The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫لوگوں کو اپنے کام کا نہ سمجھتے ہوں۔ ایمان داری کی مہلک‬
‫بیماری کے سبب ان پر یقین بھی نہیں کیا سکتا۔‬

‫ٹماٹر آلو اور پودینے کی جریداری کرنے کے بعد میں اپنی نشت‬
‫پر آ بیٹھا بقیہ کالم پڑھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک صاحب‬
‫آدھمکے۔ مروت کا تقاضا تھا کہ جعلی سی مسکراہٹ کے ساتھ‬

‫انھیں خوش آمدید کہنا پڑا۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ موصوف‬
‫گن کی گتھلی ہیں۔ لطاءف و ظرافت کا ذوق رکھنے کے ساتھ‬
‫ساتھ حکمت بھی بلا کی رکھتے ہیں۔ ضرورت مندوں کے لیے‬
‫گولیاں شلوار والی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان سے گولیاں لیتے‬
‫وقت گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ پہلے اپنی ذات پر تجربہ کرتے ہیں۔‬
‫مدن بان کی ان پر خصوصی کرپا ہے۔ کام دیوا سے شفا کا بردان‬
‫حاصل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدیانی امور بڑی کامیابی‬
‫سے انجام دیتے ہیں۔ باتیں بڑی چٹخارے دار کرتے اور بناتے‬
‫ہیں۔ دوسرا یہ معاملہ ہے ہی چٹچارے دار۔ میں بھی تو اس کالم‬

‫کو جنسی کالم سمجھ کر پڑھ رہا تھا۔‬

‫مدن سے ٹھیک پانچ لفظ کے فاصلے پر ڈاکٹر تبسم کاشمیری کا‬
‫نام تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا تیس چالیس سال سے محبت کا‬
‫رشتہ ہے۔ بڑی صاف ستھری اور نکھری نکھری شخصیت کے‬
‫مالک ہیں۔ تحقیق اور تنقید میدان ہے شاعری کا بھی شوق‬

‫رکھتے ہیں۔ جنسیات سے متعلق ان کی کوئی تحریر میری نظر‬
‫سے نہیں گزری۔ حیرت ہوئ اس عمر میں انھیں مدن بانی کا‬

‫شوق کیوں اور کیسے پیدا ہو گیا۔ سوچا بڑھاپے میں عموما وج‬
‫کھج جاتی ہے۔ یہ بلا اور بےجواز بات بھی نہیں۔ یہ مدنائزیشن‬
‫کا عہد ہے۔ ہم شرقیوں کو مغربی بننے کا شوق کچھ زیادہ ہی‬
‫ہے۔ بھلا ہو حضرت ڈینگی شریف کا جو صبح سویرے اور شام‬

‫قریب اسلام نافذ کر دیتا ہے۔ اس طرح جبری سہی‘ بے لباسی‬
‫لباسی ہو جاتی ہے۔‬

‫یہ بات اہل علم کیا‘ ہر ایرا غیرا بھی جانتا ہے کہ نمرود کو‬
‫ڈینگی ہی لڑا تھا اور وہ چار صدیاں چھتر کھاتا رہا۔ ہٹ کا پکا‬
‫تھا چھتر کھاتا رہا لیکن ہم کے دائرے سے باہر نہ آیا۔ بادشاہ‬
‫لوگ اگر ہٹ کے پکے نہ ہوں تو انھیں بادشاہ کون کہے گا۔ میں‬
‫عصری دلیل بھی رکھتا ہوں۔ پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن‬
‫لاہور اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن والی رقم دلوانا دور کی بات‬
‫میری کسی داخواست کا جواب ہی دلوا ے تو مان جاؤں۔ جواب‬
‫کو نہی کے معنوں میں نہ لیں۔ کیوں‘ وہ کلرک بادشادہ ہیں۔ ہٹ‬
‫انھیں گٹی میں ملی ہے۔ بہرکیف یہ بادشاہوں کے معاملے ہیں‬

‫اس لیے طے شدہ ہیں ان پر کلام سے پاپ لگتا ہے۔‬

‫ہمارے ہاں نامعلوم بلامعلوم اور غیر کلام پر گفتگو کا رواج بڑا‬

‫عام ہے۔ ہاں میں ہاں ملانا تو بڑی عام سی بات ہے۔ ہم مدلل‬
‫گفتگو کی پوزیشن میں بھی ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی‬

‫خوردنی سامان کی خریداری کے لیے بازار گیے نہیں ہوتے۔ مال‬
‫و منال بھی وافر سے زائد ہوتا ہے شاندار اور دھواں دھار‬

‫لیکچر پلا سکتے ہیں۔ ان کے لباس پر نہ جائیے صرف کہے‬
‫سنے تک رہیے ایسا محسوس ہو گا جیسے کچھ کھائے انھیں‬

‫ہفتے گزر گیے ہوں۔‬

‫دل نہیں مان رہا تھا کہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری مدنائزیشن کا شکار‬
‫ہو گیے ہیں۔ بندے کا کیا پتہ ہوتا ہے۔ میں نے کالم آگے کیا‬
‫پڑھنا تھا میری سوئی یہاں پر اٹک گئی۔ دل مان نہیں رہا تھا‬

‫آنکھوں دیکھا رد بھی نہیں کر سکتا۔ آخر انھوں نے اس کتاب کا‬
‫دیباچہ کیوں لکھا۔ میں نے سوچا تصدیق کر لینی چاہیے کہ‬
‫انھوں نے دیباچہ لکھا بھی کہ نہیں۔ ہمارے ہارے ہاں بلا‬

‫دیکھے دیباچہ لکھنے کا رواج موجود ہے۔ ہو سکتا ہے انھوں‬
‫نے کسی مروت کے تحت کچھ لکھ دیا ہو۔ پھر میں نے کتاب‬

‫منگوائی‘ دیباچہ موجود تھا۔ کتاب کے اگلے صفحوں میں کتاب‬
‫پر ڈاکٹر نجیب جمال‘ ڈاکٹر صابر آفاقی‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر‬
‫غلام شبیر رانا اور ڈاکٹر محمد عبدالله قاضی کی تحریریں بھی‬
‫موجودد تھیں۔‬

‫ناصر زیدی صاحب کو صرف ڈاکٹر تبسم کاشمیری ہی کیوں نظر‬
‫آئے۔ بقیہ کالم کیا پڑھنا تھا میں اس سوال کا جواب تلاشنے کی‬

‫کوشش میں لگ گیا۔ کیا ایسا تو نہیں ناصر زیدی صاحب نے‬
‫کتاب کا مطالعہ کیے بغیر ہی خانہ پری کے لیے کالم لکھ دیا ہو۔‬
‫آخر آلو ٹماٹر کی انھیں بھی ضرورت ہے۔ ہر طرف خانہ پری کا‬
‫سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی تو ہر طرف میں آتے ہیں۔ نزدیک کی‬
‫کمائی خوش آنا رواج سا بن گیا ہے۔ سا میں نے رواجا لکھا ہے‬
‫ورنہ معاملہ سا کی دسترس سے نکل کر مشبہ بہ کاملا مشبہ کا‬
‫روپ دھار چکا ہے۔ فعل بد شیطان سا تھا اب شیطان بن گیا ہے۔‬
‫اب سا کا کوئی رولا ہی نہیں رہا۔ رشوت ملاوٹ دغا عین کاروبار‬

‫کا درجہ اختیار کر گیے ہیں لہذا ان پر گلا بےفضول سا ہو گیا‬
‫ہے۔ میں مطالعہ کے حوالہ سست رو رہا ہوں اسی لیے بقییہ‬

‫کالم مجھے اگلی نشت تک اٹھا رکھنا پڑا۔‬

‫بینائ بےشک کمال کی چیز ہے لیکن اندھا بیک وقت دو فائدے‬
‫اٹھاتا ہے۔ جی بھر کر سو سکتا ہے چھاؤں چھاؤں چل سکتا‬

‫ہے۔ بلادیکھے کام کرکے پیسے کھیسے کرنے والے اندھے کی‬
‫طرح موج میں ہوتے ہیں لیکن مجھ سا قدم قدم پر رک کر اپنا‬
‫اور قارین کا وقت برباد کرتا ہے۔ کیا کریں اپنا اپنا طریقہ ہے۔‬
‫اندھے سے بلکہ اندھے کماتے اور ڈکارتے ہیں اور مجھ سے‬
‫مفت میں مغز ماری کرکے رسوا ہوتے ہیں۔‬

‫فکرمند نہ ہوں‬

‫دیر اور قسطوں پر سہی‘ وہ دن ضرور آئے گا جب ناصر زیدی‬
‫صاحب کے کالم کی آخری سطر میری نظر سے گزر رہی گی۔‬

‫ناصر زیدی اور شعر غالب کا جدید شعری لباس‬

‫اس میں کوئ شک نہیں کہ غالب اپنی فکر کے حوالہ سے عہد‬
‫عہد کا شاعر ہے۔ اس حقیقت سے کوئی بالغ نظر شاعر دانشور‬
‫محقق نقاد اور صاحب ذوق قاری انکار نہیں کر سکتا کہ غالب‘‬
‫غالب تھا اور شعر کی فکری دنیا پر آج بھی غالب ہے۔ وہ متاثر‬
‫کرتا رہا آج بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کی شعری بساط پر کھیلنے‬

‫والے کمال کے لوگ رہے ہیں۔ غالب کے ساتھ وہ بھی فکری‬
‫اور تحقیقی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ اس امتیاز کو الگ‬
‫رکھیے کہ فلاں نے تو غالب کے خلاف لکھا۔ مخالف لکھنے‬
‫والے بھی تو غالب کے حوالہ سے تنقید کی دنیا میں اپنا وجود‬

‫رکھتے ہیں۔‬

‫برہان قاطع وجود نہ رکھتی تو قاطع برہان ایسی نادر کتاب کس‬
‫طرح وجود حاصل کرتی۔ لسانی تحقیق میں ان دونوں کتب کو‬
‫نظرانداز کرنا یا ان پر باقاعدہ کام نہ ہونا‘ زیادتی کے مترادف‬
‫ہوگا۔ اسی طرح غالب پر بہت کچھ ہونے کے باوجود متنی کام‬
‫باقی ہے یا تشنگی کا گلہ رکھتا ہے۔‬

‫عہد حاضر میں آزاد اور نثری شاعری بڑا مضبوط وجود اور‬
‫حوالہ رکھتی ہے۔ یہ شاعری اپنے عہد کے جملہ معاملات اپنے‬

‫ساتھ لے کر چلتی نظر آتی ہے بلکہ اس کے وجود میں عصر‬
‫جدید کا دکھ سکھ پوری شدت اور ادبی توانائ کے ساتھ رچا بسا‬

‫نظر آتا ہے۔ اگر اس شاعری کو اپنے عہد کی معتبر شہادت کا‬
‫نام دے دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس صنف سخن کے موجود‬
‫ہونے کے سبب دنیا کی تقریبا تمام زبانوں کی شاعری ترجمہ ہو‬
‫کر اردو ادب کا حصہ بنی ہے۔ اس ترجمے کے عمل سے دنیا‬
‫کے ہر خطے کے شخص کی فکر حاجات اور نفسیات سے اردو‬

‫کا قاری آگاہ ہوا ہے۔‬

‫تراجم کے حوالہ سے اسلوبیات میں کشادگی پیدا ہوئ ہے۔ آتا‬
‫کل‘ آج کی سماجی معاشی اور سیاسی تاریخ کو اس صنف سخن‬

‫کے حوالہ سے جان اور پہچان سکے گا۔ اسی شاعری کے تناظر‬
‫میں اپنے ماضی کو شاباشی اور لعنتی کلمے گزارے گا۔‬

