The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫بؽیر گزرا نہیں اور آلو مفت میں نہیں ملتے۔ اعلی‬
‫شکشا منشی کے دفتر سے پیسے ملیں گے تو ہی آلو‬

‫لا سکوں گا۔ میرے آلو لانے کے لیے کہنے میں‬
‫سادگی نہ تھی بالکل اسی طرح سردار صاحب کے‬
‫دھماکہ دار لہمہوں میں بھی نزدیک کے معنی موجود‬

‫نہ تھے۔‬

‫میں جانتا ہوں وہاں بھی آلو کا رولا ہے۔ سکی تنخواہ‬
‫میں آلو اور ٹوہر ایک ساتھ نہی چل سکتے اور ناہی‬
‫کسی سطع پر ان کا کوئ کنبینیشن ترکیب پاتا ہے۔‬
‫انہیں ضدین کا درجہ حاصل ہے۔ سردار صاحب نےآلو‬
‫لانے کی بات کو گول کرکے میرے اندر ڈر اور خوؾ‬
‫کی لہر دوڑا دی۔ میں یہ بھول ہی گیا کہ میں نے ان‬
‫سے کیا گزارش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جن‬
‫کے متعلك لکھتا ہوں ان کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں‘ کچھ‬
‫بھی کر سکتے ہیں۔ سردار صاحب کا کہنا ؼلط نہ تھا۔‬

‫تاہم یہ بھی طے ہے لوگ جیل سے باہر جیل سی‬
‫زندگی گزار رہے ہیں۔ سفید پوش کی اولات آلو برابر‬
‫نہیں رہی۔ کیا عجیب صورت حال درپیش ہے۔ چور کی‬
‫نشندہی کرنے والا مجرم اور لائك تعزیر ٹھہرتا ہے۔‬
‫چور یمینا دودھ دیتی بھینس کی مثل ہوتا ہے۔ چور‬

‫چور کی آوازیں نکالنے والا دودھ دیتی بھینس کو‬
‫چھڑی مار رہا ہوتا ہے۔ نشاندہی کرنے والا ایک طرؾ‬
‫چور کو‘ تو دوسری طرؾ چور سے مال انٹنے والے‬

‫کے پیٹ پر لات رسید کر رہا ہوتا ہے۔‬

‫ویسے سچ اور حك کی آنکھ سے دیکھا جائے تو‬
‫حمیمت یہ ہے کہ چور اس ولت تک چور ہوتا ہے جب‬
‫تک دوسرے کا مال اس کی گرہ میں نہیں آ جاتا۔ مال‬
‫چاہے شور مچانے والے کا ہی کیوں نہ ہو۔ چور کی‬

‫گرہ میں آنے کے بعد مال چور کا ہوتا ہے۔ کسی‬
‫صاحب مال کو چور کہنا سراسر زیادتی کے مترادؾ‬
‫ہے۔ اگر شور مچانے والا بخوشی گرہ سے کچھ نہیں‬
‫دے سکتا تو کسی کے مال پر دعوے کا بھی اسے حك‬
‫نہیں۔ حك اور انصاؾ کا تماضا یہی کہ جس کی لاٹھی‬

‫اس کی بھینس ہے۔‬

‫مکرم بندہ جناب حسنی صاحب‪ :‬سلام شوق‬

‫خدا گواہ ہے کہ اردو انجمن نہایت خوش لسمت ہے کہ‬
‫اس کو بیک ولت آپ اور اعجاز خیال صاحب جیسے‬

‫انشائیہ نگار مل گئے ۔ آپ دوسری محفلوں کو دیکھیں‬
‫تو لحط الرجال کی کیفیت طاری معلوم ہوتی ہے۔‬

‫ویسے بھی اردو دنیا میں نثرنگاری اور نثر نگاروں‬
‫کاکال پڑا ہوا ہے۔ انجمن آپ دونوں کی احسان مند ہے‬
‫اور شکرگزار بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ دونوں احباب‬

‫اپنے انشائیوں پر نظر ثانی کر کے اور انھیں مزید‬
‫نکھار کے کتابی شکل میں اشاعت کی فکر کریں۔ کیا‬

‫خیال ہے آپ دونوں کا؟‬

‫بالی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرورعالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪7963.0‬‬

‫میری ناچیز بدعا‬

‫کچھ ہی دن ہوئے‘ میری ادھ گھروالی ایم بی بی ایس‬

‫یعنی میاں بیوی بچوں سمیت ہمارے ہاں پدھاریں۔ میں‬
‫اپنی بیگم کی ٹی سی کرنے کے لیے بڑے ہی‬

‫خوشگوار انداز میں اس کے کرسی لریب بڑے ہی‬
‫فصیح و بلیػ طور سے‘ ٹی سی کر رہا تھا۔ بیگم‬
‫صاحب نے تھوڑی دیر میری لایعنی بکواس برداشت‬
‫کی۔ پھر کچن میں جا کر آواز دی۔ ڈاکٹر صاحب ذرا‬
‫بات سننا۔ میں فورا سے پہلے حاضر ہو گیا۔ دو ہی‬
‫باتیں ہو سکتی تھیں۔ شک نے لپیٹ لیا ہو۔ اس‬
‫بڑھاپے کیسا شک۔ برتن دھونے کا حکم نہ صادر کر‬
‫دے۔ پھر میں نے سوچا جو ہو گا دیکھا جائے گا‘ الله‬

‫مالک ہے۔‬

‫وہاں ان میں سے کوئ بات درست نہ نکلی۔ فرمانے‬
‫لگیں کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ جا کر دوا لے آؤ‘ پر‬
‫تم نے کہنا نہ ماننے کی لسم کھا رکھی ہے۔ کہاں کہاں‬
‫کھرک رہے تھے اس کی تمہیں ہوش ہی نہ تھی۔ اس‬
‫کی بات میں خم سمیت دم تھا لیکن سوال یہ تھا کہ‬
‫مہمانہ مرد کے کس کہاں سے والؾ نہ تھی۔ خیر یہ‬
‫ؼلطی نہیں کھلی گستاخی تھی۔ میں نے حسب معمول‬
‫اور حسب روایت سوری کی اور دوا لینے کے لیے چل‬

‫دیا۔‬

‫میں آج تک بیگمی حکم عدولی کا سزاوار نہیں ہوا۔ یہ‬
‫واحد حکم تھا جسے آج تا کل ٹالتا آ رہا تھا۔ میں وچلی‬
‫بات کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آپ بر مجھے‬

‫بھروسہ ہے کہ آپ میری بات ہر کان تک نہیں‬
‫پہنچائیں گے۔ شدہ ہوں اور ہر شدہ‘ شدہ حضرات کی‬
‫دہلیز کے اندر کی سے خوب آگاہ ہوتا ہے۔ میں بوڑھا‬
‫ضرور ہوں‘ بدذوق نہیں۔ جو احباب کھرک کی لذت‬
‫سے آگاہ ہیں وہ میری بات کی تائید کریں۔ دنیا میں‬
‫شاید ہی کوئی بیماری ہو گی جو اتنی لذت انگیز ہو گی۔‬

‫ذندگی بےلذت اور بے ذائمہ ہو گئ ہے۔ دکھ درد‬
‫مصیبت جھڑکیاں وؼیرہ اس کا نصیبہ ٹھہرا ہے۔ ایک‬

‫یہ لذت کا ذریعہ تھی جو بیگم حضور کو گوارہ نہ‬
‫ہوئی۔ مانتا ہوں ہر بار خارش کا انجام بڑا تلخ ہوتا ہے۔‬
‫زندگی میں پہلے ہی کیا تلخی کم ہے۔ تلخی کا آؼاز اور‬
‫انجام تلخی ہوتا ہے۔ تلخی کے آخر میں لذت مل جائے‬
‫تو آدمی بردشت بھی کر لے۔ خارش ہی وہ تلخی اور‬
‫آزار ہے جو آؼاز میں تادیر چسکا و سواد فراہم کرتی‬
‫ہے۔ مجھ سے عارضی اور لمحاتی آسودگی چھینی جا‬

‫رہی تھی۔‬

‫زمانے کا چلن ہے کہ وہ کسی کو لمحوں کے لیے‬
‫سہی‘ آسودہ اور خوش نہیں یکھ سکتا۔ مجھے اصل‬
‫افسوس یہ ہے کہ میری سرزنش کر ڈالی لیکن بہن‬

‫کو بلا کر کچھ نہیں کہا جو جوابا طرح طرح کی‬
‫جگہوں پر مزے لے لے کر کھرک فرما رہی تھی۔ بہن‬
‫تھی نا وہ اسے لذت سے مرحوم نہیں کرنا چاہتی تھی۔‬
‫بہن تھی نا۔ اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ میرا کیا ہے بیگانہ‬

‫پتر ہوں میری خوشی اور لمحاتی آسودگی اسے‬
‫کیونکر خوش آ سکتی تھی۔‬

‫پاکستان سو نہیں ہزاروں طرح کی لربانیاں دے کر‬
‫حاصل کیا گیا۔ ابتدا سے لے آج تک کھرک زدہ دفتر‬
‫شاہی سے گزارہ کر رہا ہے۔ واپڈا ہو کہ اکاؤنٹ آفس‘‬
‫ٹیلی فون والے ہوں کہ پوسٹ آفس والے‘ اعلی شکشا‬
‫منشی کا دفتر ہو کہ پنجاب سرونٹس فاؤنڈیشن والے‬
‫ؼرض کوئی بھی محکمہ لے لیں مسلسل اور متواتر‬

‫طرح طرح کی جگہوں پر کھرکے جا رہے ہیں‬
‫پوچھنے والے خود اس عظیم نعمت ارضی سے لطؾ‬
‫اندوز ہو رہے ہیں۔ کچھ ہی ریٹائمنٹ کے بعد رشوثی‬
‫کھرک کی تلخی دیکھتے ہیں ورنہ معاملہ اگلے جہاں‬

‫تک التوا میں رہتا ہے۔ گھر میں فرد واحد کی کھرک‬
‫اس سے برداشت نہ ہو سکی۔ میری بدعا ہے الله اسے‬
‫اس نعمت بےمول سے تامرگ محروم رکھے اور اس‬
‫کے لیے ترستی لبریں سدھارے۔ وہ اس لذت کے لیے‬

‫دعا بھی کرے تو دعا لبولیت کے لریب بھی نہ‬
‫پھٹکے۔ سب کہو آمین‬

‫محترمی حسنی صاحب ‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کے انشائیے پر لطؾ ہوتے ہیں۔ خصوصا اس لئے‬
‫بھی کہ آپ ان میں اپنی طرؾ کی یا پنجابی کی‬

