مندرجات
منظوم شجرہ عالیہ حضور کریم....عہد جہانگیر
بارہ امام ایک قدیم یاد گار
شجرہ قادریہ ۔۔۔۔۔ ایک جائزہ
رحمان بابا کی زبان کا اردو کے تناظر میں لسانی
مطالعہ
امانت کی ایک غزل ......فکری و لسانی رویہ
باراں ماہ غلم حضور شاہ
اکبر اردو ادب کا پہل بڑا مزاحمتی شاعر
مثنوی ماسٹر نرائن داس' ایک ادبی جائزہ
آشا پربھات' مسکاتے' سلگتے اور بلکتے
احساسات کی شاعر
ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی
جائزہ
گنج سوالت' ایک لسانیاتی جائزہ
قصہءآدم‘ اردو کے داستانی ادب میں ایک اہم
اضافہ
پروفیسر سوامی رام تیرتھ کی غالب طرازی
جدید اردو شاعری کے چند محاکاتکر
اختر حسین جعفری کی زبان کا لسانی جائزہ
تمثال میں لسانیاتی تبسم کی تلش
سعادت سعید۔۔۔۔۔اردو شعر کی زبان کا جادوکر
ردی چڑھی رفتہ کی ایک منہ بولتی شہادت
شکیب جللی کی زبان اور انسانی نفسیات
ٹی ایس ایلیٹ اور روایت کی اہمیت
محمد امین کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ عصری حیات کی ہم
سفر
شریف ساجد کی غزلوں کے ردیف
انسانی تاریخ کی بگ گنز
شکیب جللی کے کلم کی ہجویہ تشریح
قصہ ایک قلمی بیاض کی خریداری کا
بیاض راغب کے بارہ بدایونی شاعر
کلم قمر اور ریشہ حنا ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی
تدوینی تحقیق کے ادبی اطوار
ڈاکٹر عبد العزیز ساحر کی ایک قابل تقلید تدوینی
کاوش
ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کی تدوینی کاوش بارہ
ماھیہء نجم کا تعارفی جائزہ
ایک خط
ایک غیر اردو' اردو نواز کی تلش
منظوم شجرہ عالیہ حضور کریم....عہد جہانگیر
شاعر :غلم حسین
مخدومی ومرشدی قبلہ حضرت سید غلم حضور
حسنی کے ذخیرہءکتب سے' ایک تین سو سے
زائد صفحات کا' مخطوطہ دستیاب ہوا ہے۔ اس کی
حالت بڑی خستہ و خراب ہے۔ اوپر سے' یہ کہ
صفحات بےترتیب ہیں۔ یہ مخطوطہ پنجابی عربی
اور فارسی میں ہے۔ اس میں اردو' آقا کریم ان پر
ان حد درود وسلم' کا شجرہ ہے۔ یہ کل' آٹھ اوپر
ستر اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں سے' ایک شعر
کاٹا ہوا ہے۔ یہ قلمی مسودہ حکمت' علم جعفر'
تعویزات اور حمد و نعت سے متعلق ہے۔ اس میں
فارسی نثر بھی موجود ہے۔ بے ترتیب ہونے کے
باعث پڑھنے میں ہر چند دشواری کا سامنا کرنا پڑ
رہا ہے۔
داخلی شہادت کے مطابق' اس کے لکھنے والے
غلم حسین ولد پیر محمد متین ہیں اور اس کی
تاریخ نوشت
بتاریخ بروزے چہار شنبہ شداند تمام
ہشتم کہ زالحج نام
ہے۔
یہ صاحب' پیر بہار شاہ کی خانقاہ سے متعلق ہیں۔
خدایا بتوفیق خود راہ دہ
کہ تاہید ازین بندہءہیچ بہ
خدایا مقصد بکار آمدم
تہے دستے امیدوار امیدم
بپوش ازسر لطف غیبے نوشیے
شعار بزرکان شوہ عیب نوشیے
سخنی بتوک قلم بند کنے
صر از یادکارں جہان چند کنے
نوشت ست نامہءغلم حسین
صر پسر ست پیرے محمد متین
بروزے چہار شنبہ شداند تمام
بتاریخ ہشتم کہ زالحج نام
بدر خانقاہ پیر بہار شاہ مدام
کوہ دہ است دینہہ ثبام
............
