لوگوں کو اپنے کام کا نہ سمجھتے ہوں۔ ایمان داری کی مہلک
بیماری کے سبب ان پر یقین بھی نہیں کیا سکتا۔
ٹماٹر آلو اور پودینے کی جریداری کرنے کے بعد میں اپنی نشت
پر آ بیٹھا بقیہ کالم پڑھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک صاحب
آدھمکے۔ مروت کا تقاضا تھا کہ جعلی سی مسکراہٹ کے ساتھ
انھیں خوش آمدید کہنا پڑا۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ موصوف
گن کی گتھلی ہیں۔ لطاءف و ظرافت کا ذوق رکھنے کے ساتھ
ساتھ حکمت بھی بلا کی رکھتے ہیں۔ ضرورت مندوں کے لیے
گولیاں شلوار والی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان سے گولیاں لیتے
وقت گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ پہلے اپنی ذات پر تجربہ کرتے ہیں۔
مدن بان کی ان پر خصوصی کرپا ہے۔ کام دیوا سے شفا کا بردان
حاصل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدیانی امور بڑی کامیابی
سے انجام دیتے ہیں۔ باتیں بڑی چٹخارے دار کرتے اور بناتے
ہیں۔ دوسرا یہ معاملہ ہے ہی چٹچارے دار۔ میں بھی تو اس کالم
کو جنسی کالم سمجھ کر پڑھ رہا تھا۔
مدن سے ٹھیک پانچ لفظ کے فاصلے پر ڈاکٹر تبسم کاشمیری کا
نام تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا تیس چالیس سال سے محبت کا
رشتہ ہے۔ بڑی صاف ستھری اور نکھری نکھری شخصیت کے
مالک ہیں۔ تحقیق اور تنقید میدان ہے شاعری کا بھی شوق
رکھتے ہیں۔ جنسیات سے متعلق ان کی کوئی تحریر میری نظر
سے نہیں گزری۔ حیرت ہوئ اس عمر میں انھیں مدن بانی کا
شوق کیوں اور کیسے پیدا ہو گیا۔ سوچا بڑھاپے میں عموما وج
کھج جاتی ہے۔ یہ بلا اور بےجواز بات بھی نہیں۔ یہ مدنائزیشن
کا عہد ہے۔ ہم شرقیوں کو مغربی بننے کا شوق کچھ زیادہ ہی
ہے۔ بھلا ہو حضرت ڈینگی شریف کا جو صبح سویرے اور شام
قریب اسلام نافذ کر دیتا ہے۔ اس طرح جبری سہی‘ بے لباسی
لباسی ہو جاتی ہے۔
یہ بات اہل علم کیا‘ ہر ایرا غیرا بھی جانتا ہے کہ نمرود کو
ڈینگی ہی لڑا تھا اور وہ چار صدیاں چھتر کھاتا رہا۔ ہٹ کا پکا
تھا چھتر کھاتا رہا لیکن ہم کے دائرے سے باہر نہ آیا۔ بادشاہ
لوگ اگر ہٹ کے پکے نہ ہوں تو انھیں بادشاہ کون کہے گا۔ میں
عصری دلیل بھی رکھتا ہوں۔ پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن
لاہور اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن والی رقم دلوانا دور کی بات
میری کسی داخواست کا جواب ہی دلوا ے تو مان جاؤں۔ جواب
کو نہی کے معنوں میں نہ لیں۔ کیوں‘ وہ کلرک بادشادہ ہیں۔ ہٹ
انھیں گٹی میں ملی ہے۔ بہرکیف یہ بادشاہوں کے معاملے ہیں
اس لیے طے شدہ ہیں ان پر کلام سے پاپ لگتا ہے۔
ہمارے ہاں نامعلوم بلامعلوم اور غیر کلام پر گفتگو کا رواج بڑا
عام ہے۔ ہاں میں ہاں ملانا تو بڑی عام سی بات ہے۔ ہم مدلل
گفتگو کی پوزیشن میں بھی ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی
خوردنی سامان کی خریداری کے لیے بازار گیے نہیں ہوتے۔ مال
و منال بھی وافر سے زائد ہوتا ہے شاندار اور دھواں دھار
لیکچر پلا سکتے ہیں۔ ان کے لباس پر نہ جائیے صرف کہے
سنے تک رہیے ایسا محسوس ہو گا جیسے کچھ کھائے انھیں
ہفتے گزر گیے ہوں۔
دل نہیں مان رہا تھا کہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری مدنائزیشن کا شکار
ہو گیے ہیں۔ بندے کا کیا پتہ ہوتا ہے۔ میں نے کالم آگے کیا
پڑھنا تھا میری سوئی یہاں پر اٹک گئی۔ دل مان نہیں رہا تھا
آنکھوں دیکھا رد بھی نہیں کر سکتا۔ آخر انھوں نے اس کتاب کا
دیباچہ کیوں لکھا۔ میں نے سوچا تصدیق کر لینی چاہیے کہ
انھوں نے دیباچہ لکھا بھی کہ نہیں۔ ہمارے ہارے ہاں بلا
دیکھے دیباچہ لکھنے کا رواج موجود ہے۔ ہو سکتا ہے انھوں
نے کسی مروت کے تحت کچھ لکھ دیا ہو۔ پھر میں نے کتاب
منگوائی‘ دیباچہ موجود تھا۔ کتاب کے اگلے صفحوں میں کتاب
پر ڈاکٹر نجیب جمال‘ ڈاکٹر صابر آفاقی‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر
غلام شبیر رانا اور ڈاکٹر محمد عبدالله قاضی کی تحریریں بھی
موجودد تھیں۔
ناصر زیدی صاحب کو صرف ڈاکٹر تبسم کاشمیری ہی کیوں نظر
آئے۔ بقیہ کالم کیا پڑھنا تھا میں اس سوال کا جواب تلاشنے کی
کوشش میں لگ گیا۔ کیا ایسا تو نہیں ناصر زیدی صاحب نے
کتاب کا مطالعہ کیے بغیر ہی خانہ پری کے لیے کالم لکھ دیا ہو۔
آخر آلو ٹماٹر کی انھیں بھی ضرورت ہے۔ ہر طرف خانہ پری کا
سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی تو ہر طرف میں آتے ہیں۔ نزدیک کی
کمائی خوش آنا رواج سا بن گیا ہے۔ سا میں نے رواجا لکھا ہے
ورنہ معاملہ سا کی دسترس سے نکل کر مشبہ بہ کاملا مشبہ کا
روپ دھار چکا ہے۔ فعل بد شیطان سا تھا اب شیطان بن گیا ہے۔
اب سا کا کوئی رولا ہی نہیں رہا۔ رشوت ملاوٹ دغا عین کاروبار
کا درجہ اختیار کر گیے ہیں لہذا ان پر گلا بےفضول سا ہو گیا
ہے۔ میں مطالعہ کے حوالہ سست رو رہا ہوں اسی لیے بقییہ
کالم مجھے اگلی نشت تک اٹھا رکھنا پڑا۔
بینائ بےشک کمال کی چیز ہے لیکن اندھا بیک وقت دو فائدے
اٹھاتا ہے۔ جی بھر کر سو سکتا ہے چھاؤں چھاؤں چل سکتا
ہے۔ بلادیکھے کام کرکے پیسے کھیسے کرنے والے اندھے کی
طرح موج میں ہوتے ہیں لیکن مجھ سا قدم قدم پر رک کر اپنا
اور قارین کا وقت برباد کرتا ہے۔ کیا کریں اپنا اپنا طریقہ ہے۔
اندھے سے بلکہ اندھے کماتے اور ڈکارتے ہیں اور مجھ سے
مفت میں مغز ماری کرکے رسوا ہوتے ہیں۔
فکرمند نہ ہوں
دیر اور قسطوں پر سہی‘ وہ دن ضرور آئے گا جب ناصر زیدی
صاحب کے کالم کی آخری سطر میری نظر سے گزر رہی گی۔
ناصر زیدی اور شعر غالب کا جدید شعری لباس
اس میں کوئ شک نہیں کہ غالب اپنی فکر کے حوالہ سے عہد
عہد کا شاعر ہے۔ اس حقیقت سے کوئی بالغ نظر شاعر دانشور
محقق نقاد اور صاحب ذوق قاری انکار نہیں کر سکتا کہ غالب‘
غالب تھا اور شعر کی فکری دنیا پر آج بھی غالب ہے۔ وہ متاثر
کرتا رہا آج بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کی شعری بساط پر کھیلنے
والے کمال کے لوگ رہے ہیں۔ غالب کے ساتھ وہ بھی فکری
اور تحقیقی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ اس امتیاز کو الگ
رکھیے کہ فلاں نے تو غالب کے خلاف لکھا۔ مخالف لکھنے
والے بھی تو غالب کے حوالہ سے تنقید کی دنیا میں اپنا وجود
رکھتے ہیں۔
برہان قاطع وجود نہ رکھتی تو قاطع برہان ایسی نادر کتاب کس
طرح وجود حاصل کرتی۔ لسانی تحقیق میں ان دونوں کتب کو
نظرانداز کرنا یا ان پر باقاعدہ کام نہ ہونا‘ زیادتی کے مترادف
ہوگا۔ اسی طرح غالب پر بہت کچھ ہونے کے باوجود متنی کام
باقی ہے یا تشنگی کا گلہ رکھتا ہے۔
عہد حاضر میں آزاد اور نثری شاعری بڑا مضبوط وجود اور
حوالہ رکھتی ہے۔ یہ شاعری اپنے عہد کے جملہ معاملات اپنے
ساتھ لے کر چلتی نظر آتی ہے بلکہ اس کے وجود میں عصر
جدید کا دکھ سکھ پوری شدت اور ادبی توانائ کے ساتھ رچا بسا
نظر آتا ہے۔ اگر اس شاعری کو اپنے عہد کی معتبر شہادت کا
نام دے دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس صنف سخن کے موجود
ہونے کے سبب دنیا کی تقریبا تمام زبانوں کی شاعری ترجمہ ہو
کر اردو ادب کا حصہ بنی ہے۔ اس ترجمے کے عمل سے دنیا
کے ہر خطے کے شخص کی فکر حاجات اور نفسیات سے اردو
کا قاری آگاہ ہوا ہے۔
تراجم کے حوالہ سے اسلوبیات میں کشادگی پیدا ہوئ ہے۔ آتا
کل‘ آج کی سماجی معاشی اور سیاسی تاریخ کو اس صنف سخن
کے حوالہ سے جان اور پہچان سکے گا۔ اسی شاعری کے تناظر
میں اپنے ماضی کو شاباشی اور لعنتی کلمے گزارے گا۔
مجید امجد‘ ن م راشد‘ میرا جی ‘ مبارک احمد‘ تبسم کاشمیری‘
سعادت سعید‘ فاطمہ حسن‘ انیس ناگی وغیرہ وغیرہ کو جدید
اردو شعر وادب سے نکال دیں باقی رہ ہی کیا جاءے گا۔ ان
ارباب سخن نے ناصرف زبان کی لسانی حوالہ سے گرانقدر
خدمت انجام دی ہے بلکہ شعری لوازمات بھی فراہم کیے ہیں۔
