سو مزاحیے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
مئی 6102
نوٹ:
سو کا بیلنس' تقریبا تقریبا چھیتر چڑھتا ہے' اس حساب
سے ہی' سو لکھ کر چھیتر مزاحیے شامل کیے گیے ہیں۔
ہم ملاوٹ کھانے اور کھلانے کے بھی بڑے شوقین ہیں'
اس لیے رویہ تن ایک آدھ غیر مزاحیہ دانستہ طور پر داخل
ہو گیا ہے۔
ہر دو معاملہ میں' میں از حد یا کم از کم شرمسار یا معذرت
خواہ نہیں ہوں
۔۔۔۔۔ باطور سند مطلع رہیں ۔۔۔۔۔
باور رہنا چاہیے
کہنا اور کرنا' دو الگ چیزیں ہیں۔ ہم انہیں ایک سمجھ کر
مار کھا جاتے ہیں۔
گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں 1-
ایم فل الاؤنس اور میری معذرت خوانہ شرمندگی 2-
گھر بیٹھے حج کے ایک رکن کا ثواب کمائیں 3-
کھائی پکائی اور معیار کا تعین 4-
ایجوکیشن‘ کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے 5-
مشتری ہوشیار باش 6-
مدن اور آلو ٹماٹر کا جال 7-
وہ دن ضرور آئے گا 8-
ناصر زیدی اور شعر غالب کا جدید شعری لباس 9-
پروف ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی 10-
دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا 11-
غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ 12-
انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ 13-
تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز قاصری 14-
زندگی‘ حقیقت اور چوہے کی عصری اہمیت 15-
آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم 16-
عوام بھوک اور گڑ کی پیسی 17-
رشوت کو طلاق ہو سکتی ہے 18-
لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت 19-
آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں 20-
پی ایچ ڈی راگ جنگہ کی دہلیز پر 21-
استاد غالب ضدین اور آل ہند کی زبان 22-
دو قومی نظریہ اور اسلامی ونڈو 23-
شیڈولڈ رشوتی نظام کے قیام کی ضرورت 24-
محاورہ پیٹ سے ہونا کے حقیقی معنی 25-
نہ رہے گی بجلی نہ باجے گی ٹنڈ 26-
اپنے اکرام صاحب ڈاکٹر مس کال کی گرہ میں 27-
رولا رپا توازن کا ضامن ہے 28-
من کا چوہا اور کل کلیان 29-
زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں 30-
بجلی آتے ہی 31-
لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت 32-
چور مچائے شور 33-
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ 34-
باس از آل ویز رائٹ 35-
قانون ضابطے اور نورا گیم 36-
جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں 37-
پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب 38-
دیگی ذائقہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی 39-
ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو دوسیریاں 40-
قصہ زہرا بٹیا سے ملاقات کا 41-
صیغہ ہم اور غالب نوازی 42-
ایک دفع کا ذکر ہے 43-
الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل 44-
بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحقیق 45-
احباب اور ادارے آگاہ رہیں 46-
مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان 47-
سیری تک جشن آزادی مبارک ہو 48-
جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے 49-
رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے 50-
دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو 52-
اس عذاب کا ذکر قرآن میں موجود نہیں 53-
غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم 54-
خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن 55-
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر 56-
امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر 57-
رشتے خواب اور گندگی کی روڑیاں 58-
طہارتی عمل اور مرغی نواز وڈیرہ 60-
لاٹھی والے کی بھینس 61-
علم عقل اور حبیبی اداروں کا قیام 62-
امریکہ کی پاگلوں سے جنگ چھڑنے والی ہے 63-
لوڈ شیڈنگ کی برکات 64-
ہم زندہ قوم ہیں 65-
بابا بولتا ہے 66-
بابا چھیڑتا ہے 67-
فتوی درکار ہے 68-
لاوارث بابا اوپر 69-
ڈنگی ڈینگی کی زد میں ہے 70-
حضرت ڈینگی شریف اور نفاذ اسلام 71-
یہ بلائیں صدقہ کو کھا جاتی ہیں 72-
سورج مغرب سے نکلتا ہے 73-
حجامت بےسر کو سر میں لاتی ہے 74-
طاقت اور ٹیڑھے مگر خوب صورت ہاتھ 75-
انھی پئے گئی ہے 76-
آرا
.................................
گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں
بالادستی' زورزبردستی اور دھکہ شاہی کے لیے' گیارہ قسم کے
ہتھیار درکار ہوتے ہیں۔
مال و منال کی فراوانی 1-
کہو کچھ کرو کچھ 2-
باسلیقہ سچ مارنے کا ڈھنگ 3-
سنے اور جانے بغیر' فیصلہ یا معقول جواب دینے کا علم 4-
باجواز اپنی منوانے کی شکتی 5-
بااعتماد اور فرض شناس مخبر میسر ہوں 6-
لوگوں کے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ بےحس اور 7-
اپنے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ باحس ہوں
میں نہ مانوں' کے گر خوب جانتے ہوں 8-
سو کے مقابلہ میں ایک سو دس جواذ ملکیت میں رکھتے 9-
ہوں
بدعنوانی کو عنوانی اور ان کے کارناموں کے گن لکھار 10-
اور ڈگاگزار موجود ہوں
چپ اور متواتر چپ کی چادر اوڑھے رکھنا کے ہنر سے 11-
بہرہ ور ہوں۔
اس طور کے گیارہ پتے' اگر ہاتھ میں ہوں گے تو مات کھانے
کا' سوال ہی نہیں اٹھتا۔ مات اسی وقت ہو گی' جب ان میں سے'
دو ایک کی کمی ہو گی یا وہ کم زور ہوں گے۔ حال کیا' ماضی
کے حکمرانوں اور ان کی بغل بچہ منشی شاہی' ان اعلی اور
بااصول خصوصیات کی حاملہ رہی ہے۔ لہذا یہ سب روایت میں
چلا آتا ہے۔ آج کی منشی گاہیں کوئی نیا نہیں کر رہیں۔
پردھان منشی نگر کے باسیوں کے پاس' روز اؤل سے یہ گیارہ
ہتھیار موجود رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ' انہیں جلا ملتی رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پھنے خاں سے پھنے' ان کے سامنے کسکتا
تک نہیں۔ پیٹھ پیچھے تو لوگ' شاہوں کے بھی گنہگار ہوتے
رہتے ہیں۔ بات تو تب ہے' جب کوئی منہ کے سامنے اپنا ان
دھوتا منہ کھولے۔ یوں قلہ بازیاں کھائے گا' جیسے مکی کے
دانے' کڑاہی میں پھڑکتے اور تڑپتے ہیں' بلآخر پھلا ہو کر
رہتے ہیں۔
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق' ماتحت چھوٹے
بڑے منشی ہاؤس' بڑی دیانت داری اور اصول پرستی سے'
پردھان منشی نگر کے اصول ہائے ہائے زریں
نوٹ
۔۔۔۔۔۔ ہائے ہائے کتابت کی غلطی ہے' اسے اصول ہا پڑھا
جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر عمل درامد کرتے آ رہے ہیں۔ وہ ان گیارہ ہھتیاروں کو چمکا
کر' گرہ میں رکھتے ہیں۔ ملک کی دن دوگنی اور رات چوگنی
ترقی میں' جہاں اور عناصر کا ہاتھ ہے' وہاں کاغذی کاروائی
میں' ان اداروں کی' شبانہ کپتی روز خدمات اور محنت کو' نظر
انداز نہیں کیا جا سکتا' جو آلو کو الو بنا دینے میں' کمال کی
مہارت رکھتے ہیں۔ مخبرین دس باغیوں کے ساتھ' نوے اپنے
مخالفیں کو بھی' پھٹے چڑھاتے آ رہے ہیں۔ چلو جو بھی سہی'
حقی سچی بات تو یہی ہے' کہ اس مقدس اور عزت مآب نگر
اور دیگر ہاؤسز کے' دس باغی تو ٹھکانے لگاتے ہیں۔
ان کے کار ہائے نمایاں کی فہرست بڑی لمبی چوڑی ہے' اسے
رقم کرنے کے لیے' اگر آسمان کاغذ' سمندر سیاہی اور موجود
ارض ہا کے درخت' قلم بن جائیں' تو بھی رقم نہ ہو پائیں گے۔
ہر کارنامہ اپنے باطن میں' شوخی اور چٹانی سختی رکھتا ہے۔
چوری خور مورکھ' زیادہ تر شاہوں کی' خصیہ اٹھائی میں
مصروف رہا ہے۔ ادھر اس کی بہت کم توجہ گئی ہے۔ اسی طرح
ماہرین لسانیات نے بھی' انہیں بری طرح نظر انداز کیا ہے۔
بدقسمتی سے' میں ماہر لسانیات نہیں' ورنہ اپنی بقیہ سانسیں'
ان کی تحریررات کے لسانی مطالعہ میں گزارتا۔
نامہ بر سے' لوگوں کو گلہ ہی رہا ہے۔ غالب ایسا فراخ دل اور
سمندر فکر' تحفظات کا شکار تھا۔ اب دیکھیے' کہاں میں جدید
عہد کا آدمی' جس کی گھڑی پر چھے اور عملی طور پر' آٹھ بج
رہے ہیں۔ آج سرکاری پترکدے بڑے جدید ہو گیے ہیں۔ اس کے
باوجود' لوگوں کی ترجیح میں غیرسرکاری پتر گاہیں ہیں' حالاں
کہ وہ سرکاری کی نسبت کہیں رقم دراز ہیں۔
یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے' مجھے ردی کاغذوں میں' ایک
تحریر ملی' جس پر مرقوم ہے
محترم پوسٹ ماسٹر صاحب
اسلام آباد
.................