‫مجید امجد‘ ن م راشد‘ میرا جی ‘ مبارک احمد‘ تبسم کاشمیری‘‬
‫سعادت سعید‘ فاطمہ حسن‘ انیس ناگی وغیرہ وغیرہ کو جدید‬
‫اردو شعر وادب سے نکال دیں باقی رہ ہی کیا جاءے گا۔ ان‬
‫ارباب سخن نے ناصرف زبان کی لسانی حوالہ سے گرانقدر‬
‫خدمت انجام دی ہے بلکہ شعری لوازمات بھی فراہم کیے ہیں۔‬
‫شعری لازمے مہیا کیے ہیں۔ تشبہات‘ استعارے‘ علامتیں اور‬
‫تلمیحیں بکثرت دستیاب کی ہیں۔ نئی سوچ اور فکر اپنی جگہ‘‬
‫زبان کے اظہاری دائرے کو وقار اور ثروت سے سرفراز کیا‬
‫ہے۔‬

‫اسطلاحات مرکبات مترادفات اور استعمالات میسر ہوے ہیں۔ یہی‬
‫نہیں‘ نئے نئے الفاظ گھڑے گیے ہیں۔ مستعمل الفاظ میں حیرت‬
‫انگیز اشکالی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ ان معروضات کے پیش نظر‬

‫جدید شاعری کو آج کی ضرورت اور لوازمے کا درجہ دنیا‬
‫عصری دیانت کے مترادف ہوگا‬

‫جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا غالب عہد عہد کا شاعر‬

‫ہے۔ اس کی فکر جدید ہے لیکن اس کی فکر کا شعری جامہ قدیم‬
‫ہے۔ اس کی فکر کو جدید لباس ملنا آج کی اہم ترین ضرورت ہے‬
‫بلکہ یہ ضرورت بھی ہر عہد سے تعلق کرتی ہے۔ بات نئ یلیکن‬

‫لباس قدیم‘ سچی بات تو یہ ہے کہ بات جمتی نہیں۔ نئے لباس‬
‫کے تحت ناصرف قربت بڑھے گی۔ اجنبت میں بھی اضافہ نہیں‬

‫ہو گا اور تفہیمی سہولتیں بھی پیدا ہوں گی۔‬

‫ناصر زیدی روزنامہ پاکستان لاہور کے کالم نگار ہی نہیں‘ شاعر‬
‫بھی ہیں۔ انھیں تخت و تاج سے قربت کا بھی شرف حاصل رہا‬
‫ہے۔ اس حوالہ سے بھی ان کی قرابتی و کرامتی عظمت سر‬

‫آنکھوں پر ہرنی اور رہنی چاہیے۔ وہ ناصرف شاہی کروٹوں کے‬
‫حوالہ سے جدیدیت پسند ہیں بلکہ ادبی تبدیلیوں کو بھی اشارتی‬
‫اور ضرورتی لوازمات کے زیردست رکھنے کے قائل ومائل ہیں۔‬
‫موصوف غالب پسند‘ غالب نواز غالب کے سچے طرف دار اور‬
‫غالبات کے محقق بھی ہیں۔ غالب کو ہر عہد پر غالب بھی مانتے‬
‫ہیں۔ غالب کے حوالہ سے یہ امر بلاشبہ لائق وتحسین و آفرین‬
‫ہے۔ میں ان کی غالب نوازی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی‬

‫توفیقات کے لیے دست بہ دعا بھی ہوں۔‬

‫ان کی جدت پسندی کا ایک پہلو کالا سیاہ بھی ہے۔ انھوں نے‬
‫غالب کے شعر کو جدید لباس دینے کے جنوں میں قیامت ہی ڈھا‬

‫دی۔ روح غلب قبر میں پلسیٹے مار رہی ہو گی۔ دوبارہ زندگی‬
‫ملنے کی صورت اس کوچے میں قدم رکھنے سے لرزہ بر اندام‬
‫ہو گی۔ غالب کے ایک شعر کی جدت پسدی ملاحظہ بلکہ ملاخطہ‬

‫فرمائیے‬
‫ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق‬

‫وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے‬

‫میں ان کی جدید جسارت اور غالب کو عہد حاضر میں لانے کی‬
‫خواہش کو داد دوں گا لیکن اس بے سری تبدیلی کی داد نہیں‬

‫دوں گا۔ اگر وہ غالب کی شاعری کو جدید لباس دینے کے معاملہ‬
‫میں سنجیدہ ہیں تو اس کا ڈھنگ سیکھیں۔ اس ہنر کی آگہی کے‬

‫لیے انھیں تبسم کاشمیری کے قدم لینا ہوں گے ورنہ اس ہنر‬
‫سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔۔ میں ہنرمند نہیں پھر بھی اس شعر‬

‫کو عصر جدید کا لباس دینے کی حقیر سی سعی کرتا ہوں‬
‫گر قبول اُفتد زہے ع ّزو شرف‬

‫ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونق‬
‫وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے‬

‫آج کی نظم کا ایک نمونہ بطور ذائقہ ملاحظہ ہو‬

‫مت لکھنا‬

‫ہوا پر آنسو مت لکھنا‬
‫فاختاؤں سے دشمنی‬

‫اچھی نہیں ہوتی‬

‫جو بھی سہی اشعار غالب کو جدید شعری لباس ملنا آج کا تقاضا‬
‫ہے۔ اس سے تفہیمات غالب کے نئے نئے در وا ہوں گے۔‬

‫قارئین کو ناصر زیدی کی اس سوچ اور خواہش کی داد دینی‬
‫چاہیے۔ بلاشبہ وہ اس داد وتحسین کے مستحق ہیں۔‬

‫پروف ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی‬

‫ہمارے ہاں بڑی سیٹ بر براجمان یا کسی بھی منفی حوالہ سے‬

‫قبضہ کر لینے والے کو دانشور سمجھا جاتا ہے۔ ایک حوالہ‬
‫سے یہ بات غلط بھی نہیں۔ حاسدین پیٹھ پیچھے اس کے قول‬
‫وفعل اور طریقہ کار میں دمبی سٹی ہی نہیں‘ امریکن سنڈی بھی‬
‫نکال کر دیکھاتے ہیں۔ اس کے آگے بے بکری بن جاتے ہیں۔‬
‫اسے اس کی وہ وہ خوبیاں گنواتے ہیں‘ جن کا اس کے فرشتوں‬
‫کو بھی علم نہیں ہوتا۔ سیٹ اس پر آگہی کے دروازے کھول دیتی‬
‫ہے۔ یہاں تک کہ عہدی ارسطو اس کا پانی بھرتے ہیں۔ یقینا یہ‬
‫اس کے عظیم سے دو چار انچ بڑھ کر دانشور ہونے کی دلیل‬
‫ہوتی ہے۔ کتاب اور قلم سے رشتہ داری نہ ہوتے ہوئے بھی‬

‫کتاب اور قلم والے انھیں زندگی کے پرچہ کا پہلا اور آخری‬
‫سوال ٹھہرا کر دم لیتے ہیں۔ ہر بات ان سے شروع ہو کر ان پر‬
‫ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا شخصی روپ فنا ہو کر دانش میں ڈھل‬
‫جاتا ہے۔ میں ناہیں سبھ توں تک آتے آتے جان سے جانا پڑتا‬
‫ہے۔ شخص سے دانش بننے تک ان کی گرہ سے کچھ نہیں جاتا۔‬
‫یہ سب کرسی قریب لوگوں کے حسن کمال کا کرشمہ ہوتا ہے۔‬

‫میرا موضوع یہ نکھری نکھری اور کھری کھری دانش نہیں۔‬
‫جو معاملہ میری سوچ‘ اپروچ اور ضمیر کی دسترس سے باہر‬
‫ہوتا ہے‘ اس میں ٹانگ اڑا کر اہل دانش میں نام لکھوانے کی‬

‫حماقت نہیں کرتا۔ میں زیریں منزل کا شخص ہوں اور زیریں‬
‫منزل ہی مجھے خوش آتی ہے۔ سراپا دانش کے چرنوں میں بیٹھ‬

‫کر دوسری یا چوتھی منزل پر جا بیٹھوں اور پھر وہ نیچھے‬
‫سے پوڑی کھینچ لے اور میں وہاں بلا راشن پانی باں باں کرتا‬
‫رہوں اور پھر اپنی آواز کی بازگشت کو بھی ترس جاؤں۔ میرا ہی‬

‫کوئ پیٹی بھرا مجھےغدار قوم و ملت قرار دے کر اوپر ہی‬
‫میری گرن لمبی کروا دے۔ میں اس جنس کا گاہک نہیں۔‬

‫میرا موقف یہ ہے کہ اپنی منزل اور اپنی اوقات کی آگہی سے‬
‫مرحوم ہونا بدقسمتی کے مترادف ہے۔ مثلا تاریخ کے طالب علم‬

‫کو زیادہ سے جنگوں کی آگہی ہونی چاہیے۔ فاتحین کے نام‬
‫اسے منہ زبانی یاد ہونا چاہیے تاہم عصر حاضر کی مقتدرہ قوت‬
‫سے انھیں بیس تیس فٹ نیچے رکھے۔ ماضی کے فاتحین عصر‬

‫حاضر کی مقتدرہ قوت سے کسی طرح بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔‬
‫مثلا بش کی تلوار کے ایک ہی وار سے ستر دائیں اور دو کم‬

‫اسی بائیں پھڑک کر وہ جا گرے۔ ڈھائ سو آج بھی آخری‬
‫سانسوں پرہیں۔ یہ بش کیا تھا اوباما تلوار زنی میں اس سے‬
‫بھی چار پانچ سو قدم آگے ہے۔ آج سکندر سا سورما زندہ ہوتا‬
‫تو سلام و پرنام ہی سے کام نہ لیتا پانی میں ناک ڈبو کر مر‬

‫جاتا۔‬

‫ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی دنیا فتح نہ کر سکا۔ آخر بیاسی‬
‫علاقہ کے کسی یودھا کے ہاتھوں زخمی ہو کر قوریں جا وڑیا۔‬

‫حضرت اوباما سرکار کو دیکھیے پوری دنیا کے سکندر فرشی‬
‫سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ پھر بھی خوش نہیں۔ اسے دنیا کا کوئ‬

‫چلتا پھرتا اچھا نہیں لگتا۔ اس کی پہلی اور آخری خواہش یہی‬
‫ہے کہ ہر ٹانگ سے اوباما اوباما کے بے بس اور بے کس‬

‫آوازے نکلیں۔ دنیا کے تمام لوگ یک ٹنگے ہو کر کمائیں اور وہ‬
‫یک ٹنگی کمائی کو بلا تشکر ڈکارے۔‬

‫بڑے بڑے حملوں سے تاریخ کے طالب علم آگاہ ہوں گے لیکن‬
‫چھوٹی چھوٹی حملیوں سے متعلق کسی کو سرے سے آگہی ہی‬

‫نہیں۔ جس سے پوچھو یہی بتائے گا محمود غزنوی نے‬
‫ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔ سب کو آخری اور کامیاب حملے‬
‫کا پتا ہے اس سے پہلے سولہ حملوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا‬
‫کوئی نہیں جانتا۔ یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے حملے‬
‫کیوں کیے اور ہندوستان میں کس قسم کا اسلام پھیلایا۔ وہ اسلام‬
‫پھیلانے کے لیے آیا یا کسی اور کام کے لیے آیا۔ محمود وایاز‬

‫کے ایک صف میں کھڑے ہونے کا قصہ ہر کسی کی زبان پر‬
‫ہے۔ کوئی اور بھی اس سے ملتے جلتے واقعات رونما ہوئے‬
‫ہوں گے معلومات کا فقدان دیکھیے کوئی جانتا ہی نہیں۔ میں‬
‫خوف زدہ رہتا ہوں کوئی مجھ ہی سے نہ پوچھ لے۔ مجھے بھی‬
‫ایک صف والے والے واقعے کے علاوہ کچھ معلوم نہیں میں‬

