امتحان عاشق جانباز لیکر دیکھتے
راس آئی کچہ نہ اے راغب بہار زندگی
ورنہ اک دو چار دن دنیا میں رہکر دیکھتے
بدگمان ہونا‘ امتحان لینا‘ راس آنا محاورے کے
درجے پر فائز ہیں۔ دو چار روزمرہ میں داخل ہے۔
زندگی دوچار دن کی‘ عمومی بول چال میں ہے۔
راغب نے اک کا اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ دو چار
سے متعلق نہیں ہے۔ دنیا میں رہ کر دیکھنا کا اپنا
ہی لسانیاتی حسن ہے۔
ص ٤٥-٤٤پر موجود دو غزلوں کے ١٣اشعار
ہیں۔ ایک غزل چھے جب کہ دوسری سات اشعار
پر مشتمل ہے۔
خوشا نصیب وہ مے انکے اہتمام میں ہے
حقیقت دو جہاں جسکے ایک جم میں ہے
بہ استواری ایماں جہکا جبین نیاز
بٹھک رہا ہے کہاں کس خیال خام میں ہے
حدیث زلف بہی سر کر یکانہ اے دل زار
ہنوز کشمکش سعی ناتمام میں ہے
نگاہ سوئے مدینہ ہے نزع کا عالم
میں اپنے کام میں ہوں موت اپنا کام میں ہے
کوئی بتاؤ مدینہ کی صبح کیا ہو گی
سحر کا لطف میسر جہاں کی شام میں ہے
یہ بضاعتی علم عاجزم راغب
ورنہ جوش طبعت مرے کلم میں ہے
وہ مے‘ خصوصی مے کی طرف واضح اشارہ‘
انکے اہتمام میں ہے‘ بھی خصوصی بات ہے‘
شاعر اسے خوش نصیبی کا نام دے رہا ہے۔ یہ
اس امر کی طرف اشارہ ہے‘ کہ اگر کسی اور کے
ہاتھ میں ہوتی‘ تو کسی کو میسر ہی نہ آتی۔ اہتمام
نیا طور تکلم ہے۔
دوسرا مصرعہ بھی اپنے لسانیاتی اور معنوی
کمال کو واضح کر رہا ہے۔ آخر وہ خصوصی کیوں
ہے‘ اس میں حقیقت دوجہاں موجود ہے۔ ایک
دوسری بات ہے‘ ان ہاتھوں کا بھی تو کمال ہے۔
جبین جھکانا الگ سے چلن ہے۔
دوسرے مصرعے میں کاف کا تین بار استعمال
کیفیت تشکیل دے رہا ہے۔
کہاں کس نے مصرعے کو رعنائی بخش دی ہے۔
اس سے اگلے شعر میں‘ ترکیب سعی ناتمام نے‘
زندگی کی مستعمل جدوجہد پر خط کھنچ دیا ہے۔
نگاہ سوئے مدینہ ہے
نزع کا عالم
میں اپنے کام میں ہوں
موت اپنا کام میں ہے
تین حالتیں اور دو محرک ہیں۔ دو کردار دو الگ
سے‘ کاموں میں مصروف ہیں۔ دوسرے مصرعے
میں تکراری چلن خوب ہے۔
کوئی بتاؤ
مدینہ کی صبح
کیا ہو گی
سحر کا لطف میسر
جہاں کی شام میں ہے
لسانی اعتبار سے‘ اس شعر کی داد نہ دینا‘
سراسر زیادتی ہوگی۔ ابتدا ہی‘ آگہی کے سوالیے
سے ہوئی ہے۔ اختمامیہ بھی سوالیہ ہے۔ دوسرے
مصرعے میں‘ صبح کا قریبی مترادف‘ سحر
استعمال میں آیا ہے۔ سحر کا لطف‘ بیان کا محتاج
نہیں۔ دوسرے مصرعے کے‘ دوسرے حصہ میں‘
متضاد کا استعمال الگ سے ہوا ہے۔ شام کا لطف
صبح سا‘ الگ سے مضمون ہے۔ یہ نسبتی انداز‘
شعر کو جان دار بنا رہا ہے۔
جوش طبیعت‘ کلم کو میسر ہو تو لطف نہ آئے‘
بھل کیسے ممکن ہے۔ ہاں موضوع کلم ہی اس
نوعیت کا ہے‘ کہ یہاں طائر جوش طبیعت کے پر
جلتے ہیں۔ تب ہی تو مقطعے میں فکری معذوری
کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترکیب جوش طبعت کا
استعمال‘ کلم کو وجاحت بخش رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تک نہ وصف بادہ و جام و سبو کریں
پیر مغاں سے ملنے کی کیوں آرزو کریں
الہ رے نوازش جوش جنون عشق
ہم پیرہن کو چاک کریں وہ رفو کریں
پنہاں ہے میرے گریہ میں صد جلوہءبہار
صحرا میں بیٹھ جاؤں تو کانٹے نمو کریں
تقدیر کی خطا ہے کسیکا گلہ نہیں
مجہے غم فراق کی پرسش عدو کریں
لذت کش فراق ہو جب آرزوئے دل
پہر کیا کسی کے وصل کی ہم آرزو کریں
ہرگز نماز عشق میں سجدہ روا نہیں
جب تک نہ پہلے خون جگر سے وضو کریں
راغب خدا کے سامنے جانا ہےایکدن
