مزدور تو گھر سے آگیا ہوتا ہے لیکن صبح تک بجلی
کے جانے اور جانے کی جندریوں میں اثکاپھسا
سسکتا رہتا ہے۔ صبح سویرے گھر سے نکلا دیہاڑی
دار جب شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اس پر اور
اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہے اس کیفیت کا سیاسی
مداری بجلی والے بڑے لوگ سرکاری افسر وؼیرہ اور
ان کے گماشتے کیا جانیں۔
باؤ جی یہ سب درست ہو جائے تو بجلی کی کمی کا
رولا ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے لیکن بلی کے
گلے میں کون گھنٹی باندھے
کہہ کر کیا تو کیا کیا
وزیر برلیات کے اعلان کے باوجود مختلؾ شہروں “
”مینلوڈشیڈنگ
یہ خبر میری اس تحریر کے بعد شائع ہوئی جس
میں‘ میں نے کہا تھا کہ کہنا اور کرنا دو الگ چیزیں
ہیں۔ اس تحریر کے باوجود اس خبر کا شائع ہونا اس
امر کی طرؾ اشارہ ہے کہ خبر نویس اس حمیمت سے
بےخبر ہے یا پھر وہ پرتھوی پر بسیرا نہیں رکھتا اور
سہانے خوابوں کے دیس کا الامتی ہے۔ ایسا بھی
ممکن ہے کہ اس تک میری ناچیز تحریر رسائی
حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو۔ یا پھر میں اپنا مافی
الضمیر بیان کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جو بھی ہے
صحیح نہیں ہے۔ دوبارہ سے کوشش کرتا ہوں شاید
اب کہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔
کہنا اور کرنا اپنی حیثیت میں دو الگ چیزیں ہیں۔ ان
کے مابین لامحدود فاصلے ہیں۔ بذات خود بجلی
دیکھنے میں ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ متعلمہ پوائنٹ
تک پہنچنے کے لیے دو تاروں کا استعمال کیا جاتا
ہے۔ ایک ٹھنڈی تار دوسری گرم تار۔ دونوں تاروں
کےالگ الگ رہنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہوتی
ہے۔ ہر سوئچ میں ان دونوں کے لیے الگ الگ پوائنٹ
ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں تاریں باہمی اختلاط کر لیں تو
بہت بڑا کھڑاک ہو سکتا ہے۔ اس ٹھاہ کے نتیجہ میں
جان بلکہ جانیں جا سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کہنا
اور کرنا گلے مل جائیں تو مالی نمصان وٹ پر ہوتا
ہے۔ نمصان جانی ہو یا مالی‘ نمصان ہی ہوتا ہے اور
نمصان کی کسی بھی سطع پر حمایت نہیں کی جا
سکتی۔
سکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں کتابی تعلیم
دی جاتی ہے۔ کامیاب طالب علم کو متعلمہ علم کی سند
یا ڈگری دی اتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈگری
ہولڈر اس علم کی کامل جانکاری حاصل کر چکا ہے۔
اس سند یا ڈگری کے باوجود ڈگری یافتہ عملی طور پر
صفر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عملی تجربہ رکھنے
والا ڈگری یافتہ سے کرنے میں کمال کے درجے پر
فائز ہوتا ہے حالانکہ ڈگری یافتہ کرنے سے متعلك
باتیں بار بار پڑھ بلکہ توتے سے بڑھ کر رٹ چکا ہوتا
ہے۔ دونوں کے نام الگ سے ہوتے ہیں۔
کہنے کو تھیوری جب کہ کرنے کو پریکٹیکل کا نام دیا
جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے لطعی طور الگ
ہیں۔ یہ درست سہی پڑھے کو عملی آزمایا جاتا ہے۔
گویا پڑھنا پہلے اور آزمانا بعد میں ہے۔ میں کہتا ہوں
کرنا پہلے ہے اور کہنا یا آزمایا بعد میں ہے۔ ہمارے
ہاں ایک ان پڑھ آدمی بڑے کمال کے کام سر انجام
دے رہا ہے۔ نہیں یمین آتا تو بلال گنج میں جا کر دیکھ
لیں۔ شکاگو یونیورسٹی کا ایک ساءنس کا پروفیسر وہ
کام نہیں کر سکتا جو کام بلال گنج کا ان پڑھ خرادیا
دے سرانجام سکتا ہے۔ اسے کہیں یہ ہے ایؾ سولہ
ذرا اس سے بہتر بنا دو‘ بنا دے۔ ڈالرز میں ملنے
والے سوفٹ ویئر یہاں بازار سے ان کی سی ڈی بیس
رویے میں مل جاتی ہے۔ ہے نا کرنا اور کہنا ایک
!دوسے سے الگ تر؟
جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں۔ جو بولتے ہیں وہ کرتے
نہیں۔ اس طرح دوہرا یعنی کرنا اور کہنا بوجھ بن کر
سر پر آ جاتا ہے۔ کوئی بھی دوہرا بوجھ اٹھا نہیں
سکتا۔ کیا‘ بملم خود بولتا ہے کہ میں ہوں کیا ہوا۔ ؼالبا
:یہ شعر بھیکا کا ہے
بھیکا بات ہے کہن کی کہن سنن میں ناں
جو جانے سو کہے نہ کہے سو جانے ناں
کہہ کر کیا تو کیا کیا۔ کیا وہی اچھا ہے جو کہا نہ
جاءے۔ کرکے کہنا تو احسان جتانے والی بات ہے۔
احسان جتانا سے بڑھ کر توہین آمیز بات ہی نہیں۔
ہمارے لیڈر اتنے بھی گءے گزرے نہیں ہیں جو
احسان جتائیں۔ اسی بنیاد پر ہی وہ صرؾ کہتے ہیں‘
کرتے نہیں۔ وہ خوب خوب جانتے ہیں کہ کرنے کے
لیے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے
نزدیک کیے کی خبر دوسرے ہاتھ تک کو نہیں ہونی
چاہیے۔ جو وہ کرتے ہیں لوگوں کو خبر تک نہیں ہو
پاتی۔ جب لوگوں کو خبر ہوتی ہے ولت بہت آگے نکل
گیا ہوتا ہے۔
کوئ بےبابائ کام کسی بڑی سفارش کے ساتھ جہاں
کہیں نازل ہوتا ہے اس کی زبانی کلامی سہی‘ پذیرائ
تو ہوتی ہے۔ اس کے ہونے کی یمین دہانی بھی کرائ
جاتی ہے۔ امید بلکہ یمین کے چراغ بھی جلائے جاتے
ہیں۔ بعض اولات لڈو بھی بانٹے جاتے ہیں۔ بےبابائ
ہونے کی پاداش میں وہ کام نہیں ہو پاتا۔ اس ممام پر
ناراض ہونا یا مایوس ہونا نہیں بنتا کیونکہ کرنا اور
کہنا دو الگ باتیں ہیں۔
ایم این ایز یا ایم پی ایز یا منسٹرز لوگوں کی
درخواستوں پر سفارشی کلمات لکھتے ہیں۔ یہاں وہ
دونوں فریموں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات ایک
ہی طرح سے ثبت کرتے ہیں۔ وہ تو دیالو اور کرپالو
مخلوق ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیسے مایوس کر
سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی کا کام ہو یا نہ ہو
اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ خوب
جانتے ہیں کہ سفاش اور کام کا سر انجام پانا دو الگ
سے باتیں ہیں۔ سفاش اور کام کا ہونا اختلاط پذیر نہیں
ہونے والے ۔ ان کی الگ الگ اہمیت حیثیت اور
ضرورت ہے۔
ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد اپنی اپنی روٹی پکاتے
ہیں۔ وہ سگے بھائی ہوتے ہیں۔ روٹئ سالن ایک رنگ
روپ رکھتا ہے۔ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہوتا
ہے۔ سگا ہونا یا وعدے میں بندھے ہونا یا روٹی کا
رنگ روپ ایک ہونا اپنی جگہ لیکن نبھانا دو الگ
باتیں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جا
