The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫امتحان عاشق جانباز لیکر دیکھتے‬
‫راس آئی کچہ نہ اے راغب بہار زندگی‬
‫ورنہ اک دو چار دن دنیا میں رہکر دیکھتے‬
‫بدگمان ہونا‘ امتحان لینا‘ راس آنا محاورے کے‬
‫درجے پر فائز ہیں۔ دو چار روزمرہ میں داخل ہے۔‬
‫زندگی دوچار دن کی‘ عمومی بول چال میں ہے۔‬
‫راغب نے اک کا اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ دو چار‬
‫سے متعلق نہیں ہے۔ دنیا میں رہ کر دیکھنا کا اپنا‬

‫ہی لسانیاتی حسن ہے۔‬
‫ص ‪ ٤٥-٤٤‬پر موجود دو غزلوں کے ‪ ١٣‬اشعار‬
‫ہیں۔ ایک غزل چھے جب کہ دوسری سات اشعار‬

‫پر مشتمل ہے۔‬
‫خوشا نصیب وہ مے انکے اہتمام میں ہے‬
‫حقیقت دو جہاں جسکے ایک جم میں ہے‬

‫بہ استواری ایماں جہکا جبین نیاز‬
‫بٹھک رہا ہے کہاں کس خیال خام میں ہے‬
‫حدیث زلف بہی سر کر یکانہ اے دل زار‬

‫ہنوز کشمکش سعی ناتمام میں ہے‬
‫نگاہ سوئے مدینہ ہے نزع کا عالم‬
‫میں اپنے کام میں ہوں موت اپنا کام میں ہے‬
‫کوئی بتاؤ مدینہ کی صبح کیا ہو گی‬

‫سحر کا لطف میسر جہاں کی شام میں ہے‬
‫یہ بضاعتی علم عاجزم راغب‬

‫ورنہ جوش طبعت مرے کلم میں ہے‬
‫وہ مے‘ خصوصی مے کی طرف واضح اشارہ‘‬
‫انکے اہتمام میں ہے‘ بھی خصوصی بات ہے‘‬
‫شاعر اسے خوش نصیبی کا نام دے رہا ہے۔ یہ‬
‫اس امر کی طرف اشارہ ہے‘ کہ اگر کسی اور کے‬
‫ہاتھ میں ہوتی‘ تو کسی کو میسر ہی نہ آتی۔ اہتمام‬

‫نیا طور تکلم ہے۔‬
‫دوسرا مصرعہ بھی اپنے لسانیاتی اور معنوی‬
‫کمال کو واضح کر رہا ہے۔ آخر وہ خصوصی کیوں‬
‫ہے‘ اس میں حقیقت دوجہاں موجود ہے۔ ایک‬
‫دوسری بات ہے‘ ان ہاتھوں کا بھی تو کمال ہے۔‬

‫جبین جھکانا الگ سے چلن ہے۔‬
‫دوسرے مصرعے میں کاف کا تین بار استعمال‬

‫کیفیت تشکیل دے رہا ہے۔‬
‫کہاں کس نے مصرعے کو رعنائی بخش دی ہے۔‬
‫اس سے اگلے شعر میں‘ ترکیب سعی ناتمام نے‘‬
‫زندگی کی مستعمل جدوجہد پر خط کھنچ دیا ہے۔‬

‫نگاہ سوئے مدینہ ہے‬
‫نزع کا عالم‬

‫میں اپنے کام میں ہوں‬
‫موت اپنا کام میں ہے‬
‫تین حالتیں اور دو محرک ہیں۔ دو کردار دو الگ‬
‫سے‘ کاموں میں مصروف ہیں۔ دوسرے مصرعے‬
‫میں تکراری چلن خوب ہے۔‬

‫کوئی بتاؤ‬
‫مدینہ کی صبح‬

‫کیا ہو گی‬
‫سحر کا لطف میسر‬
‫جہاں کی شام میں ہے‬
‫لسانی اعتبار سے‘ اس شعر کی داد نہ دینا‘‬
‫سراسر زیادتی ہوگی۔ ابتدا ہی‘ آگہی کے سوالیے‬
‫سے ہوئی ہے۔ اختمامیہ بھی سوالیہ ہے۔ دوسرے‬
‫مصرعے میں‘ صبح کا قریبی مترادف‘ سحر‬
‫استعمال میں آیا ہے۔ سحر کا لطف‘ بیان کا محتاج‬
‫نہیں۔ دوسرے مصرعے کے‘ دوسرے حصہ میں‘‬
‫متضاد کا استعمال الگ سے ہوا ہے۔ شام کا لطف‬
‫صبح سا‘ الگ سے مضمون ہے۔ یہ نسبتی انداز‘‬
‫شعر کو جان دار بنا رہا ہے۔‬
‫جوش طبیعت‘ کلم کو میسر ہو تو لطف نہ آئے‘‬
‫بھل کیسے ممکن ہے۔ ہاں موضوع کلم ہی اس‬

‫نوعیت کا ہے‘ کہ یہاں طائر جوش طبیعت کے پر‬
‫جلتے ہیں۔ تب ہی تو مقطعے میں فکری معذوری‬

‫کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترکیب جوش طبعت کا‬
‫استعمال‘ کلم کو وجاحت بخش رہا ہے۔‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫جب تک نہ وصف بادہ و جام و سبو کریں‬
‫پیر مغاں سے ملنے کی کیوں آرزو کریں‬

‫الہ رے نوازش جوش جنون عشق‬
‫ہم پیرہن کو چاک کریں وہ رفو کریں‬
‫پنہاں ہے میرے گریہ میں صد جلوہءبہار‬
‫صحرا میں بیٹھ جاؤں تو کانٹے نمو کریں‬
‫تقدیر کی خطا ہے کسیکا گلہ نہیں‬
‫مجہے غم فراق کی پرسش عدو کریں‬
‫لذت کش فراق ہو جب آرزوئے دل‬
‫پہر کیا کسی کے وصل کی ہم آرزو کریں‬
‫ہرگز نماز عشق میں سجدہ روا نہیں‬
‫جب تک نہ پہلے خون جگر سے وضو کریں‬
‫راغب خدا کے سامنے جانا ہےایکدن‬
‫آؤ تو پہر اسیکی نہ کیوں جستجو کریں‬
‫راغب بدایونی کی‘ دوسری غزل کا آغاز ہی‬
‫شرطیہ ہے اور یہ شرطیہ‘ زندگی کا لزمہ ہے۔‬

