The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-05-22 14:22:56

afsanay (1)

afsanay (1)

‫‪377‬‬

‫د ہلان لگ گ ۔ فض و ن قہقہ لگ ت ہوئ کہ‬

‫ب ب بڑا ق غی والا ہ ‘ پیندی سٹ م ئی کو ڈھیر کر دے گ ۔ گ مو‬
‫ن لقمہ دی‬

‫اوہ چھڈ‘ چلا ج ت نہیں‘ در فٹ منہ گوڈی ں دا۔ ڈھیر کر دے گ ‘‬
‫م ئی بڑے ش آ‘ توں نئیں ج ندا۔ ش کو ن ک نوں کو ہ تھ‬
‫لگ ت ہوئ کہ‬

‫دیر تک ب ب عمر اور م ئی جنت ہم ری گ تگو ک موضوع بن‬
‫رہ ۔ اتنی دیر میں ویرو آ گی اور آت ہی چھ گی ۔‬

‫کچھ سن‬

‫نہیں تو‬

‫ام ں جنت ‘ ب ب عمر ک س تھ نکل گئی ہ ۔‬

‫!ہ ئیں‘ کی بکت ہو؟‬

‫میں بکت نہیں‘ پھرم رہ ہوں۔‬

‫ہ س دوستوں کی آنکھیں‘ کھ ی کی کھ ی رہ گئیں۔ ان ک لڑن‬
‫محض ہم رے دکھ وے ک لی تھ ؟ یہ بوڑھ بھی بڑے‬

‫کھلاڑی ہوت ہیں۔ اتن سیدھ س دے نہیں ہوت ۔ یہ ج یبی‬
‫ک مواف سیدھ ہوت ہیں۔ ب ب عمر ک پوت ‘ بڑے غصہ‬

‫میں تھ ۔ م ئی جنت ک پوت ک منہ س ‘ بڑے ت خ ک م‬

‫‪378‬‬

‫نکل رہ تھ ۔ وہ کہہ رہ تھ ‘ م ئی ن پوری برادری میں‬
‫ہم ری ن ک کٹوا دی ہ ۔ اگر ہ تھ لگ گی ‘ تو میں دونوں ک‬
‫ڈکرے کر دوں گ ۔ یہ پہلا موقع تھ ‘ جو دو بوڑھوں ک ب عث ان‬
‫کی اولاد کی ن ک کٹی تھی‘ ورنہ آج تک‘ لڑک لڑکیوں ن ہی‘‬

‫اپن بڑوں کی ن ک کٹوائی تھی۔‬

‫جوانوں کی جنسی شدت‘ ان کی عقل پر پردے ڈال دیتی ہ ۔ یہ ں‬
‫تو یہ م م ہ تھ ہی نہیں۔ جن جوان بچوں ک منہ س ‘ جھ گ‬
‫نکل رہی تھی اور وہ اپن بوڑھوں ک قتل ک درپ تھ ‘‬
‫انہوں ن کبھی بھی‘ اپن ان بھ گ ج ن وال بزرگوں ک‬
‫پ س‘ دو لمح ٹھہرن ک کشٹ نہیں اٹھ ی تھ ۔ وہ کس ح ل‬
‫میں ہیں‘ ان کی اولاد میں س کسی کو م و کرن کی توفی‬
‫نہیں ہوئی۔‬

‫ہوں‘ آج ان کی غیرت ج گ گئی ہ ۔ الله کرئ ‘ وہ بہت دور نکل‬
‫گی ہوں اور ان جھوٹ غیرت مندوں ک ہ تھ میں ہی نہ آئیں۔‬

‫تجربہ ک ر لوگ ہیں‘ کچی گولی ں نہیں کھی ہوں گ ۔‬

‫الله انہیں‘ ان مردودوں س مح وظ رکھ ۔ شہ بو‘ جو ان‬
‫بوڑھوں ک کچھ بھی نہیں تھ ‘ برستی آنکھوں س دع ئیں‬

‫م نگ رہ تھ ۔‬

‫وہ م ئی جنت ک برے ح ل س آگ ہ تھ ۔ اسی طرح‘ اس یہ‬
‫بھی م و تھ کہ ب ب عمر‘ مرے کت س بھی بدتر زندگی‬

‫‪379‬‬

‫گزار رہ تھ ۔‬
‫ب ب عمر‘ بنی دی طور پر بزدل اور رن مرید قس ک انس ن تھ ۔ وہ‬

‫اتن بڑا قد نہیں اٹھ سکت تھ ۔ م ئی کی دلیری ن ‘ اس ک‬
‫ض یف گھٹنوں میں بھ گ نک ن کی شکتی‘ بھری ہوگی۔‬

‫دتو ک وچ ر سن کر س کہہ اٹھ‬
‫م ئی جنت زندہ ب د‬
‫‪12-10-1969‬‬

‫‪380‬‬

‫ممت عش کی ص ی پر‬

‫جیراں اپنی بیٹی ک چ ن س ب خبر نہ تھی۔ وہ وقت فوقت ‘‬
‫اس کی سرزنش بھی کرتی رہتی تھی۔ وہ زی دہ سختی بھی نہیں‬
‫کر سکتی تھی۔ اس کی دو وجوہ تھیں۔ جوان اولاد کو محبت اور‬
‫اچھ طریقہ س سمجھ ن ہی بہتر ہوت ہ ورنہ وہ بغ وت پر‬
‫اتر آتی ہ ۔ جوانی‘ اونچ نیچ اور برا بھلا سوچن کی ق ئل نہیں‬
‫ہوتی۔ وہ کر گزرن کی طرف م ئل رہتی ہ ۔ ب ض اوق ت‘ من ی‬
‫بھگت ن ک ب وجود‘ واپسی ک س ر اختی ر نہیں کرتی۔ ایس بھی‬

‫ہوت ہ ‘ کہ ح لات واپی ک دروازے بند کر دیت ہیں۔ آدمی‬
‫لوٹن چ ہت ہ ‘ لیکن وقت کی زنجیریں اس پھرن نہیں دیتیں۔‬

‫ایک وجہ یہ بھی تھی‘ کہ شیداں م ں کی دو تین خوف ن ک‬
‫کمزوریوں س آگ ہ تھی۔ اگر وہ ایک راز بھی افش کر دیتی‘ تو‬

‫جیراں کی پوری عمر کی رکھی رکھ ئی کھوہ کھ ت پڑ ج تی۔‬
‫انس ن ک من ی عمل ن صرف اس ک لی وب ل بن رہت ہیں‘‬

