659
خدمت س ‘ افضل کو کچھ سکون ملا‘ اور پھر وہ‘ گہری نیند
سو گی ۔ عن ئت ں بھی‘ س رے دن کی محنت کی وجہ س ‘ تھکی
ہوئی تھی‘ اوپر س ‘ افضل کی پریش نی آ گئی تھی۔ اس بھی
گہری نیند ن آ لی ۔
فجر کی نم ز ک لی ‘ افضل کو‘ عن ئت ں ن ‘ اٹھ ن چ ہ ‘ لیکن
وہ نہ اٹھ ۔ پھر اس ن ‘ اس زور س ہلای ‘ اس ک جس برف
ہو چک تھ ۔ اس ک چہرے پر‘ کر ک ن و نش ن تک نہ تھ ۔
ب لکل ن رمل اور ہش ش بش ش چہرا تھ ۔ وہ تو ابدی نیند سؤ چک
تھ ۔ عن ئت ں لٹ گئی تھی۔ وہ جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ قدرت
ک ک موں میں‘ ک کوئی دخل دے سکت ہ ۔ کچھ بھی کر لو
ہونی ٹ تی نہیں۔
عن ئت ں ک سر پر‘ ن صرف اپن ‘ تین بچوں ک بوجھ بھی‘ آ پڑا۔
وہ بلاشبہ‘ بڑی ص بر اور ش کر عورت تھی۔ اس ن ‘ کبھی کسی
ک س من ‘ دست سوال دراز نہ کی ۔ وہ سمجھتی تھی‘ کہ اس
س ‘ افضل ک ک ن میلا ہو گ ۔ رات کو جرخ ک تتی‘ صبح کو دو
تین گھروں میں‘ برتن کپڑے وغیرہ ص ف کرتی۔ بڑی خوددار
عورت تھی۔ اس کی ہمت اور حوص کی‘ داد نہ دین ‘ سراسر
زی دتی ک مترادف ہو گ ۔ چند س لوں میں‘ محض ہڈیوں ک ‘ ڈھیر
ہو کر رہ گئی۔ لیکن ایک ب ت ہ ‘ اس ن بچوں کو‘ پھولوں کی
طرح پ لا۔ وقت کی گرمی سردی‘ اس ن اپنی ج ن پر برداشت
کی۔ بچوں ک سکول ک ‘ لب س ص ف ستھرا ہوت ۔ ان ک بست ‘
660
خود تی ر کرتی۔ ہر بست میں‘ کھ ن کی کوئی ن کوئی چیز‘
ضرور رکھتی۔ ج وہ سکول ج ن لگت ‘ انہیں گ لگ تی‘
چومتی اور پی ر کرتی‘ دروازے تک چھوڑن ج تی‘ اس ک
موقف تھ ‘ کہ میری تو جیس تیس گزر گئی ہ ‘ میرے بچ
تو‘ آسودہ زندگی بسر کریں گ ۔
جوان اور قبول صورت تھی‘ عقد ث نی‘ اس ک شرعی ح تھ ۔ دو
تین پیغ بھی آئ ‘ لیکن اس ن ص ف انک ر کر دی ۔ بچوں کی
خ طر‘ اس ن اپنی ذات کو‘ یکسر نظر انداز کر دی تھ ۔ اس دنی
میں‘ شخص اپنی ذات س ب ہر‘ ایک قد بھی ادھر ادھر نہیں
ہوت ۔ شخص کو نقص ن پچ ن س پہ ‘ نقص ن پنچ ن والا‘
یہ کیوں نہیں سوچت ‘ کہ اتن بڑا کرن میں‘ کسی م ں کو‘ کی
کچھ‘ کرن پڑا ہو گ ۔ کتنی مشقت اٹھ ن پڑی ہوگی۔ اذیت دین
والا بھی‘ کسی م ں ک بیٹ ہوت ہ ‘ اگر وہ غور کرے‘ کہ اس
کی م ں‘ اس بڑا کرن ک لی ‘ کن مراحل س گزری ہو گی۔
م ں اس کی ہو‘ ی اس کی‘ عزت کی مستح ہوتی ہ ۔ م ں ک
منہ دیکھت ہوئ ‘ اگر م فی کو ش ر بن ی ج ئ ‘ تو خرابی
جن ہی نہیں ل سکتی۔
مجھ اچھی طرح ی د پڑت ہ ‘ کہ میری ام ں ن مرغی پ ل
رکھی۔ وہ اکیس دن انڈوں پر بیٹھی۔ ح جت اور کچھ کھ ن یین
ک لی ‘ چند لمحوں ک لی نیچ اترتی۔۔ اکیس دن ک ب د‘
چھوٹ چھوٹ ‘ ننھ ننھ بچ نک ۔۔ ایک انڈا گندا نکلا۔
661
وہ ب ر ب ر‘ اس کی طرف پھرتی تھی۔ پ لتو ب ی تو الگ‘ آوارہ
ب ی ک آن ‘ مرغی۔۔۔۔۔۔۔ ہ ں مرغی ن ‘ جو ک زور ترین ج نور
ہ ‘ بند کر دی ۔ اڑا کر‘ اس کی آنکھوں کو نش نہ بن تی۔ ح لاں کہ
مرغی ب ی ک شک ر ہوتی ہ ۔
مرغی کو ایک طرف رکھی ‘ گیڈر بزدل ترین‘ ج نور شم ر ہوت
ہ ۔ میں چش دید ب ت بت رہ ہوں‘ ایک گیدڑی ن بچ دی
تھ ۔ اس ن س نہہ کتوں ک ‘ ادھر گزرن بند کر دی ۔ آج سوچت
ہوں‘ تو یقین نہیں آت ۔ لیکن یہ س ہوا‘ میں ن اپنی انکھوں
س دیکھ ۔
میں ایک درخت ک نیچ ‘ تھوڑی دیری سست ن ک لی رک ۔
م دہ کوا ن بچ نک ل رکھ تھ ۔ چند ہی لمح ب د‘ م دہ کوا
ن ‘ میرے م تھ پر ایس ٹہونگ م را‘ کہ مجھ ن نی ی د آ گئی۔
میں ن انہیں نقص ن کی پنچ ن تھ مجھ تو ان ک ہون ک
ع تک نہ تھ ۔
بچ ج نور ک ہوں‘ ی انس ن ک بڑے پی رے لگت ہیں۔ ان
کی اٹھکی ی ں دل کو موہ لیتی ہیں۔ انہیں م ر دین ‘ پتھر دلی کی
حد ہوتی ہ ۔ پیدائش س مک ش ہ تک‘ الف لا س والن س
تک‘ بھگوت گیت اور رام ئن میں س ‘ کوئی حوالہ نک ل کر دکھ
