کر بوکی وہ جا گری۔ گھر آکر شیشہ دیکھا‘ ہمارے گھر میں
آئینہ نہیں شیشہ ہوا کرتاتھا چہرے پر چب شب تو نہ تھے البتہ
پہناوا غربا کی بستی والوں کا تھا۔ اندریں حالات بالا ان کا کہا
غلط نہ تھا۔
مجھے مہمانوں کا انتظار تھا۔ کیسے مہمان تھے یہ بھی بازار
سے کھا پی کر آگیے۔ اگلے وقتوں میں مہمان دو دن کی بھوک
رکھ کر آتے تھے اور جانے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ زہرہ اور
عمران مجھ سے ملے۔ بڑی حیرت ہوئی برقعہ میں۔ چند لمحوں
کے بعد ہی وہ ہم اگلے زمانوں کے لوگوں سے گھل مل گیے۔ کیا
شایستگی کیا سلیقہ کی یہ لڑکی ہے۔ بولتی ہے تو منہ سے گلاب
جھڑتے ہیں۔ میں تو میں‘ میری بیٹی ارحا اور بیگم اسی کے ہو
گیے۔ اجنبیت اور غیریت کا احساس تک نہ رہا۔ بلا کی ذہین و
فطین ہے یہ لڑکی بھی۔ ہم تینوں کا دل ہی لے گئی۔ وہ مجھے
اپنی بیٹی ارحا سے رتی بھر کم نہ لگی۔ بیٹیوں کے خاوند
بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ عمران صاحب بھی بڑے ہی
پیارے لگے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ پھر ہمارا مزار کمال چشتی جانے
کا اتفاق ہوا۔ بڑا اچھا لگا میں دو بیٹیوں ایک داماد کے ساتھ
گھومنے کے لیے نکلے ۔ میرا منہ بولا بیٹا فاروق بھی میرے
ساتھ تھا۔
بے تکلفی اجازت دیتی تھی کہ رات رہنے کو کہوں لیکن بچوں
کے حوالہ سے وہ رات ہمارے ہاں نہیں گزار سکتے تھے۔ بادل
نخواستہ انھیں رخصت کرنا ہی پڑا۔
بیگم صاحب تو ساتھ تھیں ہی۔ بڑی ٹوہری عورت تھی بس وقت
اور حالات نے مجھ سے تھوڑ پونجیے کے ساتھ چلنے پر
مجبور کر دیا ہے۔ زہرہ بٹیا نے ایسا کمال دیکھایا کہ اس کے
آنے سے پہلے کی صورت حال یاد تک نہ رہی۔ وہ لمحہ تو وہ
لمحہ اب تک یاد نہیں۔ دل میرا بھی کرتا اور چاہتا ہے کہ دونوں
میاں بیوی دوبارہ سے اور اس کے بعد بار بار آتے رہیں لیکن
کیا کریں زندگی کی تیز رفتاری نے ملاقاتوں کے لمحے ہی
چھین لیے ہیں۔ کل بیگم کہہ رہی تھیں زہرہ اور عمران سے کہو
ایکبار آ کر مل جائیں۔ میں نے جوابا کہا زہرہ بٹیا میری اور
تمہاری طرح فارغ نہیں ہیں انہیں اس آنے جانے کے علاوہ بھی
بہت سے کام ہوں گے۔ ارحا تو زہرہ آپی کی مالا جپتی رہتی ہے۔
امید پر دنیا قائم ہے مجھے یقین ہے ایک دن ایسا ضرور آئےگا
جب دروازہ کھلے گا کیا دیکھوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہرہ اور عمران
مجھے کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو بابا۔
صیغہ ہم اور غالب نوازی
صیغہ ہم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نواب‘ بادشاہ‘ بادشاہ
نما اور اقتداری طبقہ سے متعلق لوگ اپنے لیے استعمال کرتے
ہیں۔ مخاطب کا اپنے سے بلند مرتبہ والے کے لیے یا بطور
تکیہء کلام واحد کے لیے آپ وہ ان
انہوں کا استعمال رواج عام رکھتا ہے تاہم فرد واحد جب خود
کے لیے ہم کا صیغہ استعمال کرتا ہے تو یہ احساس تفاخر اور
تکبر میں آتا ہے۔
پنجاب میں عوامی اور عمومی سطع پر فرد واحد کے لیے ہم
رواج نہیں رکھتا۔ اگر کوئی استعمال کرتا ہے تو اوپرا سا اور
معیوب سا لگتا ہے۔ اقتداری‘ نوابی اور بادشاہ لوگ جب یہ
صیغہ استعمال کرتے ہیں تو اوپرا اور معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
ہاں ہم کا سامع سہما سہما اور کانپا کانپا ضرور ہوتا ہے۔ یہ
صیغہ مخاطب پر احساس کہتری کے دورے ڈالنے اور پڑنے
میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صیغہ ہم کا استعمال کرنے والوں
کا لب و لہجہ ہم کا عکاس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے شہنشاہ اکبر‘
جو اکبر اعظم کے عرف سے معروف ہے‘ کچھ فرما رہا ہو۔
بعض اوقات اس کا فرمانا دین الہی سے ماخوز لگتا ہے۔
پردھان منشی کے مکین صیغہ ہم کا بہت کم اور کبھی کبھار
استعمال کرتے ہیں ہاں ان کا کردار ہم کا استعمال کرنے والوں
سے زیادہ جارحاانہ ہوتا ہے حالانکہ اختیارات وغیرہ کے حوالہ
سے ہم والوں سے بڑھ کر بلکہ کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔
اصل ستم کی بات تو یہ ہے ہر دو یعنی ہم اور ہم نما سے متعلق
لوگوں کو اہل دانش اہل علم اور اہل قلم سمجھا جاتا ہے۔ ٹانی
الذکر اہل قلم ہونے حوالہ سے خوف اور ہراس کی علامت
ہوتے ہیں۔ جو بھی سہی ہم اور ہم نما ہماری سوساءٹی میں پکا
پیڈا وجود رکھتے ہیں۔ پیڈا کو مضبوط اور پیڈا کے معنوں میں
لیا جا سکتا ہے۔ پیڈا کی کیا اتھارٹی ہے‘ اس کا احوال ان سے
دریافت کیا جا سکتا ہے جن پر یہ خدانخواستہ فٹ ہو چکا ہے۔
میرے نزدیک ان کو بالاتر اور صاحب تکبر مخلوق تسلیم کر
لینے میں کوئی برائی اور مبالغہ نہیں۔ انھیں اہل علم اور اہل علم
کہنے میں بھی حرج والی کوئی بات نہیں ہاں البتہ دل سے تسلیم
کرنا ظلم زیادتی اور کھلا اندھیر ہے۔
تکبر اور علم کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ دو الگ سے رستے
ہیں۔ جہاں تکبر ہو گا وہاں علم نہیں ہو گا اور جہاں علم ہو گا
وہاں تکبر نہیں ہو گا۔ علم عجز اور انکساری کی طرف لے جاتا
ہے۔ علم تقوے کی گرانقدر نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ تکبر
شخص کو انسان نہیں رہنے دیتا۔ تکبر کے باطن میں خدا ہونے
کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ علم کے باطن میں الله کا عاجز
بندہ ہونے کا ارمان کروٹیں لیتا ہے۔ یہ میں ناہیں سبھ توں کی
طرف لے جاتا ہے۔ تکبر کوئ ناہیں سبھ میں کی طرف لے جاتا
ہے۔
ناصر زیدی ہم والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ تحریروں میں بھی
ہم کو پس پشت نہیں ڈالتے۔ وہ حقیقت کا گلا گھونٹ نہیں دبا
سکتے ہھی ہیں لیکن ہم پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ ہم کا
استغمال کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ وہ لاٹ ہاؤس کے قلم
سے پاکستان میں کالم لکھتے ہیں۔ لاٹ ہاؤس میں اج بھی
بےشمار جونئیر ساتھی ہوں گے۔ لاٹی قلم نے میڈیا میں ان کے
ہم کی دھاک بٹھا دی ہے۔ عام لوگوں کی کیا بات کرنا ہے وہ
وچارے تھے اور وچارے ہیں لاٹی اور اقتداری بھی ان کےقلم
کی مار سے خوف زدہ ہیں۔
میں اہل علم میں نہ اہل دانش میں ہوں اس لیے روٹی کو زندگی
کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں تاہم زندگی کو روٹی کے لیے
نہیں سمجھتا۔ مجھے ایک مولوی صاحب یاد آگءے۔ حج پر
جانے سے پہلے ایک درویش کے پاس گیے۔ سلام کیا اور فخر
سے بتایا حج پر جا رہا ہوں۔ درویش نے پوچھا حضرت دین کے
بناء کتنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کلمہ نماز روز حج زکوات۔
درویش نے کہا روٹی کو چھوڑ رہے ہیں۔ مولوی صاحب نے
کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کہا اور اٹھ گیے۔ اتفاق سے حج
سے واپسی پر بحری جہاز تباہ ہو گیا اور یہ ایک لکڑی کے
تختے پر بیٹھ کر ایک جزیرے میں جا پھنسے۔ وہاں نہ بندہ نہ
بندے کی ذات۔ بھوک نے سخت پریشان کیا۔ اچانک ایک بابا
روٹی خرید لو کا آوازہ لگاتا گزرا۔ مولوی صاحب نے انھیں بلایا
اور روٹی دینے کی استدعا کی۔ بابے نے قیمت طلب کی۔ انھوں