سکتا اور ناہی کیا جانا حمیمت سے تعلك رکھتا ہے۔
پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے کی منشی شاہی سب
سے زیادہ شریؾ‘ تحمل مزاج‘ بردبار اور زیرو رفتار
ہے نہ یہ کچھ کہتی نہ کرتی ہے۔ یہ ہونے کے ہر کام
کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ چونکہ للم ،اٹکل اور
داؤ و پیچ اس کی زنبیل میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اس
لیے ہوتے بھی نہیں ہوتے۔ اس کی تحمل مزاجی اور
زیرو رفتاری ہی وہ بڑا کارنامہ ہے کہ ہم روزاول سے
بھی بہت لدم پیچھے کھڑے بھوک پیاس اور موت کی
ہولی بڑی بےبسی اور بےکسی سے دیکھ رہے ہیں۔
یوں لگتا دیکھنا ہمارا ممصد حیات ہے۔
وزیر عوامی لوگ ہوتے ہیں اس لیے عوام کی بہبود
ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے لوڈ شیڈنگ
ختم کرکے بجلی کے بل لوگوں کی جیب سے تجاوز کر
جاءیں اور پھرلوگ لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے
سڑکوں پر آ کر ذلت و خواری کا منہ دیکھیں۔ وہ بجلی
کے بل اور لوڈشیڈنگ کی جدائ کو عوامی بہبود کے
برعکس سمجھتے ہیں۔
مفروضوں میں زندگی کرنے کا عہد ہے۔ عین ممکن
ہے یہ اخباری خبر ہاوسز سے متعلك ہو جہاں اتفالا
کسی فنی خرابی کے سبب بجلی دو چار لمحوں کے
لیے کبھی کبھار چلی جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کے بڑے
کام۔ وہ مخاطب چھوٹے لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن
وعدے بڑے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔
بلند سطع پر کیفیت مختلؾ ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں
ٹھنڈی اور تتی تاروں کا رولا بالی نہیں رہتا۔ وہاں کرنا
اور ہونا دو نہیں رہتے۔ سچی درویشی یہی ہے کہ
میں تو میں مدؼم ہو کر میں بن جاتی ہے اورپھر
زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں رہتی۔
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر
ایک شخص چور کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔ رستے
میں لبرستان آ گیا۔ چور آگے نکل گیا جبکہ وہ شخص
لبرستان میں داخل ہو گیا۔
کسی نے پوچھا “یہ کیا؟
اس نے جوابا کہا “اس نے آخر آنا تو یہاں پر ہے نا“۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابك لاہور ہائیکورٹ
نےتوہین عدالت کے حوالہ سے اعلی شکشا منشی
کالجز کے لابل ضمانت وارنٹ جاری کر دئے ہیں۔ یہ
کاروائ ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم کی رٹ کے
حوالہ سے عمل میں آئی ہے۔ ڈی ڈی سی (کالجز)
ڈاکٹر اکرم اپنی جیت کے نشہ سے سرشار ہوں گے۔
اعلی شکشا منشی کالجز کے لابل ضمانت وارنٹ
جاری ہونا کوئی ایسی عام اور معمولی بات نہیں۔
عدالت نے وہی کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔ منصؾ
لانون کے دائرے میں رہتا ہے اور لانون کی حدود
کسی کو توڑنے نہیں دیتا۔ کالا گورا ماڑا تگڑا گریب
امیر لانون کی نظروں میں برابر کی حیثیت رکھتے
ہیں۔
عدالت نے جو کیا درست کیا اور درست کے سوا کچھ
نہیں کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈی ڈی سی(کالجز)
ڈاکٹر اکرم نے اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس کے
مروجہ اصول و ضابط کی پھٹیاں اکھیڑنے کی جسارت
تو نہیں کی؟
اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اپنے انجام کو کیوں
بھول گیا۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ آخر لوٹ کر آنا تو
یہاں پر ہی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اعلی شکشا
منشی کالجز ہاؤس میں بڑے بڑے پھنے خانوں کی
زندہ ہڈیاں بوٹیاں دفن ہیں۔ کوئی نشان تک نہیں تلاشا
جا سکتا۔ اب صرؾ اور معاملہ ہے لیکن آتے ولتوں
میں اس معاملے کے بطن سےان گنت معاملات جنم
لیں گے۔
یہ بڑے کمال کا سچ ہے کہ اس عہد کی عدلیہ آتے کل
کے لیے اعی درجے کا حوالہ چھوڑ جاءے گی۔ اس کا
کردارمثال بنا رہے گا۔ عدالت کو کوئ اور کام نہیں جو
ڈاکٹر اکرم کےمعاملات کو دیکھتی پھرے گی۔ کہاں تک
بھاگیں گے۔ دوڑ دھوپ کرنے والوں کو پہاڑ کے
نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ جو بھی مہا منشی ہاؤس سے
ٹکرایا ہے‘ عبرت کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے۔
کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو ان کی پہلی رکات
سے بچ کر نکل گیا ہو۔ یہ بھی کہ کسی ریسرچ اسکالر
کو ہمت نہں ہو سکی کہ وہ یہاں بلڈوز ہونے والوں کا
اتا پتا دریافت کرنے کی ہمت کر پایا ہو۔ یہ ہڈیوں
بوٹیوں کا بلا کنار سمندر ہے۔ میں سب جانتے تجربہ
رکھتے اور بلا مرہم زخمی‘ ڈاکٹر اکرم کی ہڈی بوٹی
کی خیر کی دوا کےلیے دست بہ دعا ہوں۔ تصویری
نمایش کے شولین اس کمزوروں کے پرحسرت
لبرستان کی جانب شولین نظریں اٹھا کر تو دیکھیں‘
نانی نہ یاد آ گئ تو اس پرحسرت لبرستان کا نام بدل
دیں۔
ہمارے ہاں تعلیم عام کرنےکی رانی توپ سے دعوے
داؼے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ناخواگی کے بیج
بویے جاتے ہیں۔ اعلی اور تحمیك سے متعلك تعلیم کی
راہوں میں مونگے کی چٹانیں کھڑی کرنے کی ہر
ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں صرؾ
ایک حوالہ درج کرنے کی جسارت کروں گا۔ ۔حساب
شماریات وؼیرہ این ٹی ایس میں شامل ہوتے ہیں۔
آرٹس والوں کا ان مضامین سے کیا کام ۔ اس ٹسٹ
میں ان کے مضامین سے متعلك سوال داخل کیے
جاییں۔ یوں لگتا ہے یہ مضامین انھیں فیل کرنے یا
ٹسٹ میں حصہ نہ لینے کی جرات پیدا کرنے کے لیے
این ٹی ایس سی میں داخل کءے گءے ہیں۔
حساب اور شماریات کا تعلك چناؤ وؼیرہ سے ہے۔ ان
مضامین کا چناؤ ٹسٹ میں شامل کرنا بےمعنی اور
لایعنی نہیں لگتا۔ ایک اخباری خبر کے مطابك چناؤ
کے حوالہ سے بارہ کروڑ روپے سکہ رایج الولت
بھاؤ لگ گیا ہے۔ اگر یہ رلم کسی گریب آدمی کو دے
دی جاءے تو وہ اتنی بڑی رلم دیکھ کر ہی پھر جاءے
گا۔ اگر چیڑا اور پکا پیڈا نکلا تو گنتے گنتے عمر تمام
کر دے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ گنتی کے دوران ہی
کوئ ڈاکو لٹیرا اسے گنتی کی مشمت سے چھٹکارا دلا
دے۔ حساب اور شماریات اگرچہ بڑے اہم اور کام کے
مضامین ہیں لیکن ان کا متعلك پر اطلاق ہونا چاہیے۔
ؼیر متعلك پر اطلاق بڑا عجیب وؼریب لگتا ہے۔
عجیب ہو یا نہ ہو' اس معاملے کا تعلك ؼربت سے
