201
سوچت ج ؤ‘ دیکھت ج ؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں ک روبرو چیز سمجھ
میں نہ آ سک گی کیوں کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی ہوئی
گھتی ہ ‘ جس سمجھن آس ن ک نہیں۔
202
لاحول ولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خود س پیدا نہیں ہوا‘ میری تخ ی میں الله کی مرضی اور
رض ش مل تھی۔ اس س بڑھ کر ب ت یہ کہ وہ ہی میرا تخ ی
ک ر ہ ۔ میں نہیں ج نت تھ کہ میں کون ہوں‘ اس ن مجھ
شن خت دی۔ نوری و ن ری مخ و کو‘ میں ن نہیں کہ کہ
مجھ سجدہ کرو۔ یہ بھی الله‘ جو میرا خ ل ہ ‘ ن حک دی ۔
س االله کی مرضی س چ ت ہ ‘ عزازیل خو ج نت تھ ۔ میں
کی گرفت میں آ گی ۔ میں کی گرفت بڑی بری ہوتی ہ ۔ اس کی
پکڑ میں آی ‘ اپن آپ میں نہیں رہ پ ت ۔ حک کی ت میل نہ
کرک ‘ س کچھ کھو بیٹھ ۔ اس اپنی شن خت تک ی د نہ رہی۔
شن خت ی د میں آ ج تی‘ تو توبہ ک دروازے پر ضرور آت ۔
عج الٹی کھوپڑی ک م لک ہ ۔ میرا اور اس ک ‘ سرے س
کوئی مس ہ ہی نہیں‘ لیکن تنگ مجھ کرت ہ ۔ آج صبح میں
مسجد س نم ز پڑھ کر نکل رہ تھ کہ ایک ق تل حسینہ ک
روپ میں‘ میرے س من آ گی ۔ میری طرف بڑی روم ن خیز
مسکراہٹ ک س تھ دیکھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ میں قط
بھول گی ‘ کہ نم ز پڑھ کر مسجد س نکل رہ ہوں۔ اس ن
رفت ر ک کر دی اور میں اس ک پیچھ پیچھ چل دی ۔ مجھ
203
یہ بھی ی د نہ رہ ‘ ک پر بھی ج ن ہ ۔ اس مسکراہٹ میں
مقن طیسی قوت تھی۔
میں تو خود کو بھول ہی گی تھ ‘ میرے اندر بیٹھ شخص ن
کہ :کت ‘ یہ کی کررہ ہو۔ ہڈی دیکھی اور پیچھ پیچھ چل
دی ہو۔ ل نت ہ تمہ رے دوہرے روی پر‘ مسجد میں نم ز
پڑھت ہو اور ایک مسک ن پر مر مٹ ہو‘ ت کیس بندے ہو۔
اس آواز ن ‘ مجھ شر س پ نی پ نی کر دی اور میں ن دل
ہی دل میں‘ لاحول ولا پڑی۔ پھر کی تھ ‘ اس ن میری طرف کھ
ج ن والی نظروں س دیکھ اور دوسری گ ی میں داخل ہو گی ۔
اگر الله احس ن نہ کرت ‘ تو میں م را گی تھ ۔ مجھ اندازہ ہوا کہ
میری نم ز تو فس ہو گئی ہ ‘ میں جہ ں کھڑا تھ ‘ وہیں سجدہ
ریز ہو گی ۔ میں ن لوگوں اور زمین پر پڑی گندگی کی پرواہ نہ
کی۔ یہ اس گندگی س بڑھ کر نہ تھی‘ جو میرے اندر گھس آئی
تھی۔
دفتر میں میرا اور اس ک ٹ کرا ہوت رہت ہ ۔ س ئل بن کر‘ نی
پی اور سرخ نوٹوں ک س تھ آت رہت ہ ۔ ظ ل مجھ بک ؤ
م ل سمجھت ہ ۔ میں طوائف نہیں ہوں‘ جو اس ک بہک وے
میں آ ج ؤں گ ۔ اس کی کمینگی کی حد تو دیکھیں‘ یہ ہی کوئی
چھ س ت دن پہ کی ب ت ہ ۔ میں ابھی دفتر س لوٹ ہی
تھ ‘ کہ گھر پر آ گی ۔ میں ن بیٹھک میں بٹھ ی ۔ ٹھنڈا پ نی پیش
204
کی ۔ اس ن نوٹ وکھ ئ کہ ن ح کرن ک لی ‘ میرا موڈ
بن ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی اور میرا چہرا غص س سرخ ہو گی ۔