‫لون مرچ مصالحہ لگا کر اس واقعے کو بیان کر سکتا ہوں۔‬

‫گھر اور باہر کی جنگوں کے متعلق تھوڑی بہت غیر تاریخی‬
‫لوگ بھی معلومات رکھتے ہیں۔ دانشور حضرات کے پاس ان‬
‫سے بڑھ کر معلومات کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔ دانشور حضرات‬
‫پاس سے بھی جوڑ جمع کرکے لوگوں کو بتا دینتو لوگ مان لیں‬
‫گے اور پھر وہ آپس میں شئیر بھی کریں گے۔ وقت کے ساتھ‬
‫ساتھ ان کی نوعیت کے مطابق باتوں میں کہاٹا وادھا کرتے رہیں‬
‫گے۔ آتے وقتوں میں سینہ بہ سینہ چلتی باتیں کتابی شکل اختیار‬
‫کر لیں گی۔ تاریخ بھی تو یہی کچھ ہے۔ جو بھی سہی تاریخ کے‬
‫دانشور کے پاس ایک عام آدمی سے زیادہ معلومات ہونی چاہیں۔‬

‫میں عام آدمی ہوں تاریخی جنگوں کے متعلق زیادہ نہیں جانتا۔‬
‫اس کے باوجود یہ بھی جانتا ہوں ایک راجہ جنگ بھی ہے۔‬

‫کسی زمانے میں بڑی زبردست ولایت تھی۔ ایک دن بیگم صاحبہ‬
‫نے گوشت لانے کا حکم دیا۔ میں گوبھی کو خوب صورت پھول‬
‫سمجھتے ہوئے لے آیا۔ وہ پھولوں کو پسند کرتی ہے۔ سوچ رہا‬
‫تھا کہ خوش ہو گی لیکن خوش ہونے کی بجاءے وہ بپھر گئ۔‬
‫کوئ مورخ اس جنگ کو نہیں جانتا۔ اس حوالہ سے میں مورخ‬

‫سے دو قدم آگے ہوں۔ یہ تو فقط ایک جنگ ہے میں ایسی‬
‫بیسیوں جنگوں سے آگاہ ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں لکھ کر مورخ‬

‫ہونے کا اعزاز حاصل کر لوں۔‬

‫کتنی ستم کی بات ہے کہ سب بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی موج‬
‫مستیوں کا ہر کوئ چٹخارے لے لے کر تذکرہ کرتا ہے لیکن‬

‫فرخ سیر کا کوئ نام نہیں لیتا جو دن رات نشے میں غرق رہتا‬
‫تھا۔ روپ کنور کے ساتھ ادھر ادھر اور کبھی نالیوں میں گرا پڑا‬

‫ملتا۔ ادھر تو مورخ کی نظر نہیں گئ۔ ہر مورخ کے ہاں بہادر‬
‫شاہ ظفر کا ذکر ملتا ہے جیسے وہ اکیلا شاعر بادشاہ تھا۔ شاہ‬
‫عالم ثانی جو آفتاب تخلص کرتا تھا کمال کا شاعر تھا۔ وہ تو وہ‬

‫جہاندار بھی کا شاعر تھا۔‬

‫آج ایک صاحب فرما رہے تھے اورنگ زیب عالمگیر نے ناسخ‬
‫کے کلام کو مدون کیا۔ اورنگ زیب عالمگیر شروع شروع میں‬
‫مدن کا ذوق تھا۔ میں نے اپنا رعب جتانے کے لیے کہا حضرت‬

‫یہ نسخہ انھیں وراثت میں ملا۔ اصل کام تو بابر نے کیا تھا۔‬
‫انھوں نے گھورتے ہوئے کہا جناب میں تو ڈاکٹر اورنگ زیب‬
‫عالگیر کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے خفت مٹانے کے لیے کہا‬
‫اچھا تو بادشاہی چھوڑ کر پروفیسر ہو گیا ہے۔ بولے وہ ‪٧١٧١‬‬
‫میں مر گیا تھا۔ چاہیے تو تھا میری جہالت کے پیش نظر بات کو‬
‫ٹھپ کر دیتے اور اپنی دانش کا مجھ پر رعب نہ ڈالتے۔ میں نے‬

‫غصے میں کہا میں نے اسے ‪ ٧١٧١‬میں مارا تھا؟‬

‫ناسخ کا دیوان اسی نے مرتب کیا تھا۔ میری طرف سے اسے‬

‫طے سمجھو اور اپنی کم علمی کی وجہ سے میرے ساتھ بحث‬
‫نہ کرو۔‬

‫اہل دانش کیا‘ اشاعتی ادارے بھی اصل آگہی سے دور ہیں۔ اخبار‬
‫ہو کہ کوئ ادبی یا غیر ادبی پرچہ‘ یہاں تک کہ حساس کتب بھی‬

‫پروف ریڈنگ کی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔ اداروں نے‬
‫باقاعدہ پروف ریڈر رکھے ہوئے ہیں۔ پھر بھی مطبوعہ تحریریں‬
‫اس قباحت سے پاک صاف نہیں ہو پائیں۔ پروف ریڈنگ بڑی ذمہ‬
‫داری کا کام ہے اس لیے اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے۔ میں‬
‫نے کچھ نہایت ذمہ دار لوگوں سے بات بھی کی۔ کسی نے مثبت‬

‫جواب نہیں دیا۔ ہر کسی نے نے کہا کچھ بھی کر لو پروف کی‬
‫غلطی رہ ہی جاتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا یہ اس وقت تک ہوتا‬
‫رہے گا جب تک پروف ریڈرنگ کے لیے کوئی مشین تیار نہیں‬
‫ہو جاتی غلطیوں کا سیاپا ختم نہیں ہو گا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے‬

‫ناک نیچے؛ اوپر بھی سمجھ سکتے ہیں بیٹھا کمال کا پروف‬
‫ریڈر جو اعزازی کام کرنے کے لیے بھی تیار ہے‘ انھیں نظر‬
‫نہیں آتا۔ کم علمی اور معلومات کی کمی ہمیں لے ڈوبی ہے۔ ہنر‬
‫کی ناقدری اور بے قدری ہی عمومی دانش کو لے ڈوبی ہے۔ جو‬
‫قومیں ہنر اور دانش کی قدر کرتی ہیں وہی ترقی کا منہ دیکھتی‬
‫ہیں۔ اقتداری دانش اور ہنر الگ سے چیز ہے‘ یہ تو عمومی‬

‫دانش و ہنر سے تعلق کرتی بات ہے۔‬

‫عمومی دانش و ہنر کی عزت اور قدرافزائی کرنا اداروں کا کام‬
‫ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور بڑے روزناموں میں شمار ہوتا ہے‬

‫لیکن اپنے ہاں موجود ایک عظیم ہنرمند کا اسے پتا ہی نہیں۔‬
‫بلاشبہ یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اسے آج تک معلوم‬

‫نہیں ہو سکا کہ ناصر زیدی شاعر اور کالم نگار سے بڑھ کر‬
‫سچے سچے اور کھرے پروف ریڈر ہیں۔ یہی نہیں دیالو بھی‬
‫ہیں۔ احباب کے لیے پروف ریڈنگ کی خدمات اعزازی طور پر‬
‫انجام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ معاملہ بدقسمتی اور المیہ کی حد‬
‫تک ہے کہ ہنر کے مطابق کام دستیاب نہیں۔ اگر متعلقہ ہنر اور‬
‫دانش کے مطابق لوگوں کو کام دستیاب ہو تو ترقی کے دروازے‬
‫کھل سکتے ہیں۔ افسوس روزنامہ پاکستان لاہور والے ناصر‬
‫زیدی کے اس ہنر سے بےبہرہ ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ ان‬
‫سے ان کے پرفیکٹ ہنر کا کام لیں۔ کالم نگاری کے لیے اپنے‬
‫کسی پروف ریڈر کو تلاش لیں۔ ہو سکتا ہے وہ موصوف سے‬

‫کہیں بڑھ کر اور بہتر خدمت انجام دے۔‬

‫دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا‬

‫یہاں ایک بابا پہلے کئ دنوں اور اب کئ مہنوں سے بیمار چلا‬
‫آتا ہے۔ حرام ہے جو مرنے کا نام لے رہا ہو۔ اگرچہ وہ لمبی‬

‫چوڑی عمر کا نہیں۔ یہی کوئ ساٹھ باٹھ کا ہو گا۔ عصری حالات‬
‫اور خاندانی ضروریات کے پیش نظر اب تک اسے مر جانا‬

‫چاہیے تھا۔ الله جانے کس مٹی سے اٹھا ہے۔ بڑے بڑے پھنے‬
‫خان بابے دیکھے ہیں‘ بیماری کے ایک ہی جھٹکے سے اناللله‬
‫ہو گیے۔ ان کے اٹھنے سے گھر والوں کی بےجا ڈاکٹروں کے‬

‫پاس آنیاں جانیاں ختم ہو گیں۔ گھر والی اور اولاد خوشی سے‬
‫بابے کی بیماری کی فٹیک برداشت کر نہیں رہے تھے۔ دنیاداری‬

‫بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے۔‬

‫ہمارے ہمسائے میں ایک مائی تھی اور کپتی کے نام سے پورے‬
‫علاقہ میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس کا میاں شریف آدمی اور بلا کا‬
‫موقع شناس تھا۔ بیماری کے پہلے ہی جھٹکے میں وہ گیا۔ مائ‬

‫بڑی دیالو تھی بڑھاپے میں بھی دیا کے بلند مقام پر فائز تھی۔‬
‫کوئی نہیں کہتا تھا کہ اسے بھی کبھی موت آئے گی۔ فرشتہ اجل‬
‫بھی اس کے قریب آنے سے لرزتا ہو گا۔ ہاں فیض کی حصولی‬

‫کے لیے اسے کبھی معمانت نہیں رہی ہو گی۔ بیمار پڑی؛ اہل‬
‫ذوق تو اہل ذوق‘ اس کا چھوٹا بیٹا پوری دیانتت داری سے‬

‫اسے ڈاکٹروں کے پاس لیا پھرا تاہم چند دن ہی چلی اور اہل قلب‬
‫و نظر کے لیے پچھتاوا چھوڑ گئ۔ اس کی بڑی بہو بڑی روئی۔‬

‫لوگوں کو ساس کے ساتھ اس کی مخلصی کا یقین ہو گیا۔ جو‬
‫بھی سہی میں اس بابے کی کرنی کا معتقد ضرور ہو گیا جس‬
‫کے تعویزوں نے بڑی بہو کو یہ دن دکھایا ورنہ وہ فرشتہ اجل‬

‫کی گرفت میں آنے والی مائ ہی نہ تھی۔‬

‫خدا معلوم یہ ساٹھ باٹھ سالہ بابا کس قسم کا ہے جسے اتنی‬
‫کرنی والے بابے کے تعویزوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ باچیاں‬
‫نکلی پڑی ہیں اور حد درجہ کی کمزوری وارد ہو چکی ہے‘ اس‬
‫کے باوجود مرنے کا نام نہیں لے رہا۔ بعید از قیاس نہیں کہ‬
‫اسے زندگی لڑ گئی ہو۔ عین ممکن ہے کہ خضر آب حیات کے‬
‫دوچار گھونٹ عطا کر گیے ہوں۔ دیوتاؤں سے بھی اس کا بگارڑ‬
‫نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی دیوتا بصد مشقت نکالے گیے امرت میں‬

‫سے دو گھونٹ چپکے سے پلا گیا ہو۔‬

‫پرانا اور تجربہ کار ہوتے ہوئے نہیں سمجھ پا رہا کہ کتنوں کا‬
‫مستقبل خراب کر رہا ہے۔۔ اس کے مرنے سے بڑا کاروبار وسیع‬
‫کر سکتا ہے۔ چھوٹے کی تین جوان بیٹیاں‘ جن کی اب شادی ہو‬

‫جانا چاہیے جبکہ منجھلا اپنا بیٹا دوبئ بھیجنا چاہتا ہے۔ اسے‬
‫باہر مفت تو نہیں ببھجا جا سکتا‘ دام لگتے ہیں۔ یہی صورت حال‬

‫اس کی لڑکیوں کی ہے۔ کئی خاندانوں کی ترقی خوشحالی اور‬
‫آسؤدگی بابے کی موت سے وابستہ ہے۔ اتنی موٹی اور واضح‬
‫بات بابے کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ بیمار اور لاغر زندگی سے‬