‫لفظ وصف کا استعمال‘ تعریف و تحسین کے‬
‫معنوں میں ہوا ہے۔ ملنے کی دوہرے مفہوم دے‬

‫رہا ہے۔ دوسرے مصرعے کے الہ رے نے‬
‫لکھنوی‘ نزاکت سی پیدا کر دی ہے۔ برجستہ‬
‫ہونے کے باعث‘ لطف میں اضافہ ہوا ہے۔ چاک‬
‫اور رفو کا ایک ساتھ ااستعمال بھی لطف فراہم‬

‫کرتا ہے۔‬
‫گریہ میں جلوہ ہائے بہار کا پوشیدہ ہونا‘ رویت‬
‫سے ہٹ کر مضمون ہے۔ صنعت تضاد کا‘ بالکل‬
‫الگ سے استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرعے‬
‫میں‘ اس بہار کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔‬
‫لفظوں سے راغب بدایونی کی یہ آنکھ مچولی‘ من‬

‫کو بھاتی ہے۔‬
‫پرسش عدو نے‘ بلشبہ شعر کی جان بنا دی ہے۔‬
‫طنز اور بےکسی کا‘ بڑی عمدگی سے اظہار کیا‬
‫گیا۔ یہ ایک مرکب ہر دو عناصر کو بیان کرنے‬

‫کے لیے کافی ہے۔‬
‫قیامت دیکھیے آرزوئے دل‘ لذت کش فراق ہوئی‬
‫ہے۔ اس سطح پر وصل کی جہد‘ بےمعنی ہو کر رہ‬
‫جاتی ہے۔ اگلے شعر میں نماز‘ وضو اور سجدہ کا‬
‫ایک ساتھ استعمال ہوا ہے۔ جب تک نے معاملے‬

‫کو شرطیہ بنا دیا ہے۔‬
‫سامنے جانا کو روبرو ہونا کے لیے استعمال کیا‬
‫گیا ہے۔ پنجاب میں بول چال کا یہ انداز عمومی‬
‫ہے۔ کیوں ناں بھی عمومی استعمال میں رہتا ہے۔‬
‫اصل لسانی حسن آؤ تو کے استعمال میں ہے۔ اسی‬

‫طرح لفظ جستجو معنوی وسعت رکھتا ہے۔‬
‫رند بدایونی‬

‫رند بدایونی کا صرف ایک شعر اس قلمی بیاض‬
‫میں شامل ہے۔ ملحظہ ہو‬

‫گر یہی مدنظر تہا ہم تری طاعت کریں‬
‫کیوں بتوں کو حسن بخشا جس سے ہم بہولے‬

‫تجھے‬
‫زلئی بدایونی‬
‫زلئی بدایونی کے دو شعر اور ایک غزل اس‬
‫‪:‬بیاض کا حصہ بنے ہیں‬
‫وہ اور ہونگے جو فضل سے سرخرو آئے‬
‫زللی ہم تو لئے لش آرزو آئے‬
‫زلئی بدایونی نے سرخرو آنا باندھا ہے۔ عمومی‬
‫بول چال میں‘ سرخرو ہونا مستعمل چل آتا ہے۔‬
‫ہائے دیکہی بہی نہ جاتی ہوئی دنیا دلکی‬
‫ایسا بےدرد ہوا درد جگر میں رہ کر‬

‫پہلے مصرعے میں جاتی ہوئی توجہ کا سبب بنتی‬
‫ہے۔دوسرے مصرعے میں جگر کے متعلقات کا‬

‫استعمال خوب ہوا ہے۔ ملحظہ ہو‬
‫ایسا بےدرد ہوا‬
‫درد‬
‫جگر میں رہ کر‬

‫زللی بدایونی کی یہ غزل پانچ اشعار پر مشتمل‬
‫ہے اور اس کے خوش کلم اور خوش زبان ہونے‬

‫کی دلیل ہے۔‬
‫سمجہے تہے سہل ہم شب ہجراں کا ٹالنا‬

‫مشکل بہت پڑا دل مضطر سنبھالنا‬
‫لنا ہے مجکو شمس و قمر آسمان سے‬
‫تسبیح میں درود کے شمسے ہیں ڈالنا‬

‫کانٹا الم کا دل سے نکال حضور نے‬
‫باقی ہے ایک پھانس اسے بہی نکالنا‬
‫سر پر نبی کے تاج شفاعت ہے عاصیو‬
‫خوش ہو کے ٹوپیاں سر محشر اچھالنا‬
‫اچہوں کی پرورش کا زمانہ میں ہے رواج‬
‫اچھا ہو یا برا ہو تمھیں سب کا پالنا‬
‫مشکل پڑنا‘ شمسے ڈالنا‘ ٹوپیاں اچھالنا کا‬
‫استعمال‘ حسن بخش ہے۔ تلمیحات کا استعمال‬

‫برمحل ہے۔ کانٹا اور پھانس کا ایک ساتھ استعمال‬
‫سونے پہ سہاگے والی بات ہے۔‬
‫عیش بدایونی‬

‫عیش بدایونی کا صرف ایک شعر بیاض کے حصہ‬
‫میں آیا ہے۔‬

‫جمع احباب کئے ہیں کہ ذرا دل ٹہرے‬
‫تم بہی آ جاؤ تو محفل مری محفل ٹہرے‬
‫دل ٹہرنا الگ سے استعمال ہے اور فصیح ہے۔‬
‫بھل لگتا ہے۔ مخصوص کے ہونے سے محفل کو‬

‫محفل قرار دیا ہے۔‬
‫فانی بدایونی‬

‫فانی بدایونی کے کافی شعر شامل بیاض ہیں۔ ان کا‬
‫تذکرہ معروف شعرا میں آئے گا۔‬
‫قمر بدایونی‬

