لگے گا بلکہ بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں شلواروں والے
ممبران کی عزت کون کرے گا۔ گریب عوام اور ان میں فرق ہی
کیا رہ جائے گا۔ کھوتا گھوڑا ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں
کی خرید و فروخت کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ
سےپہلا سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوٹوں کی تجارت پر
کسی بھی سطع پر کبیدہ خاطر ہونا سراسر نادانی کے مترادف
ہے۔ ریاست کے ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے
لیے لوٹوں کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی قسم کی
تکلیف دینا کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس کاروبار پر ناک منہ اور
بھویں اوپر نیچے کرنے والے حضرات غدار ہیں اور غدار
عناصر کا کیفرکردار تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں
سزا دینے کی حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادف ہے۔
چور مچائے شور
بچوں سے ناروا سلوک کرنے والا یا انہیں زخمی کرنے
والا یا انہیں قتل کرنے والا زمین کی بدترین لعنت ہے۔ اہل دل
اور اہل اولاد کو ان کی مذمت کرنی چاہیے جبکہ اہل جاہ کو ان
پر پکے پیڈے ہاتھوں سے گرفت کرنی چاہیے۔ ملالہ یوسف ذئی
پر قاتلانہ حملہ سخت تعزیر کا تقاضا کرتا ہے۔ اس عمر کے
بچے کیا اچھا اور کیا برا ہے کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا‘ سے آگاہ
نہیں ہوتے۔ اگر وہ کچھ غلط بھی کہہ جاتے ہیں اسے اہمیت
دینے یا انتہائی ردعمل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے اس
نے سنا سنایا کہہ دیا ہو یا ایسا کہنے کے لیے کسی نے پٹی
پڑھائ گئی ہو۔ اگر اس نے دانستہ کہا ہو یا کیا ہو تو یہ خوشی
کی بات ہے کہ اس عمر کے بچے رائے قائم کرنے کے قابل ہو
گئے ہیں۔ رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں
کہ ان کی جان لینے کی پلید حرکت کی جئے۔
دنیا کے تمام ممالک کے دساتیر یو این او کا چارٹر بچوں
کے لیے الگ سے دفعات رکھتا ہے۔ پاکستان کا آئین بھی اس
حوالہ سے خاموش نہیں۔ سماجی اخلاقیات بچوں کے لیے
انتہائی نرم اور ملائم گوشے کی حامل رہی ہیں۔ مذاہب بھی اس
حوالہ سے خاموش نہیں ہیں۔ خود آپ کریم بچوں سے بڑی
محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ تقسیم میں آغاز بچوں سے ہوتا۔
آپ کریم تو جانوروں اور پرندوں کے بچوں کے لیے بڑا ہی
شفقت آمیز رویہ رکھتے تھے۔ اس حوالہ سے آپ کریم کے
احکامات احادیث کی کتب میں موجود ہیں۔
بڑے فخر اور خوشی کی بات ہے کہ صدر پاکستان نے اس بچی
کو اپنی بیٹی قراردیا ہے اور معالجے کا خرچہ اپنے سر پر لیا
ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر جس سفاک نے قاتلانہ کیا اس کو سات
بار پھانسی کا حکم جاری ہونا چاہیے۔ شاید تب بھی اس کی
سفاکی کا ازلہ نہ ہو سکے۔
ان کے اس بیان کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ اور
لیڈروں نے بھی بڑھ چڑھ کر بیان دیے ہیں۔ وہ سب اس قوم کی
بچی کے حوالہ سے عزت مآب ہیں۔ اس سے کھلتا ہے ہمارے
لیڈر بڑے منصف اور بڑے دل گردے والے ہیں۔ بچوں کے لیے
انتہائی نرم اور ملائم گوشہ رکھتے۔ وہ بچوں کے لیے کچھ بھی
کر سکتے ہیں۔ قوم کو ایسے لیڈروں کی قدر کرنی چاہیے اور
ان کے پاؤں دھو دھو کر پینے کی ضرورت ہے اور یہ فعل لیڈر
شناسی کے مترادف ہو گا۔ ہیروز کی عزت اور احترام کرنا قوم
کی اخلاقی سماجی اور سیاسی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ کہاں
ملتے ہیں۔ شاید ان کے لیے کہا گیا ہے
ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
میرے خیال میں فیصلہ ہو گیا ہے اور اب کسی الیکشن
ولیکشن کی ضرورت ہی نہیں۔ تاحیات اسی قیادت کو برقرار رہنا
چاہیے۔
ملالہ راقم کی بھی بیٹی ہے۔ کاش راقم آسودہ حال ہوتا اور
اس کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگا دیتا تاہم اس پر قاتلانہ
حملہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ بچوں پر جو
ظلم ڈھاتا ہے اسے کسی بھی صورت معاف نہ کیا جائے بلکہ
قبر تک پیچھا کیا جا چاہیے۔
آج جنرل اسلم بیگ کا یہ بیان پڑھنے کوملا کہ ملالہ پر حملہ
کرنے والوں کو امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ یہ بات کدھر کو جا
رہی ہے۔ جرنل اسلم بیگ بڑے ذمہ دار اور باریک نظر کے
مالک ہیں۔ ان کی بات کو کسی بھی حوالہ سے نظر انداز نہیں
کیا جا سکتا۔ گویا خود ہی کاروائی ڈال کر پکڑو پکڑو جانے نہ
پائے۔ اس کی ساری ہمدردیاں ملالہ سے جڑ گئی ہیں۔ کیوں‘ آخر
کیوں۔
ڈراؤن حملوں کے حوالہ سے شہید ہونے والے بچوں کے
معاملہ میں اسے کیوں سانپ سونگھ گیا ہے۔
ان کے لیے اس کے یا کسی اور کے منہ سے دکھ کا
رسمی یا علامتی ایک لفظ تک نہیں نکلا۔ کیا وہ انسان کے بچے
نہیں تھے۔ لوگ گمان کر رہے ہیں کہ خود سے قرار دیے جانے
والے شدت پسندوں کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے اور
مزید حملوں کے لیے جواز بنانے کے لیے یہ کھیل رچایا گیا
ہے۔
اس امر کی تصدیق میں قاضی حسین احمد اور منور حسن
کا بیان موجود ہے۔ منور حسن اور قاضی حسین احمد کے
مطابق ملالہ حملہ شمالی وزیرستان پر حملے کا جواز ہے۔ یہ
بیان کمزور نہیں اس میں وزن لگتا ہے۔ گویا چور مچائے شور۔
اگر مرزا اسلم بیگ کا بیان درست ہے تو عالمی برادری کو
چاہیے کہ وہ ذمہ دار کو سزا دے اور فراڈ کرنے کے حوالہ
سے بھی تادیبی کاروائ کرے۔ میرے خیال میں اسلم بیگ کے
بیان کی یہی تشریح بنتی ہے تاہم تشریح میں کمی بیشی کی
ہمیشہ گنجایش رہتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے ملالہ پر حملے کو غیر اسلامی
قرار دیا ہے۔ وہ اسلام کے متعلق زیادہ جانتے ہیں تاہم اس سے
یہ طے ہو جاتا ہے کہ یہ فعل بہت ہی برا ہے۔ اس فعل کا
سرانجام دینے والا مجرم ہی نہیں گنہگار بھی ہے لہذا وہ دوہری
سزا کا مستحق ہے۔ عدلیہ مجرم کو الگ سے سزا دے اور اسلام
میں جو سزا اس گنہگار کی بنتی ہے وہ اس گنہگار کو
بہرصورت ملنی چاہیے۔ اگر حملہ کرنے والا ہاتھ نہیں لگتا تو
دونوں ادارے اس حوالہ سے سزا سنا دیں۔ جب کبھی مجرم اور
گنہگار ہاتھ لگ گیا عمل درامد بھی ہو جانے گا۔
مولانا موصوف کے بیان کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ڈراؤن
حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کے متعلق شور کیوں نہیں
مچایا جا رہا۔ بات میں انتہا درجے کی سچائ اور معقولیت ہے۔
سوچنے کی بات ہے ملالہ پر حملے کے لیے پوری دنیا چیخ
اٹھی ہے۔ دوسرے بچے بھی‘ بچے ہی تھے کسی کی رگ
ہمدردی پھڑکی نہیں۔ دوسرا ہمارے سارے بچے مر جائیں اس
کی صحت پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ اس بچی کے لیے جعلی ہی
سہی تڑپا پھڑکا ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ اس ذیل میں
مرزا اسلم بیگ کا بیان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بلاجرم
شہید ہونے والے بچے بھی اسی ملک اور اسی قوم کے ہیں۔
انہیں کیوں کوئ اپنے بچے قرار نہیں دے رہا اور ان کا خرچہ
اٹھاتے ان کے دل اور پیٹ جو ایک دوسرے کا ساتھی ٹھہر گیے
ہیں‘ میں کیوں کہاؤں مہاؤں ہو رہا ہے۔ اس دوہرے پیمانے کی
بہرصورت وضاحت ہونی چاہیے۔
بچوں کی ہلاکت پر بڑے مضبوط اعصاب رکھنے والوں کا
پتہ پانی ہو جاتا ہے جنرل ایلن نیٹو کے اہل کاروں کی ہلاکت پر