شعری لازمے مہیا کیے ہیں۔ تشبہات‘ استعارے‘ علامتیں اور
تلمیحیں بکثرت دستیاب کی ہیں۔ نئی سوچ اور فکر اپنی جگہ‘
زبان کے اظہاری دائرے کو وقار اور ثروت سے سرفراز کیا
ہے۔
اسطلاحات مرکبات مترادفات اور استعمالات میسر ہوے ہیں۔ یہی
نہیں‘ نئے نئے الفاظ گھڑے گیے ہیں۔ مستعمل الفاظ میں حیرت
انگیز اشکالی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ ان معروضات کے پیش نظر
جدید شاعری کو آج کی ضرورت اور لوازمے کا درجہ دنیا
عصری دیانت کے مترادف ہوگا
جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا غالب عہد عہد کا شاعر
ہے۔ اس کی فکر جدید ہے لیکن اس کی فکر کا شعری جامہ قدیم
ہے۔ اس کی فکر کو جدید لباس ملنا آج کی اہم ترین ضرورت ہے
بلکہ یہ ضرورت بھی ہر عہد سے تعلق کرتی ہے۔ بات نئ یلیکن
لباس قدیم‘ سچی بات تو یہ ہے کہ بات جمتی نہیں۔ نئے لباس
کے تحت ناصرف قربت بڑھے گی۔ اجنبت میں بھی اضافہ نہیں
ہو گا اور تفہیمی سہولتیں بھی پیدا ہوں گی۔
ناصر زیدی روزنامہ پاکستان لاہور کے کالم نگار ہی نہیں‘ شاعر
بھی ہیں۔ انھیں تخت و تاج سے قربت کا بھی شرف حاصل رہا
ہے۔ اس حوالہ سے بھی ان کی قرابتی و کرامتی عظمت سر
آنکھوں پر ہرنی اور رہنی چاہیے۔ وہ ناصرف شاہی کروٹوں کے
حوالہ سے جدیدیت پسند ہیں بلکہ ادبی تبدیلیوں کو بھی اشارتی
اور ضرورتی لوازمات کے زیردست رکھنے کے قائل ومائل ہیں۔
موصوف غالب پسند‘ غالب نواز غالب کے سچے طرف دار اور
غالبات کے محقق بھی ہیں۔ غالب کو ہر عہد پر غالب بھی مانتے
ہیں۔ غالب کے حوالہ سے یہ امر بلاشبہ لائق وتحسین و آفرین
ہے۔ میں ان کی غالب نوازی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی
توفیقات کے لیے دست بہ دعا بھی ہوں۔
ان کی جدت پسندی کا ایک پہلو کالا سیاہ بھی ہے۔ انھوں نے
غالب کے شعر کو جدید لباس دینے کے جنوں میں قیامت ہی ڈھا
دی۔ روح غلب قبر میں پلسیٹے مار رہی ہو گی۔ دوبارہ زندگی
ملنے کی صورت اس کوچے میں قدم رکھنے سے لرزہ بر اندام
ہو گی۔ غالب کے ایک شعر کی جدت پسدی ملاحظہ بلکہ ملاخطہ
فرمائیے
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے
میں ان کی جدید جسارت اور غالب کو عہد حاضر میں لانے کی
خواہش کو داد دوں گا لیکن اس بے سری تبدیلی کی داد نہیں
دوں گا۔ اگر وہ غالب کی شاعری کو جدید لباس دینے کے معاملہ
میں سنجیدہ ہیں تو اس کا ڈھنگ سیکھیں۔ اس ہنر کی آگہی کے
لیے انھیں تبسم کاشمیری کے قدم لینا ہوں گے ورنہ اس ہنر
سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔۔ میں ہنرمند نہیں پھر بھی اس شعر
کو عصر جدید کا لباس دینے کی حقیر سی سعی کرتا ہوں
گر قبول اُفتد زہے ع ّزو شرف
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
آج کی نظم کا ایک نمونہ بطور ذائقہ ملاحظہ ہو
مت لکھنا
ہوا پر آنسو مت لکھنا
فاختاؤں سے دشمنی
اچھی نہیں ہوتی
جو بھی سہی اشعار غالب کو جدید شعری لباس ملنا آج کا تقاضا
ہے۔ اس سے تفہیمات غالب کے نئے نئے در وا ہوں گے۔
قارئین کو ناصر زیدی کی اس سوچ اور خواہش کی داد دینی
چاہیے۔ بلاشبہ وہ اس داد وتحسین کے مستحق ہیں۔
پروف ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی
ہمارے ہاں بڑی سیٹ بر براجمان یا کسی بھی منفی حوالہ سے
قبضہ کر لینے والے کو دانشور سمجھا جاتا ہے۔ ایک حوالہ
سے یہ بات غلط بھی نہیں۔ حاسدین پیٹھ پیچھے اس کے قول
وفعل اور طریقہ کار میں دمبی سٹی ہی نہیں‘ امریکن سنڈی بھی
نکال کر دیکھاتے ہیں۔ اس کے آگے بے بکری بن جاتے ہیں۔
اسے اس کی وہ وہ خوبیاں گنواتے ہیں‘ جن کا اس کے فرشتوں
کو بھی علم نہیں ہوتا۔ سیٹ اس پر آگہی کے دروازے کھول دیتی
ہے۔ یہاں تک کہ عہدی ارسطو اس کا پانی بھرتے ہیں۔ یقینا یہ
اس کے عظیم سے دو چار انچ بڑھ کر دانشور ہونے کی دلیل
ہوتی ہے۔ کتاب اور قلم سے رشتہ داری نہ ہوتے ہوئے بھی
کتاب اور قلم والے انھیں زندگی کے پرچہ کا پہلا اور آخری
سوال ٹھہرا کر دم لیتے ہیں۔ ہر بات ان سے شروع ہو کر ان پر
ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا شخصی روپ فنا ہو کر دانش میں ڈھل
جاتا ہے۔ میں ناہیں سبھ توں تک آتے آتے جان سے جانا پڑتا
ہے۔ شخص سے دانش بننے تک ان کی گرہ سے کچھ نہیں جاتا۔
یہ سب کرسی قریب لوگوں کے حسن کمال کا کرشمہ ہوتا ہے۔
میرا موضوع یہ نکھری نکھری اور کھری کھری دانش نہیں۔
جو معاملہ میری سوچ‘ اپروچ اور ضمیر کی دسترس سے باہر
ہوتا ہے‘ اس میں ٹانگ اڑا کر اہل دانش میں نام لکھوانے کی
حماقت نہیں کرتا۔ میں زیریں منزل کا شخص ہوں اور زیریں
منزل ہی مجھے خوش آتی ہے۔ سراپا دانش کے چرنوں میں بیٹھ
کر دوسری یا چوتھی منزل پر جا بیٹھوں اور پھر وہ نیچھے
سے پوڑی کھینچ لے اور میں وہاں بلا راشن پانی باں باں کرتا
رہوں اور پھر اپنی آواز کی بازگشت کو بھی ترس جاؤں۔ میرا ہی
کوئ پیٹی بھرا مجھےغدار قوم و ملت قرار دے کر اوپر ہی
میری گرن لمبی کروا دے۔ میں اس جنس کا گاہک نہیں۔
میرا موقف یہ ہے کہ اپنی منزل اور اپنی اوقات کی آگہی سے
مرحوم ہونا بدقسمتی کے مترادف ہے۔ مثلا تاریخ کے طالب علم
کو زیادہ سے جنگوں کی آگہی ہونی چاہیے۔ فاتحین کے نام
اسے منہ زبانی یاد ہونا چاہیے تاہم عصر حاضر کی مقتدرہ قوت
سے انھیں بیس تیس فٹ نیچے رکھے۔ ماضی کے فاتحین عصر
حاضر کی مقتدرہ قوت سے کسی طرح بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔
مثلا بش کی تلوار کے ایک ہی وار سے ستر دائیں اور دو کم
اسی بائیں پھڑک کر وہ جا گرے۔ ڈھائ سو آج بھی آخری
سانسوں پرہیں۔ یہ بش کیا تھا اوباما تلوار زنی میں اس سے
بھی چار پانچ سو قدم آگے ہے۔ آج سکندر سا سورما زندہ ہوتا
تو سلام و پرنام ہی سے کام نہ لیتا پانی میں ناک ڈبو کر مر
جاتا۔
ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی دنیا فتح نہ کر سکا۔ آخر بیاسی
علاقہ کے کسی یودھا کے ہاتھوں زخمی ہو کر قوریں جا وڑیا۔
حضرت اوباما سرکار کو دیکھیے پوری دنیا کے سکندر فرشی
سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ پھر بھی خوش نہیں۔ اسے دنیا کا کوئ
چلتا پھرتا اچھا نہیں لگتا۔ اس کی پہلی اور آخری خواہش یہی
ہے کہ ہر ٹانگ سے اوباما اوباما کے بے بس اور بے کس
آوازے نکلیں۔ دنیا کے تمام لوگ یک ٹنگے ہو کر کمائیں اور وہ
یک ٹنگی کمائی کو بلا تشکر ڈکارے۔
بڑے بڑے حملوں سے تاریخ کے طالب علم آگاہ ہوں گے لیکن
چھوٹی چھوٹی حملیوں سے متعلق کسی کو سرے سے آگہی ہی
نہیں۔ جس سے پوچھو یہی بتائے گا محمود غزنوی نے
ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔ سب کو آخری اور کامیاب حملے
کا پتا ہے اس سے پہلے سولہ حملوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا
کوئی نہیں جانتا۔ یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے حملے
کیوں کیے اور ہندوستان میں کس قسم کا اسلام پھیلایا۔ وہ اسلام
پھیلانے کے لیے آیا یا کسی اور کام کے لیے آیا۔ محمود وایاز
کے ایک صف میں کھڑے ہونے کا قصہ ہر کسی کی زبان پر
ہے۔ کوئی اور بھی اس سے ملتے جلتے واقعات رونما ہوئے
ہوں گے معلومات کا فقدان دیکھیے کوئی جانتا ہی نہیں۔ میں
خوف زدہ رہتا ہوں کوئی مجھ ہی سے نہ پوچھ لے۔ مجھے بھی
ایک صف والے والے واقعے کے علاوہ کچھ معلوم نہیں میں
لون مرچ مصالحہ لگا کر اس واقعے کو بیان کر سکتا ہوں۔
گھر اور باہر کی جنگوں کے متعلق تھوڑی بہت غیر تاریخی
لوگ بھی معلومات رکھتے ہیں۔ دانشور حضرات کے پاس ان
سے بڑھ کر معلومات کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔ دانشور حضرات
پاس سے بھی جوڑ جمع کرکے لوگوں کو بتا دینتو لوگ مان لیں
گے اور پھر وہ آپس میں شئیر بھی کریں گے۔ وقت کے ساتھ
ساتھ ان کی نوعیت کے مطابق باتوں میں کہاٹا وادھا کرتے رہیں
گے۔ آتے وقتوں میں سینہ بہ سینہ چلتی باتیں کتابی شکل اختیار
