The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2018-04-30 03:59:11

ایک سو بیس افسانے

ایک سو بیس افسانے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی ٢٠١٨

Keywords: short stories urdu

‫ہر گزرت اس کی ہتھی ی دونی چونی رکھ دیت ۔ یہ جمع پونجی ش تک‬
‫اس کی م کیت میں رہتی لیکن گھر آتے ہی اس کی جی خ لی کر دی‬
‫ج تی اور اسے موئے کتے کی طرح دیوار کے اس پ ر پھینک دی ج ت ۔‬
‫عجی ب ت یہ تھی کہ وہ اس ح ل میں بھی جین چ ہت تھ ۔ ش ید زندگی‬

‫کے میٹھے زہر نے اسے اپنے بہت قری کر لی تھ ۔ وہ جیسی بھی‬
‫سہی زندگی تو تھی ہی اور وہ آتے س لوں تک جین چ ہت تھ ۔‬

‫یک مشت‬

‫شہ دین س را دن دفتر میں ص ح کی چ کری کرت ۔ وہ ں سے ایک مل‬
‫م لک کے گھر ج ت ۔ ان ک سودا س ف لات ی کوئی اور ک ہوت تو وہ‬

‫انج دیت ۔ کبھی آٹھ بجے تو کبھی دس بجے وہ ں سے خلاصی پ ت تو‬
‫گھر آت ۔ اس وقت اس ک جس ٹوٹ پھوٹ س گی ہوت اور اسے آرا کی‬
‫اشد ضرورت ہوتی۔ مگر کہ ں‘ گھر آت تو کوئی ن کوئی گھری و رپھڑ اس‬

‫ک انتظ ر کر رہ ہوت ۔ اسے نپٹ نے میں اچھ خ ص وقت اٹھ ج ت ۔ گھر‬
‫والی اس سے بےنی ز تھی کہ وہ س را دن کتنی مشقت اٹھ ت ہے۔ گھر‬

‫کی دال روٹی چلانے کے لیے اسے کتنے پ پڑ بی ن پڑتے ہیں۔‬

‫اس روز بھی کچھ ایس ہی ہوا۔ اس نے گھر کی دہ یز پر قد رکھ ہی‬
‫تھ کہ زکو اپنے دانت درد ک سی پ لے کر بیٹھ گئی۔ اس نے بڑے تحمل‬

‫سے کہ ۔ ک کے کو س تھ لے کر ڈاکٹر سے دوا لے آن تھی۔ ابھی ایک‬
‫پیراسیٹ مول کی گولی لے لو اور س تھ میں اچھی طرح حکی ص ح‬

‫والا منجن کر لو۔ مجھے کھ نے کو کچھ دو سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔‬
‫تمہیں کھ نے کی پڑی ہے ادھر میں درد سے مر رہی ہوں۔ وہ بڑ بڑ‬
‫کرت ہوا صبر شکر کرکے بھوک ہی چ رپ ئی پر لیٹ گی ۔ تھک ہوا تھ‬

‫سخت بھوک کے ب وجود نیند نے اس کو اپنی گرفت میں لے لی ۔ چوں‬
‫کہ پیش کرکے نہیں سوی تھ اس لیے اسے آدھی رات کو اٹھن پڑا۔‬
‫زکو گہری نیند سو رہی تھی لہذا اس نے اسے جگ ن من س نہ سمجھ‬

‫اور دوب رہ آ کر لیٹ گی ۔‬

‫صبح ٹھیک ٹھ ک اٹھی بچوں کو کھلا پلا کر سکول بھیج دی ۔ پھر خود‬
‫بھی پیٹ بھر کر کھ ی ۔ وہ بھی اتنی دیر میں ک پر ج نے کے لیے تی ر‬
‫ہو گی ۔ ن شتہ پ نی دینے کی بج ئے دانت ک درد لے کر بیٹھ گئی۔ کہنے‬

‫لگی س ری رات درد سے سو نہیں سکی‘ ح لاں کہ وہ خراٹے بھری‬
‫نیند سوئی تھی۔ وہ خود ہی رسوئی میں گھس گی ۔ بھوک نے اسے نڈل‬

‫کر دی ‘ جو ہ تھ لگ کھ لی ۔ وہ متواتر بولے ج رہی تھی۔ اس نے ک‬
‫پر ج تے ہوئے کہ ‪ :‬ڈاکٹر کے پ س ج کر دوائی لے آن ۔ دانت ک درد‬
‫سخت تک یف دیت ہے۔ پیسے تمہ رے پ س ہیں ہی۔ اس کے ب د کوئی‬
‫جوا سنے بغیر ک پر چلا گی ۔ اسے زکو کی اس حرکت پر کوئی غصہ‬

‫نہ آی ‘ کیوں کہ یہ کوئی نئی ب ت نہ تھی روز ک رون تھ ۔‬

‫رات کو ج گھر لوٹ تو اس نے پوچھ ‪ :‬دوا لائی ہو۔‬

‫اس نے جواب کہ ‪ :‬نہیں لائی‘ دانت میں سخت درد ہو رہ ہے۔‬

‫کیوں نہیں لائی‘ لان تھی۔ خواہ مخواہ درد برداشت کر رہی ہو۔‬

‫لگت ہے دانت نک وان پڑے گ ۔‬

‫کیوں نک واتی ہو‘ دانت دوب رہ تو نہیں اگے گ ۔ کھ نے پینے میں‬
‫دشواری ہو گی۔‬

‫ب طنی طور پر وہ چ ہت تھ کہ نک وا ہی لے چ و چ ر دن تو اس کے منہ‬
‫کو چپ لگے گی۔ پھر وہ اس سے ج ی ہ دردانہ بحث کرت رہ ۔ اسے‬
‫م و تھ کہ جس ک سے وہ منع کرئے گ زکو وہ ک کرکے ہی رہے‬
‫گی۔ ک فی دیر بحث کرنے کے ب د اس نے کہ چ و جس طرح من س‬
‫سمجھتی ہو‘ کر لو۔‬

‫اچھ تو کل میں گ ؤں ج تی ہوں وہ ں سے دانت نک واتی ہوں۔ ہم رے‬
‫گ ؤں ک ڈاکٹر بڑا سی ن ہے۔‬

‫دلی طور پر وہ چ ہت تھ کہ چ ی ہی ج ئے چ ر دن تو سکون کے کٹیں‬
‫گے۔ دانت نک وا کر آئے گی تو بھی دو ایک دن اس کے منہ کو سکون‬

‫رہے گ ۔‬

‫اس نے کہ ‪ :‬شہر چھوڑ کر گ ؤں ج تی ہو۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ ں ہی سے‬
‫نک وا لو ی ڈاکٹر کو دیکھ لو جو مشورہ دے گ کر لین ۔‬

‫اسے دوب رہ سے ن ٹک کرن پڑا۔ وہ گ ؤں ج نے پر اڑی رہی۔ پھر اس‬
‫نے کہ اچھ جیسے تمہ ری مرضی کر لو۔‬

‫وہ اپنی جیت پر خوش تھی۔ ح لاں کہ جیت اسی کی ہوا کرتی تھی۔ اگ ے‬
‫دن صبح صبح ہی وہ گ ؤں ج نے کے لیے بچوں سمیت تی ر ہو گئی۔‬

‫ک پر ج تے ہوئے اس نے کہ گھر کی چ بی خ لہ رحمتے کو دے دین ۔‬

‫زکو گ ؤں میں پورا ہ تہ گزار کر آئی۔ اس نے گھر آتے ہی اس سے‬
‫دانت کے مت پوچھ ۔ تمہیں اس سے کی ۔ ت کون س میرا پوچھنے‬
‫گ ؤں آ گئے تھے۔ اس نے ہ تہ عیش اور مرضی ک گزرا تھ ۔ دانت اس‬
‫نے نک وای ی نہیں نک وای وہ یہ نہ ج ن سک ہ ں البتہ اس نے اس کی‬
‫کوت ہی کی پ داش میں ہ تہ بھر کی یک مشت کسر نک ل دی اور اسے‬

‫چوں تک کرنے ک موقع فراہ نہ کی ۔‬

‫کوئی بت ئے کی کروں‬

‫ج کبھی مجھے احس س ہوت ہے کہ میں مس م ن ہوں‘ میرا سر فخر‬
‫سے ب ند ہو ج ت ہے۔ محمد ان پر ان حد درود و سلا میرے نبی اور‬
‫راہ بر ہیں اور ع ی شیر خدا‘ میرے ام ہیں۔ ابوزر غ ری‘ س م ن‬
‫ف رسی اور بلال جیسے میرے اسلاف ہیں۔ ابوبکر صدی ‘ عمر ف رو ‘‬

‫عثم ن غنی اور امیر م ویہ مس م نوں کے چ ر خ ی ہ ہیں۔ عمر بن‬
‫عبدال زیز جیسے عظی حک ران تھے۔ حسین ابن ع ی نے‘ جو اسلا‬

‫اور بنی نوع انس ن کے لیے قرب نی دی‘ اس کی مث ل نہیں م تی۔‬
‫اصح بہ کرا نے دنی کے چپے چپے پر‘ س ری ص وبتیں اٹھ اسلا ک‬

‫پیغ پنچ ی ۔ کچھ ک یزید ام اور جنتی خ ی ہ ہے‘ یہ ں ان ک ذکر بد‬
‫مقصود و مط و نہیں۔‬

‫دوسرے ہی لمحے‘ اپنے کردار پر نظر ج تی ہے‘ تو شرمندگی ک پہ ڑ‬

‫ٹوٹ پڑت ہے۔ میں مس م ن ہوں۔۔۔۔۔۔ میں‘ اس سے بڑھ کر مذا بھلا‬
‫اور کون س ہو سکت ہے۔ کھ ے بندوں رشوت لیت ہوں‘ ملاوٹ کرت‬
‫ہوں‘ ام نت خوری میرا اصول ہے۔ جھوٹ تو میرے روزمرہ میں داخل‬
‫ہے۔ ن ج ئز اور ن ج ئز طریقے سے‘ اقتدار ح صل کرکے‘ انی مچ ت‬
‫ہوں۔ اس پر مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ بکری ں اڑان پھنس ن اور‬
‫ان سے موج مستی‘ میرے م مول میں داخل ہے۔ م ئی ب پ کو ایڑ پر‬
‫رکھت ہوں۔ ان کے بڑھ پے کی خو مٹی پ ید کرت ہوں۔ ج نت ہوں‘‬

