بؽیر گزرا نہیں اور آلو مفت میں نہیں ملتے۔ اعلی
شکشا منشی کے دفتر سے پیسے ملیں گے تو ہی آلو
لا سکوں گا۔ میرے آلو لانے کے لیے کہنے میں
سادگی نہ تھی بالکل اسی طرح سردار صاحب کے
دھماکہ دار لہمہوں میں بھی نزدیک کے معنی موجود
نہ تھے۔
میں جانتا ہوں وہاں بھی آلو کا رولا ہے۔ سکی تنخواہ
میں آلو اور ٹوہر ایک ساتھ نہی چل سکتے اور ناہی
کسی سطع پر ان کا کوئ کنبینیشن ترکیب پاتا ہے۔
انہیں ضدین کا درجہ حاصل ہے۔ سردار صاحب نےآلو
لانے کی بات کو گول کرکے میرے اندر ڈر اور خوؾ
کی لہر دوڑا دی۔ میں یہ بھول ہی گیا کہ میں نے ان
سے کیا گزارش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جن
کے متعلك لکھتا ہوں ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں‘ کچھ
بھی کر سکتے ہیں۔ سردار صاحب کا کہنا ؼلط نہ تھا۔
تاہم یہ بھی طے ہے لوگ جیل سے باہر جیل سی
زندگی گزار رہے ہیں۔ سفید پوش کی اولات آلو برابر
نہیں رہی۔ کیا عجیب صورت حال درپیش ہے۔ چور کی
نشندہی کرنے والا مجرم اور لائك تعزیر ٹھہرتا ہے۔
چور یمینا دودھ دیتی بھینس کی مثل ہوتا ہے۔ چور
چور کی آوازیں نکالنے والا دودھ دیتی بھینس کو
چھڑی مار رہا ہوتا ہے۔ نشاندہی کرنے والا ایک طرؾ
چور کو‘ تو دوسری طرؾ چور سے مال انٹنے والے
کے پیٹ پر لات رسید کر رہا ہوتا ہے۔
ویسے سچ اور حك کی آنکھ سے دیکھا جائے تو
حمیمت یہ ہے کہ چور اس ولت تک چور ہوتا ہے جب
تک دوسرے کا مال اس کی گرہ میں نہیں آ جاتا۔ مال
چاہے شور مچانے والے کا ہی کیوں نہ ہو۔ چور کی
گرہ میں آنے کے بعد مال چور کا ہوتا ہے۔ کسی
صاحب مال کو چور کہنا سراسر زیادتی کے مترادؾ
ہے۔ اگر شور مچانے والا بخوشی گرہ سے کچھ نہیں
دے سکتا تو کسی کے مال پر دعوے کا بھی اسے حك
نہیں۔ حك اور انصاؾ کا تماضا یہی کہ جس کی لاٹھی
اس کی بھینس ہے۔
مکرم بندہ جناب حسنی صاحب :سلام شوق
خدا گواہ ہے کہ اردو انجمن نہایت خوش لسمت ہے کہ
اس کو بیک ولت آپ اور اعجاز خیال صاحب جیسے
انشائیہ نگار مل گئے ۔ آپ دوسری محفلوں کو دیکھیں
تو لحط الرجال کی کیفیت طاری معلوم ہوتی ہے۔
ویسے بھی اردو دنیا میں نثرنگاری اور نثر نگاروں
کاکال پڑا ہوا ہے۔ انجمن آپ دونوں کی احسان مند ہے
اور شکرگزار بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ دونوں احباب
اپنے انشائیوں پر نظر ثانی کر کے اور انھیں مزید
نکھار کے کتابی شکل میں اشاعت کی فکر کریں۔ کیا
خیال ہے آپ دونوں کا؟
بالی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرورعالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
7963.0
میری ناچیز بدعا
کچھ ہی دن ہوئے‘ میری ادھ گھروالی ایم بی بی ایس
یعنی میاں بیوی بچوں سمیت ہمارے ہاں پدھاریں۔ میں
اپنی بیگم کی ٹی سی کرنے کے لیے بڑے ہی
خوشگوار انداز میں اس کے کرسی لریب بڑے ہی
فصیح و بلیػ طور سے‘ ٹی سی کر رہا تھا۔ بیگم
صاحب نے تھوڑی دیر میری لایعنی بکواس برداشت
کی۔ پھر کچن میں جا کر آواز دی۔ ڈاکٹر صاحب ذرا
بات سننا۔ میں فورا سے پہلے حاضر ہو گیا۔ دو ہی
باتیں ہو سکتی تھیں۔ شک نے لپیٹ لیا ہو۔ اس
بڑھاپے کیسا شک۔ برتن دھونے کا حکم نہ صادر کر
دے۔ پھر میں نے سوچا جو ہو گا دیکھا جائے گا‘ الله
مالک ہے۔
وہاں ان میں سے کوئ بات درست نہ نکلی۔ فرمانے
لگیں کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ جا کر دوا لے آؤ‘ پر
تم نے کہنا نہ ماننے کی لسم کھا رکھی ہے۔ کہاں کہاں
کھرک رہے تھے اس کی تمہیں ہوش ہی نہ تھی۔ اس
کی بات میں خم سمیت دم تھا لیکن سوال یہ تھا کہ
مہمانہ مرد کے کس کہاں سے والؾ نہ تھی۔ خیر یہ
ؼلطی نہیں کھلی گستاخی تھی۔ میں نے حسب معمول
اور حسب روایت سوری کی اور دوا لینے کے لیے چل
دیا۔
میں آج تک بیگمی حکم عدولی کا سزاوار نہیں ہوا۔ یہ
واحد حکم تھا جسے آج تا کل ٹالتا آ رہا تھا۔ میں وچلی
بات کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آپ بر مجھے
بھروسہ ہے کہ آپ میری بات ہر کان تک نہیں
پہنچائیں گے۔ شدہ ہوں اور ہر شدہ‘ شدہ حضرات کی
دہلیز کے اندر کی سے خوب آگاہ ہوتا ہے۔ میں بوڑھا
ضرور ہوں‘ بدذوق نہیں۔ جو احباب کھرک کی لذت
سے آگاہ ہیں وہ میری بات کی تائید کریں۔ دنیا میں
شاید ہی کوئی بیماری ہو گی جو اتنی لذت انگیز ہو گی۔
ذندگی بےلذت اور بے ذائمہ ہو گئ ہے۔ دکھ درد
مصیبت جھڑکیاں وؼیرہ اس کا نصیبہ ٹھہرا ہے۔ ایک
یہ لذت کا ذریعہ تھی جو بیگم حضور کو گوارہ نہ
ہوئی۔ مانتا ہوں ہر بار خارش کا انجام بڑا تلخ ہوتا ہے۔
زندگی میں پہلے ہی کیا تلخی کم ہے۔ تلخی کا آؼاز اور
انجام تلخی ہوتا ہے۔ تلخی کے آخر میں لذت مل جائے
تو آدمی بردشت بھی کر لے۔ خارش ہی وہ تلخی اور
آزار ہے جو آؼاز میں تادیر چسکا و سواد فراہم کرتی
ہے۔ مجھ سے عارضی اور لمحاتی آسودگی چھینی جا
رہی تھی۔
زمانے کا چلن ہے کہ وہ کسی کو لمحوں کے لیے
سہی‘ آسودہ اور خوش نہیں یکھ سکتا۔ مجھے اصل
افسوس یہ ہے کہ میری سرزنش کر ڈالی لیکن بہن
کو بلا کر کچھ نہیں کہا جو جوابا طرح طرح کی
جگہوں پر مزے لے لے کر کھرک فرما رہی تھی۔ بہن
تھی نا وہ اسے لذت سے مرحوم نہیں کرنا چاہتی تھی۔
بہن تھی نا۔ اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ میرا کیا ہے بیگانہ
پتر ہوں میری خوشی اور لمحاتی آسودگی اسے
کیونکر خوش آ سکتی تھی۔
پاکستان سو نہیں ہزاروں طرح کی لربانیاں دے کر
حاصل کیا گیا۔ ابتدا سے لے آج تک کھرک زدہ دفتر
شاہی سے گزارہ کر رہا ہے۔ واپڈا ہو کہ اکاؤنٹ آفس‘
ٹیلی فون والے ہوں کہ پوسٹ آفس والے‘ اعلی شکشا
منشی کا دفتر ہو کہ پنجاب سرونٹس فاؤنڈیشن والے
ؼرض کوئی بھی محکمہ لے لیں مسلسل اور متواتر
طرح طرح کی جگہوں پر کھرکے جا رہے ہیں
پوچھنے والے خود اس عظیم نعمت ارضی سے لطؾ
اندوز ہو رہے ہیں۔ کچھ ہی ریٹائمنٹ کے بعد رشوثی
کھرک کی تلخی دیکھتے ہیں ورنہ معاملہ اگلے جہاں
تک التوا میں رہتا ہے۔ گھر میں فرد واحد کی کھرک
اس سے برداشت نہ ہو سکی۔ میری بدعا ہے الله اسے
اس نعمت بےمول سے تامرگ محروم رکھے اور اس
کے لیے ترستی لبریں سدھارے۔ وہ اس لذت کے لیے
دعا بھی کرے تو دعا لبولیت کے لریب بھی نہ
پھٹکے۔ سب کہو آمین
محترمی حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کے انشائیے پر لطؾ ہوتے ہیں۔ خصوصا اس لئے
بھی کہ آپ ان میں اپنی طرؾ کی یا پنجابی کی
معروؾ عوامی اصطلاحات (میں تو انہیں یہی سمجھتا
ہوں۔ ہو سکتا ہوں کہ ؼلطی پر ہوں) استعمال کرتے
ہیں جن کامطلب سر کھجانے کے بعد آدھا پونا سمجھ