کر لیں گی۔ تاریخ بھی تو یہی کچھ ہے۔ جو بھی سہی تاریخ کے
دانشور کے پاس ایک عام آدمی سے زیادہ معلومات ہونی چاہیں۔
میں عام آدمی ہوں تاریخی جنگوں کے متعلق زیادہ نہیں جانتا۔
اس کے باوجود یہ بھی جانتا ہوں ایک راجہ جنگ بھی ہے۔
کسی زمانے میں بڑی زبردست ولایت تھی۔ ایک دن بیگم صاحبہ
نے گوشت لانے کا حکم دیا۔ میں گوبھی کو خوب صورت پھول
سمجھتے ہوئے لے آیا۔ وہ پھولوں کو پسند کرتی ہے۔ سوچ رہا
تھا کہ خوش ہو گی لیکن خوش ہونے کی بجاءے وہ بپھر گئ۔
کوئ مورخ اس جنگ کو نہیں جانتا۔ اس حوالہ سے میں مورخ
سے دو قدم آگے ہوں۔ یہ تو فقط ایک جنگ ہے میں ایسی
بیسیوں جنگوں سے آگاہ ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں لکھ کر مورخ
ہونے کا اعزاز حاصل کر لوں۔
کتنی ستم کی بات ہے کہ سب بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی موج
مستیوں کا ہر کوئ چٹخارے لے لے کر تذکرہ کرتا ہے لیکن
فرخ سیر کا کوئ نام نہیں لیتا جو دن رات نشے میں غرق رہتا
تھا۔ روپ کنور کے ساتھ ادھر ادھر اور کبھی نالیوں میں گرا پڑا
ملتا۔ ادھر تو مورخ کی نظر نہیں گئ۔ ہر مورخ کے ہاں بہادر
شاہ ظفر کا ذکر ملتا ہے جیسے وہ اکیلا شاعر بادشاہ تھا۔ شاہ
عالم ثانی جو آفتاب تخلص کرتا تھا کمال کا شاعر تھا۔ وہ تو وہ
جہاندار بھی کا شاعر تھا۔
آج ایک صاحب فرما رہے تھے اورنگ زیب عالمگیر نے ناسخ
کے کلام کو مدون کیا۔ اورنگ زیب عالمگیر شروع شروع میں
مدن کا ذوق تھا۔ میں نے اپنا رعب جتانے کے لیے کہا حضرت
یہ نسخہ انھیں وراثت میں ملا۔ اصل کام تو بابر نے کیا تھا۔
انھوں نے گھورتے ہوئے کہا جناب میں تو ڈاکٹر اورنگ زیب
عالگیر کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے خفت مٹانے کے لیے کہا
اچھا تو بادشاہی چھوڑ کر پروفیسر ہو گیا ہے۔ بولے وہ ٧١٧١
میں مر گیا تھا۔ چاہیے تو تھا میری جہالت کے پیش نظر بات کو
ٹھپ کر دیتے اور اپنی دانش کا مجھ پر رعب نہ ڈالتے۔ میں نے
غصے میں کہا میں نے اسے ٧١٧١میں مارا تھا؟
ناسخ کا دیوان اسی نے مرتب کیا تھا۔ میری طرف سے اسے
طے سمجھو اور اپنی کم علمی کی وجہ سے میرے ساتھ بحث
نہ کرو۔
اہل دانش کیا‘ اشاعتی ادارے بھی اصل آگہی سے دور ہیں۔ اخبار
ہو کہ کوئ ادبی یا غیر ادبی پرچہ‘ یہاں تک کہ حساس کتب بھی
پروف ریڈنگ کی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔ اداروں نے
باقاعدہ پروف ریڈر رکھے ہوئے ہیں۔ پھر بھی مطبوعہ تحریریں
اس قباحت سے پاک صاف نہیں ہو پائیں۔ پروف ریڈنگ بڑی ذمہ
داری کا کام ہے اس لیے اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے۔ میں
نے کچھ نہایت ذمہ دار لوگوں سے بات بھی کی۔ کسی نے مثبت
جواب نہیں دیا۔ ہر کسی نے نے کہا کچھ بھی کر لو پروف کی
غلطی رہ ہی جاتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا یہ اس وقت تک ہوتا
رہے گا جب تک پروف ریڈرنگ کے لیے کوئی مشین تیار نہیں
ہو جاتی غلطیوں کا سیاپا ختم نہیں ہو گا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے
ناک نیچے؛ اوپر بھی سمجھ سکتے ہیں بیٹھا کمال کا پروف
ریڈر جو اعزازی کام کرنے کے لیے بھی تیار ہے‘ انھیں نظر
نہیں آتا۔ کم علمی اور معلومات کی کمی ہمیں لے ڈوبی ہے۔ ہنر
کی ناقدری اور بے قدری ہی عمومی دانش کو لے ڈوبی ہے۔ جو
قومیں ہنر اور دانش کی قدر کرتی ہیں وہی ترقی کا منہ دیکھتی
ہیں۔ اقتداری دانش اور ہنر الگ سے چیز ہے‘ یہ تو عمومی
دانش و ہنر سے تعلق کرتی بات ہے۔
عمومی دانش و ہنر کی عزت اور قدرافزائی کرنا اداروں کا کام
ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور بڑے روزناموں میں شمار ہوتا ہے
لیکن اپنے ہاں موجود ایک عظیم ہنرمند کا اسے پتا ہی نہیں۔
بلاشبہ یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اسے آج تک معلوم
نہیں ہو سکا کہ ناصر زیدی شاعر اور کالم نگار سے بڑھ کر
سچے سچے اور کھرے پروف ریڈر ہیں۔ یہی نہیں دیالو بھی
ہیں۔ احباب کے لیے پروف ریڈنگ کی خدمات اعزازی طور پر
انجام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ معاملہ بدقسمتی اور المیہ کی حد
تک ہے کہ ہنر کے مطابق کام دستیاب نہیں۔ اگر متعلقہ ہنر اور
دانش کے مطابق لوگوں کو کام دستیاب ہو تو ترقی کے دروازے
کھل سکتے ہیں۔ افسوس روزنامہ پاکستان لاہور والے ناصر
زیدی کے اس ہنر سے بےبہرہ ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ ان
سے ان کے پرفیکٹ ہنر کا کام لیں۔ کالم نگاری کے لیے اپنے
کسی پروف ریڈر کو تلاش لیں۔ ہو سکتا ہے وہ موصوف سے
کہیں بڑھ کر اور بہتر خدمت انجام دے۔
دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا
یہاں ایک بابا پہلے کئ دنوں اور اب کئ مہنوں سے بیمار چلا
آتا ہے۔ حرام ہے جو مرنے کا نام لے رہا ہو۔ اگرچہ وہ لمبی
چوڑی عمر کا نہیں۔ یہی کوئ ساٹھ باٹھ کا ہو گا۔ عصری حالات
اور خاندانی ضروریات کے پیش نظر اب تک اسے مر جانا
چاہیے تھا۔ الله جانے کس مٹی سے اٹھا ہے۔ بڑے بڑے پھنے
خان بابے دیکھے ہیں‘ بیماری کے ایک ہی جھٹکے سے اناللله
ہو گیے۔ ان کے اٹھنے سے گھر والوں کی بےجا ڈاکٹروں کے
پاس آنیاں جانیاں ختم ہو گیں۔ گھر والی اور اولاد خوشی سے
بابے کی بیماری کی فٹیک برداشت کر نہیں رہے تھے۔ دنیاداری
بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے۔
ہمارے ہمسائے میں ایک مائی تھی اور کپتی کے نام سے پورے
علاقہ میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس کا میاں شریف آدمی اور بلا کا
موقع شناس تھا۔ بیماری کے پہلے ہی جھٹکے میں وہ گیا۔ مائ
بڑی دیالو تھی بڑھاپے میں بھی دیا کے بلند مقام پر فائز تھی۔
کوئی نہیں کہتا تھا کہ اسے بھی کبھی موت آئے گی۔ فرشتہ اجل
بھی اس کے قریب آنے سے لرزتا ہو گا۔ ہاں فیض کی حصولی
کے لیے اسے کبھی معمانت نہیں رہی ہو گی۔ بیمار پڑی؛ اہل
ذوق تو اہل ذوق‘ اس کا چھوٹا بیٹا پوری دیانتت داری سے
اسے ڈاکٹروں کے پاس لیا پھرا تاہم چند دن ہی چلی اور اہل قلب
و نظر کے لیے پچھتاوا چھوڑ گئ۔ اس کی بڑی بہو بڑی روئی۔
لوگوں کو ساس کے ساتھ اس کی مخلصی کا یقین ہو گیا۔ جو
بھی سہی میں اس بابے کی کرنی کا معتقد ضرور ہو گیا جس
کے تعویزوں نے بڑی بہو کو یہ دن دکھایا ورنہ وہ فرشتہ اجل
کی گرفت میں آنے والی مائ ہی نہ تھی۔
خدا معلوم یہ ساٹھ باٹھ سالہ بابا کس قسم کا ہے جسے اتنی
کرنی والے بابے کے تعویزوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ باچیاں
نکلی پڑی ہیں اور حد درجہ کی کمزوری وارد ہو چکی ہے‘ اس
کے باوجود مرنے کا نام نہیں لے رہا۔ بعید از قیاس نہیں کہ
اسے زندگی لڑ گئی ہو۔ عین ممکن ہے کہ خضر آب حیات کے
دوچار گھونٹ عطا کر گیے ہوں۔ دیوتاؤں سے بھی اس کا بگارڑ
نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی دیوتا بصد مشقت نکالے گیے امرت میں
سے دو گھونٹ چپکے سے پلا گیا ہو۔
پرانا اور تجربہ کار ہوتے ہوئے نہیں سمجھ پا رہا کہ کتنوں کا
مستقبل خراب کر رہا ہے۔۔ اس کے مرنے سے بڑا کاروبار وسیع
کر سکتا ہے۔ چھوٹے کی تین جوان بیٹیاں‘ جن کی اب شادی ہو
جانا چاہیے جبکہ منجھلا اپنا بیٹا دوبئ بھیجنا چاہتا ہے۔ اسے
باہر مفت تو نہیں ببھجا جا سکتا‘ دام لگتے ہیں۔ یہی صورت حال
اس کی لڑکیوں کی ہے۔ کئی خاندانوں کی ترقی خوشحالی اور
آسؤدگی بابے کی موت سے وابستہ ہے۔ اتنی موٹی اور واضح
بات بابے کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ بیمار اور لاغر زندگی سے
برابر علیک سلیک بڑھائے چلا جا رہا ہے۔
ایک ہفتہ پہلے میری اس سے بستر حیات پر ملاقات ہوئی۔ بچے
پرامید نگاہوں سے اس کی آؤبھگت کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ
کر بڑے خوش ہوئے۔ بابا چلتے پھرتے وقتوں میں میرے ملنے
