301
میں ن کہ ی ر یہ ج ئیداد اپن جیت جی ان میں تقسی کر دو۔
کیوں تقسی کر دوں۔ ج ئیداد میری ہ کسی کو دوں نہ دوں
میری مرضی۔ اگر میں ن تقسی کر دی تو ان میں س کسی
ن پوچھن تک نہیں۔ گھر س ب ہر نک ل دیں گ ۔
اس کی ب ت میں د بھی تھ اور خ بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں کر
سک کہ ان میں زی دہ کی تھ ۔ اس ک پ س میں قریب بیس پچیس
منٹ اس خوف ک س تھ بیٹھ رہ کہ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ ت
بھی دو چ ر س ل ک ہیر پھیر س میرے ہ عمر ہو ابھی مرے
کیوں نہیں۔ ش ید اس لی نہ بولا کہ میرے پ س ہ ہی کی ۔ زندہ
ہوں کچھ ن کچھ تو لات ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا برداری س
تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا اور کوئی اتنی ب عزتی کیوں کراے گ ۔
شوہر ک ب عزتی کرائی ک لی پہ سوال کی طرح بہرطور
لازمی ہ ۔
ا اس صورتح ل ک تحت میں کی عرض کر سکت ہوں ت ہ
مجھ بڈھ کی اولاد میں کمی اور خرابی نظر آئی۔ جو خود
محنت اور مشقت کرن کی بج ئ اوروں کی کم ئی پر مستقبل
سنوارن کی آش کرن وال زندگی میں ن ک رہت ہیں۔ یہ اور
دو قس ک ہوت ہیں۔
ایک ب ب وغیرہ
دوسری دفتر ش ہی وغیرہ۔
302
ث نی الذکر کو اوروں میں شم ر نہ کریں۔ س ی ین س وصولی ں
وغیرہ دفتری لوگوں ک اصولی استحق ہوت ہ ۔ پڑھ ئی لکھ ئی
اور نوکری کی حصولی پر خرچہ کرک اگر بہت ی بہت س بڑھ
کر وصولا نہ گی تو کی ف ئدہ
ب ب ک اپن نم اپن خود کو پنج سرونٹس ہ ؤسنگ
ف ؤنڈیشن وال سمجھت ہیں جو سراپ دیسی گھی کی کڑاہی
میں ہیں۔ کم وں کو اتنی ب ت سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرک ری
لٹیرے ہیں۔ انہیں تو پوچھ کرن والوں ک اشیرب د ح صل ہ ۔
دوسرا وہ لوگوں ک ک کرت ہیں۔ تیسری بڑی ب ت یہ کہ وہ تو
بھرتی ہی لوٹ مچ ن ک لی ہوئ ہیں۔ لوٹ سیل تو ان ک
فرائض منصبی میں داخل ہ ۔
م نت ہوں ب ب ک م ل بھی لوٹ ک ہ لیکن وہ م ل تو ہ اور
م ل بھلا کون کسی کو دیت ہ ۔ گچی پر ن خن آئ تو ہی کھیسہ
ڈھیلا ہو سکت ہ ۔ کم ب ب کو کسی پھسنی میں پھ س ئیں‘
خود ہی جڑے گ ۔ مجھ ب ب ک اپنوں پر افسوس ہوت ہ ۔
بیم ر ب ب ان س برداشت نہیں ہو رہ ۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس
کی ب ت ہ ۔ پ کست ن کو بن ایک صدی ن سہی کچھ ہی س لوں
ب د ہو ج ئ گی‘ بیم ر لاغر اور دمہ گزیدہ دفتر اور افسر ش ہی
س ک چل رہ ہ اور خو چل رہ ہ ۔ انہیں اپن بیم ر
لاغر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھ س ک چلات ہوئ مری پڑتی
ہ ۔ بیم ر لاغر اور دمہ گذیدہ دفتر اور افسر ش ہی ک مرن
303
ک دور تک آث ر نہیں۔ سچی کہوں گ چ ہ بڈھ ک گھر
والوں کو غصہ ہی لگ ‘ ب ب ک مرن ک مجھ دور تک
آث ر نظر نہیں آئ ۔ ان کنبوں ک مستقبل اسی طرح تذبذ کی
ص ی پر لٹک رہ گ اور یہ میں پورے یقین ک س تھ کہہ رہ
ہوں۔
304
چپ ک م ہدہ
ہم ری س تھ کی گ ی میں ایک ص ح رہ کرت تھ جو آنٹ جی