پاگل ہوتا ہے حالانکہ اس میں پاگل ہونے والی کوئ بات ہی
نہیں۔ جو مارنے آئے گا مر بھی سکتا ہے۔ فوجی کا کام مرنا یا
مارنا ہوتا ہے۔ اس میں پاگل ہونے والی بات ہی نہیں۔ بچے جرم
اور گناہ سے آگاہ نہیں ہوتے۔ کھلونے ان کی پوری کائنات ہوتے
ہیں۔ جنرل موصوف پر بچوں کی موت کا کوئ اثر ہی نہیں ہوا۔
اخبار میں کوئ خبر شاءع نہیں ہوئی کہ جنرل ایلن کو پاگل پنے
کے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ہو سکتا یہ خبر میری نظر سے نہ
گزری ہو۔
ہماری نیک شریف اور صالح قیادت کو ان کی ہلاکت کو
صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ فرعونی رویہ
انہیں ان کے غسل خانے کےد ٹب میں ڈبو دے گا۔ کوئی بچانے
نہیں آئے گا کیونکہ اندر سے انہوں نے خود کنڈی لگائی ہو گی۔
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟
کل لوڈ شیڈنگ پر گفتگو ہو رہی تھی کہ بجلی بچاؤ کی
تراکیب کے حوالہ سے ریڈیو پر تقریر نما بات چیت سننے کا
موقع ملا۔ ایک شخص جو شریک گفتگو نہیں تھا اور ناہی ہمارا
ساتھی تھا‘ ایک دم کھڑا ہو گیا۔ اس نے موٹی ساری گالی
‘چھکے کے انداز میں اچھالی اور بولا
"بکواس کر رہا ہے۔ بجلی کی کوئی کمی نہیں "
ہم سب نے بڑی حیرت سےسر گھما کر اس کی جانب
دیکھا۔ استاد جی کو اس کا طرز تکلم پسند نہ آیا۔ انھوں نے
‘بڑے ہی کھردارے انداز میں پوچھا
بھائی صاحب یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بجلی کی "
کمی نہیں ہے۔ ملک میں تو بحران چل رہا ہے؟
اس نے بڑے زور کا قہقہ داغا جیسے وہ احمقوں سے
مخاطب ہو۔ استاد جی دوبارہ سے بولے
بھئ یہ تو بتاؤ کہ کس طرح کمی نہیں ہے اور بجلی کہاں "
"!جا رہی ہے؟
لباس اور بات کرنے کے حوالہ سے مزدور پیشہ لگ رہا
تھا لیکن اس کے کسی حوالے کو رد کرنے کی ہم میں سے
کسی کو جرات نہ ہوئی۔ اس کے کچھہ حوالے درج کر رہا ہوں
شاید آپ کے پاس کوئی جواز موجود ہو۔ آپ کے کسی بھی
ٹھوس حوالے سے حکومت دوستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔
اس نے کہا
سب سے بڑے چور خود بجلی والے ہیں۔ وہ خدمت کے
عوض تنخواہ وصول کرتے ہیں تو پھر کس کھاتے میں مفت
بجلی استعمال کرتے ہیں۔ بڑے افسروں کا ذکر ہی کیا وہ ہر
اصول قانون اور ضابطے سے بلاتر ہیں۔ بجلی والوں کا ایک
چوکیدار مان نہیں۔ خود تو مفت میں بجلی استعمال کرتا ہی ہے
اس کےعزیزدوست رشتہ دار اس مفت برابری سے فائدہ اٹھاتے
ہیں۔ انھوں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو بجلی دے رکھی ہے
اور ان سے ماہانہ وصولتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پوچھنے والے تو ان سے بھی بیس قدم آگے نکلے ہوئے ہیں۔
وہ ناصرف یہ سب کچھ کر تے ہیں بلکہ بڑے بڑے
کارخانہ داروں سے بددیانتی کا ماہانہ وصول کرتے ہیں۔ بڑے
لوگوں سے بھی ان کی اٹی سٹی رلی ہوئی ہوتی ہے۔ دیہاتوں
میں کنڈیاں لگواتے ہیں اور اچھی خاصی آمدن کرتے ہیں۔
سرکاری افسر اور ان کے عملہ والے کہاؤں کپ ہیں۔ بھلا
ان سے کون پوچھہ سکتا ہے دوسرا خود بجلی والے اس میں
ملوث ہوتے ہیں۔ اس سہولت کے عوض بڑے بڑے ناجائز کام
نکلواتے ہیں۔
سرکاری تقریبات پر بے تحاشہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔
ممبران وزیر مشیر اور دوسرے سیاسی لوگ مفت بجلی کا
استعمال کرکے ووٹ کھرے کرتے ہیں لیکن بجلی کا بوجھ ماڑے
طبقے کی جیب پر پڑتا ہے۔
بڑے لوگوں کی شادی بیاہ کی تقریبات پر بجلی کا بر سرعام غیر
قانونی استعمال ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کوئی
بولتا ہی نہیں۔ کوئی بولے بھی کیا؛ کون سنے گا‘ سننے والے
تو یہ سب کر رہے ہوتے ہیں جو بولے کا لیتر کھائے گا۔
اسی فیصد تاجر حضرات کا بجلی والوں سے مک مکا ہوا ہوتا
ہے۔
بڑے بڑے ہاؤسز جہاں سوائے گفتگہوں کے کچھ نہیں
ہوتا بجلی ایک لمحہ کے لیے بند نہیں ہوتی اور جہاں کام ہوتا
ہے وہاں بجلی سارا دن لکن میٹی کھلتی ہے۔ مزدور تو گھر
سے آگیا ہوتا ہے لیکن صبح تک بجلی کے جانے اور جانے کی
جندریوں میں اثکاپھسا سسکتا رہتا ہے۔ صبح سویرے گھر سے
نکلا دیہاڑی دار جب شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اس پر اور
اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہے اس کیفیت کا سیاسی مداری
بجلی والے بڑے لوگ سرکاری افسر وغیرہ اور ان کے گماشتے
کیا جانیں۔
باؤ جی یہ سب درست ہو جائے تو بجلی کی کمی کا رولا
ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے لیکن بلی کے گلے میں کون
گھنٹی باندھے
باس از آل ویز رائٹ
لوگوں کو بھوک پیاس سرکاری معالجہ گاہوں کے آلودہ فرش
پر ایڑیاں رگڑتے اور اندھیروں میں ڈوبا دیکھتا ہوں تو بےچین
ہو جاتا ہوں۔ ہوٹلوں پر بچوں کو برتن صاف کرتے اور چائے کا
ٹرے پکڑے‘ گئ رات کے ننھی اور معصوم آواز میں گرم آنڈے
کا آوازہ مجھے سونے نہیں دیتا۔ انڈے فروش بچہ جا چکا ہوتا
ہے لیکن اس کی آواز کی بازگشت میرے حواس پرقبضہ جمائے
رکھتی ہے۔ دوسری طرف عیش وعشرت کی زندگی حیرت میں
غرق کر دیتی ہے۔ اتنا بڑا تضاد؟
سوچتا ہوں یہ کوئ الگ سے مخلوق ہے۔ بدقسمتی سے
انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ موج میلے اور عیش کی
کو اپنا حق سمجتے ہیں۔ کسی سے چھین لینے اور اس کے حق
پر ڈاکے کو خوشحال زندگی کا پہلا اور آخری حق سمجھتے ہیں۔
ان کے نزدیک یہی زندگی اور زندگی کا مقصد بھی ہے اور اس
کے بغیر زندگی‘ زندگی کہلانے کی مستحق نہیں۔
میری بیگم گلفشانی فرماتی ہے اور اس دہن تقدس مآب
کے منہ سے پھر کرکے یہ جملہ نکلتا ہے
تمہیں اوروں کی تو فکر رہتی ہے اپنے گھر کے لیے کیا "
"کیا ہے۔
میں نے پوری دیانت داری سے محنت کی ہے۔ مجھے
ہمیشہ ان لوگوں کی فکر رہی ہے۔ وہ ایمانداری اور دیانت داری
کو منہ زبانی کی بات قرار دیتی ہے۔ اس کے نزدیک نماز روزہ
حج وغیرہ ہی ایمان اور دیانت ہیں اور ان ہی کے کے حوالہ
سے شخص کی پہچان ہوتی ہے جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ نماز
روزہ حج وغیرہ اسلام نہیں بلکہ اسلام میں ہیں۔ وہ یہ مانتی ہی
نہیں وہ کیا کوئی بھی نہیں مانتا۔ میں تاریخ کا طالب علم بھی رہا
ہوں اور میں نے تاریخ کے ہر پنے کا غیر جانبداری سے
مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں
٧۔ تخت اور اقتدار کو حرف آخر کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
٦۔ تخت اور اقتدار کو جو چیلنج کرتا ہے کتے کی موت
مرتا ہے۔
٣۔ آئین اور قانون تخت اور اقتدار کو تحفظ دینے کے لیے
بنائے جاتے ہیں۔
٤۔ ملک کے ادارے تخت اور اقتدار کے لیے فرائض سر
انجام دیتے ہیں۔
٢۔ عوام تخت و تاج کے لیے کماتے ہیں اور یہ ان کی ذمہ
داری ہے کہ وہ شاہ کو کسی قسم کی تھوڑ نہ آنے دیں۔ تھوڑ
آنے کی صورت میں شاہ کا آئینی حق ہے کہ وہ زبردستی ان
کے منہ کا نوالہ چھین لے۔
٢۔ حاکم کے منہ سے نکلی پہلے حکم پھر اصول پھر آءین
اور اس کے بعد قانون کے درجے پر فائز ہوتی رہی ہے۔
یہ ضرب المثل سنے کو عام ملتی ہے۔ باس از آلویز رائٹ۔ یہ
صرف زبانی کلامی کی بات نہیں چھوٹے بڑے تمام دفاتر کا نظام
اس اصول کے تحت چلتا آیا ہے اور چل رہا ہے۔ اسی طرح لفظ
ٹی سی بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ باس کے کہے پر انگلی
رکھ کر تو دیکھیے بستر کے نیچے سے رسی نہیں نکلے گی۔
خفیہ رپورٹ تو اسی نے لکھنی ہوتی ہے۔ یس سر ڈی میرٹ کو
میرٹ میں بدل دیتا ہے۔ انکار اور تنقید کے نتیجہ میں کچھ بھی