دیں‘ جس میں بچوں پر تشدد ی قتل کر دین ک حک موجود ہو۔
حضرت مہ آتم بدھ کی ت یم ت‘ ہتھی کی اج زت نہیں دیتیں۔ گرو
662
گرنتھ ص ح ک ‘ میں ن ایک ایک شبد‘ ٹٹولا ہ ‘ کہیں بچوں
ک قتل ی ان پر ظ ک حک موجود نہیں۔
میں ن انٹر نیٹ پر‘ جنگ عظی دو ک حوالہ س ‘ ایک
تصویر دیکھی۔ چھوٹ چھوٹ ‘ م صو ‘ پی رے پی رے بچوں
کو‘ ننگ پ ؤں سپ ہیوں کی بندو کی نوک پر‘ بھ گت دیکھ ۔
ایک چھوٹی سی بچی‘ ب مشکل بھ گ رہی تھی۔ میری آنکھوں
ک س من ‘ عن ئت ں گھو گئی۔ ان کی م ں‘ کس طرح‘ صبح
سویرے اٹھ کر‘ انہیں لاڈ پی ر س ‘ گ لگ کر‘ سکول بھیج
کرتی ہو گی۔ اچھ ہوا‘ وہ مر گئیں۔ وہ یہ س دیکھ نہ پ تیں۔ وہ
ان سی ہیوں ک ڈکرے ڈکرے کرن کی کوشش کرتیں۔ میرا اس
دھرتی س ‘ کوئی رشتہ نہیں۔ وہ بچ ‘ میرے حس ونس
س مت نہیں ہیں۔ اس حقیقت ک ب وجود‘ میں س ری رات‘
ب چینی اور پریش نی س ‘ بستر پر کروٹیں لیت رہ ۔ میں سوچت
رہ ‘ آخر وہ کون تھ ۔ انہیں انس ن کہن ‘ انس نیت کی تذلیل و
توہین ہ ۔ وہ کسی انس نی م ں کی اولاد ہو ہی نہیں سکت ۔
انہیں انس نی م ں کی اولاد کہن ‘ کسی بھی سطح پر‘ درست قرار
نہیں پ سکت ۔
کسی انس نی م ں کی اولاد‘ کسی دوسری م ں کی اولاد پر‘ ظ
کی اس حد تک ج ہی نہیں سکتی۔ بندو کی نوک‘ سر جھک ن
پر مجبور کر سکتی ہ ‘ لیکن اس س ‘ دل فتح نہیں ہو سکت ۔
قبضہ و تصرف کی ہوس‘ تص د ک دروازے کھولتی ہ ۔ م ں
663
کی محنت‘ مشقت اور پی ر س ‘ پروان چڑھن وال بچوں کو
لہو میں نہلاتی ہ ۔ ت وار کی فتح کو‘ فتح ک ن دین ‘ کھ ی
جہ لت ہ ۔ ہ ں م ں ک س ‘ پی ر س ‘ دل جیتو‘ ت کہ کمزور
طبق ‘ سکھ ک س نس ل سکیں اور انس نیت‘ سسکن ب کن
س ‘ مکتی ح صل کر سک ۔
664
سلا ع جزانہ
جن ڈاکٹر مقصود ص ح آپ کی تحریر پڑھی دل میں برسوں
سو ہو جذبہ رح دلی جگ گئ
ہم ری طرف س اتنی اچھی تحریر لکھن پر بھرپور داد قبول
کیجئ
جن ڈاکٹر ص ح ہم را ع اتن وسیع نہیں کہ ہ اس ب ت کی
گہرائی تک پہنچ سکیں
ل ظ "حضرت"جس ک ک فی ل ظی م نی ہیں لیکن اکثر یہ ل ظ
ت ظیم است م ل کی ج ت ہ لیکن زی دہ تر یہ ل ظ کسی پیغمبر ی
الله ک ولی ک ن ک س تھ آی
".......حضرت مہ تم بدھ کی ت یم ت"
ہمیں مہ تم بدھ ک ب رے میں زی دہ ع نہیں لیکن میں ن یہ
ل ظ ان ک ن ک س تھ پہ کبھی نہیں پڑھ
ہ چونکہ مہ تم بدھ ک ب رے میں کچھ نہیں ج نت ممکن ہ
کہ پہ بھی ان ک ن ک س تھ یہ ل ظ است م ل ہوا ہو لیکن
پھر بھی آپ س گزارش ہ کہ تس ی بخش جوا دیں جس
س ہم رے ع میں اض فہ ہو
غ طی گست خ م ف
665
دع ہ کہ الله آپ کو اور زور ق عط کرے
مجھ اپنی دع ؤں می ی د رکھیں
فی ام ن
س جد پرویز آنس
tovajo ke liay ehsan'man hoon
Allah aap ko khush rakhe
lafz hazrat kalma e tazeem bhi hai manfi
mafaheem main bhi mostamal hai.
lafz khalipha ki bhi yah hi surat hai.
mein nay ba'toor izzat istamal kya hai
Allah ne koee aisi jaga na ho gi jahan daranay wala
islah karnay wala sach bolnay wala bhaija na ho ga
janab Soqrat, janab Zartusht, janab Kirishan
maharaj, janab Maha'atma Budh jin ka status
666
taqribun na'maloon main hai ta'hum oon ki
talimaat se wazay hota hai kah woh moslay thay
Imam Hussain nabi nahain thay, laikin sach bonay
aur sach ki khatar jan dainay waloon main shaed
oon ke moqam ko koee ponchta nazar nahain aata
her sachay, islah karnay walay aur insaniat ke
khidmat'gar ki izzat karna lazam banta hai
kisi mazhab ke baray ko izzat se bolao ta'kah woh
bhi hamaray her baray ke liay izzat ke alfaf istamal
karain.