‫معروؾ عوامی اصطلاحات (میں تو انہیں یہی سمجھتا‬
‫ہوں۔ ہو سکتا ہوں کہ ؼلطی پر ہوں) استعمال کرتے‬
‫ہیں جن کامطلب سر کھجانے کے بعد آدھا پونا سمجھ‬
‫میں آ ہی جاتی ہے جیسے ادھ گھر والی یا کھرک۔ یا‬
‫ایم بی بی ایس۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کھرک‬
‫جیسا با مزہ مرض ابھی تک جدید سائنس نے ایجاد‬
‫نہیں کیا ہے۔ والله بعض اولات تو جی چاہتا ہے کہ یہ‬
‫مشؽلہ جاری رہے اور تا لیامت جاری رہے۔ اس سے‬
‫یہ فائدہ بھی ہے کہ صور کی آواز کو پس پشت ڈال کر‬

‫ہم ‪:‬کھرک اندازی‪ :‬میں مشؽول رہیں گے۔ الله الله خیر‬
‫سلا۔‬

‫لکھتے رہئے اور شؽل جاری رکھئے۔ بالی راوی سب‬
‫چین بولتا ہے‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪8069.0‬‬

‫آزمائش کا رستہ بالی ہے‬

‫میرے نام کے ساتھ لفظ ڈاکٹر پڑھ کر مجھ سے سوال‬
‫کیا گیا ہے کہ آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ سے کوئی مریض‬

‫بچا بھی ہے۔ بظاہر یہ ایک سوال ہے لیکن معنوی‬
‫حوالہ سے یہ دو سوال ہی ِں‬

‫‪١‬۔ آپ کے معالجے سے کسی مریض کو شفا بھی‬
‫ہوئی ہے یا نہیں۔‬

‫‪٢‬۔ کسی مریض کی جان بھی سلامت رہی یا اس نے‬
‫لبرستان کی راہ لی ہے یا پھر اپنے لدموں‬
‫واپس چل کر گھر بھی گیا یا نہیں۔‬
‫کوئی بھی نئی چیز‬

‫ایک بار مستری یا کاریگر کے پاس چلی جاتی ہے تو‬
‫سمجھو اب اس کا آنا اور جانا لگا رہے گا۔ مستری یا‬
‫کاریگر کی روٹی اشیاء کی مرمت سے جڑی ہوئی ہے۔‬
‫اشیاء مرمت کے لیے نہیں آئیں گی تو وہ بھوکا مر‬
‫جائے گا۔ اس لیے اشیاء کی خیر مانگنا یا منانا اس کی‬
‫کاروباری سرشت میں داخل نہیں۔ وہ کوئی نہ کوئی‬
‫پرزہ جو متاثر نہیں ہوتا کی چول ڈھیلی کر دیتا ہے‬
‫اس طرح پندرہ بیس دن بعد اس کے پاس آنے جانے‬
‫کا رستہ کھل جاتا ہے۔ اگر گاہک اس کے پاس نہیں‬
‫جاتا کسی دوسرے مستری یا کاریگر کے پاس چلا جاتا‬
‫ہے تو کوئی بات نہیں وہ پیٹی بھرا ہے۔ دوسرا اس‬

‫کے گاہک بھی تو ادھر آتے رہتے ہیں۔ مستری یا‬
‫کاریگر کے ساتھ اور بہت سے لوگوں کا روزگار‬
‫وابستہ ہوتا ہے۔ مثلاً ویلڈنگ کرنے والے کاریگر‬
‫وؼیرہ ایک چیز کی خرابی بہت سے لوگوں کے لیے‬
‫رزق کے دروازے کھولتی ہے۔ گویا بگاڑ میں بہت‬

‫سے لوگوں کے لیے خیر وبرکت ہے جبکہ بہتری‬
‫سے فمط ایک گھرانے کا رشتہ اور تعلك واسطہ ہوتا‬

‫ہے۔‬

‫دوسری عظیم مثال واپڈا والوں کی ہے۔ اگرچہ پورے‬
‫ملک کی تاروں کا نظام عین ؼین ہے۔ کسی علالہ سے‬
‫تار ٹوٹنے کی شکایت آتی ہے تو معاملہ شکایت کے‬
‫درج ہونے تک محدود و مجبور رہتا ہے۔ علالہ کے‬

‫لوگ چندہ جمع کرکے واپڈا والوں کے حضور پیش‬
‫کرتے ہیں تب جا کر ان کی تشریؾ آوری ہوتی ہے۔‬
‫شکایت اس علالہ کے لیے مستمل زمینی آفت جبکہ‬
‫واپڈا کے اہل کاروں کے لیے مستمل زرخیزی کا درجہ‬
‫رکھتی ہے۔ تار کا جوڑ اس طرح لگاتے ہیں کہ پندرہ‬
‫بیس دن بعد پھر ان کی ضروت پڑ جاتی ہے۔ بات یہاں‬
‫تک ہی محدود نہیں رہتی کسی اور حصے کا جوڑ‬
‫ڈھیلا کر دیتے ہیں۔ اس طرح اس علالہ کے لوگوں کو‬

‫چندہ گردی کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔بھی‬

‫کاریگر چیز کو مرنے نہیں دیتے یہی ان کا کمال اور‬
‫روزگار ہے۔ آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ مریض لبر‬
‫کی راہ لے گا۔ مریض کا مرنا ڈاکٹر کے پیٹ پر لات‬

‫رسید ہونے کے مترادؾ ہے۔ کوئی بھی سیانا ڈاکٹر‬
‫مریض کو مرنے نہیں دیتا ہاں آہستہ آہستہ مرے‬
‫جیسی حالت ضرور کر دیتا ہے۔ آپ کسی ایک مرض‬
‫کے حوالہ سے جائیں گے تو پانچ سات بیماریاں‬
‫تشخیص میں آجائیں گی۔ اگر ذاتی ٹیسٹ گاہ ہے تو اور‬
‫بھی اچھا۔ کلینِک کے باہر ذاتی دوا گاہ ہوتی ہے۔‬
‫ٹیسٹ لکھوائی فیس‪ ،‬ٹسٹ کروائی فیس‪ ،‬دوا دلوائی‬
‫فیس گویا ایک پنتھ سو کاج۔ اگر ٹیسٹ گاہ نہ ہو تو‬
‫مخصوص ٹیسٹ گاہ کا رستہ دکھایا جاتا ہے۔ کیوں‘ ان‬
‫سے فیصد کا مک مکا ہوا ہوتا ہے۔ گویا مریض کی‬
‫آنیاں جانیاں ہی کامیاب ڈاکڑ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔‬

‫جوان مریض من و سلوی سے کسی طرح کم نہیں‬
‫ہوتا۔ اس کے گھر والے خرچہ کرنے سے پرہیز نہیں‬
‫کرتے۔ گھر والوں کے لیے بےکھیسہ بابا معنویت نہیں‬
‫رکھتا۔ اس کی کھانسی اور چاء پانی عذاب مفت ہوتا‬
‫ہے۔ اس کا علاج علامتی اور محض نک رکھائی ہوتا‬
‫ہے۔ مال دار بابا مال پر سانپ کے مترادؾ ہوتا ہے۔‬
‫مالدار بابے کی فراؼت کے اس کے اپنے دل و جان‬
‫سے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس کے لیے بھاگ دوڑ بابے‬
‫کے لیے دکھلاوا ہوتی ہے۔ بے گرہ بابے کے لیے‬

‫کوشش دنیا والوں کا منہ بند کرنے کے لیے ہوتی ہے۔‬

‫ڈاکٹری ایک بزنس ہے اور بزنس میں کسی چیز کو‬
‫ؼلط اور ہیرا پھیری کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مال خرچ‬
‫کرکے مال حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹری کی تعلیم‬

‫مفت تو حاصل نہیں کی گئ ہوتی۔ اسی طرح ٹسٹ‬
‫مشینوں اور ان کے کاریگروں کو ماہانہ دیا جاتا ہے۔‬
‫کلینک کے باہر بازار سے مہنگا میڈیکل سٹور مفت‬
‫میں نہیں بنایا گیا ہوتا۔ دوسرا ہنر کے پیسے وصولے‬
‫جاتے ہیں۔ ٹی وی میں معمولی نمص ہی کیوں نہ ہو‬
‫کاریگر اپنے ہنر کی کھٹی کھاتا ہے۔ ڈاکڑ مریض کے‬

‫گھر نائی تو نہیں بھیجتا۔ وہ خود اپنی مرضی اور‬
‫ضرورت کے حوالہ سے از خود چل کر آتا ہے‘ نہ‬

‫آئے۔ ایک در بند سو در کھلے۔‬

‫ڈاکٹر کے ہاں مریض کا آن جان نہ رہے تو ڈاکٹری کی‬
‫تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ۔ درج بالا حالات اور‬
‫معروضات کے تحت مریض کی موت اور کامل صحت‬
‫ڈاکٹر کے لیے کسی طرح سود مند نہیں۔ مریض کے‬
‫نصیب میں مرض گھٹ گھٹ کر مرنا لکھ دیتا ہے۔‬

‫جس مریض کے متعلك یمین ہو جائے کہ اب اور زندہ‬

‫نہیں رہے گا اس کو دوا وؼیرہ دے کر گھر کا رستہ‬
‫نہیں دکھایا جاتا آخری لمحوں تک کے دام کھرے‬
‫کرنے کے لیے روک لیا جاتا ہے۔ عہد حاضر کی‬
‫مسیحائی کا تماضا یہی ہے۔ سوال کا جواب تشفی بخش‬

‫نہ ہو تو آزمائش کا رستہ بالی ہے۔‬

‫بہت خوب ڈاکٹر صاحب ۔ ۔ ۔آپ کی اس تحریر سے اتنا‬
‫تو اندازہ ہوا کہ آپ وہ والے ڈاکٹر نہیں ہیں ورنہ اتنی‬

‫خوش اسلوبی سے ان کے کارنامے بیان نہ کرتے۔‬
‫۔آپکی اس تحریر سے پھر سے سوالات ابھرتے ہیں‬
‫کہ بگاڑ کر ہی فائدہ کیوں ہے؟ جب کہ روزی دینے‬
‫والا تو الله ہے۔ کیا صرؾ ہمارے ہاں ہی بگاڑ سے‬
‫فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا یہ مرض سب جگہ موجود ہے؟۔‬

