The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫وہ بھاری خرچہ کرکے ممبر بنے ہیں۔ یہ یمینا بڑی‬
‫عجیب صورت ہو گی اگر وہ اس لسم کے بےفضول‬
‫کام پر پیداکار ولت صرؾ کریں گے۔ دوسرا یہ کام ان‬
‫کا نہیں شکشا منشی صاحبان کا ہے جنھیں اپنی تعلیم‬
‫سے لابھ اٹھانے سے فرصت نہیں۔ تعلیم یافتہ ملازمین‬

‫کے پاس مفتوں کے لیے ٹائم ہی کہاں ہے۔‬

‫مجھے پنجابی کے یہ مصرعے بس یوہی یاد آ رہے‬
‫‪:‬ہیں‬

‫بنین لین جانندے اوہ بنین لئے کے آندے پاندے اوہ‬
‫پیندی نیئں لاندے اوہ لہندی نیئں‬

‫موجودہ لنکنی نظام کے حوالہ سے حصول تعلیم کا‬
‫حاصل یہی رہے گا۔ ہاں بنین میں دینا‬
‫پاؤ گے پوے گی لاوو گے لوے گی‬

‫یہ لرآن و سنت کے حوالہ سے لائم ہونے والے نظام‬
‫حکومت سے ہی ممکن ہے۔ شہباز شریؾ کی محنت‬

‫اور دیانتداری پر پورے پنجاب کو ناز ہے۔ کیا وہ‬
‫میرمنشی گاہ واپڈا ہاؤس وؼیرہ کا لبلہ درست کر‬
‫سکیں گے میں سردست اس ذیل میں کچھ عرض‬

‫کرنے سے لاصر ہوں۔ میری اس ناچیز لاصری کو‬
‫معذرت سمجھیں۔ شکریہ‬

‫طہارتی عمل اور مرؼی نواز وڈیرہ‬

‫آپ کریم کا یہ ارشاد گرامی۔۔۔۔۔۔ طہارت نصؾ ایمان‬
‫ہے۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کی طرح میرے بھی علم میں تھا تاہم‬

‫میرا دوسروں سے مختلؾ تفہمی نظریہ رہا ہے۔‬
‫دوسروں میں کچھ کپڑوں کی صفائی کو طہارت‬
‫سمجھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا یہ ہے کہ جسم کی خوب‬
‫صفائی ستھرائی ہونی چاہیے۔ پولیس والے دھلائی کے‬
‫معنی الگ سے لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دھلائی اس‬
‫طور سے ہونی چاہیے کہ دھلائی دہندہ ناکردہ کو بھی‬
‫بخوشی اپنی جھولی ڈال کر پاک صاؾ ہو جائے۔ ایک‬
‫طرؾ صفائی عروج کو پہنچ جاتی ہے تو دوسری‬
‫طرؾ اور کیسز کے کھپ کھپا سے بچاؤ کا رستہ نکل‬
‫آتا ہے اور ان کیسز کے کار گزران سے مک مکا بہتر‬
‫اور شفاؾ طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا کیا چونکہ‬

‫کوئی اور اپنے سر لے چکا ہوتا ہے اس طرح وہ بھی‬
‫طہارت کے عمل سے گزر جاتے ہیں۔ دولت آنی جانی‬
‫شے اور مردوں کے ہاتھ کی میل ہوتی ہے۔ جیل سے‬

‫باہر رہ کر دیے سے کہیں بڑھ کر کما لیتے ہیں۔‬
‫پولیس سے علیک سلیک کے بعد ہاتھ بھی رل جاتے‬

‫ہیں۔‬

‫اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ میں طہارت کو الگ سے‬
‫معنوں میں لیتا ہوں۔ کپڑوں اور جسم کا صاؾ ہونا‬
‫انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ انسان صرؾ‬
‫جسم سے ہی تشکیل نہیں پاتا۔ جسم کے اندر روح بھی‬
‫ہو تو ہی اسے چلتا پھرتا جیتا جاگتا انسان کہا جاءے‬
‫گا۔ بے روح کو دنیا کے ہر خطے میں لاش‘ مردہ‘‬
‫میت‘ جسد‘ ڈیڈ باڈی‘ کورپو‘ مورٹو‘ کورپس‘ وؼیرہ‬
‫وؼیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ گویا جسم کے‬
‫ساتھ ساتھ باطنی طہارت کو کسی طور اور کسی سطع‬
‫پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہری سوٹر بوٹر‬
‫ہونے کا کیا فائدہ جب اندر روڑی جھوٹ چؽلی بخیلی‬
‫تکبر بےانصافی بےایمانی ہیراپھیری بددیانتی بدمعاشی‬
‫وؼیرہ سمیٹے زندگی کی شاہراہ پر بڑی ڈھیٹائ سے‬
‫دندناتی پھرتی ہو۔ روک ٹوک کرنے والا اگلا سانس‬

‫بھی نہ لے سکے۔‬

‫مجھے کسی اردو لؽت کے بیک ٹائٹل پر ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫پاکستان اپنا اسے صاؾ‬

‫ر۔۔ک۔۔ھ۔۔ی۔۔۔ ِے۔ ِپِڑِِھ ِنِ ِِے ِِک ِاِ اِِتفِاِ ِِق ِہِوِِا۔ ِِا ِِصِلِا ِِح ِِک ِِرنِِ ِِے ِِواِِلا ِِک ِِہ ِہِہِِ۔ی۔۔‬
‫سکتا ہے۔ عمل درامد تو پڑھنے سننے والے کو کرنا‬
‫ہوتا ہے۔ طہارت کی بات چودہ سو سال پہلے کہی گئی‬
‫تھی۔ یہ بات مختلؾ حوالوں سے بار بار دہرائی جاتی‬
‫رہی۔ جن لوگوں نے باطنی طہارت کو اپنا شعار بنایا وہ‬
‫بوعلی للندر‘ داتا گنج بخش‘ معین الدین چشتی‘ شاہ‬

‫حسین لاہوری بن گیے۔‬

‫لیام پاکستان سے لے کر آج تک سب پاکستان کو اپنا‬
‫کہتے رہے لیکن صفائ ستھرائ کے عمل سے‬

‫کوسوں دور رہے۔ اس بے لاپرواہی اور مجرمانہ ؼفلت‬
‫کے سبب گند پڑ گیا۔ بھلا ہو الیکشن ‪ ٢٠١٣‬کا۔ اس کی‬
‫آمد پاکستان کے لیے خوش کن ٹابت ہو رہی ہے۔ گند‬

‫پوری دیانتداری اور ہنرمندی سے صاؾ کیا جا رہا‬
‫ہے۔ اگر یہ روایت بن گئ تو صاؾ شفاؾ سماج تشکیل‬

‫پا سکے گا۔ اگر ظاہری صفائ کو اہمیت ہوتی تو‬

‫ؼلاظت کے بڑے ڈھیر ختم نہ ہوتے۔ چہرا مبارک اور‬
‫لباس فاخرانہ اور امریکانہ تو سب کا دھلا ہوا تھا۔ جب‬

‫اندر سے پھرولا گیا تو پوٹی رسیدہ بوسیدہ لیریں‬
‫نکلیں۔ الیکشن کمشن اور عدلیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا‬

‫کیا جاءے کم ہو گا۔‬

‫طہارت کےعمل کے حوالہ سے ایک عزت جاہ جو‬
‫کسی کے ہاں الامت رکھتے تھے کا لصہ یاد آ گیا۔‬
‫انھوں نے خوب مرؼیوں پھڑکائیں‘ جاتے ہوتے ایک‬

‫مرؼی ساتھ لے گیے۔ جو مر کھپ گیے ان کی‬
‫چھوڑیے جو ابھی ابھی رخصت ہوئے ہیں ان سے‬
‫اڑائ گئی مرؼی برآمد کی جا سکتی ہے۔ آگہی رکھنے‬
‫والوں کو بات اٹھا کر اس طہارتی عمل میں بڑھ چڑھ‬
‫کر حصہ لینا چاہیے۔ یہ لومی فریضہ ہے۔ عدلیہ نے‬
‫آزادی حاص کرکے لومی اور شخصی ضمیر کو آزاد‬
‫دلائ ہے۔ اس عہد آزای سے فاءدہ نہ اٹھایا گیا تو‬
‫مرؼی عزت جاہ کی ملکیت کا درجہ حاصل کر لے گی۔‬
‫کل کیسا ہو گا کسی کے علم میں نہیں۔ طہارتی عمل‬
‫میں ذاتی اور لریبی تعلمات کی کوئی معنویت نہیں‬

‫ہوتی۔‬

‫آج یعنی دس اپریل کی ایک اخباری خبر کے مطابك‬
‫اسٹیٹ بینک نے نادہندگان کی فہرست جاری کرنے‬
‫سے انکار کر دیا ہے۔ اس انکار کے پیچھے الله جانے‬
‫کتنا بڑا تھرٹ ہو گا۔ یہ بھی امکان ہے مل جل کر‬
‫مرؼی کے مزے لوٹے گیے ہوں۔ یہ بھی بعید از‬
‫امکان نہیں کہ مرؼیوں کا الامت کدہ اور نادہندگان کی‬
‫موجگاہ اسٹیٹ بینک کے کسی مرؼی نواز وڈیرے کا‬
‫ڈیرہ رہا ہو۔ انکار کے تناظر میں کچھ بھی اور کتنا ہی‬
‫کہا جا سکتا ہے۔ ؼالبا اس کی بینک لانون اجازت نہیں‬
‫دیتا تاہم دو رستے پھر بھی کھلے ہیں۔ خصوصی‬
‫اجازت حاصل کی جا سکتی ہے یا پھر نادہندگان کا‬
‫معاملہ بینک عدالت ے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔‬
‫کیا انکار سے طہارت کے عمل کو نمصان نہیں پہنچے‬
‫گا؟ جسم و روح پیشاب کی بوند سے آلودہ نہیں رہیں‬
‫گے اور اس کے اثرات دیر تک بالی نہیں رہیں گے؟!‬
‫سو من دودھ کے کڑاہے میں پیشاب کی ایک بوند بھی‬
‫سو من دودھ کو نجس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔‬
‫گویا طہارتی عمل کا ستیاناس مارنے کے حوالہ سے‬
‫صرؾ مرؼی نواز وڈیرے کا نام ہی بدنام نہیں ہو گا‬
‫بلکہ اسٹیٹ بینک اور اس کے جملہ کارپردازگان کی‬
‫بھی رسوائ ہو گی۔ ؼداری کے حوالہ سے مخبریاں‬

‫ہوتی آئی ہیں کوئ دیس بھگت اس کی مخبری کرکے‬
‫ملک و لوم اور ممید مرؼیوں کو ان کے حمیمی‬

‫مالکوں کے حوالے ہونے کا پن کما سکتا ہے یہی‬
‫نہیں آتی بےگناہ نسلوں پراحسان کر سکتا ہے۔‬

