565
میں اس ہر روز‘ چھپ کر‘ دو تین ب ر ضرور دیکھت ۔ پندرہ
دنوں میں‘ اس ک وجود کو استحق میسر آ گی ۔ سچی ب ت ہ ‘
وہ مجھ بڑا اچھ لگت ۔ اس ک بڑھن پھولن پر‘ مجھ
بڑی خوشی ہوتی۔ میں اس ک بہت قری ہو گی تھ ۔ یوں لگت
تھ ‘ جیس میری اور اس کی آشن ئی‘ صدیوں پر محیط ہو۔ ج
بھی اس دیکھت ‘ وہ اپن پورے وجود کی مسکراہٹوں ک
س تھ م ت ۔ اس ک تن ایک ہی تھ ‘ لیکن تن س اوپر‘ کئی
ش خیں نمودار ہو گئی تھیں۔ ب ت یہ ں تک ہی محدود نہ تھی‘ ہر
ش خ کئی ش خوں میں‘ بٹ گئی تھی۔ ہر نئی ش خ پر‘ ابتدا میں
نک ن وال پت ‘ دوسرے پتوں س ‘ قط ی مخت ف تھ ۔ وہ
سبز نہیں‘ براؤن س ہوت ۔ نر ن زک ہون ‘ تو الگ س ب ت
ہ ‘ ان ک حسن بڑا مت ثر کن تھ ۔ یہ حسن اس ش خ کی ذاتی
پہچ ن تھ ۔
میں ن سوچ ‘ اس پودے ک تن ایک ہ ‘ ش خیں اسی س
وابستہ ہیں۔ ایک ش خ کی کئی ش خیں ہیں۔ پتوں ک س ئز الگ
الگ ہیں۔ رنگ میں بھی‘ ایک دوسرے س الگ ہیں۔ س کو
زمین س ‘ تن ک ذری خوراک میسر آ رہی ہ ۔ انس ن
ایک آد کی اولاد ہ ۔ پودے کو‘ زمین س خوراک میسر آتی
ہ ۔ انس ن کو بھی‘ زمین خوراک میسر کر رہی ہ ۔ پورا
درخت‘ مخت ف ش خوں میں بٹ کر بھی‘ ایک ہ ۔ ہر ش خ‘
دوسری ش خ س ‘ پیوست ہو کر‘ درخت کو شکل دے رہی ہیں۔
566
یہ ج نت ہوئ بھی‘ کہ الله ق در ہ ‘ انس ن کیوں ایک درخت
کی شکل میں نہیں۔ اگر یہ ایک شکل میں ہوت ‘ تو مخ و خدا
کو‘ پھل اور س یہ مہی کرت ۔
میری سوچوں ک ح قہ‘ وسیح تر ہوت گی ۔ پھر پت نہیں‘ ک نیند
ن آ لی ۔ صبح‘ ح ج ت اور نم ز س ف ر ہون ک ب د‘ پودا
دیکھن گی ‘ پودا اکھ ڑ پھینک گی تھ ۔ میں ن ش زیہ س ‘
پودے ک مت پوچھ ‘ تو اس ن کہ ‘ ہ ں‘ پودا میں ن
اکھ ڑا ہ ۔ یہ گھر ہ ‘ کوئی جنگل نہیں۔ فرش ک ستی ن س ہو
گی تھ ۔ خدا م و ‘ کی پکواس کرتی رہی۔ میرے دم کی پھرکی
الٹی پھرن لگی۔ میں ن سوچ ‘ ب ت بڑھ ج ئ گی‘ اس لی
گھر س ب ہر نکل گی ۔ میں ج نت تھ ‘ پ نچوں بچوں ک منہ
میں‘ ش زیہ کی زب ن ہ ‘ اس لی ‘ میری دال گ ن ک ‘ ایک
فیصد بھی امک ن نہ تھ ۔ وہ اس لای نی بحث سمجھت ‘ اور یہ
ب ظ ہر تھی بھی ب ک ر کی بحث۔
اس پودے ن ‘ یوں ہی جن نہیں لی ہو گ ۔ یہ ں خود رو پودوں
کی بہت ت تھی۔ ہ ن انہیں اکھ ڑا‘ بھرتی بھی ڈالی اور اوپر
چون س ‘ فرشی اینٹیں چن دیں۔ درختوں کی جڑیں دور دور
گئی ہوتی ہیں۔ ان س ری جڑوں کو تو خت نہیں کی ج سکت ۔
درختوں کی ان جڑوں کو‘ زمین س ‘ خوراک م تی رہتی ہ ‘
اس لی ان کی موت واقع نہیں ہوتی۔ ج بھی‘ اور جہ ں کہیں‘
موقع م ت ہ ‘ وہ درخت کی صورت میں نمودار ہو
567
ج تی ہیں۔
حضرت ابراہی خ یل الله ایس برگد تھ ‘ جس کی جڑیں‘ دور تک
نکل گئی تھیں۔ شر کی انتہ ئی صورت ک ب وجود‘ اس برگد کی
صحت پر‘ رائی بھر‘ اثر نہ ہوا۔ دنی ک کوئی خطہ‘ ایس نہیں ہو
گ ‘ جہ ں اس برگد کی جڑ س ‘ پودا نمودار نہ ہوا ہو۔ لاری فی‘
ہر پودے ک حسن اپنی جگہ ب کم ل رہ ہ ۔ سچ ئی ک حسن‘ ب ر
ب ر نمودار ہون ک لی ‘ ہوت ہ ۔ اس نمودار ہون س
کوئی نہیں روک سکت ۔ ہ ں اس کی جڑوں ک پھی ن اور مضبوط
ہون ضروری ہوت ہ ۔ یہ س الله ک اختی ر میں ہ ۔ زمین ک
اندر‘ ہ دخل اندازی نہیں کر سکت ۔ سچ ئی کی زمین‘ حد درجہ
ذرخیز ہوتی ہ ۔ اس کی ازل س موجود جڑیں‘ کسی ن کسی
پودے کو سطح زمین پر لاتی رہیں گی۔
حکی ص ح ک بوسیدہ ک غذوں میں ج ن تھی‘ ت ہی تو‘ اے
ڈی قمر ن ‘ پ نچ سو روپ دین میں‘ دیر نہ کی‘ ورنہ اتنی
بڑی رق کیوں دیت ۔ پودے کی جڑوں میں د تھ ‘ اسی لی
ایک فٹ بھرتی ک سینہ چیرا‘ اور اپن ہون ک ثبوت فراہ کی ۔
حر ک مرا ہ ‘ اس کی جٹریں پوری دنی میں پھیل گئی ہیں۔
حریت‘ اپن وجود منواتی رہ گی۔ ش زیہ ن پودے کو اکھ ڑ
پھینک ‘ اور سمجھ بیٹھی ہ ‘ ا پودا نمودار نہیں ہو گ ۔ میں
کہت ہوں‘ یہ پودا یہ ں س ن سہی‘ اسی گھر ک پک فرش
اورایک فٹ بھرتی ک ‘ سینہ چیرت ہوا‘ کسی دوسری جگہ س ‘
568
ضرور ۔۔۔۔۔۔ ہ ں ضرور نمودار ہو گ ۔ یہ ہی اصول فطرت ہ ‘ کہ
حسن جگہ بدل بدل کر‘ نئ رنگ اور نئ روپ ک س تھ‘ ج وہ
گر ہوت رہ ۔
569
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
جن بہت عمدہ تحریر ہ ۔ اپ ن کہ نی کو نی ُرخ دی ہ اور
کی ہی خو دی ہ ۔ یہ ب ت سچ ہ کہ قُدرت ک نظ اپن اپ
