نشت میں عرض کروں گا۔ زیر حوالہ شاعر نے‘
:اپنا تعارف کچھ یوں درج کیا ہے
نام :ریحان احمد
تاریخی نام :محمد خورشید عالم
تخلص :صفت
ولدیت :حاجی ذیشان احمد
قوم :ملک۔۔۔ ککے زئی
قد ٥فٹ ١انچ
تاریخ پیدائش ٨ :اپریل ١٩٣٧
جائے پیدائش :سہارن پور‘ صوبہ یو پی‘ بھارت
تعلیم :میٹرک
استاذ :ناز لکھنوی‘ ارم سلطان پوری
آمد پاکستان ٨ :مئی ١٩٥٢
حالت زندگی حرف خاص کے نام سے کچھ یوں
درج کیے گیے ہیں۔
حرف خاص
میں شام کا مسافر ہوں صبح مجھ سے بہت دور
ہے۔ وہ ڈھلتا ہوا سورج ہوں جو زیادہ طلوع نہیں
ہوا۔ آکاش کا سورج مجھ سے بہت مختلف ہے۔
اس نے میری کئی نسلیں اور ان کے سورج
ڈوبتے چڑھتے دیکھے ہیں۔ میں اب چراغ سحری
ہوں۔ ہوا کا ایک جھونکا میری زندگی کے چراغ
کو بجھانے کے لیے کافی ہے۔
میں ایک پہر کا پھول ہوں جو ایک جھونکے سے
زمین پر پتی پتی ہو کر بکھر جاتا ہے۔ اور اسے
گرا کر خود مسروری سی آگے بڑھ جاتی ہے۔ میں
دنیا کے لیے ایک عبرت اور اپنے لیے ایک عذاب
ہوں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی
بھی دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتا۔
ہم سب آہستہ آہستہ یہی کردار انجام دیتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ جہاں سانس لینے کی بجائے دم
گھٹتا ہے اس نے مجھے بہت دکھ دیے ہیں۔ اسی
نے میری سوچوں کو اپنے لیے وقف کر لیا ہے۔
اپنا پہرا بیٹھا دیا ہے کہ میں سوچوں زیادہ سے
زیادہ سوچوں میرا مرکز معاشرہ میرا محور یہ
معاشرہ ہی ہو۔ جہاں چوری ہے ڈاکہ ہے رشوت
ہے جہاں قرآن بکتے ہیں جہاں ایمانوں کے
سودے ہو جاتے ہیں۔ جہاں عصمتیں ارزاں ہیں
اور ایک وقت کی روٹی بہت گراں ہے جہاں
سوہنی دھرتی کے جیالے ماں کو ماں بہن کو بہن
نہیں جانتے۔ کاش کاتب تقدیر نے میرے ساتھ یہ
ظلم نہ کیا ہوتا۔ مجھے باغ بہشت سے اس صحرا
کے لق و دق چٹیل میدان میں پھینک دیا۔ کہنے کو
ایک جم غفیر ہے رہنے کے لیے ایک جھونپڑا
نہیں۔ مگر اس سوہنی دھرتی پر رہنے والے اور
بسنے والے ہزاروں سال کی شناسائی ہوتے ہوئے
بھی ایک دوسرے کو نہینپہچانتے۔ معاشرہ اور
اس کے باسی مجھے دعوت فکر دیتے ہیں۔ اور
میں دکھ کے ان بیتے لمحموں میں کھو جاتا ہوں۔
جب حالت نے مجھے جکڑ لیا تھا اور مجھے اپنا
گھر اپنے بہن بھائی بزرگ باپ اور اپنا وطن
چھوڑنا پڑا اس دنیا میں دو بہنیں تھیں جو میرے
لیے دعائیں مانگا کرتی تھیں ان میں سے ایک کو
یہ دنیا پسند نہ آئی اور واپس چلی گئی۔ اب ایک
ماں جائی ہے جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی
میرے لیے دعاگو ہے۔
یہاں آ کر بڑے بڑے پاتڑ بیلے مگر وہی ڈھاک
کے تین پات نتیجہ سامنے ہے نہ رہنے کو گھر
ہے نہ پہننے کے لیے کپڑے۔ ہاتھ خالی منہ
سوالی اس پر ضد یہ ہے کہ میں اس معاشرے
کے لیے سوچوں۔ کیا ملے گا اکیل چنا باجے گھنا
کے مصداق طوطی کی صدا کو کون سنے گا۔ بہن
مری صبر کیا باپ ا کو پیارا ہوا تو خاموش رہا
ایک ایک کرکے سب چاہنے والے رخصت ہو گیے
اور میں اس معاشرے سے نفرت کرنے کے لیے
آج بھی زندہ ہوں۔ سب کہتے ہیں اندھیروں میں
روشنی کے چراغ جلئے جاتے ہیں۔ سچ ہے
مگر یہ تاریکی جو مجھ پر چھا گئی ہے یہ ان
اندھیرے غاروں کی ہے جہاں سورج کی کوئی
کرن نہیں پہنچ سکتی۔ یہ ظلم اور اقدار سے
بغاوت کی تاریکی ہمارے اردگرد پھیل گئی ہے۔ یہ
وحشتناک جنگلوں اور سنسان کھنڈرات کی ماند
خوفناک ہے۔ لیکن کیا کوئی رات ایسی بھی ہے
جس کی کوئی سحر نہ ہو۔ ان تاریک جنگلیوں
سے پھر کوئی گوتم جنم کیوں نہیں لیتا۔ صحرا کی
گہرائیوں سے پھر کوئی سورج طلوع کیوں نہیں
ہوتا۔ بات لمبی ہو چلی ہے۔ سوچ اور فکر کی
طرف آ گیا ہوں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم روشنیوں
کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب اندھیرا پھیل چکا
ہوتا ہے۔
نقل وطن کے بعد میری کوشش رہی کہ میں اپنے
نصب العین کو حاصل کر لوں۔ میری کمزوری
غربت تھی۔ ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہونے
کے باوجود میں اقتصادی غریب غریب تھا۔ میں
غریبوں میں رہ کر ان کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔
مجھے دکھی انسانوں سے ہم دردی تھی اور آج
بھی ہے مگر میرا مستقبل میرے نصب اعین کے
روپ میں نہ مل بلکہ اور زیادہ تاریک ہو کر غبار
راہ بن کر رہ گیا ہوں۔ میں نے اپنوں کی خدمت کی
ان کے جا بجا حکم پر سرنگوں کیا مگر ذلت کے
سوا کچھ نہ مل تو میں نے غیروں کو اپنانا چاہا
تو وہاں مطب پرستی نے ہر قدم پر ٹھوکریں ماریں
اور آج میں اس معاشرے سے اس پوری دنیا سے
نفرت کرتا ہوں ۔ میری اس تنقید کا ہرگز یہ مطلب
نہیں کہ میں ملمت کروں۔ بقول شخصے ملمت
قصوروار کو کی جاتی ہے اور معاشرہ تو مظلوم
ہے ازل سے جو راہیں جس کے لیے منتخب کر
دی گئی ہیں وہ اسی راہ پر گامزن ہے یوں
سمجھیے کہ
غم یہ نہیں کہ ہم کو زمانہ برا مل
افسوس یہ ہے ایسے زمانے کو ہم ملے
یوں سمجھ لیجیے کہ کوئی پودا ایک جگہ سے
اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جائے جہاں کی
زمین‘ آب و ہوا اور موسم اس کی طبعت کے
خلف ہو تو پودا پروان چڑھ سکتا ہے۔ کچھ یہی
میرے ساتھ بھی ہوا۔ ابتدائی پرورش کے دوران
محبت اور خلوص نے مجھے جھولے جھلئے ہر
ضد پوری ہوئی زبان سے نکل ہوا کوئی حرف
حرف آخر ہوتا تھا اور جب شعور پختہ ہوا جذبات
و احساسات نے جنم لیا اور اپنی منزل قائم کرنے
کے عزم پیدا ہونے لگے تو آہستہ آہستہ تقدیر نے
سب لوازمات چھین لیے۔ سب سہارے ٹوٹ گیے
اور بیساکھیاں کام نہ آ سکیں۔
نویں جماعت میں تھا کہ موسم کا اثر طبعیت پر
ہونے لگا۔ ظلم و تشدد سے دل کڑھنے لگا۔ ہر