‫ب کہ ب ض ذہنوں ک نہ ں گوشوں میں پڑے‘ اپن وجود ک‬
‫انتظ ر کرت رہت ہیں۔ شخص ہو‘ ی کوئی جذبہ‬

‫احس س ی پھر خی ل وجود پ ن ک لی ب کل رہت ہ ۔ ثقیل‬
‫س ثقیل غذا ہض ہو ج تی ہ ‘ لیکن یہ ہض ہوت ہی نہیں۔‬

‫‪381‬‬

‫ایک دو ب ر‘ ج جیراں ک لہجہ ت خ ہوا‘ تو شیداں ن م ں کو‬
‫گزرے کل ک ف ش کرن ک اش رہ دے دی ۔ جیراں جو خ وند کی ‘‬

‫برادری میں بھی پھن خ ں تھی‘ موت کی جھ گ کی طرح‘‬
‫لمحوں میں ب وجود ہو گئی۔ اس ک رع و دبدبہ ریت کی‬
‫دیوار س زی دہ‘ پھوسڑ ث بت ہوا اور وہ آزادی ک جذبہ رکھت‬
‫ہوئ بھی‘ آزادی ح صل نہ کر سکی۔ اس ک ہ تھوں ک تراش‬
‫ہوا صن ‘ جبری ہی سہی‘ دل و ج ن ک صن خ ن میں خدا بن‬
‫بیٹھ تھ ۔ وہ اس کی دہ یز پر ع جز و مسکین بنی کھڑی رہتی‬

‫تھی۔‬

‫ایک دو ب ر اس ن دع بھی کی‘ کہ شیداں مر ہی ج ئ ۔ اس‬
‫ذیل میں‘ ممت کبھی آڑے نہ آئی تھی۔ وہ اپنی موت کی خواہش‬
‫کر سکتی تھی اسی طرح خودکشی ک دروازہ بھی کھلا تھ ۔ اس‬
‫کی موت س ‘ راز کو تو موت نہ آتی۔ وہ شیداں ک سین میں‘‬
‫زندہ رہت ۔ یہ راز ج شیداں ک لاش ور س ش ور میں وارد‬
‫ہوت ‘ تو اپنی ہی م ں کو‘ اپن ب پ ک مجر سمجھتی۔ اس یہ‬

‫ہمشیہ احس س رہت ‘ کہ اس کی م ں اس ک ب پ کی دین دار‬
‫تھی۔‬

‫شیداں اپن ب پ کی لاڈلی تھی۔ فتو اس پر اندھ اعتم د کرت تھ ۔‬
‫روپیہ پیسہ اس ک پ س رکھت تھ ۔ رات کو ب پ بیٹی ج ن کی‬

‫مشورے کرت رہت تھ ۔ وہ تو صرف پک ن اور دھون تک‬
‫محدود تھی۔ فتو س ‘ ان دونوں امور ک گلا بھی نہیں کر سکتی‬

‫‪382‬‬

‫تھی۔ روپووں ک م م ہ میں‘ وہ صرف دو ب ر‘ ب اعتب ری‬
‫ہوئی تھی۔ اس ن جھگڑ اور پھر رو کر‘ سچ ہون کی کوشش‬

‫بھی کی تھی۔ فتو ن اس کی قس پر بہ ظ ہر اطمن ن ک اظہ ر‬
‫بھی کی ‘ لیکن اندر س مطمن نہیں ہوا تھ ۔ چور ی ٹھگ کی‬
‫قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اگر ان کی قسموں کو اعتب ر‬

‫مل ج ئ ‘ تو تھ ن اور کچہری بند ہو ج ئیں۔‬

‫فتو دراصل‘ جیراں کی لای نی کل کل کی وجہ س ‘ ہ ر م ن چک‬
‫تھ ۔ گھر اور خ ندان ک م ملات جیراں ہی انج دیتی تھی۔‬
‫جہ ں اختلاف ڈالت ‘ وہ ں دھ ئی کی راند پڑ ج تی۔ جیراں ن‬

‫سرنڈر ہون سیکھ ہی نہ تھ ۔ ا تو پچ س ک قری پہنچ گئی‬
‫تھی اور فتو س ٹھ ک ہندسہ تج وز کر گی تھ ۔ جو بھی سہی‘‬

‫جیراں آج بھی بنتی پھبتی تھی۔ ج دنداس اور چوٹی پٹی کرک ‘‬
‫فتو ک س من آتی‘ تو وہ مدہوش ہو کر‘ وش وش ج ت تھ ۔‬

‫شیداں جوان ہو گئی تھی۔ اس ک ہ تھ پی کرن ک وقت آگی‬
‫تھ ۔ فتو اچھ رشت کی تلاش میں تھ ۔ وہ اپنی لاڈلی کو‘‬

‫آسودہ ح ل گھران میں بی ن چ ہت تھ ۔ ل دے کر‘ اس کی نظر‬
‫جیراں ک مسیر ک لڑک پر‘ آ کر رک ج تی۔ جیراں یہ رشتہ‬

‫نہ کرن چ ہتی تھی۔ وہ شیداں ک لچھن س ب خبر نہ تھی۔‬
‫دوسرا کسی زم ن میں‘ جیراں کی فج س بڑی گہری خ یہ‬

‫سلا دع رہی تھی۔ وہ دوب رہ س ‘ پران رشتہ نی نہیں کرن‬
‫چ ہتی تھی۔ خدا م و ‘ شیداں ب پ ک فیص س کس طرح‬

‫‪383‬‬

‫مت ہو گئی اور یہ رشتہ ہو ہی گی ۔‬

‫الله ن اس تین بچوں س نوازا۔ شیداں ک گول مٹول اور‬
‫پی رے پی رے بچ ‘ جیراں س بڑے م نوس تھ ۔ فج اس‬

‫م ضی کی طرف ل ج کر‘ پرانی راہ پر لان چ ہت تھ ۔ ایک لمحہ‬
‫بھی مل ج ت ‘ تو جیراں ک ن زک اعض کو چھون میں دیر نہ‬
‫کرت ۔ بیٹی ک گھر‘ م ضی کی بھول اور بیٹی ک بچوں کی محبت‬
‫ک درمی ن گھری جیراں‘ ہر لمحہ اپن ہی ہ تھوں قتل ہوتی۔ وہ‬
‫کسی س اپن دکھ بھی نہیں ب نٹ سکتی تھی۔ اگر شیداں کو ع‬
‫ہو ج ت ‘ کہ اس کی م ں اس ک سسر ک س تھ موجیں م را‬
‫کرتی تھی تو وہ اور تیز ہو ج تی۔ اس کی ن رت ک ح ق مزید‬
‫وسیع ہو ج ت ۔‬

