471
چوتھی مرغی
اس س پہ ‘ اس ن تین مرغی ں ذبح کیں۔ ہر مرغی ن ‘
گردن پر چھری والا ہ تھ آن س پہ ‘ تھوڑا بہت شور مچ ی ۔
جوں ہی گردن‘ قص کی دو انگ یوں میں آتی‘ وہ اس ک ب د‘
شور بھی نہ مچ سکی۔ وہ کھ ی آنکھوں س ‘ اپنی موت ک
منظر دیکھتی۔ پھر وہ دیکھن س بھی‘ ہمیشہ ک لی
محرو ہو گئی۔ چوتھی مرغی کی گردن پر چھری آن ہی کو
تھی‘ کہ بڑی بڑی مونچھوں وال ‘ رست نم ایک ص ح آ گی ۔
انہوں ن مرغی ذبح کرن س منع کر دی ۔ اس مرغی ک
گوشت‘ مجھ م ن والا تھ ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی ‘ لیکن ان ک جثہ
اور مونچھیں‘ حد درجہ خطرن ک ہی نہیں‘ خوف ن ک بھی تھی۔
اس پر طرہ یہ کہ انہوں ن ‘ س ت آن زی دہ دے کر‘ مرغی
خرید لی۔ قص م ن والوں میں س تھ ۔ اس ن ہی و ہ ئ کو
ب لائ ط رکھت ہوئ ‘ س ت آنوں کو‘ اہمیت دی۔ خ موشی
ک سوا کی ہو سکت تھ ۔
میں ن اس شخص س دری فت کی ‘ کہ آخر اس مرغی میں کی
خ ص ب ت ہ ‘ جو وہ س ت آن زی دہ دے کر‘ اس ح صل کر
رہ ہ ۔ میری ب ت کو سن کر‘ وہ ہنس دی ۔ بولا ب ؤ جی آپ نہیں
472
ج نت ‘ کہ یہ مرغی کی چیز ہ ۔ یہ مرغی‘ بڑی نس ی مرغی
ہ ۔ اس نسل ک ایک مرغ ‘ میرے پ س ہ ۔ یہ میری قسمت بن
دے گی۔ میں اگ چند س لوں میں‘ امیر ہوج ؤں گ ۔ آپ دیکھت
رہن ۔۔۔۔۔۔ کتن احم تھ ‘ جو یہ کہہ رہ تھ ۔ میرے پ س اتن وقت
کہ ں‘ جو میں مرغی کو دیکھت پھروں۔ میں ن پھر پوچھ ‘ کی
قص اس حقیقت س آگ ہ نہ تھ ۔ وہ آگ ہ تھ ‘ لیکن اس نسل ک
مرغ نہ ہون کی وجہ س ‘ یہ مرغی اس ک لی کوئی
م نویت نہ رکھتی تھی۔
میں ن یہ سوچ کر‘ خ موشی اختی ر کی‘ کہ گوشت ہی کھ ن
ہ ‘ اس مرغی ک ہو‘ ی اس مرغی ک ‘ اس س کی فر پڑت
ہ ۔ مجھ لوگوں کی جہ لت پر‘ افسوس ہوا۔ شیخ چ ی کی سی
سوچ رکھت ہیں۔ مرغوں ک حوالہ س ‘ ام رت آتی ہو‘ تو دنی
س رے ک ک ج چھوڑ کر‘ اسی ج ن لگ ج ئیں۔ میں دیر تک‘ ان
سوچوں ک گردا میں پھنس رہ ‘ کہ ہ بھی کیسی عجی قو
ہیں‘ دنی ترقی کرک کہ ں کی کہ ں‘ پہنچ گئی۔ ہ ابھی تک‘ ان
لای نی اور ب م نی اشغ ل میں پڑے ہوئ ہیں۔ آخر ان اشغ ل
کی‘ کی م نویت ہ ۔ غری قوموں کو‘ اس قس ک اشغ ل‘ وارہ
نہیں کھ ت ۔ ایک طرف بھوک ن نڈھ ل کر رکھ ہ ‘ تو
دوسری طرف انگریز ک سجن طبقہ‘ جس ک ہ تھ میں‘ وہ
زندگی کی طن بیں دے گی تھ ‘ جونک کی طرح‘ اس عظی خطہ
ک لوگوں ک ‘ خون چوس رہ ہ ۔ لوگوں پر ب ور کر دی گی
473
ہ ‘ کہ یہ اس قو ک ہیرو ہیں۔ قو ک لی ‘ لڑن مرن اور
جی وں میں ج ن وال ‘ ڈاکو قرار دے دی گی ہیں۔ وہ جنہوں
ن ‘ لمحہ بھر کی بھی ص وبت نہیں اٹھ ئی‘ عظمتوں ک م م ر
قرار پ ئ ہیں۔ آج تک‘ یہ ک ی طور پر‘ ط نہیں پ ی ‘ کہ تقسی ‘
خطہ کی ہوئی ہ ‘ ی مسم ن قو کی ہوئی ہ ۔ اوپر س مذہبی
طبقہ‘ انس نوں کو قری نہیں آن دیت ۔ دیر تک سوچن ک ب د‘
میں اس نتیجہ پر پہنچ ‘ کہ منتشر اور حق ئ س دور قوموں
کی زندگی‘ مرغوں اور بٹیروں ک گرد طواف کرتی رہتی ہ ۔
م شی بھ گ دوڑ ن ‘ مجھ اس قس کی سوچوں س ‘
کوسوں دور کر دی ۔ ج فرد‘ ذات ک خول میں گ ہو ج ت ہ ‘
تو اجتم ع ک اچھ برے‘ کی سوچوں س دور۔۔۔۔۔ بہت دور
چلا ج ت ہ ۔ اس صرف اور صرف‘ اپنی بھوک ی د رہتی ہ ۔
خونی رشت بھی‘ اس بھ گ دوڑ میں‘ اپنی شن خت س محرو
ہو ج ت ہیں۔ ایس ع ل میں‘ چھین جھپٹی اصول اور ض بطہ
ٹھہرتی ہ ۔ میں بھی‘ یہ س بھول گی ۔ مجھ کی پڑی‘ جو
مرغوں اور بٹیروں کی سوچ میں‘ پڑ کر‘ جی ہ ک ن کرت ۔ کسی
کو کہ بھی تو نہیں ج سکت ۔ سچ کہن والا‘ سم ج دشمن قرار
پ کر‘ زہر ک مسح سمجھ ج ت ہ ۔ ا ہر کوئی‘ سقراط بنن
س رہ ۔
ایک دن‘ میں ب زار س گزر رہ تھ ۔ شہر ک بڑے چوک ک
ب ئیں‘ ایک اشتہ ر آویزاں تھ ۔ یہ اشتہ ر‘ مرغوں کی لڑائی س
474
مت تھ ۔ ایک عرصہ پہ کی ب ت‘ ایک ب ر پھر میرے ذہن
میں گھو گئی۔ اشتہ ر پڑھ کر‘ میرا دم چکرا گی ۔ کیسی
ب حس اور لاپرواہ قو ہ ۔ جنگ س نک ‘ ابھی چند م ہ ہی
گزرے ہوں گ ‘ اور یہ‘ مرغوں کی لڑائی ں کروا رہی ہ ۔ جس
جنگ س ‘ قو گزری تھی‘ کی وہ ک فی نہ تھی۔ کی ا بھی
لڑائی دیکھن کی‘ کوئی کسر ب قی رہ گئی تھی۔ میں ان ہی
سوچوں میں گرفت ر‘ ضروری خریداری ک ب د‘ گھر واپس آگی ۔