‫استاد ؼالب ضدین اور آل ہند کی زبان‬

‫استاد ؼالب بلاشبہ‘ جملہ زبانوں کے شعری ادب میں‬
‫جھومر کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی طور پر‬

‫تین وجوہ ہیں۔‬
‫‪١‬۔ اوروں سے ہٹ کر اور الگ سے بات کرتے ہیں۔‬
‫‪٢‬۔ اپنے کہے کا جوازپیش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے‬
‫کہ کبھی بات اور کبھی جواز‘ ؼور کرنے سے سمجھ‬

‫میں آتا ہے۔‬
‫‪٣‬۔ مزید وضاحت کے لئے ضدین کا بکثرت استعمال‬

‫کرتے ہیں۔‬

‫ان کی عملی زندگی میں‘ ضدین کو بڑی اہمیت حاصل‬

‫تھی۔ آدھا کافر اور آدھا مسلمان ہونے کا جواز رکھتے‬
‫تھے۔ کافری‘ درحیمیمت ان کی مسلمانی کی شناخت‬

‫تھی۔ استاد کا یہ بڑا پن تھا‘ جو انھوں نے اپنی کافری‬
‫کا الرار کیا‘ ورنہ سو میں سے ایک بھی نہیں نکلے‬
‫گا‘ جو اپنی ذات کی ؼالب ضد کا الرار کرے۔ دیکھائے‬
‫کوئی ایک عیسائی‘ جو تپھڑ رسید کرنے والے کے‬
‫سامنے‘ اپنا دوسرا پنجے سے پاک صاؾ رخسار پیش‬
‫کر دیتا ہو۔ یہی صورت مسلمانوں کی ہے۔ آپ کریم نے‬
‫ایک جملے میں انسانی آئین بیان کر دیا۔ آپ کریم کا‬
‫فرمان گرامی ہے کہ مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے‬
‫کسی کو نمصان نہیں پہنچتا۔ آج مسلمانوں کی‘ کسی‬

‫خطہ میں کمی نہیں‘ لیکن وہ اپنی شخصیت میں‬
‫موجود ؼیر مسلمانی ضد کو‘ تسلیم نہیں کرے گا۔‬

‫اسلحاظ سے‘ استاد ؼالب نمبر لے گئے ہیں۔‬

‫ہمارے‘ الله بخشے‘ ایک ملنے والے ہوا کرتے تھے۔‬
‫بڑے خوش مزاج تھے۔ ایک دو تین نہیں‘ چار عدد‬
‫خواتین کے مجازی خدا تھے۔ چہرے پر اکلوتا چب یا‬
‫ڈنٹ نہیں تھا۔ اکلوتی خاتون کے مزاجی خدا کا چہرا‬
‫مبارک دس بیس سالوں میں لمک جاتا ہے۔ خواتین‬
‫پھولتی جاتی ہیں‘ جبکہ مرد حضرات اپنے مرحوم یا‬

‫زندہ والدین کا محض صدلہ جاریہ رہ جاتے ہیں۔‬
‫دوست احباب حیران تھے‘ چومکھی لڑائی کے بعد بھی‬
‫حضرت ناصرؾ توانا اور صحیح سلامت ہیں‘ مزید کی‬

‫خواہش بھی رکھتے ہیں۔ ہر بار اسلام آڑے آ جاتا۔‬

‫مرحوم اور پانچویں سے محروم‘ بڑے اسلام پرست‬
‫تھے۔ اسلامی معروؾ کلمات مولع بہ مولع ادا کرتے‬

‫رہتے تھے۔ مثلا سبحان الله‘ بسم الله‘ الله اکبر‘‬
‫ماشاءالله‘ ان شاءالله وؼیرہ وؼیرہ۔ جنازہ اور عیدین‬
‫کی نمازوں کا‘ شاید ہی‘ ان سا‘ کوئی پابند ہو گا۔ سلام‬
‫میں پہل کرنا‘ بڑے پیار سے سلام کا جواب دینا‘ ان کی‬
‫فطرت ثانیہ کا درجہ رکھتے تھے۔ تلمین تک ان کا‬
‫اسلام اے ون تھا۔ اسی طرح اور بھی اسلامی واجبات‬

‫میں ان کا ڈھونڈے سے ثانی نہ مل سکے گا۔‬

‫ایک دن‘ میں نے بے تکلؾ ہونے کی کوشش میں‘‬
‫پوچھ ہی لیا‘ آپ چاروں طرؾ سے گرفت میں ہیں‬
‫لیکن عملا آپ کے چہرے اورجسم‘ جان اور روح پر‬
‫گرفت کے رائی بھر آثار موجود نہیں ہیں۔ آپ اوپر‬
‫نیچے کی بچی اطراؾ کو بھی‘ کوور کرنے کی فکر‬
‫میں ہیں۔ آپ کی صحت اور خوش طبی کا راز کیا ہے۔‬

‫خوراک سے یہ مسلہ حل ہونے والا نہیں‘ تیتر کھلا کر‬
‫ایک مرتبہ زوجہ ماجدہ کا چہرا کرا دینے سے‘ دو‬
‫بوند بننے والا کیا‘ پہلے سے موجود میں سے بھی‘‬
‫ڈیڑھ پاؤ ناسہی‘ پاؤ تو ضرور خشک ہو جاتا ہے۔‬
‫مرحوم میری بے تکلفی کے لریب کی سن کر ہنس‬

‫پڑے۔ پھر سنجیدہ سے ہو گئے۔ دو تین منٹ سنجیدگی‬
‫کی نذر ہو گئے۔‬

‫اس سنجیدگی کو دیکھ کر ہم یہ سمجھے حضرت اندر‬
‫سے دکھی اور زخمی ہیں۔ اگر یہ سنجیدگی تمریبا نہ‬
‫ہوتی‘ تو میں شدید کا سابمہ استمال کرتا۔ سنجیدگی اور‬
‫خاموشی بتا رہی تھی کہ یہ کچھ بتانے والے نہیں اور‬
‫بات کو گول مول کر دیں گے۔ ہمارا اندازہ ؼلط نکلا۔‬
‫فرمانے لگے یک فنے ناکام رہتے ہیں۔ اپنے استاد ہی‬
‫کو لے لو‘ شاعر نثار اور نماد ہونے کے ساتھ ساتھ‬
‫بذلہ سنج بھی تھا۔ خوش طبعی میں اس کا ثانی دکھاؤ۔‬
‫ان کی خوش طبعی سے جڑےوالعات ابھی تک جمع‬
‫نہیں ہوئے۔ یک فنے تکرار کا شکار رہتے ہیں۔ میں‬
‫چوفنا ہوں۔ میں ضدین کا لائل‘ مائل اور عامل ہوں۔‬
‫کمال ہے‘ ازدواجین میں رہ کر بھی‘ مکمل ہوش و‬
‫حواس اور دانش سے لبریز گؾ گو فرما رہے تھے۔‬

‫میں یہ ضدین اور کامیابی کا فلسفہ نہیں سمجھ سکا۔‬
‫جاؤ‘ پہلے جا کر‘ عمد ثانی کرو‘ پھر آنا‘ سمجھا دوں‬
‫گا۔ یہ تمہارے کام کی چیز نہیں اور ناہی تمہارے لئے‘‬

‫عمل کی راہ موجود ہے۔‬

‫پہلے سمجھائیں‘ پھر عمد ثانی کا انتظام و اہتمام کروں‬
‫گا۔ بڑے بڑے بادشاہوں نے دھڑلے سے حکومت کی‬
‫ہے۔ کیوں‘ ضدین کے فلسفے سے آگاہی رکھتے تھے۔‬
‫کوئی دھڑا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ چور کو‬
‫کہتے چوری کرو‘ گھر والوں کو‘ ہوشیار رہنے کی‬
‫تاکید کرتے۔ دونوں سمجھتے‘ بادشاہ ہمارا ہے‘ حالاں‬
‫کہ وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ وہ تو تاج و تخت کے معاملہ‬
‫میں‘ اپنی اولاد کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ جو دائیں آنکھ‬
‫پر چڑھتا‘ اسے طریمے سے‘ مروا دیتا تھا۔ یہ کام بھی‬
‫تکنیکی انداز سے کرتا تھا۔ دو فریموں سے گہری رکھ‬
‫کر‘ ان میں نفاق پیدا کرکے‘ لڑا دیتا۔ ایک فریك لتل ہو‬

‫جاتا‘ تو دوسرا انصاؾ بھینٹ چزھ جاتا۔‬

‫میں نے عرض کی‘ حضور اسلام نفاق ڈالنے کی‬
‫اجازت نہیں دیتا۔ آپ اسلام دوست ہیں‘ اپنے گھر میں‬
‫ہی نفاق ڈالتے ہیں۔ کہنے لگے‘ ہم سب آدھے مسلمان‬

‫ہیں اور آدھے کافر۔‬

‫نکاح سنت ہے اور اس سنت کی میں نے آخری سطع‬
‫چھو رکھی ہے‘ اس حوالہ سے آدھا مسلمان ہوں۔‬

‫تمسیم کرتا ہوں‘ اس حوالہ سے آدھا کافر ہوں۔ تمسیم‬
‫نہیں کروں گا‘ تو حکومت کیسے کروں گا۔ یہ تو‬
‫مانتے ہو‘ میری آدھی مسلمانی لائم ہے۔ تم لوگ تو‬

‫آدھی مسلمانی سے بھی محروم ہو‘ تب ہی تو تمہاری‬
‫زندگی چھتر چھاؤں میں بسر ہو رہی ہے۔‬

‫نفاذ اسلام ایسا آسان کام نہیں‘ زوجانی کا خوؾ اور‬
‫دہشت گردی اپنی جگہ‘ مہنگائی نے سانس لینا دوبھر‬
‫کر دیا ہے۔ دو کہووں کی واہی کے بیلوں کے لئے‘‬

‫چارہ وؼیرہ کہاں سے آئے گا۔ ہاں البتہ‘ آدھی‬
‫مسلمانی کا رستہ بند نہیں ہوتا۔ عمد ثانی‘ نفاذ اسلام کا‬
‫ذریعہ موجود ہے۔ ملازم ہو‘ تو خوب رشوت لو‘ تاجر‬
‫ہو‘ تو معمول کی بددیانتی کو تگنا کر دو۔ دوگنا زوجہ‬
‫ثانی کے لئے‘ جبکہ تیسرا اگلا چانس لینے کے لئے۔‬

‫ہم انگریز کی شرع اور شرح پر چلتے آ رہے ہیں۔ ان‬
‫سے پہلوں کی بھی یہی شرع تھی۔ جس کا واضح‬

‫ثبوت‘ ممامی ؼداروں کا میسر آ جانا ہے۔ اگر یہ ؼدار‬
‫میسر نہ آتے‘ تو آنے والوں کے لفڑے لہہ جاتے۔ آتا‬
‫کوئی سر اور دھڑ سلامت نہ رہتا‘ بلکہ ان کی لاشوں‬

