The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫مندرجات‬

‫منظوم شجرہ عالیہ حضور کریم‪....‬عہد جہانگیر‬
‫بارہ امام ایک قدیم یاد گار‬
‫شجرہ قادریہ ۔۔۔۔۔ ایک جائزہ‬

‫رحمان بابا کی زبان کا اردو کے تناظر میں لسانی‬
‫مطالعہ‬

‫امانت کی ایک غزل‪ ......‬فکری و لسانی رویہ‬
‫باراں ماہ غلم حضور شاہ‬

‫اکبر اردو ادب کا پہل بڑا مزاحمتی شاعر‬
‫مثنوی ماسٹر نرائن داس' ایک ادبی جائزہ‬
‫آشا پربھات' مسکاتے' سلگتے اور بلکتے‬

‫احساسات کی شاعر‬
‫ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی‬

‫جائزہ‬
‫گنج سوالت' ایک لسانیاتی جائزہ‬
‫قصہءآدم‘ اردو کے داستانی ادب میں ایک اہم‬

‫اضافہ‬
‫پروفیسر سوامی رام تیرتھ کی غالب طرازی‬

‫جدید اردو شاعری کے چند محاکاتکر‬
‫اختر حسین جعفری کی زبان کا لسانی جائزہ‬

‫تمثال میں لسانیاتی تبسم کی تلش‬
‫سعادت سعید۔۔۔۔۔اردو شعر کی زبان کا جادوکر‬
‫ردی چڑھی رفتہ کی ایک منہ بولتی شہادت‬

‫شکیب جللی کی زبان اور انسانی نفسیات‬
‫ٹی ایس ایلیٹ اور روایت کی اہمیت‬

‫محمد امین کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ عصری حیات کی ہم‬
‫سفر‬

‫شریف ساجد کی غزلوں کے ردیف‬
‫انسانی تاریخ کی بگ گنز‬

‫شکیب جللی کے کلم کی ہجویہ تشریح‬
‫قصہ ایک قلمی بیاض کی خریداری کا‬
‫بیاض راغب کے بارہ بدایونی شاعر‬

‫کلم قمر اور ریشہ حنا ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی‬
‫تدوینی تحقیق کے ادبی اطوار‬

‫ڈاکٹر عبد العزیز ساحر کی ایک قابل تقلید تدوینی‬
‫کاوش‬

‫ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی تدوینی کاوش بارہ‬
‫ماھیہء نجم کا تعارفی جائزہ‬
‫ایک خط‬

‫ایک غیر اردو' اردو نواز کی تلش‬

‫منظوم شجرہ عالیہ حضور کریم‪....‬عہد جہانگیر‬

‫شاعر‪ :‬غلم حسین‬

‫مخدومی ومرشدی قبلہ حضرت سید غلم حضور‬
‫حسنی کے ذخیرہءکتب سے' ایک تین سو سے‬
‫زائد صفحات کا' مخطوطہ دستیاب ہوا ہے۔ اس کی‬
‫حالت بڑی خستہ و خراب ہے۔ اوپر سے' یہ کہ‬
‫صفحات بےترتیب ہیں۔ یہ مخطوطہ پنجابی عربی‬
‫اور فارسی میں ہے۔ اس میں اردو' آقا کریم ان پر‬
‫ان حد درود وسلم' کا شجرہ ہے۔ یہ کل' آٹھ اوپر‬
‫ستر اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں سے' ایک شعر‬
‫کاٹا ہوا ہے۔ یہ قلمی مسودہ حکمت' علم جعفر'‬
‫تعویزات اور حمد و نعت سے متعلق ہے۔ اس میں‬
‫فارسی نثر بھی موجود ہے۔ بے ترتیب ہونے کے‬
‫باعث پڑھنے میں ہر چند دشواری کا سامنا کرنا پڑ‬

‫رہا ہے۔‬

‫داخلی شہادت کے مطابق' اس کے لکھنے والے‬

‫غلم حسین ولد پیر محمد متین ہیں اور اس کی‬

‫تاریخ نوشت‬

‫بتاریخ‬ ‫بروزے چہار شنبہ شداند تمام‬

‫ہشتم کہ زالحج نام‬

‫ہے۔‬

‫یہ صاحب' پیر بہار شاہ کی خانقاہ سے متعلق ہیں۔‬

‫خدایا بتوفیق خود راہ دہ‬
‫کہ تاہید ازین بندہءہیچ بہ‬

‫خدایا مقصد بکار آمدم‬
‫تہے دستے امیدوار امیدم‬
‫بپوش ازسر لطف غیبے نوشیے‬
‫شعار بزرکان شوہ عیب نوشیے‬
‫سخنی بتوک قلم بند کنے‬
‫صر از یادکارں جہان چند کنے‬
‫نوشت ست نامہءغلم حسین‬
‫صر پسر ست پیرے محمد متین‬
‫بروزے چہار شنبہ شداند تمام‬
‫بتاریخ ہشتم کہ زالحج نام‬
‫بدر خانقاہ پیر بہار شاہ مدام‬

‫کوہ دہ است دینہہ ثبام‬

‫‪............‬‬

‫اس مخطوطہ میں' ایک قصیدہ جہانگیر بادشاہ کا‬
‫ہے۔ قصیدہ میں' جہانگیر سے عیاش اور عیش‬
‫کوش بادشاہ کو' دو چار انچ ہی' کسی جلیل القدر‬
‫نبی سے کم رکھا گیا ہے۔ دو چار سال اور زندہ‬

‫رہتا تو' شاید وہ نبی ہو ہی جاتا۔‬
‫قصیدہ ملحظہ ہو۔‬

‫بال فرخندہء بر جہان سالر‬
‫صاحب التاج احسن الآثار‬

‫روشن آئینہ ضمیر‬
‫بحر عرفان لجہء تدبیر‬
‫داور دہر رستم دوران‬
‫سالک حق بہادر میدان‬
‫مطلع آفتاب علم و عمل‬
‫مظہر نور عین فیض ازل‬
‫شمس ایوان بارکاہ جلل‬
‫قطب دوران کمال نور جمال‬
‫والی ء دہر رستم جم جاہ‬
‫شہہ جہانکیر ابن اکبر شاہ‬
‫اکمل ا روح عظمتہہ‬

