The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫انٹرنیٹ سے‬
‫ممصود حسنی کے ساٹھ مزاحیے‬

‫پیش کار‬
‫پروفیسر نیامت علی مرتضائی‬

‫ابوزر برلی کتب خانہ‬
‫جنوری ‪2016‬‬

‫فہرست‬

‫بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحمیك ‪1-‬‬
‫گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں ‪2-‬‬

‫ایم فل الاؤنس اور میری معذرت خوانہ شرمندگی ‪3-‬‬
‫ایک دفع کا ذکر ہے ‪4-‬‬

‫الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل ‪5-‬‬
‫مشتری ہوشیآر باش ‪6-‬‬

‫لصہ زہرا بٹیا سے ملالات کا ‪7-‬‬
‫ناصر زیدی اور شعر ؼالب کا جدید شعری لباس ‪8-‬‬

‫پروؾ ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی ‪9-‬‬
‫صیؽہ ہم اور ؼالب نوازی ‪10-‬‬
‫وہ دن ضرور آئے گا ‪11-‬‬

‫ایجوکیشن‘ کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے ‪12-‬‬
‫آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں ‪13-‬‬

‫محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی ‪14-‬‬
‫زندگی‘ حمیمت اور چوہے کی عصری اہمیت ‪15-‬‬
‫ؼیرملکی بداطواری دفتری اخلالیات اور برفی کی ‪16-‬‬

‫چاٹ‬

‫انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ ‪17-‬‬
‫دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا ‪18-‬‬
‫لاٹھی والے کی بھینس ‪19-‬‬
‫میری ناچیز بدعا ‪20-‬‬
‫آزمائش کا رستہ بالی ہے ‪21-‬‬

‫بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے ‪22-‬‬
‫عوامی نمائندے مسائل' اور بیورو کریسی ‪23-‬‬

‫سیری تک جشن آزادی مبارک ہو ‪24-‬‬
‫لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت ‪25-‬‬

‫دو لومی نظریہ اور اسلامی ونڈو ‪26-‬‬
‫شیڈولڈ رشوتی نظام کے لیام کی ضرورت ‪27-‬‬

‫بجلی آتے ہی ‪28-‬‬
‫جرم کو لانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں ‪29-‬‬

‫لانون ضابطے اور نورا گیم ‪30-‬‬
‫زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں ‪31-‬‬

‫من کا چوہا اور کل کلیان ‪32-‬‬
‫رولا رپا توازن کا ضامن ہے ‪33-‬‬
‫پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب ‪34-‬‬
‫تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز لاصری ‪35-‬‬
‫طہارتی عمل اور مرؼی نواز وڈیرہ ‪36-‬‬
‫استاد ؼالب ضدین اور آل ہند کی زبان ‪37-‬‬

‫دیگی ذائمہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی ‪38-‬‬
‫مدن اور آلو ٹماٹر کا جال ‪39-‬‬

‫مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان ‪40-‬‬
‫آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم ‪41-‬‬
‫جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے ‪42-‬‬
‫آگہی کی راہ کا پتھر ‪43-‬‬
‫ہم زندہ لوم ہیں ‪44-‬‬
‫پاکستان کا مطلب کیا؟ ‪45-‬‬

‫رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے ‪46-‬‬
‫پاکستان کا حمیمی خالك کون؟ ‪47-‬‬

‫دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو ‪48-‬‬
‫عوام بھوک اور گڑ کی پیسی ‪49-‬‬

‫ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو ‪50-‬‬
‫دوسیریاں‬

‫اس عذاب کا ذکر لرآن میں موجود نہیں ‪51-‬‬
‫بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ ‪52-‬‬

‫کہہ کر کیا تو کیا کیا ‪53-‬‬
‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر ‪54-‬‬

‫خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن ‪55-‬‬
‫ؼیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم ‪56-‬‬
‫سیاست دان اپنی عینک کا نمبر بدلیں ‪57-‬‬

‫فمیروں کی بستی میں ‪58-‬‬
‫امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر ‪59-‬‬

‫بے بکری نہیں بھ بھیڑ ‪60-‬‬
‫‪61-‬‬

‫‪.............‬‬
‫‪.............‬‬
‫‪.............‬‬

‫بےنکاحی گالیاں اور میری لسانی تحمیك‬

‫بازار چلے جائیے' ہر چیز کی بےشمار سیل بند' یعنی‬
‫ڈبہ پیکنگ' بلا ڈبہ پیکنگ ورائیٹیاں میسر آ جائیں گی'‬
‫اوپن بھی مل جائیں گی۔ ظاہری حسن' چلتا پھرتا بل کہ‬
‫بھاگتا دوڑتا نظر آئے گا۔ چمک دمک' بناوٹ کا حسن‬
‫اور پیش کش وؼیرہ' انتخاب کو مشکل بنا دے گی۔ آپ‬
‫کا دل چاہے گا' ہر لسم کی ایک ایک خرید کر لوں۔ بس‬

‫جیب کے ہاتھوں مار کھا جائیں گے۔ اگر حضرت‬
‫بےؼم حضور ساتھ ہوں گی' تو ایک کی ضرورت‬

‫ہوتے' شاید نہیں یمینا کئی ایک خریدنے کی ضرورت‬
‫پیش آ جائے گی۔ ضرورت اور تصرؾ کے' ان گنت‬
‫اور ان حد بلا فی میل' جواز جنم لے لیں گے۔ اکثر آپ‬
‫کے حوالہ سے' اور آپ کی ضرورت کے تحت جنم لیں‬
‫گے۔ یہ اس سے لطعی الگ بات ہے' کہ بعد میں ہاتھ‬
‫لگانا تو دور کی بات' آپ کی بینائی انہیں دیکھنے سے‬
‫بھی' معذور پڑ جائے گی۔ ان کا زبان پر نام لانا بھی'‬
‫جرم سرمدی بن جائے گا۔ شہادت کی فضیلت کے‬
‫باوجود' حضرت لبلہ اپنی پیرومرشد بےؼم صاحب‬
‫مداذلا لالی کے ہاتھوں' شہادت کا عظیم رتبہ دل وجان‬
‫سے پانا پسند نہیں کریں گے لیکن ذلت کا دنبہ بن کر'‬

‫ذبح ہو جائیں گے۔‬

‫یہ خریدداری' محض ظاہری کمال کی حامل ہوتی ہے۔‬
‫اس کے باطن میں' نمائص کی بےشمار خبائثتیں‬
‫موجود ہوتی ہیں۔ خبائثتوں کی عریانی کے بعد'‬

‫شکائتوں کا لامتناہی سلسلہ' شروع ہو جائے گا۔ گھر‬
‫والی' ہر جا یہ ہی کہے گی' کہ یہ محفل میں بات کرنے‬
‫اور خریداری میں' بالکل صفر ہیں۔ حالاں کہ نہ بولنے‬
‫دیا گیا ہوتا ہے اور نہ ہی خریاری میں' مشورہ لیا گیا‬
‫ہوتا ہے' بل کہ آپ کی پسند کی خریداری کی ہی نہیں‬

‫گئی ہوتی۔ آپ کا اگر بس چلتا' تو شاید نہیں' یمینا‬
‫خریدنے سے سو فی صد اجتناب برتتے۔ سوئے اتفاق'‬

‫ایک بار بھی انکار کرکے پوری برادری اور علالہ‬
‫میں' تھوڑ دل معروؾ ہو جائیں گے۔‬

‫بات چیت میں نااہل‬
‫خریداری میں نکما‬

‫تھوڑ دل‬
‫کردار و شخصیت کا جز لرار پا کر' عرؾ میں داخل ہو‬
‫جائیں گے' اس لیے انہیں دو نمبر نہیں کہا جائے گا۔‬
‫اگر ان میں سے کوئی' عرؾ میں آنے سے مرحوم ہو‬
‫جاتا ہے اور کوئی کہتا ہے' تو یہ بلاشبہ دو نمبری ہو‬
‫گی۔ بیگمی مہر ثبت نہ ہونے کے سبب' کوئی معاملہ‬

‫اپنا وجود رکھتے ہوئے بھی' دو نمبری ہوگا۔ پہلی‬
‫صورت میں نکاحی' جب کہ دوسری صورت میں'‬
‫بےنکاحی ہو گا۔ نکاحی ہونے کے لیے' معاملے کا‬
‫عرؾ میں آنا اور اس پر بیگماتی مہر کا ثبت ہونا'‬

‫ضروری ہوتا ہے۔‬

‫ہمارے ادھر' ایک ہی نام اور ایک ہی مسلک کے' دو‬
‫مولوی ہوا کرتے۔ نام اور مسلک کی مماثلت کے‬

‫باعت' کنفوژن لسم کی چیز پیدا ہو جاتی۔ شناخت کے‬
‫حوالہ سے' ایک کو مولوی وڈیرا جب کہ دوسرے کو'‬
‫مولوی چھوٹیرا کہا جانے لگا۔ اتفاق سے' بظاہر بلا‬
‫کسی کرنی کے'مولوی چھوٹیرا حك ہو گیا۔ اگر اس کا‬
‫کیا' معافی کے لائك ہے' تو الله اس کو معاؾ فرمائے'‬
‫ورنہ الله کی اپنی مرضی ہے' معاؾ کرے ناکرے۔ یہ‬
‫مذہبی لوگ' بڑے معصوم اور بےگناہ سے ہوتے ہیں۔‬
‫کھانا' اس کے بعد بھی کھاتے ہیں‪ .‬انسانی تفریك' ان‬
‫کا محبوب ترین مشؽلہ رہا ہے۔ اس لیے' الله انہیں ناہی‬

