اندر تھا کہ زوجہ ماجدہ کی پیار بھری آواز واپسی بلاوے کی
صورت میں میرے ناچیز اور پراز گناہ کانوں میں پڑی۔ بڑھاپے
کے باوجود میں پوری پھرتی اور کسی نوبہاتا نوجوان کی طرح
واپس پلٹا۔ زوجہ حضور کے ہاتھ میں منڈی کے سامان کی لسٹ
تھی۔ سخت گھبرایا اور نزع کی حالت کے نیم مردہ شخص کی
طرح منمنایا بلکہ گڑگڑایا :رمضان کی برکتوں کے سبب منڈی
کی اشیاء دسترس سے باہر ہو گئ ہیں۔ بس دو چار روز صبر
فرما لیں پھر سب کچھ آپ کے مقدس چرنوں میں ہو گا۔ بس پھر
کیا تھا کام اسٹارٹ ہو گیا جیسے میں نے کوئی ماں بہن کی
بےلباس گالی نکال دی ہو۔ یہ کوئی ایسی نئ بات نہیں تھی تحفظ
عزت و مال کے لیے سارا دن بےعزتی کرانا میرے معمول کا
حصہ ہے۔ میں نے بھی دل ہی دل میں جی بھر سنائیں۔ سالی
یوں گرج برس رہی ہے جیسے روزہ میرے لیے رکھا ہو۔۔ باور
رہے یہ بھی دل ہی دل میں کہا۔ اونچی آواز میں کچھ کہنا میرے
کیا بڑے بڑوں کے ابے کے بس کا روگ نہیں رہا۔
بیگمی حوصلہ اور عزت افزائی کے باوجود میں خود کو
معاشرے کا معزز شہری سمجھتا ہوں۔ لوگ تو خیر اس غلط
فہمی میں مبتلا ہیں ہی۔ وہ کیا جانیں روزوں میں منڈی چڑھنے
کے ساتھ ہی میری عزت اور وقار بےعزتی کی سولی پر
مصلوب ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اوروں کے ساتھ بھی کم
وبیش یہی ہوتا ہو تاہم میرے ساتھ باالضرور ہوتا ہے اور شاید
یہی مقدر اور نصیبا رہا ہو۔
سنٹر میں ابھی میں نے تشریف نہیں رکھی تھی کہ ایک بی بی
جو میری سب تھی اپنا کام لے کر آ گئ۔ سر میرا کیا قصور ہے
جو کلرک کام میں دیری کرتا ہے بمعنی دوسروں کے پہلے کرتا
ہے حالانکہ اسے لیڈیز فسٹ کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے
گویا جس کا کام کر رہا ہوتا ہے اسے موخر کے کھاتے میں ڈال
دے۔ اس کے سوال کا جواب دینے کی بجاءے منہ سے
بےساختہ اور بےمحل نکل گیا جانے کیا کر بیٹھا ہوں جو گھر
میں بھی عورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں باہر آؤ تو بھی عورتوں
سے پالا پڑتا ہے۔ کہنے کو تو کہہ گیا لیکن مجھے احساس ہو
گیا کہ کچھ زیادہ ہی غلط کہہ گیا ہوں۔ بعد میں نے لیپا پوچی کی
بڑی کوشش کی لیکن اب کیا ہوت کمان سے نکلا تیر نشانے پر
بیٹھ کر اپنا اثر دکھا چکا تھا۔
بات آئ گئ ہو کر وقتی طور پر ٹل گئ۔ مارکنگ کا یہ آخری دن
تھا ایک دوسری خاتون نے برسرعام پوچھا سر اگر آپ برا نہ
مناءیں تو ایک ذاتی سا سوال پوچھ سکتی ہوں۔ ذاتی پر زور تھا
سا کا لاحقہ اس نے تکلفا استعمال کیا۔ کیا کہہ سکتا تھا ذاتی سا
سوال سرعام دریافت کر رہی تھی۔ احمق میں ہی تھا جو ماتحت
لوگوں کے بیچ بیٹھ کر کام کر رہا تھا۔ یہ لوگ تقریبا ماتحت
تھے میں تو درجہ چہارم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پلے سے
سب کے لیے چائے منگوا کر پی لیتا ہوں گپ شپ کر لیتا ہوں۔
بلاشبہ یہ اصول جاہی کے خلاف ہے۔ بہر کیف میں نے بی بی
کو پوچھ گچھ کی اجازت دے دی۔
۔سر آپ کی تینوں بیگمات اسی شہر میں اقامت رکھتی ہی۔ تین
کے ہندسے نے مجھے چکرا دیا۔ پھر میں نے سوچا مفت میں
ٹہوہر بن رہا ہے اور اس حوالہ سے یہ جائے انکار کب ہے۔
نہیں وہ تو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ جس طرح مجھے تین
کے ہندسے نے چکرا دیا تھا بالکل اسی طرح بلکہ اس سے
بھی بڑھ کر اس بی بی کو چکر آ گیا اور میں جوابی کاروائ کی
اثر انگیزی پر مسرور تھا۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد میری
مسروری کو دیکھ کر اس نے دوسرا سوال داغ دیا۔ سر وہ آپس
میں خوب لڑتی ہوں گی۔ میں یہ کہہ کر چلتا بنا :کیوں میں مر
گیا ہوں۔
بعد میں کسی اور کی زبانی معلوم ہوا کہ انہوں نے کیوں میں مر
گیا ہوں کی تفہیم بالکل الگ سے لی ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ
بابے نے تینوں کو نپ کر رکھا ہوا ہے۔ عورت اور وہ بھی
سرکاری؛ دب کر رہے کس کتاب میں لکھا ہے۔ میرے کہنے کا
مطلب یہ تھا کہ آپس میں کیوں لڑیں گی لڑائی اورعزت افزائی
کے لیے میں ابھی زندہ ہوں۔ یہ قصہ تو زیب داستان کے لیے
عرض کر گیا ہوں اصل تحقیق کی ضرورت تین کا ہندسہ تھا۔
آخر یہ کہاں سے آ ٹپکا اور پورے مارکنگ سنٹر میں میری وجہ
ء شہرت بن گیا۔
بڑا غور کیا سوچا سیاق و سباق میں گیا۔ کچھ بھی پلے نہ پڑا۔
آج کچھ ہی لمحے پہلے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا گیا
تو میں نے سنجیدہ توجہ دی تو کھلا میں نے ایک بی بی سے
کہا تھا گھر میں عورتوں اور باہر بھی عورتوں سے پالا ہے۔
جمع کے صیغے نے کہانی کو جنم دیا تھا۔ خاتون کے حافظہ
میں ایک جمع رہی دوسری کو اس نے واحد لیا۔ وہ عورت تھی
مکالمہ اسی سے ہوا۔ غالبا اردو نحو کا اصول بھی یہی ہے کہ
دوسری جمع واحد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سننے اور پڑھنے والا بولنے اور لکھنے والے کا پابند نہیں وہ
مرضی کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ میرے کہے میں ابہام
موجود تھا۔ بلا ابہام لفظوں اور جملوں کے بہت سے مفاہیم لیے
جاتے ہیں یا پھر لیے جا سکتے ہیں۔ ساختیات بھی یہی کہتی
ہے۔ اسے کہنا بھی چاہیے۔ ابہام اور لفظوں کی کثیر معنویت
عدالتوں میں اپیل کے دروازے کھولتی ہے۔ لفظ اپنی حیثیت میں
جامد اور اٹل نہیں۔ اسے استعمال میں لانے والے کی انگلی
پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے جامد اور اٹل ہونے سے زبان کے اظہار
کا دائرہ تنگ ہو جاءے گا۔ نتیجہ کار زبان مر جائے گی یا محض
بولی ہو کر رہ جائے گی۔ اس تھیوری کے تناظر میں مجھے
کسی بھی خاتون کے کہے کو دل پر لگانا نہیں چاہیے۔
کچھ ہی پہلے اندر سے آواز سنائی دی حضرت بیغم صاحب حیدر
امام سے کہہ رہی تھیں بیٹا اپنے ابو سے پیسے لے کر بابے
فجے سے غلہ لے آؤ۔ عید قریب آ رہی ہے کچھ تو جمع ہوں
گے عید پر کپڑے خرید لائیں گے۔ بڑا سادا اور عام فیہم جملہ
ہے لیکن اس کے مفاہیم سے میں ہی آگاہ ہوں۔ یہ عید پر کپڑوں
لانے کے حوالہ سے بڑا بلیغ اور طرحدار طنز ہے۔ طنز اور
مزاح میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ طنز لڑائ کے دروازے
کھولتا ہے جبکہ مزاح کے بطن سے قہقہے جنم لیتے ہیں۔ جب
دونوں کا آمیزہ پیش کیا جائے تو زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوتی
ہے اور ایسی جعلی مسکراہٹ سے صبر بھلا دوسرا بات گرہ
میں بندھ جاتی ہے۔
میں نے کئ بار عرض کیا کہ طنز لبریز مذاق نہ کیا کرو۔ کہتی
ہے اب اس گھر میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ حقیقت یہ
