The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-12 06:11:24

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

mazah_2016_01_12_12_03_55_914

‫جاتی رہے۔ آپ کی یہ عنایت' لوم کے لیے' بہت بڑا‬
‫تحفہ ہو گا۔ آپ کے اس عظیم اور دانش مندانہ فیصلے‬

‫کو' چوری خور مورکھ' زعفرانی سیاہی سے' رلم‬
‫کرے گا۔ بھوکے پیاسے لوگ' آپ کو دعائیں دیں گے'‬
‫جس سے آپ کا البال مریخ کی بلندیوں کو چھوتا رہے‬

‫گا۔‬

‫آج مورخہ اکتوبر‪2015 '11‬‬

‫العارض‬

‫اعلی شکشا منشی کی خدمت گرامی میں' ‪ 1997‬سے‬
‫گزاری گئی درخواست ہائے ہائے' بسلسلہ ایم فل‬
‫الاؤنس' کے جواب سے مرحوم‬

‫بےبس وبےکس وچارہ ممصود صفدر علی شاہ‬
‫ریٹائرڈ ایسوی ایٹ پروفیسر اردو‬

‫مشتری ہوشیآر باش‬

‫کسی کجی خرابی ؼلطی سچائ یا ہونی کو تسلیم نہ‬
‫کرنا زمین کے ہر خطہ کے انسان کی سب سے بڑی‬
‫اور مستمل خوبی ہے۔ جب یہ رواج پا گئ ہے تو‬
‫اس کی کسی سطع پر مذمت کرنا کسی طرح درست‬
‫نہیں۔ جب کوئ تسلیم نہیں کرتا تو وہ اول الذکر طبمے‬
‫کی صؾ میں ا کھڑا ہوتا ہے۔ کسی گنجے کو اگر آپ‬
‫ہیلو گنجا صاحب یا کسی کانے کو محترم کانا صاصب‬
‫کہہ کر پکاریں گے تو وہ آپ کا سر پھوڑ دے گا۔ کتنی‬
‫زیادتی کی بات ہے۔ کیا مخاطب گنجا یا کانا نہیں ہوتا۔‬
‫ادب آداب ملحوظ خاطر رکھا گیا ہوتا ہے۔ پھر ؼصہ‬
‫اور تاؤ میں آنے کا‘ کیا جواز بنتا ہے۔ؼالبا اس طور‬

‫سے پکارنے کا رویہ پروان نہیں چڑھ سکا جو‬
‫بہرطور رواج پانا چاہیے۔‬

‫میری بات سن کر استاد ہوریں کھکھلا کر ہنسے اور‬
‫میں شرمندہ سا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے۔‬

‫فعل وجہء پہچان نہیں ہوا کرتا۔ حثیت مرتبہ عہدہ‬
‫گروہ جماعت شخص کی وجہءپہچان بنتی ہے۔ دفتر‬
‫میں بیٹھا بابو یا افسر رشوت کے بؽیر کام ہی نہیں‬

‫کرتے بلکہ کر ہی نہیں سکتے انہیں محترم رشوتی‬
‫صاحب کہہ کر پکارنا موت کو ماسی کہنے کے‬

‫مترادؾ ہے۔ ہوتا کام بھی نہیں ہو گا۔ یہی نہیں کسی‬
‫نئ پھسنی میں پھس جاؤ گے حالانکہ وہ ڈنکے کی‬

‫چوٹ پر محترم رشوتی صاحب ہوتے ہیں اور یہ‬
‫حمیمت ہر ایرے ؼیرے سے بھی بعید نہیں ہوتی۔‬

‫کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں یہ سچائی میں آپ‬
‫پر اپلائی کرتا ہوں۔ بہت ہی پیارے اور محترم ڈھیٹ‬
‫بےشرم صاحب اس موضوع کو چھوزیں اور کسی‬
‫دوسرے موضوع پر بات کریں۔ استاد کا یہ طرز تکلم‬

‫مجھے زہر میں بجھے تیر سے زیادہ تیزدھار‬
‫محسوس ہوا اور میرے منہ سے بےساختہ نکل گیا‪:‬‬
‫یہ آپ کیا بکواس کر رہے ہیں۔ میری بوکھلاہٹ اور‬
‫سیخ پائی پہ سیخ پا ہونے کی بجاءے انھوں نے پہلے‬
‫سے زیادہ جاندار لہمہ داؼا۔ پھر فرمایا جس چیز پر‬

‫آپ عمل نہیں کر سکتے دوسروں سے اس کی‬
‫!برداشت کی تولع کرنا کھلی حمالت نہیں؟‬

‫پہلے آپ یہ فرمائیے کہ آپ نے مجھے ڈھیٹ اور بے‬
‫شرم کس بنیاد پر کہا ہے؟‬

‫آپ بیسویں صدی سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن‬
‫پنجاب کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے‬
‫مسلسل اور متواتر درخواستیں گزار رہے ہیں اکیسویں‬
‫صدی کے تیرہ سال گزر چکے ہیں کسی ایک کا بھی‬
‫جواب موصول ہوا ہے‘ نہیں نا۔ آپ پھر درخواست‬

‫گزارنے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈھیٹ ہوئے نا۔‬
‫آپ نےمجھے بےشرم کیوں کہا ہے؟‬

‫اس کا بھی جواب دیتا ہوں پہلے پہلی بات تسلیم کرو یا‬
‫دلیل سے انکار کرو۔‬

‫استاد کی بات میں دم اور خم پورے پہار کے ساتھ‬
‫توازن رکھتے تھے۔ دل اور دماغ استاد کی بات کو‬
‫تسلیم کر رہے تھے لیکن زبان پر رعشہ طاری تھا۔‬
‫آپ نے مجھے بےشرم کیوں کہا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔‬

‫سراسر زیادتی ہے۔‬
‫میں نے اپنی ہاں کو جعلی ؼصہ دکھا کر گول کرنے‬

‫کی کوشش کی۔‬
‫میری چترائ پر انھوں نے پتھرپاڑ لہمہ داؼا۔ سچی‬
‫بات تو یہ ہے کہ میں من ہی من میں بڑا کچا ہوا۔‬
‫حضرت ٹالیے مت۔ دو ٹوک ہاں یا ناں میں جواب دیں۔‬
‫چلو ایک منٹ کے لیے درست مان لیتا ہوں لیکن آپ‬
‫نے بےشرم ایسا ثمیل لفظ میری ذات کے ساتھ نتھی‬

‫کیوں کیا ہے؟‬
‫منگنیں ڈال کر سہی‘ آپ نے میری بات کو آؤں گاؤں‬
‫کرکے تسلیم تو کیا۔ کان اوپر سے پکڑو یا سیدھے‘‬
‫بات ایک ہی ہے تاہم آپ حد درجہ لسےاور پھوسٹر‬
‫ثابت ہوءے ہیں۔ اہل جفا کے پاس ایک سے ایک بڑھ‬
‫کر دلیل ہوتی ہے لیکن آپ کے پلے تو ککھ نہیں۔ آپ‬
‫کا تو الله ہی حافظ ہے۔ ؼلطی کرتے ہیں تو ہاتھ میں‬
‫کوئی دلیل بھی رکھیے ورنہ سکے میں مارے جاؤ‬
‫گے۔ آپ نے چھے ماہ پہلے پنجاب گورنمنٹ سروسز‬

‫ہاؤسنگ فاؤنڈیشن والوں کو اپنی رلم کے لیے‬
‫درخواست گزاری اور آس لگا کر بیٹھ گیے۔ بھولے‬
‫بادشاہ وہ بھی اسی عدم تسلیمی نظام کا حصہ ہیں۔‬
‫وہاں جاؤ‘ گرہ کا منہ کھولو اور زبان والے منہ سے‬
‫تسلیم کرو کہ ان کا کام صاؾ شفاؾ اور اک نمبری‬
‫ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ کچھ لیے بؽیر سائل کی‬
‫داد رسی فرمائ ہے۔ تصوؾ جدید کے درازوں کی‬
‫کلید ان کے پاس ہے۔ کیا یہ بےشرمی اور ہٹ دھرمی‬
‫نہیں بن دیے لینے کی اچھا رکھتے ہو اوپر سے ان‬
‫کے متعلك ٹکے ٹکے کی بےفضول اور معنی خیز‬

‫باتیں کرتے ہو۔‬

‫استاد نے اور بھی بہت ساری باتیں کیں جن پر‬
‫بخوشی ناسہی جبری لہمہ لگایا جا سکتا تھا لیکن میں‬

‫نے اپنے منہ کو اور اس سے متعلمہ اعضاء کو‬
‫زحمت ہی نہ دی۔ پلہ نہ جھڑنا اور سکے تے مل ماہیا‬
‫بےشک اور بلاشبہ دفتری امور کی خلاؾ ورزی اور‬
‫اس مستعمل رویے کے خلاؾ سازش نہیں‘ بؽاوت‬
‫ہے۔ اگر یہ لوگ اس سسٹم کا حصہ ہیں اور خرابی کو‬
‫خرابی تسلیم نہیں کرتے تو میں اپنی ذات سے متعلك‬
‫خرابی کو خرابی کیوں تسلیم کروں۔ تسلیم کر لینے‬
‫کی صورت میں بھی ؼلط ٹھہرتا ہوں۔ ؼالب کا دور‬

‫اور تھا تسلیم کی خو ڈالنا سرکاری مجبوری تھی۔‬
‫تسلیم کی خو نہ ڈالنا آج کی سرکاری مجبوری ہے۔ گو‬

‫ادھر گرہ میں مال آتا ہے اور ادھر جاتا ہے۔‬

‫اب جو بات کرنے جا رہا یہ درج بالا معاملے کا حصہ‬
‫نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ میں لکھ ہی نہیں رہا‬
‫ناہی ایسی باتیں لکھی جا سکتی ہہں کہ گرہ میں کرایہ‬
‫تک نہیں‘ ان منہ اور کھیسہ پاڑ حضرات کے تمدس‬
‫مآب دامن میں لائداعظم کے سفارشی رلعے کہاں سے‬

‫رکھوں۔ وہ بےچارے بھی تو لانون کے پابند ہہں۔‬
‫میں اپنی حتمی مجبوری سے مجبور ہوں تبھی تو‬

‫گرہ کا کڑوا سچ لکھا ہی نہیں۔‬
‫!مشتری‬

‫ہوشیار باش‬
‫میں عصری سچائی کے تحت خود میں تسلیم کی خو‬
‫ڈال کر عصری ضابطے کے توڑنے کا جرم اپنے سر‬