‫معاؾ کرئے' تو اچھا ہے۔‬

‫مولوی چھوٹیرے کی موت کے بعد' مولوی وڈیڑے کی‬
‫خوب بن آئی۔ موصوؾ تھوڑا سا' کافی سے زیادہ فربہ‬
‫تھے‪ .‬لد کے لحاظ سے' پورے پورے تھے' اس لیے‬
‫باطور مولوی بٹیرا معروؾ ہو گیے۔ لوگ ان کا اصل‬
‫نام بھی بھول گیے۔ اپنے عرفی نام سے' جان پہچان‬
‫پکڑ گیے۔ الله جھوٹ نہ بلوائے' یہ نام مولوانی صاحبہ‬
‫کا دیا ہوا تھا۔ نہ بھی دیا ہوتا' تو بھی عرؾ میں آنے‬

‫کے باعث' یہ نکاحی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر‬
‫مولوانی صاحبہ کا عطا کردہ تھا' تو سونے پر سہاگے‬

‫والی بات ہے۔کسی سطح پر دو نمبری کی گنجائش‬

‫بالی نہیں رہتی۔ اس لیے مرکب مولوی وڈیرا ہر لحاظ‬
‫سے نکاحی کے کھاتا میں جاتا ہے‬

‫ہمارے ادھر' عمر درزی ہوا کرتا تھا۔ بڑا زبردست‬
‫ہنروند تھا۔ اس کا مختلؾ لماش کے لوگوں سے' سارا‬

‫دن واسطہ رہتا تھا۔ اس کے پاس' تین بینڈ کا ریڈیو‬
‫تھا۔ گانے شانے بہت کم سنتا' لیکن خبریں اور‬

‫تبصرے خوب سنتا۔ سنتے ہیں' رات کو سونے سے‬
‫پہلے' بی بی سی کی خبریں' اس کے بعد جہاں نما‬
‫شاید یہ ہی نام تھا' ضرور سنتا۔ لوگ اچھا درزی ہونے‬
‫کی وجہ سے' کپڑے اسی سے سلواتے۔ کپڑے اور‬

‫ناپ دینے کے بعد' کھسکنے میں خاطر جمع‬
‫سمجھتے۔ بولتا بڑا تھا۔ جب کبھی' کسی محفل میں آتا'‬
‫تو لوگ یہ کہتے ہوئے' چلتے بنتے' چلتے ہیں' کتا آ‬
‫گیا ہے۔ عمردرزی کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس‬

‫کی بیوی بھی' اس کی اس عادت سے نالاں تھی۔ یہ‬
‫الگ بات ہے' کہ اس ذیل میں وہ' اس کی بھی پیو‬
‫تھی۔ عمر درزی اس کے حضور' کسکتا تک نہ تھا۔‬

‫کسی کو کتا کہنا' بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ‬
‫ہر لحاظ سے' دونمبری زبان میں داخل محسوس ہوتا‬

‫'ہے۔ مگر کیا کیا جائے‬
‫‪.‬کتا آ گیا ہے' میں تشبیہ کا تعلك موجود تھا‬
‫یہ استعارہ عرفی درجے پر فائز ہوگیا تھا۔‬
‫مہر زوجہ پورے پہار کے ساتھ ثبث ہو چکی تھی۔‬
‫کتے کے اس لمبی نام کو' ان سہ وجوہ کی بنا پر' اس‬
‫دور کا سفاک ترین شخص' مسٹر چہاڑی بھی‬
‫بےنکاحیا لرار نہیں دے سکتا تھا۔ اگر لرار دینے کی‬
‫سوچتا بھی' تو ہفتوں بےنکاحی گالیاں سنتا۔ الله‬
‫بخشے پہاگاں کا بولنے کے حوالہ سے' بڑا سٹیمنا‬
‫اور نام تھا۔ رانی توپ' اس کی سگی خالہ زاد تھی۔‬

‫سیاست' عمومی تفہیم اور سینس میں' ہیرا پھیری'‬
‫جھوٹ' وعدوں کا پلندہ' لوٹ مار وؼیرہ کے زمرے‬
‫میں آتی ہے۔ سیاست اور ان امور و اصول کا' چولی‬
‫دامن کا ساتھ ہے۔ اگر کوئی سیاست دار' ان امور و‬

‫اصول کی خلاؾ ورزی کرتا ہے' تو دونمبری کا‬
‫مرتکب ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسا ہوتا' کبھی دیکھنے‬
‫سننے میں نہیں آیا۔ ہاں ایک بات یاد آئی' جھوٹ‬
‫بولے' تو اس پر سچ کا گمان سا ہو۔ وعدہ کرئے' تو‬
‫اس طرح کرئے' کہ لوگوں کو اس کی اگلے یا کسی‬
‫اور موڑ پر ایفائی کا یمین سا ہو جائے۔ ؼبن اور ہیرا‬

‫پھیری پکڑ میں آ جاتے ہیں' یا ان کا کسی طبمے کو‬
‫علم ہو جاتا ہے' تو ایسے شخص کو' شخص کہا جا‬
‫سکتا ہے' اسے سیاست دار یا سیاست دان نہیں کہا جا‬
‫سکتا‪ .‬یہ سیاست میں بددیانتی' ہیرا پھیری اور دو‬
‫نمبری ہو گی۔ گویا ہیرا پھیری' جھوٹ' وعدوں کا‬
‫پلندہ' لوٹ مار وؼیرہ کا' سیاست سے' چولی دامن کا‬
‫ساتھ ہے۔ ایسی سیاست کو ہی' نکاحی سیاست کہا‬

‫جائے گا' باصورت دیگر وہ بےنکاحی ہو گی۔‬

‫ایک تفہیم میں' یہ بات بھی آتی ہے' کہ امور و‬
‫معاملات کے لیے' سلیمہ اور علالائی پاسداری درکار‬
‫ہوتی ہے۔ جیسے ایک پنجابی' کسی اردو اسپیکنگ‬
‫کو' گالیاں نکال رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں' کہ وہ‬

‫بڑی سنیما سکوپ لسم کی گالیاں تھیں۔ اس سے‬
‫سننے والوں کو حظ مل رہا تھا۔ اعضائے مردانہ و‬
‫زنانہ عذاب میں تھے' تاہم اتنی اذیت میں نہ تھے'‬
‫جتنی عورتوں کی لڑائی میں آ جاتے ہیں۔ گویا وہاں ان‬

‫پر حاویانہ بدنصیبی نازل ہو جاتی ہے۔‬

‫درایں اثناء اردو بولنے والے صاحب کہنے لگے'‬
‫حضرت تمیز سے گالی نکالیے' ورنہ ہم بھی آپ کی‬

‫‪.‬ماں بہن کی شان میں گستاخی کر بیٹھیں گے‬

‫اس میں' سوال علالے کا اٹھتا ہے۔ اگر گالیاں دینے یا‬
‫بکنے والا پنجابی' اردو بولنے والے صاحب کے'‬
‫علالہ میں تھا تو یہ کھلی دو نمبری تھی۔ اسے' ان‬
‫کے علالے کا طور' اختیار کرنا چاہیے تھا' جیسے‬
‫ضمائر کے استعمال میں' میں کر رہا ہوں۔ اگر اردو‬

‫بولنے والا' پنجابی کے علالہ میں تھا' تو یہ دو نمبری‬
‫نہ تھی۔ اس کے علالہ میں ہر گالی نکاحی' جب کہ اس‬

‫کے علالہ میں بےنکاحی تھی۔‬

‫مؽرب کا اپنا رواج ہے' اس لیے معاملے کو' ان کے‬
‫اصولوں کے تحت نہیں لیا جا سکتا۔ یہاں نکاح کے'‬
‫اپنے اطوار ہیں۔ فریمین سے' الگ الگ گواہان کی‬
‫موجودگی میں' لبولیت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔‬
‫ہاں کی صورت میں' وہ ایک دوسرے کے لیے' جائز‬
‫ہو جاتے ہیں۔ کسی سے' کتنا ہی تعلك پیار ہو' بلانکاح‬
‫وہ ایک دوسرے کے لیے' دو نمبری ہوں گے۔ اگرچہ‬
‫دونوں طرح سے' کام اور نتائج ایک سے ہی ہوتے‬
‫ہیں لیکن جائز اور ناجائز کی حدود' لائم رہتی ہیں۔ پہلا‬
‫طور' عرؾ عام میں آ کر' ایک مستمل نام کا مستحك‬

‫ٹھہرتا ہے جب کہ دوسری صورت میں' پوشیدگی‬
‫ضروری ہوتی ہے' ورنہ علالہ میں گڈا بندھ جاتا ہے۔‬
‫گویا نکاح میں' معاملہ عرؾ عام میں آ جاتا ہے' اس‬

‫لیے درست اور جائز لرار پاتا ہے۔‬

‫میری بیوی مجھے‬
‫بات چیت میں نااہل‬
‫خریداری میں نکما‬

‫تھوڑ دل‬
‫لرار دے دے تو ؼلط یا دونمبری نہ ہو گی' کیوں کہ‬
‫سب جانتے ہیں' کہ میں اس کا بندہءناچیز ہوں۔ مالک‬

‫اپنے بندے کو' کچھ بھی کہہ سکتا ہے یہ اس کا‬
‫نکاحی استحماق ہے۔ جس سے معتوب خاوند بھی'‬
‫انکار نہیں کر سکتا۔ کھوتی ریڑی والے کو میں صرؾ‬
‫اتنا جانتا ہوں' کہ کھوتی ریڑی ڈرائیو کرتے اکرام‬
‫راہی کا گانا گا رہا تھا یا پھر ریڑی کا مارنا مجھے یاد‬
‫ہے۔ وہ کون تھا کہاں رہتا تھا میں نہیں جانتا۔ میں‬
‫اسے کس حساب میں' وہ کچھ کیسے کہہ سکتا ہوں‬
‫جو عرؾ میں نہیں حالاں کہ میں نے' اسے دیکھا تھا۔‬
‫میں اسے زیادہ سے زیادہ بےسرا اور بےمہارا کہہ‬
‫سکتا ہوں اگرچہ یہ بھی' عرؾ عام میں نہیں۔ گویا‬