نے کہا میرے پاس دام نہیں ہیں۔ بابے نے کہا کچھ تو ہو گا۔
انھوں نے کہا میرے پاس کلمہ نماز روز حج زکوات ہے۔ بابے
نے نماز لکھوا لی اور روٹی دے دی۔ اگلی بار روزہ پھر حج
اسی طرح زکوات بھی لکھوا لی۔ دریں اثنا ایک جہاز ادھر سے
گزرا وہ کسی ناکسی طرح اس پر سوار ہو کر وطن آ گے۔
ملنے ملانے اور پرتکلف دعوتوں سے فراغت کے بعد اس
درویش کے پاس گیے۔ دعا سلام اور احوال پوچھنے کے بعد
درویش نے دین کے بناء پوچھے۔ مولوی صاحب نے روٹی کو
پھر گول کر دیا۔ درویش نے روٹی کا ذکر کیا تو مولوی صاحب
حسب سابق توبہ توبہ پر اتر آئے۔ درویش نے دستخط شدہ کاغذ
ان کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دیکھا جاءے روٹی زندگی میں
بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اہل تقوی کا جینا بھی اس سے منسلک
ہے۔ روٹی نہ ملنے کی صورت میں منفی سوچ کے دروازے کھل
جاتے ہیں۔
اگر ہم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوشیدہ نہیں
رہے گی کہ ناصر زیدی موجودہ اور سابقہ کے حوالہ سے بڑے
بااختیار ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لاٹ ہاؤس والا قلم ان کے
عزت مآب ہاتھ میں ہے۔ میں عرصہ دراز سے سیکڑیری ہائر
ایجوکیشن کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے
درخواستیں گزار رہا ہوں۔ اب تو مجھے درخواستوں کی تعداد
بھی یاد نہیں رہی۔ رقم ملنا تو دور کی بات ان کی جانب سے
واپسی جواب تک موصول نہیں ہوا۔ یہی حال پنجاب سرونٹس
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن لاہور والوں کا ہے۔
انھوں نے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ میری کتاب کی اعزازی
پروف ریڈنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس خدمت کو سردست چھوڑیں۔
مجھے اپنا اثر رسوخ اور ہم کا جاءز استعمال کرتے ہوئے ہر دو
محکموں سے میری ہی رقم دلوا دیں تاکہ میں ان سے کتاب کی
اعزازی پروف ریڈنگ کروا کر دوبارہ سے کتاب شائع کرنے کی
سعادت حاصل کر سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا حق دلانے
میں صیغہ ہم مثبت کردار ادا کرکے ناصرف گریب پروری کر
سکتا ہے بلکہ غالب نوازی کا اعزاز بھی حاصل کر سکتا ہے۔
ایک دفع کا ذکر ہے
ایک دفع کا ذکر ہے' تاہم باور رہے اس دفع کا تعلق زمانہ قبل از
مسیح سے نہیں' یہی کوئی چار چھے ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں
حکیم صاحب سے شفائی پڑیاں لے کر' سڑک کے بالکل نکرے
لگا واپس گھر آ رہا تھا۔
اگرچہ گھر والوں کو' عمر رسیدگی کے سبب میری خاص یا عام
ضرورت نہ تھی' اس کے باوجود رواجا اور عادت کے ہاتھوں
مجبور' آ رہا تھا۔ نہ آتا تب برا آتا تب سیاپا۔ جو بھی سہی' ایک
مدت سے گھر میرا آنا جانا تھا۔ یا یوں سمجھ لیں' گھر آنا میری
فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ فطرت ثانیہ کو' عادت سے مجبور
بھی کہا جاتا ہے۔
ہر کوئی خوب خوب جانتا ہے' سگریٹ انتہائی خطرناک ہے' اس
کے باوجود پیتا ہے۔ اپنی اصل میں' یہ ہی فطرت ثانیہ یا عادت
سے مجبوری ہے۔ ہر مرتشی جانتا ہے' کہ رشوت خور کو جہنم
جانے کی خوش خبری دی گئی ہے۔ یہ محض ڈراوا نہیں پتھر پر
لکیر ہے۔ بےشک لکیر ضعف کا ہی سبب نہیں بنتی' بزتی
بدنامی سے بھی دو چار کرتی ہے اور ہر چند تعداد میں اضافہ
ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ سماج میں ابا سے' ماما یعنی ماموں کے
عرفی نام سے' اپنی جان پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا
ہے۔ شرمندگی سے زیادہ' اس کار دراز میں فخر محسوس
کرکے' غیر متعلق لکیر کی فقیری میں' بڑی دل جمعی اور جان
فشانی سے' عمر تمام کر دیتا ہے۔ اسی میں کامیابی اور کامرانی
تصور کرتا ہے۔
ابھی گھر سے تھوڑا دور ہی تھا کہ پیچھے سے ایک کھوتی
ریڑھی والا' بڑی تیزی سے آیا۔ شاید اس کے پیچھے ہلکا کتا یا
پولیس پیچھے لگی ہوئی تھی۔ اس کی جلدیوں سے صاف ظاہر
ہو رہا تھا کہ ایمرجنسی کا مریض تھا۔ کچھ معاملات واقعتا
ایمرجنسی میں داخل ہوتے ہیں' کچھ یوں بلاتکلف بنا لیے گیے
ہوتے ہیں۔ بعض اوقات' ایمرجنسی کی عادت یوں ہی ترکیب پا
گئی ہوتی ہے۔ اگر اسے ہولناک قسم کی ایمرجنسی ہوتی' تو اپنی
بےسری آواز میں اکرم راہی کا گانا نہ گا رہا ہوتا۔ مجھے
بےسری شاید اس لیے لگی کہ بلاساز تھی۔
خیر جو بھی سہی' اس دفع کا ذکر ہے کہ محتاط روی اختیار
کرنے اور نکرے نکرے چلنے کے باوجود' اس نے کھوتی پر
تو قابو رکھا' لیکن ریڑھی بےمہار ہونے کے باعث' بڑے
کرارے بدذوق انداز میں آ لگی اور میں منہ کے بل وہ جا گرا۔
مجھے انسانی ہمدردی اور صلحہء رحمی کے ناتے ریڑھی سے
نیچھے قدم رنجہ فرما کر' اٹھانے کی بجائے' یہ کہہ کر بابا
ویکھ کے چل' چلتا بنا۔
اس بار کے ذکر میں اصل حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے روکنے
کی بجائے اکرم راہی کے سر میں کہے گیے باوزن جملے
بابا ویکھ کے چل
پر لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ میں ان کی پیروی میں' زہے
نصیب ہنس تو نہ سکا' البتہ بےہوش سا ضرور ہو گیا۔ مجھ پر
اس جملہ نما مصرعے پر بےہوشی کے ساتھ 'چوٹ بھی آئی
اور درد بھی اٹھ رہا تھا۔ اس کے بعد کا ذکر ہے' کہ کئی دن
بستر لگا رہا۔ خرچہ اٹھا اور حضرت زوجہ ماجدہ کی بڑبڑ اور
کڑ کڑ بھی سنتا رہا۔
اول آلذکر اور آخرالذکر کوئی نئی چیز نہ تھے۔ یہ دونوں معمول
میں داخل تھے۔ آخرالذکر تو میری زندگی میں ہمزاد کی طرح
داخل رہے ہیں۔ عزت بچانے اور جان کی امان پانے کے لیے'
بیگمی بڑبڑ اور گرجن برسن بہرطور ضروری تھا۔ ضمنا اس
سے' تھوڑا پہلے کا ذکر ہے کہ اچانک میرے سینے میں شدت
کا درد اٹھا' میں نے بصد احترام اپنی اوپر والی زوجہ ماجدہ کو
آواز دی
زکراں۔۔۔۔۔ زکراں۔۔۔۔۔۔زکراں
کافی دیر بعد سہی' بڑی مہربانی فرماتے ہوئے تشریف و غضب
لے کر آ گئی۔
گھورتی نظروں کے ساتھ پوچھا :کیا ہے' کیوں چیخ و پکار
رہے ہو۔
سراپا احترام میں غرق آواز کو چیخ و پکار کا نام دے رہی تھی۔
خیر میں نے منمناتے ہوئے کہا :سینے میں سخت درد اٹھ رہا
ہے' لگتا ہے جا ہوں۔
بس اتنی سی بات پر آوازیں دے رہے تھے۔ میں گھبرا گئی تھی'
پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔
'میرا خیال تھا کہ کہے گی
ہائے میں مر گئی' جائیں آپ کے دشمن۔
بہرکیف تکلیف اپنی جگہ میری خوش فہمی کرچی کرچی ہو گئی۔
پہلے دفع کے ذکر میں ثانی الذکر کا تذکرہ باقی ہے۔ تکلیفیں تو
زندگی میں آتی جاتی رہتی ہیں۔ لکشمی ایک بار ہاتھ سے نکل
جائے' تو پھر دوسری بار بڑے نصیب محنت' مشقت اور گراں
قدر ہیرا پھیری سے ہاتھ لگتی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ
حضرت بےغم صاحبہ کو' میری ہی جھڑی ہوئی ناچیز رقم'
میرے علاج معالجے پر خرچ کرنا پڑی۔ تاہم اس بار اس کی توپ
کا دھانہ میری طرف ہی نہ رہا۔ کھوتی ریڑھی والے کا اٹھتی
بیٹھتی خصوصا' دوا دارو کے حوالہ سے جھڑتی ناصرف
بےحجاب گالیاں بکتی بلکہ بدعائیں بھی دیتی۔ اس پر مجھے
رائی بھر افسوس نہ ہوتا۔ پتا نہیں بدعاؤں کے نتیجہ میں اس کا
