جاتی رہے۔ آپ کی یہ عنایت' لوم کے لیے' بہت بڑا
تحفہ ہو گا۔ آپ کے اس عظیم اور دانش مندانہ فیصلے
کو' چوری خور مورکھ' زعفرانی سیاہی سے' رلم
کرے گا۔ بھوکے پیاسے لوگ' آپ کو دعائیں دیں گے'
جس سے آپ کا البال مریخ کی بلندیوں کو چھوتا رہے
گا۔
آج مورخہ اکتوبر2015 '11
العارض
اعلی شکشا منشی کی خدمت گرامی میں' 1997سے
گزاری گئی درخواست ہائے ہائے' بسلسلہ ایم فل
الاؤنس' کے جواب سے مرحوم
بےبس وبےکس وچارہ ممصود صفدر علی شاہ
ریٹائرڈ ایسوی ایٹ پروفیسر اردو
مشتری ہوشیآر باش
کسی کجی خرابی ؼلطی سچائ یا ہونی کو تسلیم نہ
کرنا زمین کے ہر خطہ کے انسان کی سب سے بڑی
اور مستمل خوبی ہے۔ جب یہ رواج پا گئ ہے تو
اس کی کسی سطع پر مذمت کرنا کسی طرح درست
نہیں۔ جب کوئ تسلیم نہیں کرتا تو وہ اول الذکر طبمے
کی صؾ میں ا کھڑا ہوتا ہے۔ کسی گنجے کو اگر آپ
ہیلو گنجا صاحب یا کسی کانے کو محترم کانا صاصب
کہہ کر پکاریں گے تو وہ آپ کا سر پھوڑ دے گا۔ کتنی
زیادتی کی بات ہے۔ کیا مخاطب گنجا یا کانا نہیں ہوتا۔
ادب آداب ملحوظ خاطر رکھا گیا ہوتا ہے۔ پھر ؼصہ
اور تاؤ میں آنے کا‘ کیا جواز بنتا ہے۔ؼالبا اس طور
سے پکارنے کا رویہ پروان نہیں چڑھ سکا جو
بہرطور رواج پانا چاہیے۔
میری بات سن کر استاد ہوریں کھکھلا کر ہنسے اور
میں شرمندہ سا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد فرمانے لگے۔
فعل وجہء پہچان نہیں ہوا کرتا۔ حثیت مرتبہ عہدہ
گروہ جماعت شخص کی وجہءپہچان بنتی ہے۔ دفتر
میں بیٹھا بابو یا افسر رشوت کے بؽیر کام ہی نہیں
کرتے بلکہ کر ہی نہیں سکتے انہیں محترم رشوتی
صاحب کہہ کر پکارنا موت کو ماسی کہنے کے
مترادؾ ہے۔ ہوتا کام بھی نہیں ہو گا۔ یہی نہیں کسی
نئ پھسنی میں پھس جاؤ گے حالانکہ وہ ڈنکے کی
چوٹ پر محترم رشوتی صاحب ہوتے ہیں اور یہ
حمیمت ہر ایرے ؼیرے سے بھی بعید نہیں ہوتی۔
کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں یہ سچائی میں آپ
پر اپلائی کرتا ہوں۔ بہت ہی پیارے اور محترم ڈھیٹ
بےشرم صاحب اس موضوع کو چھوزیں اور کسی
دوسرے موضوع پر بات کریں۔ استاد کا یہ طرز تکلم
مجھے زہر میں بجھے تیر سے زیادہ تیزدھار
محسوس ہوا اور میرے منہ سے بےساختہ نکل گیا:
یہ آپ کیا بکواس کر رہے ہیں۔ میری بوکھلاہٹ اور
سیخ پائی پہ سیخ پا ہونے کی بجاءے انھوں نے پہلے
سے زیادہ جاندار لہمہ داؼا۔ پھر فرمایا جس چیز پر
آپ عمل نہیں کر سکتے دوسروں سے اس کی
!برداشت کی تولع کرنا کھلی حمالت نہیں؟
پہلے آپ یہ فرمائیے کہ آپ نے مجھے ڈھیٹ اور بے
شرم کس بنیاد پر کہا ہے؟
آپ بیسویں صدی سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن
پنجاب کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے
مسلسل اور متواتر درخواستیں گزار رہے ہیں اکیسویں
صدی کے تیرہ سال گزر چکے ہیں کسی ایک کا بھی
جواب موصول ہوا ہے‘ نہیں نا۔ آپ پھر درخواست
گزارنے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈھیٹ ہوئے نا۔
آپ نےمجھے بےشرم کیوں کہا ہے؟
اس کا بھی جواب دیتا ہوں پہلے پہلی بات تسلیم کرو یا
دلیل سے انکار کرو۔
استاد کی بات میں دم اور خم پورے پہار کے ساتھ
توازن رکھتے تھے۔ دل اور دماغ استاد کی بات کو
تسلیم کر رہے تھے لیکن زبان پر رعشہ طاری تھا۔
آپ نے مجھے بےشرم کیوں کہا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔
سراسر زیادتی ہے۔
میں نے اپنی ہاں کو جعلی ؼصہ دکھا کر گول کرنے
کی کوشش کی۔
میری چترائ پر انھوں نے پتھرپاڑ لہمہ داؼا۔ سچی
بات تو یہ ہے کہ میں من ہی من میں بڑا کچا ہوا۔
حضرت ٹالیے مت۔ دو ٹوک ہاں یا ناں میں جواب دیں۔
چلو ایک منٹ کے لیے درست مان لیتا ہوں لیکن آپ
نے بےشرم ایسا ثمیل لفظ میری ذات کے ساتھ نتھی
کیوں کیا ہے؟
منگنیں ڈال کر سہی‘ آپ نے میری بات کو آؤں گاؤں
کرکے تسلیم تو کیا۔ کان اوپر سے پکڑو یا سیدھے‘
بات ایک ہی ہے تاہم آپ حد درجہ لسےاور پھوسٹر
ثابت ہوءے ہیں۔ اہل جفا کے پاس ایک سے ایک بڑھ
کر دلیل ہوتی ہے لیکن آپ کے پلے تو ککھ نہیں۔ آپ
کا تو الله ہی حافظ ہے۔ ؼلطی کرتے ہیں تو ہاتھ میں
کوئی دلیل بھی رکھیے ورنہ سکے میں مارے جاؤ
گے۔ آپ نے چھے ماہ پہلے پنجاب گورنمنٹ سروسز
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن والوں کو اپنی رلم کے لیے
درخواست گزاری اور آس لگا کر بیٹھ گیے۔ بھولے
بادشاہ وہ بھی اسی عدم تسلیمی نظام کا حصہ ہیں۔
وہاں جاؤ‘ گرہ کا منہ کھولو اور زبان والے منہ سے
تسلیم کرو کہ ان کا کام صاؾ شفاؾ اور اک نمبری
ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ کچھ لیے بؽیر سائل کی
داد رسی فرمائ ہے۔ تصوؾ جدید کے درازوں کی
کلید ان کے پاس ہے۔ کیا یہ بےشرمی اور ہٹ دھرمی
نہیں بن دیے لینے کی اچھا رکھتے ہو اوپر سے ان
کے متعلك ٹکے ٹکے کی بےفضول اور معنی خیز
باتیں کرتے ہو۔
استاد نے اور بھی بہت ساری باتیں کیں جن پر
بخوشی ناسہی جبری لہمہ لگایا جا سکتا تھا لیکن میں
نے اپنے منہ کو اور اس سے متعلمہ اعضاء کو
زحمت ہی نہ دی۔ پلہ نہ جھڑنا اور سکے تے مل ماہیا
بےشک اور بلاشبہ دفتری امور کی خلاؾ ورزی اور
اس مستعمل رویے کے خلاؾ سازش نہیں‘ بؽاوت
ہے۔ اگر یہ لوگ اس سسٹم کا حصہ ہیں اور خرابی کو
خرابی تسلیم نہیں کرتے تو میں اپنی ذات سے متعلك
خرابی کو خرابی کیوں تسلیم کروں۔ تسلیم کر لینے
کی صورت میں بھی ؼلط ٹھہرتا ہوں۔ ؼالب کا دور
اور تھا تسلیم کی خو ڈالنا سرکاری مجبوری تھی۔
تسلیم کی خو نہ ڈالنا آج کی سرکاری مجبوری ہے۔ گو
ادھر گرہ میں مال آتا ہے اور ادھر جاتا ہے۔
اب جو بات کرنے جا رہا یہ درج بالا معاملے کا حصہ
نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ میں لکھ ہی نہیں رہا
ناہی ایسی باتیں لکھی جا سکتی ہہں کہ گرہ میں کرایہ
تک نہیں‘ ان منہ اور کھیسہ پاڑ حضرات کے تمدس
مآب دامن میں لائداعظم کے سفارشی رلعے کہاں سے
رکھوں۔ وہ بےچارے بھی تو لانون کے پابند ہہں۔
میں اپنی حتمی مجبوری سے مجبور ہوں تبھی تو
گرہ کا کڑوا سچ لکھا ہی نہیں۔
!مشتری
ہوشیار باش
میں عصری سچائی کے تحت خود میں تسلیم کی خو
ڈال کر عصری ضابطے کے توڑنے کا جرم اپنے سر
پر نہیں لے سکتا۔
یہی پڑھا سمجھا اور سوچا جائے۔
مکرمی بندہ حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کا یہ نہایت دلچسپ انشائیہ پڑھا اور بہت محظوظ و
مستفید ہوا۔ جب اس کے اصول کا خود پر اطلاق کیا تو
اتنے نام اور خطاب نظر آئے کہ اگر ان کا اعلان کر
دوں تو دنیا اور عالبت دونوں میں خوار ہوں۔ سو