اچ نک‘ میرے ذہن میں‘ چوتھی مرغی گردش کرن لگی۔ ایک
تجسس س نمودار ہوا۔ پھر میں ن ‘ مرغوں کی لڑائی دیکھن
ک ‘ فیص ہ کر لی ۔
میں وقت پر ہی‘ مرغوں ک پڑ میں پہنچ گی ۔ میں یہ دیکھ کر‘
حیران رہ گی ‘ کہ پڑ میں‘ بہت س رے لوگ موجود تھ ۔ میری
آنکھیں‘ مونچھوں والی سرک ر کو‘ تلاش کر رہی تھیں۔ میں
سوچ بھی نہیں سکت تھ ‘ کہ مونچھوں والی سرک ر‘ سرپنچ ہو
گی۔ میں اس لوگوں میں تلاشت رہ ۔ وہ ع لوگوں میں‘ موجود
نہ تھ ۔ میں زیرل مسکرای ‘ شیخ چ ی طبع ک لوگ‘ عم ی
زندگی میں‘ اپن وجود ب قی نہیں رکھت ۔ میں گھر واپس ج ن
ک لی مڑا ہی تھ ‘ کہ س من گ ؤ تکیہ لگی چ رچ ئی
پر‘مونچھوں والی سرک ر‘ اکی ہی تشریف فرم تھی۔ اس ک
ارد گرد‘ اس ک چی کھڑے تھ ۔ ایک چی ہ‘ اس ک کندھ ‘
ج کہ دوسرا پ ؤں دب رہ تھ ۔ میں ن پ س کھڑے‘ ایک
475
شخص س ‘ مونچھوں والی سرک ر ک ‘ ت رف ج نن چ ہ ۔ جوا
دین س پہ ‘ اس شخص ن مجھ ‘ سر س پ ؤں تک
دیکھ ‘ پھر بڑی حیرت س پوچھ ‘ کی ت سیٹھ ن در کو نہیں
ج نت ۔ دیکھن مرغوں کی لڑائی آئ ہو‘ اور سیٹھ ن در کو
نہیں ج نت ‘ بڑے ہی افسوس کی ب ت ہ ۔ میں ن مزید سوال
جوا کی بج ئ ‘ سیٹھ ن در ک پ س ج ن من س سمجھ ۔
میں سیٹھ ن در ک پ س ج کر کھڑا ہو گی ۔ سیٹھ ن در ن ‘
مجھ پہچ ن تک نہیں۔ میں ن خود ہی‘ اپن ت رف کروای ‘ اور
برسوں پہ ک واق ہ ی د کرای ۔ سیٹھ ن در ن ‘ بڑا دھواں دھ ر
قہقہ داغ ‘ اور کہ ‘ الله ن اس مرغی ک ط یل‘ بڑے پہ گ
لگ ئ ہیں۔ آج میں لاکھوں میں کھی ت ہوں۔ لوگ بڑی عزت
کرت ہیں۔ وہ اس چوتھی مرغی کی وجہ س ‘ امیر کبیر ہوگی
تھ ۔ ج کہ میں‘ ابھی تک‘ اس پران عہدے پر ہی ف ئز تھ ۔
س لانہ ترقیوں ک علاوہ‘ مجھ کچھ نہ ملا تھ ۔ مجھ س تو‘
مرغی پ لن والا‘ ہزار گن بہتر اور خوش ح ل زندگی‘ گزار رہ
تھ ۔ ایک ان پڑھ‘ کہیں ک کہیں ج پہنچ تھ ۔ میں پڑھ لکھ کر
بھی‘ کچھ نہ کر سک تھ ۔ ج ہل م شروں میں‘ ان پڑھ ہی ترقی
کرت ہیں۔ ایس ح لات میں‘ پڑھن کھ ی حم قت ہوتی ہ ۔
جہ ں میں‘ اس زندہ تض د پر غ گین تھ ‘ وہ ں یہ بھی سوچ رہ
تھ کہ ہر م ڑے کی گردن‘ تگڑے کی دو انگیوں کی گرفت میں
رہتی ہ ۔ احتج ج ک لی کھلا منہ‘ کھلا ہی رہ ج ت ہ اور
476
احتج جی ک موں کو‘ منہ س ب ہر آن ک ‘ موقع بھی نہیں مل
پ ت ۔ جنگل ک شروع س ‘ یہ ہی وتیرا رہ ہ ۔ جہ ں میں بسیرا
رکھت تھ ‘ وہ ں رہت توانس ن تھ ‘ لیکن ان ک اطوار اور
ق نون‘ جنگل ک ق نون س ‘ کسی طرح ک نہ تھ ۔ اس جبر
کی فض ‘ اور م حول میں‘ ایک ب ت ضرور موجود تھی‘ کہ
بچ ن والا‘ چوتھی مرغی کو‘ بچ ہی لیت ہ ۔ اس کی نسل‘
آت وقتوں میں‘ اس ک ہون ‘ اور بچ ن وال مہ ک تکر‘ کی
گواہی دیتی رہتی ہ ۔
477
ُمحتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
ُبہت ہی خوبصورت تحریر ہ ۔ اپ م ش الله ُبہت ہی گہری نظر
رکھت ہیں۔ اور پھر اپ ک پ س نہ صرف خی لات کو ال ظ
دین ک ہُنر ہ ب کہ وہ ط قت بھی ہ کہ اپ کی تحریر پڑھن
والا نہ صرف ق ئل ہو ج ت ہ ب کہ ہمیں یقین ہ کہ اثر بھی
لیت ہ ۔ ایک ُم شرتی مسئ ہ کہ اپ ن کہ ں ُمرغی س ُشروع
کی ہ اور کیس تم کہ نی ک ب د اس وہیں سمیٹ ہ ۔
ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ اپ کہ ں :اسیلُ :مرغی
پر چ ُھری پھروا رہ تھ جن یہ تو ُمرغ لڑان والوں کی
نظر میں :ک ر :س ک نہیں۔
اپ کی تحریر پڑھ کر ُکچھ ب تیں ذہن میں ائی ہیں ایک تو یہ کہ
ع خی ل ہہی ہ کہ پڑھن لکھن ک مط ہ رز میں
اض فہ اور یقین دہ نی۔ ایک ف رمولا کہہ لیج کہ جتن ذی دہ پڑھ
لکھ ہو گ انس ن ،اُتن ہی ذی دہ اُس ک رز ہون چ ہیئ ۔ اور
دوسری ب ت یہ کہ جنگل ک ق نون ُبرا ہوت ہ ،انس نوں ک
قوانین اچھ ہوت ہیں اور اُنہیں ہی رائج ہون چ ہیئ ۔
رز ک ب رے تو ہم را خی ل ہ کہ اس ک کوئی ف رمولا نہیں
ہ ۔ ہ ن تو یہی دیکھ کہ اگر کوئی شخص ہم ری طرح اپنی
ت یمی اخراج ت کی رسیدیں جنہیں ڈگری ں بھی کہت ہیں لیئ
پھرے ،چ ہ کوئی بڑا س ئنس دان ہو ،چ ہ ع ل ہو ش طر ہو،
478
رز ک حقدار اس ن ط س نہیں ٹھہرت ۔ اس کو ب نٹن ک
قدرت ک اگر کوئی ف رمولا ہ تو ہمیں ٹھیک س سمجھ نہیں
ای اج تک۔ ایک طرف تو دین کہت ہ کہ رز صرف الله ک