کچھ ہوا یا نہیں' میں اس کی خبر نہیں رکھتا۔ ہاں جب ڈاکٹر کو
جھڑنے کے ردعمل میں گالیاں بکتی یا بد دعائیں دیتی تو
مجھے بہت برا لگتا۔ ان کا رویہ قصابی سہی ' پھر بھی
غیرفطری انداز میں کسی حد تک گراں وصولی کے ساتھ
مریضوں کے کام تو آتے ہیں۔
میرے' سب کے الله کا ہر کرنا پرحکمت' پرعدل' برحق' برموقع'
ہر قسم کی کجی خامی سے بالاتر' بے مشاورت' بلا تعاون اور
آلودگی و آلائش سے پاک ہوتا ہے۔
اس اٹل حقیقت کے باوجود' میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ الله
نے گریب اور کم زور طبقے کو' پیچھے دیکھنے کی شکتی
کیوں عطا نہیں فرمائی۔
مقتدرہ اور ان کے دور نزدیک کےگمشتگان کو' اس کی
ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پیچھے پیچھے چلتے' بڑی باریک بینی
سے دیکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ خیر ان کے آگے چلنے
والے لاٹھی بردار' لوگوں کو پیچھے دیکھ کر چلنے کی دعوت
دیتے آئے ہیں۔ دائیں بائیں چلنے والے' ان کے قریب نہ جانے
کی' باذریعہ لاٹھی' دعوت دیتے آ رہے ہیں۔ آج یہ رویہ کچھ نیا
نہیں ہمیشہ کا ہے۔ جب بادشاہ کی بگی گزرتی' لاٹھ بردار دائیں
بائیں اورسٹرک پر چلنے والوں کے خوب پاسے سیکتے۔ یہ
کھلا درس ہوتا' کہ شاہ اور اس کے دور نزدیک کے جھولی
چھولی چکوں کے قریب جانے سے پرہیز رکھو۔
اس کھلی وراننگ اور الڑٹ کے باوجود' لوگ بڑے بےاثرے اور
ڈھیٹ رہے ہیں۔ ان کی مثل ایسی رہی ہے۔
پلے نئیں دھیلا کر دی پھرے میلہ میلہ
جب جیب خالی ہے' تو پرائیویٹ ڈاکٹروں اور سرکاری ہسپتالوں
میں کیا لینے جاتے ہو۔ 'موت کا ایک دن معین ہے' سب جانتے
ہیں' اس کے باوجود پرخراٹا نیند سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر' یا
بےایمانی تیرا آسرا' کہہ کر کام پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ بیمار کو'
زندگی میں پہلی بار' بیماری نہیں ہوتی' جو فکرمندی سے کام
لیا جائے۔ سانیس باقی ہوئیں تو اسے کچھ نہیں ہو گا۔ اتنے تردد
کی ضرورت کیا ہے۔ دوسرا ڈاکٹر فیس رکھوائی اور ٹسٹ
لکھائی کے سوا' جانتے ہی کیا ہیں۔ اس سے تین فائدے ہوں
گے۔
فضول خرچی نہ ہو سکے گی اور وہی رقم' گھر کے کسی
دوسرے رفاعی کام میں' صرف ہو سکے گی۔
جب مریض مرے گا' دیکھا جائے گا' کامے تسلی سے' اپنے
اپنے کام پر جا سکیں گے۔
مریض گھر پر' بڑی تسلی سے' اپنی آئی پر' اپنے بستر پر دم
.توڑے گا
شاہ اپنی عیش کوشی اور تاج محل سازی کے لیے' بےمعنی اور
بےمعنی ٹیکس وصول کرتے ہیں' تو واپڈا' ٹیلی فون' اکاؤنٹ
آفس' نادرہ والے وغیرہ کس حساب میں' مفتوں کے کیوں کام
کریں۔ اعلی شکشا منشی اور اس سے متعلق وصولی گاہوں نے'
کمال کی انھی مچا رکھی ہے۔ کوئی کام ہو یا کسی حق کی
وصولی کا معاملہ ہو'تو صبر شکر سے کام لیں۔ آخر یہ صبر
شکر ہوتے کس لیے ہیں۔ میں بھی ایسی حماقتیں کرتا رہا ہوں۔
مجھے ناکامی نامرادی اور خطرناک چپ کے سوا' کچھ ہاتھ نہیں
لگا۔ اپنے ایم فل کے الاؤنس کے لیے 0661سے درخواست
بازی کرتا آ رہا ہوں۔ جواب میں خوفناک چپ کے سوا کچھ ہاتھ
نہیں لگا۔ اب میں نے بھی غصہ میں آ کر' پکی پکی چپ وٹ لی
ہے۔ نئیں تے ناسہی۔
انھیں اپنے موجود یا سابقہ کارکنوں کی پرواہ نہیں' تو میں ان
کے کیوں قدم لیتا رہوں۔ ایک سوچ یہ بھی آتی ہے' کہ بار بار
ان کے بیش بہا جوتے چھونے سے' گربت' عسرت' بےچارگی'
بےبسی اور میں میں' کی آلودگی منتقل تو ہو گی ہی۔ بےشک یہ
معاملہ سوچن ایبل ہے۔
ایک دفع کے ذکر کے حوالہ سے' ایک بات ذہن میں آتی ہے'
اگر مقتدرہ طبقہ حکم جاری کر دے' کہ ہر چھوٹی بڑی گاڑی
خصوصا ریڑھی والے' چار نہیں تو دو ملازم رکھے' جو آگے
آگے چل کر لوگوں کو پیچھے کے احوال سے آگاہ کرتے جائیں۔
اس سے' ان کے ایک طبقہ کی مٹھی گرم ہوتی رہے گی۔
بےروزگاروں کو روزگار مل جائے گا۔ بےگناہ' کوسنوں اور
بےنکاحی گالیوں سے بچ جائیں گے۔
الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل
بخدمت جنابہ حکومت صاحبہ
عنوان :درخواست بسلسلہ الیکشن کی تاریخ بڑھانے اور متواتر
بڑھاتے رہنے
جناب عالیہ
بندہءناچیز بصد احترام و احتشام عرض گزار ہے کہ
ملک اور اس کے عوام' پرکھٹن حالات سے گزار رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال کے پیش نظر' الیکشنوں کا اہتمام کرکے'
ہر دو پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے۔ وقتی سہی' ان کی بھوک
اور عزت و احترام کے مسائل حل ہوئے ہیں۔ ان میں اپنے ہونے
کا احساس جاگ رہا ہے۔ بڑے لوگ' جب چھوٹے' مالی ضعفوں'
بےسفارشی اور سماجی حیثیتی کم زوروں کے گھر دستک دے
کر' ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں' تو ان میں سربکس ٹی سے
بڑھ کر' توانائی اترتی ہے۔ توانائی بلاشبہ شگفتگی کے ساتھ
ساتھ' چستی بھی پیدا کرتی ہے اور موڈ کو سٹ رکھنے میں
مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
جناب والا
کسی پوسٹ پر آئے امیدوار سے' انٹرویو میں سوال کیا گیا:
سلیکٹ ہو جانے کی صورت میں' ملک کی خدمت کرو گے۔
اس نے جوابا کہا :بالکل نہیں
انٹرویو لینے والے کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی۔ جواب
بلاشبہ بڑا کھردرا اور بےمروت سا تھا۔ اس نے کامل حیرانی
سے پوچھا :یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔
اس نے جواب میں کہا :مجھ سے پہلوں نے کچھ کیا' یقینا نہیں۔
کچھ وقت پاس کرتے رہے' کچھ نے لوٹ سیل لگائی۔
پھر پوچھا گیا :آپ ان میں سے کون سا طور اختیار کریں گے۔
صاف ظاہر ہے' شریف آدمی ہوں' سیل ہلکی پھلکی رکھوں گا'
ہاں زیادہ تر وقت پاس کروں گا۔
جناب والا
آج تک منتخبہ ممبروں نے' ملک کی جو خدمت کی ہے یا کر
رہے ہیں' پر مثبت یا منفی گفت گو کرنے کی ضرورت نہیں' روز
سیاہ کی طرح سیاہ ہے' کہ انہوں نے لوٹ سیل مچانے کے سوا
کچھ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ کچھ بھی نہیں کرنے کا' پروگرام
اور ایجنڈا رکھتے ہیں۔
جناب والا
میڈیا مال پانی لگانے والوں کی' عیب پوشی میں کوئی دقیقہ اٹھا
نہیں رکھتا' ہاں ان کے ناکردہ کارناموں کو' خوب اچھالتا ہےاور
بےجھڑیوں کی خوب خوب مٹی پلید کرتا ہے۔ جھڑیوں کے
کھیسہ میں' ہر اچھا ناکردہ ڈال دیتا ہے۔ تیز رفتار اور اعلی
کارگزار میڈیا ہوتے ہوئے' شاہوں کی اچھائی اور برائی معلوم
کی حدود سے باہر ہے۔ اپنے طور پر لوگ انٹرنیٹ پر کچھ ناکچھ
رکھتے رہتے ہیں۔
جناب والا
ایک نائب قاصد کی رکھوائی کے لیے' سو طرح کی شرائط اور
باتصویر قائداعظم کے' اصلی کاغذات کی ضرورت ہوتی ہے۔
زبانی کہنا' سفارش کے کھاتے میں نہیں آتا۔ اب زبان بےوقار ہو
گئی ہے۔ یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے' جس میں ہاتھ حرکت کرتے
ہیں' ورنہ ہر کام اور معاملہ میں غیرمتحرک ہو گیے ہیں۔ زبان
کا کام' جوان جہان گلی گلی میں پھرتے' ان گنت فقیروں تک
محدود ہو گیا ہے۔ درسوں کے چھوٹے بچے گلی گلی چندے کے
لیے پھرتے ہیں۔ وہ منتی اور سماجتی انداز میں' جب زبان سے
چندے کے لیے کہتے ہیں' تو دل بھر آتا ہے۔ خیر وعدے بازی
