The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫لگے گا بلکہ بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں شلواروں والے‬
‫ممبران کی عزت کون کرے گا۔ گریب عوام اور ان میں فرق ہی‬
‫کیا رہ جائے گا۔ کھوتا گھوڑا ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں‬
‫کی خرید و فروخت کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ‬
‫سےپہلا سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوٹوں کی تجارت پر‬
‫کسی بھی سطع پر کبیدہ خاطر ہونا سراسر نادانی کے مترادف‬
‫ہے۔ ریاست کے ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے‬
‫لیے لوٹوں کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی قسم کی‬
‫تکلیف دینا کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس کاروبار پر ناک منہ اور‬

‫بھویں اوپر نیچے کرنے والے حضرات غدار ہیں اور غدار‬
‫عناصر کا کیفرکردار تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں‬

‫سزا دینے کی حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادف ہے۔‬

‫چور مچائے شور‬

‫بچوں سے ناروا سلوک کرنے والا یا انہیں زخمی کرنے‬
‫والا یا انہیں قتل کرنے والا زمین کی بدترین لعنت ہے۔ اہل دل‬
‫اور اہل اولاد کو ان کی مذمت کرنی چاہیے جبکہ اہل جاہ کو ان‬

‫پر پکے پیڈے ہاتھوں سے گرفت کرنی چاہیے۔ ملالہ یوسف ذئی‬
‫پر قاتلانہ حملہ سخت تعزیر کا تقاضا کرتا ہے۔ اس عمر کے‬

‫بچے کیا اچھا اور کیا برا ہے کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا‘ سے آگاہ‬
‫نہیں ہوتے۔ اگر وہ کچھ غلط بھی کہہ جاتے ہیں اسے اہمیت‬

‫دینے یا انتہائی ردعمل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے اس‬
‫نے سنا سنایا کہہ دیا ہو یا ایسا کہنے کے لیے کسی نے پٹی‬

‫پڑھائ گئی ہو۔ اگر اس نے دانستہ کہا ہو یا کیا ہو تو یہ خوشی‬
‫کی بات ہے کہ اس عمر کے بچے رائے قائم کرنے کے قابل ہو‬
‫گئے ہیں۔ رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں‬

‫کہ ان کی جان لینے کی پلید حرکت کی جئے۔‬

‫دنیا کے تمام ممالک کے دساتیر یو این او کا چارٹر بچوں‬
‫کے لیے الگ سے دفعات رکھتا ہے۔ پاکستان کا آئین بھی اس‬

‫حوالہ سے خاموش نہیں۔ سماجی اخلاقیات بچوں کے لیے‬
‫انتہائی نرم اور ملائم گوشے کی حامل رہی ہیں۔ مذاہب بھی اس‬

‫حوالہ سے خاموش نہیں ہیں۔ خود آپ کریم بچوں سے بڑی‬
‫محبت اور شفقت فرماتے تھے۔ تقسیم میں آغاز بچوں سے ہوتا۔‬

‫آپ کریم تو جانوروں اور پرندوں کے بچوں کے لیے بڑا ہی‬
‫شفقت آمیز رویہ رکھتے تھے۔ اس حوالہ سے آپ کریم کے‬

‫احکامات احادیث کی کتب میں موجود ہیں۔‬

‫بڑے فخر اور خوشی کی بات ہے کہ صدر پاکستان نے اس بچی‬
‫کو اپنی بیٹی قراردیا ہے اور معالجے کا خرچہ اپنے سر پر لیا‬

‫ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر جس سفاک نے قاتلانہ کیا اس کو سات‬
‫بار پھانسی کا حکم جاری ہونا چاہیے۔ شاید تب بھی اس کی‬
‫سفاکی کا ازلہ نہ ہو سکے۔‬

‫ان کے اس بیان کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ اور‬
‫لیڈروں نے بھی بڑھ چڑھ کر بیان دیے ہیں۔ وہ سب اس قوم کی‬
‫بچی کے حوالہ سے عزت مآب ہیں۔ اس سے کھلتا ہے ہمارے‬
‫لیڈر بڑے منصف اور بڑے دل گردے والے ہیں۔ بچوں کے لیے‬
‫انتہائی نرم اور ملائم گوشہ رکھتے۔ وہ بچوں کے لیے کچھ بھی‬

‫کر سکتے ہیں۔ قوم کو ایسے لیڈروں کی قدر کرنی چاہیے اور‬
‫ان کے پاؤں دھو دھو کر پینے کی ضرورت ہے اور یہ فعل لیڈر‬
‫شناسی کے مترادف ہو گا۔ ہیروز کی عزت اور احترام کرنا قوم‬

‫کی اخلاقی سماجی اور سیاسی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ کہاں‬
‫ملتے ہیں۔ شاید ان کے لیے کہا گیا ہے‬

‫ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‬

‫میرے خیال میں فیصلہ ہو گیا ہے اور اب کسی الیکشن‬

‫ولیکشن کی ضرورت ہی نہیں۔ تاحیات اسی قیادت کو برقرار رہنا‬
‫چاہیے۔‬

‫ملالہ راقم کی بھی بیٹی ہے۔ کاش راقم آسودہ حال ہوتا اور‬
‫اس کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگا دیتا تاہم اس پر قاتلانہ‬
‫حملہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ بچوں پر جو‬
‫ظلم ڈھاتا ہے اسے کسی بھی صورت معاف نہ کیا جائے بلکہ‬

‫قبر تک پیچھا کیا جا چاہیے۔‬

‫آج جنرل اسلم بیگ کا یہ بیان پڑھنے کوملا کہ ملالہ پر حملہ‬
‫کرنے والوں کو امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ یہ بات کدھر کو جا‬

‫رہی ہے۔ جرنل اسلم بیگ بڑے ذمہ دار اور باریک نظر کے‬
‫مالک ہیں۔ ان کی بات کو کسی بھی حوالہ سے نظر انداز نہیں‬
‫کیا جا سکتا۔ گویا خود ہی کاروائی ڈال کر پکڑو پکڑو جانے نہ‬
‫پائے۔ اس کی ساری ہمدردیاں ملالہ سے جڑ گئی ہیں۔ کیوں‘ آخر‬

‫کیوں۔‬

‫ڈراؤن حملوں کے حوالہ سے شہید ہونے والے بچوں کے‬
‫معاملہ میں اسے کیوں سانپ سونگھ گیا ہے۔‬

‫ان کے لیے اس کے یا کسی اور کے منہ سے دکھ کا‬
‫رسمی یا علامتی ایک لفظ تک نہیں نکلا۔ کیا وہ انسان کے بچے‬
‫نہیں تھے۔ لوگ گمان کر رہے ہیں کہ خود سے قرار دیے جانے‬

‫والے شدت پسندوں کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے اور‬
‫مزید حملوں کے لیے جواز بنانے کے لیے یہ کھیل رچایا گیا‬

‫ہے۔‬

‫اس امر کی تصدیق میں قاضی حسین احمد اور منور حسن‬
‫کا بیان موجود ہے۔ منور حسن اور قاضی حسین احمد کے‬
‫مطابق ملالہ حملہ شمالی وزیرستان پر حملے کا جواز ہے۔ یہ‬
‫بیان کمزور نہیں اس میں وزن لگتا ہے۔ گویا چور مچائے شور۔‬
‫اگر مرزا اسلم بیگ کا بیان درست ہے تو عالمی برادری کو‬
‫چاہیے کہ وہ ذمہ دار کو سزا دے اور فراڈ کرنے کے حوالہ‬
‫سے بھی تادیبی کاروائ کرے۔ میرے خیال میں اسلم بیگ کے‬
‫بیان کی یہی تشریح بنتی ہے تاہم تشریح میں کمی بیشی کی‬

‫ہمیشہ گنجایش رہتی ہے۔‬

‫مولانا فضل الرحمن نے ملالہ پر حملے کو غیر اسلامی‬
‫قرار دیا ہے۔ وہ اسلام کے متعلق زیادہ جانتے ہیں تاہم اس سے‬

‫یہ طے ہو جاتا ہے کہ یہ فعل بہت ہی برا ہے۔ اس فعل کا‬
‫سرانجام دینے والا مجرم ہی نہیں گنہگار بھی ہے لہذا وہ دوہری‬
‫سزا کا مستحق ہے۔ عدلیہ مجرم کو الگ سے سزا دے اور اسلام‬

‫میں جو سزا اس گنہگار کی بنتی ہے وہ اس گنہگار کو‬
‫بہرصورت ملنی چاہیے۔ اگر حملہ کرنے والا ہاتھ نہیں لگتا تو‬
‫دونوں ادارے اس حوالہ سے سزا سنا دیں۔ جب کبھی مجرم اور‬

‫گنہگار ہاتھ لگ گیا عمل درامد بھی ہو جانے گا۔‬

‫مولانا موصوف کے بیان کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ڈراؤن‬
‫حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کے متعلق شور کیوں نہیں‬
‫مچایا جا رہا۔ بات میں انتہا درجے کی سچائ اور معقولیت ہے۔‬

‫سوچنے کی بات ہے ملالہ پر حملے کے لیے پوری دنیا چیخ‬
‫اٹھی ہے۔ دوسرے بچے بھی‘ بچے ہی تھے کسی کی رگ‬

‫ہمدردی پھڑکی نہیں۔ دوسرا ہمارے سارے بچے مر جائیں اس‬
‫کی صحت پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ اس بچی کے لیے جعلی ہی‬
‫سہی تڑپا پھڑکا ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ اس ذیل میں‬
‫مرزا اسلم بیگ کا بیان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بلاجرم‬
‫شہید ہونے والے بچے بھی اسی ملک اور اسی قوم کے ہیں۔‬
‫انہیں کیوں کوئ اپنے بچے قرار نہیں دے رہا اور ان کا خرچہ‬
‫اٹھاتے ان کے دل اور پیٹ جو ایک دوسرے کا ساتھی ٹھہر گیے‬
‫ہیں‘ میں کیوں کہاؤں مہاؤں ہو رہا ہے۔ اس دوہرے پیمانے کی‬

‫بہرصورت وضاحت ہونی چاہیے۔‬

‫بچوں کی ہلاکت پر بڑے مضبوط اعصاب رکھنے والوں کا‬
‫پتہ پانی ہو جاتا ہے جنرل ایلن نیٹو کے اہل کاروں کی ہلاکت پر‬

‫پاگل ہوتا ہے حالانکہ اس میں پاگل ہونے والی کوئ بات ہی‬
‫نہیں۔ جو مارنے آئے گا مر بھی سکتا ہے۔ فوجی کا کام مرنا یا‬
‫مارنا ہوتا ہے۔ اس میں پاگل ہونے والی بات ہی نہیں۔ بچے جرم‬
‫اور گناہ سے آگاہ نہیں ہوتے۔ کھلونے ان کی پوری کائنات ہوتے‬
‫ہیں۔ جنرل موصوف پر بچوں کی موت کا کوئ اثر ہی نہیں ہوا۔‬
‫اخبار میں کوئ خبر شاءع نہیں ہوئی کہ جنرل ایلن کو پاگل پنے‬
‫کے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ہو سکتا یہ خبر میری نظر سے نہ‬