ضرور ہے۔ جمہوریت امریکہ سے درامد ہوئ ہے۔ یہ
:ممامی‘ عربی یا اسلامی نہیں ہے۔ اس کا نعرہ ہے
عوام کی حکومت‘ حکومت تو الله کی ہے۔
عوام کے ذریعے‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله'
کدھر گیا۔
عوام کے لیے‘ وڈیرے کیا ہویے۔ وہ حکومت کرنے
کے لیے بالی رہ جاتے ہیں۔ گویا وہ سرکار ٹھرتے
ہیں اور عوام رعایا۔
براءے نام سہی‘ رعایا عوام کا حوالہ موجود ہےاور
یہ رعایا عوام کی تسکین کا بہترین موجو ہے۔ بارہ
کروڑ بھاؤ نے تو براءے نام رعایا عوام کی اصل
حیمیت کی للعی کھول کر رکھ دی ہے۔ میری اس دلیل
سے واضح ہو جاتا ہے کہ حساب اور شماریات جیسے
مضامین ہر کسی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہاں
البتہ مال خور منشی شاہی کے لیے بھی لازمی سے
لگتے ہیں۔ ان کی سلیکشن کے حوالہ سے ان
مضامین کی برکات کو نظرانداز کرنا‘ مال خور منشی
شاہی کو نالابل تلافی نمصان پہچانے کے مترادؾ ہے۔
البال ساری عمر خودی خودی کرتا رہا اور خودی میں
ترلی بتاتا رہا۔ میں نے تو آج تک خوددار لوگوں کو
ذلیل وخوار ہوتے دیکھا ہے۔ اپنی اور سماجی خودی
بیچنے والے نام پیدا کرتے آءے ہیں ۔جمہوریت کے
لفافے میں انھوں نے لومی آزادی عزت اور حمیت کا
خون ملفوؾ کیا ہے۔ اس کارنامے کے صلہ میں پیٹ
بھر کھایا ہے اور محلوں میں الامت رکھی ہے۔ عہد
حاضر میں خودی وکاؤ مال ہو گئی ہے۔ جو بھی رج
کھاناچاہتا ہے اسے البال کے کہے پر مٹی ڈال کر اس
کے مصرعے کو یوں پڑھنا اور اسی حوالہ سے
:زندگی کرنا ہو گی
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر
اگر کوئ البال کے فلسفے پر جما رہا تو نام پیدا
کرنے کا خواب گلیوں میں بےچارگی اور شرمندگی کی
زندگی بسر کرے گا۔ خودی کو زندگی کا ممصد بنانے
والے ہوم گورنمنٹ سے بھی چھتر کھاتے دیکھے
گءے ہیں۔
خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن
خدا بچاؤ مہم کا بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے آؼاز
کیا گیا۔ کسی نے اس جانب توجہ ہی نہ کی کہ خدا تو
سب کو بچانے والا ہے۔ وہ ہر گرفت سے بالا ہے۔
پوری کائنات اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج
نہیں۔ اگر وہ خدا منکر لوگوں کا رب نہ ہوتا تو وہ
سارے کے سارے بھوک پیاس سے مر جاتے۔ وہ تو
ساری کائنات کا مالک و خالك ہے۔ یہی نہیں وہ تو
اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اسے کسی کی مدد کی
ضرورت نہیں بلکہ ہر کوئی اس کی مرضی و منشا
کے تابع ہے۔ کسی نے یہ ؼور کرنے کی زحمت ہی
گوارہ نہ کی کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہی ہے لیکن
ہمارے اور ان کے خدا میں زمین آسمان کا نظریاتی
فرق ہے۔ ان کا خدا تین میں تمسیم ہے جب کہ ہمارا
خدا تین نہیں‘ ایک ہے۔ وہ تمسیم کے نمص سے بالا
ہے۔
خدا بچاؤ مہم کے لیے اسلحہ اور ڈالرز کی بارش ہو
گئی۔ خدا بچاؤ مہم میں شامل لوگ مالا مال ہو گئے۔ وہ
شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ وہ شیطان کی
ہولناک چال کو سمجھ نہ سکے۔ خدا بچاؤ مہم میں ان
گنت بچے بوڑھے عورتیں اور گھبرو جوان جان سے
ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ تو ان موت کے گھاٹ اترنے
والوں کا بھی خالك ومالک ہے۔ خدا بچاؤ مہم کے
ڈالر خوروں کو رجعت پسند‘ شر پسند اور بنیاد پرست
کہہ کر زندگی سے محروم کیا گیا۔ خدا بچاؤ پتہ ناکام
ٹھرا ہے تو ازدواجی رشتہ ہونے کا دعوی داغ دیا گیا
ہے۔
طلاق یمینا بہت برا فعل ہے۔ اہل دانش تو الگ رہے‘
مذاہب نے بھی اس کی آخری حد تک ممانعت کی ہے۔
طلاق کے نتیجہ میں سماجی سطع پر خرابی آتی ہے۔
دو برادریوں میں دشمنی چل نکلتی ہے۔ اس طلاق
دشمنی کے نتیجہ میں آتے کل کو کوئ بھی خطرناک
صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ بات محدود نہیں رہتی۔
بےگناہ‘ ؼیر متعلك اور بعض اولات صلع کار بھی اس
کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ پھر بجھائے نہ بنے والی
صورت پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابك امریکہ کا کہنا ہے کہ
پاکستان کے ساتھ تعلمات میں طلاق کا آپشن موجود ہی
نہیں۔ امریکہ کا یہ بیان پاک امریکہ دوستی کے اٹوٹ
ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔ یہی نہیں یہ اس کی سماج اور
مذہب دوستی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کمبل
سے چھٹکارے کی کوشش کرو گے تو بھی کمبل
خلاصی نہیں کرے گا۔ اس کمبل کی گرمایش اتنی ہے
کہ اس کے بؽیر بن نہ پاءے گی۔ امریکی چوری کا
سواد اور چسکا ہی ایسا ہے کہ کم بخت لگی منہ سے
چھٹتی نہیں۔ میں نے یہ تیر ہوا میں نہیں چلایا۔ اس
کے بہ ہدؾ ہونے کا ثبوت کیمرون کا یہ ٹوٹکا ہے کہ
پاکستان کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ امریکی ان کے
ملک سے واپس جائیں۔
دنیا کا کوئی بھی اولاد والا طلاق کی حمایت نہیں کرے
گا۔ یہاں یہ واضح نہیں کون کس کو طلاق دے گا۔
ہمارے ہاں زیادہ تر مرد‘ عورت کو طلاق دیتا ہے۔
کیمرون کا بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی سیاست
دان امریکہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے۔ گویا امریکہ کو
ان کی ایسی کوئی خاص ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کو
چولہا چونکا چلانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔
یہاں کی سماجی روایت کے تناظر میں دیکھا جاءے تو
طلاق کا حك پاکستان کے پاس ہے۔ مرد چاہے نامرد
ہو‘ اسے عورت نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں کی
یہ ؼنڈہ نوازی ہے کہ جھوٹ موٹھ سہی‘ ہم پاکستانی
مردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طلاق کے معاملے کا
فمط ایک پہلو ہے۔ مؽرب میں عورتیں مردوں کو طلاق
دیتی ہیں۔اس حوالہ سے طلاق دینے کا حك امریکہ
کے پاس چلا جاتا ہے۔ طلاق کا حك ان کے پاس ہو یا
ان کے پاس‘ ہم پاکستانی مرد ضرور لرار پاتے ہیں
اور یہ ہمارے لیے کمال فخر کی بات ہے کہ ہم نام کے
سہی‘ مرد ہیں۔
اس حوالہ سے بات نہیں کروں گا کہ زندگی پر
حکومت عورت کرتی ہے۔ مرد زبانی کلامی دبکاڑے
اور بڑکیں مارتا ہے۔ لیکن بیگم کے سامنے ریت کی
دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جہانگیر کے سارے فیصلے‘ نور