اور بیان درازی کے لیے' لیڈر زبان ہی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان
امیدوران کو اس قماش کی سو طرح کی شرائط سے' استثناء
حاصل ہوتا ہے۔
جناب والا
جن کی معاشرے میں کوئی اوقات نہیں' یہ امیدوران ان کے
بےدر اور غیر محفوظ گربت کدوں پر' بڑی اپنائیت اور مصنوعی
خلوص کے ساتھ' حاضری دے کر انہیں ووٹ دینے کی استدعا
کرتے ہیں۔ راہ گزرتے ہاتھ اٹھا کر' سلام کرتے ہیں۔ گویا اسلام
کا نفاذ پورے زوروں پر ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے'
تو ناصرف اسلام کا نفاذ ہوتا رہے گا' بل کہ خلوص اور باہمی
احترام کی فضا پیدا ہوتی رہے گی۔ گلی گلی محمود وایاز ایک
ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ انیچ نیچ' رنگ نسل' علاقہ' زبان
وغیرہ کی تفریقات دم توڑ دیں گی۔
جناب والا
امیدوار ممبران کے ڈیرے' حاتم کدے بن گیے ہیں۔ آنے جانے
والوں کی' بڑے اہتمام سے تواضح کی جاتی ہے۔ اگر ڈیڑے پر
معمولی سی بھی' کوتاہی نظر آتی ہے' تو لوگ دوسرے ڈیرے کا
رستہ لیتے ہیں۔ کچھ' اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جانا نہیں
بھولتے۔ بےروزگاروں کو روزگار میسر آ گیا ہے۔ ٹی سی گاروں
کی تو چاندی ہو گئی ہے۔ سونا اس لیے نہیں کہا' کہ اس کا تعلق
بڑے الیکشنوں سے ہے۔
جناب والا
الیکشن مہم ختم ہو جانے کے بعد' ان میں سے کچھ باقی نہیں
رہے گا۔ یہ سیری کا شیش محل' ویرانے میں بدل جائے گا۔
عزت و احترام کی فضا' دم توڑ دے گی۔ نفاذ اسلام کی فضاؤں
میں' جلال و تمکنت کا بارود بھر جائے گا۔ ایسے حالات میں'
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ الیکشنوں کی تاریخ' بار بار ناسہی'
دوچار بار تو اگلی تاریخوں میں منتقل کی جائے۔ ہاں جب بڑے
الیکشن آئیں گے' تو اس عمل کا' لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا
جائے۔ اس طرح گریبوں کی جیب پھاڑ کر' ڈکارنے کے لیے
سیفوں میں رکھا گیا پیسہ' لوگوں کی صدیوں کی بھوک پیاس
مٹانے کے کام آ سکے گا۔ ساتوں چہلموں پر میسر کھانا' محدود
نوعیت اور محدود لوگوں کے کام آتا ہے۔ عید قربان کا گئوشط
اپنوں میں' یا بڑوں کو چڑھاوا چڑھ جاتا ہے۔ اس لیے گریبوں
کے مقدر میں' نہیں یا چھچھڑے آتے ہیں۔ گویا اس دن بھی'
انہیں بھوک سے چھٹکارا حاصل نہیں ہو پاتا۔
جناب والا
اندریں حالات بالا استدعا ہے کہ وقتی طور پر سہی
انسانی تفریق و امتیاز کی فضا ختم کرنے کے لیے
باہمی عزت و احترام قائم کرنے کے لیے
جھوٹے وعدے اور بہلاوے سننے کے لیے
اسلام کے نفاذ یا اسلامی ماحول کے قیام کے لیے
بھوک پیاس کے خاتمے کے لیے
بار بار ناسہی' دوچار بار الیکشنوں کی تاریخ تبدیل کی جاتی
رہے۔ آپ کی یہ عنایت' قوم کے لیے' بہت بڑا تحفہ ہو گا۔ آپ
کے اس عظیم اور دانش مندانہ فیصلے کو' چوری خور مورکھ'
زعفرانی سیاہی سے' رقم کرے گا۔ بھوکے پیاسے لوگ' آپ کو
دعائیں دیں گے' جس سے آپ کا اقبال مریخ کی بلندیوں کو
چھوتا رہے گا۔
آج مورخہ اکتوبر6108 '00
العارض
اعلی شکشا منشی کی خدمت گرامی میں' 0661سے گزاری
گئی درخواست ہائے ہائے' بسلسلہ ایم فل الاؤنس' کے جواب
سے مرحوم
بےبس وبےکس وچارہ مقصود صفدر علی شاہ
ریٹائرڈ ایسوی ایٹ پروفیسر اردو
بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحقیق
بازار چلے جائیے' ہر چیز کی بےشمار سیل بند' یعنی ڈبہ
پیکنگ' بلا ڈبہ پیکنگ ورائیٹیاں میسر آ جائیں گی' اوپن بھی مل
جائیں گی۔ ظاہری حسن' چلتا پھرتا بل کہ بھاگتا دوڑتا نظر آئے
گا۔ چمک دمک' بناوٹ کا حسن اور پیش کش وغیرہ' انتخاب کو
مشکل بنا دے گی۔ آپ کا دل چاہے گا' ہر قسم کی ایک ایک خرید
کر لوں۔ بس جیب کے ہاتھوں مار کھا جائیں گے۔ اگر حضرت
بےغم حضور ساتھ ہوں گی' تو ایک کی ضرورت ہوتے' شاید
نہیں یقینا کئی ایک خریدنے کی ضرورت پیش آ جائے گی۔
ضرورت اور تصرف کے' ان گنت اور ان حد بلا فی میل' جواز
جنم لے لیں گے۔ اکثر آپ کے حوالہ سے' اور آپ کی ضرورت
کے تحت جنم لیں گے۔ یہ اس سے قطعی الگ بات ہے' کہ بعد
میں ہاتھ لگانا تو دور کی بات' آپ کی بینائی انہیں دیکھنے سے
بھی' معذور پڑ جائے گی۔ ان کا زبان پر نام لانا بھی' جرم
سرمدی بن جائے گا۔ شہادت کی فضیلت کے باوجود' حضرت
قبلہ اپنی پیرومرشد بےغم صاحب مداذلا لالی کے ہاتھوں' شہادت
کا عظیم رتبہ دل وجان سے پانا پسند نہیں کریں گے لیکن ذلت
کا دنبہ بن کر' ذبح ہو جائیں گے۔
یہ خریدداری' محض ظاہری کمال کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے
باطن میں' نقائص کی بےشمار خبائثتیں موجود ہوتی ہیں۔
خبائثتوں کی عریانی کے بعد' شکائتوں کا لامتناہی سلسلہ'
شروع ہو جائے گا۔ گھر والی' ہر جا یہ ہی کہے گی' کہ یہ محفل
میں بات کرنے اور خریداری میں' بالکل صفر ہیں۔ حالاں کہ نہ
بولنے دیا گیا ہوتا ہے اور نہ ہی خریاری میں' مشورہ لیا گیا
ہوتا ہے' بل کہ آپ کی پسند کی خریداری کی ہی نہیں گئی ہوتی۔
آپ کا اگر بس چلتا' تو شاید نہیں' یقینا خریدنے سے سو فی صد
اجتناب برتتے۔ سوئے اتفاق' ایک بار بھی انکار کرکے پوری
برادری اور علاقہ میں' تھوڑ دل معروف ہو جائیں گے۔
بات چیت میں نااہل
خریداری میں نکما
تھوڑ دل
کردار و شخصیت کا جز قرار پا کر' عرف میں داخل ہو جائیں
گے' اس لیے انہیں دو نمبر نہیں کہا جائے گا۔ اگر ان میں سے
کوئی' عرف میں آنے سے مرحوم ہو جاتا ہے اور کوئی کہتا
ہے' تو یہ بلاشبہ دو نمبری ہو گی۔ بیگمی مہر ثبت نہ ہونے کے
سبب' کوئی معاملہ اپنا وجود رکھتے ہوئے بھی' دو نمبری ہوگا۔
پہلی صورت میں نکاحی' جب کہ دوسری صورت میں' بےنکاحی
ہو گا۔ نکاحی ہونے کے لیے' معاملے کا عرف میں آنا اور اس
پر بیگماتی مہر کا ثبت ہونا' ضروری ہوتا ہے۔
ہمارے ادھر' ایک ہی نام اور ایک ہی مسلک کے' دو مولوی ہوا
کرتے۔ نام اور مسلک کی مماثلت کے باعت' کنفوژن قسم کی
چیز پیدا ہو جاتی۔ شناخت کے حوالہ سے' ایک کو مولوی وڈیرا
جب کہ دوسرے کو' مولوی چھوٹیرا کہا جانے لگا۔ اتفاق سے'
بظاہر بلا کسی کرنی کے'مولوی چھوٹیرا حق ہو گیا۔ اگر اس کا
کیا' معافی کے لائق ہے' تو الله اس کو معاف فرمائے' ورنہ الله
کی اپنی مرضی ہے' معاف کرے ناکرے۔ یہ مذہبی لوگ' بڑے
معصوم اور بےگناہ سے ہوتے ہیں۔ کھانا' اس کے بعد بھی
کھاتے ہیں .انسانی تفریق' ان کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔
اس لیے' الله انہیں ناہی معاف کرئے' تو اچھا ہے۔
مولوی چھوٹیرے کی موت کے بعد' مولوی وڈیڑے کی خوب بن
آئی۔ موصوف تھوڑا سا' کافی سے زیادہ فربہ تھے .قد کے لحاظ
سے' پورے پورے تھے' اس لیے باطور مولوی بٹیرا معروف
ہو گیے۔ لوگ ان کا اصل نام بھی بھول گیے۔ اپنے عرفی نام
سے' جان پہچان پکڑ گیے۔ الله جھوٹ نہ بلوائے' یہ نام مولوانی
صاحبہ کا دیا ہوا تھا۔ نہ بھی دیا ہوتا' تو بھی عرف میں آنے
کے باعث' یہ نکاحی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر مولوانی صاحبہ
کا عطا کردہ تھا' تو سونے پر سہاگے والی بات ہے۔کسی سطح
پر دو نمبری کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس لیے مرکب مولوی
وڈیرا ہر لحاظ سے نکاحی کے کھاتا میں جاتا ہے
