377
د ہلان لگ گ ۔ فض و ن قہقہ لگ ت ہوئ کہ
ب ب بڑا ق غی والا ہ ‘ پیندی سٹ م ئی کو ڈھیر کر دے گ ۔ گ مو
ن لقمہ دی
اوہ چھڈ‘ چلا ج ت نہیں‘ در فٹ منہ گوڈی ں دا۔ ڈھیر کر دے گ ‘
م ئی بڑے ش آ‘ توں نئیں ج ندا۔ ش کو ن ک نوں کو ہ تھ
لگ ت ہوئ کہ
دیر تک ب ب عمر اور م ئی جنت ہم ری گ تگو ک موضوع بن
رہ ۔ اتنی دیر میں ویرو آ گی اور آت ہی چھ گی ۔
کچھ سن
نہیں تو
ام ں جنت ‘ ب ب عمر ک س تھ نکل گئی ہ ۔
!ہ ئیں‘ کی بکت ہو؟
میں بکت نہیں‘ پھرم رہ ہوں۔
ہ س دوستوں کی آنکھیں‘ کھ ی کی کھ ی رہ گئیں۔ ان ک لڑن
محض ہم رے دکھ وے ک لی تھ ؟ یہ بوڑھ بھی بڑے
کھلاڑی ہوت ہیں۔ اتن سیدھ س دے نہیں ہوت ۔ یہ ج یبی
ک مواف سیدھ ہوت ہیں۔ ب ب عمر ک پوت ‘ بڑے غصہ
میں تھ ۔ م ئی جنت ک پوت ک منہ س ‘ بڑے ت خ ک م
378
نکل رہ تھ ۔ وہ کہہ رہ تھ ‘ م ئی ن پوری برادری میں
ہم ری ن ک کٹوا دی ہ ۔ اگر ہ تھ لگ گی ‘ تو میں دونوں ک
ڈکرے کر دوں گ ۔ یہ پہلا موقع تھ ‘ جو دو بوڑھوں ک ب عث ان
کی اولاد کی ن ک کٹی تھی‘ ورنہ آج تک‘ لڑک لڑکیوں ن ہی‘
اپن بڑوں کی ن ک کٹوائی تھی۔
جوانوں کی جنسی شدت‘ ان کی عقل پر پردے ڈال دیتی ہ ۔ یہ ں
تو یہ م م ہ تھ ہی نہیں۔ جن جوان بچوں ک منہ س ‘ جھ گ
نکل رہی تھی اور وہ اپن بوڑھوں ک قتل ک درپ تھ ‘
انہوں ن کبھی بھی‘ اپن ان بھ گ ج ن وال بزرگوں ک
پ س‘ دو لمح ٹھہرن ک کشٹ نہیں اٹھ ی تھ ۔ وہ کس ح ل
میں ہیں‘ ان کی اولاد میں س کسی کو م و کرن کی توفی
نہیں ہوئی۔
ہوں‘ آج ان کی غیرت ج گ گئی ہ ۔ الله کرئ ‘ وہ بہت دور نکل
گی ہوں اور ان جھوٹ غیرت مندوں ک ہ تھ میں ہی نہ آئیں۔
تجربہ ک ر لوگ ہیں‘ کچی گولی ں نہیں کھی ہوں گ ۔
الله انہیں‘ ان مردودوں س مح وظ رکھ ۔ شہ بو‘ جو ان
بوڑھوں ک کچھ بھی نہیں تھ ‘ برستی آنکھوں س دع ئیں
م نگ رہ تھ ۔
وہ م ئی جنت ک برے ح ل س آگ ہ تھ ۔ اسی طرح‘ اس یہ
بھی م و تھ کہ ب ب عمر‘ مرے کت س بھی بدتر زندگی
379
گزار رہ تھ ۔
ب ب عمر‘ بنی دی طور پر بزدل اور رن مرید قس ک انس ن تھ ۔ وہ
اتن بڑا قد نہیں اٹھ سکت تھ ۔ م ئی کی دلیری ن ‘ اس ک
ض یف گھٹنوں میں بھ گ نک ن کی شکتی‘ بھری ہوگی۔
دتو ک وچ ر سن کر س کہہ اٹھ
م ئی جنت زندہ ب د
12-10-1969
380
ممت عش کی ص ی پر
جیراں اپنی بیٹی ک چ ن س ب خبر نہ تھی۔ وہ وقت فوقت ‘
اس کی سرزنش بھی کرتی رہتی تھی۔ وہ زی دہ سختی بھی نہیں
کر سکتی تھی۔ اس کی دو وجوہ تھیں۔ جوان اولاد کو محبت اور
اچھ طریقہ س سمجھ ن ہی بہتر ہوت ہ ورنہ وہ بغ وت پر
اتر آتی ہ ۔ جوانی‘ اونچ نیچ اور برا بھلا سوچن کی ق ئل نہیں
ہوتی۔ وہ کر گزرن کی طرف م ئل رہتی ہ ۔ ب ض اوق ت‘ من ی
بھگت ن ک ب وجود‘ واپسی ک س ر اختی ر نہیں کرتی۔ ایس بھی
ہوت ہ ‘ کہ ح لات واپی ک دروازے بند کر دیت ہیں۔ آدمی
لوٹن چ ہت ہ ‘ لیکن وقت کی زنجیریں اس پھرن نہیں دیتیں۔
ایک وجہ یہ بھی تھی‘ کہ شیداں م ں کی دو تین خوف ن ک
کمزوریوں س آگ ہ تھی۔ اگر وہ ایک راز بھی افش کر دیتی‘ تو
جیراں کی پوری عمر کی رکھی رکھ ئی کھوہ کھ ت پڑ ج تی۔
انس ن ک من ی عمل ن صرف اس ک لی وب ل بن رہت ہیں‘
ب کہ ب ض ذہنوں ک نہ ں گوشوں میں پڑے‘ اپن وجود ک
انتظ ر کرت رہت ہیں۔ شخص ہو‘ ی کوئی جذبہ
