The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫دی جاتی ہے۔ دونوں طرح کی صورتیں تاریخ میں‬
‫ملتی ہیں۔‬

‫عزت پر جان لربان کرنے والے خال خال ملتے ہیں۔‬
‫سمراط نے زہر پی لیا لیکن ارسطو میدان چھوڑ گیا۔‬
‫پورس جب جان کو ہتھیلی پر لے کر میدان میں اترا تو‬

‫سکندر کو فرار اختیارکرنا پڑا۔ اہل بال پوائنٹ کو‬
‫دیکھیے اس نے نیچے والے بابے کو اوپر لرار دے‬
‫دیا۔ ریفریری کسی کو بھی آؤٹ دے سکتا ہے۔ اچھی‬
‫بھلی بال کو نو بال لرار دے دینا اس کے ایک اشارے‬

‫کی مار ہے۔‬

‫ڈاکٹر لاضی کے نزدیک للم سے بددیانتی ماں بہن‬
‫کے ساتھ زیادتی کے مترادؾ ہے۔ للم مستعمل نہیں‬
‫اس لیے بددیانتی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ دوسرا ہر وہ‬
‫کام جسے الله اور اس کا رسول حرام لرار دیتا ہے‬
‫بااختیار طبمے اسے کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔‬
‫زمین پر کسی ضمنی پارٹ کے سہی وہ خدا ہیں‘ اس‬
‫لیے وہ زندگی بھی اپنی مرضی کی گزارتے ہیں اور‬

‫اپنی ساختہ شرع پر عمل کرتے ہیں۔‬

‫سماجی پابندی ہو یا اخلالی یہ ان کے لیے معنویت‬
‫نہیں رکھتی۔ لانون لوگوں کے لیے ہوتا ہے اگر وہ‬
‫بھی لانون کو کچھ سمجھیں تو ان میں اور عام‬
‫لوگوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ رہ گیا مذہب‘ تو یہ‬
‫فرد کا ذاتی مسلہ ہے۔ دوسرا مذہب عبادت گاہوں کی‬
‫چیز ہے لہذا عبادت گاہوں کی حدود میں اس پر عمل‬

‫درامد فرض ہوتا ہے۔‬

‫للم کی بےحرمتی لوگوں کی ماں بہن کے ساتھ زیادتی‬
‫کے مترادؾ ہے۔ یہاں بال پوائنٹ کی موجودگی میں‬
‫اپنی یا پرائی ماں بہن کے ساتھ زیادتی کا سوال ہی‬
‫نہیں اٹھتا۔ بیٹی کا ذکر اس لیے مناسب نہیں کہ بیٹیاں‬

‫سب کی سانجی ہوتی ہیں۔‬

‫آزاد معاشروں میں سب سے پہلے اہل علم کو داڑھ‬
‫کے نیچے رکھتے ہیں۔ یہ طبمہ آگہی پھیلا کر کمزور‬
‫طبموں کو بے حضوریہ بناتا ہے۔ اہل جاہ اور اہل زر‬
‫کی بےادبی ہی درحمیمت خرابی کی جڑ ہے۔ یہی وجہ‬
‫ہے کہ ہمارے کالج کیڈر سے متعلك لوگوں کا پرموشن‬
‫کبھی کبھار ہوتا ہے۔ دس سال بعد بھی کسی لیکچرر‬
‫سے پوچھو تو خود کو لیکچرر بتائے گا۔ ایک طرح‬

‫سے انھیں مستمل مزاج بنانے کی یہ سعی عظیم ہے۔‬
‫بھولے سے کبھی پرموشن ہو جائے تو ان کی مٹی‬
‫پلید کرنے میں کوئ دلیمہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ اسے‬
‫پنشن کے دروازے پر لا کھڑا کرکے مسافر بنا دیا جاتا‬
‫ہے۔ دکھ کی جندریوں میں ممید رہنے تک زندگی کی‬
‫آخری سانس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ بلا حرکت بھی‬
‫کوئی زندگی ہے۔ فارغ رہیں گے تو آگہی پھیلانے‬

‫سے باز نہیں آئیں گے۔‬

‫وہ اہل علم کو ذلیل کرنے کا بڑی خوش اسلوبی اور‬
‫بڑی دیانت داری سے فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان‬
‫کی فرض شناسی کو آب زر سے للم بند کیا جائے گا۔‬
‫ناخواندگی کی حوصلہ افزائی میں ان کا کردارکبھی‬
‫فراموش نہ کیا جا سکے گا۔ ڈاکٹر لاضی جیسے اہل‬
‫علم کو تو پرموشنی چکروں میں ڈالے رکھنا پورے‬
‫سسٹم کے ساتھ بھلائی کرنے کے مترادؾ ہے۔ میں‬
‫مہامنشی کے شعبہ اعلی شکشا کے بالا وزیریں اہل‬
‫کاروں کی تحسین کروں گا کہ علماء و فضلا کی اسی‬
‫انداذ سے لدردانی ہونی چاہیے۔۔ اگر انہیں گریڈ بیس‬
‫مل گیا تو گریڈ واءز اعلی شکشا منشی کے برابر ہو‬
‫جاءیں۔ یہ بات الگ ہے کہ اولات وائز اس کے نائب‬

‫لاصد سے بھی کمتر ہوں گے۔‬

‫للم کے متروک ہو جانے کے بعد محاورہ للم کی مار‬
‫دینا بھی کسی حد تک سہی‘ ختم ہو گیا۔ مرا نہیں تو‬
‫لریب المرگ ضرور ہے۔ مفتا ساتھ میں لفافہ نہیں لایا‬

‫ہوتا اس لیے اسے گھاس بھی نہیں ڈالی جاتی۔‬

‫مفتے کو دفتر اعلی شکشا منشی کے اہلکار پر بھی‬
‫نہیں لکھتے اس کی فاءل تھوڑا بہت مواد موجود‬
‫ہونے کے باوجود بال پوائنٹ کی آلودگی سے محفوظ‬
‫رہتی ہے۔ سفارشیے اور جھڑیے کی فاءل گردش میں‬
‫رہتی ہے اور اس کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں۔ ہر‬
‫بار علالے کی سوؼات نہیں لاتا تو ناسہی ایسا شاز ہی‬
‫ہوتا ہے ورنہ وہ خالی ہاتھ نہیں آتا‘ آ کر وہاں کے‬
‫حاضرین و ناظرین کو چاء چو تو پیش کرتا رہتا ہے۔‬
‫چاء لانے والے لریبا آفیسر سے بمایا طلب کرنے کی‬
‫ؼلطی کا سزاوار نہیں ہوتا۔ بمایا طلب کرنے کے انجام‬

‫سے وہ بخوبی والؾ ہوتا ہے۔‬

‫جناب محترم ڈاکٹر حسنی صاحب‬
‫سلام مسنون پی ِش خدمت ہے‬

‫اہ ِل للم کے لئے باع ِث‬ ‫للم کی مار‬ ‫آپ کے‬ ‫عال ِی‬ ‫جناب‬
‫محبت اور خوبصورتی‬ ‫ہے ‪ ،‬کس‬ ‫و دانش‬ ‫ء فہم‬ ‫ترلّی‬

‫سے آپ نے للم کی بناوٹ سے لیکر اسکی وج ِہ تخیلك‬
‫اور ذمہ داری پر روشنی ڈالی یمیناًبہت پُر مؽز باکمال‬
‫تحریر ہے جسے طنز و مزاح کے ساتھ مگر پُرفکر‬
‫انداز میں آپ نے پیش کیا اور لارئین کی توجہ حاصل‬

‫کرنا چاہی ‪ ،‬میری جانب سے داد اور شکریہ اس‬

‫دلکش تحریر سے مستفید فرمانے کے لئے لبول‬

‫فرمائیے ‪ ،‬اس ضمن میں آپ کی اور لارئین کرام کی‬

‫توجہ بھی چاہوں گا کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے‬
‫ہیں اس میں للم تو زندگیوں سے تمریباًنکل ہی چکا‬
‫ہے الّا دیہاتوں میں مگر پین بال پین پینسل بھی نکلتی‬

‫جارہی ہے ‪ ،‬ہم ڈیجیٹل پین استعمال کرنے لگے ہیں‬

‫الیکٹرونکس پین سوفٹ ویئر کی بورڈز اور مزید آگے‬

‫ہی آگے بڑھ رہے ہیں اب ایسا ولت آنے والا ہے یا‬

‫تجرباتی طور پر آچکا ہے کہ جس میں آپ بات کریں‬

‫گے اور کمپیوٹر صاحب یا رائیٹنگ ڈیوائس آپ کی بات‬

‫کو اسکرین پر ٹائیپ کردے گی آپ چاہے کسی بھی‬

‫زبان کے بولنے والے کیوں نہ ہوں تو للم کی تو ہو‬
‫گئی چھٹّی ۔۔۔ کسی زمانے میں پرندوں کے پر اور‬

‫روشنائی کی مدد سے کاؼذ پر لکھی جانے والے‬

‫محبت نامے اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوا کے‬
‫پروں پر سوار ہو کر الیکٹرانک للم سے دل کا حال‬
‫محبوب کو جب سناتے ہیں تو چند سیکنڈ لگتے ہیں‬
‫دونوں طرؾ کی آگ کے شعلے ایک دوسرے کو لپیٹ‬
‫لیتے ہیں ‪ ،‬پرانے ولتوں میں پاگل ہونے والے کو ذرا‬
‫ولت لگتا تھا اب تو لمحے لگتے ہیں مر مٹنے کے‬
‫لئے دیوانہ ہو جانے کے لئے پاگل بن جانے کے لئے‬
‫کبوتر کی بھی چھٹّی للم کی بھی چھٹّی کاؼذ کی بھی‬

‫چھٹّی ولت کی بھی چھٹّی‬

‫لمحوں میں نفرت کی مار لمحوں میں محبت کی بانہوں‬
‫کے ہار دلوں کی جیت لمحوں میں دنیا اتھل پتھل ہونے‬

‫میں صرؾ چند لمحے ادھر کی دنیا ادھر بیچ میں‬
‫سیٹلائیٹ سسٹم محکمہ ء پیؽام رساں عرؾ (ٹیلی‬

‫)کمیونیکیشن سسٹم‬
‫نہ وہ عاشك نہ وہ معشوق نہ وہ خون سے لکھی‬
‫تحریریں نہ وہ پیؽام رساں کبوتر نہ وہ انتظار نہ وہ‬
‫بے لراری نہ وہ پیار نہ وہ للم نہ وہ محبوب نہ وہ‬
‫محب سب ڈیجیٹل ہے سب الیکٹرونک کی دنیا کا کمال‬
‫ہے محبت بھی الیکٹرانک نفرت بھی الیکٹرونک چاہت‬
‫بھی الیکڑونک بے لراری بھی الیکٹرونک رشتے بھی‬

‫الیکٹرونک ‪ ،‬ؼم بھی الیکٹرونگ روگ بھی‬
‫الیکٹرونک وفا بھی الیکٹرونک بے وفائی بھی‬