کو خود ہی برقرار رکھت ہ ،لیکن یہ ب ت بھی بج ہ کہ انس ن
اس میں ُبہت بگ ڑ پیدا کرن ک درپ ہ ۔ اگرچہ اس ب ت ک
یہ ں تذکرہ ُکچھ ضرری نہیں لیکن ہم را طریقہ ُکچھ ایس ہ
کہ ُقدرتی نظ میں ک س ک دخل اندازی کرت ہیں۔ لوگ بھ گ
کر ب ی ک منہ س چڑی ک بچہ چھین لیت ہیں ،جبکہ ہ
صرف خ موشی اور خ لی الذہن ہو کر دیکھت رہت ہیں۔ اگرچہ
اس س ہم رے اندر ُبہت حد تک س کی پیدا کر دی ہ ،لیکن
ہ ن قدرتی نظ کو اس قدر س ک پ ی ہ ،کہ بی ن س ب ہر
ہ ۔ جس نظ میں ایک کی موت دوسرے کی زندگی ہو ،اُس ک
علاج ہم رے پ س تو ہو نہیں سکت ۔ کئی ب ر خود کو سمجھ ت
ہیں ،لیکن اکثر اپنی ب توں میں ات نہیں ہیں ہ ۔ دخل اندازی
صرف اُس وقت روا ج نت ہیں ،ج کسی کی موت کسی کی
زندگی نہ ہو۔
تحریر ج ن دار ہ ،سچ ئی اور اچھ ئی ک س تھ دین ک جذبہ
پیدا کرتی ہ ۔ ہم ری طرف س ایک ب ر پھر داد قبول کیج ۔
570
ُدع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8904.0
571
لاروا اور انڈے بچ
وہ س ل ہ س ل س ‘ انس نی لہو بہت ‘ دیکھ رہ تھ ۔ ک ر قض
کوئی ک زور لہو طراز‘ ق نون ک ہتھ چڑھ ج ت ‘ اس قتل
کرک ‘ لہو تو نہ بہ ی ج ت ‘ ہ ں البتھ‘ برسوں کورٹ کچہری
میں‘ خو گھسیٹ ج ت ۔ اس ک پچھ وں ک ‘ جس کی ہڈی ں‘
ب قی رہ ج تیں‘ تو اس کی گردن لمبی کر دی ج تی۔ یہ ں یہ ب ت‘
اولیت ک درج پر ف ئز رہتی‘ کہ گردن اسی کی لمبی ہوتی‘
جس ک پچھ وں ک دان بک ج ت ۔ اس قتل و غ رت ک
دھندے س وابستہ‘ سرک ری س نڈ‘ گزر اوق ت کر رہ تھ ۔ یہ
س ‘ ان ک لی موسی کی قو پر‘ اترن وال من وس وی
س ‘ کسی طرح ک نہ تھ ۔ مشقت ک کھ ی ‘ تو کی کھ ی ۔ مشقت
ک محدود لقم ‘ مص لحہ زدہ کھ ن ک ‘ کبھی‘ ہ سر نہیں
ہو سکت ۔
وہ اگرچہ ان م ملات س دور‘ الگ تھ گ‘ خوش ح ل اور
آسودہ زندگی گزار رہ تھ ۔ مرن اور م رن وال ‘ اس س
مت نہ تھ ۔ اس ک ‘ ان س س ‘ الگ جہ ن تھ ۔ وہ یہ س ‘
سنت اور اخب روں میں پڑھت رہت تھ ۔ قتل وغ رت اور افرات ری
کی صورت ح ل‘ اس ذہنی طور پر بڑا ڈسٹر کرتی۔ گرہ میں
572
س کچھ ہوت ‘ وہ ب اختی ر تھ ‘ اور اس ذیل میں‘ کچھ نہیں
کر سکت تھ ۔ ح لات و م ملات کی درستی‘ اقتدار میں آئ بغیر‘
ممکن نہ تھی۔ سی ست‘ شرف کی چیز نہیں‘ لیکن شرف کی لسٹ
میں‘ ن ک اندراج ک لی ‘ سی ست میں آن ی ہون ضروری
ہوت ہ ۔
اس ن ‘ سی ست میں آن ک ‘ فیص ہ کر لی ۔ اس ش ب میں‘ ن
بن ن ‘ اور داؤ پیچ سیکھن ک لی ‘ ن صرف اچھی خ صی رق
صرف کرن پڑی‘ ب کہ دو س ل بھی لگ ن پڑے۔ بلاشبہ‘ ا وہ
پ ئ ک سی ست دان بن چک تھ ۔ اس ک ڈیرہ چمک اٹھ تھ ۔
پ ئ ک سی ست دان‘ اس ک ڈیرے پر‘ آن لگ تھ ۔
لوگوں ک ک نک وان ک ‘ اس ڈھنگ آ گی تھ ۔ مست مل طور
س ہٹ کر‘ وہ لوگوں ک ‘ بلام وضہ اور خدمت خ سمجھ
کر‘ ک کروات ۔ اس ک ک ‘ کوئی روکت بھی نہ تھ ‘ کیوں کہ اس
کی پہنچ اوپر تک ہو گئی تھی۔ اگر کوئی آئیں ب ئیں ش ئیں کرت ‘
تو وہ اوپر س آرڈر ل آت ‘ س تھ میں کرارا س ٹی ی فون بھی
کروا دیت ۔ نوکری‘ ہر کسی کو عزیز ہوتی ہ ۔ کوئی انک ر کرت ‘
تو کیس کرت ۔
ا وہ اس ق بل ہو گی تھ ‘ کہ پران سی ست دانوں کو بھی‘
کھڑے کھڑے بیچ ج ت ۔ ج ہ میں حصہ‘ اس ک ج ئز ح بن گی
تھ ۔ ج ئز کو کون م نت ہ ۔ یہ ں چھین لین وال ہی‘ مستح
سمجھ ج ت ہیں۔ چھین لین ‘ اس پسند نہ تھ ‘ لیکن یہ
573
سی سی اصول اور ض بطہ ٹھہرا تھ اس لی ‘ اس بھی یہ
اختی ر کرن پڑا۔ تنویر وڑایچ س ‘ وزارت ک چھین لین ‘ مشکل
نہ تھ ۔ کی کرت ‘ اپن س ک زور ہی‘ پھٹ چڑھ سکت تھ ۔
اقتدار کی حصولی ک ذری ہ‘ خون ریزی ی س زش ہی رہ ہیں۔
وزارت ش ہ کی دائیں آنکھ پر آن س ‘ ہی مل سکتی تھی۔ آنکھ
کی ‘ وہ تو‘ ش ہ ک م تھ پر تھ ۔ اسی بن پر‘ اس ن تنویر
وڑایچ کو پچھ ڑ کر‘ وزارت پر قبضہ جم لی ۔ یہ کوئی م مولی
ک می بی نہ تھی۔
نشہ‘ ہر مذہ میں حرا ٹھہرای گی ہ ۔ نش میں آدمی‘ اپن
حواس میں نہیں رہت ۔ اقتدار ک نشہ‘ تم نشوں پر‘ بھ ری ہوت
ہ ۔ اس ذیل میں‘ احب اور رشت دار‘ کہن سنن کی حد
تک ہوت ہیں۔ اس کی حصولی ی برقراری ک لی ‘ ب پ بھ ئی
یہ ں تک کہ اولاد کو بھی‘ لح ظ ک کھ ت میں نہیں رکھت ۔
جہ ں اور جس پر بھی‘ م مولی س شک گزرت ہ ‘ اس اور
اس ک قریبیوں‘ اگ جہ ں ک رستہ دکھ ت ہ ۔ یہ ش ہی کی