‫برابر علیک سلیک بڑھائے چلا جا رہا ہے۔‬

‫ایک ہفتہ پہلے میری اس سے بستر حیات پر ملاقات ہوئی۔ بچے‬
‫پرامید نگاہوں سے اس کی آؤبھگت کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ‬
‫کر بڑے خوش ہوئے۔ بابا چلتے پھرتے وقتوں میں میرے ملنے‬

‫والوں میں تھا۔ بچے اس کے میرے تعلقات سے واقف تھے۔‬
‫انہوں نے مجھے امید بھری نظروں سے دیکھا اور اندر چلے‬
‫گیے۔ ان کا خیال تھا کہ میں ان کے ڈھیٹ اور جینے پر مصر‬
‫بابے کو سمجھاؤں گا۔ وہ کیا جانیں کہ ان کا بابا کتنا ضدی ہے۔‬

‫میں نے پوچھا یار تم نے رشوت کی کمائ سے اتنی جائیداد‬
‫کیوں بنائی۔ مرنے والے ہو الله کو جواب تو تمہیں ہی دینا پڑے‬

‫گا۔ جواب میں کہنے لگا مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔‬
‫اکیلے میں نے تھوڑی بنائی ہے ساری دنیا اسی طرح جائدایں‬
‫اور بینک بیلنس بناتی ہے۔ اتنے لوگوں کے لیے جہنم میں جگہ‬

‫کب ہو گی۔ میں وہاں جا کر بھی قبضہ گروپ کا لیڈر ہوں گا۔‬
‫ٹہوہر میں گزاری ہے‘ فکر نہ کرو وہاں بھی ٹہوہر کی گززے‬
‫گی۔ بیشک الله بڑا بےنیاز ہے۔ میں نے کہا یار یہ جائداد اپنے‬

‫جیتے جی ان میں تقسیم کر دو۔ کیوں تقسیم کر دوں۔ جائیداد‬

‫میری ہے کسی کو دوں نہ دوں میری مرضی۔‬

‫اگر میں نے تقسیم کر دی تو ان میں سے کسی نے پوچھنا تک‬
‫نہیں۔ گھر سے باہر نکال دیں گے۔ اس کی بات میں دم بھی تھا‬
‫اور خم بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں کر سکا کہ ان میں زیادہ کیا تھا۔‬

‫اس کے پاس میں قریبا بیس پچیس منٹ اس خوف کے ساتھ‬
‫بیٹھا رہا کہ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ تم بھی دو چار سال کے ہیر‬
‫پھیر سے میرے ہم عمر ہو ابھی مرے کیوں نہیں۔ شاید اس لیے‬
‫نہ بولا کہ میرے پاس ہے ہی کیا۔ زندہ ہوں کچھ ناکچھ تو لاتا‬
‫ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا برداری سے تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا‬
‫اور کوئی اتنی بےعزتی کیوں کراے گا۔ شوہر کا بےعزتی کرائی‬

‫کے لیے پہلے سوال کی طرح بہرطور لازمی ہے۔‬

‫اب اس صورتحال کے تحت میں کیا عرض کر سکتا ہوں تاہم‬
‫مجھے بڈھے کی اولاد میں کمی اور خرابی نظر آئ۔ جو خود‬
‫محنت اور مشقت کرنے کی بجائے اوروں کی کمائی پر مستقبل‬
‫سنوارنے کی آشا کرنے والے زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ اور‬
‫دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک بابے وغیرہ دوسری دفتر شاہی‬
‫وغیرہ۔ ثانی الذکر کو اوروں میں شمار نہ کریں۔ سائلین سے‬
‫وصولیاں وغیرہ دفتری لوگوں کا اصولی استحقاق ہوتا ہے۔‬
‫پڑھائی لکھائی اور نوکری کی حصولی پر خرچہ کرکے اگر بہت‬

‫‪-‬یا بہت سے بڑھ کر وصولا نہ گیا تو کیا فائدہ‬

‫بابے کے اپنے نما اپنے خود کو پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ‬
‫فاؤنڈیشن والے سمجھتے ہیں جو سراپا دیسی گھی کی کڑاہی‬
‫میں ہیں۔ کملوں کو اتنی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرکاری‬
‫لٹیرے ہیں۔ انہیں تو پوچھ کرنے والوں کا اشیرباد حاصل ہے۔‬
‫دوسرا وہ لوگوں کا کام کرتے ہیں۔ تیسری بڑی بات یہ کہ وہ تو‬
‫بھرتی ہی لوٹ مچانے کے لیے ہوئے ہیں۔ لوٹ سیل تو ان کے‬

‫فرائض منصبی میں داخل ہے۔‬

‫مانتا ہوں بابے کا مال بھی لوٹ کا ہے لیکن وہ مال تو ہے اور‬
‫مال بھلا کون کسی کو دیتا ہے۔ گچی پر ناخن آئے تو ہی کھیسہ‬
‫ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ کملے بابے کو کسی پھسنی میں پھاسائیں‘‬

‫خود ہی جڑے گا۔ مجھے بابے کے اپنوں پر افسوس ہوتا ہے۔‬
‫بیمار بابا ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس‬

‫کی بات ہے۔ پاکستان کو بنے ایک صدی ناسہی کچھ ہی سالوں‬
‫بعد ہو جائے گی‘ بیمار لاغر اور دمہ گزیدہ دفتر اور افسر شاہی‬

‫سے کام چل رہا ہے اور خوب چل رہا ہے۔ انہیں اپنے بیمار‬
‫لاغر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھے سے کام چلاتے ہوئے مری پڑتی‬

‫ہے۔ بیمار لاغر اور دمہ گذیدہ دفتر اور افسر شاہی کے مرنے‬
‫کے دور تک آثار نہیں۔ سچی کہوں گا چاہے بڈھے کے گھر‬

‫والوں کو غصہ ہی لگے‘ بابے کے مرنے کے مجھے دور تک‬
‫آثار نظر نہیں آئے۔ ان کنبوں کا مستقبل اسی طرح تذبذب کی‬

‫صلیب پر لٹکا رہے گا اور یہ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا‬
‫ہوں۔‬

‫غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ‬

‫میرا بیٹا ڈاکٹر سید کنور عباس اول تا آخر پاکستانی ہے۔‬
‫پاکسستان کی محبت اس کے دل و دماغ میں رچی بسی ہوئی ہے‬
‫تاہم میری طرح اس میں ایک کتی عادت موجود ہے۔ دشمن یہاں‬

‫تک کہ غیر مسلم کی اچھی عادت اور احسن رویے کی اس کی‬
‫پیٹھ پیچھے بھی تعریف کرتا ہے۔ یہ طور اور انداز ہمارے‬

‫عمومی خصائل سے قطعی ہٹ کر ہے۔ ہم زیادہ تر اپنی اس کے‬
‫بعد موجودہ صاحب اقتدار طبقے کی تعریف کرتے ہیں۔ ماضی‬

‫قریب کے شاہوں کو قطب قریب جبکہ ماضی بعید کے شاہوں کو‬
‫نبی نما قرار دینے میں منٹ بھی نہیں لگاتے۔ ہمیں ان کی‬

‫ناانصافی اور بددیانتی بھی وقت کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔‬
‫ان کی نندا کرنے والا مسلمانی کھو بیھٹتا ہے اور واجب القتل‬
‫قرار پاتا ہے۔ میں دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا کوئی ارادہ‬
‫نہیں رکھتا اس لیے اس نظریے کی نفی نہیں کرتا۔ ہاں ایک‬

‫مسلم غیر ملک اسٹریلیا کے اپنے بیٹے کے حوالہ سے‘ جو ان‬
‫دنوں وہاں اقامت رکھتا ہے‘ کی پست اخلاقی رویے کی مذمت‬
‫کرتے ہوئے‘ عرض پرداز ہوں۔ کتنے بداطوار لوگ ہیں وہ‬

‫ہمارے ہاں ایسی بداخلاقی اور بداطواری کی دھونڈے سے بھی‬
‫مٹال نہیں ملتی۔‬

‫اس کی بیگم مارکیٹ میں کہیں اپنا پرس کھو بیٹھی۔ پرس میں‬
‫ضروری کاغذات کے علاوہ معقول پیسے بھی تھے۔ سخت‬

‫پریشان تھی۔ ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد ایک پولیس مین آیا اور‬
‫سب کچھ واپس کر گیا۔ بس جاتے ہوئے اس نے ایک رجسٹر پر‬
‫دستخط کروائےجس میں پرس میں موجود اشیاء کا اندراج تھا۔‬
‫رخصت ہوتے وقت مسکراتےہوئےآل دی بیسٹ کہنا نہ بھولا۔ ہم‬

‫اخلاقی حوالہ سے اتنے گیے گزرے نہیں ہیں۔ ابھی ہم میں‬
‫اخلاقیات موجود ہے۔ میں قصور سے للیانی گیا۔ واپسی پر ویگن‬

‫کے دروازے سے سیٹ تک میری شلوار کی جیب پر کسی نے‬
‫ہاتھ دیکھا دیا۔۔ قدرتی ایک دوسری جیب میں پچاس روپے‬

‫موجود تھے جو میں کرایہ کے لیے دست سوال ہونے سے بچ‬

‫گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد بیرنگ لفافہ سے کاغذات مع ضروری‬
‫نصیحت مل گیے۔‬

‫میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ کسی کام کے لیے کسی دفتر میں بار‬
‫بار کیا ایک بار جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قانون اور سماجی‬

‫رویت شکنی کا تصور تک موجود نہیں۔ کتنا بے لطف بےمزا‬
‫اور بے ذائقہ سا ملک ہے۔ آوا جاوی کے بغیر انجام پانے والے‬

‫امور اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ جب تک دو چار جوتے نہ ٹوٹیں‬
‫اور جیب ہولی نہ ہو‘ وہ کام بھی بھلا کوئ کام ہوئے؟ہمارے ہاں‬
‫کوئ ایک دفتر نہیں تقریبا سارے دفتر اخلاق کے بلند درجے پر‬

‫فائز ہیں۔ مک مکا چائے پانی اور لفافہ بازی پورے عروج پر‬
‫ہے۔‬

‫میں عصر حاضر کے پاکستان کا سچا اور پکا باشندہ ہوں میری‬
‫اتنی اوقات اور مجال کہاں جو دفتر شاہی کی گردن پر لفظوں کا‬

‫انگوٹھا رکھوں۔ میں تو ان کی اعلی اخلاقی روایات پر انگلی‬
‫بھی نہیں رکھ سکتا۔ ہر علاقے کے اپنے اصول اوراخلاقی‬

‫ضابطے ہوتے ہیں۔ دوسرا ہر عہد اپنے حالات اور ضروریات‬
‫کے مطابق رویات تشکیل دیتا ہے۔ میرے ابے کا دور انگریز‬
‫دشمن تھا تبھی تو وہ مسلم لیگ کا پیٹھو تھا۔ بےکار میں وقت‬
‫ضائع کرتا رہا۔ ورثہ میں بھوک ننگ چھوڑ گیا۔ بڑی بڑی کہانیاں‬

‫سناتا تھا اور سمجھتا تھا ان لوگوں نے بڑا معرکہ مارا ہے۔ ہم‬
‫ان سے بےوقوف نہیں ہیں‘ پچھلی صفوں میں رہ کر چوپڑی‬
‫کھاتے ہیں۔ دانشمندی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ میرے ابے کے‬
‫دور میں بھی اس اعلی اخلاقی ضابطے کے حامل لوگ موجود‬
‫تھے۔ چوپڑی سے ان کے منہ اور کھیسے بھرے رہتے تھے۔‬
‫اتنا چھوڑ گیے کہ آج بھی ان کی نسلیں موج میں ہیں۔ ان کے‬

‫طہارت کدے بھی حسن واخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔‬

‫میں عصر دوراں کی دفتر شاہی خصوصا کلرک بادشاہ کا ہتھ‬
‫بدھا خادم ہوں۔ میں کیا بڑے بڑے پھنے خاں ان کے ڈیروں پر‬

‫منمناتے‘ پانی بھرتے اور نذر نیاز پیش کرتے ددیکھے گیے‬
‫ہیں۔ جو ان کی بادشاہی و خدائ کے مرتد اور رائندہ ہیں یا‬

