The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫مزدور تو گھر سے آگیا ہوتا ہے لیکن صبح تک بجلی‬
‫کے جانے اور جانے کی جندریوں میں اثکاپھسا‬

‫سسکتا رہتا ہے۔ صبح سویرے گھر سے نکلا دیہاڑی‬
‫دار جب شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اس پر اور‬
‫اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہے اس کیفیت کا سیاسی‬
‫مداری بجلی والے بڑے لوگ سرکاری افسر وؼیرہ اور‬

‫ان کے گماشتے کیا جانیں۔‬
‫باؤ جی یہ سب درست ہو جائے تو بجلی کی کمی کا‬
‫رولا ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے لیکن بلی کے‬

‫گلے میں کون گھنٹی باندھے‬

‫کہہ کر کیا تو کیا کیا‬

‫وزیر برلیات کے اعلان کے باوجود مختلؾ شہروں “‬
‫”مینلوڈشیڈنگ‬

‫یہ خبر میری اس تحریر کے بعد شائع ہوئی جس‬
‫میں‘ میں نے کہا تھا کہ کہنا اور کرنا دو الگ چیزیں‬
‫ہیں۔ اس تحریر کے باوجود اس خبر کا شائع ہونا اس‬

‫امر کی طرؾ اشارہ ہے کہ خبر نویس اس حمیمت سے‬
‫بےخبر ہے یا پھر وہ پرتھوی پر بسیرا نہیں رکھتا اور‬

‫سہانے خوابوں کے دیس کا الامتی ہے۔ ایسا بھی‬
‫ممکن ہے کہ اس تک میری ناچیز تحریر رسائی‬
‫حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو۔ یا پھر میں اپنا مافی‬
‫الضمیر بیان کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جو بھی ہے‬
‫صحیح نہیں ہے۔ دوبارہ سے کوشش کرتا ہوں شاید‬

‫اب کہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔‬

‫کہنا اور کرنا اپنی حیثیت میں دو الگ چیزیں ہیں۔ ان‬
‫کے مابین لامحدود فاصلے ہیں۔ بذات خود بجلی‬

‫دیکھنے میں ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ متعلمہ پوائنٹ‬
‫تک پہنچنے کے لیے دو تاروں کا استعمال کیا جاتا‬
‫ہے۔ ایک ٹھنڈی تار دوسری گرم تار۔ دونوں تاروں‬
‫کےالگ الگ رہنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہوتی‬

‫ہے۔ ہر سوئچ میں ان دونوں کے لیے الگ الگ پوائنٹ‬
‫ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں تاریں باہمی اختلاط کر لیں تو‬
‫بہت بڑا کھڑاک ہو سکتا ہے۔ اس ٹھاہ کے نتیجہ میں‬
‫جان بلکہ جانیں جا سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کہنا‬

‫اور کرنا گلے مل جائیں تو مالی نمصان وٹ پر ہوتا‬
‫ہے۔ نمصان جانی ہو یا مالی‘ نمصان ہی ہوتا ہے اور‬

‫نمصان کی کسی بھی سطع پر حمایت نہیں کی جا‬
‫سکتی۔‬

‫سکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں کتابی تعلیم‬
‫دی جاتی ہے۔ کامیاب طالب علم کو متعلمہ علم کی سند‬
‫یا ڈگری دی اتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈگری‬
‫ہولڈر اس علم کی کامل جانکاری حاصل کر چکا ہے۔‬
‫اس سند یا ڈگری کے باوجود ڈگری یافتہ عملی طور پر‬
‫صفر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عملی تجربہ رکھنے‬
‫والا ڈگری یافتہ سے کرنے میں کمال کے درجے پر‬
‫فائز ہوتا ہے حالانکہ ڈگری یافتہ کرنے سے متعلك‬
‫باتیں بار بار پڑھ بلکہ توتے سے بڑھ کر رٹ چکا ہوتا‬

‫ہے۔ دونوں کے نام الگ سے ہوتے ہیں۔‬

‫کہنے کو تھیوری جب کہ کرنے کو پریکٹیکل کا نام دیا‬
‫جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے لطعی طور الگ‬
‫ہیں۔ یہ درست سہی پڑھے کو عملی آزمایا جاتا ہے۔‬
‫گویا پڑھنا پہلے اور آزمانا بعد میں ہے۔ میں کہتا ہوں‬
‫کرنا پہلے ہے اور کہنا یا آزمایا بعد میں ہے۔ ہمارے‬
‫ہاں ایک ان پڑھ آدمی بڑے کمال کے کام سر انجام‬

‫دے رہا ہے۔ نہیں یمین آتا تو بلال گنج میں جا کر دیکھ‬

‫لیں۔ شکاگو یونیورسٹی کا ایک ساءنس کا پروفیسر وہ‬
‫کام نہیں کر سکتا جو کام بلال گنج کا ان پڑھ خرادیا‬
‫دے سرانجام سکتا ہے۔ اسے کہیں یہ ہے ایؾ سولہ‬
‫ذرا اس سے بہتر بنا دو‘ بنا دے۔ ڈالرز میں ملنے‬
‫والے سوفٹ ویئر یہاں بازار سے ان کی سی ڈی بیس‬
‫رویے میں مل جاتی ہے۔ ہے نا کرنا اور کہنا ایک‬
‫!دوسے سے الگ تر؟‬

‫جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں۔ جو بولتے ہیں وہ کرتے‬
‫نہیں۔ اس طرح دوہرا یعنی کرنا اور کہنا بوجھ بن کر‬

‫سر پر آ جاتا ہے۔ کوئی بھی دوہرا بوجھ اٹھا نہیں‬
‫سکتا۔ کیا‘ بملم خود بولتا ہے کہ میں ہوں کیا ہوا۔ ؼالبا‬

‫‪:‬یہ شعر بھیکا کا ہے‬
‫بھیکا بات ہے کہن کی کہن سنن میں ناں‬
‫جو جانے سو کہے نہ کہے سو جانے ناں‬

‫کہہ کر کیا تو کیا کیا۔ کیا وہی اچھا ہے جو کہا نہ‬
‫جاءے۔ کرکے کہنا تو احسان جتانے والی بات ہے۔‬
‫احسان جتانا سے بڑھ کر توہین آمیز بات ہی نہیں۔‬
‫ہمارے لیڈر اتنے بھی گءے گزرے نہیں ہیں جو‬
‫احسان جتائیں۔ اسی بنیاد پر ہی وہ صرؾ کہتے ہیں‘‬

‫کرتے نہیں۔ وہ خوب خوب جانتے ہیں کہ کرنے کے‬
‫لیے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے‬
‫نزدیک کیے کی خبر دوسرے ہاتھ تک کو نہیں ہونی‬
‫چاہیے۔ جو وہ کرتے ہیں لوگوں کو خبر تک نہیں ہو‬
‫پاتی۔ جب لوگوں کو خبر ہوتی ہے ولت بہت آگے نکل‬

‫گیا ہوتا ہے۔‬

‫کوئ بےبابائ کام کسی بڑی سفارش کے ساتھ جہاں‬
‫کہیں نازل ہوتا ہے اس کی زبانی کلامی سہی‘ پذیرائ‬
‫تو ہوتی ہے۔ اس کے ہونے کی یمین دہانی بھی کرائ‬
‫جاتی ہے۔ امید بلکہ یمین کے چراغ بھی جلائے جاتے‬
‫ہیں۔ بعض اولات لڈو بھی بانٹے جاتے ہیں۔ بےبابائ‬
‫ہونے کی پاداش میں وہ کام نہیں ہو پاتا۔ اس ممام پر‬
‫ناراض ہونا یا مایوس ہونا نہیں بنتا کیونکہ کرنا اور‬

‫کہنا دو الگ باتیں ہیں۔‬

‫ایم این ایز یا ایم پی ایز یا منسٹرز لوگوں کی‬
‫درخواستوں پر سفارشی کلمات لکھتے ہیں۔ یہاں وہ‬
‫دونوں فریموں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات ایک‬
‫ہی طرح سے ثبت کرتے ہیں۔ وہ تو دیالو اور کرپالو‬

‫مخلوق ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیسے مایوس کر‬

‫سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی کا کام ہو یا نہ ہو‬
‫اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ خوب‬
‫جانتے ہیں کہ سفاش اور کام کا سر انجام پانا دو الگ‬
‫سے باتیں ہیں۔ سفاش اور کام کا ہونا اختلاط پذیر نہیں‬

