مرزا صاحبان پڑھنے کو ملتی ہے۔
کتاب کے بقیہ صفحات پر' مولوی غلم محمد کا
اردو پنجابی اور فارسی کلم شامل ہے۔ سرورق پر
موجود معلومات کے مطابق' مولوی غلم محمد
قسمانہ ساکن صابا تحصیل دیپالپور تھانہ حجرہ
ضلع منٹگمری حال ساہی وال کے تھے۔ ص-11
12پر ریختہ کے نام سے کلم درج ہے۔ یہ کل نو
شعر ہیں۔ انہوں نے لفظ ریختہ زبان کے لیے لکھا
ہے یا اردو غزل کے لیے' واضح نہیں۔ پہل
پانچواں اور آخری شعر غزل کے مزاج کے قریب
ہے۔ غزل کے باقی اشعار' مروجہ عمومی مزاج
سے لگا نہیں رکھتے۔ ہاں غزل میں صوفیانہ
طور' صوفی شعرا کے ہاں ضرور ملتا ہے۔
نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا
نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا
نہ پڑتا پرہ تو حق کا اگر رخسار خوباں پر
تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
مقیم اس دام زلفمیں نہ بھنستا اگر دل تیرا
تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا
ص 13پر ایک خمسہ ہے' جسے مولود شریف کا
نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مولود شریف شیخ
سعدی صاحب کے چار شعر دیئے گیے ہیں۔ اردو
مولود شریف کے بعد' مولود شریف مولوی جامی
صاحب کے' نو شعر درج کیے گیے ہیں۔ آخر میں
مولود شریف کے عنوان سے' نو شعر درج کیے
گیے۔ ص 19پر موجود کلم کو کافی کا نام دیا گیا
ہے۔ اس کلم کو نہ پنجابی کہا جا سکتا اور ناہی
اردو' تاہم بعض شعر اردو کے قریب تر ہیں۔ دو
ایک شعر باطور نمونہ ملحظہ ہوں۔
کائی کہو سجن کی بات جن کے پریم لگائی
چاٹ پہل شعر
سلیمان نبی بلقیس نہ ہو ہک آہی مطلق ذات
پانچواں شعر
بحر محیط نے جوش کیا تب نوروں ہویا خوش
کیا چھٹا شعر
موم کرے دل لوہا کامل پیر پناہ ہمارا
سارا چھبسواں شعر
دو غزلیں فارسی کی ہیں۔ اوپر عنوان بھی دیا گیا
ہے
غزل مولوی غلم محمد از صابا
اے بنات تو مزین مسند پیغمبری وے خجل
گشتہءرویت آفتاب خاوری
مطلع فارسی غزل ص 12
غزل از غلم محمد صاحب
جاں فدائے تو یا رسول ا دل گدائے تو یا
رسول ا
مطلع فارسی غزل ص 23
پنجابی کلم کے لیے' لفظ کافی استعمال ہوا ہے۔
داخلی شہادت سے یہ بات واضح ہوتی ہے' کہ لفظ
ریختہ اردو غزل کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ دلی
وغیرہ میں جو مشاعرے ہوا کرتے تھے' ان کے
لیے دو اصطلحات رواج رکھتی تھیں۔ فارسی کلم
کے لیے مشاعرے' جب کہ اردو کلم کے لیے'
لفظ مراختے رواج رکھتا تھا .لفظ اردو محض
شناخت کے لیے لکھ رہا ہوں' یہ لفظ عمومی
رواج نہ رکھتا تھا۔
اس صورت حال کے پیش نظر' غالب کے ہاں
استعمال ہونے وال لفظ ریختہ' گڑبڑ کا شکار ہو
جاتا ہے۔ مولوی غلم محمد پہلے کے ہیں' عہد
غالب کے ہیں یا بعد کے' بات قطعی الگ تر ہے۔
مشاعروں میں زیادہ تر غزلیہ کلم سنایا جاتا تھا
اور آج صورت حال مختلف نہیں۔ گویا غزل کے
لیے لفظ ریختہ' جب کہ مشاعرے کے لیے لفظ
مراختہ استعمال ہوتا تھا۔ لمحالہ زبان کے لیے
کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہوگا۔ اس حساب
سے غالب کے ہاں بھی غزل کے معنوں میں
اسستعمال ہوا ہے۔ اگر یہ صاحب' غالب کے بعد
کے ہیں' تو اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا کہ لفظ
اردو باطور زبان استعمال ہوتا ہو گا لیکن عمومی
مہاورہ نہ بن سکا تھا۔ اس کا عمومی مہاورہ بننا
بہت بعد کی بات ہے۔
لفظوں کو مل کر لکھنے کا عام چلن تھا۔ اس
کتاب میں بھی یہ چلن موجود ہے۔ مثل
جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجہ نہیں غم
ہم سے ص 13
تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
آنکہون میں ص 12
دو چشمی حے کی جگہ حے مقصورہ کا رواج
تھا۔ مثل
نہوتا سر مولے کا اگر کجہ ذات انسانمیں
بہت سے لفظوں کا تلفظ اور مکتوبی صورت آج
سے الگ تھی۔ مثل
نہوتا بھیت اسمیں خورشید فدا کا
بھید ص 11 بھیت
ولیوں کے کاندہے قدم غوث اعظم
کاندہے کندھے ص 24
تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا
میں اضافت کی بجائے ے کا استعمال کیا گیا ہے۔
شاعر نے خوب صورت مرکبات سے بھی کلم کو
جازب فکر بنانے کی سعی کی ہے۔ مثل
حسن منظور
تو ہر عاشق کی آنکونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
ص 12
ستارہ محمدی
غالب سب سے آیا ستارہ محمدی ص13
مستعمل سب پہ ہے لیکن سب سے استعمال کیا
گیا ہے۔
مرکب لفظ دیکھیے
خداگر
عمر گر عدالت خداگر نہ کرتے ص 24
کلم میں ریشمیت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مثل
نہ پڑتا پرتوہ حق اگر رخسار خوباں پر
تو ہرعاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
ص 12
کیا زبردست طور سے صنعت تضاد کا استعمال ہوا
ہے۔
تو دین اورکفر میں جدائی نہ ہوتی ص 24
صنعت تضاد کی مختلف نوعیت کی دو ایک مثالیں
اور ملحظہ ہوں۔
نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا
نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا ص
12
جہاں صنعت تضاد کا استعمال ہوا ہے' وہاں اردو
زبان کو دو خوب صورت استعارے بھی میسر آئے
ہیں.اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر
تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا
ص 12
اشعار تلمیحات سے متعلق ہوتے ہی۔ تلمیحات کا
استعمال اسی حوالہ سے ہوا ہے۔ اس ذیل میں
دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔
اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر
تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا
ص 12
لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں
نے
اگر یوں جانتا شیطاں تو وہ مغرور کیوں ہوتا ص
11
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دو چشمی حے کا
استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ دو ایک مثالیں ملحظہ
ہوں۔
لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں
نے ص 11
بھیت سجن کی خبر لیاوے ص 19
تو ہم عاجزوں کی رھائی نہوتی ص 24
زبان کا مہاورہ بھی برا اور ناموس نہیں۔ مثل
کیا دعوئے اناالحق کا ہویا سردار کیوں ہوتا
ص11
کائی کہو سجن کی بات
جن کے پریم لگائی چاٹ ص19
گذر گیا سر توں پانی ص20
اس شعری مجموعے کے اردو کلم پر' پنجابی
کے اثراات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔
بعض جگہ لسانی اور کہیں لہجہ پنجابی ہو جاتا
ہے۔ مثل
نہ ہوتا بھیت اسمیں اگر خوشید ذرہ کا ص 11
تو ہر ذرہ انہاں خورشید سے پرنور کیوں ہوتا
ص12
ہک لکھ کئی ہزار پیغمبر گذر گئے ص 13
اب لہجے سے متعلق ایک دو مثثالیں ملحظ ہوں۔
جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجھ نہیں غم
ص 13
علی کو جے مشکل کشا حق نہ کرتے ص 24
اردو پر ہی موقوف نہیں' پنجابی بھی اردو سے
متاثر نظر آتی ہے۔ مصرعے کے مصرعے اردو
کے ہیں۔
کہیں میراں شاہ جیلنی ہے کہیں قطب فرید
حقانی ہے
کہیں بہاؤالدین ملتانی ہے کہیں پیر پناہ لوہار
ص 19
اس چوبیس صفحے کی مختصر سی کتاب سے' یہ
بات واضح ہوتی ہے' کہ مولوی غلم محمد آف
صابا تین زبانوں کے شاعر تھے .مختلف اردو
اصناف میں شعر کہتے تھے اور اچھا کہتے تھے۔
ان کا کلم کیا ہوا اور کدھر گیا' کھوج کرنے کی
ضرورت ہے۔
انسانی تاریخ کی بگ گنز
بہت سے لوگ‘ جیتے جی مردہ زندگی گزراتے
ہیں۔ مرنے کے بعد تو خیر مرنا ہی ہوتا ہے۔
ایسے لوگ آٹے میں نمک رہے ہیں جن کا جینا
اور مرنا‘ ہمیشہ ز ندہ اور فخریہ رہتا ہے۔ زندگی
اور زندگی کے بعد‘ مثبت یادیں لوگوں کے دلوں
میں محبت اور احترام کے جذبے پیدا کیے رکھتی
ہیں۔ اس کے برعکس منفی یادوں سے متعلق
لوگ آتے وقتوں میں بھی‘ نفرت کی تیز دھار پر
رہتے ہیں۔ معاملت حیات میں ان کی پیروی گناہ
کبیرہ سمجھی جاتی ہے جب کہ مثبت قدروں کے
حامل لوگ‘ زندگی کے معاملت میں حوالہ بنے
رہتے ہیں اوران کی پیروی کو درست سمجھا جاتا
ہے۔ گویا وہ درستی کا معیار بن جاتے ہیں۔
اپنی حقیقت میں یہ ہی بڑے لوگ اور یہ ہی
درستی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے ہونے کی
بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثل انسانی کردار
کے دو عناصر بڑے اہم ہیں‘ پہل سچ کہنا اور سچ
کرنا‘ اس کے سوا کچھ نہ کرنا۔ دوسرا عنصر
امانت کی حفاظت کرنا ہے‘ یعنی جو اور جیسا
واپس لوٹا دینا۔ ہر دو معاملت میں‘ آدمی سے
نادانستہ سہی‘ کمی کوتاہی ہو ہی جاتی ہے۔ اس
حوالہ سے‘ زیادہ سے زیادہ کو‘ انسانیت احترام
دیتی آئی ہے۔ اپنے تو محبت کرتے ہی ہیں‘ غیر
بل کسی خاص کے‘ احترام نہیں کرتے۔ آپ کریم
کی رسالت اور نبوت کو ایک طرف رکھیے‘ آپ
کریم کے کہے کو‘ دشمن بھی مانتے تھے۔ گویا
آپ کریم سچ کہتے اور سچ کے سوا کچھ نہیں
کہتے تھے۔ دشمن‘ آپ کو صادق اورامین کے لقب
سے ملقوب کرتے تھے۔ ہر دو لقب‘ انسانی تاریخ
کا آج بھی حصہ ہیں۔آپ کریم کے ان شخصی
عناصر سے‘ غیرمسلم‘ آج بھی متفق ہیں۔
دھن بڑی خوب صورت اور پیاری چیز ہوتی ہے۔
آدمی اسے لٹتا یا ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔
مثل معروف ہے :چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔
اسے اپنے ہاتھوں‘ کسی دوسرے کے‘ بڑے اور
مثبت مقصد کے لیے تیاگنا‘ ایسی معمولی بات
نہیں۔ حضرت خدیجہ علقہ کی صاحب حیثیت
خاتون تھیں۔ آپ نے حضور کریم‘ جو آپ کے
خاوند بھی تھے‘ کےمقصد پر سب کچھ لٹا دیا۔
جب کہ حقیقت یہ ہے‘ کہ خواتین اپنے مردوں کے
ہر اچھے برے‘ چھوٹے بڑے کاز کےساتھ ویر
کماتی آئی ہیں۔ اسے انسانی تاریخ کی‘ انمول مثال
سمجھا جاتا ہے۔
ضرورت مندوں کی حاجات پوری کرنا‘ دروازے پر
آئےسوالی کو خالی ہاتھ نہ لوٹانا‘ بلشبہ قابل
تحسین ہی نہیں‘ دلوں کو مسخر کر لینے وال عمل
ہے۔ معاشرے میں‘ بہت سےاہل ثروت موجود
ہوتے ہیں‘ لیکن بانٹ دینا‘ ہر کسی کو نصیب نہیں
ہوتا۔ اس کے لیے‘ بہت بڑا حوصلہ درکار ہوتا
ہے۔ قارون کے پاس رزق کی کمی نہ تھی‘ لیکن
وہ بانٹ کھانے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔ حاتم طائی
کے پاس رزق تھا‘ وہ بانٹ دیتا تھا ‘ اسی لیے آج
بھی اسے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں دی جاتی
ہیں۔ وہ یقینا‘ انسانی تاریخ کا روشن مینار ہے۔
عدل زندگی کے توازن کا‘ لزمہ اور لوازمہ ہے۔
جہاں عدل ہو گا‘ وہاں آسودگی اور سکون ہو گا۔
عدل شخصی ہو یا ریاستی‘ انسان اور معاشرے کو
زندہ رکھتا ہے۔ اس کا قتل‘ انسان اور معاشرے کو
زندہ در گور کر دیتا ۔ عادل زندہ رہتے ہیں۔ آتے
وقت کےانسان‘ ان کی مثالیں دیتے ہیں۔ قاضی کو
اس لیے معزول کر دیا گیا‘ کہ وہ حاکم کے احترام
میں کیوں کھڑا ہوا‘ کیوں کہ حاکم باطور ملزم
قاضی کے سامنے پیش ہوا تھا۔ عدل کے حوالہ
سے‘ عمر بن عبدالعزیز کو آج بھی‘ قدم قدم پر
حوالہ بنایا جاتا ہے۔
حسین ابن علی کربل سے نہ گزرتے تو بھی اپنے
علم‘ تقوی‘ سخاوت اور عبادت گزاری کے حوالہ
سےانسان کے لیے معتبر رہتے یہ ہی نہیں‘ پسر
علی اور نواسہءرسول ہونا کوئی معمولی اعزاز نہ
تھا۔ تاہم کربل سے گزر کر‘ جو انہوں نے عزت و
اعزاز پایا وہ تاابد باقی رہے گا۔ میرا یہاں بنیادی
مقصد یہ تھا‘ کہ بڑوں کی اولد ہونا بھی‘ انسان
کو باقی رکھتا ہے۔ آج بھی سادات کو عزت دی
جاتی ہے۔ کیوں‘ وہ فاطمی اور نسل حسن وحسین
ہیں۔ اگر وہ حسن و حسین کے رستے پر چل کر
آقا کریم کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں‘ تو علی
ہجویری اور معین الدین چشتی کی طرح آتے
