The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫سو مزاحیے‬

‫مقصود حسنی‬

‫ابوزر برقی کتب خانہ‬
‫مئی ‪6102‬‬

‫نوٹ‪:‬‬
‫سو کا بیلنس' تقریبا تقریبا چھیتر چڑھتا ہے' اس حساب‬
‫سے ہی' سو لکھ کر چھیتر مزاحیے شامل کیے گیے ہیں۔‬
‫ہم ملاوٹ کھانے اور کھلانے کے بھی بڑے شوقین ہیں'‬
‫اس لیے رویہ تن ایک آدھ غیر مزاحیہ دانستہ طور پر داخل‬

‫ہو گیا ہے۔‬
‫ہر دو معاملہ میں' میں از حد یا کم از کم شرمسار یا معذرت‬

‫خواہ نہیں ہوں‬
‫۔۔۔۔۔ باطور سند مطلع رہیں ۔۔۔۔۔‬

‫باور رہنا چاہیے‬
‫کہنا اور کرنا' دو الگ چیزیں ہیں۔ ہم انہیں ایک سمجھ کر‬

‫مار کھا جاتے ہیں۔‬

‫گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں ‪1-‬‬
‫ایم فل الاؤنس اور میری معذرت خوانہ شرمندگی ‪2-‬‬

‫گھر بیٹھے حج کے ایک رکن کا ثواب کمائیں ‪3-‬‬
‫کھائی پکائی اور معیار کا تعین ‪4-‬‬

‫ایجوکیشن‘ کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے ‪5-‬‬
‫مشتری ہوشیار باش ‪6-‬‬

‫مدن اور آلو ٹماٹر کا جال ‪7-‬‬
‫وہ دن ضرور آئے گا ‪8-‬‬

‫ناصر زیدی اور شعر غالب کا جدید شعری لباس ‪9-‬‬
‫پروف ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی ‪10-‬‬

‫دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا ‪11-‬‬
‫غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ ‪12-‬‬

‫انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ ‪13-‬‬
‫تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز قاصری ‪14-‬‬

‫زندگی‘ حقیقت اور چوہے کی عصری اہمیت ‪15-‬‬
‫آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم ‪16-‬‬
‫عوام بھوک اور گڑ کی پیسی ‪17-‬‬
‫رشوت کو طلاق ہو سکتی ہے ‪18-‬‬

‫لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت ‪19-‬‬
‫آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں ‪20-‬‬

‫پی ایچ ڈی راگ جنگہ کی دہلیز پر ‪21-‬‬
‫استاد غالب ضدین اور آل ہند کی زبان ‪22-‬‬

‫دو قومی نظریہ اور اسلامی ونڈو ‪23-‬‬
‫شیڈولڈ رشوتی نظام کے قیام کی ضرورت ‪24-‬‬

‫محاورہ پیٹ سے ہونا کے حقیقی معنی ‪25-‬‬
‫نہ رہے گی بجلی نہ باجے گی ٹنڈ ‪26-‬‬

‫اپنے اکرام صاحب ڈاکٹر مس کال کی گرہ میں ‪27-‬‬
‫رولا رپا توازن کا ضامن ہے ‪28-‬‬
‫من کا چوہا اور کل کلیان ‪29-‬‬

‫زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں ‪30-‬‬
‫بجلی آتے ہی ‪31-‬‬

‫لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت ‪32-‬‬
‫چور مچائے شور ‪33-‬‬

‫بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ ‪34-‬‬
‫باس از آل ویز رائٹ ‪35-‬‬

‫قانون ضابطے اور نورا گیم ‪36-‬‬
‫جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں ‪37-‬‬
‫پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب ‪38-‬‬
‫دیگی ذائقہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی ‪39-‬‬
‫ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو دوسیریاں ‪40-‬‬

‫قصہ زہرا بٹیا سے ملاقات کا ‪41-‬‬
‫صیغہ ہم اور غالب نوازی ‪42-‬‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے ‪43-‬‬
‫الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل ‪44-‬‬
‫بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحقیق ‪45-‬‬

‫احباب اور ادارے آگاہ رہیں ‪46-‬‬
‫مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان ‪47-‬‬

‫سیری تک جشن آزادی مبارک ہو ‪48-‬‬
‫جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے ‪49-‬‬
‫رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے ‪50-‬‬
‫دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو ‪52-‬‬
‫اس عذاب کا ذکر قرآن میں موجود نہیں ‪53-‬‬

‫غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم ‪54-‬‬
‫خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن ‪55-‬‬
‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر ‪56-‬‬
‫امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر ‪57-‬‬
‫رشتے خواب اور گندگی کی روڑیاں ‪58-‬‬
‫طہارتی عمل اور مرغی نواز وڈیرہ ‪60-‬‬

‫لاٹھی والے کی بھینس ‪61-‬‬
‫علم عقل اور حبیبی اداروں کا قیام ‪62-‬‬
‫امریکہ کی پاگلوں سے جنگ چھڑنے والی ہے ‪63-‬‬

‫لوڈ شیڈنگ کی برکات ‪64-‬‬
‫ہم زندہ قوم ہیں ‪65-‬‬
‫بابا بولتا ہے ‪66-‬‬
‫بابا چھیڑتا ہے ‪67-‬‬
‫فتوی درکار ہے ‪68-‬‬
‫لاوارث بابا اوپر ‪69-‬‬

‫ڈنگی ڈینگی کی زد میں ہے ‪70-‬‬
‫حضرت ڈینگی شریف اور نفاذ اسلام ‪71-‬‬

‫یہ بلائیں صدقہ کو کھا جاتی ہیں ‪72-‬‬
‫سورج مغرب سے نکلتا ہے ‪73-‬‬

‫حجامت بےسر کو سر میں لاتی ہے ‪74-‬‬
‫طاقت اور ٹیڑھے مگر خوب صورت ہاتھ ‪75-‬‬

‫انھی پئے گئی ہے ‪76-‬‬

‫آرا‬

‫‪.................................‬‬

‫گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں‬

‫بالادستی' زورزبردستی اور دھکہ شاہی کے لیے' گیارہ قسم کے‬
‫ہتھیار درکار ہوتے ہیں۔‬

‫مال و منال کی فراوانی ‪1-‬‬
‫کہو کچھ کرو کچھ ‪2-‬‬

‫باسلیقہ سچ مارنے کا ڈھنگ ‪3-‬‬
‫سنے اور جانے بغیر' فیصلہ یا معقول جواب دینے کا علم ‪4-‬‬

‫باجواز اپنی منوانے کی شکتی ‪5-‬‬
‫بااعتماد اور فرض شناس مخبر میسر ہوں ‪6-‬‬
‫لوگوں کے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ بےحس اور ‪7-‬‬
‫اپنے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ باحس ہوں‬

‫میں نہ مانوں' کے گر خوب جانتے ہوں ‪8-‬‬

‫سو کے مقابلہ میں ایک سو دس جواذ ملکیت میں رکھتے ‪9-‬‬
‫ہوں‬

‫بدعنوانی کو عنوانی اور ان کے کارناموں کے گن لکھار ‪10-‬‬
‫اور ڈگاگزار موجود ہوں‬

‫چپ اور متواتر چپ کی چادر اوڑھے رکھنا کے ہنر سے ‪11-‬‬
‫بہرہ ور ہوں۔‬

‫اس طور کے گیارہ پتے' اگر ہاتھ میں ہوں گے تو مات کھانے‬
‫کا' سوال ہی نہیں اٹھتا۔ مات اسی وقت ہو گی' جب ان میں سے'‬

‫دو ایک کی کمی ہو گی یا وہ کم زور ہوں گے۔ حال کیا' ماضی‬
‫کے حکمرانوں اور ان کی بغل بچہ منشی شاہی' ان اعلی اور‬
‫بااصول خصوصیات کی حاملہ رہی ہے۔ لہذا یہ سب روایت میں‬

‫چلا آتا ہے۔ آج کی منشی گاہیں کوئی نیا نہیں کر رہیں۔‬

‫پردھان منشی نگر کے باسیوں کے پاس' روز اؤل سے یہ گیارہ‬
‫ہتھیار موجود رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ' انہیں جلا ملتی رہی ہے۔‬

‫یہی وجہ ہے کہ پھنے خاں سے پھنے' ان کے سامنے کسکتا‬
‫تک نہیں۔ پیٹھ پیچھے تو لوگ' شاہوں کے بھی گنہگار ہوتے‬
‫رہتے ہیں۔ بات تو تب ہے' جب کوئی منہ کے سامنے اپنا ان‬
‫دھوتا منہ کھولے۔ یوں قلہ بازیاں کھائے گا' جیسے مکی کے‬

‫دانے' کڑاہی میں پھڑکتے اور تڑپتے ہیں' بلآخر پھلا ہو کر‬
‫رہتے ہیں۔‬

‫ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق' ماتحت چھوٹے‬
‫بڑے منشی ہاؤس' بڑی دیانت داری اور اصول پرستی سے'‬
‫پردھان منشی نگر کے اصول ہائے ہائے زریں‬

‫نوٹ‬

‫۔۔۔۔۔۔ ہائے ہائے کتابت کی غلطی ہے' اسے اصول ہا پڑھا‬
‫جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫پر عمل درامد کرتے آ رہے ہیں۔ وہ ان گیارہ ہھتیاروں کو چمکا‬
‫کر' گرہ میں رکھتے ہیں۔ ملک کی دن دوگنی اور رات چوگنی‬
‫ترقی میں' جہاں اور عناصر کا ہاتھ ہے' وہاں کاغذی کاروائی‬

‫میں' ان اداروں کی' شبانہ کپتی روز خدمات اور محنت کو' نظر‬
‫انداز نہیں کیا جا سکتا' جو آلو کو الو بنا دینے میں' کمال کی‬
‫مہارت رکھتے ہیں۔ مخبرین دس باغیوں کے ساتھ' نوے اپنے‬

‫مخالفیں کو بھی' پھٹے چڑھاتے آ رہے ہیں۔ چلو جو بھی سہی'‬
‫حقی سچی بات تو یہی ہے' کہ اس مقدس اور عزت مآب نگر‬
‫اور دیگر ہاؤسز کے' دس باغی تو ٹھکانے لگاتے ہیں۔‬

