ہے جب وہ اسے طمانچہ سمجھیں گے۔
زخمی ہونے کی صورت میں بھی یہ جرم کوئی معمولی جرم
نہیں۔ قتل یا زخمی ہونے کے حوالہ سے عدلیہ کے سامنے مسلہ
لایا جانا چاہیے۔
حق اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ بد نصیب بچہ ڈیوٹی پر
موجود عملہ اور ڈیوٹی آفیسر کی لاپرواہی سے مرا نہیں ان کے
ہاتھوں قتل ہوا ہے۔ کس بات کی انکوائری جو اس دورانیے میں
ڈیوٹی پر تھے اس بچے کے قاتل ہیں۔ قاتل کی سزا ہمارے
قانون میں غیر واضع نہیں۔
اس سے یہ بات بھی کھلتی ہے کہ ہماری شفاگاہوں میں صفائ
ستھرائی کا کیا عالم ہے۔ لوگوں میں صفائی ستھرائی کے پمفلٹ
بانٹنے والوں کے اپنے ہاں صفائی ستھرائی معنویت نہیں
رکھتی۔ کوئی ذمہ دار اور غیر جانب خود جا کر بلا اطلاع جا کر
دیکھے‘ مجھے یقین ہے سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔ سچی بات تو
یہ ہے محکمہ صحت پر فضول خرچ کیا جاتا ہے۔ یہاں داخل ہو
کر بھی یہاں کے لوگوں سے پرائیویٹ طبی امداد لینا پڑتی ہے
ہماری شفا گاہیں
غالب کے اس مصرعے کا زندہ عکس ہیں
دل کو خوش رکھنے کے لیے غالب یہ خیال اچھا ہے
سنتے ہیں کھانسی کے سیرپ میں خطرناکی وارد ہو گئ ہےاور
اس کے پینے سے کچھ کھانسنے والے الله کو بھی پیارے ہو
گئے ہیں۔ یہاں کا ہر دوسرا بڈھا کھانستا ہے۔ لگتا ہے بڈھا مکاؤ
مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ بڈھے وقتا فوقتا معاملات میں ٹانگ
اڑاتے رہتے ہیں۔ وہ بھی کیا کریں ان کی قوت برداشت کم یا ختم
ہو چکی ہوتی ہے اسی لیے بلاطلب مشورے دیتے رہتے ہیں۔
بڈھوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی چونچ بند رکھا
کریں۔ قوم کو وہ کھٹکنے لگے ہیں۔ یہ کوئ ان کے حوالہ سے
صحت مند علامت نہیں۔ ایک مخصوص طبقہ ان کے پیچھے پڑ
گیا ہے۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے لہذا وہ محتاط ہو جائیں۔
چونچ بند کرنے کی ابتدا میں اپنی ذات سے کرتا ہوں۔ کھانسی کا
سیرپ بنانے والوں سے استدعا کرتا ہوں ایک بار بڈھوں
کومعاف کر دیں۔ آئندہ وہ احتیاط سے کام لیں گے اور شکایت کا
موقع نہیں دیں گے۔ ایک موقع تو ملنا چاہیے۔ حکومت سے اس
لیے اپیل نہیں کروں گا کہ اس کے پاس جنتا کی بھلائی اور
بہبود کے لیے کچھ کرنے لیے وقت کہاں ہے۔
عوام بھوک اور گڑ کی پیسی
دو شخص ہوٹل میں گرما گرم بحث کر رہے تھے۔باتوں سے
دونوں بےپارٹی کے لگتے تھے۔ بے پارٹی اشخاص کا مختلف
سمتوں میں چلنا اوراتنی گرما گرمی دکھانا مجھے بڑا ہی عجب
لگا۔ خیرمیں بے تعلقی ظاہر کرتے چائے نوشی میں مشغول رہا۔
ان کا موضوع سخن مہنگائ اور بےروزگاری تھا۔ وہ یوں ایک
دوسرے سے الھج رہے تھے جیسے ان دونوں میں سے کوئی
ایک ان خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔
ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار خود عوام
ہیں۔ آخرانھوں نے ان بدمعاشوں کو ووٹ ہی کیوں دیے۔
دوسرے کا کہنا تھا اطراف میں بدمعاش تھے ایک کو ممبر بننا
ہی تھا۔ دوسری طرف اگر کوئی شریف تھا اور ممبر نہیں بن
سکا تو بات کریں۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ کام شریفوں کا کبھی
بھی نہیں رہا۔ پوری جمہوری تاریخ کو دیکھ لیں۔ اسمگلر
چوراچکے سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے رسہ گیر صاحب
زادے نواب زادے حرام زادے امریکہ کے چہولی چک اس عمل
کا حصہ رہے ہیں۔
دوسرا اس بات پر بضد تھا کہ قصور سارا عوام کا ہے۔ کچھ
فیصد ہی سہی لوگ جمہوریت کا حصہ کیوں بنتے ہیں۔ پہلے کا
موقف تھا کہ لوگوں کو بھوک میں نک نک ڈبو کر الیکشنوں
کے دنوں میں چوپڑی روٹی اور لگ پیس دکھا کر یہ لوگ ووٹ
حاصل کر لیتے ہیں۔ لوگ چند دن کی سیری کو دیکھ کر پچھلے
اور اگلے سالوں کی قیامت ناک بھوک کو بھول جاتے ہیں۔
ان میں سے ایک جس نے جوش خطابت میں چائے کا ابھی تک
ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا‘ کا کہنا تھا کہ صدر وزیر اعظم اور
اسپیکر تو ڈھنگ کے منتخب کیے جاءیں۔ شاید اسے معلوم نہ
تھا کہ انھیں عوام منتخب نہیں کرتے۔ یہ عوامی نمائندے نہیں‘
اپنی پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنی پارٹی کے
مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے کیا مطلب۔ وہ عوام
کو جوابدہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ اسپیکر نے
وزیر اعظم کے حوالہ سے جو فیصلہ دیا ہے۔ عوامی مفاد میں
نہیں دیا۔ اگر وہ عوام کا نمائندہ ہوتا تو اسے عوام کا مفاد عزیز
ہوتا تو فیصلہ عوامی ہوتا۔ عدلیہ کی عزت اور وقار کو یوں
پاؤں کی مٹی نہ بناتا۔ فیلصے میں واضع کرتا کہ کون آءین کا
قاتل ہے۔ اس کے فصلے سے آئین بحال نہیں ہوا۔ آئین ابھی تک
چیلنج یا معطل ہے۔
اتنی دیر میں بجلی آ گئ۔ دونوں کا جوش ہوا ہو گیا۔ دونوں سر
پر پاؤں رکھ کر بھاگ گئے۔ میں سوچ میں پڑ گیا اتنا گہرا شعور
انھیں کس نے دیا ہے۔ کیا یہ بھوک پیاس اور اندھیرے کی
مہربانی ہے یا میڈیے کی کارگزاری ہے۔دوسرا سوال یہ بھی
کھڑا تھا کہ شعور انقلاب کی طرف لے جا رہا ہے یا بھوک
شعور کو کھا پی جائے گی۔
ان دونوں کا بجلی کے آنے پر دوڑ لگانا ظاہر کرتا ہے کہ شعور
کسی بھی سطع پر ہو بھوک سے تگڑا نہیں ہوتا۔ روٹی ایمان کی
بناء ہے۔ شخص کتنا ہی مظبوط کیوں نہ ہو بھوک کے ہاتھوں
بک جاتا ہے۔ لوگوں کو بھوک کی آخری سطع پر اسی لیے پنچا
دیا گیا ہے کہ وہ اپنا ضمیر ایمان اور عزت بیچنے پر مجبور ہو
جائیں۔ بھوک کےتیور دیکھتے ہوئے میں پورے یقین سے کہہ
سکتا ہوں کہ یہاں کوئ تبدیلی نہیں آئے گی۔ لوگ ہوٹلوں میں
بیٹھ کر بڑےاونچے درجے کی باتیں کرتے رہیں گے لیکن بجلی
آتے ہی روٹی کی طرف بھاگ اٹھیں گے۔
بغداد والے کوا حلال ہے یا حرام پر بحثیں کرتے رہے ادھر
ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سےاینٹ بجا دی۔ ہمارے ساتھ بھی
یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ ہماری خودداری پر ہر دوسرے کاری
ضرب لگاتا ہے اور ہمارے لیڈر اگلے الیکشن جیتنے کے لیے
بھوک میں اضافے کا کوئی نیا راستہ تلاشنے کی سعی کرتے
ہیں۔
کار سستی آٹا چینی دال گھی مہنگی کر رہے ہیں۔ ایک عام آدمی
کو کار سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ بس کرایہ کم ہو تو غریب
سے تعاون سمجھ میں آتا ہے۔ اندھا بانٹے روڑیاں مڑ مڑ اپنیاں
نوں۔ کار کا سستا ہونا غریب پروری کے کس زمرے میں آتا
ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے کہ میک اپ بھی سستا کر
دیا گیا ہے۔ غالبا قوم کوکوٹھے پر بیٹھانےکا ارادہ ہے۔
قوم اس نام نہاد آزادی کے دن سے لے کر آج تک کوٹھے پر
بیٹھی ہے۔ جوآتا ہےاس کی جان مال عزت آبرو انا اور غیرت
سےکھیلتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد ہر کوئ
اس کے جبروستم کے قصے چھیڑ دیتا ہے لیکن یہ سب زبانی
کلامی ہوتا ہے۔ کوئی اس پر گرفت نہیں کرتا۔ گئے وقت کی
چھوڑیے کوئی موجودہ کے سدھار کی کوشش نہیں کرتا۔ ہر آتا
دن گزرے سے بدترین ہوتا ہے۔
عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ان نام کے قومی
لیڈروں کی ناک کے نیچے رشوت کا بازار گرم ہے۔ اکثر افسر ان
کے اپنے بندے ہیں۔ کم از کم جو ان کے اپنے بندے نہیں ہیں ان
پر تو گرفت کریں تاکہ وہ ان کا بندہ ہونے کا جتن کریں۔
محکمہ تعلیم اوروں کے لیے نمونہ ہونا چاہیے لیکن اس کا حال
بےحال ہے۔ ان دنوں لیکچرر سے اسسٹنٹ پروفیسرز کی