ک ن س م روف تھ ۔ کی ک کرت تھ ۔ کوئی نہیں ج ن
پ ی ن ہی کسی ک پ س اتن وقت تھ کہ ان کی کھوج کو نک ت ‘
ان کی بیگ اتنی م نس ر نہ تھی کہ اس ک پ س عورتیں آ کر
بیٹھ ج تیں۔ وہ کسی س کوئی ب ت ہی نہ کرتی تھی۔ اگر کوئی
عورت اس ک پ س ج تی تو مسکرا کر م تی۔ آن والی کی
ب تیں سن لیتی لیکن خود ہوں ہ ں س زی دہ ب ت نہ کرتی۔ مح ہ
میں کسی عورت س م ن ی اس ک دکھ سکھ میں نہ ج تی۔
ہ ں آنٹ جی کوئی مر ج ت تو اس ک جن زہ ہر صورت میں اٹنڈ
کرت اور بس وہیں س گھر لوٹ ج ت ۔
ش کو گھر آت اور پھر تھوڑی ہی دیر ب د بیٹھک میں آ بیٹھ
ج ت اور دیر تک اکی ہی بیٹھ رہت ۔ ہ ں مح ہ ک چھوٹ
چھوٹ بچ ان کی بیٹھک میں جمع رہت اور وہ ان ک س تھ
بچوں کی طرح کھی ت ان ک س تھ خو موج مستی کرت ۔
جی میں کھلا رکھت بلا ت ری بچوں کو پیس دیت ۔ چھٹی
والا دن ان بچوں ک س تھ بیٹھک میں گزارت ۔ کسی بچ کو
کوئی م رت تو لڑ پڑت چ ہ اس بچ ک ب پ ہی کیوں نہ ہوت ۔
میں ن غور کی ایک بچ ک س تھ وہ خصوصی برت ؤ کرت ۔
وہ بچہ بھی ان ک س تھ بڑا م نوس تھ ۔ ایک ب ر میں ن دیکھ
305
کہ اس بچ ک ن ک بہہ رہ تھ اور وہ اس ک ن ک بڑے پی ر
س اپن روم ل ک س تھ ص ف کر رہ تھ ۔ میں ان کی
بیٹھک میں داخل ہو گی ۔ انہوں ن بڑی اپن ہت س بیٹھن کو
کہ اور دوب رہ س اس بچ ک ن ک ص ف کرن لگ ۔ میں ن
پوچھ ہی لی کہ یہ آپ ک بچہ ہ ۔ انہوں ن میری طرف
دیکھن کی بج ئ اس بچ س پوچھن لگ تمہ ری م ں
کو میں ن دیکھ ہوا ہ ۔ بچ ن ن ی میں سر ہلای ۔ ج میں
ن اس کی م ں کو دیکھ ہی نہیں تو اس کی کیس دیکھ لی۔
پھر میری طرف دیکھ اور کہ نہیں جی یہ میرا بچہ نہیں ہ ۔
مجھ ان کی اس حرکت پر حیرت ہوئی اور میں چپ چ پ اٹھ
کر وہ ں س چلا گی ۔ مجھ ان کی یہ حرکت بڑی عجی لگی۔
یہ حرکت تھی بھی عجی نوعیت کی تھی۔
ایک دن م و ہوا آنٹ جی فوت ہو گئ ہیں اور بیٹھک میں ہی
ان کی موت ہوئی۔ کی وہ اندر نہیں سوت تھ ۔ اس روز وہ
آنٹی دھ ڑیں م ر م ر کر روئی اور انہیں اکلاپ ک احس س ہوا۔
وہ ان کی تھی تو بیوی لیکن بیوی ک اطوار نہ رکھتی تھی۔ وہ
اس ک ہر قس ک خرچہ پ نی
اٹھ ئ ہوئ تھ ۔
دس بیس س ل پہ منہ میں ڈھ ئی گز زب ن رکھتی تھی۔ اس ک
آگ پچھ کوئی بھی نہ تھ ۔ ب نجھ بھی تھی۔ اس ک ب وجود انہوں
ن اس برداشت کی ہوا تھ ۔ تین ب ر طلا طلا طلا کہن
س ہمیشہ ک لی خلاصی ہو سکتی تھی۔ وہ ان کی خ لہ کی
ل پ لک بیٹی تھی۔ م ں ن مرت وقت بیٹ س اپن سر پر
306
ہ تھ رکھ کر قس لی تھی کہ کبھی اور کسی صورت میں اس ک
س تھ نہیں چھوڑے گ ۔ بس آنٹ جی ک منہ کو ت لا لگ گی اور
وہ بیٹھک اور مح ہ ک بچوں ک ہو رہ ۔ آنٹی اور آنٹ جی
ک درمی ن چپ ک م ہدہ ہو گی تھ ۔
ا وہ دروازے کی دہ یز پر بیٹھی رہتی تھی۔ ج بھی کوئی آنٹ
جی ک ذکر کرت تو زار و قط ر رون لگتی لیکن منہ س کچھ
نہ کہتی۔ بڑی ب ت ہ کہ اتن بڑا س نحہ گزر گی آنٹ جی ہمیشہ
ک لی چ گئ پھر بھی اس ن چپ ک م ہدہ نہ توڑا۔