‫پر بین کرنے والا بھی نہ ملتا۔‬

‫برصؽیر میں ٹوپی سلار کے عہد ہی سے‘ مسلم التدار‬
‫کا زوال شروع ہو گیا تھا۔ تاہم التدار مسلمانوں کے‬
‫پاس ہی تھا۔ بہادر شاہ اول کوئی مضبوط حکمران نہ‬

‫‘لیکن کسی حد تک سہی‘ اپنے پیش رو کی طرح ایک‬
‫ہی ولت میں‘ ایک ہی شخص کو‘ لبض اور پیچس‬
‫لاحك کرنے سے آگاہ تھا۔ ‪ ١٧١٢‬میں اس گر سے‬
‫نابلد لوگ‘ تخت نشین ہوئے۔ والی مسیور کی شہادت‬
‫کے بعد بھی‘ مزاحمت ہوتی رہی‘ لیکن ٹیپو آخری‬
‫دیوار تھی۔ اسے ؼیر کیا فتح کرتے‘ گھر کے بھیدی‬
‫لے ڈوبے۔‬
‫اس ذیل میں میر صاحب کا کہا ملاحظہ ہو۔‬

‫ؼیر نے ہم کوذبح کیا ہے طالت ہے نے یارا ہے‬
‫ایک کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو پھاڑا ہے‬

‫اس کے بعد شدید خطرے کا کوئی امکان بالی نہ رہا۔‬

‫انگریز کو کھلا میدان مل گیا۔ وہ ہر مرضی کی کھیل پر‬
‫لادر ہو گیا۔‬

‫ٹیپو کی شہادت کا بڑی دھوم سے جشن منایا گیا۔ اس‬
‫جشن میں‘ اس کے نام نہاد اپنے بھی شامل تھے۔‬

‫انگریز ضدین کی ضرورت اور اہمیت سے خوب خوب‬
‫آگاہ تھا۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا‘ کہ وہ یہاں کے‬
‫پہلوں کا بھی پیو تھا‘ تو ؼلط نہ ہو گا۔ لبض‘ پیچس‬
‫اور ہیضہ ایک ولت میں‘ ایک شخص کو لاحك کر‬
‫دئے گئے۔ اس طرح‘ آل ہند کی تمسیم و تفریك کے‬

‫بہت سارے دروازے کھول دئیے گئے۔‬

‫اس ذیل میں‘ فورٹ ولیم کالج کے کردار کو نظر انداز‬
‫کرنا‘ زیادتی ہو گی۔ اس کی خدمات‘ سنہری حروؾ‬
‫میں‘ درج کئے جانے کے لابل ہیں۔ اس نے‘ آل ہند کی‬

‫زبان کے‘ دو خط متعارؾ کرائے۔‬
‫اردو خط‘ مسلمانوں کے لئے اور اسے مسلمانوں کی‬

‫زبان لرار دیا۔‬
‫دوسرا خط‘ آل ہند کی ؼیرمسلم عمیدہ والی نسل کے‬

‫لئے اور اسے ان کی زبان کا نام دیا۔‬
‫اس سے بیک ولت تین فائدے ہوئے۔‬

‫‪١‬۔ آل ہند زبان پر تمسیم ہو کر باہمی نفاق کا شکار ہو‬
‫گئی۔‬

‫‪٢‬۔ ایک دوسرے کے‘ تحریری اور علمی و ادبی‬
‫سرمائے سے‘ دور ہو گئی۔‬

‫‪٣‬۔ بولنے والوں کی گنتی دو حصوں میں تمسیم ہو‬
‫گئی۔‬

‫آل ہند کی یہ زبان‘ دنیا میں دوسرا نمبر رکھتی ہے۔‬
‫اپنے تعدادی اسٹیٹس سے محروم نہیں‘ مرحوم ہو‬

‫گئی۔‬
‫ایک ہی بات‘ دو خطوں میں لکھی‘ ایک دوسرے کے‬
‫لئے لایعنی ٹھہری۔ انگریز نے اپنے رابطے کے لیے‬

‫رومن خط کو رواج دیا۔‬
‫حالاں کہ حمیمت یہ ہے‘ کہ زبان کسی کی نہیں ہوتی‘‬
‫زبان تو اسی کی ہے‘ جو اسے استعمال میں لاتا ہے۔‬
‫زبان کی خواندگی کے لئے چار عمومی امور ہوتے‬

‫ہیں۔‬
‫‪١‬۔ بولنا‬
‫‪٢‬۔ سمجھنا‬
‫‪٣‬۔ لکھنا‬
‫‪٤‬۔ پڑھنا‬
‫ان میں سے‘ کسی ایک سکل سے متعلك شخص کو‘ نا‬

‫خواندہ لرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں‘ ان پڑھ‬
‫حضرات کی کمی نہیں۔ وہ دیوناگری والوں کی فلمیں‬
‫ڈرامے اور دیگر پروگرام دیکھتے ہیں۔ انھیں ان کی‬
‫سمجھ بھی آتی ہے لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ یہی‬
‫حال‘ پڑھے لکھوں کا ہے۔ سمجھ اور بول سکتے ہیں۔‬
‫اردو خط والوں کا کہا‘ دیو ناگری خط والوں کے لیے‬
‫ؼیر نہیں‘ لیکن دونوں‘ ایک دوسرے کے تحریری‬

‫سرمائے سے‘ استفادہ کرنے سے لاصر ہیں۔‬

‫رومن‘ آل ہند کو ایک ممام پر کھڑا کرتا ہے‘ لیکن اس‬
‫سے فائدہ انگریزی جاننے والے ہی اٹھا سکتے ہیں۔‬

‫اس دائرے میں‘ دیگر لوگ‘ انگریز عرب جاپانی‬
‫وؼیرہ‘ آ جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے دیکھا جائے تو‘‬

‫یہ دنیا کی نصؾ آبادی سے زیادہ لوگوں کی زبان‬
‫شمار ہوگی۔‬

‫آل ہند کی اس زبان کے ساتھ‘ ؼیر تو ؼیر‘ اپنے بھی‬
‫سازشوں میں مصروؾ ہیں۔‬

‫ایم فل اور پی ایچ ڈی سطع کے تحمیمی کام‘ ٹوٹل پورا‬
‫کرنے کے مترادؾ ہو رہے ہیں۔‬

‫دونوں خطوں کی تحریریں ایک دوسرے کے لیے‬
‫حوالہ نہیں بن رہیں۔‬

‫انگریزی یا کسی دوسری زبان کے مواد سے‘ تصرؾ‬
‫عیب نہیں لیکن یہ ایک دوسرے سے حوالہ نہیں لے‬

‫رہے۔‬

‫آل ہند کے درمیان زبان کے حوالہ سے‘ تعصب کی‬
‫فلک بوس دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔‬

‫ستم دیکھئیے سرور عالم راز صاحب بڑے زبردست‬
‫عالم فاضل ہیں۔ اپنے ایک خط میں کیا فخر سے‬
‫فرماتے ہیں۔‬

‫اردو انجمن میں صرؾ اردو اور رومن اردو میں ہی‬
‫چیزیں لگائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی کچھ‬

‫عرصہ لبل ہی ایک صاحب نے ہندی میں یہاں لکھنے‬
‫کی کوشش کی تھی اور بصد معذرت ان کو منع کر دیا‬

‫گیا تھا۔‬

‫آپ سے کوئی پوچھے‘ یہ رومن خط کس طرح کی‬

‫اردو ہے؟ اس زبان کے دو خط ‘ان کو گوارا ہیں‘‬
‫تیسرا انھیں خوش نہیں آتا۔ اصل انصاؾ تو یہ ہے‘ کہ‬

‫یہاں صرؾ اردو خط والوں کو جگہ دی جائے۔ ہاں‬
‫دیگر زبانوں کا مواد شائع نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ‬
‫فورم صرؾ اور صرؾ اردو خط والوں کا ہے۔ اس کا‬
‫نام ہی اردو انجمن ہے‘ اس لئے دوسری زبان کا مواد‬

‫آنا‘ درست اور مناسب نہیں۔ یہ معاملہ مبنی بر حك‬
‫ہے۔‬

‫دیگی ذائمہ اور مہر افروز کی نکتہ آفرینی‬

‫دانستہ ؼلطی کوتاہی بلاشبہ لائك سرزنش ہے۔ کوشش‬
‫کرتا ہوں جو بھی کروں پوری ذمہ داری اور ہوش‬
‫مندی سے کروں لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کمی‬
‫کوتاہی کی راہ نکل ہی آتی ہے۔ اس ذیل میں وہ لوگ‬
‫یمینا خوش لسمت ہیں جنھوں نے کچھ نہ کرنے کی‬
‫ٹھان رکھی ہے۔ نتیجتا ان سے ؼلطی کوتاہی سرزد‬

‫نہیں ہوتی۔ اگر کسی کے مجبور کرنے یا کسی‬
‫سرکاری یا بیگماتی مجبوری کے تحت کچھ کرنا ہی پڑ‬
‫جاتا ہے تو ؼلطی کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کی‬
‫شامت آ جاتی ہے۔ ؼلطی کرنے والے کی گردن پر گرہ‬

‫نہیں آتی۔ ہر کوئی کرنے والے ہی کا پکھ لیتا ہے۔‬
‫دیکھو یاراس نے کچھ تو کیا ہے حوصلہ افزائ کی‬
‫بجائے حوصلہ شکنی سے لیا جا رہا ہے۔ نکتہ چین‬
‫تھوڑ دلی سے کام لے رہا ہے۔ اس وچارے نے کب‬
‫کبھی کوئ کام کیا ہے۔ پہلا پہلا کام ہے‘ ؼلطیاں تو‬

‫ہوں گی۔‬

‫پہلا پہلا کام کرنے والا خود کو علامہ شبلی نعمانی کا‬
‫بھی استاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے لیے اس کا یہ‬
‫پہلا پہلا بھگوت گیتا سے کی طرح کم نہیں ہوتا۔ چیلے‬
‫چمٹے اسے عظیم فن پارہ لرار دے کر اڑے پھسے‬
‫کام نکلوا لیتے ہیں۔ میں کوئ اعلی شکشا منشی ہاؤس‬
‫کا اہلکار نہیں جو معاؾ کر دیا جاؤں گا۔ اس لیے خود‬
‫ہی اپنی ؼلطی کوتاہی کا اعتراؾ کر لیتا ہوں۔ بڑے‬
‫لوگوں کی طرؾ انگلی اٹھتی ہے مجھ پر لوگوں کا‬