گم ن تھ کہ اندر خبر نہیں ہوئی‘ ش زیہ کو چھپ چھپ کر ب تیں
سنن ک ٹھرک ہ ۔ اس حقیقت ک ع ہو گی تھ ۔ خیر‘ میں
ن جی میں لا حول ولا پڑی‘ اس ن کھ ج ن والی نظروں
س مجھ دیکھ اور اٹھ کر چلا گی ۔ وہ تو چلا گی ‘ ہنستی
مسکراتی ش زیہ دہکت انگ رہ بن گئی۔ میرے س تھ جو ہوا‘ مت
پوچھی ‘ وہ بھی سچی تھی کہ میں ن آت نوٹوں کو دھتک را
تھ ۔
بڑا ڈھیٹ ہ ‘ خواہ مخواہ میرے س تھ پنگ لیت رہت ہ ۔ میں
ن ک کی سیدھ پر ج رہ ہوں‘ ج ن دے۔ میں کوئی بہت بڑا آدمی
نہیں ہوں‘ مجھ س اس کی مل سکت ۔ کسی بڑے آدمی ک
پ س ج ئ ۔ اس م و ہ ‘ کسی بڑے آدمی ک پ س گی تو وہ
ن سیں سیک دے گ ۔ میں ہوں کی ‘ کچھ بھی نہیں‘ یہ ج نت
ہوئ بھی میرے آس پ س میں اق مت کئ ہوئ ہ ۔
دفتر کی نوکری میں ایس ح دث ‘ روز ک م مول تھ ۔ جھگڑے
س میری بڑی ج ن ج تی ہ ۔ شیط ن س ہر روز کی لڑائی
س تنگ آ کر‘‘ میں ن دفتر کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ مجھ
فرار ہی میں ع فیت نظر آئی۔ گھر میں بھی ک آمدنی پر ہر روز
جھگڑا ہوت تھ ۔ پوری تنخواہ ہتھی ی پر رکھ دیت تھ ۔ روز ک
خرچہ ش زیہ س ل کر ج ت تھ ۔ ج بھی بس ک کرایہ وغیرہ
205
م نگت ‘ بڑی لہ پہ کرتی‘ میں س برداشت کر ج ت ۔ تنخواہ میں
س کچھ رکھت تو مجر ٹھہرت ۔ تنخواہ ک علاوہ کدھر س
لات ۔ ج کہ وہ اوروں کی مث لیں دیتی۔
میں ن لاء کی ڈگری بھی ح صل کر رکھی تھی۔ سوچ وک لت
کرت ہوں۔ اس طرح ب گن ہ لوگوں کی مدد بھی کر سکوں گ اور
دال روٹی بھی چ تی رہ گی۔ میدان عمل میں قد رکھ تو م م ہ
ہی برعکس نکلا۔ کچری میں ج کر م و ہوا‘ کم ئی چوروں‘
ق ت وں‘ اور دو نمبر لوگوں کی مدد کرن س ممکن تھی۔ ان کو
ب گن ہ اور ب گن ہوں کو گن ہ گ ر ث بت کرک ‘ لم نوٹ کم ئ
ج سکت تھ ۔ یہ ں ک طور طریق ‘ دفتر ک طور طریقوں
ک بھی پیو نک ۔ چند ہی دنوں میں‘ میرا دل وہ ں س بھی
کھٹ ہو گی ۔ لگت تھ ‘ انص ف گ ہ میں تو اس ن مستقل ڈیرے
ڈال رکھ ہیں۔ قد قد پر میری اس س ملاق ت ہوتی۔ مجھ
دیکھ کر قہقہ لگ ت ‘ سرع میرا مذا اڑات ۔
علاق کی مسجد میں‘ میری ملاق ت ح جی عمر س ہوئی۔ پنج
وقت تھ اور ش وار ٹخنوں س اوپر رکھت تھ ۔ بڑے
اصول پرست سمجھ ج ت تھ ۔ ان ک لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔
حس کت ک م م میں‘ میں بھی م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں
ٹھیک رہ گ ۔ میں ان ک کھ ت میں منشی کی سیٹ پر ت ین ت
ہو گی ۔
206
چند دن گزرن ک ب د م و ہوا‘ یہ ں بھی‘ شیط ن مہ راج ک
سکہ چ ت ہ ۔ بڑی حیرت ہوئی کہ ح جی ص ح ک ظ ہر کتن
ص ف ستھرا ہ اور ب طن غلاظتوں س لبریز ہ ۔ وہ ں بھی
دہ ئی ک گھپلا تھ ۔ ک رکنوں ک س تھ جو ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو
رہ تھ ‘ لیکن حس کت ک دو کھ ت تھ ‘ ایک سرک ر کو
