The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫اندر تھا کہ زوجہ ماجدہ کی پیار بھری آواز واپسی بلاوے کی‬
‫صورت میں میرے ناچیز اور پراز گناہ کانوں میں پڑی۔ بڑھاپے‬
‫کے باوجود میں پوری پھرتی اور کسی نوبہاتا نوجوان کی طرح‬
‫واپس پلٹا۔ زوجہ حضور کے ہاتھ میں منڈی کے سامان کی لسٹ‬

‫تھی۔ سخت گھبرایا اور نزع کی حالت کے نیم مردہ شخص کی‬
‫طرح منمنایا بلکہ گڑگڑایا‪ :‬رمضان کی برکتوں کے سبب منڈی‬
‫کی اشیاء دسترس سے باہر ہو گئ ہیں۔ بس دو چار روز صبر‬
‫فرما لیں پھر سب کچھ آپ کے مقدس چرنوں میں ہو گا۔ بس پھر‬

‫کیا تھا کام اسٹارٹ ہو گیا جیسے میں نے کوئی ماں بہن کی‬
‫بےلباس گالی نکال دی ہو۔ یہ کوئی ایسی نئ بات نہیں تھی تحفظ‬

‫عزت و مال کے لیے سارا دن بےعزتی کرانا میرے معمول کا‬
‫حصہ ہے۔ میں نے بھی دل ہی دل میں جی بھر سنائیں۔ سالی‬
‫یوں گرج برس رہی ہے جیسے روزہ میرے لیے رکھا ہو۔۔ باور‬
‫رہے یہ بھی دل ہی دل میں کہا۔ اونچی آواز میں کچھ کہنا میرے‬

‫کیا بڑے بڑوں کے ابے کے بس کا روگ نہیں رہا۔‬

‫بیگمی حوصلہ اور عزت افزائی کے باوجود میں خود کو‬
‫معاشرے کا معزز شہری سمجھتا ہوں۔ لوگ تو خیر اس غلط‬
‫فہمی میں مبتلا ہیں ہی۔ وہ کیا جانیں روزوں میں منڈی چڑھنے‬

‫کے ساتھ ہی میری عزت اور وقار بےعزتی کی سولی پر‬
‫مصلوب ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اوروں کے ساتھ بھی کم‬

‫وبیش یہی ہوتا ہو تاہم میرے ساتھ باالضرور ہوتا ہے اور شاید‬
‫یہی مقدر اور نصیبا رہا ہو۔‬

‫سنٹر میں ابھی میں نے تشریف نہیں رکھی تھی کہ ایک بی بی‬
‫جو میری سب تھی اپنا کام لے کر آ گئ۔ سر میرا کیا قصور ہے‬
‫جو کلرک کام میں دیری کرتا ہے بمعنی دوسروں کے پہلے کرتا‬
‫ہے حالانکہ اسے لیڈیز فسٹ کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے‬
‫گویا جس کا کام کر رہا ہوتا ہے اسے موخر کے کھاتے میں ڈال‬

‫دے۔ اس کے سوال کا جواب دینے کی بجاءے منہ سے‬
‫بےساختہ اور بےمحل نکل گیا جانے کیا کر بیٹھا ہوں جو گھر‬
‫میں بھی عورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں باہر آؤ تو بھی عورتوں‬
‫سے پالا پڑتا ہے۔ کہنے کو تو کہہ گیا لیکن مجھے احساس ہو‬
‫گیا کہ کچھ زیادہ ہی غلط کہہ گیا ہوں۔ بعد میں نے لیپا پوچی کی‬
‫بڑی کوشش کی لیکن اب کیا ہوت کمان سے نکلا تیر نشانے پر‬

‫بیٹھ کر اپنا اثر دکھا چکا تھا۔‬

‫بات آئ گئ ہو کر وقتی طور پر ٹل گئ۔ مارکنگ کا یہ آخری دن‬
‫تھا ایک دوسری خاتون نے برسرعام پوچھا سر اگر آپ برا نہ‬
‫مناءیں تو ایک ذاتی سا سوال پوچھ سکتی ہوں۔ ذاتی پر زور تھا‬
‫سا کا لاحقہ اس نے تکلفا استعمال کیا۔ کیا کہہ سکتا تھا ذاتی سا‬
‫سوال سرعام دریافت کر رہی تھی۔ احمق میں ہی تھا جو ماتحت‬

‫لوگوں کے بیچ بیٹھ کر کام کر رہا تھا۔ یہ لوگ تقریبا ماتحت‬
‫تھے میں تو درجہ چہارم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پلے سے‬
‫سب کے لیے چائے منگوا کر پی لیتا ہوں گپ شپ کر لیتا ہوں۔‬

‫بلاشبہ یہ اصول جاہی کے خلاف ہے۔ بہر کیف میں نے بی بی‬
‫کو پوچھ گچھ کی اجازت دے دی۔‬

‫۔سر آپ کی تینوں بیگمات اسی شہر میں اقامت رکھتی ہی۔ تین‬
‫کے ہندسے نے مجھے چکرا دیا۔ پھر میں نے سوچا مفت میں‬

‫ٹہوہر بن رہا ہے اور اس حوالہ سے یہ جائے انکار کب ہے۔‬
‫نہیں وہ تو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ جس طرح مجھے تین‬
‫کے ہندسے نے چکرا دیا تھا بالکل اسی طرح بلکہ اس سے‬
‫بھی بڑھ کر اس بی بی کو چکر آ گیا اور میں جوابی کاروائ کی‬

‫اثر انگیزی پر مسرور تھا۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد میری‬
‫مسروری کو دیکھ کر اس نے دوسرا سوال داغ دیا۔ سر وہ آپس‬

‫میں خوب لڑتی ہوں گی۔ میں یہ کہہ کر چلتا بنا‪ :‬کیوں میں مر‬
‫گیا ہوں۔‬

‫بعد میں کسی اور کی زبانی معلوم ہوا کہ انہوں نے کیوں میں مر‬
‫گیا ہوں کی تفہیم بالکل الگ سے لی ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ‬
‫بابے نے تینوں کو نپ کر رکھا ہوا ہے۔ عورت اور وہ بھی‬
‫سرکاری؛ دب کر رہے کس کتاب میں لکھا ہے۔ میرے کہنے کا‬

‫مطلب یہ تھا کہ آپس میں کیوں لڑیں گی لڑائی اورعزت افزائی‬
‫کے لیے میں ابھی زندہ ہوں۔ یہ قصہ تو زیب داستان کے لیے‬
‫عرض کر گیا ہوں اصل تحقیق کی ضرورت تین کا ہندسہ تھا۔‬
‫آخر یہ کہاں سے آ ٹپکا اور پورے مارکنگ سنٹر میں میری وجہ‬

‫ء شہرت بن گیا۔‬

‫بڑا غور کیا سوچا سیاق و سباق میں گیا۔ کچھ بھی پلے نہ پڑا۔‬
‫آج کچھ ہی لمحے پہلے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا گیا‬
‫تو میں نے سنجیدہ توجہ دی تو کھلا میں نے ایک بی بی سے‬

‫کہا تھا گھر میں عورتوں اور باہر بھی عورتوں سے پالا ہے۔‬
‫جمع کے صیغے نے کہانی کو جنم دیا تھا۔ خاتون کے حافظہ‬
‫میں ایک جمع رہی دوسری کو اس نے واحد لیا۔ وہ عورت تھی‬
‫مکالمہ اسی سے ہوا۔ غالبا اردو نحو کا اصول بھی یہی ہے کہ‬

‫دوسری جمع واحد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‬

‫سننے اور پڑھنے والا بولنے اور لکھنے والے کا پابند نہیں وہ‬
‫مرضی کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ میرے کہے میں ابہام‬

‫موجود تھا۔ بلا ابہام لفظوں اور جملوں کے بہت سے مفاہیم لیے‬
‫جاتے ہیں یا پھر لیے جا سکتے ہیں۔ ساختیات بھی یہی کہتی‬
‫ہے۔ اسے کہنا بھی چاہیے۔ ابہام اور لفظوں کی کثیر معنویت‬

‫عدالتوں میں اپیل کے دروازے کھولتی ہے۔ لفظ اپنی حیثیت میں‬

‫جامد اور اٹل نہیں۔ اسے استعمال میں لانے والے کی انگلی‬
‫پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے جامد اور اٹل ہونے سے زبان کے اظہار‬
‫کا دائرہ تنگ ہو جاءے گا۔ نتیجہ کار زبان مر جائے گی یا محض‬

‫بولی ہو کر رہ جائے گی۔ اس تھیوری کے تناظر میں مجھے‬
‫کسی بھی خاتون کے کہے کو دل پر لگانا نہیں چاہیے۔‬

‫کچھ ہی پہلے اندر سے آواز سنائی دی حضرت بیغم صاحب حیدر‬
‫امام سے کہہ رہی تھیں بیٹا اپنے ابو سے پیسے لے کر بابے‬
‫فجے سے غلہ لے آؤ۔ عید قریب آ رہی ہے کچھ تو جمع ہوں‬
‫گے عید پر کپڑے خرید لائیں گے۔ بڑا سادا اور عام فیہم جملہ‬

‫ہے لیکن اس کے مفاہیم سے میں ہی آگاہ ہوں۔ یہ عید پر کپڑوں‬
‫لانے کے حوالہ سے بڑا بلیغ اور طرحدار طنز ہے۔ طنز اور‬

‫مزاح میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ طنز لڑائ کے دروازے‬
‫کھولتا ہے جبکہ مزاح کے بطن سے قہقہے جنم لیتے ہیں۔ جب‬
‫دونوں کا آمیزہ پیش کیا جائے تو زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوتی‬

‫ہے اور ایسی جعلی مسکراہٹ سے صبر بھلا دوسرا بات گرہ‬
‫میں بندھ جاتی ہے۔‬

‫میں نے کئ بار عرض کیا کہ طنز لبریز مذاق نہ کیا کرو۔ کہتی‬
‫ہے اب اس گھر میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ حقیقت یہ‬
‫ہے کہ حکم نامے طاقت جاری کرتی ہے۔ ماتحت کمزور مفلس‬

‫اور کامے حقوق کی مانگ بھی گزاشی انداز میں کرتے ہیں۔‬
‫لمحہ بھر کی خوش فہمی بھی ہضم نہ ہو سکی کہ گھر والی کو‬