پوسٹنگ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ خالی پوسٹوں اور پوسٹوں کی
اپ گریڈیشن کے بھاؤ لگ رہے ہیں۔ جو گرہ ڈھیلی نہئں کرے گا
دور دراز علاقوں کی ہوا کھائے گا۔ نیلے پیلے نوٹ میرٹ بناتے
ہیں۔ کوئ پوچھنے والا نہیں۔
پوچھنے والوں کے ہاتھ میں سفید گڑ کی پیسی ہے اور وہ یہ
سوچے بغیر کہ دانت خراب ہوں گے چوسے پہ چوسا مارے جا
رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں خراب دانتوں کا علاج کون سا گرہ خود
سےہونا ہے۔ سرکار کا اشیرواد اور قوم کا مال سلامت رہے۔
انھیں پریشان کی کیا ضرورت ہے۔
رشوت کو طلاق ہو سکتی ہے
ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم پوچھا۔ اس
شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس پر چرسی بولا اس
ملک نے خاک ترقی کرنی ہے۔ صبح سے پوچھ رہا ہوں ہر کسی
کا اپنا ٹائم ہے۔ بات تو ہنسی والی ہے لیکن ذرا غور کریں گے
تو اس بات کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔
اس ملک میں ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو اپنے مطلب
کے معنی دے رکھے ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ رکھے
ہیں۔ یہی منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے
مختلف بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں اشیائے
خوردنی کے ایک سے نرخ سننےکو نہیں ملیں گے۔ کپڑا خریدنا
ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے نرخ ہوتے ہیں۔
سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ اور شام کو کچھ کہتا
ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی شخص اور موقع کی مناسبت سے
بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی کے برعکس کہنے میں کوئ
عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔واپڈا والے ہوں اکاؤنٹس
آفس ہو گیس والوں کےہاں چلے جائیں خدا نخواستہ نادرہ
والوں سے کام پڑ جائے جو عوما نہیں اکثر پڑتا ہی رہتا ہے۔ یہ
تو خیر مقامی دفاتر ہیں بڑے دفاتر یہاں تک کہ مہا منشی ہاؤس
کے دفاتر جن سے دادرسی کی امید رکھی جاتی ہے‘ کے بھاؤ
ایک نہیں ہیں۔ ایک ہی کام کے مختلف نرخ ہیں۔ اپنا یا بیگانہ کی
تخصیص موجود نہیں۔ یہاں کوئ اپنا یا پرایا نہیں۔ مفت بھر کسی
سطع یا کسی حوالہ سے فیض حاصل نہیں کرپاتے۔ پلہ ہر کسی
کوجھزنا ہی ہوتا ہے۔ بہوتا اوکھا فنی خرابیوں سے عمر بھر
نبردآزما رہتا ہے۔
مجھے بھتہ لینے یا دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دنیا لین دین
پر استوار ہے۔ بھتہ خور حالات کے ہاتھوں خود مجبور ہیں۔
تنخواہ میں وہ کچھ چل ہی نہیں سکتا جو بھتہ شریف کی برکت
سے چلتا آ رہا ہے۔ تنخواہ سے دو انچ زمین خرید کر دکھا دیں۔
کار تو بڑی دور کی بات تنخواہ میں سائیکل کا ایک پیڈل خریدا
نہیں جا سکتا۔ بھتہ خوری خانگی مجبوری ہے۔ گھر میں سکون
ہو گا تو پورے معاشرے میں سکون ہو گا۔ بھتہ سیاسی مجبوری
بھی ہے۔ لفافہ کلچر سیاسی لوگوں کی عطا ہے۔ عطا بری نہیں
ہوتی۔ ہاں کچھ کو ماش موافق اور کچھ کو بادی۔
یقین مانئیے میں اس سیاسی عطا کے خلاف نہیں ہوں ہاں میرا
موقف یہ ہے کہ اسے فکس ہونا چاہیے۔ یہ کیا ایک ہی کام کے
ایک سے دس دوسرے سے پندرہ اور کسی پر آٹھ ہزار میں
مہربانی کر دی جائے۔ ساتھ میں روٹی کی جگہ چائے بسکٹ
کیک پیس اور نمکو پر ہی کام چلا لیا جائے۔ ۔یہ انداز اور رویہ
کسی طرح درست نہیں۔ اس انداز و رویہ کے حوالہ سے بے
چینی پھیل رہی ہے۔ چرسی غلط نہیں کہہ رہا تھا۔ پوری قوم
خصوصا دفاتر کو بےٹائیمی کے اندھے کنویں سے نکالا جائے۔
بالکل اسی طرح نرخی نظام کا قیام دقت کا تقاضا ہے۔
کچوپیے تو خیر اس ذیل میں نہیں آتے۔ ہمارے پاس یک نرخی
کی ایک قابل تقلید مثال موجود ہے۔ کسی بھی نیٹ ورک کا سو
روپیے کا لوڈ کروایں بیاسی روپیے اور کچھ پیسے کا بیلنس
لوڈ ہوتا ہے۔ کہیں ایک پیسے کا فرق نہیں آتا۔ اس یک نرخی کا
فایدہ یہ ہے کہ پاکستان میں پاکستانی روپیے کی حقیقی قیمت کا
اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ دیکھنے میں سرخ نوٹ سو روپیے کا ہوتا
ہے لیکن اس کی اپنے ہی دیس میں قیمت بیاسی روپیے اور
کچھ پیسے ہوتی ہے۔
حکومت کا اصولی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ تمام دفتر
سے ہر قسم کے چھوٹے موٹے کاموں کی فہرست طلب
کرے۔روییےکی عصری پاکستانی قدر کے مطابق اپنا جگا ڈال کر
ریٹ طے کرے۔ یہی نہیں اسے بینکنگ نظام سے وابسطہ کر دیا
جائے۔ سائیلوں کو دفاتر کے دھکوں سے نجات مل جائے گی
اور ہر کسی کو بینک چالان پر طے شدہ کوڈ کے مطابق حصہ
مل جائے گا۔ سائل چالان کی نقل پاس رکھ کر اصل متعلقہ دفتر
میں جمع کرا دے گا۔ مقررہ تاریخ کو چند روپیے کچوکیے کے
ہاتھ میں رکھ کر اپنے کاغذ پتر خوشی خوشی گھرلے جائے گا۔
اس سے رشوت اصطلاح کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طلاق ہو
جائے گی۔
لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت
لوٹا کوئی عہد جدید کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پہلے وجود میں
آ کیا تھا اور اس نے اپنی بہترین کارگزاری کے حوالہ سے
انسانی زندگی میں بلند مقام حاصل کر لیا۔ اس کے وجود سے
انسان خصوصا برصغیر کے بااختیار اور صاحب حیثیت لوگوں
نے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ دیکھا جاءے یہ کمزور اور گریب
طبقے کی چیز ہی نہیں۔ پکے محل رکھنے والے اس کی
کارگزاری کے معترف رہے ہیں۔ کمزور اور گریب طبقے سے
متعلق لوگ کچے اور تعفن کے مارے گھروں میں رہتے ہیں اس
لیے ان کی گزر اوقات گھیسی سے ہو جاتی ہے۔ اس حیقیت کے
پیش نظر لوٹے کو بلند پایہ طبقوں کی امانت سمجھنا چاہیے۔
موجودہ بتی کے بحرانی دور میں بھی بڑے لوگوں کو گھیسی
نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ سعادت صرف اور صرف کمزور اور گریب
طبقے کے مقدر کا حصہ رہے گی۔
لوٹا" کو آفتابہ بھی کہا جاتا رہا ہے لوٹے کو استاوا بھی کہتے "
ہیں اور یہ لفظ دیہاتوں میں آج بھی مستعمل ہے۔ تاہم شہروں
میں مستعمل اور معروف لفظ لوٹا ہی ہے۔ یہ ایک قسم کا ٹونٹی
والا برتن ہوتا ہے جو پاخانہ وغیرہ کے لیے پانی سے طہارت
کرنے والا برتن ہوتا ہے۔ مغرب والے اس برتن اور اس کی
افادیت سے آگاہ نہیں ہیں کیونکہ وہ طہارت کا کام ٹیشو پیپر
سے چلاتے ہیں۔ ویسے ٹیشو پیپر کا استعمال کھانا کھانے کے
بعد ہاتھ صاف کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اصطلاحا ٹیشو پیپر
کے معنی اس سے مختلف ہیں۔ کام نکل جانے کے بعد آنکھیں
بدل لینا کے لیے یہ مرکب استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال شدہ
ٹیشو پیپر معنویت کھو دیتا ہے۔ انسان کے لیے اس مرکب کا
استعمال کرنا مناسب نہیں لگتا کیونکہ انسان کی دوبارہ سے
ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ ٹیشو پیپر دوبارہ سے استعمال میں
نہیں لایا جا سکتا۔ دوبارہ سے ضرورت یا حاجت کے لیے نیا
ٹیشو پیپر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انسان دوبارہ
سے کیا' بار بار استعمال میں لایا جا سکتا ہے .ٹیشو پیپر کا
ہاتھ اور پیٹھ کی صفائی کے علاوہ کوئ قابل ذکراستعمال موجود
نہیں۔
مساجد میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے آج بھی زیادہ
تر مٹی کے لوٹے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔ کہیں کہیں پلاسٹک
