The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫مرزا صاحبان پڑھنے کو ملتی ہے۔‬

‫کتاب کے بقیہ صفحات پر' مولوی غلم محمد کا‬
‫اردو پنجابی اور فارسی کلم شامل ہے۔ سرورق پر‬

‫موجود معلومات کے مطابق' مولوی غلم محمد‬
‫قسمانہ ساکن صابا تحصیل دیپالپور تھانہ حجرہ‬
‫ضلع منٹگمری حال ساہی وال کے تھے۔ ص‪-11‬‬
‫‪ 12‬پر ریختہ کے نام سے کلم درج ہے۔ یہ کل نو‬
‫شعر ہیں۔ انہوں نے لفظ ریختہ زبان کے لیے لکھا‬

‫ہے یا اردو غزل کے لیے' واضح نہیں۔ پہل‬
‫پانچواں اور آخری شعر غزل کے مزاج کے قریب‬
‫ہے۔ غزل کے باقی اشعار' مروجہ عمومی مزاج‬

‫سے لگا نہیں رکھتے۔ ہاں غزل میں صوفیانہ‬
‫طور' صوفی شعرا کے ہاں ضرور ملتا ہے۔‬

‫نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا‬
‫نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا‬
‫نہ پڑتا پرہ تو حق کا اگر رخسار خوباں پر‬
‫تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬
‫مقیم اس دام زلفمیں نہ بھنستا اگر دل تیرا‬
‫تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا‬

‫ص‪ 13‬پر ایک خمسہ ہے' جسے مولود شریف کا‬

‫نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مولود شریف شیخ‬

‫سعدی صاحب کے چار شعر دیئے گیے ہیں۔ اردو‬

‫مولود شریف کے بعد' مولود شریف مولوی جامی‬

‫صاحب کے' نو شعر درج کیے گیے ہیں۔ آخر میں‬

‫مولود شریف کے عنوان سے' نو شعر درج کیے‬

‫گیے۔ ص ‪ 19‬پر موجود کلم کو کافی کا نام دیا گیا‬

‫ہے۔ اس کلم کو نہ پنجابی کہا جا سکتا اور ناہی‬

‫اردو' تاہم بعض شعر اردو کے قریب تر ہیں۔ دو‬

‫ایک شعر باطور نمونہ ملحظہ ہوں۔‬

‫کائی کہو سجن کی بات جن کے پریم لگائی‬

‫چاٹ پہل شعر‬

‫سلیمان نبی بلقیس نہ ہو ہک آہی مطلق ذات‬

‫پانچواں شعر‬

‫بحر محیط نے جوش کیا تب نوروں ہویا خوش‬

‫کیا چھٹا شعر‬

‫موم کرے دل لوہا‬ ‫کامل پیر پناہ ہمارا‬

‫سارا چھبسواں شعر‬

‫دو غزلیں فارسی کی ہیں۔ اوپر عنوان بھی دیا گیا‬

‫ہے‬
‫غزل مولوی غلم محمد از صابا‬
‫اے بنات تو مزین مسند پیغمبری وے خجل‬

‫گشتہءرویت آفتاب خاوری‬
‫مطلع فارسی غزل ص ‪12‬‬

‫غزل از غلم محمد صاحب‬
‫جاں فدائے تو یا رسول ا دل گدائے تو یا‬

‫رسول ا‬
‫مطلع فارسی غزل ص ‪23‬‬

‫پنجابی کلم کے لیے' لفظ کافی استعمال ہوا ہے۔‬
‫داخلی شہادت سے یہ بات واضح ہوتی ہے' کہ لفظ‬
‫ریختہ اردو غزل کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ دلی‬
‫وغیرہ میں جو مشاعرے ہوا کرتے تھے' ان کے‬
‫لیے دو اصطلحات رواج رکھتی تھیں۔ فارسی کلم‬

‫کے لیے مشاعرے' جب کہ اردو کلم کے لیے'‬
‫لفظ مراختے رواج رکھتا تھا‪ .‬لفظ اردو محض‬
‫شناخت کے لیے لکھ رہا ہوں' یہ لفظ عمومی‬

‫رواج نہ رکھتا تھا۔‬

‫اس صورت حال کے پیش نظر' غالب کے ہاں‬
‫استعمال ہونے وال لفظ ریختہ' گڑبڑ کا شکار ہو‬
‫جاتا ہے۔ مولوی غلم محمد پہلے کے ہیں' عہد‬
‫غالب کے ہیں یا بعد کے' بات قطعی الگ تر ہے۔‬
‫مشاعروں میں زیادہ تر غزلیہ کلم سنایا جاتا تھا‬
‫اور آج صورت حال مختلف نہیں۔ گویا غزل کے‬
‫لیے لفظ ریختہ' جب کہ مشاعرے کے لیے لفظ‬
‫مراختہ استعمال ہوتا تھا۔ لمحالہ زبان کے لیے‬
‫کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہوگا۔ اس حساب‬
‫سے غالب کے ہاں بھی غزل کے معنوں میں‬
‫اسستعمال ہوا ہے۔ اگر یہ صاحب' غالب کے بعد‬
‫کے ہیں' تو اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا کہ لفظ‬
‫اردو باطور زبان استعمال ہوتا ہو گا لیکن عمومی‬
‫مہاورہ نہ بن سکا تھا۔ اس کا عمومی مہاورہ بننا‬

‫بہت بعد کی بات ہے۔‬

‫لفظوں کو مل کر لکھنے کا عام چلن تھا۔ اس‬
‫کتاب میں بھی یہ چلن موجود ہے۔ مثل‬

‫جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجہ نہیں غم‬
‫ہم سے ص ‪13‬‬

‫تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬

‫آنکہون میں ص ‪12‬‬
‫دو چشمی حے کی جگہ حے مقصورہ کا رواج‬

‫تھا۔ مثل‬
‫نہوتا سر مولے کا اگر کجہ ذات انسانمیں‬

‫بہت سے لفظوں کا تلفظ اور مکتوبی صورت آج‬

‫سے الگ تھی۔ مثل‬

‫نہوتا بھیت اسمیں خورشید فدا کا‬

‫بھید ص ‪11‬‬ ‫بھیت‬

‫ولیوں کے کاندہے قدم غوث اعظم‬

‫کاندہے کندھے ص ‪24‬‬

‫تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا‬
‫میں اضافت کی بجائے ے کا استعمال کیا گیا ہے۔‬

‫شاعر نے خوب صورت مرکبات سے بھی کلم کو‬
‫جازب فکر بنانے کی سعی کی ہے۔ مثل‬
‫حسن منظور‬

‫تو ہر عاشق کی آنکونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬
‫ص ‪12‬‬

‫ستارہ محمدی‬

‫غالب سب سے آیا ستارہ محمدی ص‪13‬‬
‫مستعمل سب پہ ہے لیکن سب سے استعمال کیا‬

‫گیا ہے۔‬
‫مرکب لفظ دیکھیے‬

‫خداگر‬
‫عمر گر عدالت خداگر نہ کرتے ص ‪24‬‬

‫کلم میں ریشمیت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مثل‬
‫نہ پڑتا پرتوہ حق اگر رخسار خوباں پر‬

‫تو ہرعاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬
‫ص ‪12‬‬

‫کیا زبردست طور سے صنعت تضاد کا استعمال ہوا‬
‫ہے۔‬

‫تو دین اورکفر میں جدائی نہ ہوتی ص ‪24‬‬
‫صنعت تضاد کی مختلف نوعیت کی دو ایک مثالیں‬

‫اور ملحظہ ہوں۔‬
‫نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا‬
‫نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا ص‬

‫‪12‬‬
‫جہاں صنعت تضاد کا استعمال ہوا ہے' وہاں اردو‬

‫زبان کو دو خوب صورت استعارے بھی میسر آئے‬
‫ہیں‪.‬اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر‬

‫تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا‬
‫ص ‪12‬‬

‫اشعار تلمیحات سے متعلق ہوتے ہی۔ تلمیحات کا‬
‫استعمال اسی حوالہ سے ہوا ہے۔ اس ذیل میں‬

‫دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔‬
‫اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر‬
‫تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا‬

‫ص ‪12‬‬
‫لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں‬

‫نے‬
‫اگر یوں جانتا شیطاں تو وہ مغرور کیوں ہوتا ص‬

‫‪11‬‬

‫اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دو چشمی حے کا‬
‫استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ دو ایک مثالیں ملحظہ‬

‫ہوں۔‬
‫لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں‬

‫نے ص ‪11‬‬

‫بھیت سجن کی خبر لیاوے ص ‪19‬‬
‫تو ہم عاجزوں کی رھائی نہوتی ص ‪24‬‬

‫زبان کا مہاورہ بھی برا اور ناموس نہیں۔ مثل‬
‫کیا دعوئے اناالحق کا ہویا سردار کیوں ہوتا‬

‫ص‪11‬‬
‫کائی کہو سجن کی بات‬
‫جن کے پریم لگائی چاٹ ص‪19‬‬
‫گذر گیا سر توں پانی ص‪20‬‬

‫اس شعری مجموعے کے اردو کلم پر' پنجابی‬
‫کے اثراات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔‬
‫بعض جگہ لسانی اور کہیں لہجہ پنجابی ہو جاتا‬

‫ہے۔ مثل‬
‫نہ ہوتا بھیت اسمیں اگر خوشید ذرہ کا ص ‪11‬‬
‫تو ہر ذرہ انہاں خورشید سے پرنور کیوں ہوتا‬

‫ص‪12‬‬
‫ہک لکھ کئی ہزار پیغمبر گذر گئے ص ‪13‬‬
‫اب لہجے سے متعلق ایک دو مثثالیں ملحظ ہوں۔‬

