1
نوے پ س افس ن
مقصود حسنی
ابوزر برقی کت خ نہ
مئی
2
فہرست
1دروازے س دروازے تک
یہ کوئی نئی ب ت نہ تھی2
اس پی س ہی رہن ہ 3
پہلا قد 4
موازنہ4
سرگوشی6
علالتی است رے7
اسلا اگ ی نشت پر8
دوسری ب ر9
10سوچ ک دائرے
ب ب جی شکرالله11
12ادریس شرلی
لاٹری13
انس نی ت ریخ کی بگ گنز14
3
کردہ ن کردہ15
آگ کی بھٹی16
بب و م ں17
لمحوں ک خوا 18
19دیکھت ج ؤ‘ سوچت ج ؤ
لاحول ولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔20
حقیقت پس پردہ تھی21
22انس ن اور انس نی روی
یقین م نی 23
24اس س بڑھ کر
یہ ہی ٹھیک رہ گ 25
کچھ ب ید نہیں26
وہ اندھی تھی27
برائی ک لاروا28
شکوک کی گرفت29
اور تو اور30
4
حضرت بیوہ شریف31
ح ظتی تدبیر32
33صبح ک بھولا
استحق قی کٹوتی34
ت ریخ ک سین پر35
سچی کہوں گ 36
چپ ک م ہدہ37
38ب زگشت
جنگ39
بیوہ طوائف40
41آنچل ج ت رہ گ
من ک بوجھ42
بڑا آدمی43
ڈی سی سر م ئیکل ج ن44
45حلالہ
م ئی جنت زندہ ب د46
5
ممت عش کی ص ی پر47
48زینہ
شیدا حرا دا49
50آوارہ ال ظ
دو دھ ری ت وار51
52پٹھی ب ب
53جوا ک سکتہ
54م سٹر جی
55بڑے اب
56گن ہ گ ر
57ان کی تسکین
58چوتھی مرغی
انگریزی فیل59
تن زعہ ک دروازے پر60
ک من 61
اب جی ک ہ زاد62
6
کملا کہیں ک 63
64فقیر ب ب
م لجہ65
کریمو دو نمبری66
ابھی وہ زندہ تھ 67
سچ ئی کی زمین68
لاروا اور انڈے بچ 69
ان پڑھ70
پ خ نہ خور مخ و 71
میں ابھی اس ہی تھ 72
73الله ج ن
دائیں ہ تھ ک کھیل74
پنگ 75
وہ کون تھ 76
پرای دھن77
78حوص ہ
7
79چوگ کی چنت
80دو من ف
81میری ن چیز بدع
82ف ص وں کی دیوار
83براہ راست
84جو بھی سہی
85چ ر چہرے
بکھری ی دیں86
توبہ ک لہو87
-88م س کہیں ک
م س کہیں ک 89
خوشبو ک قیدی90
91ذات ک استحص ل
ایک اور دیوار 92
لاٹھی وال کی بھینس93
-----------------------------------------------------
8
دروازے س دروازے تک
تین چ ر س ل کی بچی ک س تھ‘ زی دتی کرن والا‘ انس نی روپ
میں درندہ‘ کئی روز‘ چ ت پھرت سوت ج گت ‘ اس ک دل
و دم خ پر‘ دکھ اور درد ک ہتھوڑے‘ برس ت رہ ۔ انس نی
م ررکیٹ میں‘ شوقین ترین عورتوں کی موجودگی میں‘ اس ن
چھوٹی سی‘ م صو سی‘ تین چ ر س ل کی بچی ہی کو‘ کیوں
منتخ کی ۔ اتنی چھوٹی بچی کو‘ تو بڑوں کی محبت‘ ش قت‘ لاڈ
اور پی ر میسر آن چ ہی ۔ چھوٹ چھوٹ ‘ منہ س توت ی زب ن
میں‘ نک ن وال ل ظ‘ تو روح و ق میں‘ آسودگی ات رت ہیں۔
انہیں اچھ ت کودت ‘ اور اٹھک ی ں بھرت دیکھ کر‘ انس ن
بڑے س بڑا دکھ‘ بھی بھول ج ت ہ ۔ ان کی ادائیں اور ن ز
نخرے‘ دیکھ کر فرشت کی ‘ س ری آسم نی مخ و جھو جھو
ج تی ہو گی۔ اس بصد غور کرن ک ب د بھی‘ م و نہ ہو
سک ‘ کہ اس انس ن س شخص ک ‘ کیسی اور کہ ں کی‘ مخ و
س ت ہو گ ‘ جو اس ن ق بل یقین سطح پر‘ اتر آئی ہ ۔
وہ گری آدمی نہیں تھ کھ ت پیت گھران ک تھ ۔ م ل ک
حوال س ‘ شوقین م ل‘ مل ج ن ‘ ن ممکن ت میں نہ تھ ۔ ج ک
چلان ‘ اور گزرا کرن ہو‘ تو روزن نش ط ک چھوٹ ‘ بڑا ی
ب کن ر ہون س ‘ کچھ فر نہیں پڑت ۔ ہر دو صورتوں میں‘
9
ٹ ئ پ س ہو ج ت ہ ۔ قبروں پر پھول چڑھت آئ ہیں‘ ان
کھ غنچ ‘ توڑے نہیں ج ت ‘ ان ک پھول بنن ک ‘ انتظ ر
کی ج ت ہ ۔ ج غنچ قبروں پر چڑھن لگیں‘ سمجھو
گ ست ن کی ا خیر نہیں۔ ایس گ ست ن ک پودے‘ کسی وقت
بھی‘ اس س ڈنگر ک ‘ پہوجن بن سکت ہیں۔ ڈنگر کی آنکھ‘
حسن شن س نہیں ہوتی۔ وہ پیٹ ہی س دیکھت اور سوچت ہ ۔
کسی گھ س خور ک ‘ چھوٹ س بچہ اور اس کی اٹھکی ی ں‘ کسی
درندے ک لی ‘ م نویت نہیں رکھتیں۔ اس دیکھت ہی‘
درندے کو بھوک محسوس ہون لگتی ہ ۔ درندے کی یہ فطرت
ہ ‘ اور اسی لی اس درندہ کہ ج ت ہ ۔
ک فی سوچن ‘ اور غور کرن ک ب د‘ اس م و ہوا‘ کہ وہ
اسی بستی ک ب سی تھ ۔ اس س طور اطوار ک ‘ بہت س ‘
انس ن س ‘ اس ک قر وجوار میں‘ بست تھ ۔ انس نوں کی
بستی میں‘ آخر ان ک کی ک ۔ یقین یہ راکھشش لوک س ‘ یہ ں
انس نی بہروپ میں‘ وارد ہوئ تھ ۔ انس نوں ک س تھ مل کر‘
مذہبی امور بھی انج دیت تھ ‘ ب کہ یہ اس ذیل میں‘ اوروں
س ‘ کہیں بڑھ کر تھ ۔ چرچ‘ مندر‘ گرو دوارے‘ مس جد وغیرہ
میں‘ شریف صورت بن کر‘ ح ضر ہوت تھ ۔ کسی پہٹھ ک
ک ‘ ان ک مت سوچن بھی‘ گن ہ کبیرہ محسوس ہوت ہ ۔
اکبر ص ح ‘ گریبوں اور بیواؤں کی مدد کرن میں‘ بڑی شہرت