آؤ تو پہر اسیکی نہ کیوں جستجو کریں
راغب بدایونی کی‘ دوسری غزل کا آغاز ہی
شرطیہ ہے اور یہ شرطیہ‘ زندگی کا لزمہ ہے۔
لفظ وصف کا استعمال‘ تعریف و تحسین کے
معنوں میں ہوا ہے۔ ملنے کی دوہرے مفہوم دے
رہا ہے۔ دوسرے مصرعے کے الہ رے نے
لکھنوی‘ نزاکت سی پیدا کر دی ہے۔ برجستہ
ہونے کے باعث‘ لطف میں اضافہ ہوا ہے۔ چاک
اور رفو کا ایک ساتھ ااستعمال بھی لطف فراہم
کرتا ہے۔
گریہ میں جلوہ ہائے بہار کا پوشیدہ ہونا‘ رویت
سے ہٹ کر مضمون ہے۔ صنعت تضاد کا‘ بالکل
الگ سے استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرعے
میں‘ اس بہار کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔
لفظوں سے راغب بدایونی کی یہ آنکھ مچولی‘ من
کو بھاتی ہے۔
پرسش عدو نے‘ بلشبہ شعر کی جان بنا دی ہے۔
طنز اور بےکسی کا‘ بڑی عمدگی سے اظہار کیا
گیا۔ یہ ایک مرکب ہر دو عناصر کو بیان کرنے
کے لیے کافی ہے۔
قیامت دیکھیے آرزوئے دل‘ لذت کش فراق ہوئی
ہے۔ اس سطح پر وصل کی جہد‘ بےمعنی ہو کر رہ
جاتی ہے۔ اگلے شعر میں نماز‘ وضو اور سجدہ کا
ایک ساتھ استعمال ہوا ہے۔ جب تک نے معاملے
کو شرطیہ بنا دیا ہے۔
سامنے جانا کو روبرو ہونا کے لیے استعمال کیا
گیا ہے۔ پنجاب میں بول چال کا یہ انداز عمومی
ہے۔ کیوں ناں بھی عمومی استعمال میں رہتا ہے۔
اصل لسانی حسن آؤ تو کے استعمال میں ہے۔ اسی
طرح لفظ جستجو معنوی وسعت رکھتا ہے۔
رند بدایونی
رند بدایونی کا صرف ایک شعر اس قلمی بیاض
میں شامل ہے۔ ملحظہ ہو
گر یہی مدنظر تہا ہم تری طاعت کریں
کیوں بتوں کو حسن بخشا جس سے ہم بہولے
تجھے
زلئی بدایونی
زلئی بدایونی کے دو شعر اور ایک غزل اس
:بیاض کا حصہ بنے ہیں
وہ اور ہونگے جو فضل سے سرخرو آئے
زللی ہم تو لئے لش آرزو آئے
زلئی بدایونی نے سرخرو آنا باندھا ہے۔ عمومی
بول چال میں‘ سرخرو ہونا مستعمل چل آتا ہے۔
ہائے دیکہی بہی نہ جاتی ہوئی دنیا دلکی
ایسا بےدرد ہوا درد جگر میں رہ کر
پہلے مصرعے میں جاتی ہوئی توجہ کا سبب بنتی
ہے۔دوسرے مصرعے میں جگر کے متعلقات کا
استعمال خوب ہوا ہے۔ ملحظہ ہو
ایسا بےدرد ہوا
درد
جگر میں رہ کر
زللی بدایونی کی یہ غزل پانچ اشعار پر مشتمل
ہے اور اس کے خوش کلم اور خوش زبان ہونے
کی دلیل ہے۔
سمجہے تہے سہل ہم شب ہجراں کا ٹالنا
مشکل بہت پڑا دل مضطر سنبھالنا
لنا ہے مجکو شمس و قمر آسمان سے
تسبیح میں درود کے شمسے ہیں ڈالنا
کانٹا الم کا دل سے نکال حضور نے
باقی ہے ایک پھانس اسے بہی نکالنا
سر پر نبی کے تاج شفاعت ہے عاصیو
خوش ہو کے ٹوپیاں سر محشر اچھالنا
اچہوں کی پرورش کا زمانہ میں ہے رواج
اچھا ہو یا برا ہو تمھیں سب کا پالنا
مشکل پڑنا‘ شمسے ڈالنا‘ ٹوپیاں اچھالنا کا
استعمال‘ حسن بخش ہے۔ تلمیحات کا استعمال
برمحل ہے۔ کانٹا اور پھانس کا ایک ساتھ استعمال
سونے پہ سہاگے والی بات ہے۔
عیش بدایونی
عیش بدایونی کا صرف ایک شعر بیاض کے حصہ
میں آیا ہے۔
جمع احباب کئے ہیں کہ ذرا دل ٹہرے
تم بہی آ جاؤ تو محفل مری محفل ٹہرے
دل ٹہرنا الگ سے استعمال ہے اور فصیح ہے۔
بھل لگتا ہے۔ مخصوص کے ہونے سے محفل کو
محفل قرار دیا ہے۔
فانی بدایونی
فانی بدایونی کے کافی شعر شامل بیاض ہیں۔ ان کا
تذکرہ معروف شعرا میں آئے گا۔
قمر بدایونی
یہ تو ممکن ہے کہ دل میں کہوں منہ پر نہ کہوں
یہ نہ ہو گا کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی شخص کا دنیا میں برا کیوں چاہوں