‫ان کے کار ہائے نمایاں کی فہرست بڑی لمبی چوڑی ہے' اسے‬
‫رقم کرنے کے لیے' اگر آسمان کاغذ' سمندر سیاہی اور موجود‬
‫ارض ہا کے درخت' قلم بن جائیں' تو بھی رقم نہ ہو پائیں گے۔‬
‫ہر کارنامہ اپنے باطن میں' شوخی اور چٹانی سختی رکھتا ہے۔‬

‫چوری خور مورکھ' زیادہ تر شاہوں کی' خصیہ اٹھائی میں‬
‫مصروف رہا ہے۔ ادھر اس کی بہت کم توجہ گئی ہے۔ اسی طرح‬

‫ماہرین لسانیات نے بھی' انہیں بری طرح نظر انداز کیا ہے۔‬
‫بدقسمتی سے' میں ماہر لسانیات نہیں' ورنہ اپنی بقیہ سانسیں'‬

‫ان کی تحریررات کے لسانی مطالعہ میں گزارتا۔‬

‫نامہ بر سے' لوگوں کو گلہ ہی رہا ہے۔ غالب ایسا فراخ دل اور‬
‫سمندر فکر' تحفظات کا شکار تھا۔ اب دیکھیے' کہاں میں جدید‬
‫عہد کا آدمی' جس کی گھڑی پر چھے اور عملی طور پر' آٹھ بج‬
‫رہے ہیں۔ آج سرکاری پترکدے بڑے جدید ہو گیے ہیں۔ اس کے‬
‫باوجود' لوگوں کی ترجیح میں غیرسرکاری پتر گاہیں ہیں' حالاں‬

‫کہ وہ سرکاری کی نسبت کہیں رقم دراز ہیں۔‬

‫یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے' مجھے ردی کاغذوں میں' ایک‬
‫تحریر ملی' جس پر مرقوم ہے‬

‫محترم پوسٹ ماسٹر صاحب‬
‫اسلام آباد‬

‫‪.................‬‬

‫از راہ کرم پٹرول پمپ کے سامنے لیٹربکس کو قفل تو لگائیے تا‬
‫کہ خطوط محفوظ رہ سکیں۔‬
‫مخلص‬
‫وقار ‪.....‬‬
‫ڈی۔ ‪ '58‬جی۔ ‪4-2‬‬
‫اسلام آباد‬
‫فروری ‪9 0621‬‬

‫یہ خط ' اسلام آباد کے کسی غیر مصروف' بےفضول نکتہ چیں‬
‫اور دفتر شاہی کے صدیوں پر محیط مزاج سے ناآشنا' شخص کا‬

‫لگتا ہے۔ خط کھلا لانے کا گلہ تو بہت پرانا ہے۔ بازور اور‬
‫باحیثیت لوگ یا مہذب اور مستعمل زبان میں' وڈیرا کہہ لیں' ٹیل‬

‫اٹھائیکر ساتھ رکھتے تھے۔ اب چوں کہ ٹیل رکھنے اور اسے‬
‫چکنے کا دور نہیں رہا۔ دوسرا آج ٹیل کیئر یعنی ٹی سی کی‬

‫معنویت ہی بدل گئی ہے۔ اب تفاخر کے اظہار کے لیے' گلا کھلا‬
‫اور ٹانگیں چوڑی کرکے' چلنے کا رواج ترکیب پا گیا ہے۔‬

‫پوسٹ بکس کا بلا تالہ ہونا اور پٹ کھلے ہونا' محکمہ ہذا کی‬
‫بلند اطواری اور باحیثیت مزاجی کا غماز ہے۔‬

‫اس خط یا درخواست کے آخر میں' سرخ روشنائی میں کوئی‬
‫حکم تو درج نہیں ہاں البتہ' اسی تاریخ میں‬

‫‪lock applied‬‬

‫درج ہے ۔ یہ واضح نہیں کہ پوسٹ بکس کو تالا لگایا گیا یا‬
‫درخواست گزار کی زبان بند کر دی گئی۔‬

‫‪1967‬‬
‫میں بازوری کی کیفیت' آج سے قطعا مختلف نہ تھی۔ وہ لوگ‬
‫بھی' درج بالا ہتھیاروں سے' لیس تھے۔ آج کو' درج بالا ہتھیار‬

‫وراثت میں ملے ہیں۔ مشین گن اور سٹین گن ‪ 0604‬میں‬
‫استعمال میں آئی تھیں۔ مشین گن کے لیے' پان سات لوگ ہوا‬

‫کرتے تھے۔ یہ جدید اور ٹیڈی ہو گئی ہے' اس لیے اسے‬
‫اٹھانے کے لیے' ایک آدمی ہی کافی ہوتا ہے۔ گویا مشین گن کل‬

‫بھی تھی' آج بھی ہے۔‬

‫نامہ ہاؤس سے' میرا خادمی و مخدومی کا تعلق' کل بھی تھا' آج‬
‫بھی بھی ہے۔ میں نے' ان کی کوتاہی کو اپنی کوتاہی سمجھ کر‬
‫درگزر کی کٹیا میں' پناہ لی ہے۔ ایک بار' درخواست گزاری کی‬
‫حماقت' مجھ سے بھی سرزد ہوئی۔ ہوا یہ کہ میں نے' اپنے‬
‫بیٹے کو کچھ اشیاء کا پارسل' وزنی تین کلو آٹھ سو نوے گرام'‬
‫سرکاری ڈاک سے' اسٹریلیا بھجوایا' رولتا کھلتا' میرے پاس‬
‫بلاخریت آ گیا۔ سلیز ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اسٹریلین ڈاک ہاؤس یا اس‬
‫سے متعلقہ کسی اتھارٹی کی' مہر ثبت نہ تھی۔ میں نے ڈاک پر‬
‫خرچ آنے والے ‪ 6258‬روپے کی' واپسی کے لیے بڑے ہی‬
‫مودبانہ اور عاجزانہ انداز میں' درخواست گزاری۔‬

‫پارسل کھولا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔‬

‫اس مینبھیجے گیے سامان کی بجائے بانٹیوں' سلانٹیوں' گولیوں‬
‫وغیرہ کے خالی کور اور پنے پائے گیے۔ نہایت بوسیدہ اور‬

‫پرانے مردانہ کپڑوں کے جوڑے دستیاب ہوئے۔ میں نے الله کا‬
‫لاکھ شکر ادا کیا کہ یہ پارسل میرے بیٹے' بہو اور پوتی تک‬
‫نہیں پہنچا۔‬

‫پیرہ نمبر ‪4‬‬

‫درخواست بنام پوسٹ ماسٹر جنرل‬
‫مورخہ ‪6100-8-01‬‬

‫میں نے دوبارہ سے سامان خریدا اور‬

‫‪LEOPRDS COURIER SERVICES PVT. LTD‬‬

‫سے اسی ایڈریس پر بھیجا۔ پارسل پوری خیر خریت کے ساتھ'‬
‫تھوڑے ہی دنوں میں' منزل مقصود تک جا پہنچا۔ میں نے الله کا‬
‫شکر ادا کیا۔ چوں کہ یہ پرائیویٹ سروس تھی اور مجبورا زیادہ‬

‫پیسے بھرے تھے' اس لیے الله کا شکر ادا کیا' ورنہ سرکاری‬
‫شکریہ' مجھے شرک کی دہلیز کے اس بار کر دیتا۔‬

‫دو سرکاری چھٹیاں ملیں۔‬
‫ڈویژنل سپرنٹڈنٹ پوسٹل سروسز کے آخری جملے میں مشورہ‬

‫دیا گیا‬

‫‪It is requested to kindly take up the matter with the Ausralian postal‬‬
‫‪Authorities, for this purpose, if admissionable as per rules.‬‬

‫اس جملے کو لائق توجہ نہ سمجھا گیا۔ آفس آف دی کنٹرولر آئی‬
‫ایم او لاہور نے کچھ یوں کاروائی فرمائی‬

‫‪As regards the sender claim regarding booking charges, it is also not‬‬

‫‪justified from any angle. As the booking charges were paid by the‬‬

‫‪sender for the transmission of the parcel to Australia and our‬‬

‫‪department has no fault for return of this parcel from Australia‬‬

‫گویا سرکاری ڈاک سے' عدم رابطہ کے سبب' بیرون ملک‬
‫پارسل بھجوانا' کھلی حماقت سے کم نہیں۔ میری سادگی‬

‫دیکھیے' میں سرکاری چٹھیوں کو' اپنے نام سمجھ رہا تھا اور‬
‫یہی سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار نمبر‪ 00‬پھیکتے ہوئے'‬
‫پہلی درخواست پر کاغذی کاروائی بھی کی ہے اور درخواست کا‬
‫جواب بھی دیا ہے۔ ہاں البتہ' دوسری درخواست کو ہتھیار نمبر‬
‫‪ 00‬سے بلا تکبیر ذبح کر دیا گیا ہے۔ جب غور کیا تو معلوم ہوا‬
‫مجھے تو کبھی جواب ہی نہیں دیا گیا۔ یہ سب تو ان کی اپنی گٹ‬
‫مٹ تھی۔ مجھے تو محض اطلاعی نقول بھیجی گئی تھیں۔ ہتھیار‬

‫نمبر ‪ 00‬کی عزت' احترام اور وقار' پورے پہار کے ساتھ اپنی‬
‫جگہ پر موجود تھا۔ ہاں البتہ حسب ضابطہ اور قانون چپ کے‬

‫تحت میں بلا تکبیر ذبح ہو گیا تھا۔‬

‫ایم فل الاؤنس اور میری معذرت خوانہ شرمندگی‬

‫پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار بولتے نہیں' سر چڑھ کر' گرجتے‬
‫اور برستے ہیں۔ وہ زندگی اپنے طور اور اپنی مرضی سے بسر‬

‫کرتے ہیں۔ کون جیتا اور کون مرتا ہے' انہیں اس سے کوئی‬
‫غرض نہیں ہوتی۔ انہیں کبھی اور کسی سطح پر' یہ امر خوش‬
‫نہیں آتا کہ ان کے سوا' کوئی اور بھی ہے۔ زندگی کی پگ ڈنڈی‬

‫پر چلتے لوگ' لوگ نہیں' محض غلاظت بھرے کیڑے لگتے‬
‫ہیں۔ ان کے لیے' ان کے پاس حقارت اور نفرت کے سوا کچھ‬
‫نہیں ہوتا۔ وہ انہیں اپنے گراں قیمت جوتے سے' ٹھوکر لگانا‬
‫بھی پسند نہیں کرتے' مبادہ آلودہ ہو جائیں گے۔ ایسے کام کے‬

