283
کسی مص ح ک بس ک روگ نہیں رہ ۔ اچھ لوگوں کی ج نیں
ج ن ‘ اچھی اور صحت مند ب ت نہیں۔ موڑ موڑ پر کربلا برپ
ہون ‘ میرے م لک قی مت ہ ‘ قی مت ہ ۔ صلاحین کی موت‘ ا
دل گردہ برداشت کرن کی ت نہیں رکھت ۔ اچھ لوگ رہ ہی
کتن گی ہیں۔ ان ک اٹھ ج ن ‘ درست نہیں ہو گ ۔
ش ہ ب ب ‘ اپنی ذات میں مگن‘ گردوپیش س ب خبر اور
ب نی ز‘ اپن الله س مخ ط تھ ۔ وہ شیط ن س بھی
مخ ط ہوئ ۔ میں دع اور شیط ن س مخ طب میں کسی قس
ک خ ل نہیں ڈالن چ ہت تھ ۔ لگت تھ ‘ یہ س س ہ کبھی خت نہ ہو
گ ۔ اسی لی ‘ تھوڑی دیر ک لی ‘ وہ ں بیٹھ اور پھر‘ گھر
واپس لوٹ آی ۔ گھر آ کر مجھ خی ل آی ‘ کہ مجھ وہ ں مزید
بیٹھن چ ہی تھ ۔ میں اس م م ہ میں‘ نکم اور لای نی سہی‘ پر
ان ک ہر دع ئیہ جم پر‘ آمین تو کہہ ہی سکت تھ ۔ نیکی اور
نیک ط بی میں‘ کسی بھی نہج کی م ونت‘ بذات خود نیکی ک
مترادف ہ ۔ ش ید میں بھی نیکی پسند نہ تھ ‘ ت ہی تو اٹھ آی
تھ ‘ ورنہ کچھ دیر وہ ں اور رکن س ‘ کی ہو ج ت ۔
284
استحق قی کٹوتی
ص لحہ بلاشبہ‘ زمین پر چ ند ک اوت ر تھی۔ جو بھی اس دیکھت ‘
دل تھ کر رہ ج ت ۔ کوئی چیز‘ خواہ کتنی قیمتی اور حسن و
جم ل میں لاجوا ہو‘ جس کی ہ ‘ اسی کی ہی ہ ۔ اس ‘
دوسری ب ر دیکھن س ‘ پ پ لگت ہ ۔ ص لحہ ایک ش ہ قری
بندے کی بیوی تھی‘ اسی وجہ س ‘ وہ مغرور اور خودپسند
بھی تھی۔ خو صورت نہ بھی ہوتی‘ تو بھی خ وند ک اع ی
منص ک ب عث‘ متکبر اور خودپسند ہوتی۔ اس کی طرف‘ اس
ک خ وند س ک تر منص ک شخص ک دیکھن ‘ گچی لمی
کران ک مترادف تھ ۔
ایک روز‘ کسی تقری میں‘ ش ہ بھی موجود تھ ۔ کرسی قریبوں
کی بیگم ت‘ رنگ برنگ لب سوں اور بن ؤ سنگ ر ک پورے پہ ر
ک س تھ‘ تشریف لائی تھیں۔ ب ض تو ک رٹون لگ رہی تھیں۔
ان میں س ایک‘ میکی م ؤس کی خ لہ زاد لگ رہی تھی۔ نقل
وحرکت بھی‘ میکی م ؤس س مم ثل تھی۔ ن ز و
نخرہ‘ممت زمحل س کہیں زی دہ‘ دکھ رہی تھی۔ یہ‘ طرل خ ں
کی حضرت زوجہ م جدہ تھیں۔ شوقین حضرات‘ محض ت ریخ اور
موڈ میں شوخی ک لی ‘ اس کی زی رت س مست یذ ہو رہ
285
تھ ۔ ب ض چمچ ‘ اس ک منہ پر اس ک ٹرن آؤٹ‘
ش ئستگی اور س ی ہ ش ری کی ت ریف کر رہ تھ ۔ کچھ اس
ذیل میں‘ حد میں اور کچھ حد س ب ہر‘ نکل رہ تھ ۔
عطیہ خ ن ‘ اپن ن ک نقشہ ک حوالہ س ‘ کچھ ک نہ تھی۔
زب ن کی مٹھ س‘ شہد کی مٹھ س کو بھی‘ پیچھ چھوڑ رہی