ہو سکتا ہے۔ پسلیاں چاباڑیاں اور ٹانگیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ جان
جا سکتی ہے۔ اشخاص اور لاشوں کی بازیابی قاضی سے بھی
مشکل ہو جاتی ہے۔
تاریخ ظلم وستم توڑنے والے حاکموں کی لکھی جاتی ہے۔
مظلوم کا اتہ پتہ نہیں ملتا۔ سب سے زیادہ علاقہ فتح کرنے
والے کو عظیم حاکم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اس کے کالے
کرتوتوں پر سوالیہ ڈالتا ہے تو اس سے جینے کا حق چھین لیا
جاتا کہ دیکھو جی اتنے عظیم حاکم پر انگلی رکھ کر کفر کر دیا
گیا ہے۔ گویا انسان کو‘ انسان جو غلطی بھی کرتا ہے رہنے
نہیں دیا جاتا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر حاکم نبی سے دوچار
انچ ہی نیچے رہا ہو گا۔ لوگ بےچارے کیوں تاریخ کو دیکھتے
پھریں۔ وہ مورکھ اور اس کے درس کاروں ہی کو حرف آخر کا
درجہ دیتے ہیں۔
میں نے انٹرنٹ پر دیکھا چالیس ہزار مسلمانوں کی ہڈیوں
سے گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔ ہر کوئی معاملے کو مسلم یا
عیسائ عینک سے دیکھے گا۔ اول اول میں نے بھی اسے
مسلمان کی عینک سے دیکھا۔ میں ساری رات سو نہیں سکا۔
صبح پانچ بجے میری نظر عصر حاضر کے احوال پر پڑی۔
امریکہ کو اسامہ درکار تھا‘ میں نہیں جانتا اس کا کیا جرم تھا
میں صرف اتنا جانتا ہوں اس پر گرفت کے لیے بچوں بوڑھوں
بیماروں عورتوں سے زندگی چھین لی گئ۔ ان بےچاروں کوعلم
تک نہ تھا کہ ان سے زندگی کیوں چھینی جا رہی ہے۔ جس کا
باپ بیٹا بھائ ماں بلاجرم مار دی گئی وہ خاموش بیٹھے گا؟ اب
اس کی طرف سے ردعمل آتا ہے تو یہ غیرفطری نہیں اور اسے
دہشت گردی قرار دینا دہشت گردی یا شدت پسندی نہیں ہے؟
،،
اس قریب قریب نبی فاتح حاکم نےعسائیوں کی لاشیں بچھائ
ہوں گی جواب میں عسائیوں نے کمزور اورغیر فوجیوں کو
موت کے گھاٹ اتار دیا ہو گا اور اسی سے چرچ تعمیر کیا گیا ہو
گا۔ کسی سے زندگی چھین لینا انتہائی برا فعل ہے اور یہ فعل
سرانجام دینے والا مردود‘ سو فیصد مردود ہے لیکن یہ فتوی
صرف غیر مسلم لوگوں کے لیے تیار رکھنا بعید از انصاف ہے
لیکن یہ رویہ عام ہے۔ ہمارے اسلام دوست طبقےوہ وہ خوبیاں
تلاشتے ہیں جو اس حاکم کے اپنے خواب بھی نہیں رہا ہو گا۔
چونکہ وہ مسلمان حاکم تھا اس لیے اس میں کو برائی نہیں رہی
ہو گی بلکہ اس سے برائ سرزد ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ جو
برائی نکالے گا اسے پاپ لگے گا۔
،،
اگر یہ چرچ فوجیوں کی لاشوں سے تعمیر ہوا ہوتا تو یہ
الفاظ میرے قلم سے نہ نکلتے۔ مارنے اور علاقہ فتح کرنے
گئے تھے‘ مارے گئے۔ جنگ میں یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ ایسا
ہوتا ہی رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ عوام کا مرنا قابل افسوس
ہے۔جنگیں شاہوں کے کھیل کا حصہ ہے۔ اگرچہ حاکم کوئی نہ
کوئی نعرہ دے کر میدان کارزار میں اترتا ہے۔ فتع ہو گئی تو
پاؤں بارہ شکست کی صورت میں بھگتا رعایا کو ہی پڑتا ہے
جن کا شاہ کی اس عیاشی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔
یہ معاملہ اسلامی تاریخ تک ہی محدود نہیں غیرمسلم حاکم
بھی ایسے ہی تھے۔ اسلامی مولوی کی طرح پنڈت پادری بھی
اپنے لوگوں کے پاڑشے اتارتے رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں
آتی ہم میں مسلمان کون ہیں۔ آپ تلاش لیں وہابی دیو بندی
بریلوی شعیہ وغیرہ وغیرہ مل جاءیں گے مسلمان نہیں ملیں
گے۔ یہ ایک دوسرے کو مشرک اور کافر قرار دیتے آئے ہیں۔
،،
تقسیم کی پالیسی انگریز نے دی تھی اور اس کی یہ پالیسی
بڑی کامئابی سے چل رہی ہے۔ فورٹ ولیم کالج نے بڑی دیانت
سے اس خطے کی زبان کو دو خطوں میں تقسیم کر دیا۔ فوج
کے لیےرومن خط قرار پایا۔ اس طرح حضرت ہند بن حضرت حام
بن حضرت نوح کی سنتان ایک دوسرے سے کوسوں دور چلی
گئی۔ یہ کون سا اسلام ہے جس میں انسان' انسان سے دور چلا
جائے بلکہ ایک دوسرے کا جانی دشمن ہو جائے۔
اس مسکین قوم کے ساتھ شروع سے ڈرامے ہوتے آ رہے
ہیں۔ عوام کو استعمال کیا جاتا رہا ہےاور ہر معاملہ عوام کی
جھولی میں ڈالا گیا ہے۔ چند ووٹ حاصل کرنے والا عوامی
نمائندہ ٹھرا ہے۔
انیس سو چھے میں ہونے والے اجلاس میں کون لوگ
تھے کوئ بتانے کی جرائت کرسکتا ہے؟
خط آئین قومی منشی شاہی توہین عدالت عدالتی سزا
مخصوص کا احتجاج الگ الگ المناک کہانیاں ہیں۔
مورخ وہی لکھے گا جس کے دام ملیں گے۔ ان کے عظیم
کارناموں کی کہانیاں چلیں گی بالکل اسی طرح جس طرح خطبہ
الہ آباد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کوئی یہ کہنے کی جرائت نہیں
رکھتا کہ اس میں ہے کیا؟
سب راز ہے اور آج آتے کل کو راز رہے گا۔
اورنگ زیب‘ ٹوپیاں سینے والا عظیم بادشاہ ہی رہے گا۔
کاش کوئی رحمان بابا کا کلام یا اس عہد کے شعرا کا کلام
پڑھ دیکھے سب کھل جائے گا۔ یہ بھی کھلے گا کہ زوال کا
موڈھی یہ ٹوپیاں سینے والا درویش بادشاہ ہی تھا۔
قانون ضابطے اور نورا گیم
اشفاق کی کل برات جانا تھی کہ اس کی ہمشیرہ کا سسر
چل بسا۔ اشفاق کو اس کی اس ناشایستہ حرکت پر بڑا غصہ آیا۔
جل کر بولا چاچے کو جیتے جی چھیتیاں رہی ہیں اب مرنے کے
معاملہ میں بھی بڑا جلدباز ثابت ہوا ہے۔ اشفاق کا سٹپٹانا عمل
ناجائز نہیں لگتا لیکن ہونی کے کون سر آ سکتا ہے۔ ہونی ویدی
ہے اور ویدی کا ویدان کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ہونے کو تو
ہر حال میں ہونا ہی ہوتا ہے تاہم تحمل میانہ روی اور سوچ
سمجھ سے کام لینا آتے کل کو آسودہ رکھتا ہے۔ ہما کے سسر
نے جانے کتنے دن اس انتہائ اقدام کے لیے سوچا ہو گا۔ اشفاق
کا معاملہ بھنگ ہوا اس سے ہما کے سسر کو کیا مطلب ہو سکتا
تھا۔
ہر کوئ اپنی ترجیع کو اولیت دیتا ہے‘ دینی بھی چاہیے
لیکن فریق ثانی کو تو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ فریق ثانی اگر ماڑا
ہے تو وہ مجبوری کے تحت خفیہ ہو سکتا ہے۔ اس میں سچا یا
جھوٹا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہر کوئ سامنے سے
وار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ فطری سی بات ہے کہ
دو متصادم فریق طاقت کے حوالہ سے ایک ہی کیلیبر کے نہیں
ہو سکتے۔ ایک ہی کیلیبر کے ہونے کی صورت میں ان کے
درمیان تصادم نہیں ہو گا۔ ان کا ہر اگلا دن منگل ہو کا اور منگل
ناغے کا دن ہوتا ہے۔ طاقت حق پر ہوتی ہے اور اسے اپنا اور
اوروں کا غصہ ماڑے پر آتا ہے۔ آنا بھی چاہیے ماڑا ہوتا کس
لیے ہے۔
دہشت گردی بلا شبہ پوری انسانیت کے جسم پر ناسور کا
درجہ رکھتی ہے اور اس کا ہر حال میں ختم ہونا امن آسودگی
اور سکون کے لیے ضروری ہے لیکن یہ طے کرنا ابھی باقی
ہے کہ دہشت گردی ہے کیا اور امریکہ کس قسم کی دہشت گردی
کے خلاف پاکستان سے یمن تک لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ
وہ القائدہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور وہ القائدہ کو
نہیں چھوڑے گا۔ جعلی ادویات سے لوگ مرے ہیں اور مرتے
رہتے ہیں یہ کاروبار دہشت گردی نہیں ہے؟ اس کے خلاف کیا
ہوا اور کیا ہو سکتا ہے‘ سب جانتے ہیں۔ جعلی سپرے خریدا گیا
معاملہ کورٹ کچہری گیا‘ کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی
نہیں۔ ڈینگی نے تن مچائے رکھی‘ آتے موسم میں کیا گل کھل
سکتا ہے کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ مہامنشی‘ جیون دان منشی‘
اعلی شکشا منشی‘ منشی بلدیات وغیرہ کے خلاف کیا ہوا‘ سب
جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر یہ داخلی کاروباری دہشت
گردی ہے اور اس دہشت گردی سے خود پاکستان کو لڑنا ہے تو
القائدہ کس حوالہ سے خارجی دہشت گردی ٹھرتی ہے۔ القائدہ
جانے اور پاکستان جانے‘ یہ کس طرح امریکہ بہادر کی
سردردی قرار پاتی ہے۔
اشفاق کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی داخلی بھی ہے
اور خارجی بھی۔ اگر طبی امداد باہم کرنے میں محکمہ جیون دان
پھرتی دکھاتا اور غفلت سے کام نہ لیتا تو ہو سکتا ہے ہما کا
سسر چند روز اور جی لیتا۔ ہما کے سسر کی موت کا مدا خارجی
دہشت گردی کے حوالہ سے امریکہ پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا
کیونکہ وہ صرف اور صرف القائدہ دہشت گردی کا ٹھکیدار ہے۔
تاہم بقول صدر آصف علی زرداری دنیا کا مستقبل جمہوریت میں
ہے۔ ہما کے سسر کی موت کو ایک اکثریت تسلیم کر چکی ہے۔
اس حوالہ سے اسے داخلی یا القائدہ سے متعلق دہشت گردی
نہیں فرض کیا جا سکتا۔ اس نہج کی دہشت گردی کے خلاف
کسی قسم کا ایکشن لینا امریکہ کے کھاتے میں نہیں رکھا جا
سکتا۔ یہ سراسر جمہوریت کی تو ہین ہو گی جو اس جمہوری
دور میں بہت بڑے جرم کے مترادف ہے۔ غداری کا فتوی بھی
صادر ہو سکتا ہے۔
مسجد کی تعمیر کا مہشورہ ہوا۔ گاؤں کے لوگ جمع ہوئے
جن میں نورا بھی شامل تھا۔ ہر کسی نے حب توفیق اپنا حصہ
لکھوایا۔ ابھی کافی لوگ موجود تھے لکھت پڑھت پر وقت لگ
جاتا۔ نورا دھڑلے سے اٹھا اور بولا لکھو میرا پچاس ہزار۔ اس
کی اس فراخ دلی پر بڑی جئے جئے کار ہوئی۔ ہر کوئی چوہدری
نور محمد صاحب کو جھک جھک کر سلام و پرنام کر رہا تھا۔ مزید
اگراہی کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا مجلس برخواست ہو گئ۔ اگلی
صبح مولوی صاحب چند لوگوں کے ساتھ چوہدری نور محمد
صاحب کے در دولت پر جا پہنچے۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی
شان سے باہر نکلے۔ مولوی صاحب نے پچاس ہزار رپوؤں کا
تقاضا کیا۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی معصومیت سے بولے
"کون سے پچاس ہزار روپیے؟"
"وہی جو آپ نے کل لکھوائے تھے۔"
وہ دینے بھی تھے؟“ چوہدری نور محمد صاحب نے بڑی "
حیرت سے پوچھا
"جی ہاں"
"ارے میں تو سمجھا تھا کہ صرف لکھوانے ہیں۔"
اس مثال کے حوالہ سے بھی ہم کسی پر دہشت گردی کا
الزام نہیں رکھ سکتے کہ کرنا اور کہنا قطعی دو الگ چیزیں ہیں۔
کاروباری دہشت گردی کے لیے سرکاری پروانے جاری ہوتے
ہیں اس لیے جعلی ادویات خوری سے لوگ مرے ہیں تو اس
میں کاروباری دہشت گردی کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ ایک نمبر
کاروبار میں بچت ہی کیا ہوتی ہے۔ لوگ ملاوٹ آمیز غذا کھا کر
تل تل مرتے ہیں۔ مرتے تو ہیں نا! یہاں فورا مر گئے۔ ایک دن
مرنا تو ہے ہی‘ دو دن پہلے کیا دو دن بعد میں کیا۔ اپنی اصل
میں بات تو ایک ہی ہے۔
ادویات لائسنس کے بغیر تو تیار نہیں ہوئی ہوں گی۔ موت
ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے لوگ ادویات سے نہ مرتے تواپنی آئ
سے انالله ہو جاتے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ باز بہت
کچھ کہتے آئے ہیں۔ اقتدار میں آکر انھوں نے عوام کے لیے
کبھی کچھ کیا ہے۔ نہیں۔ ان کے نہ کرنے کے خلاف کبھی کوئی
قابل ریکارڈ رولا پڑا ہ ِے؟ نہیں‘ بالکل نہیں۔ تو اب کیوں شور
مچایا جا رہا۔ سرکاری معاملہ ہے۔ این آر او کے تحت اس مدے
پر مٹی ڈالنا ہی جائز اور مناسب بات لگتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم
معاملات پر تجاوز مانگ تو لیتے ہیں‘عمل درامد نہیں کرتے۔
مولانا پرانے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہو کر بھی اس قسم کی
باتیں کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں آج تک کبھی ایسا ہوا
ہے کہ کسی لیڈر کا کرنا اور کہنا مساوی رہا ہو ۔ یہ دو الگ
سے امور ہیں لہذا انھیں الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچنا
اور زیر بحث لانے کی ضرورت ہے اور کسی سطع پر آلودگی
نہیں ہونی چاہیے ورنہ خرابی اور فساد کا دروازہ کھل جائے گا
یا کسی مذہبی کے کہنے اور کرنے میں کسی بھی سطع پر
توازن ملتا ہو۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے کہ کوئ آدمی بستر پر
سو بھی رہا ہو اور دفتر میں کام بھی کر رہا ہو۔ کہنے اور کرنے
کو دو الگ حتیتیں دی جائیں گی تو خرابی جگہ نہ پا سکے گی۔
کہہ کر نہ کرنا ہی تو نورا گیم ہے۔ اگر نورا خاموش رہتا تو
جئے جئےکار کیسے ہوتی اور وہ نورا سے چوہدری نور محمد
!کیسے اور کن بنیادوں پر کہلاتا؟
ان حقائق کے تناظر میں اشفاق کو بھی این آر او قانون
اور سرکاری ضابطے کو بھولنا نہیں چاہیے اور اپنی بہن کے
سسر کی موت پر مٹی ڈالنی چاہیے۔
جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں
پشاور ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر ہم سچ بولنے لگیں تو
ہمارے اسی فیصد مسائل حل ہو جاہیں گے‘ پشاور ہائی کورٹ
کے یہ الفاظ آب زم زم سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ سچ سے
بڑی کوئی حقیقت نہیں اور ناہی اس سے بڑھ کر کوئ طاقت ہے۔
سچ ظلم زیادتی ناانصافی بلکہ ہر خرابی کی راہ میں مونگے کی
چٹان ہے۔ یہ کمزور کو کمزور نہیں رہنے دیتا۔ یہ بات ہر شخص
جانتا ہے‘ اس کے باوجود ہر شخص اس سے دور بھاگتا ہے۔
شاید ہی کوئ ہو گا جو اس کی برکات کا قائل نہ ہو گا یا اس کی
طاقت سے انکار کرتا ہو گا بلکہ اپنے سوا دوسروں کو درس نہ
دیتا ہو گا۔ سچ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کھ اسے لاکھ پردوں
میں رکھو‘ سامنے آنے سے باز نہیں رہتا۔ اس طرح بنا بنایا
کھیل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔
سچ یقینا پیار کرنے کے لائق چیز ہے۔ لوگ اس سے
بےحد پیار کرتے ہیں۔ اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
اور سچ سننا انھیں خوش آتا ہے۔ جو بھی ان کے سامنے جھوٹ
اور غلط بیانی سے کام لیتا ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دینے
پر اتر آتے ہیں۔ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینے والا بچ کر
جائے گا کہاں۔ ان کی نگاہ بال کی کھال اتار لیتی ہے۔ وہ اس کو
محدود نہیں رکھتے تاہم اقتصادیات سے جڑا جھوٹ انھیں موت
کے گھاٹ اتار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ کسی اور کا دینا ایک
روپیے کا ہو یا لاکھ روپیے کا‘ ان کےلیے اس میں ایک اکنی
کی ہیر پھیر بھی لاکھ کی حیثیت رکھتی ہے۔
دینے کا معاملہ اس پیمانے سے قطعی برعکس ہوتا ہے۔
اس ضمن میں سچ انھیں زہر لگتا ہے۔ ان کے سماجی معاملات
بھی سچ کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ سماجی معاملہ ہو یا
اقتصادی‘ جھوٹ اور منافقت کی جئے جئے کار رہتی ہے۔
منافقت‘ جھوٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ امیدوار ممبر جب کسی
کے پاس آتا ہے تو منہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ میں شروع سے
آپ کا خدمت گار رہا ہوں ۔ جب کہ عید کے روز بھی اس سے
مسجد میں ملاقات نہیں ہوئی ہوتی۔ اگلی صفوں میں بیٹھنے
والوں کی نگاہ میں پیچھے بیٹھے لوگ روڑا کوڑا ہوتے ہیں۔
پرانے اور بوسیدہ لباس والے دکھائی کب دیتے ہیں۔ یہ فطری
سی بات ہے کہ آسمان اور زمین کا ملن ممکن ہی نہیں۔ یہ اس