اس مخطوطہ میں' ایک قصیدہ جہانگیر بادشاہ کا
ہے۔ قصیدہ میں' جہانگیر سے عیاش اور عیش
کوش بادشاہ کو' دو چار انچ ہی' کسی جلیل القدر
نبی سے کم رکھا گیا ہے۔ دو چار سال اور زندہ
رہتا تو' شاید وہ نبی ہو ہی جاتا۔
قصیدہ ملحظہ ہو۔
بال فرخندہء بر جہان سالر
صاحب التاج احسن الآثار
روشن آئینہ ضمیر
بحر عرفان لجہء تدبیر
داور دہر رستم دوران
سالک حق بہادر میدان
مطلع آفتاب علم و عمل
مظہر نور عین فیض ازل
شمس ایوان بارکاہ جلل
قطب دوران کمال نور جمال
والی ء دہر رستم جم جاہ
شہہ جہانکیر ابن اکبر شاہ
اکمل ا روح عظمتہہ
شرف اولدہ بدرجتہہ
لطف حق بر ہزاریان بال
کز رہ عشق پر صفا بال
مست بال از جم لم یزلیے
ہست بال ہسستنے ازلے
شجرے کے آغاز کے پچھلے صفحے پر' سات
دعائیہ اشعار ہیں۔ صفحہ کے چاروں طرف حاشیہ
میں' فارسی میں منظوم فارسی لکھا مٹا' کٹا یا
پھٹا ہوا ہے۔ اشعار میں نام یا تخلص کا استعمال
نہیں ہوا۔ شجرہ 'جو پانچ صفحات میں تمام ہوا
ہے .دعا کا آغاز تو اوپر سے ہوا ہے' اسے پڑھنا
ممکن نہیں' جو پڑھا جا سکتا ہے پیش خدمت ہے۔
ان دعائیہ اشعار کے آخر میں جہانگیر کے
قصیدے کا راز کھلتا ہے' کہ یہ صاحب جہانگیر
کے قاضی تھے۔ اشعار میں ایک نام شمس الدین
:بھی ملتا ہے۔ اشعار ملحظہ فرمائیں
یا خداوندا بحق قدسمع
از کرم ہار بکن خاطر جمع
یا خداوندا بحق سورتہ تبار
جملہ عصیان بندہ عاصے درکذر
یا خداوندا بحق سورہ عم
در دو عالم رفع کردن ہم زغم
یا خداوندا بحق دعوت چنین
باسلمت دار ایمان شمش الدین
تمام شد
غلم حسین
قاضے
زبان پر پنجابی اور فارسی کے اثرات غالب ہیں۔
مثل
پنجابی
بولیا ہے اپنے نکہت نور سین
............
دیا تاج لولک کا سیس پر
............
جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا
..........
عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل
..........
قیامت کون دیوندیں خلصی مجہے
فارسی
ولد اوسکا تہا ابرہیمش خلیل
..........
زغفلت ہمیشہ کفر مون مواء
............
نبیے باپ قنیان کا یونس است
........
پتا اوسکے کا نام مستوسبخ است
.........
کریں عدل و انصاف در ہر زمان
فارسی میں کہے مصرعے اور شعر شامل کیے
گیے ہیں۔
امیدم چنان است بر مصطفے
بدنیا و دینم دہد مدعا
.........
نہ پیغمبر و شاہ او کافر است
.........
کیا ذکر دربطن ماہے نشت
ولدیت کے لیے باپ' پتا' پدر اور ولد الفاظ استعمال
کیے گیے ہیں۔
نبیے باپ قنیان کا یونس است
...........
پتا اوسکا یلمرد پہیا درجہان
............
پدر ویی لود است نامش ضوح
............
پہر اوسکا ولد ہود لکہیا کتاب
لفظ مل کر لکھے گیے ہیں۔ مثل
محمد کے دادایکا مطلب ہے نام
..........
شاہ لویکا شاہ غالب سلد
..........
پہر اوسکا پتا جان لیجو فرید
........
گاف گ کی بجائے کاف کا استعمال کیا گیا ہے
دہر و کوش مو مذہب خاص و عام
کوش بجائے گوش
میں کاؤں محمد کون ہر صبح و شام
کاؤں بجائے گاؤں
کریزان ہوا خوف جنکے سو پاپ
کریزان بجائے گریزاں
جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا
کہر بجائے گھر
بدیی عدل و انصاف کے بارکاہ
کاہ بجائے گاہ
مہاپران یعنی بھاری آوزوں کا سرے سے استعمال
نہیں ہوا۔ اس کی جگہ' حے مقصورہ ہ استعمال
میں لئی گئی ہے۔ مثل
محمد سین آدم تلک سبہہ کہول
.............
کہ شہنشاہ تہا وہ در کوو قاف
...............
پہر اوسکا پتا نام ترار ہے
................
کتابان مین لکہیا جہنم پیا
..........
عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل
شین کے لیے صعاد کا استعمال بھی ملتا ہے
کریی نصر دنیانمیں پیغمبرے
نشر سے نصر
لفظوں کی' اشکالی اور اصواتی تبدیلیاں بھی ملتی
ہیں۔ مثل
جس کی جگہ جن
سے کے لیے سین
کو کے لیے کون
بہت کے لیے بہتہ
سب کے لیے سبہہ
دینا کے لے دیوند
اس کے لیے اوس
میں کے لیے مون
ڑ کی جگھ' د کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثل
کریی بادشاہی بدے باصواب
.........
بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید
چھوٹی ے کی جگہ بڑی ے کا استعمال کیا گیا
ہے۔ مثل
رمان شاہ کا باپ برحق نبے
الفاظ کے ساتھ ء کا استعمال ملتا ہے۔
پیغمبر کے کہر میں جو پیدا ہواء
پہولد۔۔۔۔ کون کفر مین وہ مویاء
نون غنہ کے لیے نون استعمال کی گئی ہے۔
کہون شاہ کلب کا جو پتا
........
بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید
جو بھی سہی' اس شعر پارے کے حوالہ سے'
قدیم زبان کا طور و چلن میسر آتا ہے اوراس کے
ہونے کا' ثبوت ملتا ہے۔ آئیے اب' اس شعر پارے
کے مطالعہ سے' لطف لیتے ہیں۔
بسم ا الرحمن الرحیم
تو سنو اب خدا کے کلم
کیا جن محمد علیہ
کیا ہے محمد خدا نور سین
بولیا ہے اپنے نکہت نور سین
دیا تاج لولک کا سیس پر
سنایا ہمہ راز خود سر بسر
سنو اب محمد کے کرسے تمام
دہر و کوش مو مذہب خاص و عام
میرے حق مین اب دعا یار ہوء
تواضع سیتے بہتہ دلشاد ہوء
سنو شجرہ مصطفے ہر ہمہ
مکن از بل ہچکس داعہ
محمد سین آدم تلک سبہہ کہول
لہون اجر بسیار کہون جب رسول
چودہاد ہی خلق کا سو پاوں انعام
میں کاؤں محمد کون ہر صبح و شام
قیامت کون دیوندیں خلصی مجہے
یہے بات برحق سناؤں تجہے
سرانجام دینا عین سبہہ کام کا
برا حق دیا صدقہ اس نام کا
امیدم چنان است بر مصطفے
بدنیا و دینم دہد مدعا
محمد کے باپ کا جو نام ہے
سو عبدا ہے نام ہر کر نہ لے
محمد کے دادایکا مطلب ہے نام
اوسے دین کوجہ ہنین غض کام
جو مطلب کے ہاشم کے کہر میں ہویا
کریں بادشاہے سو ہاشم مواء
پتا شاہ ہاشم کا عبدمناف
کہ شہنشاہ تہا وہ در کوو قاف
قصے شاہ تہا باپ عبد المناف
اوسے بادشاہے کرن خوب صاف
قصے کا پتا شاہ سن لے کلب
کریی بادشاہی بدے باصواب
کہون شاہ کلب کا جو پتا
سومرہات جانون جسے جک جیتا
بدا شاہ مرہات حکمین ہویا
نہ قایم رہا ایک دن وہ مویا
سنون باپ مرہات کا ہے کعب
کریی خلق مین بادشاہے عجب
کعب کا پتا لویی شاہ جہان
زوارالفنا رفت دارلمان
شاہ لویکا شاہ غالب سلد
عمر ہوک کر چہوڑ دنیا چل
پہر اوسکا پتا جان لیجو فرید
بدا کفر مین وہ ہویا جیون یزید
سنون باپ اوسکا ہویا حکمین شاہ
بدا نام مالک سو عالم پناہ
پتا شاہ مالک کا تہا وہ نبیے
کریی نصر دنیا نمیں پیغمبرے
کیا شاہ ہو کفر کون جن تباہ
کریی سلطنت ہم کتابت کے باپ
زجوخش زمین ظالمان کشت
سنو مدارک اوس شاہ کا باپ تہا
اوسے کفر مون جک سون لینا
او تہا نبیے باپ اوسکا سو الیاس نام
عجب خداوند مولیعکے کام
عدو او حزیمت شد اندر جہان
حزیمت کا سن نام نصرت نشان
کفر مون خدا نے پیغمبر کئے
لطف کر بول پاس اپنے لئے
پیغمبر کے کہر میں جو پیدا ہواء
پہولد۔۔۔۔ کون کفر مین وہ مویاء
کئے شاہ کیتے پیغمبر ہزار
کئے کافران کا نہ آدمی شمار
خدا دست قدرت سون کردا۔۔۔۔۔۔۔
ہزراں مخنث نساہاں مرد
جو بہاوی کون سوئی کوچہ کرتے
ہنین ہاتہہ بند کے جو لکو کرے
نبیے باپ الیاس کا ھوجوکا
کتابان مضر نام اوسکا لکہا
سنو کوش دہر کے جوتکرار نے
پہر اوسکا پتا نام ترار ہے
اوسے۔۔۔۔۔سون کام مطلب ہنین
کریں بت پرستیے ستے ہن کہلن
معد ولد او شاہ اندر جہان
کریں عدل و انصاف در ہر زمان
معد کا پتا شاہ عدنان تہا
کریں بادشاہے نہ حکمبین رہا
ولد اوسکا یسرب کفر مون کیا
کتابان مین لکہیا جہنم پیا
کہون باپ یسرب کا اب نام مین
بدا کفر مین نام نامن کہلین
سنو نام نامن کی اب باپ کا
یسع نام تہا شجر وہ باپ کا
یسع کا جو تہا باپ اورد شاہ
بدیی عدل و انصاف کے بارکاہ
ہمیش کرے کفر نامش ہمیش
پتا شاہ اورد کا کفر کیش
جو تہا باپ اوسکا ہو اندر جہان
سنو نام ان شاہ ازمن رمان
رمان شاہ کا باپ برحق نبے
مبلت شدہ نام او در صیح
مبلت نبے کا کہاوں جو باپ
لئے نام ہمکت کا ہونا ہی بات
کفر مون رہا کفر ہے سون مواء
کیا ہار دنیا سون بازی جواء
جو اوسکا پتا تہا سو قیدار نام
ہوا وہ نبیے خاص بروں سلم
زبیح ا اوسکا پتا اسماعیل
ولد اوسکا تہا ابرہیمش خلیل
پیغمبر سے تین اہ نام دار
چہ طاقت کہ آریم و صفتیں شمار
ہویا جد پیغمبرابراہیم
چکہا سین رکہی حق تی ذالیش کریم
جو باپ اوسکا اذر بدا بت تراش
ہمیشہ بتون کی نبادیں وہ لش