‫آپ نے درست سمجھا وہ والا ڈاکٹر نہیں ہوں ہاں البتہ‬
‫ان وہ والوں سے پالا رہتا ہے۔ صاؾ ظاہر ہے آپ کی‬
‫اماں ماجدہ اور میری زوجہ محترمہ اور میری چولیں‬
‫درست نہیں رہیں۔ کچھ ناکچھ ہوا ہی رہتا ہے۔ بیٹا میں‬
‫نے بڑی باریکی سے مطالعہ کیا ہے انسان تو کیڑا‬
‫مکوڑا بھی نہیں رہا۔ بے ترسی اور بے رحمی کی حد‬

‫ہو گئ ہے۔ پہلے گاڑیاں پہیہ سے چلتی تھیں اب لہبی‬
‫انسان بھی پہیہ سے چلتا ہے۔ سوال یہ کہ ایسا کیوں‬
‫ہے تفصیلا پھر کبھی عرض کروں گا ہاں اب صرؾ‬
‫اتنا کہوں گا انسان کا ایمان وہ نہیں رہا جو بدر میں‬
‫تھا۔ اب ہم الله کی ذات گرامی کو زبانی کلامی مانتے‬

‫ہیں۔ زبانی کلامی کا جمع خرچ اور حاصل ضرب‬
‫موجودہ سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔‬

‫‪http://www.friendskorner.com/forum/showthread.php/‬‬
‫آزمائش‪-‬کا‪-‬رستہ‪-‬بالی‪-‬ہے‪292377-‬‬

‫بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے‬

‫کہا جاتا ہےکہ جمہوریت کی بساط ووٹ پر کھڑی ہے۔‬
‫کتنےاور کون سے ووٹ کا نتارا کہیں اور کسی سطع‬
‫پر نہیں ملتا۔ یہ موضوع الگ سےگفتگو کا تماضا کرتا‬
‫ہے تاہم یہ طے ہے کہ جمہوریت میں عوام کو کلیدی‬

‫حیثیت حاصل ہے۔ موری ممبر سے لے کر لومی‬
‫اسمبلی کےمبر تک ایک عام اورؼریب آدمی کے ووٹ‬

‫کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان منتخبہ لوگوں کے ہاتھوں‬
‫کی طرؾ صدر وزیراعظم سپیکر وؼیرہ دیکھتے ہیں‬
‫اور یہ نیچے کے ہاتھ ناصرؾ اوپر آجاتے ہیں بلکہ‬
‫اپنےعرصہءالتدار کےدوران اپنے پورے وجود کی‬
‫برائی کے ساتھ عوامی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان‬
‫میں سےایک ہاتھ سب کےاوپر رہتا ہےاوروہ کسی‬
‫ہاتھ لانون یا ریاست کےسامنےجوابدہ نہیں ہوتا‘ ہاں‬
‫ہرکوئ اس کےحضور جوابدہ رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر‬

‫یا کروا سکتا ہے۔‬

‫یہ معمہ حل طلب ہے کہ بھگوان ساز کمی کمین کیوں‬
‫ہو جاتا ہے۔ اس کےمساءل کو تھانے کچری‬

‫اوردفاترکےرحم وکرم پر کیونچھوڑ دیا جاتا ہے۔‬
‫بھگوان ساز کو چھوٹ ملنی چاہیے جبکہ بھگوان‬
‫کواس کی بےاصولی اور نالص بھگوانی کی صورت‬
‫میں تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پر چھوڑنےکی‬

‫ضرورت ہوتی ہے۔‬
‫اسلام آفالی اور دین فطرت ہے۔ یہ ہر لسم کی تفریك‬
‫مٹا کر سوسائٹی میں توازن پیدا کرتا ہےاور ہر کسی‬
‫کو عزت احترام اور انسانی حموق عطا کرتا ہے۔ بڑے‬
‫چھوٹے کالےگورےوؼیرہ کےحلموں سےمکتی دلاتا‬

‫ہے۔ اس کےضابطےاوراصول محض زبانی کلامی سے‬
‫تعلك نہیں رکھتے بلکہ محمود وایاز کوایک صؾ میں‬
‫لا کھڑا کرتا ہے۔ حموق وفرائض کے حوالہ سے کسی‬

‫کو کسی معاملہ میں کسی سطح اور کسی ممام پر‬
‫برتری یاچھوٹ حاصل نہیں۔ ہر کسی کو برابر کے‬
‫شخصی اورانسانی حموق حاصل ہیں۔ اس کی بنیادی‬
‫وجہ یہ ہے کہ اصل مالک توالله ہے۔اگر کوئی کسی کو‬
‫کچھ دیتاہےتواپنے پلےسے نہیں دیتا بلکہ الله کے‬
‫عطا کءے گئے میں سے دیتا ہے۔ یہاں زمین پر کسی‬
‫کا اپنا اورذاتی کچھ بھی نہیں۔ انسان اپنےسانسوں تک‬
‫کا مالک نہیں۔ اس حمیمت کی بنیاد پر فخروافتخار کے‬
‫تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ یہ منہ زبانی بات نہیں‬
‫اس کی تاریخ میں مثالینموجود ہیں۔ حضرت عمرخلیفہ‬

‫ثانی حضرت بلال کو “سیدنا“ کہا کرتے تھے۔‬
‫گویااسلام میں انسانی تفریك جرم کےمترادؾ ہے۔‬

‫اسلام صرؾ اور صرؾ صاحب تموی کو فضیلت عطا‬
‫کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حموق میں‬

‫اوروں سے بڑھ کر ہو جاتا ہے یا فراءض سے بری‬
‫الزمہ ہو جاتاہے۔ اسےاسلام کسی بھی سطح پرالگ‬
‫ترمخلوق لرار نہیں دیتا۔ فرائض کی بطریك احسن‬

‫ادائیگی کے سبب اسےعزت میسرآتی ہے۔ اس سے‬
‫بڑھ کر یہ کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ‬
‫مزید باریک اورعاجز مزاج ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار‬
‫اور جاندار ہو جاتاہے۔ وہ سوسائٹی کے لیےمثال بن‬

‫جاتاہے۔ آتا ولت اسے سلام و پرنام کرتا ہے۔ جس‬
‫سماج میں اونچ نیچ کے لیے راہ نکل آتی ہے یا نکال‬
‫لی جاتی ہے وہاں زندگی ہرسطح پر بےچین بے تولیر‬
‫اور ؼیرآسودہ ہو جاتی ہے۔ پھر ہر طالتور کے لیے‬

‫چھوٹ کے رستے تلاش لیے جاتے ہیں۔‬

‫چھوٹ کی سرحدیں وسیع ہونےکی میرے پاس ایک‬
‫تازہ تازہ اورسانس لیتی مثال موجود ہے۔ ایک اخباری‬

‫اطلاع کےمطابك‬

‫خبریں کی خبر پر ایکشن‘ ڈیپٹی ڈائرکٹر کالجز ظفرالله‬
‫بھٹی کو عوامی مفاد کے پیش نظر تبدیل کردیا‬

‫گیا‘سیکریڑی ہائرایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ کی طرؾ سے‬
‫جاری کردہ چھیثی کےمطابك ڈیپٹی ڈائرکٹر کالجز کی‬
‫سیٹ پر کام کرنے والے ظفرالله بھٹی کو ان کےعہدے‬
‫سے ہٹا دیا گیا ہے اوران کی جگہ پروفیسر اشتیاق‬
‫احمد چیمہ کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دئے‬

‫گئے ہیں۔ ظفرالله بھٹی کےخلاؾ متعدد کیسز انسانی‬
‫اسمگلنگ کےجرم میں لائم کئےگئے جن کی میڈیا‬
‫کوریج ہونے پراعلی حکام نے ایک تحمیما تی کمیٹی‬

‫لائم کی جس کی رپورٹ کے بعد سیکریڑی‬
‫ہائرایجوکیشن نے ظفرالله بھٹی کوعہدے سے برطرؾ‬
‫کرکے پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کو تعینات کر دیا‬

‫روزنامہ خبریں‘روزنامہ ایکپریکس لاہور‬

‫لیکچرار ظفرالله بھٹی تعینات ڈی ڈی سی لصور جسے‬
‫برطرؾ کیا گیا تھا کودوبارہ سےبحال کر دیا گیا ہے۔‬

‫‪:‬اس کے تین چار معنی سمجھ میں آتے ہیں‬
‫‪١‬۔ انکوائری رپورٹ ؼلط تھی۔ معاملے کی تحمیك میں‬

‫گڑبڑ کی گئ‬
‫‪٣‬۔ کوئی عوامی لیڈراپنے مفادات کے حوالہ سے سد‬

‫راہ بنا۔‬
‫‪٣‬۔ باباجی کوتکلیؾ دی گئی اور مفت میں مرؼےکی‬

‫گردن ماری گئی۔‬
‫‪٤‬۔ جرم کی سزا میں بااختیار لوگوں کو چھوٹ حاصل‬

‫ہےاور یہ اختیاران تک ہی محدود نہیں‬
‫سزا صرؾ اورصرؾ کمزور کا ممدر بن جاتی ہے۔‬

‫ایسے سماج ذلت و خواری کی دلدل میں پھنس‬

‫کراپنا وجود کھو دیتےہیں۔درگزر معافی مٹی پاؤ‬
‫کےحوالہ سے بات اس لیے ہوتی رہی ہے کہ ماضی‬
‫میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس مٹی پاؤ برتاؤ کے باعث آج‬

‫یہ نظریاتی مملکت بھوک پیاس اوراندھیروں کے‬
‫جنگل میں کھو گئی ہے۔ مار دھاڑ اور لوٹ کھسوٹ‬
‫زندگی کا ممصد بن گی ہے۔ زندگی بےاعتبار ہو کر رہ‬

‫گئی ہے۔‬

‫درگزر اور معافی بری جیز نہیں لیکن اسے چند لوگوں‬
‫تک محدود رکھنا کسی طرح درست نہیں۔ اس کا حلمہ‬
‫وسیع ہونا چاہیے۔ معافی میں تمام کو شامل کر لینے‬
‫سےالتصادی حوالہ سے بڑافائدہ ہو گا بلکہ ؼیر متولع‬

‫بچتیں ہوں گی اور کاروبار میں تیزی آجائے گی۔‬
‫اگرعام معافی کااعلان کر دیا جائے تواس پرکچھ خرچ‬
‫نہیں آئے گا۔ ہاں اس سے بہت ساری عمارتیں خالی‬
‫ہو جاءیں گی جہاں گریب عوامی لیڈر اپنے کاروبار‬
‫کرسکیں گے۔ یہ عمارتیں انھیں الاٹ کردی جائیں تاکہ‬

‫آنے لوگ ان سے واپس نہ لےسکیں۔ ہر دور میں‬
‫جائدادیں اسی طرح عطا ہوئی ہیں اسی طرح نوابی ان‬
‫کا ممدر بنی اوروہ آج بھی نواب صاحب کے درجے پر‬
‫فائز ہیں۔ یہاں اس طرح کے وساءل کی کمی نہیں گویا‬

