The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫ہے جب وہ اسے طمانچہ سمجھیں گے۔‬

‫زخمی ہونے کی صورت میں بھی یہ جرم کوئی معمولی جرم‬
‫نہیں۔ قتل یا زخمی ہونے کے حوالہ سے عدلیہ کے سامنے مسلہ‬

‫لایا جانا چاہیے۔‬

‫حق اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ بد نصیب بچہ ڈیوٹی پر‬
‫موجود عملہ اور ڈیوٹی آفیسر کی لاپرواہی سے مرا نہیں ان کے‬
‫ہاتھوں قتل ہوا ہے۔ کس بات کی انکوائری جو اس دورانیے میں‬

‫ڈیوٹی پر تھے اس بچے کے قاتل ہیں۔ قاتل کی سزا ہمارے‬
‫قانون میں غیر واضع نہیں۔‬

‫اس سے یہ بات بھی کھلتی ہے کہ ہماری شفاگاہوں میں صفائ‬
‫ستھرائی کا کیا عالم ہے۔ لوگوں میں صفائی ستھرائی کے پمفلٹ‬

‫بانٹنے والوں کے اپنے ہاں صفائی ستھرائی معنویت نہیں‬
‫رکھتی۔ کوئی ذمہ دار اور غیر جانب خود جا کر بلا اطلاع جا کر‬
‫دیکھے‘ مجھے یقین ہے سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔ سچی بات تو‬
‫یہ ہے محکمہ صحت پر فضول خرچ کیا جاتا ہے۔ یہاں داخل ہو‬
‫کر بھی یہاں کے لوگوں سے پرائیویٹ طبی امداد لینا پڑتی ہے‬

‫ہماری شفا گاہیں‬

‫غالب کے اس مصرعے کا زندہ عکس ہیں‬

‫دل کو خوش رکھنے کے لیے غالب یہ خیال اچھا ہے‬

‫سنتے ہیں کھانسی کے سیرپ میں خطرناکی وارد ہو گئ ہےاور‬
‫اس کے پینے سے کچھ کھانسنے والے الله کو بھی پیارے ہو‬

‫گئے ہیں۔ یہاں کا ہر دوسرا بڈھا کھانستا ہے۔ لگتا ہے بڈھا مکاؤ‬
‫مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ بڈھے وقتا فوقتا معاملات میں ٹانگ‬

‫اڑاتے رہتے ہیں۔ وہ بھی کیا کریں ان کی قوت برداشت کم یا ختم‬
‫ہو چکی ہوتی ہے اسی لیے بلاطلب مشورے دیتے رہتے ہیں۔‬
‫بڈھوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی چونچ بند رکھا‬

‫کریں۔ قوم کو وہ کھٹکنے لگے ہیں۔ یہ کوئ ان کے حوالہ سے‬
‫صحت مند علامت نہیں۔ ایک مخصوص طبقہ ان کے پیچھے پڑ‬
‫گیا ہے۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے لہذا وہ محتاط ہو جائیں۔‬
‫چونچ بند کرنے کی ابتدا میں اپنی ذات سے کرتا ہوں۔ کھانسی کا‬

‫سیرپ بنانے والوں سے استدعا کرتا ہوں ایک بار بڈھوں‬
‫کومعاف کر دیں۔ آئندہ وہ احتیاط سے کام لیں گے اور شکایت کا‬
‫موقع نہیں دیں گے۔ ایک موقع تو ملنا چاہیے۔ حکومت سے اس‬

‫لیے اپیل نہیں کروں گا کہ اس کے پاس جنتا کی بھلائی اور‬

‫بہبود کے لیے کچھ کرنے لیے وقت کہاں ہے۔‬

‫عوام بھوک اور گڑ کی پیسی‬

‫دو شخص ہوٹل میں گرما گرم بحث کر رہے تھے۔باتوں سے‬
‫دونوں بےپارٹی کے لگتے تھے۔ بے پارٹی اشخاص کا مختلف‬
‫سمتوں میں چلنا اوراتنی گرما گرمی دکھانا مجھے بڑا ہی عجب‬
‫لگا۔ خیرمیں بے تعلقی ظاہر کرتے چائے نوشی میں مشغول رہا۔‬
‫ان کا موضوع سخن مہنگائ اور بےروزگاری تھا۔ وہ یوں ایک‬
‫دوسرے سے الھج رہے تھے جیسے ان دونوں میں سے کوئی‬

‫ایک ان خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔‬

‫ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار خود عوام‬
‫ہیں۔ آخرانھوں نے ان بدمعاشوں کو ووٹ ہی کیوں دیے۔‬

‫دوسرے کا کہنا تھا اطراف میں بدمعاش تھے ایک کو ممبر بننا‬
‫ہی تھا۔ دوسری طرف اگر کوئی شریف تھا اور ممبر نہیں بن‬

‫سکا تو بات کریں۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ کام شریفوں کا کبھی‬
‫بھی نہیں رہا۔ پوری جمہوری تاریخ کو دیکھ لیں۔ اسمگلر‬

‫چوراچکے سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے رسہ گیر صاحب‬
‫زادے نواب زادے حرام زادے امریکہ کے چہولی چک اس عمل‬

‫کا حصہ رہے ہیں۔‬

‫دوسرا اس بات پر بضد تھا کہ قصور سارا عوام کا ہے۔ کچھ‬
‫فیصد ہی سہی لوگ جمہوریت کا حصہ کیوں بنتے ہیں۔ پہلے کا‬

‫موقف تھا کہ لوگوں کو بھوک میں نک نک ڈبو کر الیکشنوں‬
‫کے دنوں میں چوپڑی روٹی اور لگ پیس دکھا کر یہ لوگ ووٹ‬
‫حاصل کر لیتے ہیں۔ لوگ چند دن کی سیری کو دیکھ کر پچھلے‬

‫اور اگلے سالوں کی قیامت ناک بھوک کو بھول جاتے ہیں۔‬

‫ان میں سے ایک جس نے جوش خطابت میں چائے کا ابھی تک‬
‫ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا‘ کا کہنا تھا کہ صدر وزیر اعظم اور‬

‫اسپیکر تو ڈھنگ کے منتخب کیے جاءیں۔ شاید اسے معلوم نہ‬
‫تھا کہ انھیں عوام منتخب نہیں کرتے۔ یہ عوامی نمائندے نہیں‘‬
‫اپنی پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنی پارٹی کے‬
‫مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے کیا مطلب۔ وہ عوام‬
‫کو جوابدہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ اسپیکر نے‬
‫وزیر اعظم کے حوالہ سے جو فیصلہ دیا ہے۔ عوامی مفاد میں‬

‫نہیں دیا۔ اگر وہ عوام کا نمائندہ ہوتا تو اسے عوام کا مفاد عزیز‬
‫ہوتا تو فیصلہ عوامی ہوتا۔ عدلیہ کی عزت اور وقار کو یوں‬

‫پاؤں کی مٹی نہ بناتا۔ فیلصے میں واضع کرتا کہ کون آءین کا‬
‫قاتل ہے۔ اس کے فصلے سے آئین بحال نہیں ہوا۔ آئین ابھی تک‬

‫چیلنج یا معطل ہے۔‬

‫اتنی دیر میں بجلی آ گئ۔ دونوں کا جوش ہوا ہو گیا۔ دونوں سر‬
‫پر پاؤں رکھ کر بھاگ گئے۔ میں سوچ میں پڑ گیا اتنا گہرا شعور‬

‫انھیں کس نے دیا ہے۔ کیا یہ بھوک پیاس اور اندھیرے کی‬
‫مہربانی ہے یا میڈیے کی کارگزاری ہے۔دوسرا سوال یہ بھی‬
‫کھڑا تھا کہ شعور انقلاب کی طرف لے جا رہا ہے یا بھوک‬

‫شعور کو کھا پی جائے گی۔‬

‫ان دونوں کا بجلی کے آنے پر دوڑ لگانا ظاہر کرتا ہے کہ شعور‬
‫کسی بھی سطع پر ہو بھوک سے تگڑا نہیں ہوتا۔ روٹی ایمان کی‬

‫بناء ہے۔ شخص کتنا ہی مظبوط کیوں نہ ہو بھوک کے ہاتھوں‬
‫بک جاتا ہے۔ لوگوں کو بھوک کی آخری سطع پر اسی لیے پنچا‬
‫دیا گیا ہے کہ وہ اپنا ضمیر ایمان اور عزت بیچنے پر مجبور ہو‬
‫جائیں۔ بھوک کےتیور دیکھتے ہوئے میں پورے یقین سے کہہ‬

‫سکتا ہوں کہ یہاں کوئ تبدیلی نہیں آئے گی۔ لوگ ہوٹلوں میں‬
‫بیٹھ کر بڑےاونچے درجے کی باتیں کرتے رہیں گے لیکن بجلی‬

‫آتے ہی روٹی کی طرف بھاگ اٹھیں گے۔‬

‫بغداد والے کوا حلال ہے یا حرام پر بحثیں کرتے رہے ادھر‬
‫ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سےاینٹ بجا دی۔ ہمارے ساتھ بھی‬

‫یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ ہماری خودداری پر ہر دوسرے کاری‬
‫ضرب لگاتا ہے اور ہمارے لیڈر اگلے الیکشن جیتنے کے لیے‬
‫بھوک میں اضافے کا کوئی نیا راستہ تلاشنے کی سعی کرتے‬

‫ہیں۔‬

‫کار سستی آٹا چینی دال گھی مہنگی کر رہے ہیں۔ ایک عام آدمی‬
‫کو کار سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ بس کرایہ کم ہو تو غریب‬
‫سے تعاون سمجھ میں آتا ہے۔ اندھا بانٹے روڑیاں مڑ مڑ اپنیاں‬

‫نوں۔ کار کا سستا ہونا غریب پروری کے کس زمرے میں آتا‬
‫ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے کہ میک اپ بھی سستا کر‬

‫دیا گیا ہے۔ غالبا قوم کوکوٹھے پر بیٹھانےکا ارادہ ہے۔‬

‫قوم اس نام نہاد آزادی کے دن سے لے کر آج تک کوٹھے پر‬
‫بیٹھی ہے۔ جوآتا ہےاس کی جان مال عزت آبرو انا اور غیرت‬
‫سےکھیلتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد ہر کوئ‬
‫اس کے جبروستم کے قصے چھیڑ دیتا ہے لیکن یہ سب زبانی‬

‫کلامی ہوتا ہے۔ کوئی اس پر گرفت نہیں کرتا۔ گئے وقت کی‬
‫چھوڑیے کوئی موجودہ کے سدھار کی کوشش نہیں کرتا۔ ہر آتا‬

‫دن گزرے سے بدترین ہوتا ہے۔‬

‫عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ان نام کے قومی‬
‫لیڈروں کی ناک کے نیچے رشوت کا بازار گرم ہے۔ اکثر افسر ان‬
‫کے اپنے بندے ہیں۔ کم از کم جو ان کے اپنے بندے نہیں ہیں ان‬

‫پر تو گرفت کریں تاکہ وہ ان کا بندہ ہونے کا جتن کریں۔‬

‫محکمہ تعلیم اوروں کے لیے نمونہ ہونا چاہیے لیکن اس کا حال‬
‫بےحال ہے۔ ان دنوں لیکچرر سے اسسٹنٹ پروفیسرز کی‬

‫پوسٹنگ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ خالی پوسٹوں اور پوسٹوں کی‬
‫اپ گریڈیشن کے بھاؤ لگ رہے ہیں۔ جو گرہ ڈھیلی نہئں کرے گا‬
‫دور دراز علاقوں کی ہوا کھائے گا۔ نیلے پیلے نوٹ میرٹ بناتے‬