خوبصورت چیز اچھی لگنے لگی تو ہم گنگنانے
لگے اور اسی طرح روتے روتے گویے ہو گیے۔
اس امر سے قطعی اتفاق نہیں کہ میں شاعر ہوں
یہ ایک ایسی بات ہوگی گویا شاعری کا مذاق اڑانا۔
البتہ جو بات برجستہ اور آپ کے منہ پر نہیں کہی
جا سکتی اسے منظوم لہجے میں بزبان قلم آپ
تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ڈھونڈ لیا۔ کچھ دن ناز
لکھنوی صاحب سے درس تلمیذ اسی باب میں لیا۔
اس کے بعد ارم سلطان پوری سے مکمل وابستگی
رہی مگر ناگفتہ حالت کے تحت پاکستان آنے کی
وجہ سے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اب جو کچھ
ہے خانہ ذاد ہےاور آپ کی نذر ہے۔
صفت سہارن پوری کی اس ذاتی تحریر سے‘
ناصرف ان کا تعارف اور ان کے حالت زندگی
سے آگاہی ہوتی ہے‘ بلکہ سماجی و سیاسی حالت
سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ یہ ان کی ذاتی ڈائری
ہے‘ جو ان پر گزرا‘ کا نوحہ ہے۔ اس سے ان کا
نثری اسلوب بھی سامنے آتا ہے۔ انہوں نے
مخصوص محاورات کا استعمال کیا ہے۔ مثل
یہاں آ کر بڑے بڑے پاتڑ بیلے مگر وہی ڈھاک
کے تین پات نتیجہ سامنے ہے نہ رہنے کو گھر
ہے نہ پہننے کے لیے کپڑے۔ ہاتھ خالی منہ
سوالی اس پر ضد یہ ہے کہ میں اس معاشرے
کے لیے سوچوں۔
ان کا اسلوب تکلم افسانوی ہے۔ اردو زبان وادب
کی یہ امانت‘ ا نے ردی چڑھنے سے بچا لی۔
اس ڈائری کے حوالہ سے‘ ناز لکھنوی اور ارم
سلطان پوری کے نام بھی سامنے آئے۔ بعض
غزلوں کے آغاز میں بھی کچھ اسماء آئے ہیں۔
محشر بریلوی لیاقت آباد‘ ١٨جون سن موجود
نہیں‘ کو پڑھی جانے والی غزل کا مطلع یہ تھا
بدل گئے سب تقاضے دل کے نظر بھی اب وہ نظر
نہیں ہے
خلوص دل میں رہا نہ باقی دعا میں اب وہ اثر
نہیں ہے
احمد فاخر سکندر آباد کے ہاں پڑھی جانے والی
غزل کا مطلع ملحظہ ہو
روتے روتے ہی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
اس طرح عمر بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
موج بھرتیوری کے ہاں ٦اگست ١٩٨١کو پڑھی
جانے والی غزل کا ایک شعر ملحظہ ہو
کچھ ایسے زخم بھی کھاتا ہے انسان دور ہستی
میں
نگاہ ناز کا بھی کارگر مرہم نہیں ہوتا
موج صاحب کے ہاں ایک دوسرے وقت میں پڑھی
جانے والی غزل کا مطلع دیکھیے
وقت خزاں ہے دل مرا قصہءگلستاں نہ پوچھ
کیسے لٹا ہے آشیاں ہائے وہ داستاں نہ پوچھ
پاکستان آتے وقت ریل گاڑی میں ہونے وال کلم
ملحظہ ہو۔۔۔۔۔۔١٩٦٦
اے سہارن پور اے میرے وطن رشک چمن
ذرہ ذرہ ہے ترا میرے لیے لعل یمن
سہارن پور بھارت میں اس طرحی مصرعے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل
مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر کہی گئی غزل کا مقطع
:دیکھیے
کیا بتاوں اے صفت یہ بھی عجب ہے اتفاق
ڈھنونڈتا پھرتا ہوں میں منزل کو اور منزل مجھے
٣مارچ ١٩٧٠یعنی چوالیس سال پہلے‘ لکھی
:گئی ایک غزل کا مقطع ملحظہ ہو
بے رخی ان کی اے صفت توبہ
جیسے مجھ پر عذاب کا عالم
صفت سہارن پوری‘ مہاجرت کے بعد‘ قصور
اقامت پذیر نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہاں ککے زئی
فیملی موجود ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے‘ کسی کام
سے آئے ہوئے ہوں۔ محشر بریلوی‘ موج
بھرتیوری اور احمد فاخر‘ کراچی سے متعلق لوگ
ہیں۔ وہاں مشاعرعے پڑھنے جاتے ہوں گے۔
قصور آئے ہوں گے‘ اور یہاں یہ ڈائری بھول گیے
یا گرا گیے ہوں گے۔ اس گمشدگی کے بعد‘ ان کی
قلبی کیفیت کیا رہی ہو گی‘ وہ جانتے ہوں گے‘ یا
ا جانتا ہے۔ ادپ سے غیر متعلق لوگوں کے
لیے‘ یہ چیزیں ردی ہوتی ہیں‘ اور ان سے‘ خواہ
مخواہ ایک کمرہ‘ تصرف سے نکل جاتا ہے‘ تاہم
بابے کی موت کے بعد‘ کمرے زندگی کے درست
مقاصد کے لیے‘ استعمال ہونے لگتا ہے۔ یہ ہی
ہوتا ہے‘ یہ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ پرزے‘ اپنے دامن
میں‘ عہد رفتہ کے حقائق اور چشم دید شہادتیں
لیے ہوتے ہیں۔ یہ بےکار پرزے‘ ہی تو ماضی کا
اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ سونا‘ چاندی‘ عمارتیں‘
چھنیاں کولیاں‘ بہترین لباس اور کھانے سب مٹی
ہو جاتے ہیں۔ شخص اپنے ماضی سے محبت کرتا
ہے‘ لیکن ماضی کے‘ اصل سرمائے کی حفاظت
کے لیے‘ کسی قسم کا تردد نہیں کرتا۔
اس ڈائری میں‘ صفت سہارن پوری کا کلم نہ بھی
ہوتا‘ تو بھی‘ حرف خاص کے حوالہ سے‘ اس کی
اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج کی نسل
کے پاس‘ تو محض مورکھ کا لکھا موجود ہے‘
اور وہ اس پر یقین کرنے پر مجبور ہے۔ ایک
بیس پچس سال کے جوان کو‘ کیا علم کہ تیس
چالیس سال پہلے‘ یہاں کیا تھا‘ اور معاملت کس
طرح کے ہوتے تھے‘ یا معاملت کی نوعیت کیا
تھی۔ ایسے میں اس قسم کے پرزے‘ بڑی اہمیت
کے حامل ہیں۔ اس لیے‘ میری نسل سے استدعا
ہے‘ کہ وہ ان پرزوں کو ردی میں نہ بیچیں۔ انہیں
سلیقہ سے‘ کسی شاپر ڈبے یا بوری میں رکھ
دیں‘ یا کسی علمی ادبی شخص کے حوالے کر
دیں۔ قومی سطح پر ادارہ بھی قائم کیا جا سکتا
ہے‘ جہاں یہ پرزے جمع کرا دیے جائیں۔ کوئی
اپنے نام سے چھاپتا ہے‘ تو چھاپ لے‘ کوئی نئی
بات نہیں‘ چلو آج‘ اپنی اصل کے ساتھ‘ مستقبل کو
تو منتقل ہو جائے گا۔
شکیب جللی کی زبان اور انسانی نفسیات
ہر لفظ‘ اپنے عہد کے مجموعی اور اکائیاتی
سماجوں سے‘ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اسے‘ اس عہد
کے مجموعی‘ اور منی سماجوں کے اشخاص کی‘
انگلی پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے مزاج‘ حاجات‘
موجود صورت حال کے تحت‘ ترکیب پانے وال
موڈ‘ عمومی‘ خصوصی اور حادثاتی لہجوں کی
بھی عکاسی کرنا پڑتی ہے۔ اگر وہ ان حوالوں