جہان کے فیصلے ہیں۔ مرد جو باہر ناسیں پھلاتا ہے
لیکن گھر میں صرؾ اور صرؾ بطور پانڈی داخل ہوتا
ہے۔ کسی معاملہ میں بیگم کی سفارش آ جانے کے بعد
اپنا طرز تکلم ہی بدل لیتا ہے۔ جو بھی سہی مرد‘ مرد
ہوتا ہے۔ اس کی انا اور سطع بلند ہوتی ہے۔ میں پہلے
کہہ چکا ہوں اس معاملے پر گفتگو نہیں کروں گا۔
طلاق کا نمطہ اس امر کی کھلی وضاحت ہے کہ ہم مرد
ہیں۔ کیا ہوا جو مردانہ لوت میں ضعؾ آ گیا ہے۔ یہ
ضعؾ پیدایشی نہیں اس لیے لابل علاج ہے۔ آج ان
گنت دواخانے موجود ہیں لہذا عین ؼین معالجہ ممکن
ہے۔ اس میں ایسی گھبرانے یا پریشان ہونے والی
کوئی بات ہی نہیں۔
معاملے کا یہ پہلو ذرا پیچیدہ اور گرہ خور ہے کہ آخر
وچارے امریکیوں پر یہ دھونس کاری کیوں؟؟؟
پاکستانی سیاست دان اتنے لچڑ کیوں ہو گے ہیں؟
پشاور یا اس سے پار کے مرد اس ضمن میں ضد
کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستانی سیاست
دانوں کا پشاوری ذوق عجیب لگتا ہے۔ اس علالہ کے
لوگ بھی سیاسی نشتوں میں ہوتے ہیں لیکن تعدادی
حوالہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کو تعداد سے
مطلب ہوتا ہے۔ مردانہ طالت چاہے کسی بھی سطع کی
ہو۔ عین ممکن ہے سیاسی ہیلو ہاءے میں وہ ڈومینٹ
ہوں اور شاید اسی حوالہ سے مردوں کا زنانہ شوق
مردانہ میں بدل گیا ہو۔
دینی اور سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی
انسانی نہیں‘ امریکی بنیادوں پر بحال ہوئی ہے۔ اس
:ضمن میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہیں
ا۔ امریکہ انسانی حموق کا ٹھکیدار ہے۔ اگر امریکہ
کے حوالے سے بحال ہوئ ہے تو اسے انسانی
بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔
ب۔ بیگمانہ حکم عدولی کل کلیان کو دعوت دینے کے
مترادؾ ہے۔ یہ کل کلیان طلاق کا دروازہ کھول سکتی
ہے جبکہ پاکستان سے تعلمات کے ضمن میں طلاق کا
آپشن موجود ہی نہیں۔ جب آپشن ٹھپ ہے تو نیٹو
سپلائی کا امریکی بنیادوں پر بحال ہونا ؼلط اور ؼیر
ضروری نہیں۔
ایک طرؾ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے
فضائی راستے سےنیٹو کو رسد کی سپلائی روز اول
سے جاری ہے۔ ہم سخی لوگ ہیں اور سخیوں کے
ڈیرے سے دوست دشمن بلا تخصیص فیض یاب ہوتے
رہتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا اصول رہا کہ کہو کچھ
کرو کچھ۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں ہو گا تو
سمجھ لو وہ کام ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ہم کسی
بھی سطع کی صفائی دے سکتے ہیں لیکن پرنالہ اپنی
جگہ پر رکھتے ہیں۔ کسی کو بھوک سے مرتے
دیکھنا کوئی صحت مند بات نہں۔ ہم اپنے لوگوں کو
بھوک پیاس اور اندھیروں کی موت مار سکتے ہیں
لیکن سفید رانوں والوں کو بھوکا مرتے نہیں دیکھ
سکتے۔ یہ بھی کہ معاملہ سفید رانوں تک محدود نہیں
ہماری محبوبہ کے پاس ابراہیم لنکن والے نوٹ بھی
ہوتے ہیں۔ نوٹ دیکھتے ہی ہمارا موجی موڈ بن جاتا
ہے۔ ؼیرت اصول اور کہا سنا اپنی جگہ‘ نوٹ اپنی
جگہ۔
طلاق دینے کی کوئی تو وجہ ہو نی چاہیے۔ امریکہ
سے تعلمات آخر کیوں ختم یا خراب کئے جائیں۔
وچارے سیاسی لوگ پلے سے خرچہ کرکے ممبر
بنتے ہیں۔ کیا عوام ان کی ضرورتوں کے مطابك کما
کر دیتے ہیں‘ بالکل نہیں۔ امریکہ نوٹ وکھاتا اور
چکھاتا ہے اس لیے موڈ کا نہ بننا احممانہ سی بات
ہے۔ یہ لوگ امریکہ کے کام الله واسطے نہیں کرتے۔
اگر پاکستانی عوام کو خود مختاری حاصل کرنے کا
اتنا ہی شونك ہے تو امریکہ برابر نوٹ کمائیں وکھائیں
اور ان کی تلی ترائ کریں۔ اگر تلی ترائ نہیں کر
سکتے تو چونچ بند رکھیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ طلاق
دینے کی صورت میں ناصرؾ جہیز واپس کرنا پڑے گا
!بلکہ حك مہر بھی دینا پڑے گا۔ کون دے گا؟
عوام کے پاس تو دو ولت کی روٹی کھانے کو نہیں
حك مہر کہاں سے آئے گا۔ جہیز جو کھایا پیا جا چکا
ہے کدھر سے آئے گا۔
امریکہ کو طلاق دینے کا فیصلہ کوئ ون مین گیم نہیں
ہے۔ سابك سفیر کا کہنا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ
فیصلہ نہیں کرتی امریکہ سے تعلمات منجمد نہیں کر
سکتے۔ گویا امریکہ کو طلاق دینے کا حك عوام کے
پاس نہیں ہے۔ عوام کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ عوام
لاڈلی بھی نہیں ہے جو کھیلن کو چاند مانگ رہی ہے
دوسرا چاند مملوکہ جگہ ہے۔
چاند پر صرؾ اور صرؾ لبضہ گروپ کا حك ہے۔
ہمارے پڑوس میں ایک جوڑا الامت رکھتا ہے۔ ان
کے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ بڑے ہی پیارے
پیارے بچے ہیں۔ بد لسمتی سے مرد جوا کھیلتا ہے
اور نشہ بھی کرتا ہے۔ عورت محنت مشمت کرکے ان
سب کا پیٹ بھر تی ہے۔تھکی ماندی جب گھر آتی ہے
تو اس کی حالت لابل رحم ہوتی ہے۔ ایسے میں کوئی
چوں بھی کرتا ہے۔ زبانی اور عملی طور خوب لترول
کرتی ہے۔ مرد چوں بھی نہیں کرتا۔ چوں کرنے کی اس
کے پس گنجائش ہی نہیں۔
الله نے مرد کو کنبہ کا کفیل بنایا ہے۔ اگر عورت کام
کرتی ہے تو یہ مرد کے ساتھ تعاون ہے ورنہ وہ
کفالت کی ذمہ دار نہیں۔ خرچ اٹھانے اور تعاون کرنے
والے کا ہاتھ اوپر رہتا ہے۔ اس حوالہ سے اسے بزتی
کرنے کا بھی پورا حك حاصل ہے۔
امریکہ ہماری کفالت کرتا ہے۔ سارے حك حموق پورے
کر رہا ہے لہذا بزتی کرنے کا بھی اصولی طور پر
اسے حك حاصل ہے۔ ہم اس چمکیلی اور نخریلی
محوبہ کو طلاق دینا بھی چاہیں تو طلاق نہیں دے
سکتے۔ جو ڈالر دیتا ہے اصول اور لانون بھی اسی کا
چلتا ہے۔ امریکی عورتیں طلاق دیتی ہیں۔ ہم اس ولت
تک امریکہ کی ؼلامی میں رہیں گے جب تک وہ ہمیں
طلاق نہیں دے دیتا۔ ویسے ہماری خیر اسی میں ہے
کہ ہم طلاق کا نام بھی زبان پر نہ لائیں کیونکہ اس
نے جس کو بھی طلاق دی ہے اسے لنڈا بچا ہی نہیں
کیا اسے لولہ لنگڑا بھی کیا ہے۔
ؼیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم
اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے
کہ ؼیرت لوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے ؼیرتی روڑا
کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر
ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل
جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر
لدم رکھتے ہیں تولیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا
سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو
کوئی حیثیت نہیں دی گئ ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا
ہے۔ نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو
چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا
ہے۔ یہ لصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا
نہیں ہوتا بلکہ مولع دینے والوں کا ہوتا ہے۔
یہ حمیمیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں
رہی ہے کہ طالت کے سامنے اونچے شملے والے سر
بھی خم رہے ہیں۔ گویا طالت اور ؼیرت کا سنگم ہوتا
ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی ؼلط ٹھرایا
جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائی اور اعلی پاءے کی دلیل
بھی اسے سچا لرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا بہانہ اسے
چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ
اشرؾ المخلولات ہے اس لیے اس کے بہانے اور
دلائل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت
ہے کہ وہ اپنی ؼلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی ؼلطی
اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے
رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر
نہیں کرتا۔
امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افؽانستان
امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے
!عورتیں لاؼر بیمار وؼیرہ‘ بھی شامل تھے؟
جواب یمینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق
نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟
ان کا جرم تو بتایا جائے۔
لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا
حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل
حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جائے۔
ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے
سے کتا بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے
شیر ہاتھی سے ہاتھی مرد سے مرد عورت
سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔ ڈر کی ابتدا اور
انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے مولؾ کی دلیل میں
میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی
کام کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر
مجھے پکارا گیا۔ میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ
کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صندوق میں چوہا
گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان سے ڈرتا‘ پی
گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے بلی
یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ
چوہا صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔
چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل
میں انتہائی کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ
خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائی کمزور ہے۔
کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے
بوڑھے عورتیں لاؼر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے
گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ
ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی
بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا
مرا نہیں حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔
بلوچستان میں انسانی لتل و ؼارت کا مسلہ امریکی
پارلیمان میں بطور لرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی
معاملہ کسی دوسرے ملک کی پارلیان میں آنے کے
:تین معنی ہیں
١۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئی ہے۔
٢۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں
رہی۔
٣۔ امریکہ‘ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے
کا بہانہ بنا کر فوجی کاروائی کا رستہ بنا رہا ہے۔
میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے
:تناظر میں دیکھیں گے تو معاملہ صاؾ ہو جائے گا
امریکہ بلوچ عوام کے لاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ
دے رہا۔
صدر آصؾ علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل
:کے حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے
ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں
دیں گے۔
چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا
میرے تے نہ رہنا۔
ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں
گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیئر کلرک
کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔
ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے
ہیں سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں
چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترلی کے دور میں ہم سچ
کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری
سیاسی سماجی یا پھر التصادی مجبوری ہے۔
ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی
کیا مدد کریں۔ صاؾ کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ
رہنا‘ جب بھی مشکل ولت پڑا ہمیں دشمن کی صؾ
میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت
اور ڈالر کے حسن پر یمین رکھنے والے لوگ ہیں۔
ہماری عمل اور ؼیرت پیٹ می بسیرا رکھتی ہے۔ ہم
ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئی اور
ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے
کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی
جبکہ بجلی گئ ہوئ ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا
تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرؾ
دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے
سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوءے تھے کہ فلاں گھر
کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے
کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر
سے پائپ جاتا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر
خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرؼوں کی
شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریػ کھاتے
ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے
اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی
مل پائے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی
لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک
میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔
چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور
ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں
چڑھتا۔
مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے
دنوں سننے میں آئی۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نئے
آنے والے ضلعی افسر نے اپنے درجہ چہارم کے
ملازم سے کہا بھءی ہمارے آنے کی خوشی میں
دعوت وؼیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرؼے دیگ چڑھا
دءے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے
آنے کی خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ
چہارم کا ملازم دیگ کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں
سرخرو ہوئے۔ دیگ چڑھی افسر کی خوشی پوری ہو
گئی ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر اٹھا۔ وہ اتنا
ہی کر سکتا تھا۔
ممبری کے امیدواروں کا بھی ؼالبا خرچہ لون مرچ
مصالحے پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید
نوبت نہیں آئے گی کیونکہ لون مرچ مصالحے کا
خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر دیا جائے گا۔
ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا
ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے
کی صورت میں بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے
:اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں
١۔ جو مرنا جانتے ہیں‘ مارنے میں بھی کم نہیں
ہوتے۔ امریکہ نے یہ ؼلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں
شاید اسے صدیاں لگ جائیں۔
٢۔ ایران کا ساتھ دیا جائے گا۔
٣۔ ؼیرت مند‘ مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس
سےکبھی باہر نہیں ہو پاتا۔
ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتائج ہوں گے۔ جنگ ہے
ہی تباہی و بربادی کا نام۔
بلوچ ؼیرت مند لوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ امریکہ
ان کے لاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
افؽانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان
کو وافر چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل
میں امریکہ کے لیے نفرت اور صرؾ نفرت ہے۔
چوری عوام کے پیٹ میں نہیں گئ۔ ان کے پیٹ میں
خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں ؼصے اور خفگی کا
سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور
بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے۔
سیاست دان اپنی عینک کا نمبر بدلیں
کل ہی کی بات ہے‘ میں کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا
تھا کہ گھروالی چاءے لے کر نازل ہو گئ۔ مجھے
سوچ میں ڈوبا میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بولی “کیا بات
“!ہے خیر تو ہے‘ کس سوچ میں ڈوبے ہوئےہو؟
“نہیں کوئی ایسی خاص بات نہیں“
“پھر بھی“
مجھے اپنی پنشن کے بےبابائ ہونے کے سبب پنشن
آڈر میں کیڑا بھرتی کرنے کا تذکرہ اچھا نہ لگا۔ ہر
روز ایک ہی راگ سن کر کان پک جاتے ہیں۔ دوسرا
اس نے مجھے ہی جھوٹا کرنا تھا۔ جب رشوت اصول
اور ضابطہ بن گئ ہو تو حاجی ثناءالله بننے کی کیا
ضرورت ہے۔ اصول اور ضابطے سے انکار موت کو
ماسی کہنے کے مترادؾ ہے۔ یہ بھی کہ اصلاح اور
بہتری جو کسی کی معدہ کشی کا سبب بنتی ہو جرم
کبیرہ سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ دوسرا میرے
اپنے حوالہ ہی سے سہی‘ اصلاح اور بہتری کا ٹھیکہ
میں نے کیوں لے رکھا ہے۔ یہ حاکم کا کام ہے‘ وہ
کرے نہ کرے‘ مجھے اس سے کیا۔ میرے پیٹ میں
کیوں مروڑ اٹھتے ہیں۔ اس میں کسی اور کو ٹانگ
زنی کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں تو لوگ اپنا کام
ایمانداری تو بہت دور کی بات بددیانتی سے کرنے کو
تیار نہیں ہیں۔ لہذا مجھے نہایت فرمانبرداری سے زر
رشوت ادا کرکے کام نکلوا لینا چاہیے تھا۔ اب اپنی
کرنی کی بھگتوں۔ایک ہی با ت پر ایک ہی انداز سے
بےعزاتی کروانا سراسر بدذولی تھی۔ کم از کم انداز
اور ذاءلہ تو بدلا جانا چاہیے۔ ایک مضمون کو سو
رنگ سے باندھا جا سکتا ہے۔ اچانک ایک نئ با ت
میرے ذہن میں آئی۔ میں نے اس کے سوال کے جواب
میں عرض کیا“ کوئی بہت گڑبڑ میرے اندر چل رہی
“ہے۔
“کیوں کیا ہوا؟“
اب عینک سے دھندلا نظر آتا ہے اور بؽیرعینک “
“کے تو کچھ نظر آتا ہی نہیں
میں تو پہلے ہی کہتی ہوں تمہارے سر میں دماغ نام “
“کی چیز ہی نہیں
کیا بکواس کرتی ہو“ میں نے جعلی ؼصہ دیکھاتے “
ہوئے کہا۔
“ہاں ٹھیک کہتی ہوں“
“خاک ٹھیک کہتی ہو“
ارے میں کب کہتی ہوں تمہارے دماغ میں گڑبڑ ہے‘ “
“دماغ ہوگا تو ہی گڑبڑ ہو گی۔
“یہ کیا پہلیاں بھجوا رہی ہو‘ صاؾ صاؾ کہو“
“جاؤ جا کرعینک کا نمبر بدلو“
میں نے پکا سا منہ بنا کرکہا ارے یہ بات تومیرے “
“ذہن میں ہی نہیں آئی۔ تم جینیس ہو واہ واہ
“مروں گی تو تمہاری آنکھیں کھولیں گی“
یہ کہہ کر وہ چلی گئ۔ چایے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
اس والعے کے بعد اس کی ذہانت کی دھاک پورے
خاندان میں بیٹھ گئی تاہم اصل بات کسی کی سمجھ میں
نہ آ سکی۔ نظر مفت میں تو ٹیسٹ نہیں ہوتی اگر ہو
بھی جاءے تو رکشے والامیرا پھوپھڑ تو نہیں جو
مفت میں دوکانوں پر لے جاتا پھرے گا۔ اگر گرہ میں
مال ہوتا تو اپنی گروی پڑی پنشن حاصل نہ کر لیتا۔
میں اصل پریشانی کسی کو بتا کر اس تماشے کا مزا
کرکرا نہیں کرنا جاہتا۔ ہاں البتہ اپنی گھروالی کی ذہانت
کی بانگیں دیتا پھرتا ہوں۔
آج ملک عزیز میں سیاسی تناؤ کی فضا ہے۔ گریب
گربا کا اس میں کوئ ہاتھ نہیں اور ناہی وہ اس سے
کوئ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھیں صرؾ بھوک پیاس