رکھت تھ ۔ وہ ان کی بڑی عزت کرت تھ ۔ اس ان ک لب س
10
اور چہرہ‘ فرشتوں جیس لگت تھ ۔ اس ن ‘ ان کی آنکھوں کو‘
کبھی پڑھن کی ضرورت ہی محسوس نہ کی تھی۔ مزدور کی
مزدوری‘ رو دھو کر عط کرت تھ ۔ یہ ہی نہیں‘ اس میں
ڈنڈی م رن ‘ فرض عین سمجھت تھ ۔ سوہنی گری خواتین ک
لی ‘ بڑا ہی نر گوشہ رکھت تھ ۔
بوڑھ ریٹ ئر م سٹر عیسی‘ آج بھی اس ک لی ‘ بڑا محتر اور
م زز تھ ‘ لیکن وہ اس ک ‘ کرتوت نہیں ج نت تھ ۔ پنشن لین ‘
دور دراز ک گ ؤں س آت تھ ۔ پنشن ک رک ح جی ص ح کو‘
نقد نہ سہی‘ گ ؤں کی کوئی سوغ ت‘ گن وغیرہ‘ تو لا کر دے
سکت تھ ۔ مگر کہ ں اتنی توفی ۔ ح جی ص ح ‘ اس کی پنشن
بک‘ س س نیچ رکھ دیت تھ ۔ وہ دور کھڑا‘ بک بک
کرت رہت تھ ۔ اس کی بک بک س ‘ ح جی ص ح تنگ آ گی
تھ ۔ ایک دن‘ ج آخر میں ب ری آئی‘ تو ح جی ص ح ن کہ ‘
یہ لو پنشن بک‘ کل آن ‘ دفتر ٹ ئ خت ہو گی ہ ‘ یہ کہہ کر‘
کھڑکی بند کر دی۔ م سٹر ن ‘ مندا بولن کی حد ہی کر دی۔
اگ دن بھی‘ ح جی ص ح ن اس ‘ س را دن کھڑا کی رکھ ۔
دفتر ٹ ئ خت ہون ک وقت کہ ‘ یہ لو پنشن بک‘ اور حی تی
پروانہ‘ کسی بڑے افسر س ‘ تصدی کروا کر لاؤ۔ م سٹر پھر
بولن لگ ۔ ح جی ک موقف درست تھ پنشن بک کی تصویر‘ ان
کی موجودہ شکل س ‘ کسی طرح‘ میل نہ کھ تی تھی۔ اس
راکھشش آلواد بستی میں‘ اس ک سوا‘ کوئی م سٹر کو‘ درست
11
قرار نہیں دے رہ تھ ۔ س ح جی ص ح ک موقف کو‘ درست
قرار دے رہ تھ ۔ وہ زندہ ہ ‘ ک تصد ن مہ لان اشد
ضروری تھ ۔
سوچوں ک اس ب سرے طوف ن ن ‘ اس ک اعص کو‘ بری
طرح مت ثر کی ۔ س ری دنی ‘ دوسروں ک دکھ درد س لات ہو
کر‘ پیٹ پوج ک س م ن‘ اکٹھ کرن میں مصروف تھی۔ وہ تھ ‘
کہ اوروں ک لی ‘ سوچ سوچ کر‘ بلاوجہ ہ ک ن ہو رہ تھ ۔ ان
ک لی ‘ جو اس خبطی کہت تھ ۔ اور تو اور‘ اس ک گھر
وال بھی‘ اس کریک خی ل کرت تھ ۔ وہ اک وت کم ئی ک
ذری ہ تھ ‘ اسی لی ‘ اس ب امر مجبوری‘ برداشت کر رہ
تھ ‘ ورنہ ک ک ‘ گھر س نک ل ب ہر کرت ۔ ا وہ نڈھ ل س
ہو گی تھ ۔ اس س چ ن دشوار ہو گی تھ ۔ پھر وہ‘ ایک سڑکی
ہوٹل میں‘ داخل ہو گی ۔ اس ہوٹل میں‘ تیسرے اور چوتھ درجہ
س مت لوگ‘ چ ئ وغیرہ پیت تھ ۔
ہوٹل میں بڑی گہم گہمی تھی۔ لوگ مخت ف موضوعت پر گ ت
گو کر رہ تھ ۔ ان کی گ ت گو ک حوالہ س ‘ سم جی‘
م شرتی اور شخصی ن سی تی م ملات ک ‘ ب خوبی اندازہ لگ ی
ج سکت تھ ۔ اصل رون ‘ م ش ک روی ج رہ تھ ۔ یوں لگت تھ ‘
جیس ہر کوئی‘ صدیوں کی بھوک‘ اٹھ ئ پھرت ہ ۔ وہ
آسودگی ک لی ‘ یہ ں آی تھ ‘ لیکن یہ ں آ کر‘ مزید بور ہوا۔
12
ہ ں البتہ‘ دو تین بنچوں پر ہون والی گ ت گو‘ ب طور خ ص‘
اس کی توجہ ک سب بنی۔
ایک ص ح بت رہ تھ ‘ کہ فلاں علامہ ص ح ‘ خط ک
لی بلائ گی ۔ ان س خط وغیرہ س تھوڑا پہ ‘ دری فت
کی گی ‘ کہ حضرت کھ ن میں‘ کدو شریف پک لی ج ئ ۔ انہوں
ن جواب فرم ی ‘ گن رگ ر آدمی ہوں‘ میں کدو شریف ک ک
لائ ہوں۔ بس‘ کوئی آوارہ س ‘ مرغ پکڑ لیں۔ خط ک ب د‘
بڑا مختصر کھ ی ۔ ہ نڈی کی‘ بڑی عزت افزائی ہوئی۔ گھر والوں
کو‘ خدشہ پیدا ہو گی ‘ کہ کہیں ہ نڈی ہی نہ کھ ج ئیں۔ سحری
پیٹ بھر کی۔ صبح اٹھ کر‘ ن شتہ پ نی ط کر لی ۔ میزب ن ن ‘
حیرانی س پوچھ ‘ حضرت آپ ک تو روزہ ہ ۔ بول بھ ئی میں
س ر میں ہوں۔
کچھ لوگ ک رک ش ہی کی داداگیری پر گ ت گو کر رہ تھ ۔ ان
میں س ایک کہن لگ طوائف اورک رک میں کی فر ہ ۔
دوسرا دونوں سج سج ئ ہوت ہیں۔ ہ ں طوائف س ئل کی
جی ہ کی کرن ک لی اداؤں نخروں اور مسکراہٹوں س
ک لیتی ہ ۔ ک رک ب دش ہ گھرکیوں کو است م ل میں لات ہ ۔
س ئل اس ک س من بھیگی ب ی بن رہت ہ ۔ پیس دیت ہ
کھ ن کھلات ہ اس ک ب وجود خجل خواری اس ک مقدر
ٹھہرتی ہ ۔ دفتر میں بیٹھن تک کی زحمت نہیں دی ج تی۔
13
ایک پیر ص ح کی بھی ب ت ہو رہی تھی۔ ان ک ایک مرید‘
انہیں بڑا کرنی والا بت رہ تھ ۔ ان میں ایک ص ح وہ بی
س تھ ‘ وہ متواتر بحث چ ج رہ تھ ۔ ایک مقروض
ک ‘ دع ک لی آن ک قصہ چلا۔ اس ن ‘ پیر ص ح کی خدمت
میں‘ نقدی نذر نی ز پیش کی‘ اور قرض اترن کی دع ک لی ‘
گزارش کی۔ پیر ص ح ن دع فرم ئی۔ اس وہ بی ک نقطہءنظر
یہ تھ ‘ کہ یہ پیری مریدی س فراڈ ہ ۔ وہ کرنی وال ت
تھ ‘ اس مرید ن جو نذر نی ز پیش کی‘ پ س ن سہی‘ وہ
ہی میدان میں رکھ دیت ‘ اور ح ضرین کو‘ مدد کی ترغی دیت ۔