دیکھ ن ک لی ‘ دوسرا اص ی کھ تہ جو دفتر میں نہیں رکھ
ج ت تھ ۔ سرک ری کھ ت میں گھ ٹ ک سوا کچھ نہ تھ ۔
بج ی ک لی بھی‘ بج ی اہل ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی
تھیں۔ یہ ں حرا اور حرا ک سوا کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ
تو ک از ک حلال تھی۔ یہ ں س م ن والی تنخواہ سرے س
ش ف نہ تھی۔ یہ م م ہ تو پہ س بھی کہیں بڑھ کر
تھ ۔رکھت تھ ۔ بڑے اصول پرست سمجھ ج ت تھ ۔ ان ک
لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔ حس کت ک م م میں بھی
م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں ٹھیک رہ گ ۔ میں ان ک کھ ت میں
منشی کی سیٹ پر ت ین ت ہو گی ۔
وہ ں ج کر م و ہوا کہ وہ ں بھی دہ ئی ک گھپلا ہ ۔ ک رکنوں
ک س تھ ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو رہ تھ لیکن حس کت ک دو
کھ ت تھ ‘ ایک سرک ر کو دیکھ ن ک لی ‘ دوسرا اص ی
کھ تہ جو دفتر میں نہیں رکھ ج ت تھ ۔ سرک ری کھ ت میں
گھ ٹ ک سوا کچھ نہ تھ ۔ بج ی ک لی بھی‘ ایک بج ی اہل
ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی تھیں۔ یہ ں حرا اور حرا ک سوا
207
کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ تو ک از ک حلال تھی۔ یہ ں س
م ن والی تنخواہ سرے س ش ف نہ تھی۔ یہ م م ہ تو پہ
س بھی کہیں بڑھ کر تھ ۔
میں ن وہ ملازمت چھوڑ کر‘ ک روب ر کرن کی ٹھ ن لی۔
علاق میں‘ لوگوں کو دودھ کی بڑی پریش نی تھی۔ سوچ ‘ دودھ
ک ک روب ر برا نہیں۔ میں خود ج کر دودھ لات ۔ میرے س من
گوالا دودھ دھوت ۔ اس ک ب وجود دودھ پتلا ہوت ۔ یہ تس ی تھی
کہ وہ پ نی نہیں ڈالت ‘ کیوں کہ وہ میرے س من دودھ دھوت تھ ۔
ہ ں البتہ آخر میں‘ ہنگ ل ک طور پر تین پ ؤ ک قری ‘ یہ دودھ
نم پ نی ڈال دیت ۔ دو دن تو میں چپ رہ ‘ تیسرے دن مجھ س
رہ نہ گی ۔ منع کرن پر کہن لگ :یہ ں س تو دودھ ایس ہی
م گ ‘ نہیں وارہ کھ ت تو کوئی اور بندوبست کر لو۔ اس ن
بڑی بدتمیزی س جوا دی ۔۔ میں ن بھی کہ :چ و ٹھیک ہ ‘
بندوبست کر لوں گ ۔ ب د میں پت چلا وہ برتن میں پہ ہی پ نی
ڈال لیت تھ ۔ دو چ ر اور لوگوں س واسطہ رہ ‘ وہ ں بھی یہ ہی
کچھ تھ ۔ کوئی ش بہ تو چھوڑ دیت ‘ ظ ل ن ہر ش ب میں ٹ نگ
پھنس ئی ہوئی تھی۔
خی ل گزرا‘ کیوں نہ صح فت اختی ر کر لوں۔ وہ ں قد رکھ تو
بہت ہی م یوسی ہوئی۔ جتن اچھ پیشہ ہ ‘ اتن ہی آلودہ ہ ۔
صح فت‘ صح فت ک ‘ ب یک می نگ زی دہ نک ی۔ پراپرٹی ڈی نگ ک
ک بھی راس نہ آی ‘ کیوں کہ وہ بھی کث فتوں س لبریز نکلا۔
208
اس میں جھوٹی قسمیں اور چکنی چوپڑی ب تیں‘ پہ ی سیڑھی
تھی۔
ش زیہ میری ان حرکتوں س اکت کر بچ ل کر‘ اپن بھ ئی
ک ہ ں چ ی گئی۔ یہ حیران کن ب ت تھی۔ ایک دن بھی ایس نہیں
گزرا تھ ‘ جس دن میں ی گھر ک لوگ‘ بھوک سوئ ہوں