‫حاضری سے اجتناب برتتے ہیں‘ لاکھ درخواستیں رجسڑڈ ڈاک یا‬
‫ای میل کرتے رہیں نامراد رہتے ہیں۔ درخواست یا ای میل افسر‬
‫کے ہاتھ میں جائے گی تو ہی کام ہو گا۔‬

‫زیادہ تر ان کے افسر سے ہاتھ رلے ہوتے ہہں۔ میں یہ ہوا میں‬
‫نہیں چھوڑ رہا۔ میں نے اپنے ایم فل الاؤنس کے سلسلے میں‬
‫پہلی درخواست اکیس اکتوبر انیس سو ستانویں کو گزاری اور‬
‫آخری گیارہ نومبر بیس سو تیرہ کو سیکٹریری ہاہر ایجوکیشن‬
‫پنجاب کے حضور گزاری۔ ان میں سے کسی درخواست کو‬

‫سیکٹریری صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جاتا تو‬
‫الاؤنس ملتا یا نہ ملتا جواب ضرور ملتا۔ جواب کو اس کے اصلی‬
‫اور مستعمل معنوں میں لیں۔ جاؤ نہیں دیتے‘ تمہارا ایم فل علامہ‬
‫اقبال اوپن یونیورسٹی کا ہے جو اپنے ٹیوٹر سے بلامعاوضہ کام‬

‫کرواتی ہے۔ ثبوت کے لیے اسے دور نہ جانا پڑتا۔ اسے میری‬
‫یہی فائل سے اگست ‪ ٦٧٧٢‬میں کیے گیے کام کی عدم ادائیگی‬

‫سے متعلق گزاری گئ بہت سی درخواستیں مل جاتیں۔‬

‫درخواستوں کے جواب نہ دینے اور بابو کی فائل کے بیچھے‬
‫زبردست حکمت موجود ہے۔ سائل کب تک درخواستیں گزارے گا‬

‫آخر اسے آستانہ عالیہ میں حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ مال تو خیر‬
‫ملے گا ہی لیکن سائل کی میں میں کا سواد ہی اور ہے۔ اپنے‬

‫سے کہیں بڑے گریڈ والے کا دو زانو بیٹھ کر بالاتری اور‬
‫بااختیاری کا اعتراف اسٹریلیا کی دفترشاہی کو کیا معلوم۔ وہ اس‬
‫ترقی یافتہ دور میں بھی دور جہالت کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں‬

‫کے بابو اس قسم کی اعلی ظرفی اور اعلی اخلاقی اقدار سے‬
‫محروم ہیں۔ انھیں برفی کی بلا دام چاٹ نہیں لگی۔‬

‫اپنے پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ اپنے پلے سے برفی تو دور‬
‫کی بات نان چھولے نہیں کھائے جا سکتے۔ انھیں فقط دو چار‬
‫ہفتے پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے تقدس مآب دفتر‬

‫میں لا کر بیٹھا دیا جائے پوری سروس کی کمائ جیب لگ جائے‬
‫گی۔ مہامنشی ہاؤس کے لوگ خانے خان بنے پھرتے ہیں یہاں‬
‫ان کے بھی بقلم خود استاد تشریف رکھتے ہیں۔ یہ سب کرپشن‬
‫نہیں‘ یہ تو بالائی ہے۔ آگ چڑھے دودھ پر ہئ بالائی آتی ہے۔‬
‫سارا دن بیوی بچوں کو چھوڑ کر بالائی کے ڈھنگ اور نسخے‬
‫تلاشنا اور سوچنا ایسا آسان کام نہیں۔ باہر بیٹھ کر ٹکے ٹکے‬
‫کی باتیں کرنا آسان ہے میدان میں اترنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ‬
‫بلاشبہ بڑے عظیم اور پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی عظمت کو‬
‫بڑے ادب اور احترام سے ست سلام اور پرنام ۔‬

‫مہامنشی ہاؤس اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی پہنچ‬
‫اور عزیزداری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عزت‬

‫مآب واپڈا ان کا پانی بھرتا ہے۔ میں یہ تحریر اس سے پہلے چار‬
‫مرتبہ ٹائپ کر چکا ہوں۔ جونہی سیف کرنے لگا بجلی چلی گئ‬
‫اور اگلے ہی لمحے آگئی۔ پہلے تو میں اسے محض اتفاق‬
‫سمجھا جب یہی دوسری تیسری اور پھر چوتھی بار ہوا تو‬
‫مجھے اندازہ ہو گیا کہ واپڈا ہر دو متذکرہ محکمہ ہذا کو کتنا‬
‫عزیز اور محترم رکھتا ہے۔‬

‫میں وفاقی محتسب اور صوبائی محتسب کے حوالہ سے معاملات‬
‫کے متعلق درخواستیں گزارنے والا تھا کہ خیال گزرا کیوں نہ‬

‫جاپان اردو نیٹ کے ذریعے اپنی آواز متعلقین تک ہپنچاؤں۔‬
‫خدانخواستہ میں ان کے خلاف کوئی شکایت کرنے والا نہیں تھا۔‬

‫میں تو صرف اتنا عرض کرنا چاہتا تھا کہ جب جب کسی کی‬
‫درخواست آئے اس کا جواب دے دیا جائے۔ کون سا پلے سے‬
‫ڈاک خرچ دینا ہے۔ سرکاری کاغذ سرکاری لفافہ اور سرکاری‬
‫ٹکٹیں لگنا ہیں۔ لکھنا صرف اتنا ہے باری پر آپ کے مسلے پر‬
‫غور کیا جائے گا۔ اتنا بڑا صوبہ ہے باری آتے آتے‘ آئے گی نا۔‬
‫باری کے انتظاری میں مفتا مر جائے گا اور معاملہ محض قصہء‬
‫ماضی ہو کر رہ جائے گا۔ گویا سانپ بھی اپنی آئی مرے گا اور‬

‫لاٹھی بھی بچ جائے گی۔‬

‫میاں شہباز شریف نے جس لگن اور محنت سے کام کیا ہے اس‬
‫کی تعریف نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔ جہاں اتنے کام کیے ہیں‬

‫وہاں ایک اور کام کردیں تو دعاؤں کا شمار نہیں رہے گا۔ دو‬
‫چار مخیر حضرات بھی صلہء رحمی کے حوالہ سے یہ کام کر‬
‫سکتے ہیں۔ میاں صاحب ایک محکمہ قائم کریں جو میر منشی‬
‫گاہ کے بابو حضرات کی بالائی کا اہتمام کرے۔ سائل آ کر رقم‬
‫بتائے یہ محکمہ ضروری پوچھ گچھ اور کنفرمشن کے بعد سائل‬
‫کو مطلوبہ رقم فراہم کر دے یا پھر ضروری بارگینگ یعنی مک‬
‫مکا کر لے۔ اسی طرح بجلی کے دونوں طرف بہت کچھ لکھا ہوتا‬
‫ہے مزید صرف اتنا لکھ دیا جائے کہ لکھنے پڑھنے اور ٹائپ‬

‫کرنے والے حضرات ہم پر نہ رہیں‘ جو کریں اپنی ذمہ داری پر‬
‫کریں۔‬

‫لکھنے میں واپڈا آج سب کا پیو ثابت ہو رہا ہے۔ وہ انتہا درجے‬
‫کے کنگالوں اور ان کے تھرڈ کلاس سفارشیوں کو۔۔۔۔۔۔۔ پر‬

‫لکھتے ہیں۔ سفارش کا دور گیا‘ اب مال چلتا ہے۔ ابھی ابھی‬
‫اطلاع ملی ہے کہ پرفارما پرموششن کا ریٹ چودہ ہزار روپے ہو‬

‫گیا ہے۔ یہ بنیادی خرچہ ہے۔ تکمیل تک بقایا جات کے مطاابق‬
‫دام اٹھیں گے اور جوتے گھسیں گے۔‬

‫انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ‬

‫دنیا ترقی کر رہی ہے‘ یہ مقولہ عام اور بزت سا ہو گیا ہے۔ ہر‬
‫کوئ ترقی اور دودھ کی نہریں بہانے کی باتیں تو کرتا ہے لیکن‬
‫آج تک کسی کو یہ بتانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئ کہ ترقی کس‬
‫چڑیا کا نام ہے۔ وہ رنگ روپ میں کیسی ہوتی ہے۔ اس کا سائز‬

‫کتنا ہوتا ہے۔ گولی ماریے ان باتوں کو‘ کوئ بس اتنا ہی بتا دے‬
‫کہ وہ کس گلی کس محلے کس کوچے میں بانفس نفیس اقامت‬

‫رکھتی ہے۔ دودھ کی نہر یا نہریں بہانے کے معاملہ کو چھوڑیے‬
‫کیونکہ اس کا تعلق قیس المعروف مجنوں سے ہے۔ اب کون اس‬
‫کی عشق گذیدہ ہڈیوں کو خراب کرے۔ امیدوار حضرات نے اسے‬

‫بطور محارہ استعمال کیا تھا۔ محاورہ میں حقیقی معنی نہیں‬
‫ہوتے اگر حقیقی معنی کود پڑیں تو محاورہ اسے قبولنے سے‬
‫انکار کر دیتا ہے۔۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ محاورہ مہارت سے‬
‫علاقہ رکھتا ہے۔ دودھ کی نہریں بہانے کا کبھی رواج نہیں رہا۔‬
‫ہاں پانی کی نہریں کبھی دانستہ کبھی نادانستہ اور کبھی باوجوہ‬
‫غفلت چھوڑ کر لوگوں کو ڈبو کر ثواب اور آبادی کم کرنے کا‬

‫رجحان ضرور رہا ہے۔‬

‫یہاں بجلی جاتی اور جاتی ہی ہے تاہم کبھی کبھار اپنے ہونے کا‬
‫ثبوت بھی فراہم کرتی ہے اور یہ کوئ معولی بات نہیں۔ اگر وہ‬
‫متواتر رہے تو اس کا قد اور مرتبہ صفر ہو کر رہ جائے گا۔‬
‫ہمیں بجلی سے کوئی گلہ نہیں اور ناہی اس کے عالی مرتبے‬
‫سے انکار۔ ہاں بجلی والوں سے ایک ناحق اور ناجائز سا گلہ‬
‫ضرور ہے۔ ہمارے محلے کے ایک مرکزی مقام پر بجلی کے‬
‫تاروں کی چول ذرا ڈھیلی ہے جو ہفتے میں کم از کم ایک بار‬
‫ضرور اکھڑتی ہے جس کے سبب بجلی مہاراج کے ہوتے‬

‫اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ ہر بار ہر گھر سے سو سو روپے جمع‬
‫کیے جاتے ہیں۔ بجلی والے آتے ہیں تھوڑا سا اڑا کر چلے‬
‫جاتے ہیں۔ یہ ان کی مستقل آمدنی ہے۔ آج لوگ منتخب ممبر‬

‫صاحب کے ہاں گیے۔ ممبر صاحب کے کاموں نے کافی بیزت‬
‫کرکے الٹے قدموں واپسی کی راہ دکھائی۔ شکر ہے وہ خود نہیں‬

‫ملے ورنہ دو چار پھٹر ضرور ہو جاتے۔‬

‫لوگوں کا گلہ یہ تھا کہ ممبر صاحب نے تو دودھ کی نہریں بہا‬
‫دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہاں تو پینے کے لیے پانی تک‬

‫میسر نہیں۔ ایک صاحب نے بڑی پتے کی کہی‘ ممبر صاحب پاور‬
‫میں ہیں محلے کے چھوٹے بڑوں کو بی آر بی پر لے جا کر‬

‫ڈبکیاں دلائیں گے۔ اس کے بعد لوگ پانی کا نام تک بھول جائیں‬
‫گے۔ میری رائے میں ہر چھوٹے بڑے کو بطور عبرت بجلی کے‬
‫دو چار جھٹکے دے دیے جائیں۔ بجلی کی خطرناکی کے زیر اثر‬

