The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-05-22 14:22:56

afsanay (1)

afsanay (1)

‫‪201‬‬

‫سوچت ج ؤ‘ دیکھت ج ؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں ک روبرو چیز سمجھ‬
‫میں نہ آ سک گی کیوں کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی ہوئی‬

‫گھتی ہ ‘ جس سمجھن آس ن ک نہیں۔‬

‫‪202‬‬

‫لاحول ولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫میں خود س پیدا نہیں ہوا‘ میری تخ ی میں الله کی مرضی اور‬
‫رض ش مل تھی۔ اس س بڑھ کر ب ت یہ کہ وہ ہی میرا تخ ی‬
‫ک ر ہ ۔ میں نہیں ج نت تھ کہ میں کون ہوں‘ اس ن مجھ‬
‫شن خت دی۔ نوری و ن ری مخ و کو‘ میں ن نہیں کہ کہ‬

‫مجھ سجدہ کرو۔ یہ بھی الله‘ جو میرا خ ل ہ ‘ ن حک دی ۔‬
‫س االله کی مرضی س چ ت ہ ‘ عزازیل خو ج نت تھ ۔ میں‬
‫کی گرفت میں آ گی ۔ میں کی گرفت بڑی بری ہوتی ہ ۔ اس کی‬

‫پکڑ میں آی ‘ اپن آپ میں نہیں رہ پ ت ۔ حک کی ت میل نہ‬
‫کرک ‘ س کچھ کھو بیٹھ ۔ اس اپنی شن خت تک ی د نہ رہی۔‬

‫شن خت ی د میں آ ج تی‘ تو توبہ ک دروازے پر ضرور آت ۔‬

‫عج الٹی کھوپڑی ک م لک ہ ۔ میرا اور اس ک ‘ سرے س‬
‫کوئی مس ہ ہی نہیں‘ لیکن تنگ مجھ کرت ہ ۔ آج صبح میں‬

‫مسجد س نم ز پڑھ کر نکل رہ تھ کہ ایک ق تل حسینہ ک‬
‫روپ میں‘ میرے س من آ گی ۔ میری طرف بڑی روم ن خیز‬
‫مسکراہٹ ک س تھ دیکھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ میں قط‬

‫بھول گی ‘ کہ نم ز پڑھ کر مسجد س نکل رہ ہوں۔ اس ن‬
‫رفت ر ک کر دی اور میں اس ک پیچھ پیچھ چل دی ۔ مجھ‬

‫‪203‬‬

‫یہ بھی ی د نہ رہ ‘ ک پر بھی ج ن ہ ۔ اس مسکراہٹ میں‬
‫مقن طیسی قوت تھی۔‬

‫میں تو خود کو بھول ہی گی تھ ‘ میرے اندر بیٹھ شخص ن‬
‫کہ ‪ :‬کت ‘ یہ کی کررہ ہو۔ ہڈی دیکھی اور پیچھ پیچھ چل‬

‫دی ہو۔ ل نت ہ تمہ رے دوہرے روی پر‘ مسجد میں نم ز‬
‫پڑھت ہو اور ایک مسک ن پر مر مٹ ہو‘ ت کیس بندے ہو۔‬

‫اس آواز ن ‘ مجھ شر س پ نی پ نی کر دی اور میں ن دل‬
‫ہی دل میں‘ لاحول ولا پڑی۔ پھر کی تھ ‘ اس ن میری طرف کھ‬
‫ج ن والی نظروں س دیکھ اور دوسری گ ی میں داخل ہو گی ۔‬
‫اگر الله احس ن نہ کرت ‘ تو میں م را گی تھ ۔ مجھ اندازہ ہوا کہ‬
‫میری نم ز تو فس ہو گئی ہ ‘ میں جہ ں کھڑا تھ ‘ وہیں سجدہ‬
‫ریز ہو گی ۔ میں ن لوگوں اور زمین پر پڑی گندگی کی پرواہ نہ‬
‫کی۔ یہ اس گندگی س بڑھ کر نہ تھی‘ جو میرے اندر گھس آئی‬

‫تھی۔‬

‫دفتر میں میرا اور اس ک ٹ کرا ہوت رہت ہ ۔ س ئل بن کر‘ نی‬
‫پی اور سرخ نوٹوں ک س تھ آت رہت ہ ۔ ظ ل مجھ بک ؤ‬
‫م ل سمجھت ہ ۔ میں طوائف نہیں ہوں‘ جو اس ک بہک وے‬
‫میں آ ج ؤں گ ۔ اس کی کمینگی کی حد تو دیکھیں‘ یہ ہی کوئی‬
‫چھ س ت دن پہ کی ب ت ہ ۔ میں ابھی دفتر س لوٹ ہی‬
‫تھ ‘ کہ گھر پر آ گی ۔ میں ن بیٹھک میں بٹھ ی ۔ ٹھنڈا پ نی پیش‬

‫‪204‬‬

‫کی ۔ اس ن نوٹ وکھ ئ کہ ن ح کرن ک لی ‘ میرا موڈ‬
‫بن ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی اور میرا چہرا غص س سرخ ہو گی ۔‬
‫گم ن تھ کہ اندر خبر نہیں ہوئی‘ ش زیہ کو چھپ چھپ کر ب تیں‬

