کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گیس کی بندش سے لوگ بازار سے
خریداری پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح بادشاہ لوگوں کی
رمضانی رحمتیں ان کے کھیسہ مبارک میں بلا تکلف اور بلاتررد
بسیرا فرما لیں گی اور الزام اشیاء فروشوں کے سر پر آءے گا
اور وہ نہاتے دہوتے عوام کے روبرو رہیں گے۔ لوگ گالیاں دیں
گے تو فروشوں کو دیں گے اور وہ عوام کی ہاں میں ہاں ملانے
کے قابل رہیں گے۔
رمضان شریف نے دفاتر کی بھی چھٹی حس بیدار کر دی ہے۔ ان
کے مروجہ ریٹ سہ گنا ترقی کر گئے ہیں۔ غالبا دفاتر نشین بھی
سچے ہیں۔ وہ بھی وہاں ہی سے خریداری کرتے ہیں جہاں سے
دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ مارکیٹ سے قدم سانجھے کرنے کے
لیے وہ بھی امور کے بھاؤ بڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کسی
کے ہاں تین سو روپیے درجن کیلوں کی فروٹ چارٹ بنانے کا
خواب دیکھنا مانع ہو لیکن ان کے ہاں اس کے بغیر بنتی نہیں۔
کیا کریں‘ بیگمی مجبوری ہے۔ بچوں کو کس طرح معلوم ہو گا
کہ ان کے ابا گرامی دفتر میں بڑے بااختیار عہدے پر قبضہ فرما
ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ملک نفاذ اسلام کے لیے حاصل
کیا گیا تھا۔ اس قسم کی سوچ رکھنے والے احمقوں کی جنت میں
رہتے ہیں۔ یہ ملک کبھی بھی نفاذ اسلام کے لیے حاصل نہیں کیا
گیا۔ ان کے خیال میں اگر میں غلط کہتا ہوں تو ٧١٧٢سے لے
ل کر ٧٤اگست ٧١٤١تک مسلم لیگ کی ایک بھی قرارداد
نکال کر دکھا دیں‘ میں ان کی فراست کو مان جاؤں گا۔ یہ محض
عوامی نعرہ اور عوامی خواہش تھی اور ہے۔ نئ نسل کو شاید
معلوم نہیں‘ پرانی نسل کو بتانا چاہیے تحریک نفاذ نظام
مصطفے کا کیا حشر ہوا تھا۔ کتنے لوگ حوالاتی ہوءے اور
کتنوں کے پاسے سیکے گءے تھے۔
روزوں کے اس بارکت مہینے میں اسلام کو بچ میں لانے کی
آخر کیا ضرورت ہے۔ اسلام فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور فرد کو
کسی نے نہیں روکا کہ وہ روزے نہ رکھے یا مسجد میں اپنی
ذمےداری پر ترابیاں پڑھنے نہ جائے۔ سو بار جاءے اور بے
شک ساری رات ترابیاں پڑھتا رہے۔
کسی پر کیا احسان ہے‘ مہنگی اشیار نہ خریدی جاءیں۔
روزےدار پانی سے افطاری کرے اور الله کی اس گراں یایاں
نعمت کا لاکھ لاکھ ادا شکر کرے۔ رہ گئ بجلی کے باعث پانی نہ
ملنے کی بات‘ بجلی والی موٹروں کی کیا ضرورت ہے۔ گھروں
میں نلکے لگوائیں۔ بجلی کی محتاجی ختم ہو جائے گی۔ مہینے
میں بیس تیس یونٹ کم استعمال ہوں گے۔ زیادہ یونٹ کے بل
آنے کا قرضہ واپڈا بہادر پر رہے گا۔
دو ڈھائ سو روپے کلو والی مہنگی کھجور خریدنے کو کس نے
کہا ہے‘ اسی نوے رویے کلو والی کھجور کو کیا ہوا ہے۔ اسے
کون سی ماتا نکلی ہوئی ہے بلکہ کھجور خریدنے کی ضرورت
ہی کیا ہے دس روپیے کلو والا نمک کس دن کام آءے گا۔
رمضان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے اور یہ بلا رقم میسر
آتی ہیں۔ لوگوں کی نظر رحمتوں اور برکتوں سے ادھر ادھر
ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روزہ داری میں کسی ناکسی
سطع بر کھوٹ ضرور موجود ہے۔ مہینگائی کا رونا رونے کی
بجائے کھوٹ کی تلاش کہیں اہمیت رکھتی ہے
دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو
ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا پروفیسر کے کیا فرائض ہیں۔
انھوں نے مزید فرمایا مجھے تو یہ طبقہ فارغ لگتا ہے۔ بات کے
دوسرے حصہ سے متعلق ایک سیاسی طبقہ اور اس کی جی
حضوریہ نالائق اور ناخلف منشی برادری پروپگنڈا کرنے میں
مصروف ہے۔ نالائق اور ناخلف کی اگر کسی کو وضاحت درکار
ہے تو میں بسروچشم حاضر ہوں۔ پروفیسر بیک وقت تین کام
کرتا ہے
٧۔ معلومات فراہم کرتا ہے
٦۔ غلط اور صیحح ہی نہیں بتاتا بلکہ ان کی تمیز بھی سکھاتا
ہےگویا رویے تشکیل دیتا ہے۔
٣۔ سوچتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔
ایک شخص آٹھ گھنٹے بیاس منٹ جسمانی کام کرتا ہے جبکہ
پروفیسر اڑتیس منٹ کام کرتا ہے۔ دونوں برابر کی تھکاوٹ
محسوس کرتےہیں پروفیسرکی زیادہ انرجی صرف ہو جاتی ہے۔
پروفیسر جو سوچتا ہے وہ ڈیلور بھی کرتا ہے۔ گویا جسمانی کام
کرنے والوں سے پروفیسرکی زیادہ انرجی صرف ہو جاتی ہے۔
شاید ہی کوئی ایسا پروفیسر ہو گا جو موٹا تازہ ہو۔ اگر کوئی
موٹا تازہ پروفیسر نظر آ جائے تو یقینا کسی پیٹ کے عارضے
میں مبتلا ہو گا۔ مناسب انداز سے فکری نکاسی نہ ہونے کے
سبب بھی موٹاپا آ سکتا ہے۔ عزت اور جان دونوں خطرے کی
توپ کے دہانے پر ڈیرہ گزیں رہتے ہیں اس لیے ڈیلوری ایسا
آسان اور معمولی کام نہیں۔ اگر نہیں یقین آتا تو کسی خاتون
سے پوچھ لیں کہ ڈیلوری کا عمل کتنا مشکل اور کٹھن گزار ہوتا
ہے۔ کوئی خاتون خفیہ بات دس پندرہ منٹ سے زیادہ پیٹ میں
نہیں رکھ سکتی۔ خیر یہ بات عورتوں تک ہی محدود نہیں
پروفیسر تو الگ کہ ان کا یہ کام ہی یہی ہے۔ وکیل اور پروفیسر
بول بچن کی کھٹی کھاتے ہیں۔ ایک عام آدمی خفیہ بات یا کسی
کا کوئی انتہائی حساس راز زیادہ دیر تک پیٹ میں نہیں رکھ
سکتا۔ محاورہ پیٹ سے ہونا کے حقیقی معنی یہی ہیں۔
آج موٹے تھانیداروں کے حوالہ سے بات ہو رہی تھی۔ سوال اٹھ
سکتا ہے وہ کیوں موٹے ہیں۔ اکثر یہ کہیں گے وہ کھا کھا کر
موٹے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس سے اسی فیصد اتفاق نہیں۔
معدہ کی بیماری کے سبب کوئی تھانیدار موٹا ہوا ہو تو الگ بات
ہے۔ وہ اوروں سے زیادہ ہمدردی کا مستحق ہے۔ ایک طرف
معدہ پرابلم دوسری طرف زیادہ کھا لینے کا مسلہ تو تیسری
طرف رازوں کی عدم نکاسی۔
کسی موٹے تھانیدار پر کوئی دوسرا موٹا تھانیدار نعرہ تکبیر کہہ
کر چڑھا دیں وہ وہ راز اگلے گا کہ عقل سوچ اور دل و دماغ کی
روح قبض ہو جائے گی۔ اس کے پیٹ میں بڑے افسروں نبی نما
سیاست دانوں سیٹھوں مذہبی لوگوں کے وہ وہ راز ہوتے ہیں
جن کا کسی کے دونوں فرشتوں تک کو علم نہیں ہوتا۔ اس مدے
پر بات کرنا ہی فضول بات ہے کیوں کہ تھانیدار ان لوگوں پر
تھانیدار نہیں ہوتے۔ تھانیدار عوام کو گز رکھنے کےلیے ہوتے
ہیں۔ ان کا شرفاء کے اعلی طبقے میں شمار ہوتا ہے۔
۔سو گز رسہ سرے پہ گانٹھ‘ بات کا پیٹ میں رکھنا بڑا ہی مشکل
بلکہ ناممکن کام ہے‘ اپھارہ ہونا ہی ہوتا ہےاور یہ پہلے سوال
کی طرح لازمی بات ہے۔ آپ کے دیکھنے میں بات آئ ہو گی کہ
مرنے والے کا کوئ قریبی رو نہ رہا ہو تو اس کو رولانے کے
لیے سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات پردہ میں رہتی ہے کہ
اس قریبی نے اس کی موت پر شکر کا سانس لیا ہو۔ دلوں کے
حال الله جانتا ہے اس لیے بات پردہ میں ہی رہ جاتی ہے تاہم
اس کا کچھ ہی دنوں میں پیٹ کپا ہو جاتا ہے۔۔ اس حوالہ سے
کسی تھانیدار پر انگلی رکھنے سے بڑا ہی پاپ لگتا ہے۔ کسی
موٹے پروفیسر پر بھی یہی کلیہ عائد ہوت ہے۔
آج ہی کی بات ہے بشپ صاحب کی طرف سے امن سیمینار منعقد
ہونے جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے ناتے بد ہضمی اور گیس
کا شکار ہوں کیا کروں میں بات نہیں کر سکتا کہ لالہ جو گولیاں
اور چھتر کھا رہے ہیں انھیں امن کی کتھا سنا رہے ہو اور جو
گولیاں اور چھتر مار رہا ہےاس کے معاملہ میں آنکھ بند کیے
ہوئے ہو۔ میں سب کہہ نہیں سکتا کمزور بوڑھا اور بیمار آدمی
ہوں میرے پاس ایک چپ اور سو سکھ کے سوا کچھ نہیں۔
ایک موباءل ایس ایم ایس کا حوالہ دیتا ہوں۔ حضرت قاءد اعظم
کے پاس ایک خاتون آئی اور اپنے بیٹے پر جھوٹے قتل کے