از راہ کرم پٹرول پمپ کے سامنے لیٹربکس کو قفل تو لگائیے تا
کہ خطوط محفوظ رہ سکیں۔
مخلص
وقار .....
ڈی۔ '58جی۔ 4-2
اسلام آباد
فروری 9 0621
یہ خط ' اسلام آباد کے کسی غیر مصروف' بےفضول نکتہ چیں
اور دفتر شاہی کے صدیوں پر محیط مزاج سے ناآشنا' شخص کا
لگتا ہے۔ خط کھلا لانے کا گلہ تو بہت پرانا ہے۔ بازور اور
باحیثیت لوگ یا مہذب اور مستعمل زبان میں' وڈیرا کہہ لیں' ٹیل
اٹھائیکر ساتھ رکھتے تھے۔ اب چوں کہ ٹیل رکھنے اور اسے
چکنے کا دور نہیں رہا۔ دوسرا آج ٹیل کیئر یعنی ٹی سی کی
معنویت ہی بدل گئی ہے۔ اب تفاخر کے اظہار کے لیے' گلا کھلا
اور ٹانگیں چوڑی کرکے' چلنے کا رواج ترکیب پا گیا ہے۔
پوسٹ بکس کا بلا تالہ ہونا اور پٹ کھلے ہونا' محکمہ ہذا کی
بلند اطواری اور باحیثیت مزاجی کا غماز ہے۔
اس خط یا درخواست کے آخر میں' سرخ روشنائی میں کوئی
حکم تو درج نہیں ہاں البتہ' اسی تاریخ میں
lock applied
درج ہے ۔ یہ واضح نہیں کہ پوسٹ بکس کو تالا لگایا گیا یا
درخواست گزار کی زبان بند کر دی گئی۔
1967
میں بازوری کی کیفیت' آج سے قطعا مختلف نہ تھی۔ وہ لوگ
بھی' درج بالا ہتھیاروں سے' لیس تھے۔ آج کو' درج بالا ہتھیار
وراثت میں ملے ہیں۔ مشین گن اور سٹین گن 0604میں
استعمال میں آئی تھیں۔ مشین گن کے لیے' پان سات لوگ ہوا
کرتے تھے۔ یہ جدید اور ٹیڈی ہو گئی ہے' اس لیے اسے
اٹھانے کے لیے' ایک آدمی ہی کافی ہوتا ہے۔ گویا مشین گن کل
بھی تھی' آج بھی ہے۔
نامہ ہاؤس سے' میرا خادمی و مخدومی کا تعلق' کل بھی تھا' آج
بھی بھی ہے۔ میں نے' ان کی کوتاہی کو اپنی کوتاہی سمجھ کر
درگزر کی کٹیا میں' پناہ لی ہے۔ ایک بار' درخواست گزاری کی
حماقت' مجھ سے بھی سرزد ہوئی۔ ہوا یہ کہ میں نے' اپنے
بیٹے کو کچھ اشیاء کا پارسل' وزنی تین کلو آٹھ سو نوے گرام'
سرکاری ڈاک سے' اسٹریلیا بھجوایا' رولتا کھلتا' میرے پاس
بلاخریت آ گیا۔ سلیز ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اسٹریلین ڈاک ہاؤس یا اس
سے متعلقہ کسی اتھارٹی کی' مہر ثبت نہ تھی۔ میں نے ڈاک پر
خرچ آنے والے 6258روپے کی' واپسی کے لیے بڑے ہی
مودبانہ اور عاجزانہ انداز میں' درخواست گزاری۔
پارسل کھولا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔
اس مینبھیجے گیے سامان کی بجائے بانٹیوں' سلانٹیوں' گولیوں
وغیرہ کے خالی کور اور پنے پائے گیے۔ نہایت بوسیدہ اور
پرانے مردانہ کپڑوں کے جوڑے دستیاب ہوئے۔ میں نے الله کا
لاکھ شکر ادا کیا کہ یہ پارسل میرے بیٹے' بہو اور پوتی تک
نہیں پہنچا۔
پیرہ نمبر 4
درخواست بنام پوسٹ ماسٹر جنرل
مورخہ 6100-8-01
میں نے دوبارہ سے سامان خریدا اور
LEOPRDS COURIER SERVICES PVT. LTD
سے اسی ایڈریس پر بھیجا۔ پارسل پوری خیر خریت کے ساتھ'
تھوڑے ہی دنوں میں' منزل مقصود تک جا پہنچا۔ میں نے الله کا
شکر ادا کیا۔ چوں کہ یہ پرائیویٹ سروس تھی اور مجبورا زیادہ
پیسے بھرے تھے' اس لیے الله کا شکر ادا کیا' ورنہ سرکاری
شکریہ' مجھے شرک کی دہلیز کے اس بار کر دیتا۔
دو سرکاری چھٹیاں ملیں۔
ڈویژنل سپرنٹڈنٹ پوسٹل سروسز کے آخری جملے میں مشورہ
دیا گیا
It is requested to kindly take up the matter with the Ausralian postal
Authorities, for this purpose, if admissionable as per rules.
اس جملے کو لائق توجہ نہ سمجھا گیا۔ آفس آف دی کنٹرولر آئی
ایم او لاہور نے کچھ یوں کاروائی فرمائی
As regards the sender claim regarding booking charges, it is also not
justified from any angle. As the booking charges were paid by the
sender for the transmission of the parcel to Australia and our
department has no fault for return of this parcel from Australia
گویا سرکاری ڈاک سے' عدم رابطہ کے سبب' بیرون ملک
پارسل بھجوانا' کھلی حماقت سے کم نہیں۔ میری سادگی
دیکھیے' میں سرکاری چٹھیوں کو' اپنے نام سمجھ رہا تھا اور
یہی سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار نمبر 00پھیکتے ہوئے'
پہلی درخواست پر کاغذی کاروائی بھی کی ہے اور درخواست کا
جواب بھی دیا ہے۔ ہاں البتہ' دوسری درخواست کو ہتھیار نمبر
00سے بلا تکبیر ذبح کر دیا گیا ہے۔ جب غور کیا تو معلوم ہوا
مجھے تو کبھی جواب ہی نہیں دیا گیا۔ یہ سب تو ان کی اپنی گٹ
مٹ تھی۔ مجھے تو محض اطلاعی نقول بھیجی گئی تھیں۔ ہتھیار
نمبر 00کی عزت' احترام اور وقار' پورے پہار کے ساتھ اپنی
جگہ پر موجود تھا۔ ہاں البتہ حسب ضابطہ اور قانون چپ کے
تحت میں بلا تکبیر ذبح ہو گیا تھا۔
ایم فل الاؤنس اور میری معذرت خوانہ شرمندگی
پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار بولتے نہیں' سر چڑھ کر' گرجتے
اور برستے ہیں۔ وہ زندگی اپنے طور اور اپنی مرضی سے بسر
کرتے ہیں۔ کون جیتا اور کون مرتا ہے' انہیں اس سے کوئی
غرض نہیں ہوتی۔ انہیں کبھی اور کسی سطح پر' یہ امر خوش
نہیں آتا کہ ان کے سوا' کوئی اور بھی ہے۔ زندگی کی پگ ڈنڈی
پر چلتے لوگ' لوگ نہیں' محض غلاظت بھرے کیڑے لگتے
ہیں۔ ان کے لیے' ان کے پاس حقارت اور نفرت کے سوا کچھ
نہیں ہوتا۔ وہ انہیں اپنے گراں قیمت جوتے سے' ٹھوکر لگانا
بھی پسند نہیں کرتے' مبادہ آلودہ ہو جائیں گے۔ ایسے کام کے
لیے' ان کے پاس' چمچوں کڑچھوں کی کمی نہیں ہوتی۔
پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار خود کو اٹل اور مکمل سمجھتے
ہیں۔ ان کے نزدیک' ان کا کیا اور کہا' ہر کجی سے بالاتر ہے۔
اس پر انگلی رکھنا' موت اور دکھ درد کو ماسی کہنے کے
مترداف ہوتا ہے۔ چوری خور مورکھ اور قصیدہ گزار شاعر' اس
سب کو' اقوال و افعال زریں قرار دے دیتا ہے۔
جہاں کہیں یہ باطورگیسٹ' باطلاع یا بلا اطلاع ورد ہوتے ہیں'
پروٹوکول' حفاظت اور دوسرے معاملات کے حوالہ سے' وختہ
پڑ جاتا ہے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ انہیں بٹھائیں کہاں'
ڈکارنے اور پھاڑنے کے لیے 'کیا پیش کریں۔ اس ذیل میں' جملہ
چمچگان اپنے پیچھے کا پورا زور لگا دیتے ہیں۔ یہ سب کرنے
کے باوجود' انسان ہونے کے ناتے' کہیں ناکہیں کوئی کمی
کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ سارے کیتے کترائے پر' پانی پھر جاتا
ہے۔ کسی چہاڑ چھنب کے باوجود' انہیں غصہ نہیں آتا۔ غصہ
کرنے کا' انہیں حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔ وہ کسی اگلی بار' اس
کمی کوتاہی کو دور کرنے کا' اپنی ذات سے عہد باندھ لیتے ہیں۔
پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیار کی معمولی خوشی پر' رو بہ رو