‫پنجہ اٹھے گا۔ ۔‬

‫پہلی پہلی ؼلطی کوتاہی کو لائك تعزیر لرار نہیں دیا‬
‫سکتا کیونکہ کوشش تو کی گئ ہوتی ہے اور کرنے‬
‫والے سے ہی ؼلطی ہوتی ہے۔ کرنے والوں میں عادی‬
‫کرنے والے ہوتے ہیں جبکہ فٹیکی کرنے والے بھی‬
‫ہوتے ہیں۔ دونوں کے کرنوں میں نمایاں فرق موجود‬
‫ہوتا ہے۔ ذائمہ بھی اسی تناظر میں تشکیل پاتا ہے۔‬
‫ذاتی شوق اور گیڈر پروانہ کی حصولی سے وابستہ‬
‫کیا ایک سا نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے ذائموں میں‬
‫زمین آسمان کا فرق موجود ہوتا ہے۔ اس حمیمت کے‬
‫باوجود ذاتی والا دو نمبری کے درجے پر فائز کیا جاتا‬
‫ہے جبکہ گیڈڑائ کسی بڑی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے۔ اب‬

‫ذائمے کا تعلك بندے کوبندے جڑ جاتا ہے۔‬

‫میں نے کھائی پکائی میں تیکنیکی امور کو مدنظر‬
‫رکھا۔ کھائی کی تعبیر و تشریح میں انتہائی حساس‬
‫امور کو نظر انداز کر گیا حالانکہ ان کا کھائ سے‬
‫چولی دامن کا تعلك ہے۔ محاورہ اگلے زمانے کا ہے‬
‫محاورہ بنانے والوں نے دامن کے ساتھ چولی جانے‬
‫کیوں اندراج کیا۔ اگلے زمانے میں چولی نہیں چولے‬
‫ہوا کرتے تھے۔ چولی ؼالبا ؼرب کی دین ہے۔ لباسی‬
‫اختصار پیچھلے پچاس سالوں میں ہوا ہے۔ اب تو‬

‫لباس کا نام تکلفا لیا جاتا ہے اس لیے میں نے تکلفا‬
‫مروتا چولی لفظ استعمال کر دیا ہے۔ رہ گیا دامن‘ جب‬
‫چولی نہیں ہوگی دامن کہاں سے آئے گا۔ مترادؾ میں‬
‫مرد حضرات نے بیگ جبکہ خواتین نے بڑے فینسی‬
‫پرس رکھ لیے ہیں اور ان میں کافی کچھ سما سکتا‬
‫ہے۔ مرد اور خواتین احتیاتا ساتھی بھی اہتماما رکھنے‬
‫لگے ہیں۔ بیگ یا پرس میں وہ جو کچھ بھی رکھیں ان‬
‫کا ذاتی معاملہ ہے اس پر کلام کا کسی کو حك نہیں‬

‫پہنچتا۔ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں اس‬
‫لیے چولی دامن کی جگہ بیگ پرس کا ساتھ محاورہ‬
‫ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی ارضی اور کلچری‬

‫سچائی ہے۔‬

‫خیر ؼلطی کوتاہی کا حل یہی ہے کہ متعلمہ حصہ میں‬
‫تبدیلی اضافہ وؼیرہ کر دیا جاءے۔ بھلا ہو مہر افروز‬
‫صاحبہ کا جو انھوں نے برولت نشاندہی کر دی ہے۔‬

‫میں ان کا دل و جان سے احسان مند ہوں۔ اگر وہ‬
‫نشاندہی نہ کرتیں‘ باریک بین مورخ کبھی معاؾ نہ‬
‫کرتا۔ وہ کرتا نہ کرتا میرا ضمیر مجھے معاؾ نہ کرتا۔‬
‫پکائی بلاشبہ بڑی معنویت کی حامل ہے لیکن ذائمے کا‬
‫تعلك کھائی کے مختلؾ حوالوں سے جڑا ہوا ہے۔‬

‫ذائمے سے منہ مسلک ہے۔ منہ بڑا ہو یا چوٹا اس میں‬
‫ایک عدد زبان بھی ہے جو چھکنے اور جلانے کے‬
‫کام آتی ہے۔ چکھنے سے پہلے بھی چلتی دیکھنے‬
‫سننے میں آتی رہتی ہے۔ یہ جہاں نائی کے کانوں پر‬
‫بار بنتی ہے وہاں دیگ کا سامان لانے والے اور‬

‫سامان دینے والے دوکان دار کو بھی گرفت میں رکھتی‬
‫ہے۔ ہیاں تک کہ بلاچھکے ریمارکس پاس کر دیتی‬
‫ہے۔ گویا یہ ذائمے کا پیش لفظ ہوتا ہے۔‬

‫سرکاری تنخواہ کی آمدنی کا ذائمہ پھیکا پھیکا اور‬
‫لطعی ہلکا پھلکا ہوتا ہے۔ معمولی اور ؼیر معمولی‬
‫بالائی کا ذائمہ الگ سے اور دو طرح کا ہوتا ہے۔ یہ‬
‫ذاءلہ زیادہ تر دفتری لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے‬
‫حالانکہ بالائی کا دائرہ دفتروں کے زندان سے آزادی‬
‫حاصل کر چکا ہے۔ ستم اس پر یہ کہ رشوت لینے‬
‫والے کو راشی کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سائل‬
‫رشوت خور ٹھہرتا ہے۔ ظالم کا ظلم مظلوم پر ٹھہرنا‬
‫صدیوں کی ریت ہے۔ یہ صرؾ رنجیت سنگھ ہی کو‬
‫اعزاز حاصل تھا کہ وہ ہاتھ بندھے بری اور لک‬
‫بندھک لٹکاتا تھا۔ بہرکیؾ لفظ راشی کا متضاد استعمال‬
‫میرے لیے حیران کن نہیں۔ لفظ کا رمزی استعمال کلام‬

‫میں شگفتگی اور بلاؼت پیدا کر دیتا ہے۔ اب معلوم ہوا‬
‫ہے کہ زیریں کے دست مبارک سے لفافہ اوبر جاتا‬
‫ہے۔ اس حوالہ سے اسے راشی ہی کہا جائے گا‬
‫مرتشی اوپر والے کو کہا جائے گا۔ کھائی کے حوالہ‬
‫سےتین ذائمے ترکیب پائیں گے۔ سال کا ذائمہ کڑوا‘‬
‫راشی کا ذائمہ نمکین اور لدرے لذیذ جبکہ مرتشی کا‬
‫ذائمہ لذتوں کا امین ہوتا ہے۔‬

‫چوری ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری وؼیرہ کی کمائی‬
‫کو حرام کی کمائی کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلی تینوں طرح‬
‫کی کمائی خطروں سے ہی نہیں بھری رسک آمیز بھی‬
‫ہے جبکہ ہیرا پھیری میں دماغ کا خرچہ بڑھتا ہے اس‬
‫لیے یک طرفہ سوچنے کی بجائے دو بلکہ سہ طرفہ‬

‫سوچنے کی ضرورت ہے۔ لٹنے والا اور کما لے گا‬
‫اسے دکھ ضرور ہوتا ہے۔ دوبارہ سے کمائی کا ذائمہ‬
‫پسینہ آلود ہونے کے سبب چکنائ انگیز ہوگا۔ چوری‬
‫ڈاکے اسمگلنگ ہیرا پھیری کی کمائی جو پرمشمت‬
‫ہوتی ہے‘ کا ذاءلہ اگلے رسک پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا‬
‫اس لسم کی کمائی کے ذائمے میں تحرک کا عنصر‬

‫ؼالب اور نمایاں رہتا ہے۔‬

‫لوم و ملک سے ؼداری کے صلہ میں کھیسے پڑنے‬
‫والی کمائی کا ذائمہ بی کچھ اور نوعیت کا ہوتا ہے۔۔‬
‫بی کا مخفؾ لمبی چوڑی فہرست سے بچاتا ہے۔ شراب‬
‫کباب کے ساتھ شباب کی بڑھوتی کسی ایرے ؼیرے کو‬
‫زیب نہیں دیتی۔ یہ ذائمہ دوسرے ذاءلوں سے الگ‬
‫ترین ہوتا ہے اور اس میں نوابی آن بان اور شان‬
‫تھرک رہی ہوتی ہے۔ ان کے کتے بلے بھی ان کے‬
‫اترن سے حصہ پا کر کا سا کے درجے پر فائز ہو‬
‫جاتے ہیں اور ان کا ذائمہ بھی معمولی اور عمومی‬
‫نہیں رہ پاتا۔ ان کا یہ مولؾ ؼلط نہیں لگتا کہ موجودہ‬
‫حکمران کون سے خیر کے فعل انجام دیتے ہیں۔ آنے‬
‫والا بھی یہی کچھ کرے گا۔ ہاں تبدیلیوں میں لہو بہتا‬
‫ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ؼداریاں ہوتی ائی ہیں‬
‫اور ہوتی رہیں گی۔ وہ کون سا اچرج کام کر رہے‬
‫ہوتے ہیں۔ خون بہتا رہا ہے‘ بہتا رہے گا۔ عموم کا‬

‫سماجی اسٹیٹس یہی رہا ہے اور یہی رہے گا۔‬

‫پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ مفت خوری کا ذائمہ‬
‫ؼیرمعمولی ہوتا ہے۔ لاریب فیہ میں مولوی صاحبان‬
‫کو اپنے سوچ میں بھی نہیں لا سکتا۔ جو یہ سوچتے‬
‫ہیں کہ میں ان کو درمیان میں لا رہا ہوں ؼلط سوچتے‬

‫ہیں۔ یہ حضرات مفت خوری میں نہیں آتے۔ ان کی‬
‫کمائ مشمت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ان سے بچوں کی‬

‫تدریس کا ڈر اور خوؾ لطعی لایعنی ہے۔ آخر پمپر‬
‫کس لیے بنے ہیں اور ان کا استعمال کب ہو گا۔ زندگی‬
‫میں کرتا کوئ ہے کھاتا کوئ ہے۔ کرنے اور کھانے‬
‫والے کا ذائمہ ایک سا نہیں ہو سکتا۔ لکھنے والوں کو‬

‫ہوا کھانی پڑتی ہے جبکہ ناچے گائیکے پیٹ بھر‬
‫کھاتے ہیں۔ لکھنے والوں کا دماغ خرچ ہوتا ہے جبکہ‬
‫بالی طبموں کی جسمی محنت رنگ لاتی ہے۔ لکھاری‬
‫گائیک رلص کندہ اور ان سے متعلمین کا ذائمہ ایک سا‬

‫نہیں ہو سکتا۔‬

‫ایک دیگ کے چاول تیکنکی ذائموں کے علاوہ بھی‬
‫ذائمے رکھتے ہیں۔ ہر موڈ اور ہر مزاج کا ذائمہ الگ‬
‫سے ہوتا ہے۔ تنمید کرنے کا ذاءلہ کٹھا مٹھا ہوتا ہے۔‬
‫تنمد برداشت کرنے کا ذائمہ کڑوا ہوتا ہے۔ کہنے والی‬
‫زبان اور سننے والے کانوں کا ذائمہ ایک سا نہیں ہو‬
‫سکتا۔ گویا موڈ مزاج اور رویہ زبان کے ریشوں میں‬