‫یہ تو ممکن ہے کہ دل میں کہوں منہ پر نہ کہوں‬
‫یہ نہ ہو گا کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫میں کسی شخص کا دنیا میں برا کیوں چاہوں‬
‫لوگ رکھتے ہیں قمر مجہسے عداوت نہ کہ میں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکہے ہونگے‬

‫کیسے ہوتے ہیں وہ خط جنکے جواب آتے ہیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫دل میں کہنا‘ منہ پر کہنا‘ یہ نہ ہو گا‘ بتا تو‘‬
‫کیسے ہوتے ہیں‘ نہ کہ میں۔۔۔۔۔۔ عمومی بول چال‬
‫میں داخل ہیں۔ دوسرے مصرعے میں حرف گاف‬
‫کا تکرار مخصوص ایمیج تشکیل دے رہا ہے۔‬

‫نامہ بر کے ساتھ خط اور جواب متعلقات کا‬
‫استعمال خوب ہے۔‬

‫طرز برجستہ‘ دو ٹوک‘ وضاحتی اور ناصحانہ ہے۔‬
‫سوالیہ حسرت سے لبریز ہے۔‬

‫نو اشعار پر مشتمل ایک غزل بھی بیاض میں‬
‫شامل ہے۔‬
‫لطف بدایونی‬

‫لطف بدایونی کا ایک شعر بیاض میں شامل کیا گیا‬
‫ہے۔‬

‫صبا نے ایسا شگوفہ چمن میں چہوڑا ہے‬
‫کہ آج تک گل و بلبل میں بول چال نہیں‬
‫لسانیاتی اعتبار سے‘ خوب صورت شعر ہے۔‬
‫لفظوں کے استعمال میں ہنر مندی پائی جاتی ہے۔‬
‫چمن سے متعلقات کو‘ بڑے سلیقے سے ترتیب‬
‫دیا گیا ہے۔ شگوفہ چمن سے متعلقات میں سے‬

‫ہے‘ لیکن شگوفہ چھوڑنا معروف محاورہ بھی‬
‫ہے۔ گل اور بلبل‘ اردو شعر کے معروف کردار‬
‫ہیں‘ انہیں ناصرف پہلو بہ پہلو پیش کیا گیا ہے‘‬
‫بلکہ ان میں رنجش کو بھی‘ واضح کیا گیا ہے۔‬
‫بول چال صرف ہم صوت لفظ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ‬
‫مرکب ہمارے روزمرہ میں داخل ہے۔ اگر صبا‘‬
‫چمن اور گل و بلبل کو‘ استعاراتی استعمال سمجھا‬

‫جائے‘ تو غضب کا شعر ہے۔‬
‫منور بدایونی‬

‫منور بدایونی کے آٹھ اشعار بیاض میں ملتے ہیں۔‬
‫نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبہی بجلیاں کبہی‬
‫آندہیاں‬

‫کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ‬
‫چار پر‬

‫بلئیں‘ آسمان سے منسوب رہی ہیں۔ اصواتی‬
‫آہنگ اور غنائیت کے سبھی عناصر‘ اس شعر میں‬

‫موجود ہیں۔ عصری حالت کی‘ اس سے بڑھ‬
‫عکاسی ممکن نہیں۔ اڑ نہ جائیں چار پر‘ خوب‬
‫صورت اختراع ہے۔ چار روز کی زندگی‘ چار‬
‫پیسے وغیرہ‘ کم ہونے ہونے کے حوالہ سے‘‬
‫مستعمل ہیں۔ اسی رعایت سے‘ چار پر‘ خوب‬

‫صورت مرکب ہے۔ چار کا صفتی اور اختصاصی‬
‫استعمال ہوتا آیا ہے۔ پہلے مصرے میں کبھی جب‬

‫کہ دوسرے میں کہیں تکراری ہے۔ دوسرے‬
‫مصرعے میں‘ نہ تکراری ہے جو خدشے کو‬
‫نمایاں کرنے میں‘ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔‬

‫اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو‬
‫آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے‬
‫منور بدایونی نے‘ غالب کا اسٹائل مارا ہے۔ خدا‬
‫لگتی تو یہ ہی‘ مضمون اپنی جگہ‘ زبان بھی خوب‬
‫صورت ہے۔ اگے آنا‘ پنجابی کا معروف محاورہ‬
‫ہے۔ بددعا کے لیے زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔‬
‫یہاں عملی صورت پیش کی گئی ہے۔ کنج لحد اور‬
‫شب ہجر تنہائی کی علمت ہیں۔۔۔۔۔۔ میسر نہیں‬
‫آنسو۔۔۔۔۔۔۔ حرفی تکرار اپنی جگہ‘ لفظوں کا‬
‫استعمالی حسن بصری حس بیدار کرتا ہے۔‬
‫دل میں لہو کی بوندیں کچہ جان بن گئی ہیں‬
‫آنکہوں سے جو بہی ہیں طوفان بن گئی ہیں‬
‫کافر تری نگاہیں تیری ہیں یا میری ہیں‬
‫جو مری زندگی کا سامان بن گئی ہیں‬
‫مخلوط ہو کے جلوے شکلوں میں آ گئے ہیں‬
‫رنگینیاں سمٹ کر انسان بن گئی ہیں‬

‫دل‪ :‬لہو‘ بوندیں‬
‫سب نہیں۔۔۔۔ کچھ ‪ :‬جان بن گئی ہیں‬
‫کچھ‪ :‬گزارے موافق‘ قدرے‘ کمزور سی‬
‫طوفان‪ :‬عملی صورت میں مبالغہ‘ معنوی صورت‬
‫میں جھگڑا‘ فساد‘ خرابہ‘ مصیبت‘ دکھ‘ تکلیف‘‬
‫رنج صدمہ‘ بدترین کیفیت وغیرہ‬
‫کافر تری نگاہیں‪ :‬مخاطب سے کہا جا رہا ہے۔‬
‫تیری ہیں یا میری ہیں‘ صورت حال ہی بدل گئی‬

‫ہے۔‬
‫زندگی کا سامان بننا‘ عمومی محاورہ بھی ہے۔‬
‫وجہ‪ :‬نگاہیں‘ آنکھیں نہیں‘ آنکھوں کی کارگزاری‬

