The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-05-22 14:22:56

afsanay (1)

afsanay (1)

‫‪471‬‬

‫چوتھی مرغی‬

‫اس س پہ ‘ اس ن تین مرغی ں ذبح کیں۔ ہر مرغی ن ‘‬
‫گردن پر چھری والا ہ تھ آن س پہ ‘ تھوڑا بہت شور مچ ی ۔‬
‫جوں ہی گردن‘ قص کی دو انگ یوں میں آتی‘ وہ اس ک ب د‘‬

‫شور بھی نہ مچ سکی۔ وہ کھ ی آنکھوں س ‘ اپنی موت ک‬
‫منظر دیکھتی۔ پھر وہ دیکھن س بھی‘ ہمیشہ ک لی‬

‫محرو ہو گئی۔ چوتھی مرغی کی گردن پر چھری آن ہی کو‬
‫تھی‘ کہ بڑی بڑی مونچھوں وال ‘ رست نم ایک ص ح آ گی ۔‬

‫انہوں ن مرغی ذبح کرن س منع کر دی ۔ اس مرغی ک‬
‫گوشت‘ مجھ م ن والا تھ ۔ مجھ بڑا ت ؤ آی ‘ لیکن ان ک جثہ‬

‫اور مونچھیں‘ حد درجہ خطرن ک ہی نہیں‘ خوف ن ک بھی تھی۔‬
‫اس پر طرہ یہ کہ انہوں ن ‘ س ت آن زی دہ دے کر‘ مرغی‬

‫خرید لی۔ قص م ن والوں میں س تھ ۔ اس ن ہی و ہ ئ کو‬
‫ب لائ ط رکھت ہوئ ‘ س ت آنوں کو‘ اہمیت دی۔ خ موشی‬
‫ک سوا کی ہو سکت تھ ۔‬

‫میں ن اس شخص س دری فت کی ‘ کہ آخر اس مرغی میں کی‬
‫خ ص ب ت ہ ‘ جو وہ س ت آن زی دہ دے کر‘ اس ح صل کر‬
‫رہ ہ ۔ میری ب ت کو سن کر‘ وہ ہنس دی ۔ بولا ب ؤ جی آپ نہیں‬

‫‪472‬‬

‫ج نت ‘ کہ یہ مرغی کی چیز ہ ۔ یہ مرغی‘ بڑی نس ی مرغی‬
‫ہ ۔ اس نسل ک ایک مرغ ‘ میرے پ س ہ ۔ یہ میری قسمت بن‬
‫دے گی۔ میں اگ چند س لوں میں‘ امیر ہوج ؤں گ ۔ آپ دیکھت‬
‫رہن ۔۔۔۔۔۔ کتن احم تھ ‘ جو یہ کہہ رہ تھ ۔ میرے پ س اتن وقت‬
‫کہ ں‘ جو میں مرغی کو دیکھت پھروں۔ میں ن پھر پوچھ ‘ کی‬
‫قص اس حقیقت س آگ ہ نہ تھ ۔ وہ آگ ہ تھ ‘ لیکن اس نسل ک‬

‫مرغ نہ ہون کی وجہ س ‘ یہ مرغی اس ک لی کوئی‬
‫م نویت نہ رکھتی تھی۔‬

‫میں ن یہ سوچ کر‘ خ موشی اختی ر کی‘ کہ گوشت ہی کھ ن‬
‫ہ ‘ اس مرغی ک ہو‘ ی اس مرغی ک ‘ اس س کی فر پڑت‬
‫ہ ۔ مجھ لوگوں کی جہ لت پر‘ افسوس ہوا۔ شیخ چ ی کی سی‬
‫سوچ رکھت ہیں۔ مرغوں ک حوالہ س ‘ ام رت آتی ہو‘ تو دنی‬
‫س رے ک ک ج چھوڑ کر‘ اسی ج ن لگ ج ئیں۔ میں دیر تک‘ ان‬
‫سوچوں ک گردا میں پھنس رہ ‘ کہ ہ بھی کیسی عجی قو‬
‫ہیں‘ دنی ترقی کرک کہ ں کی کہ ں‘ پہنچ گئی۔ ہ ابھی تک‘ ان‬
‫لای نی اور ب م نی اشغ ل میں پڑے ہوئ ہیں۔ آخر ان اشغ ل‬
‫کی‘ کی م نویت ہ ۔ غری قوموں کو‘ اس قس ک اشغ ل‘ وارہ‬

‫نہیں کھ ت ۔ ایک طرف بھوک ن نڈھ ل کر رکھ ہ ‘ تو‬
‫دوسری طرف انگریز ک سجن طبقہ‘ جس ک ہ تھ میں‘ وہ‬
‫زندگی کی طن بیں دے گی تھ ‘ جونک کی طرح‘ اس عظی خطہ‬
‫ک لوگوں ک ‘ خون چوس رہ ہ ۔ لوگوں پر ب ور کر دی گی‬

‫‪473‬‬

‫ہ ‘ کہ یہ اس قو ک ہیرو ہیں۔ قو ک لی ‘ لڑن مرن اور‬
‫جی وں میں ج ن وال ‘ ڈاکو قرار دے دی گی ہیں۔ وہ جنہوں‬
‫ن ‘ لمحہ بھر کی بھی ص وبت نہیں اٹھ ئی‘ عظمتوں ک م م ر‬
‫قرار پ ئ ہیں۔ آج تک‘ یہ ک ی طور پر‘ ط نہیں پ ی ‘ کہ تقسی ‘‬
‫خطہ کی ہوئی ہ ‘ ی مسم ن قو کی ہوئی ہ ۔ اوپر س مذہبی‬
‫طبقہ‘ انس نوں کو قری نہیں آن دیت ۔ دیر تک سوچن ک ب د‘‬

‫میں اس نتیجہ پر پہنچ ‘ کہ منتشر اور حق ئ س دور قوموں‬
‫کی زندگی‘ مرغوں اور بٹیروں ک گرد طواف کرتی رہتی ہ ۔‬

‫م شی بھ گ دوڑ ن ‘ مجھ اس قس کی سوچوں س ‘‬
‫کوسوں دور کر دی ۔ ج فرد‘ ذات ک خول میں گ ہو ج ت ہ ‘‬
‫تو اجتم ع ک اچھ برے‘ کی سوچوں س دور۔۔۔۔۔ بہت دور‬
‫چلا ج ت ہ ۔ اس صرف اور صرف‘ اپنی بھوک ی د رہتی ہ ۔‬
‫خونی رشت بھی‘ اس بھ گ دوڑ میں‘ اپنی شن خت س محرو‬
‫ہو ج ت ہیں۔ ایس ع ل میں‘ چھین جھپٹی اصول اور ض بطہ‬

‫ٹھہرتی ہ ۔ میں بھی‘ یہ س بھول گی ۔ مجھ کی پڑی‘ جو‬
‫مرغوں اور بٹیروں کی سوچ میں‘ پڑ کر‘ جی ہ ک ن کرت ۔ کسی‬
‫کو کہ بھی تو نہیں ج سکت ۔ سچ کہن والا‘ سم ج دشمن قرار‬

‫پ کر‘ زہر ک مسح سمجھ ج ت ہ ۔ ا ہر کوئی‘ سقراط بنن‬
‫س رہ ۔‬

‫ایک دن‘ میں ب زار س گزر رہ تھ ۔ شہر ک بڑے چوک ک‬
‫ب ئیں‘ ایک اشتہ ر آویزاں تھ ۔ یہ اشتہ ر‘ مرغوں کی لڑائی س‬

‫‪474‬‬

‫مت تھ ۔ ایک عرصہ پہ کی ب ت‘ ایک ب ر پھر میرے ذہن‬
‫میں گھو گئی۔ اشتہ ر پڑھ کر‘ میرا دم چکرا گی ۔ کیسی‬

‫ب حس اور لاپرواہ قو ہ ۔ جنگ س نک ‘ ابھی چند م ہ ہی‬
‫گزرے ہوں گ ‘ اور یہ‘ مرغوں کی لڑائی ں کروا رہی ہ ۔ جس‬

