The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-05-22 14:22:56

afsanay (1)

afsanay (1)

‫‪301‬‬

‫میں ن کہ ی ر یہ ج ئیداد اپن جیت جی ان میں تقسی کر دو۔‬

‫کیوں تقسی کر دوں۔ ج ئیداد میری ہ کسی کو دوں نہ دوں‬
‫میری مرضی۔ اگر میں ن تقسی کر دی تو ان میں س کسی‬

‫ن پوچھن تک نہیں۔ گھر س ب ہر نک ل دیں گ ۔‬

‫اس کی ب ت میں د بھی تھ اور خ بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں کر‬
‫سک کہ ان میں زی دہ کی تھ ۔ اس ک پ س میں قریب بیس پچیس‬

‫منٹ اس خوف ک س تھ بیٹھ رہ کہ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ ت‬
‫بھی دو چ ر س ل ک ہیر پھیر س میرے ہ عمر ہو ابھی مرے‬
‫کیوں نہیں۔ ش ید اس لی نہ بولا کہ میرے پ س ہ ہی کی ۔ زندہ‬

‫ہوں کچھ ن کچھ تو لات ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا برداری س‬
‫تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا اور کوئی اتنی ب عزتی کیوں کراے گ ۔‬
‫شوہر ک ب عزتی کرائی ک لی پہ سوال کی طرح بہرطور‬

‫لازمی ہ ۔‬

‫ا اس صورتح ل ک تحت میں کی عرض کر سکت ہوں ت ہ‬
‫مجھ بڈھ کی اولاد میں کمی اور خرابی نظر آئی۔ جو خود‬
‫محنت اور مشقت کرن کی بج ئ اوروں کی کم ئی پر مستقبل‬
‫سنوارن کی آش کرن وال زندگی میں ن ک رہت ہیں۔ یہ اور‬

‫دو قس ک ہوت ہیں۔‬

‫ایک ب ب وغیرہ‬

‫دوسری دفتر ش ہی وغیرہ۔‬

‫‪302‬‬

‫ث نی الذکر کو اوروں میں شم ر نہ کریں۔ س ی ین س وصولی ں‬
‫وغیرہ دفتری لوگوں ک اصولی استحق ہوت ہ ۔ پڑھ ئی لکھ ئی‬
‫اور نوکری کی حصولی پر خرچہ کرک اگر بہت ی بہت س بڑھ‬

‫کر وصولا نہ گی تو کی ف ئدہ‬

‫ب ب ک اپن نم اپن خود کو پنج سرونٹس ہ ؤسنگ‬
‫ف ؤنڈیشن وال سمجھت ہیں جو سراپ دیسی گھی کی کڑاہی‬
‫میں ہیں۔ کم وں کو اتنی ب ت سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرک ری‬
‫لٹیرے ہیں۔ انہیں تو پوچھ کرن والوں ک اشیرب د ح صل ہ ۔‬
‫دوسرا وہ لوگوں ک ک کرت ہیں۔ تیسری بڑی ب ت یہ کہ وہ تو‬
‫بھرتی ہی لوٹ مچ ن ک لی ہوئ ہیں۔ لوٹ سیل تو ان ک‬

‫فرائض منصبی میں داخل ہ ۔‬

‫م نت ہوں ب ب ک م ل بھی لوٹ ک ہ لیکن وہ م ل تو ہ اور‬
‫م ل بھلا کون کسی کو دیت ہ ۔ گچی پر ن خن آئ تو ہی کھیسہ‬
‫ڈھیلا ہو سکت ہ ۔ کم ب ب کو کسی پھسنی میں پھ س ئیں‘‬

‫خود ہی جڑے گ ۔ مجھ ب ب ک اپنوں پر افسوس ہوت ہ ۔‬
‫بیم ر ب ب ان س برداشت نہیں ہو رہ ۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس‬

‫کی ب ت ہ ۔ پ کست ن کو بن ایک صدی ن سہی کچھ ہی س لوں‬
‫ب د ہو ج ئ گی‘ بیم ر لاغر اور دمہ گزیدہ دفتر اور افسر ش ہی‬