خاموشی سے سر جھکا کر یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ۔
انشا ئیہ بہت مزیدار ہے شاید اس لئے کہ حمیمت پر
مبنی ہے۔ اس آئنیہ میں سب اپنی صورت دیکھ سکتے
ہیں۔ بہت شکریہ مضمون عنایت کرنے کا۔
بالی راوی سب چین بولتا ہے۔
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8277.0
لصہ زہرا بٹیا سے ملالات کا
ناصر ناکاگاوا صاحب کا مجھے فون آیا کہ ان کی
ہمشیرہ زہرہ عمران مجھے ملنا چاہتی ہے‘ آ جائے؟
مجھے بینک چوکیدار والا لصہ یاد آگیا۔ ایک صاحب
نے اس سے پوچھا کیا میں بینک کے اندر چلا جاؤں۔
چوکیدار نے صاؾ منع کر دیا۔ ان صاحب نے پوچھا
اتنے لوگ اندر جا رہے ہیں انھیں تو منع نہیں کر
رہے مجھے کیوں منع کرتے ہو۔ چوکیدار نے ترنت
جواب دیا وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں جو انھیں منع
کروں۔ میرے لیے یہ چونکہ نیا تجربہ تھا۔ سارا دن
والؾ ناوالؾ آتے رہتے ہیں کبھی کسی کو اس لسم
کی جرآت اور توفیك نہیں ہوئی۔ مجھ پر کھلا ‘ پوچھا
بھی جاتاہے۔ میں کوئ لیڈر یا دفتری اہلکار تھوڑا ہوں
جو پوچھا جائے چوہدری صاحب حاضر ہونے کی
اجازت ہے اور وہ ہر مفتے کو کل تا کل ٹالتے رہیں۔
ان کے پوچھنے پر احساس تفاخر تو نہ جاگا ہاں یہ
ضرور محسوس ہوا کہ میں بھی ہوں۔ سچی پوچھیں
مجھے اپنے ہونے کا یمین ہی نہ تھا۔ اس نہ ہونے
کے یمین کو تصوؾ والا نہ سمجھیں۔ اس ملک میں
جھوٹ فریب ہیرا پھیری ملاوٹ دؼا دھوکا منافع خوری
رشوت دھونس دھکا وؼیرہ اور یہ شؽل رکھنے والوں
کی کمی نہیں۔ کمزور یعنی لسے طبمے جس کا میں
بھی ایک سیل ہوں۔ میرے سے لوگوں سے اجازت کی
طلبی حیرت سے خالی نہ تھی۔ کسی ماڑے سے مطلب
کے لیے پوچھا جاتا ہے یا کسی تگڑے کی کرنی اس
کے سر ڈالنے کے لیے مرکب پوچھ گوچھ مستعمل
ہے۔ ان کی تشریؾ آوری چونکہ خیر سگالی سے
وابستہ تھی اس لیے کسی لسم کی فکرمندی بھی لاحك
نہ ہوئی۔
سوچا بڑے فیشن ایبل لوگ ہوں گے۔ بٹھاؤں گا کہاں
اور ملے گی کس سے۔ میری رہایش گاہ ‘ میں اور
میری زوجہ ماجدہ تو طوفان نوح کی بالیات میں سے
ہیں۔ اسے خدشہ خوؾ احساس کہتری یا کوی بھی نام
دے لیں آپ لاری اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ عین
ممکن ہے یہ تینوں یا ایک آدھ چیز اور بھی شامل حال
ہو۔ گھر والوں کو مانجا بوکر کرنے کو کیا کہتا۔ سوچا
جو جیسا ہے چلنے دو۔ دیکھا جائے گا۔ درمیان میں
ایک دن تھا اس ایک دن میں کیا ہو سکتا تھا۔ دوسرا
کرنے کے لیے دام درکار تھے اور دام اعلی شکشا
منشی اور پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیش لاہور
کے چوری خور اہل کاروں کی مٹھی میں بند تھے۔ نہ
ان کے کام کے اور نہ میرے کام کے۔ انھیں کچھ کہا
ہی نہیں جا سکتا۔ یہ جینا جیسا بھی سہی‘ جی تو رہا
ہوں ورنہ اس سے جاؤں گا۔ جب زوجہ ماجدہ کے کان
میں یہ بات پڑی کہ وی آئ پی مہمان آرہے ہیں تو
بیماری کے باوجود مجھ پر برس پڑیں۔ معاملہ برسنے
تک رہتا تو خیر تھی‘ گرجیں بھی۔ یمین جانیے میں
آج تک نہیں سمجھ سکا یا یہ ہر شدہ کی سمجھ سے
بالاتر بات ہے۔ چارپائی لگی بیگم میں گرجنے برسنے
کے لیے توانائ کہاں سے آ جاتی۔ اس کا ایک جملہ
بڑے ہی کمال کا تھا :لوگوں کو بےایمانی لے ڈوبتی
تھی لیکن آج بےایمانی کا شؽل فرمانے والوں کی
پانچوں انگلیاں ہی کیا وہ سراپا گھی کی کڑاہی میں
ہیں۔ کوئ روک کوئی ٹوک نہیں۔ ہمیں تمہاری
ایمانداری کی سزا بھگتنا پڑ رہی۔ اس کا گرجنا برسنا
ؼلط نہیں تھا اس لیے پہلے میں میں کرتا رہا اور پھر
سر سٹ کر بیٹھ گیا۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ کرنے
کو میرے پاس تھا ہی کیا جو شدید ردعمل میں کرتا۔
میں پورے وجود کی ایمانداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ
میرے دل میں ایک آدھ فیصد بھی نہ آیا کہ موصوفہ کا
آنا جھوٹ ہی ہو جائے۔ سوچا دور دراز سے لوگ آتے
ہیں کبھی کسی نے میری اور رہایش کی حالت خستہ
کی شکایت نہیں کی۔ ؼالبا چالیس سال زیادہ عرصہ ہوا
میں لاضی جرار حسنی کے للمی نام سے لکھا کرتا
تھا۔ اس دور کی فیشنل ایبل دو بیبیاں میری ایک کہانی
کی تعریؾ کر رہی تھیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ میں
نے بڑے فخر اور چوڑے ہو کر کہا لاضی جرار حسنی
میں ہوں۔ انھوں نے میری طرؾ دیکھا اور پھر ایک
طنز سے بھرپور تیر پھینکا :ایسے ہوتے ہیں لاضی
جرار حسنی۔ میری بولتی بند ہو کر بوکی وہ جا گری۔
گھر آکر شیشہ دیکھا‘ ہمارے گھر میں آئینہ نہیں
شیشہ ہوا کرتاتھا چہرے پر چب شب تو نہ تھے البتہ
پہناوا ؼربا کی بستی والوں کا تھا۔ اندریں حالات بالا
ان کا کہا ؼلط نہ تھا۔
مجھے مہمانوں کا انتظار تھا۔ کیسے مہمان تھے یہ
بھی بازار سے کھا پی کر آگیے۔ اگلے ولتوں میں
مہمان دو دن کی بھوک رکھ کر آتے تھے اور جانے کا
نام ہی نہیں لیتے تھے۔ زہرہ اور عمران مجھ سے
ملے۔ بڑی حیرت ہوئ برلعہ میں۔ چند لمحوں کے بعد
ہی وہ ہم اگلے زمانوں کے لوگوں سے گھل مل گیے۔
کیا شایستگی کیا سلیمہ کی یہ لڑکی ہے۔ بولتی ہے تو
منہ سے گلاب جھڑتے ہیں۔ میں تو میں‘ میری بیٹی
ارحا اور بیگم اسی کے ہو گیے۔ اجنبیت اور ؼیریت کا
احساس تک نہ رہا۔ بلا کی ذہین و فطین ہے یہ لڑکی
بھی۔ ہم تینوں کا دل ہی لے گئ۔ وہ مجھے اپنی بیٹی
ارحا سے رتی بھر کم نہ لگی۔ بیٹیوں کے خاوند
بیٹیوں سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ عمران صاحب بھی
بڑے ہی پیارے لگے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ پھر ہمارا
مزار کمال چشتی جانے کا اتفاق ہوا۔ بڑا اچھا لگا میں
دو بیٹیوں ایک داماد کے ساتھ گھومنے کے لیے
نکلے ۔ میرا منہ بولا بیٹا فاروق بھی میرے ساتھ تھا۔
بے تکلفی اجازت دیتی تھی کہ رات رہنے کو کہوں
لیکن بچوں کے حوالہ سے وہ رات ہمارے ہاں نہیں
گزار سکتے تھے۔ بادل نخواستہ انھیں رخصت کرنا ہی
پڑا۔
بیگم صاحبہ تو ساتھ تھیں ہی۔ بڑی ٹوہری عورت تھی
بس ولت اور حالات نے مجھ سے تھوڑ پونجیے کے
ساتھ چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زہرہ بٹیا نے ایسا
کمال دیکھایا کہ اس کے آنے سے پہلے کی صورت
حال یاد تک نہ رہی۔ وہ لمحہ تو وہ لمحہ اب تک یاد
نہیں۔ دل میرا بھی کرتا اور چاہتا ہے کہ دونوں میاں
بیوی دوبارہ سے اور اس کے بعد بار بار آتے رہیں
لیکن کیا کریں زندگی کی تیز رفتاری نے ملالاتوں کے
لمحے ہی چھین لیے ہیں۔ کل بیگم کہہ رہی تھیں زہرہ
اور عمران سے کہو ایکبار آ کر مل جائیں۔ میں نے
جوابا کہا زہرہ بٹیا میری اور تمہاری طرح فارغ نہیں
ہیں انہیں اس آنے جانے کے علاوہ بھی بہت سے کام
