The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-05-22 14:22:56

afsanay (1)

afsanay (1)

‫‪189‬‬

‫س خرچ آسم ن س ب تیں کرن لگ تھ ۔ ن ہید ک بطن‬
‫س اپن اور پرائ ' گھر ک فرد بنن لگ تھ ۔ عبدالرحمن‬

‫ن بھی کئی ویران گودیں آب د کیں۔‬

‫ولی محمد ک خوا ' چکن چور ہو گی ۔ ایک ہی شہر میں‬
‫رہت ' وہ اس کی شکل دیکھن کو ترس ج ت ۔ ان ک درمی ن‬
‫اسٹیٹس گیپ آ گی تھ ۔ کہ ں ایک ق ی اور کہ ں محکمہ م لی ت ک‬
‫ایک ب عزت ب بو۔ ایک مرتبہ' دل ک ہ تھوں مجبور ہو کر' ولی‬

‫محمد اس ک دفتر چلا گی ۔ وہ پوری زندگی کسی غیر ک‬
‫ہ تھوں اتن ذلیل نہ ہوا ہو گ ' جتن اس دن بیٹ ک ہ تھوں ذلیل‬
‫ہوا۔ وہ س را دن روت رہ ۔ آخر کسی کو کی بت ت ۔ دونوں مجبوری‬

‫کی زنجیر میں جکڑے ہوئ تھ ۔ ولی محمد دل ک ہ تھوں'‬
‫ج کہ عبدالرحمن اسٹیٹس ک ہ تھوں مجبور تھ ۔ وہ کسی کو‬
‫کی بت ت کہ اس ک ب پ ایک ق ی ہ ۔ وہ بھی تو ق ی ک لب س‬

‫میں منہ اٹھ کر چلا آی تھ ۔ ولی محمد ن اس واق ک ذکر‬
‫اپنی بیوی س بھی نہ کی ' وہ بچ ری خواہ مخواہ دکھی ہو گی۔‬

‫ہ جراں ن ہر مشکل وقت میں اس ک س تھ دی تھ ۔‬

‫موت اٹل حقیقت ہ ۔ یہ ہر کسی کو' اپنی لپیٹ میں ل لیتی‬
‫ہ ۔ ولی محمد ک وعدے پورے ہو گی اور وہ چل بس ۔ اس‬
‫دن عبدالرحمن ک گھر دعوت تھی' جو م توی نہ کی ج سکتی‬

‫تھی۔ ولی محمد اگرچہ کئی ہ توں س بیم ر چلا آت تھ ۔ وہ‬
‫گ ہ بہ گ ہ اس ک پت کروات رہت تھ ۔ موت کی خبر ب لکل‬

‫‪190‬‬

‫اچ نک م ی تھی۔ س را انتظ ہو چک تھ ' اس لی وہ اس کی‬
‫آخری رسوم ت میں ش مل نہ ہو سک ۔ م ں جس دن مری' اس دن‬

‫ان ک گھر ن ہید کی س ل گرہ من ئی ج رہی تھی۔ مہم نوں س‬
‫گھر بھرا پڑا تھ ۔ وہ مہم نوں کو' جو شہر ک م ززین تھ '‬
‫چھوڑ کر م ں ک جن زے میں کس طرح ش مل ہو سکت تھ ۔‬

‫اس ن سوچ وہ کتن خوش نصی تھ ' کہ اس خوش فہمی‬
‫ک س تھ مرے کہ اگر ان ک بڑا بیٹ پ س ہوت ' تو کتن دکھی ہوت ۔‬

‫دھ ڑیں م ر م ر کر روت ۔ اس ک بچ قری ہوت ہوئ '‬
‫صدیوں ک ف ص پر کھڑے' اس کی موت ک لمحوں میں‬
‫گرفت ر ب بسی ک تم ش کر رہ تھ ۔ س کچھ واضح اور دو‬
‫ٹوک تھ ' کسی قس کی غ ط فہمی ی خوش فہمی ک ش ئبہ تک نہ‬

