سک گی۔