‫الیکٹرونک جدائی بھی الیکٹرونک‬

‫شاعری بھی اب کچھ اس طرح ہو گی جسے محمد رفیع‬
‫مرحوم صاحب کچھ یوں فرما تے‬

‫ایس ایم ایس جو کئے تمھاری یاد میں‬
‫بیلنس نہیں تھا وہ پینڈنگ چلے گئے‬
‫اپ لوڈنگ سے میرا ریچارج سیل ہوا‬
‫میسج ملا کہ تم کسی اور کے ہو گئے‬

‫صاحب جاری رکھئے الله کرے زو ِر للم اور زیادہ‬

‫اسماعیل اعجاز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪8439.0‬‬

‫محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی‬

‫ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا‘ پروفیسر! کوئی کام‬
‫بھی کرتے ہو‘ یا صرؾ باتوں کی کھٹی کھاتے ہو۔‬
‫انھوں نے مزید فرمایا‘ مجھے تو یہ طبمہ فارغ ہی‬
‫لگتا ہے۔‬
‫پروفیسر بیک ولت تین کام کرتا ہے‬
‫‪١‬۔ معلومات فراہم کرتا ہے‬

‫‪٢‬۔ ؼلط اور صیحح ہی نہیں بتاتا‘ بلکہ ان کی تمیز بھی‬
‫سکھاتا ہے‘ گویا رویے تشکیل دیتا ہے۔‬
‫‪٣‬۔ سوچتا ہے اور اس کا اظہار کرتا ہے۔‬

‫ایک شخص‘ آٹھ گھنٹے بیالیس منٹ جسمانی کام کرتا‬
‫ہے‘ جب کہ پروفیسر اڑتیس منٹ کام کرتا ہے‘ دونوں‬
‫برابر کی‘ تھکاوٹ محسوس کرتےہیں۔ پروفیسر جو‬
‫سوچتا ہے‘ وہ ڈیلور بھی کرتا ہے۔ گویا جسمانی کام‬
‫کرنے والوں سے‘ پروفیسرکی زیادہ انرجی صرؾ ہو‬

‫جاتی ہے۔‬

‫شاید ہی‘ کوئی ایسا پروفیسر ہو گا‘ جو موٹا تازہ ہو۔‬
‫اگر کوئ موٹا تازہ پروفیسر نظر آ جائے‘ تو یمینا کسی‬
‫پیٹ کے عارضے میں مبتلا ہو گا۔ مناسب انداز سے‘‬
‫فکری نکاسی نہ ہونے کے سبب بھی‘ موٹاپا آ سکتا‬

‫ہے۔ عزت اور جان‘ دونوں خطرے کی توپ کے دہانے‬
‫پر‘ ڈیرہ گزیں رہتے ہیں‘ اس لیے‘ ڈیلوری ایسا آسان‬
‫اور معمولی کام نہیں۔ اگر نہیں یمین آتا‘ تو کسی خاتون‬

‫سے پوچھ لیں‘ کہ ڈیلوری کا عمل کتنا مشکل اور‬
‫کٹھن گزار ہوتا ہے۔ کوئ خاتون خفیہ بات‘ دس پندرہ‬
‫منٹ سے زیادہ پیٹ میں نہیں رکھ سکتی۔ خیر یہ بات‬
‫عورتوں تک ہی محدود نہیں‘ پروفیسر تو الگ‘ کہ اس‬
‫کا کام ہی یہی ہے۔ وکیل اور پروفیسر‘ بول بچن کی‬
‫کھٹی کھاتے ہیں۔ ایک عام آدمی‘ خفیہ بات یا کسی کا‬
‫کوئی انتہائی حساس راز‘ زیادہ دیر تک پیٹ میں نہیں‬
‫رکھ سکتا۔ محاورہ پیٹ سے ہونا کے حمیمی معنی یہ‬

‫ہی ہیں۔‬

‫آج‘ موٹے تھانیداروں کے حوالہ سے‘ بات ہو رہی‬
‫تھی۔ سوال اٹھ سکتا ہے‘ وہ کیوں موٹے ہیں۔ اکثر یہ‬
‫کہیں گے‘ وہ کھا کھا کر موٹے ہو جاتے ہیں۔ مجھے‬
‫اس سے‘ اسی فیصد اتفاق نہیں۔ معدہ کی بیماری کے‬
‫سبب‘ کوئ تھانیدار موٹا ہوا ہو تو الگ بات ہے۔ وہ‬
‫اوروں سے زیادہ ہمدردی کا مستحك ہے۔ ایک طرؾ‬
‫معدہ پرابلم‘ دوسری طرؾ زیادہ کھا لینے کا مسلہ‘ تو‬

‫تیسری طرؾ رازوں کی عدم نکاسی۔‬

‫کسی موٹے تھانیدار پر‘ کوئی دوسرا موٹا تھانیدار‬
‫نعرہ تکبیر کہہ کر چڑھا دیں‘ وہ‘ وہ راز اگلے گا‘ کہ‬
‫عمل سوچ اور دل و دماغ کی روح لبض ہو جائے گی۔‬
‫اس کے پیٹ میں بڑے افسروں‘ نبی نما سیاست دانوں‬
‫سیٹھوں‘ مذہبی لوگوں کے وہ وہ راز ہوتے ہیں‘ جن‬
‫کا کسی کے دونوں فرشتوں تک کو‘ علم نہیں ہوتا۔‬

‫اس مدے پر بات کرنا ہی فضول بات ہے‘ کیوں کہ‬
‫تھانیدار ان لوگوں پر تھانیدار نہیں ہوتے۔ تھانیدار‘‬
‫عوام کو گز رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کا شرفاء‬

‫کے اعلی طبمے میں شمار ہوتا ہے۔‬

‫۔سو گز رسہ سرے پہ گانٹھ‘ بات کا پیٹ میں رکھنا‘ بڑا‬
‫ہی مشکل‘ بلکہ ناممکن کام ہے‘ اپھارہ ہونا ہی ہوتا‬
‫ہےاور یہ‘ پہلے سوال کی طرح‘ لازمی بات ہے۔ آپ‬
‫کے دیکھنے میں بات آئی ہو گی‘ کہ مرنے والے کا‬
‫کوئی لریبی رو نہ رہا ہو‘ تو اس کو رولانے کے لیے‬
‫سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات پردہ میں رہتی‬
‫ہے‘ کہ اس لریبی نے‘ اس کی موت پر شکر کا سانس‬
‫لیا ہو۔ دلوں کے حال الله ہی جانتا ہے‘ اس لیے بات‬
‫پردہ میں ہی رہ جاتی ہے۔ تاہم اس کا کچھ ہی دنوں‬
‫میں‘ پیٹ کپا ہو جاتا ہے۔ اس حوالہ سے‘ کسی‬

‫تھانیدار پر انگلی رکھنے سے‘ بڑا ہی پاپ لگتا ہے۔‬
‫کسی موٹے پروفیسر پر بھی یہی کلیہ عائد ہوتا ہے۔‬

‫آج ہی کی بات ہے‘ بشپ صاحب کی طرؾ سے‘ امن‬
‫سیمینار منعمد ہونے جا رہا ہے۔ پروفیسر ہونے کے‬
‫ناتے‘ بد ہضمی اور گیس کا شکار ہوں۔ کیا کروں‘ میں‬
‫بات نہیں کر سکتا‘ کہ لالہ جو گولیاں اور چھتر کھا‬
‫رہے ہیں‘ انھیں امن کی کتھا سنا رہے ہو اور جو‬
‫گولیاں اور چھتر مار رہا ہے‘اس کے معاملہ میں آنکھ‬
‫بند کیے ہوئے ہو۔ میں یہ سب کہہ نہیں سکتا۔ کمزور‘‬
‫بوڑھا اور بیمار آدمی ہوں۔ میرے پاس ایک چپ اور‬

‫سو سکھ کے سوا‘ کچھ نہیں۔‬

‫ایک موبائل ایس ایم ایس کا حوالہ دیتا ہوں۔ حضرت‬
‫لائد اعظم کے پاس‘ ایک خاتون آئی اور اپنے بیٹے پر‬
‫جھوٹے لتل کے ممدمے کے حوالہ سے درخواست کی۔‬
‫بابا صاحب نے‘ ممدمہ لڑا اور خاتون کے بیٹے کو بچا‬
‫لیا۔ خاتون نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج تو آپ ہیں‬

‫اور کمزروں کو بچا لیتے ہیں‘ کل آپ نہ ہوئے‘ تو‬
‫کمزروں کا کیا بنے گا۔ بابا صاحب نے فرمایا‘ نوٹوں‬
‫پر چھپی میری تصویر‘ ہر کسی کے کام آئے گی۔ اب‬

‫مسلہ یہ آن پڑا ہے‘ کہ نوٹ‘ لسے اور ماڑے لوگوں‬
‫کے لریب سے بھی نہیں گزرتے۔ ایسےبرے ولتوں‬
‫میں‘ خاموشی ہی بہتر اور کارگر ہتھیار ہے۔ اپھارہ‬
‫ہوتا ہے‘ تو ہوتا رہے‘ مجھے کیا پڑی ہے‘ جو اس‬
‫امن سیمینار پر کوئی بات کروں بلکہ مجھ پر یہ کہنا‬
‫لازم آتا ہے‘ کہ کہو گولیاں کھاؤ چھتر کھاؤ‘ چپ رہو‘‬
‫سکون کی گزارو۔ اؤں آں اور ہائے وائے کرکے‘ دنیا‬

‫کا امن اور سکون بھنگ مت کرو۔‬

‫عزیز مکرم حسنی صاحب‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کا مضمون پڑھ تو لیا تھا لیکن لکھنے کا مولع نہ‬
‫مل سکا۔ معذرت خواہ ہوں۔ آپ کے مضامین نہایت‬

‫دلچسپ اور پر لطؾ ہوتے ہیں۔ خاص طور سے جہاں‬
‫آپ پنجابی کا ہلکا سا لشکارا لگاتے ہیں یا کوئی‬
‫کہاوت لکھتے ہیں۔ اب کہاوت کہنے اور سمجھنے‬

‫والے خود افسانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے حال ہی‬
‫میں "ہماری کہاوتیں" کے عنوان سے ایک کتاب‬

‫تالیؾ کی ہےجو راولپنڈی سے شائع ہونے والی ہے۔‬
‫اس کی ترویج کے دوران اندازہ ہوا کہ کہاوتیں اب‬
‫بڑے بوڑھوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور‬

‫کوئی دن جاتا ہے جب یہ ہمارے ادبی منظر نامے سے‬
‫بالکل ؼائب ہو جائیں گی۔ اور یہ بہت بڑا سانحہ ہو گا۔‬
‫نئی نسل تو ان سے بالکل ہی بیگانہ ہے۔ اس صورت‬

‫حال کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔‬

‫زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا‬
‫دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‬

‫ایک کامیاب اور دلکش تحریر پر میری داد لبول‬
‫کیجئے۔ بالی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪8709.0‬‬

