دی جاتی ہے۔ دونوں طرح کی صورتیں تاریخ میں
ملتی ہیں۔
عزت پر جان لربان کرنے والے خال خال ملتے ہیں۔
سمراط نے زہر پی لیا لیکن ارسطو میدان چھوڑ گیا۔
پورس جب جان کو ہتھیلی پر لے کر میدان میں اترا تو
سکندر کو فرار اختیارکرنا پڑا۔ اہل بال پوائنٹ کو
دیکھیے اس نے نیچے والے بابے کو اوپر لرار دے
دیا۔ ریفریری کسی کو بھی آؤٹ دے سکتا ہے۔ اچھی
بھلی بال کو نو بال لرار دے دینا اس کے ایک اشارے
کی مار ہے۔
ڈاکٹر لاضی کے نزدیک للم سے بددیانتی ماں بہن
کے ساتھ زیادتی کے مترادؾ ہے۔ للم مستعمل نہیں
اس لیے بددیانتی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ دوسرا ہر وہ
کام جسے الله اور اس کا رسول حرام لرار دیتا ہے
بااختیار طبمے اسے کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔
زمین پر کسی ضمنی پارٹ کے سہی وہ خدا ہیں‘ اس
لیے وہ زندگی بھی اپنی مرضی کی گزارتے ہیں اور
اپنی ساختہ شرع پر عمل کرتے ہیں۔
سماجی پابندی ہو یا اخلالی یہ ان کے لیے معنویت
نہیں رکھتی۔ لانون لوگوں کے لیے ہوتا ہے اگر وہ
بھی لانون کو کچھ سمجھیں تو ان میں اور عام
لوگوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ رہ گیا مذہب‘ تو یہ
فرد کا ذاتی مسلہ ہے۔ دوسرا مذہب عبادت گاہوں کی
چیز ہے لہذا عبادت گاہوں کی حدود میں اس پر عمل
درامد فرض ہوتا ہے۔
للم کی بےحرمتی لوگوں کی ماں بہن کے ساتھ زیادتی
کے مترادؾ ہے۔ یہاں بال پوائنٹ کی موجودگی میں
اپنی یا پرائی ماں بہن کے ساتھ زیادتی کا سوال ہی
نہیں اٹھتا۔ بیٹی کا ذکر اس لیے مناسب نہیں کہ بیٹیاں
سب کی سانجی ہوتی ہیں۔
آزاد معاشروں میں سب سے پہلے اہل علم کو داڑھ
کے نیچے رکھتے ہیں۔ یہ طبمہ آگہی پھیلا کر کمزور
طبموں کو بے حضوریہ بناتا ہے۔ اہل جاہ اور اہل زر
کی بےادبی ہی درحمیمت خرابی کی جڑ ہے۔ یہی وجہ
ہے کہ ہمارے کالج کیڈر سے متعلك لوگوں کا پرموشن
کبھی کبھار ہوتا ہے۔ دس سال بعد بھی کسی لیکچرر
سے پوچھو تو خود کو لیکچرر بتائے گا۔ ایک طرح
سے انھیں مستمل مزاج بنانے کی یہ سعی عظیم ہے۔
بھولے سے کبھی پرموشن ہو جائے تو ان کی مٹی
پلید کرنے میں کوئ دلیمہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ اسے
پنشن کے دروازے پر لا کھڑا کرکے مسافر بنا دیا جاتا
ہے۔ دکھ کی جندریوں میں ممید رہنے تک زندگی کی
آخری سانس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ بلا حرکت بھی
کوئی زندگی ہے۔ فارغ رہیں گے تو آگہی پھیلانے
سے باز نہیں آئیں گے۔
وہ اہل علم کو ذلیل کرنے کا بڑی خوش اسلوبی اور
بڑی دیانت داری سے فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان
کی فرض شناسی کو آب زر سے للم بند کیا جائے گا۔
ناخواندگی کی حوصلہ افزائی میں ان کا کردارکبھی
فراموش نہ کیا جا سکے گا۔ ڈاکٹر لاضی جیسے اہل
علم کو تو پرموشنی چکروں میں ڈالے رکھنا پورے
سسٹم کے ساتھ بھلائی کرنے کے مترادؾ ہے۔ میں
مہامنشی کے شعبہ اعلی شکشا کے بالا وزیریں اہل
کاروں کی تحسین کروں گا کہ علماء و فضلا کی اسی
انداذ سے لدردانی ہونی چاہیے۔۔ اگر انہیں گریڈ بیس
مل گیا تو گریڈ واءز اعلی شکشا منشی کے برابر ہو
جاءیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اولات وائز اس کے نائب
لاصد سے بھی کمتر ہوں گے۔
للم کے متروک ہو جانے کے بعد محاورہ للم کی مار
دینا بھی کسی حد تک سہی‘ ختم ہو گیا۔ مرا نہیں تو
لریب المرگ ضرور ہے۔ مفتا ساتھ میں لفافہ نہیں لایا
ہوتا اس لیے اسے گھاس بھی نہیں ڈالی جاتی۔
مفتے کو دفتر اعلی شکشا منشی کے اہلکار پر بھی
نہیں لکھتے اس کی فاءل تھوڑا بہت مواد موجود
ہونے کے باوجود بال پوائنٹ کی آلودگی سے محفوظ
رہتی ہے۔ سفارشیے اور جھڑیے کی فاءل گردش میں
رہتی ہے اور اس کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں۔ ہر
بار علالے کی سوؼات نہیں لاتا تو ناسہی ایسا شاز ہی
ہوتا ہے ورنہ وہ خالی ہاتھ نہیں آتا‘ آ کر وہاں کے
حاضرین و ناظرین کو چاء چو تو پیش کرتا رہتا ہے۔
چاء لانے والے لریبا آفیسر سے بمایا طلب کرنے کی
ؼلطی کا سزاوار نہیں ہوتا۔ بمایا طلب کرنے کے انجام
سے وہ بخوبی والؾ ہوتا ہے۔
جناب محترم ڈاکٹر حسنی صاحب
سلام مسنون پی ِش خدمت ہے
اہ ِل للم کے لئے باع ِث للم کی مار آپ کے عال ِی جناب
محبت اور خوبصورتی ہے ،کس و دانش ء فہم ترلّی
سے آپ نے للم کی بناوٹ سے لیکر اسکی وج ِہ تخیلك
اور ذمہ داری پر روشنی ڈالی یمیناًبہت پُر مؽز باکمال
تحریر ہے جسے طنز و مزاح کے ساتھ مگر پُرفکر
انداز میں آپ نے پیش کیا اور لارئین کی توجہ حاصل
کرنا چاہی ،میری جانب سے داد اور شکریہ اس
دلکش تحریر سے مستفید فرمانے کے لئے لبول
فرمائیے ،اس ضمن میں آپ کی اور لارئین کرام کی
توجہ بھی چاہوں گا کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے
ہیں اس میں للم تو زندگیوں سے تمریباًنکل ہی چکا
ہے الّا دیہاتوں میں مگر پین بال پین پینسل بھی نکلتی
جارہی ہے ،ہم ڈیجیٹل پین استعمال کرنے لگے ہیں
الیکٹرونکس پین سوفٹ ویئر کی بورڈز اور مزید آگے
ہی آگے بڑھ رہے ہیں اب ایسا ولت آنے والا ہے یا
تجرباتی طور پر آچکا ہے کہ جس میں آپ بات کریں
گے اور کمپیوٹر صاحب یا رائیٹنگ ڈیوائس آپ کی بات
کو اسکرین پر ٹائیپ کردے گی آپ چاہے کسی بھی
زبان کے بولنے والے کیوں نہ ہوں تو للم کی تو ہو
گئی چھٹّی ۔۔۔ کسی زمانے میں پرندوں کے پر اور
روشنائی کی مدد سے کاؼذ پر لکھی جانے والے
محبت نامے اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوا کے
پروں پر سوار ہو کر الیکٹرانک للم سے دل کا حال
محبوب کو جب سناتے ہیں تو چند سیکنڈ لگتے ہیں
دونوں طرؾ کی آگ کے شعلے ایک دوسرے کو لپیٹ
لیتے ہیں ،پرانے ولتوں میں پاگل ہونے والے کو ذرا
ولت لگتا تھا اب تو لمحے لگتے ہیں مر مٹنے کے
لئے دیوانہ ہو جانے کے لئے پاگل بن جانے کے لئے
کبوتر کی بھی چھٹّی للم کی بھی چھٹّی کاؼذ کی بھی
چھٹّی ولت کی بھی چھٹّی
لمحوں میں نفرت کی مار لمحوں میں محبت کی بانہوں
کے ہار دلوں کی جیت لمحوں میں دنیا اتھل پتھل ہونے
میں صرؾ چند لمحے ادھر کی دنیا ادھر بیچ میں
سیٹلائیٹ سسٹم محکمہ ء پیؽام رساں عرؾ (ٹیلی
)کمیونیکیشن سسٹم
نہ وہ عاشك نہ وہ معشوق نہ وہ خون سے لکھی
تحریریں نہ وہ پیؽام رساں کبوتر نہ وہ انتظار نہ وہ
بے لراری نہ وہ پیار نہ وہ للم نہ وہ محبوب نہ وہ
محب سب ڈیجیٹل ہے سب الیکٹرونک کی دنیا کا کمال
ہے محبت بھی الیکٹرانک نفرت بھی الیکٹرونک چاہت
بھی الیکڑونک بے لراری بھی الیکٹرونک رشتے بھی
الیکٹرونک ،ؼم بھی الیکٹرونگ روگ بھی
الیکٹرونک وفا بھی الیکٹرونک بے وفائی بھی
الیکٹرونک جدائی بھی الیکٹرونک