‫تبدیلی لا کر ذائمہ کی حس پر اثر ڈالتے ہیں۔‬

‫شہید اور شہادت کا تلک سجا کر تاریخ کا جز بننے‬

‫والے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ انہیں نہی میں ڈال‬
‫کر جعلی کاروائ ڈال کر نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں‬
‫گے‘ بھی لرطاس حیات پر موجود رہیں گے۔ ماتمی‬

‫بھی رہیں گے ان پر سنگ باری کرنے والے بھی‬
‫زندگی کا حصہ رہیں گے۔ دیگ ایک ہی ہوتی ہے۔‬
‫پکائی بھی ایک ہاتھ کی ہوتی ہے۔ کسی کو پکوان لذت‬
‫دیتا ہے۔ کوئی اسے چاولوں کا حشر نشر خیال کرتا‬
‫ہے۔ دیگ میں ناصر زیدی کو کیڑے آمیز چاول نظر‬
‫آتے ہیں۔ وہی پکوان تبسم کاشمیری پر وجد طاری کر‬
‫دیتا ہے۔ صابر آفالی پکائی سے متاثر ہو کر پی ایچ‬
‫ڈی کی دس ڈگریاں دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر‬
‫عبدالله لاضی پوسٹ پی ایچ ڈی کا مستحك ٹھہراتے‬
‫ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال کو پکائی میں سلیمہ نظر آتا‬
‫ہے۔ ۔ڈاکٹر محمد امین اسی دیگ کے چاولوں میں نیا‬
‫انداز اور پکانے والے کے ذہنی افك میں وسعت ذائمہ‬
‫کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ؼلام شبیر رانا کو پکائی میں عصری‬
‫ذائموں سے آگہی محسوس ہوتی ہے۔ دیگ ایک ہے‘‬
‫ذائمے الگ الگ۔ گویا ذائمہ منہ میں موجود زبان‘ اس‬
‫کے سائز اور ذہن کے سواد پر انحصار کرتا ہے۔‬
‫میں محترمہ مہرافروز کو داد دیتا ہوں کہ وہ ذائمے کا‬
‫رشتہ انسانی موڈ سے جوڑتی ہیں۔ مجھے یمین ہے‬

‫کھائی کے جانو حضرات ان کی اس انمول دریافت کو‬
‫پرتحسین نظروں سے دیکھیں گے۔‬

‫مدن اور آلو ٹماٹر کا جال‬

‫لفظ جب تشکیل و ترکیب پاتا ہے مخصوص معنویت کا‬
‫حامل ہوتا ہے۔ مخصوص ماحول‘ مزاج‘ نفسیات‘ موڈ‘‬
‫لب ولہجہ‘ بناوٹ‘ کلچر وؼیرہ رکھتا ہے۔ مستعمل اور‬

‫معروؾ ہو جانے کی صورت میں محدود نہیں رہتا۔‬
‫بالکل ایسی صورت مہاجر آوازوں اور الفاظ کے ساتھ‬
‫پیش آتی ہے۔ شخص زبان کا پابند نہیں زبانیں شخص‬
‫کی پابند ہیں۔ زبانوں کو اپنے استعمال کرنے والوں‬

‫کے حالات ضرورتوں ماحول موڈ کلچر وؼیرہ کی‬
‫پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اگر شخص کو زبان کا پابند کر‬
‫دیا جائے گا تواظہار میں مشکل ہی نہیں خیال اور‬

‫جذبے کی اصلیت بالی نہیں رہتی یا اس میں لوت‬
‫برلرار نہیں رہ پاتی۔ وہ کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے۔‬

‫اظہار کے ساتھ ساتھ زبان بھی محدود رہتی ہے۔‬
‫مکتوبی صورت کوئی بھی رہی ہو اسٹریٹ ان پابندیوں‬

‫کو خاطر میں نہیں لاتی۔ شاعر عروضی پابندی کے‬
‫سبب کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیؽمبر عظیم تر۔۔۔۔۔۔۔عروضی‬
‫مجبوری کے باعث وہ گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔ گویا‬
‫پابندی خیال یا چذبے کا ستیاناس مار کر رکھ دیتی ہے۔‬
‫درست ابلاغ تب ہی ممکن ہے جب زبان شخص کے‬
‫خیال کی پابند ہو گی۔ اس حوالہ سے دیکھا جاءے تو‬
‫زبان کا تفہیمی واظہاری کلچر مخصوص ومحدود نہیں‬
‫کیا جا سکتا۔ شخص سی ٹی کہہ کر سی ڈی‘ لیڈیاں کہہ‬
‫کر لیڈیز مراد لے گا۔ للفی کہہ کر لفلی مراد لے گا۔‬
‫حور اسامی اولات احوال وؼیرہ واحد استعمال ہوتے‬

‫رہیں گے۔ جلوس کو عربی معنوں میں کبھی بھی‬
‫استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ؼریب کے معنی گریب ہی‬
‫لیے جاءیں گے۔ شراب کو واین کے معنی دیے جاتے‬
‫رہیں گے اور اسے عربی سمجھا جاتا رہے گا حالانکہ‬
‫یہ شر‪ +‬آب ہے۔ عربی فارسی کا آمیزہ ہے۔ عینک‬

‫عین ‪ +‬نک عربی اور دیسی زبانوں کا آمیزہ ہے۔‬
‫گلاس کے معنی پانی پینے والا ظرؾ مستعمل رہیں‬
‫گے۔ بات یہاں تک محدود نہیں ان کا استعمال بھی‬
‫شخصی ضرورت خیال جذبے اور موڈ کا پابند ہے۔‬

‫متضاد الگ سے اور نئے معنی سامنے آتے رہنا‬
‫حیرت کی بات نہیں۔‬

‫برتن کل کرنا کا برتن دھونے کے معنوں میں استعمال‬
‫ہونا میرے سمیت ہر کسی کے لیے عجیب ہو گا۔ مزے‬

‫کی بات‘ اسٹریلیا میں مستعمل ہے۔ ہم اسے توڑنا‬
‫پھوڑنا کے معنی دیں گے۔‬

‫ناصر زیدی نے اپنے ‪ ٢٦‬نومبر کے کالم میں‬
‫مرکب۔۔۔۔۔۔۔۔مرتب و مدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کیا۔ میں آگے‬
‫بڑھنے کی بجائے اس مرکب میں پھنس گیا۔ پہلے تو‬
‫میں اسے مدن لال کے لباس کی ترتیب سمجھا۔ پھر‬
‫میرے سوچ کا زاویہ مدن بان یعنی کام دیوا کی طرؾ‬

‫مڑ گیا۔ کام دیوا کے حوالہ سے شخصی حسن‬
‫اوراعضائی ترتیب کی جازبیت کی طرؾ توجہ پھر گئی۔‬

‫شخصی حسن اور آلات تخلیك کی صفائی ستھرائی کی‬
‫طرؾ خیال کا پھر جانا فطری سی بات تھی۔ فنی چابک‬
‫دستی یہ تھی کھ جنس کی تخصیص موجود نہ تھی۔‬

‫مردانہ ہوتے تو زنان کے لیے دلچسپی کا سبب ہو‬
‫سکتے تھے۔ زنانہ ہوتے تو مرد روز اول سے لکیر کا‬

‫فمیر رہا ہے۔ مجھے ناصر زیدی کے سوچ اور لفظ‬
‫کے استعاراتی استعمال کو بےاختیار داد دینا پڑی۔‬
‫انھوں نے دونوں اصناؾ کو دائرے میں لے کر اپنی‬
‫للمی ہنر مندی کا ثبوت دیا۔ ان کا یہ کالم جیسا کہ‬
‫مرتب و مدن سے پہلے کی سطور سے واضح ہوتا تھا‬

‫کہ وہ کسی کتاب سے متعلك تھا۔‬

‫مجھے لگا یہ کتاب ڈاکٹر وی پی سوری کے پی ایچ‬
‫ڈی کے ممالے شہوت سے شہوانی معلومات کو اکٹھا‬
‫کر دیا گیا ہے۔ سوچا یہ کتاب واجدہ تبسم کا افسانہ‬
‫اترن جسے کاما سوترا کا خلاصہ کہا جا سکتا ہے‘ کی‬
‫جدید ترین شرح بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے سوچا‬
‫عین مکن ہے ہیولاک ایلس کی کاوش تانترہ کو نیا‬
‫کالب دے دیا گیا ہو گا۔ یہ کوئ حیرت کی بات نہیں‬
‫کوک شاستر کے حوالہ سے مواد وافر دستیاب ہے۔‬
‫وہی وہانوی نے جنس پر بہت کچھ لکھا تھا۔ اسی طرح‬
‫ڈاکٹر سلیم اختر نے مرد جنس کے آئنے میں‘ عورت‬
‫جنس کے آئنے میں اور شادی جنس اور جذبات ایسی‬
‫کتب کے تراجم کیے ہیں۔ اس حوالہ سے کام بند نہیں‬

‫ہوا۔ گویا سلسلہ جاری ہے۔‬
‫جنس کوئی عام اور معمولی موضوع نہیں۔ بڑے بڑے‬

‫لوگ آلات زنانہ کے معاملہ میں حساس والع ہوئے‬
‫ہیں۔ دو بیبیاں تنہائی میں بیٹھی آلات مردانہ پر بڑی‬
‫خاموشی سے تبصرہ کر رہی تھیں۔ دو مرد لہمہے‬
‫لگاتے ہوتے وہاں سے گزرے۔ ایک نے پوچھا یہ کس‬
‫لسم کی باتیں کر رہے ہوں گے۔ دوسری نے جوابا کہا‬
‫ان کی باڈی لنگوءج بتا رہی تھی کہ وہ ہمارے آلات پر‬
‫گفتگو کرکے زبانی کلامی اور خیالی مزے لے رہے‬

‫تھے۔ سوال کرنے والی کے منہ سے نکلا بڑے‬
‫بےشرم ہیں۔ یہ والعہ یاد آتے ہی میری توجہ پودوں‬
‫کی طرؾ چلی گئ۔ مدن پودوں سے متعلك بھی ہے۔‬
‫عشك‘ محبت‘ بہار اور بؽل گیری مفاہیم درج بالا امور‬
‫کی طرؾ چلے جاتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو بھی گول‬
‫کرنا پڑا کیونکہ ان کی آوازیں حالات مخصوصہ کی‬
‫آوازوں سے مماثل ہوتی ہیں۔ لفظ بےشرم نے جنسیات‬
‫سے متعلك سوچنے سے منع کر دیا ورنہ نیاز فتح‬
‫پوری کی تصنیؾ جنسیات کی طرؾ سوچ کا دھارا‬