‫شرف اولدہ بدرجتہہ‬
‫لطف حق بر ہزاریان بال‬
‫کز رہ عشق پر صفا بال‬
‫مست بال از جم لم یزلیے‬
‫ہست بال ہسستنے ازلے‬

‫شجرے کے آغاز کے پچھلے صفحے پر' سات‬
‫دعائیہ اشعار ہیں۔ صفحہ کے چاروں طرف حاشیہ‬

‫میں' فارسی میں منظوم فارسی لکھا مٹا' کٹا یا‬
‫پھٹا ہوا ہے۔ اشعار میں نام یا تخلص کا استعمال‬
‫نہیں ہوا۔ شجرہ 'جو پانچ صفحات میں تمام ہوا‬
‫ہے‪ .‬دعا کا آغاز تو اوپر سے ہوا ہے' اسے پڑھنا‬
‫ممکن نہیں' جو پڑھا جا سکتا ہے پیش خدمت ہے۔‬

‫ان دعائیہ اشعار کے آخر میں جہانگیر کے‬
‫قصیدے کا راز کھلتا ہے' کہ یہ صاحب جہانگیر‬
‫کے قاضی تھے۔ اشعار میں ایک نام شمس الدین‬

‫‪:‬بھی ملتا ہے۔ اشعار ملحظہ فرمائیں‬

‫یا خداوندا بحق قدسمع‬
‫از کرم ہار بکن خاطر جمع‬
‫یا خداوندا بحق سورتہ تبار‬

‫جملہ عصیان بندہ عاصے درکذر‬
‫یا خداوندا بحق سورہ عم‬

‫در دو عالم رفع کردن ہم زغم‬
‫یا خداوندا بحق دعوت چنین‬
‫باسلمت دار ایمان شمش الدین‬

‫تمام شد‬
‫غلم حسین‬

‫قاضے‬

‫زبان پر پنجابی اور فارسی کے اثرات غالب ہیں۔‬
‫مثل‬

‫پنجابی‬

‫بولیا ہے اپنے نکہت نور سین‬
‫‪............‬‬

‫دیا تاج لولک کا سیس پر‬
‫‪............‬‬

‫جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا‬
‫‪..........‬‬

‫عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل‬

‫‪..........‬‬
‫قیامت کون دیوندیں خلصی مجہے‬

‫فارسی‬

‫ولد اوسکا تہا ابرہیمش خلیل‬
‫‪..........‬‬

‫زغفلت ہمیشہ کفر مون مواء‬
‫‪............‬‬

‫نبیے باپ قنیان کا یونس است‬
‫‪........‬‬

‫پتا اوسکے کا نام مستوسبخ است‬
‫‪.........‬‬

‫کریں عدل و انصاف در ہر زمان‬

‫فارسی میں کہے مصرعے اور شعر شامل کیے‬
‫گیے ہیں۔‬

‫امیدم چنان است بر مصطفے‬
‫بدنیا و دینم دہد مدعا‬
‫‪.........‬‬

‫نہ پیغمبر و شاہ او کافر است‬
‫‪.........‬‬

‫کیا ذکر دربطن ماہے نشت‬

‫ولدیت کے لیے باپ' پتا' پدر اور ولد الفاظ استعمال‬
‫کیے گیے ہیں۔‬

‫نبیے باپ قنیان کا یونس است‬
‫‪...........‬‬

‫پتا اوسکا یلمرد پہیا درجہان‬
‫‪............‬‬

‫پدر ویی لود است نامش ضوح‬
‫‪............‬‬

‫پہر اوسکا ولد ہود لکہیا کتاب‬

‫لفظ مل کر لکھے گیے ہیں۔ مثل‬

‫محمد کے دادایکا مطلب ہے نام‬
‫‪..........‬‬

‫شاہ لویکا شاہ غالب سلد‬
‫‪..........‬‬

‫پہر اوسکا پتا جان لیجو فرید‬
‫‪........‬‬

‫گاف گ کی بجائے کاف کا استعمال کیا گیا ہے‬

‫دہر و کوش مو مذہب خاص و عام‬
‫کوش بجائے گوش‬

‫میں کاؤں محمد کون ہر صبح و شام‬
‫کاؤں بجائے گاؤں‬

‫کریزان ہوا خوف جنکے سو پاپ‬
‫کریزان بجائے گریزاں‬

‫جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا‬
‫کہر بجائے گھر‬

‫بدیی عدل و انصاف کے بارکاہ‬
‫کاہ بجائے گاہ‬

‫مہاپران یعنی بھاری آوزوں کا سرے سے استعمال‬
‫نہیں ہوا۔ اس کی جگہ' حے مقصورہ ہ استعمال‬