‫زندگی‘ حمیمت اور چوہے کی عصری اہمیت‬

‫زندگی بظاہر بڑی حسین دلفریب اور جازب نظر ہے‬

‫اور ہے بھی لیکن اپنی اصل میں اس بڑی سے بڑھ کر‬
‫پچیدہ اور مشکل گزار ہے۔ اسے کرنا تو بعد کی بات‬

‫ہے پہلے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب‬
‫سمجھنے کے لیے دو چار زندگیاں کہاں سے آئیں۔‬
‫ہزاروں سال سے انسان زمین پر رہ رہا ہے۔ تمیز و‬
‫امتیاز کی دولت سے مالا مال ہوتے ہوءے بھی‬
‫کنگال اور تہی دامن نظر آتا ہے۔ بعض اولات کسی‬
‫ؼلط فہمی کے زیر اثر ؼلط کو صحیح کہتا ہے لیکن‬
‫زیادہ تر جانتے ہوئے کسی لالچ یا خوؾ کے تحت‬
‫ؼلط کوعین سچ اور حك لرار دیتا ہے۔ اس کی دیکھا‬
‫دیکھی دوسرے بھی ؼلط کو درست سمجھنے لگتے‬
‫ہیں۔ اگر وہ نمبردار لسم کا بندہ ہے تو ایک وسیع‬
‫حلمہ حك کا ساتھ چھوڑ کر ناحك کے چرنوں میں جا‬
‫بیٹھتا ہے حالانکہ اس ذیل میں ہر کسی کو خود سے‬
‫ؼور کرنا چاہیے۔ دماغ اور ضمیر کی دولت ہر کسی‬
‫کے پاس موجود ہوتی ہے۔ پیٹ شریؾ کے ہوتے اور‬
‫اس سے سوچنے کے باعث دماغ اور ضمیر بےچارے‬
‫دو نمبر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پیٹ کے سبب اتنا ولت‬
‫ہی نہیں بچتا جو دماغ اور ضمیر کی حال پکار سنی‬
‫جائے یا ان کی جانب نادانستہ سہی‘ کان پھر جائیں۔‬
‫برے نتائج کو ہونی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ نمرود‬

‫ساری عمر چھیتر کھاتا رہا لیکن مچھر کو لہر‬
‫خداوندی کی بجائے ہونی لرار دیتا رہا۔‬

‫پہلے میں بھی دفترشاہی کے بگڑے مزاج تیور اور‬
‫اطوار کو ہونی سمجھ کر چپ کی بکل اوڑھنے کی‬
‫سوچ رہا تھا۔ یہ کوئ آج کی بات ہے یہ تو سیکڑوں‬
‫سال پرانا رویہ ہے۔ لوگ مٹھی گرم کرکے میرٹ کی‬
‫سمت درست کر لیتے ہیں۔ جو گنڈ کے پکے ہوتے ہیں‬
‫اول تا آخر میرٹ کے درجے پر فائز نہیں ہو پاتے۔‬
‫جو لوگ کاؼذ للم متحرک رکھتے ہیں متاثرین بھی‬
‫انھیں درخواست باز ایسے ثمیل لمب سے ملموب کرتے‬
‫ہیں۔ وہ اس لسم کے بیان دفتر شاہی کی خوشنودی‬
‫کے لیے داؼتے ہیں۔ دوسرا ان کے پیسے پھسے‬
‫ہوئے ہوتے ہیں اور دفترشاہی ان پر ؼصہ نکالتی ہے۔‬
‫وہ اپنا مال بچانے اور جس کام کے لیے مال دیا گیا‬
‫ہوتا ہے اسے کسسی ناکسی طرح نکلوانے کی فکر‬
‫میں ہوتے ہیں۔ دل میں وہ بھی درخواست باز کے‬

‫ساتھ ہی ہوتے ہیں۔‬

‫دل کو کون دیکھتا ہے لوگ حك اسے ہی سمجھتے‬
‫ہیں جو زبان پر ہوتا ہے۔ ہم سب اہل کوفہ کو آج بھی‬

‫برا بھلا کہتے کہ انہوں نے حسین کا ساتھ نہ دیا۔ یہ‬
‫کوئی نہیں بتاتا گورنر کوفہ نے کس طرح خون سے‬
‫گلیاں رنگ دیں۔ گورنر مورکھ کا سگا ماسڑ تھا۔‬
‫اسی طرح مولوی وچارے کا بھی ذکر آتا ہے۔ بڑے‬
‫بڑے پھنے خان باٹی ٹیک گیے ان کا پیٹ کس طرح‬
‫حسین کو کیوں حك پر مانتا۔ پیٹ اور سچائ دو الگ‬

‫چیزیں ہیں۔‬

‫میں اتنا بڑا جاہل ہوتے ہوئے جمہوریت اور امریکا‬
‫بہادر کے خلاؾ لکھتا رہا۔ مجھے اپنے لکھے پر‬
‫ندامت ہوتی ہے۔ میں اتنی معمولی بات نہ سمجھ سکا‬
‫کہ بادشاہ کا مستمل ہوتے ہوئے بھی پیٹ نہیں بھرتا۔‬
‫مرنے کے بعد بھی اس کا ممبرہ کئ کنال زمین گھرتا‬
‫ہے۔ بادشاہ تو بادشاہ ہے اس کی بیگم کا ممبرہ‬
‫بےحساب رلم ڈکار جاتا ہے۔ زندگی میں کیا کچھ ہضم‬
‫کر جاتی ہو گی‘ مجھ سے جاہل کی سوچ میں بھی‬
‫نہیں آ سکتا۔ بادشاہوں اور اس کے متعلمین کے‬
‫گلچھرے اگر عموم کے سوچ میں آجاءں تو لیامت‬
‫سے پہلے لیامت ہو جائے گی۔ عارضی اور مستمل کا‬
‫معاملہ الگ سے ہے۔ مستتل کا مرتے دم تک پیٹ نہیں‬
‫بھرتا اور آنکھیں تشنہ رہتی ہیں۔ یہی نہیں لوٹنے اور‬

‫سمیٹنے کی اسے جلدی پڑی رہتی ہے۔ عارضی کے‬
‫پاس تو مخصوص اور محدود مدت ہوتی ہے اس لیے‬

‫تن مچانا ؼیر فطری نہیں۔ جمہوریت والے تو چند‬
‫سالوں کے لیے آتے ہیں اس لیے ان کا انھی پانا ؼیر‬
‫فطری نہیں۔ وہ عوام کو کیا کریں‘ انہیں اپنی لوٹ مار‬

‫سے فراؼت ملے گی تو ہی عوام کے سیاپے پیٹیں‬
‫گے۔‬

‫حاکم کبھی ؼلط نہیں ہوتا گویا ہاتھی کے پاؤں میں‬
‫سب کا پاؤں۔ ہاں مات کھا کر سیٹ سے مرحوم ہونے‬
‫والا کبھی درست ہو ہی نہیں سکتا۔ تمام ادارے بشمول‬
‫عساکر‘ فاتح کے ساتھ ہوتے ہیں۔ طالت کے ساتھ سب‬
‫چلتے ہیں۔ یہی اصول رہا ہے اور رہے گا۔ اس کے‬
‫خلاؾ اٹھنے والے سر للم ہوتے رہیں گے۔ نمطے کی‬
‫بات یہ کہ ادارے شاہ کے بل پر کھاتے ہیں اور شاہ‬
‫ان اداروں کے بل پر اندھیر مچاتا ہے۔ نائب لاصد سے‬
‫شاہ تک ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہوتی ہیں۔ لہذا کسی‬
‫چھوٹے کی اس سے بڑے کی شکایت کا فائدہ ہی کیا۔‬

‫تاہم یہ طے ہے کاءنات میں ضدین بھی کام کرتی ہیں۔‬
‫ہر کوئ کسی ناکسی چیز سے ضرور ڈرتا ہے۔ اپنے‬

‫اپنے کام نکلوانے کے لیے تحمیمی عمل کا تیز ہونا‬
‫ضروری ہے۔ ہر بااختیار اور شکار کی چیر پھاڑ کا‬
‫ماہر میل‘ اپنی اور پرائی منہ متھے والی فیمیل سے‬
‫ڈرتا ہے فیمیل چوہے سے ڈرتی ہے لہذا چوہے‬
‫چھوڑنے سے کام نکل سکتے ہیں۔ برمحل حسب‬
‫ضرورت اور ایکٹیو چوہا نہ چھوڑا گیا تو کام پہلے‬
‫سے بھی بگڑ سکتا ہے۔ حسین کی طرح لبلہ درست‬
‫کرنے کی ضرورت نہیں۔ حسین ایک ہی تھا اور ہم‬
‫حسین نہیں ہیں۔ ہر ولت معاملے کے حوالہ سے اپنے‬
‫ساتھ دوچار چوہے ضرور رکھو اور یہ متعلمہ کی‬
‫سرکاری فیمیل کے دامن میں چھوڑو پھر دیکھو‬
‫ؼاءب سے کیا کیا نمودار ہوتا ہے۔ ؼیر سرکاری‬
‫متعلمہ فیمیل کے دامن بے حیا میں بھی چھوڑا جا‬

‫سکتا ہے۔‬

‫گریڈ ‪ ١٩‬کے ایم فل الاؤنس سے متعلمہ کلرک بادشاہ‬
‫کو معافی کے کھاتا میں رکھیں وہ بڑے معصوم‬

‫شریؾ دیانت دار اور راہ راست کے راہی ہیں۔ دونوں‬
‫بیبیوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ وہ خود ہی سر‬
‫چڑھتی ہیں اور چوتھائی سے زیادہ بالائ چٹ کر جاتی‬
‫ہیں۔ ان سے لسم لے لو جو آج تک انہوں نے کبھی‬

‫دعوت خورد و نوش کی دعوت دی ہو مگر حسین‬
‫مہمان کی مہمانی کو بھی صرؾ نظر نہیں کیا جا سکتا۔‬

‫یہ کفران نعمت کے مترادؾ ہے۔‬

‫ان پر فضول خرچی کا الزام لطعی ؼلط بےبنیاد اور‬
‫معنویت سے تہی ہے۔ وہ پلے سے ایک اکنی تک‬
‫خرچ نہیں کرتے۔ سگریٹ کے پنے میں بڑی احتیاط‬
‫سے محفوظ کی گئ جاز کی سم میں بالائی سے بیلنس‬
‫ڈلوا کر پییکج کرکے اپنی معزز ؼیر سرکاری خواتین‬
‫سے چھپ چھپا کر کچھ ہی ولت کے لیے تو خوش‬
‫طبعی اور گوارا خوش طبعی فرماتے ہیں۔ وہ کوئی‬
‫اکیلے ہیں جو ان کی پیٹھ پیچھے ساتھ والے ؼلط سلط‬
‫باتیں کرتے ہیں۔ چؽلی بہت بری بیماری ہے۔ اسلام اس‬
‫کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ساتھ والے کون سا ہل پر‬
‫نہائے ہوئے ہیں۔ ٹھرک اور جنسی عشك بازی تو‬
‫روٹین کا معاملہ ٹھہرا ہے۔ اس حمام میں حسب توفیك‬
‫تمریبا سارے بےلباس ہیں ۔ ان کی بےلباسی میں بھی‬
‫حسن سلیمہ اور کمال کا رکھ رکھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس‬