شاعری بھی اب کچھ اس طرح ہو گی جسے محمد رفیع
مرحوم صاحب کچھ یوں فرما تے
ایس ایم ایس جو کئے تمھاری یاد میں
بیلنس نہیں تھا وہ پینڈنگ چلے گئے
اپ لوڈنگ سے میرا ریچارج سیل ہوا
میسج ملا کہ تم کسی اور کے ہو گئے
صاحب جاری رکھئے الله کرے زو ِر للم اور زیادہ
اسماعیل اعجاز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8439.0
محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی
ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا‘ پروفیسر! کوئی کام
بھی کرتے ہو‘ یا صرؾ باتوں کی کھٹی کھاتے ہو۔
انھوں نے مزید فرمایا‘ مجھے تو یہ طبمہ فارغ ہی
لگتا ہے۔
پروفیسر بیک ولت تین کام کرتا ہے
١۔ معلومات فراہم کرتا ہے
٢۔ ؼلط اور صیحح ہی نہیں بتاتا‘ بلکہ ان کی تمیز بھی
سکھاتا ہے‘ گویا رویے تشکیل دیتا ہے۔
٣۔ سوچتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔
ایک شخص‘ آٹھ گھنٹے بیالیس منٹ جسمانی کام کرتا
ہے‘ جب کہ پروفیسر اڑتیس منٹ کام کرتا ہے‘ دونوں
برابر کی‘ تھکاوٹ محسوس کرتےہیں۔ پروفیسر جو
سوچتا ہے‘ وہ ڈیلور بھی کرتا ہے۔ گویا جسمانی کام
کرنے والوں سے‘ پروفیسرکی زیادہ انرجی صرؾ ہو
جاتی ہے۔
شاید ہی‘ کوئی ایسا پروفیسر ہو گا‘ جو موٹا تازہ ہو۔
اگر کوئ موٹا تازہ پروفیسر نظر آ جائے‘ تو یمینا کسی
پیٹ کے عارضے میں مبتلا ہو گا۔ مناسب انداز سے‘
فکری نکاسی نہ ہونے کے سبب بھی‘ موٹاپا آ سکتا
ہے۔ عزت اور جان‘ دونوں خطرے کی توپ کے دہانے
پر‘ ڈیرہ گزیں رہتے ہیں‘ اس لیے‘ ڈیلوری ایسا آسان
اور معمولی کام نہیں۔ اگر نہیں یمین آتا‘ تو کسی خاتون
سے پوچھ لیں‘ کہ ڈیلوری کا عمل کتنا مشکل اور
کٹھن گزار ہوتا ہے۔ کوئ خاتون خفیہ بات‘ دس پندرہ
منٹ سے زیادہ پیٹ میں نہیں رکھ سکتی۔ خیر یہ بات
عورتوں تک ہی محدود نہیں‘ پروفیسر تو الگ‘ کہ اس
کا کام ہی یہی ہے۔ وکیل اور پروفیسر‘ بول بچن کی
کھٹی کھاتے ہیں۔ ایک عام آدمی‘ خفیہ بات یا کسی کا
کوئی انتہائی حساس راز‘ زیادہ دیر تک پیٹ میں نہیں
رکھ سکتا۔ محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی یہ
ہی ہیں۔
آج‘ موٹے تھانیداروں کے حوالہ سے‘ بات ہو رہی
تھی۔ سوال اٹھ سکتا ہے‘ وہ کیوں موٹے ہیں۔ اکثر یہ
کہیں گے‘ وہ کھا کھا کر موٹے ہو جاتے ہیں۔ مجھے
اس سے‘ اسی فیصد اتفاق نہیں۔ معدہ کی بیماری کے
سبب‘ کوئ تھانیدار موٹا ہوا ہو تو الگ بات ہے۔ وہ
اوروں سے زیادہ ہمدردی کا مستحك ہے۔ ایک طرؾ
معدہ پرابلم‘ دوسری طرؾ زیادہ کھا لینے کا مسلہ‘ تو
تیسری طرؾ رازوں کی عدم نکاسی۔
کسی موٹے تھانیدار پر‘ کوئی دوسرا موٹا تھانیدار
نعرہ تکبیر کہہ کر چڑھا دیں‘ وہ‘ وہ راز اگلے گا‘ کہ
عمل سوچ اور دل و دماغ کی روح لبض ہو جائے گی۔
اس کے پیٹ میں بڑے افسروں‘ نبی نما سیاست دانوں
سیٹھوں‘ مذہبی لوگوں کے وہ وہ راز ہوتے ہیں‘ جن
کا کسی کے دونوں فرشتوں تک کو‘ علم نہیں ہوتا۔
اس مدے پر بات کرنا ہی فضول بات ہے‘ کیوں کہ
تھانیدار ان لوگوں پر تھانیدار نہیں ہوتے۔ تھانیدار‘
عوام کو گز رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کا شرفاء
کے اعلی طبمے میں شمار ہوتا ہے۔
۔سو گز رسہ سرے پہ گانٹھ‘ بات کا پیٹ میں رکھنا‘ بڑا
ہی مشکل‘ بلکہ ناممکن کام ہے‘ اپھارہ ہونا ہی ہوتا
ہےاور یہ‘ پہلے سوال کی طرح‘ لازمی بات ہے۔ آپ
کے دیکھنے میں بات آئی ہو گی‘ کہ مرنے والے کا
کوئی لریبی رو نہ رہا ہو‘ تو اس کو رولانے کے لیے
سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات پردہ میں رہتی
ہے‘ کہ اس لریبی نے‘ اس کی موت پر شکر کا سانس
لیا ہو۔ دلوں کے حال الله ہی جانتا ہے‘ اس لیے بات
پردہ میں ہی رہ جاتی ہے۔ تاہم اس کا کچھ ہی دنوں
میں‘ پیٹ کپا ہو جاتا ہے۔ اس حوالہ سے‘ کسی
تھانیدار پر انگلی رکھنے سے‘ بڑا ہی پاپ لگتا ہے۔
کسی موٹے پروفیسر پر بھی یہی کلیہ عائد ہوتا ہے۔
آج ہی کی بات ہے‘ بشپ صاحب کی طرؾ سے‘ امن
سیمینار منعمد ہونے جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے
ناتے‘ بد ہضمی اور گیس کا شکار ہوں۔ کیا کروں‘ میں
بات نہیں کر سکتا‘ کہ لالہ جو گولیاں اور چھتر کھا
رہے ہیں‘ انھیں امن کی کتھا سنا رہے ہو اور جو
گولیاں اور چھتر مار رہا ہے‘اس کے معاملہ میں آنکھ
بند کیے ہوئے ہو۔ میں یہ سب کہہ نہیں سکتا۔ کمزور‘
بوڑھا اور بیمار آدمی ہوں۔ میرے پاس ایک چپ اور
سو سکھ کے سوا‘ کچھ نہیں۔
ایک موبائل ایس ایم ایس کا حوالہ دیتا ہوں۔ حضرت
لائد اعظم کے پاس‘ ایک خاتون آئی اور اپنے بیٹے پر
جھوٹے لتل کے ممدمے کے حوالہ سے درخواست کی۔
بابا صاحب نے‘ ممدمہ لڑا اور خاتون کے بیٹے کو بچا
لیا۔ خاتون نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج تو آپ ہیں
اور کمزروں کو بچا لیتے ہیں‘ کل آپ نہ ہوئے‘ تو
کمزروں کا کیا بنے گا۔ بابا صاحب نے فرمایا‘ نوٹوں
پر چھپی میری تصویر‘ ہر کسی کے کام آئے گی۔ اب
مسلہ یہ آن پڑا ہے‘ کہ نوٹ‘ لسے اور ماڑے لوگوں
کے لریب سے بھی نہیں گزرتے۔ ایسےبرے ولتوں
میں‘ خاموشی ہی بہتر اور کارگر ہتھیار ہے۔ اپھارہ
ہوتا ہے‘ تو ہوتا رہے‘ مجھے کیا پڑی ہے‘ جو اس
امن سیمینار پر کوئی بات کروں بلکہ مجھ پر یہ کہنا
لازم آتا ہے‘ کہ کہو گولیاں کھاؤ چھتر کھاؤ‘ چپ رہو‘
سکون کی گزارو۔ اؤں آں اور ہائے وائے کرکے‘ دنیا
کا امن اور سکون بھنگ مت کرو۔
عزیز مکرم حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کا مضمون پڑھ تو لیا تھا لیکن لکھنے کا مولع نہ
مل سکا۔ معذرت خواہ ہوں۔ آپ کے مضامین نہایت
دلچسپ اور پر لطؾ ہوتے ہیں۔ خاص طور سے جہاں
آپ پنجابی کا ہلکا سا لشکارا لگاتے ہیں یا کوئی
کہاوت لکھتے ہیں۔ اب کہاوت کہنے اور سمجھنے
والے خود افسانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے حال ہی
میں "ہماری کہاوتیں" کے عنوان سے ایک کتاب
تالیؾ کی ہےجو راولپنڈی سے شائع ہونے والی ہے۔
اس کی ترویج کے دوران اندازہ ہوا کہ کہاوتیں اب
بڑے بوڑھوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور
کوئی دن جاتا ہے جب یہ ہمارے ادبی منظر نامے سے
بالکل ؼائب ہو جائیں گی۔ اور یہ بہت بڑا سانحہ ہو گا۔
نئی نسل تو ان سے بالکل ہی بیگانہ ہے۔ اس صورت
حال کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
ایک کامیاب اور دلکش تحریر پر میری داد لبول
کیجئے۔ بالی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8709.0
زندگی‘ حمیمت اور چوہے کی عصری اہمیت
زندگی بظاہر بڑی حسین دلفریب اور جازب نظر ہے
اور ہے بھی لیکن اپنی اصل میں اس بڑی سے بڑھ کر
پچیدہ اور مشکل گزار ہے۔ اسے کرنا تو بعد کی بات
ہے پہلے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب
سمجھنے کے لیے دو چار زندگیاں کہاں سے آئیں۔
ہزاروں سال سے انسان زمین پر رہ رہا ہے۔ تمیز و
امتیاز کی دولت سے مالا مال ہوتے ہوءے بھی
کنگال اور تہی دامن نظر آتا ہے۔ بعض اولات کسی
ؼلط فہمی کے زیر اثر ؼلط کو صحیح کہتا ہے لیکن
زیادہ تر جانتے ہوئے کسی لالچ یا خوؾ کے تحت
ؼلط کوعین سچ اور حك لرار دیتا ہے۔ اس کی دیکھا
دیکھی دوسرے بھی ؼلط کو درست سمجھنے لگتے
ہیں۔ اگر وہ نمبردار لسم کا بندہ ہے تو ایک وسیع
حلمہ حك کا ساتھ چھوڑ کر ناحك کے چرنوں میں جا
بیٹھتا ہے حالانکہ اس ذیل میں ہر کسی کو خود سے
ؼور کرنا چاہیے۔ دماغ اور ضمیر کی دولت ہر کسی
کے پاس موجود ہوتی ہے۔ پیٹ شریؾ کے ہوتے اور
اس سے سوچنے کے باعث دماغ اور ضمیر بےچارے
دو نمبر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پیٹ کے سبب اتنا ولت
ہی نہیں بچتا جو دماغ اور ضمیر کی حال پکار سنی
جائے یا ان کی جانب نادانستہ سہی‘ کان پھر جائیں۔
برے نتائج کو ہونی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ نمرود
ساری عمر چھیتر کھاتا رہا لیکن مچھر کو لہر
خداوندی کی بجائے ہونی لرار دیتا رہا۔
پہلے میں بھی دفترشاہی کے بگڑے مزاج تیور اور
اطوار کو ہونی سمجھ کر چپ کی بکل اوڑھنے کی
سوچ رہا تھا۔ یہ کوئ آج کی بات ہے یہ تو سیکڑوں
سال پرانا رویہ ہے۔ لوگ مٹھی گرم کرکے میرٹ کی
سمت درست کر لیتے ہیں۔ جو گنڈ کے پکے ہوتے ہیں
اول تا آخر میرٹ کے درجے پر فائز نہیں ہو پاتے۔
جو لوگ کاؼذ للم متحرک رکھتے ہیں متاثرین بھی
انھیں درخواست باز ایسے ثمیل لمب سے ملموب کرتے
ہیں۔ وہ اس لسم کے بیان دفتر شاہی کی خوشنودی
کے لیے داؼتے ہیں۔ دوسرا ان کے پیسے پھسے
ہوئے ہوتے ہیں اور دفترشاہی ان پر ؼصہ نکالتی ہے۔
وہ اپنا مال بچانے اور جس کام کے لیے مال دیا گیا
ہوتا ہے اسے کسسی ناکسی طرح نکلوانے کی فکر
میں ہوتے ہیں۔ دل میں وہ بھی درخواست باز کے
ساتھ ہی ہوتے ہیں۔
دل کو کون دیکھتا ہے لوگ حك اسے ہی سمجھتے
ہیں جو زبان پر ہوتا ہے۔ ہم سب اہل کوفہ کو آج بھی
برا بھلا کہتے کہ انہوں نے حسین کا ساتھ نہ دیا۔ یہ
کوئی نہیں بتاتا گورنر کوفہ نے کس طرح خون سے
گلیاں رنگ دیں۔ گورنر مورکھ کا سگا ماسڑ تھا۔
اسی طرح مولوی وچارے کا بھی ذکر آتا ہے۔ بڑے
بڑے پھنے خان باٹی ٹیک گیے ان کا پیٹ کس طرح
حسین کو کیوں حك پر مانتا۔ پیٹ اور سچائ دو الگ
چیزیں ہیں۔
میں اتنا بڑا جاہل ہوتے ہوئے جمہوریت اور امریکا
بہادر کے خلاؾ لکھتا رہا۔ مجھے اپنے لکھے پر
ندامت ہوتی ہے۔ میں اتنی معمولی بات نہ سمجھ سکا
کہ بادشاہ کا مستمل ہوتے ہوئے بھی پیٹ نہیں بھرتا۔
مرنے کے بعد بھی اس کا ممبرہ کئ کنال زمین گھرتا
ہے۔ بادشاہ تو بادشاہ ہے اس کی بیگم کا ممبرہ
بےحساب رلم ڈکار جاتا ہے۔ زندگی میں کیا کچھ ہضم
کر جاتی ہو گی‘ مجھ سے جاہل کی سوچ میں بھی
نہیں آ سکتا۔ بادشاہوں اور اس کے متعلمین کے
گلچھرے اگر عموم کے سوچ میں آجاءں تو لیامت
سے پہلے لیامت ہو جائے گی۔ عارضی اور مستمل کا
معاملہ الگ سے ہے۔ مستتل کا مرتے دم تک پیٹ نہیں
بھرتا اور آنکھیں تشنہ رہتی ہیں۔ یہی نہیں لوٹنے اور
سمیٹنے کی اسے جلدی پڑی رہتی ہے۔ عارضی کے
پاس تو مخصوص اور محدود مدت ہوتی ہے اس لیے
تن مچانا ؼیر فطری نہیں۔ جمہوریت والے تو چند
سالوں کے لیے آتے ہیں اس لیے ان کا انھی پانا ؼیر
فطری نہیں۔ وہ عوام کو کیا کریں‘ انہیں اپنی لوٹ مار
سے فراؼت ملے گی تو ہی عوام کے سیاپے پیٹیں
گے۔
حاکم کبھی ؼلط نہیں ہوتا گویا ہاتھی کے پاؤں میں
سب کا پاؤں۔ ہاں مات کھا کر سیٹ سے مرحوم ہونے
والا کبھی درست ہو ہی نہیں سکتا۔ تمام ادارے بشمول
عساکر‘ فاتح کے ساتھ ہوتے ہیں۔ طالت کے ساتھ سب
چلتے ہیں۔ یہی اصول رہا ہے اور رہے گا۔ اس کے
خلاؾ اٹھنے والے سر للم ہوتے رہیں گے۔ نمطے کی
بات یہ کہ ادارے شاہ کے بل پر کھاتے ہیں اور شاہ
ان اداروں کے بل پر اندھیر مچاتا ہے۔ نائب لاصد سے
شاہ تک ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہوتی ہیں۔ لہذا کسی
چھوٹے کی اس سے بڑے کی شکایت کا فائدہ ہی کیا۔
تاہم یہ طے ہے کاءنات میں ضدین بھی کام کرتی ہیں۔
ہر کوئ کسی ناکسی چیز سے ضرور ڈرتا ہے۔ اپنے
اپنے کام نکلوانے کے لیے تحمیمی عمل کا تیز ہونا
ضروری ہے۔ ہر بااختیار اور شکار کی چیر پھاڑ کا
ماہر میل‘ اپنی اور پرائی منہ متھے والی فیمیل سے
ڈرتا ہے فیمیل چوہے سے ڈرتی ہے لہذا چوہے
چھوڑنے سے کام نکل سکتے ہیں۔ برمحل حسب
ضرورت اور ایکٹیو چوہا نہ چھوڑا گیا تو کام پہلے
سے بھی بگڑ سکتا ہے۔ حسین کی طرح لبلہ درست
کرنے کی ضرورت نہیں۔ حسین ایک ہی تھا اور ہم
حسین نہیں ہیں۔ ہر ولت معاملے کے حوالہ سے اپنے
ساتھ دوچار چوہے ضرور رکھو اور یہ متعلمہ کی
سرکاری فیمیل کے دامن میں چھوڑو پھر دیکھو
ؼاءب سے کیا کیا نمودار ہوتا ہے۔ ؼیر سرکاری
متعلمہ فیمیل کے دامن بے حیا میں بھی چھوڑا جا
سکتا ہے۔
گریڈ ١٩کے ایم فل الاؤنس سے متعلمہ کلرک بادشاہ
کو معافی کے کھاتا میں رکھیں وہ بڑے معصوم
شریؾ دیانت دار اور راہ راست کے راہی ہیں۔ دونوں
بیبیوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ وہ خود ہی سر
چڑھتی ہیں اور چوتھائی سے زیادہ بالائ چٹ کر جاتی
ہیں۔ ان سے لسم لے لو جو آج تک انہوں نے کبھی
دعوت خورد و نوش کی دعوت دی ہو مگر حسین
مہمان کی مہمانی کو بھی صرؾ نظر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کفران نعمت کے مترادؾ ہے۔
ان پر فضول خرچی کا الزام لطعی ؼلط بےبنیاد اور
معنویت سے تہی ہے۔ وہ پلے سے ایک اکنی تک
خرچ نہیں کرتے۔ سگریٹ کے پنے میں بڑی احتیاط
سے محفوظ کی گئ جاز کی سم میں بالائی سے بیلنس
ڈلوا کر پییکج کرکے اپنی معزز ؼیر سرکاری خواتین
سے چھپ چھپا کر کچھ ہی ولت کے لیے تو خوش
طبعی اور گوارا خوش طبعی فرماتے ہیں۔ وہ کوئی
اکیلے ہیں جو ان کی پیٹھ پیچھے ساتھ والے ؼلط سلط
باتیں کرتے ہیں۔ چؽلی بہت بری بیماری ہے۔ اسلام اس
کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ساتھ والے کون سا ہل پر
نہائے ہوئے ہیں۔ ٹھرک اور جنسی عشك بازی تو
روٹین کا معاملہ ٹھہرا ہے۔ اس حمام میں حسب توفیك
تمریبا سارے بےلباس ہیں ۔ ان کی بےلباسی میں بھی
حسن سلیمہ اور کمال کا رکھ رکھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس
کی باذوق حضرات کو کھل کر داد دینی چاہیے۔
میں نے یہ محض چوہا چھوڑا ہے اسے سچ نہ
سمجھا جائے ورنہ وہ تو دیانت اور شرافت میں اپنی
مثال آپ ہیں۔ انہوں نے آج تک میلی اور سچی آنکھ
سے کبھی کسی ؼیر سرکاری عورت کو نہیں دیکھا۔
انہوں نے آج تک کسی سے ایک دمڑی تک نہیں لی۔
