وہ بھاری خرچہ کرکے ممبر بنے ہیں۔ یہ یمینا بڑی
عجیب صورت ہو گی اگر وہ اس لسم کے بےفضول
کام پر پیداکار ولت صرؾ کریں گے۔ دوسرا یہ کام ان
کا نہیں شکشا منشی صاحبان کا ہے جنھیں اپنی تعلیم
سے لابھ اٹھانے سے فرصت نہیں۔ تعلیم یافتہ ملازمین
کے پاس مفتوں کے لیے ٹائم ہی کہاں ہے۔
مجھے پنجابی کے یہ مصرعے بس یوہی یاد آ رہے
:ہیں
بنین لین جانندے اوہ بنین لئے کے آندے پاندے اوہ
پیندی نیئں لاندے اوہ لہندی نیئں
موجودہ لنکنی نظام کے حوالہ سے حصول تعلیم کا
حاصل یہی رہے گا۔ ہاں بنین میں دینا
پاؤ گے پوے گی لاوو گے لوے گی
یہ لرآن و سنت کے حوالہ سے لائم ہونے والے نظام
حکومت سے ہی ممکن ہے۔ شہباز شریؾ کی محنت
اور دیانتداری پر پورے پنجاب کو ناز ہے۔ کیا وہ
میرمنشی گاہ واپڈا ہاؤس وؼیرہ کا لبلہ درست کر
سکیں گے میں سردست اس ذیل میں کچھ عرض
کرنے سے لاصر ہوں۔ میری اس ناچیز لاصری کو
معذرت سمجھیں۔ شکریہ
طہارتی عمل اور مرؼی نواز وڈیرہ
آپ کریم کا یہ ارشاد گرامی۔۔۔۔۔۔ طہارت نصؾ ایمان
ہے۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کی طرح میرے بھی علم میں تھا تاہم
میرا دوسروں سے مختلؾ تفہمی نظریہ رہا ہے۔
دوسروں میں کچھ کپڑوں کی صفائی کو طہارت
سمجھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا یہ ہے کہ جسم کی خوب
صفائی ستھرائی ہونی چاہیے۔ پولیس والے دھلائی کے
معنی الگ سے لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دھلائی اس
طور سے ہونی چاہیے کہ دھلائی دہندہ ناکردہ کو بھی
بخوشی اپنی جھولی ڈال کر پاک صاؾ ہو جائے۔ ایک
طرؾ صفائی عروج کو پہنچ جاتی ہے تو دوسری
طرؾ اور کیسز کے کھپ کھپا سے بچاؤ کا رستہ نکل
آتا ہے اور ان کیسز کے کار گزران سے مک مکا بہتر
اور شفاؾ طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا کیا چونکہ
کوئی اور اپنے سر لے چکا ہوتا ہے اس طرح وہ بھی
طہارت کے عمل سے گزر جاتے ہیں۔ دولت آنی جانی
شے اور مردوں کے ہاتھ کی میل ہوتی ہے۔ جیل سے
باہر رہ کر دیے سے کہیں بڑھ کر کما لیتے ہیں۔
پولیس سے علیک سلیک کے بعد ہاتھ بھی رل جاتے
ہیں۔
اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ میں طہارت کو الگ سے
معنوں میں لیتا ہوں۔ کپڑوں اور جسم کا صاؾ ہونا
انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ انسان صرؾ
جسم سے ہی تشکیل نہیں پاتا۔ جسم کے اندر روح بھی
ہو تو ہی اسے چلتا پھرتا جیتا جاگتا انسان کہا جاءے
گا۔ بے روح کو دنیا کے ہر خطے میں لاش‘ مردہ‘
میت‘ جسد‘ ڈیڈ باڈی‘ کورپو‘ مورٹو‘ کورپس‘ وؼیرہ
وؼیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا جسم کے
ساتھ ساتھ باطنی طہارت کو کسی طور اور کسی سطع
پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہری سوٹر بوٹر
ہونے کا کیا فائدہ جب اندر روڑی جھوٹ چؽلی بخیلی
تکبر بےانصافی بےایمانی ہیراپھیری بددیانتی بدمعاشی
وؼیرہ سمیٹے زندگی کی شاہراہ پر بڑی ڈھیٹائ سے
دندناتی پھرتی ہو۔ روک ٹوک کرنے والا اگلا سانس
بھی نہ لے سکے۔
مجھے کسی اردو لؽت کے بیک ٹائٹل پر ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اپنا اسے صاؾ
ر۔۔ک۔۔ھ۔۔ی۔۔۔ ِے۔ ِپِڑِِھ ِنِ ِِے ِِک ِاِ اِِتفِاِ ِِق ِہِوِِا۔ ِِا ِِصِلِا ِِح ِِک ِِرنِِ ِِے ِِواِِلا ِِک ِِہ ِہِہِِ۔ی۔۔
سکتا ہے۔ عمل درامد تو پڑھنے سننے والے کو کرنا
ہوتا ہے۔ طہارت کی بات چودہ سو سال پہلے کہی گئی
تھی۔ یہ بات مختلؾ حوالوں سے بار بار دہرائی جاتی
رہی۔ جن لوگوں نے باطنی طہارت کو اپنا شعار بنایا وہ
بوعلی للندر‘ داتا گنج بخش‘ معین الدین چشتی‘ شاہ
حسین لاہوری بن گیے۔
لیام پاکستان سے لے کر آج تک سب پاکستان کو اپنا
کہتے رہے لیکن صفائ ستھرائ کے عمل سے
کوسوں دور رہے۔ اس بے لاپرواہی اور مجرمانہ ؼفلت
کے سبب گند پڑ گیا۔ بھلا ہو الیکشن ٢٠١٣کا۔ اس کی
آمد پاکستان کے لیے خوش کن ٹابت ہو رہی ہے۔ گند
پوری دیانتداری اور ہنرمندی سے صاؾ کیا جا رہا
ہے۔ اگر یہ روایت بن گئ تو صاؾ شفاؾ سماج تشکیل
پا سکے گا۔ اگر ظاہری صفائ کو اہمیت ہوتی تو
ؼلاظت کے بڑے ڈھیر ختم نہ ہوتے۔ چہرا مبارک اور
لباس فاخرانہ اور امریکانہ تو سب کا دھلا ہوا تھا۔ جب
اندر سے پھرولا گیا تو پوٹی رسیدہ بوسیدہ لیریں
نکلیں۔ الیکشن کمشن اور عدلیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا
کیا جاءے کم ہو گا۔
طہارت کےعمل کے حوالہ سے ایک عزت جاہ جو
کسی کے ہاں الامت رکھتے تھے کا لصہ یاد آ گیا۔
انھوں نے خوب مرؼیوں پھڑکائیں‘ جاتے ہوتے ایک
مرؼی ساتھ لے گیے۔ جو مر کھپ گیے ان کی
چھوڑیے جو ابھی ابھی رخصت ہوئے ہیں ان سے
اڑائ گئی مرؼی برآمد کی جا سکتی ہے۔ آگہی رکھنے
والوں کو بات اٹھا کر اس طہارتی عمل میں بڑھ چڑھ
کر حصہ لینا چاہیے۔ یہ لومی فریضہ ہے۔ عدلیہ نے
آزادی حاص کرکے لومی اور شخصی ضمیر کو آزاد
دلائ ہے۔ اس عہد آزای سے فاءدہ نہ اٹھایا گیا تو
مرؼی عزت جاہ کی ملکیت کا درجہ حاصل کر لے گی۔
کل کیسا ہو گا کسی کے علم میں نہیں۔ طہارتی عمل
میں ذاتی اور لریبی تعلمات کی کوئی معنویت نہیں
ہوتی۔
آج یعنی دس اپریل کی ایک اخباری خبر کے مطابك
اسٹیٹ بینک نے نادہندگان کی فہرست جاری کرنے
سے انکار کر دیا ہے۔ اس انکار کے پیچھے الله جانے
کتنا بڑا تھرٹ ہو گا۔ یہ بھی امکان ہے مل جل کر
مرؼی کے مزے لوٹے گیے ہوں۔ یہ بھی بعید از
امکان نہیں کہ مرؼیوں کا الامت کدہ اور نادہندگان کی
موجگاہ اسٹیٹ بینک کے کسی مرؼی نواز وڈیرے کا
ڈیرہ رہا ہو۔ انکار کے تناظر میں کچھ بھی اور کتنا ہی
کہا جا سکتا ہے۔ ؼالبا اس کی بینک لانون اجازت نہیں
دیتا تاہم دو رستے پھر بھی کھلے ہیں۔ خصوصی
اجازت حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر نادہندگان کا
معاملہ بینک عدالت ے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
کیا انکار سے طہارت کے عمل کو نمصان نہیں پہنچے
گا؟ جسم و روح پیشاب کی بوند سے آلودہ نہیں رہیں
گے اور اس کے اثرات دیر تک بالی نہیں رہیں گے؟!