‫عمرہ ی حج کرکے س کچھ بخشوا لوں گ ۔‬

‫ق ت وں لٹیروں کی ن ی کرت ہوں‘ تو ک فر۔ مروجہ اسلا میں اکبر ب دش ہ‬
‫کو بھی مس م ن سمجھ ج ت ہے ح لاں کہ اس ک اپن مذہ ‘ ی نی دین‬
‫الہی تھ ۔ اورنگ زی میرا نبی قری ب دش ہ ہے۔ اقب ل کے مت کچھ‬

‫کہت ہوں‘ تو ک فر۔ کم ل اے ی ر‘ خطبہ الہ آب د میں کہ ں پ کست ن ک ذکر‬
‫ہے۔ ٹی ایس ای ٹ میرا پھوپھڑ ہے‘ اصغر سودائی کے اس ن رے کو‬
‫بھول چک ہوں‬

‫پ کست ن ک مط کی لا الہ الا اللہ‬

‫میں صرف خودی کو ج نت ہوں‬

‫خودی کو کر ب ند اتن کہ ہر تقدیر سے پہ ے‬

‫خدا خود بندے سے پوچھے بت تیری رض کی ہے‬

‫خدا گوی اکبر ب دش ہ ہے۔ وہ خدا جو تخ ی ک ر ہے‘ س یز کے یوٹرس‬
‫میں‘ کوڈ طے کر رہ ہے اسے کچھ پت نہیں‘ کہ میرے بندے ک کتن‬

‫بنت ہے اور اسے ک دین ہے۔ اقب ل نے تو بین الاقوامی ری ست ک‬
‫نظریہ دی تھ ‘ اس نے ک اور کہ ں حدوں کی ری ست ک نظریہ دی ہے۔‬

‫اس سے مت سچ کہت ہوں‘ تو ک فر۔‬

‫میں نہیں ج نت کہ میں کس قس ک مس م ن ہوں۔ فقرا کو‘ توبہ توبہ اللہ‬
‫نہیں م نت ۔ یہ اچھے لوگ تھے‘ نیکی اور بھلائی ک درس دیتے رہے۔‬
‫توکل ان ک ش ر تھ ۔ بھلائی کی ی د ت زہ کرنے کے لیے‘ ان کے ہ ں‬
‫چلا ج ت ہوں‘ تو مشرک کے الق سے م قو ہوت ہوں۔ کی اچھ ئی کو‬

‫م نن اور اس کی عزت کرن غ ط ہے۔‬

‫حسینی رستے کو اپن ت ہوں تو ک فر۔ بزرگوں کو ک رس ز اور ح جت روا‬
‫نہیں م نت تو زندی ۔ درود پڑھت ہوں تو ک فر‘ نہیں پڑھت تو ک فر۔‬
‫مس م نی میرے لیے ایک پچیدہ م مہ بن گئی ہے۔ سوچت ہوں‘ کی‬

‫کروں اور کدھر ج ؤں۔ اسلا چھوڑ نہیں سکت ‘ کہ یہ ہی سچ رستہ‬
‫ہے۔ اسلا ایک س دہ اور دوٹوک دین ہے۔‬

‫میں اسلا سے محبت کرت ہوں‘ میں اسے چھوڑ نہیں سکت ۔ خدا کے‬
‫لیے کوئی بت ئے‘ کی کروں کہ میں مس م ن ہو ج ؤں‘ ویس ہی جیسے‬

‫ابوزر غ ری‘ س م ن ف رسی ی بلال تھے۔ اس کر کے لیے‘ ہمیشہ‬
‫بت نے والے ک احس ن مند رہوں گ ۔‬

‫دیکھتے ج ؤ‘ سوچتے ج ؤ‬

‫زندگی ایسی س دہ اور آس ن چیز نہیں‘ اس کے اطوار کو سمجھن بڑا‬
‫ہی دقی ک ہے۔ ہر لمحہ‘ اس ک چہرا ہی بدل کر رکھ دیت ہے۔ تھوڑی‬

‫دیر پہ ے‘ آدمی ملا تھ ‘ پت چلا چل بس ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ چنگ‬
‫بھلا تو تھ ‘ یہ اچ نک اسے کی ہو گی ۔‬

‫اسی طرح اس کے انداز رویے‘ ایک ہی وقت میں‘ مخت ف ہوتے ہیں۔‬
‫ایک رو رہ ہے‘ تو دوسرا ہنس رہ ہے۔ ہنسے والے کو رونے والے‬
‫پر اور رونے والے کو ہنسے والے پر‘ اعتراض کی اج زت نہیں۔ اگر‬
‫اعتراض کریں گے‘ تو فس د ک دروازہ کھل ج ئے گ ۔ یہ فس د‘ لمحوں‬

‫ک بھی ہو سکت ہے‘ اس کے اثرات نس وں تک بھی ج سکتے ہیں۔‬

‫اس نے پوچھ ‪ :‬کیسے ہو‬
‫اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو‬
‫اس نے سر ہلای اور منہ میں کچھ بڑبڑات ہوا چلا گی ۔‬
‫وہ اس بڑبڑاہٹ ک م ہو نہ سمجھ سک ۔ اس ک م ہو یہ تھ ‘ کہ ا‬
‫دیکھت ہوں‘ ٹھیک ہو ی نہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں‘ پ س آ گئی اور اسے‬

‫پکڑ کر لے گئی۔‬
‫پھر وہ تھ نے پہنچ اور پوچھ کیسے ہو۔‬

‫اس نے جواب کہ ‪ :‬مصیبت میں ہوں۔‬
‫ا آئے ن اصل ٹھک نے پر‬

‫جی کی کہ‬
‫کچھ نہیں‬
‫فکر نہ کرو‘ ضم نت کروا لیتے ہیں۔ ت ج نتے ہو‘ خرچ پ نی تو لگت‬

‫ہی ہے۔‬
‫میں گری آدمی ہوں‘ خرچ پ نی کدھر سے آئے گ ۔‬

‫اپنی اوق ت میں رہتے‘ غ ط ک کیوں کرتے ہو۔‬
‫مجھے نہیں پت ‘ میں نے کی کی ہے۔‬
‫س رے مجر اس طرح ہی کہتے ہیں۔‬

‫ت غری لوگ بھی بڑے عجی ہوتے ہو۔ کہ تھ ‘ بہن کو ہم رے ہ ں‬
‫ک کے لیے بھیج دی کرو۔ تمہ ری غیرت نے گوارا نہ کی ۔ ا بھگتو۔‬

‫آی بڑا غیرت مند‬

‫یہ ہی زندگی ہے۔ متض د رویے متوازی چل رہے ہیں۔ یہ ب ت آج ہی‬
‫سے ت نہیں کرتی‘ زندگی شروع ہی سے ایسی ہے۔ پوچھنے والے‘‬
‫خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان ح لات میں بھی لوگ زندگی کر رہے‬

‫ہیں‘ کرتے رہیں گے۔‬

‫اس نے پی سی ایس میں ک می بی ح صل کی۔ ہنسنے کی بج ئے‘ اس‬
‫کے آنسو نکل گئے۔‬

‫بیٹ مرا‘ دھ ڑیں م ر کر رونے کی بج ئے‘ چپ لگ گئی اور س کی‬

‫طرف‘ بٹر بٹر دیکھنے لگ ۔‬
‫ب پ مرا‘ ذہنی توازن ہی کھو بیٹھ ۔‬
‫بیٹی پیدا ہوئی‘ بیوی کو طلا دے دی‘ جیسے تخ ی ک ر اس کی بیوی‬

‫تھی۔‬

‫خ وند مرا بڑا ہی صدمہ ہوا۔ پچ س عورتوں میں اس قس کے بی ن ت‬
‫ج ری کرنے لگی۔‬

‫ہ ئے میں مر گئی۔ زندگی بھر دکھ دیتے رہے۔ ایک لمحہ بھی سکھ نہ‬
‫دے سکے۔ زندگی بھر غیروں کی محت ج رہی۔ ت پر رہتی تو گھر ویران‬

‫رہت ۔ ا مر کر دکھ دے گئے ہو کہ غیروں کی ہی محت ج رہوں۔‬
‫نشہ پ نی سے ہمیشہ منع کرتی رہی‘ ت نے میری ایک نہ سنی‘ اگر‬

‫م ن ج تے تو یہ دن تو نہ دیکھن پڑت ۔‬
‫جوئے نے تمہیں برب د کی ‘ پیسے بچ تے تو ک ن دفن ک س م ن ہی لے‬

‫آتی۔ آج میرے پ س پھوٹی کوڑی تک نہیں۔‬
‫میرے نصی ہی سڑ گئے‘ جو ت ی نے کچھ نہ دیکھ اور رشتہ دے دی ۔‬

‫ہ ئے میں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ لوکو میں لٹی گئی۔‬

‫یہ ں جسے دیکھو‘ امریکہ کے خلاف ب تیں کر رہ ہے۔ اگر کوئی‬
‫پیش سے بھی ت ک پڑت ہے‘ الزا امریکہ پر رکھت ہے۔ اسے اس‬

‫میں امریکہ کی‘ کسی ن کسی سطع پر‘ س زش محسوس ہوتی ہے۔‬
‫دوسری طرف اگر امریکہ ک ویزا ع ہو ج ئے تو میرے سوا‘ میں اس‬

‫لیے نہیں کہ بیم ر اور بوڑھ ہو چک ہوں‘ امریکہ ک ویزا ح صل کرنے‬
‫کے لیے‘ مرنے م رنے پر اتر آئے گ ۔ ش ید اس لیے کہ ک لی ں ی تقریب‬
‫ک لی ں‘ دیکھ دیکھ کر‘ ص ح اخگر اکت سے گئے ہیں۔ سن ہے‘ وہ ں‬
‫لکیر کی فقیری نہیں کرن پڑتی‘ بل کہ لکیر مضبوط ص حب ن اخگر کی‬

‫فقیری کرتی ہیں۔ ڈالر کم ؤ چٹی ں اڑاؤ‘ نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک۔‬

‫مذہبی مین ک رویہ بھی‘ م شرت سے الگ تر نہیں رہ ۔‬
‫ایک مذہبی مین سے کسی بی بی نے کہ ‪ :‬مجھے کسی سے پی ر ہو گی‬

‫ہے۔‬
‫جواب مذہبی مین نے کہ ‪ :‬وہ کون جہنمی ہے۔‬

‫بی بی نے جوا دی ‪ :‬آپ سے۔‬
‫مذہبی مین فورا بول اٹھ ‪ :‬چل جھوٹی۔‬

‫اسی قم ش ک ایک اور لطی ہ م روف ہے۔ مذہبی مین بیٹھے ہوئے‬
‫تھے۔ طے ہوا عورت کو دیکھن بھی نہیں اور اس کی ب ت بھی نہیں ہو‬