ہویا کفر کی بیچ سردار خوب
بتون کیی پرستے مین رہتا غروب
جو تہا باپ کا آزر کا تارخ سو نام
کریں بادشاہے سو بدنیا تمام
پتا شاہ تارخ فازح ہواء
زغفلت ہمیشہ کفر مون مواء
جو تہا باپ اوسکا سو یعقوب نام
پیغمبر سنا ہی سو عالم تمام
جو یعقوب کا باپ غایر بہل
دیا کفر کون خاک مین جز مل
سنو صالح ہی غایر کا باپ
کریزان ہوا خوف جنکے سو پاپ
پہر اوسکا ولد ہود لکہیا کتاب
کفر کون کیا آن چہاروں خراب
پیغمبر ہوئی جازاہ جان لے
کہیا سہبہ کتابون کا تون مان لے
کہو شاہ ارفخشد اوسکا پتاء
بدا شاہ عالم کون جسنے جتا
پہر اوس کا پتا سام کافر کہوء
جیو نام اوسکا نہہ کر رہوء
یہیا نوح آدم کا ثانی نبیے
پتا سام کا جان لیجو۔۔۔۔۔۔۔
کہنہ کار ہوئی خلق بیشمار
بطوفان میں غرق کیتے ہزار
بنائی بدیی نوح کشتے کلں
رکہی بیچ ہر جفت کے درمیان
جہان ازسر نو ہویدا شدہ
طفیل نبیے نوح پیدا شدہ
کہین نوح کون ثانی آدم ہویا
زوارالفناہ آخر اوہ بہےمویا
پتا اوسکے کا نام مستوسبخ است
نہ پیغمبر و شاہ او کافر است
پدر ویی لود است نامش ضوح
شدہ کفرمین........بدکا صبوح
پتا اوسکا یلمرد پہیا درجہان
بدا کفر او کافریمین عیان
کریی باپ مہلن کے کافر ہے
سنو نام قنیان او در کتاب
بروز حشر کافران اہ عذاب
نبیے باپ قنیان کا یونس است
کیا ذکر دربطن ماہے نشت
تولد شدہ یونس از عم شیش
مبارک ز پیغمبریشیش ریش
پتا شیش کا آدم اندر کتاب
خدا کرو صلوات او بےحساب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :یہ شعر کاٹا ہوا ہے
سو کافر نہ آیا ہے دہر میں
اوسے یاد کر نا ہنین مین نہ مین
ایک قدیم یاد گار
بارہ امام
بچپن ہی سے' اپنی والدہ ماجدہ محترمہ سیدہ
سردار بیگم دختر سید برکت علی سابقہ اقامتی
ننگلی' امرتسر سے' میں صبح سویرے بارہ امام
سنتا آ رہا تھا۔ ان میں سے پہلے تین' آج تک
مجھے زبانی یاد تھے۔ جس مسودے سے وہ یہ
پڑھتی تھیں' انتہائی بوسیدہ تھا۔ انیس سو ستاون
یا اٹھاون میں' انہوں نے یہ کسی سے ایک پاکٹ
ڈائری پر نقل کروایا۔ ناقل کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہ
تھا۔ چوں کہ انہیں یہ زبانی ازبر تھا' اس لیے
لکھائی کے اچھا یا برا ہونے سے کوئی فرق نہ
پڑا۔ اصل مسودہ انہوں نے ایک چھوٹے سے
بکس میں محفوظ کر دیا ' جو ان کے مرحوم والد
کی نشانی تھا ۔
میں جب ان کا انتقال پرملل ہوا' تو بڑے 1996
بھائی صاحب مرحوم مکان سامان پر قابض ہو
گئے' ان سے چھوٹی کے حصہ میں جھاڑ پونچھ
آ گیا۔
میں نے قیافہ سے' چھوٹی نصرت شگفتہ سے کہا
ممکن ہے وہ بکس' جس میں مسودہ تھا' آپا کے
ہاں سے مل جائے۔ آپا عمر رسیدہ ہونے کے
سبب' حواس میں نہیں ہیں' اس لیے چھوٹی ہی
کو' آپا کے گھر سے کوڑ کباڑ پھرولنا پڑا۔
بےچاری کو کچھ نہ مل۔ میں نے پھر ہمت
بندھائی۔ میری درخواست پر دوبارہ سے سفر کی
صعوبت اٹھا کر آپا کے گاؤں گئی اور ابا مرحوم
کے کلم کا ایک رجسٹر تلشنے میں کامیاب ہو
گئی اور یہ دفتر' اپنے پیار کے تحفے کے طور
پر' اپنے بوڑھے بھائی کو بھجوا دیا۔ یقین
مانیئے' اس کی کامیابی پر دل گللب گلب اور
آنکھیں کلی کلی ہو گئیں۔ وہ بےچاری کیا جانے'
میری سوئی' اس مسودے اور پاکٹ ڈائری پر رکی
ہوئی تھی۔ اسے پھر سے' کوشش کرنا پڑی۔ آخر
اس نے پاکٹ ڈائری ڈھونڈ ہی نکالی۔ یہ وہاں سے
ملی' جہاں اس کے ہونے کا گمان بھی نہیں کیا جا
سکتا تھا۔ اس کی حالت بڑی خستہ اور قابل رحم
ہے۔ میں نے پوری توجہ سے اسے پڑھ کر یہاں
درج کیا ہے۔
اپنی اصل میں یہ اردو میں ہے لیکن اس پر
پنجابی کے گہرے اثرات ملتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی
نئی بات نہیں۔ قوافی میں ر کے ساتھ ڑ کے قوافی
بھی ملتے ہیں
جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ
..........