گ ۔ یہ کیس ممکن ہ کہ الله کی مخ و بھوکی سوئ ۔ وہ
اس کی بھوک کو خو خو ج نت ہ اور رز فراہ کرن
میں‘ کسی قس ک تس ہل ک شک ر نہیں ہوت ۔
رز حلال کی تلاش میرا فطری ح تھ ۔ ہر موڑ اور ہر گھ ٹ پر
شیط ن س ملاق ت رہی۔ اس ک اپن رستہ تھ ‘ میرا اپن رستہ
تھ ۔ میں حلال کھ ن چ ہت تھ ‘ وہ مجھ حرا کھ ن کی دعوت
دے رہ تھ ۔ وہ بڑا ضدی نکلا‘ اس کی م و ‘ کہ میں ہر مشکل
میں‘ الله کی مدد ط کر لیت ہوں۔ میری ایک ب ر پڑھی لاحول
ولاقوۃ الا ب لله‘ اس ک میدان س قد اکھیڑ دیتی تھی۔ جو بھی
سہی‘ شیط ن جو مرضی کر ل ‘ جتن مرضی زور لگ ل ‘ میرا
الله مدد ط کرن والوں کی‘ میدان عمل میں کنڈ نہیں لگن
دیت ۔
209
حقیقت پس پردہ تھی
ص بر ع ی اور اس کی بیوی‘ زندگی ک آخری موس دیکھ رہ
تھ ۔ تم بچ اپن اپن گھروں میں آب د ہو گئ تھ ‘ بس
حمید‘ جو س س چھوٹ تھ ‘ ک گھر آب د کرن ب قی رہ گی تھ ۔
ان کی نظروں میں اچھ اچھ رشت بھی تھ ‘ لیکن وہ
ش دی ک ن س بدک ج ت تھ ۔ ایک دن‘ می ں بیوی ن
پروگرا بن ی کہ یہ اس طرح س م نن والا نہیں‘ زبردستی
ش دی کر دیت ہیں‘ ش ید ہ بھی اس کی اولاد ک منہ دیکھ لیں۔
پھر انہوں ن ‘ رشتہ ڈنڈھ نک لا اور ب ت بھی پکی کر دی۔ حمید
ن لاکھ عذر پیش کی ‘ لیکن انہوں ن اس کی ایک نہ سنی۔
اش روں کن ئیوں میں‘ ش دی نہ کرن کی وجوہ بھی پیش کیں۔
ش ید انہوں ن ‘ اس کی ایک بھی نہ سنن کی قس کھ لی تھی۔
ش دی ک دن ط ہو گئ ۔ ش دی کی تی ری ں ہون لگیں۔ گھر
میں خوشیوں ن ڈیرے ڈال لی ۔
جوں جوں ش دی ک دن نزدیک آت گئ ‘ گھر میں خوشی ں
رقص کرن لگیں۔ بہنیں‘ رات کو ڈھولک ل کر بیٹھ ج تیں۔
ہنسی مذا ہوت ‘ اور خو چھیڑ چھ ڑ چ تی۔ لب س زیر گ تگو
آت ۔ بڑی بوڑھیوں میں‘ جہ ں گھری و اور م لی مس ئل ک رون
210
روی ج ت ‘ وہ ں چغ یوں بخی یوں ک بھی جم ہ ب زار لگ ج ت ۔
مردوں کی ب رخی‘ لاپرواہی اور ان کی‘ ان ک اپنوں پر ش ہ
خرچی ک دکھڑا بھی زیر بحث آت ۔ یہ ہی نہیں‘ ان کی جنسی ک
زوری وغیرہ ک بھی رون روی ج ت ۔ ہر کوئی اپن ح لات میں
مست تھ ۔
کسی ن حمید کی ج ن توجہ نہ دی‘ کہ پریش ن اور چپ چپ
کیوں ہ ۔ اس غصہ آت ‘ کہ یہ کیس م ئی ب پ اور بہن بھ ئی
ہیں‘ جو اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیت ۔ خیر‘ یہ اس
کی غ طی بھی تھی‘ کہ وہ اپن کسی کزن ہی س ب ت کر لیت ‘
کہ اس ن غ ط ک ری میں س کچھ کھو دی ہ اور ا وہ
ش دی ک ق بل ہی نہیں رہ ۔ اپن طور پر‘ حکیموں ڈاکٹروں ک
نسخ آزم ت رہ ۔ بہتری کی بج ئ ‘ خرابی ک دروازہ ہی کھلا۔
کسی کو حمید کی رائی بھر فکر نہ تھی‘ کہ وہ دن بہ دن‘ ذہنی
اور جسم نی طور پر نیچ آ رہ تھ ۔
ب رات ج ن میں‘ تین دن ب قی رہ گی تھ کہ حمید چ رپ ئی
لگ گی ۔ فورا ایمرجنسی میں ل ج ی گی ۔ وہ ں بھی‘ اس ک
گھر والوں س مم ثل لوگ‘ اق مت گزین تھ ۔ وہ تک یف س