‫گی۔ کچھ ہی دیر ب د ایک مذہبی مین بولا لڑکی۔۔۔۔۔‬
‫س ایک آواز میں پک ر اٹھے کہ ں ہے‘ کہ ں ہے۔‬

‫مذہبی مین کے مت ایک اور کہ وت مشہور ہے۔‬
‫کسی بی بی نے پوچھ ‪ :‬اگر میں وزیر اعظ سے پی ر کرنے لگوں تو‬

‫سیدھی دوزخ میں ج ؤ گی۔‬
‫وزیر اع ی سے پی ر کروں تو‬

‫تو بھی دوزخ ٹھک نہ ہو گ ۔‬
‫اگر آپ سے‬

‫بڑی سی نی ہو‘ جنت ج نے ک پروگرا ہے۔‬

‫چھوٹے والی روزانہ ط نہ دیتی تھی‘ نیچے سے کھ ت ہے۔ میں نے‬

‫سے روٹی کھ ن ہی چھوڑ دی۔ ا سوچت‬ ‫تنگ آ کر‘ دس اکتوبر‬

‫ہوں‘ کتنی بڑی غ طی کی تھی۔ آد ع یہ اسلا نے‘ گند ک دانہ کھ ی ‘‬

‫جنت بدر ہوئے۔ اگر میں روٹی نہ چھوڑت تو ش ید‘ میں بھی جہن بدر‬

‫ہو ج ت ۔ روٹی بھی تو گند سے ہی تی ر ہوتی ہے۔ اگر گند ک دانہ لکیر‬

‫ک است رہ ہے‘ تو یہ الگ ب ت ہے۔ ا اللہ ہی ج نت ہے‘ وہ دانہ گند ک‬

‫تھ ی اس سے مراد لکیر تھی۔‬

‫ط قت ہی‘ زندگی ک س سے بڑا سچ رہ ہے۔ ابراہی لودھی‘ کیس تھ ‘‬
‫کوئی نہیں ج نت ۔ اس ک اور اس کی م ں کے س تھ ب بر نے کی کی ‘‬

‫کوئی نہیں ج نت ۔ ب بر ت ریخ میں ہیرو ہے۔ لوگ فخر سے‘ اپنے بچوں‬
‫کے ن ب بر رکھتے ہیں۔‬

‫ب بر ک قول ہے‪ :‬ب بر عیش کوش کہ دنی دوب رہ نیست۔ ب بر نے خون‬
‫سے گ ی ب زار رنگ دئے‘ کوئی نہیں ج نت ‘ ب بر ف تح ٹھہرا‘ اس لیے‬

‫ہم را ہیرو ہے۔‬

‫ہم یوں کے بھ ئی س زشیں کرتے رہے‘ وہ م ف کرت رہ ۔ پوتے نے‘‬
‫تخت و ت ج کے لیے بھ ئی تو بھ ئی‘ ان کی الادیں بھی ذبح کر دیں۔‬
‫اپنی لاڈلی بیگ ک مقبرہ ت ج محل‘ بن ی ت ریخ میں زندہ ہے اور بڑا ن‬
‫رکھت ہے۔‬

‫ت ریخ کے نبی قری ب دش ہ اورنگ زی نے‘ بھ ئی تو بھ ئی‘ ب پ کو‬
‫بھی نہ بخش ۔ بہن جس نے مخبری کرکے‘ اس کی ج ن بچ ئی تھی‘ کو‬

‫بھی قید کیے رکھ ‘ کیوں‘ کوئی نہیں ج نت ۔ ت ریخ ہی نہ لکھنے دی۔‬
‫خ نی خ ں نے بھی چوری چھپے لکھی۔‬

‫ہندوست ن مس ری ست نہ تھی۔ مس م ن محض چند فی صد تھے۔ اسلا‬
‫ک م م بن کر‘ سرمد جیسے بندہءخدا کو شہید کر دی ۔ اصل م م ہ کوئی‬

‫اور تھ ‘ جو آج تک کھل نہیں سک ۔ سوال پیدا ہوت ہے‘ بہن کو کیوں‬
‫نظر بند کیے رکھ ۔ وہ ق ضی اور جلاد نہ تھ ‘ جو خود ہی فیص ہ کی‬
‫اور سرمد کو اپنے ہ تھوں سے‘ قتل کر دی ۔ مقتدرہ قوت تھ ‘ ت ریخ میں‬

‫زندہ ہے۔‬

‫حسین ابن ع ی م توح تھے‘ زندہ ہیں اور اپنے لاکھوں دیوانے رکھتے‬
‫ہیں۔‬

‫یزید ابن م ویہ کو جنتی اور حسین ابن ع ی کو ب غی کہنے والے بھی‬
‫موجود ہیں۔ حجت اللہ‘ اس کے رسول اور الامر کی اط عت کو پیش‬

‫کرتے ہیں۔ گوی دسترخوان پر ایک طرف کھیر‘ اس کے س تھ ح وہ اور‬
‫اس سے آگے گوبر رکھ دو۔ کون کھ ئے گ ۔ کوئی دسترخوان پر بیٹھن‬
‫بھی پسند نہیں کرے گ ۔ اس حس سے‘ نمررد‘ شداد اور فرعون‬
‫درست تھے۔‬

‫حیرت انگیز ب ت یہ کہ ٹیپو م توح ہے‘ لیکن بڑا ن رکھت ہے۔ کیوں‬
‫اپنے ت ج و تخت کے لیے لڑا تھ ۔ کیوں زندہ ہے‘ بہت بڑا سوالیہ ہے۔‬

‫سوچتے ج ؤ‘ دیکھتے ج ؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے روبرو چیز سمجھ میں نہ‬
‫آ سکے گی کیوں کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی ہوئی گھتی ہے‘‬
‫جسے سمجھن آس ن ک نہیں۔‬

‫ہے نہ کی قی مت‬

‫ب ض ب تیں م مولی اور اکثر لای نی سی ہوتی ہیں‘ لیکن ج نتے ہوئے‬
‫بھی کہ عم ی زندگی سے خ رج ہیں‘ دھ ئی ک دکھ دیتی ہیں۔ ہ یہ امر‬
‫ج نتے ہوئے بھی کہ مقتدرہ طبقے‘ کہنے اور کرنے کو‘ دو الگ الگ‬

‫خ نوں میں رکھتے ہیں‘ ان کے کہے پر آس کے دیپ جلا لیتے ہیں۔‬
‫ج کچھ نہیں ہوت ‘ بے صبرے بل کہ بڑے ہی بے صبرے ہو ج تے‬
‫ہیں۔ کی یہ ضروری ہے کہ جو کہ ج ئے‘ وہ کی بھی ج ئے۔ مقتدرہ‬

‫طبقے‘ ب ض ب تیں محض ردعمل دیکھنے کے لیے کرتے ہیں۔‬

‫لی ق ‘ نمبردار پچھ ے دنوں می ے پر گی ۔ جوت پران تھ ‘ اللہ رکھے ک نی‬
‫پہن کر چلا گی ۔ واپسی پر کہنے لگ ‪ :‬اس ب ر می ے پر جوتے بہت گ‬
‫ہوئے ہیں۔‬

‫پوچھ گی ‪ :‬ت اپنے جوتوں ک کہو۔‬

‫ہنس کر کہنے لگ ‪ :‬وہ تو پہ ے ہ ے میں گیے۔‬

‫ش دی کے ابتدائی دنوں میں‘ س لی ں جوتے چھپ تی ہیں‘ ا مسجدوں‬
‫میں یہ رس س لے انج دینے لگے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں نقص ن‬

‫ہوا ہوت ہے‘ لامح لہ مت ثرین کو‘ دکھ اور رنج ہوت ہے۔ ت ہ سننے‬
‫والے‘ بلادا انجوائے کرتے ہیں۔ انجوائے کرن ‘ ہر کسی ک آئینی ح‬

‫ہے۔‬

‫ا دوسری طرف دیکھیے‘ ج بج ی ج تی ہے زوجہ م جدہ‘ خو‬
‫گرجتی برستی ہیں۔ ایس محسوس ہوت ہے کہ بج ی میں بند کرت ہوں ی‬

‫میرے حک سے بند ہوتی ہے۔ ی نی اس ذیل میں میں ہولی سولی‬
‫ب اختی ر ہوں۔ بڑی ق بی تش ی سی ہوتی ہے۔ پسینے میں غر ہوتے‬
‫ہوئے بھی‘ فخرون ز سے ٹ نگ پر ٹ نگ رکھ کر بیٹھت ہوں۔ یہ ب ت‬
‫قط ی الگ سے ہے کہ واپڈا والے‘ سنتے ہی نہیں ہیں۔ کہیں کوئی ت ر‬
‫ٹوٹ ج ئے‘ تو پورا مح ہ اندھیروں میں ڈوب ہوت ہے۔ جو مرضی کر‬

‫لو‘ وہ ں کوئی سنت ہی نہیں۔ مح ے کے جوان لڑکوں ک بھلا ہو‘‬
‫بچ رے جھولی پھیر کر چندہ اکٹھ کرتے ہیں‘ مٹھی گر ہونے کے‬

‫تھوڑی ہی دیر ب د‘ ی نی دو چ ر گھنٹے میں ب بوں اور پنکھوں کی ج ن‬
‫میں ج ن آتی ہے۔‬

‫مجھ سے بہت سے بےقیمت مرد حضرات‘ بج ی والوں پر ک نوں تک‬
‫خوش ہوتے ہیں‘ بج ی ک بل تو انہیں دین پڑت ہے۔ اگر زوجہ حضور‬
‫کے‘ فضول بج ی نہ جلانے کی درخواست گزارو‘ تو کھری کھری سنن‬
‫پڑتی ہیں۔ لمبے چوڑے قصے لے بیٹھتی ہے کہ دیکھو فلاں کے گھر‘‬
‫دو اے سی لگے ہوئے ہیں۔ وہ ہر م ہ میٹر ریڈر کی خدمت کر دیتے‬
‫ہیں۔ ت تو ہو ہی نکمے‘ زندگی بھر ت سے کوئی ڈھنگ ک نہیں ہوا۔‬
‫چند س عتوں کی گرمی کے مداوے کے عوض‘ قی مت کی گرمی برداشت‬
‫کروں‘ یہ سودا بڑا ہی مہنگ ہے۔ میں ایسی سہولت پر ہزار ب ر ل نت‬
‫بھیجت ہوں۔ کچھ لوگوں کے اندر حرا کھ کھ کر جہن فٹ ہو گی ہوت‬