قرض تو اسی وقت اتر سکت تھ ہو سکت ہ ‘ کوئی ایک مرید
ہی‘ اس مقروض ک قرض ات ر دیت ۔ ان میں س ‘ کوئی بھی‘
اپن موقف س ‘ دست بردار ہون ک ‘ ن ہی نہ ل رہ تھ ۔
آخر‘ ب ت تپھڑوں اور گھونسوں تک پنچ گئی۔ کچھ لوگ‘ انہیں
چھڑان میں مصروف ہو گی ‘ کچھ ن ‘ کھسکن میں ع فیت
ج نی۔ دو ایک‘ لڑائی ک اسکور ج نن ک لی ‘ رک گی ۔
اس ن سوچ ‘ م رن والا سمجھت ہ ‘ کہ وہ ب لا دست رہ ‘
ح لاں کہ یہ سوچ‘ خود فریبی اور خوش فہمی س ‘ زی دہ اہمیت
نہیں رکھی۔ اس لای نی بحث اور لڑائی ک ب عث‘ سکون ک
سر پر‘ پتھر لگ ۔ م رن وال کی‘ توان ئی زی دہ خرچ ہوئی۔
دونوں فریقوں ک م بین‘ دوامی رنجشن ن راہ پ ئی۔ دونوں
فری اعص بی تن ؤ ک شک ر ہوئ ۔ جتنی ب ر م را‘ اتنی ب ر چوٹ‘
14
م رن وال کو بھی لگی۔ ب ت بھی کوئی ایسی بڑی نہ تھی۔
انہیں ایک دوسرے کو‘ دلائل س ‘ ق ئل کرن چ ہی تھ ۔ کی س را
اسلا ‘ اسی مس میں آ گھس تھ ۔
وہ آرا اور سکون کی غرض س ‘ ہوٹل میں ج بیٹھ تھ ۔ وہ ں
ہون والی ب توں اور لڑائی س ‘ مزید آوازار ہو گی ۔ وہ بوجھل
قدموں س ‘ گھر کی طرف چل دی ۔ لڑائی دیکھ کر‘ اس یقین ہو
گی ‘ کہ انس نی بستی میں‘ انس نی روپ میں‘ راکھشش بھی آ
بس ہیں‘ ی یہ بستی‘ راکھششوں ک س یہ کی زد میں‘ ضرور
آ گئی ہ ۔ سوچوں ک گہرے س ئ ت ‘ آہستہ آہستہ چ ت ہوا‘
اپن گھر ک دروازے تک‘ پہنچ گی ۔ دروازے س دروازے
تک ک یہ س ر‘ اس صدی ں ک س ر محسوس ہوا۔ قدسیہ ک
گرجن برسن ‘ یقین غ ط نہ ہو گ ۔ اس ن سوچ ‘ میں بھی کیس
شخص ہوں‘ صدی ں لای نیت میں گزار کر‘ گھر خ لی ہ تھ لوٹ آی
ہوں۔ مجھ غیر تو ی د رہ ‘ یہ ی د نہ رہ ‘ کہ بچوں ک لی ‘
چکی س آٹ لین نکلا تھ ۔ پھر وہ سر جھک ئ ‘ گھر میں
داخل ہو گی ۔
15
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
ُبہت ہی دلسوز تحریر ہ جن ۔ کی خو ق چلائی۔ یقین ج نی
تحریر پڑھ کر اپ ک ق کی ت ریف کرن کی بج ئ ،رون ک
دل چ ہت ہ ۔
تحریر ک پہلا حصہ جس موضوع پر ق ری ک دل نر کرت ہ ،
اُس پر ُکچھ کہت بھی شر محسوس ہوتی ہ لیکن اس دلسوز
حقیقت کو ج ن لین ک ب د تحریر ک دوسرا حصہ صحیح طور
س سمجھ بھی ات ہ اور دل پر اثر کرت ہ ۔ مس م ن م شرہ
اتنی بیم ریوں ک شک ر ہو ُچک ہ کہ بندہ کی کہ اور کی نہ
کہ ۔ لوگ اس قدر ب حس ہو ُچک ہیں کہ ہر م م ہ کو
حکومت کی زمہ داری قرار دے کر ،پہ و تہی کر ج ت ہیں۔ یہ ں
تک کہ کبھی کبھی ہمیں لگت ہ کہ لوگ چ ہت ہیں وہ گھروں
میں سکون س بیٹھ رہ کریں اور حکومت س کو گھر گھر
ہر مہین پیسوں کی بوری دے ج ی کرے۔ انہیں سمجھ نہیں ات
کہ ان ج نہیں اُگ ئیں گ تو نہیں کھ ئیں گ ۔ ریڑھی پر لوگوں کو
دھوک س گندے ٹم ٹر بیچن والا خود حکومت س رنجیدہ
ہ کہ وہ دھوک ب ز ہ ۔ لوگ نہیں سمجھت کہ وہ ایج دات،
ت ی ،زراعت وغیرہ میں محنت کر کہ دنی کو ُکچھ دیں گ نہیں
تو دنی انہیں موب ئل اور کمپوٹر م ت فراہ نہیں کرے گی۔ مذہبی
16
ُم ملات میں انتہ پسندی یہی ہ کہ ایک فرقہ قبر کو سجدے
تک کرن پر راضی ہ تو دوسرا قبروں کو لاتیں م رت پھرت
ہ ۔ برداشت خت ہو چکی ہ ۔ ایک انگریز بوڑھی سی خ تون
ایک دن ٹی وی پر کسی پروگرا میں بہت پی ر اور حیرت بھرے
لہج میں فرم رہی تھیں کہ اخر مس م نوں کو کیوں کمیونٹی
بن کر رہن نہیں ا رہ ہ ۔ وہ نہیں سیکھ رہ اور نقص ن بھی
وہ اپن ہی کرت ج رہ ہیں۔ اُس ک نذدیک یہ ُبہت م مولی
سی ب ت تھی کہ اتنی سی ب ت نہیں سمجھ ا رہی۔
خیر ہمیں تو ا اپن اپ س ڈر لگن لگ گی ہ کہ اگر ہ
اپن ق پر ق بو نہ پ سک تو ہم را ح ل وہی ہو گ جو س حر
اور ج ل ک ہؤا تھ ۔ لیکن خیر ،ابھی ہمیں اپن اندر موجود،
اس ب حسی پر بھروسہ ہ ،جو اس م شرہ ن ہمیں تح ہ
میں دی ہ ۔
تحریر پر ہ اپ کو ایک ب ر پھر بھرپور داد دیت ہیں۔
ُدع گو
وی بی جی
17
shukarriya janab
aap likhain aaj ke dour aur aaj ke insan ko
khakaz par zaroor montqil karain. issi
hawala se aata kal is ehad aur is ehad ke
insan ko jan sakay ga
murakh jo zamein ka sab sab bara jhota hai
os ke hawala se khuch ka khuch samnay
aata hai
os baad'bakht ne shahoon ko nabi'qareeb
bana diya hai.
yah haviya main dala ja'ay ga
mujhy yaqein hai
mein tarikh ka adna sa talib e ilm bhi hoon.