لیے کہا ہے کہ الیکشن امراء کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گریب تو
موری ممبری کا الیکشن تک نہیں لڑ سکتا۔ ہاں گریب رات کو
امیدوار ممبر کے ڈیرے سے پیٹ پوجا کے لالچ میں لوگوں
سےلڑ جھگڑ سکتا ہے۔
امیدوارممبر جس طرح اپنے خادم ہونے کا جھوٹ بولتا
ہے ووٹر بھی نہلے پر دہلا مارتا ہے۔ وہ جوابا کہتا ہے کہ جناب
ہمیشہ آپ کا ساتھ دتیے آئے ہیں اب بھلا آپ کو کس طر ح
چھوڑیں گے حالانکہ اس نے کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا
ہوتا۔ عملی طور پر اس کا سخت مخالف رہا ہوتا ہے یا جھڑنے
والے کے ڈبے میں اس کے ووٹ نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔
کوتوالی کی بات چھوڑیں وہاں تو بڑے بڑےعین غین اور
شریف باٹی ٹیک جاتے ہیں۔ وہ وہاں‘ وہ وہ جرم تسلیم کر لیتے
ہیں جن کے کرنے کی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ میں
یہاں عدالت کے حوالہ سے بات کرنے جا رہا ہوں۔ عدالت میں
چور کو بھی وکیل کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ یہ اس کا اصولی
حق ہوتا ہے۔ چور کا وکیل وہ وہ دلاءل پیش کرتا ہے کہ چور کو
یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ اس نے چوری کی ہی
نہیں بلکہ اس پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ
وکیل کو پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ چوری اس کے موکل نے کی
ہے۔ اس کے باوجود وہ چور کا مقدمہ لڑتا ہے اور اسےبچانے
کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ یہ اس کا پیشہ ہے۔ کامیابی کی
صورت میں وہ اچھا وکیل قرار پاتا ہے۔ ہارنے کی صورت میں
کوئی چور اس کے قریب سے بھی گزرنے کی حماقت نہیں کرتا۔
اگر کوئی چور اس کے پاس نہیں آئے گا تو وہ بھوکا مر جائے
گا۔ گویا علم اور داؤوپیچ رکھنے والا پیٹ سے سوچے گا تو سچ
بولنے کی بھلا ایک عام آدمی کس طرح حماقت کرے گا۔ پیٹ ہی
جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کرتا ہے۔
پیٹ ہی سب سے بڑا سچ ٹھرتا ہے۔ کسی کا حق ڈوب رہا
ہے‘ اس جانب نظر کیسے جا سکتی ہے۔ مضروب اپنے جوگا
نہیں ہوتا وہ ہرے نیلے نوٹ کس طرح وکھا سکتا ہے۔ سچا ہو
کر بھی وہ جھوٹوں کی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔
ہمارے تمام مسائل کا حل یقینا سچ بولنے میں ہے لیکن
خالی پیٹ درویش لوگ ہی سچ بول سکتے ہیں۔ یہ بھی تاریخی
حقیقت ہے کہ سچ بولنے والےجان سے گئے ہیں۔ پیٹ کے غلام
روز اؤل سےعزت بچانے کے لیے سارا دن بےعزتی کرواتے
ہیں۔ پیٹ یقینا تکنیکی اور شکمی مجبوری ہے۔ پیٹ کو کسی
بھی سطع پر خانہ نمبر دو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ روٹی کپڑا
اور مکان یا پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے کے وعدے تو ہوتے
رہے ہیں۔ جنت نظیر بنانا تو بہت دور کی بات ہے پاکستان کو
پاکستان تک نہیں بنایا جا سکا۔
پاکستان میں بجلی روٹی کا پہلا اور آخری ذریعہ ہو کر رہ
گئ ہے۔ وزیر برقیات نے بند نہ ہونے کا وعدہ کیا لیکن لوڈ
شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق نہیں آیا۔ مزدور گھر
سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن
فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی
ہے کہ بیٹا آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے
گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا بچہ دودھ
آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ خاوند خالی
ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں ہوتا۔ سب
اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔
لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق نہیں آیا۔
مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ
ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ
کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس
کی دوا آ سکے گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔
چھوٹا بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ
خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں
ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔
وکیل اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ چور کی وکالت نہیں کرے
گا تو کھائے گا کہاں سے۔ بابو اپنی جگہ پر سچا ہے کہ حق
ناحق کا عوضانہ نہیں وصولے گا تو مرغ اور مچھلی کا سامان
کیسے اور کیوں کر ہو سکے گا۔ جب وعدے پورے نہیں ہونے‘
مظلوم کو ظالم ٹھرایا جانا ہے‘ انصاف دوہرا ہونا یا کروانا ہے‘
چور کو بری کروانا ہے تو جھوٹ کو قانونی حیثیت دے دی
جائے‘ کم از کم منافقت سے تو خلاصی مل جائے گی۔ اصلی
آدمی دیکھنے کو مل جائے گا۔ آج اصلی آدمی کو دیکنھے کو
آنکھیں ترس گئی ہیں۔ جنی کوئ غلط اقدام نہیں ہو گا۔ جس کو
بےوسیلہ اوربے بابائی ہونے کی وجہ سے قتل کیتا کرایا مل
جانا مل جانا ہے‘اس کی داد رسی لایعنی اور ہر طرح کی معنویت
سے باہر کی چیز ہے۔ ایسے حالات میں جرم کو قانونی حیثیت
دینا ناانصافی نہیں‘ انسانی مساوات قائم کرنے کے کے مترادف
ہے۔۔ اگر بعض کو جرم کی سزا سے بالاتر قرار دینے کی سعی
کرنا ہے تو اوروں کو یہ حق دینا کس اصول کے تحت غلط
!ہے؟
پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب
ہمارے منہ جھوٹ کہنے اور کان جھوٹ سننے کے عادی ہو
گیے ہیں۔ یہاں جس سے پوچھو کہے گا مجھ سے قسم لے لو
جو میں نے کبھی جھوٹ مارا ہو۔ ہمارے ہاں جھوٹ مارنے کا
رواج نہیں رہا ہاں البتہ بندہ مارنا روٹین ورک ہو گیا ہے سچ
کہنے اور سچ سننے میں مزا نہیں رہا۔ شاید اس کی ایک وجہ
یہ بھی ہے کہ سچ سے کسی قسم کا لابھ وابستہ نہیں رہا۔ سچ
کے حصہ میں پولے رہے ہیں۔ بعض اوقات سر سے ہاتھ دھونا
پڑتے ہیں۔ سچ سے پرہیزی سونے کےچمچہ سے بریانی نوش
کرتے ہیں۔ جی سر‘ جی حضور‘ جی جناب‘ درست عالی جاہ
کہنے میں کچھ خرچ نہیں آتا لیکن صلہ میں تمغے اور جاگیریں
مقدر ٹھہرتی ہیں۔ سچ کے پلے ہے ہی کیا‘ دکھ اور تکلیف۔
گولی مارو ایسے سچ کو جو بھوک اور پیاس بھی نہ مٹا سکے‘
تن کو ڈھنگ کا کپڑا بھی میسر کرنے سے معذور ہو۔
کل ایک صاحب فرما رہے تھے بابا جی آپ کے قلم میں بلا کی
طاقت ہے لیکن آپ اس کا انتہائی گھٹیا استعمال کر رہے ہیں۔
میرے ہی منہ پر جھوٹ بول کر مجھے الو بنانے کی کوشش کر
رہے تھے۔ میں کونسا علامہ شبلی نعمانی ہوں جو میرے قلم
میں بلا کی طاقت ہے۔ وہ درحقیقت سمجھانا چاہتے تھے کسی
پارٹی اور اس کے بڑوں کے بڑی فصاحت و بلاغت کے حامل
قصیدے کہوں تاکہ وہ اسے کیش کروا کے پیٹ بھر صاف ستھرا
نوش جاان فرماءیں اور ہڈی میری جانب پھینک دیں۔ اگر
اعتراض کروں تو سرکا دیں۔ پھینکنے اور سرکانے میں زمین
آسمان کا فرق ہے۔ اس میں شک نہیں میرے اڑے پھسے کام بن
سکتے ہیں۔ جی حضوریہ ہونا ایسا معمولی اعزاز نہیں۔ میں ایسا
کر نہیں سکتا کیونکہ میرے قلم میں بلا کی طاقت ہے نہیں۔ بس
کسی حد تک گزرا چل رہا ہے۔
میرے جواب پر حضرت نے فرمایا حضور یہ آپ کا قصور نہیں
بابے بولتے ہی وکھی سے ہیں۔ بہرطور میں جوابا کیا کہہ سکتا
تھا خاموش ہو گیا۔ میرے پاس کوئ دوسرا رستہ ہی نہ تھا۔ ان
دنوں امیدواروں کے ڈیرے حاتم کدے بنے ہوءے ہیں۔ پیٹھ
مروڑتے اور منہ بناتے ہوئے وہ ادھر کو چل دیے اور میں ان
کے یہ دونوں اعضاء دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں خاں صاحب نہیں