مر رہ تھ ‘ لیکن ہسپت ل وال اپن ح ل میں مست تھ ۔
ب ب ب ئی لوگ‘ ہمیشہ ذلت ک شک ر رہ ہیں۔ ب ب ئی انڈر کیر
تھ اور حمید ابھی تک‘ محض ایمرجنسی ک مریض تھ ۔
جھڑن ک ب د‘ اس کی بھی سنی گئی۔ سترہ گھنٹ وہ
211
ایمرجنسی میں رہ ۔ بوت یں شوت یں اور ٹیک شیک لگ تو
بہتری کی صورت نک ی۔ ب قی وقت ہی کتن رہ گی تھ ۔ انتظ ہو
چک تھ ۔ پیغ م ت بھیج ج چک تھ ۔ حمید بستر س اٹھ
بیٹھ تھ ۔ ہسپت ل س چھٹی ل لی گئی۔
ب سوادی میں ہی ب رات گئی۔ ب ہر ب پ اور بھ ئی‘ ج کہ اندر
بہنیں‘ دلہ ک پ س اور کنقری رہیں۔ سسرال میں بھی چوں کہ
اطلاع ہو چکی تھی‘ کہ دلہ ہسپت ل کی ی ترا س لوٹ ہ ‘ لہذا
کوئی ہ ہ غ ہ نہ کی گی ۔ بس ہ کی پھ کی ہنسی مذا ک سم ں
رہ ۔ دلہ کی خ موشی اور چہرے کی زردی کو بیم ری ک اثرات
پر محمول کی گی ۔ ج کہ اصل حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ وہ آت
وقت ک جنسی م ملات ک خوف س نیلا پیلا ہو رہ تھ ۔
پھر اس ک چہرا کھل اٹھ ۔ اس اچ نک تبدی ی پر‘ س حیران
تھ ۔ س ن اس ش دی کی خوشی سمجھ ۔ اصل ب ت کوئی
اور تھی۔ حمید کو پہ خ د ک قول ی د آ گی تھ ۔ مرحو ک کہن
تھ ‘ کہ خی لی پلاؤ میں رسد کی کمی خطرن ک ث بت ہوتی ہ ۔
اس قول ک زیر اثر اس ن ‘ آت لمحوں ک منصوبہ تی ر کر لی
تھ ۔ حمید ک چہرے پر رقص ں ش دابی ک ب د‘ خوشیوں ک
ن ک نقشہ ہی بدل گی ۔ دلہن ک گھر لان تک‘ ہر طرح کی
رسمیں پوری کی گئیں۔ گھر آن تک‘ رات ک نو بج چک
تھ ۔ دو گھنٹ لڑکیوں اور عورتوں ن ل لی ‘ سلامی ں
وغیرہ ہوتی رہیں۔ ادھر لڑک حمید ک س تھ چھیڑ چھ ڑ میں
212
مصروف رہ ۔ وہ بھی خوش دلی س ‘ اس ہنسی مذا میں
ش مل رہ ۔
گی رہ بج حمید‘ دلہن ک کمرے میں داخل ہوا۔ اس ک امتح ن
شروع ہو چک تھ ۔ وہ کم ل کی اداک ری ک مظ ہرہ کر رہ تھ ۔ اس
کی اداک ری کو‘ دلیپ کم ر بھی دیکھ لیت ‘ تو عش عش کر اٹھت ۔
اس ک کمرے میں داخل ہون ‘ اداک ر امریش پوری س مم ثل تھ ۔
دلہن ک گھونگھٹ اٹھ ن ‘ وحید مراد ک س تھ ۔ ج ی ب اختی ری
س ‘ واہ واہ کر اٹھ ۔ وہیں سجدہ میں گر گی ۔ پھر دلہن ک پ س
ہی بیٹھ گی اور کہن لگ :الله ک لاکھ لاکھ شکر ہ ‘ کہ ت ایسی
حسین بیوی مجھ م ی۔ حوریں بھی کی ہوں گی‘ ت لاکھوں میں
ایک ہو۔ میں تمہ رے مق ب میں کچھ بھی نہیں ہوں‘ دیکھو
کبھی بھی میرا س تھ نہ چھوڑن ۔
دلہن اس ب ت پر فخریہ مسکرائی۔ میک اپ ن اس تھوڑا بن
سنوار دی تھ ‘ ورنہ حسن ن کی چیز اس میں سرے س
موجود ہی نہ تھی۔
پھر وہ تھوڑا فرینک ہو کر‘ اس ک پ س ہی بیٹھ گی اور کہن
لگ :س کچھ ہوت رہ گ ‘ آج پہ دن ہی زندگی ک منصوبہ بن
لیت ہیں اور پھر‘ اس ک ب د‘ اس منصوب پر عمل کرک ‘
زندگی کو سکھی بن لیں گ ۔ ت ہی بت ؤ‘ کیسی زندگی گزارن
چ ہتی ہو۔
213
دلہن تھوڑا شرم ئی اور کہن لگی :ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را