ہے کہ حکم نامے طاقت جاری کرتی ہے۔ ماتحت کمزور مفلس
اور کامے حقوق کی مانگ بھی گزاشی انداز میں کرتے ہیں۔
لمحہ بھر کی خوش فہمی بھی ہضم نہ ہو سکی کہ گھر والی کو
بےفضول کہنے کی جرآت نہیں میرے حصے کا بھی بقول
سقراط گھر والی نے بول دیا۔
سردار محمد حسین آج کی نشت میں کہہ رہے تھے کہ آخر آپ کی
تان اعلی شکشا منشی پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے۔ میں نے کہا
سردار صاحب کل گاؤں سے ایک توڑا آلو لیتے آنا۔ آپ ہی
فرمائیے اس میں زوردار ہنسنے والی کونسی بات ہے۔ میں نے
اپنی بات دہرائ تو پھر ہنس دیے۔ نہ ہاں نہ ناں یہ کیا ہوا۔ میں
اپنی لکھتوں میں اپنا حق طلب کرتا ہوں کیونکہ آلو کے بغیر
گزرا نہیں اور آلو مفت میں نہیں ملتے۔ اعلی شکشا منشی کے
دفتر سے پیسے ملیں گے تو ہی آلو لا سکوں گا۔ میرے آلو
لانے کے لیے کہنے میں سادگی نہ تھی بالکل اسی طرح سردار
صاحب کے دھماکہ دار قہقہوں میں بھی نزدیک کے معنی موجود
نہ تھے۔
میں جانتا ہوں وہاں بھی آلو کا رولا ہے۔ سکی تنخواہ میں آلو
اور ٹوہر ایک ساتھ نہی چل سکتے اور ناہی کسی سطع پر ان کا
کوئ کنبینیشن ترکیب پاتا ہے۔ انہیں ضدین کا درجہ حاصل ہے۔
سردار صاحب نےآلو لانے کی بات کو گول کرکے میرے اندر ڈر
اور خوف کی لہر دوڑا دی۔ میں یہ بھول ہی گیا کہ میں نے ان
سے کیا گزارش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جن کے متعلق
لکھتا ہوں ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
سردار صاحب کا کہنا غلط نہ تھا۔ تاہم یہ بھی طے ہے لوگ جیل
سے باہر جیل سی زندگی گزار رہے ہیں۔ سفید پوش کی اوقات
آلو برابر نہیں رہی۔ کیا عجیب صورت حال درپیش ہے۔ چور کی
نشندہی کرنے والا مجرم اور لائق تعزیر ٹھہرتا ہے۔ چور یقینا
دودھ دیتی بھینس کی مثل ہوتا ہے۔ چور چور کی آوازیں نکالنے
والا دودھ دیتی بھینس کو چھڑی مار رہا ہوتا ہے۔ نشاندہی کرنے
والا ایک طرف چور کو تو دوسری طرف چور سے مال انٹنے
والے کے پیٹ پر لات رسید کر رہا ہوتا ہے۔
ویسے سچ اور حق کی آنکھ سے دیکھا جاءے تو حقیقت یہ ہے
کہ چور اس وقت تک چور ہوتا ہے جب تک دوسرے کا مال اس
کی گرہ میں نہیں آ جاتا۔ مال چاہے شور مچانے والے کا ہی
کیوں نہ ہو۔ چور کی گرہ میں آنے کے بعد مال چور کا ہوتا ہے۔
کسی صاحب مال کو چور کہنا سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔
اگر شور مچانے والا بخوشی گرہ سے کچھ نہیں دے سکتا تو
کسی کے مال پر دعوے کا بھی اسے حق نہیں۔ حق اور انصاف
کا تقاضا یہی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔
علم عقل اور حبیبی اداروں کا قیام
یہ واقعہ میں نے پڑھا نہیں' کسی سے سنا ہے۔ راجا رنجیت
سنگھ کے پاس دو آدمی حصول ملازمت کے لیے آئے۔ ان میں
سےایک پڑھا لکھا جبکہ دوسرا پڑھا لکھا نہیں تھا بس اپنے
دستخط کر لیتا تھا۔ اس نے پڑھے لکھے کو پٹواری اور
دوسرے کو تحصیل دار بھرتی کر لیا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا'
پڑھا لکھا پٹواری اور ان پڑھ تحصیل دار! راجا رنجیت سنگھ
نے جواب دیا کام تو پڑھے لکھے نے کرنا ہے جبکہ تحصیل
دار نے دستخطوں کے سوا اور کرنا ہی کیا ہے۔
اس کی بات غلط نہ تھی افسر کام کب کرتا ہے کام تو کلرک
وغیرہ ہی کرتے ہیں۔ افسر کئے کرائے پر دستخط مارتا ہے۔
اسے تو بہت سارے کاغذات کے بارے میں علم نہیں ہوتا کہ وہ
ہیں کیا۔ مزے کی بات یہ کہ اس کی ذاتی دلچسپی سے متعلق
کیسز بھی بابو کے ہاتھوں پراسس ہوتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے اہم
سرکاری امور کے بارے بابو صاحبان سے قانونی مشورے لیتا
ہے اور بابو کے مشوروں کو ہی حرف آخر خیال کرتا ہے۔ کہیں
گرفت میں آ جائے توبھی بابو کا اگلا حکیم جالینوس کا نسخہ
ثابت ہوتا ہے۔ بابو کے پاس۔ ہر مرض کی دوا اور گیدڑ سنگی
ہوتی ہے۔ جس کام سے افسر انکار کر دیتا ہے پٹواری (بابو
بادشاہ) وہ کام نکلوا لیتا ہےاور اس انداز سے نکلواتا ہے کہ
افسر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو پاتی۔
موجودہ عملی صورت حال کو دیکھتے ہوئے راجا رنجیت سنگھ
کے فیصلے میں رائی بھر کجی یا خرابی نظر نہیں آتی۔ یونس
حبیب کا موقف ہے کہ اس نے بڑا عہدہ علم کے ذریعے حاصل
نہیں کیا بلکہ عقل کا اس میں عمل دخل ہے۔ اس کا موقف سولہ
آنے درست ہے .ایک ایف اے پاس آدمی اتنے بڑے مرتبے پر
کیسے جا سکتا تھا۔ ایم اے پاس لوگ ناءب قاصد کی کرسی کے
لیے مستحق نہیں ٹھرتے۔ ایف اے پاس آدمی اس لحاظ سے گلی
گلی آوازیں لگاتا پھرے منجی پیڑی ٹھوا لو۔ ہمارے بہت سے
پڑھے لکھے افسر کام تو یونس حبیب سے ملتا جلتا کرتے ہیں
لیکن شاید اس سطع کا کر نہیں پاتے۔ تعلیم کچھ ناکچھ تو بزدل
بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ وہ نا صرف بلند سطع کا کام نہیں
کر پاتے ہیں بلکہ بلیک میلنگ میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ ان کے
پاس یونیورسٹی والا علم ہوتاہے لیکن یونس حبیب کی سی عقل
نہیں ہوتی اور ناہی ہونی چاہیے۔ اس کی سی عقل ہو جائے تو
پڑھے لکھے اور عقل والے میں انتر ہی کیا رہ جائے گا۔
عوامی حلقوں میں سوال گردش کر رہا ہے کہ آج یہ حضرت
بیان بازی کر رہے ہیں اس وقت انھوں نے حاتم طائ کا کردار
کیوں ادا کیا۔ گرہ خود سے دیتے تو مزا آتا۔ بڑے لوگ گرہ خود
سے جوں مار کر نہیں دیتے نوٹ کس طرح دے سکتے ہیں۔
نوٹ دینے کا حوصلہ ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا۔ دینا تو
ان وچاروں کے عقیدہ میں داخل نہیں ہوتا۔ یہ نوٹ لینے کے
جنون میں لوگوں کی جان تک قربان کر سکتے ہیں۔ جان سب
سے زیادہ قیمتی چیز کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر دھرتی کی خدمت
کیا ہو سکتی ہے۔ دھرتی پھر بھی ان کے خلوص حصول پر
انگلی رکھتی ہے تو اس مسلے کے حل کے ضمن میں اپنی جان
عزیز دینے سے رہے۔ کچھ بھی کر لو کسی کو اس کی سطع پر
خوش نہیں کیا جا سکتا۔
راجا رنجیت سنگھ کے حوالہ سے ایک بات صاف ہو جاتی ہے
کہ افسری کے لیے تعلیم ضروری نہیں اور نہ ہی یہ فاءدہ مند
چیز ہے۔ مطوبہ کرسی شاہی معیار عقل والے ہی میسر کر
سکتے ہیں .آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کالج اور
یونیورسٹیاں بلند پایہ بابو تیار کریں تاکہ وہ عقل والوں کے
قدموں پر قدم رکھ کر اپنی اوراپنے گھر والوں کی بہتر طورپر
خدمت سرانجام دے سکیں۔ رہ گیے لوگ اور دھرتی' یہ نہ پہلے
کبھی خوش ہوئے ہیں اور ناہی آءندہ خوش ہو سکتے ہیں۔ آرام