ہمارے ادھر' عمر درزی ہوا کرتا تھا۔ بڑا زبردست ہنروند تھا۔
اس کا مختلف قماش کے لوگوں سے' سارا دن واسطہ رہتا تھا۔
اس کے پاس' تین بینڈ کا ریڈیو تھا۔ گانے شانے بہت کم سنتا'
لیکن خبریں اور تبصرے خوب سنتا۔ سنتے ہیں' رات کو سونے
سے پہلے' بی بی سی کی خبریں' اس کے بعد جہاں نما شاید یہ
ہی نام تھا' ضرور سنتا۔ لوگ اچھا درزی ہونے کی وجہ سے'
کپڑے اسی سے سلواتے۔ کپڑے اور ناپ دینے کے بعد'
کھسکنے میں خاطر جمع سمجھتے۔ بولتا بڑا تھا۔ جب کبھی'
کسی محفل میں آتا' تو لوگ یہ کہتے ہوئے' چلتے بنتے' چلتے
ہیں' کتا آ گیا ہے۔ عمردرزی کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس
کی بیوی بھی' اس کی اس عادت سے نالاں تھی۔ یہ الگ بات
ہے' کہ اس ذیل میں وہ' اس کی بھی پیو تھی۔ عمر درزی اس
کے حضور' کسکتا تک نہ تھا۔
کسی کو کتا کہنا' بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ہر لحاظ
سے' دونمبری زبان میں داخل محسوس ہوتا ہے۔ مگر کیا کیا
'جائے
.کتا آ گیا ہے' میں تشبیہ کا تعلق موجود تھا
یہ استعارہ عرفی درجے پر فائز ہوگیا تھا۔
مہر زوجہ پورے پہار کے ساتھ ثبث ہو چکی تھی۔
کتے کے اس لقبی نام کو' ان سہ وجوہ کی بنا پر' اس دور کا
سفاک ترین شخص' مسٹر چہاڑی بھی بےنکاحیا قرار نہیں دے
سکتا تھا۔ اگر قرار دینے کی سوچتا بھی' تو ہفتوں بےنکاحی
گالیاں سنتا۔ الله بخشے پہاگاں کا بولنے کے حوالہ سے' بڑا
سٹیمنا اور نام تھا۔ رانی توپ' اس کی سگی خالہ زاد تھی۔
سیاست' عمومی تفہیم اور سینس میں' ہیرا پھیری' جھوٹ'
وعدوں کا پلندہ' لوٹ مار وغیرہ کے زمرے میں آتی ہے۔
سیاست اور ان امور و اصول کا' چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر
کوئی سیاست دار' ان امور و اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے' تو
دونمبری کا مرتکب ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسا ہوتا' کبھی دیکھنے
سننے میں نہیں آیا۔ ہاں ایک بات یاد آئی' جھوٹ بولے' تو اس
پر سچ کا گمان سا ہو۔ وعدہ کرئے' تو اس طرح کرئے' کہ
لوگوں کو اس کی اگلے یا کسی اور موڑ پر ایفائی کا یقین سا ہو
جائے۔ غبن اور ہیرا پھیری پکڑ میں آ جاتے ہیں' یا ان کا کسی
طبقے کو علم ہو جاتا ہے' تو ایسے شخص کو' شخص کہا جا
سکتا ہے' اسے سیاست دار یا سیاست دان نہیں کہا جا سکتا .یہ
سیاست میں بددیانتی' ہیرا پھیری اور دو نمبری ہو گی۔ گویا ہیرا
پھیری' جھوٹ' وعدوں کا پلندہ' لوٹ مار وغیرہ کا' سیاست
سے' چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایسی سیاست کو ہی' نکاحی
سیاست کہا جائے گا' باصورت دیگر وہ بےنکاحی ہو گی۔
ایک تفہیم میں' یہ بات بھی آتی ہے' کہ امور و معاملات کے
لیے' سلیقہ اور علاقائی پاسداری درکار ہوتی ہے۔ جیسے ایک
پنجابی' کسی اردو اسپیکنگ کو' گالیاں نکال رہا۔ اس میں کوئی
شک نہیں' کہ وہ بڑی سنیما سکوپ قسم کی گالیاں تھیں۔ اس
سے سننے والوں کو حظ مل رہا تھا۔ اعضائے مردانہ و زنانہ
عذاب میں تھے' تاہم اتنی اذیت میں نہ تھے' جتنی عورتوں کی
لڑائی میں آ جاتے ہیں۔ گویا وہاں ان پر حاویانہ بدنصیبی نازل ہو
جاتی ہے۔
درایں اثناء اردو بولنے والے صاحب کہنے لگے' حضرت تمیز
سے گالی نکالیے' ورنہ ہم بھی آپ کی ماں بہن کی شان میں
.گستاخی کر بیٹھیں گے
اس میں' سوال علاقے کا اٹھتا ہے۔ اگر گالیاں دینے یا بکنے
والا پنجابی' اردو بولنے والے صاحب کے' علاقہ میں تھا تو یہ
کھلی دو نمبری تھی۔ اسے' ان کے علاقے کا طور' اختیار کرنا
چاہیے تھا' جیسے ضمائر کے استعمال میں' میں کر رہا ہوں۔
اگر اردو بولنے والا' پنجابی کے علاقہ میں تھا' تو یہ دو نمبری
نہ تھی۔ اس کے علاقہ میں ہر گالی نکاحی' جب کہ اس کے
علاقہ میں بےنکاحی تھی۔
مغرب کا اپنا رواج ہے' اس لیے معاملے کو' ان کے اصولوں
کے تحت نہیں لیا جا سکتا۔ یہاں نکاح کے' اپنے اطوار ہیں۔
فریقین سے' الگ الگ گواہان کی موجودگی میں' قبولیت کے
بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ہاں کی صورت میں' وہ ایک دوسرے
کے لیے' جائز ہو جاتے ہیں۔ کسی سے' کتنا ہی تعلق پیار ہو'
بلانکاح وہ ایک دوسرے کے لیے' دو نمبری ہوں گے۔ اگرچہ
دونوں طرح سے' کام اور نتائج ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن
جائز اور ناجائز کی حدود' قائم رہتی ہیں۔ پہلا طور' عرف عام
میں آ کر' ایک مستقل نام کا مستحق ٹھہرتا ہے جب کہ دوسری
صورت میں' پوشیدگی ضروری ہوتی ہے' ورنہ علاقہ میں گڈا
بندھ جاتا ہے۔ گویا نکاح میں' معاملہ عرف عام میں آ جاتا ہے'
اس لیے درست اور جائز قرار پاتا ہے۔
میری بیوی مجھے
بات چیت میں نااہل
خریداری میں نکما
تھوڑ دل
قرار دے دے تو غلط یا دونمبری نہ ہو گی' کیوں کہ سب جانتے
ہیں' کہ میں اس کا بندہءناچیز ہوں۔ مالک اپنے بندے کو' کچھ
بھی کہہ سکتا ہے یہ اس کا نکاحی استحقاق ہے۔ جس سے
معتوب خاوند بھی' انکار نہیں کر سکتا۔ کھوتی ریڑی والے کو
میں صرف اتنا جانتا ہوں' کہ کھوتی ریڑی ڈرائیو کرتے اکرام
راہی کا گانا گا رہا تھا یا پھر ریڑی کا مارنا مجھے یاد ہے۔ وہ
کون تھا کہاں رہتا تھا میں نہیں جانتا۔ میں اسے کس حساب میں'
وہ کچھ کیسے کہہ سکتا ہوں جو عرف میں نہیں حالاں کہ میں
نے' اسے دیکھا تھا۔ میں اسے زیادہ سے زیادہ بےسرا اور
بےمہارا کہہ سکتا ہوں اگرچہ یہ بھی' عرف عام میں نہیں۔ گویا
اصولا میں اسے بےسرا اور بےمہارا بھی نہیں کہہ سکتا۔ میری
بیوی اگر اسے وہ وہ کچھ کہہ دیتی جو عرف میں نہیں' یہ دو
نمری ہو گی ہر دو نمبری بےنکاحی ہوتی ہے۔
ساختیات کے مطابق' کوئی تشریح اور معنویت آخری نہیں۔
تحقیق کا بھی' یہی اصول اور کلیہ ہے۔ کسی بات کو آخری قرار
دینا' مزید کے دروازے بند کرنا ہے۔ اضافہ' کمی اور تردید کا
دروازہ' ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ بعض اوقات' ماخذ وہ ہی رہتا ہے'
لیکن بہتری کی صورتیں نکلتی رہتی ہیں۔ مارکونی کی ایجاد'
ریڈیو ہی کو لے لیں۔ لہروں کا نظام وہ ہی ہے' لیکن اس سے
بہت کچھ تیار کر لیا گیا' کہ حیرت ہوتی ہے۔ اصل دکھ کی بات تو
یہ ہے' کہ مادہ کے کھوجی کو بھلا دیا گیا ہے۔ خیر جو بھی
صورت رہی ہے' اس سے یہ بات ضرور کھلتی ہے کہ تحقیق
میں کچھ بھی حرف آخر کے درجے پر فائز نہیں۔ بالکل اسی
طرح کسی تشریح و معنویت' یہاں تک کہ ہئیت اور تلفظ کو'
آخری ہونے کا درجہ نہیں دیا سکتا۔
لفظ اگر متحرک ہیں اور کسی ناکسی حوالے سے مقامی و غیر
مقامی ولائیتوں میں مہاجرت اختیار کرتے ہیں تو ان کی ہئیت'
تلفظ' مکتوبی اشکال' اور معنویت میں بھی' ہرچند تبدیلی آتی
رہتی ہے .اس تناظر میں' میرا کہا گیا' حرف آخر نہیں۔ مرکب
بےنکاحی گالیوں کے اور بہت سے مفاہیم سامنے آتے جائیں
گے۔
احباب اور ادارے آگاہ رہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو الله نے بہترین تخلیق
فرمایا۔ اسے اگہی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ اس میں بےشمار
شکتیاں رکھ دیں۔ ہر شکتی کے ہر سیل کا کوڈ مقرر کیا اور یہ
راز‘ راز میں رکھا۔ اگر اس راز کی آگہی انسان کی اپروچ میں