‫میں لئی گئی ہے۔ مثل‬

‫محمد سین آدم تلک سبہہ کہول‬

‫‪.............‬‬
‫کہ شہنشاہ تہا وہ در کوو قاف‬

‫‪...............‬‬
‫پہر اوسکا پتا نام ترار ہے‬

‫‪................‬‬
‫کتابان مین لکہیا جہنم پیا‬

‫‪..........‬‬
‫عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل‬

‫شین کے لیے صعاد کا استعمال بھی ملتا ہے‬

‫کریی نصر دنیانمیں پیغمبرے‬
‫نشر سے نصر‬

‫لفظوں کی' اشکالی اور اصواتی تبدیلیاں بھی ملتی‬
‫ہیں۔ مثل‬

‫جس کی جگہ جن‬
‫سے کے لیے سین‬
‫کو کے لیے کون‬
‫بہت کے لیے بہتہ‬

‫سب کے لیے سبہہ‬
‫دینا کے لے دیوند‬
‫اس کے لیے اوس‬
‫میں کے لیے مون‬

‫ڑ کی جگھ' د کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثل‬

‫کریی بادشاہی بدے باصواب‬
‫‪.........‬‬

‫بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید‬

‫چھوٹی ے کی جگہ بڑی ے کا استعمال کیا گیا‬
‫ہے۔ مثل‬

‫رمان شاہ کا باپ برحق نبے‬

‫الفاظ کے ساتھ ء کا استعمال ملتا ہے۔‬

‫پیغمبر کے کہر میں جو پیدا ہواء‬
‫پہولد۔۔۔۔ کون کفر مین وہ مویاء‬

‫نون غنہ کے لیے نون استعمال کی گئی ہے۔‬

‫کہون شاہ کلب کا جو پتا‬
‫‪........‬‬

‫بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید‬

‫جو بھی سہی' اس شعر پارے کے حوالہ سے'‬
‫قدیم زبان کا طور و چلن میسر آتا ہے اوراس کے‬
‫ہونے کا' ثبوت ملتا ہے۔ آئیے اب' اس شعر پارے‬

‫کے مطالعہ سے' لطف لیتے ہیں۔‬

‫بسم ا الرحمن الرحیم‬

‫تو سنو اب خدا کے کلم‬
‫کیا جن محمد علیہ‬

‫کیا ہے محمد خدا نور سین‬
‫بولیا ہے اپنے نکہت نور سین‬

‫دیا تاج لولک کا سیس پر‬
‫سنایا ہمہ راز خود سر بسر‬
‫سنو اب محمد کے کرسے تمام‬
‫دہر و کوش مو مذہب خاص و عام‬

‫میرے حق مین اب دعا یار ہوء‬
‫تواضع سیتے بہتہ دلشاد ہوء‬

‫سنو شجرہ مصطفے ہر ہمہ‬
‫مکن از بل ہچکس داعہ‬

‫محمد سین آدم تلک سبہہ کہول‬
‫لہون اجر بسیار کہون جب رسول‬
‫چودہاد ہی خلق کا سو پاوں انعام‬
‫میں کاؤں محمد کون ہر صبح و شام‬
‫قیامت کون دیوندیں خلصی مجہے‬

‫یہے بات برحق سناؤں تجہے‬
‫سرانجام دینا عین سبہہ کام کا‬
‫برا حق دیا صدقہ اس نام کا‬
‫امیدم چنان است بر مصطفے‬

‫بدنیا و دینم دہد مدعا‬
‫محمد کے باپ کا جو نام ہے‬
‫سو عبدا ہے نام ہر کر نہ لے‬
‫محمد کے دادایکا مطلب ہے نام‬
‫اوسے دین کوجہ ہنین غض کام‬
‫جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا‬
‫کریں بادشاہے سو ہاشم مواء‬

‫پتا شاہ ہاشم کا عبدمناف‬

‫کہ شہنشاہ تہا وہ در کوو قاف‬
‫قصے شاہ تہا باپ عبد المناف‬
‫اوسے بادشاہے کرن خوب صاف‬
‫قصے کا پتا شاہ سن لے کلب‬
‫کریی بادشاہی بدے باصواب‬

‫کہون شاہ کلب کا جو پتا‬
‫سومرہات جانون جسے جک جیتا‬

‫بدا شاہ مرہات حکمین ہویا‬
‫نہ قایم رہا ایک دن وہ مویا‬
‫سنون باپ مرہات کا ہے کعب‬
‫کریی خلق مین بادشاہے عجب‬
‫کعب کا پتا لویی شاہ جہان‬

‫زوارالفنا رفت دارلمان‬
‫شاہ لویکا شاہ غالب سلد‬
‫عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل‬
‫پہر اوسکا پتا جان لیجو فرید‬
‫بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید‬
‫سنون باپ اوسکا ہویا حکمین شاہ‬
‫بدا نام مالک سو عالم پناہ‬
‫پتا شاہ مالک کا تہا وہ نبیے‬
‫کریی نصر دنیا نمیں پیغمبرے‬

‫کیا شاہ ہو کفر کون جن تباہ‬
‫کریی سلطنت ہم کتابت کے باپ‬
‫زجوخش زمین ظالمان کشت‬
‫سنو مدارک اوس شاہ کا باپ تہا‬
‫اوسے کفر مون جک سون لینا‬
‫او تہا نبیے باپ اوسکا سو الیاس نام‬

‫عجب خداوند مولیعکے کام‬
‫عدو او حزیمت شد اندر جہان‬
‫حزیمت کا سن نام نصرت نشان‬
‫کفر مون خدا نے پیغمبر کئے‬
‫لطف کر بول پاس اپنے لئے‬
‫پیغمبر کے کہر میں جو پیدا ہواء‬
‫پہولد۔۔۔۔ کون کفر مین وہ مویاء‬
‫کئے شاہ کیتے پیغمبر ہزار‬
‫کئے کافران کا نہ آدمی شمار‬
‫خدا دست قدرت سون کردا۔۔۔۔۔۔۔‬

‫ہزراں مخنث نساہاں مرد‬
‫جو بہاوی کون سوئی کوچہ کرتے‬

‫ہنین ہاتہہ بند کے جو لکو کرے‬
‫نبیے باپ الیاس کا ھوجوکا‬
‫کتابان مضر نام اوسکا لکہا‬

‫سنو کوش دہر کے جوتکرار نے‬
‫پہر اوسکا پتا نام ترار ہے‬

‫اوسے۔۔۔۔۔سون کام مطلب ہنین‬
‫کریں بت پرستیے ستے ہن کہلن‬

‫معد ولد او شاہ اندر جہان‬
‫کریں عدل و انصاف در ہر زمان‬

‫معد کا پتا شاہ عدنان تہا‬
‫کریں بادشاہے نہ حکمبین رہا‬
‫ولد اوسکا یسرب کفر مون کیا‬