‫پر نہیں لے سکتا۔‬
‫یہی پڑھا سمجھا اور سوچا جائے۔‬

‫مکرمی بندہ حسنی صاحب‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کا یہ نہایت دلچسپ انشائیہ پڑھا اور بہت محظوظ و‬
‫مستفید ہوا۔ جب اس کے اصول کا خود پر اطلاق کیا تو‬

‫اتنے نام اور خطاب نظر آئے کہ اگر ان کا اعلان کر‬
‫دوں تو دنیا اور عالبت دونوں میں خوار ہوں۔ سو‬
‫خاموشی سے سر جھکا کر یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ۔‬
‫انشا ئیہ بہت مزیدار ہے شاید اس لئے کہ حمیمت پر‬
‫مبنی ہے۔ اس آئنیہ میں سب اپنی صورت دیکھ سکتے‬

‫ہیں۔ بہت شکریہ مضمون عنایت کرنے کا۔‬

‫بالی راوی سب چین بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪8277.0‬‬

‫لصہ زہرا بٹیا سے ملالات کا‬

‫ناصر ناکاگاوا صاحب کا مجھے فون آیا کہ ان کی‬
‫ہمشیرہ زہرہ عمران مجھے ملنا چاہتی ہے‘ آ جائے؟‬
‫مجھے بینک چوکیدار والا لصہ یاد آگیا۔ ایک صاحب‬
‫نے اس سے پوچھا کیا میں بینک کے اندر چلا جاؤں۔‬
‫چوکیدار نے صاؾ منع کر دیا۔ ان صاحب نے پوچھا‬

‫اتنے لوگ اندر جا رہے ہیں انھیں تو منع نہیں کر‬
‫رہے مجھے کیوں منع کرتے ہو۔ چوکیدار نے ترنت‬
‫جواب دیا وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں جو انھیں منع‬
‫کروں۔ میرے لیے یہ چونکہ نیا تجربہ تھا۔ سارا دن‬
‫والؾ ناوالؾ آتے رہتے ہیں کبھی کسی کو اس لسم‬
‫کی جرآت اور توفیك نہیں ہوئی۔ مجھ پر کھلا ‘ پوچھا‬

‫بھی جاتاہے۔ میں کوئ لیڈر یا دفتری اہلکار تھوڑا ہوں‬
‫جو پوچھا جائے چوہدری صاحب حاضر ہونے کی‬
‫اجازت ہے اور وہ ہر مفتے کو کل تا کل ٹالتے رہیں۔‬

‫ان کے پوچھنے پر احساس تفاخر تو نہ جاگا ہاں یہ‬
‫ضرور محسوس ہوا کہ میں بھی ہوں۔ سچی پوچھیں‬
‫مجھے اپنے ہونے کا یمین ہی نہ تھا۔ اس نہ ہونے‬
‫کے یمین کو تصوؾ والا نہ سمجھیں۔ اس ملک میں‬
‫جھوٹ فریب ہیرا پھیری ملاوٹ دؼا دھوکا منافع خوری‬
‫رشوت دھونس دھکا وؼیرہ اور یہ شؽل رکھنے والوں‬
‫کی کمی نہیں۔ کمزور یعنی لسے طبمے جس کا میں‬
‫بھی ایک سیل ہوں۔ میرے سے لوگوں سے اجازت کی‬
‫طلبی حیرت سے خالی نہ تھی۔ کسی ماڑے سے مطلب‬
‫کے لیے پوچھا جاتا ہے یا کسی تگڑے کی کرنی اس‬
‫کے سر ڈالنے کے لیے مرکب پوچھ گوچھ مستعمل‬
‫ہے۔ ان کی تشریؾ آوری چونکہ خیر سگالی سے‬
‫وابستہ تھی اس لیے کسی لسم کی فکرمندی بھی لاحك‬

‫نہ ہوئی۔‬

‫سوچا بڑے فیشن ایبل لوگ ہوں گے۔ بٹھاؤں گا کہاں‬
‫اور ملے گی کس سے۔ میری رہایش گاہ ‘ میں اور‬

‫میری زوجہ ماجدہ تو طوفان نوح کی بالیات میں سے‬
‫ہیں۔ اسے خدشہ خوؾ احساس کہتری یا کوی بھی نام‬

‫دے لیں آپ لاری اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ عین‬
‫ممکن ہے یہ تینوں یا ایک آدھ چیز اور بھی شامل حال‬
‫ہو۔ گھر والوں کو مانجا بوکر کرنے کو کیا کہتا۔ سوچا‬
‫جو جیسا ہے چلنے دو۔ دیکھا جائے گا۔ درمیان میں‬
‫ایک دن تھا اس ایک دن میں کیا ہو سکتا تھا۔ دوسرا‬

‫کرنے کے لیے دام درکار تھے اور دام اعلی شکشا‬
‫منشی اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیش لاہور‬
‫کے چوری خور اہل کاروں کی مٹھی میں بند تھے۔ نہ‬
‫ان کے کام کے اور نہ میرے کام کے۔ انھیں کچھ کہا‬
‫ہی نہیں جا سکتا۔ یہ جینا جیسا بھی سہی‘ جی تو رہا‬
‫ہوں ورنہ اس سے جاؤں گا۔ جب زوجہ ماجدہ کے کان‬
‫میں یہ بات پڑی کہ وی آئ پی مہمان آرہے ہیں تو‬
‫بیماری کے باوجود مجھ پر برس پڑیں۔ معاملہ برسنے‬
‫تک رہتا تو خیر تھی‘ گرجیں بھی۔ یمین جانیے میں‬
‫آج تک نہیں سمجھ سکا یا یہ ہر شدہ کی سمجھ سے‬
‫بالاتر بات ہے۔ چارپائی لگی بیگم میں گرجنے برسنے‬
‫کے لیے توانائ کہاں سے آ جاتی۔ اس کا ایک جملہ‬
‫بڑے ہی کمال کا تھا‪ :‬لوگوں کو بےایمانی لے ڈوبتی‬
‫تھی لیکن آج بےایمانی کا شؽل فرمانے والوں کی‬

‫پانچوں انگلیاں ہی کیا وہ سراپا گھی کی کڑاہی میں‬
‫ہیں۔ کوئ روک کوئی ٹوک نہیں۔ ہمیں تمہاری‬

‫ایمانداری کی سزا بھگتنا پڑ رہی۔ اس کا گرجنا برسنا‬
‫ؼلط نہیں تھا اس لیے پہلے میں میں کرتا رہا اور پھر‬
‫سر سٹ کر بیٹھ گیا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ کرنے‬
‫کو میرے پاس تھا ہی کیا جو شدید ردعمل میں کرتا۔‬

‫میں پورے وجود کی ایمانداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ‬
‫میرے دل میں ایک آدھ فیصد بھی نہ آیا کہ موصوفہ کا‬
‫آنا جھوٹ ہی ہو جائے۔ سوچا دور دراز سے لوگ آتے‬
‫ہیں کبھی کسی نے میری اور رہایش کی حالت خستہ‬
‫کی شکایت نہیں کی۔ ؼالبا چالیس سال زیادہ عرصہ ہوا‬

‫میں لاضی جرار حسنی کے للمی نام سے لکھا کرتا‬
‫تھا۔ اس دور کی فیشنل ایبل دو بیبیاں میری ایک کہانی‬
‫کی تعریؾ کر رہی تھیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں‬
‫نے بڑے فخر اور چوڑے ہو کر کہا لاضی جرار حسنی‬
‫میں ہوں۔ انھوں نے میری طرؾ دیکھا اور پھر ایک‬
‫طنز سے بھرپور تیر پھینکا‪ :‬ایسے ہوتے ہیں لاضی‬
‫جرار حسنی۔ میری بولتی بند ہو کر بوکی وہ جا گری۔‬

‫گھر آکر شیشہ دیکھا‘ ہمارے گھر میں آئینہ نہیں‬
‫شیشہ ہوا کرتاتھا چہرے پر چب شب تو نہ تھے البتہ‬

‫پہناوا ؼربا کی بستی والوں کا تھا۔ اندریں حالات بالا‬
‫ان کا کہا ؼلط نہ تھا۔‬

‫مجھے مہمانوں کا انتظار تھا۔ کیسے مہمان تھے یہ‬
‫بھی بازار سے کھا پی کر آگیے۔ اگلے ولتوں میں‬
‫مہمان دو دن کی بھوک رکھ کر آتے تھے اور جانے کا‬
‫نام ہی نہیں لیتے تھے۔ زہرہ اور عمران مجھ سے‬
‫ملے۔ بڑی حیرت ہوئ برلعہ میں۔ چند لمحوں کے بعد‬
‫ہی وہ ہم اگلے زمانوں کے لوگوں سے گھل مل گیے۔‬
‫کیا شایستگی کیا سلیمہ کی یہ لڑکی ہے۔ بولتی ہے تو‬
‫منہ سے گلاب جھڑتے ہیں۔ میں تو میں‘ میری بیٹی‬
‫ارحا اور بیگم اسی کے ہو گیے۔ اجنبیت اور ؼیریت کا‬
‫احساس تک نہ رہا۔ بلا کی ذہین و فطین ہے یہ لڑکی‬
‫بھی۔ ہم تینوں کا دل ہی لے گئ۔ وہ مجھے اپنی بیٹی‬
‫ارحا سے رتی بھر کم نہ لگی۔ بیٹیوں کے خاوند‬
‫بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ عمران صاحب بھی‬
‫بڑے ہی پیارے لگے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ پھر ہمارا‬
‫مزار کمال چشتی جانے کا اتفاق ہوا۔ بڑا اچھا لگا میں‬
‫دو بیٹیوں ایک داماد کے ساتھ گھومنے کے لیے‬
‫نکلے ۔ میرا منہ بولا بیٹا فاروق بھی میرے ساتھ تھا۔‬
‫بے تکلفی اجازت دیتی تھی کہ رات رہنے کو کہوں‬

‫لیکن بچوں کے حوالہ سے وہ رات ہمارے ہاں نہیں‬
‫گزار سکتے تھے۔ بادل نخواستہ انھیں رخصت کرنا ہی‬

‫پڑا۔‬

‫بیگم صاحبہ تو ساتھ تھیں ہی۔ بڑی ٹوہری عورت تھی‬
‫بس ولت اور حالات نے مجھ سے تھوڑ پونجیے کے‬
‫ساتھ چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زہرہ بٹیا نے ایسا‬
‫کمال دیکھایا کہ اس کے آنے سے پہلے کی صورت‬
‫حال یاد تک نہ رہی۔ وہ لمحہ تو وہ لمحہ اب تک یاد‬
‫نہیں۔ دل میرا بھی کرتا اور چاہتا ہے کہ دونوں میاں‬
‫بیوی دوبارہ سے اور اس کے بعد بار بار آتے رہیں‬
‫لیکن کیا کریں زندگی کی تیز رفتاری نے ملالاتوں کے‬
‫لمحے ہی چھین لیے ہیں۔ کل بیگم کہہ رہی تھیں زہرہ‬
‫اور عمران سے کہو ایکبار آ کر مل جائیں۔ میں نے‬
‫جوابا کہا زہرہ بٹیا میری اور تمہاری طرح فارغ نہیں‬
‫ہیں انہیں اس آنے جانے کے علاوہ بھی بہت سے کام‬
‫ہوں گے۔ ارحا تو زہرہ آپی کی مالا جپتی رہتی ہے۔‬