سو من دودھ کے کڑاہے میں پیشاب کی ایک بوند بھی
سو من دودھ کو نجس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
گویا طہارتی عمل کا ستیاناس مارنے کے حوالہ سے
صرؾ مرؼی نواز وڈیرے کا نام ہی بدنام نہیں ہو گا
بلکہ اسٹیٹ بینک اور اس کے جملہ کارپردازگان کی
بھی رسوائ ہو گی۔ ؼداری کے حوالہ سے مخبریاں
ہوتی آئی ہیں کوئ دیس بھگت اس کی مخبری کرکے
ملک و لوم اور ممید مرؼیوں کو ان کے حمیمی
مالکوں کے حوالے ہونے کا پن کما سکتا ہے یہی
نہیں آتی بےگناہ نسلوں پراحسان کر سکتا ہے۔
استاد ؼالب ضدین اور آل ہند کی زبان
استاد ؼالب بلاشبہ‘ جملہ زبانوں کے شعری ادب میں
جھومر کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی طور پر
تین وجوہ ہیں۔
١۔ اوروں سے ہٹ کر اور الگ سے بات کرتے ہیں۔
٢۔ اپنے کہے کا جوازپیش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے
کہ کبھی بات اور کبھی جواز‘ ؼور کرنے سے سمجھ
میں آتا ہے۔
٣۔ مزید وضاحت کے لئے ضدین کا بکثرت استعمال
کرتے ہیں۔
ان کی عملی زندگی میں‘ ضدین کو بڑی اہمیت حاصل
تھی۔ آدھا کافر اور آدھا مسلمان ہونے کا جواز رکھتے
تھے۔ کافری‘ درحیمیمت ان کی مسلمانی کی شناخت
تھی۔ استاد کا یہ بڑا پن تھا‘ جو انھوں نے اپنی کافری
کا الرار کیا‘ ورنہ سو میں سے ایک بھی نہیں نکلے
گا‘ جو اپنی ذات کی ؼالب ضد کا الرار کرے۔ دیکھائے
کوئی ایک عیسائی‘ جو تپھڑ رسید کرنے والے کے
سامنے‘ اپنا دوسرا پنجے سے پاک صاؾ رخسار پیش
کر دیتا ہو۔ یہی صورت مسلمانوں کی ہے۔ آپ کریم نے
ایک جملے میں انسانی آئین بیان کر دیا۔ آپ کریم کا
فرمان گرامی ہے کہ مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے
کسی کو نمصان نہیں پہنچتا۔ آج مسلمانوں کی‘ کسی
خطہ میں کمی نہیں‘ لیکن وہ اپنی شخصیت میں
موجود ؼیر مسلمانی ضد کو‘ تسلیم نہیں کرے گا۔
اسلحاظ سے‘ استاد ؼالب نمبر لے گئے ہیں۔
ہمارے‘ الله بخشے‘ ایک ملنے والے ہوا کرتے تھے۔
بڑے خوش مزاج تھے۔ ایک دو تین نہیں‘ چار عدد
خواتین کے مجازی خدا تھے۔ چہرے پر اکلوتا چب یا
ڈنٹ نہیں تھا۔ اکلوتی خاتون کے مزاجی خدا کا چہرا
مبارک دس بیس سالوں میں لمک جاتا ہے۔ خواتین
پھولتی جاتی ہیں‘ جبکہ مرد حضرات اپنے مرحوم یا
زندہ والدین کا محض صدلہ جاریہ رہ جاتے ہیں۔
دوست احباب حیران تھے‘ چومکھی لڑائی کے بعد بھی
حضرت ناصرؾ توانا اور صحیح سلامت ہیں‘ مزید کی
خواہش بھی رکھتے ہیں۔ ہر بار اسلام آڑے آ جاتا۔
مرحوم اور پانچویں سے محروم‘ بڑے اسلام پرست
تھے۔ اسلامی معروؾ کلمات مولع بہ مولع ادا کرتے
رہتے تھے۔ مثلا سبحان الله‘ بسم الله‘ الله اکبر‘
ماشاءالله‘ ان شاءالله وؼیرہ وؼیرہ۔ جنازہ اور عیدین
کی نمازوں کا‘ شاید ہی‘ ان سا‘ کوئی پابند ہو گا۔ سلام
میں پہل کرنا‘ بڑے پیار سے سلام کا جواب دینا‘ ان کی
فطرت ثانیہ کا درجہ رکھتے تھے۔ تلمین تک ان کا
اسلام اے ون تھا۔ اسی طرح اور بھی اسلامی واجبات
میں ان کا ڈھونڈے سے ثانی نہ مل سکے گا۔
ایک دن‘ میں نے بے تکلؾ ہونے کی کوشش میں‘
پوچھ ہی لیا‘ آپ چاروں طرؾ سے گرفت میں ہیں
لیکن عملا آپ کے چہرے اورجسم‘ جان اور روح پر
گرفت کے رائی بھر آثار موجود نہیں ہیں۔ آپ اوپر
نیچے کی بچی اطراؾ کو بھی‘ کوور کرنے کی فکر
میں ہیں۔ آپ کی صحت اور خوش طبی کا راز کیا ہے۔
خوراک سے یہ مسلہ حل ہونے والا نہیں‘ تیتر کھلا کر
ایک مرتبہ زوجہ ماجدہ کا چہرا کرا دینے سے‘ دو
بوند بننے والا کیا‘ پہلے سے موجود میں سے بھی‘
ڈیڑھ پاؤ ناسہی‘ پاؤ تو ضرور خشک ہو جاتا ہے۔
مرحوم میری بے تکلفی کے لریب کی سن کر ہنس
پڑے۔ پھر سنجیدہ سے ہو گئے۔ دو تین منٹ سنجیدگی
کی نذر ہو گئے۔
اس سنجیدگی کو دیکھ کر ہم یہ سمجھے حضرت اندر
سے دکھی اور زخمی ہیں۔ اگر یہ سنجیدگی تمریبا نہ
ہوتی‘ تو میں شدید کا سابمہ استمال کرتا۔ سنجیدگی اور
خاموشی بتا رہی تھی کہ یہ کچھ بتانے والے نہیں اور
بات کو گول مول کر دیں گے۔ ہمارا اندازہ ؼلط نکلا۔
فرمانے لگے یک فنے ناکام رہتے ہیں۔ اپنے استاد ہی
کو لے لو‘ شاعر نثار اور نماد ہونے کے ساتھ ساتھ
بذلہ سنج بھی تھا۔ خوش طبعی میں اس کا ثانی دکھاؤ۔
ان کی خوش طبعی سے جڑےوالعات ابھی تک جمع
نہیں ہوئے۔ یک فنے تکرار کا شکار رہتے ہیں۔ میں
چوفنا ہوں۔ میں ضدین کا لائل‘ مائل اور عامل ہوں۔
کمال ہے‘ ازدواجین میں رہ کر بھی‘ مکمل ہوش و
حواس اور دانش سے لبریز گؾ گو فرما رہے تھے۔
میں یہ ضدین اور کامیابی کا فلسفہ نہیں سمجھ سکا۔
جاؤ‘ پہلے جا کر‘ عمد ثانی کرو‘ پھر آنا‘ سمجھا دوں
گا۔ یہ تمہارے کام کی چیز نہیں اور ناہی تمہارے لئے‘
عمل کی راہ موجود ہے۔
پہلے سمجھائیں‘ پھر عمد ثانی کا انتظام و اہتمام کروں
گا۔ بڑے بڑے بادشاہوں نے دھڑلے سے حکومت کی
ہے۔ کیوں‘ ضدین کے فلسفے سے آگاہی رکھتے تھے۔
کوئی دھڑا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ چور کو
کہتے چوری کرو‘ گھر والوں کو‘ ہوشیار رہنے کی
تاکید کرتے۔ دونوں سمجھتے‘ بادشاہ ہمارا ہے‘ حالاں
کہ وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ وہ تو تاج و تخت کے معاملہ
میں‘ اپنی اولاد کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ جو دائیں آنکھ
پر چڑھتا‘ اسے طریمے سے‘ مروا دیتا تھا۔ یہ کام بھی
تکنیکی انداز سے کرتا تھا۔ دو فریموں سے گہری رکھ
کر‘ ان میں نفاق پیدا کرکے‘ لڑا دیتا۔ ایک فریك لتل ہو
جاتا‘ تو دوسرا انصاؾ بھینٹ چزھ جاتا۔
میں نے عرض کی‘ حضور اسلام نفاق ڈالنے کی
اجازت نہیں دیتا۔ آپ اسلام دوست ہیں‘ اپنے گھر میں
ہی نفاق ڈالتے ہیں۔ کہنے لگے‘ ہم سب آدھے مسلمان
ہیں اور آدھے کافر۔
نکاح سنت ہے اور اس سنت کی میں نے آخری سطع
چھو رکھی ہے‘ اس حوالہ سے آدھا مسلمان ہوں۔
تمسیم کرتا ہوں‘ اس حوالہ سے آدھا کافر ہوں۔ تمسیم
نہیں کروں گا‘ تو حکومت کیسے کروں گا۔ یہ تو
مانتے ہو‘ میری آدھی مسلمانی لائم ہے۔ تم لوگ تو
آدھی مسلمانی سے بھی محروم ہو‘ تب ہی تو تمہاری
زندگی چھتر چھاؤں میں بسر ہو رہی ہے۔
نفاذ اسلام ایسا آسان کام نہیں‘ زوجانی کا خوؾ اور
دہشت گردی اپنی جگہ‘ مہنگائی نے سانس لینا دوبھر
کر دیا ہے۔ دو کہووں کی واہی کے بیلوں کے لئے‘
چارہ وؼیرہ کہاں سے آئے گا۔ ہاں البتہ‘ آدھی
مسلمانی کا رستہ بند نہیں ہوتا۔ عمد ثانی‘ نفاذ اسلام کا
ذریعہ موجود ہے۔ ملازم ہو‘ تو خوب رشوت لو‘ تاجر
ہو‘ تو معمول کی بددیانتی کو تگنا کر دو۔ دوگنا زوجہ
ثانی کے لئے‘ جبکہ تیسرا اگلا چانس لینے کے لئے۔
ہم انگریز کی شرع اور شرح پر چلتے آ رہے ہیں۔ ان
سے پہلوں کی بھی یہی شرع تھی۔ جس کا واضح
ثبوت‘ ممامی ؼداروں کا میسر آ جانا ہے۔ اگر یہ ؼدار
میسر نہ آتے‘ تو آنے والوں کے لفڑے لہہ جاتے۔ آتا
کوئی سر اور دھڑ سلامت نہ رہتا‘ بلکہ ان کی لاشوں