احس س ی پھر خی ل وجود پ ن ک لی ب کل رہت ہ ۔ ثقیل
س ثقیل غذا ہض ہو ج تی ہ ‘ لیکن یہ ہض ہوت ہی نہیں۔
381
ایک دو ب ر‘ ج جیراں ک لہجہ ت خ ہوا‘ تو شیداں ن م ں کو
گزرے کل ک ف ش کرن ک اش رہ دے دی ۔ جیراں جو خ وند کی ‘
برادری میں بھی پھن خ ں تھی‘ موت کی جھ گ کی طرح‘
لمحوں میں ب وجود ہو گئی۔ اس ک رع و دبدبہ ریت کی
دیوار س زی دہ‘ پھوسڑ ث بت ہوا اور وہ آزادی ک جذبہ رکھت
ہوئ بھی‘ آزادی ح صل نہ کر سکی۔ اس ک ہ تھوں ک تراش
ہوا صن ‘ جبری ہی سہی‘ دل و ج ن ک صن خ ن میں خدا بن
بیٹھ تھ ۔ وہ اس کی دہ یز پر ع جز و مسکین بنی کھڑی رہتی
تھی۔
ایک دو ب ر اس ن دع بھی کی‘ کہ شیداں مر ہی ج ئ ۔ اس
ذیل میں‘ ممت کبھی آڑے نہ آئی تھی۔ وہ اپنی موت کی خواہش
کر سکتی تھی اسی طرح خودکشی ک دروازہ بھی کھلا تھ ۔ اس
کی موت س ‘ راز کو تو موت نہ آتی۔ وہ شیداں ک سین میں‘
زندہ رہت ۔ یہ راز ج شیداں ک لاش ور س ش ور میں وارد
ہوت ‘ تو اپنی ہی م ں کو‘ اپن ب پ ک مجر سمجھتی۔ اس یہ
ہمشیہ احس س رہت ‘ کہ اس کی م ں اس ک ب پ کی دین دار
تھی۔
شیداں اپن ب پ کی لاڈلی تھی۔ فتو اس پر اندھ اعتم د کرت تھ ۔
روپیہ پیسہ اس ک پ س رکھت تھ ۔ رات کو ب پ بیٹی ج ن کی
مشورے کرت رہت تھ ۔ وہ تو صرف پک ن اور دھون تک
محدود تھی۔ فتو س ‘ ان دونوں امور ک گلا بھی نہیں کر سکتی
382
تھی۔ روپووں ک م م ہ میں‘ وہ صرف دو ب ر‘ ب اعتب ری
ہوئی تھی۔ اس ن جھگڑ اور پھر رو کر‘ سچ ہون کی کوشش
بھی کی تھی۔ فتو ن اس کی قس پر بہ ظ ہر اطمن ن ک اظہ ر
بھی کی ‘ لیکن اندر س مطمن نہیں ہوا تھ ۔ چور ی ٹھگ کی
قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اگر ان کی قسموں کو اعتب ر
مل ج ئ ‘ تو تھ ن اور کچہری بند ہو ج ئیں۔
فتو دراصل‘ جیراں کی لای نی کل کل کی وجہ س ‘ ہ ر م ن چک
تھ ۔ گھر اور خ ندان ک م ملات جیراں ہی انج دیتی تھی۔
جہ ں اختلاف ڈالت ‘ وہ ں دھ ئی کی راند پڑ ج تی۔ جیراں ن
سرنڈر ہون سیکھ ہی نہ تھ ۔ ا تو پچ س ک قری پہنچ گئی
تھی اور فتو س ٹھ ک ہندسہ تج وز کر گی تھ ۔ جو بھی سہی‘
جیراں آج بھی بنتی پھبتی تھی۔ ج دنداس اور چوٹی پٹی کرک ‘
فتو ک س من آتی‘ تو وہ مدہوش ہو کر‘ وش وش ج ت تھ ۔
شیداں جوان ہو گئی تھی۔ اس ک ہ تھ پی کرن ک وقت آگی
تھ ۔ فتو اچھ رشت کی تلاش میں تھ ۔ وہ اپنی لاڈلی کو‘
آسودہ ح ل گھران میں بی ن چ ہت تھ ۔ ل دے کر‘ اس کی نظر
جیراں ک مسیر ک لڑک پر‘ آ کر رک ج تی۔ جیراں یہ رشتہ
نہ کرن چ ہتی تھی۔ وہ شیداں ک لچھن س ب خبر نہ تھی۔
دوسرا کسی زم ن میں‘ جیراں کی فج س بڑی گہری خ یہ
سلا دع رہی تھی۔ وہ دوب رہ س ‘ پران رشتہ نی نہیں کرن
چ ہتی تھی۔ خدا م و ‘ شیداں ب پ ک فیص س کس طرح
383
مت ہو گئی اور یہ رشتہ ہو ہی گی ۔
الله ن اس تین بچوں س نوازا۔ شیداں ک گول مٹول اور
پی رے پی رے بچ ‘ جیراں س بڑے م نوس تھ ۔ فج اس
م ضی کی طرف ل ج کر‘ پرانی راہ پر لان چ ہت تھ ۔ ایک لمحہ
بھی مل ج ت ‘ تو جیراں ک ن زک اعض کو چھون میں دیر نہ
کرت ۔ بیٹی ک گھر‘ م ضی کی بھول اور بیٹی ک بچوں کی محبت
ک درمی ن گھری جیراں‘ ہر لمحہ اپن ہی ہ تھوں قتل ہوتی۔ وہ
کسی س اپن دکھ بھی نہیں ب نٹ سکتی تھی۔ اگر شیداں کو ع