‫لیے' ان کے پاس' چمچوں کڑچھوں کی کمی نہیں ہوتی۔‬

‫پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار خود کو اٹل اور مکمل سمجھتے‬
‫ہیں۔ ان کے نزدیک' ان کا کیا اور کہا' ہر کجی سے بالاتر ہے۔‬

‫اس پر انگلی رکھنا' موت اور دکھ درد کو ماسی کہنے کے‬
‫مترداف ہوتا ہے۔ چوری خور مورکھ اور قصیدہ گزار شاعر' اس‬

‫سب کو' اقوال و افعال زریں قرار دے دیتا ہے۔‬

‫جہاں کہیں یہ باطورگیسٹ' باطلاع یا بلا اطلاع ورد ہوتے ہیں'‬
‫پروٹوکول' حفاظت اور دوسرے معاملات کے حوالہ سے' وختہ‬

‫پڑ جاتا ہے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ انہیں بٹھائیں کہاں'‬
‫ڈکارنے اور پھاڑنے کے لیے 'کیا پیش کریں۔ اس ذیل میں' جملہ‬
‫چمچگان اپنے پیچھے کا پورا زور لگا دیتے ہیں۔ یہ سب کرنے‬

‫کے باوجود' انسان ہونے کے ناتے' کہیں ناکہیں کوئی کمی‬
‫کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ سارے کیتے کترائے پر' پانی پھر جاتا‬
‫ہے۔ کسی چہاڑ چھنب کے باوجود' انہیں غصہ نہیں آتا۔ غصہ‬
‫کرنے کا' انہیں حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔ وہ کسی اگلی بار' اس‬
‫کمی کوتاہی کو دور کرنے کا' اپنی ذات سے عہد باندھ لیتے ہیں۔‬

‫پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار کی معمولی خوشی پر' رو بہ رو‬
‫ہی نہیں' دور دراز علاقوں میں رہتے ہوئے لوگ' دوہائی کا‬
‫جشن مناتے ہیں۔ ظاہری اور باطنی سطح پر' وہ خالص اور‬
‫اصلی ہی دکھائی پڑتا ہے۔ درحقیقت انہیں معلوم ہوتا ہے' کہ‬

‫مخبر کی آنکھیں کھلی اور معاملہ شناس ہوتی ہیں۔ دوسرا مقامی‬
‫حرف گر' منٹ منٹ کی خبریں' قرطاس ہنر پر رقم کر رہا ہوتا‬

‫ہے۔ وہ اس ساری عمومی کوشش کو' حتی المقدور اپنی کوشش‬
‫اور خوشی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادہ تر کامیاب بھی‬

‫ٹھہرتا ہے اور آوٹ آف ٹرن ترقی بھی حاصل کر لیتا' ورنہ گڈ‬
‫بک میں اس کا نام نامی اسم گرامی' زعفرانی روشنائی سے'‬
‫بلاتکلف درج ہو جاتا ہے اور کسی دوسرے وقت' پچھلے کیے‬

‫کا بھی انعام گرہ لگتا ہے۔‬

‫معمولی ناسازی طبع' یا گماشتے جی حضوری میں' اپنے کمال‬
‫کا شیرہ ڈال کر' شفا گاہوں کے درودیوار اور ان کے اکڑوند‬
‫باسی' ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ گویا یہ پہلی ترجیح کلاس‬
‫ایمرجنسی ہوتی ہے۔ اس ڈرامے کے دورانیے میں' کتنے بی‬

‫اور تھرڈ کلاس' ایمرجنسی میں پڑے لوگ' جان سے جاتے ہیں‬
‫یا جان جانے کی اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں‪ .‬یہ سب' کسی کھاتے‬

‫پر نہیں چڑھتا' ہاں یہ پہلی ترجیح پلس ایمرجنسی' یادوں کے‬
‫کھاتے پر چڑھ جاتی ہے۔‬

‫میں نے پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیارکو' کوئی شخصی نام نہیں‬
‫دیا' کیوں کہ یہ خود کو فرعون کی پیروی میں خدا نہیں کہتے'‬
‫حالاں کہ ان کا کہنا اور کرنا' فرعون کا سا ہی ہوتا ہے۔ انسان‬

‫اس لیے نہیں کہا جا سکتا' کہ وہ انسانوں کو کیڑے مکوڑے‬
‫سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سے عبرت لینا' ان کے مزاج میں داخل‬
‫نہیں ہوتا۔ فنا کا فلسفہ اور ان گنت مثالیں' ان کے مزاجی نالج‬

‫میں داخل نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی' یاد دلانے کی کوشش میں'‬
‫سدھار اور ان ہی کی خیرخواہی کا جتن کرتا ہے' تو جان سے‬
‫جاتا ہے۔ گویا فنا ان کے لیے نہیں ہے اور مالک کے دربار' ان‬
‫کی حضوری کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ ہر کوئی ان کے حضور‬
‫حاضری کا پابند ہے۔ زندگی کے آخری موڑ پر بھی' دنیا سے‬
‫جانا یاد میں نہیں آتا اور یہ گمان سے نکل نہیں پاتا کہ میں کے‬
‫لیے فنا ہے اور بقا تو صرف اورصرف الله ہی کی ذات کو ہے‬

‫اور وہ ہی باقی رہنے کے لیے ہے۔‬

‫عین قانون قدرت کے مطابق' وہ فنا سے گزرتے ہیں' تو فقط‬
‫چوری خور مورکھ کا لکھا باقی رہ جاتا ہے۔ اکثر اوقات وہ‬

‫لکھا' متنازعہ ہو جاتا اور عمومی حلقوں کی تقسیم کا باعث بنتا‬
‫ہے' جو آتے یگوں میں' آتی نسلوں کے لیے نقصان کا باعث‬
‫بنتا ہے۔ یہ چاروں آواگونی ہیں' نئے انداز اور نئے روپ کے‬
‫ساتھ نمودار ہو جاتی ہیں' تاہم چلن اور اطوار میں تبدیلی نہیں‬
‫آتی۔ حجاج سفاک تھا' لیکن چرچل اس سے کسی طرح پیچھے‬

‫نہ تھا۔ مسڑ چہاڑی کا ذکر امریکی ہونے کے باعث' نہیں کیا جا‬
‫سکتا۔ جب کوئی نئی قوم' ہیرو کے مرتبے پر فائز ہو گی' تو‬

‫گزرا کل آتے لوگوں کے لیے' محض داستان ہو کر رہ جائے گا۔‬
‫ہوسکتا ہے' نئے کے چکر میں پرانے کو بھول جائیں' تاہم‬
‫مورکھ کی لکھتوں کے باعث' تنازعہ کا دروازہ ضرور کھل‬
‫جائے گا۔۔ ناظر مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہوں گے۔ کسی‬

‫عارضی اور مصنوعی و جعلی قوت کو' بقا نہیں۔ قارون اس لیے‬
‫یاد میں ہے' کہ اس کا پالا' الله کے منتخب شخص کے ساتھ تھا۔‬

‫طاقت کی بات اپنی جگہ' اس کے خصوصی بلکہ عمومی‬
‫کنکبوتی بھی' انہیں وی آئی پیز کہا جاتا ہے' مذکوران سے کہیں‬

‫زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔ ان کا ڈسا پانی بھی مانگ نہیں پاتا۔‬
‫بجلی پانی گیس کے بل کیا ہوتے ہیں' سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ عید‬
‫پر قربانی کے بکرے' تحفہ میں مل جاتے ہیں۔ ہر چھوٹے موٹے‬
‫تہوار پر' سو طرح کے مہنگے تحفے بلا طلب کیے' ان کی دہلیز‬
‫چڑھنے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ تہوار چڑھانے والا' اس میں‬

‫فخر محسوس کرتا ہے اور خود کو' کنکبوتی کا اپنا آدمی‬
‫سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سوچ اسے' انھی پانے پر مجبور کر دیتی‬

‫ہے۔‬

‫جنسی تسکین کے لیے' انہیں لڑکی پٹانے کے لیے' کسی طرح‬
‫کا' ویل نہیں کرنا پڑتا اور اس ذیل میں جیب ہلکی کرنے کی‬

‫ضرورت نہیں پڑتی۔ بستر نواز' انہیں ہر قسم کی محتاجی سے'‬

‫بچائے رکھتے ہیں۔ یہ ہی نہیں' ورائٹی صاحب کے مزاج کے‬
‫مطابق' بدلتے رہتے ہیں۔‬

‫لفافہ کلچر' ان ہی کی دین ہے۔ لفافہ اپنی کارگزاری کا جواب‬
‫نہیں رکھتا۔ یہ لفافے ہی کا کمال ہے' کہ ڈی میرٹی کے جملہ داغ‬

‫دھبے' مٹا دیتا ہے۔ میرٹ کو ڈی میرٹ کرنے کے' سارے گن'‬
‫اس کے گرد رقص کرتے ہیں۔ لفافہ بردار کو اگر مسکراہٹ‬
‫میسر آ جائے' تو گویا اس کے بھنے اگ پڑھتے ہیں' ورنہ‬
‫سپلیمنٹری لفافہ پیش کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔‬

‫منشی گاہوں میں بھی' کنکبوتی موجود ہوتے ہیں‪ .‬یہ بڑی' بلکہ‬
‫بہت بڑی شے ہوتے ہیں۔ یہ تو یہ' ان کے معاون پی یو سی‬

‫طراز' بڑے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ یس کو نو اور نو کو‬
‫یس میں بدلنے کے ہر گر' سے واقف ہوتے ہیں۔ گویا آسمان‬
‫سے ٹاکی اتارنا اور لگانا' ان پر ختم ہے۔‬

‫خواتین اپنے آپ میں' بڑی شے' بنتی ہیں لیکن نخرہ بازی میں'‬
‫ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہوتیں۔ ہوٹل کے کھانے' انہیں اور‬

‫ان کی گھر والیوں کو' بڑے ہی خوش آتے ہیں۔ گرہ خود سے‬
‫کھانا' رزق حرام کے زمرے میں آتا ہے۔ سامیاں اپنے اپنے‬

‫علاقے کی سوغات' لانا نہیں بھولتیں۔ میں میں کرنے کے ساتھ‬
‫ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔ ان کے گھر والوں کے‬
‫لیے' الگ سے شاپر تیار کرواتی ہیں۔ گویا وی آئی پیز کے‬