حصولی ک لی ‘ اس تنویر وڑایچ کوہی نہیں‘ ش ہ مظ ر ع ل
کو بھی‘ پچھ ڑن تھ ۔ ش ہ مظ ر ع ل ک ن ہی‘ دہشت کی ع لامت
تھ ۔ اس ک ن سن کر‘ بڑوں بڑوں ک پتہ پ نی ہو ج ت تھ ۔ اس
ط قت س ‘ پچھ ڑن ممکن ہی نہ تھ ۔ خبرگیری ک ‘ ایس ج ل بچھ
ہوا تھ ‘ کہ م مولی س م مولی ب ت‘ اس ک ک نوں تک پہنچ
ج تی‘ اور پھر وہ‘ س زشی اور اس ک س تھیوں‘ کی لاشوں کو‘
574
چوراہ میں لٹک دیت ۔ یہ لاشیں‘ کووں اور چی وں ک ‘ بھوجن
بنتیں۔ مٹی‘ ان ک نصی میں نہ ہوتی۔ اس عبرت ن کی کو دیکھ
کر‘ مخ و ف کی بھی توبہ توبہ کر اٹھتی ہوگی۔
وزارت س ‘ اس ک ذہن میں‘ پنپن والا منصوبہ‘ تکمیل کی
منزل چھو نہیں سکت تھ ۔ وہ اس خوش فہمی میں بھی نہ تھ ‘
کہ ش ہ مظ ر ع ل ک اعتم د ح صل کر چک ہ ۔ ب اعتم د اہل ک ر
بھی‘ ب طنی سطع پر‘ ش ہ مظ ر ع ل ک ‘ شک ک گردا میں
رہت تھ ۔ اعتم د نہ کرن ‘ ص ح اقتدار کی سی سی اور
ن سی تی مجبوری ہوتی ہ ۔ اعتم د کی صورت میں ہی‘ اقتدار
ہ تھ س ج ت ہ ۔ اعتم د میں لا کر ہی ‘ حکومت گرائی ج
سکتی ہ ۔ جو بھی سہی‘ وہ ہر ح لت میں‘ حکومت پر‘ قبضہ
کرن چ ہت تھ ۔ ایک طرف وہ‘ ش ہ مظ ر ع ل ک اعتم د‘ ح صل
کرن کی کوشش میں تھ ‘ تو دوسری طرف‘اس کی ش ہ مظ ر
ع ل کی م مولی س م مولی‘ غ طی پر نظر تھی۔
عموم ‘ کھوٹ سکوں کو‘ ب ک ر اور لای نی سمجھ ج ت ۔ ب ض
اوق ت‘ یہ وہ ک دیکھ ج ت ہیں‘ جو کھرے سکوں ک ‘ نصی
نہیں بنت ۔ ش ہ ک اک وت بیٹ ‘ ش ہ زادہ منصور ع ل ‘ ذہنی طور
پر م ذور تھ ‘ ہ تھی س گرا‘ قری تھ ‘ کہ ہ تھی ک پ ؤں ت
آج ت ۔ ش ہ مظ ر ع ل ‘ ذہنی طور پر‘ اس ن گہ نی صورت ح ل ک
لی ‘ تی ر نہ تھ ۔ بیٹ کو بچ ن ک لی ‘ آگ بڑھ ۔ یہ ہی
موقع تھ ‘ جس کی ت ڑ میں‘ اس ن چ ر س ل انتظ ر ک نرک
575
میں‘ گزارے۔ وہ بج ی کی سی تیز رفت ری س ‘ آگ بڑھ ‘ کہ
کوئی ج ن بھی نہ سک ‘ کہ اس ن ش ہ مظ ر ع ل کو ہ تھی ک
پ ؤں میں ڈال دی تھ ۔ دیکھن والوں کو‘ یہ لگ ‘ کہ منصور کی
ن دانی‘ ی پھر ج ن بچ ن کی کوشش میں‘ ش ہ مظ ر ع ل کو
دھک لگ گی تھ ۔
م کہ ع لیہ کو‘ جہ ں اپن سرت ج ک ‘ مرن ک دکھ ہوا‘ تو
وہ ں بیٹ ک بچ ج ن ‘ کی خوشی بھی ہوئی۔ ط ہر کی بہ دری
اور جواں مردی ک قص ‘ ہر زب ن پر ج ری ہو گی ۔ م کہ تو‘
اس کی گرویدہ ہو گئی تھی۔ ب ظ ہر ش ہی منصور ع ل ک ہ تھ
آئی‘ لیکن درپردہ ‘ ط ہر جو ا ‘ ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی
ک ن س ‘ م روف تھ ‘ ک حک چ ت تھ ۔ م کہ اس کی
ک رگزاری اور ت بع فرم نی کی‘ دل و ج ن س ‘ ق ئل تھی۔ اگلا
مرح ہ‘ بس نک ح ک ہی رہ گی تھ ۔
ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی کو‘ صرف س ت م ہ‘ محنت کرن
پڑی۔ م کہ اس کی آغوش میں آ گئی۔ گوشت پوست کی انس ن‘
اور ان ج خور ہون ک ب عث‘ اتن عرصہ ہی برداشت کی سکت
تھ ۔ کچھ لوگوں کو‘ یہ م ن‘ کھٹک لیکن انہیں لگ دین وال
بھی موجود تھ ۔ ا ش ہ منصور ع ل اور م کہ ع لیہ کی‘ ش ہ
ہند جہ ں گیر کی سی حیثیت رہ گئی تھی۔ اچھ برا‘ ش ہ ہند جہ ں
گیر کی کھتونی پر‘ چڑھ رہ تھ ۔ ظ ر الدولہ نوا ط ہر زم نی ک ‘
576
ہر کی ش ہ منصور ع ل ک کھ ت لگ رہ تھ ۔ نورجہ نی ک
لطف اپن ہی ہوت ہ ۔
ش ہ منصور ع ل ن ‘ تم مذاہ ک ‘ لیڈروں ک اجلاس بلای ۔ ان
ک لی ‘ سو طرح ک ‘ پکوان چڑھ دی ۔گی ‘ خصوصی اور
آرا دہ‘ نشتوں ک بندوبست کی ۔ کھ نوں کی خوش بو ن ‘ اس
نشت گ ہ پر‘ آسیبی اور خ دی‘ کی یت ط ری کر دی تھی۔ آرا دہ
نشتوں ن ‘ ب ہمی اختلاف ت کو‘ اپن حص ر میں ل لی تھ ۔ اگر
کسی کو‘ کچھ ی د تھ ‘ تو وہ ش ہ منصور ع ل کی‘ دری دلی‘ ب ند
پ ی فراست‘ اور اع ی ذو ۔ ہر کوئی پکوان ک فوری طور پر‘
چن ج ن ک ‘ منتظر تھ ۔ وقت گزرن ک س تھ س تھ ب
قراری میں شدت آ رہی تھی۔
س اس انتظ ر میں تھ ‘ کہ ش ہ آئ ‘ اور اپن مختصر مختصر
ل ظوں میں‘ خط کرئ ‘ اور پھر وہ‘ س ری خوش بو لپیٹ لیں۔
ہر کوئی ب ند فہمی اور اع ی ت ی رکھن ک ‘ مدعی تھ ۔ اسی بن
بر‘ س ری خوش بو کو‘ اپن استحق سمجھت تھ ۔ انتظ ر کی
گھڑی ں‘ خت ہو گیئں۔ ش ہ منصور ع ل وارد ہو گی ۔ ش ہ منصور
ع ل زندہ ب د ک ن روں ن ‘ پوری عم رت کو ہلا کر رکھ دی ۔
ہر کوئی‘ اپنی وف داری‘ کی یقین دہ نی میں سبقت ل ج ن چ ہت