پر بین کرنے والا بھی نہ ملتا۔
برصؽیر میں ٹوپی سلار کے عہد ہی سے‘ مسلم التدار
کا زوال شروع ہو گیا تھا۔ تاہم التدار مسلمانوں کے
پاس ہی تھا۔ بہادر شاہ اول کوئی مضبوط حکمران نہ
‘لیکن کسی حد تک سہی‘ اپنے پیش رو کی طرح ایک
ہی ولت میں‘ ایک ہی شخص کو‘ لبض اور پیچس
لاحك کرنے سے آگاہ تھا۔ ١٧١٢میں اس گر سے
نابلد لوگ‘ تخت نشین ہوئے۔ والی مسیور کی شہادت
کے بعد بھی‘ مزاحمت ہوتی رہی‘ لیکن ٹیپو آخری
دیوار تھی۔ اسے ؼیر کیا فتح کرتے‘ گھر کے بھیدی
لے ڈوبے۔
اس ذیل میں میر صاحب کا کہا ملاحظہ ہو۔
ؼیر نے ہم کوذبح کیا ہے طالت ہے نے یارا ہے
ایک کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو پھاڑا ہے
اس کے بعد شدید خطرے کا کوئی امکان بالی نہ رہا۔
انگریز کو کھلا میدان مل گیا۔ وہ ہر مرضی کی کھیل پر
لادر ہو گیا۔
ٹیپو کی شہادت کا بڑی دھوم سے جشن منایا گیا۔ اس
جشن میں‘ اس کے نام نہاد اپنے بھی شامل تھے۔
انگریز ضدین کی ضرورت اور اہمیت سے خوب خوب
آگاہ تھا۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا‘ کہ وہ یہاں کے
پہلوں کا بھی پیو تھا‘ تو ؼلط نہ ہو گا۔ لبض‘ پیچس
اور ہیضہ ایک ولت میں‘ ایک شخص کو لاحك کر
دئے گئے۔ اس طرح‘ آل ہند کی تمسیم و تفریك کے
بہت سارے دروازے کھول دئیے گئے۔
اس ذیل میں‘ فورٹ ولیم کالج کے کردار کو نظر انداز
کرنا‘ زیادتی ہو گی۔ اس کی خدمات‘ سنہری حروؾ
میں‘ درج کئے جانے کے لابل ہیں۔ اس نے‘ آل ہند کی
زبان کے‘ دو خط متعارؾ کرائے۔
اردو خط‘ مسلمانوں کے لئے اور اسے مسلمانوں کی
زبان لرار دیا۔
دوسرا خط‘ آل ہند کی ؼیرمسلم عمیدہ والی نسل کے
لئے اور اسے ان کی زبان کا نام دیا۔
اس سے بیک ولت تین فائدے ہوئے۔
١۔ آل ہند زبان پر تمسیم ہو کر باہمی نفاق کا شکار ہو
گئی۔
٢۔ ایک دوسرے کے‘ تحریری اور علمی و ادبی
سرمائے سے‘ دور ہو گئی۔
٣۔ بولنے والوں کی گنتی دو حصوں میں تمسیم ہو
گئی۔
آل ہند کی یہ زبان‘ دنیا میں دوسرا نمبر رکھتی ہے۔
اپنے تعدادی اسٹیٹس سے محروم نہیں‘ مرحوم ہو
گئی۔
ایک ہی بات‘ دو خطوں میں لکھی‘ ایک دوسرے کے
لئے لایعنی ٹھہری۔ انگریز نے اپنے رابطے کے لیے
رومن خط کو رواج دیا۔
حالاں کہ حمیمت یہ ہے‘ کہ زبان کسی کی نہیں ہوتی‘
زبان تو اسی کی ہے‘ جو اسے استعمال میں لاتا ہے۔
زبان کی خواندگی کے لئے چار عمومی امور ہوتے
ہیں۔
١۔ بولنا
٢۔ سمجھنا
٣۔ لکھنا
٤۔ پڑھنا
ان میں سے‘ کسی ایک سکل سے متعلك شخص کو‘ نا
خواندہ لرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں‘ ان پڑھ
حضرات کی کمی نہیں۔ وہ دیوناگری والوں کی فلمیں
ڈرامے اور دیگر پروگرام دیکھتے ہیں۔ انھیں ان کی
سمجھ بھی آتی ہے لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ یہی
حال‘ پڑھے لکھوں کا ہے۔ سمجھ اور بول سکتے ہیں۔
اردو خط والوں کا کہا‘ دیو ناگری خط والوں کے لیے
ؼیر نہیں‘ لیکن دونوں‘ ایک دوسرے کے تحریری
سرمائے سے‘ استفادہ کرنے سے لاصر ہیں۔
رومن‘ آل ہند کو ایک ممام پر کھڑا کرتا ہے‘ لیکن اس
سے فائدہ انگریزی جاننے والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔
اس دائرے میں‘ دیگر لوگ‘ انگریز عرب جاپانی
وؼیرہ‘ آ جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے دیکھا جائے تو‘
یہ دنیا کی نصؾ آبادی سے زیادہ لوگوں کی زبان
شمار ہوگی۔
آل ہند کی اس زبان کے ساتھ‘ ؼیر تو ؼیر‘ اپنے بھی
سازشوں میں مصروؾ ہیں۔
ایم فل اور پی ایچ ڈی سطع کے تحمیمی کام‘ ٹوٹل پورا
کرنے کے مترادؾ ہو رہے ہیں۔
دونوں خطوں کی تحریریں ایک دوسرے کے لیے
حوالہ نہیں بن رہیں۔
انگریزی یا کسی دوسری زبان کے مواد سے‘ تصرؾ
عیب نہیں لیکن یہ ایک دوسرے سے حوالہ نہیں لے
رہے۔
آل ہند کے درمیان زبان کے حوالہ سے‘ تعصب کی
فلک بوس دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔
ستم دیکھئیے سرور عالم راز صاحب بڑے زبردست
عالم فاضل ہیں۔ اپنے ایک خط میں کیا فخر سے
فرماتے ہیں۔
اردو انجمن میں صرؾ اردو اور رومن اردو میں ہی
چیزیں لگائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی کچھ
عرصہ لبل ہی ایک صاحب نے ہندی میں یہاں لکھنے
کی کوشش کی تھی اور بصد معذرت ان کو منع کر دیا
گیا تھا۔
آپ سے کوئی پوچھے‘ یہ رومن خط کس طرح کی
اردو ہے؟ اس زبان کے دو خط ‘ان کو گوارا ہیں‘
تیسرا انھیں خوش نہیں آتا۔ اصل انصاؾ تو یہ ہے‘ کہ
یہاں صرؾ اردو خط والوں کو جگہ دی جائے۔ ہاں
دیگر زبانوں کا مواد شائع نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ
فورم صرؾ اور صرؾ اردو خط والوں کا ہے۔ اس کا
نام ہی اردو انجمن ہے‘ اس لئے دوسری زبان کا مواد
آنا‘ درست اور مناسب نہیں۔ یہ معاملہ مبنی بر حك
ہے۔
دیگی ذائمہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی
دانستہ ؼلطی کوتاہی بلاشبہ لائك سرزنش ہے۔ کوشش
کرتا ہوں جو بھی کروں پوری ذمہ داری اور ہوش
مندی سے کروں لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کمی
کوتاہی کی راہ نکل ہی آتی ہے۔ اس ذیل میں وہ لوگ
یمینا خوش لسمت ہیں جنھوں نے کچھ نہ کرنے کی
ٹھان رکھی ہے۔ نتیجتا ان سے ؼلطی کوتاہی سرزد
نہیں ہوتی۔ اگر کسی کے مجبور کرنے یا کسی
سرکاری یا بیگماتی مجبوری کے تحت کچھ کرنا ہی پڑ
جاتا ہے تو ؼلطی کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کی
شامت آ جاتی ہے۔ ؼلطی کرنے والے کی گردن پر گرہ
نہیں آتی۔ ہر کوئی کرنے والے ہی کا پکھ لیتا ہے۔
دیکھو یاراس نے کچھ تو کیا ہے حوصلہ افزائ کی
بجائے حوصلہ شکنی سے لیا جا رہا ہے۔ نکتہ چین
تھوڑ دلی سے کام لے رہا ہے۔ اس وچارے نے کب
کبھی کوئ کام کیا ہے۔ پہلا پہلا کام ہے‘ ؼلطیاں تو
ہوں گی۔
پہلا پہلا کام کرنے والا خود کو علامہ شبلی نعمانی کا
بھی استاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے لیے اس کا یہ
پہلا پہلا بھگوت گیتا سے کی طرح کم نہیں ہوتا۔ چیلے
چمٹے اسے عظیم فن پارہ لرار دے کر اڑے پھسے
کام نکلوا لیتے ہیں۔ میں کوئ اعلی شکشا منشی ہاؤس
کا اہلکار نہیں جو معاؾ کر دیا جاؤں گا۔ اس لیے خود
ہی اپنی ؼلطی کوتاہی کا اعتراؾ کر لیتا ہوں۔ بڑے
لوگوں کی طرؾ انگلی اٹھتی ہے مجھ پر لوگوں کا
پنجہ اٹھے گا۔ ۔
پہلی پہلی ؼلطی کوتاہی کو لائك تعزیر لرار نہیں دیا
سکتا کیونکہ کوشش تو کی گئ ہوتی ہے اور کرنے
والے سے ہی ؼلطی ہوتی ہے۔ کرنے والوں میں عادی
کرنے والے ہوتے ہیں جبکہ فٹیکی کرنے والے بھی
ہوتے ہیں۔ دونوں کے کرنوں میں نمایاں فرق موجود
ہوتا ہے۔ ذائمہ بھی اسی تناظر میں تشکیل پاتا ہے۔
ذاتی شوق اور گیڈر پروانہ کی حصولی سے وابستہ
کیا ایک سا نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے ذائموں میں