‫س ک چل رہ ہ اور خو چل رہ ہ ۔ انہیں اپن بیم ر‬
‫لاغر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھ س ک چلات ہوئ مری پڑتی‬

‫ہ ۔ بیم ر لاغر اور دمہ گذیدہ دفتر اور افسر ش ہی ک مرن‬

‫‪303‬‬

‫ک دور تک آث ر نہیں۔ سچی کہوں گ چ ہ بڈھ ک گھر‬
‫والوں کو غصہ ہی لگ ‘ ب ب ک مرن ک مجھ دور تک‬

‫آث ر نظر نہیں آئ ۔ ان کنبوں ک مستقبل اسی طرح تذبذ کی‬
‫ص ی پر لٹک رہ گ اور یہ میں پورے یقین ک س تھ کہہ رہ‬

‫ہوں۔‬

‫‪304‬‬

‫چپ ک م ہدہ‬

‫ہم ری س تھ کی گ ی میں ایک ص ح رہ کرت تھ جو آنٹ جی‬
‫ک ن س م روف تھ ۔ کی ک کرت تھ ۔ کوئی نہیں ج ن‬
‫پ ی ن ہی کسی ک پ س اتن وقت تھ کہ ان کی کھوج کو نک ت ‘‬
‫ان کی بیگ اتنی م نس ر نہ تھی کہ اس ک پ س عورتیں آ کر‬
‫بیٹھ ج تیں۔ وہ کسی س کوئی ب ت ہی نہ کرتی تھی۔ اگر کوئی‬
‫عورت اس ک پ س ج تی تو مسکرا کر م تی۔ آن والی کی‬
‫ب تیں سن لیتی لیکن خود ہوں ہ ں س زی دہ ب ت نہ کرتی۔ مح ہ‬
‫میں کسی عورت س م ن ی اس ک دکھ سکھ میں نہ ج تی۔‬
‫ہ ں آنٹ جی کوئی مر ج ت تو اس ک جن زہ ہر صورت میں اٹنڈ‬
‫کرت اور بس وہیں س گھر لوٹ ج ت ۔‬

‫ش کو گھر آت اور پھر تھوڑی ہی دیر ب د بیٹھک میں آ بیٹھ‬

‫ج ت اور دیر تک اکی ہی بیٹھ رہت ۔ ہ ں مح ہ ک چھوٹ‬
‫چھوٹ بچ ان کی بیٹھک میں جمع رہت اور وہ ان ک س تھ‬

‫بچوں کی طرح کھی ت ان ک س تھ خو موج مستی کرت ۔‬
‫جی میں کھلا رکھت بلا ت ری بچوں کو پیس دیت ۔ چھٹی‬
‫والا دن ان بچوں ک س تھ بیٹھک میں گزارت ۔ کسی بچ کو‬
‫کوئی م رت تو لڑ پڑت چ ہ اس بچ ک ب پ ہی کیوں نہ ہوت ۔‬

‫میں ن غور کی ایک بچ ک س تھ وہ خصوصی برت ؤ کرت ۔‬
‫وہ بچہ بھی ان ک س تھ بڑا م نوس تھ ۔ ایک ب ر میں ن دیکھ‬

‫‪305‬‬

‫کہ اس بچ ک ن ک بہہ رہ تھ اور وہ اس ک ن ک بڑے پی ر‬
‫س اپن روم ل ک س تھ ص ف کر رہ تھ ۔ میں ان کی‬
‫بیٹھک میں داخل ہو گی ۔ انہوں ن بڑی اپن ہت س بیٹھن کو‬
‫کہ اور دوب رہ س اس بچ ک ن ک ص ف کرن لگ ۔ میں ن‬

‫پوچھ ہی لی کہ یہ آپ ک بچہ ہ ۔ انہوں ن میری طرف‬
‫دیکھن کی بج ئ اس بچ س پوچھن لگ تمہ ری م ں‬
‫کو میں ن دیکھ ہوا ہ ۔ بچ ن ن ی میں سر ہلای ۔ ج میں‬
‫ن اس کی م ں کو دیکھ ہی نہیں تو اس کی کیس دیکھ لی۔‬
‫پھر میری طرف دیکھ اور کہ نہیں جی یہ میرا بچہ نہیں ہ ۔‬
‫مجھ ان کی اس حرکت پر حیرت ہوئی اور میں چپ چ پ اٹھ‬
‫کر وہ ں س چلا گی ۔ مجھ ان کی یہ حرکت بڑی عجی لگی۔‬