sachay aur kharay logoon ko khah woh koee bhi
hoon izzat daina darhahiqat khud ko izzat daina
hai
insaf ka bhi ya hi taqaza hai
ehtaram aur piyar karnay wale hi izzat aur ehtaram
ke mostahiq hotay hain
Munsoor riyasat ke matoob thay lain aaj bhi diloon
main jaga rakhtay hain
667
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
تحریر ایسی ہ ،کہ پڑھن ک فوراً ب د دل چ ہت ہ کہ بس
اس پر ُکچھ لکھت چ ج ئیں۔ ہ ن پڑھ لی تھی ،اور پھر
لکھن چ تو محتر س جد پرویز انس ص ح ن ُکچھ
وض حت ک لیئ درخواست کر دی۔ ہ ُرک گئ کہ ا اپ س
مذید ُکچھ سیکھن سمجھن کو م گ ۔
جن ب لکل بج ہ ،بندو ک زور پر فتح ،فتح نہیں ہوتی۔
ب کہ ط قت ک است م ل ہی ہم رے نذدیک ُبزدلی ہ ۔ کی ہی اچھ
ہوت کہ وہ تصویر بھی ہمیں دیکھن کو مل ج تی۔ درست ہ کہ
کسی مذہ ن ،چ ہ ہ اس کتن ہی جھوٹ کیوں نہ ث بت
کریں ،کبھی جبر کو پسند نہیں ،کی ۔ ہر مذہ ن نیکی اور بدی
ک فر کو واضح کرن کی کوشش کی ہ ۔ نیکی کرن اور
بدی س پرہیز ک درس دی ہ ۔ سدھ رتو ک اپ ن ذکر کی ۔
ایک ب ر فرم رہ تھ کہ دو ط قتیں وجود رکھتی ہیں۔ نیکی
کی اور بدی کی۔ نیکی پر چ و اور بدی س ُرکو۔ تو کسی ن
پوچھ کہ نیکی اور بدی ک کیس پتہ چ گ کہ کونسی نیکی
ہ اور کونسی بدی۔ مسکرا کر فرم ی کہ اپن اپ س پوچھو۔
کی ُتمہیں نہیں م و کہ کی نیکی ہ اور کی بدی۔ پھر فرم ی کہ
نیکی کی ط قت س س کچھ وجود میں ای ہ ۔ ہر مخ و کی
668
مٹی میں نیکی اور بدی کی ت ری ک ع موجود ہ ۔ اُن ک مق
واق ی بہت اونچ تھ ۔ ا اس طرح کی ت یم ت کوئی ع شخص
نہیں دے سکت ۔ س ج نت ہیں کہ اُنہوں ن تخت ش ہی چھوڑ
کر جنگل میں کتن ہی دن چ ہ ک ٹ وہ بھی صرف اس لیئ کہ
انس ن ک ُدکھوں ک حل ج ن سکیں۔ کوئی خدا کو اس طرح
ُپک رے اور اُس جوا نہ م ایس تو ہوت نہیں۔
اپ ن ُسقراط ک ذکر کی ۔ اُن کی ت یم ت کو ہمیں ت صیل س
پڑھن کی ضرورت ہ ۔ البتہ سری گرو گرنتھ ص ح کو تو ہ
ن بھی پڑھ ہ ۔ چونکہ ب ب گرو ن نک کی امد انبی ک ب د
ہوئی ہ ،سو ان ک ب رے یقین ً کہ ج سکت ہ کہ وہ پیغمبر
نہ تھ ۔ لیکن اُن کی ت یم ت بھی ویسی ہی ہیں جو نیکی کی
ترغی دیتی ہیں۔ ہم رے خی ل س تو ب ب گرو ن نک ص ح راہ
بھٹک ہوئ س لک تھ ۔ ہمیں راسپوٹین ک مذہ ک ب رے
بھی پڑھن ک ات ہؤا۔ جن وہ ں بھی تشدد برطرف ہ اور
وہ بھی بچوں پر۔ خدا کی پن ہ۔
اپ کی یہ تحریر خصوصی طور پر اہ ہ ۔ اس کی ت ی وقت کی
اشد ضرورت ہ ۔ ہر کوئی صرف اپنی بیوی ک بچ کو اپن
بچہ سمجھت ہ اور یہ ع ل ج نوروں پرندوں ک بھی ہ ۔ لیکن
ہ سمجھت ہیں کہ بچ س نجھ ہون چ ہیئں۔
669
پچھ دونوں ایک ص ح ن فیس ُبک پر کسی بھوک ننگ
بچ کی تصویر پر اپن خی لات ک اظہ ر ان ال ظ میں فرم ی کہ
:یہ ُخدا ص ح ک بچہ ہ ۔ اس کہو سنبھ لت کیوں نہیں اپن
بچہ :۔۔۔ ہ ن جواب ً عرض کی تھی کہ :ص ح ! یہ خدا ص ح
ک بچہ نہیں ہ ۔ یہ میرا بچہ ہ ۔ اج اپ اپنی بیوی ک بچوں
ک منہ میں تو اس بچہ ک س من خود ائس کری ک چمچ
ڈالت ہیں اور یہ نہیں کہت کہ خدا ا کر ڈال ،لیکن اس خدا
ک بچہ کہہ کر اس ک حوال کرت ہیں۔ میرا وعدہ ہ اپ
س کہ کل یہ بچہ اپ ک بچوں کو بموں کی بھینٹ چڑھ ئ گ
:اور ت اپ کہیں گ کہ یہ ُخدا ک نہیں شیط ن ک بچہ ہ
ُکچھ زی دہ ہی جذب تی کر دی اپ کی تحریر ن ۔ دع ہ کہ اپ کی
اس تحریر س زی دہ س زی دہ لوگ است ضہ ح صل کر سکیں۔
ُدع گو
وی بی جی
670
bila shuba A1 izhar-e-khayaal
yah dehshast'gard hain
ke onwan se acha khasa mazmoon aap ko
www.scribd.com par mil ja'ay ga. wahaan
mein ne tasaveer bhi di hain. sikhism par
maira eak mazmoon hai aap bhi daikh lain
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
ُبہت خو جن ۔ اندازہ ہوت ہ کہ اپ کی نگ ہ کہ ں کہ ں تک
ُپہنچی ہ ۔ اور کونس م شرتی ،سی سی ،دینی م م ہ نہ ہوگ کہ
جہ ں اپ ن اس قدر ع ح صل کر رکھ ہ اور ہ تو یہ
سمجھت ہیں کہ فقط م ملات پر ع ح صل کر لین ہی ک فی
نہیں ہوت ،ب کہ اپ کی تحریریں ص ف بت تی ہیں کہ کس قدر غور
بھی کرن پڑا ہو گ اور پھر کسی نتیجہ کی طرف ذہن راغ ہؤا۔