ہو ج ت ‘ کہ اس کی م ں اس ک سسر ک س تھ موجیں م را
کرتی تھی تو وہ اور تیز ہو ج تی۔ اس کی ن رت ک ح ق مزید
وسیع ہو ج ت ۔
جیراں کو جہ ں اپنی بدن می ک خدش ‘ ک گھن اندر ہی اندر
کھ ئ ج رہ تھ ‘ وہ ں یہ اطمن ن ضرور تھ ‘ شیداں اپھو ک
کھیڑا چھوڑ چکی ہ ۔ ج کبھی ات ق اس کی اپھو س ملاق ت
ہو گی‘ تو ہی وہ فج کی سی حرکتیں کر سک گ ۔ بیٹی ک
ہ ں آن تو اس کی سم جی مجبوری تھی۔ خدا لگتی تو یہی تھی‘
کہ فج کی حرکتیں اگرچہ کچھ نئی نہ تھیں‘ اس ک ب وجود‘
اس ک جسد کو‘ ان ج نی سی‘ مسرت اور کیف ومستی دان
ضرور کرتی تھیں۔
شیداں کچھ دن ک لی آئی ہوئی تھی۔ اچ نک جیراں کو م و
384
ہوا‘ کہ شیداں کی گرفت میں ننھ آ گی تھ ۔ منہ متھ لگت
چھوہر تھ ۔ اس دیکھ کر بڑھ پ مچل مچل ج ت تھ یہ ں تو
جوانی کی لہریں ٹھ ٹھیں م ر رہی تھیں۔ جیراں کو اس ک گھر
اجڑن ک خدشہ لاح ہو گی ۔ وہ ب توں ب توں میں سمجھ ن کی
کوشش کرتی۔ جواب شیداں کہتی میں اپن گھر والی ہوں‘ میں
اپن اچھ برا ت س بہتر ج نتی ہو۔ جیراں کو شیداں ک زی دہ دیر
میک رکن برا لگن لگ ۔ وہ ج بھی آتی‘ یہ اس کسی ن کسی
بہ ن ایک دو دن ب د ہی‘ سسرال بھیج دیتی۔ ج کبھی اپن
سسر ک س تھ آتی‘ چوڑی ہو ج تی۔ فج ک ک ج والا آدمی ہو
کر بھی‘ ٹکی ہو ج ت ۔ ح لاں کہ سوائ چوری چھپ ‘ چونڈی
تپھ ک ‘ اس کچھ ح صل نہ ہو پ ت تھ ۔ اس ن فتو س
گہرے اور دوست نہ ت ق ت استوار کر لی تھ ۔
پھر ایک دن وہی ہوا جس ک اس ڈر تھ ۔ ننھ کی محبت کی
گرفت مضبوط ہو گئی۔ شیداں اپن تینوں بچوں کو چھوڑ کر
آگئی۔ جیراں یقین اچھی عورت نہ تھی۔ اس ن اپنی کسی محبت
ک لی ‘ بچوں کو نہ چھوڑا تھ ۔ وہ اول ت آخر ان کی بنی رہی۔
یہی اس کی سچی ممت تھی۔ شیداں ننھ کی محبت میں اپن
بچوں کی نہ بنی تھی۔ سوچن کی ب ت تو یہ تھی‘ کہ آت
وقتوں میں وہ ننھ کی بن پ ئ گی۔ کی وہ اس بچوں س
بڑھ کر اسی طرح پی را رہ گ ؟ بچ تو رل خل کر پل ہی ج ئیں
گ لیکن یہ محبت ک کون س روپ ہو گ ۔۔۔۔۔۔۔ کی اس محبت ک
385
ن دی ج سک گ ۔۔۔۔۔۔ م ں کی ممت س بڑھ کر کوئی اور چیز
بھی ہوتی ہ ‘ کیس م ن لی ج ئ گ ۔
شیداں ن اپن اب کو یقین دلا دی تھ ‘ کہ سسرال میں اس ک
س تھ بڑے ظ ہوت تھ ۔ وہ گھر کی فرد س بڑھ کر‘ ک می
تھی۔ اس ک ب پ کہت ‘ میری بیٹی بڑی م صو تھی۔ ان لوگوں
ن تو اس کی قدر ہی نہ پ ئی تھی۔ وہ تو تھ ہی ن شکرے۔
جیراں بھی فتو ک س من ‘ اس ب چ ری کرم ں م ری اور
م صو ہی کہتی۔ جھوٹ سچ آنسو بھی بہ تی۔ وہ فتو کو کس
طرح بت ئ ‘ کہ اس م صو ن ش دی س پہ تین عش
نبھ ئ ۔ چوتھ عش اولاد پر بھی بھ ری ہو گی تھ ۔ عی ش تو وہ
بھی تھی‘ لیکن ممت ن اس ک دامن پکڑے رکھ ۔ ممت ک
پردے میں اس ک س رے عش چھپ گی تھ ۔
وہ یہی سوچتی رہی‘ شیداں ک عش کس پردہ کی اوٹ میں ج
کر اپنی م صومیت کی گواہی دے سک گ ۔
شیداں اپن اب کی نظر میں م صو تھی۔ یہ م صومیت کیسی
تھی‘ جو ممت کی لاش پر ت میر ہوئی تھی۔ ممت کی آہیں کراہیں‘
شیداں کی خود س ختہ م صومیت کی لحد میں‘ اتر گئی تھیں۔
3-1-1972
386
زینہ
مخت ف ن سی ت کی س میوں س ‘ ہر روز واسطہ رہت ہ ۔ ب ض
تو‘ عج لچڑ ہوتی ہیں۔ ان کی جی س کچھ نک وان بڑا ہی
مشکل ک ہوت ہ ۔ جی س ‘ نوٹ ب ہر لات ‘ انہیں غشی سی
پڑ ج تی۔ ب ض س ‘ ان ک علاق کی سوغ ت‘ منگوان ک