میں آ ہی جاتی ہے جیسے ادھ گھر والی یا کھرک۔ یا
ایم بی بی ایس۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کھرک
جیسا با مزہ مرض ابھی تک جدید سائنس نے ایجاد
نہیں کیا ہے۔ والله بعض اولات تو جی چاہتا ہے کہ یہ
مشؽلہ جاری رہے اور تا لیامت جاری رہے۔ اس سے
یہ فائدہ بھی ہے کہ صور کی آواز کو پس پشت ڈال کر
ہم :کھرک اندازی :میں مشؽول رہیں گے۔ الله الله خیر
سلا۔
لکھتے رہئے اور شؽل جاری رکھئے۔ بالی راوی سب
چین بولتا ہے
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8069.0
آزمائش کا رستہ بالی ہے
میرے نام کے ساتھ لفظ ڈاکٹر پڑھ کر مجھ سے سوال
کیا گیا ہے کہ آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ سے کوئی مریض
بچا بھی ہے۔ بظاہر یہ ایک سوال ہے لیکن معنوی
حوالہ سے یہ دو سوال ہی ِں
١۔ آپ کے معالجے سے کسی مریض کو شفا بھی
ہوئی ہے یا نہیں۔
٢۔ کسی مریض کی جان بھی سلامت رہی یا اس نے
لبرستان کی راہ لی ہے یا پھر اپنے لدموں
واپس چل کر گھر بھی گیا یا نہیں۔
کوئی بھی نئی چیز
ایک بار مستری یا کاریگر کے پاس چلی جاتی ہے تو
سمجھو اب اس کا آنا اور جانا لگا رہے گا۔ مستری یا
کاریگر کی روٹی اشیاء کی مرمت سے جڑی ہوئی ہے۔
اشیاء مرمت کے لیے نہیں آئیں گی تو وہ بھوکا مر
جائے گا۔ اس لیے اشیاء کی خیر مانگنا یا منانا اس کی
کاروباری سرشت میں داخل نہیں۔ وہ کوئی نہ کوئی
پرزہ جو متاثر نہیں ہوتا کی چول ڈھیلی کر دیتا ہے
اس طرح پندرہ بیس دن بعد اس کے پاس آنے جانے
کا رستہ کھل جاتا ہے۔ اگر گاہک اس کے پاس نہیں
جاتا کسی دوسرے مستری یا کاریگر کے پاس چلا جاتا
ہے تو کوئی بات نہیں وہ پیٹی بھرا ہے۔ دوسرا اس
کے گاہک بھی تو ادھر آتے رہتے ہیں۔ مستری یا
کاریگر کے ساتھ اور بہت سے لوگوں کا روزگار
وابستہ ہوتا ہے۔ مثلاً ویلڈنگ کرنے والے کاریگر
وؼیرہ ایک چیز کی خرابی بہت سے لوگوں کے لیے
رزق کے دروازے کھولتی ہے۔ گویا بگاڑ میں بہت
سے لوگوں کے لیے خیر وبرکت ہے جبکہ بہتری
سے فمط ایک گھرانے کا رشتہ اور تعلك واسطہ ہوتا
ہے۔
دوسری عظیم مثال واپڈا والوں کی ہے۔ اگرچہ پورے
ملک کی تاروں کا نظام عین ؼین ہے۔ کسی علالہ سے
تار ٹوٹنے کی شکایت آتی ہے تو معاملہ شکایت کے
درج ہونے تک محدود و مجبور رہتا ہے۔ علالہ کے
لوگ چندہ جمع کرکے واپڈا والوں کے حضور پیش
کرتے ہیں تب جا کر ان کی تشریؾ آوری ہوتی ہے۔
شکایت اس علالہ کے لیے مستمل زمینی آفت جبکہ
واپڈا کے اہل کاروں کے لیے مستمل زرخیزی کا درجہ
رکھتی ہے۔ تار کا جوڑ اس طرح لگاتے ہیں کہ پندرہ
بیس دن بعد پھر ان کی ضروت پڑ جاتی ہے۔ بات یہاں
تک ہی محدود نہیں رہتی کسی اور حصے کا جوڑ
ڈھیلا کر دیتے ہیں۔ اس طرح اس علالہ کے لوگوں کو
چندہ گردی کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔بھی
کاریگر چیز کو مرنے نہیں دیتے یہی ان کا کمال اور
روزگار ہے۔ آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ مریض لبر
کی راہ لے گا۔ مریض کا مرنا ڈاکٹر کے پیٹ پر لات
رسید ہونے کے مترادؾ ہے۔ کوئی بھی سیانا ڈاکٹر
مریض کو مرنے نہیں دیتا ہاں آہستہ آہستہ مرے
جیسی حالت ضرور کر دیتا ہے۔ آپ کسی ایک مرض
کے حوالہ سے جائیں گے تو پانچ سات بیماریاں
تشخیص میں آجائیں گی۔ اگر ذاتی ٹیسٹ گاہ ہے تو اور
بھی اچھا۔ کلینِک کے باہر ذاتی دوا گاہ ہوتی ہے۔
ٹیسٹ لکھوائی فیس ،ٹسٹ کروائی فیس ،دوا دلوائی
فیس گویا ایک پنتھ سو کاج۔ اگر ٹیسٹ گاہ نہ ہو تو
مخصوص ٹیسٹ گاہ کا رستہ دکھایا جاتا ہے۔ کیوں‘ ان
سے فیصد کا مک مکا ہوا ہوتا ہے۔ گویا مریض کی
آنیاں جانیاں ہی کامیاب ڈاکڑ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔
جوان مریض من و سلوی سے کسی طرح کم نہیں
ہوتا۔ اس کے گھر والے خرچہ کرنے سے پرہیز نہیں
کرتے۔ گھر والوں کے لیے بےکھیسہ بابا معنویت نہیں
رکھتا۔ اس کی کھانسی اور چاء پانی عذاب مفت ہوتا
ہے۔ اس کا علاج علامتی اور محض نک رکھائی ہوتا
ہے۔ مال دار بابا مال پر سانپ کے مترادؾ ہوتا ہے۔
مالدار بابے کی فراؼت کے اس کے اپنے دل و جان
سے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس کے لیے بھاگ دوڑ بابے
کے لیے دکھلاوا ہوتی ہے۔ بے گرہ بابے کے لیے
کوشش دنیا والوں کا منہ بند کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
ڈاکٹری ایک بزنس ہے اور بزنس میں کسی چیز کو
ؼلط اور ہیرا پھیری کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مال خرچ
کرکے مال حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹری کی تعلیم
مفت تو حاصل نہیں کی گئ ہوتی۔ اسی طرح ٹسٹ
مشینوں اور ان کے کاریگروں کو ماہانہ دیا جاتا ہے۔
کلینک کے باہر بازار سے مہنگا میڈیکل سٹور مفت
میں نہیں بنایا گیا ہوتا۔ دوسرا ہنر کے پیسے وصولے
جاتے ہیں۔ ٹی وی میں معمولی نمص ہی کیوں نہ ہو
کاریگر اپنے ہنر کی کھٹی کھاتا ہے۔ ڈاکڑ مریض کے
گھر نائی تو نہیں بھیجتا۔ وہ خود اپنی مرضی اور
ضرورت کے حوالہ سے از خود چل کر آتا ہے‘ نہ
آئے۔ ایک در بند سو در کھلے۔
ڈاکٹر کے ہاں مریض کا آن جان نہ رہے تو ڈاکٹری کی
تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔ درج بالا حالات اور
معروضات کے تحت مریض کی موت اور کامل صحت
ڈاکٹر کے لیے کسی طرح سود مند نہیں۔ مریض کے
نصیب میں مرض گھٹ گھٹ کر مرنا لکھ دیتا ہے۔
جس مریض کے متعلك یمین ہو جائے کہ اب اور زندہ
نہیں رہے گا اس کو دوا وؼیرہ دے کر گھر کا رستہ
نہیں دکھایا جاتا آخری لمحوں تک کے دام کھرے
کرنے کے لیے روک لیا جاتا ہے۔ عہد حاضر کی
مسیحائی کا تماضا یہی ہے۔ سوال کا جواب تشفی بخش
نہ ہو تو آزمائش کا رستہ بالی ہے۔
بہت خوب ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔آپ کی اس تحریر سے اتنا
تو اندازہ ہوا کہ آپ وہ والے ڈاکٹر نہیں ہیں ورنہ اتنی
خوش اسلوبی سے ان کے کارنامے بیان نہ کرتے۔
۔آپکی اس تحریر سے پھر سے سوالات ابھرتے ہیں
کہ بگاڑ کر ہی فائدہ کیوں ہے؟ جب کہ روزی دینے
والا تو الله ہے۔ کیا صرؾ ہمارے ہاں ہی بگاڑ سے
فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا یہ مرض سب جگہ موجود ہے؟۔
آپ نے درست سمجھا وہ والا ڈاکٹر نہیں ہوں ہاں البتہ
ان وہ والوں سے پالا رہتا ہے۔ صاؾ ظاہر ہے آپ کی
اماں ماجدہ اور میری زوجہ محترمہ اور میری چولیں
درست نہیں رہیں۔ کچھ ناکچھ ہوا ہی رہتا ہے۔ بیٹا میں
نے بڑی باریکی سے مطالعہ کیا ہے انسان تو کیڑا
مکوڑا بھی نہیں رہا۔ بے ترسی اور بے رحمی کی حد
ہو گئ ہے۔ پہلے گاڑیاں پہیہ سے چلتی تھیں اب لہبی