ہم ری طرف س اس مضمون پر بھی داد قبول کیج ۔
در اصل ایک ہی منظر کو دیکھن ک ُمخت ف مق م ت ہو سکت
ہیں۔ اپ ن جس مق س اس منظر کو دیکھ اُس ُبہت ہی
671
خوبصورت انداز میں بی ن بھی کر دی ۔ اپ ک ق کو قدرت ن
زور بخش ہ ،کہ ہمیں وہ من ظر ص ف دکھ ئ ب کہ سیر
کروائی۔ ہ اس م م ہ کو ایک اور نقطہ نگ ہ س دیکھت ہیں۔
اس ک مقصد اپ ک ب ت س غیر مت ہون ہر گز نہیں ہ ۔
ب کہ ایک نقطہ نگ ہ سمجھ لیج جو ہ اپن ال ظ میں اپ تک
پہنچ ن کی کوشش کرت ہیں ،اگرچہ ہم رے ہ تھ میں ایک
کمزور ق ہ ۔
اہ نقطہ س ابتدا کرت ہیں کہ حضرت موسی کی قو یہودی،
عیسی کی قو عیس ئی ،اور محمد کی قو مس م ن کہلاتی ہ ۔
اگر مس م ن کی پہچ ن ک مہ ک پہ حصہ تک سمجھی ج ئ
تو دنی کی تقریب ً فی صد اب دی مس م ن نظر ائ گی۔ ی نی
توحید پر ق ئ ۔ اگر نیک اور اچھ اعم ل دیکھ ج ئیں تو بھی
ایک بہت بڑی ت داد ک مہ کو م ن ی نہ م ن ،مس م ن نظر ائ
گی۔ مس م ن کی پہچ ن ی تشخص کو ک مہ ک دوسرے حص
س ہی پہچ ن ج ت ہ ۔
اپ ن جو ب تیں بی ن فرم ئی ہیں وہ بھی ب لکل بج ہیں۔ سکھ
مذہ صوفی نہ طرز ہ ۔ اس س ہ بھی فی صد مت
ہیں۔ پھر سوچن کی ب ت یہ اتی ہ ،کہ صوفی نہ طرز ع
اسلا س الگ کیس اور کیوں۔
672
ہ ن اس ب ت ک جوا جہ ں پ ی ی جس ہ ن جوا سمجھ
وہ صوفی ک کت بوں میں موجود ہ ۔ اور خ ص طور پر مجدد
الف ث نی ص ح ن یہ نقطہ واضح کر رکھ ہ ۔
فرم ت ہیں کہ صوفی ک رست پر ہر شخص ،چ ہ ہو
مس م ن ہو ی نہ ہو ،چل سکت ہ ،اور درج ت پ سکت ہ ۔
ایس کئی صوفی ہندوست ن میں بھی مل ج ت ہیں جو ہندو ہیں،
لیکن نہ صرف س دھو ب ب بن گئ ہیں ،ب کہ چھوٹ موٹ
ایس م جزے بھی کر دکھ ت ہیں جن کو دیکھ کر لوگ دنگ
رہ ج ت ہیں اور اُن ک پیروک ر ہیں۔ البتہ چونکہ وہ اسلا ک
راست پر نہیں ہوت سو راہ بھٹک سکت ہیں۔ یہ راستہ ُبہت
کٹھن ہ اور ہر قد راستہ بھولن ک اندیشہ ہوت ہ ۔ ایسی
صورت میں ضروری ہ کہ ایک اُست د ی مرشد بھی ہو جو اپ
کو راستہ بھٹکن س بچ ئ رکھ ۔ مدد الف ث نی ص ح
فرم ت ہیں کہ اُست د کی غیر موجودگی میں ی پھر اسلا ک
راستہ س ہٹ کر کسی ن شدھ گی ن کی وہ راستہ ضرور
بھول ج ت ہ ۔ اور ایس ش ید ہی کبھی ہؤا ہو کہ کوئی ان دو
لازمی چیزوں س قطع نظر رست پر چل کر منزل پ سک ہو۔
اُن ک نذدیک کئی صوفی راستہ بھٹک گئ ہیں۔ اور ہ ن اس
ب ت س سکھوں س مت یہ نتیجہ اخذ کر لی کہ ممکن ہ
کہ ب ب گرو ن نک کہیں راستہ بھٹک ہوں۔ اُن ک عمل میں
نم ز ،روزہ ،وغیرہ جیس اسلامی احک م ت کی پ بندی نہیں نظر
673
ائی ،لیکن اُن ک طرز زندگی ،اُن کی ت یم ت اسلا ہی کی
ت یم ت ہیں۔ اُن کی زندگی ک اخری دن اسلا پر زی دہ پ بند
ہوت چ گئ ۔ ش ید ی پھر یقین ً انہوں ن اسلا کو دری فت
کر لی تھ لیکن اُن کی ت یم ت ن ایک ع یحدہ مذہ کی ُبنی د
رکھ دی۔ جس کی وجہ ہم رے ذہن میں یہی اتی ہ ،کہ اسلا
ایک دین ہ جو الله ن بن بن ی مس م نوں ک حوال کر دی ۔
لیکن کوئی شخص محنت س ی گی ن س اس ک ایک ایک رکن
اور ایک ایک ایت قرانی کو دری فت نہیں کر سکت ۔
یہ ہم رے خی لات ہیں اور جو چھوٹی موٹی سی اور محدود عقل ہ
اُس ک بی ن ہ ۔ ہ سکھوں کو مس م ن نہیں سمجھ سکت ،لیکن اُن ک
احترا اپنی جگہ ہ ۔ ہمیں یقین ہ کہ مس م نوں ک طرز عمل اُنہیں
کبھی مس م ن ہون نہیں دے گ اور نہ وہ خود کو مس م ن کہ وا کر
اپنی رہی سہی عزت گنوان چ ہیں گ ۔ لیکن س تھ یہ بھی یقین ہ کہ
انہیں تھوڑی ہی ت ی کی ضرورت ہ ۔ وہ دور نہیں ہیں۔
اُمید ہ اس اپ اختلاف رائ نہ سمجھیں گ ۔ اور اپنی محبتوں س
اس ن چیز کو محرو نہ فرم ویں گ ۔ کہ ہ فقط جو ح ل سو ح ضر ک
ف رمول پر عمل کرت ہیں۔
ُدع گو
وی بی جی
674
bari hi khoob'surat malomaat aap ne farahum
farmaee hain is ke liay ehsan'mand hoon. Allah
aap ko khush rakhe. namaz roza haj waghera ki
adaegi mosalman honay ke liay zarori hai laikin
islam ka amli zindgi se ta'alaq hai balkah yah
zindgi kay atwaar aur saliqay ka naam hai. is
zael main yah mazmoon parhain ge to ehsan ho
ga. zarori nahain kah aap is se itfaq farmaein.