ہ تھ میں ہ ،دوسری طرف بچ بھوک مر ج ت ہیں۔
الزا کس دیں؟ ل دے کر اگر رز ک کوئی ف رمولا ہمیں دین
س ملا ہ تو یہی ہ کہ صدقہ خیرات دو کہ یہ دوگن ہو کر
واپس م گ ۔ جس ک پ س ُکچھ نہ ہو وہ کی کرے یہ کہیں
نہیں ملا۔ دوسری طرف اگر رز الله ک ہ تھ نہ ہو تو پورے
م ک کو وہ بیرونی کمپنی ں کھ ج ئیں ،جو ایک ہی وقت میں نہ
صرف کئی قس ک ص بن بن کر اشتہ روں میں اپس میں لڑ کر
دکھ تی ہیں ب کہ انہیں ص بنوں ک دو نمبر بھی خود ہی بن تی
ہیں کہ کوئی دوسرا فری کیوں بن کر کم ئ ۔
جنگل ک ق نون س ُمت ہم را خی ل ہ کہ یہ انس ن کی
ت ص س بھری ہوئی سوچ ہ کہ خود کو ج نوروں س بہتر
سمجھت ہ ۔ انس ن اشرف المخ وق ت ہ لیکن یہ ں انس ن کی
جو :ت ریف :ہ وہ ُکچھ اور ہ ۔ اپ خود ہی سوچئی کونسی
ایسی ُبرائی ہ جو ج نوروں ن کی ہوں اور انس نوں ن وہ
ُبرائی نہ کی ہو۔ اچھ ئی ں ُبرائیں دونوں سوچ لیج ۔ ایک بھی
ایسی نہ م گی۔ انس ن ،انس نوں تک ک گوشت محوارت ً نہیں
ب کہ حقیقت ً کھ رہ ہ ۔ ادھر انس نوں کی وہ ُبرائیں دیکھ لیج
جو ج نوروں ن کبھی نہ کی ہوں۔ اتنی لمبی فہرست نک گی
479
کہ ُخدا کی پن ہ۔ سو ہم را خی ل ہ کہ اگر ت ص کو تھوڑا س
ایک طرف رکھ کر سوچ ج ئ تو ج نور بدرجح بہتر نظر ائیں
گ ۔ وہ تو م صو نظر ات ہیں ہمیں۔ جنگل ک قوانین میں
شک ر تبھی ہوت ہ ج بھوک لگ ۔ یہ ں اُلٹ ُم م ہ ہ ،
بھوک لگن س پہ انتظ کرن ہوت ہ ۔ بھیڑی کی خص ت
تھی کہ وہ کمزور پڑ ج ن وال بھیڑیئ کو مل کھ ج ت ہیں۔
لیکن یہ ں مل ب نٹ کر بھی نہیں کھ ت ۔ واہ رے انس ن۔۔
سو ص ح ج تک ُدنی میں کمزور اور ط قتور موجود ہیں،
کمزور کی گردن ط قتور کی دو انگ یوں میں رہ گی۔ یہ اصول
ہ ن صرف انس نوں ک گھٹی ُم شرے اور قوانین س ہی
نہیں اخذ کی ب کہ ج نوروں ک ُس جھ ہوئ اور ُمہذ
ُم شرے اور جنگل ک قوانین س بھی ث بت ہ ۔
اپ کی تحریر ُبہت خو ہ ۔ اُمید ہ اگر ن انص فی کو ُدنی س
ہ مٹ نہیں سکت تو کسی حد تک ک کرن کی ُجستجو تو کر
سکت ہیں۔ اور یہی اپ کر رہ ہیں۔ اپ کی یہ تحریر بھی اسی
ک وش ک حصہ ہ اور ُمق رکھتی ہ ۔ ایک ب ر پھر بھرپور داد
ک س تھ ۔ ۔ ۔
ُدع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8841.0
480
انگریزی فیل
میں اور اس ‘ ایک س تھ‘ ایک ہی سکول میں‘ پڑھت تھ ۔
ہم را بڑا ی رانہ تھ ۔ ہ ایک دوسرے ک ہ ں‘ اکثر آت ج ت
رہت تھ ۔ اس بلاشبہ‘ بڑا محنتی ط ل ع تھ ‘ لیکن غیر
م مولی ذہین نہیں تھ ۔ اس ک برعکس‘ مجھ ذہین ط ب میں
شم ر کی ج ت تھ ۔ است د ک منہ س نک ی ب ت‘ میرے ح فظ
میں بیٹھ ج تی تھی۔ اس ک مط یہ نہیں‘ کہ میں گھر آ کر پڑھت
نہیں تھ ۔ پڑھ ہوا سب ‘ گھر آ کر ضرور دھرات ‘ ب کہ اس
زب نی لکھت بھی تھ ۔ مجھ کئی ب ر‘ اس تذہ ن ش ب ش بھی دی
تھی۔ اس کو ش ید ہی‘ کبھی کسی است د س ‘ ش ب ش م ی ہو
گی۔ ہ ں رٹ ب زی میں‘ میں ب لکل نکم تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘
کہ رٹ ب زی س ‘ مجھ گھن سی آتی تھی۔ میرے برعکس‘
اس رٹ ب زی میں اپن جوا نہیں رکھت تھ ۔ انگریزی ک سوا‘
میں دوسرے مض مین میں‘ اس س زی دہ نمبر ح صل کرت ۔
انگریزی س ‘ میری ج ن ج تی تھی۔ انگریزی ن پسندیدہ مضمون
ہو کر بھی‘ میں اس زی دہ وقت دیت ۔ کئی ب ر سوچت ‘ کہ م سٹر
انگریزی پڑھ کر‘ ش ید مجھ صدر کنیڈی کی سیٹ پر بیٹھ ن
چ ہت ہیں۔
481
اس رٹ ک بل بوت پر‘ میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن ل کر‘
پ س ہو گی ۔ میں ن ‘ انگریزی ک سوا‘ دوسرے مض مین میں‘
اس س کہیں بڑھ کر‘ نمبر ح صل کی ‘ لیکن انگریزی میں‘
انیس نمبر س زی دہ ح صل نہ کر سک ۔ بدقسمتی دیکھی ‘
دوسرے مض مین میں‘ م قول نمبر ح صل کرن ک ب وجود‘
فیل قرار دے دی گی ۔ والد ص ح ن ‘ ن صرف جھڑکیں دیں‘ ب کہ
پہنٹی بھی لگ ئی۔ مجھ جھڑکوں اور پہنٹی ک سرے س ملال
نہیں۔ وہ سچ تھ ‘ اگر میں میٹرک میں ک می ہو ج ت ‘ تو
میری زندگی بن ج تی۔ مجھ اصل ملال یہ رہ ‘ کہ میں پڑھ لکھ
کر بھی‘ ان پڑھوں میں شم ر ہوا۔
والد ص ح ن ‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ بڑا زور دی ‘ لیکن میرا
