The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫ناصرف وظیفہ میں ملنے والے چند ٹکوں سے‬
‫جاتا‘ بلکہ لل قلعہ سرخی میں نہا جاتا۔ جو چند‬
‫نفوس بچ رہے‘ وہ بھی جان سے جاتے۔ شہر میں‬
‫بھی قتل وغارت کا بازار گرم ہوتا۔ یہ بھی ممکن‬
‫ہے‘ اس ہونے سے‘ شاید ‪ ١٨٥٧‬کی سی قتل و‬
‫غارت نہ ہوتی۔ تلوار شاہ اور شاہ والوں تک‬
‫محدود رہتی۔ لفظوں کے پوشیدہ استعمال نے اسے‬

‫چند سال اور دے دیے۔‬
‫لفظ وہ ہی ہوتے ہیں لیکن کا استعمال بہت بڑا ہنر‬

‫‪:‬ہے۔ کہا جائے‬
‫چلو یار چلتے ہیں‘ کوا آ رہا ہے‘ خواہ مخواہ‬

‫میں‘ مغز چاٹے گا۔‬
‫چلو یار چلتے ہیں‘ زید بکر آ رہا ہے‘ خواہ مخواہ‬

‫میں‘ مغز چاٹے گا۔‬
‫نشان دہی ہوئی ہے‘ فساد کا دروازہ کھل سکتا‬
‫ہے۔ استعارے نے‘ پوشیدگی کا کام کیا ہے۔ بات‬
‫بھی کہہ دی گئی‘ اور فساد سے بھی بچ گیے۔‬

‫غالب کا یہ کمال ہے کہ وہ بات عمومی انداز سے‬
‫نہیں کرتا۔ اس کے کہے کو سمجھنے کے لیے‘‬
‫غور و فکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ نمونہ کے دو‬

‫‪:‬شعر پیش کرتا ہوں‬
‫جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم‬

‫میں معتقد فتنہ محشر نہ ہوا تھا‬

‫سارے لفظ‘ عام استعمال کے ہیں اور ان کے رائج‬
‫مفاہیم پچیدہ نہیں ہیں۔ لفظ قد اور فتنہءمحشر بڑے‬

‫ہی طرح دار ہیں۔ یہ تشبہی استعمال ہے۔ غور‬
‫کریں گے‘ تو بات کہاں کی کہاں پہنچ جائے گی۔‬
‫یہ شعر عقیدے اور آفافی سچائی سے متعلق ہے‬

‫اور قطعی عمومی بات ہے‘ کوئی مشکل لفظ‬
‫استعمال نہیں کیا گیا ہے۔‬
‫موت کا ایک دن معین ہے‬
‫نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‬

‫لفظ عام ہیں‘ لیکن ان میں عام اور عمومی بات‬
‫نہیں کہی ہے۔‬

‫‪:‬اسی غزل کے دو شعر اور ملحظہ ہوں‬

‫ہم وہاں ہیں‘ جہاں سے ہم کو بھی‬
‫کچھ ہماری خبر نہیں آتی‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب‬

‫شرم تم کو مگر نہیں آتی‬
‫دونوں مصرعے سوالیہ ہیں۔‬

‫حسن میں‘ متاثر کرنے کی صلحیت موجود ہوتی‬
‫ہے۔ ۔ حسن ظاہری ہو یا باطنی‘ معنوی ہو یا‬

‫استعمالی‘ متاثر کرتا ہے اور متاثر ہونے وال‘ وہ‬
‫ہی طرز اور طور اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔‬

‫سوامی رام تیرتھ گوجرانوالہ میں‘ غالب کی موت‬
‫کے چار سال بعد‘ پیدا ہوئے۔ غالب کی سی عمر نہ‬

‫پائی۔ مختصر مختصر زندگی کی‘ صرف تنتیس‬
‫سال اس جہاں میں گزارے اور ‪ ١٩٠٦‬میں اس‬
‫جہاں کو ہمیشہ کے لیے تیاگ کر سورگ باسی‬
‫ہوئے۔ اس مختصر زندگی میں‘ بہت کچھ سیکھا‬
‫اور سکھایا بھی۔ ایف سی کالج میں پڑھایا۔ ایف‬
‫کالج لہور کے لیے‘ بلشبہ یہ بہت بڑے اعزاز‬
‫اور گرب کی بات ہے‘ کہ وہاں بگ برینز‘ فکر کے‬