سکون اورآسودہ زندگی بسر کرنا ہے تو انھیں ہر سطع پراور ہر
حال میں نظر انداز کرنا ہو گا۔ سوچ کو کسی طرح اپنی ذات کے
حلقے سے باہر نہیں نکلنے دینا ہو گا۔
جہاں بابو سازی کے لیے تعلیمی اداروں کو پوری لگن دلچسپی
اور دیانتداری سے میدان کار زار میں اترنا ہوگا وہاں حصولی
عقل کے لیے ادارے کھولنا ہوں گے ان کی فیسیں کے لیے
امریکہ جیسے بڑے ملکوں سے امداد حاصل کرنے کی سعی کی
جانی چاہیے۔ وہاں سے انکار نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ جیسے
بڑے ملک عقل والوں کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔ ماضی
کی برٹش شاہی کو دیکہ لیں تعلیمی اداروں سے نکلے لوگ
پٹواری بنے ہیں بلکہ تعلیمی اداروں نے پٹواری سازی کا
فریضہ سرانجام دیا ہے جبکہ عقل والے تحصیل داری کرتے
رہے ہیں۔ آج بھی برٹش شاہی کی تعریف کرنے والے مل جائیں
گے۔ تعلیم' عقل کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ برطانیہ کا انگریز
بڑا عقل والا تھا اس نے راجا رنجیت سنگھ کے کلیے کو گرہ
میں باندھ لیا اور کامیاب رہا۔ جرمن ٹانگ نہ اڑاتےتو انھیں
برصغیر سے کون مائی کا لال نکال سکتا تھا۔
ہم بڑے مذہبی لوگ ہیں کسی سکھ کی سیاسی شریعت تسلیم
نہیں کر سکتے۔ راجا رنجیت سنگھ اول تا آخر مقامی غیر مسلم
تھا اس لیے اس کا کہا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ راجا
رنجیت سنگھ اگر گورا ہوتا تو اس کی سیاسی شریعت کا مقام بڑا
بلند ہوتا۔ گورا دیس سے آئی ہر چیز ہمیں خوش آتی ہے۔ کسی
بوتل میں میم کا پیشاب بھرا ہوا ہو اور اوپر میڈ ان امریک مدرج
ہو تو ہم اسے فورا خرید لیں گے۔ میکاؤلی' راجا رنجیت سنگھ
سے کہیں بلند پاءے کا عقلمند تھا۔ جو بھی سہی راجا رنجیت
سنگھ ہے تو مقامی غیر مسلم۔ اگر وہ مسلم ہوتا تو ہم اس کے
اس اصول کوعملی ہی نہیں' زبانی بھی توقیر دیتے۔
نام کو بھی بڑا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اکبر دین الہی کا بانی تھا
لیکن اس کا نام محمد اکبر تھا۔ اسے ہند اسلامی تاریخ کا ہیرو
سمجھا جاتا ہے۔ وہ ہند اسلامی تاریخ میں پورے جلال و کمال
کے ساتھ داخل ہے .یونس حبیب کو راجا رنجیت سنگھ کے
حوالہ سے سے نہیں لیا جا سکتا۔ کہاں عقلمند مسلم بادشاہ اور
.کہاں غیر مسلم مقامی عقلمند راجا
جلال الدین محمد اکبر ان پڑھ تھا لیکن تاریخی مسلمان عقلمند
بادشاہ تھا جبکہ پڑھے لکھے اس کے پٹواری اور منشی مسدی
تھے۔ نصف صدی اس نے عقل کے زور پر حکومت کی اور
پڑھے لکھے اس کے پیچھے دم ہلاتے پھرتے تھے۔ اس کے ہر
قول وفعل پر جئے جئے کار کے پھول نچھار کرتے تھے۔ کوئ
سچا مسلمان یونس حبیب کی عقلمندی کو راجا رنجیت سنگ کی
عقلمندی سے نسبت دینے کی مذہبی بےادبی کا مرتکب نہیں
ہوسکتا ہاں البتہ اسے جلال الدین محمد اکبر سے نسبت دینا غلط
نہ ہو گا۔ اگر یہ اصول غلط ۔یا غیر فطری ہوتا تو اکبر بادشاہ تادم
مرگ حکومت نہ کرتا' حکومتیں نہ گرتیں یا پھر آج امریکہ
پوری دنیا کا تھانیدار نہ ہوتا۔
علم سے عقل' مال ودولت اور بلند مرتبہ ہاتھ نہیں لگتا ہاں عقل
سے مال ودولت اور بلند مرتبہ ہاتھ لگ جاتا ہے۔ علم
درویشی اور فقیری تک لے آتا ہے۔ علم والے بانٹ پر یقین
رکھتے ہیں .حبیبی عقل گرہ خود سے بانٹ کو دماغ کا خلل قرار
دیتی ہے۔ بانٹ اگر زمین سے اٹھا کر بلند ترین کرسی تک نہ لے
جاءے تو دوسروں کے مال کی بانٹ حماقت سے کسی طرح کم
نہیں ہوتی۔ بانٹ اگر کسی صاحب جاہ کو کانا نہ کرے تو ایسی
بانٹ کا کیا فائدہ?
شروع سے بیگانے مال سے تخت گرے ہیں اور بادشاہوں کی
ٹانگیں ٹٹیری ٹانگیں ہوتی آئی ہیں۔ پہلے زمانوں میں اپنا مال
چھپا دیا جاتا تھا لیکن عہد جدید میں مغربی ملکوں کے بنکوں
کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ قوم پر اپنی سیاسی شریعت کا نفاذ قوم
کے مال ہی سے کیا جاتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے دانش
اسکولوں کی طرز کے حبیبی ادارے کھولنا عقل کو فروغ
دینےکےمترادف ہوگا۔
امریکہ کی پاگلوں سے جنگ چھڑنے والی ہے
اخباری خبر اگلے روز کل کی بات ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ
آتے کل کی خبریں گزرے کل کی بازگشت یا اس کی عملی شکل
ہوتی ہیں۔ جو قومیں اپنے گزرے کل کی تلخ یادوں کو بھول
جاتی ہیں متواتر اوراوپر تلے نقصان اٹھاتی ہیں۔ ماضی کے
مثبت کاموں پر اترانا برا نہیں لیکن موجودہ ناخوشگوار صورت
حال کی وجوہ کو گزرے کل کے دامن میں تلاشا جا سکتا ہے۔
بعض حالات کو ہم ناگہانی قرار دے دیتے ہیں لیکن کچھ بھی
اچانک نہیں ہوتا ۔ ناگہانی کا کسی ناکسی سطع پر کوئی ناکوئی
اشارہ ماضی کےحالات یا کہی ہوئ کسی بات میں موجود ہوتا
.ہے
کشمیر میں قیامت آئی اوراسے بھوکم کا نام دیا گیا۔ کیا یہ
بھونچال تھا یا کوئی اور چیز تھی آج تک کسی نے کھوج لگانے
کی زحمت گوارا نہیں کی۔
جاپان ہتھیار ڈال چکا تھا اس کے باوجود ایک کے بعد دوسرا بم
!?گرایا گیا' کیوں
فساد تو مغرب سے اٹھا تھا وہ بھی برطانیہ کے خلاف۔ اصولا بم
?مغرب میں گرایا جانا چاہیے لیکن وہاں نہیں گرایا گیا کیوں
مغرب والے کیوں کا جواب کیوں دیں۔ جواب کبھی مانگا ہی نہیں
گیا۔ قتل وغات کا میدان مشرق میں ہی کیوں گرم کیوں ہوتا آیا
ہے۔ ہم میں پوچھنے کی جرات ہی نہیں۔ قرض پر چلنے والی
دوکان کے مالک کو بولنے یا کسی قسم کے قدم لینے کا حق
نہیں ہوتا۔ سر وہی اٹھا سکتا ہے جو اپنی زندگی جی رہا ہو۔
چوری خور قومیں یا ان کے چوری خور لیڈر سکی بھڑک بھی
نہیں مار سکتے۔ اس قماش کے لیڈر نیچے سے نکل کر اوپر
والے کو مفعول بتاتے ہیں۔ اوپر والا بھی کہتا ہے ہاں ہاں یہی
سبق دہراتے جاؤ اور لوگوں کو اندھیروں میں ہی رکھو تا کہ
تمہاری چوری کا سلسلہ جاری رہے۔ اس قسم کے لیڈر اپنوں پر
چڑھائ کے حوالہ سے شیر ببر ہوتے ہیں۔ یہی نہیں وہ قرب و
جوار کی قوموں کی غلطیاں چن چن کر سامنے لاتے رہتے ہیں
تاکہ ان کے کوچج پردہ میں رہیں۔ معاملے کی وجہ بھی اوروں
کے سر پر رکھتے ہیں۔ قوم یہ جان نہیں پاتی اصل دشمن تو ان
کے اپنے ہی ہیں۔
کچھ خبریں درج کر رہا ہوں جو آج کی نہیں ہیں ہاں آج سے
کچھ ہی دن پہلے کی ہیں اور ان کا آتے دنوں سے بڑا گہرا تعلق
ہے اور ان خبروں کے حوالہ سے بہت ساری باتوں کا اندزہ
لگایا جا سکتا ہے۔
ایران گیس منصوبہ۔ پاکستان فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ
سوچ لے۔ امریکہ کی پھر دھمکی
اپنی دھمکیوں پر درست وقت پر عمل کریں گے۔ امریکہ
ایران پر ممکنہ حملے کے لیےمکمل تیار ہیں۔ سربراہ امریکی