‫کتابان مین لکہیا جہنم پیا‬
‫کہون باپ یسرب کا اب نام مین‬

‫بدا کفر مین نام نامن کہلین‬
‫سنو نام نامن کی اب باپ کا‬
‫یسع نام تہا شجر وہ باپ کا‬
‫یسع کا جو تہا باپ اورد شاہ‬
‫بدیی عدل و انصاف کے بارکاہ‬
‫ہمیش کرے کفر نامش ہمیش‬
‫پتا شاہ اورد کا کفر کیش‬
‫جو تہا باپ اوسکا ہو اندر جہان‬
‫سنو نام ان شاہ ازمن رمان‬
‫رمان شاہ کا باپ برحق نبے‬

‫مبلت شدہ نام او در صیح‬
‫مبلت نبے کا کہاوں جو باپ‬
‫لئے نام ہمکت کا ہونا ہی بات‬
‫کفر مون رہا کفر ہے سون مواء‬
‫کیا ہار دنیا سون بازی جواء‬
‫جو اوسکا پتا تہا سو قیدار نام‬
‫ہوا وہ نبیے خاص بروں سلم‬
‫زبیح ا اوسکا پتا اسماعیل‬
‫ولد اوسکا تہا ابرہیمش خلیل‬
‫پیغمبر سے تین اہ نام دار‬
‫چہ طاقت کہ آریم و صفتیں شمار‬

‫ہویا جد پیغمبرابراہیم‬
‫چکہا سین رکہی حق تی ذالیش کریم‬

‫جو باپ اوسکا اذر بدا بت تراش‬
‫ہمیشہ بتون کی نبادیں وہ لش‬
‫ہویا کفر کی بیچ سردار خوب‬
‫بتون کیی پرستے مین رہتا غروب‬
‫جو تہا باپ کا آزر کا تارخ سو نام‬
‫کریں بادشاہے سو بدنیا تمام‬

‫پتا شاہ تارخ فازح ہواء‬
‫زغفلت ہمیشہ کفر مون مواء‬

‫جو تہا باپ اوسکا سو یعقوب نام‬
‫پیغمبر سنا ہی سو عالم تمام‬
‫جو یعقوب کا باپ غایر بہل‬
‫دیا کفر کون خاک مین جز مل‬
‫سنو صالح ہی غایر کا باپ‬

‫کریزان ہوا خوف جنکے سو پاپ‬
‫پہر اوسکا ولد ہود لکہیا کتاب‬
‫کفر کون کیا آن چہاروں خراب‬
‫پیغمبر ہوئی جازاہ جان لے‬
‫کہیا سہبہ کتابون کا تون مان لے‬
‫کہو شاہ ارفخشد اوسکا پتاء‬
‫بدا شاہ عالم کون جسنے جتا‬
‫پہر اوس کا پتا سام کافر کہوء‬
‫جیو نام اوسکا نہہ کر رہوء‬

‫یہیا نوح آدم کا ثانی نبیے‬
‫پتا سام کا جان لیجو۔۔۔۔۔۔۔‬
‫کہنہ کار ہوئی خلق بیشمار‬
‫بطوفان میں غرق کیتے ہزار‬
‫بنائی بدیی نوح کشتے کلں‬
‫رکہی بیچ ہر جفت کے درمیان‬
‫جہان ازسر نو ہویدا شدہ‬

‫طفیل نبیے نوح پیدا شدہ‬
‫کہین نوح کون ثانی آدم ہویا‬
‫زوارالفناہ آخر اوہ بہےمویا‬
‫پتا اوسکے کا نام مستوسبخ است‬
‫نہ پیغمبر و شاہ او کافر است‬
‫پدر ویی لود است نامش ضوح‬
‫شدہ کفرمین‪........‬بدکا صبوح‬
‫پتا اوسکا یلمرد پہیا درجہان‬
‫بدا کفر او کافریمین عیان‬
‫کریی باپ مہلن کے کافر ہے‬
‫سنو نام قنیان او در کتاب‬
‫بروز حشر کافران اہ عذاب‬
‫نبیے باپ قنیان کا یونس است‬
‫کیا ذکر دربطن ماہے نشت‬
‫تولد شدہ یونس از عم شیش‬
‫مبارک ز پیغمبریشیش ریش‬
‫پتا شیش کا آدم اندر کتاب‬
‫خدا کرو صلوات او بےحساب‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫نوٹ‪ :‬یہ شعر کاٹا ہوا ہے‬
‫سو کافر نہ آیا ہے دہر میں‬

‫اوسے یاد کر نا ہنین مین نہ مین‬

‫ایک قدیم یاد گار‬
‫بارہ امام‬

‫بچپن ہی سے' اپنی والدہ ماجدہ محترمہ سیدہ‬
‫سردار بیگم دختر سید برکت علی سابقہ اقامتی‬
‫ننگلی' امرتسر سے' میں صبح سویرے بارہ امام‬
‫سنتا آ رہا تھا۔ ان میں سے پہلے تین' آج تک‬
‫مجھے زبانی یاد تھے۔ جس مسودے سے وہ یہ‬
‫پڑھتی تھیں' انتہائی بوسیدہ تھا۔ انیس سو ستاون‬
‫یا اٹھاون میں' انہوں نے یہ کسی سے ایک پاکٹ‬
‫ڈائری پر نقل کروایا۔ ناقل کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہ‬
‫تھا۔ چوں کہ انہیں یہ زبانی ازبر تھا' اس لیے‬
‫لکھائی کے اچھا یا برا ہونے سے کوئی فرق نہ‬
‫پڑا۔ اصل مسودہ انہوں نے ایک چھوٹے سے‬
‫بکس میں محفوظ کر دیا ' جو ان کے مرحوم والد‬

‫کی نشانی تھا ۔‬

‫میں جب ان کا انتقال پرملل ہوا' تو بڑے ‪1996‬‬
‫بھائی صاحب مرحوم مکان سامان پر قابض ہو‬
‫گئے' ان سے چھوٹی کے حصہ میں جھاڑ پونچھ‬

‫آ گیا۔‬

‫میں نے قیافہ سے' چھوٹی نصرت شگفتہ سے کہا‬
‫ممکن ہے وہ بکس' جس میں مسودہ تھا' آپا کے‬