‫بےفضول کہنے کی جرآت نہیں میرے حصے کا بھی بقول‬
‫سقراط گھر والی نے بول دیا۔‬

‫سردار محمد حسین آج کی نشت میں کہہ رہے تھے کہ آخر آپ کی‬
‫تان اعلی شکشا منشی پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے۔ میں نے کہا‬
‫سردار صاحب کل گاؤں سے ایک توڑا آلو لیتے آنا۔ آپ ہی‬

‫فرمائیے اس میں زوردار ہنسنے والی کونسی بات ہے۔ میں نے‬
‫اپنی بات دہرائ تو پھر ہنس دیے۔ نہ ہاں نہ ناں یہ کیا ہوا۔ میں‬

‫اپنی لکھتوں میں اپنا حق طلب کرتا ہوں کیونکہ آلو کے بغیر‬
‫گزرا نہیں اور آلو مفت میں نہیں ملتے۔ اعلی شکشا منشی کے‬

‫دفتر سے پیسے ملیں گے تو ہی آلو لا سکوں گا۔ میرے آلو‬
‫لانے کے لیے کہنے میں سادگی نہ تھی بالکل اسی طرح سردار‬
‫صاحب کے دھماکہ دار قہقہوں میں بھی نزدیک کے معنی موجود‬

‫نہ تھے۔‬

‫میں جانتا ہوں وہاں بھی آلو کا رولا ہے۔ سکی تنخواہ میں آلو‬
‫اور ٹوہر ایک ساتھ نہی چل سکتے اور ناہی کسی سطع پر ان کا‬

‫کوئ کنبینیشن ترکیب پاتا ہے۔ انہیں ضدین کا درجہ حاصل ہے۔‬
‫سردار صاحب نےآلو لانے کی بات کو گول کرکے میرے اندر ڈر‬

‫اور خوف کی لہر دوڑا دی۔ میں یہ بھول ہی گیا کہ میں نے ان‬
‫سے کیا گزارش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جن کے متعلق‬
‫لکھتا ہوں ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‬
‫سردار صاحب کا کہنا غلط نہ تھا۔ تاہم یہ بھی طے ہے لوگ جیل‬
‫سے باہر جیل سی زندگی گزار رہے ہیں۔ سفید پوش کی اوقات‬
‫آلو برابر نہیں رہی۔ کیا عجیب صورت حال درپیش ہے۔ چور کی‬
‫نشندہی کرنے والا مجرم اور لائق تعزیر ٹھہرتا ہے۔ چور یقینا‬
‫دودھ دیتی بھینس کی مثل ہوتا ہے۔ چور چور کی آوازیں نکالنے‬
‫والا دودھ دیتی بھینس کو چھڑی مار رہا ہوتا ہے۔ نشاندہی کرنے‬
‫والا ایک طرف چور کو تو دوسری طرف چور سے مال انٹنے‬

‫والے کے پیٹ پر لات رسید کر رہا ہوتا ہے۔‬

‫ویسے سچ اور حق کی آنکھ سے دیکھا جاءے تو حقیقت یہ ہے‬
‫کہ چور اس وقت تک چور ہوتا ہے جب تک دوسرے کا مال اس‬

‫کی گرہ میں نہیں آ جاتا۔ مال چاہے شور مچانے والے کا ہی‬
‫کیوں نہ ہو۔ چور کی گرہ میں آنے کے بعد مال چور کا ہوتا ہے۔‬

‫کسی صاحب مال کو چور کہنا سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔‬
‫اگر شور مچانے والا بخوشی گرہ سے کچھ نہیں دے سکتا تو‬
‫کسی کے مال پر دعوے کا بھی اسے حق نہیں۔ حق اور انصاف‬

‫کا تقاضا یہی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔‬

‫علم عقل اور حبیبی اداروں کا قیام‬

‫یہ واقعہ میں نے پڑھا نہیں' کسی سے سنا ہے۔ راجا رنجیت‬
‫سنگھ کے پاس دو آدمی حصول ملازمت کے لیے آئے۔ ان میں‬
‫سےایک پڑھا لکھا جبکہ دوسرا پڑھا لکھا نہیں تھا بس اپنے‬

‫دستخط کر لیتا تھا۔ اس نے پڑھے لکھے کو پٹواری اور‬
‫دوسرے کو تحصیل دار بھرتی کر لیا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا'‬
‫پڑھا لکھا پٹواری اور ان پڑھ تحصیل دار! راجا رنجیت سنگھ‬
‫نے جواب دیا کام تو پڑھے لکھے نے کرنا ہے جبکہ تحصیل‬

‫دار نے دستخطوں کے سوا اور کرنا ہی کیا ہے۔‬

‫اس کی بات غلط نہ تھی افسر کام کب کرتا ہے کام تو کلرک‬
‫وغیرہ ہی کرتے ہیں۔ افسر کئے کرائے پر دستخط مارتا ہے۔‬
‫اسے تو بہت سارے کاغذات کے بارے میں علم نہیں ہوتا کہ وہ‬
‫ہیں کیا۔ مزے کی بات یہ کہ اس کی ذاتی دلچسپی سے متعلق‬
‫کیسز بھی بابو کے ہاتھوں پراسس ہوتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے اہم‬
‫سرکاری امور کے بارے بابو صاحبان سے قانونی مشورے لیتا‬
‫ہے اور بابو کے مشوروں کو ہی حرف آخر خیال کرتا ہے۔ کہیں‬

‫گرفت میں آ جائے توبھی بابو کا اگلا حکیم جالینوس کا نسخہ‬
‫ثابت ہوتا ہے۔ بابو کے پاس۔ ہر مرض کی دوا اور گیدڑ سنگی‬

‫ہوتی ہے۔ جس کام سے افسر انکار کر دیتا ہے پٹواری (بابو‬
‫بادشاہ) وہ کام نکلوا لیتا ہےاور اس انداز سے نکلواتا ہے کہ‬

‫افسر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو پاتی۔‬

‫موجودہ عملی صورت حال کو دیکھتے ہوئے راجا رنجیت سنگھ‬
‫کے فیصلے میں رائی بھر کجی یا خرابی نظر نہیں آتی۔ یونس‬
‫حبیب کا موقف ہے کہ اس نے بڑا عہدہ علم کے ذریعے حاصل‬

‫نہیں کیا بلکہ عقل کا اس میں عمل دخل ہے۔ اس کا موقف سولہ‬
‫آنے درست ہے‪ .‬ایک ایف اے پاس آدمی اتنے بڑے مرتبے پر‬

‫کیسے جا سکتا تھا۔ ایم اے پاس لوگ ناءب قاصد کی کرسی کے‬
‫لیے مستحق نہیں ٹھرتے۔ ایف اے پاس آدمی اس لحاظ سے گلی‬

‫گلی آوازیں لگاتا پھرے منجی پیڑی ٹھوا لو۔ ہمارے بہت سے‬
‫پڑھے لکھے افسر کام تو یونس حبیب سے ملتا جلتا کرتے ہیں‬
‫لیکن شاید اس سطع کا کر نہیں پاتے۔ تعلیم کچھ ناکچھ تو بزدل‬
‫بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ وہ نا صرف بلند سطع کا کام نہیں‬
‫کر پاتے ہیں بلکہ بلیک میلنگ میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ ان کے‬
‫پاس یونیورسٹی والا علم ہوتاہے لیکن یونس حبیب کی سی عقل‬
‫نہیں ہوتی اور ناہی ہونی چاہیے۔ اس کی سی عقل ہو جائے تو‬

‫پڑھے لکھے اور عقل والے میں انتر ہی کیا رہ جائے گا۔‬

‫عوامی حلقوں میں سوال گردش کر رہا ہے کہ آج یہ حضرت‬
‫بیان بازی کر رہے ہیں اس وقت انھوں نے حاتم طائ کا کردار‬
‫کیوں ادا کیا۔ گرہ خود سے دیتے تو مزا آتا۔ بڑے لوگ گرہ خود‬

‫سے جوں مار کر نہیں دیتے نوٹ کس طرح دے سکتے ہیں۔‬
‫نوٹ دینے کا حوصلہ ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا۔ دینا تو‬
‫ان وچاروں کے عقیدہ میں داخل نہیں ہوتا۔ یہ نوٹ لینے کے‬
‫جنون میں لوگوں کی جان تک قربان کر سکتے ہیں۔ جان سب‬
‫سے زیادہ قیمتی چیز کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر دھرتی کی خدمت‬

‫کیا ہو سکتی ہے۔ دھرتی پھر بھی ان کے خلوص حصول پر‬
‫انگلی رکھتی ہے تو اس مسلے کے حل کے ضمن میں اپنی جان‬
‫عزیز دینے سے رہے۔ کچھ بھی کر لو کسی کو اس کی سطع پر‬

‫خوش نہیں کیا جا سکتا۔‬

‫راجا رنجیت سنگھ کے حوالہ سے ایک بات صاف ہو جاتی ہے‬
‫کہ افسری کے لیے تعلیم ضروری نہیں اور نہ ہی یہ فاءدہ مند‬

‫چیز ہے۔ مطوبہ کرسی شاہی معیار عقل والے ہی میسر کر‬
‫سکتے ہیں‪ .‬آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کالج اور‬

‫یونیورسٹیاں بلند پایہ بابو تیار کریں تاکہ وہ عقل والوں کے‬
‫قدموں پر قدم رکھ کر اپنی اوراپنے گھر والوں کی بہتر طورپر‬
‫خدمت سرانجام دے سکیں۔ رہ گیے لوگ اور دھرتی' یہ نہ پہلے‬

‫کبھی خوش ہوئے ہیں اور ناہی آءندہ خوش ہو سکتے ہیں۔ آرام‬
‫سکون اورآسودہ زندگی بسر کرنا ہے تو انھیں ہر سطع پراور ہر‬
‫حال میں نظر انداز کرنا ہو گا۔ سوچ کو کسی طرح اپنی ذات کے‬

‫حلقے سے باہر نہیں نکلنے دینا ہو گا۔‬

‫جہاں بابو سازی کے لیے تعلیمی اداروں کو پوری لگن دلچسپی‬
‫اور دیانتداری سے میدان کار زار میں اترنا ہوگا وہاں حصولی‬
‫عقل کے لیے ادارے کھولنا ہوں گے ان کی فیسیں کے لیے‬

‫امریکہ جیسے بڑے ملکوں سے امداد حاصل کرنے کی سعی کی‬
‫جانی چاہیے۔ وہاں سے انکار نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ جیسے‬
‫بڑے ملک عقل والوں کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔ ماضی‬

‫کی برٹش شاہی کو دیکہ لیں تعلیمی اداروں سے نکلے لوگ‬
‫پٹواری بنے ہیں بلکہ تعلیمی اداروں نے پٹواری سازی کا‬

‫فریضہ سرانجام دیا ہے جبکہ عقل والے تحصیل داری کرتے‬
‫رہے ہیں۔ آج بھی برٹش شاہی کی تعریف کرنے والے مل جائیں‬

‫گے۔ تعلیم' عقل کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ برطانیہ کا انگریز‬
‫بڑا عقل والا تھا اس نے راجا رنجیت سنگھ کے کلیے کو گرہ‬

‫میں باندھ لیا اور کامیاب رہا۔ جرمن ٹانگ نہ اڑاتےتو انھیں‬
‫برصغیر سے کون مائی کا لال نکال سکتا تھا۔‬

‫ہم بڑے مذہبی لوگ ہیں کسی سکھ کی سیاسی شریعت تسلیم‬

‫نہیں کر سکتے۔ راجا رنجیت سنگھ اول تا آخر مقامی غیر مسلم‬
‫تھا اس لیے اس کا کہا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ راجا‬

‫رنجیت سنگھ اگر گورا ہوتا تو اس کی سیاسی شریعت کا مقام بڑا‬
‫بلند ہوتا۔ گورا دیس سے آئی ہر چیز ہمیں خوش آتی ہے۔ کسی‬

‫بوتل میں میم کا پیشاب بھرا ہوا ہو اور اوپر میڈ ان امریک مدرج‬
‫ہو تو ہم اسے فورا خرید لیں گے۔ میکاؤلی' راجا رنجیت سنگھ‬
‫سے کہیں بلند پاءے کا عقلمند تھا۔ جو بھی سہی راجا رنجیت‬
‫سنگھ ہے تو مقامی غیر مسلم۔ اگر وہ مسلم ہوتا تو ہم اس کے‬
‫اس اصول کوعملی ہی نہیں' زبانی بھی توقیر دیتے۔‬

‫نام کو بھی بڑا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اکبر دین الہی کا بانی تھا‬
‫لیکن اس کا نام محمد اکبر تھا۔ اسے ہند اسلامی تاریخ کا ہیرو‬

‫سمجھا جاتا ہے۔ وہ ہند اسلامی تاریخ میں پورے جلال و کمال‬
‫کے ساتھ داخل ہے‪ .‬یونس حبیب کو راجا رنجیت سنگھ کے‬

‫حوالہ سے سے نہیں لیا جا سکتا۔ کہاں عقلمند مسلم بادشاہ اور‬
‫‪.‬کہاں غیر مسلم مقامی عقلمند راجا‬

‫جلال الدین محمد اکبر ان پڑھ تھا لیکن تاریخی مسلمان عقلمند‬
‫بادشاہ تھا جبکہ پڑھے لکھے اس کے پٹواری اور منشی مسدی‬

‫تھے۔ نصف صدی اس نے عقل کے زور پر حکومت کی اور‬
‫پڑھے لکھے اس کے پیچھے دم ہلاتے پھرتے تھے۔ اس کے ہر‬

‫قول وفعل پر جئے جئے کار کے پھول نچھار کرتے تھے۔ کوئ‬
‫سچا مسلمان یونس حبیب کی عقلمندی کو راجا رنجیت سنگ کی‬

‫عقلمندی سے نسبت دینے کی مذہبی بےادبی کا مرتکب نہیں‬
‫ہوسکتا ہاں البتہ اسے جلال الدین محمد اکبر سے نسبت دینا غلط‬
‫نہ ہو گا۔ اگر یہ اصول غلط ۔یا غیر فطری ہوتا تو اکبر بادشاہ تادم‬

‫مرگ حکومت نہ کرتا' حکومتیں نہ گرتیں یا پھر آج امریکہ‬
‫پوری دنیا کا تھانیدار نہ ہوتا۔‬

‫علم سے عقل' مال ودولت اور بلند مرتبہ ہاتھ نہیں لگتا ہاں عقل‬
‫سے مال ودولت اور بلند مرتبہ ہاتھ لگ جاتا ہے۔ علم‬

‫درویشی اور فقیری تک لے آتا ہے۔ علم والے بانٹ پر یقین‬
‫رکھتے ہیں‪ .‬حبیبی عقل گرہ خود سے بانٹ کو دماغ کا خلل قرار‬
‫دیتی ہے۔ بانٹ اگر زمین سے اٹھا کر بلند ترین کرسی تک نہ لے‬
‫جاءے تو دوسروں کے مال کی بانٹ حماقت سے کسی طرح کم‬

‫نہیں ہوتی۔ بانٹ اگر کسی صاحب جاہ کو کانا نہ کرے تو ایسی‬
‫بانٹ کا کیا فائدہ?‬

‫شروع سے بیگانے مال سے تخت گرے ہیں اور بادشاہوں کی‬
‫ٹانگیں ٹٹیری ٹانگیں ہوتی آئی ہیں۔ پہلے زمانوں میں اپنا مال‬
‫چھپا دیا جاتا تھا لیکن عہد جدید میں مغربی ملکوں کے بنکوں‬

‫کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ قوم پر اپنی سیاسی شریعت کا نفاذ قوم‬
‫کے مال ہی سے کیا جاتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے دانش‬

‫اسکولوں کی طرز کے حبیبی ادارے کھولنا عقل کو فروغ‬
‫دینےکےمترادف ہوگا۔‬

‫امریکہ کی پاگلوں سے جنگ چھڑنے والی ہے‬

‫اخباری خبر اگلے روز کل کی بات ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ‬
‫آتے کل کی خبریں گزرے کل کی بازگشت یا اس کی عملی شکل‬

‫ہوتی ہیں۔ جو قومیں اپنے گزرے کل کی تلخ یادوں کو بھول‬
‫جاتی ہیں متواتر اوراوپر تلے نقصان اٹھاتی ہیں۔ ماضی کے‬
‫مثبت کاموں پر اترانا برا نہیں لیکن موجودہ ناخوشگوار صورت‬
‫حال کی وجوہ کو گزرے کل کے دامن میں تلاشا جا سکتا ہے۔‬
‫بعض حالات کو ہم ناگہانی قرار دے دیتے ہیں لیکن کچھ بھی‬
‫اچانک نہیں ہوتا ۔ ناگہانی کا کسی ناکسی سطع پر کوئی ناکوئی‬
‫اشارہ ماضی کےحالات یا کہی ہوئ کسی بات میں موجود ہوتا‬

‫‪.‬ہے‬

‫کشمیر میں قیامت آئی اوراسے بھوکم کا نام دیا گیا۔ کیا یہ‬
‫بھونچال تھا یا کوئی اور چیز تھی آج تک کسی نے کھوج لگانے‬

‫کی زحمت گوارا نہیں کی۔‬

‫جاپان ہتھیار ڈال چکا تھا اس کے باوجود ایک کے بعد دوسرا بم‬
‫!?گرایا گیا' کیوں‬

‫فساد تو مغرب سے اٹھا تھا وہ بھی برطانیہ کے خلاف۔ اصولا بم‬
‫?مغرب میں گرایا جانا چاہیے لیکن وہاں نہیں گرایا گیا کیوں‬

‫مغرب والے کیوں کا جواب کیوں دیں۔ جواب کبھی مانگا ہی نہیں‬
‫گیا۔ قتل وغات کا میدان مشرق میں ہی کیوں گرم کیوں ہوتا آیا‬
‫ہے۔ ہم میں پوچھنے کی جرات ہی نہیں۔ قرض پر چلنے والی‬
‫دوکان کے مالک کو بولنے یا کسی قسم کے قدم لینے کا حق‬
‫نہیں ہوتا۔ سر وہی اٹھا سکتا ہے جو اپنی زندگی جی رہا ہو۔‬
‫چوری خور قومیں یا ان کے چوری خور لیڈر سکی بھڑک بھی‬
‫نہیں مار سکتے۔ اس قماش کے لیڈر نیچے سے نکل کر اوپر‬
‫والے کو مفعول بتاتے ہیں۔ اوپر والا بھی کہتا ہے ہاں ہاں یہی‬
‫سبق دہراتے جاؤ اور لوگوں کو اندھیروں میں ہی رکھو تا کہ‬

‫تمہاری چوری کا سلسلہ جاری رہے۔ اس قسم کے لیڈر اپنوں پر‬
‫چڑھائ کے حوالہ سے شیر ببر ہوتے ہیں۔ یہی نہیں وہ قرب و‬
‫جوار کی قوموں کی غلطیاں چن چن کر سامنے لاتے رہتے ہیں‬
‫تاکہ ان کے کوچج پردہ میں رہیں۔ معاملے کی وجہ بھی اوروں‬

‫کے سر پر رکھتے ہیں۔ قوم یہ جان نہیں پاتی اصل دشمن تو ان‬
‫کے اپنے ہی ہیں۔‬

‫کچھ خبریں درج کر رہا ہوں جو آج کی نہیں ہیں ہاں آج سے‬
‫کچھ ہی دن پہلے کی ہیں اور ان کا آتے دنوں سے بڑا گہرا تعلق‬

‫ہے اور ان خبروں کے حوالہ سے بہت ساری باتوں کا اندزہ‬
‫لگایا جا سکتا ہے۔‬

‫ایران گیس منصوبہ۔ پاکستان فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ‬
‫سوچ لے۔ امریکہ کی پھر دھمکی‬

‫اپنی دھمکیوں پر درست وقت پر عمل کریں گے۔ امریکہ‬
‫ایران پر ممکنہ حملے کے لیےمکمل تیار ہیں۔ سربراہ امریکی‬

‫فضاییہ‬
‫چوری خوری‪ :‬تعلیم کے شعبہ میں برطانیہ کی امداد قابل تحسین‬

‫ہے۔ صدر زرداری‬
‫چند طفل تسلیاں‬

‫پاکستان پر پابندیوں کی امریکی دھمکی مسترد‪ .‬وقت آیا تو نپٹ‬
‫لیں گے۔ حنا کھر‬

‫امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ایران‬
‫گیس منصوبے پر کسی دھمکی میں نہیں آییں گے۔‬

‫وزیر اعظم پاکستان‬

‫ایک مردانہ بیان‪ :‬اٹیمی پاکستان ثابت قدم رہے۔ امریکہ ہمارا‬
‫کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایرانی صدر‬

‫پاکستان امریکہ کی مجبوری‬

‫افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔‬
‫امریکی جرنل‬

‫افغانستان میں مسمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید کی گھس‬
‫بیٹھیوں کے ہاتھوں بے حرمتی ہوئ۔‬