‫بڑی تیزی سے مڑ رہا تھا۔‬

‫درخت امن اور جنگ میں انسان کے کام آتا رہا ہے۔‬
‫مجھے یمین ہو گیا کہ یہ کتاب درختوں سے متعلك ہو‬
‫گی چونکہ ناصر زیدی اس کتاب پر گفتگو کر رہے ہیں‬

‫لہذا پڑھنے لائك ہو گی۔ میں مدن سے آگے بڑھنے‬
‫والا ہی تھا کہ اندر سے آواز آئی منڈی سے آلو اور‬
‫ٹماٹر لا دیں۔ حکم بےؼم کا تھا اس لیے بمیہ کالم‬
‫پڑھے بؽیر آلو ٹماٹر اور ان کے تیز بھاؤ کی سوچوں‬
‫میں ممید منڈی کی طرؾ بڑھ گیا۔ اس حمیمت کا ویروا‬
‫کہ لفظ معنویت اور استعمالی حوالہ سےمحدود نہیں‘‬

‫اگلی نششت تک ملتوی کرنا پڑا۔‬

‫مولوی صاحب کا فتوی اور ایچ ای سی پاکستان‬

‫دو میاں پیوی کسی بات پر بحث پڑے۔ میاں نےؼصے‬
‫میں آ کر اپنی زوجہ محترمہ کو ماں بہن کہہ دیا۔ مسلہ‬
‫مولوی صاحب کی کورٹ میں آگیا۔ انہوں نے بکرے‬
‫کی دیگ اور دو سو نان ڈال دیے۔ نئی شادی پر اٹھنے‬

‫والے خرچے سے یہ کہیں کم تھا۔ میاں نے مولوی‬
‫صاحب کے ڈالے گیے اصولی خرچے میں عافیت‬
‫سمجھی۔ رات کو میاں بیوی چولہے کے لریب بیٹھے‬

‫ہوئے تھے۔ بیوی نے اپنی فراست جتاتے ہوئے کہا‬
‫اگر تم ماں بہن نہ کہتے تو یہ خرچہ نہ پڑتا۔‬

‫بات میں سچائ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود‬
‫تھی۔ میاں نےدوبارہ بھڑک کر کہا‬
‫توں پیو نوں چھیڑیا کیوں سی‬

‫بظاہر اس میں ایسی کوئی بات نہیں جس پر بھڑکا‬
‫جائے بلکہ اس میں میاں کی ہی حمالت نظر آتی ہے۔‬
‫اصل معاملہ یہ نہیں جو بظاہر دکھتا ہے۔ حمیمت یہ ہے‬
‫کہ زوجہ محترمہ ؼلطی میاں کی ثابت کرنا چاہتی تھی۔‬
‫گویا اس کی ؼلطی کے سبب خرچہ پڑا۔ اسے یہ یاد نہ‬
‫رہا کہ اس نے کوئ ایسی چبویں بات کی ہو گی جس‬
‫کے ردعمل میں میاں نے ماں بہن کہا ہو گا۔ اگر وہ یہ‬
‫کہتی حضرت سوری میں نے اشتعال میں آ کر فلاں‬
‫بات کہہ دی جس کے سبب ہمیں دیگ اور نانوں کا‬
‫خرچہ پڑ گیا۔ بات ختم ہو جاتی۔ وہ دراصل میاں کو‬
‫سزا دینا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دیگ اور نان‬
‫کا خرچہ برداشت کر لے گا کیونکہ یہ نئ شادی پر‬

‫اٹھنے والے خرچے کا عشر عشیر بھی نہیں۔‬

‫ایچ ای سی پاکستان مندے حال میں ہے۔ اس کی کوئی‬

‫سننے والا نہیں کیونکہ سننے والوں کو اس نے بری‬
‫طرح ڈسٹرب کیا اب اوپر سے خود کو سچا اور برحك‬
‫سمجھ رہی ہے۔ مجھے اس کے دو ای میل ملے ہیں‬

‫وہ ہسمجھ رہی ہے کہ میں اس کے حك میں کچھ‬
‫لکھوں گا۔ میں پاگل ہوں جو اس کے حك میں للم‬
‫اٹھاؤں گا۔ کسی جھوٹے کے لیے للم اٹھانا جھوٹے‬
‫کے جھوٹ کی تائید کرنے کے مترادؾ ہے۔ ادارے تاج‬
‫وتخت کے ؼلام ہوتے ہیں اور انہیں تاج وتخت کے‬
‫ؼلط معاملات کو تحفظ اور انہیں درست ثابت کرنے‬
‫کے لیے لیام میں میں لایا گیا ہوتا ہے۔ وہ پروفیسر‬
‫ہیں اور خود کو سچائی کا ٹھیکیدارسمجھتے ہیں‬
‫حالانکہ سچائی ان کی گندی سوچ کے برعکس ہے۔‬
‫انہیں تنخواہ اس بات کی ملثی ہے کہ وہ تاج والوں‬
‫کے اشاروں پر رلص کریں۔ انہوں نے حاکم طپمے کی‬
‫ڈگریوں کو جعلی لرار دیا۔ حاکم طبمہ کبھی جعلی نہیں‬
‫ہوتا۔ اگر تگڑے ؼلط لرار پانے لگے تو انہیں تگڑا‬
‫کون مانے گا۔ ازل سے ؼلط عضو کمزور رہا ہے۔‬
‫انہیں کس حکیم نے اتنے ووٹ حاصل کرنے والے‬
‫لوگوں کی ڈگریاں ؼلط لرار دینے کو کہا تھا۔ انہیں‬
‫سیٹوں پر رعایا کی ولت پڑنے پر مرمت کرنے کے‬
‫لیے عہدے دیے جاتے ہیں۔ ڈگری تو بہرصورت ڈگری‬

‫ہوتی ہے اس میں ؼلط یا صیح ہونے کا سوال کہاں‬
‫اٹھتا ہے۔‬

‫ویسے خود کو تابع فرفان لکھتے ہیں لیکن عملی طور‬
‫پر خود کو بالاتر سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔ پانی‬
‫اوپر سے نیچے آتا ہے‘ نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔‬
‫جن کی انہوں نے ڈگریاں جعلی لرار دی ہیں جیل نہیں‬

‫چلے گیے۔ موج میں تھے موج میں ہیں۔‬
‫البال نے کہا تھا‬

‫موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں‬
‫اصولی سی بات ہے مچھلی دریا میں زندہ رہ سکتی‬
‫ہے لہذا وہ دریا سے باہر کیوں آئیں گئے۔ دریا ان کا‬

‫اپنا ہے۔ اپنوں سے کبھی کوئی جدا ہوا ہے؟‬
‫ان کے نکالنے کی کوشش سے وہ کیوں نکلیں گے۔‬

‫دریا لطرے لطرے سے بنتا ہے۔ ان کے لیے چند‬
‫لطرے معنویت نہ رکھتے ہوں لیکن دریا کے لیے بڑی‬

‫معنویت رکھتے ہیں۔‬

‫تیر کمان سے نکل چکا ہےاب کچھ نہیں ہو سکتا ہاں‬
‫البتہ ایچ ای سی‘ پاکستان دوسرے اداروں کے لیے‬

‫نشان عبرت ضرور ہے۔ جو بھی چنیدہ اور دریا کے‬
‫اندر موجود دریا کی ذاتی مخلوق کے خلاؾ لدم اٹھاتا‬
‫ہے گلیوں کا روڑا کوڑا بھی نہیں رہ پاتا۔ ہٹ دھرمی‬
‫اور ڈھیٹ پنا تو یہ ہے کہ یہ سچ پتر ؼلطی کو ؼلطی‬
‫تسلم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسین ایک ہی تھا۔‬

‫آج کسی کو ریاست کے گناہ گاروں کے لیے اپنے‬
‫بچے مروانے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ ان کی مدد‬
‫کے لیے کوئ میدان میں نہیں آئے گا۔ باور رہنا چاہیے‬

‫سر کا بوجھ سر والے کے پاؤں پر آتا ہے۔‬

‫آدم خور چوہے اور بڈھا مکاؤ مہم‬

‫ہم میں سے ہر کوئ لینے کے لیے اگلی صفوں میں‬
‫کھڑا نظر آتا ہے۔ اپنے حموق کی وصولی کے لیے‬
‫احتجاج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جب حك‬
‫دینے کی باری آتی ہے تو رونا ہی نہیں موت پڑ جاتی‬
‫ہے۔ وہ وہ جواز گھڑتا ہے کہ عمل دھنگ رہ جاتی‬
‫ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں ہم لینا جانتےہیں لیکن‬

‫دینے کا نام بھی سننا نہیں چاہتے۔ ریاستی ٹیکس کی‬
‫وصولی تو یاد رہتی ہے لیکن ان ٹیکس دہندگان کو‬
‫ریاستی حموق اور سہولتیں یاد سے باہر ہو جاتی ہیں۔‬
‫ہاؤسز جو عوام کے خون پسینہ سے چلتے ہیں وہاں‬
‫اکھاڑ پچھاڑ اور عوام کو الو بنانے کی تراکیب تراشی‬
‫جاتی ہیں۔ وہاں بجلی پانی اور گیس کی تھوڑ نہیں آتی۔‬
‫عوام جو محنت کرتے ہیں اور ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں‬
‫ان تینوں بنیادی ضرورتوں سے محروم رہتے ہیں۔‬
‫آواز اٹھاتے ہیں تو چھتر کھاتے ہیں۔ کیا یہ اندھیر‬
‫نہیں؟ اس سے بڑھ کر شخصی حموق کی بےحرمتی‬
‫اور کیا ہو گی۔ ؼاصب معزز بھوک و پیاس اوڑھنے‬

‫والا شدت پسند۔‬

‫ڈاکٹر حضرات کے بارے بات کرتے خوؾ آتا ہے‬
‫کیونکہ بیمار نظام و معاشرت کے باشندے بیمار رہتے‬
‫ہیں اس لیے ڈاکٹر حضرات سے واسطہ رہتا ہے۔ تنمید‬
‫کی صورت میں کھال تو اتاریں گے ہی لیکن ساتھ میں‬
‫خدا معلوم کیا کر گزریں۔ ہماری شفا گاہوں کے چوہے‬

‫بھی ہمارے ڈاکٹروں کی طرح انسانی گوشت کے‬
‫شولین ہیں۔ اپنے حموق کے لیے کس شد و مد سے‬
‫رولا ڈالتے چلے آ رہے ہیں لیکن انہیں اپنی ؼلطیاں‬

