The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫نشت میں عرض کروں گا۔ زیر حوالہ شاعر نے‘‬
‫‪:‬اپنا تعارف کچھ یوں درج کیا ہے‬

‫نام‪ :‬ریحان احمد‬
‫تاریخی نام‪ :‬محمد خورشید عالم‬

‫تخلص‪ :‬صفت‬
‫ولدیت‪ :‬حاجی ذیشان احمد‬
‫قوم‪ :‬ملک۔۔۔ ککے زئی‬

‫قد ‪ ٥‬فٹ ‪ ١‬انچ‬
‫تاریخ پیدائش‪ ٨ :‬اپریل ‪١٩٣٧‬‬
‫جائے پیدائش‪ :‬سہارن پور‘ صوبہ یو پی‘ بھارت‬

‫تعلیم‪ :‬میٹرک‬
‫استاذ‪ :‬ناز لکھنوی‘ ارم سلطان پوری‬

‫آمد پاکستان‪ ٨ :‬مئی ‪١٩٥٢‬‬

‫حالت زندگی حرف خاص کے نام سے کچھ یوں‬
‫درج کیے گیے ہیں۔‬

‫حرف خاص‬

‫میں شام کا مسافر ہوں صبح مجھ سے بہت دور‬

‫ہے۔ وہ ڈھلتا ہوا سورج ہوں جو زیادہ طلوع نہیں‬
‫ہوا۔ آکاش کا سورج مجھ سے بہت مختلف ہے۔‬
‫اس نے میری کئی نسلیں اور ان کے سورج‬
‫ڈوبتے چڑھتے دیکھے ہیں۔ میں اب چراغ سحری‬
‫ہوں۔ ہوا کا ایک جھونکا میری زندگی کے چراغ‬

‫کو بجھانے کے لیے کافی ہے۔‬

‫میں ایک پہر کا پھول ہوں جو ایک جھونکے سے‬
‫زمین پر پتی پتی ہو کر بکھر جاتا ہے۔ اور اسے‬
‫گرا کر خود مسروری سی آگے بڑھ جاتی ہے۔ میں‬
‫دنیا کے لیے ایک عبرت اور اپنے لیے ایک عذاب‬
‫ہوں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی‬
‫بھی دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتا۔‬
‫ہم سب آہستہ آہستہ یہی کردار انجام دیتے ہیں۔‬

‫ہمارا معاشرہ جہاں سانس لینے کی بجائے دم‬
‫گھٹتا ہے اس نے مجھے بہت دکھ دیے ہیں۔ اسی‬
‫نے میری سوچوں کو اپنے لیے وقف کر لیا ہے۔‬
‫اپنا پہرا بیٹھا دیا ہے کہ میں سوچوں زیادہ سے‬
‫زیادہ سوچوں میرا مرکز معاشرہ میرا محور یہ‬
‫معاشرہ ہی ہو۔ جہاں چوری ہے ڈاکہ ہے رشوت‬

‫ہے جہاں قرآن بکتے ہیں جہاں ایمانوں کے‬
‫سودے ہو جاتے ہیں۔ جہاں عصمتیں ارزاں ہیں‬

‫اور ایک وقت کی روٹی بہت گراں ہے جہاں‬
‫سوہنی دھرتی کے جیالے ماں کو ماں بہن کو بہن‬
‫نہیں جانتے۔ کاش کاتب تقدیر نے میرے ساتھ یہ‬
‫ظلم نہ کیا ہوتا۔ مجھے باغ بہشت سے اس صحرا‬
‫کے لق و دق چٹیل میدان میں پھینک دیا۔ کہنے کو‬
‫ایک جم غفیر ہے رہنے کے لیے ایک جھونپڑا‬
‫نہیں۔ مگر اس سوہنی دھرتی پر رہنے والے اور‬
‫بسنے والے ہزاروں سال کی شناسائی ہوتے ہوئے‬
‫بھی ایک دوسرے کو نہینپہچانتے۔ معاشرہ اور‬
‫اس کے باسی مجھے دعوت فکر دیتے ہیں۔ اور‬
‫میں دکھ کے ان بیتے لمحموں میں کھو جاتا ہوں۔‬
‫جب حالت نے مجھے جکڑ لیا تھا اور مجھے اپنا‬

‫گھر اپنے بہن بھائی بزرگ باپ اور اپنا وطن‬
‫چھوڑنا پڑا اس دنیا میں دو بہنیں تھیں جو میرے‬
‫لیے دعائیں مانگا کرتی تھیں ان میں سے ایک کو‬
‫یہ دنیا پسند نہ آئی اور واپس چلی گئی۔ اب ایک‬

‫ماں جائی ہے جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی‬
‫میرے لیے دعاگو ہے۔‬

‫یہاں آ کر بڑے بڑے پاتڑ بیلے مگر وہی ڈھاک‬
‫کے تین پات نتیجہ سامنے ہے نہ رہنے کو گھر‬

‫ہے نہ پہننے کے لیے کپڑے۔ ہاتھ خالی منہ‬
‫سوالی اس پر ضد یہ ہے کہ میں اس معاشرے‬
‫کے لیے سوچوں۔ کیا ملے گا اکیل چنا باجے گھنا‬
‫کے مصداق طوطی کی صدا کو کون سنے گا۔ بہن‬
‫مری صبر کیا باپ ا کو پیارا ہوا تو خاموش رہا‬
‫ایک ایک کرکے سب چاہنے والے رخصت ہو گیے‬
‫اور میں اس معاشرے سے نفرت کرنے کے لیے‬
‫آج بھی زندہ ہوں۔ سب کہتے ہیں اندھیروں میں‬
‫روشنی کے چراغ جلئے جاتے ہیں۔ سچ ہے‬
‫مگر یہ تاریکی جو مجھ پر چھا گئی ہے یہ ان‬
‫اندھیرے غاروں کی ہے جہاں سورج کی کوئی‬
‫کرن نہیں پہنچ سکتی۔ یہ ظلم اور اقدار سے‬
‫بغاوت کی تاریکی ہمارے اردگرد پھیل گئی ہے۔ یہ‬
‫وحشتناک جنگلوں اور سنسان کھنڈرات کی ماند‬
‫خوفناک ہے۔ لیکن کیا کوئی رات ایسی بھی ہے‬
‫جس کی کوئی سحر نہ ہو۔ ان تاریک جنگلیوں‬
‫سے پھر کوئی گوتم جنم کیوں نہیں لیتا۔ صحرا کی‬
‫گہرائیوں سے پھر کوئی سورج طلوع کیوں نہیں‬
‫ہوتا۔ بات لمبی ہو چلی ہے۔ سوچ اور فکر کی‬

‫طرف آ گیا ہوں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم روشنیوں‬
‫کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب اندھیرا پھیل چکا‬

‫ہوتا ہے۔‬

‫نقل وطن کے بعد میری کوشش رہی کہ میں اپنے‬
‫نصب العین کو حاصل کر لوں۔ میری کمزوری‬
‫غربت تھی۔ ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہونے‬
‫کے باوجود میں اقتصادی غریب غریب تھا۔ میں‬
‫غریبوں میں رہ کر ان کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔‬
‫مجھے دکھی انسانوں سے ہم دردی تھی اور آج‬

‫بھی ہے مگر میرا مستقبل میرے نصب اعین کے‬
‫روپ میں نہ مل بلکہ اور زیادہ تاریک ہو کر غبار‬
‫راہ بن کر رہ گیا ہوں۔ میں نے اپنوں کی خدمت کی‬
‫ان کے جا بجا حکم پر سرنگوں کیا مگر ذلت کے‬
‫سوا کچھ نہ مل تو میں نے غیروں کو اپنانا چاہا‬
‫تو وہاں مطب پرستی نے ہر قدم پر ٹھوکریں ماریں‬
‫اور آج میں اس معاشرے سے اس پوری دنیا سے‬
‫نفرت کرتا ہوں ۔ میری اس تنقید کا ہرگز یہ مطلب‬
‫نہیں کہ میں ملمت کروں۔ بقول شخصے ملمت‬
‫قصوروار کو کی جاتی ہے اور معاشرہ تو مظلوم‬
‫ہے ازل سے جو راہیں جس کے لیے منتخب کر‬

‫دی گئی ہیں وہ اسی راہ پر گامزن ہے یوں‬
‫سمجھیے کہ‬

‫غم یہ نہیں کہ ہم کو زمانہ برا مل‬
‫افسوس یہ ہے ایسے زمانے کو ہم ملے‬

‫یوں سمجھ لیجیے کہ کوئی پودا ایک جگہ سے‬
‫اکھاڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جائے جہاں کی‬
‫زمین‘ آب و ہوا اور موسم اس کی طبعت کے‬
‫خلف ہو تو پودا پروان چڑھ سکتا ہے۔ کچھ یہی‬
‫میرے ساتھ بھی ہوا۔ ابتدائی پرورش کے دوران‬
‫محبت اور خلوص نے مجھے جھولے جھلئے ہر‬
‫ضد پوری ہوئی زبان سے نکل ہوا کوئی حرف‬
‫حرف آخر ہوتا تھا اور جب شعور پختہ ہوا جذبات‬
‫و احساسات نے جنم لیا اور اپنی منزل قائم کرنے‬
‫کے عزم پیدا ہونے لگے تو آہستہ آہستہ تقدیر نے‬
‫سب لوازمات چھین لیے۔ سب سہارے ٹوٹ گیے‬