‫گلب بکھیرتے رہے۔‬

‫کوئی تیس سال پہلے‘ میں نے ان کا‘ کچھ اردو‬
‫کلم جمع کیا تھا اور اس کا بسات بھر لسانی‬
‫مطالعہ بھی کیا تھا۔ یہ مجھے خوب خوب یاد تھا۔‬

‫کام کہاں رکھ بیٹھا ہوں‘ یاد سے نکل گیا۔ کچھ ہی‬
‫دن پہلے یہ ناچیز سی کوشش مل ہی گئی۔ دل کو‘‬
‫سکون اور خوشی محسوس ہوئی۔ دوبارہ سے‬
‫دیکھا‘ تو اس میں تین غزلیں‘ غالب کے طور پر‬
‫مل گئیں۔ جس شخص نے غالب کو پڑھا ہو اور‬
‫شعر میں‘ اس کی پیروی کرنے کی سعی کی ہو‘‬
‫وہ کوئی عام اور معمولی شخص نہیں ہو سکتا۔‬
‫انھوں نے اور بھی اس انداز کی غزلیں لکھی ہوں‬
‫گی لیکن میرے جمع کیے گیے کلم میں‘ صرف‬

‫تین موجود ہیں۔‬

‫غالب کی غزل‬
‫حیراں ہوں‘ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں‬

‫مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‬
‫دس اشعار پر مشتمل ہے اور معروف ہے۔‬

‫اسی ردیف اور قافیہ میں کہی گئی‘ سوامی رام‬
‫تیرتھ کی غزل‘ پانچ اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ غزل‘‬
‫راگ جوگ میں کہی گئی ہے‘ جب کہ تال‘ دھمار‬

‫ہے۔‬
‫‪:‬غزل ملحظہ فرمائیں‬

‫گل کو شمیم آب گہر اور زر کو میں‬
‫دیتا ہوں جب کہ دیکھوں اٹھا کر نظر کو میں‬
‫شاہوں کو رعب اور حسینوں کو حسن و ناز‬

‫دیتا بہادری ہوں بل شیر نر کو میں‬
‫ابروئے کہکشاں بھی انوکھی کمند ہے‬
‫بے قید ہو اسیر‘ جو دیکھوں ادھر کو میں‬
‫تارے جھمک جھمک کے بلتے ہیں رام کو‬
‫آنکھوں میں ان کی رہتا ہوں جاؤں کدھر کو میں‬

‫بل تبصرہ لفظوں کی نشت و برخواست ملحظہ‬
‫فرمائیں۔‬

‫آب دینا‘ نظر اٹھا کر دیکھنا‘ گل کو شمیم دینا‘‬
‫بہادری دینا‘ آنکھوں میں رہنا‬
‫کدھر جاؤں‬

‫حسن و ناز‘ ابروئے کہکشاں‘ انوکھی کمند‘‬
‫جھمک جھمک 'گوہر اور زر‬

‫ابروئے کہکشاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوکھی کمندد‬

‫نظر‪ :‬دیکھنا‬
‫شاہ‪ :‬رعب‬

‫حسین‪ :‬ناز‬
‫شیر‪ :‬بہادری‬
‫تارے‪ :‬جھمک جھمک‬

‫گل دینا‬
‫ابروئے بے قید‬
‫تارے آنکھوں‪ :‬تارے آنکھیں‬
‫آنکھیں تارے‬

‫بے قید ابرو‬

‫ابروئے کہکشاں بھی انوکھی کمند ہے‬
‫بے قید ہو اسیر‘ جو دیکھوں ادھر کو میں‬

‫ابروئے کہکشاں بھی‬
‫انوکھی کمند ہے‬
‫بے قید ہو اسیر‬

‫جو دیکھوں ادھر کو میں‬
‫مضمون کا حسن اپنی جگہ‘ لفظ بھی‘ تشریح سے‬

‫متعلق نہیں ہے‘ دیکھنے اور غور کرنے سے‬
‫متعلق ہے۔ لفظ بھی نے الگ سے‘ کے معنی دے‬
‫کر‘ دیکھنے کی حس کو مخصوص نقطے کا پابند‬

‫کر دیا ہے۔‬

‫استاد غالب کی ایک غزل ہے‘ جس کا یہ شعر‬
‫‪:‬عرف عام کے درجے پر فائز ہے‬

‫قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں‬
‫موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‬
‫غزل کے نو شعر ہیں۔ سوامی رام تیرتھ نے‘ اسی‬
‫طور کی چھے اشعار کی غزل یاد میں چھوڑی‬
‫ہے۔ ان میں ایک شعر استاد غالب کا ہے۔ گویا‬
‫پانچ شعر سوامی جی نے کہے ہیں۔ انہوں نے‘‬
‫غزل میں استاد غالب کا شعر‘ بڑے عمدہ موقع پر‬
‫رکھا ہے۔ سوامی جی کی غزل راگ بروا میں ہے۔‬
‫غزل کو تال مغلئی دی گئی ہے۔ غزل ملحظہ ہو۔‬