تھی۔ ہر ل ظ‘ گلابوں کی خوش بو س لبریز تھ ۔ ہول ہول ‘
دھیمی آواز میں‘ ب تیں کرتی تھی۔ پر کی کی ج ئ ‘ فربہ جسمی‘
اس ک شک ی اور لس نی حسن کو‘ غ رت کر رہی تھی۔
بیگ ع ئشہ خ ں‘ کسی س بھی‘ ک نہ تھی لیکن اس کی کرل
کرل‘ سر میں سوراخ کی دے رہی تھی۔ س ب زار س ہو
رہ تھ ۔ پت نہیں اس ک خ وند‘ اس کی کرل کرل کو‘ کس طرح
ہض کرت ہو گ ۔
ع رفہ ج ن اوور ایکٹنگ اور آنکھیں مٹک مٹک کر ب تیں کرک ‘
اپن حسن کی حقیقی ج زبیت ک ستی ن س م ر رہی تھی۔
ص لحہ ک حسن‘ سنجیدگی ک لب س میں م بوس تھ ۔ کسی ب ت
ک جوا میں‘ محض ایک قی مت خیز مسکراہٹ س ک لیتی۔
چ ل میں دیوت ؤں ک س وق ر تھ ۔ آنکھوں میں فطری خم ر اور
لالہ رنگی اپن عروج پر تھی۔
جوبھی سہی‘ مونچھیں ہوں تو نتھو لال جیسی ہوں‘ ورنہ نہ
ہوں‘ ک مصدا حسن اور ن زونخرہ ہو تو میڈ ص لحہ جیس
286
ہو‘ ورنہ نہ ہو۔ ش ہ شروع س ‘ دین دار طبع ک م لک تھ ۔ اس
ن ہر سجی اور بنی سنوری گڑی کو‘ فقط ایک کھوجی اور
گوہر شن س نظر س دیکھ ۔ ص لحہ کو بھی ایک‘ مگر دیرپ اور
فیص ہ کن نظر س دیکھ ۔ نظرشن س‘ ش ہ کی اس نظر الت ت
کو پہچ ن گی ۔ ان ک چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ چ و‘
تقری کو س ت میسر آ گئی۔ یہ دن‘ بلاشبہ نوازشوں اور عط ؤں
ک دن تھ ۔ ش ید ہی کوئی نوازشوں کی گنگ ک اشن ن س
محرو رہ ہو گ ۔
ص لحہ ک خ وند کو‘ زب نی حک موصول ہو گی ‘ کہ وہ ص لحہ
کو فورا س پہ ‘ طلا دے دے۔ ش ہ ک فرم ن خصوصی تھ ‘
فورا س پہ ت میل کیوں نہ ہوتی۔ چوں کہ یہ من من ک می ہ
تھ ‘ لہذا عدت ک ‘ خت ہون ک انتظ ر کی ضرورت ہی نہ
تھی۔ نک ح ک ب د‘ م کہ ص لحہ ص ح کو‘ بڑی عزت
اوراحترا ک س تھ‘ عج ہء عروسی میں پہنچ دی گی ۔ یہ کوئی
اچیرج ب ت نہ تھی۔ یہ توروٹین ورک تھ ۔ مقدر اور نصیب کی
ب ت تھی۔ سج سج کر آئی گم شتہ زوجگ ن‘ کی قسمت میں ش ہی
عج ہء عروسی نہ تھ ۔ ص لحہ کو بھی رائی بھر ق نہ تھ ۔ ا
وہ گم شت کی نہیں‘ گم شتہ طراز‘ ش ہ کی زوجہ تھی۔ دوسرا
یہ غیر شرعی‘ غیراصولی اور غیر فطری‘ ک نہ ہوا تھ ۔
ب ق ئدہ اور ب ض بطہ طور پر‘ طلا ک ب د نک ح ہوا تھ ۔ س ی
287
ن تو شیرافگن کو مروا‘ کر اس کی بیگ پر تصرف ح صل کی
تھ ۔
چند م ہ تصرف میں رکھن ک ب د‘ حس م مول‘ ص لحہ کو
طلا دے دی گئی۔ بڑی مہرب نی فرم ت ہوئ ‘ اس ک س بقہ
خ وند کو‘ نک ح کر لین ک زب نی احک م ت ج ری کر دی