‫ہے‘ اسی لیے مصنوعی ٹھنڈک ک سہ را لیتے ہیں۔‬

‫اس قس کی کی چخ چخ ‘ کسی پٹھ ن ی سردار سے مت لطی ے کی‬
‫ضرورت سے‘ بےنی ز کر دیتی ہے۔ یہ ں ایسی لطف افروزی ک کوئی‬
‫ایک واق ہ ہو تو ذکر بھی کی ج ئے۔ مرغی کے انڈے چھوٹے ہوں‘ ت‬
‫بھی رولا پڑ ج ت ہے۔ گم ن گزرنے لگت کہ یہ انڈے میں نے دیے ہیں۔‬
‫اس قس کی ب تیں سن کر‘ مہینے ب د کڑک بیٹھنے کی ح جت محسوس‬
‫ہونے لگتی ہے۔ مجھ سے پنشنر اور بڈھے حضرات آدھ مہینہ ب د ہی‬

‫کڑک بیٹھ ج تے ہیں۔ گھر والے اسے بیم ری ک ن دے دیتے ہیں۔‬

‫سبڑی سب ڑی کے لیے پیسے نہیں ہوتے‘ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے ہ ں‬
‫ی ترا ک تو سوال ہی پیدا نہیں ہوت ۔ سرک ری ہسپت ل‘ جو ہسپت ل ک ‘‬

‫ک نجی ہ ؤس زی دہ ہیں‘ وہ ں کے ب سی ص بک ہوتے ہیں۔ س سے‬
‫بڑی دی یہ ٹھہرتی ہے کہ لاہور لے ج ؤ۔ مق می کے لیے گرہ میں م ل‬
‫نہیں‘ لاہور کیسے لے ج ئیں۔ ن چ ر گھر لے آتے ہیں۔ پھر کسی عط ئی‬

‫کے سپرد کرکے‘ قسمت پر ڈوری چھوڑ دی ج تی ہے۔ ہزار ب ر کہہ‬
‫چک ہوں‘ فکر نہ کی کرو‘ میں مہینے ب د کڑک بیٹھت ہوں۔‬

‫وہ اپنی جگہ سچے ہیں‘ چھوٹے سہی‘ انڈے تو کھ چکے ہوتے ہیں۔‬
‫انڈوں کے نہ ہونے کے سب ‘ میرے کڑک بیٹھنے ک کوئی جواز نہیں‬

‫بنت ۔ میں تو آرا سے کڑک بیٹھ ج ت ہوں‘ خجل اور ذلیل وخوار وہ‬
‫وچ رے ہوتے ہیں۔ خیر اس امر کی انہیں تس ی رہی ہے کہ انڈے لمبڑ‬
‫کے ڈیرے ی کسی غیر کے ہ ں نہیں‘ اپنے ہ ں دیت ہوں۔ چھوٹے ہوں‬
‫ی بڑے‘ دیت تو ہوں۔ س را مہینہ نہیں‘ بس دو چ ر ب ر ہی ہے نہ پڑتی‬

‫ہے۔ دو چ ر ب ر کی ہے نہ کی قی مت‘ میں ہی بھتگت ہوں۔ اگر کڑک‬
‫بیٹھنے کی مجبوری خت ہو ج ئے اور مرغی ں مرد حضرات کی‬

‫مجبوری پر ترس کھ تے ہوئے‘ انڈے بڑے دی کریں‘ تو دس فیصد‬
‫بڑھوتی کے تک ف کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔‬

‫کت اس لیے بھونک‬

‫م کیت میں کوئی ک ی زی دہ قیمت کی چیز‘ جہ ں ذی روح کو اس کے‬

‫ہونے ک احس س دلاتی ہے‘ وہ ں اس میں تکبر ک عنصر بھی سر اٹھ‬
‫لیت ہے۔ یہ الگ ب ت ہے‘ کہ فرعون کو یہ میں لے ہی ڈوبی۔ وہ ت ریخ‬

‫تو الگ رہی‘ الہ می کت میں بھی مردود اور ق بل دشن قرار پ ی ۔ یہ‬
‫س ج نتے ہیں‘ انس ن کی م ک میں کچھ بھی نہیں۔ اصل م لک اللہ کی‬

‫سوہنی اور سچی ذات ہے۔ س کچھ اسی کی طرف پھرت ہے۔‬
‫م کیت کی چیز‘ چھن سکتی ہے‬

‫کسی خرابی ک شک ر ہو سکتی ہے۔‬
‫کسی وقت بھی ح دثے کی نذر ہو سکتی ہے‬
‫بلاوجہ ریورس کے عمل میں داخل ہو سکتی ہے۔‬

‫موت تہی دست کر دیتی ہے۔‬

‫ج یہ طے ہے کہ انس ن ک ذاتی کچھ نہیں‘ تو کچھ ہونے کی صورت‬
‫میں‘ تشکر ب ری سے منہ موڑ کر تکبر کی وادی میں قد رکھن ‘ ج ئز‬

‫نہیں بنت ۔ اچھی کرنی اچھی کہنی ہی امرت ک ج نوش کرتی ہے۔‬

‫کہ ں ہے مقتدر ی ملا ابو عمر حم دی کسی کو م و تک نہیں کہ یہ‬
‫کون ہیں‘ منصور کو ہر کوئی ج نت ہے۔سقراط کو کس بدبخت ب دش ہ‬
‫نے موت کے گھ ٹ ات را‘ اس ک کوئی ن تک نہیں ج نت ۔ سقراط کو‬
‫کون نہیں ج نت ۔ کل میں انٹرنیٹ پر سرمد شہید ک مزار دیکھ رہ تھ ‘‬
‫پھول اور عقیدت مند موجود تھے۔ اورنگ زی ب دش ہ تھ ‘ مقبرہ تو بن‬
‫گی ‘ وہ ں ویرانیوں ک پہرہ تھ ۔ مجھے تکبر اورعجز ک فر محسوس‬

‫ہو گی ۔‬

‫انتق لین ن ج ئز نہیں‘ ہ ں البتہ م ف کر دین ‘ کہیں بڑھ کر ب ت ہے۔‬
‫جیسے کو تیس ‘ بہرطور رویہ موجود رہ ہے۔ انو‘ بڑا ہی مذاقیہ ہے۔‬

‫روتے کو ہنس دین اس کے ب ئیں ہ تھ ک کھیل ہے۔ یہ ہی کوئی پ ن‬
‫س ت دن پہ ے کی ب ت ہے‘ گ ی میں سے گزر رہ تھ کہ شرفو درزی‬

‫ک کت بلا چھیڑے‘ اس پر بھونکنے لگ ۔ وہ نیچے بیٹھ گی اور جواب‬
‫بھونکنے لگ ۔ کت چپ ہو گی اور اسے بٹر بٹر دیکھنے لگ ۔ ش ید پہ ی‬

‫ب ر‘ عج قس ک ہ جنس دیکھنے کو ملا تھ ۔ میں نے پوچھ ‪ :‬ی ر ت‬
‫ادھر لینے کی گیے تھے۔‬

‫اوہ جی ج ن کی تھ ‘ بہن کے گھر آٹ لینے گی تھ ۔‬
‫مل گی ۔‬

‫جی ہ ں‘ مل گی ۔ میں کون س پہ ی ب ر گی ۔ مل ہی ج ن تھ ۔‬
‫میرے اندر عرفی ک یہ مصرع‘ مچ نے لگ ۔‬
‫آواز سگ ں ک نہ کند رز گدا را‬

‫کت غ لب بل کہ یقین ‘ ب ور کرانے کی کوشش کرت ہے۔ پ گل کسی غیر‬
‫کے س منے دست سوال دراز کرنے کی بج ئے‘ ر سے کیوں نہیں‬
‫م نگتے۔ خیر انو تو ایک طرف‘ ہم ری دفتر ش ہی ہو کہ محلاتی دنی ‘‬
‫ک سہ تھ مے نظر آتی ہے۔ مولویوں سے کی گ ہ‘ جو درس میں پڑھنے‬
‫والے بچوں کو‘ گھر گھر م نگنے بھیجج دیتے ہیں۔ دست سوال دراز‬

‫کرنے والے ذلت اٹھ تے ہیں‘ سو اٹھ رہے ہیں۔‬

‫زکراں ک ب پ‘ توڑے بھر س م ن لے ج ت ‘ تو ب بے فجے کآ ن ہنج ر کت‬
‫ضرور بھونکت ۔ چوروں اور بھرے کھیسے والوں پر کتے ضرور‬
‫بھونکتے ہیں اوریہ فطری امر ہے۔‬

‫ہم رے ہ ں کے لوگ‘ میمیں کرتے آ رہے ہیں۔ دام د ی دام د کے م ک‬
‫کے وس ئل سے لابھ اٹھ ن ‘ ان ک آئینی ح ہے۔ یہ س ص رر ہی تو‬
‫ہیں ‘ جو مص حت کی ص ی پر مص و ہو رہے ہیں۔ ایک کی ککرے‬
‫آمیز بین ئی‘ بہت سوؤں کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھتی ہے‘ سو بیٹھ رہی‬

‫ہے۔‬

‫کسی ک زور پر کتے ک بھونکن ‘ بہ ظ ہر حیرت سے خ لی نہیں۔ ت ریخ‬
‫اٹھ کر دیکھ لیں‘ کتے ک زورں پر بھونکے اور ان کی ج ن لپکے‬

‫ہیں۔ ک زوروں کے پ س بہت زی دہ ن سہی‘ ان ک کھیسہ خ لی نہیں رہ ۔‬
‫سومن ت ک مندر یوں ہی نہیں توڑا گی ‘ اس میں منوں سون تھ ۔ زہے‬
‫افسوس ‘ فردوسی سے چوری خور لوگوں نے ایک لٹیرے کو نبی‬
‫قری کر دی ۔ اصل حق ئ پس پشت چ ے گیے۔‬

‫م ئی چرا بی بی بیس س ل سے رنڈیپ ک ٹ رہی تھی۔ اس کے کردار پر‬
‫انگی رکھن ‘ بہت بڑی زی دتی ہو گی۔ بےچ ری تھکے قدموں گ ی میں‬
‫سے گزر رہی تھی۔ گ ی ک ع آوارہ بدبخت کت پڑ گی ۔ گرنے کو تھی‬