مقدمے کے حوالہ سے درخواست کی۔ بابا صاحب نے مقدمہ لڑا
اور خاتون کے بیٹے کو بچا لیا۔ خاتون نے شکریہ ادا کیا اور
کہا کہ آج تو آپ ہیں اور کمزروں کو بچا لیتے ہیں کل آپ نہ
ہوئے تو کمزروں کا کیا بنے گا۔ بابا صاحب نے فرمایا نوٹوں پر
چھپی میری تصویر ہر کسی کے کام آئے گی۔ اب مسلہ یہ آن پڑا
ہے کہ نوٹ لسے اور ماڑے لوگوں کے قریب سے بھی نہیں
گزرتے۔ایسےبرے وقتوں میں خاموشی ہی بہتر اور کارگر ہتھیار
ہے۔ اپھارہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے مجھے کیا پڑی ہے جو اس
امن سیمینار پر کوئی بات کروں بلکہ مجھ پر یہ کہنا لازم آتا ہے
کہ کہوں گولیاں کھاؤ چھتر کھاؤ چپ رہو۔ اؤں آں اور ہائے
واءے کرکے دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو
اس عذاب کا ذکر قرآن میں موجود نہیں
یہ حیقیقت ہر قسم کے شک اور شبے سے بالاتر ہے کہ ہر خیر
الله کی طرف پھرتی ہے۔ لطف و عطا رحم وکرم درگزر کرنے
میں کوئ اس کا ہمسر نہیں۔ الله ہر حال اور ہر حوالہ سے اپنی
مخلوق کی بہتری چاہتا ہے۔ انسان کی طرح سرزنش میں جلدباز
نہیں۔ وہ بار بار مواقع فرام کرتا ہے۔ وہ ہر سطع پر اپنی بہترین
مخلوق یعنی
انسان کی ظفرمندی چاہتا ہے۔ وہ انسان کو آسودگی فراہم کرتا۔
وہ مولوی پنڈت یا پادری نہیں جو معمولی معمولی بات پرکفر کا
فتوی صادر کر دیتا ہے۔ وہ تو الله ہے اور اس کی درگزر کے
لیے کوئی پیمانہ موجود ہی نہیں۔
انسان کو جو ملتا ہے اس کے اپنے کئے کا ملتا ہے۔انسان اپنے
ہاتھوں اپنے لیے آگ جمع کرتا ہے۔ اپنی جمع کی ہوئ آگ میں
اس زندگی میں صعوبت اٹھاتا ہے۔ روز حشر جو برحق ہے' میں
جلے گا اور جلتا رہے گا۔ یہاں زندگی کے دن مقرر ہیں لیکن بعد
از مرگ کی زندگی کے دن کبھی ختم نہ ہونے والے ہیں۔ اس
زندگی جمع کئے گئے پھل پھول یہاں آسودگی کا نام پاتے ہیں
جبکہ روزحشر اسے جنت کا نام دیا جائے گا۔ الله اس جمع
پونجی کو ستر گنا برکت غطا فرمائے گا اور انسان اپنے اثاثے
کے حوالہ سے عیش کی گزارے گا۔ بالکل اسی طرح اپنی جمع
کی گئ آگ میں آخرت کی زندگی گزارے گا اور اسے دوزخ کا نام
دیا جاءے گا۔ گویا یہاں اپنے کئے کی بھرنی ہے۔ کسی قسم کے
جبر یا انتقام کی صورت نہ ہو گی۔ الله بےشک بڑا انصاف کرنے
والا ہے۔ جبر یا انتقام اس کی ذات اقدس کو زیب ہی نہیں دیتے
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جہان میٹھا ہے .سب لوگ مر جاءیں
گےاور ہمیں موت نہیں آئے گی یا یہ کہ جو پوچھنے والے ہیں
وہ خود حصہ خور ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں بہترین
ڈاکٹروں کی خدمت حاصل کرکے موت سے بچ جاءیں گے۔ غالبا
ہمیں یہ غلط فہمی بھی لاحق ہے کہ عذاب وغیرہ کا کوئی چکر
ہی نہیں یہ صرف مولوی حضرات اپنے ذاتی اغراض ومقاصد
کے لیے ڈراتے رہتے ہیں۔ ڈرنے کی صرف کمزور طبقے کو
ضرورت ہے۔ صاحب اختیار اور آسودہ حال لوگوں کو ڈرنے کی
کیا ضرورت ہے۔ مذہب وغیرہ کمزور طبقوں کی تسلی وتشفی
کے حوالہ سے ضرورت ہے۔ وہ اجر اور ثواب وغیرہ کے حوالہ
سے مرنے کے بعد موج میلہ کر لیں گے۔ ان کا کام وعدہ سے
چل جاتا لہذا نقد ونقد فقط ان کی اپنی ضرورت ہے۔
ایسے بدعقیدہ لوگوں کے لیے یہاں بھی تاریخ نے ان گنت
مثالیں چھوڑی ہیں۔ یہی نہیں' انسانوں کی اس بےراہرو بستی
میں آج بھی مثالیں مل جاتی ہیں۔ یہاں ایک صاحب ڈی سی آفس
میں چھوٹے موٹے عہدے دار تھے۔ بہت ہی مختصر سے
عرصے میں اس نے کام میں مہارت حاصل کر لی۔ پھر کیا تھا'
انی ڈال دی .فرعون کی ساری صفات اس میں جمع ہو گئیں۔ منہ
میں کتا اور آنکھوں میں سور بسیرا کر گیا۔ اس علاقہ میں شاید
ہی اس کے پائے کا راشی شرابی اور زانی ہو گا۔ اس نے اپنے
گھر میں جوائے کا آغاز کیا ۔ اس کے اس کام کو دن دوگنی
ترقی ملی۔ دیکھتے دیکھتے اس کے جوئے کے تین اڈے کھل
گئے۔ دن دہاڑے گھر میں عورتیں لاتا۔ اسے اتنی بھی حیا نہ آتی
کہ گھر میں اس کی دو جوان بیٹیاں بھی ہیں۔
ایک عرصہ تک وہ دوزخ کی آگ جمع کرتا رہا۔ پھر ریورس کا
عمل شروع ہوا۔ اس کی دونوں یٹیاں گھر پر منہ کالا کرنے
لگیں۔ جب گھر میں آگ لگی تو جھگڑا اور مار پٹائی کا کام
شروع ہوا۔ واپسی کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ دونوں کسی کے
ساتھ بھاگ گئیں اور اس کا اثرورسوخ کام نہ آ سکا۔ اس کے
دونوں بیٹے لفنٹر نکلے۔ اس کی جمع کی ہوئ دولت کو لٹانے
لگے۔ وہ ان کے سامنے بھیڑ سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہو۔
اس کے تین اپریشن ہوئے۔ حرام کی کمائ سے بنائے گئے
تینوں مکان بک گئے۔ دو دوکانیں نیلام ہو گئیں۔ کرائے کی ایک
نہایت بوسیدہ سی دوکان میں رہایش پذیر ہوا۔ اب فالج کا اٹیک
ہوا ہے۔ کوئی ملنے یا حال احوال پوچھنے تک نہیں آتا عبرت
کی تصویر بنا ہوا ہے۔ یہ آگ اس کی اپنی جمع کی ہوئی ہے۔
الله کی طرف سے بار بار وارننگ آئی ہے لیکن اس نے اس کی
کوئ پرواہ نہیں کی۔ معافی کا دروا زہ بند ہو چکا ہے۔ جن پر
اس نے ظلم توڑے تھے ان میں سے بہت سارے اس دنیا سے
کوچ کر گئے ہیں۔ جو زندہ ہیں وہ اس کا نام تک سننا پسند نہیں
کرتے۔ یہ جہنم دنیا کی ہے لیکن آخرت کا عذاب ابھی باقی ہے۔
یہ محض ایک مثال ہے ایسی مثالیں ہر گلی اور ہر محلے میں
موجود ہیں۔ کوئی ان سے عبرت لینے کو تیار نہیں۔
میرا اصرار ہے کہ جنت کے پھل اور پھول انسان کے اپنے جمع
کئے ہوں گے۔ دوزخ کی آگ پہلے وہاں موجود نہیں بلک یہ آگ
انسان اپنے ساتھ اپنے حوالہ سے لے کر جائے گا۔ جو شخص
آج زندہ ہے زندگی کے ہر لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے پھل
اور پھول جمکرنے کی سعی کرے۔
مہامنشی ہاؤس پنجاب کا ادنی ملازم بھی دہکتی آگ جمع کر ر ہا
ہے اور الزام سیاسی حلقوں پر آ رہا ہے کبھی فوج کو دشنام کیا
جاتا ہے۔ میری یہ بات پکی سیاہی سے پتھر کی دیوار پر لکھ
دیں اصل فساد اور خرابی کی جڑ یہی لوگ ہیں جب تک ان کا
کوئی قبلہ درست کرنے نہیں آ چاتا اس خطہ میں موجود ہر
انسان کی زندگی جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی۔ ڈینگی ان کے
ایک ناخن برابر خطرناک نہیں ہیں۔ الله پناہ' یہ وہ حاویہ ہیں جن
کا جانے بائی نیم قرآن مجید مں ذکر کیوں نہیں ہوا۔
غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم
اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے کہ غیرت
قوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے غیرتی روڑا کوڑا بھی رہنے نہیں
دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر ہے کہ تلاش کرنے والوں کو
اس میں بھی رزق مل جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز
سے باہر قدم رکھتے ہیں توقیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا
سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئی
حیثیت نہیں دی گئی ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔ نمبردار بن
جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو چھید ہوتے ہیں اسے بھی
باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا ہے۔ یہ قصور باتیں بنانے یا انگلی
اٹھانے والوں کا نہیں ہوتا بلکہ موقع دینے والوں کا ہوتا ہے۔
یہ حقیقیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں رہی ہے کہ
طاقت کے سامنے اونچے شملے والے سر بھی خم رہے ہیں۔
گویا طاقت اور غیرت کا سنگم ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے۔
کمزور صیح بھی غلط ٹھرایا جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور
اعلی پائے کی دلیل بھی اسے سچا قرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا
بہانہ اسے چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ
اشرف المخلوقات ہے اس لیے اس کے بہانے اور دلائل بھی
کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت ہے کہ وہ اپنی
غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی غلطی اوروں کے سر پر رکھ
دیتا ہے۔ ایسی صفائی سے رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم
کرنے میں دیر نہیں کرتا۔
امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئ کھوٹ نہیں۔ سوال پیدا
ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افغانستان امریکہ پر چڑھ
دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار وغیرہ‘ بھی
!شامل تھے؟
جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق نہیں توپ
کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟
ان کا جرم تو بتایا جائے۔
لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا حل
تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل حل کرنے
کوشش کو کیا نام دیا جائے۔
ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے سے کتا
بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے شیر ہاتھی سے
ہاتھی مرد سے مرد عورت سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔
ڈر کی ابتدا اور انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے موقف کی
دلیل میں میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی کام
کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر مجھے پکارا گیا۔
میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا
کہ صندوق میں چوہا گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان
سے ڈرتا‘ پی گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے
بلی یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ چوہا
صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔
چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل میں
انتہائ کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ خصلت ہے۔
امریکہ اپنی اصل میں انتہائ کمزور ہے۔ کیا کمزوری نہیں ہے
کہ اس کی گرفت میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار بھی آ
گئے۔ گھروں کے گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا
ابھی زندہ ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی
بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا مرا نہیں
حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔
بلوچستان میں انسانی قتل و غارت کا مسلہ امریکی پارلیمان میں
بطور قرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی معاملہ کسی دوسرے ملک
:کی پارلیان میں آنے کے تین معنی ہیں
٧۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئ ہے۔
٦۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں رہی۔
٣۔ امریکہ‘ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے کا بہانہ بنا
کر فوجی کاروائ کا رستہ بنا رہا ہے۔
میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے تناظر میں
:دیکھیں گے تو معاملہ صاف ہو جاے گا
امریکہ بلوچ عوام کے قاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ دے رہا۔
صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل کے
:حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے
ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے۔
چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا میرے تے نہ
رہنا۔
ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں گے۔ یہ بڑی
بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیءر کلرک کی مار نہیں ہیں
منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا
ہے جو چور کو کہتے ہیں سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو
کہتے ہیں چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترقی کے دور میں ہم سچ
کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی
یا پھر اقتصادی مجبوری ہے۔
ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی کیا مدد
کریں۔ صاف کہہ نہیں سکتے بھائی ہم پر نہ رہنا‘ جب بھی
مشکل وقت پڑا ہمیں دشمن کی صف میں سینہ تانے کھڑا پاؤ
گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت اور ڈالر کے حسن پر یقین
رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہماری عقل اور غیرت پیٹ می بسیرا
رکھتی ہے۔ ہم ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ
اور ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے کچھ ہیں
کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی جبکہ بجلی گئی
ہوئی ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا تھا اور گیس سارا دن
رہتی تھی۔ آج گیس صرف دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا
ہے۔ بجلی جانے سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ فلاں
گھر کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے کل
افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر سے پائپ جاتا
ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر خانے کھول
دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرغوں کی شامت آ جاتی ہے۔ لوگ
دھر سمجھ کر بے دریغ کھاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار
پلے سے کھلا رہا ہے اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے
الیکشنوں میں ہی مل پاءے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔
الیکشن وہی لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی
ہک میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔ چوری
کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان لنگر
خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں چڑھتا۔
مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے دنوں سننے
میں آئی۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نئے آنے والے ضلعی افسر
نے اپنے درجہ چہارم کے ملازم سے کہا بھئی ہمارے آنے کی
خوشی میں دعوت وغیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرغے دیگ چڑھا
دئے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے آنے کی
خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ چہارم کا ملازم دیگ
کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں سرخرو ہوئے۔ دیگ چڑھی افسر
کی خوشی پوری ہو گئ ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر
اٹھا۔ وہ اتنا ہی کر سکتا تھا۔
ممبری کے امیدواروں کا بھی غالبا خرچہ لون مرچ مصالحے
پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید نوبت نہیں آئے گی
کیونکہ لون مرچ مصالحے کا خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر
دیا جائے گا۔
ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا ہے۔ بیان
میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے کی صورت میں
:بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں
٧۔ جو مرنا جانتے ہیں‘ مارنے میں بھی کم نہیں ہوتے۔ امریکہ
نے یہ غلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں شاید اسے صدیاں لگ
جاءیں۔
٦۔ ایران کا ساتھ دیا جاءے گا۔
٣۔ غیرت مند‘ مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس سےکبھی
باہر نہیں ہو پاتا۔
ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتائج ہوں گے۔ جنگ ہے ہی تباہی و
بربادی کا نام۔ بلوچ غیرت مند قوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ
امریکہ ان کے قاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
افغانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کو وافر
چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل میں امریکہ کے
لیے نفرت اور صرف نفرت ہے۔ چوری عوام کے پیٹ میں نہیں
گئ۔ ان کے پیٹ میں خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں غصے
اور خفگی کا سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور
بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے
خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن
خدا بچاؤ مہم کا بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے آغاز کیا گیا۔
کسی نے اس جانب توجہ ہی نہ کی کہ خدا تو سب کو بچانے والا
ہے۔ وہ ہر گرفت سے بالا ہے۔ پوری کائنات اس کی محتاج ہے
اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اگر وہ خدا منکر لوگوں کا رب نہ
ہوتا تو وہ سارے کے سارے بھوک پیاس سے مر جاتے۔ وہ تو
ساری کائنات کا مالک و خالق ہے۔ یہی نہیں وہ تو اپنی مرضی
کا مالک ہے۔ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ ہر کوئی
اس کی مرضی و منشا کے تابع ہے۔ کسی نے یہ غور کرنے کی
زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہی ہے لیکن
ہمارے اور ان کے خدا میں زمین آسمان کا نظریاتی فرق ہے۔ ان
کا خدا تین میں تقسیم ہے جب کہ ہمارا خدا تین نہیں‘ ایک ہے۔
وہ تقسیم کے نقص سے بالا ہے۔
خدا بچاؤ مہم کے لیے اسلحہ اور ڈالرز کی بارش ہو گئی۔ خدا
بچاؤ مہم میں شامل لوگ مالا مال ہو گئے۔ وہ شیطان کے
بہکاوے میں آ گئے تھے۔ وہ شیطان کی ہولناک چال کو سمجھ
نہ سکے۔ خدا بچاؤ مہم میں ان گنت بچے بوڑھے عورتیں اور
گھبرو جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ تو ان موت کے گھاٹ
اترنے والوں کا بھی خالق ومالک ہے۔ خدا بچاؤ مہم کے ڈالر
خوروں کو رجعت پسند‘ شر پسند اور بنیاد پرست کہہ کر زندگی
سے محروم کیا گیا۔ خدا بچاؤ پتہ ناکام ٹھرا ہے تو ازدواجی
رشتہ ہونے کا دعوی داغ دیا گیا ہے۔
طلاق یقینا بہت برا فعل ہے۔ اہل دانش تو الگ رہے‘ مذاہب نے
بھی اس کی آخری حد تک ممانعت کی ہے۔ طلاق کے نتیجہ میں
سماجی سطع پر خرابی آتی ہے۔ دو برادریوں میں دشمنی چل
نکلتی ہے۔ اس طلاق دشمنی کے نتیجہ میں آتے کل کو کوئ
بھی خطرناک صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ بات محدود نہیں رہتی۔
بےگناہ‘ غیر متعلق اور بعض اوقات صلع کار بھی اس کی لپیٹ
میں آ جاتے ہیں۔ پھر بجھائے نہ بنے والی صورت پیدا ہو جاتی
ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان
کے ساتھ تعلقات میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ امریکہ کا
یہ بیان پاک امریکہ دوستی کے اٹوٹ ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔
یہی نہیں یہ اس کی سماج اور مذہب دوستی کا بھی منہ بولتا
ثبوت ہے۔ اس کمبل سے چھٹکارے کی کوشش کرو گے تو بھی
کمبل خلاصی نہیں کرے گا۔ اس کمبل کی گرمایش اتنی ہے کہ
اس کے بغیر بن نہ پاءے گی۔ امریکی چوری کا سواد اور چسکا
ہی ایسا ہے کہ کم بخت لگی منہ سے چھٹتی نہیں۔ میں نے یہ
تیر ہوا میں نہیں چلایا۔ اس کے بہ ہدف ہونے کا ثبوت کیمرون
کا یہ ٹوٹکا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ
امریکی ان کے ملک سے واپس جائیں۔
دنیا کا کوئ بھی اولاد والا طلاق کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہاں یہ
واضح نہیں کون کس کو طلاق دے گا۔ ہمارے ہاں زیادہ تر مرد‘
عورت کو طلاق دیتا ہے۔ کیمرون کا بیان واضح کرتا ہے کہ
پاکستانی سیاست دان امریکہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے۔ گویا
امریکہ کو ان کی ایسی کوئ خاص ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کو
چولہا چونکا چلانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔ یہاں کی
سماجی روایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو طلاق کا حق
پاکستان کے پاس ہے۔ مرد چاہے نامرد ہو‘ اسے عورت نہیں کہا
جا سکتا۔ سیاست دانوں کی یہ غنڈہ نوازی ہے کہ جھوٹ موٹھ
سہی‘ ہم پاکستانی مردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طلاق کے
معاملے کا فقط ایک پہلو ہے۔ مغرب میں عورتیں مردوں کو
طلاق دیتی ہیں۔اس حوالہ سے طلاق دینے کا حق امریکہ کے
پاس چلا جاتا ہے۔ طلاق کا حق ان کے پاس ہو یا ان کے پاس‘
ہم پاکستانی مرد ضرور قرار پاتے ہیں اور یہ ہمارے لیے کمال
فخر کی بات ہے کہ ہم نام کے سہی‘ مرد ہیں۔
اس حوالہ سے بات نہیں کروں گا کہ زندگی پر حکومت عورت
کرتی ہے۔ مرد زبانی کلامی دبکاڑے اور بڑکیں مارتا ہے۔ لیکن
بیگم کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جہانگیر کے
سارے فیصلے‘ نور جہان کے فیصلے ہیں۔ مرد جو باہر ناسیں
پھلاتا ہے لیکن گھر میں صرف اور صرف بطور پانڈی داخل ہوتا
ہے۔ کسی معاملہ میں بیگم کی سفارش آ جانے کے بعد اپنا طرز
تکلم ہی بدل لیتا ہے۔ جو بھی سہی مرد‘ مرد ہوتا ہے۔ اس کی انا
اور سطع بلند ہوتی ہے۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں اس معاملے پر
گفتگو نہیں کروں گا۔ طلاق کا نقطہ اس امر کی کھلی وضاحت
ہے کہ ہم مرد ہیں۔ کیا ہوا جو مردانہ قوت میں ضعف آ گیا ہے۔
یہ ضعف پیدایشی نہیں اس لیے قابل علاج ہے۔ آج ان گنت
دواخانے موجود ہیں لہذا عین غین معالجہ ممکن ہے۔ اس میں
ایسی گھبرانے یا پریشان ہونے والی کوئی بات ہی نہیں۔
معاملے کا یہ پہلو ذرا پیچیدہ اور گرہ خور ہے کہ آخر وچارے
امریکیوں پر یہ دھونس کاری کیوں؟؟؟ پاکستانی سیاست دان
!اتنے لچڑ کیوں ہو گے ہیں؟
پشاور یا اس سے پار کے مرد اس ضمن میں ضد کریں تو بات
سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں کا پشاوری ذوق
عجیب لگتا ہے۔ اس علاقہ کے لوگ بھی سیاسی نشتوں میں
ہوتے ہیں لیکن تعدادی حوالہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کو
تعداد سے مطلب ہوتا ہے۔ مردانہ طاقت چاہے کسی بھی سطع
کی ہو۔ عین ممکن ہے سیاسی ہیلو ہاءے میں وہ ڈومینٹ ہوں
اور شاید اسی حوالہ سے مردوں کا زنانہ شوق مردانہ میں بدل
گیا ہو۔
دینی اور سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی انسانی
نہیں‘ امریکی بنیادوں پر بحال ہوئی ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں
:پیش نظر رہنی چاہیں
ا۔ امریکہ انسانی حقوق کا ٹھکیدار ہے۔ اگر امریکہ کے حوالے
سے بحال ہوئ ہے تو اسے انسانی بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔
ب۔ بیگمانہ حکم عدولی کل کلیان کو دعوت دینے کے مترادف
ہے۔ یہ کل کلیان طلاق کا دروازہ کھول سکتی ہے جبکہ پاکستان
سے تعلقات کے ضمن میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ جب
آپشن ٹھپ ہے تو نیٹو سپلائی کا امریکی بنیادوں پر بحال ہونا