لی منہ پھ ڑن پڑت ہ ۔ بہت ک سہی‘ کچھ بلاط کی ‘ ل
آت ہیں۔ اس طرح‘ اس علاق کی سوغ ت ک حوالہ س ‘
علاق کی پہچ ن بھی ہو ج تی ہ ۔ ایسی س میوں س بھی
واسطہ رہت ہ ‘ جو دوسرے علاقوں کی‘ وجہءپہچ ن بڑے
اہتم س لات رہت ہیں۔ اس طرح‘ ان ک عزیزوں س
بھی‘ غ ئب نہ ت رف ہوت رہت ہ ۔
مجھ ایسی س می س ‘ ہمیشہ چڑ رہی ہ جن کو ان ک
علاق کی سوغ ت ک مت ی د کران پڑت ہ ۔ ہ یہ ں بیٹھ ‘
کوئی فقیر نہیں ہیں‘ جو لوگوں ک س من دست سوال دراز
کرت پھریں۔ ہم رے ہ ں اصول رہ ہ ‘ کہ آن والا کبھی خ لی
ہ تھ نہیں آی ۔ تح ہ دین س ‘ ت ق ت میں مضبوطی پیدا ہوتی
ہ۔
387
ب ض تو‘ بڑے فراخ دل و دم ک لوگ ہوت ہیں۔ ان ک
س تھ‘ خ تون بھی ہوتی ہ اور وہ‘ اس اپنی بیوی ظ ہر کرت
ہیں۔ ایسی عورتوں س ‘ ہ خو خو آگ ہ ہوت ہیں‘ لیکن
ظ ہر نہیں کرت ‘ کہ ہ محترمھ کو ن صرف ج نت ہیں‘ ب کہ
تصرف میں بھی لا چک ہیں۔ ہمیں اس س ‘ کوئی غرض نہیں
ہوتی کہ وہ کون‘ اور کس کی کی لگتی ہ ۔ قس ل لیں‘ کہ
اوپر جو کبھی‘ سچل م ل پنچ ی ہو۔ پہلا ح ہم را ہوت ہ ۔ افسر
دست خط ک سوا‘ کرت ہی کی ہ ۔ ف ئل پر مغزم ری تو ہ
کرت ہیں۔ یہ الگ ب ت ہ ‘ زب نی کلامی‘ سچل ہی کہت ہیں۔
ہم ری ایم ن داری پر شک ک رسک‘ افسر بھی نہیں ل سکت ۔
انہیں تو کیت کرای ہی مل ج ت ہ ۔ ایجنٹ اور نچلا اہل ک ر‘ جو
م ل لات ہ ‘ ہ اس میں نقص نہیں نک لت ۔ ویہ ر خرا ہو
ج ئ ی ٹوک ٹوک ئی ک عمل‘ ک روب ر حی ت میں‘ نحوست کی
علامت ہ ۔ اعتب ر اور اعتم د پر ہی‘ زندگی چل رہی ہ ۔
اس سی‘ س می آج تک دیکھن سنن میں نہ آئی ہو گی۔ وہ
ج بھی آت ‘ کسی ن کسی علاق کی‘ سوغ ت ضرور لات ۔ جو
ط ہوا‘ اس س ‘ کہیں بڑھ کر جھڑا۔ مزے کی ب ت یہ کہ‘ بن
کہ کھ ن کھلات ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ خود ل کر ج ت ۔ تھوڑی
دیر بیٹھن ک ب د کہت ‘ اوہ چھڈو جی چ و پیٹ پوج کرت ہیں۔
ج وہ آت ‘ میں اس ک یہ ڈائیلاگ‘ سنن ک لی ب چین ہو
ج ت ۔ کچھ کہہ نہیں سکت ‘ وہ چہرا پڑھ لیت تھ ی روٹین میں کہت
388
تھ ۔ میرا ضمیر‘ اس ک ک کچھ دیر اور لمک ن پر مجبور کر
رہ تھ ‘ لیکن س تھیوں کی ترچھیں نگ ہوں میں‘ حسد اتر آی تھ ۔
اس لی ‘ اس ب ر اس ک ک کر دین پر‘ میرا ضمیر آم دہ ہو
گی ۔
اس روز‘ وہ کسی م ہر ج سوس کی طرح‘ وارد ہوا۔ دو تین منٹ
بیٹھن ک ب د‘ اس ن مجھ اپن س تھ آن ک اش رہ دی ۔ وہ
اٹھ کر چلا گی ۔ تین چ ر منٹ ب د میں ن بھی سیٹ چھوڑ دی۔
نکڑ پر‘ وہ کھڑا میرا انتظ ر کر رہ تھ ۔ ہم ری نظریں م یں‘ وہ
مسکرای ‘ اور آن ک اش رہ دے کر چل پڑا۔ میں اس ک پیچھ
پیچھ ہو لی ۔ وہ لال ب زار ک ‘ بیک محل ہوٹل میں‘ داخل ہو
گی ۔ ایس مک م ت پر‘ کھ ن ک ‘ کبھی ات نہ ہوا تھ ۔ وہ ں
اس ن ‘ کمرہ بک کروا رکھ تھ ۔ کمرے ک اندر‘ قی مت ج وہ
فرم تھی۔ اس دیکھ کر‘ مجھ پر سکت س ط ری ہو گی ۔ میری
آنکھیں‘ بہت کچھ دیکھ چکی تھیں‘ لیکن اس س ‘ پٹولا کبھی
دیکھن میں نہ آی تھ ۔ کھ ن کی ٹیبل بھر گئی۔ ایسی تواضح
تو‘ اس ن کبھی نہ کی تھی۔
م ت ک م ل تھ ‘ میں ن ب تح ش کھ ی ۔ میں ن ‘ اس پٹول
کو‘ پک پک اپن بن ن ک فیص ہ کر لی ۔ سچی ب ت تو یہ ہ ‘ کہ
آج تک کسی کھ ن ن ‘ ایس لطف نہ دی تھ ۔ اس قی مت ن