‫کہ پیچھے شیدے تی ی نے سمبھ لا دے دی ۔ دع دینے کی بج ئے‘ بولن‬
‫کی ‘ نوکی ی اور دھ ر دھ ر آواز میں بھونکنے لگی۔ بڑھ پے میں بھی یہ‬

‫زن ٹ ‘ ارے توبہ۔ اس کی پوترت کو سلا و پرن ۔ بڑھ پے کی جو بھی‬
‫صورت رہی ہو‘ لگی ہونے ک احس س پوری شدت سے موجود تھ ۔ کت‬

‫اس لیے بھونک ‘ کہ اس کے ہ تھ میں ک و بھر گوشت ک ش پر تھ ۔‬

‫ح ظتی تدبیر‬

‫کنور زندگی میں پہ ی مرتبہ' ب پ کے س تھ مسجد میں' عید نم ز پڑھنے‬
‫ج رہ تھ ۔ وہ صبح سویرے ہی اٹھ کر' تی ر ہو گی تھ ۔ بڑا ہو ج نے ک‬
‫احس س' اسے طم نیت بخش رہ تھ ۔ وہ وقت وغیرہ کے ف س ے سے‬
‫آگ ہ نہ تھ ۔ اسی لیے بضد تھ ' کہ ابھی اور اسی وقت مسجد چ تے ہیں۔‬
‫ص در ب ر ب ر سمجھ رہ تھ ' کہ بیٹ ابھی وقت نہیں ہوا۔ ج وقت ہو‬
‫گی تو ج ئیں گے‪ ......‬تمہیں س تھ لے کر ج ؤں گ ‪ ......‬چھوڑ کر نہیں‬
‫ج ت ' فکر نہ کرو۔‬

‫وہ جم عت کے وقت مسجد میں داخل ہوت تھ ۔ اس ک یہ عقیدہ راسخ ہو‬
‫گی تھ ' کہ مولوی ت ری کے دروازے کھولت ہے' اس لیے مولوی کی‬
‫سنن ہی جر ہے۔ اس مرتبہ' وہ کنور کی ضد کے س منے ہتھی ر ڈالتے‬
‫ہوئے' جم عت سے ک فی پہ ے' مسجد کی طرف بڑھ گی ۔ اس نے سوچ '‬
‫شہر کے بڑے مولوی کے پیچھے' نم ز پڑھت ہوں۔ وہ ں ک کی ب تیں‬
‫ہوں گی اور انس نی تقسی کی ن ی کی ج ئے۔ چھوٹے می ں تو چھوٹے‬

‫می ں' بڑے می ں سبح ن اللہ۔ اس نے مسجد کے دروازے کے اندر' ایک‬
‫قد رکھ ہی تھ کہ یہ ک م ت ک ن میں پڑے۔‬

‫مس م ن مولوی سے چھری پھیران ' کسی وہ بی مولوی سے چھری نہ‬
‫پھران ۔‬

‫نہ ج ئے م ندن نہ پ ئے رفتن کے مصدا ' نہ آگے ج سکت تھ ' نہ‬
‫پیچھے مڑ سکت تھ ۔ دریں اثن ' کنور نے اس ک ہ تھ کھینچ اور اسے‬

‫مسجد میں داخل ہون ہی پڑا۔‬

‫کنور نے س تھ ہی سوال جڑ دی ‪ :‬ابو یہ وہ بی مولوی کی ہوت ہے۔‬

‫اس نے منہ پر انگ ی رکھتے ہوئے کہ ‪ :‬چپ' مسجد میں نہیں بولتے۔‬

‫تو پھر یہ مولوی کیوں بول رہ ہے۔‬

‫یہ ں صرف مولوی ہی بول سکت ہے۔‬

‫ابو یہ انص ف تو نہ ہوا ن‬

‫انص ف کے بچے' چپ ہو ج ؤ۔ مسجد سے ب ہر ج نے کے ب د' جو‬
‫پوچھن ہے پوچھ لین ۔‬

‫حضورکری نے اعتدال کو اصول ٹھہرای ‪ .‬سکون اور آرا سے گ تگو‬
‫کرنے کو' مستحسن قرار دی ۔ بڑا مولوی چنگھ ڑ رہ تھ ۔ جوش پیدا‬
‫کرنے کے لیے' نثر بھی گ رہ تھ ۔ اسے مسجد میں ہر لمحہ' قی مت‬

‫سے بڑھ کر' محسوس ہونے لگ ۔ خدا کے گھر میں گھٹن' بےشک یہ‬
‫ب ت' حیرت سے خ لی نہ تھی۔ ادھر کنور بھی بےچینی کے ع ل میں‬
‫تھ ۔ نہ بول سکت تھ اور نہ کھیل سکت تھ ۔ جم عت کھڑی ہونے میں‬

‫ابھی ب ئیس منٹ ب قی تھے۔ کنور کو جتنی ج دی آنے میں تھی' اتنی ہی‬
‫ج نے کی لگ گئی۔‬

‫‪.‬آخر اس نے اپنے ابو کے ک ن میں کہ ‪ :‬ابو ا چ یں‬

‫ص در خود بےچین گھڑی ں گزار رہ تھ ' اس نے کنور سے کہ ' ت‬
‫مسجد سے ب ہر نک و' میں تمہ رے پیچھے آت ہوں۔ کنور ج دی سے'‬
‫مسجد سے ب ہر نکل گی ۔ ص در بھی دوڑ کر' اس کے پیچھے چلا گی ۔‬

‫واپسی پر کنور نے سوالوں کی بوچھ ڑ کر دی۔ اس ک خی ل تھ ' کہ‬
‫مسجد سے ب ہر نک تے ہی'کنور س کچھ بھول ج ئے گ ' مگر کہ ں۔ وہ‬
‫وہ بی مولوی کے م نی' ہر صورت میں ج ننے ک خواہ ں تھ ۔ کنور کے‬

‫کسی سوال ک ' اس کے پ س جوا نہ تھ ۔ ج نے آج کل کے یہ بچے‬
‫بھی کس طرح کے ہو گیے ہیں' اپنی عمر کے سوال ہی نہیں کرتے۔‬

‫اس نے سوچ ' مولوی چھوٹ ہو ی بڑا' یہ س ایک ہی تھی ی کے چٹے‬
‫بٹے ہیں۔ ان کی ذہنیت میں رائی بھر فر نہیں۔ لڑاؤ اور پیٹ بھر کھ ؤ'‬
‫اگر یہ طور نہ بھی اختی ر کی ج ت ' تو بھی وافر سے زی دہ انہیں میسر‬
‫آ ج ت ۔ خت وغیرہ سے ہٹ کر' ش دی مرگ پر نقدی کے علاوہ' کھ نے‬

‫پینے کو بہت کچھ میسر آت رہت ہے۔ س تے چ لیے اور قل اس سے‬
‫قط ی ہٹ کر ہیں۔ عیدین پر گھر گھر ج کر' مولوی ک حصہ ط کی‬
‫ج ت ہے۔کوئی جم ہ ایس نہیں گزرت ' کہ مسجد میں جھولی نہ پھیری‬

‫ج تی ہو۔‬

‫س لوں پہ ے' اسے بیٹے کی ضد کے س منے' ہتھی ر ڈالن پڑے تھے۔‬

‫اس روز بھی' اسے جگری دوست شریف کے ہ تھوں مجبور ہو کر'‬
‫جم ہ کی جم عت سے پہ ے' مسجد ج نے ک کشٹ اٹھ ن پڑا۔ جنت ک‬
‫بی ن چل رہ تھ ۔ مولوی ص ح نے سو طرح کی ن متوں ک ذکر کی ۔‬
‫حور کے حسن وجم ل ک اس طرح سے بی ن کی ' کہ ازلی ن ک رہ بھی‬

‫ج ن پکڑنے لگے۔‬

‫وہ سوچنے لگ ' کہ سچے اللہ کی عب دت' اس لیے کرنی ہے کہ عمدہ‬
‫س م ن خورد و نوش' س م ن ت یش اور حوریں میسر آئیں گی۔ کی اس‬
‫لیے نہیں' کہ وہ اللہ ہے اور اس کی عب دت کرن ہی ہے۔ دوسرا کی اللہ'‬

‫جو ایس عط کرنے والا ہے کہ اس س کوئی عط کرنے نہیں' سے‬
‫حقیر اور م مولی چیزیں م نگی ج ئیں۔ کیوں نہ' اللہ سے' اللہ ہی ط‬
‫کی ج ئے۔ اگر وہ نہ ملا تو ب قی چیزوں کو کی کرن ہے اور وہ کس ک‬

‫کی ہیں۔‬

‫وہ سوچوں میں گ ہی تھ ' کہ اس کے ک نوں میں یہ ب ت بھی پڑی'‬
‫یہ ں کی زوجہ ان بہتر حوروں کی سردار ہو گی۔ یہ سنتے ہی' اس پر‬

‫خوف سے لرزہ ط ری ہو گی ۔ زکراں بلاوجہ لڑائی میں انت لیس منٹ‬
‫سے نیچے نہیں رہتی تھی' جوا دینے کی صورت میں' وہ مس سل‬

‫کئی گھنٹے بولنے کی شکتی رکھتی تھی۔ شروع شروع میں' ایک‬
‫مرتبہ اس نے دو رکھ دیں۔ پھر کی تھ ' وہ کئی مہینے' بلان غہ اور بلا‬
‫فل سٹ پ گرجی برسی۔ رانی توپ' اس گرجنے برسنے کے س منے کی‬

‫حیثیت رکھتی تھی۔‬

‫اس نے سوچ ' گوی یہ ان کی سردار ہو گی۔ بےشک اس کے منہ پر‬
‫ک شن ی غ ر رہے گ ۔ اس نے سوچ ' ایسی صورت میں وہ کی کرے گ ۔‬
‫فورا خی ل آی ' وہ کجھور کے درخت پر چڑھ ج ئے گ ۔ نم ز کے خت ہو‬
‫ج نے کے ب د' اس نے مولوی ص ح سے پوچھ ‪ :‬علامہ ص ح ! کی‬