‫جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجھ نہیں غم‬
‫ص ‪13‬‬

‫علی کو جے مشکل کشا حق نہ کرتے ص ‪24‬‬

‫اردو پر ہی موقوف نہیں' پنجابی بھی اردو سے‬
‫متاثر نظر آتی ہے۔ مصرعے کے مصرعے اردو‬

‫کے ہیں۔‬
‫کہیں میراں شاہ جیلنی ہے کہیں قطب فرید‬

‫حقانی ہے‬
‫کہیں بہاؤالدین ملتانی ہے کہیں پیر پناہ لوہار‬

‫ص ‪19‬‬

‫اس چوبیس صفحے کی مختصر سی کتاب سے' یہ‬
‫بات واضح ہوتی ہے' کہ مولوی غلم محمد آف‬
‫صابا تین زبانوں کے شاعر تھے‪ .‬مختلف اردو‬

‫اصناف میں شعر کہتے تھے اور اچھا کہتے تھے۔‬
‫ان کا کلم کیا ہوا اور کدھر گیا' کھوج کرنے کی‬

‫ضرورت ہے۔‬

‫انسانی تاریخ کی بگ گنز‬

‫بہت سے لوگ‘ جیتے جی مردہ زندگی گزراتے‬
‫ہیں۔ مرنے کے بعد تو خیر مرنا ہی ہوتا ہے۔‬
‫ایسے لوگ آٹے میں نمک رہے ہیں جن کا جینا‬
‫اور مرنا‘ ہمیشہ ز ندہ اور فخریہ رہتا ہے۔ زندگی‬
‫اور زندگی کے بعد‘ مثبت یادیں لوگوں کے دلوں‬
‫میں محبت اور احترام کے جذبے پیدا کیے رکھتی‬
‫ہیں۔ اس کے برعکس منفی یادوں سے متعلق‬
‫لوگ آتے وقتوں میں بھی‘ نفرت کی تیز دھار پر‬
‫رہتے ہیں۔ معاملت حیات میں ان کی پیروی گناہ‬
‫کبیرہ سمجھی جاتی ہے جب کہ مثبت قدروں کے‬
‫حامل لوگ‘ زندگی کے معاملت میں حوالہ بنے‬
‫رہتے ہیں اوران کی پیروی کو درست سمجھا جاتا‬
‫ہے۔ گویا وہ درستی کا معیار بن جاتے ہیں۔‬
‫اپنی حقیقت میں یہ ہی بڑے لوگ اور یہ ہی‬
‫درستی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے ہونے کی‬
‫بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثل انسانی کردار‬
‫کے دو عناصر بڑے اہم ہیں‘ پہل سچ کہنا اور سچ‬
‫کرنا‘ اس کے سوا کچھ نہ کرنا۔ دوسرا عنصر‬
‫امانت کی حفاظت کرنا ہے‘ یعنی جو اور جیسا‬
‫واپس لوٹا دینا۔ ہر دو معاملت میں‘ آدمی سے‬
‫نادانستہ سہی‘ کمی کوتاہی ہو ہی جاتی ہے۔ اس‬

‫حوالہ سے‘ زیادہ سے زیادہ کو‘ انسانیت احترام‬
‫دیتی آئی ہے۔ اپنے تو محبت کرتے ہی ہیں‘ غیر‬
‫بل کسی خاص کے‘ احترام نہیں کرتے۔ آپ کریم‬
‫کی رسالت اور نبوت کو ایک طرف رکھیے‘ آپ‬
‫کریم کے کہے کو‘ دشمن بھی مانتے تھے۔ گویا‬
‫آپ کریم سچ کہتے اور سچ کے سوا کچھ نہیں‬
‫کہتے تھے۔ دشمن‘ آپ کو صادق اورامین کے لقب‬
‫سے ملقوب کرتے تھے۔ ہر دو لقب‘ انسانی تاریخ‬

‫کا آج بھی حصہ ہیں۔آپ کریم کے ان شخصی‬
‫عناصر سے‘ غیرمسلم‘ آج بھی متفق ہیں۔‬
‫دھن بڑی خوب صورت اور پیاری چیز ہوتی ہے۔‬
‫آدمی اسے لٹتا یا ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔‬
‫مثل معروف ہے‪ :‬چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔‬
‫اسے اپنے ہاتھوں‘ کسی دوسرے کے‘ بڑے اور‬
‫مثبت مقصد کے لیے تیاگنا‘ ایسی معمولی بات‬
‫نہیں۔ حضرت خدیجہ علقہ کی صاحب حیثیت‬
‫خاتون تھیں۔ آپ نے حضور کریم‘ جو آپ کے‬
‫خاوند بھی تھے‘ کےمقصد پر سب کچھ لٹا دیا۔‬
‫جب کہ حقیقت یہ ہے‘ کہ خواتین اپنے مردوں کے‬
‫ہر اچھے برے‘ چھوٹے بڑے کاز کےساتھ ویر‬
‫کماتی آئی ہیں۔ اسے انسانی تاریخ کی‘ انمول مثال‬

‫سمجھا جاتا ہے۔‬
‫ضرورت مندوں کی حاجات پوری کرنا‘ دروازے پر‬

‫آئےسوالی کو خالی ہاتھ نہ لوٹانا‘ بلشبہ قابل‬
‫تحسین ہی نہیں‘ دلوں کو مسخر کر لینے وال عمل‬

‫ہے۔ معاشرے میں‘ بہت سےاہل ثروت موجود‬
‫ہوتے ہیں‘ لیکن بانٹ دینا‘ ہر کسی کو نصیب نہیں‬

‫ہوتا۔ اس کے لیے‘ بہت بڑا حوصلہ درکار ہوتا‬
‫ہے۔ قارون کے پاس رزق کی کمی نہ تھی‘ لیکن‬
‫وہ بانٹ کھانے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔ حاتم طائی‬
‫کے پاس رزق تھا‘ وہ بانٹ دیتا تھا ‘ اسی لیے آج‬
‫بھی اسے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں دی جاتی‬
‫ہیں۔ وہ یقینا‘ انسانی تاریخ کا روشن مینار ہے۔‬
‫عدل زندگی کے توازن کا‘ لزمہ اور لوازمہ ہے۔‬
‫جہاں عدل ہو گا‘ وہاں آسودگی اور سکون ہو گا۔‬
‫عدل شخصی ہو یا ریاستی‘ انسان اور معاشرے کو‬
‫زندہ رکھتا ہے۔ اس کا قتل‘ انسان اور معاشرے کو‬
‫زندہ در گور کر دیتا ۔ عادل زندہ رہتے ہیں۔ آتے‬
‫وقت کےانسان‘ ان کی مثالیں دیتے ہیں۔ قاضی کو‬
‫اس لیے معزول کر دیا گیا‘ کہ وہ حاکم کے احترام‬
‫میں کیوں کھڑا ہوا‘ کیوں کہ حاکم باطور ملزم‬
‫قاضی کے سامنے پیش ہوا تھا۔ عدل کے حوالہ‬

‫سے‘ عمر بن عبدالعزیز کو آج بھی‘ قدم قدم پر‬
‫حوالہ بنایا جاتا ہے۔‬

‫حسین ابن علی کربل سے نہ گزرتے تو بھی اپنے‬
‫علم‘ تقوی‘ سخاوت اور عبادت گزاری کے حوالہ‬
‫سےانسان کے لیے معتبر رہتے یہ ہی نہیں‘ پسر‬
‫علی اور نواسہءرسول ہونا کوئی معمولی اعزاز نہ‬
‫تھا۔ تاہم کربل سے گزر کر‘ جو انہوں نے عزت و‬
‫اعزاز پایا وہ تاابد باقی رہے گا۔ میرا یہاں بنیادی‬
‫مقصد یہ تھا‘ کہ بڑوں کی اولد ہونا بھی‘ انسان‬
‫کو باقی رکھتا ہے۔ آج بھی سادات کو عزت دی‬
‫جاتی ہے۔ کیوں‘ وہ فاطمی اور نسل حسن وحسین‬
‫ہیں۔ اگر وہ حسن و حسین کے رستے پر چل کر‬
‫آقا کریم کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں‘ تو علی‬

‫ہجویری اور معین الدین چشتی کی طرح آتے‬
‫وقتوں میں بھی یاد رکھے جاتے ہیں ورنہ ان کی‬

‫عزت لمحاتی رہتی ہے۔‬
‫ادب انسانی مزاج‘ رویے‘ ترجیحات اور احساسات‬

‫کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ اپنے عہد کا مورخ بھی‬
‫ہوتا ہے۔ مورکھ کا لکھا شاہوں کا قصیدہ ہوتا ہے‬
‫جب کہ یہ لوگ حقائق کو اپنے ہی رنگ قلم بند کر‬
‫دیتے ہیں۔ سچ کہنے کی سزا انہیں بھی ملتی رہی‬

‫ہے۔ تاریخ انسانی بھل ان بےلوث خدمت گاروں‬
‫کو کیسے بھول جائے گی۔ شاہی گماشتوں کی یہاں‬