‫امید پر دنیا لائم ہے مجھے یمین ہے ایک دن ایسا‬
‫ضرور آءےگا جب دروازہ کھلے گا کیا دیکھوں‬
‫گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہرہ اور عمران مجھے کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو‬

‫بابا۔‬

‫عزیز مکرم حسنی صاحب‪ :‬سلام مسنون‬

‫آپ کا انشائیہ حسب معمول نہایت دلچسپ اور شگفتہ‬
‫تھا۔ پڑھ کر لطؾ آ گیا۔ اس زندگی کی بھاگ دوڑ اور‬
‫گھما گھمی میں چند لمحات ہنسنے کے مل جائیں تو‬
‫الله کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ ہاں یہ پڑھ کرانتہائی حیرت‬
‫ہوئی کہ زہرا صاحبہ برلعہ میں آئین! یا میرا چشمہ ہی‬
‫خراب ہو گیا ہے؟ ایک نہایت پر لطؾ اور دل پذیر‬
‫تحریر کے لئے داد لبول کیجئے۔ بالی راوی سب چین‬

‫بولتا ہے۔‬

‫سرور عالم راز‬

‫=‪http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic‬‬
‫‪8318.0‬‬

‫ناصر زیدی اور شعر ؼالب کا جدید شعری لباس‬

‫اس میں کوئ شک نہیں کہ ؼالب اپنی فکر کے حوالہ‬
‫سے عہد عہد کا شاعر ہے۔ اس حمیمت سے کوئ بالػ‬
‫نظر شاعر دانشور محمك نماد اور صاحب ذوق لاری‬
‫انکار نہیں کر سکتا کہ ؼالب‘ ؼالب تھا اور شعر کی‬
‫فکری دنیا پر آج بھی ؼالب ہے۔ وہ متاثر کرتا رہا آج‬
‫بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کی شعری بساط پر کھیلنے‬

‫والے کمال کے لوگ رہے ہیں۔ ؼالب کے ساتھ وہ‬
‫بھی فکری اور تحمیمی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔‬
‫اس امتیاز کو الگ رکھیے کہ فلاں نے تو ؼالب کے‬

‫خلاؾ لکھا۔ مخالؾ لکھنے والے بھی تو ؼالب کے‬
‫حوالہ سے تنمید کی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔‬

‫برہان لاطع وجود نہ رکھتی تو لاطع برہان ایسی نادر‬
‫کتاب کس طرح وجود حاصل کرتی۔ لسانی تحمیك میں‬
‫ان دونوں کتب کو نظرانداز کرنا یا ان پر بالاعدہ کام نہ‬
‫ہونا‘ زیادتی کے مترادؾ ہوگا۔ اسی طرح ؼالب پر بہت‬
‫کچھ ہونے کے باوجود متنی کام بالی ہے یا تشنگی کا‬

‫گلہ رکھتا ہے۔‬

‫عہد حاضر میں آزاد اور نثری شاعری بڑا مضبوط‬
‫وجود اور حوالہ رکھتی ہے۔ یہ شاعری اپنے عہد کے‬

‫جملہ معاملات اپنے ساتھ لے کر چلتی نظر آتی ہے‬
‫بلکہ اس کے وجود میں عصر جدید کا دکھ سکھ‬
‫پوری شدت اور ادبی توانائی کے ساتھ رچا بسا نظر‬
‫آتا ہے۔ اگر اس شاعری کو اپنے عہد کی معتبر شہادت‬
‫کا نام دے دیا جائے تو ؼلط نہ ہو گا۔ اس صنؾ سخن‬
‫کے موجود ہونے کے سبب دنیا کی تمریبا تمام زبانوں‬
‫کی شاعری ترجمہ ہو کر اردو ادب کا حصہ بنی ہے۔‬
‫اس ترجمے کے عمل سے دنیا کے ہر خطے کے‬
‫شخص کی فکر حاجات اور نفسیات سے اردو کا لاری‬

‫آگاہ ہوا ہے۔‬

‫تراجم کے حوالہ سے اسلوبیات میں کشادگی پیدا ہوئی‬
‫ہے۔ آتا کل‘ آج کی سماجی معاشی اور سیاسی تاریخ‬
‫کو اس صنؾ سخن کے حوالہ سے جان اور پہچان‬
‫سکے گا۔ اسی شاعری کے تناظر میں اپنے ماضی کو‬

‫شاباشی اور لعنتی کلمے گزارے گا۔‬

‫مجید امجد‘ ن م راشد‘ میرا جی ‘ مبارک احمد‘ تبسم‬
‫کاشمیری‘ سعادت سعید‘ فاطمہ حسن‘ انیس ناگی‬

‫وؼیرہ وؼیرہ کو جدید اردو شعر وادب سے نکال دیں‬
‫بالی رہ ہی کیا جاءے گا۔ ان ارباب سخن نے ناصرؾ‬
‫زبان کی لسانی حوالہ سے گرانمدر خدمت انجام دی‬
‫ہے بلکہ شعری لوازمات بھی فراہم کیے ہیں۔ شعری‬
‫لازمے مہیا کیے ہیں۔ تشبہات‘ استعارے‘ علامتیں اور‬
‫تلمیحیں بکثرت دستیاب کی ہیں۔ نئ سوچ اور فکر اپنی‬
‫جگہ‘ زبان کے اظہاری داءرے کو ولار اور ثروت‬

‫سے سرفراز کیا ہے۔‬

‫اسطلاحات مرکبات مترادفات اور استعمالات میسر‬
‫ہوئے ہیں۔ یہی نہیں‘ نئے نئے الفاظ گھڑے گیے ہیں۔‬
‫مستعمل الفاظ میں حیرت انگیز اشکالی تبدیلیاں بھی‬
‫آئی ہیں۔ ان معروضات کے پیش نظر جدید شاعری کو‬

‫آج کی ضرورت اور لوازمے کا درجہ دنیا عصری‬
‫دیانت کے مترادؾ ہوگا‬

‫جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا ؼالب عہد عہد کا‬
‫شاعر ہے۔ اس کی فکر جدید ہے لیکن اس کی فکر کا‬
‫شعری جامہ لدیم ہے۔ اس کی فکر کو جدید لباس ملنا‬
‫آج کی اہم ترین ضرورت ہے بلکہ یہ ضرورت بھی ہر‬

‫عہد سے تعلك کرتی ہے۔ بات نئ لیکن لباس لدیم‘‬

‫سچی بات تو یہ ہے کہ بات جمتی نہیں۔ نئے لباس کے‬
‫تحت ناصرؾ لربت بڑھے گی۔ اجنبت میں بھی اضافہ‬

‫نہیں ہو گا اور تفہیمی سہولتیں بھی پیدا ہوں گی۔‬

‫ناصر زیدی روزنامہ پاکستان لاہور کے کالم نگار ہی‬
‫نہیں‘ شاعر بھی ہیں۔ انھیں تخت و تاج سے لربت کا‬
‫بھی شرؾ حاصل رہا ہے۔ اس حوالہ سے بھی ان کی‬
‫لرابتی و کرامتی عظمت سر آنکھوں پر ہرنی اور رہنی‬

‫چاہیے۔ وہ ناصرؾ شاہی کروٹوں کے حوالہ سے‬
‫جدیدیت پسند ہیں بلکہ ادبی تبدیلیوں کو بھی اشارتی‬
‫اور ضرورتی لوازمات کے زیردست رکھنے کے لائل‬
‫ومائل ہیں۔ موصوؾ ؼالب پسند‘ ؼالب نواز ؼالب کے‬
‫سچے طرؾ دار اور ؼالبات کے محمك بھی ہیں۔ ؼالب‬
‫کو ہر عہد پر ؼالب بھی مانتے ہیں۔ ؼالب کے حوالہ‬
‫سے یہ امر بلاشبہ لائیك وتحسین و آفرین ہے۔ میں ان‬
‫کی ؼالب نوازی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی‬

‫توفیمات کے لیے دست بہ دعا بھی ہوں۔‬

‫ان کی جدت پسندی کا ایک پہلو کالا سیاہ بھی ہے۔‬
‫انھوں نے ؼالب کے شعر کو جدید لباس دینے کے‬
‫جنوں میں لیامت ہی ڈھا دی۔ روح ؼلب لبر میں‬

‫پلسیٹے مار رہی ہو گی۔ دوبارہ زندگی ملنے کی‬
‫صورت اس کوچے میں لدم رکھنے سے لرزہ بر اندام‬
‫ہو گی۔ ؼالب کے ایک شعر کی جدت پسدی ملاحظہ‬

‫بلکہ ملاخطہ فرماہیے‬

‫ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونك‬
‫وہ سمجھتے ہیں‬

‫بیمار کا حال اچھا ہے‬

‫میں ان کی جدید جسارت اور ؼالب کو عہد حاضر میں‬
‫لانے کی خواہش کو داد دوں گا لیکن اس بے سری‬
‫تبدیلی کی داد نہیں دوں گا۔ اگر وہ ؼالب کی شاعری‬
‫کو جدید لباس دینے کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں تو‬
‫اس کا ڈھنگ سیکھیں۔ اس ہنر کی آگہی کے لیے‬
‫انھیں تبسم کاشمیری کے لدم لینا ہوں گے ورنہ اس‬
‫ہنر سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔۔ میں ہنرمند نہیں پھر‬
‫بھی اس شعر کو عصر جدید کا لباس دینے کی حمیر‬

‫سی سعی کرتا ہوں‬
‫گر لبول اُفتد زہے ع ّزو شرؾ‬

‫ان کے دیکھے سے‬

‫جو آجاتی ہے‬
‫منہ پہ رونك‬
‫وہ سمجھتے ہیں کہ‬
‫بیمار کا حال اچھا ہے‬

‫آج کی نظم کا ایک نمونہ بطور ذائمہ ملاحظہ ہو‬

‫مت لکھنا‬

‫ہوا پر آنسو مت لکھنا‬
‫فاختاؤں سے دشمنی‬

‫اچھی نہیں ہوتی‬

‫جو بھی سہی اشعار ؼالب کو جدید شعری لباس ملنا آج‬
‫کا تماضا ہے۔ اس سے تفہیمات ؼالب کے نئے نئے در‬
‫وا ہوں گے۔ لارئین کو ناصر زیدی کی اس سوچ اور‬
‫خواہش کی داد دینی چاہیے۔ بلاشبہ وہ اس داد وتحسین‬