‫اصولا میں اسے بےسرا اور بےمہارا بھی نہیں کہہ‬
‫سکتا۔ میری بیوی اگر اسے وہ وہ کچھ کہہ دیتی جو‬

‫عرؾ میں نہیں' یہ دو نمری ہو گی ہر دو نمبری‬
‫بےنکاحی ہوتی ہے۔‬

‫ساختیات کے مطابك' کوئی تشریح اور معنویت آخری‬
‫نہیں۔ تحمیك کا بھی' یہی اصول اور کلیہ ہے۔ کسی بات‬

‫کو آخری لرار دینا' مزید کے دروازے بند کرنا ہے۔‬
‫اضافہ' کمی اور تردید کا دروازہ' ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔‬

‫بعض اولات' ماخذ وہ ہی رہتا ہے' لیکن بہتری کی‬
‫صورتیں نکلتی رہتی ہیں۔ مارکونی کی ایجاد' ریڈیو ہی‬
‫کو لے لیں۔ لہروں کا نظام وہ ہی ہے' لیکن اس سے‬
‫بہت کچھ تیار کر لیا گیا' کہ حیرت ہوتی ہے۔ اصل دکھ‬
‫کی بات تو یہ ہے' کہ مادہ کے کھوجی کو بھلا دیا گیا‬
‫ہے۔ خیر جو بھی صورت رہی ہے' اس سے یہ بات‬
‫ضرور کھلتی ہے کہ تحمیك میں کچھ بھی حرؾ آخر‬
‫کے درجے پر فائز نہیں۔ بالکل اسی طرح کسی تشریح‬

‫و معنویت' یہاں تک کہ ہئیت اور تلفظ کو' آخری‬
‫ہونے کا درجہ نہیں دیا سکتا۔‬

‫لفظ اگر متحرک ہیں اور کسی ناکسی حوالے سے‬

‫ممامی و ؼیر ممامی ولائیتوں میں مہاجرت اختیار‬
‫کرتے ہیں تو ان کی ہئیت' تلفظ' مکتوبی اشکال' اور‬
‫معنویت میں بھی' ہرچند تبدیلی آتی رہتی ہے‪ .‬اس‬

‫تناظر میں' میرا کہا گیا' حرؾ آخر نہیں۔ مرکب‬
‫بےنکاحی گالیوں کے اور بہت سے مفاہیم سامنے آتے‬

‫جائیں گے۔‬

‫گیارہ ہتھیار اور منشی گاہیں‬

‫بالادستی' زورزبردستی اور دھکہ شاہی کے لیے'‬
‫گیارہ لسم کے ہتھیار درکار ہوتے ہیں۔‬
‫مال و منال کی فراوانی ‪1-‬‬
‫کہو کچھ کرو کچھ ‪2-‬‬
‫باسلیمہ سچ مارنے کا ڈھنگ ‪3-‬‬

‫سنے اور جانے بؽیر' فیصلہ یا معمول جواب دینے ‪4-‬‬
‫کا علم‬

‫باجواز اپنی منوانے کی شکتی ‪5-‬‬

‫بااعتماد اور فرض شناس مخبر میسر ہوں ‪6-‬‬
‫لوگوں کے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ ‪7-‬‬
‫بےحس اور اپنے معاملہ میں' ضرورت سے زیادہ‬

‫باحس ہوں‬
‫میں نہ مانوں' کے گر خوب جانتے ہوں ‪8-‬‬
‫سو کے ممابلہ میں ایک سو دس جواذ ملکیت میں ‪9-‬‬

‫رکھتے ہوں‬
‫بدعنوانی کو عنوانی اور ان کے کارناموں کے ‪10-‬‬

‫گن لکھار اور ڈگاگزار موجود ہوں‬
‫چپ اور متواتر چپ کی چادر اوڑھے رکھنا کے ‪11-‬‬

‫ہنر سے بہرہ ور ہوں۔‬

‫اس طور کے گیارہ پتے' اگر ہاتھ میں ہوں گے تو‬
‫مات کھانے کا' سوال ہی نہیں اٹھتا۔ مات اسی ولت ہو‬
‫گی' جب ان میں سے' دو ایک کی کمی ہو گی یا وہ کم‬
‫زور ہوں گے۔ حال کیا' ماضی کے حکمرانوں اور ان‬

‫کی بؽل بچہ منشی شاہی' ان اعلی اور بااصول‬
‫خصوصیات کی حاملہ رہی ہے۔ لہذا یہ سب روایت میں‬
‫چلا آتا ہے۔ آج کی منشی گاہیں کوئی نیا نہیں کر رہیں۔‬

‫پردھان منشی نگر کے باسیوں کے پاس' روز اؤل‬

‫سے یہ گیارہ ہتھیار موجود رہے ہیں۔ ولت کے ساتھ'‬
‫انہیں جلا ملتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھنے خاں‬
‫سے پھنے' ان کے سامنے کسکتا تک نہیں۔ پیٹھ‬
‫پیچھے تو لوگ' شاہوں کے بھی گنہگار ہوتے رہتے‬
‫ہیں۔ بات تو تب ہے' جب کوئی منہ کے سامنے اپنا ان‬
‫دھوتا منہ کھولے۔ یوں للہ بازیاں کھائے گا' جیسے‬
‫مکی کے دانے' کڑاہی میں پھڑکتے اور تڑپتے ہیں'‬

‫بلآخر پھلا ہو کر رہتے ہیں۔‬

‫ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق' ماتحت‬
‫چھوٹے بڑے منشی ہاؤس' بڑی دیانت داری اور اصول‬
‫پرستی سے' پردھان منشی نگر کے اصول ہائے ہائے‬

‫زریں‬
‫۔۔۔۔۔۔ ہائے ہائے کتابت کی ؼلطی ہے' اسے اصول ہا‬

‫پڑھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫پر عمل درامد کرتے آ رہے ہیں۔ وہ ان گیارہ ہھتیاروں‬
‫کو چمکا کر' گرہ میں رکھتے ہیں۔ ملک کی دن دوگنی‬
‫اور رات چوگنی ترلی میں' جہاں اور عناصر کا ہاتھ‬
‫ہے' وہاں کاؼذی کاروائی میں' ان اداروں کی' شبانہ‬
‫کپتی روز خدمات اور محنت کو' نظر انداز نہیں کیا جا‬
‫سکتا' جو آلو کو الو بنا دینے میں' کمال کی مہارت‬

‫رکھتے ہیں۔ مخبرین دس باؼیوں کے ساتھ' نوے اپنے‬
‫مخالفیں کو بھی' پھٹے چڑھاتے آ رہے ہیں۔ چلو جو‬
‫بھی سہی' حمی سچی بات تو یہی ہے' کہ اس ممدس‬
‫اور عزت مآب نگر اور دیگر ہاؤسز کے' دس باؼی تو‬

‫ٹھکانے لگاتے ہیں۔‬

‫ان کے کار ہائے نمایاں کی فہرست بڑی لمبی چوڑی‬
‫ہے' اسے رلم کرنے کے لیے' اگر آسمان کاؼذ' سمندر‬
‫سیاہی اور موجود ارض ہا کے درخت' للم بن جائیں'‬

‫تو بھی رلم نہ ہو پائیں گے۔ ہر کارنامہ اپنے باطن‬
‫میں' شوخی اور چٹانی سختی رکھتا ہے۔ چوری خور‬

‫مورکھ' زیادہ تر شاہوں کی' خصیہ اٹھائی میں‬
‫مصروؾ رہا ہے۔ ادھر اس کی بہت کم توجہ گئی ہے۔‬
‫اسی طرح ماہرین لسانیات نے بھی' انہیں بری طرح‬
‫نظر انداز کیا ہے۔ بدلسمتی سے' میں ماہر لسانیات‬
‫نہیں' ورنہ اپنی بمیہ سانسیں' ان کی تحریررات کے‬

‫لسانی مطالعہ میں گزارتا۔‬

‫نامہ بر سے' لوگوں کو گلہ ہی رہا ہے۔ ؼالب ایسا‬
‫فراخ دل اور سمندر فکر' تحفظات کا شکار تھا۔ اب‬
‫دیکھیے' کہاں میں جدید عہد کا آدمی' جس کی گھڑی‬

‫پر چھے اور عملی طور پر' آٹھ بج رہے ہیں۔ آج‬
‫سرکاری پترکدے بڑے جدید ہو گیے ہیں۔ اس کے‬
‫باوجود' لوگوں کی ترجیح میں ؼیرسرکاری پتر گاہیں‬
‫ہیں' حالاں کہ وہ سرکاری کی نسبت کہیں رلم دراز‬

‫ہیں۔‬

‫یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے' مجھے ردی کاؼذوں‬
‫میں' ایک تحریر ملی' جس پر مرلوم ہے‬

‫محترم پوسٹ ماسٹر صاحب‬
‫اسلام آباد‬

‫‪.................‬‬

‫از راہ کرم پٹرول پمپ کے سامنے لیٹربکس کو لفل تو‬
‫لگائیے تا کہ خطوط محفوظ رہ سکیں۔‬
‫مخلص‬
‫ولار ‪.....‬‬
‫ڈی۔ ‪ '85‬جی۔ ‪4-6‬‬
‫اسلام آباد‬
‫فروری ‪9 1967‬‬

