The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫کی طرح ہنس کر ٹال دیتا ہوں۔ اور کیا کروں مجھے‬
‫محسن کش اور پاکستان دشمن کہلانے کا کوئی شوق‬
‫نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی کرنے کی باتیں ہیں کہ کتے‬
‫کے منہ سے نکلی سانپ کے منہ میں آ گئی۔ سانپ‬
‫سے خلاصی ہونے کے ساتھ ہی چھپکلی کے منہ میں‬

‫چلی گئی۔‬

‫پاکستان اور بھارت کی لیادت بڑی اعلی درجے کی‬
‫رہی ہے۔ یہ بڑے نیک شریؾ اور دیس بھگت رہے‬
‫ہیں۔ جو بھی ان کے کردار پرانگلی رکھے گا ناک کی‬
‫سیدھ پر دوزخ نرک میں جاءے گا۔ پاکستان کی لیادت‬

‫کو بسم الله تک آئے یا نہ آئے اسلام دوست رہی‬
‫ہے۔اس نے ہر لدم پراسلام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔‬
‫استاد کا کیا ہے وہ تو بونگیاں مارتا رہتا ہے۔ ساری‬
‫دنیا مورخ کی مانتی آئی ہے اور مورکھ التدار کا‬
‫گماشتہ رہا ہے۔ مورکھ وچارہ بھی تو نسان رہا ہے۔‬
‫پاپی پیٹ اسے بھی لگا لگایا ملا ہے۔ اس نے چند‬
‫لمموں کے لیے ضمیر بیچا ہے۔ بڑی پگڑی والے سر‬
‫خان بہادرز بھی یہی کچھ کرتے آءے ہیں اور وہ‬
‫ہمارے ہیرو ہیں۔ کیوں نہ ہوں انگریز ساختہ ہیں۔ ان‬
‫کے انگریز ساختہ ہونے میں رائی بھر کھوٹ نہیں۔‬

‫نظام ملنگی سلطانہ بھگت سنگھ آزاد وؼیرہ انگریز‬
‫ساختہ ڈاکو ہیں اور ہم میں سے ہر کسی کا یہی مناننا‬
‫ہے۔ میں بھی بالائے زبان یہی کہتا ہوں۔ میں دل سے‬
‫نہیں مانتا۔ کسی کو میرے دل سے کیا مطبل منہ زبانی‬

‫ایک بار نہیں ہزار کہتا ہوں کہ یہ ڈاکو تھے‘ ڈاکو‬
‫تھے۔ ان کا ڈاکو ہونا ہر شک سے بالاتر ہے۔‬

‫انگریز ساختہ ہیروز بھی اپنی اصل میں مہا ڈاکو تھے۔‬
‫وہ انگریز کی اشیرباد سے گریب اور کمزور لوگوں‬
‫کی جان مال اور عزت پر دن دھاڑے برسرعام پوری‬
‫دھونس سےڈاکہ نہیں باربار ڈاکے ڈالتے تھے۔ نظام‬

‫ملنگی سلطانہ وؼیرہ ان سرکاری خان بہادر ڈاکوں کے‬
‫گھروں میں رات کےولت ڈاکے نہیں ڈاکہ ڈالتے اور‬
‫گریبوں میں تمسیم کردیتے تھے۔ سرکاری ڈاکو محلوں‬
‫میں رہتے تھے اور یہ خالی ہاتھ چھانگا مانگا کے‬
‫جنگوں میں چھپتے پھرتے تھے۔ سرکاری خان بہادر‬
‫ڈاکو دھرتی ماں کے دلال تھے۔ یہ دھرتی ماں کے‬
‫بھگت تھے۔‬

‫پاکستان بنانے والوں کا نام تک کسی کو یاد نہیں لیکن‬

‫ان انگریز ساختہ ہیروز کو سب جانتے۔ ٹیپو ہیرو تھا‬
‫ساری عمر تلوار کی نوک تلے رہا۔ یہ ایسے ہیروز‬
‫ہیں جنہوں نے پوری لوم کو تلوار کی نوک تلے رکھا۔‬
‫پاکستان کے لیے اسلام کا نام استعمال ہوا لوگوں نے‬
‫اسلام کے نام پر جانیں لربان کیں۔ بے گھر ہوئے۔‬

‫لیکن انھیں کوئی جانتا تک نہیں۔‬

‫ذرا ان سوالوں کا جواب تلاشیں‬

‫‪١٩٠٥‬‬
‫میں وائسرائے ہند سے ملنے والے گروہ کا سردار‬

‫کون تھا اور اس کا انگریز سے کیا رشتہ تھا؟‬
‫تمریر کس انگریز نے لکھ کر دی اور وہ انگریز کس‬

‫کا نمائندہ تھا؟‬

‫وائسرائے نے کیا اور کیوں مشورہ دیا؟‬

‫‪١٩٠٦‬‬
‫میں مسلم لیگ کی لررداد پیش کرنے والے کے پاس‬

‫انگریز سرکار کے کتنے ٹائیٹل تھے؟‬
‫کیا وہ انگریز سے پوچھے بؽیر ٹٹی پیشاب کر لیتا‬

‫تھا؟‬

‫مسلم لیگ کے جملہ صدور عہدے دران وؼیرہ میں‬
‫سے کتنے سر اور انگریز سرکار کے چمچے کڑچھے‬

‫تھے؟‬

‫استاد کہتا ہے جو ہیروز تھے ان کا کہیں ذکر تک نہیں‬
‫اور جو زیرو بھی نہیں تھے پیٹ نواز مورکھ نے‬
‫انھیں زمین کا سنگار بنا دیا ہے۔‬

‫استاد کی باتیں اگرچہ سچ اور حمائك پر مبنی ہیں لیکن‬
‫سچ کو کب تسلیم کیا گیا ہے۔ میں استاد سے اکثر کہتا‬
‫ہوں ایسی کڑوی بات نہ کیا کرے۔ لوگوں کو کتے کے‬
‫پیچھے بھاگنے دے۔ زندہ لومیں مسلسل بھاگتی ہیں۔‬

‫بھاگنے سےہی بھاگ جاگتے ہیں۔‬

‫اس بات کا دکھ نہیں ہونا چاہیے کہ بجلی بند ہے‬
‫خوشی اس بات کی ہونی چاہیے کہ سب کی بند ہے۔ ہم‬

‫زندہ لوم ہیں اور اس پرچم تلے سب ایک ہیں۔‬

‫پاکستان کا مطلب کیا؟‬

‫تمسیم ہند کے ولت ایک کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر‬
‫ہوئے۔ اس کی مختلؾ صواتیں رہیں‬
‫لوگ بے گھر ہوئے‬
‫بے تحاشا خون بہا‬
‫عورتیں بیوہ ہوئیں‬

‫عزت بچانے کے لیے خود کشیاں ہوئیں‬
‫مہاجرت اختیار نہ کر سکنے کے باعث عزت اور‬

‫نظریے کا کباڑا ہوا‬
‫بچے یتیم ہوئے‬

‫مہاجرت اختیار نہ کر سکنے کے باعث بچے ؼیروں‬
‫کےرحم وکرم پر ٹھہرے‬

‫سیکڑوں برس ایک ساتھ رہنے والوں میں نفرت بڑھی‬
‫اس نفرت کے سبب تصادم ہوئے‬

‫گھروں کے گھر صفحہء ہستی سے مٹ گءے‬
‫بھرے گھر میں ایک فرد زندہ بچا‬
‫مالی نمصان کا اندازہ ممکن نہیں‬

‫میں نے یہاں چند چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ ان چیزوں کو‬

‫لےکر ہی لمحہ بھر کے لیے ؼور کریں‘ دل و جان پر‬
‫لرزہ طاری ہو جائے گا۔ پسینے چھوٹ جائیں گے۔ یہ‬

‫صرؾ ‪ ١٩٤٧‬کے نمصان کا تذکرہ ہے۔‬

‫‪ ١٩٤٧‬سے پہلے بھی کرانتی کے عمل میں لہو بہا۔‬
‫سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کس لیے ہوا۔ لوگوں‬

‫نے بلا دریػ اتنی بڑی لربانیاں کیوں دیں۔ اتنی‬
‫پریشانیاں کیوں اٹھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کیوں‘ کیا لربانیاں‬
‫دینے والوں کا ممصد یہ تھا کہ ان کی نسل عسرت بے‬
‫بسی بےچارگی اور پہلے سے بدتر تفریك وامتیاز کی‬
‫زندگی بسر کرے۔ کیا وہ ایسی مملکت کی تشکیل کے‬

‫لیے کوشاں تھے جہاں ان کی نسل کی فریاد سننے‬
‫والا دور تک دکھائی نہ دیتا ہو؟ ایک کیا اس نوع کے‬
‫ہزاروں سوالیے کان کھولے جواب کے منتظر ہیں۔‬
‫یمینا ان کا خواب یہ نہیں تھا۔ نسل تو اپنی جان سے‬
‫بھی پیاری ہوتی۔ برا سے برا شخص اپنی نسل کے‬

‫لیے برا سوچ بھی نہیں سکتا۔‬

‫اصل معاملہ یہ ہے کہ لوگوں نے اسلام کے نام پر‬
‫حیرت انگیز اور نالابل یمین لربانیاں دیں۔کسی لیڈر کا‬

‫رتی بھر جانی یا مالی نمصان نہیں ہوا۔ موج میلے‬

‫سے نکلے جنت میں آ گئے۔ لوگ مرے کھپے‘ لوگ‬
‫ہی مر کھپ رہے ہیں۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ پاکستان‬

‫میں نظام مصطفی نافذ ہو گا۔ حضرت عمر بن‬
‫عبدالعزیز سے لوگ حاکم ہوں گے۔ چھوٹے بڑے کی‬
‫تفریك مٹ جائے گی۔ فوری سرزنش کے خوؾ سے‬
‫کوئ کسی پر زیادتی نہیں کر سکے گا۔ معاشی عدل ہو‬
‫گا۔ ان عظیم اور مآب لوگوں کا یہ خواب تعبیر حاصل‬