‫ہیں۔ کوئ پوچھنے والا نہیں۔‬

‫پوچھنے والوں کے ہاتھ میں سفید گڑ کی پیسی ہے اور وہ یہ‬
‫سوچے بغیر کہ دانت خراب ہوں گے چوسے پہ چوسا مارے جا‬
‫رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں خراب دانتوں کا علاج کون سا گرہ خود‬

‫سےہونا ہے۔ سرکار کا اشیرواد اور قوم کا مال سلامت رہے۔‬

‫انھیں پریشان کی کیا ضرورت ہے۔‬

‫رشوت کو طلاق ہو سکتی ہے‬

‫ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم پوچھا۔ اس‬
‫شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس پر چرسی بولا اس‬

‫ملک نے خاک ترقی کرنی ہے۔ صبح سے پوچھ رہا ہوں ہر کسی‬
‫کا اپنا ٹائم ہے۔ بات تو ہنسی والی ہے لیکن ذرا غور کریں گے‬
‫تو اس بات کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔‬

‫اس ملک میں ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو اپنے مطلب‬
‫کے معنی دے رکھے ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ رکھے‬

‫ہیں۔ یہی منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے‬
‫مختلف بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں اشیائے‬
‫خوردنی کے ایک سے نرخ سننےکو نہیں ملیں گے۔ کپڑا خریدنا‬

‫ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے نرخ ہوتے ہیں۔‬

‫سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ اور شام کو کچھ کہتا‬
‫ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی شخص اور موقع کی مناسبت سے‬

‫بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی کے برعکس کہنے میں کوئ‬
‫عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔واپڈا والے ہوں اکاؤنٹس‬

‫آفس ہو گیس والوں کےہاں چلے جائیں خدا نخواستہ نادرہ‬
‫والوں سے کام پڑ جائے جو عوما نہیں اکثر پڑتا ہی رہتا ہے۔ یہ‬
‫تو خیر مقامی دفاتر ہیں بڑے دفاتر یہاں تک کہ مہا منشی ہاؤس‬

‫کے دفاتر جن سے دادرسی کی امید رکھی جاتی ہے‘ کے بھاؤ‬
‫ایک نہیں ہیں۔ ایک ہی کام کے مختلف نرخ ہیں۔ اپنا یا بیگانہ کی‬
‫تخصیص موجود نہیں۔ یہاں کوئ اپنا یا پرایا نہیں۔ مفت بھر کسی‬

‫سطع یا کسی حوالہ سے فیض حاصل نہیں کرپاتے۔ پلہ ہر کسی‬
‫کوجھزنا ہی ہوتا ہے۔ بہوتا اوکھا فنی خرابیوں سے عمر بھر‬
‫نبردآزما رہتا ہے۔‬

‫مجھے بھتہ لینے یا دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دنیا لین دین‬
‫پر استوار ہے۔ بھتہ خور حالات کے ہاتھوں خود مجبور ہیں۔‬

‫تنخواہ میں وہ کچھ چل ہی نہیں سکتا جو بھتہ شریف کی برکت‬
‫سے چلتا آ رہا ہے۔ تنخواہ سے دو انچ زمین خرید کر دکھا دیں۔‬
‫کار تو بڑی دور کی بات تنخواہ میں سائیکل کا ایک پیڈل خریدا‬
‫نہیں جا سکتا۔ بھتہ خوری خانگی مجبوری ہے۔ گھر میں سکون‬
‫ہو گا تو پورے معاشرے میں سکون ہو گا۔ بھتہ سیاسی مجبوری‬

‫بھی ہے۔ لفافہ کلچر سیاسی لوگوں کی عطا ہے۔ عطا بری نہیں‬
‫ہوتی۔ ہاں کچھ کو ماش موافق اور کچھ کو بادی۔‬

‫یقین مانئیے میں اس سیاسی عطا کے خلاف نہیں ہوں ہاں میرا‬
‫موقف یہ ہے کہ اسے فکس ہونا چاہیے۔ یہ کیا ایک ہی کام کے‬

‫ایک سے دس دوسرے سے پندرہ اور کسی پر آٹھ ہزار میں‬
‫مہربانی کر دی جائے۔ ساتھ میں روٹی کی جگہ چائے بسکٹ‬
‫کیک پیس اور نمکو پر ہی کام چلا لیا جائے۔ ۔یہ انداز اور رویہ‬
‫کسی طرح درست نہیں۔ اس انداز و رویہ کے حوالہ سے بے‬
‫چینی پھیل رہی ہے۔ چرسی غلط نہیں کہہ رہا تھا۔ پوری قوم‬
‫خصوصا دفاتر کو بےٹائیمی کے اندھے کنویں سے نکالا جائے۔‬

‫بالکل اسی طرح نرخی نظام کا قیام دقت کا تقاضا ہے۔‬

‫کچوپیے تو خیر اس ذیل میں نہیں آتے۔ ہمارے پاس یک نرخی‬
‫کی ایک قابل تقلید مثال موجود ہے۔ کسی بھی نیٹ ورک کا سو‬
‫روپیے کا لوڈ کروایں بیاسی روپیے اور کچھ پیسے کا بیلنس‬
‫لوڈ ہوتا ہے۔ کہیں ایک پیسے کا فرق نہیں آتا۔ اس یک نرخی کا‬
‫فایدہ یہ ہے کہ پاکستان میں پاکستانی روپیے کی حقیقی قیمت کا‬
‫اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ دیکھنے میں سرخ نوٹ سو روپیے کا ہوتا‬

‫ہے لیکن اس کی اپنے ہی دیس میں قیمت بیاسی روپیے اور‬
‫کچھ پیسے ہوتی ہے۔‬

‫حکومت کا اصولی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ تمام دفتر‬
‫سے ہر قسم کے چھوٹے موٹے کاموں کی فہرست طلب‬

‫کرے۔روییےکی عصری پاکستانی قدر کے مطابق اپنا جگا ڈال کر‬
‫ریٹ طے کرے۔ یہی نہیں اسے بینکنگ نظام سے وابسطہ کر دیا‬

‫جائے۔ سائیلوں کو دفاتر کے دھکوں سے نجات مل جائے گی‬
‫اور ہر کسی کو بینک چالان پر طے شدہ کوڈ کے مطابق حصہ‬
‫مل جائے گا۔ سائل چالان کی نقل پاس رکھ کر اصل متعلقہ دفتر‬
‫میں جمع کرا دے گا۔ مقررہ تاریخ کو چند روپیے کچوکیے کے‬
‫ہاتھ میں رکھ کر اپنے کاغذ پتر خوشی خوشی گھرلے جائے گا۔‬

‫اس سے رشوت اصطلاح کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طلاق ہو‬
‫جائے گی۔‬

‫لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت‬

‫لوٹا کوئی عہد جدید کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پہلے وجود میں‬
‫آ کیا تھا اور اس نے اپنی بہترین کارگزاری کے حوالہ سے‬

‫انسانی زندگی میں بلند مقام حاصل کر لیا۔ اس کے وجود سے‬
‫انسان خصوصا برصغیر کے بااختیار اور صاحب حیثیت لوگوں‬
‫نے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ دیکھا جاءے یہ کمزور اور گریب‬

‫طبقے کی چیز ہی نہیں۔ پکے محل رکھنے والے اس کی‬
‫کارگزاری کے معترف رہے ہیں۔ کمزور اور گریب طبقے سے‬
‫متعلق لوگ کچے اور تعفن کے مارے گھروں میں رہتے ہیں اس‬
‫لیے ان کی گزر اوقات گھیسی سے ہو جاتی ہے۔ اس حیقیت کے‬
‫پیش نظر لوٹے کو بلند پایہ طبقوں کی امانت سمجھنا چاہیے۔‬
‫موجودہ بتی کے بحرانی دور میں بھی بڑے لوگوں کو گھیسی‬
‫نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ سعادت صرف اور صرف کمزور اور گریب‬

‫طبقے کے مقدر کا حصہ رہے گی۔‬

‫لوٹا" کو آفتابہ بھی کہا جاتا رہا ہے لوٹے کو استاوا بھی کہتے "‬
‫ہیں اور یہ لفظ دیہاتوں میں آج بھی مستعمل ہے۔ تاہم شہروں‬

‫میں مستعمل اور معروف لفظ لوٹا ہی ہے۔ یہ ایک قسم کا ٹونٹی‬
‫والا برتن ہوتا ہے جو پاخانہ وغیرہ کے لیے پانی سے طہارت‬

‫کرنے والا برتن ہوتا ہے۔ مغرب والے اس برتن اور اس کی‬
‫افادیت سے آگاہ نہیں ہیں کیونکہ وہ طہارت کا کام ٹیشو پیپر‬
‫سے چلاتے ہیں۔ ویسے ٹیشو پیپر کا استعمال کھانا کھانے کے‬
‫بعد ہاتھ صاف کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اصطلاحا ٹیشو پیپر‬
‫کے معنی اس سے مختلف ہیں۔ کام نکل جانے کے بعد آنکھیں‬

‫بدل لینا کے لیے یہ مرکب استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال شدہ‬
‫ٹیشو پیپر معنویت کھو دیتا ہے۔ انسان کے لیے اس مرکب کا‬
‫استعمال کرنا مناسب نہیں لگتا کیونکہ انسان کی دوبارہ سے‬
‫ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ ٹیشو پیپر دوبارہ سے استعمال میں‬
‫نہیں لایا جا سکتا۔ دوبارہ سے ضرورت یا حاجت کے لیے نیا‬
‫ٹیشو پیپر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انسان دوبارہ‬
‫سے کیا' بار بار استعمال میں لایا جا سکتا ہے ‪ .‬ٹیشو پیپر کا‬
‫ہاتھ اور پیٹھ کی صفائی کے علاوہ کوئ قابل ذکراستعمال موجود‬

‫نہیں۔‬

‫مساجد میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے آج بھی زیادہ‬
‫تر مٹی کے لوٹے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔ کہیں کہیں پلاسٹک‬

‫کے لوٹے بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ جماعت والے جب‬
‫چلے پر جاتے ہیں پلاسٹک کے لوٹوں کو ترجیع دیتے ہیں‬

‫کیونکہ ان کے ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ سفر میں لوٹا ٹوٹنا یا بہہ‬
‫جانا نہوست ہی نہیں مکروہات میں بھی ہے۔ لوٹے کی سلامتی‬
‫میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔ طہارت کا سارا دارومدار لوٹے‬
‫پر ہوتا ہے۔ لوٹا برقرار ہے تو طہارت برقرار ہے۔ طہارت برقرار‬

‫ہے تو ہی عبادت ممکن ہے۔‬

‫شہر کے گھروں میں کانسی سلور سٹیل چاندی پلاسٹک وغیرہ‬

‫دھاتوں کے لوٹے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ایوا نوں میں‬
‫پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے غالبا آج بھی‬

‫پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوتے ہیں۔ فیشنی دور ہے ٹیشو پیپر‬
‫بھی بڑی افادیت رکھتے ہیں۔ ٹیشو پیپر کو لوٹے کا مترادف‬

‫سمجھا جاتا ہے۔ حقیت یہ ہے کہ ۔ ٹیشو پیپر لوٹے کا متبادل ہو‬
‫ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں پانی کا عمل دخل نہیں ہوتا دوسرا‬