غلط اور غیر ضروری نہیں۔
ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے فضائ راستے
سےنیٹو کو رسد کی سپلائی روز اول سے جاری ہے۔ ہم سخی
لوگ ہیں اور سخیوں کے ڈیرے سے دوست دشمن بلا تخصیص
فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا اصول رہا کہ
کہو کچھ کرو کچھ۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں ہو گا تو
سمجھ لو وہ کام ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ہم کسی بھی سطع
کی صفائی دے سکتے ہیں لیکن پرنالہ اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔
کسی کو بھوک سے مرتے دیکھنا کوئی صحت مند بات نہیں۔ ہم
اپنے لوگوں کو بھوک پیاس اور اندھیروں کی موت مار سکتے
ہیں لیکن سفید رانوں والوں کو بھوکا مرتے نہیں دیکھ سکتے۔
یہ بھی کہ معاملہ سفید رانوں تک محدود نہیں ہماری محبوبہ
کے پاس ابراہیم لنکن والے نوٹ بھی ہوتے ہیں۔ نوٹ دیکھتے
ہی ہمارا موجی موڈ بن جاتا ہے۔ غیرت اصول اور کہا سنا اپنی
جگہ‘ نوٹ اپنی جگہ۔
طلاق دینے کی کوئ تو وجہ ہو نی چاہیے۔ امریکہ سے تعلقات
آخر کیوں ختم یا خراب کئے جائیں۔ بچارے سیاسی لوگ پلے
سے خرچہ کرکے ممبر بنتے ہیں۔ کیا عوام ان کی ضرورتوں
کے مطابق کما کر دیتے ہیں‘ بالکل نہیں۔ امریکہ نوٹ وکھاتا اور
چکھاتا ہے اس لیے موڈ کا نہ بننا احمقانہ سی بات ہے۔ یہ لوگ
امریکہ کے کام الله واسطے نہیں کرتے۔ اگر پاکستانی عوام کو
خود مختاری حاصل کرنے کا اتنا ہی شونق ہے تو امریکہ برابر
نوٹ کمائیں وکھائیں اور ان کی تلی ترائی کریں۔ اگر تلی ترائی
نہیں کر سکتے تو چونچ بند رکھیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ طلاق
دینے کی صورت میں ناصرف جہیز واپس کرنا پڑے گا بلکہ حق
!مہر بھی دینا پڑے گا۔ کون دے گا؟
عوام کے پاس تو دو وقت کی روٹی کھانے کو نہیں حق مہر
کہاں سے آئے گا۔ جہیز جو کھایا پیا جا چکا ہے کدھر سے آئے
گا۔
امریکہ کو طلاق دینے کا فیصلہ کوئی ون مین گیم نہیں ہے۔
سابق سفیر کا کہنا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ فیصلہ نہیں کرتی
امریکہ سے تعلقات منجمد نہیں کر سکتے۔ گویا امریکہ کو طلاق
دینے کا حق عوام کے پاس نہیں ہے۔ عوام کو اپنی حد میں رہنا
چاہیے۔ عوام لاڈلی بھی نہیں ہے جو کھیلن کو چاند مانگ رہی
ہے دوسرا چاند ملوکہ جگہ ہے۔ چاند پر صرف اور صرف قبضہ
گروپ کا حق ہے۔
ہمارے پڑوس میں ایک جوڑا اقامت رکھتا ہے۔ ان کے تین
لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ بڑے ہی پیارے پیارے بچے ہیں۔ بد
قسمتی سے مرد جوا کھیلتا ہے اور نشہ بھی کرتا ہے۔ عورت
محنت مشقت کرکے ان سب کا پیٹ بھر تی ہے۔تھکی ماندی جب
گھر آتی ہے تو اس کی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔ ایسے میں
کوئ چوں بھی کرتا ہے۔ زبانی اور عملی طور خوب لترول کرتی
ہے۔ مرد چوں بھی نہیں کرتا۔ چوں کرنے کی اس کے پس
گنجائش ہی نہیں۔
الله نے مرد کو کنبہ کا کفیل بنایا ہے۔ اگر عورت کام کرتی ہے تو
یہ مرد کے ساتھ تعاون ہے ورنہ وہ کفالت کی ذمہ دار نہیں۔
خرچ اٹھانے اور تعاون کرنے والے کا ہاتھ اوپر رہتا ہے۔ اس
حوالہ سے اسے بزتی کرنے کا بھی پورا حق حاصل ہے۔
امریکہ ہماری کفالت کرتا ہے۔ سارے حق حقوق پورے کر رہا
ہے لہذا بزتی کرنے کا بھی اصولی طور پر اسے حق حاصل ہے۔
ہم اس چمکیلی اور نخریلی محوبہ کو طلاق دینا بھی چاہیں تو
طلاق نہیں دے سکتے۔ جو ڈالر دیتا ہے اصول اور قانون بھی
اسی کا چلتا ہے۔ امریکی عورتیں طلاق دیتی ہیں۔ ہم اس وقت
تک امریکہ کی غلامی میں رہیں گے جب تک وہ ہمیں طلاق
نہیں دے دیتا۔ ویسے ہماری خیر اسی میں ہے کہ ہم طلاق کا نام
بھی زبان پر نہ لائیں کیونکہ اس نے جس کو بھی طلاق دی
ہے اسے لنڈا بچا ہی نہیں کیا اسے لولہ لنگڑا بھی کیا ہے
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر
ایک شخص چور کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔ رستے میں
قبرستان آ گیا۔ چور آگے نکل گیا جبکہ وہ شخص قبرستان میں
داخل ہو گیا۔
کسی نے پوچھا “یہ کیا؟
اس نے جوابا کہا “اس نے آخر آنا تو یہاں پر ہے نا“۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نےتوہین عدالت
کے حوالہ سے اعلی شکشا منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ
جاری کر دئے ہیں۔ یہ کاروائی ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم
کی رٹ کے حوالہ سے عمل میں آئ ہے۔ ڈی ڈی سی (کالجز)
ڈاکٹر اکرم اپنی جیت کے نشہ سے سرشار ہوں گے۔ اعلی شکشا
منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونا کوئ ایسی عام
اور معمولی بات نہیں۔ عدالت نے وہی کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔
منصف قانون کے دائرے میں رہتا ہے اور قانون کی حدود کسی
کو توڑنے نہیں دیتا۔ کالا گورا ماڑا تگڑا گریب امیر قانون کی
نظروں میں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے جو کیا درست کیا اور درست کے سوا کچھ نہیں کیا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈی ڈی سی(کالجز) ڈاکٹر اکرم نے اعلی
شکشا منشی کالجز ہاؤس کے مروجہ اصول و ضابط کی پھٹیاں
اکھیڑنے کی جسارت تو نہیں کی؟
اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اپنے انجام کو کیوں بھول گیا۔ کیا
وہ یہ نہیں جانتا کہ آخر لوٹ کر آنا تو یہاں پر ہی ہے۔ کیا وہ
نہیں جانتا تھا کہ اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس میں بڑے بڑے
پھنے خانوں کی زندہ ہڈیاں بوٹیاں دفن ہیں۔ کوئ نشان تک نہیں
تلاشا جا سکتا۔ اب صرف اور معاملہ ہے لیکن آتے وقتوں میں
اس معاملے کے بطن سےان گنت معاملات جنم لیں گے۔
یہ بڑے کمال کا سچ ہے کہ اس عہد کی عدلیہ آتے کل کے لیے
اعی درجے کا حوالہ چھوڑ جاءے گی۔ اس کا کردارمثال بنا رہے
گا۔ عدالت کو کوئی اور کام نہیں جو ڈاکٹر اکرم کےمعاملات کو
دیکھتی پھرے گی۔ کہاں تک بھاگیں گے۔ دوڑ دھوپ کرنے
والوں کو پہاڑ کے نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ جو بھی مہا منشی
ہاؤس سے ٹکرایا ہے‘ عبرت کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے۔
کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ان کی پہلی رکات سے بچ کر
نکل گیا ہو۔ یہ بھی کہ کسی ریسرچ اسکالر کو ہمت نہں ہو سکی
کہ وہ یہاں بلڈوز ہونے والوں کا اتا پتا دریافت کرنے کی ہمت کر
پایا ہو۔ یہ ہڈیوں بوٹیوں کا بلا کنار سمندر ہے۔ میں سب جانتے
تجربہ رکھتے اور بلا مرہم زخمی‘ ڈاکٹر اکرم کی ہڈی بوٹی کی
خیر کی دوا کےلیے دست بہ دعا ہوں۔ تصویری نمایش کے
شوقین اس کمزوروں کے پرحسرت قبرستان کی جانب شوقین
نظریں اٹھا کر تو دیکھیں‘ نانی نہ یاد آ گئ تو اس پرحسرت
قبرستان کا نام بدل دیں۔
ہمارے ہاں تعلیم عام کرنےکی رانی توپ سے دعوے داغے
جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ناخواگی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔
اعلی اور تحقیق سے متعلق تعلیم کی راہوں میں مونگے کی
چٹانیں کھڑی کرنے کی ہر ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس
ضمن میں صرف ایک حوالہ درج کرنے کی جسارت کروں گا۔
۔حساب شماریات وغیرہ این ٹی ایس میں شامل ہوتے ہیں۔
آرٹس والوں کا ان مضامین سے کیا کام ۔ اس ٹسٹ میں ان کے
مضامین سے متعلق سوال داخل کئے جائیں۔ یوں لگتا ہے یہ
مضامین انھیں فیل کرنے یا ٹسٹ میں حصہ نہ لینے کی جرات