بھی‘ اداؤں کی وہ وہ بج ی ں گرائیں‘ کہ میں اپن آپ میں نہ
رہ ۔ مجھ یوں لگ ‘ جیس س ری کی س ری‘ خوش نصیبی
389
میری ہی گرہ ک ‘ مقدر ٹھہر گئی ہو۔ میں ن ریح نہ س ‘ اپن
دل کی ب ت کہہ دی۔ تھوڑی سی‘ پس و پیش اور چند رسمی
شرائط ک ب د‘ اس ن ہمیشہ ک لی میرا ہو ج ن ک ارادہ
ظ ہر کر ہی دی ۔
اس روز مجھ یقین ہو گی کہ میں دنی ک واحد خوش نصی
آدمی ہوں۔ میں ن بلاشبہ زندگی میں کوئی ایس اچھ ک ضرور
کی تھ جس ک ‘ دیوت اس اپسرا کی صورت میں‘ صلا عط کر
رہ تھ ۔ جو بھی سہی‘ میں ن آج تک کسی ک ک نہ روک
تھ ۔ رہ گئی لین دین کی ب ت‘ یہ ں کون ہل پر نہ ی ہوا ہ ۔
تنویر ن ہی‘ ایک مختصر‘ مگر پروق ر تقری ک ان ق د کی ۔
ریح نہ ہمیشہ ک لی ‘ میری ہو گئی۔ ریح نہ بڑی وف دار بیوی
ث بت ہوئی۔ رات کو سوت وقت میرے پ ؤں دب تی۔ ن شتہ وقت پر
میسر کرتی۔ اس کی کو کنگ بڑے کم ل کی تھی۔ ایک ب ر‘ میں
بیم ر پڑا‘ ہسپت ل ل ج ن میں‘ اس ن بڑی پھرتی دکھ ئی۔
میں ہسپت ل میں دس دن رہ ۔ دوست ی ر اور رشتہ دار م ن
آئ ‘ ہر کسی س ‘ اس ن بڑے ش ن دار انداز میں ڈی نگ کی۔
اس ک حسن س وک اور وضع داری کی ہر کسی ن ت ریف کی۔
جس پر‘ میں پھولا نہ سم ی ۔ مجھ ریح نہ پر‘ ن ز ہون لگ ۔
مجھ کئی ب ر‘ کسی ک غذ پتر ک لی گھر آن پڑا‘ میں ن
ریح نہ کو گھر پر پ ی ۔ میرا دل مطمن تھ ‘ کہ ریح نہ طب ‘ نیک
390
اور ص لح ہ ۔ نیک اور ص لع س تھی ک مل ج ن ‘ ایسی م مولی
ب ت نہ تھی۔ اس ن کبھی‘ کریدن ی میرے ب رے کچھ ج نن
کی‘ کوشش نہ کی۔ میں ن بھی زندگی کی ہر خوشی اور ہر
آس ئش‘ اس ک س ید‘ ش ف اور ب دا قدموں میں‘ رکھ دی
تھی۔
تنویر ایک ب ر بھی‘ ہم رے گھر نہ آی ‘ ہ ں دفتر دوسرے
تیسرے‘ کوئی ک ل کر چلا آت تھ ۔ سلا دع والا آدمی تھ ۔
دوست ی ر ک ک لی کہہ دیت ‘ تو آ ج ت ‘ ت ہ آج تک‘ اس
ن کوئی ک م ت نہ کروای ۔ چ ء پ نی سوغ ت‘ لان نہ بھولت ۔
کھ ن بھی کھلات ۔ اس ن کبھی ریح نہ ک ذکر بھی‘ نہ چھیڑا۔
ب لکل لات س ہو گی ۔ ایس لگت ‘ جیس گزرا کل‘ اس کی ی د
داشت س ‘ نکل گی ہو ی گزرے کل ک ب رے میں‘ کچھ ج نت
ہی نہ ہو۔
ایک روز‘ میں ہیڈ آفس کسی ک س گی ۔ میں ن ‘ تنویر کو‘
بڑے گیٹ س نک ت دیکھ لی تھ ‘ لیکن وہ مجھ نہ دیکھ
سک ۔ وہ پیچھ مڑ مڑ کر دیکھ رہ تھ ۔ مجھ ران ص ح ب ہر
آت دیکھ ئی دی ۔ وہ‘ تنویر ک پیچھ ج رہ تھ ۔ میں
ران ص ح ک ‘ ط کرن پر ہی‘ ح ضر ہوا تھ ۔ میں ن
سوچ ‘ کیوں نہ‘ اس قی مت ک دیدار کر لی ج ئ جو ران
ص ح کو نہ ل کرن والی تھی۔
391
میں عقبی گیٹ س ‘ اس بڑے ہوٹل میں داخل ہو گی ۔ تنویر ن ‘
ایک کمرے کی طرف اش رہ کی ۔ ران ص ح کمرے میں داخل ہو
گی ۔ تنویر‘ ہوٹل ک کون میں پڑی میز پر‘ ج بیٹھ ۔ میں
بھی‘ چھپ کر کون کی ایک میز پر ج بیٹھ ۔ پون گھنٹ ب د‘
ران ص ح کمرے س ب ہر نک اور انہوں ن تنویر کی طرف
دیکھ ۔ مسکراہٹ ک تب دلہ ہوا اور پھر وہ‘ ہوٹل س ب ہر نکل
گی ۔ یہ اس ب ت کی طرف‘ کھلا اش رہ تھ ‘ کہ ران ص ح کی
روح میں‘ اندر موجود قی مت ن ‘ سکون ک س غر انڈیل دی
ہیں اور رک ک ‘ آج ہی اپنی منزل پ ل گ ۔
مجھ مزید دس ب رہ منٹ‘ انتظ ر کرن پڑا۔ قی مت تنویر ک
قری آ کر رکی۔ دونوں ن کسی ب ت پر‘ قہقہ لگ ی ۔ مجھ اپنی
آنکھوں پر یقین نہیں آ رہ تھ ‘ وہ میری نیک اور ص لح بیوی‘