‫ٹیشو پیپر ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں ہو سکتا۔ گویا‬
‫گھیسیی اور ٹیشو پیپر برابر کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ گھیسیی‬
‫طہارت کے حوالہ سے زیادہ معتبر ہے۔ مٹی سے وضو تک کیا‬
‫جا ستا ہے۔ وضو کی ضرورت نماز تک محدود ہے۔ ہہاں لوگ‬
‫بسم الله شریف تک درست نہیں پڑھ سکتے لہذا ٹیشو پیپر کا‬
‫استعمال ایسا غلط نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اس قماش کے لوگ‬
‫گھیسی بھی کر لیں تو کوئ برائ نہیں۔ طہارت کے لیے لوٹا'‬
‫گھیسی یا ٹیشو پیپر نہ بھی استعال میں لائیں تو بھی ان کی سر‬
‫جائے گی۔ یہ لوگ عوام کا ووٹ حاصل کرکے طہارتیوں میں‬
‫شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پاکی پلیدی پر انگلی نہیں رکھی جا‬

‫سکتی۔‬

‫لوٹے کے چھوٹا یا بڑا ہونے کے حوالہ سے بات ہوئ ہے لوٹا‬
‫چھوٹا ہو یا بڑا' بظاہر ا س سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ لوٹا اول تا‬
‫آخر لوٹا ہے کہاں تک ساتھ دے گا۔ مٹی کا لوٹا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔‬

‫لوٹےکے بڑا یا چھوٹا ہونے سے اچھا خاصا اثر پڑتا ہے۔‬
‫چھوٹے لوٹے میں پانی کم پڑتا ہے اس لیے طہارت کے لیے دو‬

‫سے زیادہ لوٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس‬
‫بڑا لوٹا بڑی حد تک ایک ہی کافی ہوتا ہے۔ رہ گئ ٹیشو پیپر یا‬
‫گھیسی کی بات ٹیشو پیپر بڑے ایوانوں یا بڑے گھروں کے کام‬
‫کی چیز ہوسکتی ہے لیکن دیہاتوں یا جھونپڑوں کے مقیم اسے‬

‫نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ ان کی تسلی کی چیز ہو ‪afford‬‬
‫سکتی وہ گھیسی یا کچے روڑے کےاستعمال کو ترجیع میں‬

‫رکھتے ہیں۔‬

‫لوٹے کا اصطلاحی استعمال بڑے ایوانوں میں ہوا کرتا تھا‬
‫اصطلاحی لوٹا عوام کے متعلق چیز نہ تھی اور نہ ہی ایوانی‬
‫لوٹوں پر کسی قسم کی بات کرنے کا حق تھا ۔ ان کی یہ اوقات‬
‫بھی نہ تھی کہ وہ ایوانی لوٹوں کے متعلق کوئ بات اپنی ناپاک‬
‫زبان پر لاءیں۔ لوٹے ا اپنی اوقات اورافادیت کے حوالہ سے بڑی‬

‫رکھتے ہیں۔ کمی کمین عوام جو دوچار بتی کھچ ‪importance‬‬
‫جھٹکوں کی مار نہیں ہیں' تقدس ماب لوٹوں پر اپنے حوالہ سے‬

‫ایک شبد بھی منہ سے نہ نکالیں۔ ان کی اتنی جرات اور ہمت‬
‫کہاں حالانکہ لوٹوں کے بارے اں کی بقلم خود رائے موجود رہی‬
‫ہے۔ عوام کو صرف اور صرف رائے دہی کا حق حاصل ہے۔ اگر‬

‫مخالف فریق کے ڈبے میں ووٹ چلا جاتا ہے تو رائے دہی کا‬
‫حق' داھندلی کے لقب سے ملقوب ہوتا ہے۔‬

‫میں اصل نقطے کی بات عرض کرنا بھول گیا ہوں لوٹے کی ہیت‬
‫ترکیبی ٹونٹی تک محدود نہیں پیندے کا اس میں بنیادی رول ہوتا‬
‫ہے۔ مٹی کے بعض لوٹے بلا پیندے کے بھی رہے ہیں۔ اس قسم‬
‫کے لوٹوں کے لیے پیالہ نما جگہ بنا دی جاتی تھی لیکن پیندے‬
‫وا لے لوٹے پیالے کی سعادت سے محروم رہتے تھے۔ پلاسٹک‬

‫کے لوٹے باپیندا ہوتے ہیں ہاں زیادہ استعمال کے باعث ان کا‬
‫پیندا ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن ٹوٹ پھوٹ کے باوجود پیندے کا‬
‫نام و نشان باقی رہتا ہے۔ انھیں استعمال کی کسی بھی سطع پر‬
‫بے پیندا لوٹا قرار نہیں دیاجا سکتا۔ استعمال کے سبب نیچے‬
‫سے کتنا بھی ٹوٹ جائے پیندے کا نشان ضرور باقی رہ جاتا‬
‫ہے۔ معمولی نشان بھی اسے باپیندا قراردینے کے لیے کافی ہوتا‬

‫ہے۔‬

‫سیانے مولوی اپنا طہارت خانہ الگ سے رکھتے ہیں لہذا ان کا‬
‫لوٹا بھی اوروں سے الگ تر ہوتا ہے۔ اس طر ح مولوی صاحب‬
‫کا لوٹا' مقدس لوٹا ہوتا ہے۔ دفاتر میں عملے کے طہارت خانے‬
‫عام استعمال میں رہتے ہیں اس لیے وہاں کے لوٹے کسی خاص‬

‫دفتری کے لیے مخصوص نہیں ہوتے ہاں البتہ افسروں کے‬

‫طہارت کدے ان کے دفتر کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ ان طہارت کدوں‬
‫کے لوٹے بڑی معنویت کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض افسر ٹیشو‬

‫پیپر استعمال میں لاتے ہیں' وہاں لوٹے نہیں رکھے جاتے ۔ کچھ‬
‫افسرز کے طہارت کدوں میں دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔‬

‫موقع کی مناسبت سے لوٹے یا ٹیشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں‬
‫تاہم ان کے طہارت کدوں کی آن بان اور شان ہی کچھ اور ہوتی‬

‫ہے۔‬

‫حضرت پیر صاحبان کے واش روم زیر بحث نہیں لئے جا سکتے‬
‫کیونکہ حضرت پیر صاحبان نیک پاک اور عزت کی جگہ پر‬

‫ہوتے ہیں۔ یہ اپنی خانقاہ میں ہوں یا کسی ایوان کی زینت بڑھا‬
‫رہے ہوں' ان کے لوٹے دوہرے کام کے ہوتے ہیں‪ .‬نہ گھومیں‬
‫تو چاند گھوم جائیں تو زنجیر وٹ پر رہتی ہے۔ بہرطور طہارتی‬
‫اور پرچی نکالنے والے لوٹے الگ ہوتے ہیں اس لیے ان کے‬

‫حوالہ سے بات کرنے پر پاپ لگتا ہے۔ ایوانوں میں تشریف‬
‫رکھنے والے حضرت پیر صاحبان سیاسی کھیل کے لیے پیندے‬
‫اور بے پیندے لوٹے استعمال میں لاتے رہتے ہیں اور یہ ان کا‬
‫پروفیشنل حق بھی ہوتا ہے لہذا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا‬
‫کہ وہ حضرت پیر صاحبان کے لوٹوں کی جانب میلی نظر سے‬
‫بھی دیکھنے کی گستاخی کرے۔ اس قسم کے لوگوں کی زمین پر‬

‫ٹہوئی نہیں ہوتیی۔‬

‫کوئ لوٹا نواز ہک پر ہتھ مار کر نہیں کہہ سکتا کہ لوٹا زندگی‬
‫کے کسی موڑ پر اپنی مرضی سےاوور فلو ہونے کی گستاخی‬
‫کرتا ہے۔ یہ لوٹے دار کی غلطی کوتاہی بے نیازی یا بے دھیانی‬
‫کے سبب اوور فلو ہوتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں بڑے لوٹے کے‬
‫برابر پانی ڈالو گے تو ہی بات بگڑے گی۔ اسی طرح بڑے لوٹے‬
‫میں چھوٹے لوٹے کا پانی طہارتی امور سرانجام نہیں دے سکتا۔‬
‫لوٹا دار کا فرض ہے کہ وہ تناسب کو ہاتھ سے ناجانے دے۔‬

‫‪:‬استاد غالب بلا کا لوٹا شناس تھا‪ .‬تبھی اس نے کہا تھا‬

‫دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر‬

‫اماں حوا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آدم کی بچی ہوئ مٹی‬
‫سے بنائ گئ تھیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا تاہم یہ ایک میتھ‬
‫ضرور ہے۔ ایک عام آدمی کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں کے لوٹے‬
‫استاد غالب کے کسی نہایت حرامی لوٹے کی بچی ہوئ مٹی سے‬
‫وجود پذیر ہوئے ہیں۔ میں اس عقیدے پر یقین نہیں رکھتا تاہم یہ‬

‫ایک میتھ ضرور ہے۔‬

‫جگہ' قانون' لوگ اورحکومت کسی بھی ریاست کے وجود کے‬
‫لیے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ریاست وجود میں‬
‫نہیں آ سکتی۔ ان میں سے ایک عنصر بھی شارٹ ہو تو ریاست‬

‫نہیں بنتی۔ حکومتی ایوانوں میں لوٹے نہ ہوں تو معزز ممبران‬
‫لبڑی پنٹوں شلواروں کے ساتھ نشتوں پر بیٹھینگے ' سوسائٹی‬
‫میں پھیریں گے اس سے نا صرف حسن کو گریہن لگے گا بلکہ‬

‫بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں شلواروں والے ممبران کی‬
‫عزت کون کرے گا۔ گریب عوام اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائے‬
‫گا۔ کھوتا گھوڑا ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں کی خرید و‬

‫فروخت کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ سےپہلا‬
‫سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوٹوں کی تجارت پر کسی بھی‬
‫سطع پر کبیدہ خاطر ہونا سراسر نادانی کے مترادف ہے۔ ریاست‬

‫کے ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے لیے لوٹوں‬
‫کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی قسم کی تکلیف دینا‬

‫کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس کاروبار پر ناک منہ اور بھویں‬
‫اوپر نیچے کرنے والے حضرات غدار ہیں اور غدار عناصر کا‬
‫کیفرکردار تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں سزا دینے‬

‫کی حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادف ہے۔‬

‫آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں‬

‫الله نے قلم کو معتبرمعزز اور محترم بنایا۔ اس کی حرمت کا‬
‫اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ الله نے اس کی قسم‬
‫اٹھائ ہے۔ اگلے وقتوں میں کانے سے بڑے اہتمام کے ساتھ قلم‬
‫گھڑی جاتی تھی۔ ماسٹر کے جیب میں قلم گھڑ کر دینے کے لیے‬
‫کاچو ہوا کرتا تھا۔ دوکان سے بھی گھڑی گھڑائ قلمیں مل جاتی‬
‫تھیں۔ ٹک بڑی احتیاط کے ساتھ لگایا جاتا تھا۔ گھڑائ کے ساتھ‬
‫ساتھ خوش خطی میں اس ٹک کا بڑا عمل ہوتا تھا۔ خوش خطی‬
‫باقاعدہ فن تھا اور خوش خطی کے الگ سے نمبر ملتے تھے۔‬
‫اس میں شک نہیں کہ وہ لکھائ بڑی مشقت انگیز تھی۔ ہر اگلا‬
‫لفظ لکھنے کے لیے ٹوبا لینا پڑتا تھا۔ اس قلم کے ساتھ ڈنک‬
‫اور کچی پنسل بھی مستعمل تھے تاہم انہیں قلم کا نام و مقام‬
‫حاصل نہ تھا۔ جی کے نب والا ڈنک انگریز کے عہد میں مستعمل‬
‫ہوا۔ جی کے نب والے ڈنک کو انگریز ہونے کا شرف حاصل تھا‬
‫اس کے باوجود اسے قلم کا درجہ کبھی بھی حاصل نہیں رہا۔‬