لوگ رکھتے ہیں قمر مجہسے عداوت نہ کہ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکہے ہونگے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جنکے جواب آتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل میں کہنا‘ منہ پر کہنا‘ یہ نہ ہو گا‘ بتا تو‘
کیسے ہوتے ہیں‘ نہ کہ میں۔۔۔۔۔۔ عمومی بول چال
میں داخل ہیں۔ دوسرے مصرعے میں حرف گاف
کا تکرار مخصوص ایمیج تشکیل دے رہا ہے۔
نامہ بر کے ساتھ خط اور جواب متعلقات کا
استعمال خوب ہے۔
طرز برجستہ‘ دو ٹوک‘ وضاحتی اور ناصحانہ ہے۔
سوالیہ حسرت سے لبریز ہے۔
نو اشعار پر مشتمل ایک غزل بھی بیاض میں
شامل ہے۔
لطف بدایونی
لطف بدایونی کا ایک شعر بیاض میں شامل کیا گیا
ہے۔
صبا نے ایسا شگوفہ چمن میں چہوڑا ہے
کہ آج تک گل و بلبل میں بول چال نہیں
لسانیاتی اعتبار سے‘ خوب صورت شعر ہے۔
لفظوں کے استعمال میں ہنر مندی پائی جاتی ہے۔
چمن سے متعلقات کو‘ بڑے سلیقے سے ترتیب
دیا گیا ہے۔ شگوفہ چمن سے متعلقات میں سے
ہے‘ لیکن شگوفہ چھوڑنا معروف محاورہ بھی
ہے۔ گل اور بلبل‘ اردو شعر کے معروف کردار
ہیں‘ انہیں ناصرف پہلو بہ پہلو پیش کیا گیا ہے‘
بلکہ ان میں رنجش کو بھی‘ واضح کیا گیا ہے۔
بول چال صرف ہم صوت لفظ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ
مرکب ہمارے روزمرہ میں داخل ہے۔ اگر صبا‘
چمن اور گل و بلبل کو‘ استعاراتی استعمال سمجھا
جائے‘ تو غضب کا شعر ہے۔
منور بدایونی
منور بدایونی کے آٹھ اشعار بیاض میں ملتے ہیں۔
نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبہی بجلیاں کبہی
آندہیاں
کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ
چار پر
بلئیں‘ آسمان سے منسوب رہی ہیں۔ اصواتی
آہنگ اور غنائیت کے سبھی عناصر‘ اس شعر میں
موجود ہیں۔ عصری حالت کی‘ اس سے بڑھ
عکاسی ممکن نہیں۔ اڑ نہ جائیں چار پر‘ خوب
صورت اختراع ہے۔ چار روز کی زندگی‘ چار
پیسے وغیرہ‘ کم ہونے ہونے کے حوالہ سے‘
مستعمل ہیں۔ اسی رعایت سے‘ چار پر‘ خوب
صورت مرکب ہے۔ چار کا صفتی اور اختصاصی
استعمال ہوتا آیا ہے۔ پہلے مصرے میں کبھی جب
کہ دوسرے میں کہیں تکراری ہے۔ دوسرے
مصرعے میں‘ نہ تکراری ہے جو خدشے کو
نمایاں کرنے میں‘ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے
منور بدایونی نے‘ غالب کا اسٹائل مارا ہے۔ خدا
لگتی تو یہ ہی‘ مضمون اپنی جگہ‘ زبان بھی خوب
صورت ہے۔ اگے آنا‘ پنجابی کا معروف محاورہ
ہے۔ بددعا کے لیے زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔
یہاں عملی صورت پیش کی گئی ہے۔ کنج لحد اور
شب ہجر تنہائی کی علمت ہیں۔۔۔۔۔۔ میسر نہیں
آنسو۔۔۔۔۔۔۔ حرفی تکرار اپنی جگہ‘ لفظوں کا
استعمالی حسن بصری حس بیدار کرتا ہے۔
دل میں لہو کی بوندیں کچہ جان بن گئی ہیں
آنکہوں سے جو بہی ہیں طوفان بن گئی ہیں
کافر تری نگاہیں تیری ہیں یا میری ہیں
جو مری زندگی کا سامان بن گئی ہیں
مخلوط ہو کے جلوے شکلوں میں آ گئے ہیں
رنگینیاں سمٹ کر انسان بن گئی ہیں
دل :لہو‘ بوندیں
سب نہیں۔۔۔۔ کچھ :جان بن گئی ہیں
کچھ :گزارے موافق‘ قدرے‘ کمزور سی
طوفان :عملی صورت میں مبالغہ‘ معنوی صورت
میں جھگڑا‘ فساد‘ خرابہ‘ مصیبت‘ دکھ‘ تکلیف‘
رنج صدمہ‘ بدترین کیفیت وغیرہ
کافر تری نگاہیں :مخاطب سے کہا جا رہا ہے۔
تیری ہیں یا میری ہیں‘ صورت حال ہی بدل گئی
ہے۔
زندگی کا سامان بننا‘ عمومی محاورہ بھی ہے۔
وجہ :نگاہیں‘ آنکھیں نہیں‘ آنکھوں کی کارگزاری