‫سنن ک ٹھرک ہ ۔ اس حقیقت ک ع ہو گی تھ ۔ خیر‘ میں‬
‫ن جی میں لا حول ولا پڑی‘ اس ن کھ ج ن والی نظروں‬
‫س مجھ دیکھ اور اٹھ کر چلا گی ۔ وہ تو چلا گی ‘ ہنستی‬
‫مسکراتی ش زیہ دہکت انگ رہ بن گئی۔ میرے س تھ جو ہوا‘ مت‬
‫پوچھی ‘ وہ بھی سچی تھی کہ میں ن آت نوٹوں کو دھتک را‬

‫تھ ۔‬

‫بڑا ڈھیٹ ہ ‘ خواہ مخواہ میرے س تھ پنگ لیت رہت ہ ۔ میں‬
‫ن ک کی سیدھ پر ج رہ ہوں‘ ج ن دے۔ میں کوئی بہت بڑا آدمی‬

‫نہیں ہوں‘ مجھ س اس کی مل سکت ۔ کسی بڑے آدمی ک‬
‫پ س ج ئ ۔ اس م و ہ ‘ کسی بڑے آدمی ک پ س گی تو وہ‬

‫ن سیں سیک دے گ ۔ میں ہوں کی ‘ کچھ بھی نہیں‘ یہ ج نت‬
‫ہوئ بھی میرے آس پ س میں اق مت کئ ہوئ ہ ۔‬

‫دفتر کی نوکری میں ایس ح دث ‘ روز ک م مول تھ ۔ جھگڑے‬
‫س میری بڑی ج ن ج تی ہ ۔ شیط ن س ہر روز کی لڑائی‬
‫س تنگ آ کر‘‘ میں ن دفتر کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ مجھ‬

‫فرار ہی میں ع فیت نظر آئی۔ گھر میں بھی ک آمدنی پر ہر روز‬
‫جھگڑا ہوت تھ ۔ پوری تنخواہ ہتھی ی پر رکھ دیت تھ ۔ روز ک‬

‫خرچہ ش زیہ س ل کر ج ت تھ ۔ ج بھی بس ک کرایہ وغیرہ‬

‫‪205‬‬

‫م نگت ‘ بڑی لہ پہ کرتی‘ میں س برداشت کر ج ت ۔ تنخواہ میں‬
‫س کچھ رکھت تو مجر ٹھہرت ۔ تنخواہ ک علاوہ کدھر س‬
‫لات ۔ ج کہ وہ اوروں کی مث لیں دیتی۔‬

‫میں ن لاء کی ڈگری بھی ح صل کر رکھی تھی۔ سوچ وک لت‬
‫کرت ہوں۔ اس طرح ب گن ہ لوگوں کی مدد بھی کر سکوں گ اور‬
‫دال روٹی بھی چ تی رہ گی۔ میدان عمل میں قد رکھ تو م م ہ‬

‫ہی برعکس نکلا۔ کچری میں ج کر م و ہوا‘ کم ئی چوروں‘‬
‫ق ت وں‘ اور دو نمبر لوگوں کی مدد کرن س ممکن تھی۔ ان کو‬

‫ب گن ہ اور ب گن ہوں کو گن ہ گ ر ث بت کرک ‘ لم نوٹ کم ئ‬
‫ج سکت تھ ۔ یہ ں ک طور طریق ‘ دفتر ک طور طریقوں‬
‫ک بھی پیو نک ۔ چند ہی دنوں میں‘ میرا دل وہ ں س بھی‬
‫کھٹ ہو گی ۔ لگت تھ ‘ انص ف گ ہ میں تو اس ن مستقل ڈیرے‬

‫ڈال رکھ ہیں۔ قد قد پر میری اس س ملاق ت ہوتی۔ مجھ‬
‫دیکھ کر قہقہ لگ ت ‘ سرع میرا مذا اڑات ۔‬

‫علاق کی مسجد میں‘ میری ملاق ت ح جی عمر س ہوئی۔ پنج‬
‫وقت تھ اور ش وار ٹخنوں س اوپر رکھت تھ ۔ بڑے‬

‫اصول پرست سمجھ ج ت تھ ۔ ان ک لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔‬
‫حس کت ک م م میں‘ میں بھی م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں‬
‫ٹھیک رہ گ ۔ میں ان ک کھ ت میں منشی کی سیٹ پر ت ین ت‬

‫ہو گی ۔‬

‫‪206‬‬

‫چند دن گزرن ک ب د م و ہوا‘ یہ ں بھی‘ شیط ن مہ راج ک‬
‫سکہ چ ت ہ ۔ بڑی حیرت ہوئی کہ ح جی ص ح ک ظ ہر کتن‬

‫ص ف ستھرا ہ اور ب طن غلاظتوں س لبریز ہ ۔ وہ ں بھی‬
‫دہ ئی ک گھپلا تھ ۔ ک رکنوں ک س تھ جو ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو‬
‫رہ تھ ‘ لیکن حس کت ک دو کھ ت تھ ‘ ایک سرک ر کو‬
‫دیکھ ن ک لی ‘ دوسرا اص ی کھ تہ جو دفتر میں نہیں رکھ‬