‫ماحت ہونے کے سبب' داسوں گھی میں اور سر کڑاہے میں رہتا‬
‫ہے۔ گھر کی کسی تلخی کا غصہ نکالنے کے لیے' سامیاں قدم‬
‫بوس ہوتی رہتی ہیں۔‬

‫کہا جاتا ہے' زندگی کرنا آسان نہیں' ان طبقوں میں' اس مقولے‬
‫کا دور تک اتہ پتا نہیں ملتا۔ ہاں آخرالذکر طبقے پر' بعد از‬

‫ریٹائرمنٹ اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ طبقے' چوں کہ تعدادی‬
‫حوالہ سے' زیادہ نہیں ہیں' لہذا تعدادی حوالہ سے زیادہ پر' اس‬

‫کا اطلاق ہوتا ہے۔ وہ ناصرف غیر محفوظ ہوتے ہیں' بل کہ ان‬
‫گنت معاشی معاشرتی اور دفتری مسائل میں' گھرے ہوتے ہیں۔‬
‫اس پر طرہ یہ کہ دہلیز کے اندر' چھے ستمبر کی کیفیت طاری‬
‫رہتی ہے۔ نہ جی سکتے ہیں اور زندگی جیسی بھی سہی' انہیں‬

‫مرنے نہیں دیتی۔ گویا‬

‫نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‬

‫میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے بات نہیں کر رہا۔‬
‫یہاں مسلمان اقامت پذیر ہیں۔ یہ ملک اپنی بنیادوں میں پروفسر‬

‫اصغر سودائی کا یہ نعرہ رکھتا ہے۔‬

‫پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله‬

‫یہاں کی طاقتیں اور ان کے کنکبوتی بھی بااصول اور مجوزہ‬
‫شرع پر کار بند ہیں۔‬

‫اصولی طور پر کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا تو پڑتا ہی‬
‫ہے۔‬

‫دراصل میں ہی بےاصولا تھا' جو بلاچہڑے' اپنے ایم فل الاونس‬
‫کی حصولی کا ‪ 0661‬سے منتظر رہا۔ بعد از ریٹائرمنٹ بھی‬

‫درخواستیں گزارتا رہا۔ میں خواہش مند تھا' کہ اس مقدس بارگاہ‬
‫کا اعتراض کردہ خط ہی میسر آ جاتا' تا کہ تبرکا تعویز بنا کر'‬

‫گلے میں ڈال لیتا۔ بلاشبہ وہاں کی حرف کاری' میرے لیے اعزاز‬
‫خسروی سے' کسی طرح کم نہ ہوتی۔ میں اپنی درخواست بازی‬
‫پر نہایت شرمندہ ہوں۔ ویسے بےلیے' یہ دے بھی دیا جاتا' تو‬
‫حاتم کی روح اس لطف و عطا پر' شرمندہ و نادم ہوتی۔ میرا یہ‬

‫بقایا' ان کے پوٹیکدے پر مہینے میں اٹھنے والے خرچے کا'‬
‫عشر عشیر بھی نہ ہوتا۔‬

‫گھر بیٹھے حج کے ایک رکن کا ثواب کمائیں‬

‫اس میں کوئ شک نہیں سیکس زندگی میں بڑے مضبوط حوالے‬
‫کا درجہ رکھتا ہے۔ ضرورت یا عدم تسکین کی صورت میں‬
‫انسان درندہ کیا شیطان کو بھی مات دے جاتا ہے۔ اس سے‬

‫جڑے حوالے روزمرہ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ یہی صورت‬
‫پیٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ ان دونوں کے منہ زور ہونے میں‬

‫کوئی شک نہیں لیکن یہ زندگی کے بہت سے حوالوں میں سے‬
‫فقط دو حوالے ہیں۔ انہیں مکمل زندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ‬

‫منہ زوری اور ناقابل کنٹرول سطع پر اس وقت آتے ہیں جب‬
‫شخص انہیں خود پر طاری کر لیتا ہے اور انہیں زندگی‬
‫سمجھنے لگتا ہے۔‬

‫اگر سیکس نسل کشی اور روٹی کو پیٹ بھرنے کا محض ایک‬
‫ذریعہ سمجھ لیا جائے تو یقینا درندگی اور شطنت راہ نہ پا‬

‫سکے گی۔ انسان کو الله نے احسن تخلیق فرمایا ہے اس لیے یہ‬
‫کہنا قطعی غلط ہے کہ حاجات نفس اور جذبے اس کی بنیادی اور‬

‫حقیقی فطرت کی دسترس سے باہر ہیں۔ جب تک انسان‘ انسان‬
‫رہتا ہے سب کچھ اس کے زیردست رہتا ہے جونہی وہ اپنی‬

‫بنیادی اور حقیقی فطرت سے گرتا ہے احسن کا درجہ اس سے‬
‫دوریاں اختیار کر لیتا ہے۔‬

‫دنیا کے تمام مذاہب دراصل انسان کو اس کی حقیقی فطرت پر‬
‫رکھنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ مذہب انسان سے کوئ الگ‬
‫چیز نہیں ہیں۔ یہ انسان ہی کو واضح کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔‬
‫گویا جب انسان غلط کرتا ہے وہ انسانی مذہب یعنی احسن سے‬

‫گرتا ہے اور محض حاجت خواہش ضرورت نفس وغیرہ کی‬
‫چلتی پھرتی تجسیم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے انسان کہنا انسان کی‬

‫توہین کے مترادف ہوتا ہے۔‬

‫اخبار میں ہم جنسی کے متعلق مباحثے کی خبر پڑھنے میں آئ۔‬
‫خبر پڑھ کر بڑی حیرت ہوئ۔ ہم جنسی انسانی مذہب سے لگا‬
‫نہیں کھاتی تو اس پر کسی قسم کی گفتگو کا سوال ہی نہیں‬

‫اٹھتا۔ دوسری بڑی بات یہ ہمارے معاشرتی سسٹم سے باہر کی‬
‫چیز ہے۔ یہی نہیں یہ ہمارے کسی بھی مسلک سے متعلق نہیں‬
‫ہے۔ اسلامی دنیا کا کوئ مسلک اس فعل کی اجازت نہیں دیتا لہذا‬

‫اس موضوع پر کسی قسم اور کسی بھی سطع کی گفتگو نہیں‬
‫بنتی۔ اس پر آپسی گفتگو اجازت نہیں مباحثوں کا اہتمام ہونا تو‬
‫بڑی دور کی بات ہے۔ اگر یہ فعل بد موجود ہے تو ذاتی سطع پر‬

‫ہے اور اس کا چرچا برسرعام نہیں کیا جاتا۔‬

‫ایک خبر یہ بھی ہے کہ یتیموں اور بے گھر بچوں کی مدد کے‬
‫نام پر ادارہ کھولا گیا مدد کی آڑ میں مجبور بےبس اور لاچار‬
‫بچوں کے ساتھ یہی فعل بد ہو رہا ہے۔ حکومت کتنی بھی سخت‬
‫اور اصول پسند کیوں نہ ہو انسان کو احسن کے درجے پر فائز‬
‫نہیں کر سکتی۔ انسان اسی وقت تک انسان رہتا ہے جب تک اس‬
‫کا ایمان الله کی ذات گرامی پر مضبوط رہتا ہے۔ انسان اپنے خالق‬
‫کے حکم اور پہلے سے طے شدہ انسانی حدود سےباہر قدم‬
‫نہیں رکھتا۔ انسانی مذہب کسی لگی لپٹی کے بغیر واضح کرتا‬
‫ہے کہ ہر انسان کو اپنے خالق کے حضور پیش ہونا ہے اور‬
‫اپنے ہر کیے کا جواب دینا ہے۔ تجربہ بھی بتاتا ہے کہ کوئی‬
‫باقی نہیں رہنے کا۔ ہر انسان پر واضح ہے کہ وہ باقی نہیں رہے‬

‫گا۔‬

‫میں یہاں تحریری طور پر لکھ کر دے رہا ہوں قانون اور دیگر‬
‫ضابطے برائ کو ختم نہیں کر سکتے جب تک ہر کوئ یہ سمجھ‬

‫نہیں لیتا کہ اس کا کیا ریکارڈ میں آ رہا ہے اوراس کے کیے‬
‫کے مطابق پھل ملے گا۔ جب میں جانتا ہوں کہ بجلی کی چوری‬
‫درست نہیں‘ سارا زمانہ بجلی کی چوری کرتا پھرے‘ میں کیوں‬
‫کروں۔ انسان مزدوری کر رہا ہو یا ملازمت یا وہ ملک کا حاکم‬
‫ہی کیوں نہ ہو بنیادی طور پر انسانی مذہب (فطرت) ہی پر ہے۔‬

‫انسانی مذہب (فطرت) اسے احسن کے درجے سےنیچے آنے‬
‫نہیں دیتا۔ نیچے آتا ہے تو انسان نہیں رہتا۔‬

‫غیر انسانی افعال سر انجام دینے والوں کو انسان کہنا انسان کی‬
‫کھلی تذلیل ہے۔ دانستہ طور پر غیر انسانی افعال سر انجام دینے‬

‫والے انسان نہیں شیطان ہیں۔ انسانی تجسیم انسان ہونے کے‬
‫لیے کافی نہیں۔ حضرت ہاجرہ کے پاس شیطان انسانی بہروپ‬
‫میں آیا تھا زوجہ حضرت ایوب کے پاس بھی شیطان انسانی‬
‫روپ میں ہی آیا تھا۔ انسانی جسم لے لینے کے بعد اسے انسان‬
‫کس طرح اور کس بنیاد پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی‬
‫طرح فعل بد (جوری ڈاکہ ہیرا پھیری بددیانتی رشوت غیر فطری‬
‫جنسی افعال وغیرہ) سے متعلق کو انسان نہیں کہا جا سکتا ہیں۔‬

‫انسان انسانی مذہب سے الگ نہیں ہو سکتا۔‬

‫اس قماش سے متعلق دیکھنے میں انسان لیکن اپنی اصل میں‬
‫شیطان ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مارنا ثواب ہے۔ ہر کوئی مکے‬
‫نہیں جا سکتا اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ شیطان پر رجم‬

‫کریں اور اس کی شر سے بچنے کے لیے الله کریم سے مدد‬
‫طلب کریں۔ اگر الله کریم توفیق وساءل اور ہمت دے تو کنکریوں‬

‫کی بوچھاڑ کر دیں۔ دشمن سزا پائے گا اور الله کریم سے اجر‬
‫عطا ہو گا۔ جہاد اور کس کو کہتے ہیں۔ گویا آم کے آم گھٹلیوں‬