‫جنگ س ‘ قو گزری تھی‘ کی وہ ک فی نہ تھی۔ کی ا بھی‬
‫لڑائی دیکھن کی‘ کوئی کسر ب قی رہ گئی تھی۔ میں ان ہی‬
‫سوچوں میں گرفت ر‘ ضروری خریداری ک ب د‘ گھر واپس آگی ۔‬
‫اچ نک‘ میرے ذہن میں‘ چوتھی مرغی گردش کرن لگی۔ ایک‬
‫تجسس س نمودار ہوا۔ پھر میں ن ‘ مرغوں کی لڑائی دیکھن‬

‫ک ‘ فیص ہ کر لی ۔‬

‫میں وقت پر ہی‘ مرغوں ک پڑ میں پہنچ گی ۔ میں یہ دیکھ کر‘‬
‫حیران رہ گی ‘ کہ پڑ میں‘ بہت س رے لوگ موجود تھ ۔ میری‬

‫آنکھیں‘ مونچھوں والی سرک ر کو‘ تلاش کر رہی تھیں۔ میں‬
‫سوچ بھی نہیں سکت تھ ‘ کہ مونچھوں والی سرک ر‘ سرپنچ ہو‬
‫گی۔ میں اس لوگوں میں تلاشت رہ ۔ وہ ع لوگوں میں‘ موجود‬

‫نہ تھ ۔ میں زیرل مسکرای ‘ شیخ چ ی طبع ک لوگ‘ عم ی‬
‫زندگی میں‘ اپن وجود ب قی نہیں رکھت ۔ میں گھر واپس ج ن‬

‫ک لی مڑا ہی تھ ‘ کہ س من گ ؤ تکیہ لگی چ رچ ئی‬
‫پر‘مونچھوں والی سرک ر‘ اکی ہی تشریف فرم تھی۔ اس ک‬
‫ارد گرد‘ اس ک چی کھڑے تھ ۔ ایک چی ہ‘ اس ک کندھ ‘‬

‫ج کہ دوسرا پ ؤں دب رہ تھ ۔ میں ن پ س کھڑے‘ ایک‬

‫‪475‬‬

‫شخص س ‘ مونچھوں والی سرک ر ک ‘ ت رف ج نن چ ہ ۔ جوا‬
‫دین س پہ ‘ اس شخص ن مجھ ‘ سر س پ ؤں تک‬
‫دیکھ ‘ پھر بڑی حیرت س پوچھ ‘ کی ت سیٹھ ن در کو نہیں‬
‫ج نت ۔ دیکھن مرغوں کی لڑائی آئ ہو‘ اور سیٹھ ن در کو‬
‫نہیں ج نت ‘ بڑے ہی افسوس کی ب ت ہ ۔ میں ن مزید سوال‬

‫جوا کی بج ئ ‘ سیٹھ ن در ک پ س ج ن من س سمجھ ۔‬

‫میں سیٹھ ن در ک پ س ج کر کھڑا ہو گی ۔ سیٹھ ن در ن ‘‬
‫مجھ پہچ ن تک نہیں۔ میں ن خود ہی‘ اپن ت رف کروای ‘ اور‬
‫برسوں پہ ک واق ہ ی د کرای ۔ سیٹھ ن در ن ‘ بڑا دھواں دھ ر‬

‫قہقہ داغ ‘ اور کہ ‘ الله ن اس مرغی ک ط یل‘ بڑے پہ گ‬
‫لگ ئ ہیں۔ آج میں لاکھوں میں کھی ت ہوں۔ لوگ بڑی عزت‬
‫کرت ہیں۔ وہ اس چوتھی مرغی کی وجہ س ‘ امیر کبیر ہوگی‬
‫تھ ۔ ج کہ میں‘ ابھی تک‘ اس پران عہدے پر ہی ف ئز تھ ۔‬
‫س لانہ ترقیوں ک علاوہ‘ مجھ کچھ نہ ملا تھ ۔ مجھ س تو‘‬
‫مرغی پ لن والا‘ ہزار گن بہتر اور خوش ح ل زندگی‘ گزار رہ‬
‫تھ ۔ ایک ان پڑھ‘ کہیں ک کہیں ج پہنچ تھ ۔ میں پڑھ لکھ کر‬
‫بھی‘ کچھ نہ کر سک تھ ۔ ج ہل م شروں میں‘ ان پڑھ ہی ترقی‬
‫کرت ہیں۔ ایس ح لات میں‘ پڑھن کھ ی حم قت ہوتی ہ ۔‬

‫جہ ں میں‘ اس زندہ تض د پر غ گین تھ ‘ وہ ں یہ بھی سوچ رہ‬
‫تھ کہ ہر م ڑے کی گردن‘ تگڑے کی دو انگیوں کی گرفت میں‬
‫رہتی ہ ۔ احتج ج ک لی کھلا منہ‘ کھلا ہی رہ ج ت ہ اور‬

‫‪476‬‬

‫احتج جی ک موں کو‘ منہ س ب ہر آن ک ‘ موقع بھی نہیں مل‬
‫پ ت ۔ جنگل ک شروع س ‘ یہ ہی وتیرا رہ ہ ۔ جہ ں میں بسیرا‬

‫رکھت تھ ‘ وہ ں رہت توانس ن تھ ‘ لیکن ان ک اطوار اور‬
‫ق نون‘ جنگل ک ق نون س ‘ کسی طرح ک نہ تھ ۔ اس جبر‬

‫کی فض ‘ اور م حول میں‘ ایک ب ت ضرور موجود تھی‘ کہ‬
‫بچ ن والا‘ چوتھی مرغی کو‘ بچ ہی لیت ہ ۔ اس کی نسل‘‬
‫آت وقتوں میں‘ اس ک ہون ‘ اور بچ ن وال مہ ک تکر‘ کی‬

‫گواہی دیتی رہتی ہ ۔‬

‫‪477‬‬

‫ُمحتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬

‫ُبہت ہی خوبصورت تحریر ہ ۔ اپ م ش الله ُبہت ہی گہری نظر‬
‫رکھت ہیں۔ اور پھر اپ ک پ س نہ صرف خی لات کو ال ظ‬
‫دین ک ہُنر ہ ب کہ وہ ط قت بھی ہ کہ اپ کی تحریر پڑھن‬
‫والا نہ صرف ق ئل ہو ج ت ہ ب کہ ہمیں یقین ہ کہ اثر بھی‬
‫لیت ہ ۔ ایک ُم شرتی مسئ ہ کہ اپ ن کہ ں ُمرغی س ُشروع‬
‫کی ہ اور کیس تم کہ نی ک ب د اس وہیں سمیٹ ہ ۔‬
‫ہم ری طرف س بھرپور داد قبول کیج ۔ اپ کہ ں ‪:‬اسیل‪ُ :‬مرغی‬
‫پر چ ُھری پھروا رہ تھ جن یہ تو ُمرغ لڑان والوں کی‬

‫نظر میں ‪:‬ک ر‪ :‬س ک نہیں۔‬

‫اپ کی تحریر پڑھ کر ُکچھ ب تیں ذہن میں ائی ہیں ایک تو یہ کہ‬
‫ع خی ل ہہی ہ کہ پڑھن لکھن ک مط ہ رز میں‬

‫اض فہ اور یقین دہ نی۔ ایک ف رمولا کہہ لیج کہ جتن ذی دہ پڑھ‬
‫لکھ ہو گ انس ن‪ ،‬اُتن ہی ذی دہ اُس ک رز ہون چ ہیئ ۔ اور‬
‫دوسری ب ت یہ کہ جنگل ک ق نون ُبرا ہوت ہ ‪ ،‬انس نوں ک‬
‫قوانین اچھ ہوت ہیں اور اُنہیں ہی رائج ہون چ ہیئ ۔‬

‫رز ک ب رے تو ہم را خی ل ہ کہ اس ک کوئی ف رمولا نہیں‬
‫ہ ۔ ہ ن تو یہی دیکھ کہ اگر کوئی شخص ہم ری طرح اپنی‬

‫ت یمی اخراج ت کی رسیدیں جنہیں ڈگری ں بھی کہت ہیں لیئ‬
‫پھرے‪ ،‬چ ہ کوئی بڑا س ئنس دان ہو‪ ،‬چ ہ ع ل ہو ش طر ہو‪،‬‬