‫الله نے کبھی اور کہیں ڈنک یا کچی پنسل کی قسم نہیں کھائ۔ قلم‬
‫سے کچی اور پکی سیاہی سے لکھا جاتا تھا۔ ہر دو طرح کی‬
‫سیاہی سے لکھی گئ تحریر قلم کی تحریر تھی اس لیے معتبر‬
‫اور محترم تھی۔ پن تو بہت بعد میں ولایت سے تشریف لایا۔‬
‫چونکہ وہ ولایت سے آیا اسے پن شریف کہنا غلط نہ ہو گا۔‬

‫دیسی گوروں نے پن شریف کو بھی قلم ہی کہا اور کسی حد تک‬

‫یہ نام بھی مستعمل ہوا۔ دیدہءبینا نے اسے کبھی قلم تسلیم نہیں‬
‫کیا۔ ان کے ہاں یہ پن ہی مستعمل رہا۔ بھیڑ کو وہ بکری کیوں‬

‫تسلیم کرتے۔ دیسی گورے رنگت کے گندمی‘ احساس برتری میں‬
‫اسے پن ہی کہتے تھے۔ یہ تھا بھی پن حالانکہ اس کے نب میں‬
‫بھی ٹک ہوتا تھا۔ پارکر جیسا قیمتی پن بھی ٹک کے بغیر نہیں‬

‫ہوتا تھا۔‬

‫وقت آگے بڑھا تو قلم پن متروک ہو گیے۔ ان جگہ بال پوانٹ نے‬
‫لے لی۔ بال پوائنٹ کو بائرو بھی کہا جاتا ہے اور یہی رائج ہے۔‬
‫جس پوائنٹ سے لکھتے ہیں وہ بلا ٹک ایک کوکا سا ہوتا ہے۔‬
‫ٹک نہ ہونے کے سبب اس سے مروت کی آشا بے فضول سی‬
‫ہے۔ اس میں سیاہی نہیں پڑتی۔ یہ بھری بھرائی ہوتی ہے۔ صاف‬
‫ظاہر ہے اس میں جو بھی بھرا جاتا ہے کیمیکل سے مبرا نہیں‬
‫ہو گا۔ بھرنے والے اپنی طینت اور مقاصد اس میں آمیزہ کرتے‬
‫ہوں گے۔ دفاتر ہوں یا شفاخانے یا درس گاہیں‘ اس کا سکہ چلتا‬
‫ہے اور بڑے بھار سے چلتا ہے حالانکہ اس کی اوقات اتنی ہے‬
‫جب اس کے اندر کا مواد ختم ہو جاتا ہے اسے کچرے کے ڈبے‬
‫کی زینت بننا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس پن کی یہ حیثیت نہ تھی۔‬

‫سیاہی ختم ہوتی تو دوبارہ سے بھر لی جاتی۔ نب ٹوٹ جاتا نیا‬
‫نب بازار سے مل جاتا تھا۔‬

‫ڈاکٹر عبداقاضی لله کمال کے عالم فاضل ہیں۔ خیر سے ڈبل پی‬
‫ایچ ڈی ہیں۔ زندگی پڑھنے لکھنے میں گزار دی ہے۔ ان کی‬

‫شرح بخاری کویت سے شائع ہو رہی ہے۔ اتنے پڑھ لکھ کر بال‬
‫پوائنٹ کی طاقت کو نہیں مانتے۔ عہد جدید میں بھی پن سے‬

‫لکھتے ہیں وہ بھی ایگل کے پن سے۔ پارکر کا قلم رکھتے ہوئے‬
‫ایگل کے پن سے لکھنا پارکر کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔‬
‫کل فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ قلم کی حرمت‬
‫جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ تو سنا تھا عزت‘ عزت اور حرمت‬

‫ایک ہی بات ہے بچانے کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کی‬
‫جاتی۔ جان بار ملنے کی چیز نہیں لہذا اسے بچانے کے لیے‬
‫عزت نیلام کر دی جاتی ہے۔ دونوں طرح کی صورتیں تاریخ میں‬

‫ملتی ہیں۔‬

‫عزت پر جان قربان کرنے والے خال خال ملتے ہیں۔ سقراط نے‬
‫زہر پی لیا لیکن ارسطو میدان چھوڑ گیا۔ پورس جب جان کو‬

‫ہتھیلی پر لے کر میدان میں اترا تو سکندر کو فرار اختیارکرنا‬
‫پڑا۔ اہل بال پوائنٹ کو دیکھیے اس نے نیچے والے بابے کو‬
‫اوپر قرار دے دیا۔ ریفریری کسی کو بھی آؤٹ دے سکتا ہے۔‬
‫اچھی بھلی بال کو نو بال قرار دے دینا اس کے ایک اشارے کی‬

‫مار ہے۔‬

‫ڈاکٹر قاضی کے نزدیک قلم سے بددیانتی ماں بہن کے ساتھ‬
‫زیادتی کے مترادف ہے۔ قلم مستعمل نہیں اس لیے بددیانتی کا‬

‫سوال ہی نہیں اٹھتا۔ دوسرا ہر وہ کام جسے الله اور اس کا‬
‫رسول حرام قرار دیتا ہے بااختیار طبقے اسے کرکے فخر‬
‫محسوس کرتے ہیں۔ زمین پر کسی ضمنی پارٹ کے سہی وہ خدا‬
‫ہیں‘ اس لیے وہ زندگی بھی اپنی مرضی کی گزارتے ہیں اور‬

‫اپنی ساختہ شرع پر عمل کرتے ہیں۔‬

‫سماجی پابندی ہو یا اخلاقی یہ ان کے لیے معنویت نہیں رکھتی۔‬
‫قانون لوگوں کے لیے ہوتا ہے اگر وہ بھی قانون کو کچھ‬

‫سمجھیں تو ان میں اور عام لوگوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔‬
‫رہ گیا مذہب‘ تو یہ فرد کا ذاتی مسئلہ ہے۔ دوسرا مذہب عبادت‬
‫گاہوں کی چیز ہے لہذا عبادت گاہوں کی حدود میں اس پر عمل‬
‫درامد فرض ہوتا ہے۔‬

‫قلم کی بےحرمتی لوگوں کی ماں بہن کے ساتھ زیادتی کے‬
‫مترادف ہے۔ یہاں بال پوائنٹ کی موجودگی میں اپنی یا پرائ ماں‬

‫بہن کے ساتھ زیادتی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بیٹی کا ذکر اس‬
‫لیے مناسب نہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجی ہوتی ہیں۔‬

‫آزاد معاشروں میں سب سے پہلے اہل علم کو داڑھ کے نیچے‬
‫رکھتے ہیں۔ یہ طبقہ آگہی پھیلا کر کمزور طبقوں کو بے‬

‫حضوریہ بناتا ہے۔ اہل جاہ اور اہل زر کی بےادبی ہی درحقیقت‬
‫خرابی کی جڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کالج کیڈر سے متعلق‬
‫لوگوں کا پرموشن کبھی کبھار ہوتا ہے۔ دس سال بعد بھی کسی‬

‫لیکچرر سے پوچھو تو خود کو لیکچرر بتاءے گا۔ ایک طرح‬
‫سے انھیں مستقل مزاج بنانے کی یہ سعی عظیم ہے۔ بھولے‬
‫سے کبھی پرموشن ہو جائے تو ان کی مٹی پلید کرنے میں کوئی‬
‫دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ اسے پنشن کے دروازے پر لا کھڑا‬
‫کرکے مسافر بنا دیا جاتا ہے۔ دکھ کی جندریوں میں مقید رہنے‬
‫تک زندگی کی آخری سانس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ بلا حرکت بھی‬
‫کوئی زندگی ہے۔ فارغ رہیں گے تو آگہی پھیلانے سے باز نہیں‬

‫آءیں گے۔‬

‫وہ اہل علم کو ذلیل کرنے کا بڑی خوش اسلوبی اور بڑی دیانت‬
‫داری سے فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کی فرض شناسی کو‬

‫آب زر سے قلم بند کیا جائے گا۔ ناخواندگی کی حوصلہ افزائ‬
‫میں ان کا کردارکبھی فراموش نہ کیا جا سکے گا۔ ڈاکٹر قاضی‬
‫جیسے اہل علم کو تو پرموشنی چکروں میں ڈالے رکھنا پورے‬
‫سسٹم کے ساتھ بھلائ کرنے کے مترادف ہے۔ میں مہامنشی کے‬
‫شعبہ اعلی شکشا کے بالا وزیریں اہل کاروں کی تحسین کروں گا‬

‫کہ علماء و فضلا کی اسی انداذ سے قدردانی ہونی چاہیے۔۔ اگر‬
‫انہیں گریڈ بیس مل گیا تو گریڈ وائز اعلی شکشا منشی کے برابر‬

‫ہو جاءیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اوقات وائز اس کے نائب قاصد‬
‫سے بھی کمتر ہوں گے۔‬

‫قلم کے متروک ہو جانے کے بعد محاورہ قلم کی مار دینا بھی‬
‫کسی حد تک سہی‘ ختم ہو گیا۔ مرا نہیں تو قریب المرگ ضرور‬
‫ہے۔ مفتا ساتھ میں لفافہ نہیں لایا ہوتا اس لیے اسے گھاس بھی‬

‫نہیں ڈالی جاتی۔‬

‫مفتے کو دفتر اعلی شکشا منشی کے اہلکار پر بھی نہیں لکھتے‬
‫اس کی فائل تھوڑا بہت مواد موجود ہونے کے باوجود بال‬

‫پوائنٹ کی آلودگی سے محفوظ رہتی ہے۔ سفارشیے اور جھڑیے‬
‫کی فائل گردش میں رہتی ہے اور اس کی آنیاں جانیاں لگی رہتی‬

‫ہیں۔ ہر بار علاقے کی سوغات نہیں لاتا تو ناسہی ایسا شاز ہی‬
‫ہوتا ہے ورنہ وہ خالی ہاتھ نہیں آتا‘ آ کر وہاں کے حاضرین و‬
‫ناظرین کو چاء چو تو پیش کرتا رہتا ہے۔ چاء لانے والے قریبا‬
‫آفیسر سے بقایا طلب کرنے کی غلطی کا سزاوار نہیں ہوتا۔ بقایا‬