انسان بھی پہیہ سے چلتا ہے۔ سوال یہ کہ ایسا کیوں
ہے تفصیلا پھر کبھی عرض کروں گا ہاں اب صرؾ
اتنا کہوں گا انسان کا ایمان وہ نہیں رہا جو بدر میں
تھا۔ اب ہم الله کی ذات گرامی کو زبانی کلامی مانتے
ہیں۔ زبانی کلامی کا جمع خرچ اور حاصل ضرب
موجودہ سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔
http://www.friendskorner.com/forum/showthread.php/
آزمائش-کا-رستہ-بالی-ہے292377-
بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے
کہا جاتا ہےکہ جمہوریت کی بساط ووٹ پر کھڑی ہے۔
کتنےاور کون سے ووٹ کا نتارا کہیں اور کسی سطع
پر نہیں ملتا۔ یہ موضوع الگ سےگفتگو کا تماضا کرتا
ہے تاہم یہ طے ہے کہ جمہوریت میں عوام کو کلیدی
حیثیت حاصل ہے۔ موری ممبر سے لے کر لومی
اسمبلی کےمبر تک ایک عام اورؼریب آدمی کے ووٹ
کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان منتخبہ لوگوں کے ہاتھوں
کی طرؾ صدر وزیراعظم سپیکر وؼیرہ دیکھتے ہیں
اور یہ نیچے کے ہاتھ ناصرؾ اوپر آجاتے ہیں بلکہ
اپنےعرصہءالتدار کےدوران اپنے پورے وجود کی
برائی کے ساتھ عوامی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان
میں سےایک ہاتھ سب کےاوپر رہتا ہےاوروہ کسی
ہاتھ لانون یا ریاست کےسامنےجوابدہ نہیں ہوتا‘ ہاں
ہرکوئ اس کےحضور جوابدہ رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر
یا کروا سکتا ہے۔
یہ معمہ حل طلب ہے کہ بھگوان ساز کمی کمین کیوں
ہو جاتا ہے۔ اس کےمساءل کو تھانے کچری
اوردفاترکےرحم وکرم پر کیونچھوڑ دیا جاتا ہے۔
بھگوان ساز کو چھوٹ ملنی چاہیے جبکہ بھگوان
کواس کی بےاصولی اور نالص بھگوانی کی صورت
میں تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پر چھوڑنےکی
ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام آفالی اور دین فطرت ہے۔ یہ ہر لسم کی تفریك
مٹا کر سوسائٹی میں توازن پیدا کرتا ہےاور ہر کسی
کو عزت احترام اور انسانی حموق عطا کرتا ہے۔ بڑے
چھوٹے کالےگورےوؼیرہ کےحلموں سےمکتی دلاتا
ہے۔ اس کےضابطےاوراصول محض زبانی کلامی سے
تعلك نہیں رکھتے بلکہ محمود وایاز کوایک صؾ میں
لا کھڑا کرتا ہے۔ حموق وفرائض کے حوالہ سے کسی
کو کسی معاملہ میں کسی سطح اور کسی ممام پر
برتری یاچھوٹ حاصل نہیں۔ ہر کسی کو برابر کے
شخصی اورانسانی حموق حاصل ہیں۔ اس کی بنیادی
وجہ یہ ہے کہ اصل مالک توالله ہے۔اگر کوئی کسی کو
کچھ دیتاہےتواپنے پلےسے نہیں دیتا بلکہ الله کے
عطا کءے گئے میں سے دیتا ہے۔ یہاں زمین پر کسی
کا اپنا اورذاتی کچھ بھی نہیں۔ انسان اپنےسانسوں تک
کا مالک نہیں۔ اس حمیمت کی بنیاد پر فخروافتخار کے
تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ یہ منہ زبانی بات نہیں
اس کی تاریخ میں مثالینموجود ہیں۔ حضرت عمرخلیفہ
ثانی حضرت بلال کو “سیدنا“ کہا کرتے تھے۔
گویااسلام میں انسانی تفریك جرم کےمترادؾ ہے۔
اسلام صرؾ اور صرؾ صاحب تموی کو فضیلت عطا
کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حموق میں
اوروں سے بڑھ کر ہو جاتا ہے یا فراءض سے بری
الزمہ ہو جاتاہے۔ اسےاسلام کسی بھی سطح پرالگ
ترمخلوق لرار نہیں دیتا۔ فرائض کی بطریك احسن
ادائیگی کے سبب اسےعزت میسرآتی ہے۔ اس سے
بڑھ کر یہ کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ
مزید باریک اورعاجز مزاج ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار
اور جاندار ہو جاتاہے۔ وہ سوسائٹی کے لیےمثال بن
جاتاہے۔ آتا ولت اسے سلام و پرنام کرتا ہے۔ جس
سماج میں اونچ نیچ کے لیے راہ نکل آتی ہے یا نکال
لی جاتی ہے وہاں زندگی ہرسطح پر بےچین بے تولیر
اور ؼیرآسودہ ہو جاتی ہے۔ پھر ہر طالتور کے لیے
چھوٹ کے رستے تلاش لیے جاتے ہیں۔
چھوٹ کی سرحدیں وسیع ہونےکی میرے پاس ایک
تازہ تازہ اورسانس لیتی مثال موجود ہے۔ ایک اخباری
اطلاع کےمطابك
خبریں کی خبر پر ایکشن‘ ڈیپٹی ڈائرکٹر کالجز ظفرالله
بھٹی کو عوامی مفاد کے پیش نظر تبدیل کردیا
گیا‘سیکریڑی ہائرایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ کی طرؾ سے
جاری کردہ چھیثی کےمطابك ڈیپٹی ڈائرکٹر کالجز کی
سیٹ پر کام کرنے والے ظفرالله بھٹی کو ان کےعہدے
سے ہٹا دیا گیا ہے اوران کی جگہ پروفیسر اشتیاق
احمد چیمہ کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دئے
گئے ہیں۔ ظفرالله بھٹی کےخلاؾ متعدد کیسز انسانی
اسمگلنگ کےجرم میں لائم کئےگئے جن کی میڈیا
کوریج ہونے پراعلی حکام نے ایک تحمیما تی کمیٹی
لائم کی جس کی رپورٹ کے بعد سیکریڑی
ہائرایجوکیشن نے ظفرالله بھٹی کوعہدے سے برطرؾ
کرکے پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کو تعینات کر دیا
روزنامہ خبریں‘روزنامہ ایکپریکس لاہور
لیکچرار ظفرالله بھٹی تعینات ڈی ڈی سی لصور جسے
برطرؾ کیا گیا تھا کودوبارہ سےبحال کر دیا گیا ہے۔
:اس کے تین چار معنی سمجھ میں آتے ہیں
١۔ انکوائری رپورٹ ؼلط تھی۔ معاملے کی تحمیك میں
گڑبڑ کی گئ
٣۔ کوئی عوامی لیڈراپنے مفادات کے حوالہ سے سد
راہ بنا۔
٣۔ باباجی کوتکلیؾ دی گئی اور مفت میں مرؼےکی
گردن ماری گئی۔
٤۔ جرم کی سزا میں بااختیار لوگوں کو چھوٹ حاصل
ہےاور یہ اختیاران تک ہی محدود نہیں
سزا صرؾ اورصرؾ کمزور کا ممدر بن جاتی ہے۔
ایسے سماج ذلت و خواری کی دلدل میں پھنس
کراپنا وجود کھو دیتےہیں۔درگزر معافی مٹی پاؤ
کےحوالہ سے بات اس لیے ہوتی رہی ہے کہ ماضی
میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس مٹی پاؤ برتاؤ کے باعث آج
یہ نظریاتی مملکت بھوک پیاس اوراندھیروں کے
جنگل میں کھو گئی ہے۔ مار دھاڑ اور لوٹ کھسوٹ
زندگی کا ممصد بن گی ہے۔ زندگی بےاعتبار ہو کر رہ
گئی ہے۔
درگزر اور معافی بری جیز نہیں لیکن اسے چند لوگوں
تک محدود رکھنا کسی طرح درست نہیں۔ اس کا حلمہ
وسیع ہونا چاہیے۔ معافی میں تمام کو شامل کر لینے
سےالتصادی حوالہ سے بڑافائدہ ہو گا بلکہ ؼیر متولع
بچتیں ہوں گی اور کاروبار میں تیزی آجائے گی۔
اگرعام معافی کااعلان کر دیا جائے تواس پرکچھ خرچ
نہیں آئے گا۔ ہاں اس سے بہت ساری عمارتیں خالی
ہو جاءیں گی جہاں گریب عوامی لیڈر اپنے کاروبار
کرسکیں گے۔ یہ عمارتیں انھیں الاٹ کردی جائیں تاکہ
آنے لوگ ان سے واپس نہ لےسکیں۔ ہر دور میں
جائدادیں اسی طرح عطا ہوئی ہیں اسی طرح نوابی ان
کا ممدر بنی اوروہ آج بھی نواب صاحب کے درجے پر
فائز ہیں۔ یہاں اس طرح کے وساءل کی کمی نہیں گویا
آتے ولتوں کےعوامی لیڈر مرحوم نہیں رہیں گے۔ آج