‫ج ت تھ ۔ سرک ری کھ ت میں گھ ٹ ک سوا کچھ نہ تھ ۔‬

‫بج ی ک لی بھی‘ بج ی اہل ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی‬
‫تھیں۔ یہ ں حرا اور حرا ک سوا کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ‬

‫تو ک از ک حلال تھی۔ یہ ں س م ن والی تنخواہ سرے س‬
‫ش ف نہ تھی۔ یہ م م ہ تو پہ س بھی کہیں بڑھ کر‬

‫تھ ۔رکھت تھ ۔ بڑے اصول پرست سمجھ ج ت تھ ۔ ان ک‬
‫لاکھوں ک ک روب ر تھ ۔ حس کت ک م م میں بھی‬

‫م روف تھ ۔ سوچ ‘ یہ ں ٹھیک رہ گ ۔ میں ان ک کھ ت میں‬
‫منشی کی سیٹ پر ت ین ت ہو گی ۔‬

‫وہ ں ج کر م و ہوا کہ وہ ں بھی دہ ئی ک گھپلا ہ ۔ ک رکنوں‬
‫ک س تھ ہو رہ تھ ‘ وہ تو ہو رہ تھ لیکن حس کت ک دو‬
‫کھ ت تھ ‘ ایک سرک ر کو دیکھ ن ک لی ‘ دوسرا اص ی‬

‫کھ تہ جو دفتر میں نہیں رکھ ج ت تھ ۔ سرک ری کھ ت میں‬
‫گھ ٹ ک سوا کچھ نہ تھ ۔ بج ی ک لی بھی‘ ایک بج ی اہل‬
‫ک ر کی خدم ت ح صل کی گئی تھیں۔ یہ ں حرا اور حرا ک سوا‬

‫‪207‬‬

‫کچھ نہ تھ ۔ دفتر میں‘ تنخواہ تو ک از ک حلال تھی۔ یہ ں س‬
‫م ن والی تنخواہ سرے س ش ف نہ تھی۔ یہ م م ہ تو پہ‬

‫س بھی کہیں بڑھ کر تھ ۔‬

‫میں ن وہ ملازمت چھوڑ کر‘ ک روب ر کرن کی ٹھ ن لی۔‬
‫علاق میں‘ لوگوں کو دودھ کی بڑی پریش نی تھی۔ سوچ ‘ دودھ‬

‫ک ک روب ر برا نہیں۔ میں خود ج کر دودھ لات ۔ میرے س من‬
‫گوالا دودھ دھوت ۔ اس ک ب وجود دودھ پتلا ہوت ۔ یہ تس ی تھی‬
‫کہ وہ پ نی نہیں ڈالت ‘ کیوں کہ وہ میرے س من دودھ دھوت تھ ۔‬
‫ہ ں البتہ آخر میں‘ ہنگ ل ک طور پر تین پ ؤ ک قری ‘ یہ دودھ‬

‫نم پ نی ڈال دیت ۔ دو دن تو میں چپ رہ ‘ تیسرے دن مجھ س‬
‫رہ نہ گی ۔ منع کرن پر کہن لگ ‪ :‬یہ ں س تو دودھ ایس ہی‬

‫م گ ‘ نہیں وارہ کھ ت تو کوئی اور بندوبست کر لو۔ اس ن‬
‫بڑی بدتمیزی س جوا دی ۔۔ میں ن بھی کہ ‪ :‬چ و ٹھیک ہ ‘‬
‫بندوبست کر لوں گ ۔ ب د میں پت چلا وہ برتن میں پہ ہی پ نی‬
‫ڈال لیت تھ ۔ دو چ ر اور لوگوں س واسطہ رہ ‘ وہ ں بھی یہ ہی‬
‫کچھ تھ ۔ کوئی ش بہ تو چھوڑ دیت ‘ ظ ل ن ہر ش ب میں ٹ نگ‬

‫پھنس ئی ہوئی تھی۔‬

‫خی ل گزرا‘ کیوں نہ صح فت اختی ر کر لوں۔ وہ ں قد رکھ تو‬
‫بہت ہی م یوسی ہوئی۔ جتن اچھ پیشہ ہ ‘ اتن ہی آلودہ ہ ۔‬
‫صح فت‘ صح فت ک ‘ ب یک می نگ زی دہ نک ی۔ پراپرٹی ڈی نگ ک‬
‫ک بھی راس نہ آی ‘ کیوں کہ وہ بھی کث فتوں س لبریز نکلا۔‬

‫‪208‬‬

‫اس میں جھوٹی قسمیں اور چکنی چوپڑی ب تیں‘ پہ ی سیڑھی‬
‫تھی۔‬

‫ش زیہ میری ان حرکتوں س اکت کر بچ ل کر‘ اپن بھ ئی‬
‫ک ہ ں چ ی گئی۔ یہ حیران کن ب ت تھی۔ ایک دن بھی ایس نہیں‬