فضاییہ
چوری خوری :تعلیم کے شعبہ میں برطانیہ کی امداد قابل تحسین
ہے۔ صدر زرداری
چند طفل تسلیاں
پاکستان پر پابندیوں کی امریکی دھمکی مسترد .وقت آیا تو نپٹ
لیں گے۔ حنا کھر
امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ایران
گیس منصوبے پر کسی دھمکی میں نہیں آییں گے۔
وزیر اعظم پاکستان
ایک مردانہ بیان :اٹیمی پاکستان ثابت قدم رہے۔ امریکہ ہمارا
کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایرانی صدر
پاکستان امریکہ کی مجبوری
افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔
امریکی جرنل
افغانستان میں مسمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید کی گھس
بیٹھیوں کے ہاتھوں بے حرمتی ہوئ۔
قندھار۔ امریکی فوجی نے گھروں پر فایرنگ کرکے عورتوں اور
بچوں سمیت سولہ افراد کو ہلاک کر دیا
امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان بڑھنے کی خبریں
سامنے آ رہی ہیں۔
پاکستان سے مطلب ہونے کے باوجود امریکہ پاکستان کو
گھٹنوں تلے دبا کر رکھ رہا ہے۔ مقروض اور چوری خور ہونے
کے باعث دبنا ان کی مجبوری ہے۔ ان حالات میں کوئ کتنا ہی
پیروں پر کھڑارہنے کا مشورہ دے کیسے کھڑا رہا جا سکتا ہے۔
وقت پر کیسے نپٹا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے سے تیاری
کی جاتی ہے۔ بھگتنا لیڈروں کا کام نہیں ہوتا وہ تو حملہ آور کے
ساتھی بن جاتے ہیں اور اپنی کھال بچا لیتے ہیں کھال عوام کی
اترتی ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے .ہمارے لیڈر تو پہلے ہی گورا
ہاؤس کے جارب کش ہیں۔ ان سے توقع رکھنے والے احمقوں
کے سردار ہیں۔ ایران والوں کو دیکھیں' کن سے خیر کی امید
رکھتےہیں۔ وہ جو اپنے ہی دیس باسیوں کے سجن نہیں ہیں
کسی اور کے کیا خیرخواہ ہوں گے۔ یہ صرف اور صرف اپنی
ذات اور اپنے مفاد سے غرض رکھتے ہیں۔
اوپر تین خبریں ایسی درج کی گئی ہیں جو بڑی افسوس ناک اور
تکلیف دہ ہیں۔ قرآن مجید کی بے حرمتی سےدل دماغ اور جذبات
:زخمی ہوءے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبر خوشی کی ہے
ا۔ مسلمانوں کو اپنے مسمان لیڈروں کی مسلمانی اورغیرت
ایمانی کا اندازہ ہو گیا ہےیا ہو جانا چاہیے۔ یہ بھی پوشیدہ نہیں
رہا کہ وہ ان کے کتنے دوست ہیں۔ لوگ جان گئے ہیں کہ یہ اول
تا آخر تلوے چٹ ہیں۔ ان سے امید وابستہ رکھنا خودکشی کے
مترادف ہے۔
ب۔ بزدل اور ناکام لوگ ہی اس قسم کی حرکتوں پر اترتے ہیں۔
.یہ دراصل ان کی شرمناک ناکامی کا اعلان ہے
ج۔ خطہ کے ممالک کو ذاتی چوکسی سے کام لینا پڑے گا۔ یہاں
کے لیڈروں پر اعتماد موت کو ماسی کہنےکے مترادف ہو گا۔
د۔ پاکستان کے لوگوں کو بھوک پیاس اور موت سے متھا لگانے
کے لیےتیاررہنا ہو گا۔ ان کے لیڈر کسی موڑ پر بھی زخموں پر
مرہم نہیں رکھیں گے بلکہ دانت نکال کر دکھا دیں گے۔
امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحاں بڑھنا اور کسی فوجی
کا بلاوجہ فائرنگ کرکے عورتوں اور بچوں سمیت سولہ لوگوں
کو موت ے گھاٹ اتار دینا اورمعاملےکی تحقیق امریکہ کا ہاتہ
میں لے لینا خوش آءند بات ہے۔ جب بھی انصاف کے ضمن میں
ڈنڈی ماری جاتی ہے' سمجھ لو وقت پورا ہو گیا ہے۔ بےانصاف
قومیں دنیا کے نقشے پر زیادہ دیر تک نہیں رہتیں' مٹ جاتی
ہیں۔ امریکہ جس فوج کے بل بوتے پر دنیا پر نمبر داری کر رہا
ہے نفسیاتی طور پر مریض ہو گئی ہے۔
جب بات بس سے باہر نکل جاءے تو شخص اپنی ذات سے
جنگ پر اتر آتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خود کشی پر اتر آتا
ہے۔ کمزوروں کی جان کے درپے ہو جاتا ہے .۔جنجھلاہٹ خوف
غصہ اکتاہٹ تواتر وغیرہ کا کچھ بھی نتیجہ برامد ہو سکتا ہے۔
امریکی فوجی خود کو دوہرے حصار میں بند محسوس کرتے
ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جبرکا شکار ہیں۔ انسان ایک حد
تک جبرکی حالت میں رہ سکتا ہے .جب معاملہ حد تجاوز کرتا
ہے توخوداذیتی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ بغاوت اور خود
سری راہ پا جاتی ہے۔ بلاشبہ تھپڑمارنے والا بالا دست ہوتا ہے
لیکن انرجی تپھڑ مارنے والے کی بھی خرچ ہوتی ہے۔ غرض
ان خبروں کے حوالہ سے یہ کہنا لایعنی نہیں لگتاکہ امریکی
فوج نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئ ہے۔ پاگل کتا جہاں اوروں
کے لیے خطرناک ہوتا ہے وہاں گھروالوں کے لیے بھی نقصان
دہ ہوتا۔
وقت دیکھ لےگا انہی پاگل کتوں کے ہاتھوں خود ان کے لیڈر
معاشرے کےلوگ ان کے گھر والے گولے اور گولیاں کھاءیں
گے۔ پاگل کتے کی موت مریں گے۔
دوسری طرف جن کے بچے عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ
اترے ہیں ان کے دلوں میں نفرت کی چنگاریاں مزید شدت اختیار
کریں گی۔ ردعمل میں اضافہ ہو گا اور یہ اضافہ امریکہ اور اس
کی فوج کےلیے کسی طرح صحت مند ثابت نہیں ہو گا۔ یہ تو
ایک واقعہ ہے پتا نہیں ایسے کتنے واقعے ہوتے ہوں گے لیکن
منظر عام پر نہیں آ رہے۔ اب نفرت اور جنون کے درمیان جنگ
ہے اس جنگ میں امریکہ کی شکست ہو گی۔ علاقے کے لوگ
آزادی اور نفرت کی لڑائی لڑیں گے جبکہ امریکی فوج کے پاس
جنگ لڑنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ موجودہ حالات میں جنگ
کا پانسہ پلٹ چکاہے۔
امریکی قیادت پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کا نفسیاتی
معالجہ کروائیں تاکہ امریکی شہری ان کے دست شر سے
محفوظ ہو جائیں۔ مظلوم قوموں کو نوید ہو کہ قدرت کے کلسٹر
بموں کی ان کے اپنے پاگل فوجیوں کے ہاتھوں بڑی خوفناک
.بارش ہونےوالی ہے
بوڑھا اور کمزور ہونے کے سبب میں آتے وقتوں کا یہ منظر
شاید نہ دیکھ سکوں لیکن زندہ بچ رہنے والے ضرور دیکھیں
گے۔ امریکی فوجی اپنے لیڈروں اور امریکی شہریوں سے
سکندر اعظم کے حشر سے بھی بدتر حشر کرنے کی سطع پر آ
رہے ہیں۔ امریکی لیڈروں کی حد سے بڑی ہٹ دھرمی خود ان
کے اپنے پاؤں کی زنجیر بنتی چلی جا رہی ہے۔ وقت ہے کہ
گزرا جا رہا ہے۔ امریکی لیڈر اپنی آتی نسلوں کی راہ میں
مصائب کےکانٹے بن رہے ہیں حالانکہ لوگ اپنی نسلوں کے
لیے بیرون ملک دوستیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔
امریکی عوام پر لازم آتا ہے کہ وہ طاقت کی غلط فہمی کے
حصار کو توڑ کر اصل صورت حال کا تجزیہ کریں اور دیکھں کہ
ان کے لیڈر انھیں کس نفرت کے جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔
لوڈ شیڈنگ کی برکات
ہم میں یہ عادت بڑی شدت اور تیز رفتاری سے پروان چڑھی