‫وجہ ہے۔‬
‫میری تیری متضاد ضمائر کا استعمال کیا گیا ہے۔‬

‫جلولے‘ تجسیم کے ساتھ شکلیں‬
‫مخلوط اور سمیٹ کر مترادف استعمال ہوا ہے‬

‫اشیا کے لیے جلوے‬
‫انسان کے لیے رنگینیاں‬
‫تینوں اشعار فکری اور لسانی حوالہ سے خوب‬
‫صورت ہیں‘ من کو بھاتے ہیں۔‬
‫نظر انداز کرنا چاہتا ہوں خود پرستی کو‬
‫ترے جلوں میں شامل کر رہا ہوں اپنی ہستی کو‬

‫خدا سمجہے بت پرفن تری آنکہونکی مستی کو‬
‫مرے مشرب میں داخل کر دیا ہے مے پرستی کو‬

‫پڑا تہا دہتبہ کی طرح دامان ہستی پر‬
‫مبارک ہو مرا مٹنا منور بزم ہستی کو‬
‫نظر انداز کرنا‘ خود پرستی اور شامل کرنا کیفیتیں‬
‫ہیں۔ میں ٹھیک سے کچھ کہہ نہیں سکتا‘ کہ یہ‬
‫بیاض کب کی ہے‘ اندازہ یہ ہی ہے کہ ‪ ١٨٨٤‬اور‬
‫‪ ١٨٨٧‬کے درمیان کی ہے۔ پہل شعر جہاں رومان‬
‫پرور ہے‘ وہاں اس میں سرئیلزم کے اثرات‬
‫موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا‘ کہ یہ‬
‫تحریک ایسی کوئی نئی چیز نہ تھی۔ کر رہا ہوں‘‬
‫صیغہ حاضر ہے اور وحدت الود کا بنیادی عنصر‬
‫ہے۔ اہل صوف کی یہ منزل قرار پاتی ہے۔ خود‬
‫پرستی نرگسیت کی طرف لے جاتی ہے۔ ذات کا‬
‫انحراف کوئی آسان کام نہیں۔ شاعر واضح لفظوں‬
‫میں کہہ رہا ہے‘ نظر انداز کرنا چاہتا ہوں۔‬
‫دوسرے مصرعے میں‘ عمل کی صورت بڑی ہی‬
‫نمایاں ہے۔ ولیم ورڈزورتھ‘ فطرت کے مناظر میں‬
‫گم ہونے کی سعی کرتا ہے۔ منور کے ہاں ترے کی‬

‫ضمیر کا استعمال ہوا ہے۔‬
‫منور معاون افعال کا استعمال کرکے‘ کلم میں‬

‫حسن‘ چاشنی اور جان پیدا کرتا ہے۔ مثل کرنا‬
‫چاہتا‘ کر رہا‘ کر دیا۔‬

‫منور کی روزمرہ اور محاورے پر دسترس‬
‫محسوس ہوتی ہے۔ مثل خدا سمجہے‘ کا بڑی‬
‫عمدگی شائستگی سے استعمال کیا گیا ہے۔‬
‫مرکب بھی خوب تشکیل دیتا ھے۔ مثل بت پرفن‘‬
‫پرفن کے لحقے نے بت کی حیثیت کو چار چاند‬

‫‘لگا دیے ہیں‬
‫مے کا تعلق پینے سے ہے‘ مشرب کو‘ قطعی‬
‫مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ان‬

‫معنوں میں‘ یہ مستعمل بھی ہے۔‬
‫لفظوں کا تشبیہی استعمال‘ حظ میں اضافے کا‬
‫سبب بنتا ہے۔ منور بدایونی کے ہاں‘ یہ ہنر بھی‬

‫ملتا ہے۔‬
‫چھٹے مصرے میں میم کے حرفی تکرار نے‬

‫شعریت میں زبردست اضافہ کیا ہے۔‬
‫تیرا وعدہ نہیں تو تو کیا ہے‬

‫آدمی کیا وہ جسکی بات نہیں‬
‫اس شعر کو پڑھ کر‘ یا سن کر منہ سے‘ واہ نہ‬
‫نکلنا‘ بد ذوقی ہو گی۔ تو کا دو مرتبہ الگ سے‬

‫صیغوں میں استعمال کرنا‘ تو ایک طرف رکھیے‘‬
‫لفظ بات کا استعمال اپنا جواب نہیں رکھتا۔ یہ‬

‫استعمال بتاتا ہے‘ منور مرد تھا اور بات وال مرد‬
‫تھا۔‬

‫کلم قمر اور ریشہ حنا‬
‫کے‬

‫نثری حصے کا تعارفی مطالعہ‬

‫عابد انصاری صاحب نے' نہایت مہربانی فرماتے‬
‫ہوئے' قمر نقوی صاحب کا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔۔کلم‬
‫قمر۔۔۔۔۔۔ عطا فرمایا۔ یہ قمر نقوی صاحب نے' عابد‬

‫انصاری صاحب کو' اپنے دستخطوں سے ‪10‬‬
‫نومبر ‪ 1997‬کو عطا کیا تھا‪ /‬عابد انصاری‬
‫میرے بہت ہی اچھے دوستوں میں سے تھے۔‬
‫گاہے اپنا تازہ کلم عطا فرماتے رہتے تھے اور‬
‫میں اس سے' لطف لیتا رہتا تھا۔ بعد ازاں قمر‬
‫صاحب نے' مجھ ناچیز کو باطور خاص۔۔۔۔‬

‫ریشہءحنا۔۔۔۔ عنایت فرمایا۔ اسی طرح نظم۔۔۔۔۔‬
‫ماثورہ۔۔۔۔۔۔ ہاتھ لگی۔ ان کے کلم پر دوسرے وقت‬

‫میں کلم کروں گا۔ سردست کچھ اور باتیں' جو‬
‫انکشافات کا درجہ رکھتی ہیں' عرض کرنے کی‬