‫تھ ۔‬

‫اس ن سوچ ' زندگی ج دو لمحوں کی ہ ' تو لذت ک لمح‬
‫کس شم ر میں آت ہیں۔ شرا ک نشہ ہو' کہ سیٹ ک ' آخر اتر‬
‫ہی ج ت ہ ۔ ہوٹل میں ب گ نی جی س کھ ن کی لذت' کھ ت‬
‫رہن ک دورانی تک محدود ہوتی ہ ' اس ک ب د منہ میں‬
‫محض تشنگی ب قی رہتی ہ ۔ عورتیہ ذائقہ' اپن اسٹیمن ک‬

‫س تھ جڑا ہوت ہ اور اسٹیمنہ لامحدود نہیں' محدود ک مبہ‬
‫لمح کی گرفت میں ہوت ہ ۔ فراغت س پہ ' وہ ایک‬

‫دوسرے ک کوئی بھی نہیں ہوت ' فراغت ک ب د بھی' وہ ایک‬

‫‪191‬‬

‫دوسرے ک کچھ نہیں ہوت ۔ کوئی دیکھ ی ن دیکھ غ ط تو‬
‫ہوا ہوت ہ ۔‬

‫مبہ لمحوں کی لذت آدمی کو کتن ذلیل کرتی ہ ۔ اس ک س را‬
‫بوجھ آدمی ک اپن کندھوں پر ہوت ہ ۔ چ ت سم ' اپن‬
‫بھی اپن نہیں ہوت ۔ ان ک لی کی ک بوجھ بھی' ج ن‬

‫وال کو ہی اٹھ ن پڑت ہ ۔ بھول س بھی وہ' اس بوجھ ک‬
‫س جی نہیں بنت ۔ وہ ک ین ہینڈ ہی رہت ہیں۔ وہ فقط اپن کی‬

‫ک ' ذمہ دار ہوت ہیں۔‬

‫سوچوں ک دائرہ پھیل ہی رہ تھ ' کہ اس کی آنکھوں ک‬
‫س من اندھیرا چھ ن لگ ' پھر س نس رکتی محسوس ہوئی۔‬
‫سوچ ک لمح بھی لامحدود نہیں ہوت ۔ موت ک ایک ہی‬
‫جھٹک س ' س کچھ بکھر ج ت ہ ۔ کچھ ب قی نہیں رہت ۔ا‬
‫وہ ں کچھ بھی نہیں تھ ' ب بو عبدالرحمن تو ج چک تھ ' ہ ں‬
‫چ رپ ئی پر ب ک ر اور م نویت س م ذور مٹی ک ڈھیر پڑا تھ ۔‬

‫لای نیت ک سوگ' آخر کوئی کیوں من ت ۔‬

‫‪192‬‬

‫مکرمی ڈاکٹر حسنی ص ح ‪ :‬سلا مسنون‬
‫آپ ک انش ئیہ بہت شو اور غور س پڑھ ۔ یہ زندگی کی جس‬

‫اٹوٹ حقیقت پر مبنی ہ اس س کون انک ر کر سکت ہ ؟‬
‫لیکن انس ن کی فطرت کی ست ظری ی ہ کہ وہ اس س انک ر‬

‫کرت ہ اور خو کرت ہ ‪ ،‬یہ ں تک کہ وہ وقت آن پہنچت ہ‬
‫جس س کسی کو م ر نہیں ہ اور جو زندگی ک تم بھید‬
‫کھول کر س من رکھ دیت ہ ۔ سیکھن کو اس انش ئیہ میں بہت‬
‫کچھ ہ لیکن کی کوئی اس س سیکھ گ ؟ یہ نہیں م و ۔ ہ‬

