The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫چاہے کسی بھی زبان کے بولنے والے کیوں نہ ہوں تو قلم‬
‫کی تو ہو گئی چھٹِی ۔۔۔ کسی زمانے میں پرندوں کے پر اور‬
‫روشنائی کی مدد سے کاغذ پر لکھی جانے والے محبت نامے‬

‫اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوا کے پروں پر سوار ہو کر‬
‫الیکٹرانک قلم سے دل کا حال محبوب کو جب سناتے ہیں تو چند‬

‫سیکنڈ لگتے ہیں دونوں طرف کی آگ کے شعلے ایک‬
‫دوسرے کو لپیٹ لیتے ہیں ‪ ،‬پرانے وقتوں میں پاگل ہونے‬
‫والے کو ذرا وقت لگتا تھا اب تو لمحے لگتے ہیں مر مٹنے کے‬
‫لئے دیوانہ ہو جانے کے لئے پاگل بن جانے کے لئے کبوتر کی‬

‫بھی چھ ِٹی قلم کی بھی چھ ِٹی کاغذ کی بھی چھٹِی وقت‬
‫کی بھی چھٹِی‬

‫لمحوں میں نفرت کی مار لمحوں میں محبت کی بانہوں کے‬
‫ہار دلوں کی جیت لمحوں میں دنیا اتھل پتھل ہونے میں‬

‫صرف چند لمحے ادھر کی دنیا ادھر بیچ میں سیٹلائیٹ‬
‫سسٹم محکمہ ء پیغام رساں عرف (ٹیلی کمیونیکیشن‬

‫)سسٹم‬

‫نہ وہ عاشق نہ وہ معشوق نہ وہ خون سے لکھی تحریریں نہ‬
‫وہ پیغام رساں کبوتر نہ وہ انتظار نہ وہ بے قراری نہ وہ پیار‬

‫نہ وہ قلم نہ وہ محبوب نہ وہ محب سب ڈیجیٹل ہے سب‬
‫الیکٹرونک کی دنیا کا کمال ہے محبت بھی الیکٹرانک نفرت‬

‫بھی الیکٹرونک چاہت بھی الیکڑونک بے قراری بھی‬
‫الیکٹرونک رشتے بھی الیکٹرونک ‪ ،‬غم بھی الیکٹرونگ‬
‫روگ بھی الیکٹرونک وفا بھی الیکٹرونک بے وفائی بھی‬

‫الیکٹرونک جدائی بھی الیکٹرونک‬

‫شاعری بھی اب کچھ اس طرح ہو گی جسے محمد رفیع مرحوم‬
‫صاحب کچھ یوں فرما تے‬

‫ایس ایم ایس جو کئے تمھاری یاد میں‬
‫بیلنس نہیں تھا وہ پینڈنگ چلے گئے‬
‫اپ لوڈنگ سے میرا ریچارج سیل ہوا‬

‫میسج ملا کہ تم کسی اور کے ہو گئے‬
‫صاحب جاری رکھئے اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ‬

‫اعجاز خیال‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8439.0‬‬

‫محاورہ پیٹ سے ہونا کے حقیقی معنی‬

‫عزیز مکرم حسنی صاحب‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کا مضمون پڑھ تو لیا تھا لیکن لکھنے کا موقع نہ مل سکا۔‬
‫معذرت خواہ ہوں۔ آپ کے مضامین نہایت دلچسپ اور پر لطف‬
‫ہوتے ہیں۔ خاص طور سے جہاں آپ پنجابی کا ہلکا سا لشکارا‬
‫لگاتے ہیں یا کوئی کہاوت لکھتے ہیں۔ اب کہاوت کہنے اور‬

‫سمجھنے والے خود افسانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے حال ہی‬
‫میں "ہماری کہاوتیں" کے عنوان سے ایک کتاب تالیف کی‬
‫ہےجو راولپنڈی سے شائع ہونے والی ہے۔ اس کی ترویج کے‬
‫دوران اندازہ ہوا کہ کہاوتیں اب بڑے بوڑھوں تک ہی محدود ہو‬

‫کر رہ گئی ہیں اور کوئی دن جاتا ہے جب یہ ہمارے ادبی‬
‫منظر نامے سے بالکل غائب ہو جائیں گی۔ اور یہ بہت بڑا‬
‫سانحہ ہو گا۔ نئی نسل تو ان سے بالکل ہی بیگانہ ہے۔ اس‬

‫صورت حال کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔‬

‫زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا‬
‫دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‬

‫ایک کامیاب اور دلکش تحریر پر میری داد قبول کیجئے۔‬
‫باقی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8709.0‬‬

‫‪...........................‬‬


Click to View FlipBook Version