ریح نہ۔۔۔۔۔ ہ ں ریح نہ کوثر تھی۔ میں ج دی س ‘ پچھ
دروازے س نکلا۔ ٹیکسی س گھر ک رخ کی ۔ میں‘ اس کی
پرہیز گ ری‘ اس ک منہ پر م رن چ ہت تھ ۔ گھر آی ‘ دروازے پر
ت لا نہ تھ ۔ میں ج دی س ‘ گھر میں داخل ہو گی ۔ وہ پ نگ پر
لیٹی‘ بڑے سکون س ‘ ج سوسی ڈائجسٹ ک مط ل ہ کر رہی
تھی۔ مجھ پریش ن اور بیم ر س دیکھ کر‘ اس ن رس لہ پرے
پھینک ‘ اور گھبرائی گھبرائی‘ میری طرف بڑھی۔ س ٹھیک تو
ہ ‘ آپ بیم ر لگت ہیں۔ میرے م تھ پر‘ بڑے پی ر س ہ تھ
رکھ کر؛ کہن لگی۔ آپ ک م تھ تو آگ کی طرح جل رہ ہ ۔ پھر
392
اس ن ب ہر ج ن والی چ در اوڑھی اور کہن لگی اٹھیں اٹھیں
ڈاکٹر ک پ س چ ت ہیں۔
میں ن کہ :گھبراؤ نہیں‘ میں ب لکل ٹھیک ہوں۔
کیوں نہ گھبراؤں‘ تمہ رے سوا‘ میرا دنی میں کون ہ ۔ تمہیں
کچھ ہوگی ‘ تو میں مر ج ؤں گی۔“ پھر وہ‘ زار و قط ر رون
لگی۔
مجھ اس کی ایکٹنگ میں‘ کم ل کی اص یت دکھ ئی دی۔
ہم م لنی کو‘ اپنی اداک ری پر ن ز ہوگ ‘ لیکن ریح نہ ایکٹنگ میں‘
اس بہت پیچھ چھوڑ گئی تھی۔ میں خود اس شش وپنج میں
پڑ گی ‘ کہ وہ ریح نہ تھی ی کوئی اور تھی۔ یوں لگ رہ تھ ‘
جیس کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہ ں‘ اگر وہ پکڑی ج تی‘ تو تنویر ک ‘
کھیس ج ت م ل‘ بند ہو ج ت ۔ ران ص ح بڑے ب اختی ر عہدے
دار تھ ۔ ن صرف م ل‘ میری جی کی زینت بنت ‘ ب کہ میری
ترقی‘ جو دو س ل س رکی پڑی تھی‘ میری ذہنی الجھن ک سب
نہ بنی رہتی۔ مجھ یہ اطمن ن تھ ‘ کہ ران ص ح س ‘ نک ح نہ
کر سک گ ‘ دوسرا‘ ایک نہ ایک روز‘ رنگ ہ تھوں پکڑی
ج ئ گی اور پھر ہیڈ آفس میرا ہو گ ۔ میں پہ س ‘ کہیں
بڑھ کر‘ آسودہ اور عیش کی زندگی بسر کر سکوں گ ۔
زندگی میں ترقی ک لی ‘ زینہ درک ر ہوت ہ ۔ ریح نہ سی‘
چنچل‘ حسین اور لاجوا اداک ر بیوی س ‘ بڑھ کر‘ زینہ
393
ڈھونڈھ س ‘ نہ مل سک گ ۔ پردہ اٹھن پر ہی‘ اس زین
ک ‘ است م ل ممکن ہو سک گ ۔ ہ ں ش ئد‘ اس ک لی ‘ تھوڑا
اور انتظ ر ک جہن میں‘ ج ن پڑے گ ۔
394
شیدا حرا دا
اگرچہ‘ منہ پر اور منہ س ‘ کوئی کچھ نہیں کہت ‘ لیکن دیکھنی‘
س کچھ کہہ دیتی ہ ۔ بہت سی ب تیں‘ ل ظوں کی محت ج نہیں
ہوتیں‘ سمجھی سمجھ ئی ہوتیں ہیں ی پھر‘ دیکھن ک طور‘
ان ک م ہی کھول دیت ہیں۔ لوگوں ک من ی روی اور
ترچھی نظریں‘ مجھ اپنی حیثیت اور حقیقی اوق ت س ‘ آگ ہ
کر دیتی ہیں۔ ا میں ب حیثیت اور شرف کی بستی میں‘ اق مت
رکھت ہوں۔ میں سیٹھ ن سہی‘ کنگ ل اور م وک الح ل بھی نہیں۔
زندگی کی ہر ضرورت‘ مجھ دستی ہ ۔ سلا دع میں‘ ہر
طبقہ ک لوگ ش مل ہیں۔ دو نمبری لوگ‘ کبھی بھی میرے
دوست نہیں رہ ۔ ن خوش گوار لوگ‘ شروع س ‘ مجھ پسند
نہیں آت ۔ وہ بھی‘ مجھ پسند نہیں کرت ۔ ہر دو نمبری کو‘
شریف طبع اچھ نہیں لگت ۔ یہ ایک طرح س ‘ ضدین کی
حیثیت رکھت ہیں۔ ایک جگہ رہت ہوئ بھی‘ م شی اور
فکری حوالہ س ‘ ایک دوسرے س ‘ کوسوں دور ہوت ہیں۔
میں ن پنج وقتوں کو‘ جھوٹ بولت ‘ رشوت لیت ‘ اور
کمزوروں ک ح دب ت دیکھ ہ ۔ وہ یہ س دھڑل س کرت
ہیں۔ حج ک ب د تو‘ بہت س ‘ سمجھ لیت ہیں‘ کہ پچھلا کی ‘
395
م ف ہو چک ہ اور اس ک ب د‘ دو نمبری ک لی ‘ انہیں
کھ ی چھٹی مل گئی ہ ۔ پوچھن والوں ک ‘ وہ گھی شکر س ‘
منہ بند کر چک ہوت ہیں ی بہ وقت ضرورت‘ بھر دیت ہیں۔