‫ہونے والے ۔ ان کی الگ الگ اہمیت حیثیت اور‬
‫ضرورت ہے۔‬

‫ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد اپنی اپنی روٹی پکاتے‬
‫ہیں۔ وہ سگے بھائی ہوتے ہیں۔ روٹئ سالن ایک رنگ‬
‫روپ رکھتا ہے۔ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہوتا‬
‫ہے۔ سگا ہونا یا وعدے میں بندھے ہونا یا روٹی کا‬

‫رنگ روپ ایک ہونا اپنی جگہ لیکن نبھانا دو الگ‬
‫باتیں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جا‬
‫سکتا اور ناہی کیا جانا حمیمت سے تعلك رکھتا ہے۔‬

‫پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے کی منشی شاہی سب‬
‫سے زیادہ شریؾ‘ تحمل مزاج‘ بردبار اور زیرو رفتار‬
‫ہے نہ یہ کچھ کہتی نہ کرتی ہے۔ یہ ہونے کے ہر کام‬
‫کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ چونکہ للم‪ ،‬اٹکل اور‬
‫داؤ و پیچ اس کی زنبیل میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اس‬
‫لیے ہوتے بھی نہیں ہوتے۔ اس کی تحمل مزاجی اور‬

‫زیرو رفتاری ہی وہ بڑا کارنامہ ہے کہ ہم روزاول سے‬
‫بھی بہت لدم پیچھے کھڑے بھوک پیاس اور موت کی‬
‫ہولی بڑی بےبسی اور بےکسی سے دیکھ رہے ہیں۔‬

‫یوں لگتا دیکھنا ہمارا ممصد حیات ہے۔‬

‫وزیر عوامی لوگ ہوتے ہیں اس لیے عوام کی بہبود‬
‫ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے لوڈ شیڈنگ‬
‫ختم کرکے بجلی کے بل لوگوں کی جیب سے تجاوز کر‬

‫جاءیں اور پھرلوگ لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے‬
‫سڑکوں پر آ کر ذلت و خواری کا منہ دیکھیں۔ وہ بجلی‬
‫کے بل اور لوڈشیڈنگ کی جدائ کو عوامی بہبود کے‬

‫برعکس سمجھتے ہیں۔‬

‫مفروضوں میں زندگی کرنے کا عہد ہے۔ عین ممکن‬
‫ہے یہ اخباری خبر ہاوسز سے متعلك ہو جہاں اتفالا‬
‫کسی فنی خرابی کے سبب بجلی دو چار لمحوں کے‬
‫لیے کبھی کبھار چلی جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کے بڑے‬
‫کام۔ وہ مخاطب چھوٹے لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن‬
‫وعدے بڑے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔‬
‫بلند سطع پر کیفیت مختلؾ ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں‬
‫ٹھنڈی اور تتی تاروں کا رولا بالی نہیں رہتا۔ وہاں کرنا‬

‫اور ہونا دو نہیں رہتے۔ سچی درویشی یہی ہے کہ‬
‫میں تو میں مدؼم ہو کر میں بن جاتی ہے اورپھر‬

‫زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں رہتی۔‬

‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر‬

‫ایک شخص چور کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔ رستے‬
‫میں لبرستان آ گیا۔ چور آگے نکل گیا جبکہ وہ شخص‬

‫لبرستان میں داخل ہو گیا۔‬

‫کسی نے پوچھا “یہ کیا؟‬

‫اس نے جوابا کہا “اس نے آخر آنا تو یہاں پر ہے نا“۔‬

‫ایک اخباری اطلاع کے مطابك لاہور ہائیکورٹ‬
‫نےتوہین عدالت کے حوالہ سے اعلی شکشا منشی‬
‫کالجز کے لابل ضمانت وارنٹ جاری کر دئے ہیں۔ یہ‬
‫کاروائ ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم کی رٹ کے‬

‫حوالہ سے عمل میں آئی ہے۔ ڈی ڈی سی (کالجز)‬
‫ڈاکٹر اکرم اپنی جیت کے نشہ سے سرشار ہوں گے۔‬
‫اعلی شکشا منشی کالجز کے لابل ضمانت وارنٹ‬

‫جاری ہونا کوئی ایسی عام اور معمولی بات نہیں۔‬
‫عدالت نے وہی کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔ منصؾ‬
‫لانون کے دائرے میں رہتا ہے اور لانون کی حدود‬
‫کسی کو توڑنے نہیں دیتا۔ کالا گورا ماڑا تگڑا گریب‬
‫امیر لانون کی نظروں میں برابر کی حیثیت رکھتے‬

‫ہیں۔‬

‫عدالت نے جو کیا درست کیا اور درست کے سوا کچھ‬
‫نہیں کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈی ڈی سی(کالجز)‬
‫ڈاکٹر اکرم نے اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس کے‬

‫مروجہ اصول و ضابط کی پھٹیاں اکھیڑنے کی جسارت‬
‫تو نہیں کی؟‬

‫اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اپنے انجام کو کیوں‬
‫بھول گیا۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ آخر لوٹ کر آنا تو‬
‫یہاں پر ہی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اعلی شکشا‬
‫منشی کالجز ہاؤس میں بڑے بڑے پھنے خانوں کی‬
‫زندہ ہڈیاں بوٹیاں دفن ہیں۔ کوئی نشان تک نہیں تلاشا‬

‫جا سکتا۔ اب صرؾ اور معاملہ ہے لیکن آتے ولتوں‬
‫میں اس معاملے کے بطن سےان گنت معاملات جنم‬

‫لیں گے۔‬

‫یہ بڑے کمال کا سچ ہے کہ اس عہد کی عدلیہ آتے کل‬
‫کے لیے اعی درجے کا حوالہ چھوڑ جاءے گی۔ اس کا‬
‫کردارمثال بنا رہے گا۔ عدالت کو کوئ اور کام نہیں جو‬
‫ڈاکٹر اکرم کےمعاملات کو دیکھتی پھرے گی۔ کہاں تک‬

‫بھاگیں گے۔ دوڑ دھوپ کرنے والوں کو پہاڑ کے‬
‫نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ جو بھی مہا منشی ہاؤس سے‬
‫ٹکرایا ہے‘ عبرت کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے۔‬
‫کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ان کی پہلی رکات‬
‫سے بچ کر نکل گیا ہو۔ یہ بھی کہ کسی ریسرچ اسکالر‬
‫کو ہمت نہں ہو سکی کہ وہ یہاں بلڈوز ہونے والوں کا‬

‫اتا پتا دریافت کرنے کی ہمت کر پایا ہو۔ یہ ہڈیوں‬
‫بوٹیوں کا بلا کنار سمندر ہے۔ میں سب جانتے تجربہ‬
‫رکھتے اور بلا مرہم زخمی‘ ڈاکٹر اکرم کی ہڈی بوٹی‬
‫کی خیر کی دوا کےلیے دست بہ دعا ہوں۔ تصویری‬

‫نمایش کے شولین اس کمزوروں کے پرحسرت‬
‫لبرستان کی جانب شولین نظریں اٹھا کر تو دیکھیں‘‬
‫نانی نہ یاد آ گئ تو اس پرحسرت لبرستان کا نام بدل‬

‫دیں۔‬

‫ہمارے ہاں تعلیم عام کرنےکی رانی توپ سے دعوے‬
‫داؼے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ناخواگی کے بیج‬
‫بویے جاتے ہیں۔ اعلی اور تحمیك سے متعلك تعلیم کی‬

‫راہوں میں مونگے کی چٹانیں کھڑی کرنے کی ہر‬
‫ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں صرؾ‬
‫ایک حوالہ درج کرنے کی جسارت کروں گا۔ ۔حساب‬
‫شماریات وؼیرہ این ٹی ایس میں شامل ہوتے ہیں۔‬
‫آرٹس والوں کا ان مضامین سے کیا کام ۔ اس ٹسٹ‬
‫میں ان کے مضامین سے متعلك سوال داخل کیے‬
‫جاییں۔ یوں لگتا ہے یہ مضامین انھیں فیل کرنے یا‬
‫ٹسٹ میں حصہ نہ لینے کی جرات پیدا کرنے کے لیے‬

‫این ٹی ایس سی میں داخل کءے گءے ہیں۔‬

‫حساب اور شماریات کا تعلك چناؤ وؼیرہ سے ہے۔ ان‬
‫مضامین کا چناؤ ٹسٹ میں شامل کرنا بےمعنی اور‬
‫لایعنی نہیں لگتا۔ ایک اخباری خبر کے مطابك چناؤ‬
‫کے حوالہ سے بارہ کروڑ روپے سکہ رایج الولت‬
‫بھاؤ لگ گیا ہے۔ اگر یہ رلم کسی گریب آدمی کو دے‬