گی ۔ م کہ م زمہ ک ‘ کسی ش ہی گم شت ک تصرف میں آن ‘
کوئی م مولی اعزاز نہ تھ ۔ یہ بھی کہ شیر ک اپن شک ر‘ کسی
گیڈر لومٹر کو دے دین ‘ ان ہونی ک ہو ج ن تھ ۔ دوسرا م کہ
س گہری مخ صی اور یک جہتی ک اظہ ر بھی تھ ‘ ت کہ بوقت
ضرورت راضی بر رض ک آتی رہ ۔ دوسری طرف گم شت
کو‘ اس کی ام نت واپس کر دی گئی تھی۔
ہر کم ئی س ‘ بہبودی ٹیکس ک ن پر‘ ش ہ ک غ ل حصہ‘
جبری سہی‘ وصولا ج ت رہ ہ ۔ کرسی قری تو‘ اس ک اپن
ہوت ہیں۔ ہر دی ‘ ش ہ ہی کی‘ خصوصی عن یت ک نتیجہ ہوت
ہ ۔ لین دین تو زندگی ک حصہ ہوت ہیں۔ اس نوع کی کٹوتی‘
بہبودی نہیں‘ استحق قی ہوتی ہ ۔ یہ بھی بلاشبہ‘ خصوصی نظر
الت ت تھی‘ ورنہ اتن بڑا اعزاز‘ کسی اور کو بھی ح صل ہو
سکت تھ ۔ ہر ش ہ ک ‘ شروع ہی س ‘ یہ ہی طور اور وتیرا رہ
ہ ‘ کہ وہ اپن چہولی چکوں پر‘ کرپ اور دی ک دروازے بند
نہیں کرت ۔
288
محتر جن ڈاکٹر ص ح
عمدہ اس و بی ن ،بہت خو ،داد قبول کیجئ
خ کس ر
اظہر
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
9387.0
289
ت ریخ ک سین پر
م کہ س حرہ ج ن ش ہ کی ن گہ نی موت ن ‘ ش ہی محل ک در و
دیوار‘ ہلا کر رکھ دی ۔ کہرا مچ گی ‘ دکھ ک بھونچ ل آ گی ۔ خود
ش ہ کی‘ دھ ڑیں م ر م ر کر رون س ‘ ح لت غیر ہو گئی تھی۔
یہ اس کی اک وتی م کہ نہ تھی۔ اصل وجہ یہ تھی‘ کہ ش ہ کی
اس س کچھ زی دہ ہی رغبت تھی۔ کوئی دوسری م کہ‘ اگر
م کہ س حرہ ج ن ش ہ کی بدمزاجی کی شک یت کرتی‘ تو وہ سنی
ان سنی کر دیت ۔ ب ض اوق ت ڈانٹ تک پلا دیت ۔ مرحومہ ک ‘ ہر
کہ کو آسم نی صحی ک س درجہ ح صل تھ ۔ نیچ ذات س
تھی‘ اسی وجہ س ‘ ک م اور ک میوں کی تقریب ہر وقت‘ ش مت
آئی رہتی تھی۔ ان میں س ‘ کوئی چوں تک نہیں کر سکت تھ ۔
وہ یہ کہن کی جرات نہیں رکھت تھ ‘ کہ کل تک تمہ ری
م ں‘ ہم رے س تھ ک کی کرتی تھی۔ یہ تو وقت وقت کی ب ت
ہوتی ہ ۔ وقت ش ہوں کو فقیر اور فقیروں کو ش ہی مسند پر
بیٹھ دیت ہ ۔ وقت کسی ک غلا ہوت اور ن ہی کسی س پوچھ
کر گزرت ہ ۔
ش ہ ک پرس اور ش ہی قربت ک لی ‘ ہر کسی کو اص ی اور
حقیقی انداز میں‘ ب چینی وب قراری ک ن ٹک کرن تھ ۔ یہ ہی
290
نہیں بین‘ نوحہ خوانی‘ اشک سوئی اور سینہ کوبی س ک
لین تھ ۔ وف داری ک مظ ہرے ک لی ‘ اس س مواقع‘ کبھی
کبھی ہ تھ لگت ہیں۔ انہیں ض ئع کرن ‘ اپنی قسمت ک س تھ
کھ واڑ کرن ک مترادف ہوت ہ ۔ شدت غ میں بھی‘ ش ہی