‫اور بیساکھیاں کام نہ آ سکیں۔‬

‫نویں جماعت میں تھا کہ موسم کا اثر طبعیت پر‬
‫ہونے لگا۔ ظلم و تشدد سے دل کڑھنے لگا۔ ہر‬
‫خوبصورت چیز اچھی لگنے لگی تو ہم گنگنانے‬

‫لگے اور اسی طرح روتے روتے گویے ہو گیے۔‬
‫اس امر سے قطعی اتفاق نہیں کہ میں شاعر ہوں‬
‫یہ ایک ایسی بات ہوگی گویا شاعری کا مذاق اڑانا۔‬
‫البتہ جو بات برجستہ اور آپ کے منہ پر نہیں کہی‬
‫جا سکتی اسے منظوم لہجے میں بزبان قلم آپ‬
‫تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ڈھونڈ لیا۔ کچھ دن ناز‬
‫لکھنوی صاحب سے درس تلمیذ اسی باب میں لیا۔‬
‫اس کے بعد ارم سلطان پوری سے مکمل وابستگی‬
‫رہی مگر ناگفتہ حالت کے تحت پاکستان آنے کی‬
‫وجہ سے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اب جو کچھ‬

‫ہے خانہ ذاد ہےاور آپ کی نذر ہے۔‬

‫صفت سہارن پوری کی اس ذاتی تحریر سے‘‬
‫ناصرف ان کا تعارف اور ان کے حالت زندگی‬
‫سے آگاہی ہوتی ہے‘ بلکہ سماجی و سیاسی حالت‬
‫سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ یہ ان کی ذاتی ڈائری‬
‫ہے‘ جو ان پر گزرا‘ کا نوحہ ہے۔ اس سے ان کا‬
‫نثری اسلوب بھی سامنے آتا ہے۔ انہوں نے‬
‫مخصوص محاورات کا استعمال کیا ہے۔ مثل‬
‫یہاں آ کر بڑے بڑے پاتڑ بیلے مگر وہی ڈھاک‬
‫کے تین پات نتیجہ سامنے ہے نہ رہنے کو گھر‬

‫ہے نہ پہننے کے لیے کپڑے۔ ہاتھ خالی منہ‬
‫سوالی اس پر ضد یہ ہے کہ میں اس معاشرے‬

‫کے لیے سوچوں۔‬

‫ان کا اسلوب تکلم افسانوی ہے۔ اردو زبان وادب‬
‫کی یہ امانت‘ ا نے ردی چڑھنے سے بچا لی۔‬
‫اس ڈائری کے حوالہ سے‘ ناز لکھنوی اور ارم‬
‫سلطان پوری کے نام بھی سامنے آئے۔ بعض‬
‫غزلوں کے آغاز میں بھی کچھ اسماء آئے ہیں۔‬

‫محشر بریلوی لیاقت آباد‘ ‪ ١٨‬جون سن موجود‬
‫نہیں‘ کو پڑھی جانے والی غزل کا مطلع یہ تھا‬
‫بدل گئے سب تقاضے دل کے نظر بھی اب وہ نظر‬

‫نہیں ہے‬
‫خلوص دل میں رہا نہ باقی دعا میں اب وہ اثر‬

‫نہیں ہے‬

‫احمد فاخر سکندر آباد کے ہاں پڑھی جانے والی‬
‫غزل کا مطلع ملحظہ ہو‬

‫روتے روتے ہی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں‬
‫اس طرح عمر بسر ہو یہ ضروری تو نہیں‬

‫موج بھرتیوری کے ہاں ‪ ٦‬اگست ‪ ١٩٨١‬کو پڑھی‬
‫جانے والی غزل کا ایک شعر ملحظہ ہو‬

‫کچھ ایسے زخم بھی کھاتا ہے انسان دور ہستی‬
‫میں‬

‫نگاہ ناز کا بھی کارگر مرہم نہیں ہوتا‬

‫موج صاحب کے ہاں ایک دوسرے وقت میں پڑھی‬
‫جانے والی غزل کا مطلع دیکھیے‬

‫وقت خزاں ہے دل مرا قصہءگلستاں نہ پوچھ‬
‫کیسے لٹا ہے آشیاں ہائے وہ داستاں نہ پوچھ‬

‫پاکستان آتے وقت ریل گاڑی میں ہونے وال کلم‬
‫ملحظہ ہو۔۔۔۔۔۔‪١٩٦٦‬‬

‫اے سہارن پور اے میرے وطن رشک چمن‬
‫ذرہ ذرہ ہے ترا میرے لیے لعل یمن‬

‫سہارن پور بھارت میں اس طرحی مصرعے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل‬

‫مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر کہی گئی غزل کا مقطع‬
‫‪:‬دیکھیے‬

‫کیا بتاوں اے صفت یہ بھی عجب ہے اتفاق‬
‫ڈھنونڈتا پھرتا ہوں میں منزل کو اور منزل مجھے‬

‫‪ ٣‬مارچ ‪ ١٩٧٠‬یعنی چوالیس سال پہلے‘ لکھی‬
‫‪:‬گئی ایک غزل کا مقطع ملحظہ ہو‬
‫بے رخی ان کی اے صفت توبہ‬
‫جیسے مجھ پر عذاب کا عالم‬

‫صفت سہارن پوری‘ مہاجرت کے بعد‘ قصور‬
‫اقامت پذیر نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہاں ککے زئی‬
‫فیملی موجود ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے‘ کسی کام‬

‫سے آئے ہوئے ہوں۔ محشر بریلوی‘ موج‬
‫بھرتیوری اور احمد فاخر‘ کراچی سے متعلق لوگ‬

‫ہیں۔ وہاں مشاعرعے پڑھنے جاتے ہوں گے۔‬
‫قصور آئے ہوں گے‘ اور یہاں یہ ڈائری بھول گیے‬
‫یا گرا گیے ہوں گے۔ اس گمشدگی کے بعد‘ ان کی‬
‫قلبی کیفیت کیا رہی ہو گی‘ وہ جانتے ہوں گے‘ یا‬

‫ا جانتا ہے۔ ادپ سے غیر متعلق لوگوں کے‬
‫لیے‘ یہ چیزیں ردی ہوتی ہیں‘ اور ان سے‘ خواہ‬
‫مخواہ ایک کمرہ‘ تصرف سے نکل جاتا ہے‘ تاہم‬
‫بابے کی موت کے بعد‘ کمرے زندگی کے درست‬

‫مقاصد کے لیے‘ استعمال ہونے لگتا ہے۔ یہ ہی‬
‫ہوتا ہے‘ یہ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ پرزے‘ اپنے دامن‬
‫میں‘ عہد رفتہ کے حقائق اور چشم دید شہادتیں‬
‫لیے ہوتے ہیں۔ یہ بےکار پرزے‘ ہی تو ماضی کا‬
‫اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ سونا‘ چاندی‘ عمارتیں‘‬
‫چھنیاں کولیاں‘ بہترین لباس اور کھانے سب مٹی‬
‫ہو جاتے ہیں۔ شخص اپنے ماضی سے محبت کرتا‬
‫ہے‘ لیکن ماضی کے‘ اصل سرمائے کی حفاظت‬

‫کے لیے‘ کسی قسم کا تردد نہیں کرتا۔‬

‫اس ڈائری میں‘ صفت سہارن پوری کا کلم نہ بھی‬
‫ہوتا‘ تو بھی‘ حرف خاص کے حوالہ سے‘ اس کی‬
‫اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج کی نسل‬

‫کے پاس‘ تو محض مورکھ کا لکھا موجود ہے‘‬
‫اور وہ اس پر یقین کرنے پر مجبور ہے۔ ایک‬
‫بیس پچس سال کے جوان کو‘ کیا علم کہ تیس‬
‫چالیس سال پہلے‘ یہاں کیا تھا‘ اور معاملت کس‬
‫طرح کے ہوتے تھے‘ یا معاملت کی نوعیت کیا‬
‫تھی۔ ایسے میں اس قسم کے پرزے‘ بڑی اہمیت‬
‫کے حامل ہیں۔ اس لیے‘ میری نسل سے استدعا‬
‫ہے‘ کہ وہ ان پرزوں کو ردی میں نہ بیچیں۔ انہیں‬

‫سلیقہ سے‘ کسی شاپر ڈبے یا بوری میں رکھ‬
‫دیں‘ یا کسی علمی ادبی شخص کے حوالے کر‬
‫دیں۔ قومی سطح پر ادارہ بھی قائم کیا جا سکتا‬
‫ہے‘ جہاں یہ پرزے جمع کرا دیے جائیں۔ کوئی‬
‫اپنے نام سے چھاپتا ہے‘ تو چھاپ لے‘ کوئی نئی‬
‫بات نہیں‘ چلو آج‘ اپنی اصل کے ساتھ‘ مستقبل کو‬