اصرار تھ ‘ ج تک انگریزی کورس میں ش مل ہ ‘ میں دوب رہ
امتح ن نہیں دوں گ ۔ والد ص ح میرے اس موقف پر‘ ت ؤ میں آ
ج ت اور م رن ک لی آگ بڑھت ‘ تو والدہ آڑے آ ج تیں۔
وہ گری سر پکڑ کر بیٹھ ج ت ‘ اس ک سوا اور کر بھی کی
سکت تھ ۔ میں کی ج نو‘ کہ انگریزی تو جنرل ایو بھی‘ خت
نہیں کر سکت تھ ‘ وہ خود انگریزی بولت تھ ۔ اس کی پڑی‘ کہ
میری خ طر‘ انگریزی مضمون سکولوں س خت کرا دے۔ اس
میٹرک میں پ س ہو ج ن ک ب د‘ کسی دفتر میں ب بو بھرتی ہو
گی ۔
والد ص ح مجھ ایک خرادی ک پ س چھوڑ آئ ۔ انہوں ن
482
اس کہ ‘ ٹھوک کر ک لو۔ ان ک خی ل تھ ‘ کہ م وکڑا س ہوں‘
محنت س تنگ آ کر‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ تی ر ہو ج ؤں گ ۔
میں ن ٹھ ن لی‘ کہ محنت کر لوں گ ‘ لیکن انگریزی ک
خ تم تک‘ دوب رہ امتح ن نہیں دوں گ ۔ ب ت تو بڑی شر والی
تھی‘ کہ اس جو میرا ہ جم عت تھ ‘ اجلا لب س پہن کر‘ دفتر
ج ت اور میں‘ میلا کچیلا لب س اور قنچی چپل پہن کر مزدوری
ک لی ج ت ۔
شریف خرادی ن ‘ ایک وقت میں‘ کئی شو پ ل رکھ تھ ۔
ب ل بچ دار ہو کر‘ اس ک ‘ کئی عورتوں س مراس تھ ۔
اس ک علاوہ بھی‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک س ب ز نہ آت ۔ ہر
عورت س ‘ ایک ہی ڈائیلاگ بولت :قس ل لو‘ تمہ رے سوا‘
میری زندگی میں کوئی نہیں۔ ت میری پہ ی اور آخری محبت ہو۔
اس کی پہ ی اور آخری محبت‘ کوئی بھی نہ تھی۔ وہ ابھی جوان
اور صحت مند تھ ‘ اس لی ‘ کسی کو‘ اس کی آخری محبت کہن ‘
کھ ی حم قت تھی۔
اطوار یہ ہی بت ت ‘ کہ ابھی تو آغ ز محبت ہ ۔ وہ اس میدان
میں قن عت ک ق ئل نہ تھ ۔ مجھ ان ک پی بر ہون ک اعزاز
ح صل رہ ہ ۔ فرم ئشی اشی بھی‘ میں پنچ کر آت تھ ۔ انہوں
ن ت کید کر رکھی تھی‘ کسی دوسری ک ذکر نہیں کرن ۔ ان ک
گھر بھی سودا س ف پنچ ن ‘ میرے فرائض میں داخل تھ ۔ بیگ
ص ح ن کئی ب ر کریدا‘ میں ن کبھی‘ کسی م م ک اش رہ
483
تک نہ دی ۔ اس ک ص ہ میں‘ جس میں اعزازیہ سمجھت ہوں‘
عط فرم ت ۔ دوسرے ک سیکھن والوں میں س ‘ میں انہیں
بہت عزیز تھ ۔
شریف ص ح ک دوستوں میں‘ دو تین پین ک بھی شغل
رکھت تھ ۔ س ش گردوں کو چھٹی ہو ج تی‘ لیکن مجھ ک
وغیرہ ک لی ‘ روک لیت ۔ کھ ن کی چیزیں بچ رہتی تھیں‘
ان س پر میں ہ تھ ص ف کرت ۔ ش ک ب د‘ وہ مل بیٹھت ‘ اور
ایک دو پیک بھی لگ ت ۔ ان میں ایک ص ح ج د بہک ج ت ۔
خم ر میں تو س ہی ہوت ‘ لیکن وہ کچھ زی دہ ہی اوور ہو
ج ت ۔ ہر قس کی ب تیں کرت ۔ بہت سی ب تیں خی لی ہوتیں۔
ایک ص ح ‘ سی ست س دل چسپی رکھت تھ ۔ وہ ں دری پر
بیٹھ بیٹھ اکبراعظ بن ج ت ۔ ب قی س انہیں جی حضور‘
جی سرک ر کہت ۔ ت لی بج ت ‘ میں ت لی کی آواز سن کر‘ ح ضر
ہو ج ت ۔ مجھ مخ ط کرت ہوئ فرم ت ‘ خ د خ ص!
ان رک ی س کہہ دو‘ ہ اس ک گ ن سنن ک لی ب ت ہیں۔
میں ب ہر آ کر ف مغل اعظ ک یہ گ ن ۔۔۔۔۔۔۔ ج پی ر کی تو ڈرن
کی ۔۔۔۔۔۔۔ گراموں فون پر لگ دیت ۔ س جھومن لگت ۔ ان کی
ح لت‘ بڑی عجی اور مضحکہ خیز ہو ج تی۔
شریف ص ح ‘ اپن جدید و قدی م شقوں کی داست نیں‘ چسک
ل ل کر سن ت ۔ ان داست نوں میں جنسی واہی تی ں بھی ش مل
484
کرت ج ت ۔
ایک ص ح ‘ قم رب زی ک شو رکھت تھ ۔ ان کی ہر کہ نی ک
انج یہ ہی ہوت ‘ کہ ب زی سو فی صد میری تھی‘ لیکن فلاں پتہ
دغ دے گی ‘ ورنہ ہ س نوٹوں میں کھی ت ۔ انہیں ہر ب ر یقین
ہوت ‘ کہ اگ ی ب زی ان کی ہی رہ گی۔ پھر وہ نوٹوں میں زب نی
کھی ت ۔ بڑے بڑے منصوب بن ت ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ ایک ب ر
بھی‘ جیت ان ک مقدر نہ بنی۔ ہمت وال تھ ‘ جیت کی امید
میں‘ اگ ی ب ر بھی میدان میں اترت ۔
شریف ص ح ک س تھ‘ میں پورے س ت س ل رہ ۔ ایک دن‘ پت
چلا کہ وہ دنی س کن رہ کر گی ہیں۔ ان کی دک ن اور س م ن
پر‘ ان ک س لوں ن قبضہ کر لی ۔ ہ س ش گرد پیشہ لوگوں
کو‘ چ ت کی گی ۔ اس ک ب د میں ن ‘ کئی اس ہنر س مت
لوگوں ک س تھ‘ ک کی ۔ شریف ص ح ک س تھ ک ک جو مزا
ملا تھ ‘ کسی اور ک ہ ں س نہ مل سک ۔ س سڑیل اور ٹوٹ
ٹوٹ کر پڑن وال تھ ۔ اکنی اکنی ک حس کرت تھ ۔ اپن
کھ ن ‘ لوازم ت ک س تھ منگوات تھ لیکن ہم رے لی ‘ بس