‫بھی کمی نہیں رہی۔ قاری ان کے چہر وں سے‬
‫واقف رہیں گے۔ رومی‘ حافظ‘ جامی‘ سعدی‘‬
‫خسرو‘ رحمان بابا‘ سچل سرمست‘ نانک‘ کبیر‘‬
‫شاہ حسین لہوری‘ بلھے شاہ قصوری‘ غالب‘‬
‫فیض‘ حسرت‘ گوئٹے‘ ٹیگور‘ شارل بودلیئر‘‬
‫ایملی ڈکنسن‘ سڈنی ‘ شیلے‘ فینگ سیو فینگ‬
‫وغیرہ کبھی بھلئے نہیں جا سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی‬
‫بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ بھول جانے کے لوگ نہیں ہیں۔‬
‫علم کا تعلق آگہی سے ہے اور آگہی سے بڑھ کر‘‬
‫کوئی نعمت نہیں۔ ہاں اس کا منفی استعمال‘ نعمت‬
‫کو لعنت میں بدل دیتا ہے۔ عزازئیل کو جہاں تکبر‬
‫نے ڈبویا وہاں علم کا غلط اطلق بھی‘ اسے لے‬
‫ڈوبا۔ اس کا علم آدم کو زحل کی تخلیق سمجھ رہا‬
‫تھا۔ نتیجہءکار حکم عدولی کے سبب‘ مغضوب‬
‫ہوا۔ علم کی مثبت تفہیم کی صورت میں‘ نہج‬
‫البلغہ‘ فتوح الغیب اور کشف المعجوب وجود میں‬
‫آ کر‘ قیامت تک کے انسانوں کے لیے نشان راہ‬
‫بن گئیں۔ علم کا مثبت استعمال‘ رحمت اور نعمت‬
‫ٹھہرا۔ غلط استعمال‘ غلط تفہیم یا غلط اطلق‬

‫انسانیت کے لیے زحمت اور لعنت بن گیا۔ علم کے‬
‫ہر دو کردار‘ تاروز حشر صفحہءانسانیت پر‘ ان‬

‫ہی حوالوں سے‘ اپنا وجود باقی رکھیں گے۔‬
‫ا سے عشق کے غازی مرد‘ منصور کو بھل‬
‫تاریخ کیسے فراموش کر سکے گی‘ جس نے سچ‬
‫کہنے کے جرم میں‘ دس سال قید تنہائی کی سزا‬
‫کاٹی۔ اس کی پیشانی پرشکن تک نہ آئی۔ پھر قتل‬
‫ہوا‘ جلیا گیا‘ راکھ اڑائی گئی۔ سقراط کا بھی یہ‬
‫ہی جرم تھا۔ اس جرم کی پاداش میں قید ہوا‘ پھر‬
‫زہر پلیا گیا۔ سچ کےعلم برداروں کے ساتھ یہی‬

‫ہوتا آ رہا ہے۔‬
‫والدین کی اطاعت گزاری‘ بڑے اعلی درجے کی‬
‫چیز ہے۔ جہاں والدین کو رسوا کرنے کی‘ ہمیشہ‬

‫سے روایت چلی آتی ہے‘ وہاں ان کی خدمت‬
‫گزاری اور فرمانبرداری کی مثالیں‘ بھی مل جاتی‬
‫ہیں۔ یہ مثالیں آتی نسلوں کے لیے نمونہ بنی رہتی‬

‫ہیں۔اس ذیل میں‘ کاسا بیانکا کی مثال آج بھی‬
‫ریکارڈ میں موجود ہے۔‬

‫عظیم کار نامے‘ وہ کسی بھی شعبہ سے متعلق‬
‫ہوں‘ انسانی تاریخ میں‘ اپنے پورے پہار کے‬

‫ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ آتی نسلیں ان کے کیے‬
‫سےاستفادہ کرتی ہیں۔ حکیم جالینوس کی جوارش‬

‫جالینوس آج بھی اسی وقار سے باقی ہے۔‬
‫ہومیوپیتھک‘ حضور کریم کی عطائے خاص ہے‬
‫اور آج شرق و غرب میں باطور طریقہءعلج‬
‫شہرہ رکھتی ہے۔ مارکونی نے ریڈیو دیا‘ اس‬
‫دریافت نے مزید کے حیرت ناک دروازے کھول‬

‫دیے۔ ان کارناموں کو کیسے فراموش کیا جا‬
‫سکے گا۔‬

‫عشاق خواتین و حضرات کو‘ اس مرض کے‬
‫مریض‘ یاد رکھیں گے۔ انہیں اور ان کے کیے کو‘‬
‫باطور سند استعمال میں رکھیں گے۔ ان کی قبریں‘‬
‫منت گاہ بنی رہیں گی۔ اس کے برعکس‘ باغیرت‬
‫اور ذمے دار والدین‘ ا کے حضور دست بہ دعا‬

‫رہیں گے کہ وہ کسی کو‘ ایسی گندی‘ ناہنجار‘‬
‫نکمی اور کام چور اولد عطا نہ کرے‘ جو قیات‬
‫تک ان کی رسوائی کا سبب بنی رہے۔ وہ یہ بھی‬
‫دعا کریں گے‘ کہ ا ہر کسی کو نیک‘ باکردار‬
‫اور انسانیت کے لیے کوئی بڑا کام کرنے والی‬

‫اولد عطا کرے۔‬
‫فرماں برداری کی زندگی‘ بڑی جان دار حقیقت‬

‫ہے۔ یہ فرماں برداری مثبت ہو کہ منفی‘ زندہ رہتی‬
‫ہے۔ طارق ابن زیاد نے کشتیاں جل دینے کا حکم‬
‫دیا۔ یہ حکم‘ انتہا پسندی پر مبنی تھا۔ اسلم میانہ‬
‫روی کا دین ہے اور میانہ روی اختیار کرنے کا‬
‫حکم دیتا ہے۔ اس لیے‘ یہ حکم اسلمی ضباطے‬
‫سے متصادم ہے۔ جنگی حکمت عملی کے بھی‬
‫خلف ہے۔ چاروں رستوں کا بند ہونا‘ درست نہیں۔‬
‫دشمن پر بھی چاروں رستے بند کر دینا‘ کوئی‬
‫دانش مندی کی بات نہیں۔ یہ تو اپنی ہی موت کو‘‬
‫دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کےاس غیر‬
‫منطقی‘ جنونی اور تشدد آمیز حکم کو‘ مانا گیا‘‬
‫کسی نے چوں تک نہ کی۔ جو بھی سہی‘ فرماں‬

‫برداری کی اس مثال کو بھلیا نہیں گیا۔‬
‫میدان مارنے والے بھی‘ انسانی تاریخ میں یاد‬
‫رکھے گیے ہیں۔ مشتعل ذہن ان کے کارناموں کو‬
‫پرتحسین نظروں سے دیکھتے آئے ہیں۔ تحفظ اور‬
‫محض وسائل اور علقوں پر قبضہ کے لیے‘ لڑی‬
‫گئی جنگوں میں‘ زمین اور آسمان کا فرق ہوتا‬
‫ہے۔ اسکندر وسائل اور علقوں پر قبضہ کے‬
‫لیے‘ گھر سے نکل تھا۔ وہ پوری دنیا فتح کر‬
‫لینے کا‘ ریکارڈ قائم کرنا چاہتا تھا۔ اسے اگر‬

‫انصاف کی نظر سے دیکھا جائے‘ تو اسے محض‬
‫ایک جنون اور وحشت ناکی کے سوا کچھ نہیں کہا‬

‫جا سکتا۔ اپنے اور غیر لوگ مرے‘ کتنا علقہ‬
‫تباہی سے دوچار ہوا۔ یہ کوئی انسانی فلح کے‬
‫متعلق کام نہ تھا۔ محمود ہو کہ بابر‘ وہ بھی اسی‬
‫کے قبیلہ کے لوگ تھے۔ جو بھی سہی‘ تاریخ میں‬
‫باطور فاتح‘ زندہ ہیں۔ مشتعل اور قبضہ گروپ‬
‫انہیں ہمشہ یاد رکھیں گےاور ان کو داد دیتے‬

‫رہیں گے۔‬
‫اقربا پروری‘ قبیلہ پالنی اور گماشتہ نوازی میں‬
‫بڑے بڑے حسینوں کے نام آتے ہیں۔ قبیلہ گالنی‬
‫میں بھی بڑے اعلی درجہ کے لوگ آتے ہیں۔ بابر‬
‫نے بیٹے پر جان قربان کر دی۔ ہمایوں نے‘ خون‬
‫کے پیاسے بھائیوں کو بار بار معاف کیا۔ شاہ‬
‫جہاں نے بھائیوں اور ان کی اولدوں کو بڑی‬
‫بےدردی اور سنگ دلی سے مارا۔ اورنگ زیب‬
‫اس سے کم نہ رہا اور اس ذیل میں‘ باپ کو بھی‬
‫بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ اس نے ناصرف بھائیوں‬
‫کو قتل کیا‘ باپ کو قید میں سات سال تک قید رکھ‬

‫کر اس سے بھی بازی لے گیا۔‬
‫جبر وستم اور قتل وغارت کے شائق حضرات کے‬

‫کیے پر‘ مورکھ نے کتنے ہی پردے کیوں نہ ڈال‬
‫دیے ہوں‘ آتے وقتوں میں‘ پردے سرکانے والے‘‬
‫پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی لہو‘ ان پردوں کے‬
‫رنگ سرخی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ حساس دلوں‬

‫کو بنی اسرائیل کے دودھ پیتے‘ مقتول معصوم‬
‫بچوں کی سسکیاں‘ قیامت تک سنائی دیتی رہیں‬
‫گی اور وہ‘ بےساختہ فرعون پر لعنت بھجیں گے۔‬
‫حجاج‘ زیاد‘ مقتدر‘ ہلکو‘ چرچل‘ مسڑ جھاڑی‬
‫وغیرہ کی سفاکی اور بےدردی‘ ازہان سے کبھی‬
‫محو نہ ہو پائے گی۔ لعنتیں ان کا مقدر رہیں گی۔‬
‫میں نے چند ایک کردار‘ درج بالسطور میں درج‬
‫کیے ہیں‘ ورنہ ایسے بیسیوں کردار ہیں‘ جنہیں‬
‫انسانی تاریخ کی‘ بگ گنز کا‘ بلتردد نام دیا جا‬
‫سکتا ہے۔ ان کے کیے کے حوالہ سے‘ عزت اور‬
‫نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ خیر اور شر کی‬