پیدا کرنے کے لیے این ٹی ایس سی میں داخل کئے گئے ہیں۔
حساب اور شماریات کا تعلق چناؤ وغیرہ سے ہے۔ ان مضامین
کا چناؤ ٹسٹ میں شامل کرنا بےمعنی اور لایعنی نہیں لگتا۔ ایک
اخباری خبر کے مطابق چناؤ کے حوالہ سے بارہ کروڑ روپے
سکہ رائج الوقت بھاؤ لگ گیا ہے۔ اگر یہ رقم کسی گریب آدمی
کو دے دی جائے تو وہ اتنی بڑی رقم دیکھ کر ہی پھر جائے گا۔
اگر چیڑا اور پکا پیڈا نکلا تو گنتے گنتے عمر تمام کر دے گا۔ یہ
بھی ممکن ہے کہ گنتی کے دوران ہی کوئی ڈاکو لٹیرا اسے
گنتی کی مشقت سے چھٹکارا دلا دے۔ حساب اور شماریات
اگرچہ بڑے اہم اور کام کے مضامین ہیں لیکن ان کا متعلق پر
اطلاق ہونا چاہیے۔ غیر متعلق پر اطلاق بڑا عجیب وغریب لگتا
ہے۔
عجیب ہو یا نہ ہو' اس معاملے کا تعلق غربت سے ضرور ہے۔
جمہوریت امریکہ سے درامد ہوئی ہے۔ یہ مقامی‘ عربی یا
:اسلامی نہیں ہے۔ اس کا نعرہ ہے
عوام کی حکومت‘ حکومت تو الله کی ہے۔
عوام کے ذریعے‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله' کدھر گیا۔
عوام کے لیے‘ وڈیرے کیا ہوئے۔ وہ حکومت کرنے کے لیے
باقی رہ جاتے ہیں۔ گویا وہ سرکار ٹھرتے ہیں اور عوام رعایا۔
براءے نام سہی‘ رعایا عوام کا حوالہ موجود ہےاور یہ رعایا
عوام کی تسکین کا بہترین موجو ہے۔ بارہ کروڑ بھاؤ نے تو
برائے نام رعایا عوام کی اصل حیقیت کی قلعی کھول کر رکھ دی
ہے۔ میری اس دلیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ حساب اور
شماریات جیسے مضامین ہر کسی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے۔
ہاں البتہ مال خور منشی شاہی کے لیے بھی لازمی سے لگتے
ہیں۔ ان کی سلیکشن کے حوالہ سے ان مضامین کی برکات کو
نظرانداز کرنا‘ مال خور منشی شاہی کو ناقابل تلافی نقصان
پہچانے کے مترادف ہے۔
اقبال ساری عمر خودی خودی کرتا رہا اور خودی میں ترقی بتاتا
رہا۔ میں نے تو آج تک خوددار لوگوں کو ذلیل وخوار ہوتے
دیکھا ہے۔ اپنی اور سماجی خودی بیچنے والے نام پیدا کرتے
آئے ہیں ۔جمہوریت کے لفافے میں انھوں نے قومی آزادی
عزت اور حمیت کا خون ملفوف کیا ہے۔ اس کارنامے کے صلہ
میں پیٹ بھر کھایا ہے اور محلوں میں اقامت رکھی ہے۔ عہد
حاضر میں خودی وکاؤ مال ہو گئی ہے۔ جو بھی رج کھاناچاہتا
ہے اسے اقبال کے کہے پر مٹی ڈال کر اس کے مصرعے کو
:یوں پڑھنا اور اسی حوالہ سے زندگی کرنا ہو گی
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر
اگر کوئ اقبال کے فلسفے پر جما رہا تو نام پیدا کرنے کا خواب
گلیوں میں بےچارگی اور شرمندگی کی زندگی بسر کرے گا۔
خودی کو زندگی کا مقصد بنانے والے ہوم گورنمنٹ سے بھی
چھتر کھاتے دیکھے گئے ہیں۔
امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر
ضلع قصور بلھےشاہ صاحب نور جہان فالودہ میتھی اندرسےاور
جوتوں کےحوالہ سے پوری دنیا
میں پہچانا جاتا ہے لیکن اب دو اور چیزیں اس کی شہرت کے
کھاتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ عمران خان کے جلسےمیں لوگوں
نےکرسیاں اٹھا لیں۔ کرسیاں کیوں اٹھائی گئیں بالکل الگ سے
موضوع گفتگو ہےتاہم یہ وقوعہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا
یہی نہیں قصورکی وجہ شہرت ضرور بنا رہے گا۔ دوسراوقعہ
بجلی کےحوالہ سے ہڑتال جلوس اورعوامی ردعمل ہے۔ اس
کاکوئی اثرنہیں ہوا یہ کوئ نئی اورعجیب بات نہیں ہاں نئی
اورعجیب با ت یہ ہےکہ لوگوں کی جوتوں لاٹھیوں سےمرمت
اورسیوا نہیں ہوئی ورنہ ہر گستاخ اورحق مانگے والے کے
پاسے ضرورسیکے گئے ہیں۔ بات بھی اصولی ہے احتجاجی اور
ہڑتالی نقص امن اور کارسرکار میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔
کارسرکار کیاہے
کھانا پینا اورموج مستی کرنا۔
میرےنزدیک جیب کترےدفترشاہی اورہاؤسزسےمتعلق لوگ
سچےدرویش اورالله کوماننےوالے ہیں۔ جب ان مینسےکوئ
واردات ڈالتاہےتواسےپورایقین ہوتاہےکہ متاثرہ کا الله مالک
ہےاوروہ اسےاپنی جناب سے اورعطاکردےگا۔ گویامتاثرہ پر
رائ بھرفرق نہینپڑےگا۔ ایک شخص
دوالینےجارہاہےاوررستےمینجیب کٹ جاتی ہےکیاجیب کٹ جانے
کےبعددوانہینآتی دواپھربھی آتی ہے۔ گویاسبب توالله کےپاس
ہیناس لیئےجیب کاٹنا جیب کترےکااصولی حق ہے۔
میرے نزدیک جیب کترے دفترشاہی اورہاؤسز سے متعلق لوگ
سچے درویش اور الله کو ماننے والے ہیں۔ جب ان میں
سےکوئی واردات ڈالتا ہےتو اسے پورا یقین ہوتا ہےکہ متاثرہ
کا الله مالک ہے او روہ اسے اپنی جناب سے اورعطا کر دے گا۔
گویا متاثرہ پر رائی بھرفرق نہیں پڑے گا۔ ایک شخص دوا
لینےجا رہا ہےاور رستےمیں جیب کٹ جاتی ہے کیا جیب کٹ
جانے کےبعد دوانہیں آتی دوا پھر بھی آتی ہے۔ گویا سبب تو الله
کے پاس ہیں اس لیئے جیب کاٹنا جیب کترے کا اصولی حق ہے۔
کچھ ادارےعوام کے حق کواپنے ہاتھ میں لینےکی کوشش میں
ہیں۔ یقینا یہ غلط طرزعمل ہے۔ ہرکسی کواپنی حد میں رہنا
چاہیے۔ وہ خلفاء کےقاضی صاحبان تھے جوخلیفہ کو بھی
کٹہرے میں کھڑا کر لیتےتھے۔ یہ خلیفہ نہیں خلیفے ہیں۔ ایک
طالب علم کےمحترم والد صاحب ماسٹرصاحب کے پاس
اپنےبیٹے کی تعلیمی حالت دریافت کرنے گئے۔ ماسٹر صاحب
نےانھیں بتایا کہ ان کا لاڈلا تو خلیفہ ہے۔ انھیں اس جواب پر
شرمندگی ہوئی ہوگی۔ ہمارےعوام شرمندہ نہیں ہیں کیونکہ
۔ 66سے 10فیصدعوام اس کاربد میں حصہ لینے کے سزاوار 1
ہوتے ہیں
۔ حصہ لینے کے بعد وہ سبزہ بیگانہ ہو گئے ہوتے ہیں اور 2
کسی معاملے میں ان کا اچھا برا عمل دخل نیہں رہ گیا ہوتا۔
۔ 66سے 10فیصدعوام خلیفہ نہیں خلیفے ہی چن سکتےہیں۔3
۔ تمام پڑھے لکھے لوگ خلیفے چننےمیں مصروف ہوتےہیں۔4
۔ 66سے 10فیصد ووٹ تقسیم کےعمل میں داخل ہو کرن ودو 5
گیا رہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں خیرکی توقع کوئی دیوانہ ہی
کرسکتا ہے۔
۔ چناؤمیں حصہ لینے کا عمل مال سے ممکن ہےعوام کی گرہ 6
میں مال کہاں اس حقیقت کے با وجود عوام کا مقدر بھوک
پیاس اندھیرہ اور جوتےکھانا ہے زبانی کلامی سہی ان کا مان تو
رکھا جارہا ہےاو ریہ کوئی یہ معمولی بات نہیں۔
۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنھکڑی اک گلاب کی سی 7
ہے
ستر میں سے پچاس لڑکوں نے فیض احمد فیض کا شعر بتایا۔
جمہوریت کےحوالہ سے اسے درست ماننا پڑے گا۔ اگرتعداد
درستی کا معیارہے تو کوئی حق گو اور حق پسند درست نہیں
ٹھرےگا۔ چھوٹی ہو یا بڑی غلطی' غلطی ہی ہوتی ہے اوراس کا
بھگتان زندگی کو متوازن رکھ سکتا ہے۔
پروفیسر صاحبان ہڑتال کر رہے ہیں اوراحتجاج بھی کریں گے
یہ ان کا اصولی حق ہے حق نہ دینا اورنہ دینے کا مشہورہ با
اختیارلوگوں کا اصولی حق ہے۔ وہ پروفیسر صاحبان کا ووٹ
لے کرسرکارنہیں بنے او رنہ ہی ان کی مدد سے شکشا منشی
ک ولاٹ ہاؤس میں کرسی ملی ہے۔ یہ تو ان کے ایک کلرک کی
مار نہیں ہیں۔ پتہ نہیں یہ خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ قصور کے
حالیہ تاحد نظرمجمع کو خاطرمیں نہیں لایا گیا ۔ یہ کس کھیت کی
.مولی گاجر ہیں
میری موجودہ بحران کے حوالہ سے بہت سارے مزدور پیشہ
لوگوں سے بات ہوئی اکثرت کو اس سے دل چسپی ہی نہیں۔ وہ
اسے بڑوں کا کھیل سمجھتے ہیں۔ وہ اسے اپنا مسلہ نہیں
سمجھتے۔ وہ دال روثی اور پانی کی بقدر ضرورت فراہمی کو
پہلا اور آخری مسلہ سمجھتے ہیں۔ بیل کو کسی نے کہا تمہیں
چور لے جائیں اس نے کہا مجھے اس سے کیا کام کروں گا تو
چارہ ملےگا۔ یہاں کون سا اکبر بادشاہ کے تخت پر بیٹھا ہوں'
جو وہاں جا کر بےسکون ہو جاؤں گا۔ بات کام اورچارے تک
رہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ لوگ کام اور چارے
سےمحروم ہو گئےہیں۔ وہ کام پر آتےہیں لیکن بجلی کے سبب
کام نہیں کر پاتے۔ جب خالی ہاتھ واپس جاتےہیں تو ان پر
پریشانی کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ خود کومجرم سا محسوس
کرتے ہیں۔ بچوں کی بھوک اور باپ کی بیماری کے لیے دوا
میسر نہ آنے کے سبب مایوسی سے بار بار مرتے ہیں۔
دوسری طرف معاملہ یہ کہ کوئی سچائی کو تسلیم کرنے کے
لیے تیار ہی نہیں۔ بحث چھڑ گئی کہ ہاتھی انڈے دیتا ہے یا
بچےمولوی صاحب نے انڈے پرشرط لگا دی۔ جب اس کی بیوی
کوعلم ہوا توخفا ہوئی۔
جوابا مولوی صاحب نےکہا ہاروں تب جب مانوں گا۔
ہہ سب نواب صاحب صاحبزادہ صاحب راجہ صاحب چوہدری
صاحب وغیرہ ہیں اوراپنے پرائےاورملکی مال کی کمی نہیں۔
بس اب امیری میں شاہی طعام کا ذائقہ پیدا کرنے کی کوشش کر
رہے ہیں۔ لوگ سڑکوں پرآ جائیں یا بھوک پیاس سے مر جائیں
انہیں اس سےکوئی غرض نہیں۔ وہ الله کریم کی ذات پر بھروسہ
رکھتے ہیں کہ وہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس لیے یہ ہو ہی
نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مرجائیں گے۔ الله کریم پتھرمیں
کیڑے کورزق عطا کرتا ہے۔
عوام کا یہ کہنا لایعنی اوربےمعنی بلکہ چٹا ننگا جھوٹ ہےکہ وہ
بھوک رکھتے ہیں کہ وہ بہتررزق دینے والا ہے۔ اس لیے یہ ہو
ہی نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مر جائیں گے۔ الله کریم
پتھرمیں کیڑے کورزق عطا کرتا ہے۔ عوام کا یہ کہنا لایعنی اور
بےمعنی بلکہ چٹا ننگا جھوٹ ہے کہ وہ بھوک سےمر رہے ہیں
بھوک پیاس کے متعلق بات کرنے والے سازشی غیرذمہ دار
بیرونی ایجنٹ دہشت گرد امریکہ کےمجرم اورنائن الیون کی
سازش میں شریک تھےاس لیےانھیں معاف کرنا یا کھلا چھوڑ
دینا اس عہد کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ
لوگ پاکستان دشمن ملک کے لیےکام کر رہےہوں اور پاکستان
کی سیاسی پارٹیوں کے بےمثال اتحاد کو پارپارہ کرنے کی
کامیاب کوشش کررہےہوں۔
۔
رشتے خواب اور گندگی کی روڑیاں
پچھلے دنوں ایک محترم لیڈر کا محترم ڈیپٹی وزیر اعظم کے
حوالہ سے قول زریں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا ڈیپٹی
وزیر اعظم دن میں خواب دیکھنا بند کریں۔ محترم کا سابقہ اس
لیے استعمال نہیں کیا کہ وہاں یہ سابقہ موچود نہیں تھا لہذا یہ
میرے قلم کی گردن پر نہیں آتا۔ ہاں البتہ اس قول زریں کے
عجیب و غریب ہونے پر شبہ نہیں۔ نیند میں خواب ہی تو دیکھے
جاتے ہیں۔ جاگتے میں سپنے دیکھے جاتے۔ خواب اور سپنے
قریب قریب کی چیزیں ہیں۔ ان میں انتر یہ ہے کہ خواب سوتے
میں اور سپنے جاگتے میں دیکھتے ہیں تاہم اپنی حقیقت کے
حوالہ سےدونوں چیزیں برابر کا سٹیٹس رکھتی ہیں۔ دونوں کی
تعبیر حقیقت سے ہمکنار ہو قطعی ضروری نہیں اور یہ بھی
ضروری نہیں کہ سیاسیی خواب اور سیاسیی سپنے اپنی تعبیر
کے حوالہ سے بالکل ٹھس ہو جائیں۔
خواب یا سپنے دیکھنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہاں البتہ
خواب پر کسی نہ کسی سطع پر روک ممکن ہے۔ سونے ہی نہ
دیا جائے۔ کوئی بہت ہی بڑی پریشانی کٹھری کر دو نیند حرام ہو
جائے۔ موت سے بڑھ کر کوئی پریشانی نہیں ہو سکتی۔ کہاوت
ہے نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ نیند آئے گی تو خواب
ناگزیر ہیں۔ گویا سو ہتھ رسہ سرے پہ گانٹھ خوابوں پر روک
ممکن نہیں۔ یہ ڈیپٹی وزیر اعظم کا مسلہ نہیں ہے کہ وہ سیاشی
خواب نہ دیکھیں بلکہ یہ بیان دینے والے کی سر پیڑ ہے کہ وہ
سیاسی خواب دیکھنے پر روک کس طرح لگاتے ہیں۔ چلو
سونے پر روک لگ جاتی ہے لیکن جاگتے میں سپنے دیکھنے
پر روک کیسے لگے گی۔
طاقت نشہ پیسہ اور اقتدار نیند کی مترادف حالت کا نام ہے۔ ان
چاروں صورتوں میں خواب دیکھنا فطری سی چیز ہے بلکہ یہ
سارا موسم خواب سا ہوتا ہے۔ چاروں اور رومانی نظارے
موجود رہتے ہیں۔ ادھر ادھر پریوں کا رقص غلمان جام لیے
رقص نما حالت میں پھرتے ہیں جی حضوریے ہمہ وقت گردش
کرتے رہتے ہیں۔ شہر کو آگ لگا کر نظارہ کیا جاتا ہے۔ ٹی سی
افروزوں کی زبان پر ہوتا ہے حضور کا شوق سلامت رہے شہر
اور بہت۔
کوئی بھوک سے مر رہا ہے انھیں اس سے کچھ غرض نہیں
ہوتی۔ انھیں یہ سب دیکھائ نہیں دے رہا ہوتا اور ناہی کوئی آگاہ
کرنے والا ہوتا ہے۔ ناہی انھیں خراب موسم دیکھنے کی تمنا
ہوتی ہے جو آگاہ کرنے کی جسارت کرتا ہے جان سے جاتا گویا
جان کی سلامتی کے حوالہ سے سب ہرا کا ورد کرنا ضروری
ہوتا ہے۔ یہ مشاہدہ کی بات ہے کہ سوئے شخص کو جگانا
ناگوار عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ جگانے سے راحت ہی ختم
نہیں ہوتی حسین خوابوں کا بھی ستیاناس مار کر رکھ دیا جاتا
ہے۔
ماڑے شخص کے خواب ماڑے اور غیر سیاسی قسم کے ہوتے
ہیں۔ ماڑے شخص کے خواب کی چھلانگ سڑکی ہوٹل میں بیٹھ
کر سالم مرغے کی پلیٹ اور چھابے میں موجود تین سے چار
روٹیوں تک محدود ہوتی ہے۔ ماڑا بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ
ابھی اس نے مرغے کی ٹانگ کو ہاتھ لگایا ہی ہو کہ حضرت
زوجہ ماجدہ نیند سے جگا کر آٹا نہ ہونے کی منحوس
خبرسنائے۔ اس کا لہجہ گرجداراور طعنہ آمیز بھی ہو۔ ماڑا گھور
کر دیکھنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ گھور کر دیکھنے کی
جسارت کا نتیجہ کئ گھنٹوں کی لایعنی کل کل کو دعوت دینا ہے۔
پیسے نہیں ہیں تو وہ کیا کرے یہ اس کا مسلہ نہیں ہے۔ اس نے
کون سا امریکہ اپنے نام لگوانے کے لیے کہہ دیا ہوتا ہے۔
یہ تو ایک ماژے کے خوابی نظآرے کی حالت ہے۔ وہ خواب میں
بھی مرغ کے لاون سے پیٹ بھر روٹی نہیں کھا سکتا۔ حاکم کے
سامنے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ ماڑے کے منہ میں
مرغے کی دائیں یا بائیں ٹانگ کہاں سیاسی خواب تو بڑی دور
کی بات ہے۔ ہاں سیاسی دنوں میں سیاسی خواب دیکھ سکتا ہے۔
اس کے سیاسی خواب بادشاہ لوگوں کے سے نہیں ہوتے۔ بڑے
بی بے ضرر اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی سیای ڈیرے
پر پیٹ بھر روٹی میسر آ جاتی ہے۔ ووٹوں کے عوض پان سات
دن کا آٹا وٹا لایا جا سکتا ہے۔ عوامی فلاحی جمہوریت یہی ہے
کہ ہر پندرہ بیس دن بعد اس سیاسی میلے کا اہتمام ہوتے رہنا
چاہیے۔ یہ کیا گھپلا ہے چار دن دے کر چار پانچ سالوں میں
لوٹ سیل کو شعار بنایا جائے۔ یہ ٹھیک ہے آج کے بادشاہ لوگ
خرچہ کرکے بادشاہی منصب حاصل کرتے ہیں۔ لوٹ میلہ منانا ان
کا سیاسی اور معاشی حق ہے۔ رولا یہ ہے کہ دینا لینے کے
پاسنگ بھی نہیں ہوتا۔ اس حوالہ سے راءج الوقت جمہوریت
فلاحی جمہوریت نہیں گل پھاہی جمہوریت ہے۔ پندرہ دن بعد نا
سہی تیس دن بعد ایکشن کرا دینے میں کیا برائ یا خرابی ہے۔
ماڑا ایک ہفتہ پیٹ بھر کھا کر باقی تین ہفتے گزار سکتا ہے۔
پورے چار ہفتے بھوکا یا زیادہ تر بھوکا رکھنا غیر فلاحی
جمہوریت کے کھاتے میں آتا ہے۔ لوٹ مار کے تین ہفتے اتنے
تھوڑے بھی نہیں ہوتےگویا ایک ہفتہ گریب کا تین ہفتے شاہ
کے۔
ایک کھاتے پیتے گھرانے کی کڑی گریبوں کے بدبودار گھرانے
میں بیاہی گئی۔ بات کو ذرا آگے بڑھنے دیں۔ ابھی سے یہ سوال
ذ ہن میں نہ لائیں کہ کیسے بیاہی گئ اور گریب گھرانے کے
لیے میں نے بدبودار کا سابقہ کیوں بڑھایا ہے۔ میں نے کھاتے
پیتے گھرانے کے لیے خوشبودار کا سابقہ استعمال نہیں کیا
حالانکہ کھاتے پیتے گھرانوں میں خوشبوئیں ہمہ وقت تھرکتی
رہتی ہیں۔ دونوں سوالیے کسی دوسرے وقت کے لیےاٹھا
رکھیے۔ آتے ہی اس کڑی نے اس گھر لیپا پوچی کے لیے کمر