ٹوٹل پورا کرت ۔ کھ ت وقت ہ میں س کوئی‘ ان ک قری
نہیں ج سکت تھ ۔ اجرت بھی رو رو کر ادا کرت ۔ کئی ب ر جی
چ ہ ‘ کہ اس پیش کو چھوڑ کر‘ کوئی اور پیشہ اختی ر کر لوں‘
ی اپن ک شروع کر دوں۔ ہر نئ ک ک لی ‘ رق درک ر ہوتی
ہ ‘ لیکن میرے پ س تو کچھ بھی نہ تھ ۔ اگر اب زندہ ہوت ‘ وہ
485
ضرور کچھ ن کچھ کرت ۔ اس بڑا ب بو بن چک تھ اور مجھ
انگریزی ل ڈوبی تھی۔ پت نہیں‘ اور کتن لوگ ہوں گ ‘
جنہیں انگریزی ن ‘ کسی ک ک نہیں چھوڑا ہو گ ‘ وہ بھی
میری طرح‘ دنی ک دھکوں کی زد میں ہوں گ ۔
یقین م نی ‘ میں ن آج تک کسی لڑکی س ج ئز ی ن ج ئز
ت ق ت استوار نہیں کی ۔ کسی لڑکی ن ‘ مجھ کبھی ل ٹ نہیں
کرائی۔ یہ ب ت بھی سچی ہ ‘ کہ میں ن کسی لڑکی کو‘ اپنی
م ں بہن نہیں سمجھ ۔ اس ک ب وجود‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک
میرا محبو مشغ ہ ہ ۔
ت ش ک ب رہ پت ‘ میرا پیچھ کرت رہت ہیں اور میں‘ شکیل
ک ہ ں‘ چلا ج ت ہوں رات گی تک‘ لطف اندوز ہوت ہوں۔ فری
میں کھی ی ج ن والی‘ ایک دو ب زی ں بھی لگ لیت ہوں۔ میں
اکیلا ہی نہیں‘ دیکھن وال اور لوگ بھی موجود ہوت ہیں۔ ہ
چھوٹی موٹی شرطیں لگ کر‘ اپن رانجھ راضی کر لیت ہیں۔
شرا پین س ‘ مجھ کوئی دل چسپی نہیں۔ ہ ں شرابیوں کی
لذیز ب تیں‘ سنن ک لی کم ل ص ح ک ہ ں چلا ج ت ہوں۔
ان س کی خدمت کرت ہوں۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ وہ مجھ اپن
آدمی سمجھت ہیں۔ کھ ن پین ک چھوڑا ہوا س م ن‘ میرے
حوال کر دین میں بخل نہیں کرت اور نہ ہی برا محسوس
کرت ہیں۔
486
ج میں شرا نہیں پیت ‘ تو لوگ مجھ شرابی کیوں سمجھت
ہیں۔ جوا کھی ن س ‘ میرا کوئی ت واسطہ ہی نہیں‘ اس ک
ب وجود مجھ جواری کیوں سمجھ ج ت ہ ۔ کسی لڑکی ن
مجھ س ت استوار ہی نہیں کی ۔ میں بھی‘ گرہ کی ک زوری
ک ب عث‘ کسی حسینہ س ‘ م شقہ نہیں کر سک ۔ م مولی
ت نک جھ نک ی رسمی س ٹھرک بھورن ک سب ‘ علاقہ میں
ذلیل و رسوا ہو گی ہوں۔ کوئی مجھ شریف آدمی‘ سمجھن
ک لی تی ر ہی نہیں اور اپنی دختر نیک اختر ک رشتہ‘ دین
ک لی تی ر نہیں۔ کنواری تو دور کی ب ت‘ کوئی طلا ی فتہ ی
بیوہ بھی‘ میرے س تھ نک ح کو‘ شجر ممنوعہ خی ل کرتی ہ ۔
سوچت ہوں‘ مجھ اس ح ل تک‘ کس ن پنچ ی ہ ؟ میں خود
اس ک ذمہ دار ہوں‘ ی یہ س ‘ انگریزی ک کی دھرا ہ ؟
انگریزی کو لازمی مضمون بن ن کی آخر کی ضرورت ہ ۔ کون
س ‘ ہر کسی ن ‘ غیر مم لک میں س یر بن کر ج ن ہوت ہ ۔
ب زار ک ک ک انگریزی ک س تھ چ ت ہ ۔ کورٹ کچیری اور
دف تر میں ک ک انگریزی میں چ ت ہیں۔ کچیری میں‘ مب حث
مق می زب ن میں ہوتی ہ ۔ بس لکھ ئی‘ انگریزی میں ہوتی ہ ۔
انگریزی میں لکھ ج ن ک سب ‘ کئی کئی دن فصی ہ م ن
میں لگ ج ت ہیں۔ غیروں کی زب ن ہون ک ب عث‘ کئی نکت
نکل آت ہیں‘ اور اس طرح‘ کوئی ب ت اٹل قرار نہیں پ تی۔ اپی و
اپی ی ہی کی گھمن گھیریوں میں‘ مس ئل پھنس رہت ہیں۔ اس
487
جو‘ رٹ ب ز تھ ‘ بڑا ب بو بن بیٹھ ہ ۔ رع جم ن ک لی ‘
گلابی ارو بولت ہ ۔ میں اس کی اصل حقیقت س آگ ہ ہوں۔ میں
کچھ بھی کہت رہوں‘ محض بکواس ہو گ ۔ لوگ ب ت کو نہیں‘ ب ت
کرن وال ‘ اور اس کی حیثیت کو دیکھت ہیں۔
سم ج ن ‘ شریف ص ح س لوگوں کو‘ کیوں ڈھیل دے رکھی۔
سم ج میں‘ ہنر ک لی ‘ اس س لوگ ہی تو است د ہیں۔ میں
اپنی ص ئی میں‘ کچھ بھی کہت رہوں‘ کوئی نہیں م ن گ ۔ مجھ
س انگریزی ک م رے‘ سم ج ک دو نمبری ہی رہیں گ ۔
انہیں کوئی اپنی بیٹی ک رشتہ نہیں دے گ ۔ کرسی پر بیٹھ
لوگوں کی دو نمبری‘ کسی کو نظر نہیں آتی۔ لوگ اس کی حیثیت
کو دیکھیں گ ۔ رشوت‘ ب ایم نی‘ ہیرا پھیری اور حرا خوری‘
ان کی کرسی ی کرسی وال س انسلاک‘ ک پیٹ میں چلا
ج ئ گ ۔ کتن بھی غ ط ہوت رہ ‘ انگریزی ک دامن نہیں چھوڑا
ج ئ گ ۔ انگریزی ذہ نیں نگ تی رہ گی‘ اور کوئی کچھ نہیں
کر سک گ ۔ میں ی مجھ س ‘ انگریز فیل‘ کچھ بھی کر لیں‘
بیوی‘ ان ک نصی س ‘ ب ہر رہ گی۔
488
ُمحتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
م ذرت خواہ ہیں کہ دیر س ح ضر ہوئ ۔ یہ موضوع اگرچہ
اس قدر انوکھ نہیں ہ ،لیکن اپ ک ق ن اس اپنی طرز
س بی ن کی ہ اور ُبہت ہی خو کی ہ ۔ ہک پھ ک انداز
