The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-06-01 07:50:53

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

MAZAH-1_2016_06_01_13_37_50_545

‫کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گیس کی بندش سے لوگ بازار سے‬
‫خریداری پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح بادشاہ لوگوں کی‬

‫رمضانی رحمتیں ان کے کھیسہ مبارک میں بلا تکلف اور بلاتررد‬
‫بسیرا فرما لیں گی اور الزام اشیاء فروشوں کے سر پر آءے گا‬

‫اور وہ نہاتے دہوتے عوام کے روبرو رہیں گے۔ لوگ گالیاں دیں‬
‫گے تو فروشوں کو دیں گے اور وہ عوام کی ہاں میں ہاں ملانے‬

‫کے قابل رہیں گے۔‬

‫رمضان شریف نے دفاتر کی بھی چھٹی حس بیدار کر دی ہے۔ ان‬
‫کے مروجہ ریٹ سہ گنا ترقی کر گئے ہیں۔ غالبا دفاتر نشین بھی‬
‫سچے ہیں۔ وہ بھی وہاں ہی سے خریداری کرتے ہیں جہاں سے‬

‫دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ مارکیٹ سے قدم سانجھے کرنے کے‬
‫لیے وہ بھی امور کے بھاؤ بڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کسی‬
‫کے ہاں تین سو روپیے درجن کیلوں کی فروٹ چارٹ بنانے کا‬
‫خواب دیکھنا مانع ہو لیکن ان کے ہاں اس کے بغیر بنتی نہیں۔‬
‫کیا کریں‘ بیگمی مجبوری ہے۔ بچوں کو کس طرح معلوم ہو گا‬
‫کہ ان کے ابا گرامی دفتر میں بڑے بااختیار عہدے پر قبضہ فرما‬

‫ہیں۔‬

‫کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ملک نفاذ اسلام کے لیے حاصل‬
‫کیا گیا تھا۔ اس قسم کی سوچ رکھنے والے احمقوں کی جنت میں‬
‫رہتے ہیں۔ یہ ملک کبھی بھی نفاذ اسلام کے لیے حاصل نہیں کیا‬

‫گیا۔ ان کے خیال میں اگر میں غلط کہتا ہوں تو ‪ ٧١٧٢‬سے لے‬
‫ل کر ‪ ٧٤‬اگست ‪ ٧١٤١‬تک مسلم لیگ کی ایک بھی قرارداد‬

‫نکال کر دکھا دیں‘ میں ان کی فراست کو مان جاؤں گا۔ یہ محض‬
‫عوامی نعرہ اور عوامی خواہش تھی اور ہے۔ نئ نسل کو شاید‬
‫معلوم نہیں‘ پرانی نسل کو بتانا چاہیے تحریک نفاذ نظام‬
‫مصطفے کا کیا حشر ہوا تھا۔ کتنے لوگ حوالاتی ہوءے اور‬
‫کتنوں کے پاسے سیکے گءے تھے۔‬

‫روزوں کے اس بارکت مہینے میں اسلام کو بچ میں لانے کی‬
‫آخر کیا ضرورت ہے۔ اسلام فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور فرد کو‬
‫کسی نے نہیں روکا کہ وہ روزے نہ رکھے یا مسجد میں اپنی‬
‫ذمےداری پر ترابیاں پڑھنے نہ جائے۔ سو بار جاءے اور بے‬

‫شک ساری رات ترابیاں پڑھتا رہے۔‬

‫کسی پر کیا احسان ہے‘ مہنگی اشیار نہ خریدی جاءیں۔‬
‫روزےدار پانی سے افطاری کرے اور الله کی اس گراں یایاں‬
‫نعمت کا لاکھ لاکھ ادا شکر کرے۔ رہ گئ بجلی کے باعث پانی نہ‬
‫ملنے کی بات‘ بجلی والی موٹروں کی کیا ضرورت ہے۔ گھروں‬

‫میں نلکے لگوائیں۔ بجلی کی محتاجی ختم ہو جائے گی۔ مہینے‬
‫میں بیس تیس یونٹ کم استعمال ہوں گے۔ زیادہ یونٹ کے بل‬
‫آنے کا قرضہ واپڈا بہادر پر رہے گا۔‬

‫دو ڈھائ سو روپے کلو والی مہنگی کھجور خریدنے کو کس نے‬
‫کہا ہے‘ اسی نوے رویے کلو والی کھجور کو کیا ہوا ہے۔ اسے‬
‫کون سی ماتا نکلی ہوئی ہے بلکہ کھجور خریدنے کی ضرورت‬

‫ہی کیا ہے دس روپیے کلو والا نمک کس دن کام آءے گا۔‬
‫رمضان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے اور یہ بلا رقم میسر‬

‫آتی ہیں۔ لوگوں کی نظر رحمتوں اور برکتوں سے ادھر ادھر‬
‫ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روزہ داری میں کسی ناکسی‬
‫سطع بر کھوٹ ضرور موجود ہے۔ مہینگائی کا رونا رونے کی‬

‫بجائے کھوٹ کی تلاش کہیں اہمیت رکھتی ہے‬

‫دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو‬

‫ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا پروفیسر کے کیا فرائض ہیں۔‬

‫انھوں نے مزید فرمایا مجھے تو یہ طبقہ فارغ لگتا ہے۔ بات کے‬
‫دوسرے حصہ سے متعلق ایک سیاسی طبقہ اور اس کی جی‬
‫حضوریہ نالائق اور ناخلف منشی برادری پروپگنڈا کرنے میں‬

‫مصروف ہے۔ نالائق اور ناخلف کی اگر کسی کو وضاحت درکار‬
‫ہے تو میں بسروچشم حاضر ہوں۔ پروفیسر بیک وقت تین کام‬

‫کرتا ہے‬

‫‪٧‬۔ معلومات فراہم کرتا ہے‬
‫‪٦‬۔ غلط اور صیحح ہی نہیں بتاتا بلکہ ان کی تمیز بھی سکھاتا‬

‫ہےگویا رویے تشکیل دیتا ہے۔‬
‫‪٣‬۔ سوچتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔‬

‫ایک شخص آٹھ گھنٹے بیاس منٹ جسمانی کام کرتا ہے جبکہ‬
‫پروفیسر اڑتیس منٹ کام کرتا ہے۔ دونوں برابر کی تھکاوٹ‬

‫محسوس کرتےہیں پروفیسرکی زیادہ انرجی صرف ہو جاتی ہے۔‬
‫پروفیسر جو سوچتا ہے وہ ڈیلور بھی کرتا ہے۔ گویا جسمانی کام‬

‫کرنے والوں سے پروفیسرکی زیادہ انرجی صرف ہو جاتی ہے۔‬

‫شاید ہی کوئی ایسا پروفیسر ہو گا جو موٹا تازہ ہو۔ اگر کوئی‬

‫موٹا تازہ پروفیسر نظر آ جائے تو یقینا کسی پیٹ کے عارضے‬
‫میں مبتلا ہو گا۔ مناسب انداز سے فکری نکاسی نہ ہونے کے‬
‫سبب بھی موٹاپا آ سکتا ہے۔ عزت اور جان دونوں خطرے کی‬
‫توپ کے دہانے پر ڈیرہ گزیں رہتے ہیں اس لیے ڈیلوری ایسا‬

‫آسان اور معمولی کام نہیں۔ اگر نہیں یقین آتا تو کسی خاتون‬
‫سے پوچھ لیں کہ ڈیلوری کا عمل کتنا مشکل اور کٹھن گزار ہوتا‬

‫ہے۔ کوئی خاتون خفیہ بات دس پندرہ منٹ سے زیادہ پیٹ میں‬
‫نہیں رکھ سکتی۔ خیر یہ بات عورتوں تک ہی محدود نہیں‬

‫پروفیسر تو الگ کہ ان کا یہ کام ہی یہی ہے۔ وکیل اور پروفیسر‬
‫بول بچن کی کھٹی کھاتے ہیں۔ ایک عام آدمی خفیہ بات یا کسی‬

‫کا کوئی انتہائی حساس راز زیادہ دیر تک پیٹ میں نہیں رکھ‬
‫سکتا۔ محاورہ پیٹ سے ہونا کے حقیقی معنی یہی ہیں۔‬

‫آج موٹے تھانیداروں کے حوالہ سے بات ہو رہی تھی۔ سوال اٹھ‬
‫سکتا ہے وہ کیوں موٹے ہیں۔ اکثر یہ کہیں گے وہ کھا کھا کر‬
‫موٹے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس سے اسی فیصد اتفاق نہیں۔‬

‫معدہ کی بیماری کے سبب کوئی تھانیدار موٹا ہوا ہو تو الگ بات‬
‫ہے۔ وہ اوروں سے زیادہ ہمدردی کا مستحق ہے۔ ایک طرف‬
‫معدہ پرابلم دوسری طرف زیادہ کھا لینے کا مسلہ تو تیسری‬
‫طرف رازوں کی عدم نکاسی۔‬

‫کسی موٹے تھانیدار پر کوئی دوسرا موٹا تھانیدار نعرہ تکبیر کہہ‬
‫کر چڑھا دیں وہ وہ راز اگلے گا کہ عقل سوچ اور دل و دماغ کی‬
‫روح قبض ہو جائے گی۔ اس کے پیٹ میں بڑے افسروں نبی نما‬

‫سیاست دانوں سیٹھوں مذہبی لوگوں کے وہ وہ راز ہوتے ہیں‬
‫جن کا کسی کے دونوں فرشتوں تک کو علم نہیں ہوتا۔ اس مدے‬

‫پر بات کرنا ہی فضول بات ہے کیوں کہ تھانیدار ان لوگوں پر‬
‫تھانیدار نہیں ہوتے۔ تھانیدار عوام کو گز رکھنے کےلیے ہوتے‬

‫ہیں۔ ان کا شرفاء کے اعلی طبقے میں شمار ہوتا ہے۔‬

‫۔سو گز رسہ سرے پہ گانٹھ‘ بات کا پیٹ میں رکھنا بڑا ہی مشکل‬
‫بلکہ ناممکن کام ہے‘ اپھارہ ہونا ہی ہوتا ہےاور یہ پہلے سوال‬
‫کی طرح لازمی بات ہے۔ آپ کے دیکھنے میں بات آئ ہو گی کہ‬
‫مرنے والے کا کوئ قریبی رو نہ رہا ہو تو اس کو رولانے کے‬
‫لیے سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات پردہ میں رہتی ہے کہ‬
‫اس قریبی نے اس کی موت پر شکر کا سانس لیا ہو۔ دلوں کے‬