‫آپ ہی ڈال سایہ کو‘ اس کو پکڑنے جائے کیوں‬
‫سایہ جو دوڑتا چلے کیجے وائے وائے کیوں‬

‫دیدءدل ہوا جو دا کھب گیا حسن دل ربا‬
‫یار کھڑا ہو سامنے آنکھ نہ پھرٹرائے کیوں‬
‫گنج نہاں کے قفل پر سر ہی تو مہر شاہ ہے‬
‫توڑ کر قفل و مہر کو گنج کو خود نہ پائے کیوں‬
‫اہل و عیال و مال و زر سپ کا ہے بار رام پر‬

‫اسپ پر ساتھ بوجھ دھر‘ سر پر اسے اٹھائے‬
‫کیوں‬

‫جب وہ جمال دل افروز صورت مہر نیم روز‬
‫آپ ہی ہو نظارہ سوز‘ پردے میں منہ چھپائے‬

‫کیوں‬
‫داشنہ غمزہ جانستان ناوک ناز بے پناہ‬
‫تیرا ہی عکس رخ سہی‘ سامنے تیرے آئے کیوں‬

‫سایہ ڈالنا‘ سایہ پکڑنا‘ سایہ دوڑنا‘ بوجھ سر پر‬
‫اٹھانا‘ آنکھ پھرٹرانا‘ منہ چھپانا‘ سامنے آنا' قفل‬

‫توڑنا' دا کھب جانا‘ دا کھبنا‘ بوجھ دھرنا یہ‬
‫محاورے عمومی بول چال میں داخل ہیں۔ دا کھبنا‬

‫پنجاب سے متعلق ہے۔‬

‫ہائے وائے کی بجائے وائے وائے‬
‫عکس رخ' ناوک ناز‬

‫ناوک ناز کی صورت بےپناہ‬

‫اسپ کا استعمال سادہ نہیں ہوا‬
‫کی‘ کی تفہیم آسان نہیں توجہ چاہتی ہے۔‬

‫تیرا ہی عکس رخ سہی‬
‫تیرا ہی عکس رخ تک رسائی کے لیے منصور‬
‫کے مرتبے آنا پڑے گا۔ پہلے مصرعے میں بےپنا‬

‫کا استعمال یوں ہی چلتے نہیں ہوا۔‬

‫گنج نہاں‘ عمومی مفاہیم میں استعمال نہیں ہوا۔‬
‫تیسرے مصرعے میں لفظ ہی کا استعمال‬
‫مخصوص معنوں کا حامل ہے۔‬

‫استاد غالب کے انداز میں‘ راگ بروا اور تل مغلئی‬
‫میں‘ لکھی گئی ایک غزل ملحظہ ہو۔ باور رہے‘‬
‫غالب کی غزل کے دس اشعار ہیں‘ جب کہ سوامی‬

‫جی کی غزل میں پانچ اشعار ہیں۔‬

‫آپ میں یار دیکھ کر آئینہ پرصفا کہ یوں‬
‫مارے خوشی کے کیا کہے ششدر سا رہ گیا ہوں‬

‫کہ یوں‬
‫رو کے جو التماس کی‘ دل سے نہ بھولیو کبھی‬

‫پردہ ہٹا‘ دوئی مٹا مہ نے بھل دیا کہ یوں‬
‫میں نے کہا کہ رنج و غم مٹتے ہیں کس طرح کہو‬
‫سینہ لگا کے سینے سے اس نے بتا دیا کہ یوں‬

‫گرمی ہو اس بل کی ہائے بھنتے ہوں جس سے‬
‫مرد و زن‬

‫اپنی ہی آب وتاب ہے خود ہی ہوں دیکھتا کہ یوں‬
‫دنیا و عاقبت بنا واہ دا جو جہل نے کیا‬

‫تاروں ساں مہر رام نے پل میں اڑا دیا کہ یوں‬

‫کیا کہے‘ کہو‘ بھنتے‘ بل کی‘ ہائے‘ میں نے کہا‘‬
‫کس طرح‘ روزمرہ کے تکیہءکلم میں داخل ہیں۔‬
‫عمومی اور عوامی بول چال کا حصہ ہیں۔ اس‬
‫سے‘ زبان سے قربت کا احساس جاگتا ہے۔ نشان‬