‫یہ حرکت تھی بھی عجی نوعیت کی تھی۔‬

‫ایک دن م و ہوا آنٹ جی فوت ہو گئ ہیں اور بیٹھک میں ہی‬
‫ان کی موت ہوئی۔ کی وہ اندر نہیں سوت تھ ۔ اس روز وہ‬

‫آنٹی دھ ڑیں م ر م ر کر روئی اور انہیں اکلاپ ک احس س ہوا۔‬
‫وہ ان کی تھی تو بیوی لیکن بیوی ک اطوار نہ رکھتی تھی۔ وہ‬

‫اس ک ہر قس ک خرچہ پ نی‬

‫اٹھ ئ ہوئ تھ ۔‬

‫دس بیس س ل پہ منہ میں ڈھ ئی گز زب ن رکھتی تھی۔ اس ک‬
‫آگ پچھ کوئی بھی نہ تھ ۔ ب نجھ بھی تھی۔ اس ک ب وجود انہوں‬

‫ن اس برداشت کی ہوا تھ ۔ تین ب ر طلا طلا طلا کہن‬
‫س ہمیشہ ک لی خلاصی ہو سکتی تھی۔ وہ ان کی خ لہ کی‬
‫ل پ لک بیٹی تھی۔ م ں ن مرت وقت بیٹ س اپن سر پر‬

‫‪306‬‬

‫ہ تھ رکھ کر قس لی تھی کہ کبھی اور کسی صورت میں اس ک‬
‫س تھ نہیں چھوڑے گ ۔ بس آنٹ جی ک منہ کو ت لا لگ گی اور‬
‫وہ بیٹھک اور مح ہ ک بچوں ک ہو رہ ۔ آنٹی اور آنٹ جی‬

‫ک درمی ن چپ ک م ہدہ ہو گی تھ ۔‬

‫ا وہ دروازے کی دہ یز پر بیٹھی رہتی تھی۔ ج بھی کوئی آنٹ‬
‫جی ک ذکر کرت تو زار و قط ر رون لگتی لیکن منہ س کچھ‬
‫نہ کہتی۔ بڑی ب ت ہ کہ اتن بڑا س نحہ گزر گی آنٹ جی ہمیشہ‬

‫ک لی چ گئ پھر بھی اس ن چپ ک م ہدہ نہ توڑا۔‬

‫‪307‬‬

‫ب زگشت‬

‫وہ ستمبر کی بھیگی سی ش تھی۔ روم ن کی پری ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چندا‬
‫کی اج ی اج ی نکھری نکھری روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھ مچولی‬

‫کھیل رہی تھیں۔ چندا ان کی روح شکن اٹھکی ی ں دیکھ‬
‫کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م نوشی پر اتر آی تھ ۔ م کی ننھی منی‬

‫بوندیں۔۔۔۔۔۔۔۔گلا ک پرشب چہرے پر ٹپک رہی تھیں۔ یوں‬
‫محسوس ہو رہ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلا مدہوش ہو کر اپنی ہستی کھو‬
‫دے گ ۔ گلا کی وہ آخری ش تھی۔ یہ دستور زم نہ رہ ہ کہ‬
‫ج گلا شب کی حدوں کو چھوت ہ تو گ چیں آ ٹپکت ہ ۔‬
‫پھر وہی پھول زندگی ک مخ تف ش بوں میں غلامی کی س نسیں‬
‫گزارت ہیں۔ ان کی آہ و بک سنن والا کوئ نہیں ہوت ۔ ٹہنی‬
‫س بچھڑے پھول کی اوق ت ہی کی ہوتی ہ ۔ کچھ سہرے کی‬

‫لڑیوں ک مقدر بنت ہیں تو کچھ حسرتوں ک مزار‬
‫پر۔۔۔۔۔۔۔۔اگست کی دھوپ میں۔۔۔۔۔۔۔۔نش ن عبرت بنت ہیں۔ وہ آہ‬