‫جیراں کو جہ ں اپنی بدن می ک خدش ‘ ک گھن اندر ہی اندر‬
‫کھ ئ ج رہ تھ ‘ وہ ں یہ اطمن ن ضرور تھ ‘ شیداں اپھو ک‬
‫کھیڑا چھوڑ چکی ہ ۔ ج کبھی ات ق اس کی اپھو س ملاق ت‬
‫ہو گی‘ تو ہی وہ فج کی سی حرکتیں کر سک گ ۔ بیٹی ک‬
‫ہ ں آن تو اس کی سم جی مجبوری تھی۔ خدا لگتی تو یہی تھی‘‬
‫کہ فج کی حرکتیں اگرچہ کچھ نئی نہ تھیں‘ اس ک ب وجود‘‬
‫اس ک جسد کو‘ ان ج نی سی‘ مسرت اور کیف ومستی دان‬

‫ضرور کرتی تھیں۔‬

‫شیداں کچھ دن ک لی آئی ہوئی تھی۔ اچ نک جیراں کو م و‬

‫‪384‬‬

‫ہوا‘ کہ شیداں کی گرفت میں ننھ آ گی تھ ۔ منہ متھ لگت‬
‫چھوہر تھ ۔ اس دیکھ کر بڑھ پ مچل مچل ج ت تھ یہ ں تو‬
‫جوانی کی لہریں ٹھ ٹھیں م ر رہی تھیں۔ جیراں کو اس ک گھر‬
‫اجڑن ک خدشہ لاح ہو گی ۔ وہ ب توں ب توں میں سمجھ ن کی‬
‫کوشش کرتی۔ جواب شیداں کہتی میں اپن گھر والی ہوں‘ میں‬
‫اپن اچھ برا ت س بہتر ج نتی ہو۔ جیراں کو شیداں ک زی دہ دیر‬
‫میک رکن برا لگن لگ ۔ وہ ج بھی آتی‘ یہ اس کسی ن کسی‬
‫بہ ن ایک دو دن ب د ہی‘ سسرال بھیج دیتی۔ ج کبھی اپن‬
‫سسر ک س تھ آتی‘ چوڑی ہو ج تی۔ فج ک ک ج والا آدمی ہو‬
‫کر بھی‘ ٹکی ہو ج ت ۔ ح لاں کہ سوائ چوری چھپ ‘ چونڈی‬
‫تپھ ک ‘ اس کچھ ح صل نہ ہو پ ت تھ ۔ اس ن فتو س‬

‫گہرے اور دوست نہ ت ق ت استوار کر لی تھ ۔‬

‫پھر ایک دن وہی ہوا جس ک اس ڈر تھ ۔ ننھ کی محبت کی‬
‫گرفت مضبوط ہو گئی۔ شیداں اپن تینوں بچوں کو چھوڑ کر‬

‫آگئی۔ جیراں یقین اچھی عورت نہ تھی۔ اس ن اپنی کسی محبت‬
‫ک لی ‘ بچوں کو نہ چھوڑا تھ ۔ وہ اول ت آخر ان کی بنی رہی۔‬

‫یہی اس کی سچی ممت تھی۔ شیداں ننھ کی محبت میں اپن‬
‫بچوں کی نہ بنی تھی۔ سوچن کی ب ت تو یہ تھی‘ کہ آت‬

‫وقتوں میں وہ ننھ کی بن پ ئ گی۔ کی وہ اس بچوں س‬
‫بڑھ کر اسی طرح پی را رہ گ ؟ بچ تو رل خل کر پل ہی ج ئیں‬
‫گ لیکن یہ محبت ک کون س روپ ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔ کی اس محبت ک‬

‫‪385‬‬

‫ن دی ج سک گ ۔۔۔۔۔۔ م ں کی ممت س بڑھ کر کوئی اور چیز‬
‫بھی ہوتی ہ ‘ کیس م ن لی ج ئ گ ۔‬

‫شیداں ن اپن اب کو یقین دلا دی تھ ‘ کہ سسرال میں اس ک‬
‫س تھ بڑے ظ ہوت تھ ۔ وہ گھر کی فرد س بڑھ کر‘ ک می‬

‫تھی۔ اس ک ب پ کہت ‘ میری بیٹی بڑی م صو تھی۔ ان لوگوں‬
‫ن تو اس کی قدر ہی نہ پ ئی تھی۔ وہ تو تھ ہی ن شکرے۔‬
‫جیراں بھی فتو ک س من ‘ اس ب چ ری کرم ں م ری اور‬
‫م صو ہی کہتی۔ جھوٹ سچ آنسو بھی بہ تی۔ وہ فتو کو کس‬

‫طرح بت ئ ‘ کہ اس م صو ن ش دی س پہ تین عش‬
‫نبھ ئ ۔ چوتھ عش اولاد پر بھی بھ ری ہو گی تھ ۔ عی ش تو وہ‬

‫بھی تھی‘ لیکن ممت ن اس ک دامن پکڑے رکھ ۔ ممت ک‬
‫پردے میں اس ک س رے عش چھپ گی تھ ۔‬

‫وہ یہی سوچتی رہی‘ شیداں ک عش کس پردہ کی اوٹ میں ج‬
‫کر اپنی م صومیت کی گواہی دے سک گ ۔‬

‫شیداں اپن اب کی نظر میں م صو تھی۔ یہ م صومیت کیسی‬
‫تھی‘ جو ممت کی لاش پر ت میر ہوئی تھی۔ ممت کی آہیں کراہیں‘‬

‫شیداں کی خود س ختہ م صومیت کی لحد میں‘ اتر گئی تھیں۔‬

‫‪3-1-1972‬‬

‫‪386‬‬

‫زینہ‬

‫مخت ف ن سی ت کی س میوں س ‘ ہر روز واسطہ رہت ہ ۔ ب ض‬
‫تو‘ عج لچڑ ہوتی ہیں۔ ان کی جی س کچھ نک وان بڑا ہی‬

