95
اور اپن ایک غیر شرعی س ل کی س رش پر ایک دوسرے
مولوی ص ح کو ل آئ ۔
مولوی ص ح کی آئ ‘ علاقہ میں قی مت آ گئی۔ اس قی مت ک
پہلا شک ر ع ی رض بن ۔ اس ک فر قرار دی ۔ اس س ‘ ہر کسی
ن ‘ سم جی ب ئیک ٹ کر دی ۔ اس کی دک ن بند ہو گئی۔ گھر ک
کواڑ بھی کھ نہ رہت ۔ دروازے پر کوئی نہ آت ۔ ان ک گھر
ک اندر ک احوال س ‘ کسی کو کوئی دل چسپی نہ تھی۔
دوسرا لوگ مولوی ص ح ک فتوے س ڈرت ‘ ان ک
دروازے ک قری س بھی‘ نہ گزرت تھ ۔ ہر کوئی اس
ج تی آگ س اپن دامن بچ ن چ ہت تھ ۔ ایس ن گوار ح لات میں‘
حنیف ن ‘ دہی دودھ کی دک ن پر کھڑے ہو کر‘ بڑی سنجیدگی
س کہ :ع ی رض کو قبض ہو گئی ہ اور پوٹی ں لگی ہوئی
ہیں۔ اس وقت س ہنس پڑے۔ ش ید کوئی کچھ نہ سمجھ سک تھ ۔
ج کوئی کچھ سمجھ نہ سک ‘ تو بھی ہنس پڑت ہ ۔ سچی ب ت
تو یہ ہ ‘ کہ میں بھی کچھ نہ سمجھ سک تھ ۔
میں گھر آ کر غور کرت رہ ‘ کہ آخر حنیف کی ب ت ک کی م ہو
ہ ۔ قبض اور پوٹیوں کی‘ ایک س تھ کیس شک یت ہو سکتی
ہ۔
لوگوں ن اس کی ب ت ہنسی میں ڈال دی تھی۔ میرے لی حیرت
کی ب ت تو یہ بھی تھی‘ کہ شروع میں یہ ہی مولوی ص ح ‘
96
ع ی رض کی دک ن پر آئ تھ ۔ اس کی بیوی شبیراں ن ‘
مولوی کی تواضع بھی کی تھی۔ ش ید تواضع میں کہیں کسر رہ
گئی تھی۔ شبیراں ان پڑھ عورت ہوت ‘ منہ متھ لگتی‘ س یقہ
ش ر اور ب تمیز عورت تھی۔ مجھ جہ ں حنیف کی زوم نی
ب ت ن پریش ن کی ‘ وہ ں یہ بھی چنت ہون لگی‘ کہ ع ی رض
اور اس ک گھر وال ‘ کھ ت کہ ں س ہوں گ ۔ ان ک اندر
کی ح ل رہ ہو گ ۔ میں ن ان کی مدد کرن کی ٹھ ن لی۔ وہ ں
مخت ف مس ک ک لوگ اق مت رکھت تھ ۔ اس طرح تو وہ
بھی ک فر قرار پ ت رہیں گ
دن اندر ب ہر تھ ‘ میں چپک س ‘ گھر س نکلا اور بڑے
محت ط انداز میں‘ ع ی رض ک گھر کی طرف بڑھن لگ ۔ میرا
خی ل تھ اس بطور امداد کچھ پیس دے دوں گ ۔ رست ہی
میں خی ل آی ‘ پیس اس ن سر میں م رن ہیں‘ انہیں تو
خوردنی س م ن پہنچن چ ہی ۔ میں ن سوچ ‘ پہ پوچھ لیت
ہوں‘ پھر جو فوری ضرورت ہو گی‘ کسی ن کسی طرح پہنچن
دوں گ ۔ ڈرت ڈرت اور بڑے محت ط انداز میں‘ ان ک گھر کی
طرف بڑھ گی ۔ میری قسمت اچھی تھی دوسرا دن ک وقت ہی کچھ