وقتوں میں بھی یاد رکھے جاتے ہیں ورنہ ان کی
عزت لمحاتی رہتی ہے۔
ادب انسانی مزاج‘ رویے‘ ترجیحات اور احساسات
کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ اپنے عہد کا مورخ بھی
ہوتا ہے۔ مورکھ کا لکھا شاہوں کا قصیدہ ہوتا ہے
جب کہ یہ لوگ حقائق کو اپنے ہی رنگ قلم بند کر
دیتے ہیں۔ سچ کہنے کی سزا انہیں بھی ملتی رہی
ہے۔ تاریخ انسانی بھل ان بےلوث خدمت گاروں
کو کیسے بھول جائے گی۔ شاہی گماشتوں کی یہاں
بھی کمی نہیں رہی۔ قاری ان کے چہر وں سے
واقف رہیں گے۔ رومی‘ حافظ‘ جامی‘ سعدی‘
خسرو‘ رحمان بابا‘ سچل سرمست‘ نانک‘ کبیر‘
شاہ حسین لہوری‘ بلھے شاہ قصوری‘ غالب‘
فیض‘ حسرت‘ گوئٹے‘ ٹیگور‘ شارل بودلیئر‘
ایملی ڈکنسن‘ سڈنی ‘ شیلے‘ فینگ سیو فینگ
وغیرہ کبھی بھلئے نہیں جا سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی
بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ بھول جانے کے لوگ نہیں ہیں۔
علم کا تعلق آگہی سے ہے اور آگہی سے بڑھ کر‘
کوئی نعمت نہیں۔ ہاں اس کا منفی استعمال‘ نعمت
کو لعنت میں بدل دیتا ہے۔ عزازئیل کو جہاں تکبر
نے ڈبویا وہاں علم کا غلط اطلق بھی‘ اسے لے
ڈوبا۔ اس کا علم آدم کو زحل کی تخلیق سمجھ رہا
تھا۔ نتیجہءکار حکم عدولی کے سبب‘ مغضوب
ہوا۔ علم کی مثبت تفہیم کی صورت میں‘ نہج
البلغہ‘ فتوح الغیب اور کشف المعجوب وجود میں
آ کر‘ قیامت تک کے انسانوں کے لیے نشان راہ
بن گئیں۔ علم کا مثبت استعمال‘ رحمت اور نعمت
ٹھہرا۔ غلط استعمال‘ غلط تفہیم یا غلط اطلق
انسانیت کے لیے زحمت اور لعنت بن گیا۔ علم کے
ہر دو کردار‘ تاروز حشر صفحہءانسانیت پر‘ ان
ہی حوالوں سے‘ اپنا وجود باقی رکھیں گے۔
ا سے عشق کے غازی مرد‘ منصور کو بھل
تاریخ کیسے فراموش کر سکے گی‘ جس نے سچ
کہنے کے جرم میں‘ دس سال قید تنہائی کی سزا
کاٹی۔ اس کی پیشانی پرشکن تک نہ آئی۔ پھر قتل
ہوا‘ جلیا گیا‘ راکھ اڑائی گئی۔ سقراط کا بھی یہ
ہی جرم تھا۔ اس جرم کی پاداش میں قید ہوا‘ پھر
زہر پلیا گیا۔ سچ کےعلم برداروں کے ساتھ یہی
ہوتا آ رہا ہے۔
والدین کی اطاعت گزاری‘ بڑے اعلی درجے کی
چیز ہے۔ جہاں والدین کو رسوا کرنے کی‘ ہمیشہ
سے روایت چلی آتی ہے‘ وہاں ان کی خدمت
گزاری اور فرمانبرداری کی مثالیں‘ بھی مل جاتی
ہیں۔ یہ مثالیں آتی نسلوں کے لیے نمونہ بنی رہتی
ہیں۔اس ذیل میں‘ کاسا بیانکا کی مثال آج بھی
ریکارڈ میں موجود ہے۔
عظیم کار نامے‘ وہ کسی بھی شعبہ سے متعلق
ہوں‘ انسانی تاریخ میں‘ اپنے پورے پہار کے
ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ آتی نسلیں ان کے کیے
سےاستفادہ کرتی ہیں۔ حکیم جالینوس کی جوارش
جالینوس آج بھی اسی وقار سے باقی ہے۔
ہومیوپیتھک‘ حضور کریم کی عطائے خاص ہے
اور آج شرق و غرب میں باطور طریقہءعلج
شہرہ رکھتی ہے۔ مارکونی نے ریڈیو دیا‘ اس
دریافت نے مزید کے حیرت ناک دروازے کھول
دیے۔ ان کارناموں کو کیسے فراموش کیا جا
سکے گا۔
عشاق خواتین و حضرات کو‘ اس مرض کے
مریض‘ یاد رکھیں گے۔ انہیں اور ان کے کیے کو‘
باطور سند استعمال میں رکھیں گے۔ ان کی قبریں‘
منت گاہ بنی رہیں گی۔ اس کے برعکس‘ باغیرت
اور ذمے دار والدین‘ ا کے حضور دست بہ دعا
رہیں گے کہ وہ کسی کو‘ ایسی گندی‘ ناہنجار‘
نکمی اور کام چور اولد عطا نہ کرے‘ جو قیات
تک ان کی رسوائی کا سبب بنی رہے۔ وہ یہ بھی
دعا کریں گے‘ کہ ا ہر کسی کو نیک‘ باکردار
اور انسانیت کے لیے کوئی بڑا کام کرنے والی
اولد عطا کرے۔
فرماں برداری کی زندگی‘ بڑی جان دار حقیقت
ہے۔ یہ فرماں برداری مثبت ہو کہ منفی‘ زندہ رہتی
ہے۔ طارق ابن زیاد نے کشتیاں جل دینے کا حکم
دیا۔ یہ حکم‘ انتہا پسندی پر مبنی تھا۔ اسلم میانہ
روی کا دین ہے اور میانہ روی اختیار کرنے کا
حکم دیتا ہے۔ اس لیے‘ یہ حکم اسلمی ضباطے
سے متصادم ہے۔ جنگی حکمت عملی کے بھی
خلف ہے۔ چاروں رستوں کا بند ہونا‘ درست نہیں۔
دشمن پر بھی چاروں رستے بند کر دینا‘ کوئی
دانش مندی کی بات نہیں۔ یہ تو اپنی ہی موت کو‘
دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کےاس غیر
منطقی‘ جنونی اور تشدد آمیز حکم کو‘ مانا گیا‘
کسی نے چوں تک نہ کی۔ جو بھی سہی‘ فرماں
برداری کی اس مثال کو بھلیا نہیں گیا۔
میدان مارنے والے بھی‘ انسانی تاریخ میں یاد
رکھے گیے ہیں۔ مشتعل ذہن ان کے کارناموں کو
پرتحسین نظروں سے دیکھتے آئے ہیں۔ تحفظ اور
محض وسائل اور علقوں پر قبضہ کے لیے‘ لڑی
گئی جنگوں میں‘ زمین اور آسمان کا فرق ہوتا
ہے۔ اسکندر وسائل اور علقوں پر قبضہ کے
لیے‘ گھر سے نکل تھا۔ وہ پوری دنیا فتح کر
لینے کا‘ ریکارڈ قائم کرنا چاہتا تھا۔ اسے اگر
انصاف کی نظر سے دیکھا جائے‘ تو اسے محض
ایک جنون اور وحشت ناکی کے سوا کچھ نہیں کہا
جا سکتا۔ اپنے اور غیر لوگ مرے‘ کتنا علقہ
تباہی سے دوچار ہوا۔ یہ کوئی انسانی فلح کے
متعلق کام نہ تھا۔ محمود ہو کہ بابر‘ وہ بھی اسی
کے قبیلہ کے لوگ تھے۔ جو بھی سہی‘ تاریخ میں
باطور فاتح‘ زندہ ہیں۔ مشتعل اور قبضہ گروپ
انہیں ہمشہ یاد رکھیں گےاور ان کو داد دیتے
رہیں گے۔
اقربا پروری‘ قبیلہ پالنی اور گماشتہ نوازی میں
بڑے بڑے حسینوں کے نام آتے ہیں۔ قبیلہ گالنی
میں بھی بڑے اعلی درجہ کے لوگ آتے ہیں۔ بابر
نے بیٹے پر جان قربان کر دی۔ ہمایوں نے‘ خون
کے پیاسے بھائیوں کو بار بار معاف کیا۔ شاہ
جہاں نے بھائیوں اور ان کی اولدوں کو بڑی
بےدردی اور سنگ دلی سے مارا۔ اورنگ زیب
اس سے کم نہ رہا اور اس ذیل میں‘ باپ کو بھی
بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ اس نے ناصرف بھائیوں
کو قتل کیا‘ باپ کو قید میں سات سال تک قید رکھ
کر اس سے بھی بازی لے گیا۔