ورنہ ان کی پھرکی کی طرح پھرتی پیٹھ کے بارے ضرور کچھ
عرض کرتا۔ عین ممکن ہے اس نظارے سے بےخود ہو کر الٹے
قدموں بڑے پیار اور چاہ سے واپس مڑنے کی گزارش کرتا۔
سوچتا ہوں یہ حاتمی پروگرام اس سے پہلے کہاں تھا۔ کیا یہ
تاحیات جاری رہے گا یا گیارہ مئی کے بعد ٹھس ہو جائے گا۔ اگر
چلتا رہا تو کمال ہو گا اگر ٹھپ ہو گیا تو کمال کی ٹانگ ہی نہیں
کمال کی ہڈی پسلی سلامت نہیں رہے گی۔
ڈیڑھ کلو آٹا خرید کر گھر کی بھوک مٹانے والوں میں ایک
شخص کی روٹیاں بچیں گی اور یہ بچت گھر کے کسی فرد کی
آدھی بھوک کو سیری میں بدل دیں گی۔۔ بلاشبہ چند روز کے
سہی بہت بڑا انقلاب ہو گا۔ دوسری جانب اس ایک فرد کی سیری
اس کی کار گزاری بہتر کر سکے گی۔ ووٹ کا کیا ہے کسی ایک
کو تو دینا ہی ہے۔ جس نے کھانے کو دیا اس سے زیادہ ووٹ کا
کون حقدار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد دونوں کسی کو کچھ نہیں
دیں گے۔ اپنے اپنے کاموں میں جھٹ جائیں گے۔ یہ مزدوری
میں اگر میسر آتی رہی اور وہ کیے گیے خرچے کو سو گنا
بنانے میں۔ یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور آتے وقتوں میں یہی کچھ
ہونے کے اثار ہہں۔
جس معاملے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے وہ توڑ نہیں چڑھتا
بلکہ اؤل تا آخر خرابیاں مقدر رہتی ہیں۔ ہو سکتا ہے شروع
شروع میں کچھ فائدہ مل جائے لیکن آگے جا کر پریشانیاں
کھڑی ہو جاتی ہیں۔ جھوٹ بولنے والے کرنے والے کو شاید
ہلکا پھلکا نقصان ہوتا ہے۔ عمومی سوچ کے حوالہ سے عزت
کو کسر لگتی ہے۔ اگر اس کو کسر سمجھا جاءے تو لوگ اہل
دھن اور اہل جاہ کو جھک جھک کر سلام کیوں کرتے ہیں۔ ان
کے منہ پر ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے کیوں
ملاتے ہیں۔ رہ گئ دل میں برا بھلا کہنے یا گالیاں نکالنے کی
بات دل کو کون دیکھتا ہے۔ لوگ تمثال کو نہیں تجسیم کو
دیکھتے ہیں۔۔ ہاں برا ہو ترقی کا ریکاڈنگ کی صورت میں
خرابی کی راہ نکل آتی ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے والوں کی
بھی بازی مات رہتی ہے۔ سامنے اور پیٹھ پیچھے کے مزے ایک
سے نہیں ہوتے۔ سامنے کا آؤٹ پٹ موت یا کم از کم لترول
ضرورت رہتا ہے۔ پیٹھ پیچھے کے لیے مکرنے کا سیف وے
بہرطور ہر سطع پر باقی رہتا ہے۔
گریب ان پڑھ بولاراور چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے
کا آخر مزا چھکنا پڑتا ہے یہ ووٹ کے مانگت بھی اس لڑکی
کے مماثل ہوتے ہیں اوپر سے انھیں خوبصورت ہونے کا زعم
بھی ہوتا ہے۔ بھوکا دور کی نہیں سوچتا۔ باشعور ہوتے ہوئے
بھی اس کی سوچ روٹی دا سوال اے جواب جیہدا روٹی اے‘ سے
باہر نہیں آتی۔ تسلیم کی انتہا ملاحظہ کریں ان دنوں امیدواروں
کے ڈیروں پر مرغے والے چاول چل رہے ہیں اور اسے بریانی
کا نام دیا جاتا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے اس میں بکرے کی
ایک بوٹی بھی نہیں ہوتی۔ کھلانے والا اسے بریانی کا نام دے یہ
بات سمجھ میں آتی ہے لیکن کھانے والا اسے بریانی تسلیم کرتا
ہے۔ یہ تو ککڑیانی بھی نہیں ہوتی۔ چاولوں میں کھسرا مرغے
کا کہیں کہیں گوشت یا ہڈی ہوتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ
کھسرا مرغے کا پنجر لا کر چاؤلوں میں ڈال دیا گیا ہوتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ اسے پنجریانی کا نام نامی اسم گرامی دیا جا
سکتا ہے۔ جب اطراف میں اپنی اپنی ضرورت کے حوالہ سے
جھوٹ چل رہا ہو تو آتے کل کی بہتری کا خواب گناہنگار
آنکھوں سے کیونکر اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
دیگی ذائقہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی
دانستہ غلطی کوتاہی بلاشبہ لائق سرزنش ہے۔ کوشش کرتا
ہوں جو بھی کروں پوری ذمہ داری اور ہوش مندی سے کروں
لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کمی کوتاہی کی راہ نکل ہی آتی ہے۔
اس ذیل میں وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جنھوں نے کچھ نہ
کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ نتیجتا ان سے غلطی کوتاہی سرزد
نہیں ہوتی۔ اگر کسی کے مجبور کرنے یا کسی سرکاری یا
بیگماتی مجبوری کے تحت کچھ کرنا ہی پڑ جاتا ہے تو غلطی
کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کی شامت آ جاتی ہے۔ غلطی
کرنے والے کی گردن پر گرہ نہیں آتی۔ ہر کوئی کرنے والے ہی
کا پکھ لیتا ہے۔ دیکھو یاراس نے کچھ تو کیا ہے حوصلہ افزائی
کی بجائے حوصلہ شکنی سے لیا جا رہا ہے۔ نکتہ چین تھوڑ
دلی سے کام لے رہا ہے۔ اس وچارے نے کب کبھی کوئی کام کیا
ہے۔ پہلا پہلا کام ہے‘ غلطیاں تو ہوں گی۔
پہلا پہلا کام کرنے والا خود کو علامہ شبلی نعمانی کا بھی
استاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے لیے اس کا یہ پہلا پہلا بھگوت
گیتا سے کی طرح کم نہیں ہوتا۔ چیلے چمٹے اسے عظیم فن پارہ
قرار دے کر اڑے پھسے کام نکلوا لیتے ہیں۔ میں کوئی اعلی
شکشا منشی ہاؤس کا اہلکار نہیں جو معاف کر دیا جاؤں گا۔ اس
لیے خود ہی اپنی غلطی کوتاہی کا اعتراف کر لیتا ہوں۔ بڑے
لوگوں کی طرف انگلی اٹھتی ہے مجھ پر لوگوں کا پنجہ اٹھے
گا۔
پہلی پہلی غلطی کوتاہی کو لائق تعزیر قرار نہیں دیا سکتا
کیونکہ کوشش تو کی گئی ہوتی ہے اور کرنے والے سے ہی
غلطی ہوتی ہے۔ کرنے والوں میں عادی کرنے والے ہوتے ہیں
جبکہ فٹیکی کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ دونوں کے کرنوں میں
نمایاں فرق موجود ہوتا ہے۔ ذائقہ بھی اسی تناظر میں تشکیل
پاتا ہے۔ ذاتی شوق اور گیڈر پروانہ کی حصولی سے وابستہ کیا
ایک سا نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے ذائقوں میں زمین آسمان کا
فرق موجود ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ذاتی والا دو نمبری
کے درجے پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ گیڈڑائی کسی بڑی سیٹ پر
بیٹھ جاتا ہے۔ اب ذائقے کا تعلق بندے کوبندے جڑ جاتا ہے۔
میں نے کھائی پکائی میں تیکنیکی امور کو مدنظر رکھا۔
کھائ کی تعبیر و تشریح میں انتہائی حساس امور کو نظر انداز
کر گیا حالانکہ ان کا کھائی سے چولی دامن کا تعلق ہے۔ محاورہ
اگلے زمانے کا ہے محاورہ بنانے والوں نے دامن کے ساتھ
چولی جانے کیوں اندراج کیا۔ اگلے زمانے میں چولی نہیں
چولے ہوا کرتے تھے۔ چولی غالبا غرب کی دین ہے۔ لباسی
اختصار پیچھلے پچاس سالوں میں ہوا ہے۔ اب تو لباس کا نام
تکلفا لیا جاتا ہے اس لیے میں نے تکلفا مروتا چولی لفظ
استعمال کر دیا ہے۔ رہ گیا دامن‘ جب چولی نہیں ہوگی دامن کہاں
سے آئے گا۔ مترادف میں مرد حضرات نے بیگ جبکہ خواتین
نے بڑے فینسی پرس رکھ لیے ہیں اور ان میں کافی کچھ سما
سکتا ہے۔ مرد اور خواتین احتیاتا ساتھی بھی اہتماما رکھنے
لگے ہیں۔ بیگ یا پرس میں وہ جو کچھ بھی رکھیں ان کا ذاتی
معاملہ ہے اس پر کلام کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ مرد اور
عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں اس لیے چولی دامن کی جگہ
بیگ پرس کا ساتھ محاورہ ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی
ارضی اور کلچری سچائی ہے۔
خیر غلطی کوتاہی کا حل یہی ہے کہ متعلقہ حصہ میں تبدیلی
اضافہ وغیرہ کر دیا جائے۔ بھلا ہو مہر افروز صاحبہ کا جو
انھوں نے بروقت نشاندہی کر دی ہے۔ میں ان کا دل و جان سے
احسان مند ہوں۔ اگر وہ نشاندہی نہ کرتیں‘ باریک بین مورخ
کبھی معاف نہ کرتا۔ وہ کرتا نہ کرتا میرا ضمیر مجھے معاف نہ
کرتا۔ پکائی بلاشبہ بڑی معنویت کی حامل ہے لیکن ذائقے کا
تعلق کھائی کے مختلف حوالوں سے جڑا ہوا ہے۔ ذائقے سے
منہ مسلک ہے۔ منہ بڑا ہو یا چوٹا اس میں ایک عدد زبان بھی
ہے جو چھکنے اور جلانے کے کام آتی ہے۔ چکھنے سے پہلے
بھی چلتی دیکھنے سننے میں آتی رہتی ہے۔ یہ جہاں نائی کے
کانوں پر بار بنتی ہے وہاں دیگ کا سامان لانے والے اور
سامان دینے والے دوکان دار کو بھی گرفت میں رکھتی ہے۔ ہیاں
تک کہ بلاچھکے ریمارکس پاس کر دیتی ہے۔ گویا یہ ذائقے کا
پیش لفظ ہوتا ہے۔
سرکاری تنخواہ کی آمدنی کا ذائقہ پھیکا پھیکا اور قطعی
ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔ معقولی اور غیر معقولی بالائی کا ذائقہ الگ
سے اور دو طرح کا ہوتا ہے۔ یہ ذائقہ زیادہ تر دفتری لوگوں
سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ بالائی کا دائرہ دفتروں کے
زندان سے آزادی حاصل کر چکا ہے۔ ستم اس پر یہ کہ رشوت
لینے والے کو راشی کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سائل رشوت
خور ٹھہرتا ہے۔ ظالم کا ظلم مظلوم پر ٹھہرنا صدیوں کی ریت
ہے۔ یہ صرف رنجیت سنگھ ہی کو اعزاز حاصل تھا کہ وہ ہاتھ
بندھے بری اور لک بندھک لٹکاتا تھا۔ بہرکیف لفظ راشی کا
متضاد استعمال میرے لیے حیران کن نہیں۔ لفظ کا رمزی استعمال
کلام میں شگفتگی اور بلاغت پیدا کر دیتا ہے۔ اب معلوم ہوا ہے
کہ زیریں کے دست مبارک سے لفافہ اوبر جاتا ہے۔ اس حوالہ
سے اسے راشی ہی کہا جائے گا مرتشی اوپر والے کو کہا
جائے گا۔ کھائ کے حوالہ سےتین ذائقے ترکیب پائیں گے۔ سائل
کا ذائقہ کڑوا‘ راشی کا ذائقہ نمکین اور قدرے لذیذ جبکہ مرتشی
کا ذائقہ لذتوں کا امین ہوتا ہے۔
چوری ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری وغیرہ کی کمائی کو
حرام کی کمائی کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلی تینوں طرح کی کمائی
خطروں سے ہی نہیں بھری رسک آمیز بھی ہے جبکہ ہیرا
پھیری میں دماغ کا خرچہ بڑھتا ہے اس لیے یک طرفہ سوچنے
کی بجائے دو بلکہ سہ طرفہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ لٹنے
والا اور کما لے گا اسے دکھ ضرور ہوتا ہے۔ دوبارہ سے کمائی
کا ذائقہ پسینہ آلود ہونے کے سبب چکنائی انگیز ہوگا۔ چوری
ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری کی کمائی جو پرمشقت ہوتی ہے‘ کا
ذائقہ اگلے رسک پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا اس قسم کی کمائی کے
ذائقے میں تحرک کا عنصر غالب اور نمایاں رہتا ہے۔
قوم و ملک سے غداری کے صلہ میں کھیسے پڑنے والی
کمائ کا ذائقہ بی کچھ اور نوعیت کا ہوتا ہے۔۔ بی کا مخفف لمبی
چوڑی فہرست سے بچاتا ہے۔ شراب کباب کے ساتھ شباب کی
بڑھوتی کسی ایرے غیرے کو زیب نہیں دیتی۔ یہ ذائقہ دوسرے
ذائقوں سے الگ ترین ہوتا ہے اور اس میں نوابی آن بان اور
شان تھرک رہی ہوتی ہے۔ ان کے کتے بلے بھی ان کے اترن
سے حصہ پا کر کا سا کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں اور ان
کا ذائقہ بھی معمولی اور عمومی نہیں رہ پاتا۔ ان کا یہ موقف
غلط نہیں لگتا کہ موجودہ حکمران کون سے خیر کے فعل انجام
دیتے ہیں۔ آنے والا بھی یہی کچھ کرے گا۔ ہاں تبدیلیوں میں لہو
بہتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ غداریاں ہوتی ائ ہیں اور
ہوتی رہیں گی۔ وہ کون سا اچرج کام کر رہے ہوتے ہیں۔ خون
بہتا رہا ہے‘ بہتا رہے گا۔ عموم کا سماجی اسٹیٹس یہی رہا ہے
اور یہی رہے گا۔
پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ مفت خوری کا ذائقہ
غیرمعمولی ہوتا ہے۔ لاریب فیہ میں مولوی صاحبان کو اپنے
سوچ میں بھی نہیں لا سکتا۔ جو یہ سوچتے ہیں کہ میں ان کو
درمیان میں لا رہا ہوں غلط سوچتے ہیں۔ یہ حضرات مفت خوری
میں نہیں آتے۔ ان کی کمائ مشقت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ان
سے بچوں کی تدریس کا ڈر اور خوف قطعی لایعنی ہے۔ آخر
پمپر کس لیے بنے ہیں اور ان کا استعمال کب ہو گا۔ زندگی میں
کرتا کوئی ہے کھاتا کوئی ہے۔ کرنے اور کھانے والے کا ذائقہ
ایک سا نہیں ہو سکتا۔ لکھنے والوں کو ہوا کھانی پڑتی ہے
جبکہ ناچے گائیکے پیٹ بھر کھاتے ہیں۔ لکھنے والوں کا دماغ
خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی طبقوں کی جسمی محنت رنگ لاتی ہے۔
لکھاری گائک رقص کندہ اور ان سے متعلقین کا ذائقہ ایک سا
نہیں ہو سکتا۔
ایک دیگ کے چاول تیکنکی ذائقوں کے علاوہ بھی ذاہقے
رکھتے ہیں۔ ہر موڈ اور ہر مزاج کا ذائقہ الگ سے ہوتا ہے۔
تنقید کرنے کا ذائقہ کٹھا مٹھا ہوتا ہے۔ تنقد برداشت کرنے کا
ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ کہنے والی زبان اور سننے والے کانوں کا
ذائقہ ایک سا نہیں ہو سکتا۔ گویا موڈ مزاج اور رویہ زبان کے
ریشوں میں تبدیلی لا کر ذائقہ کی حس پر اثر ڈالتے ہیں۔
شہید اور شہادت کا تلک سجا کر تاریخ کا جز بننے والے
ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انہیں نہی میں ڈال کر جعلی
کاروائی ڈال کر نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ بھی قرطاس
حیات پر موجود رہیں گے۔ ماتمی بھی رہیں گے ان پر سنگ
باری کرنے والے بھی زندگی کا حصہ رہیں گے۔ دیگ ایک ہی
ہوتی ہے۔ پکائی بھی ایک ہاتھ کی ہوتی ہے۔ کسی کو پکوان لذت
دیتا ہے۔ کوئی اسے چاولوں کا حشر نشر خیال کرتا ہے۔ دیگ
میں ناصر زیدی کو کیڑے آمیز چاول نظر آتے ہیں۔ وہی پکوان
تبسم کاشمیری پر وجد طاری کر دیتا ہے۔ صابر آفاقی پکائی سے
متاثر ہو کر پی ایچ ڈی کی دس ڈگریاں دینے کی سفارش کرتے
ہیں۔ ڈاکٹر عبدالله قاضی پوسٹ پی ایچ ڈی کا مستحق ٹھہراتے
ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال کو پکائی میں سلیقہ نظر آتا ہے۔ ۔ڈاکٹر
محمد امین اسی دیگ کے چاولوں میں نیا انداز اور پکانے والے
کے ذہنی افق میں وسعت ذائقہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا
کو پکائی میں عصری ذائقوں سے آگہی محسوس ہوتی ہے۔
دیگ ایک ہے‘ ذائقے الگ الگ۔ گویا ذائقہ منہ میں موجود زبان‘
اس کے سائز اور ذہن کے سواد پر انحصار کرتا ہے۔
میں محترمہ مہرافروز کو داد دیتا ہوں کہ وہ ذائقے کا
رشتہ انسانی موڈ سے جوڑتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کھائی کے
جانو حضرات ان کی اس انمول دریافت کو پرتحسین نظروں سے
دیکھیں گے۔
ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو دوسیریاں
ہمارے لودھی صاحب کسی اور کو رشوت دینے کے معاملہ میں
بڑے ہی سخت واقع ہوئے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے ہمارے ایک
دوست اکاؤنٹ آفس میں ایک معمولی سے کام کے لیے پانچ سو
روپیے چٹی دے کر آئے۔ مجبور تھے کیا کرتے' پچھلے دو ماہ
سے ذلیل ہو رہے تھے۔ بار بار اعتراض لگ رہا تھا۔ ہر بار
اعتراض دور کرتے لیکن اگلی بار اعتراض میں سے کوئ اور
اعتراض جنم لے لیتا۔ کسی سیانے نے اصل اعتراض یعنی پانچ
سو روپیے کی نشاندہی کر دی۔ اصل اعتراض دور ہونے پر ان
کام فورا سے پہلے ہو گیا۔ ہمارے لودھی صاحب کو سخت غصہ
آیا وہ وہ سنیما سکوپ گالیاں سنائیں کہ تمام پنجابی گالیاں آن
واحد میں شرمندہ تعبیر ہو گئیں۔ میں حیران تھا کہ انھیں کیا
بنیاں کیونکہ اسی کیس کی ذیل میں وہ دو بار نیلا نوٹ وصول
چکے تھے۔ کیا یہ رشوت نہ تھی?!
غالبا ان کے سوا کسی اور کو کام کے حولہ سے نقدی یا
بصورت جنس اداءگی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہرے نیلے
اور کبھی کبھار سرخ رنگ پر صرف اور صرف ان ہی کا حق
فائق رہتا ہے۔
درست طریقہ یہی ہے کہ بانٹ دو رکھو۔ بہت پہلے کی بات ہے
کہ الله بخشے' ہمارے بھائ کے سسر امام مسجد ہونے کے
ساتھ ساتھ دؤکاندار بھی تھے۔ دوکان میں ڈاکخانہ بھی تھا۔ اگلے
دور میں لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ
اجناس کے بدلے اشیاء حاصل کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس
بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مائی جنس لے کر آئی انھوں نے اندر
:آواز دی
"بیٹا دوسیری دینا"
"?اندر سے آواز آئی" :کون سی ابا
"بولے"سبحان الله' بیٹا دو سیریاں بھی کوئی دو ہو تی ہیں
دوسیری آ گئی لیکن ہماری سمجھ میں یہ علامتی مکالمہ نہ آ
سکا۔ یہ کہانی الگ سے ہے کہ ہم نے ان کی
بیٹی تک کیسے رسائی حاصل کی تاہم بھید یہ کھلا کہ جنس کی
حصولی کے لیے سبحان الله دوسیری ہے جو وزن میں زیادہ
ہےجبکہ چیز دینے کی دوسیری الحمدالله ہے جو وزن میں کم
ہے۔ گویا لینے کی دوسیری
اور دینے کی دوسیری' بہت پہلے سےالگ رہی ہے۔
امریکی رکن کانگرس کےمطابق بلوچستان کا مسلہ سنگین ہے۔
اس کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چائیں۔
مغرب والے بڑے دیالو اور کرپالو ہیں۔ انھیں تو مچھلیوں تک
کے "انسانی حقوق" عزیز ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
بند ہونے والی بات غلط نہیں لیکن امریکہ دوسیریاں دو کیوں
رکھ رہا ہے۔ اس کے اس چلن نے ہمارے لودھی صاحب پر
گہرے اثرات مرتب کئے ئیں۔ امریکہ کی ایک عمارت گری اس
نے پورے افغانستان کی عمارتیں گرا دیں۔ اس عمارت میں
موجود چند لوگ مرے لیکن اس نے افغانستان میں ہزاروں لوگ
موت کی نیند سلا دئیے اور لاکھوں بےگھر کر دئیے۔
وہ ذرا ونگا ہوتا ہے تو ملکوں پر' جہاں غربا کی تعداد زیادہ
ہوتی ہے پر پابندیاں لگا دیتا ہے لیکن نیٹو کی رسد بند کرنے
کو انسانی حقوق کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ابیٹ آباد جس
عمارت میں اسامہ رہتا تھا' کو مسمار کر دیا گیا مبادہ کسی
کونے کھدرے سے اسامہ نکل آءے گا حالانکہ اس عمارت کو
مسمار کرنے کی کیا شرورت تھی۔ خود اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا
ہے ۔ لیکن کسی اور کا اسلحہ بنانا اس کے وارہ میں نہیں آتا
امریکہ خود کے حوالہ سے دنیا کا باڑہ ہے۔ ایران کوریا یا دنیا
کا کوئ ملک اسلحہ بناءے تو اس کے پیٹ میں مرو ڑاٹھنے
لگتا ہے۔
سگریٹ پہ سیمینار ہو رہا تھا۔ اتفاق سے میں بھی وہاں کسی
کام سے گیا ہوا تھا۔ انتظمیہ نے پکڑ کر مجھے بھی اسٹیج پر
بیٹھا دیا۔ سگریٹ پر مقریرین نےدھؤاں دھار تقریریں کیں۔
سگریٹ کے خلاف وہ وہ بکواس کی کہ خدا کی پناہ۔ سچ
پوچھئے میں گھبرا ہی گیا۔ مجھے لگا یہ میرے خلاف سا زش
ہوئ ہے۔ ستم اس پر یہ کہ اظہار خیال کے لیے مجھے بھی
طلب کر لیا گیا۔ منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ان سے میں
ایسے بھی تھے جو سگریٹ پہ سگریٹ پیتے تھے۔اسٹیج پر آ
کر سب حاجی ثناءالله بن گءے تھے۔ اب چونکہ بلا لیا گیا تھا
اس لیے کچھ کہے بغیر بن نہیں سکتی تھی۔ جی میں آئ ان سب
کی اصلیت کھول دوں مگر مروات آڑے آگئی۔ میں نے سگریٹ
کے حق میں تقریر کی۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ حیران تھا یہ
انہونی کیسے ہو گئی۔ بعد میں معلوم ئوا حق میں کہتے کہتے
خلاف کہہ گیا ہوں یا حق کو خلاف کے معنونوں میں لے لیا گیا۔
بلوچستان کے حوالے سے بات کرنے والے امریکہ کا باطن
ایران کے بارے میں کھل گیا ہے۔ امریکہ اگر اتنا انسان دوست
ہے تو سب سے پہلے اپنا اسلحہ تباہ کرے اور پھر اوروں کو
گڑ نہ کھانے کی ترغیب دے۔ خود تو اس دوڑ میں سب سے
آگے ہے لیکن اوروں کو اس سے منع کر رہا ہے بلکہ پابندیاں
لگاتا ہے دھمکیاں جڑتا ہے۔
ہمارے لودھی صاحب نے امریکی طور اپنایا ہے تو میرے سمیت
سب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ عملی طورپر امریکی فتاوی راءج
ہے' زبانی اس کی نفی کھلی منافقت نہیں ہے? گڑ کھانے والے
گڑ کی مذمت کرتے ہیں .خودمختاری کی بات کرکے مردوں کے
گیٹ سے نکل رہے ہیں۔ پڑتال کرنے پر معلوم پڑتا ہے کہ
امریکہ کے کہے پر اس گیٹ سے گزرے ہیں ادرلیاقت علی کے
رستے کو حق کا رستہ سمجھتے ہیں اور اسے قوم کا عظیم
لیڈر قرار دیتے ہیں۔ قوم اگر اپنے ان لیڈوں کے کہے کو سچ
مانتی رہی ہے تو پٹرول گیس ڈیڑل بچلی وغیرہ کی قیمتوں میں
اضفہ ہوتا چلا جاءے گا۔ پھر وہ وقت بھی آئے گا' چیزیں نہیں
رہیں گی صرف اور صرف ان کی قیمتیں رہ جائیں گی۔ جن کی
ادرئیگی کے بغیر بن نہ پائے گی
قصہ زہرا بٹیا سے ملاقات کا
ناصر ناکاگاوا صاحب کا مجھے فون آیا کہ ان کی ہمشیرہ زہرہ
عمران مجھے ملنا چاہتی ہے‘ آ جائے؟ مجھے بینک چوکیدار
والا قصہ یاد آگیا۔ ایک صاحب نے اس سے پوچھا کیا میں بینک
کے اندر چلا جاؤں۔ چوکیدار نے صاف منع کر دیا۔ ان صاحب
نے پوچھا اتنے لوگ اندر جا رہے ہیں انھیں تو منع نہیں کر
رہے مجھے کیوں منع کرتے ہو۔ چوکیدار نے ترنت جواب دیا وہ
مجھ سے پوچھ رہے ہیں جو انھیں منع کروں۔ میرے لیے یہ
چونکہ نیا تجربہ تھا۔ سارا دن واقف ناواقف آتے رہتے ہیں کبھی
کسی کو اس قسم کی جرآت اور توفیق نہیں ہوئی۔ مجھ پر کھلا ‘
پوچھا بھی جاتاہے۔ میں کوئی لیڈر یا دفتری اہلکار تھوڑا ہوں
جو پوچھا جاءے چوہدری صاحب حاضر ہونے کی اجازت ہے
اور وہ ہر مفتے کو کل تا کل ٹالتے رہیں۔
ان کے پوچھنے پر احساس تفاخر تو نہ جاگا ہاں یہ ضرور
محسوس ہوا کہ میں بھی ہوں۔ سچی پوچھیں مجھے اپنے ہونے
کا یقین ہی نہ تھا۔ اس نہ ہونے کے یقین کو تصوف والا نہ
سمجھیں۔ اس ملک میں جھوٹ فریب ہیرا پھیری ملاوٹ دغا
دھوکا منافع خوری رشوت دھونس دھکا وغیرہ اور یہ شغل
رکھنے والوں کی کمی نہیں۔ کمزور یعنی لسے طبقے جس کا
میں بھی ایک سیل ہوں۔ میرے سے لوگوں سے اجازت کی طلبی
حیرت سے خالی نہ تھی۔ کسی ماڑے سے مطلب کے لیے پوچھا
جاتا ہے یا کسی تگڑے کی کرنی اس کے سر ڈالنے کے لیے
مرکب پوچھ گوچھ مستعمل ہے۔ ان کی تشریف آوری چونکہ خیر
سگالی سے وابستہ تھی اس لیے کسی قسم کی فکرمندی بھی
لاحق نہ ہوئی۔
سوچا بڑے فیشن ایبل لوگ ہوں گے۔ بٹھاؤں گا کہاں اور ملے
گی کس سے۔ میری رہایش گاہ ‘ میں اور میری زوجہ ماجدہ تو
طوفان نوح کی باقیات میں سے ہیں۔ اسے خدشہ خوف احساس
کہتری یا کوئی بھی نام دے لیں آپ قاری اپنی مرضی کے مالک
ہیں۔ عین ممکن ہے یہ تینوں یا ایک آدھ چیز اور بھی شامل حال
ہو۔ گھر والوں کو مانجا بوکر کرنے کو کیا کہتا۔ سوچا جو جیسا
ہے چلنے دو۔ دیکھا جائے گا۔ درمیان میں ایک دن تھا اس ایک
دن میں کیا ہو سکتا تھا۔ دوسرا کرنے کے لیے دام درکار تھے
اور دام اعلی شکشا منشی اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ
فاؤنڈیش لاہور کے چوری خور اہل کاروں کی مٹھی میں بند
تھے۔ نہ ان کے کام کے اور نہ میرے کام کے۔ انھیں کچھ کہا ہی
نہیں جا سکتا۔ یہ جینا جیسا بھی سہی‘ جی تو رہا ہوں ورنہ اس
سے جاؤں گا۔ جب زوجہ ماجدہ کے کان میں یہ بات پڑی کہ وی
آئ پی مہمان آرہے ہیں تو بیماری کے باوجود مجھ پر برس
پڑیں۔ معاملہ برسنے تک رہتا تو خیر تھی‘ گرجیں بھی۔ یقین
جانیے میں آج تک نہیں سمجھ سکا یا یہ ہر شدہ کی سمجھ سے
بالاتر بات ہے۔ چارپائی لگی بیگم میں گرجنے برسنے کے لیے
توانائ کہاں سے آ جاتی۔ اس کا ایک جملہ بڑے ہی کمال کا تھا:
لوگوں کو بےایمانی لے ڈوبتی تھی لیکن آج بےایمانی کا شغل
فرمانے والوں کی پانچوں انگلیاں ہی کیا وہ سراپا گھی کی
کڑاہی میں ہیں۔ کوئ روک کوئی ٹوک نہیں۔ ہمیں تمہاری
ایمانداری کی سزا بھگتنا پڑ رہی۔ اس کا گرجنا برسنا غلط نہیں
تھا اس لیے پہلے میں میں کرتا رہا اور پھر سر سٹ کر بیٹھ
گیا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ کرنے کو میرے پاس تھا ہی کیا
جو شدید ردعمل میں کرتا۔
میں پورے وجود کی ایمانداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے دل
میں ایک آدھ فیصد بھی نہ آیا کہ موصوفہ کا آنا جھوٹ ہی ہو
جائے۔ سوچا دور دراز سے لوگ آتے ہیں کبھی کسی نے میری
اور رہایش کی حالت خستہ کی شکایت نہیں کی۔ غالبا چلیس سال
زیادہ عرصہ ہوا میں قاضی جرار حسنی کے قلمی نام سے لکھا
کرتا تھا۔ اس دور کی فیشنل ایبل دو بیبیاں میری ایک کہانی کی
تعریف کر رہی تھیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں نے بڑے
فخر اور چوڑے ہو کر کہا قاضی جرار حسنی میں ہوں۔ انھوں
نے میری طرف دیکھا اور پھر ایک طنز سے بھرپور تیر
پھینکا :ایسے ہوتے ہیں قاضی جرار حسنی۔ میری بولتی بند ہو