ہوتی تو انسان کی خود انسان کے ہاتھوں کیا کیا ہئیتی صورتیں
ہوتیں۔ انسان کیا سے کیا ہو جاتا۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کی اپروچ
میں رکھ دیا۔ یہی نہیں کیوں اور کیسے کی کھوج کا مادہ بھی
اس کی فطرت کا حصہ بنایا تا کہ تخلیق کے ساتھ ساتھ تزئین کا
عمل بھی جاری و ساری رہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن اسے
محدود بھی کر دیا۔ اپنی موجودہ حالت میں لامحدود بھی کہہ لیں
تو کوئ حرج نہیں۔ اس کی لامحدودیت بھی محدود کر دی۔ وہ
نہیں جانتا کہ اسے اگلا سانس آئے گا کہ نہیں آئے گا۔ اس طرح
ہر ادھورہ کام اگلے انسان پر چھوڑ دیا تاکہ کھوج اور تلاش کا
عمل کسی سطع پر تعطل کا شکار نہ ہو۔ ضروری نہیں اگلا
انسان اسی سوچ کے ساتھ اسی طرح کرئے جس طرح کہ پہلے
نے کیا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے انسان اپنی تحقیق مکمل کر چکا ہوتا ہے اور
پیش کر چکا ہوتا ہے بہت بعد میں یا پیش کش کے فورا بعد
کوئی نیا سراغ مل جاتا ہے اور وہ اپنے کیے ہی کو مسترد
کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی پیش کش
کے بطن سے اور بہت سی چیزیں جنم لیتی ہیں۔ مارکونی نے
ریڈیو ایجاد کیا۔ آج ریڈیو کے حوالہ سے ان گنت چیزیں وجود
میں آئ ہیں۔ میں نے بڑی محنت اور مشقت سے لفظ ہند کی
تحقیق کی اور اپنا مقالہ انٹرنیٹ پر پیش کر دیا۔ ازاں بعد ایک
دوسرا سراغ ملا۔ پہلا کام یکسر غارت ہو کر رہ گیا۔ بات کدھر
کی کدھر نکل گئی۔ اس نئے کام کو۔۔۔۔۔۔اردو ہے جس کا نام۔۔۔۔۔۔
کےعنوان سے پیش کیا۔ میرا قطعا دعوی نہیں کہ جو میں نے
پیش کیا ہے‘ حرف آخر ہے۔ تحقیق کی حد نہیں کہ معاملہ کہاں
سے کہاں پہنچ جاءے۔ میرا کہا کیا سے کیا ہو جائے۔
میں کافی سوچ و بچار کے بعد اس نتیجہ پر پنچا ہوں کہ کامل
صرف اور صرف الله کی ذات گرامی ہے اور ہر کاملیت اسی کی
طرف پھرتی ہے۔ اگر کوئی دعوی کرتا ہے تو جھوٹ سے کام
لیتا ہے۔ انسان اس نوع کے دعوی کے لیے دلیل نہیں رکھتا۔۔
انسان کا کہا اور کیا ،کبھی اور کسی سطع پر حرف آخر کا درجہ
حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر وہ ایسا کہتا ہے تو غلط کہتا ہے۔ اگر
وہ ایسا سوچتا ہے تو غلط سوچتا ہے۔ اس طرح کا کہنا اور
سوچنا نادنی کے سوا کچھ نہیں۔
میں نے اپنی کسی تحریر میں کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر زیدی شاعر
اور کالم نگار سے بڑھ کر سچے سچے اور کھرے پروف ریڈر
ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے کہے پر ناز تھا۔ ان کا ٦٢نومبر کا کالم
پڑھ کر مجھے اپنے کہے پر شرمندگی ہوئ ہے۔ وہ اس ہنر میں
بھی پرفیکث نہیں ہیں۔ خیر وہ تو اچھا ہوا کسی نے ابھی تک ان
سے اس ذیل میں خدمات حاصل نہیں کیں ورنہ ان کا کیا جانا تھا
کوسنے تو مجھے ملنے تھے۔ میں اس تحریر میں کہی گئ اس
بات کو واپس لیتا ہوں۔ اگر اب بھی پروف ریڈنگ کے ضمن میں
کوئ ان کی خدمات حاصل کرتا ہے ہر غلط ملط کی ذمےواری
خود اس پر عائد ہو گی۔ میرا ذمہ اوش پوش۔
غلط معلومات فراہم کرنے پر میں دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔
احباب اور ادارے آگاہ رہیں۔
مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان
دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےغصے میں آ کر
اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ مولوی صاحب کی
کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے کی دیگ اور دو سو نان ڈال
دیے۔ نئی شادی پر اٹھنے والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔
میاں نے مولوی صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں
عافیت سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے قریب بیٹھے
ہوئے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوئے کہا
"اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔
بات میں سچائی اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود تھی۔ میاں
نےدوبارہ بھڑک کر کہا
"توں پیو نوں کیوں چھیڑیا سی
بظاہر اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر بھڑکا جائے بلکہ
اس میں میاں کی ہی حماقت نظر آتی ہے۔ اصل معاملہ یہ نہیں
جو بظاہر دکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زوجہ محترمہ غلطی میاں
کی ثابت
کرنا چاہتی تھی۔ گویا اس کی غلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ
یاد نہ رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس کے
ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ کہتی حضرت
سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں بات کہہ دی جس کے سبب
ہمیں دیگ اور نانوں کا خرچہ پڑ گیا۔ بات ختم ہو جاتی۔ وہ
دراصل میاں کو سزا دینا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دیگ
اور نان کا خرچہ برداشت کر لے گا کیونکہ یہ نئ شادی پر
اٹھنے والے خرچے کا عشر عشیر بھی نہیں۔
ایچ ای سی پاکستان مندے حال میں ہے۔ اس کی کوئی سننے
والا نہیں کیونکہ سننے والوں کو اس نے بری طرح ڈسٹرب کیا
اب اوپر سے خود کو سچا اور برحق سمجھ رہی ہے۔ مجھے
اس کے دو ای میل ملے ہیں وہ ہسمجھ رہی ہے کہ میں اس کے
حق میں کچھ لکھوں گا۔ میں پاگل ہوں جو اس کے حق میں قلم
اٹھاؤں گا۔ کسی جھوٹے کے لیے قلم اٹھانا جھوٹے کے جھوٹ
کی تائید کرنے کے مترادف ہے۔ ادارے تاج وتخت کے غلام
ہوتے ہیں اور انہیں تاج وتخت کے غلط معاملات کو تحفظ اور
انہیں درست ثابت کرنے کے لیے قیام میں میں لایا گیا ہوتا ہے۔
وہ پروفیسر ہیں اور خود کو سچائی کا ٹھیکیدارسمجھتے ہیں
حالانکہ سچائ ان کی گندی سوچ کے برعکس ہے۔ انہیں تنخواہ
اس بات کی ملثی ہے کہ وہ تاج والوں کے اشاروں پر رقص
کریں۔ انہوں نے حاکم طپقے کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا۔ حاکم
طبقہ کبھی جعلی نہیں ہوتا۔ اگر تگڑے غلط قرار پانے لگے تو
انہیں تگڑا کون مانے گا۔ ازل سے غلط عضو کمزور رہا ہے۔
انہیں کس حکیم نے اتنے ووٹ حاصل کرنے والے لوگوں کی
ڈگریاں غلط قرار دینے کو کہا تھا۔ انہیں سیٹوں پر رعایا کی
وقت پڑنے پر مرمت کرنے کے لیے عہدے دیے جاتے ہیں۔
ڈگری تو بہرصورت ڈگری ہوتی ہے اس میں غلط یا صیح ہونے
کا سوال کہاں اٹھتا ہے۔
ویسے خود کو تابع فرفان لکھتے ہیں لیکن عملی طور پر خود
کو بالاتر سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔ پانی اوپر سے نیچے آتا
ہے‘ نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔ جن کی انہوں نے ڈگریاں جعلی
قرار دی ہیں جیل نہیں چلے گیے۔ موج میں تھے موج میں ہیں۔
اقبال نے کہا تھا
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
اصولی سی بات ہے مچھلی دریا میں زندہ رہ سکتی ہے لہذا وہ
دریا سے باہر کیوں آئیں گئے۔ دریا ان کا اپنا ہے۔ اپنوں سے
کبھی کوئی جدا ہوا ہے؟
ان کے نکالنے کی کوشش سے وہ کیوں نکلیں گے۔ دریا قطرے
قطرے سے بنتا ہے۔ ان کے لیے چند قطرے معنویت نہ رکھتے