‫جنت میں کجھور ک درخت بھی ہو گ ۔‬

‫کیوں نہیں' آدمی جو م نگے گ میسر آئے گ ۔‬

‫واپسی پر وہ سوچت آی ' کہ وہ تو درخت پر چڑھن ہی نہیں ج نت ۔ اس‬
‫نے ح ظ م تقد ' یہ ہنر سیکھنے ک ارادہ کر لی ۔ اگ ے ہی روز سے'‬
‫اس نے مش شروع کردی۔ اصولا اسے است د پکڑن چ ہیے تھ ' لیکن‬
‫اس نے خود سے یہ ک شروع کر دی ۔ پہ ے تین دن تو خیر خیریت‬
‫سے گزر گیے' چوتھے دن تھوڑا اوپر چلا گی ۔ توازن ق ئ نہ رہنے کے‬
‫ب عث' نیچے آ رہ ۔ نیچے گرتے ہی' ٹ نگ ٹوٹ گئی۔ ہسپت ل بھرتی کرا‬
‫دی گی ۔ س را دن سردار حوروں سے ملاق ت رہتی' آرا بھی ملا۔ کچھ‬
‫چہرے اور کھل کر س منے آ گیے۔ بہت کچھ غیرواضح' واضح ہو گی '‬

‫ہ ں البتہ جی ک دیوالیہ نکل گی ۔‬

‫زکراں ہ دردی کی بج ئے' س را دن کوسنے دیتی رہتی۔ اپنے نصی‬
‫سڑنے ک رون روتی۔ یہ س اپنی جگہ' ہر کوئی یہ ہی پوچھت ' آخر ت‬

‫درخت پر کیوں چڑھے تھے۔ زکراں دن میں یہ سوال کئی مرتبہ‬
‫پوچھتی' کی جوا دیت ۔ اگر بت دیت تو ایس یدھ پڑت ' کہ لوگ پ نی پت‬
‫کے رن کو بھول ج تے۔ ح ظتی تدبیر' اس کے گوڈوں گٹوں میں بیٹھ‬
‫گئی تھی۔ اس نے سوچ ' جو ہو گ ' دیکھ ج ئے گ ۔ یہ ں ایک کھ ت ہے'‬

‫وہ ں تہتر کھ ئے گ ۔ ش ید وہ ں تہتر کھ نے کی شکتی بھی آ ج ئے گی۔‬
‫یہ بھی کہ اس نے ایس کون س ک رن مہ انج دی ہے' جس کے ص ہ‬
‫میں' جنت اور جنت کی حوریں م یں گی۔‬

‫لمحوں ک خوا‬

‫س ر آخرت اختی ر کرنے میں' کچھ زی دہ وقت نہ رہ گی تھ ۔ ن ئی ہ' جو‬
‫اس کی آخری اور ذاتی کوشش ک نتیجہ تھی' محرومیوں میں بڑی‬

‫ہوئی۔ ب پ سے پ گل پن کی حد تک' محبت کرتی تھی۔ اس کی زندگی‬
‫بچ نے کے لیے وہ دل وج ن سے بھ گ دوڑ کر رہی تھی۔ جو عیش‬
‫میں پ ے اور بڑے ہوئے' اس کی ان احمق نہ کوششوں پر پیچ وت کھ‬
‫رہے تھے۔ ن ہید جس کے' وہ عمر بھر غ ط س ط مط لبے پورے کرت‬
‫رہ تھ ' رائی بھر مت کر نہ تھی۔ وہ بڑھ پے میں بھی' جوان لڑکیوں کی‬
‫طرح ن ز نخرے دکھ تی تھی اور وہ اٹھ ت بھی رہ تھ ۔ بڑا لڑک پچ س‬
‫سے تج وز کرنے کو تھ ' لیکن وہ ابھی پینتس س ل کی نہیں ہوئی تھی'‬
‫خیر اس م م ہ میں' اپنے بیٹے کی عمر کی' وہ ذمہ دار اور پ بند نہ‬
‫تھی۔ یہ اس ک ذاتی م م ہ تھ ۔ اگر کوئی سو س ل ب د بھی پوچھت ' تو‬
‫وہ اپنی عمر پنتیس س ل ہی بت تی' گوی وہ اس ذیل میں زب ن کی پکی‬

‫تھی۔‬

‫وہ ہوش میں تھ اور ابھی تک' اس کے حواس م طل نہیں ہوئے تھے۔‬
‫وہ سوچ رہ تھ ' کہ ان لوگوں کی خوشی کے لیے' کی کچھ کرت رہ ۔‬

‫انہیں سہولتیں فراہ کرنے کے لیے' ہر طرح کی بددی نتی اور دو نمبری‬
‫کرت رہ ۔ جسے کچھ میسر نہ آی ' ج ن ہ ک ن کر رہی تھی۔ عیش میں‬
‫پ ے' اس کے قری آنے ک بھی تردد نہیں کر رہے تھے' مب دہ موت‬
‫انہیں بھی اپنی گرفت میں لے گی۔ ا تو گھڑی پل ک م م ہ تھ 'چند‬
‫لمحوں کے لیے' اسے اپن ظ ہر کرنے سے' ان ک کی ج ت تھ ۔ انہوں‬
‫نے تو' مروت' لح ظ اور ج ی تک ف و تردد ک بھی ستی ن س م ر کر‬
‫رکھ دی تھ ۔ آنکھیں بند ہوتے ہی' دو چ ر مگرمچھ کے آنسو بہ ئیں‬

‫گے' دنی اسے ان کی محبت اور صدمے ک ن دے گی' ح لاں کہ یہ ان‬
‫کے سینے کے ب سی ہی نہیں رہے تھے۔‬

‫اسے اپنی زندگی کے گزرے چوہتر س ل' کل پرسوں کی ب ت لگی۔ اس‬
‫نے سوچ یہ زندگی کچھ بھی نہ تھی' محض چند لمحوں ک خوا تھی۔‬

‫چوہتر س ل کچھ ک نہیں ہوتے' لیکن دیکھتے دیکھتے ہ تھوں سے‬
‫نکل گیے۔ ا وہ واپس مڑ نہیں سکت تھ اور مستقبل ک دروازہ' کچھ‬
‫ہی لمحوں کے ب د' کھ نے کو تھ ۔ وہ ان ک ی وہ اس کے نہ رہیں گے۔‬
‫اس کی ہر چیز' ان کی ہو ج ئے گی۔ اس کی چیزوں کے بٹورے پر وہ‬

‫کتوں کی طرح لڑیں گے۔ اگرچہ ترکہ کچھ زی دہ نہ تھ ۔ بہت کچھ بن‬
‫سکت تھ ' لیکن پیٹ اور موج مستی کو پہ ی اور آخری ترجیح دی گئی‬

‫تھی۔ آج جن بیٹوں کے بوتے پر اترا رہی تھی' اس کی دو ہتھ زب ن'‬
‫اسے ان کے ہ ں بےوق ر کر دے گی۔ ن ئی ہ' جسے وہ احم سمجھتی‬

‫تھی' ممکن ہے' وہ ہی آخری لمحوں میں اس کے ک آئے۔‬

‫ڈاکٹر اپنی کوشش میں مصروف تھ ۔ وہ اپنی ن ہید کی نخرہ برداری کے‬

‫لیے' مصروف عمل تھ ۔ اسے مرنے والے کی زندگی ی لحموں کی‬
‫بہتری' چمکتے سکوں کے لیے عزیز تھی۔ سرک ری ہسپت ل کے بستر‬
‫پر پڑا مریض کوئی اہمیت نہیں رکھت ۔ بچ ج ئے مریض کی قسمت' مر‬
‫ج ئے مریض کی قسمت۔ ہر دو صورتوں میں' تنخواہ پر رائی بھر فر‬

‫نہیں پڑت ۔ وہ تو ج ری رہنے کے لیے ہوتی ہے۔ ہ ں کسی مقترہ‬
‫شخصیت ک م م ہ' اس سے برعکس ہوت ہے۔‬

‫م ضی ک ہر لمحہ' کسی ف کی طرح' اس کی آنکھوں کے س منے گھو‬
‫گھو گی ۔ اس ک ب پ ولی محمد' امرتسر کے ری وے اسٹیشن پر ق ی‬
‫تھ ۔ صبح سویرے گھر سے نکل ج ت ۔ لوگوں ک س م ن اٹھ نے کے‬

‫س تھ س تھ' بڑے اور دو چھوٹے ب بو ص حب ن کی خدمت انج دیت ۔ ان‬
‫کے لیے کھ ن لات ' جو کھ ن بچ رہت ' اس سے بھوک مٹ لیت ۔ کبھی پیٹ‬

‫بھر بچ رہت اور کبھی دو ایک نوالے بھی میسر نہ آتے۔ ف ر وقت‬
‫میں' ری وے اسٹیشن کی کنٹین پر ک کرت ۔ آخری گ ڑی نکل ج نے کے‬
‫ب د' گھر لوٹ کر آت ۔ ہ جراں اسی وقت گر گر کھ ن پیش کرتی۔اسے‬

‫کھ ن تو خیر کہ نہیں ج سکت ' ہ ں گزارا ٹکر کہن زی دہ من س ہوگ ۔‬
‫البتہ جھوٹ اور ان دھ ے ہ تھوں ک بچ کچ نہ ہوت تھ ۔ اس میں ہ جراں‬

‫کی محبت اور خ وص ش مل ہوت تھ ۔ ج وہ کھ ن کھ چکت ' تو گر‬
‫گر تیز مٹھے کی بڑی پی لہ لا کر' کھڑکی ک زیریں حصہ' جو ب طور‬
‫میز است م ل ہوت تھ ' پر رکھ دیتی اور خود پ س بیٹھ ج تی۔ وہ چ ئے‬
‫پیتے ہوئے' س رے دن کی ک رگزاری سن ت اور ہ جراں بڑے غور سے‬

‫سنتی۔ کبھی دونوں ہنس پڑتے اور کبھی افسردہ ہو ج تے۔‬

‫اس کی کوشش تھی' کہ بڑا لڑک پڑھ لکھ لکھ کر' کچھ بن ج ئے' پھر‬
‫وہ چھوٹوں کو خود ہی سمبھ ل لے گ ۔ اس کی محنت اور کوشش پر'‬
‫کسی سطح پر' شک نہیں کی ج سکت ۔ ہ جراں اس کے ش نہ بہ ش نہ‬

‫چل رہی تھی۔ جس دن عبدالرحمن نے میٹرک کر لی ' ولی محمد کی‬
‫خوشی کی انتہ نہ رہی۔ اسے یوں لگ ' جیسے س ری دنی کی خوشیوں‬

‫نے' اس کے قد آ لیے ہوں۔ عبدالرحمن نے کئی سرک ری ملازمتیں‬
‫کیں لیکن اسے کوئی پسند نہ آئی۔ آخر محکمہ م لی ت کی ب بو شپ‬
‫راس آ گئی۔ ب لائی وافر میسر تھی۔ جی میں دا ہوں تو شوقینی بغل‬
‫گیر ہو ہی ج تی ہے۔ گھر کے کھ نے بےلطف اور بےمزا ہو ج تے ہیں۔‬