عوا س ‘ ووٹ ح صل کرن وال ‘ خود کو‘ ب لائی مخ و
خی ل کرن لگت ہیں۔ وزارت ام رت کی کرسی‘ انہیں ن کرن
وال ک ‘ کرن کی اج زت دے دیتی ہ ۔ وہ کسی ق نؤن‘
ض بط اور اصول ک پ بند نہیں رہت ۔ عوا نم ئندوں کو‘ اہل
رائ سمجھ کر‘ ووٹ دیت ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیت ہیں‘ کہ یہ
جو کریں گ ‘ اچھ ہی کریں گ ۔ ان ک کی ‘ عوامی فلاح و بہبود
ک لی ہی ہو گ ۔ ج اخب ر اور ریڈیو‘ ان ک کی کی‘ خبر
پ ت ہیں تو ان پر دکھ ک پہ ڑ ٹوٹ پڑت ہیں۔ آخر‘ میڈی
والوں کو‘ خبر کیس ہوئی اور انہیں‘ رپوٹنگ کی جرآت ہی
کیوں ہوئی۔ وہ سمجھت ہیں میڈی صرف نغم سن ن اور ان
کی ک رگزاری کی تشریح اور ت ریف و توسیف ک لی ہ ۔
اخب ر اور ریڈیو‘ کوئی بہت بڑی ہی خبر سن ت ہیں۔ یہ بھی کہ‘
اخب ر اور ریڈیو‘ اصل حقیقت کو بھی پیش نہیں کرت ۔ ح ل ہی
میں‘ پ ک بھ رت جنگ خت ہوئی ہ ۔ جنگ ک دوران‘ ریڈیو
اور اخب ر بڑی حوص ہ افزا خبریں سن ت تھ ۔ جنگ ک
خ تم پر م و ہوا ہ ‘ کہ آدھ م ک ہی‘ ہ تھ س نکل گی
ہ ۔ رگڑا کی دین تھ ‘ رگڑا لگ گی ہ ۔
396
روزہ‘ تزکیہءن س ک لی ‘ اع ی ترین ذری ہ ہ ۔ اس س ‘
بھوک کی ت خی ک اندازہ ہوت ہ ۔ رک ج ن ہی‘ روزے ک پہلا
اور آخری مقصد ہوت ہ ۔ رکن کی ‘ یہ ں تو خرابی میں اور تیزی
آ ج تی ہ ۔ روزے دار کہت ہ ‘ میرے منہ میں روزہ ہ ‘
جھوٹ کیوں بولوں گ ۔ ح لاں کہ وہ جھوٹ بول رہ ہوت ہ ۔
پہ ک تولت تھ ‘ روزہ رکھ کر‘ ک تولن ک س تھ س تھ‘
ملاوٹ کو بھی ش ر بن ت ہ ۔
ان پڑھ لوگوں کو تو چھوڑی ‘ جو لوگ‘ ع ح صل کرت ہیں‘
وہ تو‘ ان پڑھ لوگوں کو بھی‘ پیچھ چھوڑ ج ت ہیں۔ پڑھ ئی‘
روشنی ک ن ہ ۔ یہ کیسی روشنی ہ ‘ جو ت ریکیوں کی
نم ئندہ ہ ۔ آج پڑھ لکھ ‘ ش طر بن گی ہ ۔ دفتر میں ہ ‘ تو
رشوت لیت ہ ۔ دفتر ک ب ہر ہ ‘ تو تقسی ک دروازے کھولت
ہ ۔ کت بیں اور است د‘ تو دو نمبری نہیں سکھ ت ۔ ع ‘ سچ ئی
کی طرف ل ج ت ہ ۔ آج ک سچ تو یہ ہ ‘ کہ عدل و انص ف
کو‘ رشوت کی نوک پر رکھو‘ اور خو کم کر جیبیں بھ ری
کرو۔ درحقیقت‘ ع کرسی ک حصول ک لی ح صل کی ج ت
ہ ۔ کرسی ک م ن ‘ رز میں فراخی ک سب بنت ہ ۔
جس پیٹ میں‘ رز حرا چلا گی ‘ وہ حلال دا کس طرح رہ ۔
حرا لقموں س بنن والا خون‘ سر س پ ؤں تک‘ گردش کرت
ہ ۔ جس جس میں؛ حرا خون دوڑ رہ ہوت ہ ‘ اس پیٹ وال
ک ‘ جس ک جم ہ کل‘ کس طرح درست اور فطری
397
اصولوں پر‘ استوار ہو سکت ہیں۔ حرا کھ ن وال ‘ شرعی
واجب ت ک ذری ‘ خود کو حلال دا ث بت کرن کی‘ کوشش
کرت ہیں۔ سوال یہ ہ ‘ کہ وہ حلال دے ہو ج ت ہیں؟ اگر
نہیں‘ تو انہیں اور ان کی اولادوں کو‘ حرا دا کیوں نہیں کہ
ج ت ی ترچھی اور م نی خیز‘ نظروں س کیوں نہیں دیکھ ج ت ۔
میں‘ پ نچ وقت‘ ب جم عت نم ز ادا کرن کی دل و ج ن س ‘
کوشش کرت ہوں۔ ہر س ل‘ ب ق عدگی س روزے رکھت ہوں۔
پچھ س ل‘ حج بھی کرک آی ہوں۔ الله مجھ ‘ میری ضرورت
س ‘ کہیں بڑھ کر عط کر دیت ہ ۔ اس لی ‘ میں رز حرا پر
ل نت بھیجت ہوں۔ میں اپنی بیوی‘ جو اسی علاق کی ہ ‘ ک
سوا‘ ہر عورت کو‘ اپنی م ں بہن سمجھت ہوں۔
میں اپن مح ہ چھوڑ کر‘ دور دراز علاق میں‘ آ بس ہوں۔ یہ ں
مجھ کوئی نہیں ج نت تھ ۔ ابتدا میں‘ صرف اطراف ک ‘ ہ
س ئ ہی‘ میرے ن اور ک س آگ ہ تھ ۔۔ ا تقریب پورا