ہوں لیکن دریا کے لیے بڑی معنویت رکھتے ہیں۔
تیر کمان سے نکل چکا ہےاب کچھ نہیں ہو سکتا ہاں البتہ ایچ
ای سی‘ پاکستان دوسرے اداروں کے لیے نشان عبرت ضرور
ہے۔ جو بھی چنیدہ اور دریا کے اندر موجود دریا کی ذاتی
مخلوق کے خلاف قدم اٹھاتا ہے گلیوں کا روڑا کوڑا بھی نہیں رہ
پاتا۔ ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پنا تو یہ ہے کہ یہ سچ پتر غلطی کو
غلطی تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسین ایک ہی تھا۔ آج
کسی کو ریاست کے گناہ گاروں کے لیے اپنے بچے مروانے کی
کیا ضرورت پڑی ہے۔ ان کی مدد کے لیے کوئی میدان میں نہیں
آئے گا۔ باور رہنا چاہیے سر کا بوجھ سر والے کے پاؤں پر آتا
ہے۔
سیری تک جشن آزادی مبارک ہو
میں اس امر کا متعدد باراظہار کر چکا ہوں کہ برصغیر دنیا کا
بہترین خطہء ارض ہے۔ یہاں کے وسنیک بڑے ہی محنتی اور
ذہین ہیں۔ میدان کار زار میں بھی ناقابل یقین کارنامے سر انجام
دیتے آئے ہیں۔ سکندر دنیا فتح کرنے چلا تھا لیکن راجہ پورس
سے پالا پڑا تو اسے نانی یاد آ گئی۔ ٹیپو کا نام لے کر انگریز
مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں۔
اہل قلم بھی بلا کے ذہین اور بے باک رہے ہیں۔ شاعر علامتوں
اشاروں میں تلخ حقیقتوں کو کاغذ کے بدن پر اترتے آئے ہیں۔
پیٹو مورخ نے؛ اورنگ زیب جو برصغیر کو جہنم میندھکیلنے کا
موڈھی ہے‘ نبی کے قریب پنچا دیا ہے۔ رحمان بابا صاحب نے
واضع الفاظ میں اس کی کرتوتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
بہادر شاہ ظفر نےبڑے ہی رومانوی الفاظ میں اپنے عہد کے
کرب کو بیان کر دیا ہے۔ ذرا یہ شعرملاحظہ فرمائیں کتنا کرب
پوشیدہ ہے۔
چشم قاتل تھی میری دشمن ہمیشہ‘ لیکن جیسی اب ہو گئ قاتل
کبھی ایسی تو نہ تھی
ذہانت کی پذیرائی تو بڑی دور کی بات‘ ان کی ذہانت کو کبھی
تسلیم تک نہیں کیا گیا بلکہ ذہانت کی تذلیل ہی کی گئ ہے۔ ہنر
مندوں کے ہاتھ کاٹے گئے ہیں۔ بعض تو جان سے بھی گءے
ہیں۔ اس کے برعکس کرسی قریب جھولی چکوں کو نوازا گیا
ہے۔ یہی جھولی چک اپنی عیاری کے بل پر کرسی پر شب خون
مارتے آئے ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں غداروں اور دھرتی کے نمک
حراموں کے سبب بیرونی طالع آزماؤں کے سبب یہ دھرتی
غیروں کی غلام رہی ہے۔ غیروں نے اس کےوساءل سےموجیں
کی ہیں اور خوب پچرے اڑائے ہیں اوراڑا رہے ہیں۔ حالات
بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہ غدار اور دھرتی کے
نمک حرام لوگوں کی ذہانت کا اسی طرح قیمہ کرتے رہیں گے۔
اس ذیل میں خدا کے خوف کی بات کرنا حماقت سے کم نہیں۔
خدا‘ خدا کا خوف کھاءیں؟ بادشاہ لوگوں کا شروع سے یہی طور
اور وتیرا رہا ہے۔ دور کیا جانا ہے آج کے خدا نما بادشاہوں کو
ہی دیکھ لیں کیا کر رہے ہیں۔ شخص ان کے لیے کیڑے مکوڑے
سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کی بھوک پیاس سے انہیں
کوئ غرض نہیں۔ انھیں تو باتوں اور جھوٹے دعوں کے عوض
جنتی اور مفتی کھانا مل رہا ہے۔ ان کی دلال افسر شاہی تو
گلچرے اڑا رہی ہے۔ لوگ اندھیروں میں ہیں تو وہ کیا کریں ان
کے ہاں تو چانن ہے۔
چودہ اگست ہر سال آتا ہے۔ سرکاری اور نجی سطع پر جشن
منائے جاتے ہیں۔ سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ میں یہاں کے
ذہین لوگوں کی بات کر رہا تھا اس دن کے حوالہ سے میں اس
ذہین و فطین شخص کو سلام کرتا ہوں جس نے یہ نعرہ ایجاد
کیا -----جشن آزادی مبارک ہو ------جشن آزادی کی مبارک ہے
آزادی کی نہیں۔ نعرہ نے کمال کا ہاتھ دکھا یا ہے۔ وہ جانتا تھا ہم
آزاد نہیں‘ آزادی کا سہانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنے
اور خوش فہمی میں مبتلا رہنے پر کوئی پابندی تو نہیں ورنہ
قوم خادم اور حکومتی گماشتوں کی غلام ہے۔ یہ خادم اور
حکومتی گماشتے امریکہ کے پیٹھوں کے غلام ہیں۔ کیسی آزادی
کہاں ہے آزادی؟
جو لوگ منصف کے درپے ہو جاتے ہیں‘ اسے نیچا دکھانے اور
اپنا دلال بنانے پر اتر آتے ہیں انھیں الله ہی اپنی گرفت میں لے
سکتا ہے۔ وہ صم بکم عم فاھم لا یرجعون کے درجے پر فائز ہو
جاتے ہیں۔ قوم کے حصہ میں فقط جشن آیا ہے سو وہ دھوم
سے منا رہی ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی صرف جشن
پر ہی اکتفا کرے۔
میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ملک کا آءین
معطل یا چیلنج ہو چکا ہے۔ میری اس تحریر
کو کسی ایک نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ اس نام نہاد جشن آزادی
کی کرتوت یہ ہے کہ ملک چیلنج یا معطل آئین کے حوالہ سے
چل رہا ہے۔عوام آخر کس قانون اور آئین کے تحت جشن منا
رہے ہیں۔ یہ جشن بھی غیر آئینی ہے۔ عوام کو تو جھوٹ موٹھ
کی خوشی منانے کا بھی حق حاصل نہیں۔
سال رواں کے اس روائیتی جشن کے موقع پر مجھے محمد نعیم
صفدر انصاری ایم پی اے قصور کا ایک موبائل میسج ملا
۔۔۔۔۔۔۔ زنجیریں غلامی کی‘ دن آتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی ۔
-----چودہ اگست ہپی انڈیپنڈنس ڈے
محمد نعیم صفدر انصاری نوجوان سیاست دان ہے۔ اس کا موباءل
میسج میرے مندرجہ بالا موقف کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
ایک ایوان کے ممبر کے موبائل کے منہ سے نکلی یہ بات اس
امر کا واضع ثبوت ہے کہ ملک اور قوم کا درد رکھنے والے
نوجوان بھی اس غلام اور غبن اور کرپشن آلودہ فضا میں گھٹن
محسوس کرتے ہیں۔ محمد نعیم صفدر انصاریایوان کلچر کا نمائندہ
ہےگویا یہ ون مین گھٹن نہیں ہے پورے ایوان کی گھٹن ہے۔
یہ تو مثل ایسی ہے کہ بہو کو کہا جائے بیٹا سب کچھ تمہارا ہے
لیکن کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ کیسی نمائندگی اور علاقائی
سربراہی ہے کہ لیا سب کچھ جائے لیکن دیا اندھیرا جائے اور
پھر بھی مورخ سے کہا جائے لکھو بادشاہ بڑا دیالو کرپالو اور
دیس بھگت تھا۔ بہر طور مجھے خوشی ہوئ کہ ہمارے ایوانوں
میں محمد نعیم صفدر انصاری جیسے نماہندے موجود ہیں جو اس
امر کا شعور رکھتے ہیں کہ پاکستانی قوم کے ہاتھ صرف جشن
آزادی لگا ہے‘ آزادی ابھی کوسوں دور ہے۔ پرانی نسل دیسی
گھی کھاتی تھی اس کے جسم میں وافر خون تھا۔ دیسی گھی تو
دور کی بات اس کے پاس تو
سوکھی روٹی بھی نہیں۔ خون کہاں سے آئے گا۔ آزادی خون
مانگتی ہے اس لیے پیٹ بھرنے تک جشن آزادی کی مبارک باد
پر ہی گزارا کرنا کافی رہے گا۔
جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے
عبدالروف پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہے۔ آبائی مشقتی ہے۔ آج اس
کی باتیں سن کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ اس قسم کی باتیں تو
اکثر پڑھے لوگ بھی نہیں کرتے۔ میں نے اس سے دریافت کیا
یہ باتیں تم نے کہاں سے سیکھی ہیں۔ کہنے لگا میں رات کو کام
سے فارغ ہو کر خبریں سنتا ہوں‘ تبصرے سنتا ہوں۔ دوہری
حیرانی ہوئی اول تا آخر پنجابی ہے پڑھا لکھا بھی نہیں اور
انگلش گزیدہ اردو کسی دقت کے بغیر سمجھ لیتا ہے۔ تیسری
بڑی بات یہ کہ اپنی رائے بھی رکھتا ہے۔ اپنی رائے کے حوالہ