‫شرا ' کب اور عورتیہ ذائقہ ج زندگی ک لازمہ اور لوازمہ بن‬
‫ج ئیں' ب پ کی محنت اور قرب نی لای نی ہو کر رہ ج تے ہیں۔ فقط ذات‬
‫کی م نویت ب قی رہ ج تی ہے۔ اس دورانیے میں' ن ہید اس کی زندگی‬
‫میں داخل ہوئی۔ شوقینی میں' وہ اس کی بھی است د تھی۔ دونوں خ رجی‬
‫رنگیوں کے ش ئ تھے۔ ن ہید کے آنے سے خرچے آسم ن سے ب تیں‬

‫کرنے لگے تھے۔ ن ہید کے بطن سے اپنے اور پرائے' گھر ک فرد‬
‫بننے لگے تھے۔ عبدالرحمن نے بھی کئی ویران گودیں آب د کیں۔‬

‫ولی محمد کے خوا ' چکن چور ہو گیے۔ ایک ہی شہر میں رہتے' وہ‬
‫اس کی شکل دیکھنے کو ترس ج ت ۔ ان کے درمی ن اسٹیٹس گیپ آ گی‬
‫تھ ۔ کہ ں ایک ق ی اور کہ ں محکمہ م لی ت ک ایک ب عزت ب بو۔ ایک‬
‫مرتبہ' دل کے ہ تھوں مجبور ہو کر' ولی محمد اس کے دفتر چلا گی ۔ وہ‬
‫پوری زندگی کسی غیر کے ہ تھوں اتن ذلیل نہ ہوا ہو گ ' جتن اس دن‬

‫بیٹے کے ہ تھوں ذلیل ہوا۔ وہ س را دن روت رہ ۔ آخر کسی کو کی بت ت ۔‬
‫دونوں مجبوری کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے۔ ولی محمد دل کے‬
‫ہ تھوں' ج کہ عبدالرحمن اسٹیٹس کے ہ تھوں مجبور تھ ۔ وہ کسی کو‬
‫کی بت ت کہ اس ک ب پ ایک ق ی ہے۔ وہ بھی تو ق ی کے لب س میں منہ‬
‫اٹھ کر چلا آی تھ ۔ ولی محمد نے اس واق ے ک ذکر اپنی بیوی سے‬
‫بھی نہ کی ' وہ بچ ری خواہ مخواہ دکھی ہو گی۔ ہ جراں نے ہر مشکل‬

‫وقت میں اس ک س تھ دی تھ ۔‬

‫موت اٹل حقیقت ہے۔ یہ ہر کسی کو' اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ولی‬
‫محمد کے وعدے پورے ہو گیے اور وہ چل بس ۔ اس دن عبدالرحمن‬
‫کے گھر دعوت تھی' جو م توی نہ کی ج سکتی تھی۔ ولی محمد اگرچہ‬
‫کئی ہ توں سے بیم ر چلا آت تھ ۔ وہ گ ہے بہ گ ہے اس ک پت کروات‬
‫رہت تھ ۔ موت کی خبر ب لکل اچ نک م ی تھی۔ س را انتظ ہو چک تھ '‬
‫اس لیے وہ اس کی آخری رسوم ت میں ش مل نہ ہو سک ۔ م ں جس دن‬
‫مری' اس دن ان کے گھر ن ہید کی س ل گرہ من ئی ج رہی تھی۔ مہم نوں‬

‫سے گھر بھرا پڑا تھ ۔ وہ مہم نوں کو' جو شہر کے م ززین تھے'‬
‫چھوڑ کر م ں کے جن زے میں کس طرح ش مل ہو سکت تھ ۔‬

‫اس نے سوچ وہ کتنے خوش نصی تھے' کہ اس خوش فہمی کے‬
‫س تھ مرے کہ اگر ان ک بڑا بیٹ پ س ہوت ' تو کتن دکھی ہوت ۔ دھ ڑیں‬
‫م ر م ر کر روت ۔ اس کے بچے قری ہوتے ہوئے' صدیوں کے ف ص ے‬
‫پر کھڑے' اس کی موت کے لمحوں میں گرفت ر بےبسی ک تم ش کر‬
‫رہے تھے۔ س کچھ واضح اور دو ٹوک تھ ' کسی قس کی غ ط فہمی ی‬

‫خوش فہمی ک ش ئبہ تک نہ تھ ۔‬

‫اس نے سوچ ' زندگی ج دو لمحوں کی ہے' تو لذت کے لمحے کس‬
‫شم ر میں آتے ہیں۔ شرا ک نشہ ہو' کہ سیٹ ک ' آخر اتر ہی ج ت ہے۔‬
‫ہوٹل میں بےگ نی جی سے کھ نے کی لذت' کھ تے رہنے کے دورانیے‬

‫تک محدود ہوتی ہے' اس کے ب د منہ میں محض تشنگی ب قی رہتی‬
‫ہے۔ عورتیہ ذائقہ' اپنے اسٹیمنے کے س تھ جڑا ہوت ہے اور اسٹیمنہ‬

‫لامحدود نہیں' محدود کےمبہ لمحے کی گرفت میں ہوت ہے۔ فراغت‬
‫سے پہ ے' وہ ایک دوسرے کے کوئی بھی نہیں ہوتے' فراغت کے ب د‬
‫بھی' وہ ایک دوسرے کے کچھ نہیں ہوتے۔ کوئی دیکھے ی ن دیکھے‬

‫غ ط تو ہوا ہوت ہے۔‬

‫مبہ لمحوں کی لذت آدمی کو کتن ذلیل کرتی ہے۔ اس ک س را بوجھ‬
‫آدمی کے اپنے کندھوں پر ہوت ہے۔ چ تے سمے' اپنے بھی اپنے نہیں‬

‫ہوتے۔ ان کے لیے کیے ک بوجھ بھی' ج نے والے کو ہی اٹھ ن پڑت‬
‫ہے۔ بھولے سے بھی وہ' اس بوجھ کے س جی نہیں بنتے۔ وہ ک ین ہینڈ‬

‫ہی رہتے ہیں۔ وہ فقط اپنے کیے کے' ذمہ دار ہوتے ہیں۔‬

‫سوچوں ک دائرہ پھیل ہی رہ تھ ' کہ اس کی آنکھوں کے س منے‬
‫اندھیرا چھ نے لگ ' پھر س نس رکتی محسوس ہوئی۔ سوچ کے لمحے‬

‫بھی لامحدود نہیں ہوتے۔ موت کے ایک ہی جھٹکے سے' س کچھ‬
‫بکھر ج ت ہے۔ کچھ ب قی نہیں رہت ۔ا وہ ں کچھ بھی نہیں تھ ' ب بو‬

‫حمید تو ج چک تھ ' ہ ں چ رپ ئی پر بےک ر اور م نویت سے م ذور‬
‫مٹی ک ڈھیر پڑا تھ ۔‬

‫لای نیت ک سوگ' آخر کوئی کیوں من ت ۔‬

‫انص ف ک قتل‬

‫ایک ب ر ایک ب دش ہ جوانوں کے لنگر خ نے گی ۔ ص ئی ستھرائی چیک‬
‫کی‘ درست تھی۔ پھر اس نے پوچھ کہ جوانوں کے لیے کی پک ی ہے۔‬

‫جوا ملا بت ؤں ی نی بیگن۔ ب دش ہ سخت ن راض ہوا کہ جوانوں کے‬
‫لیے اتن گھٹی کھ ن کیوں پک ی گی ہے۔ اس کے مشیر نے بیگن کی‬
‫بدت ری ی میں زمین آسم ن ایک کر دیے۔ بہر کیف لنگر کم نڈر نے‬

‫م ذرت کی اور آئندہ سے بیگن نہ پک نے اور اچھ کھ ن پک نے ک‬
‫وعدہ کی تو ب دش ہ لنگرخ نے سے رخصت ہو گی ۔‬

‫کچھ وقت گزرنے کے ب د ب دش ہ کو دوب رہ سے جوانوں کے‬
‫لنگرخ نے ج نے ک ات ہوا۔ سوئے ات اس روز بھی بیگن پک ئے‬
‫گئے تھے۔ ب دش ہ نے بیگن کی ت ریف کی۔ وہ ہی مشیر س تھ تھ اس‬
‫نے بیگن کی ت ریف میں ممکنہ سے بھی آگے بیگن کے فوائد بی ن کر‬
‫دیے۔ گوی بیگن کے توڑ کی کوئی سبزی اور پکوان ب قی نہ رہے۔ لنگر‬

‫کم نڈر خوش ہوا اور آگے سے بیگن کے برابر اور متواتر پک ئے‬
‫ج نے ک وعدہ کی ۔‬

‫ب دش ہ اس مشیر کی ج ن مڑا اور کہنے لگ کہ اس دن میں نے بیگن‬
‫کی بدت ری ی کی تو ت نے بیگن کی بدت ری ی میں کوئی کسر نہ‬

‫چھوڑی۔ آج ج کہ میں نے ت ریف کی ہے تو ت نے بیگن کی ت ریف‬
‫میں کوئی کسر اٹھ نہیں رکھی‘ کیوں۔‬

‫اس نے جواب کہ حضور میں آپ ک غلا ہوں بیگن ک نہیں۔‬

‫یہ سن کر ب دش ہ نے کہ ت سے جی حضوریے ح اور سچ کو س منے‬
‫نہیں آنے دیتے جس کے سب ص ح اقتدار متکبر ہو ج تے ہیں اور‬
‫اس کے نتیجہ میں ان سے انص ف نہیں ہو پ ت ۔ انص ف ک قتل ہی‬
‫قوموں کے زوال ک سب بنت ہے۔‬

‫پہ ے تو وہ جی حضوریہ چپ رہ پھر کہنے لگ حضور ج ن کی ام ن‬
‫پ ؤں تو ایک عرض کروں۔‬

‫ب دش ہ نے کہ ‪ :‬کہو کی کہن چ ہتے ہو۔‬
‫حضور سچ اور ح کی کہنے والے ہمیشہ ج ن سے گئے ہیں۔‬
‫ب دش ہ نے کہ ‪ :‬ی د رکھو سچ اور ح ج ن سے بڑھ کر قیمتی ہیں۔ مرن‬
‫تو ایک روز ہے ہی سچ کہتے مرو گے تو ب قی رہو گے۔ ہ ں جھوٹ‬
‫کہنے ی اس پر درست کی مہر ثبت کرنے کی صورت میں بھی زندہ رہو‬