‫یہ خط ' اسلام آباد کے کسی ؼیر مصروؾ' بےفضول‬
‫نکتہ چیں اور دفتر شاہی کے صدیوں پر محیط مزاج‬
‫سے ناآشنا' شخص کا لگتا ہے۔ خط کھلا لانے کا گلہ‬
‫تو بہت پرانا ہے۔ بازور اور باحیثیت لوگ یا مہذب اور‬
‫مستعمل زبان میں' وڈیرا کہہ لیں' ٹیل اٹھائیکر ساتھ‬
‫رکھتے تھے۔ اب چوں کہ ٹیل رکھنے اور اسے چکنے‬
‫کا دور نہیں رہا۔ دوسرا آج ٹیل کیئر یعنی ٹی سی کی‬
‫معنویت ہی بدل گئی ہے۔ اب تفاخر کے اظہار کے لیے'‬
‫گلا کھلا اور ٹانگیں چوڑی کرکے' چلنے کا رواج‬
‫ترکیب پا گیا ہے۔ پوسٹ بکس کا بلا تالہ ہونا اور پٹ‬
‫کھلے ہونا' محکمہ ہذا کی بلند اطواری اور باحیثیت‬

‫مزاجی کا ؼماز ہے۔‬

‫اس خط یا درخواست کے آخر میں' سرخ روشنائی میں‬
‫کوئی حکم تو درج نہیں ہاں البتہ' اسی تاریخ میں‬

‫‪lock applied‬‬
‫درج ہے ۔ یہ واضح نہیں کہ پوسٹ بکس کو تالا لگایا‬

‫گیا یا درخواست گزار کی زبان بند کر دی گئی۔‬

‫‪1967‬‬
‫میں بازوری کی کیفیت' آج سے لطعا مختلؾ نہ تھی۔‬

‫وہ لوگ بھی' درج بالا ہتھیاروں سے' لیس تھے۔ آج‬
‫کو' درج بالا ہتھیار وراثت میں ملے ہیں۔ مشین گن اور‬
‫سٹین گن ‪ 1914‬میں استعمال میں آئی تھیں۔ مشین گن‬
‫کے لیے' پان سات لوگ ہوا کرتے تھے۔ یہ جدید اور‬
‫ٹیڈی ہو گئی ہے' اس لیے اسے اٹھانے کے لیے' ایک‬
‫آدمی ہی کافی ہوتا ہے۔ گویا مشین گن کل بھی تھی' آج‬

‫بھی ہے۔‬

‫نامہ ہاؤس سے' میرا خادمی و مخدومی کا تعلك' کل‬
‫بھی تھا' آج بھی بھی ہے۔ میں نے' ان کی کوتاہی کو‬
‫اپنی کوتاہی سمجھ کر درگزر کی کٹیا میں' پناہ لی ہے۔‬
‫ایک بار' درخواست گزاری کی حمالت' مجھ سے بھی‬
‫سرزد ہوئی۔ ہوا یہ کہ میں نے' اپنے بیٹے کو کچھ‬

‫اشیاء کا پارسل' وزنی تین کلو آٹھ سو نوے گرام'‬
‫سرکاری ڈاک سے' اسٹریلیا بھجوایا' رولتا کھلتا'‬
‫میرے پاس بلاخریت آ گیا۔ سلیز ٹوٹی ہوئی تھیں۔‬
‫اسٹریلین ڈاک ہاؤس یا اس سے متعلمہ کسی اتھارٹی‬
‫کی' مہر ثبت نہ تھی۔ میں نے ڈاک پر خرچ آنے والے‬
‫‪ 2685‬روپے کی' واپسی کے لیے بڑے ہی مودبانہ‬

‫اور عاجزانہ انداز میں' درخواست گزاری۔‬

‫پارسل کھولا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔‬

‫اس مینبھیجے گیے سامان کی بجائے بانٹیوں'‬
‫سلانٹیوں' گولیوں وؼیرہ کے خالی کور اور پنے‬
‫پائے گیے۔ نہایت بوسیدہ اور پرانے مردانہ کپڑوں کے‬
‫جوڑے دستیاب ہوئے۔ میں نے الله کا لاکھ شکر ادا کیا‬
‫کہ یہ پارسل میرے بیٹے' بہو اور پوتی تک نہیں‬

‫پہنچا۔‬
‫پیرہ نمبر ‪4‬‬
‫درخواست بنام پوسٹ ماسٹر جنرل‬
‫مورخہ ‪2011-5-13‬‬

‫میں نے دوبارہ سے سامان خریدا اور‬

‫‪LEOPRDS COURIER SERVICES PVT.‬‬

‫‪LTD‬‬
‫سے اسی ایڈریس پر بھیجا۔ پارسل پوری خیر خریت‬
‫کے ساتھ' تھوڑے ہی دنوں میں' منزل ممصود تک جا‬
‫پہنچا۔ میں نے الله کا شکر ادا کیا۔ چوں کہ یہ پرائیویٹ‬
‫سروس تھی اور مجبورا زیادہ پیسے بھرے تھے' اس‬
‫لیے الله کا شکر ادا کیا' ورنہ سرکاری شکریہ' مجھے‬

‫شرک کی دہلیز کے اس بار کر دیتا۔‬

‫دو سرکاری چھٹیاں ملیں۔‬
‫ڈویژنل سپرنٹڈنٹ پوسٹل سروسز کے آخری جملے‬

‫میں مشورہ دیا گیا‬

It is requested to kindly take up the
matter with the Ausralian postal
Authorities, for this purpose, if
admissionable as per rules.

‫اس جملے کو لائك توجہ نہ سمجھا گیا۔ آفس آؾ دی‬
‫کنٹرولر آئی ایم او لاہور نے کچھ یوں کاروائی فرمائی‬

As regards the sender claim
regarding booking charges, it is also
not justified from any angle. As the

booking charges were paid by the
sender for the transmission of the

parcel to Australia and our
department has no fault for return of

this parcel from Australia

‫گویا سرکاری ڈاک سے' عدم رابطہ کے سبب' بیرون‬
‫ملک پارسل بھجوانا' کھلی حمالت سے کم نہیں۔ میری‬
‫سادگی دیکھیے' میں سرکاری چٹھیوں کو' اپنے نام‬

‫سمجھ رہا تھا اور یہی سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے‬
‫ہتھیار نمبر‪ 11‬پھیکتے ہوئے' پہلی درخواست پر‬
‫کاؼذی کاروائی بھی کی ہے اور درخواست کا جواب‬
‫بھی دیا ہے۔ ہاں البتہ' دوسری درخواست کو ہتھیار‬
‫نمبر ‪ 11‬سے بلا تکبیر ذبح کر دیا گیا ہے۔ جب ؼور‬
‫کیا تو معلوم ہوا مجھے تو کبھی جواب ہی نہیں دیا گیا۔‬
‫یہ سب تو ان کی اپنی گٹ مٹ تھی۔ مجھے تو محض‬
‫اطلاعی نمول بھیجی گئی تھیں۔ ہتھیار نمبر ‪ 11‬کی‬
‫عزت' احترام اور ولار' پورے پہار کے ساتھ اپنی جگہ‬
‫پر موجود تھا۔ ہاں البتہ حسب ضابطہ اور لانون چپ‬

‫کے تحت میں بلا تکبیر ذبح ہو گیا تھا۔‬

‫ایم فل الاؤنس‬
‫اور‬

‫میری معذرت خوانہ شرمندگی‬

‫پیسہ' طالت' ہتھیار اور اختیار بولتے نہیں' سر چڑھ‬
‫کر' گرجتے اور برستے ہیں۔ وہ زندگی اپنے طور اور‬
‫اپنی مرضی سے بسر کرتے ہیں۔ کون جیتا اور کون‬
‫مرتا ہے' انہیں اس سے کوئی ؼرض نہیں ہوتی۔ انہیں‬
‫کبھی اور کسی سطح پر' یہ امر خوش نہیں آتا کہ ان‬
‫کے سوا' کوئی اور بھی ہے۔ زندگی کی پگ ڈنڈی پر‬
‫چلتے لوگ' لوگ نہیں' محض ؼلاظت بھرے کیڑے‬
‫لگتے ہیں۔ ان کے لیے' ان کے پاس حمارت اور نفرت‬

‫کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ انہیں اپنے گراں لیمت‬
‫جوتے سے' ٹھوکر لگانا بھی پسند نہیں کرتے' مبادہ‬
‫آلودہ ہو جائیں گے۔ ایسے کام کے لیے' ان کے پاس'‬

‫چمچوں کڑچھوں کی کمی نہیں ہوتی۔‬

‫پیسہ' طالت' ہتھیار اور اختیار خود کو اٹل اور مکمل‬
‫سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک' ان کا کیا اور کہا' ہر‬
‫کجی سے بالاتر ہے۔ اس پر انگلی رکھنا' موت اور‬
‫دکھ درد کو ماسی کہنے کے مترداؾ ہوتا ہے۔ چوری‬
‫خور مورکھ اور لصیدہ گزار شاعر' اس سب کو' الوال‬

‫و افعال زریں لرار دے دیتا ہے۔‬

‫جہاں کہیں یہ باطورگیسٹ' باطلاع یا بلا اطلاع ورد‬
‫ہوتے ہیں' پروٹوکول' حفاظت اور دوسرے معاملات‬
‫کے حوالہ سے' وختہ پڑ جاتا ہے۔ لوگوں کو سمجھ‬
‫نہیں آتا کہ انہیں بٹھائیں کہاں' ڈکارنے اور پھاڑنے‬
‫کے لیے 'کیا پیش کریں۔ اس ذیل میں' جملہ چمچگان‬
‫اپنے پیچھے کا پورا زور لگا دیتے ہیں۔ یہ سب کرنے‬
‫کے باوجود' انسان ہونے کے ناتے' کہیں ناکہیں کوئی‬
‫کمی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ سارے کیتے کترائے پر'‬
‫پانی پھر جاتا ہے۔ کسی چہاڑ چھنب کے باوجود' انہیں‬
‫ؼصہ نہیں آتا۔ ؼصہ کرنے کا' انہیں حك بھی حاصل‬
‫نہیں ہوتا۔ وہ کسی اگلی بار' اس کمی کوتاہی کو دور‬