‫نہ کر سکا۔ تاریخ میں ان کا نام تک نہیں۔ چمچے‬
‫مورخ کی طرح الله تو کسی کا پابند نہیں۔ اس کے ہاں‬
‫تو ان کے لیے اجر موجود ہے۔ ہاں موجودہ نسل کو‬

‫یہ سمجھنا ہے کہ ان کا سفر ختم نہیں ہوا۔ انھیں‬
‫خاردار راہوں پر چلتے ہوءے ناصرؾ آزادی حاصل‬
‫کرنا ہے بلکہ اپنے پرکھوں کے خواب کو تعبیر سے‬

‫ہم کنار بھی کرنا ہے۔‬

‫بہت کم لوگوں کے علم میں یہ بات ہو گی کہ ان کے‬
‫لیڈروں کے گمان میں بھی نظام مصطفی نہ تھا۔ وہ تو‬

‫اس کے متعك سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ہوا یہ‬
‫‪ ١٩٤٥‬کے الیکشنوں میں پروفیسر اصؽر سودائ نے‬
‫یہ نعرہ دیا‪ :‬پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله۔ پروفیسر‬

‫صاحب کے خلوص میں شبہ کرنا بہت بڑی زیادتی‬

‫بلکہ ظلم ہو گا۔ پروفیسر صاحب کی تشکیل پاکستان‬
‫کے حوالہ سے خدمات کمال کو چھوتی نظر آتی ہیں۔‬
‫وہ سچے ورکر تھے۔ آج انھیں کون جانتا ہے‘ کوئی‬
‫بھی نہیں۔ مطالعہ پاکستان میں ان کا ذکر تک موجود‬
‫نہیں۔ ہمارے مخلص لیڈروں نے ہر ایسے ورکر کو‬
‫کیلے کے چھلکے کی طرح روڑی پر پھینک دیا اور‬
‫ان کا کیا اپنے کھیسے کرنے میں رائی بھر کی ؼفلت‬

‫نہ کی۔‬

‫ذرا یہ دو پہرے ملاحظہ فرما لیں۔‬
‫‪A man who called himself Bihari put‬‬

‫‪to the Quaid :‬‬
‫‪"we have been telling the people‬‬
‫‪Pakistan ka matlab kya, La Illaha‬‬

‫"‪Illallah.‬‬
‫‪"Sit down, sit down," the Quaid‬‬

‫‪shouted back.‬‬
‫‪"Neither I nor my working committee,‬‬

‫‪nor the Council of the All Muslim‬‬
‫‪League has ever passed such a‬‬
‫‪resolution wherein I was committed‬‬

to the people of Pakistan. Pakistan ka
matlab, you might have done so to
catch a few votes".
Tahir Wasti in "The Application of
Islamic Criminal Law in Pakistan :
Sharia in Practice", (ISBN
978-90-04-17225-8), Koninklijke Brill
NV, Leiden, 2009
Malik Ghulam Nabi
(the former minister for education,
Punjab). He was a close associate of
Qaid-e-Azam and a member of

Muslim League Council. On page no.
106 of his book "Kissa ek sadi ka"he

writes:
"The first conference of All Pakistan
Muslim League Council in Pakistan
was held under the presidentship of

Qaid-e-Azam in the Dena Hall,
Karachi on December 14, 1947.
In the conference, a bearded man

came up and said to Qaid-e-Azam,
"We had told people, Pakistan ka

matlab kya, La ilaha illallah,"
Qaid-e-Azam said, "Please sit down,
neither I nor the working council of
All India Muslim League has passed a

resolution adopting 'Pakistan ka
matlab kya, la ilaha illallah. Albeit you

must have raised this slogan to
garner votes."

It is said that Pakistan was created
with the use of the slogans "Islam in
danger" and "Pakistan ka matlab kya,
La illaha ilallah", both slogans which
— ironically — were never used by
Quaid-e-Azam himself. Indeed Jinnah
ruled out "Pakistan ka matlab kiya, La

illaha illallah" when he censured a
Leaguer at the last session of the All
India Muslim League after partition in

these words: "Neither I nor the

‫‪Muslim League Working Committee‬‬
‫‪ever passed a resolution — Pakistan‬‬
‫‪ka matlab kiya — you may have used‬‬

‫"‪it to catch a few votes.‬‬

‫‪Yasser Latif Hamdani Lawyer,‬‬

‫‪Islamabad‬‬

‫‪[email protected]‬‬

‫‪Daily Times, Monday, June 07, 2010‬‬

‫پاکستان دو لومی نظریے کے حوالہ سے بنایا گیا۔‬
‫اتنے بڑے ملک میں ان دیسی انگریزوں کو کیا ملتا۔‬

‫انھیں‘ ان کی نسلوں اور ان کے گولوں کے ہاتھ‬
‫مختصر مختصر بھی کچھ نہ لگتا۔ لرارداد پاکستان میں‬

‫بھی اکثر اوراللیت کا واضع ذکر موجود ہے‬
‫۔عوام فریب میں آ گیے۔ لوگ مفاد پرست اور انگریز‬
‫کی روحانی اولاد کی نیت کو بھانپ نہ سکے۔ علماء‬

‫کرام کے لیے ان کے دل میں عزت نہ بن سکی‬
‫حالانکہ کاز کے حوالہ سے ان کے خلاؾ کسی لسم‬
‫کی نفرت کا جواز نہیں بنتا۔ اس حوالہ سے ان کی‬
‫مخالفت ؼلط نہ تھی۔ لوگوں نے اسلام کو ووٹ دیا‬
‫کسی لیڈر کو ووٹ نہیں دیا۔ جمہوریت کے اصول کو‬

‫مدنظر رکھا جائے تو پاکستان میں نفاذ نظام مصطفی‬
‫لازم ٹھہرتا ہے۔ بصورت دیگر اگر عوام نفاذ نظام‬

‫مصطفی کو پاکستان کا ممصد سمجھتے ہیں تو انھیں‬
‫پتہ نہیں کتنی بار پھر سے آگ کے بحرالکاہل سے‬
‫گزرنا پڑے گا۔ دوسری طرؾ علماء کو ایک اسلام‬

‫سامنے لانا ہو گا ورنہ اسی پر چپ چاپ پوری‬
‫فرمابرداری سے گزارہ کیا جائے۔‬

‫اگر سب کچھ پہلے سے بھی بدتر چلنا تھا تو تشکیل‬
‫پاکستان کا مطلب اس کے سوا کچھ سمجھ میں نہیں آتا‬
‫کہ اسے ہر لسم کی خرابی اور بد لماشی کی تجربہ گاہ‬
‫بنایا جاہے اور انگریز کی روحانی اولاد کے لیے عیش‬

‫پرستی کے دروازے کھول دئیے جائیں۔‬

‫رمضان میں رحمتوں پر نظر رہنی چاہیے‬

‫رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ نصیب والے‬
‫اس مہینے میں زاد آخر جمع کرنے کا جتن کرتے ہیں۔‬

‫توبہ کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اپنے لیے‬
‫مؽرفت کے طالب ہوتے ہیں۔ بلاشبہ الله بڑا ہی معاؾ‬
‫کرنے والا ہے اور وہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں‬
‫کرتا۔ ۔بندہ بھی الله کی ان حد رحمتوں سے مایوس‬
‫نہیں ہوتا۔ وہ کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتا۔ جانے کون‬
‫سا لمحہ لبولیت کا لمحہ ہو اور بخشش اس کا ممدر‬

‫ٹھہرے۔‬

‫ہمارے ہاں رمضان کی آمد کا سبزی منڈی ہو کہ فروٹ‬
‫منڈی یا بازار‘ ایک ہفتہ پہلے ہی ڈنکا بج جاتا ہے۔‬
‫اصل میں یہ مہینہ بچتوں کا مینہ ہے۔ شخص جبری‬
‫بچت پر مجبور ہوتا ہے۔ کوئی چیز جیب کی دسترس‬
‫میں نہیں رہتی۔ سنا ہے شیطان اس مہینے لید کر دیا‬
‫جاتا ہے البتہ سارے فروش آزاد ہی نہیں کھلے چھوڑ‬
‫دیے جاتے ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو‬
‫شاید اشیاء گریب شخص کی اپروچ میں رہتیں۔ شیطان‬
‫کھلا رہتا اور یہ لید کر دیے جاتے‘ تو زندگی کی‬
‫بیچارگی کم از کم چار گنا نہ بڑھتی۔ شخص موجودہ‬
‫صورت سے کہیں زیادہ آسودہ حال ہوتا۔‬

‫لوگوں کا خیال ہے ہمارے بااختیار بادشاہ لوگ شیطان‬

‫کی کمی پوری کرنے کے لیے اور مومنوں کی آزمائش‬
‫کے لیے انہیں اپنے اشیرباد سے سرفراز کرتے ہیں۔‬
‫وہ ایک نہیں مومنوں کی آزمایش کے لیے بہت سارے‬
‫دروازے کھول دیتے ہیں۔ مثلا عین ہانڈی روٹی کے‬

‫ولت گیس بند کر دیتے ہیں۔‬
‫روزے کی افطاری سے پہلے بجلی کا دروازہ بند کر‬

‫دیا جاتا۔‬
‫ادھیر روزے کی افطاری کا ولت ادھیر گیس کی آمد ہو‬
‫جاتی ہے جبکہ بجلی اس روایت کی تابع فرمان رہتی‬

‫ہے۔‬
‫استاد نے شاگرد کو کہا اس فمرے کا انگریزی میں‬

‫جملہ بناؤ‪ :‬وہ گیا ایسا گیا کہ چلا ہی گیا۔‬
‫شاگرد نے کچھ ایسا انگریزی جملہ بنایا‪ :‬ہی ونٹ ایسا‬

‫ونٹ کہ بس ونٹ ہی ونٹ۔‬
‫بجلی بھی بس ونٹ ہی ونٹ کو اپنا شعار ٹھراتی ہے۔‬
‫گیس اور گرمی کی تپش جب کرکر لمبے ہاتھ گلے‬
‫ملتی ہیں تو بے خبروں کو بھی لیامت یاد آ جاتی ہے۔‬
‫کملے لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ شیطان لید میں‬