ہوں گے۔ ارحا تو زہرہ آپی کی مالا جپتی رہتی ہے۔
امید پر دنیا لائم ہے مجھے یمین ہے ایک دن ایسا
ضرور آءےگا جب دروازہ کھلے گا کیا دیکھوں
گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زہرہ اور عمران مجھے کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو
بابا۔
عزیز مکرم حسنی صاحب :سلام مسنون
آپ کا انشائیہ حسب معمول نہایت دلچسپ اور شگفتہ
تھا۔ پڑھ کر لطؾ آ گیا۔ اس زندگی کی بھاگ دوڑ اور
گھما گھمی میں چند لمحات ہنسنے کے مل جائیں تو
الله کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ ہاں یہ پڑھ کرانتہائی حیرت
ہوئی کہ زہرا صاحبہ برلعہ میں آئین! یا میرا چشمہ ہی
خراب ہو گیا ہے؟ ایک نہایت پر لطؾ اور دل پذیر
تحریر کے لئے داد لبول کیجئے۔ بالی راوی سب چین
بولتا ہے۔
سرور عالم راز
=http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic
8318.0
ناصر زیدی اور شعر ؼالب کا جدید شعری لباس
اس میں کوئ شک نہیں کہ ؼالب اپنی فکر کے حوالہ
سے عہد عہد کا شاعر ہے۔ اس حمیمت سے کوئ بالػ
نظر شاعر دانشور محمك نماد اور صاحب ذوق لاری
انکار نہیں کر سکتا کہ ؼالب‘ ؼالب تھا اور شعر کی
فکری دنیا پر آج بھی ؼالب ہے۔ وہ متاثر کرتا رہا آج
بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کی شعری بساط پر کھیلنے
والے کمال کے لوگ رہے ہیں۔ ؼالب کے ساتھ وہ
بھی فکری اور تحمیمی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔
اس امتیاز کو الگ رکھیے کہ فلاں نے تو ؼالب کے
خلاؾ لکھا۔ مخالؾ لکھنے والے بھی تو ؼالب کے
حوالہ سے تنمید کی دنیا میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔
برہان لاطع وجود نہ رکھتی تو لاطع برہان ایسی نادر
کتاب کس طرح وجود حاصل کرتی۔ لسانی تحمیك میں
ان دونوں کتب کو نظرانداز کرنا یا ان پر بالاعدہ کام نہ
ہونا‘ زیادتی کے مترادؾ ہوگا۔ اسی طرح ؼالب پر بہت
کچھ ہونے کے باوجود متنی کام بالی ہے یا تشنگی کا
گلہ رکھتا ہے۔
عہد حاضر میں آزاد اور نثری شاعری بڑا مضبوط
وجود اور حوالہ رکھتی ہے۔ یہ شاعری اپنے عہد کے
جملہ معاملات اپنے ساتھ لے کر چلتی نظر آتی ہے
بلکہ اس کے وجود میں عصر جدید کا دکھ سکھ
پوری شدت اور ادبی توانائی کے ساتھ رچا بسا نظر
آتا ہے۔ اگر اس شاعری کو اپنے عہد کی معتبر شہادت
کا نام دے دیا جائے تو ؼلط نہ ہو گا۔ اس صنؾ سخن
کے موجود ہونے کے سبب دنیا کی تمریبا تمام زبانوں
کی شاعری ترجمہ ہو کر اردو ادب کا حصہ بنی ہے۔
اس ترجمے کے عمل سے دنیا کے ہر خطے کے
شخص کی فکر حاجات اور نفسیات سے اردو کا لاری
آگاہ ہوا ہے۔
تراجم کے حوالہ سے اسلوبیات میں کشادگی پیدا ہوئی
ہے۔ آتا کل‘ آج کی سماجی معاشی اور سیاسی تاریخ
کو اس صنؾ سخن کے حوالہ سے جان اور پہچان
سکے گا۔ اسی شاعری کے تناظر میں اپنے ماضی کو
شاباشی اور لعنتی کلمے گزارے گا۔
مجید امجد‘ ن م راشد‘ میرا جی ‘ مبارک احمد‘ تبسم
کاشمیری‘ سعادت سعید‘ فاطمہ حسن‘ انیس ناگی
وؼیرہ وؼیرہ کو جدید اردو شعر وادب سے نکال دیں
بالی رہ ہی کیا جاءے گا۔ ان ارباب سخن نے ناصرؾ
زبان کی لسانی حوالہ سے گرانمدر خدمت انجام دی
ہے بلکہ شعری لوازمات بھی فراہم کیے ہیں۔ شعری
لازمے مہیا کیے ہیں۔ تشبہات‘ استعارے‘ علامتیں اور
تلمیحیں بکثرت دستیاب کی ہیں۔ نئ سوچ اور فکر اپنی
جگہ‘ زبان کے اظہاری داءرے کو ولار اور ثروت
سے سرفراز کیا ہے۔
اسطلاحات مرکبات مترادفات اور استعمالات میسر
ہوئے ہیں۔ یہی نہیں‘ نئے نئے الفاظ گھڑے گیے ہیں۔
مستعمل الفاظ میں حیرت انگیز اشکالی تبدیلیاں بھی
آئی ہیں۔ ان معروضات کے پیش نظر جدید شاعری کو
آج کی ضرورت اور لوازمے کا درجہ دنیا عصری
دیانت کے مترادؾ ہوگا
جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا ؼالب عہد عہد کا
شاعر ہے۔ اس کی فکر جدید ہے لیکن اس کی فکر کا
شعری جامہ لدیم ہے۔ اس کی فکر کو جدید لباس ملنا
آج کی اہم ترین ضرورت ہے بلکہ یہ ضرورت بھی ہر
عہد سے تعلك کرتی ہے۔ بات نئ لیکن لباس لدیم‘
سچی بات تو یہ ہے کہ بات جمتی نہیں۔ نئے لباس کے
تحت ناصرؾ لربت بڑھے گی۔ اجنبت میں بھی اضافہ
نہیں ہو گا اور تفہیمی سہولتیں بھی پیدا ہوں گی۔
ناصر زیدی روزنامہ پاکستان لاہور کے کالم نگار ہی
نہیں‘ شاعر بھی ہیں۔ انھیں تخت و تاج سے لربت کا
بھی شرؾ حاصل رہا ہے۔ اس حوالہ سے بھی ان کی
لرابتی و کرامتی عظمت سر آنکھوں پر ہرنی اور رہنی
چاہیے۔ وہ ناصرؾ شاہی کروٹوں کے حوالہ سے
جدیدیت پسند ہیں بلکہ ادبی تبدیلیوں کو بھی اشارتی
اور ضرورتی لوازمات کے زیردست رکھنے کے لائل
ومائل ہیں۔ موصوؾ ؼالب پسند‘ ؼالب نواز ؼالب کے
سچے طرؾ دار اور ؼالبات کے محمك بھی ہیں۔ ؼالب
کو ہر عہد پر ؼالب بھی مانتے ہیں۔ ؼالب کے حوالہ
سے یہ امر بلاشبہ لائیك وتحسین و آفرین ہے۔ میں ان
کی ؼالب نوازی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی
توفیمات کے لیے دست بہ دعا بھی ہوں۔
ان کی جدت پسندی کا ایک پہلو کالا سیاہ بھی ہے۔
انھوں نے ؼالب کے شعر کو جدید لباس دینے کے
جنوں میں لیامت ہی ڈھا دی۔ روح ؼلب لبر میں
پلسیٹے مار رہی ہو گی۔ دوبارہ زندگی ملنے کی
صورت اس کوچے میں لدم رکھنے سے لرزہ بر اندام
ہو گی۔ ؼالب کے ایک شعر کی جدت پسدی ملاحظہ
بلکہ ملاخطہ فرماہیے
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پہ رونك
وہ سمجھتے ہیں
بیمار کا حال اچھا ہے
میں ان کی جدید جسارت اور ؼالب کو عہد حاضر میں
لانے کی خواہش کو داد دوں گا لیکن اس بے سری
تبدیلی کی داد نہیں دوں گا۔ اگر وہ ؼالب کی شاعری
کو جدید لباس دینے کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں تو
اس کا ڈھنگ سیکھیں۔ اس ہنر کی آگہی کے لیے
انھیں تبسم کاشمیری کے لدم لینا ہوں گے ورنہ اس
ہنر سے بے بہرہ ہی رہیں گے۔۔ میں ہنرمند نہیں پھر
بھی اس شعر کو عصر جدید کا لباس دینے کی حمیر
سی سعی کرتا ہوں
گر لبول اُفتد زہے ع ّزو شرؾ
ان کے دیکھے سے
جو آجاتی ہے
منہ پہ رونك
وہ سمجھتے ہیں کہ
بیمار کا حال اچھا ہے
آج کی نظم کا ایک نمونہ بطور ذائمہ ملاحظہ ہو
مت لکھنا
ہوا پر آنسو مت لکھنا
فاختاؤں سے دشمنی
اچھی نہیں ہوتی
جو بھی سہی اشعار ؼالب کو جدید شعری لباس ملنا آج
کا تماضا ہے۔ اس سے تفہیمات ؼالب کے نئے نئے در
وا ہوں گے۔ لارئین کو ناصر زیدی کی اس سوچ اور
خواہش کی داد دینی چاہیے۔ بلاشبہ وہ اس داد وتحسین
کے مستحك ہیں۔
الله ان کی توفیمات میں برکت دے
پروؾ ریڈنگ‘ ادارے اور ناصر زیدی
ہمارے ہاں بڑی سیٹ بر براجمان یا کسی بھی منفی