کی فکر ضروری ہے کل کےلوگ اپنے معاملات خود
دیکھ لیں گے۔ وہ ہاتھ پیرعمل داؤپیچ اورگر لے کر
پیدا ہوں گے۔ لہزا اس امرکی کی یکسر فکر نہیں ہونی
چاہیے۔
عام معافی کےاعلان سے چار اور بھی فائدے ہوں
:گے
١۔ لیدی اپنےاپنےکام کی طرؾ لوٹ سکیں
گےاورانھیں مستمبل میں پکڑے جانے کا خوؾ نہیں
ہو
٢۔ ہزاروں محکمہ جیل خانہ جات کےملازمین پر
بےکاراٹھنے والی رلم بچ جائے گی اور یہ رلم عظیم
ہاؤسز اور ان کے باسیوں کی جان بنانےکے کام
آسکے گی اوران کی ۔کار گزاری کو بہتربنایا جا سکے
گا۔
٣۔ مہامنشی ہاؤس سےایک منسٹری فارغ ہوجائےگی
اس طرح اچھا خاصا عملہ فارغ ہوکرمحکمہ جیل خانہ
جات کی عمارتوں کے مالکان کی خدمت سرانجام دے
کرعوام کی داد و تحسین حاصل کر سکیں گےاوران
کے دلوں میں جگہ بنا سکیں گے۔
٤۔ دیا کندہ اور اس کی پاٹی کا یہ لاکھوں پر مشتمل
ووٹ بنک ہو گا۔
عوامی نمائندے مسائل' اور بیورو کریسی
عوامی نمائندے مسائل' اور بیورو کریسی ایک
دوسرے کی دشمن ریاستیں معاملات حیات میں ایک
دوسرے کی حریؾ بھی ہوتی ہیں۔ سبمت لے جانے کا
جذبہ انھیں ہر لمحہ متحرک رکھتا ہے۔ چھوٹے
چھوٹے معاملات میں ان کے ہاں ضد کار فرما رہتی
ہے .ایک دوسرے کی معمولی کامیابی انھیں وارہ نہیں
کھاتی۔ وہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے موالع
تلاشتی رہتی ہیں۔ اس صورت حال میں اچھے اور
برے پہلو موجود رہتے ہیں۔ اچھا پہلو یہ ہے کہ وہ
متحر ک رہتی ہیں اور ضد و ضدی اپنے حوالہ سے
بہتر کرتی ہیں۔ سائنس ٹیکنالوجی میں کمال حاصل
کرتی ہیں۔ ان کا شعبہ تعلیم ترلی کرتا ہے۔ نئے وسائل
کی کھوج میں کوئ دلیمہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ پرانے
وساءل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی سعی کرتی
ہیں۔ ان کے مزید تصرفات تلاشتی ہیں حرکت اور
تحمیك و تلاش کے زیر اثر خوشحالی اور معاشی
آسودگی ان کا ممدر ٹھرتی ہے۔ دشمن اور حریؾ
ریاست سے کچھ بھی لبولنا انھیں خوش نہیں آتا۔
انھیں مرنا' کچھ لبولنے یا وصولنے سے آسان لگتا
ہے۔ کچھ لبولنا یا وصولنا' ان کی انا کی موت ہوتی
ہے۔ انا کی موت حمیمی موت سے کہیں بدتر ہوتی ہے۔
انا کی موت انھیں صدیوں تک بےچین اور بےکل
رکھتی ہے۔ انا کا مرنا یا مجروع ہونا لوموں کے لیے
ایسا زہر ہوتا ہے جو دن کا چین اور راتوں کی نیند
چرا لیتا ہے۔ پاکستانی لیڈروں اور حکمرانوں کو چھوڑ
کرامریکہ کو پاکستانی لوم کا لبر میں پڑا مردہ بھی
پسند نہیں کرتا لیکن پاکستانی لوم کبھی بھی امریکہ
کی حریؾ بن کر
سامنے نہیں آ سکی۔ کسی میدان میں ممابلے کا
رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔
حالانکہ پاکستانی لوم امریکی لوم سے سو فیصد امیر
ہے۔امریکی ان کا کبھی بھی ممابلہ نہیں کر سکتے:
.1لدرتی وسایل امریکہ سے کہیں بڑھ کر ہیں۔
.2تھوڑی اجرت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔
.3تھوڑی اجرت میں زیادہ ولت دے سکتے ہیں۔
.4موسم زیادہ ہیں۔
.5لدرتی ماحول زیادہ سازگار ہے۔
.6محنتی اور بلا کے ذہین ہیں۔
.7پھل اور سبزیوں کے حوالہ سے دنیا کا کوئی خطہ
اس کے ممابلہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔
.8ممابلے کا جذبہ ان سے بڑھ کر ہے۔
.9زمینی حالات کہیں بہتر ہیں.
ا .تمام ممدس کتب اس کی زبان میں پڑھنے کو مل
جاتی ہیں
ب .مذہبی لٹریچر دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے۔
.10ان کی زبان ہزاروں سال پرانی ہے۔ زبان و ادب
کے حوالہ سے کوئی زبان اس کے ممابل کھڑی نہیں
ہو سکتی
.11یہ بڑی سخت جان لوم ہے۔ زمینی سماوی اور
طالع آزما لوگوں کے حوالہ سے اس خطہ کے باسیوں
نے سب لوموں سے زیادہ مصائب جھیلے ہیں اور
جھیل رہی ہے.
.12شعری ادب جس میں انملابی کلام بھی شامل ہے
امریکہ کیا' مؽرب کی تمام لوموں سے زیادہ موجود
ہے .مؽرب کی زبانیں ایک میر یا استاد ؼالب دکھانے
سے لاصر ہیں.
یہ سب ہوتے ہوئے بھی یہ لوم ناصرؾ مفلس وکنگال
ہے بلکہ دنیا بھر میں بدنام اور معتوب ہے۔ امریکہ
سے خار رکھتے ہوئے سوئے میرے' ہر کوئی اس
دیس جانے کی آرزو رکھتا ہے۔
کیوں?
کیا یہ دشمنی محض دکھلاوا اور منافمت کی دشمنی
ہے?
نہیں بالکل نہیں' یہ دراصل بھوک اور سیری کا معاملہ
ہے۔ امریکہ تکڑا لگتا ہے۔ ہر ماڑا تکڑے کی دانستہ یا
نادانستہ پیروی کرتا ہے۔ اس معاملے کو ڈیپٹی نذیر
احمد کا کردار ظاہردار بیگ واضح کرنے کے لیے
کافی ہے۔ اس سا دکھنے کے لیے ہم اس کے کلچر ہی
کو نہیں بلکہ اس کے نظریات کو بھی اپنا رہے ہیں۔
بےشمار انگریزی لفظ اردو مصادر کے ساتھ جڑ کر
ہماری گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس کے برعکس
ہماری زبان جو دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی
زبان یتیم بھی ہے اور مسکین بھی۔ لوگ' زبان* علالہ
اور سرمایہ کے اول درجہ ہونے کے باوجود ابتری کی
تیسری سطع یہاں کا ممدر کیوں بنی ہوئی ہے۔ اس کی
پہلی اور آخری وجہ اس کے لیڈر اور اس کی بالا اور
زیریں دفتر شاہی ہے۔ جب تک یہ لوم ان شاہجہانی
جوٹھوں سے نجات حاصل نہیں کر لیتی اس کی آزادی
خوشحالی اور آسودگی کا خواب کبھی بھی شرمندہ
تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ میں منہ زبانی بات نہیں کر
رہا :اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کو ملاحظہ
فرمائیں :پنجاب اسمبلی۔ بیوروکریسی کے رویہ پر
سخت تنمید۔ کرپٹ افسران کے خلاؾ کاروائی کا
مطالبہ۔ افسر شاہی لوٹ کر کھا جاتی ہے اورالزامات
سیاستدانوں پر لگتے ہیں۔ ایس ایچ او تک ہمارا مذاق
اڑاتے ہیں۔ یہ کوئ عام آدمی نہیں' لوم کے لرار پانے
والے نمائیندے اور آئین ساز فرما رہے ہیں۔ بااختیار
لوگوں کا یہ حال ہے توایک عام اور کمزور آدمی کی
وہاں کیا درگت بنتی ہو گی۔ شری رام دیو کو ایک راون
سے واسطہ تھا لیکن منشی ہاؤسز میں ان گنت راون
سب کواور سب کچھ ڈکارنے کے لیے بیٹھے ہوئے
ہیں۔ بااختیار لوگوں کی شکایت پر افسوس نہیں اشک
آمیز ہنسی آتی ہے۔ یہ ان سے ایک ؼلط اور ڈی میرٹ
کام لیں گے تو وہ دہ دنیا ستر آخر کےتناسب سے دس
ؼلط کام کریں گے۔ اس میں چیکنے والی کون سی بات
ہے۔ علالوں مں انتہائی جونئیر اور کرپٹ لوگ خود
سے تعینات نہیں ہو گئے ان کے کہنے پر تعینات
ہوئے ہیں۔ فائل ورک یہ نہیں جانتے لیکن لانون سازی
کا کام ان کےذمہ ہے۔ جب چور کی سفارش کریں گے
تو ایس ایچ او کیا ہر کوئی افسوس ناک اور پر تذلیل
ہنسی ہنسے گا۔ کہیں گے کہ ہم عوام کے نمائیندے
ہیں۔ یہ کس طرح عوام کے نمائیندے ہیں:
ا۔ عوام کی فلاح کے کام کرتے ہیں?