‫دی جاءے تو وہ اتنی بڑی رلم دیکھ کر ہی پھر جاءے‬

‫گا۔ اگر چیڑا اور پکا پیڈا نکلا تو گنتے گنتے عمر تمام‬
‫کر دے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ گنتی کے دوران ہی‬
‫کوئ ڈاکو لٹیرا اسے گنتی کی مشمت سے چھٹکارا دلا‬
‫دے۔ حساب اور شماریات اگرچہ بڑے اہم اور کام کے‬
‫مضامین ہیں لیکن ان کا متعلك پر اطلاق ہونا چاہیے۔‬
‫ؼیر متعلك پر اطلاق بڑا عجیب وؼریب لگتا ہے۔‬

‫عجیب ہو یا نہ ہو' اس معاملے کا تعلك ؼربت سے‬
‫ضرور ہے۔ جمہوریت امریکہ سے درامد ہوئ ہے۔ یہ‬
‫‪:‬ممامی‘ عربی یا اسلامی نہیں ہے۔ اس کا نعرہ ہے‬

‫عوام کی حکومت‘ حکومت تو الله کی ہے۔‬

‫عوام کے ذریعے‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله'‬
‫کدھر گیا۔‬

‫عوام کے لیے‘ وڈیرے کیا ہویے۔ وہ حکومت کرنے‬
‫کے لیے بالی رہ جاتے ہیں۔ گویا وہ سرکار ٹھرتے‬

‫ہیں اور عوام رعایا۔‬

‫براءے نام سہی‘ رعایا عوام کا حوالہ موجود ہےاور‬

‫یہ رعایا عوام کی تسکین کا بہترین موجو ہے۔ بارہ‬
‫کروڑ بھاؤ نے تو براءے نام رعایا عوام کی اصل‬
‫حیمیت کی للعی کھول کر رکھ دی ہے۔ میری اس دلیل‬
‫سے واضح ہو جاتا ہے کہ حساب اور شماریات جیسے‬
‫مضامین ہر کسی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہاں‬
‫البتہ مال خور منشی شاہی کے لیے بھی لازمی سے‬

‫لگتے ہیں۔ ان کی سلیکشن کے حوالہ سے ان‬
‫مضامین کی برکات کو نظرانداز کرنا‘ مال خور منشی‬
‫شاہی کو نالابل تلافی نمصان پہچانے کے مترادؾ ہے۔‬

‫البال ساری عمر خودی خودی کرتا رہا اور خودی میں‬
‫ترلی بتاتا رہا۔ میں نے تو آج تک خوددار لوگوں کو‬
‫ذلیل وخوار ہوتے دیکھا ہے۔ اپنی اور سماجی خودی‬
‫بیچنے والے نام پیدا کرتے آءے ہیں ۔جمہوریت کے‬
‫لفافے میں انھوں نے لومی آزادی عزت اور حمیت کا‬
‫خون ملفوؾ کیا ہے۔ اس کارنامے کے صلہ میں پیٹ‬
‫بھر کھایا ہے اور محلوں میں الامت رکھی ہے۔ عہد‬
‫حاضر میں خودی وکاؤ مال ہو گئی ہے۔ جو بھی رج‬
‫کھاناچاہتا ہے اسے البال کے کہے پر مٹی ڈال کر اس‬

‫کے مصرعے کو یوں پڑھنا اور اسی حوالہ سے‬
‫‪:‬زندگی کرنا ہو گی‬

‫خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر‬

‫اگر کوئ البال کے فلسفے پر جما رہا تو نام پیدا‬
‫کرنے کا خواب گلیوں میں بےچارگی اور شرمندگی کی‬
‫زندگی بسر کرے گا۔ خودی کو زندگی کا ممصد بنانے‬

‫والے ہوم گورنمنٹ سے بھی چھتر کھاتے دیکھے‬
‫گءے ہیں۔‬

‫خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن‬

‫خدا بچاؤ مہم کا بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے آؼاز‬
‫کیا گیا۔ کسی نے اس جانب توجہ ہی نہ کی کہ خدا تو‬
‫سب کو بچانے والا ہے۔ وہ ہر گرفت سے بالا ہے۔‬
‫پوری کائنات اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج‬
‫نہیں۔ اگر وہ خدا منکر لوگوں کا رب نہ ہوتا تو وہ‬
‫سارے کے سارے بھوک پیاس سے مر جاتے۔ وہ تو‬

‫ساری کائنات کا مالک و خالك ہے۔ یہی نہیں وہ تو‬
‫اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اسے کسی کی مدد کی‬
‫ضرورت نہیں بلکہ ہر کوئی اس کی مرضی و منشا‬
‫کے تابع ہے۔ کسی نے یہ ؼور کرنے کی زحمت ہی‬
‫گوارہ نہ کی کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہی ہے لیکن‬
‫ہمارے اور ان کے خدا میں زمین آسمان کا نظریاتی‬
‫فرق ہے۔ ان کا خدا تین میں تمسیم ہے جب کہ ہمارا‬
‫خدا تین نہیں‘ ایک ہے۔ وہ تمسیم کے نمص سے بالا‬

‫ہے۔‬

‫خدا بچاؤ مہم کے لیے اسلحہ اور ڈالرز کی بارش ہو‬
‫گئی۔ خدا بچاؤ مہم میں شامل لوگ مالا مال ہو گئے۔ وہ‬
‫شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ وہ شیطان کی‬
‫ہولناک چال کو سمجھ نہ سکے۔ خدا بچاؤ مہم میں ان‬
‫گنت بچے بوڑھے عورتیں اور گھبرو جوان جان سے‬

‫ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ تو ان موت کے گھاٹ اترنے‬
‫والوں کا بھی خالك ومالک ہے۔ خدا بچاؤ مہم کے‬
‫ڈالر خوروں کو رجعت پسند‘ شر پسند اور بنیاد پرست‬
‫کہہ کر زندگی سے محروم کیا گیا۔ خدا بچاؤ پتہ ناکام‬
‫ٹھرا ہے تو ازدواجی رشتہ ہونے کا دعوی داغ دیا گیا‬

‫ہے۔‬

‫طلاق یمینا بہت برا فعل ہے۔ اہل دانش تو الگ رہے‘‬
‫مذاہب نے بھی اس کی آخری حد تک ممانعت کی ہے۔‬
‫طلاق کے نتیجہ میں سماجی سطع پر خرابی آتی ہے۔‬

‫دو برادریوں میں دشمنی چل نکلتی ہے۔ اس طلاق‬
‫دشمنی کے نتیجہ میں آتے کل کو کوئ بھی خطرناک‬
‫صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ بات محدود نہیں رہتی۔‬
‫بےگناہ‘ ؼیر متعلك اور بعض اولات صلع کار بھی اس‬
‫کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ پھر بجھائے نہ بنے والی‬

‫صورت پیدا ہو جاتی ہے۔‬

‫ایک اخباری اطلاع کے مطابك امریکہ کا کہنا ہے کہ‬
‫پاکستان کے ساتھ تعلمات میں طلاق کا آپشن موجود ہی‬
‫نہیں۔ امریکہ کا یہ بیان پاک امریکہ دوستی کے اٹوٹ‬
‫ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔ یہی نہیں یہ اس کی سماج اور‬

‫مذہب دوستی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کمبل‬
‫سے چھٹکارے کی کوشش کرو گے تو بھی کمبل‬
‫خلاصی نہیں کرے گا۔ اس کمبل کی گرمایش اتنی ہے‬
‫کہ اس کے بؽیر بن نہ پاءے گی۔ امریکی چوری کا‬
‫سواد اور چسکا ہی ایسا ہے کہ کم بخت لگی منہ سے‬
‫چھٹتی نہیں۔ میں نے یہ تیر ہوا میں نہیں چلایا۔ اس‬

‫کے بہ ہدؾ ہونے کا ثبوت کیمرون کا یہ ٹوٹکا ہے کہ‬
‫پاکستان کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ امریکی ان کے‬