‫صرف دع ہی کر سکت ہیں۔‬
‫ایک نہ یت اچھی اور سب آموز تحریر پر داد و تحسین قبول‬

‫فرم ئی ۔ جزاک الله خیرا۔‬

‫سرور ع ل راز‬

‫‪193‬‬

‫مکرمی و م ظمی جن ڈاکٹر حسنی ص ح ‪ :‬سلا ع یک‬

‫ش رواد ک ح میں آپ کی بیش بہ خدم ت لائ صد داد و‬
‫تحسین ہیں۔ اس دور میں ج کہ لوگ نثر نگ ری س یکسر‬
‫غ فل ہو چک ہیں اور غزل کو ہی اد کی ابتدا اورانتہ ج نت‬
‫ہیں آپ ک اتنی یکسوئی س نثر کی ج ن توجہ کرن اور مخت ف‬
‫موضوع ت پر لکھت رہن ہم رے لئ ایک دلیل راہ ک مترادف‬
‫ہ ۔ دع ہ کہ الله ت لی آپ کو صحت مند اور توان رکھ ت کہ‬

‫ہ آپ کی نگ رش ت س است دہ کرت رہیں۔‬

‫لمحوں ک خوا " نہ صرف ایک انش ئیہ ہی ہ ب کہ ایک "‬
‫نصیحت آموزحقیقت ک اظہ ریہ بھی ہ ۔ ب ت م مولی سی ہ‬
‫لیکن لوگ اگر اس س چش پوشی کر ج ئیں کہ انش ئیہ اپن‬
‫ج و میں کی پیغ ل کر آی ہ تو انتہ ئی افسوس ک مق ہوگ ۔‬
‫آپ ن انس نی فطرت کی بہت اچھی عک سی کی ہ ۔ انس ن کبھی‬
‫نہیں بدلا تو ا بدلن کی کی امید ہو سکتی ہ ۔ سیکھن وال‬
‫تو ذرا سی ب ت س سب سیکھ لیت ہیں اور نہ سیکھن وال‬
‫بڑی س بڑی ب ت پر بھی دھی ن نہیں دیت ۔ ہ س اپ ک‬

‫ممنون ہیں اور آپ ک لئ دع ئ خیر کرت ہیں۔‬

‫مہر افروز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=9911.0‬‬

‫‪194‬‬

‫دیکھت ج ؤ‘ سوچت ج ؤ‬

‫زندگی ایسی س دہ اور آس ن چیز نہیں‘ اس ک اطوار کو سمجھن‬
‫بڑا ہی دقی ک ہ ۔ ہر لمحہ‘ اس ک چہرا ہی بدل کر رکھ دیت‬

‫ہ ۔ تھوڑی دیر پہ ‘ آدمی ملا تھ ‘ پت چلا چل بس ہ ۔ حیرت‬
‫ہوتی ہ کہ چنگ بھلا تو تھ ‘ یہ اچ نک اس کی ہو گی ۔‬

‫اسی طرح اس ک انداز روی ‘ ایک ہی وقت میں‘ مخت ف ہوت‬
‫ہیں۔ ایک رو رہ ہ ‘ تو دوسرا ہنس رہ ہ ۔ ہنس وال کو‬
‫رون وال پر اور رون وال کو ہنس وال پر‘ اعتراض‬
‫کی اج زت نہیں۔ اگر اعتراض کریں گ ‘ تو فس د ک دروازہ کھل‬
‫ج ئ گ ۔ یہ فس د‘ لمحوں ک بھی ہو سکت ہ ‘ اس ک اثرات‬

‫نس وں تک بھی ج سکت ہیں۔‬
‫اس ن پوچھ ‪ :‬کیس ہو‬

‫الله ک فضل س ٹھیک ہو‬
‫اس ن سر ہلای اور منہ میں کچھ بڑبڑات ہوا چلا گی ۔‬
‫وہ اس بڑبڑاہٹ ک م ہو نہ سمجھ سک ۔ اس ک م ہو یہ تھ ‘ کہ‬
‫ا دیکھت ہوں‘ ٹھیک ہو ی نہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں‘ پ س آ‬