‫نظر نہیں آتیں۔ کہتے ہیں ملازمین پر انکوائریاں لگ‬
‫گئ ہیں۔ اس سے کیا ہو گا ہمیشہ کی طرح کچھ بھی‬
‫نہیں۔ دو چار ماہ معطل رہیں گے۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے‬
‫کے بعد کچھ دو اور کچھ لو کے تحت پروانہء بحالی‬
‫جاری ہو جائے گا یا کسی دور دراز علالہ میں تبادلہ‬
‫کر دیا جائے گا اس طرح واپسی کےمعمول داموں کی‬
‫وصولی کا بندوبست کر لیا جائے گا۔ گویا ہر حوالہ‬
‫سے وصولی ہی وصولی۔ باور رہے معطلی میں تنخواہ‬
‫بند نہیں ہوتی ہاں بالائی جو تنخواہ سے ٹن ٹائم زیادہ‬
‫ہوتی ہے‘ بند ہو جاءے گی۔ معطلی کے دن گربت کے‬
‫دن ہوں گے لیکن بھوکوں مرنے کے دن نہیں ہوں‬

‫گے۔‬

‫ایک انسان جس نے نہ اچھا اور نہ ہی کچھ برا کیا‘‬
‫بالکل فرشتوں اور دیوتاؤں کے اوتار کا سا‘ بلا جرم‬
‫زندگی سے گیا۔ ماں باپ کو ہمیشہ کے لیے سوگوار‬

‫کر گیا۔ کیا یہ لتل نہیں ہوا؟؟؟‬

‫ڈاکٹر اور ماتحت عملہ کس خدمت کی تنخواہ وصولتا‬
‫ہے۔ کسی بھی ملازم سے پوچھیں اسے یہ خوب خوب‬
‫معلوم ہو گا کہ مہنگائی بڑھ گئ ہے اور تنخواہ بہت کم‬

‫ہے۔ اسے یہ یاد نہیں ہو گا کہ اس کے کچھ فرائض‬
‫بھی ہیں۔ اس کے ذہن سے بالائ کی رلم بھی محو ہو‬

‫چکی ہوتی ہے۔ اس معصوم بچے کا چوہے کے‬
‫ہاتھوں مر جانا ڈاکٹری کے منہ پر طمانچہ ہے لیکن‬

‫یہ تب ہے جب وہ اسے طمانچہ سمجھیں گے۔‬

‫زخمی ہونے کی صورت میں بھی یہ جرم کوئی معمولی‬
‫جرم نہیں۔ لتل یا زخمی ہونے کے حوالہ سے عدلیہ‬
‫کے سامنے مسلہ لایا جانا چاہیے۔‬

‫حك اور انصاؾ کی بات تو یہ ہے کہ وہ بد نصیب بچہ‬
‫ڈیوٹی پر موجود عملہ اور ڈیوٹی آفیسر کی لاپرواہی‬
‫سے مرا نہیں ان کے ہاتھوں لتل ہوا ہے۔ کس بات کی‬
‫انکواءری جو اس دورانیے میں ڈیوٹی پر تھے اس‬
‫بچے کے لاتل ہیں۔ لاتل کی سزا ہمارے لانون میں ؼیر‬

‫واضع نہیں۔‬
‫اس سے یہ بات بھی کھلتی ہے کہ ہماری شفاگاہوں‬

‫میں صفائی ستھرائی کا کیا عالم ہے۔ لوگوں میں‬
‫صفائی ستھرائی کے پمفلٹ بانٹنے والوں کے اپنے‬
‫ہاں صفائ ستھرائ معنویت نہیں رکھتی۔ کوئی ذمہ دار‬
‫اور ؼیر جانب خود جا کر بلا اطلاع جا کر دیکھے‘‬

‫مجھے یمین ہے سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔ سچی بات‬
‫تو یہ ہے محکمہ صحت پر فضول خرچ کیا جاتا ہے۔‬
‫یہاں داخل ہو کر بھی یہاں کے لوگوں سے پرائیویٹ‬

‫طبی امداد لینا پڑتی ہے ہماری شفا گاہیں‬
‫ؼالب کے اس مصرعے کا زندہ عکس ہیں‬
‫دل کو خوش رکھنے کے لیے ؼالب یہ خیال اچھا ہے‬

‫سنتے ہیں کھانسی کے سیرپ میں خطرناکی وارد ہو‬
‫گئ ہےاور اس کے پینے سے کچھ کھانسنے والے الله‬

‫کو بھی پیارے ہو گئے ہیں۔ یہاں کا ہر دوسرا بڈھا‬
‫کھانستا ہے۔ لگتا ہے بڈھا مکاؤ مہم کا آؼاز ہو گیا‬
‫ہے۔ بڈھے ولتا فولتا معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہتے‬
‫ہیں۔ وہ بھی کیا کریں ان کی لوت برداشت کم یا ختم ہو‬
‫چکی ہوتی ہے اسی لیے بلاطلب مشورے دیتے رہتے‬
‫ہیں۔ بڈھوں کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی چونچ‬
‫بند رکھا کریں۔ لوم کو وہ کھٹکنے لگے ہیں۔ یہ کوئی‬

‫ان کے حوالہ سے صحت مند علامت نہیں۔ ایک‬
‫مخصوص طبمہ ان کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ خطرے کی‬
‫گھنٹی بج چکی ہے لہذا وہ محتاط ہو جائیں۔ چونچ بند‬
‫کرنے کی ابتدا میں اپنی ذات سے کرتا ہوں۔ کھانسی کا‬

‫سیرپ بنانے والوں سے استدعا کرتا ہوں ایک بار‬

‫بڈھوں کومعاؾ کر دیں۔ آئندہ وہ احتیاط سے کام لیں‬
‫گے اور شکایت کا مولع نہیں دیں گے۔ ایک مولع تو‬
‫ملنا چاہیے۔ حکومت سے اس لیے اپیل نہیں کروں گا‬
‫کہ اس کے پاس جنتا کی بھلائی اور بہبود کے لیے‬

‫کچھ کرنے لیے ولت کہاں ہے۔‬

‫جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے‬

‫عبدالروؾ پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہے۔ آبائی مشمتی‬
‫ہے۔ آج اس کی باتیں سن کر مجھے بڑی حیرانی‬

‫ہوئی۔ اس لسم کی باتیں تو اکثر پڑھے لوگ بھی نہیں‬
‫کرتے۔ میں نے اس سے دریافت کیا یہ باتیں تم نے‬
‫کہاں سے سیکھی ہیں۔ کہنے لگا میں رات کو کام سے‬
‫فارغ ہو کر خبریں سنتا ہوں‘ تبصرے سنتا ہوں۔ دوہری‬
‫حیرانی ہوئی اول تا آخر پنجابی ہے پڑھا لکھا بھی‬
‫نہیں اور انگلش گزیدہ اردو کسی دلت کے بؽیر سمجھ‬
‫لیتا ہے۔ تیسری بڑی بات یہ کہ اپنی رائے بھی رکھتا‬

‫ہے۔ اپنی رائے کے حوالہ دلائل بھی رکھتا ہے۔‬

‫اس کا کہنا ہے پاکستان دراصل انگریز کے چیلوں اور‬
‫تلوے چاٹنے والوں کو نوازنےکےلیے بنایا گیا۔ دو‬
‫نمبر لوگ حکومت کرتے آئے ہیں۔ شروع سے یہی‬
‫کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس ولت میڈیا محدود اور حکومت‬
‫ولت کا ؼلام تھا اس لیے ان لوگوں کی کرتوتیں عوام‬
‫تک نہیں پہنچ پاتی تھیں اس لیے لوگ بے بسی‬
‫یبچارگی کو حالات کا المیہ سمجھتے تھے۔ حاکم نت‬
‫نئے نعرے استعمال کرکے اپنے عرصہ حکومت کو‬
‫طوالت دیتے رہے۔ کشمیر کا نعرہ ایک عرصہ چلا۔‬
‫روٹی کپڑا اور مکان والے نعرے میں بڑی جان تھی۔‬
‫کوئ یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ نعرہ لگانے والا کس‬
‫طبمے سے متعلك تھا اور بھوک پیاس کیا ہوتی ہے‬
‫سے آگاہ بھی تھا یا بے خبر تھا۔ اس کے بعد اسلام‬
‫جو یہاں کے عوام کی نفسیاتی کمزوری ہے کو‬
‫استعمال کیا گیا۔‬

‫جنرل مشرؾ نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا‬
‫جو اسلامی روح کے ہی خلاؾ تھا۔ آج جمہوریت کا‬
‫نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ جلد ہی کہا جائے گا جمہوریت‬
‫خطرے میں ہے۔ کوئی نہیں کہے گا کہ جمہوریت نے‬

‫یہاں کے لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‬
‫جمہوریت عوام کا مسلہ نہیں ہے۔ آپ نے ؼور کیا ہو‬
‫گا الیکشن والے دن امیدواوں کے چمچے اور کہیں‬
‫خود امیدوار‘ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر سو طرح کے سبز‬
‫باغ دکھا کر ووٹوں کے پیسے دے کر اپنی گاڑیوں‬
‫میں بیٹھا کر پولنگ اسٹیشن لے کر جاتے ہیں۔ اگر‬
‫جمہوریت عوام کا مسلہ ہو تو وہ الیکشن کے عمل‬
‫میں حصہ نا لیں۔ عوام کا مسلہ صرؾ روٹی کا ہے۔‬
‫یہی وجہ ہے کہ کرسی والوں نے عوام کو روٹی کے‬
‫چکروں میں ڈال دیا ہے۔ لوگ کرسی والوں کی باندر‬
‫پوٹوسیوں سے خوب آگاہ ہیں لیکن کیا کریں انہیں‬
‫بھوک نے نڈھال کر دیا ہے۔ آج ان کا مسلہ صرؾ اور‬

‫روٹی ہے۔‬

‫عدلیہ طالت کے سامنے ڈٹی ہوئ ہے۔ عدلیہ ان کے‬
‫لیے مذاق بنی ہوئ ہے۔ یہ بھی ان چال بازوں کی ایک‬

‫چال ہے۔ عدلیہ خط کے چکروں میں پڑی رہے اور‬
‫اس کی توجہ اداروں میں ہر روز ہونے والی اربوں کی‬

‫کرپشن اور ؼبن کی طرؾ نہ جائے۔ سارا لصور‬
‫سیاست دانوں کا نہیں ہے اداروں کے افسر یمین‬
‫دلاتے رہتے ہیں کہ جناب فکر نہ کریں ہم آپ کے‬

‫ساتھ ہیں۔ یہ افسر داؤ پیچ بھی بتاتےرہتے ہیں۔ اس‬
‫خیرخواہی کے صلے میں لمے نوٹ کما رہے ہیں۔‬

‫اس کا کہنا ہے جن لوگوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرا اور وہ‬
‫اس حوالہ عدلیہ سے ٹکر لینے پر اترے ہوئے ہیں۔‬
‫یہی نہیں عدلیہ کو مجبور و بے بس کر دینے پر تلے‬
‫ہوءے ہیں؛ اپنی اس سر کشی کو آئنی لرار دیتے ہیں۔‬

‫ان سے خیر کی تولع رکھنا کھلی حمالت ہو گی۔‬

‫اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ‬
‫ہے گلے میں سب زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اناج اور‬