‫حال الله جانتا ہے اس لیے بات پردہ میں ہی رہ جاتی ہے تاہم‬
‫اس کا کچھ ہی دنوں میں پیٹ کپا ہو جاتا ہے۔۔ اس حوالہ سے‬
‫کسی تھانیدار پر انگلی رکھنے سے بڑا ہی پاپ لگتا ہے۔ کسی‬

‫موٹے پروفیسر پر بھی یہی کلیہ عائد ہوت ہے۔‬

‫آج ہی کی بات ہے بشپ صاحب کی طرف سے امن سیمینار منعقد‬

‫ہونے جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے ناتے بد ہضمی اور گیس‬
‫کا شکار ہوں کیا کروں میں بات نہیں کر سکتا کہ لالہ جو گولیاں‬
‫اور چھتر کھا رہے ہیں انھیں امن کی کتھا سنا رہے ہو اور جو‬

‫گولیاں اور چھتر مار رہا ہےاس کے معاملہ میں آنکھ بند کیے‬
‫ہوئے ہو۔ میں سب کہہ نہیں سکتا کمزور بوڑھا اور بیمار آدمی‬

‫ہوں میرے پاس ایک چپ اور سو سکھ کے سوا کچھ نہیں۔‬

‫ایک موباءل ایس ایم ایس کا حوالہ دیتا ہوں۔ حضرت قاءد اعظم‬
‫کے پاس ایک خاتون آئی اور اپنے بیٹے پر جھوٹے قتل کے‬

‫مقدمے کے حوالہ سے درخواست کی۔ بابا صاحب نے مقدمہ لڑا‬
‫اور خاتون کے بیٹے کو بچا لیا۔ خاتون نے شکریہ ادا کیا اور‬
‫کہا کہ آج تو آپ ہیں اور کمزروں کو بچا لیتے ہیں کل آپ نہ‬

‫ہوئے تو کمزروں کا کیا بنے گا۔ بابا صاحب نے فرمایا نوٹوں پر‬
‫چھپی میری تصویر ہر کسی کے کام آئے گی۔ اب مسلہ یہ آن پڑا‬

‫ہے کہ نوٹ لسے اور ماڑے لوگوں کے قریب سے بھی نہیں‬
‫گزرتے۔ایسےبرے وقتوں میں خاموشی ہی بہتر اور کارگر ہتھیار‬

‫ہے۔ اپھارہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے مجھے کیا پڑی ہے جو اس‬
‫امن سیمینار پر کوئی بات کروں بلکہ مجھ پر یہ کہنا لازم آتا ہے‬

‫کہ کہوں گولیاں کھاؤ چھتر کھاؤ چپ رہو۔ اؤں آں اور ہائے‬
‫واءے کرکے دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو‬

‫اس عذاب کا ذکر قرآن میں موجود نہیں‬

‫یہ حیقیقت ہر قسم کے شک اور شبے سے بالاتر ہے کہ ہر خیر‬
‫الله کی طرف پھرتی ہے۔ لطف و عطا رحم وکرم درگزر کرنے‬

‫میں کوئ اس کا ہمسر نہیں۔ الله ہر حال اور ہر حوالہ سے اپنی‬
‫مخلوق کی بہتری چاہتا ہے۔ انسان کی طرح سرزنش میں جلدباز‬
‫نہیں۔ وہ بار بار مواقع فرام کرتا ہے۔ وہ ہر سطع پر اپنی بہترین‬

‫مخلوق یعنی‬

‫انسان کی ظفرمندی چاہتا ہے۔ وہ انسان کو آسودگی فراہم کرتا۔‬
‫وہ مولوی پنڈت یا پادری نہیں جو معمولی معمولی بات پرکفر کا‬

‫فتوی صادر کر دیتا ہے۔ وہ تو الله ہے اور اس کی درگزر کے‬
‫لیے کوئی پیمانہ موجود ہی نہیں۔‬

‫انسان کو جو ملتا ہے اس کے اپنے کئے کا ملتا ہے۔انسان اپنے‬
‫ہاتھوں اپنے لیے آگ جمع کرتا ہے۔ اپنی جمع کی ہوئ آگ میں‬
‫اس زندگی میں صعوبت اٹھاتا ہے۔ روز حشر جو برحق ہے' میں‬

‫جلے گا اور جلتا رہے گا۔ یہاں زندگی کے دن مقرر ہیں لیکن بعد‬
‫از مرگ کی زندگی کے دن کبھی ختم نہ ہونے والے ہیں۔ اس‬
‫زندگی جمع کئے گئے پھل پھول یہاں آسودگی کا نام پاتے ہیں‬
‫جبکہ روزحشر اسے جنت کا نام دیا جائے گا۔ الله اس جمع‬

‫پونجی کو ستر گنا برکت غطا فرمائے گا اور انسان اپنے اثاثے‬
‫کے حوالہ سے عیش کی گزارے گا۔ بالکل اسی طرح اپنی جمع‬
‫کی گئ آگ میں آخرت کی زندگی گزارے گا اور اسے دوزخ کا نام‬
‫دیا جاءے گا۔ گویا یہاں اپنے کئے کی بھرنی ہے۔ کسی قسم کے‬
‫جبر یا انتقام کی صورت نہ ہو گی۔ الله بےشک بڑا انصاف کرنے‬
‫والا ہے۔ جبر یا انتقام اس کی ذات اقدس کو زیب ہی نہیں دیتے‬

‫ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جہان میٹھا ہے‪ .‬سب لوگ مر جاءیں‬
‫گےاور ہمیں موت نہیں آئے گی یا یہ کہ جو پوچھنے والے ہیں‬

‫وہ خود حصہ خور ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں بہترین‬
‫ڈاکٹروں کی خدمت حاصل کرکے موت سے بچ جاءیں گے۔ غالبا‬
‫ہمیں یہ غلط فہمی بھی لاحق ہے کہ عذاب وغیرہ کا کوئی چکر‬

‫ہی نہیں یہ صرف مولوی حضرات اپنے ذاتی اغراض ومقاصد‬
‫کے لیے ڈراتے رہتے ہیں۔ ڈرنے کی صرف کمزور طبقے کو‬
‫ضرورت ہے۔ صاحب اختیار اور آسودہ حال لوگوں کو ڈرنے کی‬
‫کیا ضرورت ہے۔ مذہب وغیرہ کمزور طبقوں کی تسلی وتشفی‬
‫کے حوالہ سے ضرورت ہے۔ وہ اجر اور ثواب وغیرہ کے حوالہ‬

‫سے مرنے کے بعد موج میلہ کر لیں گے۔ ان کا کام وعدہ سے‬
‫چل جاتا لہذا نقد ونقد فقط ان کی اپنی ضرورت ہے۔‬

‫ایسے بدعقیدہ لوگوں کے لیے یہاں بھی تاریخ نے ان گنت‬
‫مثالیں چھوڑی ہیں۔ یہی نہیں' انسانوں کی اس بےراہرو بستی‬
‫میں آج بھی مثالیں مل جاتی ہیں۔ یہاں ایک صاحب ڈی سی آفس‬

‫میں چھوٹے موٹے عہدے دار تھے۔ بہت ہی مختصر سے‬
‫عرصے میں اس نے کام میں مہارت حاصل کر لی۔ پھر کیا تھا'‬
‫انی ڈال دی‪ .‬فرعون کی ساری صفات اس میں جمع ہو گئیں۔ منہ‬
‫میں کتا اور آنکھوں میں سور بسیرا کر گیا۔ اس علاقہ میں شاید‬
‫ہی اس کے پائے کا راشی شرابی اور زانی ہو گا۔ اس نے اپنے‬

‫گھر میں جوائے کا آغاز کیا ۔ اس کے اس کام کو دن دوگنی‬
‫ترقی ملی۔ دیکھتے دیکھتے اس کے جوئے کے تین اڈے کھل‬
‫گئے۔ دن دہاڑے گھر میں عورتیں لاتا۔ اسے اتنی بھی حیا نہ آتی‬

‫کہ گھر میں اس کی دو جوان بیٹیاں بھی ہیں۔‬

‫ایک عرصہ تک وہ دوزخ کی آگ جمع کرتا رہا۔ پھر ریورس کا‬
‫عمل شروع ہوا۔ اس کی دونوں یٹیاں گھر پر منہ کالا کرنے‬
‫لگیں۔ جب گھر میں آگ لگی تو جھگڑا اور مار پٹائی کا کام‬

‫شروع ہوا۔ واپسی کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ دونوں کسی کے‬
‫ساتھ بھاگ گئیں اور اس کا اثرورسوخ کام نہ آ سکا۔ اس کے‬

‫دونوں بیٹے لفنٹر نکلے۔ اس کی جمع کی ہوئ دولت کو لٹانے‬
‫لگے۔ وہ ان کے سامنے بھیڑ سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہو۔‬

‫اس کے تین اپریشن ہوئے۔ حرام کی کمائ سے بنائے گئے‬
‫تینوں مکان بک گئے۔ دو دوکانیں نیلام ہو گئیں۔ کرائے کی ایک‬
‫نہایت بوسیدہ سی دوکان میں رہایش پذیر ہوا۔ اب فالج کا اٹیک‬

‫ہوا ہے۔ کوئی ملنے یا حال احوال پوچھنے تک نہیں آتا عبرت‬
‫کی تصویر بنا ہوا ہے۔ یہ آگ اس کی اپنی جمع کی ہوئی ہے۔‬

‫الله کی طرف سے بار بار وارننگ آئی ہے لیکن اس نے اس کی‬
‫کوئ پرواہ نہیں کی۔ معافی کا دروا زہ بند ہو چکا ہے۔ جن پر‬

‫اس نے ظلم توڑے تھے ان میں سے بہت سارے اس دنیا سے‬
‫کوچ کر گئے ہیں۔ جو زندہ ہیں وہ اس کا نام تک سننا پسند نہیں‬
‫کرتے۔ یہ جہنم دنیا کی ہے لیکن آخرت کا عذاب ابھی باقی ہے۔‬

‫یہ محض ایک مثال ہے ایسی مثالیں ہر گلی اور ہر محلے میں‬
‫موجود ہیں۔ کوئی ان سے عبرت لینے کو تیار نہیں۔‬

‫میرا اصرار ہے کہ جنت کے پھل اور پھول انسان کے اپنے جمع‬
‫کئے ہوں گے۔ دوزخ کی آگ پہلے وہاں موجود نہیں بلک یہ آگ‬
‫انسان اپنے ساتھ اپنے حوالہ سے لے کر جائے گا۔ جو شخص‬

‫آج زندہ ہے زندگی کے ہر لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے پھل‬
‫اور پھول جمکرنے کی سعی کرے۔‬

‫مہامنشی ہاؤس پنجاب کا ادنی ملازم بھی دہکتی آگ جمع کر ر ہا‬
‫ہے اور الزام سیاسی حلقوں پر آ رہا ہے کبھی فوج کو دشنام کیا‬

‫جاتا ہے۔ میری یہ بات پکی سیاہی سے پتھر کی دیوار پر لکھ‬
‫دیں اصل فساد اور خرابی کی جڑ یہی لوگ ہیں جب تک ان کا‬

‫کوئی قبلہ درست کرنے نہیں آ چاتا اس خطہ میں موجود ہر‬
‫انسان کی زندگی جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی۔ ڈینگی ان کے‬
‫ایک ناخن برابر خطرناک نہیں ہیں۔ الله پناہ' یہ وہ حاویہ ہیں جن‬

‫کا جانے بائی نیم قرآن مجید مں ذکر کیوں نہیں ہوا۔‬

‫غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم‬

‫اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے کہ غیرت‬
‫قوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے غیرتی روڑا کوڑا بھی رہنے نہیں‬

‫دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر ہے کہ تلاش کرنے والوں کو‬

‫اس میں بھی رزق مل جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز‬
‫سے باہر قدم رکھتے ہیں توقیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا‬

‫سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئی‬
‫حیثیت نہیں دی گئی ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔ نمبردار بن‬
‫جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو چھید ہوتے ہیں اسے بھی‬
‫باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا ہے۔ یہ قصور باتیں بنانے یا انگلی‬
‫اٹھانے والوں کا نہیں ہوتا بلکہ موقع دینے والوں کا ہوتا ہے۔‬

‫یہ حقیقیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں رہی ہے کہ‬
‫طاقت کے سامنے اونچے شملے والے سر بھی خم رہے ہیں۔‬
‫گویا طاقت اور غیرت کا سنگم ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے۔‬
‫کمزور صیح بھی غلط ٹھرایا جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور‬
‫اعلی پائے کی دلیل بھی اسے سچا قرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا‬

‫بہانہ اسے چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ‬
‫اشرف المخلوقات ہے اس لیے اس کے بہانے اور دلائل بھی‬
‫کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت ہے کہ وہ اپنی‬

‫غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی غلطی اوروں کے سر پر رکھ‬
‫دیتا ہے۔ ایسی صفائی سے رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم‬

‫کرنے میں دیر نہیں کرتا۔‬

‫امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئ کھوٹ نہیں۔ سوال پیدا‬

‫ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افغانستان امریکہ پر چڑھ‬
‫دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار وغیرہ‘ بھی‬

‫!شامل تھے؟‬

‫جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق نہیں توپ‬
‫کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟‬

‫ان کا جرم تو بتایا جائے۔‬

‫لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا حل‬
‫تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل حل کرنے‬

‫کوشش کو کیا نام دیا جائے۔‬

‫ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے سے کتا‬
‫بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے شیر ہاتھی سے‬
‫ہاتھی مرد سے مرد عورت سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔‬
‫ڈر کی ابتدا اور انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے موقف کی‬
‫دلیل میں میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی کام‬
‫کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر مجھے پکارا گیا۔‬

‫میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا‬
‫کہ صندوق میں چوہا گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان‬

‫سے ڈرتا‘ پی گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے‬
‫بلی یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ چوہا‬
‫صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔‬

‫چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل میں‬
‫انتہائ کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ خصلت ہے۔‬
‫امریکہ اپنی اصل میں انتہائ کمزور ہے۔ کیا کمزوری نہیں ہے‬
‫کہ اس کی گرفت میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار بھی آ‬
‫گئے۔ گھروں کے گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا‬
‫ابھی زندہ ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی‬
‫بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا مرا نہیں‬

‫حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔‬

‫بلوچستان میں انسانی قتل و غارت کا مسلہ امریکی پارلیمان میں‬
‫بطور قرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی معاملہ کسی دوسرے ملک‬
‫‪:‬کی پارلیان میں آنے کے تین معنی ہیں‬

‫‪٧‬۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئ ہے۔‬

‫‪٦‬۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں رہی۔‬
‫‪٣‬۔ امریکہ‘ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے کا بہانہ بنا‬

‫کر فوجی کاروائ کا رستہ بنا رہا ہے۔‬

‫میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے تناظر میں‬
‫‪:‬دیکھیں گے تو معاملہ صاف ہو جاے گا‬

‫امریکہ بلوچ عوام کے قاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ دے رہا۔‬

‫صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل کے‬
‫‪:‬حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے‬

‫ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے۔‬

‫چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا میرے تے نہ‬
‫رہنا۔‬

‫ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں گے۔ یہ بڑی‬
‫بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیءر کلرک کی مار نہیں ہیں‬

‫منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا‬
‫ہے جو چور کو کہتے ہیں سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو‬
‫کہتے ہیں چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترقی کے دور میں ہم سچ‬
‫کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی‬

‫یا پھر اقتصادی مجبوری ہے۔‬

‫ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی کیا مدد‬
‫کریں۔ صاف کہہ نہیں سکتے بھائی ہم پر نہ رہنا‘ جب بھی‬

‫مشکل وقت پڑا ہمیں دشمن کی صف میں سینہ تانے کھڑا پاؤ‬
‫گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت اور ڈالر کے حسن پر یقین‬

‫رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہماری عقل اور غیرت پیٹ می بسیرا‬
‫رکھتی ہے۔ ہم ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ‬
‫اور ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے کچھ ہیں‬

‫کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی جبکہ بجلی گئی‬
‫ہوئی ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا تھا اور گیس سارا دن‬
‫رہتی تھی۔ آج گیس صرف دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا‬
‫ہے۔ بجلی جانے سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ فلاں‬
‫گھر کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے کل‬
‫افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر سے پائپ جاتا‬

‫ہے۔‬

‫ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر خانے کھول‬
‫دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرغوں کی شامت آ جاتی ہے۔ لوگ‬
‫دھر سمجھ کر بے دریغ کھاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار‬

‫پلے سے کھلا رہا ہے اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے‬
‫الیکشنوں میں ہی مل پاءے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔‬
‫الیکشن وہی لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی‬
‫ہک میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔ چوری‬
‫کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان لنگر‬

‫خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں چڑھتا۔‬

‫مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے دنوں سننے‬
‫میں آئی۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نئے آنے والے ضلعی افسر‬

‫نے اپنے درجہ چہارم کے ملازم سے کہا بھئی ہمارے آنے کی‬
‫خوشی میں دعوت وغیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرغے دیگ چڑھا‬

‫دئے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے آنے کی‬
‫خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ چہارم کا ملازم دیگ‬
‫کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں سرخرو ہوئے۔ دیگ چڑھی افسر‬
‫کی خوشی پوری ہو گئ ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر‬

‫اٹھا۔ وہ اتنا ہی کر سکتا تھا۔‬

‫ممبری کے امیدواروں کا بھی غالبا خرچہ لون مرچ مصالحے‬
‫پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید نوبت نہیں آئے گی‬

‫کیونکہ لون مرچ مصالحے کا خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر‬
‫دیا جائے گا۔‬

‫ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا ہے۔ بیان‬
‫میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے کی صورت میں‬

‫‪:‬بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں‬

‫‪٧‬۔ جو مرنا جانتے ہیں‘ مارنے میں بھی کم نہیں ہوتے۔ امریکہ‬
‫نے یہ غلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں شاید اسے صدیاں لگ‬
‫جاءیں۔‬
‫‪٦‬۔ ایران کا ساتھ دیا جاءے گا۔‬

‫‪٣‬۔ غیرت مند‘ مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس سےکبھی‬
‫باہر نہیں ہو پاتا۔‬

‫ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتائج ہوں گے۔ جنگ ہے ہی تباہی و‬
‫بربادی کا نام۔ بلوچ غیرت مند قوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ‬

‫امریکہ ان کے قاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔‬
‫افغانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کو وافر‬
‫چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل میں امریکہ کے‬
‫لیے نفرت اور صرف نفرت ہے۔ چوری عوام کے پیٹ میں نہیں‬
‫گئ۔ ان کے پیٹ میں خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں غصے‬
‫اور خفگی کا سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور‬

‫بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے‬

‫خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن‬

‫خدا بچاؤ مہم کا بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے آغاز کیا گیا۔‬
‫کسی نے اس جانب توجہ ہی نہ کی کہ خدا تو سب کو بچانے والا‬

‫ہے۔ وہ ہر گرفت سے بالا ہے۔ پوری کائنات اس کی محتاج ہے‬
‫اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اگر وہ خدا منکر لوگوں کا رب نہ‬
‫ہوتا تو وہ سارے کے سارے بھوک پیاس سے مر جاتے۔ وہ تو‬
‫ساری کائنات کا مالک و خالق ہے۔ یہی نہیں وہ تو اپنی مرضی‬
‫کا مالک ہے۔ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ ہر کوئی‬
‫اس کی مرضی و منشا کے تابع ہے۔ کسی نے یہ غور کرنے کی‬

‫زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہی ہے لیکن‬
‫ہمارے اور ان کے خدا میں زمین آسمان کا نظریاتی فرق ہے۔ ان‬
‫کا خدا تین میں تقسیم ہے جب کہ ہمارا خدا تین نہیں‘ ایک ہے۔‬

‫وہ تقسیم کے نقص سے بالا ہے۔‬

‫خدا بچاؤ مہم کے لیے اسلحہ اور ڈالرز کی بارش ہو گئی۔ خدا‬
‫بچاؤ مہم میں شامل لوگ مالا مال ہو گئے۔ وہ شیطان کے‬

‫بہکاوے میں آ گئے تھے۔ وہ شیطان کی ہولناک چال کو سمجھ‬
‫نہ سکے۔ خدا بچاؤ مہم میں ان گنت بچے بوڑھے عورتیں اور‬
‫گھبرو جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ تو ان موت کے گھاٹ‬
‫اترنے والوں کا بھی خالق ومالک ہے۔ خدا بچاؤ مہم کے ڈالر‬
‫خوروں کو رجعت پسند‘ شر پسند اور بنیاد پرست کہہ کر زندگی‬

‫سے محروم کیا گیا۔ خدا بچاؤ پتہ ناکام ٹھرا ہے تو ازدواجی‬
‫رشتہ ہونے کا دعوی داغ دیا گیا ہے۔‬