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=
8987.0
18
یہ کوئی نئی ب ت نہ تھی
ح مد ص ح اور شکیل ص ح ‘ گہرے دوست ہی نہیں‘ کلاس
فی و بھی تھ ۔ دونوں ن پہ ی جم عت س بی اے تک‘ اکٹھی
ت ی ح صل کی۔ ح مد ص ح ن ‘ لاء ک لج میں داخ ہ ل لی ‘
ج کہ شکیل ص ح ای اے ن سی ت کرن ک لی ‘ لاہور چ
گی ۔ ح مد ص ح وکیل بن کر ض ع کچہری میں وک لت ک پھٹ
لگ کر بیٹھ گی ۔ شکیل ص ح ن بھی‘ ای اے ن سی ت کر لی ۔
پھر وہ لیکچرر منتخ ہو کر‘ کسی ک لج میں خدمت انج دین
لگ ۔ جم رات کو آت ‘ اور جم ہ کی چھٹی گزار کر‘ واپس
چ ج ت ۔ درمی ن میں کوئی اور چھٹی آ ج تی‘ تو بھی گھر آ
جت ۔
ج آت ‘ ح مد ص ح س ضرور ملاق ت کرت ۔ ش ید ہی‘ کوئی
چھٹی‘ ملاق ت ک بغیر‘ گزری ہو گی۔ وہ گھر میں بیٹھن کی
بج ئ ‘ راج ٹی ہ ؤس میں‘ آ بیٹھت ۔ دو دو گھنٹ ‘ وہ ں بیٹھ
رہت ۔اتنی دیر میں‘ تین چ ر کپ چ ئ ‘ ڈک ر ج ت ۔ ان کی ب تیں‘
عمومی دل چسپی س ‘ قط ی ہٹ کر ہوتیں۔۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ
بہت ک لوگ‘ ان کی ٹیبل پر آ کر بیٹھت تھ ۔ بس دور س ‘
سلا کرک ‘ کسی دوسری ٹیبل پر‘ بیٹھ ج ت ۔ ان کی بحث میں‘
گرمی کی شدت بڑھ ج تی۔ ب ض اوق ت‘ یوں لگت ‘ جیس لڑ
19
رہ ہوں۔ غور کرن پر‘ م و ہوت ‘ وہ لڑ نہیں رہ ‘ ان ک
انداز بس لڑن ک س ہ ۔ ح مد ص ح یوں ب ت کر رہ ہوت ‘
جیس کورٹ میں کھڑے‘ اپن کسی س ئل کی بھرپور انداز
میں‘ وک لت کر رہ ہوں۔ شکیل ص ح بھی کچھ ک نہ بولت
تھ ۔ ان کی گ ت گو پر‘ کلاس میں دی ج ن وال لیکچر ک
گم ن گزرت ۔۔ ہر ب ت‘ حوال ک س تھ کرت ۔
ب تیں‘ اگرچہ عصری و شخصی مس ئل ک مت ہوتیں‘ لیکن
ان ک انداز گ ت گو‘ عوامی نہ ہوت ۔ کچر مچر م رت رہت ۔ غیر
سنجیدہ ب توں ک لی بھی‘ سنجیدہ طرز اظہ ر اختی ر کرت ۔
دوران گ ت گو‘ اگر کوئی لطی ہ ب زی کرت ‘ تو وہ بھی
جمہوریت کی طرح‘ ذو م نی اور طرح دار ہوتی۔ وہ خود ہنس
پڑت ‘ لیکن وہ ں بیٹھ کوئی شخص‘ رونی صورت بن ن کی
زحمت تک نہ اٹھ ت ۔
اس دن‘ لال دلاور کی بیٹی‘ جو اپن آشن ک س تھ‘ رات
گھر س ‘ زیور اور نقدی ل کر نکل گئی تھی‘ ان کی گ ت گو
ک موضوع تھی۔ پہ مرک ۔۔۔۔۔ نکل ج ن ۔۔۔۔۔ زیر بحث رہ ۔
پروفیسر ص ح ک موقف تھ ‘ ل ظ نکل ج ن ‘ ب پ کی ان کو‘ مزید
گرزند پنچ ن ک مترادف ہ ۔ اس س ‘ ب پ ک مورال‘ مزید
ڈاون ہو گ ۔ وکیل ص ح ک موقف یہ تھ ‘ کہ دغ دے گئی‘ فری
دے گئی‘ کہہ لو ی نکل گئی کہہ لو‘ ب ت ایک ہی ہ ۔
20
بلاکسی نتیج ‘ ب ت آگ بڑھی۔ وکیل ص ح ک نزدیک‘ ان
ک گھر ج کر‘ افسوس کرن چ ہی ۔ ق نونی امداد کی پیش کش
کرنی چ ہی ۔
پروفیسر ص ح ک کہن تھ ‘ سردست ان لوگوں کو‘ ان ک ح ل
پر‘ چھوڑ دین چ ہی ۔ وہ ش ک میں ہیں‘ اس موضوع پر ب ت
کرن س ‘ تضحیک ک س تھ س تھ‘ یہ امر ذہن کو مشت ل
کرن ک مترادف ہوگ ۔
اس بحث ک بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
ح مد ص ح ن کہ ‘ نک ح شخص ک ‘ فطری اور شخصی ح
ہ ۔ گھر والوں ن ‘ لڑک ک انتخ کر لی ی شخص ن ‘ خود
اپن جیون س تھی چن لی ‘ ب ت ایک ہی ہ ۔ اس میں انسرٹ والی‘
کی ب ت ہ ۔ اگر یہ غ ط ہو‘ تو عدالت میں‘ روزانہ ہون وال ‘
سیکڑوں نک ح نہ ہوں۔ عدالت‘ انہیں اج زت ن مہ ج ری کرتی
ہ ۔ ق نون اج زت دیت ہ ‘ ت ہی تو عدالت‘ اج زت ن مہ ج ری
کرتی ہ ۔
پروفیسر ص ح ‘ عدالت ک ج ری کردہ پروانوں کو‘ درست
تس ی کر رہ تھ ۔ وہ یہ بھی م ن رہ تھ ‘ کہ عدالت
ری ستی ق نون ک تحت ہی‘ پروان ج ری کرتی ہ ۔ انہیں‘
بچوں ک اس طریقہ ک ر س اختلاف تھ ۔ بہت س ‘ ایس
21
واق ہوت ہیں‘ جس میں والدین کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ب ض
واق ت میں صرف والد ب خبر ہوت ہ ۔
وکیل ص ح ک موقف تھ ‘ کہ بچ یہ قد اس وقت ہی اٹھ ت
ہیں‘ ج انہیں یقین ہوت ہ ‘ کہ والدین راضی نہیں ہوں گ ۔
دوسری صورت میں‘ م ئیں اور بچ ‘ اب حضور کی ہٹ دھرمی
س ‘ آگ ہ ہوت ہیں۔ دنی کہ ں س ‘ کہ ں تک پہچ گئی ہ ‘ اور
ہ ان لای نی مس ئل میں‘ الجھ ہوئ ہیں۔
پروفیسر ص ح ‘ ان ک اس موقف س ‘ مت نہ تھ ۔ ان ک
کہن تھ ‘ کہ اس ذیل میں‘ ہ دوہرے م ی ر ک شک ر ہیں۔ ہ
دوسروں ک لی ‘ اس پہ و س سوچت ہیں‘ لیکن اپن لی ‘
سوچ ک یہ انداز نہیں رکھت ۔ پروفیسر ص ح ن کہ ‘ اگر
تمہ ری بیٹی‘ اس قس کی ب وف ئی کرئ ‘ ی تمہ ری م ں کسی
س عش پیچہ ڈال ل ‘ اور پھر خ ع ک مقدمہ دائر کر دے‘ تو
تمہ را کی ردعمل ہو گ ۔
وکیل ص ح اچھل پڑے‘ اور کہن لگ ‘ یہ ت کی ب ت کر رہ