‫بھی نہیں کر پ ت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں بھی کیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون سن‬
‫گ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش خ س بچھڑے پھول ک پ س یہ ح نہیں ہوت ۔‬

‫اگر وہ ش خ پر ہوت تو اس کی کوئ حیثیت بھی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئ‬
‫مق ہوت ۔ میں بھی ش خ س جدا ایک ب ب س پھول ہوں۔ قط ی‬

‫‪308‬‬

‫مجبور ب بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاچ ر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپن احوال کہن ک مجھ س‬
‫حقو چھین لی گی ہیں۔ میں منہ میں زب ن رکھ کر بھی گونگ‬
‫ہوں۔اگر آواز اٹھ ؤں گ تو کون سن گ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ں کسی ک پ س‬

‫اتن وقت کہ ں جو وہ کسی ش خ بریدہ کو خ طر میں لاءے۔‬

‫اس ش دن بھر کی ف ءل ک ری ن ذہن پر ایک بوجھ س ڈال‬
‫رکھ تھ اور میں صوف پر نی درازز خود کو جھوٹی تس یوں‬
‫س بہلان کی ن ک س ی کر رہ تھ ۔ چ ر سو پھی ی چندا کی‬

‫روم ن پرور کرنیں‬

‫میرے دل ودم پر ہتھوڑے برس رہی تھیں۔ میرے گرد تنہ ئ‬
‫کی آگ پھیل رہی تھی۔ ب غی دل و دم پر ق بو پ ن دشور ہو چلا‬

‫تھ ۔ کئ ب ر سوچ لاءٹ آن کرک خود کو مصنوعی روشنی ک‬
‫ح قوں میں گ کر دوں۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ میں ایس نہ کر سک ۔۔۔۔۔۔ایس کرن‬

‫ممکن ہی نہ تھ ۔ اگر ہر چیز انس ن ک بس میں ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫مس ءل کبھی جن نہ لیں۔ مجبوری ہی درحقیقت مس ءل کی جڑ‬
‫ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں مجبوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ب بسی کی دراز ب ہوں ک حص ر‬

‫س بچ نک ن منی من ک کوئ کھیل نہیں۔‬

‫پھر اچ نک کسی ن میرے ش ور دریچ پر دستک دی۔ کئ‬
‫چہرے میری آنکھوں ک س من رقصں کرن لگ ۔ میں گہری‬

‫سوچ میں ڈو گی ۔ کون ہو سکت ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پھر کسی ن‬
‫چپک س میرے ک ن میں سر گوشی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ی ر اپن ع مر‬

‫‪309‬‬

‫کی چ پ کو نہیں پہچ نت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہ را۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں تمہ را اپن ع مر۔‬
‫وہ ع مر ہی تھ ۔ جو صدیوں س زندگی کی برہنہ لاش کو اپن‬
‫نحیف کندھوں پر اٹھ ءے مس سل اور متواتر دوڑے چلا ج رہ‬
‫تھ ۔ا وہ ک فی لاغر ہو گی تھ ۔ چہرے کی سرخی ہ دی ہو گئ‬
‫تھی۔ یوں محسوس ہوت تھ جیس اس ک جس س کسی ن‬

‫پورا خون نچوڑ لی ہو۔ اس ک قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ اس‬
‫ک وجود لرز رہ تھ ۔ خود میرے اپن اعض بھی تو ڈھی پڑ‬
‫گی تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔چند لمح ۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں چند لمح خ موشی کی لحد‬

‫میں اتر گی ۔ پھر اس ن خ موشی ک ق ل توڑا۔‬

‫ش ہد ج گ رہ ہو؟ مگر کیوں‘ سو ج ؤ۔ ک تک یوں ہی گھ ت‬
‫رہو گ ۔ میں تمہ را اپن ہوں مجھ س بھی اپن دکھ چھپ ت ہو۔‬

‫اس دکھ س آزادی ح صل کرو ورنہ میری طرح ت بھی اپن‬
‫وجوو میں نہ رہو گ ۔ تمث لی زندگی بڑی کٹھن ہوتی ہ ۔ یہ‬