‫قندھار۔ امریکی فوجی نے گھروں پر فایرنگ کرکے عورتوں اور‬
‫بچوں سمیت سولہ افراد کو ہلاک کر دیا‬

‫امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان بڑھنے کی خبریں‬
‫سامنے آ رہی ہیں۔‬

‫پاکستان سے مطلب ہونے کے باوجود امریکہ پاکستان کو‬
‫گھٹنوں تلے دبا کر رکھ رہا ہے۔ مقروض اور چوری خور ہونے‬

‫کے باعث دبنا ان کی مجبوری ہے۔ ان حالات میں کوئ کتنا ہی‬
‫پیروں پر کھڑارہنے کا مشورہ دے کیسے کھڑا رہا جا سکتا ہے۔‬

‫وقت پر کیسے نپٹا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے سے تیاری‬
‫کی جاتی ہے۔ بھگتنا لیڈروں کا کام نہیں ہوتا وہ تو حملہ آور کے‬
‫ساتھی بن جاتے ہیں اور اپنی کھال بچا لیتے ہیں کھال عوام کی‬

‫اترتی ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے‪ .‬ہمارے لیڈر تو پہلے ہی گورا‬
‫ہاؤس کے جارب کش ہیں۔ ان سے توقع رکھنے والے احمقوں‬
‫کے سردار ہیں۔ ایران والوں کو دیکھیں' کن سے خیر کی امید‬

‫رکھتےہیں۔ وہ جو اپنے ہی دیس باسیوں کے سجن نہیں ہیں‬
‫کسی اور کے کیا خیرخواہ ہوں گے۔ یہ صرف اور صرف اپنی‬

‫ذات اور اپنے مفاد سے غرض رکھتے ہیں۔‬

‫اوپر تین خبریں ایسی درج کی گئی ہیں جو بڑی افسوس ناک اور‬
‫تکلیف دہ ہیں۔ قرآن مجید کی بے حرمتی سےدل دماغ اور جذبات‬

‫‪:‬زخمی ہوءے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبر خوشی کی ہے‬

‫ا۔ مسلمانوں کو اپنے مسمان لیڈروں کی مسلمانی اورغیرت‬
‫ایمانی کا اندازہ ہو گیا ہےیا ہو جانا چاہیے۔ یہ بھی پوشیدہ نہیں‬
‫رہا کہ وہ ان کے کتنے دوست ہیں۔ لوگ جان گئے ہیں کہ یہ اول‬
‫تا آخر تلوے چٹ ہیں۔ ان سے امید وابستہ رکھنا خودکشی کے‬

‫مترادف ہے۔‬

‫ب۔ بزدل اور ناکام لوگ ہی اس قسم کی حرکتوں پر اترتے ہیں۔‬
‫‪.‬یہ دراصل ان کی شرمناک ناکامی کا اعلان ہے‬

‫ج۔ خطہ کے ممالک کو ذاتی چوکسی سے کام لینا پڑے گا۔ یہاں‬
‫کے لیڈروں پر اعتماد موت کو ماسی کہنےکے مترادف ہو گا۔‬

‫د۔ پاکستان کے لوگوں کو بھوک پیاس اور موت سے متھا لگانے‬
‫کے لیےتیاررہنا ہو گا۔ ان کے لیڈر کسی موڑ پر بھی زخموں پر‬

‫مرہم نہیں رکھیں گے بلکہ دانت نکال کر دکھا دیں گے۔‬

‫امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحاں بڑھنا اور کسی فوجی‬
‫کا بلاوجہ فائرنگ کرکے عورتوں اور بچوں سمیت سولہ لوگوں‬
‫کو موت ے گھاٹ اتار دینا اورمعاملےکی تحقیق امریکہ کا ہاتہ‬
‫میں لے لینا خوش آءند بات ہے۔ جب بھی انصاف کے ضمن میں‬
‫ڈنڈی ماری جاتی ہے' سمجھ لو وقت پورا ہو گیا ہے۔ بےانصاف‬

‫قومیں دنیا کے نقشے پر زیادہ دیر تک نہیں رہتیں' مٹ جاتی‬
‫ہیں۔ امریکہ جس فوج کے بل بوتے پر دنیا پر نمبر داری کر رہا‬

‫ہے نفسیاتی طور پر مریض ہو گئی ہے۔‬

‫جب بات بس سے باہر نکل جاءے تو شخص اپنی ذات سے‬
‫جنگ پر اتر آتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خود کشی پر اتر آتا‬
‫ہے۔ کمزوروں کی جان کے درپے ہو جاتا ہے‪ .‬۔جنجھلاہٹ خوف‬
‫غصہ اکتاہٹ تواتر وغیرہ کا کچھ بھی نتیجہ برامد ہو سکتا ہے۔‬

‫امریکی فوجی خود کو دوہرے حصار میں بند محسوس کرتے‬

‫ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جبرکا شکار ہیں۔ انسان ایک حد‬
‫تک جبرکی حالت میں رہ سکتا ہے‪ .‬جب معاملہ حد تجاوز کرتا‬
‫ہے توخوداذیتی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ بغاوت اور خود‬
‫سری راہ پا جاتی ہے۔ بلاشبہ تھپڑمارنے والا بالا دست ہوتا ہے‬
‫لیکن انرجی تپھڑ مارنے والے کی بھی خرچ ہوتی ہے۔ غرض‬
‫ان خبروں کے حوالہ سے یہ کہنا لایعنی نہیں لگتاکہ امریکی‬
‫فوج نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئ ہے۔ پاگل کتا جہاں اوروں‬
‫کے لیے خطرناک ہوتا ہے وہاں گھروالوں کے لیے بھی نقصان‬

‫دہ ہوتا۔‬

‫وقت دیکھ لےگا انہی پاگل کتوں کے ہاتھوں خود ان کے لیڈر‬
‫معاشرے کےلوگ ان کے گھر والے گولے اور گولیاں کھاءیں‬

‫گے۔ پاگل کتے کی موت مریں گے۔‬

‫دوسری طرف جن کے بچے عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ‬
‫اترے ہیں ان کے دلوں میں نفرت کی چنگاریاں مزید شدت اختیار‬
‫کریں گی۔ ردعمل میں اضافہ ہو گا اور یہ اضافہ امریکہ اور اس‬

‫کی فوج کےلیے کسی طرح صحت مند ثابت نہیں ہو گا۔ یہ تو‬
‫ایک واقعہ ہے پتا نہیں ایسے کتنے واقعے ہوتے ہوں گے لیکن‬
‫منظر عام پر نہیں آ رہے۔ اب نفرت اور جنون کے درمیان جنگ‬

‫ہے اس جنگ میں امریکہ کی شکست ہو گی۔ علاقے کے لوگ‬

‫آزادی اور نفرت کی لڑائی لڑیں گے جبکہ امریکی فوج کے پاس‬
‫جنگ لڑنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ موجودہ حالات میں جنگ‬

‫کا پانسہ پلٹ چکاہے۔‬

‫امریکی قیادت پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کا نفسیاتی‬
‫معالجہ کروائیں تاکہ امریکی شہری ان کے دست شر سے‬

‫محفوظ ہو جائیں۔ مظلوم قوموں کو نوید ہو کہ قدرت کے کلسٹر‬
‫بموں کی ان کے اپنے پاگل فوجیوں کے ہاتھوں بڑی خوفناک‬
‫‪.‬بارش ہونےوالی ہے‬

‫بوڑھا اور کمزور ہونے کے سبب میں آتے وقتوں کا یہ منظر‬
‫شاید نہ دیکھ سکوں لیکن زندہ بچ رہنے والے ضرور دیکھیں‬

‫گے۔ امریکی فوجی اپنے لیڈروں اور امریکی شہریوں سے‬
‫سکندر اعظم کے حشر سے بھی بدتر حشر کرنے کی سطع پر آ‬
‫رہے ہیں۔ امریکی لیڈروں کی حد سے بڑی ہٹ دھرمی خود ان‬

‫کے اپنے پاؤں کی زنجیر بنتی چلی جا رہی ہے۔ وقت ہے کہ‬
‫گزرا جا رہا ہے۔ امریکی لیڈر اپنی آتی نسلوں کی راہ میں‬

‫مصائب کےکانٹے بن رہے ہیں حالانکہ لوگ اپنی نسلوں کے‬
‫لیے بیرون ملک دوستیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔‬

‫امریکی عوام پر لازم آتا ہے کہ وہ طاقت کی غلط فہمی کے‬
‫حصار کو توڑ کر اصل صورت حال کا تجزیہ کریں اور دیکھں کہ‬

‫ان کے لیڈر انھیں کس نفرت کے جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔‬

‫لوڈ شیڈنگ کی برکات‬

‫ہم میں یہ عادت بڑی شدت اور تیز رفتاری سے پروان چڑھی‬
‫ہے کہ ہماری معاملے کے منفی پہلو ہا پہلوں پر فورا سے پہلے‬
‫نظر جاتی ہے اور پھر لایعنی اور بےسروپا کہانیاں گھڑتے چلے‬

‫جاتے ہیں حالانکہ مثبت پہلو بھی تو سامنے رکھے جا‬
‫سکتےہیں۔ مثبت پہلو نظر میں رکھنے سے خرابی جنم نہیں لے‬
‫پاتی۔ منفی کی سرشت میں ہی خرابی موجود ہوتی ہے۔ بجلی کے‬

‫مسلے ہی کو دیکھ لیں عوام تو عوام سیاسی حلقوں نے بھی‬
‫اسے ایشو بنا لیا ہے حالانکہ یہ معاملہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہیں‬
‫بلکہ معمولی سی مسلی ہے جو اس قابل نہیں کہ اسے بہت بڑا‬

‫مسلہ بنا کر توڑ پھوڑ کی جائے ۔یا پھر بےکار میں رولےلپے‬
‫سے کام لیا جاءے۔‬

‫آخر اتنا واویلا کرنے کر ضرورت ہی کیا ہے۔ کون سی قیامت‬
‫ٹوٹ پڑی ہے۔ ہمارے باپ دادا کب بجلی کے عادی تھے۔ بجلی‬
‫امیر کبیر لوگوں کا چونچلا تھی۔ آج بھی ان ہی لوگوں کی عیاشی‬
‫کا ذریعہ ہے۔ پہلے وقتوں کے لوگ بھلے تھے ریس کرنے کی‬
‫عادت سے دور رہ کر سکھ چین کی گزارتے تھے۔ اس ریس کی‬
‫عادت نے ہر کسی کا دماغ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ روشنی بڑے‬
‫بڑے ایوانوں کا مقدر تھی۔ روشنی بڑے ایوانوں کا فطری حق‬
‫ہے۔ آج ایک معمولی مزدور بھی روشنی کی ڈیمانڈ کرنے لگا‬
‫ہے۔ قوم کا کھیلنے کے لیے چاند مانگنا نادانی نہیں تو پھراور‬
‫کیا ہے۔ جب کوئ اپنی اوقات سے باہر نکلتا ہے تو اوکھت اس‬