ب۔ انتخاب کا کام عوام کی طرؾ سے ہوتا ہے?
ج۔ دو تہائی ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں اور اس میں سے
+50ووٹ حاصل کرکے عوامی نمائیندے ٹھرتے ہیں
?
د۔ دو تہائی ووٹ کاسٹ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ
لوگ موجودہ انتخابی نظام کو مسترد کر چکے ہیں۔ یہ
عوام کے نمائیندے ہی نہیں ہیں عوام کی بہبود کے
لیے کیوں کام کریں گے۔ یہ اول تا آخر اپنی بہبود کے
لیے کام کرنے واے لوگ ہیں۔ زیریں کلرک شاہی اور
درجہ چہارم تک کے لوگوں کی فہرست یہ فراہم کرتے
ہیں۔ بالا کلرک شاہی' زیریں کلرک شاہی کے سہارے
چل رہی ہے۔ معمولی معاملے کی ذیل میں بھی یہ کن
پھوکیے ہاتھ دکھاتے ہیں۔ مسائل کیسے حل ہوں گے۔
نمائیندے عوام کے نہیں ہیں۔ چھوٹا سے چھوٹا افسر
ان سرکار کے ہاتھ کا ہوتا ہے۔ زیریں کلرک شاہی اور
درجہ چہارم تک کے لوگ ان کی پرچی اور فہرست
نوازی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں
بیوروکریسی کے رویے اور کرپشن پر تنمید کا ان
حضرات گرامی کو حك پہنچتا ہے?! ہاں یہ حك عوام
کے پاس موجود ہے لیکن وہ اپنا حك استعمال نہیں ر
سکتے۔ اگر کریں گے تو پہلے سے بھی جائیں گے۔
سڑکوں پر آئیں گے تو پولے کھائیں گے۔
------------------------------------------------------
----------------------------اس خطہ کی زبان کے
اس ولت تین رسم الخط
(نستعلیك/اردو'دیوناگری'رومن) مستعمل ہیں۔ پنجابی*
کے بھی تین رسم الخط ہیں لیکن پنجابی بولنے والے
اس زبان کو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ زبان دنیا
کی تمام زبانوں سے زیادہ آوازیں رکھتی ہے۔ اس کے
دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ لہجے ہیں۔ دنیا کی لدیم
ترین زبان ہے۔ اس زبان کا آؼاز حضرت ہند بن حام بن
نوح سے ہوا۔ لفظ ہندوستان بھی حضرت ہند بن حام بن
نوح کے حوالہ سے وجود پذیر ہوا۔ (ہند +
سنتان'ستان فارسی سے وارد نہیں ہوا ۔ یہ لاحمہ
سامی نہیں حامی ہے اور سنتان کی تبدیل شدہ شکل
ہے ہند استھان کی صورت میں بھی دیسی ہے) دنیا
کی کوئی زبان جذب واخذ میں اس کا ممابلہ نہیں کر
سکتی۔ ہاں اس کے رسم الخط اور نام بدلتے رہے ہیں
جن کا پڑھنا ابھی اہل گرہ کش کے ذمہ بالی ہے۔
سیری تک جشن آزادی مبارک ہو
میں اس امر کا متعدد باراظہار کر چکا ہوں کہ
برصؽیر دنیا کا بہترین خطہءارض ہے۔ یہاں کے
وسنیک بڑے ہی محنتی اور ذہین ہیں۔ میدان کار زار
میں بھی نالابل یمین کارنامے سر انجام دیتے آئے ہیں۔
سکندر دنیا فتح کرنے چلا تھا لیکن راجہ پورس سے
پالا پڑا تو اسے نانی یاد آ گئی۔ ٹیپو کا نام لے کر
انگریز مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں۔اہل للم بھی
بلا کے ذہین اور بے باک رہے ہیں۔ شاعر علامتوں
اشاروں میں تلخ حمیمتوں کو کاؼذ کے بدن پر اتراتے
آئے ہیں۔
پیٹو مورخ نے اورنگ زیب جو برصؽیر کو جہنم
میندھکیلنے کا موڈھی ہے‘ نبی کے لریب پنچا دیا ہے۔
رحمان بابا صاحب نے واضع الفاظ میں اس کی
کرتوتوں کی للعی کھول کر رکھ دی ہے۔
بہادر شاہ ظفر نےبڑے ہی رومانوی الفاظ میں اپنے
عہد کے کرب کو بیان کر دیا ہے۔ ذرا یہ شعرملاحظہ
فرمائیں کتنا کرب پوشیدہ ہے۔
چشم لاتل تھی میری دشمن ہمیشہ‘ لیکن
جیسی اب ہو گئی لاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
ذہانت کی پذیرائ تو بڑی دور کی بات‘ ان کی ذہانت کو
کبھی تسلیم تک نہیں کیا گیا بلکہ ذہانت کی تذلیل ہی
کی گئ ہے۔ ہنر مندوں کے ہاتھ کاٹے گئے ہیں۔ بعض
تو جان سے بھی گئے ہیں۔ اس کے برعکس کرسی
لریب گماشتوں اور کنمریب جھولی چکوں کو نوازا گیا
ہے۔ یہی جھولی چک اپنی عیاری کے بل پر کرسی پر
شب خون مارتے آئے ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں ؼداروں اور دھرتی کے
نمک حراموں کے سبب بیرونی طالع آزماؤں کے سبب
یہ دھرتی ؼیروں کی ؼلام رہی ہے۔ ؼیروں نے اس
کےوسائل سےموجیں کی ہیں خوب پچرے اڑائے ہیں
اوراڑا رہے ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ چلتا
رہے گا۔ یہ ؼدار اور دھرتی کے نمک حرام لوگوں کی
ذہانت کا اسی طرح
لیمہ کرتے رہیں گے۔ اس ذیل میں خدا کے خوؾ کی
بات کرنا حمالت سے کم نہیں۔
خدا‘ خدا کا خوؾ کھائیں؟ بادشاہ لوگوں کا شروع سے
یہی طور اور وتیرا رہا ہے۔ دور کیا جانا ہے آج کے
خدا نما بادشاہوں کو ہی دیکھ لیں کیا کر رہے ہیں۔
شخص ان کے لیے کیڑے مکوڑے سے زیادہ حیثیت
نہیں رکھتا۔ اس کی بھوک پیاس سے انہیں کوئی
ؼرض نہیں۔ انھیں تو باتوں اور جھوٹے دعوں کے
عوض جنتی اور مفتی کھانا مل رہا ہے۔ ان کی دلال
افسر شاہی تو گلچرے اڑا رہی ہے۔ لوگ اندھیروں
میں ہیں تو وہ کیا کریں ان کے ہاں تو چانن ہے۔ چودہ
اگست ہر سال آتا ہے۔
سرکاری اور نجی سطع پر جشن منائے جاتے ہیں۔
سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ میں یہاں کے ذہین
لوگوں کی بات کر رہا تھا اس دن کے حوالہ سے میں
اس ذہین و فطین شخص کو سلام کرتا ہوں جس نے یہ
نعرہ ایجاد کیا
-----جشن آزادی مبارک ہو------
جشن آزادی کی مبارک ہے آزادی کی نہیں۔ نعرہ نے
کمال کا ہاتھ دکھایا ہے۔ وہ جانتا تھا ہم آزاد نہیں‘
آزادی کا سہانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنے
اور خوش فہمی میں مبتلا رہنے پر کوئی پابندی تو
نہیں ورنہ لوم خادم اور حکومتی گماشتوں کی ؼلام
ہے۔ یہ خادم اور حکومتی گماشتے امریکہ کے پیٹھوں
کے ؼلام ہیں۔ کیسی آزادی کہاں ہے آزادی؟جو لوگ
منصؾ کے درپے ہو جاتے ہیں‘ اسے نیچا دکھانے
اور اپنا دلال بنانے پر اتر آتے ہیں انھیں الله ہی اپنی
گرفت میں لے سکتا ہے۔ وہ صم بکم عم فاھم لا
یرجعون کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ لوم کے
حصہ میں فمط جشن آیا ہے سو وہ دھوم سے منا رہی
ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی صرؾ جشن پر
ہی اکتفا کرے۔جو لوگ منصؾ کے درپے ہو جاتے
ہیں‘ اسے نیچا دکھانے اور اپنا دلال بنانے پر اتر آتے
ہیں انھیں الله ہی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ وہ صم
بکم عم فاھم لا یرجعون کے درجے پر فائز ہو جاتے
ہیں۔ لوم کے حصہ میں فمط جشن آیا ہے سو وہ دھوم
سے منا رہی ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی
صرؾ جشن پر ہی اکتفا کرے۔
میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ملک کا
آئین معطل یا چیلنج ہو چکا ہے۔ میری اس تحریر کو
کسی ایک نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ اس نام نہاد جشن
آزادی کی کرتوت یہ ہے کہ ملک چیلنج یا معطل آئین
کے حوالہ سے چل رہا ہے۔عوام آخر کس لانون اور
آءین کے تحت جشن منا رہے ہیں۔ یہ جشن بھی ؼیر
آءینی ہے۔ عوام کو تو جھوٹ موٹھ کی خوشی منانے
کا بھی حك حاصل نہیں۔ سال رواں کے اس روائتی
