The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫کر بوکی وہ جا گری۔ گھر آکر شیشہ دیکھا‘ ہمارے گھر میں‬
‫آئینہ نہیں شیشہ ہوا کرتاتھا چہرے پر چب شب تو نہ تھے البتہ‬

‫پہناوا غربا کی بستی والوں کا تھا۔ اندریں حالات بالا ان کا کہا‬
‫غلط نہ تھا۔‬

‫مجھے مہمانوں کا انتظار تھا۔ کیسے مہمان تھے یہ بھی بازار‬
‫سے کھا پی کر آگیے۔ اگلے وقتوں میں مہمان دو دن کی بھوک‬
‫رکھ کر آتے تھے اور جانے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ زہرہ اور‬
‫عمران مجھ سے ملے۔ بڑی حیرت ہوئی برقعہ میں۔ چند لمحوں‬
‫کے بعد ہی وہ ہم اگلے زمانوں کے لوگوں سے گھل مل گیے۔ کیا‬
‫شایستگی کیا سلیقہ کی یہ لڑکی ہے۔ بولتی ہے تو منہ سے گلاب‬
‫جھڑتے ہیں۔ میں تو میں‘ میری بیٹی ارحا اور بیگم اسی کے ہو‬

‫گیے۔ اجنبیت اور غیریت کا احساس تک نہ رہا۔ بلا کی ذہین و‬
‫فطین ہے یہ لڑکی بھی۔ ہم تینوں کا دل ہی لے گئی۔ وہ مجھے‬

‫اپنی بیٹی ارحا سے رتی بھر کم نہ لگی۔ بیٹیوں کے خاوند‬
‫بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ عمران صاحب بھی بڑے ہی‬
‫پیارے لگے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ پھر ہمارا مزار کمال چشتی جانے‬

‫کا اتفاق ہوا۔ بڑا اچھا لگا میں دو بیٹیوں ایک داماد کے ساتھ‬
‫گھومنے کے لیے نکلے ۔ میرا منہ بولا بیٹا فاروق بھی میرے‬

‫ساتھ تھا۔‬

‫بے تکلفی اجازت دیتی تھی کہ رات رہنے کو کہوں لیکن بچوں‬
‫کے حوالہ سے وہ رات ہمارے ہاں نہیں گزار سکتے تھے۔ بادل‬

‫نخواستہ انھیں رخصت کرنا ہی پڑا۔‬

‫بیگم صاحب تو ساتھ تھیں ہی۔ بڑی ٹوہری عورت تھی بس وقت‬
‫اور حالات نے مجھ سے تھوڑ پونجیے کے ساتھ چلنے پر‬

‫مجبور کر دیا ہے۔ زہرہ بٹیا نے ایسا کمال دیکھایا کہ اس کے‬
‫آنے سے پہلے کی صورت حال یاد تک نہ رہی۔ وہ لمحہ تو وہ‬
‫لمحہ اب تک یاد نہیں۔ دل میرا بھی کرتا اور چاہتا ہے کہ دونوں‬
‫میاں بیوی دوبارہ سے اور اس کے بعد بار بار آتے رہیں لیکن‬

‫کیا کریں زندگی کی تیز رفتاری نے ملاقاتوں کے لمحے ہی‬
‫چھین لیے ہیں۔ کل بیگم کہہ رہی تھیں زہرہ اور عمران سے کہو‬

‫ایکبار آ کر مل جائیں۔ میں نے جوابا کہا زہرہ بٹیا میری اور‬
‫تمہاری طرح فارغ نہیں ہیں انہیں اس آنے جانے کے علاوہ بھی‬
‫بہت سے کام ہوں گے۔ ارحا تو زہرہ آپی کی مالا جپتی رہتی ہے۔‬

‫امید پر دنیا قائم ہے مجھے یقین ہے ایک دن ایسا ضرور آئےگا‬
‫جب دروازہ کھلے گا کیا دیکھوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہرہ اور عمران‬
‫مجھے کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو بابا۔‬

‫صیغہ ہم اور غالب نوازی‬

‫صیغہ ہم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نواب‘ بادشاہ‘ بادشاہ‬
‫نما اور اقتداری طبقہ سے متعلق لوگ اپنے لیے استعمال کرتے‬

‫ہیں۔ مخاطب کا اپنے سے بلند مرتبہ والے کے لیے یا بطور‬
‫تکیہء کلام واحد کے لیے آپ وہ ان‬

‫انہوں کا استعمال رواج عام رکھتا ہے تاہم فرد واحد جب خود‬
‫کے لیے ہم کا صیغہ استعمال کرتا ہے تو یہ احساس تفاخر اور‬

‫تکبر میں آتا ہے۔‬

‫پنجاب میں عوامی اور عمومی سطع پر فرد واحد کے لیے ہم‬
‫رواج نہیں رکھتا۔ اگر کوئی استعمال کرتا ہے تو اوپرا سا اور‬

‫معیوب سا لگتا ہے۔ اقتداری‘ نوابی اور بادشاہ لوگ جب یہ‬
‫صیغہ استعمال کرتے ہیں تو اوپرا اور معیوب نہیں سمجھا جاتا۔‬

‫ہاں ہم کا سامع سہما سہما اور کانپا کانپا ضرور ہوتا ہے۔ یہ‬
‫صیغہ مخاطب پر احساس کہتری کے دورے ڈالنے اور پڑنے‬
‫میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صیغہ ہم کا استعمال کرنے والوں‬

‫کا لب و لہجہ ہم کا عکاس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے شہنشاہ اکبر‘‬
‫جو اکبر اعظم کے عرف سے معروف ہے‘ کچھ فرما رہا ہو۔‬
‫بعض اوقات اس کا فرمانا دین الہی سے ماخوز لگتا ہے۔‬

‫پردھان منشی کے مکین صیغہ ہم کا بہت کم اور کبھی کبھار‬
‫استعمال کرتے ہیں ہاں ان کا کردار ہم کا استعمال کرنے والوں‬
‫سے زیادہ جارحاانہ ہوتا ہے حالانکہ اختیارات وغیرہ کے حوالہ‬

‫سے ہم والوں سے بڑھ کر بلکہ کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔‬

‫اصل ستم کی بات تو یہ ہے ہر دو یعنی ہم اور ہم نما سے متعلق‬
‫لوگوں کو اہل دانش اہل علم اور اہل قلم سمجھا جاتا ہے۔ ٹانی‬
‫الذکر اہل قلم ہونے حوالہ سے خوف اور ہراس کی علامت‬

‫ہوتے ہیں۔ جو بھی سہی ہم اور ہم نما ہماری سوساءٹی میں پکا‬
‫پیڈا وجود رکھتے ہیں۔ پیڈا کو مضبوط اور پیڈا کے معنوں میں‬
‫لیا جا سکتا ہے۔ پیڈا کی کیا اتھارٹی ہے‘ اس کا احوال ان سے‬
‫دریافت کیا جا سکتا ہے جن پر یہ خدانخواستہ فٹ ہو چکا ہے۔‬

‫میرے نزدیک ان کو بالاتر اور صاحب تکبر مخلوق تسلیم کر‬
‫لینے میں کوئی برائی اور مبالغہ نہیں۔ انھیں اہل علم اور اہل علم‬
‫کہنے میں بھی حرج والی کوئی بات نہیں ہاں البتہ دل سے تسلیم‬

‫کرنا ظلم زیادتی اور کھلا اندھیر ہے۔‬

‫تکبر اور علم کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ دو الگ سے رستے‬
‫ہیں۔ جہاں تکبر ہو گا وہاں علم نہیں ہو گا اور جہاں علم ہو گا‬
‫وہاں تکبر نہیں ہو گا۔ علم عجز اور انکساری کی طرف لے جاتا‬
‫ہے۔ علم تقوے کی گرانقدر نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ تکبر‬
‫شخص کو انسان نہیں رہنے دیتا۔ تکبر کے باطن میں خدا ہونے‬
‫کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ علم کے باطن میں الله کا عاجز‬
‫بندہ ہونے کا ارمان کروٹیں لیتا ہے۔ یہ میں ناہیں سبھ توں کی‬
‫طرف لے جاتا ہے۔ تکبر کوئ ناہیں سبھ میں کی طرف لے جاتا‬

‫ہے۔‬

‫ناصر زیدی ہم والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ تحریروں میں بھی‬
‫ہم کو پس پشت نہیں ڈالتے۔ وہ حقیقت کا گلا گھونٹ نہیں دبا‬
‫سکتے ہھی ہیں لیکن ہم پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ ہم کا‬
‫استغمال کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ وہ لاٹ ہاؤس کے قلم‬
‫سے پاکستان میں کالم لکھتے ہیں۔ لاٹ ہاؤس میں اج بھی‬

‫بےشمار جونئیر ساتھی ہوں گے۔ لاٹی قلم نے میڈیا میں ان کے‬
‫ہم کی دھاک بٹھا دی ہے۔ عام لوگوں کی کیا بات کرنا ہے وہ‬

‫وچارے تھے اور وچارے ہیں لاٹی اور اقتداری بھی ان کےقلم‬
‫کی مار سے خوف زدہ ہیں۔‬

‫میں اہل علم میں نہ اہل دانش میں ہوں اس لیے روٹی کو زندگی‬
‫کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں تاہم زندگی کو روٹی کے لیے‬

‫نہیں سمجھتا۔ مجھے ایک مولوی صاحب یاد آگءے۔ حج پر‬
‫جانے سے پہلے ایک درویش کے پاس گیے۔ سلام کیا اور فخر‬
‫سے بتایا حج پر جا رہا ہوں۔ درویش نے پوچھا حضرت دین کے‬

‫بناء کتنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کلمہ نماز روز حج زکوات۔‬
‫درویش نے کہا روٹی کو چھوڑ رہے ہیں۔ مولوی صاحب نے‬
‫کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کہا اور اٹھ گیے۔ اتفاق سے حج‬
‫سے واپسی پر بحری جہاز تباہ ہو گیا اور یہ ایک لکڑی کے‬
‫تختے پر بیٹھ کر ایک جزیرے میں جا پھنسے۔ وہاں نہ بندہ نہ‬
‫بندے کی ذات۔ بھوک نے سخت پریشان کیا۔ اچانک ایک بابا‬
‫روٹی خرید لو کا آوازہ لگاتا گزرا۔ مولوی صاحب نے انھیں بلایا‬
‫اور روٹی دینے کی استدعا کی۔ بابے نے قیمت طلب کی۔ انھوں‬
‫نے کہا میرے پاس دام نہیں ہیں۔ بابے نے کہا کچھ تو ہو گا۔‬
‫انھوں نے کہا میرے پاس کلمہ نماز روز حج زکوات ہے۔ بابے‬
‫نے نماز لکھوا لی اور روٹی دے دی۔ اگلی بار روزہ پھر حج‬
‫اسی طرح زکوات بھی لکھوا لی۔ دریں اثنا ایک جہاز ادھر سے‬