‫اٹھتے بیٹھتے ان کے حلق سے آوازے اٹھیں گے نو نو بجلی‬
‫گو گو۔ ایک صاحب نے کہا متعلقہ لائن مین سے مک مکا کر لو‬
‫اس طرح کچھ تو بچت ہو سکے گی۔ میں نے کہا یار ان کی ملیں‬
‫تو نہیں چلتیں انہوں نے بھی تو یہیں سے کھانا ہے۔ تنخواہ میں‬

‫بھنی مچھلی یا مرغے کی ٹانگیں تو نہیں کھائی جا سکتیں۔‬

‫سنتے آئے ہیں زندہ لاکھ کا مردہ سوا لاکھ کا۔ زمانے کی ترقی‬

‫کے ساتھ ہی یہ مقولہ بھی بدل گیا ہے۔ اب صورت کچھ یوں ہے‬
‫کہ مردہ لاکھ کا زندہ سوا لاکھ کا۔ یہ مقولہ اہل واپڈا تک محدود‬

‫نہیں اس میں ساری دفتر خدائی آ جاتی ہے۔ زندہ جس طرح‬
‫اندھیر مچاتا ہے مردہ تو اس نعمت عظمی سے دور رہتا ہے۔‬
‫پنشن یا دیگر وصولیاں زندہ کی چند ماہ کی مار نہیں ہوتیں۔ کچھ‬

‫زیادتیاں زندہ لوگوں کے ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ مثلا ملازم کی‬
‫تنخواہ سے انشورنس کی جبری کٹوتی ہوتی ہے اور یہ معقول‬
‫کٹوتی تا سروس ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ ریٹائر ہوتا ہے اسے‬
‫اس کی تنخواہ سے کی گئ کٹوتی میں سے ایک پائی تک نہیں‬

‫دی جاتی۔ مجوزہ رقم کی ادائیگی اس کی موت سے مشروط‬
‫ہوتی ہے یعنی وہ مرے گا تو ہی انشورنس کی رقم اسے نہیں‘‬
‫اس کے گھر والوں کو ملے گی۔ گھر والے اس کی ریٹائرمنٹ‬
‫تک تو اس کی موت نہیں چاہیں گے۔ وہ لاکھ کے لیے سوا لاکھ‬
‫کی قربانی کیسے اور کیونکر گوارہ کریں گے۔ ہاں ریٹائرمنٹ‬
‫کے بعد اس کی زندگی انہیں خوش نہیں آئے گی۔ گویا ریٹائرمنٹ‬
‫تک پیدائی ملازم سوا لاکھ کا رہتا ہے لیکن اس کے بعد لاکھ کا‬

‫رہ جاتا ہے جبکہ اس کا مرنا سوا لاکھ کا ٹھہرتا ہے۔‬

‫جیتے جی مرنے والا محروم گھر والوں کے لیے سہولتیں پیدا‬
‫کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ مرنے کے بعد انشورنس والوں‬

‫کو یاد دلانے اور مک مکا کرنے والے بیوہ اور یتیم بچے یاد آ‬

‫جاتے ہیں۔ وہ گھر والے جو زندگی میں اسے ضرورتوں کی‬
‫صلیب پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد انہیں کبھی اس کی‬

‫قبر پر دعا فاتحہ تک کہنا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ صرف کاغذوں‬
‫میں بطور خاوند یا باپ بادل نخواستہ تکلفا یاد رکھا جاتا ہے۔‬
‫عین ممکن ہے کہ وہ بیٹی کے جہیز کی عدم دستیابی کے غم‬
‫میں موت کے حوالے ہوا ہو۔ حق اور انصاف کا تقاضا یہی ہے‬
‫کہ انشورنس والے جس کی تنخواہ سے جگا وصول کرتے ہیں‘‬
‫ریٹائرمنٹ پر اس کی اپنی رقم جو اس سے وصول کی گئ ہوتی‬
‫ہے اسے ادا کریں تاکہ بڑھاپے میں اس کے جیتے جی کسی کام‬
‫آ سکے۔ کٹوتیاں کرنے والا کوئی بھی محکمہ ہو‘ لینے میں نر‬
‫شیر ببر ہوتا ہے لیکن اس کی اپنی رقم دینے کے معاملہ میں‬
‫اسے مرگی پڑ جاتی ہے۔ یہ معاملہ غور منٹ تک محدود نہیں‬
‫حکومت خانہ بھی اس کی پیرو ہے۔ وصول تو پائی پائی کر لیتی‬
‫ہے ضرورت پر کچھ طلب کر لو تو سماعت کے دروازے بند اور‬

‫زبان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔‬

‫اصل حیرت اس بات پر ہے کہ آئیس کریم اور سوہن حلوا کھانے‬
‫اور سو طرح کے مہنگے مشروب پینے والی زبان حنطل سے‬

‫بڑھ کر کڑوی کیوں ہو جاتی ہے۔ زبان بھی نئے دور کی ہو گئی‬
‫ہے اگلے زمانے میں زبان کہے پر اٹل رہتی تھی۔ ٹانگر اور‬

‫مسی روٹی کی تاثیر اٹھ گئی ہے۔ آج گورمے کا چرچا ہے۔ نئی‬

‫نئی اشیا کو چھوڑ کر ٹانگر اور مرونذے کو کون پوچھتا ہے تب‬
‫ہی تو زبان بھی سو طرح کی کرواٹیں لینے کی عادی ہو گئی‬
‫ہے۔اگلے زمانے میں بکرے میں میں کیا کرتے تھے لیکن آج‬

‫دفتروں میں سائل اور گھر پر شوہر نامدار میں میں کرتے نظر‬
‫‪.‬آتے ہیں۔‬

‫ویسے تحقیق کر دیکھیں زندگی میں‘ میں میں کا غلبہ رہا ہے۔‬
‫گنتی کے چند لوگ تو تو کے مرتبے پر فائز ہو کر آج بھی‬

‫احترام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ میں شریف کے حامل لوگ انہیں‬
‫تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی تو میں والوں سے علاقہ نہیں رکھتی۔‬
‫اگر تو سے مراد میں والے ہوتے تو آج بھی خان خاناں ہوتے۔‬
‫ان کی تو سے مراد الله کی ذات گرامی ہے۔ آج تو تو کا نعرہ بلند‬
‫کرکے بڑے لوگ خود میں کے درجے پر فائز ہو گیے ہیں۔ زہے‬

‫افسوس شاہی تو تو ہر کسی کا نصیبا نہیں ٹھہرتی۔‬

‫تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز قاصری‬

‫آج مجھے ایک سیمنار میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔ بڑے بڑے‬
‫عالم فاضل حضرات تشریف فرما تھے۔ اہل زر اور اہل اقتدار بھی‬
‫جلوا فرما تھے۔ اس ذیل میں ہر اک اپنا واضع موقف رکھتا تھا۔‬
‫آپ کا دل اور ضمیر چاہے ناچاہے‘ اصول یہ رہا ہے کہ ہر بڑے‬

‫کی ہاں میں ملانا زندگی اورصحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‬
‫اگر سقراط ہاں میں ہاں ملاتا تو زندگی بھر گھیو کرولیاں کرتا۔‬
‫پاگل تھا' صدیوں سے چلے آتے اصول کی خلاف ورزی کرتا‬
‫رہتا۔ اسے لائن پر آنے کے مواقع دیے گئے۔ کملا تھا' مواقع‬
‫ضائع کرتا رہا۔ نتیجہ کار کٹ کھانی ہی تھی اور پھر جان اور‬

‫جہان سے گیا۔‬

‫بابے دراصل قوم اور اہل لٹھ کے لیے جنجال ہی رہے ہیں۔ جب‬
‫بولتے ہیں وکھی پرنے بولتے ہیں۔ جی میں آیا اسٹیج سے اٹھ‬
‫کر سامعین میں بیٹھ جاؤں اور کچھ کہنے سے معذرت کر لوں۔‬
‫پھر خود کو حوصلہ دیا کہ بڑے میاں شیر بنو شیر۔ ساری عمر‬
‫سرخوں کو چاہا اور اب بڑھاپے میں پٹڑی سے اتر کر شیر کو‬

‫بوڑھا اور بوسیدہ دل دے بیٹھے ہو' گیدڑ نہ بنو۔ سو پہاجی‘‬
‫میں بیٹھا رہا۔ باری پر میری طلبی ہوئی۔۔ میں نے کہا بابا کہہ دو‬
‫جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ میری باتیں سامعین نے پسند کیں۔ اہل‬

‫جاہ پر کیا گزری ہو گی میں نہیں جانتا۔ میں نے دانستہ ان کی‬
‫طرف دیکھا ہی نہیں۔ بوڑھا ہوں‘ گھورتی آنکھوں کا سیکا‬

‫برداشت نہیں کر سکتا۔‬

‫تعلیم آگہی سے جڑی ہوئی ہے۔ حصول آگہی کی خواہش انسانی‬
‫فطرت میں شامل ہے دیتی ہے۔ بچہ کھلونے کیوں توڑتا ہ ِے؟ وہ‬
‫کھلونے کے متحرک ہونے کا راز جاننا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا جاننا‬

‫ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو کھلونے کو متحرک اور‬
‫غیر متحرک بناتی ہے۔ اس حوالہ سے‘ گویا جاننا اس کا فطری‬

‫حق ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ پچے میں جستجو کا مادہ‬
‫موجود ہے۔ ایک بہت بڑے عالم سے متعلق معروف ہے کہ وہ‬
‫آخری سانسیں لے رہے تھے۔ کوئی مسلہ جاننے کے لیے انھوں‬
‫نے کتاب طلب کی۔ انھیں کہا گیا آپ تو جا رہے ہیں اب اس کی‬
‫کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے جوابا کہا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں‬

‫‪.‬جاہل موت مروں۔‬

‫اس کی مثبت دو عملی صورتیں ہیں۔ حضرت مہاتما بدھ جی‬
‫شہزادے تھے ۔ مالی آسودگی تھی۔ ان کا گیان کے لیے دنیا کو‬
‫تیاگنا معاش سے وابستہ نہ تھا۔ گیان ہاتھ لگا تو انھوں نے خود‬
‫کو دنیا کے لیے وابستہ کر دیا۔ ان کی انسانیت کے لیے خدمات‬

‫کو کسی بھی سطع پر نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔‬
‫مارکونی نے بھی بلا کسی معاشی حاجت کے لیے ریڈیو ایجاد‬
‫کیا۔ یہ ایجاد آتے وقتوں میں بہت ساری ایجادات کا سبب بنی۔‬

‫دریافت ہر دو متذکرہ صاحبان کے لیے سب سے بڑی خوشی‬
‫تھی۔ ان کی دریافت سے بلا کسی تخصیص و امتیاز انسانیت کو‬

‫فایدہ ملا۔ تعلیم سے ہی یہ سب ہوا۔ تعلیم دراصل انسان کی‬
‫شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تعلیم اگر زندگی کے سلیقے میں‬

‫تبدیلی نہیں لاتی تو اسے تعلیم کہنا بذات خود جہالت ہے۔ تعلیم‬
‫ابوزر غفاری اور سلمان فارسی کے منصب پر فائز کرتی ہے۔‬
‫تعلیم حاکم وقت کو آزاد کردہ غلام کو اس کے تقوے کی بنیاد پر‬

‫سیدنا کہنا سکھاتی ہے۔‬

‫تعلیم کے حصول کا ایک مقصد اور بھی رہا ہے۔ کمزور طبقے‬
‫اپنے بچوں کو کلرک شپاہی وغیرہ کی ملازمت کے متمنی رہتے‬

‫ہیں جبکہ صاحب حثیت طبقے اپنے بچوں کو افسر بنانے کے‬
‫لیے بڑی سے بڑی درسگاہ میں جمع کراتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں‬
‫کو کلرک یا افسر بنانا چاہتے۔ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں‬

‫اپنے بچے کو اعلی خصائل کا حامل انسان بنانے کی خواہش‬
‫سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔‬

‫میر منشی ہاؤس میں‬

‫خواہش اور توقع کے حوالہ اعلی شکشا منشی کا دفتر ہے۔ ہر‬
‫کسی کو ان میں کے قدموں پر چلنا ہوتا ہے۔ خواہش اور توقع کا‬