زمین آسمان کا فرق موجود ہوتا ہے۔ اس حمیمت کے
باوجود ذاتی والا دو نمبری کے درجے پر فائز کیا جاتا
ہے جبکہ گیڈڑائ کسی بڑی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے۔ اب
ذائمے کا تعلك بندے کوبندے جڑ جاتا ہے۔
میں نے کھائی پکائی میں تیکنیکی امور کو مدنظر
رکھا۔ کھائی کی تعبیر و تشریح میں انتہائی حساس
امور کو نظر انداز کر گیا حالانکہ ان کا کھائ سے
چولی دامن کا تعلك ہے۔ محاورہ اگلے زمانے کا ہے
محاورہ بنانے والوں نے دامن کے ساتھ چولی جانے
کیوں اندراج کیا۔ اگلے زمانے میں چولی نہیں چولے
ہوا کرتے تھے۔ چولی ؼالبا ؼرب کی دین ہے۔ لباسی
اختصار پیچھلے پچاس سالوں میں ہوا ہے۔ اب تو
لباس کا نام تکلفا لیا جاتا ہے اس لیے میں نے تکلفا
مروتا چولی لفظ استعمال کر دیا ہے۔ رہ گیا دامن‘ جب
چولی نہیں ہوگی دامن کہاں سے آئے گا۔ مترادؾ میں
مرد حضرات نے بیگ جبکہ خواتین نے بڑے فینسی
پرس رکھ لیے ہیں اور ان میں کافی کچھ سما سکتا
ہے۔ مرد اور خواتین احتیاتا ساتھی بھی اہتماما رکھنے
لگے ہیں۔ بیگ یا پرس میں وہ جو کچھ بھی رکھیں ان
کا ذاتی معاملہ ہے اس پر کلام کا کسی کو حك نہیں
پہنچتا۔ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں اس
لیے چولی دامن کی جگہ بیگ پرس کا ساتھ محاورہ
ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی ارضی اور کلچری
سچائی ہے۔
خیر ؼلطی کوتاہی کا حل یہی ہے کہ متعلمہ حصہ میں
تبدیلی اضافہ وؼیرہ کر دیا جاءے۔ بھلا ہو مہر افروز
صاحبہ کا جو انھوں نے برولت نشاندہی کر دی ہے۔
میں ان کا دل و جان سے احسان مند ہوں۔ اگر وہ
نشاندہی نہ کرتیں‘ باریک بین مورخ کبھی معاؾ نہ
کرتا۔ وہ کرتا نہ کرتا میرا ضمیر مجھے معاؾ نہ کرتا۔
پکائی بلاشبہ بڑی معنویت کی حامل ہے لیکن ذائمے کا
تعلك کھائی کے مختلؾ حوالوں سے جڑا ہوا ہے۔
ذائمے سے منہ مسلک ہے۔ منہ بڑا ہو یا چوٹا اس میں
ایک عدد زبان بھی ہے جو چھکنے اور جلانے کے
کام آتی ہے۔ چکھنے سے پہلے بھی چلتی دیکھنے
سننے میں آتی رہتی ہے۔ یہ جہاں نائی کے کانوں پر
بار بنتی ہے وہاں دیگ کا سامان لانے والے اور
سامان دینے والے دوکان دار کو بھی گرفت میں رکھتی
ہے۔ ہیاں تک کہ بلاچھکے ریمارکس پاس کر دیتی
ہے۔ گویا یہ ذائمے کا پیش لفظ ہوتا ہے۔
سرکاری تنخواہ کی آمدنی کا ذائمہ پھیکا پھیکا اور
لطعی ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔ معمولی اور ؼیر معمولی
بالائی کا ذائمہ الگ سے اور دو طرح کا ہوتا ہے۔ یہ
ذاءلہ زیادہ تر دفتری لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے
حالانکہ بالائی کا دائرہ دفتروں کے زندان سے آزادی
حاصل کر چکا ہے۔ ستم اس پر یہ کہ رشوت لینے
والے کو راشی کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سائل
رشوت خور ٹھہرتا ہے۔ ظالم کا ظلم مظلوم پر ٹھہرنا
صدیوں کی ریت ہے۔ یہ صرؾ رنجیت سنگھ ہی کو
اعزاز حاصل تھا کہ وہ ہاتھ بندھے بری اور لک
بندھک لٹکاتا تھا۔ بہرکیؾ لفظ راشی کا متضاد استعمال
میرے لیے حیران کن نہیں۔ لفظ کا رمزی استعمال کلام
میں شگفتگی اور بلاؼت پیدا کر دیتا ہے۔ اب معلوم ہوا
ہے کہ زیریں کے دست مبارک سے لفافہ اوبر جاتا
ہے۔ اس حوالہ سے اسے راشی ہی کہا جائے گا
مرتشی اوپر والے کو کہا جائے گا۔ کھائی کے حوالہ
سےتین ذائمے ترکیب پائیں گے۔ سال کا ذائمہ کڑوا‘
راشی کا ذائمہ نمکین اور لدرے لذیذ جبکہ مرتشی کا
ذائمہ لذتوں کا امین ہوتا ہے۔
چوری ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری وؼیرہ کی کمائی
کو حرام کی کمائی کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلی تینوں طرح
کی کمائی خطروں سے ہی نہیں بھری رسک آمیز بھی
ہے جبکہ ہیرا پھیری میں دماغ کا خرچہ بڑھتا ہے اس
لیے یک طرفہ سوچنے کی بجائے دو بلکہ سہ طرفہ
سوچنے کی ضرورت ہے۔ لٹنے والا اور کما لے گا
اسے دکھ ضرور ہوتا ہے۔ دوبارہ سے کمائی کا ذائمہ
پسینہ آلود ہونے کے سبب چکنائ انگیز ہوگا۔ چوری
ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری کی کمائی جو پرمشمت
ہوتی ہے‘ کا ذاءلہ اگلے رسک پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا
اس لسم کی کمائی کے ذائمے میں تحرک کا عنصر
ؼالب اور نمایاں رہتا ہے۔
لوم و ملک سے ؼداری کے صلہ میں کھیسے پڑنے
والی کمائی کا ذائمہ بی کچھ اور نوعیت کا ہوتا ہے۔۔
بی کا مخفؾ لمبی چوڑی فہرست سے بچاتا ہے۔ شراب
کباب کے ساتھ شباب کی بڑھوتی کسی ایرے ؼیرے کو
زیب نہیں دیتی۔ یہ ذائمہ دوسرے ذاءلوں سے الگ
ترین ہوتا ہے اور اس میں نوابی آن بان اور شان
تھرک رہی ہوتی ہے۔ ان کے کتے بلے بھی ان کے
اترن سے حصہ پا کر کا سا کے درجے پر فائز ہو
جاتے ہیں اور ان کا ذائمہ بھی معمولی اور عمومی
نہیں رہ پاتا۔ ان کا یہ مولؾ ؼلط نہیں لگتا کہ موجودہ
حکمران کون سے خیر کے فعل انجام دیتے ہیں۔ آنے
والا بھی یہی کچھ کرے گا۔ ہاں تبدیلیوں میں لہو بہتا
ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ؼداریاں ہوتی ائی ہیں
اور ہوتی رہیں گی۔ وہ کون سا اچرج کام کر رہے
ہوتے ہیں۔ خون بہتا رہا ہے‘ بہتا رہے گا۔ عموم کا
سماجی اسٹیٹس یہی رہا ہے اور یہی رہے گا۔
پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ مفت خوری کا ذائمہ
ؼیرمعمولی ہوتا ہے۔ لاریب فیہ میں مولوی صاحبان
کو اپنے سوچ میں بھی نہیں لا سکتا۔ جو یہ سوچتے
ہیں کہ میں ان کو درمیان میں لا رہا ہوں ؼلط سوچتے
ہیں۔ یہ حضرات مفت خوری میں نہیں آتے۔ ان کی
کمائ مشمت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ان سے بچوں کی
تدریس کا ڈر اور خوؾ لطعی لایعنی ہے۔ آخر پمپر
کس لیے بنے ہیں اور ان کا استعمال کب ہو گا۔ زندگی
میں کرتا کوئ ہے کھاتا کوئ ہے۔ کرنے اور کھانے
والے کا ذائمہ ایک سا نہیں ہو سکتا۔ لکھنے والوں کو
ہوا کھانی پڑتی ہے جبکہ ناچے گائیکے پیٹ بھر
کھاتے ہیں۔ لکھنے والوں کا دماغ خرچ ہوتا ہے جبکہ
بالی طبموں کی جسمی محنت رنگ لاتی ہے۔ لکھاری
گائیک رلص کندہ اور ان سے متعلمین کا ذائمہ ایک سا
نہیں ہو سکتا۔
ایک دیگ کے چاول تیکنکی ذائموں کے علاوہ بھی
ذائمے رکھتے ہیں۔ ہر موڈ اور ہر مزاج کا ذائمہ الگ
سے ہوتا ہے۔ تنمید کرنے کا ذاءلہ کٹھا مٹھا ہوتا ہے۔
تنمد برداشت کرنے کا ذائمہ کڑوا ہوتا ہے۔ کہنے والی
زبان اور سننے والے کانوں کا ذائمہ ایک سا نہیں ہو
سکتا۔ گویا موڈ مزاج اور رویہ زبان کے ریشوں میں
تبدیلی لا کر ذائمہ کی حس پر اثر ڈالتے ہیں۔
شہید اور شہادت کا تلک سجا کر تاریخ کا جز بننے
والے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انہیں نہی میں ڈال
کر جعلی کاروائ ڈال کر نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں
گے‘ بھی لرطاس حیات پر موجود رہیں گے۔ ماتمی
بھی رہیں گے ان پر سنگ باری کرنے والے بھی
زندگی کا حصہ رہیں گے۔ دیگ ایک ہی ہوتی ہے۔
پکائی بھی ایک ہاتھ کی ہوتی ہے۔ کسی کو پکوان لذت
دیتا ہے۔ کوئی اسے چاولوں کا حشر نشر خیال کرتا
ہے۔ دیگ میں ناصر زیدی کو کیڑے آمیز چاول نظر
آتے ہیں۔ وہی پکوان تبسم کاشمیری پر وجد طاری کر
دیتا ہے۔ صابر آفالی پکائی سے متاثر ہو کر پی ایچ
ڈی کی دس ڈگریاں دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر
عبدالله لاضی پوسٹ پی ایچ ڈی کا مستحك ٹھہراتے
ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال کو پکائی میں سلیمہ نظر آتا
ہے۔ ۔ڈاکٹر محمد امین اسی دیگ کے چاولوں میں نیا
انداز اور پکانے والے کے ذہنی افك میں وسعت ذائمہ
کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ؼلام شبیر رانا کو پکائی میں عصری
ذائموں سے آگہی محسوس ہوتی ہے۔ دیگ ایک ہے‘
ذائمے الگ الگ۔ گویا ذائمہ منہ میں موجود زبان‘ اس
کے سائز اور ذہن کے سواد پر انحصار کرتا ہے۔
میں محترمہ مہرافروز کو داد دیتا ہوں کہ وہ ذائمے کا
رشتہ انسانی موڈ سے جوڑتی ہیں۔ مجھے یمین ہے
کھائی کے جانو حضرات ان کی اس انمول دریافت کو
پرتحسین نظروں سے دیکھیں گے۔
مدن اور آلو ٹماٹر کا جال
لفظ جب تشکیل و ترکیب پاتا ہے مخصوص معنویت کا
حامل ہوتا ہے۔ مخصوص ماحول‘ مزاج‘ نفسیات‘ موڈ‘
لب ولہجہ‘ بناوٹ‘ کلچر وؼیرہ رکھتا ہے۔ مستعمل اور
معروؾ ہو جانے کی صورت میں محدود نہیں رہتا۔
بالکل ایسی صورت مہاجر آوازوں اور الفاظ کے ساتھ
پیش آتی ہے۔ شخص زبان کا پابند نہیں زبانیں شخص
کی پابند ہیں۔ زبانوں کو اپنے استعمال کرنے والوں
کے حالات ضرورتوں ماحول موڈ کلچر وؼیرہ کی
پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اگر شخص کو زبان کا پابند کر
دیا جائے گا تواظہار میں مشکل ہی نہیں خیال اور
جذبے کی اصلیت بالی نہیں رہتی یا اس میں لوت
برلرار نہیں رہ پاتی۔ وہ کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے۔
اظہار کے ساتھ ساتھ زبان بھی محدود رہتی ہے۔
مکتوبی صورت کوئی بھی رہی ہو اسٹریٹ ان پابندیوں
کو خاطر میں نہیں لاتی۔ شاعر عروضی پابندی کے
سبب کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیؽمبر عظیم تر۔۔۔۔۔۔۔عروضی
مجبوری کے باعث وہ گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔ گویا
پابندی خیال یا چذبے کا ستیاناس مار کر رکھ دیتی ہے۔
درست ابلاغ تب ہی ممکن ہے جب زبان شخص کے
خیال کی پابند ہو گی۔ اس حوالہ سے دیکھا جاءے تو
زبان کا تفہیمی واظہاری کلچر مخصوص ومحدود نہیں
کیا جا سکتا۔ شخص سی ٹی کہہ کر سی ڈی‘ لیڈیاں کہہ
کر لیڈیز مراد لے گا۔ للفی کہہ کر لفلی مراد لے گا۔
حور اسامی اولات احوال وؼیرہ واحد استعمال ہوتے
رہیں گے۔ جلوس کو عربی معنوں میں کبھی بھی
استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ؼریب کے معنی گریب ہی
لیے جاءیں گے۔ شراب کو واین کے معنی دیے جاتے
رہیں گے اور اسے عربی سمجھا جاتا رہے گا حالانکہ
یہ شر +آب ہے۔ عربی فارسی کا آمیزہ ہے۔ عینک
عین +نک عربی اور دیسی زبانوں کا آمیزہ ہے۔
گلاس کے معنی پانی پینے والا ظرؾ مستعمل رہیں
گے۔ بات یہاں تک محدود نہیں ان کا استعمال بھی
شخصی ضرورت خیال جذبے اور موڈ کا پابند ہے۔
متضاد الگ سے اور نئے معنی سامنے آتے رہنا
حیرت کی بات نہیں۔
برتن کل کرنا کا برتن دھونے کے معنوں میں استعمال
ہونا میرے سمیت ہر کسی کے لیے عجیب ہو گا۔ مزے
کی بات‘ اسٹریلیا میں مستعمل ہے۔ ہم اسے توڑنا
پھوڑنا کے معنی دیں گے۔
ناصر زیدی نے اپنے ٢٦نومبر کے کالم میں
مرکب۔۔۔۔۔۔۔۔مرتب و مدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کیا۔ میں آگے
بڑھنے کی بجائے اس مرکب میں پھنس گیا۔ پہلے تو
میں اسے مدن لال کے لباس کی ترتیب سمجھا۔ پھر
میرے سوچ کا زاویہ مدن بان یعنی کام دیوا کی طرؾ
مڑ گیا۔ کام دیوا کے حوالہ سے شخصی حسن
اوراعضائی ترتیب کی جازبیت کی طرؾ توجہ پھر گئی۔
شخصی حسن اور آلات تخلیك کی صفائی ستھرائی کی
طرؾ خیال کا پھر جانا فطری سی بات تھی۔ فنی چابک
دستی یہ تھی کھ جنس کی تخصیص موجود نہ تھی۔
مردانہ ہوتے تو زنان کے لیے دلچسپی کا سبب ہو
سکتے تھے۔ زنانہ ہوتے تو مرد روز اول سے لکیر کا
فمیر رہا ہے۔ مجھے ناصر زیدی کے سوچ اور لفظ
کے استعاراتی استعمال کو بےاختیار داد دینا پڑی۔
انھوں نے دونوں اصناؾ کو دائرے میں لے کر اپنی
للمی ہنر مندی کا ثبوت دیا۔ ان کا یہ کالم جیسا کہ
مرتب و مدن سے پہلے کی سطور سے واضح ہوتا تھا
کہ وہ کسی کتاب سے متعلك تھا۔
مجھے لگا یہ کتاب ڈاکٹر وی پی سوری کے پی ایچ
ڈی کے ممالے شہوت سے شہوانی معلومات کو اکٹھا
کر دیا گیا ہے۔ سوچا یہ کتاب واجدہ تبسم کا افسانہ
اترن جسے کاما سوترا کا خلاصہ کہا جا سکتا ہے‘ کی
جدید ترین شرح بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے سوچا
عین مکن ہے ہیولاک ایلس کی کاوش تانترہ کو نیا
کالب دے دیا گیا ہو گا۔ یہ کوئ حیرت کی بات نہیں
کوک شاستر کے حوالہ سے مواد وافر دستیاب ہے۔
وہی وہانوی نے جنس پر بہت کچھ لکھا تھا۔ اسی طرح
ڈاکٹر سلیم اختر نے مرد جنس کے آئنے میں‘ عورت
جنس کے آئنے میں اور شادی جنس اور جذبات ایسی
کتب کے تراجم کیے ہیں۔ اس حوالہ سے کام بند نہیں
ہوا۔ گویا سلسلہ جاری ہے۔
جنس کوئی عام اور معمولی موضوع نہیں۔ بڑے بڑے
لوگ آلات زنانہ کے معاملہ میں حساس والع ہوئے
ہیں۔ دو بیبیاں تنہائی میں بیٹھی آلات مردانہ پر بڑی
خاموشی سے تبصرہ کر رہی تھیں۔ دو مرد لہمہے
لگاتے ہوتے وہاں سے گزرے۔ ایک نے پوچھا یہ کس
لسم کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ دوسری نے جوابا کہا
ان کی باڈی لنگوءج بتا رہی تھی کہ وہ ہمارے آلات پر
گفتگو کرکے زبانی کلامی اور خیالی مزے لے رہے
تھے۔ سوال کرنے والی کے منہ سے نکلا بڑے
بےشرم ہیں۔ یہ والعہ یاد آتے ہی میری توجہ پودوں
کی طرؾ چلی گئ۔ مدن پودوں سے متعلك بھی ہے۔
عشك‘ محبت‘ بہار اور بؽل گیری مفاہیم درج بالا امور
کی طرؾ چلے جاتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو بھی گول
کرنا پڑا کیونکہ ان کی آوازیں حالات مخصوصہ کی
آوازوں سے مماثل ہوتی ہیں۔ لفظ بےشرم نے جنسیات
سے متعلك سوچنے سے منع کر دیا ورنہ نیاز فتح
پوری کی تصنیؾ جنسیات کی طرؾ سوچ کا دھارا
بڑی تیزی سے مڑ رہا تھا۔
درخت امن اور جنگ میں انسان کے کام آتا رہا ہے۔
مجھے یمین ہو گیا کہ یہ کتاب درختوں سے متعلك ہو
گی چونکہ ناصر زیدی اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہیں
لہذا پڑھنے لائك ہو گی۔ میں مدن سے آگے بڑھنے
والا ہی تھا کہ اندر سے آواز آئی منڈی سے آلو اور