ہی نہیں' دور دراز علاقوں میں رہتے ہوئے لوگ' دوہائی کا
جشن مناتے ہیں۔ ظاہری اور باطنی سطح پر' وہ خالص اور
اصلی ہی دکھائی پڑتا ہے۔ درحقیقت انہیں معلوم ہوتا ہے' کہ
مخبر کی آنکھیں کھلی اور معاملہ شناس ہوتی ہیں۔ دوسرا مقامی
حرف گر' منٹ منٹ کی خبریں' قرطاس ہنر پر رقم کر رہا ہوتا
ہے۔ وہ اس ساری عمومی کوشش کو' حتی المقدور اپنی کوشش
اور خوشی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادہ تر کامیاب بھی
ٹھہرتا ہے اور آوٹ آف ٹرن ترقی بھی حاصل کر لیتا' ورنہ گڈ
بک میں اس کا نام نامی اسم گرامی' زعفرانی روشنائی سے'
بلاتکلف درج ہو جاتا ہے اور کسی دوسرے وقت' پچھلے کیے
کا بھی انعام گرہ لگتا ہے۔
معمولی ناسازی طبع' یا گماشتے جی حضوری میں' اپنے کمال
کا شیرہ ڈال کر' شفا گاہوں کے درودیوار اور ان کے اکڑوند
باسی' ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ گویا یہ پہلی ترجیح کلاس
ایمرجنسی ہوتی ہے۔ اس ڈرامے کے دورانیے میں' کتنے بی
اور تھرڈ کلاس' ایمرجنسی میں پڑے لوگ' جان سے جاتے ہیں
یا جان جانے کی اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں .یہ سب' کسی کھاتے
پر نہیں چڑھتا' ہاں یہ پہلی ترجیح پلس ایمرجنسی' یادوں کے
کھاتے پر چڑھ جاتی ہے۔
میں نے پیسہ' طاقت' ہتھیار اور اختیارکو' کوئی شخصی نام نہیں
دیا' کیوں کہ یہ خود کو فرعون کی پیروی میں خدا نہیں کہتے'
حالاں کہ ان کا کہنا اور کرنا' فرعون کا سا ہی ہوتا ہے۔ انسان
اس لیے نہیں کہا جا سکتا' کہ وہ انسانوں کو کیڑے مکوڑے
سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سے عبرت لینا' ان کے مزاج میں داخل
نہیں ہوتا۔ فنا کا فلسفہ اور ان گنت مثالیں' ان کے مزاجی نالج
میں داخل نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی' یاد دلانے کی کوشش میں'
سدھار اور ان ہی کی خیرخواہی کا جتن کرتا ہے' تو جان سے
جاتا ہے۔ گویا فنا ان کے لیے نہیں ہے اور مالک کے دربار' ان
کی حضوری کا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ ہر کوئی ان کے حضور
حاضری کا پابند ہے۔ زندگی کے آخری موڑ پر بھی' دنیا سے
جانا یاد میں نہیں آتا اور یہ گمان سے نکل نہیں پاتا کہ میں کے
لیے فنا ہے اور بقا تو صرف اورصرف الله ہی کی ذات کو ہے
اور وہ ہی باقی رہنے کے لیے ہے۔
عین قانون قدرت کے مطابق' وہ فنا سے گزرتے ہیں' تو فقط
چوری خور مورکھ کا لکھا باقی رہ جاتا ہے۔ اکثر اوقات وہ
لکھا' متنازعہ ہو جاتا اور عمومی حلقوں کی تقسیم کا باعث بنتا
ہے' جو آتے یگوں میں' آتی نسلوں کے لیے نقصان کا باعث
بنتا ہے۔ یہ چاروں آواگونی ہیں' نئے انداز اور نئے روپ کے
ساتھ نمودار ہو جاتی ہیں' تاہم چلن اور اطوار میں تبدیلی نہیں
آتی۔ حجاج سفاک تھا' لیکن چرچل اس سے کسی طرح پیچھے
نہ تھا۔ مسڑ چہاڑی کا ذکر امریکی ہونے کے باعث' نہیں کیا جا
سکتا۔ جب کوئی نئی قوم' ہیرو کے مرتبے پر فائز ہو گی' تو
گزرا کل آتے لوگوں کے لیے' محض داستان ہو کر رہ جائے گا۔
ہوسکتا ہے' نئے کے چکر میں پرانے کو بھول جائیں' تاہم
مورکھ کی لکھتوں کے باعث' تنازعہ کا دروازہ ضرور کھل
جائے گا۔۔ ناظر مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہوں گے۔ کسی
عارضی اور مصنوعی و جعلی قوت کو' بقا نہیں۔ قارون اس لیے
یاد میں ہے' کہ اس کا پالا' الله کے منتخب شخص کے ساتھ تھا۔
طاقت کی بات اپنی جگہ' اس کے خصوصی بلکہ عمومی
کنکبوتی بھی' انہیں وی آئی پیز کہا جاتا ہے' مذکوران سے کہیں
زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔ ان کا ڈسا پانی بھی مانگ نہیں پاتا۔
بجلی پانی گیس کے بل کیا ہوتے ہیں' سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ عید
پر قربانی کے بکرے' تحفہ میں مل جاتے ہیں۔ ہر چھوٹے موٹے
تہوار پر' سو طرح کے مہنگے تحفے بلا طلب کیے' ان کی دہلیز
چڑھنے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ تہوار چڑھانے والا' اس میں
فخر محسوس کرتا ہے اور خود کو' کنکبوتی کا اپنا آدمی
سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سوچ اسے' انھی پانے پر مجبور کر دیتی
ہے۔
جنسی تسکین کے لیے' انہیں لڑکی پٹانے کے لیے' کسی طرح
کا' ویل نہیں کرنا پڑتا اور اس ذیل میں جیب ہلکی کرنے کی
ضرورت نہیں پڑتی۔ بستر نواز' انہیں ہر قسم کی محتاجی سے'
بچائے رکھتے ہیں۔ یہ ہی نہیں' ورائٹی صاحب کے مزاج کے
مطابق' بدلتے رہتے ہیں۔
لفافہ کلچر' ان ہی کی دین ہے۔ لفافہ اپنی کارگزاری کا جواب
نہیں رکھتا۔ یہ لفافے ہی کا کمال ہے' کہ ڈی میرٹی کے جملہ داغ
دھبے' مٹا دیتا ہے۔ میرٹ کو ڈی میرٹ کرنے کے' سارے گن'
اس کے گرد رقص کرتے ہیں۔ لفافہ بردار کو اگر مسکراہٹ
میسر آ جائے' تو گویا اس کے بھنے اگ پڑھتے ہیں' ورنہ
سپلیمنٹری لفافہ پیش کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
منشی گاہوں میں بھی' کنکبوتی موجود ہوتے ہیں .یہ بڑی' بلکہ
بہت بڑی شے ہوتے ہیں۔ یہ تو یہ' ان کے معاون پی یو سی
طراز' بڑے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ یس کو نو اور نو کو
یس میں بدلنے کے ہر گر' سے واقف ہوتے ہیں۔ گویا آسمان
سے ٹاکی اتارنا اور لگانا' ان پر ختم ہے۔
خواتین اپنے آپ میں' بڑی شے' بنتی ہیں لیکن نخرہ بازی میں'
ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہوتیں۔ ہوٹل کے کھانے' انہیں اور
ان کی گھر والیوں کو' بڑے ہی خوش آتے ہیں۔ گرہ خود سے
کھانا' رزق حرام کے زمرے میں آتا ہے۔ سامیاں اپنے اپنے
علاقے کی سوغات' لانا نہیں بھولتیں۔ میں میں کرنے کے ساتھ
ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔ ان کے گھر والوں کے
لیے' الگ سے شاپر تیار کرواتی ہیں۔ گویا وی آئی پیز کے
ماحت ہونے کے سبب' داسوں گھی میں اور سر کڑاہے میں رہتا
ہے۔ گھر کی کسی تلخی کا غصہ نکالنے کے لیے' سامیاں قدم
بوس ہوتی رہتی ہیں۔
کہا جاتا ہے' زندگی کرنا آسان نہیں' ان طبقوں میں' اس مقولے
کا دور تک اتہ پتا نہیں ملتا۔ ہاں آخرالذکر طبقے پر' بعد از
ریٹائرمنٹ اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ طبقے' چوں کہ تعدادی
حوالہ سے' زیادہ نہیں ہیں' لہذا تعدادی حوالہ سے زیادہ پر' اس
کا اطلاق ہوتا ہے۔ وہ ناصرف غیر محفوظ ہوتے ہیں' بل کہ ان
گنت معاشی معاشرتی اور دفتری مسائل میں' گھرے ہوتے ہیں۔
اس پر طرہ یہ کہ دہلیز کے اندر' چھے ستمبر کی کیفیت طاری