‫آتے ولتوں کےعوامی لیڈر مرحوم نہیں رہیں گے۔ آج‬
‫کی فکر ضروری ہے کل کےلوگ اپنے معاملات خود‬
‫دیکھ لیں گے۔ وہ ہاتھ پیرعمل داؤپیچ اورگر لے کر‬
‫پیدا ہوں گے۔ لہزا اس امرکی کی یکسر فکر نہیں ہونی‬

‫چاہیے۔‬

‫عام معافی کےاعلان سے چار اور بھی فائدے ہوں‬
‫‪:‬گے‬

‫‪١‬۔ لیدی اپنےاپنےکام کی طرؾ لوٹ سکیں‬
‫گےاورانھیں مستمبل میں پکڑے جانے کا خوؾ نہیں‬

‫ہو‬
‫‪٢‬۔ ہزاروں محکمہ جیل خانہ جات کےملازمین پر‬
‫بےکاراٹھنے والی رلم بچ جائے گی اور یہ رلم عظیم‬
‫ہاؤسز اور ان کے باسیوں کی جان بنانےکے کام‬
‫آسکے گی اوران کی ۔کار گزاری کو بہتربنایا جا سکے‬

‫گا۔‬
‫‪٣‬۔ مہامنشی ہاؤس سےایک منسٹری فارغ ہوجائےگی‬
‫اس طرح اچھا خاصا عملہ فارغ ہوکرمحکمہ جیل خانہ‬
‫جات کی عمارتوں کے مالکان کی خدمت سرانجام دے‬
‫کرعوام کی داد و تحسین حاصل کر سکیں گےاوران‬

‫کے دلوں میں جگہ بنا سکیں گے۔‬

‫‪٤‬۔ دیا کندہ اور اس کی پاٹی کا یہ لاکھوں پر مشتمل‬
‫ووٹ بنک ہو گا۔‬

‫عوامی نمائندے مسائل' اور بیورو کریسی‬

‫عوامی نمائندے مسائل' اور بیورو کریسی ایک‬
‫دوسرے کی دشمن ریاستیں معاملات حیات میں ایک‬
‫دوسرے کی حریؾ بھی ہوتی ہیں۔ سبمت لے جانے کا‬

‫جذبہ انھیں ہر لمحہ متحرک رکھتا ہے۔ چھوٹے‬
‫چھوٹے معاملات میں ان کے ہاں ضد کار فرما رہتی‬
‫ہے‪ .‬ایک دوسرے کی معمولی کامیابی انھیں وارہ نہیں‬

‫کھاتی۔ وہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے موالع‬
‫تلاشتی رہتی ہیں۔ اس صورت حال میں اچھے اور‬
‫برے پہلو موجود رہتے ہیں۔ اچھا پہلو یہ ہے کہ وہ‬
‫متحر ک رہتی ہیں اور ضد و ضدی اپنے حوالہ سے‬
‫بہتر کرتی ہیں۔ سائنس ٹیکنالوجی میں کمال حاصل‬
‫کرتی ہیں۔ ان کا شعبہ تعلیم ترلی کرتا ہے۔ نئے وسائل‬
‫کی کھوج میں کوئ دلیمہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ پرانے‬

‫وساءل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی سعی کرتی‬
‫ہیں۔ ان کے مزید تصرفات تلاشتی ہیں حرکت اور‬
‫تحمیك و تلاش کے زیر اثر خوشحالی اور معاشی‬
‫آسودگی ان کا ممدر ٹھرتی ہے۔ دشمن اور حریؾ‬
‫ریاست سے کچھ بھی لبولنا انھیں خوش نہیں آتا۔‬

‫انھیں مرنا' کچھ لبولنے یا وصولنے سے آسان لگتا‬
‫ہے۔ کچھ لبولنا یا وصولنا' ان کی انا کی موت ہوتی‬
‫ہے۔ انا کی موت حمیمی موت سے کہیں بدتر ہوتی ہے۔‬
‫انا کی موت انھیں صدیوں تک بےچین اور بےکل‬
‫رکھتی ہے۔ انا کا مرنا یا مجروع ہونا لوموں کے لیے‬
‫ایسا زہر ہوتا ہے جو دن کا چین اور راتوں کی نیند‬
‫چرا لیتا ہے۔ پاکستانی لیڈروں اور حکمرانوں کو چھوڑ‬
‫کرامریکہ کو پاکستانی لوم کا لبر میں پڑا مردہ بھی‬
‫پسند نہیں کرتا لیکن پاکستانی لوم کبھی بھی امریکہ‬

‫کی حریؾ بن کر‬
‫سامنے نہیں آ سکی۔ کسی میدان میں ممابلے کا‬

‫رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔‬

‫حالانکہ پاکستانی لوم امریکی لوم سے سو فیصد امیر‬
‫ہے۔امریکی ان کا کبھی بھی ممابلہ نہیں کر سکتے‪:‬‬
‫‪ .1‬لدرتی وسایل امریکہ سے کہیں بڑھ کر ہیں۔‬

‫‪ .2‬تھوڑی اجرت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔‬
‫‪ .3‬تھوڑی اجرت میں زیادہ ولت دے سکتے ہیں۔‬

‫‪ .4‬موسم زیادہ ہیں۔‬
‫‪ .5‬لدرتی ماحول زیادہ سازگار ہے۔‬

‫‪ .6‬محنتی اور بلا کے ذہین ہیں۔‬
‫‪ .7‬پھل اور سبزیوں کے حوالہ سے دنیا کا کوئی خطہ‬

‫اس کے ممابلہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔‬
‫‪ .8‬ممابلے کا جذبہ ان سے بڑھ کر ہے۔‬

‫‪ .9‬زمینی حالات کہیں بہتر ہیں‪.‬‬
‫ا‪ .‬تمام ممدس کتب اس کی زبان میں پڑھنے کو مل‬

‫جاتی ہیں‬
‫ب‪ .‬مذہبی لٹریچر دنیا کی ہر زبان سے زیادہ ہے۔‬
‫‪ .10‬ان کی زبان ہزاروں سال پرانی ہے۔ زبان و ادب‬
‫کے حوالہ سے کوئی زبان اس کے ممابل کھڑی نہیں‬

‫ہو سکتی‬
‫‪ .11‬یہ بڑی سخت جان لوم ہے۔ زمینی سماوی اور‬
‫طالع آزما لوگوں کے حوالہ سے اس خطہ کے باسیوں‬
‫نے سب لوموں سے زیادہ مصائب جھیلے ہیں اور‬

‫جھیل رہی ہے‪.‬‬
‫‪ .12‬شعری ادب جس میں انملابی کلام بھی شامل ہے‬
‫امریکہ کیا' مؽرب کی تمام لوموں سے زیادہ موجود‬

‫ہے‪ .‬مؽرب کی زبانیں ایک میر یا استاد ؼالب دکھانے‬
‫سے لاصر ہیں‪.‬‬

‫یہ سب ہوتے ہوئے بھی یہ لوم ناصرؾ مفلس وکنگال‬
‫ہے بلکہ دنیا بھر میں بدنام اور معتوب ہے۔ امریکہ‬
‫سے خار رکھتے ہوئے سوئے میرے' ہر کوئی اس‬

‫دیس جانے کی آرزو رکھتا ہے۔‬
‫کیوں?‬

‫کیا یہ دشمنی محض دکھلاوا اور منافمت کی دشمنی‬
‫ہے?‬

‫نہیں بالکل نہیں' یہ دراصل بھوک اور سیری کا معاملہ‬
‫ہے۔ امریکہ تکڑا لگتا ہے۔ ہر ماڑا تکڑے کی دانستہ یا‬

‫نادانستہ پیروی کرتا ہے۔ اس معاملے کو ڈیپٹی نذیر‬
‫احمد کا کردار ظاہردار بیگ واضح کرنے کے لیے‬
‫کافی ہے۔ اس سا دکھنے کے لیے ہم اس کے کلچر ہی‬
‫کو نہیں بلکہ اس کے نظریات کو بھی اپنا رہے ہیں۔‬
‫بےشمار انگریزی لفظ اردو مصادر کے ساتھ جڑ کر‬
‫ہماری گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس کے برعکس‬
‫ہماری زبان جو دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی‬
‫زبان یتیم بھی ہے اور مسکین بھی۔ لوگ' زبان* علالہ‬

‫اور سرمایہ کے اول درجہ ہونے کے باوجود ابتری کی‬
‫تیسری سطع یہاں کا ممدر کیوں بنی ہوئی ہے۔ اس کی‬
‫پہلی اور آخری وجہ اس کے لیڈر اور اس کی بالا اور‬

‫زیریں دفتر شاہی ہے۔ جب تک یہ لوم ان شاہجہانی‬
‫جوٹھوں سے نجات حاصل نہیں کر لیتی اس کی آزادی‬

‫خوشحالی اور آسودگی کا خواب کبھی بھی شرمندہ‬
‫تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ میں منہ زبانی بات نہیں کر‬
‫رہا‪ :‬اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کو ملاحظہ‬
‫فرمائیں‪ :‬پنجاب اسمبلی۔ بیوروکریسی کے رویہ پر‬

‫سخت تنمید۔ کرپٹ افسران کے خلاؾ کاروائی کا‬
‫مطالبہ۔ افسر شاہی لوٹ کر کھا جاتی ہے اورالزامات‬
‫سیاستدانوں پر لگتے ہیں۔ ایس ایچ او تک ہمارا مذاق‬
‫اڑاتے ہیں۔ یہ کوئ عام آدمی نہیں' لوم کے لرار پانے‬
‫والے نمائیندے اور آئین ساز فرما رہے ہیں۔ بااختیار‬
‫لوگوں کا یہ حال ہے توایک عام اور کمزور آدمی کی‬
‫وہاں کیا درگت بنتی ہو گی۔ شری رام دیو کو ایک راون‬
‫سے واسطہ تھا لیکن منشی ہاؤسز میں ان گنت راون‬
‫سب کواور سب کچھ ڈکارنے کے لیے بیٹھے ہوئے‬
‫ہیں۔ بااختیار لوگوں کی شکایت پر افسوس نہیں اشک‬
‫آمیز ہنسی آتی ہے۔ یہ ان سے ایک ؼلط اور ڈی میرٹ‬
‫کام لیں گے تو وہ دہ دنیا ستر آخر کےتناسب سے دس‬