کیوں سٹاں فلک فرش تے زمین جائے سڑ
..........
ر کے ساتھ بھاری آوازوں کے قوافی کا بھی
استعمال ہوئے ہیں۔
ڑھ
جب معراج ہوا امام کو تب سیس نیزے چڑھ
گھ
کوفی وڈے لعنتی پلید جھوٹا گھر
بھ
شریعت طریقت دا اوہ دیوے جام بھر
ان مرکبات کو ایک نظر دیکھیئے' پرلطف ہی
نہیں' فصحیح و بلیغ بھی ہیں۔
مکر زن' خوشی چین' سردار صادقین' صدق
سیتی' نبی کے رتن' رب کا رفیق
جھوٹا گھر' کہہ کر بہت بڑا علقہ مراد لیا گیا ہے۔
کمال کا معنوی وسعت کے حوالہ سے' یہ مرکب
ہے۔
مجھے اس کلم سے' دل چسپی تھی اور ہے۔
صدیوں پرانی بزرگوں کی نشانی ہے۔ اس میں
پہلے امام میں' جو معلومات فراہم کی گئی ہیں'
مروجہ تاریخی قصص سے' قطعی ہٹ کر ہیں' تاہم
انہیں یہ کہہ کر رد کر دینا' کہ کسی شعیہ کا کہا
ہے' مبنی برانصاف نہیں۔ ان سے ہٹ کر لوگ
بھی کب ہل پر نہایت ہوئے ہیں۔ جدھر دیکھو 'سب
عین غین صورت نظر آئے گی۔ پیٹ' ضد اور شاہ
گماشتگی میں مصروف ہیں۔ خصوصا مولوی تو
بےیقینا اور تقسیم کے دروازے کھولنے وال رہا
ہے۔ اصحابہ کرام کی گلبرگہ وغیرہ میں آمد اور
موجودگی کے آثار ملتے ہیں۔ قراتہ العین حیدر
کے ہاں سادات کی لڑائیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی
طرح حضرت امیر معاویہ کے عہد میں 44ہجری
میں بھی حملے کا سراغ ملتا ہے۔ قاضی نجیب
کے ہاں منصورہ میں فاطمی حکومت کا بھی پتا
ملتا ہے۔ ابن قاسم اسی کو نابود کرنے آیا تھا۔ یہ
ہی سچ اور یہ ہی حقیقت ہے۔ اب یہ نئی بات
.سامنے آئی ہے
اول کے امام مول علی صفدر
جو ملک سندھ کافراں سب لیے زیر کر
جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ
تب نعرہ ہوا حیدری سب کافر گئے ڈر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ
یہ مصرع کھولتا ہے کہ امام علی یہاں خود
تشریف لئے۔ خیبر تک آنے کا تو مروجہ تاریخ
میں' واضح ثبوت ملتا ہے۔ اس مصرعے میں کہے
گئے کو رد کرنا' بالشبہ زیادتی ہو گی۔ تاہم کوئی
غیر مسلم یا پھر مورکھ نہیں' مورخ ہی کام کر
سکے گا۔
اول کے امام مول علی صفدر
جو ملک سندھ کافراں سب لیے زیر کر
جب گوشہ پکڑا علی نے تو ہوئی کڑ کڑ
تب نعرہ ہوا حیدری سب کافر گئے ڈر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے امام بیٹے علی کے حسن
جو زہر آندی کافراں اور دی مکر زن
جب حسن دیکھے زہر کو تقدیر لئی من
کیوں سٹاں فلک فرش تے زمین جائے سڑ
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
تیسرے امام بیٹے علی کے حسین
تقصیر کرو معاف پکاراں دن رین
میں منگتا ہوں حسین کا دکھاؤ خوشی چین
جب معراج ہوا امام کو تب سیس نیزے چڑھ
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
چوتھے امام بیٹے سخی زین العابدین
بیٹے ہیں حسین کے سید مرسلین
جب زیر کیتے کوفیاں سردار صادقین
کوفی وڈے لعنتی پلید جھوٹا گھر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچویں امام تھے محمد باقر ضرور
امام منوں پانچواں وہ پاک ذاتی نور
کلمہ کہو رسول کا سب کفر ہووے دور
شریعت طریقت دا اوہ دیوے جام بھر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
........