‫مشکل ک ہوت ہ ۔ جی س ‘ نوٹ ب ہر لات ‘ انہیں غشی سی‬
‫پڑ ج تی۔ ب ض س ‘ ان ک علاق کی سوغ ت‘ منگوان ک‬
‫لی منہ پھ ڑن پڑت ہ ۔ بہت ک سہی‘ کچھ بلاط کی ‘ ل‬
‫آت ہیں۔ اس طرح‘ اس علاق کی سوغ ت ک حوالہ س ‘‬
‫علاق کی پہچ ن بھی ہو ج تی ہ ۔ ایسی س میوں س بھی‬
‫واسطہ رہت ہ ‘ جو دوسرے علاقوں کی‘ وجہءپہچ ن بڑے‬
‫اہتم س لات رہت ہیں۔ اس طرح‘ ان ک عزیزوں س‬
‫بھی‘ غ ئب نہ ت رف ہوت رہت ہ ۔‬
‫مجھ ایسی س می س ‘ ہمیشہ چڑ رہی ہ جن کو ان ک‬

‫علاق کی سوغ ت ک مت ی د کران پڑت ہ ۔ ہ یہ ں بیٹھ ‘‬
‫کوئی فقیر نہیں ہیں‘ جو لوگوں ک س من دست سوال دراز‬

‫کرت پھریں۔ ہم رے ہ ں اصول رہ ہ ‘ کہ آن والا کبھی خ لی‬
‫ہ تھ نہیں آی ۔ تح ہ دین س ‘ ت ق ت میں مضبوطی پیدا ہوتی‬
‫ہ۔‬

‫‪387‬‬

‫ب ض تو‘ بڑے فراخ دل و دم ک لوگ ہوت ہیں۔ ان ک‬
‫س تھ‘ خ تون بھی ہوتی ہ اور وہ‘ اس اپنی بیوی ظ ہر کرت‬
‫ہیں۔ ایسی عورتوں س ‘ ہ خو خو آگ ہ ہوت ہیں‘ لیکن‬
‫ظ ہر نہیں کرت ‘ کہ ہ محترمھ کو ن صرف ج نت ہیں‘ ب کہ‬
‫تصرف میں بھی لا چک ہیں۔ ہمیں اس س ‘ کوئی غرض نہیں‬
‫ہوتی کہ وہ کون‘ اور کس کی کی لگتی ہ ۔ قس ل لیں‘ کہ‬
‫اوپر جو کبھی‘ سچل م ل پنچ ی ہو۔ پہلا ح ہم را ہوت ہ ۔ افسر‬

‫دست خط ک سوا‘ کرت ہی کی ہ ۔ ف ئل پر مغزم ری تو ہ‬
‫کرت ہیں۔ یہ الگ ب ت ہ ‘ زب نی کلامی‘ سچل ہی کہت ہیں۔‬
‫ہم ری ایم ن داری پر شک ک رسک‘ افسر بھی نہیں ل سکت ۔‬
‫انہیں تو کیت کرای ہی مل ج ت ہ ۔ ایجنٹ اور نچلا اہل ک ر‘ جو‬

‫م ل لات ہ ‘ ہ اس میں نقص نہیں نک لت ۔ ویہ ر خرا ہو‬
‫ج ئ ی ٹوک ٹوک ئی ک عمل‘ ک روب ر حی ت میں‘ نحوست کی‬

‫علامت ہ ۔ اعتب ر اور اعتم د پر ہی‘ زندگی چل رہی ہ ۔‬

‫اس سی‘ س می آج تک دیکھن سنن میں نہ آئی ہو گی۔ وہ‬
‫ج بھی آت ‘ کسی ن کسی علاق کی‘ سوغ ت ضرور لات ۔ جو‬
‫ط ہوا‘ اس س ‘ کہیں بڑھ کر جھڑا۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ بن‬
‫کہ کھ ن کھلات ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ خود ل کر ج ت ۔ تھوڑی‬
‫دیر بیٹھن ک ب د کہت ‘ اوہ چھڈو جی چ و پیٹ پوج کرت ہیں۔‬
‫ج وہ آت ‘ میں اس ک یہ ڈائیلاگ‘ سنن ک لی ب چین ہو‬
‫ج ت ۔ کچھ کہہ نہیں سکت ‘ وہ چہرا پڑھ لیت تھ ی روٹین میں کہت‬

‫‪388‬‬

‫تھ ۔ میرا ضمیر‘ اس ک ک کچھ دیر اور لمک ن پر مجبور کر‬
‫رہ تھ ‘ لیکن س تھیوں کی ترچھیں نگ ہوں میں‘ حسد اتر آی تھ ۔‬

‫اس لی ‘ اس ب ر اس ک ک کر دین پر‘ میرا ضمیر آم دہ ہو‬
‫گی ۔‬

‫اس روز‘ وہ کسی م ہر ج سوس کی طرح‘ وارد ہوا۔ دو تین منٹ‬
‫بیٹھن ک ب د‘ اس ن مجھ اپن س تھ آن ک اش رہ دی ۔ وہ‬

‫اٹھ کر چلا گی ۔ تین چ ر منٹ ب د میں ن بھی سیٹ چھوڑ دی۔‬
‫نکڑ پر‘ وہ کھڑا میرا انتظ ر کر رہ تھ ۔ ہم ری نظریں م یں‘ وہ‬
‫مسکرای ‘ اور آن ک اش رہ دے کر چل پڑا۔ میں اس ک پیچھ‬

‫پیچھ ہو لی ۔ وہ لال ب زار ک ‘ بیک محل ہوٹل میں‘ داخل ہو‬
‫گی ۔ ایس مک م ت پر‘ کھ ن ک ‘ کبھی ات نہ ہوا تھ ۔ وہ ں‬
‫اس ن ‘ کمرہ بک کروا رکھ تھ ۔ کمرے ک اندر‘ قی مت ج وہ‬
‫فرم تھی۔ اس دیکھ کر‘ مجھ پر سکت س ط ری ہو گی ۔ میری‬
‫آنکھیں‘ بہت کچھ دیکھ چکی تھیں‘ لیکن اس س ‘ پٹولا کبھی‬
‫دیکھن میں نہ آی تھ ۔ کھ ن کی ٹیبل بھر گئی۔ ایسی تواضح‬

‫تو‘ اس ن کبھی نہ کی تھی۔‬

‫م ت ک م ل تھ ‘ میں ن ب تح ش کھ ی ۔ میں ن ‘ اس پٹول‬
‫کو‘ پک پک اپن بن ن ک فیص ہ کر لی ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ‬

‫آج تک کسی کھ ن ن ‘ ایس لطف نہ دی تھ ۔ اس قی مت ن‬
‫بھی‘ اداؤں کی وہ وہ بج ی ں گرائیں‘ کہ میں اپن آپ میں نہ‬