ایس تھ ‘ کہ ان کی گ ی ویران پڑی تھی۔ میں ن ادھر ادھر
دیکھت ہوئ ‘ دروازے پر دستک دی۔ خود ع ی رض دروازے
پر آی اور اس ن روزن در س دیکھت ہوئ ‘ دروازے
کھول بغیر‘ مجھ س آن ک مط پوچھ ۔ میں ن جواب کہ
97
میرے لائ کوئی خدمت ہو تو کہیں۔ اس ن جواب شکریہ ادا
کی ‘ مولا آپ کو خوش رکھ ‘ کہہ کر اندر چلا گی ۔ میں ن بھی
وہ ں س کھسکن میں ع فیت ج نی۔
بلاشبہ ڈر‘ خوف اور رنج ن ‘ اس ک اعص شل کر دی
تھ ۔ اس کی آواز سہمی سہمی تھی۔ وہ اپن درد کہن س بھی
ڈرت تھ ۔ ان لمحوں میں ڈر اور خوف ک مجھ پر بھی غ بہ تھ ۔
اس کی یت اور صورت ح ل س گزرن ک ب د‘ مجھ حنیف
ک کہ ک م ہو سمجھ میں آی ۔ ڈر اور خوف س مجھ بھی
علامتی پوٹی ں لگی ہوئی تھیں۔ میں ٹھیک س کچھ کہہ نہیں پ
رہ تھ ‘ تو اس حوالہ س است رتی قبض کی بھی شک یت تھی۔
ایس ح لات میں متض د عوارض ب یک وقت گھیر لیت ہیں۔
میرے لی م م ہ لمح تی تھ ‘ تو یہ ح لت تھی۔ ع ی رض پر تو
یہ عذا کل وقتی تھ ‘ اس ک کی ح ل رہ ہو گ ‘ اندازہ کرن
مشکل نہیں۔
سچی ب ت ہ ‘ مجھ ان لوگوں پر بڑا رح آی ۔ میں ن سوچ ‘
کل سویرے ہی‘ اپن مرشد پ ک س ‘ م جرا کہہ کر‘ دع کرن
کی استدع کرت ہوں۔
جم ہ ح لات سن کر‘ میرے مرشد پ ک بڑے رنجیدہ ہوئ ‘ ب کہ
جذب تی س ہو گی ۔ ان کی آنکھوں س آنسو ٹپک پڑے‘ پھر
98
فرم ن لگ ‘ فکر نہ کرو بیٹ ‘ الله ان ک لی آس نی ک دروازہ
ضرور کھول گ ۔ ہ ں پ نچ لوگ جنت میں نہیں ج سکیں گ ۔
ان کی یہ ب ت سن کر میں بڑا حیران ہوا۔ میں ن پوچھ ‘ حضور
وہ کون س پ نچ لوگ ہوں گ ۔
:فرم ن لگ
ص ح اقتدار‘ جو اپنی ذات ک خول س ب ہر نہیں نک ت ۔ ان
ک ہر کرن میں‘ ان کی ذات ک م د موجود ہوت ہ ۔ ان ک
ادارے‘ صرف ان ہی ک م د ک لی ک کرت ہیں۔ انہیں
رع ی ک دکھ درد س کوئی ت واسطہ نہیں ہوت ۔
سید‘ اگرچہ شروع ہی س چھری ت ہیں‘ لیکن آج‘ وہ بھی
دوسروں ک س ہیں۔ ح لاں کہ انہیں حضور ک پیغ حسینی
رست س گزرت ہوئ ‘ ہر کسی ک پ س پہنچ ن چ ہی ۔ ی
تو سید کہلان چھوڑ دیں ی حضور ک کہ ب ر ب ر ہر کسی ک
س من دہرائیں۔ خیر کریں اور لوگوں کو بھی خیر کرن کی
ت قین کریں۔
شیوخ ن ‘ فقر کو پیشہ بن لی ہ ۔ موج مستی کی زندگی بسر
کر رہ ہیں۔ فقیر اور درویش ک موج مستی س کی ت