چھیویں امام جعفر صادق مذہب جن کا پاک
والد جن کا محمد باقر سردار عالی ذات
تیجے اوتھے خود کرشن پھر حشر دے میدان
۔۔۔۔۔ تے یقین سوال اسے در
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
......
امام کاظم ساتویں صدق سیتی من
کلمے سے دل پاک صاف ہوا تن
سخی جعفر کے فرزند اور نبی کے رتن
جو غیر کو امام کہے تو کاٹو اس کا سر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
......
آٹھویں امام موسی علی رضا
رب دیا ہے لولک اہل بیت نوں
جو رب کی بات
قربان قربان میں حسین تھیں
جس کیا ہے صبر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
نویں امام تقی نقی خدا کا
امام منوں اس کو آل نبی اولد مرتضے کا
حیدر بنے ساقی کوثر وارث ہے شفا کا
جو دشمن ہووے غیر تھیں چا کاٹو اس کا سر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
دسویں امام توں قربان کراں سیس
نقی امام نام جس کا وہ رب کا رفیق
منوں اس کو مومنوں یہ نبی کی حدیث
کیا یہ رسول نے عزیز ممبر چڑھ
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
گیارویں امام حسن عسکری علیہ السلم
تیری پشت پاک تم بخشو چا انعام
ایتھے اوتھے مدد ہو پھر حشر کے میدان
فقیر کا سوال بخشو دین ایمان زر
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
.......
بارہویں امام کو رب دیا ہے زور
مہدی نام اس کا نہیں ثانی اس کا ہور
مارے گا دجال کو جب موزی پایا زور
فتح ہے امام کو جب۔۔۔۔۔۔
یا پیر مینوں عاجز دی مشکل آسان کر
شجرہ قادریہ ۔۔۔۔۔ ایک جائزہ
جنت مکانی حضرت سیدہ سردار بی بی' دختر
حضرت سید برکت علی زوج مخدومی ومرشدی
حضرت سید غلم حضور'سابق اقامتی ننگلی'
امرت سر' بھارت' متوفی 1996کی پاکٹ ڈائری
کا' کس حد تک' اپنے کسی مضون میں ذکر کر
چکا ہوں۔ اس ڈائری میں شجرہ قادریہ بھی درج
ہے۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ شاعر کا نام اور
قادریہ خاندان سے تعلق بھی' داخلی شہادت کے
طور مل جاتا ہے۔ یہ پیر سید غلم جیلنی کے
مرید تھے جو گڑھ شنکر پنجاب بھارت میں'
رہائش پذیر تھے۔ اس ذیل میں شجرے کا یہ بند
ملحظہ ہو۔
حضرت پیر غلم جیلنی
مہر علی دے رہبر جانی
ہر دم وسن وچ دھیان
یا رب مشکل کریں آسان
یہ شجرہ کل ستائس بندوں پر مشتمل ہے۔ شجرے
کے پہلے نو بند کمال کی روانی رکھتے ہیں۔ اس
میں شخصی تعارف کے لئے صفتی کلمات سے
کام لیا گیا ہے۔ مثل
علی ولی ہیں زوج بتول
شاہ مرداں ہیں شیر خدا
بی بی زہرہ بنت رسول
حسن عسکری نورالنور
عبدالعزیز ہیں یمنی ہادی
عبدالوہاب فضل الہی
حضرت یحیی رہبر کامل
تاج الدین نے زہد کمایا
حضرت پیر غلم جیلنی
گڑھ شنکر وچ تخت مکان
عموما پڑھنے اور سننے میں بھی آیا ہے کہ
اردو پر پنجابی اثرات پائے جاتے ہیں۔ پنجابی بھی
اردو کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ اس شجرہ کے
حوالہ سے اردو کے اثرات ملحظہ فرمائیں۔
نحوی
اس پر میرا تکیہ مان
مہدی زمان کا جان ظہور
کچھ مصرعے لسانی اعتبار سے اردو اور پنجابی
کے نہیں ہیں۔ اسلوبی اعتبار سے اردو کے ضرور
ہیں مستعمل اور قابل فہم بھی ہیں۔
باقر وجعفر و موسی کاظم
حسن عسکری نورالنور
خواجہ کرخی در بیان
ابوالعباس احمد دل شاداں
حضرت یحیی رہبر کامل
شاہ جنید پیر بغدادی
ہمارے ہمارے ہاں بیوی کے لئے لفظ زوجہ
استعمال کیا جاتا ہے۔ خاوند کے لئے یہ یا اس کی
کوئی شکل مستعمل نہیں ہے۔ شاعر نے خاوند کے
لئے لفظ زوج استعمال کیا ہے۔ یہ استعمال کے
حوالہ سے غیرمانوس ہے حالں کہ درست اور
فصیح ہے۔
علی ولی ہیں زوج بتول