وجہ ہے۔
میری تیری متضاد ضمائر کا استعمال کیا گیا ہے۔
جلولے‘ تجسیم کے ساتھ شکلیں
مخلوط اور سمیٹ کر مترادف استعمال ہوا ہے
اشیا کے لیے جلوے
انسان کے لیے رنگینیاں
تینوں اشعار فکری اور لسانی حوالہ سے خوب
صورت ہیں‘ من کو بھاتے ہیں۔
نظر انداز کرنا چاہتا ہوں خود پرستی کو
ترے جلوں میں شامل کر رہا ہوں اپنی ہستی کو
خدا سمجہے بت پرفن تری آنکہونکی مستی کو
مرے مشرب میں داخل کر دیا ہے مے پرستی کو
پڑا تہا دہتبہ کی طرح دامان ہستی پر
مبارک ہو مرا مٹنا منور بزم ہستی کو
نظر انداز کرنا‘ خود پرستی اور شامل کرنا کیفیتیں
ہیں۔ میں ٹھیک سے کچھ کہہ نہیں سکتا‘ کہ یہ
بیاض کب کی ہے‘ اندازہ یہ ہی ہے کہ ١٨٨٤اور
١٨٨٧کے درمیان کی ہے۔ پہل شعر جہاں رومان
پرور ہے‘ وہاں اس میں سرئیلزم کے اثرات
موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا‘ کہ یہ
تحریک ایسی کوئی نئی چیز نہ تھی۔ کر رہا ہوں‘
صیغہ حاضر ہے اور وحدت الود کا بنیادی عنصر
ہے۔ اہل صوف کی یہ منزل قرار پاتی ہے۔ خود
پرستی نرگسیت کی طرف لے جاتی ہے۔ ذات کا
انحراف کوئی آسان کام نہیں۔ شاعر واضح لفظوں
میں کہہ رہا ہے‘ نظر انداز کرنا چاہتا ہوں۔
دوسرے مصرعے میں‘ عمل کی صورت بڑی ہی
نمایاں ہے۔ ولیم ورڈزورتھ‘ فطرت کے مناظر میں
گم ہونے کی سعی کرتا ہے۔ منور کے ہاں ترے کی
ضمیر کا استعمال ہوا ہے۔
منور معاون افعال کا استعمال کرکے‘ کلم میں
حسن‘ چاشنی اور جان پیدا کرتا ہے۔ مثل کرنا
چاہتا‘ کر رہا‘ کر دیا۔
منور کی روزمرہ اور محاورے پر دسترس
محسوس ہوتی ہے۔ مثل خدا سمجہے‘ کا بڑی
عمدگی شائستگی سے استعمال کیا گیا ہے۔
مرکب بھی خوب تشکیل دیتا ھے۔ مثل بت پرفن‘
پرفن کے لحقے نے بت کی حیثیت کو چار چاند
‘لگا دیے ہیں
مے کا تعلق پینے سے ہے‘ مشرب کو‘ قطعی
مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ان
معنوں میں‘ یہ مستعمل بھی ہے۔
لفظوں کا تشبیہی استعمال‘ حظ میں اضافے کا
سبب بنتا ہے۔ منور بدایونی کے ہاں‘ یہ ہنر بھی
ملتا ہے۔
چھٹے مصرے میں میم کے حرفی تکرار نے
شعریت میں زبردست اضافہ کیا ہے۔
تیرا وعدہ نہیں تو تو کیا ہے
آدمی کیا وہ جسکی بات نہیں
اس شعر کو پڑھ کر‘ یا سن کر منہ سے‘ واہ نہ
نکلنا‘ بد ذوقی ہو گی۔ تو کا دو مرتبہ الگ سے
صیغوں میں استعمال کرنا‘ تو ایک طرف رکھیے‘
لفظ بات کا استعمال اپنا جواب نہیں رکھتا۔ یہ
استعمال بتاتا ہے‘ منور مرد تھا اور بات وال مرد
تھا۔
کلم قمر اور ریشہ حنا
کے
نثری حصے کا تعارفی مطالعہ
عابد انصاری صاحب نے' نہایت مہربانی فرماتے
ہوئے' قمر نقوی صاحب کا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔۔کلم
قمر۔۔۔۔۔۔ عطا فرمایا۔ یہ قمر نقوی صاحب نے' عابد
انصاری صاحب کو' اپنے دستخطوں سے 10
نومبر 1997کو عطا کیا تھا /عابد انصاری
میرے بہت ہی اچھے دوستوں میں سے تھے۔
گاہے اپنا تازہ کلم عطا فرماتے رہتے تھے اور
میں اس سے' لطف لیتا رہتا تھا۔ بعد ازاں قمر
صاحب نے' مجھ ناچیز کو باطور خاص۔۔۔۔
ریشہءحنا۔۔۔۔ عنایت فرمایا۔ اسی طرح نظم۔۔۔۔۔
ماثورہ۔۔۔۔۔۔ ہاتھ لگی۔ ان کے کلم پر دوسرے وقت
میں کلم کروں گا۔ سردست کچھ اور باتیں' جو
انکشافات کا درجہ رکھتی ہیں' عرض کرنے کی
جسارت کر رہا ہوں۔
ٹائیٹل پیج کی پشت پر قمر نقوی صاحب کا تعارف
:درج ہے
سید حسن قمر نام:
نقوی
وطن اجداد :لہور
میراں سید جد امجد:
محمد شاہ رح
موج دریا نقوی بخاری
میراں سید مورث اعلی:
جلل الدین
جہانیاں جہاں گشت
اچھ شریف
آسیون ضلغ اناؤ وطن مالوف:
بھوپال پیدائش:
1932 تاریخ پیددائش:
ایم اے تاریخ تعلیم:
ایم بی اے
ادیب فاضل
برٹش انسٹی ٹیوٹ رکن:
مینجمنٹ
نارتھ امریکن ہنٹگ
کلب
ٹلمسا۔ اوکل ہوما۔ یؤ قیام:
ایس اے
سیاست میں حصہ لینے سے پہلے' مولوی فضل
الرحمن المعروف کوثر نیازی کو عالم دین' استاد'
شاعر' ادیب' خطیب' مفسر' اور مقرر جانتا تھا۔
سیاست میں آنے کے بعد' وہ مولوی وسکی
معروف ہوئے۔ خدا لگتی یہ ہی ہے' کہ میں نہیں
جانتا کہ وسکی سے ان کی کس حد تک جان
پہچان تھی یا تھی بھی نہیں' ہاں البتہ کلم قمر کو
دیکھنے کے بعد' ان کے تین اور شخصی پہلو
سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کتاب کا انتساب' قمر نقوی کے نام کیا
:ہے۔ انتساب کی عبارت کچھ یوں ہے
استاد محترم علمہ حضرت قمر نقوی مدظلہ العالی
کے نام
گویا وہ حضرت قمر نقوی سے استفادہ کرتے
تھے۔
وہ صوفی بھی تھے۔ جیسا کہ انتساب کے آخر
:میں درج ہے
حقیر فقیر صوفی فضل الرحمن کوثر نیازی
قمر نقوی بھی انہیں صوفی صاحب کہہ کر ہی ذکر
کرتے ہیں۔ اس ذیل میں قمر نقوی نے بڑے ہی
واضح الفاظ میں کہا ہے۔
ان کے تصوف اور معرفت کے حوالے سے بھی
گفتگو ضروری ہے کہ ان کی شخصیت بالخصوص
ذات عرفان کی آئینہ دار ہے اور ان کی ذات
بابرکات کا۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔ درخشندہ پہلو ہے۔ امریکہ میں
رہ کر مذہب کی اقدار اوراحکام کی حفاظت اور
اصول شرعیہ کی مدامت کے ساتھ ایمان کی شمع
روشن رکھنا' ا تبارک تعالی اور رسول صلی ا
علیہ وسلم کی محبت کو قائم رکھنا سب جہاد ہی
ہے اور صوفی صاحب شب و روز اس جہاد میں
مصروف ہیں۔
کلم قمر ص33 :
وہ بڑے اچھے مصور بھی تھے۔
انتساب میں ہی چند مزید چیزوں کا انکشاف
موجود ہے۔
ٹکساس میں بزم اردو' پچھلے دس برس سے'
اردو کی خدمت کر رہی تھی۔
بزم کے 32ویں عظیم الشان مشاعرے میں' کوثر
نیازی کی تصاویر کی نمائش ہوئی اور ان کے کام
کو سراہا گیا۔
بزم اردو کے سرپرستوں میں' حضرت مجید جامی'
جناب عرفان علی' جناب سید الیاس' جناب سرور
عالم راز' جناب شوکت قادری' جناب ڈاکٹر نرمل
سنگھ' جناب نادر درانی جناب ابوطالب ایسے جید
لوگ شامل تھے۔
جناب سرور عالم راز کے نام پر' مجھے رکنا پڑا۔
موصوف عرصہ سے اردو انجمن چل کر' اردو
شعروادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس
باوقار انجمن سے' میرا تعلق چل آتا ہے اور میں
بھی' اپنی ناچیز تحریریں اردو انجمن پر رکھ رہا
ہوں۔ جناب سرور عالم راز کا نام پڑھ کر' دل
چسپی بڑھنا فطری سی بات تھی۔
قمر نقوی شعر کہنے کے حوالہ سے باظاہر
عجیب لیکن حقیقت میں جو ہے واضح الفاظ میں
کہتے ہیں۔ یقینا اسے ہی آمد کا نام دیا جاتا ہے۔
لکھتے ہیں
میرے کلم کی تخلیق' میرے ارادے یا کوشش کی
مرہون منت نہیں۔ جو بھی کلم وجود میں آتا ہے
وہ الہام کی شکل میں ہوتا ہے اور خود باخود ا
تعالی کی طرف سے میرے ذہن میں پیدا ہونے
لگتا ہے۔ جب بھی کوئی کلم وارد ہونے کو ہوتا
ہے تب مجھے اس کا احساس ہو جاتا ہے۔ طبعت
میں ایک قسم کی بے چینی اور توجہ کی کیفیت
پیدا ہو جاتی ہے
کلم قمر ص 5
یہ انہوں نے سو فی صد درست بات کہی ہے۔ میں
چاہوں یا مجھے کہا جائے' ایک نظم لکھ کر دو۔
سارا دن بیٹھا رہوں' ایک سطر بھی نہیں لکھ پاتا۔
ایک انہوں نے عجیب بات کہی ہے۔
کسی رات خواب میں غزل آنا شروع ہو جاتی ہے۔