‫ہاں سے مل جائے۔ آپا عمر رسیدہ ہونے کے‬
‫سبب' حواس میں نہیں ہیں' اس لیے چھوٹی ہی‬

‫کو' آپا کے گھر سے کوڑ کباڑ پھرولنا پڑا۔‬
‫بےچاری کو کچھ نہ مل۔ میں نے پھر ہمت‬
‫بندھائی۔ میری درخواست پر دوبارہ سے سفر کی‬
‫صعوبت اٹھا کر آپا کے گاؤں گئی اور ابا مرحوم‬
‫کے کلم کا ایک رجسٹر تلشنے میں کامیاب ہو‬
‫گئی اور یہ دفتر' اپنے پیار کے تحفے کے طور‬
‫پر' اپنے بوڑھے بھائی کو بھجوا دیا۔ یقین‬
‫مانیئے' اس کی کامیابی پر دل گللب گلب اور‬
‫آنکھیں کلی کلی ہو گئیں۔ وہ بےچاری کیا جانے'‬
‫میری سوئی' اس مسودے اور پاکٹ ڈائری پر رکی‬
‫ہوئی تھی۔ اسے پھر سے' کوشش کرنا پڑی۔ آخر‬
‫اس نے پاکٹ ڈائری ڈھونڈ ہی نکالی۔ یہ وہاں سے‬

‫ملی' جہاں اس کے ہونے کا گمان بھی نہیں کیا جا‬
‫سکتا تھا۔ اس کی حالت بڑی خستہ اور قابل رحم‬
‫ہے۔ میں نے پوری توجہ سے اسے پڑھ کر یہاں‬

‫درج کیا ہے۔‬

‫اپنی اصل میں یہ اردو میں ہے لیکن اس پر‬
‫پنجابی کے گہرے اثرات ملتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی‬
‫نئی بات نہیں۔ قوافی میں ر کے ساتھ ڑ کے قوافی‬

‫بھی ملتے ہیں‬

‫جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ‬
‫‪..........‬‬

‫کیوں سٹاں فلک فرش تے زمین جائے سڑ‬
‫‪..........‬‬

‫ر کے ساتھ بھاری آوازوں کے قوافی کا بھی‬
‫استعمال ہوئے ہیں۔‬
‫ڑھ‬

‫جب معراج ہوا امام کو تب سیس نیزے چڑھ‬
‫گھ‬

‫کوفی وڈے لعنتی پلید جھوٹا گھر‬
‫بھ‬

‫شریعت طریقت دا اوہ دیوے جام بھر‬

‫ان مرکبات کو ایک نظر دیکھیئے' پرلطف ہی‬
‫نہیں' فصحیح و بلیغ بھی ہیں۔‬

‫مکر زن' خوشی چین' سردار صادقین' صدق‬
‫سیتی' نبی کے رتن' رب کا رفیق‬

‫جھوٹا گھر' کہہ کر بہت بڑا علقہ مراد لیا گیا ہے۔‬
‫کمال کا معنوی وسعت کے حوالہ سے' یہ مرکب‬

‫ہے۔‬

‫مجھے اس کلم سے' دل چسپی تھی اور ہے۔‬
‫صدیوں پرانی بزرگوں کی نشانی ہے۔ اس میں‬
‫پہلے امام میں' جو معلومات فراہم کی گئی ہیں'‬
‫مروجہ تاریخی قصص سے' قطعی ہٹ کر ہیں' تاہم‬
‫انہیں یہ کہہ کر رد کر دینا' کہ کسی شعیہ کا کہا‬
‫ہے' مبنی برانصاف نہیں۔ ان سے ہٹ کر لوگ‬
‫بھی کب ہل پر نہایت ہوئے ہیں۔ جدھر دیکھو 'سب‬

‫عین غین صورت نظر آئے گی۔ پیٹ' ضد اور شاہ‬
‫گماشتگی میں مصروف ہیں۔ خصوصا مولوی تو‬
‫بےیقینا اور تقسیم کے دروازے کھولنے وال رہا‬
‫ہے۔ اصحابہ کرام کی گلبرگہ وغیرہ میں آمد اور‬
‫موجودگی کے آثار ملتے ہیں۔ قراتہ العین حیدر‬
‫کے ہاں سادات کی لڑائیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی‬
‫طرح حضرت امیر معاویہ کے عہد میں ‪ 44‬ہجری‬
‫میں بھی حملے کا سراغ ملتا ہے۔ قاضی نجیب‬
‫کے ہاں منصورہ میں فاطمی حکومت کا بھی پتا‬
‫ملتا ہے۔ ابن قاسم اسی کو نابود کرنے آیا تھا۔ یہ‬

‫ہی سچ اور یہ ہی حقیقت ہے۔ اب یہ نئی بات‬
‫‪.‬سامنے آئی ہے‬

‫اول کے امام مول علی صفدر‬
‫جو ملک سندھ کافراں سب لیے زیر کر‬
‫جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ‬
‫تب نعرہ ہوا حیدری سب کافر گئے ڈر‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ‬

‫یہ مصرع کھولتا ہے کہ امام علی یہاں خود‬
‫تشریف لئے۔ خیبر تک آنے کا تو مروجہ تاریخ‬
‫میں' واضح ثبوت ملتا ہے۔ اس مصرعے میں کہے‬
‫گئے کو رد کرنا' بالشبہ زیادتی ہو گی۔ تاہم کوئی‬
‫غیر مسلم یا پھر مورکھ نہیں' مورخ ہی کام کر‬

‫سکے گا۔‬

‫اول کے امام مول علی صفدر‬
‫جو ملک سندھ کافراں سب لیے زیر کر‬
‫جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ‬
‫تب نعرہ ہوا حیدری سب کافر گئے ڈر‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫دوسرے امام بیٹے علی کے حسن‬
‫جو زہر آندی کافراں اور دی مکر زن‬
‫جب حسن دیکھے زہر کو تقدیر لئی من‬
‫کیوں سٹاں فلک فرش تے زمین جائے سڑ‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪.......‬‬