اگر لی ہو تو رشوت دینے والے کے ہاتھوں میں
لبری کیڑے پڑیں۔ اس کا نہ اس جگ بھلا ہو اور ناہی
لیامت کے دن چھٹکارہ ہو۔ رشوت دینے والے سیدھے
دوزخ میں جائیں گیے۔ جائز کام نہ کرائیں گے تو مر
نہیں جائیں گے۔ انھیں یہ صاحب نائی بھیج کرنہیں
بلواتے خود اپنے لدموں پر چل کر جاتے ہیں۔ رہ گئ
خواتین کی بات اسے چوہا سمجھ کرنظرانداز کر دیں۔
ایسی کوئی بات ہی نہیں۔ یمین نہیں آتا تو ان سے یا ان
خواتین سے لسم لے لیں۔ لسم کے معاملہ میں مجھے
نہ لائیں۔ میں کسی کے ذاتی معاملہ میں دخل اندازی کا
لائل نہیں۔
میں نے آؼاز میں عرض کیا تھا کہ زندگی بڑی پچیدہ
اور الجھی ہوئ گھتی ہے۔ اسے سمجھنا آسان نہیں۔ ہم
جو دیکھ یا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اصلی اور حمیمی
نہیں ہوتا۔ موصوؾ کی سرکاری محترمہ کو محض
شک تھا۔ شک کوئی اچھی اور صحت مند چیز نہیں۔
اپنے جیون ساتھی پر شک کرنے سے پاپ لگتا ہے۔
شک درمیان کی چیز ہے گویا نہ مونٹ نہ مذکر۔ انھیں
شک سے دور رہنا چاہیے یا ہونی سمجھ کر صبر و
شکر سے کام لینا چاہیے عالی ظرؾ لوگوں کا یہی
طور اور وتیرا رہا ہے۔ ؼلط سمجھنے یا تذبذب کی
حالت میں زندگی کرنے والے اعتماد کی دولت سے
محروم ہو جاتے ہیں۔ شک سے جان چھڑا کر اور
ہونی کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ایک شخص سارا دن
کھپتا کھپاتا ہے اسے ٹیسٹ بدلنے کا حك ملنا چاہیے۔
پرانی اشیاء سے منہ تو نہیں موڑ رہا ہوتا تو پھر رولا
کس بات کا ہ ِے
ؼیرملکی بداطواری دفتری اخلالیات اور برفی کی چاٹ
میرا بیٹا ڈاکٹر سید کنور عباس اول تا آخر پاکستانی
ہے۔ پاکسستان کی محبت اس کے دل و دماغ میں رچی
بسی ہوئ ہے تاہم میری طرح اس میں ایک کتی عادت
موجود ہے۔ دشمن یہاں تک کہ ؼیر مسلم کی اچھی
عادت اور احسن رویے کی اس کی پیٹھ پیچھے بھی
تعریؾ کرتا ہے۔ یہ طور اور انداز ہمارے عمومی
خصاءل سے لطعی ہٹ کر ہے۔ ہم زیادہ تر اپنی اس
کے بعد موجودہ صاحب التدار طبمے کی تعریؾ کرتے
ہیں۔ ماضی لریب کے شاہوں کو لطب لریب جبکہ
ماضی بعید کے شاہوں کو نبی نما لرار دینے میں منٹ
بھی نہیں لگاتے۔ ہمیں ان کی ناانصافی اور بددیانتی
بھی ولت کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔ ان کی نندا
کرنے والا مسلمانی کھو بیھٹتا ہے اور واجب المتل
لرار پاتا ہے۔ میں دائرہءاسلام سے خارج ہونے کا
کوئ ارادہ نہیں رکھتا اس لیے اس نظریے کی نفی
نہیں کرتا۔ ہاں ایک مسلم ؼیر ملک اسٹریلیا کے اپنے
بیٹے کے حوالہ سے‘ جو ان دنوں وہاں الامت رکھتا
ہے‘ کی پست اخلالی رویے کی مذمت کرتے ہوئے‘
عرض پرداز ہوں۔ کتنے بداطوار لوگ ہیں وہ۔ ہمارے
ہاں ایسی بداخلالی اور بداطواری کی دھونڈے سے
بھی مثال نہیں ملتی۔
اس کی بیگم مارکیٹ میں کہیں اپنا پرس کھو بیٹھی۔
پرس میں ضروری کاؼذات کے علاوہ معمول پیسے
بھی تھے۔ سخت پریشان تھی۔ ٹھیک ایک گھنٹے کے
بعد ایک پولیس مین آیا اور سب کچھ واپس کر گیا۔
بس جاتے ہوئے اس نے ایک رجسٹر پر دستخط
کروائے جس میں پرس میں موجود اشیاء کا اندراج
تھا۔ رخصت ہوتے ولت مسکراتے ہوئے آل دی بیسٹ
کہنا نہ بھولا۔ ہم اخلالی حوالہ سے اتنے گیے گزرے
نہیں ہیں۔ ابھی ہم میں اخلالیات موجود ہے۔ میں لصور
سے للیانی گیا۔ واپسی پر ویگن کے دروازے سے
سیٹ تک میری شلوار کی جیب پر کسی نے ہاتھ دیکھا
دیا۔۔ لدرتی ایک دوسری جیب میں پچاس روپے موجود
تھے جو میں کرایہ کے لیے دست سوال ہونے سے
بچ گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد بیرنگ لفافہ سے کاؼذات مع
ضروری نصیحت مل گیے۔
میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ کسی کام کے لیے کسی
دفتر میں بار بار کیا ایک بار جانے کی ضرورت نہیں
پڑتی۔ لانون اور سماجی رویت شکنی کا تصور تک
موجود نہیں۔ کتنا بے لطؾ بےمزا اور بےذئمہ سا
ملک ہے۔ آوا جاوی کے بؽیر انجام پانے والے امور
اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ جب تک دو چار جوتے نہ
ٹوٹیں اور جیب ہولی نہ ہو‘ وہ کام بھی بھلا کوئی کام
ہوئے؟ہمارے ہاں کوئ ایک دفتر نہیں تمریبا سارے
دفتر اخلاق کے بلند درجے پر فائز ہیں۔ مک مکا چاء
پانی اور لفافہ بازی پورے عروج پر ہے۔ میں عصر
حاضر کے پاکستان کا سچا اور پکا باشندہ ہوں میری
اتنی اولات اور مجال کہاں جو دفتر شاہی کی گردن پر
لفظوں کا انگوٹھا رکھوں۔ میں تو ان کی اعلی اخلالی
رویات پر انگلی بھی نہیں رکھ سکتا۔ ہر علالے کے
اپنے اصول اوراخلالی ضابطے ہوتے ہیں۔ دوسرا ہر
عہد اپنے حالات اور ضروریات کے مطابك رویات
تشکیل دیتا ہے۔ میرے ابے کا دور انگریز دشمن تھا
تبھی تو وہ مسلم لیگ کا پیٹھو تھا۔ بےکار میں ولت
ضاءع کرتا رہا۔ ورثہ میں بھوک ننگ چھوڑ گیا۔ بڑی
بڑی کہانیاں سناتا تھا اور سمجھتا تھا ان لوگوں نے
بڑا معرکہ مارا ہے۔ ہم ان سے بےولوؾ نہیں ہیں‘
پچھلی صفوں میں رہ کر چوپڑی کھاتے ہیں۔ دانشمندی
کا تماضا بھی یہی ہے۔ میرے ابے کے دور میں بھی
اس اعلی اخلالی ضابطے کے حامل لوگ موجود تھے۔
چوپڑی سے ان کے منہ اور کھیسے بھرے رہتے
تھے۔ اتنا چھوڑ گیے کہ آج بھی ان کی نسلیں موج
میں ہیں۔ ان کے طہارت کدے بھی حسن واخلاق کے
بلند مرتبے پر فائز ہیں۔
میں عصر دوراں کی دفتر شاہی خصوصا کلرک بادشاہ
کا ہتھ بدھا خادم ہوں۔ میں کیا بڑے بڑے پھنے خاں ان
کے ڈیروں پر منمناتے‘ پانی بھرتے اور نذر نیاز پیش
کرتے ددیکھے گیے ہیں۔ جو ان کی بادشاہی و خدائ
کے مرتد اور رائندہ ہیں یا حاضری سے اجتناب برتتے
ہیں‘ لاکھ درخواستیں رجسڑڈ ڈاک یا ای میل کرتے
رہیں نامراد رہتے ہیں۔ درخواست یا ای میل افسر کے
ہاتھ میں جائے گی تو ہی کام ہو گا۔
زیادہ تر ان کے افسر سے ہاتھ رلے ہوتے ہہں۔ میں
یہ ہوا میں نہیں چھوڑ رہا۔ میں نے اپنے ایم فل
الاؤنس کے سلسلے میں پہلی درخواست اکیس اکتوبر
انیس سو ستانویں کو گزاری اور آخری گیارہ نومبر
بیس سو تیرہ کو سیکٹریری ہاہر ایجوکیشن پنجاب کے
حضور گزاری۔ ان میں سے کسی درخواست کو
سیکٹریری صاحب سے ملالات کا شرؾ حاصل ہو جاتا
تو الاؤنس ملتا یا نہ ملتا جواب ضرور ملتا۔ جواب کو
اس کے اصلی اور مستعمل معنوں میں لیں۔ جاؤ نہیں
دیتے‘ تمہارا ایم فل علامہ البال اوپن یونیورسٹی کا
ہے جو اپنے ٹیوٹر سے بلامعاوضہ کام کرواتی ہے۔
ثبوت کے لیے اسے دور نہ جانا پڑتا۔ اسے میری ہہی
فائل سے اگست ٢٠٠٥میں کیے گیے کام کی عدم
ادائیگی سے متعلك گزاری گئ بہت سی درخواستیں مل
جاتیں
درخواستوں کے جواب نہ دینے اور بابو کی فاءل کے
بیچھے زبردست حکمت موجود ہے۔ سائل کب تک
درخواستیں گزارے گا آخر اسے آستانہ عالیہ میں
حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ مال تو خیر ملے گا ہی لیکن