‫کے دام۔ یہاں بیٹھے کم از کم حج کے ایک رکن کا ثواب کمایا جا‬
‫سکتا ہے۔‬

‫کھائی پکائی اور معیار کا تعین‬

‫زندگی محدود نہیں۔ کائنات زندگی سے الگ یا غیر متعلق نہیں۔‬
‫زندگی کو کاءنات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کائنات‬

‫کو زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک دوسرے سے‬
‫انتہائ متعلق ہیں۔ کائنات کی کوئ چیز جو تاحال انسان کی‬

‫دسترس میں نہیں‘ کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس‬
‫کے متعلق کسی ناکسی سطع پر سوچ‘ خیال‘ نظریہ ہا کہیں‬
‫ناکہیں کوئ حوالہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ اس لیے آگہی نہ‬
‫ہونے کے سبب اسے مسترد کرنا یا یکسر نظرانداز کر دینا‘‬

‫درست نہیں ہوتا۔ یہ اس شخص کی محدود آگہی کا نقص ہوتا ہے‬
‫ناکہ اس چیز یا زندگی کا نقص۔ بالکل اسی طرح کسی جز کو‬
‫بنیاد بنا کر کل پر حرف غلط کی لکیر کھنچ دی جائے۔ کل کے‬

‫حوالہ سے ہر جز کو غلط قرار دینا بھی زیادتی کے مترادف ہوتا‬
‫ہے کیونکہ ہر جز‘ کل کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنا الگ سے‬

‫ذاتی وجود رکھتا ہے۔ اشیاء اور جاندار فنا کی آغوش میں جا کر‬
‫بھی جزوی طور پر فنا نہیں ہوئ ہوتیں۔ یہ اجزا تصرف میں‬
‫لاءے جا سکتے ہیں۔ کل میں مدغم ہونے کے بعد ان کی‬
‫کارگزاری ماند نہیں پڑتی۔ نئے کل میں عین ممکن ہے ان کی‬

‫کارگزاری پہلے سے بہتر ہو جائے یا وہ کسی دوسرے جز کے‬
‫لیےمناسب‘ بہتر یا بہترین معاون ثابت ہو۔ ہر قدرے کار گزاری‬
‫کو بھی نظرانداز کرنا زندگی کی روانی یا مزید ترقی کی سعی پر‬

‫کلہڑی مارنے کےمترادف ہوتا ہے۔‬

‫کسی جز کی کجی کے سبب‘ کل کے تمام اجزا کو ناقص‘ بےکار‬
‫یا ناکارہ قرار دے دینا کسی طرح دانش مندی نہیں۔ مثلا ٹی وی‬
‫بند ہو جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹی وی کے تمام پرزے‬
‫فیل یا خراب ہوگیے ہیں۔ کسی ایک پرزے میں نقص آ گیا ہوتا‬
‫ہے جسے مکینک درست کر دیتا ہے یا بدل دیتا ہے۔ ٹی وی پھر‬
‫سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تبدیل کیا جانے والا پرزہ لایعنی‬
‫نہیں ہو جاتا۔ کسی ناکسی سطع پر اس کی کار گزاری باقی ہوتی‬

‫ہے۔‬

‫کچھ نہیں میں کیڑے نکالنا کے لیے بےشمار مثالیں موجود ہیں۔‬

‫مواد ریسرچ اسکالر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کسی نوخیز یا تقریبا‬
‫نوخیز بی بی سے ہم کلام نگران کے منہ سے جملہ نکلتا ہے یہ‬

‫کام کیا ہے‘ جاؤ نظرثانی کرکے لاؤ۔ میں اس میں نگران کا‬
‫قصور نہیں سمجھتا۔ ریسرچ اسکالر کو موقع دیکھ کر جانا‬
‫چاہیے۔ زنگی شخص سے اور شخص زندگی سے جڑا ہوا ہے۔‬
‫زندگی بےرنگ نہیں‘ زندگی تو بےشمار رنگوں سے وابستہ ہے‬
‫اور معنویت کا تصرف ہی اصل ہنر مندی ہے۔ معمولی معنویت کا‬
‫استعمال ناصرف ہنر کو نکھارنا ہے بلکہ وسائل کی بچت کا‬
‫سبب بھی بنتا ہے۔ وسائل کا بچانا کسی نئی دریافت کے لیے‬

‫آسانی پیدا کرتا ہے۔‬

‫سننے میں آیا ہے کہ دس محرم کو ماتمی جلوس گزر رہا تھا۔‬
‫ایک انگریز کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے اپنے گائیڈ سے ماجرا‬

‫پوچھا۔ گائیڈ نے بتایا کہ حضرت امام حسین کی شہادت کا ماتم‬
‫ہو رہا ہے۔ انگریز نے سمجھا کہ انہیں آج‘ چودہ سو برس بعد‬
‫اتنے بڑے واقعے کا علم ہوا ہے۔ یہ واقعہ بطور دلیل علاقے کے‬
‫لوگوں کو پس ماندہ سمجھنے کے لیے کافی ہے حالانکہ سرے‬
‫سے ایسی کوئ بات ہی نہ تھی۔ گویا جز کو کل پر محمول کرنا‬

‫کھلی زیادتی اور خود اپنی جہالت کے مترادفف ہے۔‬

‫بےوجود یا اچھی بھلی میں کیڑے بلکہ کاکروچ نکالنا ہر دو درج‬

‫بالا امور سے الگ معاملہ ہے۔ کرنل فوجی پریڈ کی سلامی لے‬
‫رہا تھا۔ اس نے باآواز بلند کہا اوہ گنڈا سنگھ قدم ملاؤ۔ کسی نے‬

‫جواب دیا سر آج گنڈا سنگھ نہیں آیا۔ کرنل نے جوابا کہا بکو‬
‫مت‘ وہ آئے نہ آئے میرا کام ٹوکائ کرنا ہے۔ چہاں اس قسم کی‬

‫صورتحال ہو وہاں گفتگو کرنا ہی فضول ہے۔ انسان کا سوچ‬
‫ناقابل گرفت ہے۔ انسانی جسم کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن سوچ‬

‫پر پہرے نہیں بٹھاءے جا سکتے۔‬

‫‪:‬محاورہ بلکہ ضرب المثل چلی آتی ہے‬

‫پوری دیگ میں سے چند چاول بھی اس کے معیار کو پرکھنے “‬
‫“کو کافی ہوتے ہیں‬

‫اس ضرب المثل جو محاورے کے درجے پر فائز ہے کا حقیت‬
‫سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔ ٹھیک اور احتیاط سے پکی ہوئ‬
‫دیگ بھی چار ذائقوں کی حامل ہوتی ہے۔ کچھ بھی کر لیں یہ‬
‫حوالے ختم نہیں ہو پائیں گے۔ ابتدائ‘ درمیانی‘ بالائ اور اطراف‬
‫میں دیگ کے ساتھ لگے ہوئے چاؤلوں کا ذائقہ اور تاثیر الگ‬

‫سے ہوگی۔ بالائ یا بالائ سے تھوڑا نیچے سے لیے گیے‬
‫چاولوں کے حوالہ سے پوری دیگ کے متعلق جاری کیا گیا حکم‬
‫محض یک طرفہ قیافہ ہو سکتا ہے۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ‬
‫یہ حکم پکانے والا لگا سکتا ہے یا کھانے والا۔ ہنرمندی کی بنا‬

‫پر یہ حق پکانے والے کو دیا جاتا ہے حالانکہ یہ حق کھانے‬

‫والے کا ہے۔ وہی بتا سکتا ہے کہ پکائ کی کیا صورتحال ہے۔‬
‫پکانے والا کبھی اپنی پکائ کی نندا نہیں کءے گا۔ دیگ جل‬

‫جانے یا زیادہ آگ مل جانے کی صورت میں ذاءقے کی پانچ یا‬
‫اس سے بڑھ کر صورتیں ہو سکتی ہیں۔ البتہ کروہڑی کے‬
‫شوقینوں کی بن آتی ہے۔‬

‫میں ناصر زیدی سمیت تمام لکھنے والوں‘ خواہ وہ مفت میں‬
‫مغز ماری کرتے ہوں یا معاوضہ پر لکھتے ہوں بالائ سطع کے‬

‫چند چاولوں کو درستی کا معیار نہ بنا لیں۔ جب پکائ کھائ کی‬
‫ابجد معلوم ہی نہ ہو تو گول مول درمیان کی بات کریں ورنہ‬
‫پکائ اور کھائ کے جانو خلاصی نہیں کریں گے۔ حق اور‬

‫انصاف کو تو ایک طرف رکھیے۔ مخالف کے اچھے میں بھی‬
‫کیڑے نکالنا کم ظرفوں اور چمچوں کڑچھوں کا کام ہوتا ہے۔‬
‫اعلی ظرفی یہی ہے کہ مخالف کی بہتر کارگزاری کو سر آنکھوں‬
‫پر لیا جائے۔ جز پر کل کو قیاس نہ کر لیا جائے۔ اسی طرح ہر‬
‫کل کے گوارا اجزا کی تحسین کی جاءے یا اس سے آگے کی بات‬

‫کی جائے۔‬

‫کہا جاتا ہے کہ ایک مصور نے اپنا فن پارہ گھر کے باہر آویزاں‬
‫کر دیا اور کہا غلطیوں کی نشاندہی کر دی جاہے۔ اگلے دن اس‬
‫نے دیکھا کہ وہ فن پارہ غلطیؤں سے بھرا پڑا تھا۔ شاید ہی‬

‫کوئی حصہ غلطیوں سے پاک رہ گیا ہو گا۔ مصور کو بڑا دکھ‬
‫ہوا۔ اس نے اگلے دن ایک اورفن پارہ آویزاں کیا اور نیچے لکھ‬
‫دیا جہاں کہیں غلطی نظر آئے اسے درست کر دیا جائے۔ فن پارہ‬
‫کئ دن آویزاں رہا اس میں رائ بھر تبدیلی نہ آئ۔ تبدیلی لانے یا‬
‫غلطیوں کی نشاندی کرنے کا حق صرف اسے ہے جو پکائی اور‬
‫کھائی کے ہنر سے آگاہ ہو یا کھائی کے جملہ نشیب و فراز سے‬