‫گزرا وہ کسی ناکسی طرح اس پر سوار ہو کر وطن آ گے۔‬

‫ملنے ملانے اور پرتکلف دعوتوں سے فراغت کے بعد اس‬

‫درویش کے پاس گیے۔ دعا سلام اور احوال پوچھنے کے بعد‬
‫درویش نے دین کے بناء پوچھے۔ مولوی صاحب نے روٹی کو‬
‫پھر گول کر دیا۔ درویش نے روٹی کا ذکر کیا تو مولوی صاحب‬
‫حسب سابق توبہ توبہ پر اتر آئے۔ درویش نے دستخط شدہ کاغذ‬

‫ان کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دیکھا جاءے روٹی زندگی میں‬
‫بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اہل تقوی کا جینا بھی اس سے منسلک‬
‫ہے۔ روٹی نہ ملنے کی صورت میں منفی سوچ کے دروازے کھل‬

‫جاتے ہیں۔‬

‫اگر ہم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوشیدہ نہیں‬
‫رہے گی کہ ناصر زیدی موجودہ اور سابقہ کے حوالہ سے بڑے‬

‫بااختیار ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لاٹ ہاؤس والا قلم ان کے‬
‫عزت مآب ہاتھ میں ہے۔ میں عرصہ دراز سے سیکڑیری ہائر‬

‫ایجوکیشن کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے‬
‫درخواستیں گزار رہا ہوں۔ اب تو مجھے درخواستوں کی تعداد‬
‫بھی یاد نہیں رہی۔ رقم ملنا تو دور کی بات ان کی جانب سے‬
‫واپسی جواب تک موصول نہیں ہوا۔ یہی حال پنجاب سرونٹس‬

‫ہاؤسنگ فاؤنڈیشن لاہور والوں کا ہے۔‬

‫انھوں نے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ میری کتاب کی اعزازی‬
‫پروف ریڈنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس خدمت کو سردست چھوڑیں۔‬

‫مجھے اپنا اثر رسوخ اور ہم کا جاءز استعمال کرتے ہوئے ہر دو‬
‫محکموں سے میری ہی رقم دلوا دیں تاکہ میں ان سے کتاب کی‬
‫اعزازی پروف ریڈنگ کروا کر دوبارہ سے کتاب شائع کرنے کی‬

‫سعادت حاصل کر سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا حق دلانے‬
‫میں صیغہ ہم مثبت کردار ادا کرکے ناصرف گریب پروری کر‬
‫سکتا ہے بلکہ غالب نوازی کا اعزاز بھی حاصل کر سکتا ہے۔‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے' تاہم باور رہے اس دفع کا تعلق زمانہ قبل از‬
‫مسیح سے نہیں' یہی کوئی چار چھے ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں‬

‫حکیم صاحب سے شفائی پڑیاں لے کر' سڑک کے بالکل نکرے‬
‫لگا واپس گھر آ رہا تھا۔‬

‫اگرچہ گھر والوں کو' عمر رسیدگی کے سبب میری خاص یا عام‬
‫ضرورت نہ تھی' اس کے باوجود رواجا اور عادت کے ہاتھوں‬
‫مجبور' آ رہا تھا۔ نہ آتا تب برا آتا تب سیاپا۔ جو بھی سہی' ایک‬

‫مدت سے گھر میرا آنا جانا تھا۔ یا یوں سمجھ لیں' گھر آنا میری‬
‫فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ فطرت ثانیہ کو' عادت سے مجبور‬
‫بھی کہا جاتا ہے۔‬

‫ہر کوئی خوب خوب جانتا ہے' سگریٹ انتہائی خطرناک ہے' اس‬
‫کے باوجود پیتا ہے۔ اپنی اصل میں' یہ ہی فطرت ثانیہ یا عادت‬
‫سے مجبوری ہے۔ ہر مرتشی جانتا ہے' کہ رشوت خور کو جہنم‬

‫جانے کی خوش خبری دی گئی ہے۔ یہ محض ڈراوا نہیں پتھر پر‬
‫لکیر ہے۔ بےشک لکیر ضعف کا ہی سبب نہیں بنتی' بزتی‬

‫بدنامی سے بھی دو چار کرتی ہے اور ہر چند تعداد میں اضافہ‬
‫ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ سماج میں ابا سے' ماما یعنی ماموں کے‬

‫عرفی نام سے' اپنی جان پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا‬
‫ہے۔ شرمندگی سے زیادہ' اس کار دراز میں فخر محسوس‬

‫کرکے' غیر متعلق لکیر کی فقیری میں' بڑی دل جمعی اور جان‬
‫فشانی سے' عمر تمام کر دیتا ہے۔ اسی میں کامیابی اور کامرانی‬

‫تصور کرتا ہے۔‬

‫ابھی گھر سے تھوڑا دور ہی تھا کہ پیچھے سے ایک کھوتی‬
‫ریڑھی والا' بڑی تیزی سے آیا۔ شاید اس کے پیچھے ہلکا کتا یا‬

‫پولیس پیچھے لگی ہوئی تھی۔ اس کی جلدیوں سے صاف ظاہر‬
‫ہو رہا تھا کہ ایمرجنسی کا مریض تھا۔ کچھ معاملات واقعتا‬

‫ایمرجنسی میں داخل ہوتے ہیں' کچھ یوں بلاتکلف بنا لیے گیے‬
‫ہوتے ہیں۔ بعض اوقات' ایمرجنسی کی عادت یوں ہی ترکیب پا‬
‫گئی ہوتی ہے۔ اگر اسے ہولناک قسم کی ایمرجنسی ہوتی' تو اپنی‬

‫بےسری آواز میں اکرم راہی کا گانا نہ گا رہا ہوتا۔ مجھے‬
‫بےسری شاید اس لیے لگی کہ بلاساز تھی۔‬

‫خیر جو بھی سہی' اس دفع کا ذکر ہے کہ محتاط روی اختیار‬
‫کرنے اور نکرے نکرے چلنے کے باوجود' اس نے کھوتی پر‬

‫تو قابو رکھا' لیکن ریڑھی بےمہار ہونے کے باعث' بڑے‬
‫کرارے بدذوق انداز میں آ لگی اور میں منہ کے بل وہ جا گرا۔‬
‫مجھے انسانی ہمدردی اور صلحہء رحمی کے ناتے ریڑھی سے‬
‫نیچھے قدم رنجہ فرما کر' اٹھانے کی بجائے' یہ کہہ کر بابا‬

‫ویکھ کے چل' چلتا بنا۔‬

‫اس بار کے ذکر میں اصل حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے روکنے‬
‫کی بجائے اکرم راہی کے سر میں کہے گیے باوزن جملے‬

‫بابا ویکھ کے چل‬

‫پر لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ میں ان کی پیروی میں' زہے‬
‫نصیب ہنس تو نہ سکا' البتہ بےہوش سا ضرور ہو گیا۔ مجھ پر‬

‫اس جملہ نما مصرعے پر بےہوشی کے ساتھ 'چوٹ بھی آئی‬

‫اور درد بھی اٹھ رہا تھا۔ اس کے بعد کا ذکر ہے' کہ کئی دن‬
‫بستر لگا رہا۔ خرچہ اٹھا اور حضرت زوجہ ماجدہ کی بڑبڑ اور‬

‫کڑ کڑ بھی سنتا رہا۔‬

‫اول آلذکر اور آخرالذکر کوئی نئی چیز نہ تھے۔ یہ دونوں معمول‬
‫میں داخل تھے۔ آخرالذکر تو میری زندگی میں ہمزاد کی طرح‬
‫داخل رہے ہیں۔ عزت بچانے اور جان کی امان پانے کے لیے'‬
‫بیگمی بڑبڑ اور گرجن برسن بہرطور ضروری تھا۔ ضمنا اس‬

‫سے' تھوڑا پہلے کا ذکر ہے کہ اچانک میرے سینے میں شدت‬
‫کا درد اٹھا' میں نے بصد احترام اپنی اوپر والی زوجہ ماجدہ کو‬

‫آواز دی‬

‫زکراں۔۔۔۔۔ زکراں۔۔۔۔۔۔زکراں‬

‫کافی دیر بعد سہی' بڑی مہربانی فرماتے ہوئے تشریف و غضب‬
‫لے کر آ گئی۔‬

‫گھورتی نظروں کے ساتھ پوچھا‪ :‬کیا ہے' کیوں چیخ و پکار‬
‫رہے ہو۔‬

‫سراپا احترام میں غرق آواز کو چیخ و پکار کا نام دے رہی تھی۔‬

‫خیر میں نے منمناتے ہوئے کہا‪ :‬سینے میں سخت درد اٹھ رہا‬
‫ہے' لگتا ہے جا ہوں۔‬

‫بس اتنی سی بات پر آوازیں دے رہے تھے۔ میں گھبرا گئی تھی'‬
‫پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔‬

‫'میرا خیال تھا کہ کہے گی‬

‫ہائے میں مر گئی' جائیں آپ کے دشمن۔‬

‫بہرکیف تکلیف اپنی جگہ میری خوش فہمی کرچی کرچی ہو گئی۔‬

‫پہلے دفع کے ذکر میں ثانی الذکر کا تذکرہ باقی ہے۔ تکلیفیں تو‬
‫زندگی میں آتی جاتی رہتی ہیں۔ لکشمی ایک بار ہاتھ سے نکل‬
‫جائے' تو پھر دوسری بار بڑے نصیب محنت' مشقت اور گراں‬

‫قدر ہیرا پھیری سے ہاتھ لگتی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ‬
‫حضرت بےغم صاحبہ کو' میری ہی جھڑی ہوئی ناچیز رقم'‬
‫میرے علاج معالجے پر خرچ کرنا پڑی۔ تاہم اس بار اس کی توپ‬
‫کا دھانہ میری طرف ہی نہ رہا۔ کھوتی ریڑھی والے کا اٹھتی‬
‫بیٹھتی خصوصا' دوا دارو کے حوالہ سے جھڑتی ناصرف‬
‫بےحجاب گالیاں بکتی بلکہ بدعائیں بھی دیتی۔ اس پر مجھے‬
‫رائی بھر افسوس نہ ہوتا۔ پتا نہیں بدعاؤں کے نتیجہ میں اس کا‬
‫کچھ ہوا یا نہیں' میں اس کی خبر نہیں رکھتا۔ ہاں جب ڈاکٹر کو‬