‫تو منتقل ہو جائے گا۔‬

‫شکیب جللی کی زبان اور انسانی نفسیات‬

‫ہر لفظ‘ اپنے عہد کے مجموعی اور اکائیاتی‬
‫سماجوں سے‘ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اسے‘ اس عہد‬
‫کے مجموعی‘ اور منی سماجوں کے اشخاص کی‘‬
‫انگلی پکڑنا ہوتی ہے۔ ان کے مزاج‘ حاجات‘‬
‫موجود صورت حال کے تحت‘ ترکیب پانے وال‬
‫موڈ‘ عمومی‘ خصوصی اور حادثاتی لہجوں کی‬
‫بھی عکاسی کرنا پڑتی ہے۔ اگر وہ ان حوالوں‬
‫سے‘ دور رہیں گے تو معاملت کی‘ درست سے‘‬

‫نمائندگی کرنے سے قاصر رہیں گے۔ لفظ معاملے‬
‫کو‘ اس کے عین مطابق بیان کرتے ہیں‘ انہیں‬
‫ناصرف شخص کی‘ باڈی لینگوئج کو قاری کے‬
‫رو بہ رو لنا ہوتا ہے‘ بلکہ اس ماحول اور‬
‫سیچوئیشن کی بھی‘ تصویر کشی کرنا ہوتی ہے۔‬

‫اس حوالہ سے دیکھا جائے‘ تو شاعر اور ادیب‬
‫میں‘ ماہر نفسیات کی خصوصیت ہونی چاہیے‘‬
‫بلکہ یہ خصوصیت ان میں فطری طور پر‘ موجود‬
‫ہوتی ہے۔ ہر بڑے یا چھوٹے شاعر کے ہاں‘ اس‬
‫کے علقہ کے ہر طبقہ اور شعبہ کے اشخاص کی‘‬
‫نفسیاتی کیمسٹری موجود ہوتی ہے۔ رو بہ رو عین‬
‫ممکن ہے‘ گفتگو میں تکلف‘ شخصی اور قومی‬
‫بھرم کی دیوار کھڑی ہو جائے۔ اصل کی پوشیدگی‬
‫کی‘ ان گنت صورتیں نکل سکتی ہیں۔ ادب اس قوم‬
‫کی فکر‘ رجحانات‘ میلنات‘ ترجیحات اور عمومی‬
‫اور خصوصی عادات کا‘ عکاس ہوتا ہے۔ جان‬
‫کیٹس کو ہی لے لیں‘ اس نے اپنے خطوط میں‘‬
‫جو اصطلحات استعمال کی ہیں‘ وہ اس عہد کے‬
‫رویوں کی عکاس ہیں۔ استاد غالب کے خطوط‘ ان‬
‫کے عہد کے‘ شخصی اطوار کو واضح کرتے ہیں۔‬

‫میر صاحب کا ہر شعر‘ اپنے عہد کے شخص کے‘‬
‫سوچ اور ہجانات کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ یہ‬
‫سب‘ دانستگی کا حامل نہیں ہوتا‘ دانستگی کی‬
‫صورت میں‘ ادب کا حقیقی لطف‘ ہی بے لطف ہو‬

‫جاتا ہے۔‬

‫شکیب جللی کا کرب‘ ذات کا کرب اپنی اصل میں‘‬
‫سوسائٹی کا کرب ہے۔ اس جیون کا کرب ہے‘ جس‬

‫میں اس نے‘ زندگی کے لمحات گزارے۔ اس کا‬
‫کلم‘ لوگوں کے رویوں کی عکاسی کرتا ہوا‘‬
‫محسوس ہوتا ہے۔ اس کی ہم کلمی میں بھی‘ اس‬
‫عہد کا شخص‘ چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ اس کے‬
‫اندازواطوار کا‘ باخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ میری‬
‫بدقسمتی یہ ہے‘ کہ وہ میرے ہی عہد کا شاعر‬
‫ہے‘ اور میں اسے ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ میری‬
‫اس سے‘ کبھی ہیلو ہائے نہیں رہی۔ میں نہیں‬
‫جانتا‘ فکری و لسانی حوالہ سے‘ اتنے اعلی پائے‬
‫کے شاعر کو‘ کیوں اور کس جرم کی پاداش میں‘‬

‫نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔‬

‫احمد ندیم قاسمی کے انتہائی مختصر اور ڈنگ‬
‫ٹاپاؤ ابتدائیے سے‘ بس اتنا معلوم ہوتا ہے‘ کہ‬
‫انہیں شکیب جللی کی بیوہ محترمہ محدثہ خاتون‬
‫نے‘ جملہ مواد بھجوا دیا۔ اس مواد میں خطوط‬
‫اور نثری یاد داشتیں بھی رہی ہوں گی‘ یا ا‬
‫جانے کیا کچھ‘ رہا ہو گا۔ چلو کچھ مواد ردی نہ‬
‫چڑھا۔ کیا کچھ رہا ہو گا‘ کوئی نہیں جانتا۔ اس‬
‫معاملے کی‘ الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت‬
‫کو‘ بہرطور نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ ابتدائے‬
‫میں کاغذات کا ایک انبار‘ اپنے اندر بڑی گرہیں‬
‫اور معنویت کا ایک انبار رکھتا ہے۔ روشنی اے‬
‫روشنی‘ انبار نہیں ہے۔ مجموعہ کل صرف ‪١٥٩‬‬
‫صفحات پر مشتمل ہے۔ کلم ص‪ ١٣ :‬سے شروع‬

‫ہوتا ہے۔‬

‫شکیب جللی کو‘ انسانی رویوں کو کاغذ کے‬
‫سپرد کرنے کا‘ ڈھنگ خوب آتا ہے۔ مجموعے کی‬
‫پہلی ہی غزل کا‘ یہ شعر ملحظہ فرمائیں۔ اس کا‬
‫لسانی طور اپنی جگہ‘ لیکن شخص کو بڑی ہنر‬
‫مندی سے‘ وضح کیا ہے۔ یہ کسی اجنبی معاشرے‬
‫کا شخص نہیں ہے‘ ایسے اشخاص سے‘ ہر روز‬

‫ملقات ہوتی رہتی ہے۔‬

‫یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک‬
‫کوئی سہہ نہ سکا‘ لہجہ ایسا کرخت تھا‬

‫وہ لب‪ :‬پھول سے نازک‬
‫دونوں مرکب‘ شخص کے کارگزاری سے متعلق‬

‫اجزا‘ کی مصوری کر رہے ہیں۔‬
‫مستعمل تشبیہ ہے۔‬

‫ان کا تعلق بصارتی آلت سے ہے‬
‫کرخت لہجہ‪ :‬انداز تکلم کو ظاہر کر رہے ہیں۔‬

‫سماعی آلت سے متعلق مرکب ہے‬
‫کوئی سہہ نہ سکا‪ :‬ردعمل کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔‬

‫ذرا غور کرنے سے‘ اطراف کی باڈی لینگوئج‘‬
‫آنکھوں کے سامنے‘ گھوم گھوم جاتی ہے۔‬

‫بڑے لوگوں کو ایک طرف رکھیں‘ کہ وہ کتنے‬
‫غیرت مند‘ اور غیرت مندی کی کس سطح پر‬
‫کھڑے ہیں۔ عموم کس مقام پر کھڑے ہیں‘ یا ان‬
‫کی شخصیت کی ساخت کیسی ہے‘ اس کا تجزیہ‬
‫بھی‘ شکیب کے ہاں ملتا ہے۔ عموم پر نہ رکھیں‘‬

‫شکیب پر ہی اپلئی کریں‘ یہ شعر اس ذیل میں یہ‬
‫بول رہا ہے۔‬

‫مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں‬
‫جس طرح سایہءدیوار پہ دیوار گرے‬

‫مجھے گرنا ہے‪ :‬حالت کا جبر‬
‫باغیرت شخص کا ردعمل‪ :‬میں اپنے ہی قدموں‬

‫میں گروں‬
‫سایہءدیوار پہ دیوار گرے‪ :‬یہ تشبیہ تو ہے ہی‘‬

‫لیکن معاملے کو تجسیم دے دی گئی ہے۔‬
‫شخصی نفسیاتی کی عکاسی‘ اس سے بڑھ کر‬

‫کس طرح ہو گی۔‬

‫اسی قماش کا ایک اور شعر ملحظہ فرمائیں۔‬

‫خوددار ہوں کیوں آؤں در اہل کرم پر‬
‫کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی‬

‫خوددار ہوں‬
‫کیوں آؤں‬

‫در اہل کرم پر‬
‫کھیتی‬

‫کبھی خود چل کے‬
‫گھٹا تک نہیں آتی‬

‫خوددار ہوں‪ :‬شخص کا فطری وصف‬
‫یہ وصف‘ دست سوال دراز کرنے کی‘ راہ کی‬
‫دیوار بنا رہتا ہے۔ ہمارے‘ اہل کرم کی فطرت ہے‘‬
‫کہ وہ حق بھی‘ بلعوضانہ نہیں دیتے‘ جس کے‬
‫باعث‘ نہ اہل کرم کے ہاتھ کچھ لگتا ہے‘ اور ناہی‬
‫حق دار‘ اپنا حق لے پاتا ہے۔ کیا اہل کرم دیکھ‬
‫نہیں رہے ہوتے‘ کہ کون کس حال میں ہے۔ اگر‬
‫خود سے‘ دان کریں گے تو ہی‘ اہل کرم کے‬
‫زمرے میں آسکیں گے۔ شکیب نے بل دلیل بات‬
‫نہیں کی۔ دوسرے مصرعے میں‘ اپنے کہے کی‬
‫دلیل پیش کی ہے۔ گویا دو مترادف درج کیے ہیں۔‬