‫آگاہی رکھتا ہو۔‬

‫کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے ‘ایجوکیشن‬

‫لڑائ شخصی ہو کہ قومی یا پھر ملکی‘ اس کا آغاز گھورنے‬
‫سے ہوتا ہے۔ گھورتے سمے فریقین کی ناسیں پھیلنا شروع‬
‫ہوتی ہیں اور پھر یہ بتدریج پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ نہیں پھیلیں‬
‫گی تو معاشرے میں کٹ جائیں گی۔ ان کا رہنا‘ ان کے پھیلنے‬
‫سے مشروط ہوتا ہے۔ آنکھوں میں ہوتی شام کی افقی گردش‬
‫کرنے لگتی ہے۔ گردش دوراں کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائ اور‬

‫گیرائ میں ہرچند اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان لہو آمیز نینن‬
‫میں فاتح ہونے کی تمنا مچلنے لگتی ہے۔ کان ناصرف کھڑے‬
‫ہوتے ہیں مہنگائ کے باوجود ٹماٹری ہو جاتے ہیں۔ ہونٹوں پر‬

‫حالیہ کشمیری بھوکم کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور بظاہر‬
‫بےمعنی بربڑاہٹ سی سنائ دیتی ہے۔ دریں اثناء اگر کوئ جلنے‬

‫قریب پر تیل ڈال دیتا ہے تو غیرسرکاری اور غیر سیاسی قسم‬
‫کے بیانات کا آغاز ہو جاتا ہے بصورت دیگر پہلے ہاتھ میں‬

‫موجود چیز کا فرش پر کڑاھپ سے مارنا عسکری ضابطہ ٹھہرا‬
‫ہے۔ چیز کی مالی قدر دو نمبری کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔‬

‫گویا جاروب کش کے کام میں بلاقصور اضافہ کر دیا جاتا ہے۔‬
‫اس ذیل میں یہ بھی نہیں سوچا یا دیکھا جاتا کہ چور چور کر‬
‫دی جانے والی چیز کا فریقن کی گرمی سے کوئ تعلق واسطہ‬
‫ہی نہیں ہوتا۔ گرمی کے ساتھ سردی کا اس لیے اندراج نہیں کیا‬

‫گیا کہ وہ موقع ٹھنڈک سے متعلق نہیں ہوتا۔خدا خدا کرکے‬
‫ناسیں پھیلانے اور گھورنے کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔ یہی لڑائ‬

‫کے ضمن میں مشکل اور کٹھن گزار موقع ہوتا ہے۔‬

‫دل کی بھڑاس ہاتھ میں موجود شے پر نکالنے کی کوشش کی‬
‫جاتی ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں رکھیں شے زمین پر‬
‫پھینکی جاتی ہے۔ فاءرنگ کا سلسلہ کافی بعد کا کام ہے۔ بہت‬
‫پہلے سے یہ جنگی اصول مستعمل چلا آتا ہے۔ اس سے انحراف‬

‫گویا جنگی اصول اور ضابطے کے خلاف ہے۔ ناسیں پھیلانے‘‬
‫کان کھڑے کرنے اور آنکھوں میں جنگی عروسی بھرنے کے‬
‫بعد غرانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ عمل تادیر برقرار نہیں‬
‫رہتا۔ اس سے تھوڑی دیر بعد تکرار لفظی سننے میں آ جاتی جو‬
‫درحقیقت شخصی رجز کے مترادف ہوتی ہے۔ ذاتی تعارف میں‬
‫ماں بہن بیٹی کو بھی لانا ضروری اور جزو جنگ سمجھا جاتا‬
‫ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کو فریقن اول درجے پر رکھتے‬
‫ہیں حالانکہ ان کا اس میں سرے سے عمل دخل ہی نہیں ہوتا۔‬

‫اگر وہ موقع پر موجود ہوتیں تو مرد لڑاکوں کو کھانسنے کا‬
‫بھی موقع میسر نہ آتا۔‬

‫بول بولارے سے متعلق امور وہ از خود طے کر لیتں اور مرد‬
‫حضرات سے کہیں بہتر اور اعلی پاءے کے طے کرتیں۔ خواتین‬
‫کی موجودگی میں یہ معاملہ مردانہ نہیں رہ جاتا۔ مردوں کا آدھا‬
‫بھار وہ ونڈا دیتی ہیں۔ مرد میدان میں اچھا لگتا ہے۔ میدان کس‬
‫نے مارا‘ کا اندازہ ایک کے قتل ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اطراف‬
‫میں کسی کی جان نہ جانے کی صورت میں بے ہوش ہو جانے‬

‫والا پراجت سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا بھی نہ ہو تو چہرے‬
‫کے آلو‘ جنگ کی اسکورسنگ کا کام دیتے ہیں۔ تاہم جنگ کا‬
‫حق جان دینے یا لینے کی صورت میں ہی ادا ہوتا ہے۔ اس گیم‬
‫پر اتنا وقت برباد کرنے کا حقیقی اور حتمی نتیجہ سامنے نہ آنا‬

‫جنگی اصولوں کے منافی ہوتا ہے۔‬

‫جنگ اچھی ہوتی ہے یا بری‘ سردست میرا اس موضؤع سے‬
‫کوئ تعلق نہیں۔ اس سے امن کا رستہ نکلے گا بدامنی کی راہیں‬

‫کھلیں گی‘ اس تحریر کا اس سے بھی کوئ لینا دینا نہیں۔ میرا‬
‫موضوع یہ ہے کہ جنگ کو جنگی اصولوں ضابطوں اور صدیوں‬
‫سے چلے آتے مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اس میں کسی مرحلے‬
‫کا جلد بازی میں رہ جانا مناسب نہیں اور ناہی وہ لطف رہتا ہے۔‬
‫للکار کر آنے اور چوروں کی طرح آنے میں زمین آسمان کا فرق‬
‫ہے۔ میدان میں فیصلہ ہونا چاہیے کہ کون جیت کر ہارا اور کون‬

‫ہار کر جیتا۔‬

‫ناسیں پھیلنے کا نظارہ دیکھنے کو نہ ملےاور معاملہ توتکرار‬
‫کی سرحدوں میں آ گھسے۔ یا دونوں عمل کا تارک ہو کر ماں‬

‫بہن اور بیٹی کی شان میں گستاخی پر اتر آنا‘ کسی طرح جنگی‬
‫دیانت میں نہیں آتا۔ کون کس بہادری اور جیداری سے لڑا‘‬

‫دیکھنے کا مزا پہلے مراحل کے بغیر نہیں آتا۔غالب سے کلکتہ‬
‫والوں سمت کئ حلقوں کی جنگیں ہوءیں۔ یہ کوئی نئی جنگیں نہ‬
‫تھیں۔ پہلے ازیں بعد سیکڑوں قلمی جنگیں ہوئی۔ ان جنگوں میں‬
‫جنگی اصول وضوابط کے حفظ مراتب ہر سطع پر مدنظر رکھے‬

‫گیے۔ بعض جنگوں میں بےاصولی بھی ہوئ لیکن ان کی تعداد‬

‫آٹے میں نمک برابر ہے۔‬

‫میں نہیں جانتا ناصر زیدی پرانے یودھا ہو کر بھی ابتدائ دونوں‬
‫مراحل سے کیوں گزر جاتے ہیں۔ سنتے ہیں پڑھے لکھے بھی‬
‫ہیں۔ پڑھائ کی ناموس بہرطور برقرار رہنی چاہیے۔ جب اٹھتے‬
‫ہی ڈگریاں پنتے ہیں تو ان کی ایجوکیشن مشکوک ہو جاتی ہے۔‬
‫ایجوکیشن تمیز و امتیاز سکھاتی ہے جبکہ کوالیفیکیشن عملی‬
‫میدان کے کارناموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اب جب وہ‬
‫کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو ان کی‬
‫ایجوکیشن پر لامحالہ حرف آئے۔‬

‫جب وہ کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن اور ایجوکیشن کو‬
‫کوالیفیکیشن سمجھیں گے تو ان کے کہے کی معنویت باقی نہ‬
‫رہے گی۔ دوسرا اندھیر یہ کہ اٹھتے ہی ماں بہن کی گستاخی پر‬

‫اتر آتے ہیں تو ایسے شخص کو جوابا کیا کہا جائے۔ میرے‬
‫نزدیک ڈگریوں پر انگلی رکھنے سے پہلے ان کی متعلقہ محکمہ‬

‫سے‘ اصلی یا جعلی کی تصدیق کروا لی جائے تو ہی لو لڑائی‬
‫لڑی جا سکے گی۔جنگ کے ضوابط اور جنگی سلیقہ ہی دراصل‬
‫جنگی کیمسڑی ہے۔ کسی بھی چیز یا معاملے کی کیمسٹری سے‬

‫آگہی ایجوکیشن ہے جبکہ اس کی اپلیکیشن اور رزلٹس‬
‫کوالیفیکیش ہے۔ باور رہنا چاہیے کہ کسی بھی معاملے کے‬

‫سلیقے اور اس کی کمسٹری سے آگہی کے ناصرف بہتر نتائج‬
‫سامنے آتے ہیں بلکہ جنگ میں نقصان بھی کم ہوتا ہے۔‬

‫جنگی کیمسٹری کا جانو دشمن کو بھاگا بھاگا کر گھٹنے ٹیکنے‬
‫پر مجبور کر دیتا ہے۔ جنگی نغموں کا کام گاءیک حضرات کے‬
‫ذمے بھی رہا ہے۔ میدان سے باہر کھڑے مبصرین کی کارگزاری‬
‫بلاشبہ بڑی جان سوزی کا کام ہے۔ اسی طرح اکھاڑے سے باہر‬

‫کھڑے داؤ و پیچ بتانے والوں کی محنتوں کو جنگی‬
‫کوالیفیکیشن کا حصہ سمجھا جانا چاہیے تاہم ان پر عمل درامد‬

‫ضروری نہیں کیونکہ یودھا اپنی حمکت عملی خود سے طے‬
‫کرتا ہے۔ جنگی نغمے ناصرف جوش پیدا کرتے ہیں بلکہ رجز‬

‫خوانی اور للکاری بولوں کو بھی نکھارتے ہیں۔‬

‫ایجوکیٹڈ‘ کوالیفیکیشن پر عمل درامد بہتر نتائج کا حامل خیال کیا‬
‫جاتا ہے۔۔ ہمارے ہاں لائف ایکسپریس سے استفادہ کرنے کا‬

‫رواج مخصوص حلقوں تک محدود ہے۔ طبقہ نوازی ہمیشہ سے‬
‫چلی آتی ہے۔ یہاں زرہ نوازی کا رواج نہیں۔ ہاں یہ نوازتی‬