والوں میں تھا۔ بچے اس کے میرے تعلقات سے واقف تھے۔
انہوں نے مجھے امید بھری نظروں سے دیکھا اور اندر چلے
گیے۔ ان کا خیال تھا کہ میں ان کے ڈھیٹ اور جینے پر مصر
بابے کو سمجھاؤں گا۔ وہ کیا جانیں کہ ان کا بابا کتنا ضدی ہے۔
میں نے پوچھا یار تم نے رشوت کی کمائ سے اتنی جائیداد
کیوں بنائی۔ مرنے والے ہو الله کو جواب تو تمہیں ہی دینا پڑے
گا۔ جواب میں کہنے لگا مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔
اکیلے میں نے تھوڑی بنائی ہے ساری دنیا اسی طرح جائدایں
اور بینک بیلنس بناتی ہے۔ اتنے لوگوں کے لیے جہنم میں جگہ
کب ہو گی۔ میں وہاں جا کر بھی قبضہ گروپ کا لیڈر ہوں گا۔
ٹہوہر میں گزاری ہے‘ فکر نہ کرو وہاں بھی ٹہوہر کی گززے
گی۔ بیشک الله بڑا بےنیاز ہے۔ میں نے کہا یار یہ جائداد اپنے
جیتے جی ان میں تقسیم کر دو۔ کیوں تقسیم کر دوں۔ جائیداد
میری ہے کسی کو دوں نہ دوں میری مرضی۔
اگر میں نے تقسیم کر دی تو ان میں سے کسی نے پوچھنا تک
نہیں۔ گھر سے باہر نکال دیں گے۔ اس کی بات میں دم بھی تھا
اور خم بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں کر سکا کہ ان میں زیادہ کیا تھا۔
اس کے پاس میں قریبا بیس پچیس منٹ اس خوف کے ساتھ
بیٹھا رہا کہ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ تم بھی دو چار سال کے ہیر
پھیر سے میرے ہم عمر ہو ابھی مرے کیوں نہیں۔ شاید اس لیے
نہ بولا کہ میرے پاس ہے ہی کیا۔ زندہ ہوں کچھ ناکچھ تو لاتا
ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا برداری سے تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا
اور کوئی اتنی بےعزتی کیوں کراے گا۔ شوہر کا بےعزتی کرائی
کے لیے پہلے سوال کی طرح بہرطور لازمی ہے۔
اب اس صورتحال کے تحت میں کیا عرض کر سکتا ہوں تاہم
مجھے بڈھے کی اولاد میں کمی اور خرابی نظر آئ۔ جو خود
محنت اور مشقت کرنے کی بجائے اوروں کی کمائی پر مستقبل
سنوارنے کی آشا کرنے والے زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ اور
دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک بابے وغیرہ دوسری دفتر شاہی
وغیرہ۔ ثانی الذکر کو اوروں میں شمار نہ کریں۔ سائلین سے
وصولیاں وغیرہ دفتری لوگوں کا اصولی استحقاق ہوتا ہے۔
پڑھائی لکھائی اور نوکری کی حصولی پر خرچہ کرکے اگر بہت
-یا بہت سے بڑھ کر وصولا نہ گیا تو کیا فائدہ
بابے کے اپنے نما اپنے خود کو پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ
فاؤنڈیشن والے سمجھتے ہیں جو سراپا دیسی گھی کی کڑاہی
میں ہیں۔ کملوں کو اتنی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرکاری
لٹیرے ہیں۔ انہیں تو پوچھ کرنے والوں کا اشیرباد حاصل ہے۔
دوسرا وہ لوگوں کا کام کرتے ہیں۔ تیسری بڑی بات یہ کہ وہ تو
بھرتی ہی لوٹ مچانے کے لیے ہوئے ہیں۔ لوٹ سیل تو ان کے
فرائض منصبی میں داخل ہے۔
مانتا ہوں بابے کا مال بھی لوٹ کا ہے لیکن وہ مال تو ہے اور
مال بھلا کون کسی کو دیتا ہے۔ گچی پر ناخن آئے تو ہی کھیسہ
ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ کملے بابے کو کسی پھسنی میں پھاسائیں‘
خود ہی جڑے گا۔ مجھے بابے کے اپنوں پر افسوس ہوتا ہے۔
بیمار بابا ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس
کی بات ہے۔ پاکستان کو بنے ایک صدی ناسہی کچھ ہی سالوں
بعد ہو جائے گی‘ بیمار لاغر اور دمہ گزیدہ دفتر اور افسر شاہی
سے کام چل رہا ہے اور خوب چل رہا ہے۔ انہیں اپنے بیمار
لاغر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھے سے کام چلاتے ہوئے مری پڑتی
ہے۔ بیمار لاغر اور دمہ گذیدہ دفتر اور افسر شاہی کے مرنے
کے دور تک آثار نہیں۔ سچی کہوں گا چاہے بڈھے کے گھر
والوں کو غصہ ہی لگے‘ بابے کے مرنے کے مجھے دور تک
آثار نظر نہیں آئے۔ ان کنبوں کا مستقبل اسی طرح تذبذب کی
صلیب پر لٹکا رہے گا اور یہ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا
ہوں۔
غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ
میرا بیٹا ڈاکٹر سید کنور عباس اول تا آخر پاکستانی ہے۔
پاکسستان کی محبت اس کے دل و دماغ میں رچی بسی ہوئی ہے
تاہم میری طرح اس میں ایک کتی عادت موجود ہے۔ دشمن یہاں
تک کہ غیر مسلم کی اچھی عادت اور احسن رویے کی اس کی
پیٹھ پیچھے بھی تعریف کرتا ہے۔ یہ طور اور انداز ہمارے
عمومی خصائل سے قطعی ہٹ کر ہے۔ ہم زیادہ تر اپنی اس کے
بعد موجودہ صاحب اقتدار طبقے کی تعریف کرتے ہیں۔ ماضی
قریب کے شاہوں کو قطب قریب جبکہ ماضی بعید کے شاہوں کو
نبی نما قرار دینے میں منٹ بھی نہیں لگاتے۔ ہمیں ان کی
ناانصافی اور بددیانتی بھی وقت کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔
ان کی نندا کرنے والا مسلمانی کھو بیھٹتا ہے اور واجب القتل
قرار پاتا ہے۔ میں دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا کوئی ارادہ
نہیں رکھتا اس لیے اس نظریے کی نفی نہیں کرتا۔ ہاں ایک
مسلم غیر ملک اسٹریلیا کے اپنے بیٹے کے حوالہ سے‘ جو ان
دنوں وہاں اقامت رکھتا ہے‘ کی پست اخلاقی رویے کی مذمت
کرتے ہوئے‘ عرض پرداز ہوں۔ کتنے بداطوار لوگ ہیں وہ
ہمارے ہاں ایسی بداخلاقی اور بداطواری کی دھونڈے سے بھی
مٹال نہیں ملتی۔
اس کی بیگم مارکیٹ میں کہیں اپنا پرس کھو بیٹھی۔ پرس میں
ضروری کاغذات کے علاوہ معقول پیسے بھی تھے۔ سخت
پریشان تھی۔ ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد ایک پولیس مین آیا اور
سب کچھ واپس کر گیا۔ بس جاتے ہوئے اس نے ایک رجسٹر پر
دستخط کروائےجس میں پرس میں موجود اشیاء کا اندراج تھا۔
رخصت ہوتے وقت مسکراتےہوئےآل دی بیسٹ کہنا نہ بھولا۔ ہم
اخلاقی حوالہ سے اتنے گیے گزرے نہیں ہیں۔ ابھی ہم میں
اخلاقیات موجود ہے۔ میں قصور سے للیانی گیا۔ واپسی پر ویگن
کے دروازے سے سیٹ تک میری شلوار کی جیب پر کسی نے
ہاتھ دیکھا دیا۔۔ قدرتی ایک دوسری جیب میں پچاس روپے
موجود تھے جو میں کرایہ کے لیے دست سوال ہونے سے بچ
گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد بیرنگ لفافہ سے کاغذات مع ضروری
نصیحت مل گیے۔
میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ کسی کام کے لیے کسی دفتر میں بار
بار کیا ایک بار جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قانون اور سماجی
رویت شکنی کا تصور تک موجود نہیں۔ کتنا بے لطف بےمزا
اور بے ذائقہ سا ملک ہے۔ آوا جاوی کے بغیر انجام پانے والے
امور اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ جب تک دو چار جوتے نہ ٹوٹیں
اور جیب ہولی نہ ہو‘ وہ کام بھی بھلا کوئ کام ہوئے؟ہمارے ہاں
کوئ ایک دفتر نہیں تقریبا سارے دفتر اخلاق کے بلند درجے پر
فائز ہیں۔ مک مکا چائے پانی اور لفافہ بازی پورے عروج پر
ہے۔
میں عصر حاضر کے پاکستان کا سچا اور پکا باشندہ ہوں میری
اتنی اوقات اور مجال کہاں جو دفتر شاہی کی گردن پر لفظوں کا
انگوٹھا رکھوں۔ میں تو ان کی اعلی اخلاقی روایات پر انگلی
بھی نہیں رکھ سکتا۔ ہر علاقے کے اپنے اصول اوراخلاقی
ضابطے ہوتے ہیں۔ دوسرا ہر عہد اپنے حالات اور ضروریات
کے مطابق رویات تشکیل دیتا ہے۔ میرے ابے کا دور انگریز
دشمن تھا تبھی تو وہ مسلم لیگ کا پیٹھو تھا۔ بےکار میں وقت
ضائع کرتا رہا۔ ورثہ میں بھوک ننگ چھوڑ گیا۔ بڑی بڑی کہانیاں
سناتا تھا اور سمجھتا تھا ان لوگوں نے بڑا معرکہ مارا ہے۔ ہم
ان سے بےوقوف نہیں ہیں‘ پچھلی صفوں میں رہ کر چوپڑی
کھاتے ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ میرے ابے کے
دور میں بھی اس اعلی اخلاقی ضابطے کے حامل لوگ موجود
تھے۔ چوپڑی سے ان کے منہ اور کھیسے بھرے رہتے تھے۔
اتنا چھوڑ گیے کہ آج بھی ان کی نسلیں موج میں ہیں۔ ان کے
طہارت کدے بھی حسن واخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔
میں عصر دوراں کی دفتر شاہی خصوصا کلرک بادشاہ کا ہتھ
بدھا خادم ہوں۔ میں کیا بڑے بڑے پھنے خاں ان کے ڈیروں پر
منمناتے‘ پانی بھرتے اور نذر نیاز پیش کرتے ددیکھے گیے
ہیں۔ جو ان کی بادشاہی و خدائ کے مرتد اور رائندہ ہیں یا
حاضری سے اجتناب برتتے ہیں‘ لاکھ درخواستیں رجسڑڈ ڈاک یا
ای میل کرتے رہیں نامراد رہتے ہیں۔ درخواست یا ای میل افسر
کے ہاتھ میں جائے گی تو ہی کام ہو گا۔
زیادہ تر ان کے افسر سے ہاتھ رلے ہوتے ہہں۔ میں یہ ہوا میں
نہیں چھوڑ رہا۔ میں نے اپنے ایم فل الاؤنس کے سلسلے میں
پہلی درخواست اکیس اکتوبر انیس سو ستانویں کو گزاری اور
آخری گیارہ نومبر بیس سو تیرہ کو سیکٹریری ہاہر ایجوکیشن
پنجاب کے حضور گزاری۔ ان میں سے کسی درخواست کو
سیکٹریری صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جاتا تو
الاؤنس ملتا یا نہ ملتا جواب ضرور ملتا۔ جواب کو اس کے اصلی
اور مستعمل معنوں میں لیں۔ جاؤ نہیں دیتے‘ تمہارا ایم فل علامہ
اقبال اوپن یونیورسٹی کا ہے جو اپنے ٹیوٹر سے بلامعاوضہ کام
کرواتی ہے۔ ثبوت کے لیے اسے دور نہ جانا پڑتا۔ اسے میری
یہی فائل سے اگست ٦٧٧٢میں کیے گیے کام کی عدم ادائیگی
سے متعلق گزاری گئ بہت سی درخواستیں مل جاتیں۔
درخواستوں کے جواب نہ دینے اور بابو کی فائل کے بیچھے
زبردست حکمت موجود ہے۔ سائل کب تک درخواستیں گزارے گا
آخر اسے آستانہ عالیہ میں حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ مال تو خیر
ملے گا ہی لیکن سائل کی میں میں کا سواد ہی اور ہے۔ اپنے
سے کہیں بڑے گریڈ والے کا دو زانو بیٹھ کر بالاتری اور
بااختیاری کا اعتراف اسٹریلیا کی دفترشاہی کو کیا معلوم۔ وہ اس
ترقی یافتہ دور میں بھی دور جہالت کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں
کے بابو اس قسم کی اعلی ظرفی اور اعلی اخلاقی اقدار سے
محروم ہیں۔ انھیں برفی کی بلا دام چاٹ نہیں لگی۔
اپنے پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ اپنے پلے سے برفی تو دور
کی بات نان چھولے نہیں کھائے جا سکتے۔ انھیں فقط دو چار
ہفتے پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے تقدس مآب دفتر
میں لا کر بیٹھا دیا جائے پوری سروس کی کمائ جیب لگ جائے
گی۔ مہامنشی ہاؤس کے لوگ خانے خان بنے پھرتے ہیں یہاں
ان کے بھی بقلم خود استاد تشریف رکھتے ہیں۔ یہ سب کرپشن
نہیں‘ یہ تو بالائی ہے۔ آگ چڑھے دودھ پر ہئ بالائی آتی ہے۔
سارا دن بیوی بچوں کو چھوڑ کر بالائی کے ڈھنگ اور نسخے
تلاشنا اور سوچنا ایسا آسان کام نہیں۔ باہر بیٹھ کر ٹکے ٹکے
کی باتیں کرنا آسان ہے میدان میں اترنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ
بلاشبہ بڑے عظیم اور پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی عظمت کو
بڑے ادب اور احترام سے ست سلام اور پرنام ۔
مہامنشی ہاؤس اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی پہنچ
اور عزیزداری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عزت
مآب واپڈا ان کا پانی بھرتا ہے۔ میں یہ تحریر اس سے پہلے چار
مرتبہ ٹائپ کر چکا ہوں۔ جونہی سیف کرنے لگا بجلی چلی گئ
اور اگلے ہی لمحے آگئی۔ پہلے تو میں اسے محض اتفاق
سمجھا جب یہی دوسری تیسری اور پھر چوتھی بار ہوا تو
مجھے اندازہ ہو گیا کہ واپڈا ہر دو متذکرہ محکمہ ہذا کو کتنا
عزیز اور محترم رکھتا ہے۔
میں وفاقی محتسب اور صوبائی محتسب کے حوالہ سے معاملات
کے متعلق درخواستیں گزارنے والا تھا کہ خیال گزرا کیوں نہ
جاپان اردو نیٹ کے ذریعے اپنی آواز متعلقین تک ہپنچاؤں۔
خدانخواستہ میں ان کے خلاف کوئی شکایت کرنے والا نہیں تھا۔
میں تو صرف اتنا عرض کرنا چاہتا تھا کہ جب جب کسی کی
درخواست آئے اس کا جواب دے دیا جائے۔ کون سا پلے سے
ڈاک خرچ دینا ہے۔ سرکاری کاغذ سرکاری لفافہ اور سرکاری
ٹکٹیں لگنا ہیں۔ لکھنا صرف اتنا ہے باری پر آپ کے مسلے پر
غور کیا جائے گا۔ اتنا بڑا صوبہ ہے باری آتے آتے‘ آئے گی نا۔
باری کے انتظاری میں مفتا مر جائے گا اور معاملہ محض قصہء
ماضی ہو کر رہ جائے گا۔ گویا سانپ بھی اپنی آئی مرے گا اور
لاٹھی بھی بچ جائے گی۔
میاں شہباز شریف نے جس لگن اور محنت سے کام کیا ہے اس
کی تعریف نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔ جہاں اتنے کام کیے ہیں
وہاں ایک اور کام کردیں تو دعاؤں کا شمار نہیں رہے گا۔ دو
چار مخیر حضرات بھی صلہء رحمی کے حوالہ سے یہ کام کر
سکتے ہیں۔ میاں صاحب ایک محکمہ قائم کریں جو میر منشی
گاہ کے بابو حضرات کی بالائی کا اہتمام کرے۔ سائل آ کر رقم
بتائے یہ محکمہ ضروری پوچھ گچھ اور کنفرمشن کے بعد سائل
کو مطلوبہ رقم فراہم کر دے یا پھر ضروری بارگینگ یعنی مک
مکا کر لے۔ اسی طرح بجلی کے دونوں طرف بہت کچھ لکھا ہوتا
ہے مزید صرف اتنا لکھ دیا جائے کہ لکھنے پڑھنے اور ٹائپ
کرنے والے حضرات ہم پر نہ رہیں‘ جو کریں اپنی ذمہ داری پر
کریں۔
لکھنے میں واپڈا آج سب کا پیو ثابت ہو رہا ہے۔ وہ انتہا درجے
کے کنگالوں اور ان کے تھرڈ کلاس سفارشیوں کو۔۔۔۔۔۔۔ پر
لکھتے ہیں۔ سفارش کا دور گیا‘ اب مال چلتا ہے۔ ابھی ابھی
اطلاع ملی ہے کہ پرفارما پرموششن کا ریٹ چودہ ہزار روپے ہو
گیا ہے۔ یہ بنیادی خرچہ ہے۔ تکمیل تک بقایا جات کے مطاابق
دام اٹھیں گے اور جوتے گھسیں گے۔
انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ
دنیا ترقی کر رہی ہے‘ یہ مقولہ عام اور بزت سا ہو گیا ہے۔ ہر
کوئ ترقی اور دودھ کی نہریں بہانے کی باتیں تو کرتا ہے لیکن
آج تک کسی کو یہ بتانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئ کہ ترقی کس
چڑیا کا نام ہے۔ وہ رنگ روپ میں کیسی ہوتی ہے۔ اس کا سائز
کتنا ہوتا ہے۔ گولی ماریے ان باتوں کو‘ کوئ بس اتنا ہی بتا دے
کہ وہ کس گلی کس محلے کس کوچے میں بانفس نفیس اقامت
رکھتی ہے۔ دودھ کی نہر یا نہریں بہانے کے معاملہ کو چھوڑیے
کیونکہ اس کا تعلق قیس المعروف مجنوں سے ہے۔ اب کون اس
کی عشق گذیدہ ہڈیوں کو خراب کرے۔ امیدوار حضرات نے اسے
بطور محارہ استعمال کیا تھا۔ محاورہ میں حقیقی معنی نہیں
ہوتے اگر حقیقی معنی کود پڑیں تو محاورہ اسے قبولنے سے
انکار کر دیتا ہے۔۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ محاورہ مہارت سے
علاقہ رکھتا ہے۔ دودھ کی نہریں بہانے کا کبھی رواج نہیں رہا۔
ہاں پانی کی نہریں کبھی دانستہ کبھی نادانستہ اور کبھی باوجوہ
غفلت چھوڑ کر لوگوں کو ڈبو کر ثواب اور آبادی کم کرنے کا
رجحان ضرور رہا ہے۔
یہاں بجلی جاتی اور جاتی ہی ہے تاہم کبھی کبھار اپنے ہونے کا
ثبوت بھی فراہم کرتی ہے اور یہ کوئ معولی بات نہیں۔ اگر وہ
متواتر رہے تو اس کا قد اور مرتبہ صفر ہو کر رہ جائے گا۔
ہمیں بجلی سے کوئی گلہ نہیں اور ناہی اس کے عالی مرتبے
سے انکار۔ ہاں بجلی والوں سے ایک ناحق اور ناجائز سا گلہ
ضرور ہے۔ ہمارے محلے کے ایک مرکزی مقام پر بجلی کے
تاروں کی چول ذرا ڈھیلی ہے جو ہفتے میں کم از کم ایک بار
ضرور اکھڑتی ہے جس کے سبب بجلی مہاراج کے ہوتے
اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ ہر بار ہر گھر سے سو سو روپے جمع
کیے جاتے ہیں۔ بجلی والے آتے ہیں تھوڑا سا اڑا کر چلے
جاتے ہیں۔ یہ ان کی مستقل آمدنی ہے۔ آج لوگ منتخب ممبر
صاحب کے ہاں گیے۔ ممبر صاحب کے کاموں نے کافی بیزت
کرکے الٹے قدموں واپسی کی راہ دکھائی۔ شکر ہے وہ خود نہیں
ملے ورنہ دو چار پھٹر ضرور ہو جاتے۔
لوگوں کا گلہ یہ تھا کہ ممبر صاحب نے تو دودھ کی نہریں بہا
دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہاں تو پینے کے لیے پانی تک
میسر نہیں۔ ایک صاحب نے بڑی پتے کی کہی‘ ممبر صاحب پاور
میں ہیں محلے کے چھوٹے بڑوں کو بی آر بی پر لے جا کر
ڈبکیاں دلائیں گے۔ اس کے بعد لوگ پانی کا نام تک بھول جائیں