رہتی ہے۔ نہ جی سکتے ہیں اور زندگی جیسی بھی سہی' انہیں
مرنے نہیں دیتی۔ گویا
نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے بات نہیں کر رہا۔
یہاں مسلمان اقامت پذیر ہیں۔ یہ ملک اپنی بنیادوں میں پروفسر
اصغر سودائی کا یہ نعرہ رکھتا ہے۔
پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله
یہاں کی طاقتیں اور ان کے کنکبوتی بھی بااصول اور مجوزہ
شرع پر کار بند ہیں۔
اصولی طور پر کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا تو پڑتا ہی
ہے۔
دراصل میں ہی بےاصولا تھا' جو بلاچہڑے' اپنے ایم فل الاونس
کی حصولی کا 0661سے منتظر رہا۔ بعد از ریٹائرمنٹ بھی
درخواستیں گزارتا رہا۔ میں خواہش مند تھا' کہ اس مقدس بارگاہ
کا اعتراض کردہ خط ہی میسر آ جاتا' تا کہ تبرکا تعویز بنا کر'
گلے میں ڈال لیتا۔ بلاشبہ وہاں کی حرف کاری' میرے لیے اعزاز
خسروی سے' کسی طرح کم نہ ہوتی۔ میں اپنی درخواست بازی
پر نہایت شرمندہ ہوں۔ ویسے بےلیے' یہ دے بھی دیا جاتا' تو
حاتم کی روح اس لطف و عطا پر' شرمندہ و نادم ہوتی۔ میرا یہ
بقایا' ان کے پوٹیکدے پر مہینے میں اٹھنے والے خرچے کا'
عشر عشیر بھی نہ ہوتا۔
گھر بیٹھے حج کے ایک رکن کا ثواب کمائیں
اس میں کوئ شک نہیں سیکس زندگی میں بڑے مضبوط حوالے
کا درجہ رکھتا ہے۔ ضرورت یا عدم تسکین کی صورت میں
انسان درندہ کیا شیطان کو بھی مات دے جاتا ہے۔ اس سے
جڑے حوالے روزمرہ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ یہی صورت
پیٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ ان دونوں کے منہ زور ہونے میں
کوئی شک نہیں لیکن یہ زندگی کے بہت سے حوالوں میں سے
فقط دو حوالے ہیں۔ انہیں مکمل زندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ
منہ زوری اور ناقابل کنٹرول سطع پر اس وقت آتے ہیں جب
شخص انہیں خود پر طاری کر لیتا ہے اور انہیں زندگی
سمجھنے لگتا ہے۔
اگر سیکس نسل کشی اور روٹی کو پیٹ بھرنے کا محض ایک
ذریعہ سمجھ لیا جائے تو یقینا درندگی اور شطنت راہ نہ پا
سکے گی۔ انسان کو الله نے احسن تخلیق فرمایا ہے اس لیے یہ
کہنا قطعی غلط ہے کہ حاجات نفس اور جذبے اس کی بنیادی اور
حقیقی فطرت کی دسترس سے باہر ہیں۔ جب تک انسان‘ انسان
رہتا ہے سب کچھ اس کے زیردست رہتا ہے جونہی وہ اپنی
بنیادی اور حقیقی فطرت سے گرتا ہے احسن کا درجہ اس سے
دوریاں اختیار کر لیتا ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب دراصل انسان کو اس کی حقیقی فطرت پر
رکھنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ مذہب انسان سے کوئ الگ
چیز نہیں ہیں۔ یہ انسان ہی کو واضح کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔
گویا جب انسان غلط کرتا ہے وہ انسانی مذہب یعنی احسن سے
گرتا ہے اور محض حاجت خواہش ضرورت نفس وغیرہ کی
چلتی پھرتی تجسیم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے انسان کہنا انسان کی
توہین کے مترادف ہوتا ہے۔
اخبار میں ہم جنسی کے متعلق مباحثے کی خبر پڑھنے میں آئ۔
خبر پڑھ کر بڑی حیرت ہوئ۔ ہم جنسی انسانی مذہب سے لگا
نہیں کھاتی تو اس پر کسی قسم کی گفتگو کا سوال ہی نہیں
اٹھتا۔ دوسری بڑی بات یہ ہمارے معاشرتی سسٹم سے باہر کی
چیز ہے۔ یہی نہیں یہ ہمارے کسی بھی مسلک سے متعلق نہیں
ہے۔ اسلامی دنیا کا کوئ مسلک اس فعل کی اجازت نہیں دیتا لہذا
اس موضوع پر کسی قسم اور کسی بھی سطع کی گفتگو نہیں
بنتی۔ اس پر آپسی گفتگو اجازت نہیں مباحثوں کا اہتمام ہونا تو
بڑی دور کی بات ہے۔ اگر یہ فعل بد موجود ہے تو ذاتی سطع پر
ہے اور اس کا چرچا برسرعام نہیں کیا جاتا۔
ایک خبر یہ بھی ہے کہ یتیموں اور بے گھر بچوں کی مدد کے
نام پر ادارہ کھولا گیا مدد کی آڑ میں مجبور بےبس اور لاچار
بچوں کے ساتھ یہی فعل بد ہو رہا ہے۔ حکومت کتنی بھی سخت
اور اصول پسند کیوں نہ ہو انسان کو احسن کے درجے پر فائز
نہیں کر سکتی۔ انسان اسی وقت تک انسان رہتا ہے جب تک اس
کا ایمان الله کی ذات گرامی پر مضبوط رہتا ہے۔ انسان اپنے خالق
کے حکم اور پہلے سے طے شدہ انسانی حدود سےباہر قدم
نہیں رکھتا۔ انسانی مذہب کسی لگی لپٹی کے بغیر واضح کرتا
ہے کہ ہر انسان کو اپنے خالق کے حضور پیش ہونا ہے اور
اپنے ہر کیے کا جواب دینا ہے۔ تجربہ بھی بتاتا ہے کہ کوئی
باقی نہیں رہنے کا۔ ہر انسان پر واضح ہے کہ وہ باقی نہیں رہے
گا۔
میں یہاں تحریری طور پر لکھ کر دے رہا ہوں قانون اور دیگر
ضابطے برائ کو ختم نہیں کر سکتے جب تک ہر کوئ یہ سمجھ
نہیں لیتا کہ اس کا کیا ریکارڈ میں آ رہا ہے اوراس کے کیے
کے مطابق پھل ملے گا۔ جب میں جانتا ہوں کہ بجلی کی چوری
درست نہیں‘ سارا زمانہ بجلی کی چوری کرتا پھرے‘ میں کیوں
کروں۔ انسان مزدوری کر رہا ہو یا ملازمت یا وہ ملک کا حاکم
ہی کیوں نہ ہو بنیادی طور پر انسانی مذہب (فطرت) ہی پر ہے۔
انسانی مذہب (فطرت) اسے احسن کے درجے سےنیچے آنے
نہیں دیتا۔ نیچے آتا ہے تو انسان نہیں رہتا۔
غیر انسانی افعال سر انجام دینے والوں کو انسان کہنا انسان کی
کھلی تذلیل ہے۔ دانستہ طور پر غیر انسانی افعال سر انجام دینے
والے انسان نہیں شیطان ہیں۔ انسانی تجسیم انسان ہونے کے
لیے کافی نہیں۔ حضرت ہاجرہ کے پاس شیطان انسانی بہروپ
میں آیا تھا زوجہ حضرت ایوب کے پاس بھی شیطان انسانی
روپ میں ہی آیا تھا۔ انسانی جسم لے لینے کے بعد اسے انسان
کس طرح اور کس بنیاد پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی
طرح فعل بد (جوری ڈاکہ ہیرا پھیری بددیانتی رشوت غیر فطری
جنسی افعال وغیرہ) سے متعلق کو انسان نہیں کہا جا سکتا ہیں۔
انسان انسانی مذہب سے الگ نہیں ہو سکتا۔
اس قماش سے متعلق دیکھنے میں انسان لیکن اپنی اصل میں
شیطان ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مارنا ثواب ہے۔ ہر کوئی مکے
نہیں جا سکتا اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ شیطان پر رجم
کریں اور اس کی شر سے بچنے کے لیے الله کریم سے مدد
طلب کریں۔ اگر الله کریم توفیق وساءل اور ہمت دے تو کنکریوں
کی بوچھاڑ کر دیں۔ دشمن سزا پائے گا اور الله کریم سے اجر
عطا ہو گا۔ جہاد اور کس کو کہتے ہیں۔ گویا آم کے آم گھٹلیوں
کے دام۔ یہاں بیٹھے کم از کم حج کے ایک رکن کا ثواب کمایا جا
سکتا ہے۔
کھائی پکائی اور معیار کا تعین
زندگی محدود نہیں۔ کائنات زندگی سے الگ یا غیر متعلق نہیں۔
زندگی کو کاءنات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کائنات