کے لوٹے بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ جماعت والے جب
چلے پر جاتے ہیں پلاسٹک کے لوٹوں کو ترجیع دیتے ہیں
کیونکہ ان کے ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ سفر میں لوٹا ٹوٹنا یا بہہ
جانا نہوست ہی نہیں مکروہات میں بھی ہے۔ لوٹے کی سلامتی
میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔ طہارت کا سارا دارومدار لوٹے
پر ہوتا ہے۔ لوٹا برقرار ہے تو طہارت برقرار ہے۔ طہارت برقرار
ہے تو ہی عبادت ممکن ہے۔
شہر کے گھروں میں کانسی سلور سٹیل چاندی پلاسٹک وغیرہ
دھاتوں کے لوٹے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ایوا نوں میں
پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے غالبا آج بھی
پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوتے ہیں۔ فیشنی دور ہے ٹیشو پیپر
بھی بڑی افادیت رکھتے ہیں۔ ٹیشو پیپر کو لوٹے کا مترادف
سمجھا جاتا ہے۔ حقیت یہ ہے کہ ۔ ٹیشو پیپر لوٹے کا متبادل ہو
ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں پانی کا عمل دخل نہیں ہوتا دوسرا
ٹیشو پیپر ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں ہو سکتا۔ گویا
گھیسیی اور ٹیشو پیپر برابر کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ گھیسیی
طہارت کے حوالہ سے زیادہ معتبر ہے۔ مٹی سے وضو تک کیا
جا ستا ہے۔ وضو کی ضرورت نماز تک محدود ہے۔ ہہاں لوگ
بسم الله شریف تک درست نہیں پڑھ سکتے لہذا ٹیشو پیپر کا
استعمال ایسا غلط نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اس قماش کے لوگ
گھیسی بھی کر لیں تو کوئ برائ نہیں۔ طہارت کے لیے لوٹا'
گھیسی یا ٹیشو پیپر نہ بھی استعال میں لائیں تو بھی ان کی سر
جائے گی۔ یہ لوگ عوام کا ووٹ حاصل کرکے طہارتیوں میں
شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پاکی پلیدی پر انگلی نہیں رکھی جا
سکتی۔
لوٹے کے چھوٹا یا بڑا ہونے کے حوالہ سے بات ہوئ ہے لوٹا
چھوٹا ہو یا بڑا' بظاہر ا س سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ لوٹا اول تا
آخر لوٹا ہے کہاں تک ساتھ دے گا۔ مٹی کا لوٹا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔
لوٹےکے بڑا یا چھوٹا ہونے سے اچھا خاصا اثر پڑتا ہے۔
چھوٹے لوٹے میں پانی کم پڑتا ہے اس لیے طہارت کے لیے دو
سے زیادہ لوٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس
بڑا لوٹا بڑی حد تک ایک ہی کافی ہوتا ہے۔ رہ گئ ٹیشو پیپر یا
گھیسی کی بات ٹیشو پیپر بڑے ایوانوں یا بڑے گھروں کے کام
کی چیز ہوسکتی ہے لیکن دیہاتوں یا جھونپڑوں کے مقیم اسے
نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ ان کی تسلی کی چیز ہو afford
سکتی وہ گھیسی یا کچے روڑے کےاستعمال کو ترجیع میں
رکھتے ہیں۔
لوٹے کا اصطلاحی استعمال بڑے ایوانوں میں ہوا کرتا تھا
اصطلاحی لوٹا عوام کے متعلق چیز نہ تھی اور نہ ہی ایوانی
لوٹوں پر کسی قسم کی بات کرنے کا حق تھا ۔ ان کی یہ اوقات
بھی نہ تھی کہ وہ ایوانی لوٹوں کے متعلق کوئ بات اپنی ناپاک
زبان پر لاءیں۔ لوٹے ا اپنی اوقات اورافادیت کے حوالہ سے بڑی
رکھتے ہیں۔ کمی کمین عوام جو دوچار بتی کھچ importance
جھٹکوں کی مار نہیں ہیں' تقدس ماب لوٹوں پر اپنے حوالہ سے
ایک شبد بھی منہ سے نہ نکالیں۔ ان کی اتنی جرات اور ہمت
کہاں حالانکہ لوٹوں کے بارے اں کی بقلم خود رائے موجود رہی
ہے۔ عوام کو صرف اور صرف رائے دہی کا حق حاصل ہے۔ اگر
مخالف فریق کے ڈبے میں ووٹ چلا جاتا ہے تو رائے دہی کا
حق' داھندلی کے لقب سے ملقوب ہوتا ہے۔
میں اصل نقطے کی بات عرض کرنا بھول گیا ہوں لوٹے کی ہیت
ترکیبی ٹونٹی تک محدود نہیں پیندے کا اس میں بنیادی رول ہوتا
ہے۔ مٹی کے بعض لوٹے بلا پیندے کے بھی رہے ہیں۔ اس قسم
کے لوٹوں کے لیے پیالہ نما جگہ بنا دی جاتی تھی لیکن پیندے
وا لے لوٹے پیالے کی سعادت سے محروم رہتے تھے۔ پلاسٹک
کے لوٹے باپیندا ہوتے ہیں ہاں زیادہ استعمال کے باعث ان کا
پیندا ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن ٹوٹ پھوٹ کے باوجود پیندے کا
نام و نشان باقی رہتا ہے۔ انھیں استعمال کی کسی بھی سطع پر
بے پیندا لوٹا قرار نہیں دیاجا سکتا۔ استعمال کے سبب نیچے
سے کتنا بھی ٹوٹ جائے پیندے کا نشان ضرور باقی رہ جاتا
ہے۔ معمولی نشان بھی اسے باپیندا قراردینے کے لیے کافی ہوتا
ہے۔
سیانے مولوی اپنا طہارت خانہ الگ سے رکھتے ہیں لہذا ان کا
لوٹا بھی اوروں سے الگ تر ہوتا ہے۔ اس طر ح مولوی صاحب
کا لوٹا' مقدس لوٹا ہوتا ہے۔ دفاتر میں عملے کے طہارت خانے
عام استعمال میں رہتے ہیں اس لیے وہاں کے لوٹے کسی خاص
دفتری کے لیے مخصوص نہیں ہوتے ہاں البتہ افسروں کے
طہارت کدے ان کے دفتر کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ ان طہارت کدوں
کے لوٹے بڑی معنویت کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض افسر ٹیشو
پیپر استعمال میں لاتے ہیں' وہاں لوٹے نہیں رکھے جاتے ۔ کچھ
افسرز کے طہارت کدوں میں دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
موقع کی مناسبت سے لوٹے یا ٹیشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں
تاہم ان کے طہارت کدوں کی آن بان اور شان ہی کچھ اور ہوتی
ہے۔
حضرت پیر صاحبان کے واش روم زیر بحث نہیں لئے جا سکتے
کیونکہ حضرت پیر صاحبان نیک پاک اور عزت کی جگہ پر
ہوتے ہیں۔ یہ اپنی خانقاہ میں ہوں یا کسی ایوان کی زینت بڑھا
رہے ہوں' ان کے لوٹے دوہرے کام کے ہوتے ہیں .نہ گھومیں
تو چاند گھوم جائیں تو زنجیر وٹ پر رہتی ہے۔ بہرطور طہارتی
اور پرچی نکالنے والے لوٹے الگ ہوتے ہیں اس لیے ان کے
حوالہ سے بات کرنے پر پاپ لگتا ہے۔ ایوانوں میں تشریف
رکھنے والے حضرت پیر صاحبان سیاسی کھیل کے لیے پیندے
اور بے پیندے لوٹے استعمال میں لاتے رہتے ہیں اور یہ ان کا
پروفیشنل حق بھی ہوتا ہے لہذا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا
کہ وہ حضرت پیر صاحبان کے لوٹوں کی جانب میلی نظر سے
بھی دیکھنے کی گستاخی کرے۔ اس قسم کے لوگوں کی زمین پر
ٹہوئی نہیں ہوتیی۔
کوئ لوٹا نواز ہک پر ہتھ مار کر نہیں کہہ سکتا کہ لوٹا زندگی
کے کسی موڑ پر اپنی مرضی سےاوور فلو ہونے کی گستاخی
کرتا ہے۔ یہ لوٹے دار کی غلطی کوتاہی بے نیازی یا بے دھیانی
کے سبب اوور فلو ہوتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں بڑے لوٹے کے
برابر پانی ڈالو گے تو ہی بات بگڑے گی۔ اسی طرح بڑے لوٹے
میں چھوٹے لوٹے کا پانی طہارتی امور سرانجام نہیں دے سکتا۔
لوٹا دار کا فرض ہے کہ وہ تناسب کو ہاتھ سے ناجانے دے۔
:استاد غالب بلا کا لوٹا شناس تھا .تبھی اس نے کہا تھا
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
اماں حوا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آدم کی بچی ہوئ مٹی
سے بنائ گئ تھیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا تاہم یہ ایک میتھ
ضرور ہے۔ ایک عام آدمی کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں کے لوٹے
استاد غالب کے کسی نہایت حرامی لوٹے کی بچی ہوئ مٹی سے
وجود پذیر ہوئے ہیں۔ میں اس عقیدے پر یقین نہیں رکھتا تاہم یہ
ایک میتھ ضرور ہے۔
جگہ' قانون' لوگ اورحکومت کسی بھی ریاست کے وجود کے
لیے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ریاست وجود میں
نہیں آ سکتی۔ ان میں سے ایک عنصر بھی شارٹ ہو تو ریاست