‫راہیں متعین ہوتی ہیں۔‬

‫شکیب جللی کے کلم کی ہجویہ تشریح‬

‫شکیب جللی کی روح سے معذرت کے ساتھ‬

‫عابد انصاری اگر زندہ ہیں‘ تو بڑے کمال اور اعلی‬
‫درجے کے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں‘ زندگی چلتی‬

‫پھرتی نظر آتی ہے۔ اگر مر گیے ہیں‘ تو ا ان کو‬
‫بخشے یا نہ بخشے‘ ا کی مرضی۔ چوتھے درجہ‬

‫کے شاعر تھے۔ ان کے کلم میں‘ ایسی کوئی‬
‫خاص بات نہیں تھی۔ باطور عظیم شاعر‘ وہ میری‬
‫ضرورت سے کم تر‘ عزت کرتے تھے۔ میں ہی‘‬

‫آج کا سب سے بڑا شاعر ہوں‘ کوئی مانے یا‬
‫نامانے‘ اس کی مرضی‘ اس سے کیا فرق پڑتا‬
‫ہے۔ میں تو خود کو مانتا ہوں۔ میں ہی میں حقیقت‬

‫ہے‘ اور آج کا تکیہء کلم بھی۔‬
‫فروری ‪١٩٩٩٢٤‬‬

‫کو عابد انصاری صاحب نے‘ مجھے شکیب جللی‬
‫کا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔ روشنی اے روشنی۔۔۔۔۔ دیا۔‬
‫مجھے اس پر‘ بہت پہلے لکھنا چاہیے تھا‘ لیکن‬
‫میں اس پر کچھ بھی نہ لکھ سکا۔ بلشبہ مجھ‬

‫سے یہ ادبی زیادتی ہوئی۔ شکیب جللی جوانی ہی‬
‫میں‘ اپنے ہاتھوں‘ ملک عدم کا مسافر ہوا۔ اس‬
‫کے حالت کیا رہے ہوں گے‘ میں نہیں جانتا۔ دیر‬
‫شاید مرحوم کی زندگی کا حصہ رہی۔ بیس سال‬
‫سے زیادہ عرصہ‘ کلم کا مسودہ احمد ندیم قاسمی‬

‫کے پاس پڑا رہا۔ ‪ ١٩٩٣‬میں‘ اشاعت اس کا مقدر‬
‫بنی۔ پندرہ سال کے بعد‘ مجھ کم کوس کو‘ اس پر‬

‫کچھ لکھنے کی توفیق ہوئی ہے۔ یہ مجموعہ‬
‫غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ ‪١٥٩‬‬
‫صفحات پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں‘ احمد ندیم قاسمی‬
‫کا‘ عرض ناشر کے نام سے‘ نوٹ ہے۔ کلم پر‬
‫سرے سے‘ کوئی بات نہیں کی گئی۔ اشاعت کی‬
‫دیری پر چند چلتے چلتے سطور کھینچی گئی ہیں۔‬
‫کیوں نہیں لکھا گیا‘ میں اس ذیل میں کچھ عرض‬
‫کرنے سے قاصر ہوں۔ بڑا آدمی ہی‘ ہمیشہ بڑا‬
‫شاعر ٹھہرا ہے۔ شکیب بڑا آدمی نہیں تھا۔ اس‬
‫لیے اسے‘ بڑا شاعر کہنا‘ ادبی روایت کے منافی‬

‫ہے ہوگا۔‬
‫ایمان داری‘ ہمیشہ اپنا آدمی ہے‘ کے لیے رہی‬
‫ہے۔ ادبی ایمان داری کا تقاضا یہ ہی ہے‘ کہ میں‬
‫اسے اچھا اور بڑا شاعر نہ کہوں۔ ماننا‘ ذات کے‬
‫اندر کا معاملہ ہے۔ میں یہ سب‘ اسے بڑا یا اچھا‬
‫شاعر ثابت کرنے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ فارسی‬
‫حکایت کے مطابق تم مجھے حاجی کہو‘ میں‬
‫تمہیں حاجی کہوں گا۔ ہمارے ہاں آ کر‘ اس روایت‬
‫نے اپنی تفہیم تبدیل کی ہے‘ یعنی شاعر دو ہی‬

‫بڑے ہیں‘ ایک تم اور ایک میں۔ اگر دیکھا جائے‘‬
‫تو تم بھی کیا ہو‘ بس میں ہی ہوں۔ میں چوں کہ‬
‫مزاج میں‘ لوگوں سے تھوڑا ہٹ کر ہوں ۔ تبدیلی‬
‫تفہیم کا قائل ہوں۔ میرے نزدیک تم کیا ہو‘ کچھ‬
‫بھی نہیں‘ محض تک بند۔ اردو میں‘ شاعر فقط دو‬
‫ہوئے ہیں‘ ایک مرزا غالب‘ دوسرا میں۔ اگر ادبی‬
‫دیانت داری سے دیکھا جائے‘ تو یہ ہی نترے گا‘‬
‫وہ بھی کوئی شاعر تھا‘ شاعر تو‘ فقط میں ہی‬
‫ہوں۔ میں یہاں‘ ایک عرصہ پہلے لحد میں اترنے‬
‫والے‘ جو میری سلم دعا میں بھی نہ تھا‘ کی‬
‫قصیدہ گوئی یا قصیدہ خوانی کرنے نہیں جا رہا۔‬
‫بس‘ رسما وعدہ کا قرض اتارنے جا رہا ہوں۔‬
‫نادانستہ‘ اس کی شان میں اگر کوئی جملہ میرے‬

‫قلم سے نکل جائے‘ تو اسے آف دی ریکارڈ‬
‫سمجھا جائے۔‬

‫‪:‬بھل یہ کوئی شعر ہے‬
‫مشعل درد جو روشن دیکھی‬

‫خانہءدل کو منور جانا‬
‫مشعل درد کا سبب‘ دل کی آسودگی کو قرار دے‬
‫رہا ہے۔ درد تو چوٹ لگنے سے ہوتا ہے۔ چوٹ‬
‫زیادہ تر گرنے‘ یا کسی سے پھینٹی کھانے سے‬

‫لگتی ہے۔ گالی گلوچ تو عام سی بات ہے۔ اس‬
‫سے تھوڑا بہت‘ یا گالی کی نوعیت کے مطابق جی‬
‫برا ہوتا ہے‘ چوٹ نہیں لگتی۔ دل کا اس سے کیا‬

‫تعلق۔ کیسا شاعر ہے‘ روشن اور منور کو ایک‬
‫ساتھ باندھ رہا ہے۔ مشعل میں عل اور دل‘ ہم‬
‫صوت ہیں‘ ایک ساتھ لنے کی کیا ضرورت تھی۔‬
‫دل کی جگہ قلب کا استعمال کر سکتا تھا۔ دل جسم‬
‫کا حصہ ہے‘ شکیب نے‘ اس شعر میں دل اور‬
‫جسم کو‘ ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ ہائے‬
‫ہائے اتنی بڑی زیادتی۔ ایک ہی کرے کے دو الگ‬
‫الگ موسم‘ اوپر سے یہ قیامت‘ کہ اس کے‬
‫مطابق دل کا موسم‘ جسم و جان اور جسمی‬
‫حسوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بھی کوئی کرنے اور‬
‫کہنے کی بات ہے‘ کہ دل کے موسم‘ موڈ کو‬
‫خراب کرنے‘ یا موڈ کو سٹ کرنے کا باعث بنتے‬

‫ہیں۔‬
‫اب ذرا اس شعر کو دیکھیے‬
‫جو بھی ہم درد بن کے آتے ہیں‬
‫غم کا احساس ہی جتاتے ہیں‬
‫دکھ درد میں شرکت کرنے والے‘ غم کا بوجھ ہلکا‬
‫کرنے آتے ہیں۔ شکیب اسے بھی منفی نظروں‬

‫سے دیکھ رہا ہے۔ آپ ہی بتائیے‘ چند لفظوں میں‬
‫مہمل ہی کہا جا سکتا ہے۔ کھل کھل کر بات ہونی‬
‫چاہیے۔ آنے وال‘ ماجرا سنے گا‘ اور اس پر رائے‬
‫زنی بھی کرے گا۔ بار بار تذکرے سے‘ بھل غم‬
‫کس طرح ہرا اور تازہ ہو گا۔ آنے وال یہ بھی تو‬
‫کہتا ہے‘ جو ہوا بھول جاؤ اور حوصلے سے کام‬
‫لو۔ ہر آنے وال سب سن اور اپنی سنا کر یہ کہتا‬
‫ہے۔ اس میں‘ غم کا احساس جتانے والی‘ کون‬

‫سی بات ہے۔ درد کا تعلق محسوس سے ہے۔‬
‫احساس بھی‘ محسوس سے ہے۔ شکیب نے خود‬
‫ہی‘ محسوس کو دونوں مصرعوں میں اندراج کیا‬
‫ہے۔ اب ہر‘ یعنی جو بھی‘ کے جتانے کا گلہ کر‬

‫رہا ہے۔‬
‫‪:‬یہ شعر بھی‘ بھل کوئی شعر ہے‬

‫کیا نظر آئے گا ابھی ہم کو‬
‫یک بیک روشنی میں آئے ہیں‬
‫اس شعر میں‘ ایسی کون سی نئی بات ہے۔‬
‫اندھیرے سے‘ روشنی میں آنے کے بعد‘ فورا‬
‫کچھ نظر نہیں آتا۔ بھوک سے سیری کی طرف‘ آ‬
‫جانے کے بعد معاملہ فوری تو سمجھ میں نہیں آ‬
‫جاتا۔ نوکری نہ مل رہی ہو‘ اچانک مل جائے‘ تو‬

‫خوشی اور حیرت تو ہوتی ہی ہے۔ یک بیک۔۔۔۔۔۔۔‬
‫سے تکرار کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ تکرار‘‬

‫بھل کوئی صفت والی بات ہے۔ یک بیک کی‬
‫بجائے‘ فورا لکھا جانا چاہیے تھا۔ نظر کے ساتھ‘‬