‫جسارت کر رہا ہوں۔‬

‫ٹائیٹل پیج کی پشت پر قمر نقوی صاحب کا تعارف‬

‫‪:‬درج ہے‬

‫سید حسن قمر‬ ‫نام‪:‬‬

‫نقوی‬

‫وطن اجداد‪ :‬لہور‬

‫میراں سید‬ ‫جد امجد‪:‬‬

‫محمد شاہ رح‬

‫موج دریا نقوی بخاری‬

‫میراں سید‬ ‫مورث اعلی‪:‬‬

‫جلل الدین‬

‫جہانیاں جہاں گشت‬

‫اچھ شریف‬

‫آسیون ضلغ اناؤ‬ ‫وطن مالوف‪:‬‬

‫بھوپال‬ ‫پیدائش‪:‬‬

‫‪1932‬‬ ‫تاریخ پیددائش‪:‬‬

‫ایم اے تاریخ‬ ‫تعلیم‪:‬‬

‫ایم بی اے‬

‫ادیب فاضل‬

‫برٹش انسٹی ٹیوٹ‬ ‫رکن‪:‬‬

‫مینجمنٹ‬

‫نارتھ امریکن ہنٹگ‬

‫کلب‬

‫ٹلمسا۔ اوکل ہوما۔ یؤ‬ ‫قیام‪:‬‬

‫ایس اے‬

‫سیاست میں حصہ لینے سے پہلے' مولوی فضل‬
‫الرحمن المعروف کوثر نیازی کو عالم دین' استاد'‬
‫شاعر' ادیب' خطیب' مفسر' اور مقرر جانتا تھا۔‬

‫سیاست میں آنے کے بعد' وہ مولوی وسکی‬
‫معروف ہوئے۔ خدا لگتی یہ ہی ہے' کہ میں نہیں‬

‫جانتا کہ وسکی سے ان کی کس حد تک جان‬
‫پہچان تھی یا تھی بھی نہیں' ہاں البتہ کلم قمر کو‬

‫دیکھنے کے بعد' ان کے تین اور شخصی پہلو‬
‫سامنے آئے ہیں۔‬

‫انہوں نے کتاب کا انتساب' قمر نقوی کے نام کیا‬
‫‪:‬ہے۔ انتساب کی عبارت کچھ یوں ہے‬

‫استاد محترم علمہ حضرت قمر نقوی مدظلہ العالی‬
‫کے نام‬

‫گویا وہ حضرت قمر نقوی سے استفادہ کرتے‬
‫تھے۔‬

‫وہ صوفی بھی تھے۔ جیسا کہ انتساب کے آخر‬
‫‪:‬میں درج ہے‬

‫حقیر فقیر صوفی فضل الرحمن کوثر نیازی‬
‫قمر نقوی بھی انہیں صوفی صاحب کہہ کر ہی ذکر‬
‫کرتے ہیں۔ اس ذیل میں قمر نقوی نے بڑے ہی‬

‫واضح الفاظ میں کہا ہے۔‬

‫ان کے تصوف اور معرفت کے حوالے سے بھی‬
‫گفتگو ضروری ہے کہ ان کی شخصیت بالخصوص‬

‫ذات عرفان کی آئینہ دار ہے اور ان کی ذات‬
‫بابرکات کا۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔ درخشندہ پہلو ہے۔ امریکہ میں‬

‫رہ کر مذہب کی اقدار اوراحکام کی حفاظت اور‬
‫اصول شرعیہ کی مدامت کے ساتھ ایمان کی شمع‬
‫روشن رکھنا' ا تبارک تعالی اور رسول صلی ا‬

‫علیہ وسلم کی محبت کو قائم رکھنا سب جہاد ہی‬
‫ہے اور صوفی صاحب شب و روز اس جہاد میں‬

‫مصروف ہیں۔‬
‫کلم قمر ص‪33 :‬‬

‫وہ بڑے اچھے مصور بھی تھے۔‬
‫انتساب میں ہی چند مزید چیزوں کا انکشاف‬

‫موجود ہے۔‬
‫ٹکساس میں بزم اردو' پچھلے دس برس سے'‬

‫اردو کی خدمت کر رہی تھی۔‬
‫بزم کے ‪32‬ویں عظیم الشان مشاعرے میں' کوثر‬
‫نیازی کی تصاویر کی نمائش ہوئی اور ان کے کام‬

‫کو سراہا گیا۔‬

‫بزم اردو کے سرپرستوں میں' حضرت مجید جامی'‬
‫جناب عرفان علی' جناب سید الیاس' جناب سرور‬
‫عالم راز' جناب شوکت قادری' جناب ڈاکٹر نرمل‬
‫سنگھ' جناب نادر درانی جناب ابوطالب ایسے جید‬

‫لوگ شامل تھے۔‬

‫جناب سرور عالم راز کے نام پر' مجھے رکنا پڑا۔‬

‫موصوف عرصہ سے اردو انجمن چل کر' اردو‬
‫شعروادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس‬
‫باوقار انجمن سے' میرا تعلق چل آتا ہے اور میں‬
‫بھی' اپنی ناچیز تحریریں اردو انجمن پر رکھ رہا‬

‫ہوں۔ جناب سرور عالم راز کا نام پڑھ کر' دل‬
‫چسپی بڑھنا فطری سی بات تھی۔‬

‫قمر نقوی شعر کہنے کے حوالہ سے باظاہر‬
‫عجیب لیکن حقیقت میں جو ہے واضح الفاظ میں‬
‫کہتے ہیں۔ یقینا اسے ہی آمد کا نام دیا جاتا ہے۔‬

‫لکھتے ہیں‬

‫میرے کلم کی تخلیق' میرے ارادے یا کوشش کی‬
‫مرہون منت نہیں۔ جو بھی کلم وجود میں آتا ہے‬
‫وہ الہام کی شکل میں ہوتا ہے اور خود باخود ا‬
‫تعالی کی طرف سے میرے ذہن میں پیدا ہونے‬
‫لگتا ہے۔ جب بھی کوئی کلم وارد ہونے کو ہوتا‬
‫ہے تب مجھے اس کا احساس ہو جاتا ہے۔ طبعت‬
‫میں ایک قسم کی بے چینی اور توجہ کی کیفیت‬

‫پیدا ہو جاتی ہے‬

‫کلم قمر ص ‪5‬‬

‫یہ انہوں نے سو فی صد درست بات کہی ہے۔ میں‬
‫چاہوں یا مجھے کہا جائے' ایک نظم لکھ کر دو۔‬
‫سارا دن بیٹھا رہوں' ایک سطر بھی نہیں لکھ پاتا۔‬