‫‪478‬‬

‫رز ک حقدار اس ن ط س نہیں ٹھہرت ۔ اس کو ب نٹن ک‬
‫قدرت ک اگر کوئی ف رمولا ہ تو ہمیں ٹھیک س سمجھ نہیں‬

‫ای اج تک۔ ایک طرف تو دین کہت ہ کہ رز صرف الله ک‬
‫ہ تھ میں ہ ‪ ،‬دوسری طرف بچ بھوک مر ج ت ہیں۔‬
‫الزا کس دیں؟ ل دے کر اگر رز ک کوئی ف رمولا ہمیں دین‬
‫س ملا ہ تو یہی ہ کہ صدقہ خیرات دو کہ یہ دوگن ہو کر‬

‫واپس م گ ۔ جس ک پ س ُکچھ نہ ہو وہ کی کرے یہ کہیں‬
‫نہیں ملا۔ دوسری طرف اگر رز الله ک ہ تھ نہ ہو تو پورے‬
‫م ک کو وہ بیرونی کمپنی ں کھ ج ئیں‪ ،‬جو ایک ہی وقت میں نہ‬
‫صرف کئی قس ک ص بن بن کر اشتہ روں میں اپس میں لڑ کر‬
‫دکھ تی ہیں ب کہ انہیں ص بنوں ک دو نمبر بھی خود ہی بن تی‬

‫ہیں کہ کوئی دوسرا فری کیوں بن کر کم ئ ۔‬

‫جنگل ک ق نون س ُمت ہم را خی ل ہ کہ یہ انس ن کی‬
‫ت ص س بھری ہوئی سوچ ہ کہ خود کو ج نوروں س بہتر‬

‫سمجھت ہ ۔ انس ن اشرف المخ وق ت ہ لیکن یہ ں انس ن کی‬
‫جو ‪:‬ت ریف‪ :‬ہ وہ ُکچھ اور ہ ۔ اپ خود ہی سوچئی کونسی‬
‫ایسی ُبرائی ہ جو ج نوروں ن کی ہوں اور انس نوں ن وہ‬
‫ُبرائی نہ کی ہو۔ اچھ ئی ں ُبرائیں دونوں سوچ لیج ۔ ایک بھی‬
‫ایسی نہ م گی۔ انس ن‪ ،‬انس نوں تک ک گوشت محوارت ً نہیں‬
‫ب کہ حقیقت ً کھ رہ ہ ۔ ادھر انس نوں کی وہ ُبرائیں دیکھ لیج‬
‫جو ج نوروں ن کبھی نہ کی ہوں۔ اتنی لمبی فہرست نک گی‬

‫‪479‬‬

‫کہ ُخدا کی پن ہ۔ سو ہم را خی ل ہ کہ اگر ت ص کو تھوڑا س‬
‫ایک طرف رکھ کر سوچ ج ئ تو ج نور بدرجح بہتر نظر ائیں‬

‫گ ۔ وہ تو م صو نظر ات ہیں ہمیں۔ جنگل ک قوانین میں‬
‫شک ر تبھی ہوت ہ ج بھوک لگ ۔ یہ ں اُلٹ ُم م ہ ہ ‪،‬‬

‫بھوک لگن س پہ انتظ کرن ہوت ہ ۔ بھیڑی کی خص ت‬
‫تھی کہ وہ کمزور پڑ ج ن وال بھیڑیئ کو مل کھ ج ت ہیں۔‬

‫لیکن یہ ں مل ب نٹ کر بھی نہیں کھ ت ۔ واہ رے انس ن۔۔‬

‫سو ص ح ج تک ُدنی میں کمزور اور ط قتور موجود ہیں‪،‬‬
‫کمزور کی گردن ط قتور کی دو انگ یوں میں رہ گی۔ یہ اصول‬

‫ہ ن صرف انس نوں ک گھٹی ُم شرے اور قوانین س ہی‬
‫نہیں اخذ کی ب کہ ج نوروں ک ُس جھ ہوئ اور ُمہذ‬
‫ُم شرے اور جنگل ک قوانین س بھی ث بت ہ ۔‬

‫اپ کی تحریر ُبہت خو ہ ۔ اُمید ہ اگر ن انص فی کو ُدنی س‬
‫ہ مٹ نہیں سکت تو کسی حد تک ک کرن کی ُجستجو تو کر‬
‫سکت ہیں۔ اور یہی اپ کر رہ ہیں۔ اپ کی یہ تحریر بھی اسی‬
‫ک وش ک حصہ ہ اور ُمق رکھتی ہ ۔ ایک ب ر پھر بھرپور داد‬

‫ک س تھ ۔ ۔ ۔‬

‫ُدع گو‬

‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8841.0‬‬

‫‪480‬‬

‫انگریزی فیل‬

‫میں اور اس ‘ ایک س تھ‘ ایک ہی سکول میں‘ پڑھت تھ ۔‬
‫ہم را بڑا ی رانہ تھ ۔ ہ ایک دوسرے ک ہ ں‘ اکثر آت ج ت‬
‫رہت تھ ۔ اس بلاشبہ‘ بڑا محنتی ط ل ع تھ ‘ لیکن غیر‬
‫م مولی ذہین نہیں تھ ۔ اس ک برعکس‘ مجھ ذہین ط ب میں‬
‫شم ر کی ج ت تھ ۔ است د ک منہ س نک ی ب ت‘ میرے ح فظ‬
‫میں بیٹھ ج تی تھی۔ اس ک مط یہ نہیں‘ کہ میں گھر آ کر پڑھت‬

‫نہیں تھ ۔ پڑھ ہوا سب ‘ گھر آ کر ضرور دھرات ‘ ب کہ اس‬
‫زب نی لکھت بھی تھ ۔ مجھ کئی ب ر‘ اس تذہ ن ش ب ش بھی دی‬

‫تھی۔ اس کو ش ید ہی‘ کبھی کسی است د س ‘ ش ب ش م ی ہو‬
‫گی۔ ہ ں رٹ ب زی میں‘ میں ب لکل نکم تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘‬

‫کہ رٹ ب زی س ‘ مجھ گھن سی آتی تھی۔ میرے برعکس‘‬
‫اس رٹ ب زی میں اپن جوا نہیں رکھت تھ ۔ انگریزی ک سوا‘‬

‫میں دوسرے مض مین میں‘ اس س زی دہ نمبر ح صل کرت ۔‬
‫انگریزی س ‘ میری ج ن ج تی تھی۔ انگریزی ن پسندیدہ مضمون‬
‫ہو کر بھی‘ میں اس زی دہ وقت دیت ۔ کئی ب ر سوچت ‘ کہ م سٹر‬

‫انگریزی پڑھ کر‘ ش ید مجھ صدر کنیڈی کی سیٹ پر بیٹھ ن‬
‫چ ہت ہیں۔‬

‫‪481‬‬

‫اس رٹ ک بل بوت پر‘ میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن ل کر‘‬
‫پ س ہو گی ۔ میں ن ‘ انگریزی ک سوا‘ دوسرے مض مین میں‘‬

‫اس س کہیں بڑھ کر‘ نمبر ح صل کی ‘ لیکن انگریزی میں‘‬
‫انیس نمبر س زی دہ ح صل نہ کر سک ۔ بدقسمتی دیکھی ‘‬

‫دوسرے مض مین میں‘ م قول نمبر ح صل کرن ک ب وجود‘‬
‫فیل قرار دے دی گی ۔ والد ص ح ن ‘ ن صرف جھڑکیں دیں‘ ب کہ‬
‫پہنٹی بھی لگ ئی۔ مجھ جھڑکوں اور پہنٹی ک سرے س ملال‬

‫نہیں۔ وہ سچ تھ ‘ اگر میں میٹرک میں ک می ہو ج ت ‘ تو‬
‫میری زندگی بن ج تی۔ مجھ اصل ملال یہ رہ ‘ کہ میں پڑھ لکھ‬