لطف و عط اپن م مول ک مرتب س نہیں گرت ۔ کسی کنیز
کی نوحہ کن ں آواز ی انداز‘ ش ہ کو بھ سکت ہ ۔ وہ ہی لمحہ‘
اس عمو س خصوص میں‘ داخل کر سکت ہ ۔ قسمت لاٹری
کی طرح ہوتی ہ ۔ س اپنی اپنی کلاک ری میں مصروف تھ ۔
ش ہ کی دیگر بیگم ت بھی‘ کسی س پیچھ نہ رہن چ ہتی
تھیں۔ ب طنی سطع پر پھوٹن وال لڈو‘ غ ن کی ک روپ میں
ڈھل کر‘ چ رسو زردی بکھیر رہ تھ ۔
س رے مشیر‘ وزیراور انتظ می عم ہ‘ بڑا مصروف اور انتہ
درجہ کی پھرتی ں دکھ رہ تھ ۔ یوں لگت تھ ‘ جیس ان س بڑھ
کر‘ محنتی‘ ک رگزار اور وف دار لوگ دنی میں نہ ہوں گ ۔ ح لاں
کہ ہر کوئی
look busy but do nothing.
ک ی پر‘ عمل درآمد کر رہ تھ ۔ ان کی ان ہی چ نتریوں ن ‘
انہیں اع ی مق اور اع ی درج عط کی تھ ۔ کسی ن کی
ہی خو کہ ہ
291
اسپ ت زی شدہ مجروع بر زیر پلان
طو زرین ہمہ در گردن خر میبین
خیر ک بھی تھ ‘ جن زے ک لی ‘ دیگر ولائیتوں س آن
والوں ک لی ‘ بیٹھن ک انتظ ‘ ک ن دفن ک خصوصی
انتظ م ت‘ کھ ن وغیرہ ک من س اور ش ہی وق ر ک ش ی ن
ش ن بندوبست‘ ایس چھوٹ موٹ بہت س امور تھ ‘
جنہیں خوش اس وبی س نبھ ن اور نپٹ ن ‘ کوئی م مولی ب ت نہ
تھی۔
م کہ س حرہ ج ن ش ہ ن ‘ ش ہ کو آخری لمحوں میں‘ ب طور
وصیت چ ر ب تیں کہی تھیں اور ان پر صد دل س عمل درآمد
کرن کی ت کید بھی کی تھی۔
اول -شہر ک ب رون علاقہ میں‘ اس ک ع لی ش ن مقبرہ ت میر
کی ج ئ اور دو بیگھہ زمین میں ب لگوای ج ئ ت کہ ہر آن
ج ن والا‘ اس کی‘ ب دش ہ کی نظروں میں‘ قدر وقیمت اور عزت
ومق ک اندازہ کر سک ۔
دو -اس س ‘ کسی ک ع لی ش ن مقبرہ‘ ت میر نہ ہون دی
جئ ۔
سوئ -دل میں اس کی ی د ک سوا‘ کسی اور کو نہ بس ی
جئ ۔
292
چہ ر ۔ اس کی جگہ‘ کسی اور کو نہ لای ج ئ ۔ اگر کوئی
دوسری م کہ ح ہوتی ہ ‘ تو خ لی جگہ پر کرن میں‘ کسی
قس ک تس ہل س ک نہ لی ج ئ ۔
وزیر بندوبست ک لی ‘ کسی بھی ب رون اور گنج ن آب د علاقہ
میں‘ دو کی ‘ دس بیگھہ زمین خ لی کرا لین ‘ کوئی مشکل ک نہ
تھ ۔ سروے ک ب د‘ اس ک ر خیر ک لی ‘ شیر ش ہ چوک س
زی دہ‘ کوئی علاقہ من س م و نہ ہوا۔ پھر دیکھت یی
دیکھت ‘ تین بیگھہ زمین ک رہ ئشوں س ‘ علاقہ خ لی کرا
کر‘ ب ڈوز کر دی گی ۔ وزیر بندوبست اپنی سی نف اور دان ئی کی
وجہ س ‘ شہرہ رکھت تھ ۔ دو ییگھہ مقبرہ اور ب ک لی ‘
ج کہ ایک بیگھہ خدمت گ روں اور اس کی رہ ہش ک لی ‘