‫کی باذوق حضرات کو کھل کر داد دینی چاہیے۔‬

‫میں نے یہ محض چوہا چھوڑا ہے اسے سچ نہ‬

‫سمجھا جائے ورنہ وہ تو دیانت اور شرافت میں اپنی‬
‫مثال آپ ہیں۔ انہوں نے آج تک میلی اور سچی آنکھ‬
‫سے کبھی کسی ؼیر سرکاری عورت کو نہیں دیکھا۔‬
‫انہوں نے آج تک کسی سے ایک دمڑی تک نہیں لی۔‬

‫اگر لی ہو تو رشوت دینے والے کے ہاتھوں میں‬
‫لبری کیڑے پڑیں۔ اس کا نہ اس جگ بھلا ہو اور ناہی‬
‫لیامت کے دن چھٹکارہ ہو۔ رشوت دینے والے سیدھے‬
‫دوزخ میں جائیں گیے۔ جائز کام نہ کرائیں گے تو مر‬

‫نہیں جائیں گے۔ انھیں یہ صاحب نائی بھیج کرنہیں‬
‫بلواتے خود اپنے لدموں پر چل کر جاتے ہیں۔ رہ گئ‬
‫خواتین کی بات اسے چوہا سمجھ کرنظرانداز کر دیں۔‬
‫ایسی کوئی بات ہی نہیں۔ یمین نہیں آتا تو ان سے یا ان‬
‫خواتین سے لسم لے لیں۔ لسم کے معاملہ میں مجھے‬
‫نہ لائیں۔ میں کسی کے ذاتی معاملہ میں دخل اندازی کا‬

‫لائل نہیں۔‬

‫میں نے آؼاز میں عرض کیا تھا کہ زندگی بڑی پچیدہ‬
‫اور الجھی ہوئ گھتی ہے۔ اسے سمجھنا آسان نہیں۔ ہم‬
‫جو دیکھ یا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اصلی اور حمیمی‬

‫نہیں ہوتا۔ موصوؾ کی سرکاری محترمہ کو محض‬
‫شک تھا۔ شک کوئی اچھی اور صحت مند چیز نہیں۔‬

‫اپنے جیون ساتھی پر شک کرنے سے پاپ لگتا ہے۔‬
‫شک درمیان کی چیز ہے گویا نہ مونٹ نہ مذکر۔ انھیں‬
‫شک سے دور رہنا چاہیے یا ہونی سمجھ کر صبر و‬

‫شکر سے کام لینا چاہیے عالی ظرؾ لوگوں کا یہی‬
‫طور اور وتیرا رہا ہے۔ ؼلط سمجھنے یا تذبذب کی‬
‫حالت میں زندگی کرنے والے اعتماد کی دولت سے‬
‫محروم ہو جاتے ہیں۔ شک سے جان چھڑا کر اور‬
‫ہونی کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ ایک شخص سارا دن‬
‫کھپتا کھپاتا ہے اسے ٹیسٹ بدلنے کا حك ملنا چاہیے۔‬
‫پرانی اشیاء سے منہ تو نہیں موڑ رہا ہوتا تو پھر رولا‬

‫کس بات کا ہ ِے‬

‫ؼیرملکی بداطواری دفتری اخلالیات اور برفی کی چاٹ‬

‫میرا بیٹا ڈاکٹر سید کنور عباس اول تا آخر پاکستانی‬
‫ہے۔ پاکسستان کی محبت اس کے دل و دماغ میں رچی‬
‫بسی ہوئ ہے تاہم میری طرح اس میں ایک کتی عادت‬

‫موجود ہے۔ دشمن یہاں تک کہ ؼیر مسلم کی اچھی‬

‫عادت اور احسن رویے کی اس کی پیٹھ پیچھے بھی‬
‫تعریؾ کرتا ہے۔ یہ طور اور انداز ہمارے عمومی‬
‫خصاءل سے لطعی ہٹ کر ہے۔ ہم زیادہ تر اپنی اس‬
‫کے بعد موجودہ صاحب التدار طبمے کی تعریؾ کرتے‬
‫ہیں۔ ماضی لریب کے شاہوں کو لطب لریب جبکہ‬
‫ماضی بعید کے شاہوں کو نبی نما لرار دینے میں منٹ‬
‫بھی نہیں لگاتے۔ ہمیں ان کی ناانصافی اور بددیانتی‬
‫بھی ولت کی ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔ ان کی نندا‬
‫کرنے والا مسلمانی کھو بیھٹتا ہے اور واجب المتل‬
‫لرار پاتا ہے۔ میں دائرہءاسلام سے خارج ہونے کا‬
‫کوئ ارادہ نہیں رکھتا اس لیے اس نظریے کی نفی‬
‫نہیں کرتا۔ ہاں ایک مسلم ؼیر ملک اسٹریلیا کے اپنے‬
‫بیٹے کے حوالہ سے‘ جو ان دنوں وہاں الامت رکھتا‬
‫ہے‘ کی پست اخلالی رویے کی مذمت کرتے ہوئے‘‬
‫عرض پرداز ہوں۔ کتنے بداطوار لوگ ہیں وہ۔ ہمارے‬
‫ہاں ایسی بداخلالی اور بداطواری کی دھونڈے سے‬

‫بھی مثال نہیں ملتی۔‬

‫اس کی بیگم مارکیٹ میں کہیں اپنا پرس کھو بیٹھی۔‬
‫پرس میں ضروری کاؼذات کے علاوہ معمول پیسے‬
‫بھی تھے۔ سخت پریشان تھی۔ ٹھیک ایک گھنٹے کے‬

‫بعد ایک پولیس مین آیا اور سب کچھ واپس کر گیا۔‬
‫بس جاتے ہوئے اس نے ایک رجسٹر پر دستخط‬
‫کروائے جس میں پرس میں موجود اشیاء کا اندراج‬
‫تھا۔ رخصت ہوتے ولت مسکراتے ہوئے آل دی بیسٹ‬
‫کہنا نہ بھولا۔ ہم اخلالی حوالہ سے اتنے گیے گزرے‬
‫نہیں ہیں۔ ابھی ہم میں اخلالیات موجود ہے۔ میں لصور‬
‫سے للیانی گیا۔ واپسی پر ویگن کے دروازے سے‬
‫سیٹ تک میری شلوار کی جیب پر کسی نے ہاتھ دیکھا‬
‫دیا۔۔ لدرتی ایک دوسری جیب میں پچاس روپے موجود‬
‫تھے جو میں کرایہ کے لیے دست سوال ہونے سے‬
‫بچ گیا۔ کچھ ہی دنوں بعد بیرنگ لفافہ سے کاؼذات مع‬

‫ضروری نصیحت مل گیے۔‬

‫میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ کسی کام کے لیے کسی‬
‫دفتر میں بار بار کیا ایک بار جانے کی ضرورت نہیں‬
‫پڑتی۔ لانون اور سماجی رویت شکنی کا تصور تک‬

‫موجود نہیں۔ کتنا بے لطؾ بےمزا اور بےذئمہ سا‬
‫ملک ہے۔ آوا جاوی کے بؽیر انجام پانے والے امور‬
‫اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ جب تک دو چار جوتے نہ‬
‫ٹوٹیں اور جیب ہولی نہ ہو‘ وہ کام بھی بھلا کوئی کام‬
‫ہوئے؟ہمارے ہاں کوئ ایک دفتر نہیں تمریبا سارے‬

‫دفتر اخلاق کے بلند درجے پر فائز ہیں۔ مک مکا چاء‬
‫پانی اور لفافہ بازی پورے عروج پر ہے۔ میں عصر‬
‫حاضر کے پاکستان کا سچا اور پکا باشندہ ہوں میری‬
‫اتنی اولات اور مجال کہاں جو دفتر شاہی کی گردن پر‬
‫لفظوں کا انگوٹھا رکھوں۔ میں تو ان کی اعلی اخلالی‬
‫رویات پر انگلی بھی نہیں رکھ سکتا۔ ہر علالے کے‬
‫اپنے اصول اوراخلالی ضابطے ہوتے ہیں۔ دوسرا ہر‬
‫عہد اپنے حالات اور ضروریات کے مطابك رویات‬
‫تشکیل دیتا ہے۔ میرے ابے کا دور انگریز دشمن تھا‬
‫تبھی تو وہ مسلم لیگ کا پیٹھو تھا۔ بےکار میں ولت‬
‫ضاءع کرتا رہا۔ ورثہ میں بھوک ننگ چھوڑ گیا۔ بڑی‬
‫بڑی کہانیاں سناتا تھا اور سمجھتا تھا ان لوگوں نے‬
‫بڑا معرکہ مارا ہے۔ ہم ان سے بےولوؾ نہیں ہیں‘‬
‫پچھلی صفوں میں رہ کر چوپڑی کھاتے ہیں۔ دانشمندی‬
‫کا تماضا بھی یہی ہے۔ میرے ابے کے دور میں بھی‬
‫اس اعلی اخلالی ضابطے کے حامل لوگ موجود تھے۔‬
‫چوپڑی سے ان کے منہ اور کھیسے بھرے رہتے‬
‫تھے۔ اتنا چھوڑ گیے کہ آج بھی ان کی نسلیں موج‬
‫میں ہیں۔ ان کے طہارت کدے بھی حسن واخلاق کے‬

‫بلند مرتبے پر فائز ہیں۔‬

‫میں عصر دوراں کی دفتر شاہی خصوصا کلرک بادشاہ‬
‫کا ہتھ بدھا خادم ہوں۔ میں کیا بڑے بڑے پھنے خاں ان‬
‫کے ڈیروں پر منمناتے‘ پانی بھرتے اور نذر نیاز پیش‬
‫کرتے ددیکھے گیے ہیں۔ جو ان کی بادشاہی و خدائ‬
‫کے مرتد اور رائندہ ہیں یا حاضری سے اجتناب برتتے‬

‫ہیں‘ لاکھ درخواستیں رجسڑڈ ڈاک یا ای میل کرتے‬
‫رہیں نامراد رہتے ہیں۔ درخواست یا ای میل افسر کے‬

‫ہاتھ میں جائے گی تو ہی کام ہو گا۔‬
‫زیادہ تر ان کے افسر سے ہاتھ رلے ہوتے ہہں۔ میں‬

‫یہ ہوا میں نہیں چھوڑ رہا۔ میں نے اپنے ایم فل‬
‫الاؤنس کے سلسلے میں پہلی درخواست اکیس اکتوبر‬
‫انیس سو ستانویں کو گزاری اور آخری گیارہ نومبر‬
‫بیس سو تیرہ کو سیکٹریری ہاہر ایجوکیشن پنجاب کے‬

‫حضور گزاری۔ ان میں سے کسی درخواست کو‬
‫سیکٹریری صاحب سے ملالات کا شرؾ حاصل ہو جاتا‬
‫تو الاؤنس ملتا یا نہ ملتا جواب ضرور ملتا۔ جواب کو‬
‫اس کے اصلی اور مستعمل معنوں میں لیں۔ جاؤ نہیں‬