‫ملک سے واپس جائیں۔‬
‫دنیا کا کوئی بھی اولاد والا طلاق کی حمایت نہیں کرے‬

‫گا۔ یہاں یہ واضح نہیں کون کس کو طلاق دے گا۔‬
‫ہمارے ہاں زیادہ تر مرد‘ عورت کو طلاق دیتا ہے۔‬
‫کیمرون کا بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی سیاست‬
‫دان امریکہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے۔ گویا امریکہ کو‬
‫ان کی ایسی کوئی خاص ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کو‬
‫چولہا چونکا چلانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔‬
‫یہاں کی سماجی روایت کے تناظر میں دیکھا جاءے تو‬
‫طلاق کا حك پاکستان کے پاس ہے۔ مرد چاہے نامرد‬
‫ہو‘ اسے عورت نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں کی‬
‫یہ ؼنڈہ نوازی ہے کہ جھوٹ موٹھ سہی‘ ہم پاکستانی‬
‫مردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طلاق کے معاملے کا‬
‫فمط ایک پہلو ہے۔ مؽرب میں عورتیں مردوں کو طلاق‬
‫دیتی ہیں۔اس حوالہ سے طلاق دینے کا حك امریکہ‬
‫کے پاس چلا جاتا ہے۔ طلاق کا حك ان کے پاس ہو یا‬
‫ان کے پاس‘ ہم پاکستانی مرد ضرور لرار پاتے ہیں‬
‫اور یہ ہمارے لیے کمال فخر کی بات ہے کہ ہم نام کے‬

‫سہی‘ مرد ہیں۔‬

‫اس حوالہ سے بات نہیں کروں گا کہ زندگی پر‬
‫حکومت عورت کرتی ہے۔ مرد زبانی کلامی دبکاڑے‬
‫اور بڑکیں مارتا ہے۔ لیکن بیگم کے سامنے ریت کی‬
‫دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جہانگیر کے سارے فیصلے‘ نور‬
‫جہان کے فیصلے ہیں۔ مرد جو باہر ناسیں پھلاتا ہے‬
‫لیکن گھر میں صرؾ اور صرؾ بطور پانڈی داخل ہوتا‬
‫ہے۔ کسی معاملہ میں بیگم کی سفارش آ جانے کے بعد‬
‫اپنا طرز تکلم ہی بدل لیتا ہے۔ جو بھی سہی مرد‘ مرد‬
‫ہوتا ہے۔ اس کی انا اور سطع بلند ہوتی ہے۔ میں پہلے‬
‫کہہ چکا ہوں اس معاملے پر گفتگو نہیں کروں گا۔‬
‫طلاق کا نمطہ اس امر کی کھلی وضاحت ہے کہ ہم مرد‬
‫ہیں۔ کیا ہوا جو مردانہ لوت میں ضعؾ آ گیا ہے۔ یہ‬
‫ضعؾ پیدایشی نہیں اس لیے لابل علاج ہے۔ آج ان‬
‫گنت دواخانے موجود ہیں لہذا عین ؼین معالجہ ممکن‬
‫ہے۔ اس میں ایسی گھبرانے یا پریشان ہونے والی‬

‫کوئی بات ہی نہیں۔‬

‫معاملے کا یہ پہلو ذرا پیچیدہ اور گرہ خور ہے کہ آخر‬
‫وچارے امریکیوں پر یہ دھونس کاری کیوں؟؟؟‬

‫پاکستانی سیاست دان اتنے لچڑ کیوں ہو گے ہیں؟‬

‫پشاور یا اس سے پار کے مرد اس ضمن میں ضد‬
‫کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستانی سیاست‬
‫دانوں کا پشاوری ذوق عجیب لگتا ہے۔ اس علالہ کے‬
‫لوگ بھی سیاسی نشتوں میں ہوتے ہیں لیکن تعدادی‬
‫حوالہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کو تعداد سے‬
‫مطلب ہوتا ہے۔ مردانہ طالت چاہے کسی بھی سطع کی‬
‫ہو۔ عین ممکن ہے سیاسی ہیلو ہاءے میں وہ ڈومینٹ‬
‫ہوں اور شاید اسی حوالہ سے مردوں کا زنانہ شوق‬

‫مردانہ میں بدل گیا ہو۔‬

‫دینی اور سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی‬
‫انسانی نہیں‘ امریکی بنیادوں پر بحال ہوئی ہے۔ اس‬

‫‪:‬ضمن میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہیں‬
‫ا۔ امریکہ انسانی حموق کا ٹھکیدار ہے۔ اگر امریکہ‬

‫کے حوالے سے بحال ہوئ ہے تو اسے انسانی‬
‫بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔‬

‫ب۔ بیگمانہ حکم عدولی کل کلیان کو دعوت دینے کے‬
‫مترادؾ ہے۔ یہ کل کلیان طلاق کا دروازہ کھول سکتی‬
‫ہے جبکہ پاکستان سے تعلمات کے ضمن میں طلاق کا‬

‫آپشن موجود ہی نہیں۔ جب آپشن ٹھپ ہے تو نیٹو‬
‫سپلائی کا امریکی بنیادوں پر بحال ہونا ؼلط اور ؼیر‬

‫ضروری نہیں۔‬

‫ایک طرؾ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے‬
‫فضائی راستے سےنیٹو کو رسد کی سپلائی روز اول‬
‫سے جاری ہے۔ ہم سخی لوگ ہیں اور سخیوں کے‬
‫ڈیرے سے دوست دشمن بلا تخصیص فیض یاب ہوتے‬
‫رہتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا اصول رہا کہ کہو کچھ‬
‫کرو کچھ۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں ہو گا تو‬
‫سمجھ لو وہ کام ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ہم کسی‬
‫بھی سطع کی صفائی دے سکتے ہیں لیکن پرنالہ اپنی‬

‫جگہ پر رکھتے ہیں۔ کسی کو بھوک سے مرتے‬
‫دیکھنا کوئی صحت مند بات نہں۔ ہم اپنے لوگوں کو‬
‫بھوک پیاس اور اندھیروں کی موت مار سکتے ہیں‬
‫لیکن سفید رانوں والوں کو بھوکا مرتے نہیں دیکھ‬
‫سکتے۔ یہ بھی کہ معاملہ سفید رانوں تک محدود نہیں‬
‫ہماری محبوبہ کے پاس ابراہیم لنکن والے نوٹ بھی‬
‫ہوتے ہیں۔ نوٹ دیکھتے ہی ہمارا موجی موڈ بن جاتا‬
‫ہے۔ ؼیرت اصول اور کہا سنا اپنی جگہ‘ نوٹ اپنی‬

‫جگہ۔‬

‫طلاق دینے کی کوئی تو وجہ ہو نی چاہیے۔ امریکہ‬
‫سے تعلمات آخر کیوں ختم یا خراب کئے جائیں۔‬
‫وچارے سیاسی لوگ پلے سے خرچہ کرکے ممبر‬

‫بنتے ہیں۔ کیا عوام ان کی ضرورتوں کے مطابك کما‬
‫کر دیتے ہیں‘ بالکل نہیں۔ امریکہ نوٹ وکھاتا اور‬
‫چکھاتا ہے اس لیے موڈ کا نہ بننا احممانہ سی بات‬
‫ہے۔ یہ لوگ امریکہ کے کام الله واسطے نہیں کرتے۔‬
‫اگر پاکستانی عوام کو خود مختاری حاصل کرنے کا‬
‫اتنا ہی شونك ہے تو امریکہ برابر نوٹ کمائیں وکھائیں‬
‫اور ان کی تلی ترائ کریں۔ اگر تلی ترائ نہیں کر‬
‫سکتے تو چونچ بند رکھیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ طلاق‬
‫دینے کی صورت میں ناصرؾ جہیز واپس کرنا پڑے گا‬

‫!بلکہ حك مہر بھی دینا پڑے گا۔ کون دے گا؟‬

‫عوام کے پاس تو دو ولت کی روٹی کھانے کو نہیں‬
‫حك مہر کہاں سے آئے گا۔ جہیز جو کھایا پیا جا چکا‬

‫ہے کدھر سے آئے گا۔‬

‫امریکہ کو طلاق دینے کا فیصلہ کوئ ون مین گیم نہیں‬
‫ہے۔ سابك سفیر کا کہنا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ‬

‫فیصلہ نہیں کرتی امریکہ سے تعلمات منجمد نہیں کر‬
‫سکتے۔ گویا امریکہ کو طلاق دینے کا حك عوام کے‬
‫پاس نہیں ہے۔ عوام کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ عوام‬
‫لاڈلی بھی نہیں ہے جو کھیلن کو چاند مانگ رہی ہے‬

‫دوسرا چاند مملوکہ جگہ ہے۔‬
‫چاند پر صرؾ اور صرؾ لبضہ گروپ کا حك ہے۔‬

‫ہمارے پڑوس میں ایک جوڑا الامت رکھتا ہے۔ ان‬
‫کے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ بڑے ہی پیارے‬
‫پیارے بچے ہیں۔ بد لسمتی سے مرد جوا کھیلتا ہے‬
‫اور نشہ بھی کرتا ہے۔ عورت محنت مشمت کرکے ان‬
‫سب کا پیٹ بھر تی ہے۔تھکی ماندی جب گھر آتی ہے‬
‫تو اس کی حالت لابل رحم ہوتی ہے۔ ایسے میں کوئی‬
‫چوں بھی کرتا ہے۔ زبانی اور عملی طور خوب لترول‬
‫کرتی ہے۔ مرد چوں بھی نہیں کرتا۔ چوں کرنے کی اس‬