‫کر بھی‘ ان پڑھوں میں شم ر ہوا۔‬

‫والد ص ح ن ‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ بڑا زور دی ‘ لیکن میرا‬
‫اصرار تھ ‘ ج تک انگریزی کورس میں ش مل ہ ‘ میں دوب رہ‬
‫امتح ن نہیں دوں گ ۔ والد ص ح میرے اس موقف پر‘ ت ؤ میں آ‬
‫ج ت اور م رن ک لی آگ بڑھت ‘ تو والدہ آڑے آ ج تیں۔‬

‫وہ گری سر پکڑ کر بیٹھ ج ت ‘ اس ک سوا اور کر بھی کی‬
‫سکت تھ ۔ میں کی ج نو‘ کہ انگریزی تو جنرل ایو بھی‘ خت‬
‫نہیں کر سکت تھ ‘ وہ خود انگریزی بولت تھ ۔ اس کی پڑی‘ کہ‬

‫میری خ طر‘ انگریزی مضمون سکولوں س خت کرا دے۔ اس‬
‫میٹرک میں پ س ہو ج ن ک ب د‘ کسی دفتر میں ب بو بھرتی ہو‬

‫گی ۔‬

‫والد ص ح مجھ ایک خرادی ک پ س چھوڑ آئ ۔ انہوں ن‬

‫‪482‬‬

‫اس کہ ‘ ٹھوک کر ک لو۔ ان ک خی ل تھ ‘ کہ م وکڑا س ہوں‘‬
‫محنت س تنگ آ کر‘ دوب رہ امتح ن دین پر‘ تی ر ہو ج ؤں گ ۔‬

‫میں ن ٹھ ن لی‘ کہ محنت کر لوں گ ‘ لیکن انگریزی ک‬
‫خ تم تک‘ دوب رہ امتح ن نہیں دوں گ ۔ ب ت تو بڑی شر والی‬

‫تھی‘ کہ اس جو میرا ہ جم عت تھ ‘ اجلا لب س پہن کر‘ دفتر‬
‫ج ت اور میں‘ میلا کچیلا لب س اور قنچی چپل پہن کر مزدوری‬

‫ک لی ج ت ۔‬

‫شریف خرادی ن ‘ ایک وقت میں‘ کئی شو پ ل رکھ تھ ۔‬
‫ب ل بچ دار ہو کر‘ اس ک ‘ کئی عورتوں س مراس تھ ۔‬

‫اس ک علاوہ بھی‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک س ب ز نہ آت ۔ ہر‬
‫عورت س ‘ ایک ہی ڈائیلاگ بولت ‪ :‬قس ل لو‘ تمہ رے سوا‘‬
‫میری زندگی میں کوئی نہیں۔ ت میری پہ ی اور آخری محبت ہو۔‬
‫اس کی پہ ی اور آخری محبت‘ کوئی بھی نہ تھی۔ وہ ابھی جوان‬
‫اور صحت مند تھ ‘ اس لی ‘ کسی کو‘ اس کی آخری محبت کہن ‘‬

‫کھ ی حم قت تھی۔‬

‫اطوار یہ ہی بت ت ‘ کہ ابھی تو آغ ز محبت ہ ۔ وہ اس میدان‬
‫میں قن عت ک ق ئل نہ تھ ۔ مجھ ان ک پی بر ہون ک اعزاز‬

‫ح صل رہ ہ ۔ فرم ئشی اشی بھی‘ میں پنچ کر آت تھ ۔ انہوں‬
‫ن ت کید کر رکھی تھی‘ کسی دوسری ک ذکر نہیں کرن ۔ ان ک‬
‫گھر بھی سودا س ف پنچ ن ‘ میرے فرائض میں داخل تھ ۔ بیگ‬
‫ص ح ن کئی ب ر کریدا‘ میں ن کبھی‘ کسی م م ک اش رہ‬

‫‪483‬‬

‫تک نہ دی ۔ اس ک ص ہ میں‘ جس میں اعزازیہ سمجھت ہوں‘‬
‫عط فرم ت ۔ دوسرے ک سیکھن والوں میں س ‘ میں انہیں‬

‫بہت عزیز تھ ۔‬

‫شریف ص ح ک دوستوں میں‘ دو تین پین ک بھی شغل‬
‫رکھت تھ ۔ س ش گردوں کو چھٹی ہو ج تی‘ لیکن مجھ ک‬
‫وغیرہ ک لی ‘ روک لیت ۔ کھ ن کی چیزیں بچ رہتی تھیں‘‬
‫ان س پر میں ہ تھ ص ف کرت ۔ ش ک ب د‘ وہ مل بیٹھت ‘ اور‬
‫ایک دو پیک بھی لگ ت ۔ ان میں ایک ص ح ج د بہک ج ت ۔‬

‫خم ر میں تو س ہی ہوت ‘ لیکن وہ کچھ زی دہ ہی اوور ہو‬
‫ج ت ۔ ہر قس کی ب تیں کرت ۔ بہت سی ب تیں خی لی ہوتیں۔‬

‫ایک ص ح ‘ سی ست س دل چسپی رکھت تھ ۔ وہ ں دری پر‬
‫بیٹھ بیٹھ اکبراعظ بن ج ت ۔ ب قی س انہیں جی حضور‘‬

‫جی سرک ر کہت ۔ ت لی بج ت ‘ میں ت لی کی آواز سن کر‘ ح ضر‬
‫ہو ج ت ۔ مجھ مخ ط کرت ہوئ فرم ت ‘ خ د خ ص!‬

‫ان رک ی س کہہ دو‘ ہ اس ک گ ن سنن ک لی ب ت ہیں۔‬
‫میں ب ہر آ کر ف مغل اعظ ک یہ گ ن ۔۔۔۔۔۔۔ ج پی ر کی تو ڈرن‬
‫کی ۔۔۔۔۔۔۔ گراموں فون پر لگ دیت ۔ س جھومن لگت ۔ ان کی‬
‫ح لت‘ بڑی عجی اور مضحکہ خیز ہو ج تی۔‬

‫شریف ص ح ‘ اپن جدید و قدی م شقوں کی داست نیں‘ چسک‬
‫ل ل کر سن ت ۔ ان داست نوں میں جنسی واہی تی ں بھی ش مل‬

‫‪484‬‬

‫کرت ج ت ۔‬

‫ایک ص ح ‘ قم رب زی ک شو رکھت تھ ۔ ان کی ہر کہ نی ک‬
‫انج یہ ہی ہوت ‘ کہ ب زی سو فی صد میری تھی‘ لیکن فلاں پتہ‬
‫دغ دے گی ‘ ورنہ ہ س نوٹوں میں کھی ت ۔ انہیں ہر ب ر یقین‬
‫ہوت ‘ کہ اگ ی ب زی ان کی ہی رہ گی۔ پھر وہ نوٹوں میں زب نی‬
‫کھی ت ۔ بڑے بڑے منصوب بن ت ۔ بدقسمتی دیکھی ‘ ایک ب ر‬

‫بھی‘ جیت ان ک مقدر نہ بنی۔ ہمت وال تھ ‘ جیت کی امید‬
‫میں‘ اگ ی ب ر بھی میدان میں اترت ۔‬

‫شریف ص ح ک س تھ‘ میں پورے س ت س ل رہ ۔ ایک دن‘ پت‬
‫چلا کہ وہ دنی س کن رہ کر گی ہیں۔ ان کی دک ن اور س م ن‬
‫پر‘ ان ک س لوں ن قبضہ کر لی ۔ ہ س ش گرد پیشہ لوگوں‬

‫کو‘ چ ت کی گی ۔ اس ک ب د میں ن ‘ کئی اس ہنر س مت‬
‫لوگوں ک س تھ‘ ک کی ۔ شریف ص ح ک س تھ ک ک جو مزا‬
‫ملا تھ ‘ کسی اور ک ہ ں س نہ مل سک ۔ س سڑیل اور ٹوٹ‬

‫ٹوٹ کر پڑن وال تھ ۔ اکنی اکنی ک حس کرت تھ ۔ اپن‬
‫کھ ن ‘ لوازم ت ک س تھ منگوات تھ لیکن ہم رے لی ‘ بس‬