‫روشنی کے استعمال کی آخر کیا ضرورت تھی۔‬
‫بدحالی سے خوش حالی تک کا سفر‘ کھٹن سہی‘‬
‫لمحہ بھر کو تو حواس باختہ کر دیتا ہے۔ مضمون‬

‫فطری ہے‘ اس لیے اس شعر کی تحسین نہیں‬
‫بنتی۔‬

‫پھول مرجھا گیے‘ گل دان بھی گر کر ٹوٹا‬
‫کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک‬
‫ایک ہی چیز سے متعلق چار الفاظ یعنی پھول‘‬
‫مرجھانا‘ گل دان‘ خوش بو‘ استعمال کرنے کی‬
‫آخر کیا ضرورت تھی۔ بازگشت کے وجود سے‘‬
‫شاید شکیب واقف نہ تھا۔ گر کر‘ نے غنائیت کا‬
‫عنصر شعر میں داخل کر دیا ہے۔ غنا کے سبب‬
‫گناہ گاری کا عنصر شعر کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ‬
‫اسلم سے دوری کی نشانی ہے۔ خوش بو بسنا‬
‫بھی کوئی بات ہے۔ قصہ ختم ہو جانے کے بعد‬
‫بھی‘ یادیں تو باقی رہتی ہیں۔ یہ کون سی پڑھی‬
‫بات ہے‘ کون نہیں جانتا۔ کیسا شاعر ہے‘ روٹین‬

‫کے معمولت کو شعر کا مضمون بنا رہا ہے۔‬
‫لو دیکھو‘ کیسا شاعر ہے‘ کہتا ہے کہ کرن سے‬
‫کرن میں آگ لگتی ہے۔ اس دور میں جب بجلی‬
‫آگئی ہے‘ چراغ سے چراغ جلنے کی بات کر رہا‬

‫ہے۔ دوسرا چراغ رات ہی کو جل کرتے۔‬
‫لوڈشیڈنگ کا دور سہی‘ لوگ دیوے کب جلتے‬
‫ہیں۔ روشنی کے لیے‘ کئی طرح کے وسیلے اور‬
‫ذریعے آگئے ہیں۔ بجلی کے دور میں دیوں کی‬
‫بات‘ قطعی عجیب ہے۔ آج ہر شخص کو اپنی پڑی‬
‫ہوئی ہے۔ آلو ستر روپے جب کہ ٹماٹر سو میں‬
‫کلو ملتے ہیں۔ آدمی‘ آدمی کا سہارا یا وسیلہ بنے‘‬
‫کیسے ممکن ہے۔ نوکری کے حصول کے لیے‘‬
‫لوگ پڑھتے ہیں۔ آگہی کی کب ضرورت رہی ہے۔‬
‫اس حوالہ سے بھی‘ شکیب کا گلہ کرنا درست‬
‫نہیں بنتا۔ نہ پہلے سے استاد رہے ہیں اور ناہی‬

‫شاگرد۔ کہتا ہے‬
‫وہ دن نہیں‘ کرن سے کرن میں لگے جو آگ‬
‫وہ شب کہاں‘ چراغ سے جلتے تھے جب چراغ‬
‫دن‘ کرن سے کرن‘ آگ۔۔۔۔۔۔۔دن کے وقت کرن سے‬
‫کرن میں آگ لگتی ہے‘ دیوانوں کی سی بات ہے۔‬
‫آج تو دن کے وقت‘ ہر روشن دوسرے روشن کو‬

‫بجھاتا ہے۔ ہاں پھوک۔۔۔۔۔۔ پلیز پھوک کو ہوا کے‬
‫معنوں میں نہ لیں۔ اگر ہوا مراد ہوتی‘ تو مصدر‬
‫بھرنا کا ضرور استعمال میں لتا۔ کسی گریب آدمی‬
‫کے لیے پھوک بھرنا‘ استعمال میں نہیں آتا۔ یہ تو‬

‫بڑے بڑوں سے‘ مطلب بری سے متعق ہے۔‬
‫پھونک میں نون مجھے حشوی سا لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫پھونک کو‘ جل دینے کے معنوں میں لینا‘ عصری‬

‫تقاضوں کے مطابق ہے۔‬
‫شب‘چراغ ‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبوں‘ قمقموں یا انڈوں کو‬
‫چراغ کہنا‘ کسی طرح فصاحت میں نہیں آتا۔ سوچنا‬
‫یہ بھی ہے‘ کہ چراغ جلنے لگے تو بےچارے‬
‫چور اچکوں کا کیا ہو گا‘ وہ تو بن آئی مارے‬

‫جائیں گے۔ عجیب و غریب متعلقات ہیں۔‬
‫اتنا گہرا رنگ کہاں تھا رات کے میلے آنچل کا‬
‫یہ کس نے رو رو کے‘ گگن میں اپنا کاجل گھول‬

‫دیا‬
‫میں اس شعر پر سکی واہ نہیں کروں گا۔ بھوکا‬
‫ننگا شخص تھا۔ زندہ بھی ہوتا‘ تو چائے کی پیالی‬
‫پیش کرنے کے بھی قابل نہ ہوتا۔ بھوکا ننگا‬
‫شخص‘ کیسے کام کی بات کر سکتا ہے۔ گہرے‬
‫اندھیرے کو رنگ کا نام دے رہا ہے۔ عجیب آدمی‬

‫ہے‘ اوپر سے اسے رات کا میل آنچل قرار دے‬
‫رہا ہے۔ دوسرے مصرعے میں وجہ‘ کیا عجیب‬

‫قرار دے رہا ہے۔‬
‫کس نے‬
‫رو رو کے‬
‫کاجل گھول‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫نے‘ کے‬
‫اپنا‘ دیا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫گگن میں‬
‫کس نے‬
‫رو رو کے‬
‫اپنا کاجل‬
‫گھول دیا‬

‫ان میں کسی ادبی دیانت دار کو‘ کوئی خاص بات‬
‫نظر نہیں آئے گی۔ اگر کسی کو نظر آتی‘ تو اس‬
‫کام کو تحقیق و تنقید کے قابل ضرور سمجھتا۔‬

‫کلم کے صوتی حسن کے لیے‘ بےفضول ہم‬
‫صوت لفظوں کا استعمال کر رہا ہے۔ خوب صورت‬
‫آواز اور لہجہ‘ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ آج کل نرم‬

‫اور ریشمی گفتگو‘ بنے بگاڑتی ہے۔‬
‫‪:‬یہ بھی کوئی شعر ہے‬

‫دیکھتی رہ گئی محراب حرم‬
‫ہائے انسان کی انگڑائی کا خم‬
‫انگڑائی کا خم‘ کوئی چودہ سو سال پہلے کی بات‬
‫ہے۔ پرانی باتوں کو‘ دہرانے کی آخر کیا ضرورت‬

‫ہے۔‬
‫عصری حالت و ضرورت کے مطابق‘ پہلے‬

‫مصرعے کو یوں ہونا چاہیے تھا۔‬
‫دیکھتی ہے اب محراب حرم‬
‫ہائے انسان کی انگڑائی کا خم‬

‫کچھ ہی دیر پہلے‘ ایک ملنے والے اٹھ کر گیے‬
‫ہیں۔ فرما رہے تھے‘ ایک صاحب‘ جو دکھنے میں‬

‫پرہیزگار تھے‘ ایک لکھ چالیس ہزار روے لے‬
‫کر‘ پھر ہو گیے ہیں۔ اب تو سارا سال‘ انسان کی‬
‫اس انگڑائی کے خم کو‘ محراب حرم دیکھتی ہے۔‬
‫صیغہ رہ گئی‘ عصری دیانت کے خلف ہے۔ جو‬

‫شاعر‘ اپنے عہد کو فوکس کرتا ہے‘ اور شاہ‬
‫خوانی سے کام لیتا ہے‘ اسے ہی بڑے شاعر‬

‫ہونے کا‘ شرف حاصل ہو سکتا ہے۔‬
‫شکیب‘ احساس کو دشت قرار دیتا ہے۔ اس پر ستم‬

‫یہ کہ‘ اس دشت میں شعلہ سا اٹھاتا ہے۔ اس‬
‫شعلے کو‘ پیار کے شہر میں بدل دیتا ہے۔ شہر‬
‫سے‘ مختلف انواع کی اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔‬
‫مخلتف طبع کے لوگوں سے ملقات ہوتی ہے۔‬
‫وہاں‘ بھیڑ اور رونق کا موسم ہوتا ہے۔ جب شعلہ‘‬
‫کسی شہر کی بنیاد بنے گا‘ تو خرابہ جنم لے گا۔‬
‫کہیں میں‘ شکیب کی تعریف کرکے‘ ادبی خیانت کا‬
‫تو مرتکب نہیں ہو رہا‘ معافی چاہوں گا۔ نادانستگی‬
‫میں لکھ گیا ہوں۔ دوسرا آپ کو سمجھنے میں‬

‫غلطی لگ رہی ہے۔‬
‫شعلہ لپکنا‘ عجب طرح کا‘ اور بےسرا سا محاورہ‬
‫ہے۔ شعلہ سا سے‘ پہلے جذبہ ہونا چاہیے تھا۔ اب‬

‫یہ تشبیہ نہیں ۔ استعارہ اس لیے نہیں کہ حرف‬
‫تشبیہ موجود ہے۔ سا‘ پر شہر کی بنیاد رکھ رہا‬

‫ہے۔ شعر سنیے‬
‫دشت احساس میں شعلہ سا کوئی لپکا تھا‬

‫اسی بنیاد پر تعمیر ہوا یہ پیار کا شہر‬
‫ایک ہی شعر میں‘ دس بار حرف الف کا استعمال‬
‫کر گیا ہے جب کہ س‪ ٤‬بار‘ ش ‪ ٣‬بار؛ ت ‪ ٢‬بار‬
‫اور پ ‪ ٢‬بار‘ کا استعمال کر رہا ہے۔ اس سے‬
‫ثابت ہوتا ہے‘ کہ حروف ابجد پر‘ اس کی گرفت‬