‫ہے شیطان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس مہینے میں‬
‫شیطان پر لعنتیں انتہائ زیادی اور انصافی کی بات‬
‫ہے۔ لید میں پڑے شیطان کو کیا معللوم کہ اس کے‬

‫گندے انڈے بچے اس سے بازی لے گیے ہیں۔‬

‫روزوں کے بعد جب وہ رہا ہو گا تو مومنوں سے‬
‫کہیں بڑھ کر عید کی خوشیاں مناءے گا کہ اس کے‬
‫بالکوں نے وہ کر دکھایا جو وہ شاید کبھی بھی نہ کر‬

‫پاتا۔‬
‫کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گیس کی بندش سے لوگ‬
‫بازار سے خریداری پر مجبور ہو جاءیں گے۔ اس طرح‬

‫بادشاہ لوگوں کی رمضانی رحمتیں ان کے کھیسہ‬
‫مبارک میں بلا تکلؾ اور بلاتررد بسیرا فرما لیں گی‬
‫اور الزام اشیاء فروشوں کے سر پر آءے گا اور وہ‬
‫نہاتے دہوتے عوام کے روبرو رہیں گے۔ لوگ گالیاں‬
‫دیں گے تو فروشوں کو دیں گے اور وہ عوام کی ہاں‬

‫میں ہاں ملانے کے لابل رہیں گے۔‬

‫رمضان شریؾ نے دفاتر کی بھی چھٹی حس بیدار کر‬
‫دی ہے۔ ان کے مروجہ ریٹ سہ گنا ترلی کر گئے ہیں۔‬
‫ؼالبا دفاتر نشین بھی سچے ہیں۔ وہ بھی وہاں ہی سے‬
‫خریداری کرتے ہیں جہاں سے دوسرے لوگ کرتے‬
‫ہیں۔ مارکیٹ سے لدم سانجھے کرنے کے لیے وہ بھی‬
‫امور کے بھاؤ بڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کسی کے‬

‫ہاں تین سو روپیے درجن کیلوں کی فروٹ چارٹ‬
‫بنانے کا خواب دیکھنا مانع ہو لیکن ان کے ہاں اس‬
‫کے بؽیر بنتی نہیں۔ کیا کریں‘ بیگمی مجبوری ہے۔‬
‫بچوں کو کس طرح معلوم ہو گا کہ ان کے ابا گرامی‬

‫دفتر میں بڑے بااختیار عہدے پر لبضہ فرما ہیں۔‬
‫کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ملک نفاذ اسلام کے لیے‬

‫حاصل کیا گیا تھا۔ اس لسم کی سوچ رکھنے والے‬
‫احمموں کی جنت میں رہتے ہیں۔‬

‫یہ ملک کبھی بھی نفاذ اسلام کے لیے حاصل نہیں کیا‬
‫گیا۔ ان کے خیال میں اگر میں ؼلط کہتا ہوں تو ‪١٩٠٦‬‬
‫سے لے کر ‪ ١٤‬اگست ‪ ١٩٤٧‬تک مسلم لیگ کی ایک‬
‫بھی لرارداد نکال کر دکھا دیں‘ میں ان کی فراست کو‬

‫مان جاؤں گا۔ یہ محض عوامی نعرہ اور عوامی‬
‫خواہش تھی اور ہے۔ نئی نسل کو شاید معلوم نہیں‘‬
‫پرانی نسل کو بتانا چاہیے تحریک نفاذ نظام مصطفے‬
‫کا کیا حشر ہوا تھا۔ کتنے لوگ حوالاتی ہوئے اور‬

‫کتنوں کے پاسے سیکے گئے تھے۔‬

‫روزوں کے اس بابرکت مہینے میں اسلام کو بچ میں‬
‫لانے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ اسلام فرد کا ذاتی‬

‫معاملہ ہے اور فرد کو کسی نے نہیں روکا کہ وہ‬
‫روزے نہ رکھے یا مسجد میں اپنی ذمےداری پر‬
‫ترابیاں پڑھنے نہ جائے۔ سو بار جاءے اور بے شک‬

‫ساری رات ترابیاں پڑھتا رہے۔‬

‫کسی پر کیا احسان ہے‘ مہنگی اشیار نہ خریدی جائیں۔‬
‫روزےدار پانی سے افطاری کرے اور الله کی اس گراں‬
‫یایاں نعمت کا لاکھ لاکھ ادا شکر کرے۔ رہ گئی بجلی‬
‫کے باعث پانی نہ ملنے کی بات‘ بجلی والی موٹروں‬
‫کی کیا ضرورت ہے۔ گھروں میں نلکے لگوائیں۔ بجلی‬
‫کی محتاجی ختم ہو جائے گی۔ مہینے میں بیس تیس‬
‫یونٹ کم استعمال ہوں گے۔ زیادہ یونٹ کے بل آنے کا‬

‫لرضہ واپڈا بہادر پر رہے گا۔‬

‫دو ڈھائ سو روپے کلو والی مہنگی کھجور خریدنے‬
‫کو کس نے کہا ہے‘ اسی نوے رویے کلو والی کھجور‬
‫کو کیا ہوا ہے۔ اسے کون سی ماتا نکلی ہوئ ہے بلکہ‬
‫کھجور خریدنے کی ضرورت ہی کیا ہے دس روپیے‬
‫کلو والا نمک کس دن کام آئے گا۔ رمضان رحمتوں اور‬

‫برکتوں والا مہینہ ہے اور یہ بلا رلم میسر آتی ہیں۔‬
‫لوگوں کی نظر رحمتوں اور برکتوں سے ادھر ادھر‬

‫ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روزہ داری میں کسی‬
‫ناکسی سطع بر کھوٹ ضرور موجود ہے۔ مہینگائی کا‬

‫رونا رونے کی بجائے کھوٹ کی تلاش کہیں اہمیت‬
‫رکھتی ہے۔‬

‫پاکستان کا حمیمی خالك کون؟‬

‫اپنے نظریے اور اپنی ہی آنکھ سے دیکھی گئی‬
‫کوئی چیز یا نظریہ درست نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا۔‬
‫اسی طرح مکمل طور پر کسی دوسرے کی انگلی پکڑ‬
‫کر چلنے والے کامیاب زندگی کرنے والوں میں شمار‬

‫نہیں کءے جا سکتے۔ ہر دو صورتوں میں جانب‬
‫داری کا عنصر ؼالب رہتا ہے۔ اصل حمیمت تک رسائ‬
‫کے لیے لازم ہے کہ معاملے کو اپنے اور دوسروں‬
‫کے نظریات کے تناظر میں ملاحظہ کیا جاءے۔ ایک‬
‫صاحب فرما رہے تھے کہ سارا لصور عوام کا ہے جو‬
‫انھوں نے ووٹ دیتے ولت سمجھ بوجھ سے کام نہیں‬

‫لیا۔‬

‫بات میں حد درجہ معمولیت نظر آتی ہے۔ اس ؼلطی‬
‫کے ساتھ تین باتیں جڑی ہوئی ہیں‪:‬‬

‫‪١‬۔ عوام کے پاس آپشن موجود نہیں تھے۔ انھیں ووٹ‬
‫دینا ان کی سماجی مجبوری تھی۔‬

‫‪٢‬۔ کامیاب ممبر نے کل میں سے کتنے ووٹ میں سے‬
‫کتنے فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔‬
‫‪٣‬۔ الیکشن بڑے لوگوں کا کھیل ہے۔‬

‫ایک عام اور ؼریب آدمی خواہ کتنا شریؾ ایماندار اور‬
‫پڑھا لکھا کیوں نہ ہو اس میدان میں اترنے کا خواب‬
‫بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اگر تجزیہ کریں گے تومعلوم‬
‫پڑے گا کہ مجموعی میں سے چار پانچ فیصد ووٹ‬
‫حاصل کرنے والے نے اسمبلی کی آرام دہ کرسی پر‬
‫لبضہ جمائے رکھا ہے۔ پچاس فیصد سے زائد لوگوں‬
‫نے ووٹ نہ ڈال کر اس طرز حکومت کو مسترد کر دیا‬

‫ہے۔ بالی میں سے کچھ داموں خریدے گئے ووٹ‬
‫ہوتے ہیں۔ ایسے ووٹوں کا تعلك اچھائی برائی سے‬
‫نہیں ہوتا جو دام زیادہ دیتا ہے ووٹ اس کو مل جاتا‬
‫ہے۔ کچھ ووٹ برادی بیس پر کاسٹ ہوتے ہیں۔ ایسے‬
‫ووٹوں کا تعلك بھی اچھائی برائی سے نہیں ہوتا۔‬

‫کاسٹ ہونے والے ووٹ پانچ چھے امیدواروں میں‬
‫تمسیم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح مجموعی میں سے چار‬
‫پانچ فیصد ووٹ حاصل کرنے والا کامیاب لرار دے دیا‬
‫جاتا۔ اس صورتحال کے تناظر میں کہا جاءے کہ یہ‬
‫عوام کے نمائندے نہیں ہیں اور نہ ہی عوام نے انھیں‬
‫انتخاب کرنے کا پاپ کیا ہوتا ہے۔ اس میں ایسی کون‬

‫سی ؼلط بات ہے۔‬

‫ایک شخص کو لتل کے کیس میں جج صاحب کے‬
‫سامنے پیش کیا گیا۔ جج صاحب نے پوچھا‪ :‬اوئے لتل‬

‫توں کیتا اے۔‬
‫اس نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا‪ :‬نہیں حضور کیتا کرایا‬

‫ای مل گیا اے۔‬
‫انھیں انتخاب کرنے کا گناہ عوام سے نہیں ہوا۔ یہ تو‬
‫انھیں چنے چنائے مل گئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ‬
‫ہے کہ ہر برائی جس کا عوام سے کوئی تعلك واسطہ‬
‫تک نہیں ہوتا عوام سے تعلك جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ‬
‫کوئی آج کی بات نہیں‘ شروع سے ان کے ساتھ ایسا‬
‫ہو رہا ہے۔ کمزوروں باضمیروں اور وطن دوستوں‬
‫کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔ ؼداروں مطلب پرستوں‬
‫خودؼرضوں اور حاکم کے گماشتوں کو مورخ ملک و‬