‫طلاق یقینا بہت برا فعل ہے۔ اہل دانش تو الگ رہے‘ مذاہب نے‬
‫بھی اس کی آخری حد تک ممانعت کی ہے۔ طلاق کے نتیجہ میں‬

‫سماجی سطع پر خرابی آتی ہے۔ دو برادریوں میں دشمنی چل‬
‫نکلتی ہے۔ اس طلاق دشمنی کے نتیجہ میں آتے کل کو کوئ‬
‫بھی خطرناک صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ بات محدود نہیں رہتی۔‬
‫بےگناہ‘ غیر متعلق اور بعض اوقات صلع کار بھی اس کی لپیٹ‬

‫میں آ جاتے ہیں۔ پھر بجھائے نہ بنے والی صورت پیدا ہو جاتی‬
‫ہے۔‬

‫ایک اخباری اطلاع کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان‬
‫کے ساتھ تعلقات میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ امریکہ کا‬
‫یہ بیان پاک امریکہ دوستی کے اٹوٹ ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔‬

‫یہی نہیں یہ اس کی سماج اور مذہب دوستی کا بھی منہ بولتا‬
‫ثبوت ہے۔ اس کمبل سے چھٹکارے کی کوشش کرو گے تو بھی‬

‫کمبل خلاصی نہیں کرے گا۔ اس کمبل کی گرمایش اتنی ہے کہ‬
‫اس کے بغیر بن نہ پاءے گی۔ امریکی چوری کا سواد اور چسکا‬

‫ہی ایسا ہے کہ کم بخت لگی منہ سے چھٹتی نہیں۔ میں نے یہ‬
‫تیر ہوا میں نہیں چلایا۔ اس کے بہ ہدف ہونے کا ثبوت کیمرون‬

‫کا یہ ٹوٹکا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ‬
‫امریکی ان کے ملک سے واپس جائیں۔‬

‫دنیا کا کوئ بھی اولاد والا طلاق کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہاں یہ‬
‫واضح نہیں کون کس کو طلاق دے گا۔ ہمارے ہاں زیادہ تر مرد‘‬

‫عورت کو طلاق دیتا ہے۔ کیمرون کا بیان واضح کرتا ہے کہ‬
‫پاکستانی سیاست دان امریکہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے۔ گویا‬
‫امریکہ کو ان کی ایسی کوئ خاص ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کو‬
‫چولہا چونکا چلانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔ یہاں کی‬

‫سماجی روایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو طلاق کا حق‬
‫پاکستان کے پاس ہے۔ مرد چاہے نامرد ہو‘ اسے عورت نہیں کہا‬
‫جا سکتا۔ سیاست دانوں کی یہ غنڈہ نوازی ہے کہ جھوٹ موٹھ‬

‫سہی‘ ہم پاکستانی مردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طلاق کے‬
‫معاملے کا فقط ایک پہلو ہے۔ مغرب میں عورتیں مردوں کو‬
‫طلاق دیتی ہیں۔اس حوالہ سے طلاق دینے کا حق امریکہ کے‬
‫پاس چلا جاتا ہے۔ طلاق کا حق ان کے پاس ہو یا ان کے پاس‘‬
‫ہم پاکستانی مرد ضرور قرار پاتے ہیں اور یہ ہمارے لیے کمال‬

‫فخر کی بات ہے کہ ہم نام کے سہی‘ مرد ہیں۔‬

‫اس حوالہ سے بات نہیں کروں گا کہ زندگی پر حکومت عورت‬
‫کرتی ہے۔ مرد زبانی کلامی دبکاڑے اور بڑکیں مارتا ہے۔ لیکن‬

‫بیگم کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جہانگیر کے‬
‫سارے فیصلے‘ نور جہان کے فیصلے ہیں۔ مرد جو باہر ناسیں‬
‫پھلاتا ہے لیکن گھر میں صرف اور صرف بطور پانڈی داخل ہوتا‬
‫ہے۔ کسی معاملہ میں بیگم کی سفارش آ جانے کے بعد اپنا طرز‬
‫تکلم ہی بدل لیتا ہے۔ جو بھی سہی مرد‘ مرد ہوتا ہے۔ اس کی انا‬
‫اور سطع بلند ہوتی ہے۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں اس معاملے پر‬
‫گفتگو نہیں کروں گا۔ طلاق کا نقطہ اس امر کی کھلی وضاحت‬
‫ہے کہ ہم مرد ہیں۔ کیا ہوا جو مردانہ قوت میں ضعف آ گیا ہے۔‬

‫یہ ضعف پیدایشی نہیں اس لیے قابل علاج ہے۔ آج ان گنت‬

‫دواخانے موجود ہیں لہذا عین غین معالجہ ممکن ہے۔ اس میں‬
‫ایسی گھبرانے یا پریشان ہونے والی کوئی بات ہی نہیں۔‬

‫معاملے کا یہ پہلو ذرا پیچیدہ اور گرہ خور ہے کہ آخر وچارے‬
‫امریکیوں پر یہ دھونس کاری کیوں؟؟؟ پاکستانی سیاست دان‬

‫!اتنے لچڑ کیوں ہو گے ہیں؟‬

‫پشاور یا اس سے پار کے مرد اس ضمن میں ضد کریں تو بات‬
‫سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں کا پشاوری ذوق‬
‫عجیب لگتا ہے۔ اس علاقہ کے لوگ بھی سیاسی نشتوں میں‬

‫ہوتے ہیں لیکن تعدادی حوالہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کو‬
‫تعداد سے مطلب ہوتا ہے۔ مردانہ طاقت چاہے کسی بھی سطع‬
‫کی ہو۔ عین ممکن ہے سیاسی ہیلو ہاءے میں وہ ڈومینٹ ہوں‬

‫اور شاید اسی حوالہ سے مردوں کا زنانہ شوق مردانہ میں بدل‬
‫گیا ہو۔‬

‫دینی اور سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی انسانی‬
‫نہیں‘ امریکی بنیادوں پر بحال ہوئی ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں‬

‫‪:‬پیش نظر رہنی چاہیں‬

‫ا۔ امریکہ انسانی حقوق کا ٹھکیدار ہے۔ اگر امریکہ کے حوالے‬
‫سے بحال ہوئ ہے تو اسے انسانی بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔‬

‫ب۔ بیگمانہ حکم عدولی کل کلیان کو دعوت دینے کے مترادف‬
‫ہے۔ یہ کل کلیان طلاق کا دروازہ کھول سکتی ہے جبکہ پاکستان‬

‫سے تعلقات کے ضمن میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ جب‬
‫آپشن ٹھپ ہے تو نیٹو سپلائی کا امریکی بنیادوں پر بحال ہونا‬

‫غلط اور غیر ضروری نہیں۔‬

‫ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے فضائ راستے‬
‫سےنیٹو کو رسد کی سپلائی روز اول سے جاری ہے۔ ہم سخی‬
‫لوگ ہیں اور سخیوں کے ڈیرے سے دوست دشمن بلا تخصیص‬
‫فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا اصول رہا کہ‬
‫کہو کچھ کرو کچھ۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں ہو گا تو‬
‫سمجھ لو وہ کام ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ہم کسی بھی سطع‬
‫کی صفائی دے سکتے ہیں لیکن پرنالہ اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔‬
‫کسی کو بھوک سے مرتے دیکھنا کوئی صحت مند بات نہیں۔ ہم‬
‫اپنے لوگوں کو بھوک پیاس اور اندھیروں کی موت مار سکتے‬
‫ہیں لیکن سفید رانوں والوں کو بھوکا مرتے نہیں دیکھ سکتے۔‬
‫یہ بھی کہ معاملہ سفید رانوں تک محدود نہیں ہماری محبوبہ‬
‫کے پاس ابراہیم لنکن والے نوٹ بھی ہوتے ہیں۔ نوٹ دیکھتے‬

‫ہی ہمارا موجی موڈ بن جاتا ہے۔ غیرت اصول اور کہا سنا اپنی‬
‫جگہ‘ نوٹ اپنی جگہ۔‬

‫طلاق دینے کی کوئ تو وجہ ہو نی چاہیے۔ امریکہ سے تعلقات‬
‫آخر کیوں ختم یا خراب کئے جائیں۔ بچارے سیاسی لوگ پلے‬
‫سے خرچہ کرکے ممبر بنتے ہیں۔ کیا عوام ان کی ضرورتوں‬

‫کے مطابق کما کر دیتے ہیں‘ بالکل نہیں۔ امریکہ نوٹ وکھاتا اور‬
‫چکھاتا ہے اس لیے موڈ کا نہ بننا احمقانہ سی بات ہے۔ یہ لوگ‬

‫امریکہ کے کام الله واسطے نہیں کرتے۔ اگر پاکستانی عوام کو‬
‫خود مختاری حاصل کرنے کا اتنا ہی شونق ہے تو امریکہ برابر‬

‫نوٹ کمائیں وکھائیں اور ان کی تلی ترائی کریں۔ اگر تلی ترائی‬
‫نہیں کر سکتے تو چونچ بند رکھیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ طلاق‬
‫دینے کی صورت میں ناصرف جہیز واپس کرنا پڑے گا بلکہ حق‬

‫!مہر بھی دینا پڑے گا۔ کون دے گا؟‬

‫عوام کے پاس تو دو وقت کی روٹی کھانے کو نہیں حق مہر‬
‫کہاں سے آئے گا۔ جہیز جو کھایا پیا جا چکا ہے کدھر سے آئے‬

‫گا۔‬

‫امریکہ کو طلاق دینے کا فیصلہ کوئی ون مین گیم نہیں ہے۔‬

‫سابق سفیر کا کہنا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ فیصلہ نہیں کرتی‬
‫امریکہ سے تعلقات منجمد نہیں کر سکتے۔ گویا امریکہ کو طلاق‬
‫دینے کا حق عوام کے پاس نہیں ہے۔ عوام کو اپنی حد میں رہنا‬

‫چاہیے۔ عوام لاڈلی بھی نہیں ہے جو کھیلن کو چاند مانگ رہی‬
‫ہے دوسرا چاند ملوکہ جگہ ہے۔ چاند پر صرف اور صرف قبضہ‬