سائل کی میں میں کا سواد ہی اور ہے۔ اپنے سے کہیں
بڑے گریڈ والے کا دو زانو بیٹھ کر بالاتری اور
بااختیاری کا اعتراؾ اسٹریلیا کی دفترشاہی کو کیا
معلوم۔ وہ اس ترلی یافتہ دور میں بھی دور جہالت کی
زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں کے بابو اس لسم کی اعلی
ظرفی اور اعلی اخلالی الدار سے محروم ہیں۔ انھیں
برفی کی بلا دام چاٹ نہیں لگی۔
اپنے پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ اپنے پلے سے برفی
تو دور کی بات نان چھولے نہیں کھاءے جا سکتے۔
انھیں فمط دو چار ہفتے پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ
فاؤنڈیشن کے تمدس مآب دفتر میں لا کر بیٹھا دیا
جائے پوری سروس کی کمائی جیب لگ جاءے گی۔
مہامنشی ہاؤس کے لوگ خانے خان بنے پھرتے ہیں
یہاں ان کے بھی بملم خود استاد تشریؾ رکھتے ہیں۔
یہ سب کرپشن نہیں‘ یہ تو بالائی ہے۔ آگ چڑھے دودھ
پر ہی بالائی آتی ہے۔ سارا دن بیوی بچوں کو چھوڑ
کر بالائی کے ڈھنگ اور نسخے تلاشنا اور سوچنا
ایسا آسان کام نہیں۔ باہر بیٹھ کر ٹکے ٹکے کی باتیں
کرنا آسان ہے میدان میں اترنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ
بلاشبہ بڑے عظیم اور پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی
عظمت کو بڑے ادب اور احترام سے ست سلام اور
پرنام ۔
مہامنشی ہاؤس اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ
فاؤنڈیشن کی پہنچ اور عزیزداری کا اندازہ اس سے
لگایا جا سکتا ہے کہ عزت مآب واپڈا ان کا پانی بھرتا
ہے۔ میں یہ تحریر اس سے پہلے چار مرتبہ ٹائپ کر
چکا ہوں۔ جونہی سیؾ کرنے لگا بجلی چلی گئ اور
اگلے ہی لمحے آگئ۔ پہلے تو میں اسے محض اتفاق
سمجھا جب یہی دوسری تیسری اور پھر چوتھی بار
ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ واپڈا ہر دو متذکرہ
محکمہ ہذا کو کتنا عزیز اور محترم رکھتا ہے۔
میں وفالی محتسب اور صوبائ محتسب کے حوالہ
سے معاملات کے متعلك درخواستیں گزارنے والا تھا
کہ خیال گزرا کیوں نہ جاپان اردو نیٹ کے ذریعے اپنی
آواز متعلمین تک ہپنچاؤں۔ خدانخواستہ میں ان کے
خلاؾ کوئی شکایت کرنے والا نہیں تھا۔ میں تو صرؾ
اتنا عرض کرنا چاہتا تھا کہ جب جب کسی کی
درخواست آئے اس کا جواب دے دیا جائے۔ کون سا
پلے سے ڈاک خرچ دینا ہے۔ سرکاری کاؼذ سرکاری
لفافہ اور سرکاری ٹکٹیں لگنا ہیں۔ لکھنا صرؾ اتنا
ہے باری پر آپ کے مسلے پر ؼور کیا جائے گا۔ اتنا
بڑا صوبہ ہے باری آتے آتے‘ آئے گی نا۔ باری کے
انتظاری میں مفتا مر جائے گا اور معاملہ محض لصہء
ماضی ہو کر رہ جائے گا۔ گویا سانپ بھی اپنی آئی
مرے گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی۔
میاں شہباز شریؾ نے جس لگن اور محنت سے کام
کیا ہے اس کی تعریؾ نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔
جہاں اتنے کام کیے ہیں وہاں ایک اور کام کردیں تو
دعاؤں کا شمار نہیں رہے گا۔ دو چار مخیر حضرات
بھی صلہء رحمی کے حوالہ سے یہ کام کر سکتے
ہیں۔ میاں صاحب ایک محکمہ لاءم کریں جو میر منشی
گاہ کے بابو حضرات کی بالائ کا اہتمام کرے۔ سائل آ
کر رلم بتائے یہ محکمہ ضروری پوچھ گچھ اور
کنفرمشن کے بعد ساءل کو مطلوبہ رلم فراہم کر دے یا
پھر ضروری بارگینگ یعنی مک مکا کر لے۔ اسی
طرح بجلی کے دونوں طرؾ بہت کچھ لکھا ہوتا ہے
مزید صرؾ اتنا لکھ دیا جائے کہ لکھنے پڑھنے اور
ٹائپ کرنے والے حضرات ہم پر نہ رہیں‘ جو کریں
اپنی ذمہ داری پر کریں۔
لکھنے میں واپڈا آج سب کا پیو ثابت ہو رہا ہے۔ وہ
انتہا درجے کے کنگالوں اور ان کے تھرڈ کلاس
سفارشیوں کو۔۔۔۔۔۔۔ پر لکھتے ہیں۔ سفارش کا دور گیا‘
اب مال چلتا ہے۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ پرفارما
پرموششن کا ریٹ چودہ ہزار روپے ہو گیا ہے۔ یہ
بنیادی خرچہ ہے۔ تکمیل تک بمایا جات کے مطاابك دام
اٹھیں گے
اور
جوتے گھسیں گے۔
مکرمی حسنی صاحب :سلام علیکم
میرے اس خط کو نشانی سمجھ لیں کہ آپ کا انشائیہ
میں نے مزے لے لے کر اور با ضابطہ عبرت پکڑپکڑ
کر پڑھ لیا ہے۔ اگر انشائیہ کا تعلك آپ کے وطن سے
مخصوص نہ ہوتا اور میں ہندوستان کا سابك شہری نہ
ہوتا تو کچھ عرض کرتا لیکن تجربوں سے ظاہر ہوگیا
ہے کہ ایسے نازک معاملات میں خاموشی اچھی ہوتی
ہے۔ سو میری خاموشی لبول کیجئے اور ساتھ ہی داد
بھی۔
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
7961.0
انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ
دنیا ترلی کر رہی ہے‘ یہ ممولہ عام اور بزت سا ہو گیا
ہے۔ ہر کوئی ترلی اور دودھ کی نہریں بہانے کی باتیں
تو کرتا ہے لیکن آج تک کسی کو یہ بتانے کی کبھی
توفیك نہیں ہوئ کہ ترلی کس چڑیا کا نام ہے۔ وہ رنگ
روپ میں کیسی ہوتی ہے۔ اس کا ساءز کتنا ہوتا ہے۔
گولی ماریے ان باتوں کو‘ کوئ بس اتنا ہی بتا دے کہ
وہ کس گلی کس محلے کس کوچے میں بانفس نفیس
الامت رکھتی ہے۔ دودھ کی نہر یا نہریں بہانے کے
معاملہ کو چھوڑیے کیونکہ اس کا تعلك لیس المعروؾ
مجنوں سے ہے۔ اب کون اس کی عشك گذیدہ ہڈیوں
کو خراب کرے۔ امیدوار حضرات نے اسے بطور محارہ
استعمال کیا تھا۔ محاورہ میں حمیمی معنی نہیں ہوتے
اگر حمیمی معنی کود پڑیں تو محاورہ اسے لبولنے
سے انکار کر دیتا ہے۔۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ
محاورہ مہارت سے علالہ رکھتا ہے۔ دودھ کی نہریں
بہانے کا کبھی رواج نہیں رہا۔ ہاں پانی کی نہریں
کبھی دانستہ کبھی نادانستہ اور کبھی باوجوہ ؼفلت
چھوڑ کر لوگوں کو ڈبو کر ثواب اور آبادی کم کرنے
کا رجحان ضرور رہا ہے۔
یہاں بجلی جاتی اور جاتی ہی ہے تاہم کبھی کبھار اپنے
ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے اور یہ کوئ معولی
بات نہیں۔ اگر وہ متوتر رہے تو اس کا لد اور مرتبہ
صفر ہو کر رہ جاءے گا۔ ہمیں بجلی سے کوئ گلہ
نہیں اور ناہی اس کے عالی مرتبے سے انکار۔ ہاں
بجلی والوں سے ایک ناحك اور ناجاءز سا گلہ ضرور
ہے۔ ہمارے محلے کے ایک مرکزی ممام پر بجلی کے
تاروں کی چول ذرا ڈھیلی ہے جو ہفتے میں کم از کم
ایک بار ضرور اکھڑتی ہے جس کے سبب بجلی
مہاراج کے ہوتے اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ ہر بار ہر
گھر سے سو سو روپے جمع کیے جاتے ہیں۔ بجلی
والے آتے ہیں تھوڑا سا اڑا کر چلے جاتے ہیں۔ یہ ان
کی مستمل آمدنی ہے۔ آج لوگ منتخب ممبر صاحب کے
ہاں گیے۔ ممبر صاحب کے کاموں نے کافی بیزت
کرکے الٹے لدموں واپسی کی راہ دکھائی۔ شکر ہے وہ
خود نہیں ملے ورنہ دو چار پھٹر ضرور ہو جاتے۔
لوگوں کا گلہ یہ تھا کہ ممبر صاحب نے تو دودھ کی
نہریں بہا دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہاں تو پینے کے