‫گئی اور اس پکڑ کر ل گئی۔‬

‫‪195‬‬

‫پھر وہ تھ ن پہنچ اور پوچھ کیس ہو۔‬
‫اس ن جواب کہ ‪ :‬مصیبت میں ہوں۔‬
‫ا آئ ن اصل ٹھک ن پر‬
‫جی کی کہ‬
‫کچھ نہیں‬

‫فکر نہ کرو‘ ضم نت کروا لیت ہیں۔ ت ج نت ہو‘ خرچ پ نی تو‬
‫لگت ہی ہ ۔‬

‫میں گری آدمی ہوں‘ خرچ پ نی کدھر س آئ گ ۔‬
‫اپنی اوق ت میں رہت ‘ غ ط ک کیوں کرت ہو۔‬
‫مجھ نہیں پت ‘ میں ن کی کی ہ ۔‬
‫س رے مجر اس طرح ہی کہت ہیں۔‬

‫ت گری لوگ بھی بڑے عجی ہوت ہو۔ کہ تھ ‘ بہن کو ہم رے‬
‫ہ ں ک ک لی بھیج دی کرو۔ تمہ ری غیرت ن گوارا نہ کی ۔‬
‫ا بھگتو۔‬
‫آی بڑا غیرت مند‬

‫یہ ہی زندگی ہ ۔ متض د روی متوازی چل رہ ہیں۔ یہ ب ت آج‬
‫ہی س ت نہیں کرتی‘ زندگی شروع ہی س ایسی ہ ۔‬

‫‪196‬‬

‫پوچھن وال ‘ خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان ح لات میں‬
‫بھی لوگ زندگی کر رہ ہیں‘ کرت رہیں گ ۔‬

‫اس ن پی سی ایس میں ک می بی ح صل کی۔ ہنسن کی بج ئ ‘‬
‫اس ک آنسو نکل گئ ۔‬

‫بیٹ مرا‘ دھ ڑیں م ر کر رون کی بج ئ ‘ چپ لگ گئی اور س‬
‫کی طرف‘ بٹر بٹر دیکھن لگ ۔‬

‫ب پ مرا‘ ذہنی توازن ہی کھو بیٹھ ۔‬

‫بیٹی پیدا ہوئی‘ بیوی کو طلا دے دی‘ جیس تخ ی ک ر اس‬
‫کی بیوی تھی۔‬

‫خ وند مرا بڑا ہی صدمہ ہوا۔ پچ س عورتوں میں اس قس ک‬
‫بی ن ت ج ری کرن لگی۔‬

‫ہ ئ میں مر گئی۔ زندگی بھر دکھ دیت رہ ۔ ایک لمحہ بھی‬
‫سکھ نہ دے سک ۔ زندگی بھر غیروں کی محت ج رہی۔ ت پر‬
‫رہتی تو گھر ویران رہت ۔ ا مر کر دکھ دے گئ ہو کہ غیروں‬

‫کی ہی محت ج رہوں۔‬

‫نشہ پ نی س ہمیشہ منع کرتی رہی‘ ت ن میری ایک نہ سنی‘‬
‫اگر م ن ج ت تو یہ دن تو نہ دیکھن پڑت ۔‬

‫جوئ ن تمہیں برب د کی ‘ پیس بچ ت تو ک ن دفن ک س م ن‬
‫ہی ل آتی۔ آج میرے پ س پھوٹی کوڑی تک نہیں۔‬