حوالہ سے لبضہ کر لینے والے کو دانشور سمجھا
جاتا ہے۔ ایک حوالہ سے یہ بات ؼلط بھی نہیں۔
حاسدین پیٹھ پیچھے اس کے لول وفعل اور طریمہ کار
میں دمبی سٹی ہی نہیں‘ امریکن سنڈی بھی نکال کر
دیکھاتے ہیں۔ اس کے آگے بے بکری بن جاتے ہیں۔
اسے اس کی وہ وہ خوبیاں گنواتے ہیں‘ جن کا اس
کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ سیٹ اس پر آگہی
کے دروازے کھول دیتی ہے۔ یہاں تک کہ عہدی
ارسطو اس کا پانی بھرتے ہیں۔ یمینا یہ اس کے عظیم
سے دو چار انچ بڑھ کر دانشور ہونے کی دلیل ہوتی
ہے۔ کتاب اور للم سے رشتہ داری نہ ہوتے ہوئے بھی
کتاب اور للم والے انھیں زندگی کے پرچہ کا پہلا اور
آخری سوال ٹھہرا کر دم لیتے ہیں۔ ہر بات ان سے
شروع ہو کر ان پر ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا شخصی
روپ فنا ہو کر دانش میں ڈھل جاتا ہے۔ میں ناہیں سبھ
توں تک آتے آتے جان سے جانا پڑتا ہے۔ شخص سے
دانش بننے تک ان کی گرہ سے کچھ نہیں جاتا۔ یہ سب
کرسی لریب لوگوں کے حسن کمال کا کرشمہ ہوتا ہے۔
میرا موضوع یہ نکھری نکھری اور کھری کھری
دانش نہیں۔ جو معاملہ میری سوچ‘ اپروچ اور ضمیر
کی دسترس سے باہر ہوتا ہے‘ اس میں ٹانگ اڑا کر
اہل دانش میں نام لکھوانے کی حمالت نہیں کرتا۔ میں
زیریں منزل کا شخص ہوں اور زیریں منزل ہی مجھے
خوش آتی ہے۔ سراپا دانش کے چرنوں میں بیٹھ کر
دوسری یا چوتھی منزل پر جا بیٹھوں اور پھر وہ
نیچھے سے پوڑی کھینچ لے اور میں وہاں بلا راشن
پانی باں باں کرتا رہوں اور پھر اپنی آواز کی بازگشت
کو بھی ترس جاؤں۔ میرا ہی کوئ پیٹی بھرا
مجھےؼدار لوم و ملت لرار دے کر اوپر ہی میری
گرن لمبی کروا دے۔ میں اس جنس کا گاہک نہیں۔
میرا مولؾ یہ ہے کہ اپنی منزل اور اپنی اولات کی
آگہی سے مرحوم ہونا بدلسمتی کے مترادؾ ہے۔ مثلا
تاریخ کے طالب علم کو زیادہ سے جنگوں کی آگہی
ہونی چاہیے۔ فاتحین کے نام اسے منہ زبانی یاد ہونا
چاہیے تاہم عصر حاضر کی ممتدرہ لوت سے انھیں
بیس تیس فٹ نیچے رکھے۔ ماضی کے فاتحین عصر
حاضر کی ممتدرہ لوت سے کسی طرح بڑھ کر نہیں ہو
سکتے۔ مثلا بش کی تلوار کے ایک ہی وار سے ستر
دائیں اور دو کم اسی بائیں پھڑک کر وہ جا گرے۔
ڈھائی سو آج بھی آخری سانسوں پرہیں۔ یہ بش کیا تھا
اوباما تلوار زنی میں اس سے بھی چار پانچ سو لدم
آگے ہے۔ آج سکندر سا سورما زندہ ہوتا تو سلام و
پرنام ہی سے کام نہ لیتا پانی میں ناک ڈبو کر مر جاتا۔
ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی دنیا فتح نہ کر سکا۔
آخر بیاسی علالہ کے کسی یودھا کے ہاتھوں زخمی ہو
کر لوریں جا وڑیا۔ حضرت اوباما سرکار کو دیکھیے
پوری دنیا کے سکندر فرشی سلام پیش کرتے ہیں۔ وہ
پھر بھی خوش نہیں۔ اسے دنیا کا کوئ چلتا پھرتا اچھا
نہیں لگتا۔ اس کی پہلی اور آخری خواہش یہی ہے کہ
ہر ٹانگ سے اوباما اوباما کے بے بس اور بے کس
آوازے نکلیں۔ دنیا کے تمام لوگ یک ٹنگے ہو کر
کماءیں اور وہ یک ٹنگی کمائ کو بلا تشکر ڈکارے۔
بڑے بڑے حملوں سے تاریخ کے طالب علم آگاہ ہوں
گے لیکن چھوٹی چھوٹی حملیوں سے متعلك کسی کو
سرے سے آگہی ہی نہیں۔ جس سے پوچھو یہی بتائے
گا محمود ؼزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے۔
سب کو آخری اور کامیاب حملے کا پتا ہے اس سے
پہلے سولہ حملوں میں اس کے ساتھ کیا ہوا کوئی
نہیں جانتا۔ یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے
حملے کیوں کیے اور ہندوستان میں کس لسم کا اسلام
پھیلایا۔ وہ اسلام پھیلانے کے لیے آیا یا کسی اور کام
کے لیے آیا۔ محمود وایاز کے ایک صؾ میں کھڑے
ہونے کا لصہ ہر کسی کی زبان پر ہے۔ کوئی اور بھی
اس سے ملتے جلتے والعات رونما ہوئے ہوں گے
معلومات کا فمدان دیکھیے کوئ جانتا ہی نہیں۔ میں
خوؾ زدہ رہتا ہوں کوئی مجھ ہی سے نہ پوچھ لے۔
مجھے بھی ایک صؾ والے والے والعے کے علاوہ
کچھ معلوم نہیں میں لون مرچ مصالحہ لگا کر اس
والعے کو بیان کر سکتا ہوں۔
گھر اور باہر کی جنگوں کے متعلك تھوڑی بہت ؼیر
تاریخی لوگ بھی معلومات رکھتے ہیں۔ دانشور
حضرات کے پاس ان سے بڑھ کر معلومات کا ذخیرہ
ہونا چاہیے۔ دانشور حضرات پاس سے بھی جوڑ جمع
کرکے لوگوں کو بتا دینتو لوگ مان لیں گے اور پھر
وہ آپس میں شیئر بھی کریں گے۔ ولت کے ساتھ ساتھ
ان کی نوعیت کے مطابك باتوں میں کہاٹا وادھا کرتے
رہیں گے۔ آتے ولتوں میں سینہ بہ سینہ چلتی باتیں
کتابی شکل اختیار کر لیں گی۔ تاریخ بھی تو یہی کچھ
ہے۔ جو بھی سہی تاریخ کے دانشور کے پاس ایک
عام آدمی سے زیادہ معلومات ہونی چاہیں۔
میں عام آدمی ہوں تاریخی جنگوں کے متعلك زیادہ
نہیں جانتا۔ اس کے باوجود یہ بھی جانتا ہوں ایک
راجہ جنگ بھی ہے۔ کسی زمانے میں بڑی زبردست
ولایت تھی۔ ایک دن بیگم صاحبہ نے گوشت لانے کا
حکم دیا۔ میں گوبھی کو خوب صورت پھول سمجھتے
ہوئے لے آیا۔ وہ پھولوں کو پسند کرتی ہے۔ سوچ رہا
تھا کہ خوش ہو گی لیکن خوش ہونے کی بجاءے وہ
بپھر گئ۔ کوئ مورخ اس جنگ کو نہیں جانتا۔ اس
حوالہ سے میں مورخ سے دو لدم آگے ہوں۔ یہ تو
فمط ایک جنگ ہے میں ایسی بیسیوں جنگوں سے آگاہ
ہوں۔ اکثر سوچتا ہوں لکھ کر مورخ ہونے کا اعزاز
حاصل کر لوں۔
کتنی ستم کی بات ہے کہ بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی
موج مستیوں کا ہر کوئی چٹخارے لے لے کر تذکرہ
کرتا ہے لیکن فرخ سیر کا کوئی نام نہیں لیتا جو دن
رات نشے میں ؼرق رہتا تھا۔ روپ کنور کے ساتھ
ادھر ادھر اور کبھی نالیوں میں گرا پڑا ملتا۔ ادھر تو
مورخ کی نظر نہیں گئ۔ ہر مورخ کے ہاں بہادر شاہ
ظفر کا ذکر ملتا ہے جیسے وہ اکیلا شاعر بادشاہ تھا۔
شاہ عالم ثانی جو آفتاب تخلص کرتا تھا کمال کا شاعر
تھا۔ وہ تو وہ جہاندار بھی کا شاعر تھا۔
آج ایک صاحب فرما رہے تھے اورنگ زیب عالمگیر
نے ناسخ کے کلام کو مدون کیا۔ اورنگ زیب عالمگیر
شروع شروع میں مدن کا ذوق تھا۔ میں نے اپنا رعب
جتانے کے لیے کہا حضرت یہ نسخہ انھیں وراثت میں
ملا۔ اصل کام تو بابر نے کیا تھا۔ انھوں نے گھورتے
ہوءے کہا جناب میں تو ڈاکٹر اورنگ زیب عالگیر کی
بات کر رہا ہوں۔ میں نے خفت مٹانے کے لیے کہا
اچھا تو بادشاہی چھوڑ کر پروفیسر ہو گیا ہے۔ بولے
وہ ١٧٠٧میں مر گیا تھا۔ چاہیے تو تھا میری جہالت
کے پیش نظر بات کو ٹھپ کر دیتے اور اپنی دانش کا
مجھ پر رعب نہ ڈالتے۔ میں نے ؼصے میں کہا میں
نے اسے ١٧٠٧میں مارا تھا؟ ناسخ کا دیوان اسی
نے مرتب کیا تھا۔ میری طرؾ سے اسے طے سمجھو
اور اپنی کم علمی کی وجہ سے میری ساتھ بحث نہ
کرو۔