مہر علی نے ان ستائیں بندوں میں خوب صورت
مرکبات بھی دئیے ہیں۔ مثل
سید طالح اہل حضور
ہر دم تیرا شکر احسان
مہر علی ہے عاجز خاکی
راہ خدا ہیں جان فدا
حضرت یحیی رہبر کامل
اس پر میرا تکیہ مان
ایک مرکب تو لسانی صوتی اور معنوی اعتبار
سے بڑے کمال کا ہے۔
نظر و نظری کرن نہال
دو نئے مہاورے بھی دیے ہیں۔ دو مصرعے
خالص پنجابی کے نہیں ہیں۔
زہد کمایا
تاج الدین نے زہد کمایا
'رہبر پایا
لہجے کے اعتبار سے اردو کا نہیں ہے۔ ورنہ اس
مصرعے کے اردو ہونے میں کوئی شک نہیں۔
شرف الدین نے رہبر پایا
اردو :شرف الدین کو رہبرمل
پنجابی :شرف الدین نوں رہبر ملیا
شرف الدین نے رہبر پایا.....غیر فصیح نہیں ہے۔
صوتی حوالہ سے بھی' ہر زبان بولنے والوں کے
لئے' سماعتی گرانی کا سبب نہیں بنتا۔
پورے شجرے میں' مصرعوں میں ایک آدھ لفظ
کی تبدیلی سے' اردو وجود حاصل کر لیتی ہے۔
اگر اسے اردو پر پنجابی کے اثرات کا نام دیا
جائے' تو بھی بات یکسر غلط معلوم نہیں ہوتی۔
شجرہ ملحظہ ہو
شجرہ قادریہ
ا ا ہر دم آکھ
تن من اپنا کرکے پاک
نبی محمد دے قربان
یا رب مشکل کریں آسان
ا ا ہر دم آکھ
آکھ کا استعمال قافیہ کی مجبوری ہے۔
نبی محمد دے قربان
دے کی بجائے کے
نبی محمد کے قربان
یا رب مشکل کریں آسان
کریں کی بجائے کرنا
یا رب مشکل کرنا آسان
.........
خاص خدا دا نبی پیارا
امت نوں بخشاون ہارا
اس پر میرا تکیہ مان
یا رب مشکل کریں آسان
خاص خدا دا نبی پیارا
دا کی جگہ کا
خاص خدا کا نبی پیارا
امت نوں بخشاون ہارا
نوں کی جگہ پرانی اردو کے مطابق کوں
امت کوں بخشاون ہارا
..........
بی بی زہرہ بنت رسول
علی ولی ہیں زوج بتول
میں عاجز دا سر قربان
یا رب مشکل کریں آسان
میں عاجز دا سر قربان
دا کی جگہ کا
میں عاجز کا سر قربان
..........
صاحبزادے نور العین
یعنی حضرت حسن حسین
صدقے حضرت عابد جان
یا رب مشکل کریں آسان
باقروجعفروموسی کاظم
موسی رضا دی الفت لزم
تقی نقی دے میں قربان
یا رب مشکل کریں آسان
موسی رضا دی الفت لزم
دی کی جگہ کی
موسی رضا کی الفت لزم
تقی نقی دے میں قربان
دے کی جگہ کے
تقی نقی کے میں قربان
.........
حسن عسکری نورالنور
مہدی زمان کا جان ظہور
ہر دم میرا ایہو دھیان
یا رب مشکل کریں آسان
ہر دم میرا ایہو دھیان
ایہو کی جگہ یہ ہی
ہر دم میرا یہ ہی دھیان
.........
پنج بارہ ہور چودہ جان
اہل بیت دے حب ایمان
صفت نہ کیتی جا بیان
یا رب مشکل کریں آسان
پنج بارہ ہور چودہ جان
ہور کی جگہ اور۔ گویا صرف آواز ہ کو ا میں بدلنا
ہے۔
پنج بارہ اور چودہ جان
..........
شاہ مرداں ہیں شیر خدا
راہ خدا ہیں جان فدا
خواجہ حسن بصری دل جان
یا رب مشکل کریں آسان
حبیب عجمی دے گھول گھماواں
داؤد طائی دے صدقے جاواں
خواجہ کرخی در بیان
یا رب مشکل کریں آسان
حبیب عجمی دے گھول گھماواں
داؤد طائی دے صدقے جاواں
دے کی جگہ کے
حبیب عجمی کے گھول گھماواں
داؤد طائی کے صدقے جاواں
........
خواجہ سری سقطی ہادی
شاہ جنید پیر بغدادی
ابوبکر شبلی دا مان
یا رب مشکل کریں آسان
ابوبکر شبلی دا مان
دا کی جگہ کا
ابوبکر شبلی کا مان
........
ابوالعباس احمد دل شاداں
عبدالعزیز ہیں یمنی ہادی
شیخ یوسف دے میں قربان
یا رب مشکل کریں آسان
شیخ یوسف دے میں قربان
دے کی جگہ کے
شیخ یوسف کے میں قربان
.......
ابوالفرح طرطوسی قاری
ابوالحسن علی ہنکاری
ابوسعید مخدومی جان
یا رب مشکل کریں آسان
ابومحمد عبدالقادر
غوث قطب سب در پر حاضر
طالب جسدا کل جہان
یا رب مشکل کریں آسان
طالب جسدا کل جہان
دا کی جگہ کا
طالب جسکا کل جہان
.........