سے خلاصی کی فکر لاحك ہے جس سے چھٹکارے
کی سردست کوئ صورت نظر نہیں آتی۔ سیاسی فضا
گرم ہو یا سرد‘ انھیں تو بھوک پیاس میں دن رات کرنا
ہیں۔ اس مسلے کو دیکھنے کے لیے کبھی کس عینک
کا استمال نہیں کیا گیا۔ اس مسلےکے لیے عینک
بنائی یا بنوائی ہی نہیں گئ اورناہی ضرورت محسوس
کی گئ ہے۔ ہر کسی کی سوچ اپنی ذات تک محدود رہی
ہے لہذا عینک کے نمبر بڑھنے یا گھٹنے کا سوال ہی
نہیں اٹھتا۔ ہاں البتہ حصولی التدار کے لیے اکھاڑ
پچھاڑ ضرور ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے۔
پہلےپہل دو تین اخبار اور ریڈیو آگہی کی کل بساط
تھی۔ بی بی سی کا شہرا تھا۔ آگہی کی کمی کے باعث
اتنی بےچینی نہ تھی۔ حکمران عوام سے اور عوام
حکمرانوں سے اور ان کی کار گزاری سے بےخبر
تھے۔ بےخبری کے سبب توازن کی صورت موجود
تھی۔ آج بےخبری یکطرفہ ہے۔ عوام حکمرانوں سے
باخبر ہیں لیکن حکمران عوام سے بے خبر ہیں۔ پہلے
ولتوں میں سیاسی ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے‘ کؤئ
نہیں جانتا تھا لیکن آج میڈیا کے حوالہ سے معمولی
سے معمولی بات گلیوں میں گردش کرنے لگتی ہے۔
بعض اولات بلکہ اکثر اولات سیر کی سوا سیر بن
جاتی ہے۔
بھولے بھالے سیاسی لوگ آج بھی پرانے نمبر کی
عینک استمال میں لا رہے ہیں۔ وہ اس حمیمت کو
تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی عینک کا نمبر
بڑھ گیا ہے۔ کمزور گرہ کے لوگ پرانے نمبر کی
عینک استمال کریں‘ یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن
یہ لوگ تو جھٹ سے نءے نمبر کی عینک خرید
سکتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر کچھ بھی
خریدا جا سکتا ہے۔ یہ تو عوام کے تابعدار ہیں اور ان
کے درمیان گریب بلکہ ممروض صورت بنا کر جاتے
ہیں۔ ان بےچاروں کی گرہ میں ذاتی کیا ہے سب کچھ
پرایا ہی تو ہے۔
سیاست کا ہنر دیگر تمام ہنروں سے زیادہ مشکل ہے۔
لدم لدم پر مشکلوں اور آزماءشوں کے کانٹے
بکھرے رہتے ہیں۔ چاروں اور خطرے کے بادل امڈے
رہتے ہیں۔ ایسے میں جان اور ووٹ خوری کے لیے
جھوٹ اور لایعنی وعدوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ خود
کو اچھا اور دوسروں کو برا کہنا سیای اخلالیات کی
مجبوری ہوتی ہے۔ پیٹ بھر کھا کر بھوک کا ناٹک
کرنا پڑتا ہے۔ چاروں یکے ہاتہ میں رکھنے کی سعی
کرنا پڑتی ہے۔ گو کہ بےنمبر پتوں کو بھی بطور ٹیشو
پیپر رکھنے کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔
بےنمبر دکی کی سر اگر اتفالا یا تمدرا کسی پچھڑے
سیاستدار کے ہاتھ لگ جاءے توملال باکمال دیدنی ہوتا
ہے۔ داؤ پر لوم اور اس کے اثاثے لگتے ہیں۔ جیت
ہوئی تو پرایا مال اپنا ہوتا ہے۔ مات ہوئ تو لفظ
داھندلی تسکین بخش روح افزا بن جاتا ہے۔ وہ
مظلومیت کی جیتی جاگتی تصویر بن کر سامنے آتے
ہیں اور گھر کی کھانا نہیں پڑتی۔
سیاستداروں کےاثاثوں کی بات زوروں پر رہی ہے۔
ان کے اثاثوں کی بات کرنا سراسر ظلم ہے‘ زیادتی
ہے۔ یہ گریب اور مسکین لوگ ہیں۔ جب تک پاکستان
کے سارے کے سارے اثاثے ان کے اپنے نہیں ہو
جاتے‘ ان کی گربت ختم نہیں ہو سکتی۔ خوشحال عوام
کو ملکی لرضوں کی ادئگی میں زندگی گزارنا ہو گی۔
بات کرنی ہے تو تاجروں اور مہامنشی ہاؤس کے
لوگوں کے ممینوں کی جائے۔ پہلے طبمے کے لوگوں
کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔
انکم ٹیکس والے ان کے دکھنے والے دانتوں کو لدر
کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ثانی الذکر طبمہ خود
محتسب اورہر لسم کے احتساب سے بالاتر ہے۔ آج
گریب لوگوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے کی اشد
ضرورت ہے تاکہ بالا طبمے کے خسارے اور لرض
کو چکایا جا سکے۔ اس طرح وہ لوگوں کے نجی
وساءل کو بھی بخوبی ہاتھ میں کر سکیں گے۔ میری
یہ گزارش سیاست کی پرانی عینک کی زد میں نہیں
آسکے گی۔ اس لیے سیاسی عینک کا نمبر تبدیل کرنے
سے ہی سیاسی دھندلاہٹ ختم ہو سکے گی۔
فمیروں کی بستی میں
کچھ ووٹ کے شخص ہیں
کچھ نوٹ کے شخص ہیں
کچھ ربوٹ سے شخص ہیں
اندر لوک سے
پروانہ جس کےنام آتا ہے
وہی کاسہءسوال پرموٹ ہوتا ہے
فمیروں کی بستی میں
اسلام کی بوتلیں
اندر لوک کی ہوتی ہیں
شراب یم لوک سےآتی ہے
لیبل گورا ہاؤس میں لگتا ہے
اسمبلی کے اکھاڑے میں
رلص ابیس ہوتا ہے
گریب گلیوں میں
ممدر سوتا ہے
بھوک جاگتی ہے
لوگ پیاس پیتے ہیں
فمیروں کی بستی میں
کون جیتا ہے کون مرتا ہے
کب تاریخ کا ورق بنتا ہے
سچ کےجو سپنےبنتاہے
نیزےپرتمام ہوتاہے
فمیروں کی بستی میں
جسموں کےچیتھڑےاڑتےہیں
انسان نیلام ہوتاہے
یہ سب برسرعام ہوتاہے
لوگ پیاس پیتے ہیں
فمیروں کی بستی میں
ممدر سوتا ہے
بھوک جاگتی ہے
لوگ پیاس پیتے ہیں
امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر
ضلع لصور بلھےشاہ صاحب نور جہان فالودہ میتھی
اندرسےاور جوتوں کےحوالہ سے پوری دنیا میں
پہچانا جاتا ہے لیکن اب دو اور چیزیں اس کی شہرت
کے کھاتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ عمران خان کے
کرسیاں ۔ اٹھا لیں جلسے میں لوگوں نے کرسیاں
ا ٹھائی گئیں بالکل الگ سے موضوع گفتگو کیوں
ہےتاہم یہ ولوعہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا یہی
نہیں لصور کی وجہ شہرت ضرور بنا رہے گا۔ دوسرا
ولعہ بجلی کے حوالہ سے ہڑتال جلوس اور عوامی
ردعمل ہے۔ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا یہ کوئی نئی
اورعجیب بات نہیں ہاں نئی اورعجیب با ت یہ ہے کہ
مرمت اورسیوا نہیں لوگوں کی جوتوں لاٹھیوں سے
ہوئی ورنہ ہر گستاخ اور حك مانگے والے کے پاسے
ضرور سیکے گئے ہیں۔ بات بھی اصولی ہے احتجاجی
اور ہڑتالی نمص امن اور کار سرکار میں خلل کا باعث
بنتے ہیں۔ کار سرکار کیا ہے کھانا پینا اور موج مستی
کرنا
میرے نزدیک جیب کترے دفتر شاہی اور ہاؤسز سے
متعلك لوگ سچے درویش اور الله کو ماننے والے ہیں۔
جب ان میں سے کوئی واردات ڈالتا ہے تو اسے پورا
یمین ہوتا ہے کہ متاثرہ کا الله مالک ہےاور وہ اسے
اپنی جناب سے اور عطا کر دے گا۔ گویا متاثرہ پر
رائی بھر فرق نہیں پڑے گا۔ ایک شخص دوا لینےجا
رہا ہے اور رستے میں جیب کٹ جاتی ہے کیا جیب کٹ
جانے کے بعد دوانہیں آتی دوا پھر بھی آتی ہے۔ گویا
سبب تو الله کے پاس ہیں اس لیئے جیب کاٹنا جیب
کترے کا اصولی حك ہے۔