ٹماٹر لا دیں۔ حکم بےؼم کا تھا اس لیے بمیہ کالم
پڑھے بؽیر آلو ٹماٹر اور ان کے تیز بھاؤ کی سوچوں
میں ممید منڈی کی طرؾ بڑھ گیا۔ اس حمیمت کا ویروا
کہ لفظ معنویت اور استعمالی حوالہ سےمحدود نہیں‘
اگلی نششت تک ملتوی کرنا پڑا۔
مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان
دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےؼصے
میں آ کر اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ
مولوی صاحب کی کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے
کی دیگ اور دو سو نان ڈال دیے۔ نئی شادی پر اٹھنے
والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔ میاں نے مولوی
صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں عافیت
سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے لریب بیٹھے
ہوئے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوئے کہا
اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔
بات میں سچائ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود
تھی۔ میاں نےدوبارہ بھڑک کر کہا
توں پیو نوں چھیڑیا کیوں سی
بظاہر اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر بھڑکا
جائے بلکہ اس میں میاں کی ہی حمالت نظر آتی ہے۔
اصل معاملہ یہ نہیں جو بظاہر دکھتا ہے۔ حمیمت یہ ہے
کہ زوجہ محترمہ ؼلطی میاں کی ثابت کرنا چاہتی تھی۔
گویا اس کی ؼلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ یاد نہ
رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس
کے ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ
کہتی حضرت سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں
بات کہہ دی جس کے سبب ہمیں دیگ اور نانوں کا
خرچہ پڑ گیا۔ بات ختم ہو جاتی۔ وہ دراصل میاں کو
سزا دینا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دیگ اور نان
کا خرچہ برداشت کر لے گا کیونکہ یہ نئ شادی پر
اٹھنے والے خرچے کا عشر عشیر بھی نہیں۔
ایچ ای سی پاکستان مندے حال میں ہے۔ اس کی کوئی
سننے والا نہیں کیونکہ سننے والوں کو اس نے بری
طرح ڈسٹرب کیا اب اوپر سے خود کو سچا اور برحك
سمجھ رہی ہے۔ مجھے اس کے دو ای میل ملے ہیں
وہ ہسمجھ رہی ہے کہ میں اس کے حك میں کچھ
لکھوں گا۔ میں پاگل ہوں جو اس کے حك میں للم
اٹھاؤں گا۔ کسی جھوٹے کے لیے للم اٹھانا جھوٹے
کے جھوٹ کی تائید کرنے کے مترادؾ ہے۔ ادارے تاج
وتخت کے ؼلام ہوتے ہیں اور انہیں تاج وتخت کے
ؼلط معاملات کو تحفظ اور انہیں درست ثابت کرنے
کے لیے لیام میں میں لایا گیا ہوتا ہے۔ وہ پروفیسر
ہیں اور خود کو سچائی کا ٹھیکیدارسمجھتے ہیں
حالانکہ سچائی ان کی گندی سوچ کے برعکس ہے۔
انہیں تنخواہ اس بات کی ملثی ہے کہ وہ تاج والوں
کے اشاروں پر رلص کریں۔ انہوں نے حاکم طپمے کی
ڈگریوں کو جعلی لرار دیا۔ حاکم طبمہ کبھی جعلی نہیں
ہوتا۔ اگر تگڑے ؼلط لرار پانے لگے تو انہیں تگڑا
کون مانے گا۔ ازل سے ؼلط عضو کمزور رہا ہے۔
انہیں کس حکیم نے اتنے ووٹ حاصل کرنے والے
لوگوں کی ڈگریاں ؼلط لرار دینے کو کہا تھا۔ انہیں
سیٹوں پر رعایا کی ولت پڑنے پر مرمت کرنے کے
لیے عہدے دیے جاتے ہیں۔ ڈگری تو بہرصورت ڈگری
ہوتی ہے اس میں ؼلط یا صیح ہونے کا سوال کہاں
اٹھتا ہے۔
ویسے خود کو تابع فرفان لکھتے ہیں لیکن عملی طور
پر خود کو بالاتر سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔ پانی
اوپر سے نیچے آتا ہے‘ نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔
جن کی انہوں نے ڈگریاں جعلی لرار دی ہیں جیل نہیں
چلے گیے۔ موج میں تھے موج میں ہیں۔
البال نے کہا تھا
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
اصولی سی بات ہے مچھلی دریا میں زندہ رہ سکتی
ہے لہذا وہ دریا سے باہر کیوں آئیں گئے۔ دریا ان کا
اپنا ہے۔ اپنوں سے کبھی کوئی جدا ہوا ہے؟
ان کے نکالنے کی کوشش سے وہ کیوں نکلیں گے۔
دریا لطرے لطرے سے بنتا ہے۔ ان کے لیے چند
لطرے معنویت نہ رکھتے ہوں لیکن دریا کے لیے بڑی
معنویت رکھتے ہیں۔
تیر کمان سے نکل چکا ہےاب کچھ نہیں ہو سکتا ہاں
البتہ ایچ ای سی‘ پاکستان دوسرے اداروں کے لیے
نشان عبرت ضرور ہے۔ جو بھی چنیدہ اور دریا کے
اندر موجود دریا کی ذاتی مخلوق کے خلاؾ لدم اٹھاتا
ہے گلیوں کا روڑا کوڑا بھی نہیں رہ پاتا۔ ہٹ دھرمی
اور ڈھیٹ پنا تو یہ ہے کہ یہ سچ پتر ؼلطی کو ؼلطی
تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسین ایک ہی تھا۔
آج کسی کو ریاست کے گناہ گاروں کے لیے اپنے
بچے مروانے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ ان کی مدد
کے لیے کوئ میدان میں نہیں آئے گا۔ باور رہنا چاہیے
سر کا بوجھ سر والے کے پاؤں پر آتا ہے۔
آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم
ہم میں سے ہر کوئ لینے کے لیے اگلی صفوں میں
کھڑا نظر آتا ہے۔ اپنے حموق کی وصولی کے لیے
احتجاج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جب حك
دینے کی باری آتی ہے تو رونا ہی نہیں موت پڑ جاتی
ہے۔ وہ وہ جواز گھڑتا ہے کہ عمل دھنگ رہ جاتی
ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں ہم لینا جانتےہیں لیکن
دینے کا نام بھی سننا نہیں چاہتے۔ ریاستی ٹیکس کی
وصولی تو یاد رہتی ہے لیکن ان ٹیکس دہندگان کو
ریاستی حموق اور سہولتیں یاد سے باہر ہو جاتی ہیں۔
ہاؤسز جو عوام کے خون پسینہ سے چلتے ہیں وہاں
اکھاڑ پچھاڑ اور عوام کو الو بنانے کی تراکیب تراشی
جاتی ہیں۔ وہاں بجلی پانی اور گیس کی تھوڑ نہیں آتی۔
عوام جو محنت کرتے ہیں اور ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں
ان تینوں بنیادی ضرورتوں سے محروم رہتے ہیں۔
آواز اٹھاتے ہیں تو چھتر کھاتے ہیں۔ کیا یہ اندھیر
نہیں؟ اس سے بڑھ کر شخصی حموق کی بےحرمتی
اور کیا ہو گی۔ ؼاصب معزز بھوک و پیاس اوڑھنے
والا شدت پسند۔
ڈاکٹر حضرات کے بارے بات کرتے خوؾ آتا ہے
کیونکہ بیمار نظام و معاشرت کے باشندے بیمار رہتے
ہیں اس لیے ڈاکٹر حضرات سے واسطہ رہتا ہے۔ تنمید
کی صورت میں کھال تو اتاریں گے ہی لیکن ساتھ میں
خدا معلوم کیا کر گزریں۔ ہماری شفا گاہوں کے چوہے
بھی ہمارے ڈاکٹروں کی طرح انسانی گوشت کے
شولین ہیں۔ اپنے حموق کے لیے کس شد و مد سے
رولا ڈالتے چلے آ رہے ہیں لیکن انہیں اپنی ؼلطیاں
نظر نہیں آتیں۔ کہتے ہیں ملازمین پر انکوائریاں لگ
گئ ہیں۔ اس سے کیا ہو گا ہمیشہ کی طرح کچھ بھی
نہیں۔ دو چار ماہ معطل رہیں گے۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے
کے بعد کچھ دو اور کچھ لو کے تحت پروانہء بحالی
جاری ہو جائے گا یا کسی دور دراز علالہ میں تبادلہ