‫گروپ کا حق ہے۔‬

‫ہمارے پڑوس میں ایک جوڑا اقامت رکھتا ہے۔ ان کے تین‬
‫لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ بڑے ہی پیارے پیارے بچے ہیں۔ بد‬
‫قسمتی سے مرد جوا کھیلتا ہے اور نشہ بھی کرتا ہے۔ عورت‬
‫محنت مشقت کرکے ان سب کا پیٹ بھر تی ہے۔تھکی ماندی جب‬
‫گھر آتی ہے تو اس کی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔ ایسے میں‬
‫کوئ چوں بھی کرتا ہے۔ زبانی اور عملی طور خوب لترول کرتی‬

‫ہے۔ مرد چوں بھی نہیں کرتا۔ چوں کرنے کی اس کے پس‬
‫گنجائش ہی نہیں۔‬

‫الله نے مرد کو کنبہ کا کفیل بنایا ہے۔ اگر عورت کام کرتی ہے تو‬
‫یہ مرد کے ساتھ تعاون ہے ورنہ وہ کفالت کی ذمہ دار نہیں۔‬
‫خرچ اٹھانے اور تعاون کرنے والے کا ہاتھ اوپر رہتا ہے۔ اس‬
‫حوالہ سے اسے بزتی کرنے کا بھی پورا حق حاصل ہے۔‬

‫امریکہ ہماری کفالت کرتا ہے۔ سارے حق حقوق پورے کر رہا‬
‫ہے لہذا بزتی کرنے کا بھی اصولی طور پر اسے حق حاصل ہے۔‬

‫ہم اس چمکیلی اور نخریلی محوبہ کو طلاق دینا بھی چاہیں تو‬
‫طلاق نہیں دے سکتے۔ جو ڈالر دیتا ہے اصول اور قانون بھی‬
‫اسی کا چلتا ہے۔ امریکی عورتیں طلاق دیتی ہیں۔ ہم اس وقت‬

‫تک امریکہ کی غلامی میں رہیں گے جب تک وہ ہمیں طلاق‬
‫نہیں دے دیتا۔ ویسے ہماری خیر اسی میں ہے کہ ہم طلاق کا نام‬

‫بھی زبان پر نہ لائیں کیونکہ اس نے جس کو بھی طلاق دی‬
‫ہے اسے لنڈا بچا ہی نہیں کیا اسے لولہ لنگڑا بھی کیا ہے‬

‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر‬

‫ایک شخص چور کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔ رستے میں‬
‫قبرستان آ گیا۔ چور آگے نکل گیا جبکہ وہ شخص قبرستان میں‬

‫داخل ہو گیا۔‬

‫کسی نے پوچھا “یہ کیا؟‬

‫اس نے جوابا کہا “اس نے آخر آنا تو یہاں پر ہے نا“۔‬

‫ایک اخباری اطلاع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نےتوہین عدالت‬
‫کے حوالہ سے اعلی شکشا منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ‬

‫جاری کر دئے ہیں۔ یہ کاروائی ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم‬
‫کی رٹ کے حوالہ سے عمل میں آئ ہے۔ ڈی ڈی سی (کالجز)‬
‫ڈاکٹر اکرم اپنی جیت کے نشہ سے سرشار ہوں گے۔ اعلی شکشا‬
‫منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونا کوئ ایسی عام‬
‫اور معمولی بات نہیں۔ عدالت نے وہی کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔‬
‫منصف قانون کے دائرے میں رہتا ہے اور قانون کی حدود کسی‬
‫کو توڑنے نہیں دیتا۔ کالا گورا ماڑا تگڑا گریب امیر قانون کی‬

‫نظروں میں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔‬

‫عدالت نے جو کیا درست کیا اور درست کے سوا کچھ نہیں کیا۔‬
‫سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈی ڈی سی(کالجز) ڈاکٹر اکرم نے اعلی‬

‫شکشا منشی کالجز ہاؤس کے مروجہ اصول و ضابط کی پھٹیاں‬
‫اکھیڑنے کی جسارت تو نہیں کی؟‬

‫اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اپنے انجام کو کیوں بھول گیا۔ کیا‬
‫وہ یہ نہیں جانتا کہ آخر لوٹ کر آنا تو یہاں پر ہی ہے۔ کیا وہ‬
‫نہیں جانتا تھا کہ اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس میں بڑے بڑے‬
‫پھنے خانوں کی زندہ ہڈیاں بوٹیاں دفن ہیں۔ کوئ نشان تک نہیں‬
‫تلاشا جا سکتا۔ اب صرف اور معاملہ ہے لیکن آتے وقتوں میں‬

‫اس معاملے کے بطن سےان گنت معاملات جنم لیں گے۔‬

‫یہ بڑے کمال کا سچ ہے کہ اس عہد کی عدلیہ آتے کل کے لیے‬
‫اعی درجے کا حوالہ چھوڑ جاءے گی۔ اس کا کردارمثال بنا رہے‬

‫گا۔ عدالت کو کوئی اور کام نہیں جو ڈاکٹر اکرم کےمعاملات کو‬
‫دیکھتی پھرے گی۔ کہاں تک بھاگیں گے۔ دوڑ دھوپ کرنے‬
‫والوں کو پہاڑ کے نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ جو بھی مہا منشی‬

‫ہاؤس سے ٹکرایا ہے‘ عبرت کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے۔‬
‫کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ان کی پہلی رکات سے بچ کر‬
‫نکل گیا ہو۔ یہ بھی کہ کسی ریسرچ اسکالر کو ہمت نہں ہو سکی‬
‫کہ وہ یہاں بلڈوز ہونے والوں کا اتا پتا دریافت کرنے کی ہمت کر‬
‫پایا ہو۔ یہ ہڈیوں بوٹیوں کا بلا کنار سمندر ہے۔ میں سب جانتے‬
‫تجربہ رکھتے اور بلا مرہم زخمی‘ ڈاکٹر اکرم کی ہڈی بوٹی کی‬

‫خیر کی دوا کےلیے دست بہ دعا ہوں۔ تصویری نمایش کے‬
‫شوقین اس کمزوروں کے پرحسرت قبرستان کی جانب شوقین‬

‫نظریں اٹھا کر تو دیکھیں‘ نانی نہ یاد آ گئ تو اس پرحسرت‬
‫قبرستان کا نام بدل دیں۔‬

‫ہمارے ہاں تعلیم عام کرنےکی رانی توپ سے دعوے داغے‬
‫جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ناخواگی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔‬

‫اعلی اور تحقیق سے متعلق تعلیم کی راہوں میں مونگے کی‬
‫چٹانیں کھڑی کرنے کی ہر ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس‬
‫ضمن میں صرف ایک حوالہ درج کرنے کی جسارت کروں گا۔‬

‫۔حساب شماریات وغیرہ این ٹی ایس میں شامل ہوتے ہیں۔‬
‫آرٹس والوں کا ان مضامین سے کیا کام ۔ اس ٹسٹ میں ان کے‬

‫مضامین سے متعلق سوال داخل کئے جائیں۔ یوں لگتا ہے یہ‬
‫مضامین انھیں فیل کرنے یا ٹسٹ میں حصہ نہ لینے کی جرات‬
‫پیدا کرنے کے لیے این ٹی ایس سی میں داخل کئے گئے ہیں۔‬

‫حساب اور شماریات کا تعلق چناؤ وغیرہ سے ہے۔ ان مضامین‬
‫کا چناؤ ٹسٹ میں شامل کرنا بےمعنی اور لایعنی نہیں لگتا۔ ایک‬

‫اخباری خبر کے مطابق چناؤ کے حوالہ سے بارہ کروڑ روپے‬
‫سکہ رائج الوقت بھاؤ لگ گیا ہے۔ اگر یہ رقم کسی گریب آدمی‬
‫کو دے دی جائے تو وہ اتنی بڑی رقم دیکھ کر ہی پھر جائے گا۔‬
‫اگر چیڑا اور پکا پیڈا نکلا تو گنتے گنتے عمر تمام کر دے گا۔ یہ‬

‫بھی ممکن ہے کہ گنتی کے دوران ہی کوئی ڈاکو لٹیرا اسے‬

‫گنتی کی مشقت سے چھٹکارا دلا دے۔ حساب اور شماریات‬
‫اگرچہ بڑے اہم اور کام کے مضامین ہیں لیکن ان کا متعلق پر‬
‫اطلاق ہونا چاہیے۔ غیر متعلق پر اطلاق بڑا عجیب وغریب لگتا‬

‫ہے۔‬

‫عجیب ہو یا نہ ہو' اس معاملے کا تعلق غربت سے ضرور ہے۔‬
‫جمہوریت امریکہ سے درامد ہوئی ہے۔ یہ مقامی‘ عربی یا‬
‫‪:‬اسلامی نہیں ہے۔ اس کا نعرہ ہے‬

‫عوام کی حکومت‘ حکومت تو الله کی ہے۔‬
‫عوام کے ذریعے‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله' کدھر گیا۔‬
‫عوام کے لیے‘ وڈیرے کیا ہوئے۔ وہ حکومت کرنے کے لیے‬
‫باقی رہ جاتے ہیں۔ گویا وہ سرکار ٹھرتے ہیں اور عوام رعایا۔‬

‫براءے نام سہی‘ رعایا عوام کا حوالہ موجود ہےاور یہ رعایا‬
‫عوام کی تسکین کا بہترین موجو ہے۔ بارہ کروڑ بھاؤ نے تو‬
‫برائے نام رعایا عوام کی اصل حیقیت کی قلعی کھول کر رکھ دی‬

‫ہے۔ میری اس دلیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ حساب اور‬
‫شماریات جیسے مضامین ہر کسی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے۔‬

‫ہاں البتہ مال خور منشی شاہی کے لیے بھی لازمی سے لگتے‬
‫ہیں۔ ان کی سلیکشن کے حوالہ سے ان مضامین کی برکات کو‬

‫نظرانداز کرنا‘ مال خور منشی شاہی کو ناقابل تلافی نقصان‬
‫پہچانے کے مترادف ہے۔‬

‫اقبال ساری عمر خودی خودی کرتا رہا اور خودی میں ترقی بتاتا‬
‫رہا۔ میں نے تو آج تک خوددار لوگوں کو ذلیل وخوار ہوتے‬

‫دیکھا ہے۔ اپنی اور سماجی خودی بیچنے والے نام پیدا کرتے‬
‫آئے ہیں ۔جمہوریت کے لفافے میں انھوں نے قومی آزادی‬

‫عزت اور حمیت کا خون ملفوف کیا ہے۔ اس کارنامے کے صلہ‬
‫میں پیٹ بھر کھایا ہے اور محلوں میں اقامت رکھی ہے۔ عہد‬
‫حاضر میں خودی وکاؤ مال ہو گئی ہے۔ جو بھی رج کھاناچاہتا‬
‫ہے اسے اقبال کے کہے پر مٹی ڈال کر اس کے مصرعے کو‬
‫‪:‬یوں پڑھنا اور اسی حوالہ سے زندگی کرنا ہو گی‬

‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر‬

‫اگر کوئ اقبال کے فلسفے پر جما رہا تو نام پیدا کرنے کا خواب‬
‫گلیوں میں بےچارگی اور شرمندگی کی زندگی بسر کرے گا۔‬

‫خودی کو زندگی کا مقصد بنانے والے ہوم گورنمنٹ سے بھی‬

‫چھتر کھاتے دیکھے گئے ہیں۔‬

‫امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر‬

‫ضلع قصور بلھےشاہ صاحب نور جہان فالودہ میتھی اندرسےاور‬
‫جوتوں کےحوالہ سے پوری دنیا‬

‫میں پہچانا جاتا ہے لیکن اب دو اور چیزیں اس کی شہرت کے‬
‫کھاتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ عمران خان کے جلسےمیں لوگوں‬
‫نےکرسیاں اٹھا لیں۔ کرسیاں کیوں اٹھائی گئیں بالکل الگ سے‬

‫موضوع گفتگو ہےتاہم یہ وقوعہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا‬
‫یہی نہیں قصورکی وجہ شہرت ضرور بنا رہے گا۔ دوسراوقعہ‬
‫بجلی کےحوالہ سے ہڑتال جلوس اورعوامی ردعمل ہے۔ اس‬

‫کاکوئی اثرنہیں ہوا یہ کوئ نئی اورعجیب بات نہیں ہاں نئی‬
‫اورعجیب با ت یہ ہےکہ لوگوں کی جوتوں لاٹھیوں سےمرمت‬
‫اورسیوا نہیں ہوئی ورنہ ہر گستاخ اورحق مانگے والے کے‬
‫پاسے ضرورسیکے گئے ہیں۔ بات بھی اصولی ہے احتجاجی اور‬

‫ہڑتالی نقص امن اور کارسرکار میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔‬
‫کارسرکار کیاہے‬

‫کھانا پینا اورموج مستی کرنا۔‬

‫میرےنزدیک جیب کترےدفترشاہی اورہاؤسزسےمتعلق لوگ‬
‫سچےدرویش اورالله کوماننےوالے ہیں۔ جب ان مینسےکوئ‬
‫واردات ڈالتاہےتواسےپورایقین ہوتاہےکہ متاثرہ کا الله مالک‬
‫ہےاوروہ اسےاپنی جناب سے اورعطاکردےگا۔ گویامتاثرہ پر‬

‫رائ بھرفرق نہینپڑےگا۔ ایک شخص‬
‫دوالینےجارہاہےاوررستےمینجیب کٹ جاتی ہےکیاجیب کٹ جانے‬

‫کےبعددوانہینآتی دواپھربھی آتی ہے۔ گویاسبب توالله کےپاس‬
‫ہیناس لیئےجیب کاٹنا جیب کترےکااصولی حق ہے۔‬

‫میرے نزدیک جیب کترے دفترشاہی اورہاؤسز سے متعلق لوگ‬
‫سچے درویش اور الله کو ماننے والے ہیں۔ جب ان میں‬

‫سےکوئی واردات ڈالتا ہےتو اسے پورا یقین ہوتا ہےکہ متاثرہ‬
‫کا الله مالک ہے او روہ اسے اپنی جناب سے اورعطا کر دے گا۔‬

‫گویا متاثرہ پر رائی بھرفرق نہیں پڑے گا۔ ایک شخص دوا‬
‫لینےجا رہا ہےاور رستےمیں جیب کٹ جاتی ہے کیا جیب کٹ‬
‫جانے کےبعد دوانہیں آتی دوا پھر بھی آتی ہے۔ گویا سبب تو الله‬

‫کے پاس ہیں اس لیئے جیب کاٹنا جیب کترے کا اصولی حق ہے۔‬

‫کچھ ادارےعوام کے حق کواپنے ہاتھ میں لینےکی کوشش میں‬
‫ہیں۔ یقینا یہ غلط طرزعمل ہے۔ ہرکسی کواپنی حد میں رہنا‬
‫چاہیے۔ وہ خلفاء کےقاضی صاحبان تھے جوخلیفہ کو بھی‬

‫کٹہرے میں کھڑا کر لیتےتھے۔ یہ خلیفہ نہیں خلیفے ہیں۔ ایک‬
‫طالب علم کےمحترم والد صاحب ماسٹرصاحب کے پاس‬

‫اپنےبیٹے کی تعلیمی حالت دریافت کرنے گئے۔ ماسٹر صاحب‬
‫نےانھیں بتایا کہ ان کا لاڈلا تو خلیفہ ہے۔ انھیں اس جواب پر‬

‫شرمندگی ہوئی ہوگی۔ ہمارےعوام شرمندہ نہیں ہیں کیونکہ‬
‫۔ ‪ 66‬سے‪ 10‬فیصدعوام اس کاربد میں حصہ لینے کے سزاوار ‪1‬‬

‫ہوتے ہیں‬
‫۔ حصہ لینے کے بعد وہ سبزہ بیگانہ ہو گئے ہوتے ہیں اور ‪2‬‬

‫کسی معاملے میں ان کا اچھا برا عمل دخل نیہں رہ گیا ہوتا۔‬
‫۔ ‪ 66‬سے‪ 10‬فیصدعوام خلیفہ نہیں خلیفے ہی چن سکتےہیں۔‪3‬‬

‫۔ تمام پڑھے لکھے لوگ خلیفے چننےمیں مصروف ہوتےہیں۔‪4‬‬
‫۔ ‪66‬سے‪ 10‬فیصد ووٹ تقسیم کےعمل میں داخل ہو کرن ودو ‪5‬‬

‫گیا رہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں خیرکی توقع کوئی دیوانہ ہی‬

‫کرسکتا ہے۔‬

‫۔ چناؤمیں حصہ لینے کا عمل مال سے ممکن ہےعوام کی گرہ ‪6‬‬
‫میں مال کہاں اس حقیقت کے با وجود عوام کا مقدر بھوک‬

‫پیاس اندھیرہ اور جوتےکھانا ہے زبانی کلامی سہی ان کا مان تو‬
‫رکھا جارہا ہےاو ریہ کوئی یہ معمولی بات نہیں۔‬

‫۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنھکڑی اک گلاب کی سی ‪7‬‬
‫ہے‬

‫ستر میں سے پچاس لڑکوں نے فیض احمد فیض کا شعر بتایا۔‬
‫جمہوریت کےحوالہ سے اسے درست ماننا پڑے گا۔ اگرتعداد‬
‫درستی کا معیارہے تو کوئی حق گو اور حق پسند درست نہیں‬
‫ٹھرےگا۔ چھوٹی ہو یا بڑی غلطی' غلطی ہی ہوتی ہے اوراس کا‬

‫بھگتان زندگی کو متوازن رکھ سکتا ہے۔‬

‫پروفیسر صاحبان ہڑتال کر رہے ہیں اوراحتجاج بھی کریں گے‬
‫یہ ان کا اصولی حق ہے حق نہ دینا اورنہ دینے کا مشہورہ با‬
‫اختیارلوگوں کا اصولی حق ہے۔ وہ پروفیسر صاحبان کا ووٹ‬

‫لے کرسرکارنہیں بنے او رنہ ہی ان کی مدد سے شکشا منشی‬
‫ک ولاٹ ہاؤس میں کرسی ملی ہے۔ یہ تو ان کے ایک کلرک کی‬
‫مار نہیں ہیں۔ پتہ نہیں یہ خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ قصور کے‬
‫حالیہ تاحد نظرمجمع کو خاطرمیں نہیں لایا گیا ۔ یہ کس کھیت کی‬

‫‪.‬مولی گاجر ہیں‬

‫میری موجودہ بحران کے حوالہ سے بہت سارے مزدور پیشہ‬
‫لوگوں سے بات ہوئی اکثرت کو اس سے دل چسپی ہی نہیں۔ وہ‬

‫اسے بڑوں کا کھیل سمجھتے ہیں۔ وہ اسے اپنا مسلہ نہیں‬
‫سمجھتے۔ وہ دال روثی اور پانی کی بقدر ضرورت فراہمی کو‬
‫پہلا اور آخری مسلہ سمجھتے ہیں۔ بیل کو کسی نے کہا تمہیں‬
‫چور لے جائیں اس نے کہا مجھے اس سے کیا کام کروں گا تو‬
‫چارہ ملےگا۔ یہاں کون سا اکبر بادشاہ کے تخت پر بیٹھا ہوں'‬
‫جو وہاں جا کر بےسکون ہو جاؤں گا۔ بات کام اورچارے تک‬

‫رہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ لوگ کام اور چارے‬
‫سےمحروم ہو گئےہیں۔ وہ کام پر آتےہیں لیکن بجلی کے سبب‬

‫کام نہیں کر پاتے۔ جب خالی ہاتھ واپس جاتےہیں تو ان پر‬
‫پریشانی کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ خود کومجرم سا محسوس‬
‫کرتے ہیں۔ بچوں کی بھوک اور باپ کی بیماری کے لیے دوا‬

‫میسر نہ آنے کے سبب مایوسی سے بار بار مرتے ہیں۔‬

‫دوسری طرف معاملہ یہ کہ کوئی سچائی کو تسلیم کرنے کے‬
‫لیے تیار ہی نہیں۔ بحث چھڑ گئی کہ ہاتھی انڈے دیتا ہے یا‬

‫بچےمولوی صاحب نے انڈے پرشرط لگا دی۔ جب اس کی بیوی‬
‫کوعلم ہوا توخفا ہوئی۔‬

‫جوابا مولوی صاحب نےکہا ہاروں تب جب مانوں گا۔‬

‫ہہ سب نواب صاحب صاحبزادہ صاحب راجہ صاحب چوہدری‬
‫صاحب وغیرہ ہیں اوراپنے پرائےاورملکی مال کی کمی نہیں۔‬
‫بس اب امیری میں شاہی طعام کا ذائقہ پیدا کرنے کی کوشش کر‬
‫رہے ہیں۔ لوگ سڑکوں پرآ جائیں یا بھوک پیاس سے مر جائیں‬
‫انہیں اس سےکوئی غرض نہیں۔ وہ الله کریم کی ذات پر بھروسہ‬
‫رکھتے ہیں کہ وہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس لیے یہ ہو ہی‬
‫نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مرجائیں گے۔ الله کریم پتھرمیں‬