دلائل بھی رکھتا ہے۔
اس کا کہنا ہے پاکستان دراصل انگریز کے چیلوں اور تلوے
چاٹنے والوں کو نوازنےکےلیے بنایا گیا۔ دو نمبر لوگ حکومت
کرتے آئے ہیں۔ شروع سے یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس وقت میڈیا
محدود اور حکومت وقت کا غلام تھا اس لیے ان لوگوں کی
کرتوتیں عوام تک نہیں پہنچ پاتی تھیں اس لیے لوگ بے بسی
یبچارگی کو حالات کا المیہ سمجھتے تھے۔ حاکم نت نئے نعرے
استعمال کرکے اپنے عرصہ حکومت کو طوالت دیتے رہے۔
کشمیر کا نعرہ ایک عرصہ چلا۔ روٹی کپڑا اور مکان والے
نعرے میں بڑی جان تھی۔ کوئ یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ نعرہ
لگانے والا کس طبقے سے متعلق تھا اور بھوک پیاس کیا ہوتی
ہے سے آگاہ بھی تھا یا بے خبر تھا۔ اس کے بعد اسلام جو یہاں
کے عوام کی نفسیاتی کمزوری ہے کو استعمال کیا گیا۔ جنرل
مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا جو اسلامی روح
کے ہی خلاف تھا۔ آج جمہوریت کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ جلد ہی
کہا جاءے گا جمہوریت خطرے میں ہے۔ کوئی نہیں کہے گا کہ
جمہوریت نے یہاں کے لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جمہوریت عوام کا مسلہ نہیں ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا الیکشن
والے دن امیدواوں کے چمچے اور کہیں خود امیدوار‘ لوگوں کو
پکڑ پکڑ کر سو طرح کے سبز باغ دکھا کر ووٹوں کے پیسے
دے کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے کر جاتے
ہیں۔ اگر جمہوریت عوام کا مسلہ ہو تو وہ الیکشن کے عمل میں
حصہ نا لیں۔ عوام کا مسلہ صرف روٹی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
کرسی والوں نے عوام کو روٹی کے چکروں میں ڈال دیا ہے۔
لوگ کرسی والوں کی باندر پوٹوسیوں سے خوب آگاہ ہیں لیکن
کیا کریں انہیں بھوک نے نڈھال کر دیا ہے۔ آج ان کا مسلہ صرف
اور روٹی ہے۔
عدلیہ طاقت کے سامنے ڈٹی ہوئ ہے۔ عدلیہ ان کے لیے مذاق
بنی ہوئ ہے۔ یہ بھی ان چال بازوں کی ایک چال ہے۔ عدلیہ خط
کے چکروں میں پڑی رہے اور اس کی توجہ اداروں میں ہر
روز ہونے والی اربوں کی کرپشن اور غبن کی طرف نہ جائے۔
سارا قصور سیاست دانوں کا نہیں ہے اداروں کے افسر یقین
دلاتے رہتے ہیں کہ جناب فکر نہ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ
افسر داؤ پیچ بھی بتاتےرہتے ہیں۔ اس خیرخواہی کے صلے میں
لمے نوٹ کما رہے ہیں۔
اس کا کہنا ہے جن لوگوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرا اور وہ اس
حوالہ عدلیہ سے ٹکر لینے پر اترے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں عدلیہ
کو مجبور و بے بس کر دینے پر تلے ہوئے ہیں؛ اپنی اس سر
کشی کو آئنی قرار دیتے ہیں۔ ان سے خیر کی توقع رکھنا کھلی
حماقت ہو گی۔
اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے گلے
میں سب زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اناج اور سبزیات پنجاب مہیا کرتا
ہے پھر بھی بتی اسے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بادشاہ کے لیے
تو سب برابر ہوتے ہیں۔ کوئی اس کے اس ڈنڈی مار پروگرام پر
بات نہیں کر رہا۔ اسے تو سب اچھا کی آواز سنائی دیتی ہو گی۔
اس کا موقف یہ ہے۔ لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں۔ لوگ تو
ان کا کھلونا ہیں۔ جمہوریت یعنی ان کی بادشاہت کو کوئی خطرہ
نہیں کیونکہ ساری گوٹیاں سارا گلہ افسر شاہی اس کے ہاتھ میں
ہے۔ افسر شاہی کو اس سے بڑھ کر موجو میسر نہیں آ سکتا۔
عبدالروف کی باتوں سے اتفاق ہونا یا نہ ہونا قطعی الگ بات
ہے۔ ساری عوام بھی اس طور سے سوچے تو کچھ فرق نہیں
پڑتا۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ جہوریت یعنی حکومت
کے بارے میں سوچنے لگےہیں۔ اس قسم کی سوچوں سے
بےچینی بڑ ھے گی جو بادشاہ لوگوں کی صحت کے لیے کسی
طرح درست نہیں۔ عوام کی جمہوریت کے حوالہ سے آگہی کسی
وقت بھی بغاوت کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ آتے ممکنہ خطرے
کے پیش نظر صرف ایک ٹی وی چینل پی ٹی وی رہنےدیا
جاءے باقی سب بند کرا دیئے جائیں کیونہ یہ اتشار پھیلاتے ہیں
اور ان کے باعث نقص امن کا خطرہ ہے۔ کار سرکار میں یہ
کھلی مداخلت ہے۔ اسی طرح دو ایک سرکاری اخبارات سے
بخوبی کام چل سکتا ہے اور چلتا آیا ہے لہذا انھیں بند کرا دینے
سے جموریت کو اس اپنے قدموں پر رکھا جا سکتا ہے
رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے
رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نصیب والے اس
مہینے میں زاد آخر جمع کرنے کا جتن کرتے ہیں۔ توبہ کے
سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اپنے لیے مغرفت کے طالب
ہوتے ہیں۔ بلاشبہ الله بڑا ہی معاف کرنے والا ہے اور وہ اپنے
بندوں کو مایوس نہیں کرتا۔ ۔بندہ بھی الله کی ان حد رحمتوں
سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ کوئ لمحہ ضاءع نہیں کرتا۔ جانے
کون سا لمحہ قبولیت کا لمحہ ہو اور بخشش اس کا مقدر ٹھہرے۔
ہمارے ہاں رمضان کی آمد کا سبزی منڈی ہو کہ فروٹ منڈی یا
بازار‘ ایک ہفتہ پہلے ہی ڈنکا بج جاتا ہے۔ اصل میں یہ مہینہ
بچتوں کا مینہ ہے۔ شخص جبری بچت پر مجبور ہوتا ہے۔ کوئی
چیز جیب کی دسترس میں نہیں رہتی۔ سنا ہے شیطان اس مہینے
قید کر دیا جاتا ہے البتہ سارے فروش آزاد ہی نہیں کھلے چھوڑ
دیے جاتے ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو شاید اشیاء
گریب شخص کی اپروچ میں رہتیں۔ شیطان کھلا رہتا اور یہ قید
کر دیے جاتے‘ تو زندگی کی بیچارگی کم از کم چار گنا نہ بڑھتی۔
شخص موجودہ صورت سے کہیں زیادہ آسودہ حال ہوتا۔
لوگوں کا خیال ہے ہمارے بااختیار بادشاہ لوگ شیطان کی کمی
پوری کرنے کے لیے اور مومنوں کی آزمائش کے لیے انہیں
اپنے اشیرباد سے سرفراز کرتے ہیں۔
وہ ایک نہیں مومنوں کی آزمایش کے لیے بہت سارے دروازے
کھول دیتے ہیں۔ مثلا عین ہانڈی روٹی کے وقت گیس بند کر
دیتے ہیں۔ روزے کی افطاری سے پہلے بجلی کا دروازہ بند کر
دیا جاتا۔ ادھیر روزے کی افطاری کا وقت ادھیر گیس کی آمد ہو
جاتی ہے جبکہ بجلی اس روایت کی تابع فرمان رہتی ہے۔
استاد نے شاگرد کو کہا اس فقرے کا انگریزی میں جملہ بناؤ:
وہ گیا ایسا گیا کہ چلا ہی گیا۔
شاگرد نے کچھ ایسا انگریزی جملہ بنایا :ہی ونٹ ایسا ونٹ کہ
بس ونٹ ہی ونٹ۔
بجلی بھی بس ونٹ ہی ونٹ کو اپنا شعار ٹھراتی ہے۔ گیس اور
گرمی کی تپش جب کرکر لمبے ہاتھ گلے ملتی ہیں تو بے خبروں
کو بھی قیامت یاد آ جاتی ہے۔ کملے لوگ یہ جانتے ہوءے بھی
کہ شیطان قید میں ہے شیطان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس مہینے
میں شیطان پر لعنتیں انتہائ زیادی اور انصافی کی بات ہے۔ قید
میں پڑے شیطان کو کیا معللوم کہ اس کے گندے انڈے بچے اس
سے بازی لے گیے ہیں۔ روزوں کے بعد جب وہ رہا ہو گا تو
مومنوں سے کہیں بڑھ کر عید کی خوشیاں منائے گا کہ اس کے
بالکوں نے وہ کر دکھایا جو وہ شاید کبھی بھی نہ کر پاتا۔