307
ب زگشت
وہ ستمبر کی بھیگی سی ش تھی۔ روم ن کی پری ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چندا
کی اج ی اج ی نکھری نکھری روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھ مچولی
کھیل رہی تھیں۔ چندا ان کی روح شکن اٹھکی ی ں دیکھ
کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م نوشی پر اتر آی تھ ۔ م کی ننھی منی
بوندیں۔۔۔۔۔۔۔۔گلا ک پرشب چہرے پر ٹپک رہی تھیں۔ یوں
محسوس ہو رہ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گلا مدہوش ہو کر اپنی ہستی کھو
دے گ ۔ گلا کی وہ آخری ش تھی۔ یہ دستور زم نہ رہ ہ کہ
ج گلا شب کی حدوں کو چھوت ہ تو گ چیں آ ٹپکت ہ ۔
پھر وہی پھول زندگی ک مخ تف ش بوں میں غلامی کی س نسیں
گزارت ہیں۔ ان کی آہ و بک سنن والا کوئ نہیں ہوت ۔ ٹہنی
س بچھڑے پھول کی اوق ت ہی کی ہوتی ہ ۔ کچھ سہرے کی
لڑیوں ک مقدر بنت ہیں تو کچھ حسرتوں ک مزار
پر۔۔۔۔۔۔۔۔اگست کی دھوپ میں۔۔۔۔۔۔۔۔نش ن عبرت بنت ہیں۔ وہ آہ
بھی نہیں کر پ ت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں بھی کیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون سن
گ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش خ س بچھڑے پھول ک پ س یہ ح نہیں ہوت ۔
اگر وہ ش خ پر ہوت تو اس کی کوئ حیثیت بھی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئ
مق ہوت ۔ میں بھی ش خ س جدا ایک ب ب س پھول ہوں۔ قط ی
308
مجبور ب بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاچ ر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپن احوال کہن ک مجھ س
حقو چھین لی گی ہیں۔ میں منہ میں زب ن رکھ کر بھی گونگ
ہوں۔اگر آواز اٹھ ؤں گ تو کون سن گ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ں کسی ک پ س
اتن وقت کہ ں جو وہ کسی ش خ بریدہ کو خ طر میں لاءے۔
اس ش دن بھر کی ف ءل ک ری ن ذہن پر ایک بوجھ س ڈال
رکھ تھ اور میں صوف پر نی درازز خود کو جھوٹی تس یوں
س بہلان کی ن ک س ی کر رہ تھ ۔ چ ر سو پھی ی چندا کی
روم ن پرور کرنیں
میرے دل ودم پر ہتھوڑے برس رہی تھیں۔ میرے گرد تنہ ئ
کی آگ پھیل رہی تھی۔ ب غی دل و دم پر ق بو پ ن دشور ہو چلا
تھ ۔ کئ ب ر سوچ لاءٹ آن کرک خود کو مصنوعی روشنی ک
ح قوں میں گ کر دوں۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ میں ایس نہ کر سک ۔۔۔۔۔۔ایس کرن
ممکن ہی نہ تھ ۔ اگر ہر چیز انس ن ک بس میں ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مس ءل کبھی جن نہ لیں۔ مجبوری ہی درحقیقت مس ءل کی جڑ
ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں مجبوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ب بسی کی دراز ب ہوں ک حص ر
س بچ نک ن منی من ک کوئ کھیل نہیں۔
پھر اچ نک کسی ن میرے ش ور دریچ پر دستک دی۔ کئ
چہرے میری آنکھوں ک س من رقصں کرن لگ ۔ میں گہری