‫کے مستحك ہیں۔‬
‫الله ان کی توفیمات میں برکت دے‬

‫پروؾ ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی‬

‫ہمارے ہاں بڑی سیٹ بر براجمان یا کسی بھی منفی‬
‫حوالہ سے لبضہ کر لینے والے کو دانشور سمجھا‬
‫جاتا ہے۔ ایک حوالہ سے یہ بات ؼلط بھی نہیں۔‬
‫حاسدین پیٹھ پیچھے اس کے لول وفعل اور طریمہ کار‬
‫میں دمبی سٹی ہی نہیں‘ امریکن سنڈی بھی نکال کر‬
‫دیکھاتے ہیں۔ اس کے آگے بے بکری بن جاتے ہیں۔‬
‫اسے اس کی وہ وہ خوبیاں گنواتے ہیں‘ جن کا اس‬
‫کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ سیٹ اس پر آگہی‬

‫کے دروازے کھول دیتی ہے۔ یہاں تک کہ عہدی‬
‫ارسطو اس کا پانی بھرتے ہیں۔ یمینا یہ اس کے عظیم‬
‫سے دو چار انچ بڑھ کر دانشور ہونے کی دلیل ہوتی‬
‫ہے۔ کتاب اور للم سے رشتہ داری نہ ہوتے ہوئے بھی‬
‫کتاب اور للم والے انھیں زندگی کے پرچہ کا پہلا اور‬

‫آخری سوال ٹھہرا کر دم لیتے ہیں۔ ہر بات ان سے‬
‫شروع ہو کر ان پر ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا شخصی‬
‫روپ فنا ہو کر دانش میں ڈھل جاتا ہے۔ میں ناہیں سبھ‬
‫توں تک آتے آتے جان سے جانا پڑتا ہے۔ شخص سے‬

‫دانش بننے تک ان کی گرہ سے کچھ نہیں جاتا۔ یہ سب‬
‫کرسی لریب لوگوں کے حسن کمال کا کرشمہ ہوتا ہے۔‬

‫میرا موضوع یہ نکھری نکھری اور کھری کھری‬
‫دانش نہیں۔ جو معاملہ میری سوچ‘ اپروچ اور ضمیر‬
‫کی دسترس سے باہر ہوتا ہے‘ اس میں ٹانگ اڑا کر‬
‫اہل دانش میں نام لکھوانے کی حمالت نہیں کرتا۔ میں‬
‫زیریں منزل کا شخص ہوں اور زیریں منزل ہی مجھے‬
‫خوش آتی ہے۔ سراپا دانش کے چرنوں میں بیٹھ کر‬

‫دوسری یا چوتھی منزل پر جا بیٹھوں اور پھر وہ‬
‫نیچھے سے پوڑی کھینچ لے اور میں وہاں بلا راشن‬
‫پانی باں باں کرتا رہوں اور پھر اپنی آواز کی بازگشت‬

‫کو بھی ترس جاؤں۔ میرا ہی کوئ پیٹی بھرا‬
‫مجھےؼدار لوم و ملت لرار دے کر اوپر ہی میری‬
‫گرن لمبی کروا دے۔ میں اس جنس کا گاہک نہیں۔‬

‫میرا مولؾ یہ ہے کہ اپنی منزل اور اپنی اولات کی‬
‫آگہی سے مرحوم ہونا بدلسمتی کے مترادؾ ہے۔ مثلا‬
‫تاریخ کے طالب علم کو زیادہ سے جنگوں کی آگہی‬
‫ہونی چاہیے۔ فاتحین کے نام اسے منہ زبانی یاد ہونا‬
‫چاہیے تاہم عصر حاضر کی ممتدرہ لوت سے انھیں‬

‫بیس تیس فٹ نیچے رکھے۔ ماضی کے فاتحین عصر‬
‫حاضر کی ممتدرہ لوت سے کسی طرح بڑھ کر نہیں ہو‬
‫سکتے۔ مثلا بش کی تلوار کے ایک ہی وار سے ستر‬

‫دائیں اور دو کم اسی بائیں پھڑک کر وہ جا گرے۔‬
‫ڈھائی سو آج بھی آخری سانسوں پرہیں۔ یہ بش کیا تھا‬
‫اوباما تلوار زنی میں اس سے بھی چار پانچ سو لدم‬

‫آگے ہے۔ آج سکندر سا سورما زندہ ہوتا تو سلام و‬
‫پرنام ہی سے کام نہ لیتا پانی میں ناک ڈبو کر مر جاتا۔‬

‫ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی دنیا فتح نہ کر سکا۔‬
‫آخر بیاسی علالہ کے کسی یودھا کے ہاتھوں زخمی ہو‬
‫کر لوریں جا وڑیا۔ حضرت اوباما سرکار کو دیکھیے‬
‫پوری دنیا کے سکندر فرشی سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ‬
‫پھر بھی خوش نہیں۔ اسے دنیا کا کوئ چلتا پھرتا اچھا‬
‫نہیں لگتا۔ اس کی پہلی اور آخری خواہش یہی ہے کہ‬
‫ہر ٹانگ سے اوباما اوباما کے بے بس اور بے کس‬

‫آوازے نکلیں۔ دنیا کے تمام لوگ یک ٹنگے ہو کر‬
‫کماءیں اور وہ یک ٹنگی کمائ کو بلا تشکر ڈکارے۔‬

‫بڑے بڑے حملوں سے تاریخ کے طالب علم آگاہ ہوں‬
‫گے لیکن چھوٹی چھوٹی حملیوں سے متعلك کسی کو‬

‫سرے سے آگہی ہی نہیں۔ جس سے پوچھو یہی بتائے‬
‫گا محمود ؼزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔‬
‫سب کو آخری اور کامیاب حملے کا پتا ہے اس سے‬
‫پہلے سولہ حملوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا کوئی‬

‫نہیں جانتا۔ یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے‬
‫حملے کیوں کیے اور ہندوستان میں کس لسم کا اسلام‬
‫پھیلایا۔ وہ اسلام پھیلانے کے لیے آیا یا کسی اور کام‬
‫کے لیے آیا۔ محمود وایاز کے ایک صؾ میں کھڑے‬
‫ہونے کا لصہ ہر کسی کی زبان پر ہے۔ کوئی اور بھی‬

‫اس سے ملتے جلتے والعات رونما ہوئے ہوں گے‬
‫معلومات کا فمدان دیکھیے کوئ جانتا ہی نہیں۔ میں‬
‫خوؾ زدہ رہتا ہوں کوئی مجھ ہی سے نہ پوچھ لے۔‬
‫مجھے بھی ایک صؾ والے والے والعے کے علاوہ‬
‫کچھ معلوم نہیں میں لون مرچ مصالحہ لگا کر اس‬

‫والعے کو بیان کر سکتا ہوں۔‬

‫گھر اور باہر کی جنگوں کے متعلك تھوڑی بہت ؼیر‬
‫تاریخی لوگ بھی معلومات رکھتے ہیں۔ دانشور‬

‫حضرات کے پاس ان سے بڑھ کر معلومات کا ذخیرہ‬
‫ہونا چاہیے۔ دانشور حضرات پاس سے بھی جوڑ جمع‬
‫کرکے لوگوں کو بتا دینتو لوگ مان لیں گے اور پھر‬

‫وہ آپس میں شیئر بھی کریں گے۔ ولت کے ساتھ ساتھ‬
‫ان کی نوعیت کے مطابك باتوں میں کہاٹا وادھا کرتے‬
‫رہیں گے۔ آتے ولتوں میں سینہ بہ سینہ چلتی باتیں‬
‫کتابی شکل اختیار کر لیں گی۔ تاریخ بھی تو یہی کچھ‬
‫ہے۔ جو بھی سہی تاریخ کے دانشور کے پاس ایک‬

‫عام آدمی سے زیادہ معلومات ہونی چاہیں۔‬

‫میں عام آدمی ہوں تاریخی جنگوں کے متعلك زیادہ‬
‫نہیں جانتا۔ اس کے باوجود یہ بھی جانتا ہوں ایک‬
‫راجہ جنگ بھی ہے۔ کسی زمانے میں بڑی زبردست‬
‫ولایت تھی۔ ایک دن بیگم صاحبہ نے گوشت لانے کا‬
‫حکم دیا۔ میں گوبھی کو خوب صورت پھول سمجھتے‬
‫ہوئے لے آیا۔ وہ پھولوں کو پسند کرتی ہے۔ سوچ رہا‬
‫تھا کہ خوش ہو گی لیکن خوش ہونے کی بجاءے وہ‬
‫بپھر گئ۔ کوئ مورخ اس جنگ کو نہیں جانتا۔ اس‬
‫حوالہ سے میں مورخ سے دو لدم آگے ہوں۔ یہ تو‬
‫فمط ایک جنگ ہے میں ایسی بیسیوں جنگوں سے آگاہ‬
‫ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں لکھ کر مورخ ہونے کا اعزاز‬

‫حاصل کر لوں۔‬

‫کتنی ستم کی بات ہے کہ بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی‬

‫موج مستیوں کا ہر کوئی چٹخارے لے لے کر تذکرہ‬
‫کرتا ہے لیکن فرخ سیر کا کوئی نام نہیں لیتا جو دن‬
‫رات نشے میں ؼرق رہتا تھا۔ روپ کنور کے ساتھ‬
‫ادھر ادھر اور کبھی نالیوں میں گرا پڑا ملتا۔ ادھر تو‬
‫مورخ کی نظر نہیں گئ۔ ہر مورخ کے ہاں بہادر شاہ‬
‫ظفر کا ذکر ملتا ہے جیسے وہ اکیلا شاعر بادشاہ تھا۔‬
‫شاہ عالم ثانی جو آفتاب تخلص کرتا تھا کمال کا شاعر‬

‫تھا۔ وہ تو وہ جہاندار بھی کا شاعر تھا۔‬

‫آج ایک صاحب فرما رہے تھے اورنگ زیب عالمگیر‬
‫نے ناسخ کے کلام کو مدون کیا۔ اورنگ زیب عالمگیر‬
‫شروع شروع میں مدن کا ذوق تھا۔ میں نے اپنا رعب‬
‫جتانے کے لیے کہا حضرت یہ نسخہ انھیں وراثت میں‬
‫ملا۔ اصل کام تو بابر نے کیا تھا۔ انھوں نے گھورتے‬
‫ہوءے کہا جناب میں تو ڈاکٹر اورنگ زیب عالگیر کی‬