‫گے لیکن ل نت اور پھٹک ر اس زندگی ک مقدر بنی رہے گی۔‬

‫خی لی پلاؤ‬

‫اللہ بخشے پہ خ د بڑے ہنس مکھ اور جی دار قس کے بندے تھے۔‬
‫خوش ح لی سے تہی دست ہوتے ہوئے بھی‘ انہیں کبھی کسی نے رنج‬
‫و ملال کی ح لت میں نہ دیکھ ۔ منہ میں خوش بول رکھتے تھے۔ کبھی‬

‫کسی کو م و نہ ہو سک کہ اندر سے کتنے دکھی ہیں۔ ان کی بیگ‬
‫فیج ں‘ اتنی ہی سڑیل اور بدمزاج تھی۔ کردار کی بھی ص ف ستھری نہ‬

‫تھی۔ مزے کی ب ت یہ کہ گھر سے کبھی کسی نے دونوں کی اونچی‬
‫آواز تک نہ سنی تھی۔ یہ تو محض خوش فہمی ہو گی کہ ان کے‬
‫درمی ن ت خی نہ ہوتی ہو گی۔‬

‫ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے لاڈ پی ر کر رہے تھے۔ منہ سے بھی بہت‬
‫کچھ کہے ج رہے تھے۔ کہہ رہے تھے‘ میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بن ؤں‬

‫گ ‘ پھر سونے کے سہرے سج کر‘ ہ تھی پر بٹھ کر‘ پیچھے گ ڑیوں‬
‫کی قط ر ہو گی‘ بہو بی نے ج ؤں گ ۔ اس کی ش دی پر بٹیروں کے‬
‫گوشت کی دیگیں چڑھیں گی۔‬

‫س تھ میں بیسیوں بکرے زبح کر ڈالے۔ میٹھے میں بھی بہت س ری‬
‫چیزیں دستر خوان پر سج دیں۔‬

‫میں کچھ دیر تو ان کی آسم ن بوس ب تیں سنت رہ ۔ پھر مجھ سے چپ‬
‫نہ رہ گی ‘ میں نے پوچھ ہی لی ‘ پہ جی یہ آپ کی کہہ رہے ہیں۔ یہ س‬
‫کچھ کیسے ہو سکے گ ۔ میری طرف انہوں نے ہنس کر دیکھ اور کہ ‘‬

‫ج خی لی پلاؤ پک ی ج رہ ہو تو راشن رسد کی کیوں کمی رکھی‬
‫ج ئے۔ یہ کہہ کر ان کی آنکھیں لبریز ہو گیئں‘ ہ ں منہ سے کچھ نہ‬

‫بولے۔‬

‫میں نے سوچ ‘ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں۔ ہم رے لیڈر ص حب ن ووٹ کی‬
‫حصولی کے لیے بڑے خی لی پلاؤ پک تے ہیں۔ راشن رسد کی اس میں‬
‫کمی نہیں چھوڑتے۔ ایسے ایسے نقشے کھنچتے ہیں‘ کہ شداد کی ار‬
‫بھی کوسوں کے ف ص ے پر چ ی ج تی ہے۔ امن و سکون کی وہ فض ‘‬

‫خی لوں اور خوابوں کو سکھ چین سے نوازتی ہے۔ عم ی طور پر‬
‫بھوک‘ دکھ‘ درد اور مصیبت ان کے کھیسے لگی ہے۔ ہ ں البتہ یہ‬

‫رشک ار دنی ‘ ان لیڈروں کی دنی میں ضرور بسی چ ی آتی ہے۔‬
‫گم شتے انہیں س اچھ ک سندیسہ سن تے آئے ہیں۔‬

‫اگر عورت چ ہے تو ص ر کو بھی‘ سو کے مرتبے پر ف ئز کر سکتی‬
‫ہے۔ اگر الٹے پ ؤں چ نے لگے تو سو کو ص ر بھی نہیں رہنے دیتی۔‬
‫دوسرا گری صرف خوا ہی دیکھ سکت ہے‘ اس سے آگے اس کی‬
‫اوق ت و بس ت ہی نہیں ہوتی۔ فیج ں کو تو اہل اخگر سے‘ موج مستی‬
‫سے ہی فرصت نہ تھی‘ شوہر اور بچوں پر کی توجہ دیتی۔ وہ م کی‬

‫لیڈر ص حب ن کے قدموں پر تھی۔‬

‫ایک روز پت چلا‘ اس نے پہ خ د سے طلا لے لی ہے اور کسی کے‬
‫س تھ چ ی گئی ہے۔ پہ خ د اکیلا ہی زندگی کی گ ڑی چلات رہ ۔ ایک‬

‫روز شرا کے نشہ میں دھت‘ ایک سیٹھ ص ح کی گ ڑی کے نیچے آ‬
‫کر‘ اللہ کو پی را ہو گی ۔ بچے در بہ در ہو گئے۔ جس بچے کو وہ ڈاکٹر‬

‫بن ن چ ہت تھ ‘ منڈی میں پ ے داری کرنے لگ ۔ ب د میں لاری اڈے‬
‫ہ کری کرنے لگ ۔ اس کی ایک مزدور کی بیٹی سے ش دی ہو گئی۔ اللہ‬
‫نے اسے چ ند س بیٹ عط کی ۔ بےشک ب پ کی طرح بڑا محنتی ہے‬
‫اور آج کل ب پ کے سے خی لی پلاؤ پک ت ہے۔ اس کی بیوی سگھڑ ہے‘‬
‫ع بی کی وف دار بھی ہے۔ کچھ کہ نہیں ج سکت کہ اس کے خی لی پلاؤ‬

‫کسی حد تک سہی‘ منزل پ ہی لیں۔‬

‫ت ی اور روٹی‬

‫وہ ک پڑھ لکھ ک می ہنرمند تھ ۔ گزارے سے بڑھ کر کم لیت تھ‬
‫لیکن اپنی ایک الگ سے فکر رکھت تھ ۔ ہنرمندوں کی بدح لی اسے‬
‫خون کے آنسو رولاتی۔ کی کر سکت تھ ۔ وہ کی ‘ م ملات روٹی ٹکر میں‬
‫بڑے بڑے کھنی خ ن مجبور و بےبس ہو گیے تھے۔ دفتر ش ہی ہو کہ‬
‫انتظ میہ‘ اقتداری طبقے کی گم شتہ چ ی آتی تھی۔ اسی طرح اقتداری‬

‫طبقہ اس کے بغیر زیرو میٹر تھ ۔‬

‫وہ دیر تک سوچت رہ ‘ آخر ہنرمند طبقے کی کس طرح مدد کرے۔ پھر‬
‫اسے ایک خی ل سوجھ ۔ خوشی سے اس ک چہرا دمک اٹھ اور اس نے‬

‫ت ی ایسے مشکل گزار رستے پر چ نے ک فیص ہ کر لی ۔ کت ‘ ک پی‬
‫اور ق کی خریدداری کے لیے اس کے پ س پیسے تھے۔ ت یمی‬

‫م ملات میں مشکل پیش آ ج نے کی صورت میں م سٹر نور دین سے‬
‫رابطہ ممکن تھ ۔‬

‫صبح اٹھتے ہی‘ وہ س سے پہ ے کت بوں کی دک ن پر گی ۔ پ نچ پ س‬
‫تھ ‘ چٹھی کی کت بیں‘ ایک بڑا رجسٹر اور ق خرید کی ۔ اس نے یہ‬

‫غور ہی نہ کی کہ پڑھے لکھے ب ش ور طبقے‘ روز اول سے‘ ش ور‬
‫سے ع ری ب اختی ر طبقے کی چھتر چھ ؤں میں زندگی کرتے آئے ہیں۔‬
‫ہنرمندوں کو‘ مکہ بردار اپنے محل اور خودسر گھروالیوں کے مقبرے‬
‫بن نے کے لیے است م ل کرتے آئے ہیں۔ دوسرا ت ی اور روٹی ک کوئی‬

‫رشتہ ہی نہیں‘ ت ی تو آگہی فراہ کرتی ہے۔ یہ دم سے سوچنے ک‬
‫درس دیتی ہے۔ پیٹ سے سوچنے کے لیے جہ لت کی ضرورت ہوتی‬
‫ہے۔ دم کی سوچ شخص ت میر کرتی ہے ج کہ پیٹ کی سوچ میں‬
‫کو ہوا دیتی ہے اور ک زور سروں کی کھوپڑوں سے محل ت میر کرتی‬

‫ہے۔‬

‫وہ دیر تک کت بوں کے اورا الٹ پ ٹ کرت رہ ۔ رجسٹر پر کچھ لکھنے‬
‫کی کوشش بھی کرت رہ ۔ اس کی ذہنی کی یت جنونیوں کی سی تھی۔‬

‫چوں کہ سورج روشنی دے رہ تھ ‘ اس لیے اسے احس س تک نہ ہوا‬
‫کہ بجی کتنی ب ر گئی ہے۔ رات ہو گئی تھی‘ پھر اچ نک ایک جھٹکے‬
‫سے بج ی چ ی گئی۔ اس کے منہ سے بےاختی ر او تیرے کی نکل گی ۔‬
‫دوسرے ہی لمحے اسے خی ل آی ‘ کہ وہ میٹرک پ س کرکے واپڈا میں‬
‫بھرتی ہو کر ہنرمندوں کی مدد کرن چ ہت تھ ۔ حکومت تو خود ہنرمندوں‬

‫کی مدد کر رہی تھی۔‬

‫فیکس ٹ ئ کے علاوہ بھی چ ر چھے اچ نکیہ جھٹکے‘ انرجی سیور ہی‬
‫نہیں‘ اور بھی بہت س ری چھوٹی بڑی چیزوں کو لے دے ج تے تھے۔‬
‫بڑی بڑی کمپنیوں سے لے کر‘ چھوٹے سے چھوٹے ہنر مند کی دال‬
‫روٹی ک س م ن تو ہو رہ تھ ۔ یہ ہی تو وہ کرن چ ہت تھ جو پہ ے سے‬
‫ہی ہو رہ تھ ۔ اسے اپنی گھٹی سوچ پر بڑی شرمندگی ہوئی‘ کہ ص ح‬
‫اختی ر طبقے تو پہ ے ہی ہنرمندوں کے لیے نر گوشہ رکھتے ہیں۔ اس‬
‫نے ک پی ں کت بیں الم ری میں رکھ دیں اور سر کے نیچے ب زو رکھ کر‬

‫سکون کی نیند سو گی ۔‬


Click to View FlipBook Version