‫سسکن بھی نہیں دیتی۔‬

‫سو ج ؤ دوست ا سو ج ؤ‬

‫یہ ت کیسی ب تیں کر رہ ہو۔ کچھ کہو۔۔۔۔۔۔ کچھ تو کہو‬

‫ک تک سنو گ ۔ کی کچھ سنو گ ۔ فرزانہ ن خود کشی کر لی‬
‫ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی۔۔۔۔۔۔۔‬

‫!یہ ت کی کہہ رہ ہو؟‬

‫‪310‬‬

‫سچ کہہ رہ ہوں۔ اس کی آواز میں بیکراں کر تھ ۔‬

‫ش ہد بھلا کی کر سکت تھ ۔ سسک کر رہ گی ۔‬

‫فرزانہ بڑے اع ی اخلا و ذو کی م لک تھی۔ اس ن ع مر کو‬
‫تنہ ئ ک بحر عمی س نک ل کر گلابوں ک دیس میں لا کھڑا‬

‫کی تھ ۔ اس ک دامن مسکرہٹوں س بھر دی تھ ۔‬

‫ع مر ن ب ت ج ری رکھی اور دل پر پتھر رکھت ہوءے بت ی‬

‫اس روز ک فی گرمی تھی۔ فرزانہ اپن ابو ک سر دب رہی تھی۔‬
‫اس ک ک نوں س شمی کی کرخت آواز ٹکرائ۔ فرزانہ اس ک‬

‫تیور دیکھ کر لرز ہی تو گئ۔‬

‫فرزانہ مجھ تخ یہ میں ت س کچھ کہن ہ ۔“ فرزانہ اس “‬
‫اپن کمرے میں ل آئ۔ چند لمح خ موشی ط ری رہی پھر‬
‫اس ک زہر آلود ال ظ س خ موشی ک بت ٹوٹ ۔‬

‫سنو فرزانہ! آج میں ت س آخری فیص ہ کرن آئ ہوں۔ اگر “‬
‫ت ن میری ب توں پر عمل نہ کی تو ج نتی ہو کی ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔ت‬

‫ذلت ک گہرے کھڈ میں ج گرو گی۔ تمہ رے س تھ وہ کچھ ہو گ‬
‫جس ک ت تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ ج ن رکھو ب کسی ک‬
‫“ع ل اتہ ئ عبرت ن ک ہوت ہ ۔‬

‫پھر وہ ایک لمح ک لی خ موش ہوئ۔ کیسی ہ راز سہی ی‬
‫تھی۔ کوئ لح ظ کوئ مروت۔۔۔۔۔۔یوں لگت تھ جیس اس س یہ‬

‫‪311‬‬

‫س چھن گی ہو۔‬

‫میں ع مر اور تمہ ری تحریریں شہر بھر میں ب نٹ دوں گی۔ “‬
‫پھر رسوائ دیمک بن کر تمہیں اور تمہ رے امی ابو کو چ ٹ ل‬
‫گی۔ ان لمحوں کو آواز دو گی لیکن یہ لمح واپس نہیں آءیں‬
‫گ ۔ مجھ صرف اتن کہن ہ میرے رست س ہٹ ج ؤ یہی‬
‫تمہ رے اور تمہ رے خ ندان ک لی بہتر ہ ۔ میں نہ کچھ سنن‬

‫“اور ن ہی مزید کچھ کہن چ ہتی ہوں۔‬

‫وہ یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چ ی گئ۔ فرزانہ ک جس ٹھنڈا‬
‫پڑ گی ۔ اس یوں لگ جیس گھڑی پل کی مہم ن ہو۔ ال ظ ک‬
‫ہتھوڑے اس ک سرد اور ب ج ن س جس پر ضربیں لگ ت‬
‫رہ ۔ اس ن سوچ اپنی ب ت اپنی اس وقت تک رہتی ہ ج‬
‫تک دوسرے ک ن تک نہیں پہنچتی۔ پھر اس ن اپنی اور اپن‬
‫والدین کی عزت بچ ن ک فیص ہ کی اور شمی کو زخمی‬
‫‪:‬مسکراہٹ ک س تھ یہ تحریر لکھ کر دے دی‬