‫تیسرے امام بیٹے علی کے حسین‬
‫تقصیر کرو معاف پکاراں دن رین‬
‫میں منگتا ہوں حسین کا دکھاؤ خوشی چین‬
‫جب معراج ہوا امام کو تب سیس نیزے چڑھ‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪.......‬‬

‫چوتھے امام بیٹے سخی زین العابدین‬
‫بیٹے ہیں حسین کے سید مرسلین‬

‫جب زیر کیتے کوفیاں سردار صادقین‬
‫کوفی وڈے لعنتی پلید جھوٹا گھر‬

‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫پانچویں امام تھے محمد باقر ضرور‬
‫امام منوں پانچواں وہ پاک ذاتی نور‬
‫کلمہ کہو رسول کا سب کفر ہووے دور‬
‫شریعت طریقت دا اوہ دیوے جام بھر‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪........‬‬

‫چھیویں امام جعفر صادق مذہب جن کا پاک‬
‫والد جن کا محمد باقر سردار عالی ذات‬

‫تیجے اوتھے خود کرشن پھر حشر دے میدان‬
‫۔۔۔۔۔ تے یقین سوال اسے در‬

‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬
‫‪......‬‬

‫امام کاظم ساتویں صدق سیتی من‬
‫کلمے سے دل پاک صاف ہوا تن‬
‫سخی جعفر کے فرزند اور نبی کے رتن‬
‫جو غیر کو امام کہے تو کاٹو اس کا سر‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪......‬‬

‫آٹھویں امام موسی علی رضا‬
‫رب دیا ہے لولک اہل بیت نوں‬

‫جو رب کی بات‬
‫قربان قربان میں حسین تھیں‬

‫جس کیا ہے صبر‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪.......‬‬

‫نویں امام تقی نقی خدا کا‬
‫امام منوں اس کو آل نبی اولد مرتضے کا‬
‫حیدر بنے ساقی کوثر وارث ہے شفا کا‬
‫جو دشمن ہووے غیر تھیں چا کاٹو اس کا سر‬

‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬
‫‪.......‬‬

‫دسویں امام توں قربان کراں سیس‬
‫نقی امام نام جس کا وہ رب کا رفیق‬
‫منوں اس کو مومنوں یہ نبی کی حدیث‬
‫کیا یہ رسول نے عزیز ممبر چڑھ‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫‪.......‬‬

‫گیارویں امام حسن عسکری علیہ السلم‬
‫تیری پشت پاک تم بخشو چا انعام‬

‫ایتھے اوتھے مدد ہو پھر حشر کے میدان‬
‫فقیر کا سوال بخشو دین ایمان زر‬

‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬
‫‪.......‬‬

‫بارہویں امام کو رب دیا ہے زور‬
‫مہدی نام اس کا نہیں ثانی اس کا ہور‬
‫مارے گا دجال کو جب موزی پایا زور‬

‫فتح ہے امام کو جب۔۔۔۔۔۔‬
‫یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر‬

‫شجرہ قادریہ ۔۔۔۔۔ ایک جائزہ‬

‫جنت مکانی حضرت سیدہ سردار بی بی' دختر‬
‫حضرت سید برکت علی زوج مخدومی ومرشدی‬
‫حضرت سید غلم حضور'سابق اقامتی ننگلی'‬
‫امرت سر' بھارت' متوفی ‪ 1996‬کی پاکٹ ڈائری‬
‫کا' کس حد تک' اپنے کسی مضون میں ذکر کر‬
‫چکا ہوں۔ اس ڈائری میں شجرہ قادریہ بھی درج‬
‫ہے۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ شاعر کا نام اور‬
‫قادریہ خاندان سے تعلق بھی' داخلی شہادت کے‬
‫طور مل جاتا ہے۔ یہ پیر سید غلم جیلنی کے‬

‫مرید تھے جو گڑھ شنکر پنجاب بھارت میں'‬
‫رہائش پذیر تھے۔ اس ذیل میں شجرے کا یہ بند‬

‫ملحظہ ہو۔‬

‫حضرت پیر غلم جیلنی‬
‫مہر علی دے رہبر جانی‬
‫ہر دم وسن وچ دھیان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫یہ شجرہ کل ستائس بندوں پر مشتمل ہے۔ شجرے‬
‫کے پہلے نو بند کمال کی روانی رکھتے ہیں۔ اس‬
‫میں شخصی تعارف کے لئے صفتی کلمات سے‬

‫کام لیا گیا ہے۔ مثل‬

‫علی ولی ہیں زوج بتول‬

‫شاہ مرداں ہیں شیر خدا‬

‫بی بی زہرہ بنت رسول‬

‫حسن عسکری نورالنور‬
‫عبدالعزیز ہیں یمنی ہادی‬

‫عبدالوہاب فضل الہی‬

‫حضرت یحیی رہبر کامل‬

‫تاج الدین نے زہد کمایا‬

‫حضرت پیر غلم جیلنی‬
‫گڑھ شنکر وچ تخت مکان‬

‫عموما پڑھنے اور سننے میں بھی آیا ہے کہ‬
‫اردو پر پنجابی اثرات پائے جاتے ہیں۔ پنجابی بھی‬
‫اردو کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ اس شجرہ کے‬

‫حوالہ سے اردو کے اثرات ملحظہ فرمائیں۔‬
‫نحوی‬

‫اس پر میرا تکیہ مان‬

‫مہدی زمان کا جان ظہور‬

‫کچھ مصرعے لسانی اعتبار سے اردو اور پنجابی‬
‫کے نہیں ہیں۔ اسلوبی اعتبار سے اردو کے ضرور‬

‫ہیں مستعمل اور قابل فہم بھی ہیں۔‬

‫باقر وجعفر و موسی کاظم‬
‫حسن عسکری نورالنور‬
‫خواجہ کرخی در بیان‬
‫ابوالعباس احمد دل شاداں‬
‫حضرت یحیی رہبر کامل‬

‫شاہ جنید پیر بغدادی‬

‫ہمارے ہمارے ہاں بیوی کے لئے لفظ زوجہ‬
‫استعمال کیا جاتا ہے۔ خاوند کے لئے یہ یا اس کی‬
‫کوئی شکل مستعمل نہیں ہے۔ شاعر نے خاوند کے‬