سے‘ دور رہیں گے تو معاملت کی‘ درست سے‘
نمائندگی کرنے سے قاصر رہیں گے۔ لفظ معاملے
کو‘ اس کے عین مطابق بیان کرتے ہیں‘ انہیں
ناصرف شخص کی‘ باڈی لینگوئج کو قاری کے
رو بہ رو لنا ہوتا ہے‘ بلکہ اس ماحول اور
سیچوئیشن کی بھی‘ تصویر کشی کرنا ہوتی ہے۔
اس حوالہ سے دیکھا جائے‘ تو شاعر اور ادیب
میں‘ ماہر نفسیات کی خصوصیت ہونی چاہیے‘
بلکہ یہ خصوصیت ان میں فطری طور پر‘ موجود
ہوتی ہے۔ ہر بڑے یا چھوٹے شاعر کے ہاں‘ اس
کے علقہ کے ہر طبقہ اور شعبہ کے اشخاص کی‘
نفسیاتی کیمسٹری موجود ہوتی ہے۔ رو بہ رو عین
ممکن ہے‘ گفتگو میں تکلف‘ شخصی اور قومی
بھرم کی دیوار کھڑی ہو جائے۔ اصل کی پوشیدگی
کی‘ ان گنت صورتیں نکل سکتی ہیں۔ ادب اس قوم
کی فکر‘ رجحانات‘ میلنات‘ ترجیحات اور عمومی
اور خصوصی عادات کا‘ عکاس ہوتا ہے۔ جان
کیٹس کو ہی لے لیں‘ اس نے اپنے خطوط میں‘
جو اصطلحات استعمال کی ہیں‘ وہ اس عہد کے
رویوں کی عکاس ہیں۔ استاد غالب کے خطوط‘ ان
کے عہد کے‘ شخصی اطوار کو واضح کرتے ہیں۔
میر صاحب کا ہر شعر‘ اپنے عہد کے شخص کے‘
سوچ اور ہجانات کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ یہ
سب‘ دانستگی کا حامل نہیں ہوتا‘ دانستگی کی
صورت میں‘ ادب کا حقیقی لطف‘ ہی بے لطف ہو
جاتا ہے۔
شکیب جللی کا کرب‘ ذات کا کرب اپنی اصل میں‘
سوسائٹی کا کرب ہے۔ اس جیون کا کرب ہے‘ جس
میں اس نے‘ زندگی کے لمحات گزارے۔ اس کا
کلم‘ لوگوں کے رویوں کی عکاسی کرتا ہوا‘
محسوس ہوتا ہے۔ اس کی ہم کلمی میں بھی‘ اس
عہد کا شخص‘ چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ اس کے
اندازواطوار کا‘ باخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ میری
بدقسمتی یہ ہے‘ کہ وہ میرے ہی عہد کا شاعر
ہے‘ اور میں اسے ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ میری
اس سے‘ کبھی ہیلو ہائے نہیں رہی۔ میں نہیں
جانتا‘ فکری و لسانی حوالہ سے‘ اتنے اعلی پائے
کے شاعر کو‘ کیوں اور کس جرم کی پاداش میں‘
نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
احمد ندیم قاسمی کے انتہائی مختصر اور ڈنگ
ٹاپاؤ ابتدائیے سے‘ بس اتنا معلوم ہوتا ہے‘ کہ
انہیں شکیب جللی کی بیوہ محترمہ محدثہ خاتون
نے‘ جملہ مواد بھجوا دیا۔ اس مواد میں خطوط
اور نثری یاد داشتیں بھی رہی ہوں گی‘ یا ا
جانے کیا کچھ‘ رہا ہو گا۔ چلو کچھ مواد ردی نہ
چڑھا۔ کیا کچھ رہا ہو گا‘ کوئی نہیں جانتا۔ اس
معاملے کی‘ الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت
کو‘ بہرطور نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ ابتدائے
میں کاغذات کا ایک انبار‘ اپنے اندر بڑی گرہیں
اور معنویت کا ایک انبار رکھتا ہے۔ روشنی اے
روشنی‘ انبار نہیں ہے۔ مجموعہ کل صرف ١٥٩
صفحات پر مشتمل ہے۔ کلم ص ١٣ :سے شروع
ہوتا ہے۔
شکیب جللی کو‘ انسانی رویوں کو کاغذ کے
سپرد کرنے کا‘ ڈھنگ خوب آتا ہے۔ مجموعے کی
پہلی ہی غزل کا‘ یہ شعر ملحظہ فرمائیں۔ اس کا
لسانی طور اپنی جگہ‘ لیکن شخص کو بڑی ہنر
مندی سے‘ وضح کیا ہے۔ یہ کسی اجنبی معاشرے
کا شخص نہیں ہے‘ ایسے اشخاص سے‘ ہر روز
ملقات ہوتی رہتی ہے۔
یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی سہہ نہ سکا‘ لہجہ ایسا کرخت تھا
وہ لب :پھول سے نازک
دونوں مرکب‘ شخص کے کارگزاری سے متعلق
اجزا‘ کی مصوری کر رہے ہیں۔
مستعمل تشبیہ ہے۔
ان کا تعلق بصارتی آلت سے ہے
کرخت لہجہ :انداز تکلم کو ظاہر کر رہے ہیں۔
سماعی آلت سے متعلق مرکب ہے
کوئی سہہ نہ سکا :ردعمل کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرا غور کرنے سے‘ اطراف کی باڈی لینگوئج‘
آنکھوں کے سامنے‘ گھوم گھوم جاتی ہے۔
بڑے لوگوں کو ایک طرف رکھیں‘ کہ وہ کتنے
غیرت مند‘ اور غیرت مندی کی کس سطح پر
کھڑے ہیں۔ عموم کس مقام پر کھڑے ہیں‘ یا ان
کی شخصیت کی ساخت کیسی ہے‘ اس کا تجزیہ
بھی‘ شکیب کے ہاں ملتا ہے۔ عموم پر نہ رکھیں‘
شکیب پر ہی اپلئی کریں‘ یہ شعر اس ذیل میں یہ
بول رہا ہے۔
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سایہءدیوار پہ دیوار گرے
مجھے گرنا ہے :حالت کا جبر
باغیرت شخص کا ردعمل :میں اپنے ہی قدموں
میں گروں
سایہءدیوار پہ دیوار گرے :یہ تشبیہ تو ہے ہی‘
لیکن معاملے کو تجسیم دے دی گئی ہے۔
شخصی نفسیاتی کی عکاسی‘ اس سے بڑھ کر
کس طرح ہو گی۔
اسی قماش کا ایک اور شعر ملحظہ فرمائیں۔
خوددار ہوں کیوں آؤں در اہل کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
خوددار ہوں
کیوں آؤں
در اہل کرم پر
کھیتی
کبھی خود چل کے
گھٹا تک نہیں آتی
خوددار ہوں :شخص کا فطری وصف
یہ وصف‘ دست سوال دراز کرنے کی‘ راہ کی
دیوار بنا رہتا ہے۔ ہمارے‘ اہل کرم کی فطرت ہے‘
کہ وہ حق بھی‘ بلعوضانہ نہیں دیتے‘ جس کے
باعث‘ نہ اہل کرم کے ہاتھ کچھ لگتا ہے‘ اور ناہی
حق دار‘ اپنا حق لے پاتا ہے۔ کیا اہل کرم دیکھ
نہیں رہے ہوتے‘ کہ کون کس حال میں ہے۔ اگر
خود سے‘ دان کریں گے تو ہی‘ اہل کرم کے
زمرے میں آسکیں گے۔ شکیب نے بل دلیل بات
نہیں کی۔ دوسرے مصرعے میں‘ اپنے کہے کی
دلیل پیش کی ہے۔ گویا دو مترادف درج کیے ہیں۔
خوددار :کھیتی
اہل کرم :گھٹا
خوداری شخصیت کا وہ وصف ہے‘ جو شخص کو
جھکنے نہیں دیتا‘ اور یہ اس کو کسی بھی سطح
پر‘ ہاتھ پھیلنے کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ شعر دیکھیے‘ دو طبقوں کی نفسیات واضح کر
رہا ہے۔
ہم سفر چھوٹ گیے راہنما روٹھ گیے
یوں بھی آسان ہوئی منزل دشوار یہاں
ہم سفر :رشتہ دار‘ دوست یار‘ بیوی‘ اولد
ان سب کے رویوں کا عملی مطالعہ کریں۔