میں اپ ن کہ نی بی ن کی ہ جو پڑھن وال کو کسی ذہنی
دب ؤ میں نہیں ڈالتی۔ اس ک ف ئدہ یہ ہ کہ وہ ق رئین جو گہرے
ف س وں س کترات ہیں ی سمجھ نہیں پ ت وہ بھی اس س
محظوظ ہو پ ت ہیں اور ُکچھ نہ ُکچھ ب ت ک اثر ضرور ل کر
ج ت ہیں۔ ہم ری طرف س بھپور داد قبول کیج ۔
ویس ہم را خی ل اس س ُمت تو یہ ہ کہ ایک تو جو
ش گرد رٹہ نہیں لگ سکت اُن کو اس تذہ س ش ب ش بھی ش ز
و ن در ہی م تی ہ ،وگرنہ نہیں م تی۔ ہم را اپن المیہ یہی رہ
ہ ۔ دوسری ب ت یہ کہ اس میں صرف انگریزی ہی ک رفرم نہیں
ہ ،ب کہ کئی ایسی چیزیں ہم رے نص ک حصہ ہیں جس کی
کوئی ُتک نہیں م تی۔ یقین ج نئی اج تک ہمیں الجبرا ،جس
جبراً پڑھ ی ج ت ہ ،کو است م ل کرن ک کوئی موقع زندگی ن
نہیں دی ۔ ہ ایکسوں میں س وائی ں ت ری کیئ بغیر زندگی
ُگزار رہ ہیں۔ نہ مرہٹوں کی لڑائیوں کی ت ریخوں کی کہیں
ضرورت پڑی ہ ۔ اور تو اور ق ئداعظ ک چودہ ُنق ط جس ہ
489
چوتھی جم عت س ل کر مس سل چودھویں جم عت تک ی د
کرن کی کوشش کرت رہ ہیں ،نہ تو اج تک کبھی ی د ہوئ
ہیں اور نہ کبھی اس کی ضرورت پڑی ہ ۔
یہ ں کسی ک کو کرن ک لیئ اُس ک لیئ موزوں ترین
شخص بھی تلاش کرن ک کوئی اصول ُدرست نہیں ہ ۔ ہ جہ ں
ک کر رہ ہیں وہ ں بھی صرف اس لیئ کہ ہمیں :ڈائریکٹ،
ان ڈائریکٹ: ،:ایکٹو ،پیسوُ : ،:دع ئ قنوت ،:اور اپن وزیر
اطلاع ت ک ن ی د تھ ۔ ہ اس س بھی اچھ ُعہدہ پ سکت
تھ لیکن چونکہ ہمیں نہ صرف :امریکہ ک صدر کینڈی :ک
ق تل ک ن ی د نہیں تھ ب کہ یہ تک م و نہ تھ کہ ُ :ب ُبل :کی
اوسط ُعمر کتنی ہوتی ہ ،اس لیئ ہ اُس عہدے ک لائ نہ
تھ ۔
اس لیئ ہ سمجھت ہیں کہ نہ صرف یہ ش ور دین ضروری
ہ کہ ت ی ک مقصد کی ہ اور اس میں کردار س زی کی کی
اہمیت ہ ۔ ب کہ یہ بھی کہ کسی ک کو کرن ک لیئ موزوں
ترین شخص ک انتخ کیس کرن چ ہیئ ۔ اگر ہم رے بس میں
ہو تو ،ح فظ ،س دی اور ُعرفی جیس لوگوں ک کلا ،ب کہ قصہ
چہ ر درویش کو نص ک حصہ بن ئیں اور ُبہت سی خراف ت کو
اس میں س نک ل پھینکیں۔ ورنہ ہم را تو یہی ح ل ہ بقول
س دی کہ اگر کوئی شخص ع ح صل کرے اور پھر اُس
است م ل نہ کرے تو ایس ہی ہ جیس کسی گدھ پر کت بوں
490
ک بوجھ لدا ہو۔
تحریر پر ایک ب ر پھر داد ک س تھ۔
ُدع گو
وی بی جی
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8808.0
491
تن زعہ ک دروازے پر
اس میں کوئی شک نہیں‘ کہ وہ ذہین ش طر اور بہ در تھ ‘ لیکن
تس ط وتصرف ک لی ‘ وس ئل کی بھی ضرورت ہوتی ہ ۔
وس ئل کی کمی‘ اس کی راہ میں بہت بڑی رک وٹ تھی۔ ج
جذب اٹل اور کرن کی خواہش میں ج ن ہو‘ تو کر گزرن مشکل
نہیں رہت ۔ کرن ہدف س جڑا رہت ہ ۔ اس ک ہدف م مولی اور
ع نوعیت ک نہ تھ ۔ محنت مزدوری س ‘ تو پیٹ ک جہن بھی
نہیں بھر پ ت ۔ وہ اس ک ق ئل بھی نہ تھ اور ن ہی‘ محدود دائرے
ک قیدی ہون ‘ اس کبھی خوش آی تھ ۔ دائروں ک قیدی‘ زندگی
ک بڑے گراؤنڈ میں کھیل نہیں پ ت ہیں۔ چوری‘ محدود وس ئل
پیدا کرتی ہ ج کہ ڈاکہ‘ وس ئل ہی زی دہ میسر نہیں کرت ‘ ب کہ
اس میں جرآت بہ دری اور سینہ زوری ک عن صر‘ بھی موجود
ہوت ہیں۔ گھنٹوں غور کرن ک ب د‘ اس پر کھلا‘ کہ اٹھت
ہی‘ ڈاک کی راہ اختی ر کرن ‘ ممکن نہیں۔ اس آغ ز چھوٹی
موٹی چوری ہی س کرن پڑے گ ۔
شروع شروع میں‘ چھوٹ موٹ شور ہوا‘ لیکن ج چوریوں کی
ت داد بڑھی‘ تو علاق میں‘ ب چینی پھیل گئی۔ انتظ می ادارے
492
بھی‘ تشویش ک شک ر ہو گی ۔ ہ پیشہ و ہ مشر تو میسر آ
ہی گی تھ ‘ ا انتظ میہ کو‘ ہ تھ میں کرن ضروری ہو گی تھ ۔
اس ک میں بھی‘ اس کچھ زی دہ تردد نہ کرن پڑا۔ انتظ میہ‘
خصوص گرفت کرن وال اداروں کو‘ اس س ‘ لوگوں کی
تلاش رہتی ہ ۔ اس س لوگوں ک کی ‘ چھوٹ مجرموں پر ڈال
کر‘ م شرے میں انص ف ک بول ب لا کی ج سکت ہ ۔
ا وہ ک فی مضبوط ہو گی تھ ۔ وہ دن دیہ ڑے‘ جہ ں اور جس
ک ہ ں بھی چ ہت ‘ ڈاکہ ڈالت ۔ وہ علاق میں‘ خوف کی علامت
ک درج پر ف ئز ہو چک تھ ۔ چودھری ک دھندا‘ م ند پڑن
لگ ۔ انتظ میہ ن بھی‘ اس ک ک موں پر‘ گرفت ک آغ ز کر دی
تھ ۔ چودھری حیران تھ ‘ کہ اس ک آدمی موقع پر ہی‘ کیوں
پکڑے ج ن لگ ہیں۔ اس ک پ س‘ انتظ میہ کو ٹھپ کرن ک