جبر وستم اور قتل وغارت کے شائق حضرات کے
کیے پر‘ مورکھ نے کتنے ہی پردے کیوں نہ ڈال
دیے ہوں‘ آتے وقتوں میں‘ پردے سرکانے والے‘
پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی لہو‘ ان پردوں کے
رنگ سرخی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ حساس دلوں
کو بنی اسرائیل کے دودھ پیتے‘ مقتول معصوم
بچوں کی سسکیاں‘ قیامت تک سنائی دیتی رہیں
گی اور وہ‘ بےساختہ فرعون پر لعنت بھجیں گے۔
حجاج‘ زیاد‘ مقتدر‘ ہلکو‘ چرچل‘ مسڑ جھاڑی
وغیرہ کی سفاکی اور بےدردی‘ ازہان سے کبھی
محو نہ ہو پائے گی۔ لعنتیں ان کا مقدر رہیں گی۔
میں نے چند ایک کردار‘ درج بالسطور میں درج
کیے ہیں‘ ورنہ ایسے بیسیوں کردار ہیں‘ جنہیں
انسانی تاریخ کی‘ بگ گنز کا‘ بلتردد نام دیا جا
سکتا ہے۔ ان کے کیے کے حوالہ سے‘ عزت اور
نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ خیر اور شر کی
راہیں متعین ہوتی ہیں۔
شکیب جللی کے کلم کی ہجویہ تشریح
شکیب جللی کی روح سے معذرت کے ساتھ
عابد انصاری اگر زندہ ہیں‘ تو بڑے کمال اور اعلی
درجے کے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں‘ زندگی چلتی
پھرتی نظر آتی ہے۔ اگر مر گیے ہیں‘ تو ا ان کو
بخشے یا نہ بخشے‘ ا کی مرضی۔ چوتھے درجہ
کے شاعر تھے۔ ان کے کلم میں‘ ایسی کوئی
خاص بات نہیں تھی۔ باطور عظیم شاعر‘ وہ میری
ضرورت سے کم تر‘ عزت کرتے تھے۔ میں ہی‘
آج کا سب سے بڑا شاعر ہوں‘ کوئی مانے یا
نامانے‘ اس کی مرضی‘ اس سے کیا فرق پڑتا
ہے۔ میں تو خود کو مانتا ہوں۔ میں ہی میں حقیقت
ہے‘ اور آج کا تکیہء کلم بھی۔
فروری ١٩٩٩٢٤
کو عابد انصاری صاحب نے‘ مجھے شکیب جللی
کا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔ روشنی اے روشنی۔۔۔۔۔ دیا۔
مجھے اس پر‘ بہت پہلے لکھنا چاہیے تھا‘ لیکن
میں اس پر کچھ بھی نہ لکھ سکا۔ بلشبہ مجھ
سے یہ ادبی زیادتی ہوئی۔ شکیب جللی جوانی ہی
میں‘ اپنے ہاتھوں‘ ملک عدم کا مسافر ہوا۔ اس
کے حالت کیا رہے ہوں گے‘ میں نہیں جانتا۔ دیر
شاید مرحوم کی زندگی کا حصہ رہی۔ بیس سال
سے زیادہ عرصہ‘ کلم کا مسودہ احمد ندیم قاسمی
کے پاس پڑا رہا۔ ١٩٩٣میں‘ اشاعت اس کا مقدر
بنی۔ پندرہ سال کے بعد‘ مجھ کم کوس کو‘ اس پر
کچھ لکھنے کی توفیق ہوئی ہے۔ یہ مجموعہ
غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ ١٥٩
صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں‘ احمد ندیم قاسمی
کا‘ عرض ناشر کے نام سے‘ نوٹ ہے۔ کلم پر
سرے سے‘ کوئی بات نہیں کی گئی۔ اشاعت کی
دیری پر چند چلتے چلتے سطور کھینچی گئی ہیں۔
کیوں نہیں لکھا گیا‘ میں اس ذیل میں کچھ عرض
کرنے سے قاصر ہوں۔ بڑا آدمی ہی‘ ہمیشہ بڑا
شاعر ٹھہرا ہے۔ شکیب بڑا آدمی نہیں تھا۔ اس
لیے اسے‘ بڑا شاعر کہنا‘ ادبی روایت کے منافی
ہے ہوگا۔
ایمان داری‘ ہمیشہ اپنا آدمی ہے‘ کے لیے رہی
ہے۔ ادبی ایمان داری کا تقاضا یہ ہی ہے‘ کہ میں
اسے اچھا اور بڑا شاعر نہ کہوں۔ ماننا‘ ذات کے
اندر کا معاملہ ہے۔ میں یہ سب‘ اسے بڑا یا اچھا
شاعر ثابت کرنے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ فارسی
حکایت کے مطابق تم مجھے حاجی کہو‘ میں
تمہیں حاجی کہوں گا۔ ہمارے ہاں آ کر‘ اس روایت
نے اپنی تفہیم تبدیل کی ہے‘ یعنی شاعر دو ہی
بڑے ہیں‘ ایک تم اور ایک میں۔ اگر دیکھا جائے‘
تو تم بھی کیا ہو‘ بس میں ہی ہوں۔ میں چوں کہ
مزاج میں‘ لوگوں سے تھوڑا ہٹ کر ہوں ۔ تبدیلی
تفہیم کا قائل ہوں۔ میرے نزدیک تم کیا ہو‘ کچھ
بھی نہیں‘ محض تک بند۔ اردو میں‘ شاعر فقط دو
ہوئے ہیں‘ ایک مرزا غالب‘ دوسرا میں۔ اگر ادبی
دیانت داری سے دیکھا جائے‘ تو یہ ہی نترے گا‘
وہ بھی کوئی شاعر تھا‘ شاعر تو‘ فقط میں ہی
ہوں۔ میں یہاں‘ ایک عرصہ پہلے لحد میں اترنے
والے‘ جو میری سلم دعا میں بھی نہ تھا‘ کی
قصیدہ گوئی یا قصیدہ خوانی کرنے نہیں جا رہا۔
بس‘ رسما وعدہ کا قرض اتارنے جا رہا ہوں۔
نادانستہ‘ اس کی شان میں اگر کوئی جملہ میرے
قلم سے نکل جائے‘ تو اسے آف دی ریکارڈ
سمجھا جائے۔
:بھل یہ کوئی شعر ہے
مشعل درد جو روشن دیکھی
خانہءدل کو منور جانا
مشعل درد کا سبب‘ دل کی آسودگی کو قرار دے
رہا ہے۔ درد تو چوٹ لگنے سے ہوتا ہے۔ چوٹ
زیادہ تر گرنے‘ یا کسی سے پھینٹی کھانے سے
لگتی ہے۔ گالی گلوچ تو عام سی بات ہے۔ اس
سے تھوڑا بہت‘ یا گالی کی نوعیت کے مطابق جی
برا ہوتا ہے‘ چوٹ نہیں لگتی۔ دل کا اس سے کیا
تعلق۔ کیسا شاعر ہے‘ روشن اور منور کو ایک
ساتھ باندھ رہا ہے۔ مشعل میں عل اور دل‘ ہم
صوت ہیں‘ ایک ساتھ لنے کی کیا ضرورت تھی۔
دل کی جگہ قلب کا استعمال کر سکتا تھا۔ دل جسم
کا حصہ ہے‘ شکیب نے‘ اس شعر میں دل اور
جسم کو‘ ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ ہائے
ہائے اتنی بڑی زیادتی۔ ایک ہی کرے کے دو الگ
الگ موسم‘ اوپر سے یہ قیامت‘ کہ اس کے
مطابق دل کا موسم‘ جسم و جان اور جسمی
حسوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بھی کوئی کرنے اور
کہنے کی بات ہے‘ کہ دل کے موسم‘ موڈ کو
خراب کرنے‘ یا موڈ کو سٹ کرنے کا باعث بنتے
ہیں۔
اب ذرا اس شعر کو دیکھیے
جو بھی ہم درد بن کے آتے ہیں
غم کا احساس ہی جتاتے ہیں
دکھ درد میں شرکت کرنے والے‘ غم کا بوجھ ہلکا
کرنے آتے ہیں۔ شکیب اسے بھی منفی نظروں
سے دیکھ رہا ہے۔ آپ ہی بتائیے‘ چند لفظوں میں
مہمل ہی کہا جا سکتا ہے۔ کھل کھل کر بات ہونی
چاہیے۔ آنے وال‘ ماجرا سنے گا‘ اور اس پر رائے
زنی بھی کرے گا۔ بار بار تذکرے سے‘ بھل غم
کس طرح ہرا اور تازہ ہو گا۔ آنے وال یہ بھی تو
کہتا ہے‘ جو ہوا بھول جاؤ اور حوصلے سے کام
لو۔ ہر آنے وال سب سن اور اپنی سنا کر یہ کہتا