‫کے پس گنجائش ہی نہیں۔‬

‫الله نے مرد کو کنبہ کا کفیل بنایا ہے۔ اگر عورت کام‬
‫کرتی ہے تو یہ مرد کے ساتھ تعاون ہے ورنہ وہ‬
‫کفالت کی ذمہ دار نہیں۔ خرچ اٹھانے اور تعاون کرنے‬
‫والے کا ہاتھ اوپر رہتا ہے۔ اس حوالہ سے اسے بزتی‬

‫کرنے کا بھی پورا حك حاصل ہے۔‬
‫امریکہ ہماری کفالت کرتا ہے۔ سارے حك حموق پورے‬

‫کر رہا ہے لہذا بزتی کرنے کا بھی اصولی طور پر‬
‫اسے حك حاصل ہے۔ ہم اس چمکیلی اور نخریلی‬
‫محوبہ کو طلاق دینا بھی چاہیں تو طلاق نہیں دے‬
‫سکتے۔ جو ڈالر دیتا ہے اصول اور لانون بھی اسی کا‬
‫چلتا ہے۔ امریکی عورتیں طلاق دیتی ہیں۔ ہم اس ولت‬
‫تک امریکہ کی ؼلامی میں رہیں گے جب تک وہ ہمیں‬
‫طلاق نہیں دے دیتا۔ ویسے ہماری خیر اسی میں ہے‬
‫کہ ہم طلاق کا نام بھی زبان پر نہ لائیں کیونکہ اس‬
‫نے جس کو بھی طلاق دی ہے اسے لنڈا بچا ہی نہیں‬

‫کیا اسے لولہ لنگڑا بھی کیا ہے۔‬

‫ؼیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم‬

‫اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے‬
‫کہ ؼیرت لوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے ؼیرتی روڑا‬
‫کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر‬

‫ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل‬
‫جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر‬
‫لدم رکھتے ہیں تولیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا‬
‫سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو‬
‫کوئی حیثیت نہیں دی گئ ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا‬
‫ہے۔ نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو‬
‫چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا‬
‫ہے۔ یہ لصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا‬

‫نہیں ہوتا بلکہ مولع دینے والوں کا ہوتا ہے۔‬

‫یہ حمیمیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں‬
‫رہی ہے کہ طالت کے سامنے اونچے شملے والے سر‬
‫بھی خم رہے ہیں۔ گویا طالت اور ؼیرت کا سنگم ہوتا‬
‫ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی ؼلط ٹھرایا‬

‫جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائی اور اعلی پاءے کی دلیل‬
‫بھی اسے سچا لرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا بہانہ اسے‬
‫چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ‬
‫اشرؾ المخلولات ہے اس لیے اس کے بہانے اور‬
‫دلائل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت‬
‫ہے کہ وہ اپنی ؼلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی ؼلطی‬
‫اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے‬

‫رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر‬
‫نہیں کرتا۔‬

‫امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔‬
‫سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افؽانستان‬

‫امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے‬
‫!عورتیں لاؼر بیمار وؼیرہ‘ بھی شامل تھے؟‬

‫جواب یمینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق‬
‫نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟‬
‫ان کا جرم تو بتایا جائے۔‬

‫لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا‬
‫حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل‬

‫حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جائے۔‬

‫ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے‬
‫سے کتا بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے‬

‫شیر ہاتھی سے ہاتھی مرد سے مرد عورت‬
‫سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔ ڈر کی ابتدا اور‬
‫انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے مولؾ کی دلیل میں‬
‫میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی‬

‫کام کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر‬
‫مجھے پکارا گیا۔ میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ‬
‫کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صندوق میں چوہا‬
‫گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان سے ڈرتا‘ پی‬
‫گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے بلی‬
‫یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ‬

‫چوہا صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔‬
‫چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل‬
‫میں انتہائی کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ‬
‫خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائی کمزور ہے۔‬

‫کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے‬
‫بوڑھے عورتیں لاؼر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے‬
‫گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ‬
‫ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی‬
‫بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا‬

‫مرا نہیں حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔‬

‫بلوچستان میں انسانی لتل و ؼارت کا مسلہ امریکی‬
‫پارلیمان میں بطور لرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی‬

‫معاملہ کسی دوسرے ملک کی پارلیان میں آنے کے‬
‫‪:‬تین معنی ہیں‬

‫‪١‬۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئی ہے۔‬
‫‪٢‬۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں‬

‫رہی۔‬
‫‪٣‬۔ امریکہ‘ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے‬

‫کا بہانہ بنا کر فوجی کاروائی کا رستہ بنا رہا ہے۔‬
‫میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے‬
‫‪:‬تناظر میں دیکھیں گے تو معاملہ صاؾ ہو جائے گا‬
‫امریکہ بلوچ عوام کے لاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ‬

‫دے رہا۔‬
‫صدر آصؾ علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل‬

‫‪:‬کے حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے‬
‫ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں‬

‫دیں گے۔‬
‫چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا‬

‫میرے تے نہ رہنا۔‬
‫ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں‬
‫گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیئر کلرک‬
‫کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔‬

‫ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے‬
‫ہیں سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں‬

‫چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترلی کے دور میں ہم سچ‬
‫کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری‬
‫سیاسی سماجی یا پھر التصادی مجبوری ہے۔‬

‫ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی‬
‫کیا مدد کریں۔ صاؾ کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ‬
‫رہنا‘ جب بھی مشکل ولت پڑا ہمیں دشمن کی صؾ‬

‫میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت‬
‫اور ڈالر کے حسن پر یمین رکھنے والے لوگ ہیں۔‬
‫ہماری عمل اور ؼیرت پیٹ می بسیرا رکھتی ہے۔ ہم‬
‫ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئی اور‬
‫ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے‬
‫کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی‬
‫جبکہ بجلی گئ ہوئ ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا‬
‫تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرؾ‬
‫دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے‬
‫سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوءے تھے کہ فلاں گھر‬
‫کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے‬
‫کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر‬

‫سے پائپ جاتا ہے۔‬
‫ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر‬
‫خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرؼوں کی‬

‫شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریػ کھاتے‬
‫ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے‬
‫اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی‬
‫مل پائے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی‬
‫لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک‬

‫میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔‬
‫چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور‬
‫ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں‬

‫چڑھتا۔‬

‫مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے‬
‫دنوں سننے میں آئی۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نئے‬

‫آنے والے ضلعی افسر نے اپنے درجہ چہارم کے‬
‫ملازم سے کہا بھءی ہمارے آنے کی خوشی میں‬
‫دعوت وؼیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرؼے دیگ چڑھا‬
‫دءے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے‬
‫آنے کی خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ‬
‫چہارم کا ملازم دیگ کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں‬
‫سرخرو ہوئے۔ دیگ چڑھی افسر کی خوشی پوری ہو‬
‫گئی ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر اٹھا۔ وہ اتنا‬

‫ہی کر سکتا تھا۔‬

‫ممبری کے امیدواروں کا بھی ؼالبا خرچہ لون مرچ‬
‫مصالحے پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید‬
‫نوبت نہیں آئے گی کیونکہ لون مرچ مصالحے کا‬

‫خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر دیا جائے گا۔‬

‫ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا‬
‫ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے‬
‫کی صورت میں بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے‬

‫‪:‬اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں‬

‫‪١‬۔ جو مرنا جانتے ہیں‘ مارنے میں بھی کم نہیں‬
‫ہوتے۔ امریکہ نے یہ ؼلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں‬

‫شاید اسے صدیاں لگ جائیں۔‬
‫‪٢‬۔ ایران کا ساتھ دیا جائے گا۔‬
‫‪٣‬۔ ؼیرت مند‘ مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس‬

‫سےکبھی باہر نہیں ہو پاتا۔‬
‫ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتائج ہوں گے۔ جنگ ہے‬

‫ہی تباہی و بربادی کا نام۔‬

‫بلوچ ؼیرت مند لوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ امریکہ‬

‫ان کے لاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔‬
‫افؽانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان‬
‫کو وافر چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل‬

‫میں امریکہ کے لیے نفرت اور صرؾ نفرت ہے۔‬
‫چوری عوام کے پیٹ میں نہیں گئ۔ ان کے پیٹ میں‬
‫خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں ؼصے اور خفگی کا‬