‫ٹوٹل پورا کرت ۔ کھ ت وقت ہ میں س کوئی‘ ان ک قری‬
‫نہیں ج سکت تھ ۔ اجرت بھی رو رو کر ادا کرت ۔ کئی ب ر جی‬
‫چ ہ ‘ کہ اس پیش کو چھوڑ کر‘ کوئی اور پیشہ اختی ر کر لوں‘‬
‫ی اپن ک شروع کر دوں۔ ہر نئ ک ک لی ‘ رق درک ر ہوتی‬
‫ہ ‘ لیکن میرے پ س تو کچھ بھی نہ تھ ۔ اگر اب زندہ ہوت ‘ وہ‬

‫‪485‬‬

‫ضرور کچھ ن کچھ کرت ۔ اس بڑا ب بو بن چک تھ اور مجھ‬
‫انگریزی ل ڈوبی تھی۔ پت نہیں‘ اور کتن لوگ ہوں گ ‘‬
‫جنہیں انگریزی ن ‘ کسی ک ک نہیں چھوڑا ہو گ ‘ وہ بھی‬

‫میری طرح‘ دنی ک دھکوں کی زد میں ہوں گ ۔‬

‫یقین م نی ‘ میں ن آج تک کسی لڑکی س ج ئز ی ن ج ئز‬
‫ت ق ت استوار نہیں کی ۔ کسی لڑکی ن ‘ مجھ کبھی ل ٹ نہیں‬

‫کرائی۔ یہ ب ت بھی سچی ہ ‘ کہ میں ن کسی لڑکی کو‘ اپنی‬
‫م ں بہن نہیں سمجھ ۔ اس ک ب وجود‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک‬

‫میرا محبو مشغ ہ ہ ۔‬

‫ت ش ک ب رہ پت ‘ میرا پیچھ کرت رہت ہیں اور میں‘ شکیل‬
‫ک ہ ں‘ چلا ج ت ہوں رات گی تک‘ لطف اندوز ہوت ہوں۔ فری‬

‫میں کھی ی ج ن والی‘ ایک دو ب زی ں بھی لگ لیت ہوں۔ میں‬
‫اکیلا ہی نہیں‘ دیکھن وال اور لوگ بھی موجود ہوت ہیں۔ ہ‬

‫چھوٹی موٹی شرطیں لگ کر‘ اپن رانجھ راضی کر لیت ہیں۔‬

‫شرا پین س ‘ مجھ کوئی دل چسپی نہیں۔ ہ ں شرابیوں کی‬
‫لذیز ب تیں‘ سنن ک لی کم ل ص ح ک ہ ں چلا ج ت ہوں۔‬
‫ان س کی خدمت کرت ہوں۔ یہ ہی وجہ ہ ‘ کہ وہ مجھ اپن‬
‫آدمی سمجھت ہیں۔ کھ ن پین ک چھوڑا ہوا س م ن‘ میرے‬
‫حوال کر دین میں بخل نہیں کرت اور نہ ہی برا محسوس‬
‫کرت ہیں۔‬

‫‪486‬‬

‫ج میں شرا نہیں پیت ‘ تو لوگ مجھ شرابی کیوں سمجھت‬
‫ہیں۔ جوا کھی ن س ‘ میرا کوئی ت واسطہ ہی نہیں‘ اس ک‬

‫ب وجود مجھ جواری کیوں سمجھ ج ت ہ ۔ کسی لڑکی ن‬
‫مجھ س ت استوار ہی نہیں کی ۔ میں بھی‘ گرہ کی ک زوری‬

‫ک ب عث‘ کسی حسینہ س ‘ م شقہ نہیں کر سک ۔ م مولی‬
‫ت نک جھ نک ی رسمی س ٹھرک بھورن ک سب ‘ علاقہ میں‬

‫ذلیل و رسوا ہو گی ہوں۔ کوئی مجھ شریف آدمی‘ سمجھن‬
‫ک لی تی ر ہی نہیں اور اپنی دختر نیک اختر ک رشتہ‘ دین‬
‫ک لی تی ر نہیں۔ کنواری تو دور کی ب ت‘ کوئی طلا ی فتہ ی‬
‫بیوہ بھی‘ میرے س تھ نک ح کو‘ شجر ممنوعہ خی ل کرتی ہ ۔‬

‫سوچت ہوں‘ مجھ اس ح ل تک‘ کس ن پنچ ی ہ ؟ میں خود‬
‫اس ک ذمہ دار ہوں‘ ی یہ س ‘ انگریزی ک کی دھرا ہ ؟‬

‫انگریزی کو لازمی مضمون بن ن کی آخر کی ضرورت ہ ۔ کون‬
‫س ‘ ہر کسی ن ‘ غیر مم لک میں س یر بن کر ج ن ہوت ہ ۔‬

‫ب زار ک ک ک انگریزی ک س تھ چ ت ہ ۔ کورٹ کچیری اور‬
‫دف تر میں ک ک انگریزی میں چ ت ہیں۔ کچیری میں‘ مب حث‬
‫مق می زب ن میں ہوتی ہ ۔ بس لکھ ئی‘ انگریزی میں ہوتی ہ ۔‬

‫انگریزی میں لکھ ج ن ک سب ‘ کئی کئی دن فصی ہ م ن‬
‫میں لگ ج ت ہیں۔ غیروں کی زب ن ہون ک ب عث‘ کئی نکت‬
‫نکل آت ہیں‘ اور اس طرح‘ کوئی ب ت اٹل قرار نہیں پ تی۔ اپی و‬
‫اپی ی ہی کی گھمن گھیریوں میں‘ مس ئل پھنس رہت ہیں۔ اس‬

‫‪487‬‬

‫جو‘ رٹ ب ز تھ ‘ بڑا ب بو بن بیٹھ ہ ۔ رع جم ن ک لی ‘‬
‫گلابی ارو بولت ہ ۔ میں اس کی اصل حقیقت س آگ ہ ہوں۔ میں‬
‫کچھ بھی کہت رہوں‘ محض بکواس ہو گ ۔ لوگ ب ت کو نہیں‘ ب ت‬

‫کرن وال ‘ اور اس کی حیثیت کو دیکھت ہیں۔‬

‫سم ج ن ‘ شریف ص ح س لوگوں کو‘ کیوں ڈھیل دے رکھی۔‬
‫سم ج میں‘ ہنر ک لی ‘ اس س لوگ ہی تو است د ہیں۔ میں‬

‫اپنی ص ئی میں‘ کچھ بھی کہت رہوں‘ کوئی نہیں م ن گ ۔ مجھ‬
‫س انگریزی ک م رے‘ سم ج ک دو نمبری ہی رہیں گ ۔‬
‫انہیں کوئی اپنی بیٹی ک رشتہ نہیں دے گ ۔ کرسی پر بیٹھ‬

‫لوگوں کی دو نمبری‘ کسی کو نظر نہیں آتی۔ لوگ اس کی حیثیت‬
‫کو دیکھیں گ ۔ رشوت‘ ب ایم نی‘ ہیرا پھیری اور حرا خوری‘‬

‫ان کی کرسی ی کرسی وال س انسلاک‘ ک پیٹ میں چلا‬
‫ج ئ گ ۔ کتن بھی غ ط ہوت رہ ‘ انگریزی ک دامن نہیں چھوڑا‬

‫ج ئ گ ۔ انگریزی ذہ نیں نگ تی رہ گی‘ اور کوئی کچھ نہیں‬
‫کر سک گ ۔ میں ی مجھ س ‘ انگریز فیل‘ کچھ بھی کر لیں‘‬

‫بیوی‘ ان ک نصی س ‘ ب ہر رہ گی۔‬

‫‪488‬‬

‫ُمحتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون‬

‫م ذرت خواہ ہیں کہ دیر س ح ضر ہوئ ۔ یہ موضوع اگرچہ‬
‫اس قدر انوکھ نہیں ہ ‪ ،‬لیکن اپ ک ق ن اس اپنی طرز‬
‫س بی ن کی ہ اور ُبہت ہی خو کی ہ ۔ ہک پھ ک انداز‬
‫میں اپ ن کہ نی بی ن کی ہ جو پڑھن وال کو کسی ذہنی‬
‫دب ؤ میں نہیں ڈالتی۔ اس ک ف ئدہ یہ ہ کہ وہ ق رئین جو گہرے‬