تھ ۔ ش ہ منصور ع ل ‘ س من چوترے پر بیٹھ ‘ یہ س دیکھ رہ
تھ ۔ دل ہی دل میں‘ اپنی م ں اور ط ہر زم نی ک ‘ گن گ رہ تھ ۔
اہل ک ر خ ص ن ‘ س س مودب نہ التم س کی کہ خ موش ہو
577
ج ئیں‘ ا ش ہ منصور ع ل ‘ اپن افت حی خطبہ دیں گ ۔ ش ہ
منصور ع ل ن ‘ طوط کی طرح رٹ ہوا خط شروع کی ۔ ابتدا
ہی میں‘ واہ واہ ک آوازے‘ ک نوں س ‘ ٹکران شروع ہو گی ۔
خط کو‘ ابھی پ ن س ت منٹ ہی ہوئ ہوں گ ‘ کہ عم رت کی
چھت ایک دھم ک ک س تھ‘ نیچ آ گئی۔ ب ہر شور مچ گی ۔
لاشوں کو نک لن ک ‘ ک شروع ہو گی ۔ ش ہ منصور ع ل اور
اس ک خصوصی اہل ک ر‘ جہ ں تھ ‘ وہ ں م ب ک انب ر س ‘
لگ ہوا تھ لیکن وہ ں س ‘ چھت صرف کریک ہوئی تھی۔ ان
تینوں کو‘ م مولی خراشیں آئی تھیں۔ اس ش ہ کی‘ درویشی
قرار دے دی گی ۔ ان تینوں ک بچ ج ن ‘ کرامت س کسی طرح ک
ب ت نہ تھ ۔
پک ہوا کھ ن ‘ ش ہ منصور ع ل کی‘ ج ن ک صدقہ کہہ کر‘ گرب
میں تقسی کر دی گی ۔ گرب کو کھ ن کو‘ وہ کچھ ملا‘ جس ک وہ
خوا میں بھی‘ تصور نہیں کر سکت تھ ۔ ان کو مذہبی
اخلاقی ت س زی دہ‘ روٹی کی ضرورت تھی۔ ہر دل س ‘ یہ دع
نکل رہی تھی‘ کہ ی الله‘ اس قس ک ح دث ‘ ہر روز ہوت
رہیں‘ اور انہیں پیٹ بھر‘ م ت رہ ۔ مزدور کو‘ مزدوری ک موقع
میسر آ گی تھ ۔ م بہ ہٹ ن ‘ جگہ ص ف کرن ‘ لاشوں کو نک لن
پر‘ پ نچ دن لگ گی ۔ س کو ن سہی‘ کچھ کو تو‘ پ نچ دن کی
مزدوری میسر آ گئی تھی۔ چ و ان ک ‘ گھر ک چولہ تو گر ہوا۔
578
یہ کوئی‘ م مولی ح دثہ نہ تھ ‘ جو چپ رہ ج ت ۔ ٹھیک دار
س ل کر‘ اع ی افسروں کو بھی‘ انکوائری میں ش مل کر لی
گی ۔ م کہ ع لیہ اور ش ہ منصور ع ل ‘ سخت غض میں تھ ۔
ش ہ منصور ع ل بھی‘ ج ن س ج سکت تھ ۔ یہ نقص ن‘
یقین ن ق بل تلافی ہوت ۔ م ک بھر میں‘ ش ہ منصور ع ل ک زندہ
بچ رہن ک ‘ بڑی دھو س جشن من ئ گی ۔ ش ہ منصور
ع ل ن ‘ تم سرک ری عم رتوں‘ ک م ئن ک حک دے دی ۔
دو تہ ئی عم رتوں کو‘ خطرن ک قرار دے کر‘ ت میر س جڑے
افسروں کو گرفت میں ل لی گی ۔۔
لوگ‘ افسر ش ہی س پہ ہی نک نک تھ ۔ چ و‘ چند اک تو
گرفت میں آئ ۔ ب لا و زیریں افسروں ک خلاف‘ پہ ہی ک فی
درخواستیں پڑی تھیں۔ م ک میں اعلان کر دی گی ‘ کہ اگر کسی
کو‘ کسی افسر ی م تحت اہل ک ر س ‘ شک یت ہو‘ تو بلاخوف
درخواست گزارے۔ درخواستوں ک انب ر لگ گی ۔ ش ہ منصور
ع ل ن ‘ خصوصی مشیران ک اجلاس بلای ۔ س ن ‘
درخواستوں ک انب ر دیکھ ۔ کس کس درخواست کو دیکھ ج ئ ۔
اگر یہ ک شروع کر دی گی ‘ تو کوئی اور ک ‘ نہ ہو سک گ ۔
ب ہمی مشورے س ‘ یہ ہی ٹھہرا‘ کہ تم ب ختی ر افسران اور
اہل ک روں کو‘ نوکری س ف ر کر دی ج ئ ۔ ملازمت س
پہ ‘ کی ج ئیداد ک سوا‘ ب قی س ‘ ب ح سرک ر ضبط کر لی
579
ج ئ ۔ ان کی جگہ‘ نئ لوگ‘ بھرتی کر لی ج ئیں۔ سنگین
جرائ میں م وث افسر اور اہل ک ر‘ جیل بھجوا دی ج ئیں۔
م ک میں‘ صن تیں ق ئ کرن ک اعلان کی گی ۔ م ک میں بہت
س ‘ ج گیردار تھ ۔ جن ک پ س ک فی س زی دہ‘ اراضی تھی۔
انہیں غداری ک ص ہ میں‘ ج گیریں م ی تھیں۔ یہ ہی طبقہ‘
م کی سی ست ک مہرہ چلا آت تھ ۔ ش ہ منصور ع ل ن ‘ ان ک
ایوان خ ص میں‘ اجلاس بلای ۔ ان کی خدم ت کی‘ بڑھ چزھ کر‘
ت ریف کی۔ ان میں س ‘ ہر کسی کو‘ خط ب ت اور حسن ک ر
گزاری ک ‘ تمغہ دی گی ۔ پھر کی تھ ‘ ش ہ منصور ع ل کی‘ جئ
جئ ک ر ک ن رے گونج اٹھ ۔ کھ ن ک دوران‘ صن توں
ک لی ‘ گرانٹس ک اعلان کی گی ۔ س ش ہ منصور کی‘ فراست
اور دری دلی پر‘ عش عش کر اٹھ ۔ دو ایک ن دب ل ظوں
میں اس منصوب کی‘ مخ ل ت کی‘ لیکن سکوں کی چمک ن ‘
ان کی بین ئی‘ زائل کر دی‘ سوچ ک درواز بھی بند کر دی ۔
منصوب کی تکمیل میں‘ چ ر س ل لگ گی ۔ م ک میں‘ صن توں
ک ج ل بچھ گی ۔ لوگوں پر‘ مزدوری ک ‘ ب شم ر مواقع پیدا ہو
گی ۔ جونک‘ اپنی فطرت میں‘ جونک ہی رہتی ہ ۔ مزدور ک ‘
بڑی ب دردی س ‘ استحص ل ہون لگ ۔ لوگ سڑکوں پر نکل
آئ ۔ م م ہ کنڑول س ب ہر ہوت ج رہ تھ ۔ افرات ری اور اس
م ک گیر‘ گڑبڑی ک سب ‘ کئی ج نیں چ ی گئیں۔ اس بغ وت کی
سی‘ کی یت کو روکن کی‘ جبری کوشش نہ کی گئی تھی۔ ش ہ
580
منصور ع ل ن ‘ مشیران خ ص ک اجلاس بلا لی ۔ مخت ف نوعیت
ک ‘ مشورے س من آئ ۔ ت ہ ‘ اس مشورے کو سراہ گی ‘ کہ
جم ہ صن تیں‘ ش ہی طویل میں‘ ل لی ج ئیں۔ سرم یہ اور زمین