‫ؼلط کام کریں گے۔ اس میں چیکنے والی کون سی بات‬
‫ہے۔ علالوں مں انتہائی جونئیر اور کرپٹ لوگ خود‬
‫سے تعینات نہیں ہو گئے ان کے کہنے پر تعینات‬

‫ہوئے ہیں۔ فائل ورک یہ نہیں جانتے لیکن لانون سازی‬
‫کا کام ان کےذمہ ہے۔ جب چور کی سفارش کریں گے‬
‫تو ایس ایچ او کیا ہر کوئی افسوس ناک اور پر تذلیل‬
‫ہنسی ہنسے گا۔ کہیں گے کہ ہم عوام کے نمائیندے‬

‫ہیں۔ یہ کس طرح عوام کے نمائیندے ہیں‪:‬‬
‫ا۔ عوام کی فلاح کے کام کرتے ہیں?‬

‫ب۔ انتخاب کا کام عوام کی طرؾ سے ہوتا ہے?‬
‫ج۔ دو تہائی ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں اور اس میں سے‬
‫‪ +50‬ووٹ حاصل کرکے عوامی نمائیندے ٹھرتے ہیں‬

‫?‬
‫د۔ دو تہائی ووٹ کاسٹ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ‬
‫لوگ موجودہ انتخابی نظام کو مسترد کر چکے ہیں۔ یہ‬
‫عوام کے نمائیندے ہی نہیں ہیں عوام کی بہبود کے‬
‫لیے کیوں کام کریں گے۔ یہ اول تا آخر اپنی بہبود کے‬
‫لیے کام کرنے واے لوگ ہیں۔ زیریں کلرک شاہی اور‬
‫درجہ چہارم تک کے لوگوں کی فہرست یہ فراہم کرتے‬
‫ہیں۔ بالا کلرک شاہی' زیریں کلرک شاہی کے سہارے‬
‫چل رہی ہے۔ معمولی معاملے کی ذیل میں بھی یہ کن‬

‫پھوکیے ہاتھ دکھاتے ہیں۔ مسائل کیسے حل ہوں گے۔‬
‫نمائیندے عوام کے نہیں ہیں۔ چھوٹا سے چھوٹا افسر‬
‫ان سرکار کے ہاتھ کا ہوتا ہے۔ زیریں کلرک شاہی اور‬
‫درجہ چہارم تک کے لوگ ان کی پرچی اور فہرست‬

‫نوازی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں‬
‫بیوروکریسی کے رویے اور کرپشن پر تنمید کا ان‬
‫حضرات گرامی کو حك پہنچتا ہے?! ہاں یہ حك عوام‬
‫کے پاس موجود ہے لیکن وہ اپنا حك استعمال نہیں ر‬
‫سکتے۔ اگر کریں گے تو پہلے سے بھی جائیں گے۔‬

‫سڑکوں پر آئیں گے تو پولے کھائیں گے۔‬
‫‪------------------------------------------------------‬‬

‫‪ ----------------------------‬اس خطہ کی زبان کے‬
‫اس ولت تین رسم الخط‬

‫(نستعلیك‪/‬اردو'دیوناگری'رومن) مستعمل ہیں۔ پنجابی*‬
‫کے بھی تین رسم الخط ہیں لیکن پنجابی بولنے والے‬
‫اس زبان کو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ زبان دنیا‬
‫کی تمام زبانوں سے زیادہ آوازیں رکھتی ہے۔ اس کے‬
‫دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ لہجے ہیں۔ دنیا کی لدیم‬
‫ترین زبان ہے۔ اس زبان کا آؼاز حضرت ہند بن حام بن‬
‫نوح سے ہوا۔ لفظ ہندوستان بھی حضرت ہند بن حام بن‬

‫نوح کے حوالہ سے وجود پذیر ہوا۔ (ہند ‪+‬‬

‫سنتان'ستان فارسی سے وارد نہیں ہوا ۔ یہ لاحمہ‬
‫سامی نہیں حامی ہے اور سنتان کی تبدیل شدہ شکل‬
‫ہے ہند استھان کی صورت میں بھی دیسی ہے) دنیا‬
‫کی کوئی زبان جذب واخذ میں اس کا ممابلہ نہیں کر‬
‫سکتی۔ ہاں اس کے رسم الخط اور نام بدلتے رہے ہیں‬

‫جن کا پڑھنا ابھی اہل گرہ کش کے ذمہ بالی ہے۔‬

‫سیری تک جشن آزادی مبارک ہو‬

‫میں اس امر کا متعدد باراظہار کر چکا ہوں کہ‬
‫برصؽیر دنیا کا بہترین خطہءارض ہے۔ یہاں کے‬
‫وسنیک بڑے ہی محنتی اور ذہین ہیں۔ میدان کار زار‬
‫میں بھی نالابل یمین کارنامے سر انجام دیتے آئے ہیں۔‬
‫سکندر دنیا فتح کرنے چلا تھا لیکن راجہ پورس سے‬
‫پالا پڑا تو اسے نانی یاد آ گئی۔ ٹیپو کا نام لے کر‬
‫انگریز مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں۔اہل للم بھی‬
‫بلا کے ذہین اور بے باک رہے ہیں۔ شاعر علامتوں‬
‫اشاروں میں تلخ حمیمتوں کو کاؼذ کے بدن پر اتراتے‬

‫آئے ہیں۔‬

‫پیٹو مورخ نے اورنگ زیب جو برصؽیر کو جہنم‬
‫میندھکیلنے کا موڈھی ہے‘ نبی کے لریب پنچا دیا ہے۔‬

‫رحمان بابا صاحب نے واضع الفاظ میں اس کی‬
‫کرتوتوں کی للعی کھول کر رکھ دی ہے۔‬

‫بہادر شاہ ظفر نےبڑے ہی رومانوی الفاظ میں اپنے‬
‫عہد کے کرب کو بیان کر دیا ہے۔ ذرا یہ شعرملاحظہ‬

‫فرمائیں کتنا کرب پوشیدہ ہے۔‬
‫چشم لاتل تھی میری دشمن ہمیشہ‘ لیکن‬
‫جیسی اب ہو گئی لاتل کبھی ایسی تو نہ تھی‬

‫ذہانت کی پذیرائ تو بڑی دور کی بات‘ ان کی ذہانت کو‬
‫کبھی تسلیم تک نہیں کیا گیا بلکہ ذہانت کی تذلیل ہی‬
‫کی گئ ہے۔ ہنر مندوں کے ہاتھ کاٹے گئے ہیں۔ بعض‬
‫تو جان سے بھی گئے ہیں۔ اس کے برعکس کرسی‬
‫لریب گماشتوں اور کنمریب جھولی چکوں کو نوازا گیا‬
‫ہے۔ یہی جھولی چک اپنی عیاری کے بل پر کرسی پر‬

‫شب خون مارتے آئے ہیں۔‬

‫تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں ؼداروں اور دھرتی کے‬
‫نمک حراموں کے سبب بیرونی طالع آزماؤں کے سبب‬

‫یہ دھرتی ؼیروں کی ؼلام رہی ہے۔ ؼیروں نے اس‬
‫کےوسائل سےموجیں کی ہیں خوب پچرے اڑائے ہیں‬
‫اوراڑا رہے ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ چلتا‬
‫رہے گا۔ یہ ؼدار اور دھرتی کے نمک حرام لوگوں کی‬

‫ذہانت کا اسی طرح‬
‫لیمہ کرتے رہیں گے۔ اس ذیل میں خدا کے خوؾ کی‬

‫بات کرنا حمالت سے کم نہیں۔‬

‫خدا‘ خدا کا خوؾ کھائیں؟ بادشاہ لوگوں کا شروع سے‬
‫یہی طور اور وتیرا رہا ہے۔ دور کیا جانا ہے آج کے‬
‫خدا نما بادشاہوں کو ہی دیکھ لیں کیا کر رہے ہیں۔‬
‫شخص ان کے لیے کیڑے مکوڑے سے زیادہ حیثیت‬

‫نہیں رکھتا۔ اس کی بھوک پیاس سے انہیں کوئی‬
‫ؼرض نہیں۔ انھیں تو باتوں اور جھوٹے دعوں کے‬
‫عوض جنتی اور مفتی کھانا مل رہا ہے۔ ان کی دلال‬
‫افسر شاہی تو گلچرے اڑا رہی ہے۔ لوگ اندھیروں‬
‫میں ہیں تو وہ کیا کریں ان کے ہاں تو چانن ہے۔ چودہ‬

‫اگست ہر سال آتا ہے۔‬

‫سرکاری اور نجی سطع پر جشن منائے جاتے ہیں۔‬
‫سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ میں یہاں کے ذہین‬
‫لوگوں کی بات کر رہا تھا اس دن کے حوالہ سے میں‬
‫اس ذہین و فطین شخص کو سلام کرتا ہوں جس نے یہ‬

‫نعرہ ایجاد کیا‬
‫‪ -----‬جشن آزادی مبارک ہو‪------‬‬

‫جشن آزادی کی مبارک ہے آزادی کی نہیں۔ نعرہ نے‬
‫کمال کا ہاتھ دکھایا ہے۔ وہ جانتا تھا ہم آزاد نہیں‘‬
‫آزادی کا سہانا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنے‬
‫اور خوش فہمی میں مبتلا رہنے پر کوئی پابندی تو‬
‫نہیں ورنہ لوم خادم اور حکومتی گماشتوں کی ؼلام‬
‫ہے۔ یہ خادم اور حکومتی گماشتے امریکہ کے پیٹھوں‬
‫کے ؼلام ہیں۔ کیسی آزادی کہاں ہے آزادی؟جو لوگ‬
‫منصؾ کے درپے ہو جاتے ہیں‘ اسے نیچا دکھانے‬
‫اور اپنا دلال بنانے پر اتر آتے ہیں انھیں الله ہی اپنی‬
‫گرفت میں لے سکتا ہے۔ وہ صم بکم عم فاھم لا‬
‫یرجعون کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ لوم کے‬
‫حصہ میں فمط جشن آیا ہے سو وہ دھوم سے منا رہی‬
‫ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی صرؾ جشن پر‬
‫ہی اکتفا کرے۔جو لوگ منصؾ کے درپے ہو جاتے‬

‫ہیں‘ اسے نیچا دکھانے اور اپنا دلال بنانے پر اتر آتے‬
‫ہیں انھیں الله ہی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ وہ صم‬
‫بکم عم فاھم لا یرجعون کے درجے پر فائز ہو جاتے‬
‫ہیں۔ لوم کے حصہ میں فمط جشن آیا ہے سو وہ دھوم‬