نہیں بنتی۔ حکومتی ایوانوں میں لوٹے نہ ہوں تو معزز ممبران
لبڑی پنٹوں شلواروں کے ساتھ نشتوں پر بیٹھینگے ' سوسائٹی
میں پھیریں گے اس سے نا صرف حسن کو گریہن لگے گا بلکہ
بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں شلواروں والے ممبران کی
عزت کون کرے گا۔ گریب عوام اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائے
گا۔ کھوتا گھوڑا ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں کی خرید و
فروخت کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ سےپہلا
سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوٹوں کی تجارت پر کسی بھی
سطع پر کبیدہ خاطر ہونا سراسر نادانی کے مترادف ہے۔ ریاست
کے ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے لیے لوٹوں
کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی قسم کی تکلیف دینا
کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس کاروبار پر ناک منہ اور بھویں
اوپر نیچے کرنے والے حضرات غدار ہیں اور غدار عناصر کا
کیفرکردار تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں سزا دینے
کی حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادف ہے۔
آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں
الله نے قلم کو معتبرمعزز اور محترم بنایا۔ اس کی حرمت کا
اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ الله نے اس کی قسم
اٹھائ ہے۔ اگلے وقتوں میں کانے سے بڑے اہتمام کے ساتھ قلم
گھڑی جاتی تھی۔ ماسٹر کے جیب میں قلم گھڑ کر دینے کے لیے
کاچو ہوا کرتا تھا۔ دوکان سے بھی گھڑی گھڑائ قلمیں مل جاتی
تھیں۔ ٹک بڑی احتیاط کے ساتھ لگایا جاتا تھا۔ گھڑائ کے ساتھ
ساتھ خوش خطی میں اس ٹک کا بڑا عمل ہوتا تھا۔ خوش خطی
باقاعدہ فن تھا اور خوش خطی کے الگ سے نمبر ملتے تھے۔
اس میں شک نہیں کہ وہ لکھائ بڑی مشقت انگیز تھی۔ ہر اگلا
لفظ لکھنے کے لیے ٹوبا لینا پڑتا تھا۔ اس قلم کے ساتھ ڈنک
اور کچی پنسل بھی مستعمل تھے تاہم انہیں قلم کا نام و مقام
حاصل نہ تھا۔ جی کے نب والا ڈنک انگریز کے عہد میں مستعمل
ہوا۔ جی کے نب والے ڈنک کو انگریز ہونے کا شرف حاصل تھا
اس کے باوجود اسے قلم کا درجہ کبھی بھی حاصل نہیں رہا۔
الله نے کبھی اور کہیں ڈنک یا کچی پنسل کی قسم نہیں کھائ۔ قلم
سے کچی اور پکی سیاہی سے لکھا جاتا تھا۔ ہر دو طرح کی
سیاہی سے لکھی گئ تحریر قلم کی تحریر تھی اس لیے معتبر
اور محترم تھی۔ پن تو بہت بعد میں ولایت سے تشریف لایا۔
چونکہ وہ ولایت سے آیا اسے پن شریف کہنا غلط نہ ہو گا۔
دیسی گوروں نے پن شریف کو بھی قلم ہی کہا اور کسی حد تک
یہ نام بھی مستعمل ہوا۔ دیدہءبینا نے اسے کبھی قلم تسلیم نہیں
کیا۔ ان کے ہاں یہ پن ہی مستعمل رہا۔ بھیڑ کو وہ بکری کیوں
تسلیم کرتے۔ دیسی گورے رنگت کے گندمی‘ احساس برتری میں
اسے پن ہی کہتے تھے۔ یہ تھا بھی پن حالانکہ اس کے نب میں
بھی ٹک ہوتا تھا۔ پارکر جیسا قیمتی پن بھی ٹک کے بغیر نہیں
ہوتا تھا۔
وقت آگے بڑھا تو قلم پن متروک ہو گیے۔ ان جگہ بال پوانٹ نے
لے لی۔ بال پوائنٹ کو بائرو بھی کہا جاتا ہے اور یہی رائج ہے۔
جس پوائنٹ سے لکھتے ہیں وہ بلا ٹک ایک کوکا سا ہوتا ہے۔
ٹک نہ ہونے کے سبب اس سے مروت کی آشا بے فضول سی
ہے۔ اس میں سیاہی نہیں پڑتی۔ یہ بھری بھرائی ہوتی ہے۔ صاف
ظاہر ہے اس میں جو بھی بھرا جاتا ہے کیمیکل سے مبرا نہیں
ہو گا۔ بھرنے والے اپنی طینت اور مقاصد اس میں آمیزہ کرتے
ہوں گے۔ دفاتر ہوں یا شفاخانے یا درس گاہیں‘ اس کا سکہ چلتا
ہے اور بڑے بھار سے چلتا ہے حالانکہ اس کی اوقات اتنی ہے
جب اس کے اندر کا مواد ختم ہو جاتا ہے اسے کچرے کے ڈبے
کی زینت بننا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس پن کی یہ حیثیت نہ تھی۔
سیاہی ختم ہوتی تو دوبارہ سے بھر لی جاتی۔ نب ٹوٹ جاتا نیا
نب بازار سے مل جاتا تھا۔
ڈاکٹر عبداقاضی لله کمال کے عالم فاضل ہیں۔ خیر سے ڈبل پی
ایچ ڈی ہیں۔ زندگی پڑھنے لکھنے میں گزار دی ہے۔ ان کی
شرح بخاری کویت سے شائع ہو رہی ہے۔ اتنے پڑھ لکھ کر بال
پوائنٹ کی طاقت کو نہیں مانتے۔ عہد جدید میں بھی پن سے
لکھتے ہیں وہ بھی ایگل کے پن سے۔ پارکر کا قلم رکھتے ہوئے
ایگل کے پن سے لکھنا پارکر کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔
کل فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ قلم کی حرمت
جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ تو سنا تھا عزت‘ عزت اور حرمت
ایک ہی بات ہے بچانے کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کی
جاتی۔ جان بار ملنے کی چیز نہیں لہذا اسے بچانے کے لیے
عزت نیلام کر دی جاتی ہے۔ دونوں طرح کی صورتیں تاریخ میں
ملتی ہیں۔
عزت پر جان قربان کرنے والے خال خال ملتے ہیں۔ سقراط نے
زہر پی لیا لیکن ارسطو میدان چھوڑ گیا۔ پورس جب جان کو
ہتھیلی پر لے کر میدان میں اترا تو سکندر کو فرار اختیارکرنا
پڑا۔ اہل بال پوائنٹ کو دیکھیے اس نے نیچے والے بابے کو
اوپر قرار دے دیا۔ ریفریری کسی کو بھی آؤٹ دے سکتا ہے۔
اچھی بھلی بال کو نو بال قرار دے دینا اس کے ایک اشارے کی
مار ہے۔
ڈاکٹر قاضی کے نزدیک قلم سے بددیانتی ماں بہن کے ساتھ
زیادتی کے مترادف ہے۔ قلم مستعمل نہیں اس لیے بددیانتی کا
سوال ہی نہیں اٹھتا۔ دوسرا ہر وہ کام جسے الله اور اس کا
رسول حرام قرار دیتا ہے بااختیار طبقے اسے کرکے فخر
محسوس کرتے ہیں۔ زمین پر کسی ضمنی پارٹ کے سہی وہ خدا
ہیں‘ اس لیے وہ زندگی بھی اپنی مرضی کی گزارتے ہیں اور
اپنی ساختہ شرع پر عمل کرتے ہیں۔
سماجی پابندی ہو یا اخلاقی یہ ان کے لیے معنویت نہیں رکھتی۔
قانون لوگوں کے لیے ہوتا ہے اگر وہ بھی قانون کو کچھ
سمجھیں تو ان میں اور عام لوگوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔
رہ گیا مذہب‘ تو یہ فرد کا ذاتی مسئلہ ہے۔ دوسرا مذہب عبادت
گاہوں کی چیز ہے لہذا عبادت گاہوں کی حدود میں اس پر عمل
درامد فرض ہوتا ہے۔
قلم کی بےحرمتی لوگوں کی ماں بہن کے ساتھ زیادتی کے
مترادف ہے۔ یہاں بال پوائنٹ کی موجودگی میں اپنی یا پرائ ماں
بہن کے ساتھ زیادتی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بیٹی کا ذکر اس
لیے مناسب نہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجی ہوتی ہیں۔
آزاد معاشروں میں سب سے پہلے اہل علم کو داڑھ کے نیچے
رکھتے ہیں۔ یہ طبقہ آگہی پھیلا کر کمزور طبقوں کو بے
حضوریہ بناتا ہے۔ اہل جاہ اور اہل زر کی بےادبی ہی درحقیقت
خرابی کی جڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کالج کیڈر سے متعلق
لوگوں کا پرموشن کبھی کبھار ہوتا ہے۔ دس سال بعد بھی کسی
لیکچرر سے پوچھو تو خود کو لیکچرر بتاءے گا۔ ایک طرح
سے انھیں مستقل مزاج بنانے کی یہ سعی عظیم ہے۔ بھولے
سے کبھی پرموشن ہو جائے تو ان کی مٹی پلید کرنے میں کوئی
دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ اسے پنشن کے دروازے پر لا کھڑا
کرکے مسافر بنا دیا جاتا ہے۔ دکھ کی جندریوں میں مقید رہنے
تک زندگی کی آخری سانس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ بلا حرکت بھی
کوئی زندگی ہے۔ فارغ رہیں گے تو آگہی پھیلانے سے باز نہیں
آءیں گے۔
وہ اہل علم کو ذلیل کرنے کا بڑی خوش اسلوبی اور بڑی دیانت
داری سے فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کی فرض شناسی کو