کر دیا جائے گا اس طرح واپسی کےمعمول داموں کی
وصولی کا بندوبست کر لیا جائے گا۔ گویا ہر حوالہ
سے وصولی ہی وصولی۔ باور رہے معطلی میں تنخواہ
بند نہیں ہوتی ہاں بالائی جو تنخواہ سے ٹن ٹائم زیادہ
ہوتی ہے‘ بند ہو جاءے گی۔ معطلی کے دن گربت کے
دن ہوں گے لیکن بھوکوں مرنے کے دن نہیں ہوں
گے۔
ایک انسان جس نے نہ اچھا اور نہ ہی کچھ برا کیا‘
بالکل فرشتوں اور دیوتاؤں کے اوتار کا سا‘ بلا جرم
زندگی سے گیا۔ ماں باپ کو ہمیشہ کے لیے سوگوار
کر گیا۔ کیا یہ لتل نہیں ہوا؟؟؟
ڈاکٹر اور ماتحت عملہ کس خدمت کی تنخواہ وصولتا
ہے۔ کسی بھی ملازم سے پوچھیں اسے یہ خوب خوب
معلوم ہو گا کہ مہنگائی بڑھ گئ ہے اور تنخواہ بہت کم
ہے۔ اسے یہ یاد نہیں ہو گا کہ اس کے کچھ فرائض
بھی ہیں۔ اس کے ذہن سے بالائ کی رلم بھی محو ہو
چکی ہوتی ہے۔ اس معصوم بچے کا چوہے کے
ہاتھوں مر جانا ڈاکٹری کے منہ پر طمانچہ ہے لیکن
یہ تب ہے جب وہ اسے طمانچہ سمجھیں گے۔
زخمی ہونے کی صورت میں بھی یہ جرم کوئی معمولی
جرم نہیں۔ لتل یا زخمی ہونے کے حوالہ سے عدلیہ
کے سامنے مسلہ لایا جانا چاہیے۔
حك اور انصاؾ کی بات تو یہ ہے کہ وہ بد نصیب بچہ
ڈیوٹی پر موجود عملہ اور ڈیوٹی آفیسر کی لاپرواہی
سے مرا نہیں ان کے ہاتھوں لتل ہوا ہے۔ کس بات کی
انکواءری جو اس دورانیے میں ڈیوٹی پر تھے اس
بچے کے لاتل ہیں۔ لاتل کی سزا ہمارے لانون میں ؼیر
واضع نہیں۔
اس سے یہ بات بھی کھلتی ہے کہ ہماری شفاگاہوں
میں صفائی ستھرائی کا کیا عالم ہے۔ لوگوں میں
صفائی ستھرائی کے پمفلٹ بانٹنے والوں کے اپنے
ہاں صفائ ستھرائ معنویت نہیں رکھتی۔ کوئی ذمہ دار
اور ؼیر جانب خود جا کر بلا اطلاع جا کر دیکھے‘
مجھے یمین ہے سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔ سچی بات
تو یہ ہے محکمہ صحت پر فضول خرچ کیا جاتا ہے۔
یہاں داخل ہو کر بھی یہاں کے لوگوں سے پرائیویٹ
طبی امداد لینا پڑتی ہے ہماری شفا گاہیں
ؼالب کے اس مصرعے کا زندہ عکس ہیں
دل کو خوش رکھنے کے لیے ؼالب یہ خیال اچھا ہے
سنتے ہیں کھانسی کے سیرپ میں خطرناکی وارد ہو
گئ ہےاور اس کے پینے سے کچھ کھانسنے والے الله
کو بھی پیارے ہو گئے ہیں۔ یہاں کا ہر دوسرا بڈھا
کھانستا ہے۔ لگتا ہے بڈھا مکاؤ مہم کا آؼاز ہو گیا
ہے۔ بڈھے ولتا فولتا معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہتے
ہیں۔ وہ بھی کیا کریں ان کی لوت برداشت کم یا ختم ہو
چکی ہوتی ہے اسی لیے بلاطلب مشورے دیتے رہتے
ہیں۔ بڈھوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی چونچ
بند رکھا کریں۔ لوم کو وہ کھٹکنے لگے ہیں۔ یہ کوئی
ان کے حوالہ سے صحت مند علامت نہیں۔ ایک
مخصوص طبمہ ان کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ خطرے کی
گھنٹی بج چکی ہے لہذا وہ محتاط ہو جائیں۔ چونچ بند
کرنے کی ابتدا میں اپنی ذات سے کرتا ہوں۔ کھانسی کا
سیرپ بنانے والوں سے استدعا کرتا ہوں ایک بار
بڈھوں کومعاؾ کر دیں۔ آئندہ وہ احتیاط سے کام لیں
گے اور شکایت کا مولع نہیں دیں گے۔ ایک مولع تو
ملنا چاہیے۔ حکومت سے اس لیے اپیل نہیں کروں گا
کہ اس کے پاس جنتا کی بھلائی اور بہبود کے لیے
کچھ کرنے لیے ولت کہاں ہے۔
جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے
عبدالروؾ پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہے۔ آبائی مشمتی
ہے۔ آج اس کی باتیں سن کر مجھے بڑی حیرانی
ہوئی۔ اس لسم کی باتیں تو اکثر پڑھے لوگ بھی نہیں
کرتے۔ میں نے اس سے دریافت کیا یہ باتیں تم نے
کہاں سے سیکھی ہیں۔ کہنے لگا میں رات کو کام سے
فارغ ہو کر خبریں سنتا ہوں‘ تبصرے سنتا ہوں۔ دوہری
حیرانی ہوئی اول تا آخر پنجابی ہے پڑھا لکھا بھی
نہیں اور انگلش گزیدہ اردو کسی دلت کے بؽیر سمجھ
لیتا ہے۔ تیسری بڑی بات یہ کہ اپنی رائے بھی رکھتا
ہے۔ اپنی رائے کے حوالہ دلائل بھی رکھتا ہے۔
اس کا کہنا ہے پاکستان دراصل انگریز کے چیلوں اور
تلوے چاٹنے والوں کو نوازنےکےلیے بنایا گیا۔ دو
نمبر لوگ حکومت کرتے آئے ہیں۔ شروع سے یہی
کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس ولت میڈیا محدود اور حکومت
ولت کا ؼلام تھا اس لیے ان لوگوں کی کرتوتیں عوام
تک نہیں پہنچ پاتی تھیں اس لیے لوگ بے بسی
یبچارگی کو حالات کا المیہ سمجھتے تھے۔ حاکم نت
نئے نعرے استعمال کرکے اپنے عرصہ حکومت کو
طوالت دیتے رہے۔ کشمیر کا نعرہ ایک عرصہ چلا۔
روٹی کپڑا اور مکان والے نعرے میں بڑی جان تھی۔
کوئ یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ نعرہ لگانے والا کس
طبمے سے متعلك تھا اور بھوک پیاس کیا ہوتی ہے
سے آگاہ بھی تھا یا بے خبر تھا۔ اس کے بعد اسلام
جو یہاں کے عوام کی نفسیاتی کمزوری ہے کو
استعمال کیا گیا۔
جنرل مشرؾ نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا
جو اسلامی روح کے ہی خلاؾ تھا۔ آج جمہوریت کا
نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ جلد ہی کہا جائے گا جمہوریت
خطرے میں ہے۔ کوئی نہیں کہے گا کہ جمہوریت نے
یہاں کے لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جمہوریت عوام کا مسلہ نہیں ہے۔ آپ نے ؼور کیا ہو
گا الیکشن والے دن امیدواوں کے چمچے اور کہیں
خود امیدوار‘ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر سو طرح کے سبز
باغ دکھا کر ووٹوں کے پیسے دے کر اپنی گاڑیوں
میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے کر جاتے ہیں۔ اگر
جمہوریت عوام کا مسلہ ہو تو وہ الیکشن کے عمل
میں حصہ نا لیں۔ عوام کا مسلہ صرؾ روٹی کا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کرسی والوں نے عوام کو روٹی کے
چکروں میں ڈال دیا ہے۔ لوگ کرسی والوں کی باندر
پوٹوسیوں سے خوب آگاہ ہیں لیکن کیا کریں انہیں
بھوک نے نڈھال کر دیا ہے۔ آج ان کا مسلہ صرؾ اور
روٹی ہے۔
عدلیہ طالت کے سامنے ڈٹی ہوئ ہے۔ عدلیہ ان کے
لیے مذاق بنی ہوئ ہے۔ یہ بھی ان چال بازوں کی ایک
چال ہے۔ عدلیہ خط کے چکروں میں پڑی رہے اور
اس کی توجہ اداروں میں ہر روز ہونے والی اربوں کی
کرپشن اور ؼبن کی طرؾ نہ جائے۔ سارا لصور
سیاست دانوں کا نہیں ہے اداروں کے افسر یمین
دلاتے رہتے ہیں کہ جناب فکر نہ کریں ہم آپ کے
ساتھ ہیں۔ یہ افسر داؤ پیچ بھی بتاتےرہتے ہیں۔ اس
خیرخواہی کے صلے میں لمے نوٹ کما رہے ہیں۔
اس کا کہنا ہے جن لوگوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرا اور وہ
اس حوالہ عدلیہ سے ٹکر لینے پر اترے ہوئے ہیں۔
یہی نہیں عدلیہ کو مجبور و بے بس کر دینے پر تلے
ہوءے ہیں؛ اپنی اس سر کشی کو آئنی لرار دیتے ہیں۔
ان سے خیر کی تولع رکھنا کھلی حمالت ہو گی۔
اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ
ہے گلے میں سب زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اناج اور
سبزیات پنجاب مہیا کرتا ہے پھر بھی بتی اسے محروم
رکھا جا رہا ہے۔ بادشاہ کے لیے تو سب برابر ہوتے
ہیں۔ کوئ اس کے اس ڈنڈی مار پروگرام پر بات نہیں
کر رہا۔ اسے تو سب اچھا کی آواز سنائ دیتی ہو گی۔
اس کا مولؾ یہ ہے۔ لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں۔
لوگ تو ان کا کھلونا ہیں۔ جمہوریت یعنی ان کی
بادشاہت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ساری گوٹیاں
سارا گلہ افسر شاہی اس کے ہاتھ میں ہے۔ افسر شاہی
کو اس سے بڑھ کر موجو میسر نہیں آ سکتا۔
عبدالروؾ کی باتوں سے اتفاق ہونا یا نہ ہونا لطعی
الگ بات ہے۔ ساری عوام بھی اس طور سے سوچے
تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ
لوگ جہوریت یعنی حکومت کے بارے میں سوچنے
لگےہیں۔ اس لسم کی سوچوں سے بےچینی بڑ ھے
گی جو بادشاہ لوگوں کی صحت کے لیے کسی طرح
درست نہیں۔ عوام کی جمہوریت کے حوالہ سے آگہی
کسی ولت بھی بؽاوت کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ آتے
ممکنہ خطرے کے پیش نظر صرؾ ایک ٹی وی چینل
پی ٹی وی رہنےدیا جائے بالی سب بند کرا دیئے
جائیں کیونکہ یہ انتشار پھیلاتے ہیں اور ان کے باعث
نمص امن کا خطرہ ہے۔ کار سرکار میں یہ کھلی
مداخلت ہے۔ اسی طرح دو ایک سرکاری اخبارات سے
بخوبی کام چل سکتا ہے اور چلتا آیا ہے لہذا انھیں بند
کرا دینے سے جموریت کو اس اپنے لدموں پر رکھا
جا سکتا ہے۔
آگہی کی راہ کا پتھر
مولوی صاحب اپنے خطاب میں پل صراط کا ذکر فرما
رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے اس کی ساخت کا
ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تلوار سے تیز اور بال سے
باریک ہو گی۔ ایک سادہ لوح شخص نے اٹھتے ہوئے
کہا چلدے اں جی‘ ایہ تاں پار نہ لنگہان الیاں گلاں نیں۔
ہمارے ہاں اعلی تعلیم کی حصولی کی راہ میں ایک پل
صراط چن دی گئ ہے۔ ایم فل یا پی ایچ کرنے کے لیے
ایک کمائی ٹسٹ پاس کرنا لازم لرار دے دیا گیا ہے۔
اس کمائی ٹسٹ کے حوالہ سے سرکاری حصہ منہا
کرکے کسی شخص یا اشخاص پر نواشات کے سرخ
گلاب نچھاور ہو رہے ہیں اور اس جانب دیکھنے کی
زحمت نہیں اٹھائی جا رہی کہ اس سے ذہانتوں کو کس
بےدردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔
اس ٹسٹ میں شماریات ریاضیات انگریزیات وؼیرہ
مضامین داخل کر دئیے گئے ہیں۔ اب بھلا اردو
اسلامیات عربی فارسی ایجوکیشن وؼیرہ سے متعلك
لوگوں کا شماریات ریاضیات انگریزیات وؼیرہ سے کیا
تعلك کیا رشتہ اور کیا واسطہ۔ انھوں نے یہ مضامین
نہ کبھی پڑھے اور نہ پڑھائے ہوتے ہیں۔ ایم فل یا پی
ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی ان کا ان سے دور کا بھی
رشتہ نہیں ہو گا۔ انگریزی مضمون سے متعلك لوگ
شماریات ریاضی وؼیرہ کو کیا جانیں۔
کیسی بونگی اسکیم ہے۔ یہ مضامین سائینسز سے
متعلك لوگوں کے ہیں۔ اب ساءینسز سے متعلك لوگوں
سے اردو اسلامیات عربی فارسی ایجوکیشن وؼیرہ
سے متعلك سوال کئے جائیں گے تو وہ خاک جواب
دیں گے۔
آرٹس اور سائنس کو جب الگ لرار دیا گیا ہے تو
کمائی ٹسٹ میں انھیں کیوں ایک دوسرے سے نتھی
کر دیا گیا ہے۔ عجب احممانہ الدام ہے۔ اس سے بڑی
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب باہر کھسر ۔پھسر
کرتے ہیں لیکن کوئی احتجاج نہیں کرتا۔ کوئ احتجاج
کیا خاک کرے اس ملک میں سنانے والوں میں ہر چند
اضافہ ہی ہوا ہے۔ بجلی پانی اور گیس سے متعلك
احتجاج کرنے والوں کے کیا ہاتھ آیا ہے۔ ڈنڈے اور
لیتر ان کا ممدر ٹھرے ہیں۔ یہ پڑھے لوگ شور مچائیں
گے تو کیا ملے گا‘ کچھ بھی نہیں۔
میں اس کمائ ٹسٹ کی مخالفت نہیں کر رہا۔ اس کے
حوالہ سے کچھ کی موجیں لگی ہوئ ہیں۔ موج کی
افیون چھڑائی نہیں جاسکتی۔ یہ چین نہیں پاکستان
ہے۔ اگر یہ کمائ ٹسٹ متعلمہ مضامین تک محدود کر
دیا جائے تو ذہانتوں کا لیمہ نہیں ہو سکے گا اور اس
ٹسٹ کے حوالہ سے مچھی شورہ بھی میسر آتا رہے
گا۔
ہم زندہ لوم ہیں
ہم بڑے لائی لگ لسم کے لوگ ہیں۔ اپنے دماغ سے
سوچنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ اگر کسی نے کہا کتا
تہارے کان لے گیا ہے۔ کان دیکھنے کی بجائے کتے
کے پیچھے دوڑ لگا دیں گے۔ کوئی کتنا ہی کوکتا
رہے‘ کان دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں
گے بلکہ کوکنے والے کو ہی کوسنے دیں گے۔
یہ رویہ آج سے مخصوص نہیں‘ بہت پہلےسے انسان
کتے کے پیچھے پورے زور شور سے بھاگے چلا جا
رہا ہے۔ الله جانے دونوں ابھی تک تھکن کا شکار
کیوں نہیں ہوءے۔ دونوں کی رفتار میں رائی بھر کمی
نہیں آئی۔ لفظ رائی کا استعمال اس لیے کیا ہے کہ
رائی سے کوئی چھوٹی مادی شے ابھی تک دریافت
نہیں ہو سکی۔ سل جاندار ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔
دکھائی نہ دینے کے سبب ہی مر رہا ہے اور ٹوٹ
پھوٹ کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے سل بھر
محاورہ نہں اخترایا۔ کتے کی وفاداری اپنی جگہ مڑ کر
دندی نہیں کاٹ رہا اور بلا جواز مشمت اٹھائے چلا جا
رہا ہے۔
انصاؾ کی بات تو یہ ہے کہ وہ انسان کےکچے کانوں
کی بلاجرم سزا بھگت رہا ہے۔ اگر ایک بار وفاداری
کے خول سے باہر نکل کر اچانک پیچھے مڑ کر دندی
کاٹ لیتا توانسان کو کان ہو جاتے۔ ڈاکٹر پیٹ میں
ٹیکے ٹھوکتا۔ جیب ہلکی کرتا۔ نا دانستگی میں کانوں
کو ہاتھ لگاتا تو اسے معلوم پڑتا کہ کان تو سلامت
ہیں۔ ہاں البتہ سر سلامت نہیں رہا۔ اسے یہ بھی پتہ
چل جاتا کہ زخموں سے چور اور نڈھال سرآج بھی
ؼداروں اور مداریوں کے لدموں میں پڑا انسان کی کتا
چیکی کا رونا رو رہا ہے۔
استاد کو میری بات سے اتفاق نہیں رہا بلکہ اس کا
ماننا یہ ہے کہ سوچنے والا سر پیٹ میں چلا گیا ہے۔
ہمارے ہاں کا شخص پیٹ سے سوچنے کا عادی ہو
گیا۔ پیٹ میں حسب ضرورت گرم ٹھنڈا تھندا ڈالتے رہو
یہ کتے کے پیچھے بھاگتا رہے گا ۔ پیٹ اور گٹھنوں‘
کان اور پیٹ کا فاصلہ برابر ہو گیا ہے اس لیے پیٹ
کان اور گٹھنوں سے پہلے ہے۔ ہر معاملہ میں پیٹ
پہلے ہو گیا ہے۔ کان اور گٹھنے روٹی نہیں کھاتے
اس لیے وہ لابل ترجیع نہیں ہیں۔ بات میں دم اور خم
کی کسی حوالہ سے کمی نہیں۔ دھرتی ماں ہی ہوتی
ہے۔ ماں کسی ؼیر کے حوالے کرکے دیسی گھی کی
چوری‘ ولاءتیوں کے ہاتھ سےکھا نےکا مزا دیس
بھگت کیا جانیں۔ وہ جانتے ہوئے کہ ولائتیوں
نےمولوی ابوبکر کی گولی کھا رکھی ہے اور ماں کا
کیا حشر کرے گا‘ کا تصور بھی پیٹ دشمنی کے
مترادؾ سمجھتے ہیں۔ اسے ماں سے ؼداری یا بے
ؼیرتی سے زیادہ ولت اور حالات کا تماضا سمجھا جاتا
ہے۔
استاد کی باتوں کا برا نہ مانئیے گا۔ میں بھی اوروں