‫سے منا رہی ہے۔ الله ناکرے آتے سالوں میں بھی‬
‫صرؾ جشن پر ہی اکتفا کرے۔‬

‫میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ملک کا‬
‫آئین معطل یا چیلنج ہو چکا ہے۔ میری اس تحریر کو‬
‫کسی ایک نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ اس نام نہاد جشن‬
‫آزادی کی کرتوت یہ ہے کہ ملک چیلنج یا معطل آئین‬
‫کے حوالہ سے چل رہا ہے۔عوام آخر کس لانون اور‬
‫آءین کے تحت جشن منا رہے ہیں۔ یہ جشن بھی ؼیر‬
‫آءینی ہے۔ عوام کو تو جھوٹ موٹھ کی خوشی منانے‬
‫کا بھی حك حاصل نہیں۔ سال رواں کے اس روائتی‬
‫جشن کے مولع پر مجھے محمد نعیم صفدر انصاری ایم‬
‫پی اے لصور کا ایک موبائل میسج ملا۔۔۔۔۔۔۔ زنجیریں‬
‫ؼلامی کی‘ دن آتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی ۔ چودہ‬

‫اگست ہپی انڈیپنڈنس ڈےمحمد نعیم صفدر انصاری‬
‫نوجوان سیاست دان ہے۔ اس کا موبائل میسج میرے‬
‫مندرجہ بالا مولؾ کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت ہے۔‬

‫ایک ایوان کے ممبر کے موبائل کے منہ سے نکلی یہ‬
‫بات اس امر کا واضع ثبوت ہے کہ ملک اور لوم کا‬
‫درد رکھنے والے نوجوان بھی اس ؼلام اور ؼبن اور‬
‫کرپشن آلودہ فضا میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔‬

‫محمد نعیم صفدر انصاری ایوان کلچر کا نمائندہ ہےگویا‬
‫یہ ون مین گھٹن نہیں ہے پورے ایوان کی گھٹن ہے۔‬

‫یہ تو مثل ایسی ہے کہ بہو کو کہا جائے بیٹا سب کچھ‬
‫تمہارا ہے لیکن کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ کیسی‬

‫نمائندگی اور علالائ سربراہی ہے کہ لیا سب کچھ‬
‫جائے لیکن دیا اندھیرا جائے اور پھر بھی مورخ سے‬
‫کہا جائے لکھو بادشاہ بڑا دیالو کرپالو اور دیس بھگت‬
‫تھا۔ بہر طور مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے ایوانوں‬
‫میں محمد نعیم صفدر انصاری جیسے نمائندے موجود‬
‫ہیں جو اس امر کا شعور رکھتے ہیں کہ پاکستانی لوم‬

‫کے ہاتھ صرؾ جشن آزادی لگا ہے‘ آزادی ابھی‬
‫کوسوں دور ہے۔ پرانی نسل دیسی گھی کھاتی تھی اس‬

‫کے جسم میں وافر خون تھا۔ دیسی گھی تو دور کی‬
‫بات اس کے پاس تو سوکھی روٹی بھی نہیں۔ خون‬
‫کہاں سے آے گا۔ آزادی خون مانگتی ہے اس لیے پیٹ‬

‫بھرنے تک جشن آزادی کی مبارک باد پر ہی گزارا‬
‫کرنا کافی رہے گا۔‬

‫لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت‬

‫لوٹا کوئی عہد جدید کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پہلے‬
‫وجود میں آ کیا تھا اور اس نے اپنی بہترین کارگزاری‬
‫کے حوالہ سے انسانی زندگی میں بلند ممام حاصل کر‬
‫لیا۔ اس کے وجود سے انسان خصوصا برصؽیر کے‬

‫بااختیار اور صاحب حیثیت لوگوں نے خوب خوب‬
‫فاءدہ اٹھایا۔ دیکھا جائے یہ کمزور اور گریب طبمے‬
‫کی چیز ہی نہیں۔ پکے محل رکھنے والے اس کی‬
‫کارگزاری کے معترؾ رہے ہیں۔ کمزور اور گریب‬
‫طبمے سے متعلك لوگ کچے اور تعفن کے مارے‬
‫گھروں میں رہتے ہیں اس لیے ان کی گزر اولات‬
‫گھیسی سے ہو جاتی ہے۔ اس حیمیت کے پیش نظر‬
‫لوٹے کو بلند پایہ طبموں کی امانت سمجھنا چاہیے۔‬
‫موجودہ بتی کے بحرانی دور میں بھی بڑے لوگوں کو‬

‫گھیسی نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ سعادت صرؾ اور صرؾ‬
‫کمزور اور گریب طبمے کے ممدر کا حصہ رہے گی۔‬

‫لوٹا" کو آفتابہ بھی کہا جاتا رہا ہے لوٹے کو استاوا "‬
‫بھی کہتے ہیں اور یہ لفظ دیہاتوں میں آج بھی‬

‫مستعمل ہے۔ تاہم شہروں میں مستعمل اور معروؾ لفظ‬
‫لوٹا ہی ہے۔ یہ ایک لسم کا ٹونٹی والا برتن ہوتا ہے‬
‫جو پاخانہ وؼیرہ کے لیے پانی سے طہارت کرنے والا‬

‫برتن ہوتا ہے۔ مؽرب والے اس برتن اور اس کی‬
‫افادیت سے آگاہ نہیں ہیں کیونکہ وہ طہارت کا کام‬
‫ٹیشو پیپر سے چلاتے ہیں۔ ویسے ٹیشو پیپر کا‬
‫استعمال کھانا کھانے کے بعد ہاتھ صاؾ کرنے کے‬
‫لیے بھی ہوتا ہے۔ اصطلاحا ٹیشو پیپر کے معنی اس‬
‫سے مختلؾ ہیں۔ کام نکل جانے کے بعد آنکھیں بدل‬
‫لینا کے لیے یہ مرکب استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال‬
‫شدہ ٹیشو پیپر معنویت کھو دیتا ہے۔ انسان کے لیے‬
‫اس مرکب کا استعمال کرنا مناسب نہیں لگتا کیونکہ‬
‫انسان کی دوبارہ سے ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ‬
‫ٹیشو پیپر دوبارہ سے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔‬
‫دوبارہ سے ضرورت یا حاجت کے لیے نیا ٹیشو پیپر‬
‫استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انسان دوبارہ‬

‫سے کیا' بار بار استعمال میں لایا جا سکتا ہے‪ .‬ٹیشو‬
‫پیپر کا ہاتھ اور پیٹھ کی صفائ کے علاوہ کوئی لابل‬

‫ذکراستعمال موجود نہیں۔‬

‫مساجد میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے آج‬
‫بھی زیادہ تر مٹی کے لوٹے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔‬

‫کہیں کہیں پلاسٹک کے لوٹے بھی دیکھنے کو مل‬
‫جاتے ہیں۔ جماعت والے جب چلے پر جاتے ہیں‬
‫پلاسٹک کے لوٹوں کو ترجیع دیتے ہیں کیونکہ ان کے‬
‫ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ سفر میں لوٹا ٹوٹنا یا بہہ جانا‬
‫نہوست ہی نہیں مکروہات میں بھی ہے۔ لوٹے کی‬
‫سلامتی میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔ طہارت کا‬
‫سارا دارومدار لوٹے پر ہوتا ہے۔ لوٹا برلرار ہے تو‬
‫طہارت برلرار ہے۔ طہارت برلرار ہے تو ہی عبادت‬

‫ممکن ہے۔‬

‫شہر کے گھروں میں کانسی سلور سٹیل چاندی‬
‫پلاسٹک وؼیرہ دھاتوں کے لوٹے دیکھنے کو مل‬
‫جاتے ہیں۔ ایوا نوں میں پلاسٹک کے لوٹے استعمال‬
‫ہوا کرتے تھے ؼالبا آج بھی پلاسٹک کے لوٹے‬
‫استعمال ہوتے ہیں۔ فیشنی دور ہے ٹیشو پیپر بھی بڑی‬

‫افادیت رکھتے ہیں۔ ٹیشو پیپر کو لوٹے کا مترادؾ‬
‫سمجھا جاتا ہے۔ حمیت یہ ہے کہ ۔ ٹیشو پیپر لوٹے کا‬
‫متبادل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں پانی کا عمل‬
‫دخل نہیں ہوتا دوسرا ٹیشو پیپر ایک سے زیادہ بار‬
‫استعمال نہیں ہو سکتا۔ گویا گھیسیی اور ٹیشو پیپر‬
‫برابر کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ گھیسیی طہارت کے حوالہ‬
‫سے زیادہ معتبر ہے۔ مٹی سے وضو تک کیا جا ستا‬
‫ہے۔ وضو کی ضرورت نماز تک محدود ہے۔ ہہاں لوگ‬
‫بسم الله شریؾ تک درست نہیں پڑھ سکتے لہذا ٹیشو‬

‫پیپر کا استعمال ایسا ؼلط نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اس‬
‫لماش کے لوگ گھیسی بھی کر لیں تو کوئ برائ نہیں۔‬

‫طہارت کے لیے لوٹا' گھیسی یا ٹیشو پیپر نہ بھی‬
‫استعال میں لائیں تو بھی ان کی سر جاءے گی۔ یہ لوگ‬
‫عوام کا ووٹ حاصل کرکے طہارتیوں میں شمار ہوتے‬
‫ہیں۔ ان کی پاکی پلیدی پر انگلی نہیں رکھی جا سکتی۔‬

‫لوٹے کے چھوٹا یا بڑا ہونے کے حوالہ سے بات ہوئ‬
‫ہے لوٹا چھوٹا ہو یا بڑا' بظاہر ا س سے کوئ فرق‬
‫نہیں پڑتا۔ لوٹا اول تا آخر لوٹا ہے کہاں تک ساتھ دے‬

‫گا۔ مٹی کا لوٹا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ لوٹےکے بڑا یا چھوٹا‬
‫ہونے سے اچھا خاصا اثر پڑتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں‬

‫پانی کم پڑتا ہے اس لیے طہارت کے لیے دو سے‬
‫زیادہ لوٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے‬
‫برعکس بڑا لوٹا بڑی حد تک ایک ہی کافی ہوتا ہے۔‬
‫رہ گئی ٹیشو پیپر یا گھیسی کی بات ٹیشو پیپر بڑے‬
‫ایوانوں یا بڑے گھروں کے کام کی چیز ہوسکتی ہے‬

‫لیکن دیہاتوں یا جھونپڑوں کے ممیم اسے‬
‫گھیسی یا کچے روڑے کےاستعمال کو ترجیع میں‬