آب زر سے قلم بند کیا جائے گا۔ ناخواندگی کی حوصلہ افزائ
میں ان کا کردارکبھی فراموش نہ کیا جا سکے گا۔ ڈاکٹر قاضی
جیسے اہل علم کو تو پرموشنی چکروں میں ڈالے رکھنا پورے
سسٹم کے ساتھ بھلائ کرنے کے مترادف ہے۔ میں مہامنشی کے
شعبہ اعلی شکشا کے بالا وزیریں اہل کاروں کی تحسین کروں گا
کہ علماء و فضلا کی اسی انداذ سے قدردانی ہونی چاہیے۔۔ اگر
انہیں گریڈ بیس مل گیا تو گریڈ وائز اعلی شکشا منشی کے برابر
ہو جاءیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اوقات وائز اس کے نائب قاصد
سے بھی کمتر ہوں گے۔
قلم کے متروک ہو جانے کے بعد محاورہ قلم کی مار دینا بھی
کسی حد تک سہی‘ ختم ہو گیا۔ مرا نہیں تو قریب المرگ ضرور
ہے۔ مفتا ساتھ میں لفافہ نہیں لایا ہوتا اس لیے اسے گھاس بھی
نہیں ڈالی جاتی۔
مفتے کو دفتر اعلی شکشا منشی کے اہلکار پر بھی نہیں لکھتے
اس کی فائل تھوڑا بہت مواد موجود ہونے کے باوجود بال
پوائنٹ کی آلودگی سے محفوظ رہتی ہے۔ سفارشیے اور جھڑیے
کی فائل گردش میں رہتی ہے اور اس کی آنیاں جانیاں لگی رہتی
ہیں۔ ہر بار علاقے کی سوغات نہیں لاتا تو ناسہی ایسا شاز ہی
ہوتا ہے ورنہ وہ خالی ہاتھ نہیں آتا‘ آ کر وہاں کے حاضرین و
ناظرین کو چاء چو تو پیش کرتا رہتا ہے۔ چاء لانے والے قریبا
آفیسر سے بقایا طلب کرنے کی غلطی کا سزاوار نہیں ہوتا۔ بقایا
طلب کرنے کے انجام سے وہ بخوبی واقف ہوتا ہے۔
پی ایچ ڈی راگ جنگہ کی دہلیز پر
میں اپنی کسی تحریر میں عرض کر چکا ہوں‘ کہ کام کے
پیچھے موجود غرض و غایت کے حوالہ ہی سے‘ ثمرات ہاتھ
لگتے ہیں۔ تحقیق کا حقیقی مقصد تو یہ ہوتا ہے‘ کہ اس سے
کچھ نیا دریافت ہو اور وہ نئی دریافت‘ بنی نوع انسان کے لیے
سکون اور آسودگی کا باعث بنے۔ عمومی اور خصوصی سوچ
میں‘ بالیدگی پیدا ہو۔ جب سوچ کا محور پیسہ‘ حصول جاہ یا شو
شا اور نوکری کا حصول رہا ہو‘ تو انسانی آسودگی اور سوچ کی
بالیدگی حرف ثانی بھی نہیں رہ پاتی۔ خودغرضی‘ مطلب بری‘
چھینا جھپٹی اور مزید کی ہوس میں‘ ہر چند اضافہ ہی ہو گا۔
درس گاہیں تماشہ بن جائیں گی۔ وہاں ٹھرک بھورنا یا ٹھرک
سے بڑھ کر‘ دیکھنے سننے کو رہ جائے گا۔ علی گڑھ برصغیر
کا صف اول کا تعلیمی ادارہ‘ اگر سرور عالم راز صاحب کے بیان
کیے گیے ناک نقشے کا رہ جائے گا‘ تو باقی کا تو الله ہی حافظ
ہے۔
پی ایچ ڈی سطع کے کام‘ ٹوٹل پورا کرنے کے مترادف رہ
جاءیں گے‘ تو اس کے بعد تو کچھ کہنے کو باقی نہ رہے گا۔ نام
کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ نتھی ہو جانے سے‘ علمی فضیلت میں
اضافہ نہیں ہو جاتا۔ ہمارے ایک ملنے والے پی ایچ ڈی کرنے
سے پہلے‘ علامہ صاحب عرف رکھتے تھے۔ کچھ ہی پہلے
میری ان سے ملاقات ہوئی اور میں انہیں علامہ صاحب کہہ کر
مخاطب ہوا۔ انہوں نے مجھے زہریلی نظروں سے دیکھا اور اٹھ
کر چلے گیے۔ حیرت ہوئی کہ آخر ناراض کیوں ہو گیے ہیں۔ میں
نے اپنے ایک دوست سے ماجرا کہا۔
انہوں نے زوردار قہقہ لگایا۔ سمجھ میں کچھ نہ آیا‘ آخر میں
نے کون سا کسی پٹھان یا سردار کا لطیفہ سنایا ہے‘ جو
مسکرانا کی حدوں کو پھاند رہے ہیں۔ معلوم ہوا موصوف پی ایچ
ڈی کر گیے ہیں‘ لہذا انہیں ڈاکٹر کہلانا خوش آتا ہے۔ پی آیچ ڈی
کرنے کا آخر فاءدہ ہی کیا‘ جو لوگ دوبارہ سے پرانا دیسی
سابقہ استعمال میں لاءیں۔ علامہ بھی اگرچہ برصغیر سے متعلق
نہیں ہے‘ چوں کہ مستعمل ہو گیا ہے‘ اس لیے دیسی لگتا ہے۔
آج چوں کہ انگریز کا طوطا بولتا ہے‘ اس میں چاشنی اور
جازبیت کا عنصر مرزا غالب ہے‘ اس لیے بگڑنا‘ لایعنی اور بے
معنی نہیں۔
جب وہ صاحب اگلی بار ملے تو میں نے بصد احترام جناب پی
ایچ ڈی صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔ اس سے بڑھ کر سعادت مندی
اور ٹی سی کیا ہو سکتی تھی‘ کہ ایک ساتھ جناب کا سابقہ اور
صاحب کا لاحقہ استعمال کر ڈالا۔ چاہیے تو تھا کہ بڑے خلوص
سے ملتے‘ بلاجواب سوال‘ قیامت خور نگاہوں سے دیکھتے
ہوئے‘ قریب کی مسجد کے غسل خانے میں‘ جوتوں سمیت چڑھ
دوڑے۔ میری اردو پر خفا ہونے کی ضرورت نہیں‘ طہارت گاہ
کے لیے‘ لفظ غسل خانہ بھی مستعمل ہے۔ مجھے حیرت ہوئی
آخر اب کیا غلطی یا غلطان سرزد ہو گیا ہے۔ میرے ایک مغربی
پرفیسر دوست ہوا کرتے تھے۔ ایک بار میں نے انھیں ڈاکٹر
صاحب کہہ کر پکارا ۔ انھوں نے نیم ناراضگی کی حالت میں
فرمایا :حسنی صاحب میں پروفیسر ہوں۔ آپ یہ ڈاکٹر صاحب
ڈاکٹر صاحب کہہ کر کیوں مخاطب کر رہے ہیں۔ ان کا غالبا‘ ہو
سکتا ہے یقینا یہ کہنا ہو‘ یہ تو ایسے ہی ہے‘ جیسے کسی کو
ہیلو ایف اے صاحب یا ہیلو بی اے صاحب کہہ کر پکارا جاءے۔
:لکھنے میں بھی اس طرح آنا چاہیے
پروفیسر صابر آفاقی پی ایچ ڈی۔
اصل میں نفسیاتی عارضہ ہے‘ کہ ہم کچھ کر لینے کے بعد‘
تفاخر کا شکار ہو جاتے ہیں حالاں کہ آگہی عجز سے سرفراز
کرتی ہے۔ ڈگری اس امر کی گواہ ہوتی ہے‘ کہ یہ شخص عجز
سے سرشار ہو گیا ہے۔ یہاں معاملہ ہی برعکس جا رہا ہے۔ پی
ایچ ڈی کے بعد تکبر کی‘ آسمان سے باتیں کرتی روڑی لگ
جاتی ہے۔ مجھے ایک قصہ سا یاد آگیا ہے۔ ایک صاحب جو ایم
فل کر رہے تھے‘ انھیں مارفونیات پر اسئنمنٹ دے دی گئ۔
سیدھا سادا لٹریچر پڑھانے والا کالج پروفیسر‘ لسانیات کی اس
اوکھی سی اصطلاح کو کیا جانے۔ جب انھوں نے دریافت فرمایا
کہ جناب یہ کس چڑیا کا نام ہے تو ڈاکٹر صاحب بپھر گیے۔
کہنے لگے میرا امتحان لیتے ہوئے‘ تمہیں شرم آنی چاءیے۔ اب
شکل گم کرو۔
ایک صاحب سے کہا گیا‘ میجک ان ریسرچ پر اسءنمنٹ لکھ کر
لاؤ۔ انھوں نے بھی پوچھا تو جواب ملا :پہلے کام کرکے لاؤ‘
پھر سوال جواب کرنا۔ یہ معاملہ سمجھ سے باہر ہے‘ کہ یہ سب
کیا ہو رہا ہے۔
آج کل مقالے لکھ کر دینے کا رواج زور پکڑ رہا ہے۔ جناب
سرور عالم راز کو بھی‘ میری طرح اس فعل بد کا افسوس ہے۔
ان کے افسوس سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لوگ میری الٹی
سیدھی بکواس کو خبط کا نام دیتے ہیں۔ ویسے یہ کاروبار اچھا
ہے‘ دس بیس دن کی نقل بازی سے‘ ایک معقول نہیں‘ معقول
ترین رقم ہتھے چڑھ جاتی ہے۔ ان دنوں بیمار اور مالی کمزوری
سرعت انزال کا سا‘ روپ دھار چکی ہے۔ سوچتا ہوں اگر میں
حرف کاری اوز نقل طرازی کے ہنر سے آگاہ ہوتا‘ تو باہر کی
طرح گھر میں بھی معزز شہری ہوتا۔ کہیں باہر جا کر ترلے
لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس سے بیک وقت چار فائدے
میسر آتے
٧۔ معززی میرے قدم چومتی
٦۔ گرہ میں کڑکتے کڑکتے نوٹ آتے ہیں۔
٣۔ ملنے والوں میں اضافہ کے سبب کوئ کام نہیں رکتا،
٤۔ مقالہ لکھوانے والا ساری عمر کے لیے کانا ہو جاتا ہے اور
وقتا فوقتا ناجائز اور صرف ناجاءز کام بآسانی نکلوائے جا
سکتے ہیں۔
٢۔ داخلی نتھیا گوڈے لگے نالگے‘ خارجی نتھیا تکمیل مقالہ
تک‘ سر سر کا راگ جنگلہ گاتی رہتی ہے۔ یہ کوئ عام اور گیا
گزرا اعزاز نہیں۔
چیز خریدتے وقت مال مات دے جاتا ہے۔ اب اہلیت نے ہاتھ
کھڑے کر دیے ہیں۔ خیر دکھ کیا کرنا ہے یا ٹنشن کیا لینی ہے۔
میکیش بہت پہلے گا گیا ہے۔
وہ تیرے پیار کا غم اک بہانہ تھا صنم
اپنی قسمت ہی کچھ ایسی تھی کہ دل ٹوٹ گیا
بول میں کہیں کمی بیشی نظر آئے تو معافی کا خواستگار نہیں
ہوں کیوں کہ اپنی قسمت ہی کچھ ایسی ہے‘ کہ ربط اور ضبط
ٹوٹ گیا ہے۔ یقیں مانئے‘ یہ حافظے کا قصور ہے۔ کچھ باتیں
سچی مچی بھول جاتا ہوں ورنہ ہر وہ بات جو دینی آتی ہو‘
سماج کے مزاج کی طرح دماغ سے دانستہ اور معلوم ہوتے