‫خوددار‪ :‬کھیتی‬
‫اہل کرم ‪ :‬گھٹا‬
‫خوداری شخصیت کا وہ وصف ہے‘ جو شخص کو‬
‫جھکنے نہیں دیتا‘ اور یہ اس کو کسی بھی سطح‬
‫پر‘ ہاتھ پھیلنے کی اجازت نہیں دیتا۔‬

‫یہ شعر دیکھیے‘ دو طبقوں کی نفسیات واضح کر‬
‫رہا ہے۔‬

‫ہم سفر چھوٹ گیے راہنما روٹھ گیے‬
‫یوں بھی آسان ہوئی منزل دشوار یہاں‬

‫ہم سفر ‪ :‬رشتہ دار‘ دوست یار‘ بیوی‘ اولد‬
‫ان سب کے رویوں کا عملی مطالعہ کریں۔‬
‫زیست کی راہوں کی دیوار بنے رہتے ہیں۔ خیر‬

‫میں روکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔‬
‫پڑے وقت میں نظر نہیں آتے۔ پیٹھ موڑ جاتے ہیں۔‬

‫راہنما ‪ :‬مقتدرہ طبقے‘ مولوی‘ شیوخ‘ استاد‬
‫کبھی سیدھی راہ نہیں دکھائیں گے۔ ذرا برعکس‬
‫کرو‘ یا انحراف کرو‘ طیش میں آ جائیں گے۔ یہ‬
‫اپنی اصل میں‘ منزل کی راہ کی سربہ فلک دیوار‬
‫ہیں۔ شکیب نے سماجی مثلث کی نفسیات کی بڑی‬

‫عمدگی سے تصویر کشی کی ہے۔‬

‫بظاہر بڑا سادہ سا شعر ہے۔‬

‫پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں‬
‫پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو‬

‫یہ شعر‘ جتنا سادہ نظر آ رہا ہے‘ اتنا سادہ نہیں‬
‫ہے۔ بل کی طرح داری لیے ہوئے ہے۔ شخص کے‬

‫مخصوص رویے کو‘ اپنے اندر سموئے ہوئے‬
‫ہے۔‬

‫غور کریں‘ نرگسیت کا عنصر لیے ہوئے ہے۔‬
‫وارفتگی کی وضاحت کر رہا ہے۔‬

‫صنف مخالف کے حوالہ سے‘ انسانی فطرت کا‬
‫عکاس ہے۔‬

‫فوری اور بعد کے ردعمل کی‘ وضاحت کر رہا ہے۔‬
‫یاد بڑا مضبوط انسانی رویہ ہے۔ اس کی اہمیت‬
‫اور حیثیت کےمطابق‘ ردعمل سامنےآتا ہے۔‬

‫بڑے کمال کا‘ شکیب نے شعر نکال ہے۔ انسان‬
‫کے مجموعی رویے کی‘ بڑی ہنرمندی اور صنعت‬

‫کاری سےعکاسی کی ہے۔‬

‫برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا‬
‫انہیں تو دن کا بھی سایا دکھائی دیتا ہے‬

‫برا نہ مانیے‪ :‬کلمہءمخاطبہ ہے۔‬
‫انہیں تو‪ :‬کلمہءطنزیہ ہے۔‬

‫دن کا سایا‪ :‬لیعنی‘ بےسروپا‘ اور انہونی باتیں‬
‫دکھائی دینا‪ :‬کہتےرہنا بکتےرہنا چھوڑتے رہنا‬
‫زمانے کی نفسیات کی‘ بڑے شان دار انداز میں‘‬

‫عکاسی کی گئی ہے۔‬

‫‪:‬سوسائٹی کی بےحسی کا ماتم ملحظہ ہو‬

‫یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے‬
‫!گزر ہوا ہے مرا کسی اجاڑ بستی میں‬

‫عہد کے‘ ترکیب پانے والے نفسیاتی حدود‬
‫اربعےکو پیش کر دیا ہے۔ آدمیت کے سائے اور‬
‫اجاڑ بستی‘ ایسے مرکبات کا استعمال کرکے‘ بڑے‬
‫زور کی چوٹ لگائی ہے۔ انسانوں کی بستی اور یہ‬

‫صورت حال۔ اظہار حیرت کیا جا رہا ہے۔‬
‫!اجاڑ بستی میں‬

‫ذرا غور فرمائیں‘ کیا کہہ دیا گیا ہے۔‬

‫چلتے چلتے دو شعر اور ملحظہ فرما لیں۔ شکیب‬
‫نے بڑی ہنرمندی سے‘ انسانی نفسیات سے‬
‫مناسبت رکھتے‘ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔‬

‫سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح‬
‫دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں‬

‫دیکھو تو‪ :‬ظاہرداری‬
‫اک شکن بھی نہیں‬
‫سب اچھا‘ ٹھیک ٹھاک‘ درست‘ عیش‘ موج‘ کچھ‬
‫بھی تو نہیں‘ پاک صاف‘ ہیرا پھیری سے بالتر‘‬

‫ایک نمبری‬

‫سوچو تو‪ :‬باطنی حالت‘ کیفیت‬
‫تمام روح سلوٹوں سے بھری ہے‬
‫تمام کا استعمال‘ اس لیے ہوا ہے‘ کہ جزوی نہ‬
‫سمجھ لیا جائے۔ یعنی پوری کی پوری‬
‫سلوٹ‪ :‬مفاہیم کے لیے کئی پہلو مدنظر رکھنا ہوں‬

‫‪:‬گے‬
‫ذہنی الجھاؤ‘ طرح داری‘ پریشانی اور دکھ کی‬

‫کیفیت‘ غلظت‘ بےایمانی‘ دونمبری‬

‫گویا انسان جو دکھائی دیتا ہے‘ باطنی سطح پر‘‬
‫وہ نہیں۔ دوغلےپن کا شکار ہے۔ اس حوالہ سے‘‬

‫انسان کی جانچ ناممکن ہے۔ وہ جو نظر آ رہا‬
‫ہے‘ یا کہہ رہا ہے‘ اس کے مطابق‘ افعال کا سرزد‬

‫ہونا ضروری نہیں۔‬

‫انسان کی نفسیات ہے؛ کہ وہ ہم خیال لوگوں کے‬
‫ساتھ رہ کر ہی‘ آسودگی محسوس کرتا ہے۔ ایک‬
‫شخص کو‘ ایک ایسے باغ میں بیٹھا دیں‘ جہاں‬
‫سو طرح کے‘ خوش رنگ اور خوش الحان طیور‬
‫ہوں‘ مگر شخص وہاں کوئی نہ ہو‘ ٹک نہیں پائے‬

‫‪:‬گا۔ شکیب کا کہنا ہے‬

‫ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر‬
‫بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر‬

‫اڑان سے واضح ہو رہا ہے‘ کہ شاعر کی مراد‬
‫فکر ہے‘ جب کہ لفظ آسمان‘ سربلندی کے معنی‬
‫دے رہا ہے۔ فکری مماثلت رکھنے والوں کے‬

‫لیے‘ لفظ ہم جنس کا استعمال ہوا ہے۔‬

‫درج بال معروضات سے‘ جہاں یہ واضح ہو رہا‬
‫ہے‘ لفظ شخص اور اس سے متعلقہ معاشرت کی‬
‫نمائندگی کرتے ہیں‘ وہاں انسان کی آفاقی فطرت‬
‫کو بھی‘ اپنے دامن میں جگہ دیتے ہیں۔ شکیب‬

‫جللی کی شاعری‘ انسان اور اس کی فکر کی‬
‫شاعری ہے۔ وہ انسان‘ اور اس کے معاملت کے‬
‫سرزد ہونے کی‘ نفسیات سے خوب خوب آگاہ ہے۔‬
‫اسے شعر کی زبان پر‘ دسترس حاصل ہے۔ بیان‬
‫کےانداز سے بھی خوب خوب آگاہ تھا۔ ناقدروں‬

‫کی بستی میں‘ وہ بےمایہ سہی‘ لیکن سخن‬
‫شناسوں میں اعلی پائے کا شاعر ضرور قرار‬

‫پائے گا۔‬

‫ٹی ایس ایلیٹ اور روایت کی اہمیت‬

‫ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک‘ روایت اپنی اصل میں‘‬
‫اظہار کا تسلسل ہے‘ جو ادوار کے انقلبات سے‘‬
‫متاثر ہوتی ہے‘ لیکن دم نہیں توڑتی‘ بلکہ اپنی‬
‫اوریجن سے پیوستہ رہتی ہے۔ وہ محض ماضی‬

‫کے تجربات کو‘ روایت کا نام نہیں دیتا‘ اور اسے‬
‫درست بھی خیال نہیں کرتا۔ گویا ماضی‘ حال اور‬
‫مستقبل روایت ادبی کے مفہوم میں شامل ہیں۔‬
‫روایات ہر قوم اور ہر ملک کی زندگی کے‘ ہر‬
‫شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوتی‬
‫رہتی ہیں۔ تہذیب اور کلچر‘ ان ہی کے مجموعے کا‬
‫نام ہے۔ یہ سب کسی قوم کے جغرافیائی حالت‘‬
‫افتاد طبح‘ فکری رجحانات اور اس پر پڑے ہوئے‘‬
‫مختلف قسم کے‘ ذہنی و وجدانی اثرات کے نتیجہ‬