کبھی دو چار شعر۔۔۔۔۔۔۔
پڑھنے لکھنے والے' رات کو قلم کاغذ قریب
رکھتے ہیں۔ جاگتے میں بھی آئیڈیا آ سکتا ہے۔
خواب صبح تک یاد میں رہیں' ضروری نہیں۔
قمر نقوی کی اردو سے محبت' جذباتی وابستگی
اور فراہم کی گئی معلومات دل کو سکون اور روح
کو طمانیت بخشتی ہیں۔
اردو کے بارے میں شکوک کا ایک طویل سلسلہ
چل نکل ہے۔ نجانے کیوں ہر کہہ و مہہ کو یہ فکر
لحق ہو گئی ہے۔ اگرچہ اردو کو بچثیت زبان کوئی
خطرہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ انشاءا۔۔۔۔۔ زندہ رہے
گی۔۔۔۔۔۔اس کی حیات جاوداں کا ایک اور ثبوت تو
یہ ہے کہ امریکہ ۔۔۔۔۔۔۔یعنی ممالک متحدہ امریکہ
کی یونیورسٹی آف منے سوٹا میں اردو زبان کا
شعبہ قائم ہو گیا ہے جہاں اردو کی ابتدائی تعلیم
سے انتہائی تعلیم تک حاصل کرنے کا انتظام
ہے۔۔۔۔۔ اور طالب علموں کی ایک مناسب تعداد
اردو زبان سیکھنے میں مشغول ہے۔۔۔۔۔۔ ایک
اور یونیورسٹی میں بھی اردو کے شعبے کا
عنقریب فیصلہ ہونے کو ہے انشاءا۔
ص۔7
قمر نقوی' نثری نظم کے سلسلہ میں' کافی سنجیدہ
نظر آتے ہیں۔ اس صنف شعر پر' انہوں نے کھل
کر بحث کی ہے۔ یہ ہی نہیں' اس صنف شعر سے'
ذاتی وابستگی کے بلتکلف اشارے ملتے ہیں۔
لکھتے ہیں۔
نثری نظم کا مستقبل تابناک محسوس ہوتا ہے اور
اس کو یقینا نظم کی صنف میں ممتاز مقام حاصل
ہوگیا ہے۔۔۔۔ ابھی اس کے کمال کا لمحہ نہیں آیا۔۔۔۔۔
اور شادد اس مقام پر پپہنچنے کے لئے اس صنف
کو ان مراحل سے گزرنا ہو گا جن کے بعد منزل
.مراد کی حدود کا آغاز ہوتا ہے
ص 24
ایک دوسری جگہ پر لکھتے ہیں۔
اگر اس کو نظم کے قبیلے میں رکھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جو کہ واقعی اس صنف کا تقاضا ہے ۔۔۔۔۔۔ تو اس
کی نظمیت کو برقرار رکھنا ہو گا۔۔۔۔۔۔ اور نظمیت
کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب اس میں شعریت
کا وجود ہو۔۔۔۔۔
بڑی ہی معقول بات ہے۔ شعریت سے عاری چیز'
نظم کی حدود سے باہر رہتی ہے۔ اس کے بعد
.لکھتے ہیں
شعریت صرف اور صرف اس وقت پیدا ہو سکتی
ہے جب اس میں ترنم' تبسم اور وزن قائم رکھا
جائے گا۔
ص 15
ترنم اور تبسم تک تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ یہ
وزن والی بات' سمجھ سے باہر ہے۔ وزن کی
صورت میں' اسے نثری نظم کیوں کہا جائے گا۔
وزن دانستگی سے وابستہ ہے۔ دانستگی الہامی
کیفیت سے' باہر کی چیز ہے۔ وزن اور بعض
مروجہ اطوار فکر کا گل گھونٹ دیتے ہیں۔
مرا پیغمبر عظیم تر
کسی بھی صورت میں گوارا نہیں۔ یہ گستاخی اور
بےادبی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شعر اور نثر کے
امتیازات وزن سے الگ اور ہٹ کر ہیں۔ شعر میں
یہ امور موجود ہوتے ہیں۔
فکری اورصوتی آہنگ
تبسم
چنچل پننا
حسن شعرہا کا التزام۔ تشبیہ' استعارہ' علمتیں'
تلمیحات اورشعری صنعتوں کا فطری اہتمام
poeticشعریت
کم لفظوں میں بہت زیادہ کہہ دیا جاتا ہے
کوملتا' ریشمیت' نزاکت' والہانہ پن وغیرہ
غنا
لفظوں کی نشت و برخواست نثر سے قطعی ہٹ کر
اور الگ تر
میں اپنے کہے کی سند میں فقط ایک مثال پیش
کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔
اگر یہ شاعری نہیں تو نثری بھی نہیں ہے۔
دیکھ کے چاند مرے آنگن کا
جانے کیوں پھیکا پڑ جائے
چنچل روپ بہاروں کا
قمر نقوی نے آخر میں اس صنف شعر سے
خصوصی متعلق ہونے کے حوالہ سے کہا ہے۔
میں بتدریج
ان قواعد و ضوابط کے اختراع اور تنظیم کے کام