‫بہت کم زور تھی۔‬
‫آہنگ اور غنائیت کے لیے‘ یہ سلیقہ تھوڑ علمی‬

‫اور تھوڑ فکری کا ثبوت ہے۔‬
‫یہاں میں نے‘ نمونہ کے چند شعر پیش کیے ہیں‘‬
‫ورنہ اس سے بڑھ کر‘ اس کی تھوڑ فکری کے‬
‫نمونے ۔۔۔۔۔روشنی اے روشنی۔۔۔۔۔ میں پڑھنے کو‬
‫مل جائیں گے۔ اگر میری اس‘ اعلی ترین تحریر‬
‫کو‘ ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا‘ تو میں‬
‫سمجھ لوں گا‘ کہ وار کاری رہا۔ اگر پسند کیا گیا‬
‫تو قارئین کا اپنا بندہ ہے‘ سمجھتے ہوئے‘ اپنے‬
‫کہے سے مکر کر‘ دوسرا رستہ اختیار کروں گا۔‬

‫ویسے کسی مردے کے لیے‘ کسی کو وکالت‬
‫کرنے کی‘ کیا ضرورت پڑی ہے۔ مجھے کسی‬
‫یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے‘ کوئی خدشہ نہیں۔‬
‫ان کی بائیں آنکھ پر شکیب سے زندہ لوگ‘‬
‫موجود نہیں ہیں۔ ان کی اپنی ترجیحات‘ ہمیشہ‬

‫سرفہرست رہی ہیں۔‬
‫ستمبر ‪٢٠١٤٢٩‬‬

‫قصہ ایک قلمی بیاض کی خریداری کا‬

‫تین دوست‘ پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ ہر‬
‫عمر کی‘ خواتین بھی وہاں اسی شغل سے‘ آئی‬
‫ہوئی تھیں۔ آپو اپنا ذوق ہوتا ہے‘ کچھ خواتین و‬
‫حضرات‘ تاڑا تاڑی کے لیے‘ چہل قدمی کا کشٹ‬
‫اٹھاتے ہیں۔ یہ تینوں‘ گھر سے تو چہل قدمی کے‬

‫لیے آئے تھے‘ اور کر بھی رہے تھے۔ ساتھ میں‘‬
‫تاڑی تاڑی کا فریضہ‘ بطریق احسن انجام دے‬

‫رہے تھے۔ دو جوان بیبیوں کو نظر میں رکھ رہے‬
‫تھے‘ جب کہ تیسرا‘ ڈھلی عمر کی مائی صاحبان‬
‫کے‘ قد کاٹھ اور حسن و جمال سے‘ لطف اندوز‬
‫ہو رہا تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے‘ اپنے‬

‫جوان نواز ساتھی سے پوچھا‘ یار یہ پچھلے‬
‫قدموں کیوں چل رہا ہے۔ اس نے حیرت سے‬

‫‪:‬سوالیے پر سوالیہ رکھا‬
‫تمہیں معلوم نہیں‬
‫نہیں تو‬

‫یار یہ کباڑیا ہے‘ تب ہی تو‘ مائی نوازی میں‬
‫مصروف ہے۔‬

‫‪:‬اس سے تین چار چیزیں کھلتی ہیں‬

‫بڑھاپا‘ عمومی سطح پر لیعنی اور بے معنی ہو‬
‫کر رہ جاتا ہے۔‬

‫بڑھاپا اپنے اندر کچھ ناکچھ تو ضرور رکھتا ہے۔‬
‫پرانے کو نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔‬

‫پرانے کے قدردان بھی موجود رہتے ہیں۔‬

‫لہور انار کلی کی فٹ پاتھی‘ میرا محبوب رہا ہے۔‬
‫وہاں سے‘ کچھ ناکچھ مل ہی جاتا ہے۔ میں انار‬
‫کلی فٹ پاتھ چھاننے سے پہلے‘ جی سی اورینٹیل‬
‫کالج کے‘ دوستوں سے مل لیتا۔ یقین مانیے‘‬
‫مجھے اپنے کسی دوست کی‘ نیت پر شبہ نہیں‬
‫رہا‘ بس احتیاطا ایسا کرتا تھا۔ کہنا تو صرف اتنا‬
‫ہی ہوتا ہے‘ ذرا دکھانا۔ یہ ذرا‘ ہمیشہ کے لیے‘‬
‫محرومی کے مترادف ہوتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں‘‬
‫کہ ذہنی فراغت کے بعد فٹ پاتھی شغل نبھایا‬

‫جائے‬

‫یہ فٹ پاتھ سجانے والے‘ بل کے حسن شناس‬
‫ہوتے ہیں‘ ریگ دریا میں طل تلش لینا‘ ان کے‬
‫دائیں اور بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ جھریوں‬
‫بھرے بوسیدہ بڑھاپے میں‘ وہ کچھ ڈھونڈ لیتے‬

‫ہیں‘ جو عمومی کیا‘ خصوصی آنکھ پر نہیں چڑھ‬
‫پاتا۔ ہر ردی فروش‘ ان کی دعا سلم میں رہتا ہے۔‬
‫وہ اس امر سے آگاہ رہتے ہیں‘ کہ کون سا ادیب‬

‫شاعر‘ دنیا سے پھر ہوا ہے اور اس کی ردی‘‬
‫جس نے گھر کا کمرہ یا گیلری پر ناجائز قبضہ کیا‬
‫ہوتا ہے‘ کس ردی کی دکان پر گئی ہے۔ وہ خود‬
‫بھی‘ اپنے ردی والے کو بھیج دیتے ہیں۔ لکھوں‬

‫کا بڑھاپا‘ چند ٹکوں میں ہاتھ لگ جاتا ہے۔‬

‫فٹ پاتھ پر آنے والے بڑھاپے کو‘ میں خوش‬
‫نصیب سمجھتا ہوں کہ وہ دوبارہ سے‘ کسی غیر‬
‫دنیا دار کے‘ ردی کے کمرے میں‘ ناجائز قابض‬
‫ہو کر‘ اس کی مرگ ناگہانی کا انتظار کرنے لگتا‬
‫ہے۔ یہ سب‘ معاشی اصطلح‘ تجارتی چکر کے‬
‫مترادف ہوتا ہے۔ غیر معروف اور مغضوب اہل قلم‬
‫کے لفظوں پر‘ کبھی آلو چھولے‘ تو کبھی‘ امرود‬

‫بسیرا کرتے ہیں۔ گویا اس طرح‘ لفظ کا بڑھاپا‬
‫خراب ہو جاتا ہے اور لفظ تراش‘ ناقدری کی لحد‬
‫میں اتر جاتا ہے۔ کچھ مجھ سے بھی بےسرے‘‬
‫بڑھاپا خراش ہوتے ہیں‘ جو آلو چھولے کھانے‬
‫کے بعد‘ کاغذ کا اگا پچھا ضرور ملحظہ کر لیتے‬

‫ہیں۔‬
‫ضروری نہیں ہر اگے پچھے کا شجرہ نسب کسی‬

‫شاعر ادیب کی نشت گاہ تک جاتا ہو۔ یہ بھی‬
‫امکان میں رہتا ہے کہ ٹکڑوں میں منقسم بڑھاپے‬
‫پر کسی حسینہ کی نوشیلی آنکھ سے گرا مروارید‬

‫ہاتھ لگ جائے‬

‫کسی کٹیا میں‘ مقید سقراط کا اتا پتا بھی درج ہو‬
‫سکتا ہے۔ سرمد کی موت پر اٹھنے والی‘ بےکس‬
‫سسکی‘ اپنے تمثالی روپ میں موجود ہو سکتی‬
‫ہے۔ چلو جو بھی سہی‘ انارکلی بازار کی فٹ پاتھ‬
‫نصیب میں نہ سہی‘ یہ امرودی کاغذ بھی‘ کباڑی‬
‫آنکھوں سے بچ کر‘ کوڑے کی ٹوکری میں نہیں‬

‫جا سکتے۔‬

‫یہ ‪ ١٩٨٤‬کے کسی مہینے کی بات ہے۔ میں‬
‫انارکلی بازار کا فٹ پاتھی ہوا۔ میرے پاس سو‬
‫سے چند روپے ہی زیادہ ہوں گے۔ وہاں بہت سے‬
‫خلد نشینوں کے‘ نامہءاعمال‘ اپنے فٹ پاتھی‬
‫سلیقے کے ساتھ‘ موجود تھے۔ میری جیب کا مال‬
‫معقول ناسہی‘ اسے غیرمعقول بھی نہیں کہا جا‬

‫سکتا تھا۔ میری نظر ایک قلمی بیاض پر پڑی۔ میں‬
‫نے اسے دیکھنے میں‘ دس منٹ سے زیادہ‬
‫صرف کر دیے۔ مال دل کو بھا گیا اور میں نے‘‬
‫اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا۔ مالک تاڑ گیا‘ کہ‬
‫گاہک پکا ہے‘ لے کر ہی جائے گا۔ میں نے دام‬