سوچ میں ڈو گی ۔ کون ہو سکت ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پھر کسی ن
چپک س میرے ک ن میں سر گوشی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ی ر اپن ع مر
309
کی چ پ کو نہیں پہچ نت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہ را۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں تمہ را اپن ع مر۔
وہ ع مر ہی تھ ۔ جو صدیوں س زندگی کی برہنہ لاش کو اپن
نحیف کندھوں پر اٹھ ءے مس سل اور متواتر دوڑے چلا ج رہ
تھ ۔ا وہ ک فی لاغر ہو گی تھ ۔ چہرے کی سرخی ہ دی ہو گئ
تھی۔ یوں محسوس ہوت تھ جیس اس ک جس س کسی ن
پورا خون نچوڑ لی ہو۔ اس ک قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ اس
ک وجود لرز رہ تھ ۔ خود میرے اپن اعض بھی تو ڈھی پڑ
گی تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔چند لمح ۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں چند لمح خ موشی کی لحد
میں اتر گی ۔ پھر اس ن خ موشی ک ق ل توڑا۔
ش ہد ج گ رہ ہو؟ مگر کیوں‘ سو ج ؤ۔ ک تک یوں ہی گھ ت
رہو گ ۔ میں تمہ را اپن ہوں مجھ س بھی اپن دکھ چھپ ت ہو۔
اس دکھ س آزادی ح صل کرو ورنہ میری طرح ت بھی اپن
وجوو میں نہ رہو گ ۔ تمث لی زندگی بڑی کٹھن ہوتی ہ ۔ یہ
سسکن بھی نہیں دیتی۔
سو ج ؤ دوست ا سو ج ؤ
یہ ت کیسی ب تیں کر رہ ہو۔ کچھ کہو۔۔۔۔۔۔ کچھ تو کہو
ک تک سنو گ ۔ کی کچھ سنو گ ۔ فرزانہ ن خود کشی کر لی
ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی۔۔۔۔۔۔۔
!یہ ت کی کہہ رہ ہو؟
310
سچ کہہ رہ ہوں۔ اس کی آواز میں بیکراں کر تھ ۔
ش ہد بھلا کی کر سکت تھ ۔ سسک کر رہ گی ۔
فرزانہ بڑے اع ی اخلا و ذو کی م لک تھی۔ اس ن ع مر کو
تنہ ئ ک بحر عمی س نک ل کر گلابوں ک دیس میں لا کھڑا
کی تھ ۔ اس ک دامن مسکرہٹوں س بھر دی تھ ۔
ع مر ن ب ت ج ری رکھی اور دل پر پتھر رکھت ہوءے بت ی
اس روز ک فی گرمی تھی۔ فرزانہ اپن ابو ک سر دب رہی تھی۔
اس ک ک نوں س شمی کی کرخت آواز ٹکرائ۔ فرزانہ اس ک
تیور دیکھ کر لرز ہی تو گئ۔
فرزانہ مجھ تخ یہ میں ت س کچھ کہن ہ ۔“ فرزانہ اس “
اپن کمرے میں ل آئ۔ چند لمح خ موشی ط ری رہی پھر
اس ک زہر آلود ال ظ س خ موشی ک بت ٹوٹ ۔
سنو فرزانہ! آج میں ت س آخری فیص ہ کرن آئ ہوں۔ اگر “
ت ن میری ب توں پر عمل نہ کی تو ج نتی ہو کی ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔۔ت
ذلت ک گہرے کھڈ میں ج گرو گی۔ تمہ رے س تھ وہ کچھ ہو گ
جس ک ت تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ ج ن رکھو ب کسی ک
“ع ل اتہ ئ عبرت ن ک ہوت ہ ۔
پھر وہ ایک لمح ک لی خ موش ہوئ۔ کیسی ہ راز سہی ی
تھی۔ کوئ لح ظ کوئ مروت۔۔۔۔۔۔یوں لگت تھ جیس اس س یہ
311
س چھن گی ہو۔
میں ع مر اور تمہ ری تحریریں شہر بھر میں ب نٹ دوں گی۔ “
پھر رسوائ دیمک بن کر تمہیں اور تمہ رے امی ابو کو چ ٹ ل