میں مشغول ہوں اور ممکن ہے کچھ دن بعد میں
کوئی ایسا فن اختراع میں کامیاب ہو جاؤں جو فن
عروض کا مماثل ہو کر نثری نظموں کی پاسبانی
کر سکے۔
ص 26
اس ذیل میں کیا پیش رفت ہوئی' میں آگاہ نہیں
ہوں۔ اگر کسی صاحب کو آگاہی ہو' تو ضرور قلم
اٹھائے۔ جو بھی سہی شاعری کی کوئی بھی صنف
اور صورت رہی ہو' یہ طے ہے' کہ پرلطف
شاعری ایک خودکار عمل ہے۔
کلم قمر ....میں قمر نقوی کا مقالہ۔۔۔۔۔ تیسرا
زاویہ۔۔۔۔۔ معلومات اور یادوں کا اچھا خاصا ذخیرہ
رکھتا ہے۔ اس میں اختر حسین شیخ کی تحریر کا
ذکر آیا ہے جانے ان کی تحریر کیوں کتاب میں
شامل نہیں ہو سکی۔
اس میں ان حضرات سے متعلق یادوں کا ذکر ملتا
ہے۔
اقبال راہی
بلقیس فاطمہ نقوی
سردار جگنور سنگھ
حاجی ملک مقبول
شاہد واسطی
شرین زاد بہنام
ظفر علی راجہ
عابد انصاری
فخرالدین بلے
محسن بھوپالی
مرتضی برلس
پروفیسر یوسف جمال
۔۔۔۔۔ ریشہءحنا۔۔۔۔۔ میں دو مقالے شامل ہیں۔ پہل
مقالہ محترمہ شرین زاد بہنام کا ہے' جب کہ
دوسرا مقالہ جناب قمر نقوی کا ہے۔ محترمہ شرین
زاد بہنام کے مقالے پر' کسی دوسرے وقت میں'
گفتگو کروں گا .سردست قمر نقوی صاحب کے
مقالے سے متعلق' کچھ عرض کرنے کی جسارت
.کرتا ہوں
مادہ پرستی تو ہر دور کی ریتا ہے اور یہ بھی' آج
کچھ کم نہیں۔ اس بےحسی کے عالم میں بھی'
حسن و عشق کی اہمیت اپنی جگہ پر قایم رہی ہے۔
آج غم جاناں پر' غم روزگار کو اہمیت دینے کا
نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔ زبانی کلمی تو یہ ٹھیک
ہے اور اس کی حمایت بھی کی جانی چاہیے۔ کہنا
اور کرن'ا دو الگ چیزیں ہیں' لہذا اسے عملی
جامہ پہنانا امکان میں ہی نہیں۔ غم جاناں کی آڑ
میں' عصری کرب کا بھی اظہار ہوتا آیا ہے۔ ظفر
کا یہ شعر' 1854کے تناظر میں دیکھیے'
معنویت ظاہر سے یکسر ہٹ کر سامنے آئے گی۔
چشم قاتل تھی مری دشمن ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
قمر نقوی نے اس مدے پر ہی بحث کی ہے اور ان
کا موقف اور انداز بڑا جان دار ہے۔ ان کا یہ جملہ
دیکھیے کتنا باوزن ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حسرتوں آرزوں تمناؤں مرادوں
اور خوابوں کا کوئی مقررہ دور نہیں ہوا کرتا' اس
لئے کہ حسن اور عشق زمان و مکان کے اسیر
نہیں ہیں۔ ص 27
اپنے کہے کی سند میں اشعار درج کیے ہیں۔ پہل
شعر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح
کا درج کیا ہے۔
اندر آئینہ جاں عکس جمالے دیدم
ہمچوں خورشید کہ در آپ زللے دیدم
یہ بات غلط بھی نہیں کہ کلم میں نازکی'
شیفتگی' کشش اور آشفتگی کیسے پیدا ہو گی۔
حسن و عشق ہی تو یہ جوہر اس میں پیدا کرتے
ہیں۔ صاف ظاہر ان عناصر کو پیدا کرنے کے لیے
اس نوع کے لفظوں کی ضرورت پیش آئے گی۔
لکھتے ہیں۔
جذبات کے اظہار وبیان کو نظم کی شکل دینا اور
اس لفظی شکل کو مضمون کے مزاج سے ہم
آہنگ کرنا ہی کمال شاعری ہے۔ ص 29
نقوی صاحب کا کہنا ہے
جن شعرا کو قبول عام اور شہرت دوام حاصل ہوئی
ان کا وہی کلم بنیاد عظمت بنا جو سادہ اور عام
فہم تھا۔ زبان کی سادگی روزمرہ اور بیساختگی ان
مشاہیر کا طرہءامتیاز اور فصاحت بلغت و لطافت
کلم ان کی خصوصیات رہیں۔ ص 30
اس کے بعد انہوں نے فصاحت بلغت اورسادگی
کی استاد شعرا کے کلم سےاسناد کے ساتھ پرمزہ
اور پرمغز گفت گو کی ہے۔
فصاحت کیا ہے
فصاحت نظم کا وہ لباس ہے جو اس کے پیکر
نازنین سے نہ صرف کامل مربوط ہو بلکہ اس کی