dosra darwazay se darwazay tak par aap ki ra'ay
baqi ha
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا مسنون
کی ہی خوبصورت مضمون پیش کی اپ ن ۔ کئی ب ر ُسنت کہت رہ
کہ ہ لوگ کیس مس م ن ہیں کہ عمل نہیں س ع ری ہیں۔ لیکن جن
ال ظ اور انداز میں اپ ن یہی ب ت کہی ہ ۔ دل میں ُچبھ سی گئی ہ ۔
ُبہت ہی ش ندار جن ۔ بھرپور داد۔
اپ ن ہم ری ع دت خرا کر دی ہ کہ اپن خی لات ک اظہ ر اس
طرح ک ُھل کر کرن لگ گئ ہیں ،گوی بڑے ع ل ف ضل ہوں۔ ح لانکہ
ہ خ موشی اختی ر کی کرت رہ ہیں ،کہ ص ح اپن خی لات کی
ہمیں خود اتنی سمجھ نہیں تو انہیں کی بی ن کی ج ئ ۔ ُدنی میں اتن
سمجھ رکھن وال لوگ ہیں۔ ہم ری فضولی ت کی یہ ں کی ضرورت،
675
لیکن ا اہستہ اہستہ اپ ن ہمیں ع دت ڈال دی ہ کہ جو من میں
ائ لکھ چ ج ت ہیں۔ سو اسی ضمن میں ہم رے ذہن میں ُکچھ
خی لات :جمہوریت :ک حوال س ُگزرے ہیں۔ پیش کرن کی
جس رت کر رہ ہیں۔
ہم رے خی ل میں جمہوریت کی اس س کو سمجھن کی ضرورت ہ ۔
اس حوال س سی سی ت ب ت یہ ں س ُشروع کرتی ہ ،کہ ُدنی میں
ج کوئی بچہ پیدا ہوت ہ تو اس ُدنی کی ہر چیز پر اُتن ہی ح ل
کر پیدا ہوت ہ ،جتن کسی اور ک ۔ یہ ں ہر کسی کو اُتنی ہی ازادی
ح صل ہ جتنی کسی اور کو۔ جمہوریت کسی مذہ ،تنگ ،نسل کو
نہیں م نتی ،ب کہ ایس نظ ہ جو لوگوں کو یہ ح دیتی ہ کہ وہ
اپنی مرضی س جو چ ہیں کریں۔ عیس یوں ک م ک میں عیس یت اور
مس م نوں ک م ک میں اسلا ۔ ا ب ت ائی کہ اختلاف رائ ک کی کی
ج ئ ۔ ایسی صورت میں یہ ط پ ی کہ ،زی دہ لوگ جو چ ہت ہونگ
وہ ہوگ ۔ مثلاً گھر میں وہی پک گ ،جو زی دہ لوگوں کی رض مندی
ہوگی۔ اس ک ف ئدہ یہ کہ زی دہ س زی دہ لوگ کھ ن س اف دہ ح صل
کر سکیں گ ۔ ک لوگ بدمزہ ہونگ ۔ ایک خی ل یہ بھی ہ کہ کسی
مرض ک علاج تو ڈاکٹر ہی بت سکت ہیں۔ ع لوگوں کی رائ تو غ ط
ہی ہو گی۔ اُن کی ب ت بج ہ ۔ لیکن اس طرح ب ت ا ج تی ہ ڈاکٹروں
کی کہ وہ کتن ع ل ف ضل ہیں۔ دوسری ب ت کہ اسی ڈاکٹر ن صرف
ڈاکٹری نہیں کرنی ب کہ اس موچی ،مستری ،درزی اور ج ن کی کی
کرن ہ ۔ وہ س میں م ہر نہیں ہو سکت ۔ ایسی صورت میں ایس
شخص چ ہی جو ص ف نیت رکھت ہو۔ اور اس کو الیکٹ کرن ک
لیئ ہمیں صرف پڑھ لکھ لوگوں کو ووٹ ک ح نہیں دین ہوت ۔
676
ایک ح قہ یہ بھی کہت ہ کہ لوگ اپنی ن لی پکی کران ک لیئ
ووٹ دے دیت ہیں۔ جبکہ ہم را یہ خی ل ہ کہ وہ درست کرت ہیں۔
م ک کی ترقی اسی میں ہ کہ ن لی ں پکی ہو ج ئیں۔ اگر ہم رے مح
ک گھروں کی ن لی پکی نہیں ہوتی تو کوئی ب ت نہیں گھروں
کی ن لی ں پکی ہو ج ئیں یہ بہتر ہ ۔ س لوگ اپن علاقہ کی ترقی ک
م د دیکھت ہوئ ووٹ دیں تو یقین ً ک می اُمیدوار جس علاقہ ک
ہوگ وہ ں زی دہ اب دی اس ک مثبت ک س ف ئدہ ح صل کر سک گی۔
بندو دلوں کو فتح نہیں کر سکتی اور نہ ط قت ک ذری ُکچھ کسی
پر مس ط کی ج ن چ ہیئ ۔ ا ُکچھ لوگ اسلا کی ت ریف میں اس ُدنی
کی ہر چیز ک علاج کہت ہیں ،جبکہ ہمیں ذاتی طور پر اس س
اختلاف ہ ۔ جیس اسلا میں کہیں بھنڈی گوشت بن ن ک نسخہ
موجود نہیں ایس ہی نظ حکومت اسلا ک مضمون نہیں ہ ۔ وہ
ان رادی طور پر ہر شخص کو ت ی دیت ہ جو مل کر ایک س طنت بن
سکت ہیں۔ اسلا ہم ری نظر میں جمہوریت ہی ک درس دیت ہ ۔
کیونکہ دنی میں دو ہی طریق ہیں حکومت ک ۔ ایک یہ کہ کوئی جبراً
ح ک بن ج ئ اور کسی کو جوابدہ نہ ہو ،اور دوسرا یہ کہ لوگ خود
ح ک ط ین ت کریں۔
جمہوریت کی روح یہ ہ کہ عوا ک نم ئندہ چ ہ خود اختلاف ہی
کیوں نہ رکھت ہو۔ ہر مسئ ہ اپن لوگوں ک س من پیش کرے گ اور
جو کچھ لوگ اُس کہیں گ ی چ ہت ہونگ ،وہ وہی اعوان میں
بی ن کرے گ ۔ لیکن ایس ہوت نہیں ہ ۔ جس کی وجہ جمہوریت کی
کمزوری ہ ۔ جمہوریت کو صدی ں لگ ج تی ہیں پ ت ہوئ ۔ جمہوریت
لوگوں کو سکھ تی چ ی ج تی ہ کہ کیس اُنہوں ن اپن نم ئندہ
677
الیکٹ کرن ہ ۔ سو اس وقت دین ہوت ہ ۔ ہم ری قو ہمیشہ س
غلامی میں ہی رہ ہ ،سو اج بھی ووٹ اسی کو دیتی ہ جو لمبی
گ ڑی س اُترے اور اس ک س تھ بندو بردار لوگ ہوں۔ امیر کی بلا
وجہ بہت عزت کرتی ہ اور غری س ن رت کرتی ہ ۔ غری کو
ووٹ نہیں دیتی ،ب کہ اس پر ہنستی ہ ،اور امیر نہ بھی چ ہ تو اُس
کی خ د بنن کی کوشش کرتی ہ ۔ ہم رے ذاتی خی ل میں جمہوریت
انہیں س ُکچھ سکھ دے گی۔ ُکچھ وقت لگ گ ۔
ہ ن ُکچھ زی دہ ہی لکھ دی ۔ م ذرت ک س تھ کہ اپ ک وقت برب د
کرت ہیں۔ اپ کی تص ویر دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ جن دکھ ئی
کیس دیت ہیں۔
مضمون پر ایک ب ر پھر داد کہ جس طرح مس م نوں کو ائینہ دکھ ن
کی کوشش کی ہ اپ ن ،امید ہ کہ ُکچھ سر شر س ج ُھکیں گ
ضرور۔
ُدع گو
وی بی جی
678
shukarriya janab
aap ko nasar likhte daikh kar yaqein manain
mujhy bohat khushi hoti hai. zarori nahain
log aap se motfiq hoon yah aap darust keh
rahe hoon aap apna noqta e nazar to paish
kar rahe hote hain. behtri ki rahain khulti
hain. mera ab bhi moaqaf hai aap acha likhte
hain acha likh sakte hai issi tara likhte rehe
to kamal ke nasaar ho jaein ge.