‫لوم کے ماتھے پر جھومر سجاتا آیا ہے۔ آتے ولت‬
‫کے لوگ انھیں اپنا ہیرو سمجھتے رہے ہیں۔ وہ کیا‬
‫جانیں کہ یہ کوبرے سے بھی زیادہ خطرناک لوگ‬
‫تھے۔ اپنی مطلب پرستی کے لیے یہ عوام میں عوام‬

‫کی نفسیاتی کمزوری کے حوالہ سے کوئ نعرہ‬
‫چھوڑتے ہیں۔ عوام ان مطلب پرستوں کو اپنا خیر‬
‫خواہ سمجھتے ہویے جذباتی ہو کر مرنے مارنے پر‬
‫اتر آتے ہیں۔ انھیں جو بتایا جاتا ہے اس کا سرے‬
‫کوئی وجود ہی نہیں ہوتا اور ناہی اس حوالہ سے‬
‫کبھی سوچا گیا ہوتا ہے۔ انگریز نے ہندو مسلم میں‬
‫تفرلہ ڈالنے اور صدیوں پرانے آپسی تعلمات ختم‬
‫کرنے کے لیے فورٹ ولیم کالج کے ذریعے ان کی‬
‫زبان کو دو رسم الخط دے دئے۔ اردو رسم الخط کو‬
‫مسلمانوں کا لرار دے دیا اور اسے الگ زبان مشہور‬
‫کر دیا۔ فوج کے لیے رومن لازم لرار دیا گیا۔ یہ‬
‫بےولوؾ لوگ آج تک اس سازش کو نہیں سمجھ‬

‫سکے۔‬

‫مسلمان کوئی دو صدیوں سے ہندوستان میں آباد نہیں‬
‫ہیں۔ ان کی آمد کا سلسلہ آلا کریم کے عہد گرامی سے‬
‫شروع ہو جاتا ہے۔ چوالیس ہجری میں معاویہ کے عہد‬

‫میں مسلمان ہندوستان پر حملہ آور ہویے۔ شکست ہو‬
‫جانے کے بعد ادھر ادھر بکھر گیے۔ منصورہ میں ان‬
‫کی جکومت لایم تھی جسے محمد بن لاسم نے برباد کر‬
‫دیا۔ ۔ہندوستان میں پہلوں اور بعد کے آنے والوں نے‬
‫یہاں کی عورتوں سے شادیاں اور ان سے بچے پیدا‬
‫ہویے۔ ان بچوں نے یہاں کی بھاشا بولی اور یہاں کے‬
‫باسی کہلایے۔ مسلمانوں اور ہندوں میں کوئی رولا ہی‬
‫نہیں تھا۔ سب راضی خوشی رہتے تھے ۔ لین دین تک‬
‫موجود تھا۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک‬
‫ہوتے۔ ایک دوسرے کی مالی مدد کرتے تھے۔ تمریبات‬
‫اور تہواروں میں بڑے جوش اور جزبے سے شامل‬
‫ہوتے تھے۔ زبان کی تمسیم سے انگریز تو کامیاب ہو‬
‫گیا لیکن ان کے سلوک واتفاق کا ستیاناس مار کر رکھ‬
‫دیا گیا۔ اس نے نفرت کا ایسا بیج بویا جو آج تناور‬
‫درخت بن گیا ہے۔ جو اس ذیل میں چونچ کھولے گا‬

‫گنتی کے بؽیر چھتر کھاءے۔ کیونکہ آج جھوٹ کو‬
‫سرکاری طور پر سچ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔‬

‫یہاں یہ نعرہ بھی موجود تھا‪ :‬ہندو مسلم سکھ عیسائی‬
‫سب ہیں بھائی بھائی زبان کی تمسیم کے بعد پاکستان‬
‫کا مطلب کیا لا الہ الا الله نعرہ دے دیا گیا۔ اس طرح‬

‫ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔ نعروں‬
‫پر یمین رکھنے والوں نے اس کاز کے لیے حیرت ناک‬

‫لربانیاں دیں۔ پاکستان بننے کے بعد مہاجر جو عام‬
‫لوگ تھے بےگھر ہوءے۔ اپنوں کی موت اپنی آنکھوں‬
‫سے دیکھی۔ وہ وہ لربانیاں دیں کہ سوچ بھی سوچ‬
‫میں پڑ گئ۔ نواب سر اور خان بہادر پہلے بھی موج‬

‫کی گزارتے تھے بعد میں بھی موج ان کے ممدر کا‬
‫حصہ رہی۔ حکومت ان کے حصہ میں آئی۔ عام لوگ‬
‫روتے تھے آج بھی روتے ہیں اور شاید آتے کل کو‬

‫بھی روئیں گے۔‬

‫پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله کے حوالہ سے سہی‬
‫کچھ تو ہوتا۔ اس ولت بڑے بڑے عالم موجود تھے‬
‫کسی نے نہیں کہا اس نعرے کا تعلك اسلام سے نہیں‬
‫ہے۔ کل میں نے کچھ تصاویر دیکھیں۔ یہ لوگ آلا کریم‬
‫کے ماننے والے ہو ہی نہیں سکتے۔ بطور نمونہ ایک‬
‫تصویر ملاحظہ ہو‪ ١٩٠٦ :‬میں محمڈن ایجوکیشنل‬

‫کانفسرنس کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا جس کی‬
‫صدارت نواب ولارالمک کر رہے تھے‪ ،‬نواب سر‬
‫خواجہ سلیم الله خان بہادر جی سی ۔آئ۔ ای۔ ‪ ،‬کے۔ سی‬
‫۔ایس۔ آئی نے مسلم لیگ کے لیام کی تجویز کی‪ ،‬جو‬

‫منظور کر لی گئی۔ اس کا پہلا ممصد انگریز کو‬
‫وفاداری شو کرنا تھا۔ عوام کی وفاداری کم خان بہادر‬

‫صاحبان کی وفاداری شو ضرور ہوئی۔‬

‫سچی بات تو یہ کہ عوام انگریز کے وفادار بھی نہیں‬
‫تھے۔ عوام کا بےتحاشا خون بہا لیکن کسی خان بہادر‬

‫کو خراش تک نہیں آئی۔‬

‫باؼی ڈاکو کہہ کر حریت پسندوں کو پھانسی لٹکایا گیا۔‬
‫ڈیتھ ورانٹ پر انھوں نے بڑے شوق اور تپاک سے‬
‫دستخط ثبت کءے۔ ایک رویت کے مطابك یہ لرارداد‬
‫انگریز کے کہنے پر ہوئی۔ اس بات میں سچائ نظر‬

‫آتی ہے‪:‬‬
‫‪١‬۔ کانگرس کی سردردی تھی اس کا زور اسی طرح‬

‫توڑا جا سکتا تھا۔‬
‫‪٢‬۔ کوئی بھی خان بہادر انگریز سے پوچھے بؽیر ٹٹی‬

‫کے لیے ٹٹی کدے کا رخ‬
‫کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا اتنا بڑا الدام اپنی مرضی‬

‫سے اٹھایا‘ عمل نہیں مانتی۔‬

‫سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمسیم ایسا والع کیسے پیش آ‬

‫گیا‪:‬‬
‫‪١‬۔ انگریز دوسری جنگ عظیم کے بعد کمزور پڑ گیا‬

‫تھا اور وہ خلاصی چاہتا تھا۔‬
‫‪٢‬۔ دو حصوں میں تمسیم معاشی ضرورت تھی۔‬
‫‪٣‬۔ ہندوں نے آزادی اور مسلمانوں نے اسلام کے نام‬

‫پر کوششیں کیں اور لربانیاں‬
‫دیں۔‬

‫‪٤‬۔ امریکی صدر‬

‫‪Roosevelt‬‬
‫کے حکم پر چرچل نے‬

‫‪Cripps‬‬
‫کو انڈیا بیجھا۔ یہ طور آج سے ہی مخصوص نہیں‬
‫شروع سے چلا آتا ہے۔ایک سیاسی جماعت کا نام‬
‫باکستان کے لوگوں کی جماعت ہے لیکن اسکا مالک و‬
‫وارث شروع سے ایک خاندان چلا آتا ہے۔ بات کافی‬
‫لمبی ہو گئی ہے اسے ان الفاظ میں سمیٹتا ہوں۔‬
‫پاکستان کسی لیڈر نے نہیں بنایا لوگوں نے نظام‬

‫مصطفے کے نفاذ کے لیے بنایا۔‬

‫ہر سیاسی لوت فراڈ سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ سب‬
‫جھوٹے مکار اور عمرو عیار کے پوترے ہیں۔ پاکستان‬

‫بڑی لربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہے۔ اس کی مٹی‬
‫بڑی ہی لیمتی ہے۔ سونگھ کر دیکھیں شہیدوں کے‬
‫لہو کی خوشبو آئے گی۔ اسے الله کی مہربانی سے‬
‫صرؾ اور صرؾ عوام نے بنایا ہے۔ اگر کوئی خان‬
‫بہادر نواب صاحب بڑ مارتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ یہ‬
‫ملک عوام نے بنایا اور عوام ہی کا ہے۔ لوگوں کو‬
‫خود سے آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہو گا۔ عوام نے برٹش‬
‫ایسی سپر پاور کو شکست دی۔ اس کے یہ چمچے کیا‬

‫چیز ہیں۔ حمیمی آزادی کے لیے انھیں ان بگلے‬
‫بھگتوں کی گردن موڑنا ہو گی وگرنہ آتی نسلیں بھی‬

‫ان کے استحصال کا شکار رہیں گی۔‬

‫دنیا کا امن اور سکون بھنگ مت کرو‬

‫ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا پروفیسر کے کیا‬
‫فرائض ہیں۔ انھوں نے مزید فرمایا مجھے تو یہ طبمہ‬
‫فارغ لگتا ہے۔ بات کے دوسرے حصہ سے متعلك ایک‬

‫سیاسی طبمہ اور اس کی جی حضوریہ نالائك اور‬
‫ناخلؾ منشی برادری پروپگنڈا کرنے میں مصروؾ‬
‫ہے۔ نالائك اور ناخلؾ کی اگر کسی کو وضاحت درکار‬
‫ہے تو میں بسروچشم حاضر ہوں۔ پروفیسر بیک ولت‬

