The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫کے برعکس کہنے میں کوئ عار یا شرمندگی‬
‫محسوس نہیں کرتے۔واپڈا والے ہوں اکاؤنٹس آفس ہو‬

‫گیس والوں کےہاں چلے جائیں خدا نخواستہ نادرہ‬
‫والوں سے کام پڑ جائے جو عوما نہیں اکثر پڑتا ہی‬
‫رہتا ہے۔ یہ تو خیر ممامی دفاتر ہیں بڑے دفاتر یہاں‬
‫تک کہ مہا منشی ہاؤس کے دفاتر جن سے دادرسی‬
‫کی امید رکھی جاتی ہے‘ کے بھاؤ ایک نہیں ہیں۔ ایک‬
‫ہی کام کے مختلؾ نرخ ہیں۔ اپنا یا بیگانہ کی تخصیص‬
‫موجود نہیں۔ یہاں کوئی اپنا یا پرایا نہیں۔ مفت بھر‬

‫کسی سطع یا کسی حوالہ سے فیض حاصل نہیں‬
‫کرپاتے۔ پلہ ہر کسی کوجھڑنا ہی ہوتا ہے۔ بہوتا اوکھا‬

‫فنی خرابیوں سے عمر بھر نبردآزما رہتا ہے۔‬

‫مجھے بھتہ لینے یا دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دنیا‬
‫لین دین پر استوار ہے۔ بھتہ خور حالات کے ہاتھوں‬
‫خود مجبور ہیں۔ تنخواہ میں وہ کچھ چل ہی نہیں سکتا‬
‫جو بھتہ شریؾ کی برکت سے چلتا آ رہا ہے۔ تنخواہ‬
‫سے دو انچ زمین خرید کر دکھا دیں۔ کار تو بڑی دور‬
‫کی بات تنخواہ میں سائیکل کا ایک پیڈل خریدا نہیں جا‬

‫سکتا۔ بھتہ خوری خانگی مجبوری ہے۔ گھر میں‬
‫سکون ہو گا تو پورے معاشرے میں سکون ہو گا۔‬

‫بھتہ سیاسی مجبوری بھی ہے۔ لفافہ کلچر سیاسی‬
‫لوگوں کی عطا ہے۔ عطا بری نہیں ہوتی۔ ہاں کچھ کو‬

‫ماش موافك اور کچھ کو بادی۔‬

‫یمین مانئیے میں اس سیاسی عطا کے خلاؾ نہیں ہوں‬
‫ہاں میرا مولؾ یہ ہے کہ اسے فکس ہونا چاہیے۔ یہ‬
‫کیا ایک ہی کام کے ایک سے دس دوسرے سے پندرہ‬
‫اور کسی پر آٹھ ہزار میں مہربانی کر دی جاءے۔ ساتھ‬
‫میں روٹی کی جگہ چاءے بسکٹ کیک پیس اور نمکو‬
‫پر ہی کام چلا لیا جاءے۔ ۔یہ انداز اور رویہ کسی طرح‬
‫درست نہیں۔ اس انداز و رویہ کے حوالہ سے بے‬

‫چینی پھیل رہی ہے۔ چرسی ؼلط نہیں کہہ رہا تھا۔‬
‫پوری لوم خصوصا دفاتر کو بےٹائیمی کے اندھے‬
‫کنویں سے نکالا جائے۔ بالکل اسی طرح نرخی نظام کا‬

‫لیام ولت کا تماضا ہے۔‬

‫کچوپیے تو خیر اس ذیل میں نہیں آتے۔ ہمارے پاس‬
‫یک نرخی کی ایک لابل تملید مثال موجود ہے۔ کسی‬
‫بھی نیٹ ورک کا سو روپیے کا لوڈ کروایں بیاسی‬
‫روپیے اور کچھ پیسے کا بیلنس لوڈ ہوتا ہے۔ کہیں‬

‫ایک پیسے کا فرق نہیں آتا۔ اس یک نرخی کا فایدہ یہ‬
‫ہے کہ پاکستان میں پاکستانی روپیے کی حمیمی لیمت‬
‫کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ دیکھنے میں سرخ نوٹ سو‬
‫روپیے کا ہوتا ہے لیکن اس کی اپنے ہی دیس میں‬

‫لیمت بیاسی روپیے اور کچھ پیسے ہوتی ہے۔‬

‫حکومت کا اصولی اور اخلالی فرض بنتا ہے کہ وہ‬
‫تمام دفتر سے ہر لسم کے چھوٹے موٹے کاموں کی‬
‫فہرست طلب کرے۔روپیےکی عصری پاکستانی لدر کے‬
‫مطابك اپنا جگا ڈال کر ریٹ طے کرے۔ یہی نہیں اسے‬
‫بینکنگ نظام سے وابسطہ کر دیا جائے۔ سائیلوں کو‬
‫دفاتر کے دھکوں سے نجات مل جائے گی اور ہر کسی‬
‫کو بینک چالان پر طے شدہ کوڈ کے مطابك حصہ مل‬
‫جائے گا۔ سائل چالان کی نمل پاس رکھ کر اصل متعلمہ‬
‫دفتر میں جمع کرا دے گا۔ ممررہ تاریخ کو چند روپیے‬
‫کچوکیے کے ہاتھ میں رکھ کر اپنے کاؼذ پتر خوشی‬
‫خوشی گھرلے جائے گا۔ اس سے رشوت اصطلاح کو‬

‫ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طلاق ہو جائےگی۔‬

‫بجلی آتے ہی‬

‫دو شخص ہوٹل میں گرما گرم بحث کر رہے‬
‫تھے۔باتوں سے دونوں بےپارٹی لگتے تھے۔ بے‬
‫پارٹی اشخاص کا مختلؾ سمتوں میں چلنا اوراتنی‬
‫گرما گرمی دکھانا مجھے بڑا ہی عجب لگا۔ خیرمیں‬
‫بے تعلمی ظاہر کرتے چاءے نوشی میں مشؽول رہا۔‬
‫ان کا موضوع سخن مہنگائ اور بےروزگاری تھا۔ وہ‬
‫یوں ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے جیسے ان‬
‫دونوں میں سے کوئ ایک ان خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔‬

‫ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار‬
‫خود عوام ہیں۔ آخرانھوں نے ان بدمعاشوں کو ووٹ‬
‫ہی کیوں دیے۔ دوسرے کا کہنا تھا اطراؾ میں بدمعاش‬
‫تھے ایک کو ممبر بننا ہی تھا۔ دوسری طرؾ اگر کوئی‬
‫شریؾ تھا اور ممبر نہیں بن سکا تو بات کریں۔ اس کا‬
‫کہنا تھا کہ یہ کام شریفوں کا کبھی بھی نہیں رہا۔‬
‫پوری جمہوری تاریخ کو دیکھ لیں۔ اسمگلر چوراچکے‬
‫سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے رسہ گیر صاحب‬
‫زادے نواب زادے حرام زادے امریکہ کے چہولی چک‬

‫اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔‬

‫دوسرا اس بات پر بضد تھا کہ لصور سارا عوام کا‬
‫ہے۔ کچھ فیصد ہی سہی لوگ جمہوریت کا حصہ کیوں‬
‫بنتے ہیں۔ پہلے کا مولؾ تھا کہ لوگوں کو بھوک میں‬
‫نک نک ڈبو کر الیکشنوں کے دنوں میں چوپڑی روٹی‬
‫اور لگ پیس دکھا کر یہ لوگ ووٹ حاصل کر لیتے‬
‫ہیں۔ لوگ چند دن کی سیری کو دیکھ کر پچھلے اور‬
‫اگلے سالوں کی لیامت ناک بھوک کو بھول جاتے ہیں۔‬

‫ان میں سے ایک جس نے جوش خطابت میں چائے کا‬
‫ابھی تک ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا‘ کا کہنا تھا کہ‬

‫صدر وزیر اعظم اور اسپیکر تو ڈھنگ کے منتخب‬
‫کیے جاءیں۔ شاید اسے معلوم نہ تھا کہ انھیں عوام‬
‫منتخب نہیں کرتے۔ یہ عوامی نمائندے نہیں‘ اپنی پارٹی‬
‫کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنی پارٹی کے‬
‫مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے کیا‬
‫مطلب۔ وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی کو‬

‫جوابدہ ہوتے ہیں۔‬

‫اتنی دیر میں بجلی آ گئی۔ دونوں کا جوش ہوا ہو گیا۔‬

‫دونوں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گءے۔ میں سوچ‬
‫میں پڑ گیا اتنا گہرا شعور انھیں کس نے دیا ہے۔ کیا‬
‫یہ بھوک پیاس اور اندھیرے کی مہربانی ہے یا میڈیے‬

‫کی کارگزاری ہے۔‬

‫دوسرا سوال یہ بھی کھڑا تھا کہ شعور انملاب کی‬
‫طرؾ لے جا رہا ہے یا بھوک شعور کو کھا پی جائے‬

‫گی۔‬

‫ان دونوں کا بجلی کے آنے پر دوڑ لگانا ظاہر کرتا ہے‬
‫کہ شعور کسی بھی سطع پر ہو بھوک سے تگڑا نہیں‬
‫ہوتا۔ روٹی ایمان کی بناء ہے۔ شخص کتنا ہی مظبوط‬

‫کیوں نہ ہو بھوک کے ہاتھوں بک جاتا ہے۔‬

‫لوگوں کو بھوک کی آخری سطع پر اسی لیے پنچا دیا‬
‫گیا ہے کہ وہ اپنا ضمیر ایمان اور عزت بیچنے پر‬
‫مجبور ہو جاءیں۔ بھوک کےتیور دیکھتے ہوئے میں‬
‫پورے یمین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کوئی تبدیلی‬
‫نہیں آئے گی۔ لوگ ہوٹلوں میں بیٹھ کر بڑےاونچے‬
‫درجے کی باتیں کرتے رہیں گے لیکن بجلی آتے ہی‬
‫روٹی کی طرؾ بھاگ اٹھیں گے۔‬

‫بؽداد والے کوا حلال ہے یا حرام پر بحثیں کرتے رہے‬
‫ادھر ہلاکوں خان نے بؽداد کی اینٹ سےاینٹ بجا دی۔‬

‫ہمارےساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ ہماری‬
‫خودداری پر ہر دوسرے کاری ضرب لگاتا ہے اور‬
‫ہمارے لیڈر اگلے الیکشن جیتنے کے لیے بھوک میں‬
‫اضافے کا کوئ نیا راستہ تلاشنے کی سعی کرتے ہیں۔‬

‫کار سستی آٹا چینی دال گھی مہنگی کر رہے ہیں۔ ایک‬
‫عام آدمی کو کار سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ بس‬
‫کرایہ کم ہو تو ؼریب سے تعاون سمجھ میں آتا ہے۔‬
‫اندھا بانٹے روڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں۔ کار کا سستا‬
‫ہونا ؼریب پروری کے کس زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات‬
‫میری سمجھ سے بالا ہے کہ میک اپ بھی سستا کر‬
‫دیا گیا ہے۔ ؼالبا لوم کوکوٹھے پر بیٹھانےکا ارادہ‬

‫ہے۔‬

‫لوم اس نام نہاد آزادی کے دن سے لے کر آج تک‬
‫کوٹھے پر بیٹھی ہے۔ جوآتا ہےاس کی جان مال عزت‬
‫آبرو انا اور ؼیرت سےکھیلتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔‬
‫اس کے جانے کے بعد ہر کوئ اس کے جبروستم کے‬

‫لصے چھیڑ دیتا ہے لیکن یہ سب زبانی کلامی ہوتا‬
‫ہے۔ کوئ اس پر گرفت نہیں کرتا۔ گئے ولت کی‬

‫چھوڑیے کوئی موجودہ کے سدھار کی کوشش نہیں‬
‫کرتا۔ ہرآتا دن گزرے سے بدترین ہوتا ہے۔‬

‫عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ان نام کے‬
‫لومی لیڈروں کی ناک کے نیچے رشوت کا بازار گرم‬
‫ہے۔ اکثر افسر ان کے اپنے بندے ہیں۔ کم از کم جو ان‬
‫کے اپنے بندے نہیں ہیں ان پر تو گرفت کریں تاکہ وہ‬

‫ان کا بندہ ہونے کا جتن کریں۔‬

‫پوچھنے والوں کے ہاتھ میں سفید گڑ کی پیسی ہے‬
‫اور وہ یہ سوچے بؽیر کہ دانت خراب ہوں گے چوسے‬

‫پہ چوسا مارے جا رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں خراب‬
‫دانتوں کا علاج کون سا گرہ خود سےہونا ہے۔ سرکار‬
‫کا اشیرواد اور لوم کا مال سلامت رہے۔ انھیں پریشان‬

‫کی کیا ضرورت ہے۔‬

‫جرم کو لانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں‬

‫پشاور ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر ہم سچ بولنے لگیں‬
‫تو ہمارے اسی فیصد مساءل حل ہو جاہیں گے‘ پشاور‬
‫ہائ کورٹ کے یہ الفاظ آب زم زم سے لکھے جانے‬
‫کے لابل ہے۔ سچ سے بڑی کوئی حمیمت نہیں اور ناہی‬

‫اس سے بڑھ کر کوئ طالت ہے۔ سچ ظلم زیادتی‬
‫ناانصافی بلکہ ہر خرابی کی راہ میں مونگے کی چٹان‬
‫ہے۔ یہ کمزور کو کمزور نہیں رہنے دیتا۔ یہ بات ہر‬
‫شخص جانتا ہے‘ اس کے باوجود ہر شخص اس سے‬
‫دور بھاگتا ہے۔ شاید ہی کوئی ہو گا جو اس کی برکات‬
‫کا لائل نہ ہو گا یا اس کی طالت سے انکار کرتا ہو گا‬
‫بلکہ اپنے سوا دوسروں کو درس نہ دیتا ہو گا۔ سچ کا‬

‫سب سے بڑا کمال یہ ہے کھ اسے لاکھ پردوں میں‬
‫رکھو‘ سامنے آنے سے باز نہیں رہتا۔ اس طرح بنا‬

‫بنایا کھیل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔‬

‫سچ یمینا پیار کرنے کے لائك چیز ہے۔ لوگ اس سے‬
‫بےحد پیار کرتے ہیں۔ اسے بڑی لدر کی نگاہ سے‬
‫دیکھتے ہیں اور سچ سننا انھیں خوش آتا ہے۔ جو‬
‫بھی ان کے سامنے جھوٹ اور ؼلط بیانی سے کام لیتا‬
‫ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دینے پر اتر آتے ہیں۔‬

‫جھوٹ اور ؼلط بیانی سے کام لینے والا بچ کر جائے‬
‫گا کہاں۔ ان کی نگاہ بال کی کھال اتار لیتی ہے۔ وہ اس‬
‫کو محدود نہیں رکھتے تاہم التصادیات سے جڑا جھوٹ‬
‫انھیں موت کے گھاٹ اتار دینے کے مترادؾ ہوتا ہے۔‬
‫کسی اور کا دینا ایک روپیے کا ہو یا لاکھ روپیے کا‘‬
‫ان کےلیے اس میں ایک اکنی کی ہیر پھیر بھی لاکھ‬

‫کی حیثیت رکھتی ہے۔‬

‫دینے کا معاملہ اس پیمانے سے لطعی برعکس ہوتا‬
‫ہے۔ اس ضمن میں سچ انھیں زہر لگتا ہے۔ ان کے‬
‫سماجی معاملات بھی سچ کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔‬
‫سماجی معاملہ ہو یا التصادی‘ جھوٹ اور منافمت کی‬
‫جئے جئے کار رہتی ہے۔ منافمت‘ جھوٹ کی ترلی‬
‫یافتہ شکل ہے۔ امیدوار ممبر جب کسی کے پاس آتا‬
‫ہے تو منہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ میں شروع سے آپ‬
‫کا خدمت گار رہا ہوں ۔ جب کہ عید کے روز بھی اس‬
‫سے مسجد میں ملالات نہیں ہوئی ہوتی۔ اگلی صفوں‬
‫میں بیٹھنے والوں کی نگاہ میں پیچھے بیٹھے لوگ‬
‫روڑا کوڑا ہوتے ہیں۔ پرانے اور بوسیدہ لباس والے‬
‫دکھائ کب دیتے ہیں۔ یہ فطری سی بات ہے کہ آسمان‬
‫اور زمین کا ملن ممکن ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہا ہے‬

‫کہ الیکشن امراء کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گریب تو‬
‫موری ممبری کا الیکشن تک نہیں لڑ سکتا۔ ہاں گریب‬
‫رات کو امیدوار ممبر کے ڈیرے سے پیٹ پوجا کے‬

‫لالچ میں لوگوں سےلڑ جھگڑ سکتا ہے۔‬

‫امیدوارممبر جس طرح اپنے خادم ہونے کا جھوٹ‬
‫بولتا ہے ووٹر بھی نہلے پر دہلا مارتا ہے۔ وہ جوابا‬
‫کہتا ہے کہ جناب ہمیشہ آپ کا ساتھ دتیے آئے ہیں اب‬
‫بھلا آپ کو کس طر ح چھوڑیں گے حالانکہ اس نے‬
‫کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہوتا۔ عملی طور پر اس‬
‫کا سخت مخالؾ رہا ہوتا ہے یا جھڑنے والے کے ڈبے‬

‫میں اس کے ووٹ نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔‬

‫کوتوالی کی بات چھوڑیں وہاں تو بڑے بڑےعین ؼین‬
‫اور شریؾ باٹی ٹیک جاتے ہیں۔ وہ وہاں‘ وہ وہ جرم‬
‫تسلیم کر لیتے ہیں جن کے کرنے کی خواب میں بھی‬
‫نہیں سوچ سکتے۔ میں یہاں عدالت کے حوالہ سے‬
‫بات کرنے جا رہا ہوں۔ عدالت میں چور کو بھی وکیل‬
‫کرنے کا پورا پورا حك ہے۔ یہ اس کا اصولی حك ہوتا‬
‫ہے۔ چور کا وکیل وہ وہ دلائل پیش کرتا ہے کہ چور‬
‫کو یمین ہونے لگتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ اس نے‬

‫چوری کی ہی نہیں بلکہ اس پر چوری کا جھوٹا الزام‬
‫لگایا جا رہا ہے جب کہ وکیل کو پورا پورا یمین ہوتا‬
‫ہے کہ چوری اس کے موکل نے کی ہے۔ اس کے‬
‫باوجود وہ چور کا ممدمہ لڑتا ہے اور اسےبچانے کی‬
‫سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ یہ اس کا پیشہ ہے۔ کامیابی‬
‫کی صورت میں وہ اچھا وکیل لرار پاتا ہے۔ ہارنے کی‬
‫صورت میں کوئ چور اس کے لریب سے بھی گزرنے‬
‫کی حمالت نہیں کرتا۔ اگر کوئ چور اس کے پاس نہیں‬

‫آءے گا تو وہ بھوکا مر جائے گا۔ گویا علم اور‬
‫داؤوپیچ رکھنے والا پیٹ سے سوچے گا تو سچ‬
‫بولنے کی بھلا ایک عام آدمی کس طرح حمالت کرے‬
‫گا۔ پیٹ ہی جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کرتا ہے۔‬

‫پیٹ ہی سب سے بڑا سچ ٹھرتا ہے۔ کسی کا حك ڈوب‬
‫رہا ہے‘ اس جانب نظر کیسے جا سکتی ہے۔ مضروب‬

‫اپنے جوگا نہیں ہوتا وہ ہرے نیلے نوٹ کس طرح‬
‫وکھا سکتا ہے۔ سچا ہو کر بھی وہ جھوٹوں کی صؾ‬

‫میں کھڑا ہوتا ہے۔‬

‫ہمارے تمام مسائل کا حل یمینا سچ بولنے میں ہے‬
‫لیکن خالی پیٹ درویش لوگ ہی سچ بول سکتے ہیں۔‬

‫یہ بھی تاریخی حمیمت ہے کہ سچ بولنے والےجان‬
‫سے گئے ہیں۔ پیٹ کے ؼلام روز اؤل سےعزت‬
‫بچانے کے لیے سارا دن بےعزتی کرواتے ہیں۔ پیٹ‬
‫یمینا تکنیکی اور شکمی مجبوری ہے۔ پیٹ کو کسی‬
‫بھی سطع پر خانہ نمبر دو میں نہیں رکھا جا سکتا۔‬
‫روٹی کپڑا اور مکان یا پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے‬
‫کے وعدے تو ہوتے رہے ہیں۔ جنت نظیر بنانا تو بہت‬
‫دور کی بات ہے پاکستان کو پاکستان تک نہیں بنایا جا‬

‫سکا۔‬

‫پاکستان میں بجلی روٹی کا پہلا اور آخری ذریعہ ہو کر‬
‫رہ گئی ہے۔ وزیر برلیات نے بند نہ ہونے کا وعدہ کیا‬
‫لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائ بھر فرق نہیں‬
‫آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن‬

‫بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں‬
‫دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا‬
‫آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے‬
‫گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا‬
‫بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا‬
‫باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی‬
‫کا لصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حك بجانب‬

‫ہوتے ہیں۔‬

‫لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق‬
‫نہیں آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے‬
‫لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں‬

‫دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا‬
‫آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے‬
‫گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا‬
‫بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا‬
‫باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی‬
‫کا لصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حك بجانب‬

‫ہوتے ہیں۔‬

‫وکیل اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ چور کی وکالت نہیں‬
‫کرے گا تو کھائے گا کہاں سے۔ بابو اپنی جگہ پر سچا‬
‫ہے کہ حك ناحك کا عوضانہ نہیں وصولے گا تو مرغ‬
‫اور مچھلی کا سامان کیسے اور کیوں کر ہو سکے گا۔‬
‫جب وعدے پورے نہیں ہونے‘ مظلوم کو ظالم ٹھرایا‬
‫جانا ہے‘ انصاؾ دوہرا ہونا یا کروانا ہے‘ چور کو بری‬
‫کروانا ہے تو جھوٹ کو لانونی حیثیت دے دی جائے‘‬
‫کم از کم منافمت سے تو خلاصی مل جائے گی۔ اصلی‬

‫آدمی دیکھنے کو مل جائے گا۔ آج اصلی آدمی کو‬
‫دیکنھے کو آنکھیں ترس گئ ہیں۔ جنی کوئی ؼلط الدام‬
‫نہیں ہو گا۔ جس کو بےوسیلہ اوربے بابائ ہونے کی‬
‫وجہ سے لتل کیتا کرایا مل جانا مل جانا ہے‘اس کی‬
‫داد رسی لایعنی اور ہر طرح کی معنویت سے باہر کی‬
‫چیز ہے۔ ایسے حالات میں جرم کو لانونی حیثیت دینا‬

‫ناانصافی نہیں‘ انسانی مساوات لاءم کرنے کے کے‬
‫مترادؾ ہے۔ اگر بعض کو جرم کی سزا سے بالاتر‬
‫لرار دینے کی سعی کرنا ہے تو اوروں کو یہ حك دینا‬

‫!کس اصول کے تحت ؼلط ہے؟‬

‫لانون ضابطے اور نورا گیم‬

‫اشفاق کی کل برات جانا تھی کہ اس کی ہمشیرہ کا‬
‫سسر چل بسا۔ اشفاق کو اس کی اس ناشایستہ حرکت‬

‫پر بڑا ؼصہ آیا۔ جل کر بولا چاچے کو جیتے جی‬
‫چھیتیاں رہی ہیں اب مرنے کے معاملہ میں بھی بڑا‬
‫جلدباز ثابت ہوا ہے۔ اشفاق کا سٹپٹانا عمل ناجاءز نہیں‬

‫لگتا لیکن ہونی کے کون سر آ سکتا ہے۔ ہونی ویدی‬
‫ہے اور ویدی کا ویدان کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔‬
‫ہونے کو تو ہر حال میں ہونا ہی ہوتا ہے تاہم تحمل‬
‫میانہ روی اور سوچ سمجھ سے کام لینا آتے کل کو‬
‫آسودہ رکھتا ہے۔ ہما کے سسر نے جانے کتنے دن‬
‫اس انتہائ الدام کے لیے سوچا ہو گا۔ اشفاق کا معاملہ‬
‫بھنگ ہوا اس سے ہما کے سسر کو کیا مطلب ہو‬

‫سکتا تھا۔‬

‫ہر کوئی اپنی ترجیع کو اولیت دیتا ہے‘ دینی بھی‬
‫چاہیے لیکن فریك ثانی کو تو پابند نہیں کیا جا سکتا۔‬
‫فریك ثانی اگر ماڑا ہے تو وہ مجبوری کے تحت خفیہ‬
‫ہو سکتا ہے۔ اس میں سچا یا جھوٹا ہونے کا کوئی‬
‫سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہر کوئی سامنے سے وار کرنے‬
‫کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ فطری سی بات ہے کہ‬
‫دو متصادم فریك طالت کے حوالہ سے ایک ہی کیلیبر‬

‫کے نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی کیلیبر کے ہونے کی‬
‫صورت میں ان کے درمیان تصادم نہیں ہو گا۔ ان کا ہر‬

‫اگلا دن منگل ہو کا اور منگل ناؼے کا دن ہوتا ہے۔‬
‫طالت حك پر ہوتی ہے اور اسے اپنا اور اوروں کا‬
‫ؼصہ ماڑے پر آتا ہے۔ آنا بھی چاہیے ماڑا ہوتا کس‬

‫لیے ہے۔‬

‫دہشت گردی بلا شبہ پوری انسانیت کے جسم پر ناسور‬
‫کا درجہ رکھتی ہے اور اس کا ہر حال میں ختم ہونا‬
‫امن آسودگی اور سکون کے لیے ضروری ہے لیکن‬
‫یہ طے کرنا ابھی بالی ہے کہ دہشت گردی ہے کیا اور‬
‫امریکہ کس لسم کی دہشت گردی کے خلاؾ پاکستان‬
‫سے یمن تک لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ المائدہ‬
‫دہشت گردی کے خلاؾ لڑ رہا ہے اور وہ المائدہ کو‬

‫نہیں چھوڑے گا۔ جعلی ادویات سے لوگ مرے ہیں اور‬
‫مرتے رہتے ہیں یہ کاروبار دہشت گردی نہیں ہے؟ اس‬

‫کے خلاؾ کیا ہوا اور کیا ہو سکتا ہے‘ سب جانتے‬
‫ہیں۔ جعلی سپرے خریدا گیا معاملہ کورٹ کچہری گیا‘‬
‫کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں۔ ڈینگی نے‬
‫تن مچائے رکھی‘ آتے موسم میں کیا گل کھل سکتا ہے‬
‫کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ مہامنشی‘ جیون دان منشی‘‬
‫اعلی شکشا منشی‘ منشی بلدیات وؼیرہ کے خلاؾ کیا‬
‫ہوا‘ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر یہ داخلی‬
‫کاروباری دہشت گردی ہے اور اس دہشت گردی سے‬
‫خود پاکستان کو لڑنا ہے تو المائدہ کس حوالہ سے‬

‫خارجی دہشت گردی ٹھرتی ہے۔ المائدہ جانے اور‬

‫پاکستان جانے‘ یہ کس طرح امریکہ بہادر کی سردردی‬
‫لرار پاتی ہے۔‬

‫اشفاق کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی داخلی بھی‬
‫ہے اور خارجی بھی۔ اگر طبی امداد باہم کرنے میں‬
‫محکمہ جیون دان پھرتی دکھاتا اور ؼفلت سے کام نہ‬
‫لیتا تو ہو سکتا ہے ہما کا سسر چند روز اور جی لیتا۔‬
‫ہما کے سسر کی موت کا مدا خارجی دہشت گردی کے‬
‫حوالہ سے امریکہ پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ‬
‫وہ صرؾ اور صرؾ الماءدہ دہشت گردی کا ٹھکیدار‬
‫ہے۔ تاہم بمول صدر آصؾ علی زرداری دنیا کا مستمبل‬
‫جمہوریت میں ہے۔ ہما کے سسر کی موت کو ایک‬
‫اکثریت تسلیم کر چکی ہے۔ اس حوالہ سے اسے‬
‫داخلی یا المائدہ سے متعلك دہشت گردی نہیں فرض کیا‬
‫جا سکتا۔ اس نہج کی دہشت گردی کے خلاؾ کسی‬
‫لسم کا ایکشن لینا امریکہ کے کھاتے میں نہیں رکھا‬
‫جا سکتا۔ یہ سراسر جمہوریت کی تو ہین ہو گی جو‬
‫اس جمہوری دور میں بہت بڑے جرم کے مترادؾ ہے۔‬

‫ؼداری کا فتوی بھی صادر ہو سکتا ہے۔‬

‫مسجد کی تعمیر کا مہشورہ ہوا۔ گاؤں کے لوگ جمع‬

‫ہوءے جن میں نورا بھی شامل تھا۔ ہر کسی نے حب‬
‫توفیك اپنا حصہ لکھوایا۔ ابھی کافی لوگ موجود تھے‬
‫لکھت پڑھت پر ولت لگ جاتا۔ نورا دھڑلے سے اٹھا‬
‫اور بولا لکھو میرا پچاس ہزار۔ اس کی اس فراخ دلی‬
‫پر بڑی جئے جئے کار ہوئی۔ ہر کوئی چوہدری نور محمد‬
‫صاحب کو جھک جھک کر سلام و پرنام کر رہا تھا۔‬

‫مزید اگراہی کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا مجلس‬
‫برخواست ہو گئ۔ اگلی صبح مولوی صاحب چند لوگوں‬
‫کے ساتھ چوہدری نور محمد صاحب کے در دولت پر جا‬
‫پہنچے۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی شان سے باہر‬
‫نکلے۔ مولوی صاحب نے پچاس ہزار رپوؤں کا تماضا‬

‫کیا۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی معصومیت سے‬
‫بولے‬

‫"کون سے پچاس ہزار روپیے؟"‬

‫"وہی جو آپ نے کل لکھوائے تھے۔"‬

‫وہ دینے بھی تھے؟“ چوہدری نور محمد صاحب نے "‬
‫بڑی حیرت سے پوچھا‬

‫"جی ہاں"‬

‫"ارے میں تو سمجھا تھا کہ صرؾ لکھوانے ہیں۔"‬

‫اس مثال کے حوالہ سے بھی ہم کسی پر دہشت گردی‬
‫کا الزام نہیں رکھ سکتے کہ کرنا اور کہنا لطعی دو‬
‫الگ چیزیں ہیں۔ کاروباری دہشت گردی کے لیے‬
‫سرکاری پروانے جاری ہوتے ہیں اس لیے جعلی‬

‫ادویات خوری سے لوگ مرے ہیں تو اس میں‬
‫کاروباری دہشت گردی کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ ایک‬
‫نمبر کاروبار میں بچت ہی کیا ہوتی ہے۔ لوگ ملاوٹ‬
‫آمیز ؼذا کھا کر تل تل مرتے ہیں۔ مرتے تو ہیں نا!‬
‫یہاں فورا مر گئے۔ ایک دن مرنا تو ہے ہی‘ دو دن‬

‫پہلے کیا دو دن بعد میں کیا۔ اپنی اصل میں بات تو‬
‫ایک ہی ہے۔‬

‫ادویات لائسنس کے بؽیر تو تیار نہیں ہوئی ہوں گی۔‬
‫موت ٹھوس اور اٹل حمیمت ہے لوگ ادویات سے نہ‬
‫مرتے تواپنی آئی سے انالله ہو جاتے۔ التدار میں آنے‬
‫سے پہلے وعدہ باز بہت کچھ کہتے آئے ہیں۔ التدار‬
‫میں آکر انھوں نے عوام کے لیے کبھی کچھ کیا ہے۔‬

‫نہیں۔ ان کے نہ کرنے کے خلاؾ کبھی کوئی لابل‬

‫کیوں‬ ‫اب‬ ‫نہیں۔ تو‬ ‫پرڑہاا۔ہ ِسے؟رکناہریںی‘مباعلامکللہ‬ ‫ریکارڈ رولا‬
‫او کے‬ ‫آر‬ ‫ہے۔ این‬ ‫شور مچایا جا‬

‫تحت اس مدے پر مٹی ڈالنا ہی جائز اور مناسب بات‬

‫لگتی ہے۔‬

‫مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم‬
‫معاملات پر تجاوز مانگ تو لیتے ہیں‘عمل درامد نہیں‬
‫کرتے۔ مولانا پرانے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہو کر بھی‬
‫اس لسم کی باتیں کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں‬
‫آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی لیڈر کا کرنا اور‬

‫کہنا مساوی رہا ہو ۔ یہ دو الگ سے امور ہیں لہذا‬
‫انھیں الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچنا اور زیر‬
‫بحث لانے کی ضرورت ہے اور کسی سطع پر آلودگی‬
‫نہیں ہونی چاہیے ورنہ خرابی اور فساد کا دروازہ کھل‬
‫جائے گا یا کسی مذہبی کے کہنے اور کرنے میں کسی‬
‫بھی سطع پر توازن ملتا ہو۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے‬
‫کہ کوئی آدمی بستر پر سو بھی رہا ہو اور دفتر میں‬
‫کام بھی کر رہا ہو۔ کہنے اور کرنے کو دو الگ حتیتیں‬
‫دی جائیں گی تو خرابی جگہ نہ پا سکے گی۔ کہہ کر‬
‫نہ کرنا ہی تو نورا گیم ہے۔ اگر نورا خاموش رہتا تو‬

‫جئے جئےکار کیسے ہوتی اور وہ نورا سے چوہدری‬
‫!نور محمد کیسے اور کن بنیادوں پر کہلاتا؟‬

‫ان حمائك کے تناظر میں اشفاق کو بھی این آر او‬
‫لانون اور سرکاری ضابطے کو بھولنا نہیں چاہیے اور‬

‫اپنی بہن کے سسر کی موت پر مٹی ڈالنی چاہیے۔‬

‫زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں‬

‫وزیر برلیات کے اعلان کے باوجود مختلؾ شہروں‬
‫"مینلوڈشیڈنگ‬

‫یہ خبر میری اس تحریر کے بعد شائع ہوئی جس میں‘‬
‫میں نے کہا تھا کہ کہنا اور کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔‬
‫اس تحریر کے باوجود اس خبر کا شائع ہونا اس امر‬
‫کی طرؾ اشارہ ہے کہ خبر نویس اس حمیمت سے‬
‫بےخبر ہے یا پھر وہ پرتھوی پر بسیرا نہیں رکھتا اور‬
‫سہانے خوابوں کے دیس کا الامتی ہے۔ ایسا بھی‬

‫ممکن ہے کہ اس تک میری ناچیز تحریر رسائی‬

‫حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو۔ یا پھر میں اپنا مافی‬
‫الضمیر بیان کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جو بھی ہے‬
‫صحیح نہیں ہے۔ دوبارہ سے کوشش کرتا ہوں شائد‬

‫اب کہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔‬

‫کہنا اور کرنا اپنی حیثیت میں دو الگ چیزیں ہیں۔ ان‬
‫کے مابین لامحدود فاصلے ہیں۔ بذات خود بجلی‬

‫دیکھنے میں ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ متعلمہ پوائنٹ‬
‫تک پہنچنے کے لیے دو تاروں کا استعمال کیا جاتا‬
‫ہے۔ ایک ٹھنڈی تار دوسری تتی تار۔ دونوں تاروں‬
‫کےالگ الگ رہنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہوتی‬

‫ہے۔ ہر سوئچ میں ان دونوں کے لیے الگ الگ پوائنٹ‬
‫ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں تاریں باہمی اختلاط کر لیں تو‬
‫بہت بڑا کھڑاک ہو سکتا ہے۔ اس ٹھاہ کے نتیجہ میں‬
‫جان بلکہ جانیں جا سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کہنا‬

‫اور کرنا گلے مل جائیں تو مالی نمصان وٹ پر ہوتا‬
‫ہے۔ نمصان جانی ہو یا مالی‘ نمصان ہی ہوتا ہے اور‬

‫نمصان کی کسی بھی سطع پر حمایت نہیں کی جا‬
‫سکتی۔‬

‫سکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں کتابی تعلیم‬

‫دی جاتی ہے۔ کامیاب طالب علم کو متعلمہ علم کی سند‬
‫یا ڈگری دی اتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈگری‬
‫ہولڈر اس علم کی کامل جانکاری حاصل کر چکا ہے۔‬
‫اس سند یا ڈگری کے باوجود ڈگری یافتہ عملی طور پر‬
‫صفر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عملی تجربہ رکھنے‬

‫والا ڈگری یافتہ سے کرنے میں کمال کے درجے پر‬
‫فائز ہوتا ہے حالانکہ ڈگری یافتہ کرنے سے متعلك‬
‫باتیں بار بار پڑھ بلکہ توتے سے بڑھ کر رٹ چکا ہوتا‬

‫ہے۔ دونوں کے نام الگ سے ہوتے ہیں۔‬

‫کہنے کو تھیوری جب کہ کرنے کو پریکٹیکل کا نام دیا‬
‫جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے لطعی طور الگ‬
‫ہیں۔ یہ درست سہی پڑھے کو عملی آزمایا جاتا ہے۔‬
‫گویا پڑھنا پہلے اور آزمانا بعد میں ہے۔ میں کہتا ہوں‬
‫کرنا پہلے ہے اور کہنا یا آزمایا بعد میں ہے۔ ہمارے‬

‫ہاں ایک ان پڑھ آدمی بڑے کمال کے کام سر انجام دے‬
‫رہا ہے۔ نہیں یمین آتا تو بلال گنج میں جا کر دیکھ لیں۔‬
‫شکاگو یونیورسٹی کا ایک سائنس کا پروفیسر وہ کام‬
‫نہیں کر سکتا جو کام بلال گنج کا ان پڑھ خرادیا دے‬

‫سرانجام سکتا ہے۔ اسے کہیں یہ ہے ایؾ سولہ ذرا‬
‫اس سے بہتر بنا دو‘ بنا دے۔ ڈالرز میں ملنے والے‬

‫سوفٹ ویئر یہاں بازار سے ان کی سی ڈی بیس رویے‬
‫میں مل جاتی ہے۔ ہے نا کرنا اور کہنا ایک دوسے‬
‫سے الگ تر؟‬

‫جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں۔ جو بولتے ہیں وہ کرتے‬
‫نہیں۔ اس طرح دوہرا یعنی کرنا اور کہنا بوجھ بن کر‬

‫سر پر آ جاتا ہے۔ کوئ بھی دوہرا بوجھ اٹھا نہیں‬
‫سکتا۔ کیا‘ بملم خود بولتا ہے کہ میں ہوں کیا ہوا۔ ؼالبا‬

‫‪:‬یہ شعر بھیکا کا ہے‬
‫بھیکا بات ہے کہن کی کہن سنن میں ناں‬
‫جو جانے سو کہے نہ کہے سو جانے ناں‬

‫کہہ کر کیا تو کیا کیا۔ کیا وہی اچھا ہے جو کہا نہ‬
‫جائے۔ کرکے کہنا تو احسان جتانے والی بات ہے۔‬
‫احسان جتانا سے بڑھ کر توہین آمیز بات ہی نہیں۔‬
‫ہمارے لیڈر اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں جو احسان‬
‫جتائیں۔ اسی بنیاد پر ہی وہ صرؾ کہتے ہیں‘ کرتے‬
‫نہیں۔ وہ خوب خوب جانتے ہیں کہ کرنے کے لیے‬
‫کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے نزدیک‬
‫کیے کی خبر دوسرے ہاتھ تک کو نہیں ہونی چاہیے۔‬
‫جو وہ کرتے ہیں لوگوں کو خبر تک نہیں ہو پاتی۔ جب‬

‫لوگوں کو خبر ہوتی ہے ولت‬
‫بہت آگے نکل گیا ہوتا ہے۔‬

‫کوئی بےبابائی کام کسی بڑی سفارش کے ساتھ جہاں‬
‫کہیں نازل ہوتا ہے اس کی زبانی کلامی سہی‘ پذیرائ‬
‫تو ہوتی ہے۔ اس کے ہونے کی یمین دہانی بھی کرائ‬
‫جاتی ہے۔ امید بلکہ یمین کے چراغ بھی جلائے جاتے‬
‫ہیں۔ بعض اولات لڈو بھی بانٹے جاتے ہیں۔ بےبابائی‬
‫ہونے کی پاداش میں وہ کام نہیں ہو پاتا۔ اس ممام پر‬
‫ناراض ہونا یا مایوس ہونا نہیں بنتا کیونکہ کرنا اور‬

‫کہنا دو الگ باتیں ہیں۔‬

‫ایم این ایز یا ایم پی ایز یا منسٹرز لوگوں کی‬
‫درخواستوں پر سفارشی کلمات لکھتے ہیں۔ یہاں وہ‬
‫دونوں فریموں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات ایک‬
‫ہی طرح سے ثبت کرتے ہیں۔ وہ تو دیالو اور کرپالو‬

‫مخلوق ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیسے مایوس کر‬
‫سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی کا کام ہو یا نہ ہو‬
‫اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ خوب‬
‫جانتے ہیں کہ سفارش اور کام کا سر انجام پانا دو الگ‬
‫سے باتیں ہیں۔ سفارش اور کام کا ہونا اختلاط پذیر‬

‫نہیں ہونے والے ۔ ان کی الگ الگ اہمیت حیثیت اور‬
‫ضرورت ہے۔‬

‫ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد اپنی اپنی روٹی پکاتے‬
‫ہیں۔ وہ سگے بھائ ہوتے ہیں۔ روٹئ سالن ایک رنگ‬
‫روپ رکھتا ہے۔ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہوتا‬
‫ہے۔ سگا ہونا یا وعدے میں بندھے ہونا یا روٹی کا‬

‫رنگ روپ ایک ہونا اپنی جگہ لیکن نبھانا دو الگ‬
‫باتیں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جا‬
‫سکتا اور ناہی کیا جانا حمیمت سے تعلك رکھتا ہے۔‬

‫پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے کی منشی شاہی سب‬
‫سے زیادہ شریؾ‘ تحمل مزاج‘ بردبار اور زیرو رفتار‬
‫ہے نہ یہ کچھ کہتی نہ کرتی ہے۔ یہ ہونے کے ہر کام‬
‫کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ چونکہ للم‪ ،‬اٹکل اور‬
‫داؤ و پیچ اس کی زنبیل میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اس‬
‫لیے ہوتے بھی نہیں ہوتے۔ اس کی تحمل مزاجی اور‬
‫زیرو رفتاری ہی وہ بڑا کارنامہ ہے کہ ہم روزاول سے‬
‫بھی بہت لدم پیچھے کھڑے بھوک پیاس اور موت کی‬
‫ہولی بڑی بےبسی اور بےکسی سے دیکھ رہے ہیں۔‬

‫یوں لگتا دیکھنا ہمارا ممصد حیات ہے۔‬

‫وزیر عوامی لوگ ہوتے ہیں اس لیے عوام کی بہبود‬
‫ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے لوڈ شیڈنگ‬
‫ختم کرکے بجلی کے بل لوگوں کی جیب سے تجاوز کر‬

‫جاءیں اور پھرلوگ لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے‬
‫سڑکوں پر آ کر ذلت و خواری کا منہ دیکھیں۔ وہ بجلی‬
‫کے بل اور لوڈشیڈنگ کی جدائی کو عوامی بہبود کے‬

‫برعکس سمجھتے ہیں۔‬

‫مفروضوں میں زندگی کرنے کا عہد ہے۔ عین ممکن‬
‫ہے یہ اخباری خبر ہاوسز سے متعلك ہو جہاں اتفالا‬
‫کسی فنی خرابی کے سبب بجلی دو چار لمحوں کے‬
‫لیے کبھی کبھار چلی جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کے بڑے‬
‫کام۔ وہ مخاطب چھوٹے لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن‬
‫وعدے بڑے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ بلند‬
‫سطع پر کیفیت مختلؾ ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ٹھنڈی‬
‫اور تتی تاروں کا رولا بالی نہیں رہتا۔ وہاں کرنا اور‬
‫ہونا دو نہیں رہتے۔ سچی درویشی یہی ہے کہ میں تو‬
‫میں مدؼم ہو کر میں بن جاتی ہے اورپھر زندگی میں‬

‫میں کے سوا کچھ نہیں رہتی۔‬

‫من کا چوہا اور کل کلیان‬

‫اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے‬
‫کہ ؼیرت لوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے ؼیرتی روڑا‬
‫کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر‬
‫ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل‬
‫جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر لدم‬
‫رکھتے ہیں تولیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا سارا‬
‫بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئی‬
‫حیثیت نہیں دی گئی ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔‬
‫نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو‬
‫چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا‬
‫ہے۔ یہ لصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا‬

‫نہیں ہوتا بلکہ مولع دینے والوں کا ہوتا ہے۔‬

‫یہ حمیمیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں‬
‫رہی ہے کہ طالت کے سامنے اونچے شملے والے سر‬
‫بھی خم رہے ہیں۔ گویا طالت اور ؼیرت کا سنگم ہوتا‬

‫ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی ؼلط ٹھرایا‬
‫جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور اعلی پاءے کی دلیل‬
‫بھی اسے سچا لرار نہیں دیتی۔ بھیڑیے کا بہانہ اسے‬
‫چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ‬
‫اشرؾ المخلولات ہے اس لیے اس کے بہانے اور‬
‫دلاءل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت‬
‫ہے کہ وہ اپنی ؼلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی ؼلطی‬
‫اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے‬
‫رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر‬

‫نہیں کرتا۔‬

‫امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔‬
‫سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افؽانستان‬

‫امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے‬
‫عورتیں لاؼر بیمار وؼیرہ‘ بھی شامل تھے؟‬

‫جواب یمینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق‬
‫نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟‬

‫ان کا جرم تو بتایا جائے۔‬

‫لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا‬
‫حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل‬

‫حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جاءے۔‬

‫ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے‬
‫سے کتا بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے‬

‫شیر ہاتھی سے ہاتھی مرد سے مرد عورت‬
‫سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔ ڈر کی ابتدا اور‬
‫انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے مولؾ کی دلیل میں‬
‫میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی‬
‫کام کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر‬
‫مجھے پکارا گیا۔ میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ‬

‫کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صندوق میں چوہا‬
‫گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان سے ڈرتا‘ پی‬
‫گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے بلی‬
‫یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ‬

‫چوہا صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔‬

‫چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل‬
‫میں انتہائی کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ‬
‫خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائی کمزور ہے۔‬

‫کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے‬
‫بوڑھے عورتیں لاؼر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے‬
‫گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ‬
‫ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی‬
‫بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا‬

‫مرا نہیں حالانکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔‬

‫ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں‬
‫گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیئر کلرک‬
‫کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا‬
‫شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے ہیں‬
‫سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں چور آ‬
‫رہا ہے۔اس نام نہاد ترلی کے دور میں ہم سچ کہہ نہیں‬
‫سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی‬

‫یا پھر التصادی مجبوری ہے۔‬

‫ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی‬
‫کیا مدد کریں۔ صاؾ کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ‬
‫رہنا‘ جب بھی مشکل ولت پڑا ہمیں دشمن کی صؾ‬

‫میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت‬
‫اور ڈالر کے حسن پر یمین رکھنے والے لوگ ہیں۔‬

‫ہماری عمل اور ؼیرت پیٹ میں بسیرا رکھتی ہے۔ ہم‬
‫ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ اور‬
‫ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے‬
‫کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی‬
‫جبکہ بجلی گئی ہوئی ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا‬

‫تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرؾ‬
‫دکھائی دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے‬
‫سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ فلاں گھر‬
‫کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے‬
‫کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر‬

‫سے پائپ جاتا ہے۔‬

‫ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر‬
‫خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرؼوں کی‬
‫شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریػ کھاتے‬
‫ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے‬
‫اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی‬
‫مل پائے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی‬
‫لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک‬
‫میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔‬
‫چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور‬

‫ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں‬
‫چڑھتا۔‬

‫رولا رپا توازن کا ضامن ہے‬

‫کل کی بات ہے بیؽم بلا فل سٹپ بولے چلی جا رہی‬
‫تھی اور میں اس کے حضور کھوگو بنے بیٹھا تھا۔‬
‫میں جانتا تھا ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکلا تو دو‬
‫چار گھنٹے بنے۔ مجھے ہمیشہ چپ کی چادر میں ہی‬
‫پناہ ملی ہے۔ شوہر حضرات کو اکثر یہ جملہ سننے کو‬

‫ملا ہو گا‬

‫تم نے ساری عمر کیاہی کیا ہے‘ کون سے تم نے "‬
‫"میرے ماتھے پر ٹیکے سجا دیے ہیں‬

‫یہ جملہ پہلے بھی کوترسو بار سن چکا تھا۔ میں‬
‫سمراط کا زہر سمجھ کر پی جاتا تھا۔ کل مجھے تاؤ آ‬
‫گیا۔ کمال ہے وہ ساری عمر میں اس عرصہ کو بھی‬

‫شمار کر رہی تھی جو میرے کنوار پن کا تھا۔ یہ بھی‬
‫معلوم نہیں مجھے ابھی اور کتنا جینا ہے۔ ساری عمر‬
‫میں تو یہ دونوں زمانے بھی آتے ہیں۔ جی میں آیا اس‬
‫حوالہ سے بات کروں لیکن مجھے اس کے اس جملے‬
‫نکمے تو ہو ہی اوپر سے حکایتں کرتے ہو کے تصور‬
‫نے لرزا کر رکھ دیا۔ مجھے ؼصہ بڑا تھا جو میں ہر‬
‫حال میں نکالنا چاہتا تھا۔ میں نے بڑی کڑک دار آواز‬
‫جو کمرے کی دہلیز بھی پار نہ کر سکی‘ میں کہا کیوں‬
‫خوامخواہ مؽز چاٹ رہی ہو۔ اس کا جواب میری سوچ‬
‫سے بھی بڑھ کر نکلا۔ کہنے لگی میں اپنے منہ سے‬

‫بول رہی ہوں اس میں تمہارا کیا جاتا ہے۔‬
‫اس کی بات میں حد درجہ کی معمولیت تھی۔ ورزش تو‬
‫اس کے دماغ اور منہ جس میں زبان اور جبڑے بھی‬
‫شامل ہیں‘ ہو رہی۔ ہاں البتہ میرے کانوں کو زحمت‬
‫ضرور تھی۔ دماغ کا خرچہ تب ہوتا جب میں اس کے‬
‫کہے کو کوئی اہمیت دے رہا ہوتا۔ روز کی چخ چخ کو‬

‫اہمیت دینا حمالت سے زیادہ نہیں۔‬

‫ؼصہ میں آ کر ڈھیٹ اور چکنا گھڑا تک کہہ جاتی ہے۔‬
‫میں دونوں کانوں سے کام لیتا ہوں یعنی ایک کان سے‬

‫سنتا ہوں دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں اور بس۔‬

‫یہی وجہ ہے کہ ہماری لڑائی یک طرفہ رہتی ہے۔‬
‫معروؾ ممولہ ہے کہ رعایا ملک کے لدموں پر لدم‬
‫رکھتی ہے۔ میں بھی اس ذیل میں حاکم کے لدموں پر‬
‫لدم رکھنے والا ہوں۔ فرق صرؾ اتنا ہے کہ میں اپنے‬
‫گھر کے افراد کی پوری دیانتداری سے خدمت کرتا‬
‫ہوں۔ چوک اسی معاملہ میں ہوتی ہے جو میری پہنچ‬
‫سے باہر ہوتا ہے۔ گھر والے یمین نہیں کرتے۔ ہر گھر‬
‫والی اپنے شوہر کو اوباما کا سالا سمجھتی ہے جو ہر‬
‫کچھ اس کی دسترس میں ہے۔ بہر طور دسترس سے‬
‫باہر کام کے لیے مجھے دونوں کانوں سے کام لینا‬
‫پڑتا ہے۔ حکومت میں موجود لوگ دونوں کانوں سے‬
‫کام نہیں لیتے۔ وہ کانوں میں روئی ٹھونس لیتے ہیں۔‬
‫لوگ جب سڑکوں پرآتے ہیں تو نظر آنے کے مطابك‬
‫یہ سازش اور بؽاوت کے مترادؾ ہوتا ہے اس لیے وہ‬
‫اس رولے رپے کے لیے ڈنڈے کا استعمال فرض عین‬
‫سمجھتے ہیں۔ لوگ اتنا بولتے اور لکھتے ہیں لیکن‬
‫ان کی چال میں رائی بھر فرق نہیں آتا۔ رہ گئ تاریخ‬
‫کی بات تو مورخ ان کا ہتھ بدھا گولا ہوتا ہے۔ وہ‬
‫جانتے ہیں پیٹو مورخ جسے میں مورکھ کہتا ہوں‘‬
‫انہیں نبی سے دو چار انچ ہئ نیچے رہنے دے گا۔ لہذا‬

‫آتے ولت سے کیا ڈرنا۔‬

‫رعایا اور حکومت ریاست کے دو اہم رکن ہیں۔ رعایا‬
‫حکومت کو ٹیکس دیتی ہے اگر نہیں ادا کرتی تو‬
‫حکومت کو خوب خوب وصولنا آتا ہے۔ ٹیکس کے‬
‫عوضانے میں حکومت رعایا کو سہولتیں جن میں‬

‫تعلیم اورعلاج معالجے کی سہولتیں شامل ہیں‘ فراہم‬
‫کرتی ہے یہی نہیں انہیں تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔‬
‫ہمارے ہاں ٹیکس وصولنا یاد رہتا ہے لیکن سہولتیں‬
‫فراہم کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ میں ہر ابے یا‬
‫شوہر کی پیروی میں مسیتے جا کر لسم کھانے کو‬
‫تیار ہوں کہ گھر والوں سے ٹیڈی پیسہ ٹیکس وصول‬
‫نہیں کرتا۔ اپنی مزدوری سے روٹی کپڑا مکان تعلیم‬
‫علاج معالجہ وؼیرہ دستیاب کرتا ہوں اس کے باوجود‬
‫ڈھیٹ ایسے ثمیل کلمات سنتا ہوں۔ سن کر ہاتھ نہیں‬

‫کھنچتا۔ میں یہ سب کرنا اپنا فرض جانتا ہوں۔‬

‫کل مجھے ایک پرائیویٹ میسج موصول ہوا جس میں‬
‫کراچی کی حالت زار کا تذکرہ تھا۔ پراءویٹ میسج پڑھ‬

‫کر میرے ہاتھ پاؤں سے جان نکل گئی۔ پرایوئیٹ‬
‫میسج میں ایک موثر اور منظم پارٹی کا ذکر تھا۔ لکھا‬
‫تھا کہ ہر طبمہ کی عورت آبرو سے محروم ہو رہی‬

‫ہے اور کوئی پوچھنے یا سننے والا موجود نہیں۔‬
‫ریاست کے اختیارات بے انتہا ہوتے ہیں۔ ریاست اپنے‬

‫اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کر‬
‫گزرتی ہے۔ ادارے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اگر‬
‫ادارے کچھ بھی نہیں کرتے تو ان کے ہونے کا کوئی‬
‫جواز نہیں بنتا۔ جب جنگل کا لانون چلنا ہے تو انھیں‬
‫چلتا کرنا چاہیے اور ان پر اٹھنے والی خطیر رلم‬
‫ہاؤسز اور اس کے مکینوں کی بہتری کے لیے خرچ‬
‫ہونی چاہیے۔ ایک خیال یہ ہے کہ ادارے اپنے اور‬
‫ہاؤسز کے لیے کماتے ہیں لہذا انہیں ختم کرنا ہاؤسز‬
‫اور اس کے مکینوں کے پیٹ پر لات مارنے کے‬
‫مترادؾ ہے۔ اس مخصوص گروہ یا ارٹی کو نکیل ڈالنا‬
‫ہاوسز سے مرحومی کے مترادؾ ہے۔ گویا ان عنصر‬
‫کو کھلی چھٹی دینا سیاسی مجبوری ہے۔ مجبوری کچھ‬
‫بھی کروا سکتی ہے۔ جن عورتوں کی عزت برباد ہوتی‬
‫ہے کون سی ان کی اپنی ماءیں بہنیں ہوتی ہیں۔ دوسرا‬
‫عورت کے ساتھ شادی کے بعد بھی یہی کچھ ہوتا ہے‬
‫بلاشادی ہو رہا ہے تو کون سی لیامت ثوٹ رہی ہے۔‬
‫بس تھوڑا سا بے ؼیرت ہونے کی ضرورت ہے۔ بے‬
‫ؼیرتی بھی کیسی۔ یہ ترلی پسندی کی علامت ہے۔ بہت‬
‫سے علالے موجود ہیں جہاں باپ کا تصور ہی نہیں۔‬

‫ان کے ہاں کوئ رولا نہیں تو ہمارے ہاں لدامت پسندی‬
‫سے کام لیا جا رہا۔ ہمیں ہاؤسز کی سیاسی مجبوری‬
‫دیکھتے ہوءے بے ؼیرت ہو جانا چاہیے۔عوام کا رولا‬
‫اور بے بس سسکیاں لطعی ناجاءز اور باؤسز کے‬
‫خلاؾ کھلی سازش ہے۔‬

‫گھر کی کرسی میرے پاس ہے رولے رپے کے حوالہ‬
‫سے خاموشی اختیار کرنا میری مالی مجبوری ہے۔‬
‫ؼنڈہ عناصر کے حوالہ سے خاموشی اختیار کرنا‬
‫ہاؤسز کی سیاسی مجبوری ہے۔ اس کا اس سے بہتر‬
‫اور کوئی حل نہیں کہ بیؽم بولتی رہے اور میں کام‬
‫سے کام رکھوں۔ اس کے بولنے سے اس کی بھڑاس‬
‫نکل جاتی ہے۔ بےعزتی کرکےاس کی انا کو تسکین‬
‫ملتی ہے اور وہ خود کو ونر سمجھتی ہے جبکہ میں‬
‫اپنا پرنالہ آنے والی جگہ پر رکھتا ہوں۔ رولا ڈالنے‬
‫اور برداشت کرنے سے بدامنی پیدا نہیں ہوتی بلکہ‬

‫توازن کا رستہ ہموار ہوتا ہے۔‬

‫پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب‬

‫ہمارے منہ جھوٹ کہنے اور کان جھوٹ سننے کے‬
‫عادی ہو گیے ہیں۔ یہاں جس سے پوچھو کہے گا مجھ‬

‫سے لسم لے لو جو میں نے کبھی جھوٹ مارا ہو۔‬
‫ہمارے ہاں جھوٹ مارنے کا رواج نہیں رہا ہاں البتہ‬
‫بندہ مارنا روٹین ورک ہو گیا ہے سچ کہنے اور سچ‬
‫سننے میں مزا نہیں رہا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ‬
‫بھی ہے کہ سچ سے کسی لسم کا لابھ وابستہ نہیں‬
‫رہا۔ سچ کے حصہ میں پولے رہے ہیں۔ بعض اولات‬

‫سر سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ سچ سے پرہیزی‬
‫سونے کےچمچہ سے بریانی نوش کرتے ہیں۔ جی سر‘‬
‫جی حضور‘ جی جناب‘ درست عالی جاہ کہنے میں کچھ‬
‫خرچ نہیں آتا لیکن صلہ میں تمؽے اور جاگیریں ممدر‬
‫ٹھہرتی ہیں۔ سچ کے پلے ہے ہی کیا‘ دکھ اور تکلیؾ۔‬
‫گولی مارو ایسے سچ کو جو بھوک اور پیاس بھی نہ‬
‫مٹا سکے‘ تن کو ڈھنگ کا کپڑا بھی میسر کرنے سے‬

‫معذور ہو۔‬

‫کل ایک صاحب فرما رہے تھے بابا جی آپ کے للم‬

‫میں بلا کی طالت ہے لیکن آپ اس کا انتہائی گھٹیا‬
‫استعمال کر رہے ہیں۔ میرے ہی منہ پر جھوٹ بول کر‬
‫مجھے الو بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں کونسا‬

‫علامہ شبلی نعمانی ہوں جو میرے للم میں بلا کی‬
‫طالت ہے۔ وہ درحمیمت سمجھانا چاہتے تھے کسی‬
‫پارٹی اور اس کے بڑوں کے بڑی فصاحت و بلاؼت‬
‫کے حامل لصیدے کہوں تاکہ وہ اسے کیش کروا کے‬
‫پیٹ بھر صاؾ ستھرا نوش جاان فرمائیں اور ہڈی‬
‫میری جانب پھینک دیں۔ اگر اعتراض کروں تو سرکا‬
‫دیں۔ پھینکنے اور سرکانے میں زمین آسمان کا فرق‬
‫ہے۔ اس میں شک نہیں میرے اڑے پھسے کام بن‬
‫سکتے ہیں۔ جی حضوریہ ہونا ایسا معمولی اعزاز‬
‫نہیں۔ میں ایسا کر نہیں سکتا کیونکہ میرے للم میں بلا‬
‫کی طالت ہے نہیں۔ بس کسی حد تک گزرا چل رہا ہے۔‬

‫میرے جواب پر حضرت نے فرمایا حضور یہ آپ کا‬
‫لصور نہیں بابے بولتے ہی وکھی سے ہیں۔ بہرطور‬
‫میں جوابا کیا کہہ سکتا تھا خاموش ہو گیا۔ میرے پاس‬
‫کوئی دوسرا رستہ ہی نہ تھا۔ ان دنوں امیدواروں کے‬
‫ڈیرے حاتم کدے بنے ہوئے ہیں۔ پیٹھ مروڑتے اور منہ‬
‫بناتے ہوئے وہ ادھر کو چل دیے اور میں ان کے یہ‬

‫دونوں اعضاء دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں خان صاحب نہیں‬
‫ورنہ ان کی پھرکی کی طرح پھرتی پیٹھ کے بارے‬
‫ضرور کچھ عرض کرتا۔ عین ممکن ہے اس نظارے‬
‫سے بےخود ہو کر الٹے لدموں بڑے پیار اور چاہ‬
‫سے واپس مڑنے کی گزارش کرتا۔‬

‫سوچتا ہوں یہ حاتمی پروگرام اس سے پہلے کہاں تھا۔‬
‫کیا یہ تاحیات جاری رہے گا یا گیارہ مئ کے بعد ٹھس‬
‫ہو جائے گا۔ اگر چلتا رہا تو کمال ہو گا اگر ٹھپ ہو گیا‬
‫تو کمال کی ٹانگ ہی نہیں کمال کی ہڈی پسلی سلامت‬

‫نہیں رہے گی۔‬

‫ڈیڑھ کلو آٹا خرید کر گھر کی بھوک مٹانے والوں میں‬
‫ایک شخص کی روٹیاں بچیں گی اور یہ بچت گھر کے‬
‫کسی فرد کی آدھی بھوک کو سیری میں بدل دیں گی۔۔‬

‫بلاشبہ چند روز کے سہی بہت بڑا انملاب ہو گا۔‬
‫دوسری جانب اس ایک فرد کی سیری اس کی کار‬
‫گزاری بہتر کر سکے گی۔ ووٹ کا کیا ہے کسی ایک‬
‫کو تو دینا ہی ہے۔ جس نے کھانے کو دیا اس سے‬
‫زیادہ ووٹ کا کون حمدار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد‬
‫دونوں کسی کو کچھ نہیں دیں گے۔ اپنے اپنے کاموں‬

‫میں جھٹ جائیں گے۔ یہ مزدوری میں اگر میسر آتی‬
‫رہی اور وہ کیے گیے خرچے کو سو گنا بنانے میں۔‬
‫یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور آتے ولتوں میں یہی کچھ‬

‫ہونے کے اثار ہہں۔‬

‫جس معاملے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے وہ توڑ‬
‫نہیں چڑھتا بلکہ اؤل تا آخر خرابیاں ممدر رہتی ہیں۔ ہو‬
‫سکتا ہے شروع شروع میں کچھ فائدہ مل جائے لیکن‬

‫آگے جا کر پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ جھوٹ‬
‫بولنے والے کرنے والے کو شاید ہلکا پھلکا نمصان‬
‫ہوتا ہے۔ عمومی سوچ کے حوالہ سے عزت کو کسر‬
‫لگتی ہے۔ اگر اس کو کسر سمجھا جائے تو لوگ اہل‬
‫دھن اور اہل جاہ کو جھک جھک کر سلام کیوں کرتے‬
‫ہیں۔ ان کے منہ پر ان کی تعریؾ میں زمین آسمان کے‬
‫للابے کیوں ملاتے ہیں۔ رہ گئ دل میں برا بھلا کہنے‬
‫یا گالیاں نکالنے کی بات دل کو کون دیکھتا ہے۔ لوگ‬
‫تمثال کو نہیں تجسیم کو دیکھتے ہیں۔۔ ہاں برا ہو ترلی‬
‫کا ریکاڈنگ کی صورت میں خرابی کی راہ نکل آتی‬
‫ہے۔ پیٹھ پیچھے برائ کرنے والوں کی بھی بازی مات‬
‫رہتی ہے۔ سامنے اور پیٹھ پیچھے کے مزے ایک سے‬
‫نہیں ہوتے۔ سامنے کا آؤٹ پٹ موت یا کم از کم لترول‬

‫ضرورت رہتا ہے۔ پیٹھ پیچھے کے لیے مکرنے کا‬
‫سیؾ وے بہرطور ہر سطع پر بالی رہتا ہے۔‬

‫گریب ان پڑھ بولاراور چھوٹی عمر کی لڑکی سے‬
‫شادی کرنے کا آخر مزا چھکنا پڑتا ہے یہ ووٹ کے‬
‫مانگت بھی اس لڑکی کے مماثل ہوتے ہیں اوپر سے‬
‫انھیں خوبصورت ہونے کا زعم بھی ہوتا ہے۔ بھوکا‬
‫دور کی نہیں سوچتا۔ باشعور ہوتے ہوءے بھی اس کی‬
‫سوچ روٹی دا سوال اے جواب جیہدا روٹی اے‘ سے‬
‫باہر نہیں آتی۔ تسلیم کی انتہا ملاحظہ کریں ان دنوں‬
‫امیدواروں کے ڈیروں پر مرؼے والے چاول چل رہے‬
‫ہیں اور اسے بریانی کا نام دیا جاتا ہے۔ بڑے افسوس‬
‫کی بات ہے اس میں بکرے کی ایک بوٹی بھی نہیں‬

‫ہوتی۔ کھلانے والا اسے بریانی کا نام دے یہ بات‬
‫سمجھ میں آتی ہے لیکن کھانے والا اسے بریانی‬
‫تسلیم کرتا ہے۔ یہ تو ککڑیانی بھی نہیں ہوتی۔ چاولوں‬
‫میں کھسرا مرؼے کا کہیں کہیں گوشت یا ہڈی ہوتی‬
‫ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کھسرا مرؼے کا پنجر لا‬
‫کر چاولوں میں ڈال دیا گیا ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ‬
‫اسے پنجریانی کا نام نامی اسم گرامی دیا جا سکتا ہے۔‬
‫جب اطراؾ میں اپنی اپنی ضرورت کے حوالہ سے‬

‫جھوٹ چل رہا ہو تو آتے کل کی بہتری کا خواب‬
‫گناہنگار آنکھوں سے کیونکر اور کیسے دیکھا جا‬

‫سکتا ہے۔‬

‫تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز لاصری‬

‫آج مجھے ایک سیمنار میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔‬
‫بڑے بڑے عالم فاضل حضرات تشریؾ فرما تھے۔ اہل‬
‫زر اور اہل التدار بھی جلوا فرما تھے۔ اس ذیل میں ہر‬
‫اک اپنا واضع مولؾ رکھتا تھا۔ آپ کا دل اور ضمیر‬
‫چاہے ناچاہے‘ اصول یہ رہا ہے کہ ہر بڑے کی ہاں‬
‫میں ملانا زندگی اورصحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‬

‫اگر سمراط ہاں میں ہاں ملاتا تو زندگی بھر گھیو‬
‫کرولیاں کرتا۔ پاگل تھا صدیوں سے چلے آتے اصول‬
‫کی خلاؾ ورزی کرتا رہتا۔ اسے لائین پر آنے کے‬
‫موالع دیے گئے۔ کملا تھا موالع ضائع کرتا رہا۔ نتیجہ‬
‫کار کٹ کھانی ہی تھی اور پھر جان اور جہان سے گیا۔‬

‫بابے دراصل لوم اور اہل لٹھ کے لیے جنجال ہی رہے‬
‫ہیں۔ جب بولتے ہیں وکھی پرنے بولتے ہیں۔ جی میں‬
‫آیا اسٹیج سے اٹھ کر سامعین میں بیٹھ جاؤں اور کچھ‬
‫کہنے سے معذرت کر لوں۔ پھر خود کو حوصلہ دیا کہ‬
‫بڑے میاں شیر بنو شیر۔ ساری عمر سرخوں کو چاہا‬
‫اور اب بڑپے میں پٹڑی سے اتر کر شیر کو بوڑھا اور‬
‫بوسیدہ دل دے بیٹھے ہو گیدڑ نہ بنو۔ سو پہاجی‘ میں‬
‫بیٹھا رہا۔ باری پر میری طلبی ہوئ۔۔ میں نے کہا بابا‬
‫کہہ دو جو ہو گا دیکھا جاءے گا۔ میری باتیں سامعین‬
‫نے پسند کیں۔ اہل جاہ پر کیا گزری ہو گی میں نہیں‬

‫جانتا۔ میں نے دانستہ ان کی طرؾ دیکھا ہی نہیں۔‬
‫بوڑھا ہوں‘ گھورتی آنکھوں کا سیکا برداشت نہیں کر‬

‫سکتا۔‬

‫تعلیم آگہی سے جڑی ہوئی ہے۔ حصول آگہی انسان کی‬
‫خواہش فطرت مچاہتا ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے‬
‫جو کھلونے کو متحرک اور ؼیر متحرک بنا دیتی ہے۔‬
‫گویا جاننا اس کا فطری حك یں داخل ہے۔ بچہ کھلونے‬
‫کیوں توڑتا ہ ِے؟ وہ کھلونے کے متحرک ہونے کا راز‬
‫جاننا چاہتا ہے۔ وہ جاننا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ‬
‫پچے میں جستجو کا مادہ موجود ہے۔ ایک بہت بڑے‬

‫عالم سے متعلك معروؾ ہے کہ وہ آخری سانسیں لے‬
‫رہے تھے۔ کوئ مسلہ جاننے کے لیے انھوں نے کتاب‬
‫طلب کی۔ انھیں کہا گیا آپ تو جا رہے ہیں اب اس کی‬
‫کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے جوابا کہا۔ کیا تم چاہتے ہو‬

‫‪.‬کہ میں جاہل موت مروں۔‬

‫اس کی مثبت دو عملی صورتیں ہیں۔ حضرت مہاتما‬
‫بدھ جی شہزادے تھے ۔ مالی آسودگی تھی۔ ان کا گیان‬
‫کے لیے دنیا کو تیاگنا معاش سے وابستہ نہ تھا۔ گیان‬
‫ہاتھ لگا تو انھوں نے خود کو دنیا کے لیے وابستہ کر‬
‫دیا۔ ان کی انسانیت کے لیے خدمات کو کسی بھی سطع‬
‫پر نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ مارکونی نے‬
‫بھی بلا کسی معاشی حاجت کے لیے ریڈیو ایجاد کیا۔‬
‫یہ ایجاد آتے ولتوں میں بہت ساری ایجادات کا سبب‬
‫بنی۔ دریافت ہر دو متذکرہ صاحبان کے لیے سب سے‬

‫بڑی خوشی تھی۔ ان کی دریافت سے بلا کسی‬
‫تخصیص و امتیاز انسانیت کو فائدہ ملا۔ تعلیم سے ہی‬
‫یہ سب ہوا۔ تعلیم دراصل انسان کی شخصیت پر اثر‬
‫انداز ہوتی ہے۔ تعلیم اگر زندگی کے سلیمے میں تبدیلی‬

‫نہیں لاتی تو اسے تعلیم کہنا بذات خود جہالت ہے۔‬
‫تعلیم ابوزر ؼفاری اور سلمان فارسی کے منصب پر‬

‫فائز کرتی ہے۔ تعلیم حاکم ولت کو آزاد کردہ ؼلام کو‬
‫اس کے تموے کی بنیاد پر سیدنا کہنا سکھاتی ہے۔‬

‫تعلیم کے حصول کا ایک ممصد اور بھی رہا ہے۔‬
‫کمزور طبمے اپنے بچوں کو کلرک شپاہی وؼیرہ کی‬

‫ملازمت کے متمنی رہتے ہیں جبکہ صاحب حثیت‬
‫طبمے اپنے بچوں کو افسر بنانے کے لیے انھیں بڑی‬
‫سے بڑی درسگاہ میں جمع کراتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں‬
‫کو کلرک یا افسر بنانا چاہتے۔ ان ذہن کے کسی گوشے‬
‫میں اپنے بچے کو اعلی خصاءل کا حامل انسان بنانے‬

‫کی خواہش سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔‬

‫دفتر میں خواہش اور تولع کے حوالہ اعلی شکشا‬
‫منشی کا دفتر ہے۔ ہر کسی کو ان کے لدموں پر چلنا‬

‫ہواس خواہش اور تولع کا مجموعہ اگر تولع اور‬
‫خواہش پر پورا نہیں اترتا تو گلا درست ہے۔ میر منشی‬
‫کےتا ہے۔ کلرک تو بہت بڑا آدمی ہوتا ہے ناءپ لاصد‬

‫بھی خواہش اور تولع کے بالاتر معیار پر فاءز ہوتا‬
‫ہے۔ اگر وہ سب تنخواہ کے علاوہ بالائ نہ لاتے ہوں‬
‫تو گلا کیا جا سکتا ہے۔ وہ معیاری رلم نہ لاتے ہوں تو‬
‫ہی ان کی تعلیم پر انوسٹمنٹ کی گئی رلم حرام جائے‬

‫گی۔ ساءل کیا کر لے گا۔ عدالت جاءے گا۔ وہاں خرچہ‬
‫کرکے کوئی آرڈر لئے گا۔ بعض معاملات چند ہزار سے‬

‫جڑے ہوءے ہوتے ہیں۔ اب چند ہزار کے لیے کوئی‬
‫جھڑنے ہی میں عافیت سمجھے گا۔ میں سمجھتا ہوں‬
‫یہ عزت مآب حضرات تعلیم کے مماصد کے حصول‬
‫میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے یہ‬
‫بڑی ایمانداری سے تعلیمی مماصد کا حك ادا کر رہے‬
‫ہیں۔ ہم شاباش دینے کی بجائے شاواش دے رہے ہیں۔‬
‫ہمارا یہ رویہ ثعلیم دشمنی کے مترادؾ ہے۔ جس کی‬

‫جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‬

‫واپڈا والوں پر گلا اور شکوہ کیا جاتا ہے بڑے ہی‬
‫افسوس کی بات ہے۔ ہم انھیں ان پڑھ کیوں سمجھتے‬

‫ہیں۔ دوچار سو یونٹ زائد ڈال کر وہ صارؾ سے‬
‫پاکستان تو اپنے نام نہیں لکھوا رہے ہوتے۔ افسروں‬

‫کی ضرورتیں اپنی جگہ دیگر ملازمین کی بھی‬
‫ضرورتیں ہوتی ہیں۔ رشتہ دار دوست یار تو اصولی‬
‫استحاق رکھتے ہیں لیکن جیب تو دیگر کسٹمر ہی‬
‫بھرتے ہیں۔ اگر رشتہ دار اور دوست یار خوش نہ‬
‫ہوءے تو تؾ ہے ایسی نوکری پر۔ جیب مئں بالائی نہ‬

‫آئی تو تعلیم کا ممصد ہی عین ؼین ہو جاتا ہے۔‬

‫ملازمین کو کوٹھیاں دینے کے لیے اسکیم شروع‬
‫ہوئی۔ اسکیم بلاشبہ اعلی جھانسہ دار ہے۔ ملازمت ختم‬

‫ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ ملازم کی تنخواہ سے ایک‬
‫لاکھ نو ہزار کٹوتی ہوئی ہے۔ کوٹھی کے حصول کے‬
‫لیے ساٹھ ستر لاکھ مزید کی ضرورت ہوتی ہے۔ یتیم‬
‫محکمہ سے متعلك ملازم دوچار زندگیوں میں بھی‬

‫اتنی رلم ادا نہیں کر سکتا۔ ایک اردو یا پولیٹیکل‬
‫سائنس کا پروفیسر اتنی رلم چشم تصور میں بھی ادا‬

‫نہیں کر سکتا۔ صاؾ ظاہر ہے کہ وہ اپنی رلم کی‬
‫واپسی کا مطالبہ کرے گا۔ یہ آرٹس کے پروفیسر بھی‬
‫کتنے سادہ یا احمك لوگ ہوتے ہیں۔ شاید انھیں اس‬
‫شعبے کی تعلیم یافتگی پر شک ہوتا ہے۔ انھیں اپنی‬
‫درخواست کی بازگشت تک سنائی نہیں دیتی۔ میں کہتا‬
‫ہوں اگر مک مکا کے بؽیر بازگشت سنائی دینے لگی‬
‫تو تعلیم اور ملازمت کی حصولی میں ادا کی گئی رلم‬

‫حرام ہو گئی۔‬

‫سیمینار میں نصاب کے حوالہ سے عوامی نمائندگان‬
‫سے بات کرنے کی بھی تجویز ہوئی۔ مانا عوامی‬

‫نمائندگان میں اکثریت نے تعلیم پر خرچہ نہیں کیا لیکن‬


Click to View FlipBook Version