کوئی رستہ ہی ب قی نہ رہ تھ ۔ بھتہ خور انتظ میہ ن ‘ چودھری
پر اتن احس ن ضرور کی ‘ کہ وہ لکھت پڑھت میں‘ چودھری ک
ذکر تک نہ کرت ۔ ک موں کو بھی ‘جرات نہ ہوتی‘ کہ وہ
چودھری ک ن تک‘ زب ن پر لائیں۔ ہ ں یہ ضرور ٹھ ن لیت ‘ کہ
وہ جیل س ب ہر آ کر‘ محودے زوراور ک گروپ میں‘ ش مل
ہو ج ئیں گ ۔ یہ غداری نہ تھی‘ چودھری ک ب اعتم د ک م ‘
اندر خ ن ‘ محودے زوراور ک گروپ میں ش مل ہو چک
تھ ۔ ہر چھوٹی بڑی خبر‘ ان ہی ک ذری ‘ زوراور تک
پہنچتی تھی۔ اسی بن پر‘ انتظ میہ انہیں موق ہءواردات پر پکڑ
493
لیتی تھی۔ پب ک میں آ ج ن ک ب عث‘ چودھری ب بس ہو ج ت
اور اپن بندوں ک لی ‘ کچھ نہ کر پ ت ۔
چودھری‘ علاق میں اپن ن و مق کھو چک تھ ۔ ب اعتم د
ک رکن‘ درپردہ اس ک نہ رہ تھ ۔ دھندے ک لوگ‘ زوراور
ک س تھ مل چک تھ ۔ انتظ میہ میں وہ بہ در ش ہ ظ ر س
زی دہ نہ رہ تھ ۔ لوگوں میں‘ بھی اس کی شہرت خرا ہو گئی
تھی۔ اس ن زوراور کو مروان کی کوشش بھی کی لیکن یہ
کوشش اس بڑی مہنگی پڑی۔ دوسری طرف‘ زوراور ن ب اثر
لوگوں کو‘ اپن کرن کی مہ تیز کرن ک س تھ ک زور طبقوں
ک لی روٹی ک دروازے کھول دی ۔ اس ن س س بڑھ
کر ک یہ کی ‘ کہ علاق میں ڈاکوں کی ت داد کو‘ محدود کر دی ۔
ڈاکہ صرف منحرف لوگوں ک ہ ں ہی پڑت ۔ ہ ں آس پ س ک
تین علاق جن پر وہ تصرف وتس ط ک ارادہ رکھت تھ ۔ پر
چوری اور ڈاک ک دروازہ کھول دی ۔ وہ ں کی انتظ میہ اور
چودھریوں ک خ ص بندے‘ اس ک بندے تھ ۔
اس ک پ س‘ وس ئل کی کمی نہ رہی تھی‘ دوسرا ا وہ علاق
ک م تبر اور م زز ترین شخص تھ ۔ ایک کمزور‘ ن ک اور بدن
شخص کو‘ چودھراہٹ ک ح نہ رہ تھ ۔ یہ بھی کہ چودھری کو
مروا کر‘ اس ک وس ئل پر قبضہ کرن ‘ مشکل نہ رہ تھ اور یہ
وقت کی اہ ترین ضرورت تھی۔ اس ابھی بہت کچھ کرن تھ ۔
اس ک پ س‘ ض ئع کرن ک لی وقت نہ تھ ۔ اس ن ایک
494
ہی جھٹک میں‘ چودھری کو ف ر کرک ‘ ن صرف ف ر کی ‘
ب کہ اس ک جم ہ وس ئل کو‘ اپن قبضہ میں ل لی ۔ ک ک
مردوں کو‘ چ برداری سونپ دی۔ خو صورت لڑکی ں‘ خوا
گ ہ میں پنچ دی گئیں۔ عورتوں پر ترس کھ ت ہوئ ‘ اپن
ک موں کو‘ جنسی م ملات ک لی ‘ سونپ دیں۔ ا محدا
زوراور‘ وہ نہ رہ تھ ‘ لوگ اس ‘ م ک محمود زوراور ک ن
س پہچ نن لگ ۔
پہچ ن کی تبدی ی ن ‘ اس ک اعتم د کو جلا بخشی۔ ا وہ کسی
واردات میں‘ خود نہ ش مل ہوت ب کہ اس ک ک م یہ ک انج
دین لگ ۔ ا وہ ڈیرے میں بیٹھ کر‘ آئ گی ک س تھ
م ملات کرت ۔ اقتدار کی حصولی ک ب د اس ن یہی سیکھ ‘ کہ
اعتم د اقتدار ک ‘ س س بڑا دشمن ہ ۔ ج کسی پر‘ م مولی
س بھی شبہ گزرت ‘ تو وہ وقت ض ئع کی بغیر‘ اس ک اور اپن
مخ لف تلاشت ۔ من س شخص میسر آن پر‘ اس غدار اور غیر
کی مخبر زندگی س ‘ آزادی دلا دیت ۔ دوسرے کو‘ انص ف ک
ن پر سر ع لٹک دیت ۔ مرت شخص میں بھی‘ اتنی جرآت نہ
ہوتی‘ کہ م ک ص ح ک ن زب ن تک ل آئ ۔
اس ن علاق میں‘ چوری چک ری کی ضرورت کو طلا دے
دی۔ اس کی ضرورت ہی کی تھی۔ زمین س م ن کی حیثیت ہی کی ‘
لوگ اس ک ‘ ہتھ بدھ غلا تھ ۔ وہ اس ک اش روں پر‘
ن چت تھ ۔ مذہبی ح قوں ک پیٹ اور منہ خ لی رکھن ‘ جر
495
سمجھت تھ ۔ انہیں منہ م نگ ‘ ان کی ضرورت س کہیں بڑھ کر
میسر آت تھ ۔ وہ بڑا اد نواز تھ ۔ قصیدہ خواں ش را کو نوازت
رہت تھ ۔ وہ اس پر خوش تھ ۔ اس ن ارد گرد ک علاقوں
میں‘ اندھیر مچ دی ۔ لوٹ م ر اور ڈاکہ زنی الگ‘ علاقوں ک
چودھریوں کی عزت کو مٹی میں ملان ک لی ‘ ہر حی ہ
اورحربہ اختی ر کر دی ۔
قبی ہ سلاح‘ خوش ح لی اور امن پسندی ک لی ‘ م روف چلا
آت تھ ۔ اس قبی ک چودھری‘ بڑی ش بنت تھ ۔ چھوٹ قبی وں
پر تس ط ح صل کرن مشکل نہ تھ ‘ لیکن قبی ہ سلاح ذرا ٹیڑھی
کھیر تھ ۔ اس ن قبی ہ ث لی ہ‘ کو غیرت دلائی‘ کہ سلاح وال ‘
ان ک علاقوں پر ق بض چ آت ہیں اور وہ اپن علاق
واپس نہیں ل رہ ۔ قبی ہ اوخ اور قبی ہ تنوخ والوں کو بھی‘
مخت ف حرب اختی ر کرک ‘ سردار سلاح ک خلاف کر دی ۔
اول اول‘ ان چ ر قبی ہ ک سرداروں میں‘ سرد جنگ چ ی اور یہ
پورے دو س ل چ ی۔ ان چ روں ک م بین‘ ت خی اشت ل ک
دروازے پر آ پہنچی۔ ا بس آگ دکھ ن کی ضرورت تھی۔ م ک