جشن کے مولع پر مجھے محمد نعیم صفدر انصاری ایم
پی اے لصور کا ایک موبائل میسج ملا۔۔۔۔۔۔۔ زنجیریں
ؼلامی کی‘ دن آتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی ۔ چودہ
اگست ہپی انڈیپنڈنس ڈےمحمد نعیم صفدر انصاری
نوجوان سیاست دان ہے۔ اس کا موبائل میسج میرے
مندرجہ بالا مولؾ کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
ایک ایوان کے ممبر کے موبائل کے منہ سے نکلی یہ
بات اس امر کا واضع ثبوت ہے کہ ملک اور لوم کا
درد رکھنے والے نوجوان بھی اس ؼلام اور ؼبن اور
کرپشن آلودہ فضا میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔
محمد نعیم صفدر انصاری ایوان کلچر کا نمائندہ ہےگویا
یہ ون مین گھٹن نہیں ہے پورے ایوان کی گھٹن ہے۔
یہ تو مثل ایسی ہے کہ بہو کو کہا جائے بیٹا سب کچھ
تمہارا ہے لیکن کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ کیسی
نمائندگی اور علالائ سربراہی ہے کہ لیا سب کچھ
جائے لیکن دیا اندھیرا جائے اور پھر بھی مورخ سے
کہا جائے لکھو بادشاہ بڑا دیالو کرپالو اور دیس بھگت
تھا۔ بہر طور مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے ایوانوں
میں محمد نعیم صفدر انصاری جیسے نمائندے موجود
ہیں جو اس امر کا شعور رکھتے ہیں کہ پاکستانی لوم
کے ہاتھ صرؾ جشن آزادی لگا ہے‘ آزادی ابھی
کوسوں دور ہے۔ پرانی نسل دیسی گھی کھاتی تھی اس
کے جسم میں وافر خون تھا۔ دیسی گھی تو دور کی
بات اس کے پاس تو سوکھی روٹی بھی نہیں۔ خون
کہاں سے آے گا۔ آزادی خون مانگتی ہے اس لیے پیٹ
بھرنے تک جشن آزادی کی مبارک باد پر ہی گزارا
کرنا کافی رہے گا۔
لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت
لوٹا کوئی عہد جدید کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پہلے
وجود میں آ کیا تھا اور اس نے اپنی بہترین کارگزاری
کے حوالہ سے انسانی زندگی میں بلند ممام حاصل کر
لیا۔ اس کے وجود سے انسان خصوصا برصؽیر کے
بااختیار اور صاحب حیثیت لوگوں نے خوب خوب
فاءدہ اٹھایا۔ دیکھا جائے یہ کمزور اور گریب طبمے
کی چیز ہی نہیں۔ پکے محل رکھنے والے اس کی
کارگزاری کے معترؾ رہے ہیں۔ کمزور اور گریب
طبمے سے متعلك لوگ کچے اور تعفن کے مارے
گھروں میں رہتے ہیں اس لیے ان کی گزر اولات
گھیسی سے ہو جاتی ہے۔ اس حیمیت کے پیش نظر
لوٹے کو بلند پایہ طبموں کی امانت سمجھنا چاہیے۔
موجودہ بتی کے بحرانی دور میں بھی بڑے لوگوں کو
گھیسی نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ سعادت صرؾ اور صرؾ
کمزور اور گریب طبمے کے ممدر کا حصہ رہے گی۔
لوٹا" کو آفتابہ بھی کہا جاتا رہا ہے لوٹے کو استاوا "
بھی کہتے ہیں اور یہ لفظ دیہاتوں میں آج بھی
مستعمل ہے۔ تاہم شہروں میں مستعمل اور معروؾ لفظ
لوٹا ہی ہے۔ یہ ایک لسم کا ٹونٹی والا برتن ہوتا ہے
جو پاخانہ وؼیرہ کے لیے پانی سے طہارت کرنے والا
برتن ہوتا ہے۔ مؽرب والے اس برتن اور اس کی
افادیت سے آگاہ نہیں ہیں کیونکہ وہ طہارت کا کام
ٹیشو پیپر سے چلاتے ہیں۔ ویسے ٹیشو پیپر کا
استعمال کھانا کھانے کے بعد ہاتھ صاؾ کرنے کے
لیے بھی ہوتا ہے۔ اصطلاحا ٹیشو پیپر کے معنی اس
سے مختلؾ ہیں۔ کام نکل جانے کے بعد آنکھیں بدل
لینا کے لیے یہ مرکب استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال
شدہ ٹیشو پیپر معنویت کھو دیتا ہے۔ انسان کے لیے
اس مرکب کا استعمال کرنا مناسب نہیں لگتا کیونکہ
انسان کی دوبارہ سے ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ
ٹیشو پیپر دوبارہ سے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔
دوبارہ سے ضرورت یا حاجت کے لیے نیا ٹیشو پیپر
استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انسان دوبارہ
سے کیا' بار بار استعمال میں لایا جا سکتا ہے .ٹیشو
پیپر کا ہاتھ اور پیٹھ کی صفائ کے علاوہ کوئی لابل
ذکراستعمال موجود نہیں۔
مساجد میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے آج
بھی زیادہ تر مٹی کے لوٹے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔
کہیں کہیں پلاسٹک کے لوٹے بھی دیکھنے کو مل
جاتے ہیں۔ جماعت والے جب چلے پر جاتے ہیں
پلاسٹک کے لوٹوں کو ترجیع دیتے ہیں کیونکہ ان کے
ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ سفر میں لوٹا ٹوٹنا یا بہہ جانا
نہوست ہی نہیں مکروہات میں بھی ہے۔ لوٹے کی
سلامتی میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔ طہارت کا
سارا دارومدار لوٹے پر ہوتا ہے۔ لوٹا برلرار ہے تو
طہارت برلرار ہے۔ طہارت برلرار ہے تو ہی عبادت
ممکن ہے۔
شہر کے گھروں میں کانسی سلور سٹیل چاندی
پلاسٹک وؼیرہ دھاتوں کے لوٹے دیکھنے کو مل
جاتے ہیں۔ ایوا نوں میں پلاسٹک کے لوٹے استعمال
ہوا کرتے تھے ؼالبا آج بھی پلاسٹک کے لوٹے
استعمال ہوتے ہیں۔ فیشنی دور ہے ٹیشو پیپر بھی بڑی
افادیت رکھتے ہیں۔ ٹیشو پیپر کو لوٹے کا مترادؾ
سمجھا جاتا ہے۔ حمیت یہ ہے کہ ۔ ٹیشو پیپر لوٹے کا
متبادل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں پانی کا عمل
دخل نہیں ہوتا دوسرا ٹیشو پیپر ایک سے زیادہ بار
استعمال نہیں ہو سکتا۔ گویا گھیسیی اور ٹیشو پیپر
برابر کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ گھیسیی طہارت کے حوالہ
سے زیادہ معتبر ہے۔ مٹی سے وضو تک کیا جا ستا
ہے۔ وضو کی ضرورت نماز تک محدود ہے۔ ہہاں لوگ
بسم الله شریؾ تک درست نہیں پڑھ سکتے لہذا ٹیشو
پیپر کا استعمال ایسا ؼلط نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اس
لماش کے لوگ گھیسی بھی کر لیں تو کوئ برائ نہیں۔
طہارت کے لیے لوٹا' گھیسی یا ٹیشو پیپر نہ بھی
استعال میں لائیں تو بھی ان کی سر جاءے گی۔ یہ لوگ
عوام کا ووٹ حاصل کرکے طہارتیوں میں شمار ہوتے
ہیں۔ ان کی پاکی پلیدی پر انگلی نہیں رکھی جا سکتی۔
لوٹے کے چھوٹا یا بڑا ہونے کے حوالہ سے بات ہوئ
ہے لوٹا چھوٹا ہو یا بڑا' بظاہر ا س سے کوئ فرق
نہیں پڑتا۔ لوٹا اول تا آخر لوٹا ہے کہاں تک ساتھ دے
گا۔ مٹی کا لوٹا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ لوٹےکے بڑا یا چھوٹا
ہونے سے اچھا خاصا اثر پڑتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں
پانی کم پڑتا ہے اس لیے طہارت کے لیے دو سے
زیادہ لوٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے
برعکس بڑا لوٹا بڑی حد تک ایک ہی کافی ہوتا ہے۔
رہ گئی ٹیشو پیپر یا گھیسی کی بات ٹیشو پیپر بڑے
ایوانوں یا بڑے گھروں کے کام کی چیز ہوسکتی ہے
لیکن دیہاتوں یا جھونپڑوں کے ممیم اسے
گھیسی یا کچے روڑے کےاستعمال کو ترجیع میں
رکھتے ہیں۔
لوٹے کا اصطلاحی استعمال بڑے ایوانوں میں ہوا کرتا
تھا اصطلاحی لوٹا عوام کے متعلك چیز نہ تھی اور نہ