‫رہ ۔ مجھ یوں لگ ‘ جیس س ری کی س ری‘ خوش نصیبی‬

‫‪389‬‬

‫میری ہی گرہ ک ‘ مقدر ٹھہر گئی ہو۔ میں ن ریح نہ س ‘ اپن‬
‫دل کی ب ت کہہ دی۔ تھوڑی سی‘ پس و پیش اور چند رسمی‬
‫شرائط ک ب د‘ اس ن ہمیشہ ک لی میرا ہو ج ن ک ارادہ‬

‫ظ ہر کر ہی دی ۔‬

‫اس روز مجھ یقین ہو گی کہ میں دنی ک واحد خوش نصی‬
‫آدمی ہوں۔ میں ن بلاشبہ زندگی میں کوئی ایس اچھ ک ضرور‬

‫کی تھ جس ک ‘ دیوت اس اپسرا کی صورت میں‘ صلا عط کر‬
‫رہ تھ ۔ جو بھی سہی‘ میں ن آج تک کسی ک ک نہ روک‬
‫تھ ۔ رہ گئی لین دین کی ب ت‘ یہ ں کون ہل پر نہ ی ہوا ہ ۔‬

‫تنویر ن ہی‘ ایک مختصر‘ مگر پروق ر تقری ک ان ق د کی ۔‬
‫ریح نہ ہمیشہ ک لی ‘ میری ہو گئی۔ ریح نہ بڑی وف دار بیوی‬
‫ث بت ہوئی۔ رات کو سوت وقت میرے پ ؤں دب تی۔ ن شتہ وقت پر‬
‫میسر کرتی۔ اس کی کو کنگ بڑے کم ل کی تھی۔ ایک ب ر‘ میں‬

‫بیم ر پڑا‘ ہسپت ل ل ج ن میں‘ اس ن بڑی پھرتی دکھ ئی۔‬
‫میں ہسپت ل میں دس دن رہ ۔ دوست ی ر اور رشتہ دار م ن‬

‫آئ ‘ ہر کسی س ‘ اس ن بڑے ش ن دار انداز میں ڈی نگ کی۔‬
‫اس ک حسن س وک اور وضع داری کی ہر کسی ن ت ریف کی۔‬

‫جس پر‘ میں پھولا نہ سم ی ۔ مجھ ریح نہ پر‘ ن ز ہون لگ ۔‬

‫مجھ کئی ب ر‘ کسی ک غذ پتر ک لی گھر آن پڑا‘ میں ن‬
‫ریح نہ کو گھر پر پ ی ۔ میرا دل مطمن تھ ‘ کہ ریح نہ طب ‘ نیک‬

‫‪390‬‬

‫اور ص لح ہ ۔ نیک اور ص لع س تھی ک مل ج ن ‘ ایسی م مولی‬
‫ب ت نہ تھی۔ اس ن کبھی‘ کریدن ی میرے ب رے کچھ ج نن‬
‫کی‘ کوشش نہ کی۔ میں ن بھی زندگی کی ہر خوشی اور ہر‬

‫آس ئش‘ اس ک س ید‘ ش ف اور ب دا قدموں میں‘ رکھ دی‬
‫تھی۔‬

‫تنویر ایک ب ر بھی‘ ہم رے گھر نہ آی ‘ ہ ں دفتر دوسرے‬
‫تیسرے‘ کوئی ک ل کر چلا آت تھ ۔ سلا دع والا آدمی تھ ۔‬
‫دوست ی ر ک ک لی کہہ دیت ‘ تو آ ج ت ‘ ت ہ آج تک‘ اس‬
‫ن کوئی ک م ت نہ کروای ۔ چ ء پ نی سوغ ت‘ لان نہ بھولت ۔‬
‫کھ ن بھی کھلات ۔ اس ن کبھی ریح نہ ک ذکر بھی‘ نہ چھیڑا۔‬
‫ب لکل لات س ہو گی ۔ ایس لگت ‘ جیس گزرا کل‘ اس کی ی د‬
‫داشت س ‘ نکل گی ہو ی گزرے کل ک ب رے میں‘ کچھ ج نت‬

‫ہی نہ ہو۔‬

‫ایک روز‘ میں ہیڈ آفس کسی ک س گی ۔ میں ن ‘ تنویر کو‘‬
‫بڑے گیٹ س نک ت دیکھ لی تھ ‘ لیکن وہ مجھ نہ دیکھ‬
‫سک ۔ وہ پیچھ مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ مجھ ران ص ح ب ہر‬
‫آت دیکھ ئی دی ۔ وہ‘ تنویر ک پیچھ ج رہ تھ ۔ میں‬

‫ران ص ح ک ‘ ط کرن پر ہی‘ ح ضر ہوا تھ ۔ میں ن‬
‫سوچ ‘ کیوں نہ‘ اس قی مت ک دیدار کر لی ج ئ جو ران‬

‫ص ح کو نہ ل کرن والی تھی۔‬

‫‪391‬‬

‫میں عقبی گیٹ س ‘ اس بڑے ہوٹل میں داخل ہو گی ۔ تنویر ن ‘‬
‫ایک کمرے کی طرف اش رہ کی ۔ ران ص ح کمرے میں داخل ہو‬

‫گی ۔ تنویر‘ ہوٹل ک کون میں پڑی میز پر‘ ج بیٹھ ۔ میں‬
‫بھی‘ چھپ کر کون کی ایک میز پر ج بیٹھ ۔ پون گھنٹ ب د‘‬
‫ران ص ح کمرے س ب ہر نک اور انہوں ن تنویر کی طرف‬
‫دیکھ ۔ مسکراہٹ ک تب دلہ ہوا اور پھر وہ‘ ہوٹل س ب ہر نکل‬
‫گی ۔ یہ اس ب ت کی طرف‘ کھلا اش رہ تھ ‘ کہ ران ص ح کی‬

‫روح میں‘ اندر موجود قی مت ن ‘ سکون ک س غر انڈیل دی‬
‫ہیں اور رک ک ‘ آج ہی اپنی منزل پ ل گ ۔‬

‫مجھ مزید دس ب رہ منٹ‘ انتظ ر کرن پڑا۔ قی مت تنویر ک‬
‫قری آ کر رکی۔ دونوں ن کسی ب ت پر‘ قہقہ لگ ی ۔ مجھ اپنی‬

‫آنکھوں پر یقین نہیں آ رہ تھ ‘ وہ میری نیک اور ص لح بیوی‘‬
‫ریح نہ۔۔۔۔۔ ہ ں ریح نہ کوثر تھی۔ میں ج دی س ‘ پچھ‬