کو زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک دوسرے سے
انتہائ متعلق ہیں۔ کائنات کی کوئ چیز جو تاحال انسان کی
دسترس میں نہیں‘ کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس
کے متعلق کسی ناکسی سطع پر سوچ‘ خیال‘ نظریہ ہا کہیں
ناکہیں کوئ حوالہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ اس لیے آگہی نہ
ہونے کے سبب اسے مسترد کرنا یا یکسر نظرانداز کر دینا‘
درست نہیں ہوتا۔ یہ اس شخص کی محدود آگہی کا نقص ہوتا ہے
ناکہ اس چیز یا زندگی کا نقص۔ بالکل اسی طرح کسی جز کو
بنیاد بنا کر کل پر حرف غلط کی لکیر کھنچ دی جائے۔ کل کے
حوالہ سے ہر جز کو غلط قرار دینا بھی زیادتی کے مترادف ہوتا
ہے کیونکہ ہر جز‘ کل کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنا الگ سے
ذاتی وجود رکھتا ہے۔ اشیاء اور جاندار فنا کی آغوش میں جا کر
بھی جزوی طور پر فنا نہیں ہوئ ہوتیں۔ یہ اجزا تصرف میں
لاءے جا سکتے ہیں۔ کل میں مدغم ہونے کے بعد ان کی
کارگزاری ماند نہیں پڑتی۔ نئے کل میں عین ممکن ہے ان کی
کارگزاری پہلے سے بہتر ہو جائے یا وہ کسی دوسرے جز کے
لیےمناسب‘ بہتر یا بہترین معاون ثابت ہو۔ ہر قدرے کار گزاری
کو بھی نظرانداز کرنا زندگی کی روانی یا مزید ترقی کی سعی پر
کلہڑی مارنے کےمترادف ہوتا ہے۔
کسی جز کی کجی کے سبب‘ کل کے تمام اجزا کو ناقص‘ بےکار
یا ناکارہ قرار دے دینا کسی طرح دانش مندی نہیں۔ مثلا ٹی وی
بند ہو جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹی وی کے تمام پرزے
فیل یا خراب ہوگیے ہیں۔ کسی ایک پرزے میں نقص آ گیا ہوتا
ہے جسے مکینک درست کر دیتا ہے یا بدل دیتا ہے۔ ٹی وی پھر
سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تبدیل کیا جانے والا پرزہ لایعنی
نہیں ہو جاتا۔ کسی ناکسی سطع پر اس کی کار گزاری باقی ہوتی
ہے۔
کچھ نہیں میں کیڑے نکالنا کے لیے بےشمار مثالیں موجود ہیں۔
مواد ریسرچ اسکالر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کسی نوخیز یا تقریبا
نوخیز بی بی سے ہم کلام نگران کے منہ سے جملہ نکلتا ہے یہ
کام کیا ہے‘ جاؤ نظرثانی کرکے لاؤ۔ میں اس میں نگران کا
قصور نہیں سمجھتا۔ ریسرچ اسکالر کو موقع دیکھ کر جانا
چاہیے۔ زنگی شخص سے اور شخص زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
زندگی بےرنگ نہیں‘ زندگی تو بےشمار رنگوں سے وابستہ ہے
اور معنویت کا تصرف ہی اصل ہنر مندی ہے۔ معمولی معنویت کا
استعمال ناصرف ہنر کو نکھارنا ہے بلکہ وسائل کی بچت کا
سبب بھی بنتا ہے۔ وسائل کا بچانا کسی نئی دریافت کے لیے
آسانی پیدا کرتا ہے۔
سننے میں آیا ہے کہ دس محرم کو ماتمی جلوس گزر رہا تھا۔
ایک انگریز کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے اپنے گائیڈ سے ماجرا
پوچھا۔ گائیڈ نے بتایا کہ حضرت امام حسین کی شہادت کا ماتم
ہو رہا ہے۔ انگریز نے سمجھا کہ انہیں آج‘ چودہ سو برس بعد
اتنے بڑے واقعے کا علم ہوا ہے۔ یہ واقعہ بطور دلیل علاقے کے
لوگوں کو پس ماندہ سمجھنے کے لیے کافی ہے حالانکہ سرے
سے ایسی کوئ بات ہی نہ تھی۔ گویا جز کو کل پر محمول کرنا
کھلی زیادتی اور خود اپنی جہالت کے مترادفف ہے۔
بےوجود یا اچھی بھلی میں کیڑے بلکہ کاکروچ نکالنا ہر دو درج
بالا امور سے الگ معاملہ ہے۔ کرنل فوجی پریڈ کی سلامی لے
رہا تھا۔ اس نے باآواز بلند کہا اوہ گنڈا سنگھ قدم ملاؤ۔ کسی نے
جواب دیا سر آج گنڈا سنگھ نہیں آیا۔ کرنل نے جوابا کہا بکو
مت‘ وہ آئے نہ آئے میرا کام ٹوکائ کرنا ہے۔ چہاں اس قسم کی
صورتحال ہو وہاں گفتگو کرنا ہی فضول ہے۔ انسان کا سوچ
ناقابل گرفت ہے۔ انسانی جسم کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن سوچ
پر پہرے نہیں بٹھاءے جا سکتے۔
:محاورہ بلکہ ضرب المثل چلی آتی ہے
پوری دیگ میں سے چند چاول بھی اس کے معیار کو پرکھنے “
“کو کافی ہوتے ہیں
اس ضرب المثل جو محاورے کے درجے پر فائز ہے کا حقیت
سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔ ٹھیک اور احتیاط سے پکی ہوئ
دیگ بھی چار ذائقوں کی حامل ہوتی ہے۔ کچھ بھی کر لیں یہ
حوالے ختم نہیں ہو پائیں گے۔ ابتدائ‘ درمیانی‘ بالائ اور اطراف
میں دیگ کے ساتھ لگے ہوئے چاؤلوں کا ذائقہ اور تاثیر الگ
سے ہوگی۔ بالائ یا بالائ سے تھوڑا نیچے سے لیے گیے
چاولوں کے حوالہ سے پوری دیگ کے متعلق جاری کیا گیا حکم
محض یک طرفہ قیافہ ہو سکتا ہے۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ
یہ حکم پکانے والا لگا سکتا ہے یا کھانے والا۔ ہنرمندی کی بنا
پر یہ حق پکانے والے کو دیا جاتا ہے حالانکہ یہ حق کھانے
والے کا ہے۔ وہی بتا سکتا ہے کہ پکائ کی کیا صورتحال ہے۔
پکانے والا کبھی اپنی پکائ کی نندا نہیں کءے گا۔ دیگ جل
جانے یا زیادہ آگ مل جانے کی صورت میں ذاءقے کی پانچ یا
اس سے بڑھ کر صورتیں ہو سکتی ہیں۔ البتہ کروہڑی کے
شوقینوں کی بن آتی ہے۔
میں ناصر زیدی سمیت تمام لکھنے والوں‘ خواہ وہ مفت میں
مغز ماری کرتے ہوں یا معاوضہ پر لکھتے ہوں بالائ سطع کے
چند چاولوں کو درستی کا معیار نہ بنا لیں۔ جب پکائ کھائ کی
ابجد معلوم ہی نہ ہو تو گول مول درمیان کی بات کریں ورنہ
پکائ اور کھائ کے جانو خلاصی نہیں کریں گے۔ حق اور
انصاف کو تو ایک طرف رکھیے۔ مخالف کے اچھے میں بھی
کیڑے نکالنا کم ظرفوں اور چمچوں کڑچھوں کا کام ہوتا ہے۔
اعلی ظرفی یہی ہے کہ مخالف کی بہتر کارگزاری کو سر آنکھوں
پر لیا جائے۔ جز پر کل کو قیاس نہ کر لیا جائے۔ اسی طرح ہر
کل کے گوارا اجزا کی تحسین کی جاءے یا اس سے آگے کی بات
کی جائے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مصور نے اپنا فن پارہ گھر کے باہر آویزاں
کر دیا اور کہا غلطیوں کی نشاندہی کر دی جاہے۔ اگلے دن اس
نے دیکھا کہ وہ فن پارہ غلطیؤں سے بھرا پڑا تھا۔ شاید ہی
کوئی حصہ غلطیوں سے پاک رہ گیا ہو گا۔ مصور کو بڑا دکھ
ہوا۔ اس نے اگلے دن ایک اورفن پارہ آویزاں کیا اور نیچے لکھ
دیا جہاں کہیں غلطی نظر آئے اسے درست کر دیا جائے۔ فن پارہ
کئ دن آویزاں رہا اس میں رائ بھر تبدیلی نہ آئ۔ تبدیلی لانے یا
غلطیوں کی نشاندی کرنے کا حق صرف اسے ہے جو پکائی اور
کھائی کے ہنر سے آگاہ ہو یا کھائی کے جملہ نشیب و فراز سے
آگاہی رکھتا ہو۔
کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے ‘ایجوکیشن
لڑائ شخصی ہو کہ قومی یا پھر ملکی‘ اس کا آغاز گھورنے
سے ہوتا ہے۔ گھورتے سمے فریقین کی ناسیں پھیلنا شروع