Allah aap ke qalam ko barkat de
679
محتر جن ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سلا
اپ ک بیحد ُشکریہ کہ اس قدر ش قت س پیش ات ہیں ،وگرنہ ہ اس
ب ر کچھ سہم ہوئ تھ کہ کہیں کچھ گراں ن گزرے۔ اپ کی ب ت
بج ہ کہ اختلاف رائ ہمیشہ س ہوتی ہی ہ ۔ بقول جن ج ن ای ی
ص ح :اؤ اختلاف رائ پر ات کریں :۔۔ ہ اپ کو داد دین ات
ہیں ،لیکن اپ ویسی کی ویسی ہمیں ہی لوٹ دیت ہیں۔ الله پ ک اپ کو
ہمیشہ صحتمند اور خوش رکھیں۔ ہ :دروازے س دروازے تک :کو
دو س تین ب ر پڑھ چک ہیں ،لیکن انہم ک س پڑھن ک موقع
نہیں مل سک ۔ اپ کی تحریریں ایس ہی نظر س گزار لین ہمیں گوارا
نہیں۔ ج د بغور اور توجہ ک س تھ پڑھ کر ح ضر ہونگ ۔
ُدع گو
وی بی جی
kisi tehreer ko baar baar parhnay ya kisi
cheez ko bar bar malahza karnay ki adat
bohat hi achi hai. is se mahaheem ke dar wa
hotay chalay jatay hain.
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8981.0
680
پرای دھن
ہنسی مذا میں‘ احمق نہ گ ت گو ی حرکت چل ج تی ہ لیکن
سنجیدہ اور دکھ سکھ ک م ملات میں‘ احمق نہ گ ت گو ی
حرکت کی‘ سرے س گنج ئش نہیں ہوتی۔ بخشو ک بیٹ ک ‘
اس کی سگی س لی کی بیٹی س نک ح ہون ج رہ تھ ۔ شوک
کی م ں اور بہنیں‘ مخت ف نوعیت ک شگن کر رہی تھیں۔ وہ
س خوش تھیں۔ بذات خود شوک بڑا ہی خوش تھ ۔ بخشو بھی‘
خوشی خوشی جم ہ م ملات انج دے رہ تھ ۔ جوں ہی شوک
سہرہ ب ندھ ‘ گ میں م لا ڈال ‘ سجی پھبی گھوڑی پر
بیٹھن لگ ‘ بخشو ن نی ہی تم ش کھڑا کر دی ۔ اس ن شوک
کو گ لگ لی اور زاروقط ر رون لگ ۔ یہ ب لکل الگ س ب ت
تھی اور سمجھ س ب لاتر تھی۔ لوگ بیٹوں کی ش دی پر
خوشی ں من ت ‘ یہ احم رو رہ تھ ۔
پہ گ ں حس س ب اور حس ع دت آپ س ب ہر ہو گئی۔ اس
دن کچھ زی دہ ہی ہو گئی۔ اس ن بخشو کی بہہ بہہ کرا دی۔
بخشو ک لی ‘ یہ کوئی نئی اور الگ س ب ت نہ تھی۔ برداشت
کر گی ۔ برداشت کیوں نہ کرت ‘ جھوٹ تھ ‘ س فٹکیں دے رہ
تھ ۔ خوشی ں غ و غصہ میں بدل گئیں۔ وہ تو خیر ہوئی‘ چ چ
681
فض و س تھ تھ ۔ اس ن بیچ میں پڑ کر‘ بچ بچ ؤ ک رستہ نک ل
لی ‘ ورنہ جنگ عظی چہ ر ک آغ ز تو ہو ہی گی تھ ۔
تم رسمیں ہوئیں۔ شوک اور گھر والوں ن ‘ ج ی ہنسی اور
خوشی میں س نبھ ی ۔ ہ ں البتہ براتیوں کی ہنسی اور قہقہ
قط ی ج ی نہ تھ ۔ بخشو ن حرکت ہی ایسی کی تھی‘ آج تک
دیکھن سنن میں نہ آئی تھی۔ دوسری طرف لوگ یہ بھی
سوچ رہ تھ کہ بخشو ن ایس کی ‘ تو کیوں کی ۔ بخشو پ گل
نہیں‘ سی ن بی ن اور چ ر بندوں میں بیٹھن والا تھ ۔ م ملات
میں لوگ اس س مش ورت کرت تھ ۔ اس دن پت نہیں اس
کی ہو گی تھ ۔
س خ موشی اور حیرت میں‘ تم ہوا۔ دلہن گھر ل آئ ۔
شوک کی م ں اور بہنوں ن نئ جی ک گھر آن کی
خوشی ں من ئیں۔ رات دیر گی تک‘ بخشو پلا جھ ڑت رہ ۔ جی
ڈھی ی رکھن ک ب وجود‘ چھبتی اور زہرن ک نگ ہوں ک شک ر
رہ ۔ روٹی پ نی تو دور کی ب ت‘ کسی ن اس کی طرف دیکھن
تک گوارا نہ کی ۔ اس ن بھی خود کو‘ بری طرح نظرانداز کی ۔
سگریٹ پہ سگریٹ پیت رہ اور دیر تک چ رپ ئی پر کروٹیں لیت
رہ ۔
دھو ک ولیمہ ہوا۔ اچھ خ ص لوگ بلائ گی تھ ۔ خو
وصولی ں ہوئیں۔ کھتونی ک کئی کورے پن ک ل ہوئ ۔ تم
682
خرچ بخشو کی گرہ س ہوئ ‘ لیکن ہر قس کی وصولی ں‘
پہگ ں ک پ بندھیں۔ اس روز بھی اس کسی ن پوچھ تک
نہیں۔ اس کی حیثیت‘ گرہ دار موئ کت س زی دہ نہ رہی تھی۔
ش دی گزر گئی‘ لوگ اپن اپن ک موں میں مصروف ہو گی ۔
ص ف ظ ہر ہ ‘ بخشو ک س تھ بری ہوئی ہو گی۔ یہ واق ہ
دوستوں ی روں میں کئی دن‘ ب طور مذا چ ت رہ اور پھر گزرے
دنوں کی ی د س زی دہ نہ رہ ۔ ہر کوئی فکر م ش میں گرفت ر
ہ ‘ کون م م کی کھوج میں پڑت ۔
ایک دن بخشو دوستوں میں بیٹھ ہوا تھ ۔ اچھو ن شرارت اور
مذاق پوچھ ہی لی ۔
ی ر بخشو تمہیں کی سوجھی کہ بیٹ کی ش دی پر‘ خوش ہون
کی بج ئ ‘ اس گ لگ کر ب ں ب ں کرن لگ ۔ کتن احم ہو
ت بھی۔
بخشو جذب تی س ہو گی اور کہن لگ :آج تک سنت آئ ہیں‘