ہے کہ ہماری معاملے کے منفی پہلو ہا پہلوں پر فورا سے پہلے
نظر جاتی ہے اور پھر لایعنی اور بےسروپا کہانیاں گھڑتے چلے
جاتے ہیں حالانکہ مثبت پہلو بھی تو سامنے رکھے جا
سکتےہیں۔ مثبت پہلو نظر میں رکھنے سے خرابی جنم نہیں لے
پاتی۔ منفی کی سرشت میں ہی خرابی موجود ہوتی ہے۔ بجلی کے
مسلے ہی کو دیکھ لیں عوام تو عوام سیاسی حلقوں نے بھی
اسے ایشو بنا لیا ہے حالانکہ یہ معاملہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہیں
بلکہ معمولی سی مسلی ہے جو اس قابل نہیں کہ اسے بہت بڑا
مسلہ بنا کر توڑ پھوڑ کی جائے ۔یا پھر بےکار میں رولےلپے
سے کام لیا جاءے۔
آخر اتنا واویلا کرنے کر ضرورت ہی کیا ہے۔ کون سی قیامت
ٹوٹ پڑی ہے۔ ہمارے باپ دادا کب بجلی کے عادی تھے۔ بجلی
امیر کبیر لوگوں کا چونچلا تھی۔ آج بھی ان ہی لوگوں کی عیاشی
کا ذریعہ ہے۔ پہلے وقتوں کے لوگ بھلے تھے ریس کرنے کی
عادت سے دور رہ کر سکھ چین کی گزارتے تھے۔ اس ریس کی
عادت نے ہر کسی کا دماغ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ روشنی بڑے
بڑے ایوانوں کا مقدر تھی۔ روشنی بڑے ایوانوں کا فطری حق
ہے۔ آج ایک معمولی مزدور بھی روشنی کی ڈیمانڈ کرنے لگا
ہے۔ قوم کا کھیلنے کے لیے چاند مانگنا نادانی نہیں تو پھراور
کیا ہے۔ جب کوئ اپنی اوقات سے باہر نکلتا ہے تو اوکھت اس
کا مقدر ٹھرتی ہے۔
موجودہ عہد کی تیز رفتاری اور چمک دھمک نے زندگی کو
انتہائ مشکل اور تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ شخص کچھ کہنا چاہتا
ہے لیکن کہہ نہیں پاتا۔ اس کی زبان پر مجبوریوں کے چائینہ
لاک ثبت ہیں۔ جو چونچ کھولے گا حضرت زوجہ ماجدہ کے
پولے کھاءے گا۔ اگربچ رہا تو اولاد کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو
گا اورپھر متواتر ہوتا رہے۔ چونچ کھولنے والوں کے ساتھ ازل
سے یہی ہوتا آیا ہے امید واثق ہے یہی ہوتا رہے گا ۔ہمارے
مدبر لیڈران اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیں تب ہی تو انھوں نے
فساد کی جڑ کو ختم کر دینے کا پکا پیڈا ارادہ باندھ لیا ہے کہ نہ
رہے گی بجلی اور نہ میاں کی باجے گی ٹنڈ۔ لوگوں کے اگلے
وقتوں کےخوبصورت اور آسان ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو
سکے گا۔
لوگ غاروں میں منتقل ہو جائیں گے۔ اس طرح بے فضول
اونچی اونچی عمارتیں بنانے کا رواج دم توڑ دے گا۔ غار کے
اقامتی سیدھے سادے لوگ تقریبات کے تکلفات سے آزاد ہو
جاءیں گے۔ آبادی بڑھ جانے کے باوجود ہریالی جو ککڑیانی
سے کم نہیں پیٹ بھر نوش جان کر سکیں گے۔ بڑ کے درخت
افادیت کے حوالہ سے کس مقام پر فائز ہیں کسی حکیم سے
پوچھیے' لباسی عشرت کا درجہ حاصل کر لیں گے۔
ہمارے لیڈر بڑے سیانے ہیں اور جانتے ہیں کہ امریکہ غصے
کا سوءر ہے۔ وہ عزم کیے ہوئے ہے کہ پوری دنیا کو کھنڈر بنا
کر رکھ دے گا۔ ہمارے لیڈر بڑے ہمدرد لوگ ہیں وہ اپنی غلام
رعایا کو بے بسی کی موت مرتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ وہ
اپنے مجبور اور بےبس غلاموں کو امریکہ کی غلامی میں نہیں
دیکھ سکتے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی غدار نکل
آئے اور اپنے ہمدرد لیڈر صاحبان کی باطنی خباثت اگل نہ دے۔
آمدہ خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے اس ملک کو
کھنڈر اور عوام کو غار اقامتی بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔
کملے عوام شور مچا رہے ہیں لیکن کل کلاں ان کو اپنے لیڈر
صاحبان کی بلند پایہ فراست اور دور اندیشی کا علم ہو جاءے گا۔
لیکن اس وقت یہ نہ ہوں گے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ پھر
ان کی تعرف کرنے کا کیا فائدہ ہو گا۔ آج وقت ہے انھیں اپنے
محسنوں کی قدر کرنی چائیے۔ انسان کی اصل بھی تو غار ہے۔
اس نے زندگی کا آغاز غار سے کیا ۔ اس ترقی یافتہ عہد میں
بھی غار باسی اسے خوش آتی ہے۔ بعد از موت اس کا اصل
ٹھکانہ غار ہی تو ہے۔
تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی سطع پر رواج کب تھا۔ خاص
طبقے کے لوگ اس پرخار میدان میں قدم رکھتے تھے۔ عام
لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ انھوں نے
کون سا جہانبانی کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ نمبردار کا
پسر ناہنجار ہی نمبردار بنتا ہے۔ اسی طرح بادشاہ کا بیٹا بادشاہ
بنتا ہے۔ ہر نتھو خیرے کو بادشاہی کے خواب دیکھنے کی
اجازت نہیں مل سکتی۔
اگلے وقتوں کے لوگ اپنے اپنے آبائی پیشے میں کمال حاصل
کرنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ علاقہ میں نام پیدا کرنے کے
لیے عمر گزار دیتے تھے۔ ان کا مجوزہ پیشہ ان کی ذات اور
پہچان ٹھرتا تھا۔ وہ اس ذیل میں فخر محسوس کرتے تھے۔ آج
بڑے بڑے افسر اور لیڈر اپنی ذات اور شناخت چھپاتے ہیں لیکن
ان کی بعض حرکتیں اور کام ان کی ذات اور شناخت کھول دیتی
ہیں۔ حالانکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات ہی نہیں
ہمارےمحترم اور معزز لیڈر صاحبان لوگوں کو ان کی اصل کی
جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بجلی صرف خاص
طبقے کے لوگوں کو میسر آ سکے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر
حکمرانی کا معزز فریضہ سرانجام دے سکیں۔ عام آدمی بڑے
آدمیوں کا گولا ہوا کرتا تھا۔ اس کی چلمیں بھرتا تھا۔ ان کے
جوتے سیدھےکیا کرتا آج عام آدمی اپنا ماضی بھول کر تعلیم
صاصل کرکے کچھ بننے کی سعی میں مصروف ہے۔ یہ رویہ
کسی طرح درست نہیں۔ بجلی نہ ہونے کے سبب تعلیم حاصل
کرنے کے میلان کی حوصلہ شکنی ہو گی اور بڑے آدمیوں کی
آنکھ میں انکھ ملا کر بات کرنے کا خواب تعبیر کی منزل چھو نہ
پائے گا اور لوگ اپنی اوقات کی جانب پھر کر بہتر طور پر کام
کر سکیں گے۔
تعلیمی بورڑوں کی مالی حالت مستحکم سہی اس کے باوجود
انھیں مزید بے تحاشا مالی معاونت درکار ہے تا کہ وہ لوگوں کا
بہتر طور پر استحصال کرنے کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔
طلباء کو بار بار فعل کرنے کے لیے حساب انگریزی مضامین
آرٹس کے لیے لازم کر رکھے ہیں۔ تجربے میں آیا ہے پھر بھی
کچھ ناکچھ طلباء کامیاب ہو ہی جاتے تھے اور یہ صورتحال
بڑی مایوس کن رہی ہے۔ اس مایوسی سے نجات کا واحد یہی
ذریعہ رہ گیا تھا۔ اب کوئ طالب علم کامیاب ہوکر دکھاءے گا تو
مانیں گے۔
کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک ایم پی اے صاحب بڑی
دھواں دھار تقریر فرما رہے تھے۔ انھوں نے بڑے پرعزم انداز
میں فرمایا ہم ناخوندگی بڑھانے کی ان تھک کوشش کر رہے
ہیں۔ مدبرین کی سرتوڑ کوشش ہے کہ کوئی طالب علم میٹرک
کراس نہ کر پائے ایف اے میں حساب فارغ ہو جائے گا اس
طرح تعلیم کی حوصلہ شکنی کے لیے صرف اور صرف
انگریزی باقی رہ جائے گی۔ انگریز کا کندھا اتنا مضبوط نہیں جو
تعلیم شکنی میں ہمارے پرعزم لیڈران کی مدد کر سکے۔ حساب
سے زیادہ کوئ مضمون بہتر ہو ہی نہیں سکتا۔ لوڈ شیڈنگ اس
تعلیم دشمنی کے معاملہ میں جلتی کے لیے آکسیجن کا کام دے
گی۔ اس مثبت پہلو کے پیش نظر لوڈ شیڈنگ کو منفی مفاہیم
دینے والے ایوان دشمن ہیں۔ ایوان دشمنی کبھی بھی کمزور
.طبقے کے لیے صحت مند نہیں رہی
بجلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ مختلف حوالوں سے
آگہی عام کرتی ہے۔ آگہی ے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں۔ کوئ اخبار
کسی بھی دن کا اٹھا کر دیکھ لو خیر کی خبر پڑھنے کو نہیں
ملے گی۔ ٹی وی سچی باتیں سامنے لا کر بےچینی کا سبب بنتا
ہے۔ بعض اوقات تو ٹی وی سازشی عنصر محسوس ہونے لگتا
ہے۔ لوگ انٹرنیٹ پر تصاویر تقاریر کارٹون شائع کرکے اور
تحریریں لکھ لکھ کر بڑے آدمیوں کو پوری دنیا میں ذلیل وخوار
کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ اپنے
مذموم ارادے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ ان کی بہت بڑی بھول
ہے۔ کوئی بھی بڑا آدمی اس وقت بےعزت ہو گا جب اس کی
جنتا میں عزت ہو گی۔ دوسرا وہ تسلیم کریں گے تو ہی ذلت کا
کوئی پہلو نکلے گا۔ جو بھی سہی میڈیا جھوٹا سچا کردار ادا
.کرنے کی ناکام سعی تو کر رہا ہے
کچھ بھی سہی میڈیا کے حوالہ سے انھیں یاوہ گوئ پڑھنے
سننے کو مل رہی ہے۔ بڑے لوگ سچ پڑھنے سننے کے عادی
نہیں ہوتے۔ میڈیا کی وجہ کمی کمین بھی جو تعداد میں سب سے
زیادہ ہیں' بات کرنے کی جرات کریں گے۔ بجلی نہ رہی تو ٹی
وی انٹرنیٹ وغیرہ صفر ہو کر رہ جاءیں گے۔ اگلے زمانے میں
آگہی کے دروازے بڑے تنگ اور محدود تھے اسی لیے امن
وامان میں کسی طرح کا نقص نہیں آتا تھا۔
پانی بڑی قیمتی چیز ہے۔ بجلی کے دور میں سرکاری اور
گھریلو موٹروں کا پانی بڑی بے دردی سے ضائع کیا جاتا تھا۔
انھیں کبھی احساس تک نہیں ہوتا تھا کہ وہ کتنے بڑے گناہ کا
ارتکاب کررہے ہیں۔ بجلی کی بندش سے بڑے لوگوں نےاپنے
پیارے پیارے عام کو ظلم کبیرہ سے بچا کر اربوں کی تعدد میں
نیکیاں کما لی ہیں۔ قوم شکریہ ادا کرنے کی بجائے سڑک پر آ
گئی ہے۔
ٹیشو پیر کی صنعت خسارے میں تو نہیں تھی لیکن عام آدمی
ٹیشو پیر بنا ہوا تھا .عام آدمی اس ترقی یافتہ چیز سے استفادہ
نہیں کرتا تھا لیکن پانی کی خطرناک قلت کے سبب یہ طہارت
کے حوالہ سے ایک عام آدمی میں بھی شرف قبولیت حاصل کر
لے گا۔ لوگ پانی کو صرف پینےکے لیے محفوظ کیا کریں گے
اور یہ بڑے فخر اور اعزا والی بات ہو گی۔
پاکستان کی آبادی بہت بڑھ گئ ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی نے
آبادی کےحوالہ سے وہ نام نہیں کمایا اور یہ بڑے افسوس کی
بات ہے۔ جو کام محکمہ منصوبہ بندی نہیں کر سکا وہ کام بجلی
کی بندش سے باآسانی ہو سکے گا۔ اس کی کئ صورتیں
سامنےآ سکیں گی۔ مثل
ہسپتال میں پڑے مریض اپریشن نہ ہونے کے کے باعث دم توڑ
دیں گے۔
کام نہ ملنے کی وجہ سے بھوک میں اضافہ ہو گا کچھ لوگوں کو
بھوک کھا جائے۔ بہت سے لوگ بھوک کی سختی کے باعث خود
کشی کر لیں گے۔
بھوک چوری چکاری میں اضافے کا باعث بنے گی۔ ڈاکے پڑیں
گے ڈاکو برسرعام لوگوں کو لوٹیں گے۔ اس چھینا جھپٹی کے
عالم میں قتل وغارت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ اس طرح اچھی
خاصی آبادی زندگی کی ظالم سختیوں سے مکت ہو جائے گی۔
بجلی کی قیمتوں میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس سے روح بھی
کانپ رہی ہے۔ بجلی نہ ہوئی تو بجلی کی قیمت بل میں اندراج نہ
ہو سکے گی۔ صرف اضافی چارجز کا بل آیا کرے گا جو پہلے
سالوں میں باآسانی ادا ہو سکے گا۔ بجلی فراہم ہونے کی صورت
میں لوگ آغاز عشق میں ہی میٹر کٹوانے چل پڑیں گے۔ اس
طرح بجلی والوں کے کام میں خواہ مخواہ کا اضافہ ہو جائے گا
جو کسی طرح مناسب نہیں لگتا۔
مزدور صدیوں سے مشقت کا شکار ہے۔ آج ہر کام بجلی سے
جڑا ہوا ہے۔ اس طرح مزدور کو وافر آرام دسیاب ہو سکے گا۔
صدیوں کے تھکے ماندے مزدور کو آرام ملنا شر پسند عناصر
کو ناجانےکیوں برالگ رہا ہے۔
دفاتر آرام گاہیں بن گئی ہیں' سائلین سولی پر ہیں۔ بجلی کی
بندش سے کمپیوٹر ٹھپ ہو جائیں گے۔ لوگ ناامید ہو کر گھربیٹھ
جائیں گے۔ اس سے دفاتر شاہی کو سائلین کی اہمیت کااحساس
ہو سکے گا۔ دستی کام کرنے کے لیے آوازیں لگائی جائیں گی۔
چلو دفاتر شاہی کو کچھ تو کام کرنے کی عادت پڑے گی۔
مغرب کی پیروی میں بےلباسی ہمیں خوش آتی ہے۔ غالبا صلاح
الدین ایوبی کا قول ہے کہ گربت میں مرد کی غیرت اور عورت
کی عزت سستی ہو جاتی ہے۔ لوڈشیڈنگ سے بےروزگاری میں
خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بھوک نے جینا مشکل کر دیا
ہے۔ ایسے حالات میں مغرب کی پیروی میں بےلباسی معیوب
نہیں رہے گی۔ مغرب کی بےلباسی اور جنسی آزادی تاریخی
وجوہ رکھتی ہے۔ یہاں کی بےلباسی میں بھی حالات کا جواز پیدا
ہو جائے گا۔ امرا وزرا اور اہل ثروت پہلے ہی جنسی عیاشی
کرتے ہیں اس طرح مزید تر مال میسر آ سکے گا۔
گربا ہوتے ہی امرا کی غلامی کے لیے۔ آج تک گربا کے پاس
صرف اور صرف عزت باقی تھی ہمارے مدبر قوم دوست قاءدین
اس کو بھی بازار میں لانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں
۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم مغرب کی جنسی پیروی کرکے دن دگنی
اور رات چوگنی ترقی کرے۔ بنیاد پرستوں نے آج تک اس ذیل
میں اخلاقیات کے نام پر ٹانگ اڑاے رکھی ہے گویا پہلوں کے
.اخلاقی اصول وضوابط آج کسی کام کے نہیں رہے
درج بالا معروضات کے تناظر میں لوڈشیڈنگ کو ملاحظہ
فرماءیں گے تواس کی مزید برکات غربا اور پریشان حضرات پر
کھلتی جائیں گی اور سارا رولا رپا سمجھ میں آ جاءے گا۔ یہ
بھی پوشیدہ نہیں رہے گا کہ اس سازش کے پیچھے شرپسند
مفاد پرست اور حکومت دشمن لوگوں کا دایاں ہاتھ ہے۔ وہ سب
عوام دوست نہیں ہیں اور ناہی عوام کو ہزاروں سال پیچھے لے
جانے کے حق میں ہیں۔ اس ملک کے عوام نہ آگے بڑھ رہے
ہیں اور ناہی برق رفتاری سے ماضی کا رخ کر رہے ہیں۔ ان
لوگوں کے پلٹنے کی رفتار حوصلہ شکن ہے اس لیے راہ میں
پڑنے والی ہر دیوار کو گرانا حکومت کے قومی تنزلی ایجنڈے