ہوئے بھی بھول جاتا ہوں۔
استاد غالب ضدین اور آل ہند کی زبان
استاد غالب بلاشبہ‘ جملہ زبانوں کے شعری ادب میں جھومر کا
درجہ رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی طور پر تین وجوہ ہیں۔
٧۔ اوروں سے ہٹ کر اور الگ سے بات کرتے ہیں۔
٦۔ اپنے کہے کا جواب پیش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی
بات اور کبھی جواز‘ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔
٣۔ مزید وضاحت کے لئے ضدین کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
ان کی عملی زندگی میں‘ ضدین کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ آدھا
کافر اور آدھا مسلمان ہونے کا جواز رکھتے تھے۔ کافری‘
درحیقیقت ان کی مسلمانی کی شناخت تھی۔ استاد کا یہ بڑا پن
تھا‘ جو انھوں نے اپنی کافری کا اقرار کیا‘ ورنہ سو میں سے
ایک بھی نہیں نکلے گا‘ جو اپنی ذات کی غالب ضد کا اقرار
کرے۔ دیکھائے کوئی ایک عیسائی‘ جو تپھڑ رسید کرنے والے
کے سامنے‘ اپنا دوسرا پنجے سے پاک صاف رخسار پیش کر
دیتا ہو۔ یہی صورت مسلمانوں کی ہے۔ آپ کریم نے ایک جملے
میں انسانی آئین بیان کر دیا۔ آپ کریم کا فرمان گرامی ہے کہ
مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ آج
مسلمانوں کی‘ کسی خطہ میں کمی نہیں‘ لیکن وہ اپنی شخصیت
میں موجود غیر مسلمانی ضد کو‘ تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لحاظ
استاد غالب نمبر لے گئے ہیں۔
ہمارے‘ الله بخشے‘ ایک ملنے والے ہوا کرتے تھے۔ بڑے
خوش مزاج تھے۔ ایک دو تین نہیں‘ چار عدد خواتین کے
مجازی خدا تھے۔ چہرے پر اکلوتا چب یا ڈنٹ نہیں تھا۔ اکلوتی
خاتون کے مزاجی خدا کا چہرا مبارک دس بیس سالوں میں لمک
جاتا ہے۔ خواتین پھولتی جاتی ہیں‘ جبکہ مرد حضرات اپنے
مرحوم یا زندہ والدین کا محض صدقہ جاریہ رہ جاتے ہیں۔
دوست احباب حیران تھے‘ چومکھی لڑائی کے بعد بھی حضرت
ناصرف توانا اور صحیح سلامت ہیں‘ مزید کی خواہش بھی
رکھتے ہیں۔ ہر بار اسلام آڑے آ جاتا۔
مرحوم اور پانچویں سے محروم‘ بڑے اسلام پرست تھے۔
اسلامی معروف کلمات موقع بہ موقع ادا کرتے رہتے تھے۔ مثلا
سبحان الله‘ بسم الله‘ الله اکبر‘ ماشاءالله‘ ان شاءالله وغیرہ وغیرہ۔
جنازہ اور عیدین کی نمازوں کا‘ شاید ہی‘ ان سا‘ کوئی پابند ہو
گا۔ سلام میں پہل کرنا‘ بڑے پیار سے سلام کا جواب دینا‘ ان کی
فطرت ثانیہ کا درجہ رکھتے تھے۔ تلقین تک ان کا اسلام اے ون
تھا۔ اسی طرح اور بھی اسلامی واجبات میں ان کا ڈھونڈے سے
ثانی نہ مل سکے گا۔
ایک دن‘ میں نے بے تکلف ہونے کی کوشش میں‘ پوچھ ہی لیا‘
آپ چاروں طرف سے گرفت میں ہیں لیکن عملا آپ کے چہرے
اورجسم‘ جان اور روح پر گرفت کے رائی بھر آثار موجود نہیں
ہیں۔ آپ اوپر نیچے کی بچی اطراف کو بھی‘ کوور کرنے کی
فکر میں ہیں۔ آپ کی صحت اور خوش طبی کا راز کیا ہے۔
خوراک سے یہ مسلہ حل ہونے والا نہیں‘ تیتر کھلا کر ایک
مرتبہ زوجہ ماجدہ کا چہرا کرا دینے سے‘ دو بوند بننے والا
کیا‘ پہلے سے موجود میں سے بھی‘ ڈیڑھ پاؤ ناسہی‘ پاؤ تو
ضرور خشک ہو جاتا ہے۔ مرحوم میری بے تکلفی کے قریب کی
سن کر ہنس پڑے۔ پھر سنجیدہ سے ہو گئے۔ دو تین منٹ
سنجیدگی کی نذر ہو گئے۔
اس سنجیدگی کو دیکھ کر ہم یہ سمجھے حضرات اندر سے
دکھی اور زخمی ہیں۔ اگر یہ سنجیدگی تقریبا نہ ہوتی‘ تو میں
شدید کا سابقہ استمال کرتا۔ سنجیدگی اور خاموشی بتا رہی تھی
کہ یہ کچھ بتانے والے نہیں اور بات کو گول مول کر دیں گے۔
ہمارا اندازہ غلط نکلا۔ فرمانے لگے یک فنے ناکام رہتے ہیں۔
اپنے اپنے استاد ہی کو لے لو‘ شاعر نثار اور نقاد ہونے کے
ساتھ ساتھ بذلہ سنج بھی تھا۔ خوش طبی میں اس کا ثانی دکھاؤ۔
ان کی خوش طبی جڑے واقعات ابھی تک جمع نہیں ہوئے۔ یک
فنے تکرار کا شکار رہتے ہیں۔ میں چوفنا ہوں۔ میں ضدین کا
قائل‘ مائل اور عامل ہوں۔
کمال ہے‘ ازدواجین میں رہ کر بھی‘ مکمل ہوش و حواس اور
دانش سے لبریز گف گو فرما رہے تھے۔
میں یہ ضدین اور کامیابی کا فلسفہ نہیں سمجھ سکا۔
جاؤ‘ پہلے جا کر‘ عقد ثانی کرو‘ پھر آنا‘ سمجھا دوں گا۔ یہ
تمہارے کام کی چیز نہیں اور ناہی تمہارے لئے‘ عمل کی راہ
موجود ہے۔
پہلے سمجھائیں‘ پھر عقد ثانی کا انتظام و اہتمام کروں گا۔ بڑے
بڑے بادشاہوں نے دھڑلے سے حکومت کی ہے۔ کیوں‘ ضدین
کے فلسفے سے آگاہی رکھتے تھے۔ کوئی دھڑا ہاتھ سے جانے
نہیں دیتے تھے۔ چور کو کہتے چوری کرو‘ گھر والوں کو‘
ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے۔ دونوں سمجھتے‘ بادشاہ ہمارا
ہے‘ ۔حالاں کہ وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ وہ تو تاج و تخت کے
معاملہ میں‘ اپنی اولاد کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ جو دائیں آنکھ پر
چڑھتا‘ اسے طریقے سے‘ مروا دیتا تھا۔ یہ کام بھی تکنیکی
انداز سے کرتا تھا۔ دو فریقوں سے گہری رکھ کر‘ ان میں نفاق
پیدا کرکے‘ لڑا دیتا۔ ایک فریق قتل ہو جاتا‘ تو دوسرا انصاف
بھینٹ چڑھ جا۔
میں نے عرض کی‘ حضور اسلام نفاق ڈالنے کی اجازت نہیں
دیتا۔ آپ اسلام دوست ہیں اپنے گھر میں ہی نفاق ڈالتے ہیں۔
کہنے لگے‘ ہم سب آدھے مسلمان ہیں اور آدھے کافر۔
نکاح سنت ہے اور اس سنت کی میں نے آخری سطع چھو رکھی
ہے‘ اس حوالہ سے آدھا مسلمان ہوں۔ تقسیم کرتا ہوں‘ اس
حوالہ سے آدھا کافر ہوں۔ تقسیم نہیں کروں گا‘ تو حکومت
کیسے کروں گا۔ یہ تو مانتے ہو‘ میری آدھی مسلمانی قائم ہے۔
تم لوگ تو آدھی مسلمانی سے بھی محروم ہو‘ تب ہی تو تمہاری
زندگی چھتر چھاوں میں بسر ہو رہی ہے۔
نفاذ اسلام ایسا آسان کام نہیں‘ زوجہ جانی کا خوف اور دہشت
گردی اپنی جگہ‘ مہنگائی نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ دو
کہووں کی واہی کے بیلوں کے لئے‘ چارہ وغیرہ کہاں سے آئے
گا۔ ہاں البتہ‘ آدھی مسلمانی کا رستہ بند نہیں ہوتا۔ عقد ثانی‘ نفاذ
اسلام کا ذریعہ موجود ہے۔ ملازم ہو‘ تو خوب رشوت لو‘ تاجر
ہو‘ تو معمول کی بددیانتی کو تگنا کر دو۔ دوگنا زوجہ ثانی کے
لئے‘ جبکہ تیسرا اگلا چانس لینے کے لئے۔
ہم انگریز کی شرع اور شرح پر چلتے آ رہے ہیں۔ ان سے پہلوں
کی بھی یہی شرح تھی۔ جس کا واضح ثبوت‘ مقامی غداروں کا
میسر آ جانا ہے۔ اگر یہ غدار میسر نہ آتے‘ تو آنے والوں کے
لفڑے لہہ جاتے۔ آتا کوئی سر اور دھڑ سلامت نہ رہتا‘ بلکہ ان
کی لاشوں پر بین کرنے والا بھی نہ ملتا۔
برصغیر میں ٹوپی سلار کے عہد ہی سے‘ مسلم اقتدار کا زوال
شروع ہو گیا تھا۔ تاہم اقتدار مسلمانوں کے پاس ہی تھا۔ بہادر
شاہ اول کوئی مضبوط حکمران نہ ‘لیکن کسی حد تک سہی‘
اپنے پیش رو کی طرح ایک ہی وقت میں‘ ایک ہی شخص کو‘
قبض اور پیچس لاحق کرنے سے آگاہ تھا۔ ٧١٧٦میں اس گر
سے نابلد لوگ‘ تخت نشین ہوئے۔ والی مسیور کی شہادت کے
بعد بھی‘ مزاحمت ہوتی رہی‘ لیکن ٹیپو آخری دیوار تھی۔ اسے
غیر کیا فتح کرتے‘ گھر کے بھیدی لے ڈوبے۔
اس ذیل میں میر صاحب کا کہا ملاحظہ ہو۔
غیر نے ہم کوذبح کیا ہے طاقت ہے نے یارا ہے
ایک کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو پھاڑا ہے
اس کے بعد شدید خطرے کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ انگریز کو
کھلا میدان مل گیا۔ وہ ہر مرضی کی کھیل پر قادر ہو گیا۔
ٹیپو کی شہادت کا بڑی دھوم سے جشن منایا گیا۔ اس جشن میں‘
اس کے نام نہاد اپنے بھی شامل تھے۔ انگریز ضدین کی
ضرورت اور اہمیت سے خوب خوب آگاہ تھا۔ یوں کہنا زیادہ