‫میں تشکیل پاتی ہیں۔‬

‫وراثت کی زمین میں‘ ان کے پودے جڑ پکڑتے‬
‫ہیں‘ اور ماحول ان کی آبیاری کرتا رہتا ہے۔ وقت‬
‫کے ساتھ ساتھ‘ یہ ہی پودے تناور درختوں کی‬
‫صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے‘ کہ ہر‬
‫قوم کی بڑائی اور برتری‘ روایات پر انحصار کرتی‬
‫ہے۔ اس کی ذہنی‘ فکری اور تہذیبی سربلندی کو‘‬
‫اسی پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے۔ وہ تہذیب اور‬
‫کلچر کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ادب‘ انسانی زندگی کا اہم‬
‫ترین شعبہ ہے‘ اور وہ کسی قوم کا آئینہ دار ہوتا‬
‫ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ اس کا خمیر اٹھتا رہتا‬

‫ہے۔‬

‫ایلیٹ کے نزدیک‘ ہر ملک اور قوم کا‘ ادب ایک‬
‫خاص قسم کی‘ آب وہوا اور مخصوص طرح کے‬
‫ماحول میں‘ آنکھ کھولتا اور پرورش پاتا ہے۔ اس‬
‫لیے جو روایات‘ ادب میں تشکیل پاتی ہیں‘ ان سب‬
‫کا ان روایات سے‘ ہم آہنگ ہونا فطری سی بات‬
‫ہے۔ کوئی ادب‘ زندہ روایات کے بغیر‘ زندہ نہیں‬
‫رہ سکتا۔ بڑے سے بڑا ترقی پسند‘ اس بات کا‬
‫معترف ہے کہ ہر زمانے کی تہذیب کو‘ گزشتہ دور‬
‫کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ماضی کا رنگ‘ چاہے کتنا‬

‫ہلکا ہو‘ حال اور مستقبل میں ضرور ملے گا۔‬
‫سماجی زندگی اور تہذیب و تمدن‘ ماضی سے‬
‫استفادہ کرنے پر مجبور ہیں‘ لیکن اس کا مطلب‬
‫یہ نہیں‘ کہ ماضی کو اپنا آئیڈیل سمجھ لیا جائے۔‬
‫اگر سمجھ لیا جائے گا‘ تو یہ روایت پسندی نہیں‬

‫روایت پرستی ہو گی۔‬

‫ایلیٹ کا موقف ہے‘ کہ جدت‘ تکرار سے بہتر‬
‫ہے۔ یہ ورثہ میں نہیں ملتی‘ بلکہ تسلسل میں چلی‬
‫آتی ہے۔ روایت کی ذیل میں‘ اس نے چند خطرات‬

‫سے‘ آگاہ کیا ہے۔ بعض اوقات ہم زندگی بخش اور‬
‫غیرصحت مند روایات میں‘ تمیز نہ کرتے ہوئے‘‬
‫کسی غیر صحت مند روایت سے چپکے رہتے‬
‫ہیں۔ اس سے غلط اور صحیح گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔‬
‫اس کے نزدیک‘ روایت پرستی‘ سطحی تقلید اور‬
‫اندھی نقالی‘ مضر اور خطرناک ہیں۔ تجربہ بھی‘‬
‫روایت کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ نئے پن میں‘‬

‫پرانا پن یا نئے پن کے ساتھ پرانا پن بھی‬
‫ضروری ہے۔‬

‫روایت‘ ادب کی نشوونما اور ترقی میں‘ اپنا کردار‬
‫ادا کرتی ہے۔ ادب بدلتے حالت کی رفتار کے‬
‫ساتھ‘ ارتقا اور ترقی کے راستے پر گامزن رہتا‬
‫ہے۔ روایات اسے رستہ دکھاتی ہیں۔ ادب کو‬
‫تجربات کی نئی دنیا سے روشناس کرانا بھی‘‬

‫روایات کے پیش نظر ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے‘‬
‫زمین تیار کرتی رہتی ہیں‘ اور جانچنے کا معیار‬
‫بھی دریافت کرتی ہیں۔ روایت کے بغیر تنقیدی‬

‫معیارات‘ تشکیل نہیں پاتے۔‬

‫ایلیٹ کے نزدیک‘ روایات‘ ادب اور عوام کے‬

‫درمیان‘ رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان ہی کے‬
‫سبب‘ عوام ادب کو اپنا قومی سرمایہ سمجھتے‬
‫ہیں۔ بعض لوگ‘ روایت کے مفہوم کو محدود کر‬
‫لیتے ہیں۔ وہ غلط تحریکوں کے محرک ہوتے‬
‫ہیں‘ اور خود کو‘ جدت پسند قرار دیتے ہیں۔ وہ‬
‫سارے ادب سے‘ ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن اس‬
‫کے معنی یہ نہیں‘ کہ تجربات نہ کیے جائیں۔‬

‫تجربہ‘ ادب کی جان اور تاریخ ہوتا ہے۔‬

‫روایات اور تجربات‘ ایک دوسرے کے متضاد نہیں‬
‫ہیں۔ تجربات کے لیے‘ کسی زمین کا ہونا ضروری‬
‫ہے۔ یہ زمین روایت فراہم کرتی ہے۔ ادب اور فن‬

‫میں‘ جہاں دوسری روایت کی طرح پڑتی ہے‘‬
‫وہاں تجربے کا بھی پتا چلتا ہے۔ ایک بڑا شاعر‘‬
‫روایت پرست بھی ہوتا ہے‘ اور تجرباتی بھی۔ اس‬
‫کے بزرگوں نے‘ جو دریافتیں کی ہوتی ہیں‘ وہ‬
‫انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا‘ بصورت دیگر‘ اس‬
‫کی آواز‘ محض صدائے بازگشت ہو کر رہ جائے‬
‫گی‘ اور وہ اپنے بزرگوں کے پائے تک‘ نہیں‬

‫پہنچ پائے گا۔‬

‫تاریخی روایات کے حصول کے لیے‘ ایلیٹ نے‘‬
‫شاعر کے تاریخی شعور کو‘ اہم قرار دیا ہے۔ جو‬
‫پچیس سال کی عمر کے بعد بھی‘ شاعر رہنا چاہتا‬
‫ہے‘ اس کے لیے تاریخی شعور ناگزیر ہے۔ یہ‬
‫تاریخی شعور‘ ادب کی لزمانی کا شعور بھی ہے‘‬

‫اور اس کے زمانی ہونے کا ثبوت بھی۔‬

‫زمانی اور لزمانی ہونے کا شعور‘ شاعر کو‬
‫روایت کا شاعر بناتا ہے‘ اور اسی سے‘ اس کے‬
‫زمانی مقام کا‘ تعین ہوتا ہے۔ ایلیٹ کے نزدیک‘‬
‫لفانیت کو سمجھنے کے لیے‘ روایت کا شعور‘‬
‫شرط لزم ہے۔ تاہم وہ روایت کے شعرا کے کلم‬
‫کو‘ نقالی نہیں سمجھتا۔ یہ شعور شعرا کو‘ مجبور‬
‫کرتا ہے‘ کہ وہ لکھتے وقت اپنے عہد ہی کو‘‬
‫پیش نظر نہ رکھیں‘ بلکہ گزشتہ سے آج تک کے‬
‫ادب کو‘ اور اپنے ملک کے سارے ادب کو‘ اپنا ہم‬

‫عصر تصور کریں۔‬

‫ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے‬
‫نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلنات و‬
‫رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ‬

‫اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس‬
‫کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘‬

‫تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘‬
‫روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض‬
‫چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت‬
‫کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔‬

‫ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالت کا‘ لب لباب‬
‫‪:‬کچھ یوں ٹھہرے گا‬

‫‪ -١‬روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔‬
‫‪ -٢‬روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش‬

‫سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔‬
‫‪ -٣‬تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو‬
‫احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ‬
‫اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے‬
‫کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ‬

‫گیے ہوتے ہیں۔‬
‫‪ -٤‬شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر‬
‫کی‘ دیگر شعرا کے کلم ہی سے لگایا جا سکتا‬
‫ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ‬
‫نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام‬

‫کا‘ حصہ ہوتا ہے۔‬
‫‪ -٥‬ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن‬
‫پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی‬
‫روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے‬

‫جائزہ لینا پڑتا ہے۔‬
‫‪ -٦‬ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر‬
‫ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی‬
‫ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔‬
‫‪ -٧‬نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود‬

‫رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو‬
‫ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالت کی فہرست سے‬
‫مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو‬
‫نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں‬

‫ہوتا ہے۔‬

‫اس مضمون کی تیاری میں خصوصا درج ذیل کتب‬
‫‪:‬شکریے کے ساتھ پیش نظر رہیں‬

‫مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر‬
‫رضوی مطبع عالیہ ‪١٩٦٦‬‬