‫دیتے‘ تمہارا ایم فل علامہ البال اوپن یونیورسٹی کا‬
‫ہے جو اپنے ٹیوٹر سے بلامعاوضہ کام کرواتی ہے۔‬
‫ثبوت کے لیے اسے دور نہ جانا پڑتا۔ اسے میری ہہی‬
‫فائل سے اگست ‪ ٢٠٠٥‬میں کیے گیے کام کی عدم‬

‫ادائیگی سے متعلك گزاری گئ بہت سی درخواستیں مل‬
‫جاتیں‬

‫درخواستوں کے جواب نہ دینے اور بابو کی فاءل کے‬
‫بیچھے زبردست حکمت موجود ہے۔ سائل کب تک‬
‫درخواستیں گزارے گا آخر اسے آستانہ عالیہ میں‬
‫حاضر ہونا ہی پڑے گا۔ مال تو خیر ملے گا ہی لیکن‬

‫سائل کی میں میں کا سواد ہی اور ہے۔ اپنے سے کہیں‬
‫بڑے گریڈ والے کا دو زانو بیٹھ کر بالاتری اور‬
‫بااختیاری کا اعتراؾ اسٹریلیا کی دفترشاہی کو کیا‬

‫معلوم۔ وہ اس ترلی یافتہ دور میں بھی دور جہالت کی‬
‫زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں کے بابو اس لسم کی اعلی‬
‫ظرفی اور اعلی اخلالی الدار سے محروم ہیں۔ انھیں‬

‫برفی کی بلا دام چاٹ نہیں لگی۔‬

‫اپنے پلے سے کھایا تو کیا کھایا۔ اپنے پلے سے برفی‬
‫تو دور کی بات نان چھولے نہیں کھاءے جا سکتے۔‬
‫انھیں فمط دو چار ہفتے پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ‬
‫فاؤنڈیشن کے تمدس مآب دفتر میں لا کر بیٹھا دیا‬
‫جائے پوری سروس کی کمائی جیب لگ جاءے گی۔‬
‫مہامنشی ہاؤس کے لوگ خانے خان بنے پھرتے ہیں‬

‫یہاں ان کے بھی بملم خود استاد تشریؾ رکھتے ہیں۔‬
‫یہ سب کرپشن نہیں‘ یہ تو بالائی ہے۔ آگ چڑھے دودھ‬

‫پر ہی بالائی آتی ہے۔ سارا دن بیوی بچوں کو چھوڑ‬
‫کر بالائی کے ڈھنگ اور نسخے تلاشنا اور سوچنا‬
‫ایسا آسان کام نہیں۔ باہر بیٹھ کر ٹکے ٹکے کی باتیں‬
‫کرنا آسان ہے میدان میں اترنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ‬
‫بلاشبہ بڑے عظیم اور پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کی‬
‫عظمت کو بڑے ادب اور احترام سے ست سلام اور‬

‫پرنام ۔‬

‫مہامنشی ہاؤس اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ‬
‫فاؤنڈیشن کی پہنچ اور عزیزداری کا اندازہ اس سے‬
‫لگایا جا سکتا ہے کہ عزت مآب واپڈا ان کا پانی بھرتا‬
‫ہے۔ میں یہ تحریر اس سے پہلے چار مرتبہ ٹائپ کر‬
‫چکا ہوں۔ جونہی سیؾ کرنے لگا بجلی چلی گئ اور‬
‫اگلے ہی لمحے آگئ۔ پہلے تو میں اسے محض اتفاق‬
‫سمجھا جب یہی دوسری تیسری اور پھر چوتھی بار‬
‫ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ واپڈا ہر دو متذکرہ‬

‫محکمہ ہذا کو کتنا عزیز اور محترم رکھتا ہے۔‬

‫میں وفالی محتسب اور صوبائ محتسب کے حوالہ‬

‫سے معاملات کے متعلك درخواستیں گزارنے والا تھا‬
‫کہ خیال گزرا کیوں نہ جاپان اردو نیٹ کے ذریعے اپنی‬

‫آواز متعلمین تک ہپنچاؤں۔ خدانخواستہ میں ان کے‬
‫خلاؾ کوئی شکایت کرنے والا نہیں تھا۔ میں تو صرؾ‬

‫اتنا عرض کرنا چاہتا تھا کہ جب جب کسی کی‬
‫درخواست آئے اس کا جواب دے دیا جائے۔ کون سا‬
‫پلے سے ڈاک خرچ دینا ہے۔ سرکاری کاؼذ سرکاری‬
‫لفافہ اور سرکاری ٹکٹیں لگنا ہیں۔ لکھنا صرؾ اتنا‬
‫ہے باری پر آپ کے مسلے پر ؼور کیا جائے گا۔ اتنا‬
‫بڑا صوبہ ہے باری آتے آتے‘ آئے گی نا۔ باری کے‬
‫انتظاری میں مفتا مر جائے گا اور معاملہ محض لصہء‬
‫ماضی ہو کر رہ جائے گا۔ گویا سانپ بھی اپنی آئی‬

‫مرے گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی۔‬

‫میاں شہباز شریؾ نے جس لگن اور محنت سے کام‬
‫کیا ہے اس کی تعریؾ نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔‬
‫جہاں اتنے کام کیے ہیں وہاں ایک اور کام کردیں تو‬
‫دعاؤں کا شمار نہیں رہے گا۔ دو چار مخیر حضرات‬
‫بھی صلہء رحمی کے حوالہ سے یہ کام کر سکتے‬
‫ہیں۔ میاں صاحب ایک محکمہ لاءم کریں جو میر منشی‬
‫گاہ کے بابو حضرات کی بالائ کا اہتمام کرے۔ سائل آ‬

‫کر رلم بتائے یہ محکمہ ضروری پوچھ گچھ اور‬
‫کنفرمشن کے بعد ساءل کو مطلوبہ رلم فراہم کر دے یا‬

‫پھر ضروری بارگینگ یعنی مک مکا کر لے۔ اسی‬
‫طرح بجلی کے دونوں طرؾ بہت کچھ لکھا ہوتا ہے‬
‫مزید صرؾ اتنا لکھ دیا جائے کہ لکھنے پڑھنے اور‬
‫ٹائپ کرنے والے حضرات ہم پر نہ رہیں‘ جو کریں‬

‫اپنی ذمہ داری پر کریں۔‬

‫لکھنے میں واپڈا آج سب کا پیو ثابت ہو رہا ہے۔ وہ‬
‫انتہا درجے کے کنگالوں اور ان کے تھرڈ کلاس‬

‫سفارشیوں کو۔۔۔۔۔۔۔ پر لکھتے ہیں۔ سفارش کا دور گیا‘‬
‫اب مال چلتا ہے۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ پرفارما‬

‫پرموششن کا ریٹ چودہ ہزار روپے ہو گیا ہے۔ یہ‬
‫بنیادی خرچہ ہے۔ تکمیل تک بمایا جات کے مطاابك دام‬

‫اٹھیں گے‬
‫اور‬

‫جوتے گھسیں گے۔‬

‫مکرمی حسنی صاحب‪ :‬سلام علیکم‬

‫میرے اس خط کو نشانی سمجھ لیں کہ آپ کا انشائیہ‬
‫میں نے مزے لے لے کر اور با ضابطہ عبرت پکڑپکڑ‬
‫کر پڑھ لیا ہے۔ اگر انشائیہ کا تعلك آپ کے وطن سے‬
‫مخصوص نہ ہوتا اور میں ہندوستان کا سابك شہری نہ‬
‫ہوتا تو کچھ عرض کرتا لیکن تجربوں سے ظاہر ہوگیا‬
‫ہے کہ ایسے نازک معاملات میں خاموشی اچھی ہوتی‬
‫ہے۔ سو میری خاموشی لبول کیجئے اور ساتھ ہی داد‬

‫بھی۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪7961.0‬‬

‫انشورنس والے اور میں اور تو کا فلسفہ‬

‫دنیا ترلی کر رہی ہے‘ یہ ممولہ عام اور بزت سا ہو گیا‬
‫ہے۔ ہر کوئی ترلی اور دودھ کی نہریں بہانے کی باتیں‬
‫تو کرتا ہے لیکن آج تک کسی کو یہ بتانے کی کبھی‬

‫توفیك نہیں ہوئ کہ ترلی کس چڑیا کا نام ہے۔ وہ رنگ‬
‫روپ میں کیسی ہوتی ہے۔ اس کا ساءز کتنا ہوتا ہے۔‬
‫گولی ماریے ان باتوں کو‘ کوئ بس اتنا ہی بتا دے کہ‬
‫وہ کس گلی کس محلے کس کوچے میں بانفس نفیس‬
‫الامت رکھتی ہے۔ دودھ کی نہر یا نہریں بہانے کے‬
‫معاملہ کو چھوڑیے کیونکہ اس کا تعلك لیس المعروؾ‬
‫مجنوں سے ہے۔ اب کون اس کی عشك گذیدہ ہڈیوں‬
‫کو خراب کرے۔ امیدوار حضرات نے اسے بطور محارہ‬
‫استعمال کیا تھا۔ محاورہ میں حمیمی معنی نہیں ہوتے‬
‫اگر حمیمی معنی کود پڑیں تو محاورہ اسے لبولنے‬

‫سے انکار کر دیتا ہے۔۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ‬
‫محاورہ مہارت سے علالہ رکھتا ہے۔ دودھ کی نہریں‬

‫بہانے کا کبھی رواج نہیں رہا۔ ہاں پانی کی نہریں‬
‫کبھی دانستہ کبھی نادانستہ اور کبھی باوجوہ ؼفلت‬
‫چھوڑ کر لوگوں کو ڈبو کر ثواب اور آبادی کم کرنے‬

‫کا رجحان ضرور رہا ہے۔‬

‫یہاں بجلی جاتی اور جاتی ہی ہے تاہم کبھی کبھار اپنے‬
‫ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے اور یہ کوئ معولی‬
‫بات نہیں۔ اگر وہ متوتر رہے تو اس کا لد اور مرتبہ‬

‫صفر ہو کر رہ جاءے گا۔ ہمیں بجلی سے کوئ گلہ‬

‫نہیں اور ناہی اس کے عالی مرتبے سے انکار۔ ہاں‬
‫بجلی والوں سے ایک ناحك اور ناجاءز سا گلہ ضرور‬
‫ہے۔ ہمارے محلے کے ایک مرکزی ممام پر بجلی کے‬
‫تاروں کی چول ذرا ڈھیلی ہے جو ہفتے میں کم از کم‬

‫ایک بار ضرور اکھڑتی ہے جس کے سبب بجلی‬
‫مہاراج کے ہوتے اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ ہر بار ہر‬
‫گھر سے سو سو روپے جمع کیے جاتے ہیں۔ بجلی‬
‫والے آتے ہیں تھوڑا سا اڑا کر چلے جاتے ہیں۔ یہ ان‬
‫کی مستمل آمدنی ہے۔ آج لوگ منتخب ممبر صاحب کے‬