‫مجموعہ اگر توقع اور خواہش پر پورا نہیں اترتا تو گلا درست‬
‫ہے۔ کلرک تو بہت بڑا آدمی ہوتا ہے نائب قاصد بھی خواہش اور‬
‫توقع کے بالاتر معیار پر فائز ہے۔ اگر وہ سب بالائ نہ لاتے ہوں‬

‫تو گلا کیا جا سکتا ہے۔ وہ معیاری رقم نہ لاتے ہوں تو ہی ان‬
‫کی تعلیم پر انوسٹمنٹ کی گئ رقم حرام جائے گی۔ سائل کیا کر‬
‫لے گا۔ عدالت جائے گا۔ وہاں خرچہ کرکے کوئی آرڈر لائے گا۔‬

‫بعض معاملات چند ہزار سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اب چند‬
‫ہزار کے لیے ہر کوئ جھڑنے ہی میں عافیت سمجھے گا۔ میں‬
‫سمجھتا ہوں یہ عزت مآب حضرات تعلیم کے مقاصد کے حصول‬

‫میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے یہ بڑی‬
‫ایمانداری سے تعلیمی مقاصد کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ہم شاباش‬

‫دینے کی بجائے شاواش دے رہے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ تعلیم‬
‫دشمنی کے مترادف ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے' کم ہے۔‬

‫واپڈا والوں پر گلا اور شکوہ کیا جاتا ہے بڑے ہی افسوس کی‬
‫بات ہے۔ ہم انھیں ان پڑھ کیوں سمجھتے ہیں۔ دوچار سو یونٹ‬

‫زائد ڈال کر وہ صارف سے پاکستان تو اپنے نام نہیں لکھوا‬
‫رہے ہوتے۔ افسروں کی ضرورتیں اپنی جگہ دیگر ملازمین کی‬

‫بھی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ رشتہ دار دوست یار تو اصولی‬
‫استحقاق رکھتے ہیں لیکن جیب تو دیگر کسٹمر ہی بھرتے ہیں۔‬

‫اگر رشتہ دار اور دوست یار خوش نہ ہوئے تو تف ہے ایسی‬

‫نوکری پر۔ جیب میں بالائی نہ آئ تو تعلیم کا مقصد ہی عین غین‬
‫ہو جاتا ہے۔‬

‫ملازمین کو کوٹھیاں دینے کے لیے اسکیم شروع ہوئی۔ اسکیم‬
‫بلاشبہ اعلی جھانسہ دار ہے۔ ملازمت ختم ہونے پر پتہ چلتا ہے‬

‫کہ ملازم کی تنخواہ سے ایک لاکھ نو ہزار کٹوتی ہوئی ہے۔‬
‫کوٹھی کے حصول کے لیے ساٹھ ستر لاکھ مزید کی ضرورت‬
‫ہوتی ہے۔ یتیم محکمہ سے متعلق ملازم دوچار زندگیوں میں‬
‫بھی اتنی رقم ادا نہیں کر سکتا۔ ایک اردو یا پولیٹیکل ساءنس کا‬
‫پروفیسر اتنی رقم چشم تصور میں بھی ادا نہیں کر سکتا۔ صاف‬
‫ظاہر ہے کہ وہ اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے گا۔ یہ آرٹس‬
‫کے پروفیسر بھی کتنے سادہ یا احمق لوگ ہوتے ہیں۔ شاید‬
‫انھیں اس شعبے کی تعلیم یافتگی پر شک ہوتا ہے۔ انھیں اپنی‬
‫درخواست کی بازگشت تک سنائی نہیں دیتی۔ میں کہتا ہوں اگر‬

‫مک مکا کے بغیر بازگشت سنائفی دینے لگی تو تعلیم اور‬
‫ملازمت کی حصولی پرادا کی گئی رقم حرام ہو گئی۔‬

‫سیمینار میں نصاب کے حوالہ سے عوامی نمائدگان سے بات‬
‫کرنے کی بھی تجویز ہوئی۔ مانا عوامی نمائدگان میں اکثریت نے‬

‫تعلیم پر خرچہ نہیں کیا لیکن وہ بھاری خرچہ کرکے ممبر بنے‬
‫ہیں۔ یہ یقینا بڑی عجیب صورت ہو گی اگر وہ اس قسم کے‬

‫بےفضول کام پر پیداکار وقت صرف کریں گے۔ دوسرا یہ کام ان‬
‫کا نہیں شکشا منشی صاحبان کا ہے جنھیں اپنی تعلیم سے لابھ‬

‫اٹھانے سے فرصت نہیں۔ تعلیم یافتہ ملازمین کے پاس مفتوں‬
‫کے لیے ٹائم ہی کہاں ہے۔‬

‫مجھے پنجابی کے یہ مصرعے بس یوں ہی یاد آ رہے ہیں بنین‬
‫لین جانندے اوہ بنین لئے کے آندے پاندے اوہ پیندی نہیں لاندے‬

‫اوہ لہندی نہیں‬
‫موجودہ لنکنی نظام کے حوالہ سے حصول تعلیم کا حاصل یہی‬

‫رہے گا۔ ہاں بنین میں دینا‬
‫پاؤ گے پوے گی لاوو گے لوے گی‬

‫یہ قرآن و سنت کے حوالہ سے قائم ہونے والے نظام حکومت‬
‫سے ہی ممکن ہے۔ شہباز شریف کی محنت اور دیانتداری پر‬

‫پورے پنجاب کو ناز ہے۔ کیا وہ میرمنشی گاہ واپڈا ہاؤس وغیرہ‬
‫کا قبلہ درست کر سکیں گے میں سردست اس ذیل میں کچھ‬
‫عرض کرنے سے قاصر ہوں۔ میری اس ناچیز قاصری کو‬
‫معذرت سمجھیں۔ شکریہ‬

‫حقیقت اور چوہے کی عصری اہمیت ‘زندگی‬

‫زندگی بظاہر بڑی حسین دلفریب اور جازب نظر ہے اور ہے بھی‬
‫لیکن اپنی اصل میں اس بڑی سے بڑھ کر پچیدہ اور مشکل گزار‬

‫ہے۔ اسے کرنا تو بعد کی بات ہے پہلے اسے سمجھنے کی‬
‫ضرورت ہے۔ اب سمجھنے کے لیے دو چار زندگیاں کہاں سے‬
‫آئیں۔ ہزاروں سال سے انسان زمین پر رہ رہا ہے۔ تمیز و امتیاز‬

‫کی دولت سے مالا مال ہوتے ہوئے بھی کنگال اور تہی دامن‬
‫نظر آتا ہے۔ بعض اوقات کسی غلط فہمی کے زیر اثر غلط کو‬
‫صحیح کہتا ہے لیکن زیادہ تر جانتے ہوئے کسی لالچ یا خوف‬
‫کے تحت غلط کوعین سچ اور حق قرار دیتا ہے۔ اس کی دیکھا‬
‫دیکھی دوسرے بھی غلط کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر وہ‬
‫نمبردار قسم کا بندہ ہے تو ایک وسیع حلقہ حق کا ساتھ چھوڑ‬
‫کر ناحق کے چرنوں میں جا بیٹھتا ہے حالانکہ اس ذیل میں ہر‬
‫کسی کو خود سے غور کرنا چاہیے۔۔ دماغ اور ضمیر کی دولت‬
‫ہر کسی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ پیٹ شریف کے ہوتے اور‬
‫اس سے سوچنے کے باعث دماغ اور ضمیر بےچارے دو نمبر‬
‫ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پیٹ کے سبب اتنا وقت ہی نہیں بچتا جو‬

‫دماغ اور ضمیر کی حال پکار سنی جائے یا ان کی جانب نادانستہ‬
‫سہی‘ کان پھر جائیں۔ برے نتائج کو ہونی کا نام دے دیا جاتا ہے۔‬

‫نمرود ساری عمر چھیتر کھاتا رہا لیکن مچھر کو قہر خداوندی‬
‫کی بجائے ہونی قرار دیتا رہا۔‬

‫پہلے میں بھی دفترشاہی کے بگڑے مزاج تیور اور اطوار کو‬
‫ہونی سمجھ کر چپ کی بکل اوڑھنے کی سوچ رہا تھا۔ یہ کوئ‬
‫آج کی بات ہے یہ تو سیکڑوں سال پرانا رویہ ہے۔ لوگ مٹھی‬
‫گرم کرکے میرٹ کی سمت درست کر لیتے ہیں۔ جو گنڈ کے پکے‬
‫ہوتے ہیں اول تا آخر میرٹ کے درجے پر فائز نہیں ہو پاتے۔ جو‬
‫لوگ کاغذ قلم متحرک رکھتے ہیں متاثرین بھی انھیں درخواست‬
‫باز ایسے ثقیل لقب سے ملقوب کرتے ہیں۔ وہ اس قسم کے بیان‬
‫دفتر شاہی کی خوشنودی کے لیے داغتے ہیں۔ دوسرا ان کے‬
‫پیسے پھسے ہوءے ہوتے ہیں اور دفترشاہی ان پر غصہ نکالتی‬
‫ہے۔ وہ اپنا مال بچانے اور جس کام کے لیے مال دیا گیا ہوتا ہے‬
‫اسے کسسی ناکسی طرح نکلوانے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ دل‬

‫میں وہ بھی درخواست باز کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔‬

‫دل کو کون دیکھتا ہے لوگ حق اسے ہی سمجھتے ہیں جو زبان‬
‫پر ہوتا ہے۔ ہم سب اہل کوفہ کو آج بھی برا بھلا کہتے کہ انہوں‬

‫نے حسین کا ساتھ نہ دیا۔ یہ کوئی نہیں بتاتا گورنر کوفہ نے‬

‫کس طرح خون سے گلیاں رنگ دیں۔ گورنر مورکھ کا سگا ماسڑ‬
‫تھا۔ اسی طرح مولوی وچارے کا بھی ذکر آتا ہے۔ بڑے بڑے‬
‫پھنے خان باٹی ٹیک گیے ان کا پیٹ کس طرح حسین کو کیوں‬
‫حق پر مانتا۔ پیٹ اور سچائی دو الگ چیزیں ہیں۔‬

‫میں اتنا بڑا جاہل ہوتے ہوئے جمہوریت اور امریکا بہادر کے‬
‫خلاف لکھتا رہا۔ مجھے اپنے لکھے پر ندامت ہوتی ہے۔ میں‬
‫اتنی معمولی بات نہ سمجھ سکا کہ بادشاہ کا مستقل ہوتے ہوئے‬
‫بھی پیٹ نہیں بھرتا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا مقبرہ کئ کنال‬
‫زمین گھرتا ہے۔ بادشاہ تو بادشاہ ہے اس کی بیگم کا مقبرہ‬
‫بےحساب رقم ڈکار جاتا ہے۔ زندگی میں کیا کچھ ہضم کر جاتی‬
‫ہو گی‘ مجھ سے جاہل کی سوچ میں بھی نہیں آ سکتا۔ بادشاہوں‬

‫اور اس کے متعلقین کے گلچھرے اگر عموم کے سوچ میں‬
‫آجائیں تو قیامت سے پہلے قیامت ہو جائے گی۔ عارضی اور‬
‫مستقل کا معاملہ الگ سے ہے۔ مستتل کا مرتے دم تک پیٹ نہیں‬
‫بھرتا اور آنکھیں تشنہ رہتی ہیں۔ یہی نہیں لوٹنے اور سمیٹنے‬
‫کی اسے جلدی پڑی رہتی ہے۔ عارضی کے پاس تو مخصوص‬
‫اور محدود مدت ہوتی ہے اس لیے تن مچانا غیر فطری نہیں۔‬
‫جمہوریت والے تو چند سالوں کے لیے آتے ہیں اس لیے ان کا‬
‫انھی پانا غیر فطری نہیں۔ وہ عوام کو کیا کریں‘ انہیں اپنی لوٹ‬
‫مار سے فراغت ملے گی تو ہی عوام کے سیاپے پیٹیں گے۔‬