ہی ایوانی لوٹوں پر کسی لسم کی بات کرنے کا حك تھا
۔ ان کی یہ اولات بھی نہ تھی کہ وہ ایوانی لوٹوں کے
متعلك کوئی بات اپنی ناپاک زبان پر لائیں۔ لوٹے اپنی
اولات اورافادیت کے حوالہ سے بڑی
importance
رکھتے ہیں۔ کمی کمین عوام جو دوچار بتی کھچ
جھٹکوں کی مار نہیں ہیں' تمدس ماب لوٹوں پر اپنے
حوالہ سے ایک شبد بھی منہ سے نہ نکالیں۔
ان کی اتنی جرات اور ہمت کہاں حالانکہ لوٹوں کے
بارے ہاں کی بملم خود رائے موجود رہی ہے۔ عوام کو
صرؾ اور صرؾ رائے دہی کا حك حاصل ہے۔ اگر
مخالؾ فریك کے ڈبے میں ووٹ چلا جاتا ہے تو رائے
دہی کا حك' داھندلی کے لمب سے ملموب ہوتا ہے۔
میں اصل نمطے کی بات عرض کرنا بھول گیا ہوں
لوٹے کی ہیت ترکیبی ٹونٹی تک محدود نہیں پیندے کا
اس میں بنیادی رول ہوتا ہے۔ مٹی کے بعض لوٹے بلا
پیندے کے بھی رہے ہیں۔ اس لسم کے لوٹوں کے لیے
پیالہ نما جگہ بنا دی جاتی تھی لیکن پیندے وا لے
لوٹے پیالے کی سعادت سے محروم رہتے تھے۔
پلاسٹک کے لوٹے باپیندا ہوتے ہیں ہاں زیادہ استعمال
کے باعث ان کا پیندا ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن ٹوٹ
پھوٹ کے باوجود پیندے کا نام و نشان بالی رہتا ہے۔
انھیں استعمال کی کسی بھی سطع پر بے پیندا لوٹا
لرار نہیں دیاجا سکتا۔ استعمال کے سبب نیچے سے
کتنا بھی ٹوٹ جاءے پیندے کا نشان ضرور بالی رہ
جاتا ہے۔ معمولی نشان بھی اسے باپیندا لراردینے کے
لیے کافی ہوتا ہے۔
سیانے مولوی اپنا طہارت خانہ الگ سے رکھتے ہیں
لہذا ان کا لوٹا بھی اوروں سے الگ تر ہوتا ہے۔ اس
طر ح مولوی صاحب کا لوٹا' ممدس لوٹا ہوتا ہے۔ دفاتر
میں عملے کے طہارت خانے عام استعمال میں رہتے
ہیں اس لیے وہاں کے لوٹے کسی خاص دفتری کے
لیے مخصوص نہیں ہوتے ہاں البتہ افسروں کے
طہارت کدے ان کے دفتر کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ ان
طہارت کدوں کے لوٹے بڑی معنویت کے حامل ہوتے
ہیں۔ بعض افسر ٹیشو پیپر استعمال میں لاتے ہیں'
وہاں لوٹے نہیں رکھے جاتے ۔ کچھ افسرز کے طہارت
کدوں میں دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مولع کی
مناسبت سے لوٹے یا ٹیشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں
تاہم ان کے طہارت کدوں کی آن بان اور شان ہی کچھ
اور ہوتی ہے۔
حضرت پیر صاحبان کے واش روم زیر بحث نہیں
لئےجا سکتے کیونکہ حضرت پیر صاحبان نیک پاک
اور عزت کی جگہ پر ہوتے ہیں۔ یہ اپنی خانماہ میں
ہوں یا کسی ایوان کی زینت بڑھا رہے ہوں' ان کے
لوٹے دوہرے کام کے ہوتے ہیں .نہ گھومیں تو چاند
گھوم جائں تو زنجیر وٹ پر رہتی ہے۔ بہرطور طہارتی
اور پرچی نکالنے والے لوٹے الگ ہوتے ہیں اس لیے
ان کے حوالہ سے بات کرنے پر پاپ لگتا ہے۔ ایوانوں
میں تشریؾ رکھنے والے حضرت پیر صاحبان سیاسی
کھیل کے لیے پیندے اور بےپیندے لوٹے استعمال میں
لاتے رہتے ہیں اور یہ ان کا پروفیشنل حك بھی ہوتا
ہے لہذا کسی کو کوئ حك نہیں پہنچتا کہ وہ حضرت
پیر صاحبان کے لوٹوں کی جانب میلی نظر سے بھی
دیکھنے کی گستاخی کرے۔ اس لسم کے لوگوں کی
زمین پر ٹہوئی نہیں ہوتی۔
کوئ لوٹا نواز ہک پر ہتھ مار کر نہیں کہہ سکتا کہ
لوٹا زندگی کے کسی موڑ پر اپنی مرضی سےاوور فلو
ہونے کی گستاخی کرتا ہے۔ یہ لوٹے دار کی ؼلطی
کوتاہی بے نیازی یا بے دھیانی کے سبب اوور فلو
ہوتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں بڑے لوٹے کے برابر پانی
ڈالو گے تو ہی بات بگڑے گی۔ اسی طرح بڑے لوٹے
میں چھوٹے لوٹے کا پانی طہارتی امور سرانجام نہیں
دے سکتا۔ لوٹا دار کا فرض ہے کہ وہ تناسب کو ہاتھ
سے ناجانے دے۔ استاد ؼالب بلا کا لوٹا شناس تھا.
:تبھی اس نے کہا تھا
دیتے ہیں بادہ ظرؾ لدح خوار دیکھ کر
اماں حوا سے متعلك کہا جاتا ہے کہ وہ آدم کی بچی
ہوئی مٹی سے بنائی گئ تھیں۔ میں اس بات کو نہیں
مانتا تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔ ایک عام آدمی کا
خیال ہے کہ ہمارے ہاں کے لوٹے استاد ؼالب کے
کسی نہایت حرامی لوٹے کی بچی ہوئ مٹی سے وجود
پذیر ہوئے ہیں۔ میں اس عمیدے پر یمین نہیں رکھتا
تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔
جگہ' لانون' لوگ اورحکومت کسی بھی ریاست کے
وجود کے لیے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ ان کے
بؽیر ریاست وجود میں نہیں آ سکتی۔ ان میں سے ایک
عنصر بھی شارٹ ہو تو ریاست نہیں بنتی۔ حکومتی
ایوانوں میں لوٹے نہ ہوں تو معزز ممبران لبڑی پنٹوں
شلواروں کے ساتھ نشتوں پر بیٹھینگے ' سوساءٹی
میں پھیریں گے اس سے نا صرؾ حسن کو گریہن
لگے گا بلکہ بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں
شلواروں والے ممبران کی عزت کون کرے گا۔ گریب
عوام اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ کھوتا گھوڑا
ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں کی خرید و فروخت
کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ سےپہلا
سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔
لوٹوں کی تجارت پر کسی بھی سطع پر کبیدہ خاطر
ہونا سراسر نادانی کے مترادؾ ہے۔ ریاست کے
ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے لیے
لوٹوں کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی
لسم کی تکلیؾ دینا کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس
کاروبار پر ناک منہ اور بھویں اوپر نیچے کرنے والے
حضرات ؼدار ہیں اور ؼدار عناصر کا کیفرکردار تک
پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں سزا دینے کی
حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادؾ ہے۔
دو لومی نظریہ اور اسلامی ونڈو
اکتوبر ٢٠١٢
کی
بہترین ماہانہ تحریر کا بیج حاصل کرنے والی تحریر
http://www.friendskorner.com/forum/showthread.php/
دو-لومی-نظریہ-اور-اسلامی-ونڈو295225-
دو لومی نظریہ اور اسلامی ونڈوکمپیوٹر سے وابستہ
لوگ اس امر سے خوب آگاہ ہوں گے کہ جب سسٹم
میں وائرس داخل ہو جاتا ہے تو وہ کمپیوٹر کی مت
مار دیتا ہے۔اچھا خاصا چلتا چلتا کمپیوٹر آسیب زدہ ہو
کر رہ جاتا ہے۔ بعض وائرس کمپیوٹر کی ؼیر طبعی
موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ کچھ اسے موت کے گھاٹ
نہیں اتارتے لیکن دائمی فالج کا موجب بن جاتے ہیں۔
اچھا خاصا مواد کھا پی جاتے ہیں۔ مواد کو دسویں
جماعت کا ریاضی بنا دیتے ہیں۔ دسویں جماعت کے
ریاضی میں الجبرا بھی شامل ہے اور یہ الجبرا جبر
کے تمام رویوں اور رجحانات پر استوار ہوتا ہے۔ ہستا
مسکراتا کھیلتا کودتا کمپیوٹر نامراد واءرس کے باعت
سکتے میں آ جاتاہے۔ گویا وائرس کی بن بلائے
مہمانی کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے۔ یا یوں کہہ وہ