بیٹی ں پرای دھن ہیں۔ میں کہت ہوں یہ غ ط ہ ‘ بیٹی ں نہیں‘
بیٹ پرای دھن ہیں۔ میری ام ں ن ‘ اب ک م ں ب پ بہن بھ ئی‘
س چھڑا دی ۔ یہ ہی ت ئی ام ں اور مم نی ن کی ۔ خیر ان کو
چھوڑو‘ ت س بھ ئی‘ الگ ہو گی ہو۔ تمہ رے بڈھ بڈھی
ب چ رگی کی زندگی گزار رہ ہیں۔ کچھ دین لین تو دور کی
ب ت‘ زب نی کلامی نہیں پوچھت ہو۔ شوک بھی دوسرے ہ ت
683
ہی ہمیں چھوڑ گی ۔ کہ ں گی م ں ک پی ر اور م ں کی ممت ۔ وہ ں
شوک کی س س ک آرڈر چ ت ہ ۔ ہر جگہ ایس ہی ہو رہ ہ ۔
میں بھی‘ چوری چھپ ام ں اب س م ن ج ت تھ ۔ ت س
اپن گریب نوں میں جھ نک کر دیکھو‘ کتن کو اپن م ئی ب پ
ک فرم ں بردار ہو۔ بہن بھ ئیوں س ‘ کتنی اور کس سطع کی
قربت رکھت ہو۔ میں کہت ہوں‘ بیٹی ں نہیں‘ بیٹ پرای دھن ہیں۔
میرا بیٹ دور ہو رہ تھ ‘ کیوں نہ روت ۔
بخشو کی کھری کھری سن کر‘ س کو چپ سی لگ گئی۔ ایک
کرک س اٹھ گی ۔ بخشو اکیلا ہی رہ گی ۔ یہ م و نہ ہو سک ‘
کہ سچ کی کڑواہٹ برداشت نہ کر سک ی ندامت ک گھیراؤ کچھ
زی دہ ہی گہرا ہو گی تھ ۔
م شرے کی ایک ت خ سچ ئی پر کی خو نشتر چلای ہ ۔
شکریہ جن حسنی ص ح اس اع ی تحریر س نوازن پر۔
ڈاکٹر سہیل م ک
684
مکرمی حسنی ص ح :سلا مسنون
آپ ن جس مسئ کی "پول کھولی" ہ وہ ہ س پر گزر
چک ہ ،پہ خود اپن حوال س اور پھر اولاد ک حوال
س ۔ اور یقین ہمیشہ گزرت رہ گ ۔ میرے مرحو بڑے بھ ئی
کہ کرت تھ کہ "عورت کو س روپوں میں دیکھ ۔ بس اس
ک ایک ہی روپ خوبصورت ہ اور وہ ہ م ں کی شکل میں"
میرا خی ل ہ کہ وہ کچھ ضرورت س زی دہ جذب تی ہوگئ ۔
لیکن اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر بیوی نیک اور خدا
ترس نہ ہو (اورایسی نیک بخت ک ہی م تی ہ !) تو شوہر کی
زندگی دوزخ ہو سکتی ہ ۔ ایک اچھ مضمون ک شکریہ۔
سرور ع ل راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10271.0
685
حوص ہ
کری بخش ن چ لیس برس محنت مزدوری کی۔ بیوی بچوں ک
مخ ص س تھ نبھ ی ۔ کہیں س شرینی بھنڈارا م ت ‘ تو وہ اس
بھی بڑی دی نت س ‘ گھر ل آت ۔ اس میں س ‘ رائی بھر اپن
منہ میں نہ ڈالت ۔ اس کی کوشش رہی کہ ہر ممکنہ خوشی‘ اپن
بیوی بچوں کو فراہ کرے۔ یہ اپنی جگہ پر حقیقت ہ ‘ کہ
کوشش ک ب وجود انہیں آسودہ‘ خوش ح ل اور بڑے لوگوں کی
سی‘ سہولی ت میسر نہ کر سک ۔
سک ان پڑھ تھ ۔ بچپن میں ہی والدین چل بس تھ ۔ لوگوں ک
دروازے پر رل خل کر بڑا ہوا۔ م موں ن ‘ محنتی اورمشقتی
دیکھت ہوئ ‘ رشتہ دے دی ۔ یہ بھی بہت بڑی ب ت تھی‘ ورنہ ا
س س لوگوں کو کون پوچھت ہ ۔ الله ن کر فرم ی اور تین
بیٹوں اورایک چ ند سی بیٹی س نوازا۔ اس ن چ روں پر‘
برابر کی محبت اور مشقت نچھ ور کی۔ بلاشبہ یہ اس ک فرض
اور بچوں ک ح تھ ۔ ا وہ بوڑھ ‘ ک زور اور بیم ر ہو چک
تھ ۔ بچ جوان ہو چک تھ ۔ اس ان کی توجہ کی ضرورت
تھی۔ اس اس ک اپن ہی گھر میں‘ اس ک ان اپنوں میں
س ‘ کوئی پوچھن والا نہ تھ ۔ اس کی بیوی س یدہ اس س را
686
دن کوسن دیتی رہتی تھی۔ ش کو تینوں بیٹ کوئی ن کوئی
ج ی کٹی سن دیت ۔ ہ ں مقبولاں‘ اس کی بیٹی‘ اس س ہ دردی
رکھتی تھی۔ اس جر کی پ داش میں‘ اس بھی رگڑا مل ج ت ‘
ح لاں کہ وہ س کی خدت کرتی تھی۔ سگ بھ ئیوں کی کٹھور
دلی پر‘ سسک پڑتی اور بھلا کر بھی کی سکتی تھی۔
دونوں ب پ بیٹی‘ گ ی ک کت س بدتر زندگی گزار رہ تھ ۔
اس دن تو تینوں بیٹوں اور س یدہ ن حد ہی کر دی۔ مقبولاں
ن کہ ‘ اب ت کہیں منہ کر ج ؤ‘ تمہ رے لی اس گھرمیں
گنج ئش نہیں رہی۔ کری بخش کو بیٹی کی ب چینی اور پریش نی
ن ‘ س ری رات سون نہ دی ۔ اس ن سوچ ‘ ک ش وہ مر ہی گی
ہوت ۔ اس ن کوچ کر ج ن ک فیص ہ کر لی ۔ پھر سورج چڑھن
س پہ ہی گھر س نکل گی ۔
ا اس ک حوص ن ‘ یکسر جوا دے دی تھ ۔ اس س
زی دہ‘ برداشت کرن کی اس میں ہمت ہی نہ تھی۔ دکھ‘ افسوس
اور پرش نی س وہ نڈھ ل ہوگی تھ ۔ وہ ان ک لی جی تھ ۔
اس ہر لمحہ‘ ان کی بھوک پی س کی فکر لگی رہتی تھی۔ آج