لیے پانی تک میسر نہیں۔ ایک صاحب نے بڑی پتے
کی کہی‘ ممبر صاحب پاور میں ہیں محلے کے چھوٹے
بڑوں کو بی آر بی پر لے جا کر ڈبکیاں دلائیں گے۔
اس کے بعد لوگ پانی کا نام تک بھول جائیں گے۔
میری رائے میں ہر چھوٹے بڑے کو بطور عبرت بجلی
کے دو چار جھٹکے دے دیے جائیں۔ بجلی کی
خطرناکی کے زیر اثر اٹھتے بیٹھتے ان کے حلك سے
آوازے اٹھیں گے نو نو بجلی گو گو۔ ایک صاحب نے
کہا متعلمہ لائین مین سے مک مکا کر لو اس طرح
کچھ تو بچت ہو سکے گی۔ میں نے کہا یار ان کی
ملیں تو نہیں چلتیں انہوں نے بھی تو یہیں سے کھانا
ہے۔ تنخواہ میں بھنی مچھلی یا مرؼے کی ٹانگیں تو
نہیں کھائ جا سکتیں۔
سنتے آءے ہیں زندہ لاکھ کا مردہ سوا لاکھ کا۔ زمانے
کی ترلی کے ساتھ ہی یہ ممولہ بھی بدل گیا ہے۔ اب
صورت کچھ یوں ہے کہ مردہ لاکھ کا زندہ سوا لاکھ کا۔
یہ ممولہ اہل واپڈا تک محدود نہیں اس میں ساری دفتر
خدائ آ جاتی ہے۔ زندہ جس طرح اندھیر مچاتا ہے
مردہ تو اس نعمت عظمی سے دور رہتا ہے۔ پنشن یا
دیگر وصولیاں زندہ کی چند ماہ کی مار نہیں ہوتیں۔
کچھ زیادتیاں زندہ لوگوں کے ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ مثلا
ملازم کی تنخواہ سے انشورنس کی جبری کٹوتی ہوتی
ہے اور یہ معمول کٹوتی تا سروس ہوتی رہتی ہے۔ جب
وہ ریٹائر ہوتا ہے اسے اس کی تنخواہ سے کی گئ
کٹوتی میں سے ایک پائی تک نہیں دی جاتی۔ مجوزہ
رلم کی اداءگی اس کی موت سے مشروط ہوتی ہے
یعنی وہ مرے گا تو ہی انشورنس کی رلم اسے نہیں‘
اس کے گھر والوں کو ملے گی۔ گھر والے اس کی
ریٹائرمنٹ تک تو اس کی موت نہیں چاہیں گے۔ وہ
لاکھ کے لیے سوا لاکھ کی لربانی کیسے اور کیونکر
گوارہ کریں گے۔ ہاں ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی زندگی
انہیں خوش نہیں آئے گی۔ گویا ریٹائرمنٹ تک پیدائ
ملازم سوا لاکھ کا رہتا ہے لیکن اس کے بعد لاکھ کا
رہ جاتا ہے جبکہ اس کا مرنا سوا لاکھ کا ٹھہرتا ہے۔
جیتے جی مرنے والا محروم گھر والوں کے لیے
سہولتیں پیدا کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ مرنے
کے بعد انشورنس والوں کو یاد دلانے اور مک مکا
کرنے والے بیوہ اور یتیم بچے یاد آ جاتے ہیں۔ وہ
گھر والے جو زندگی میں اسے ضرورتوں کی صلیب
پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد انہیں کبھی اس
کی لبر پر دعا فاتحہ تک کہنا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ
صرؾ کاؼذوں میں بطور خاوند یا باپ بادل نخواستہ
تکلفا یاد رکھا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ بیٹی کے
جہیز کی عدم دستیابی کے ؼم میں موت کے حوالے
ہوا ہو۔ حك اور انصاؾ کا تماضا یہی ہے کہ انشورنس
والے جس کی تنخواہ سے جگا وصول کرتے ہیں‘
ریٹائرمنٹ پر اس کی اپنی رلم جو اس سے وصول کی
گئ ہوتی ہے اسے ادا کریں تاکہ بڑھاپے میں اس کے
جیتے جی کسی کام آ سکے۔ کٹوتیاں کرنے والا کوئی
بھی محکمہ ہو‘ لینے میں نر شیر ببر ہوتا ہے لیکن
اس کی اپنی رلم دینے کے معاملہ میں اسے مرگی پڑ
جاتی ہے۔ یہ معاملہ ؼور منٹ تک محدود نہیں
حکومت خانہ بھی اس کی پیرو ہے۔ وصول تو پائی
پائی کر لیتی ہے ضرورت پر کچھ طلب کر لو تو
سماعت کے دروازے بند اور زبان کے دروازے کھل
جاتے ہیں۔
اصل حیرت اس بات پر ہے کہ آئیس کریم اور سوہن
حلوا کھانے اور سو طرح کے مہنگے مشروب پینے
والی زبان حنطل سے بڑھ کر کڑوی کیوں ہو جاتی ہے۔
زبان بھی نءے دور کی ہو گئ ہے اگلے زمانے میں
زبان کہے پر اٹل رہتی تھی۔ ٹانگر اور مسی روٹی کی
تاثیر اٹھ گئ ہے۔ آج گورمے کا چرچا ہے۔ نئی نئی
اشیا کو چھوڑ کر ٹانگر اور مرونذے کو کون پوچھتا
ہے تب ہی تو زبان بھی سو طرح کی کرواٹیں لینے کی
عادی ہو گئی ہے۔اگلے زمانے میں بکرے میں میں کیا
کرتے تھے لیکن آج دفتروں میں سائل اور گھر پر
.شوہر نامدار میں میں کرتے نظر آتے ہیں۔
ویسے تحمیك کر دیکھیں زندگی میں‘ میں میں کا
ؼلبہ رہا ہے۔ گنتی کے چند لوگ تو تو کے مرتبے پر
فائز ہو کر آج بھی احترام کے مستحك ٹھہرے ہیں۔
میں شریؾ کے حامل لوگ انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ ان
کی تو میں والوں سے علالہ نہیں رکھتی۔ اگر تو سے
مراد میں والے ہوتے تو آج بھی خان خاناں ہوتے۔ ان
کی تو سے مراد الله کی ذات گرامی ہے۔ آج تو تو کا
نعرہ بلند کرکے بڑے لوگ خود میں کے درجے پر
فائز ہو گیے ہیں۔ زہے افسوس شاہی تو تو ہر کسی
کا نصیبا نہیں ٹھہرتی۔
! عزیز گرامی حسنی صاحب :سلام شوق
آپ کا انشائیہ پڑھ کر مزا آ گیا۔ کاش آپ اپنی اس
صلاحیت پر مزید محنت کریں اور مزاح اور طنز کی
دنیا میں ایک ممام بنا لیں۔ آپ کا للم نہایت شگفتہ و
شستہ ہے ،خیال آرائی اور منظر کشی میں آپ ماہر
ہیں،زبان و بیان بہت اچھے ہیں تو پھر دیر کس بات
کی؟ میری مخلصانہ گزارش ہے کہ طنز ومزاح کی
جانب سجنیدگی سے توجہ دیں اور اپنے انداز فکر و
سخن کو نکھاریں۔ اردو میں طنز و مزاح بہت کم ہے
کیونکہ ہماری زندگی اور معاشرہ خود درد و رنج اور
استحصال کا مارا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسان کی
زندگی عذاب ہو تو اس کو ہنسی کیسے سوجھے گی؟
اس حوالے سے مزاح نگار ایک رحمت بن جاتا ہے
کیونکہ وہ لوگوں کو ہنساتا ہے اور سبك سکھاتا ہے۔
آپ کا انشائیہ صرؾ واپڈا کا انشائیہ نہیں ہے بلکہ ہر
ایسے ادارہ اور ایسے لوگوں کا خاکہ ہے جنہوں نے
عوام کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔
اچھے انشائیہ پر داد لبول کیجئے اور میری گزارش
پر ضرور سوچئے اور کام کیجئے۔ شکریہ ۔ بالی
راوی سب چین بولتا ہے۔
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
7974.0
دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا
یہاں ایک بابا پہلے کئ دنوں اور اب کئ مہنوں سے
بیمار چلا آتا ہے۔ حرام ہے جو مرنے کا نام لے رہا ہو۔
اگرچہ وہ لمبی چوڑی عمر کا نہیں۔ یہی کوئی ساٹھ
باٹھ کا ہو گا۔ عصری حالات اور خاندانی ضروریات
کے پیش نظر اب تک اسے مر جانا چاہیے تھا۔ الله
جانے کس مٹی سے اٹھا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خان
بابے دیکھے ہیں‘ بیماری کے ایک ہی جھٹکے سے
انالله ہو گیے۔ ان کے اٹھنے سے گھر والوں کی
بےجا ڈاکٹروں کے پاس آنیاں جانیاں ختم ہو گیں۔ گھر
والی اور اولاد خوشی سے بابے کی بیماریی کی فٹیک
برداشت کر نہیں رہے تھے۔ دنیاداری بھی آخر کوئی
چیز ہوتی ہے۔
ہمارے ہمسارے میں ایک مائ تھی اور کپتی کے نام
سے پورے علالہ میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس کا میاں
شریؾ آدمی اور بلا کا مولع شناس تھا۔ بیماری کے