‫بات کر رہا ہوں۔ میں نے خفت مٹانے کے لیے کہا‬
‫اچھا تو بادشاہی چھوڑ کر پروفیسر ہو گیا ہے۔ بولے‬
‫وہ ‪ ١٧٠٧‬میں مر گیا تھا۔ چاہیے تو تھا میری جہالت‬
‫کے پیش نظر بات کو ٹھپ کر دیتے اور اپنی دانش کا‬
‫مجھ پر رعب نہ ڈالتے۔ میں نے ؼصے میں کہا میں‬
‫نے اسے ‪ ١٧٠٧‬میں مارا تھا؟ ناسخ کا دیوان اسی‬

‫نے مرتب کیا تھا۔ میری طرؾ سے اسے طے سمجھو‬
‫اور اپنی کم علمی کی وجہ سے میری ساتھ بحث نہ‬

‫کرو۔‬

‫اہل دانش کیا‘ اشاعتی ادارے بھی اصل آگہی سے دور‬
‫ہیں۔ اخبار ہو کہ کوئ ادبی یا ؼیر ادبی پرچہ‘ یہاں تک‬

‫کہ حساس کتب بھی پروؾ ریڈنگ کی ؼلطیوں سے‬
‫مبرا نہیں ہیں۔ اداروں نے بالاعدہ پروؾ ریڈر رکھے‬
‫ہوئے ہیں۔ پھر بھی مطبوعہ تحریریں اس لباحت سے‬
‫پاک صاؾ نہیں ہو پائیں۔ پروؾ ریڈنگ بڑی ذمہ داری‬
‫کا کام ہے اس لیے اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے۔‬
‫میں نے کچھ نہایت ذمہ دار لوگوں سے بات بھی کی۔‬
‫کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔ ہر کسی نے نے کہا‬
‫کچھ بھی کر لو پروؾ کی ؼلطی رہ ہی جاتی ہے۔ ایک‬
‫صاحب نے کہا یہ اس ولت تک ہوتا رہے گا جب تک‬

‫پروؾ ریڈرنگ کے لیے کوئ مشین تیار نہیں ہو‬
‫جاتی ؼلطیوں کا سیاپا ختم نہیں ہو گا۔ مجھے حیرت‬
‫ہوتی ہے ناک نیچے؛ اوپر بھی سمجھ سکتے ہیں‬
‫بیٹھا کمال کا پروؾ ریڈر جو اعزازی کام کرنے کے‬
‫لیے بھی تیار ہے‘ انھیں نظر نہیں آتا۔ کم علمی اور‬
‫معلومات کی کمی ہمیں لے ڈوبی ہے۔ ہنر کی نالدری‬

‫اور بے لدری ہی عمومی دانش کو لے ڈوبی ہے۔ جو‬
‫لومیں ہنر اور دانش کی لدر کرتی ہیں وہی ترلی کا‬
‫منہ دیکھتی ہیں۔ التداری دانش اور ہنر الگ سے چیز‬
‫ہے‘ یہ تو عمومی دانش و ہنر سے تعلك کرتی بات‬

‫ہے۔‬

‫عمومی دانش و ہنر کی عزت اور لدرافزائ کرنا‬
‫اداروں کا کام ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور بڑے‬
‫روزناموں میں شمار ہوتا ہے لیکن اپنے ہاں موجود‬
‫ایک عظیم ہنرمند کا اسے پتا ہی نہیں۔ بلاشبہ یہ بڑے‬
‫دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اسے آج تک معلوم نہیں‬
‫ہو سکا کہ ناصر زیدی شاعر اور کالم نگار سے بڑھ‬
‫کر سچے سچے اور کھرے پروؾ ریڈر ہیں۔ یہی نہیں‬
‫دیالو بھی ہیں۔ احباب کے لیے پروؾ ریڈنگ کی‬
‫خدمات اعزازی طور پر انجام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ‬
‫معاملہ بدلسمتی اور المیہ کی حد تک ہے کہ ہنر کے‬
‫مطابك کام دستیاب نہیں۔ اگر متعلمہ ہنر اور دانش کے‬
‫مطابك لوگوں کو کام دستیاب ہو تو ترلی کے دروازے‬
‫کھل سکتے ہیں۔ افسوس روزنامہ پاکستان لاہور والے‬
‫ناصر زیدی کے اس ہنر سے بےبہرہ ہیں۔ اب بھی‬
‫ولت ہے کہ وہ ان سے ان کے پرفیکٹ ہنر کا کام لیں۔‬

‫کالم نگاری کے لیے اپنے کسی پروؾ ریڈر کو تلاش‬
‫لیں۔ ہو سکتا ہے وہ موصوؾ سے کہیں بڑھ کر اور‬

‫بہتر خدمت انجام دے۔‬

‫صیؽہ ہم اور ؼالب نوازی‬

‫صیؽہ ہم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نواب‘ بادشاہ‘‬
‫بادشاہ نما اور التداری طبمہ سے متعلك لوگ اپنے‬
‫لیے استعمال کرتے ہیں۔ مخاطب کا اپنے سے بلند‬
‫مرتبہ والے کے لیے یا بطور تکیہء کلام واحد کے‬
‫لیے آپ وہ ان‬
‫انہوں کا استعمال رواج عام رکھتا ہے تاہم فرد واحد‬
‫جب خود کے لیے ہم کا صیؽہ استعمال کرتا ہے تو یہ‬
‫احساس تفاخر اور تکبر میں آتا ہے۔‬

‫پنجاب میں عوامی اور عمومی سطع پر فرد واحد کے‬
‫لیے ہم رواج نہیں رکھتا۔ اگر کوئی استعمال کرتا ہے‬
‫تو اوپرا سا اور معیوب سا لگتا ہے۔ التداری‘ نوابی‬
‫اور بادشاہ لوگ جب یہ صیؽہ استعمال کرتے ہیں تو‬

‫اوپرا اور معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ ہاں ہم کا سامع‬
‫سہما سہما اور کانپا کانپا ضرور ہوتا ہے۔ یہ صیؽہ‬
‫مخاطب پر احساس کہتری کے دورے ڈالنے اور‬

‫پڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صیؽہ ہم کا‬
‫استعمال کرنے والوں کا لب و لہجہ ہم کا عکاس ہوتا‬
‫ہے۔ یوں لگتا ہے شہنشاہ اکبر‘ جو اکبر اعظم کے‬
‫عرؾ سے معروؾ ہے‘ کچھ فرما رہا ہو۔ بعض اولات‬

‫اس کا فرمانا دین الہی سے ماخوز لگتا ہے۔‬

‫پردھان منشی کے مکین صیؽہ ہم کا بہت کم اور کبھی‬
‫کبھار استعمال کرتے ہیں ہاں ان کا کردار ہم کا‬

‫استعمال کرنے والوں سے زیادہ جارحاانہ ہوتا ہے‬
‫حالانکہ اختیارات وؼیرہ کے حوالہ سے ہم والوں سے‬

‫بڑھ کر بلکہ کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔‬

‫اصل ستم کی بات تو یہ ہے ہر دو یعنی ہم اور ہم نما‬
‫سے متعلك لوگوں کو اہل دانش اہل علم اور اہل للم‬
‫سمجھا جاتا ہے۔ ٹانی الذکر اہل للم ہونے حوالہ سے‬
‫خوؾ اور ہراس کی علامت ہوتے ہیں۔ جو بھی سہی ہم‬
‫اور ہم نما ہماری سوساءٹی میں پکا پیڈا وجود رکھتے‬
‫ہیں۔ پیڈا کو مضبوط اور پیڈا کے معنوں میں لیا جا‬

‫سکتا ہے۔ پیڈا کی کیا اتھارٹی ہے‘ اس کا احوال ان‬
‫سے دریافت کیا جا سکتا ہے جن پر یہ خدانخواستہ فٹ‬

‫ہو چکا ہے۔‬

‫میرے نزدیک ان کو بالاتر اور صاحب تکبر مخلوق‬
‫تسلیم کر لینے میں کوئی برائی اور مبالؽہ نہیں۔ انھیں‬
‫اہل علم اور اہل علم کہنے میں بھی حرج والی کوئی‬
‫بات نہیں ہاں البتہ دل سے تسلیم کرنا ظلم زیادتی اور‬

‫کھلا اندھیر ہے۔‬

‫تکبر اور علم کا کوئ تعلك ہی نہیں۔ یہ دو الگ سے‬
‫رستے ہیں۔ جہاں تکبر ہو گا وہاں علم نہیں ہو گا اور‬
‫جہاں علم ہو گا وہاں تکبر نہیں ہو گا۔ علم عجز اور‬
‫انکساری کی طرؾ لے جاتا ہے۔ علم تموے کی گرانمدر‬
‫نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ تکبر شخص کو انسان‬
‫نہیں رہنے دیتا۔ تکبر کے باطن میں خدا ہونے کے‬
‫جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ علم کے باطن میں الله کا‬

‫عاجز بندہ ہونے کا ارمان کروٹیں لیتا ہے۔ یہ میں‬
‫ناہیں سبھ توں کی طرؾ لے جاتا ہے۔ تکبر کوئ ناہیں‬

‫سبھ میں کی طرؾ لے جاتا ہے۔‬

‫ناصر زیدی ہم والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ‬
‫تحریروں میں بھی ہم کو پس پشت نہیں ڈالتے۔ وہ‬
‫حمیمت کا گلا گھونٹ نہیں دبا سکتے ہھی ہیں لیکن ہم‬
‫پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ ہم کا استؽمال کرنے کا حك‬
‫بھی رکھتے ہیں۔ وہ لاٹ ہاؤس کے للم سے پاکستان‬
‫میں کالم لکھتے ہیں۔ لاٹ ہاؤس میں اج بھی بےشمار‬
‫جونئیر ساتھی ہوں گے۔ لاٹی للم نے میڈیا میں ان کے‬
‫ہم کی دھاک بٹھا دی ہے۔ عام لوگوں کی کیا بات کرنا‬
‫ہے وہ وچارے تھے اور وچارے ہیں لاٹی اور التداری‬

‫بھی ان کےللم کی مار سے خوؾ زدہ ہیں۔‬

‫میں اہل علم میں نہ اہل دانش میں ہوں اس لیے روٹی‬
‫کو زندگی کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں تاہم زندگی‬
‫کو روٹی کے لیے نہیں سمجھتا۔ مجھے ایک مولوی‬

‫صاحب یاد آگءے۔ حج پر جانے سے پہلے ایک‬
‫درویش کے پاس گیے۔ سلام کیا اور فخر سے بتایا حج‬