‫ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی‬
‫نیشنل فاؤنڈیشن ‪١٩٧٥‬‬

‫محمد امین کی شاعری ۔۔۔۔۔۔۔ عصری حیات کی ہم‬
‫سفر‬

‫یہ بات سچ ہے‘ اور آفاقی حقیقت کے درجے پر‬
‫فائز ہے‘ کہ کرسی قریب اہل قلم‘ ہر دور میں‘‬
‫ناصرف آسودہ حال رہے ہیں‘ بلکہ کم زور طبقوں‬
‫کے مجرم بھی رہے ہیں‘ کیوں کہ سچ کا مقدر‘ ان‬
‫کے ہاں‘ غلم گردش بھی نہیں رہ پاتا۔ چوں کہ‬
‫شاہ کے کارناموں کو آسمانوں پر پہنچا دیا گیا‬
‫ہوتا ہے‘ اس لیے آتے وقتوں میں‘ شاہ ہی‘ سلم‬
‫و پرنام کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ جن کے باپ‬
‫دادا‘ ان شاہوں کی استحصالی تیغ کا نشانہ رہے‬
‫ہیں‘ وہ بھی ان گماشتہ شبدوں کے اسیر ہو جاتے‬

‫ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی جذباتی وابستگی‘‬
‫استحصالیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ بدقسمتی‬
‫دیکھیے‘ کرسی دور لوگ‘ اپنے عہد میں محرومی‬
‫کا شکار رہتے ہیں۔ مرنے کے بعد‘ ان کا اثاثہ‬
‫ردی میں بک جاتا ہے۔ کسی کو یاد تک نہیں ہوتا‘‬

‫کہ کوئی اپنے عہد کا پکا‘ کھرا اور سچا شہادتی‬
‫بھی تھا۔‬

‫بائیں آنکھ کے نظر انداز اہل قلم نے‘ کسی بھی‬
‫زبان کو‘ مختلف حوالوں سے‘ نوازا ہوتا ہے۔ ان‬

‫کے تین حوالے‘ بڑی نمایاں حیثیت کے حامل‬
‫‪:‬ہوتے ہیں‬

‫‪ -١‬انہوں نے اپنے عہد کی سماجی اور سیاسی‬
‫ناہمواریوں کو‘ فوکس کیا ہوتا ہے۔‬

‫‪ -٢‬کسی ناکسی سطح پر‘ آفاقی سچائیوں کی‬
‫عکاسی کی ہوتی ہے۔‬

‫‪ -٣‬آفاقی اور سماجی و سیاسی زبان سے‘ اس‬
‫زبان کے دامن کو مال مال کیا ہوتا ہے۔‬

‫قلم وال‘ ان تین حوالوں سے‘ اپنے اور آتے عہد‬
‫کو نواز رہا ہوتا ہے۔ اس کی بےتوقیری‘ ظلم اور‬
‫زیادتی نہیں‘ تو اور کیا ہے۔ گولی مارو حکومتی‬
‫سطح کے ایواڑوں اور تمغوں کو‘ انہیں پیٹ بھر‬
‫روٹی تو ملنی چاہیے۔ معاف کیجیے‘ میں کہیں‬

‫بھول رہا ہوں‘ شعر کچھ اسی طرح سے تھا۔‬
‫اسپ تازی شدہ مجروح بر زیر پلن‬
‫طوق زرین ہمہ در گردن خر میبینم‬

‫صدیوں پرانا یہ شعر‘ آج کے نام نہاد ترقی یافتہ‬
‫دور پر بھی‘ فٹ آ رہا ہے۔ یار ان لوگوں کی قدر‬
‫کرو۔ شاہ کو چھوڑو‘ اس سے خیر کی توقع نہ‬

‫کرو۔ احسان کرئے گا‘ تو واپسی میں ضمیر‬
‫وایمان‘ کباڑ خانے میں بھی نہ رکھنے دے گا۔ قوم‬
‫کو انہیں زندگی کا جھومر بنانا چاہیے۔ انصاف کا‬

‫یہ ہی تقاضا ہے۔ ان کی توقیر کو‘ جو قومیں‬
‫بالئے طاق رکھتی ہیں‘ غلطی کرتی ہیں۔ ایسے‬

‫لوگ‘ کب روز روز پیدا ہوتے ہیں۔‬

‫ڈاکٹر محمد امین‘ بنیادی طور پر فلسفہ کے استاد‬
‫ہیں‘ لیکن شعروسخن سے بھی رشتہ رکھتے ہیں۔‬
‫انہیں اردو ہائی کو کا امام کہا جاتا ہے۔ انہوں نے‬
‫جاپانی سے اردو میں ہائی کو ترجمہ کیے‘ خود‬
‫بھی لکھے۔ وہ صرف اسی صنف تک ہی محدود‬

‫نہیں رہے‘ غزل اور نظم بھی ان کی فکر سے‘‬
‫مال مال ہوئی ہے۔ ان کے ہائی کو ہوں‘ یا نظم‘‬
‫غزل کا پرپیچ میدان ہو‘ ان کی شاعری عصری‬
‫حوالوں سے جڑی رہتی ہے۔ سیاسی اور سماجی‬
‫معاملت کو‘ بڑی خوبی سے‘ بیان کر دیتے ہیں۔‬

‫مقامی سچائیاں ہی ان کے قلم پر‘ نہیں چڑھیں‬
‫آفاقی سچائیاں بھی بیان کرتے چلے جاتے۔ ان کے‬

‫کہنے کی زبان‘ انتہائی سادہ اور عام فیہم ہوتی‬
‫ہے۔ ان کی یہ سادہ زبان‘ درحقیقت سماجیات کی‬
‫زبان ہے۔ ان کا مخاطب‘ اعلی طبقے کا شخص‬
‫نہیں ہوتا۔ عوامی روزہ مرہ بڑے سلیقے سے‬

‫باندھتے ہیں۔‬

‫اس ذیل میں ان کے کلم میں سے‘ چند مثالیں‬
‫‪:‬باطور نمونہ ملحظہ ہوں‬

‫ہمارے شہر کی اب کیفیت کیا ہے بتائیں کیا‬
‫کسی کا گھر نہیں ملتا کسی کا سر نہیں ملتا‬

‫ہمارے جمح کا صیغہ ہے‘ جو اس امر کا غماز‬
‫ہے‘ کہ مجموعی بات کی گئی ہے۔ لفظ شہر‬
‫مخصوص علقے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کہ شاعر‘‬
‫کسی مخصوص علقے کا شخص نہیں ہوتا۔‬
‫ہمارے شہر کہہ کر‘ مجموعی وسیب مراد لیا گیا‬
‫ہے۔ لفظ کیفیت صورت حال کے لیے ہے۔ اب‘ اس‬
‫امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ بات کا تعلق‬
‫ماضی سے متعلق نہیں‘ شاعر کے عہد سے ہے۔‬

‫پہلے مصرعے میں ہی دو سوالیے مختلف نوعیت‬
‫کے ہیں۔‬

‫کیفیت کیا‪ :‬موجود صورت حال‬
‫کیا بتائیں‪ :‬گھمبیرتا کا اظہار ہے۔‬
‫دوسرا مصرعہ واضح کر رہا ہے‘ کہ لقانونیت‬
‫اور بےاصولی کا پہرا ہے۔ ظالموں‘ ڈاکووں‘‬
‫قاتلوں قبضہ گروپوں وغیرہ پر کوئی گرفت نہیں‘‬
‫انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ اس حساب‬
‫‪:‬سے قانون نافذ کرنے والے ادارے‬
‫مجرموں کے سامنے بےبس ہیں۔‬

‫کیوں‬
‫قانون نافذ کرنے والے‘ مجرموں سے کم زور ہیں۔‬

‫مجرم ریاست کے بڑوں کے اپنے بندے ہیں۔‬
‫قانون نافذ کرنے والے بک چکے ہیں۔‬
‫ظالموں کے ساتھی ہو گیے ہیں۔‬

‫یا یہ سب‘ ریاست کے وڈیرے کر رہے ہیں۔ گھر‬
‫اور سر‘ کا نہ ملنا کوئی معمولی معاملہ یا‬

‫معمولی حادثہ نہیں‘ جسے یوں ہی نظرانداز کر دیا‬
‫جائے۔‬

‫اس شعر کے تناظر میں‘ یہ شعر ملحظہ ہو۔‬

‫روشنی کس طرح چڑھ گئی دار پر‬
‫اک تحیر ہے ماتم کناں شہر میں‬

‫کس طرح‬
‫قیامت خیز سوالیہ ہے۔ روشنی کے اپنے یا اس‬
‫سے متعلق سب مر گیے ہیں یا موجود ہی نہیں‬

‫ہیں۔ ہر دو صورتیں خوف ناک ہیں۔‬

‫کیا اب اطراف میں اندھیرا ہو گا۔‬
‫آواز اٹھانے وال یا روشنی کی سعی کرنے وال‬

‫کوئی بھی نہ ہو گا۔‬
‫اندھیر راج‘ کم زور طبقوں یا انسانیت کا مقدر‬

‫ٹھہرے گا۔‬
‫اندھیرے کے باسی‘ آتے وقتوں میں روشنی نام‬

‫کی چیز کو ہی‘ بھول جائیں گے۔‬
‫تمیز و امتیاز‘ جو زندگی کا لزمہ اور ترقی کا زینہ‬