کچھ ادارے عوام کے حك کو اپنے ہاتھ میں لینے کی
کوشش میں ہیں۔ یمینا یہ ؼلط طرز عمل ہے۔ ہر کسی
کو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ وہ خلفاء کے لاضی
صاحبان تھے جوخلیفہ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر
لیتے تھے۔ یہ خلیفہ نہیں خلیفے ہیں۔ ایک طالب علم
کے محترم والد صاحب ماسٹر صاحب کے پاس اپنے
بیٹے کی تعلیمی حالت دریافت کرنے گئے۔
ماسٹرصاحب نےانھیں بتایا کہ ان کا لاڈلا تو خلیفہ ہے۔
انھیں اس جواب پرشرمندگی ہوئی ہو گی۔ ہمارے عوام
شرمندہ نہیں ہیں کیوں کہ
۔ 29سے 31فیصد عوام اس کار بد میں حصہ 1
لینے کے سزاوار ہوتے ہیں
۔ حصہ لینے کے بعد وہ سبزہ بیگانہ ہو گیے ہوتے 2
ہیں اور کسی معاملے میں ان کا اچھا برا عمل دخل
نیہں رہ گیا ہوتا۔
۔ 29سے 31فیصد عوام خلیفہ نہیں خلیفے ہی چن 3
سکتے ہیں۔
۔ تمام پڑھے لکھے لوگ خلیفے چننے میں مصروؾ 4
ہوتے ہیں
۔5۔ 29سے 31فیصد ووٹ تمسیم کےعمل میں داخل
ہو کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں خیر کی
تولع کوئی دیوانہ ہی کر سکتا ہے۔
۔ چناؤ میں حصہ لینے کا عمل مال سے ممکن ہے 6
عوام کی گرہ میں مال کہاں اس حمیمت کے با وجود
عوام کا ممدر بھوک پیاس اندھیرہ اور جوتے کھانا ہے
زبانی کلامی سہی ان کا مان تور کھا جا رہا ہےاوریہ
گوئی معمولی بات نہیں۔
۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب 7
کی سی ہے
ستر میں سے پچاس لڑکوں نے فیض احمد فیض کا
شعر بتایا۔ جمہوریت کےحوالہ سے اسے درست ماننا
پڑے گا۔ اگر تعداد درستی کا معیارہے تو کوئی حك
گواور حك پسند درست نہیں ٹھرے گا۔ چھوٹی ہو یا
بڑی ؼلطی ؼلطی ہی ہوتی ہے اور اس کا بھگتان
زندگی کو متوازن رکھ سکتا ہے۔
پروفیسر صاحبان ہڑتال کر رہے ہیں اور احتجاج بھی
کریں گے یہ ان کا اصولی حك ہے حك نہ دینا اور نہ
دینے کا مشورہ بااختیار لوگوں ک اصولی حك ہے۔ وہ
پروفیسر صاحبان کا ووٹ لے کر سرکار نہیں بنے اور
نہ ہی ان کی مدد سے شکشا منشی کو لاٹ ہاؤس میں
کرسی ملی ہے۔ یہ تو ان کے ایک کلرک کی مار نہیں
ہیں۔ پتہ نہیں یہ خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ لصور کے
حالیہ تاحد نظرمجمع کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ یہ
.کس کھیت کی مولی گاجر ہیں
میری موجودہ بحران کے حوالہ سے بہت سارے
مزدور پیشہ لوگوں سے بات ہوئی اکثرت کواس سے
دلچسپی ہی نہیں۔ وہ اسے بڑوں کا کھیل سمجھتے
ہیں۔ وہ اسےاپنا مسلہ نہیں سمجھتے۔ وہ دال روثی
اور پانی کی بمدر ضرورت فراہمی کو پہلا اور آخری
مسلہ سمجھتے ہیں۔ بیل کو کسی نے کہا تمہیں چور
لے جائیں اس نے کہا مجھے اس سے کیا کام کروں گا
تو چارہ ملے گا۔ یہاں کون سا اکبر بادشاہ کے تخت پر
بیٹھا ہوں۔جو وہاں جا کر بےسکون ہو جاؤں گا۔ بات
کام اور چارے تک رہے تو کسی کو کوئی اعتراض
نہیں۔ لوگ کام اور چارے سے محروم ہوگئے ہیں۔ وہ
کام پرآتے ہیں لیکن بجلی کے سبب کام نہیں کر پاتے۔
جب خالی ہاتھ واپس جاتے ہیں تو ان پر پریشانی کا
پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ خود کو مجرم سا محسوس
کرتے ہیں۔ بچوں کی بھوک اور باپ کی بیماری کے
لیے دوا میسر نہ آنے کے سبب مایوسی سے بار بار
مرتے ہیں۔
دوسری طرؾ معاملہ یہ کہ کوئی سچائی کو تسلیم
کرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ بحث چھڑ گئی کہ ہاتھی
انڈے دیتا ہے یا بچے مولوی صاحب نے انڈے پر
شرط لگا دی۔ جب اس کی بیوی کو علم ہوا تو خفا
ہوئ۔ جوابا مولوی صاحب نے کہا ہاروں تب جب
مانوں گا۔ ہہ سب نو اب صاحب صاحبزادہ صاحب
راجہ صاحب چوہدری صاحب وؼیرہ ہیں اور اپنے
پرائے اور ملکی مال کی کمی نہیں۔ بس اب امیری میں
شاہی طعام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لوگ
سڑکوں پر آ جائیں یا بھوک پیاس سے مر جائیں انہینا
س سے کوئی ؼرض نہیں۔ وہ الله کریم کی ذات پر
بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ بہتر رزق دینے والا ہے۔
اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ عوام بھوک سے مر
جائیں گے۔ الله کریم پتھر میں کیڑے کو رزق عطا کرتا
ہے۔
عوام کا یہ کہنا لایعنی اور بےمعنی بلکہ چٹا ننگا
جھوٹ ہے کہ وہ بھوک سے مر رہے ہیں بھوک پیاس
کے متعلك بات کرنے والے سازشی ؼیرذمہ دار
بیرونی ایجنٹ دہشت گرد امریکہ کے مجرم اور نائن
الیون کی سازش میں شریک تھےاس لیے انھیں معاؾ
کرنا یا کھلا چھوڑ دینا اس عہد کی بہت بڑی ؼلطی ہو
گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ پاکستان دشمن ملک
کے لیے کام کر رہے ہوں اور پاکستان کی سیاسی
پارٹیوں کے بےمثال اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی
کامیاب کوشش کر رہے ہوں۔
بے بکری نہیں بھ بھیڑ
عورت کا احترام' ہر سوسائی کا نعرہ ہے۔ اس ذیل
میں' کسی رشتے کی تخصیص موجود نہیں۔ ماں ہے'
تو گھر اور دل و دماغ کی روشنی' بہن' بیٹی اور بہو
گھر کی عزت' بیوی ہے تو گھر کا سنگار ہے۔ محبوبہ
ہے' تو حواس کا ایک سو چھے بخار ہے۔ وہ گھر
میں نہیں' حواس آنگن میں ڈیرے ڈالتی ہے' بل کہ لدم
جماعتی ہے۔ آدمی دنیا بھر میں ذلیل' اور پھر کھیسے
سے محروم ہو جاتا ہے۔ محترمہ کسی اور کی ہو جاتی
ہے۔ وہ اس میں اس کا لصور نہیں سمجھتا' بل کہ
اسے ظالم سماج کی سازش لرار دیتا ہے۔
عورت' جہاں سماجی اصول کے تحت واجب الاحترام
ہے' وہاں نفسیاتی سطع پر بھی کوئی ہوائی چیز لسم
کی چیز بھی ہے۔ یہ معاملہ کم زور اور ماڑے تک ہی
محدود نہیں۔ جہاں گیر اور شاہ جہاں محض برصؽیر
تک محدود تھے۔ امریکی صدر دنیا بھر کے خداؤں کا
خدا ہے' وہ بھی اس پسلیائی مخلوق کے حضور بے
بکری نہیں بھ بھیڑ ہے۔ یہ کوئی زبانی کلامی کی بات
نہیں' میرے پاس اس کی سند موجود ہے۔ اس سند کی
موجودگی میں' اگر کوئی مجھے رن مرید کہتا ہے' تو
اس سے بڑھ کر کوئی حمائك پوش نہیں ہو سکتا۔ میں
اسے گریبان میں جھنکنے کا مشورہ دوں گا۔ جھانک
کر تو دیکھے' میری جانب فمط ایک انگلی ہو گی' بالی
چار اس کی جانب ہوں گی۔
دنیا کے بڑے صاحب کی اس سجدہ خیزی کے بعد'
کسی ماں کو اپنے بیٹے کو رن مرید کہنے کا حك نہیں
رہا۔ باپ اگر کہتا ہے' تو کہنے دو' وچارے کی اس
حوالہ سے نفسیاتی تسکین کے ساتھ ساتھ' شخصی
احساس کہتری کا انشراع ہو جاتا ہے۔