‫کیڑے کورزق عطا کرتا ہے۔‬

‫عوام کا یہ کہنا لایعنی اوربےمعنی بلکہ چٹا ننگا جھوٹ ہےکہ وہ‬
‫بھوک رکھتے ہیں کہ وہ بہتررزق دینے والا ہے۔ اس لیے یہ ہو‬

‫ہی نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مر جائیں گے۔ الله کریم‬
‫پتھرمیں کیڑے کورزق عطا کرتا ہے۔ عوام کا یہ کہنا لایعنی اور‬

‫بےمعنی بلکہ چٹا ننگا جھوٹ ہے کہ وہ بھوک سےمر رہے ہیں‬
‫بھوک پیاس کے متعلق بات کرنے والے سازشی غیرذمہ دار‬
‫بیرونی ایجنٹ دہشت گرد امریکہ کےمجرم اورنائن الیون کی‬

‫سازش میں شریک تھےاس لیےانھیں معاف کرنا یا کھلا چھوڑ‬
‫دینا اس عہد کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ‬
‫لوگ پاکستان دشمن ملک کے لیےکام کر رہےہوں اور پاکستان‬

‫کی سیاسی پارٹیوں کے بےمثال اتحاد کو پارپارہ کرنے کی‬
‫کامیاب کوشش کررہےہوں۔‬
‫۔‬

‫رشتے خواب اور گندگی کی روڑیاں‬

‫پچھلے دنوں ایک محترم لیڈر کا محترم ڈیپٹی وزیر اعظم کے‬
‫حوالہ سے قول زریں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا ڈیپٹی‬
‫وزیر اعظم دن میں خواب دیکھنا بند کریں۔ محترم کا سابقہ اس‬
‫لیے استعمال نہیں کیا کہ وہاں یہ سابقہ موچود نہیں تھا لہذا یہ‬

‫میرے قلم کی گردن پر نہیں آتا۔ ہاں البتہ اس قول زریں کے‬

‫عجیب و غریب ہونے پر شبہ نہیں۔ نیند میں خواب ہی تو دیکھے‬
‫جاتے ہیں۔ جاگتے میں سپنے دیکھے جاتے۔ خواب اور سپنے‬
‫قریب قریب کی چیزیں ہیں۔ ان میں انتر یہ ہے کہ خواب سوتے‬
‫میں اور سپنے جاگتے میں دیکھتے ہیں تاہم اپنی حقیقت کے‬
‫حوالہ سےدونوں چیزیں برابر کا سٹیٹس رکھتی ہیں۔ دونوں کی‬
‫تعبیر حقیقت سے ہمکنار ہو قطعی ضروری نہیں اور یہ بھی‬
‫ضروری نہیں کہ سیاسیی خواب اور سیاسیی سپنے اپنی تعبیر‬
‫کے حوالہ سے بالکل ٹھس ہو جائیں۔‬

‫خواب یا سپنے دیکھنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہاں البتہ‬
‫خواب پر کسی نہ کسی سطع پر روک ممکن ہے۔ سونے ہی نہ‬

‫دیا جائے۔ کوئی بہت ہی بڑی پریشانی کٹھری کر دو نیند حرام ہو‬
‫جائے۔ موت سے بڑھ کر کوئی پریشانی نہیں ہو سکتی۔ کہاوت‬
‫ہے نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ نیند آئے گی تو خواب‬
‫ناگزیر ہیں۔ گویا سو ہتھ رسہ سرے پہ گانٹھ خوابوں پر روک‬

‫ممکن نہیں۔ یہ ڈیپٹی وزیر اعظم کا مسلہ نہیں ہے کہ وہ سیاشی‬
‫خواب نہ دیکھیں بلکہ یہ بیان دینے والے کی سر پیڑ ہے کہ وہ‬

‫سیاسی خواب دیکھنے پر روک کس طرح لگاتے ہیں۔ چلو‬
‫سونے پر روک لگ جاتی ہے لیکن جاگتے میں سپنے دیکھنے‬

‫پر روک کیسے لگے گی۔‬

‫طاقت نشہ پیسہ اور اقتدار نیند کی مترادف حالت کا نام ہے۔ ان‬
‫چاروں صورتوں میں خواب دیکھنا فطری سی چیز ہے بلکہ یہ‬

‫سارا موسم خواب سا ہوتا ہے۔ چاروں اور رومانی نظارے‬
‫موجود رہتے ہیں۔ ادھر ادھر پریوں کا رقص غلمان جام لیے‬
‫رقص نما حالت میں پھرتے ہیں جی حضوریے ہمہ وقت گردش‬
‫کرتے رہتے ہیں۔ شہر کو آگ لگا کر نظارہ کیا جاتا ہے۔ ٹی سی‬
‫افروزوں کی زبان پر ہوتا ہے حضور کا شوق سلامت رہے شہر‬

‫اور بہت۔‬

‫کوئی بھوک سے مر رہا ہے انھیں اس سے کچھ غرض نہیں‬
‫ہوتی۔ انھیں یہ سب دیکھائ نہیں دے رہا ہوتا اور ناہی کوئی آگاہ‬

‫کرنے والا ہوتا ہے۔ ناہی انھیں خراب موسم دیکھنے کی تمنا‬
‫ہوتی ہے جو آگاہ کرنے کی جسارت کرتا ہے جان سے جاتا گویا‬

‫جان کی سلامتی کے حوالہ سے سب ہرا کا ورد کرنا ضروری‬
‫ہوتا ہے۔ یہ مشاہدہ کی بات ہے کہ سوئے شخص کو جگانا‬

‫ناگوار عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ جگانے سے راحت ہی ختم‬
‫نہیں ہوتی حسین خوابوں کا بھی ستیاناس مار کر رکھ دیا جاتا‬
‫ہے۔‬

‫ماڑے شخص کے خواب ماڑے اور غیر سیاسی قسم کے ہوتے‬
‫ہیں۔ ماڑے شخص کے خواب کی چھلانگ سڑکی ہوٹل میں بیٹھ‬
‫کر سالم مرغے کی پلیٹ اور چھابے میں موجود تین سے چار‬

‫روٹیوں تک محدود ہوتی ہے۔ ماڑا بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ‬
‫ابھی اس نے مرغے کی ٹانگ کو ہاتھ لگایا ہی ہو کہ حضرت‬
‫زوجہ ماجدہ نیند سے جگا کر آٹا نہ ہونے کی منحوس‬

‫خبرسنائے۔ اس کا لہجہ گرجداراور طعنہ آمیز بھی ہو۔ ماڑا گھور‬
‫کر دیکھنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ گھور کر دیکھنے کی‬

‫جسارت کا نتیجہ کئ گھنٹوں کی لایعنی کل کل کو دعوت دینا ہے۔‬
‫پیسے نہیں ہیں تو وہ کیا کرے یہ اس کا مسلہ نہیں ہے۔ اس نے‬

‫کون سا امریکہ اپنے نام لگوانے کے لیے کہہ دیا ہوتا ہے۔‬

‫یہ تو ایک ماژے کے خوابی نظآرے کی حالت ہے۔ وہ خواب میں‬
‫بھی مرغ کے لاون سے پیٹ بھر روٹی نہیں کھا سکتا۔ حاکم کے‬

‫سامنے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ ماڑے کے منہ میں‬
‫مرغے کی دائیں یا بائیں ٹانگ کہاں سیاسی خواب تو بڑی دور‬
‫کی بات ہے۔ ہاں سیاسی دنوں میں سیاسی خواب دیکھ سکتا ہے۔‬
‫اس کے سیاسی خواب بادشاہ لوگوں کے سے نہیں ہوتے۔ بڑے‬
‫بی بے ضرر اور معصوم سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی سیای ڈیرے‬
‫پر پیٹ بھر روٹی میسر آ جاتی ہے۔ ووٹوں کے عوض پان سات‬
‫دن کا آٹا وٹا لایا جا سکتا ہے۔ عوامی فلاحی جمہوریت یہی ہے‬
‫کہ ہر پندرہ بیس دن بعد اس سیاسی میلے کا اہتمام ہوتے رہنا‬

‫چاہیے۔ یہ کیا گھپلا ہے چار دن دے کر چار پانچ سالوں میں‬
‫لوٹ سیل کو شعار بنایا جائے۔ یہ ٹھیک ہے آج کے بادشاہ لوگ‬

‫خرچہ کرکے بادشاہی منصب حاصل کرتے ہیں۔ لوٹ میلہ منانا ان‬
‫کا سیاسی اور معاشی حق ہے۔ رولا یہ ہے کہ دینا لینے کے‬
‫پاسنگ بھی نہیں ہوتا۔ اس حوالہ سے راءج الوقت جمہوریت‬
‫فلاحی جمہوریت نہیں گل پھاہی جمہوریت ہے۔ پندرہ دن بعد نا‬

‫سہی تیس دن بعد ایکشن کرا دینے میں کیا برائ یا خرابی ہے۔‬
‫ماڑا ایک ہفتہ پیٹ بھر کھا کر باقی تین ہفتے گزار سکتا ہے۔‬
‫پورے چار ہفتے بھوکا یا زیادہ تر بھوکا رکھنا غیر فلاحی‬

‫جمہوریت کے کھاتے میں آتا ہے۔ لوٹ مار کے تین ہفتے اتنے‬
‫تھوڑے بھی نہیں ہوتےگویا ایک ہفتہ گریب کا تین ہفتے شاہ‬
‫کے۔‬

‫ایک کھاتے پیتے گھرانے کی کڑی گریبوں کے بدبودار گھرانے‬
‫میں بیاہی گئی۔ بات کو ذرا آگے بڑھنے دیں۔ ابھی سے یہ سوال‬

‫ذ ہن میں نہ لائیں کہ کیسے بیاہی گئ اور گریب گھرانے کے‬
‫لیے میں نے بدبودار کا سابقہ کیوں بڑھایا ہے۔ میں نے کھاتے‬

‫پیتے گھرانے کے لیے خوشبودار کا سابقہ استعمال نہیں کیا‬
‫حالانکہ کھاتے پیتے گھرانوں میں خوشبوئیں ہمہ وقت تھرکتی‬

‫رہتی ہیں۔ دونوں سوالیے کسی دوسرے وقت کے لیےاٹھا‬
‫رکھیے۔ آتے ہی اس کڑی نے اس گھر لیپا پوچی کے لیے کمر‬
‫کس لی۔ تین چار دن بعد کہنے لگی دیکھا میں نے گندگی ختم کر‬

‫دی ہے۔ گندگی اور گندگی کی بو ختم نہیں ہوئی ہوتی بلکہ وہ‬
‫اس ماحول کی عادی ہو چکی ہوتی ہے۔‬