‫رکھتے ہیں۔‬

‫لوٹے کا اصطلاحی استعمال بڑے ایوانوں میں ہوا کرتا‬
‫تھا اصطلاحی لوٹا عوام کے متعلك چیز نہ تھی اور نہ‬
‫ہی ایوانی لوٹوں پر کسی لسم کی بات کرنے کا حك تھا‬
‫۔ ان کی یہ اولات بھی نہ تھی کہ وہ ایوانی لوٹوں کے‬
‫متعلك کوئی بات اپنی ناپاک زبان پر لائیں۔ لوٹے اپنی‬

‫اولات اورافادیت کے حوالہ سے بڑی‬

‫‪importance‬‬
‫رکھتے ہیں۔ کمی کمین عوام جو دوچار بتی کھچ‬
‫جھٹکوں کی مار نہیں ہیں' تمدس ماب لوٹوں پر اپنے‬
‫حوالہ سے ایک شبد بھی منہ سے نہ نکالیں۔‬

‫ان کی اتنی جرات اور ہمت کہاں حالانکہ لوٹوں کے‬

‫بارے ہاں کی بملم خود رائے موجود رہی ہے۔ عوام کو‬
‫صرؾ اور صرؾ رائے دہی کا حك حاصل ہے۔ اگر‬

‫مخالؾ فریك کے ڈبے میں ووٹ چلا جاتا ہے تو رائے‬
‫دہی کا حك' داھندلی کے لمب سے ملموب ہوتا ہے۔‬

‫میں اصل نمطے کی بات عرض کرنا بھول گیا ہوں‬
‫لوٹے کی ہیت ترکیبی ٹونٹی تک محدود نہیں پیندے کا‬
‫اس میں بنیادی رول ہوتا ہے۔ مٹی کے بعض لوٹے بلا‬
‫پیندے کے بھی رہے ہیں۔ اس لسم کے لوٹوں کے لیے‬

‫پیالہ نما جگہ بنا دی جاتی تھی لیکن پیندے وا لے‬
‫لوٹے پیالے کی سعادت سے محروم رہتے تھے۔‬
‫پلاسٹک کے لوٹے باپیندا ہوتے ہیں ہاں زیادہ استعمال‬
‫کے باعث ان کا پیندا ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن ٹوٹ‬
‫پھوٹ کے باوجود پیندے کا نام و نشان بالی رہتا ہے۔‬
‫انھیں استعمال کی کسی بھی سطع پر بے پیندا لوٹا‬
‫لرار نہیں دیاجا سکتا۔ استعمال کے سبب نیچے سے‬
‫کتنا بھی ٹوٹ جاءے پیندے کا نشان ضرور بالی رہ‬
‫جاتا ہے۔ معمولی نشان بھی اسے باپیندا لراردینے کے‬

‫لیے کافی ہوتا ہے۔‬

‫سیانے مولوی اپنا طہارت خانہ الگ سے رکھتے ہیں‬

‫لہذا ان کا لوٹا بھی اوروں سے الگ تر ہوتا ہے۔ اس‬
‫طر ح مولوی صاحب کا لوٹا' ممدس لوٹا ہوتا ہے۔ دفاتر‬
‫میں عملے کے طہارت خانے عام استعمال میں رہتے‬

‫ہیں اس لیے وہاں کے لوٹے کسی خاص دفتری کے‬
‫لیے مخصوص نہیں ہوتے ہاں البتہ افسروں کے‬
‫طہارت کدے ان کے دفتر کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ ان‬

‫طہارت کدوں کے لوٹے بڑی معنویت کے حامل ہوتے‬
‫ہیں۔ بعض افسر ٹیشو پیپر استعمال میں لاتے ہیں'‬

‫وہاں لوٹے نہیں رکھے جاتے ۔ کچھ افسرز کے طہارت‬
‫کدوں میں دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مولع کی‬
‫مناسبت سے لوٹے یا ٹیشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں‬
‫تاہم ان کے طہارت کدوں کی آن بان اور شان ہی کچھ‬
‫اور ہوتی ہے۔‬

‫حضرت پیر صاحبان کے واش روم زیر بحث نہیں‬
‫لئےجا سکتے کیونکہ حضرت پیر صاحبان نیک پاک‬
‫اور عزت کی جگہ پر ہوتے ہیں۔ یہ اپنی خانماہ میں‬
‫ہوں یا کسی ایوان کی زینت بڑھا رہے ہوں' ان کے‬
‫لوٹے دوہرے کام کے ہوتے ہیں‪ .‬نہ گھومیں تو چاند‬
‫گھوم جائں تو زنجیر وٹ پر رہتی ہے۔ بہرطور طہارتی‬
‫اور پرچی نکالنے والے لوٹے الگ ہوتے ہیں اس لیے‬

‫ان کے حوالہ سے بات کرنے پر پاپ لگتا ہے۔ ایوانوں‬
‫میں تشریؾ رکھنے والے حضرت پیر صاحبان سیاسی‬
‫کھیل کے لیے پیندے اور بےپیندے لوٹے استعمال میں‬
‫لاتے رہتے ہیں اور یہ ان کا پروفیشنل حك بھی ہوتا‬
‫ہے لہذا کسی کو کوئ حك نہیں پہنچتا کہ وہ حضرت‬
‫پیر صاحبان کے لوٹوں کی جانب میلی نظر سے بھی‬

‫دیکھنے کی گستاخی کرے۔ اس لسم کے لوگوں کی‬
‫زمین پر ٹہوئی نہیں ہوتی۔‬

‫کوئ لوٹا نواز ہک پر ہتھ مار کر نہیں کہہ سکتا کہ‬
‫لوٹا زندگی کے کسی موڑ پر اپنی مرضی سےاوور فلو‬

‫ہونے کی گستاخی کرتا ہے۔ یہ لوٹے دار کی ؼلطی‬
‫کوتاہی بے نیازی یا بے دھیانی کے سبب اوور فلو‬
‫ہوتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں بڑے لوٹے کے برابر پانی‬
‫ڈالو گے تو ہی بات بگڑے گی۔ اسی طرح بڑے لوٹے‬
‫میں چھوٹے لوٹے کا پانی طہارتی امور سرانجام نہیں‬
‫دے سکتا۔ لوٹا دار کا فرض ہے کہ وہ تناسب کو ہاتھ‬
‫سے ناجانے دے۔ استاد ؼالب بلا کا لوٹا شناس تھا‪.‬‬

‫‪:‬تبھی اس نے کہا تھا‬
‫دیتے ہیں بادہ ظرؾ لدح خوار دیکھ کر‬

‫اماں حوا سے متعلك کہا جاتا ہے کہ وہ آدم کی بچی‬
‫ہوئی مٹی سے بنائی گئ تھیں۔ میں اس بات کو نہیں‬
‫مانتا تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔ ایک عام آدمی کا‬
‫خیال ہے کہ ہمارے ہاں کے لوٹے استاد ؼالب کے‬
‫کسی نہایت حرامی لوٹے کی بچی ہوئ مٹی سے وجود‬
‫پذیر ہوئے ہیں۔ میں اس عمیدے پر یمین نہیں رکھتا‬

‫تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔‬

‫جگہ' لانون' لوگ اورحکومت کسی بھی ریاست کے‬
‫وجود کے لیے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ ان کے‬
‫بؽیر ریاست وجود میں نہیں آ سکتی۔ ان میں سے ایک‬
‫عنصر بھی شارٹ ہو تو ریاست نہیں بنتی۔ حکومتی‬
‫ایوانوں میں لوٹے نہ ہوں تو معزز ممبران لبڑی پنٹوں‬
‫شلواروں کے ساتھ نشتوں پر بیٹھینگے ' سوساءٹی‬
‫میں پھیریں گے اس سے نا صرؾ حسن کو گریہن‬

‫لگے گا بلکہ بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں‬
‫شلواروں والے ممبران کی عزت کون کرے گا۔ گریب‬
‫عوام اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ کھوتا گھوڑا‬
‫ایک برابر ہو جائیں گے لہذا لوٹوں کی خرید و فروخت‬
‫کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ سےپہلا‬

‫سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔‬

‫لوٹوں کی تجارت پر کسی بھی سطع پر کبیدہ خاطر‬
‫ہونا سراسر نادانی کے مترادؾ ہے۔ ریاست کے‬
‫ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے لیے‬
‫لوٹوں کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی‬
‫لسم کی تکلیؾ دینا کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس‬
‫کاروبار پر ناک منہ اور بھویں اوپر نیچے کرنے والے‬
‫حضرات ؼدار ہیں اور ؼدار عناصر کا کیفرکردار تک‬
‫پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں سزا دینے کی‬
‫حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادؾ ہے۔‬

‫دو لومی نظریہ اور اسلامی ونڈو‬

‫اکتوبر ‪٢٠١٢‬‬
‫کی‬

‫بہترین ماہانہ تحریر کا بیج حاصل کرنے والی تحریر‬

‫‪http://www.friendskorner.com/forum/showthread.php/‬‬
‫دو‪-‬لومی‪-‬نظریہ‪-‬اور‪-‬اسلامی‪-‬ونڈو‪295225-‬‬

‫دو لومی نظریہ اور اسلامی ونڈوکمپیوٹر سے وابستہ‬

‫لوگ اس امر سے خوب آگاہ ہوں گے کہ جب سسٹم‬
‫میں وائرس داخل ہو جاتا ہے تو وہ کمپیوٹر کی مت‬
‫مار دیتا ہے۔اچھا خاصا چلتا چلتا کمپیوٹر آسیب زدہ ہو‬
‫کر رہ جاتا ہے۔ بعض وائرس کمپیوٹر کی ؼیر طبعی‬
‫موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ کچھ اسے موت کے گھاٹ‬
‫نہیں اتارتے لیکن دائمی فالج کا موجب بن جاتے ہیں۔‬
‫اچھا خاصا مواد کھا پی جاتے ہیں۔ مواد کو دسویں‬
‫جماعت کا ریاضی بنا دیتے ہیں۔ دسویں جماعت کے‬
‫ریاضی میں الجبرا بھی شامل ہے اور یہ الجبرا جبر‬
‫کے تمام رویوں اور رجحانات پر استوار ہوتا ہے۔ ہستا‬
‫مسکراتا کھیلتا کودتا کمپیوٹر نامراد واءرس کے باعت‬

‫سکتے میں آ جاتاہے۔ گویا وائرس کی بن بلائے‬
‫مہمانی کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے۔ یا یوں کہہ وہ‬
‫کچھ ہو سکتا ہے جس کا خواب بھی نہیں دیکھا گیا‬