مح ہ مجھ ج نت ہ ۔ ایک س ل پہ ‘ مجھ اچ نک‘ مسجد
میں‘ اپن علاقہ ک ‘ م ک ص ح مل گی ۔ ان ک ‘ یہ ں دور
ک رشتہ دار رہت تھ ۔ وہ انہیں‘ کسی ک ک س س میں
م ن آئ تھ ۔ میں بڑے تپ ک س ‘ انہیں گ م ن ک
لی ‘ آگ بڑھ ۔ پہ تو‘ انہوں ن مجھ بڑے غور س
دیکھ ۔ گ م ن کی بج ئ بول اوے توں جین ں ی بھ دا پتر‘
شیدا حرا دا ایں۔ مسجد میں دو چ ر نم زی رہ گی تھ ۔ یہ
398
جم ہ کسی ایک ک سن لین ‘ عزت کو خ ک کرن ک لی ‘ ک فی
تھ ۔ میں جوا دی بغیر‘ مسجد س نکل کر گھر آ گی اور
سوچن لگ ۔
مح ہ میں‘ ایک ح جی ص ح بھی رہت ہیں۔ ض ی دفتر میں
ملاز ہیں۔ س ان کی عزت کرت ہیں۔ پنج وقت نم زی ہیں۔
پچھ س ل‘ حج کرک آئ ہیں۔ یہ حج‘ انہوں ن رشوت کی
کم ئی س کی ۔ رشوت کی کم ئی س ‘ انہوں ن ٹھیک ٹھ ک
ج ئداد بن لی ہ ۔ پچ س س ‘ تج وز کر ج ن ک ب وجود‘
عورتوں ک بڑے شوقین ہیں۔ ان ک بس چ تو‘ روزن نش ط
میں ہی‘ بسیرا کر لیں۔ انہیں کوئی حرا دا نہیں کہت ‘ ح لاں کہ
ان ک کوئی ک حلالی نہیں۔
میں حرا دا ہوں‘ ی زن ک ر حرا دے ہیں۔ میں خود تو‘ تخ ی
نہیں پ گی ۔ طریقہء تخ ی تو مشترک ہ ‘ لیکن اس میں مذہبی
اور سم جی ضوابطہ س انحراف موجود تھ ۔ سم جی اور مذہبی
انحراف‘ مجھ س تو سرزد نہیں ہوا تھ ۔ انحراف کرن وال ‘
سم ج میں بہ طور حلال دے دندن ت پھرت ہیں اور انہیں کوئی
حرا دا نہیں کہت ۔ جس ک انحراف س ‘ ت واسطہ ہی نہیں‘
آج اٹھ ئیس برس ب د بھی‘ اپنی اور لوگوں کی نظر میں حرا دا
ہ۔
عجی روایت ہ ‘ رشوت خوروں کو کوئی حرا دا نہیں کہت ۔
399
جھوٹی گواہی دین وال ‘ ہر قس کی دو نمری کرن وال ‘
حلال دے ہیں اور میں‘ حرا دا ہوں‘ جو دینی واجب ت‘ خ وص
نیتی س ادا کرت ہوں۔ دو نمبری س ‘ دور بھ گت ہوں ان حق ئ
ک ب د‘ ایک عرصہ گزر ج ن ب د بھی‘ میں حرا دا ہوں۔
کوئی تو بتلائ ‘ کہ حرا دا کون ہ ‘ میں ی سم جی دو نمبر
م ززین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
7-4-1973
400
مکر بندہ حسنی ص ح :سلا ع یک
آپ ک انش ئیہ پڑھ اور کچھ سوچ کر بیٹھ گی ۔ یہ مسئ ہ کوئی آج
ک تو نہیں ہ ۔ یہ ہم رے م شرہ ک ازلی المیہ ہ ۔ ہ نم ز،
روزے ،حج کو اسلا کی ابتدا اور انتہ ج نت ہیں اور اس
پیم نہ پر ہر ایک کو پرکھت ہیں۔ سو تو ٹھیک ہ لیکن ج
ایم نداری ،رشوت ،بد عنوانی ،حرا خوری ک مرح ہ آت ہ تو
سوائ "میرے" ہر شخص مجر ہوت ہ اور گردن زدنی۔ اپن
گریب ن میں کوئی جھ نک کر نہیں دیکھت ۔ پچھ دنوں ہندوست ن
گی تو ایک بزرگ (جو کہ عمر بھر کچہری میں صدر ق نونگو
رہ ہیں اور رشوت پر گزارہ ہی نہیں کی ب کہ مک ن دوک ن
بنوائ ہوئ ہیں) س میں م ن گی ۔ وہ اپن ص حبزادے کو
سمجھ رہ تھ کہ دفتر نہ ج ی کرو۔ ج دوسرے نہیں آت تو
ت کیوں ج ت ہو۔ بس پہ ی ت ریخ کو ج کر تنخواہ ل آی کرو۔
موصوف ک ہ تھ بھر س ید داڑھی ہ اور پنج وقتہ نم ز پر
سختی س ع مل ہیں ۔ میں ن ج اد س عرض کی کہ آپ
اپنی اولاد کو حرا ک ک لئ ت کید کر رہ ہیں تو الٹ مجھ
پر بگڑ پڑے کہ دنی کرتی ہ تو ہ کیوں نہ کریں۔ عرض کی کہ
دنی زن کرے گی تو آپ بھی کریں گ اور ۔۔۔۔۔ کھ ئ گی تو وہ
آپ بھی کھ ئیں گ ؟ ص ح وہ ایس بکھرے کہ الله دے اور
بندہ ل ۔ میں ن اپنی ع فیت اسی میں ج نی کہ اٹھ کر چلا