‫کا مقدر ٹھرتی ہے۔‬

‫موجودہ عہد کی تیز رفتاری اور چمک دھمک نے زندگی کو‬
‫انتہائ مشکل اور تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ شخص کچھ کہنا چاہتا‬
‫ہے لیکن کہہ نہیں پاتا۔ اس کی زبان پر مجبوریوں کے چائینہ‬

‫لاک ثبت ہیں۔ جو چونچ کھولے گا حضرت زوجہ ماجدہ کے‬
‫پولے کھاءے گا۔ اگربچ رہا تو اولاد کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو‬
‫گا اورپھر متواتر ہوتا رہے۔ چونچ کھولنے والوں کے ساتھ ازل‬

‫سے یہی ہوتا آیا ہے امید واثق ہے یہی ہوتا رہے گا ۔ہمارے‬
‫مدبر لیڈران اس حقیقت سے خوب آگاہ ہیں تب ہی تو انھوں نے‬
‫فساد کی جڑ کو ختم کر دینے کا پکا پیڈا ارادہ باندھ لیا ہے کہ نہ‬

‫رہے گی بجلی اور نہ میاں کی باجے گی ٹنڈ۔ لوگوں کے اگلے‬
‫وقتوں کےخوبصورت اور آسان ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو‬

‫سکے گا۔‬

‫لوگ غاروں میں منتقل ہو جائیں گے۔ اس طرح بے فضول‬
‫اونچی اونچی عمارتیں بنانے کا رواج دم توڑ دے گا۔ غار کے‬
‫اقامتی سیدھے سادے لوگ تقریبات کے تکلفات سے آزاد ہو‬
‫جاءیں گے۔ آبادی بڑھ جانے کے باوجود ہریالی جو ککڑیانی‬
‫سے کم نہیں پیٹ بھر نوش جان کر سکیں گے۔ بڑ کے درخت‬
‫افادیت کے حوالہ سے کس مقام پر فائز ہیں کسی حکیم سے‬

‫پوچھیے' لباسی عشرت کا درجہ حاصل کر لیں گے۔‬

‫ہمارے لیڈر بڑے سیانے ہیں اور جانتے ہیں کہ امریکہ غصے‬
‫کا سوءر ہے۔ وہ عزم کیے ہوئے ہے کہ پوری دنیا کو کھنڈر بنا‬

‫کر رکھ دے گا۔ ہمارے لیڈر بڑے ہمدرد لوگ ہیں وہ اپنی غلام‬
‫رعایا کو بے بسی کی موت مرتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ وہ‬

‫اپنے مجبور اور بےبس غلاموں کو امریکہ کی غلامی میں نہیں‬
‫دیکھ سکتے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی غدار نکل‬
‫آئے اور اپنے ہمدرد لیڈر صاحبان کی باطنی خباثت اگل نہ دے۔‬
‫آمدہ خطرات سے مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے اس ملک کو‬

‫کھنڈر اور عوام کو غار اقامتی بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔‬

‫کملے عوام شور مچا رہے ہیں لیکن کل کلاں ان کو اپنے لیڈر‬
‫صاحبان کی بلند پایہ فراست اور دور اندیشی کا علم ہو جاءے گا۔‬
‫لیکن اس وقت یہ نہ ہوں گے۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ پھر‬

‫ان کی تعرف کرنے کا کیا فائدہ ہو گا۔ آج وقت ہے انھیں اپنے‬
‫محسنوں کی قدر کرنی چائیے۔ انسان کی اصل بھی تو غار ہے۔‬
‫اس نے زندگی کا آغاز غار سے کیا ۔ اس ترقی یافتہ عہد میں‬

‫بھی غار باسی اسے خوش آتی ہے۔ بعد از موت اس کا اصل‬
‫ٹھکانہ غار ہی تو ہے۔‬

‫تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی سطع پر رواج کب تھا۔ خاص‬
‫طبقے کے لوگ اس پرخار میدان میں قدم رکھتے تھے۔ عام‬
‫لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ انھوں نے‬
‫کون سا جہانبانی کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ نمبردار کا‬
‫پسر ناہنجار ہی نمبردار بنتا ہے۔ اسی طرح بادشاہ کا بیٹا بادشاہ‬
‫بنتا ہے۔ ہر نتھو خیرے کو بادشاہی کے خواب دیکھنے کی‬

‫اجازت نہیں مل سکتی۔‬

‫اگلے وقتوں کے لوگ اپنے اپنے آبائی پیشے میں کمال حاصل‬
‫کرنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ علاقہ میں نام پیدا کرنے کے‬

‫لیے عمر گزار دیتے تھے۔ ان کا مجوزہ پیشہ ان کی ذات اور‬
‫پہچان ٹھرتا تھا۔ وہ اس ذیل میں فخر محسوس کرتے تھے۔ آج‬

‫بڑے بڑے افسر اور لیڈر اپنی ذات اور شناخت چھپاتے ہیں لیکن‬
‫ان کی بعض حرکتیں اور کام ان کی ذات اور شناخت کھول دیتی‬
‫ہیں۔ حالانکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات ہی نہیں‬

‫ہمارےمحترم اور معزز لیڈر صاحبان لوگوں کو ان کی اصل کی‬
‫جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بجلی صرف خاص‬
‫طبقے کے لوگوں کو میسر آ سکے تاکہ وہ پڑھ لکھ کر‬
‫حکمرانی کا معزز فریضہ سرانجام دے سکیں۔ عام آدمی بڑے‬
‫آدمیوں کا گولا ہوا کرتا تھا۔ اس کی چلمیں بھرتا تھا۔ ان کے‬
‫جوتے سیدھےکیا کرتا آج عام آدمی اپنا ماضی بھول کر تعلیم‬
‫صاصل کرکے کچھ بننے کی سعی میں مصروف ہے۔ یہ رویہ‬
‫کسی طرح درست نہیں۔ بجلی نہ ہونے کے سبب تعلیم حاصل‬

‫کرنے کے میلان کی حوصلہ شکنی ہو گی اور بڑے آدمیوں کی‬
‫آنکھ میں انکھ ملا کر بات کرنے کا خواب تعبیر کی منزل چھو نہ‬

‫پائے گا اور لوگ اپنی اوقات کی جانب پھر کر بہتر طور پر کام‬
‫کر سکیں گے۔‬

‫تعلیمی بورڑوں کی مالی حالت مستحکم سہی اس کے باوجود‬
‫انھیں مزید بے تحاشا مالی معاونت درکار ہے تا کہ وہ لوگوں کا‬

‫بہتر طور پر استحصال کرنے کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔‬
‫طلباء کو بار بار فعل کرنے کے لیے حساب انگریزی مضامین‬

‫آرٹس کے لیے لازم کر رکھے ہیں۔ تجربے میں آیا ہے پھر بھی‬
‫کچھ ناکچھ طلباء کامیاب ہو ہی جاتے تھے اور یہ صورتحال‬
‫بڑی مایوس کن رہی ہے۔ اس مایوسی سے نجات کا واحد یہی‬

‫ذریعہ رہ گیا تھا۔ اب کوئ طالب علم کامیاب ہوکر دکھاءے گا تو‬
‫مانیں گے۔‬

‫کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک ایم پی اے صاحب بڑی‬
‫دھواں دھار تقریر فرما رہے تھے۔ انھوں نے بڑے پرعزم انداز‬

‫میں فرمایا ہم ناخوندگی بڑھانے کی ان تھک کوشش کر رہے‬
‫ہیں۔ مدبرین کی سرتوڑ کوشش ہے کہ کوئی طالب علم میٹرک‬

‫کراس نہ کر پائے ایف اے میں حساب فارغ ہو جائے گا اس‬
‫طرح تعلیم کی حوصلہ شکنی کے لیے صرف اور صرف‬

‫انگریزی باقی رہ جائے گی۔ انگریز کا کندھا اتنا مضبوط نہیں جو‬
‫تعلیم شکنی میں ہمارے پرعزم لیڈران کی مدد کر سکے۔ حساب‬
‫سے زیادہ کوئ مضمون بہتر ہو ہی نہیں سکتا۔ لوڈ شیڈنگ اس‬
‫تعلیم دشمنی کے معاملہ میں جلتی کے لیے آکسیجن کا کام دے‬
‫گی۔ اس مثبت پہلو کے پیش نظر لوڈ شیڈنگ کو منفی مفاہیم‬
‫دینے والے ایوان دشمن ہیں۔ ایوان دشمنی کبھی بھی کمزور‬
‫‪.‬طبقے کے لیے صحت مند نہیں رہی‬

‫بجلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ مختلف حوالوں سے‬

‫آگہی عام کرتی ہے۔ آگہی ے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں۔ کوئ اخبار‬
‫کسی بھی دن کا اٹھا کر دیکھ لو خیر کی خبر پڑھنے کو نہیں‬

‫ملے گی۔ ٹی وی سچی باتیں سامنے لا کر بےچینی کا سبب بنتا‬
‫ہے۔ بعض اوقات تو ٹی وی سازشی عنصر محسوس ہونے لگتا‬

‫ہے۔ لوگ انٹرنیٹ پر تصاویر تقاریر کارٹون شائع کرکے اور‬
‫تحریریں لکھ لکھ کر بڑے آدمیوں کو پوری دنیا میں ذلیل وخوار‬

‫کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ اپنے‬
‫مذموم ارادے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ ان کی بہت بڑی بھول‬

‫ہے۔ کوئی بھی بڑا آدمی اس وقت بےعزت ہو گا جب اس کی‬
‫جنتا میں عزت ہو گی۔ دوسرا وہ تسلیم کریں گے تو ہی ذلت کا‬

‫کوئی پہلو نکلے گا۔ جو بھی سہی میڈیا جھوٹا سچا کردار ادا‬
‫‪.‬کرنے کی ناکام سعی تو کر رہا ہے‬