اپن ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور صرف ہ دونوں ہوں۔ مجھ
غیروں کی مداخ ت قط ی پسند نہیں۔
دیر تک ب تیں ہوئیں۔ ع لی ش ن کوٹھی خریدی گئی۔ اس کوٹھی
میں ضرورت کی ہر چیز سج ئی گئی۔ سواری ک لی نئی اور
اچھ والی ک ر خریدی گئی۔ ب توں ک دوران اس ن ایسی
کوئی حرکت نہ کی کہ کوئی گلاواں گ پڑت اور اص یت کھل
ج تی۔ ب توں ب توں میں صبح کی آزان ہون لگی۔
اف میرے خدا‘ تمہ رے س تھ گزرے لمح کتنی ج دی گزر گی
ہیں کہ پت بھی نہیں چلا۔ کتن اچھ س تھ ہ ۔ ہم ری زندگی خو
گزرے گی۔ پریش نی ک دور تک ن و نش ن نہیں ہو گ ۔ ت س
اچھ س تھی مل ہی نہیں سکت ۔ اچھ ا ت سو رہو‘ میں مسجد
ج رہ ہوں۔ نم ز پڑھوں گ ۔ ت س س تھی م ن پر شکران ک
نوافل ادا کروں گ ۔ مجھ ت مل گئی ہو‘ ا کسی اور چیز کی
تمن ہی نہیں رہی۔ دلہن مسکرائی‘ اس کی مسکراہٹ میں بلا کی
گرمی تھی‘ کوئی اور ہوت تو وہیں ڈھیر ہو ج ت ۔ ہر ایمرجنسی
اور ج دی س کت و ج مد ہو ج تی۔ وہ بھی ٹھٹھک ‘ مگر گزرے
کل کی غ طیوں ن ‘ اس دروازے س ب ہر دھکیل دی ۔ مجبوری
تھی‘ کی کر سکت تھ ۔ دلہن دکھ ئ گئ سبز ب غوں کی آغوش
میں چ ی گئی اور سکون کی نیند ن اس آ لی ۔
214
صبح ہوئی‘ س خیر خیریت س گزر گی ۔ رات گئی ب ت گئی۔
دلہن خوش تھی کہ اس اتن اچھ شوہر مل گی ہ ۔ پھر میک
وال آئ اور اس س تھ ل کر چ گی ۔ دلہن ن م ں ک
گھر ج کر حمید کی ت ری وں ک پل ب ندھ دی ۔ دلہن ک گھر
میں خوشی ں من ئی ج رہی تھیں کہ پہ ی رات میں ہی دلہ کو
گھٹنوں ت رکھ لی گی ہ ‘ ورنہ اس میں کچھ تو وقت لگت ہی
ہ ۔ اس ن ع لی ش ن کوٹھی‘ ک ر‘ فریج کی خریداری ک
علاوہ لاکھوں روپی کی ش پنگ کی۔ ش دی ن تو بجن ہی
تھ ۔
ادھر حمید ن مس ہ کھڑا کر دی کہ میں اس عورت ک س تھ
زندگی نہیں گزار سکت ‘ جو پہ روز ہی م ں ب پ اور بہن
بھ ئیوں س مجھ دور کر رہی ہ ‘ آت وقتوں میں پت نہیں
کی کی گل کھلائ گی۔ اگر نہیں یقین آت تو یہ ریک رڈنگ سن
:لیں
ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را اپن ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور
صرف ہ دونوں ہوں۔ مجھ غیروں کی مداخ ت قط ی پسند
نہیں۔
ریک رڈنگ سن کر‘ س سیخ پ ہو گی ۔ طرح طرح ک بی ن ت
ج ری ہوئ ۔ ص بر اور اس کی بیوی کو بڑا دکھ ہوا۔ حمید کی
215
م ں بولی‘ بوتھی س کتنی شریف اور بھولی بھ لی لگ رہی
تھی۔
ص بر بولا‘ بڑی سی نی بنی پھرتی ہو‘ ت ن ہی میرے بیٹ کی
زندگی برب د کی ہ ۔
دونوں میں ک فی بحث چ ی۔ کنیز ک یہ بی ن برادری کی ‘ آس پ س
میں خو مشہور ہوا۔ کئی م ہ دونوں خ ندانوں میں ٹھنی رہی
اور آخرک ر طلا ہو گئی۔ چ ًؤں کہ حقیقت پس پردہ تھی‘ اس
لی حمید کی ک می اداک ری کی‘ کوئی داد نہ دے سک ۔
216
انس ن اور انس نی روی
انس ن ج
زمین ک حسن' رنگینی ں' آس ئشی لوازم ت' س م ن عیش