ک ‘ اصل م لک ش ہ ہی ہوت ہ ۔ اگ لمح صن توں کو‘ ش ہی
طویل میں لی ج ن ک بی ن‘ ج ری کر دی گی ۔ س تھ میں‘ نوا
ص حب ن کی‘ میٹنگ ط کر لی گئی۔
نوا ص حب ن‘ کی میٹنگ میں‘ گرم گر بحث ہوئی۔ صورت ح ل
کی سنگینی کو‘ زیر بحث لای گی ۔ آخر یہ بغ وت‘ کہ ں س ‘
شروع ہوئی اور کیوں ہوئی۔ الزا تراشیوں ک میدان‘ گر ہو گی ۔
ش ہ منصور ع ل یہ کہہ کر‘ تخ یہ میں چلا گی ‘ کہ گڑبڑی کس
کی صن ت س ‘ شروع ہوئی‘ جس ک نتیجہ میں‘ بغ وت ک
آغ ز ہوا‘ اور کئی قیمتی ج نیں ض ئع ہو گئیں۔ یہ محض‘ ایک
ڈائیلاگ تھ ‘ ورنہ مقتدرہ ط قت ک لی ‘ رع ی کی حیثیت‘
کیڑوں مکوڑوں س بھی‘ ک ہوتی ہ ۔ الزا تراشی ک ‘ پٹ را
کھل گی ‘ جو دیکھت ہی دیکھت ‘ میدان جنگ میں‘ بدل گی ۔ قتل
وغ رت ک میدان‘ چوالیس منٹ گر رہ ۔ دو چ ر ک سوا‘ کوئی
زندہ نہ بچ تھ ۔ ش ہ منصور ع ل ن ‘ ش ہی بی ن میں‘ گہرے
دکھ اور صدم ک اعلامیہ ج ری کی ۔ س تھ میں‘ دو دن ک ‘ سوگ
من ن ک ‘ حک ج ری کر دی ۔ جو دو چ ر‘ زندہ بچ گی تھ ‘ وہ
بھی شدید زخمی تھ ۔ ضروری م لج ک ب د‘ ان ک م م ہ‘
مرکزی ق ضی ک ‘ سپرد کر دی گی ۔ ص ف ظ ہر ہ ‘ وہ ق تل
581
تھ ۔ ق تل ک ‘ تختہءدار پر ج ن ہی انص ف ک تق ضوں کو پورا
کرن ہ ۔
انس نی تقسی ک ‘ اہ ترین ذمہ دار لوگ‘ عبرت کو پنہچ چک
تھ ۔ ط ہر ک خی ل تھ ‘ ا لوگ‘ ایک دوسرے ک قری ‘ اور
پھر اور قری ہو ج ئیں گ ۔ دو م ہ ک ب د‘ اس ن ‘ سروے
کروای ۔ م م ہ پہ س ‘ رائی بھر مخت ف نہ تھ ۔ وہ سوچ میں
پڑ گی ‘ کہ تبدی ی کیوں نہیں آئی۔ جوں جوں غور کرت گی ‘ الجھ ؤ
بڑھت ہی گی ۔ اچ نک اس خی ل گزرا‘ روزوں میں‘ شیط ن ک
قید کر دی ج ن کی‘ روایت موجود ہ ۔ بدقسمتی دیکھی ‘
رمض ن میں ہی‘ س س زی دہ خرابی سر اٹھ تی ہ ۔ روپ
کی چیز ک ‘ پ نچ روپ وصول ج ت ہیں۔ اس ن سوچ ‘
شیط ن ک قید ہو ج ن ک ب د‘ اس ک انڈے بچ ‘ شیط ن
س بڑھ کر‘ اندھیر مچ ت ہیں۔ اس اپن منصوب ک ‘ ن ک
ہو ج ن ک اعتراف کرن پڑا۔ وہ اپنی ذات س ‘ شرمندہ تھ ۔ اس
منصوب کی ک ی بی ک لی ‘ برائی ک لاروا‘ پہ ت ف ہون
چ ہی ۔ لاروا خت ہو ج ئ ‘ تو ہی آت کل مح وظ ہو سکت ہ ۔
582
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
ُم فی چ ہت ہیں کہ بروقت ح ضری نہیں دے سک ،اور ُکچھ
ت خیر ہوئی۔ پڑھ تو ہ فوراً ہی لیت ہیں ،لیکن سمجھن اور
پھر ُکچھ کہن ک لائ ہون میں وقت لگ ج ت ہ ۔ اور سچ
پوچھی تو اس تحریر ک آخر میں جس طرح اس ک اختت ہوت
ہ ،ک فی سوچ بچ ر کرنی پڑتی ہ ،کہ لاروے اور انڈے بچ
س ُمراد کی ہ ۔ ُبرائی ک خلاف تو کہ نی ک ہیرہ نکلا ہی تھ ،
اور انہیں لارووں ک خ تمہ چ ہت تھ ،پھر آخر یہ کی کہ نی ہوئی۔
کہ نی لکھن میں تو ویس آپ ک جوا نہیں۔ اس میں تو
پیچیدہ صورتیں بھی نظر آئیں ،جہ ں لکھن والا راستہ بھٹک
کر کسی اور سمت نکل سکت تھ ،لیکن ُبہت خوبصورتی س آپ
ن اس اپن مقصد ک محور میں رکھ ہ ۔ ہ جہ ں تک
سمجھ سک ہیں وہ یہی ہ کہ ُبرائی انس ن خود ہی ہ ،اور
اسی ک خ تمہ ُبرائی کو خت کر سکت ہ ۔ شیط ن کی غیر
موجودگی کی مث ل بھی خو دی آپ ن کہ اس کی غیر
موجودگی میں کس حد تک ُبرائی بڑھ ج تی ہ ۔
ایسی تحریروں کی جگہ ہ تو سمجھت ہیں ،کہ نص بی کت بوں
میں ہونی چ ہیئ ،جہ ں کردار س زی کی بہت ضرورت ہ ۔
اچھ بھ پڑھ لکھ لوگ جتن ُنقص ن پہنچ رہ ہیں ،ہ
583
نہیں سمجھت کہ ان پڑھ اتن ُنقص ن ُپہنچ بھی سکت ہیں۔ پڑھ
لکھ کر صرف ت یمی اسن د ح صل ہوتی ہیں ،اور اس ک ب د
بھی ایسی حرکتیں کرت ہیں ،کہ شر ن کی چیز پ س نہیں
پھٹکتی۔
ہم ری ُدع ہ کہ آپ کی کوششیں رنگ لائیں۔ ہم ری طرف س
ایک ب ر پھر بھرپور داد قبول کیج ۔
ُدع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8916.0
584
ان پڑھ
‘کم ل اے‘ اکر کو میں نہیں ج نت
ہ ایک ہی مح ہ میں‘ رہت ہیں۔ ہم را بچپن‘ ایک س تھ گزرا
ہ ۔ ہم را شروع س ‘ دن میں‘ ایک دو ب ر‘ ٹ کرا ہوت رہت ہ ۔
وہ دوسری جم عت س ‘ آگ نہ بڑھ سک ۔ کند ذہن ک م لک تھ ۔
مسجد میں بھی‘ نہ چل سک ۔ وہ تو خیر‘ ام مسجد ص ح کی‘
روز اول کی‘ پھینٹی برداشت نہ کر سک ۔ ام مسجد ص ح ن ‘
تین چ ر مرتبہ‘ سب بت ی ‘ لیکن وہ ی د نہ کر سک ۔ انہیں ت ؤ آ