‫تین کام کرتا ہے‬
‫‪١‬۔ معلومات فراہم کرتا ہے‬
‫‪٢‬۔ ؼلط اور صیحح ہی نہیں بتاتا بلکہ ان کی تمیز بھی‬
‫سکھاتا ہےگویا رویے تشکیل دیتا ہے۔‬
‫‪٣‬۔ سوچتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔‬
‫ایک شخص آٹھ گھنٹے بیاس منٹ جسمانی کام کرتا‬
‫ہے جبکہ پروفیسر اڑتیس منٹ کام کرتا ہے۔ دونوں‬
‫برابر کی تھکاوٹ محسوس کرتےہیں پروفیسرکی زیادہ‬
‫انرجی صرؾ ہو جاتی ہے۔ پروفیسر جو سوچتا ہے وہ‬
‫ڈیلور بھی کرتا ہے۔ گویا جسمانی کام کرنے والوں‬
‫سے پروفیسرکی زیادہ انرجی صرؾ ہو جاتی ہے۔‬

‫شاید ہی کوئ ایسا پروفیسر ہو گا جو موٹا تازہ ہو۔ اگر‬
‫کوئی موٹا تازہ پروفیسر نظر آ جاءے تو یمینا کسی‬
‫پیٹ کے عارضے میں مبتلا ہو گا۔ مناسب انداز سے‬
‫فکری نکاسی نہ ہونے کے سبب بھی موٹاپا آ سکتا‬
‫ہے۔ عزت اور جان دونوں خطرے کی توپ کے دہانے‬

‫پر ڈیرہ گزیں رہتے ہیں اس لیے ڈیلوری ایسا آسان‬
‫اور معمولی کام نہیں۔ اگر نہیں یمین آتا تو کسی خاتون‬
‫سے پوچھ لیں کہ ڈیلوری کا عمل کتنا مشکل اور کٹھن‬
‫گزار ہوتا ہے۔ کوئی خاتون خفیہ بات دس پندرہ منٹ‬

‫سے زیادہ پیٹ میں نہیں رکھ سکتی۔ خیر یہ بات‬
‫عورتوں تک ہی محدود نہیں پروفیسر تو الگ کہ ان کا‬

‫یہ کام ہی یہی ہے۔ وکیل اور پروفیسر بول بچن کی‬
‫کھٹی کھاتے ہیں۔ ایک عام آدمی خفیہ بات یا کسی کا‬
‫کوئی انتہائی حساس راز زیادہ دیر تک پیٹ میں نہیں‬
‫رکھ سکتا۔ محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی یہی‬

‫ہیں۔‬

‫آج موٹے تھانیداروں کے حوالہ سے بات ہو رہی تھی۔‬
‫سوال اٹھ سکتا ہے وہ کیوں موٹے ہیں۔ اکثر یہ کہیں‬
‫گے وہ کھا کھا کر موٹے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس‬
‫سے اسی فیصد اتفاق نہیں۔ معدہ کی بیماری کے سبب‬
‫کوئ تھانیدار موٹا ہوا ہو تو الگ بات ہے۔ وہ اوروں‬
‫سے زیادہ ہمدردی کا مستحك ہے۔ ایک طرؾ معدہ‬
‫پرابلم دوسری طرؾ زیادہ کھا لینے کا مسلہ تو تیسری‬

‫طرؾ رازوں کی عدم نکاسی۔‬

‫کسی موٹے تھانیدار پر کوئ دوسرا موٹا تھانیدار نعرہ‬
‫تکبیر کہہ کر چڑھا دیں وہ وہ راز اگلے گا کہ عمل‬
‫سوچ اور دل و دماغ کی روح لبض ہو جائے گی۔ اس‬
‫کے پیٹ میں بڑے افسروں نبی نما سیاست دانوں‬

‫سیٹھوں مذہبی لوگوں کے وہ وہ راز ہوتے ہیں جن کا‬
‫کسی کے دونوں فرشتوں تک کو علم نہیں ہوتا۔ اس‬
‫مدے پر بات کرنا ہی فضول بات ہے کیوں کہ تھانیدار‬
‫ان لوگوں پر تھانیدار نہیں ہوتے۔ تھانیدار عوام کو گز‬
‫رکھنے کےلیے ہوتے ہیں۔ ان کا شورےفا کے اعلی‬

‫طبمے میں شمار ہوتا ہے۔‬
‫۔سو گز رسہ سرے پہ گانٹھ‘ بات کا پیٹ میں رکھنا بڑا‬

‫ہی مشکل بلکہ ناممکن کام ہے‘ اپھارہ ہونا ہی ہوتا‬
‫ہےاور یہ پہلے سوال کی طرح لازمی بات ہے۔ آپ کے‬
‫دیکھنے میں بات آئی ہو گی کہ مرنے والے کا کوئی‬

‫لریبی رو نہ رہا ہو تو اس کو رولانے کے لیے سر‬
‫توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات پردہ میں رہتی ہے‬
‫کہ اس لریبی نے اس کی موت پر شکر کا سانس لیا‬
‫ہو۔ دلوں کے حال الله جانتا ہے اس لیے بات پردہ میں‬
‫ہی رہ جاتی ہے تاہم اس کا کچھ ہی دنوں میں پیٹ کپا‬
‫ہو جاتا ہے۔۔ اس حوالہ سے کسی تھانیدار پر انگلی‬
‫رکھنے سے بڑا ہی پاپ لگتا ہے۔ کسی موٹے پروفیسر‬

‫پر بھی یہی کلیہ عائد ہوت ہے۔‬

‫آج ہی کی بات ہے بشپ صاحب کی طرؾ سے امن‬
‫سیمینار منعمد ہونے جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے‬
‫ناتے بد ہضمی اور گیس کا شکار ہوں کیا کروں میں‬
‫بات نہیں کر سکتا کہ لالہ جو گولیاں اور چھتر کھا‬

‫رہے ہیں انھیں امن کی کتھا سنا رہے ہو اور جو‬
‫گولیاں اور چھتر مار رہا ہےاس کے معاملہ میں آنکھ‬

‫بند کیے ہوءے ہو۔ میں سب کہہ نہیں سکتا کمزور‬
‫بوڑھا اور بیمار آدمی ہوں میرے پاس ایک چپ اور‬

‫سو سکھ کے سوا کچھ نہیں۔‬

‫ایک موباءل ایس ایم ایس کا حوالہ دیتا ہوں۔ حضرت‬
‫لائد اعظم کے پاس ایک خاتون آئ اور اپنے بیٹے پر‬
‫جھوٹے لتل کے ممدمے کے حوالہ سے درخواست کی۔‬
‫بابا صاحب نے ممدمہ لڑا اور خاتون کے بیٹے کو بچا‬
‫لیا۔ خاتون نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج تو آپ ہیں‬

‫اور کمزروں کو بچا لیتے ہیں کل آپ نہ ہوئے تو‬
‫کمزروں کا کیا بنے گا۔ بابا صاحب نے فرمایا نوٹوں پر‬

‫چھپی میری تصویر ہر کسی کے کام آءے گی۔ اب‬
‫مسلہ یہ آن پڑا ہے کہ نوٹ لسے اور ماڑے لوگوں‬

‫کے لریب سے بھی نہیں گزرتے۔ایسےبرے ولتوں‬
‫میں خاموشی ہی بہتر اور کارگر ہتھیار ہے۔ اپھارہ ہوتا‬

‫ہے تو ہوتا رہے مجھے کیا پڑی ہے جو اس امن‬
‫سیمینار پر کوئی بات کروں بلکہ مجھ پر یہ کہنا لازم‬
‫آتا ہے کہ کہوں گولیاں کھاؤ چھتر کھاؤ چپ رہو۔ اؤں‬
‫آں اور ہائے وائے کرکے دنیا کا امن اور سکون بھنگ‬

‫مت کرو‬

‫عوام بھوک اور گڑ کی پیسی‬

‫دو شخص ہوٹل میں گرما گرم بحث کر رہے‬
‫تھے۔باتوں سے دونوں بےپارٹی لگتے تھے۔ بے‬
‫پارٹی اشخاص کا مختلؾ سمتوں میں چلنا اوراتنی‬
‫گرما گرمی دکھانا مجھے بڑا ہی عجب لگا۔ خیرمیں‬
‫بے تعلمی ظاہر کرتے چائے نوشی میں مشؽول رہا۔ ان‬
‫کا موضوع سخن مہنگائ اور بےروزگاری تھا۔ وہ یوں‬
‫ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے جیسے ان دونوں‬
‫میں سے کوئ ایک ان خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔‬

‫ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار‬
‫خود عوام ہیں۔ آخرانھوں نے ان بدمعاشوں کو ووٹ‬
‫ہی کیوں دیے۔ دوسرے کا کہنا تھا اطراؾ میں بدمعاش‬
‫تھے ایک کو ممبر بننا ہی تھا۔ دوسری طرؾ اگر کوئی‬
‫شریؾ تھا اور ممبر نہیں بن سکا تو بات کریں۔ اس کا‬
‫کہنا تھا کہ یہ کام شریفوں کا کبھی بھی نہیں رہا۔‬
‫پوری جمہوری تاریخ کو دیکھ لیں۔ اسمگلر چوراچکے‬
‫سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے رسہ گیر صاحب‬
‫زادے نواب زادے حرام زادے امریکہ کے چہولی چک‬

‫اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔‬

‫دوسرا اس بات پر بضد تھا کہ لصور سارا عوام کا‬
‫ہے۔ کچھ فیصد ہی سہی لوگ جمہوریت کا حصہ کیوں‬
‫بنتے ہیں۔ پہلے کا مولؾ تھا کہ لوگوں کو بھوک میں‬
‫نک نک ڈبو کر الیکشنوں کے دنوں میں چوپڑی روٹی‬
‫اور لگ پیس دکھا کر یہ لوگ ووٹ حاصل کر لیتے‬
‫ہیں۔ لوگ چند دن کی سیری کو دیکھ کر پچھلے اور‬
‫اگلے سالوں کی لیامت ناک بھوک کو بھول جاتے ہیں۔‬