گے۔ میری رائے میں ہر چھوٹے بڑے کو بطور عبرت بجلی کے
دو چار جھٹکے دے دیے جائیں۔ بجلی کی خطرناکی کے زیر اثر
اٹھتے بیٹھتے ان کے حلق سے آوازے اٹھیں گے نو نو بجلی
گو گو۔ ایک صاحب نے کہا متعلقہ لائن مین سے مک مکا کر لو
اس طرح کچھ تو بچت ہو سکے گی۔ میں نے کہا یار ان کی ملیں
تو نہیں چلتیں انہوں نے بھی تو یہیں سے کھانا ہے۔ تنخواہ میں
بھنی مچھلی یا مرغے کی ٹانگیں تو نہیں کھائی جا سکتیں۔
سنتے آئے ہیں زندہ لاکھ کا مردہ سوا لاکھ کا۔ زمانے کی ترقی
کے ساتھ ہی یہ مقولہ بھی بدل گیا ہے۔ اب صورت کچھ یوں ہے
کہ مردہ لاکھ کا زندہ سوا لاکھ کا۔ یہ مقولہ اہل واپڈا تک محدود
نہیں اس میں ساری دفتر خدائی آ جاتی ہے۔ زندہ جس طرح
اندھیر مچاتا ہے مردہ تو اس نعمت عظمی سے دور رہتا ہے۔
پنشن یا دیگر وصولیاں زندہ کی چند ماہ کی مار نہیں ہوتیں۔ کچھ
زیادتیاں زندہ لوگوں کے ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ مثلا ملازم کی
تنخواہ سے انشورنس کی جبری کٹوتی ہوتی ہے اور یہ معقول
کٹوتی تا سروس ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ ریٹائر ہوتا ہے اسے
اس کی تنخواہ سے کی گئ کٹوتی میں سے ایک پائی تک نہیں
دی جاتی۔ مجوزہ رقم کی ادائیگی اس کی موت سے مشروط
ہوتی ہے یعنی وہ مرے گا تو ہی انشورنس کی رقم اسے نہیں‘
اس کے گھر والوں کو ملے گی۔ گھر والے اس کی ریٹائرمنٹ
تک تو اس کی موت نہیں چاہیں گے۔ وہ لاکھ کے لیے سوا لاکھ
کی قربانی کیسے اور کیونکر گوارہ کریں گے۔ ہاں ریٹائرمنٹ
کے بعد اس کی زندگی انہیں خوش نہیں آئے گی۔ گویا ریٹائرمنٹ
تک پیدائی ملازم سوا لاکھ کا رہتا ہے لیکن اس کے بعد لاکھ کا
رہ جاتا ہے جبکہ اس کا مرنا سوا لاکھ کا ٹھہرتا ہے۔
جیتے جی مرنے والا محروم گھر والوں کے لیے سہولتیں پیدا
کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ مرنے کے بعد انشورنس والوں
کو یاد دلانے اور مک مکا کرنے والے بیوہ اور یتیم بچے یاد آ
جاتے ہیں۔ وہ گھر والے جو زندگی میں اسے ضرورتوں کی
صلیب پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد انہیں کبھی اس کی
قبر پر دعا فاتحہ تک کہنا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ صرف کاغذوں
میں بطور خاوند یا باپ بادل نخواستہ تکلفا یاد رکھا جاتا ہے۔
عین ممکن ہے کہ وہ بیٹی کے جہیز کی عدم دستیابی کے غم
میں موت کے حوالے ہوا ہو۔ حق اور انصاف کا تقاضا یہی ہے
کہ انشورنس والے جس کی تنخواہ سے جگا وصول کرتے ہیں‘
ریٹائرمنٹ پر اس کی اپنی رقم جو اس سے وصول کی گئ ہوتی
ہے اسے ادا کریں تاکہ بڑھاپے میں اس کے جیتے جی کسی کام
آ سکے۔ کٹوتیاں کرنے والا کوئی بھی محکمہ ہو‘ لینے میں نر
شیر ببر ہوتا ہے لیکن اس کی اپنی رقم دینے کے معاملہ میں
اسے مرگی پڑ جاتی ہے۔ یہ معاملہ غور منٹ تک محدود نہیں
حکومت خانہ بھی اس کی پیرو ہے۔ وصول تو پائی پائی کر لیتی
ہے ضرورت پر کچھ طلب کر لو تو سماعت کے دروازے بند اور
زبان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
اصل حیرت اس بات پر ہے کہ آئیس کریم اور سوہن حلوا کھانے
اور سو طرح کے مہنگے مشروب پینے والی زبان حنطل سے
بڑھ کر کڑوی کیوں ہو جاتی ہے۔ زبان بھی نئے دور کی ہو گئی
ہے اگلے زمانے میں زبان کہے پر اٹل رہتی تھی۔ ٹانگر اور
مسی روٹی کی تاثیر اٹھ گئی ہے۔ آج گورمے کا چرچا ہے۔ نئی
نئی اشیا کو چھوڑ کر ٹانگر اور مرونذے کو کون پوچھتا ہے تب
ہی تو زبان بھی سو طرح کی کرواٹیں لینے کی عادی ہو گئی
ہے۔اگلے زمانے میں بکرے میں میں کیا کرتے تھے لیکن آج
دفتروں میں سائل اور گھر پر شوہر نامدار میں میں کرتے نظر
.آتے ہیں۔
ویسے تحقیق کر دیکھیں زندگی میں‘ میں میں کا غلبہ رہا ہے۔
گنتی کے چند لوگ تو تو کے مرتبے پر فائز ہو کر آج بھی
احترام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ میں شریف کے حامل لوگ انہیں
تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی تو میں والوں سے علاقہ نہیں رکھتی۔
اگر تو سے مراد میں والے ہوتے تو آج بھی خان خاناں ہوتے۔
ان کی تو سے مراد الله کی ذات گرامی ہے۔ آج تو تو کا نعرہ بلند
کرکے بڑے لوگ خود میں کے درجے پر فائز ہو گیے ہیں۔ زہے
افسوس شاہی تو تو ہر کسی کا نصیبا نہیں ٹھہرتی۔
تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز قاصری
آج مجھے ایک سیمنار میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔ بڑے بڑے
عالم فاضل حضرات تشریف فرما تھے۔ اہل زر اور اہل اقتدار بھی
جلوا فرما تھے۔ اس ذیل میں ہر اک اپنا واضع موقف رکھتا تھا۔
آپ کا دل اور ضمیر چاہے ناچاہے‘ اصول یہ رہا ہے کہ ہر بڑے
کی ہاں میں ملانا زندگی اورصحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
اگر سقراط ہاں میں ہاں ملاتا تو زندگی بھر گھیو کرولیاں کرتا۔
پاگل تھا' صدیوں سے چلے آتے اصول کی خلاف ورزی کرتا
رہتا۔ اسے لائن پر آنے کے مواقع دیے گئے۔ کملا تھا' مواقع
ضائع کرتا رہا۔ نتیجہ کار کٹ کھانی ہی تھی اور پھر جان اور
جہان سے گیا۔
بابے دراصل قوم اور اہل لٹھ کے لیے جنجال ہی رہے ہیں۔ جب
بولتے ہیں وکھی پرنے بولتے ہیں۔ جی میں آیا اسٹیج سے اٹھ
کر سامعین میں بیٹھ جاؤں اور کچھ کہنے سے معذرت کر لوں۔
پھر خود کو حوصلہ دیا کہ بڑے میاں شیر بنو شیر۔ ساری عمر
سرخوں کو چاہا اور اب بڑھاپے میں پٹڑی سے اتر کر شیر کو
بوڑھا اور بوسیدہ دل دے بیٹھے ہو' گیدڑ نہ بنو۔ سو پہاجی‘
میں بیٹھا رہا۔ باری پر میری طلبی ہوئی۔۔ میں نے کہا بابا کہہ دو
جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ میری باتیں سامعین نے پسند کیں۔ اہل
جاہ پر کیا گزری ہو گی میں نہیں جانتا۔ میں نے دانستہ ان کی
طرف دیکھا ہی نہیں۔ بوڑھا ہوں‘ گھورتی آنکھوں کا سیکا
برداشت نہیں کر سکتا۔
تعلیم آگہی سے جڑی ہوئی ہے۔ حصول آگہی کی خواہش انسانی
فطرت میں شامل ہے دیتی ہے۔ بچہ کھلونے کیوں توڑتا ہ ِے؟ وہ
کھلونے کے متحرک ہونے کا راز جاننا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا جاننا
ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو کھلونے کو متحرک اور
غیر متحرک بناتی ہے۔ اس حوالہ سے‘ گویا جاننا اس کا فطری
حق ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ پچے میں جستجو کا مادہ
موجود ہے۔ ایک بہت بڑے عالم سے متعلق معروف ہے کہ وہ
آخری سانسیں لے رہے تھے۔ کوئی مسلہ جاننے کے لیے انھوں
نے کتاب طلب کی۔ انھیں کہا گیا آپ تو جا رہے ہیں اب اس کی
کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے جوابا کہا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں
.جاہل موت مروں۔
اس کی مثبت دو عملی صورتیں ہیں۔ حضرت مہاتما بدھ جی
شہزادے تھے ۔ مالی آسودگی تھی۔ ان کا گیان کے لیے دنیا کو
تیاگنا معاش سے وابستہ نہ تھا۔ گیان ہاتھ لگا تو انھوں نے خود
کو دنیا کے لیے وابستہ کر دیا۔ ان کی انسانیت کے لیے خدمات
کو کسی بھی سطع پر نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔
مارکونی نے بھی بلا کسی معاشی حاجت کے لیے ریڈیو ایجاد
کیا۔ یہ ایجاد آتے وقتوں میں بہت ساری ایجادات کا سبب بنی۔
دریافت ہر دو متذکرہ صاحبان کے لیے سب سے بڑی خوشی
تھی۔ ان کی دریافت سے بلا کسی تخصیص و امتیاز انسانیت کو
فایدہ ملا۔ تعلیم سے ہی یہ سب ہوا۔ تعلیم دراصل انسان کی
شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تعلیم اگر زندگی کے سلیقے میں
تبدیلی نہیں لاتی تو اسے تعلیم کہنا بذات خود جہالت ہے۔ تعلیم
ابوزر غفاری اور سلمان فارسی کے منصب پر فائز کرتی ہے۔
تعلیم حاکم وقت کو آزاد کردہ غلام کو اس کے تقوے کی بنیاد پر
سیدنا کہنا سکھاتی ہے۔
تعلیم کے حصول کا ایک مقصد اور بھی رہا ہے۔ کمزور طبقے
اپنے بچوں کو کلرک شپاہی وغیرہ کی ملازمت کے متمنی رہتے