‫ایک انہوں نے عجیب بات کہی ہے۔‬
‫کسی رات خواب میں غزل آنا شروع ہو جاتی ہے۔‬

‫کبھی دو چار شعر۔۔۔۔۔۔۔‬

‫پڑھنے لکھنے والے' رات کو قلم کاغذ قریب‬
‫رکھتے ہیں۔ جاگتے میں بھی آئیڈیا آ سکتا ہے۔‬
‫خواب صبح تک یاد میں رہیں' ضروری نہیں۔‬

‫قمر نقوی کی اردو سے محبت' جذباتی وابستگی‬
‫اور فراہم کی گئی معلومات دل کو سکون اور روح‬

‫کو طمانیت بخشتی ہیں۔‬

‫اردو کے بارے میں شکوک کا ایک طویل سلسلہ‬
‫چل نکل ہے۔ نجانے کیوں ہر کہہ و مہہ کو یہ فکر‬
‫لحق ہو گئی ہے۔ اگرچہ اردو کو بچثیت زبان کوئی‬

‫خطرہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ انشاءا۔۔۔۔۔ زندہ رہے‬
‫گی۔۔۔۔۔۔اس کی حیات جاوداں کا ایک اور ثبوت تو‬
‫یہ ہے کہ امریکہ ۔۔۔۔۔۔۔یعنی ممالک متحدہ امریکہ‬
‫کی یونیورسٹی آف منے سوٹا میں اردو زبان کا‬
‫شعبہ قائم ہو گیا ہے جہاں اردو کی ابتدائی تعلیم‬

‫سے انتہائی تعلیم تک حاصل کرنے کا انتظام‬
‫ہے۔۔۔۔۔ اور طالب علموں کی ایک مناسب تعداد‬
‫اردو زبان سیکھنے میں مشغول ہے۔۔۔۔۔۔ ایک‬
‫اور یونیورسٹی میں بھی اردو کے شعبے کا‬

‫عنقریب فیصلہ ہونے کو ہے انشاءا۔‬
‫ص۔‪7‬‬

‫قمر نقوی' نثری نظم کے سلسلہ میں' کافی سنجیدہ‬
‫نظر آتے ہیں۔ اس صنف شعر پر' انہوں نے کھل‬
‫کر بحث کی ہے۔ یہ ہی نہیں' اس صنف شعر سے'‬
‫ذاتی وابستگی کے بلتکلف اشارے ملتے ہیں۔‬

‫لکھتے ہیں۔‬

‫نثری نظم کا مستقبل تابناک محسوس ہوتا ہے اور‬
‫اس کو یقینا نظم کی صنف میں ممتاز مقام حاصل‬
‫ہوگیا ہے۔۔۔۔ ابھی اس کے کمال کا لمحہ نہیں آیا۔۔۔۔۔‬

‫اور شادد اس مقام پر پپہنچنے کے لئے اس صنف‬
‫کو ان مراحل سے گزرنا ہو گا جن کے بعد منزل‬

‫‪.‬مراد کی حدود کا آغاز ہوتا ہے‬
‫ص ‪24‬‬

‫ایک دوسری جگہ پر لکھتے ہیں۔‬

‫اگر اس کو نظم کے قبیلے میں رکھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔‬
‫جو کہ واقعی اس صنف کا تقاضا ہے ۔۔۔۔۔۔ تو اس‬
‫کی نظمیت کو برقرار رکھنا ہو گا۔۔۔۔۔۔ اور نظمیت‬
‫کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب اس میں شعریت‬

‫کا وجود ہو۔۔۔۔۔‬

‫بڑی ہی معقول بات ہے۔ شعریت سے عاری چیز'‬
‫نظم کی حدود سے باہر رہتی ہے۔ اس کے بعد‬

‫‪.‬لکھتے ہیں‬

‫شعریت صرف اور صرف اس وقت پیدا ہو سکتی‬
‫ہے جب اس میں ترنم' تبسم اور وزن قائم رکھا‬

‫جائے گا۔‬
‫ص ‪15‬‬

‫ترنم اور تبسم تک تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ یہ‬
‫وزن والی بات' سمجھ سے باہر ہے۔ وزن کی‬
‫صورت میں' اسے نثری نظم کیوں کہا جائے گا۔‬
‫وزن دانستگی سے وابستہ ہے۔ دانستگی الہامی‬
‫کیفیت سے' باہر کی چیز ہے۔ وزن اور بعض‬
‫مروجہ اطوار فکر کا گل گھونٹ دیتے ہیں۔‬

‫مرا پیغمبر عظیم تر‬

‫کسی بھی صورت میں گوارا نہیں۔ یہ گستاخی اور‬
‫بےادبی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شعر اور نثر کے‬
‫امتیازات وزن سے الگ اور ہٹ کر ہیں۔ شعر میں‬

‫یہ امور موجود ہوتے ہیں۔‬
‫فکری اورصوتی آہنگ‬
‫تبسم‬
‫چنچل پننا‬

‫حسن شعرہا کا التزام۔ تشبیہ' استعارہ' علمتیں'‬
‫تلمیحات اورشعری صنعتوں کا فطری اہتمام‬

‫‪ poetic‬شعریت‬
‫کم لفظوں میں بہت زیادہ کہہ دیا جاتا ہے‬

‫کوملتا' ریشمیت' نزاکت' والہانہ پن وغیرہ‬
‫غنا‬

‫لفظوں کی نشت و برخواست نثر سے قطعی ہٹ کر‬
‫اور الگ تر‬

‫میں اپنے کہے کی سند میں فقط ایک مثال پیش‬
‫کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔‬

‫اگر یہ شاعری نہیں تو نثری بھی نہیں ہے۔‬
‫دیکھ کے چاند مرے آنگن کا‬
‫جانے کیوں پھیکا پڑ جائے‬
‫چنچل روپ بہاروں کا‬