ہے۔ اس میں‘ غم کا احساس جتانے والی‘ کون
سی بات ہے۔ درد کا تعلق محسوس سے ہے۔
احساس بھی‘ محسوس سے ہے۔ شکیب نے خود
ہی‘ محسوس کو دونوں مصرعوں میں اندراج کیا
ہے۔ اب ہر‘ یعنی جو بھی‘ کے جتانے کا گلہ کر
رہا ہے۔
:یہ شعر بھی‘ بھل کوئی شعر ہے
کیا نظر آئے گا ابھی ہم کو
یک بیک روشنی میں آئے ہیں
اس شعر میں‘ ایسی کون سی نئی بات ہے۔
اندھیرے سے‘ روشنی میں آنے کے بعد‘ فورا
کچھ نظر نہیں آتا۔ بھوک سے سیری کی طرف‘ آ
جانے کے بعد معاملہ فوری تو سمجھ میں نہیں آ
جاتا۔ نوکری نہ مل رہی ہو‘ اچانک مل جائے‘ تو
خوشی اور حیرت تو ہوتی ہی ہے۔ یک بیک۔۔۔۔۔۔۔
سے تکرار کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ تکرار‘
بھل کوئی صفت والی بات ہے۔ یک بیک کی
بجائے‘ فورا لکھا جانا چاہیے تھا۔ نظر کے ساتھ‘
روشنی کے استعمال کی آخر کیا ضرورت تھی۔
بدحالی سے خوش حالی تک کا سفر‘ کھٹن سہی‘
لمحہ بھر کو تو حواس باختہ کر دیتا ہے۔ مضمون
فطری ہے‘ اس لیے اس شعر کی تحسین نہیں
بنتی۔
پھول مرجھا گیے‘ گل دان بھی گر کر ٹوٹا
کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک
ایک ہی چیز سے متعلق چار الفاظ یعنی پھول‘
مرجھانا‘ گل دان‘ خوش بو‘ استعمال کرنے کی
آخر کیا ضرورت تھی۔ بازگشت کے وجود سے‘
شاید شکیب واقف نہ تھا۔ گر کر‘ نے غنائیت کا
عنصر شعر میں داخل کر دیا ہے۔ غنا کے سبب
گناہ گاری کا عنصر شعر کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ
اسلم سے دوری کی نشانی ہے۔ خوش بو بسنا
بھی کوئی بات ہے۔ قصہ ختم ہو جانے کے بعد
بھی‘ یادیں تو باقی رہتی ہیں۔ یہ کون سی پڑھی
بات ہے‘ کون نہیں جانتا۔ کیسا شاعر ہے‘ روٹین
کے معمولت کو شعر کا مضمون بنا رہا ہے۔
لو دیکھو‘ کیسا شاعر ہے‘ کہتا ہے کہ کرن سے
کرن میں آگ لگتی ہے۔ اس دور میں جب بجلی
آگئی ہے‘ چراغ سے چراغ جلنے کی بات کر رہا
ہے۔ دوسرا چراغ رات ہی کو جل کرتے۔
لوڈشیڈنگ کا دور سہی‘ لوگ دیوے کب جلتے
ہیں۔ روشنی کے لیے‘ کئی طرح کے وسیلے اور
ذریعے آگئے ہیں۔ بجلی کے دور میں دیوں کی
بات‘ قطعی عجیب ہے۔ آج ہر شخص کو اپنی پڑی
ہوئی ہے۔ آلو ستر روپے جب کہ ٹماٹر سو میں
کلو ملتے ہیں۔ آدمی‘ آدمی کا سہارا یا وسیلہ بنے‘
کیسے ممکن ہے۔ نوکری کے حصول کے لیے‘
لوگ پڑھتے ہیں۔ آگہی کی کب ضرورت رہی ہے۔
اس حوالہ سے بھی‘ شکیب کا گلہ کرنا درست
نہیں بنتا۔ نہ پہلے سے استاد رہے ہیں اور ناہی
شاگرد۔ کہتا ہے
وہ دن نہیں‘ کرن سے کرن میں لگے جو آگ
وہ شب کہاں‘ چراغ سے جلتے تھے جب چراغ
دن‘ کرن سے کرن‘ آگ۔۔۔۔۔۔۔دن کے وقت کرن سے
کرن میں آگ لگتی ہے‘ دیوانوں کی سی بات ہے۔
آج تو دن کے وقت‘ ہر روشن دوسرے روشن کو
بجھاتا ہے۔ ہاں پھوک۔۔۔۔۔۔ پلیز پھوک کو ہوا کے
معنوں میں نہ لیں۔ اگر ہوا مراد ہوتی‘ تو مصدر
بھرنا کا ضرور استعمال میں لتا۔ کسی گریب آدمی
کے لیے پھوک بھرنا‘ استعمال میں نہیں آتا۔ یہ تو
بڑے بڑوں سے‘ مطلب بری سے متعق ہے۔
پھونک میں نون مجھے حشوی سا لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھونک کو‘ جل دینے کے معنوں میں لینا‘ عصری
تقاضوں کے مطابق ہے۔
شب‘چراغ ‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبوں‘ قمقموں یا انڈوں کو
چراغ کہنا‘ کسی طرح فصاحت میں نہیں آتا۔ سوچنا
یہ بھی ہے‘ کہ چراغ جلنے لگے تو بےچارے
چور اچکوں کا کیا ہو گا‘ وہ تو بن آئی مارے
جائیں گے۔ عجیب و غریب متعلقات ہیں۔
اتنا گہرا رنگ کہاں تھا رات کے میلے آنچل کا
یہ کس نے رو رو کے‘ گگن میں اپنا کاجل گھول
دیا
میں اس شعر پر سکی واہ نہیں کروں گا۔ بھوکا
ننگا شخص تھا۔ زندہ بھی ہوتا‘ تو چائے کی پیالی
پیش کرنے کے بھی قابل نہ ہوتا۔ بھوکا ننگا
شخص‘ کیسے کام کی بات کر سکتا ہے۔ گہرے
اندھیرے کو رنگ کا نام دے رہا ہے۔ عجیب آدمی
ہے‘ اوپر سے اسے رات کا میل آنچل قرار دے
رہا ہے۔ دوسرے مصرعے میں وجہ‘ کیا عجیب
قرار دے رہا ہے۔
کس نے
رو رو کے
کاجل گھول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نے‘ کے
اپنا‘ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گگن میں
کس نے
رو رو کے
اپنا کاجل
گھول دیا
ان میں کسی ادبی دیانت دار کو‘ کوئی خاص بات
نظر نہیں آئے گی۔ اگر کسی کو نظر آتی‘ تو اس
کام کو تحقیق و تنقید کے قابل ضرور سمجھتا۔
کلم کے صوتی حسن کے لیے‘ بےفضول ہم
صوت لفظوں کا استعمال کر رہا ہے۔ خوب صورت
آواز اور لہجہ‘ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ آج کل نرم
اور ریشمی گفتگو‘ بنے بگاڑتی ہے۔
:یہ بھی کوئی شعر ہے
دیکھتی رہ گئی محراب حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
انگڑائی کا خم‘ کوئی چودہ سو سال پہلے کی بات
ہے۔ پرانی باتوں کو‘ دہرانے کی آخر کیا ضرورت
ہے۔
عصری حالت و ضرورت کے مطابق‘ پہلے
مصرعے کو یوں ہونا چاہیے تھا۔
دیکھتی ہے اب محراب حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
کچھ ہی دیر پہلے‘ ایک ملنے والے اٹھ کر گیے
ہیں۔ فرما رہے تھے‘ ایک صاحب‘ جو دکھنے میں
پرہیزگار تھے‘ ایک لکھ چالیس ہزار روے لے
کر‘ پھر ہو گیے ہیں۔ اب تو سارا سال‘ انسان کی
اس انگڑائی کے خم کو‘ محراب حرم دیکھتی ہے۔
صیغہ رہ گئی‘ عصری دیانت کے خلف ہے۔ جو
شاعر‘ اپنے عہد کو فوکس کرتا ہے‘ اور شاہ
خوانی سے کام لیتا ہے‘ اسے ہی بڑے شاعر
ہونے کا‘ شرف حاصل ہو سکتا ہے۔
شکیب‘ احساس کو دشت قرار دیتا ہے۔ اس پر ستم
یہ کہ‘ اس دشت میں شعلہ سا اٹھاتا ہے۔ اس
شعلے کو‘ پیار کے شہر میں بدل دیتا ہے۔ شہر
سے‘ مختلف انواع کی اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔
مخلتف طبع کے لوگوں سے ملقات ہوتی ہے۔
وہاں‘ بھیڑ اور رونق کا موسم ہوتا ہے۔ جب شعلہ‘