ہو۔ ب ت سوس ئٹی کی ہو رہی
ہ ‘ اور ت پرسنل ہو گی ہو۔ میری م ں بیٹی شریف ہیں‘ وہ
اس قس کی‘ کیوں حرکت کریں گی۔
پروفیسر ص ح ن ‘ ف ک بوس قہقہ داغ اور کہ سوچ ک دوہرا
م ی ر‘ س من آ گی ن ۔ دوسرا ت خود ہی‘ اس غیر شری نہ
22
حرکت‘ قرار دے رہ ہو۔ تمہ ری بیٹی اور م ں ک لی ‘ یہ
حرکت غیر شری نہ ہ ۔ سوس ئٹی کی دوسری عورتوں ک لی
شری نہ‘ اور ری ستی ق نون ک دائرے میں آت ہ ۔
قہقہ ک س تھ ہی‘ انہوں ن چ ئ ک آرڈر ج ری کر دی ۔ یہ
ان ک ‘ تیسرا کپ تھ ۔ وکیل ص ح ن کیک لان ک لی بھی
کہہ دی ۔
وکیل ص ح ‘ تھوڑے دھیم پڑے‘ لیکن وہ اپنی ب ت پر‘ اڑے
ہوئ تھ ‘ وہ م م کو‘ ذاتی ت س ب لاتر ہو کر‘ اور
سوس ئٹی ک تن ظر میں‘ دیکھن پر زور دے رہ تھ ۔
پروفیسر ص ح ‘ فقط ایک قہق ک ب د ہی‘ سنجیدہ ہو گی ۔
فرم ن لگ ‘ ی ر ہ مشرقی لوگ ہیں‘ ہم ری سوس ئٹی پدری
ہ ۔ اس مغربی سوس ئٹی پر‘ محمول نہ کرو۔ شخص جہ ں
ری ستی ق نون ک پ بند ہ ‘ وہ ں سوس ئٹی ک اصولوں کو بھی‘
کسی سطح پر نظرانداز نہیں کر سکت ۔ نظرانداز کرئ گ ‘ تو
سکھ چین س ‘ جی نہ سک گ ۔ ہم ری سوس ئٹی‘ م ں بہن اور
بیٹی کی‘ اس نوعیت کی‘ ب وف ئی کی اج زت نہیں دیتی۔ اس
سوس ٹی میں‘ ب پ ہوت ہ ‘ اور وہ ہی امور انج دیت ہ ۔ وہ
اندر ب ہر ک ‘ جوا دہ ہوت ہ ۔ اچھ برا‘ اسی ک سر پر آت ہ ۔
وہ ں‘ ب پ ث نوی درجہ بھی نہیں رکھت ۔ آج امریک ک طوطی
نہیں‘ بھونپو بولت ہ ۔ ج ؤ‘ ج کر‘ ت ریخ ک مط ل ہ کرو‘ پھر
23
تمہیں پت چل ج ئ گ ‘ کہ وہ برط نیہ س فرار‘ لٹیروں کی نسل
ہیں۔ وہ کی سوس ئٹی بن ئیں گ ‘ جن کی پیروی میں‘ ت یہ س
کہہ رہ ہو۔
اس ب ت پر‘ ح مد ص ح چمک ‘ اور بول ‘ ی ر کی بکواس کر
رہ ہو‘ میں چھ س ل‘ مغر میں رہ ہوں۔ تمہ ری بھ بی
بھی‘ ادھر س کی ہ ۔
دیکھو‘ وکیل ہو کر‘ پوائنٹ دے رہ ہو۔
کی مط
کی ت اپنی بیوی‘ ی نی میری بھ بی کو‘ اس کی م شرت ک
لب س میں‘ اس کی م شرت ک مط ب ‘ آزادی دے سکت ہو۔
نہیں‘ ب لکل نہیں۔
گوی موصوفہ کو‘ ہم رے م شرتی لب س اور اصول اپن ن پڑے
ہیں ن ۔ یہ م شرتی ض بط ہیں‘ جو اپن ن پڑت ہیں۔ ان کو
اپن ئ بغیر‘ گ ڑی نہیں چل سکتی۔
یہ راونڈ‘ بلاشبہ پروفیسر ص ح ک ہ تھ لگ تھ ۔
نک ح کی ہ
دو فریقین کی مرضی دری فت کرن ۔ دو فری ‘ بھ گ کر‘ ی کورٹ
میرج کر لیت ہیں۔ کی یہ فریقین کی مرضی کی صورت نہیں
24
ہ ۔ دکھ ؤ‘ کہ ں گئی تمہ ری پروفیسری۔ اسلا ج نک ح کو‘
مرضی قرار دیت ہ ‘ تو ہ ی ہم ری سوس ئٹی‘ اس کی راہ میں
کیس آ سکتی ہ ۔ اسلا ن بولتی بند کر دی ن ں۔
ح مد بھ ئی‘ اسلا ہر عہد ک مذہ ہ ‘ اور یہ ہر عہد ک لی ‘
جدید ترین مذہ ہ ۔ اسلا ‘ شخص کو خراف ت س نج ت دلات
ہ ۔ یہ ہی نہیں‘ یہ انس نی فطرت ک س تھ دیت ہ ۔ انس ن کی
خیر خواہی اور ظ ر مندی ک خواہ ں رہت ہ ۔
بلاشبہ‘ نک ح‘ طرفین کی ایم دری فت کرن ک ن ہ ‘ اور اس
ضمن میں‘ ہر قس ک ‘ جبر کی‘ اسلا مخ ل ت کرت ہ ۔
اسلا ‘ حج اور محر ن محر ک ب رے میں بھی‘ کچھ کہت
ہ ۔ حج کی ت کید کیوں کرت ہ ‘ ت کہ ب حی ئی ک رستہ نہ
کھل ج ئ ۔ حج نہ ہون کی صورت میں‘ مرد اور عورت
مسکراہٹ س ‘ م م ک ‘ آغ ز کریں گ ۔ پھر قری قری
بیٹھیں گ ۔ یہ بیٹھن ‘ عمومی چھون ک سب بن گ ۔ عمو
خصوص کی طرف‘ مراج ت کرئ گ ۔ ن زک اعض س ‘
مخصوص اعض کو چھون ‘ اور تصرف میں لان ک ک
شروع ہو ج ئ گ ۔ موصوفہ ک پیٹ پھول گ ۔ نوبت اب رشن تک
پہنچ گی۔ پیٹ نہ بھی پھول ‘ ویرج ک تو ضی ع ہو گ ۔ انس نی
ویرج‘ کس پ ئ کی چیز ہ ‘ کسی س ئنس دان س ‘ ج کر
پوچھو۔ وکیل ص ح ‘ نک ح س پہ ‘ یہ س ‘ کی اسلا درست
25
اور ج ئز قرار دیت ہ ۔ اسلا ن ‘ خرابی روکن ک لی ہی
تو‘ حج کو‘ ازبس ضروری قرار دی ہ ۔
ح مد ص ح ن ‘ گھڑی پر ایک نظر ڈالی‘ اور پھر ایک د
بول ‘ او م ئی گ ڈ‘ چھوٹ کو‘ ڈاکٹر ک پ س ل ج ن ہ ۔
پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئ ۔ اٹھت ہوئ ‘ پروفیسر ص ح بول ‘
ا سمجھ میں‘ یہ ب ت آ گئی ہو گی‘ کہ م دری اور پدری
سوس ئٹی میں‘ کی فر ہوت ہ ۔ ب پ ایک ذمہ دار رشتہ ہ ۔
دکھ سکھ‘ اچھ برا اس ک دامن میں ج ت ہ ۔ بیٹی ک دغ
دین پر‘ اس ش ک تو ہو گ ۔
وکیل ص ح ن ‘ جوا میں‘ کی کہ ہو گ ‘ یہ تو م و نہ ہو
سک ‘ کیوں کہ اس وقت تک‘ وہ ہوٹل س ‘ ب ہر نکل گی تھ ۔
ہ ں اتن ضرور ہ ‘ کہ چ ر چ ہیں ڈک رن ‘ اور ڈھ ئی گھنٹ
گ ت کرن ک ب وجود‘ وہ کسی حتمی نتیج ک منہ‘ نہ دیکھ
سک تھ ۔ یہ کوئی نئی ب ت نہ تھی‘ ہر ب ر‘ یہ ہی کچھ ہوت
تھ ۔
26
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