‫کرنے کا' اپنی ذات سے عہد باندھ لیتے ہیں۔‬

‫پیسہ' طالت' ہتھیار اور اختیار کی معمولی خوشی پر'‬
‫رو بہ رو ہی نہیں' دور دراز علالوں میں رہتے ہوئے‬
‫لوگ' دوہائی کا جشن مناتے ہیں۔ ظاہری اور باطنی‬

‫سطح پر' وہ خالص اور اصلی ہی دکھائی پڑتا ہے۔‬
‫درحمیمت انہیں معلوم ہوتا ہے' کہ مخبر کی آنکھیں‬
‫کھلی اور معاملہ شناس ہوتی ہیں۔ دوسرا ممامی حرؾ‬
‫گر' منٹ منٹ کی خبریں' لرطاس ہنر پر رلم کر رہا‬

‫ہوتا ہے۔ وہ اس ساری عمومی کوشش کو' حتی‬
‫الممدور اپنی کوشش اور خوشی ثابت کرنے کی‬
‫کوشش کرتا ہے۔ زیادہ تر کامیاب بھی ٹھہرتا ہے اور‬
‫آوٹ آؾ ٹرن ترلی بھی حاصل کر لیتا' ورنہ گڈ بک‬
‫میں اس کا نام نامی اسم گرامی' زعفرانی روشنائی‬
‫سے' بلاتکلؾ درج ہو جاتا ہے اور کسی دوسرے‬
‫ولت' پچھلے کیے کا بھی انعام گرہ لگتا ہے۔‬

‫معمولی ناسازی طبع' یا گماشتے جی حضوری میں'‬
‫اپنے کمال کا شیرہ ڈال کر' شفا گاہوں کے درودیوار‬
‫اور ان کے اکڑوند باسی' ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ گویا یہ‬
‫پہلی ترجیح کلاس ایمرجنسی ہوتی ہے۔ اس ڈرامے‬

‫کے دورانیے میں' کتنے بی اور تھرڈ کلاس'‬
‫ایمرجنسی میں پڑے لوگ' جان سے جاتے ہیں یا جان‬

‫جانے کی اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں‪ .‬یہ سب' کسی‬
‫کھاتے پر نہیں چڑھتا' ہاں یہ پہلی ترجیح پلس‬
‫ایمرجنسی' یادوں کے کھاتے پر چڑھ جاتی ہے۔‬

‫میں نے پیسہ' طالت' ہتھیار اور اختیارکو' کوئی‬
‫شخصی نام نہیں دیا' کیوں کہ یہ خود کو فرعون کی‬
‫پیروی میں خدا نہیں کہتے' حالاں کہ ان کا کہنا اور‬

‫کرنا' فرعون کا سا ہی ہوتا ہے۔ انسان اس لیے نہیں‬
‫کہا جا سکتا' کہ وہ انسانوں کو کیڑے مکوڑے‬

‫سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سے عبرت لینا' ان کے مزاج‬
‫میں داخل نہیں ہوتا۔ فنا کا فلسفہ اور ان گنت مثالیں'‬
‫ان کے مزاجی نالج میں داخل نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی'‬

‫یاد دلانے کی کوشش میں' سدھار اور ان ہی کی‬
‫خیرخواہی کا جتن کرتا ہے' تو جان سے جاتا ہے۔ گویا‬
‫فنا ان کے لیے نہیں ہے اور مالک کے دربار' ان کی‬
‫حضوری کا کوئی تعلك واسطہ نہیں۔ ہر کوئی ان کے‬
‫حضور حاضری کا پابند ہے۔ زندگی کے آخری موڑ پر‬
‫بھی' دنیا سے جانا یاد میں نہیں آتا اور یہ گمان سے‬
‫نکل نہیں پاتا کہ میں کے لیے فنا ہے اور بما تو صرؾ‬
‫اورصرؾ الله ہی کی ذات کو ہے اور وہ ہی بالی رہنے‬

‫کے لیے ہے۔‬

‫عین لانون لدرت کے مطابك' وہ فنا سے گزرتے ہیں'‬
‫تو فمط چوری خور مورکھ کا لکھا بالی رہ جاتا ہے۔‬

‫اکثر اولات وہ لکھا' متنازعہ ہو جاتا اور عمومی‬
‫حلموں کی تمسیم کا باعث بنتا ہے' جو آتے یگوں میں'‬

‫آتی نسلوں کے لیے نمصان کا باعث بنتا ہے۔ یہ‬
‫چاروں آواگونی ہیں' نئے انداز اور نئے روپ کے‬

‫ساتھ نمودار ہو جاتی ہیں' تاہم چلن اور اطوار میں‬
‫تبدیلی نہیں آتی۔ حجاج سفاک تھا' لیکن چرچل اس‬
‫سے کسی طرح پیچھے نہ تھا۔ مسڑ چہاڑی کا ذکر‬
‫امریکی ہونے کے باعث' نہیں کیا جا سکتا۔ جب کوئی‬
‫نئی لوم' ہیرو کے مرتبے پر فائز ہو گی' تو گزرا کل‬
‫آتے لوگوں کے لیے' محض داستان ہو کر رہ جائے‬
‫گا۔ ہوسکتا ہے' نئے کے چکر میں پرانے کو بھول‬
‫جائیں' تاہم مورکھ کی لکھتوں کے باعث' تنازعہ کا‬
‫دروازہ ضرور کھل جائے گا۔۔ ناظر مٹی میں مل کر‬
‫مٹی ہو چکے ہوں گے۔ کسی عارضی اور مصنوعی و‬
‫جعلی لوت کو' بما نہیں۔ لارون اس لیے یاد میں ہے'‬
‫کہ اس کا پالا' الله کے منتخب شخص کے ساتھ تھا۔‬

‫طالت کی بات اپنی جگہ' اس کے خصوصی بلکہ‬
‫عمومی کنکبوتی بھی' انہیں وی آئی پیز کہا جاتا ہے'‬
‫مذکوران سے کہیں زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔ ان کا ڈسا‬
‫پانی بھی مانگ نہیں پاتا۔ بجلی پانی گیس کے بل کیا‬
‫ہوتے ہیں' سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ عید پر لربانی کے‬

‫بکرے' تحفہ میں مل جاتے ہیں۔ ہر چھوٹے موٹے‬
‫تہوار پر' سو طرح کے مہنگے تحفے بلا طلب کیے'‬
‫ان کی دہلیز چڑھنے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔ تہوار‬

‫چڑھانے والا' اس میں فخر محسوس کرتا ہے اور خود‬
‫کو' کنکبوتی کا اپنا آدمی سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سوچ‬

‫اسے' انھی پانے پر مجبور کر دیتی ہے۔‬

‫جنسی تسکین کے لیے' انہیں لڑکی پٹانے کے لیے'‬
‫کسی طرح کا' ویل نہیں کرنا پڑتا اور اس ذیل میں جیب‬
‫ہلکی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بستر نواز' انہیں‬

‫ہر لسم کی محتاجی سے' بچائے رکھتے ہیں۔ یہ ہی‬
‫نہیں' ورائٹی صاحب کے مزاج کے مطابك' بدلتے‬

‫رہتے ہیں۔‬

‫لفافہ کلچر' ان ہی کی دین ہے۔ لفافہ اپنی کارگزاری کا‬
‫جواب نہیں رکھتا۔ یہ لفافے ہی کا کمال ہے' کہ ڈی‬
‫میرٹی کے جملہ داغ دھبے' مٹا دیتا ہے۔ میرٹ کو‬
‫ڈی میرٹ کرنے کے' سارے گن' اس کے گرد رلص‬
‫کرتے ہیں۔ لفافہ بردار کو اگر مسکراہٹ میسر آ جائے'‬

‫تو گویا اس کے بھنے اگ پڑھتے ہیں' ورنہ‬
‫سپلیمنٹری لفافہ پیش کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔‬

‫منشی گاہوں میں بھی' کنکبوتی موجود ہوتے ہیں‪ .‬یہ‬
‫بڑی' بلکہ بہت بڑی شے ہوتے ہیں۔ یہ تو یہ' ان کے‬

‫معاون پی یو سی طراز' بڑے بلند مرتبے پر فائز ہوتے‬
‫ہیں۔ یس کو نو اور نو کو یس میں بدلنے کے ہر گر'‬
‫سے والؾ ہوتے ہیں۔ گویا آسمان سے ٹاکی اتارنا اور‬

‫لگانا' ان پر ختم ہے۔‬

‫خواتین اپنے آپ میں' بڑی شے' بنتی ہیں لیکن نخرہ‬
‫بازی میں' ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہوتیں۔ ہوٹل‬
‫کے کھانے' انہیں اور ان کی گھر والیوں کو' بڑے ہی‬
‫خوش آتے ہیں۔ گرہ خود سے کھانا' رزق حرام کے‬
‫زمرے میں آتا ہے۔ سامیاں اپنے اپنے علالے کی‬
‫سوؼات' لانا نہیں بھولتیں۔ میں میں کرنے کے ساتھ‬