‫دروازے س نکلا۔ ٹیکسی س گھر ک رخ کی ۔ میں‘ اس کی‬
‫پرہیز گ ری‘ اس ک منہ پر م رن چ ہت تھ ۔ گھر آی ‘ دروازے پر‬

‫ت لا نہ تھ ۔ میں ج دی س ‘ گھر میں داخل ہو گی ۔ وہ پ نگ پر‬
‫لیٹی‘ بڑے سکون س ‘ ج سوسی ڈائجسٹ ک مط ل ہ کر رہی‬
‫تھی۔ مجھ پریش ن اور بیم ر س دیکھ کر‘ اس ن رس لہ پرے‬
‫پھینک ‘ اور گھبرائی گھبرائی‘ میری طرف بڑھی۔ س ٹھیک تو‬
‫ہ ‘ آپ بیم ر لگت ہیں۔ میرے م تھ پر‘ بڑے پی ر س ہ تھ‬
‫رکھ کر؛ کہن لگی۔ آپ ک م تھ تو آگ کی طرح جل رہ ہ ۔ پھر‬

‫‪392‬‬

‫اس ن ب ہر ج ن والی چ در اوڑھی اور کہن لگی اٹھیں اٹھیں‬
‫ڈاکٹر ک پ س چ ت ہیں۔‬

‫میں ن کہ ‪ :‬گھبراؤ نہیں‘ میں ب لکل ٹھیک ہوں۔‬

‫کیوں نہ گھبراؤں‘ تمہ رے سوا‘ میرا دنی میں کون ہ ۔ تمہیں‬
‫کچھ ہوگی ‘ تو میں مر ج ؤں گی۔“ پھر وہ‘ زار و قط ر رون‬
‫لگی۔‬

‫مجھ اس کی ایکٹنگ میں‘ کم ل کی اص یت دکھ ئی دی۔‬
‫ہم م لنی کو‘ اپنی اداک ری پر ن ز ہوگ ‘ لیکن ریح نہ ایکٹنگ میں‘‬
‫اس بہت پیچھ چھوڑ گئی تھی۔ میں خود اس شش وپنج میں‬

‫پڑ گی ‘ کہ وہ ریح نہ تھی ی کوئی اور تھی۔ یوں لگ رہ تھ ‘‬
‫جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہ ں‘ اگر وہ پکڑی ج تی‘ تو تنویر ک ‘‬

‫کھیس ج ت م ل‘ بند ہو ج ت ۔ ران ص ح بڑے ب اختی ر عہدے‬
‫دار تھ ۔ ن صرف م ل‘ میری جی کی زینت بنت ‘ ب کہ میری‬

‫ترقی‘ جو دو س ل س رکی پڑی تھی‘ میری ذہنی الجھن ک سب‬
‫نہ بنی رہتی۔ مجھ یہ اطمن ن تھ ‘ کہ ران ص ح س ‘ نک ح نہ‬

‫کر سک گ ‘ دوسرا‘ ایک نہ ایک روز‘ رنگ ہ تھوں پکڑی‬
‫ج ئ گی اور پھر ہیڈ آفس میرا ہو گ ۔ میں پہ س ‘ کہیں‬
‫بڑھ کر‘ آسودہ اور عیش کی زندگی بسر کر سکوں گ ۔‬

‫زندگی میں ترقی ک لی ‘ زینہ درک ر ہوت ہ ۔ ریح نہ سی‘‬
‫چنچل‘ حسین اور لاجوا اداک ر بیوی س ‘ بڑھ کر‘ زینہ‬

‫‪393‬‬

‫ڈھونڈھ س ‘ نہ مل سک گ ۔ پردہ اٹھن پر ہی‘ اس زین‬
‫ک ‘ است م ل ممکن ہو سک گ ۔ ہ ں ش ئد‘ اس ک لی ‘ تھوڑا‬

‫اور انتظ ر ک جہن میں‘ ج ن پڑے گ ۔‬

‫‪394‬‬

‫شیدا حرا دا‬

‫اگرچہ‘ منہ پر اور منہ س ‘ کوئی کچھ نہیں کہت ‘ لیکن دیکھنی‘‬
‫س کچھ کہہ دیتی ہ ۔ بہت سی ب تیں‘ ل ظوں کی محت ج نہیں‬
‫ہوتیں‘ سمجھی سمجھ ئی ہوتیں ہیں ی پھر‘ دیکھن ک طور‘‬
‫ان ک م ہی کھول دیت ہیں۔ لوگوں ک من ی روی اور‬
‫ترچھی نظریں‘ مجھ اپنی حیثیت اور حقیقی اوق ت س ‘ آگ ہ‬
‫کر دیتی ہیں۔ ا میں ب حیثیت اور شرف کی بستی میں‘ اق مت‬

‫رکھت ہوں۔ میں سیٹھ ن سہی‘ کنگ ل اور م وک الح ل بھی نہیں۔‬
‫زندگی کی ہر ضرورت‘ مجھ دستی ہ ۔ سلا دع میں‘ ہر‬
‫طبقہ ک لوگ ش مل ہیں۔ دو نمبری لوگ‘ کبھی بھی میرے‬

‫دوست نہیں رہ ۔ ن خوش گوار لوگ‘ شروع س ‘ مجھ پسند‬
‫نہیں آت ۔ وہ بھی‘ مجھ پسند نہیں کرت ۔ ہر دو نمبری کو‘‬
‫شریف طبع اچھ نہیں لگت ۔ یہ ایک طرح س ‘ ضدین کی‬
‫حیثیت رکھت ہیں۔ ایک جگہ رہت ہوئ بھی‘ م شی اور‬
‫فکری حوالہ س ‘ ایک دوسرے س ‘ کوسوں دور ہوت ہیں۔‬

‫میں ن پنج وقتوں کو‘ جھوٹ بولت ‘ رشوت لیت ‘ اور‬
‫کمزوروں ک ح دب ت دیکھ ہ ۔ وہ یہ س دھڑل س کرت‬
‫ہیں۔ حج ک ب د تو‘ بہت س ‘ سمجھ لیت ہیں‘ کہ پچھلا کی ‘‬

‫‪395‬‬

‫م ف ہو چک ہ اور اس ک ب د‘ دو نمبری ک لی ‘ انہیں‬
‫کھ ی چھٹی مل گئی ہ ۔ پوچھن والوں ک ‘ وہ گھی شکر س ‘‬
‫منہ بند کر چک ہوت ہیں ی بہ وقت ضرورت‘ بھر دیت ہیں۔‬