‫گزرا تھ ‘ جس دن میں ی گھر ک لوگ‘ بھوک سوئ ہوں‬
‫گ ۔ یہ کیس ممکن ہ کہ الله کی مخ و بھوکی سوئ ۔ وہ‬

‫اس کی بھوک کو خو خو ج نت ہ اور رز فراہ کرن‬
‫میں‘ کسی قس ک تس ہل ک شک ر نہیں ہوت ۔‬

‫رز حلال کی تلاش میرا فطری ح تھ ۔ ہر موڑ اور ہر گھ ٹ پر‬
‫شیط ن س ملاق ت رہی۔ اس ک اپن رستہ تھ ‘ میرا اپن رستہ‬

‫تھ ۔ میں حلال کھ ن چ ہت تھ ‘ وہ مجھ حرا کھ ن کی دعوت‬
‫دے رہ تھ ۔ وہ بڑا ضدی نکلا‘ اس کی م و ‘ کہ میں ہر مشکل‬

‫میں‘ الله کی مدد ط کر لیت ہوں۔ میری ایک ب ر پڑھی لاحول‬
‫ولاقوۃ الا ب لله‘ اس ک میدان س قد اکھیڑ دیتی تھی۔ جو بھی‬
‫سہی‘ شیط ن جو مرضی کر ل ‘ جتن مرضی زور لگ ل ‘ میرا‬

‫الله مدد ط کرن والوں کی‘ میدان عمل میں کنڈ نہیں لگن‬
‫دیت ۔‬

‫‪209‬‬

‫حقیقت پس پردہ تھی‬

‫ص بر ع ی اور اس کی بیوی‘ زندگی ک آخری موس دیکھ رہ‬
‫تھ ۔ تم بچ اپن اپن گھروں میں آب د ہو گئ تھ ‘ بس‬
‫حمید‘ جو س س چھوٹ تھ ‘ ک گھر آب د کرن ب قی رہ گی تھ ۔‬

‫ان کی نظروں میں اچھ اچھ رشت بھی تھ ‘ لیکن وہ‬
‫ش دی ک ن س بدک ج ت تھ ۔ ایک دن‘ می ں بیوی ن‬

‫پروگرا بن ی کہ یہ اس طرح س م نن والا نہیں‘ زبردستی‬
‫ش دی کر دیت ہیں‘ ش ید ہ بھی اس کی اولاد ک منہ دیکھ لیں۔‬
‫پھر انہوں ن ‘ رشتہ ڈنڈھ نک لا اور ب ت بھی پکی کر دی۔ حمید‬
‫ن لاکھ عذر پیش کی ‘ لیکن انہوں ن اس کی ایک نہ سنی۔‬
‫اش روں کن ئیوں میں‘ ش دی نہ کرن کی وجوہ بھی پیش کیں۔‬
‫ش ید انہوں ن ‘ اس کی ایک بھی نہ سنن کی قس کھ لی تھی۔‬
‫ش دی ک دن ط ہو گئ ۔ ش دی کی تی ری ں ہون لگیں۔ گھر‬

‫میں خوشیوں ن ڈیرے ڈال لی ۔‬
‫جوں جوں ش دی ک دن نزدیک آت گئ ‘ گھر میں خوشی ں‬
‫رقص کرن لگیں۔ بہنیں‘ رات کو ڈھولک ل کر بیٹھ ج تیں۔‬
‫ہنسی مذا ہوت ‘ اور خو چھیڑ چھ ڑ چ تی۔ لب س زیر گ تگو‬
‫آت ۔ بڑی بوڑھیوں میں‘ جہ ں گھری و اور م لی مس ئل ک رون‬

‫‪210‬‬

‫روی ج ت ‘ وہ ں چغ یوں بخی یوں ک بھی جم ہ ب زار لگ ج ت ۔‬
‫مردوں کی ب رخی‘ لاپرواہی اور ان کی‘ ان ک اپنوں پر ش ہ‬
‫خرچی ک دکھڑا بھی زیر بحث آت ۔ یہ ہی نہیں‘ ان کی جنسی ک‬
‫زوری وغیرہ ک بھی رون روی ج ت ۔ ہر کوئی اپن ح لات میں‬

‫مست تھ ۔‬

‫کسی ن حمید کی ج ن توجہ نہ دی‘ کہ پریش ن اور چپ چپ‬
‫کیوں ہ ۔ اس غصہ آت ‘ کہ یہ کیس م ئی ب پ اور بہن بھ ئی‬

‫ہیں‘ جو اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیت ۔ خیر‘ یہ اس‬
‫کی غ طی بھی تھی‘ کہ وہ اپن کسی کزن ہی س ب ت کر لیت ‘‬

‫کہ اس ن غ ط ک ری میں س کچھ کھو دی ہ اور ا وہ‬
‫ش دی ک ق بل ہی نہیں رہ ۔ اپن طور پر‘ حکیموں ڈاکٹروں ک‬
‫نسخ آزم ت رہ ۔ بہتری کی بج ئ ‘ خرابی ک دروازہ ہی کھلا۔‬
‫کسی کو حمید کی رائی بھر فکر نہ تھی‘ کہ وہ دن بہ دن‘ ذہنی‬