‫پر جا رہا ہوں۔ درویش نے پوچھا حضرت دین کے‬
‫بناء کتنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کلمہ نماز روز حج‬
‫زکوات۔ درویش نے کہا روٹی کو چھوڑ رہے ہیں۔‬
‫مولوی صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کہا‬
‫اور اٹھ گیے۔ اتفاق سے حج سے واپسی پر بحری‬

‫جہاز تباہ ہو گیا اور یہ ایک لکڑی کے تختے پر بیٹھ‬
‫کر ایک جزیرے میں جا پھنسے۔ وہاں نہ بندہ نہ بندے‬
‫کی ذات۔ بھوک نے سخت پریشان کیا۔ اچانک ایک بابا‬
‫روٹی خرید لو کا آوازہ لگاتا گزرا۔ مولوی صاحب نے‬
‫انھیں بلایا اور روٹی دینے کی استدعا کی۔ بابے نے‬
‫لیمت طلب کی۔ انھوں نے کہا میرے پاس دام نہیں ہیں۔‬
‫بابے نے کہا کچھ تو ہو گا۔ انھوں نے کہا میرے پاس‬
‫کلمہ نماز روز حج زکوات ہے۔ بابے نے نماز لکھوا‬

‫لی اور روٹی دے دی۔ اگلی بار روزہ پھر حج اسی‬
‫طرح زکوات بھی لکھوا لی۔ دریں اثنا ایک جہاز ادھر‬
‫سے گزرا وہ کسی ناکسی طرح اس پر سوار ہو کر‬

‫وطن آ گے۔‬

‫ملنے ملانے اور پرتکلؾ دعوتوں سے فراؼت کے بعد‬
‫اس درویش کے پاس گیے۔ دعا سلام اور احوال‬

‫پوچھنے کے بعد درویش نے دین کے بناء پوچھے۔‬
‫مولوی صاحب نے روٹی کو پھر گول کر دیا۔ درویش‬
‫نے روٹی کا ذکر کیا تو مولوی صاحب حسب سابك‬
‫توبہ توبہ پر اتر آئے۔ درویش نے دستخط شدہ کاؼذ ان‬
‫کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دیکھا جاءے روٹی زندگی‬
‫میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اہل تموی کا جینا بھی‬

‫اس سے منسلک ہے۔ روٹی نہ ملنے کی صورت میں‬
‫منفی سوچ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔‬

‫اگر ہم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حمیمت‬
‫پوشیدہ نہیں رہے گی کہ ناصر زیدی موجودہ اور‬
‫سابمہ کے حوالہ سے بڑے بااختیار ہیں۔ سب سے بڑھ‬
‫کر یہ کہ لاٹ ہاؤس والا للم ان کے عزت مآب ہاتھ میں‬
‫ہے۔ میں عرصہ دراز سے سیکڑیری ہاءر ایجوکیشن‬

‫کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے‬
‫درخواستیں گزار رہا ہوں۔ اب تو مجھے درخواستوں‬
‫کی تعداد بھی یاد نہیں رہی۔ رلم ملنا تو دور کی بات ان‬
‫کی جانب سے واپسی جواب تک موصول نہیں ہوا۔ یہی‬
‫حال پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن لاہور والوں‬

‫کا ہے۔‬

‫انھوں نے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ میری کتاب‬
‫کی اعزازی پروؾ ریڈنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس‬

‫خدمت کو سردست چھوڑیں۔ مجھے اپنا اثر رسوخ اور‬
‫ہم کا جاءز استعمال کرتے ہوئے ہر دو محکموں سے‬

‫میری ہی رلم دلوا دیں تاکہ میں ان سے کتاب کی‬
‫اعزازی پروؾ ریڈنگ کروا کر دوبارہ سے کتاب شائع‬

‫کرنے کی سعادت حاصل کر سکوں۔ مجھے یمین ہے‬
‫کہ میرا حك دلانے میں صیؽہ ہم مثبت کردار ادا کرکے‬
‫ناصرؾ گریب پروری کر سکتا ہے بلکہ ؼالب نوازی‬

‫کا اعزاز بھی حاصل کر سکتا ہے۔‬

‫وہ دن ضرور آئے گا‬

‫آج سبزی منڈی کے بھاؤ اعتدال پر تھے۔ بیگم نے اگر‬
‫دو دن صبر کر لیا ہوتا تو اس کا کیا جاتا۔ مجھے اس‬
‫پر ؼصہ نہ آیا کیونکہ اس وچاری کے پاس کون سی‬
‫الہامی شکتی تھی۔ یہ بھی کہ حالات بتا رہے تھے کہ‬
‫بھاؤ اوپر ہی اوپر جاءیں گے۔ دوسرا ضرورت تو اس‬
‫ولت تھی۔ بعد ضرورت میسر آتی چیز کو کیا کرنا ہوتا‬
‫ہے۔ یہ بھی کہ ہم کون سے بیوپاری ہیں جو خوردنی‬
‫اشیاء کو ذخیرہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ذخیرہ‬
‫منوں کا ہو یا آدھ پاؤ سیر کا ہو ذخیرہ ہی کہلائے گا۔‬
‫ذخیرہ کی عادت اس میں بہرطور ہے۔ آدھ کلو ٹماٹر‬
‫اور دو کلو آلو تو ذخیرہ ہو گیے۔ اگر یہی ایک ٹماٹر‬

‫اور آدھ کلو آلو دوکان سے منگوا لیتی تو یہ دن نہ‬
‫دیکھنا پڑتا۔ آج پنتس روپے کلو آلو چھیاسٹھ روپیے‬

‫کلو ٹماٹر بک رہے تھے۔‬

‫لیمتیں آویزاں ہوں تو بھاؤ کرنے کا سیاپا نہیں کرنا‬
‫پڑتا۔ بھاؤ کرنے کا عمل بڑا تکلیؾ دہ ہوتا ہے۔ میری‬
‫اس عمل سے جان جاتی ہے۔ یہ جنجال گریبوں یعنی‬
‫بھوکے ننگوں اور کنگلوں تک محدود ہے۔ اس کرپٹ‬
‫معاشرے میں بھی جان مارتے ہیں اور ہاتھ کچھ نہیں‬
‫لگتا۔ بیسیوں بلامحنت کمائی کے ذرائع موجود ہیں۔ یہ‬
‫بھی امکان ؼالب ہے کہ ان دھندوں سے متعلك لوگ‬

‫ان لوگوں کو اپنے کام کا نہ سمجھتے ہوں۔ ایمان‬
‫داری کی مہلک بیماری کے سبب ان پر یمین بھی نہیں‬

‫کیا سکتا۔‬

‫ٹماٹر آلو اور پودینے کی جریداری کرنے کے بعد میں‬
‫اپنی نشت پر آ بیٹھا بمیہ کالم پڑھنے کا ارادہ کر ہی‬
‫رہا تھا کہ ایک صاحب آدھمکے۔ مروت کا تماضا تھا‬
‫کہ جعلی سی مسکراہٹ کے ساتھ انھیں خوش آمدید‬
‫کہنا پڑا۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ موصوؾ گن کی‬
‫گتھلی ہیں۔ لطائؾ و ظرافت کا ذوق رکھنے کے ساتھ‬

‫ساتھ حکمت بھی بلا کی رکھتے ہیں۔ ضرورت مندوں‬
‫کے لیے گولیاں شلوار والی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان‬
‫سے گولیاں لیتے ولت گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ پہلے اپنی‬
‫ذات پر تجربہ کرتے ہیں۔ مدن بان کی ان پر خصوصی‬
‫کرپا ہے۔ کام دیوا سے شفا کا بردان حاصل کر چکے‬
‫ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدیانی امور بڑی کامیابی سے‬
‫انجام دیتے ہیں۔ باتیں بڑی چٹخارے دار کرتے اور‬
‫بناتے ہیں۔ دوسرا یہ معاملہ ہے ہی چٹچارے دار۔ میں‬
‫بھی تو اس کالم کو جنسی کالم سمجھ کر پڑھ رہا تھا۔‬

‫مدن سے ٹھیک پانچ لفظ کے فاصلے پر ڈاکٹر تبسم‬
‫کاشمیری کا نام تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا تیس‬
‫چالیس سال سے محبت کا رشتہ ہے۔ بڑی صاؾ‬

‫ستھری اور نکھری نکھری شخصیت کے مالک ہیں۔‬
‫تحمیك اور تنمید میدان ہے شاعری کا بھی شوق‬

‫رکھتے ہیں۔ جنسیات سے متعلك ان کی کوئ تحریر‬
‫میری نظر سے نہیں گزری۔ حیرت ہوئ اس عمر میں‬
‫انھیں مدن بانی کا شوق کیوں اور کیسے پیدا ہو گیا۔‬
‫سوچا بڑھاپے میں عموما وج کھج جاتی ہے۔ یہ بلا‬
‫اور بےجواز بات بھی نہیں۔ یہ مدنائزیشن کا عہد ہے۔‬
‫ہم شرلیوں کو مؽربی بننے کا شوق کچھ زیادہ ہی ہے۔‬

‫بھلا ہو حضرت ڈینگی شریؾ کا جو صبح سویرے اور‬
‫شام لریب اسلام نافذ کر دیتا ہے۔ اس طرح جبری سہی‘‬

‫بے لباسی لباسی ہو جاتی ہے۔‬

‫یہ بات اہل علم کیا‘ ہر ایرا ؼیرا بھی جانتا ہے کہ‬
‫نمرود کو ڈینگی ہی لڑا تھا اور وہ چار صدیاں چھتر‬
‫کھاتا رہا۔ ہٹ کا پکا تھا چھتر کھاتا رہا لیکن ہم کے‬
‫دائرے سے باہر نہ آیا۔ بادشاہ لوگ اگر ہٹ کے پکے‬
‫نہ ہوں تو انھیں بادشاہ کون کہے گا۔ میں عصری دلیل‬
‫بھی رکھتا ہوں۔ پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن‬
‫لاہور اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن والی رلم دلوانا‬
‫دور کی بات میری کسی داخواست کا جواب ہی دلوا ے‬
‫تو مان جاؤں۔ جواب کو نہی کے معنوں میں نہ لیں۔‬
‫کیوں‘ وہ کلرک بادشادہ ہیں۔ ہٹ انھیں گٹی میں ملی‬
‫ہے۔ بہرکیؾ یہ بادشاہوں کے معاملے ہیں اس لیے‬

‫طے شدہ ہیں ان پر کلام سے پاپ لگتا ہے۔‬

‫ہمارے ہاں نامعلوم بلامعلوم اور ؼیر کلام پر گفتگو کا‬
‫رواج بڑا عام ہے۔ ہاں میں ہاں ملانا تو بڑی عام سی‬
‫بات ہے۔ ہم مدلل گفتگو کی پوزیشن میں بھی ہوتے‬
‫ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی خوردنی سامان کی خریداری‬