‫ف س وں س کترات ہیں ی سمجھ نہیں پ ت وہ بھی اس س‬
‫محظوظ ہو پ ت ہیں اور ُکچھ نہ ُکچھ ب ت ک اثر ضرور ل کر‬

‫ج ت ہیں۔ ہم ری طرف س بھپور داد قبول کیج ۔‬

‫ویس ہم را خی ل اس س ُمت تو یہ ہ کہ ایک تو جو‬
‫ش گرد رٹہ نہیں لگ سکت اُن کو اس تذہ س ش ب ش بھی ش ز‬

‫و ن در ہی م تی ہ ‪ ،‬وگرنہ نہیں م تی۔ ہم را اپن المیہ یہی رہ‬
‫ہ ۔ دوسری ب ت یہ کہ اس میں صرف انگریزی ہی ک رفرم نہیں‬

‫ہ ‪ ،‬ب کہ کئی ایسی چیزیں ہم رے نص ک حصہ ہیں جس کی‬
‫کوئی ُتک نہیں م تی۔ یقین ج نئی اج تک ہمیں الجبرا ‪ ،‬جس‬

‫جبراً پڑھ ی ج ت ہ ‪ ،‬کو است م ل کرن ک کوئی موقع زندگی ن‬
‫نہیں دی ۔ ہ ایکسوں میں س وائی ں ت ری کیئ بغیر زندگی‬

‫ُگزار رہ ہیں۔ نہ مرہٹوں کی لڑائیوں کی ت ریخوں کی کہیں‬
‫ضرورت پڑی ہ ۔ اور تو اور ق ئداعظ ک چودہ ُنق ط جس ہ‬

‫‪489‬‬

‫چوتھی جم عت س ل کر مس سل چودھویں جم عت تک ی د‬
‫کرن کی کوشش کرت رہ ہیں‪ ،‬نہ تو اج تک کبھی ی د ہوئ‬

‫ہیں اور نہ کبھی اس کی ضرورت پڑی ہ ۔‬

‫یہ ں کسی ک کو کرن ک لیئ اُس ک لیئ موزوں ترین‬
‫شخص بھی تلاش کرن ک کوئی اصول ُدرست نہیں ہ ۔ ہ جہ ں‬

‫ک کر رہ ہیں وہ ں بھی صرف اس لیئ کہ ہمیں ‪:‬ڈائریکٹ‪،‬‬
‫ان ڈائریکٹ‪: ،:‬ایکٹو‪ ،‬پیسو‪ُ : ،:‬دع ئ قنوت‪ ،:‬اور اپن وزیر‬

‫اطلاع ت ک ن ی د تھ ۔ ہ اس س بھی اچھ ُعہدہ پ سکت‬
‫تھ لیکن چونکہ ہمیں نہ صرف ‪:‬امریکہ ک صدر کینڈی‪ :‬ک‬
‫ق تل ک ن ی د نہیں تھ ب کہ یہ تک م و نہ تھ کہ ‪ُ :‬ب ُبل‪ :‬کی‬
‫اوسط ُعمر کتنی ہوتی ہ ‪ ،‬اس لیئ ہ اُس عہدے ک لائ نہ‬

‫تھ ۔‬

‫اس لیئ ہ سمجھت ہیں کہ نہ صرف یہ ش ور دین ضروری‬
‫ہ کہ ت ی ک مقصد کی ہ اور اس میں کردار س زی کی کی‬
‫اہمیت ہ ۔ ب کہ یہ بھی کہ کسی ک کو کرن ک لیئ موزوں‬
‫ترین شخص ک انتخ کیس کرن چ ہیئ ۔ اگر ہم رے بس میں‬
‫ہو تو ‪ ،‬ح فظ‪ ،‬س دی اور ُعرفی جیس لوگوں ک کلا ‪ ،‬ب کہ قصہ‬
‫چہ ر درویش کو نص ک حصہ بن ئیں اور ُبہت سی خراف ت کو‬
‫اس میں س نک ل پھینکیں۔ ورنہ ہم را تو یہی ح ل ہ بقول‬

‫س دی کہ اگر کوئی شخص ع ح صل کرے اور پھر اُس‬
‫است م ل نہ کرے تو ایس ہی ہ جیس کسی گدھ پر کت بوں‬

‫‪490‬‬

‫ک بوجھ لدا ہو۔‬
‫تحریر پر ایک ب ر پھر داد ک س تھ۔‬

‫ُدع گو‬
‫وی بی جی‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8808.0‬‬

‫‪491‬‬

‫تن زعہ ک دروازے پر‬

‫اس میں کوئی شک نہیں‘ کہ وہ ذہین ش طر اور بہ در تھ ‘ لیکن‬
‫تس ط وتصرف ک لی ‘ وس ئل کی بھی ضرورت ہوتی ہ ۔‬
‫وس ئل کی کمی‘ اس کی راہ میں بہت بڑی رک وٹ تھی۔ ج‬

‫جذب اٹل اور کرن کی خواہش میں ج ن ہو‘ تو کر گزرن مشکل‬
‫نہیں رہت ۔ کرن ہدف س جڑا رہت ہ ۔ اس ک ہدف م مولی اور‬
‫ع نوعیت ک نہ تھ ۔ محنت مزدوری س ‘ تو پیٹ ک جہن بھی‬
‫نہیں بھر پ ت ۔ وہ اس ک ق ئل بھی نہ تھ اور ن ہی‘ محدود دائرے‬
‫ک قیدی ہون ‘ اس کبھی خوش آی تھ ۔ دائروں ک قیدی‘ زندگی‬
‫ک بڑے گراؤنڈ میں کھیل نہیں پ ت ہیں۔ چوری‘ محدود وس ئل‬

‫پیدا کرتی ہ ج کہ ڈاکہ‘ وس ئل ہی زی دہ میسر نہیں کرت ‘ ب کہ‬
‫اس میں جرآت بہ دری اور سینہ زوری ک عن صر‘ بھی موجود‬

‫ہوت ہیں۔ گھنٹوں غور کرن ک ب د‘ اس پر کھلا‘ کہ اٹھت‬
‫ہی‘ ڈاک کی راہ اختی ر کرن ‘ ممکن نہیں۔ اس آغ ز چھوٹی‬

‫موٹی چوری ہی س کرن پڑے گ ۔‬
‫شروع شروع میں‘ چھوٹ موٹ شور ہوا‘ لیکن ج چوریوں کی‬
‫ت داد بڑھی‘ تو علاق میں‘ ب چینی پھیل گئی۔ انتظ می ادارے‬

‫‪492‬‬

‫بھی‘ تشویش ک شک ر ہو گی ۔ ہ پیشہ و ہ مشر تو میسر آ‬
‫ہی گی تھ ‘ ا انتظ میہ کو‘ ہ تھ میں کرن ضروری ہو گی تھ ۔‬

‫اس ک میں بھی‘ اس کچھ زی دہ تردد نہ کرن پڑا۔ انتظ میہ‘‬
‫خصوص گرفت کرن وال اداروں کو‘ اس س ‘ لوگوں کی‬
‫تلاش رہتی ہ ۔ اس س لوگوں ک کی ‘ چھوٹ مجرموں پر ڈال‬

‫کر‘ م شرے میں انص ف ک بول ب لا کی ج سکت ہ ۔‬

‫ا وہ ک فی مضبوط ہو گی تھ ۔ وہ دن دیہ ڑے‘ جہ ں اور جس‬
‫ک ہ ں بھی چ ہت ‘ ڈاکہ ڈالت ۔ وہ علاق میں‘ خوف کی علامت‬

‫ک درج پر ف ئز ہو چک تھ ۔ چودھری ک دھندا‘ م ند پڑن‬
‫لگ ۔ انتظ میہ ن بھی‘ اس ک ک موں پر‘ گرفت ک آغ ز کر دی‬
‫تھ ۔ چودھری حیران تھ ‘ کہ اس ک آدمی موقع پر ہی‘ کیوں‬
‫پکڑے ج ن لگ ہیں۔ اس ک پ س‘ انتظ میہ کو ٹھپ کرن ک‬
‫کوئی رستہ ہی ب قی نہ رہ تھ ۔ بھتہ خور انتظ میہ ن ‘ چودھری‬
‫پر اتن احس ن ضرور کی ‘ کہ وہ لکھت پڑھت میں‘ چودھری ک‬