‫اور جسم نی طور پر نیچ آ رہ تھ ۔‬

‫ب رات ج ن میں‘ تین دن ب قی رہ گی تھ کہ حمید چ رپ ئی‬
‫لگ گی ۔ فورا ایمرجنسی میں ل ج ی گی ۔ وہ ں بھی‘ اس ک‬
‫گھر والوں س مم ثل لوگ‘ اق مت گزین تھ ۔ وہ تک یف س‬
‫مر رہ تھ ‘ لیکن ہسپت ل وال اپن ح ل میں مست تھ ۔‬

‫ب ب ب ئی لوگ‘ ہمیشہ ذلت ک شک ر رہ ہیں۔ ب ب ئی انڈر کیر‬
‫تھ اور حمید ابھی تک‘ محض ایمرجنسی ک مریض تھ ۔‬
‫جھڑن ک ب د‘ اس کی بھی سنی گئی۔ سترہ گھنٹ وہ‬

‫‪211‬‬

‫ایمرجنسی میں رہ ۔ بوت یں شوت یں اور ٹیک شیک لگ تو‬
‫بہتری کی صورت نک ی۔ ب قی وقت ہی کتن رہ گی تھ ۔ انتظ ہو‬
‫چک تھ ۔ پیغ م ت بھیج ج چک تھ ۔ حمید بستر س اٹھ‬

‫بیٹھ تھ ۔ ہسپت ل س چھٹی ل لی گئی۔‬

‫ب سوادی میں ہی ب رات گئی۔ ب ہر ب پ اور بھ ئی‘ ج کہ اندر‬
‫بہنیں‘ دلہ ک پ س اور کنقری رہیں۔ سسرال میں بھی چوں کہ‬
‫اطلاع ہو چکی تھی‘ کہ دلہ ہسپت ل کی ی ترا س لوٹ ہ ‘ لہذا‬

‫کوئی ہ ہ غ ہ نہ کی گی ۔ بس ہ کی پھ کی ہنسی مذا ک سم ں‬
‫رہ ۔ دلہ کی خ موشی اور چہرے کی زردی کو بیم ری ک اثرات‬

‫پر محمول کی گی ۔ ج کہ اصل حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ وہ آت‬
‫وقت ک جنسی م ملات ک خوف س نیلا پیلا ہو رہ تھ ۔‬

‫پھر اس ک چہرا کھل اٹھ ۔ اس اچ نک تبدی ی پر‘ س حیران‬
‫تھ ۔ س ن اس ش دی کی خوشی سمجھ ۔ اصل ب ت کوئی‬
‫اور تھی۔ حمید کو پہ خ د ک قول ی د آ گی تھ ۔ مرحو ک کہن‬
‫تھ ‘ کہ خی لی پلاؤ میں رسد کی کمی خطرن ک ث بت ہوتی ہ ۔‬
‫اس قول ک زیر اثر اس ن ‘ آت لمحوں ک منصوبہ تی ر کر لی‬
‫تھ ۔ حمید ک چہرے پر رقص ں ش دابی ک ب د‘ خوشیوں ک‬

‫ن ک نقشہ ہی بدل گی ۔ دلہن ک گھر لان تک‘ ہر طرح کی‬
‫رسمیں پوری کی گئیں۔ گھر آن تک‘ رات ک نو بج چک‬
‫تھ ۔ دو گھنٹ لڑکیوں اور عورتوں ن ل لی ‘ سلامی ں‬
‫وغیرہ ہوتی رہیں۔ ادھر لڑک حمید ک س تھ چھیڑ چھ ڑ میں‬

‫‪212‬‬

‫مصروف رہ ۔ وہ بھی خوش دلی س ‘ اس ہنسی مذا میں‬
‫ش مل رہ ۔‬

‫گی رہ بج حمید‘ دلہن ک کمرے میں داخل ہوا۔ اس ک امتح ن‬
‫شروع ہو چک تھ ۔ وہ کم ل کی اداک ری ک مظ ہرہ کر رہ تھ ۔ اس‬
‫کی اداک ری کو‘ دلیپ کم ر بھی دیکھ لیت ‘ تو عش عش کر اٹھت ۔‬
‫اس ک کمرے میں داخل ہون ‘ اداک ر امریش پوری س مم ثل تھ ۔‬
‫دلہن ک گھونگھٹ اٹھ ن ‘ وحید مراد ک س تھ ۔ ج ی ب اختی ری‬
‫س ‘ واہ واہ کر اٹھ ۔ وہیں سجدہ میں گر گی ۔ پھر دلہن ک پ س‬
‫ہی بیٹھ گی اور کہن لگ ‪ :‬الله ک لاکھ لاکھ شکر ہ ‘ کہ ت ایسی‬
‫حسین بیوی مجھ م ی۔ حوریں بھی کی ہوں گی‘ ت لاکھوں میں‬

‫ایک ہو۔ میں تمہ رے مق ب میں کچھ بھی نہیں ہوں‘ دیکھو‬
‫کبھی بھی میرا س تھ نہ چھوڑن ۔‬

‫دلہن اس ب ت پر فخریہ مسکرائی۔ میک اپ ن اس تھوڑا بن‬
‫سنوار دی تھ ‘ ورنہ حسن ن کی چیز اس میں سرے س‬
‫موجود ہی نہ تھی۔‬