‫ان میں سے ایک جس نے جوش خطابت میں چائے کا‬

‫ابھی تک ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا‘ کا کہنا تھا کہ‬
‫صدر وزیر اعظم اور اسپیکر تو ڈھنگ کے منتخب‬
‫کیے جاءیں۔ شاید اسے معلوم نہ تھا کہ انھیں عوام‬
‫منتخب نہیں کرتے۔ یہ عوامی نماءندے نہیں‘ اپنی‬

‫پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنی پارٹی‬
‫کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے کیا‬

‫مطلب۔ وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی کو‬
‫جوابدہ ہوتے ہیں۔ اسپیکر نے وزیر اعظم کے حوالہ‬
‫سے جو فیصلہ دیا ہے۔ عوامی مفاد میں نہیں دیا۔ اگر‬
‫وہ عوام کا نمائندہ ہوتا تو اسے عوام کا مفاد عزیز‬
‫ہوتا تو فیصلہ عوامی ہوتا۔ عدلیہ کی عزت اور ولار کو‬
‫یوں پاؤں کی مٹی نہ بناتا۔ فیلصے میں واضع کرتا کہ‬
‫کون آئین کا لاتل ہے۔ اس کے فصلے سے آئین بحال‬

‫نہیں ہوا۔ آءین ابھی تک چیلنج یا معطل ہے۔‬

‫اتنی دیر میں بجلی آ گئی۔ دونوں کا جوش ہوا ہو گیا۔‬
‫دونوں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گءے۔ میں سوچ‬
‫میں پڑ گیا اتنا گہرا شعور انھیں کس نے دیا ہے۔ کیا‬
‫یہ بھوک پیاس اور اندھیرے کی مہربانی ہے یا میڈیے‬

‫کی کارگزاری ہے۔‬

‫دوسرا سوال یہ بھی کھڑا تھا کہ شعور انملاب کی‬
‫طرؾ لے جا رہا ہے یا بھوک شعور کو کھا پی جاءے‬

‫گی۔‬

‫ان دونوں کا بجلی کے آنے پر دوڑ لگانا ظاہر کرتا ہے‬
‫کہ شعور کسی بھی سطع پر ہو بھوک سے تگڑا نہیں‬
‫ہوتا۔ روٹی ایمان کی بناء ہے۔ شخص کتنا ہی مظبوط‬
‫کیوں نہ ہو بھوک کے ہاتھوں بک جاتا ہے۔ لوگوں کو‬
‫بھوک کی آخری سطع پر اسی لیے پنچا دیا گیا ہے کہ‬

‫وہ اپنا ضمیر ایمان اور عزت بیچنے پر مجبور ہو‬
‫جائیں۔ بھوک کےتیور دیکھتے ہوءے میں پورے یمین‬
‫سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کوئ تبدیلی نہیں آئے گی۔‬
‫لوگ ہوٹلوں میں بیٹھ کر بڑےاونچے درجے کی باتیں‬

‫کرتے رہیں گے لیکن بجلی آتے ہی روٹی کی طرؾ‬
‫بھاگ اٹھیں گے۔‬

‫بؽداد والے کوا حلال ہے یا حرام پر بحثیں کرتے رہے‬
‫ادھر ہلاکوں خان نے بؽداد کی اینٹ سےاینٹ بجا دی۔‬

‫ہمارےساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ ہماری‬
‫خودداری پر ہر دوسرے کاری ضرب لگاتا ہے اور‬
‫ہمارے لیڈر اگلے الیکشن جیتنے کے لیے بھوک میں‬

‫اضافے کا کوئی نیا راستہ تلاشنے کی سعی کرتے ہیں۔‬

‫کار سستی آٹا چینی دال گھی مہنگی کر رہے ہیں۔ ایک‬
‫عام آدمی کو کار سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ بس‬
‫کرایہ کم ہو تو ؼریب سے تعاون سمجھ میں آتا ہے۔‬
‫اندھا بانٹے روڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں۔ کار کا سستا‬
‫ہونا ؼریب پروری کے کس زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات‬
‫میری سمجھ سے بالا ہے کہ میک اپ بھی سستا کر‬
‫دیا گیا ہے۔ ؼالبا لوم کوکوٹھے پر بیٹھانےکا ارادہ‬

‫ہے۔‬

‫لوم اس نام نہاد آزادی کے دن سے لے کر آج تک‬
‫کوٹھے پر بیٹھی ہے۔ جوآتا ہےاس کی جان مال عزت‬
‫آبرو انا اور ؼیرت سےکھیلتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔‬
‫اس کے جانے کے بعد ہر کوئی اس کے جبروستم کے‬
‫لصے چھیڑ دیتا ہے لیکن یہ سب زبانی کلامی ہوتا‬

‫ہے۔ کوئ اس پر گرفت نہیں کرتا۔ گئے ولت کی‬
‫چھوڑیے کوئی موجودہ کے سدھار کی کوشش نہیں‬

‫کرتا۔ ہرآتا دن گزرے سے بدترین ہوتا ہے۔‬

‫عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ان نام کے‬

‫لومی لیڈروں کی ناک کے نیچے رشوت کا بازار گرم‬
‫ہے۔ اکثر افسر ان کے اپنے بندے ہیں۔ کم از کم جو ان‬
‫کے اپنے بندے نہیں ہیں ان پر تو گرفت کریں تاکہ وہ‬

‫ان کا بندہ ہونے کا جتن کریں۔‬

‫محکمہ تعلیم اوروں کے لیے نمونہ ہونا چاہیے لیکن‬
‫اس کا حال بےحال ہے۔ ان دنوں لیکچرر سے اسسٹنٹ‬

‫پروفیسرز کی پوسٹنگ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ خالی‬
‫پوسٹوں اور پوسٹوں کی اپ گریڈیشن کے بھاؤ لگ‬

‫رہے ہیں۔ جو گرہ ڈھیلی نہئں کرے گا دور دراز‬
‫علالوں کی ہوا کھاءے گا۔ نیلے پیلے نوٹ میرٹ‬

‫بناتے ہیں۔ کوئ پوچھنے والا نہیں۔‬

‫پوچھنے والوں کے ہاتھ میں سفید گڑ کی پیسی ہے‬
‫اور وہ یہ سوچے بؽیر کہ دانت خراب ہوں گے چوسے‬

‫پہ چوسا مارے جا رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں خراب‬
‫دانتوں کا علاج کون سا گرہ خود سےہونا ہے۔ سرکار‬
‫کا اشیرواد اور لوم کا مال سلامت رہے۔ انھیں پریشان‬

‫کی کیا ضرورت ہے۔‬

‫ہمارے لودھی صاحب اور امریکہ کی دو دوسیریاں‬

‫ہمارے لودھی صاحب کسی اور کو رشوت دینے کے‬
‫معاملہ میں بڑے ہی سخت والع ہوئے ہیں۔ کل ہی کی‬
‫بات ہے ہمارے ایک دوست اکاؤنٹ آفس میں ایک‬
‫معمولی سے کام کے لیے پانچ سو روپیے چٹی دے کر‬
‫آئے۔ مجبور تھے کیا کرتے' پچھلے دو ماہ سے ذلیل‬

‫ہو رہے تھے۔ بار بار اعتراض لگ رہا تھا۔ ہر بار‬
‫اعتراض دور کرتے لیکن اگلی بار اعتراض میں سے‬
‫کوئی اور اعتراض جنم لے لیتا۔ کسی سیانے نے اصل‬
‫اعتراض یعنی پانچ سو روپیے کی نشاندہی کر دی۔‬
‫اصل اعتراض دور ہونے پر ان کام فورا سے پہلے ہو‬
‫گیا۔ ہمارے لودھی صاحب کو سخت ؼصہ آیا وہ وہ‬
‫سنیما سکوپ گالیاں سناءیں کہ تمام پنجابی گالیاں آن‬
‫واحد میں شرمندہ تعبیر ہو گءیں۔ میں حیران تھا کہ‬
‫انھیں کیا بنیاں کیونکہ اسی کیس کی ذیل میں وہ دو‬

‫بار نیلا نوٹ وصول چکے تھے۔ کیا یہ رشوت نہ‬
‫تھی?!‬

‫ؼالبا ان کے سوا کسی اور کو کام کے حولہ سے‬
‫نمدی یا بصورت جنس اداءگی رشوت کے زمرے میں‬

‫آتا ہے۔ ہرے نیلے اور کبھی کبھار سرخ رنگ پر‬
‫صرؾ اور صرؾ ان ہی کا حك فاءق رہتا ہے۔‬

‫درست طریمہ یہی ہے کہ بانٹ دؤ رکھو۔ بہت پہلے کی‬
‫بات ہے کہ الله بخشے' ہمارے بھائ کے سسر امام‬

‫مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ دؤکاندار بھی تھے۔ دوکان‬
‫میں ڈاکخانہ بھی تھا۔ اگلے دور میں لوگوں کے پاس‬
‫پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ اجناس کے بدلے‬
‫اشیاء حاصل کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے‬
‫تھے کہ ایک مائی جنس لے کر آئ انھوں نے اندر‬

‫‪:‬آواز دی‬
‫"بیٹا دوسیری دینا"‬
‫"?اندر سے آواز آئی‪" :‬کون سی ابا‬
‫بولے"سبحان الله' بیٹا دو سیریاں بھی کوئی دو ہو تی‬

‫"ہیں‬
‫دوسیری آ گئی لیکن ہماری سمجھ میں یہ علامتی‬
‫مکالمہ نہ آ سکا۔ یہ کہانی الگ سے ہے ک ہم نے ان‬

‫کی‬
‫بیٹی تک کیسے رسائی حاصل کی تاہم بھید یہ کھلا کہ‬

‫جنس کی حصولی کے لیے سبحان الله دوسیری ہے جو‬
‫وزن میں زیادہ ہےجبکہ چیز دینے کی دوسیری‬
‫الحمدالله ہے جو وزن میں کم ہے۔ گویا لینے کی‬
‫دوسیری‬