‫ذکر تک نہ کرت ۔ ک موں کو بھی ‘جرات نہ ہوتی‘ کہ وہ‬
‫چودھری ک ن تک‘ زب ن پر لائیں۔ ہ ں یہ ضرور ٹھ ن لیت ‘ کہ‬

‫وہ جیل س ب ہر آ کر‘ محودے زوراور ک گروپ میں‘ ش مل‬
‫ہو ج ئیں گ ۔ یہ غداری نہ تھی‘ چودھری ک ب اعتم د ک م ‘‬

‫اندر خ ن ‘ محودے زوراور ک گروپ میں ش مل ہو چک‬
‫تھ ۔ ہر چھوٹی بڑی خبر‘ ان ہی ک ذری ‘ زوراور تک‬
‫پہنچتی تھی۔ اسی بن پر‘ انتظ میہ انہیں موق ہءواردات پر پکڑ‬

‫‪493‬‬

‫لیتی تھی۔ پب ک میں آ ج ن ک ب عث‘ چودھری ب بس ہو ج ت‬
‫اور اپن بندوں ک لی ‘ کچھ نہ کر پ ت ۔‬

‫چودھری‘ علاق میں اپن ن و مق کھو چک تھ ۔ ب اعتم د‬
‫ک رکن‘ درپردہ اس ک نہ رہ تھ ۔ دھندے ک لوگ‘ زوراور‬

‫ک س تھ مل چک تھ ۔ انتظ میہ میں وہ بہ در ش ہ ظ ر س‬
‫زی دہ نہ رہ تھ ۔ لوگوں میں‘ بھی اس کی شہرت خرا ہو گئی‬
‫تھی۔ اس ن زوراور کو مروان کی کوشش بھی کی لیکن یہ‬
‫کوشش اس بڑی مہنگی پڑی۔ دوسری طرف‘ زوراور ن ب اثر‬
‫لوگوں کو‘ اپن کرن کی مہ تیز کرن ک س تھ ک زور طبقوں‬
‫ک لی روٹی ک دروازے کھول دی ۔ اس ن س س بڑھ‬
‫کر ک یہ کی ‘ کہ علاق میں ڈاکوں کی ت داد کو‘ محدود کر دی ۔‬

‫ڈاکہ صرف منحرف لوگوں ک ہ ں ہی پڑت ۔ ہ ں آس پ س ک‬
‫تین علاق جن پر وہ تصرف وتس ط ک ارادہ رکھت تھ ۔ پر‬
‫چوری اور ڈاک ک دروازہ کھول دی ۔ وہ ں کی انتظ میہ اور‬

‫چودھریوں ک خ ص بندے‘ اس ک بندے تھ ۔‬

‫اس ک پ س‘ وس ئل کی کمی نہ رہی تھی‘ دوسرا ا وہ علاق‬
‫ک م تبر اور م زز ترین شخص تھ ۔ ایک کمزور‘ ن ک اور بدن‬
‫شخص کو‘ چودھراہٹ ک ح نہ رہ تھ ۔ یہ بھی کہ چودھری کو‬
‫مروا کر‘ اس ک وس ئل پر قبضہ کرن ‘ مشکل نہ رہ تھ اور یہ‬
‫وقت کی اہ ترین ضرورت تھی۔ اس ابھی بہت کچھ کرن تھ ۔‬
‫اس ک پ س‘ ض ئع کرن ک لی وقت نہ تھ ۔ اس ن ایک‬

‫‪494‬‬

‫ہی جھٹک میں‘ چودھری کو ف ر کرک ‘ ن صرف ف ر کی ‘‬
‫ب کہ اس ک جم ہ وس ئل کو‘ اپن قبضہ میں ل لی ۔ ک ک‬
‫مردوں کو‘ چ برداری سونپ دی۔ خو صورت لڑکی ں‘ خوا‬

‫گ ہ میں پنچ دی گئیں۔ عورتوں پر ترس کھ ت ہوئ ‘ اپن‬
‫ک موں کو‘ جنسی م ملات ک لی ‘ سونپ دیں۔ ا محدا‬
‫زوراور‘ وہ نہ رہ تھ ‘ لوگ اس ‘ م ک محمود زوراور ک ن‬

‫س پہچ نن لگ ۔‬

‫پہچ ن کی تبدی ی ن ‘ اس ک اعتم د کو جلا بخشی۔ ا وہ کسی‬
‫واردات میں‘ خود نہ ش مل ہوت ب کہ اس ک ک م یہ ک انج‬
‫دین لگ ۔ ا وہ ڈیرے میں بیٹھ کر‘ آئ گی ک س تھ‬

‫م ملات کرت ۔ اقتدار کی حصولی ک ب د اس ن یہی سیکھ ‘ کہ‬
‫اعتم د اقتدار ک ‘ س س بڑا دشمن ہ ۔ ج کسی پر‘ م مولی‬
‫س بھی شبہ گزرت ‘ تو وہ وقت ض ئع کی بغیر‘ اس ک اور اپن‬
‫مخ لف تلاشت ۔ من س شخص میسر آن پر‘ اس غدار اور غیر‬

‫کی مخبر زندگی س ‘ آزادی دلا دیت ۔ دوسرے کو‘ انص ف ک‬
‫ن پر سر ع لٹک دیت ۔ مرت شخص میں بھی‘ اتنی جرآت نہ‬

‫ہوتی‘ کہ م ک ص ح ک ن زب ن تک ل آئ ۔‬

‫اس ن علاق میں‘ چوری چک ری کی ضرورت کو طلا دے‬
‫دی۔ اس کی ضرورت ہی کی تھی۔ زمین س م ن کی حیثیت ہی کی ‘‬

‫لوگ اس ک ‘ ہتھ بدھ غلا تھ ۔ وہ اس ک اش روں پر‘‬
‫ن چت تھ ۔ مذہبی ح قوں ک پیٹ اور منہ خ لی رکھن ‘ جر‬

‫‪495‬‬

‫سمجھت تھ ۔ انہیں منہ م نگ ‘ ان کی ضرورت س کہیں بڑھ کر‬
‫میسر آت تھ ۔ وہ بڑا اد نواز تھ ۔ قصیدہ خواں ش را کو نوازت‬
‫رہت تھ ۔ وہ اس پر خوش تھ ۔ اس ن ارد گرد ک علاقوں‬

‫میں‘ اندھیر مچ دی ۔ لوٹ م ر اور ڈاکہ زنی الگ‘ علاقوں ک‬
‫چودھریوں کی عزت کو مٹی میں ملان ک لی ‘ ہر حی ہ‬

‫اورحربہ اختی ر کر دی ۔‬

‫قبی ہ سلاح‘ خوش ح لی اور امن پسندی ک لی ‘ م روف چلا‬
‫آت تھ ۔ اس قبی ک چودھری‘ بڑی ش بنت تھ ۔ چھوٹ قبی وں‬

‫پر تس ط ح صل کرن مشکل نہ تھ ‘ لیکن قبی ہ سلاح ذرا ٹیڑھی‬
‫کھیر تھ ۔ اس ن قبی ہ ث لی ہ‘ کو غیرت دلائی‘ کہ سلاح وال ‘‬

‫ان ک علاقوں پر ق بض چ آت ہیں اور وہ اپن علاق‬
‫واپس نہیں ل رہ ۔ قبی ہ اوخ اور قبی ہ تنوخ والوں کو بھی‘‬

‫مخت ف حرب اختی ر کرک ‘ سردار سلاح ک خلاف کر دی ۔‬

‫اول اول‘ ان چ ر قبی ہ ک سرداروں میں‘ سرد جنگ چ ی اور یہ‬
‫پورے دو س ل چ ی۔ ان چ روں ک م بین‘ ت خی اشت ل ک‬