ج وہ بوڑھ ہو گی تھ ‘ اس اکی ک ‘ دو لقم ان پر بھ ری
ہو گی تھ ۔ بیٹی ب چ ری‘ اس ک لی کی کر سکتی تھی۔
وہ تو خود‘ زر خرید غلاموں کی سی زندگی کر رہی تھی۔ کسی
درب ر پر‘ اس اس س کہیں بہتر‘ روٹی مل سکتی تھی۔ ایس
687
ب وارث لاوارثوں ک لی ‘ صوفی کرا ک درب ر‘ کہیں بہتر
ٹھک نہ ث بت ہوت ہیں۔
ح جی ص ح ک پ س‘ الله ک دی س کچھ تھ ۔ دوست عزیز اور
رشتہ داروں کی بھی کمی نہ تھی۔ ہر کوئی ان کی عزت کرت تھ ۔
گھر میں ایک چھوڑ‘ دو بیوی ں تھیں۔ نوکر چ کر‘ خدمت ک
لی موجود تھ ۔ ک می ں اپن فرائض انج دے رہی تھیں۔ ان
س ک ہوت ‘ وہ زندگی کو ادھورا اور کھوکھلا محسوس
کرت تھ ۔ یہ س کچھ‘ ان ک لی ب م نی اور لای نی تھ ۔
یہ اپن ان ک لی غیر تھ ۔ اکثر کہت آج آنکھ بند کرت ہوں‘
تو یہ س غیروں ک ہو گ ۔ ب اولاد ہون س بڑھ کر‘ کوئی
اور دکھ ہو ہی نہیں سکت ۔ کسی ن مشورہ دی ‘ ح جی ص ح
کسی گری س ‘ بیٹ ی بیٹی گود کیوں نہیں ل لیت ۔ مشورہ
م قول تھ ۔ انہوں ن بڑا غور کی ۔ پھر فیص ہ کر لی کہ وہ کسی
بچ کو گود ہی ل لیت ہیں۔
سج د آج بہت غمگین س تھ ۔ خ ور ن پوچھ ‘ ی ر اتن پریش ن
س کیوں ہو۔ اس ن اداس لہج میں کہ ‘ ی ر پہ ہی الله ن
تین بیٹی ں دے رکھی ہیں‘ آج رات کو چوتھی بھی ٹپک پڑی ہ ۔
سوچ تھ ‘ اس ب ر الله بیٹ دے دے گ ‘ مگر ہ گریبوں کی اتنی
اچھی قسمت کہ ں۔ سج د ن سمجھ ی کہ فکر نہ کرو‘ ہر کوئی
اپنی قسمت س تھ لات ہ ۔ اس ن جواب کہ ‘ قسمت کی س تھ
688
لانی ہ ‘ مزید بوجھ پڑن تھ ‘ وہ پڑ گی ہ ۔ کس بوت پر دل کو
تس ی دوں۔
خ ور ح جی ص ح ک ہ ں ملاز تھ ۔ اس ن ح جی ص ح کو
سج د کی پریش نی ک مت بت ی ۔ ح جی ص ح ن ‘ سج د کی
نومولود بچی کو گؤد لین کی ٹھ ن لی۔ پھر وہ خود‘ بڑی بیگ
ص ح کو س تھ ل کر سج د ک گھر چ آئ ۔ خ ور کو انہوں
ن وہ ں آ ج ن ک لی کہہ دی تھ ۔ سج د کو حیرانی ک
دورے پڑ رہ تھ ۔ گوی چونٹی ک گھر‘ ازخود بن بلائ
نرائن چ آئ تھ ۔ ح جی ص ح ن آج تک دی ہی تھ ‘
کبھی کسی س کچھ م نگ نہیں تھ ۔ وہ سمجھ نہیں پ رہ
تھ ‘ کہ ب ت کس طرح س کریں۔ خ ور ن ان کی مشکل آس ن
کر دی۔ سج د ن خوشی خوشی بچی ح جی ص ح کی گود میں
ڈال دی۔ ننھی سی ج ن کو گود میں دیکھ کر‘ ح جی ص ح
مسرور ہو گی اور الله ک شکرادا کی ۔
ح جی ص ح ن سج د کو رنگ دی ۔ سج د ک لی یہ بچی
لکشمی دیوی ث بت ہوئی۔ انہوں ن کسی دور دراز علاقہ میں‘
اس اس ک ن س ‘ مک ن خرید دی ۔ س تھ میں‘ اس ایک
ک روب ر بھی شروع کرا دی ۔ سج د دنوں میں‘ علاقہ ک م زز
شہری بن گی ۔ پہ وہ علاقہ ک م زز شہریوں کو سلا کہت
تھ ‘ ا لوگ اس سلا بولات تھ ۔ وقت وقت کی ب ت ہوتی
689
ہ ۔ وقت کی کروٹ س ‘ ک کوئی آگ ہ ہو سک ہ ۔ ک کی ہو
ج ئ ‘ آج تک کسی پر نہیں کھل سک ۔
وقت پر لگ کر محو س ر رہ ۔ بچی‘ جس ک ن راحی ہ رکھ گی
تھ ‘ لاڈ پی ر اور ان گت آس ئشوں میں بڑی ہوئی۔ اچھی درس
گ ہوں میں پڑھی۔ ح جی ص ح بوڑھ ہو گی تھ ۔ انہیں
راحی ہ ک ہ تھ پی کرن کی فکر لاح ہوئی۔ رشت تو بہت
آت تھ ‘ لیکن ان کی پسند ک م ی ر ب لکل مخت ف تھ ۔ انہیں
لاڈوں پ ی راحی ہ ک لی ‘ ش ید کوئی فو ال رت خوبیوں ک
ح مل لڑک درک ر تھ ۔ پھر ایک دن‘ ب ند حوص ہ ک م لک ح جی
ص ح ک مرن کی خبر س رے شہر میں پھیل گئی۔ ان کی
موت‘ دل ک دورہ پڑن س ہوئی تھی۔ ہوا یہ کہ راحی ہ بگو
حج ک لڑک ‘ ق در ک س تھ بھ گ گئی تھی۔ ح جی ص ح یہ
صدمہ برداشت نہ کر سک ۔ بڑی بیگ ص ح ‘ اس صدم س
ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔ دیکھت ہی دیکھت ‘ چند لمحوں میں‘
کچھ ک کچھ ہو گی ۔ جو ہوا‘ کسی ک خوا و خی ل میں بھی نہ
تھ ۔ اتن بڑے جگرے ک م لک ب وجود ہو چک تھ ۔ وہ
اپنی اصل میں‘ ان کی کچھ بھی نہ تھی۔ انہوں ن اس محض
پ لا پوس تھ ۔ اس ک ب وجود‘ وہ ان ک س کچھ ہو گئی تھی۔
نذیراں ان پڑھ‘ ب س یقہ اور کچن ک امور میں ب لکل کوری
اور پیدل تھی۔ خو صورت ہون کی غ ط فہمی‘ ہمیشہ اس ک
سر پر‘ سوار رہتی۔ خ وند ک رشتہ دار‘ اس کبھی ایک آنکھ