گی۔ ان لمحوں کو آواز دو گی لیکن یہ لمح واپس نہیں آءیں
گ ۔ مجھ صرف اتن کہن ہ میرے رست س ہٹ ج ؤ یہی
تمہ رے اور تمہ رے خ ندان ک لی بہتر ہ ۔ میں نہ کچھ سنن
“اور ن ہی مزید کچھ کہن چ ہتی ہوں۔
وہ یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چ ی گئ۔ فرزانہ ک جس ٹھنڈا
پڑ گی ۔ اس یوں لگ جیس گھڑی پل کی مہم ن ہو۔ ال ظ ک
ہتھوڑے اس ک سرد اور ب ج ن س جس پر ضربیں لگ ت
رہ ۔ اس ن سوچ اپنی ب ت اپنی اس وقت تک رہتی ہ ج
تک دوسرے ک ن تک نہیں پہنچتی۔ پھر اس ن اپنی اور اپن
والدین کی عزت بچ ن ک فیص ہ کی اور شمی کو زخمی
:مسکراہٹ ک س تھ یہ تحریر لکھ کر دے دی
!ع مر ص ح
آج ک ب د مجھ س م ن ی پیغ بھجوان کی کوشش نہ
کرن ۔ میرا آپ س نہ کوئ ت تھ اور نہ کوئ ت ہ ۔
میری اس تحریر کو غیر سنجیدہ نہ لین ۔ میری ش دی ک فیص ہ
میرے ابو کریں گ ۔ انہیں ت قط ی ن پسند ہو۔ ہ ایک دوسرے
ک نہ کچھ تھ اور نہ کچھ ہیں۔
312
فقط اپن ابو کی فرزانہ
شمی ج ن کو تو چ ی گئ لیکن خی لات ک منہ زور طوف ن چھوڑ
گئ۔ یہ س اس ن دل پر پتھر رکھ کر لکھ کر دی تھ ۔ وہ سوچ
رہی تھی ا کی کرے۔ کی وہ ع مر ک بغیر زندہ رہ سک گی۔
وہ ع مر ک بغیر زندہ رہن ک تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔ وہ
سوچتی گئ جذب ت س گت رہ ۔ پھر اس ن آخری فیص ہ کی
اور الم ری کی ج ن بڑھ گئ جہ ں خوا آوار گولیوں کی شیشی
پڑی تھی۔ یہ گولی ں اس ک ابو است م ل کرت تھ ۔ اس ن
س گولی ں اپن ح میں انذیل لیں۔ یہ حقیقت ہ کہ درد کی
دوا درد ہی ہو سکتی ہ ۔ گولیوں ن اس ک پی س من کی
پی س بجھ دی۔فرزانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ ں اپن ع می کی فرزانہ ابدی نیند
سو چکی تھی۔
یہ داست ن زہر بجھ تیر س کسی طرح ک نہ تھی۔ اس ن
دیکھ ‘ ع مر ک د گھٹن لگ ہ اور پھر اس ن روح س
خ لی زندگی س خلاصی ح صل کر لی۔ ہ ں اس ک چہرے پر
ا سکون نم ی ں ہو گی تھ ۔ یوں لگت تھ جیس بت دو روحوں
ک سنگ دیکھ رہ ہو اور زندگی کی کر ن کی ک بھ ری بوجھ
ن اس ک ب حس و حرکت پڑے وجود کو س ت عط کر دی
ہو۔ ہو سکت ہ یہ میری سوچ ک ک ش نہ ہو لیکن یہ س وہ
وگم ن بھی نہیں ہو سکت ۔ کچھ ضرور تھ ۔ رخصت ہوت ‘ روح
ن اپنی رخصتی ک آث ر چھوڑ دی تھ ۔ سرگوشی ک س س ہ
313
منقطع ہو گی ۔ ع مر فرزانہ ک دیس ج چک تھ ۔ ہ ں اس کی
سرگوشی کی خوشبو ابھی ب قی تھی۔
یہ س اس ن ج گتی آنکھوں س دیکھ تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیس
بھول پ ت ۔ کربن ک لحموں کی ب زگشت ت زیست ی دوں ک نہ ں
گوشوں میں اپن تمث لی وجود برقرار رکھتی ہ ۔ ی دوں ک تمث لی
وجود نیند ک جھونکوں ک انتظ ر نہیں کرت ۔ موق ہ بہ موق ہ
اپن اٹوٹ وجود اور ق بی رشت ک اظہ ر کرت رہت ہ ۔ اس
اس س کوئ غرض نہیں ہوتی کہ کسی پر کی گزرے گی۔
ب زگشت ک رشتہ اگر مٹی ہو ج ءے تو گزرا کل اپنی م نویت کھو
دے اور صیغہ تھ لای نی ہو کر رہ ج ئ ۔
یک جولائی 1970