‫دروازے پر آ پہنچی۔ ا بس آگ دکھ ن کی ضرورت تھی۔ م ک‬
‫زوراور ن ‘ موقع دیکھ کر ضر لگ ہی دی۔ پھر کی ‘ چ روں‬
‫قبی آپس میں بھڑ گی ۔ م ک زوراور ن ‘ غیرج ن داری ک‬
‫اعلان کر دی ۔ چ روں قبی ‘ قی مت س دوچ ر تھ ۔ کئی دن‬
‫قی مت خیزی رہی۔ بلاشبہ تینوں قبی بڑی دلیری س لڑے‘‬
‫لیکن قب ہ سلاح کو زیر کرن میں ن ک رہ ۔ ہ ں البتہ قب یہ‬

‫‪496‬‬

‫سلاح بھی‘ م شی بیم ریوں ک شک ر ہو گی ۔ اس آویزش میں‘‬
‫بہت س رے‘ ب گن ہ موت ک گھ ٹ اتر گی ۔ سرداروں ک‬

‫م دات میں‘ زی دہ تر لوگ ہی ک آت ہیں۔ امن ہو‘ تو لوگ‬
‫سردار ک لی کم ت ہیں۔ جنگ ہو‘ تو لوگ سردار ک م د کی‬

‫لڑائی میں‘ زندگی س ہ تھ دھوت ہیں‬

‫چ روں قبی وں میں بدامنی پھیل گئی۔ جنگ خت ہون ک ب د‬
‫بھی‘ موت زندگی کی دشمن بنی رہی۔ انس نی تق ضوں ک پیش‬
‫نظر‘ م ک زوراور ن ‘ ایک ایک کرک ‘ چ روں قبی وں پر تس ط‬
‫ح صل کر لی ۔ امن ق ئ کرن اور زندگی کی بح لی میں‘ کئی م ہ‬

‫لگ گی ۔ وہ ان ک سرداروں ک ‘ خون س ہ تھ رنگ کر‘‬
‫ت ریخ میں اپن کردار کو‘ بدنم نہیں کرن چ ہت تھ ۔ انہیں بہ‬
‫طور جنگی مجر ‘ عدالت ک سپرد کر دی ۔ ہر علاق س ‘ ایک‬
‫ایک منصف لی گی ۔ چند دنوں کی ک روائی ک ب د‘ ان چ روں کو‬

‫موت کی سزا سن ئی گئی۔‬

‫تین چ ر س ل ب د ہی‘ لوگ م ضی میں برپ ہون والی قی مت کو‘‬
‫بھول گی ۔ م ک زوراور ن امن کی بح لی ک لی ‘ ہر ن ج ئز‬

‫قد اٹھ ی ۔ پ نچ علاق ایک علاقہ ہو گی ۔ وہ بہت بڑی قوت‘‬
‫قوت واحدہ بن گی تھ ۔ ب غیوں اور سرکشوں ک سوا‘ کسی‬

‫ک ہ ں ڈاکہ نہ ڈلوات تھ ۔ ہ ں‘ ان ک آس پ س ک سبھی‬
‫قبی ‘ ڈاکوں کی زد میں آگی ۔ کسی میں بولن اور آواز‬

‫اٹھ ن کی ہمت نہ تھی۔‬

‫‪497‬‬

‫م ک زوراور اٹھت بیٹھت ‘ ان پر بھی قبضہ جم ن کی سوچت‬
‫رہت ۔ کسی ک فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو پ تی‘ کہ ک کی ہون‬
‫والا ہ ۔ وہ قبی وں ک سرداروں کو دعوتیں دیت ۔ ان س بڑی‬

‫محبت اور خ وص س پیش آت ۔ انہیں عزت اور احترا س‬
‫نوازت ۔‬

‫ویر جی‘ علاق ک لوگوں کی ب حسی اور غلامی کو دیکھ‬
‫کر‘ آزردہ ہوت ۔ وہ شخصی آزادی کو‘ ترقی ک لی ‘ لازمہ‬
‫سمجھت تھ ۔ انہوں ن ‘ لوگوں کو‘ اپن خی لات ک حص ر‬
‫میں‘ لین شروع کر دی تھ ۔ نئی سوچ‘ پروان چڑھن لگی۔ لوگ‬
‫ان کی بڑی عزت کرت اور احترا دین تھ ۔ وہ اپن لقم ‘‬
‫بھوکوں ک سپرد کر دیت ۔ انہیں ہمیشہ‘ لوگوں ک دکھ درد‬
‫کی چنت رہتی۔ ان ک موقف تھ ‘ انس ن کو‘ دوسرے انس ن کی‬
‫خدمت ک لی ‘ پیدا کی گی ہ ۔ اکثر کہت ‘ حرا لقموں کو‘ منہ‬
‫میں رکھن کی بج ئ ‘ بھوک رہن ‘ ہزار درجہ بہتر ہ ۔ وہ‬
‫انس ن ک خ ل کی‘ ہر لمحہ ت ریف کرت ۔ ج کسی دکھی کو‬
‫دیکھت ‘ تو اس حوص ہ دیت ۔ فرم ت ‘ فکر نہ کرو‘ م لک‬
‫تمہیں ت س زی دہ ج نت ہ ۔ وہ کوئی ن کوئی‘ سب ضرور پیدا‬

‫کر دے گ ۔ انہیں مل کر‘ روح میں سکون اتر ج ت ۔ آنکھیں‘‬
‫ٹھندک س بھر ج تیں۔‬

‫ان ک پ س‘ لوگوں ک ہجو بڑھن لگ ۔ اس ایری ک سربراہ‬
‫کو‘ ویر جی کی مقبولیت کھٹکن لگی۔ اس گم ن گزرا‘ کہ ویر‬

‫‪498‬‬

‫جی‘ یہ س اقتدار پر ق بض ہون ک لی ‘ کر رہ ہیں۔ ویر‬
‫جی‘ تو دلوں پر حکومت کرت تھ ۔ انہیں اس جھوٹ اقتدار‬

‫س ‘ کی غرض تھی۔ م ل و دولت‘ ان ک ک کی چیزیں نہ‬
‫تھیں۔ یہی عنصر‘ لوگوں کو ان ک قری لا رہ تھ ۔ اقتداری‬
‫طبق کو‘ ویر جی ک نٹ کی طرح‘ چھبن لگ ۔ وہ ان پر‘ ہ تھ‬
‫نہیں ڈال سکت تھ ۔ ہر روز‘ دو چ ر شک ئتیں م ک زوراور‬
‫ک پ س پہنچن لگیں۔ م ک زوراور ک ک ن کھڑے ہوئ ۔ اس‬
‫ک ذاتی مخبر ن ‘ بھی ویر جی کی عوا میں مقبولیت کو بی ن‬
‫کی ۔ ایک ب ر وہ خود‘ بھیس بدل کر آی ۔ ویر جی کی عزت احترا‬
‫اور عوا کی‘ ان س محبت ن اس بھی سوچن پر مجبور‬

‫کر دی ۔‬

‫اس ن سوچ ‘ ویر جی کی بڑھتی مقبولیت‘ اس ک اقتدار ک‬
‫لی ‘ کسی وقت بھی خرابی ک سب بن سکتی ہ ۔ اس ن ‘ ہر‬

‫طبقہ ک مذہبی ع م ک اجلاس ط کی ۔ ان کی دل کھول کر‬
‫خدمت کی۔ ان ک منہ میں‘ ضرورت س زی دہ رکھ دی ۔ ہر‬
‫مذہبی لیڈر ن ‘ ویر جی کی نقل وحرک ت کو‘ مذہ دشمنی قرار‬
‫دے دی اور اس کی موت کو‘ وقت کی اہ ضرورت ک ن دے دی ۔‬

‫آہ۔۔۔۔۔ کتنی بدنصی تھی وہ صبح‘ ویر جی کو‘ موت ک حوال‬
‫کر دی ۔ وقت ک سرمد‘ چلا تو گی ‘ لیکن محبتوں کی ی دیں چھوڑ‬

‫گی ۔ م ک زوراور ک کوئی نہ منہ آ سک ۔ م ک پھر س‬
‫دوسرے علاقوں ک وس ئل پر تس ط وتصرف کی سوچ میں پڑ‬




Click to View FlipBook Version