مختص کر دی گی ۔ نگرانی ک حس س اور اہ ترین ک ‘ اس ک
سوا‘ بھلا اور کون انج دے سکت تھ ۔
اس عظی قومی مشن ک لی ‘ ب تح ش م لی وس ئل کی
ضرورت تھی۔ ش ہی خزان س ‘ م لی وس ئل استم ل میں لان ‘
ن دانی ک متردف تھ اور ش ہی خزانہ بھی‘ اس ک متحمل نہ
تھ ۔ وزیر م لی ت ن کہ :جس طرح ب دش ہ س ک ہوت ہ ‘ اسی
طرح م کہ بھی س کی م ں ہوتی ہ ‘ اس لی اس عظی قومی
مشن ک لی ‘ جم ہ وس ئل فراہ کرن ‘ عوا ک قومی فریضہ
ہ ۔ م لی ت ون ب دش ہ س اظہ ر وف داری بھی تو ہ ۔
293
وزیر م لی ت کی تجویز پر‘ ہر درب ری‘ عش عش کر اٹھ اور اس
کی فراست کی ت ریف کرن لگ ۔
م لی وس ئل کی حصولی ک لی ‘ است م ل کی اور خوردنی اشی
پر‘ م کہ م ں ٹیکس ع ئد کر دی گی ۔ لوگ مری م کہ م ں کو‘
برسرع گ لی ں دین لگ ۔ اس ٹیکس س ‘ پورا پڑن مشکل
تھ ۔ مجبورا‘ ممت کونسل تشکیل دین پڑی‘ جو گھروں‘ دک نوں‘
م رکیٹوں‘ ک روب ری جگہوں‘ راہ گیروں‘ مس فروں وغیرہ س ‘
م لی وس ئل جمع کرن لگی۔ اس س ب چینی بڑھی‘ دنگ فس د
بھی ہوا۔ اس میں کچھ زخمی ہوئ ‘ چند سو ج ن س بھی
گی ۔ زمین ح صل کرت وقت بھی‘ کچھ اسی قس کی صورت
ح ل پیش آئی تھی۔ انتظ میہ‘ ایس شر پسند عن صر س ‘ نپٹن
خو خو ج نتی ہ ۔ اتنی بڑی مم کت میں‘ گنتی ک چند
لوگوں ک مر ج ن ‘ اتن بڑا ایشو نہیں ہوت ۔ دوسرا‘ ایس عن صر
ک مر ج ن ہی‘ دوسروں ک لی بہتر اور عبرت ہوت ہ ۔ اس
طرح انہیں‘ ک ن ہو ج ت ہیں اور اس س بغ وت ک جراثی ‘
اپنی موت آپ مر ج ت ہیں اور امن وام ن بح ل رہت ہ ۔
دیکھت ہی دیکھت ‘ ع لی ش ن مقبرہ ت میر ہو گی ۔ اس کی
ت میر میں‘ کوئی کسر اٹھ نہ رکھی گئی تھی۔ اس کی ت میر ک
لی ‘ اع ی سطح ک ک ری گروں کی خدم ت‘ ح صل کی گئی
تھیں۔ جو دیکھت ‘ عش عش کر اٹھت ۔ ش ہ بھی‘ ہنرمندی پر
ک مہء تحسین ادا کی بغیر‘ رہ نہ سک ۔ اطراف میں‘ مح فظ
294
ملازمین اور وزیر بندوبست کی رہ ئش گ ہ ن ‘ ب رونقی کو ہی
خت نہیں کی تھ ‘ ب کہ حسن کو دوب لا کر دی تھ ۔ ش ہ کی نشت
گ ہ‘ تو دیکھن لائ تھی‘ لیکن اس کی زی رت‘ ش ہ کی آمد پر
ہی کی ج سکتی تھی۔
اس س رے عمل میں‘ جہ ں مقبرہ وغیرہ ت میر ہوا‘ وہ ں
بندوبستیوں کی بھی‘ چ ندی ہوئی۔ انہوں ن لمب چوڑا ہ تھ م را
تھ ۔ وزیر م لی ت اور وزیر بندوبست‘ پہ ہی رج کھ ت اور
چھنڈ پہتت تھ ‘ ت ہ اس پروجیکٹ ن بھی‘ انہیں م یوس نہ
کی تھ ۔ آنکھ ک نہ بھرن ‘ اس س قط ی مخت ف ب ت ہ ۔