پہلے ہی جھٹکے میں وہ گیا۔ مائی بڑی دیالو تھی
بڑھاپے میں بھی دیا کے بلند ممام پر فائز تھی۔ کوئ
نہیں کہتا تھا کہ اسے بھی کبھی موت آءے گی۔ فرشتہ
اجل بھی اس کے لریب آنے سے لرزتا ہو گا۔ ہاں
فیض کی حصولی کے لیے اسے کبھی معمانت نہیں
رہی ہو گی۔ بیمار پڑی؛ اہل ذوق تو اہل ذوق‘ اس کا
چھوٹا بیٹا پوری دیانتت داری سے اسے ڈاکٹروں کے
پاس لیا پھرا تاہم چند دن ہی چلی اور اہل للب و نظر
کے لیے پچھتاوا چھوڑ گئ۔ اس کی بڑی بہو بڑی
روئی۔ لوگوں کو ساس کے ساتھ اس کی مخلصی کا
یمین ہو گیا۔ جو بھی سہی میں اس بابے کی کرنی کا
معتمد ضرور ہو گیا جس کے تعویزوں نے بڑی بہو کو
یہ دن دکھایا ورنہ وہ فرشتہ اجل کی گرفت میں آنے
والی مائی ہی نہ تھی۔
خدا معلوم یہ ساٹھ باٹھ سالہ بابا کس لسم کا ہے
جسے اتنی کرنی والے بابے کے تعویزوں نے بھی
کچھ نہیں کیا۔ باچیاں نکلی پڑی ہیں اور حد درجہ کی
کمزوری وارد ہو چکی ہے‘ اس کے باوجود مرنے کا
نام نہیں لے رہا۔ بعید از لیاس نہیں کہ اسے زندگی لڑ
گئی ہو۔ عین ممکن ہے کہ خضر آب حیات کے دوچار
گھونٹ عطا کر گیے ہوں۔ دیوتاؤں سے بھی اس کا
بگارڑ نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی دیوتا بصد مشمت
نکالے گیے امرت میں سے دو گھونٹ چپکے سے پلا
گیا ہو۔
پرانا اور تجربہ کار ہوتے ہوئے نہیں سمجھ پا رہا کہ
کتنوں کا مستمبل خراب کر رہا ہے۔۔ اس کے مرنے
سے بڑا کاروبار وسیع کر سکتا ہے۔ چھوٹے کی تین
جوان بیٹیاں‘ جن کی اب شادی ہو جانا چاہیے جبکہ
منجھلا اپنا بیٹا دوبئی بھیجنا چاہتا ہے۔ اسے باہر مفت
تو نہیں ببھجا جا سکتا‘ دام لگتے ہیں۔ یہی صورت
حال اس کی لڑکیوں کی ہے۔ کئ خاندانوں کی ترلی
خوشحالی اور آسؤدگی بابے کی موت سے وابستہ ہے۔
اتنی موٹی اور واضح بات بابے کی سمجھ میں نہیں آ
رہی۔ بیمار اور لاؼر زندگی سے برابر علیک سلیک
بڑھائے چلا جا رہا ہے۔
ایک ہفتہ پہلے میری اس سے بستر حیات پر ملالات
ہوئی۔ بچے پرامید نگاہوں سے اس کی آؤبھگت کر
رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ بابا
چلتے پھرتے ولتوں میں میرے ملنے والوں میں تھا۔
بچے اس کے میرے تعلمات سے والؾ تھے۔ انہوں
نے مجھے امید بھری نظروں سے دیکھا اور اندر
چلے گیے۔۔ ان کا خیال تھا کہ میں ان کے ڈھیٹ اور
جینے پر مصر بابے کو سمجھاؤں گا۔ وہ کیا جانیں کہ
ان کا بابا کتنا ضدی ہے۔ میں نے پوچھا یار تم نے
رشوت کی کمائی سے اتنی جاءیداد کیوں بنائ۔ مرنے
والے ہو الله کو جواب تو تمہیں ہی دینا پڑے گا۔ جواب
میں کہنے لگا مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔
اکیلے میں نے تھوڑی بنائ ہے ساری دنیا اسی طرح
جاءدایں اور بینک بیلنس بناتی ہے۔ اتنے لوگوں کے
لیے جہنم میں جگہ کب ہو گی۔ میں وہاں جا کر بھی
لبضہ گروپ کا لیڈر ہوں گا۔ ٹہوہر میں گزاری ہے‘
فکر نہ کرو وہاں بھی ٹہوہر کی گززے گی۔ بیشک الله
بڑا بےنیاز ہے۔ میں نے کہا یار یہ جاءداد اپنے جیتے
جی ان میں تمسیم کر دو۔ کیوں تمسیم کر دوں۔ جائیداد
میری ہے کسی کو دوں نہ دوں میری مرضی۔
اگر میں نے تمسیم کر دی تو ان میں سے کسی نے
پوچھنا تک نہیں۔ گھر سے باہر نکال دیں گے۔ اس کی
بات میں دم بھی تھا اور خم بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں
کر سکا کہ ان میں زیادہ کیا تھا۔ اس کے پاس میں
لریبا بیس پچیس منٹ اس خوؾ کے ساتھ بیٹھا رہا کہ
کہیں یہ نہ کہہ دے کہ تم بھی دو چار سال کے ہیر
پھیر سے میرے ہم عمر ہو ابھی مرے کیوں نہیں۔
شاید اس لیے نہ بولا کہ میرے پاس ہے ہی کیا۔ زندہ
ہوں کچھ ناکچھ تو لاتا ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا
برداری سے تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا اور کوئی اتنی
بےعزتی کیوں کراے گا۔ شوہر کا بےعزتی کرائ کے
لیے پہلے سوال کی طرح بہرطور لازمی ہے۔
اب اس صورتحال کے تحت میں کیا عرض کر سکتا
ہوں تاہم مجھے بڈھے کی اولاد میں کمی اور خرابی
نظر آئ۔ جو خود محنت اور مشمت کرنے کی بجاءے
اوروں کی کمائ پر مستمبل سنوارنے کی آشا کرنے
والے زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ اور دو لسم کے
ہوتے ہیں۔ ایک بابے وؼیرہ دوسری دفتر شاہی
وؼیرہ۔ ثانی الذکر کو اوروں میں شمار نہ کریں۔
سائلین سے وصولیاں وؼیرہ دفتری لوگوں کا اصولی
استحماق ہوتا ہے۔ پڑھائی لکھائی اور نوکری کی
حصولی پر خرچہ کرکے اگر بہت یا بہت سے بڑھ کر
وصولا نہ گیا تو کیا فائدہ
بابے کے اپنے نما اپنے خود کو پنجاب سرونٹس
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن والے سمجھتے ہیں جو سراپا
دیسی گھی کی کڑاہی میں ہیں۔ کملوں کو اتنی بات
سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرکاری لٹیرے ہیں۔ انہیں
تو پوچھ کرنے والوں کا اشیرباد حاصل ہے۔ دوسرا وہ
لوگوں کا کام کرتے ہیں۔ تیسری بڑی بات یہ کہ وہ تو
بھرتی ہی لوٹ مچانے کے لیے ہوئے ہیں۔ لوٹ سیل
تو ان کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔
مانتا ہوں بابے کا مال بھی لوٹ کا ہے لیکن وہ مال تو
ہے اور مال بھلا کون کسی کو دیتا ہے۔ گچی پر ناخن
آءے تو ہی کھیسہ ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ کملے بابے کو
کسی پھسنی میں پھاسائیں‘ خود ہی جڑے گا۔ مجھے
بابے کے اپنوں پر افسوس ہوتا ہے۔ بیمار بابا ان سے
برداشت نہیں ہو رہا۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس کی بات
ہے۔ پاکستان کو بنے ایک صدی ناسہی کچھ ہی سالوں
بعد ہو جائے گی‘ بیمار لاؼر اور دمہ گزیدہ دفتر اور
افسر شاہی سے کام چل رہا ہے اور خوب چل رہا ہے۔
انہیں اپنے بیمار لاؼر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھے سے
کام چلاتے ہوئے مری پڑتی ہے۔ بیمار لاؼر اور دمہ
گذیدہ دفتر اور افسر شاہی کے مرنے کے دور تک آثار
نہیں۔ سچی کہوں گا چاہے بڈھے کے گھر والوں کو
ؼصہ ہی لگے‘ بابے کے مرنے کے مجھے دور تک
آثار نظر نہیں آئے۔ ان کنبوں کا مستمبل اسی طرح
تذبذب کی صلیب پر لٹکا رہے گا اور یہ میں پورے
یمین کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔
لاٹھی والے کی بھینس
لاہور بورڈ نے میری پنشنری ؼربت سے متاثر اور
عبرت پکڑتے ہوئے مجھے ہیڈ ایگزامینر ممرر کر دیا۔
میں کام کی ؼرض سے نکلنے لگا۔ دروازے سے ایک
لدم باہر اور ایک لدم اندر تھا کہ زوجہ ماجدہ کی پیار
بھری آواز واپسی بلاوے کی صورت میں میرے ناچیز
اور پراز گناہ کانوں میں پڑی۔ بڑھاپے کے باوجود میں
پوری پھرتی اور کسی نوبہاتا نوجوان کی طرح واپس
پلٹا۔ زوجہ حضور کے ہاتھ میں منڈی کے سامان کی
لسٹ تھی۔ سخت گھبرایا اور نزع کی حالت کے نیم