‫قمر نقوی نے آخر میں اس صنف شعر سے‬
‫خصوصی متعلق ہونے کے حوالہ سے کہا ہے۔‬

‫میں بتدریج‬
‫ان قواعد و ضوابط کے اختراع اور تنظیم کے کام‬
‫میں مشغول ہوں اور ممکن ہے کچھ دن بعد میں‬
‫کوئی ایسا فن اختراع میں کامیاب ہو جاؤں جو فن‬
‫عروض کا مماثل ہو کر نثری نظموں کی پاسبانی‬

‫کر سکے۔‬

‫ص ‪26‬‬

‫اس ذیل میں کیا پیش رفت ہوئی' میں آگاہ نہیں‬
‫ہوں۔ اگر کسی صاحب کو آگاہی ہو' تو ضرور قلم‬
‫اٹھائے۔ جو بھی سہی شاعری کی کوئی بھی صنف‬

‫اور صورت رہی ہو' یہ طے ہے' کہ پرلطف‬
‫شاعری ایک خودکار عمل ہے۔‬

‫کلم قمر ‪ ....‬میں قمر نقوی کا مقالہ۔۔۔۔۔ تیسرا‬
‫زاویہ۔۔۔۔۔ معلومات اور یادوں کا اچھا خاصا ذخیرہ‬
‫رکھتا ہے۔ اس میں اختر حسین شیخ کی تحریر کا‬
‫ذکر آیا ہے جانے ان کی تحریر کیوں کتاب میں‬

‫شامل نہیں ہو سکی۔‬

‫اس میں ان حضرات سے متعلق یادوں کا ذکر ملتا‬
‫ہے۔‬

‫اقبال راہی‬
‫بلقیس فاطمہ نقوی‬
‫سردار جگنور سنگھ‬
‫حاجی ملک مقبول‬

‫شاہد واسطی‬
‫شرین زاد بہنام‬
‫ظفر علی راجہ‬
‫عابد انصاری‬
‫فخرالدین بلے‬
‫محسن بھوپالی‬
‫مرتضی برلس‬
‫پروفیسر یوسف جمال‬

‫۔۔۔۔۔ ریشہءحنا۔۔۔۔۔ میں دو مقالے شامل ہیں۔ پہل‬
‫مقالہ محترمہ شرین زاد بہنام کا ہے' جب کہ‬
‫دوسرا مقالہ جناب قمر نقوی کا ہے۔ محترمہ شرین‬
‫زاد بہنام کے مقالے پر' کسی دوسرے وقت میں'‬
‫گفتگو کروں گا‪ .‬سردست قمر نقوی صاحب کے‬
‫مقالے سے متعلق' کچھ عرض کرنے کی جسارت‬

‫‪.‬کرتا ہوں‬

‫مادہ پرستی تو ہر دور کی ریتا ہے اور یہ بھی' آج‬
‫کچھ کم نہیں۔ اس بےحسی کے عالم میں بھی'‬

‫حسن و عشق کی اہمیت اپنی جگہ پر قایم رہی ہے۔‬
‫آج غم جاناں پر' غم روزگار کو اہمیت دینے کا‬

‫نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔ زبانی کلمی تو یہ ٹھیک‬
‫ہے اور اس کی حمایت بھی کی جانی چاہیے۔ کہنا‬
‫اور کرن'ا دو الگ چیزیں ہیں' لہذا اسے عملی‬
‫جامہ پہنانا امکان میں ہی نہیں۔ غم جاناں کی آڑ‬
‫میں' عصری کرب کا بھی اظہار ہوتا آیا ہے۔ ظفر‬

‫کا یہ شعر' ‪ 1854‬کے تناظر میں دیکھیے'‬
‫معنویت ظاہر سے یکسر ہٹ کر سامنے آئے گی۔‬

‫چشم قاتل تھی مری دشمن ہمیشہ لیکن‬
‫جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی‬

‫قمر نقوی نے اس مدے پر ہی بحث کی ہے اور ان‬
‫کا موقف اور انداز بڑا جان دار ہے۔ ان کا یہ جملہ‬

‫دیکھیے کتنا باوزن ہے۔‬

‫حقیقت یہ ہے کہ حسرتوں آرزوں تمناؤں مرادوں‬
‫اور خوابوں کا کوئی مقررہ دور نہیں ہوا کرتا' اس‬
‫لئے کہ حسن اور عشق زمان و مکان کے اسیر‬

‫نہیں ہیں۔ ص ‪27‬‬

‫اپنے کہے کی سند میں اشعار درج کیے ہیں۔ پہل‬

‫شعر حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح‬
‫کا درج کیا ہے۔‬

‫اندر آئینہ جاں عکس جمالے دیدم‬
‫ہمچوں خورشید کہ در آپ زللے دیدم‬

‫یہ بات غلط بھی نہیں کہ کلم میں نازکی'‬
‫شیفتگی' کشش اور آشفتگی کیسے پیدا ہو گی۔‬
‫حسن و عشق ہی تو یہ جوہر اس میں پیدا کرتے‬
‫ہیں۔ صاف ظاہر ان عناصر کو پیدا کرنے کے لیے‬
‫اس نوع کے لفظوں کی ضرورت پیش آئے گی۔‬

‫لکھتے ہیں۔‬

‫جذبات کے اظہار وبیان کو نظم کی شکل دینا اور‬
‫اس لفظی شکل کو مضمون کے مزاج سے ہم‬
‫آہنگ کرنا ہی کمال شاعری ہے۔ ص ‪29‬‬

‫نقوی صاحب کا کہنا ہے‬

‫جن شعرا کو قبول عام اور شہرت دوام حاصل ہوئی‬
‫ان کا وہی کلم بنیاد عظمت بنا جو سادہ اور عام‬
‫فہم تھا۔ زبان کی سادگی روزمرہ اور بیساختگی ان‬

‫مشاہیر کا طرہءامتیاز اور فصاحت بلغت و لطافت‬
‫کلم ان کی خصوصیات رہیں۔ ص ‪30‬‬

‫اس کے بعد انہوں نے فصاحت بلغت اورسادگی‬
‫کی استاد شعرا کے کلم سےاسناد کے ساتھ پرمزہ‬

‫اور پرمغز گفت گو کی ہے۔‬

‫فصاحت کیا ہے‬

‫فصاحت نظم کا وہ لباس ہے جو اس کے پیکر‬
‫نازنین سے نہ صرف کامل مربوط ہو بلکہ اس کی‬
‫زیب وزینت اور مراد شعر کی لطافت و نفاست کا‬