‫جھڑنے کے ردعمل میں گالیاں بکتی یا بد دعائیں دیتی تو‬
‫مجھے بہت برا لگتا۔ ان کا رویہ قصابی سہی ' پھر بھی‬

‫غیرفطری انداز میں کسی حد تک گراں وصولی کے ساتھ‬

‫مریضوں کے کام تو آتے ہیں۔‬

‫میرے' سب کے الله کا ہر کرنا پرحکمت' پرعدل' برحق' برموقع'‬
‫ہر قسم کی کجی خامی سے بالاتر' بے مشاورت' بلا تعاون اور‬

‫آلودگی و آلائش سے پاک ہوتا ہے۔‬

‫اس اٹل حقیقت کے باوجود' میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ الله‬
‫نے گریب اور کم زور طبقے کو' پیچھے دیکھنے کی شکتی‬
‫کیوں عطا نہیں فرمائی۔‬

‫مقتدرہ اور ان کے دور نزدیک کےگمشتگان کو' اس کی‬
‫ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پیچھے پیچھے چلتے' بڑی باریک بینی‬
‫سے دیکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ خیر ان کے آگے چلنے‬
‫والے لاٹھی بردار' لوگوں کو پیچھے دیکھ کر چلنے کی دعوت‬
‫دیتے آئے ہیں۔ دائیں بائیں چلنے والے' ان کے قریب نہ جانے‬
‫کی' باذریعہ لاٹھی' دعوت دیتے آ رہے ہیں۔ آج یہ رویہ کچھ نیا‬
‫نہیں ہمیشہ کا ہے۔ جب بادشاہ کی بگی گزرتی' لاٹھ بردار دائیں‬

‫بائیں اورسٹرک پر چلنے والوں کے خوب پاسے سیکتے۔ یہ‬
‫کھلا درس ہوتا' کہ شاہ اور اس کے دور نزدیک کے جھولی‬

‫چھولی چکوں کے قریب جانے سے پرہیز رکھو۔‬

‫اس کھلی وراننگ اور الڑٹ کے باوجود' لوگ بڑے بےاثرے اور‬
‫ڈھیٹ رہے ہیں۔ ان کی مثل ایسی رہی ہے۔‬

‫پلے نئیں دھیلا کر دی پھرے میلہ میلہ‬

‫جب جیب خالی ہے' تو پرائیویٹ ڈاکٹروں اور سرکاری ہسپتالوں‬
‫میں کیا لینے جاتے ہو۔ 'موت کا ایک دن معین ہے' سب جانتے‬
‫ہیں' اس کے باوجود پرخراٹا نیند سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر' یا‬
‫بےایمانی تیرا آسرا' کہہ کر کام پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ بیمار کو'‬
‫زندگی میں پہلی بار' بیماری نہیں ہوتی' جو فکرمندی سے کام‬
‫لیا جائے۔ سانیس باقی ہوئیں تو اسے کچھ نہیں ہو گا۔ اتنے تردد‬

‫کی ضرورت کیا ہے۔ دوسرا ڈاکٹر فیس رکھوائی اور ٹسٹ‬
‫لکھائی کے سوا' جانتے ہی کیا ہیں۔ اس سے تین فائدے ہوں‬

‫گے۔‬

‫فضول خرچی نہ ہو سکے گی اور وہی رقم' گھر کے کسی‬
‫دوسرے رفاعی کام میں' صرف ہو سکے گی۔‬

‫جب مریض مرے گا' دیکھا جائے گا' کامے تسلی سے' اپنے‬
‫اپنے کام پر جا سکیں گے۔‬

‫مریض گھر پر' بڑی تسلی سے' اپنی آئی پر' اپنے بستر پر دم‬
‫‪.‬توڑے گا‬

‫شاہ اپنی عیش کوشی اور تاج محل سازی کے لیے' بےمعنی اور‬
‫بےمعنی ٹیکس وصول کرتے ہیں' تو واپڈا' ٹیلی فون' اکاؤنٹ‬
‫آفس' نادرہ والے وغیرہ کس حساب میں' مفتوں کے کیوں کام‬

‫کریں۔ اعلی شکشا منشی اور اس سے متعلق وصولی گاہوں نے'‬
‫کمال کی انھی مچا رکھی ہے۔ کوئی کام ہو یا کسی حق کی‬

‫وصولی کا معاملہ ہو'تو صبر شکر سے کام لیں۔ آخر یہ صبر‬
‫شکر ہوتے کس لیے ہیں۔ میں بھی ایسی حماقتیں کرتا رہا ہوں۔‬
‫مجھے ناکامی نامرادی اور خطرناک چپ کے سوا' کچھ ہاتھ نہیں‬

‫لگا۔ اپنے ایم فل کے الاؤنس کے لیے ‪ 0661‬سے درخواست‬
‫بازی کرتا آ رہا ہوں۔ جواب میں خوفناک چپ کے سوا کچھ ہاتھ‬
‫نہیں لگا۔ اب میں نے بھی غصہ میں آ کر' پکی پکی چپ وٹ لی‬

‫ہے۔ نئیں تے ناسہی۔‬

‫انھیں اپنے موجود یا سابقہ کارکنوں کی پرواہ نہیں' تو میں ان‬
‫کے کیوں قدم لیتا رہوں۔ ایک سوچ یہ بھی آتی ہے' کہ بار بار‬
‫ان کے بیش بہا جوتے چھونے سے' گربت' عسرت' بےچارگی'‬
‫بےبسی اور میں میں' کی آلودگی منتقل تو ہو گی ہی۔ بےشک یہ‬

‫معاملہ سوچن ایبل ہے۔‬

‫ایک دفع کے ذکر کے حوالہ سے' ایک بات ذہن میں آتی ہے'‬
‫اگر مقتدرہ طبقہ حکم جاری کر دے' کہ ہر چھوٹی بڑی گاڑی‬

‫خصوصا ریڑھی والے' چار نہیں تو دو ملازم رکھے' جو آگے‬
‫آگے چل کر لوگوں کو پیچھے کے احوال سے آگاہ کرتے جائیں۔‬

‫اس سے' ان کے ایک طبقہ کی مٹھی گرم ہوتی رہے گی۔‬
‫بےروزگاروں کو روزگار مل جائے گا۔ بےگناہ' کوسنوں اور‬

‫بےنکاحی گالیوں سے بچ جائیں گے۔‬

‫الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل‬

‫بخدمت جنابہ حکومت صاحبہ‬

‫عنوان‪ :‬درخواست بسلسلہ الیکشن کی تاریخ بڑھانے اور متواتر‬
‫بڑھاتے رہنے‬

‫جناب عالیہ‬

‫بندہءناچیز بصد احترام و احتشام عرض گزار ہے کہ‬

‫ملک اور اس کے عوام' پرکھٹن حالات سے گزار رہے ہیں۔‬
‫موجودہ صورت حال کے پیش نظر' الیکشنوں کا اہتمام کرکے'‬
‫ہر دو پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے۔ وقتی سہی' ان کی بھوک‬
‫اور عزت و احترام کے مسائل حل ہوئے ہیں۔ ان میں اپنے ہونے‬
‫کا احساس جاگ رہا ہے۔ بڑے لوگ' جب چھوٹے' مالی ضعفوں'‬
‫بےسفارشی اور سماجی حیثیتی کم زوروں کے گھر دستک دے‬
‫کر' ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں' تو ان میں سربکس ٹی سے‬
‫بڑھ کر' توانائی اترتی ہے۔ توانائی بلاشبہ شگفتگی کے ساتھ‬
‫ساتھ' چستی بھی پیدا کرتی ہے اور موڈ کو سٹ رکھنے میں‬

‫مثبت کردار ادا کرتی ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫کسی پوسٹ پر آئے امیدوار سے' انٹرویو میں سوال کیا گیا‪:‬‬
‫سلیکٹ ہو جانے کی صورت میں' ملک کی خدمت کرو گے۔‬

‫اس نے جوابا کہا‪ :‬بالکل نہیں‬
‫انٹرویو لینے والے کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی۔ جواب‬

‫بلاشبہ بڑا کھردرا اور بےمروت سا تھا۔ اس نے کامل حیرانی‬
‫سے پوچھا‪ :‬یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‬

‫اس نے جواب میں کہا‪ :‬مجھ سے پہلوں نے کچھ کیا' یقینا نہیں۔‬
‫کچھ وقت پاس کرتے رہے' کچھ نے لوٹ سیل لگائی۔‬

‫پھر پوچھا گیا‪ :‬آپ ان میں سے کون سا طور اختیار کریں گے۔‬
‫صاف ظاہر ہے' شریف آدمی ہوں' سیل ہلکی پھلکی رکھوں گا'‬

‫ہاں زیادہ تر وقت پاس کروں گا۔‬

‫جناب والا‬

‫آج تک منتخبہ ممبروں نے' ملک کی جو خدمت کی ہے یا کر‬
‫رہے ہیں' پر مثبت یا منفی گفت گو کرنے کی ضرورت نہیں' روز‬
‫سیاہ کی طرح سیاہ ہے' کہ انہوں نے لوٹ سیل مچانے کے سوا‬
‫کچھ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ کچھ بھی نہیں کرنے کا' پروگرام‬

‫اور ایجنڈا رکھتے ہیں۔‬

‫جناب والا‬

‫میڈیا مال پانی لگانے والوں کی' عیب پوشی میں کوئی دقیقہ اٹھا‬
‫نہیں رکھتا' ہاں ان کے ناکردہ کارناموں کو' خوب اچھالتا ہےاور‬

‫بےجھڑیوں کی خوب خوب مٹی پلید کرتا ہے۔ جھڑیوں کے‬
‫کھیسہ میں' ہر اچھا ناکردہ ڈال دیتا ہے۔ تیز رفتار اور اعلی‬
‫کارگزار میڈیا ہوتے ہوئے' شاہوں کی اچھائی اور برائی معلوم‬
‫کی حدود سے باہر ہے۔ اپنے طور پر لوگ انٹرنیٹ پر کچھ ناکچھ‬

‫رکھتے رہتے ہیں۔‬

‫جناب والا‬

‫ایک نائب قاصد کی رکھوائی کے لیے' سو طرح کی شرائط اور‬
‫باتصویر قائداعظم کے' اصلی کاغذات کی ضرورت ہوتی ہے۔‬

‫زبانی کہنا' سفارش کے کھاتے میں نہیں آتا۔ اب زبان بےوقار ہو‬
‫گئی ہے۔ یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے' جس میں ہاتھ حرکت کرتے‬
‫ہیں' ورنہ ہر کام اور معاملہ میں غیرمتحرک ہو گیے ہیں۔ زبان‬
‫کا کام' جوان جہان گلی گلی میں پھرتے' ان گنت فقیروں تک‬