کچھ ہو سکتا ہے جس کا خواب بھی نہیں دیکھا گیا
ہوتا۔
وائرس مرتا نہیں مارتا ہےاور ہر حالت میں اپنی
اصولی عمر دبدبے اور پورے بھار سے پوری کرتا
ہے۔ کوئ دوا دارو ٹیکہ اس کا بال بیکا نہیں کر پاتا
ہاں متاثرہ کی لوت مدافعت میں اضافہ کرنے کی سعی
کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس امر سے آگاہ نہیں ہیں کہ
انٹی وائرس‘ وائرس کو مارنےکے لیے فیڈ نہیں کیے
جاتے۔ یہ وائرس سے پاک سسٹم میں اس لیے فیڈ
کیے جاتے ہیں کہ سسٹم میں وائرس داخل نہ ہونے
پاءے۔ گویا انٹی وائرس کا اول تا آخر ممصد یہ ہوتا
ہے کہ وائرس کو سسٹم سے دور رکھا جائے۔ دوسرا
یہ سسٹم کی لوت مدافعت کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کی
مثل ویکسین کی سی ہوتی ہے۔ عمومی زبان میں اسے
حفاظتی ٹیکے کا نام بھی دیا جات ہے۔ انٹی وائرس یا
ویکسین‘ وائرس کے دخول سے پہلے کی چیزیں ہیں۔
مختصر مختصر یوں کہہ لیں انٹی وائرس یا ویکسین
دراصل سسٹم کی حفاظت سے متعلك چیزیں ہیں۔ انھیں
خطرے سے بچاؤ کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ جیسے
مچھر سے بچنے کے لیے مچھر دانی کا استعمال کیا
جائے۔
ڈینگی سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کی
جائیں۔ ڈینگی حملے کی صورت میں فوری موت والع
نہیں ہوتی تو مدافعتی نظام کی طرؾ توجہ دی جائے۔
کسی دوائی وؼیرہ سے وائرس نہیں مرے گا۔ متاثرہ
کو پانی کی بھرتی رکھیں۔ سیب کا خود جوس نکال کر
پلائیں۔ شہتوت کے پتوں کو پانی میں ابال کر ٹھنڈا
کرکے پلاءیں۔برصؽیر عرصہ دراز سے خارجی وائرس
کی زد میں ہے۔
سکندر سے پہلے یہ یہاں سے بچے پکڑ کر لے جاتا
اور ان کی لربانی دیوتاؤں کے حضور نظر کر دیتا تھا۔
اس سے پہلے یا بعد کے وائرس بڑے خطرناک تھے۔
کیا کچھ کرتا تھا زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔
بہرطور یہ تو طے ہے کہ وائرس سسٹم کی تباہی کا
سبب بنتا ہے۔ حفاظتی عمل اور مدافعتی لوت کے کامل
صحت مند ہوتے ہوئے جسم یعنی سسٹم کے اندر سے
کوئی میر جعفر پیدا ہو جاتا ہے جو داخلے کا رستہ بتا
کر ہنستے بستے کھیلتے کودتے نظام کو مٹی میں ملا
دیتا ہے۔ اس کی مت ماری جاتی ہے اور وہ یہ نہیں
سمجھ پاتا کہ وہ اسی سسٹم کا حصہ ہے۔ ہوتا تو وہ
بھی وائرس ہے اس کے کام بھی وائرسوں والے
ہوتے ہیں لیکن ممامی سسٹم اسے اس کے کاموں
سمیت لبول چکا ہوتا ہے۔ گویا سسٹم اس وائرس کی
منفی فطرت کے باوجود اس سسٹم کا حصہ نہ ہوتے
ہوئے بھی سسٹم اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس کے
باعث سسٹم میں سو طرح کی خرابیاں آتی رہتی ہیں
لیکن سسٹم کا مدافعتی نظام چلتا رہتا ہے۔ حالانکہ اس
کا سسٹم میں رہنا کسی بھی حوالہ سے ٹھیک نہیں
ہوتا۔ کیا کیا جائے وائرس داخلی ہو یا خارجی‘ اس کا
اس کی طبعی عمر سے پہلے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
سسٹم کو اس کی طبعی عمر تک برداشت سے کام لینا
پڑتا ہے۔ بس کرنے کا کام یہ ہے کہ سسٹم کے
مدافعتی نظام کو ڈولنے نہ دیا جاءے۔چٹی چمڑی والا
وائرس تو کل پرسوں سے تعلك رکھتا ہے اور ہم اس
کی تباہ کاری کے باعث بیمار جیون جی رہے ہیں۔ اس
وائرس نے کمال ہوشیاری سے تمسیم کے بہت سارے
دروازے کھول دءیے۔ کبھی زبان کو تمسیم کرکے
باہمی نفرتوں کو سسٹم کا حصہ بنایا۔
١٩٠٥
میں دو لومی نظریے کوداخلی وائرس کے ذریعے
عام کیا اور پھر اس تماشے سے خوب لابھ اٹھایا۔ یہ
کون سا ایسا نیا نظریہ تھا۔ یہ نظریہ ہزاروں سال پر
محیط ہے۔ لوگوں نے اصل مطب نہ سمجھا۔ لوگ یہ
سمجھتے رہے کہ الگ مملکت میں اپنے نظریاتی نظام
کے تحت اصولی لانونی اورآئینی زندگی بسر کریں
گے۔ داخلی وائرس نے اس ذیل میں مٹھی بند رکھی
تاہم اس ذیل میں کوئی لرارداد بھی منظور نہ کی اور
ناہی کوئی لرارداد پیش ہوئی۔ اس سسٹم کو کبھی بھی
اسلامی ونڈو نہیں دی گئی۔
جمہوریت کے حوالہ سے اسلامی ونڈو کرنے کی
ضرورت تھی۔ داخلی وائرس جو سسٹم پر ڈومینٹ رہا
ہے اسے اسلامی ونڈو کس طرح خوش آسکتی تھی یا
خوش آسکتی ہے۔ وائرس سسٹم کے لیے بہتری
سوچے یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے۔ایک صاحب
مرؼے کے ساتھ روٹی کھا رہے تھےیعنی ایک لممہ
خود لیتے دوسرا لممہ اپنے مرؼے کو پھینک رہے
تھے گو کہ وہ سائز اور حجم میں چھوٹا ہوتا تھا۔
کسی نے پوچھا میاں یہ کیا ر رہے ہو بولے ہم
خاندانی لوگ ہیں ہمیشہ مرؼے کے ساتھ روٹی کھاتے
ہیں۔
چٹی چمڑی والا وائرس بڑا خاندانی ہے مرؼے کے
ساتھ روٹی کھاتا ہے۔ جو لوگ مرغ باز ہیں وہ اپنے
مرؼے کی صحت توانائی اور جوانی کا خیال رکھتے
ہیں۔ سٹم کے ہر پرزے پر یہ واضع کرنے کی اشد
ضرورت ہے کہ وائرس دسترخوان اور شہوت کے
حوالہ سے کبھی کسی نظریے کا لائل نہیں رہا۔ مرؼا
زمین پر رہتے ہوئے خارجی وائرس کے لیے محترم
اور معتبر رہتا ہے۔ وہ اس کا جٹھکا اس ولت کرتا ہے
جب مرؼا میدان کا نہیں رہتا۔ میدان والا مرؼا خاندانی
لوگوں کے ساتھ ہی ناشتہ پانی کرتا آیا ہے۔
رونا سکول کے گرنے کا نہیں اصل رونا تو ماسٹر کے
بچ جانے کا ہے۔ ماسٹر مائنڈ وائرس سے پہلے داخلی
وائرس کو نکال باہر کرنے کے لیے بڑا ہی موثر
سافٹ وائر دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ آتی نسلوں
کو اس سے بچانے کے لیے سماجیات کے ڈاکٹر لدیر
سر جوڑ کر سوچیں اور اس نوع کے سوفٹ وئر
دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ ہاں اس کی کسی کو
ہوا تک لگنے نہ دیناور پھر اچانک دھماکہ کردیں۔
سسٹم جب داخلی واءرس سے آزاد ہو گیا تو خارجی
وائرس سے بچنے کے لیے ایک سو ایک انٹی وائرس
دریافت ہو جائیں گے۔
شیڈولڈ رشوتی نظام کے لیام کی ضرورت
ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم
پوچھا۔ اس شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس
پر چرسی بولا اس ملک نے خاک ترلی کرنی ہے۔
صبح سے پوچھ رہا ہوں ہر کسی کا اپنا ٹائم ہے۔ بات
تو ہنسی والی ہے لیکن ذرا ؼور کریں گے تو اس بات
کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔
اس ملک میں ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو
اپنے مطلب کے معنی دے رکھے
ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ رکھے ہیں۔ یہی
منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے
مختلؾ بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں
اشیائے خوردنی کے ایک سے نرخ سننےکو نہیں
ملیں گے۔ کپڑا خریدنا ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے
نرخ ہوتے ہیں۔
سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ اور شام
کو کچھ کہتا ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی شخص اور
مولع کی مناسبت سے بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی