کے برعکس کہنے میں کوئ عار یا شرمندگی
محسوس نہیں کرتے۔واپڈا والے ہوں اکاؤنٹس آفس ہو
گیس والوں کےہاں چلے جائیں خدا نخواستہ نادرہ
والوں سے کام پڑ جائے جو عوما نہیں اکثر پڑتا ہی
رہتا ہے۔ یہ تو خیر ممامی دفاتر ہیں بڑے دفاتر یہاں
تک کہ مہا منشی ہاؤس کے دفاتر جن سے دادرسی
کی امید رکھی جاتی ہے‘ کے بھاؤ ایک نہیں ہیں۔ ایک
ہی کام کے مختلؾ نرخ ہیں۔ اپنا یا بیگانہ کی تخصیص
موجود نہیں۔ یہاں کوئی اپنا یا پرایا نہیں۔ مفت بھر
کسی سطع یا کسی حوالہ سے فیض حاصل نہیں
کرپاتے۔ پلہ ہر کسی کوجھڑنا ہی ہوتا ہے۔ بہوتا اوکھا
فنی خرابیوں سے عمر بھر نبردآزما رہتا ہے۔
مجھے بھتہ لینے یا دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دنیا
لین دین پر استوار ہے۔ بھتہ خور حالات کے ہاتھوں
خود مجبور ہیں۔ تنخواہ میں وہ کچھ چل ہی نہیں سکتا
جو بھتہ شریؾ کی برکت سے چلتا آ رہا ہے۔ تنخواہ
سے دو انچ زمین خرید کر دکھا دیں۔ کار تو بڑی دور
کی بات تنخواہ میں سائیکل کا ایک پیڈل خریدا نہیں جا
سکتا۔ بھتہ خوری خانگی مجبوری ہے۔ گھر میں
سکون ہو گا تو پورے معاشرے میں سکون ہو گا۔
بھتہ سیاسی مجبوری بھی ہے۔ لفافہ کلچر سیاسی
لوگوں کی عطا ہے۔ عطا بری نہیں ہوتی۔ ہاں کچھ کو
ماش موافك اور کچھ کو بادی۔
یمین مانئیے میں اس سیاسی عطا کے خلاؾ نہیں ہوں
ہاں میرا مولؾ یہ ہے کہ اسے فکس ہونا چاہیے۔ یہ
کیا ایک ہی کام کے ایک سے دس دوسرے سے پندرہ
اور کسی پر آٹھ ہزار میں مہربانی کر دی جاءے۔ ساتھ
میں روٹی کی جگہ چاءے بسکٹ کیک پیس اور نمکو
پر ہی کام چلا لیا جاءے۔ ۔یہ انداز اور رویہ کسی طرح
درست نہیں۔ اس انداز و رویہ کے حوالہ سے بے
چینی پھیل رہی ہے۔ چرسی ؼلط نہیں کہہ رہا تھا۔
پوری لوم خصوصا دفاتر کو بےٹائیمی کے اندھے
کنویں سے نکالا جائے۔ بالکل اسی طرح نرخی نظام کا
لیام ولت کا تماضا ہے۔
کچوپیے تو خیر اس ذیل میں نہیں آتے۔ ہمارے پاس
یک نرخی کی ایک لابل تملید مثال موجود ہے۔ کسی
بھی نیٹ ورک کا سو روپیے کا لوڈ کروایں بیاسی
روپیے اور کچھ پیسے کا بیلنس لوڈ ہوتا ہے۔ کہیں
ایک پیسے کا فرق نہیں آتا۔ اس یک نرخی کا فایدہ یہ
ہے کہ پاکستان میں پاکستانی روپیے کی حمیمی لیمت
کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ دیکھنے میں سرخ نوٹ سو
روپیے کا ہوتا ہے لیکن اس کی اپنے ہی دیس میں
لیمت بیاسی روپیے اور کچھ پیسے ہوتی ہے۔
حکومت کا اصولی اور اخلالی فرض بنتا ہے کہ وہ
تمام دفتر سے ہر لسم کے چھوٹے موٹے کاموں کی
فہرست طلب کرے۔روپیےکی عصری پاکستانی لدر کے
مطابك اپنا جگا ڈال کر ریٹ طے کرے۔ یہی نہیں اسے
بینکنگ نظام سے وابسطہ کر دیا جائے۔ سائیلوں کو
دفاتر کے دھکوں سے نجات مل جائے گی اور ہر کسی
کو بینک چالان پر طے شدہ کوڈ کے مطابك حصہ مل
جائے گا۔ سائل چالان کی نمل پاس رکھ کر اصل متعلمہ
دفتر میں جمع کرا دے گا۔ ممررہ تاریخ کو چند روپیے
کچوکیے کے ہاتھ میں رکھ کر اپنے کاؼذ پتر خوشی
خوشی گھرلے جائے گا۔ اس سے رشوت اصطلاح کو
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طلاق ہو جائےگی۔
بجلی آتے ہی
دو شخص ہوٹل میں گرما گرم بحث کر رہے
تھے۔باتوں سے دونوں بےپارٹی لگتے تھے۔ بے
پارٹی اشخاص کا مختلؾ سمتوں میں چلنا اوراتنی
گرما گرمی دکھانا مجھے بڑا ہی عجب لگا۔ خیرمیں
بے تعلمی ظاہر کرتے چاءے نوشی میں مشؽول رہا۔
ان کا موضوع سخن مہنگائ اور بےروزگاری تھا۔ وہ
یوں ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے جیسے ان
دونوں میں سے کوئ ایک ان خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔
ایک صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار
خود عوام ہیں۔ آخرانھوں نے ان بدمعاشوں کو ووٹ
ہی کیوں دیے۔ دوسرے کا کہنا تھا اطراؾ میں بدمعاش
تھے ایک کو ممبر بننا ہی تھا۔ دوسری طرؾ اگر کوئی
شریؾ تھا اور ممبر نہیں بن سکا تو بات کریں۔ اس کا
کہنا تھا کہ یہ کام شریفوں کا کبھی بھی نہیں رہا۔
پوری جمہوری تاریخ کو دیکھ لیں۔ اسمگلر چوراچکے
سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے رسہ گیر صاحب
زادے نواب زادے حرام زادے امریکہ کے چہولی چک
اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔
دوسرا اس بات پر بضد تھا کہ لصور سارا عوام کا
ہے۔ کچھ فیصد ہی سہی لوگ جمہوریت کا حصہ کیوں
بنتے ہیں۔ پہلے کا مولؾ تھا کہ لوگوں کو بھوک میں
نک نک ڈبو کر الیکشنوں کے دنوں میں چوپڑی روٹی
اور لگ پیس دکھا کر یہ لوگ ووٹ حاصل کر لیتے
ہیں۔ لوگ چند دن کی سیری کو دیکھ کر پچھلے اور
اگلے سالوں کی لیامت ناک بھوک کو بھول جاتے ہیں۔
ان میں سے ایک جس نے جوش خطابت میں چائے کا
ابھی تک ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا‘ کا کہنا تھا کہ
صدر وزیر اعظم اور اسپیکر تو ڈھنگ کے منتخب
کیے جاءیں۔ شاید اسے معلوم نہ تھا کہ انھیں عوام
منتخب نہیں کرتے۔ یہ عوامی نمائندے نہیں‘ اپنی پارٹی
کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور اپنی پارٹی کے
مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انھیں عوام سے کیا
مطلب۔ وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی کو
جوابدہ ہوتے ہیں۔
اتنی دیر میں بجلی آ گئی۔ دونوں کا جوش ہوا ہو گیا۔
دونوں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گءے۔ میں سوچ
میں پڑ گیا اتنا گہرا شعور انھیں کس نے دیا ہے۔ کیا
یہ بھوک پیاس اور اندھیرے کی مہربانی ہے یا میڈیے
کی کارگزاری ہے۔
دوسرا سوال یہ بھی کھڑا تھا کہ شعور انملاب کی
طرؾ لے جا رہا ہے یا بھوک شعور کو کھا پی جائے
گی۔
ان دونوں کا بجلی کے آنے پر دوڑ لگانا ظاہر کرتا ہے
کہ شعور کسی بھی سطع پر ہو بھوک سے تگڑا نہیں
ہوتا۔ روٹی ایمان کی بناء ہے۔ شخص کتنا ہی مظبوط
کیوں نہ ہو بھوک کے ہاتھوں بک جاتا ہے۔
لوگوں کو بھوک کی آخری سطع پر اسی لیے پنچا دیا
گیا ہے کہ وہ اپنا ضمیر ایمان اور عزت بیچنے پر
مجبور ہو جاءیں۔ بھوک کےتیور دیکھتے ہوئے میں
پورے یمین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کوئی تبدیلی
نہیں آئے گی۔ لوگ ہوٹلوں میں بیٹھ کر بڑےاونچے
درجے کی باتیں کرتے رہیں گے لیکن بجلی آتے ہی
روٹی کی طرؾ بھاگ اٹھیں گے۔
بؽداد والے کوا حلال ہے یا حرام پر بحثیں کرتے رہے
ادھر ہلاکوں خان نے بؽداد کی اینٹ سےاینٹ بجا دی۔
ہمارےساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ ہماری
خودداری پر ہر دوسرے کاری ضرب لگاتا ہے اور
ہمارے لیڈر اگلے الیکشن جیتنے کے لیے بھوک میں
اضافے کا کوئ نیا راستہ تلاشنے کی سعی کرتے ہیں۔
کار سستی آٹا چینی دال گھی مہنگی کر رہے ہیں۔ ایک
عام آدمی کو کار سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ بس
کرایہ کم ہو تو ؼریب سے تعاون سمجھ میں آتا ہے۔
اندھا بانٹے روڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں۔ کار کا سستا
ہونا ؼریب پروری کے کس زمرے میں آتا ہے۔ یہ بات
میری سمجھ سے بالا ہے کہ میک اپ بھی سستا کر
دیا گیا ہے۔ ؼالبا لوم کوکوٹھے پر بیٹھانےکا ارادہ
ہے۔
لوم اس نام نہاد آزادی کے دن سے لے کر آج تک
کوٹھے پر بیٹھی ہے۔ جوآتا ہےاس کی جان مال عزت
آبرو انا اور ؼیرت سےکھیلتا ہے اور چلتا بنتا ہے۔
اس کے جانے کے بعد ہر کوئ اس کے جبروستم کے
لصے چھیڑ دیتا ہے لیکن یہ سب زبانی کلامی ہوتا
ہے۔ کوئ اس پر گرفت نہیں کرتا۔ گئے ولت کی
چھوڑیے کوئی موجودہ کے سدھار کی کوشش نہیں
کرتا۔ ہرآتا دن گزرے سے بدترین ہوتا ہے۔
عدم تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ان نام کے
لومی لیڈروں کی ناک کے نیچے رشوت کا بازار گرم
ہے۔ اکثر افسر ان کے اپنے بندے ہیں۔ کم از کم جو ان
کے اپنے بندے نہیں ہیں ان پر تو گرفت کریں تاکہ وہ
ان کا بندہ ہونے کا جتن کریں۔
پوچھنے والوں کے ہاتھ میں سفید گڑ کی پیسی ہے
اور وہ یہ سوچے بؽیر کہ دانت خراب ہوں گے چوسے
پہ چوسا مارے جا رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں خراب
دانتوں کا علاج کون سا گرہ خود سےہونا ہے۔ سرکار
کا اشیرواد اور لوم کا مال سلامت رہے۔ انھیں پریشان
کی کیا ضرورت ہے۔
جرم کو لانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں
پشاور ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر ہم سچ بولنے لگیں
تو ہمارے اسی فیصد مساءل حل ہو جاہیں گے‘ پشاور
ہائ کورٹ کے یہ الفاظ آب زم زم سے لکھے جانے
کے لابل ہے۔ سچ سے بڑی کوئی حمیمت نہیں اور ناہی
اس سے بڑھ کر کوئ طالت ہے۔ سچ ظلم زیادتی
ناانصافی بلکہ ہر خرابی کی راہ میں مونگے کی چٹان
ہے۔ یہ کمزور کو کمزور نہیں رہنے دیتا۔ یہ بات ہر
شخص جانتا ہے‘ اس کے باوجود ہر شخص اس سے
دور بھاگتا ہے۔ شاید ہی کوئی ہو گا جو اس کی برکات
کا لائل نہ ہو گا یا اس کی طالت سے انکار کرتا ہو گا
بلکہ اپنے سوا دوسروں کو درس نہ دیتا ہو گا۔ سچ کا
سب سے بڑا کمال یہ ہے کھ اسے لاکھ پردوں میں
رکھو‘ سامنے آنے سے باز نہیں رہتا۔ اس طرح بنا
بنایا کھیل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔
سچ یمینا پیار کرنے کے لائك چیز ہے۔ لوگ اس سے
بےحد پیار کرتے ہیں۔ اسے بڑی لدر کی نگاہ سے
دیکھتے ہیں اور سچ سننا انھیں خوش آتا ہے۔ جو
بھی ان کے سامنے جھوٹ اور ؼلط بیانی سے کام لیتا
ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دینے پر اتر آتے ہیں۔
جھوٹ اور ؼلط بیانی سے کام لینے والا بچ کر جائے
گا کہاں۔ ان کی نگاہ بال کی کھال اتار لیتی ہے۔ وہ اس
کو محدود نہیں رکھتے تاہم التصادیات سے جڑا جھوٹ
انھیں موت کے گھاٹ اتار دینے کے مترادؾ ہوتا ہے۔
کسی اور کا دینا ایک روپیے کا ہو یا لاکھ روپیے کا‘
ان کےلیے اس میں ایک اکنی کی ہیر پھیر بھی لاکھ
کی حیثیت رکھتی ہے۔
دینے کا معاملہ اس پیمانے سے لطعی برعکس ہوتا
ہے۔ اس ضمن میں سچ انھیں زہر لگتا ہے۔ ان کے
سماجی معاملات بھی سچ کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔
سماجی معاملہ ہو یا التصادی‘ جھوٹ اور منافمت کی
جئے جئے کار رہتی ہے۔ منافمت‘ جھوٹ کی ترلی
یافتہ شکل ہے۔ امیدوار ممبر جب کسی کے پاس آتا
ہے تو منہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ میں شروع سے آپ
کا خدمت گار رہا ہوں ۔ جب کہ عید کے روز بھی اس
سے مسجد میں ملالات نہیں ہوئی ہوتی۔ اگلی صفوں
میں بیٹھنے والوں کی نگاہ میں پیچھے بیٹھے لوگ
روڑا کوڑا ہوتے ہیں۔ پرانے اور بوسیدہ لباس والے
دکھائ کب دیتے ہیں۔ یہ فطری سی بات ہے کہ آسمان
اور زمین کا ملن ممکن ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہا ہے
کہ الیکشن امراء کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گریب تو
موری ممبری کا الیکشن تک نہیں لڑ سکتا۔ ہاں گریب
رات کو امیدوار ممبر کے ڈیرے سے پیٹ پوجا کے
لالچ میں لوگوں سےلڑ جھگڑ سکتا ہے۔
امیدوارممبر جس طرح اپنے خادم ہونے کا جھوٹ
بولتا ہے ووٹر بھی نہلے پر دہلا مارتا ہے۔ وہ جوابا
کہتا ہے کہ جناب ہمیشہ آپ کا ساتھ دتیے آئے ہیں اب
بھلا آپ کو کس طر ح چھوڑیں گے حالانکہ اس نے
کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہوتا۔ عملی طور پر اس
کا سخت مخالؾ رہا ہوتا ہے یا جھڑنے والے کے ڈبے
میں اس کے ووٹ نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔
کوتوالی کی بات چھوڑیں وہاں تو بڑے بڑےعین ؼین
اور شریؾ باٹی ٹیک جاتے ہیں۔ وہ وہاں‘ وہ وہ جرم
تسلیم کر لیتے ہیں جن کے کرنے کی خواب میں بھی
نہیں سوچ سکتے۔ میں یہاں عدالت کے حوالہ سے
بات کرنے جا رہا ہوں۔ عدالت میں چور کو بھی وکیل
کرنے کا پورا پورا حك ہے۔ یہ اس کا اصولی حك ہوتا
ہے۔ چور کا وکیل وہ وہ دلائل پیش کرتا ہے کہ چور
کو یمین ہونے لگتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ اس نے
چوری کی ہی نہیں بلکہ اس پر چوری کا جھوٹا الزام
لگایا جا رہا ہے جب کہ وکیل کو پورا پورا یمین ہوتا
ہے کہ چوری اس کے موکل نے کی ہے۔ اس کے
باوجود وہ چور کا ممدمہ لڑتا ہے اور اسےبچانے کی
سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ یہ اس کا پیشہ ہے۔ کامیابی
کی صورت میں وہ اچھا وکیل لرار پاتا ہے۔ ہارنے کی
صورت میں کوئ چور اس کے لریب سے بھی گزرنے
کی حمالت نہیں کرتا۔ اگر کوئ چور اس کے پاس نہیں
آءے گا تو وہ بھوکا مر جائے گا۔ گویا علم اور
داؤوپیچ رکھنے والا پیٹ سے سوچے گا تو سچ
بولنے کی بھلا ایک عام آدمی کس طرح حمالت کرے
گا۔ پیٹ ہی جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کرتا ہے۔
پیٹ ہی سب سے بڑا سچ ٹھرتا ہے۔ کسی کا حك ڈوب
رہا ہے‘ اس جانب نظر کیسے جا سکتی ہے۔ مضروب
اپنے جوگا نہیں ہوتا وہ ہرے نیلے نوٹ کس طرح
وکھا سکتا ہے۔ سچا ہو کر بھی وہ جھوٹوں کی صؾ
میں کھڑا ہوتا ہے۔
ہمارے تمام مسائل کا حل یمینا سچ بولنے میں ہے
لیکن خالی پیٹ درویش لوگ ہی سچ بول سکتے ہیں۔
یہ بھی تاریخی حمیمت ہے کہ سچ بولنے والےجان
سے گئے ہیں۔ پیٹ کے ؼلام روز اؤل سےعزت
بچانے کے لیے سارا دن بےعزتی کرواتے ہیں۔ پیٹ
یمینا تکنیکی اور شکمی مجبوری ہے۔ پیٹ کو کسی
بھی سطع پر خانہ نمبر دو میں نہیں رکھا جا سکتا۔
روٹی کپڑا اور مکان یا پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے
کے وعدے تو ہوتے رہے ہیں۔ جنت نظیر بنانا تو بہت
دور کی بات ہے پاکستان کو پاکستان تک نہیں بنایا جا
سکا۔
پاکستان میں بجلی روٹی کا پہلا اور آخری ذریعہ ہو کر
رہ گئی ہے۔ وزیر برلیات نے بند نہ ہونے کا وعدہ کیا
لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائ بھر فرق نہیں
آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن
بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں
دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا
آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے
گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا
بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا
باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی
کا لصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حك بجانب
ہوتے ہیں۔
لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائی بھر فرق
نہیں آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے
لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں
دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا
آئے گا۔ مزدوری لائے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے
گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا
بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا
باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی
کا لصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حك بجانب
ہوتے ہیں۔
وکیل اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ چور کی وکالت نہیں
کرے گا تو کھائے گا کہاں سے۔ بابو اپنی جگہ پر سچا
ہے کہ حك ناحك کا عوضانہ نہیں وصولے گا تو مرغ
اور مچھلی کا سامان کیسے اور کیوں کر ہو سکے گا۔
جب وعدے پورے نہیں ہونے‘ مظلوم کو ظالم ٹھرایا
جانا ہے‘ انصاؾ دوہرا ہونا یا کروانا ہے‘ چور کو بری
کروانا ہے تو جھوٹ کو لانونی حیثیت دے دی جائے‘
کم از کم منافمت سے تو خلاصی مل جائے گی۔ اصلی
آدمی دیکھنے کو مل جائے گا۔ آج اصلی آدمی کو
دیکنھے کو آنکھیں ترس گئ ہیں۔ جنی کوئی ؼلط الدام
نہیں ہو گا۔ جس کو بےوسیلہ اوربے بابائ ہونے کی
وجہ سے لتل کیتا کرایا مل جانا مل جانا ہے‘اس کی
داد رسی لایعنی اور ہر طرح کی معنویت سے باہر کی
چیز ہے۔ ایسے حالات میں جرم کو لانونی حیثیت دینا
ناانصافی نہیں‘ انسانی مساوات لاءم کرنے کے کے
مترادؾ ہے۔ اگر بعض کو جرم کی سزا سے بالاتر
لرار دینے کی سعی کرنا ہے تو اوروں کو یہ حك دینا
!کس اصول کے تحت ؼلط ہے؟
لانون ضابطے اور نورا گیم
اشفاق کی کل برات جانا تھی کہ اس کی ہمشیرہ کا
سسر چل بسا۔ اشفاق کو اس کی اس ناشایستہ حرکت
پر بڑا ؼصہ آیا۔ جل کر بولا چاچے کو جیتے جی
چھیتیاں رہی ہیں اب مرنے کے معاملہ میں بھی بڑا
جلدباز ثابت ہوا ہے۔ اشفاق کا سٹپٹانا عمل ناجاءز نہیں
لگتا لیکن ہونی کے کون سر آ سکتا ہے۔ ہونی ویدی
ہے اور ویدی کا ویدان کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔
ہونے کو تو ہر حال میں ہونا ہی ہوتا ہے تاہم تحمل
میانہ روی اور سوچ سمجھ سے کام لینا آتے کل کو
آسودہ رکھتا ہے۔ ہما کے سسر نے جانے کتنے دن
اس انتہائ الدام کے لیے سوچا ہو گا۔ اشفاق کا معاملہ
بھنگ ہوا اس سے ہما کے سسر کو کیا مطلب ہو
سکتا تھا۔
ہر کوئی اپنی ترجیع کو اولیت دیتا ہے‘ دینی بھی
چاہیے لیکن فریك ثانی کو تو پابند نہیں کیا جا سکتا۔
فریك ثانی اگر ماڑا ہے تو وہ مجبوری کے تحت خفیہ
ہو سکتا ہے۔ اس میں سچا یا جھوٹا ہونے کا کوئی
سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہر کوئی سامنے سے وار کرنے
کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ فطری سی بات ہے کہ
دو متصادم فریك طالت کے حوالہ سے ایک ہی کیلیبر
کے نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی کیلیبر کے ہونے کی
صورت میں ان کے درمیان تصادم نہیں ہو گا۔ ان کا ہر
اگلا دن منگل ہو کا اور منگل ناؼے کا دن ہوتا ہے۔
طالت حك پر ہوتی ہے اور اسے اپنا اور اوروں کا
ؼصہ ماڑے پر آتا ہے۔ آنا بھی چاہیے ماڑا ہوتا کس
لیے ہے۔
دہشت گردی بلا شبہ پوری انسانیت کے جسم پر ناسور
کا درجہ رکھتی ہے اور اس کا ہر حال میں ختم ہونا
امن آسودگی اور سکون کے لیے ضروری ہے لیکن
یہ طے کرنا ابھی بالی ہے کہ دہشت گردی ہے کیا اور
امریکہ کس لسم کی دہشت گردی کے خلاؾ پاکستان
سے یمن تک لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ المائدہ
دہشت گردی کے خلاؾ لڑ رہا ہے اور وہ المائدہ کو
نہیں چھوڑے گا۔ جعلی ادویات سے لوگ مرے ہیں اور
مرتے رہتے ہیں یہ کاروبار دہشت گردی نہیں ہے؟ اس
کے خلاؾ کیا ہوا اور کیا ہو سکتا ہے‘ سب جانتے
ہیں۔ جعلی سپرے خریدا گیا معاملہ کورٹ کچہری گیا‘
کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں۔ ڈینگی نے
تن مچائے رکھی‘ آتے موسم میں کیا گل کھل سکتا ہے
کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ مہامنشی‘ جیون دان منشی‘
اعلی شکشا منشی‘ منشی بلدیات وؼیرہ کے خلاؾ کیا
ہوا‘ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر یہ داخلی
کاروباری دہشت گردی ہے اور اس دہشت گردی سے
خود پاکستان کو لڑنا ہے تو المائدہ کس حوالہ سے
خارجی دہشت گردی ٹھرتی ہے۔ المائدہ جانے اور
پاکستان جانے‘ یہ کس طرح امریکہ بہادر کی سردردی
لرار پاتی ہے۔
اشفاق کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی داخلی بھی
ہے اور خارجی بھی۔ اگر طبی امداد باہم کرنے میں
محکمہ جیون دان پھرتی دکھاتا اور ؼفلت سے کام نہ
لیتا تو ہو سکتا ہے ہما کا سسر چند روز اور جی لیتا۔
ہما کے سسر کی موت کا مدا خارجی دہشت گردی کے
حوالہ سے امریکہ پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ
وہ صرؾ اور صرؾ الماءدہ دہشت گردی کا ٹھکیدار
ہے۔ تاہم بمول صدر آصؾ علی زرداری دنیا کا مستمبل
جمہوریت میں ہے۔ ہما کے سسر کی موت کو ایک
اکثریت تسلیم کر چکی ہے۔ اس حوالہ سے اسے
داخلی یا المائدہ سے متعلك دہشت گردی نہیں فرض کیا
جا سکتا۔ اس نہج کی دہشت گردی کے خلاؾ کسی
لسم کا ایکشن لینا امریکہ کے کھاتے میں نہیں رکھا
جا سکتا۔ یہ سراسر جمہوریت کی تو ہین ہو گی جو
اس جمہوری دور میں بہت بڑے جرم کے مترادؾ ہے۔
ؼداری کا فتوی بھی صادر ہو سکتا ہے۔
مسجد کی تعمیر کا مہشورہ ہوا۔ گاؤں کے لوگ جمع
ہوءے جن میں نورا بھی شامل تھا۔ ہر کسی نے حب
توفیك اپنا حصہ لکھوایا۔ ابھی کافی لوگ موجود تھے
لکھت پڑھت پر ولت لگ جاتا۔ نورا دھڑلے سے اٹھا
اور بولا لکھو میرا پچاس ہزار۔ اس کی اس فراخ دلی
پر بڑی جئے جئے کار ہوئی۔ ہر کوئی چوہدری نور محمد
صاحب کو جھک جھک کر سلام و پرنام کر رہا تھا۔
مزید اگراہی کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا مجلس
برخواست ہو گئ۔ اگلی صبح مولوی صاحب چند لوگوں
کے ساتھ چوہدری نور محمد صاحب کے در دولت پر جا
پہنچے۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی شان سے باہر
نکلے۔ مولوی صاحب نے پچاس ہزار رپوؤں کا تماضا
کیا۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی معصومیت سے
بولے
"کون سے پچاس ہزار روپیے؟"
"وہی جو آپ نے کل لکھوائے تھے۔"
وہ دینے بھی تھے؟“ چوہدری نور محمد صاحب نے "
بڑی حیرت سے پوچھا
"جی ہاں"
"ارے میں تو سمجھا تھا کہ صرؾ لکھوانے ہیں۔"
اس مثال کے حوالہ سے بھی ہم کسی پر دہشت گردی
کا الزام نہیں رکھ سکتے کہ کرنا اور کہنا لطعی دو
الگ چیزیں ہیں۔ کاروباری دہشت گردی کے لیے
سرکاری پروانے جاری ہوتے ہیں اس لیے جعلی
ادویات خوری سے لوگ مرے ہیں تو اس میں
کاروباری دہشت گردی کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ ایک
نمبر کاروبار میں بچت ہی کیا ہوتی ہے۔ لوگ ملاوٹ
آمیز ؼذا کھا کر تل تل مرتے ہیں۔ مرتے تو ہیں نا!
یہاں فورا مر گئے۔ ایک دن مرنا تو ہے ہی‘ دو دن
پہلے کیا دو دن بعد میں کیا۔ اپنی اصل میں بات تو
ایک ہی ہے۔
ادویات لائسنس کے بؽیر تو تیار نہیں ہوئی ہوں گی۔
موت ٹھوس اور اٹل حمیمت ہے لوگ ادویات سے نہ
مرتے تواپنی آئی سے انالله ہو جاتے۔ التدار میں آنے
سے پہلے وعدہ باز بہت کچھ کہتے آئے ہیں۔ التدار
میں آکر انھوں نے عوام کے لیے کبھی کچھ کیا ہے۔
نہیں۔ ان کے نہ کرنے کے خلاؾ کبھی کوئی لابل
کیوں اب نہیں۔ تو پرڑہاا۔ہ ِسے؟رکناہریںی‘مباعلامکللہ ریکارڈ رولا
او کے آر ہے۔ این شور مچایا جا
تحت اس مدے پر مٹی ڈالنا ہی جائز اور مناسب بات
لگتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم
معاملات پر تجاوز مانگ تو لیتے ہیں‘عمل درامد نہیں
کرتے۔ مولانا پرانے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہو کر بھی
اس لسم کی باتیں کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں
آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی لیڈر کا کرنا اور
کہنا مساوی رہا ہو ۔ یہ دو الگ سے امور ہیں لہذا
انھیں الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچنا اور زیر
بحث لانے کی ضرورت ہے اور کسی سطع پر آلودگی
نہیں ہونی چاہیے ورنہ خرابی اور فساد کا دروازہ کھل
جائے گا یا کسی مذہبی کے کہنے اور کرنے میں کسی
بھی سطع پر توازن ملتا ہو۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے
کہ کوئی آدمی بستر پر سو بھی رہا ہو اور دفتر میں
کام بھی کر رہا ہو۔ کہنے اور کرنے کو دو الگ حتیتیں
دی جائیں گی تو خرابی جگہ نہ پا سکے گی۔ کہہ کر
نہ کرنا ہی تو نورا گیم ہے۔ اگر نورا خاموش رہتا تو
جئے جئےکار کیسے ہوتی اور وہ نورا سے چوہدری
!نور محمد کیسے اور کن بنیادوں پر کہلاتا؟
ان حمائك کے تناظر میں اشفاق کو بھی این آر او
لانون اور سرکاری ضابطے کو بھولنا نہیں چاہیے اور
اپنی بہن کے سسر کی موت پر مٹی ڈالنی چاہیے۔
زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں
وزیر برلیات کے اعلان کے باوجود مختلؾ شہروں
"مینلوڈشیڈنگ
یہ خبر میری اس تحریر کے بعد شائع ہوئی جس میں‘
میں نے کہا تھا کہ کہنا اور کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
اس تحریر کے باوجود اس خبر کا شائع ہونا اس امر
کی طرؾ اشارہ ہے کہ خبر نویس اس حمیمت سے
بےخبر ہے یا پھر وہ پرتھوی پر بسیرا نہیں رکھتا اور
سہانے خوابوں کے دیس کا الامتی ہے۔ ایسا بھی
ممکن ہے کہ اس تک میری ناچیز تحریر رسائی
حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو۔ یا پھر میں اپنا مافی
الضمیر بیان کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جو بھی ہے
صحیح نہیں ہے۔ دوبارہ سے کوشش کرتا ہوں شائد
اب کہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔
کہنا اور کرنا اپنی حیثیت میں دو الگ چیزیں ہیں۔ ان
کے مابین لامحدود فاصلے ہیں۔ بذات خود بجلی
دیکھنے میں ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ متعلمہ پوائنٹ
تک پہنچنے کے لیے دو تاروں کا استعمال کیا جاتا
ہے۔ ایک ٹھنڈی تار دوسری تتی تار۔ دونوں تاروں
کےالگ الگ رہنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہوتی
ہے۔ ہر سوئچ میں ان دونوں کے لیے الگ الگ پوائنٹ
ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں تاریں باہمی اختلاط کر لیں تو
بہت بڑا کھڑاک ہو سکتا ہے۔ اس ٹھاہ کے نتیجہ میں
جان بلکہ جانیں جا سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کہنا
اور کرنا گلے مل جائیں تو مالی نمصان وٹ پر ہوتا
ہے۔ نمصان جانی ہو یا مالی‘ نمصان ہی ہوتا ہے اور
نمصان کی کسی بھی سطع پر حمایت نہیں کی جا
سکتی۔
سکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں کتابی تعلیم
دی جاتی ہے۔ کامیاب طالب علم کو متعلمہ علم کی سند
یا ڈگری دی اتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈگری
ہولڈر اس علم کی کامل جانکاری حاصل کر چکا ہے۔
اس سند یا ڈگری کے باوجود ڈگری یافتہ عملی طور پر
صفر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عملی تجربہ رکھنے
والا ڈگری یافتہ سے کرنے میں کمال کے درجے پر
فائز ہوتا ہے حالانکہ ڈگری یافتہ کرنے سے متعلك
باتیں بار بار پڑھ بلکہ توتے سے بڑھ کر رٹ چکا ہوتا
ہے۔ دونوں کے نام الگ سے ہوتے ہیں۔
کہنے کو تھیوری جب کہ کرنے کو پریکٹیکل کا نام دیا
جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے لطعی طور الگ
ہیں۔ یہ درست سہی پڑھے کو عملی آزمایا جاتا ہے۔
گویا پڑھنا پہلے اور آزمانا بعد میں ہے۔ میں کہتا ہوں
کرنا پہلے ہے اور کہنا یا آزمایا بعد میں ہے۔ ہمارے
ہاں ایک ان پڑھ آدمی بڑے کمال کے کام سر انجام دے
رہا ہے۔ نہیں یمین آتا تو بلال گنج میں جا کر دیکھ لیں۔
شکاگو یونیورسٹی کا ایک سائنس کا پروفیسر وہ کام
نہیں کر سکتا جو کام بلال گنج کا ان پڑھ خرادیا دے
سرانجام سکتا ہے۔ اسے کہیں یہ ہے ایؾ سولہ ذرا
اس سے بہتر بنا دو‘ بنا دے۔ ڈالرز میں ملنے والے
سوفٹ ویئر یہاں بازار سے ان کی سی ڈی بیس رویے
میں مل جاتی ہے۔ ہے نا کرنا اور کہنا ایک دوسے
سے الگ تر؟
جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں۔ جو بولتے ہیں وہ کرتے
نہیں۔ اس طرح دوہرا یعنی کرنا اور کہنا بوجھ بن کر
سر پر آ جاتا ہے۔ کوئ بھی دوہرا بوجھ اٹھا نہیں
سکتا۔ کیا‘ بملم خود بولتا ہے کہ میں ہوں کیا ہوا۔ ؼالبا
:یہ شعر بھیکا کا ہے
بھیکا بات ہے کہن کی کہن سنن میں ناں
جو جانے سو کہے نہ کہے سو جانے ناں
کہہ کر کیا تو کیا کیا۔ کیا وہی اچھا ہے جو کہا نہ
جائے۔ کرکے کہنا تو احسان جتانے والی بات ہے۔
احسان جتانا سے بڑھ کر توہین آمیز بات ہی نہیں۔
ہمارے لیڈر اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں جو احسان
جتائیں۔ اسی بنیاد پر ہی وہ صرؾ کہتے ہیں‘ کرتے
نہیں۔ وہ خوب خوب جانتے ہیں کہ کرنے کے لیے
کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے نزدیک
کیے کی خبر دوسرے ہاتھ تک کو نہیں ہونی چاہیے۔
جو وہ کرتے ہیں لوگوں کو خبر تک نہیں ہو پاتی۔ جب
لوگوں کو خبر ہوتی ہے ولت
بہت آگے نکل گیا ہوتا ہے۔
کوئی بےبابائی کام کسی بڑی سفارش کے ساتھ جہاں
کہیں نازل ہوتا ہے اس کی زبانی کلامی سہی‘ پذیرائ
تو ہوتی ہے۔ اس کے ہونے کی یمین دہانی بھی کرائ
جاتی ہے۔ امید بلکہ یمین کے چراغ بھی جلائے جاتے
ہیں۔ بعض اولات لڈو بھی بانٹے جاتے ہیں۔ بےبابائی
ہونے کی پاداش میں وہ کام نہیں ہو پاتا۔ اس ممام پر
ناراض ہونا یا مایوس ہونا نہیں بنتا کیونکہ کرنا اور
کہنا دو الگ باتیں ہیں۔
ایم این ایز یا ایم پی ایز یا منسٹرز لوگوں کی
درخواستوں پر سفارشی کلمات لکھتے ہیں۔ یہاں وہ
دونوں فریموں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات ایک
ہی طرح سے ثبت کرتے ہیں۔ وہ تو دیالو اور کرپالو
مخلوق ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیسے مایوس کر
سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی کا کام ہو یا نہ ہو
اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ خوب
جانتے ہیں کہ سفارش اور کام کا سر انجام پانا دو الگ
سے باتیں ہیں۔ سفارش اور کام کا ہونا اختلاط پذیر
نہیں ہونے والے ۔ ان کی الگ الگ اہمیت حیثیت اور
ضرورت ہے۔
ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد اپنی اپنی روٹی پکاتے
ہیں۔ وہ سگے بھائ ہوتے ہیں۔ روٹئ سالن ایک رنگ
روپ رکھتا ہے۔ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہوتا
ہے۔ سگا ہونا یا وعدے میں بندھے ہونا یا روٹی کا
رنگ روپ ایک ہونا اپنی جگہ لیکن نبھانا دو الگ
باتیں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جا
سکتا اور ناہی کیا جانا حمیمت سے تعلك رکھتا ہے۔
پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے کی منشی شاہی سب
سے زیادہ شریؾ‘ تحمل مزاج‘ بردبار اور زیرو رفتار
ہے نہ یہ کچھ کہتی نہ کرتی ہے۔ یہ ہونے کے ہر کام
کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ چونکہ للم ،اٹکل اور
داؤ و پیچ اس کی زنبیل میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اس
لیے ہوتے بھی نہیں ہوتے۔ اس کی تحمل مزاجی اور
زیرو رفتاری ہی وہ بڑا کارنامہ ہے کہ ہم روزاول سے
بھی بہت لدم پیچھے کھڑے بھوک پیاس اور موت کی
ہولی بڑی بےبسی اور بےکسی سے دیکھ رہے ہیں۔
یوں لگتا دیکھنا ہمارا ممصد حیات ہے۔
وزیر عوامی لوگ ہوتے ہیں اس لیے عوام کی بہبود
ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے لوڈ شیڈنگ
ختم کرکے بجلی کے بل لوگوں کی جیب سے تجاوز کر
جاءیں اور پھرلوگ لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے
سڑکوں پر آ کر ذلت و خواری کا منہ دیکھیں۔ وہ بجلی
کے بل اور لوڈشیڈنگ کی جدائی کو عوامی بہبود کے
برعکس سمجھتے ہیں۔
مفروضوں میں زندگی کرنے کا عہد ہے۔ عین ممکن
ہے یہ اخباری خبر ہاوسز سے متعلك ہو جہاں اتفالا
کسی فنی خرابی کے سبب بجلی دو چار لمحوں کے
لیے کبھی کبھار چلی جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کے بڑے
کام۔ وہ مخاطب چھوٹے لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن
وعدے بڑے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ بلند
سطع پر کیفیت مختلؾ ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ٹھنڈی
اور تتی تاروں کا رولا بالی نہیں رہتا۔ وہاں کرنا اور
ہونا دو نہیں رہتے۔ سچی درویشی یہی ہے کہ میں تو
میں مدؼم ہو کر میں بن جاتی ہے اورپھر زندگی میں
میں کے سوا کچھ نہیں رہتی۔
من کا چوہا اور کل کلیان
اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے
کہ ؼیرت لوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے ؼیرتی روڑا
کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر
ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل
جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر لدم
رکھتے ہیں تولیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا سارا
بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئی
حیثیت نہیں دی گئی ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔
نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو
چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا
ہے۔ یہ لصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا
نہیں ہوتا بلکہ مولع دینے والوں کا ہوتا ہے۔
یہ حمیمیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں
رہی ہے کہ طالت کے سامنے اونچے شملے والے سر
بھی خم رہے ہیں۔ گویا طالت اور ؼیرت کا سنگم ہوتا
ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی ؼلط ٹھرایا
جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور اعلی پاءے کی دلیل
بھی اسے سچا لرار نہیں دیتی۔ بھیڑیے کا بہانہ اسے
چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ
اشرؾ المخلولات ہے اس لیے اس کے بہانے اور
دلاءل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت
ہے کہ وہ اپنی ؼلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی ؼلطی
اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے
رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر
نہیں کرتا۔
امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افؽانستان
امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے
عورتیں لاؼر بیمار وؼیرہ‘ بھی شامل تھے؟
جواب یمینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق
نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟
ان کا جرم تو بتایا جائے۔
لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مسائل کا
حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مسائل
حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جاءے۔
ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے
سے کتا بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے
شیر ہاتھی سے ہاتھی مرد سے مرد عورت
سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔ ڈر کی ابتدا اور
انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے مولؾ کی دلیل میں
میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئی
کام کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواندھار شور ہوا پھر
مجھے پکارا گیا۔ میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ
کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صندوق میں چوہا
گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان سے ڈرتا‘ پی
گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے بلی
یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ
چوہا صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔
چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل
میں انتہائی کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ
خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائی کمزور ہے۔
کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے
بوڑھے عورتیں لاؼر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے
گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ
ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسرائیلی
بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا
مرا نہیں حالانکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔
ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں
گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیئر کلرک
کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا
شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے ہیں
سوئے ہوئے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں چور آ
رہا ہے۔اس نام نہاد ترلی کے دور میں ہم سچ کہہ نہیں
سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی
یا پھر التصادی مجبوری ہے۔
ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی
کیا مدد کریں۔ صاؾ کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ
رہنا‘ جب بھی مشکل ولت پڑا ہمیں دشمن کی صؾ
میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت
اور ڈالر کے حسن پر یمین رکھنے والے لوگ ہیں۔
ہماری عمل اور ؼیرت پیٹ میں بسیرا رکھتی ہے۔ ہم
ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ اور
ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے
کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جائے گی
جبکہ بجلی گئی ہوئی ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا
تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرؾ
دکھائی دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے
سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ فلاں گھر
کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے
کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر
سے پائپ جاتا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر
خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرؼوں کی
شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریػ کھاتے
ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے
اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی
مل پائے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی
لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک
میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔
چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور
ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں
چڑھتا۔
رولا رپا توازن کا ضامن ہے
کل کی بات ہے بیؽم بلا فل سٹپ بولے چلی جا رہی
تھی اور میں اس کے حضور کھوگو بنے بیٹھا تھا۔
میں جانتا تھا ایک لفظ بھی میرے منہ سے نکلا تو دو
چار گھنٹے بنے۔ مجھے ہمیشہ چپ کی چادر میں ہی
پناہ ملی ہے۔ شوہر حضرات کو اکثر یہ جملہ سننے کو
ملا ہو گا
تم نے ساری عمر کیاہی کیا ہے‘ کون سے تم نے "
"میرے ماتھے پر ٹیکے سجا دیے ہیں
یہ جملہ پہلے بھی کوترسو بار سن چکا تھا۔ میں
سمراط کا زہر سمجھ کر پی جاتا تھا۔ کل مجھے تاؤ آ
گیا۔ کمال ہے وہ ساری عمر میں اس عرصہ کو بھی
شمار کر رہی تھی جو میرے کنوار پن کا تھا۔ یہ بھی
معلوم نہیں مجھے ابھی اور کتنا جینا ہے۔ ساری عمر
میں تو یہ دونوں زمانے بھی آتے ہیں۔ جی میں آیا اس
حوالہ سے بات کروں لیکن مجھے اس کے اس جملے
نکمے تو ہو ہی اوپر سے حکایتں کرتے ہو کے تصور
نے لرزا کر رکھ دیا۔ مجھے ؼصہ بڑا تھا جو میں ہر
حال میں نکالنا چاہتا تھا۔ میں نے بڑی کڑک دار آواز
جو کمرے کی دہلیز بھی پار نہ کر سکی‘ میں کہا کیوں
خوامخواہ مؽز چاٹ رہی ہو۔ اس کا جواب میری سوچ
سے بھی بڑھ کر نکلا۔ کہنے لگی میں اپنے منہ سے
بول رہی ہوں اس میں تمہارا کیا جاتا ہے۔
اس کی بات میں حد درجہ کی معمولیت تھی۔ ورزش تو
اس کے دماغ اور منہ جس میں زبان اور جبڑے بھی
شامل ہیں‘ ہو رہی۔ ہاں البتہ میرے کانوں کو زحمت
ضرور تھی۔ دماغ کا خرچہ تب ہوتا جب میں اس کے
کہے کو کوئی اہمیت دے رہا ہوتا۔ روز کی چخ چخ کو
اہمیت دینا حمالت سے زیادہ نہیں۔
ؼصہ میں آ کر ڈھیٹ اور چکنا گھڑا تک کہہ جاتی ہے۔
میں دونوں کانوں سے کام لیتا ہوں یعنی ایک کان سے
سنتا ہوں دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں اور بس۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری لڑائی یک طرفہ رہتی ہے۔
معروؾ ممولہ ہے کہ رعایا ملک کے لدموں پر لدم
رکھتی ہے۔ میں بھی اس ذیل میں حاکم کے لدموں پر
لدم رکھنے والا ہوں۔ فرق صرؾ اتنا ہے کہ میں اپنے
گھر کے افراد کی پوری دیانتداری سے خدمت کرتا
ہوں۔ چوک اسی معاملہ میں ہوتی ہے جو میری پہنچ
سے باہر ہوتا ہے۔ گھر والے یمین نہیں کرتے۔ ہر گھر
والی اپنے شوہر کو اوباما کا سالا سمجھتی ہے جو ہر
کچھ اس کی دسترس میں ہے۔ بہر طور دسترس سے
باہر کام کے لیے مجھے دونوں کانوں سے کام لینا
پڑتا ہے۔ حکومت میں موجود لوگ دونوں کانوں سے
کام نہیں لیتے۔ وہ کانوں میں روئی ٹھونس لیتے ہیں۔
لوگ جب سڑکوں پرآتے ہیں تو نظر آنے کے مطابك
یہ سازش اور بؽاوت کے مترادؾ ہوتا ہے اس لیے وہ
اس رولے رپے کے لیے ڈنڈے کا استعمال فرض عین
سمجھتے ہیں۔ لوگ اتنا بولتے اور لکھتے ہیں لیکن
ان کی چال میں رائی بھر فرق نہیں آتا۔ رہ گئ تاریخ
کی بات تو مورخ ان کا ہتھ بدھا گولا ہوتا ہے۔ وہ
جانتے ہیں پیٹو مورخ جسے میں مورکھ کہتا ہوں‘
انہیں نبی سے دو چار انچ ہئ نیچے رہنے دے گا۔ لہذا
آتے ولت سے کیا ڈرنا۔
رعایا اور حکومت ریاست کے دو اہم رکن ہیں۔ رعایا
حکومت کو ٹیکس دیتی ہے اگر نہیں ادا کرتی تو
حکومت کو خوب خوب وصولنا آتا ہے۔ ٹیکس کے
عوضانے میں حکومت رعایا کو سہولتیں جن میں
تعلیم اورعلاج معالجے کی سہولتیں شامل ہیں‘ فراہم
کرتی ہے یہی نہیں انہیں تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔
ہمارے ہاں ٹیکس وصولنا یاد رہتا ہے لیکن سہولتیں
فراہم کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ میں ہر ابے یا
شوہر کی پیروی میں مسیتے جا کر لسم کھانے کو
تیار ہوں کہ گھر والوں سے ٹیڈی پیسہ ٹیکس وصول
نہیں کرتا۔ اپنی مزدوری سے روٹی کپڑا مکان تعلیم
علاج معالجہ وؼیرہ دستیاب کرتا ہوں اس کے باوجود
ڈھیٹ ایسے ثمیل کلمات سنتا ہوں۔ سن کر ہاتھ نہیں
کھنچتا۔ میں یہ سب کرنا اپنا فرض جانتا ہوں۔
کل مجھے ایک پرائیویٹ میسج موصول ہوا جس میں
کراچی کی حالت زار کا تذکرہ تھا۔ پراءویٹ میسج پڑھ
کر میرے ہاتھ پاؤں سے جان نکل گئی۔ پرایوئیٹ
میسج میں ایک موثر اور منظم پارٹی کا ذکر تھا۔ لکھا
تھا کہ ہر طبمہ کی عورت آبرو سے محروم ہو رہی
ہے اور کوئی پوچھنے یا سننے والا موجود نہیں۔
ریاست کے اختیارات بے انتہا ہوتے ہیں۔ ریاست اپنے
اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کر
گزرتی ہے۔ ادارے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اگر
ادارے کچھ بھی نہیں کرتے تو ان کے ہونے کا کوئی
جواز نہیں بنتا۔ جب جنگل کا لانون چلنا ہے تو انھیں
چلتا کرنا چاہیے اور ان پر اٹھنے والی خطیر رلم
ہاؤسز اور اس کے مکینوں کی بہتری کے لیے خرچ
ہونی چاہیے۔ ایک خیال یہ ہے کہ ادارے اپنے اور
ہاؤسز کے لیے کماتے ہیں لہذا انہیں ختم کرنا ہاؤسز
اور اس کے مکینوں کے پیٹ پر لات مارنے کے
مترادؾ ہے۔ اس مخصوص گروہ یا ارٹی کو نکیل ڈالنا
ہاوسز سے مرحومی کے مترادؾ ہے۔ گویا ان عنصر
کو کھلی چھٹی دینا سیاسی مجبوری ہے۔ مجبوری کچھ
بھی کروا سکتی ہے۔ جن عورتوں کی عزت برباد ہوتی
ہے کون سی ان کی اپنی ماءیں بہنیں ہوتی ہیں۔ دوسرا
عورت کے ساتھ شادی کے بعد بھی یہی کچھ ہوتا ہے
بلاشادی ہو رہا ہے تو کون سی لیامت ثوٹ رہی ہے۔
بس تھوڑا سا بے ؼیرت ہونے کی ضرورت ہے۔ بے
ؼیرتی بھی کیسی۔ یہ ترلی پسندی کی علامت ہے۔ بہت
سے علالے موجود ہیں جہاں باپ کا تصور ہی نہیں۔
ان کے ہاں کوئ رولا نہیں تو ہمارے ہاں لدامت پسندی
سے کام لیا جا رہا۔ ہمیں ہاؤسز کی سیاسی مجبوری
دیکھتے ہوءے بے ؼیرت ہو جانا چاہیے۔عوام کا رولا
اور بے بس سسکیاں لطعی ناجاءز اور باؤسز کے
خلاؾ کھلی سازش ہے۔
گھر کی کرسی میرے پاس ہے رولے رپے کے حوالہ
سے خاموشی اختیار کرنا میری مالی مجبوری ہے۔
ؼنڈہ عناصر کے حوالہ سے خاموشی اختیار کرنا
ہاؤسز کی سیاسی مجبوری ہے۔ اس کا اس سے بہتر
اور کوئی حل نہیں کہ بیؽم بولتی رہے اور میں کام
سے کام رکھوں۔ اس کے بولنے سے اس کی بھڑاس
نکل جاتی ہے۔ بےعزتی کرکےاس کی انا کو تسکین
ملتی ہے اور وہ خود کو ونر سمجھتی ہے جبکہ میں
اپنا پرنالہ آنے والی جگہ پر رکھتا ہوں۔ رولا ڈالنے
اور برداشت کرنے سے بدامنی پیدا نہیں ہوتی بلکہ
توازن کا رستہ ہموار ہوتا ہے۔
پنجریانی اور گناہ گار آنکھوں کے خواب
ہمارے منہ جھوٹ کہنے اور کان جھوٹ سننے کے
عادی ہو گیے ہیں۔ یہاں جس سے پوچھو کہے گا مجھ
سے لسم لے لو جو میں نے کبھی جھوٹ مارا ہو۔
ہمارے ہاں جھوٹ مارنے کا رواج نہیں رہا ہاں البتہ
بندہ مارنا روٹین ورک ہو گیا ہے سچ کہنے اور سچ
سننے میں مزا نہیں رہا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ
بھی ہے کہ سچ سے کسی لسم کا لابھ وابستہ نہیں
رہا۔ سچ کے حصہ میں پولے رہے ہیں۔ بعض اولات
سر سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ سچ سے پرہیزی
سونے کےچمچہ سے بریانی نوش کرتے ہیں۔ جی سر‘
جی حضور‘ جی جناب‘ درست عالی جاہ کہنے میں کچھ
خرچ نہیں آتا لیکن صلہ میں تمؽے اور جاگیریں ممدر
ٹھہرتی ہیں۔ سچ کے پلے ہے ہی کیا‘ دکھ اور تکلیؾ۔
گولی مارو ایسے سچ کو جو بھوک اور پیاس بھی نہ
مٹا سکے‘ تن کو ڈھنگ کا کپڑا بھی میسر کرنے سے
معذور ہو۔
کل ایک صاحب فرما رہے تھے بابا جی آپ کے للم
میں بلا کی طالت ہے لیکن آپ اس کا انتہائی گھٹیا
استعمال کر رہے ہیں۔ میرے ہی منہ پر جھوٹ بول کر
مجھے الو بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں کونسا
علامہ شبلی نعمانی ہوں جو میرے للم میں بلا کی
طالت ہے۔ وہ درحمیمت سمجھانا چاہتے تھے کسی
پارٹی اور اس کے بڑوں کے بڑی فصاحت و بلاؼت
کے حامل لصیدے کہوں تاکہ وہ اسے کیش کروا کے
پیٹ بھر صاؾ ستھرا نوش جاان فرمائیں اور ہڈی
میری جانب پھینک دیں۔ اگر اعتراض کروں تو سرکا
دیں۔ پھینکنے اور سرکانے میں زمین آسمان کا فرق
ہے۔ اس میں شک نہیں میرے اڑے پھسے کام بن
سکتے ہیں۔ جی حضوریہ ہونا ایسا معمولی اعزاز
نہیں۔ میں ایسا کر نہیں سکتا کیونکہ میرے للم میں بلا
کی طالت ہے نہیں۔ بس کسی حد تک گزرا چل رہا ہے۔
میرے جواب پر حضرت نے فرمایا حضور یہ آپ کا
لصور نہیں بابے بولتے ہی وکھی سے ہیں۔ بہرطور
میں جوابا کیا کہہ سکتا تھا خاموش ہو گیا۔ میرے پاس
کوئی دوسرا رستہ ہی نہ تھا۔ ان دنوں امیدواروں کے
ڈیرے حاتم کدے بنے ہوئے ہیں۔ پیٹھ مروڑتے اور منہ
بناتے ہوئے وہ ادھر کو چل دیے اور میں ان کے یہ
دونوں اعضاء دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں خان صاحب نہیں
ورنہ ان کی پھرکی کی طرح پھرتی پیٹھ کے بارے
ضرور کچھ عرض کرتا۔ عین ممکن ہے اس نظارے
سے بےخود ہو کر الٹے لدموں بڑے پیار اور چاہ
سے واپس مڑنے کی گزارش کرتا۔
سوچتا ہوں یہ حاتمی پروگرام اس سے پہلے کہاں تھا۔
کیا یہ تاحیات جاری رہے گا یا گیارہ مئ کے بعد ٹھس
ہو جائے گا۔ اگر چلتا رہا تو کمال ہو گا اگر ٹھپ ہو گیا
تو کمال کی ٹانگ ہی نہیں کمال کی ہڈی پسلی سلامت
نہیں رہے گی۔
ڈیڑھ کلو آٹا خرید کر گھر کی بھوک مٹانے والوں میں
ایک شخص کی روٹیاں بچیں گی اور یہ بچت گھر کے
کسی فرد کی آدھی بھوک کو سیری میں بدل دیں گی۔۔
بلاشبہ چند روز کے سہی بہت بڑا انملاب ہو گا۔
دوسری جانب اس ایک فرد کی سیری اس کی کار
گزاری بہتر کر سکے گی۔ ووٹ کا کیا ہے کسی ایک
کو تو دینا ہی ہے۔ جس نے کھانے کو دیا اس سے
زیادہ ووٹ کا کون حمدار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد
دونوں کسی کو کچھ نہیں دیں گے۔ اپنے اپنے کاموں
میں جھٹ جائیں گے۔ یہ مزدوری میں اگر میسر آتی
رہی اور وہ کیے گیے خرچے کو سو گنا بنانے میں۔
یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور آتے ولتوں میں یہی کچھ
ہونے کے اثار ہہں۔
جس معاملے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے وہ توڑ
نہیں چڑھتا بلکہ اؤل تا آخر خرابیاں ممدر رہتی ہیں۔ ہو
سکتا ہے شروع شروع میں کچھ فائدہ مل جائے لیکن
آگے جا کر پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ جھوٹ
بولنے والے کرنے والے کو شاید ہلکا پھلکا نمصان
ہوتا ہے۔ عمومی سوچ کے حوالہ سے عزت کو کسر
لگتی ہے۔ اگر اس کو کسر سمجھا جائے تو لوگ اہل
دھن اور اہل جاہ کو جھک جھک کر سلام کیوں کرتے
ہیں۔ ان کے منہ پر ان کی تعریؾ میں زمین آسمان کے
للابے کیوں ملاتے ہیں۔ رہ گئ دل میں برا بھلا کہنے
یا گالیاں نکالنے کی بات دل کو کون دیکھتا ہے۔ لوگ
تمثال کو نہیں تجسیم کو دیکھتے ہیں۔۔ ہاں برا ہو ترلی
کا ریکاڈنگ کی صورت میں خرابی کی راہ نکل آتی
ہے۔ پیٹھ پیچھے برائ کرنے والوں کی بھی بازی مات
رہتی ہے۔ سامنے اور پیٹھ پیچھے کے مزے ایک سے
نہیں ہوتے۔ سامنے کا آؤٹ پٹ موت یا کم از کم لترول
ضرورت رہتا ہے۔ پیٹھ پیچھے کے لیے مکرنے کا
سیؾ وے بہرطور ہر سطع پر بالی رہتا ہے۔
گریب ان پڑھ بولاراور چھوٹی عمر کی لڑکی سے
شادی کرنے کا آخر مزا چھکنا پڑتا ہے یہ ووٹ کے
مانگت بھی اس لڑکی کے مماثل ہوتے ہیں اوپر سے
انھیں خوبصورت ہونے کا زعم بھی ہوتا ہے۔ بھوکا
دور کی نہیں سوچتا۔ باشعور ہوتے ہوءے بھی اس کی
سوچ روٹی دا سوال اے جواب جیہدا روٹی اے‘ سے
باہر نہیں آتی۔ تسلیم کی انتہا ملاحظہ کریں ان دنوں
امیدواروں کے ڈیروں پر مرؼے والے چاول چل رہے
ہیں اور اسے بریانی کا نام دیا جاتا ہے۔ بڑے افسوس
کی بات ہے اس میں بکرے کی ایک بوٹی بھی نہیں
ہوتی۔ کھلانے والا اسے بریانی کا نام دے یہ بات
سمجھ میں آتی ہے لیکن کھانے والا اسے بریانی
تسلیم کرتا ہے۔ یہ تو ککڑیانی بھی نہیں ہوتی۔ چاولوں
میں کھسرا مرؼے کا کہیں کہیں گوشت یا ہڈی ہوتی
ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کھسرا مرؼے کا پنجر لا
کر چاولوں میں ڈال دیا گیا ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ
اسے پنجریانی کا نام نامی اسم گرامی دیا جا سکتا ہے۔
جب اطراؾ میں اپنی اپنی ضرورت کے حوالہ سے
جھوٹ چل رہا ہو تو آتے کل کی بہتری کا خواب
گناہنگار آنکھوں سے کیونکر اور کیسے دیکھا جا
سکتا ہے۔
تعلیم میر منشی ہاؤس اور میری ناچیز لاصری
آج مجھے ایک سیمنار میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔
بڑے بڑے عالم فاضل حضرات تشریؾ فرما تھے۔ اہل
زر اور اہل التدار بھی جلوا فرما تھے۔ اس ذیل میں ہر
اک اپنا واضع مولؾ رکھتا تھا۔ آپ کا دل اور ضمیر
چاہے ناچاہے‘ اصول یہ رہا ہے کہ ہر بڑے کی ہاں
میں ملانا زندگی اورصحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
اگر سمراط ہاں میں ہاں ملاتا تو زندگی بھر گھیو
کرولیاں کرتا۔ پاگل تھا صدیوں سے چلے آتے اصول
کی خلاؾ ورزی کرتا رہتا۔ اسے لائین پر آنے کے
موالع دیے گئے۔ کملا تھا موالع ضائع کرتا رہا۔ نتیجہ
کار کٹ کھانی ہی تھی اور پھر جان اور جہان سے گیا۔
بابے دراصل لوم اور اہل لٹھ کے لیے جنجال ہی رہے
ہیں۔ جب بولتے ہیں وکھی پرنے بولتے ہیں۔ جی میں
آیا اسٹیج سے اٹھ کر سامعین میں بیٹھ جاؤں اور کچھ
کہنے سے معذرت کر لوں۔ پھر خود کو حوصلہ دیا کہ
بڑے میاں شیر بنو شیر۔ ساری عمر سرخوں کو چاہا
اور اب بڑپے میں پٹڑی سے اتر کر شیر کو بوڑھا اور
بوسیدہ دل دے بیٹھے ہو گیدڑ نہ بنو۔ سو پہاجی‘ میں
بیٹھا رہا۔ باری پر میری طلبی ہوئ۔۔ میں نے کہا بابا
کہہ دو جو ہو گا دیکھا جاءے گا۔ میری باتیں سامعین
نے پسند کیں۔ اہل جاہ پر کیا گزری ہو گی میں نہیں
جانتا۔ میں نے دانستہ ان کی طرؾ دیکھا ہی نہیں۔
بوڑھا ہوں‘ گھورتی آنکھوں کا سیکا برداشت نہیں کر
سکتا۔
تعلیم آگہی سے جڑی ہوئی ہے۔ حصول آگہی انسان کی
خواہش فطرت مچاہتا ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے
جو کھلونے کو متحرک اور ؼیر متحرک بنا دیتی ہے۔
گویا جاننا اس کا فطری حك یں داخل ہے۔ بچہ کھلونے
کیوں توڑتا ہ ِے؟ وہ کھلونے کے متحرک ہونے کا راز
جاننا چاہتا ہے۔ وہ جاننا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ
پچے میں جستجو کا مادہ موجود ہے۔ ایک بہت بڑے
عالم سے متعلك معروؾ ہے کہ وہ آخری سانسیں لے
رہے تھے۔ کوئ مسلہ جاننے کے لیے انھوں نے کتاب
طلب کی۔ انھیں کہا گیا آپ تو جا رہے ہیں اب اس کی
کیا ضرورت ہے۔ انھوں نے جوابا کہا۔ کیا تم چاہتے ہو
.کہ میں جاہل موت مروں۔
اس کی مثبت دو عملی صورتیں ہیں۔ حضرت مہاتما
بدھ جی شہزادے تھے ۔ مالی آسودگی تھی۔ ان کا گیان
کے لیے دنیا کو تیاگنا معاش سے وابستہ نہ تھا۔ گیان
ہاتھ لگا تو انھوں نے خود کو دنیا کے لیے وابستہ کر
دیا۔ ان کی انسانیت کے لیے خدمات کو کسی بھی سطع
پر نظر انداز کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ مارکونی نے
بھی بلا کسی معاشی حاجت کے لیے ریڈیو ایجاد کیا۔
یہ ایجاد آتے ولتوں میں بہت ساری ایجادات کا سبب
بنی۔ دریافت ہر دو متذکرہ صاحبان کے لیے سب سے
بڑی خوشی تھی۔ ان کی دریافت سے بلا کسی
تخصیص و امتیاز انسانیت کو فائدہ ملا۔ تعلیم سے ہی
یہ سب ہوا۔ تعلیم دراصل انسان کی شخصیت پر اثر
انداز ہوتی ہے۔ تعلیم اگر زندگی کے سلیمے میں تبدیلی
نہیں لاتی تو اسے تعلیم کہنا بذات خود جہالت ہے۔
تعلیم ابوزر ؼفاری اور سلمان فارسی کے منصب پر
فائز کرتی ہے۔ تعلیم حاکم ولت کو آزاد کردہ ؼلام کو
اس کے تموے کی بنیاد پر سیدنا کہنا سکھاتی ہے۔
تعلیم کے حصول کا ایک ممصد اور بھی رہا ہے۔
کمزور طبمے اپنے بچوں کو کلرک شپاہی وؼیرہ کی
ملازمت کے متمنی رہتے ہیں جبکہ صاحب حثیت
طبمے اپنے بچوں کو افسر بنانے کے لیے انھیں بڑی
سے بڑی درسگاہ میں جمع کراتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں
کو کلرک یا افسر بنانا چاہتے۔ ان ذہن کے کسی گوشے
میں اپنے بچے کو اعلی خصاءل کا حامل انسان بنانے
کی خواہش سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔
دفتر میں خواہش اور تولع کے حوالہ اعلی شکشا
منشی کا دفتر ہے۔ ہر کسی کو ان کے لدموں پر چلنا
ہواس خواہش اور تولع کا مجموعہ اگر تولع اور
خواہش پر پورا نہیں اترتا تو گلا درست ہے۔ میر منشی
کےتا ہے۔ کلرک تو بہت بڑا آدمی ہوتا ہے ناءپ لاصد
بھی خواہش اور تولع کے بالاتر معیار پر فاءز ہوتا
ہے۔ اگر وہ سب تنخواہ کے علاوہ بالائ نہ لاتے ہوں
تو گلا کیا جا سکتا ہے۔ وہ معیاری رلم نہ لاتے ہوں تو
ہی ان کی تعلیم پر انوسٹمنٹ کی گئی رلم حرام جائے
گی۔ ساءل کیا کر لے گا۔ عدالت جاءے گا۔ وہاں خرچہ
کرکے کوئی آرڈر لئے گا۔ بعض معاملات چند ہزار سے
جڑے ہوءے ہوتے ہیں۔ اب چند ہزار کے لیے کوئی
جھڑنے ہی میں عافیت سمجھے گا۔ میں سمجھتا ہوں
یہ عزت مآب حضرات تعلیم کے مماصد کے حصول
میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے یہ
بڑی ایمانداری سے تعلیمی مماصد کا حك ادا کر رہے
ہیں۔ ہم شاباش دینے کی بجائے شاواش دے رہے ہیں۔
ہمارا یہ رویہ ثعلیم دشمنی کے مترادؾ ہے۔ جس کی
جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
واپڈا والوں پر گلا اور شکوہ کیا جاتا ہے بڑے ہی
افسوس کی بات ہے۔ ہم انھیں ان پڑھ کیوں سمجھتے
ہیں۔ دوچار سو یونٹ زائد ڈال کر وہ صارؾ سے
پاکستان تو اپنے نام نہیں لکھوا رہے ہوتے۔ افسروں
کی ضرورتیں اپنی جگہ دیگر ملازمین کی بھی
ضرورتیں ہوتی ہیں۔ رشتہ دار دوست یار تو اصولی
استحاق رکھتے ہیں لیکن جیب تو دیگر کسٹمر ہی
بھرتے ہیں۔ اگر رشتہ دار اور دوست یار خوش نہ
ہوءے تو تؾ ہے ایسی نوکری پر۔ جیب مئں بالائی نہ
آئی تو تعلیم کا ممصد ہی عین ؼین ہو جاتا ہے۔
ملازمین کو کوٹھیاں دینے کے لیے اسکیم شروع
ہوئی۔ اسکیم بلاشبہ اعلی جھانسہ دار ہے۔ ملازمت ختم
ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ ملازم کی تنخواہ سے ایک
لاکھ نو ہزار کٹوتی ہوئی ہے۔ کوٹھی کے حصول کے
لیے ساٹھ ستر لاکھ مزید کی ضرورت ہوتی ہے۔ یتیم
محکمہ سے متعلك ملازم دوچار زندگیوں میں بھی
اتنی رلم ادا نہیں کر سکتا۔ ایک اردو یا پولیٹیکل
سائنس کا پروفیسر اتنی رلم چشم تصور میں بھی ادا
نہیں کر سکتا۔ صاؾ ظاہر ہے کہ وہ اپنی رلم کی
واپسی کا مطالبہ کرے گا۔ یہ آرٹس کے پروفیسر بھی
کتنے سادہ یا احمك لوگ ہوتے ہیں۔ شاید انھیں اس
شعبے کی تعلیم یافتگی پر شک ہوتا ہے۔ انھیں اپنی
درخواست کی بازگشت تک سنائی نہیں دیتی۔ میں کہتا
ہوں اگر مک مکا کے بؽیر بازگشت سنائی دینے لگی
تو تعلیم اور ملازمت کی حصولی میں ادا کی گئی رلم
حرام ہو گئی۔
سیمینار میں نصاب کے حوالہ سے عوامی نمائندگان
سے بات کرنے کی بھی تجویز ہوئی۔ مانا عوامی
نمائندگان میں اکثریت نے تعلیم پر خرچہ نہیں کیا لیکن