‫کچھ بھی سہی میڈیا کے حوالہ سے انھیں یاوہ گوئ پڑھنے‬
‫سننے کو مل رہی ہے۔ بڑے لوگ سچ پڑھنے سننے کے عادی‬
‫نہیں ہوتے۔ میڈیا کی وجہ کمی کمین بھی جو تعداد میں سب سے‬
‫زیادہ ہیں' بات کرنے کی جرات کریں گے۔ بجلی نہ رہی تو ٹی‬
‫وی انٹرنیٹ وغیرہ صفر ہو کر رہ جاءیں گے۔ اگلے زمانے میں‬

‫آگہی کے دروازے بڑے تنگ اور محدود تھے اسی لیے امن‬
‫وامان میں کسی طرح کا نقص نہیں آتا تھا۔‬

‫پانی بڑی قیمتی چیز ہے۔ بجلی کے دور میں سرکاری اور‬
‫گھریلو موٹروں کا پانی بڑی بے دردی سے ضائع کیا جاتا تھا۔‬
‫انھیں کبھی احساس تک نہیں ہوتا تھا کہ وہ کتنے بڑے گناہ کا‬
‫ارتکاب کررہے ہیں۔ بجلی کی بندش سے بڑے لوگوں نےاپنے‬
‫پیارے پیارے عام کو ظلم کبیرہ سے بچا کر اربوں کی تعدد میں‬
‫نیکیاں کما لی ہیں۔ قوم شکریہ ادا کرنے کی بجائے سڑک پر آ‬

‫گئی ہے۔‬

‫ٹیشو پیر کی صنعت خسارے میں تو نہیں تھی لیکن عام آدمی‬
‫ٹیشو پیر بنا ہوا تھا‪ .‬عام آدمی اس ترقی یافتہ چیز سے استفادہ‬

‫نہیں کرتا تھا لیکن پانی کی خطرناک قلت کے سبب یہ طہارت‬
‫کے حوالہ سے ایک عام آدمی میں بھی شرف قبولیت حاصل کر‬
‫لے گا۔ لوگ پانی کو صرف پینےکے لیے محفوظ کیا کریں گے‬

‫اور یہ بڑے فخر اور اعزا والی بات ہو گی۔‬

‫پاکستان کی آبادی بہت بڑھ گئ ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی نے‬
‫آبادی کےحوالہ سے وہ نام نہیں کمایا اور یہ بڑے افسوس کی‬
‫بات ہے۔ جو کام محکمہ منصوبہ بندی نہیں کر سکا وہ کام بجلی‬

‫کی بندش سے باآسانی ہو سکے گا۔ اس کی کئ صورتیں‬
‫سامنےآ سکیں گی۔ مثل‬

‫ہسپتال میں پڑے مریض اپریشن نہ ہونے کے کے باعث دم توڑ‬
‫دیں گے۔‬

‫کام نہ ملنے کی وجہ سے بھوک میں اضافہ ہو گا کچھ لوگوں کو‬
‫بھوک کھا جائے۔ بہت سے لوگ بھوک کی سختی کے باعث خود‬

‫کشی کر لیں گے۔‬

‫بھوک چوری چکاری میں اضافے کا باعث بنے گی۔ ڈاکے پڑیں‬
‫گے ڈاکو برسرعام لوگوں کو لوٹیں گے۔ اس چھینا جھپٹی کے‬
‫عالم میں قتل وغارت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ اس طرح اچھی‬
‫خاصی آبادی زندگی کی ظالم سختیوں سے مکت ہو جائے گی۔‬

‫بجلی کی قیمتوں میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس سے روح بھی‬
‫کانپ رہی ہے۔ بجلی نہ ہوئی تو بجلی کی قیمت بل میں اندراج نہ‬

‫ہو سکے گی۔ صرف اضافی چارجز کا بل آیا کرے گا جو پہلے‬
‫سالوں میں باآسانی ادا ہو سکے گا۔ بجلی فراہم ہونے کی صورت‬

‫میں لوگ آغاز عشق میں ہی میٹر کٹوانے چل پڑیں گے۔ اس‬
‫طرح بجلی والوں کے کام میں خواہ مخواہ کا اضافہ ہو جائے گا‬

‫جو کسی طرح مناسب نہیں لگتا۔‬

‫مزدور صدیوں سے مشقت کا شکار ہے۔ آج ہر کام بجلی سے‬
‫جڑا ہوا ہے۔ اس طرح مزدور کو وافر آرام دسیاب ہو سکے گا۔‬
‫صدیوں کے تھکے ماندے مزدور کو آرام ملنا شر پسند عناصر‬

‫کو ناجانےکیوں برالگ رہا ہے۔‬

‫دفاتر آرام گاہیں بن گئی ہیں' سائلین سولی پر ہیں۔ بجلی کی‬
‫بندش سے کمپیوٹر ٹھپ ہو جائیں گے۔ لوگ ناامید ہو کر گھربیٹھ‬

‫جائیں گے۔ اس سے دفاتر شاہی کو سائلین کی اہمیت کااحساس‬
‫ہو سکے گا۔ دستی کام کرنے کے لیے آوازیں لگائی جائیں گی۔‬

‫چلو دفاتر شاہی کو کچھ تو کام کرنے کی عادت پڑے گی۔‬

‫مغرب کی پیروی میں بےلباسی ہمیں خوش آتی ہے۔ غالبا صلاح‬
‫الدین ایوبی کا قول ہے کہ گربت میں مرد کی غیرت اور عورت‬
‫کی عزت سستی ہو جاتی ہے۔ لوڈشیڈنگ سے بےروزگاری میں‬
‫خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بھوک نے جینا مشکل کر دیا‬
‫ہے۔ ایسے حالات میں مغرب کی پیروی میں بےلباسی معیوب‬
‫نہیں رہے گی۔ مغرب کی بےلباسی اور جنسی آزادی تاریخی‬

‫وجوہ رکھتی ہے۔ یہاں کی بےلباسی میں بھی حالات کا جواز پیدا‬
‫ہو جائے گا۔ امرا وزرا اور اہل ثروت پہلے ہی جنسی عیاشی‬
‫کرتے ہیں اس طرح مزید تر مال میسر آ سکے گا۔‬

‫گربا ہوتے ہی امرا کی غلامی کے لیے۔ آج تک گربا کے پاس‬
‫صرف اور صرف عزت باقی تھی ہمارے مدبر قوم دوست قاءدین‬
‫اس کو بھی بازار میں لانے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں‬
‫۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم مغرب کی جنسی پیروی کرکے دن دگنی‬

‫اور رات چوگنی ترقی کرے۔ بنیاد پرستوں نے آج تک اس ذیل‬
‫میں اخلاقیات کے نام پر ٹانگ اڑاے رکھی ہے گویا پہلوں کے‬

‫‪.‬اخلاقی اصول وضوابط آج کسی کام کے نہیں رہے‬

‫درج بالا معروضات کے تناظر میں لوڈشیڈنگ کو ملاحظہ‬
‫فرماءیں گے تواس کی مزید برکات غربا اور پریشان حضرات پر‬

‫کھلتی جائیں گی اور سارا رولا رپا سمجھ میں آ جاءے گا۔ یہ‬
‫بھی پوشیدہ نہیں رہے گا کہ اس سازش کے پیچھے شرپسند‬
‫مفاد پرست اور حکومت دشمن لوگوں کا دایاں ہاتھ ہے۔ وہ سب‬
‫عوام دوست نہیں ہیں اور ناہی عوام کو ہزاروں سال پیچھے لے‬
‫جانے کے حق میں ہیں۔ اس ملک کے عوام نہ آگے بڑھ رہے‬
‫ہیں اور ناہی برق رفتاری سے ماضی کا رخ کر رہے ہیں۔ ان‬
‫لوگوں کے پلٹنے کی رفتار حوصلہ شکن ہے اس لیے راہ میں‬
‫پڑنے والی ہر دیوار کو گرانا حکومت کے قومی تنزلی ایجنڈے‬
‫کے ساتھ مخلصی ہو گی۔ ان کا اخلاص حکومت دوست مورخ آب‬

‫زر سے رقم کرے گا۔‬

‫ہم زندہ قوم ہیں‬

‫ہم بڑے لائی لگ قسم کے لوگ ہیں۔ اپنے دماغ سے سوچنے کی‬
‫زحمت نہیں اٹھاتے۔ اگر کسی نے کہا کتا تہارے کان لے گیا ہے۔‬
‫کان دیکھنے کی بجائے کتے کے پیچھے دوڑ لگا دیں گے۔ کوئی‬

‫کتنا ہی کوکتا رہے کان دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں‬
‫کریں گے بلکہ کوکنے والے کو ہی کوسنے دیں گے۔‬

‫یہ رویہ آج سے مخصوص نہیں بہت پہلےسے انسان کتے کے‬
‫پیچھے پورے زور شور سے بھاگے چلا جا رہا ہے۔ الله جانے‬

‫دونوں ابھی تک تھکن کا شکار کیوں نہیں ہوئے۔ دونوں کی‬
‫رفتار میں رائی بھر کمی نہیں آئی۔ لفظ رائی کا استعمال اس لیے‬

‫کیا ہے کہ رائی سے کوئی چھوٹی مادی شے ابھی تک دریافت‬
‫نہیں ہو سکی۔ سل جاندار ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔ دکھائی نہ‬
‫دینے کے سبب ہی مر رہا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہی‬

‫وجہ ہے کہ میں نے سل بھر محاورہ نہیں اخترایا۔ کتے کی‬

‫وفاداری اپنی جگہ مڑ کر دندی نہیں کاٹ رہا اور بلا جواز مشقت‬
‫اٹھائے چلا جا رہا ہے۔‬

‫انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ انسان کےکچے کانوں کی‬
‫بلاجرم سزا بھگت رہا ہے۔ اگر ایک بار وفاداری کے خول سے‬
‫باہر نکل کر اچانک پیچھے مڑ کر دندی کاٹ لیتا توانسان کو کان‬

‫ہو جاتے۔ ڈاکٹر پیٹ میں ٹیکے ٹھوکتا۔ جیب ہلکی کرتا۔‬
‫نادانستگی میں کانوں کو ہاتھ لگاتا تو اسے معلوم پڑتا کہ کان‬
‫تو سلامت ہیں۔ ہاں البتہ سر سلامت نہیں رہا۔ اسے یہ بھی پتہ‬
‫چل جاتا کہ زخموں سے چور اور نڈھال سرآج بھی غداروں اور‬
‫مداریوں کے قدموں میں پڑا انسان کی کتا چیکی کا رونا رو رہا‬