‫عوا س ‘ ووٹ ح صل کرن وال ‘ خود کو‘ ب لائی مخ و‬
‫خی ل کرن لگت ہیں۔ وزارت ام رت کی کرسی‘ انہیں ن کرن‬

‫وال ک ‘ کرن کی اج زت دے دیتی ہ ۔ وہ کسی ق نؤن‘‬
‫ض بط اور اصول ک پ بند نہیں رہت ۔ عوا نم ئندوں کو‘ اہل‬
‫رائ سمجھ کر‘ ووٹ دیت ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیت ہیں‘ کہ یہ‬
‫جو کریں گ ‘ اچھ ہی کریں گ ۔ ان ک کی ‘ عوامی فلاح و بہبود‬

‫ک لی ہی ہو گ ۔ ج اخب ر اور ریڈیو‘ ان ک کی کی‘ خبر‬
‫پ ت ہیں تو ان پر دکھ ک پہ ڑ ٹوٹ پڑت ہیں۔ آخر‘ میڈی‬

‫والوں کو‘ خبر کیس ہوئی اور انہیں‘ رپوٹنگ کی جرآت ہی‬
‫کیوں ہوئی۔ وہ سمجھت ہیں میڈی صرف نغم سن ن اور ان‬

‫کی ک رگزاری کی تشریح اور ت ریف و توسیف ک لی ہ ۔‬

‫اخب ر اور ریڈیو‘ کوئی بہت بڑی ہی خبر سن ت ہیں۔ یہ بھی کہ‘‬
‫اخب ر اور ریڈیو‘ اصل حقیقت کو بھی پیش نہیں کرت ۔ ح ل ہی‬
‫میں‘ پ ک بھ رت جنگ خت ہوئی ہ ۔ جنگ ک دوران‘ ریڈیو‬

‫اور اخب ر بڑی حوص ہ افزا خبریں سن ت تھ ۔ جنگ ک‬
‫خ تم پر م و ہوا ہ ‘ کہ آدھ م ک ہی‘ ہ تھ س نکل گی‬

‫ہ ۔ رگڑا کی دین تھ ‘ رگڑا لگ گی ہ ۔‬

‫‪396‬‬

‫روزہ‘ تزکیہءن س ک لی ‘ اع ی ترین ذری ہ ہ ۔ اس س ‘‬
‫بھوک کی ت خی ک اندازہ ہوت ہ ۔ رک ج ن ہی‘ روزے ک پہلا‬
‫اور آخری مقصد ہوت ہ ۔ رکن کی ‘ یہ ں تو خرابی میں اور تیزی‬

‫آ ج تی ہ ۔ روزے دار کہت ہ ‘ میرے منہ میں روزہ ہ ‘‬
‫جھوٹ کیوں بولوں گ ۔ ح لاں کہ وہ جھوٹ بول رہ ہوت ہ ۔‬
‫پہ ک تولت تھ ‘ روزہ رکھ کر‘ ک تولن ک س تھ س تھ‘‬

‫ملاوٹ کو بھی ش ر بن ت ہ ۔‬

‫ان پڑھ لوگوں کو تو چھوڑی ‘ جو لوگ‘ ع ح صل کرت ہیں‘‬
‫وہ تو‘ ان پڑھ لوگوں کو بھی‘ پیچھ چھوڑ ج ت ہیں۔ پڑھ ئی‘‬

‫روشنی ک ن ہ ۔ یہ کیسی روشنی ہ ‘ جو ت ریکیوں کی‬
‫نم ئندہ ہ ۔ آج پڑھ لکھ ‘ ش طر بن گی ہ ۔ دفتر میں ہ ‘ تو‬
‫رشوت لیت ہ ۔ دفتر ک ب ہر ہ ‘ تو تقسی ک دروازے کھولت‬
‫ہ ۔ کت بیں اور است د‘ تو دو نمبری نہیں سکھ ت ۔ ع ‘ سچ ئی‬
‫کی طرف ل ج ت ہ ۔ آج ک سچ تو یہ ہ ‘ کہ عدل و انص ف‬
‫کو‘ رشوت کی نوک پر رکھو‘ اور خو کم کر جیبیں بھ ری‬
‫کرو۔ درحقیقت‘ ع کرسی ک حصول ک لی ح صل کی ج ت‬

‫ہ ۔ کرسی ک م ن ‘ رز میں فراخی ک سب بنت ہ ۔‬

‫جس پیٹ میں‘ رز حرا چلا گی ‘ وہ حلال دا کس طرح رہ ۔‬
‫حرا لقموں س بنن والا خون‘ سر س پ ؤں تک‘ گردش کرت‬

‫ہ ۔ جس جس میں؛ حرا خون دوڑ رہ ہوت ہ ‘ اس پیٹ وال‬
‫ک ‘ جس ک جم ہ کل‘ کس طرح درست اور فطری‬

‫‪397‬‬

‫اصولوں پر‘ استوار ہو سکت ہیں۔ حرا کھ ن وال ‘ شرعی‬
‫واجب ت ک ذری ‘ خود کو حلال دا ث بت کرن کی‘ کوشش‬
‫کرت ہیں۔ سوال یہ ہ ‘ کہ وہ حلال دے ہو ج ت ہیں؟ اگر‬
‫نہیں‘ تو انہیں اور ان کی اولادوں کو‘ حرا دا کیوں نہیں کہ‬

‫ج ت ی ترچھی اور م نی خیز‘ نظروں س کیوں نہیں دیکھ ج ت ۔‬

‫میں‘ پ نچ وقت‘ ب جم عت نم ز ادا کرن کی دل و ج ن س ‘‬
‫کوشش کرت ہوں۔ ہر س ل‘ ب ق عدگی س روزے رکھت ہوں۔‬
‫پچھ س ل‘ حج بھی کرک آی ہوں۔ الله مجھ ‘ میری ضرورت‬
‫س ‘ کہیں بڑھ کر عط کر دیت ہ ۔ اس لی ‘ میں رز حرا پر‬
‫ل نت بھیجت ہوں۔ میں اپنی بیوی‘ جو اسی علاق کی ہ ‘ ک‬

‫سوا‘ ہر عورت کو‘ اپنی م ں بہن سمجھت ہوں۔‬

‫میں اپن مح ہ چھوڑ کر‘ دور دراز علاق میں‘ آ بس ہوں۔ یہ ں‬
‫مجھ کوئی نہیں ج نت تھ ۔ ابتدا میں‘ صرف اطراف ک ‘ ہ‬
‫س ئ ہی‘ میرے ن اور ک س آگ ہ تھ ۔۔ ا تقریب پورا‬