کی ہی ب ت ہ جن ۔ ُبہت خو ۔ ُبہت ب ریک م م پر ق
اٹھ ی ہ اور کی ہی خو اٹھ ی ہ ۔ یہ انداز بھی ُبہت پسند ای
جس طرح اپن م م کو ایک مق لمہ کی شکل دی اور ب ت
واضح س واضح طور تر ہوتی چ ی گئی۔ ہمیں سو فی صد
ات ہ اپ کی اس ب ت س ۔ م م کو تھوڑا وسیع کر ک
دیکھیں تو ب ت وہیں جنون و خرد کی لڑائی پر اتی ہ ۔ ہم را
ذاتی خی ل ہ کہ جنوں اورد کی طرح ہ اور عموم ً کسی چیز
ک حقیقی اور حتمی احس س ہوت ہ ۔ خرد کو دلائل چ ہیئں۔ وہی
فر جو وک لت اور ن سی ت ک اپ کی تحریر میں جھ کت
محسوس ہوت ہ ۔
ن سی ت چونکہ اس چیز ک مط ل ہ کرتی ہ :جو ہ ،:اس لیئ
حقیقت ک قری تر ہ ۔ جبکہ وک لت ک زی دہ تر زور اس پر
ہ کہ :کی ہون چ ہیئ :ح لانکہ ہم رے نذدیک :کی ہون
چ ہیئ :ک اس وقت تک ت ین ہی نہیں کی ج سکت ج تک یہ
مکمل طور پر ج ن نہ لی ج ئ :جو ہ :
اپ ن بج فرم ی کہ ہم را م شرہ ،اکہرے نہیں ب کہ دوہرے
م ی ر ک شک ر ہ ب کہ ہ تو کہیں گ کہ کئی ہرے م ی روں ک
شک ر ہ ۔ یہی وجہ ہ کہ بقول شخص :ہر شخص چ ہت ہ
27
کہ اس کی بیوی وہ ُکچھ نہ کرے جو وہ چ ہت ہ کہ پڑوسی کی
بیوی کرے اس کی وجہ ہمیں جو محسوس ہوتی ہ وہ بھی اپ
ن بی ن فرم ہی دی ہ ،کہ ہ لوگوں ن اسلا کو اپنی
ہندوست نی تہذی ک س تھ ہ اہنگ کرن کی کوشش کی ہ ۔
اسلا میں غیرت ک ایس تصور ہمیں کہیں نہیں م ت ،وہ ں ک فی
ب تیں ُکچھ مخت ف انداز میں ہیں۔
لیکن خیر یہ واق ی کوئی نئی ب ت نہیں ہ ،لیکن اپ ن اس
اپن ق ک زور س نی بن دی ہ ۔ مق لمہ ُبہت اچھ لکھ ہ
اپ ن ۔ ہمیں تو پڑھ کر ُبہت مزا ای جن ۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ ۔۔۔
ُدع گو
وی بی جی
shukarriya janab
aap ki nasar main logic hi nahain aee kamal
ki rovani aur lisani shaguftgi paida ho chali
hai. mein israr karoon ga kah aap tanqeed
ko bhi apni tarjihaat main shamil karain.
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
9000.0
28
اس پی س ہی رہن ہ
کری بخش ص ح ‘ س بقہ فوجی تھ ۔ بچوں کی ش دی س ف ر
ہو چک تھ ۔ ا دونوں می ں بیوی‘ اپن آب ئی مک ن میں‘
زندگی بسر کر رہ تھ ۔ شدید بڑھ پ ک ب وجود‘ بڑے الڑٹ
اور رکھ رکھ ؤ کی زندگی‘ بسر کر رہ تھ ۔ جہ ں کہیں‘ کوئی
مس ہ اٹھت ‘ اس ک حل ک لی ‘ پیش پیش رہت ۔ ڈسپ ن‘ ان
کی رگ وپ میں رچ بس گی تھ ۔ ان ک کہن تھ ‘ کہ ڈسپ ن ک
بغیر زندگی متوازن نہیں ہو سکتی۔ آج ب چینی‘ ب سکونی اور
چھین جھپٹی‘ ڈسپ ن س انحراف ک ب عث ہ ۔ وہ صرف
کہت ہی نہیں تھ ‘ ب کہ ان کی اپنی زندگی بھی‘ اسی ک تحت
گزری۔
سلا دع وال تھ ‘ کوئی ک بھی‘ پہ کروا سکت تھ ۔
قط ر میں کھڑے ہوت ‘ اور اپنی ب ری پر‘ ک کروات تھ ۔
ٹ ئ ک بڑے پ بند تھ ۔ جہ ں ج ن ہوت ‘ مقررہ وقت پر ج ت ۔
لوگ لیٹ ج ن میں‘ فخر محسوس کرت ہیں۔ ان ک کہن تھ ‘
جو وقت کی قدر نہیں کرت ‘ ک می زندگی گزار ہی نہیں سکت ۔
غرض ڈسپ ن اور ٹ ئ ک م م ہ میں‘ بڑے سخت واقع ہوئ
تھ ۔ وہ صرف کہن کی حد تک نہ تھ ۔ اور کوئی پرواہ کرے
ی ن کرے‘ خود کوت ہی نہ کرت تھ ۔
29
صبح ٹھیک پ نچ بج آٹھ کر‘ جم ہ ح ج ت س ف ر ہو کر‘
بیٹھک کی ص ئی کرت ۔ مج ل ہ ‘ گرد ی کوئی تنک تک‘ کہیں
نظر آ ج ت ۔ پھر نہ دھو کر‘ دھ اور استری شدہ کپڑے پہن
کر‘ بیٹھک میں ج بیٹھت ۔ یوں ج دی ج دی تی ری کر رہ
ہوت ‘ جیس دفتر ج ن ہو اور کہیں لیٹ نہ ہو ج ئیں۔ بیٹھک
میں‘ میز کرسی لگی ہوتی‘ جس پر کت ‘ ق اور ایک ڈائری
پڑی ہوتی۔ لوگوں ک ‘ ان ک پ س آن ج ن رہت تھ ۔ کوئی‘ خط
لکھوان ک لی آ رہ ہ ‘ تو کوئی خط پڑھ ن ک لی ۔
لوگ‘ اپن ک موں ک س س میں‘ درخواستیں لکھوان ک
لی آن ۔ غور وفکر ک ب د‘ درخواستیں لکھت ۔ درخواست
میں‘ کم ل ک نقط اٹھ ت ۔ پڑھ کر‘ عقل دنگ رہ ج تی۔ وہ
لوگوں ک یہ چھوٹ موٹ ک ‘ م ت میں کرت تھ ۔ ج
ف ر ہوت ‘ کت پڑھن بیٹھ ج ت ۔ ان ک پ س‘ کت بوں ک
اچھ خ ص ‘ ذخیرہ تھ ۔ ان میں‘ ش عری‘ ن ول اور ت ریخ کی بھی
کت بیں تھیں۔
اصولی ب توں پر سمجھوت کرن ‘ انہوں ن سیکھ ہی نہ تھ ۔
ایک ب ر‘ وہ اپن بیٹ س بھی خ ہو گی ۔ ہوا یہ‘ کہ ان ک
بڑا بیٹ ‘ جو بڑا م ڈرن قس ک تھ ‘ الله ک ‘ اے چھوٹ ڈالت تھ ۔
انہوں ن اس ‘ کئی ب ر‘ الله ک اے‘ بڑا ڈالن ک لی کہ ۔ اس
ک ب وجود‘ وہ الله ک اے چھوٹ ڈالت رہ ۔ انہوں ن اس بڑے
سخت انداز میں ڈانٹ ۔
30
جواب ط ہر ن کہ :ابو بڑا ہو ی چھوٹ ‘ اس س کی فر پڑت
ہ۔
کی فر پڑت ہ ‘ یہ ت کی پکت ہو۔ کی الله اس خ ص نہیں ہ !