‫پھر وہ تھوڑا فرینک ہو کر‘ اس ک پ س ہی بیٹھ گی اور کہن‬
‫لگ ‪ :‬س کچھ ہوت رہ گ ‘ آج پہ دن ہی زندگی ک منصوبہ بن‬

‫لیت ہیں اور پھر‘ اس ک ب د‘ اس منصوب پر عمل کرک ‘‬
‫زندگی کو سکھی بن لیں گ ۔ ت ہی بت ؤ‘ کیسی زندگی گزارن‬
‫چ ہتی ہو۔‬

‫‪213‬‬

‫دلہن تھوڑا شرم ئی اور کہن لگی‪ :‬ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را‬
‫اپن ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور صرف ہ دونوں ہوں۔ مجھ‬
‫غیروں کی مداخ ت قط ی پسند نہیں۔‬

‫دیر تک ب تیں ہوئیں۔ ع لی ش ن کوٹھی خریدی گئی۔ اس کوٹھی‬
‫میں ضرورت کی ہر چیز سج ئی گئی۔ سواری ک لی نئی اور‬

‫اچھ والی ک ر خریدی گئی۔ ب توں ک دوران اس ن ایسی‬
‫کوئی حرکت نہ کی کہ کوئی گلاواں گ پڑت اور اص یت کھل‬

‫ج تی۔ ب توں ب توں میں صبح کی آزان ہون لگی۔‬

‫اف میرے خدا‘ تمہ رے س تھ گزرے لمح کتنی ج دی گزر گی‬
‫ہیں کہ پت بھی نہیں چلا۔ کتن اچھ س تھ ہ ۔ ہم ری زندگی خو‬

‫گزرے گی۔ پریش نی ک دور تک ن و نش ن نہیں ہو گ ۔ ت س‬
‫اچھ س تھی مل ہی نہیں سکت ۔ اچھ ا ت سو رہو‘ میں مسجد‬
‫ج رہ ہوں۔ نم ز پڑھوں گ ۔ ت س س تھی م ن پر شکران ک‬
‫نوافل ادا کروں گ ۔ مجھ ت مل گئی ہو‘ ا کسی اور چیز کی‬
‫تمن ہی نہیں رہی۔ دلہن مسکرائی‘ اس کی مسکراہٹ میں بلا کی‬
‫گرمی تھی‘ کوئی اور ہوت تو وہیں ڈھیر ہو ج ت ۔ ہر ایمرجنسی‬
‫اور ج دی س کت و ج مد ہو ج تی۔ وہ بھی ٹھٹھک ‘ مگر گزرے‬
‫کل کی غ طیوں ن ‘ اس دروازے س ب ہر دھکیل دی ۔ مجبوری‬
‫تھی‘ کی کر سکت تھ ۔ دلہن دکھ ئ گئ سبز ب غوں کی آغوش‬

‫میں چ ی گئی اور سکون کی نیند ن اس آ لی ۔‬

‫‪214‬‬

‫صبح ہوئی‘ س خیر خیریت س گزر گی ۔ رات گئی ب ت گئی۔‬
‫دلہن خوش تھی کہ اس اتن اچھ شوہر مل گی ہ ۔ پھر میک‬
‫وال آئ اور اس س تھ ل کر چ گی ۔ دلہن ن م ں ک‬
‫گھر ج کر حمید کی ت ری وں ک پل ب ندھ دی ۔ دلہن ک گھر‬
‫میں خوشی ں من ئی ج رہی تھیں کہ پہ ی رات میں ہی دلہ کو‬
‫گھٹنوں ت رکھ لی گی ہ ‘ ورنہ اس میں کچھ تو وقت لگت ہی‬

‫ہ ۔ اس ن ع لی ش ن کوٹھی‘ ک ر‘ فریج کی خریداری ک‬
‫علاوہ لاکھوں روپی کی ش پنگ کی۔ ش دی ن تو بجن ہی‬

‫تھ ۔‬

‫ادھر حمید ن مس ہ کھڑا کر دی کہ میں اس عورت ک س تھ‬
‫زندگی نہیں گزار سکت ‘ جو پہ روز ہی م ں ب پ اور بہن‬

‫بھ ئیوں س مجھ دور کر رہی ہ ‘ آت وقتوں میں پت نہیں‬
‫کی کی گل کھلائ گی۔ اگر نہیں یقین آت تو یہ ریک رڈنگ سن‬
‫‪:‬لیں‬

‫ج نو میں چ ہتی ہوں‘ ہم را اپن ایک گھر ہو‘ جہ ں صرف اور‬
‫صرف ہ دونوں ہوں۔ مجھ غیروں کی مداخ ت قط ی پسند‬

‫نہیں۔‬

‫ریک رڈنگ سن کر‘ س سیخ پ ہو گی ۔ طرح طرح ک بی ن ت‬
‫ج ری ہوئ ۔ ص بر اور اس کی بیوی کو بڑا دکھ ہوا۔ حمید کی‬