ہوتی ہیں اور پھر یہ بتدریج پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ نہیں پھیلیں
گی تو معاشرے میں کٹ جائیں گی۔ ان کا رہنا‘ ان کے پھیلنے
سے مشروط ہوتا ہے۔ آنکھوں میں ہوتی شام کی افقی گردش
کرنے لگتی ہے۔ گردش دوراں کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائ اور
گیرائ میں ہرچند اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان لہو آمیز نینن
میں فاتح ہونے کی تمنا مچلنے لگتی ہے۔ کان ناصرف کھڑے
ہوتے ہیں مہنگائ کے باوجود ٹماٹری ہو جاتے ہیں۔ ہونٹوں پر
حالیہ کشمیری بھوکم کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور بظاہر
بےمعنی بربڑاہٹ سی سنائ دیتی ہے۔ دریں اثناء اگر کوئ جلنے
قریب پر تیل ڈال دیتا ہے تو غیرسرکاری اور غیر سیاسی قسم
کے بیانات کا آغاز ہو جاتا ہے بصورت دیگر پہلے ہاتھ میں
موجود چیز کا فرش پر کڑاھپ سے مارنا عسکری ضابطہ ٹھہرا
ہے۔ چیز کی مالی قدر دو نمبری کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔
گویا جاروب کش کے کام میں بلاقصور اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
اس ذیل میں یہ بھی نہیں سوچا یا دیکھا جاتا کہ چور چور کر
دی جانے والی چیز کا فریقن کی گرمی سے کوئ تعلق واسطہ
ہی نہیں ہوتا۔ گرمی کے ساتھ سردی کا اس لیے اندراج نہیں کیا
گیا کہ وہ موقع ٹھنڈک سے متعلق نہیں ہوتا۔خدا خدا کرکے
ناسیں پھیلانے اور گھورنے کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔ یہی لڑائ
کے ضمن میں مشکل اور کٹھن گزار موقع ہوتا ہے۔
دل کی بھڑاس ہاتھ میں موجود شے پر نکالنے کی کوشش کی
جاتی ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں رکھیں شے زمین پر
پھینکی جاتی ہے۔ فاءرنگ کا سلسلہ کافی بعد کا کام ہے۔ بہت
پہلے سے یہ جنگی اصول مستعمل چلا آتا ہے۔ اس سے انحراف
گویا جنگی اصول اور ضابطے کے خلاف ہے۔ ناسیں پھیلانے‘
کان کھڑے کرنے اور آنکھوں میں جنگی عروسی بھرنے کے
بعد غرانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ عمل تادیر برقرار نہیں
رہتا۔ اس سے تھوڑی دیر بعد تکرار لفظی سننے میں آ جاتی جو
درحقیقت شخصی رجز کے مترادف ہوتی ہے۔ ذاتی تعارف میں
ماں بہن بیٹی کو بھی لانا ضروری اور جزو جنگ سمجھا جاتا
ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کو فریقن اول درجے پر رکھتے
ہیں حالانکہ ان کا اس میں سرے سے عمل دخل ہی نہیں ہوتا۔
اگر وہ موقع پر موجود ہوتیں تو مرد لڑاکوں کو کھانسنے کا
بھی موقع میسر نہ آتا۔
بول بولارے سے متعلق امور وہ از خود طے کر لیتں اور مرد
حضرات سے کہیں بہتر اور اعلی پاءے کے طے کرتیں۔ خواتین
کی موجودگی میں یہ معاملہ مردانہ نہیں رہ جاتا۔ مردوں کا آدھا
بھار وہ ونڈا دیتی ہیں۔ مرد میدان میں اچھا لگتا ہے۔ میدان کس
نے مارا‘ کا اندازہ ایک کے قتل ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اطراف
میں کسی کی جان نہ جانے کی صورت میں بے ہوش ہو جانے
والا پراجت سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا بھی نہ ہو تو چہرے
کے آلو‘ جنگ کی اسکورسنگ کا کام دیتے ہیں۔ تاہم جنگ کا
حق جان دینے یا لینے کی صورت میں ہی ادا ہوتا ہے۔ اس گیم
پر اتنا وقت برباد کرنے کا حقیقی اور حتمی نتیجہ سامنے نہ آنا
جنگی اصولوں کے منافی ہوتا ہے۔
جنگ اچھی ہوتی ہے یا بری‘ سردست میرا اس موضؤع سے
کوئ تعلق نہیں۔ اس سے امن کا رستہ نکلے گا بدامنی کی راہیں
کھلیں گی‘ اس تحریر کا اس سے بھی کوئ لینا دینا نہیں۔ میرا
موضوع یہ ہے کہ جنگ کو جنگی اصولوں ضابطوں اور صدیوں
سے چلے آتے مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اس میں کسی مرحلے
کا جلد بازی میں رہ جانا مناسب نہیں اور ناہی وہ لطف رہتا ہے۔
للکار کر آنے اور چوروں کی طرح آنے میں زمین آسمان کا فرق
ہے۔ میدان میں فیصلہ ہونا چاہیے کہ کون جیت کر ہارا اور کون
ہار کر جیتا۔
ناسیں پھیلنے کا نظارہ دیکھنے کو نہ ملےاور معاملہ توتکرار
کی سرحدوں میں آ گھسے۔ یا دونوں عمل کا تارک ہو کر ماں
بہن اور بیٹی کی شان میں گستاخی پر اتر آنا‘ کسی طرح جنگی
دیانت میں نہیں آتا۔ کون کس بہادری اور جیداری سے لڑا‘
دیکھنے کا مزا پہلے مراحل کے بغیر نہیں آتا۔غالب سے کلکتہ
والوں سمت کئ حلقوں کی جنگیں ہوءیں۔ یہ کوئی نئی جنگیں نہ
تھیں۔ پہلے ازیں بعد سیکڑوں قلمی جنگیں ہوئی۔ ان جنگوں میں
جنگی اصول وضوابط کے حفظ مراتب ہر سطع پر مدنظر رکھے
گیے۔ بعض جنگوں میں بےاصولی بھی ہوئ لیکن ان کی تعداد
آٹے میں نمک برابر ہے۔
میں نہیں جانتا ناصر زیدی پرانے یودھا ہو کر بھی ابتدائ دونوں
مراحل سے کیوں گزر جاتے ہیں۔ سنتے ہیں پڑھے لکھے بھی
ہیں۔ پڑھائ کی ناموس بہرطور برقرار رہنی چاہیے۔ جب اٹھتے
ہی ڈگریاں پنتے ہیں تو ان کی ایجوکیشن مشکوک ہو جاتی ہے۔
ایجوکیشن تمیز و امتیاز سکھاتی ہے جبکہ کوالیفیکیشن عملی
میدان کے کارناموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اب جب وہ
کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو ان کی
ایجوکیشن پر لامحالہ حرف آئے۔
جب وہ کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن اور ایجوکیشن کو
کوالیفیکیشن سمجھیں گے تو ان کے کہے کی معنویت باقی نہ
رہے گی۔ دوسرا اندھیر یہ کہ اٹھتے ہی ماں بہن کی گستاخی پر
اتر آتے ہیں تو ایسے شخص کو جوابا کیا کہا جائے۔ میرے
نزدیک ڈگریوں پر انگلی رکھنے سے پہلے ان کی متعلقہ محکمہ
سے‘ اصلی یا جعلی کی تصدیق کروا لی جائے تو ہی لو لڑائی
لڑی جا سکے گی۔جنگ کے ضوابط اور جنگی سلیقہ ہی دراصل
جنگی کیمسڑی ہے۔ کسی بھی چیز یا معاملے کی کیمسٹری سے
آگہی ایجوکیشن ہے جبکہ اس کی اپلیکیشن اور رزلٹس
کوالیفیکیش ہے۔ باور رہنا چاہیے کہ کسی بھی معاملے کے
سلیقے اور اس کی کمسٹری سے آگہی کے ناصرف بہتر نتائج
سامنے آتے ہیں بلکہ جنگ میں نقصان بھی کم ہوتا ہے۔
جنگی کیمسٹری کا جانو دشمن کو بھاگا بھاگا کر گھٹنے ٹیکنے
پر مجبور کر دیتا ہے۔ جنگی نغموں کا کام گاءیک حضرات کے
ذمے بھی رہا ہے۔ میدان سے باہر کھڑے مبصرین کی کارگزاری
بلاشبہ بڑی جان سوزی کا کام ہے۔ اسی طرح اکھاڑے سے باہر
کھڑے داؤ و پیچ بتانے والوں کی محنتوں کو جنگی
کوالیفیکیشن کا حصہ سمجھا جانا چاہیے تاہم ان پر عمل درامد
ضروری نہیں کیونکہ یودھا اپنی حمکت عملی خود سے طے
کرتا ہے۔ جنگی نغمے ناصرف جوش پیدا کرتے ہیں بلکہ رجز
خوانی اور للکاری بولوں کو بھی نکھارتے ہیں۔