زیست کی راہوں کی دیوار بنے رہتے ہیں۔ خیر
میں روکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔
پڑے وقت میں نظر نہیں آتے۔ پیٹھ موڑ جاتے ہیں۔
راہنما :مقتدرہ طبقے‘ مولوی‘ شیوخ‘ استاد
کبھی سیدھی راہ نہیں دکھائیں گے۔ ذرا برعکس
کرو‘ یا انحراف کرو‘ طیش میں آ جائیں گے۔ یہ
اپنی اصل میں‘ منزل کی راہ کی سربہ فلک دیوار
ہیں۔ شکیب نے سماجی مثلث کی نفسیات کی بڑی
عمدگی سے تصویر کشی کی ہے۔
بظاہر بڑا سادہ سا شعر ہے۔
پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو
یہ شعر‘ جتنا سادہ نظر آ رہا ہے‘ اتنا سادہ نہیں
ہے۔ بل کی طرح داری لیے ہوئے ہے۔ شخص کے
مخصوص رویے کو‘ اپنے اندر سموئے ہوئے
ہے۔
غور کریں‘ نرگسیت کا عنصر لیے ہوئے ہے۔
وارفتگی کی وضاحت کر رہا ہے۔
صنف مخالف کے حوالہ سے‘ انسانی فطرت کا
عکاس ہے۔
فوری اور بعد کے ردعمل کی‘ وضاحت کر رہا ہے۔
یاد بڑا مضبوط انسانی رویہ ہے۔ اس کی اہمیت
اور حیثیت کےمطابق‘ ردعمل سامنےآتا ہے۔
بڑے کمال کا‘ شکیب نے شعر نکال ہے۔ انسان
کے مجموعی رویے کی‘ بڑی ہنرمندی اور صنعت
کاری سےعکاسی کی ہے۔
برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا
انہیں تو دن کا بھی سایا دکھائی دیتا ہے
برا نہ مانیے :کلمہءمخاطبہ ہے۔
انہیں تو :کلمہءطنزیہ ہے۔
دن کا سایا :لیعنی‘ بےسروپا‘ اور انہونی باتیں
دکھائی دینا :کہتےرہنا بکتےرہنا چھوڑتے رہنا
زمانے کی نفسیات کی‘ بڑے شان دار انداز میں‘
عکاسی کی گئی ہے۔
:سوسائٹی کی بےحسی کا ماتم ملحظہ ہو
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
!گزر ہوا ہے مرا کسی اجاڑ بستی میں
عہد کے‘ ترکیب پانے والے نفسیاتی حدود
اربعےکو پیش کر دیا ہے۔ آدمیت کے سائے اور
اجاڑ بستی‘ ایسے مرکبات کا استعمال کرکے‘ بڑے
زور کی چوٹ لگائی ہے۔ انسانوں کی بستی اور یہ
صورت حال۔ اظہار حیرت کیا جا رہا ہے۔
!اجاڑ بستی میں
ذرا غور فرمائیں‘ کیا کہہ دیا گیا ہے۔
چلتے چلتے دو شعر اور ملحظہ فرما لیں۔ شکیب
نے بڑی ہنرمندی سے‘ انسانی نفسیات سے
مناسبت رکھتے‘ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
دیکھو تو :ظاہرداری
اک شکن بھی نہیں
سب اچھا‘ ٹھیک ٹھاک‘ درست‘ عیش‘ موج‘ کچھ
بھی تو نہیں‘ پاک صاف‘ ہیرا پھیری سے بالتر‘
ایک نمبری
سوچو تو :باطنی حالت‘ کیفیت
تمام روح سلوٹوں سے بھری ہے
تمام کا استعمال‘ اس لیے ہوا ہے‘ کہ جزوی نہ
سمجھ لیا جائے۔ یعنی پوری کی پوری
سلوٹ :مفاہیم کے لیے کئی پہلو مدنظر رکھنا ہوں
:گے
ذہنی الجھاؤ‘ طرح داری‘ پریشانی اور دکھ کی
کیفیت‘ غلظت‘ بےایمانی‘ دونمبری
گویا انسان جو دکھائی دیتا ہے‘ باطنی سطح پر‘
وہ نہیں۔ دوغلےپن کا شکار ہے۔ اس حوالہ سے‘
انسان کی جانچ ناممکن ہے۔ وہ جو نظر آ رہا
ہے‘ یا کہہ رہا ہے‘ اس کے مطابق‘ افعال کا سرزد
ہونا ضروری نہیں۔
انسان کی نفسیات ہے؛ کہ وہ ہم خیال لوگوں کے
ساتھ رہ کر ہی‘ آسودگی محسوس کرتا ہے۔ ایک
شخص کو‘ ایک ایسے باغ میں بیٹھا دیں‘ جہاں
سو طرح کے‘ خوش رنگ اور خوش الحان طیور
ہوں‘ مگر شخص وہاں کوئی نہ ہو‘ ٹک نہیں پائے
:گا۔ شکیب کا کہنا ہے
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر
اڑان سے واضح ہو رہا ہے‘ کہ شاعر کی مراد
فکر ہے‘ جب کہ لفظ آسمان‘ سربلندی کے معنی
دے رہا ہے۔ فکری مماثلت رکھنے والوں کے
لیے‘ لفظ ہم جنس کا استعمال ہوا ہے۔
درج بال معروضات سے‘ جہاں یہ واضح ہو رہا
ہے‘ لفظ شخص اور اس سے متعلقہ معاشرت کی
نمائندگی کرتے ہیں‘ وہاں انسان کی آفاقی فطرت
کو بھی‘ اپنے دامن میں جگہ دیتے ہیں۔ شکیب
جللی کی شاعری‘ انسان اور اس کی فکر کی
شاعری ہے۔ وہ انسان‘ اور اس کے معاملت کے
سرزد ہونے کی‘ نفسیات سے خوب خوب آگاہ ہے۔
اسے شعر کی زبان پر‘ دسترس حاصل ہے۔ بیان
کےانداز سے بھی خوب خوب آگاہ تھا۔ ناقدروں
کی بستی میں‘ وہ بےمایہ سہی‘ لیکن سخن
شناسوں میں اعلی پائے کا شاعر ضرور قرار
پائے گا۔
ٹی ایس ایلیٹ اور روایت کی اہمیت
ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک‘ روایت اپنی اصل میں‘
اظہار کا تسلسل ہے‘ جو ادوار کے انقلبات سے‘
متاثر ہوتی ہے‘ لیکن دم نہیں توڑتی‘ بلکہ اپنی
اوریجن سے پیوستہ رہتی ہے۔ وہ محض ماضی
کے تجربات کو‘ روایت کا نام نہیں دیتا‘ اور اسے
درست بھی خیال نہیں کرتا۔ گویا ماضی‘ حال اور
مستقبل روایت ادبی کے مفہوم میں شامل ہیں۔
روایات ہر قوم اور ہر ملک کی زندگی کے‘ ہر
شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوتی
رہتی ہیں۔ تہذیب اور کلچر‘ ان ہی کے مجموعے کا
نام ہے۔ یہ سب کسی قوم کے جغرافیائی حالت‘
افتاد طبح‘ فکری رجحانات اور اس پر پڑے ہوئے‘
مختلف قسم کے‘ ذہنی و وجدانی اثرات کے نتیجہ
میں تشکیل پاتی ہیں۔
وراثت کی زمین میں‘ ان کے پودے جڑ پکڑتے
ہیں‘ اور ماحول ان کی آبیاری کرتا رہتا ہے۔ وقت
کے ساتھ ساتھ‘ یہ ہی پودے تناور درختوں کی
صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے‘ کہ ہر
قوم کی بڑائی اور برتری‘ روایات پر انحصار کرتی
ہے۔ اس کی ذہنی‘ فکری اور تہذیبی سربلندی کو‘
اسی پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے۔ وہ تہذیب اور
کلچر کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ادب‘ انسانی زندگی کا اہم
ترین شعبہ ہے‘ اور وہ کسی قوم کا آئینہ دار ہوتا
ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ اس کا خمیر اٹھتا رہتا
ہے۔
ایلیٹ کے نزدیک‘ ہر ملک اور قوم کا‘ ادب ایک
خاص قسم کی‘ آب وہوا اور مخصوص طرح کے
ماحول میں‘ آنکھ کھولتا اور پرورش پاتا ہے۔ اس
لیے جو روایات‘ ادب میں تشکیل پاتی ہیں‘ ان سب