‫‪197‬‬

‫میرے نصی ہی سڑ گئ ‘ جو ت ی ن کچھ نہ دیکھ اور رشتہ‬
‫دے دی ۔‬

‫ہ ئ میں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ لوکو میں لٹی گئی۔‬

‫یہ ں جس دیکھو‘ امریکہ ک خلاف ب تیں کر رہ ہ ۔ اگر کوئی‬
‫پیش س بھی ت ک پڑت ہ ‘ الزا امریکہ پر رکھت ہ ۔ اس‬
‫اس میں امریکہ کی‘ کسی ن کسی سطع پر‘ س زش محسوس‬
‫ہوتی ہ ۔ دوسری طرف اگر امریکہ ک ویزا ع ہو ج ئ تو‬

‫میرے سوا‘ میں اس لی نہیں کہ بیم ر اور بوڑھ ہو چک ہوں‘‬
‫امریکہ ک ویزا ح صل کرن ک لی ‘ مرن م رن پر اتر آئ‬
‫گ ۔ ش ید اس لی کہ ک لی ں ی تقریب ک لی ں‘ دیکھ دیکھ کر‘‬
‫ص ح اخگر اکت س گئ ہیں۔ سن ہ ‘ وہ ں لکیر کی فقیری‬
‫نہیں کرن پڑتی‘ بل کہ لکیر مضبوط ص حب ن اخگر کی فقیری‬
‫کرتی ہیں۔ ڈالر کم ؤ چٹی ں اڑاؤ‘ نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک۔‬

‫مذہبی مین ک رویہ بھی‘ م شرت س الگ تر نہیں رہ ۔‬

‫ایک مذہبی مین س کسی بی بی ن کہ ‪ :‬مجھ کسی س پی ر‬
‫ہو گی ہ ۔‬

‫جواب مذہبی مین ن کہ ‪ :‬وہ کون جہنمی ہ ۔‬

‫بی بی ن جوا دی ‪ :‬آپ س ۔‬

‫مذہبی مین فورا بول اٹھ ‪ :‬چل جھوٹی۔‬

‫‪198‬‬

‫اسی قم ش ک ایک اور لطی ہ م روف ہ ۔ مذہبی مین بیٹھ‬
‫ہوئ تھ ۔ ط ہوا عورت کو دیکھن بھی نہیں اور اس کی ب ت‬

‫بھی نہیں ہو گی۔ کچھ ہی دیر ب د ایک مذہبی مین بولا لڑکی۔۔۔۔۔‬

‫س ایک آواز میں پک ر اٹھ کہ ں ہ ‘ کہ ں ہ ۔‬

‫مذہبی مین ک مت ایک اور کہ وت مشہور ہ ۔‬

‫کسی بی بی ن پوچھ ‪ :‬اگر میں وزیر اعظ س پی ر کرن‬
‫لگوں تو‬

‫سیدھی دوزخ میں ج ؤ گی۔‬

‫وزیر اع ی س پی ر کروں تو‬

‫تو بھی دوزخ ٹھک نہ ہو گ ۔‬

‫اگر آپ س‬

‫بڑی سی نی ہو‘ جنت ج ن ک پروگرا ہ ۔‬

‫چھوٹ والی روزانہ ط نہ دیتی تھی‘ نیچ س کھ ت ہ ۔ میں‬

‫س روٹی کھ ن ہی چھوڑ دی۔‬ ‫ن تنگ آ کر‘ دس اکتوبر‬

‫ا سوچت ہوں‘ کتنی بڑی غ طی کی تھی۔ آد ع یہ اسلا ن ‘‬

‫گند ک دانہ کھ ی ‘ جنت بدر ہوئ ۔ اگر میں روٹی نہ چھوڑت تو‬

‫ش ید‘ میں بھی جہن بدر ہو ج ت ۔ روٹی بھی تو گند س ہی تی ر‬

‫ہوتی ہ ۔ اگر گند ک دانہ لکیر ک است رہ ہ ‘ تو یہ الگ ب ت‬

‫‪199‬‬

‫ہ ۔ ا الله ہی ج نت ہ ‘ وہ دانہ گند ک تھ ی اس س مراد‬
‫لکیر تھی۔‬

‫ط قت ہی‘ زندگی ک س س بڑا سچ رہ ہ ۔ ابراہی لودھی‘‬
‫کیس تھ ‘ کوئی نہیں ج نت ۔ اس ک اور اس کی م ں ک س تھ ب بر‬
‫ن کی کی ‘ کوئی نہیں ج نت ۔ ب بر ت ریخ میں ہیرو ہ ۔ لوگ فخر‬