‫آج کے دور میں باراستہ لنکنی جمہوریت ہر آنے والے بادشاہ‬
‫کو تخت اختیار پر بیٹھنے سے پہلے تخت اختیار کے چاروں‬

‫پاسے غبن رشوت ہیرا پھیری بدمعاشی دھونس د اھندلی وغیرہ‬
‫کی روڑیاں نظر آتی ہیں۔ تخت اختیار پر قبضہ فرما ہونے کے‬

‫کچھ ہی دونوں بعد سب اچھا نظر آنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے‬
‫کہ اس نے ہر خرابی کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے۔ جی حضوریے‬
‫بھی اسے یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ نے صفایاں کر دی ھیں۔ اس‬
‫کے چمچوں اور گماشتوں کے حوالہ سے صفایاں ہو چکی ہوتی‬
‫ہیں اب صرف سب اچھا باقی ہوتا ہے۔ اہل قلم نمبر ٹانکنے کے‬
‫لیے اس کے کارناموں کی توتیاں بجاتے ہیں۔ بعض تو بڑے بھو‬

‫نپو پکڑ لیتے ہیں۔ کوئی یہ کہنے لے یے تیار نہیں ہوتا کہ‬
‫حضور آپ بھرے بازار میں پورے پروٹوکول کے ساتھ الف‬
‫ننگے پھر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے انھیں ظل سبحانی بالباس‬

‫نظر آتے ہوں۔ لوگوں کا سچ کہا چاہے اکثرتی کیوں نہ ہو‬
‫اپوزیش کی سازش معلوم ہوتی ہے حالانکہ وہ سازش نہیں‬
‫حقیقت ہوتی ہے۔ خواب خواب ہوتے ہیں حقیقت کا ان سے دور‬
‫کا بھی رشتہ نہیں ہوتا۔ رشتے بننے میں ایک وقت لگتا ہے اور‬

‫رشتے سچائی کے متقاضی ہوتے ہیں۔‬

‫طہارتی عمل اور مرغی نواز وڈیرہ‬

‫آپ کریم کا یہ ارشاد گرامی‬
‫۔۔۔۔۔۔ طہارت نصف ایمان ہے۔۔۔۔۔۔۔‬
‫دوسروں کی طرح میرے بھی علم میں تھا تاہم میرا دوسروں‬
‫سے مختلف تفہمی نظریہ رہا ہے۔ دوسروں میں کچھ کپڑوں کی‬
‫صفائ کو طہارت سمجھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا یہ ہے کہ جسم کی‬
‫خوب صفائی ستھرائی ہونی چاہیے۔ پولیس والے دھلائی کے‬
‫معنی الگ سے لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دھلائی اس طور سے‬
‫ہونی چاہیے کہ دھلائی دہندہ ناکردہ کو بھی بخوشی اپنی جھولی‬
‫ڈال کر پاک صاف ہو جائے۔ ایک طرف صفائی عروج کو پہنچ‬
‫جاتی ہے تو دوسری طرف اور کیسز کے کھپ کھپا سے بچاؤ کا‬
‫رستہ نکل آتا ہے اور ان کیسز کے کار گزران سے مک مکا‬
‫بہتر اور شفاف طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا کیا چونکہ کوئ‬
‫اور اپنے سر لے چکا ہوتا ہے اس طرح وہ بھی طہارت کے‬
‫عمل سے گزر جاتے ہیں۔ دولت آنی جانی شے اور مردوں کے‬

‫ہاتھ کی میل ہوتی ہے۔ جیل سے باہر رہ کر دیے سے کہیں بڑھ‬
‫کر کما لیتے ہیں۔ پولیس سے علیک سلیک کے بعد ہاتھ بھی رل‬

‫جاتے ہیں۔‬

‫اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ میں طہارت کو الگ سے معنوں میں‬
‫لیتا ہوں۔ کپڑوں اور جسم کا صاف ہونا انسانی صحت کے لیے‬
‫بہت ضروری ہے۔ انسان صرف جسم سے ہی تشکیل نہیں پاتا۔‬
‫جسم کے اندر روح بھی ہو تو ہی اسے چلتا پھرتا جیتا جاگتا‬
‫انسان کہا جائے گا۔ بے روح کو دنیا کے ہر خطے میں لاش‬
‫مردہ میت جسد ڈیڈ باڈی کورپو مورٹو کورپس وغیرہ‬
‫وغیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا جسم کے ساتھ‬
‫ساتھ باطنی طہارت کو کسی طور اور کسی سطع پر نظر انداز‬
‫نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہری سوٹر بوٹر ہونے کا کیا فائدہ جب اندر‬
‫روڑی جھوٹ چغلی بخیلی تکبر بےانصافی بےایمانی ہیراپھیری‬
‫بددیانتی بدمعاشی وغیرہ سمیٹے زندگی کی شاہراہ پر بڑی‬

‫ڈھیٹائی سے دندناتی پھرتی ہو۔ روک ٹوک کرنے والا اگلا سانس‬
‫بھی نہ لے سکے۔‬

‫مجھے کسی اردو لغت کے بیک ٹائٹل پر ِ‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان اپنا اسے صاف رکھی ِے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اصلاح کرنے والا کہہ ہی سکتا ہے۔ عمل‬
‫درامد تو پڑھنے سننے والے کو کرنا ہوتا ہے۔ طہارت کی بات‬
‫چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھی۔ یہ بات مختلف حوالوں سے‬
‫بار بار دہرائی جاتی رہی۔ جن لوگوں نے باطنی طہارت کو اپنا‬

‫شعار بنایا وہ بوعلی قلندر داتا گنج بخش معین الدین چشتی‬
‫شاہ حسین لاہوری بن گیے۔‬

‫قیام پاکستان سے لے کر آج تک سب پاکستان کو اپنا کہتے رہے‬
‫لیکن صفائی ستھرائی کے عمل سے کوسوں دور رہے۔ اس بے‬
‫لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے سبب گند پڑ گیا۔ بھلا ہو الیکشن‬
‫‪ ٦٧٧٣‬کا۔ اس کی آمد پاکستان کے لیے خوش کن ٹابت ہو رہی‬
‫ہے۔ گند پوری دیانتداری اور ہنرمندی سے صاف کیا جا رہا ہے۔‬
‫اگر یہ روایت بن گئ تو صاف شفاف سماج تشکیل پا سکے گا۔‬
‫اگر ظاہری صفائ کو اہمیت ہوتی تو غلاظت کے بڑے ڈھیر ختم‬
‫نہ ہوتے۔ چہرا مبارک اور لباس فاخرانہ اور امریکانہ تو سب کا‬

‫دھلا ہوا تھا۔ جب اندر سے پھرولا گیا تو پوٹی رسیدہ بوسیدہ‬
‫لیریں نکلیں۔ الیکشن کمشن اور عدلیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا‬

‫جایے کم ہو گا۔‬

‫طہارت کےعمل کے حوالہ سے ایک عزت جاہ جو کسی کے ہاں‬
‫اقامت رکھتے تھے کا قصہ یاد آ گیا۔ انھوں نے خوب مرغیوں‬
‫پھڑکائیں جاتے ہوتے ایک مرغی ساتھ لے گیے۔ جو مر کھپ‬

‫گیے ان کی چھوڑیے جو ابھی ابھی رخصت ہوئے ہیں ان سے‬
‫اڑائی گئی مرغی برآمد کی جا سکتی ہے۔ آگہی رکھنے والوں کو‬
‫بات اٹھا کر اس طہارتی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔‬

‫یہ قومی فریضہ ہے۔ عدلیہ نے آزادی حاص کرکے قومی اور‬
‫شخصی ضمیر کو آزاد دلائی ہے۔ اس عہد آزای سے فائدہ نہ‬
‫اٹھایا گیا تو مرغی عزت جاہ کی ملکیت کا درجہ حاصل کر لے‬
‫گی۔ کل کیسا ہو گا کسی کے علم میں نہیں۔ طہارتی عمل میں‬

‫ذاتی اور قریبی تعلقات کی کوئ معنویت نہیں ہوتی۔‬

‫آج یعنی دس اپریل کی ایک اخباری خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک‬
‫نے نادہندگان کی فہرست جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس‬

‫انکار کے پیچھے الله جانے کتنا بڑا تھرٹ ہو گا۔ یہ بھی امکان‬
‫ہے مل جل کر مرغی کے مزے لوٹے گیے ہوں۔ یہ بھی بعید از‬
‫امکان نہیں کہ مرغیوں کا اقامت کدہ اور نادہندگان کی موجگاہ‬
‫اسٹیٹ بینک کے کسی مرغی نواز وڈیرے کا ڈیرہ رہا ہو۔ انکار‬
‫کے تناظر میں کچھ بھی اور کتنا ہی کہا جا سکتا ہے۔ غالبا اس‬
‫کی بینک قانون اجازت نہیں دیتا تاہم دو رستے پھر بھی کھلے‬
‫ہیں۔ خصوصی اجازت حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر نادہندگان‬

‫کا معاملہ بینک عدالت ے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیا‬
‫انکار سے طہارت کے عمل کو نقصان نہیں پہنچے گا؟ جسم و‬

‫روح پیشاب کی بوند سے آلودہ نہیں رہیں گے اور اس کے‬

‫اثرات دیر تک باقی نہیں رہیں گے؟!‬

‫سو من دودھ کے کڑاہے میں پیشاب کی ایک بوند بھی سو من‬
‫دودھ کو نجس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ گویا طہارتی عمل‬
‫کا ستیاناس مارنے کے حوالہ سے صرف مرغی نواز وڈیرے کا‬

‫نام ہی بدنام نہیں ہو گا بلکہ اسٹیٹ بینک اور اس کے جملہ‬
‫کارپردازگان کی بھی رسوائی ہو گی۔ غداری کے حوالہ سے‬
‫مخبریاں ہوتی آئی ہیں کوئی دیس بھگت اس کی مخبری کرکے‬
‫ملک و قوم اور مقید مرغیوں کو ان کے حقیقی مالکوں کے‬
‫حوالے ہونے کا پن کما سکتا ہے یہی نہیں آتی بےگناہ نسلوں‬

‫پراحسان کر سکتا ہے۔‬

‫لاٹھی والے کی بھینس‬

‫لاہور بورڈ نے میری پنشنری غربت سے متاثر اور عبرت‬
‫پکڑتے ہوئے مجھے ہیڈ ایگزامینر مقرر کر دیا۔ میں کام کی‬
‫غرض سے نکلنے لگا۔ دروازے سے ایک قدم باہر اور ایک قدم‬


Click to View FlipBook Version