‫اور دینے کی دوسیری' بہت پہلے سےالگ رہی ہے۔‬
‫امریکی رکن کانگرس کےمطابك بلوچستان کا مسلہ‬
‫سنگین ہے۔ اس کے مطابك انسانی حموق کی خلاؾ‬
‫ورزیاں بند ہونی چاءیں۔ مؽرب والے بڑے دیالو اور‬

‫کرپالو ہیں۔ انھیں تو مچھلیوں تک کے "انسانی‬
‫حموق" عزیز ہیں۔ انسانی حموق کی خلاؾ ورزیاں بند‬
‫ہونے والی بات ؼلط نہیں لیکن امریکہ دوسیریاں دو‬
‫کیوں رکھ رہا ہے۔ اس کے اس چلن نے ہمارے لودھی‬

‫صاحب پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ امریکہ کی‬
‫ایک عمارت گری اس نے پورے افؽانستان کی‬

‫عمارتیں گرا دیں۔ اس عمارت میں موجود چند لوگ‬
‫مرے لیکن اس نے افؽانستان میں ہزاروں لوگ موت‬

‫کی نیند سلا دئے اور لاکھوں بےگھر کر دئیے۔‬

‫وہ ذرا ونگا ہوتا ہے تو ملکوں پر' جہاں ؼربا کی‬
‫تعداد زیادہ ہوتی ہے پر پابندیاں لگا دیتا ہے لیکن نیٹو‬

‫کی رسد بند کرنے کو انسانی حموق کی عینک سے‬

‫دیکھتا ہے۔ ابیٹ آباد جس عمارت میں اسامہ رہتا تھا'‬
‫کو مسمار کر دیا گیا مبادہ کسی کونے کھدرے سے‬
‫اسامہ نکل آءے گا حالانکہ اس عمارت کو مسمار‬
‫کرنے کی کیا شرورت تھی۔ خود اسلحہ کے ڈھیر لگا‬
‫رہا ہے ۔ لیکن کسی اور کا اسلحہ بنانا اس کے وارہ‬
‫میں نہیں آتا امریکہ خود کے حوالہ سے دنیا کا باڑہ‬
‫ہے۔ ایران کوریا یا دنیا کا کوئی ملک اسلحہ بنائے تو‬

‫اس کے پیٹ میں مرو ڑاٹھنے لگتا ہے۔‬

‫سگریٹ پہ سیمینار ہو رہا تھا۔ اتفاق سے میں بھی‬
‫وہاں کسی کام سے گیا ہوا تھا۔ انتظمیہ نے پکڑ کر‬
‫مجھے بھی اسٹیج پر بیٹھا دیا۔ سگریٹ پر ممریرین‬
‫نےدھؤاں دھار تمریریں کیں۔ سگریٹ کے خلاؾ وہ وہ‬
‫بکواس کی کہ خدا کی پناہ۔ سچ پوچھئیے میں گھبرا‬
‫ہی گیا۔ مجھے لگا یہ میرے خلاؾ سا زش ہوئی ہے۔‬
‫ستم اس پر یہ کہ اظہار خیال کے لیے مجھے بھی‬
‫طلب کر لیا گیا۔ منافمت کی بھی کوئ حد ہوتی ہے۔ ان‬
‫سے میں ایسے بھی تھے جو سگریٹ پہ سگریٹ‬
‫پیتے تھے۔اسٹیج پر آ کر سب حاجی ثناءالله بن گئے‬
‫تھے۔ اب چونکہ بلا لیا گیا تھا اس لیے کچھ کہے بؽیر‬
‫بن نہیں سکتی تھی۔ جی میں آئی ان سب کی اصلیت‬

‫کھول دوں مگر مروات آڑے آگئی۔ میں نے سگریٹ‬
‫کے حك میں تمریر کی۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔‬
‫حیران تھا یہ انہونی کیسے ہو گئ۔ بعد میں معلوم ئوا‬
‫حك میں کہتے کہتے خلاؾ کہہ گیا ہوں یا حك کو‬

‫خلاؾ کے معنونوں میں لے لیا گیا۔‬

‫بلوچستان کے حوالے سے بات کرنے والے امریکہ کا‬
‫باطن ایران کے بارے میں کھل گیا ہے۔ امریکہ اگر اتنا‬

‫انسان دوست ہے تو سب سے پہلے اپنا اسلحہ تباہ‬
‫کرے اور پھر اوروں کو گڑ نہ کھانے کی ترؼیب دے۔‬
‫خود تو اس دوڑ میں سب سے آگے ہے لیکن اوروں‬
‫کو اس سے منع کر رہا ہے بلکہ پابندیاں لگاتا ہے‬

‫دھمکیاں جڑتا ہے۔‬

‫ہمارے لودھی صاحب نے امریکی طور اپنایا ہے تو‬
‫میرے سمیت سب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ عملی طورپر‬

‫امریکی فتاوی رایج ہے' زبانی اس کی نفی کھلی‬
‫منافمت نہیں ہے? گڑ کھانے والے گڑ کی مذمت کرتے‬
‫ہیں‪ .‬خودمختاری کی بات کرکے مردوں کے گیٹ سے‬

‫نکل رہے ہیں۔ پڑتال کرنے پر معلوم پڑتا ہے کہ‬
‫امریکہ کے کہے پر اس گیٹ سے گزرے ہیں ادرلیالت‬

‫علی کے رستے کو حك کا رستہ سمجھتے ہیں اور‬
‫اسے لوم کا عظیم لیڈر لرار دیتے ہیں۔ لوم اگر اپنے‬
‫ان لیڈوں کے کہے کو سچ مانتی رہی ہے تو پٹرول‬
‫گیس ڈیڑل بچلی وؼیرہ کی لیمتوں میں اضفہ ہوتا چلا‬
‫جاءے گا۔ پھر وہ ولت بھی آیے گا' چیزیں نہیں رہیں‬
‫گی صرؾ اور صرؾ ان کی لیمتیں رہ جاییں گی۔ جن‬

‫کی ادریگی کے بؽیر بن نہ پایے گی‬

‫اس عذاب کا ذکر لرآن میں موجود نہیں‬

‫یہ حیمیمت ہر لسم کے شک اور شبے سے بالاتر ہے‬
‫کہ ہر خیر الله کی طرؾ پھرتی ہے۔ لطؾ و عطا رحم‬
‫وکرم درگزر کرنے میں کوئ اس کا ہمسر نہیں۔ الله ہر‬
‫حال اور ہر حوالہ سے اپنی مخلوق کی بہتری چاہتا‬
‫ہے۔ انسان کی طرح سرزنش میں جلدباز نہیں۔ وہ بار‬
‫بار موالع فرام کرتا ہے۔ وہ ہر سطع پر اپنی بہترین‬

‫مخلوق یعنی‬
‫انسان کی ظفرمندی چاہتا ہے۔ وہ انسان کو آسودگی‬

‫فراہم کرتا۔ وہ مولوی پنڈت یا پادری نہیں جو معمولی‬
‫معمولی بات پرکفر کا فتوی صادر کر دیتا ہے۔ وہ تو‬

‫الله ہے اور اس کی درگزر کے لیے کوئی پیمانہ‬
‫موجود ہی نہیں۔‬

‫انسان کو جو ملتا ہے اس کے اپنے کئے کا ملتا‬
‫ہے۔انسان اپنے ہاتھوں اپنے لیے آگ جمع کرتا ہے۔‬
‫اپنی جمع کی ہوئی آگ میں اس زندگی میں صعوبت‬
‫اٹھاتا ہے۔ روز حشر جو برحك ہے' میں جلے گا اور‬
‫جلتا رہے گا۔ یہاں زندگی کے دن ممرر ہیں لیکن بعد از‬
‫مرگ کی زندگی کے دن کبھی ختم نہ ہونے والے ہیں۔‬
‫اس زندگی جمع کئے گئے پھل پھول یہاں آسودگی کا‬

‫نام پاتے ہیں جبکہ روزحشر اسے جنت کا نام دیا‬
‫جاءے گا۔ الله اس جمع پونجی کو ستر گنا برکت عطا‬

‫فرمائے گا اور انسان اپنے اثاثے کے حوالہ سے‬
‫عیش کی گزارے گا۔ بلکل اسی طرح اپنی جمع کی گئی‬
‫آگ میں آخرت کی زندگی گزارے گا اور اسے دوزخ کا‬
‫نام دیا جائے گا۔ گویا یہاں اپنے کءے کی بھرنی ہے۔‬
‫کسی لسم کے جبر یا انتمام کی صورت نہ ہو گی۔ الله‬
‫بےشک بڑا انصاؾ کرنے والا ہے۔ جبر یا انتمام اس‬

‫کی ذات الدس کو زیب ہی نہیں دیتے‬

‫ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جہان میٹھا ہے‪ .‬سب لوگ مر‬
‫جائیں گےاور ہمیں موت نہیں آئے گی یا یہ کہ جو‬
‫پوچھنے والے ہیں وہ خود حصہ خور ہیں۔ بیمار ہونے‬
‫کی صورت میں بہترین ڈاکٹروں کی خدمت حاصل‬
‫کرکے موت سے بچ جائیں گے۔ ؼالبا ہمیں یہ ؼلط‬
‫فہمی بھی لاحك ہے کہ عذاب وؼیرہ کا کوئی چکر ہی‬
‫نہیں یہ صرؾ مولوی حضرات اپنے ذاتی اؼراض‬
‫ومماصد کے لیے ڈراتے رہتے ہیں۔ ڈرنے کی صرؾ‬
‫کمزور طبمے کو ضرورت ہے۔ صاحب اختیار اور‬
‫آسودہ حال لوگوں کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مذہب‬
‫وؼیرہ کمزور طبموں کی تسلی وتشفی کے حوالہ سے‬
‫ضرورت ہے۔ وہ اجر اور ثواب وؼیرہ کے حوالہ سے‬
‫مرنے کے بعد موج میلہ کر لیں گے۔ ان کا کام وعدہ‬
‫سے چل جاتا لہذا نمد ونمد فمط ان کی اپنی ضرورت‬