واسطہ۔ انہیں اپن لی بھوک دوسروں ک لی سیری بچ ن
چ ہی ۔ یہ خود ہدایت س کوسوں دور ہیں‘ لوگوں کو خ ک
ہدایت دیں گ ۔
99
مولوی ت ری ک دوازے کھولت ہ ۔ اس ن اسلا کو اپنی
ج گیر سمجھ رکھ ہ ۔ جو اس ج گیر ک دائرہ میں ہ ‘ اور
اس ک کہ پر چ ت ہ ‘ بس وہ ہی مس م ن ہ ۔ منصور
حم دی ک کہ کی ج گیر س ب ہر تھ ‘ اسی لی م را گی ۔
منصور حم دی س کہیں بڑا ع ل تھ ۔
ب ھ ش ہ خوش قسمت تھ ‘ ورنہ وہ بھی م را ج ت ۔ اس ن بھی
منصور والا دعوی کی تھ
ب ھی ! اس ں مرن نئیں گور پی کوئی ہور
یہ کہ منصور والا ہی ہ ۔
امت میں ت رقہ‘ کسی بھی حوالہ س ڈالن والا الله ک قہر
وغض س نہ بچ پ ئ گ ۔ ت رقہ ڈالن وال ک س تھ دین
والا بھی مجر ٹھہرے گ ۔
حضرت پیر ص ح کی ب توں میں حقیقت رقص ں تھی۔ وہ
ب چ رے دع ہی کر سکت تھ ۔ وہ ع ی رض ک لی کی کر
سکت تھ ۔ ان کی ب تیں‘ ان ک علاقہ ک چوہدری ص ح
کو‘ گولی کی طرح لگتی تھیں۔ ح لاں کہ وہ کسی ک نقص ن نہیں
کرت تھ ۔ وہ تو‘ اپن منہ ک لقمہ‘ ح جت مندوں کو دے دیت
تھ ۔ چوہدری ک ڈیرے پر لوگ گ پ کرت تھ لیکن پیر
ص ح کبھی کسی ذاتی ح جت ک لی ‘ اس ک پ س نہیں گی
100
تھ ۔ ہ ں لوگوں کی ج ئز ح ج ت ک لی آخری حد تک ج ت
تھ ۔
میں س ری رات‘ بستر پر پڑا کروٹیں لیت رہ ۔ ع ی رض ک حقیقی
قصور یہ تھ ‘ کہ اس ن مولوی ص ح س سلائی کی اجرت
م نگ لی تھی۔ دوسرا اس کی بیوی ن خو صورت ہون ک
ن ت مولوی ص ح کی‘ ان ک وسیبی استحق کو مدنظر
رکھت ہوئ ‘ جنسی تواضع نہ کی تھی۔ یہ اس کی خوش
نصیبی تھی‘ جو ابھی تک س نس ل رہ تھ ۔
حضرت پیر ص ح کی بھی ج ن خطرے کی گرفت میں تھی۔ اس
سوچ ک آن تھ ‘ کہ میری روح تڑپ اٹھی۔ اچ نک میرے منہ س
نکل گی
۔۔۔۔ میں چیر نہ دوں گ ۔۔۔۔
پہگ ں اک د چونک کر اٹھ بیٹھی‘ اور پوچھن بیٹھ گئی‘ کس
کو چیر دو گ ۔ ب ت سی و سب س ع ری تھی‘ اس لی اس
ن ‘ اس اپنی ذات پر محمول کر لی ۔ ح لاں کہ اس ک اس س
دور ک بھی ت واسطہ نہ تھ ۔ کی کہت ‘ ب ت پردے کی تھی‘ کہہ
نہیں سکت تھ ۔ رات بھر تو بکواس سنن میں گزرے گی ہی‘
صبح کو پورے علاقہ اور برادری میں گڈا ب ندھ دے گی۔ یہ
دوسری ب ر تھی‘ کہ میں ایک س تھ دو متض د عوارض کی گرفت
میں آ گی تھ ۔