زوراور ن ‘ موقع دیکھ کر ضر لگ ہی دی۔ پھر کی ‘ چ روں
قبی آپس میں بھڑ گی ۔ م ک زوراور ن ‘ غیرج ن داری ک
اعلان کر دی ۔ چ روں قبی ‘ قی مت س دوچ ر تھ ۔ کئی دن
قی مت خیزی رہی۔ بلاشبہ تینوں قبی بڑی دلیری س لڑے‘
لیکن قب ہ سلاح کو زیر کرن میں ن ک رہ ۔ ہ ں البتہ قب یہ
496
سلاح بھی‘ م شی بیم ریوں ک شک ر ہو گی ۔ اس آویزش میں‘
بہت س رے‘ ب گن ہ موت ک گھ ٹ اتر گی ۔ سرداروں ک
م دات میں‘ زی دہ تر لوگ ہی ک آت ہیں۔ امن ہو‘ تو لوگ
سردار ک لی کم ت ہیں۔ جنگ ہو‘ تو لوگ سردار ک م د کی
لڑائی میں‘ زندگی س ہ تھ دھوت ہیں
چ روں قبی وں میں بدامنی پھیل گئی۔ جنگ خت ہون ک ب د
بھی‘ موت زندگی کی دشمن بنی رہی۔ انس نی تق ضوں ک پیش
نظر‘ م ک زوراور ن ‘ ایک ایک کرک ‘ چ روں قبی وں پر تس ط
ح صل کر لی ۔ امن ق ئ کرن اور زندگی کی بح لی میں‘ کئی م ہ
لگ گی ۔ وہ ان ک سرداروں ک ‘ خون س ہ تھ رنگ کر‘
ت ریخ میں اپن کردار کو‘ بدنم نہیں کرن چ ہت تھ ۔ انہیں بہ
طور جنگی مجر ‘ عدالت ک سپرد کر دی ۔ ہر علاق س ‘ ایک
ایک منصف لی گی ۔ چند دنوں کی ک روائی ک ب د‘ ان چ روں کو
موت کی سزا سن ئی گئی۔
تین چ ر س ل ب د ہی‘ لوگ م ضی میں برپ ہون والی قی مت کو‘
بھول گی ۔ م ک زوراور ن امن کی بح لی ک لی ‘ ہر ن ج ئز
قد اٹھ ی ۔ پ نچ علاق ایک علاقہ ہو گی ۔ وہ بہت بڑی قوت‘
قوت واحدہ بن گی تھ ۔ ب غیوں اور سرکشوں ک سوا‘ کسی
ک ہ ں ڈاکہ نہ ڈلوات تھ ۔ ہ ں‘ ان ک آس پ س ک سبھی
قبی ‘ ڈاکوں کی زد میں آگی ۔ کسی میں بولن اور آواز
اٹھ ن کی ہمت نہ تھی۔
497
م ک زوراور اٹھت بیٹھت ‘ ان پر بھی قبضہ جم ن کی سوچت
رہت ۔ کسی ک فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو پ تی‘ کہ ک کی ہون
والا ہ ۔ وہ قبی وں ک سرداروں کو دعوتیں دیت ۔ ان س بڑی
محبت اور خ وص س پیش آت ۔ انہیں عزت اور احترا س
نوازت ۔
ویر جی‘ علاق ک لوگوں کی ب حسی اور غلامی کو دیکھ
کر‘ آزردہ ہوت ۔ وہ شخصی آزادی کو‘ ترقی ک لی ‘ لازمہ
سمجھت تھ ۔ انہوں ن ‘ لوگوں کو‘ اپن خی لات ک حص ر
میں‘ لین شروع کر دی تھ ۔ نئی سوچ‘ پروان چڑھن لگی۔ لوگ
ان کی بڑی عزت کرت اور احترا دین تھ ۔ وہ اپن لقم ‘
بھوکوں ک سپرد کر دیت ۔ انہیں ہمیشہ‘ لوگوں ک دکھ درد
کی چنت رہتی۔ ان ک موقف تھ ‘ انس ن کو‘ دوسرے انس ن کی
خدمت ک لی ‘ پیدا کی گی ہ ۔ اکثر کہت ‘ حرا لقموں کو‘ منہ
میں رکھن کی بج ئ ‘ بھوک رہن ‘ ہزار درجہ بہتر ہ ۔ وہ
انس ن ک خ ل کی‘ ہر لمحہ ت ریف کرت ۔ ج کسی دکھی کو
دیکھت ‘ تو اس حوص ہ دیت ۔ فرم ت ‘ فکر نہ کرو‘ م لک
تمہیں ت س زی دہ ج نت ہ ۔ وہ کوئی ن کوئی‘ سب ضرور پیدا
کر دے گ ۔ انہیں مل کر‘ روح میں سکون اتر ج ت ۔ آنکھیں‘
ٹھندک س بھر ج تیں۔
ان ک پ س‘ لوگوں ک ہجو بڑھن لگ ۔ اس ایری ک سربراہ
کو‘ ویر جی کی مقبولیت کھٹکن لگی۔ اس گم ن گزرا‘ کہ ویر
498
جی‘ یہ س اقتدار پر ق بض ہون ک لی ‘ کر رہ ہیں۔ ویر
جی‘ تو دلوں پر حکومت کرت تھ ۔ انہیں اس جھوٹ اقتدار
س ‘ کی غرض تھی۔ م ل و دولت‘ ان ک ک کی چیزیں نہ
تھیں۔ یہی عنصر‘ لوگوں کو ان ک قری لا رہ تھ ۔ اقتداری
طبق کو‘ ویر جی ک نٹ کی طرح‘ چھبن لگ ۔ وہ ان پر‘ ہ تھ
نہیں ڈال سکت تھ ۔ ہر روز‘ دو چ ر شک ئتیں م ک زوراور
ک پ س پہنچن لگیں۔ م ک زوراور ک ک ن کھڑے ہوئ ۔ اس
ک ذاتی مخبر ن ‘ بھی ویر جی کی عوا میں مقبولیت کو بی ن
کی ۔ ایک ب ر وہ خود‘ بھیس بدل کر آی ۔ ویر جی کی عزت احترا
اور عوا کی‘ ان س محبت ن اس بھی سوچن پر مجبور
کر دی ۔
اس ن سوچ ‘ ویر جی کی بڑھتی مقبولیت‘ اس ک اقتدار ک
لی ‘ کسی وقت بھی خرابی ک سب بن سکتی ہ ۔ اس ن ‘ ہر
طبقہ ک مذہبی ع م ک اجلاس ط کی ۔ ان کی دل کھول کر
خدمت کی۔ ان ک منہ میں‘ ضرورت س زی دہ رکھ دی ۔ ہر
مذہبی لیڈر ن ‘ ویر جی کی نقل وحرک ت کو‘ مذہ دشمنی قرار
دے دی اور اس کی موت کو‘ وقت کی اہ ضرورت ک ن دے دی ۔
آہ۔۔۔۔۔ کتنی بدنصی تھی وہ صبح‘ ویر جی کو‘ موت ک حوال
کر دی ۔ وقت ک سرمد‘ چلا تو گی ‘ لیکن محبتوں کی ی دیں چھوڑ
گی ۔ م ک زوراور ک کوئی نہ منہ آ سک ۔ م ک پھر س
دوسرے علاقوں ک وس ئل پر تس ط وتصرف کی سوچ میں پڑ