‫ہے۔‬

‫استاد کو میری بات سے اتفاق نہیں رہا بلکہ اس کا ماننا یہ ہے‬
‫کہ سوچنے والا سر پیٹ میں چلا گیا ہے۔ ہمارے ہاں کا شخص‬
‫پیٹ سے سوچنے کا عادی ہو گیا۔ پیٹ میں حسب ضرورت گرم‬
‫ٹھنڈا تھندا ڈالتے رہو یہ کتے کے پیچھے بھاگتا رہے گا ۔ پیٹ‬
‫اور گٹھنوں کان اور پیٹ کا فاصلہ برابر ہو گیا ہے اس لیے پیٹ‬
‫کان اور گٹھنوں سے پہلے ہے۔ ہر معاملہ میں پیٹ پہلے ہو گیا‬
‫ہے۔ کان اور گٹھنے روٹی نہیں کھاتے اس لیے وہ قابل ترجیع‬

‫نہیں ہیں۔ بات میں دم اور خم کی کسی حوالہ سے کمی نہیں۔‬
‫دھرتی ماں ہی ہوتی ہے۔ ماں کسی غیر کے حوالے کرکے دیسی‬

‫گھی کی چوری ولائتیوں کے ہاتھ سےکھا نےکا مزا دیس بھگت‬
‫کیا جانیں۔ وہ جانتے ہوئے کہ ولاءتیوں نےمولوی ابوبکر کی‬

‫گولی کھا رکھی ہے اور ماں کا کیا حشر کرے گا کا تصور بھی‬
‫پیٹ دشمنی کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اسے ماں سے غداری یا‬
‫بے غیرتی سے زیادہ وقت اور حالات کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔‬

‫استاد کی باتوں کا برا نہ مانئیے گا۔ میں بھی اوروں کی طرح‬
‫ہنس کر ٹال دیتا ہوں۔ اور کیا کروں مجھے محسن کش اور‬
‫پاکستان دشمن کہلانے کا کوئی شوق نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئ‬

‫کرنے کی باتیں ہیں کہ کتے کے منہ سے نکلی سانپ کے منہ‬
‫میں آ گئی۔ سانپ سے خلاصی ہونے کے ساتھ ہی چھپکلی کے‬

‫منہ میں چلی گئی۔‬

‫پاکستان اور بھارت کی قیادت بڑی اعلی درجے کی رہی ہے۔ یہ‬
‫بڑے نیک شریف اور دیس بھگت رہے ہیں۔ جو بھی ان کے‬

‫کردار پرانگلی رکھے گا ناک کی سیدھ پر دوزخ نرک میں جائے‬
‫گا۔ پاکستان کی قیادت کو بسم الله تک آئے یا نہ آے اسلام دوست‬
‫رہی ہے۔اس نے ہر قدم پراسلام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ استاد کا‬
‫کیا ہے وہ تو بونگیاں مارتا رہتا ہے۔ ساری دنیا مورخ کی مانتی‬
‫آئی ہے اور مورکھ اقتدار کا گماشتہ رہا ہے۔ مورکھ وچارہ بھی‬
‫تو نسان رہا ہے۔ پاپی پیٹ اسے بھی لگا لگایا ملا ہے۔ اس نے‬

‫چند لقموں کے لیے ضمیر بیچا ہے۔ بڑی پگڑی والے سر خان‬
‫بہادرز بھی یہی کچھ کرتے آئے ہیں اور وہ ہمارے ہیرو ہیں۔‬

‫کیوں نہ ہوں انگریز ساختہ ہیں۔ ان کے انگریز ساختہ ہونے میں‬
‫رائی بھر کھوٹ نہیں۔‬

‫نظام ملنگی سلطانہ بھگت سنگھ آزاد وغیرہ انگریز ساختہ ڈاکو‬
‫ہیں اور ہم میں سے ہر کسی کا یہی ماننا ہے۔ میں بھی بالائے‬
‫زبان یہی کہتا ہوں۔ میں دل سے نہیں مانتا۔ کسی کو میرے دل‬
‫سے کیا مطبل منہ زبانی ایک بار نہیں ہزار کہتا ہوں کہ یہ ڈاکو‬

‫تھے ڈاکو تھے۔ ان کا ڈاکو ہونا ہر شک سے بالاتر ہے۔‬

‫انگریز ساختہ ہیروز بھی اپنی اصل میں مہا ڈاکو تھے۔ وہ‬
‫انگریز کی اشیرباد سے گریب اور کمزور لوگوں کی جان مال‬
‫اور عزت پر دن دھاڑے برسرعام پوری دھونس سےڈاکہ نہیں‬
‫باربار ڈاکے ڈالتے تھے۔ نظام ملنگی سلطانہ وغیرہ ان سرکاری‬
‫خان بہادر ڈاکوں کے گھروں میں رات کےوقت ڈاکے نہیں ڈاکہ‬

‫ڈالتے اور گریبوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ سرکاری ڈاکو‬
‫محلوں میں رہتے تھے اور یہ خالی ہاتھ چھانگا مانگا کے‬
‫جنگوں میں چھپتے پھرتے تھے۔ سرکاری خان بہادر ڈاکو‬
‫دھرتی ماں کے دلال تھے۔ یہ دھرتی ماں کے بھگت تھے۔‬

‫پاکستان بنانے والوں کا نام تک کسی کو یاد نہیں لیکن ان‬
‫انگریز ساختہ ہیروز کو سب جانتے۔ ٹیپو ہیرو تھا ساری عمر‬
‫تلوار کی نوک تلے رہا۔ یہ ایسے ہیروز ہیں جنہوں نے پوری‬
‫قوم کو تلوار کی نوک تلے رکھا۔ پاکستان کے لیے اسلام کا نام‬
‫استعمال ہوا لوگوں نے اسلام کے نام پر جانیں قربان کیں۔ بے‬

‫گھر ہوئے۔ لیکن انھیں کوئی جانتا تک نہیں۔‬

‫ذرا ان سوالوں کا جواب تلاشیں‬

‫‪٧١٧٢‬‬

‫میں وائسرائے ہند سے ملنے والے گروہ کا سردار کون تھا‬
‫اور اس کا انگریز سے کیا رشتہ تھا؟‬

‫تقریر کس انگریز نے لکھ کر دی اور وہ انگریز کس کا نمائندہ‬
‫تھا؟‬

‫وائسرائے نے کیا اور کیوں مشورہ دیا؟‬

‫‪٧١٧٢‬‬

‫میں مسلم لیگ کی قررداد پیش کرنے والے کے پاس انگریز‬
‫سرکار کے کتنے ٹائیٹل تھے؟‬

‫کیا وہ انگریز سے پوچھے بغیر ٹٹی پیشاب کر لیتا تھا؟‬

‫مسلم لیگ کے جملہ صدور عہدے دران وغیرہ میں سے کتنے‬
‫سر اور انگریز سرکار کے چمچے کڑچھے تھے؟‬

‫استاد کہتا ہے جو ہیروز تھے ان کا کہیں ذکر تک نہیں اور جو‬
‫زیرو بھی نہیں تھے پیٹ نواز مورکھ نے انھیں زمین کا سنگار‬

‫بنا دیا ہے۔‬
‫استاد کی باتیں اگرچہ سچ اور حقائق پر مبنی ہیں لیکن سچ کو‬
‫کب تسلیم کیا گیا ہے۔ میں استاد سے اکثر کہتا ہوں ایسی کڑوی‬
‫بات نہ کیا کرے۔ لوگوں کو کتے کے پیچھے بھاگنے دے۔ زندہ‬

‫قومیں مسلسل بھاگتی ہیں۔ بھاگنے سےہی بھاگ جاگتے ہیں۔‬
‫اس بات کا دکھ نہیں ہونا چاہیے کہ بجلی بند ہے خوشی اس بات‬

‫کی ہونی چاہیے کہ سب کی بند ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور اس‬
‫پرچم تلے سب ایک ہیں۔‬

‫‪...........................‬‬

‫بابا بولتا ہے‬

‫‪http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page124//‬‬

‫بابا چھیڑتا ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/123/

‫فتوی درکار ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/122/

‫لاوارث بابا اوپر‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page121//

‫ڈنگی ڈینگی کی زد میں ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page120//

‫حضرت ڈینگی شریف اور نفاذ اسلام‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page119//

‫یہ بلائیں صدقہ کو کھا جاتی ہیں‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/118/

‫سورج مغرب سے نکلتا ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/116/

‫حجامت بےسر کو سر میں لاتی ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/pag
e/114/

‫طاقت اور ٹیڑھے مگر خوب صورت ہاتھ‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/111/

‫انھی پئے گئی ہے‬

http://urdunetjpn.com/ur/category/maqsood-hasni/page/103

‫آرا‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے‬

‫مکرمی و محترمی حسنی صاحب‪ :‬سلام علیکم‬

‫مدت ہوئی کہ آشتیءچشم وگوش ہے! کتنا عرصہ ہوگیا کہ آپ‬
‫سے نیاز حاصل نہ کر سکا۔ اس زندگی اور اس کے خراج کا برا‬

‫ہو کہ اپنے بیگانوں سے سلام دعا بھی اب ہونا مشکل ہوچلا‬
‫ہے۔ معذرت خواہ ہوں۔ امید ہے کہ اپ بعافیت ہوں گے۔ قلم کی‬
‫شگفتگی تو بظاہر بدستور قایم ہے‪،‬الله سے دعا ہے کہ آپ بذات‬
‫خود بھی حسب معمول شکفتہ ہوں۔ آپ کا انشائیہ حسب دستور‬
‫سابق دلچسپ اور پر لطف ہے۔ پڑھتا رہا اور مزے لیتا رہا۔ اور‬
‫جب "بے نکاحی" گالیوں تک پہنچا تو بے اختیار قہقہہ منھ سے‬
‫نکل گیا۔ کیوں صاحب یہ "نکاحی" گالیاں کیسی ہوتی ہیں؟ دو‬

‫ایک مثالیں عنایت فرمائیں تاکہ فرق معلوم ہو سکے۔ آپ کی‬
‫زبان میں جا بجا پنجابی کا چٹخارہ لگا ہوتا ہے جو عجیب مزا‬
‫دیتا ہے۔ پنجابی ویسے خاصی کھردری زبان ہے لیکن مزاح میں‬
‫خوب کام آتی ہے۔ انشائیہ پر خادم کی داد حاضر ہے۔ اسی طرح‬
‫لکھتے رہئے اور ثواب دارین سمیٹتے رہئے۔ اور ہاں "نکاحی"‬