اہل دانش کیا‘ اشاعتی ادارے بھی اصل آگہی سے دور
ہیں۔ اخبار ہو کہ کوئ ادبی یا ؼیر ادبی پرچہ‘ یہاں تک
کہ حساس کتب بھی پروؾ ریڈنگ کی ؼلطیوں سے
مبرا نہیں ہیں۔ اداروں نے بالاعدہ پروؾ ریڈر رکھے
ہوئے ہیں۔ پھر بھی مطبوعہ تحریریں اس لباحت سے
پاک صاؾ نہیں ہو پائیں۔ پروؾ ریڈنگ بڑی ذمہ داری
کا کام ہے اس لیے اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے۔
میں نے کچھ نہایت ذمہ دار لوگوں سے بات بھی کی۔
کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔ ہر کسی نے نے کہا
کچھ بھی کر لو پروؾ کی ؼلطی رہ ہی جاتی ہے۔ ایک
صاحب نے کہا یہ اس ولت تک ہوتا رہے گا جب تک
پروؾ ریڈرنگ کے لیے کوئ مشین تیار نہیں ہو
جاتی ؼلطیوں کا سیاپا ختم نہیں ہو گا۔ مجھے حیرت
ہوتی ہے ناک نیچے؛ اوپر بھی سمجھ سکتے ہیں
بیٹھا کمال کا پروؾ ریڈر جو اعزازی کام کرنے کے
لیے بھی تیار ہے‘ انھیں نظر نہیں آتا۔ کم علمی اور
معلومات کی کمی ہمیں لے ڈوبی ہے۔ ہنر کی نالدری
اور بے لدری ہی عمومی دانش کو لے ڈوبی ہے۔ جو
لومیں ہنر اور دانش کی لدر کرتی ہیں وہی ترلی کا
منہ دیکھتی ہیں۔ التداری دانش اور ہنر الگ سے چیز
ہے‘ یہ تو عمومی دانش و ہنر سے تعلك کرتی بات
ہے۔
عمومی دانش و ہنر کی عزت اور لدرافزائ کرنا
اداروں کا کام ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور بڑے
روزناموں میں شمار ہوتا ہے لیکن اپنے ہاں موجود
ایک عظیم ہنرمند کا اسے پتا ہی نہیں۔ بلاشبہ یہ بڑے
دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اسے آج تک معلوم نہیں
ہو سکا کہ ناصر زیدی شاعر اور کالم نگار سے بڑھ
کر سچے سچے اور کھرے پروؾ ریڈر ہیں۔ یہی نہیں
دیالو بھی ہیں۔ احباب کے لیے پروؾ ریڈنگ کی
خدمات اعزازی طور پر انجام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ
معاملہ بدلسمتی اور المیہ کی حد تک ہے کہ ہنر کے
مطابك کام دستیاب نہیں۔ اگر متعلمہ ہنر اور دانش کے
مطابك لوگوں کو کام دستیاب ہو تو ترلی کے دروازے
کھل سکتے ہیں۔ افسوس روزنامہ پاکستان لاہور والے
ناصر زیدی کے اس ہنر سے بےبہرہ ہیں۔ اب بھی
ولت ہے کہ وہ ان سے ان کے پرفیکٹ ہنر کا کام لیں۔
کالم نگاری کے لیے اپنے کسی پروؾ ریڈر کو تلاش
لیں۔ ہو سکتا ہے وہ موصوؾ سے کہیں بڑھ کر اور
بہتر خدمت انجام دے۔
صیؽہ ہم اور ؼالب نوازی
صیؽہ ہم جمع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نواب‘ بادشاہ‘
بادشاہ نما اور التداری طبمہ سے متعلك لوگ اپنے
لیے استعمال کرتے ہیں۔ مخاطب کا اپنے سے بلند
مرتبہ والے کے لیے یا بطور تکیہء کلام واحد کے
لیے آپ وہ ان
انہوں کا استعمال رواج عام رکھتا ہے تاہم فرد واحد
جب خود کے لیے ہم کا صیؽہ استعمال کرتا ہے تو یہ
احساس تفاخر اور تکبر میں آتا ہے۔
پنجاب میں عوامی اور عمومی سطع پر فرد واحد کے
لیے ہم رواج نہیں رکھتا۔ اگر کوئی استعمال کرتا ہے
تو اوپرا سا اور معیوب سا لگتا ہے۔ التداری‘ نوابی
اور بادشاہ لوگ جب یہ صیؽہ استعمال کرتے ہیں تو
اوپرا اور معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ ہاں ہم کا سامع
سہما سہما اور کانپا کانپا ضرور ہوتا ہے۔ یہ صیؽہ
مخاطب پر احساس کہتری کے دورے ڈالنے اور
پڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صیؽہ ہم کا
استعمال کرنے والوں کا لب و لہجہ ہم کا عکاس ہوتا
ہے۔ یوں لگتا ہے شہنشاہ اکبر‘ جو اکبر اعظم کے
عرؾ سے معروؾ ہے‘ کچھ فرما رہا ہو۔ بعض اولات
اس کا فرمانا دین الہی سے ماخوز لگتا ہے۔
پردھان منشی کے مکین صیؽہ ہم کا بہت کم اور کبھی
کبھار استعمال کرتے ہیں ہاں ان کا کردار ہم کا
استعمال کرنے والوں سے زیادہ جارحاانہ ہوتا ہے
حالانکہ اختیارات وؼیرہ کے حوالہ سے ہم والوں سے
بڑھ کر بلکہ کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔
اصل ستم کی بات تو یہ ہے ہر دو یعنی ہم اور ہم نما
سے متعلك لوگوں کو اہل دانش اہل علم اور اہل للم
سمجھا جاتا ہے۔ ٹانی الذکر اہل للم ہونے حوالہ سے
خوؾ اور ہراس کی علامت ہوتے ہیں۔ جو بھی سہی ہم
اور ہم نما ہماری سوساءٹی میں پکا پیڈا وجود رکھتے
ہیں۔ پیڈا کو مضبوط اور پیڈا کے معنوں میں لیا جا
سکتا ہے۔ پیڈا کی کیا اتھارٹی ہے‘ اس کا احوال ان
سے دریافت کیا جا سکتا ہے جن پر یہ خدانخواستہ فٹ
ہو چکا ہے۔
میرے نزدیک ان کو بالاتر اور صاحب تکبر مخلوق
تسلیم کر لینے میں کوئی برائی اور مبالؽہ نہیں۔ انھیں
اہل علم اور اہل علم کہنے میں بھی حرج والی کوئی
بات نہیں ہاں البتہ دل سے تسلیم کرنا ظلم زیادتی اور
کھلا اندھیر ہے۔
تکبر اور علم کا کوئ تعلك ہی نہیں۔ یہ دو الگ سے
رستے ہیں۔ جہاں تکبر ہو گا وہاں علم نہیں ہو گا اور
جہاں علم ہو گا وہاں تکبر نہیں ہو گا۔ علم عجز اور
انکساری کی طرؾ لے جاتا ہے۔ علم تموے کی گرانمدر
نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ تکبر شخص کو انسان
نہیں رہنے دیتا۔ تکبر کے باطن میں خدا ہونے کے
جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ علم کے باطن میں الله کا
عاجز بندہ ہونے کا ارمان کروٹیں لیتا ہے۔ یہ میں
ناہیں سبھ توں کی طرؾ لے جاتا ہے۔ تکبر کوئ ناہیں
سبھ میں کی طرؾ لے جاتا ہے۔
ناصر زیدی ہم والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ
تحریروں میں بھی ہم کو پس پشت نہیں ڈالتے۔ وہ
حمیمت کا گلا گھونٹ نہیں دبا سکتے ہھی ہیں لیکن ہم
پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ ہم کا استؽمال کرنے کا حك
بھی رکھتے ہیں۔ وہ لاٹ ہاؤس کے للم سے پاکستان
میں کالم لکھتے ہیں۔ لاٹ ہاؤس میں اج بھی بےشمار
جونئیر ساتھی ہوں گے۔ لاٹی للم نے میڈیا میں ان کے
ہم کی دھاک بٹھا دی ہے۔ عام لوگوں کی کیا بات کرنا
ہے وہ وچارے تھے اور وچارے ہیں لاٹی اور التداری
بھی ان کےللم کی مار سے خوؾ زدہ ہیں۔
میں اہل علم میں نہ اہل دانش میں ہوں اس لیے روٹی
کو زندگی کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں تاہم زندگی
کو روٹی کے لیے نہیں سمجھتا۔ مجھے ایک مولوی
صاحب یاد آگءے۔ حج پر جانے سے پہلے ایک
درویش کے پاس گیے۔ سلام کیا اور فخر سے بتایا حج
پر جا رہا ہوں۔ درویش نے پوچھا حضرت دین کے
بناء کتنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کلمہ نماز روز حج
زکوات۔ درویش نے کہا روٹی کو چھوڑ رہے ہیں۔
مولوی صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کہا
اور اٹھ گیے۔ اتفاق سے حج سے واپسی پر بحری
جہاز تباہ ہو گیا اور یہ ایک لکڑی کے تختے پر بیٹھ