‫ہوتا۔‬

‫وائرس مرتا نہیں مارتا ہےاور ہر حالت میں اپنی‬
‫اصولی عمر دبدبے اور پورے بھار سے پوری کرتا‬
‫ہے۔ کوئ دوا دارو ٹیکہ اس کا بال بیکا نہیں کر پاتا‬
‫ہاں متاثرہ کی لوت مدافعت میں اضافہ کرنے کی سعی‬
‫کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس امر سے آگاہ نہیں ہیں کہ‬

‫انٹی وائرس‘ وائرس کو مارنےکے لیے فیڈ نہیں کیے‬
‫جاتے۔ یہ وائرس سے پاک سسٹم میں اس لیے فیڈ‬
‫کیے جاتے ہیں کہ سسٹم میں وائرس داخل نہ ہونے‬
‫پاءے۔ گویا انٹی وائرس کا اول تا آخر ممصد یہ ہوتا‬
‫ہے کہ وائرس کو سسٹم سے دور رکھا جائے۔ دوسرا‬

‫یہ سسٹم کی لوت مدافعت کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کی‬
‫مثل ویکسین کی سی ہوتی ہے۔ عمومی زبان میں اسے‬
‫حفاظتی ٹیکے کا نام بھی دیا جات ہے۔ انٹی وائرس یا‬
‫ویکسین‘ وائرس کے دخول سے پہلے کی چیزیں ہیں۔‬
‫مختصر مختصر یوں کہہ لیں انٹی وائرس یا ویکسین‬
‫دراصل سسٹم کی حفاظت سے متعلك چیزیں ہیں۔ انھیں‬

‫خطرے سے بچاؤ کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ جیسے‬
‫مچھر سے بچنے کے لیے مچھر دانی کا استعمال کیا‬

‫جائے۔‬

‫ڈینگی سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کی‬
‫جائیں۔ ڈینگی حملے کی صورت میں فوری موت والع‬
‫نہیں ہوتی تو مدافعتی نظام کی طرؾ توجہ دی جائے۔‬
‫کسی دوائی وؼیرہ سے وائرس نہیں مرے گا۔ متاثرہ‬
‫کو پانی کی بھرتی رکھیں۔ سیب کا خود جوس نکال کر‬
‫پلائیں۔ شہتوت کے پتوں کو پانی میں ابال کر ٹھنڈا‬

‫کرکے پلاءیں۔برصؽیر عرصہ دراز سے خارجی وائرس‬
‫کی زد میں ہے۔‬

‫سکندر سے پہلے یہ یہاں سے بچے پکڑ کر لے جاتا‬
‫اور ان کی لربانی دیوتاؤں کے حضور نظر کر دیتا تھا۔‬
‫اس سے پہلے یا بعد کے وائرس بڑے خطرناک تھے۔‬

‫کیا کچھ کرتا تھا زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔‬
‫بہرطور یہ تو طے ہے کہ وائرس سسٹم کی تباہی کا‬
‫سبب بنتا ہے۔ حفاظتی عمل اور مدافعتی لوت کے کامل‬
‫صحت مند ہوتے ہوئے جسم یعنی سسٹم کے اندر سے‬
‫کوئی میر جعفر پیدا ہو جاتا ہے جو داخلے کا رستہ بتا‬
‫کر ہنستے بستے کھیلتے کودتے نظام کو مٹی میں ملا‬
‫دیتا ہے۔ اس کی مت ماری جاتی ہے اور وہ یہ نہیں‬
‫سمجھ پاتا کہ وہ اسی سسٹم کا حصہ ہے۔ ہوتا تو وہ‬
‫بھی وائرس ہے اس کے کام بھی وائرسوں والے‬
‫ہوتے ہیں لیکن ممامی سسٹم اسے اس کے کاموں‬
‫سمیت لبول چکا ہوتا ہے۔ گویا سسٹم اس وائرس کی‬
‫منفی فطرت کے باوجود اس سسٹم کا حصہ نہ ہوتے‬
‫ہوئے بھی سسٹم اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس کے‬
‫باعث سسٹم میں سو طرح کی خرابیاں آتی رہتی ہیں‬
‫لیکن سسٹم کا مدافعتی نظام چلتا رہتا ہے۔ حالانکہ اس‬

‫کا سسٹم میں رہنا کسی بھی حوالہ سے ٹھیک نہیں‬
‫ہوتا۔ کیا کیا جائے وائرس داخلی ہو یا خارجی‘ اس کا‬
‫اس کی طبعی عمر سے پہلے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔‬

‫سسٹم کو اس کی طبعی عمر تک برداشت سے کام لینا‬
‫پڑتا ہے۔ بس کرنے کا کام یہ ہے کہ سسٹم کے‬

‫مدافعتی نظام کو ڈولنے نہ دیا جاءے۔چٹی چمڑی والا‬
‫وائرس تو کل پرسوں سے تعلك رکھتا ہے اور ہم اس‬
‫کی تباہ کاری کے باعث بیمار جیون جی رہے ہیں۔ اس‬
‫وائرس نے کمال ہوشیاری سے تمسیم کے بہت سارے‬

‫دروازے کھول دءیے۔ کبھی زبان کو تمسیم کرکے‬
‫باہمی نفرتوں کو سسٹم کا حصہ بنایا۔‬

‫‪١٩٠٥‬‬
‫میں دو لومی نظریے کوداخلی وائرس کے ذریعے‬
‫عام کیا اور پھر اس تماشے سے خوب لابھ اٹھایا۔ یہ‬
‫کون سا ایسا نیا نظریہ تھا۔ یہ نظریہ ہزاروں سال پر‬
‫محیط ہے۔ لوگوں نے اصل مطب نہ سمجھا۔ لوگ یہ‬
‫سمجھتے رہے کہ الگ مملکت میں اپنے نظریاتی نظام‬
‫کے تحت اصولی لانونی اورآئینی زندگی بسر کریں‬
‫گے۔ داخلی وائرس نے اس ذیل میں مٹھی بند رکھی‬

‫تاہم اس ذیل میں کوئی لرارداد بھی منظور نہ کی اور‬
‫ناہی کوئی لرارداد پیش ہوئی۔ اس سسٹم کو کبھی بھی‬

‫اسلامی ونڈو نہیں دی گئی۔‬

‫جمہوریت کے حوالہ سے اسلامی ونڈو کرنے کی‬
‫ضرورت تھی۔ داخلی وائرس جو سسٹم پر ڈومینٹ رہا‬
‫ہے اسے اسلامی ونڈو کس طرح خوش آسکتی تھی یا‬

‫خوش آسکتی ہے۔ وائرس سسٹم کے لیے بہتری‬
‫سوچے یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے۔ایک صاحب‬
‫مرؼے کے ساتھ روٹی کھا رہے تھےیعنی ایک لممہ‬
‫خود لیتے دوسرا لممہ اپنے مرؼے کو پھینک رہے‬
‫تھے گو کہ وہ سائز اور حجم میں چھوٹا ہوتا تھا۔‬

‫کسی نے پوچھا میاں یہ کیا ر رہے ہو بولے ہم‬
‫خاندانی لوگ ہیں ہمیشہ مرؼے کے ساتھ روٹی کھاتے‬

‫ہیں۔‬

‫چٹی چمڑی والا وائرس بڑا خاندانی ہے مرؼے کے‬
‫ساتھ روٹی کھاتا ہے۔ جو لوگ مرغ باز ہیں وہ اپنے‬
‫مرؼے کی صحت توانائی اور جوانی کا خیال رکھتے‬
‫ہیں۔ سٹم کے ہر پرزے پر یہ واضع کرنے کی اشد‬
‫ضرورت ہے کہ وائرس دسترخوان اور شہوت کے‬

‫حوالہ سے کبھی کسی نظریے کا لائل نہیں رہا۔ مرؼا‬
‫زمین پر رہتے ہوئے خارجی وائرس کے لیے محترم‬
‫اور معتبر رہتا ہے۔ وہ اس کا جٹھکا اس ولت کرتا ہے‬
‫جب مرؼا میدان کا نہیں رہتا۔ میدان والا مرؼا خاندانی‬

‫لوگوں کے ساتھ ہی ناشتہ پانی کرتا آیا ہے۔‬

‫رونا سکول کے گرنے کا نہیں اصل رونا تو ماسٹر کے‬
‫بچ جانے کا ہے۔ ماسٹر مائنڈ وائرس سے پہلے داخلی‬

‫وائرس کو نکال باہر کرنے کے لیے بڑا ہی موثر‬
‫سافٹ وائر دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ آتی نسلوں‬
‫کو اس سے بچانے کے لیے سماجیات کے ڈاکٹر لدیر‬

‫سر جوڑ کر سوچیں اور اس نوع کے سوفٹ وئر‬
‫دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ ہاں اس کی کسی کو‬
‫ہوا تک لگنے نہ دیناور پھر اچانک دھماکہ کردیں۔‬
‫سسٹم جب داخلی واءرس سے آزاد ہو گیا تو خارجی‬
‫وائرس سے بچنے کے لیے ایک سو ایک انٹی وائرس‬

‫دریافت ہو جائیں گے۔‬

‫شیڈولڈ رشوتی نظام کے لیام کی ضرورت‬

‫ایک چرسی نے پاس سے گزرتے شخص سے ٹائم‬
‫پوچھا۔ اس شخص نے کہا پانچ بج کر بیس منٹ۔ اس‬

‫پر چرسی بولا اس ملک نے خاک ترلی کرنی ہے۔‬
‫صبح سے پوچھ رہا ہوں ہر کسی کا اپنا ٹائم ہے۔ بات‬
‫تو ہنسی والی ہے لیکن ذرا ؼور کریں گے تو اس بات‬

‫کو معنویت سے تہی نہیں پائیں گے۔‬

‫اس ملک میں ہر کسی کا شیڈول اپنا ہے۔ معاملات کو‬
‫اپنے مطلب کے معنی دے رکھے‬

‫ہیں اور اس ذیل میں دلائل بھی گھڑ رکھے ہیں۔ یہی‬
‫منڈی کے بھاؤ کی صورت ہے۔ ایک ہی چیز کے‬
‫مختلؾ بھاؤ سننے کو ملیں گے۔ بازار چلے جائیں‬
‫اشیائے خوردنی کے ایک سے نرخ سننےکو نہیں‬

‫ملیں گے۔ کپڑا خریدنا ہو یا سلوانا‘ ہر کسی کے اپنے‬
‫نرخ ہوتے ہیں۔‬

‫سیاستدار ہو یا سیاست پرداز‘ صبح کو کچھ اور شام‬
‫کو کچھ کہتا ہے۔ بعض تو اگلے لمحے ہی شخص اور‬
‫مولع کی مناسبت سے بات کو بدل دیتے ہیں۔ پہلی کہی‬


Click to View FlipBook Version