‫گزری ہو۔‬
‫ہماری نیک شریف اور صالح قیادت کو ان کی ہلاکت کو‬
‫صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ فرعونی رویہ‬
‫انہیں ان کے غسل خانے کےد ٹب میں ڈبو دے گا۔ کوئی بچانے‬
‫نہیں آئے گا کیونکہ اندر سے انہوں نے خود کنڈی لگائی ہو گی۔‬

‫بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟‬

‫کل لوڈ شیڈنگ پر گفتگو ہو رہی تھی کہ بجلی بچاؤ کی‬
‫تراکیب کے حوالہ سے ریڈیو پر تقریر نما بات چیت سننے کا‬
‫موقع ملا۔ ایک شخص جو شریک گفتگو نہیں تھا اور ناہی ہمارا‬

‫ساتھی تھا‘ ایک دم کھڑا ہو گیا۔ اس نے موٹی ساری گالی‬
‫‘چھکے کے انداز میں اچھالی اور بولا‬

‫"بکواس کر رہا ہے۔ بجلی کی کوئی کمی نہیں "‬

‫ہم سب نے بڑی حیرت سےسر گھما کر اس کی جانب‬
‫دیکھا۔ استاد جی کو اس کا طرز تکلم پسند نہ آیا۔ انھوں نے‬

‫‘بڑے ہی کھردارے انداز میں پوچھا‬

‫بھائی صاحب یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بجلی کی "‬
‫کمی نہیں ہے۔ ملک میں تو بحران چل رہا ہے؟‬

‫اس نے بڑے زور کا قہقہ داغا جیسے وہ احمقوں سے‬
‫مخاطب ہو۔ استاد جی دوبارہ سے بولے‬

‫بھئ یہ تو بتاؤ کہ کس طرح کمی نہیں ہے اور بجلی کہاں "‬
‫"!جا رہی ہے؟‬

‫لباس اور بات کرنے کے حوالہ سے مزدور پیشہ لگ رہا‬
‫تھا لیکن اس کے کسی حوالے کو رد کرنے کی ہم میں سے‬

‫کسی کو جرات نہ ہوئی۔ اس کے کچھہ حوالے درج کر رہا ہوں‬
‫شاید آپ کے پاس کوئی جواز موجود ہو۔ آپ کے کسی بھی‬

‫ٹھوس حوالے سے حکومت دوستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔‬
‫اس نے کہا‬

‫سب سے بڑے چور خود بجلی والے ہیں۔ وہ خدمت کے‬
‫عوض تنخواہ وصول کرتے ہیں تو پھر کس کھاتے میں مفت‬

‫بجلی استعمال کرتے ہیں۔ بڑے افسروں کا ذکر ہی کیا وہ ہر‬
‫اصول قانون اور ضابطے سے بلاتر ہیں۔ بجلی والوں کا ایک‬
‫چوکیدار مان نہیں۔ خود تو مفت میں بجلی استعمال کرتا ہی ہے‬
‫اس کےعزیزدوست رشتہ دار اس مفت برابری سے فائدہ اٹھاتے‬
‫ہیں۔ انھوں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو بجلی دے رکھی ہے‬

‫اور ان سے ماہانہ وصولتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔‬
‫پوچھنے والے تو ان سے بھی بیس قدم آگے نکلے ہوئے ہیں۔‬

‫وہ ناصرف یہ سب کچھ کر تے ہیں بلکہ بڑے بڑے‬
‫کارخانہ داروں سے بددیانتی کا ماہانہ وصول کرتے ہیں۔ بڑے‬
‫لوگوں سے بھی ان کی اٹی سٹی رلی ہوئی ہوتی ہے۔ دیہاتوں‬

‫میں کنڈیاں لگواتے ہیں اور اچھی خاصی آمدن کرتے ہیں۔‬

‫سرکاری افسر اور ان کے عملہ والے کہاؤں کپ ہیں۔ بھلا‬

‫ان سے کون پوچھہ سکتا ہے دوسرا خود بجلی والے اس میں‬
‫ملوث ہوتے ہیں۔ اس سہولت کے عوض بڑے بڑے ناجائز کام‬

‫نکلواتے ہیں۔‬

‫سرکاری تقریبات پر بے تحاشہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔‬
‫ممبران وزیر مشیر اور دوسرے سیاسی لوگ مفت بجلی کا‬
‫استعمال کرکے ووٹ کھرے کرتے ہیں لیکن بجلی کا بوجھ ماڑے‬

‫طبقے کی جیب پر پڑتا ہے۔‬

‫بڑے لوگوں کی شادی بیاہ کی تقریبات پر بجلی کا بر سرعام غیر‬
‫قانونی استعمال ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کوئی‬

‫بولتا ہی نہیں۔ کوئی بولے بھی کیا؛ کون سنے گا‘ سننے والے‬
‫تو یہ سب کر رہے ہوتے ہیں جو بولے کا لیتر کھائے گا۔‬

‫اسی فیصد تاجر حضرات کا بجلی والوں سے مک مکا ہوا ہوتا‬
‫ہے۔‬

‫بڑے بڑے ہاؤسز جہاں سوائے گفتگہوں کے کچھ نہیں‬
‫ہوتا بجلی ایک لمحہ کے لیے بند نہیں ہوتی اور جہاں کام ہوتا‬

‫ہے وہاں بجلی سارا دن لکن میٹی کھلتی ہے۔ مزدور تو گھر‬
‫سے آگیا ہوتا ہے لیکن صبح تک بجلی کے جانے اور جانے کی‬
‫جندریوں میں اثکاپھسا سسکتا رہتا ہے۔ صبح سویرے گھر سے‬
‫نکلا دیہاڑی دار جب شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اس پر اور‬

‫اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہے اس کیفیت کا سیاسی مداری‬
‫بجلی والے بڑے لوگ سرکاری افسر وغیرہ اور ان کے گماشتے‬

‫کیا جانیں۔‬

‫باؤ جی یہ سب درست ہو جائے تو بجلی کی کمی کا رولا‬
‫ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے لیکن بلی کے گلے میں کون‬

‫گھنٹی باندھے‬

‫باس از آل ویز رائٹ‬

‫لوگوں کو بھوک پیاس سرکاری معالجہ گاہوں کے آلودہ فرش‬
‫پر ایڑیاں رگڑتے اور اندھیروں میں ڈوبا دیکھتا ہوں تو بےچین‬
‫ہو جاتا ہوں۔ ہوٹلوں پر بچوں کو برتن صاف کرتے اور چائے کا‬

‫ٹرے پکڑے‘ گئ رات کے ننھی اور معصوم آواز میں گرم آنڈے‬
‫کا آوازہ مجھے سونے نہیں دیتا۔ انڈے فروش بچہ جا چکا ہوتا‬
‫ہے لیکن اس کی آواز کی بازگشت میرے حواس پرقبضہ جمائے‬
‫رکھتی ہے۔ دوسری طرف عیش وعشرت کی زندگی حیرت میں‬

‫غرق کر دیتی ہے۔ اتنا بڑا تضاد؟‬

‫سوچتا ہوں یہ کوئ الگ سے مخلوق ہے۔ بدقسمتی سے‬
‫انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وہ موج میلے اور عیش کی‬
‫کو اپنا حق سمجتے ہیں۔ کسی سے چھین لینے اور اس کے حق‬
‫پر ڈاکے کو خوشحال زندگی کا پہلا اور آخری حق سمجھتے ہیں۔‬
‫ان کے نزدیک یہی زندگی اور زندگی کا مقصد بھی ہے اور اس‬

‫کے بغیر زندگی‘ زندگی کہلانے کی مستحق نہیں۔‬

‫میری بیگم گلفشانی فرماتی ہے اور اس دہن تقدس مآب‬
‫کے منہ سے پھر کرکے یہ جملہ نکلتا ہے‬

‫تمہیں اوروں کی تو فکر رہتی ہے اپنے گھر کے لیے کیا "‬
‫"کیا ہے۔‬

‫میں نے پوری دیانت داری سے محنت کی ہے۔ مجھے‬
‫ہمیشہ ان لوگوں کی فکر رہی ہے۔ وہ ایمانداری اور دیانت داری‬
‫کو منہ زبانی کی بات قرار دیتی ہے۔ اس کے نزدیک نماز روزہ‬

‫حج وغیرہ ہی ایمان اور دیانت ہیں اور ان ہی کے کے حوالہ‬
‫سے شخص کی پہچان ہوتی ہے جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ نماز‬
‫روزہ حج وغیرہ اسلام نہیں بلکہ اسلام میں ہیں۔ وہ یہ مانتی ہی‬
‫نہیں وہ کیا کوئی بھی نہیں مانتا۔ میں تاریخ کا طالب علم بھی رہا‬

‫ہوں اور میں نے تاریخ کے ہر پنے کا غیر جانبداری سے‬
‫مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں‬

‫‪٧‬۔ تخت اور اقتدار کو حرف آخر کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔‬

‫‪٦‬۔ تخت اور اقتدار کو جو چیلنج کرتا ہے کتے کی موت‬
‫مرتا ہے۔‬

‫‪٣‬۔ آئین اور قانون تخت اور اقتدار کو تحفظ دینے کے لیے‬
‫بنائے جاتے ہیں۔‬

‫‪٤‬۔ ملک کے ادارے تخت اور اقتدار کے لیے فرائض سر‬
‫انجام دیتے ہیں۔‬

‫‪٢‬۔ عوام تخت و تاج کے لیے کماتے ہیں اور یہ ان کی ذمہ‬
‫داری ہے کہ وہ شاہ کو کسی قسم کی تھوڑ نہ آنے دیں۔ تھوڑ‬
‫آنے کی صورت میں شاہ کا آئینی حق ہے کہ وہ زبردستی ان‬

‫کے منہ کا نوالہ چھین لے۔‬

‫‪٢‬۔ حاکم کے منہ سے نکلی پہلے حکم پھر اصول پھر آءین‬
‫اور اس کے بعد قانون کے درجے پر فائز ہوتی رہی ہے۔‬

‫یہ ضرب المثل سنے کو عام ملتی ہے۔ باس از آلویز رائٹ۔ یہ‬
‫صرف زبانی کلامی کی بات نہیں چھوٹے بڑے تمام دفاتر کا نظام‬
‫اس اصول کے تحت چلتا آیا ہے اور چل رہا ہے۔ اسی طرح لفظ‬
‫ٹی سی بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ باس کے کہے پر انگلی‬
‫رکھ کر تو دیکھیے بستر کے نیچے سے رسی نہیں نکلے گی۔‬
‫خفیہ رپورٹ تو اسی نے لکھنی ہوتی ہے۔ یس سر ڈی میرٹ کو‬
‫میرٹ میں بدل دیتا ہے۔ انکار اور تنقید کے نتیجہ میں کچھ بھی‬
‫ہو سکتا ہے۔ پسلیاں چاباڑیاں اور ٹانگیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ جان‬

‫جا سکتی ہے۔ اشخاص اور لاشوں کی بازیابی قاضی سے بھی‬
‫مشکل ہو جاتی ہے۔‬

‫تاریخ ظلم وستم توڑنے والے حاکموں کی لکھی جاتی ہے۔‬
‫مظلوم کا اتہ پتہ نہیں ملتا۔ سب سے زیادہ علاقہ فتح کرنے‬
‫والے کو عظیم حاکم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اس کے کالے‬
‫کرتوتوں پر سوالیہ ڈالتا ہے تو اس سے جینے کا حق چھین لیا‬
‫جاتا کہ دیکھو جی اتنے عظیم حاکم پر انگلی رکھ کر کفر کر دیا‬
‫گیا ہے۔ گویا انسان کو‘ انسان جو غلطی بھی کرتا ہے رہنے‬
‫نہیں دیا جاتا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر حاکم نبی سے دوچار‬
‫انچ ہی نیچے رہا ہو گا۔ لوگ بےچارے کیوں تاریخ کو دیکھتے‬
‫پھریں۔ وہ مورکھ اور اس کے درس کاروں ہی کو حرف آخر کا‬

‫درجہ دیتے ہیں۔‬

‫میں نے انٹرنٹ پر دیکھا چالیس ہزار مسلمانوں کی ہڈیوں‬
‫سے گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔ ہر کوئی معاملے کو مسلم یا‬
‫عیسائ عینک سے دیکھے گا۔ اول اول میں نے بھی اسے‬

‫مسلمان کی عینک سے دیکھا۔ میں ساری رات سو نہیں سکا۔‬
‫صبح پانچ بجے میری نظر عصر حاضر کے احوال پر پڑی۔‬

‫امریکہ کو اسامہ درکار تھا‘ میں نہیں جانتا اس کا کیا جرم تھا‬
‫میں صرف اتنا جانتا ہوں اس پر گرفت کے لیے بچوں بوڑھوں‬
‫بیماروں عورتوں سے زندگی چھین لی گئ۔ ان بےچاروں کوعلم‬
‫تک نہ تھا کہ ان سے زندگی کیوں چھینی جا رہی ہے۔ جس کا‬
‫باپ بیٹا بھائ ماں بلاجرم مار دی گئی وہ خاموش بیٹھے گا؟ اب‬
‫اس کی طرف سے ردعمل آتا ہے تو یہ غیرفطری نہیں اور اسے‬

‫دہشت گردی قرار دینا دہشت گردی یا شدت پسندی نہیں ہے؟‬

‫‪،،‬‬

‫اس قریب قریب نبی فاتح حاکم نےعسائیوں کی لاشیں بچھائ‬
‫ہوں گی جواب میں عسائیوں نے کمزور اورغیر فوجیوں کو‬

‫موت کے گھاٹ اتار دیا ہو گا اور اسی سے چرچ تعمیر کیا گیا ہو‬
‫گا۔ کسی سے زندگی چھین لینا انتہائی برا فعل ہے اور یہ فعل‬
‫سرانجام دینے والا مردود‘ سو فیصد مردود ہے لیکن یہ فتوی‬

‫صرف غیر مسلم لوگوں کے لیے تیار رکھنا بعید از انصاف ہے‬

‫لیکن یہ رویہ عام ہے۔ ہمارے اسلام دوست طبقےوہ وہ خوبیاں‬
‫تلاشتے ہیں جو اس حاکم کے اپنے خواب بھی نہیں رہا ہو گا۔‬

‫چونکہ وہ مسلمان حاکم تھا اس لیے اس میں کو برائی نہیں رہی‬
‫ہو گی بلکہ اس سے برائ سرزد ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ جو‬
‫برائی نکالے گا اسے پاپ لگے گا۔‬

‫‪،،‬‬

‫اگر یہ چرچ فوجیوں کی لاشوں سے تعمیر ہوا ہوتا تو یہ‬
‫الفاظ میرے قلم سے نہ نکلتے۔ مارنے اور علاقہ فتح کرنے‬
‫گئے تھے‘ مارے گئے۔ جنگ میں یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ ایسا‬
‫ہوتا ہی رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ عوام کا مرنا قابل افسوس‬
‫ہے۔جنگیں شاہوں کے کھیل کا حصہ ہے۔ اگرچہ حاکم کوئی نہ‬
‫کوئی نعرہ دے کر میدان کارزار میں اترتا ہے۔ فتع ہو گئی تو‬
‫پاؤں بارہ شکست کی صورت میں بھگتا رعایا کو ہی پڑتا ہے‬
‫جن کا شاہ کی اس عیاشی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔‬

‫یہ معاملہ اسلامی تاریخ تک ہی محدود نہیں غیرمسلم حاکم‬
‫بھی ایسے ہی تھے۔ اسلامی مولوی کی طرح پنڈت پادری بھی‬
‫اپنے لوگوں کے پاڑشے اتارتے رہے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں‬

‫آتی ہم میں مسلمان کون ہیں۔ آپ تلاش لیں وہابی دیو بندی‬
‫بریلوی شعیہ وغیرہ وغیرہ مل جاءیں گے مسلمان نہیں ملیں‬
‫گے۔ یہ ایک دوسرے کو مشرک اور کافر قرار دیتے آئے ہیں۔‬

‫‪،،‬‬
‫تقسیم کی پالیسی انگریز نے دی تھی اور اس کی یہ پالیسی‬
‫بڑی کامئابی سے چل رہی ہے۔ فورٹ ولیم کالج نے بڑی دیانت‬

‫سے اس خطے کی زبان کو دو خطوں میں تقسیم کر دیا۔ فوج‬
‫کے لیےرومن خط قرار پایا۔ اس طرح حضرت ہند بن حضرت حام‬

‫بن حضرت نوح کی سنتان ایک دوسرے سے کوسوں دور چلی‬
‫گئی۔ یہ کون سا اسلام ہے جس میں انسان' انسان سے دور چلا‬

‫جائے بلکہ ایک دوسرے کا جانی دشمن ہو جائے۔‬

‫اس مسکین قوم کے ساتھ شروع سے ڈرامے ہوتے آ رہے‬
‫ہیں۔ عوام کو استعمال کیا جاتا رہا ہےاور ہر معاملہ عوام کی‬
‫جھولی میں ڈالا گیا ہے۔ چند ووٹ حاصل کرنے والا عوامی‬

‫نمائندہ ٹھرا ہے۔‬

‫انیس سو چھے میں ہونے والے اجلاس میں کون لوگ‬
‫تھے کوئ بتانے کی جرائت کرسکتا ہے؟‬

‫خط آئین قومی منشی شاہی توہین عدالت عدالتی سزا‬
‫مخصوص کا احتجاج الگ الگ المناک کہانیاں ہیں۔‬

‫مورخ وہی لکھے گا جس کے دام ملیں گے۔ ان کے عظیم‬

‫کارناموں کی کہانیاں چلیں گی بالکل اسی طرح جس طرح خطبہ‬
‫الہ آباد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کوئی یہ کہنے کی جرائت نہیں‬

‫رکھتا کہ اس میں ہے کیا؟‬
‫سب راز ہے اور آج آتے کل کو راز رہے گا۔‬
‫اورنگ زیب‘ ٹوپیاں سینے والا عظیم بادشاہ ہی رہے گا۔‬
‫کاش کوئی رحمان بابا کا کلام یا اس عہد کے شعرا کا کلام‬
‫پڑھ دیکھے سب کھل جائے گا۔ یہ بھی کھلے گا کہ زوال کا‬
‫موڈھی یہ ٹوپیاں سینے والا درویش بادشاہ ہی تھا۔‬

‫قانون ضابطے اور نورا گیم‬

‫اشفاق کی کل برات جانا تھی کہ اس کی ہمشیرہ کا سسر‬
‫چل بسا۔ اشفاق کو اس کی اس ناشایستہ حرکت پر بڑا غصہ آیا۔‬
‫جل کر بولا چاچے کو جیتے جی چھیتیاں رہی ہیں اب مرنے کے‬
‫معاملہ میں بھی بڑا جلدباز ثابت ہوا ہے۔ اشفاق کا سٹپٹانا عمل‬

‫ناجائز نہیں لگتا لیکن ہونی کے کون سر آ سکتا ہے۔ ہونی ویدی‬
‫ہے اور ویدی کا ویدان کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ہونے کو تو‬

‫ہر حال میں ہونا ہی ہوتا ہے تاہم تحمل میانہ روی اور سوچ‬
‫سمجھ سے کام لینا آتے کل کو آسودہ رکھتا ہے۔ ہما کے سسر‬
‫نے جانے کتنے دن اس انتہائ اقدام کے لیے سوچا ہو گا۔ اشفاق‬
‫کا معاملہ بھنگ ہوا اس سے ہما کے سسر کو کیا مطلب ہو سکتا‬

‫تھا۔‬

‫ہر کوئ اپنی ترجیع کو اولیت دیتا ہے‘ دینی بھی چاہیے‬
‫لیکن فریق ثانی کو تو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ فریق ثانی اگر ماڑا‬
‫ہے تو وہ مجبوری کے تحت خفیہ ہو سکتا ہے۔ اس میں سچا یا‬

‫جھوٹا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہر کوئ سامنے سے‬
‫وار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ فطری سی بات ہے کہ‬
‫دو متصادم فریق طاقت کے حوالہ سے ایک ہی کیلیبر کے نہیں‬

‫ہو سکتے۔ ایک ہی کیلیبر کے ہونے کی صورت میں ان کے‬
‫درمیان تصادم نہیں ہو گا۔ ان کا ہر اگلا دن منگل ہو کا اور منگل‬
‫ناغے کا دن ہوتا ہے۔ طاقت حق پر ہوتی ہے اور اسے اپنا اور‬

‫اوروں کا غصہ ماڑے پر آتا ہے۔ آنا بھی چاہیے ماڑا ہوتا کس‬
‫لیے ہے۔‬

‫دہشت گردی بلا شبہ پوری انسانیت کے جسم پر ناسور کا‬

‫درجہ رکھتی ہے اور اس کا ہر حال میں ختم ہونا امن آسودگی‬
‫اور سکون کے لیے ضروری ہے لیکن یہ طے کرنا ابھی باقی‬
‫ہے کہ دہشت گردی ہے کیا اور امریکہ کس قسم کی دہشت گردی‬
‫کے خلاف پاکستان سے یمن تک لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ‬
‫وہ القائدہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور وہ القائدہ کو‬
‫نہیں چھوڑے گا۔ جعلی ادویات سے لوگ مرے ہیں اور مرتے‬
‫رہتے ہیں یہ کاروبار دہشت گردی نہیں ہے؟ اس کے خلاف کیا‬
‫ہوا اور کیا ہو سکتا ہے‘ سب جانتے ہیں۔ جعلی سپرے خریدا گیا‬
‫معاملہ کورٹ کچہری گیا‘ کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی‬
‫نہیں۔ ڈینگی نے تن مچائے رکھی‘ آتے موسم میں کیا گل کھل‬
‫سکتا ہے کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ مہامنشی‘ جیون دان منشی‘‬
‫اعلی شکشا منشی‘ منشی بلدیات وغیرہ کے خلاف کیا ہوا‘ سب‬
‫جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر یہ داخلی کاروباری دہشت‬
‫گردی ہے اور اس دہشت گردی سے خود پاکستان کو لڑنا ہے تو‬
‫القائدہ کس حوالہ سے خارجی دہشت گردی ٹھرتی ہے۔ القائدہ‬

‫جانے اور پاکستان جانے‘ یہ کس طرح امریکہ بہادر کی‬
‫سردردی قرار پاتی ہے۔‬

‫اشفاق کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی داخلی بھی ہے‬
‫اور خارجی بھی۔ اگر طبی امداد باہم کرنے میں محکمہ جیون دان‬

‫پھرتی دکھاتا اور غفلت سے کام نہ لیتا تو ہو سکتا ہے ہما کا‬

‫سسر چند روز اور جی لیتا۔ ہما کے سسر کی موت کا مدا خارجی‬
‫دہشت گردی کے حوالہ سے امریکہ پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا‬

‫کیونکہ وہ صرف اور صرف القائدہ دہشت گردی کا ٹھکیدار ہے۔‬
‫تاہم بقول صدر آصف علی زرداری دنیا کا مستقبل جمہوریت میں‬
‫ہے۔ ہما کے سسر کی موت کو ایک اکثریت تسلیم کر چکی ہے۔‬

‫اس حوالہ سے اسے داخلی یا القائدہ سے متعلق دہشت گردی‬
‫نہیں فرض کیا جا سکتا۔ اس نہج کی دہشت گردی کے خلاف‬
‫کسی قسم کا ایکشن لینا امریکہ کے کھاتے میں نہیں رکھا جا‬
‫سکتا۔ یہ سراسر جمہوریت کی تو ہین ہو گی جو اس جمہوری‬
‫دور میں بہت بڑے جرم کے مترادف ہے۔ غداری کا فتوی بھی‬

‫صادر ہو سکتا ہے۔‬

‫مسجد کی تعمیر کا مہشورہ ہوا۔ گاؤں کے لوگ جمع ہوئے‬
‫جن میں نورا بھی شامل تھا۔ ہر کسی نے حب توفیق اپنا حصہ‬
‫لکھوایا۔ ابھی کافی لوگ موجود تھے لکھت پڑھت پر وقت لگ‬
‫جاتا۔ نورا دھڑلے سے اٹھا اور بولا لکھو میرا پچاس ہزار۔ اس‬
‫کی اس فراخ دلی پر بڑی جئے جئے کار ہوئی۔ ہر کوئی چوہدری‬
‫نور محمد صاحب کو جھک جھک کر سلام و پرنام کر رہا تھا۔ مزید‬
‫اگراہی کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا مجلس برخواست ہو گئ۔ اگلی‬

‫صبح مولوی صاحب چند لوگوں کے ساتھ چوہدری نور محمد‬
‫صاحب کے در دولت پر جا پہنچے۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی‬

‫شان سے باہر نکلے۔ مولوی صاحب نے پچاس ہزار رپوؤں کا‬
‫تقاضا کیا۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی معصومیت سے بولے‬

‫"کون سے پچاس ہزار روپیے؟"‬

‫"وہی جو آپ نے کل لکھوائے تھے۔"‬

‫وہ دینے بھی تھے؟“ چوہدری نور محمد صاحب نے بڑی "‬
‫حیرت سے پوچھا‬

‫"جی ہاں"‬

‫"ارے میں تو سمجھا تھا کہ صرف لکھوانے ہیں۔"‬

‫اس مثال کے حوالہ سے بھی ہم کسی پر دہشت گردی کا‬
‫الزام نہیں رکھ سکتے کہ کرنا اور کہنا قطعی دو الگ چیزیں ہیں۔‬

‫کاروباری دہشت گردی کے لیے سرکاری پروانے جاری ہوتے‬
‫ہیں اس لیے جعلی ادویات خوری سے لوگ مرے ہیں تو اس‬

‫میں کاروباری دہشت گردی کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ ایک نمبر‬
‫کاروبار میں بچت ہی کیا ہوتی ہے۔ لوگ ملاوٹ آمیز غذا کھا کر‬
‫تل تل مرتے ہیں۔ مرتے تو ہیں نا! یہاں فورا مر گئے۔ ایک دن‬

‫مرنا تو ہے ہی‘ دو دن پہلے کیا دو دن بعد میں کیا۔ اپنی اصل‬
‫میں بات تو ایک ہی ہے۔‬

‫ادویات لائسنس کے بغیر تو تیار نہیں ہوئی ہوں گی۔ موت‬
‫ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے لوگ ادویات سے نہ مرتے تواپنی آئ‬

‫سے انالله ہو جاتے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ باز بہت‬
‫کچھ کہتے آئے ہیں۔ اقتدار میں آکر انھوں نے عوام کے لیے‬
‫کبھی کچھ کیا ہے۔ نہیں۔ ان کے نہ کرنے کے خلاف کبھی کوئی‬
‫قابل ریکارڈ رولا پڑا ہ ِے؟ نہیں‘ بالکل نہیں۔ تو اب کیوں شور‬
‫مچایا جا رہا۔ سرکاری معاملہ ہے۔ این آر او کے تحت اس مدے‬

‫پر مٹی ڈالنا ہی جائز اور مناسب بات لگتی ہے۔‬

‫مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم‬
‫معاملات پر تجاوز مانگ تو لیتے ہیں‘عمل درامد نہیں کرتے۔‬
‫مولانا پرانے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہو کر بھی اس قسم کی‬
‫باتیں کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں آج تک کبھی ایسا ہوا‬
‫ہے کہ کسی لیڈر کا کرنا اور کہنا مساوی رہا ہو ۔ یہ دو الگ‬
‫سے امور ہیں لہذا انھیں الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچنا‬

‫اور زیر بحث لانے کی ضرورت ہے اور کسی سطع پر آلودگی‬
‫نہیں ہونی چاہیے ورنہ خرابی اور فساد کا دروازہ کھل جائے گا‬

‫یا کسی مذہبی کے کہنے اور کرنے میں کسی بھی سطع پر‬
‫توازن ملتا ہو۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے کہ کوئ آدمی بستر پر‬
‫سو بھی رہا ہو اور دفتر میں کام بھی کر رہا ہو۔ کہنے اور کرنے‬
‫کو دو الگ حتیتیں دی جائیں گی تو خرابی جگہ نہ پا سکے گی۔‬

‫کہہ کر نہ کرنا ہی تو نورا گیم ہے۔ اگر نورا خاموش رہتا تو‬
‫جئے جئےکار کیسے ہوتی اور وہ نورا سے چوہدری نور محمد‬

‫!کیسے اور کن بنیادوں پر کہلاتا؟‬

‫ان حقائق کے تناظر میں اشفاق کو بھی این آر او قانون‬
‫اور سرکاری ضابطے کو بھولنا نہیں چاہیے اور اپنی بہن کے‬

‫سسر کی موت پر مٹی ڈالنی چاہیے۔‬

‫جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں‬

‫پشاور ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر ہم سچ بولنے لگیں تو‬
‫ہمارے اسی فیصد مسائل حل ہو جاہیں گے‘ پشاور ہائی کورٹ‬
‫کے یہ الفاظ آب زم زم سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ سچ سے‬
‫بڑی کوئی حقیقت نہیں اور ناہی اس سے بڑھ کر کوئ طاقت ہے۔‬
‫سچ ظلم زیادتی ناانصافی بلکہ ہر خرابی کی راہ میں مونگے کی‬
‫چٹان ہے۔ یہ کمزور کو کمزور نہیں رہنے دیتا۔ یہ بات ہر شخص‬
‫جانتا ہے‘ اس کے باوجود ہر شخص اس سے دور بھاگتا ہے۔‬
‫شاید ہی کوئ ہو گا جو اس کی برکات کا قائل نہ ہو گا یا اس کی‬
‫طاقت سے انکار کرتا ہو گا بلکہ اپنے سوا دوسروں کو درس نہ‬
‫دیتا ہو گا۔ سچ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کھ اسے لاکھ پردوں‬
‫میں رکھو‘ سامنے آنے سے باز نہیں رہتا۔ اس طرح بنا بنایا‬

‫کھیل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔‬

‫سچ یقینا پیار کرنے کے لائق چیز ہے۔ لوگ اس سے‬
‫بےحد پیار کرتے ہیں۔ اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‬
‫اور سچ سننا انھیں خوش آتا ہے۔ جو بھی ان کے سامنے جھوٹ‬
‫اور غلط بیانی سے کام لیتا ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دینے‬
‫پر اتر آتے ہیں۔ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینے والا بچ کر‬
‫جائے گا کہاں۔ ان کی نگاہ بال کی کھال اتار لیتی ہے۔ وہ اس کو‬
‫محدود نہیں رکھتے تاہم اقتصادیات سے جڑا جھوٹ انھیں موت‬
‫کے گھاٹ اتار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ کسی اور کا دینا ایک‬

‫روپیے کا ہو یا لاکھ روپیے کا‘ ان کےلیے اس میں ایک اکنی‬
‫کی ہیر پھیر بھی لاکھ کی حیثیت رکھتی ہے۔‬

‫دینے کا معاملہ اس پیمانے سے قطعی برعکس ہوتا ہے۔‬
‫اس ضمن میں سچ انھیں زہر لگتا ہے۔ ان کے سماجی معاملات‬

‫بھی سچ کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ سماجی معاملہ ہو یا‬
‫اقتصادی‘ جھوٹ اور منافقت کی جئے جئے کار رہتی ہے۔‬
‫منافقت‘ جھوٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ امیدوار ممبر جب کسی‬
‫کے پاس آتا ہے تو منہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ میں شروع سے‬
‫آپ کا خدمت گار رہا ہوں ۔ جب کہ عید کے روز بھی اس سے‬
‫مسجد میں ملاقات نہیں ہوئی ہوتی۔ اگلی صفوں میں بیٹھنے‬
‫والوں کی نگاہ میں پیچھے بیٹھے لوگ روڑا کوڑا ہوتے ہیں۔‬
‫پرانے اور بوسیدہ لباس والے دکھائی کب دیتے ہیں۔ یہ فطری‬
‫سی بات ہے کہ آسمان اور زمین کا ملن ممکن ہی نہیں۔ یہ اس‬
‫لیے کہا ہے کہ الیکشن امراء کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گریب تو‬
‫موری ممبری کا الیکشن تک نہیں لڑ سکتا۔ ہاں گریب رات کو‬
‫امیدوار ممبر کے ڈیرے سے پیٹ پوجا کے لالچ میں لوگوں‬

‫سےلڑ جھگڑ سکتا ہے۔‬

‫امیدوارممبر جس طرح اپنے خادم ہونے کا جھوٹ بولتا‬
‫ہے ووٹر بھی نہلے پر دہلا مارتا ہے۔ وہ جوابا کہتا ہے کہ جناب‬

‫ہمیشہ آپ کا ساتھ دتیے آئے ہیں اب بھلا آپ کو کس طر ح‬
‫چھوڑیں گے حالانکہ اس نے کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا‬
‫ہوتا۔ عملی طور پر اس کا سخت مخالف رہا ہوتا ہے یا جھڑنے‬

‫والے کے ڈبے میں اس کے ووٹ نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔‬

‫کوتوالی کی بات چھوڑیں وہاں تو بڑے بڑےعین غین اور‬
‫شریف باٹی ٹیک جاتے ہیں۔ وہ وہاں‘ وہ وہ جرم تسلیم کر لیتے‬

‫ہیں جن کے کرنے کی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ میں‬
‫یہاں عدالت کے حوالہ سے بات کرنے جا رہا ہوں۔ عدالت میں‬
‫چور کو بھی وکیل کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ یہ اس کا اصولی‬
‫حق ہوتا ہے۔ چور کا وکیل وہ وہ دلاءل پیش کرتا ہے کہ چور کو‬
‫یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ اس نے چوری کی ہی‬
‫نہیں بلکہ اس پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ‬
‫وکیل کو پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ چوری اس کے موکل نے کی‬
‫ہے۔ اس کے باوجود وہ چور کا مقدمہ لڑتا ہے اور اسےبچانے‬
‫کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ یہ اس کا پیشہ ہے۔ کامیابی کی‬
‫صورت میں وہ اچھا وکیل قرار پاتا ہے۔ ہارنے کی صورت میں‬
‫کوئی چور اس کے قریب سے بھی گزرنے کی حماقت نہیں کرتا۔‬
‫اگر کوئی چور اس کے پاس نہیں آئے گا تو وہ بھوکا مر جائے‬
‫گا۔ گویا علم اور داؤوپیچ رکھنے والا پیٹ سے سوچے گا تو سچ‬
‫بولنے کی بھلا ایک عام آدمی کس طرح حماقت کرے گا۔ پیٹ ہی‬

‫جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کرتا ہے۔‬

‫پیٹ ہی سب سے بڑا سچ ٹھرتا ہے۔ کسی کا حق ڈوب رہا‬
‫ہے‘ اس جانب نظر کیسے جا سکتی ہے۔ مضروب اپنے جوگا‬
‫نہیں ہوتا وہ ہرے نیلے نوٹ کس طرح وکھا سکتا ہے۔ سچا ہو‬

‫کر بھی وہ جھوٹوں کی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔‬

‫ہمارے تمام مسائل کا حل یقینا سچ بولنے میں ہے لیکن‬
‫خالی پیٹ درویش لوگ ہی سچ بول سکتے ہیں۔ یہ بھی تاریخی‬
‫حقیقت ہے کہ سچ بولنے والےجان سے گئے ہیں۔ پیٹ کے غلام‬
‫روز اؤل سےعزت بچانے کے لیے سارا دن بےعزتی کرواتے‬

‫ہیں۔ پیٹ یقینا تکنیکی اور شکمی مجبوری ہے۔ پیٹ کو کسی‬
‫بھی سطع پر خانہ نمبر دو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ روٹی کپڑا‬
‫اور مکان یا پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے کے وعدے تو ہوتے‬
‫رہے ہیں۔ جنت نظیر بنانا تو بہت دور کی بات ہے پاکستان کو‬

‫پاکستان تک نہیں بنایا جا سکا۔‬

‫پاکستان میں بجلی روٹی کا پہلا اور آخری ذریعہ ہو کر رہ‬
‫گئ ہے۔ وزیر برقیات نے بند نہ ہونے کا وعدہ کیا لیکن لوڈ‬
‫شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق نہیں آیا۔ مزدور گھر‬

‫سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن‬
‫فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی‬
‫ہے کہ بیٹا آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے‬

‫گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا بچہ دودھ‬
‫آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ خاوند خالی‬
‫ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں ہوتا۔ سب‬
‫اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔‬

‫لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق نہیں آیا۔‬
‫مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ‬
‫ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ‬
‫کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس‬
‫کی دوا آ سکے گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔‬
‫چھوٹا بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ‬
‫خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں‬

‫ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔‬

‫وکیل اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ چور کی وکالت نہیں کرے‬
‫گا تو کھائے گا کہاں سے۔ بابو اپنی جگہ پر سچا ہے کہ حق‬
‫ناحق کا عوضانہ نہیں وصولے گا تو مرغ اور مچھلی کا سامان‬
‫کیسے اور کیوں کر ہو سکے گا۔ جب وعدے پورے نہیں ہونے‘‬

‫مظلوم کو ظالم ٹھرایا جانا ہے‘ انصاف دوہرا ہونا یا کروانا ہے‘‬
‫چور کو بری کروانا ہے تو جھوٹ کو قانونی حیثیت دے دی‬
‫جائے‘ کم از کم منافقت سے تو خلاصی مل جائے گی۔ اصلی‬

‫آدمی دیکھنے کو مل جائے گا۔ آج اصلی آدمی کو دیکنھے کو‬
‫آنکھیں ترس گئی ہیں۔ جنی کوئ غلط اقدام نہیں ہو گا۔ جس کو‬

‫بےوسیلہ اوربے بابائی ہونے کی وجہ سے قتل کیتا کرایا مل‬
‫جانا مل جانا ہے‘اس کی داد رسی لایعنی اور ہر طرح کی معنویت‬

‫سے باہر کی چیز ہے۔ ایسے حالات میں جرم کو قانونی حیثیت‬
‫دینا ناانصافی نہیں‘ انسانی مساوات قائم کرنے کے کے مترادف‬
‫ہے۔۔ اگر بعض کو جرم کی سزا سے بالاتر قرار دینے کی سعی‬

‫کرنا ہے تو اوروں کو یہ حق دینا کس اصول کے تحت غلط‬
‫!ہے؟‬

‫پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب‬

‫ہمارے منہ جھوٹ کہنے اور کان جھوٹ سننے کے عادی ہو‬

‫گیے ہیں۔ یہاں جس سے پوچھو کہے گا مجھ سے قسم لے لو‬
‫جو میں نے کبھی جھوٹ مارا ہو۔ ہمارے ہاں جھوٹ مارنے کا‬
‫رواج نہیں رہا ہاں البتہ بندہ مارنا روٹین ورک ہو گیا ہے سچ‬
‫کہنے اور سچ سننے میں مزا نہیں رہا۔ شاید اس کی ایک وجہ‬
‫یہ بھی ہے کہ سچ سے کسی قسم کا لابھ وابستہ نہیں رہا۔ سچ‬
‫کے حصہ میں پولے رہے ہیں۔ بعض اوقات سر سے ہاتھ دھونا‬
‫پڑتے ہیں۔ سچ سے پرہیزی سونے کےچمچہ سے بریانی نوش‬

‫کرتے ہیں۔ جی سر‘ جی حضور‘ جی جناب‘ درست عالی جاہ‬
‫کہنے میں کچھ خرچ نہیں آتا لیکن صلہ میں تمغے اور جاگیریں‬

‫مقدر ٹھہرتی ہیں۔ سچ کے پلے ہے ہی کیا‘ دکھ اور تکلیف۔‬
‫گولی مارو ایسے سچ کو جو بھوک اور پیاس بھی نہ مٹا سکے‘‬

‫تن کو ڈھنگ کا کپڑا بھی میسر کرنے سے معذور ہو۔‬

‫کل ایک صاحب فرما رہے تھے بابا جی آپ کے قلم میں بلا کی‬
‫طاقت ہے لیکن آپ اس کا انتہائی گھٹیا استعمال کر رہے ہیں۔‬
‫میرے ہی منہ پر جھوٹ بول کر مجھے الو بنانے کی کوشش کر‬
‫رہے تھے۔ میں کونسا علامہ شبلی نعمانی ہوں جو میرے قلم‬
‫میں بلا کی طاقت ہے۔ وہ درحقیقت سمجھانا چاہتے تھے کسی‬
‫پارٹی اور اس کے بڑوں کے بڑی فصاحت و بلاغت کے حامل‬
‫قصیدے کہوں تاکہ وہ اسے کیش کروا کے پیٹ بھر صاف ستھرا‬

‫نوش جاان فرماءیں اور ہڈی میری جانب پھینک دیں۔ اگر‬

‫اعتراض کروں تو سرکا دیں۔ پھینکنے اور سرکانے میں زمین‬
‫آسمان کا فرق ہے۔ اس میں شک نہیں میرے اڑے پھسے کام بن‬
‫سکتے ہیں۔ جی حضوریہ ہونا ایسا معمولی اعزاز نہیں۔ میں ایسا‬
‫کر نہیں سکتا کیونکہ میرے قلم میں بلا کی طاقت ہے نہیں۔ بس‬

‫کسی حد تک گزرا چل رہا ہے۔‬

‫میرے جواب پر حضرت نے فرمایا حضور یہ آپ کا قصور نہیں‬
‫بابے بولتے ہی وکھی سے ہیں۔ بہرطور میں جوابا کیا کہہ سکتا‬
‫تھا خاموش ہو گیا۔ میرے پاس کوئ دوسرا رستہ ہی نہ تھا۔ ان‬

‫دنوں امیدواروں کے ڈیرے حاتم کدے بنے ہوءے ہیں۔ پیٹھ‬
‫مروڑتے اور منہ بناتے ہوئے وہ ادھر کو چل دیے اور میں ان‬
‫کے یہ دونوں اعضاء دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں خاں صاحب نہیں‬
‫ورنہ ان کی پھرکی کی طرح پھرتی پیٹھ کے بارے ضرور کچھ‬
‫عرض کرتا۔ عین ممکن ہے اس نظارے سے بےخود ہو کر الٹے‬

‫قدموں بڑے پیار اور چاہ سے واپس مڑنے کی گزارش کرتا۔‬

‫سوچتا ہوں یہ حاتمی پروگرام اس سے پہلے کہاں تھا۔ کیا یہ‬
‫تاحیات جاری رہے گا یا گیارہ مئی کے بعد ٹھس ہو جائے گا۔ اگر‬
‫چلتا رہا تو کمال ہو گا اگر ٹھپ ہو گیا تو کمال کی ٹانگ ہی نہیں‬

‫کمال کی ہڈی پسلی سلامت نہیں رہے گی۔‬

‫ڈیڑھ کلو آٹا خرید کر گھر کی بھوک مٹانے والوں میں ایک‬
‫شخص کی روٹیاں بچیں گی اور یہ بچت گھر کے کسی فرد کی‬
‫آدھی بھوک کو سیری میں بدل دیں گی۔۔ بلاشبہ چند روز کے‬
‫سہی بہت بڑا انقلاب ہو گا۔ دوسری جانب اس ایک فرد کی سیری‬
‫اس کی کار گزاری بہتر کر سکے گی۔ ووٹ کا کیا ہے کسی ایک‬
‫کو تو دینا ہی ہے۔ جس نے کھانے کو دیا اس سے زیادہ ووٹ کا‬
‫کون حقدار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد دونوں کسی کو کچھ نہیں‬
‫دیں گے۔ اپنے اپنے کاموں میں جھٹ جائیں گے۔ یہ مزدوری‬

‫میں اگر میسر آتی رہی اور وہ کیے گیے خرچے کو سو گنا‬
‫بنانے میں۔ یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور آتے وقتوں میں یہی کچھ‬

‫ہونے کے اثار ہہں۔‬

‫جس معاملے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے وہ توڑ نہیں چڑھتا‬
‫بلکہ اؤل تا آخر خرابیاں مقدر رہتی ہیں۔ ہو سکتا ہے شروع‬
‫شروع میں کچھ فائدہ مل جائے لیکن آگے جا کر پریشانیاں‬
‫کھڑی ہو جاتی ہیں۔ جھوٹ بولنے والے کرنے والے کو شاید‬

‫ہلکا پھلکا نقصان ہوتا ہے۔ عمومی سوچ کے حوالہ سے عزت‬
‫کو کسر لگتی ہے۔ اگر اس کو کسر سمجھا جاءے تو لوگ اہل‬
‫دھن اور اہل جاہ کو جھک جھک کر سلام کیوں کرتے ہیں۔ ان‬

‫کے منہ پر ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے کیوں‬

‫ملاتے ہیں۔ رہ گئ دل میں برا بھلا کہنے یا گالیاں نکالنے کی‬
‫بات دل کو کون دیکھتا ہے۔ لوگ تمثال کو نہیں تجسیم کو‬

‫دیکھتے ہیں۔۔ ہاں برا ہو ترقی کا ریکاڈنگ کی صورت میں‬
‫خرابی کی راہ نکل آتی ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے والوں کی‬
‫بھی بازی مات رہتی ہے۔ سامنے اور پیٹھ پیچھے کے مزے ایک‬

‫سے نہیں ہوتے۔ سامنے کا آؤٹ پٹ موت یا کم از کم لترول‬
‫ضرورت رہتا ہے۔ پیٹھ پیچھے کے لیے مکرنے کا سیف وے‬

‫بہرطور ہر سطع پر باقی رہتا ہے۔‬

‫گریب ان پڑھ بولاراور چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے‬
‫کا آخر مزا چھکنا پڑتا ہے یہ ووٹ کے مانگت بھی اس لڑکی‬
‫کے مماثل ہوتے ہیں اوپر سے انھیں خوبصورت ہونے کا زعم‬
‫بھی ہوتا ہے۔ بھوکا دور کی نہیں سوچتا۔ باشعور ہوتے ہوئے‬
‫بھی اس کی سوچ روٹی دا سوال اے جواب جیہدا روٹی اے‘ سے‬
‫باہر نہیں آتی۔ تسلیم کی انتہا ملاحظہ کریں ان دنوں امیدواروں‬
‫کے ڈیروں پر مرغے والے چاول چل رہے ہیں اور اسے بریانی‬
‫کا نام دیا جاتا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے اس میں بکرے کی‬
‫ایک بوٹی بھی نہیں ہوتی۔ کھلانے والا اسے بریانی کا نام دے یہ‬
‫بات سمجھ میں آتی ہے لیکن کھانے والا اسے بریانی تسلیم کرتا‬
‫ہے۔ یہ تو ککڑیانی بھی نہیں ہوتی۔ چاولوں میں کھسرا مرغے‬
‫کا کہیں کہیں گوشت یا ہڈی ہوتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ‬

‫کھسرا مرغے کا پنجر لا کر چاؤلوں میں ڈال دیا گیا ہوتا ہے۔‬
‫زیادہ سے زیادہ اسے پنجریانی کا نام نامی اسم گرامی دیا جا‬
‫سکتا ہے۔ جب اطراف میں اپنی اپنی ضرورت کے حوالہ سے‬

‫جھوٹ چل رہا ہو تو آتے کل کی بہتری کا خواب گناہنگار‬
‫آنکھوں سے کیونکر اور کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔‬

‫دیگی ذائقہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی‬

‫دانستہ غلطی کوتاہی بلاشبہ لائق سرزنش ہے۔ کوشش کرتا‬
‫ہوں جو بھی کروں پوری ذمہ داری اور ہوش مندی سے کروں‬
‫لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کمی کوتاہی کی راہ نکل ہی آتی ہے۔‬
‫اس ذیل میں وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جنھوں نے کچھ نہ‬

‫کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ نتیجتا ان سے غلطی کوتاہی سرزد‬
‫نہیں ہوتی۔ اگر کسی کے مجبور کرنے یا کسی سرکاری یا‬

‫بیگماتی مجبوری کے تحت کچھ کرنا ہی پڑ جاتا ہے تو غلطی‬
‫کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کی شامت آ جاتی ہے۔ غلطی‬
‫کرنے والے کی گردن پر گرہ نہیں آتی۔ ہر کوئی کرنے والے ہی‬
‫کا پکھ لیتا ہے۔ دیکھو یاراس نے کچھ تو کیا ہے حوصلہ افزائی‬

‫کی بجائے حوصلہ شکنی سے لیا جا رہا ہے۔ نکتہ چین تھوڑ‬
‫دلی سے کام لے رہا ہے۔ اس وچارے نے کب کبھی کوئی کام کیا‬

‫ہے۔ پہلا پہلا کام ہے‘ غلطیاں تو ہوں گی۔‬

‫پہلا پہلا کام کرنے والا خود کو علامہ شبلی نعمانی کا بھی‬
‫استاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے لیے اس کا یہ پہلا پہلا بھگوت‬
‫گیتا سے کی طرح کم نہیں ہوتا۔ چیلے چمٹے اسے عظیم فن پارہ‬

‫قرار دے کر اڑے پھسے کام نکلوا لیتے ہیں۔ میں کوئی اعلی‬
‫شکشا منشی ہاؤس کا اہلکار نہیں جو معاف کر دیا جاؤں گا۔ اس‬

‫لیے خود ہی اپنی غلطی کوتاہی کا اعتراف کر لیتا ہوں۔ بڑے‬
‫لوگوں کی طرف انگلی اٹھتی ہے مجھ پر لوگوں کا پنجہ اٹھے‬

‫گا۔‬

‫پہلی پہلی غلطی کوتاہی کو لائق تعزیر قرار نہیں دیا سکتا‬
‫کیونکہ کوشش تو کی گئی ہوتی ہے اور کرنے والے سے ہی‬
‫غلطی ہوتی ہے۔ کرنے والوں میں عادی کرنے والے ہوتے ہیں‬
‫جبکہ فٹیکی کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ دونوں کے کرنوں میں‬
‫نمایاں فرق موجود ہوتا ہے۔ ذائقہ بھی اسی تناظر میں تشکیل‬
‫پاتا ہے۔ ذاتی شوق اور گیڈر پروانہ کی حصولی سے وابستہ کیا‬
‫ایک سا نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے ذائقوں میں زمین آسمان کا‬
‫فرق موجود ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ذاتی والا دو نمبری‬

‫کے درجے پر فائز کیا جاتا ہے جبکہ گیڈڑائی کسی بڑی سیٹ پر‬
‫بیٹھ جاتا ہے۔ اب ذائقے کا تعلق بندے کوبندے جڑ جاتا ہے۔‬

‫میں نے کھائی پکائی میں تیکنیکی امور کو مدنظر رکھا۔‬
‫کھائ کی تعبیر و تشریح میں انتہائی حساس امور کو نظر انداز‬
‫کر گیا حالانکہ ان کا کھائی سے چولی دامن کا تعلق ہے۔ محاورہ‬

‫اگلے زمانے کا ہے محاورہ بنانے والوں نے دامن کے ساتھ‬
‫چولی جانے کیوں اندراج کیا۔ اگلے زمانے میں چولی نہیں‬
‫چولے ہوا کرتے تھے۔ چولی غالبا غرب کی دین ہے۔ لباسی‬

‫اختصار پیچھلے پچاس سالوں میں ہوا ہے۔ اب تو لباس کا نام‬
‫تکلفا لیا جاتا ہے اس لیے میں نے تکلفا مروتا چولی لفظ‬

‫استعمال کر دیا ہے۔ رہ گیا دامن‘ جب چولی نہیں ہوگی دامن کہاں‬
‫سے آئے گا۔ مترادف میں مرد حضرات نے بیگ جبکہ خواتین‬
‫نے بڑے فینسی پرس رکھ لیے ہیں اور ان میں کافی کچھ سما‬
‫سکتا ہے۔ مرد اور خواتین احتیاتا ساتھی بھی اہتماما رکھنے‬
‫لگے ہیں۔ بیگ یا پرس میں وہ جو کچھ بھی رکھیں ان کا ذاتی‬
‫معاملہ ہے اس پر کلام کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ مرد اور‬
‫عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں اس لیے چولی دامن کی جگہ‬
‫بیگ پرس کا ساتھ محاورہ ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی‬
‫ارضی اور کلچری سچائی ہے۔‬

‫خیر غلطی کوتاہی کا حل یہی ہے کہ متعلقہ حصہ میں تبدیلی‬
‫اضافہ وغیرہ کر دیا جائے۔ بھلا ہو مہر افروز صاحبہ کا جو‬
‫انھوں نے بروقت نشاندہی کر دی ہے۔ میں ان کا دل و جان سے‬
‫احسان مند ہوں۔ اگر وہ نشاندہی نہ کرتیں‘ باریک بین مورخ‬
‫کبھی معاف نہ کرتا۔ وہ کرتا نہ کرتا میرا ضمیر مجھے معاف نہ‬
‫کرتا۔ پکائی بلاشبہ بڑی معنویت کی حامل ہے لیکن ذائقے کا‬
‫تعلق کھائی کے مختلف حوالوں سے جڑا ہوا ہے۔ ذائقے سے‬
‫منہ مسلک ہے۔ منہ بڑا ہو یا چوٹا اس میں ایک عدد زبان بھی‬
‫ہے جو چھکنے اور جلانے کے کام آتی ہے۔ چکھنے سے پہلے‬
‫بھی چلتی دیکھنے سننے میں آتی رہتی ہے۔ یہ جہاں نائی کے‬
‫کانوں پر بار بنتی ہے وہاں دیگ کا سامان لانے والے اور‬
‫سامان دینے والے دوکان دار کو بھی گرفت میں رکھتی ہے۔ ہیاں‬
‫تک کہ بلاچھکے ریمارکس پاس کر دیتی ہے۔ گویا یہ ذائقے کا‬

‫پیش لفظ ہوتا ہے۔‬

‫سرکاری تنخواہ کی آمدنی کا ذائقہ پھیکا پھیکا اور قطعی‬
‫ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔ معقولی اور غیر معقولی بالائی کا ذائقہ الگ‬

‫سے اور دو طرح کا ہوتا ہے۔ یہ ذائقہ زیادہ تر دفتری لوگوں‬
‫سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ بالائی کا دائرہ دفتروں کے‬
‫زندان سے آزادی حاصل کر چکا ہے۔ ستم اس پر یہ کہ رشوت‬
‫لینے والے کو راشی کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سائل رشوت‬

‫خور ٹھہرتا ہے۔ ظالم کا ظلم مظلوم پر ٹھہرنا صدیوں کی ریت‬
‫ہے۔ یہ صرف رنجیت سنگھ ہی کو اعزاز حاصل تھا کہ وہ ہاتھ‬

‫بندھے بری اور لک بندھک لٹکاتا تھا۔ بہرکیف لفظ راشی کا‬
‫متضاد استعمال میرے لیے حیران کن نہیں۔ لفظ کا رمزی استعمال‬
‫کلام میں شگفتگی اور بلاغت پیدا کر دیتا ہے۔ اب معلوم ہوا ہے‬

‫کہ زیریں کے دست مبارک سے لفافہ اوبر جاتا ہے۔ اس حوالہ‬
‫سے اسے راشی ہی کہا جائے گا مرتشی اوپر والے کو کہا‬

‫جائے گا۔ کھائ کے حوالہ سےتین ذائقے ترکیب پائیں گے۔ سائل‬
‫کا ذائقہ کڑوا‘ راشی کا ذائقہ نمکین اور قدرے لذیذ جبکہ مرتشی‬

‫کا ذائقہ لذتوں کا امین ہوتا ہے۔‬

‫چوری ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری وغیرہ کی کمائی کو‬
‫حرام کی کمائی کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلی تینوں طرح کی کمائی‬

‫خطروں سے ہی نہیں بھری رسک آمیز بھی ہے جبکہ ہیرا‬
‫پھیری میں دماغ کا خرچہ بڑھتا ہے اس لیے یک طرفہ سوچنے‬

‫کی بجائے دو بلکہ سہ طرفہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ لٹنے‬
‫والا اور کما لے گا اسے دکھ ضرور ہوتا ہے۔ دوبارہ سے کمائی‬

‫کا ذائقہ پسینہ آلود ہونے کے سبب چکنائی انگیز ہوگا۔ چوری‬
‫ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری کی کمائی جو پرمشقت ہوتی ہے‘ کا‬
‫ذائقہ اگلے رسک پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا اس قسم کی کمائی کے‬

‫ذائقے میں تحرک کا عنصر غالب اور نمایاں رہتا ہے۔‬

‫قوم و ملک سے غداری کے صلہ میں کھیسے پڑنے والی‬
‫کمائ کا ذائقہ بی کچھ اور نوعیت کا ہوتا ہے۔۔ بی کا مخفف لمبی‬

‫چوڑی فہرست سے بچاتا ہے۔ شراب کباب کے ساتھ شباب کی‬
‫بڑھوتی کسی ایرے غیرے کو زیب نہیں دیتی۔ یہ ذائقہ دوسرے‬
‫ذائقوں سے الگ ترین ہوتا ہے اور اس میں نوابی آن بان اور‬

‫شان تھرک رہی ہوتی ہے۔ ان کے کتے بلے بھی ان کے اترن‬
‫سے حصہ پا کر کا سا کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں اور ان‬
‫کا ذائقہ بھی معمولی اور عمومی نہیں رہ پاتا۔ ان کا یہ موقف‬
‫غلط نہیں لگتا کہ موجودہ حکمران کون سے خیر کے فعل انجام‬
‫دیتے ہیں۔ آنے والا بھی یہی کچھ کرے گا۔ ہاں تبدیلیوں میں لہو‬

‫بہتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ غداریاں ہوتی ائ ہیں اور‬
‫ہوتی رہیں گی۔ وہ کون سا اچرج کام کر رہے ہوتے ہیں۔ خون‬
‫بہتا رہا ہے‘ بہتا رہے گا۔ عموم کا سماجی اسٹیٹس یہی رہا ہے‬

‫اور یہی رہے گا۔‬

‫پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ مفت خوری کا ذائقہ‬
‫غیرمعمولی ہوتا ہے۔ لاریب فیہ میں مولوی صاحبان کو اپنے‬
‫سوچ میں بھی نہیں لا سکتا۔ جو یہ سوچتے ہیں کہ میں ان کو‬
‫درمیان میں لا رہا ہوں غلط سوچتے ہیں۔ یہ حضرات مفت خوری‬
‫میں نہیں آتے۔ ان کی کمائ مشقت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ان‬

‫سے بچوں کی تدریس کا ڈر اور خوف قطعی لایعنی ہے۔ آخر‬
‫پمپر کس لیے بنے ہیں اور ان کا استعمال کب ہو گا۔ زندگی میں‬
‫کرتا کوئی ہے کھاتا کوئی ہے۔ کرنے اور کھانے والے کا ذائقہ‬

‫ایک سا نہیں ہو سکتا۔ لکھنے والوں کو ہوا کھانی پڑتی ہے‬
‫جبکہ ناچے گائیکے پیٹ بھر کھاتے ہیں۔ لکھنے والوں کا دماغ‬
‫خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی طبقوں کی جسمی محنت رنگ لاتی ہے۔‬
‫لکھاری گائک رقص کندہ اور ان سے متعلقین کا ذائقہ ایک سا‬

‫نہیں ہو سکتا۔‬

‫ایک دیگ کے چاول تیکنکی ذائقوں کے علاوہ بھی ذاہقے‬
‫رکھتے ہیں۔ ہر موڈ اور ہر مزاج کا ذائقہ الگ سے ہوتا ہے۔‬
‫تنقید کرنے کا ذائقہ کٹھا مٹھا ہوتا ہے۔ تنقد برداشت کرنے کا‬
‫ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ کہنے والی زبان اور سننے والے کانوں کا‬
‫ذائقہ ایک سا نہیں ہو سکتا۔ گویا موڈ مزاج اور رویہ زبان کے‬

‫ریشوں میں تبدیلی لا کر ذائقہ کی حس پر اثر ڈالتے ہیں۔‬

‫شہید اور شہادت کا تلک سجا کر تاریخ کا جز بننے والے‬
‫ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انہیں نہی میں ڈال کر جعلی‬
‫کاروائی ڈال کر نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ بھی قرطاس‬
‫حیات پر موجود رہیں گے۔ ماتمی بھی رہیں گے ان پر سنگ‬
‫باری کرنے والے بھی زندگی کا حصہ رہیں گے۔ دیگ ایک ہی‬

‫ہوتی ہے۔ پکائی بھی ایک ہاتھ کی ہوتی ہے۔ کسی کو پکوان لذت‬
‫دیتا ہے۔ کوئی اسے چاولوں کا حشر نشر خیال کرتا ہے۔ دیگ‬
‫میں ناصر زیدی کو کیڑے آمیز چاول نظر آتے ہیں۔ وہی پکوان‬

‫تبسم کاشمیری پر وجد طاری کر دیتا ہے۔ صابر آفاقی پکائی سے‬
‫متاثر ہو کر پی ایچ ڈی کی دس ڈگریاں دینے کی سفارش کرتے‬
‫ہیں۔ ڈاکٹر عبدالله قاضی پوسٹ پی ایچ ڈی کا مستحق ٹھہراتے‬
‫ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال کو پکائی میں سلیقہ نظر آتا ہے۔ ۔ڈاکٹر‬
‫محمد امین اسی دیگ کے چاولوں میں نیا انداز اور پکانے والے‬
‫کے ذہنی افق میں وسعت ذائقہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا‬
‫کو پکائی میں عصری ذائقوں سے آگہی محسوس ہوتی ہے۔‬

‫دیگ ایک ہے‘ ذائقے الگ الگ۔ گویا ذائقہ منہ میں موجود زبان‘‬
‫اس کے سائز اور ذہن کے سواد پر انحصار کرتا ہے۔‬

‫میں محترمہ مہرافروز کو داد دیتا ہوں کہ وہ ذائقے کا‬
‫رشتہ انسانی موڈ سے جوڑتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کھائی کے‬
‫جانو حضرات ان کی اس انمول دریافت کو پرتحسین نظروں سے‬

‫دیکھیں گے۔‬

‫ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو دوسیریاں‬

‫ہمارے لودھی صاحب کسی اور کو رشوت دینے کے معاملہ میں‬
‫بڑے ہی سخت واقع ہوئے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے ہمارے ایک‬

‫دوست اکاؤنٹ آفس میں ایک معمولی سے کام کے لیے پانچ سو‬
‫روپیے چٹی دے کر آئے۔ مجبور تھے کیا کرتے' پچھلے دو ماہ‬

‫سے ذلیل ہو رہے تھے۔ بار بار اعتراض لگ رہا تھا۔ ہر بار‬
‫اعتراض دور کرتے لیکن اگلی بار اعتراض میں سے کوئ اور‬
‫اعتراض جنم لے لیتا۔ کسی سیانے نے اصل اعتراض یعنی پانچ‬
‫سو روپیے کی نشاندہی کر دی۔ اصل اعتراض دور ہونے پر ان‬
‫کام فورا سے پہلے ہو گیا۔ ہمارے لودھی صاحب کو سخت غصہ‬
‫آیا وہ وہ سنیما سکوپ گالیاں سنائیں کہ تمام پنجابی گالیاں آن‬

‫واحد میں شرمندہ تعبیر ہو گئیں۔ میں حیران تھا کہ انھیں کیا‬
‫بنیاں کیونکہ اسی کیس کی ذیل میں وہ دو بار نیلا نوٹ وصول‬

‫چکے تھے۔ کیا یہ رشوت نہ تھی?!‬

‫غالبا ان کے سوا کسی اور کو کام کے حولہ سے نقدی یا‬
‫بصورت جنس اداءگی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہرے نیلے‬

‫اور کبھی کبھار سرخ رنگ پر صرف اور صرف ان ہی کا حق‬

‫فائق رہتا ہے۔‬

‫درست طریقہ یہی ہے کہ بانٹ دو رکھو۔ بہت پہلے کی بات ہے‬
‫کہ الله بخشے' ہمارے بھائ کے سسر امام مسجد ہونے کے‬

‫ساتھ ساتھ دؤکاندار بھی تھے۔ دوکان میں ڈاکخانہ بھی تھا۔ اگلے‬
‫دور میں لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ‬
‫اجناس کے بدلے اشیاء حاصل کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس‬

‫بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مائی جنس لے کر آئی انھوں نے اندر‬
‫‪:‬آواز دی‬

‫"بیٹا دوسیری دینا"‬

‫"?اندر سے آواز آئی‪" :‬کون سی ابا‬

‫"بولے"سبحان الله' بیٹا دو سیریاں بھی کوئی دو ہو تی ہیں‬

‫دوسیری آ گئی لیکن ہماری سمجھ میں یہ علامتی مکالمہ نہ آ‬
‫سکا۔ یہ کہانی الگ سے ہے کہ ہم نے ان کی‬

‫بیٹی تک کیسے رسائی حاصل کی تاہم بھید یہ کھلا کہ جنس کی‬
‫حصولی کے لیے سبحان الله دوسیری ہے جو وزن میں زیادہ‬
‫ہےجبکہ چیز دینے کی دوسیری الحمدالله ہے جو وزن میں کم‬
‫ہے۔ گویا لینے کی دوسیری‬

‫اور دینے کی دوسیری' بہت پہلے سےالگ رہی ہے۔‬

‫امریکی رکن کانگرس کےمطابق بلوچستان کا مسلہ سنگین ہے۔‬
‫اس کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چائیں۔‬
‫مغرب والے بڑے دیالو اور کرپالو ہیں۔ انھیں تو مچھلیوں تک‬
‫کے "انسانی حقوق" عزیز ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‬

‫بند ہونے والی بات غلط نہیں لیکن امریکہ دوسیریاں دو کیوں‬
‫رکھ رہا ہے۔ اس کے اس چلن نے ہمارے لودھی صاحب پر‬

‫گہرے اثرات مرتب کئے ئیں۔ امریکہ کی ایک عمارت گری اس‬
‫نے پورے افغانستان کی عمارتیں گرا دیں۔ اس عمارت میں‬

‫موجود چند لوگ مرے لیکن اس نے افغانستان میں ہزاروں لوگ‬
‫موت کی نیند سلا دئیے اور لاکھوں بےگھر کر دئیے۔‬

‫وہ ذرا ونگا ہوتا ہے تو ملکوں پر' جہاں غربا کی تعداد زیادہ‬
‫ہوتی ہے پر پابندیاں لگا دیتا ہے لیکن نیٹو کی رسد بند کرنے‬

‫کو انسانی حقوق کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ابیٹ آباد جس‬
‫عمارت میں اسامہ رہتا تھا' کو مسمار کر دیا گیا مبادہ کسی‬
‫کونے کھدرے سے اسامہ نکل آءے گا حالانکہ اس عمارت کو‬
‫مسمار کرنے کی کیا شرورت تھی۔ خود اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا‬
‫ہے ۔ لیکن کسی اور کا اسلحہ بنانا اس کے وارہ میں نہیں آتا‬
‫امریکہ خود کے حوالہ سے دنیا کا باڑہ ہے۔ ایران کوریا یا دنیا‬
‫کا کوئ ملک اسلحہ بناءے تو اس کے پیٹ میں مرو ڑاٹھنے‬

‫لگتا ہے۔‬

‫سگریٹ پہ سیمینار ہو رہا تھا۔ اتفاق سے میں بھی وہاں کسی‬
‫کام سے گیا ہوا تھا۔ انتظمیہ نے پکڑ کر مجھے بھی اسٹیج پر‬

‫بیٹھا دیا۔ سگریٹ پر مقریرین نےدھؤاں دھار تقریریں کیں۔‬
‫سگریٹ کے خلاف وہ وہ بکواس کی کہ خدا کی پناہ۔ سچ‬

‫پوچھئے میں گھبرا ہی گیا۔ مجھے لگا یہ میرے خلاف سا زش‬
‫ہوئ ہے۔ ستم اس پر یہ کہ اظہار خیال کے لیے مجھے بھی‬

‫طلب کر لیا گیا۔ منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ان سے میں‬
‫ایسے بھی تھے جو سگریٹ پہ سگریٹ پیتے تھے۔اسٹیج پر آ‬
‫کر سب حاجی ثناءالله بن گءے تھے۔ اب چونکہ بلا لیا گیا تھا‬
‫اس لیے کچھ کہے بغیر بن نہیں سکتی تھی۔ جی میں آئ ان سب‬
‫کی اصلیت کھول دوں مگر مروات آڑے آگئی۔ میں نے سگریٹ‬
‫کے حق میں تقریر کی۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ حیران تھا یہ‬
‫انہونی کیسے ہو گئی۔ بعد میں معلوم ئوا حق میں کہتے کہتے‬
‫خلاف کہہ گیا ہوں یا حق کو خلاف کے معنونوں میں لے لیا گیا۔‬

‫بلوچستان کے حوالے سے بات کرنے والے امریکہ کا باطن‬
‫ایران کے بارے میں کھل گیا ہے۔ امریکہ اگر اتنا انسان دوست‬
‫ہے تو سب سے پہلے اپنا اسلحہ تباہ کرے اور پھر اوروں کو‬

‫گڑ نہ کھانے کی ترغیب دے۔ خود تو اس دوڑ میں سب سے‬
‫آگے ہے لیکن اوروں کو اس سے منع کر رہا ہے بلکہ پابندیاں‬

‫لگاتا ہے دھمکیاں جڑتا ہے۔‬

‫ہمارے لودھی صاحب نے امریکی طور اپنایا ہے تو میرے سمیت‬
‫سب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ عملی طورپر امریکی فتاوی راءج‬

‫ہے' زبانی اس کی نفی کھلی منافقت نہیں ہے? گڑ کھانے والے‬
‫گڑ کی مذمت کرتے ہیں‪ .‬خودمختاری کی بات کرکے مردوں کے‬

‫گیٹ سے نکل رہے ہیں۔ پڑتال کرنے پر معلوم پڑتا ہے کہ‬
‫امریکہ کے کہے پر اس گیٹ سے گزرے ہیں ادرلیاقت علی کے‬

‫رستے کو حق کا رستہ سمجھتے ہیں اور اسے قوم کا عظیم‬
‫لیڈر قرار دیتے ہیں۔ قوم اگر اپنے ان لیڈوں کے کہے کو سچ‬
‫مانتی رہی ہے تو پٹرول گیس ڈیڑل بچلی وغیرہ کی قیمتوں میں‬
‫اضفہ ہوتا چلا جاءے گا۔ پھر وہ وقت بھی آئے گا' چیزیں نہیں‬
‫رہیں گی صرف اور صرف ان کی قیمتیں رہ جائیں گی۔ جن کی‬

‫ادرئیگی کے بغیر بن نہ پائے گی‬

‫قصہ زہرا بٹیا سے ملاقات کا‬

‫ناصر ناکاگاوا صاحب کا مجھے فون آیا کہ ان کی ہمشیرہ زہرہ‬
‫عمران مجھے ملنا چاہتی ہے‘ آ جائے؟ مجھے بینک چوکیدار‬

‫والا قصہ یاد آگیا۔ ایک صاحب نے اس سے پوچھا کیا میں بینک‬
‫کے اندر چلا جاؤں۔ چوکیدار نے صاف منع کر دیا۔ ان صاحب‬
‫نے پوچھا اتنے لوگ اندر جا رہے ہیں انھیں تو منع نہیں کر‬

‫رہے مجھے کیوں منع کرتے ہو۔ چوکیدار نے ترنت جواب دیا وہ‬
‫مجھ سے پوچھ رہے ہیں جو انھیں منع کروں۔ میرے لیے یہ‬

‫چونکہ نیا تجربہ تھا۔ سارا دن واقف ناواقف آتے رہتے ہیں کبھی‬
‫کسی کو اس قسم کی جرآت اور توفیق نہیں ہوئی۔ مجھ پر کھلا ‘‬

‫پوچھا بھی جاتاہے۔ میں کوئی لیڈر یا دفتری اہلکار تھوڑا ہوں‬
‫جو پوچھا جاءے چوہدری صاحب حاضر ہونے کی اجازت ہے‬

‫اور وہ ہر مفتے کو کل تا کل ٹالتے رہیں۔‬

‫ان کے پوچھنے پر احساس تفاخر تو نہ جاگا ہاں یہ ضرور‬
‫محسوس ہوا کہ میں بھی ہوں۔ سچی پوچھیں مجھے اپنے ہونے‬

‫کا یقین ہی نہ تھا۔ اس نہ ہونے کے یقین کو تصوف والا نہ‬
‫سمجھیں۔ اس ملک میں جھوٹ فریب ہیرا پھیری ملاوٹ دغا‬
‫دھوکا منافع خوری رشوت دھونس دھکا وغیرہ اور یہ شغل‬
‫رکھنے والوں کی کمی نہیں۔ کمزور یعنی لسے طبقے جس کا‬
‫میں بھی ایک سیل ہوں۔ میرے سے لوگوں سے اجازت کی طلبی‬

‫حیرت سے خالی نہ تھی۔ کسی ماڑے سے مطلب کے لیے پوچھا‬
‫جاتا ہے یا کسی تگڑے کی کرنی اس کے سر ڈالنے کے لیے‬

‫مرکب پوچھ گوچھ مستعمل ہے۔ ان کی تشریف آوری چونکہ خیر‬
‫سگالی سے وابستہ تھی اس لیے کسی قسم کی فکرمندی بھی‬
‫لاحق نہ ہوئی۔‬

‫سوچا بڑے فیشن ایبل لوگ ہوں گے۔ بٹھاؤں گا کہاں اور ملے‬
‫گی کس سے۔ میری رہایش گاہ ‘ میں اور میری زوجہ ماجدہ تو‬
‫طوفان نوح کی باقیات میں سے ہیں۔ اسے خدشہ خوف احساس‬
‫کہتری یا کوئی بھی نام دے لیں آپ قاری اپنی مرضی کے مالک‬
‫ہیں۔ عین ممکن ہے یہ تینوں یا ایک آدھ چیز اور بھی شامل حال‬
‫ہو۔ گھر والوں کو مانجا بوکر کرنے کو کیا کہتا۔ سوچا جو جیسا‬
‫ہے چلنے دو۔ دیکھا جائے گا۔ درمیان میں ایک دن تھا اس ایک‬
‫دن میں کیا ہو سکتا تھا۔ دوسرا کرنے کے لیے دام درکار تھے‬

‫اور دام اعلی شکشا منشی اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ‬
‫فاؤنڈیش لاہور کے چوری خور اہل کاروں کی مٹھی میں بند‬
‫تھے۔ نہ ان کے کام کے اور نہ میرے کام کے۔ انھیں کچھ کہا ہی‬
‫نہیں جا سکتا۔ یہ جینا جیسا بھی سہی‘ جی تو رہا ہوں ورنہ اس‬
‫سے جاؤں گا۔ جب زوجہ ماجدہ کے کان میں یہ بات پڑی کہ وی‬
‫آئ پی مہمان آرہے ہیں تو بیماری کے باوجود مجھ پر برس‬
‫پڑیں۔ معاملہ برسنے تک رہتا تو خیر تھی‘ گرجیں بھی۔ یقین‬

‫جانیے میں آج تک نہیں سمجھ سکا یا یہ ہر شدہ کی سمجھ سے‬
‫بالاتر بات ہے۔ چارپائی لگی بیگم میں گرجنے برسنے کے لیے‬
‫توانائ کہاں سے آ جاتی۔ اس کا ایک جملہ بڑے ہی کمال کا تھا‪:‬‬
‫لوگوں کو بےایمانی لے ڈوبتی تھی لیکن آج بےایمانی کا شغل‬

‫فرمانے والوں کی پانچوں انگلیاں ہی کیا وہ سراپا گھی کی‬
‫کڑاہی میں ہیں۔ کوئ روک کوئی ٹوک نہیں۔ ہمیں تمہاری‬

‫ایمانداری کی سزا بھگتنا پڑ رہی۔ اس کا گرجنا برسنا غلط نہیں‬
‫تھا اس لیے پہلے میں میں کرتا رہا اور پھر سر سٹ کر بیٹھ‬
‫گیا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ کرنے کو میرے پاس تھا ہی کیا‬
‫جو شدید ردعمل میں کرتا۔‬

‫میں پورے وجود کی ایمانداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے دل‬
‫میں ایک آدھ فیصد بھی نہ آیا کہ موصوفہ کا آنا جھوٹ ہی ہو‬

‫جائے۔ سوچا دور دراز سے لوگ آتے ہیں کبھی کسی نے میری‬
‫اور رہایش کی حالت خستہ کی شکایت نہیں کی۔ غالبا چلیس سال‬
‫زیادہ عرصہ ہوا میں قاضی جرار حسنی کے قلمی نام سے لکھا‬
‫کرتا تھا۔ اس دور کی فیشنل ایبل دو بیبیاں میری ایک کہانی کی‬

‫تعریف کر رہی تھیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں نے بڑے‬
‫فخر اور چوڑے ہو کر کہا قاضی جرار حسنی میں ہوں۔ انھوں‬

‫نے میری طرف دیکھا اور پھر ایک طنز سے بھرپور تیر‬
‫پھینکا‪ :‬ایسے ہوتے ہیں قاضی جرار حسنی۔ میری بولتی بند ہو‬


Click to View FlipBook Version