‫طلب کرنے کے انجام سے وہ بخوبی واقف ہوتا ہے۔‬

‫پی ایچ ڈی راگ جنگہ کی دہلیز پر‬

‫میں اپنی کسی تحریر میں عرض کر چکا ہوں‘ کہ کام کے‬
‫پیچھے موجود غرض و غایت کے حوالہ ہی سے‘ ثمرات ہاتھ‬
‫لگتے ہیں۔ تحقیق کا حقیقی مقصد تو یہ ہوتا ہے‘ کہ اس سے‬
‫کچھ نیا دریافت ہو اور وہ نئی دریافت‘ بنی نوع انسان کے لیے‬
‫سکون اور آسودگی کا باعث بنے۔ عمومی اور خصوصی سوچ‬
‫میں‘ بالیدگی پیدا ہو۔ جب سوچ کا محور پیسہ‘ حصول جاہ یا شو‬
‫شا اور نوکری کا حصول رہا ہو‘ تو انسانی آسودگی اور سوچ کی‬
‫بالیدگی حرف ثانی بھی نہیں رہ پاتی۔ خودغرضی‘ مطلب بری‘‬
‫چھینا جھپٹی اور مزید کی ہوس میں‘ ہر چند اضافہ ہی ہو گا۔‬
‫درس گاہیں تماشہ بن جائیں گی۔ وہاں ٹھرک بھورنا یا ٹھرک‬
‫سے بڑھ کر‘ دیکھنے سننے کو رہ جائے گا۔ علی گڑھ برصغیر‬
‫کا صف اول کا تعلیمی ادارہ‘ اگر سرور عالم راز صاحب کے بیان‬
‫کیے گیے ناک نقشے کا رہ جائے گا‘ تو باقی کا تو الله ہی حافظ‬

‫ہے۔‬

‫پی ایچ ڈی سطع کے کام‘ ٹوٹل پورا کرنے کے مترادف رہ‬

‫جاءیں گے‘ تو اس کے بعد تو کچھ کہنے کو باقی نہ رہے گا۔ نام‬
‫کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ نتھی ہو جانے سے‘ علمی فضیلت میں‬

‫اضافہ نہیں ہو جاتا۔ ہمارے ایک ملنے والے پی ایچ ڈی کرنے‬
‫سے پہلے‘ علامہ صاحب عرف رکھتے تھے۔ کچھ ہی پہلے‬

‫میری ان سے ملاقات ہوئی اور میں انہیں علامہ صاحب کہہ کر‬
‫مخاطب ہوا۔ انہوں نے مجھے زہریلی نظروں سے دیکھا اور اٹھ‬
‫کر چلے گیے۔ حیرت ہوئی کہ آخر ناراض کیوں ہو گیے ہیں۔ میں‬

‫نے اپنے ایک دوست سے ماجرا کہا۔‬

‫انہوں نے زوردار قہقہ لگایا۔ سمجھ میں کچھ نہ آیا‘ آخر میں‬
‫نے کون سا کسی پٹھان یا سردار کا لطیفہ سنایا ہے‘ جو‬

‫مسکرانا کی حدوں کو پھاند رہے ہیں۔ معلوم ہوا موصوف پی ایچ‬
‫ڈی کر گیے ہیں‘ لہذا انہیں ڈاکٹر کہلانا خوش آتا ہے۔ پی آیچ ڈی‬

‫کرنے کا آخر فاءدہ ہی کیا‘ جو لوگ دوبارہ سے پرانا دیسی‬
‫سابقہ استعمال میں لاءیں۔ علامہ بھی اگرچہ برصغیر سے متعلق‬
‫نہیں ہے‘ چوں کہ مستعمل ہو گیا ہے‘ اس لیے دیسی لگتا ہے۔‬

‫آج چوں کہ انگریز کا طوطا بولتا ہے‘ اس میں چاشنی اور‬
‫جازبیت کا عنصر مرزا غالب ہے‘ اس لیے بگڑنا‘ لایعنی اور بے‬

‫معنی نہیں۔‬

‫جب وہ صاحب اگلی بار ملے تو میں نے بصد احترام جناب پی‬
‫ایچ ڈی صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔ اس سے بڑھ کر سعادت مندی‬

‫اور ٹی سی کیا ہو سکتی تھی‘ کہ ایک ساتھ جناب کا سابقہ اور‬
‫صاحب کا لاحقہ استعمال کر ڈالا۔ چاہیے تو تھا کہ بڑے خلوص‬
‫سے ملتے‘ بلاجواب سوال‘ قیامت خور نگاہوں سے دیکھتے‬
‫ہوئے‘ قریب کی مسجد کے غسل خانے میں‘ جوتوں سمیت چڑھ‬
‫دوڑے۔ میری اردو پر خفا ہونے کی ضرورت نہیں‘ طہارت گاہ‬
‫کے لیے‘ لفظ غسل خانہ بھی مستعمل ہے۔ مجھے حیرت ہوئی‬
‫آخر اب کیا غلطی یا غلطان سرزد ہو گیا ہے۔ میرے ایک مغربی‬

‫پرفیسر دوست ہوا کرتے تھے۔ ایک بار میں نے انھیں ڈاکٹر‬
‫صاحب کہہ کر پکارا ۔ انھوں نے نیم ناراضگی کی حالت میں‬
‫فرمایا‪ :‬حسنی صاحب میں پروفیسر ہوں۔ آپ یہ ڈاکٹر صاحب‬
‫ڈاکٹر صاحب کہہ کر کیوں مخاطب کر رہے ہیں۔ ان کا غالبا‘ ہو‬
‫سکتا ہے یقینا یہ کہنا ہو‘ یہ تو ایسے ہی ہے‘ جیسے کسی کو‬
‫ہیلو ایف اے صاحب یا ہیلو بی اے صاحب کہہ کر پکارا جاءے۔‬

‫‪:‬لکھنے میں بھی اس طرح آنا چاہیے‬

‫پروفیسر صابر آفاقی پی ایچ ڈی۔‬

‫اصل میں نفسیاتی عارضہ ہے‘ کہ ہم کچھ کر لینے کے بعد‘‬
‫تفاخر کا شکار ہو جاتے ہیں حالاں کہ آگہی عجز سے سرفراز‬
‫کرتی ہے۔ ڈگری اس امر کی گواہ ہوتی ہے‘ کہ یہ شخص عجز‬
‫سے سرشار ہو گیا ہے۔ یہاں معاملہ ہی برعکس جا رہا ہے۔ پی‬

‫ایچ ڈی کے بعد تکبر کی‘ آسمان سے باتیں کرتی روڑی لگ‬

‫جاتی ہے۔ مجھے ایک قصہ سا یاد آگیا ہے۔ ایک صاحب جو ایم‬
‫فل کر رہے تھے‘ انھیں مارفونیات پر اسئنمنٹ دے دی گئ۔‬

‫سیدھا سادا لٹریچر پڑھانے والا کالج پروفیسر‘ لسانیات کی اس‬
‫اوکھی سی اصطلاح کو کیا جانے۔ جب انھوں نے دریافت فرمایا‬

‫کہ جناب یہ کس چڑیا کا نام ہے تو ڈاکٹر صاحب بپھر گیے۔‬

‫کہنے لگے میرا امتحان لیتے ہوئے‘ تمہیں شرم آنی چاءیے۔ اب‬
‫شکل گم کرو۔‬

‫ایک صاحب سے کہا گیا‘ میجک ان ریسرچ پر اسءنمنٹ لکھ کر‬
‫لاؤ۔ انھوں نے بھی پوچھا تو جواب ملا‪ :‬پہلے کام کرکے لاؤ‘‬

‫پھر سوال جواب کرنا۔ یہ معاملہ سمجھ سے باہر ہے‘ کہ یہ سب‬
‫کیا ہو رہا ہے۔‬

‫آج کل مقالے لکھ کر دینے کا رواج زور پکڑ رہا ہے۔ جناب‬
‫سرور عالم راز کو بھی‘ میری طرح اس فعل بد کا افسوس ہے۔‬
‫ان کے افسوس سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لوگ میری الٹی‬
‫سیدھی بکواس کو خبط کا نام دیتے ہیں۔ ویسے یہ کاروبار اچھا‬
‫ہے‘ دس بیس دن کی نقل بازی سے‘ ایک معقول نہیں‘ معقول‬
‫ترین رقم ہتھے چڑھ جاتی ہے۔ ان دنوں بیمار اور مالی کمزوری‬

‫سرعت انزال کا سا‘ روپ دھار چکی ہے۔ سوچتا ہوں اگر میں‬
‫حرف کاری اوز نقل طرازی کے ہنر سے آگاہ ہوتا‘ تو باہر کی‬

‫طرح گھر میں بھی معزز شہری ہوتا۔ کہیں باہر جا کر ترلے‬
‫لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس سے بیک وقت چار فائدے‬

‫میسر آتے‬

‫‪٧‬۔ معززی میرے قدم چومتی‬

‫‪٦‬۔ گرہ میں کڑکتے کڑکتے نوٹ آتے ہیں۔‬

‫‪٣‬۔ ملنے والوں میں اضافہ کے سبب کوئ کام نہیں رکتا‪،‬‬

‫‪٤‬۔ مقالہ لکھوانے والا ساری عمر کے لیے کانا ہو جاتا ہے اور‬
‫وقتا فوقتا ناجائز اور صرف ناجاءز کام بآسانی نکلوائے جا‬
‫سکتے ہیں۔‬

‫‪٢‬۔ داخلی نتھیا گوڈے لگے نالگے‘ خارجی نتھیا تکمیل مقالہ‬
‫تک‘ سر سر کا راگ جنگلہ گاتی رہتی ہے۔ یہ کوئ عام اور گیا‬

‫گزرا اعزاز نہیں۔‬

‫چیز خریدتے وقت مال مات دے جاتا ہے۔ اب اہلیت نے ہاتھ‬
‫کھڑے کر دیے ہیں۔ خیر دکھ کیا کرنا ہے یا ٹنشن کیا لینی ہے۔‬

‫میکیش بہت پہلے گا گیا ہے۔‬

‫وہ تیرے پیار کا غم اک بہانہ تھا صنم‬

‫اپنی قسمت ہی کچھ ایسی تھی کہ دل ٹوٹ گیا‬

‫بول میں کہیں کمی بیشی نظر آئے تو معافی کا خواستگار نہیں‬
‫ہوں کیوں کہ اپنی قسمت ہی کچھ ایسی ہے‘ کہ ربط اور ضبط‬
‫ٹوٹ گیا ہے۔ یقیں مانئے‘ یہ حافظے کا قصور ہے۔ کچھ باتیں‬

‫سچی مچی بھول جاتا ہوں ورنہ ہر وہ بات جو دینی آتی ہو‘‬
‫سماج کے مزاج کی طرح دماغ سے دانستہ اور معلوم ہوتے‬

‫ہوئے بھی بھول جاتا ہوں۔‬

‫استاد غالب ضدین اور آل ہند کی زبان‬

‫استاد غالب بلاشبہ‘ جملہ زبانوں کے شعری ادب میں جھومر کا‬
‫درجہ رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی طور پر تین وجوہ ہیں۔‬
‫‪٧‬۔ اوروں سے ہٹ کر اور الگ سے بات کرتے ہیں۔‬

‫‪٦‬۔ اپنے کہے کا جواب پیش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی‬
‫بات اور کبھی جواز‘ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔‬

‫‪٣‬۔ مزید وضاحت کے لئے ضدین کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔‬

‫ان کی عملی زندگی میں‘ ضدین کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ آدھا‬
‫کافر اور آدھا مسلمان ہونے کا جواز رکھتے تھے۔ کافری‘‬

‫درحیقیقت ان کی مسلمانی کی شناخت تھی۔ استاد کا یہ بڑا پن‬
‫تھا‘ جو انھوں نے اپنی کافری کا اقرار کیا‘ ورنہ سو میں سے‬

‫ایک بھی نہیں نکلے گا‘ جو اپنی ذات کی غالب ضد کا اقرار‬
‫کرے۔ دیکھائے کوئی ایک عیسائی‘ جو تپھڑ رسید کرنے والے‬
‫کے سامنے‘ اپنا دوسرا پنجے سے پاک صاف رخسار پیش کر‬
‫دیتا ہو۔ یہی صورت مسلمانوں کی ہے۔ آپ کریم نے ایک جملے‬