‫طبقے خود کو ذزہ سمجھتے ہیں۔ ان کو نوازنے کے سبب ذرہ‬
‫نوازی مرکب تاحال اپنے فل بٹا فل بھار کے ساتھ وجود رکھتا‬

‫ہے۔‬

‫مشتری ہوشیآر باش‬

‫کسی کجی خرابی غلطی سچائ یا ہونی کو تسلیم نہ کرنا زمین‬
‫کے ہر خطہ کے انسان کی سب سے بڑی اور مستمل خوبی ہے۔‬

‫جب یہ رواج پا گئی ہے تو اس کی کسی سطع پر مذمت کرنا‬
‫کسی طرح درست نہیں۔ جب کوئ تسلیم نہیں کرتا تو وہ اول‬
‫الذکر طبقے کی صف میں ا کھڑا ہوتا ہے۔ کسی گنجے کو اگر آپ‬
‫ہیلو گنجا صاحب یا کسی کانے کو محترم کانا صاصب کہہ کر‬
‫پکاریں گے تو وہ آپ کا سر پھوڑ دے گا۔ کتنی زیادتی کی بات‬
‫ہے۔ کیا مخاطب گنجا یا کانا نہیں ہوتا۔ ادب آداب ملحوظ خاطر‬
‫رکھا گیا ہوتا ہے۔ پھر غصہ اور تاؤ میں آنے کا‘ کیا جواز بنتا‬
‫ہے۔غالبا اس طور سے پکارنے کا رویہ پروان نہیں چڑھ سکا‬

‫جو بہرطور رواج پانا چاہیے۔‬

‫میری بات سن کر استاد ہوریں کھکھلا کر ہنسے اور میں‬

‫شرمندہ سا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے۔ فعل وجہء‬
‫پہچان نہیں ہوا کرتا۔ حثیت مرتبہ عہدہ گروہ جماعت شخص کی‬

‫وجہءپہچان بنتی ہے۔ دفتر میں بیٹھا بابو یا افسر رشوت کے‬
‫بغیر کام ہی نہیں کرتے بلکہ کر ہی نہیں سکتے انہیں محترم‬
‫رشوتی صاحب کہہ کر پکارنا موت کو ماسی کہنے کے مترادف‬
‫ہے۔ ہوتا کام بھی نہیں ہو گا۔ یہی نہیں کسی نئ پھسنی میں پھس‬
‫جاؤ گے حالانکہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر محترم رشوتی صاحب‬
‫ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہر ایرے غیرے سے بھی بعید نہیں‬

‫ہوتی۔‬

‫کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں یہ سچائ میں آپ پر اپلائی‬
‫کرتا ہوں۔ بہت ہی پیارے اور محترم ڈھیٹ بےشرم صاحب اس‬
‫موضوع کو چھوزیں اور کسی دوسرے موضوع پر بات کریں۔‬

‫استاد کا یہ طرز تکلم مجھے زہر میں بجھے تیر سے زیادہ‬
‫تیزدھار محسوس ہوا اور میرے منہ سے بےساختہ نکل گیا‪ :‬یہ‬

‫آپ کیا بکواس کر رہے ہیں۔ میری بوکھلاہٹ اور سیخ پائ پہ‬
‫سیخ پا ہونے کی بجاءے انھوں نے پہلے سے زیادہ جاندار قہقہ‬

‫داغا۔ پھر فرمایا جس چیز پر آپ عمل نہیں کر سکتے دوسروں‬
‫!سے اس کی برداشت کی توقع کرنا کھلی حماقت نہیں؟‬

‫پہلے آپ یہ فرماءیے کہ آپ نے مجھے ڈھیٹ اور بے شرم کس‬
‫بنیاد پر کہا ہے؟‬

‫آپ بیسویں صدی سے سیکرٹری ہاءر ایجوکیشن پنجاب کی‬
‫خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے مسلسل اور متواتر‬
‫درخواستیں گزار رہے ہیں اکیسویں صدی کے تیرہ سال گزر‬
‫چکے ہیں کسی ایک کا بھی جواب موصول ہوا ہے‘ نہیں نا۔ آپ‬
‫پھر درخواست گزارنے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈھیٹ ہوئے نا۔‬

‫آپ نےمجھے بےشرم کیوں کہا ہے؟‬

‫اس کا بھی جواب دیتا ہوں پہلے پہلی بات تسلیم کرو یا دلیل سے‬
‫انکار کرو۔‬

‫استاد کی بات میں دم اور خم پورے پہار کے ساتھ توازن رکھتے‬
‫تھے۔ دل اور دماغ استاد کی بات کو تسلیم کر رہے تھے لیکن‬
‫زبان پر رعشہ طاری تھا۔‬

‫آپ نے مجھے بےشرم کیوں کہا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔ سراسر‬
‫زیادتی ہے۔‬

‫میں نے اپنی ہاں کو جعلی غصہ دکھا کر گول کرنے کی کوشش‬
‫کی۔‬

‫میری چترایئ پر انھوں نے پتھرپاڑ قہقہ داغا۔ سچی بات تو یہ‬
‫ہے کہ میں من ہی من میں بڑا کچا ہوا۔‬

‫حضرت ٹالیے مت۔ دو ٹوک ہاں یا ناں میں جواب دیں۔‬

‫چلو ایک منٹ کے لیے درست مان لیتا ہوں لیکن آپ نے‬
‫بےشرم ایسا ثقیل لفظ میری ذات کے ساتھ نتھی کیوں کیا ہے؟‬

‫منگنیں ڈال کر سہی‘ آپ نے میری بات کو آؤں گاؤں کرکے‬
‫تسلیم تو کیا۔ کان اوپر سے پکڑو یا سیدھے‘ بات ایک ہی ہے‬
‫تاہم آپ حد درجہ لسےاور پھوسٹر ثابت ہوءے ہیں۔ اہل جفا کے‬
‫پاس ایک سے ایک بڑھ کر دلیل ہوتی ہے لیکن آپ کے پلے تو‬
‫ککھ نہیں۔ آپ کا تو الله ہی حافظ ہے۔ غلطی کرتے ہیں تو ہاتھ‬
‫میں کوئ دلیل بھی رکھیے ورنہ سکے میں مارے جاؤ گے۔ آپ‬
‫نے چھے ماہ پہلے پنجاب گورنمنٹ سروسز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن‬
‫والوں کو اپنی رقم کے لیے درخواست گزاری اور آس لگا کر‬
‫بیٹھ گیے۔ بھولے بادشاہ وہ بھی اسی عدم تسلیمی نظام کا حصہ‬
‫ہیں۔ وہاں جاؤ‘ گرہ کا منہ کھولو اور زبان والے منہ سے تسلیم‬
‫کرو کہ ان کا کام صاف شفاف اور اک نمبری ہوتا ہے۔ انھوں نے‬

‫ہمیشہ کچھ لیے بغیر ساءل کی داد رسی فرمائی ہے۔ تصوف‬
‫جدید کے درازوں کی کلید ان کے پاس ہے۔ کیا یہ بےشرمی اور‬
‫ہٹ دھرمی نہیں بن دیے لینے کی اچھا رکھتے ہو اوپر سے ان‬
‫کے متعلق ٹکے ٹکے کی بےفضول اور معنی خیز باتیں کرتے‬

‫ہو۔‬

‫استاد نے اور بھی بہت ساری باتیں کیں جن پر بخوشی ناسہی‬

‫جبری قہقہ لگایا جا سکتا تھا لیکن میں نے اپنے منہ کو اور‬
‫اس سے متعلقہ اعضاء کو زحمت ہی نہ دی۔ پلہ نہ جھڑنا اور‬
‫سکے تے مل ماہیا بےشک اور بلاشبہ دفتری امور کی خلاف‬
‫ورزی اور اس مستعمل رویے کے خلاف سازش نہیں‘ بغاوت‬
‫ہے۔ اگر یہ لوگ اس سسٹم کا حصہ ہیں اور خرابی کو خرابی‬
‫تسلیم نہیں کرتے تو میں اپنی ذات سے متعلق خرابی کو خرابی‬

‫کیوں تسلیم کروں۔ تسلیم کر لینے کی صورت میں بھی غلط‬
‫ٹھہرتا ہوں۔ غالب کا دور اور تھا تسلیم کی خو ڈالنا سرکاری‬
‫مجبوری تھی۔ تسلیم کی خو نہ ڈالنا آج کی سرکاری مجبوری‬

‫ہے۔ گو ادھر گرہ میں مال آتا ہے اور ادھر جاتا ہے۔‬

‫اب جو بات کرنے جا رہا یہ درج بالا معاملے کا حصہ نہیں۔ سچی‬
‫بات تو یہ ہے کہ یہ میں لکھ ہی نہیں رہا ناہی ایسی باتیں لکھی‬
‫جا سکتی ہہں کہ گرہ میں کرایہ تک نہیں‘ ان منہ اور کھیسہ پاڑ‬
‫حضرات کے تقدس مآب دامن میں قاءداعظم کے سفارشی رقعے‬
‫کہاں سے رکھوں۔ وہ بےچارے بھی تو قانون کے پابند ہہں۔ میں‬

‫اپنی حتمی مجبوری سے مجبور ہوں تبھی تو گرہ کا کڑوا سچ‬
‫لکھا ہی نہیں۔‬

‫!مشتری‬

‫ہوشیار باش‬

‫میں عصری سچائی کے تحت خود میں تسلیم کی خو ڈال کر‬
‫عصری ضابطے کے توڑنے کا جرم اپنے سر پر نہیں لے سکتا۔‬

‫یہی پڑھا سمجھا اور سوچا جائے۔‬

‫مدن اور آلو ٹماٹر کا جال‬

‫لفظ جب تشکیل و ترکیب پاتا ہے مخصوص معنویت کا حامل ہوتا‬
‫ہے۔ مخصوص ماحول‘ مزاج‘ نفسیات‘ موڈ‘ لب ولہجہ‘ بناوٹ‘‬

‫کلچر وغیرہ رکھتا ہے۔ مستعمل اور معروف ہو جانے کی صورت‬
‫میں محدود نہیں رہتا۔ بلکل ایسی صورت مہاجر آوازوں اور الفاظ‬
‫کے ساتھ پیش آتی ہے۔ شخص زبان کا پابند نہیں زبانیں شخص‬