کا ان روایات سے‘ ہم آہنگ ہونا فطری سی بات
ہے۔ کوئی ادب‘ زندہ روایات کے بغیر‘ زندہ نہیں
رہ سکتا۔ بڑے سے بڑا ترقی پسند‘ اس بات کا
معترف ہے کہ ہر زمانے کی تہذیب کو‘ گزشتہ دور
کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ماضی کا رنگ‘ چاہے کتنا
ہلکا ہو‘ حال اور مستقبل میں ضرور ملے گا۔
سماجی زندگی اور تہذیب و تمدن‘ ماضی سے
استفادہ کرنے پر مجبور ہیں‘ لیکن اس کا مطلب
یہ نہیں‘ کہ ماضی کو اپنا آئیڈیل سمجھ لیا جائے۔
اگر سمجھ لیا جائے گا‘ تو یہ روایت پسندی نہیں
روایت پرستی ہو گی۔
ایلیٹ کا موقف ہے‘ کہ جدت‘ تکرار سے بہتر
ہے۔ یہ ورثہ میں نہیں ملتی‘ بلکہ تسلسل میں چلی
آتی ہے۔ روایت کی ذیل میں‘ اس نے چند خطرات
سے‘ آگاہ کیا ہے۔ بعض اوقات ہم زندگی بخش اور
غیرصحت مند روایات میں‘ تمیز نہ کرتے ہوئے‘
کسی غیر صحت مند روایت سے چپکے رہتے
ہیں۔ اس سے غلط اور صحیح گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
اس کے نزدیک‘ روایت پرستی‘ سطحی تقلید اور
اندھی نقالی‘ مضر اور خطرناک ہیں۔ تجربہ بھی‘
روایت کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ نئے پن میں‘
پرانا پن یا نئے پن کے ساتھ پرانا پن بھی
ضروری ہے۔
روایت‘ ادب کی نشوونما اور ترقی میں‘ اپنا کردار
ادا کرتی ہے۔ ادب بدلتے حالت کی رفتار کے
ساتھ‘ ارتقا اور ترقی کے راستے پر گامزن رہتا
ہے۔ روایات اسے رستہ دکھاتی ہیں۔ ادب کو
تجربات کی نئی دنیا سے روشناس کرانا بھی‘
روایات کے پیش نظر ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے‘
زمین تیار کرتی رہتی ہیں‘ اور جانچنے کا معیار
بھی دریافت کرتی ہیں۔ روایت کے بغیر تنقیدی
معیارات‘ تشکیل نہیں پاتے۔
ایلیٹ کے نزدیک‘ روایات‘ ادب اور عوام کے
درمیان‘ رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان ہی کے
سبب‘ عوام ادب کو اپنا قومی سرمایہ سمجھتے
ہیں۔ بعض لوگ‘ روایت کے مفہوم کو محدود کر
لیتے ہیں۔ وہ غلط تحریکوں کے محرک ہوتے
ہیں‘ اور خود کو‘ جدت پسند قرار دیتے ہیں۔ وہ
سارے ادب سے‘ ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن اس
کے معنی یہ نہیں‘ کہ تجربات نہ کیے جائیں۔
تجربہ‘ ادب کی جان اور تاریخ ہوتا ہے۔
روایات اور تجربات‘ ایک دوسرے کے متضاد نہیں
ہیں۔ تجربات کے لیے‘ کسی زمین کا ہونا ضروری
ہے۔ یہ زمین روایت فراہم کرتی ہے۔ ادب اور فن
میں‘ جہاں دوسری روایت کی طرح پڑتی ہے‘
وہاں تجربے کا بھی پتا چلتا ہے۔ ایک بڑا شاعر‘
روایت پرست بھی ہوتا ہے‘ اور تجرباتی بھی۔ اس
کے بزرگوں نے‘ جو دریافتیں کی ہوتی ہیں‘ وہ
انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا‘ بصورت دیگر‘ اس
کی آواز‘ محض صدائے بازگشت ہو کر رہ جائے
گی‘ اور وہ اپنے بزرگوں کے پائے تک‘ نہیں
پہنچ پائے گا۔
تاریخی روایات کے حصول کے لیے‘ ایلیٹ نے‘
شاعر کے تاریخی شعور کو‘ اہم قرار دیا ہے۔ جو
پچیس سال کی عمر کے بعد بھی‘ شاعر رہنا چاہتا
ہے‘ اس کے لیے تاریخی شعور ناگزیر ہے۔ یہ
تاریخی شعور‘ ادب کی لزمانی کا شعور بھی ہے‘
اور اس کے زمانی ہونے کا ثبوت بھی۔
زمانی اور لزمانی ہونے کا شعور‘ شاعر کو
روایت کا شاعر بناتا ہے‘ اور اسی سے‘ اس کے
زمانی مقام کا‘ تعین ہوتا ہے۔ ایلیٹ کے نزدیک‘
لفانیت کو سمجھنے کے لیے‘ روایت کا شعور‘
شرط لزم ہے۔ تاہم وہ روایت کے شعرا کے کلم
کو‘ نقالی نہیں سمجھتا۔ یہ شعور شعرا کو‘ مجبور
کرتا ہے‘ کہ وہ لکھتے وقت اپنے عہد ہی کو‘
پیش نظر نہ رکھیں‘ بلکہ گزشتہ سے آج تک کے
ادب کو‘ اور اپنے ملک کے سارے ادب کو‘ اپنا ہم
عصر تصور کریں۔
ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے
نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلنات و
رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ
اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس
کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘
تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘
روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض
چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت
کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالت کا‘ لب لباب
:کچھ یوں ٹھہرے گا
-١روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
-٢روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش
سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
-٣تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو
احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ
اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے
کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ
گیے ہوتے ہیں۔
-٤شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر
کی‘ دیگر شعرا کے کلم ہی سے لگایا جا سکتا
ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ
نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام
کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
-٥ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن
پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی
روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے
جائزہ لینا پڑتا ہے۔
-٦ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر
ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی
ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
-٧نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود
رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو
ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالت کی فہرست سے
مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو
نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں
ہوتا ہے۔
اس مضمون کی تیاری میں خصوصا درج ذیل کتب
:شکریے کے ساتھ پیش نظر رہیں
مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر
رضوی مطبع عالیہ ١٩٦٦
ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی
نیشنل فاؤنڈیشن ١٩٧٥
محمد امین کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ عصری حیات کی ہم
سفر
یہ بات سچ ہے‘ اور آفاقی حقیقت کے درجے پر
فائز ہے‘ کہ کرسی قریب اہل قلم‘ ہر دور میں‘
ناصرف آسودہ حال رہے ہیں‘ بلکہ کم زور طبقوں
کے مجرم بھی رہے ہیں‘ کیوں کہ سچ کا مقدر‘ ان
کے ہاں‘ غلم گردش بھی نہیں رہ پاتا۔ چوں کہ
شاہ کے کارناموں کو آسمانوں پر پہنچا دیا گیا
ہوتا ہے‘ اس لیے آتے وقتوں میں‘ شاہ ہی‘ سلم
و پرنام کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ جن کے باپ
دادا‘ ان شاہوں کی استحصالی تیغ کا نشانہ رہے
ہیں‘ وہ بھی ان گماشتہ شبدوں کے اسیر ہو جاتے
ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی جذباتی وابستگی‘
استحصالیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ بدقسمتی
دیکھیے‘ کرسی دور لوگ‘ اپنے عہد میں محرومی
کا شکار رہتے ہیں۔ مرنے کے بعد‘ ان کا اثاثہ
ردی میں بک جاتا ہے۔ کسی کو یاد تک نہیں ہوتا‘
کہ کوئی اپنے عہد کا پکا‘ کھرا اور سچا شہادتی
بھی تھا۔
بائیں آنکھ کے نظر انداز اہل قلم نے‘ کسی بھی
زبان کو‘ مختلف حوالوں سے‘ نوازا ہوتا ہے۔ ان
کے تین حوالے‘ بڑی نمایاں حیثیت کے حامل
:ہوتے ہیں
-١انہوں نے اپنے عہد کی سماجی اور سیاسی
ناہمواریوں کو‘ فوکس کیا ہوتا ہے۔
-٢کسی ناکسی سطح پر‘ آفاقی سچائیوں کی
عکاسی کی ہوتی ہے۔
-٣آفاقی اور سماجی و سیاسی زبان سے‘ اس
زبان کے دامن کو مال مال کیا ہوتا ہے۔
قلم وال‘ ان تین حوالوں سے‘ اپنے اور آتے عہد
کو نواز رہا ہوتا ہے۔ اس کی بےتوقیری‘ ظلم اور
زیادتی نہیں‘ تو اور کیا ہے۔ گولی مارو حکومتی
سطح کے ایواڑوں اور تمغوں کو‘ انہیں پیٹ بھر
روٹی تو ملنی چاہیے۔ معاف کیجیے‘ میں کہیں
بھول رہا ہوں‘ شعر کچھ اسی طرح سے تھا۔
اسپ تازی شدہ مجروح بر زیر پلن
طوق زرین ہمہ در گردن خر میبینم
صدیوں پرانا یہ شعر‘ آج کے نام نہاد ترقی یافتہ
دور پر بھی‘ فٹ آ رہا ہے۔ یار ان لوگوں کی قدر
کرو۔ شاہ کو چھوڑو‘ اس سے خیر کی توقع نہ
کرو۔ احسان کرئے گا‘ تو واپسی میں ضمیر
وایمان‘ کباڑ خانے میں بھی نہ رکھنے دے گا۔ قوم
کو انہیں زندگی کا جھومر بنانا چاہیے۔ انصاف کا
یہ ہی تقاضا ہے۔ ان کی توقیر کو‘ جو قومیں
بالئے طاق رکھتی ہیں‘ غلطی کرتی ہیں۔ ایسے
لوگ‘ کب روز روز پیدا ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد امین‘ بنیادی طور پر فلسفہ کے استاد
ہیں‘ لیکن شعروسخن سے بھی رشتہ رکھتے ہیں۔
انہیں اردو ہائی کو کا امام کہا جاتا ہے۔ انہوں نے
جاپانی سے اردو میں ہائی کو ترجمہ کیے‘ خود
بھی لکھے۔ وہ صرف اسی صنف تک ہی محدود
نہیں رہے‘ غزل اور نظم بھی ان کی فکر سے‘
مال مال ہوئی ہے۔ ان کے ہائی کو ہوں‘ یا نظم‘
غزل کا پرپیچ میدان ہو‘ ان کی شاعری عصری
حوالوں سے جڑی رہتی ہے۔ سیاسی اور سماجی
معاملت کو‘ بڑی خوبی سے‘ بیان کر دیتے ہیں۔
مقامی سچائیاں ہی ان کے قلم پر‘ نہیں چڑھیں
آفاقی سچائیاں بھی بیان کرتے چلے جاتے۔ ان کے
کہنے کی زبان‘ انتہائی سادہ اور عام فیہم ہوتی
ہے۔ ان کی یہ سادہ زبان‘ درحقیقت سماجیات کی
زبان ہے۔ ان کا مخاطب‘ اعلی طبقے کا شخص
نہیں ہوتا۔ عوامی روزہ مرہ بڑے سلیقے سے
باندھتے ہیں۔
اس ذیل میں ان کے کلم میں سے‘ چند مثالیں
:باطور نمونہ ملحظہ ہوں
ہمارے شہر کی اب کیفیت کیا ہے بتائیں کیا
کسی کا گھر نہیں ملتا کسی کا سر نہیں ملتا
ہمارے جمح کا صیغہ ہے‘ جو اس امر کا غماز
ہے‘ کہ مجموعی بات کی گئی ہے۔ لفظ شہر
مخصوص علقے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ شاعر‘
کسی مخصوص علقے کا شخص نہیں ہوتا۔
ہمارے شہر کہہ کر‘ مجموعی وسیب مراد لیا گیا
ہے۔ لفظ کیفیت صورت حال کے لیے ہے۔ اب‘ اس
امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ بات کا تعلق
ماضی سے متعلق نہیں‘ شاعر کے عہد سے ہے۔
پہلے مصرعے میں ہی دو سوالیے مختلف نوعیت
کے ہیں۔
کیفیت کیا :موجود صورت حال
کیا بتائیں :گھمبیرتا کا اظہار ہے۔
دوسرا مصرعہ واضح کر رہا ہے‘ کہ لقانونیت
اور بےاصولی کا پہرا ہے۔ ظالموں‘ ڈاکووں‘
قاتلوں قبضہ گروپوں وغیرہ پر کوئی گرفت نہیں‘
انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ اس حساب
:سے قانون نافذ کرنے والے ادارے
مجرموں کے سامنے بےبس ہیں۔
کیوں
قانون نافذ کرنے والے‘ مجرموں سے کم زور ہیں۔
مجرم ریاست کے بڑوں کے اپنے بندے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے بک چکے ہیں۔
ظالموں کے ساتھی ہو گیے ہیں۔
یا یہ سب‘ ریاست کے وڈیرے کر رہے ہیں۔ گھر
اور سر‘ کا نہ ملنا کوئی معمولی معاملہ یا
معمولی حادثہ نہیں‘ جسے یوں ہی نظرانداز کر دیا
جائے۔
اس شعر کے تناظر میں‘ یہ شعر ملحظہ ہو۔
روشنی کس طرح چڑھ گئی دار پر
اک تحیر ہے ماتم کناں شہر میں
کس طرح
قیامت خیز سوالیہ ہے۔ روشنی کے اپنے یا اس
سے متعلق سب مر گیے ہیں یا موجود ہی نہیں
ہیں۔ ہر دو صورتیں خوف ناک ہیں۔
کیا اب اطراف میں اندھیرا ہو گا۔
آواز اٹھانے وال یا روشنی کی سعی کرنے وال
کوئی بھی نہ ہو گا۔