‫ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔ ان کے گھر‬
‫والوں کے لیے' الگ سے شاپر تیار کرواتی ہیں۔ گویا‬
‫وی آئی پیز کے ماحت ہونے کے سبب' داسوں گھی‬
‫میں اور سر کڑاہے میں رہتا ہے۔ گھر کی کسی تلخی‬
‫کا ؼصہ نکالنے کے لیے' سامیاں لدم بوس ہوتی رہتی‬

‫ہیں۔‬

‫کہا جاتا ہے' زندگی کرنا آسان نہیں' ان طبموں میں'‬
‫اس ممولے کا دور تک اتہ پتا نہیں ملتا۔ ہاں آخرالذکر‬
‫طبمے پر' بعد از ریٹائرمنٹ اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ‬

‫طبمے' چوں کہ تعدادی حوالہ سے' زیادہ نہیں ہیں'‬
‫لہذا تعدادی حوالہ سے زیادہ پر' اس کا اطلاق ہوتا‬
‫ہے۔ وہ ناصرؾ ؼیر محفوظ ہوتے ہیں' بل کہ ان گنت‬
‫معاشی معاشرتی اور دفتری مسائل میں' گھرے ہوتے‬
‫ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ دہلیز کے اندر' چھے ستمبر کی‬
‫کیفیت طاری رہتی ہے۔ نہ جی سکتے ہیں اور زندگی‬

‫جیسی بھی سہی' انہیں مرنے نہیں دیتی۔ گویا‬
‫نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‬

‫میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالہ سے بات‬
‫نہیں کر رہا۔ یہاں مسلمان الامت پذیر ہیں۔ یہ ملک اپنی‬
‫بنیادوں میں پروفسر اصؽر سودائی کا یہ نعرہ رکھتا‬

‫ہے۔‬
‫پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله‬
‫یہاں کی طالتیں اور ان کے کنکبوتی بھی بااصول اور‬

‫مجوزہ شرع پر کار بند ہیں۔‬

‫اصولی طور پر کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ دینا تو‬
‫پڑتا ہی ہے۔‬

‫دراصل میں ہی بےاصولا تھا' جو بلاچہڑے' اپنے ایم‬
‫فل الاونس کی حصولی کا ‪ 1997‬سے منتظر رہا۔ بعد‬

‫از ریٹائرمنٹ بھی درخواستیں گزارتا رہا۔ میں خواہش‬
‫مند تھا' کہ اس ممدس بارگاہ کا اعتراض کردہ خط ہی‬

‫میسر آ جاتا' تا کہ تبرکا تعویز بنا کر' گلے میں ڈال‬
‫لیتا۔ بلاشبہ وہاں کی حرؾ کاری' میرے لیے اعزاز‬

‫خسروی سے' کسی طرح کم نہ ہوتی۔ میں اپنی‬
‫درخواست بازی پر نہایت شرمندہ ہوں۔ ویسے بےلیے'‬
‫یہ دے بھی دیا جاتا' تو حاتم کی روح اس لطؾ و عطا‬

‫پر' شرمندہ و نادم ہوتی۔ میرا یہ بمایا' ان کے‬
‫پوٹیکدے پر مہینے میں اٹھنے والے خرچے کا' عشر‬

‫عشیر بھی نہ ہوتا۔‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے‬

‫ایک دفع کا ذکر ہے' تاہم باور رہے اس دفع کا تعلك‬
‫زمانہ لبل از مسیح سے نہیں' یہی کوئی چار چھے ماہ‬
‫پہلے کی بات ہے۔ میں حکیم صاحب سے شفائی پڑیاں‬
‫لے کر' سڑک کے بالکل نکرے لگا واپس گھر آ رہا‬

‫تھا۔‬

‫اگرچہ گھر والوں کو' عمر رسیدگی کے سبب میری‬
‫خاص یا عام ضرورت نہ تھی' اس کے باوجود رواجا‬
‫اور عادت کے ہاتھوں مجبور' آ رہا تھا۔ نہ آتا تب برا‬
‫آتا تب سیاپا۔ جو بھی سہی' ایک مدت سے گھر میرا‬

‫آنا جانا تھا۔ یا یوں سمجھ لیں' گھر آنا‬
‫میری فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ فطرت ثانیہ کو' عادت‬

‫سے مجبور بھی کہا جاتا ہے۔‬

‫ہر کوئی خوب خوب جانتا ہے' سگریٹ انتہائی‬
‫خطرناک ہے' اس کے باوجود پیتا ہے۔ اپنی اصل میں'‬

‫یہ ہی فطرت ثانیہ یا عادت سے مجبوری ہے۔ ہر‬
‫مرتشی جانتا ہے' کہ رشوت خور کو جہنم جانے کی‬
‫خوش خبری دی گئی ہے۔ یہ محض ڈراوا نہیں پتھر پر‬
‫لکیر ہے۔ بےشک لکیر ضعؾ کا ہی سبب نہیں بنتی'‬
‫بزتی بدنامی سے بھی دو چار کرتی ہے اور ہر چند‬
‫تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ سماج میں ابا‬
‫سے' ماما یعنی ماموں کے عرفی نام سے' اپنی جان‬
‫پہچان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ شرمندگی‬
‫سے زیادہ' اس کار دراز میں فخر محسوس کرکے'‬
‫ؼیر متعلك لکیر کی فمیری میں' بڑی دل جمعی اور‬

‫جان فشانی سے' عمر تمام کر دیتا ہے۔ اسی میں‬
‫کامیابی اور کامرانی تصور کرتا ہے۔‬

‫ابھی گھر سے تھوڑا دور ہی تھا کہ پیچھے سے ایک‬
‫کھوتی ریڑھی والا' بڑی تیزی سے آیا۔ شاید اس کے‬
‫پیچھے ہلکا کتا یا پولیس پیچھے لگی ہوئی تھی۔ اس‬
‫کی جلدیوں سے صاؾ ظاہر ہو رہا تھا کہ ایمرجنسی کا‬
‫مریض تھا۔ کچھ معاملات والعتا ایمرجنسی میں داخل‬
‫ہوتے ہیں' کچھ یوں بلاتکلؾ بنا لیے گیے ہوتے ہیں۔‬
‫بعض اولات' ایمرجنسی کی عادت یوں ہی ترکیب پا‬
‫گئی ہوتی ہے۔ اگر اسے ہولناک لسم کی ایمرجنسی‬
‫ہوتی' تو اپنی بےسری آواز میں اکرم راہی کا گانا نہ‬

‫گا رہا ہوتا۔ مجھے بےسری شاید اس لیے لگی کہ‬
‫بلاساز تھی۔‬

‫خیر جو بھی سہی' اس دفع کا ذکر ہے کہ محتاط روی‬
‫اختیار کرنے اور نکرے نکرے چلنے کے باوجود' اس‬

‫نے کھوتی پر تو لابو رکھا' لیکن ریڑھی بےمہار‬
‫ہونے کے باعث' بڑے کرارے بدذوق انداز میں آ لگی‬
‫اور میں منہ کے بل وہ جا گرا۔ مجھے انسانی ہمدردی‬
‫اور صلحہء رحمی کے ناتے ریڑھی سے نیچھے لدم‬

‫رنجہ فرما کر' اٹھانے کی بجائے' یہ کہہ کر بابا ویکھ‬
‫کے چل' چلتا بنا۔‬

‫اس بار کے ذکر میں اصل حیرت کی بات یہ تھی کہ‬
‫اسے روکنے کی بجائے اکرم راہی کے سر میں کہے‬

‫گیے باوزن جملے‬
‫بابا ویکھ کے چل‬
‫پر لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ میں ان کی پیروی‬
‫میں' زہے نصیب ہنس تو نہ سکا' البتہ بےہوش سا‬
‫ضرور ہو گیا۔ مجھ پر اس جملہ نما مصرعے پر‬
‫بےہوشی کے ساتھ 'چوٹ بھی آئی اور درد بھی اٹھ‬
‫رہا تھا۔ اس کے بعد کا ذکر ہے' کہ کئی دن بستر لگا‬
‫رہا۔ خرچہ اٹھا اور حضرت زوجہ ماجدہ کی بڑبڑ اور‬
‫کڑ کڑ بھی سنتا رہا۔‬

‫اول آلذکر اور آخرالذکر کوئی نئی چیز نہ تھے۔ یہ‬
‫دونوں معمول میں داخل تھے۔ آخرالذکر تو میری‬
‫زندگی میں ہمزاد کی طرح داخل رہے ہیں۔ عزت بچانے‬
‫اور جان کی امان پانے کے لیے' بیگمی بڑبڑ اور‬
‫گرجن برسن بہرطور ضروری تھا۔ ضمنا اس سے'‬
‫تھوڑا پہلے کا ذکر ہے کہ اچانک میرے سینے میں‬

‫شدت کا درد اٹھا' میں نے بصد احترام اپنی اوپر والی‬
‫زوجہ ماجدہ کو آواز دی‬
‫زکراں۔۔۔۔۔ زکراں۔۔۔۔۔۔زکراں‬

‫کافی دیر بعد سہی' بڑی مہربانی فرماتے ہوئے تشریؾ‬
‫و ؼضب لے کر آ گئی۔‬

‫گھورتی نظروں کے ساتھ پوچھا‪ :‬کیا ہے' کیوں چیخ و‬
‫پکار رہے ہو۔‬

‫سراپا احترام میں ؼرق آواز کو چیخ و پکار کا نام دے‬
‫رہی تھی۔‬

‫خیر میں نے منمناتے ہوئے کہا‪ :‬سینے میں سخت درد‬
‫اٹھ رہا ہے' لگتا ہے جا ہوں۔‬

‫بس اتنی سی بات پر آوازیں دے رہے تھے۔ میں گھبرا‬
‫گئی تھی' پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔‬
‫'میرا خیال تھا کہ کہے گی‬