کر ایک جزیرے میں جا پھنسے۔ وہاں نہ بندہ نہ بندے
کی ذات۔ بھوک نے سخت پریشان کیا۔ اچانک ایک بابا
روٹی خرید لو کا آوازہ لگاتا گزرا۔ مولوی صاحب نے
انھیں بلایا اور روٹی دینے کی استدعا کی۔ بابے نے
لیمت طلب کی۔ انھوں نے کہا میرے پاس دام نہیں ہیں۔
بابے نے کہا کچھ تو ہو گا۔ انھوں نے کہا میرے پاس
کلمہ نماز روز حج زکوات ہے۔ بابے نے نماز لکھوا
لی اور روٹی دے دی۔ اگلی بار روزہ پھر حج اسی
طرح زکوات بھی لکھوا لی۔ دریں اثنا ایک جہاز ادھر
سے گزرا وہ کسی ناکسی طرح اس پر سوار ہو کر
وطن آ گے۔
ملنے ملانے اور پرتکلؾ دعوتوں سے فراؼت کے بعد
اس درویش کے پاس گیے۔ دعا سلام اور احوال
پوچھنے کے بعد درویش نے دین کے بناء پوچھے۔
مولوی صاحب نے روٹی کو پھر گول کر دیا۔ درویش
نے روٹی کا ذکر کیا تو مولوی صاحب حسب سابك
توبہ توبہ پر اتر آئے۔ درویش نے دستخط شدہ کاؼذ ان
کے سامنے رکھ دیا۔ اگر دیکھا جاءے روٹی زندگی
میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اہل تموی کا جینا بھی
اس سے منسلک ہے۔ روٹی نہ ملنے کی صورت میں
منفی سوچ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
اگر ہم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حمیمت
پوشیدہ نہیں رہے گی کہ ناصر زیدی موجودہ اور
سابمہ کے حوالہ سے بڑے بااختیار ہیں۔ سب سے بڑھ
کر یہ کہ لاٹ ہاؤس والا للم ان کے عزت مآب ہاتھ میں
ہے۔ میں عرصہ دراز سے سیکڑیری ہاءر ایجوکیشن
کی خدمت میں اپنے ایم فل الاؤنس کے لیے
درخواستیں گزار رہا ہوں۔ اب تو مجھے درخواستوں
کی تعداد بھی یاد نہیں رہی۔ رلم ملنا تو دور کی بات ان
کی جانب سے واپسی جواب تک موصول نہیں ہوا۔ یہی
حال پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن لاہور والوں
کا ہے۔
انھوں نے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ میری کتاب
کی اعزازی پروؾ ریڈنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس
خدمت کو سردست چھوڑیں۔ مجھے اپنا اثر رسوخ اور
ہم کا جاءز استعمال کرتے ہوئے ہر دو محکموں سے
میری ہی رلم دلوا دیں تاکہ میں ان سے کتاب کی
اعزازی پروؾ ریڈنگ کروا کر دوبارہ سے کتاب شائع
کرنے کی سعادت حاصل کر سکوں۔ مجھے یمین ہے
کہ میرا حك دلانے میں صیؽہ ہم مثبت کردار ادا کرکے
ناصرؾ گریب پروری کر سکتا ہے بلکہ ؼالب نوازی
کا اعزاز بھی حاصل کر سکتا ہے۔
وہ دن ضرور آئے گا
آج سبزی منڈی کے بھاؤ اعتدال پر تھے۔ بیگم نے اگر
دو دن صبر کر لیا ہوتا تو اس کا کیا جاتا۔ مجھے اس
پر ؼصہ نہ آیا کیونکہ اس وچاری کے پاس کون سی
الہامی شکتی تھی۔ یہ بھی کہ حالات بتا رہے تھے کہ
بھاؤ اوپر ہی اوپر جاءیں گے۔ دوسرا ضرورت تو اس
ولت تھی۔ بعد ضرورت میسر آتی چیز کو کیا کرنا ہوتا
ہے۔ یہ بھی کہ ہم کون سے بیوپاری ہیں جو خوردنی
اشیاء کو ذخیرہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ذخیرہ
منوں کا ہو یا آدھ پاؤ سیر کا ہو ذخیرہ ہی کہلائے گا۔
ذخیرہ کی عادت اس میں بہرطور ہے۔ آدھ کلو ٹماٹر
اور دو کلو آلو تو ذخیرہ ہو گیے۔ اگر یہی ایک ٹماٹر
اور آدھ کلو آلو دوکان سے منگوا لیتی تو یہ دن نہ
دیکھنا پڑتا۔ آج پنتس روپے کلو آلو چھیاسٹھ روپیے
کلو ٹماٹر بک رہے تھے۔
لیمتیں آویزاں ہوں تو بھاؤ کرنے کا سیاپا نہیں کرنا
پڑتا۔ بھاؤ کرنے کا عمل بڑا تکلیؾ دہ ہوتا ہے۔ میری
اس عمل سے جان جاتی ہے۔ یہ جنجال گریبوں یعنی
بھوکے ننگوں اور کنگلوں تک محدود ہے۔ اس کرپٹ
معاشرے میں بھی جان مارتے ہیں اور ہاتھ کچھ نہیں
لگتا۔ بیسیوں بلامحنت کمائی کے ذرائع موجود ہیں۔ یہ
بھی امکان ؼالب ہے کہ ان دھندوں سے متعلك لوگ
ان لوگوں کو اپنے کام کا نہ سمجھتے ہوں۔ ایمان
داری کی مہلک بیماری کے سبب ان پر یمین بھی نہیں
کیا سکتا۔
ٹماٹر آلو اور پودینے کی جریداری کرنے کے بعد میں
اپنی نشت پر آ بیٹھا بمیہ کالم پڑھنے کا ارادہ کر ہی
رہا تھا کہ ایک صاحب آدھمکے۔ مروت کا تماضا تھا
کہ جعلی سی مسکراہٹ کے ساتھ انھیں خوش آمدید
کہنا پڑا۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ موصوؾ گن کی
گتھلی ہیں۔ لطائؾ و ظرافت کا ذوق رکھنے کے ساتھ
ساتھ حکمت بھی بلا کی رکھتے ہیں۔ ضرورت مندوں
کے لیے گولیاں شلوار والی جیب میں رکھتے ہیں۔ ان
سے گولیاں لیتے ولت گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ پہلے اپنی
ذات پر تجربہ کرتے ہیں۔ مدن بان کی ان پر خصوصی
کرپا ہے۔ کام دیوا سے شفا کا بردان حاصل کر چکے
ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدیانی امور بڑی کامیابی سے
انجام دیتے ہیں۔ باتیں بڑی چٹخارے دار کرتے اور
بناتے ہیں۔ دوسرا یہ معاملہ ہے ہی چٹچارے دار۔ میں
بھی تو اس کالم کو جنسی کالم سمجھ کر پڑھ رہا تھا۔
مدن سے ٹھیک پانچ لفظ کے فاصلے پر ڈاکٹر تبسم
کاشمیری کا نام تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا تیس
چالیس سال سے محبت کا رشتہ ہے۔ بڑی صاؾ
ستھری اور نکھری نکھری شخصیت کے مالک ہیں۔
تحمیك اور تنمید میدان ہے شاعری کا بھی شوق
رکھتے ہیں۔ جنسیات سے متعلك ان کی کوئ تحریر
میری نظر سے نہیں گزری۔ حیرت ہوئ اس عمر میں
انھیں مدن بانی کا شوق کیوں اور کیسے پیدا ہو گیا۔
سوچا بڑھاپے میں عموما وج کھج جاتی ہے۔ یہ بلا
اور بےجواز بات بھی نہیں۔ یہ مدنائزیشن کا عہد ہے۔
ہم شرلیوں کو مؽربی بننے کا شوق کچھ زیادہ ہی ہے۔
بھلا ہو حضرت ڈینگی شریؾ کا جو صبح سویرے اور
شام لریب اسلام نافذ کر دیتا ہے۔ اس طرح جبری سہی‘
بے لباسی لباسی ہو جاتی ہے۔
یہ بات اہل علم کیا‘ ہر ایرا ؼیرا بھی جانتا ہے کہ
نمرود کو ڈینگی ہی لڑا تھا اور وہ چار صدیاں چھتر
کھاتا رہا۔ ہٹ کا پکا تھا چھتر کھاتا رہا لیکن ہم کے
دائرے سے باہر نہ آیا۔ بادشاہ لوگ اگر ہٹ کے پکے
نہ ہوں تو انھیں بادشاہ کون کہے گا۔ میں عصری دلیل
بھی رکھتا ہوں۔ پنجاب سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن
لاہور اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن والی رلم دلوانا
دور کی بات میری کسی داخواست کا جواب ہی دلوا ے
تو مان جاؤں۔ جواب کو نہی کے معنوں میں نہ لیں۔
کیوں‘ وہ کلرک بادشادہ ہیں۔ ہٹ انھیں گٹی میں ملی
ہے۔ بہرکیؾ یہ بادشاہوں کے معاملے ہیں اس لیے
طے شدہ ہیں ان پر کلام سے پاپ لگتا ہے۔
ہمارے ہاں نامعلوم بلامعلوم اور ؼیر کلام پر گفتگو کا
رواج بڑا عام ہے۔ ہاں میں ہاں ملانا تو بڑی عام سی
بات ہے۔ ہم مدلل گفتگو کی پوزیشن میں بھی ہوتے
ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی خوردنی سامان کی خریداری