‫س ‘ اپن بچوں ک ن ب بر رکھت ہیں۔‬

‫‪:‬ب بر ک قول ہ‬

‫ب بر عیش کوش کہ دنی دوب رہ نیست۔‬

‫ب بر ن خون س گ ی ب زار رنگ دئی ‘ کوئی نہیں ج نت ‘ ب بر‬
‫ف تح ٹھہرا‘ اس لی ہم را ہیرو ہ ۔‬

‫ہم یوں ک بھ ئی س زشیں کرت رہ ‘ وہ م ف کرت رہ ۔ پوت‬
‫ن ‘ تخت و ت ج ک لی بھ ئی تو بھ ئی‘ ان کی الادیں بھی ذبح‬
‫کر دیں۔ اپنی لاڈلی بیگ ک مقبرہ ت ج محل‘ بن ی ت ریخ میں زندہ‬

‫ہ اور بڑا ن رکھت ہ ۔‬

‫ت ریخ ک نبی قری ب دش ہ اورنگ زی ن ‘ بھ ئی تو بھ ئی‘‬
‫ب پ کو بھی نہ بخش ۔ بہن جس ن مخبری کرک ‘ اس کی ج ن‬
‫بچ ئی تھی‘ کو بھی قید کی رکھ ‘ کیوں‘ کوئی نہیں ج نت ۔ ت ریخ‬

‫ہی نہ لکھن دی۔ خ نی خ ں ن بھی چوری چھپ لکھی۔‬

‫‪200‬‬

‫ہندوست ن مس ری ست نہ تھی۔ مس م ن محض چند فی صد تھ ۔‬
‫اسلا ک م م بن کر‘ سرمد جیس بندہءخدا کو شہید کر دی ۔ اصل‬

‫م م ہ کوئی اور تھ ‘ جو آج تک کھل نہیں سک ۔ سوال پیدا ہوت‬
‫ہ ‘ بہن کو کیوں نظر بند کی رکھ ۔ وہ ق ضی اور جلاد نہ تھ ‘‬

‫جو خود ہی فیص ہ کی اور سرمد کو اپن ہ تھوں س ‘ قتل کر‬
‫دی ۔ مقتدرہ قوت تھ ‘ ت ریخ میں زندہ ہ ۔‬

‫حسین ابن ع ی م توح تھ ‘ زندہ ہیں اور اپن لاکھوں دیوان‬
‫رکھت ہیں۔‬

‫یزید ابن م ویہ کو جنتی اور حسین ابن ع ی کو ب غی کہن‬
‫وال بھی موجود ہیں۔ حجت الله‘ اس ک رسول اور الامر کی‬
‫اط عت کو پیش کرت ہیں۔ گوی دسترخوان پر ایک طرف کھیر‘‬
‫اس ک س تھ ح وہ اور اس س آگ گوبر رکھ دو۔ کون کھ ئ‬
‫گ ۔ کوئی دسترخوان پر بیٹھن بھی پسند نہیں کرے گ ۔ اس حس‬

‫س ‘ نمررد‘ شداد اور فرعون درست تھ ۔‬

‫حیرت انگیز ب ت یہ کہ ٹیپو م توح ہ ‘ لیکن بڑا ن رکھت ہ ۔‬
‫کیوں‬

‫اپن ت ج و تخت ک لی لڑا تھ ۔ کیوں زندہ ہ ‘ بہت بڑا‬
‫سوالیہ ہ ۔‬


Click to View FlipBook Version