‫میں انسانی آئین بیان کر دیا۔ آپ کریم کا فرمان گرامی ہے کہ‬
‫مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ آج‬
‫مسلمانوں کی‘ کسی خطہ میں کمی نہیں‘ لیکن وہ اپنی شخصیت‬
‫میں موجود غیر مسلمانی ضد کو‘ تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لحاظ‬

‫استاد غالب نمبر لے گئے ہیں۔‬

‫ہمارے‘ الله بخشے‘ ایک ملنے والے ہوا کرتے تھے۔ بڑے‬
‫خوش مزاج تھے۔ ایک دو تین نہیں‘ چار عدد خواتین کے‬
‫مجازی خدا تھے۔ چہرے پر اکلوتا چب یا ڈنٹ نہیں تھا۔ اکلوتی‬
‫خاتون کے مزاجی خدا کا چہرا مبارک دس بیس سالوں میں لمک‬
‫جاتا ہے۔ خواتین پھولتی جاتی ہیں‘ جبکہ مرد حضرات اپنے‬

‫مرحوم یا زندہ والدین کا محض صدقہ جاریہ رہ جاتے ہیں۔‬
‫دوست احباب حیران تھے‘ چومکھی لڑائی کے بعد بھی حضرت‬

‫ناصرف توانا اور صحیح سلامت ہیں‘ مزید کی خواہش بھی‬
‫رکھتے ہیں۔ ہر بار اسلام آڑے آ جاتا۔‬

‫مرحوم اور پانچویں سے محروم‘ بڑے اسلام پرست تھے۔‬
‫اسلامی معروف کلمات موقع بہ موقع ادا کرتے رہتے تھے۔ مثلا‬
‫سبحان الله‘ بسم الله‘ الله اکبر‘ ماشاءالله‘ ان شاءالله وغیرہ وغیرہ۔‬
‫جنازہ اور عیدین کی نمازوں کا‘ شاید ہی‘ ان سا‘ کوئی پابند ہو‬
‫گا۔ سلام میں پہل کرنا‘ بڑے پیار سے سلام کا جواب دینا‘ ان کی‬
‫فطرت ثانیہ کا درجہ رکھتے تھے۔ تلقین تک ان کا اسلام اے ون‬
‫تھا۔ اسی طرح اور بھی اسلامی واجبات میں ان کا ڈھونڈے سے‬

‫ثانی نہ مل سکے گا۔‬

‫ایک دن‘ میں نے بے تکلف ہونے کی کوشش میں‘ پوچھ ہی لیا‘‬
‫آپ چاروں طرف سے گرفت میں ہیں لیکن عملا آپ کے چہرے‬
‫اورجسم‘ جان اور روح پر گرفت کے رائی بھر آثار موجود نہیں‬
‫ہیں۔ آپ اوپر نیچے کی بچی اطراف کو بھی‘ کوور کرنے کی‬
‫فکر میں ہیں۔ آپ کی صحت اور خوش طبی کا راز کیا ہے۔‬
‫خوراک سے یہ مسلہ حل ہونے والا نہیں‘ تیتر کھلا کر ایک‬
‫مرتبہ زوجہ ماجدہ کا چہرا کرا دینے سے‘ دو بوند بننے والا‬

‫کیا‘ پہلے سے موجود میں سے بھی‘ ڈیڑھ پاؤ ناسہی‘ پاؤ تو‬
‫ضرور خشک ہو جاتا ہے۔ مرحوم میری بے تکلفی کے قریب کی‬

‫سن کر ہنس پڑے۔ پھر سنجیدہ سے ہو گئے۔ دو تین منٹ‬
‫سنجیدگی کی نذر ہو گئے۔‬

‫اس سنجیدگی کو دیکھ کر ہم یہ سمجھے حضرات اندر سے‬
‫دکھی اور زخمی ہیں۔ اگر یہ سنجیدگی تقریبا نہ ہوتی‘ تو میں‬
‫شدید کا سابقہ استمال کرتا۔ سنجیدگی اور خاموشی بتا رہی تھی‬
‫کہ یہ کچھ بتانے والے نہیں اور بات کو گول مول کر دیں گے۔‬
‫ہمارا اندازہ غلط نکلا۔ فرمانے لگے یک فنے ناکام رہتے ہیں۔‬
‫اپنے اپنے استاد ہی کو لے لو‘ شاعر نثار اور نقاد ہونے کے‬
‫ساتھ ساتھ بذلہ سنج بھی تھا۔ خوش طبی میں اس کا ثانی دکھاؤ۔‬
‫ان کی خوش طبی جڑے واقعات ابھی تک جمع نہیں ہوئے۔ یک‬
‫فنے تکرار کا شکار رہتے ہیں۔ میں چوفنا ہوں۔ میں ضدین کا‬

‫قائل‘ مائل اور عامل ہوں۔‬

‫کمال ہے‘ ازدواجین میں رہ کر بھی‘ مکمل ہوش و حواس اور‬
‫دانش سے لبریز گف گو فرما رہے تھے۔‬

‫میں یہ ضدین اور کامیابی کا فلسفہ نہیں سمجھ سکا۔‬

‫جاؤ‘ پہلے جا کر‘ عقد ثانی کرو‘ پھر آنا‘ سمجھا دوں گا۔ یہ‬
‫تمہارے کام کی چیز نہیں اور ناہی تمہارے لئے‘ عمل کی راہ‬

‫موجود ہے۔‬

‫پہلے سمجھائیں‘ پھر عقد ثانی کا انتظام و اہتمام کروں گا۔ بڑے‬
‫بڑے بادشاہوں نے دھڑلے سے حکومت کی ہے۔ کیوں‘ ضدین‬
‫کے فلسفے سے آگاہی رکھتے تھے۔ کوئی دھڑا ہاتھ سے جانے‬

‫نہیں دیتے تھے۔ چور کو کہتے چوری کرو‘ گھر والوں کو‘‬
‫ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے۔ دونوں سمجھتے‘ بادشاہ ہمارا‬

‫ہے‘ ۔حالاں کہ وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ وہ تو تاج و تخت کے‬
‫معاملہ میں‘ اپنی اولاد کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ جو دائیں آنکھ پر‬

‫چڑھتا‘ اسے طریقے سے‘ مروا دیتا تھا۔ یہ کام بھی تکنیکی‬
‫انداز سے کرتا تھا۔ دو فریقوں سے گہری رکھ کر‘ ان میں نفاق‬

‫پیدا کرکے‘ لڑا دیتا۔ ایک فریق قتل ہو جاتا‘ تو دوسرا انصاف‬
‫بھینٹ چڑھ جا۔‬

‫میں نے عرض کی‘ حضور اسلام نفاق ڈالنے کی اجازت نہیں‬
‫دیتا۔ آپ اسلام دوست ہیں اپنے گھر میں ہی نفاق ڈالتے ہیں۔‬

‫کہنے لگے‘ ہم سب آدھے مسلمان ہیں اور آدھے کافر۔‬

‫نکاح سنت ہے اور اس سنت کی میں نے آخری سطع چھو رکھی‬
‫ہے‘ اس حوالہ سے آدھا مسلمان ہوں۔ تقسیم کرتا ہوں‘ اس‬
‫حوالہ سے آدھا کافر ہوں۔ تقسیم نہیں کروں گا‘ تو حکومت‬

‫کیسے کروں گا۔ یہ تو مانتے ہو‘ میری آدھی مسلمانی قائم ہے۔‬
‫تم لوگ تو آدھی مسلمانی سے بھی محروم ہو‘ تب ہی تو تمہاری‬

‫زندگی چھتر چھاوں میں بسر ہو رہی ہے۔‬

‫نفاذ اسلام ایسا آسان کام نہیں‘ زوجہ جانی کا خوف اور دہشت‬
‫گردی اپنی جگہ‘ مہنگائی نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ دو‬
‫کہووں کی واہی کے بیلوں کے لئے‘ چارہ وغیرہ کہاں سے آئے‬
‫گا۔ ہاں البتہ‘ آدھی مسلمانی کا رستہ بند نہیں ہوتا۔ عقد ثانی‘ نفاذ‬
‫اسلام کا ذریعہ موجود ہے۔ ملازم ہو‘ تو خوب رشوت لو‘ تاجر‬
‫ہو‘ تو معمول کی بددیانتی کو تگنا کر دو۔ دوگنا زوجہ ثانی کے‬

‫لئے‘ جبکہ تیسرا اگلا چانس لینے کے لئے۔‬

‫ہم انگریز کی شرع اور شرح پر چلتے آ رہے ہیں۔ ان سے پہلوں‬
‫کی بھی یہی شرح تھی۔ جس کا واضح ثبوت‘ مقامی غداروں کا‬
‫میسر آ جانا ہے۔ اگر یہ غدار میسر نہ آتے‘ تو آنے والوں کے‬
‫لفڑے لہہ جاتے۔ آتا کوئی سر اور دھڑ سلامت نہ رہتا‘ بلکہ ان‬
‫کی لاشوں پر بین کرنے والا بھی نہ ملتا۔‬

‫برصغیر میں ٹوپی سلار کے عہد ہی سے‘ مسلم اقتدار کا زوال‬
‫شروع ہو گیا تھا۔ تاہم اقتدار مسلمانوں کے پاس ہی تھا۔ بہادر‬
‫شاہ اول کوئی مضبوط حکمران نہ ‘لیکن کسی حد تک سہی‘‬
‫اپنے پیش رو کی طرح ایک ہی وقت میں‘ ایک ہی شخص کو‘‬
‫قبض اور پیچس لاحق کرنے سے آگاہ تھا۔ ‪ ٧١٧٦‬میں اس گر‬
‫سے نابلد لوگ‘ تخت نشین ہوئے۔ والی مسیور کی شہادت کے‬
‫بعد بھی‘ مزاحمت ہوتی رہی‘ لیکن ٹیپو آخری دیوار تھی۔ اسے‬

‫غیر کیا فتح کرتے‘ گھر کے بھیدی لے ڈوبے۔‬
‫اس ذیل میں میر صاحب کا کہا ملاحظہ ہو۔‬

‫غیر نے ہم کوذبح کیا ہے طاقت ہے نے یارا ہے‬
‫ایک کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو پھاڑا ہے‬

‫اس کے بعد شدید خطرے کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ انگریز کو‬
‫کھلا میدان مل گیا۔ وہ ہر مرضی کی کھیل پر قادر ہو گیا۔‬

‫ٹیپو کی شہادت کا بڑی دھوم سے جشن منایا گیا۔ اس جشن میں‘‬
‫اس کے نام نہاد اپنے بھی شامل تھے۔ انگریز ضدین کی‬

‫ضرورت اور اہمیت سے خوب خوب آگاہ تھا۔ یوں کہنا زیادہ‬

‫مناسب ہو گا‘ کہ وہ یہاں کے پہلوں کا بھی پیو تھا‘ تو غلط نہ‬
‫ہو گا۔ قبض‘ پیچس اور ہیضہ ایک وقت میں‘ ایک شخص کو‬
‫لاحق کر دئے گئے۔ اس طرح‘ آل ہند کی تقسیم و تفریق کے بہت‬

‫سارے دروازے کھول دئیے گئے۔‬

‫اس ذیل میں‘ فورٹ ولیم کالج کے کردار کو نظر انداز کرنا‘‬
‫زیادتی ہو گی۔ اس کی خدمات‘ سنہری حروف میں‘ درج کئے‬