‫سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور‬
‫بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے۔‬

‫سیاست دان اپنی عینک کا نمبر بدلیں‬

‫کل ہی کی بات ہے‘ میں کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا‬
‫تھا کہ گھروالی چاءے لے کر نازل ہو گئ۔ مجھے‬
‫سوچ میں ڈوبا میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بولی “کیا بات‬
‫“!ہے خیر تو ہے‘ کس سوچ میں ڈوبے ہوئےہو؟‬
‫“نہیں کوئی ایسی خاص بات نہیں“‬
‫“پھر بھی“‬

‫مجھے اپنی پنشن کے بےبابائ ہونے کے سبب پنشن‬

‫آڈر میں کیڑا بھرتی کرنے کا تذکرہ اچھا نہ لگا۔ ہر‬
‫روز ایک ہی راگ سن کر کان پک جاتے ہیں۔ دوسرا‬
‫اس نے مجھے ہی جھوٹا کرنا تھا۔ جب رشوت اصول‬
‫اور ضابطہ بن گئ ہو تو حاجی ثناءالله بننے کی کیا‬
‫ضرورت ہے۔ اصول اور ضابطے سے انکار موت کو‬
‫ماسی کہنے کے مترادؾ ہے۔ یہ بھی کہ اصلاح اور‬
‫بہتری جو کسی کی معدہ کشی کا سبب بنتی ہو جرم‬
‫کبیرہ سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ دوسرا میرے‬
‫اپنے حوالہ ہی سے سہی‘ اصلاح اور بہتری کا ٹھیکہ‬
‫میں نے کیوں لے رکھا ہے۔ یہ حاکم کا کام ہے‘ وہ‬
‫کرے نہ کرے‘ مجھے اس سے کیا۔ میرے پیٹ میں‬
‫کیوں مروڑ اٹھتے ہیں۔ اس میں کسی اور کو ٹانگ‬

‫زنی کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں تو لوگ اپنا کام‬
‫ایمانداری تو بہت دور کی بات بددیانتی سے کرنے کو‬
‫تیار نہیں ہیں۔ لہذا مجھے نہایت فرمانبرداری سے زر‬
‫رشوت ادا کرکے کام نکلوا لینا چاہیے تھا۔ اب اپنی‬
‫کرنی کی بھگتوں۔ایک ہی با ت پر ایک ہی انداز سے‬
‫بےعزاتی کروانا سراسر بدذولی تھی۔ کم از کم انداز‬
‫اور ذاءلہ تو بدلا جانا چاہیے۔ ایک مضمون کو سو‬
‫رنگ سے باندھا جا سکتا ہے۔ اچانک ایک نئ با ت‬
‫میرے ذہن میں آئی۔ میں نے اس کے سوال کے جواب‬

‫میں عرض کیا“ کوئی بہت گڑبڑ میرے اندر چل رہی‬
‫“ہے۔‬

‫“کیوں کیا ہوا؟“‬
‫اب عینک سے دھندلا نظر آتا ہے اور بؽیرعینک “‬

‫“کے تو کچھ نظر آتا ہی نہیں‬
‫میں تو پہلے ہی کہتی ہوں تمہارے سر میں دماغ نام “‬

‫“کی چیز ہی نہیں‬
‫کیا بکواس کرتی ہو“ میں نے جعلی ؼصہ دیکھاتے “‬

‫ہوئے کہا۔‬
‫“ہاں ٹھیک کہتی ہوں“‬
‫“خاک ٹھیک کہتی ہو“‬
‫ارے میں کب کہتی ہوں تمہارے دماغ میں گڑبڑ ہے‘ “‬
‫“دماغ ہوگا تو ہی گڑبڑ ہو گی۔‬
‫“یہ کیا پہلیاں بھجوا رہی ہو‘ صاؾ صاؾ کہو“‬
‫“جاؤ جا کرعینک کا نمبر بدلو“‬
‫میں نے پکا سا منہ بنا کرکہا ارے یہ بات تومیرے “‬
‫“ذہن میں ہی نہیں آئی۔ تم جینیس ہو واہ واہ‬
‫“مروں گی تو تمہاری آنکھیں کھولیں گی“‬
‫یہ کہہ کر وہ چلی گئ۔ چایے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔‬
‫اس والعے کے بعد اس کی ذہانت کی دھاک پورے‬
‫خاندان میں بیٹھ گئی تاہم اصل بات کسی کی سمجھ میں‬

‫نہ آ سکی۔ نظر مفت میں تو ٹیسٹ نہیں ہوتی اگر ہو‬
‫بھی جاءے تو رکشے والامیرا پھوپھڑ تو نہیں جو‬
‫مفت میں دوکانوں پر لے جاتا پھرے گا۔ اگر گرہ میں‬
‫مال ہوتا تو اپنی گروی پڑی پنشن حاصل نہ کر لیتا۔‬
‫میں اصل پریشانی کسی کو بتا کر اس تماشے کا مزا‬
‫کرکرا نہیں کرنا جاہتا۔ ہاں البتہ اپنی گھروالی کی ذہانت‬

‫کی بانگیں دیتا پھرتا ہوں۔‬

‫آج ملک عزیز میں سیاسی تناؤ کی فضا ہے۔ گریب‬
‫گربا کا اس میں کوئ ہاتھ نہیں اور ناہی وہ اس سے‬
‫کوئ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھیں صرؾ بھوک پیاس‬
‫سے خلاصی کی فکر لاحك ہے جس سے چھٹکارے‬
‫کی سردست کوئ صورت نظر نہیں آتی۔ سیاسی فضا‬
‫گرم ہو یا سرد‘ انھیں تو بھوک پیاس میں دن رات کرنا‬
‫ہیں۔ اس مسلے کو دیکھنے کے لیے کبھی کس عینک‬

‫کا استمال نہیں کیا گیا۔ اس مسلےکے لیے عینک‬
‫بنائی یا بنوائی ہی نہیں گئ اورناہی ضرورت محسوس‬
‫کی گئ ہے۔ ہر کسی کی سوچ اپنی ذات تک محدود رہی‬
‫ہے لہذا عینک کے نمبر بڑھنے یا گھٹنے کا سوال ہی‬

‫نہیں اٹھتا۔ ہاں البتہ حصولی التدار کے لیے اکھاڑ‬
‫پچھاڑ ضرور ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے۔‬

‫پہلےپہل دو تین اخبار اور ریڈیو آگہی کی کل بساط‬
‫تھی۔ بی بی سی کا شہرا تھا۔ آگہی کی کمی کے باعث‬
‫اتنی بےچینی نہ تھی۔ حکمران عوام سے اور عوام‬
‫حکمرانوں سے اور ان کی کار گزاری سے بےخبر‬
‫تھے۔ بےخبری کے سبب توازن کی صورت موجود‬
‫تھی۔ آج بےخبری یکطرفہ ہے۔ عوام حکمرانوں سے‬
‫باخبر ہیں لیکن حکمران عوام سے بے خبر ہیں۔ پہلے‬
‫ولتوں میں سیاسی ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے‘ کؤئ‬
‫نہیں جانتا تھا لیکن آج میڈیا کے حوالہ سے معمولی‬
‫سے معمولی بات گلیوں میں گردش کرنے لگتی ہے۔‬

‫بعض اولات بلکہ اکثر اولات سیر کی سوا سیر بن‬
‫جاتی ہے۔‬

‫بھولے بھالے سیاسی لوگ آج بھی پرانے نمبر کی‬
‫عینک استمال میں لا رہے ہیں۔ وہ اس حمیمت کو‬
‫تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی عینک کا نمبر‬
‫بڑھ گیا ہے۔ کمزور گرہ کے لوگ پرانے نمبر کی‬
‫عینک استمال کریں‘ یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن‬
‫یہ لوگ تو جھٹ سے نءے نمبر کی عینک خرید‬
‫سکتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر کچھ بھی‬
‫خریدا جا سکتا ہے۔ یہ تو عوام کے تابعدار ہیں اور ان‬

‫کے درمیان گریب بلکہ ممروض صورت بنا کر جاتے‬
‫ہیں۔ ان بےچاروں کی گرہ میں ذاتی کیا ہے سب کچھ‬

‫پرایا ہی تو ہے۔‬

‫سیاست کا ہنر دیگر تمام ہنروں سے زیادہ مشکل ہے۔‬
‫لدم لدم پر مشکلوں اور آزماءشوں کے کانٹے‬