کے ساتھ مخلصی ہو گی۔ ان کا اخلاص حکومت دوست مورخ آب
زر سے رقم کرے گا۔
ہم زندہ قوم ہیں
ہم بڑے لائی لگ قسم کے لوگ ہیں۔ اپنے دماغ سے سوچنے کی
زحمت نہیں اٹھاتے۔ اگر کسی نے کہا کتا تہارے کان لے گیا ہے۔
کان دیکھنے کی بجائے کتے کے پیچھے دوڑ لگا دیں گے۔ کوئی
کتنا ہی کوکتا رہے کان دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں
کریں گے بلکہ کوکنے والے کو ہی کوسنے دیں گے۔
یہ رویہ آج سے مخصوص نہیں بہت پہلےسے انسان کتے کے
پیچھے پورے زور شور سے بھاگے چلا جا رہا ہے۔ الله جانے
دونوں ابھی تک تھکن کا شکار کیوں نہیں ہوئے۔ دونوں کی
رفتار میں رائی بھر کمی نہیں آئی۔ لفظ رائی کا استعمال اس لیے
کیا ہے کہ رائی سے کوئی چھوٹی مادی شے ابھی تک دریافت
نہیں ہو سکی۔ سل جاندار ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔ دکھائی نہ
دینے کے سبب ہی مر رہا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ میں نے سل بھر محاورہ نہیں اخترایا۔ کتے کی
وفاداری اپنی جگہ مڑ کر دندی نہیں کاٹ رہا اور بلا جواز مشقت
اٹھائے چلا جا رہا ہے۔
انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ انسان کےکچے کانوں کی
بلاجرم سزا بھگت رہا ہے۔ اگر ایک بار وفاداری کے خول سے
باہر نکل کر اچانک پیچھے مڑ کر دندی کاٹ لیتا توانسان کو کان
ہو جاتے۔ ڈاکٹر پیٹ میں ٹیکے ٹھوکتا۔ جیب ہلکی کرتا۔
نادانستگی میں کانوں کو ہاتھ لگاتا تو اسے معلوم پڑتا کہ کان
تو سلامت ہیں۔ ہاں البتہ سر سلامت نہیں رہا۔ اسے یہ بھی پتہ
چل جاتا کہ زخموں سے چور اور نڈھال سرآج بھی غداروں اور
مداریوں کے قدموں میں پڑا انسان کی کتا چیکی کا رونا رو رہا
ہے۔
استاد کو میری بات سے اتفاق نہیں رہا بلکہ اس کا ماننا یہ ہے
کہ سوچنے والا سر پیٹ میں چلا گیا ہے۔ ہمارے ہاں کا شخص
پیٹ سے سوچنے کا عادی ہو گیا۔ پیٹ میں حسب ضرورت گرم
ٹھنڈا تھندا ڈالتے رہو یہ کتے کے پیچھے بھاگتا رہے گا ۔ پیٹ
اور گٹھنوں کان اور پیٹ کا فاصلہ برابر ہو گیا ہے اس لیے پیٹ
کان اور گٹھنوں سے پہلے ہے۔ ہر معاملہ میں پیٹ پہلے ہو گیا
ہے۔ کان اور گٹھنے روٹی نہیں کھاتے اس لیے وہ قابل ترجیع
نہیں ہیں۔ بات میں دم اور خم کی کسی حوالہ سے کمی نہیں۔
دھرتی ماں ہی ہوتی ہے۔ ماں کسی غیر کے حوالے کرکے دیسی
گھی کی چوری ولائتیوں کے ہاتھ سےکھا نےکا مزا دیس بھگت
کیا جانیں۔ وہ جانتے ہوئے کہ ولاءتیوں نےمولوی ابوبکر کی
گولی کھا رکھی ہے اور ماں کا کیا حشر کرے گا کا تصور بھی
پیٹ دشمنی کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اسے ماں سے غداری یا
بے غیرتی سے زیادہ وقت اور حالات کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔
استاد کی باتوں کا برا نہ مانئیے گا۔ میں بھی اوروں کی طرح
ہنس کر ٹال دیتا ہوں۔ اور کیا کروں مجھے محسن کش اور
پاکستان دشمن کہلانے کا کوئی شوق نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئ
کرنے کی باتیں ہیں کہ کتے کے منہ سے نکلی سانپ کے منہ
میں آ گئی۔ سانپ سے خلاصی ہونے کے ساتھ ہی چھپکلی کے
منہ میں چلی گئی۔
پاکستان اور بھارت کی قیادت بڑی اعلی درجے کی رہی ہے۔ یہ
بڑے نیک شریف اور دیس بھگت رہے ہیں۔ جو بھی ان کے
کردار پرانگلی رکھے گا ناک کی سیدھ پر دوزخ نرک میں جائے
گا۔ پاکستان کی قیادت کو بسم الله تک آئے یا نہ آے اسلام دوست
رہی ہے۔اس نے ہر قدم پراسلام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ استاد کا
کیا ہے وہ تو بونگیاں مارتا رہتا ہے۔ ساری دنیا مورخ کی مانتی
آئی ہے اور مورکھ اقتدار کا گماشتہ رہا ہے۔ مورکھ وچارہ بھی
تو نسان رہا ہے۔ پاپی پیٹ اسے بھی لگا لگایا ملا ہے۔ اس نے
چند لقموں کے لیے ضمیر بیچا ہے۔ بڑی پگڑی والے سر خان
بہادرز بھی یہی کچھ کرتے آئے ہیں اور وہ ہمارے ہیرو ہیں۔
کیوں نہ ہوں انگریز ساختہ ہیں۔ ان کے انگریز ساختہ ہونے میں
رائی بھر کھوٹ نہیں۔
نظام ملنگی سلطانہ بھگت سنگھ آزاد وغیرہ انگریز ساختہ ڈاکو
ہیں اور ہم میں سے ہر کسی کا یہی ماننا ہے۔ میں بھی بالائے
زبان یہی کہتا ہوں۔ میں دل سے نہیں مانتا۔ کسی کو میرے دل
سے کیا مطبل منہ زبانی ایک بار نہیں ہزار کہتا ہوں کہ یہ ڈاکو
تھے ڈاکو تھے۔ ان کا ڈاکو ہونا ہر شک سے بالاتر ہے۔
انگریز ساختہ ہیروز بھی اپنی اصل میں مہا ڈاکو تھے۔ وہ
انگریز کی اشیرباد سے گریب اور کمزور لوگوں کی جان مال
اور عزت پر دن دھاڑے برسرعام پوری دھونس سےڈاکہ نہیں
باربار ڈاکے ڈالتے تھے۔ نظام ملنگی سلطانہ وغیرہ ان سرکاری
خان بہادر ڈاکوں کے گھروں میں رات کےوقت ڈاکے نہیں ڈاکہ
ڈالتے اور گریبوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ سرکاری ڈاکو
محلوں میں رہتے تھے اور یہ خالی ہاتھ چھانگا مانگا کے
جنگوں میں چھپتے پھرتے تھے۔ سرکاری خان بہادر ڈاکو
دھرتی ماں کے دلال تھے۔ یہ دھرتی ماں کے بھگت تھے۔
پاکستان بنانے والوں کا نام تک کسی کو یاد نہیں لیکن ان
انگریز ساختہ ہیروز کو سب جانتے۔ ٹیپو ہیرو تھا ساری عمر
تلوار کی نوک تلے رہا۔ یہ ایسے ہیروز ہیں جنہوں نے پوری
قوم کو تلوار کی نوک تلے رکھا۔ پاکستان کے لیے اسلام کا نام
استعمال ہوا لوگوں نے اسلام کے نام پر جانیں قربان کیں۔ بے
گھر ہوئے۔ لیکن انھیں کوئی جانتا تک نہیں۔
ذرا ان سوالوں کا جواب تلاشیں
٧١٧٢
میں وائسرائے ہند سے ملنے والے گروہ کا سردار کون تھا
اور اس کا انگریز سے کیا رشتہ تھا؟
تقریر کس انگریز نے لکھ کر دی اور وہ انگریز کس کا نمائندہ
تھا؟
وائسرائے نے کیا اور کیوں مشورہ دیا؟
٧١٧٢
میں مسلم لیگ کی قررداد پیش کرنے والے کے پاس انگریز
سرکار کے کتنے ٹائیٹل تھے؟
کیا وہ انگریز سے پوچھے بغیر ٹٹی پیشاب کر لیتا تھا؟
مسلم لیگ کے جملہ صدور عہدے دران وغیرہ میں سے کتنے
سر اور انگریز سرکار کے چمچے کڑچھے تھے؟
استاد کہتا ہے جو ہیروز تھے ان کا کہیں ذکر تک نہیں اور جو
زیرو بھی نہیں تھے پیٹ نواز مورکھ نے انھیں زمین کا سنگار
بنا دیا ہے۔
استاد کی باتیں اگرچہ سچ اور حقائق پر مبنی ہیں لیکن سچ کو
کب تسلیم کیا گیا ہے۔ میں استاد سے اکثر کہتا ہوں ایسی کڑوی
بات نہ کیا کرے۔ لوگوں کو کتے کے پیچھے بھاگنے دے۔ زندہ
قومیں مسلسل بھاگتی ہیں۔ بھاگنے سےہی بھاگ جاگتے ہیں۔
اس بات کا دکھ نہیں ہونا چاہیے کہ بجلی بند ہے خوشی اس بات
کی ہونی چاہیے کہ سب کی بند ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور اس
پرچم تلے سب ایک ہیں۔
...........................