مردہ شخص کی طرح منمنایا بلکہ گڑگڑایا :رمضان کی
برکتوں کے سبب منڈی کی اشیاء دسترس سے باہر ہو
گئ ہیں۔ بس دو چار روز صبر فرما لیں پھر سب کچھ
آپ کے ممدس چرنوں میں ہو گا۔ بس پھر کیا تھا کام
اسٹارٹ ہو گیا جیسے میں نے کوئی ماں بہن کی
بےلباس گالی نکال دی ہو۔ یہ کوئی ایسی نئ بات نہیں
تھی تحفظ عزت و مال کے لیے سارا دن بےعزتی
کرانا میرے معمول کا حصہ ہے۔ میں نے بھی دل ہی
دل میں جی بھر سنائیں۔ سالی یوں گرج برس رہی ہے
جیسے روزہ میرے لیے رکھا ہو۔ باور رہے یہ بھی دل
ہی دل میں کہا۔ اونچی آواز میں کچھ کہنا میرے کیا
بڑے بڑوں کے ابے کے بس کا روگ نہیں رہا۔
بیگمی حوصلہ اور عزت افزائی کے باوجود میں خود
کو معاشرے کا معزز شہری سمجھتا ہوں۔ لوگ تو خیر
اس ؼلط فہمی میں مبتلا ہیں ہی۔ وہ کیا جانیں روزوں
میں منڈی چڑھنے کے ساتھ ہی میری عزت اور ولار
بےعزتی کی سولی پر مصلوب ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا
ہے اوروں کے ساتھ بھی کم وبیش یہی ہوتا ہو تاہم
میرے ساتھ باالضرور ہوتا ہے اور شاید یہی ممدر اور
نصیبا رہا ہو۔
سنٹر میں ابھی میں نے تشریؾ نہیں رکھی تھی کہ
ایک بی بی جو میری سب تھی اپنا کام لے کر آ گئ۔
سر میرا کیا لصور ہے جو کلرک کام میں دیری کرتا
ہے بمعنی دوسروں کے پہلے کرتا ہے حالانکہ اسے
لیڈیز فسٹ کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے گویا
جس کا کام کر رہا ہوتا ہے اسے موخر کے کھاتے
میں ڈال دے۔ اس کے سوال کا جواب دینے کی بجاءے
منہ سے بےساختہ اور بےمحل نکل گیا‘ جانے کیا کر
بیٹھا ہوں جو گھر میں بھی عورتیں دیکھنے کو ملتی
ہیں باہر آؤ تو بھی عورتوں سے پالا پڑتا ہے۔ کہنے
کو تو کہہ گیا لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ کچھ
زیادہ ہی ؼلط کہہ گیا ہوں۔ بعد میں نے لیپا پوچی کی
بڑی کوشش کی لیکن اب کیا ہوت کمان سے نکلا تیر
نشانے پر بیٹھ کر اپنا اثر دکھا چکا تھا۔
بات آئ گئ ہو کر ولتی طور پر ٹل گئی۔ مارکنگ کا یہ
آخری دن تھا ایک دوسری خاتون نے برسرعام پوچھا
سر اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک ذاتی سا سوال پوچھ
سکتی ہوں۔ ذاتی پر زور تھا سا کا لاحمہ اس نے تکلفا
استعمال کیا۔ کیا کہہ سکتا تھا ذاتی سا سوال سرعام
دریافت کر رہی تھی۔ احمك میں ہی تھا جو ماتحت
لوگوں کے بیچ بیٹھ کر کام کر رہا تھا۔ یہ لوگ تمریبا
ماتحت تھے میں تو درجہ چہارم کے لوگوں کے ساتھ
بیٹھ کر پلے سے سب کے لیے چائے منگوا کر پی لیتا
ہوں‘ گپ شپ کر لیتا ہوں۔ بلاشبہ یہ اصول جاہی کے
خلاؾ ہے۔ بہر کیؾ میں نے بی بی کو پوچھ گچھ کی
اجازت دے دی۔
۔سر آپ کی تینوں بیگمات اسی شہر میں الامت
رکھتی ہی۔ تین کے ہندسے نے مجھے چکرا دیا۔ پھر
میں نے سوچا مفت میں ٹہوہر بن رہا ہے اور اس
حوالہ سے یہ جائے انکار کب ہے۔ نہیں وہ تو ایک ہی
گھر میں رہتی ہیں۔ جس طرح مجھے تین کے ہندسے
نے چکرا دیا تھا بالکل اسی طرح بلکہ اس سے بھی
بڑھ کر اس بی بی کو چکر آ گیا اور میں جوابی
کاروائی کی اثر انگیزی پر مسرور تھا۔ کچھ ہی لمحوں
کے بعد میری مسروری کو دیکھ کر اس نے دوسرا
سوال داغ دیا۔ سر وہ آپس میں خوب لڑتی ہوں گی۔
میں یہ کہہ کر چلتا بنا :کیوں میں مر گیا ہوں۔
بعد میں کسی اور کی زبانی معلوم ہوا کہ انہوں نے
کیوں میں مر گیا ہوں کی تفہیم بالکل الگ سے لی ہے۔
انہوں نے سمجھا کہ بابے نے تینوں کو نپ کر رکھا
ہوا ہے۔ عورت اور وہ بھی سرکاری؛ دب کر رہے‘
کس کتاپ میں لکھا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا
کہ آپس میں کیوں لڑیں گی لڑائی اورعزت افزائئ کے
لیے میں ابھی زندہ ہوں۔ یہ لصہ تو زیب داستان کے
لیے عرض کر گیا ہوں اصل تحمیك کی ضرورت تین
کا ہندسہ تھا۔ آخر یہ کہاں سے آ ٹپکا اور پورے
مارکنگ سنٹر میں میری وجہ ء شہرت بن گیا۔
بڑا ؼور کیا‘ سوچا‘ سیاق و سباق میں گیا۔ کچھ بھی
پلے نہ پڑا۔ آج کچھ ہی لمحے پہلے مجھے مشکوک
نظروں سے دیکھا گیا تو میں نے سنجیدہ توجہ دی تو
کھلا میں نے ایک بی بی سے کہا تھا گھر میں
عورتوں اور باہر بھی عورتوں سے پالا ہے۔ جمع
کے صیؽے نے کہانی کو جنم دیا تھا۔ خاتون کے
حافظہ میں ایک جمع رہی دوسری کو اس نے واحد لیا۔
وہ عورت تھی مکالمہ اسی سے ہوا۔ ؼالبا اردو نحو کا
اصول بھی یہی ہے کہ دوسری جمع واحد میں تبدیل ہو
جاتی ہے۔
سننے اور پڑھنے والا بولنے اور لکھنے والے کا
پابند نہیں وہ مرضی کے مطابك مفاہیم اخذ کرتا ہے۔
میرے کہے میں ابہام موجود تھا۔ بلا ابہام لفظوں اور
جملوں کے بہت سے مفاہیم لیے جاتے ہیں یا پھر لیے
جا سکتے ہیں۔ ساختیات بھی یہی کہتی ہے۔ اسے کہنا
بھی چاہیے۔ ابہام اور لفظوں کی کثیر معنویت عدالتوں
میں اپیل کے دروازے کھولتی ہے۔ لفظ اپنی حیثیت
میں جامد اور اٹل نہیں۔ اسے استعمال میں لانے والے
کی انگلی پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے جامد اور اٹل ہونے
سے زبان کے اظہار کا دائرہ تنگ ہو جائے گا۔ نتیجہ
کار زبان مر جائے گی یا محض بولی ہو کر رہ جاءے
گی۔ اس تھیوری کے تناظر میں مجھے کسی بھی
خاتون کے کہے کو دل پر لگانا نہیں چاہیے۔
کچھ ہی پہلے اندر سے آواز سنائ دی حضرت بیؽم
صاحب حیدر امام سے کہہ رہی تھیں بیٹا اپنے ابو
سے پیسے لے کر بابے فجے سے ؼلہ لے آؤ۔ عید
لریب آ رہی ہے کچھ تو جمع ہوں گے عید پر کپڑے
خرید لائیں گے۔ بڑا سادا اور عام فیہم جملہ ہے لیکن
اس کے مفاہیم سے میں ہی آگاہ ہوں۔ یہ عید پر کپڑوں
لانے کے حوالہ سے بڑا بلیػ اور طرحدار طنز ہے۔
طنز اور مزاح میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ طنز
لڑائی کے دروازے کھولتا ہے جبکہ مزاح کے بطن
سے لہمہے جنم لیتے ہیں۔ جب دونوں کا آمیزہ پیش
کیا جائے تو زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے اور
ایسی جعلی مسکراہٹ سے صبر بھلا دوسرا بات گرہ
میں بندھ جاتی ہے۔
میں نے کئ بار عرض کیا کہ طنز لبریز مذاق نہ کیا
کرو۔ کہتی ہے اب اس گھر میں بات کرنے کی بھی
اجازت نہیں۔ حمیمت یہ ہے کہ حکم نامے طالت جاری
کرتی ہے۔ ماتحت کمزور مفلس اور کامے حموق کی
مانگ بھی گزارشی انداز میں کرتے ہیں۔ لمحہ بھر کی
خوش فہمی بھی ہضم نہ ہو سکی کہ گھر والی کو
بےفضول کہنے کی جرآت نہیں‘ میرے حصے کا بھی
بمول سمراط گھر والی نے بول دیا۔
سردار محمد حسین آج کی نشت میں کہہ رہے تھے کہ
آخر آپ کی تان اعلی شکشا منشی پر ہی کیوں ٹوٹتی
ہے۔ میں نے کہا سردار صاحب کل گاؤں سے ایک
توڑا آلو لیتے آنا۔ آپ ہی فرمائیے اس میں زوردار
ہنسنے والی کونسی بات ہے۔ میں نے اپنی بات دہرائ
تو پھر ہنس دیے۔ نہ ہاں نہ ناں‘ یہ کیا ہوا۔ میں اپنی
لکھتوں میں اپنا حك طلب کرتا ہوں کیونکہ آلو کے