‫ہاں گیے۔ ممبر صاحب کے کاموں نے کافی بیزت‬
‫کرکے الٹے لدموں واپسی کی راہ دکھائی۔ شکر ہے وہ‬

‫خود نہیں ملے ورنہ دو چار پھٹر ضرور ہو جاتے۔‬

‫لوگوں کا گلہ یہ تھا کہ ممبر صاحب نے تو دودھ کی‬
‫نہریں بہا دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہاں تو پینے کے‬

‫لیے پانی تک میسر نہیں۔ ایک صاحب نے بڑی پتے‬
‫کی کہی‘ ممبر صاحب پاور میں ہیں محلے کے چھوٹے‬

‫بڑوں کو بی آر بی پر لے جا کر ڈبکیاں دلائیں گے۔‬
‫اس کے بعد لوگ پانی کا نام تک بھول جائیں گے۔‬
‫میری رائے میں ہر چھوٹے بڑے کو بطور عبرت بجلی‬

‫کے دو چار جھٹکے دے دیے جائیں۔ بجلی کی‬

‫خطرناکی کے زیر اثر اٹھتے بیٹھتے ان کے حلك سے‬
‫آوازے اٹھیں گے نو نو بجلی گو گو۔ ایک صاحب نے‬
‫کہا متعلمہ لائین مین سے مک مکا کر لو اس طرح‬
‫کچھ تو بچت ہو سکے گی۔ میں نے کہا یار ان کی‬
‫ملیں تو نہیں چلتیں انہوں نے بھی تو یہیں سے کھانا‬
‫ہے۔ تنخواہ میں بھنی مچھلی یا مرؼے کی ٹانگیں تو‬

‫نہیں کھائ جا سکتیں۔‬

‫سنتے آءے ہیں زندہ لاکھ کا مردہ سوا لاکھ کا۔ زمانے‬
‫کی ترلی کے ساتھ ہی یہ ممولہ بھی بدل گیا ہے۔ اب‬
‫صورت کچھ یوں ہے کہ مردہ لاکھ کا زندہ سوا لاکھ کا۔‬
‫یہ ممولہ اہل واپڈا تک محدود نہیں اس میں ساری دفتر‬
‫خدائ آ جاتی ہے۔ زندہ جس طرح اندھیر مچاتا ہے‬
‫مردہ تو اس نعمت عظمی سے دور رہتا ہے۔ پنشن یا‬
‫دیگر وصولیاں زندہ کی چند ماہ کی مار نہیں ہوتیں۔‬
‫کچھ زیادتیاں زندہ لوگوں کے ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ مثلا‬
‫ملازم کی تنخواہ سے انشورنس کی جبری کٹوتی ہوتی‬
‫ہے اور یہ معمول کٹوتی تا سروس ہوتی رہتی ہے۔ جب‬
‫وہ ریٹائر ہوتا ہے اسے اس کی تنخواہ سے کی گئ‬
‫کٹوتی میں سے ایک پائی تک نہیں دی جاتی۔ مجوزہ‬
‫رلم کی اداءگی اس کی موت سے مشروط ہوتی ہے‬

‫یعنی وہ مرے گا تو ہی انشورنس کی رلم اسے نہیں‘‬
‫اس کے گھر والوں کو ملے گی۔ گھر والے اس کی‬
‫ریٹائرمنٹ تک تو اس کی موت نہیں چاہیں گے۔ وہ‬
‫لاکھ کے لیے سوا لاکھ کی لربانی کیسے اور کیونکر‬
‫گوارہ کریں گے۔ ہاں ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی زندگی‬
‫انہیں خوش نہیں آئے گی۔ گویا ریٹائرمنٹ تک پیدائ‬
‫ملازم سوا لاکھ کا رہتا ہے لیکن اس کے بعد لاکھ کا‬
‫رہ جاتا ہے جبکہ اس کا مرنا سوا لاکھ کا ٹھہرتا ہے۔‬

‫جیتے جی مرنے والا محروم گھر والوں کے لیے‬
‫سہولتیں پیدا کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ مرنے‬
‫کے بعد انشورنس والوں کو یاد دلانے اور مک مکا‬
‫کرنے والے بیوہ اور یتیم بچے یاد آ جاتے ہیں۔ وہ‬
‫گھر والے جو زندگی میں اسے ضرورتوں کی صلیب‬
‫پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد انہیں کبھی اس‬

‫کی لبر پر دعا فاتحہ تک کہنا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ‬
‫صرؾ کاؼذوں میں بطور خاوند یا باپ بادل نخواستہ‬
‫تکلفا یاد رکھا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ بیٹی کے‬
‫جہیز کی عدم دستیابی کے ؼم میں موت کے حوالے‬
‫ہوا ہو۔ حك اور انصاؾ کا تماضا یہی ہے کہ انشورنس‬
‫والے جس کی تنخواہ سے جگا وصول کرتے ہیں‘‬

‫ریٹائرمنٹ پر اس کی اپنی رلم جو اس سے وصول کی‬
‫گئ ہوتی ہے اسے ادا کریں تاکہ بڑھاپے میں اس کے‬
‫جیتے جی کسی کام آ سکے۔ کٹوتیاں کرنے والا کوئی‬
‫بھی محکمہ ہو‘ لینے میں نر شیر ببر ہوتا ہے لیکن‬
‫اس کی اپنی رلم دینے کے معاملہ میں اسے مرگی پڑ‬

‫جاتی ہے۔ یہ معاملہ ؼور منٹ تک محدود نہیں‬
‫حکومت خانہ بھی اس کی پیرو ہے۔ وصول تو پائی‬
‫پائی کر لیتی ہے ضرورت پر کچھ طلب کر لو تو‬
‫سماعت کے دروازے بند اور زبان کے دروازے کھل‬

‫جاتے ہیں۔‬

‫اصل حیرت اس بات پر ہے کہ آئیس کریم اور سوہن‬
‫حلوا کھانے اور سو طرح کے مہنگے مشروب پینے‬
‫والی زبان حنطل سے بڑھ کر کڑوی کیوں ہو جاتی ہے۔‬
‫زبان بھی نءے دور کی ہو گئ ہے اگلے زمانے میں‬
‫زبان کہے پر اٹل رہتی تھی۔ ٹانگر اور مسی روٹی کی‬
‫تاثیر اٹھ گئ ہے۔ آج گورمے کا چرچا ہے۔ نئی نئی‬
‫اشیا کو چھوڑ کر ٹانگر اور مرونذے کو کون پوچھتا‬
‫ہے تب ہی تو زبان بھی سو طرح کی کرواٹیں لینے کی‬
‫عادی ہو گئی ہے۔اگلے زمانے میں بکرے میں میں کیا‬
‫کرتے تھے لیکن آج دفتروں میں سائل اور گھر پر‬

‫‪.‬شوہر نامدار میں میں کرتے نظر آتے ہیں۔‬

‫ویسے تحمیك کر دیکھیں زندگی میں‘ میں میں کا‬
‫ؼلبہ رہا ہے۔ گنتی کے چند لوگ تو تو کے مرتبے پر‬
‫فائز ہو کر آج بھی احترام کے مستحك ٹھہرے ہیں۔‬
‫میں شریؾ کے حامل لوگ انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ ان‬
‫کی تو میں والوں سے علالہ نہیں رکھتی۔ اگر تو سے‬
‫مراد میں والے ہوتے تو آج بھی خان خاناں ہوتے۔ ان‬
‫کی تو سے مراد الله کی ذات گرامی ہے۔ آج تو تو کا‬
‫نعرہ بلند کرکے بڑے لوگ خود میں کے درجے پر‬
‫فائز ہو گیے ہیں۔ زہے افسوس شاہی تو تو ہر کسی‬

‫کا نصیبا نہیں ٹھہرتی۔‬

‫! عزیز گرامی حسنی صاحب ‪:‬سلام شوق‬

‫آپ کا انشائیہ پڑھ کر مزا آ گیا۔ کاش آپ اپنی اس‬
‫صلاحیت پر مزید محنت کریں اور مزاح اور طنز کی‬
‫دنیا میں ایک ممام بنا لیں۔ آپ کا للم نہایت شگفتہ و‬
‫شستہ ہے‪ ،‬خیال آرائی اور منظر کشی میں آپ ماہر‬
‫ہیں‪،‬زبان و بیان بہت اچھے ہیں تو پھر دیر کس بات‬

‫کی؟ میری مخلصانہ گزارش ہے کہ طنز ومزاح کی‬
‫جانب سجنیدگی سے توجہ دیں اور اپنے انداز فکر و‬
‫سخن کو نکھاریں۔ اردو میں طنز و مزاح بہت کم ہے‬
‫کیونکہ ہماری زندگی اور معاشرہ خود درد و رنج اور‬
‫استحصال کا مارا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسان کی‬
‫زندگی عذاب ہو تو اس کو ہنسی کیسے سوجھے گی؟‬
‫اس حوالے سے مزاح نگار ایک رحمت بن جاتا ہے‬
‫کیونکہ وہ لوگوں کو ہنساتا ہے اور سبك سکھاتا ہے۔‬
‫آپ کا انشائیہ صرؾ واپڈا کا انشائیہ نہیں ہے بلکہ ہر‬
‫ایسے ادارہ اور ایسے لوگوں کا خاکہ ہے جنہوں نے‬

‫عوام کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔‬

‫اچھے انشائیہ پر داد لبول کیجئے اور میری گزارش‬
‫پر ضرور سوچئے اور کام کیجئے۔ شکریہ ۔ بالی‬
‫راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪7974.0‬‬

‫دمہ گذیدہ دفتر شاہی اور بیمار بابا‬

‫یہاں ایک بابا پہلے کئ دنوں اور اب کئ مہنوں سے‬
‫بیمار چلا آتا ہے۔ حرام ہے جو مرنے کا نام لے رہا ہو۔‬

‫اگرچہ وہ لمبی چوڑی عمر کا نہیں۔ یہی کوئی ساٹھ‬
‫باٹھ کا ہو گا۔ عصری حالات اور خاندانی ضروریات‬
‫کے پیش نظر اب تک اسے مر جانا چاہیے تھا۔ الله‬
‫جانے کس مٹی سے اٹھا ہے۔ بڑے بڑے پھنے خان‬
‫بابے دیکھے ہیں‘ بیماری کے ایک ہی جھٹکے سے‬
‫انالله ہو گیے۔ ان کے اٹھنے سے گھر والوں کی‬
‫بےجا ڈاکٹروں کے پاس آنیاں جانیاں ختم ہو گیں۔ گھر‬
‫والی اور اولاد خوشی سے بابے کی بیماریی کی فٹیک‬
‫برداشت کر نہیں رہے تھے۔ دنیاداری بھی آخر کوئی‬

‫چیز ہوتی ہے۔‬

‫ہمارے ہمسارے میں ایک مائ تھی اور کپتی کے نام‬
‫سے پورے علالہ میں شہرہ رکھتی تھی۔ اس کا میاں‬
‫شریؾ آدمی اور بلا کا مولع شناس تھا۔ بیماری کے‬