کس لی۔ تین چار دن بعد کہنے لگی دیکھا میں نے گندگی ختم کر
دی ہے۔ گندگی اور گندگی کی بو ختم نہیں ہوئی ہوتی بلکہ وہ
اس ماحول کی عادی ہو چکی ہوتی ہے۔
آج کے دور میں باراستہ لنکنی جمہوریت ہر آنے والے بادشاہ
کو تخت اختیار پر بیٹھنے سے پہلے تخت اختیار کے چاروں
پاسے غبن رشوت ہیرا پھیری بدمعاشی دھونس د اھندلی وغیرہ
کی روڑیاں نظر آتی ہیں۔ تخت اختیار پر قبضہ فرما ہونے کے
کچھ ہی دونوں بعد سب اچھا نظر آنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے
کہ اس نے ہر خرابی کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے۔ جی حضوریے
بھی اسے یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ نے صفایاں کر دی ھیں۔ اس
کے چمچوں اور گماشتوں کے حوالہ سے صفایاں ہو چکی ہوتی
ہیں اب صرف سب اچھا باقی ہوتا ہے۔ اہل قلم نمبر ٹانکنے کے
لیے اس کے کارناموں کی توتیاں بجاتے ہیں۔ بعض تو بڑے بھو
نپو پکڑ لیتے ہیں۔ کوئی یہ کہنے لے یے تیار نہیں ہوتا کہ
حضور آپ بھرے بازار میں پورے پروٹوکول کے ساتھ الف
ننگے پھر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے انھیں ظل سبحانی بالباس
نظر آتے ہوں۔ لوگوں کا سچ کہا چاہے اکثرتی کیوں نہ ہو
اپوزیش کی سازش معلوم ہوتی ہے حالانکہ وہ سازش نہیں
حقیقت ہوتی ہے۔ خواب خواب ہوتے ہیں حقیقت کا ان سے دور
کا بھی رشتہ نہیں ہوتا۔ رشتے بننے میں ایک وقت لگتا ہے اور
رشتے سچائی کے متقاضی ہوتے ہیں۔
طہارتی عمل اور مرغی نواز وڈیرہ
آپ کریم کا یہ ارشاد گرامی
۔۔۔۔۔۔ طہارت نصف ایمان ہے۔۔۔۔۔۔۔
دوسروں کی طرح میرے بھی علم میں تھا تاہم میرا دوسروں
سے مختلف تفہمی نظریہ رہا ہے۔ دوسروں میں کچھ کپڑوں کی
صفائ کو طہارت سمجھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا یہ ہے کہ جسم کی
خوب صفائی ستھرائی ہونی چاہیے۔ پولیس والے دھلائی کے
معنی الگ سے لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دھلائی اس طور سے
ہونی چاہیے کہ دھلائی دہندہ ناکردہ کو بھی بخوشی اپنی جھولی
ڈال کر پاک صاف ہو جائے۔ ایک طرف صفائی عروج کو پہنچ
جاتی ہے تو دوسری طرف اور کیسز کے کھپ کھپا سے بچاؤ کا
رستہ نکل آتا ہے اور ان کیسز کے کار گزران سے مک مکا
بہتر اور شفاف طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا کیا چونکہ کوئ
اور اپنے سر لے چکا ہوتا ہے اس طرح وہ بھی طہارت کے
عمل سے گزر جاتے ہیں۔ دولت آنی جانی شے اور مردوں کے
ہاتھ کی میل ہوتی ہے۔ جیل سے باہر رہ کر دیے سے کہیں بڑھ
کر کما لیتے ہیں۔ پولیس سے علیک سلیک کے بعد ہاتھ بھی رل
جاتے ہیں۔
اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ میں طہارت کو الگ سے معنوں میں
لیتا ہوں۔ کپڑوں اور جسم کا صاف ہونا انسانی صحت کے لیے
بہت ضروری ہے۔ انسان صرف جسم سے ہی تشکیل نہیں پاتا۔
جسم کے اندر روح بھی ہو تو ہی اسے چلتا پھرتا جیتا جاگتا
انسان کہا جائے گا۔ بے روح کو دنیا کے ہر خطے میں لاش
مردہ میت جسد ڈیڈ باڈی کورپو مورٹو کورپس وغیرہ
وغیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا جسم کے ساتھ
ساتھ باطنی طہارت کو کسی طور اور کسی سطع پر نظر انداز
نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہری سوٹر بوٹر ہونے کا کیا فائدہ جب اندر
روڑی جھوٹ چغلی بخیلی تکبر بےانصافی بےایمانی ہیراپھیری
بددیانتی بدمعاشی وغیرہ سمیٹے زندگی کی شاہراہ پر بڑی
ڈھیٹائی سے دندناتی پھرتی ہو۔ روک ٹوک کرنے والا اگلا سانس
بھی نہ لے سکے۔
مجھے کسی اردو لغت کے بیک ٹائٹل پر ِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان اپنا اسے صاف رکھی ِے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اصلاح کرنے والا کہہ ہی سکتا ہے۔ عمل
درامد تو پڑھنے سننے والے کو کرنا ہوتا ہے۔ طہارت کی بات
چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھی۔ یہ بات مختلف حوالوں سے
بار بار دہرائی جاتی رہی۔ جن لوگوں نے باطنی طہارت کو اپنا
شعار بنایا وہ بوعلی قلندر داتا گنج بخش معین الدین چشتی
شاہ حسین لاہوری بن گیے۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک سب پاکستان کو اپنا کہتے رہے
لیکن صفائی ستھرائی کے عمل سے کوسوں دور رہے۔ اس بے
لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے سبب گند پڑ گیا۔ بھلا ہو الیکشن
٦٧٧٣کا۔ اس کی آمد پاکستان کے لیے خوش کن ٹابت ہو رہی
ہے۔ گند پوری دیانتداری اور ہنرمندی سے صاف کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ روایت بن گئ تو صاف شفاف سماج تشکیل پا سکے گا۔
اگر ظاہری صفائ کو اہمیت ہوتی تو غلاظت کے بڑے ڈھیر ختم
نہ ہوتے۔ چہرا مبارک اور لباس فاخرانہ اور امریکانہ تو سب کا
دھلا ہوا تھا۔ جب اندر سے پھرولا گیا تو پوٹی رسیدہ بوسیدہ
لیریں نکلیں۔ الیکشن کمشن اور عدلیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا
جایے کم ہو گا۔
طہارت کےعمل کے حوالہ سے ایک عزت جاہ جو کسی کے ہاں
اقامت رکھتے تھے کا قصہ یاد آ گیا۔ انھوں نے خوب مرغیوں
پھڑکائیں جاتے ہوتے ایک مرغی ساتھ لے گیے۔ جو مر کھپ
گیے ان کی چھوڑیے جو ابھی ابھی رخصت ہوئے ہیں ان سے
اڑائی گئی مرغی برآمد کی جا سکتی ہے۔ آگہی رکھنے والوں کو
بات اٹھا کر اس طہارتی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
یہ قومی فریضہ ہے۔ عدلیہ نے آزادی حاص کرکے قومی اور
شخصی ضمیر کو آزاد دلائی ہے۔ اس عہد آزای سے فائدہ نہ
اٹھایا گیا تو مرغی عزت جاہ کی ملکیت کا درجہ حاصل کر لے
گی۔ کل کیسا ہو گا کسی کے علم میں نہیں۔ طہارتی عمل میں
ذاتی اور قریبی تعلقات کی کوئ معنویت نہیں ہوتی۔
آج یعنی دس اپریل کی ایک اخباری خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک
نے نادہندگان کی فہرست جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس
انکار کے پیچھے الله جانے کتنا بڑا تھرٹ ہو گا۔ یہ بھی امکان
ہے مل جل کر مرغی کے مزے لوٹے گیے ہوں۔ یہ بھی بعید از
امکان نہیں کہ مرغیوں کا اقامت کدہ اور نادہندگان کی موجگاہ
اسٹیٹ بینک کے کسی مرغی نواز وڈیرے کا ڈیرہ رہا ہو۔ انکار
کے تناظر میں کچھ بھی اور کتنا ہی کہا جا سکتا ہے۔ غالبا اس
کی بینک قانون اجازت نہیں دیتا تاہم دو رستے پھر بھی کھلے
ہیں۔ خصوصی اجازت حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر نادہندگان
کا معاملہ بینک عدالت ے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیا
انکار سے طہارت کے عمل کو نقصان نہیں پہنچے گا؟ جسم و
روح پیشاب کی بوند سے آلودہ نہیں رہیں گے اور اس کے
اثرات دیر تک باقی نہیں رہیں گے؟!
سو من دودھ کے کڑاہے میں پیشاب کی ایک بوند بھی سو من
دودھ کو نجس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ گویا طہارتی عمل
کا ستیاناس مارنے کے حوالہ سے صرف مرغی نواز وڈیرے کا
نام ہی بدنام نہیں ہو گا بلکہ اسٹیٹ بینک اور اس کے جملہ
کارپردازگان کی بھی رسوائی ہو گی۔ غداری کے حوالہ سے
مخبریاں ہوتی آئی ہیں کوئی دیس بھگت اس کی مخبری کرکے
ملک و قوم اور مقید مرغیوں کو ان کے حقیقی مالکوں کے
حوالے ہونے کا پن کما سکتا ہے یہی نہیں آتی بےگناہ نسلوں
پراحسان کر سکتا ہے۔
لاٹھی والے کی بھینس
لاہور بورڈ نے میری پنشنری غربت سے متاثر اور عبرت
پکڑتے ہوئے مجھے ہیڈ ایگزامینر مقرر کر دیا۔ میں کام کی
غرض سے نکلنے لگا۔ دروازے سے ایک قدم باہر اور ایک قدم