‫کی پابند ہیں۔ زبانوں کو اپنے استعمال کرنے والوں کے حالات‬
‫ضرورتوں ماحول موڈ کلچر وغیرہ کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اگر‬

‫شخص کو زبان کا پابند کر دیا جائے گا تواظہار میں مشکل یی‬
‫نہیں خیال اور جذبے کی اصلیت باقی نہیں رہتی یا اس میں قوت‬

‫برقرار نہیں رہ پاتی۔ وہ کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے۔‬

‫اظہار کے ساتھ ساتھ زبان بھی محدود رہتی ہے۔ مکتوبی صورت‬
‫کوئ بھی رہی ہو اسٹریٹ ان پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتی۔‬
‫شاعر عروضی پابندی کے سبب کہتا ہے‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیغمبر عظیم تر۔۔۔۔۔۔۔‬

‫عروضی مجبوری کے باعث وہ گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔ گویا‬
‫پابندی خیال یا چذبے کا ستیاناس مار کر رکھ دیتی ہے۔ درست‬
‫ابلاغ تب ہی ممکن ہے جب زبان شخص کے خیال کی پابند ہو‬
‫گی۔ اس حوالہ سے دیکھا جائے تو زبان کا تفہیمی واظہاری‬
‫کلچر مخصوص ومحدود نہیں کیا جا سکتا۔ شخص سی ٹی کہہ‬
‫کر سی ڈی‘ لیڈیاں کہہ کر لیڈیز مراد لے گا۔ قلفی کہہ کر قفلی‬

‫مراد لے گا۔ حور اسامی اوقات احوال وغیرہ واحد استعمال ہوتے‬
‫رہیں گے۔ جلوس کو عربی معنوں میں کبھی بھی استعمال نہیں‬
‫کیا جائے گا۔ غریب کے معنی گریب ہی لیے جائیں گے۔ شراب‬

‫کو وائین کے معنی دیے جاتے رہیں گے اور اسے عربی سمجھا‬
‫جاتا رہے گا حالانکہ یہ شر‪ +‬آب ہے۔ عربی فارسی کا آمیزہ ہے۔‬

‫عینک عین ‪ +‬نک عربی اور دیسی زبانوں کا آمیزہ ہے۔ گلاس‬
‫کے معنی پانی پینے والا ظرف مستعمل رہیں گے۔ بات یہاں تک‬
‫محدود نہیں ان کا استعمال بھی شخصی ضرورت خیال جذبے اور‬

‫موڈ کا پابند ہے۔ متضاد الگ سے اور نئے معنی سامنے آتے‬
‫رہنا حیرت کی بات نہیں۔‬

‫برتن کل کرنا کا برتن دھونے کے معنوں میں استعمال ہونا‬
‫میرے سمیت ہر کسی کے لیے عجیب ہو گا۔ مزے کی بات‘‬
‫اسٹریلیا میں مستعمل ہے۔ ہم اسے توڑنا پھوڑنا کے معنی دیں‬

‫گے۔‬

‫ناصر زیدی نے اپنے ‪ ٦٢‬نومبر کے کالم میں مرکب۔۔۔۔۔۔۔۔مرتب و‬
‫مدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کیا۔ میں آگے بڑھنے کی بجاءے اس مرکب‬
‫میں پھنس گیا۔ پہلے تو میں اسے مدن لال کے لباس کی ترتیب‬

‫سمجھا۔ پھر میرے سوچ کا زاویہ مدن بان یعنی کام دیوا کی‬
‫طرف مڑ گیا۔ کام دیوا کے حوالہ سے شخصی حسن اوراعضائی‬

‫ترتیب کی جازبیت کی طرف توجہ پھر گیی۔‬

‫شخصی حسن اور آلات تخلیق کی صفائی ستھرائی کی طرف‬
‫خیال کا پھر جانا فطری سی بات تھی۔ فنی چابک دستی یہ تھی‬
‫کھ جنس کی تخصیص موجود نہ تھی۔ مردانہ ہوتے تو زنان کے‬
‫لیے دلچسپی کا سبب ہو سکتے تھے۔ زنانہ ہوتے تو مرد روز‬
‫اول سے لکیر کا فقیر رہا ہے۔ مجھے ناصر زیدی کے سوچ اور‬
‫لفظ کے استعاراتی استعمال کو بےاختیار داد دینا پڑی۔ انھوں نے‬

‫دونوں اصناف کو دائرے میں لے کر اپنی قلمی ہنر مندی کا‬
‫ثبوت دیا۔ ان کا یہ کالم جیسا کہ مرتب و مدن سے پہلے کی‬
‫سطور سے واضح ہوتا تھا کہ وہ کسی کتاب سے متعلق تھا۔‬

‫مجھے لگا یہ کتاب ڈاکٹر وی پی سوری کے پی ایچ ڈی کے‬
‫مقالے شہوت سے شہوانی معلومات کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔‬
‫سوچا یہ کتاب واجدہ تبسم کا افسانہ اترن جسے کاما سوترا کا‬
‫خلاصہ کہا جا سکتا ہے‘ کی جدید ترین شرح بھی ہو سکتی ہے۔‬
‫میں نے سوچا عین مکن ہے ہیولاک ایلس کی کاوش تانترہ کو‬
‫نیا کالب دے دیا گیا ہو گا۔ یہ کوئ حیرت کی بات نہیں کوک‬
‫شاستر کے حوالہ سے مواد وافر دستیاب ہے۔ وہی وہانوی نے‬
‫جنس پر بہت کچھ لکھا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر سلیم اختر نے مرد‬
‫جنس کے آئنے میں‘ عورت جنس کے آئنے میں اور شادی‬
‫جنس اور جذبات ایسی کتب کے تراجم کیے ہیں۔ اس حوالہ سے‬

‫کام بند نہیں ہوا۔ گویا سلسلہ جاری ہے۔‬

‫جنس کوئ عام اور معمولی موضوع نہیں۔ بڑے بڑے لوگ آلات‬
‫زنانہ کے معاملہ میں حساس واقع ہوئے ہیں۔ دو بیبیاں تنہائ‬
‫میں بیٹھی آلات مردانہ پر بڑی خاموشی سے تبصرہ کر رہی‬
‫تھیں۔ دو مرد قہقہے لگاتے ہوتے وہاں سے گزرے۔ ایک نے‬

‫پوچھا یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ دوسری نے جوابا‬
‫کہا ان کی باڈی لنگوئج بتا رہی تھی کہ وہ ہمارے آلات پر گفتگو‬
‫کرکے زبانی کلامی اور خیالی مزے لے رہے تھے۔ سوال کرنے‬

‫والی کے منہ سے نکلا بڑے بےشرم ہیں۔ یہ واقعہ یاد آتے ہی‬

‫میری توجہ پودوں کی طرف چلی گئی۔ مدن پودوں سے متعلق‬
‫بھی ہے۔ عشق‘ محبت‘ بہار اور بغل گیری مفاہیم درج بالا امور‬
‫کی طرف چلے جاتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو بھی گول کرنا پڑا‬
‫کیونکہ ان کی آوازیں حالات مخصوصہ کی آوازوں سے مماثل‬

‫ہوتی ہیں۔ لفظ بےشرم نے جنسیات سے متعلق سوچنے سے‬
‫منع کر دیا ورنہ نیاز فتح پوری کی تصنیف جنسیات کی طرف‬

‫سوچ کا دھارا بڑی تیزی سے مڑ رہا تھا۔‬

‫درخت امن اور جنگ میں انسان کے کام آتا رہا ہے۔ مجھے یقین‬
‫ہو گیا کہ یہ کتاب درختوں سے متعلق ہو گی چونکہ ناصر زیدی‬

‫اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہیں لہذا پڑھنے لاءق ہو گی۔ میں‬
‫مدن سے آگے بڑھنے والا ہی تھا کہ اندر سے آواز آئی منڈی‬
‫سے آلو اور ٹماٹر لا دیں۔ حکم بےغم کا تھا اس لیے بقیہ کالم‬
‫پڑھے بغیر آلو ٹماٹر اور ان کے تیز ببھاؤ کی سوچوں میں مقید‬
‫منڈی کی طرف بڑھ گیا۔ اس حقیقت کا ویروا کہ لفظ معنویت اور‬
‫استعمالی حوالہ سےمحدود نہیں‘ اگلی نششت تک ملتوی کرنا‬

‫پڑا۔‬

‫وہ دن ضرور آئے گا‬

‫آج سبزی منڈی کے بھاؤ اعتدال پر تھے۔ بیگم نے اگر دو دن‬
‫صبر کر لیا ہوتا تو اس کا کیا جاتا۔ مجھے اس پر غصہ نہ آیا‬
‫کیونکہ اس وچاری کے پاس کون سی الہامی شکتی تھی۔ یہ بھی‬
‫کہ حالات بتا رہے تھے کہ بھاؤ اوپر ہی اوپر جاﺀیں گے۔ دوسرا‬
‫ضرورت تو اس وقت تھی۔ بعد ضرورت میسر آتی چیز کو کیا‬
‫کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہ ہم کون سے بیوپاری ہیں جو خوردنی‬
‫اشیاء کو ذخیرہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ذخیرہ منوں کا ہو یا‬
‫آدھ پاؤ سیر کا ہو ذخیرہ ہی کہلائے گا۔ ذخیرہ کی عادت اس میں‬
‫بہرطور ہے۔ آدھ کلو ٹماٹر اور دو کلو آلؤ تو ذخیرہ ہو گیے۔ اگر‬
‫یہی ایک ٹماٹر اور آدھ کلو آلو دوکان سے منگوا لیتی تو یہ دن‬
‫نہ دیکھنا پڑتا۔ آج پنتس روپے کلو آلو چھیاسٹھ روپیے کلو‬

‫ٹماٹر بک رہے تھے۔‬

‫قیمتیں آویزاں ہوں تو بھاؤ کرنے کا سیاپا نہیں کرنا پڑتا۔ بھاؤ‬
‫کرنے کا عمل بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میری اس عمل سے جان‬
‫جاتی ہے۔ یہ جنجال گریبوں یعنی بھوکے ننگوں اور کنگلوں تک‬
‫محدود ہے۔ اس کرپٹ معاشرے میں بھی جان مارتے ہیں اور‬
‫ہاتھ کچھ نہیں لگتا۔ بیسیوں بلامحنت کمائ کے ذراءع موجود‬
‫ہیں۔ یہ بھی امکان غالب ہے کہ ان دھندوں سے متعلق لوگ ان‬


Click to View FlipBook Version