کسی شہر کی بنیاد بنے گا‘ تو خرابہ جنم لے گا۔
کہیں میں‘ شکیب کی تعریف کرکے‘ ادبی خیانت کا
تو مرتکب نہیں ہو رہا‘ معافی چاہوں گا۔ نادانستگی
میں لکھ گیا ہوں۔ دوسرا آپ کو سمجھنے میں
غلطی لگ رہی ہے۔
شعلہ لپکنا‘ عجب طرح کا‘ اور بےسرا سا محاورہ
ہے۔ شعلہ سا سے‘ پہلے جذبہ ہونا چاہیے تھا۔ اب
یہ تشبیہ نہیں ۔ استعارہ اس لیے نہیں کہ حرف
تشبیہ موجود ہے۔ سا‘ پر شہر کی بنیاد رکھ رہا
ہے۔ شعر سنیے
دشت احساس میں شعلہ سا کوئی لپکا تھا
اسی بنیاد پر تعمیر ہوا یہ پیار کا شہر
ایک ہی شعر میں‘ دس بار حرف الف کا استعمال
کر گیا ہے جب کہ س ٤بار‘ ش ٣بار؛ ت ٢بار
اور پ ٢بار‘ کا استعمال کر رہا ہے۔ اس سے
ثابت ہوتا ہے‘ کہ حروف ابجد پر‘ اس کی گرفت
بہت کم زور تھی۔
آہنگ اور غنائیت کے لیے‘ یہ سلیقہ تھوڑ علمی
اور تھوڑ فکری کا ثبوت ہے۔
یہاں میں نے‘ نمونہ کے چند شعر پیش کیے ہیں‘
ورنہ اس سے بڑھ کر‘ اس کی تھوڑ فکری کے
نمونے ۔۔۔۔۔روشنی اے روشنی۔۔۔۔۔ میں پڑھنے کو
مل جائیں گے۔ اگر میری اس‘ اعلی ترین تحریر
کو‘ ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا‘ تو میں
سمجھ لوں گا‘ کہ وار کاری رہا۔ اگر پسند کیا گیا
تو قارئین کا اپنا بندہ ہے‘ سمجھتے ہوئے‘ اپنے
کہے سے مکر کر‘ دوسرا رستہ اختیار کروں گا۔
ویسے کسی مردے کے لیے‘ کسی کو وکالت
کرنے کی‘ کیا ضرورت پڑی ہے۔ مجھے کسی
یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے‘ کوئی خدشہ نہیں۔
ان کی بائیں آنکھ پر شکیب سے زندہ لوگ‘
موجود نہیں ہیں۔ ان کی اپنی ترجیحات‘ ہمیشہ
سرفہرست رہی ہیں۔
ستمبر ٢٠١٤٢٩
قصہ ایک قلمی بیاض کی خریداری کا
تین دوست‘ پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ ہر
عمر کی‘ خواتین بھی وہاں اسی شغل سے‘ آئی
ہوئی تھیں۔ آپو اپنا ذوق ہوتا ہے‘ کچھ خواتین و
حضرات‘ تاڑا تاڑی کے لیے‘ چہل قدمی کا کشٹ
اٹھاتے ہیں۔ یہ تینوں‘ گھر سے تو چہل قدمی کے
لیے آئے تھے‘ اور کر بھی رہے تھے۔ ساتھ میں‘
تاڑی تاڑی کا فریضہ‘ بطریق احسن انجام دے
رہے تھے۔ دو جوان بیبیوں کو نظر میں رکھ رہے
تھے‘ جب کہ تیسرا‘ ڈھلی عمر کی مائی صاحبان
کے‘ قد کاٹھ اور حسن و جمال سے‘ لطف اندوز
ہو رہا تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے‘ اپنے
جوان نواز ساتھی سے پوچھا‘ یار یہ پچھلے
قدموں کیوں چل رہا ہے۔ اس نے حیرت سے
:سوالیے پر سوالیہ رکھا
تمہیں معلوم نہیں
نہیں تو
یار یہ کباڑیا ہے‘ تب ہی تو‘ مائی نوازی میں
مصروف ہے۔
:اس سے تین چار چیزیں کھلتی ہیں
بڑھاپا‘ عمومی سطح پر لیعنی اور بے معنی ہو
کر رہ جاتا ہے۔
بڑھاپا اپنے اندر کچھ ناکچھ تو ضرور رکھتا ہے۔
پرانے کو نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔
پرانے کے قدردان بھی موجود رہتے ہیں۔
لہور انار کلی کی فٹ پاتھی‘ میرا محبوب رہا ہے۔
وہاں سے‘ کچھ ناکچھ مل ہی جاتا ہے۔ میں انار
کلی فٹ پاتھ چھاننے سے پہلے‘ جی سی اورینٹیل
کالج کے‘ دوستوں سے مل لیتا۔ یقین مانیے‘
مجھے اپنے کسی دوست کی‘ نیت پر شبہ نہیں
رہا‘ بس احتیاطا ایسا کرتا تھا۔ کہنا تو صرف اتنا
ہی ہوتا ہے‘ ذرا دکھانا۔ یہ ذرا‘ ہمیشہ کے لیے‘
محرومی کے مترادف ہوتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں‘
کہ ذہنی فراغت کے بعد فٹ پاتھی شغل نبھایا
جائے
یہ فٹ پاتھ سجانے والے‘ بل کے حسن شناس
ہوتے ہیں‘ ریگ دریا میں طل تلش لینا‘ ان کے
دائیں اور بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ جھریوں
بھرے بوسیدہ بڑھاپے میں‘ وہ کچھ ڈھونڈ لیتے
ہیں‘ جو عمومی کیا‘ خصوصی آنکھ پر نہیں چڑھ
پاتا۔ ہر ردی فروش‘ ان کی دعا سلم میں رہتا ہے۔
وہ اس امر سے آگاہ رہتے ہیں‘ کہ کون سا ادیب
شاعر‘ دنیا سے پھر ہوا ہے اور اس کی ردی‘
جس نے گھر کا کمرہ یا گیلری پر ناجائز قبضہ کیا
ہوتا ہے‘ کس ردی کی دکان پر گئی ہے۔ وہ خود
بھی‘ اپنے ردی والے کو بھیج دیتے ہیں۔ لکھوں
کا بڑھاپا‘ چند ٹکوں میں ہاتھ لگ جاتا ہے۔
فٹ پاتھ پر آنے والے بڑھاپے کو‘ میں خوش
نصیب سمجھتا ہوں کہ وہ دوبارہ سے‘ کسی غیر
دنیا دار کے‘ ردی کے کمرے میں‘ ناجائز قابض
ہو کر‘ اس کی مرگ ناگہانی کا انتظار کرنے لگتا
ہے۔ یہ سب‘ معاشی اصطلح‘ تجارتی چکر کے
مترادف ہوتا ہے۔ غیر معروف اور مغضوب اہل قلم
کے لفظوں پر‘ کبھی آلو چھولے‘ تو کبھی‘ امرود
بسیرا کرتے ہیں۔ گویا اس طرح‘ لفظ کا بڑھاپا
خراب ہو جاتا ہے اور لفظ تراش‘ ناقدری کی لحد
میں اتر جاتا ہے۔ کچھ مجھ سے بھی بےسرے‘
بڑھاپا خراش ہوتے ہیں‘ جو آلو چھولے کھانے
کے بعد‘ کاغذ کا اگا پچھا ضرور ملحظہ کر لیتے
ہیں۔
ضروری نہیں ہر اگے پچھے کا شجرہ نسب کسی
شاعر ادیب کی نشت گاہ تک جاتا ہو۔ یہ بھی
امکان میں رہتا ہے کہ ٹکڑوں میں منقسم بڑھاپے
پر کسی حسینہ کی نوشیلی آنکھ سے گرا مروارید
ہاتھ لگ جائے
کسی کٹیا میں‘ مقید سقراط کا اتا پتا بھی درج ہو
سکتا ہے۔ سرمد کی موت پر اٹھنے والی‘ بےکس
سسکی‘ اپنے تمثالی روپ میں موجود ہو سکتی
ہے۔ چلو جو بھی سہی‘ انارکلی بازار کی فٹ پاتھ
نصیب میں نہ سہی‘ یہ امرودی کاغذ بھی‘ کباڑی
آنکھوں سے بچ کر‘ کوڑے کی ٹوکری میں نہیں
جا سکتے۔
یہ ١٩٨٤کے کسی مہینے کی بات ہے۔ میں
انارکلی بازار کا فٹ پاتھی ہوا۔ میرے پاس سو
سے چند روپے ہی زیادہ ہوں گے۔ وہاں بہت سے
خلد نشینوں کے‘ نامہءاعمال‘ اپنے فٹ پاتھی
سلیقے کے ساتھ‘ موجود تھے۔ میری جیب کا مال
معقول ناسہی‘ اسے غیرمعقول بھی نہیں کہا جا
سکتا تھا۔ میری نظر ایک قلمی بیاض پر پڑی۔ میں
نے اسے دیکھنے میں‘ دس منٹ سے زیادہ
صرف کر دیے۔ مال دل کو بھا گیا اور میں نے‘
اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا۔ مالک تاڑ گیا‘ کہ