‫‪215‬‬

‫م ں بولی‘ بوتھی س کتنی شریف اور بھولی بھ لی لگ رہی‬
‫تھی۔‬

‫ص بر بولا‘ بڑی سی نی بنی پھرتی ہو‘ ت ن ہی میرے بیٹ کی‬
‫زندگی برب د کی ہ ۔‬

‫دونوں میں ک فی بحث چ ی۔ کنیز ک یہ بی ن برادری کی ‘ آس پ س‬
‫میں خو مشہور ہوا۔ کئی م ہ دونوں خ ندانوں میں ٹھنی رہی‬
‫اور آخرک ر طلا ہو گئی۔ چ ًؤں کہ حقیقت پس پردہ تھی‘ اس‬
‫لی حمید کی ک می اداک ری کی‘ کوئی داد نہ دے سک ۔‬

‫‪216‬‬

‫انس ن اور انس نی روی‬

‫انس ن ج‬
‫زمین ک حسن' رنگینی ں' آس ئشی لوازم ت' س م ن عیش‬
‫وعشرت' سہولتیں' اشی ئ خوردنی' وغیرہ دیکھت ہ ' تو د‬
‫بخود رہ ج ت ہ ۔ ان تم چیزوں میں' مقن طیسی قوت ہوتی‬
‫ہ ' جو اس کی رغبت ک سب بنتی ہ ۔ اشتی ' اس خود‬
‫فراموشی کی دلدل میں دھکیل دیت ہ ۔ وہ ان ک حصول کی‬
‫فکر میں مبتلا ہو ج ت ہ ۔ پہ بقدر ضرورت' پھر زی دہ س‬
‫زی دہ اور اس ک ب د س پر' بلاشرک غیرے قبض ک جنون‬
‫ط ری ہوت ہ ‪ .‬سکندر پر بھی یہ ہی خبط ط ری ہوا تھ ۔ اس ک‬
‫اس خبط ن ' پوری دنی کو ب سکون کر دی ۔ اس س لوگوں‬
‫کی سوچیں' اسی دلدل میں پھنسی رہتی ہیں۔ مزید ک ب د مزید‬
‫کی سوچ' من یت ک دروازے کھولتی ہ ۔ یہ ترکیبیں اور‬
‫منصوب بن ن پر مجبور کرتی ہ ۔ حصول کی سوچ ک‬

‫تن س س ' روی تشکیل پ ت ہیں۔‬
‫پہ س موجود م حول' ح لات' اطوار وغیرہ بھی اسی قم ش‬

‫ک ہوت ہیں۔ ان س اثر لین ' فطری سی ب ت ہ ۔‬

‫‪217‬‬

‫اس کی مخت ف صورتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ مثلا‬

‫ایک برتن س ' دوسرے برتن میں دودھ ڈالا ج ت ہ ۔ پہ‬
‫برتن ک س تھ لگ دودھ ک حصول ک لی ' پ نی ڈال کر‬
‫برتن کو اچھی طرح ہلا کر' یہ ہنگ ل دودھ میں ش مل کر دی ج ت‬
‫ہ ۔ اس پر خ لص ہون ک لیبل چسپ ں کر دی ج ت ہ ۔ ج کہ‬

‫اس دودھ کو خ لص نہیں کہ ج سکت ۔‬

‫دودھ میں نل ی کنویں ک پ نی ملا کر' دودھ کو زی دہ کرن کی‬
‫مذمو کوشش کی ج تی ہ ۔‬

‫دودھ کو زی دہ کرن ک لی جوہڑ جس میں ج نور غسل صحت‬
‫فرم ت ہیں بلاتک ف ملا دی ج ت ہ ۔‬

‫دودھ بن ن ک لی ' کییکل است م ل کی ج ت ہ ۔ آج تو دودھی‬
‫دودھ بن ن لگ ہیں۔ اس میں سرف اور ب ل ص جیسی چیزیں‬

‫ڈالت ہیں۔ افسوس ن ک ب ت تو یہ ہ ' کہ اس بھی دودھ کہ‬
‫اور سمجھ ج ت ہ ۔ وہ جو ج نت ہ ' اس دودھ کہہ کرپیس‬

‫وصولت ہ ۔‬

‫اصل دودھ اپنی حیثیت میں بڑے کم ل کی چیز ہ ۔ توان ئی فراہ‬
‫کرت ہ ۔‬

‫‪218‬‬

‫ہنگ ل ی ن ک ک پ نی داخل کر دی ج ئ ' تو وہ خ لص نہیں‬
‫رہت ' لیکن یہ خطرن ک نہیں ہوت ۔ ہ ں خ لص کی سی توان ئی س‬

‫محرو رکھت ہ ۔‬

‫ا ج اس میں' گندے پ نی کی ملاوٹ کی ج ئ گی' تو یہ‬
‫ن صرف توان ئی س مرحو ہو ج ئ گ ' ب کہ خوف ن ک ہو‬
‫ج ئ گ ۔ ہ ں اس س انک ر نہیں کہ اس میں دودھ بھی ہ ۔‬

‫ان میں س کوئی دودھ' اپنی اصل فطرت پر نہیں۔ موجودہ دودھ‬
‫فطرت ث نیہ پر ہ ۔ فطرت ث نیہ کسی سطع پر درست نہیں ہو‬
‫سکتی۔‬