اندھیر راج‘ کم زور طبقوں یا انسانیت کا مقدر
ٹھہرے گا۔
اندھیرے کے باسی‘ آتے وقتوں میں روشنی نام
کی چیز کو ہی‘ بھول جائیں گے۔
تمیز و امتیاز‘ جو زندگی کا لزمہ اور ترقی کا زینہ
ہے‘ باقی نہ رہے گی۔
کس طرح‘ کی تفہیم تک رسائی کی سعی کریں۔ ہر
سانس دمے کے مرض میں مبتل ہو جائے گا۔
دوسرے مصرعے میں ردعمل بھی پیش کیا ہے۔
تحیر ہے :حیرت کے دامن میں پشیمان اور
دردآلودہ چپ ہوتی ہے۔ درد سے لبریز چپ بڑی
خطرناک ہوتی ہے۔
دوسرا ردعمل ماتم ہے۔ ماتم شور سے عبارت
ہے۔ معنوی تضاد کی صنعت نے‘ شعر میں بل کی
بلغت رکھ دی ہے۔
ماتم کناں اور تحیر‘ یہ بھی واضح کرتے ہیں‘ کہ
روشنی کے جانو موجود تھے۔ اگر موجود تھے‘
تو یہ اندھیر کس طرح ہو گیا۔ روشنی دار تک
کیسے پہنچ گئی۔ اس سے یہ اخذ ہوتا ہے‘ کہ
حیرت زدہ بےبس تھے‘ اور جبر کے نتیجہ میں‘
رونے دھونے کے سوا‘ کچھ ممکن ہی نہیں ہوتا۔
:اب کہانی کی انتہا دیکھیں
انسان مر چکا ہے اسے مشتہر کرو
سب سے اہم خبر ہے یہی یار‘ آج کی
سماجی‘ سیاسی اور اخلقی حوالوں سے دیکھیے‘
کتنی بڑی سجائی بیان کر دی گئی ہے۔
مشتہر کرو
اہم خبر
آج کی
کس اہمیت کے حامل الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے‘
صاحب درد اور باشعور شخص ہی اندازہ کر سکتا
ہے۔
بےبسی اور کسی کی حالت میں‘ انسان کا آخری
سہارا‘ خدا ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی کے لیے‘ اس کی
طرف پرامید نظروں سے دیکھتا ہے۔ ذرا یہ شعر
دیکھیں۔ اس شعر میں‘ امید کے ان گنت چراغ
جلتے نظر آتے ہیں۔
بےبس سمجھ کے اس نے مجھے زخمی کر دیا
اس کو خبر نہیں تھی خدا میرے ساتھ ہے
ظالم کو یہ سندیسہ بھی دیتے ہیں
اس کو بہت ہی ناز تھا اپنے عروج پر
وہ بے خبر تھا تیز ہوا میرے ساتھ ہے
اس‘ بااختیار طبقوں کی طرف‘ اشارہ کرکے کہا جا
رہا ہے۔
میں‘ کم زور طبقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں
وقت کو بھی کہا جا سکتا ہے۔
تیز ہوا‘ عروج کو نیستی کی طرف لے جاتی ہے۔
پرانی اور نئی جنریشن کے عملی گیپ کی‘ کیا
عمدگی سے عکاسی کی گئی ہے۔
ہمیں انکار کی جرات کبھی ایسے نہیں ہوتی
پرانی وضع کے ہم لوگ کچھ آداب رکھتے ہیں
اس شعر میں لفظ ایسے بڑی معنویت کا حامل ہے۔
یہ دو نسلوں کے‘ عملی اور فکری اطوار کے
فرق کو‘ واضح کر رہا ہے۔ مروت اور بےباکی کا
دوٹوک فرق‘ کیا ہو سکتا ہے‘ لفظ ایسے نے
کھول دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد امین نے‘ آفاقی سچائیوں کو‘ بڑے دل
لگتے انداز سے واضح کیا ہے۔
ہم اپنے واسطے دکھ درد کے اسباب رکھتے ہیں
ہم اپنے ساتھ ہی دشمن صفت احباب رکھتے ہیں
دشمن صفت احباب مرکب نے شعر کو بڑا جاندار
بنا دیا ہے۔ نقصان اپنوں کے ہاتھوں سے ہی
اٹھانا پڑتا ہے۔
:ایک دوسری آقاقی سچائی ملحظہ ہو
کہاں جاؤ گے ٹھہرو تو سہی بات سنو
اتنی عجلت تو نہیں اچھی پریشانی میں
پریشانی میں تحمل لزمہ ہے۔ عجلت مزید بگاڑ کی
طرف لے جاتی ہے۔ شعری زبان میں‘ انداز اپنوں
کا سا اختیار کیا ہے‘ جس میں‘ ناصحانہ عنصر
کی آمیزش ہے۔ کمال کی زبان استعمال میں لئی
گئی ہے۔ سادہ سادہ لفظوں میں‘ ہر دور اور ہر
جگہ سے متعلق شخص کو‘ زندگی کی اہم ترین
حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
:زبان کا فیلو ملحظہ کریں
کہاں جاؤ گے
ٹھہرو تو سہی
بات سنو
اپنوں کا سا یہ اسلوب تکلم‘ باذوق حضرات کو
لطف ہی نہیں‘ ایک پیغام بھی دیتا ہے۔ اس میں
روکنے کی سعی موجود ہے۔
دوسرے مصرعے میں‘ لفظ تو کا استعمال‘ اپنا
جواب نہیں رکھتا۔ ذرا پڑھیں۔ لطف آتا ہے۔
اتنی عجلت
تو نہیں اچھی
پریشانی میں
سماج کی رسومات‘ لزمہ اور لوازمہ ٹھہری ہیں۔
ان سے خلصی کی خواہس رکھتے ہوئے‘ ان
سے خلصی نہیں ہو پا رہا۔ انہیں‘ سماج کی
فطرت ثانیہ کا درجہ حاصل ہو گیا۔ نہ جائے ماندن
نہ پائے رفتن مثل کو‘ تجسیم دے دی گئی ہے۔
انسان کی بےبسی کی بھی حالت نہ پوچھیے
اب بھینٹ چڑھ رہا ہے رسوم و رواج کی
کی بھی‘ شعر میں بڑی معنویت کے حامل ہیں۔ ان
کی جگہ کوئی اور لفظ رکھ دیں لطف غارت ہو
جائے گا۔
ڈاکٹر محمد امین کی غزل کا مطالعہ کرتے‘ میں
نے محسوس کیا ہے‘ کہ وہ سادہ زبان میں
زندگی‘ اور اس کے متعلقات کو‘ اجاگر کرنے کا
فن جانتے ہیں۔ یہ بھی کہ‘ سادہ لفظوں کے
استعال سے‘ فصاحت کا جادو جگاتے ہیں۔ ان کے
ہاں‘ لفظ عصری زندگی کے دقیق معاملت کو بیان
کرنے میں‘ کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں
کرتے۔ میں اتنا کچھ لکھ کر‘ تشنگی محسوس کر
رہا ہوں۔ میری تشنگی ان کی تشنگی سے‘ مختلف
:نہیں۔ کہتے ہیں
یہ کیسی پیاس ہے پانی جسے بجھا نہ سکے
لگی ہے آگ بدن میں‘ ہمیں خبر نہ ہوئی
شریف ساجد کی غزلوں کے ردیف
سیمابی فکر کے حامل لوگ‘ قرار سے دور رہتے
ہیں۔ ہر لمحہ نئی سوچ اور نئے انداز و اطوار‘ ان
کی زندگی کا لزمہ و لوازمہ رہتا ہے۔ زندگی کے
بدلتے موسم‘ ان کے سوچ سمندر میں کنکر پتھر
تنکے پھینکتے رہتے ہیں۔ یہ معاملہ ٹھہر ٹھہر کر
نہیں‘ تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ یہ بےقرار
اور بےچین سے لوگ ہی‘ زندگی کو کچھ نیا اور
الگ سے دیتے ہیں۔ اس میں ان کی دانستگی کا
عنصر‘ شامل نہیں ہوتا۔ یہ خودکار عمل‘ ان کے
اندر جاری رہتا ہے۔ یہ لوگ زندگی اور اس کے
معاملت کو‘ نئی تفہیم ہی نہیں‘ نئی ہئیتیں بھی
عطا کرتے ہیں۔ رائج کو نیا اسلوب‘ نیا حسن اور
نئی ترتیب سے سرفراز کرتے۔ یہ لوگ‘ جلد
سمجھ میں آ جانے کے نہیں ہوتے۔ خدا معلوم‘ کب
اور کس طور کی کروٹ لے لیں۔
شریف ساجد صاحب سے میرا کبھی زبانی یا
قلمی رابطہ نہیں رہا۔ ان کا مجموعہءکلم۔۔۔۔ چاند
کسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔ پروفیسر لطیف اشعر کے
حوالہ سے ہاتھ لگا ہے۔ دیکھا‘ پھر پڑھا اور لطف
لیا۔ کلم بتاتا ہے‘ کہ شریف ساجد سیمابی اطوار
کے شخص ہیں۔ بات کے لیے کئی طرح کے رنگ
اور ڈھنگ‘ اختیار کرتے ہیں۔ بیانیہ‘ طنزیہ‘
مخاطبیہ‘ مکالماتی اور خود کلمی کا انداز اختیار
کرکے‘ بڑے سلیقہ اور پکا سا منہ کر بات کرتے
:ہیں۔ اس ذیل میں‘ فقط یہ دو شعر ملحظہ ہوں
کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں
کہا لنکا ہے یہ راون بہت ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصت اے عظمت جنوں کہ یہاں
عقل معیار خیر وشر ٹھہری
انہوں نے غزل میں ہئتی تجربے بھی کیے ہیں۔ یہ
معاملہ بڑا دل چسپ ہے۔ مجموعہ کے ص-١٠٠ :
١٠١پر آزاد مکالماتی غزل ہے۔ یہ غزل ان کی
جدت طرازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس غزل کا
صرف ایک شعر ملحظہ ہو۔
کہا روتی ہوئی شکلیں ہمیں اچھی نہیں لگتیں
کہا ہے کس قدر مشکل جہاں میں آئینہ ہونا
انہوں نے اپنے اس مجوعہ کلم میں‘ ردیف
کےاستعمال کے مختلف نوعیت کے تجربے کیے
ہیں۔ ان تجربوں نے‘ ان کے کلم میں الگ سے
وقار اور وجاہت پیدا کر دی ہے۔ اس کے ساتھ
غنائیت اور معنویت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔ مثل
شعر کا ردیف حرف تشبیہ ہے۔ اس کا پہل مصرعہ
بھی حرف تشبیہ ہے۔ گویا شعر کے دونوں
مصرعوں کا اختتام حرف تشبیہ پر ہوتا ہے۔
میری مجبوریاوں ہیں پہلی سی
وہ ہے بااختیار پہلے سا
دونوں مصرعے حروف جار پر ختم ہوتے ہیں۔
دوسرے مصرعے میں باطور ردیف استعمال ہوا
ہوتا ہے۔
کسی کی زلف ہے شانے کسی کے
کسی کی ہے ہوا موسم کسی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستاروں میں چمک ہے شوخیوں کی
شفق میں رنگ بکھرا ہے حیا کا
حروف زمانی باطور ردیف استمال کرتے ہیں تو
شعر کا پہل مصرعہ بھی اسی قماش کا ہوتا ہے۔
مثل
کسی کی تم نے سنی سرگذشت ہی کب تھی
و گرنہ ہم تو ہر اک داستاں میں رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ایک سانس ترا نام ہی پکارتا ہے
ہمارے دل میں بھل غیر کب سماتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ہمدرد ساحل پر کھڑے تھے
طلطم میں سفینہ ڈوبتا تھا
ردیف کی ہی کوئی حالت‘ شعر کے پہلے مصرعے
میں ہوتی ہے۔ اس سے‘ بات حرکت میں محسوس
ہوتی ہے۔ جمود یا سکتہ طاری نہیں ہوتا۔ مثل
میں نے جو کچھ کہا غلط ٹھہرا
اس کی ہر بات معتبر ٹھہری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لہجے کی کھنک اچھی لگی
اپنا سانس اکھڑا ہوا اچھا لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوز الفت کا مزہ بھی اچھا
سوزن غم کی خلش بھی اچھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوخیاں اس کی بہت اچھی لگیں
اپنا دل ڈرتا ہوا اچھا لگا
شعر کا آخری لفظ ردیف کا ہم صوت اور ہم قافیہ
ہوتا ہے۔
ہادی گمرہاں اسے کہیے
غم نصیبوں کا چارہگر لکھیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی جو سیر چمن کو جانا تو رک کے چلنا
ٹھٹھک کے رکنا
کبھی درختوں پہ نام لکھ کر دلوں کی دھژکن
تلش کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مری باتیں کوئی جھٹل نہ پائے
تمھارا نام ہی سوگند ہو جائے
............
کس پہ تکیہ کروں امید وفا کس سے کروں
پھول کو ڈستی ہوئی باد بہاری دیکھوں
دونوں مصرعوں کے ردیف اور قافیہ ہم قافیہ
:ہوتے ہیں
نام سنتے ہی ترا سرخی سی رخ پر پھیلنا
وہ تری تصویر کو سب سے چھپا کر دیکھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا دشوار ہے دینا میں تماشا بننا
کس قدر سہل ہے مصروف تماشا ہونا
:شعر کے دونوں مصرعے ہم ردیف ہوتے ہیں
درد کی شدت پیار کی شدت ظاہر کرتی ہے
دل میں پھانس چھبوئے رہنا اچھا لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مل کا ہاتھ اور کلشنکوف عجب منظر ہے
کیا سنگم ہے خیر اور شر کا اچھا لگتا ہے
:ہم قافیہ اور ہم ردیف کی یہ مثال ملحظ ہو
ہر ایک بات کی وہ تو دلیل مانگتے ہیں
اور ہم ہیں کہ سحرالبیان میں رہتے ہیں
شریف ساجد کی غزلوں میں‘ ردیف کےاستمال کی
رنگ رنگی لسانی اعتبار سے‘ بڑی معنویت کی
حامل ہے۔ اس سے ان کے کلم میں چاشنی اور
شگفتگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے یہ ہئیتی
تجربےآتے وقتوں میں اردو غزل گو شعرا کے
لیے نمونہ بنے رہیں گے۔ گویا انہوں نے‘ صدیوں
کے بند دروازوں کو‘ کھول دیا ہے۔ اگر اسی طور
سے‘ غزل میں تجربے ہوتے رہے‘ تو یہ اردو کی
غزلیہ شاعری کے حق میں‘ بہت ہی اچھا ہو گا
اور آتے وقتوں میں‘ شعرا کو اس کی تنگ دامنی
کا‘ گلہ نہیں رہے گا ۔
ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی
جائزہ
مخدومی و مرشدی جنت مکانی قبلہ سید غلم
حضور کے علمی وادبی ذخیرے سے ملنے والی
کتاب' اظہار محمدی منظور احمدی' کب اور کس
سن میں شائع ہوئی' ٹھیک سے کہا نہیں جا
سکتا۔ اس پر تاریخ اور سن درج نہیں ہے۔ ہاں
پبلیشر کا نام .....فقیر فضل حسین تاجر کتب ابن
حاجی علؤالدین مرحوم ساکن پتوکی نوآباد ضلع
لہور .....درج ہے۔ پتوکی نوآباد ضلع لہور سے
یہ بات وضح ہوتی ہے کہ اس چوبیس صفحے کی
اشاعت' اس وقت ہوئی' جب پتوکی نیا نیا آباد ہوا
تھا۔
اس میں مولوی احمد یار کی پنجابی مثنوی' مرزا
صاحبان کا کچھ حصہ درج ہے۔ گویا یہ ان دنوں
کی بات ہے' جب وہ زندہ تھے اور مثنوی مرزا
صاحبان تحریر کر رہے تھے۔ یہ کلم ص 10تک
ہے۔ ص 15-14پر سترہ پنجابی اشعار پر مشتمل
کافی بھی ہے۔ گویا مولوی احمد یار پنجابی کافی
بھی کہتے تھے۔ پنجابی میں ان کی صرف مثنوی