ہیں جبکہ صاحب حثیت طبقے اپنے بچوں کو افسر بنانے کے
لیے بڑی سے بڑی درسگاہ میں جمع کراتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں
کو کلرک یا افسر بنانا چاہتے۔ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں
اپنے بچے کو اعلی خصائل کا حامل انسان بنانے کی خواہش
سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔
میر منشی ہاؤس میں
خواہش اور توقع کے حوالہ اعلی شکشا منشی کا دفتر ہے۔ ہر
کسی کو ان میں کے قدموں پر چلنا ہوتا ہے۔ خواہش اور توقع کا
مجموعہ اگر توقع اور خواہش پر پورا نہیں اترتا تو گلا درست
ہے۔ کلرک تو بہت بڑا آدمی ہوتا ہے نائب قاصد بھی خواہش اور
توقع کے بالاتر معیار پر فائز ہے۔ اگر وہ سب بالائ نہ لاتے ہوں
تو گلا کیا جا سکتا ہے۔ وہ معیاری رقم نہ لاتے ہوں تو ہی ان
کی تعلیم پر انوسٹمنٹ کی گئ رقم حرام جائے گی۔ سائل کیا کر
لے گا۔ عدالت جائے گا۔ وہاں خرچہ کرکے کوئی آرڈر لائے گا۔
بعض معاملات چند ہزار سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اب چند
ہزار کے لیے ہر کوئ جھڑنے ہی میں عافیت سمجھے گا۔ میں
سمجھتا ہوں یہ عزت مآب حضرات تعلیم کے مقاصد کے حصول
میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے یہ بڑی
ایمانداری سے تعلیمی مقاصد کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ہم شاباش
دینے کی بجائے شاواش دے رہے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ تعلیم
دشمنی کے مترادف ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے' کم ہے۔
واپڈا والوں پر گلا اور شکوہ کیا جاتا ہے بڑے ہی افسوس کی
بات ہے۔ ہم انھیں ان پڑھ کیوں سمجھتے ہیں۔ دوچار سو یونٹ
زائد ڈال کر وہ صارف سے پاکستان تو اپنے نام نہیں لکھوا
رہے ہوتے۔ افسروں کی ضرورتیں اپنی جگہ دیگر ملازمین کی
بھی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ رشتہ دار دوست یار تو اصولی
استحقاق رکھتے ہیں لیکن جیب تو دیگر کسٹمر ہی بھرتے ہیں۔
اگر رشتہ دار اور دوست یار خوش نہ ہوئے تو تف ہے ایسی
نوکری پر۔ جیب میں بالائی نہ آئ تو تعلیم کا مقصد ہی عین غین
ہو جاتا ہے۔
ملازمین کو کوٹھیاں دینے کے لیے اسکیم شروع ہوئی۔ اسکیم
بلاشبہ اعلی جھانسہ دار ہے۔ ملازمت ختم ہونے پر پتہ چلتا ہے
کہ ملازم کی تنخواہ سے ایک لاکھ نو ہزار کٹوتی ہوئی ہے۔
کوٹھی کے حصول کے لیے ساٹھ ستر لاکھ مزید کی ضرورت
ہوتی ہے۔ یتیم محکمہ سے متعلق ملازم دوچار زندگیوں میں
بھی اتنی رقم ادا نہیں کر سکتا۔ ایک اردو یا پولیٹیکل ساءنس کا
پروفیسر اتنی رقم چشم تصور میں بھی ادا نہیں کر سکتا۔ صاف
ظاہر ہے کہ وہ اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے گا۔ یہ آرٹس
کے پروفیسر بھی کتنے سادہ یا احمق لوگ ہوتے ہیں۔ شاید
انھیں اس شعبے کی تعلیم یافتگی پر شک ہوتا ہے۔ انھیں اپنی
درخواست کی بازگشت تک سنائی نہیں دیتی۔ میں کہتا ہوں اگر
مک مکا کے بغیر بازگشت سنائفی دینے لگی تو تعلیم اور
ملازمت کی حصولی پرادا کی گئی رقم حرام ہو گئی۔
سیمینار میں نصاب کے حوالہ سے عوامی نمائدگان سے بات
کرنے کی بھی تجویز ہوئی۔ مانا عوامی نمائدگان میں اکثریت نے
تعلیم پر خرچہ نہیں کیا لیکن وہ بھاری خرچہ کرکے ممبر بنے
ہیں۔ یہ یقینا بڑی عجیب صورت ہو گی اگر وہ اس قسم کے
بےفضول کام پر پیداکار وقت صرف کریں گے۔ دوسرا یہ کام ان
کا نہیں شکشا منشی صاحبان کا ہے جنھیں اپنی تعلیم سے لابھ
اٹھانے سے فرصت نہیں۔ تعلیم یافتہ ملازمین کے پاس مفتوں
کے لیے ٹائم ہی کہاں ہے۔
مجھے پنجابی کے یہ مصرعے بس یوں ہی یاد آ رہے ہیں بنین
لین جانندے اوہ بنین لئے کے آندے پاندے اوہ پیندی نہیں لاندے
اوہ لہندی نہیں
موجودہ لنکنی نظام کے حوالہ سے حصول تعلیم کا حاصل یہی
رہے گا۔ ہاں بنین میں دینا
پاؤ گے پوے گی لاوو گے لوے گی
یہ قرآن و سنت کے حوالہ سے قائم ہونے والے نظام حکومت
سے ہی ممکن ہے۔ شہباز شریف کی محنت اور دیانتداری پر
پورے پنجاب کو ناز ہے۔ کیا وہ میرمنشی گاہ واپڈا ہاؤس وغیرہ
کا قبلہ درست کر سکیں گے میں سردست اس ذیل میں کچھ
عرض کرنے سے قاصر ہوں۔ میری اس ناچیز قاصری کو
معذرت سمجھیں۔ شکریہ
حقیقت اور چوہے کی عصری اہمیت ‘زندگی
زندگی بظاہر بڑی حسین دلفریب اور جازب نظر ہے اور ہے بھی
لیکن اپنی اصل میں اس بڑی سے بڑھ کر پچیدہ اور مشکل گزار
ہے۔ اسے کرنا تو بعد کی بات ہے پہلے اسے سمجھنے کی
ضرورت ہے۔ اب سمجھنے کے لیے دو چار زندگیاں کہاں سے
آئیں۔ ہزاروں سال سے انسان زمین پر رہ رہا ہے۔ تمیز و امتیاز
کی دولت سے مالا مال ہوتے ہوئے بھی کنگال اور تہی دامن
نظر آتا ہے۔ بعض اوقات کسی غلط فہمی کے زیر اثر غلط کو
صحیح کہتا ہے لیکن زیادہ تر جانتے ہوئے کسی لالچ یا خوف
کے تحت غلط کوعین سچ اور حق قرار دیتا ہے۔ اس کی دیکھا
دیکھی دوسرے بھی غلط کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر وہ
نمبردار قسم کا بندہ ہے تو ایک وسیع حلقہ حق کا ساتھ چھوڑ
کر ناحق کے چرنوں میں جا بیٹھتا ہے حالانکہ اس ذیل میں ہر
کسی کو خود سے غور کرنا چاہیے۔۔ دماغ اور ضمیر کی دولت
ہر کسی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ پیٹ شریف کے ہوتے اور
اس سے سوچنے کے باعث دماغ اور ضمیر بےچارے دو نمبر
ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پیٹ کے سبب اتنا وقت ہی نہیں بچتا جو
دماغ اور ضمیر کی حال پکار سنی جائے یا ان کی جانب نادانستہ
سہی‘ کان پھر جائیں۔ برے نتائج کو ہونی کا نام دے دیا جاتا ہے۔
نمرود ساری عمر چھیتر کھاتا رہا لیکن مچھر کو قہر خداوندی
کی بجائے ہونی قرار دیتا رہا۔
پہلے میں بھی دفترشاہی کے بگڑے مزاج تیور اور اطوار کو
ہونی سمجھ کر چپ کی بکل اوڑھنے کی سوچ رہا تھا۔ یہ کوئ
آج کی بات ہے یہ تو سیکڑوں سال پرانا رویہ ہے۔ لوگ مٹھی
گرم کرکے میرٹ کی سمت درست کر لیتے ہیں۔ جو گنڈ کے پکے
ہوتے ہیں اول تا آخر میرٹ کے درجے پر فائز نہیں ہو پاتے۔ جو
لوگ کاغذ قلم متحرک رکھتے ہیں متاثرین بھی انھیں درخواست
باز ایسے ثقیل لقب سے ملقوب کرتے ہیں۔ وہ اس قسم کے بیان
دفتر شاہی کی خوشنودی کے لیے داغتے ہیں۔ دوسرا ان کے
پیسے پھسے ہوءے ہوتے ہیں اور دفترشاہی ان پر غصہ نکالتی
ہے۔ وہ اپنا مال بچانے اور جس کام کے لیے مال دیا گیا ہوتا ہے
اسے کسسی ناکسی طرح نکلوانے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ دل
میں وہ بھی درخواست باز کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔
دل کو کون دیکھتا ہے لوگ حق اسے ہی سمجھتے ہیں جو زبان
پر ہوتا ہے۔ ہم سب اہل کوفہ کو آج بھی برا بھلا کہتے کہ انہوں
نے حسین کا ساتھ نہ دیا۔ یہ کوئی نہیں بتاتا گورنر کوفہ نے
کس طرح خون سے گلیاں رنگ دیں۔ گورنر مورکھ کا سگا ماسڑ
تھا۔ اسی طرح مولوی وچارے کا بھی ذکر آتا ہے۔ بڑے بڑے
پھنے خان باٹی ٹیک گیے ان کا پیٹ کس طرح حسین کو کیوں
حق پر مانتا۔ پیٹ اور سچائی دو الگ چیزیں ہیں۔
میں اتنا بڑا جاہل ہوتے ہوئے جمہوریت اور امریکا بہادر کے
خلاف لکھتا رہا۔ مجھے اپنے لکھے پر ندامت ہوتی ہے۔ میں
اتنی معمولی بات نہ سمجھ سکا کہ بادشاہ کا مستقل ہوتے ہوئے
بھی پیٹ نہیں بھرتا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا مقبرہ کئ کنال
زمین گھرتا ہے۔ بادشاہ تو بادشاہ ہے اس کی بیگم کا مقبرہ
بےحساب رقم ڈکار جاتا ہے۔ زندگی میں کیا کچھ ہضم کر جاتی
ہو گی‘ مجھ سے جاہل کی سوچ میں بھی نہیں آ سکتا۔ بادشاہوں
اور اس کے متعلقین کے گلچھرے اگر عموم کے سوچ میں
آجائیں تو قیامت سے پہلے قیامت ہو جائے گی۔ عارضی اور
مستقل کا معاملہ الگ سے ہے۔ مستتل کا مرتے دم تک پیٹ نہیں
بھرتا اور آنکھیں تشنہ رہتی ہیں۔ یہی نہیں لوٹنے اور سمیٹنے
کی اسے جلدی پڑی رہتی ہے۔ عارضی کے پاس تو مخصوص
اور محدود مدت ہوتی ہے اس لیے تن مچانا غیر فطری نہیں۔