اگر ہ تو اصولی طور پر‘ اے بڑا ہی ڈالن چ ہی ۔ یہ اصول کی
کھ ی خلاف ورزی ہ ۔
دوسرا جو شخص‘ اپن الله کی‘ عزت نہیں کرت ‘ گوی وہ اپنی
عزت نہیں کر رہ ہوت ۔ ایس شخص‘ دوسروں کی خ ک عزت
کرے۔ زندگی ک ہر قرینہ‘ اد س وابستہ ہ ۔ ۔۔۔۔۔۔ب اد ب مراد‘
ب اد ب نصی ۔
اس س ‘ انہوں ن ‘ بول چ ل ہی بند کر دی۔ ط ہر ن ‘ توبہ کی
اور اس گست خی کی‘ ہ تھ جوڑ کر م فی م نگی۔ دیکھن میں‘
یہ کوئی‘ ایس بڑا م م ہ نہیں لگت ‘ لیکن اپنی اصل میں یہ
م م ہ م مولی نہیں ہ ۔
ایک دن میں اور فتح خ ں‘ ان کی بیٹھک میں ج بیٹھ ۔ وہ
مط ل ہ کر رہ تھ ۔ سلا ک جوا دین ک ب د‘ بیٹھ ج ن
ک اش رہ کی ۔ پیرہ خت ہون ک ب د‘ انہوں ن ہم ری طرف
بڑی ش قت اور پی ر س دیکھ ۔ اس ک ب د‘ چ ئ پ نی ک
پوچھ ۔
ہ ن کہ :نہیں جن ‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
31
پھر مجھ مخ ط کرک بول :جی م سٹر ص ح ‘ آج آن کی
کیس زحمت اٹھ ئی۔
سر ایک مس پر‘ آپ س گ ت گو کرن ک ‘ ارادہ ل کر
ح ضر ہوئ ہیں۔
تو پھر بلاتک ف کہی
بچپن میں ایک کہ نی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی س کوا۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھ کرت تھ ۔ آج
بھی‘ وہ ہی کہ نی‘ کورس میں ش مل ہ ۔
م سٹر ص ح ‘ یہ کہ نی‘ ہم رے کورس میں بھی ش مل تھی اور
اس کہ نی کو‘ کورس میں ش مل رہن ہ ۔ کوئی ع آدمی ہوت ‘
تو ہمیں ڈانٹ پلا کر کہت ‘ یہ بھی کوئی سوال ہ ۔ ہوش ک
ن خن لیں‘ اور کوئی ڈھ ک سوال کریں۔ انہوں ن تو دانش ک
دری بہ دی ۔ ان کی گ ت گو میں‘ کم ل کی روانی تھی۔ سچی
ب ت ہ ‘ میں عش عش کر اٹھ ۔ مجھ اپنی کوڑ مغزی پر‘ دکھ
ہوا۔ مجھ تو‘ ہ ت میں ایک دو ب ر‘ ان ک پ س بیٹھن چ ہی
تھ ۔
کہن لگ تمہیں ی مجھ ‘ گنتی ک س لوں س ‘ کوا پی س
نظر آ رہ ہ ۔ کوا تو ہزاروں س ل س ‘ پی س ہ اور اس
پی س ہی رہن ہ ۔ وہ اس مشقت میں پڑا آ رہ ہ ۔ الله تمیں‘
مزید سو س ل زندگی دے۔ لکھ لو‘ سو س ل ب د بھی‘ ت کوے کو‘
پی س ہی دیکھو گ ۔ محنت ک ب د بھی‘ کنکری ں چوسن کو
32
م تی ہیں۔ وہ بھی تو پی سی ہوتی ہیں۔ پ نی س م لاق ت ک
ب د‘۔۔۔۔۔۔۔ اول خویش ب د درویش۔۔۔۔۔۔ ک مصدا ‘ وہ اپنی پی س
بجھ ئیں گی۔ اہل ثروت‘ گھڑا خ لی کرک ‘ گی تھ ۔ گھڑا انہوں
ن ‘ خود س نہیں بھرا تھ ۔ گھڑا بھر کر لان والا‘ کوئی اور
ہوت ہ ۔ بھرن وال کو‘ اس میں س ‘ ایک گھونٹ نہیں م ت ۔
ح لاں کہ پہلا استحق ‘ اسی ک ہوت ہ ۔ استحق ک تس ی نہ
ہون ‘ ہی تو م شی ڈسپ ن کو ڈسٹر کرن ک مترادف ہ ۔
کی شداد ن ‘ اپن خون پسین کی کم ئی س ‘ ار ت میر کی
تھ ۔
نہیں‘ ب لکل نہیں۔ کم ئی تو لوگوں کی تھی۔
فرعون‘ جس ٹھ ٹھ س رہت تھ ‘ اس ک تصور بھی‘ آج ک
حک ران نہیں کر سکت ۔ مرت تو‘ ن صرف عم رت ت میر ہوتی
س ز و س م ن اور خدا بھی‘ س تھ میں بند کر دی ج ت ۔ کی یہ
س ‘ ان کی کم ئی س کی ج ت تھ ۔ انہیں‘ کوے کی پی س س
کوئی غرض نہ تھی۔
یون ن ک برسر اقتدار طبق ک ‘ رہن سہن کھ ن پین اور ش ن و
شوکت مث لی تھی۔ یہ س ‘ انہیں ذاتی مشقت ک ص ہ مل رہ تھ ۔
کوے کو‘ گھڑا ت بھی خ لی م ت تھ ۔ یہ تو ک فی پہ کی ب تیں
ہیں‘ کی ش ہ جہ ں ن ‘ پ داری کرک ‘ پیس کم ئ اور پھر
33
اس س ‘ ت ج محل ت میر کی ۔ لوگوں ک م ل تھ ‘ اسی لی م ل
م ت دل ب رح کی سی ب ت تھی۔
م کہ نور جہ ں‘ جس جہ ں گیر ن ‘ اس ک خ وند کو‘ جنگ
میں مروا کر‘ ح صل کی ‘ اس ک مقبرہ اتنی لمبی چوڑی زمین پر
ت میر کروای ‘ جو خرچہ اٹھ ‘ کی وہ اس کی محنت کی کم ئی
‘س
اٹھ تھ ۔ نورجہ ں ہو‘ کہ ممت ز محل‘ نبی زادی ں تھیں‘ نبی زادی
کی تو قبر بھی ب ڈوز کر دی گئی۔ پ نی بھرن والوں کو‘ ایک
گلاس پ نی نصی نہ ہوا۔ کوے کو کس طرح میسر آ ج ت ۔ گورا
ہ ؤس اور اس ک گم شتوں ک ‘ ایوان ج کر دیکھو‘ پھر
سوچن ‘ کوا آج بھی‘ ترقی ی فتہ دور میں‘ کیوں پی س ہ ۔
ع آدمی ک حصہ میں‘ جوٹھ میٹھ بھی‘ بڑے سرفہ کی آتی
ہ ۔ جوٹھ میٹھ پر‘ ایوانوں ک گم شت ٹوٹ پڑت ہیں۔ وہ ں
س ‘ جو بچت ہ ‘ وہ لوگوں کو میسر آت ہ ۔ ایس ح لات
میں‘ کوے کی پی س‘ کس طرح بجھ سکتی ہ ۔ یہ س ‘ م شی
ڈسپ ن میں خرابی ک سب ہوا‘ اور ہو رہ ہ ۔
سر آپ جو فرم رہ درست فرم رہ ہیں۔ کی یہ پی س‘ آب دی
بڑھ ج ن ک سب نہیں ہ ۔
ن ں ن ں‘ ن ں یہ س بکواس‘ اور الله ک راز ہون س ‘
انک ر ک مترادف ہ ۔ ہر پیدا ہون والا‘ اپن رز ل کر پیدا