‫ہے۔‬
‫ایسے بدعمیدہ لوگوں کے لیے یہاں بھی تاریخ نے ان‬
‫گنت مثالیں چھوڑی ہیں۔ یہی نہیں' انسانوں کی اس‬
‫بےراہرو بستی میں آج بھی مثالیں مل جاتی ہیں۔ یہاں‬
‫ایک صاحب ڈی سی آفس میں چھوٹے موٹے عہدے‬
‫دار تھے۔ بہت ہی مختصر سے عرصے میں اس نے‬

‫کام میں مہارت حاصل کر لی۔ پھر کیا تھا' انی ڈال دی‪.‬‬

‫فرعون کی ساری صفات اس میں جمع ہو گئیں۔ منہ‬
‫میں کتا اور آنکھوں میں سؤر بسیرا کر گیا۔ اس علالہ‬
‫میں شاید ہی اس کے پائے کا راشی شرابی اور زانی‬
‫ہو گا۔ اس نے اپنے گھر میں جوئے کا آؼاز کیا ۔ اس‬
‫کے اس کام کو دن دوگنی ترلی ملی۔ دیکھتے دیکھتے‬
‫اس کے جوئے کے تین اڈے کھل گئے۔ دن دہاڑے گھر‬

‫میں عورتیں لاتا۔ اسے اتنی بھی حیا نہ آتی کہ گھر‬
‫میں اس کی دو جوان بیٹیاں بھی ہیں۔‬

‫ایک عرصہ تک وہ دوزخ کی آگ جمع کرتا رہا۔ پھر‬
‫ریورس کا عمل شروع ہوا۔ اس کی دونوں یٹیاں گھر‬

‫پر منہ کالا کرنے لگیں۔ جب گھر میں آگ لگی تو‬
‫جھگڑا اور مار پٹائی کا کام شروع ہوا۔ واپسی کا‬
‫دروازہ بند ہو چکا تھا۔ دونوں کسی کے ساتھ بھاگ‬
‫گئیں اور اس کا اثرورسوخ کام نہ آ سکا۔ اس کے‬
‫دونوں بیٹے لفنٹر نکلے۔ اس کی جمع کی ہوئ دولت‬
‫کو لٹانے لگے۔ وہ ان کے سامنے بھیڑ سے بھی‬

‫زیادہ کمزور ثابت ہو۔‬

‫اس کے تین اپریشن ہوئے۔ حرام کی کمائ سے بنائے‬

‫گئے تینوں مکان بک گءے۔ دو دوکانیں نیلام ہو گئیں۔‬
‫کرائے کی ایک نہایت بوسیدہ سی دوکان میں رہایش‬
‫پذیر ہوا۔ اب فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ کوئی ملنے یا حال‬

‫احوال پوچھنے تک نہیں آتا عبرت‬
‫کی تصویر بنا ہوا ہے۔ یہ آگ اس کی اپنی جمع کی‬

‫ہوئی ہے۔‬

‫الله کی طرؾ سے بار بار وارننگ آئی ہے لیکن اس‬
‫نے اس کی کوئ پرواہ نہیں کی۔ معافی کا دروا زہ بند‬
‫ہو چکا ہے۔ جن پر اس نے ظلم توڑے تھے ان میں‬
‫سے بہت سارے اس دنیا سے کوچ کر گءے ہیں۔ جو‬
‫زندہ ہیں وہ اس کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے۔ یہ‬
‫جہنم دنیا کی ہے لیکن آخرت کا عذاب ابھی بالی ہے۔‬
‫یہ محض ایک مثال ہے ایسی مثالیں ہر گلی اور ہر‬
‫محلے میں موجود ہیں۔ کوئی ان سے عبرت لینے کو‬

‫تیار نہیں۔‬

‫میرا اصرار ہے کہ جنت کے پھل اور پھول انسان کے‬
‫اپنے جمع کئے ہوں گے۔ دوزخ کی آگ پہلے وہاں‬

‫موجود نہیں بلک یہ آگ انسان اپنے ساتھ اپنے حوالہ‬
‫سے لے کر جائے گا۔ جو شخص آج زندہ ہے زندگی‬

‫کے ہر لمحے کو ؼنیمت جانتے ہوئے پھل اور پھول‬
‫جمکرنے کی سعی کرے۔‬

‫مہامنشی ہاؤس پنجاب کا ادنی ملازم بھی دہکتی آگ‬
‫جمع کر ر ہا ہے اور الزام سیاسی حلموں پر آ رہا ہے‬
‫کبھی فوج کو دشنام کیا جاتا ہے۔ میری یہ بات پکی‬
‫سیاہی سے پتھر کی دیوار پر لکھ دیں اصل فساد اور‬
‫خرابی کی جڑ یہی لوگ ہیں جب تک ان کا کوئ لبلہ‬

‫درست کرنے نہیں آ چاتا اس خطہ میں موجود ہر‬
‫انسان کی زندگی جہنم کی آگ میں جلتی رہے گی۔‬
‫ڈینگی ان کے ایک ناخن برابر خطرناک نہیں ہیں۔ الله‬
‫پناہ' یہ وہ حاویہ ہیں جن کا جانے بائی نیم لرآن مجید‬

‫مں ذکر کیوں نہیں ہوا۔‬

‫بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟‬

‫کل لوڈ شیڈنگ پر گفتگو ہو رہی تھی کہ بجلی بچاؤ کی‬
‫تراکیب کے حوالہ سے ریڈیو پر تمریر نما بات چیت‬

‫سننے کا مولع ملا۔ ایک شخص جو شریک گفتگو نہیں‬
‫تھا اور ناہی ہمارا ساتھی تھا‘ ایک دم کھڑا ہو گیا۔ اس‬

‫نے موٹی ساری گالی چھکے کے انداز میں اچھالی‬
‫اور بولا‬

‫"بکواس کر رہا ہے۔ بجلی کی کوئی کمی نہیں‬
‫ہم سب نے بڑی حیرت سےسر گھما کر اس کی جانب‬

‫دیکھا۔ استاد جی کو اس کا طرز تکلم پسند نہ آیا۔‬
‫انھوں نے بڑے ہی کھردارے انداز میں پوچھا‬

‫بھائی صاحب یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بجلی کی‬
‫کمی نہیں ہے۔ ملک میں تو بحران چل رہا ہے؟‬

‫اس نے بڑے زور کا لہمہ داؼا جیسے وہ احمموں سے‬
‫مخاطب ہو۔ استاد جی دوبارہ سے بولے‬

‫بھئ یہ تو بتاؤ کہ کس طرح کمی نہیں ہے اور بجلی‬
‫"!کہاں جا رہی ہے؟‬

‫لباس اور بات کرنے کے حوالہ سے مزدور پیشہ لگ‬
‫رہا تھا لیکن اس کے کسی حوالے کو رد کرنے کی ہم‬

‫میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی۔ اس کے کچھہ‬
‫حوالے درج کر رہا ہوں شاید آپ کے پاس کوئی جواز‬

‫موجود ہو۔ آپ کے کسی بھی ٹھوس حوالے سے‬
‫حکومت دوستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا‬

‫سب سے بڑے چور خود بجلی والے ہیں۔ وہ خدمت‬
‫کے عوض تنخواہ وصول کرتے ہیں تو پھر کس‬
‫کھاتے میں مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ بڑے‬
‫افسروں کا ذکر ہی کیا وہ ہر اصول لانون اور ضابطے‬
‫سے بلاتر ہیں۔ بجلی والوں کا ایک چوکیدار مان نہیں۔‬
‫خود تو مفت میں بجلی استعمال کرتا ہی ہے اس‬
‫کےعزیزدوست رشتہ دار اس مفت برابری سے فائدہ‬

‫اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے اردگرد‬

‫کے لوگوں کو بجلی دے رکھی ہے اور ان سے ماہانہ‬
‫وصولتے ہیں۔ کوئ پوچھنے والا نہیں۔ پوچھنے والے‬

‫تو ان سے بھی بیس لدم آگے نکلے ہوئے ہیں۔‬
‫وہ ناصرؾ یہ سب کچھ کر تے ہیں بلکہ بڑے بڑے‬
‫کارخانہ داروں سے بددیانتی کا ماہانہ وصول کرتے‬
‫ہیں۔ بڑے لوگوں سے بھی ان کی اٹی سٹی رلی ہوئ‬
‫ہوتی ہے۔ دیہاتوں میں کنڈیاں لگواتے ہیں اور اچھی‬

‫خاصی آمدن کرتے ہیں۔‬

‫سرکاری افسر اور ان کے عملہ والے کہاؤں کپ ہیں۔‬
‫بھلا ان سے کون پوچھہ سکتا ہے دوسرا خود بجلی‬

‫والے اس میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس سہولت کے‬
‫عوض بڑے بڑے ناجائز کام نکلواتے ہیں۔‬

‫سرکاری تمریبات پر بے تحاشہ بجلی کا استعمال ہوتا‬
‫ہے۔ ممبران وزیر مشیر اور دوسرے سیاسی لوگ مفت‬
‫بجلی کا استعمال کرکے ووٹ کھرے کرتے ہیں لیکن‬

‫بجلی کا بوجھ ماڑے طبمے کی جیب پر پڑتا ہے۔‬

‫بڑے لوگوں کی شادی بیاہ کی تمریبات پر بجلی کا بر‬
‫سرعام ؼیر لانونی استعمال ہوتا ہے۔ اس حمیمت سے‬
‫سب آگاہ ہیں کوئی بولتا ہی نہیں۔ کوئی بولے بھی کیا؛‬
‫کون سنے گا‘ سننے والے تو یہ سب کر رہے ہوتے‬

‫ہیں جو بولے کا لیتر کھائے گا۔‬
‫اسی فیصد تاجر حضرات کا بجلی والوں سے مک مکا‬

‫ہوا ہوتا ہے۔‬

‫بڑے بڑے ہاؤسز جہاں سوائے گفتگہوں کے کچھ نہیں‬
‫ہوتا بجلی ایک لمحہ کے لیے بند نہیں ہوتی اور جہاں‬
‫کام ہوتا ہے وہاں بجلی سارا دن لکن میٹی کھلتی ہے۔‬


Click to View FlipBook Version