بابا بولتا ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page124//
بابا چھیڑتا ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/123/
فتوی درکار ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/122/
لاوارث بابا اوپر
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page121//
ڈنگی ڈینگی کی زد میں ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page120//
حضرت ڈینگی شریف اور نفاذ اسلام
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page119//
یہ بلائیں صدقہ کو کھا جاتی ہیں
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/118/
سورج مغرب سے نکلتا ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/116/
حجامت بےسر کو سر میں لاتی ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/pag
e/114/
طاقت اور ٹیڑھے مگر خوب صورت ہاتھ
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/111/
انھی پئے گئی ہے
http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/103
آرا
ایک دفع کا ذکر ہے
مکرمی و محترمی حسنی صاحب :سلام علیکم
مدت ہوئی کہ آشتیءچشم وگوش ہے! کتنا عرصہ ہوگیا کہ آپ
سے نیاز حاصل نہ کر سکا۔ اس زندگی اور اس کے خراج کا برا
ہو کہ اپنے بیگانوں سے سلام دعا بھی اب ہونا مشکل ہوچلا
ہے۔ معذرت خواہ ہوں۔ امید ہے کہ اپ بعافیت ہوں گے۔ قلم کی
شگفتگی تو بظاہر بدستور قایم ہے،الله سے دعا ہے کہ آپ بذات
خود بھی حسب معمول شکفتہ ہوں۔ آپ کا انشائیہ حسب دستور
سابق دلچسپ اور پر لطف ہے۔ پڑھتا رہا اور مزے لیتا رہا۔ اور
جب "بے نکاحی" گالیوں تک پہنچا تو بے اختیار قہقہہ منھ سے
نکل گیا۔ کیوں صاحب یہ "نکاحی" گالیاں کیسی ہوتی ہیں؟ دو
ایک مثالیں عنایت فرمائیں تاکہ فرق معلوم ہو سکے۔ آپ کی
زبان میں جا بجا پنجابی کا چٹخارہ لگا ہوتا ہے جو عجیب مزا
دیتا ہے۔ پنجابی ویسے خاصی کھردری زبان ہے لیکن مزاح میں
خوب کام آتی ہے۔ انشائیہ پر خادم کی داد حاضر ہے۔ اسی طرح
لکھتے رہئے اور ثواب دارین سمیٹتے رہئے۔ اور ہاں "نکاحی"
!اور "بے نکاحی" گالیوں کا فرق ضرور بتائیں
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10041.0
غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ
،،
مکرمی حسنی صاحب :سلام علیکم
میرے اس خط کو نشانی سمجھ لیں کہ آپ کا انشائیہ میں نے
مزے لے لے کر اور با ضابطہ عبرت پکڑپکڑ کر پڑھ لیا ہے۔
اگر انشائیہ کا تعلق آپ کے وطن سے مخصوص نہ ہوتا اور میں
ہندوستان کا سابق شہری نہ ہوتا تو کچھ عرض کرتا لیکن
تجربوں سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ایسے نازک معاملات میں
خاموشی اچھی ہوتی ہے۔ سو میری خاموشی قبول کیجئے اور
ساتھ ہی داد بھی۔
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7961.0
انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ
! عزیز گرامی حسنی صاحب :سلام شوق
آپ کا انشائیہ پڑھ کر مزا آ گیا۔ کاش آپ اپنی اس صلاحیت پر
مزید محنت کریں اور مزاح اور طنز کی دنیا میں ایک مقام بنا
لیں۔ آپ کا قلم نہایت شگفتہ و شستہ ہے ،خیال آرائی اور منظر
کشی میں آپ ماہر ہیں،زبان و بیان بہت اچھے ہیں تو پھر دیر
کس بات کی؟ میری مخلصانہ گزارش ہے کہ طنز ومزاح کی
جانب سجنیدگی سے توجہ دیں اور اپنے انداز فکر و سخن کو
نکھاریں۔ اردو میں طنز و مزاح بہت کم ہے کیونکہ ہماری
زندگی اور معاشرہ خود درد و رنج اور استحصال کا مارا ہوا ہے۔
ظاہر ہے کہ جب انسان کی زندگی عذاب ہو تو اس کو ہنسی
کیسے سوجھے گی؟ اس حوالے سے مزاح نگار ایک رحمت بن
جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ہنساتا ہے اور سبق سکھاتا ہے۔
آپ کا انشائیہ صرف واپڈا کا انشائیہ نہیں ہے بلکہ ہر ایسے
ادارہ اور ایسے لوگوں کا خاکہ ہے جنہوں نے عوام کی زندگی
عذاب بنا رکھی ہے۔
اچھے انشائیہ پر داد قبول کیجئے اور میری گزارش پر ضرور
سوچئے اور کام کیجئے۔ شکریہ ۔ باقی راوی سب چین بولتا
ہے۔
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7974.0
لاٹھی والے کی بھینس
مکرم بندہ جناب حسنی صاحب :سلام شوق
خدا گواہ ہے کہ اردو انجمن نہایت خوش قسمت ہے کہ اس کو
بیک وقت آپ اور اعجاز خیال صاحب جیسے انشائیہ نگار مل
گئے ۔ آپ دوسری محفلوں کو دیکھیں تو قحط الرجال کی کیفیت
طاری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی اردو دنیا میں نثرنگاری اور
نثر نگاروں کاکال پڑا ہوا ہے۔ انجمن آپ دونوں کی احسان مند
ہے اور شکرگزار بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ دونوں احباب اپنے
انشائیوں پر نظر ثانی کر کے اور انھیں مزید نکھار کے کتابی
شکل میں اشاعت کی فکر کریں۔ کیا خیال ہے آپ دونوں کا؟
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرورعالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7963.0
میری ناچیز بدعا
محترمی حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کے انشائیے پر لطف ہوتے ہیں۔ خصوصا اس لئے بھی کہ
آپ ان میں اپنی طرف کی یا پنجابی کی معرور عوامی
اصطلاحات (میں تو انہیں یہی سمجھتا ہوں۔ ہو سکتا ہوں کہ
غلطی پر ہوں) استعمال کرتے ہیں جن کامطلب سر کھجانے کے
بعد آدھا پونا سمجھ میں آ ہی جاتی ہے جیسے ادھ گھر والی
یا کھرک۔ یا ایم بی بی ایس۔ اس میں تو کوئی شک نہیں
کہ کھرک جیسا با مزہ مرض ابھی تک جدید سائنس نے ایجاد
نہیں کیا ہے۔ واللہ بعض اوقات تو جی چاہتا ہے کہ یہ مشغلہ
جاری رہے اور تا قیامت جاری رہے۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہے
کہ صور کی آواز کو پس پشت ڈال کر ہم :کھرک اندازی :میں
مشغول رہیں گے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
لکھتے رہئے اور شغل جاری رکھئے۔ باقی راوی سب چین بولتا
ہے
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8069.0
مشتری ہوشیآر باش
مکرمی بندہ حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کا یہ نہایت دلچسپ انشائیہ پڑھا اور بہت محظوظ و
مستفید ہوا۔ جب اس کے اصول کا خود پر اطلاق کیا تو اتنے
نام اور خطاب نظر آئے کہ اگر ان کا اعلان کر دوں تو دنیا اور
عاقبت دونوں میں خوار ہوں۔ سو خاموشی سے سر جھکا کر
یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ۔ انشائیہ بہت مزیدار ہے شاید
اس لئے کہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس آئنیہ میں سب اپنی
صورت دیکھ سکتے ہیں۔ بہت شکریہ مضمون عنایت کرنے
کا۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8277.0
ہدایت نامہ خاوند
محترم مقصود حسنی صاحب ،سلام۔
آپ کا عنایت کردہ ہدایت نامہ توجہ سے پڑھا اور اس سے
محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ بہت ہی خوبصورتی سے آپ
نے سب ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے معاملے کی سچائی کو
سف ِر ازدواج کے پرانے اور نئے مسافروں کے سامنے رکھا ہے
اور صدقہِ جاریہ کا ثواب لوٹ لیا ہے
تخلیق کی عمدگی پر داد اور یہاں پیش کرنے پر شکریہ
قبول کیجیے اور محفل کو یوں ہی رونق بخشتے رہیے۔
احقر
عامر عباس
عزیز مکرم حسنی صاحب:سلام مسنون
آپ کا انشائیہ پڑھا اور محظوظ و مستفید ہوا۔ جب سب کچھ
پڑھ چکا تو گریبان میں جھانک کر دیکھا اور اس کے بعد
خاموشی میں ہی بہتری نظر آئی۔ صاحب! اتنی ذمہ داریاں
نبھانے سے بہتر تو یہ ہے کہ آدمی شادی ہی نہ کرے! بہر
کیف آپ کی انشا پردازی کا یہ مضمون بہت اچھا نمونہ ہے۔
اب یہ نہیں معلوم کہ جتنا اچھا مضمون ہے اتنا ہی اچھا اس پر
عمل بھی ہے یا آج کل کے مولوی صاحب کی طرح لوگوں سے
درود شریف پڑھنے کی تاکید کر کے خود چائے پینے کا
شغل پسند ہے۔ ہمارے بچپن میں مسجد کے مولوی صاحب میلاد
شریف پڑھتے وقت بار بار لوگوں سے کہتے تھے کہ "بھائیو،
آپ زور زور سے درود شریف پڑھیں ،تب تک میں چائے کا
ایک آدھ گھونٹ لے لوں"۔ مذاق برطرف انشائیوں کا سلسلہ
جاری رکھیں۔ اور ثواب دارین حاصل کریں۔
باقی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرور عالم راز
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8315.0
آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں
جناب محترم ڈاکٹر حسنی صاحب
سلام مسنون پیشِ خدمت ہے
جناب عالیِِ آپ کے قلم کی مار اہ ِل قلم کے لئے باع ِث ترقِی ء
فہم و دانش ہے ،کس محبت اور خوبصورتی سے آپ نے قلم
کی بناوٹ سے لیکر اسکی وجہِ تخیلق اور ذمہ داری پر
روشنی ڈالی یقیناًبہت پُر مغز باکمال تحریر ہے جسے طنز و
مزاح کے ساتھ مگر پُرفکر انداز میں آپ نے پیش کیا اور
قارئین کی توجہ حاصل کرنا چاہی ،میری جانب سے داد اور
شکریہ اس دلکش تحریر سے مستفید فرمانے کے لئے قبول
فرمائیے ،اس ضمن میں آپ کی اور قارئین کرام کی
توجہ بھی چاہوں گا کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس
میں قلم تو زندگیوں سے تقریباًنکل ہی چکا ہے الِا دیہاتوں
میں مگر پین بال پین پینسل بھی نکلتی جارہی ہے ،ہم
ڈیجیٹل پین استعمال کرنے لگے ہیں الیکٹرونکس پین
سوفٹ ویئر کی بورڈز اور مزید آگے ہی آگے بڑھ رہے ہیں
اب ایسا وقت آنے والا ہے یا تجرباتی طور پر آچکا ہے کہ جس
میں آپ بات کریں گے اور کمپیوٹر صاحب یا رائیٹنگ
ڈیوائس آپ کی بات کو اسکرین پر ٹائیپ کردے گی آپ