جمہوریت والے تو چند سالوں کے لیے آتے ہیں اس لیے ان کا
انھی پانا غیر فطری نہیں۔ وہ عوام کو کیا کریں‘ انہیں اپنی لوٹ
مار سے فراغت ملے گی تو ہی عوام کے سیاپے پیٹیں گے۔
حاکم کبھی غلط نہیں ہوتا گویا ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔
ہاں مات کھا کر سیٹ سے مرحوم ہونے والا کبھی درست ہو ہی
نہیں سکتا۔ تمام ادارے بشمول عساکر‘ فاتح کے ساتھ ہوتے ہیں۔
طاقت کے ساتھ سب چلتے ہیں۔ یہی اصول رہا ہے اور رہے گا۔
اس کے خلاف اٹھنے والے سر قلم ہوتے رہیں گے۔ نقطے کی
بات یہ کہ ادارے شاہ کے بل پر کھاتے ہیں اور شاہ ان اداروں
کے بل پر اندھیر مچاتا ہے۔ ناب قاصد سے شاہ تک ایک ہی
زنجیر کی کڑیاں ہوتی ہیں۔ لہذا کسی چھوٹے کی اس سے بڑے
کی شکایت کا فائدہ ہی کیا۔
تاہم یہ طے ہے کائنات میں ضدین بھی کام کرتی ہیں۔ ہر کوئ
کسی ناکسی چیز سے ضرور ڈرتا ہے۔ اپنے اپنے کام نکلوانے
کے لیے تحقیقی عمل کا تیز ہونا ضروری ہے۔ ہر بااختیار اور
شکار کی چیر پھاڑ کا ماہر میل‘ اپنی اور پرائ منہ متھے والی
فیمیل سے ڈرتا ہے فیمیل چوہے سے ڈرتی ہے لہذا چوہے
چھوڑنے سے کام نکل سکتے ہیں۔ برمحل حسب ضرورت اور
ایکٹیو چوہا نہ چھوڑا گیا تو کام پہلے سے بھی بگڑ سکتا ہے۔
حسین کی طرح قبلہ درست کرنے کی ضرورت نہیں۔ حسین ایک
ہی تھا اور ہم حسین نہیں ہیں۔ ہر وقت معاملے کے حوالہ سے
اپنے ساتھ دوچار چوہے ضرور رکھو اور یہ متعلقہ کی سرکاری
فیمیل کے دامن میں چھوڑو پھر دیکھو غائب سے کیا کیا نمودار
ہوتا ہے۔ غیر سرکاری متعلقہ فیمیل کے دامن بے حیا میں بھی
چھوڑا جا سکتا ہے۔
گریڈ ٧١کے ایم فل الاؤنس سے متعلقہ کلرک بادشاہ کو معافی
کے کھاتا میں رکھیں وہ بڑے معصوم شریف دیانت دار اور راہ
راست کے راہی ہیں۔ دونوں بیبیوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔
وہ خود ہی سر چڑھتی ہیں اور چوتھائی سے زیادہ بالائی چٹ
کر جاتی ہیں۔ ان سے قسم لے لو جو آج تک انہوں نے کبھی
دعوت خورد و نوش کی دعوت دی ہو مگر حسین مہمان کی
مہمانی کو بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کفران نعمت کے
مترادف ہے۔
ان پر فضول خرچی کا الزام قطعی غلط بےبنیاد اور معنویت سے
تہی ہے۔ وہ پلے سے ایک اکنی تک خرچ نہیں کرتے۔ سگریٹ
کے پنے میں بڑی احتیاط سے محفوظ کی گئ جاز کی سم میں
بالائی سے بیلنس ڈلوا کر پییکج کرکے اپنی معزز غیر سرکاری
خواتین سے چھپ چھپا کر کچھ ہی وقت کے لیے تو خوش
طبعی اور گوارا خوش طبعی فرماتے ہیں۔ وہ کوئی اکیلے ہیں جو
ان کی پیٹھ پیچھے ساتھ والے غلط سلط باتیں کرتے ہیں۔ چغلی
بہت بری بیماری ہے۔ اسلام اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
ساتھ والے کون سا ہل پر نہائے ہوئے ہیں۔ ٹھرک اور جنسی
عشق بازی تو روٹین کا معاملہ ٹھہرا ہے۔ اس حمام میں حسب
توفیق تقریبا سارے بےلباس ہیں ۔ ان کی بےلباسی میں بھی
حسن سلیقہ اور کمال کا رکھ رکھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس کی باذوق
حضرات کو کھل کر داد دینی چاہیے۔
میں نے یہ محض چوہا چھوڑا ہے اسے سچ نہ سمجھا جائے
ورنہ وہ تو دیانت اور شرافت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہوں نے
آج تک میلی اور سچی آنکھ سے کبھی کسی غیر سرکاری
عورت کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے آج تک کسی سے ایک دمڑی
تک نہیں لی۔ اگر لی ہو تو رشوت دینے والے کے ہاتھوں میں
قبری کیڑے پڑیں۔ اس کا نہ اس جگ بھلا ہو اور ناہی قیامت کے
دن چھٹکارہ ہو۔ رشوت دینے والے سیدھے دوزخ میں جائیں
گیے۔ جائز کام نہ کرائیں گے تو مر نہیں جائیں گے۔ انھیں یہ
صاحب نائ بھیج کرنہیں بلواتے خود اپنے قدموں پر چل کر
جاتے ہیں۔ رہ گئ خواتین کی بات اسے چوہا سمجھ کرنظرانداز
کر دیں۔ ایسی کوئ بات ہی نہیں۔ یقین نہیں آتا تو ان سے یا ان
خواتین سے قسم لے لیں۔ قسم کے معاملہ میں مجھے نہ لائیں۔
میں کسی کے ذاتی معاملہ میں دخل اندازی کا قائل نہیں۔
میں نے آغاز میں عرض کیا تھا کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی
ہوئ گھتی ہے۔ اسے سمجھنا آسان نہیں۔ ہم جو دیکھ یا سمجھ
رہے ہوتے ہیں وہ اصلی اور حقیقی نہیں ہوتا۔ موصوف کی
سرکاری محترمہ کو محض شک تھا۔ شک کوئ اچھی اور صحت
مند چیز نہیں۔ اپنے جیون ساتھی پر شک کرنے سے پاپ لگتا
ہے۔ شک درمیان کی چیز ہے گویا نہ مونٹ نہ مذکر۔ انھیں شک
سے دور رہنا چاہیے یا ہونی سمجھ کر صبر و شکر سے کام
لینا چاہیے عالی ظرف لوگوں کا یہی طور اور وتیرا رہا ہے۔ غلط
سمجھنے یا تذبذب کی حالت میں زندگی کرنے والے اعتماد کی
دولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ شک سے جان چھڑا کر اور
ہونی کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ایک شخص سارا دن کھپتا
کھپاتا ہے اسے ٹیسٹ بدلنے کا حق ملنا چاہیے۔ پرانی اشیاء
سے منہ تو نہیں موڑ رہا ہوتا تو پھر رولا کس بات کا ہ ِے؟
آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم
ہم میں سے ہر کوئی لینے کے لیے اگلی صفوں میں کھڑا نظر
آتا ہے۔ اپنے حقوق کی وصولی کے لیے احتجاج کرنے میں
کوئ کسر نہیں چھوڑتا۔ جب حق دینے کی باری آتی ہے تو رونا
ہی نہیں موت پڑ جاتی ہے۔ وہ وہ جواز گھڑتا ہے کہ عقل دھنگ
رہ جاتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں ہم لینا جانتےہیں لیکن
دینے کا نام بھی سننا نہیں چاہتے۔ ریاستی ٹیکس کی وصولی تو
یاد رہتی ہے لیکن ان ٹیکس دہندگان کو ریاستی حقوق اور
سہولتیں یاد سے باہر ہو جاتی ہیں۔ ہاؤسز جو عوام کے خون
پسینہ سے چلتے ہیں وہاں اکھاڑ پچھاڑ اور عوام کو الو بنانے
کی تراکیب تراشی جاتی ہیں۔ وہاں بجلی پانی اور گیس کی تھوڑ
نہیں آتی۔ عوام جو محنت کرتے ہیں اور ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں
ان تینوں بنیادی ضرورتوں سے محروم رہتے ہیں۔ آواز اٹھاتے
ہیں تو چھتر کھاتے ہیں۔ کیا یہ اندھیر نہیں؟ اس سے بڑھ کر
شخصی حقوق کی بےحرمتی اور کیا ہو گی۔ غاصب معزز بھوک
و پیاس اوڑھنے والا شدت پسند۔
ڈاکٹر حضرات کے بارے بات کرتے خوف آتا ہے کیونکہ بیمار
نظام و معاشرت کے باشندے بیمار رہتے ہیں اس لیے ڈاکٹر
حضرات سے واسطہ رہتا ہے۔ تنقید کی صورت میں کھال تو
اتاریں گے ہی لیکن ساتھ میں خدا معلوم کیا کر گزریں۔ ہماری
شفا گاہوں کے چوہے بھی ہمارے ڈاکٹروں کی طرح انسانی
گوشت کے شوقین ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے کس شد و مد سے
رولا ڈالتے چلے آ رہے ہیں لیکن انہیں اپنی غلطیاں نظر نہیں
آتیں۔ کہتے ہیں ملازمین پر انکواءریاں لگ گئ ہیں۔ اس سے کیا
ہو گا ہمیشہ کی طرح کچھ بھی نہیں۔ دو چار ماہ معطل رہیں گے۔
معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد کچھ دو اور کچھ لو کے تحت پروانہ
بحالی جاری ہو جائے گا یا کسی دور دراز علاقہ میں تبادلہ کر
دیا جاءے گا اس طرح واپسی کےمعقول داموں کی وصولی کا
بندوبست کر لیا جائے گا۔ گویا ہر حوالہ سے وصولی ہی
وصولی۔ باور رہے معطلی میں تنخواہ بند نہیں ہوتی ہاں بالائ
جو تنخواہ سے ٹن ٹائم زیادہ ہوتی ہے‘ بند ہو جایے گی۔ معطلی
کے دن گربت کے دن ہوں گے لیکن بھوکوں مرنے کے دن نہیں
ہوں گے۔
ایک انسان جس نے نہ اچھا اور نہ ہی کچھ برا کیا‘ بالکل
فرشتوں اور دیوتاوں کے اوتار کا سا‘ بلا جرم زندگی سے گیا۔
ماں باپ کو ہمیشہ کے لیے سوگوار کر گیا۔ کیا یہ قتل نہیں
ہوا؟؟؟
ڈاکٹر اور ماتحت عملہ کس خدمت کی تنخواہ وصولتا ہے۔ کسی
بھی ملازم سے پوچھیں اسے یہ خوب خوب معلوم ہو گا کہ
مہنگائی بڑھ گئی ہے اور تنخواہ بہت کم ہے۔ اسے یہ یاد نہیں
ہو گا کہ اس کے کچھ فرائض بھی ہیں۔ اس کے ذہن سے بالائی
کی رقم بھی محو ہو چکی ہوتی ہے۔ اس معصوم بچے کا چوہے
کے ہاتھوں مر جانا ڈاکٹری کے منہ پر طمانچہ ہے لیکن یہ تب