ایجوکیٹڈ‘ کوالیفیکیشن پر عمل درامد بہتر نتائج کا حامل خیال کیا
جاتا ہے۔۔ ہمارے ہاں لائف ایکسپریس سے استفادہ کرنے کا
رواج مخصوص حلقوں تک محدود ہے۔ طبقہ نوازی ہمیشہ سے
چلی آتی ہے۔ یہاں زرہ نوازی کا رواج نہیں۔ ہاں یہ نوازتی
طبقے خود کو ذزہ سمجھتے ہیں۔ ان کو نوازنے کے سبب ذرہ
نوازی مرکب تاحال اپنے فل بٹا فل بھار کے ساتھ وجود رکھتا
ہے۔
مشتری ہوشیآر باش
کسی کجی خرابی غلطی سچائ یا ہونی کو تسلیم نہ کرنا زمین
کے ہر خطہ کے انسان کی سب سے بڑی اور مستمل خوبی ہے۔
جب یہ رواج پا گئی ہے تو اس کی کسی سطع پر مذمت کرنا
کسی طرح درست نہیں۔ جب کوئ تسلیم نہیں کرتا تو وہ اول
الذکر طبقے کی صف میں ا کھڑا ہوتا ہے۔ کسی گنجے کو اگر آپ
ہیلو گنجا صاحب یا کسی کانے کو محترم کانا صاصب کہہ کر
پکاریں گے تو وہ آپ کا سر پھوڑ دے گا۔ کتنی زیادتی کی بات
ہے۔ کیا مخاطب گنجا یا کانا نہیں ہوتا۔ ادب آداب ملحوظ خاطر
رکھا گیا ہوتا ہے۔ پھر غصہ اور تاؤ میں آنے کا‘ کیا جواز بنتا
ہے۔غالبا اس طور سے پکارنے کا رویہ پروان نہیں چڑھ سکا
جو بہرطور رواج پانا چاہیے۔
میری بات سن کر استاد ہوریں کھکھلا کر ہنسے اور میں
شرمندہ سا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے۔ فعل وجہء
پہچان نہیں ہوا کرتا۔ حثیت مرتبہ عہدہ گروہ جماعت شخص کی
وجہءپہچان بنتی ہے۔ دفتر میں بیٹھا بابو یا افسر رشوت کے
بغیر کام ہی نہیں کرتے بلکہ کر ہی نہیں سکتے انہیں محترم
رشوتی صاحب کہہ کر پکارنا موت کو ماسی کہنے کے مترادف
ہے۔ ہوتا کام بھی نہیں ہو گا۔ یہی نہیں کسی نئ پھسنی میں پھس
جاؤ گے حالانکہ وہ ڈنکے کی چوٹ پر محترم رشوتی صاحب
ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہر ایرے غیرے سے بھی بعید نہیں
ہوتی۔
کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں یہ سچائ میں آپ پر اپلائی
کرتا ہوں۔ بہت ہی پیارے اور محترم ڈھیٹ بےشرم صاحب اس
موضوع کو چھوزیں اور کسی دوسرے موضوع پر بات کریں۔
استاد کا یہ طرز تکلم مجھے زہر میں بجھے تیر سے زیادہ
تیزدھار محسوس ہوا اور میرے منہ سے بےساختہ نکل گیا :یہ
آپ کیا بکواس کر رہے ہیں۔ میری بوکھلاہٹ اور سیخ پائ پہ
سیخ پا ہونے کی بجاءے انھوں نے پہلے سے زیادہ جاندار قہقہ
داغا۔ پھر فرمایا جس چیز پر آپ عمل نہیں کر سکتے دوسروں
!سے اس کی برداشت کی توقع کرنا کھلی حماقت نہیں؟
پہلے آپ یہ فرماءیے کہ آپ نے مجھے ڈھیٹ اور بے شرم کس
بنیاد پر کہا ہے؟
آپ بیسویں صدی سے سیکرٹری ہاءر ایجوکیشن پنجاب کی
خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے مسلسل اور متواتر
درخواستیں گزار رہے ہیں اکیسویں صدی کے تیرہ سال گزر
چکے ہیں کسی ایک کا بھی جواب موصول ہوا ہے‘ نہیں نا۔ آپ
پھر درخواست گزارنے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈھیٹ ہوئے نا۔
آپ نےمجھے بےشرم کیوں کہا ہے؟
اس کا بھی جواب دیتا ہوں پہلے پہلی بات تسلیم کرو یا دلیل سے
انکار کرو۔
استاد کی بات میں دم اور خم پورے پہار کے ساتھ توازن رکھتے
تھے۔ دل اور دماغ استاد کی بات کو تسلیم کر رہے تھے لیکن
زبان پر رعشہ طاری تھا۔
آپ نے مجھے بےشرم کیوں کہا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔ سراسر
زیادتی ہے۔
میں نے اپنی ہاں کو جعلی غصہ دکھا کر گول کرنے کی کوشش
کی۔
میری چترایئ پر انھوں نے پتھرپاڑ قہقہ داغا۔ سچی بات تو یہ
ہے کہ میں من ہی من میں بڑا کچا ہوا۔
حضرت ٹالیے مت۔ دو ٹوک ہاں یا ناں میں جواب دیں۔
چلو ایک منٹ کے لیے درست مان لیتا ہوں لیکن آپ نے
بےشرم ایسا ثقیل لفظ میری ذات کے ساتھ نتھی کیوں کیا ہے؟
منگنیں ڈال کر سہی‘ آپ نے میری بات کو آؤں گاؤں کرکے
تسلیم تو کیا۔ کان اوپر سے پکڑو یا سیدھے‘ بات ایک ہی ہے
تاہم آپ حد درجہ لسےاور پھوسٹر ثابت ہوءے ہیں۔ اہل جفا کے
پاس ایک سے ایک بڑھ کر دلیل ہوتی ہے لیکن آپ کے پلے تو
ککھ نہیں۔ آپ کا تو الله ہی حافظ ہے۔ غلطی کرتے ہیں تو ہاتھ
میں کوئ دلیل بھی رکھیے ورنہ سکے میں مارے جاؤ گے۔ آپ
نے چھے ماہ پہلے پنجاب گورنمنٹ سروسز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن
والوں کو اپنی رقم کے لیے درخواست گزاری اور آس لگا کر
بیٹھ گیے۔ بھولے بادشاہ وہ بھی اسی عدم تسلیمی نظام کا حصہ
ہیں۔ وہاں جاؤ‘ گرہ کا منہ کھولو اور زبان والے منہ سے تسلیم
کرو کہ ان کا کام صاف شفاف اور اک نمبری ہوتا ہے۔ انھوں نے
ہمیشہ کچھ لیے بغیر ساءل کی داد رسی فرمائی ہے۔ تصوف
جدید کے درازوں کی کلید ان کے پاس ہے۔ کیا یہ بےشرمی اور
ہٹ دھرمی نہیں بن دیے لینے کی اچھا رکھتے ہو اوپر سے ان
کے متعلق ٹکے ٹکے کی بےفضول اور معنی خیز باتیں کرتے
ہو۔
استاد نے اور بھی بہت ساری باتیں کیں جن پر بخوشی ناسہی
جبری قہقہ لگایا جا سکتا تھا لیکن میں نے اپنے منہ کو اور
اس سے متعلقہ اعضاء کو زحمت ہی نہ دی۔ پلہ نہ جھڑنا اور
سکے تے مل ماہیا بےشک اور بلاشبہ دفتری امور کی خلاف
ورزی اور اس مستعمل رویے کے خلاف سازش نہیں‘ بغاوت
ہے۔ اگر یہ لوگ اس سسٹم کا حصہ ہیں اور خرابی کو خرابی
تسلیم نہیں کرتے تو میں اپنی ذات سے متعلق خرابی کو خرابی
کیوں تسلیم کروں۔ تسلیم کر لینے کی صورت میں بھی غلط
ٹھہرتا ہوں۔ غالب کا دور اور تھا تسلیم کی خو ڈالنا سرکاری
مجبوری تھی۔ تسلیم کی خو نہ ڈالنا آج کی سرکاری مجبوری
ہے۔ گو ادھر گرہ میں مال آتا ہے اور ادھر جاتا ہے۔
اب جو بات کرنے جا رہا یہ درج بالا معاملے کا حصہ نہیں۔ سچی
بات تو یہ ہے کہ یہ میں لکھ ہی نہیں رہا ناہی ایسی باتیں لکھی
جا سکتی ہہں کہ گرہ میں کرایہ تک نہیں‘ ان منہ اور کھیسہ پاڑ
حضرات کے تقدس مآب دامن میں قاءداعظم کے سفارشی رقعے
کہاں سے رکھوں۔ وہ بےچارے بھی تو قانون کے پابند ہہں۔ میں
اپنی حتمی مجبوری سے مجبور ہوں تبھی تو گرہ کا کڑوا سچ
لکھا ہی نہیں۔
!مشتری
ہوشیار باش
میں عصری سچائی کے تحت خود میں تسلیم کی خو ڈال کر
عصری ضابطے کے توڑنے کا جرم اپنے سر پر نہیں لے سکتا۔
یہی پڑھا سمجھا اور سوچا جائے۔
مدن اور آلو ٹماٹر کا جال
لفظ جب تشکیل و ترکیب پاتا ہے مخصوص معنویت کا حامل ہوتا
ہے۔ مخصوص ماحول‘ مزاج‘ نفسیات‘ موڈ‘ لب ولہجہ‘ بناوٹ‘
کلچر وغیرہ رکھتا ہے۔ مستعمل اور معروف ہو جانے کی صورت
میں محدود نہیں رہتا۔ بلکل ایسی صورت مہاجر آوازوں اور الفاظ
کے ساتھ پیش آتی ہے۔ شخص زبان کا پابند نہیں زبانیں شخص
کی پابند ہیں۔ زبانوں کو اپنے استعمال کرنے والوں کے حالات
ضرورتوں ماحول موڈ کلچر وغیرہ کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اگر