زیب وزینت اور مراد شعر کی لطافت و نفاست کا
باعث ہو۔ ص 31
بلغت کیا ہے۔
بلیغ کلم وہ ہے جو فصیح ہو عیوب سے پاک ہو
اور مقتضائے حال کے مناسب ہو۔ ص 34
سادگی کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ
سادگی سے مراد وہ صورت لفظی ہے جو عام فہم
ہو اور عالم و عام دونوں طبقات کے افراد کے
لئے قابل اعتنا قرار پا سکے۔ ص 37
کتاب کے آغاز میں قمر نقوی نے جو مقالہ پیش
کیا ہے' کمال کی معلومات رکھتا ہے۔ اچھے کلم
کے اصول اور معیارات بڑے خوب صورت انداز
میں درج کیا ہے۔ یہ شاعر اور شعر کے قاری اور
سامع کے لیے برابر کی افادیت رکھتا ہے۔
بلغت کے ضمن میں جدید و قدیم شعرا سے سند
پیش کرتے ہیں۔ اس ذیل میں غالب کے کلم سے
بھی سند پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں غالب
کا یہ شعر فصیح و بلیغ ہے لطیف نہیں
آگہی دم شنیدن جسقدر چاہے پھیلئے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
غالب کے اس شعر کو لطیف قرار دیتے ہیں۔
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
بہت کم ایسا ہوا ہے کہ مجموعہ شعر کے ساتھ
معلومات افروز نثر بھی پڑھنے کو ملے۔ قمر
نقوی کے ہاں یہ کمال شعر و نثر لطف اندوزی
کے لیے میسر آ جاتا ہے۔
مصوری سے متعلق کلم ترتیب وار درج ہیں۔
چل ہوں لے کے میں سرکار دوعالم کے لئے
جمال شعر وادب' فکر و فن کا نذرانہ
..........
جانے کس نے یہ در کعبہ پہ جا کے لکھ دیا
اس کا گھر کہتے ہیں اس کو جس کا کوئی گھر
نہیں
..........
کیسے دل کو سمجھاؤں ہے نظر کا دھوکا سب
چاند میں جو ہال ہے کان میں جو بالی ہے
.........
مرے لمحے غزالن حرم ہیں
یہ روز وشب ہی میرے ہمقدم ہیں
قمر لکھتا ہوں خود اپنا مقدر
مری طویل میں لوح و قلم ہیں
.........
ایسی حالت میں کہ ہے انجام دونوں ہی کا ایک
شمع اب کس کو کہوں میں کس کو پروانہ کہوں
...........
راہ منزل میں قدم دیکھ کے رکھنا کہ قمر
گرنے والے کو زمانے نے سنبھال بھی نہیں
.........
قصہء منصور و سرمد نہ ہوتا تو قمر
دفتر عشق میں مضمون ہمارا ہوتا
............
بس ایک رقص تک ہی نہ رہ جاؤ دوستو
قاتل چھپا ہوا ہے پس دیوار دیکھنا
...........
!ہزار آبلہ پائی کا غم رہے لیکن
نظام شوق میں لزم سفر ہی کرنا ہے
...........
نظم۔۔۔۔ آنسو اور نگینہ
...........
نظم۔۔۔۔ لفانی
...........
مرا شمار بھی کرنا رموز قدرت میں
کہ میں بھی اپنے زمانے کے واجبات میں ہوں
..........
آنا ہو اگر تم کو آساں ہے پتہ میرا
دیوار گری ہو گی بجھتا سا دیا ہو گا
فن تدوین' مباحث اور مسائل ۔۔۔۔۔۔ تعارفی جائزہ
متن کی تدوین یا متن سے متعلق ہر کام' ناصرف
باریک بینی کا متقاضی ہے' بلکہ بڑا حساس اور
بڑی ذمہ داری کا ہے۔ معمولی سی کوتاہی اور
غفلت' درستی کے ضمن میں' سال ہا سال ہٹرپ
جاتی ہے۔ غلطی پھر بھی درست نہیں ہو پاتی۔
گویا معاملہ تادیر متنازعہ ہی رہتا ہے۔ متنی غلطی
درحقیقت' تفہیمی معاملت میں گڑبڑ کا سبب بنتی
ہے۔ ہر کہا ناصرف کہنے والے کے جذبات'
نظریات' ترجیحات' حاجت وغیرہ کی عکاسی کرتا
ہے' بلکہ وہ اپنے عہد کی' منہ بولتی شہادت بھی
ہوتا ہے۔
1799
میں ٹیپو کو شہید کرنے والے کے لیے' میر
صاحب نے کتے کا استعارہ استعمال کیا تھا۔
استعمال کی دو صورتیں ملتی ہیں۔
کس کتے نے مارا ہے
کس کتے نے پھاڑا ہے
پہلی صورت میں' یہ محض ایک تاریخی واقعہ
ہے' جو ایک حادثے کی یاد تازہ کرتا ہے۔
دوسری صورت میں' بربریت سامنے آتی ہے' جو