‫خودس ختہ سرا نم دودھ کی اپنی الگ س فطرت ہ ۔ اس کی‬
‫فطرت س ' آلودہ کی موجودہ فطرت ک بھی تق ض نہیں کی‬

‫سکت ۔ وہ دودھ ہی نہیں تو تق ض کیس ۔ اصل تو بڑی دور کی‬
‫بتہ ۔‬

‫انس نی روی اس مث ل ک مم ثل رہ ہیں۔ ادی ش عر بھی'‬
‫ان رویوں کو ق بند کرت ہیں۔ وہ خود بھی کسی ن کسی سطع‬

‫پر' ان میں س کسی ایک پر ہوت ہیں' اس حوالہ س‬
‫غیرج نبدار ہو کر بھی' غیرج نبدار نہیں رہ پ ت ۔ جو بھی سہی'‬
‫ان ک ہ ں آج کی شہ دتیں موجود ہوتی ہیں۔ جنھیں آت کل' تلاش‬
‫ہی لیت ہ ۔ آج بھی ق ری' بوقت مط ل ہ' اپنی فطرت پر ہوت ہ ‪.‬‬

‫‪219‬‬

‫دوران مط ل ہ محبت ن رت' خوشی دکھ' ہ دردی س کی وغیرہ‬
‫کی ی ت س دوچ ر ہوت ہ ۔‬

‫‪220‬‬

‫یقین م نی‬

‫کچھ ہی دن ہوئ ‘ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں ن اٹھ کر‬
‫دروازہ کھولا۔ دو بڑے ٹوہری آدمی دروازے پر کھڑے تھ ۔‬
‫انہوں ن تقریب ب ب رع آواز میں کہ ‪ :‬بڑے می ں‘ مقصود‬

‫حسنی ص ح گھر پر ہیں۔‬
‫میں ن جھک کر عرض کی ‪ :‬حضور تشریف رکھی اور خود‬

‫اندر چلا گی ۔‬
‫اندر بیٹھی ایک بوڑھی خ تون س پوچھ ‪ :‬بڑی بی‘ مقصود‬

‫حسنی ص ح گھر پر ہیں۔‬
‫بڑی بی ن گھور کر میری طرف دیکھ ‘ پھر یہ گل افش نی‬

‫فرم ئی‪ :‬تمہ را دم تو نہیں چل گی ۔‬
‫اصل میں وہ ل ظ بڑی بی پر سیخ پ ہوئی تھی۔ میرا دم نہیں‬
‫چلا؛ میرے س تھ اتن فرینک ہون کی ضرورت نہیں‘ میں ایس‬

‫ویس آدمی نہیں ہوں‘ جو پوچھ ہ ‘ پہ اس ک جوا دو۔‬
‫بیٹھک میں ب رع شخصی ت تشریف فرم ہیں‘ جو حسنی ص ح‬

‫س م ن کی خواہش مند ہیں۔‬

‫‪221‬‬

‫ا کہ اس یقین ہو گی کہ میں ی دداشت کھو بیٹھ ہوں۔ زور‬
‫زور س اور زار و قط ر رون لگی۔ اس کی آواز ک فی ب ند‬
‫تھی۔ میں ن ج ی حیرت دکھ ت ہوئ کہ ‪ :‬بڑی بی کی ہو گی‬
‫ہ ‘ میں ن تو آپ کو کچھ نہیں کہ ۔ آپ خواہ مخواہ رون لگی‬
‫ہیں۔ اس کی آواز اور ب ند ہو گئی۔ میں ن دوب رہ س کہ ‪ :‬رو‬

‫ب د میں لین ‘ پہ میرے سوال ک جوا دے دیں۔‬

‫ت کون ہو‘ خود اپن ہی پوچھ رہ ہو۔‬

‫اچھ تو میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ پھر میں ن اپنی بس ط اور‬
‫اوق ت ک مط ب قہقہ لگ ی اور واپس بیھٹک میں آ گی ۔‬

‫ج میں دوب رہ س بیٹھک میں آ گی ‘ تو انہوں ن میری ج ن‬
‫سوالیہ نطروں س دیکھ ۔ میں فخریہ س مسکرای ‘ کیوں کہ‬

‫مجھ ک مل یقین ہو گی تھ کہ میں ہی مقصود حسنی ہوں۔ بظ ہر‬
‫م مولی ب ت ہ ‘ لیکن اپنی اصل میں‘ یہ م مولی ب ت نہیں۔‬

‫شخص‘ ہزاروں س ل س اپنی کھوج میں ہ ۔ اس کی شخصیت‬
‫تو ش ہوں کی تجوری میں مقید چ ی آتی ہ ۔ بلا شبہ یہ خوش‬

‫نصیبی کی ب ت تھی‘ کہ مجھ خود کو ج نن میں‘ ہزاروں س ل‬
‫نہیں لگ ۔‬

‫پھر میں ن ان س کہ ‘ جن میں ہی مقصود حسنی ہوں۔‬

‫ہر دو حضرات ن میری طرف دیکھ ۔‬


























































Click to View FlipBook Version