‫بکھرے رہتے ہیں۔ چاروں اور خطرے کے بادل امڈے‬
‫رہتے ہیں۔ ایسے میں جان اور ووٹ خوری کے لیے‬
‫جھوٹ اور لایعنی وعدوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ خود‬
‫کو اچھا اور دوسروں کو برا کہنا سیای اخلالیات کی‬
‫مجبوری ہوتی ہے۔ پیٹ بھر کھا کر بھوک کا ناٹک‬
‫کرنا پڑتا ہے۔ چاروں یکے ہاتہ میں رکھنے کی سعی‬
‫کرنا پڑتی ہے۔ گو کہ بےنمبر پتوں کو بھی بطور ٹیشو‬
‫پیپر رکھنے کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔‬
‫بےنمبر دکی کی سر اگر اتفالا یا تمدرا کسی پچھڑے‬
‫سیاستدار کے ہاتھ لگ جاءے توملال باکمال دیدنی ہوتا‬
‫ہے۔ داؤ پر لوم اور اس کے اثاثے لگتے ہیں۔ جیت‬

‫ہوئی تو پرایا مال اپنا ہوتا ہے۔ مات ہوئ تو لفظ‬
‫داھندلی تسکین بخش روح افزا بن جاتا ہے۔ وہ‬
‫مظلومیت کی جیتی جاگتی تصویر بن کر سامنے آتے‬

‫ہیں اور گھر کی کھانا نہیں پڑتی۔‬

‫سیاستداروں کےاثاثوں کی بات زوروں پر رہی ہے۔‬
‫ان کے اثاثوں کی بات کرنا سراسر ظلم ہے‘ زیادتی‬
‫ہے۔ یہ گریب اور مسکین لوگ ہیں۔ جب تک پاکستان‬
‫کے سارے کے سارے اثاثے ان کے اپنے نہیں ہو‬
‫جاتے‘ ان کی گربت ختم نہیں ہو سکتی۔ خوشحال عوام‬
‫کو ملکی لرضوں کی ادئگی میں زندگی گزارنا ہو گی۔‬
‫بات کرنی ہے تو تاجروں اور مہامنشی ہاؤس کے‬
‫لوگوں کے ممینوں کی جائے۔ پہلے طبمے کے لوگوں‬
‫کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔‬
‫انکم ٹیکس والے ان کے دکھنے والے دانتوں کو لدر‬

‫کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ثانی الذکر طبمہ خود‬
‫محتسب اورہر لسم کے احتساب سے بالاتر ہے۔ آج‬
‫گریب لوگوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے کی اشد‬
‫ضرورت ہے تاکہ بالا طبمے کے خسارے اور لرض‬
‫کو چکایا جا سکے۔ اس طرح وہ لوگوں کے نجی‬
‫وساءل کو بھی بخوبی ہاتھ میں کر سکیں گے۔ میری‬
‫یہ گزارش سیاست کی پرانی عینک کی زد میں نہیں‬
‫آسکے گی۔ اس لیے سیاسی عینک کا نمبر تبدیل کرنے‬

‫سے ہی سیاسی دھندلاہٹ ختم ہو سکے گی۔‬

‫فمیروں کی بستی میں‬

‫کچھ ووٹ کے شخص ہیں‬
‫کچھ نوٹ کے شخص ہیں‬
‫کچھ ربوٹ سے شخص ہیں‬

‫اندر لوک سے‬
‫پروانہ جس کےنام آتا ہے‬
‫وہی کاسہءسوال پرموٹ ہوتا ہے‬

‫فمیروں کی بستی میں‬
‫اسلام کی بوتلیں‬

‫اندر لوک کی ہوتی ہیں‬
‫شراب یم لوک سےآتی ہے‬
‫لیبل گورا ہاؤس میں لگتا ہے‬
‫اسمبلی کے اکھاڑے میں‬

‫رلص ابیس ہوتا ہے‬
‫گریب گلیوں میں‬
‫ممدر سوتا ہے‬
‫بھوک جاگتی ہے‬

‫لوگ پیاس پیتے ہیں‬
‫فمیروں کی بستی میں‬
‫کون جیتا ہے کون مرتا ہے‬
‫کب تاریخ کا ورق بنتا ہے‬
‫سچ کےجو سپنےبنتاہے‬
‫نیزےپرتمام ہوتاہے‬
‫فمیروں کی بستی میں‬
‫جسموں کےچیتھڑےاڑتےہیں‬
‫انسان نیلام ہوتاہے‬
‫یہ سب برسرعام ہوتاہے‬
‫لوگ پیاس پیتے ہیں‬
‫فمیروں کی بستی میں‬

‫ممدر سوتا ہے‬
‫بھوک جاگتی ہے‬
‫لوگ پیاس پیتے ہیں‬

‫امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر‬

‫ضلع لصور بلھےشاہ صاحب نور جہان فالودہ میتھی‬
‫اندرسےاور جوتوں کےحوالہ سے پوری دنیا میں‬
‫پہچانا جاتا ہے لیکن اب دو اور چیزیں اس کی شہرت‬
‫کے کھاتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ عمران خان کے‬
‫کرسیاں ۔ اٹھا لیں جلسے میں لوگوں نے کرسیاں‬
‫ا ٹھائی گئیں بالکل الگ سے موضوع گفتگو کیوں‬
‫ہےتاہم یہ ولوعہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا یہی‬
‫نہیں لصور کی وجہ شہرت ضرور بنا رہے گا۔ دوسرا‬
‫ولعہ بجلی کے حوالہ سے ہڑتال جلوس اور عوامی‬
‫ردعمل ہے۔ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا یہ کوئی نئی‬
‫اورعجیب بات نہیں ہاں نئی اورعجیب با ت یہ ہے کہ‬
‫مرمت اورسیوا نہیں لوگوں کی جوتوں لاٹھیوں سے‬
‫ہوئی ورنہ ہر گستاخ اور حك مانگے والے کے پاسے‬
‫ضرور سیکے گئے ہیں۔ بات بھی اصولی ہے احتجاجی‬
‫اور ہڑتالی نمص امن اور کار سرکار میں خلل کا باعث‬
‫بنتے ہیں۔ کار سرکار کیا ہے کھانا پینا اور موج مستی‬

‫کرنا‬

‫میرے نزدیک جیب کترے دفتر شاہی اور ہاؤسز سے‬
‫متعلك لوگ سچے درویش اور الله کو ماننے والے ہیں۔‬
‫جب ان میں سے کوئی واردات ڈالتا ہے تو اسے پورا‬

‫یمین ہوتا ہے کہ متاثرہ کا الله مالک ہےاور وہ اسے‬
‫اپنی جناب سے اور عطا کر دے گا۔ گویا متاثرہ پر‬
‫رائی بھر فرق نہیں پڑے گا۔ ایک شخص دوا لینےجا‬
‫رہا ہے اور رستے میں جیب کٹ جاتی ہے کیا جیب کٹ‬
‫جانے کے بعد دوانہیں آتی دوا پھر بھی آتی ہے۔ گویا‬
‫سبب تو الله کے پاس ہیں اس لیئے جیب کاٹنا جیب‬

‫کترے کا اصولی حك ہے۔‬

‫کچھ ادارے عوام کے حك کو اپنے ہاتھ میں لینے کی‬
‫کوشش میں ہیں۔ یمینا یہ ؼلط طرز عمل ہے۔ ہر کسی‬

‫کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ وہ خلفاء کے لاضی‬
‫صاحبان تھے جوخلیفہ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر‬
‫لیتے تھے۔ یہ خلیفہ نہیں خلیفے ہیں۔ ایک طالب علم‬
‫کے محترم والد صاحب ماسٹر صاحب کے پاس اپنے‬

‫بیٹے کی تعلیمی حالت دریافت کرنے گئے۔‬
‫ماسٹرصاحب نےانھیں بتایا کہ ان کا لاڈلا تو خلیفہ ہے۔‬
‫انھیں اس جواب پرشرمندگی ہوئی ہو گی۔ ہمارے عوام‬

‫شرمندہ نہیں ہیں کیوں کہ‬
‫۔ ‪ 29‬سے ‪ 31‬فیصد عوام اس کار بد میں حصہ ‪1‬‬

‫لینے کے سزاوار ہوتے ہیں‬
‫۔ حصہ لینے کے بعد وہ سبزہ بیگانہ ہو گیے ہوتے ‪2‬‬

‫ہیں اور کسی معاملے میں ان کا اچھا برا عمل دخل‬
‫نیہں رہ گیا ہوتا۔‬

‫۔ ‪ 29‬سے ‪ 31‬فیصد عوام خلیفہ نہیں خلیفے ہی چن ‪3‬‬
‫سکتے ہیں۔‬

‫۔ تمام پڑھے لکھے لوگ خلیفے چننے میں مصروؾ ‪4‬‬
‫ہوتے ہیں‬

‫۔‪5‬۔ ‪ 29‬سے ‪ 31‬فیصد ووٹ تمسیم کےعمل میں داخل‬
‫ہو کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں خیر کی‬