‫جانے کے قابل ہیں۔ اس نے‘ آل ہند کی زبان کے‘ دو خط‬
‫متعارف کرائے۔‬

‫اردو خط‘ مسلمانوں کے لئے اور اسے مسلمانوں کی زبان قرار‬
‫دیا۔‬

‫دوسرا خط‘ آل ہند کی غیرمسلم عقیدہ والی نسل کے لئے اور‬
‫اسے ان کی زبان کا نام دیا۔‬

‫اس سے بیک وقت تین فائدے ہوئے۔‬

‫‪٧‬۔ آل ہند زبان پر تقسیم ہو کر باہمی نفاق کا شکار ہو گئی۔‬

‫‪٦‬۔ ایک دوسرے کے‘ تحریری اور علمی و ادبی سرمائے سے‘‬
‫دور ہو گئی۔‬

‫‪٣‬۔ بولنے والوں کی گنتی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔‬

‫آل ہند کی یہ زبان‘ دنیا میں دوسرا نمبر رکھتی ہے۔ اپنے تعدادی‬
‫اسٹیٹس سے محروم‘ نہیں مرحوم ہو گئی۔‬

‫ایک ہی بات‘ دو خطوں میں لکھی‘ لایعنی ٹھہری۔انگریز نے‬
‫اپنے رابطے کے لیے رومن خط کو رواج دیا‬

‫حالاں کہ حقیقت یہ ہے‘ کہ زبان کسی کی نہیں ہوتی‘ زبان تو‬
‫اسی کی ہے‘ جو اسے استعمال میں لاتا ہے۔‬

‫زبان کی خواندگی کے لئے چار عمومی امور ہوتے ہیں۔‬
‫‪٧‬۔ بولنا‬

‫‪٦‬۔ سمجھنا‬
‫‪٣‬۔ لکھنا‬
‫‪٤‬۔ پڑھنا‬

‫ان میں سے‘ کسی ایک سکل سے متعلق شخص کو‘ نا خواندہ‬
‫قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں‘ ان پڑھ حضرات کی کمی‬
‫نہیں۔ وہ دیوناگری والوں کی فلمیں ڈرامے اور دیگر پروگرام‬

‫دیکھتے ہیں۔ انھیں ان کی سمجھ بھی آتی ہے لیکن وہ بول نہیں‬
‫سکتے۔ یہی حال‘ پڑھے لکھوں کا ہے۔ سمجھ اور بول سکتے‬

‫ہیں۔ اردو خط والوں کا کہا‘ دیو ناگری خط والوں کے لیے غیر‬
‫نہیں‘ لیکن دونوں‘ ایک دوسرے کے تحریری سرمائے سے‘‬

‫استفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔‬

‫رومن‘ آل ہند کو ایک مقام پر کھڑا کرتا ہے‘ لیکن اس سے فائدہ‬
‫انگریزی جاننے والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔ اس دائرے میں‘ دیگر‬

‫لوگ‘ انگریز عرب جاپانی وغیرہ‘ آ جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے‬
‫دیکھا جائے تو‘ یہ دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ لوگوں کی‬

‫زبان شمار ہوگی۔‬

‫آل ہند کی اس زبان کے ساتھ‘ غیر تو غیر‘ اپنے بھی سازشوں‬
‫میں مصروف ہیں۔‬

‫ایم فل اور پی ایچ ڈی سطع کے تحقیقی کام‘ ٹوٹل پورا کرنے‬
‫کے مترادف ہو رہے ہیں۔‬

‫دونوں خطوں کی تحریریں ایک دوسرے کے لیے حوالہ نہیں بن‬
‫رہیں۔‬

‫انگریزی یا کسی دوسری زبان کے مواد سے‘ تصرف عیب نہیں‬
‫لیکن یہ ایک دوسرے سے حوالہ نہیں لے رہے۔‬

‫آل ہند کے درمیان زبان کے حوالہ سے‘ تعصب کی فلک بوس‬
‫دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔‬

‫ستم دیکھئیے سرور عالم راز صاحب بڑے زبردست عالم فاضل‬
‫ہیں۔ اپنے ایک خط میں کیا فخر سے فرماتے ہیں۔‬

‫اردو انجمن میں صرف اردو اور رومن اردو میں ہی چیزیں‬
‫لگائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایک صاحب نے ہندی میں یہاں لکھنے‬
‫کی کوشش کی تھی‬

‫اور بصد معذرت ان کو منع کر دیا گیا تھا۔‬

‫آپ سے کوئی پوچھے‘ یہ رومن خط کس طرح کی اردو ہے؟‬
‫اس زبان کے دو خط ‘ان کو گوارا ہیں‘ تیسرا انھیں خوش نہیں‬

‫آتا۔ اصل انصاف تو یہ ہے‘ کہ یہاں صرف اردو خط والوں کو‬
‫جگہ دی جائے۔ ہاں دیگر زبانوں کا مواد شائع نہیں ہونا چاہیے‬
‫کیونکہ یہ فورم صرف اور صرف اردو خط والوں کا ہے۔ اس کا‬
‫نام ہی اردو انجمن ہے‘ اس لئے دوسری زبان کا مواد آنا‘ درست‬

‫اور مناسب نہیں۔ یہ معاملہ مبنی بر حق ہے۔‬

‫دو قومی نظریہ اور اسلامی ونڈو‬

‫کمپیوٹر سے وابستہ لوگ‘ اس امر سے خوب خوب آگاہ ہوں‬
‫گے‘ کہ جب سسٹم میں وائرس داخل ہو جاتا ہے‘ تو وہ کمپیوٹر‬
‫کی مت مار دیتا ہے۔ اچھا خاصا چلتا چلتا کمپیوٹر‘ آسیب زدہ ہو‬

‫کر رہ جاتا ہے۔ بعض وائرس‘ کمپیوٹر کی غیر طبعی موت کا‬
‫سبب بن جاتے ہیں۔ کچھ اسے موت کے گھاٹ نہیں اتارتے‘‬
‫لیکن دائمی فالج کا موجب بن جاتے ہیں۔ ٹھیک ٹھاک اور قیمتی‬
‫مواد کھا پی جاتے ہیں۔ یہی نہیں‘ ستم اس پر یہ‘ کہ مواد کو‬
‫دسویں جماعت کا ریاضی بنا دیتے ہیں۔ دسویں جماعت کے‬
‫ریاضی میں الجبرا بھی شامل ہے اور یہ الجبرا‘ جبر کے تمام‬
‫رویوں اور رجحانات پر استوار ہوتا ہے۔ ہستا مسکراتا کھیلتا‬
‫کودتا کمپیوٹر‘ نامراد وائرس کے باعت سکتے میں آ جاتا ہے۔‬
‫گویا وائرس کی بن بلائے مہمانی‘ کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے‬
‫یا یوں کہہ لیں‘ وہ کچھ ہو سکتا ہے‘ جس کا خواب بھی نہیں‬

‫دیکھا گیا ہوتا۔‬

‫وائرس مرتا نہیں‘ مارتا ہےاور ہر حالت میں‘ من مانی میں‘ اپنی‬
‫اصولی عمر‘ دبدبے اور پورے بھار سے پوری کرتا ہے۔ کوئ‬
‫دوا‘ دارو ٹیکہ اس کا بال بیکا نہیں کر پاتا‘ ہاں متاثرہ کی قوت‬
‫مدافعت میں‘ اضافہ کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس‬
‫امر سے آگاہ نہیں ہیں‘ کہ انٹی وائرس‘ وائرس کو مارنےکے‬
‫لیے فیڈ نہیں کیے جاتے۔ یہ وائرس سے پاک سسٹم میں اس‬
‫لیے فیڈ کیے جاتے ہیں کہ سسٹم میں وائرس داخل نہ ہونے‬
‫پائے۔ انٹی وائرس کا‘ اول تا آخر مقصد یہ ہوتا ہے‘ کہ وائرس‬

‫کو سسٹم سے دور رکھا جائے۔ دوسرا یہ سسٹم کی قوت مدافعت‬
‫کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کی مثل ویکسین کی سی ہوتی ہے۔‬

‫عمومی زبان میں‘ اسے حفاظتی ٹیکے کا نام بھی دیا جا سکتا‬
‫ہے۔ انٹی وائرس یا ویکسین‘ وائرس کے دخول سے پہلے کی‬

‫چیزیں ہیں۔‬

‫مختصر مختصر یوں کہہ لیں‘ انٹی وائرس یا ویکسین‘ دراصل‬
‫سسٹم کی حفاظت سے متعلق چیزیں ہیں۔ انھیں خطرے سے‬

‫بچاؤ کا عمل بھی کہا جا سکتا ہے۔ جیسے مچھر سے بچنے کے‬
‫لیے مچھر دانی کا استعمال کیا جائے۔ ڈینگی سے بچنے کے‬
‫لیے‘ یعنی لاخق ہونے سے پہلے‘ حفاظتی تدابیر اختیار کی‬
‫جائیں۔ ڈینگی حملے کی صورت میں‘ فوری موت واقع نہیں‬
‫ہوتی‘ تو مدافعتی نظام کی طرف توجہ دی جائے۔‬

‫کسی دوائی وغیرہ سے وائرس نہیں مرے گا۔ متاثرہ کو پانی کی‬
‫بھرتی رکھیں۔ سیب کا خود جوس نکال کر پلائیں۔ مرد ہو تو‬
‫عورت اور عورت کی صورت میں‘ مرد کا جوس تیار کرنا‬

‫مناسب رہے گا۔ اگر یہ خدمت‘ گھریلو‘ ذاتی اور پالتو قسم کے‬
‫خواتین و حضرات نہ ہی انجام دیں تو مناسب رہے گا۔ وائسرسی‬
‫علالت بد کی صورت میں‘ بیرونی‘ مگر حسین دنیا سے رابطہ‘‬
‫مریض کی قوت مدافعت میں‘ خاطر خواہ اضافے کا سبب ہو گا۔‬

‫شہتوت کے پتوں کو پانی میں ابال کر‘ ٹھنڈا کرکے پلائیں۔ اس‬
‫حالت میں کڑوی اشیا کا‘ قدرے اور خفیف استعمال‘ مفید رہتا‬
‫ہے۔ دن میں ٹی ڈی ایس یعنی تین بار ذاتی جنس مخالف کا چہرہ‬
‫کراتے رہنا‘ مریض کے لیے ناسہی‘ مرض کے لیے مناسب رہتا‬
‫ہے۔ ہاں اس ذیل میں‘ ہمہ وقتی دیدار‘ جان لیوا بھی ثابت ہو‬

‫سکتا ہے۔‬

‫برصغیر عرصہ دراز سے‘ خارجی اور غیر درآمدہ وائرس کی زد‬
‫میں ہے۔ سکندر سے پہلے‘ یہ یہاں سے بچے پکڑ کر لے جاتا‬
‫اور ان کی قربانی‘ دیوتاؤں کے حضور نظر کر دیتا تھا۔ اس سے‬
‫پہلے یا بعد کے وائرس بڑے خطرناک تھے۔ کیا کچھ کرتا تھا‘‬

‫زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہرطور‘ یہ تو طے ہے کہ‬
‫وائرس سسٹم کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ حفاظتی عمل اور‬
‫مدافعتی قوت کے کامل صحت مند ہوتے ہوئے‘ جسم یعنی سسٹم‬