‫پہلے ہی جھٹکے میں وہ گیا۔ مائی بڑی دیالو تھی‬

‫بڑھاپے میں بھی دیا کے بلند ممام پر فائز تھی۔ کوئ‬
‫نہیں کہتا تھا کہ اسے بھی کبھی موت آءے گی۔ فرشتہ‬

‫اجل بھی اس کے لریب آنے سے لرزتا ہو گا۔ ہاں‬
‫فیض کی حصولی کے لیے اسے کبھی معمانت نہیں‬
‫رہی ہو گی۔ بیمار پڑی؛ اہل ذوق تو اہل ذوق‘ اس کا‬
‫چھوٹا بیٹا پوری دیانتت داری سے اسے ڈاکٹروں کے‬
‫پاس لیا پھرا تاہم چند دن ہی چلی اور اہل للب و نظر‬
‫کے لیے پچھتاوا چھوڑ گئ۔ اس کی بڑی بہو بڑی‬
‫روئی۔ لوگوں کو ساس کے ساتھ اس کی مخلصی کا‬
‫یمین ہو گیا۔ جو بھی سہی میں اس بابے کی کرنی کا‬
‫معتمد ضرور ہو گیا جس کے تعویزوں نے بڑی بہو کو‬
‫یہ دن دکھایا ورنہ وہ فرشتہ اجل کی گرفت میں آنے‬

‫والی مائی ہی نہ تھی۔‬

‫خدا معلوم یہ ساٹھ باٹھ سالہ بابا کس لسم کا ہے‬
‫جسے اتنی کرنی والے بابے کے تعویزوں نے بھی‬
‫کچھ نہیں کیا۔ باچیاں نکلی پڑی ہیں اور حد درجہ کی‬
‫کمزوری وارد ہو چکی ہے‘ اس کے باوجود مرنے کا‬
‫نام نہیں لے رہا۔ بعید از لیاس نہیں کہ اسے زندگی لڑ‬
‫گئی ہو۔ عین ممکن ہے کہ خضر آب حیات کے دوچار‬
‫گھونٹ عطا کر گیے ہوں۔ دیوتاؤں سے بھی اس کا‬

‫بگارڑ نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی دیوتا بصد مشمت‬
‫نکالے گیے امرت میں سے دو گھونٹ چپکے سے پلا‬

‫گیا ہو۔‬

‫پرانا اور تجربہ کار ہوتے ہوئے نہیں سمجھ پا رہا کہ‬
‫کتنوں کا مستمبل خراب کر رہا ہے۔۔ اس کے مرنے‬
‫سے بڑا کاروبار وسیع کر سکتا ہے۔ چھوٹے کی تین‬
‫جوان بیٹیاں‘ جن کی اب شادی ہو جانا چاہیے جبکہ‬
‫منجھلا اپنا بیٹا دوبئی بھیجنا چاہتا ہے۔ اسے باہر مفت‬
‫تو نہیں ببھجا جا سکتا‘ دام لگتے ہیں۔ یہی صورت‬
‫حال اس کی لڑکیوں کی ہے۔ کئ خاندانوں کی ترلی‬
‫خوشحالی اور آسؤدگی بابے کی موت سے وابستہ ہے۔‬
‫اتنی موٹی اور واضح بات بابے کی سمجھ میں نہیں آ‬
‫رہی۔ بیمار اور لاؼر زندگی سے برابر علیک سلیک‬

‫بڑھائے چلا جا رہا ہے۔‬

‫ایک ہفتہ پہلے میری اس سے بستر حیات پر ملالات‬
‫ہوئی۔ بچے پرامید نگاہوں سے اس کی آؤبھگت کر‬
‫رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ بابا‬
‫چلتے پھرتے ولتوں میں میرے ملنے والوں میں تھا۔‬
‫بچے اس کے میرے تعلمات سے والؾ تھے۔ انہوں‬

‫نے مجھے امید بھری نظروں سے دیکھا اور اندر‬
‫چلے گیے۔۔ ان کا خیال تھا کہ میں ان کے ڈھیٹ اور‬
‫جینے پر مصر بابے کو سمجھاؤں گا۔ وہ کیا جانیں کہ‬
‫ان کا بابا کتنا ضدی ہے۔ میں نے پوچھا یار تم نے‬
‫رشوت کی کمائی سے اتنی جاءیداد کیوں بنائ۔ مرنے‬
‫والے ہو الله کو جواب تو تمہیں ہی دینا پڑے گا۔ جواب‬
‫میں کہنے لگا مریں میرے دشمن‘ میں کیوں مروں۔‬
‫اکیلے میں نے تھوڑی بنائ ہے ساری دنیا اسی طرح‬
‫جاءدایں اور بینک بیلنس بناتی ہے۔ اتنے لوگوں کے‬
‫لیے جہنم میں جگہ کب ہو گی۔ میں وہاں جا کر بھی‬
‫لبضہ گروپ کا لیڈر ہوں گا۔ ٹہوہر میں گزاری ہے‘‬
‫فکر نہ کرو وہاں بھی ٹہوہر کی گززے گی۔ بیشک الله‬
‫بڑا بےنیاز ہے۔ میں نے کہا یار یہ جاءداد اپنے جیتے‬
‫جی ان میں تمسیم کر دو۔ کیوں تمسیم کر دوں۔ جائیداد‬

‫میری ہے کسی کو دوں نہ دوں میری مرضی۔‬

‫اگر میں نے تمسیم کر دی تو ان میں سے کسی نے‬
‫پوچھنا تک نہیں۔ گھر سے باہر نکال دیں گے۔ اس کی‬
‫بات میں دم بھی تھا اور خم بھی۔ میں یہ اندازہ نہیں‬

‫کر سکا کہ ان میں زیادہ کیا تھا۔ اس کے پاس میں‬
‫لریبا بیس پچیس منٹ اس خوؾ کے ساتھ بیٹھا رہا کہ‬

‫کہیں یہ نہ کہہ دے کہ تم بھی دو چار سال کے ہیر‬
‫پھیر سے میرے ہم عمر ہو ابھی مرے کیوں نہیں۔‬
‫شاید اس لیے نہ بولا کہ میرے پاس ہے ہی کیا۔ زندہ‬
‫ہوں کچھ ناکچھ تو لاتا ہوں۔ اور کچھ نہیں تو تھیلا‬
‫برداری سے تو جڑا ہوا ہوں۔ دوسرا اور کوئی اتنی‬
‫بےعزتی کیوں کراے گا۔ شوہر کا بےعزتی کرائ کے‬

‫لیے پہلے سوال کی طرح بہرطور لازمی ہے۔‬

‫اب اس صورتحال کے تحت میں کیا عرض کر سکتا‬
‫ہوں تاہم مجھے بڈھے کی اولاد میں کمی اور خرابی‬
‫نظر آئ۔ جو خود محنت اور مشمت کرنے کی بجاءے‬
‫اوروں کی کمائ پر مستمبل سنوارنے کی آشا کرنے‬
‫والے زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ اور دو لسم کے‬

‫ہوتے ہیں۔ ایک بابے وؼیرہ دوسری دفتر شاہی‬
‫وؼیرہ۔ ثانی الذکر کو اوروں میں شمار نہ کریں۔‬
‫سائلین سے وصولیاں وؼیرہ دفتری لوگوں کا اصولی‬
‫استحماق ہوتا ہے۔ پڑھائی لکھائی اور نوکری کی‬
‫حصولی پر خرچہ کرکے اگر بہت یا بہت سے بڑھ کر‬

‫وصولا نہ گیا تو کیا فائدہ‬

‫بابے کے اپنے نما اپنے خود کو پنجاب سرونٹس‬

‫ہاؤسنگ فاؤنڈیشن والے سمجھتے ہیں جو سراپا‬
‫دیسی گھی کی کڑاہی میں ہیں۔ کملوں کو اتنی بات‬
‫سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ سرکاری لٹیرے ہیں۔ انہیں‬
‫تو پوچھ کرنے والوں کا اشیرباد حاصل ہے۔ دوسرا وہ‬
‫لوگوں کا کام کرتے ہیں۔ تیسری بڑی بات یہ کہ وہ تو‬
‫بھرتی ہی لوٹ مچانے کے لیے ہوئے ہیں۔ لوٹ سیل‬

‫تو ان کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔‬

‫مانتا ہوں بابے کا مال بھی لوٹ کا ہے لیکن وہ مال تو‬
‫ہے اور مال بھلا کون کسی کو دیتا ہے۔ گچی پر ناخن‬
‫آءے تو ہی کھیسہ ڈھیلا ہو سکتا ہے۔ کملے بابے کو‬
‫کسی پھسنی میں پھاسائیں‘ خود ہی جڑے گا۔ مجھے‬
‫بابے کے اپنوں پر افسوس ہوتا ہے۔ بیمار بابا ان سے‬
‫برداشت نہیں ہو رہا۔ بڑے ہی دکھ اور افسوس کی بات‬
‫ہے۔ پاکستان کو بنے ایک صدی ناسہی کچھ ہی سالوں‬
‫بعد ہو جائے گی‘ بیمار لاؼر اور دمہ گزیدہ دفتر اور‬
‫افسر شاہی سے کام چل رہا ہے اور خوب چل رہا ہے۔‬
‫انہیں اپنے بیمار لاؼر‘ دمہ گرفتہ نہیں‘ بوڑھے سے‬
‫کام چلاتے ہوئے مری پڑتی ہے۔ بیمار لاؼر اور دمہ‬
‫گذیدہ دفتر اور افسر شاہی کے مرنے کے دور تک آثار‬
‫نہیں۔ سچی کہوں گا چاہے بڈھے کے گھر والوں کو‬

‫ؼصہ ہی لگے‘ بابے کے مرنے کے مجھے دور تک‬
‫آثار نظر نہیں آئے۔ ان کنبوں کا مستمبل اسی طرح‬
‫تذبذب کی صلیب پر لٹکا رہے گا اور یہ میں پورے‬
‫یمین کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔‬

‫لاٹھی والے کی بھینس‬

‫لاہور بورڈ نے میری پنشنری ؼربت سے متاثر اور‬
‫عبرت پکڑتے ہوئے مجھے ہیڈ ایگزامینر ممرر کر دیا۔‬
‫میں کام کی ؼرض سے نکلنے لگا۔ دروازے سے ایک‬
‫لدم باہر اور ایک لدم اندر تھا کہ زوجہ ماجدہ کی پیار‬
‫بھری آواز واپسی بلاوے کی صورت میں میرے ناچیز‬
‫اور پراز گناہ کانوں میں پڑی۔ بڑھاپے کے باوجود میں‬
‫پوری پھرتی اور کسی نوبہاتا نوجوان کی طرح واپس‬
‫پلٹا۔ زوجہ حضور کے ہاتھ میں منڈی کے سامان کی‬

‫لسٹ تھی۔ سخت گھبرایا اور نزع کی حالت کے نیم‬
‫مردہ شخص کی طرح منمنایا بلکہ گڑگڑایا‪ :‬رمضان کی‬
‫برکتوں کے سبب منڈی کی اشیاء دسترس سے باہر ہو‬