شخص کو زبان کا پابند کر دیا جائے گا تواظہار میں مشکل یی
نہیں خیال اور جذبے کی اصلیت باقی نہیں رہتی یا اس میں قوت
برقرار نہیں رہ پاتی۔ وہ کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے۔
اظہار کے ساتھ ساتھ زبان بھی محدود رہتی ہے۔ مکتوبی صورت
کوئ بھی رہی ہو اسٹریٹ ان پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتی۔
شاعر عروضی پابندی کے سبب کہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیغمبر عظیم تر۔۔۔۔۔۔۔
عروضی مجبوری کے باعث وہ گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔ گویا
پابندی خیال یا چذبے کا ستیاناس مار کر رکھ دیتی ہے۔ درست
ابلاغ تب ہی ممکن ہے جب زبان شخص کے خیال کی پابند ہو
گی۔ اس حوالہ سے دیکھا جائے تو زبان کا تفہیمی واظہاری
کلچر مخصوص ومحدود نہیں کیا جا سکتا۔ شخص سی ٹی کہہ
کر سی ڈی‘ لیڈیاں کہہ کر لیڈیز مراد لے گا۔ قلفی کہہ کر قفلی
مراد لے گا۔ حور اسامی اوقات احوال وغیرہ واحد استعمال ہوتے
رہیں گے۔ جلوس کو عربی معنوں میں کبھی بھی استعمال نہیں
کیا جائے گا۔ غریب کے معنی گریب ہی لیے جائیں گے۔ شراب
کو وائین کے معنی دیے جاتے رہیں گے اور اسے عربی سمجھا
جاتا رہے گا حالانکہ یہ شر +آب ہے۔ عربی فارسی کا آمیزہ ہے۔
عینک عین +نک عربی اور دیسی زبانوں کا آمیزہ ہے۔ گلاس
کے معنی پانی پینے والا ظرف مستعمل رہیں گے۔ بات یہاں تک
محدود نہیں ان کا استعمال بھی شخصی ضرورت خیال جذبے اور
موڈ کا پابند ہے۔ متضاد الگ سے اور نئے معنی سامنے آتے
رہنا حیرت کی بات نہیں۔
برتن کل کرنا کا برتن دھونے کے معنوں میں استعمال ہونا
میرے سمیت ہر کسی کے لیے عجیب ہو گا۔ مزے کی بات‘
اسٹریلیا میں مستعمل ہے۔ ہم اسے توڑنا پھوڑنا کے معنی دیں
گے۔
ناصر زیدی نے اپنے ٦٢نومبر کے کالم میں مرکب۔۔۔۔۔۔۔۔مرتب و
مدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کیا۔ میں آگے بڑھنے کی بجاءے اس مرکب
میں پھنس گیا۔ پہلے تو میں اسے مدن لال کے لباس کی ترتیب
سمجھا۔ پھر میرے سوچ کا زاویہ مدن بان یعنی کام دیوا کی
طرف مڑ گیا۔ کام دیوا کے حوالہ سے شخصی حسن اوراعضائی
ترتیب کی جازبیت کی طرف توجہ پھر گیی۔
شخصی حسن اور آلات تخلیق کی صفائی ستھرائی کی طرف
خیال کا پھر جانا فطری سی بات تھی۔ فنی چابک دستی یہ تھی
کھ جنس کی تخصیص موجود نہ تھی۔ مردانہ ہوتے تو زنان کے
لیے دلچسپی کا سبب ہو سکتے تھے۔ زنانہ ہوتے تو مرد روز
اول سے لکیر کا فقیر رہا ہے۔ مجھے ناصر زیدی کے سوچ اور
لفظ کے استعاراتی استعمال کو بےاختیار داد دینا پڑی۔ انھوں نے
دونوں اصناف کو دائرے میں لے کر اپنی قلمی ہنر مندی کا
ثبوت دیا۔ ان کا یہ کالم جیسا کہ مرتب و مدن سے پہلے کی
سطور سے واضح ہوتا تھا کہ وہ کسی کتاب سے متعلق تھا۔
مجھے لگا یہ کتاب ڈاکٹر وی پی سوری کے پی ایچ ڈی کے
مقالے شہوت سے شہوانی معلومات کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔
سوچا یہ کتاب واجدہ تبسم کا افسانہ اترن جسے کاما سوترا کا
خلاصہ کہا جا سکتا ہے‘ کی جدید ترین شرح بھی ہو سکتی ہے۔
میں نے سوچا عین مکن ہے ہیولاک ایلس کی کاوش تانترہ کو
نیا کالب دے دیا گیا ہو گا۔ یہ کوئ حیرت کی بات نہیں کوک
شاستر کے حوالہ سے مواد وافر دستیاب ہے۔ وہی وہانوی نے
جنس پر بہت کچھ لکھا تھا۔ اسی طرح ڈاکٹر سلیم اختر نے مرد
جنس کے آئنے میں‘ عورت جنس کے آئنے میں اور شادی
جنس اور جذبات ایسی کتب کے تراجم کیے ہیں۔ اس حوالہ سے
کام بند نہیں ہوا۔ گویا سلسلہ جاری ہے۔
جنس کوئ عام اور معمولی موضوع نہیں۔ بڑے بڑے لوگ آلات
زنانہ کے معاملہ میں حساس واقع ہوئے ہیں۔ دو بیبیاں تنہائ
میں بیٹھی آلات مردانہ پر بڑی خاموشی سے تبصرہ کر رہی
تھیں۔ دو مرد قہقہے لگاتے ہوتے وہاں سے گزرے۔ ایک نے
پوچھا یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ دوسری نے جوابا
کہا ان کی باڈی لنگوئج بتا رہی تھی کہ وہ ہمارے آلات پر گفتگو
کرکے زبانی کلامی اور خیالی مزے لے رہے تھے۔ سوال کرنے
والی کے منہ سے نکلا بڑے بےشرم ہیں۔ یہ واقعہ یاد آتے ہی
میری توجہ پودوں کی طرف چلی گئی۔ مدن پودوں سے متعلق
بھی ہے۔ عشق‘ محبت‘ بہار اور بغل گیری مفاہیم درج بالا امور
کی طرف چلے جاتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو بھی گول کرنا پڑا
کیونکہ ان کی آوازیں حالات مخصوصہ کی آوازوں سے مماثل
ہوتی ہیں۔ لفظ بےشرم نے جنسیات سے متعلق سوچنے سے
منع کر دیا ورنہ نیاز فتح پوری کی تصنیف جنسیات کی طرف
سوچ کا دھارا بڑی تیزی سے مڑ رہا تھا۔
درخت امن اور جنگ میں انسان کے کام آتا رہا ہے۔ مجھے یقین
ہو گیا کہ یہ کتاب درختوں سے متعلق ہو گی چونکہ ناصر زیدی
اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہیں لہذا پڑھنے لاءق ہو گی۔ میں
مدن سے آگے بڑھنے والا ہی تھا کہ اندر سے آواز آئی منڈی
سے آلو اور ٹماٹر لا دیں۔ حکم بےغم کا تھا اس لیے بقیہ کالم
پڑھے بغیر آلو ٹماٹر اور ان کے تیز ببھاؤ کی سوچوں میں مقید
منڈی کی طرف بڑھ گیا۔ اس حقیقت کا ویروا کہ لفظ معنویت اور
استعمالی حوالہ سےمحدود نہیں‘ اگلی نششت تک ملتوی کرنا
پڑا۔
وہ دن ضرور آئے گا
آج سبزی منڈی کے بھاؤ اعتدال پر تھے۔ بیگم نے اگر دو دن
صبر کر لیا ہوتا تو اس کا کیا جاتا۔ مجھے اس پر غصہ نہ آیا
کیونکہ اس وچاری کے پاس کون سی الہامی شکتی تھی۔ یہ بھی
کہ حالات بتا رہے تھے کہ بھاؤ اوپر ہی اوپر جاﺀیں گے۔ دوسرا
ضرورت تو اس وقت تھی۔ بعد ضرورت میسر آتی چیز کو کیا
کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی کہ ہم کون سے بیوپاری ہیں جو خوردنی
اشیاء کو ذخیرہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ذخیرہ منوں کا ہو یا
آدھ پاؤ سیر کا ہو ذخیرہ ہی کہلائے گا۔ ذخیرہ کی عادت اس میں
بہرطور ہے۔ آدھ کلو ٹماٹر اور دو کلو آلؤ تو ذخیرہ ہو گیے۔ اگر
یہی ایک ٹماٹر اور آدھ کلو آلو دوکان سے منگوا لیتی تو یہ دن
نہ دیکھنا پڑتا۔ آج پنتس روپے کلو آلو چھیاسٹھ روپیے کلو
ٹماٹر بک رہے تھے۔
قیمتیں آویزاں ہوں تو بھاؤ کرنے کا سیاپا نہیں کرنا پڑتا۔ بھاؤ
کرنے کا عمل بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میری اس عمل سے جان
جاتی ہے۔ یہ جنجال گریبوں یعنی بھوکے ننگوں اور کنگلوں تک
محدود ہے۔ اس کرپٹ معاشرے میں بھی جان مارتے ہیں اور
ہاتھ کچھ نہیں لگتا۔ بیسیوں بلامحنت کمائ کے ذراءع موجود
ہیں۔ یہ بھی امکان غالب ہے کہ ان دھندوں سے متعلق لوگ ان