‫تولع کوئی دیوانہ ہی کر سکتا ہے۔‬
‫۔ چناؤ میں حصہ لینے کا عمل مال سے ممکن ہے ‪6‬‬
‫عوام کی گرہ میں مال کہاں اس حمیمت کے با وجود‬
‫عوام کا ممدر بھوک پیاس اندھیرہ اور جوتے کھانا ہے‬
‫زبانی کلامی سہی ان کا مان تور کھا جا رہا ہےاوریہ‬

‫گوئی معمولی بات نہیں۔‬
‫۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب ‪7‬‬

‫کی سی ہے‬
‫ستر میں سے پچاس لڑکوں نے فیض احمد فیض کا‬
‫شعر بتایا۔ جمہوریت کےحوالہ سے اسے درست ماننا‬
‫پڑے گا۔ اگر تعداد درستی کا معیارہے تو کوئی حك‬
‫گواور حك پسند درست نہیں ٹھرے گا۔ چھوٹی ہو یا‬
‫بڑی ؼلطی ؼلطی ہی ہوتی ہے اور اس کا بھگتان‬

‫زندگی کو متوازن رکھ سکتا ہے۔‬

‫پروفیسر صاحبان ہڑتال کر رہے ہیں اور احتجاج بھی‬
‫کریں گے یہ ان کا اصولی حك ہے حك نہ دینا اور نہ‬
‫دینے کا مشورہ بااختیار لوگوں ک اصولی حك ہے۔ وہ‬
‫پروفیسر صاحبان کا ووٹ لے کر سرکار نہیں بنے اور‬
‫نہ ہی ان کی مدد سے شکشا منشی کو لاٹ ہاؤس میں‬
‫کرسی ملی ہے۔ یہ تو ان کے ایک کلرک کی مار نہیں‬
‫ہیں۔ پتہ نہیں یہ خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ لصور کے‬
‫حالیہ تاحد نظرمجمع کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ یہ‬

‫‪.‬کس کھیت کی مولی گاجر ہیں‬

‫میری موجودہ بحران کے حوالہ سے بہت سارے‬
‫مزدور پیشہ لوگوں سے بات ہوئی اکثرت کواس سے‬
‫دلچسپی ہی نہیں۔ وہ اسے بڑوں کا کھیل سمجھتے‬
‫ہیں۔ وہ اسےاپنا مسلہ نہیں سمجھتے۔ وہ دال روثی‬
‫اور پانی کی بمدر ضرورت فراہمی کو پہلا اور آخری‬
‫مسلہ سمجھتے ہیں۔ بیل کو کسی نے کہا تمہیں چور‬
‫لے جائیں اس نے کہا مجھے اس سے کیا کام کروں گا‬
‫تو چارہ ملے گا۔ یہاں کون سا اکبر بادشاہ کے تخت پر‬
‫بیٹھا ہوں۔جو وہاں جا کر بےسکون ہو جاؤں گا۔ بات‬

‫کام اور چارے تک رہے تو کسی کو کوئی اعتراض‬
‫نہیں۔ لوگ کام اور چارے سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ‬
‫کام پرآتے ہیں لیکن بجلی کے سبب کام نہیں کر پاتے۔‬
‫جب خالی ہاتھ واپس جاتے ہیں تو ان پر پریشانی کا‬

‫پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ خود کو مجرم سا محسوس‬
‫کرتے ہیں۔ بچوں کی بھوک اور باپ کی بیماری کے‬
‫لیے دوا میسر نہ آنے کے سبب مایوسی سے بار بار‬

‫مرتے ہیں۔‬

‫دوسری طرؾ معاملہ یہ کہ کوئی سچائی کو تسلیم‬
‫کرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ بحث چھڑ گئی کہ ہاتھی‬

‫انڈے دیتا ہے یا بچے مولوی صاحب نے انڈے پر‬
‫شرط لگا دی۔ جب اس کی بیوی کو علم ہوا تو خفا‬
‫ہوئ۔ جوابا مولوی صاحب نے کہا ہاروں تب جب‬
‫مانوں گا۔ ہہ سب نو اب صاحب صاحبزادہ صاحب‬
‫راجہ صاحب چوہدری صاحب وؼیرہ ہیں اور اپنے‬
‫پرائے اور ملکی مال کی کمی نہیں۔ بس اب امیری میں‬
‫شاہی طعام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لوگ‬
‫سڑکوں پر آ جائیں یا بھوک پیاس سے مر جائیں انہینا‬
‫س سے کوئی ؼرض نہیں۔ وہ الله کریم کی ذات پر‬
‫بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ بہتر رزق دینے والا ہے۔‬

‫اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مر‬
‫جائیں گے۔ الله کریم پتھر میں کیڑے کو رزق عطا کرتا‬

‫ہے۔‬

‫عوام کا یہ کہنا لایعنی اور بےمعنی بلکہ چٹا ننگا‬
‫جھوٹ ہے کہ وہ بھوک سے مر رہے ہیں بھوک پیاس‬

‫کے متعلك بات کرنے والے سازشی ؼیرذمہ دار‬
‫بیرونی ایجنٹ دہشت گرد امریکہ کے مجرم اور نائن‬
‫الیون کی سازش میں شریک تھےاس لیے انھیں معاؾ‬
‫کرنا یا کھلا چھوڑ دینا اس عہد کی بہت بڑی ؼلطی ہو‬
‫گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ پاکستان دشمن ملک‬
‫کے لیے کام کر رہے ہوں اور پاکستان کی سیاسی‬
‫پارٹیوں کے بےمثال اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی‬

‫کامیاب کوشش کر رہے ہوں۔‬

‫بے بکری نہیں بھ بھیڑ‬

‫عورت کا احترام' ہر سوسائی کا نعرہ ہے۔ اس ذیل‬

‫میں' کسی رشتے کی تخصیص موجود نہیں۔ ماں ہے'‬
‫تو گھر اور دل و دماغ کی روشنی' بہن' بیٹی اور بہو‬
‫گھر کی عزت' بیوی ہے تو گھر کا سنگار ہے۔ محبوبہ‬
‫ہے' تو حواس کا ایک سو چھے بخار ہے۔ وہ گھر‬
‫میں نہیں' حواس آنگن میں ڈیرے ڈالتی ہے' بل کہ لدم‬
‫جماعتی ہے۔ آدمی دنیا بھر میں ذلیل' اور پھر کھیسے‬
‫سے محروم ہو جاتا ہے۔ محترمہ کسی اور کی ہو جاتی‬
‫ہے۔ وہ اس میں اس کا لصور نہیں سمجھتا' بل کہ‬

‫اسے ظالم سماج کی سازش لرار دیتا ہے۔‬

‫عورت' جہاں سماجی اصول کے تحت واجب الاحترام‬
‫ہے' وہاں نفسیاتی سطع پر بھی کوئی ہوائی چیز لسم‬
‫کی چیز بھی ہے۔ یہ معاملہ کم زور اور ماڑے تک ہی‬
‫محدود نہیں۔ جہاں گیر اور شاہ جہاں محض برصؽیر‬
‫تک محدود تھے۔ امریکی صدر دنیا بھر کے خداؤں کا‬
‫خدا ہے' وہ بھی اس پسلیائی مخلوق کے حضور بے‬
‫بکری نہیں بھ بھیڑ ہے۔ یہ کوئی زبانی کلامی کی بات‬
‫نہیں' میرے پاس اس کی سند موجود ہے۔ اس سند کی‬
‫موجودگی میں' اگر کوئی مجھے رن مرید کہتا ہے' تو‬
‫اس سے بڑھ کر کوئی حمائك پوش نہیں ہو سکتا۔ میں‬
‫اسے گریبان میں جھنکنے کا مشورہ دوں گا۔ جھانک‬

‫کر تو دیکھے' میری جانب فمط ایک انگلی ہو گی' بالی‬
‫چار اس کی جانب ہوں گی۔‬



‫دنیا کے بڑے صاحب کی اس سجدہ خیزی کے بعد'‬
‫کسی ماں کو اپنے بیٹے کو رن مرید کہنے کا حك نہیں‬

‫رہا۔ باپ اگر کہتا ہے' تو کہنے دو' وچارے کی اس‬
‫حوالہ سے نفسیاتی تسکین کے ساتھ ساتھ' شخصی‬

‫احساس کہتری کا انشراع ہو جاتا ہے۔‬


Click to View FlipBook Version