وعشرت' سہولتیں' اشی ئ خوردنی' وغیرہ دیکھت ہ ' تو د
بخود رہ ج ت ہ ۔ ان تم چیزوں میں' مقن طیسی قوت ہوتی
ہ ' جو اس کی رغبت ک سب بنتی ہ ۔ اشتی ' اس خود
فراموشی کی دلدل میں دھکیل دیت ہ ۔ وہ ان ک حصول کی
فکر میں مبتلا ہو ج ت ہ ۔ پہ بقدر ضرورت' پھر زی دہ س
زی دہ اور اس ک ب د س پر' بلاشرک غیرے قبض ک جنون
ط ری ہوت ہ .سکندر پر بھی یہ ہی خبط ط ری ہوا تھ ۔ اس ک
اس خبط ن ' پوری دنی کو ب سکون کر دی ۔ اس س لوگوں
کی سوچیں' اسی دلدل میں پھنسی رہتی ہیں۔ مزید ک ب د مزید
کی سوچ' من یت ک دروازے کھولتی ہ ۔ یہ ترکیبیں اور
منصوب بن ن پر مجبور کرتی ہ ۔ حصول کی سوچ ک
تن س س ' روی تشکیل پ ت ہیں۔
پہ س موجود م حول' ح لات' اطوار وغیرہ بھی اسی قم ش
ک ہوت ہیں۔ ان س اثر لین ' فطری سی ب ت ہ ۔
217
اس کی مخت ف صورتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ مثلا
ایک برتن س ' دوسرے برتن میں دودھ ڈالا ج ت ہ ۔ پہ
برتن ک س تھ لگ دودھ ک حصول ک لی ' پ نی ڈال کر
برتن کو اچھی طرح ہلا کر' یہ ہنگ ل دودھ میں ش مل کر دی ج ت
ہ ۔ اس پر خ لص ہون ک لیبل چسپ ں کر دی ج ت ہ ۔ ج کہ
اس دودھ کو خ لص نہیں کہ ج سکت ۔
دودھ میں نل ی کنویں ک پ نی ملا کر' دودھ کو زی دہ کرن کی
مذمو کوشش کی ج تی ہ ۔
دودھ کو زی دہ کرن ک لی جوہڑ جس میں ج نور غسل صحت
فرم ت ہیں بلاتک ف ملا دی ج ت ہ ۔
دودھ بن ن ک لی ' کییکل است م ل کی ج ت ہ ۔ آج تو دودھی
دودھ بن ن لگ ہیں۔ اس میں سرف اور ب ل ص جیسی چیزیں
ڈالت ہیں۔ افسوس ن ک ب ت تو یہ ہ ' کہ اس بھی دودھ کہ
اور سمجھ ج ت ہ ۔ وہ جو ج نت ہ ' اس دودھ کہہ کرپیس
وصولت ہ ۔
اصل دودھ اپنی حیثیت میں بڑے کم ل کی چیز ہ ۔ توان ئی فراہ
کرت ہ ۔
218
ہنگ ل ی ن ک ک پ نی داخل کر دی ج ئ ' تو وہ خ لص نہیں
رہت ' لیکن یہ خطرن ک نہیں ہوت ۔ ہ ں خ لص کی سی توان ئی س
محرو رکھت ہ ۔
ا ج اس میں' گندے پ نی کی ملاوٹ کی ج ئ گی' تو یہ
ن صرف توان ئی س مرحو ہو ج ئ گ ' ب کہ خوف ن ک ہو
ج ئ گ ۔ ہ ں اس س انک ر نہیں کہ اس میں دودھ بھی ہ ۔
ان میں س کوئی دودھ' اپنی اصل فطرت پر نہیں۔ موجودہ دودھ
فطرت ث نیہ پر ہ ۔ فطرت ث نیہ کسی سطع پر درست نہیں ہو
سکتی۔
خودس ختہ سرا نم دودھ کی اپنی الگ س فطرت ہ ۔ اس کی
فطرت س ' آلودہ کی موجودہ فطرت ک بھی تق ض نہیں کی
سکت ۔ وہ دودھ ہی نہیں تو تق ض کیس ۔ اصل تو بڑی دور کی
بتہ ۔
انس نی روی اس مث ل ک مم ثل رہ ہیں۔ ادی ش عر بھی'
ان رویوں کو ق بند کرت ہیں۔ وہ خود بھی کسی ن کسی سطع
پر' ان میں س کسی ایک پر ہوت ہیں' اس حوالہ س
غیرج نبدار ہو کر بھی' غیرج نبدار نہیں رہ پ ت ۔ جو بھی سہی'
ان ک ہ ں آج کی شہ دتیں موجود ہوتی ہیں۔ جنھیں آت کل' تلاش
ہی لیت ہ ۔ آج بھی ق ری' بوقت مط ل ہ' اپنی فطرت پر ہوت ہ .