‫گئ ہیں۔ بس دو چار روز صبر فرما لیں پھر سب کچھ‬
‫آپ کے ممدس چرنوں میں ہو گا۔ بس پھر کیا تھا کام‬

‫اسٹارٹ ہو گیا جیسے میں نے کوئی ماں بہن کی‬
‫بےلباس گالی نکال دی ہو۔ یہ کوئی ایسی نئ بات نہیں‬

‫تھی تحفظ عزت و مال کے لیے سارا دن بےعزتی‬
‫کرانا میرے معمول کا حصہ ہے۔ میں نے بھی دل ہی‬
‫دل میں جی بھر سنائیں۔ سالی یوں گرج برس رہی ہے‬
‫جیسے روزہ میرے لیے رکھا ہو۔ باور رہے یہ بھی دل‬
‫ہی دل میں کہا۔ اونچی آواز میں کچھ کہنا میرے کیا‬

‫بڑے بڑوں کے ابے کے بس کا روگ نہیں رہا۔‬

‫بیگمی حوصلہ اور عزت افزائی کے باوجود میں خود‬
‫کو معاشرے کا معزز شہری سمجھتا ہوں۔ لوگ تو خیر‬
‫اس ؼلط فہمی میں مبتلا ہیں ہی۔ وہ کیا جانیں روزوں‬
‫میں منڈی چڑھنے کے ساتھ ہی میری عزت اور ولار‬
‫بےعزتی کی سولی پر مصلوب ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا‬
‫ہے اوروں کے ساتھ بھی کم وبیش یہی ہوتا ہو تاہم‬
‫میرے ساتھ باالضرور ہوتا ہے اور شاید یہی ممدر اور‬

‫نصیبا رہا ہو۔‬

‫سنٹر میں ابھی میں نے تشریؾ نہیں رکھی تھی کہ‬

‫ایک بی بی جو میری سب تھی اپنا کام لے کر آ گئ۔‬
‫سر میرا کیا لصور ہے جو کلرک کام میں دیری کرتا‬
‫ہے بمعنی دوسروں کے پہلے کرتا ہے حالانکہ اسے‬
‫لیڈیز فسٹ کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے گویا‬
‫جس کا کام کر رہا ہوتا ہے اسے موخر کے کھاتے‬
‫میں ڈال دے۔ اس کے سوال کا جواب دینے کی بجاءے‬
‫منہ سے بےساختہ اور بےمحل نکل گیا‘ جانے کیا کر‬
‫بیٹھا ہوں جو گھر میں بھی عورتیں دیکھنے کو ملتی‬
‫ہیں باہر آؤ تو بھی عورتوں سے پالا پڑتا ہے۔ کہنے‬
‫کو تو کہہ گیا لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ کچھ‬
‫زیادہ ہی ؼلط کہہ گیا ہوں۔ بعد میں نے لیپا پوچی کی‬
‫بڑی کوشش کی لیکن اب کیا ہوت کمان سے نکلا تیر‬

‫نشانے پر بیٹھ کر اپنا اثر دکھا چکا تھا۔‬

‫بات آئ گئ ہو کر ولتی طور پر ٹل گئی۔ مارکنگ کا یہ‬
‫آخری دن تھا ایک دوسری خاتون نے برسرعام پوچھا‬
‫سر اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک ذاتی سا سوال پوچھ‬
‫سکتی ہوں۔ ذاتی پر زور تھا سا کا لاحمہ اس نے تکلفا‬
‫استعمال کیا۔ کیا کہہ سکتا تھا ذاتی سا سوال سرعام‬

‫دریافت کر رہی تھی۔ احمك میں ہی تھا جو ماتحت‬
‫لوگوں کے بیچ بیٹھ کر کام کر رہا تھا۔ یہ لوگ تمریبا‬

‫ماتحت تھے میں تو درجہ چہارم کے لوگوں کے ساتھ‬
‫بیٹھ کر پلے سے سب کے لیے چائے منگوا کر پی لیتا‬
‫ہوں‘ گپ شپ کر لیتا ہوں۔ بلاشبہ یہ اصول جاہی کے‬
‫خلاؾ ہے۔ بہر کیؾ میں نے بی بی کو پوچھ گچھ کی‬

‫اجازت دے دی۔‬

‫۔سر آپ کی تینوں بیگمات اسی شہر میں الامت‬
‫رکھتی ہی۔ تین کے ہندسے نے مجھے چکرا دیا۔ پھر‬
‫میں نے سوچا مفت میں ٹہوہر بن رہا ہے اور اس‬
‫حوالہ سے یہ جائے انکار کب ہے۔ نہیں وہ تو ایک ہی‬
‫گھر میں رہتی ہیں۔ جس طرح مجھے تین کے ہندسے‬
‫نے چکرا دیا تھا بالکل اسی طرح بلکہ اس سے بھی‬

‫بڑھ کر اس بی بی کو چکر آ گیا اور میں جوابی‬
‫کاروائی کی اثر انگیزی پر مسرور تھا۔ کچھ ہی لمحوں‬
‫کے بعد میری مسروری کو دیکھ کر اس نے دوسرا‬

‫سوال داغ دیا۔ سر وہ آپس میں خوب لڑتی ہوں گی۔‬
‫میں یہ کہہ کر چلتا بنا‪ :‬کیوں میں مر گیا ہوں۔‬

‫بعد میں کسی اور کی زبانی معلوم ہوا کہ انہوں نے‬
‫کیوں میں مر گیا ہوں کی تفہیم بالکل الگ سے لی ہے۔‬
‫انہوں نے سمجھا کہ بابے نے تینوں کو نپ کر رکھا‬

‫ہوا ہے۔ عورت اور وہ بھی سرکاری؛ دب کر رہے‘‬
‫کس کتاپ میں لکھا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا‬
‫کہ آپس میں کیوں لڑیں گی لڑائی اورعزت افزائئ کے‬
‫لیے میں ابھی زندہ ہوں۔ یہ لصہ تو زیب داستان کے‬
‫لیے عرض کر گیا ہوں اصل تحمیك کی ضرورت تین‬

‫کا ہندسہ تھا۔ آخر یہ کہاں سے آ ٹپکا اور پورے‬
‫مارکنگ سنٹر میں میری وجہ ء شہرت بن گیا۔‬

‫بڑا ؼور کیا‘ سوچا‘ سیاق و سباق میں گیا۔ کچھ بھی‬
‫پلے نہ پڑا۔ آج کچھ ہی لمحے پہلے مجھے مشکوک‬
‫نظروں سے دیکھا گیا تو میں نے سنجیدہ توجہ دی تو‬

‫کھلا میں نے ایک بی بی سے کہا تھا گھر میں‬
‫عورتوں اور باہر بھی عورتوں سے پالا ہے۔ جمع‬
‫کے صیؽے نے کہانی کو جنم دیا تھا۔ خاتون کے‬
‫حافظہ میں ایک جمع رہی دوسری کو اس نے واحد لیا۔‬
‫وہ عورت تھی مکالمہ اسی سے ہوا۔ ؼالبا اردو نحو کا‬
‫اصول بھی یہی ہے کہ دوسری جمع واحد میں تبدیل ہو‬

‫جاتی ہے۔‬

‫سننے اور پڑھنے والا بولنے اور لکھنے والے کا‬
‫پابند نہیں وہ مرضی کے مطابك مفاہیم اخذ کرتا ہے۔‬

‫میرے کہے میں ابہام موجود تھا۔ بلا ابہام لفظوں اور‬
‫جملوں کے بہت سے مفاہیم لیے جاتے ہیں یا پھر لیے‬
‫جا سکتے ہیں۔ ساختیات بھی یہی کہتی ہے۔ اسے کہنا‬
‫بھی چاہیے۔ ابہام اور لفظوں کی کثیر معنویت عدالتوں‬

‫میں اپیل کے دروازے کھولتی ہے۔ لفظ اپنی حیثیت‬
‫میں جامد اور اٹل نہیں۔ اسے استعمال میں لانے والے‬
‫کی انگلی پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے جامد اور اٹل ہونے‬
‫سے زبان کے اظہار کا دائرہ تنگ ہو جائے گا۔ نتیجہ‬
‫کار زبان مر جائے گی یا محض بولی ہو کر رہ جاءے‬

‫گی۔ اس تھیوری کے تناظر میں مجھے کسی بھی‬
‫خاتون کے کہے کو دل پر لگانا نہیں چاہیے۔‬

‫کچھ ہی پہلے اندر سے آواز سنائ دی حضرت بیؽم‬
‫صاحب حیدر امام سے کہہ رہی تھیں بیٹا اپنے ابو‬
‫سے پیسے لے کر بابے فجے سے ؼلہ لے آؤ۔ عید‬
‫لریب آ رہی ہے کچھ تو جمع ہوں گے عید پر کپڑے‬
‫خرید لائیں گے۔ بڑا سادا اور عام فیہم جملہ ہے لیکن‬
‫اس کے مفاہیم سے میں ہی آگاہ ہوں۔ یہ عید پر کپڑوں‬
‫لانے کے حوالہ سے بڑا بلیػ اور طرحدار طنز ہے۔‬
‫طنز اور مزاح میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ طنز‬
‫لڑائی کے دروازے کھولتا ہے جبکہ مزاح کے بطن‬

‫سے لہمہے جنم لیتے ہیں۔ جب دونوں کا آمیزہ پیش‬
‫کیا جائے تو زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے اور‬
‫ایسی جعلی مسکراہٹ سے صبر بھلا دوسرا بات گرہ‬

‫میں بندھ جاتی ہے۔‬

‫میں نے کئ بار عرض کیا کہ طنز لبریز مذاق نہ کیا‬
‫کرو۔ کہتی ہے اب اس گھر میں بات کرنے کی بھی‬
‫اجازت نہیں۔ حمیمت یہ ہے کہ حکم نامے طالت جاری‬
‫کرتی ہے۔ ماتحت کمزور مفلس اور کامے حموق کی‬
‫مانگ بھی گزارشی انداز میں کرتے ہیں۔ لمحہ بھر کی‬
‫خوش فہمی بھی ہضم نہ ہو سکی کہ گھر والی کو‬
‫بےفضول کہنے کی جرآت نہیں‘ میرے حصے کا بھی‬

‫بمول سمراط گھر والی نے بول دیا۔‬

‫سردار محمد حسین آج کی نشت میں کہہ رہے تھے کہ‬
‫آخر آپ کی تان اعلی شکشا منشی پر ہی کیوں ٹوٹتی‬
‫ہے۔ میں نے کہا سردار صاحب کل گاؤں سے ایک‬
‫توڑا آلو لیتے آنا۔ آپ ہی فرمائیے اس میں زوردار‬
‫ہنسنے والی کونسی بات ہے۔ میں نے اپنی بات دہرائ‬
‫تو پھر ہنس دیے۔ نہ ہاں نہ ناں‘ یہ کیا ہوا۔ میں اپنی‬
‫لکھتوں میں اپنا حك طلب کرتا ہوں کیونکہ آلو کے‬


Click to View FlipBook Version