‫!اور "بے نکاحی" گالیوں کا فرق ضرور بتائیں‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=10041.0‬‬

‫غیرملکی بداطواری دفتری اخلاقیات اور برفی کی چاٹ‬
‫‪،،‬‬

‫مکرمی حسنی صاحب‪ :‬سلام علیکم‬

‫میرے اس خط کو نشانی سمجھ لیں کہ آپ کا انشائیہ میں نے‬
‫مزے لے لے کر اور با ضابطہ عبرت پکڑپکڑ کر پڑھ لیا ہے۔‬
‫اگر انشائیہ کا تعلق آپ کے وطن سے مخصوص نہ ہوتا اور میں‬

‫ہندوستان کا سابق شہری نہ ہوتا تو کچھ عرض کرتا لیکن‬
‫تجربوں سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ایسے نازک معاملات میں‬
‫خاموشی اچھی ہوتی ہے۔ سو میری خاموشی قبول کیجئے اور‬

‫ساتھ ہی داد بھی۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7961.0‬‬

‫انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ‬

‫! عزیز گرامی حسنی صاحب ‪:‬سلام شوق‬

‫آپ کا انشائیہ پڑھ کر مزا آ گیا۔ کاش آپ اپنی اس صلاحیت پر‬
‫مزید محنت کریں اور مزاح اور طنز کی دنیا میں ایک مقام بنا‬
‫لیں۔ آپ کا قلم نہایت شگفتہ و شستہ ہے‪ ،‬خیال آرائی اور منظر‬
‫کشی میں آپ ماہر ہیں‪،‬زبان و بیان بہت اچھے ہیں تو پھر دیر‬

‫کس بات کی؟ میری مخلصانہ گزارش ہے کہ طنز ومزاح کی‬
‫جانب سجنیدگی سے توجہ دیں اور اپنے انداز فکر و سخن کو‬

‫نکھاریں۔ اردو میں طنز و مزاح بہت کم ہے کیونکہ ہماری‬
‫زندگی اور معاشرہ خود درد و رنج اور استحصال کا مارا ہوا ہے۔‬

‫ظاہر ہے کہ جب انسان کی زندگی عذاب ہو تو اس کو ہنسی‬
‫کیسے سوجھے گی؟ اس حوالے سے مزاح نگار ایک رحمت بن‬

‫جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ہنساتا ہے اور سبق سکھاتا ہے۔‬
‫آپ کا انشائیہ صرف واپڈا کا انشائیہ نہیں ہے بلکہ ہر ایسے‬

‫ادارہ اور ایسے لوگوں کا خاکہ ہے جنہوں نے عوام کی زندگی‬

‫عذاب بنا رکھی ہے۔‬

‫اچھے انشائیہ پر داد قبول کیجئے اور میری گزارش پر ضرور‬
‫سوچئے اور کام کیجئے۔ شکریہ ۔ باقی راوی سب چین بولتا‬
‫ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7974.0‬‬

‫لاٹھی والے کی بھینس‬

‫مکرم بندہ جناب حسنی صاحب‪ :‬سلام شوق‬

‫خدا گواہ ہے کہ اردو انجمن نہایت خوش قسمت ہے کہ اس کو‬
‫بیک وقت آپ اور اعجاز خیال صاحب جیسے انشائیہ نگار مل‬
‫گئے ۔ آپ دوسری محفلوں کو دیکھیں تو قحط الرجال کی کیفیت‬
‫طاری معلوم ہوتی ہے۔ ویسے بھی اردو دنیا میں نثرنگاری اور‬

‫نثر نگاروں کاکال پڑا ہوا ہے۔ انجمن آپ دونوں کی احسان مند‬
‫ہے اور شکرگزار بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ دونوں احباب اپنے‬

‫انشائیوں پر نظر ثانی کر کے اور انھیں مزید نکھار کے کتابی‬
‫شکل میں اشاعت کی فکر کریں۔ کیا خیال ہے آپ دونوں کا؟‬

‫باقی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرورعالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=7963.0‬‬

‫میری ناچیز بدعا‬

‫محترمی حسنی صاحب ‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کے انشائیے پر لطف ہوتے ہیں۔ خصوصا اس لئے بھی کہ‬
‫آپ ان میں اپنی طرف کی یا پنجابی کی معرور عوامی‬

‫اصطلاحات (میں تو انہیں یہی سمجھتا ہوں۔ ہو سکتا ہوں کہ‬
‫غلطی پر ہوں) استعمال کرتے ہیں جن کامطلب سر کھجانے کے‬
‫بعد آدھا پونا سمجھ میں آ ہی جاتی ہے جیسے ادھ گھر والی‬
‫یا کھرک۔ یا ایم بی بی ایس۔ اس میں تو کوئی شک نہیں‬
‫کہ کھرک جیسا با مزہ مرض ابھی تک جدید سائنس نے ایجاد‬
‫نہیں کیا ہے۔ واللہ بعض اوقات تو جی چاہتا ہے کہ یہ مشغلہ‬
‫جاری رہے اور تا قیامت جاری رہے۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہے‬

‫کہ صور کی آواز کو پس پشت ڈال کر ہم ‪:‬کھرک اندازی‪ :‬میں‬
‫مشغول رہیں گے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔‬

‫لکھتے رہئے اور شغل جاری رکھئے۔ باقی راوی سب چین بولتا‬
‫ہے‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8069.0‬‬

‫مشتری ہوشیآر باش‬

‫مکرمی بندہ حسنی صاحب‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کا یہ نہایت دلچسپ انشائیہ پڑھا اور بہت محظوظ و‬
‫مستفید ہوا۔ جب اس کے اصول کا خود پر اطلاق کیا تو اتنے‬
‫نام اور خطاب نظر آئے کہ اگر ان کا اعلان کر دوں تو دنیا اور‬
‫عاقبت دونوں میں خوار ہوں۔ سو خاموشی سے سر جھکا کر‬

‫یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ۔ انشائیہ بہت مزیدار ہے شاید‬
‫اس لئے کہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس آئنیہ میں سب اپنی‬
‫صورت دیکھ سکتے ہیں۔ بہت شکریہ مضمون عنایت کرنے‬

‫کا۔‬

‫باقی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8277.0‬‬

‫ہدایت نامہ خاوند‬

‫محترم مقصود حسنی صاحب‪ ،‬سلام۔‬
‫آپ کا عنایت کردہ ہدایت نامہ توجہ سے پڑھا اور اس سے‬
‫محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ بہت ہی خوبصورتی سے آپ‬
‫نے سب ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے معاملے کی سچائی کو‬
‫سف ِر ازدواج کے پرانے اور نئے مسافروں کے سامنے رکھا ہے‬

‫اور صدقہِ جاریہ کا ثواب لوٹ لیا ہے‬
‫تخلیق کی عمدگی پر داد اور یہاں پیش کرنے پر شکریہ‬

‫قبول کیجیے اور محفل کو یوں ہی رونق بخشتے رہیے۔‬

‫احقر‬
‫عامر عباس‬

‫عزیز مکرم حسنی صاحب‪:‬سلام مسنون‬

‫آپ کا انشائیہ پڑھا اور محظوظ و مستفید ہوا۔ جب سب کچھ‬
‫پڑھ چکا تو گریبان میں جھانک کر دیکھا اور اس کے بعد‬

‫خاموشی میں ہی بہتری نظر آئی۔ صاحب! اتنی ذمہ داریاں‬
‫نبھانے سے بہتر تو یہ ہے کہ آدمی شادی ہی نہ کرے! بہر‬

‫کیف آپ کی انشا پردازی کا یہ مضمون بہت اچھا نمونہ ہے۔‬
‫اب یہ نہیں معلوم کہ جتنا اچھا مضمون ہے اتنا ہی اچھا اس پر‬
‫عمل بھی ہے یا آج کل کے مولوی صاحب کی طرح لوگوں سے‬

‫درود شریف پڑھنے کی تاکید کر کے خود چائے پینے کا‬
‫شغل پسند ہے۔ ہمارے بچپن میں مسجد کے مولوی صاحب میلاد‬
‫شریف پڑھتے وقت بار بار لوگوں سے کہتے تھے کہ "بھائیو‪،‬‬

‫آپ زور زور سے درود شریف پڑھیں ‪ ،‬تب تک میں چائے کا‬
‫ایک آدھ گھونٹ لے لوں"۔ مذاق برطرف انشائیوں کا سلسلہ‬

‫جاری رکھیں۔ اور ثواب دارین حاصل کریں۔‬

‫باقی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8315.0‬‬

‫آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں‬

‫جناب محترم ڈاکٹر حسنی صاحب‬

‫سلام مسنون پیشِ خدمت ہے‬

‫جناب عالیِِ آپ کے قلم کی مار اہ ِل قلم کے لئے باع ِث ترقِی ء‬
‫فہم و دانش ہے ‪ ،‬کس محبت اور خوبصورتی سے آپ نے قلم‬
‫کی بناوٹ سے لیکر اسکی وجہِ تخیلق اور ذمہ داری پر‬

‫روشنی ڈالی یقیناًبہت پُر مغز باکمال تحریر ہے جسے طنز و‬
‫مزاح کے ساتھ مگر پُرفکر انداز میں آپ نے پیش کیا اور‬

‫قارئین کی توجہ حاصل کرنا چاہی ‪ ،‬میری جانب سے داد اور‬
‫شکریہ اس دلکش تحریر سے مستفید فرمانے کے لئے قبول‬

‫فرمائیے ‪ ،‬اس ضمن میں آپ کی اور قارئین کرام کی‬
‫توجہ بھی چاہوں گا کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس‬
‫میں قلم تو زندگیوں سے تقریباًنکل ہی چکا ہے الِا دیہاتوں‬
‫میں مگر پین بال پین پینسل بھی نکلتی جارہی ہے ‪ ،‬ہم‬
‫ڈیجیٹل پین استعمال کرنے لگے ہیں الیکٹرونکس پین‬
‫سوفٹ ویئر کی بورڈز اور مزید آگے ہی آگے بڑھ رہے ہیں‬
‫اب ایسا وقت آنے والا ہے یا تجرباتی طور پر آچکا ہے کہ جس‬

‫میں آپ بات کریں گے اور کمپیوٹر صاحب یا رائیٹنگ‬
‫ڈیوائس آپ کی بات کو اسکرین پر ٹائیپ کردے گی آپ‬


Click to View FlipBook Version