‫پوچھے‘ اس نے ڈیڑھ سو روپے سنا دیے۔ میں‬
‫غش کھا کر گرنے وال ہی تھا‘ کہ ارادے نے‬
‫سمبھال دیا۔ میں نے چاروں جیبیں اس کے‬
‫سامنے ٹٹولیں۔ کل ایک سو ستائیس روپے نکلے۔‬
‫میں نے کہا‘ بھائی بیاض بھی لینی ہے‘ چائے‬
‫سگریٹ کی طلب ہے‘ گھر بھی جانا ہے۔ اس کے‬
‫لیے‘ قصور بس پر جاؤں گا۔ لری اڈے پر سے‘‬
‫تانگہ لوں گا اب تم ہی کہو‘ کیا حکم لگاتے ہو۔‬
‫بھل آدمی تھا‘ یا وہاں میرا عجز اور مسکینی کام آ‬
‫گیے۔ اس نے کتاب میرے حوالے کر دی یہ ہی‬
‫نہیں‘ ساتھ میں عین نوازش فرماتے ہوئے‘ مبلغ‬
‫سترہ روپے میرے پاس رہنے دیے۔ میں نے‬
‫شکریہ ادا کیا۔ ریڑھی سے‘ دوپہر کا ناشتہ فرمایا۔‬
‫چائے پی‘ سگریٹ لیے‘ بس پر بیٹھا۔ سارے‬
‫رستے‘ بیاض کی ورق گردانی کی۔ تانگے پر بیٹھا‬
‫اور گھر آ گیا۔ بھری جیب گیا تھا‘ خوب پھرا ٹرا‘‬

‫کھایا‘ پیا‘ بس اور تانگے کے ہوٹے بھی لیے‘‬
‫سب کچھ کرکے بھی‘ میری جیب ابھی خالی نہ‬

‫تھی۔‬

‫یہ بیاض ایک سو سات صفحات پر مشتمل ہے۔‬
‫‪:‬پہلے صفحہ پر درج ہے‬

‫‪٧٨٦‬‬
‫دیکہو مجہے جو دیدہءعبرت نگاہ ہو‬
‫میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫مجموعہءاشعار و غزلیات و رباعیت‬
‫حسب فرمائش جناب شیخ عبدالغنی صاحب ایم۔اے‬

‫سپرنٹنڈنٹ ڈاکخانہ جات‬
‫مرتبہ‬

‫شمائل حسین راغب بدایونی‬

‫اس میں اردو کے معروف شاعر ‪ ‘ ٢٣‬غیر‬
‫معروف‪ ٣٥‬فارسی ‪ ٩‬اور کئی اشعار‘ نامعلوم کے‬
‫تحت درج کیے گیے ہیں۔ راغب کا تعلق‘ ان کے‬
‫نام کے حوالہ سے‘ بدایون سے بنتا ہے۔ وہ خود‬

‫بھی شاعر تھے۔ ان کے اپنے اشعار بھی بیاض‬
‫میں شامل ہیں۔ ان علوہ‘ گیارہ بدایون کے شعرا‬
‫کا کلم درج کیا گیا ہے۔ فانی کے علوہ‘ کوئی‬
‫شاعر معروف نہیں۔ ان شعرا کے اسمائے گرامی‬

‫‪:‬کچھ یوں ہیں‬

‫آفتاب بدایونی‬
‫ارشد بدایونی‬
‫امیر بدایونی‬
‫جامی بدایونی‬
‫راغب بدایونی‬
‫رند بدایونی‬
‫زلئی بدایونی‬
‫عیش بدایونی‬
‫فانی بدایونی‬
‫قمر بدایونی‬
‫لطف بدایونی‬
‫منور بدایونی‬

‫دیگر علقوں کے غیر معروف شعرا کے اشعار‬
‫‪:‬پڑھنے کو ملتے ہیں‬

‫بسمل آلہ آبادی‬
‫شوکت بلگرامی‬
‫اظہر امرتسری‬
‫حفیظ جالندھری‬
‫حمید جالندھری‬

‫مانی جائسی‬
‫جلیل حیدرآبادی‬
‫سہا حیدرآبادی‬
‫تاباں خورجوی‬
‫ناظم نواب رام پوری‬
‫خنجر لکھنوی‬
‫عزیز لکھنوی‬
‫محشر لکھنوی‬
‫محمد ہادی لکھنوی‬
‫دلبر مارہروی‬

‫دس غیر معروف شعرا نے علقے کو نام کا لحقہ‬
‫نہیں بنایا‬

‫امجد‬

‫جمیل‬
‫رضی‬
‫زیب النساء‬
‫ساغر نظامی‬
‫سیفی‬
‫طیش‬
‫قمر بللی‬
‫محمود اسرائیل‬
‫نظام بٹھیارا‬

‫اردو کے معروف شعرا جن کا کلم بیاض میں ملتا‬
‫‪:‬ہے‬

‫خواجہ حیدر علی آتش‬
‫احسن مارہروی‬
‫اصغر گونڈوی‬
‫علمہ اقبال‬
‫اکبر الہ آبادی‬

‫خواجہ الطاف حسین حالی‬
‫امیر مینانی‬
‫انشا‬

‫ببر علی انیس‬
‫بہادر شاہ ظفر‬
‫جگر مرادآبادی‬
‫جوش ملیح آبادی‬
‫چکبست لکھنوی‬
‫حسرت موہانی‬

‫داغ دہلوی‬
‫دبیر لکھنوی‬
‫ابراہیم ذوق‬
‫مرزا رفیع سودا‬
‫شبلی نعمانی‬
‫مرزا غالب‬
‫محمد علی جوہر‬

‫مومن‬
‫میر تقی میر‬

‫فارسی میں نو شعرا کا کلم باطورذائقہ پڑھنے کو‬
‫‪:‬ملتا ہے‬

‫بیدل‬
‫زیب انساء‬

‫حافظ شیرازی‬
‫خواجہ معین الدین چشتی‬

‫سعدی شیرازی‬
‫عمر خیام‬
‫محمد شاہ‬
‫مل جامی‬

‫میر عبدا پیامی‬

‫بیاض راغب کے بارہ بدایونی شاعر‬

‫آفتاب بدایونی‬
‫‪:‬ان کے دو شعر بیاض میں درج ہیں‬
‫کسکی آتی ہے صدا پردہ دل سے یا رب‬
‫میں نے پہلے بہی سنی تہی یہی آواز کہیں‬
‫کہیں پروانوں کا جہگٹ کہیں شمعوں کا ہجوم‬
‫ایک ہی حسن ازل سوز کہیں ساز کہیں‬
‫پہلے شعر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے بہی سنی تہی یہی آواز‬
‫کہیں۔۔۔۔۔۔عمومی تکیہءکلم ہے۔ عموما کہا جاتا‬

‫ہے۔‬

‫سنا سنا سا ہے‬
‫یاد نہیں آ رہا سنا سنا سا لگتا ہے۔‬
‫دیکھا دیکھا سا لگنا‘ سنا سنا سا لگنا‘ مانوس سا‬
‫ہونے کے لیے‘ عموم و خصوص میں مستعمل‬
‫ہے۔ سوز کہیں ساز کہیں خوب صورت ترتیب ہے۔‬

‫ارشد بدایونی‬
‫ان کا صرف ایک شعر بیاض میں پڑھنے کو ملتا‬

‫‪:‬ہے‬
‫تعزیہ خانوں میں مت جایا کرو اے ارشد‬
‫ہمتو پہلے ہی محرم سے الم دیکھ چکے‬
‫ارشد بدایونی پر یہ الزام دھرنا‘ کہ وہ اہل تشعیہ‬
‫کے مخالف رہے ہوں گے‘ درست نہ ہوگا۔ دکھ‬
‫اٹھانے‘ دیکھنے یا برداشت کرنے کی انتہا کو‬
‫واضح کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ محرم سے الم۔۔۔۔۔۔۔۔ دکھ‬
‫اور صعوبت کی شدت کو‘ واضح کرنے کے حوالہ‬
‫سے‘ بڑا جان دار مرکب ہے۔ تشبیہی طور اختیار‬
‫کرنے کے لیے‘ تلمیح کا‘ بڑے جان دار طریقہ‬

‫سے‘ استعمال کیا گیا ہے۔‬
‫دیکھ چکے۔۔۔۔ سگ گزیدہ کا پانی سے ڈرنا‘ غیر‬
‫‪:‬فطری عمل نہیں۔ سے۔۔۔۔۔۔ دوہرے معنی رکھتا ہے‬

‫محرم سے مماثلت رکھتے۔‬

‫محرم سے گزرنا۔۔۔۔۔۔ ان معنوں میں قیاس کیا جا‬
‫سکتا ہے کہ ارشد سادات سے ہوں یا کربل والوں‬

‫کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ پہلے ہی۔۔۔۔۔۔ کا‬
‫استعمال‘ فکر کو اس جانب لے جاتا ہے۔‬
‫امیر بدایونی‬
‫‪:‬ان کے مختلف جگہوں پر دو شعر ہیں‬

‫مجھسے بگڑے تہے تو خط بہی مجھے بگڑا لکہا‬
‫حسن اخلق نہ تہا حسن رقم بہی نہ رہا‬

‫دونوں مصرعوں میں‘ جہاں لفظوں کا استعمال‬
‫حسن رکھتا ہے‘ وہاں تفہیمی حوالہ سے بھی کچھ‬

‫کم نہیں۔ پہلے مصرعے میں‘ انسانی رویے کی‬
‫عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ‘ عمومی رویے کو‬
‫بھی واضح کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں‬

‫‪:‬اصول بیان کیا گیا ہے‬
‫اصول‪ :‬کوئی برا بھل کہتا ہے‘ تو تم اپنی فطرت‬
‫پر رہو‘ اخلق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو۔ اس‬
‫کی صورت کوئی بھی رہی ہو۔ زبان اور قلم اس‬

‫کے تحت ہی فعل انجام دیتے ہیں۔‬
‫دوسرے مصرعے میں ۔۔۔۔ نہ تھا۔۔۔۔ کا استعمال ہوا‬
‫ہے‘ لہذا رد عمل بھی‘ نہ تھا کے مطابق سامنے‬