34
ہوت ہ ۔ ایس ہو ہی نہیں سکت ‘ کہ اس ک رز ‘ اس ک س تھ
نہ آئ ۔ اس ک رز ار بن ن والوں‘ ی اس ک رز کھ کر‘ مر
ج ن والوں کو‘ فراہ کی ج ت ہ ۔ م سٹر ص ح ‘ یہ ں شخص
ہزاروں س ل س ‘ بھوک پی س ہ ۔ ایس ح لات میں‘ کوے کی
پی س کون دیکھت ہ ۔ اس پی س ہی رہن ہ ۔ الله ن ‘ اس ک
حصہ میں پی س نہیں رکھی۔ م شی ڈسپ ن کو‘ تب ہ کرن ک
ب عث‘ کوے کی پی س نہیں بجھ رہی۔
ب تیں ہو رہی تھیں‘ کہ فج آرائیں آ گی ۔ اس ن سلا بولای ‘ اور
راشن ک رڈ ک مط ب ‘ راشن نہ م ن ک خلاف درخواست
لکھن کی‘ گزارش کی۔ فوجی ص ح ن ‘ ب ت وہیں خت کر دی
۔ ہمیں مخ ط ہو کر کہ ‘ سوری م سٹر ص ح ‘ م شی ڈسپ ن
کی خرابی ک ‘ کیس آ گی ہ ۔ پہ اس نپٹ ن کی ضرورت
ہ ۔ پھر وہ‘ درخواست لکھن میں مصروف ہو گی ۔ ہمیں یوں
نظرانداز کر دی ‘ جیس ہ وہ ں موجود ہی نہ ہوں۔
35
مکر بندہ حسنی ص ح :سلا مسنون
آپ س شرمندہ ہوں کہ کئی ہ توں س ح ضری نہ دے سک ۔آپ
کی نثری نگ رش ت دیکھت تھ لیکن زندگی ک دوسرے تق ض
اتنی مہ ت نہ دیت تھ کہ لکھوں۔ آپ حس م مول نہ یت ذمہ
داری اور دلسوزی س ہم رے م شرہ ک ح لات پر لکھ رہ
ہیں۔ حقیقت ہمیشہ ت خ ہوتی ہ لیکن اس س م ر بھی نہیں
ہ ۔ میں بھی اسی م شرہ ک فرد ہوں جس ک م ت آپ کرت
رہت ہیں۔ ا تو ایس نظر آن لگ ہ کہ ہم را الله بھی مح فظ
نہیں ہ کیونکہ ہ خود اپنی ذمہ داریوں س ہ تھ کھینچ چک
ہیں۔ یہ کوا پی س تھ ،پی س ہ اور پی س ہی رہ گ ۔
آپ کی تحریر میں بہت درد ہوت ہ اور ہر ب ت آپ ک دل س
نک ی ہوئی لگتی ہ ۔ نئی نسل ہم راہی عکس ہ ۔ ہ ن ان ک
لئ جو روای ت چھوڑی ہیں وہ ان س الگ کیونکر ہو سکت
ہیں۔ لوگوں س ج ذکر ہوت ہ تو ہم رے یہ ں بندھ ٹک جم ہ
ہوت ہ کہ "دع کیجئ " اور ظ ہر ہ کہ صرف دع س کی
ہوت ہ ۔ اونٹ تو بھ گ چک ہ ۔ ا ہ لاکھ دع م نگیں وہ لوٹ
کر نہیں آن ک ۔ الله الله خیر سلا۔
سرور ع ل راز
36
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
ُبہت ہی ش ندار تحریر ہ ۔ ایک تو جس طرح یہ کہ نی کوے ک
پی س ہون کی تشریح کرتی ہ ُبہت ہی خو ہ اور پھر
اختت تو سبھ ن الله ۔۔ ہم ری طرف س بھرپور داد۔ محتر
سرور ع ل راز سرور ص ح کی ب توں س بھی است ضہ
ح صل کی ۔
اپ کی ب تیں بج ہیں۔ ح ک ہمیشہ محکو کی کی وجہ س ح ک
رہ ہ اور رہ گ ۔ ہمیں اس س کی کہ ہم ری ت ریخ میں کی
ُکچھ بھرا پڑا ہ ۔ ہمیں اس س کوئی غرض نہیں کہ ہ رون
الرشید اور م مون الرشید ک دور میں فرقہ م تض ہ کی کی
حیثیت تھی۔ خ ندان برامکہ ک س تھ کی ہؤا۔ کیس کی لاش ب زار
میں کتن دن لٹکی رہی۔ اور حضرت ام احمد بن حنبل ک
س تھ کی کی گی ۔ ہمیں صرف ان ک دور حکومت کی ت ریف
کرنی ہ کیونکہ وہ مس م ن خ تھ ۔ ہمیں مغ یہ دور کی بھی
ت ریف کرنی ہ ہ کیوں ج نیں ی م نیں کہ نور جہ ں شیر افغن
کی بیوی تھی ی نہیں۔ اس کس ن کیوں قتل کروای ۔ ہمیں ان
کی ت ریف ہی کرنی ہ ۔ اپ کئی ب ر کہہ ُچک ہیں کہ مورخین
ن ُبہت ظ کی ہ ۔ ب لکل ُدرست کہت ہیں اپ۔
37
جن کوا پی س رہ گ ۔ ُدرست۔ لیکن کوے کو پ نی کی تلاش
ج ری رکھنی چ ہیئ اور ہ اس ک لیئ کوش ں رہیں گ ۔
قدرت ک کھیل ہی ایس ہ ۔ کوے کو پی س دی ہ اور امتح ن
یہی ہ کہ اس پ نی پلا کر دکھ ؤ تو ت ک می ۔ یہی جہت ہ
یہی جہ د۔
ہم ری نظر میں یہ اپ کی زور دار تحریروں میں س ایک ہ ۔
ش ندار ہ ۔ ہم ری طرف س بھرپور داد
کت کی اش عت مب رک ہو۔ ہم رے خی ل میں اپ قصور میں
رہ ئش پذیر ہیں۔ ہم را مس ئہ ُکچھ ایس ہ کہ ہم را کوئی پتہ
نہیں ہ ۔ ج د دری فت کریں گ اور اپ کو ضرور مط ع فرم ئیں
گ ۔ ہم ری دلی خواہش ہ کہ ہ :خوشبو ک امین :پڑھ کر اپ
جیس ق ک ر س است ضہ ح صل کر سکیں۔
ایک ب ر پھر بھرپور داد ک س تھ
ُدع گو
وی بی جی
38
جن کوا پی س رہ گ ۔ ُدرست۔ لیکن کوے کو پ نی کی تلاش
ج ری رکھنی چ ہیئ اور ہ اس ک لیئ کوش ں رہیں گ ۔
قدرت ک کھیل ہی ایس ہ ۔ کوے کو پی س دی ہ اور امتح ن
یہی ہ کہ اس پ نی پلا کر دکھ ؤ تو ت ک می ۔ یہی جہت ہ
یہی جہ د۔
wah wah wah
kya baat hai janab
bohat khoob
yahhi haq hai, yahhi sach hai, yahhi waqt ki
zarorat aur sachaee rahi hai
chahta hoon, april 2013 main shay honay
wali kitab......zoban e ghalib ka lisani o
shakhtyati motala...... bhi motala ke liay
paish karoon, jab bhi jo surat bani arsal kar
doon ga..