‫کے لیے بازار گیے نہیں ہوتے۔ مال و منال بھی وافر‬
‫سے زائد ہوتا ہے شاندار اور دھواں دھار لیکچر پلا‬
‫سکتے ہیں۔ ان کے لباس پر نہ جائیے صرؾ کہے‬

‫سنے تک رئیے ایسا محسوس ہو گا جیسے کچھ‬
‫کھائے انھیں ہفتے گزر گیے ہوں۔‬

‫دل نہیں مان رہا تھا کہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری‬
‫مدنائزیشن کا شکار ہو گیے ہیں۔ بندے کا کیا پتہ ہوتا‬
‫ہے۔ میں نے کالم آگے کیا پڑھنا تھا میری سوئ یہاں‬
‫پر اٹک گئ۔ دل مان نہیں رہا تھا آنکھوں دیکھا رد بھی‬
‫نہیں کر سکتا۔ آخر انھوں نے اس کتاب کا دیباچہ کیوں‬
‫لکھا۔ میں نے سوچا تصدیك کر لینی چاہیے کہ انھوں‬

‫نے دیباچہ لکھا بھی کہ نہیں۔ ہمارے ہارے ہاں بلا‬
‫دیکھے دیباچہ لکھنے کا رواج موجود ہے۔ ہو سکتا‬
‫ہے انھوں نے کسی مروت کے تحت کچھ لکھ دیا ہو۔‬
‫پھر میں نے کتاب منگوائ‘ دیباچہ موجود تھا۔ کتاب‬
‫کے اگلے صفحوں میں کتاب پر ڈاکٹر نجیب جمال‘‬
‫ڈاکٹر صابر آفالی‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر ؼلام شبیر رانا‬
‫اور ڈاکٹر محمد عبدالله لاضی کی تحریریں بھی موجودد‬

‫تھیں۔‬

‫ناصر زیدی صاحب کو صرؾ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ہی‬
‫کیوں نظر آئے۔ بمیہ کالم کیا پڑھنا تھا میں اس سوال‬
‫کا جواب تلاشنے کی کوشش میں لگ گیا۔ کیا ایسا تو‬
‫نہیں ناصر زیدی صاحب نے کتاب کا مطالعہ کیے بؽیر‬
‫ہی خانہ پری کے لیے کالم لکھ دیا ہو۔ آخر آلو ٹماٹر‬
‫کی انھیں بھی ضرورت ہے۔ ہر طرؾ خانہ پری کا‬
‫سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی تو ہر طرؾ میں آتے ہیں۔‬
‫نزدیک کی کمائی خوش آنا رواج سا بن گیا ہے۔ سا‬
‫میں نے رواجا لکھا ہے ورنہ معاملہ سا کی دسترس‬
‫سے نکل کر مشبہ بہ کاملا مشبہ کا روپ دھار چکا‬
‫ہے۔ فعل بد شیطان سا تھا اب شیطان بن گیا ہے۔ اب‬
‫سا کا کوئ رولا ہی نہیں رہا۔ رشوت ملاوٹ دؼا عین‬
‫کاروبار کا درجہ اختیار کر گیے ہیں لہذا ان پر گلا‬
‫بےفضول سا ہو گیا ہے۔ میں مطالعہ کے حوالہ سست‬
‫رو رہا ہوں اسی لیے بمییہ کالم مجھے اگلی نشت تک‬

‫اٹھا رکھنا پڑا۔‬

‫بینائ بےشک کمال کی چیز ہے لیکن اندھا بیک ولت‬
‫دو فائدے اٹھاتا ہے۔ جی بھر کر سو سکتا ہے چھاؤں‬

‫چھاؤں چل سکتا ہے۔ بلادیکھے کام کرکے پیسے‬
‫کھیسے کرنے والے اندھے کی طرح موج میں ہوتے‬

‫ہیں لیکن مجھ سا لدم لدم پر رک کر اپنا اور لارین کا‬
‫ولت برباد کرتا ہے۔ کیا کریں اپنا اپنا طریمہ ہے۔‬

‫اندھے سے بلکہ اندھے کماتے اور ڈکارتے ہیں اور‬
‫مجھ سے مفت میں مؽز ماری کرکے رسوا ہوتے ہیں۔‬

‫فکرمند نہ ہوں‬
‫دیر اور لسطوں پر سہی‘ وہ دن ضرور آئے گا جب‬
‫ناصر زیدی صاحب کے کالم کی آخری سطر میری نظر‬

‫سے گزر رہی گی۔‬

‫کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے „ایجوکیشن‬

‫لڑائی شخصی ہو کہ لومی یا پھر ملکی‘ اس کا آؼاز‬
‫گھورنے سے ہوتا ہے۔ گھورتے سمے فریمین کی‬
‫ناسیں پھیلنا شروع ہوتی ہیں اور پھر یہ بتدریج پھیلتی‬
‫چلی جاتی ہیں۔ نہیں پھیلیں گی تو معاشرے میں کٹ‬
‫جائیں گی۔ ان کا رہنا‘ ان کے پھیلنے سے مشروط ہوتا‬
‫ہے۔ آنکھوں میں ہوتی شام کی افمی گردش کرنے‬
‫لگتی ہے۔ گردش دوراں کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائی‬

‫اور گیرائی میں ہرچند اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان‬
‫لہو آمیز نینن میں فاتح ہونے کی تمنا مچلنے لگتی‬

‫ہے۔ کان ناصرؾ کھڑے ہوتے ہیں مہنگائی کے‬
‫باوجود ٹماٹری ہو جاتے ہیں۔ ہونٹوں پر حالیہ کشمیری‬
‫بھوکم کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور بظاہر بےمعنی‬

‫بربڑاہٹ سی سنائی دیتی ہے۔ دریں اثناء اگر کوئی‬
‫جلنے لریب پر تیل ڈال دیتا ہے تو ؼیرسرکاری اور‬

‫ؼیر سیاسی لسم کے بیانات کا آؼاز ہو جاتا ہے‬
‫بصورت دیگر پہلے ہاتھ میں موجود چیز کا فرش پر‬
‫کڑاھپ سے مارنا عسکری ضابطہ ٹھہرا ہے۔ چیز کی‬
‫مالی لدر دو نمبری کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔‬
‫گویا جاروب کش کے کام میں بلالصور اضافہ کر دیا‬
‫جاتا ہے۔ اس ذیل میں یہ بھی نہیں سوچا یا دیکھا جاتا‬

‫کہ چور چور کر دی جانے والی چیز کا فریمن کی‬
‫گرمی سے کوئ تعلك واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ گرمی کے‬

‫ساتھ سردی کا اس لیے اندراج نہیں کیا گیا کہ وہ‬
‫مولع ٹھنڈک سے متعلك نہیں ہوتا۔خدا خدا کرکے‬
‫ناسیں پھیلانے اور گھورنے کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔‬
‫یہی لڑائی کے ضمن میں مشکل اور کٹھن گزار مولع‬

‫ہوتا ہے۔‬

‫دل کی بھڑاس ہاتھ میں موجود شے پر نکالنے کی‬
‫کوشش کی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں‬
‫رکھیں شے زمین پر پھینکی جاتی ہے۔ فاءرنگ کا‬
‫سلسلہ کافی بعد کا کام ہے۔ بہت پہلے سے یہ جنگی‬

‫اصول مستعمل چلا آتا ہے۔ اس سے انحراؾ گویا‬
‫جنگی اصول اور ضابطے کے خلاؾ ہے۔ ناسیں‬
‫پھیلانے‘ کان کھڑے کرنے اور آنکھوں میں جنگی‬
‫عروسی بھرنے کے بعد ؼرانے کا عمل شروع ہوتا‬
‫ہے۔ یہ عمل تادیر برلرار نہیں رہتا۔ اس سے تھوڑی‬
‫دیر بعد تکرار لفظی سننے میں آ جاتی جو درحمیمت‬
‫شخصی رجز کے مترادؾ ہوتی ہے۔ ذاتی تعارؾ میں‬
‫ماں بہن بیٹی کو بھی لانا ضروری اور جزو جنگ‬
‫سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کو فریمن‬
‫اول درجے پر رکھتے ہیں حالانکہ ان کا اس میں‬
‫سرے سے عمل دخل ہی نہیں ہوتا۔ اگر وہ مولع پر‬
‫موجود ہوتیں تو مرد لڑاکوں کو کھانسنے کا بھی مولع‬

‫میسر نہ آتا۔‬

‫بول بولارے سے متعلك امور وہ از خود طے کر لیتں‬
‫اور مرد حضرات سے کہیں بہتر اور اعلی پاءے کے‬
‫طے کرتیں۔ خواتین کی موجودگی میں یہ معاملہ مردانہ‬

‫نہیں رہ جاتا۔ مردوں کا آدھا بھار وہ ونڈا دیتی ہیں۔‬
‫مرد میدان میں اچھا لگتا ہے۔ میدان کس نے مارا‘ کا‬
‫اندازہ ایک کے لتل ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اطراؾ‬
‫میں کسی کی جان نہ جانے کی صورت میں بے ہوش‬
‫ہو جانے والا پراجت سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا‬
‫بھی نہ ہو تو چہرے کے آلو‘ جنگ کی اسکورسنگ‬
‫کا کام دیتے ہیں۔ تاہم جنگ کا حك جان دینے یا لینے‬
‫کی صورت میں ہی ادا ہوتا ہے۔ اس گیم پر اتنا ولت‬
‫برباد کرنے کا حمیمی اور حتمی نتیجہ سامنے نہ آنا‬

‫جنگی اصولوں کے منافی ہوتا ہے۔‬

‫جنگ اچھی ہوتی ہے یا بری‘ سردست میرا اس‬
‫موضؤع سے کوئ تعلك نہیں۔ اس سے امن کا رستہ‬
‫نکلے گا بدامنی کی راہیں کھلیں گی‘ اس تحریر کا اس‬
‫سے بھی کوئ لینا دینا نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ‬
‫جنگ کو جنگی اصولوں ضابطوں اور صدیوں سے‬
‫چلے آتے مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اس میں کسی‬
‫مرحلے کا جلد بازی میں رہ جانا مناسب نہیں اور ناہی‬
‫وہ لطؾ رہتا ہے۔ للکار کر آنے اور چوروں کی طرح‬
‫آنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میدان میں فیصلہ‬
‫ہونا چاہیے کہ کون جیت کر ہارا اور کون ہار کر جیتا۔‬