‫!ع مر ص ح‬

‫آج ک ب د مجھ س م ن ی پیغ بھجوان کی کوشش نہ‬
‫کرن ۔ میرا آپ س نہ کوئ ت تھ اور نہ کوئ ت ہ ۔‬
‫میری اس تحریر کو غیر سنجیدہ نہ لین ۔ میری ش دی ک فیص ہ‬
‫میرے ابو کریں گ ۔ انہیں ت قط ی ن پسند ہو۔ ہ ایک دوسرے‬

‫ک نہ کچھ تھ اور نہ کچھ ہیں۔‬

‫‪312‬‬

‫فقط اپن ابو کی فرزانہ‬

‫شمی ج ن کو تو چ ی گئ لیکن خی لات ک منہ زور طوف ن چھوڑ‬
‫گئ۔ یہ س اس ن دل پر پتھر رکھ کر لکھ کر دی تھ ۔ وہ سوچ‬
‫رہی تھی ا کی کرے۔ کی وہ ع مر ک بغیر زندہ رہ سک گی۔‬
‫وہ ع مر ک بغیر زندہ رہن ک تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔ وہ‬
‫سوچتی گئ جذب ت س گت رہ ۔ پھر اس ن آخری فیص ہ کی‬
‫اور الم ری کی ج ن بڑھ گئ جہ ں خوا آوار گولیوں کی شیشی‬

‫پڑی تھی۔ یہ گولی ں اس ک ابو است م ل کرت تھ ۔ اس ن‬
‫س گولی ں اپن ح میں انذیل لیں۔ یہ حقیقت ہ کہ درد کی‬
‫دوا درد ہی ہو سکتی ہ ۔ گولیوں ن اس ک پی س من کی‬
‫پی س بجھ دی۔فرزانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں اپن ع می کی فرزانہ ابدی نیند‬

‫سو چکی تھی۔‬

‫یہ داست ن زہر بجھ تیر س کسی طرح ک نہ تھی۔ اس ن‬
‫دیکھ ‘ ع مر ک د گھٹن لگ ہ اور پھر اس ن روح س‬
‫خ لی زندگی س خلاصی ح صل کر لی۔ ہ ں اس ک چہرے پر‬
‫ا سکون نم ی ں ہو گی تھ ۔ یوں لگت تھ جیس بت دو روحوں‬
‫ک سنگ دیکھ رہ ہو اور زندگی کی کر ن کی ک بھ ری بوجھ‬
‫ن اس ک ب حس و حرکت پڑے وجود کو س ت عط کر دی‬
‫ہو۔ ہو سکت ہ یہ میری سوچ ک ک ش نہ ہو لیکن یہ س وہ‬
‫وگم ن بھی نہیں ہو سکت ۔ کچھ ضرور تھ ۔ رخصت ہوت ‘ روح‬
‫ن اپنی رخصتی ک آث ر چھوڑ دی تھ ۔ سرگوشی ک س س ہ‬

‫‪313‬‬

‫منقطع ہو گی ۔ ع مر فرزانہ ک دیس ج چک تھ ۔ ہ ں اس کی‬
‫سرگوشی کی خوشبو ابھی ب قی تھی۔‬

‫یہ س اس ن ج گتی آنکھوں س دیکھ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیس‬
‫بھول پ ت ۔ کربن ک لحموں کی ب زگشت ت زیست ی دوں ک نہ ں‬
‫گوشوں میں اپن تمث لی وجود برقرار رکھتی ہ ۔ ی دوں ک تمث لی‬
‫وجود نیند ک جھونکوں ک انتظ ر نہیں کرت ۔ موق ہ بہ موق ہ‬

‫اپن اٹوٹ وجود اور ق بی رشت ک اظہ ر کرت رہت ہ ۔ اس‬
‫اس س کوئ غرض نہیں ہوتی کہ کسی پر کی گزرے گی۔‬
‫ب زگشت ک رشتہ اگر مٹی ہو ج ءے تو گزرا کل اپنی م نویت کھو‬

‫دے اور صیغہ تھ لای نی ہو کر رہ ج ئ ۔‬

‫یک جولائی ‪1970‬‬










































































Click to View FlipBook Version