وقت‘ بڑی تیزی س ‘ مستقبل کی طرف بڑھت رہ ۔ لوگ م ضی
ک دھرو‘ بھولت گی ۔ ش ہ ک زخ بھی‘ مندمل ہو گی اور ہر
کوئی‘ اپن اپن ک موں میں مشغول ہو گی ۔ مقبرے ک ب ‘
حسین ؤں کی ت ریح گ ہ بن گی ۔ حسین ؤں کی آمد پر‘ کسی قس
کی روک نہ تھی‘ ہ ں مرد حضرات ک لی ‘ یہ ایری قط ی
ممنوعہ تھ ۔ اگر مرد حضرات کو بھی‘ یہ ں آن کی اج زت دے
دی ج تی‘ تو یہ فح شی ک اڈہ بن ج ت ۔ ش ہ م کہ س حرہ ج ن ش ہ
کو تقریب بھول چک تھ ۔ ہ ں البتہ‘ یہ ں اپنی نشت پر‘ ب ق عدگی
س ج وہ افروز ہون لگ ۔ ج وہ ج وہ افروز ہوت ‘ حسین ؤں
ک غول ک غول‘ اٹھکی ی ں کرت نظر آت ۔ آج اگر شداد زندہ
ہوت ‘ تو حسد اور احس س کہتری س ‘ اس ک ک یجہ پھٹ پھٹ
جت۔
295
لوگ‘ آلہ ءنش ط پر دسترس اور اس س لطف افروزی ک
لی ‘ کمینگی کی‘ کسی بھی سطع پر‘ اتر آت ہیں۔ ش ہوں ک
دبدب اور وج ہت ک حضور‘ کنویں پی س کی سیرابی ک
لی ‘ ب چین و ب قرار اور سبقت ل ج ن کی فکر میں‘
ہ ک ن ہوت ہیں اور یہ شرف‘ چڑھ مقدر والوں کو ہی‘ ح صل
ہو پ ت ہ ۔ پھر ایک روز‘ فرخ سیر کی محبوبہ‘ روپ کنور کی
نسل کی‘ ایک شوخ و چنچل ڈومنی ن ‘ ش ہ کی صدیوں کی‘
پی س کو بجھ کر‘ ش ہی محل میں جگہ بن ہی لی۔ س ری
راجدھ نی میں جشن من ی گی ۔ مب رک ب دوں ک پیغ م ن
لگ ۔
ا محل پر‘ م کہ قرتہ الش ہ ک سکہ چ ن لگ ۔ ش ہ بھی‘ اس
کی مٹھی میں بند ہو کر رہ گی ۔ جس طرح کہتی‘ ش ہ اسی طرح
کرت ‘ ب کہ ا ش ہ ک ‘ وہ زی دہ کہتی تھی۔ گوی م ک ک انتظ ‘
اس ک ہ تھ میں آ گی تھ ۔ اس ک حضور کسی کو‘ چوں تک
کرن کی جرآت نہ تھی۔ اس ک خ ندان ک بہت س لوگ‘
اع ی عہدوں پر ف ئز ہو گی ۔ بہت س پران نمک حرا ‘ م زول
کر دی گی ۔
م کہ قرتہ الش ہ‘ فضول کی ق ئل نہ تھی۔ ہر م مولی اور گری
پڑی چیز بھی‘ تصرف میں آ گئی۔ کچرے س بھی‘ تصرف کی
اشی ڈھونڈ نک لتی۔ ک چور اور نکموں کو بھی‘ ک کرن پڑا۔ وہ
اپن خ ندان ک لوگوں ک کہ کو‘ درست اور سچ م نتی۔
296
چ پ وسی ک لی بھی‘ ان ہی میں س منتخ کی گی ۔ ہر
غیر خ ندان ک عہدےدار ک پیچھ ‘ اپن خ ندان ک کوئی فرد
چھوڑ دیتی۔ گربوتی ہون ک ب وجود‘ وہ اسی چ بکدستی س
ک انج دے رہی تھی۔ ج س امید س ہوئی‘ ش ہ اس پر اور
بھی مہرب ن ہو گی تھ ۔ کیوں نہ ہوت ‘ وہ س طنت ک لی ‘ وارث
کو جن دین والی تھی۔
مقبرے ک دو ایکڑ اور اس س م حقہ ایک ایکڑ زمین پر‘