‫ہائے میں مر گئی' جائیں آپ کے دشمن۔‬
‫بہرکیؾ تکلیؾ اپنی جگہ میری خوش فہمی کرچی‬

‫کرچی ہو گئی۔‬

‫پہلے دفع کے ذکر میں ثانی الذکر کا تذکرہ بالی ہے۔‬
‫تکلیفیں تو زندگی میں آتی جاتی رہتی ہیں۔ لکشمی‬
‫ایک بار ہاتھ سے نکل جائے' تو پھر دوسری بار بڑے‬

‫نصیب محنت' مشمت اور گراں لدر ہیرا پھیری سے‬
‫ہاتھ لگتی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ حضرت بےؼم‬
‫صاحبہ کو' میری ہی جھڑی ہوئی ناچیز رلم' میرے‬
‫علاج معالجے پر خرچ کرنا پڑی۔ تاہم اس بار اس کی‬
‫توپ کا دھانہ میری طرؾ ہی نہ رہا۔ کھوتی ریڑھی‬
‫والے کا اٹھتی بیٹھتی خصوصا' دوا دارو کے حوالہ‬

‫سے جھڑتی ناصرؾ بےحجاب گالیاں بکتی بلکہ‬
‫بدعائیں بھی دیتی۔ اس پر مجھے رائی بھر افسوس نہ‬
‫ہوتا۔ پتا نہیں بدعاؤں کے نتیجہ میں اس کا کچھ ہوا یا‬
‫نہیں' میں اس کی خبر نہیں رکھتا۔ ہاں جب ڈاکٹر کو‬
‫جھڑنے کے ردعمل میں گالیاں بکتی یا بد دعائیں دیتی‬
‫تو مجھے بہت برا لگتا۔ ان کا رویہ لصابی سہی ' پھر‬
‫بھی ؼیرفطری انداز میں کسی حد تک گراں وصولی‬

‫کے ساتھ مریضوں کے کام تو آتے ہیں۔‬

‫میرے' سب کے الله کا ہر کرنا پرحکمت' پرعدل' برحك'‬
‫برمولع' ہر لسم کی کجی خامی سے بالاتر' بے‬
‫مشاورت' بلا تعاون اور آلودگی و آلائش سے پاک‬
‫ہوتا ہے۔‬

‫اس اٹل حمیمت کے باوجود' میں سوچنے پر مجبور ہو‬
‫گیا کہ الله نے گریب اور کم زور طبمے کو' پیچھے‬

‫دیکھنے کی شکتی کیوں عطا نہیں فرمائی۔‬

‫ممتدرہ اور ان کے دور نزدیک کےگمشتگان کو' اس‬
‫کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پیچھے پیچھے چلتے'‬
‫بڑی باریک بینی سے دیکھنے کا فریضہ انجام دیتے‬
‫ہیں۔ خیر ان کے آگے چلنے والے لاٹھی بردار' لوگوں‬
‫کو پیچھے دیکھ کر چلنے کی دعوت دیتے آئے ہیں۔‬
‫دائیں بائیں چلنے والے' ان کے لریب نہ جانے کی'‬
‫باذریعہ لاٹھی' دعوت دیتے آ رہے ہیں۔ آج یہ رویہ‬
‫کچھ نیا نہیں ہمیشہ کا ہے۔ جب بادشاہ کی بگی گزرتی'‬
‫لاٹھ بردار دائیں بائیں اورسٹرک پر چلنے والوں کے‬
‫خوب پاسے سیکتے۔ یہ کھلا درس ہوتا' کہ شاہ اور‬
‫اس کے دور نزدیک کے جھولی چھولی چکوں کے‬

‫لریب جانے سے پرہیز رکھو۔‬

‫اس کھلی وراننگ اور الڑٹ کے باوجود' لوگ بڑے‬
‫بےاثرے اور ڈھیٹ رہے ہیں۔ ان کی مثل ایسی رہی‬

‫ہے۔‬
‫پلے نئیں دھیلا کر دی پھرے میلہ میلہ‬
‫جب جیب خالی ہے' تو پرائیویٹ ڈاکٹروں اور سرکاری‬
‫ہسپتالوں میں کیا لینے جاتے ہو۔ 'موت کا ایک دن‬

‫معین ہے' سب جانتے ہیں' اس کے باوجود پرخراٹا‬
‫نیند سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر' یا بےایمانی تیرا‬
‫آسرا' کہہ کر کام پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ بیمار کو'‬
‫زندگی میں پہلی بار' بیماری نہیں ہوتی' جو فکرمندی‬
‫سے کام لیا جائے۔ سانیس بالی ہوئیں تو اسے کچھ‬
‫نہیں ہو گا۔ اتنے تردد کی ضرورت کیا ہے۔ دوسرا‬
‫ڈاکٹر فیس رکھوائی اور ٹسٹ لکھائی کے سوا' جانتے‬

‫ہی کیا ہیں۔ اس سے تین فائدے ہوں گے۔‬
‫فضول خرچی نہ ہو سکے گی اور وہی رلم' گھر کے‬
‫کسی دوسرے رفاعی کام میں' صرؾ ہو سکے گی۔‬

‫جب مریض مرے گا' دیکھا جائے گا' کامے تسلی‬
‫سے' اپنے اپنے کام پر جا سکیں گے۔‬

‫مریض گھر پر' بڑی تسلی سے' اپنی آئی پر' اپنے‬
‫‪.‬بستر پر دم توڑے گا‬

‫شاہ اپنی عیش کوشی اور تاج محل سازی کے لیے'‬
‫بےمعنی اور بےمعنی ٹیکس وصول کرتے ہیں' تو‬
‫واپڈا' ٹیلی فون' اکاؤنٹ آفس' نادرہ والے وؼیرہ کس‬
‫حساب میں' مفتوں کے کیوں کام کریں۔ اعلی شکشا‬
‫منشی اور اس سے متعلك وصولی گاہوں نے' کمال کی‬
‫انھی مچا رکھی ہے۔ کوئی کام ہو یا کسی حك کی‬

‫وصولی کا معاملہ ہو'تو صبر شکر سے کام لیں۔ آخر‬
‫یہ صبر شکر ہوتے کس لیے ہیں۔ میں بھی ایسی‬
‫حمالتیں کرتا رہا ہوں۔ مجھے ناکامی نامرادی اور‬

‫خطرناک چپ کے سوا' کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ اپنے ایم فل‬
‫کے الاؤنس کے لیے ‪ 1997‬سے درخواست بازی کرتا‬
‫آ رہا ہوں۔ جواب میں خوفناک چپ کے سوا کچھ ہاتھ‬
‫نہیں لگا۔ اب میں نے بھی ؼصہ میں آ کر' پکی پکی‬

‫چپ وٹ لی ہے۔ نئیں تے ناسہی۔‬

‫انھیں اپنے موجود یا سابمہ کارکنوں کی پرواہ نہیں'‬
‫تو میں ان کے کیوں لدم لیتا رہوں۔ ایک سوچ یہ بھی‬
‫آتی ہے' کہ بار بار ان کے بیش بہا جوتے چھونے‬
‫سے' گربت' عسرت' بےچارگی' بےبسی اور میں میں'‬

‫کی آلودگی منتمل تو ہو گی ہی۔ بےشک یہ معاملہ‬
‫سوچن ایبل ہے۔‬

‫ایک دفع کے ذکر کے حوالہ سے' ایک بات ذہن میں‬
‫آتی ہے' اگر ممتدرہ طبمہ حکم جاری کر دے' کہ ہر‬
‫چھوٹی بڑی گاڑی خصوصا ریڑھی والے' چار نہیں تو‬
‫دو ملازم رکھے' جو آگے آگے چل کر لوگوں کو‬
‫پیچھے کے احوال سے آگاہ کرتے جائیں۔ اس سے' ان‬

‫کے ایک طبمہ کی مٹھی گرم ہوتی رہے گی۔‬
‫بےروزگاروں کو روزگار مل جائے گا۔ بےگناہ'‬
‫کوسنوں اور بےنکاحی گالیوں سے بچ جائیں گے۔‬

‫مکرمی و محترمی حسنی صاحب‪ :‬سلام علیکم‬
‫مدت ہوئی کہ آشتیءچشم وگوش ہے! کتنا عرصہ ہوگیا‬
‫کہ آپ سے نیاز حاصل نہ کر سکا۔ اس زندگی اور اس‬

‫کے خراج کا برا ہو کہ اپنے بیگانوں سے سلام دعا‬
‫بھی اب ہونا مشکل ہوچلا ہے۔ معذرت خواہ ہوں۔ امید‬
‫ہے کہ اپ بعافیت ہوں گے۔ للم کی شگفتگی تو بظاہر‬
‫بدستور لایم ہے‪،‬الله سے دعا ہے کہ آپ بذات خود بھی‬
‫حسب معمول شکفتہ ہوں۔ آپ کا انشائیہ حسب دستور‬
‫سابك دلچسپ اور پر لطؾ ہے۔ پڑھتا رہا اور مزے لیتا‬
‫رہا۔ اور جب "بے نکاحی" گالیوں تک پہنچا تو بے‬

‫اختیار لہمہہ منھ سے نکل گیا۔ کیوں صاحب یہ‬
‫"نکاحی" گالیاں کیسی ہوتی ہیں؟ دو ایک مثالیں‬
‫عنایت فرمائیں تاکہ فرق معلوم ہو سکے۔ آپ کی زبان‬
‫میں جا بجا پنجابی کا چٹخارہ لگا ہوتا ہے جو عجیب‬
‫مزا دیتا ہے۔ پنجابی ویسے خاصی کھردری زبان ہے‬