‫کے اندر سے‘ کوئ میر جعفر پیدا ہو جاتا ہے‘ جو داخلے کا‬
‫رستہ بتا کر‘ ہنستے بستے‘ کھیلتے کودتے نظام کو‘ مٹی میں‬
‫ملا دیتا ہے۔ اس کی مت ماری جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھ‬

‫پاتا‘ کہ وہ اسی سسٹم کا حصہ ہے۔‬

‫ہوتا تو وہ بھی وائرس ہی ہے‘ اس کے کام بھی وائرسوں والے‬
‫ہوتے ہیں‘ لیکن مقامی سسٹم‘ اسے اس کے کاموں سمیت‘ قبول‬

‫چکا ہوتا ہے۔ سسٹم اس وائرس کی منفی فطرت کے باوجود‘‬
‫اس سسٹم کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی‘ اسے اپنا حصہ سمجھتا‬

‫ہے۔ اس کے باعث‘ سسٹم میں سو طرح کی خرابیاں آتی رہتی‬
‫ہیں‘ لیکن سسٹم کا مدافعتی نظام چلتا رہتا ہے۔ حالاں کہ اس کا‬
‫سسٹم میں رہنا‘ کسی بھی حوالہ سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کیا کیا‬

‫جائے‘ وائرس داخلی ہو یا خارجی‘ اس کا اس کی طبعی عمر‬
‫سے پہلے‘ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ سسٹم کو اس کی طبعی عمر‬

‫تک‘ برداشت سے کام لینا پڑتا ہے۔ بس کرنے کا کام یہ ہوتا‬
‫ہے‘ کہ سسٹم کے مدافعتی نظام کو ڈولنے نہ دیا جائے۔‬

‫چٹی چمڑی والا وائرس‘ تو کل پرسوں سے تعلق رکھتا ہے اور‬
‫ہم اس کی تباہ کاری کے باعث‘ بیمار جیون جی رہے ہیں۔ اس‬
‫وائرس نے کمال ہوشیاری سے‘ تقسیم کے بہت سارے دروازے‬

‫کھول دئیے۔ کبھی زبان کے حوالہ سے تقسیم کرکے‘ باہمی‬

‫نفرتوں کو سسٹم کا حصہ بنایا۔ زبان ہی کیا‘ رنگ‘ نسل‘ قومیت‬
‫اور علاقہ کی افواہ بھی‘ تقسیم کی اگنی کو بڑی راس آئی۔ میں‬
‫یہاں مولوی‘ پنڈت یا فادر کا نام احتراما نہیں لوں گا۔ الله نے پیٹ‬
‫تو خیر ان کو بھی دیا ہے۔ کیا ہوا‘ جو وہ عمومی کی ذیل میں‬
‫نہیں آتا۔ خصوص کا تذکرہ‘ موت کو ماسی کہنے کے مترادف‬
‫ہے۔ اگر کوئی مراد لیتا ہے‘ تو یہ اس کی اپنی جی جان پر۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫سیدھی سی بات ہے‘ میرا ذمہ اوش پوش۔۔۔۔۔۔۔ میری زبان پر‘ ان‬
‫کے لیے عزت کے کلمے ہی رہے ہیں۔ عقیدے میں‘ زبان سے‬
‫اقرار کو‘ ایمان کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ باقی رہ گیا دل‘ تو‬
‫دلوں کی الله ہی جانتا ہے۔ دل کے معاملے‘ کسی قسم کے فتوے‬

‫کی زد میں نہیں آتے۔‬

‫‪1905‬‬

‫میں‘ دو قومی نظریے کو داخلی وائرس کے ذریعے‘ عام کیا گیا‬
‫اور پھر اس تماشے سے‘ خوب لابھ اٹھایا۔ یہ کون سا ایسا نیا‬
‫نظریہ تھا‘ یہ نظریہ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ سورہ کافرون‬

‫میں بھی‘ تو دو قومی نظریے کی ہی نشان دہی کی گئی ہے۔‬

‫لوگوں نے اصل مطب نہ سمجھا‘ وہ یہ ہی سمجھتے رہے‘ کہ‬
‫الگ مملکت میں اپنے نظریاتی نظام کے تحت اصولی‘ قانونی‬
‫اورآئینی زندگی بسر کریں گے۔ داخلی وائرس نے‘ مٹھی بند‬
‫رکھی‘ تاہم اس ذیل میں کوئ قرارداد بھی منظور نہ کی اور ناہی‬

‫کوئ قرارداد پیش ہوئی۔ اس سسٹم کو کبھی بھی‘ اسلامی ونڈو‬
‫نہیں دی گئی۔ جمہوریت کے حوالہ سے‘ اسلامی ونڈو کرنے کی‬

‫ضرورت تھی۔ داخلی وائرس‘ جو سسٹم پر ڈومینٹ رہا ہے‘‬
‫اسے اسلامی ونڈو کس طرح خوش آسکتی تھی یا خوش آسکتی‬

‫ہے۔ وائرس سسٹم کے لیے بہتری سوچے‘ یہ کیسے اور‬
‫!کیونکر ممکن ہے؟‬

‫مزے کی بات یہ کہ‬

‫پاکستان کا مطلب کیا‘ لا الہ الا الله۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعرہ سیال کوٹ کے‬
‫پروفیسر اصغر سودائی نے دیا۔ لوگ اسے لیڈری نعرہ سمجھھ‬
‫بیٹھے۔ حقیقت تو یہ ہے‘ کہ یہ نعرہ پروفیسری تھا۔ پروفیسر‬
‫اور سیاست کا کیا تعلق؟ یہ نعرہ بھی غیر سیاسی ثابت ہوتا ہے‘‬

‫تاہم پاکستان بننے میں‘ اس نعرے کا کلیدی رول ہے۔ بنانے‬
‫والے عوام ہیں۔ اس تناظر میں “پاکستان“ غیر لیڈری اور غیر‬

‫سیاسی ٹھہرتا ہے۔‬

‫ایک صاحب مرغے کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے‘ یعنی ایک‬
‫لقمہ خود لیتے‘ دوسرا لقمہ اپنے مرغے کو پھینک رہے تھے‬
‫گو کہ مرغا سائز اور حجم میں چھوٹا ہوتا ہے۔ کسی نے پوچھا‘‬
‫میاں یہ کیا رہے ہو؟ بولے‘ ہم خاندانی لوگ ہیں‘ ہمیشہ مرغے‬

‫کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔‬

‫چٹی چمڑی والا وائرس بڑا خاندانی ہے‘ مرغے کے ساتھ روٹی‬
‫کھاتا ہے۔ جو لوگ مرغ باز ہیں‘ وہ اپنے مرغے کی صحت‘‬

‫توانائ اور جوانی کا خیال رکھتے ہیں۔ سسٹم کے ہر پرزے پر‘‬
‫یہ واضع کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ کہ وائرس دسترخوان اور‬
‫شہوت کے حوالہ سے‘ کبھی کسی نظریے کا قائل نہیں رہا۔ مرغا‬
‫غیر زمین پر رہتے ہوئے‘ خارجی وائرس کے لیے‘ محترم اور‬

‫معتبر رہتا ہے۔ وہ اس کا جٹھکا‘ اس وقت کرتا ہے‘ جب مرغا‬
‫میدان کا نہیں رہتا۔ میدان والا مرغا‘ خاندانی لوگوں کے ساتھ‬

‫ہی‘ ناشتہ پانی کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔‬

‫اسلامی ونڈو کرنے سے‘ خارجی وائرس کبھی بھی‘ سسٹم میں‬
‫داخل نہیں ہو سکے گا۔ داخلی وائرس کو‘ سسٹم کا مدافعتی‬

‫نظام‘ پہلی سانس پر ہی‘ دبوچ لے گا۔ اس ونڈو میں‘ قباحت یہ‬
‫ہے کہ لیڈری نہیں‘ عوامی ہے۔ عوام ڈبے میں ووٹ ڈالنے تک‘‬

‫محترم اور معزز ہیں‘ اس کے بعد کیا ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہیں۔‬
‫اگر یہاں‘ میں ناہیں سبھ توں‘ تصوف والا ہوتا‘ تو شاہ حسین‬
‫لاہوری کے پیرو ہوتے۔ یہاں معاملہ برعکس ہے۔ لیڈری توں‬
‫میں‘ عوام نہیں کے درجے پر فائز رہ کر‘ تصوف کے توں سے‬

‫کوسوں دور رہتے ہیں۔‬

‫رونا سکول کے گرنے کا نہیں‘ اصل رونا تو ماسٹر کے بچ‬
‫جانے کا ہے۔ ماسٹر مائنڈ وائرس سے پہلے‘ داخلی وائرس کو‬
‫نکال باہر کرنے کے لیے‘ بڑا ہی موثر سافٹ وائر دریافت کرنے‬

‫کی ضرورت ہے۔ آتی نسلوں کو‘ اس سے بچانے کے لیے‘‬
‫سماجیات کے ڈاکٹر قدیر‘ سر جوڑ کر سوچیں‘ اور اس نوع کے‬
‫سوفٹ وئر دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ ہاں اس کی کسی کو‘‬
‫ہوا تک لگنے نہ دیں‘ اور پھر‘ اچانک دھماکہ کردیں۔ سسٹم جب‬

‫داخلی وائرس سے آزاد ہو گیا‘ تو خارجی وائرس سے بچنے‬
‫‘کے لیے‬

‫ایک نہیں‘ بیسیوں انٹی وائرس دریافت ہو جائیں گے۔‬
‫اکتوبر ‪٦٧٧٦‬کی بہترین ماہانہ تحریر کا بیج حاصل کرنے والی‬

‫تحریر‬

‫شیڈولڈ رشوتی نظام کے قیام کی ضرورت‬

‫ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم پوچھا‘ اس‬
‫شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس پر چرسی بولا‘ اس‬

‫ملک نے خاک ترقی کرنی ہے۔ صبح سے پوچھ رہا ہوں‘ ہر‬
‫کسی کا اپنا ٹائم ہے۔ بات تو ہنسی والی ہے‘ لیکن ذرا غور کریں‬

‫گے‘ تو اس بات کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔‬

‫اس ملک میں‘ ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو اپنے‬
‫مطلب کے معنی دے رکھے ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ‬
‫رکھے ہیں۔ یہی منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے‬

‫مختلف بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں‘ اشیائے‬
‫خوردنی کے‘ ایک سے‘ نرخ سننے کو نہیں ملیں گے۔ کپڑا‬

‫خریدنا ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے نرخ ہوتے ہیں۔‬

‫سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ‘ اور شام کو کچھ‬
‫کہتا ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی‘ شخص اور موقع کی مناسبت‬
‫سے‘ بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی کے برعکس‘ کہنے میں‬

‫کوئی عار یا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ واپڈا والے ہوں‘‬
‫اکاؤنٹس آفس ہو‘ گیس والوں کے ہاں چلے جائیں‘ خدا نخواستہ‬
‫نادرہ والوں سے کام پڑ جائے‘ جو عوما نہیں‘ اکثر پڑتا ہی رہتا‬

‫ہے۔ یہ تو خیر مقامی دفاتر ہیں‘ بڑے دفاتر‘ یہاں تک کہ‘ مہا‬
‫منشی ہاؤس کے دفاتر‘ جن سے دادرسی کی امید رکھی جاتی‬
‫ہے‘ کے بھاؤ ایک نہیں ہیں۔ ایک ہی کام کے‘ مختلف نرخ ہیں۔‬
‫اپنا یا بیگانہ کی تخصیص موجود نہیں۔ یہاں کوئی اپنا یا پرایا‬


Click to View FlipBook Version