‫باعث ہو۔ ص ‪31‬‬

‫بلغت کیا ہے۔‬

‫بلیغ کلم وہ ہے جو فصیح ہو عیوب سے پاک ہو‬
‫اور مقتضائے حال کے مناسب ہو۔ ص ‪34‬‬

‫سادگی کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ‬

‫سادگی سے مراد وہ صورت لفظی ہے جو عام فہم‬
‫ہو اور عالم و عام دونوں طبقات کے افراد کے‬
‫لئے قابل اعتنا قرار پا سکے۔ ص ‪37‬‬

‫کتاب کے آغاز میں قمر نقوی نے جو مقالہ پیش‬
‫کیا ہے' کمال کی معلومات رکھتا ہے۔ اچھے کلم‬
‫کے اصول اور معیارات بڑے خوب صورت انداز‬
‫میں درج کیا ہے۔ یہ شاعر اور شعر کے قاری اور‬

‫سامع کے لیے برابر کی افادیت رکھتا ہے۔‬

‫بلغت کے ضمن میں جدید و قدیم شعرا سے سند‬
‫پیش کرتے ہیں۔ اس ذیل میں غالب کے کلم سے‬
‫بھی سند پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں غالب‬

‫کا یہ شعر فصیح و بلیغ ہے لطیف نہیں‬
‫آگہی دم شنیدن جسقدر چاہے پھیلئے‬
‫مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا‬

‫غالب کے اس شعر کو لطیف قرار دیتے ہیں۔‬
‫موت کا ایک دن معین ہے‬
‫نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‬

‫بہت کم ایسا ہوا ہے کہ مجموعہ شعر کے ساتھ‬
‫معلومات افروز نثر بھی پڑھنے کو ملے۔ قمر‬
‫نقوی کے ہاں یہ کمال شعر و نثر لطف اندوزی‬

‫کے لیے میسر آ جاتا ہے۔‬

‫مصوری سے متعلق کلم ترتیب وار درج ہیں۔‬

‫چل ہوں لے کے میں سرکار دوعالم کے لئے‬
‫جمال شعر وادب' فکر و فن کا نذرانہ‬
‫‪..........‬‬

‫جانے کس نے یہ در کعبہ پہ جا کے لکھ دیا‬
‫اس کا گھر کہتے ہیں اس کو جس کا کوئی گھر‬

‫نہیں‬
‫‪..........‬‬

‫کیسے دل کو سمجھاؤں ہے نظر کا دھوکا سب‬
‫چاند میں جو ہال ہے کان میں جو بالی ہے‬
‫‪.........‬‬

‫مرے لمحے غزالن حرم ہیں‬

‫یہ روز وشب ہی میرے ہمقدم ہیں‬
‫قمر لکھتا ہوں خود اپنا مقدر‬
‫مری طویل میں لوح و قلم ہیں‬
‫‪.........‬‬

‫ایسی حالت میں کہ ہے انجام دونوں ہی کا ایک‬
‫شمع اب کس کو کہوں میں کس کو پروانہ کہوں‬

‫‪...........‬‬

‫راہ منزل میں قدم دیکھ کے رکھنا کہ قمر‬
‫گرنے والے کو زمانے نے سنبھال بھی نہیں‬

‫‪.........‬‬

‫قصہء منصور و سرمد نہ ہوتا تو قمر‬
‫دفتر عشق میں مضمون ہمارا ہوتا‬

‫‪............‬‬

‫بس ایک رقص تک ہی نہ رہ جاؤ دوستو‬
‫قاتل چھپا ہوا ہے پس دیوار دیکھنا‬
‫‪...........‬‬

‫!ہزار آبلہ پائی کا غم رہے لیکن‬
‫نظام شوق میں لزم سفر ہی کرنا ہے‬

‫‪...........‬‬

‫نظم۔۔۔۔ آنسو اور نگینہ‬
‫‪...........‬‬

‫نظم۔۔۔۔ لفانی‬
‫‪...........‬‬

‫مرا شمار بھی کرنا رموز قدرت میں‬
‫کہ میں بھی اپنے زمانے کے واجبات میں ہوں‬

‫‪..........‬‬

‫آنا ہو اگر تم کو آساں ہے پتہ میرا‬
‫دیوار گری ہو گی بجھتا سا دیا ہو گا‬

‫فن تدوین' مباحث اور مسائل ۔۔۔۔۔۔ تعارفی جائزہ‬

‫متن کی تدوین یا متن سے متعلق ہر کام' ناصرف‬
‫باریک بینی کا متقاضی ہے' بلکہ بڑا حساس اور‬

‫بڑی ذمہ داری کا ہے۔ معمولی سی کوتاہی اور‬
‫غفلت' درستی کے ضمن میں' سال ہا سال ہٹرپ‬
‫جاتی ہے۔ غلطی پھر بھی درست نہیں ہو پاتی۔‬
‫گویا معاملہ تادیر متنازعہ ہی رہتا ہے۔ متنی غلطی‬
‫درحقیقت' تفہیمی معاملت میں گڑبڑ کا سبب بنتی‬

‫ہے۔ ہر کہا ناصرف کہنے والے کے جذبات'‬
‫نظریات' ترجیحات' حاجت وغیرہ کی عکاسی کرتا‬
‫ہے' بلکہ وہ اپنے عہد کی' منہ بولتی شہادت بھی‬

‫ہوتا ہے۔‬

‫‪1799‬‬
‫میں ٹیپو کو شہید کرنے والے کے لیے' میر‬
‫صاحب نے کتے کا استعارہ استعمال کیا تھا۔‬

‫استعمال کی دو صورتیں ملتی ہیں۔‬
‫کس کتے نے مارا ہے‬
‫کس کتے نے پھاڑا ہے‬

‫پہلی صورت میں' یہ محض ایک تاریخی واقعہ‬
‫ہے' جو ایک حادثے کی یاد تازہ کرتا ہے۔‬

‫دوسری صورت میں' بربریت سامنے آتی ہے' جو‬






























Click to View FlipBook Version