‫ہے‘ باقی نہ رہے گی۔‬
‫کس طرح‘ کی تفہیم تک رسائی کی سعی کریں۔ ہر‬

‫سانس دمے کے مرض میں مبتل ہو جائے گا۔‬
‫دوسرے مصرعے میں ردعمل بھی پیش کیا ہے۔‬

‫تحیر ہے‪ :‬حیرت کے دامن میں پشیمان اور‬

‫دردآلودہ چپ ہوتی ہے۔ درد سے لبریز چپ بڑی‬
‫خطرناک ہوتی ہے۔‬

‫دوسرا ردعمل ماتم ہے۔ ماتم شور سے عبارت‬
‫ہے۔ معنوی تضاد کی صنعت نے‘ شعر میں بل کی‬

‫بلغت رکھ دی ہے۔‬
‫ماتم کناں اور تحیر‘ یہ بھی واضح کرتے ہیں‘ کہ‬
‫روشنی کے جانو موجود تھے۔ اگر موجود تھے‘‬

‫تو یہ اندھیر کس طرح ہو گیا۔ روشنی دار تک‬
‫کیسے پہنچ گئی۔ اس سے یہ اخذ ہوتا ہے‘ کہ‬
‫حیرت زدہ بےبس تھے‘ اور جبر کے نتیجہ میں‘‬
‫رونے دھونے کے سوا‘ کچھ ممکن ہی نہیں ہوتا۔‬

‫‪:‬اب کہانی کی انتہا دیکھیں‬
‫انسان مر چکا ہے اسے مشتہر کرو‬
‫سب سے اہم خبر ہے یہی یار‘ آج کی‬

‫سماجی‘ سیاسی اور اخلقی حوالوں سے دیکھیے‘‬
‫کتنی بڑی سجائی بیان کر دی گئی ہے۔‬
‫مشتہر کرو‬
‫اہم خبر‬

‫آج کی‬
‫کس اہمیت کے حامل الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے‘‬
‫صاحب درد اور باشعور شخص ہی اندازہ کر سکتا‬

‫ہے۔‬

‫بےبسی اور کسی کی حالت میں‘ انسان کا آخری‬
‫سہارا‘ خدا ہوتا ہے۔ وہ تبدیلی کے لیے‘ اس کی‬
‫طرف پرامید نظروں سے دیکھتا ہے۔ ذرا یہ شعر‬
‫دیکھیں۔ اس شعر میں‘ امید کے ان گنت چراغ‬

‫جلتے نظر آتے ہیں۔‬
‫بےبس سمجھ کے اس نے مجھے زخمی کر دیا‬

‫اس کو خبر نہیں تھی خدا میرے ساتھ ہے‬

‫ظالم کو یہ سندیسہ بھی دیتے ہیں‬
‫اس کو بہت ہی ناز تھا اپنے عروج پر‬
‫وہ بے خبر تھا تیز ہوا میرے ساتھ ہے‬

‫اس‘ بااختیار طبقوں کی طرف‘ اشارہ کرکے کہا جا‬
‫رہا ہے۔‬

‫میں‘ کم زور طبقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں‬
‫وقت کو بھی کہا جا سکتا ہے۔‬

‫تیز ہوا‘ عروج کو نیستی کی طرف لے جاتی ہے۔‬

‫پرانی اور نئی جنریشن کے عملی گیپ کی‘ کیا‬
‫عمدگی سے عکاسی کی گئی ہے۔‬

‫ہمیں انکار کی جرات کبھی ایسے نہیں ہوتی‬
‫پرانی وضع کے ہم لوگ کچھ آداب رکھتے ہیں‬
‫اس شعر میں لفظ ایسے بڑی معنویت کا حامل ہے۔‬
‫یہ دو نسلوں کے‘ عملی اور فکری اطوار کے‬
‫فرق کو‘ واضح کر رہا ہے۔ مروت اور بےباکی کا‬
‫دوٹوک فرق‘ کیا ہو سکتا ہے‘ لفظ ایسے نے‬

‫کھول دیا ہے۔‬

‫ڈاکٹر محمد امین نے‘ آفاقی سچائیوں کو‘ بڑے دل‬
‫لگتے انداز سے واضح کیا ہے۔‬

‫ہم اپنے واسطے دکھ درد کے اسباب رکھتے ہیں‬
‫ہم اپنے ساتھ ہی دشمن صفت احباب رکھتے ہیں‬

‫دشمن صفت احباب مرکب نے شعر کو بڑا جاندار‬
‫بنا دیا ہے۔ نقصان اپنوں کے ہاتھوں سے ہی‬
‫اٹھانا پڑتا ہے۔‬

‫‪:‬ایک دوسری آقاقی سچائی ملحظہ ہو‬
‫کہاں جاؤ گے ٹھہرو تو سہی بات سنو‬
‫اتنی عجلت تو نہیں اچھی پریشانی میں‬

‫پریشانی میں تحمل لزمہ ہے۔ عجلت مزید بگاڑ کی‬
‫طرف لے جاتی ہے۔ شعری زبان میں‘ انداز اپنوں‬
‫کا سا اختیار کیا ہے‘ جس میں‘ ناصحانہ عنصر‬
‫کی آمیزش ہے۔ کمال کی زبان استعمال میں لئی‬
‫گئی ہے۔ سادہ سادہ لفظوں میں‘ ہر دور اور ہر‬
‫جگہ سے متعلق شخص کو‘ زندگی کی اہم ترین‬

‫حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔‬

‫‪:‬زبان کا فیلو ملحظہ کریں‬
‫کہاں جاؤ گے‬
‫ٹھہرو تو سہی‬
‫بات سنو‬

‫اپنوں کا سا یہ اسلوب تکلم‘ باذوق حضرات کو‬
‫لطف ہی نہیں‘ ایک پیغام بھی دیتا ہے۔ اس میں‬

‫روکنے کی سعی موجود ہے۔‬
‫دوسرے مصرعے میں‘ لفظ تو کا استعمال‘ اپنا‬

‫جواب نہیں رکھتا۔ ذرا پڑھیں۔ لطف آتا ہے۔‬

‫اتنی عجلت‬
‫تو نہیں اچھی‬
‫پریشانی میں‬

‫سماج کی رسومات‘ لزمہ اور لوازمہ ٹھہری ہیں۔‬
‫ان سے خلصی کی خواہس رکھتے ہوئے‘ ان‬
‫سے خلصی نہیں ہو پا رہا۔ انہیں‘ سماج کی‬

‫فطرت ثانیہ کا درجہ حاصل ہو گیا۔ نہ جائے ماندن‬
‫نہ پائے رفتن مثل کو‘ تجسیم دے دی گئی ہے۔‬

‫انسان کی بےبسی کی بھی حالت نہ پوچھیے‬
‫اب بھینٹ چڑھ رہا ہے رسوم و رواج کی‬
‫کی بھی‘ شعر میں بڑی معنویت کے حامل ہیں۔ ان‬
‫کی جگہ کوئی اور لفظ رکھ دیں لطف غارت ہو‬

‫جائے گا۔‬

‫ڈاکٹر محمد امین کی غزل کا مطالعہ کرتے‘ میں‬
‫نے محسوس کیا ہے‘ کہ وہ سادہ زبان میں‬

‫زندگی‘ اور اس کے متعلقات کو‘ اجاگر کرنے کا‬
‫فن جانتے ہیں۔ یہ بھی کہ‘ سادہ لفظوں کے‬

‫استعال سے‘ فصاحت کا جادو جگاتے ہیں۔ ان کے‬

‫ہاں‘ لفظ عصری زندگی کے دقیق معاملت کو بیان‬
‫کرنے میں‘ کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں‬
‫کرتے۔ میں اتنا کچھ لکھ کر‘ تشنگی محسوس کر‬
‫رہا ہوں۔ میری تشنگی ان کی تشنگی سے‘ مختلف‬

‫‪:‬نہیں۔ کہتے ہیں‬
‫یہ کیسی پیاس ہے پانی جسے بجھا نہ سکے‬

‫لگی ہے آگ بدن میں‘ ہمیں خبر نہ ہوئی‬

‫شریف ساجد کی غزلوں کے ردیف‬

‫سیمابی فکر کے حامل لوگ‘ قرار سے دور رہتے‬
‫ہیں۔ ہر لمحہ نئی سوچ اور نئے انداز و اطوار‘ ان‬
‫کی زندگی کا لزمہ و لوازمہ رہتا ہے۔ زندگی کے‬
‫بدلتے موسم‘ ان کے سوچ سمندر میں کنکر پتھر‬
‫تنکے پھینکتے رہتے ہیں۔ یہ معاملہ ٹھہر ٹھہر کر‬
‫نہیں‘ تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ یہ بےقرار‬
‫اور بےچین سے لوگ ہی‘ زندگی کو کچھ نیا اور‬
‫الگ سے دیتے ہیں۔ اس میں ان کی دانستگی کا‬
‫عنصر‘ شامل نہیں ہوتا۔ یہ خودکار عمل‘ ان کے‬

‫اندر جاری رہتا ہے۔ یہ لوگ زندگی اور اس کے‬
‫معاملت کو‘ نئی تفہیم ہی نہیں‘ نئی ہئیتیں بھی‬
‫عطا کرتے ہیں۔ رائج کو نیا اسلوب‘ نیا حسن اور‬