ع لی ش ن عم رتیں لای نی تصرف میں تھیں۔ اس ن تم
عم رتیں‘ اپن خ ندان ک م زز لوگوں کو‘ الاٹ کر دیں۔ ب
مین ب زار ک لی مخصوص کر دی ۔ ب میں داخ کی انٹری
فیس مقرر کر دی۔ یہ ب زار‘ ہ ت میں صرف دو ب ر لگت ۔ خود
ش ہی نشت پر بیٹھ کر‘ اس کی نگرانی کرتی۔ س تھ آئی کنیزوں
کی اشی وغیرہ ک رکھن ک لی ‘ مقبرے کو ب طور سٹور
است م ل کی ج ن لگ ۔ ب د ازاں‘ گھ س پر ننگ پ ؤں چ ن
والوں ک لی ‘ جوت گ ہ بن دی گی ۔
مواد دو نمبر است م ل کی گی تھ ‘ اوپر س کثرت است م ل ن ‘
اس ڈھ را بن دی ۔ ش ہ کی حی ت میں ہی‘ مقبرہ زمین بوس ہو
گی ۔ ش ہ کو ی د تک نہ رہ ‘ کہ اس م ب ت ‘ اس کی س بقہ
محبو م کہ س حرہ ج ن ش ہ‘ ابدی نیند سو رہی ہ ۔ م بہ ص ف
کرک ‘ آن ج ن والوں کی سہولت ک لی ‘ طہ رت خ ن
ت میر کرا دی گی ۔ ت ہ م کہ س حرہ ج ن کی قبر کو‘ نقص ن نہ
297
پنچ ی گی ۔ ہ ں تھوڑا مختصر کرک ‘ اس کو دوب رہ س مرمت
کروا دی گی اور یہ ث بت کر دی کہ وہ فراخ دل ہی نہیں‘ اپنی
مرحومہ سوت ک لی بھی‘ دل میں عزت اور احترا ک جذبہ
رکھتی ہ ۔ اس ک اس جذب کو‘ اطراف میں قدر کی نگ ہ
س دیکھ گی ۔ اس کی یہ ہی فراخ دلی‘ ت ریخ ک سین پر‘
ہمیشہ ک لی ثبت ہو گئی۔
298
سچی کہوں گ
یہ ں ایک ب ب پہ کئی دنوں اور ا کئی مہنوں س بیم ر چلا
آت ہ ۔ حرا ہ جو مرن ک ن ل رہ ہو۔ اگرچہ وہ لمبی
چوڑی عمر ک نہیں۔ یہی کوئی س ٹھ ب ٹھ ک ہو گ ۔ عصری ح لات
اور خ ندانی ضروری ت ک پیش نظر ا تک اس مر ج ن
چ ہی تھ ۔ الله ج ن کس مٹی س اٹھ ہ ۔ بڑے بڑے پھن
خ ن ب ب دیکھ ہیں‘ بیم ری ک ایک ہی جھٹک س ان ل ه
ہو گی ۔ ان ک اٹھن س گھر والوں کی ب ج ڈاکٹروں ک
پ س آنی ں ج نی ں خت ہو گیں۔ گھر والی اور اولاد خوشی س
ب ب کی بیم ری کی فٹیک برداشت کر نہیں رہ تھ ۔ دنی داری
بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہ ۔
ہم رے ہمس رے میں ایک م ئی تھی اور کپتی ک ن س
پورے علاقہ میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس ک می ں شریف آدمی اور
بلا ک موقع شن س تھ ۔ بیم ری ک پہ ہی جھٹک میں وہ گی ۔
م ئی بڑی دی لو تھی بڑھ پ میں بھی دی ک ب ند مق پر ف ئز
تھی۔ کوئی نہیں کہت تھ کہ اس بھی کبھی موت آئ گی۔ فرشتہ
اجل بھی اس ک قری آن س لرزت ہو گ ۔ ہ ں فیض کی
حصولی ک لی اس کبھی م م نت نہیں رہی ہو گی۔ بیم ر
299
پڑی؛ اہل ذو تو اہل ذو ‘ اس ک چھوٹ بیٹ پوری دی نتت داری