‫حاکم کبھی غلط نہیں ہوتا گویا ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔‬
‫ہاں مات کھا کر سیٹ سے مرحوم ہونے والا کبھی درست ہو ہی‬
‫نہیں سکتا۔ تمام ادارے بشمول عساکر‘ فاتح کے ساتھ ہوتے ہیں۔‬
‫طاقت کے ساتھ سب چلتے ہیں۔ یہی اصول رہا ہے اور رہے گا۔‬
‫اس کے خلاف اٹھنے والے سر قلم ہوتے رہیں گے۔ نقطے کی‬
‫بات یہ کہ ادارے شاہ کے بل پر کھاتے ہیں اور شاہ ان اداروں‬

‫کے بل پر اندھیر مچاتا ہے۔ ناب قاصد سے شاہ تک ایک ہی‬
‫زنجیر کی کڑیاں ہوتی ہیں۔ لہذا کسی چھوٹے کی اس سے بڑے‬

‫کی شکایت کا فائدہ ہی کیا۔‬

‫تاہم یہ طے ہے کائنات میں ضدین بھی کام کرتی ہیں۔ ہر کوئ‬
‫کسی ناکسی چیز سے ضرور ڈرتا ہے۔ اپنے اپنے کام نکلوانے‬
‫کے لیے تحقیقی عمل کا تیز ہونا ضروری ہے۔ ہر بااختیار اور‬
‫شکار کی چیر پھاڑ کا ماہر میل‘ اپنی اور پرائ منہ متھے والی‬

‫فیمیل سے ڈرتا ہے فیمیل چوہے سے ڈرتی ہے لہذا چوہے‬
‫چھوڑنے سے کام نکل سکتے ہیں۔ برمحل حسب ضرورت اور‬
‫ایکٹیو چوہا نہ چھوڑا گیا تو کام پہلے سے بھی بگڑ سکتا ہے۔‬
‫حسین کی طرح قبلہ درست کرنے کی ضرورت نہیں۔ حسین ایک‬
‫ہی تھا اور ہم حسین نہیں ہیں۔ ہر وقت معاملے کے حوالہ سے‬
‫اپنے ساتھ دوچار چوہے ضرور رکھو اور یہ متعلقہ کی سرکاری‬

‫فیمیل کے دامن میں چھوڑو پھر دیکھو غائب سے کیا کیا نمودار‬
‫ہوتا ہے۔ غیر سرکاری متعلقہ فیمیل کے دامن بے حیا میں بھی‬
‫چھوڑا جا سکتا ہے۔‬

‫گریڈ ‪ ٧١‬کے ایم فل الاؤنس سے متعلقہ کلرک بادشاہ کو معافی‬
‫کے کھاتا میں رکھیں وہ بڑے معصوم شریف دیانت دار اور راہ‬
‫راست کے راہی ہیں۔ دونوں بیبیوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔‬
‫وہ خود ہی سر چڑھتی ہیں اور چوتھائی سے زیادہ بالائی چٹ‬

‫کر جاتی ہیں۔ ان سے قسم لے لو جو آج تک انہوں نے کبھی‬
‫دعوت خورد و نوش کی دعوت دی ہو مگر حسین مہمان کی‬
‫مہمانی کو بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کفران نعمت کے‬

‫مترادف ہے۔‬

‫ان پر فضول خرچی کا الزام قطعی غلط بےبنیاد اور معنویت سے‬
‫تہی ہے۔ وہ پلے سے ایک اکنی تک خرچ نہیں کرتے۔ سگریٹ‬
‫کے پنے میں بڑی احتیاط سے محفوظ کی گئ جاز کی سم میں‬
‫بالائی سے بیلنس ڈلوا کر پییکج کرکے اپنی معزز غیر سرکاری‬
‫خواتین سے چھپ چھپا کر کچھ ہی وقت کے لیے تو خوش‬

‫طبعی اور گوارا خوش طبعی فرماتے ہیں۔ وہ کوئی اکیلے ہیں جو‬
‫ان کی پیٹھ پیچھے ساتھ والے غلط سلط باتیں کرتے ہیں۔ چغلی‬
‫بہت بری بیماری ہے۔ اسلام اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔‬

‫ساتھ والے کون سا ہل پر نہائے ہوئے ہیں۔ ٹھرک اور جنسی‬
‫عشق بازی تو روٹین کا معاملہ ٹھہرا ہے۔ اس حمام میں حسب‬

‫توفیق تقریبا سارے بےلباس ہیں ۔ ان کی بےلباسی میں بھی‬
‫حسن سلیقہ اور کمال کا رکھ رکھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس کی باذوق‬

‫حضرات کو کھل کر داد دینی چاہیے۔‬

‫میں نے یہ محض چوہا چھوڑا ہے اسے سچ نہ سمجھا جائے‬
‫ورنہ وہ تو دیانت اور شرافت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہوں نے‬

‫آج تک میلی اور سچی آنکھ سے کبھی کسی غیر سرکاری‬
‫عورت کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے آج تک کسی سے ایک دمڑی‬
‫تک نہیں لی۔ اگر لی ہو تو رشوت دینے والے کے ہاتھوں میں‬
‫قبری کیڑے پڑیں۔ اس کا نہ اس جگ بھلا ہو اور ناہی قیامت کے‬
‫دن چھٹکارہ ہو۔ رشوت دینے والے سیدھے دوزخ میں جائیں‬
‫گیے۔ جائز کام نہ کرائیں گے تو مر نہیں جائیں گے۔ انھیں یہ‬

‫صاحب نائ بھیج کرنہیں بلواتے خود اپنے قدموں پر چل کر‬
‫جاتے ہیں۔ رہ گئ خواتین کی بات اسے چوہا سمجھ کرنظرانداز‬
‫کر دیں۔ ایسی کوئ بات ہی نہیں۔ یقین نہیں آتا تو ان سے یا ان‬
‫خواتین سے قسم لے لیں۔ قسم کے معاملہ میں مجھے نہ لائیں۔‬

‫میں کسی کے ذاتی معاملہ میں دخل اندازی کا قائل نہیں۔‬

‫میں نے آغاز میں عرض کیا تھا کہ زندگی بڑی پچیدہ اور الجھی‬

‫ہوئ گھتی ہے۔ اسے سمجھنا آسان نہیں۔ ہم جو دیکھ یا سمجھ‬
‫رہے ہوتے ہیں وہ اصلی اور حقیقی نہیں ہوتا۔ موصوف کی‬

‫سرکاری محترمہ کو محض شک تھا۔ شک کوئ اچھی اور صحت‬
‫مند چیز نہیں۔ اپنے جیون ساتھی پر شک کرنے سے پاپ لگتا‬

‫ہے۔ شک درمیان کی چیز ہے گویا نہ مونٹ نہ مذکر۔ انھیں شک‬
‫سے دور رہنا چاہیے یا ہونی سمجھ کر صبر و شکر سے کام‬

‫لینا چاہیے عالی ظرف لوگوں کا یہی طور اور وتیرا رہا ہے۔ غلط‬
‫سمجھنے یا تذبذب کی حالت میں زندگی کرنے والے اعتماد کی‬
‫دولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ شک سے جان چھڑا کر اور‬
‫ہونی کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ایک شخص سارا دن کھپتا‬
‫کھپاتا ہے اسے ٹیسٹ بدلنے کا حق ملنا چاہیے۔ پرانی اشیاء‬
‫سے منہ تو نہیں موڑ رہا ہوتا تو پھر رولا کس بات کا ہ ِے؟‬

‫آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم‬

‫ہم میں سے ہر کوئی لینے کے لیے اگلی صفوں میں کھڑا نظر‬
‫آتا ہے۔ اپنے حقوق کی وصولی کے لیے احتجاج کرنے میں‬

‫کوئ کسر نہیں چھوڑتا۔ جب حق دینے کی باری آتی ہے تو رونا‬

‫ہی نہیں موت پڑ جاتی ہے۔ وہ وہ جواز گھڑتا ہے کہ عقل دھنگ‬
‫رہ جاتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں ہم لینا جانتےہیں لیکن‬

‫دینے کا نام بھی سننا نہیں چاہتے۔ ریاستی ٹیکس کی وصولی تو‬
‫یاد رہتی ہے لیکن ان ٹیکس دہندگان کو ریاستی حقوق اور‬

‫سہولتیں یاد سے باہر ہو جاتی ہیں۔ ہاؤسز جو عوام کے خون‬
‫پسینہ سے چلتے ہیں وہاں اکھاڑ پچھاڑ اور عوام کو الو بنانے‬
‫کی تراکیب تراشی جاتی ہیں۔ وہاں بجلی پانی اور گیس کی تھوڑ‬
‫نہیں آتی۔ عوام جو محنت کرتے ہیں اور ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں‬
‫ان تینوں بنیادی ضرورتوں سے محروم رہتے ہیں۔ آواز اٹھاتے‬

‫ہیں تو چھتر کھاتے ہیں۔ کیا یہ اندھیر نہیں؟ اس سے بڑھ کر‬
‫شخصی حقوق کی بےحرمتی اور کیا ہو گی۔ غاصب معزز بھوک‬

‫و پیاس اوڑھنے والا شدت پسند۔‬

‫ڈاکٹر حضرات کے بارے بات کرتے خوف آتا ہے کیونکہ بیمار‬
‫نظام و معاشرت کے باشندے بیمار رہتے ہیں اس لیے ڈاکٹر‬
‫حضرات سے واسطہ رہتا ہے۔ تنقید کی صورت میں کھال تو‬

‫اتاریں گے ہی لیکن ساتھ میں خدا معلوم کیا کر گزریں۔ ہماری‬
‫شفا گاہوں کے چوہے بھی ہمارے ڈاکٹروں کی طرح انسانی‬

‫گوشت کے شوقین ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے کس شد و مد سے‬
‫رولا ڈالتے چلے آ رہے ہیں لیکن انہیں اپنی غلطیاں نظر نہیں‬

‫آتیں۔ کہتے ہیں ملازمین پر انکواءریاں لگ گئ ہیں۔ اس سے کیا‬

‫ہو گا ہمیشہ کی طرح کچھ بھی نہیں۔ دو چار ماہ معطل رہیں گے۔‬
‫معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد کچھ دو اور کچھ لو کے تحت پروانہ‬
‫بحالی جاری ہو جائے گا یا کسی دور دراز علاقہ میں تبادلہ کر‬

‫دیا جاءے گا اس طرح واپسی کےمعقول داموں کی وصولی کا‬
‫بندوبست کر لیا جائے گا۔ گویا ہر حوالہ سے وصولی ہی‬

‫وصولی۔ باور رہے معطلی میں تنخواہ بند نہیں ہوتی ہاں بالائ‬
‫جو تنخواہ سے ٹن ٹائم زیادہ ہوتی ہے‘ بند ہو جایے گی۔ معطلی‬
‫کے دن گربت کے دن ہوں گے لیکن بھوکوں مرنے کے دن نہیں‬

‫ہوں گے۔‬

‫ایک انسان جس نے نہ اچھا اور نہ ہی کچھ برا کیا‘ بالکل‬
‫فرشتوں اور دیوتاوں کے اوتار کا سا‘ بلا جرم زندگی سے گیا۔‬

‫ماں باپ کو ہمیشہ کے لیے سوگوار کر گیا۔ کیا یہ قتل نہیں‬
‫ہوا؟؟؟‬

‫ڈاکٹر اور ماتحت عملہ کس خدمت کی تنخواہ وصولتا ہے۔ کسی‬
‫بھی ملازم سے پوچھیں اسے یہ خوب خوب معلوم ہو گا کہ‬

‫مہنگائی بڑھ گئی ہے اور تنخواہ بہت کم ہے۔ اسے یہ یاد نہیں‬
‫ہو گا کہ اس کے کچھ فرائض بھی ہیں۔ اس کے ذہن سے بالائی‬
‫کی رقم بھی محو ہو چکی ہوتی ہے۔ اس معصوم بچے کا چوہے‬
‫کے ہاتھوں مر جانا ڈاکٹری کے منہ پر طمانچہ ہے لیکن یہ تب‬


Click to View FlipBook Version