‫لئے لفظ زوج استعمال کیا ہے۔ یہ استعمال کے‬
‫حوالہ سے غیرمانوس ہے حالں کہ درست اور‬

‫فصیح ہے۔‬

‫علی ولی ہیں زوج بتول‬

‫مہر علی نے ان ستائیں بندوں میں خوب صورت‬
‫مرکبات بھی دئیے ہیں۔ مثل‬

‫سید طالح اہل حضور‬

‫ہر دم تیرا شکر احسان‬
‫مہر علی ہے عاجز خاکی‬

‫راہ خدا ہیں جان فدا‬
‫حضرت یحیی رہبر کامل‬
‫اس پر میرا تکیہ مان‬

‫ایک مرکب تو لسانی صوتی اور معنوی اعتبار‬
‫سے بڑے کمال کا ہے۔‬

‫نظر و نظری کرن نہال‬

‫دو نئے مہاورے بھی دیے ہیں۔ دو مصرعے‬
‫خالص پنجابی کے نہیں ہیں۔‬

‫زہد کمایا‬

‫تاج الدین نے زہد کمایا‬

‫'رہبر پایا‬

‫لہجے کے اعتبار سے اردو کا نہیں ہے۔ ورنہ اس‬

‫مصرعے کے اردو ہونے میں کوئی شک نہیں۔‬

‫شرف الدین نے رہبر پایا‬

‫اردو ‪ :‬شرف الدین کو رہبرمل‬

‫پنجابی‪ :‬شرف الدین نوں رہبر ملیا‬

‫شرف الدین نے رہبر پایا‪.....‬غیر فصیح نہیں ہے۔‬
‫صوتی حوالہ سے بھی' ہر زبان بولنے والوں کے‬

‫لئے' سماعتی گرانی کا سبب نہیں بنتا۔‬

‫پورے شجرے میں' مصرعوں میں ایک آدھ لفظ‬
‫کی تبدیلی سے' اردو وجود حاصل کر لیتی ہے۔‬
‫اگر اسے اردو پر پنجابی کے اثرات کا نام دیا‬
‫جائے' تو بھی بات یکسر غلط معلوم نہیں ہوتی۔‬

‫شجرہ ملحظہ ہو‬

‫شجرہ قادریہ‬

‫ا ا ہر دم آکھ‬

‫تن من اپنا کرکے پاک‬
‫نبی محمد دے قربان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫ا ا ہر دم آکھ‬
‫آکھ کا استعمال قافیہ کی مجبوری ہے۔‬

‫نبی محمد دے قربان‬
‫دے کی بجائے کے‬
‫نبی محمد کے قربان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬
‫کریں کی بجائے کرنا‬
‫یا رب مشکل کرنا آسان‬
‫‪.........‬‬
‫خاص خدا دا نبی پیارا‬
‫امت نوں بخشاون ہارا‬
‫اس پر میرا تکیہ مان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫خاص خدا دا نبی پیارا‬

‫دا کی جگہ کا‬
‫خاص خدا کا نبی پیارا‬

‫امت نوں بخشاون ہارا‬
‫نوں کی جگہ پرانی اردو کے مطابق کوں‬

‫امت کوں بخشاون ہارا‬
‫‪..........‬‬

‫بی بی زہرہ بنت رسول‬
‫علی ولی ہیں زوج بتول‬
‫میں عاجز دا سر قربان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫میں عاجز دا سر قربان‬
‫دا کی جگہ کا‬

‫میں عاجز کا سر قربان‬
‫‪..........‬‬

‫صاحبزادے نور العین‬
‫یعنی حضرت حسن حسین‬
‫صدقے حضرت عابد جان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫باقروجعفروموسی کاظم‬
‫موسی رضا دی الفت لزم‬
‫تقی نقی دے میں قربان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫موسی رضا دی الفت لزم‬
‫دی کی جگہ کی‬

‫موسی رضا کی الفت لزم‬

‫تقی نقی دے میں قربان‬
‫دے کی جگہ کے‬

‫تقی نقی کے میں قربان‬
‫‪.........‬‬

‫حسن عسکری نورالنور‬
‫مہدی زمان کا جان ظہور‬

‫ہر دم میرا ایہو دھیان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫ہر دم میرا ایہو دھیان‬

‫ایہو کی جگہ یہ ہی‬
‫ہر دم میرا یہ ہی دھیان‬

‫‪.........‬‬

‫پنج بارہ ہور چودہ جان‬
‫اہل بیت دے حب ایمان‬
‫صفت نہ کیتی جا بیان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫پنج بارہ ہور چودہ جان‬
‫ہور کی جگہ اور۔ گویا صرف آواز ہ کو ا میں بدلنا‬

‫ہے۔‬
‫پنج بارہ اور چودہ جان‬

‫‪..........‬‬
‫شاہ مرداں ہیں شیر خدا‬

‫راہ خدا ہیں جان فدا‬
‫خواجہ حسن بصری دل جان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫حبیب عجمی دے گھول گھماواں‬
‫داؤد طائی دے صدقے جاواں‬

‫خواجہ کرخی در بیان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫حبیب عجمی دے گھول گھماواں‬
‫داؤد طائی دے صدقے جاواں‬

‫دے کی جگہ کے‬
‫حبیب عجمی کے گھول گھماواں‬
‫داؤد طائی کے صدقے جاواں‬

‫‪........‬‬

‫خواجہ سری سقطی ہادی‬
‫شاہ جنید پیر بغدادی‬
‫ابوبکر شبلی دا مان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫ابوبکر شبلی دا مان‬
‫دا کی جگہ کا‬

‫ابوبکر شبلی کا مان‬
‫‪........‬‬

‫ابوالعباس احمد دل شاداں‬

‫عبدالعزیز ہیں یمنی ہادی‬
‫شیخ یوسف دے میں قربان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫شیخ یوسف دے میں قربان‬
‫دے کی جگہ کے‬