‫سبزیات پنجاب مہیا کرتا ہے پھر بھی بتی اسے محروم‬
‫رکھا جا رہا ہے۔ بادشاہ کے لیے تو سب برابر ہوتے‬
‫ہیں۔ کوئ اس کے اس ڈنڈی مار پروگرام پر بات نہیں‬
‫کر رہا۔ اسے تو سب اچھا کی آواز سنائ دیتی ہو گی۔‬

‫اس کا مولؾ یہ ہے۔ لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں۔‬
‫لوگ تو ان کا کھلونا ہیں۔ جمہوریت یعنی ان کی‬

‫بادشاہت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ساری گوٹیاں‬
‫سارا گلہ افسر شاہی اس کے ہاتھ میں ہے۔ افسر شاہی‬

‫کو اس سے بڑھ کر موجو میسر نہیں آ سکتا۔‬

‫عبدالروؾ کی باتوں سے اتفاق ہونا یا نہ ہونا لطعی‬
‫الگ بات ہے۔ ساری عوام بھی اس طور سے سوچے‬
‫تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ‬
‫لوگ جہوریت یعنی حکومت کے بارے میں سوچنے‬
‫لگےہیں۔ اس لسم کی سوچوں سے بےچینی بڑ ھے‬
‫گی جو بادشاہ لوگوں کی صحت کے لیے کسی طرح‬
‫درست نہیں۔ عوام کی جمہوریت کے حوالہ سے آگہی‬
‫کسی ولت بھی بؽاوت کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ آتے‬
‫ممکنہ خطرے کے پیش نظر صرؾ ایک ٹی وی چینل‬

‫پی ٹی وی رہنےدیا جائے بالی سب بند کرا دیئے‬
‫جائیں کیونکہ یہ انتشار پھیلاتے ہیں اور ان کے باعث‬

‫نمص امن کا خطرہ ہے۔ کار سرکار میں یہ کھلی‬
‫مداخلت ہے۔ اسی طرح دو ایک سرکاری اخبارات سے‬
‫بخوبی کام چل سکتا ہے اور چلتا آیا ہے لہذا انھیں بند‬
‫کرا دینے سے جموریت کو اس اپنے لدموں پر رکھا‬

‫جا سکتا ہے۔‬

‫آگہی کی راہ کا پتھر‬

‫مولوی صاحب اپنے خطاب میں پل صراط کا ذکر فرما‬
‫رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے اس کی ساخت کا‬
‫ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تلوار سے تیز اور بال سے‬
‫باریک ہو گی۔ ایک سادہ لوح شخص نے اٹھتے ہوئے‬
‫کہا چلدے اں جی‘ ایہ تاں پار نہ لنگہان الیاں گلاں نیں۔‬
‫ہمارے ہاں اعلی تعلیم کی حصولی کی راہ میں ایک پل‬
‫صراط چن دی گئ ہے۔ ایم فل یا پی ایچ کرنے کے لیے‬
‫ایک کمائی ٹسٹ پاس کرنا لازم لرار دے دیا گیا ہے۔‬
‫اس کمائی ٹسٹ کے حوالہ سے سرکاری حصہ منہا‬
‫کرکے کسی شخص یا اشخاص پر نواشات کے سرخ‬
‫گلاب نچھاور ہو رہے ہیں اور اس جانب دیکھنے کی‬
‫زحمت نہیں اٹھائی جا رہی کہ اس سے ذہانتوں کو کس‬

‫بےدردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔‬
‫اس ٹسٹ میں شماریات ریاضیات انگریزیات وؼیرہ‬

‫مضامین داخل کر دئیے گئے ہیں۔ اب بھلا اردو‬
‫اسلامیات عربی فارسی ایجوکیشن وؼیرہ سے متعلك‬
‫لوگوں کا شماریات ریاضیات انگریزیات وؼیرہ سے کیا‬
‫تعلك کیا رشتہ اور کیا واسطہ۔ انھوں نے یہ مضامین‬
‫نہ کبھی پڑھے اور نہ پڑھائے ہوتے ہیں۔ ایم فل یا پی‬

‫ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی ان کا ان سے دور کا بھی‬
‫رشتہ نہیں ہو گا۔ انگریزی مضمون سے متعلك لوگ‬

‫شماریات ریاضی وؼیرہ کو کیا جانیں۔‬

‫کیسی بونگی اسکیم ہے۔ یہ مضامین سائینسز سے‬
‫متعلك لوگوں کے ہیں۔ اب ساءینسز سے متعلك لوگوں‬

‫سے اردو اسلامیات عربی فارسی ایجوکیشن وؼیرہ‬
‫سے متعلك سوال کئے جائیں گے تو وہ خاک جواب‬

‫دیں گے۔‬

‫آرٹس اور سائنس کو جب الگ لرار دیا گیا ہے تو‬
‫کمائی ٹسٹ میں انھیں کیوں ایک دوسرے سے نتھی‬
‫کر دیا گیا ہے۔ عجب احممانہ الدام ہے۔ اس سے بڑی‬
‫حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب باہر کھسر ۔پھسر‬
‫کرتے ہیں لیکن کوئی احتجاج نہیں کرتا۔ کوئ احتجاج‬
‫کیا خاک کرے اس ملک میں سنانے والوں میں ہر چند‬
‫اضافہ ہی ہوا ہے۔ بجلی پانی اور گیس سے متعلك‬
‫احتجاج کرنے والوں کے کیا ہاتھ آیا ہے۔ ڈنڈے اور‬
‫لیتر ان کا ممدر ٹھرے ہیں۔ یہ پڑھے لوگ شور مچائیں‬

‫گے تو کیا ملے گا‘ کچھ بھی نہیں۔‬

‫میں اس کمائ ٹسٹ کی مخالفت نہیں کر رہا۔ اس کے‬
‫حوالہ سے کچھ کی موجیں لگی ہوئ ہیں۔ موج کی‬
‫افیون چھڑائی نہیں جاسکتی۔ یہ چین نہیں پاکستان‬
‫ہے۔ اگر یہ کمائ ٹسٹ متعلمہ مضامین تک محدود کر‬
‫دیا جائے تو ذہانتوں کا لیمہ نہیں ہو سکے گا اور اس‬
‫ٹسٹ کے حوالہ سے مچھی شورہ بھی میسر آتا رہے‬

‫گا۔‬

‫ہم زندہ لوم ہیں‬

‫ہم بڑے لائی لگ لسم کے لوگ ہیں۔ اپنے دماغ سے‬
‫سوچنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ اگر کسی نے کہا کتا‬
‫تہارے کان لے گیا ہے۔ کان دیکھنے کی بجائے کتے‬

‫کے پیچھے دوڑ لگا دیں گے۔ کوئی کتنا ہی کوکتا‬
‫رہے‘ کان دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں‬

‫گے بلکہ کوکنے والے کو ہی کوسنے دیں گے۔‬

‫یہ رویہ آج سے مخصوص نہیں‘ بہت پہلےسے انسان‬

‫کتے کے پیچھے پورے زور شور سے بھاگے چلا جا‬
‫رہا ہے۔ الله جانے دونوں ابھی تک تھکن کا شکار‬

‫کیوں نہیں ہوءے۔ دونوں کی رفتار میں رائی بھر کمی‬
‫نہیں آئی۔ لفظ رائی کا استعمال اس لیے کیا ہے کہ‬
‫رائی سے کوئی چھوٹی مادی شے ابھی تک دریافت‬
‫نہیں ہو سکی۔ سل جاندار ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔‬
‫دکھائی نہ دینے کے سبب ہی مر رہا ہے اور ٹوٹ‬

‫پھوٹ کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے سل بھر‬
‫محاورہ نہں اخترایا۔ کتے کی وفاداری اپنی جگہ مڑ کر‬
‫دندی نہیں کاٹ رہا اور بلا جواز مشمت اٹھائے چلا جا‬

‫رہا ہے۔‬

‫انصاؾ کی بات تو یہ ہے کہ وہ انسان کےکچے کانوں‬
‫کی بلاجرم سزا بھگت رہا ہے۔ اگر ایک بار وفاداری‬
‫کے خول سے باہر نکل کر اچانک پیچھے مڑ کر دندی‬
‫کاٹ لیتا توانسان کو کان ہو جاتے۔ ڈاکٹر پیٹ میں‬
‫ٹیکے ٹھوکتا۔ جیب ہلکی کرتا۔ نا دانستگی میں کانوں‬
‫کو ہاتھ لگاتا تو اسے معلوم پڑتا کہ کان تو سلامت‬
‫ہیں۔ ہاں البتہ سر سلامت نہیں رہا۔ اسے یہ بھی پتہ‬
‫چل جاتا کہ زخموں سے چور اور نڈھال سرآج بھی‬
‫ؼداروں اور مداریوں کے لدموں میں پڑا انسان کی کتا‬

‫چیکی کا رونا رو رہا ہے۔‬
‫استاد کو میری بات سے اتفاق نہیں رہا بلکہ اس کا‬
‫ماننا یہ ہے کہ سوچنے والا سر پیٹ میں چلا گیا ہے۔‬
‫ہمارے ہاں کا شخص پیٹ سے سوچنے کا عادی ہو‬
‫گیا۔ پیٹ میں حسب ضرورت گرم ٹھنڈا تھندا ڈالتے رہو‬
‫یہ کتے کے پیچھے بھاگتا رہے گا ۔ پیٹ اور گٹھنوں‘‬
‫کان اور پیٹ کا فاصلہ برابر ہو گیا ہے اس لیے پیٹ‬
‫کان اور گٹھنوں سے پہلے ہے۔ ہر معاملہ میں پیٹ‬
‫پہلے ہو گیا ہے۔ کان اور گٹھنے روٹی نہیں کھاتے‬
‫اس لیے وہ لابل ترجیع نہیں ہیں۔ بات میں دم اور خم‬
‫کی کسی حوالہ سے کمی نہیں۔ دھرتی ماں ہی ہوتی‬
‫ہے۔ ماں کسی ؼیر کے حوالے کرکے دیسی گھی کی‬
‫چوری‘ ولاءتیوں کے ہاتھ سےکھا نےکا مزا دیس‬

‫بھگت کیا جانیں۔ وہ جانتے ہوئے کہ ولائتیوں‬
‫نےمولوی ابوبکر کی گولی کھا رکھی ہے اور ماں کا‬

‫کیا حشر کرے گا‘ کا تصور بھی پیٹ دشمنی کے‬
‫مترادؾ سمجھتے ہیں۔ اسے ماں سے ؼداری یا بے‬
‫ؼیرتی سے زیادہ ولت اور حالات کا تماضا سمجھا جاتا‬

‫ہے۔‬

‫استاد کی باتوں کا برا نہ مانئیے گا۔ میں بھی اوروں‬


Click to View FlipBook Version