219
دوران مط ل ہ محبت ن رت' خوشی دکھ' ہ دردی س کی وغیرہ
کی ی ت س دوچ ر ہوت ہ ۔
220
یقین م نی
کچھ ہی دن ہوئ ‘ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں ن اٹھ کر
دروازہ کھولا۔ دو بڑے ٹوہری آدمی دروازے پر کھڑے تھ ۔
انہوں ن تقریب ب ب رع آواز میں کہ :بڑے می ں‘ مقصود
حسنی ص ح گھر پر ہیں۔
میں ن جھک کر عرض کی :حضور تشریف رکھی اور خود
اندر چلا گی ۔
اندر بیٹھی ایک بوڑھی خ تون س پوچھ :بڑی بی‘ مقصود
حسنی ص ح گھر پر ہیں۔
بڑی بی ن گھور کر میری طرف دیکھ ‘ پھر یہ گل افش نی
فرم ئی :تمہ را دم تو نہیں چل گی ۔
اصل میں وہ ل ظ بڑی بی پر سیخ پ ہوئی تھی۔ میرا دم نہیں
چلا؛ میرے س تھ اتن فرینک ہون کی ضرورت نہیں‘ میں ایس
ویس آدمی نہیں ہوں‘ جو پوچھ ہ ‘ پہ اس ک جوا دو۔
بیٹھک میں ب رع شخصی ت تشریف فرم ہیں‘ جو حسنی ص ح
س م ن کی خواہش مند ہیں۔
221
ا کہ اس یقین ہو گی کہ میں ی دداشت کھو بیٹھ ہوں۔ زور
زور س اور زار و قط ر رون لگی۔ اس کی آواز ک فی ب ند
تھی۔ میں ن ج ی حیرت دکھ ت ہوئ کہ :بڑی بی کی ہو گی
ہ ‘ میں ن تو آپ کو کچھ نہیں کہ ۔ آپ خواہ مخواہ رون لگی
ہیں۔ اس کی آواز اور ب ند ہو گئی۔ میں ن دوب رہ س کہ :رو
ب د میں لین ‘ پہ میرے سوال ک جوا دے دیں۔
ت کون ہو‘ خود اپن ہی پوچھ رہ ہو۔
اچھ تو میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ پھر میں ن اپنی بس ط اور
اوق ت ک مط ب قہقہ لگ ی اور واپس بیھٹک میں آ گی ۔
ج میں دوب رہ س بیٹھک میں آ گی ‘ تو انہوں ن میری ج ن
سوالیہ نطروں س دیکھ ۔ میں فخریہ س مسکرای ‘ کیوں کہ
مجھ ک مل یقین ہو گی تھ کہ میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ بظ ہر
م مولی ب ت ہ ‘ لیکن اپنی اصل میں‘ یہ م مولی ب ت نہیں۔
شخص‘ ہزاروں س ل س اپنی کھوج میں ہ ۔ اس کی شخصیت
تو ش ہوں کی تجوری میں مقید چ ی آتی ہ ۔ بلا شبہ یہ خوش
نصیبی کی ب ت تھی‘ کہ مجھ خود کو ج نن میں‘ ہزاروں س ل
نہیں لگ ۔
پھر میں ن ان س کہ ‘ جن میں ہی مقصود حسنی ہوں۔
ہر دو حضرات ن میری طرف دیکھ ۔