گاہک پکا ہے‘ لے کر ہی جائے گا۔ میں نے دام
پوچھے‘ اس نے ڈیڑھ سو روپے سنا دیے۔ میں
غش کھا کر گرنے وال ہی تھا‘ کہ ارادے نے
سمبھال دیا۔ میں نے چاروں جیبیں اس کے
سامنے ٹٹولیں۔ کل ایک سو ستائیس روپے نکلے۔
میں نے کہا‘ بھائی بیاض بھی لینی ہے‘ چائے
سگریٹ کی طلب ہے‘ گھر بھی جانا ہے۔ اس کے
لیے‘ قصور بس پر جاؤں گا۔ لری اڈے پر سے‘
تانگہ لوں گا اب تم ہی کہو‘ کیا حکم لگاتے ہو۔
بھل آدمی تھا‘ یا وہاں میرا عجز اور مسکینی کام آ
گیے۔ اس نے کتاب میرے حوالے کر دی یہ ہی
نہیں‘ ساتھ میں عین نوازش فرماتے ہوئے‘ مبلغ
سترہ روپے میرے پاس رہنے دیے۔ میں نے
شکریہ ادا کیا۔ ریڑھی سے‘ دوپہر کا ناشتہ فرمایا۔
چائے پی‘ سگریٹ لیے‘ بس پر بیٹھا۔ سارے
رستے‘ بیاض کی ورق گردانی کی۔ تانگے پر بیٹھا
اور گھر آ گیا۔ بھری جیب گیا تھا‘ خوب پھرا ٹرا‘
کھایا‘ پیا‘ بس اور تانگے کے ہوٹے بھی لیے‘
سب کچھ کرکے بھی‘ میری جیب ابھی خالی نہ
تھی۔
یہ بیاض ایک سو سات صفحات پر مشتمل ہے۔
:پہلے صفحہ پر درج ہے
٧٨٦
دیکہو مجہے جو دیدہءعبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجموعہءاشعار و غزلیات و رباعیت
حسب فرمائش جناب شیخ عبدالغنی صاحب ایم۔اے
سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ جات
مرتبہ
شمائل حسین راغب بدایونی
اس میں اردو کے معروف شاعر ‘ ٢٣غیر
معروف ٣٥فارسی ٩اور کئی اشعار‘ نامعلوم کے
تحت درج کیے گیے ہیں۔ راغب کا تعلق‘ ان کے
نام کے حوالہ سے‘ بدایون سے بنتا ہے۔ وہ خود
بھی شاعر تھے۔ ان کے اپنے اشعار بھی بیاض
میں شامل ہیں۔ ان علوہ‘ گیارہ بدایون کے شعرا
کا کلم درج کیا گیا ہے۔ فانی کے علوہ‘ کوئی
شاعر معروف نہیں۔ ان شعرا کے اسمائے گرامی
:کچھ یوں ہیں
آفتاب بدایونی
ارشد بدایونی
امیر بدایونی
جامی بدایونی
راغب بدایونی
رند بدایونی
زلئی بدایونی
عیش بدایونی
فانی بدایونی
قمر بدایونی
لطف بدایونی
منور بدایونی
دیگر علقوں کے غیر معروف شعرا کے اشعار
:پڑھنے کو ملتے ہیں
بسمل آلہ آبادی
شوکت بلگرامی
اظہر امرتسری
حفیظ جالندھری
حمید جالندھری
مانی جائسی
جلیل حیدرآبادی
سہا حیدرآبادی
تاباں خورجوی
ناظم نواب رام پوری
خنجر لکھنوی
عزیز لکھنوی
محشر لکھنوی
محمد ہادی لکھنوی
دلبر مارہروی
دس غیر معروف شعرا نے علقے کو نام کا لحقہ
نہیں بنایا
امجد
جمیل
رضی
زیب النساء
ساغر نظامی
سیفی
طیش
قمر بللی
محمود اسرائیل
نظام بٹھیارا
اردو کے معروف شعرا جن کا کلم بیاض میں ملتا
:ہے
خواجہ حیدر علی آتش
احسن مارہروی
اصغر گونڈوی
علمہ اقبال
اکبر الہ آبادی
خواجہ الطاف حسین حالی
امیر مینانی
انشا
ببر علی انیس
بہادر شاہ ظفر
جگر مرادآبادی
جوش ملیح آبادی
چکبست لکھنوی
حسرت موہانی
داغ دہلوی
دبیر لکھنوی
ابراہیم ذوق
مرزا رفیع سودا
شبلی نعمانی
مرزا غالب
محمد علی جوہر
مومن
میر تقی میر
فارسی میں نو شعرا کا کلم باطورذائقہ پڑھنے کو
:ملتا ہے
بیدل
زیب انساء
حافظ شیرازی
خواجہ معین الدین چشتی
سعدی شیرازی
عمر خیام
محمد شاہ
مل جامی
میر عبدا پیامی
بیاض راغب کے بارہ بدایونی شاعر
آفتاب بدایونی
:ان کے دو شعر بیاض میں درج ہیں
کسکی آتی ہے صدا پردہ دل سے یا رب
میں نے پہلے بہی سنی تہی یہی آواز کہیں
کہیں پروانوں کا جہگٹ کہیں شمعوں کا ہجوم
ایک ہی حسن ازل سوز کہیں ساز کہیں
پہلے شعر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے بہی سنی تہی یہی آواز
کہیں۔۔۔۔۔۔عمومی تکیہءکلم ہے۔ عموما کہا جاتا
ہے۔
سنا سنا سا ہے
یاد نہیں آ رہا سنا سنا سا لگتا ہے۔
دیکھا دیکھا سا لگنا‘ سنا سنا سا لگنا‘ مانوس سا
ہونے کے لیے‘ عموم و خصوص میں مستعمل
ہے۔ سوز کہیں ساز کہیں خوب صورت ترتیب ہے۔
ارشد بدایونی
ان کا صرف ایک شعر بیاض میں پڑھنے کو ملتا
:ہے
تعزیہ خانوں میں مت جایا کرو اے ارشد
ہمتو پہلے ہی محرم سے الم دیکھ چکے
ارشد بدایونی پر یہ الزام دھرنا‘ کہ وہ اہل تشعیہ
کے مخالف رہے ہوں گے‘ درست نہ ہوگا۔ دکھ
اٹھانے‘ دیکھنے یا برداشت کرنے کی انتہا کو
واضح کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ محرم سے الم۔۔۔۔۔۔۔۔ دکھ
اور صعوبت کی شدت کو‘ واضح کرنے کے حوالہ
سے‘ بڑا جان دار مرکب ہے۔ تشبیہی طور اختیار
کرنے کے لیے‘ تلمیح کا‘ بڑے جان دار طریقہ
سے‘ استعمال کیا گیا ہے۔
دیکھ چکے۔۔۔۔ سگ گزیدہ کا پانی سے ڈرنا‘ غیر
:فطری عمل نہیں۔ سے۔۔۔۔۔۔ دوہرے معنی رکھتا ہے
محرم سے مماثلت رکھتے۔
محرم سے گزرنا۔۔۔۔۔۔ ان معنوں میں قیاس کیا جا
سکتا ہے کہ ارشد سادات سے ہوں یا کربل والوں
کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ پہلے ہی۔۔۔۔۔۔ کا
استعمال‘ فکر کو اس جانب لے جاتا ہے۔
امیر بدایونی
:ان کے مختلف جگہوں پر دو شعر ہیں
مجھسے بگڑے تہے تو خط بہی مجھے بگڑا لکہا
حسن اخلق نہ تہا حسن رقم بہی نہ رہا
دونوں مصرعوں میں‘ جہاں لفظوں کا استعمال
حسن رکھتا ہے‘ وہاں تفہیمی حوالہ سے بھی کچھ
کم نہیں۔ پہلے مصرعے میں‘ انسانی رویے کی
عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ‘ عمومی رویے کو
بھی واضح کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں
:اصول بیان کیا گیا ہے
اصول :کوئی برا بھل کہتا ہے‘ تو تم اپنی فطرت
پر رہو‘ اخلق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو۔ اس
کی صورت کوئی بھی رہی ہو۔ زبان اور قلم اس
کے تحت ہی فعل انجام دیتے ہیں۔
دوسرے مصرعے میں ۔۔۔۔ نہ تھا۔۔۔۔ کا استعمال ہوا
ہے‘ لہذا رد عمل بھی‘ نہ تھا کے مطابق سامنے
آتا ہے۔ ہونے اور ناہونے کی امتیازی صورت
سامنے آتی ہے۔
بگڑے تہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خط بہی بگڑا لکہا