مناسب ہو گا‘ کہ وہ یہاں کے پہلوں کا بھی پیو تھا‘ تو غلط نہ
ہو گا۔ قبض‘ پیچس اور ہیضہ ایک وقت میں‘ ایک شخص کو
لاحق کر دئے گئے۔ اس طرح‘ آل ہند کی تقسیم و تفریق کے بہت
سارے دروازے کھول دئیے گئے۔
اس ذیل میں‘ فورٹ ولیم کالج کے کردار کو نظر انداز کرنا‘
زیادتی ہو گی۔ اس کی خدمات‘ سنہری حروف میں‘ درج کئے
جانے کے قابل ہیں۔ اس نے‘ آل ہند کی زبان کے‘ دو خط
متعارف کرائے۔
اردو خط‘ مسلمانوں کے لئے اور اسے مسلمانوں کی زبان قرار
دیا۔
دوسرا خط‘ آل ہند کی غیرمسلم عقیدہ والی نسل کے لئے اور
اسے ان کی زبان کا نام دیا۔
اس سے بیک وقت تین فائدے ہوئے۔
٧۔ آل ہند زبان پر تقسیم ہو کر باہمی نفاق کا شکار ہو گئی۔
٦۔ ایک دوسرے کے‘ تحریری اور علمی و ادبی سرمائے سے‘
دور ہو گئی۔
٣۔ بولنے والوں کی گنتی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
آل ہند کی یہ زبان‘ دنیا میں دوسرا نمبر رکھتی ہے۔ اپنے تعدادی
اسٹیٹس سے محروم‘ نہیں مرحوم ہو گئی۔
ایک ہی بات‘ دو خطوں میں لکھی‘ لایعنی ٹھہری۔انگریز نے
اپنے رابطے کے لیے رومن خط کو رواج دیا
حالاں کہ حقیقت یہ ہے‘ کہ زبان کسی کی نہیں ہوتی‘ زبان تو
اسی کی ہے‘ جو اسے استعمال میں لاتا ہے۔
زبان کی خواندگی کے لئے چار عمومی امور ہوتے ہیں۔
٧۔ بولنا
٦۔ سمجھنا
٣۔ لکھنا
٤۔ پڑھنا
ان میں سے‘ کسی ایک سکل سے متعلق شخص کو‘ نا خواندہ
قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں‘ ان پڑھ حضرات کی کمی
نہیں۔ وہ دیوناگری والوں کی فلمیں ڈرامے اور دیگر پروگرام
دیکھتے ہیں۔ انھیں ان کی سمجھ بھی آتی ہے لیکن وہ بول نہیں
سکتے۔ یہی حال‘ پڑھے لکھوں کا ہے۔ سمجھ اور بول سکتے
ہیں۔ اردو خط والوں کا کہا‘ دیو ناگری خط والوں کے لیے غیر
نہیں‘ لیکن دونوں‘ ایک دوسرے کے تحریری سرمائے سے‘
استفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔
رومن‘ آل ہند کو ایک مقام پر کھڑا کرتا ہے‘ لیکن اس سے فائدہ
انگریزی جاننے والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔ اس دائرے میں‘ دیگر
لوگ‘ انگریز عرب جاپانی وغیرہ‘ آ جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے
دیکھا جائے تو‘ یہ دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ لوگوں کی
زبان شمار ہوگی۔
آل ہند کی اس زبان کے ساتھ‘ غیر تو غیر‘ اپنے بھی سازشوں
میں مصروف ہیں۔
ایم فل اور پی ایچ ڈی سطع کے تحقیقی کام‘ ٹوٹل پورا کرنے
کے مترادف ہو رہے ہیں۔
دونوں خطوں کی تحریریں ایک دوسرے کے لیے حوالہ نہیں بن
رہیں۔
انگریزی یا کسی دوسری زبان کے مواد سے‘ تصرف عیب نہیں
لیکن یہ ایک دوسرے سے حوالہ نہیں لے رہے۔
آل ہند کے درمیان زبان کے حوالہ سے‘ تعصب کی فلک بوس
دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔
ستم دیکھئیے سرور عالم راز صاحب بڑے زبردست عالم فاضل
ہیں۔ اپنے ایک خط میں کیا فخر سے فرماتے ہیں۔
اردو انجمن میں صرف اردو اور رومن اردو میں ہی چیزیں
لگائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایک صاحب نے ہندی میں یہاں لکھنے
کی کوشش کی تھی
اور بصد معذرت ان کو منع کر دیا گیا تھا۔
آپ سے کوئی پوچھے‘ یہ رومن خط کس طرح کی اردو ہے؟
اس زبان کے دو خط ‘ان کو گوارا ہیں‘ تیسرا انھیں خوش نہیں
آتا۔ اصل انصاف تو یہ ہے‘ کہ یہاں صرف اردو خط والوں کو
جگہ دی جائے۔ ہاں دیگر زبانوں کا مواد شائع نہیں ہونا چاہیے
کیونکہ یہ فورم صرف اور صرف اردو خط والوں کا ہے۔ اس کا
نام ہی اردو انجمن ہے‘ اس لئے دوسری زبان کا مواد آنا‘ درست
اور مناسب نہیں۔ یہ معاملہ مبنی بر حق ہے۔
دو قومی نظریہ اور اسلامی ونڈو
کمپیوٹر سے وابستہ لوگ‘ اس امر سے خوب خوب آگاہ ہوں
گے‘ کہ جب سسٹم میں وائرس داخل ہو جاتا ہے‘ تو وہ کمپیوٹر
کی مت مار دیتا ہے۔ اچھا خاصا چلتا چلتا کمپیوٹر‘ آسیب زدہ ہو
کر رہ جاتا ہے۔ بعض وائرس‘ کمپیوٹر کی غیر طبعی موت کا
سبب بن جاتے ہیں۔ کچھ اسے موت کے گھاٹ نہیں اتارتے‘
لیکن دائمی فالج کا موجب بن جاتے ہیں۔ ٹھیک ٹھاک اور قیمتی
مواد کھا پی جاتے ہیں۔ یہی نہیں‘ ستم اس پر یہ‘ کہ مواد کو
دسویں جماعت کا ریاضی بنا دیتے ہیں۔ دسویں جماعت کے
ریاضی میں الجبرا بھی شامل ہے اور یہ الجبرا‘ جبر کے تمام
رویوں اور رجحانات پر استوار ہوتا ہے۔ ہستا مسکراتا کھیلتا
کودتا کمپیوٹر‘ نامراد وائرس کے باعت سکتے میں آ جاتا ہے۔
گویا وائرس کی بن بلائے مہمانی‘ کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے
یا یوں کہہ لیں‘ وہ کچھ ہو سکتا ہے‘ جس کا خواب بھی نہیں
دیکھا گیا ہوتا۔
وائرس مرتا نہیں‘ مارتا ہےاور ہر حالت میں‘ من مانی میں‘ اپنی
اصولی عمر‘ دبدبے اور پورے بھار سے پوری کرتا ہے۔ کوئ
دوا‘ دارو ٹیکہ اس کا بال بیکا نہیں کر پاتا‘ ہاں متاثرہ کی قوت
مدافعت میں‘ اضافہ کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس
امر سے آگاہ نہیں ہیں‘ کہ انٹی وائرس‘ وائرس کو مارنےکے
لیے فیڈ نہیں کیے جاتے۔ یہ وائرس سے پاک سسٹم میں اس
لیے فیڈ کیے جاتے ہیں کہ سسٹم میں وائرس داخل نہ ہونے
پائے۔ انٹی وائرس کا‘ اول تا آخر مقصد یہ ہوتا ہے‘ کہ وائرس
کو سسٹم سے دور رکھا جائے۔ دوسرا یہ سسٹم کی قوت مدافعت
کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کی مثل ویکسین کی سی ہوتی ہے۔
عمومی زبان میں‘ اسے حفاظتی ٹیکے کا نام بھی دیا جا سکتا
ہے۔ انٹی وائرس یا ویکسین‘ وائرس کے دخول سے پہلے کی
چیزیں ہیں۔
مختصر مختصر یوں کہہ لیں‘ انٹی وائرس یا ویکسین‘ دراصل
سسٹم کی حفاظت سے متعلق چیزیں ہیں۔ انھیں خطرے سے
بچاؤ کا عمل بھی کہا جا سکتا ہے۔ جیسے مچھر سے بچنے کے
لیے مچھر دانی کا استعمال کیا جائے۔ ڈینگی سے بچنے کے
لیے‘ یعنی لاخق ہونے سے پہلے‘ حفاظتی تدابیر اختیار کی
جائیں۔ ڈینگی حملے کی صورت میں‘ فوری موت واقع نہیں
ہوتی‘ تو مدافعتی نظام کی طرف توجہ دی جائے۔
کسی دوائی وغیرہ سے وائرس نہیں مرے گا۔ متاثرہ کو پانی کی
بھرتی رکھیں۔ سیب کا خود جوس نکال کر پلائیں۔ مرد ہو تو
عورت اور عورت کی صورت میں‘ مرد کا جوس تیار کرنا
مناسب رہے گا۔ اگر یہ خدمت‘ گھریلو‘ ذاتی اور پالتو قسم کے
خواتین و حضرات نہ ہی انجام دیں تو مناسب رہے گا۔ وائسرسی
علالت بد کی صورت میں‘ بیرونی‘ مگر حسین دنیا سے رابطہ‘
مریض کی قوت مدافعت میں‘ خاطر خواہ اضافے کا سبب ہو گا۔
شہتوت کے پتوں کو پانی میں ابال کر‘ ٹھنڈا کرکے پلائیں۔ اس
حالت میں کڑوی اشیا کا‘ قدرے اور خفیف استعمال‘ مفید رہتا
ہے۔ دن میں ٹی ڈی ایس یعنی تین بار ذاتی جنس مخالف کا چہرہ
کراتے رہنا‘ مریض کے لیے ناسہی‘ مرض کے لیے مناسب رہتا
ہے۔ ہاں اس ذیل میں‘ ہمہ وقتی دیدار‘ جان لیوا بھی ثابت ہو
سکتا ہے۔
برصغیر عرصہ دراز سے‘ خارجی اور غیر درآمدہ وائرس کی زد
میں ہے۔ سکندر سے پہلے‘ یہ یہاں سے بچے پکڑ کر لے جاتا
اور ان کی قربانی‘ دیوتاؤں کے حضور نظر کر دیتا تھا۔ اس سے
پہلے یا بعد کے وائرس بڑے خطرناک تھے۔ کیا کچھ کرتا تھا‘
زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہرطور‘ یہ تو طے ہے کہ
وائرس سسٹم کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ حفاظتی عمل اور
مدافعتی قوت کے کامل صحت مند ہوتے ہوئے‘ جسم یعنی سسٹم
کے اندر سے‘ کوئ میر جعفر پیدا ہو جاتا ہے‘ جو داخلے کا
رستہ بتا کر‘ ہنستے بستے‘ کھیلتے کودتے نظام کو‘ مٹی میں
ملا دیتا ہے۔ اس کی مت ماری جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھ
پاتا‘ کہ وہ اسی سسٹم کا حصہ ہے۔
ہوتا تو وہ بھی وائرس ہی ہے‘ اس کے کام بھی وائرسوں والے
ہوتے ہیں‘ لیکن مقامی سسٹم‘ اسے اس کے کاموں سمیت‘ قبول
چکا ہوتا ہے۔ سسٹم اس وائرس کی منفی فطرت کے باوجود‘
اس سسٹم کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی‘ اسے اپنا حصہ سمجھتا
ہے۔ اس کے باعث‘ سسٹم میں سو طرح کی خرابیاں آتی رہتی
ہیں‘ لیکن سسٹم کا مدافعتی نظام چلتا رہتا ہے۔ حالاں کہ اس کا
سسٹم میں رہنا‘ کسی بھی حوالہ سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کیا کیا
جائے‘ وائرس داخلی ہو یا خارجی‘ اس کا اس کی طبعی عمر
سے پہلے‘ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ سسٹم کو اس کی طبعی عمر
تک‘ برداشت سے کام لینا پڑتا ہے۔ بس کرنے کا کام یہ ہوتا
ہے‘ کہ سسٹم کے مدافعتی نظام کو ڈولنے نہ دیا جائے۔
چٹی چمڑی والا وائرس‘ تو کل پرسوں سے تعلق رکھتا ہے اور
ہم اس کی تباہ کاری کے باعث‘ بیمار جیون جی رہے ہیں۔ اس
وائرس نے کمال ہوشیاری سے‘ تقسیم کے بہت سارے دروازے
کھول دئیے۔ کبھی زبان کے حوالہ سے تقسیم کرکے‘ باہمی
نفرتوں کو سسٹم کا حصہ بنایا۔ زبان ہی کیا‘ رنگ‘ نسل‘ قومیت
اور علاقہ کی افواہ بھی‘ تقسیم کی اگنی کو بڑی راس آئی۔ میں
یہاں مولوی‘ پنڈت یا فادر کا نام احتراما نہیں لوں گا۔ الله نے پیٹ
تو خیر ان کو بھی دیا ہے۔ کیا ہوا‘ جو وہ عمومی کی ذیل میں
نہیں آتا۔ خصوص کا تذکرہ‘ موت کو ماسی کہنے کے مترادف
ہے۔ اگر کوئی مراد لیتا ہے‘ تو یہ اس کی اپنی جی جان پر۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدھی سی بات ہے‘ میرا ذمہ اوش پوش۔۔۔۔۔۔۔ میری زبان پر‘ ان
کے لیے عزت کے کلمے ہی رہے ہیں۔ عقیدے میں‘ زبان سے
اقرار کو‘ ایمان کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ باقی رہ گیا دل‘ تو
دلوں کی الله ہی جانتا ہے۔ دل کے معاملے‘ کسی قسم کے فتوے
کی زد میں نہیں آتے۔
1905
میں‘ دو قومی نظریے کو داخلی وائرس کے ذریعے‘ عام کیا گیا
اور پھر اس تماشے سے‘ خوب لابھ اٹھایا۔ یہ کون سا ایسا نیا
نظریہ تھا‘ یہ نظریہ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ سورہ کافرون
میں بھی‘ تو دو قومی نظریے کی ہی نشان دہی کی گئی ہے۔
لوگوں نے اصل مطب نہ سمجھا‘ وہ یہ ہی سمجھتے رہے‘ کہ
الگ مملکت میں اپنے نظریاتی نظام کے تحت اصولی‘ قانونی
اورآئینی زندگی بسر کریں گے۔ داخلی وائرس نے‘ مٹھی بند
رکھی‘ تاہم اس ذیل میں کوئ قرارداد بھی منظور نہ کی اور ناہی
کوئ قرارداد پیش ہوئی۔ اس سسٹم کو کبھی بھی‘ اسلامی ونڈو
نہیں دی گئی۔ جمہوریت کے حوالہ سے‘ اسلامی ونڈو کرنے کی
ضرورت تھی۔ داخلی وائرس‘ جو سسٹم پر ڈومینٹ رہا ہے‘
اسے اسلامی ونڈو کس طرح خوش آسکتی تھی یا خوش آسکتی
ہے۔ وائرس سسٹم کے لیے بہتری سوچے‘ یہ کیسے اور
!کیونکر ممکن ہے؟
مزے کی بات یہ کہ
پاکستان کا مطلب کیا‘ لا الہ الا الله۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعرہ سیال کوٹ کے
پروفیسر اصغر سودائی نے دیا۔ لوگ اسے لیڈری نعرہ سمجھھ
بیٹھے۔ حقیقت تو یہ ہے‘ کہ یہ نعرہ پروفیسری تھا۔ پروفیسر
اور سیاست کا کیا تعلق؟ یہ نعرہ بھی غیر سیاسی ثابت ہوتا ہے‘
تاہم پاکستان بننے میں‘ اس نعرے کا کلیدی رول ہے۔ بنانے
والے عوام ہیں۔ اس تناظر میں “پاکستان“ غیر لیڈری اور غیر
سیاسی ٹھہرتا ہے۔
ایک صاحب مرغے کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے‘ یعنی ایک
لقمہ خود لیتے‘ دوسرا لقمہ اپنے مرغے کو پھینک رہے تھے
گو کہ مرغا سائز اور حجم میں چھوٹا ہوتا ہے۔ کسی نے پوچھا‘
میاں یہ کیا رہے ہو؟ بولے‘ ہم خاندانی لوگ ہیں‘ ہمیشہ مرغے
کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔
چٹی چمڑی والا وائرس بڑا خاندانی ہے‘ مرغے کے ساتھ روٹی
کھاتا ہے۔ جو لوگ مرغ باز ہیں‘ وہ اپنے مرغے کی صحت‘
توانائ اور جوانی کا خیال رکھتے ہیں۔ سسٹم کے ہر پرزے پر‘
یہ واضع کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ کہ وائرس دسترخوان اور
شہوت کے حوالہ سے‘ کبھی کسی نظریے کا قائل نہیں رہا۔ مرغا
غیر زمین پر رہتے ہوئے‘ خارجی وائرس کے لیے‘ محترم اور
معتبر رہتا ہے۔ وہ اس کا جٹھکا‘ اس وقت کرتا ہے‘ جب مرغا
میدان کا نہیں رہتا۔ میدان والا مرغا‘ خاندانی لوگوں کے ساتھ
ہی‘ ناشتہ پانی کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔
اسلامی ونڈو کرنے سے‘ خارجی وائرس کبھی بھی‘ سسٹم میں
داخل نہیں ہو سکے گا۔ داخلی وائرس کو‘ سسٹم کا مدافعتی
نظام‘ پہلی سانس پر ہی‘ دبوچ لے گا۔ اس ونڈو میں‘ قباحت یہ
ہے کہ لیڈری نہیں‘ عوامی ہے۔ عوام ڈبے میں ووٹ ڈالنے تک‘
محترم اور معزز ہیں‘ اس کے بعد کیا ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہیں۔
اگر یہاں‘ میں ناہیں سبھ توں‘ تصوف والا ہوتا‘ تو شاہ حسین
لاہوری کے پیرو ہوتے۔ یہاں معاملہ برعکس ہے۔ لیڈری توں
میں‘ عوام نہیں کے درجے پر فائز رہ کر‘ تصوف کے توں سے
کوسوں دور رہتے ہیں۔
رونا سکول کے گرنے کا نہیں‘ اصل رونا تو ماسٹر کے بچ
جانے کا ہے۔ ماسٹر مائنڈ وائرس سے پہلے‘ داخلی وائرس کو
نکال باہر کرنے کے لیے‘ بڑا ہی موثر سافٹ وائر دریافت کرنے
کی ضرورت ہے۔ آتی نسلوں کو‘ اس سے بچانے کے لیے‘
سماجیات کے ڈاکٹر قدیر‘ سر جوڑ کر سوچیں‘ اور اس نوع کے
سوفٹ وئر دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ ہاں اس کی کسی کو‘
ہوا تک لگنے نہ دیں‘ اور پھر‘ اچانک دھماکہ کردیں۔ سسٹم جب
داخلی وائرس سے آزاد ہو گیا‘ تو خارجی وائرس سے بچنے
‘کے لیے
ایک نہیں‘ بیسیوں انٹی وائرس دریافت ہو جائیں گے۔
اکتوبر ٦٧٧٦کی بہترین ماہانہ تحریر کا بیج حاصل کرنے والی
تحریر
شیڈولڈ رشوتی نظام کے قیام کی ضرورت
ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم پوچھا‘ اس
شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس پر چرسی بولا‘ اس
ملک نے خاک ترقی کرنی ہے۔ صبح سے پوچھ رہا ہوں‘ ہر
کسی کا اپنا ٹائم ہے۔ بات تو ہنسی والی ہے‘ لیکن ذرا غور کریں
گے‘ تو اس بات کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔
اس ملک میں‘ ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو اپنے
مطلب کے معنی دے رکھے ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ
رکھے ہیں۔ یہی منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے
مختلف بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں‘ اشیائے
خوردنی کے‘ ایک سے‘ نرخ سننے کو نہیں ملیں گے۔ کپڑا
خریدنا ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے نرخ ہوتے ہیں۔
سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ‘ اور شام کو کچھ
کہتا ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی‘ شخص اور موقع کی مناسبت
سے‘ بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی کے برعکس‘ کہنے میں
کوئی عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ واپڈا والے ہوں‘
اکاؤنٹس آفس ہو‘ گیس والوں کے ہاں چلے جائیں‘ خدا نخواستہ
نادرہ والوں سے کام پڑ جائے‘ جو عوما نہیں‘ اکثر پڑتا ہی رہتا
ہے۔ یہ تو خیر مقامی دفاتر ہیں‘ بڑے دفاتر‘ یہاں تک کہ‘ مہا
منشی ہاؤس کے دفاتر‘ جن سے دادرسی کی امید رکھی جاتی
ہے‘ کے بھاؤ ایک نہیں ہیں۔ ایک ہی کام کے‘ مختلف نرخ ہیں۔
اپنا یا بیگانہ کی تخصیص موجود نہیں۔ یہاں کوئی اپنا یا پرایا