‫مح ہ مجھ ج نت ہ ۔ ایک س ل پہ ‘ مجھ اچ نک‘ مسجد‬
‫میں‘ اپن علاقہ ک ‘ م ک ص ح مل گی ۔ ان ک ‘ یہ ں دور‬
‫ک رشتہ دار رہت تھ ۔ وہ انہیں‘ کسی ک ک س س میں‬

‫م ن آئ تھ ۔ میں بڑے تپ ک س ‘ انہیں گ م ن ک‬
‫لی ‘ آگ بڑھ ۔ پہ تو‘ انہوں ن مجھ بڑے غور س‬
‫دیکھ ۔ گ م ن کی بج ئ بول اوے توں جین ں ی بھ دا پتر‘‬
‫شیدا حرا دا ایں۔ مسجد میں دو چ ر نم زی رہ گی تھ ۔ یہ‬

‫‪398‬‬

‫جم ہ کسی ایک ک سن لین ‘ عزت کو خ ک کرن ک لی ‘ ک فی‬
‫تھ ۔ میں جوا دی بغیر‘ مسجد س نکل کر گھر آ گی اور‬
‫سوچن لگ ۔‬

‫مح ہ میں‘ ایک ح جی ص ح بھی رہت ہیں۔ ض ی دفتر میں‬
‫ملاز ہیں۔ س ان کی عزت کرت ہیں۔ پنج وقت نم زی ہیں۔‬
‫پچھ س ل‘ حج کرک آئ ہیں۔ یہ حج‘ انہوں ن رشوت کی‬
‫کم ئی س کی ۔ رشوت کی کم ئی س ‘ انہوں ن ٹھیک ٹھ ک‬

‫ج ئداد بن لی ہ ۔ پچ س س ‘ تج وز کر ج ن ک ب وجود‘‬
‫عورتوں ک بڑے شوقین ہیں۔ ان ک بس چ تو‘ روزن نش ط‬
‫میں ہی‘ بسیرا کر لیں۔ انہیں کوئی حرا دا نہیں کہت ‘ ح لاں کہ‬

‫ان ک کوئی ک حلالی نہیں۔‬

‫میں حرا دا ہوں‘ ی زن ک ر حرا دے ہیں۔ میں خود تو‘ تخ ی‬
‫نہیں پ گی ۔ طریقہء تخ ی تو مشترک ہ ‘ لیکن اس میں مذہبی‬
‫اور سم جی ضوابطہ س انحراف موجود تھ ۔ سم جی اور مذہبی‬
‫انحراف‘ مجھ س تو سرزد نہیں ہوا تھ ۔ انحراف کرن وال ‘‬
‫سم ج میں بہ طور حلال دے دندن ت پھرت ہیں اور انہیں کوئی‬
‫حرا دا نہیں کہت ۔ جس ک انحراف س ‘ ت واسطہ ہی نہیں‘‬
‫آج اٹھ ئیس برس ب د بھی‘ اپنی اور لوگوں کی نظر میں حرا دا‬

‫ہ۔‬

‫عجی روایت ہ ‘ رشوت خوروں کو کوئی حرا دا نہیں کہت ۔‬

‫‪399‬‬

‫جھوٹی گواہی دین وال ‘ ہر قس کی دو نمری کرن وال ‘‬
‫حلال دے ہیں اور میں‘ حرا دا ہوں‘ جو دینی واجب ت‘ خ وص‬
‫نیتی س ادا کرت ہوں۔ دو نمبری س ‘ دور بھ گت ہوں ان حق ئ‬

‫ک ب د‘ ایک عرصہ گزر ج ن ب د بھی‘ میں حرا دا ہوں۔‬
‫کوئی تو بتلائ ‘ کہ حرا دا کون ہ ‘ میں ی سم جی دو نمبر‬

‫م ززین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‬
‫‪7-4-1973‬‬

‫‪400‬‬

‫مکر بندہ حسنی ص ح ‪ :‬سلا ع یک‬

‫آپ ک انش ئیہ پڑھ اور کچھ سوچ کر بیٹھ گی ۔ یہ مسئ ہ کوئی آج‬
‫ک تو نہیں ہ ۔ یہ ہم رے م شرہ ک ازلی المیہ ہ ۔ ہ نم ز‪،‬‬
‫روزے‪ ،‬حج کو اسلا کی ابتدا اور انتہ ج نت ہیں اور اس‬
‫پیم نہ پر ہر ایک کو پرکھت ہیں۔ سو تو ٹھیک ہ لیکن ج‬

‫ایم نداری‪ ،‬رشوت ‪ ،‬بد عنوانی‪ ،‬حرا خوری ک مرح ہ آت ہ تو‬
‫سوائ "میرے" ہر شخص مجر ہوت ہ اور گردن زدنی۔ اپن‬

‫گریب ن میں کوئی جھ نک کر نہیں دیکھت ۔ پچھ دنوں ہندوست ن‬
‫گی تو ایک بزرگ (جو کہ عمر بھر کچہری میں صدر ق نونگو‬
‫رہ ہیں اور رشوت پر گزارہ ہی نہیں کی ب کہ مک ن دوک ن‬
‫بنوائ ہوئ ہیں) س میں م ن گی ۔ وہ اپن ص حبزادے کو‬

‫سمجھ رہ تھ کہ دفتر نہ ج ی کرو۔ ج دوسرے نہیں آت تو‬
‫ت کیوں ج ت ہو۔ بس پہ ی ت ریخ کو ج کر تنخواہ ل آی کرو۔‬

‫موصوف ک ہ تھ بھر س ید داڑھی ہ اور پنج وقتہ نم ز پر‬
‫سختی س ع مل ہیں ۔ میں ن ج اد س عرض کی کہ آپ‬
‫اپنی اولاد کو حرا ک ک لئ ت کید کر رہ ہیں تو الٹ مجھ‬
‫پر بگڑ پڑے کہ دنی کرتی ہ تو ہ کیوں نہ کریں۔ عرض کی کہ‬
‫دنی زن کرے گی تو آپ بھی کریں گ اور ۔۔۔۔۔ کھ ئ گی تو وہ‬
‫آپ بھی کھ ئیں گ ؟ ص ح وہ ایس بکھرے کہ الله دے اور‬

‫بندہ ل ۔ میں ن اپنی ع فیت اسی میں ج نی کہ اٹھ کر چلا‬


Click to View FlipBook Version