لفظوں کا خوب صورت انسلک سامنے آتا ہے۔
اسی طرح‘ حسن اخلق کے ساتھ‘ حسن رقم کا
استعمال‘ خوب ہوا ہے۔ان کا دوسرا شعر بھی کچھ
:کم نہیں ہے۔ کہتے ہیں
نادم ہو امیر اپنے افراط معاصی پر
شاید کہ پذیرا ہو انداز ندامت کا
لسانیاتی حوالہ سے‘ امیر بدایونی کے اس شعر
کی داد نہ دینا‘ زیادتی ہو گی۔ افراط معاصی اور
انداز ندامت‘ دونوں مرکب من بھاتے ہیں۔ سماعی
اور تفہیمی حوالہ سے‘ بلغت کا عمدہ نمونہ ہیں۔
انداز ہی کے تحت‘ ردعمل سامنے آتا ہے۔ منفی یا
جعلی انداز کی پذیرائی نہیں ہوتی۔ مثبت اوراصلی
انداز کو ہی‘ پذیرائی میسر آتی ہے۔ دوسرے
مصرعے کا آغاز امکانی صورت کو واضح کرتا
ہے‘ جب کہ آخر میں امکان کو طور سے مشروط
کر دیا گیا ہے۔
جامی بدایونی
بیاض کے صفحہ ١٣پر جامی بدایونی کے دو
:شعر درج کیے گیے ہیں
خود وہ اپنے آپ کو پہچاننے وال نہیں
اپنے محسن کا جو احسان ماننے وال نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کرنا نہیں مگر کیں سبز باغ دہر کی سیریں
فریب حسن میں آ ہی گیا آخر کو انسان تھا
خود کو مستعمل ہے۔ پہلے مصرعے میں‘ لفظوں
کے استعمال کا یہ ہی کمال ہے‘ کہ خود کے
استعمال کے لیے‘ اپنے آپ کا استعمال کیا گیا ہے۔
دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ دونوں کا
ایک ساتھ‘ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرے
میں‘ محسن اور احسان کا‘ ایک ساتھ استعمال کیا
گیا ہے۔ محسن صفتی نام ہے۔ قاری کو پہلے
مصرعے یا اپنی سمجھ کے زیر اثر‘ وہ کون ہے‘
کو تلشنا ہے۔
نہ کرنا نہیں‘ عمومی طور اور رویہ ہے۔ کیں ایک
سے زائد کی طرف اشارہ ہے۔ ہم صوت لفظوں کا
یہ کمبی نیشن خوب ہے۔ کیں سیریں یا نثر میں
سیریں کیں۔ دہر کو‘ سبز باغ سے نسبت دی گئی
ہے۔ جو ہو رہا ہے یا کر رہے ہیں‘ محض خیالی
پلؤ ہے‘ وگرنہ اپنی حقیقت میں‘ کچھ بھی نہیں۔
وال نہیں‘ مستقل عادت کا غماز ہے۔ دو صورتیں
دی ہیں ایک بصارت سے متعلق ہے‘ جب کہ
دوسری کا تعلق محسوس سے ہے۔ وال نہیں ۔۔۔۔۔۔
کے ساتھ‘ ظاہر اور باطن متوازی رواں ہیں۔
فریب حسن میں
آ ہی گیا
آخر کو
انسان تھا
آ ہی گیا۔۔۔۔ بڑا ہی سیانا تھا‘ کی وضاحت کر رہا
ہے۔ آخر کو۔۔۔۔۔۔ محتاط روی کو واضح کر رہا ہے۔
انسان تھا۔۔۔۔۔ انسان خطا کا پتل ہے÷ کتنا بھی
محتاط ہو‘ نادانستہ طو پر سہی‘ کچھ ناکچھ غلط
کر ہی جاتا ہے‘ یا اس سے ہو جاتا ہے۔ فکر جو
بھی پیش کی گئی ہے‘ اپنی جگہ‘ لفظوں کی نشت
و برخواست خوب ہے۔ فریب حسن میں‘ دیدنی
سے کلی انحراف ملتا ہے۔ ہے ہی نہیں‘ گویا
انسان ہے ہی نہیں‘ کے پیچھے دوڑے چل جا رہا
ہے۔
راغب بدایونی
صاحب بیاض راغب بدایونی نے‘ ناصرف اپنے
٠٦اشعار بیاض کا حصہ بنائے ہیں‘ دو مکمل
غزلیں بھی درج کی ہیں۔
رہے نہ دہوکے میں لمکاں کے پڑے نہ پیچہے
وہ میری جان کے
دہوئیں اڑا دیگا آسماں کے اثر مری آہ آتشیں کا
دھوکے میں رہنا‘ پیچھے پڑنا
:دھویں اڑانا
دہوئیں اڑا دینا ۔۔۔۔۔۔۔ بالکل نیا اور الگ سے چلن
ہے تاہم کہیں ناکہیں سننے کو مل جاتا ہے۔ اسے
پرخچے ازانا کے مترادف میں‘ استعمال کیا گیا
ہے۔ اس چلن نے‘ فصاحت میں اضافہ کیا ہے۔
آسمان کی گردش اثرات کے حوالہ سے مسلم ہے‘
آہ آتشین غالب کا مرکب ہے‘ جس کا استعمال
:خوب کیا گیا ہے۔ مصرعہ دیکھیں
دہوئیں اڑا دیگا آسماں کے
اثر مری آہ آتشیں کا
اف اتنی تپش۔ اس تپش کے حوالہ سے‘ شخصی
آہ کا اثر ملحظہ کیا جا سکتا ہے۔ معروف ہے:
مظلوم کی آہ سے بچو‘ اس سے عرش بھی کانپ
جاتا ہے۔
شعر میں مزید دو محاوروں کا استعمال ہوا ہے:
دھوکے میں رہنا‘ پیچھے پڑنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیدار جلوہ ہو جو میسر تو کسطرح
وہ بےنیاز ہے ہمیں ذوق نظر نہیں
بڑا خوب صورت شعر ہے۔
دیدار جلوہ ہو جو میسر
تو کسطرح
سوالیہ‘ الگ سے طور کا حامل ہے۔ تو کس طرح
نے‘ سوال پر حیرت طاری کر دی ہے۔ وجہ بھی
بیان کر دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ذوق نظر نہیں۔ ورنہ وہ
تو بے نیاز ہے۔ جلوہ دینے والے کی طرف سے
کوئی حیل وحجت نہیں۔ پہلے مصرعے میں واؤ
کے تکرار نے‘ الگ سے کیفیت پیدا کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کے انتظار وعدہ میں یہ حال ہے راغب
کہ میری زندگی منت کش امروز و فردا ہے
وعدہ یقین اور انتظار بےچینی کا سبب بنتا ہے۔
جب یہ طوالت کھینچے‘ تو تذبذب جنم لیتا
ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منت کش امروز و فردا۔۔۔۔۔۔۔ لفظوں کی
ترتیب نے‘ مضمون میں بڑی جان پیدا کر دی ہے۔
عمومی سطح پر بھی‘ یہ ہی ہے‘ کہ زندگی آج اور
کل کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ شخصی کیفیت کی
تصویر کشی‘ اپنا مخصوص اثر چھورتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کیف جلوہ پائین بہی تو کسطرح پائیں
ذوق نظر ہوا جو تو تاب نظر نہیں
شعر‘ محسوس سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ہی تو کا
استعمال بڑا ہی جان دار ہے۔ ذوق نظر میسر آیا‘
عروج کی حد ہے۔ ہر کوئی اسی کا متلشی ہے۔
شاعر نے کمال کا نقطہ اٹھایا ہے‘ ذوق نظر میسر
آ جانا کافی نہیں‘ تاب نظر کو‘ نظرانداز نہیں کیا
جا سکتا۔ دونوں گرہ میں ہوں‘ تو جلوہ پایا جا
سکتا ہے۔ جلوہ‘ بلشبہ کیف کا حامل ہوتا ہے۔
کیف سے‘ قلب و نظر کو تسکین میسر آتی ہے۔
ذوق نظر اور تاب نظر نے‘ شعر کو بڑا حسن دیا
ہے۔ اسی طرح پہلے مصرعے میں‘ دو بار پائیں
کا استعمال‘ موسییقت کا ہی سبب نہیں بنتا‘ بلکہ
دو معاملت اور امور سامنے لتا ہے‘ اور بہت بڑا
سوالیہ بھی چھوڑتا ہے۔
ہم کیف جلوہ پائین
بہی تو
کسطرح پائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر کی باتوں سے ناحق ہو گئے کیوں بدگمان