‫لیکن مزاح میں خوب کام آتی ہے۔ انشائیہ پر خادم کی‬
‫داد حاضر ہے۔ اسی طرح لکھتے رہئے اور ثواب‬
‫دارین سمیٹتے رہئے۔ اور ہاں "نکاحی" اور "بے‬
‫!نکاحی" گالیوں کا فرق ضرور بتائیں‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪10041.0‬‬

‫الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی پرزور اپیل‬

‫بخدمت جنابہ حکومت صاحبہ‬

‫عنوان‪ :‬درخواست بسلسلہ الیکشن کی تاریخ بڑھانے‬
‫اور متواتر بڑھاتے رہنے‬

‫جناب عالیہ‬

‫بندہءناچیز بصد احترام و احتشام عرض گزار ہے کہ‬

‫ملک اور اس کے عوام' پرکھٹن حالات سے گزار‬
‫رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر'‬
‫الیکشنوں کا اہتمام کرکے' ہر دو پر بہت بڑا احسان کیا‬
‫گیا ہے۔ ولتی سہی' ان کی بھوک اور عزت و احترام‬
‫کے مسائل حل ہوئے ہیں۔ ان میں اپنے ہونے کا‬
‫احساس جاگ رہا ہے۔ بڑے لوگ' جب چھوٹے' مالی‬
‫ضعفوں' بےسفارشی اور سماجی حیثیتی کم زوروں‬
‫کے گھر دستک دے کر' ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں'‬
‫تو ان میں سربکس ٹی سے بڑھ کر' توانائی اترتی ہے۔‬
‫توانائی بلاشبہ شگفتگی کے ساتھ ساتھ' چستی بھی‬
‫پیدا کرتی ہے اور موڈ کو سٹ رکھنے میں مثبت کردار‬

‫ادا کرتی ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫کسی پوسٹ پر آئے امیدوار سے' انٹرویو میں سوال‬
‫کیا گیا‪ :‬سلیکٹ ہو جانے کی صورت میں' ملک کی‬

‫خدمت کرو گے۔‬
‫اس نے جوابا کہا‪ :‬بالکل نہیں‬

‫انٹرویو لینے والے کو اس جواب پر بڑی حیرانی‬
‫ہوئی۔ جواب بلاشبہ بڑا کھردرا اور بےمروت سا تھا۔‬
‫اس نے کامل حیرانی سے پوچھا‪ :‬یہ آپ کیا کہہ رہے‬

‫ہیں۔‬
‫اس نے جواب میں کہا‪ :‬مجھ سے پہلوں نے کچھ کیا'‬
‫یمینا نہیں۔ کچھ ولت پاس کرتے رہے' کچھ نے لوٹ‬

‫سیل لگائی۔‬
‫پھر پوچھا گیا‪ :‬آپ ان میں سے کون سا طور اختیار‬

‫کریں گے۔‬
‫صاؾ ظاہر ہے' شریؾ آدمی ہوں' سیل ہلکی پھلکی‬

‫رکھوں گا' ہاں زیادہ تر ولت پاس کروں گا۔‬

‫جناب والا‬

‫آج تک منتخبہ ممبروں نے' ملک کی جو خدمت کی‬
‫ہے یا کر رہے ہیں' پر مثبت یا منفی گفت گو کرنے کی‬
‫ضرورت نہیں' روز سیاہ کی طرح سیاہ ہے' کہ انہوں‬
‫نے لوٹ سیل مچانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اس پر‬
‫طرہ یہ کہ کچھ بھی نہیں کرنے کا' پروگرام اور ایجنڈا‬

‫رکھتے ہیں۔‬

‫جناب والا‬

‫میڈیا مال پانی لگانے والوں کی' عیب پوشی میں کوئی‬
‫دلیمہ اٹھا نہیں رکھتا' ہاں ان کے ناکردہ کارناموں کو'‬
‫خوب اچھالتا ہےاور بےجھڑیوں کی خوب خوب مٹی‬
‫پلید کرتا ہے۔ جھڑیوں کے کھیسہ میں' ہر اچھا ناکردہ‬
‫ڈال دیتا ہے۔ تیز رفتار اور اعلی کارگزار میڈیا ہوتے‬
‫ہوئے' شاہوں کی اچھائی اور برائی معلوم کی حدود‬

‫سے باہر ہے۔ اپنے طور پر لوگ انٹرنیٹ پر کچھ‬
‫ناکچھ رکھتے رہتے ہیں۔‬

‫جناب والا‬

‫ایک نائب لاصد کی رکھوائی کے لیے' سو طرح کی‬
‫شرائط اور باتصویر لائداعظم کے' اصلی کاؼذات کی‬
‫ضرورت ہوتی ہے۔ زبانی کہنا' سفارش کے کھاتے‬
‫میں نہیں آتا۔ اب زبان بےولار ہو گئی ہے۔ یہ ہی ایک‬
‫کام رہ گیا ہے' جس میں ہاتھ حرکت کرتے ہیں' ورنہ‬
‫ہر کام اور معاملہ میں ؼیرمتحرک ہو گیے ہیں۔ زبان کا‬
‫کام' جوان جہان گلی گلی میں پھرتے' ان گنت فمیروں‬
‫تک محدود ہو گیا ہے۔ درسوں کے چھوٹے بچے گلی‬

‫گلی چندے کے لیے پھرتے ہیں۔ وہ منتی اور سماجتی‬
‫انداز میں' جب زبان سے چندے کے لیے کہتے ہیں'‬
‫تو دل بھر آتا ہے۔ خیر وعدے بازی اور بیان درازی‬

‫کے لیے' لیڈر زبان ہی کا استعمال کرتے ہیں۔ ان‬
‫امیدوران کو اس لماش کی سو طرح کی شرائط سے'‬

‫استثناء حاصل ہوتا ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫جن کی معاشرے میں کوئی اولات نہیں' یہ امیدوران‬
‫ان کے بےدر اور ؼیر محفوظ گربت کدوں پر' بڑی‬
‫اپنائیت اور مصنوعی خلوص کے ساتھ' حاضری دے‬
‫کر انہیں ووٹ دینے کی استدعا کرتے ہیں۔ راہ گزرتے‬
‫ہاتھ اٹھا کر' سلام کرتے ہیں۔ گویا اسلام کا نفاذ پورے‬
‫زوروں پر ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے' تو‬
‫ناصرؾ اسلام کا نفاذ ہوتا رہے گا' بل کہ خلوص اور‬
‫باہمی احترام کی فضا پیدا ہوتی رہے گی۔ گلی گلی‬
‫محمود وایاز ایک ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ انیچ نیچ'‬
‫رنگ نسل' علالہ' زبان وؼیرہ کی تفریمات دم توڑ دیں‬

‫گی۔‬

‫جناب والا‬

‫امیدوار ممبران کے ڈیرے' حاتم کدے بن گیے ہیں۔‬
‫آنے جانے والوں کی' بڑے اہتمام سے تواضح کی‬
‫جاتی ہے۔ اگر ڈیڑے پر معمولی سی بھی' کوتاہی نظر‬
‫آتی ہے' تو لوگ دوسرے ڈیرے کا رستہ لیتے ہیں۔‬
‫کچھ' اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جانا نہیں بھولتے۔‬
‫بےروزگاروں کو روزگار میسر آ گیا ہے۔ ٹی سی‬
‫گاروں کی تو چاندی ہو گئی ہے۔ سونا اس لیے نہیں‬

‫کہا' کہ اس کا تعلك بڑے الیکشنوں سے ہے۔‬

‫جناب والا‬

‫الیکشن مہم ختم ہو جانے کے بعد' ان میں سے کچھ‬
‫بالی نہیں رہے گا۔ یہ سیری کا شیش محل' ویرانے‬
‫میں بدل جائے گا۔ عزت و احترام کی فضا' دم توڑ دے‬
‫گی۔ نفاذ اسلام کی فضاؤں میں' جلال و تمکنت کا بارود‬
‫بھر جائے گا۔ ایسے حالات میں' ولت کا تماضا یہی ہے‬
‫کہ الیکشنوں کی تاریخ' بار بار ناسہی' دوچار بار تو‬
‫اگلی تاریخوں میں منتمل کی جائے۔ ہاں جب بڑے‬
‫الیکشن آئیں گے' تو اس عمل کا' لامتناہی سلسلہ‬

‫شروع کر دیا جائے۔ اس طرح گریبوں کی جیب پھاڑ‬
‫کر' ڈکارنے کے لیے سیفوں میں رکھا گیا پیسہ'‬
‫لوگوں کی صدیوں کی بھوک پیاس مٹانے کے کام آ‬
‫سکے گا۔ ساتوں چہلموں پر میسر کھانا' محدود‬

‫نوعیت اور محدود لوگوں کے کام آتا ہے۔ عید لربان کا‬
‫گئوشط اپنوں میں' یا بڑوں کو چڑھاوا چڑھ جاتا ہے۔‬
‫اس لیے گریبوں کے ممدر میں' نہیں یا چھچھڑے آتے‬

‫ہیں۔ گویا اس دن بھی' انہیں بھوک سے چھٹکارا‬
‫حاصل نہیں ہو پاتا۔‬

‫جناب والا‬

‫اندریں حالات بالا استدعا ہے کہ ولتی طور پر سہی‬

‫انسانی تفریك و امتیاز کی فضا ختم کرنے کے لیے‬
‫باہمی عزت و احترام لائم کرنے کے لیے‬
‫جھوٹے وعدے اور بہلاوے سننے کے لیے‬

‫اسلام کے نفاذ یا اسلامی ماحول کے لیام کے لیے‬
‫بھوک پیاس کے خاتمے کے لیے‬

‫بار بار ناسہی' دوچار بار الیکشنوں کی تاریخ تبدیل کی‬


Click to View FlipBook Version