‫ناسیں پھیلنے کا نظارہ دیکھنے کو نہ ملےاور‬
‫معاملہ توتکرار کی سرحدوں میں آ گھسے۔ یا دونوں‬
‫عمل کا تارک ہو کر ماں بہن اور بیٹی کی شان میں‬
‫گستاخی پر اتر آنا‘ کسی طرح جنگی دیانت میں نہیں‬
‫آتا۔ کون کس بہادری اور جیداری سے لڑا‘ دیکھنے کا‬
‫مزا پہلے مراحل کے بؽیر نہیں آتا۔ؼالب سے کلکتہ‬
‫والوں سمت کئ حلموں کی جنگیں ہوئیں۔ یہ کوئی نئی‬
‫جنگیں نہ تھیں۔ پہلے ازیں بعد سیکڑوں للمی جنگیں‬
‫ہوءی۔ ان جنگوں میں جنگی اصول وضوابط کے حفظ‬
‫مراتب ہر سطع پر مدنظر رکھے گیے۔ بعض جنگوں‬
‫میں بےاصولی بھی ہوئی لیکن ان کی تعداد آٹے میں‬

‫نمک برابر ہے۔‬

‫میں نہیں جانتا ناصر زیدی پرانے یودھا ہو کر بھی‬
‫ابتدائی دونوں مراحل سے کیوں گزر جاتے ہیں۔ سنتے‬
‫ہیں پڑھے لکھے بھی ہیں۔ پڑھائی کی ناموس بہرطور‬
‫برلرار رہنی چاہیے۔ جب اٹھتے ہی ڈگریاں پنتے ہیں‬
‫تو ان کی ایجوکیشن مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایجوکیشن‬
‫تمیز و امتیاز سکھاتی ہے جبکہ کوالیفیکیشن عملی‬
‫میدان کے کارناموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اب جب وہ‬

‫کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو ان‬
‫کی ایجوکیشن پر لامحالہ حرؾ آئے۔‬

‫جب وہ کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن اور ایجوکیشن کو‬
‫کوالیفیکیشن سمجھیں گے تو ان کے کہے کی معنویت‬
‫بالی نہ رہے گی۔ دوسرا اندھیر یہ کہ اٹھتے ہی ماں‬
‫بہن کی گستاخی پر اتر آتے ہیں تو ایسے شخص کو‬
‫جوابا کیا کہا جائے۔ میرے نزدیک ڈگریوں پر انگلی‬
‫رکھنے سے پہلے ان کی متعلمہ محکمہ سے‘ اصلی یا‬
‫جعلی کی تصدیك کروا لی جائے تو ہی لو لڑائی لڑی‬
‫جا سکے گی۔جنگ کے ضوابط اور جنگی سلیمہ ہی‬
‫دراصل جنگی کیمسڑی ہے۔ کسی بھی چیز یا معاملے‬
‫کی کیمسٹری سے آگہی ایجوکیشن ہے جبکہ اس کی‬

‫اپلیکیشن اور رزلٹس کوالیفیکیش ہے۔ باور رہنا‬
‫چاہیے کہ کسی بھی معاملے کے سلیمے اور اس کی‬
‫کمسٹری سے آگہی کے ناصرؾ بہتر نتائج سامنے‬

‫آتے ہیں بلکہ جنگ میں نمصان بھی کم ہوتا ہے۔‬

‫جنگی کیمسٹری کا جانو دشمن کو بھاگا بھاگا کر‬
‫گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جنگی نؽموں کا‬
‫کام گائیک حضرات کے ذمے بھی رہا ہے۔ میدان سے‬

‫باہر کھڑے مبصرین کی کارگزاری بلاشبہ بڑی جان‬
‫سوزی کا کام ہے۔ اسی طرح اکھاڑے سے باہر کھڑے‬

‫داؤ و پیچ بتانے والوں کی محنتوں کو جنگی‬
‫کوالیفیکیشن کا حصہ سمجھا جانا چاہیے تاہم ان پر‬
‫عمل درامد ضروری نہیں کیونکہ یودھا اپنی حمکت‬
‫عملی خود سے طے کرتا ہے۔ جنگی نؽمے ناصرؾ‬
‫جوش پیدا کرتے ہیں بلکہ رجز خوانی اور للکاری‬

‫بولوں کو بھی نکھارتے ہیں۔‬

‫کوالیفیکیشن پر عمل درامد بہتر نتائج کا „ایجوکیٹڈ‬
‫حامل خیال کیا جاتا ہے۔۔ ہمارے ہاں لائؾ ایکسپرنس‬
‫سے استفادہ کرنے کا رواج مخصوص حلموں تک‬
‫محدود ہے۔ طبمہ نوازی ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ یہاں‬
‫زرہ نوازی کا رواج نہیں۔ ہاں یہ نوازتی طبمے خود کو‬
‫ذزہ سمجھتے ہیں۔ ان کو نوازنے کے سبب ذرہ نوازی‬
‫مرکب تاحال اپنے فل بٹا فل بھار کے ساتھ وجود رکھتا‬

‫ہے۔‬

‫آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں‬

‫الله نے للم کو معتبرمعزز اور محترم بنایا۔ اس کی‬
‫حرمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ الله‬

‫نے اس کی لسم اٹھائ ہے۔ اگلے ولتوں میں کانے‬
‫سے بڑے اہتمام کے ساتھ للم گھڑی جاتی تھی۔ ماسٹر‬
‫کے جیب میں للم گھڑ کر دینے کے لیے کاچو ہوا کرتا‬

‫تھا۔ دوکان سے بھی گھڑی گھڑائی للمیں مل جاتی‬
‫تھیں۔ ٹک بڑی احتیاط کے ساتھ لگایا جاتا تھا۔ گھڑائ‬
‫کے ساتھ ساتھ خوش خطی میں اس ٹک کا بڑا عمل‬
‫ہوتا تھا۔ خوش خطی بالاعدہ فن تھا اور خوش خطی‬
‫کے الگ سے نمبر ملتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ‬
‫وہ لکھائ بڑی مشمت انگیز تھی۔ ہر اگلا لفظ لکھنے‬
‫کے لیے ٹوبا لینا پڑتا تھا۔ اس للم کے ساتھ ڈنک اور‬
‫کچی پنسل بھی مستعمل تھے تاہم انہیں للم کا نام و‬
‫ممام حاصل نہ تھا۔ جی کے نب والا ڈنک انگریز کے‬

‫عہد میں مستعمل ہوا۔ جی کے نب والے ڈنک کو‬
‫انگریز ہونے کا شرؾ حاصل تھا اس کے باوجود اسے‬

‫للم کا درجہ کبھی بھی حاصل نہیں رہا۔‬

‫الله نے کبھی اور کہیں ڈنک یا کچی پنسل کی لسم نہیں‬

‫کھائی۔ للم سے کچی اور پکی سیاہی سے لکھا جاتا‬
‫تھا۔ ہر دو طرح کی سیاہی سے لکھی گئ تحریر للم کی‬
‫تحریر تھی اس لیے معتبر اور محترم تھی۔ پن تو بہت‬
‫بعد میں ولایت سے تشریؾ لایا۔ چونکہ وہ ولایت سے‬
‫آیا اسے پن شریؾ کہنا ؼلط نہ ہو گا۔ دیسی گوروں‬
‫نے پن شریؾ کو بھی للم ہی کہا اور کسی حد تک یہ‬

‫نام بھی مستعمل ہوا۔ دیدہءبینا نے اسے کبھی للم‬
‫تسلیم نہیں کیا۔ ان کے ہاں یہ پن ہی مستعمل رہا۔ بھیڑ‬
‫کو وہ بکری کیوں تسلیم کرتے۔ دیسی گورے رنگت‬

‫کے گندمی‘ احساس برتری میں اسے پن ہی کہتے‬
‫تھے۔ یہ تھا بھی پن حالانکہ اس کے نب میں بھی ٹک‬
‫ہوتا تھا۔ پارکر جیسا لیمتی پن بھی ٹک کے بؽیر نہیں‬

‫ہوتا تھا۔‬

‫ولت آگے بڑھا تو للم پن متروک ہو گیے۔ ان جگہ بال‬
‫پوائنٹ نے لے لی۔ بال پواءنٹ کو بائرو بھی کہا جاتا‬
‫ہے اور یہی رائج ہے۔ جس پواءنٹ سے لکھتے ہیں‬
‫وہ بلا ٹک ایک کوکا سا ہوتا ہے۔ ٹک نہ ہونے کے‬
‫سبب اس سے مروت کی آشا بے فضول سی ہے۔ اس‬
‫میں سیاہی نہیں پڑتی۔ یہ بھری بھرائ ہوتی ہے۔ صاؾ‬
‫ظاہر ہے اس میں جو بھی بھرا جاتا ہے کیمیکل سے‬

‫مبرا نہیں ہو گا۔ بھرنے والے اپنی طینت اور مماصد‬
‫اس میں آمیزہ کرتے ہوں گے۔ دفاتر ہوں یا شفاخانے‬
‫یا درس گاہیں‘ اس کا سکہ چلتا ہے اور بڑے بھار‬
‫سے چلتا ہے حالانکہ اس کی اولات اتنی ہے جب اس‬

‫کے اندر کا مواد ختم ہو جاتا ہے اسے کچرے کے‬
‫ڈبے کی زینت بننا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس پن کی یہ‬
‫حیثیت نہ تھی۔ سیاہی ختم ہوتی تو دوبارہ سے بھر لی‬

‫جاتی۔ نب ٹوٹ جاتا نیا نب بازار سے مل جاتا تھا۔‬

‫ڈاکٹر عبدالاضی لله کمال کے عالم فاضل ہیں۔ خیر سے‬
‫ڈبل پی ایچ ڈی ہیں۔ زندگی پڑھنے لکھنے میں گزار‬
‫دی ہے۔ ان کی شرح بخاری کویت سے شائع ہو رہی‬
‫ہے۔ اتنے پڑھ لکھ کر بال پوائنٹ کی طالت کو نہیں‬
‫مانتے۔ عہد جدید میں بھی پن سے لکھتے ہیں وہ بھی‬
‫ایگل کے پن سے۔ پارکر کا للم رکھتے ہوئے ایگل کے‬
‫پن سے لکھنا پارکر کی توہین کرنے کے مترادؾ ہے۔‬
‫کل فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ للم‬
‫کی حرمت جان سے زیادہ لیمتی ہے۔ یہ تو سنا تھا‬
‫عزت‘ عزت اور حرمت ایک ہی بات ہے بچانے کے‬
‫لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔ جان بار ملنے‬
‫کی چیز نہیں لہذا اسے بچانے کے لیے عزت نیلام کر‬


Click to View FlipBook Version