‫نئی ترتیب سے سرفراز کرتے۔ یہ لوگ‘ جلد‬
‫سمجھ میں آ جانے کے نہیں ہوتے۔ خدا معلوم‘ کب‬

‫اور کس طور کی کروٹ لے لیں۔‬

‫شریف ساجد صاحب سے میرا کبھی زبانی یا‬
‫قلمی رابطہ نہیں رہا۔ ان کا مجموعہءکلم۔۔۔۔ چاند‬
‫کسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔ پروفیسر لطیف اشعر کے‬
‫حوالہ سے ہاتھ لگا ہے۔ دیکھا‘ پھر پڑھا اور لطف‬
‫لیا۔ کلم بتاتا ہے‘ کہ شریف ساجد سیمابی اطوار‬
‫کے شخص ہیں۔ بات کے لیے کئی طرح کے رنگ‬

‫اور ڈھنگ‘ اختیار کرتے ہیں۔ بیانیہ‘ طنزیہ‘‬
‫مخاطبیہ‘ مکالماتی اور خود کلمی کا انداز اختیار‬
‫کرکے‘ بڑے سلیقہ اور پکا سا منہ کر بات کرتے‬
‫‪:‬ہیں۔ اس ذیل میں‘ فقط یہ دو شعر ملحظہ ہوں‬

‫کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں‬
‫کہا لنکا ہے یہ راون بہت ہیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫رخصت اے عظمت جنوں کہ یہاں‬

‫عقل معیار خیر وشر ٹھہری‬

‫انہوں نے غزل میں ہئتی تجربے بھی کیے ہیں۔ یہ‬
‫معاملہ بڑا دل چسپ ہے۔ مجموعہ کے ص‪-١٠٠ :‬‬
‫‪ ١٠١‬پر آزاد مکالماتی غزل ہے۔ یہ غزل ان کی‬
‫جدت طرازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس غزل کا‬

‫صرف ایک شعر ملحظہ ہو۔‬
‫کہا روتی ہوئی شکلیں ہمیں اچھی نہیں لگتیں‬
‫کہا ہے کس قدر مشکل جہاں میں آئینہ ہونا‬
‫انہوں نے اپنے اس مجوعہ کلم میں‘ ردیف‬
‫کےاستعمال کے مختلف نوعیت کے تجربے کیے‬
‫ہیں۔ ان تجربوں نے‘ ان کے کلم میں الگ سے‬
‫وقار اور وجاہت پیدا کر دی ہے۔ اس کے ساتھ‬
‫غنائیت اور معنویت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔ مثل‬
‫شعر کا ردیف حرف تشبیہ ہے۔ اس کا پہل مصرعہ‬
‫بھی حرف تشبیہ ہے۔ گویا شعر کے دونوں‬
‫مصرعوں کا اختتام حرف تشبیہ پر ہوتا ہے۔‬

‫میری مجبوریاوں ہیں پہلی سی‬
‫وہ ہے بااختیار پہلے سا‬

‫دونوں مصرعے حروف جار پر ختم ہوتے ہیں۔‬

‫دوسرے مصرعے میں باطور ردیف استعمال ہوا‬
‫ہوتا ہے۔‬

‫کسی کی زلف ہے شانے کسی کے‬
‫کسی کی ہے ہوا موسم کسی کا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫ستاروں میں چمک ہے شوخیوں کی‬
‫شفق میں رنگ بکھرا ہے حیا کا‬

‫حروف زمانی باطور ردیف استمال کرتے ہیں تو‬
‫شعر کا پہل مصرعہ بھی اسی قماش کا ہوتا ہے۔‬

‫مثل‬
‫کسی کی تم نے سنی سرگذشت ہی کب تھی‬
‫و گرنہ ہم تو ہر اک داستاں میں رہتے ہیں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫ہر ایک سانس ترا نام ہی پکارتا ہے‬
‫ہمارے دل میں بھل غیر کب سماتے ہیں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫میرے ہمدرد ساحل پر کھڑے تھے‬

‫طلطم میں سفینہ ڈوبتا تھا‬

‫ردیف کی ہی کوئی حالت‘ شعر کے پہلے مصرعے‬

‫میں ہوتی ہے۔ اس سے‘ بات حرکت میں محسوس‬
‫ہوتی ہے۔ جمود یا سکتہ طاری نہیں ہوتا۔ مثل‬
‫میں نے جو کچھ کہا غلط ٹھہرا‬
‫اس کی ہر بات معتبر ٹھہری‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫اس کے لہجے کی کھنک اچھی لگی‬
‫اپنا سانس اکھڑا ہوا اچھا لگا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫سوز الفت کا مزہ بھی اچھا‬
‫سوزن غم کی خلش بھی اچھی‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫شوخیاں اس کی بہت اچھی لگیں‬
‫اپنا دل ڈرتا ہوا اچھا لگا‬

‫شعر کا آخری لفظ ردیف کا ہم صوت اور ہم قافیہ‬
‫ہوتا ہے۔‬

‫ہادی گمرہاں اسے کہیے‬
‫غم نصیبوں کا چارہگر لکھیے‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫کبھی جو سیر چمن کو جانا تو رک کے چلنا‬

‫ٹھٹھک کے رکنا‬

‫کبھی درختوں پہ نام لکھ کر دلوں کی دھژکن‬
‫تلش کرنا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫مری باتیں کوئی جھٹل نہ پائے‬
‫تمھارا نام ہی سوگند ہو جائے‬

‫‪............‬‬
‫کس پہ تکیہ کروں امید وفا کس سے کروں‬

‫پھول کو ڈستی ہوئی باد بہاری دیکھوں‬

‫دونوں مصرعوں کے ردیف اور قافیہ ہم قافیہ‬
‫‪:‬ہوتے ہیں‬

‫نام سنتے ہی ترا سرخی سی رخ پر پھیلنا‬
‫وہ تری تصویر کو سب سے چھپا کر دیکھنا‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫کتنا دشوار ہے دینا میں تماشا بننا‬
‫کس قدر سہل ہے مصروف تماشا ہونا‬

‫‪:‬شعر کے دونوں مصرعے ہم ردیف ہوتے ہیں‬
‫درد کی شدت پیار کی شدت ظاہر کرتی ہے‬
‫دل میں پھانس چھبوئے رہنا اچھا لگتا ہے‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫مل کا ہاتھ اور کلشنکوف عجب منظر ہے‬
‫کیا سنگم ہے خیر اور شر کا اچھا لگتا ہے‬

‫‪:‬ہم قافیہ اور ہم ردیف کی یہ مثال ملحظ ہو‬
‫ہر ایک بات کی وہ تو دلیل مانگتے ہیں‬
‫اور ہم ہیں کہ سحرالبیان میں رہتے ہیں‬

‫شریف ساجد کی غزلوں میں‘ ردیف کےاستمال کی‬
‫رنگ رنگی لسانی اعتبار سے‘ بڑی معنویت کی‬
‫حامل ہے۔ اس سے ان کے کلم میں چاشنی اور‬
‫شگفتگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے یہ ہئیتی‬
‫تجربےآتے وقتوں میں اردو غزل گو شعرا کے‬
‫لیے نمونہ بنے رہیں گے۔ گویا انہوں نے‘ صدیوں‬
‫کے بند دروازوں کو‘ کھول دیا ہے۔ اگر اسی طور‬
‫سے‘ غزل میں تجربے ہوتے رہے‘ تو یہ اردو کی‬
‫غزلیہ شاعری کے حق میں‘ بہت ہی اچھا ہو گا‬
‫اور آتے وقتوں میں‘ شعرا کو اس کی تنگ دامنی‬

‫کا‘ گلہ نہیں رہے گا ۔‬

‫ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی‬

‫جائزہ‬

‫مخدومی و مرشدی جنت مکانی قبلہ سید غلم‬
‫حضور کے علمی وادبی ذخیرے سے ملنے والی‬
‫کتاب' اظہار محمدی منظور احمدی' کب اور کس‬

‫سن میں شائع ہوئی' ٹھیک سے کہا نہیں جا‬
‫سکتا۔ اس پر تاریخ اور سن درج نہیں ہے۔ ہاں‬
‫پبلیشر کا نام ‪ .....‬فقیر فضل حسین تاجر کتب ابن‬
‫حاجی علؤالدین مرحوم ساکن پتوکی نوآباد ضلع‬
‫لہور‪ .....‬درج ہے۔ پتوکی نوآباد ضلع لہور سے‬
‫یہ بات وضح ہوتی ہے کہ اس چوبیس صفحے کی‬
‫اشاعت' اس وقت ہوئی' جب پتوکی نیا نیا آباد ہوا‬

‫تھا۔‬

‫اس میں مولوی احمد یار کی پنجابی مثنوی' مرزا‬
‫صاحبان کا کچھ حصہ درج ہے۔ گویا یہ ان دنوں‬
‫کی بات ہے' جب وہ زندہ تھے اور مثنوی مرزا‬
‫صاحبان تحریر کر رہے تھے۔ یہ کلم ص‪ 10‬تک‬
‫ہے۔ ص‪ 15-14‬پر سترہ پنجابی اشعار پر مشتمل‬
‫کافی بھی ہے۔ گویا مولوی احمد یار پنجابی کافی‬
‫بھی کہتے تھے۔ پنجابی میں ان کی صرف مثنوی‬


Click to View FlipBook Version