س اس ڈاکٹروں ک پ س لی پھرا ت ہ چند دن ہی چ ی اور
اہل ق و نظر ک لی پچھت وا چھوڑ گئی۔ اس کی بڑی بہو
بڑی روئی۔ لوگوں کو س س ک س تھ اس کی مخ صی ک یقین ہو
گی ۔ جو بھی سہی میں اس ب ب کی کرنی ک م تقد ضرور ہو گی
جس ک ت ویزوں ن بڑی بہو کو یہ دن دکھ ی ورنہ وہ فرشتہ
اجل کی گرفت میں آن والی م ئی ہی نہ تھی۔
خدا م و یہ س ٹھ ب ٹھ س لہ ب ب کس قس ک ہ جس اتنی
کرنی وال ب ب ک ت ویزوں ن بھی کچھ نہیں کی ۔ ب چی ں
نک ی پڑی ہیں اور حد درجہ کی کمزوری وارد ہو چکی ہ ‘ اس
ک ب وجود مرن ک ن نہیں ل رہ ۔ ب ید از قی س نہیں کہ
اس زندگی لڑ گئی ہو۔ عین ممکن ہ کہ خضر آ حی ت ک
دوچ ر گھونٹ عط کر گی ہوں۔ دیوت ؤں س بھی اس ک بگ رڑ
نہیں۔ ہو سکت ہ کوئی دیوت بصد مشقت نک ل گی امرت میں
س دو گھونٹ چپک س پلا گی ہو۔
پران اور تجربہ ک ر ہوت ہوئ نہیں سمجھ پ رہ کہ کتنوں ک
مستقبل خرا کر رہ ہ ۔۔ اس ک مرن س بڑا ک روب ر وسیع
کر سکت ہ ۔ چھوٹ کی تین جوان بیٹی ں‘ جن کی ا ش دی ہو
ج ن چ ہی جبکہ منجھلا اپن بیٹ دوبئی بھیجن چ ہت ہ ۔ اس
ب ہر م ت تو نہیں ببھج ج سکت ‘ دا لگت ہیں۔ یہی صورت ح ل
اس کی لڑکیوں کی ہ ۔ کئی خ ندانوں کی ترقی خوش ح لی اور
300
آسؤدگی ب ب کی موت س وابستہ ہ ۔ اتنی موٹی اور واضح
ب ت ب ب کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ بیم ر اور لاغر زندگی س
برابر ع یک س یک بڑھ ئ چلا ج رہ ہ ۔
ایک ہ تہ پہ میری اس س بستر حی ت پر ملاق ت ہوئی۔ بچ
پرامید نگ ہوں س اس کی آؤبھگت کر رہ تھ ۔ مجھ دیکھ
کر بڑے خوش ہوئ ۔ ب ب چ ت پھرت وقتوں میں میرے م ن
والوں میں س تھ ۔ بچ اس ک میرے ت ق ت س واقف
تھ ۔ انہوں ن مجھ امید بھری نظروں س دیکھ اور اندر
چ گی ۔۔ ان ک خی ل تھ کہ میں ان ک ڈھیٹ اور جین پر
مصر ب ب کو سمجھ ؤں گ ۔ وہ کی ج نیں کہ ان ک ب ب کتن ضدی
ہ۔
میں ن پوچھ ی ر ت ن رشوت کی کم ئی س اتنی ج ئیداد
کیوں بن ئی۔ مرن وال ہو الله کو جوا تو تمہیں ہی دین پڑے
گ۔
جوا میں کہن لگ مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔ اکی
میں ن تھوڑی بن ئی ہ ‘ س ری دنی اسی طرح ج ئیدایں اور
بینک بی نس بن تی ہ ۔ اتن لوگوں ک لی جہن میں جگہ ک
ہو گی۔ میں وہ ں ج کر بھی قبضہ گروپ ک لیڈر ہوں گ ۔ ٹہوہر
میں گزاری ہ ‘ فکر نہ کرو‘ وہ ں بھی ٹہوہر کی گززے گی۔
بیشک الله بڑا ب نی ز ہ ۔