گی ‘ ک ن پکڑا کر‘ ایس وج ی ‘ کہ آج بھی‘ ی د کرت ہو گ ۔
اس ن ن ن چن کی ریڑھی لگ لی۔ میں ن ت ی ج ری رکھی۔
میں ن درجہ دوئ میں‘ بی اے پ س کی اور اچھی پوسٹ پر
ت ین ت ہو گی ۔ صرف دو س ل ہو اسٹیشن نہ ملا۔ یہ ہی میرے
اوراس ک ‘ جدائی ک دن تھ ۔ میں ج بھی چھٹی پر آت ‘
اس ضرور م ت ۔ مجھ ہر ب ر‘ نی اکر م ت ۔ ا ج کہ میں
ہو اسٹیشن پر ہوں‘ اس لی میری اور اس کی‘ ملاق ت ہوتی
رہتی ہ ۔ سچی اور خدا لگتی ب ت تو یہ ہی ہ ‘ کہ اکر ‘ وہ
اکر نہینتھ ۔ مزاج میں حد درجہ کی سنجیدگی اور مت نت آگئی
تھی۔۔ میں ن ب ت ب ت پر‘ اس قہقہ لگ ت نہیں دیکھ ۔
585
مسکراہٹ میں بھی‘ سنجیدگی ک عنصر نم ی ں ہوت ۔ اس س
بڑھ کر‘ ب ت تو یہ تھی‘ کہ ج کوئی ب ت کرت ‘ تو یوں لگت ‘
جیس آکس ورڈ یونی ورسٹی س ‘ پی ایچ ڈی کی ڈگری ل کر‘
واپس پ ٹ ہو۔ اس کی ہر ب ت میں م قولیت‘ تجربہ اور دلیل ہوتی۔
میری ب ت ک ‘ یہ مط نہ لی ج ئ ‘ کہ مجھ کوئی جلاپ تھ ۔
لوگ‘ اس بڑی عزت دیت اور اس کی قدر بھی کرت تھ ۔
اس ک برعکس‘ میں پڑھ لکھ اور م قول ملازمت رکھت
ہوئ بھی‘ لوگوں س ‘ اس سی عزت اور احترا ح صل نہ کر
پ ی تھ ۔ اس کی بیوی‘ پورے مح میں‘ شیداں کپتی ک ن
س ‘ ج نی ج تی تھی۔ وہ بولت نہ تھکتی تھی۔ گھر میں؛ اس
ن اکر ک جین حرا کر رکھ تھ ۔ مج ل ہ ‘ اس ن کبھی اپنی
بیوی کی‘ کسی س شک یت کی ہو۔ ایک ب ر اس ک بھ ئی ن ‘
اکر کو شیداں کو طلا دے‘ کر کسی دوسری عورت س ‘
ش دی کر لین ک مشورہ دی ۔ اس ک بھ ئی ک ہ تھ میں‘ رشتہ
بھی تھ ۔ اکر ن ‘ مسکرات ہوئ ‘ فقط چندد جم وں میں ب ت
خت کر دی۔
اس ک کہن تھ :آن والی‘ نہ لڑے گی‘ فطرت کو کون بدل سکت
ہ ۔ روز اول س ‘ س اسی طرح چلا آت ہ ۔ الله ن ‘ آدمی کو
لات داد‘ صلاحیتوں س ‘ نوازا ہ ۔ توازن ک لی ‘ مرد ک
عورت س ‘ ملاپ رکھ دی ہ ۔ ورنہ یہ ک ئن ت ک ‘ پ ؤں زمین
پر نہ آن دیت ۔
586
کم ل ص ح ‘ حج کرک آئ ۔ س انہیں مب رک ب د کہن ک
لی ‘ ان ک ہ ں‘ ح ضر ہوئ ۔ اکر بھی‘ انہیں مب رک ب د کہن
ک لی ح ضر ہوا۔ ب توں ہی ب توں میں‘ عصری جبریت اور
م شی و م شرتی گھٹن ک ذکر چل نکلا۔ اس کو خت کرن ک
لی ‘ ہر کوئی اپنی رائ رکھت تھ ۔ اکر س کی‘ خ موشی س ‘
ب تیں سن رہ تھ ۔
ایک ص ح ک خی ل میں‘ حقیقی جمہوریت س مس ئل حل ہو
سکت ہیں۔ نصیر ص ح ک خی ل تھ ‘ کہ اسلامی جمہوریت س
ہی‘ ہر قس کی خرابی دور ہو سکتی ہ ۔ نبی بخش ک خی ل تھ ‘
کہ خلافت زندگی کو‘ آسودہ کر سکتی ہ ۔ اکر ن ‘ ہر تین نظ
پر ب ت کی‘ جس ک ل لب یہ تھ کہ
جمہوریت‘ قط ی غیر فطری نظ ہ ۔ عوا کون ہوت ہیں‘
حکومت کرن وال ۔ حکومت ک ح ‘ صرف الله ہی کو ح صل
ہ ۔ حکومت عوا ک ذری نہیں‘ قرآن و سنت ک ذری
ہی‘ اصولی اور فطری ب ت ہ ۔
اسلامی جمہوریت‘ تو ایسی ہی ب ت ہ اسلامی چوری‘ اسلامی
قتل‘ اسلامی زن وغیرہ
کس خلافت کی ب ت کرت ہو‘ جس ن منصور کو‘ شہید کی ۔ ن
بدلن س ‘ کی ہوت ہ ‘ تھی تو ب دش ہت‘ ب پ ک ب د بیٹ ۔ ک
بھی ان ک ب ش ہوں وال تھ ۔
587
شرف ع ی بولا :پھر ت بت ؤ‘ کی ہون چ ہی ۔
بھ ئی! مس ہ اس وقت تک حل نہ ہو گ ‘ ج تک‘ انس ن ک اندر
نہیں بدلا ج ت ۔ انبی اور ص لیحین‘ یہ ہی تو کرن کی‘ کوشش
کرت آئ ہیں۔
ری ض بولا :یہ تو نہیں ہو سکت ۔ ن مکن ت میں ہ ۔
اگر یہ نہیں ہو سکت ‘ تو کوئی بھی نظ ‘ خرابی دور نہ کر
سک گ ۔ لوگ تو‘ یہ ہی رہیں گ ن ۔ استحص ل کرن وال ‘
اپنی ڈگر پر رہیں گ ۔ ک زور‘ کوہ و ک بیل بن رہ گ ۔ لکھ لو‘
کچھ نہیں ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہو گ ۔۔۔۔۔۔ ۔
وہ یہ کہت ہوا اٹھ کر چلا گی ۔
اس قس کی ب تیں‘ ایک چٹ ان پڑھ‘ کس طرح کر سکت ہ ۔
ن ممکن‘ قط ی ن ممکن۔ میں گڑبڑا گی ۔ ن ن چن بیچن والا‘ اس
قس کی ب تیں کر ہی نہیں سکت ۔ اس خداداد صلاحیت ک ن نہیں
دی ج سکت ۔ میری نظر س ‘ سیکڑوں‘ ان پڑھ گزرے ہیں‘ ایس
ان پڑھ‘ میں ن نہیں دیکھ ۔ اگر اس قس ک ان پڑھ‘ پیدا ہو
ج ئیں‘ تو اس قو کی قسمت ہی نہ بدل ج ئ ۔
وہ کھرا سودا بیچت تھ ‘ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ اس گ ہکی بڑی
پڑتی تھی۔ ب ایم نی اور ہیرا پھیری ی غ ط بی نی‘ تو اس ک
ک غذوں میں ہی نہ لکھی تھی‘ ب کہ یہ کہن زی دہ من س ہو گ ‘
588
کہ وہ ان چیزوں س ‘ سخت ن رت کرت تھ ۔ کسی س ‘ ادھ ر