‫محدود ہو گیا ہے۔ درسوں کے چھوٹے بچے گلی گلی چندے کے‬
‫لیے پھرتے ہیں۔ وہ منتی اور سماجتی انداز میں' جب زبان سے‬
‫چندے کے لیے کہتے ہیں' تو دل بھر آتا ہے۔ خیر وعدے بازی‬
‫اور بیان درازی کے لیے' لیڈر زبان ہی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان‬

‫امیدوران کو اس قماش کی سو طرح کی شرائط سے' استثناء‬

‫حاصل ہوتا ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫جن کی معاشرے میں کوئی اوقات نہیں' یہ امیدوران ان کے‬
‫بےدر اور غیر محفوظ گربت کدوں پر' بڑی اپنائیت اور مصنوعی‬

‫خلوص کے ساتھ' حاضری دے کر انہیں ووٹ دینے کی استدعا‬
‫کرتے ہیں۔ راہ گزرتے ہاتھ اٹھا کر' سلام کرتے ہیں۔ گویا اسلام‬
‫کا نفاذ پورے زوروں پر ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے'‬
‫تو ناصرف اسلام کا نفاذ ہوتا رہے گا' بل کہ خلوص اور باہمی‬

‫احترام کی فضا پیدا ہوتی رہے گی۔ گلی گلی محمود وایاز ایک‬
‫ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ انیچ نیچ' رنگ نسل' علاقہ' زبان‬

‫وغیرہ کی تفریقات دم توڑ دیں گی۔‬

‫جناب والا‬

‫امیدوار ممبران کے ڈیرے' حاتم کدے بن گیے ہیں۔ آنے جانے‬
‫والوں کی' بڑے اہتمام سے تواضح کی جاتی ہے۔ اگر ڈیڑے پر‬
‫معمولی سی بھی' کوتاہی نظر آتی ہے' تو لوگ دوسرے ڈیرے کا‬

‫رستہ لیتے ہیں۔ کچھ' اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جانا نہیں‬
‫بھولتے۔ بےروزگاروں کو روزگار میسر آ گیا ہے۔ ٹی سی گاروں‬
‫کی تو چاندی ہو گئی ہے۔ سونا اس لیے نہیں کہا' کہ اس کا تعلق‬

‫بڑے الیکشنوں سے ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫الیکشن مہم ختم ہو جانے کے بعد' ان میں سے کچھ باقی نہیں‬
‫رہے گا۔ یہ سیری کا شیش محل' ویرانے میں بدل جائے گا۔‬

‫عزت و احترام کی فضا' دم توڑ دے گی۔ نفاذ اسلام کی فضاؤں‬
‫میں' جلال و تمکنت کا بارود بھر جائے گا۔ ایسے حالات میں'‬
‫وقت کا تقاضا یہی ہے کہ الیکشنوں کی تاریخ' بار بار ناسہی'‬
‫دوچار بار تو اگلی تاریخوں میں منتقل کی جائے۔ ہاں جب بڑے‬
‫الیکشن آئیں گے' تو اس عمل کا' لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا‬

‫جائے۔ اس طرح گریبوں کی جیب پھاڑ کر' ڈکارنے کے لیے‬
‫سیفوں میں رکھا گیا پیسہ' لوگوں کی صدیوں کی بھوک پیاس‬
‫مٹانے کے کام آ سکے گا۔ ساتوں چہلموں پر میسر کھانا' محدود‬
‫نوعیت اور محدود لوگوں کے کام آتا ہے۔ عید قربان کا گئوشط‬
‫اپنوں میں' یا بڑوں کو چڑھاوا چڑھ جاتا ہے۔ اس لیے گریبوں‬
‫کے مقدر میں' نہیں یا چھچھڑے آتے ہیں۔ گویا اس دن بھی'‬

‫انہیں بھوک سے چھٹکارا حاصل نہیں ہو پاتا۔‬

‫جناب والا‬

‫اندریں حالات بالا استدعا ہے کہ وقتی طور پر سہی‬

‫انسانی تفریق و امتیاز کی فضا ختم کرنے کے لیے‬
‫باہمی عزت و احترام قائم کرنے کے لیے‬

‫جھوٹے وعدے اور بہلاوے سننے کے لیے‬
‫اسلام کے نفاذ یا اسلامی ماحول کے قیام کے لیے‬

‫بھوک پیاس کے خاتمے کے لیے‬

‫بار بار ناسہی' دوچار بار الیکشنوں کی تاریخ تبدیل کی جاتی‬
‫رہے۔ آپ کی یہ عنایت' قوم کے لیے' بہت بڑا تحفہ ہو گا۔ آپ‬
‫کے اس عظیم اور دانش مندانہ فیصلے کو' چوری خور مورکھ'‬
‫زعفرانی سیاہی سے' رقم کرے گا۔ بھوکے پیاسے لوگ' آپ کو‬

‫دعائیں دیں گے' جس سے آپ کا اقبال مریخ کی بلندیوں کو‬
‫چھوتا رہے گا۔‬

‫آج مورخہ اکتوبر‪6108 '00‬‬
‫العارض‬

‫اعلی شکشا منشی کی خدمت گرامی میں' ‪ 0661‬سے گزاری‬
‫گئی درخواست ہائے ہائے' بسلسلہ ایم فل الاؤنس' کے جواب‬

‫سے مرحوم‬
‫بےبس وبےکس وچارہ مقصود صفدر علی شاہ‬

‫ریٹائرڈ ایسوی ایٹ پروفیسر اردو‬

‫بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحقیق‬

‫بازار چلے جائیے' ہر چیز کی بےشمار سیل بند' یعنی ڈبہ‬

‫پیکنگ' بلا ڈبہ پیکنگ ورائیٹیاں میسر آ جائیں گی' اوپن بھی مل‬
‫جائیں گی۔ ظاہری حسن' چلتا پھرتا بل کہ بھاگتا دوڑتا نظر آئے‬
‫گا۔ چمک دمک' بناوٹ کا حسن اور پیش کش وغیرہ' انتخاب کو‬

‫مشکل بنا دے گی۔ آپ کا دل چاہے گا' ہر قسم کی ایک ایک خرید‬
‫کر لوں۔ بس جیب کے ہاتھوں مار کھا جائیں گے۔ اگر حضرت‬
‫بےغم حضور ساتھ ہوں گی' تو ایک کی ضرورت ہوتے' شاید‬
‫نہیں یقینا کئی ایک خریدنے کی ضرورت پیش آ جائے گی۔‬
‫ضرورت اور تصرف کے' ان گنت اور ان حد بلا فی میل' جواز‬
‫جنم لے لیں گے۔ اکثر آپ کے حوالہ سے' اور آپ کی ضرورت‬
‫کے تحت جنم لیں گے۔ یہ اس سے قطعی الگ بات ہے' کہ بعد‬

‫میں ہاتھ لگانا تو دور کی بات' آپ کی بینائی انہیں دیکھنے سے‬
‫بھی' معذور پڑ جائے گی۔ ان کا زبان پر نام لانا بھی' جرم‬

‫سرمدی بن جائے گا۔ شہادت کی فضیلت کے باوجود' حضرت‬
‫قبلہ اپنی پیرومرشد بےغم صاحب مداذلا لالی کے ہاتھوں' شہادت‬

‫کا عظیم رتبہ دل وجان سے پانا پسند نہیں کریں گے لیکن ذلت‬
‫کا دنبہ بن کر' ذبح ہو جائیں گے۔‬

‫یہ خریدداری' محض ظاہری کمال کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے‬
‫باطن میں' نقائص کی بےشمار خبائثتیں موجود ہوتی ہیں۔‬
‫خبائثتوں کی عریانی کے بعد' شکائتوں کا لامتناہی سلسلہ'‬

‫شروع ہو جائے گا۔ گھر والی' ہر جا یہ ہی کہے گی' کہ یہ محفل‬

‫میں بات کرنے اور خریداری میں' بالکل صفر ہیں۔ حالاں کہ نہ‬
‫بولنے دیا گیا ہوتا ہے اور نہ ہی خریاری میں' مشورہ لیا گیا‬

‫ہوتا ہے' بل کہ آپ کی پسند کی خریداری کی ہی نہیں گئی ہوتی۔‬
‫آپ کا اگر بس چلتا' تو شاید نہیں' یقینا خریدنے سے سو فی صد‬

‫اجتناب برتتے۔ سوئے اتفاق' ایک بار بھی انکار کرکے پوری‬
‫برادری اور علاقہ میں' تھوڑ دل معروف ہو جائیں گے۔‬

‫بات چیت میں نااہل‬

‫خریداری میں نکما‬

‫تھوڑ دل‬

‫کردار و شخصیت کا جز قرار پا کر' عرف میں داخل ہو جائیں‬
‫گے' اس لیے انہیں دو نمبر نہیں کہا جائے گا۔ اگر ان میں سے‬

‫کوئی' عرف میں آنے سے مرحوم ہو جاتا ہے اور کوئی کہتا‬
‫ہے' تو یہ بلاشبہ دو نمبری ہو گی۔ بیگمی مہر ثبت نہ ہونے کے‬
‫سبب' کوئی معاملہ اپنا وجود رکھتے ہوئے بھی' دو نمبری ہوگا۔‬
‫پہلی صورت میں نکاحی' جب کہ دوسری صورت میں' بےنکاحی‬

‫ہو گا۔ نکاحی ہونے کے لیے' معاملے کا عرف میں آنا اور اس‬
‫پر بیگماتی مہر کا ثبت ہونا' ضروری ہوتا ہے۔‬

‫ہمارے ادھر' ایک ہی نام اور ایک ہی مسلک کے' دو مولوی ہوا‬
‫کرتے۔ نام اور مسلک کی مماثلت کے باعت' کنفوژن قسم کی‬

‫چیز پیدا ہو جاتی۔ شناخت کے حوالہ سے' ایک کو مولوی وڈیرا‬
‫جب کہ دوسرے کو' مولوی چھوٹیرا کہا جانے لگا۔ اتفاق سے'‬
‫بظاہر بلا کسی کرنی کے'مولوی چھوٹیرا حق ہو گیا۔ اگر اس کا‬
‫کیا' معافی کے لائق ہے' تو الله اس کو معاف فرمائے' ورنہ الله‬

‫کی اپنی مرضی ہے' معاف کرے ناکرے۔ یہ مذہبی لوگ' بڑے‬
‫معصوم اور بےگناہ سے ہوتے ہیں۔ کھانا' اس کے بعد بھی‬

‫کھاتے ہیں‪ .‬انسانی تفریق' ان کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔‬
‫اس لیے' الله انہیں ناہی معاف کرئے' تو اچھا ہے۔‬

‫مولوی چھوٹیرے کی موت کے بعد' مولوی وڈیڑے کی خوب بن‬
‫آئی۔ موصوف تھوڑا سا' کافی سے زیادہ فربہ تھے‪ .‬قد کے لحاظ‬

‫سے' پورے پورے تھے' اس لیے باطور مولوی بٹیرا معروف‬
‫ہو گیے۔ لوگ ان کا اصل نام بھی بھول گیے۔ اپنے عرفی نام‬

‫سے' جان پہچان پکڑ گیے۔ الله جھوٹ نہ بلوائے' یہ نام مولوانی‬
‫صاحبہ کا دیا ہوا تھا۔ نہ بھی دیا ہوتا' تو بھی عرف میں آنے‬

‫کے باعث' یہ نکاحی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر مولوانی صاحبہ‬
‫کا عطا کردہ تھا' تو سونے پر سہاگے والی بات ہے۔کسی سطح‬
‫پر دو نمبری کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس لیے مرکب مولوی‬
‫وڈیرا ہر لحاظ سے نکاحی کے کھاتا میں جاتا ہے‬

‫ہمارے ادھر' عمر درزی ہوا کرتا تھا۔ بڑا زبردست ہنروند تھا۔‬
‫اس کا مختلف قماش کے لوگوں سے' سارا دن واسطہ رہتا تھا۔‬
‫اس کے پاس' تین بینڈ کا ریڈیو تھا۔ گانے شانے بہت کم سنتا'‬
‫لیکن خبریں اور تبصرے خوب سنتا۔ سنتے ہیں' رات کو سونے‬
‫سے پہلے' بی بی سی کی خبریں' اس کے بعد جہاں نما شاید یہ‬

‫ہی نام تھا' ضرور سنتا۔ لوگ اچھا درزی ہونے کی وجہ سے'‬
‫کپڑے اسی سے سلواتے۔ کپڑے اور ناپ دینے کے بعد'‬

‫کھسکنے میں خاطر جمع سمجھتے۔ بولتا بڑا تھا۔ جب کبھی'‬
‫کسی محفل میں آتا' تو لوگ یہ کہتے ہوئے' چلتے بنتے' چلتے‬
‫ہیں' کتا آ گیا ہے۔ عمردرزی کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس‬

‫کی بیوی بھی' اس کی اس عادت سے نالاں تھی۔ یہ الگ بات‬
‫ہے' کہ اس ذیل میں وہ' اس کی بھی پیو تھی۔ عمر درزی اس‬

‫کے حضور' کسکتا تک نہ تھا۔‬

‫کسی کو کتا کہنا' بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ہر لحاظ‬
‫سے' دونمبری زبان میں داخل محسوس ہوتا ہے۔ مگر کیا کیا‬

‫'جائے‬

‫‪.‬کتا آ گیا ہے' میں تشبیہ کا تعلق موجود تھا‬

‫یہ استعارہ عرفی درجے پر فائز ہوگیا تھا۔‬

‫مہر زوجہ پورے پہار کے ساتھ ثبث ہو چکی تھی۔‬

‫کتے کے اس لقبی نام کو' ان سہ وجوہ کی بنا پر' اس دور کا‬
‫سفاک ترین شخص' مسٹر چہاڑی بھی بےنکاحیا قرار نہیں دے‬

‫سکتا تھا۔ اگر قرار دینے کی سوچتا بھی' تو ہفتوں بےنکاحی‬
‫گالیاں سنتا۔ الله بخشے پہاگاں کا بولنے کے حوالہ سے' بڑا‬
‫سٹیمنا اور نام تھا۔ رانی توپ' اس کی سگی خالہ زاد تھی۔‬

‫سیاست' عمومی تفہیم اور سینس میں' ہیرا پھیری' جھوٹ'‬
‫وعدوں کا پلندہ' لوٹ مار وغیرہ کے زمرے میں آتی ہے۔‬

‫سیاست اور ان امور و اصول کا' چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر‬
‫کوئی سیاست دار' ان امور و اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے' تو‬

‫دونمبری کا مرتکب ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسا ہوتا' کبھی دیکھنے‬
‫سننے میں نہیں آیا۔ ہاں ایک بات یاد آئی' جھوٹ بولے' تو اس‬

‫پر سچ کا گمان سا ہو۔ وعدہ کرئے' تو اس طرح کرئے' کہ‬
‫لوگوں کو اس کی اگلے یا کسی اور موڑ پر ایفائی کا یقین سا ہو‬
‫جائے۔ غبن اور ہیرا پھیری پکڑ میں آ جاتے ہیں' یا ان کا کسی‬

‫طبقے کو علم ہو جاتا ہے' تو ایسے شخص کو' شخص کہا جا‬
‫سکتا ہے' اسے سیاست دار یا سیاست دان نہیں کہا جا سکتا‪ .‬یہ‬
‫سیاست میں بددیانتی' ہیرا پھیری اور دو نمبری ہو گی۔ گویا ہیرا‬

‫پھیری' جھوٹ' وعدوں کا پلندہ' لوٹ مار وغیرہ کا' سیاست‬
‫سے' چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایسی سیاست کو ہی' نکاحی‬

‫سیاست کہا جائے گا' باصورت دیگر وہ بےنکاحی ہو گی۔‬

‫ایک تفہیم میں' یہ بات بھی آتی ہے' کہ امور و معاملات کے‬
‫لیے' سلیقہ اور علاقائی پاسداری درکار ہوتی ہے۔ جیسے ایک‬
‫پنجابی' کسی اردو اسپیکنگ کو' گالیاں نکال رہا۔ اس میں کوئی‬
‫شک نہیں' کہ وہ بڑی سنیما سکوپ قسم کی گالیاں تھیں۔ اس‬
‫سے سننے والوں کو حظ مل رہا تھا۔ اعضائے مردانہ و زنانہ‬
‫عذاب میں تھے' تاہم اتنی اذیت میں نہ تھے' جتنی عورتوں کی‬
‫لڑائی میں آ جاتے ہیں۔ گویا وہاں ان پر حاویانہ بدنصیبی نازل ہو‬

‫جاتی ہے۔‬

‫درایں اثناء اردو بولنے والے صاحب کہنے لگے' حضرت تمیز‬
‫سے گالی نکالیے' ورنہ ہم بھی آپ کی ماں بہن کی شان میں‬
‫‪.‬گستاخی کر بیٹھیں گے‬

‫اس میں' سوال علاقے کا اٹھتا ہے۔ اگر گالیاں دینے یا بکنے‬
‫والا پنجابی' اردو بولنے والے صاحب کے' علاقہ میں تھا تو یہ‬
‫کھلی دو نمبری تھی۔ اسے' ان کے علاقے کا طور' اختیار کرنا‬

‫چاہیے تھا' جیسے ضمائر کے استعمال میں' میں کر رہا ہوں۔‬
‫اگر اردو بولنے والا' پنجابی کے علاقہ میں تھا' تو یہ دو نمبری‬

‫نہ تھی۔ اس کے علاقہ میں ہر گالی نکاحی' جب کہ اس کے‬
‫علاقہ میں بےنکاحی تھی۔‬

‫مغرب کا اپنا رواج ہے' اس لیے معاملے کو' ان کے اصولوں‬
‫کے تحت نہیں لیا جا سکتا۔ یہاں نکاح کے' اپنے اطوار ہیں۔‬
‫فریقین سے' الگ الگ گواہان کی موجودگی میں' قبولیت کے‬

‫بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ہاں کی صورت میں' وہ ایک دوسرے‬
‫کے لیے' جائز ہو جاتے ہیں۔ کسی سے' کتنا ہی تعلق پیار ہو'‬
‫بلانکاح وہ ایک دوسرے کے لیے' دو نمبری ہوں گے۔ اگرچہ‬
‫دونوں طرح سے' کام اور نتائج ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن‬
‫جائز اور ناجائز کی حدود' قائم رہتی ہیں۔ پہلا طور' عرف عام‬
‫میں آ کر' ایک مستقل نام کا مستحق ٹھہرتا ہے جب کہ دوسری‬
‫صورت میں' پوشیدگی ضروری ہوتی ہے' ورنہ علاقہ میں گڈا‬
‫بندھ جاتا ہے۔ گویا نکاح میں' معاملہ عرف عام میں آ جاتا ہے'‬
‫اس لیے درست اور جائز قرار پاتا ہے۔‬

‫میری بیوی مجھے‬

‫بات چیت میں نااہل‬

‫خریداری میں نکما‬

‫تھوڑ دل‬

‫قرار دے دے تو غلط یا دونمبری نہ ہو گی' کیوں کہ سب جانتے‬
‫ہیں' کہ میں اس کا بندہءناچیز ہوں۔ مالک اپنے بندے کو' کچھ‬
‫بھی کہہ سکتا ہے یہ اس کا نکاحی استحقاق ہے۔ جس سے‬
‫معتوب خاوند بھی' انکار نہیں کر سکتا۔ کھوتی ریڑی والے کو‬
‫میں صرف اتنا جانتا ہوں' کہ کھوتی ریڑی ڈرائیو کرتے اکرام‬
‫راہی کا گانا گا رہا تھا یا پھر ریڑی کا مارنا مجھے یاد ہے۔ وہ‬

‫کون تھا کہاں رہتا تھا میں نہیں جانتا۔ میں اسے کس حساب میں'‬
‫وہ کچھ کیسے کہہ سکتا ہوں جو عرف میں نہیں حالاں کہ میں‬
‫نے' اسے دیکھا تھا۔ میں اسے زیادہ سے زیادہ بےسرا اور‬
‫بےمہارا کہہ سکتا ہوں اگرچہ یہ بھی' عرف عام میں نہیں۔ گویا‬
‫اصولا میں اسے بےسرا اور بےمہارا بھی نہیں کہہ سکتا۔ میری‬
‫بیوی اگر اسے وہ وہ کچھ کہہ دیتی جو عرف میں نہیں' یہ دو‬
‫نمری ہو گی ہر دو نمبری بےنکاحی ہوتی ہے۔‬

‫ساختیات کے مطابق' کوئی تشریح اور معنویت آخری نہیں۔‬
‫تحقیق کا بھی' یہی اصول اور کلیہ ہے۔ کسی بات کو آخری قرار‬

‫دینا' مزید کے دروازے بند کرنا ہے۔ اضافہ' کمی اور تردید کا‬
‫دروازہ' ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ بعض اوقات' ماخذ وہ ہی رہتا ہے'‬

‫لیکن بہتری کی صورتیں نکلتی رہتی ہیں۔ مارکونی کی ایجاد'‬
‫ریڈیو ہی کو لے لیں۔ لہروں کا نظام وہ ہی ہے' لیکن اس سے‬

‫بہت کچھ تیار کر لیا گیا' کہ حیرت ہوتی ہے۔ اصل دکھ کی بات تو‬
‫یہ ہے' کہ مادہ کے کھوجی کو بھلا دیا گیا ہے۔ خیر جو بھی‬
‫صورت رہی ہے' اس سے یہ بات ضرور کھلتی ہے کہ تحقیق‬
‫میں کچھ بھی حرف آخر کے درجے پر فائز نہیں۔ بالکل اسی‬
‫طرح کسی تشریح و معنویت' یہاں تک کہ ہئیت اور تلفظ کو'‬
‫آخری ہونے کا درجہ نہیں دیا سکتا۔‬

‫لفظ اگر متحرک ہیں اور کسی ناکسی حوالے سے مقامی و غیر‬
‫مقامی ولائیتوں میں مہاجرت اختیار کرتے ہیں تو ان کی ہئیت'‬
‫تلفظ' مکتوبی اشکال' اور معنویت میں بھی' ہرچند تبدیلی آتی‬
‫رہتی ہے‪ .‬اس تناظر میں' میرا کہا گیا' حرف آخر نہیں۔ مرکب‬
‫بےنکاحی گالیوں کے اور بہت سے مفاہیم سامنے آتے جائیں‬

‫گے۔‬

‫احباب اور ادارے آگاہ رہیں‬

‫اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو الله نے بہترین تخلیق‬
‫فرمایا۔ اسے اگہی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ اس میں بےشمار‬

‫شکتیاں رکھ دیں۔ ہر شکتی کے ہر سیل کا کوڈ مقرر کیا اور یہ‬
‫راز‘ راز میں رکھا۔ اگر اس راز کی آگہی انسان کی اپروچ میں‬
‫ہوتی تو انسان کی خود انسان کے ہاتھوں کیا کیا ہئیتی صورتیں‬
‫ہوتیں۔ انسان کیا سے کیا ہو جاتا۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کی اپروچ‬
‫میں رکھ دیا۔ یہی نہیں کیوں اور کیسے کی کھوج کا مادہ بھی‬
‫اس کی فطرت کا حصہ بنایا تا کہ تخلیق کے ساتھ ساتھ تزئین کا‬
‫عمل بھی جاری و ساری رہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن اسے‬
‫محدود بھی کر دیا۔ اپنی موجودہ حالت میں لامحدود بھی کہہ لیں‬

‫تو کوئ حرج نہیں۔ اس کی لامحدودیت بھی محدود کر دی۔ وہ‬
‫نہیں جانتا کہ اسے اگلا سانس آئے گا کہ نہیں آئے گا۔ اس طرح‬
‫ہر ادھورہ کام اگلے انسان پر چھوڑ دیا تاکہ کھوج اور تلاش کا‬

‫عمل کسی سطع پر تعطل کا شکار نہ ہو۔ ضروری نہیں اگلا‬
‫انسان اسی سوچ کے ساتھ اسی طرح کرئے جس طرح کہ پہلے‬

‫نے کیا تھا۔‬

‫یہ بھی ممکن ہے انسان اپنی تحقیق مکمل کر چکا ہوتا ہے اور‬
‫پیش کر چکا ہوتا ہے بہت بعد میں یا پیش کش کے فورا بعد‬
‫کوئی نیا سراغ مل جاتا ہے اور وہ اپنے کیے ہی کو مسترد‬

‫کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی پیش کش‬
‫کے بطن سے اور بہت سی چیزیں جنم لیتی ہیں۔ مارکونی نے‬
‫ریڈیو ایجاد کیا۔ آج ریڈیو کے حوالہ سے ان گنت چیزیں وجود‬

‫میں آئ ہیں۔ میں نے بڑی محنت اور مشقت سے لفظ ہند کی‬
‫تحقیق کی اور اپنا مقالہ انٹرنیٹ پر پیش کر دیا۔ ازاں بعد ایک‬
‫دوسرا سراغ ملا۔ پہلا کام یکسر غارت ہو کر رہ گیا۔ بات کدھر‬

‫کی کدھر نکل گئی۔ اس نئے کام کو۔۔۔۔۔۔اردو ہے جس کا نام۔۔۔۔۔۔‬
‫کےعنوان سے پیش کیا۔ میرا قطعا دعوی نہیں کہ جو میں نے‬
‫پیش کیا ہے‘ حرف آخر ہے۔ تحقیق کی حد نہیں کہ معاملہ کہاں‬

‫سے کہاں پہنچ جاءے۔ میرا کہا کیا سے کیا ہو جائے۔‬

‫میں کافی سوچ و بچار کے بعد اس نتیجہ پر پنچا ہوں کہ کامل‬
‫صرف اور صرف الله کی ذات گرامی ہے اور ہر کاملیت اسی کی‬
‫طرف پھرتی ہے۔ اگر کوئی دعوی کرتا ہے تو جھوٹ سے کام‬

‫لیتا ہے۔ انسان اس نوع کے دعوی کے لیے دلیل نہیں رکھتا۔۔‬
‫انسان کا کہا اور کیا‪ ،‬کبھی اور کسی سطع پر حرف آخر کا درجہ‬
‫حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر وہ ایسا کہتا ہے تو غلط کہتا ہے۔ اگر‬

‫وہ ایسا سوچتا ہے تو غلط سوچتا ہے۔ اس طرح کا کہنا اور‬
‫سوچنا نادنی کے سوا کچھ نہیں۔‬

‫میں نے اپنی کسی تحریر میں کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر زیدی شاعر‬
‫اور کالم نگار سے بڑھ کر سچے سچے اور کھرے پروف ریڈر‬
‫ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے کہے پر ناز تھا۔ ان کا ‪ ٦٢‬نومبر کا کالم‬
‫پڑھ کر مجھے اپنے کہے پر شرمندگی ہوئ ہے۔ وہ اس ہنر میں‬
‫بھی پرفیکث نہیں ہیں۔ خیر وہ تو اچھا ہوا کسی نے ابھی تک ان‬
‫سے اس ذیل میں خدمات حاصل نہیں کیں ورنہ ان کا کیا جانا تھا‬
‫کوسنے تو مجھے ملنے تھے۔ میں اس تحریر میں کہی گئ اس‬
‫بات کو واپس لیتا ہوں۔ اگر اب بھی پروف ریڈنگ کے ضمن میں‬

‫کوئ ان کی خدمات حاصل کرتا ہے ہر غلط ملط کی ذمےواری‬
‫خود اس پر عائد ہو گی۔ میرا ذمہ اوش پوش۔‬

‫غلط معلومات فراہم کرنے پر میں دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔‬

‫احباب اور ادارے آگاہ رہیں۔‬

‫مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان‬

‫دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےغصے میں آ کر‬
‫اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ مولوی صاحب کی‬

‫کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے کی دیگ اور دو سو نان ڈال‬
‫دیے۔ نئی شادی پر اٹھنے والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔‬
‫میاں نے مولوی صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں‬
‫عافیت سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے قریب بیٹھے‬

‫ہوئے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوئے کہا‬

‫"اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔‬

‫بات میں سچائی اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود تھی۔ میاں‬

‫نےدوبارہ بھڑک کر کہا‬

‫"توں پیو نوں کیوں چھیڑیا سی‬

‫بظاہر اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر بھڑکا جائے بلکہ‬
‫اس میں میاں کی ہی حماقت نظر آتی ہے۔ اصل معاملہ یہ نہیں‬
‫جو بظاہر دکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زوجہ محترمہ غلطی میاں‬

‫کی ثابت‬

‫کرنا چاہتی تھی۔ گویا اس کی غلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ‬
‫یاد نہ رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس کے‬
‫ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ کہتی حضرت‬
‫سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں بات کہہ دی جس کے سبب‬

‫ہمیں دیگ اور نانوں کا خرچہ پڑ گیا۔ بات ختم ہو جاتی۔ وہ‬
‫دراصل میاں کو سزا دینا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دیگ‬

‫اور نان کا خرچہ برداشت کر لے گا کیونکہ یہ نئ شادی پر‬
‫اٹھنے والے خرچے کا عشر عشیر بھی نہیں۔‬

‫ایچ ای سی پاکستان مندے حال میں ہے۔ اس کی کوئی سننے‬

‫والا نہیں کیونکہ سننے والوں کو اس نے بری طرح ڈسٹرب کیا‬
‫اب اوپر سے خود کو سچا اور برحق سمجھ رہی ہے۔ مجھے‬

‫اس کے دو ای میل ملے ہیں وہ ہسمجھ رہی ہے کہ میں اس کے‬
‫حق میں کچھ لکھوں گا۔ میں پاگل ہوں جو اس کے حق میں قلم‬
‫اٹھاؤں گا۔ کسی جھوٹے کے لیے قلم اٹھانا جھوٹے کے جھوٹ‬
‫کی تائید کرنے کے مترادف ہے۔ ادارے تاج وتخت کے غلام‬
‫ہوتے ہیں اور انہیں تاج وتخت کے غلط معاملات کو تحفظ اور‬
‫انہیں درست ثابت کرنے کے لیے قیام میں میں لایا گیا ہوتا ہے۔‬
‫وہ پروفیسر ہیں اور خود کو سچائی کا ٹھیکیدارسمجھتے ہیں‬
‫حالانکہ سچائ ان کی گندی سوچ کے برعکس ہے۔ انہیں تنخواہ‬
‫اس بات کی ملثی ہے کہ وہ تاج والوں کے اشاروں پر رقص‬
‫کریں۔ انہوں نے حاکم طپقے کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا۔ حاکم‬
‫طبقہ کبھی جعلی نہیں ہوتا۔ اگر تگڑے غلط قرار پانے لگے تو‬
‫انہیں تگڑا کون مانے گا۔ ازل سے غلط عضو کمزور رہا ہے۔‬
‫انہیں کس حکیم نے اتنے ووٹ حاصل کرنے والے لوگوں کی‬
‫ڈگریاں غلط قرار دینے کو کہا تھا۔ انہیں سیٹوں پر رعایا کی‬
‫وقت پڑنے پر مرمت کرنے کے لیے عہدے دیے جاتے ہیں۔‬
‫ڈگری تو بہرصورت ڈگری ہوتی ہے اس میں غلط یا صیح ہونے‬
‫کا سوال کہاں اٹھتا ہے۔‬

‫ویسے خود کو تابع فرفان لکھتے ہیں لیکن عملی طور پر خود‬

‫کو بالاتر سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔ پانی اوپر سے نیچے آتا‬
‫ہے‘ نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔ جن کی انہوں نے ڈگریاں جعلی‬
‫قرار دی ہیں جیل نہیں چلے گیے۔ موج میں تھے موج میں ہیں۔‬