عبدالوہاب فضل الہی
عبدالرحیم دی پشت پناہی
سید وہاب رکھ حفظ امان
یا رب مشکل کریں آسان
عبدالرحیم دی پشت پناہی
دی کی گہ کی
عبدالرحیم کی پشت پناہی
.........
حضرت یحیی رہبر کامل
جمال الدین ہیں ہر دم شامل
نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔
یا رب مشکل کریں آسان
نور الدین دے پیر۔۔۔۔۔۔۔
دے کی جگہ کے
نور الدین کے پیر۔۔۔۔۔۔۔
.......
تاج الدین نے زہد کمایا
شرف الدین نے رہبر پایا
محمد یاسین ہیں فیض رسان
یا رب مشکل کریں آسان
سید طالح اہل حضور
سید صالح نور النور
ہر دم میرا ورد زبان
یا رب مشکل کریں آسان
سید یحیی الحق جب آئے
سید عثمان رہبر پائے
سید عبدا دے پیر نوں جاوے
یا رب مشکل کریں آسان
سید عبدا دے پیر نوں جاوے
دے کی جگہ کے اور نوں کی جگہ کوں رکھ دیں
سید عبدا کے پیر کوں جاوے
.........
سید غلم مصطفے جانو ہادی
نام لیاں دل ہووے شادی
سید احمد ہیں اہل ۔۔۔۔۔۔
یا رب مشکل کریں آسان
سید غلم مصطفے جانو ہادی
جانو' جاننا کے لئے ہے تاہم سمجھو رکھ دیں۔
سید غلم مصطفےسمجھو ہادی
........
سید علی معظم قادر
وچ حضوری ہر دم حاضر
عارف فاضل کامل جان
یا رب مشکل کریں آسان
وچ حضوری ہر دم حاضر
وچ کو میں بدل دیں
حضوری میں ہر دم حاضر
.........
حضرت قادر بخش کمال
نظر و نظری کرن نہال
دوئیں تھائیں روشن جان
یا رب مشکل کریں آسان
نظر و نظری کرن نہال
کرن کو کریں کر دیں
نظر و نظری کریں نہال
........
حضرت پیر غلم جیلنی
قادر بخش نے ہوئے نورانی
گڑھ شنکر وچ تخت مکان
یا رب مشکل کریں آسان
گڑھ شنکر وچ تخت مکان
وچ کو میں بدل دیں
گڑھ شنکر میں تخت مکان
.......
حضرت دے دو بھائی پیارے
قادر بخش دے ہی دلرے
عطا محمد ہیں دربان
یا رب مشکل کریں آسان
حضرت دے دو بھائی پیارے
قادر بخش دے ہی دلرے
دے کی جگہ کے
حضرت کے دو بھائی پیارے
قادر بخش کے ہی دلرے
.........
غلم غوث دے قربان
بیٹے جس دے ست عیان
ا دتے ہو رحمان
یا رب مشکل کریں آسان
غلم غوث دے قربان
بیٹے جس دے ست عیان
دے کی جگہ کے
غلم غوث کے قربان
بیٹے جس کے ست عیان
........
لنگر رکھ دے ہر دم جاری
وچ دربار رہے گلزاری
آئے سوالی خالی نہ جان
یا رب مشکل کریں آسان
لنگر رکھ دے ہر دم جاری
وچ دربار رہے گلزاری
رکھ دے کی جگہ رکھتے اور وچ کی جگہ میں
.رکھ دیں
لنگر رکھتے ہر دم جاری
دربار میں رہے گلزاری
........
شجرہ شریف میں کہیا سارا
مینوں بخشیں پروردگارا
ہر دم تیرا شکر احسان
یا رب مشکل کریں آسان
مینوں بخشیں پروردگارا
مینوں کو مجھے کر دیں
مجھے بخشیں پروردگارا
........
حضرت پیر غلم جیلنی
مہر علی دے رہبر جانی
ہر دم وسن وچ دھیان
یا رب مشکل کریں آسان
مہر علی دے رہبر جانی
دے کی جگہ کے رکھ دیں
مہر علی کے رہبر جانی
........
مہر علی ہے عاجز خاکی
توں ساقیاں دا ہیں ساقی
شاہ جیلنی دے ایمان
یا رب مشکل کریں آسان
توں ساقیاں دا ہیں ساقی
شاہ جیلنی دے ایمان
تبدیلی
تو ہے ساقیوں کا ساقی
شاہ جیلنی کے ایمان
.......
شجرہ شریف پڑھیں بھائی
قلب تہاڈے دی ہو گی صفائی
جو ہیں قادری خاندان
یا رب مشکل کریں آسان
قلب تہاڈے دی ہو گی صفائی
تہاڈے کو تہارے دی کی جگہ کی
قلب تہارے کی ہو گی صفائی
..........
پڑھنے دا وقت صبح و شام
پڑھ لیا جس پیتا جام
پیر سوہنے دا ہے قربان
یا رب مشکل کریں آسان
پڑھنے دا وقت صبح و شام