نہیں کرت تھ ‘ ہ ں ضرورت مند ک پیٹ بھر دیت تھ ۔ ادھ ر لیت
بھی نہ تھ ۔ کہت تھ ‘ پت نہیں‘ س نس ک س تھ چھوڑ ج ئ ‘ میرا
ادھ ر‘ کوئی دوسرا کیوں چک ئ ۔
میں اس انوکھ ان پڑھ کی‘ ٹوہ میں لگ گی ۔ اس ک م مولات
ج ن کر ہی‘ اصل حقیقت‘ تک‘ رس ئی ممکن تھی۔ صبح
سویرے‘ اٹھ ج ت ۔ مسجد میں‘ ہر قم ش ک لوگ م ت ہیں۔ وہ
وہ ں س س ‘ سلا دع کرت ۔ ہ ں م سٹرلال دین ص ح س ‘
ن صرف بڑی گر جوشی س ‘ ہ تھ ملات ‘ ب کہ بغل گیر بھی ہوت ۔
ان ک درمی ن‘ ب ت ک ہی ہوتی‘ ہ ں پرخ وص مسکراہٹ ک
تب دلہ‘ ضرور ہوت ۔ مسجد س فراغت ک ب د ‘ حضرت سید
حیدر ام ص ح ک ہ ں‘ ح ضر ہوت ۔ حضرت سید حیدر ام
ص ح ک قد لیت ۔ وہ اس س ‘ ہ تھ ملات ‘ گ م ت ‘ بڑی
محبت س ‘ اس ک سرپر ہ تھ پھیرت ۔ اس مسکرا کر
دیکھت ۔ ش کی نم ز ک ب د بھی‘ اس ک یہ ہی م مول ہوت ۔
ج کبھی‘ کوئی پڑھ لکھ ‘ مح ہ میں‘ کسی ک ہ ں‘ مہم ن
ہوت ‘ وہ اس م ن ضرور ج ت ۔ اس س ‘ بڑی گر جوشی
س ‘ ہ تھ ملات اور اس گ ضرور م ت ۔ تح ہ میں‘ دو ن ن اور
کچھ چن ل ج ن نہ بھولت ۔
اکر اچھ خ ص تھ ۔ ست ون س ل‘ عمر ک نہیں‘ تو اتنی زی دہ
بھی نہیں۔ اچھ خ ص ‘ چ ت پھرت تھ ۔ چہرے پر‘ بڑھ پ ک ‘ دور
589
تک‘ ات پت بھی نہ تھ ۔ وہ بوڑھ بھی تو نہ تھ ‘ اچ نک چل بس ۔
وہ یہ ں‘ مہم نوں کی طرح رہ ۔ اکٹھ کر لین کی ہوس‘ اس میں
ب لکل نہ تھی۔ جو‘ اور جتن ملا‘ اسی پر‘ گزارا کرت رہ ۔ یہ کی
ہوا‘ صبح کی جم عت میں شریک تھ ‘ ش کو‘ لوگ‘ اس ک
جن زہ میں‘ ش مل تھ ۔ ہر زب ن پر‘ اکر چل بس ‘ تھ ۔ ہ ئیں‘ یہ
کیس ج ن ہوا۔ ج ن س پہ ‘ ج ن ک ‘ اث ر تک نہ تھ ۔
ابھی زندہ تھ ‘ ابھی فوت ہو گی ۔ یہ مرن بھی‘ کیس مرن ہوا۔ آج
اس ک س تواں تھ ۔ اس ک اپنوں میں‘ گنتی ک چند لوگ تھ ۔
مح ہ ک ‘ ش ید ہی کوئی شخص رہ گی ہو گ ۔
ہر زب ن پر‘ اس کی اچھ ئی اور شریف الن سی ک ‘ ک م تھ ۔
وہ ں س ‘ م و ہوا‘ اس کی بیوہ‘ کسی وقت رشیدہ خ ن تھی۔
ح لات اور وقت ن ‘ اس شیداں کپتی بن دی تھ اور رشتہ‘
حضرت سید حیدر ام ص ح ن کروای تھ ۔ سید ص ح بھی
تشریف لائ تھ ۔ وہ گوشہ نشین بزرگ تھ ۔ پورا علاقہ‘ ان
کی عزت کرت تھ ۔ وہ کچھ ہی دیر‘ وہ ں رک ۔ چہرے پر جلال
تھ ‘ ہ ں‘ س تھ چھوٹ ج ن پر‘ ان کی آنکھوں س ‘ خ موش
آنسو رواں تھ
ا میرے پ س‘ اس کی فراست اور مت نت ک ‘ دونوں سرے
تھ ۔ حضور کری ن ‘ ہ تھ ملان اور ایک دوسرے س گ
م ن کی‘ کیوں ت کید کی تھی۔ ہ تھ ملان س ‘ ن صرف
ریکھ وں ک م ن ہوت ہ ‘ ب کہ ن دانستہ طور پر‘ جذب ت‘ اطوار
590
اور دانش بھی منتقل ہوتی ہ ۔ ج کوئی گن ہ گ ر‘ کسی ص لح
س ‘ ہ تھ ملات ہ تو مثبت عن صر منتقل ہو ج ت ہیں۔
دوسرے سرے پر یہ مقولہ موجود تھ :صحبت ص لح‘ ص لح کند
صحبت ط لع‘ ط لع کند
جس طرح‘ سگریٹ کی ع دت چھوڑن س ‘ نہیں چھٹتی‘ اسی
طرح‘ اچھ کرن کی ع دت‘ جو انس ن اپنی فطرت میں‘ ل کر
جن لیت ہ ‘ د نہیں توڑ سکتی۔ اگر یہ چھٹن کی ہوتی‘ تو
سقراط کبھی زہر نہ پیت ۔ حسین کیوں کربلا تک آت ۔ منصور کو
کی پڑی تھی‘ کہ قتل ہوت ‘ پھر اگ دن جلای ج ت ‘ اس س
اگ دن‘ اس کی رکھ اڑائی ج تی۔
اکر ‘ ب عمل ان پڑھ تھ ۔ ہ ‘ ب عمل پڑھ ہیں۔ اس کی ان
پڑھی‘ ہ س ‘ بدرجہ بہتر تھی۔ ہ ن جو پڑھ ‘ ہمیشہ اس ک
برعکس عمل کی ۔ حقی سچی ب ت تو یہ ہی ہ ‘ اکر پڑھ ہوا‘
ب حکمت شخص تھ ۔ ہ ‘ ان پڑھ اور حکمت و دانش س محرو
لوگ ہیں۔
591
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
ہم رے منہ کی ب ت چھین لی اپ ن ۔ ُبہت ہی اچھی تحریر ہ ۔
ب لکل ُدرست ہ کہ جو اچھی ص ت ی ضمیر رکھت ہ ،وہ اس
س انحراف کر ہی نہیں سکت ۔ اور ہم را خی ل ہ کہ یہ بچپن
میں والدین ی م حول س انس ن سیکھت ہ ۔ اگر اُس کی ت ی
اُس ک دل میں ُبرائی کی ن رت ڈال دے تو زندگی بھر اُس س
ُبرا ک سرزد نہیں ہوت ۔ ہم رے نذدیک اس میں اُن چھوٹی
چھوٹی کہ نیوں ی حک ی ت کی بھی ُبہت اہمیت ہ ،جو دادی ں
بچوں کو ُسن تی ہیں۔ ہمیں ی د ہ کہ ہم ری دادی ہمیں ایسی کئی
حک ی ت ُسن تی تھیں ،اور کئی اس قدر جذب تی ہوتی تھیں کہ رون
ا ج ت تھ ۔ اُن کہ نیوں میں ُبرا کبھی ہیرو نہیں ہو سکت تھ ۔
ہمیشہ اچھ ئی کی جیت ہوتی تھی۔ علاوہ ازیں ،ایس حس س