‫اقبال نے کہا تھا‬

‫موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں‬

‫اصولی سی بات ہے مچھلی دریا میں زندہ رہ سکتی ہے لہذا وہ‬
‫دریا سے باہر کیوں آئیں گئے۔ دریا ان کا اپنا ہے۔ اپنوں سے‬
‫کبھی کوئی جدا ہوا ہے؟‬

‫ان کے نکالنے کی کوشش سے وہ کیوں نکلیں گے۔ دریا قطرے‬
‫قطرے سے بنتا ہے۔ ان کے لیے چند قطرے معنویت نہ رکھتے‬

‫ہوں لیکن دریا کے لیے بڑی معنویت رکھتے ہیں۔‬

‫تیر کمان سے نکل چکا ہےاب کچھ نہیں ہو سکتا ہاں البتہ ایچ‬
‫ای سی‘ پاکستان دوسرے اداروں کے لیے نشان عبرت ضرور‬

‫ہے۔ جو بھی چنیدہ اور دریا کے اندر موجود دریا کی ذاتی‬
‫مخلوق کے خلاف قدم اٹھاتا ہے گلیوں کا روڑا کوڑا بھی نہیں رہ‬

‫پاتا۔ ہٹ دھرمی اور ڈھیٹ پنا تو یہ ہے کہ یہ سچ پتر غلطی کو‬
‫غلطی تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسین ایک ہی تھا۔ آج‬
‫کسی کو ریاست کے گناہ گاروں کے لیے اپنے بچے مروانے کی‬
‫کیا ضرورت پڑی ہے۔ ان کی مدد کے لیے کوئی میدان میں نہیں‬
‫آئے گا۔ باور رہنا چاہیے سر کا بوجھ سر والے کے پاؤں پر آتا‬

‫ہے۔‬

‫سیری تک جشن آزادی مبارک ہو‬

‫میں اس امر کا متعدد باراظہار کر چکا ہوں کہ برصغیر دنیا کا‬
‫بہترین خطہء ارض ہے۔ یہاں کے وسنیک بڑے ہی محنتی اور‬
‫ذہین ہیں۔ میدان کار زار میں بھی ناقابل یقین کارنامے سر انجام‬
‫دیتے آئے ہیں۔ سکندر دنیا فتح کرنے چلا تھا لیکن راجہ پورس‬
‫سے پالا پڑا تو اسے نانی یاد آ گئی۔ ٹیپو کا نام لے کر انگریز‬

‫مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں۔‬

‫اہل قلم بھی بلا کے ذہین اور بے باک رہے ہیں۔ شاعر علامتوں‬

‫اشاروں میں تلخ حقیقتوں کو کاغذ کے بدن پر اترتے آئے ہیں۔‬
‫پیٹو مورخ نے؛ اورنگ زیب جو برصغیر کو جہنم میندھکیلنے کا‬

‫موڈھی ہے‘ نبی کے قریب پنچا دیا ہے۔ رحمان بابا صاحب نے‬
‫واضع الفاظ میں اس کی کرتوتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔‬

‫بہادر شاہ ظفر نےبڑے ہی رومانوی الفاظ میں اپنے عہد کے‬
‫کرب کو بیان کر دیا ہے۔ ذرا یہ شعرملاحظہ فرمائیں کتنا کرب‬

‫پوشیدہ ہے۔‬

‫چشم قاتل تھی میری دشمن ہمیشہ‘ لیکن جیسی اب ہو گئ قاتل‬
‫کبھی ایسی تو نہ تھی‬

‫ذہانت کی پذیرائی تو بڑی دور کی بات‘ ان کی ذہانت کو کبھی‬
‫تسلیم تک نہیں کیا گیا بلکہ ذہانت کی تذلیل ہی کی گئ ہے۔ ہنر‬
‫مندوں کے ہاتھ کاٹے گئے ہیں۔ بعض تو جان سے بھی گءے‬
‫ہیں۔ اس کے برعکس کرسی قریب جھولی چکوں کو نوازا گیا‬
‫ہے۔ یہی جھولی چک اپنی عیاری کے بل پر کرسی پر شب خون‬

‫مارتے آئے ہیں۔‬

‫تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں غداروں اور دھرتی کے نمک‬
‫حراموں کے سبب بیرونی طالع آزماؤں کے سبب یہ دھرتی‬

‫غیروں کی غلام رہی ہے۔ غیروں نے اس کےوساءل سےموجیں‬
‫کی ہیں اور خوب پچرے اڑائے ہیں اوراڑا رہے ہیں۔ حالات‬

‫بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہ غدار اور دھرتی کے‬
‫نمک حرام لوگوں کی ذہانت کا اسی طرح قیمہ کرتے رہیں گے۔‬

‫اس ذیل میں خدا کے خوف کی بات کرنا حماقت سے کم نہیں۔‬
‫خدا‘ خدا کا خوف کھاءیں؟ بادشاہ لوگوں کا شروع سے یہی طور‬
‫اور وتیرا رہا ہے۔ دور کیا جانا ہے آج کے خدا نما بادشاہوں کو‬
‫ہی دیکھ لیں کیا کر رہے ہیں۔ شخص ان کے لیے کیڑے مکوڑے‬

‫سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کی بھوک پیاس سے انہیں‬
‫کوئ غرض نہیں۔ انھیں تو باتوں اور جھوٹے دعوں کے عوض‬

‫جنتی اور مفتی کھانا مل رہا ہے۔ ان کی دلال افسر شاہی تو‬
‫گلچرے اڑا رہی ہے۔ لوگ اندھیروں میں ہیں تو وہ کیا کریں ان‬

‫کے ہاں تو چانن ہے۔‬

‫چودہ اگست ہر سال آتا ہے۔ سرکاری اور نجی سطع پر جشن‬
‫منائے جاتے ہیں۔ سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ میں یہاں کے‬
‫ذہین لوگوں کی بات کر رہا تھا اس دن کے حوالہ سے میں اس‬
‫ذہین و فطین شخص کو سلام کرتا ہوں جس نے یہ نعرہ ایجاد‬
‫کیا‪ -----‬جشن آزادی مبارک ہو‪ ------‬جشن آزادی کی مبارک ہے‬
‫آزادی کی نہیں۔ نعرہ نے کمال کا ہاتھ دکھا یا ہے۔ وہ جانتا تھا ہم‬
‫آزاد نہیں‘ آزادی کا سہانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنے‬

‫اور خوش فہمی میں مبتلا رہنے پر کوئی پابندی تو نہیں ورنہ‬
‫قوم خادم اور حکومتی گماشتوں کی غلام ہے۔ یہ خادم اور‬

‫حکومتی گماشتے امریکہ کے پیٹھوں کے غلام ہیں۔ کیسی آزادی‬
‫کہاں ہے آزادی؟‬

‫جو لوگ منصف کے درپے ہو جاتے ہیں‘ اسے نیچا دکھانے اور‬
‫اپنا دلال بنانے پر اتر آتے ہیں انھیں الله ہی اپنی گرفت میں لے‬
‫سکتا ہے۔ وہ صم بکم عم فاھم لا یرجعون کے درجے پر فائز ہو‬
‫جاتے ہیں۔ قوم کے حصہ میں فقط جشن آیا ہے سو وہ دھوم‬
‫سے منا رہی ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی صرف جشن‬
‫پر ہی اکتفا کرے۔‬

‫میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ملک کا آءین‬
‫معطل یا چیلنج ہو چکا ہے۔ میری اس تحریر‬

‫کو کسی ایک نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ اس نام نہاد جشن آزادی‬
‫کی کرتوت یہ ہے کہ ملک چیلنج یا معطل آئین کے حوالہ سے‬

‫چل رہا ہے۔عوام آخر کس قانون اور آئین کے تحت جشن منا‬
‫رہے ہیں۔ یہ جشن بھی غیر آئینی ہے۔ عوام کو تو جھوٹ موٹھ‬

‫کی خوشی منانے کا بھی حق حاصل نہیں۔‬

‫سال رواں کے اس روائیتی جشن کے موقع پر مجھے محمد نعیم‬
‫صفدر انصاری ایم پی اے قصور کا ایک موبائل میسج ملا‬

‫۔۔۔۔۔۔۔ زنجیریں غلامی کی‘ دن آتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی ۔‬
‫‪-----‬چودہ اگست ہپی انڈیپنڈنس ڈے‬

‫محمد نعیم صفدر انصاری نوجوان سیاست دان ہے۔ اس کا موباءل‬
‫میسج میرے مندرجہ بالا موقف کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت ہے۔‬

‫ایک ایوان کے ممبر کے موبائل کے منہ سے نکلی یہ بات اس‬
‫امر کا واضع ثبوت ہے کہ ملک اور قوم کا درد رکھنے والے‬

‫نوجوان بھی اس غلام اور غبن اور کرپشن آلودہ فضا میں گھٹن‬
‫محسوس کرتے ہیں۔ محمد نعیم صفدر انصاریایوان کلچر کا نمائندہ‬

‫ہےگویا یہ ون مین گھٹن نہیں ہے پورے ایوان کی گھٹن ہے۔‬

‫یہ تو مثل ایسی ہے کہ بہو کو کہا جائے بیٹا سب کچھ تمہارا ہے‬
‫لیکن کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ کیسی نمائندگی اور علاقائی‬
‫سربراہی ہے کہ لیا سب کچھ جائے لیکن دیا اندھیرا جائے اور‬
‫پھر بھی مورخ سے کہا جائے لکھو بادشاہ بڑا دیالو کرپالو اور‬

‫دیس بھگت تھا۔ بہر طور مجھے خوشی ہوئ کہ ہمارے ایوانوں‬
‫میں محمد نعیم صفدر انصاری جیسے نماہندے موجود ہیں جو اس‬
‫امر کا شعور رکھتے ہیں کہ پاکستانی قوم کے ہاتھ صرف جشن‬

‫آزادی لگا ہے‘ آزادی ابھی کوسوں دور ہے۔ پرانی نسل دیسی‬
‫گھی کھاتی تھی اس کے جسم میں وافر خون تھا۔ دیسی گھی تو‬

‫دور کی بات اس کے پاس تو‬

‫سوکھی روٹی بھی نہیں۔ خون کہاں سے آئے گا۔ آزادی خون‬
‫مانگتی ہے اس لیے پیٹ بھرنے تک جشن آزادی کی مبارک باد‬

‫پر ہی گزارا کرنا کافی رہے گا۔‬

‫جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے‬

‫عبدالروف پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہے۔ آبائی مشقتی ہے۔ آج اس‬
‫کی باتیں سن کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ اس قسم کی باتیں تو‬

‫اکثر پڑھے لوگ بھی نہیں کرتے۔ میں نے اس سے دریافت کیا‬
‫یہ باتیں تم نے کہاں سے سیکھی ہیں۔ کہنے لگا میں رات کو کام‬

‫سے فارغ ہو کر خبریں سنتا ہوں‘ تبصرے سنتا ہوں۔ دوہری‬
‫حیرانی ہوئی اول تا آخر پنجابی ہے پڑھا لکھا بھی نہیں اور‬
‫انگلش گزیدہ اردو کسی دقت کے بغیر سمجھ لیتا ہے۔ تیسری‬
‫بڑی بات یہ کہ اپنی رائے بھی رکھتا ہے۔ اپنی رائے کے حوالہ‬

‫دلائل بھی رکھتا ہے۔‬

‫اس کا کہنا ہے پاکستان دراصل انگریز کے چیلوں اور تلوے‬
‫چاٹنے والوں کو نوازنےکےلیے بنایا گیا۔ دو نمبر لوگ حکومت‬
‫کرتے آئے ہیں۔ شروع سے یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس وقت میڈیا‬

‫محدود اور حکومت وقت کا غلام تھا اس لیے ان لوگوں کی‬
‫کرتوتیں عوام تک نہیں پہنچ پاتی تھیں اس لیے لوگ بے بسی‬
‫یبچارگی کو حالات کا المیہ سمجھتے تھے۔ حاکم نت نئے نعرے‬

‫استعمال کرکے اپنے عرصہ حکومت کو طوالت دیتے رہے۔‬
‫کشمیر کا نعرہ ایک عرصہ چلا۔ روٹی کپڑا اور مکان والے‬
‫نعرے میں بڑی جان تھی۔ کوئ یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ نعرہ‬
‫لگانے والا کس طبقے سے متعلق تھا اور بھوک پیاس کیا ہوتی‬
‫ہے سے آگاہ بھی تھا یا بے خبر تھا۔ اس کے بعد اسلام جو یہاں‬
‫کے عوام کی نفسیاتی کمزوری ہے کو استعمال کیا گیا۔ جنرل‬
‫مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا جو اسلامی روح‬
‫کے ہی خلاف تھا۔ آج جمہوریت کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ جلد ہی‬
‫کہا جاءے گا جمہوریت خطرے میں ہے۔ کوئی نہیں کہے گا کہ‬

‫جمہوریت نے یہاں کے لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‬

‫جمہوریت عوام کا مسلہ نہیں ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا الیکشن‬
‫والے دن امیدواوں کے چمچے اور کہیں خود امیدوار‘ لوگوں کو‬

‫پکڑ پکڑ کر سو طرح کے سبز باغ دکھا کر ووٹوں کے پیسے‬
‫دے کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے کر جاتے‬
‫ہیں۔ اگر جمہوریت عوام کا مسلہ ہو تو وہ الیکشن کے عمل میں‬
‫حصہ نا لیں۔ عوام کا مسلہ صرف روٹی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ‬
‫کرسی والوں نے عوام کو روٹی کے چکروں میں ڈال دیا ہے۔‬
‫لوگ کرسی والوں کی باندر پوٹوسیوں سے خوب آگاہ ہیں لیکن‬
‫کیا کریں انہیں بھوک نے نڈھال کر دیا ہے۔ آج ان کا مسلہ صرف‬

‫اور روٹی ہے۔‬

‫عدلیہ طاقت کے سامنے ڈٹی ہوئ ہے۔ عدلیہ ان کے لیے مذاق‬
‫بنی ہوئ ہے۔ یہ بھی ان چال بازوں کی ایک چال ہے۔ عدلیہ خط‬

‫کے چکروں میں پڑی رہے اور اس کی توجہ اداروں میں ہر‬
‫روز ہونے والی اربوں کی کرپشن اور غبن کی طرف نہ جائے۔‬

‫سارا قصور سیاست دانوں کا نہیں ہے اداروں کے افسر یقین‬
‫دلاتے رہتے ہیں کہ جناب فکر نہ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ‬
‫افسر داؤ پیچ بھی بتاتےرہتے ہیں۔ اس خیرخواہی کے صلے میں‬

‫لمے نوٹ کما رہے ہیں۔‬

‫اس کا کہنا ہے جن لوگوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرا اور وہ اس‬
‫حوالہ عدلیہ سے ٹکر لینے پر اترے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں عدلیہ‬
‫کو مجبور و بے بس کر دینے پر تلے ہوئے ہیں؛ اپنی اس سر‬
‫کشی کو آئنی قرار دیتے ہیں۔ ان سے خیر کی توقع رکھنا کھلی‬

‫حماقت ہو گی۔‬

‫اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے گلے‬
‫میں سب زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اناج اور سبزیات پنجاب مہیا کرتا‬
‫ہے پھر بھی بتی اسے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بادشاہ کے لیے‬
‫تو سب برابر ہوتے ہیں۔ کوئی اس کے اس ڈنڈی مار پروگرام پر‬
‫بات نہیں کر رہا۔ اسے تو سب اچھا کی آواز سنائی دیتی ہو گی۔‬

‫اس کا موقف یہ ہے۔ لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں۔ لوگ تو‬
‫ان کا کھلونا ہیں۔ جمہوریت یعنی ان کی بادشاہت کو کوئی خطرہ‬
‫نہیں کیونکہ ساری گوٹیاں سارا گلہ افسر شاہی اس کے ہاتھ میں‬

‫ہے۔ افسر شاہی کو اس سے بڑھ کر موجو میسر نہیں آ سکتا۔‬

‫عبدالروف کی باتوں سے اتفاق ہونا یا نہ ہونا قطعی الگ بات‬

‫ہے۔ ساری عوام بھی اس طور سے سوچے تو کچھ فرق نہیں‬
‫پڑتا۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ جہوریت یعنی حکومت‬

‫کے بارے میں سوچنے لگےہیں۔ اس قسم کی سوچوں سے‬
‫بےچینی بڑ ھے گی جو بادشاہ لوگوں کی صحت کے لیے کسی‬
‫طرح درست نہیں۔ عوام کی جمہوریت کے حوالہ سے آگہی کسی‬
‫وقت بھی بغاوت کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ آتے ممکنہ خطرے‬

‫کے پیش نظر صرف ایک ٹی وی چینل پی ٹی وی رہنےدیا‬
‫جاءے باقی سب بند کرا دیئے جائیں کیونہ یہ اتشار پھیلاتے ہیں‬

‫اور ان کے باعث نقص امن کا خطرہ ہے۔ کار سرکار میں یہ‬
‫کھلی مداخلت ہے۔ اسی طرح دو ایک سرکاری اخبارات سے‬
‫بخوبی کام چل سکتا ہے اور چلتا آیا ہے لہذا انھیں بند کرا دینے‬

‫سے جموریت کو اس اپنے قدموں پر رکھا جا سکتا ہے‬

‫رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے‬

‫رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نصیب والے اس‬
‫مہینے میں زاد آخر جمع کرنے کا جتن کرتے ہیں۔ توبہ کے‬
‫سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اپنے لیے مغرفت کے طالب‬

‫ہوتے ہیں۔ بلاشبہ الله بڑا ہی معاف کرنے والا ہے اور وہ اپنے‬
‫بندوں کو مایوس نہیں کرتا۔ ۔بندہ بھی الله کی ان حد رحمتوں‬
‫سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ کوئ لمحہ ضاءع نہیں کرتا۔ جانے‬

‫کون سا لمحہ قبولیت کا لمحہ ہو اور بخشش اس کا مقدر ٹھہرے۔‬

‫ہمارے ہاں رمضان کی آمد کا سبزی منڈی ہو کہ فروٹ منڈی یا‬
‫بازار‘ ایک ہفتہ پہلے ہی ڈنکا بج جاتا ہے۔ اصل میں یہ مہینہ‬

‫بچتوں کا مینہ ہے۔ شخص جبری بچت پر مجبور ہوتا ہے۔ کوئی‬
‫چیز جیب کی دسترس میں نہیں رہتی۔ سنا ہے شیطان اس مہینے‬
‫قید کر دیا جاتا ہے البتہ سارے فروش آزاد ہی نہیں کھلے چھوڑ‬
‫دیے جاتے ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو شاید اشیاء‬

‫گریب شخص کی اپروچ میں رہتیں۔ شیطان کھلا رہتا اور یہ قید‬
‫کر دیے جاتے‘ تو زندگی کی بیچارگی کم از کم چار گنا نہ بڑھتی۔‬

‫شخص موجودہ صورت سے کہیں زیادہ آسودہ حال ہوتا۔‬

‫لوگوں کا خیال ہے ہمارے بااختیار بادشاہ لوگ شیطان کی کمی‬
‫پوری کرنے کے لیے اور مومنوں کی آزمائش کے لیے انہیں‬

‫اپنے اشیرباد سے سرفراز کرتے ہیں۔‬

‫وہ ایک نہیں مومنوں کی آزمایش کے لیے بہت سارے دروازے‬

‫کھول دیتے ہیں۔ مثلا عین ہانڈی روٹی کے وقت گیس بند کر‬
‫دیتے ہیں۔ روزے کی افطاری سے پہلے بجلی کا دروازہ بند کر‬
‫دیا جاتا۔ ادھیر روزے کی افطاری کا وقت ادھیر گیس کی آمد ہو‬

‫جاتی ہے جبکہ بجلی اس روایت کی تابع فرمان رہتی ہے۔‬

‫استاد نے شاگرد کو کہا اس فقرے کا انگریزی میں جملہ بناؤ‪:‬‬
‫وہ گیا ایسا گیا کہ چلا ہی گیا۔‬

‫شاگرد نے کچھ ایسا انگریزی جملہ بنایا‪ :‬ہی ونٹ ایسا ونٹ کہ‬
‫بس ونٹ ہی ونٹ۔‬

‫بجلی بھی بس ونٹ ہی ونٹ کو اپنا شعار ٹھراتی ہے۔ گیس اور‬
‫گرمی کی تپش جب کرکر لمبے ہاتھ گلے ملتی ہیں تو بے خبروں‬

‫کو بھی قیامت یاد آ جاتی ہے۔ کملے لوگ یہ جانتے ہوءے بھی‬
‫کہ شیطان قید میں ہے شیطان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس مہینے‬
‫میں شیطان پر لعنتیں انتہائ زیادی اور انصافی کی بات ہے۔ قید‬
‫میں پڑے شیطان کو کیا معللوم کہ اس کے گندے انڈے بچے اس‬

‫سے بازی لے گیے ہیں۔ روزوں کے بعد جب وہ رہا ہو گا تو‬
‫مومنوں سے کہیں بڑھ کر عید کی خوشیاں منائے گا کہ اس کے‬

‫بالکوں نے وہ کر دکھایا جو وہ شاید کبھی بھی نہ کر پاتا۔‬


Click to View FlipBook Version