کے لیے بازار گیے نہیں ہوتے۔ مال و منال بھی وافر
سے زائد ہوتا ہے شاندار اور دھواں دھار لیکچر پلا
سکتے ہیں۔ ان کے لباس پر نہ جائیے صرؾ کہے
سنے تک رئیے ایسا محسوس ہو گا جیسے کچھ
کھائے انھیں ہفتے گزر گیے ہوں۔
دل نہیں مان رہا تھا کہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری
مدنائزیشن کا شکار ہو گیے ہیں۔ بندے کا کیا پتہ ہوتا
ہے۔ میں نے کالم آگے کیا پڑھنا تھا میری سوئ یہاں
پر اٹک گئ۔ دل مان نہیں رہا تھا آنکھوں دیکھا رد بھی
نہیں کر سکتا۔ آخر انھوں نے اس کتاب کا دیباچہ کیوں
لکھا۔ میں نے سوچا تصدیك کر لینی چاہیے کہ انھوں
نے دیباچہ لکھا بھی کہ نہیں۔ ہمارے ہارے ہاں بلا
دیکھے دیباچہ لکھنے کا رواج موجود ہے۔ ہو سکتا
ہے انھوں نے کسی مروت کے تحت کچھ لکھ دیا ہو۔
پھر میں نے کتاب منگوائ‘ دیباچہ موجود تھا۔ کتاب
کے اگلے صفحوں میں کتاب پر ڈاکٹر نجیب جمال‘
ڈاکٹر صابر آفالی‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر ؼلام شبیر رانا
اور ڈاکٹر محمد عبدالله لاضی کی تحریریں بھی موجودد
تھیں۔
ناصر زیدی صاحب کو صرؾ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ہی
کیوں نظر آئے۔ بمیہ کالم کیا پڑھنا تھا میں اس سوال
کا جواب تلاشنے کی کوشش میں لگ گیا۔ کیا ایسا تو
نہیں ناصر زیدی صاحب نے کتاب کا مطالعہ کیے بؽیر
ہی خانہ پری کے لیے کالم لکھ دیا ہو۔ آخر آلو ٹماٹر
کی انھیں بھی ضرورت ہے۔ ہر طرؾ خانہ پری کا
سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی تو ہر طرؾ میں آتے ہیں۔
نزدیک کی کمائی خوش آنا رواج سا بن گیا ہے۔ سا
میں نے رواجا لکھا ہے ورنہ معاملہ سا کی دسترس
سے نکل کر مشبہ بہ کاملا مشبہ کا روپ دھار چکا
ہے۔ فعل بد شیطان سا تھا اب شیطان بن گیا ہے۔ اب
سا کا کوئ رولا ہی نہیں رہا۔ رشوت ملاوٹ دؼا عین
کاروبار کا درجہ اختیار کر گیے ہیں لہذا ان پر گلا
بےفضول سا ہو گیا ہے۔ میں مطالعہ کے حوالہ سست
رو رہا ہوں اسی لیے بمییہ کالم مجھے اگلی نشت تک
اٹھا رکھنا پڑا۔
بینائ بےشک کمال کی چیز ہے لیکن اندھا بیک ولت
دو فائدے اٹھاتا ہے۔ جی بھر کر سو سکتا ہے چھاؤں
چھاؤں چل سکتا ہے۔ بلادیکھے کام کرکے پیسے
کھیسے کرنے والے اندھے کی طرح موج میں ہوتے
ہیں لیکن مجھ سا لدم لدم پر رک کر اپنا اور لارین کا
ولت برباد کرتا ہے۔ کیا کریں اپنا اپنا طریمہ ہے۔
اندھے سے بلکہ اندھے کماتے اور ڈکارتے ہیں اور
مجھ سے مفت میں مؽز ماری کرکے رسوا ہوتے ہیں۔
فکرمند نہ ہوں
دیر اور لسطوں پر سہی‘ وہ دن ضرور آئے گا جب
ناصر زیدی صاحب کے کالم کی آخری سطر میری نظر
سے گزر رہی گی۔
کوالیفیکیشن اور عسکری ضابطے „ایجوکیشن
لڑائی شخصی ہو کہ لومی یا پھر ملکی‘ اس کا آؼاز
گھورنے سے ہوتا ہے۔ گھورتے سمے فریمین کی
ناسیں پھیلنا شروع ہوتی ہیں اور پھر یہ بتدریج پھیلتی
چلی جاتی ہیں۔ نہیں پھیلیں گی تو معاشرے میں کٹ
جائیں گی۔ ان کا رہنا‘ ان کے پھیلنے سے مشروط ہوتا
ہے۔ آنکھوں میں ہوتی شام کی افمی گردش کرنے
لگتی ہے۔ گردش دوراں کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائی
اور گیرائی میں ہرچند اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان
لہو آمیز نینن میں فاتح ہونے کی تمنا مچلنے لگتی
ہے۔ کان ناصرؾ کھڑے ہوتے ہیں مہنگائی کے
باوجود ٹماٹری ہو جاتے ہیں۔ ہونٹوں پر حالیہ کشمیری
بھوکم کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور بظاہر بےمعنی
بربڑاہٹ سی سنائی دیتی ہے۔ دریں اثناء اگر کوئی
جلنے لریب پر تیل ڈال دیتا ہے تو ؼیرسرکاری اور
ؼیر سیاسی لسم کے بیانات کا آؼاز ہو جاتا ہے
بصورت دیگر پہلے ہاتھ میں موجود چیز کا فرش پر
کڑاھپ سے مارنا عسکری ضابطہ ٹھہرا ہے۔ چیز کی
مالی لدر دو نمبری کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔
گویا جاروب کش کے کام میں بلالصور اضافہ کر دیا
جاتا ہے۔ اس ذیل میں یہ بھی نہیں سوچا یا دیکھا جاتا
کہ چور چور کر دی جانے والی چیز کا فریمن کی
گرمی سے کوئ تعلك واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ گرمی کے
ساتھ سردی کا اس لیے اندراج نہیں کیا گیا کہ وہ
مولع ٹھنڈک سے متعلك نہیں ہوتا۔خدا خدا کرکے
ناسیں پھیلانے اور گھورنے کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔
یہی لڑائی کے ضمن میں مشکل اور کٹھن گزار مولع
ہوتا ہے۔
دل کی بھڑاس ہاتھ میں موجود شے پر نکالنے کی
کوشش کی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں
رکھیں شے زمین پر پھینکی جاتی ہے۔ فاءرنگ کا
سلسلہ کافی بعد کا کام ہے۔ بہت پہلے سے یہ جنگی
اصول مستعمل چلا آتا ہے۔ اس سے انحراؾ گویا
جنگی اصول اور ضابطے کے خلاؾ ہے۔ ناسیں
پھیلانے‘ کان کھڑے کرنے اور آنکھوں میں جنگی
عروسی بھرنے کے بعد ؼرانے کا عمل شروع ہوتا
ہے۔ یہ عمل تادیر برلرار نہیں رہتا۔ اس سے تھوڑی
دیر بعد تکرار لفظی سننے میں آ جاتی جو درحمیمت
شخصی رجز کے مترادؾ ہوتی ہے۔ ذاتی تعارؾ میں
ماں بہن بیٹی کو بھی لانا ضروری اور جزو جنگ
سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کو فریمن
اول درجے پر رکھتے ہیں حالانکہ ان کا اس میں
سرے سے عمل دخل ہی نہیں ہوتا۔ اگر وہ مولع پر
موجود ہوتیں تو مرد لڑاکوں کو کھانسنے کا بھی مولع
میسر نہ آتا۔
بول بولارے سے متعلك امور وہ از خود طے کر لیتں
اور مرد حضرات سے کہیں بہتر اور اعلی پاءے کے
طے کرتیں۔ خواتین کی موجودگی میں یہ معاملہ مردانہ
نہیں رہ جاتا۔ مردوں کا آدھا بھار وہ ونڈا دیتی ہیں۔
مرد میدان میں اچھا لگتا ہے۔ میدان کس نے مارا‘ کا
اندازہ ایک کے لتل ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اطراؾ
میں کسی کی جان نہ جانے کی صورت میں بے ہوش
ہو جانے والا پراجت سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا
بھی نہ ہو تو چہرے کے آلو‘ جنگ کی اسکورسنگ
کا کام دیتے ہیں۔ تاہم جنگ کا حك جان دینے یا لینے
کی صورت میں ہی ادا ہوتا ہے۔ اس گیم پر اتنا ولت
برباد کرنے کا حمیمی اور حتمی نتیجہ سامنے نہ آنا
جنگی اصولوں کے منافی ہوتا ہے۔
جنگ اچھی ہوتی ہے یا بری‘ سردست میرا اس
موضؤع سے کوئ تعلك نہیں۔ اس سے امن کا رستہ
نکلے گا بدامنی کی راہیں کھلیں گی‘ اس تحریر کا اس
سے بھی کوئ لینا دینا نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ
جنگ کو جنگی اصولوں ضابطوں اور صدیوں سے
چلے آتے مراحل سے گزرنا چاہیے۔ اس میں کسی
مرحلے کا جلد بازی میں رہ جانا مناسب نہیں اور ناہی
وہ لطؾ رہتا ہے۔ للکار کر آنے اور چوروں کی طرح
آنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میدان میں فیصلہ
ہونا چاہیے کہ کون جیت کر ہارا اور کون ہار کر جیتا۔
ناسیں پھیلنے کا نظارہ دیکھنے کو نہ ملےاور
معاملہ توتکرار کی سرحدوں میں آ گھسے۔ یا دونوں
عمل کا تارک ہو کر ماں بہن اور بیٹی کی شان میں
گستاخی پر اتر آنا‘ کسی طرح جنگی دیانت میں نہیں
آتا۔ کون کس بہادری اور جیداری سے لڑا‘ دیکھنے کا
مزا پہلے مراحل کے بؽیر نہیں آتا۔ؼالب سے کلکتہ
والوں سمت کئ حلموں کی جنگیں ہوئیں۔ یہ کوئی نئی
جنگیں نہ تھیں۔ پہلے ازیں بعد سیکڑوں للمی جنگیں
ہوءی۔ ان جنگوں میں جنگی اصول وضوابط کے حفظ
مراتب ہر سطع پر مدنظر رکھے گیے۔ بعض جنگوں
میں بےاصولی بھی ہوئی لیکن ان کی تعداد آٹے میں
نمک برابر ہے۔
میں نہیں جانتا ناصر زیدی پرانے یودھا ہو کر بھی
ابتدائی دونوں مراحل سے کیوں گزر جاتے ہیں۔ سنتے
ہیں پڑھے لکھے بھی ہیں۔ پڑھائی کی ناموس بہرطور
برلرار رہنی چاہیے۔ جب اٹھتے ہی ڈگریاں پنتے ہیں
تو ان کی ایجوکیشن مشکوک ہو جاتی ہے۔ ایجوکیشن
تمیز و امتیاز سکھاتی ہے جبکہ کوالیفیکیشن عملی
میدان کے کارناموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اب جب وہ
کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو ان
کی ایجوکیشن پر لامحالہ حرؾ آئے۔
جب وہ کوالیفیکیشن کو ایجوکیشن اور ایجوکیشن کو
کوالیفیکیشن سمجھیں گے تو ان کے کہے کی معنویت
بالی نہ رہے گی۔ دوسرا اندھیر یہ کہ اٹھتے ہی ماں
بہن کی گستاخی پر اتر آتے ہیں تو ایسے شخص کو
جوابا کیا کہا جائے۔ میرے نزدیک ڈگریوں پر انگلی
رکھنے سے پہلے ان کی متعلمہ محکمہ سے‘ اصلی یا
جعلی کی تصدیك کروا لی جائے تو ہی لو لڑائی لڑی
جا سکے گی۔جنگ کے ضوابط اور جنگی سلیمہ ہی
دراصل جنگی کیمسڑی ہے۔ کسی بھی چیز یا معاملے
کی کیمسٹری سے آگہی ایجوکیشن ہے جبکہ اس کی
اپلیکیشن اور رزلٹس کوالیفیکیش ہے۔ باور رہنا
چاہیے کہ کسی بھی معاملے کے سلیمے اور اس کی
کمسٹری سے آگہی کے ناصرؾ بہتر نتائج سامنے
آتے ہیں بلکہ جنگ میں نمصان بھی کم ہوتا ہے۔
جنگی کیمسٹری کا جانو دشمن کو بھاگا بھاگا کر
گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جنگی نؽموں کا
کام گائیک حضرات کے ذمے بھی رہا ہے۔ میدان سے
باہر کھڑے مبصرین کی کارگزاری بلاشبہ بڑی جان
سوزی کا کام ہے۔ اسی طرح اکھاڑے سے باہر کھڑے
داؤ و پیچ بتانے والوں کی محنتوں کو جنگی
کوالیفیکیشن کا حصہ سمجھا جانا چاہیے تاہم ان پر
عمل درامد ضروری نہیں کیونکہ یودھا اپنی حمکت
عملی خود سے طے کرتا ہے۔ جنگی نؽمے ناصرؾ
جوش پیدا کرتے ہیں بلکہ رجز خوانی اور للکاری
بولوں کو بھی نکھارتے ہیں۔
کوالیفیکیشن پر عمل درامد بہتر نتائج کا „ایجوکیٹڈ
حامل خیال کیا جاتا ہے۔۔ ہمارے ہاں لائؾ ایکسپرنس
سے استفادہ کرنے کا رواج مخصوص حلموں تک
محدود ہے۔ طبمہ نوازی ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ یہاں
زرہ نوازی کا رواج نہیں۔ ہاں یہ نوازتی طبمے خود کو
ذزہ سمجھتے ہیں۔ ان کو نوازنے کے سبب ذرہ نوازی
مرکب تاحال اپنے فل بٹا فل بھار کے ساتھ وجود رکھتا
ہے۔
آزاد معاشرے اہل علم اور صعوبت کی جندریاں
الله نے للم کو معتبرمعزز اور محترم بنایا۔ اس کی
حرمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ الله
نے اس کی لسم اٹھائ ہے۔ اگلے ولتوں میں کانے
سے بڑے اہتمام کے ساتھ للم گھڑی جاتی تھی۔ ماسٹر
کے جیب میں للم گھڑ کر دینے کے لیے کاچو ہوا کرتا
تھا۔ دوکان سے بھی گھڑی گھڑائی للمیں مل جاتی
تھیں۔ ٹک بڑی احتیاط کے ساتھ لگایا جاتا تھا۔ گھڑائ
کے ساتھ ساتھ خوش خطی میں اس ٹک کا بڑا عمل
ہوتا تھا۔ خوش خطی بالاعدہ فن تھا اور خوش خطی
کے الگ سے نمبر ملتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ
وہ لکھائ بڑی مشمت انگیز تھی۔ ہر اگلا لفظ لکھنے
کے لیے ٹوبا لینا پڑتا تھا۔ اس للم کے ساتھ ڈنک اور
کچی پنسل بھی مستعمل تھے تاہم انہیں للم کا نام و
ممام حاصل نہ تھا۔ جی کے نب والا ڈنک انگریز کے
عہد میں مستعمل ہوا۔ جی کے نب والے ڈنک کو
انگریز ہونے کا شرؾ حاصل تھا اس کے باوجود اسے
للم کا درجہ کبھی بھی حاصل نہیں رہا۔
الله نے کبھی اور کہیں ڈنک یا کچی پنسل کی لسم نہیں
کھائی۔ للم سے کچی اور پکی سیاہی سے لکھا جاتا
تھا۔ ہر دو طرح کی سیاہی سے لکھی گئ تحریر للم کی
تحریر تھی اس لیے معتبر اور محترم تھی۔ پن تو بہت
بعد میں ولایت سے تشریؾ لایا۔ چونکہ وہ ولایت سے
آیا اسے پن شریؾ کہنا ؼلط نہ ہو گا۔ دیسی گوروں
نے پن شریؾ کو بھی للم ہی کہا اور کسی حد تک یہ
نام بھی مستعمل ہوا۔ دیدہءبینا نے اسے کبھی للم
تسلیم نہیں کیا۔ ان کے ہاں یہ پن ہی مستعمل رہا۔ بھیڑ
کو وہ بکری کیوں تسلیم کرتے۔ دیسی گورے رنگت
کے گندمی‘ احساس برتری میں اسے پن ہی کہتے
تھے۔ یہ تھا بھی پن حالانکہ اس کے نب میں بھی ٹک
ہوتا تھا۔ پارکر جیسا لیمتی پن بھی ٹک کے بؽیر نہیں
ہوتا تھا۔
ولت آگے بڑھا تو للم پن متروک ہو گیے۔ ان جگہ بال
پوائنٹ نے لے لی۔ بال پواءنٹ کو بائرو بھی کہا جاتا
ہے اور یہی رائج ہے۔ جس پواءنٹ سے لکھتے ہیں
وہ بلا ٹک ایک کوکا سا ہوتا ہے۔ ٹک نہ ہونے کے
سبب اس سے مروت کی آشا بے فضول سی ہے۔ اس
میں سیاہی نہیں پڑتی۔ یہ بھری بھرائ ہوتی ہے۔ صاؾ
ظاہر ہے اس میں جو بھی بھرا جاتا ہے کیمیکل سے
مبرا نہیں ہو گا۔ بھرنے والے اپنی طینت اور مماصد
اس میں آمیزہ کرتے ہوں گے۔ دفاتر ہوں یا شفاخانے
یا درس گاہیں‘ اس کا سکہ چلتا ہے اور بڑے بھار
سے چلتا ہے حالانکہ اس کی اولات اتنی ہے جب اس
کے اندر کا مواد ختم ہو جاتا ہے اسے کچرے کے
ڈبے کی زینت بننا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس پن کی یہ
حیثیت نہ تھی۔ سیاہی ختم ہوتی تو دوبارہ سے بھر لی
جاتی۔ نب ٹوٹ جاتا نیا نب بازار سے مل جاتا تھا۔
ڈاکٹر عبدالاضی لله کمال کے عالم فاضل ہیں۔ خیر سے
ڈبل پی ایچ ڈی ہیں۔ زندگی پڑھنے لکھنے میں گزار
دی ہے۔ ان کی شرح بخاری کویت سے شائع ہو رہی
ہے۔ اتنے پڑھ لکھ کر بال پوائنٹ کی طالت کو نہیں
مانتے۔ عہد جدید میں بھی پن سے لکھتے ہیں وہ بھی
ایگل کے پن سے۔ پارکر کا للم رکھتے ہوئے ایگل کے
پن سے لکھنا پارکر کی توہین کرنے کے مترادؾ ہے۔
کل فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ للم
کی حرمت جان سے زیادہ لیمتی ہے۔ یہ تو سنا تھا
عزت‘ عزت اور حرمت ایک ہی بات ہے بچانے کے
لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔ جان بار ملنے
کی چیز نہیں لہذا اسے بچانے کے لیے عزت نیلام کر