‫شیخ یوسف کے میں قربان‬
‫‪.......‬‬

‫ابوالفرح طرطوسی قاری‬
‫ابوالحسن علی ہنکاری‬
‫ابوسعید مخدومی جان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫ابومحمد عبدالقادر‬
‫غوث قطب سب در پر حاضر‬

‫طالب جسدا کل جہان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫طالب جسدا کل جہان‬
‫دا کی جگہ کا‬

‫طالب جسکا کل جہان‬
‫‪.........‬‬

‫عبدالوہاب فضل الہی‬
‫عبدالرحیم دی پشت پناہی‬
‫سید وہاب رکھ حفظ امان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫عبدالرحیم دی پشت پناہی‬
‫دی کی گہ کی‬

‫عبدالرحیم کی پشت پناہی‬
‫‪.........‬‬

‫حضرت یحیی رہبر کامل‬
‫جمال الدین ہیں ہر دم شامل‬

‫نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔‬
‫دے کی جگہ کے‬

‫نور الدین کے پیر۔۔۔۔۔۔۔‬

‫‪.......‬‬

‫تاج الدین نے زہد کمایا‬
‫شرف الدین نے رہبر پایا‬
‫محمد یاسین ہیں فیض رسان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫سید طالح اہل حضور‬
‫سید صالح نور النور‬
‫ہر دم میرا ورد زبان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫سید یحیی الحق جب آئے‬
‫سید عثمان رہبر پائے‬
‫سید عبدا دے پیر نوں جاوے‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫سید عبدا دے پیر نوں جاوے‬
‫دے کی جگہ کے اور نوں کی جگہ کوں رکھ دیں‬

‫سید عبدا کے پیر کوں جاوے‬
‫‪.........‬‬

‫سید غلم مصطفے جانو ہادی‬
‫نام لیاں دل ہووے شادی‬
‫سید احمد ہیں اہل ۔۔۔۔۔۔‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫سید غلم مصطفے جانو ہادی‬
‫جانو' جاننا کے لئے ہے تاہم سمجھو رکھ دیں۔‬

‫سید غلم مصطفےسمجھو ہادی‬
‫‪........‬‬

‫سید علی معظم قادر‬
‫وچ حضوری ہر دم حاضر‬

‫عارف فاضل کامل جان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫وچ حضوری ہر دم حاضر‬
‫وچ کو میں بدل دیں‬

‫حضوری میں ہر دم حاضر‬
‫‪.........‬‬

‫حضرت قادر بخش کمال‬
‫نظر و نظری کرن نہال‬
‫دوئیں تھائیں روشن جان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫نظر و نظری کرن نہال‬
‫کرن کو کریں کر دیں‬
‫نظر و نظری کریں نہال‬

‫‪........‬‬

‫حضرت پیر غلم جیلنی‬
‫قادر بخش نے ہوئے نورانی‬
‫گڑھ شنکر وچ تخت مکان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫گڑھ شنکر وچ تخت مکان‬
‫وچ کو میں بدل دیں‬

‫گڑھ شنکر میں تخت مکان‬
‫‪.......‬‬

‫حضرت دے دو بھائی پیارے‬

‫قادر بخش دے ہی دلرے‬
‫عطا محمد ہیں دربان‬

‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫حضرت دے دو بھائی پیارے‬
‫قادر بخش دے ہی دلرے‬
‫دے کی جگہ کے‬

‫حضرت کے دو بھائی پیارے‬
‫قادر بخش کے ہی دلرے‬
‫‪.........‬‬

‫غلم غوث دے قربان‬
‫بیٹے جس دے ست عیان‬

‫ا دتے ہو رحمان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫غلم غوث دے قربان‬
‫بیٹے جس دے ست عیان‬

‫دے کی جگہ کے‬
‫غلم غوث کے قربان‬
‫بیٹے جس کے ست عیان‬

‫‪........‬‬

‫لنگر رکھ دے ہر دم جاری‬
‫وچ دربار رہے گلزاری‬
‫آئے سوالی خالی نہ جان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫لنگر رکھ دے ہر دم جاری‬
‫وچ دربار رہے گلزاری‬

‫رکھ دے کی جگہ رکھتے اور وچ کی جگہ میں‬
‫‪.‬رکھ دیں‬

‫لنگر رکھتے ہر دم جاری‬
‫دربار میں رہے گلزاری‬

‫‪........‬‬

‫شجرہ شریف میں کہیا سارا‬
‫مینوں بخشیں پروردگارا‬
‫ہر دم تیرا شکر احسان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫مینوں بخشیں پروردگارا‬

‫مینوں کو مجھے کر دیں‬
‫مجھے بخشیں پروردگارا‬

‫‪........‬‬

‫حضرت پیر غلم جیلنی‬
‫مہر علی دے رہبر جانی‬
‫ہر دم وسن وچ دھیان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫مہر علی دے رہبر جانی‬
‫دے کی جگہ کے رکھ دیں‬
‫مہر علی کے رہبر جانی‬

‫‪........‬‬

‫مہر علی ہے عاجز خاکی‬
‫توں ساقیاں دا ہیں ساقی‬
‫شاہ جیلنی دے ایمان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫توں ساقیاں دا ہیں ساقی‬
‫شاہ جیلنی دے ایمان‬

‫تبدیلی‬
‫تو ہے ساقیوں کا ساقی‬
‫شاہ جیلنی کے ایمان‬

‫‪.......‬‬

‫شجرہ شریف پڑھیں بھائی‬
‫قلب تہاڈے دی ہو گی صفائی‬

‫جو ہیں قادری خاندان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫قلب تہاڈے دی ہو گی صفائی‬
‫تہاڈے کو تہارے دی کی جگہ کی‬

‫قلب تہارے کی ہو گی صفائی‬
‫‪..........‬‬

‫پڑھنے دا وقت صبح و شام‬
‫پڑھ لیا جس پیتا جام‬

‫پیر سوہنے دا ہے قربان‬
‫یا رب مشکل کریں آسان‬

‫پڑھنے دا وقت صبح و شام‬


Click to View FlipBook Version