‫آتا ہے۔ ہونے اور ناہونے کی امتیازی صورت‬

‫سامنے آتی ہے۔‬
‫بگڑے تہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خط بہی بگڑا لکہا‬
‫لفظوں کا خوب صورت انسلک سامنے آتا ہے۔‬
‫اسی طرح‘ حسن اخلق کے ساتھ‘ حسن رقم کا‬
‫استعمال‘ خوب ہوا ہے۔ان کا دوسرا شعر بھی کچھ‬

‫‪:‬کم نہیں ہے۔ کہتے ہیں‬
‫نادم ہو امیر اپنے افراط معاصی پر‬

‫شاید کہ پذیرا ہو انداز ندامت کا‬
‫لسانیاتی حوالہ سے‘ امیر بدایونی کے اس شعر‬
‫کی داد نہ دینا‘ زیادتی ہو گی۔ افراط معاصی اور‬
‫انداز ندامت‘ دونوں مرکب من بھاتے ہیں۔ سماعی‬
‫اور تفہیمی حوالہ سے‘ بلغت کا عمدہ نمونہ ہیں۔‬
‫انداز ہی کے تحت‘ ردعمل سامنے آتا ہے۔ منفی یا‬
‫جعلی انداز کی پذیرائی نہیں ہوتی۔ مثبت اوراصلی‬

‫انداز کو ہی‘ پذیرائی میسر آتی ہے۔ دوسرے‬
‫مصرعے کا آغاز امکانی صورت کو واضح کرتا‬
‫ہے‘ جب کہ آخر میں امکان کو طور سے مشروط‬

‫کر دیا گیا ہے۔‬
‫جامی بدایونی‬
‫بیاض کے صفحہ ‪ ١٣‬پر جامی بدایونی کے دو‬
‫‪:‬شعر درج کیے گیے ہیں‬

‫خود وہ اپنے آپ کو پہچاننے وال نہیں‬
‫اپنے محسن کا جو احسان ماننے وال نہیں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫نہ کرنا نہیں مگر کیں سبز باغ دہر کی سیریں‬

‫فریب حسن میں آ ہی گیا آخر کو انسان تھا‬
‫خود کو مستعمل ہے۔ پہلے مصرعے میں‘ لفظوں‬

‫کے استعمال کا یہ ہی کمال ہے‘ کہ خود کے‬
‫استعمال کے لیے‘ اپنے آپ کا استعمال کیا گیا ہے۔‬
‫دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ دونوں کا‬
‫ایک ساتھ‘ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مصرے‬
‫میں‘ محسن اور احسان کا‘ ایک ساتھ استعمال کیا‬

‫گیا ہے۔ محسن صفتی نام ہے۔ قاری کو پہلے‬
‫مصرعے یا اپنی سمجھ کے زیر اثر‘ وہ کون ہے‘‬

‫کو تلشنا ہے۔‬
‫نہ کرنا نہیں‘ عمومی طور اور رویہ ہے۔ کیں ایک‬
‫سے زائد کی طرف اشارہ ہے۔ ہم صوت لفظوں کا‬

‫یہ کمبی نیشن خوب ہے۔ کیں سیریں یا نثر میں‬
‫سیریں کیں۔ دہر کو‘ سبز باغ سے نسبت دی گئی‬
‫ہے۔ جو ہو رہا ہے یا کر رہے ہیں‘ محض خیالی‬
‫پلؤ ہے‘ وگرنہ اپنی حقیقت میں‘ کچھ بھی نہیں۔‬
‫وال نہیں‘ مستقل عادت کا غماز ہے۔ دو صورتیں‬

‫دی ہیں ایک بصارت سے متعلق ہے‘ جب کہ‬
‫دوسری کا تعلق محسوس سے ہے۔ وال نہیں ۔۔۔۔۔۔‬

‫کے ساتھ‘ ظاہر اور باطن متوازی رواں ہیں۔‬
‫فریب حسن میں‬
‫آ ہی گیا‬
‫آخر کو‬
‫انسان تھا‬

‫آ ہی گیا۔۔۔۔ بڑا ہی سیانا تھا‘ کی وضاحت کر رہا‬
‫ہے۔ آخر کو۔۔۔۔۔۔ محتاط روی کو واضح کر رہا ہے۔‬

‫انسان تھا۔۔۔۔۔ انسان خطا کا پتل ہے÷ کتنا بھی‬
‫محتاط ہو‘ نادانستہ طو پر سہی‘ کچھ ناکچھ غلط‬
‫کر ہی جاتا ہے‘ یا اس سے ہو جاتا ہے۔ فکر جو‬
‫بھی پیش کی گئی ہے‘ اپنی جگہ‘ لفظوں کی نشت‬
‫و برخواست خوب ہے۔ فریب حسن میں‘ دیدنی‬

‫سے کلی انحراف ملتا ہے۔ ہے ہی نہیں‘ گویا‬
‫انسان ہے ہی نہیں‘ کے پیچھے دوڑے چل جا رہا‬

‫ہے۔‬
‫راغب بدایونی‬
‫صاحب بیاض راغب بدایونی نے‘ ناصرف اپنے‬
‫‪٠٦‬اشعار بیاض کا حصہ بنائے ہیں‘ دو مکمل‬
‫غزلیں بھی درج کی ہیں۔‬

‫رہے نہ دہوکے میں لمکاں کے پڑے نہ پیچہے‬
‫وہ میری جان کے‬

‫دہوئیں اڑا دیگا آسماں کے اثر مری آہ آتشیں کا‬
‫دھوکے میں رہنا‘ پیچھے پڑنا‬
‫‪:‬دھویں اڑانا‬

‫دہوئیں اڑا دینا ۔۔۔۔۔۔۔ بالکل نیا اور الگ سے چلن‬
‫ہے تاہم کہیں ناکہیں سننے کو مل جاتا ہے۔ اسے‬
‫پرخچے ازانا کے مترادف میں‘ استعمال کیا گیا‬
‫ہے۔ اس چلن نے‘ فصاحت میں اضافہ کیا ہے۔‬
‫آسمان کی گردش اثرات کے حوالہ سے مسلم ہے‘‬

‫آہ آتشین غالب کا مرکب ہے‘ جس کا استعمال‬
‫‪:‬خوب کیا گیا ہے۔ مصرعہ دیکھیں‬
‫دہوئیں اڑا دیگا آسماں کے‬
‫اثر مری آہ آتشیں کا‬

‫اف اتنی تپش۔ اس تپش کے حوالہ سے‘ شخصی‬
‫آہ کا اثر ملحظہ کیا جا سکتا ہے۔ معروف ہے‪:‬‬
‫مظلوم کی آہ سے بچو‘ اس سے عرش بھی کانپ‬

‫جاتا ہے۔‬
‫شعر میں مزید دو محاوروں کا استعمال ہوا ہے‪:‬‬

‫دھوکے میں رہنا‘ پیچھے پڑنا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫دیدار جلوہ ہو جو میسر تو کسطرح‬
‫وہ بےنیاز ہے ہمیں ذوق نظر نہیں‬

‫بڑا خوب صورت شعر ہے۔‬
‫دیدار جلوہ ہو جو میسر‬

‫تو کسطرح‬
‫سوالیہ‘ الگ سے طور کا حامل ہے۔ تو کس طرح‬
‫نے‘ سوال پر حیرت طاری کر دی ہے۔ وجہ بھی‬
‫بیان کر دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ذوق نظر نہیں۔ ورنہ وہ‬
‫تو بے نیاز ہے۔ جلوہ دینے والے کی طرف سے‬
‫کوئی حیل وحجت نہیں۔ پہلے مصرعے میں واؤ‬

‫کے تکرار نے‘ الگ سے کیفیت پیدا کی ہے۔‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫کسی کے انتظار وعدہ میں یہ حال ہے راغب‬
‫کہ میری زندگی منت کش امروز و فردا ہے‬
‫وعدہ یقین اور انتظار بےچینی کا سبب بنتا ہے۔‬
‫جب یہ طوالت کھینچے‘ تو تذبذب جنم لیتا‬
‫ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منت کش امروز و فردا۔۔۔۔۔۔۔ لفظوں کی‬
‫ترتیب نے‘ مضمون میں بڑی جان پیدا کر دی ہے۔‬
‫عمومی سطح پر بھی‘ یہ ہی ہے‘ کہ زندگی آج اور‬
‫کل کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ شخصی کیفیت کی‬
‫تصویر کشی‘ اپنا مخصوص اثر چھورتی ہے‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫ہم کیف جلوہ پائین بہی تو کسطرح پائیں‬

‫ذوق نظر ہوا جو تو تاب نظر نہیں‬
‫شعر‘ محسوس سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ہی تو کا‬
‫استعمال بڑا ہی جان دار ہے۔ ذوق نظر میسر آیا‘‬
‫عروج کی حد ہے۔ ہر کوئی اسی کا متلشی ہے۔‬
‫شاعر نے کمال کا نقطہ اٹھایا ہے‘ ذوق نظر میسر‬
‫آ جانا کافی نہیں‘ تاب نظر کو‘ نظرانداز نہیں کیا‬
‫جا سکتا۔ دونوں گرہ میں ہوں‘ تو جلوہ پایا جا‬
‫سکتا ہے۔ جلوہ‘ بلشبہ کیف کا حامل ہوتا ہے۔‬
‫کیف سے‘ قلب و نظر کو تسکین میسر آتی ہے۔‬
‫ذوق نظر اور تاب نظر نے‘ شعر کو بڑا حسن دیا‬
‫ہے۔ اسی طرح پہلے مصرعے میں‘ دو بار پائیں‬
‫کا استعمال‘ موسییقت کا ہی سبب نہیں بنتا‘ بلکہ‬
‫دو معاملت اور امور سامنے لتا ہے‘ اور بہت بڑا‬

‫سوالیہ بھی چھوڑتا ہے۔‬
‫ہم کیف جلوہ پائین‬
‫بہی تو‬
‫کسطرح پائیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫غیر کی باتوں سے ناحق ہو گئے کیوں بدگمان‬


Click to View FlipBook Version