اور سوچن پر مجبور کر دین وال موضوع ت ہوت تھ کہ
ننھی سی عمر میں ہی سوچن اور ب توں کو سمجھن کی طرف
رجح ن رہ ۔ جذب تی ہون ک نقص ن ت س اگہی ہوئی ،اور ہر
م م کو انص ف ک ترازو میں تولن ا گی ۔ سچ پوچھیں تو ہ
ن ُکچھ ب ر بھرپور کوشش کی کہ رشوت ل لیں ،لیکن اُس
ذات پ ک کی قس ،ہ :اس می :س انکھ نہ ملا سک ۔ اپن اپ
س ایسی گھن اتی تھی ،کہ ایک ل ظ بھی نہ کہہ سک ۔ یہ بھی
حقیقت ہ کہ ہمیں یہ احس س نہ تھ کہ الله ن راض ہو گ ،ہمیں
592
مسئ ہ یہ پیش تھ کہ غیرت اور ان اج زت نہ دیتی تھی۔ ہ اپنی
کہ نی ل کر بیٹھ گئ ۔
کہن یہی چ ہت تھ ،کہ تبھی ہم ری خواہش رہی ہ کہ ایسی
چیزوں کو ت ی ک حصہ ہون چ ہیئ جو کردار س زی کریں۔
ہم رے بچوں کو رٹ لگ ن کی کوئی ضرورت نہیں ہ ۔ تم
ع و اس ک محت ج ہیں۔ جس میں کردار نہیں اُس کی کوئی
س ئنسدانی کسی ک کی نہیں۔ اور بقول اپ کی اس تحریر ک
ہی ،حکومتیں ُکچھ نہیں کر سکتیں ،س ُکچھ کرن والی عوا
ہی ہ ۔ حکومت کو کوسن والا سبزی فروش خود نگ ہ بچ کر
گندے ٹم ٹر بیچت ہ ۔ لوگ گند نہیں اُگ ئیں گ ،تو اٹ مہنگ
ہوگ ،حکومت روٹی پک کہ نہ کبھی کسی کو دے سکی ہ ،نہ
کبھی دے سک گی۔
اس تحریر پر ایک ب ر پھر بھرپور داد قبول کیج ۔۔۔ ہمیں ُبہت
پسند ائی ہ اپ کی تحریر۔
ُدع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8934.0
593
پ خ نہ خور مخ و
میں ن ‘ اپن ہ ں ک ‘ مس م ن انس ن ک ‘ شخصی تجزی ک ‘
سروے کرن ک ‘ ارادہ کی ۔ اس ک لی ‘ کچھ سوالات‘ ترتی
دی ۔ میں چوں کہ خود بھی‘ دن میں ایک دو ب ر مسجد ج ت
ہوں‘ اس لی ‘ مسجد میں آن وال لوگوں کو ہی‘ پہ ی ترجیع
میں رکھ ۔ دوسری کھیپ میں دیگر م ززین کو رکھ ۔ سوال کچھ
:یہ تھ
آپ پ نچ وقت نم ز ادا کرت ہیں۔ -
رمض ن میں‘ ب ق عدگی س ‘ روزے رکھت ہیں۔-
زکوات کی ادائیگی میں‘ بخل س ک تو نہیں لیت -
حج کرن کی س دت میسر آئی -
م ئی ب پ ک س تھ ہی‘ رہت ہیں‘ ی الگ س ‘ رہ ئش -
رکھت ۔
م ئی ب پ س ‘ م لی ت ون کرت ہیں۔ -
اگر ایک حی ت ہ ‘ تو وہ آپ ک س تھ ہی رہت ہیں -
تم بہن بھ ئیوں س ‘ ملاق ت اور لین دین‘ چ ت رہت ہ ۔ -
594
ادھ ر ل کر‘ وقت پر‘ واپس کر دیت ہیں‘ ی دیر سویر ہو -
ج تی ہ ی قرض دہندہ کی‘ فوری موت ک ‘ خواں رہت ہیں۔
بیم روں کی تیم رداری کرت ہیں۔ -
ضرورت مندوں کی مدد کرت ہیں۔ اس س آپ کو سکون -
مت ہ ۔
کی گئی مدد ک ذکر تو چ ت رہت ہو گ ۔ مط یہ کہ لوگوں -
کو ترغی کی غرض س
جھوٹ بولت ہیں -
حرا کی کم ئی‘ کھ ن ک کبھی ات ہوا۔ -
آپ دونوں می ں بیوی‘ ایک دوسرے س ‘ مخ ص ہیں اور -
آپسی اعتم د‘ موجود ہ ی بس گزرا چل رہ ہ ۔
جوا بڑا حیران کن تھ ۔ میرے سمیت‘ چ ر سو س زائد لوگوں
میں س ‘ ایک بھی‘ جوا دی نت دار ک دروازے س ‘ گزرت
ہوا نہ ملا۔ کچھ لوگ‘ ایس بھی تھ ‘ جو دن میں‘ ایک آدھ ب ر
س زی دہ مسجد گی ہوں گ ۔ ایک ص ص ‘ پیش کرن کی
غرض س ‘ مسجد تشریف ل ج ت تھ ۔ دیکھن والا‘ یہ ہی
سمجھت ‘ مسجد س نم ز پڑھ کر‘ نک ہیں۔ یہ بھی‘ ان کی
سم جی مجبوری تھی۔ ان کی دک ن‘ مسجد ک س من تھی۔ ایک
595
ص ح ‘ صبح سویرے‘ غسل ش فرم ن ک لی ‘ تشریف ل
ج ت تھ ۔ س ‘ خود کو پ نچ وقت بت رہ تھ ۔
می ں ط ر ص ح کو‘ میں ذاتی طور پر‘ ج نت تھ ۔ زکوت دین ‘
تو بڑی دور کی ب ت‘ فقیر کو دو ٹیڈی پیس دیت ‘ موت پڑتی
تھی۔ می ں ط ر ص ح بڑے م ل دار تھ ۔ ان ک والد‘ خیر
خیریت س گزر گی ‘ ہ ں البتہ‘ م ں بیم ر بڑی‘ تو خیراتی
ہسپت ل ک ‘ برآمدے میں پ نچ دن‘ سسکتی ب کتی رہی۔ اس ک
نصی میں‘ ان پر‘ دو دمڑی خرچ کرن نصی نہ ہوئی۔ ہ س ئ
تو دور کی ب ت‘ اپن سگ بہن بھ ئیوں ک س تھ‘ میٹھ بولن
پر ان ک خرچ اٹھت تھ ۔
ران نصیر ص ح ‘ رمض ن ک بڑا احترا کرت تھ ۔ رمض ن ج
بھی‘ ان ک ہ ں تشریف لات ‘ ان کی بیوی ص لحہ کی
مسکراہٹوں ک عوض نہ‘ ان ک بچوں کی ت ی پر‘ بڑے کھ دل
س ‘ دھر کر ج ت ۔ ویس ران ص ح بھی‘ ب ہر رمض ن کی
برکتوں اور رحمتوں ک ‘ لابھ اٹھ ت ۔ سموس بن کر‘ پرچون
فرشوں کو فراہ کرت تھ ۔ تکوں کی‘ ان کی ذاتی دک ن تھی۔
س رے جہ ں ک گند بلا‘ مہنگ داموں‘ لوگوں ک پ پی پیٹ میں‘
بلاتک ف چلا ج ت تھ ۔ گھر میں‘ س کچھ ہوت ‘ وہ بھوک رہن
ک ‘ ق ئل نہیں تھ ۔ محنت اور حلال کم ئی کم ؤ‘ ان ک مقولہ
م روف تھ ۔