‫دہی یا توجہ دلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‬

‫خوشی کے مارے‘ کو محاورے کا درجہ حاصل‬
‫ہے۔ مارے‘ مارنا سے ہے‘ لیکن اس میں مارنا کا‬
‫دور تک تعلق واسطہ نہیں‘ بلکہ اس سے قطعی‬

‫برعکس عمل ہے۔‬
‫ششدر رہ گیا‘ اڑا دیا‘ اردو میں عام استعمال ہوتے‬

‫ہیں ۔ شعر میں‘ ششدر رہ گیا کے ساتھ سا کے‬
‫استعمال نے بیچ کی کیفیت کو اجاگر کیا ہے۔‬

‫دا کیا‘ دا میں ؤ گرا دی گئی ہے۔ یہ داؤ کا‬
‫اختصار ہے اور پنجابی میں مستعمل ہے۔‬

‫سینہ لگا کے سینے سے‘ سین کا تکرار جہاں‬
‫مخصوص ایمج تشکیل دے رہا ہے‘ وہاں سانس‬
‫کی تیز رفتاری کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔ صنعت‬
‫تکرار لفظی ہو‘ کہ تکرار حرفی‘ اس سے غنائیت‬
‫پیدا ہوتی ہے۔ یہ مضمون کو زور دار بنانے میں‘‬

‫بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔‬

‫غالب کی طرز پر‘ دستیاب یہ تین غزلیں‘ عوامی‬
‫اور مستعمل زبان کی حامل ہیں۔ اس لیے تفہیم‬
‫میں کسی مقام پر‘ دشواری محسوس نہیں ہوتی۔‬
‫جہاں انہوں نے‘ زبان کو فارسی آمیز بنانے کی‬
‫کوشش ہے‘ وہاں پنجابی لہجہ بھی محسوس ہوتا‬
‫ہے اور وہ‘ بنیادی طور پر پنجاب کے‘ پنجابی‬
‫تھے‘ اس لیے پنجاب اثر غیر فطری نہیں۔ سوامی‬
‫جی پر‘ میں نے جو ان کے کلم پر‘ ان کی زبان‬
‫کے حوالہ سے کام کیا تھا‘ اگر ا نے زندگی کو‬
‫مہلت دی‘ تو کسی دوسرے وقت میں پیش کروں‬

‫گا۔‬

‫جدید اردو شاعری کے چند محاکاتکر‬

‫ہر مستعل لفظ کے معنی ہمارے ذہن میں محفوظ‬
‫ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پر کہی ہوئی بات‬
‫کو سمجھ جاتے ہیں۔ کچھ لفظ مانوس نہیں ہوتے‬

‫لیکن دوسرے لفظوں کے سیاق وسباق میں‬
‫سمجھنا مشکل نہیں ہوتا۔ لفظ کرسی سنتے ہی‬
‫ہمارے ذہن میں بیٹھنے والی چیز کا تصور گھوم‬

‫جاتا ہے۔‬
‫کہا جاتا ہے بیٹھیے تو ہم بیٹھ جاتے ہیں۔‬
‫برا‘ اچھا‘ سیاہ‘ خوب صورت وغیرہ کی تفہیم‘‬
‫ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہے‘ لیکن کسی شے‬
‫کا تصور ہمارے ذہن میں نہیں ابھرتا۔ یہ‬
‫تخصیصی یا توصیفی لفظ‘ جب کسی اسم کے ساتھ‬
‫جڑتے ہیں‘ تو اس کی ذاتی شناخت کا ذریعہ بنتے‬
‫ہیں۔ یہ ہی نہیں‘ ایک مخصوص ایمیج بھی‘ ان‬
‫کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔ زبانوں میں‘ اس‬
‫نوعیت کے مرکبات کا استعمال بکثرت ہوتا آیا ہے۔‬
‫یہ تخصیص کے ساتھ‘ دل چسپی اور توجہ کا‬
‫ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان سے‘ ایک تصویری‬

‫خاکہ بھی تشکیل پاتا ہے۔‬
‫ہر زبان کی شاعری میں مرکبات کا استعمال ہوتا‬
‫آیا ہے۔ ان مرکبات کے حوالہ سے مختلف نوعیت‬
‫کے ایمیج تشکیل پائے ہیں۔اردو شاعری اس سے‬
‫تہی نہیں۔ اردو شاعری میں بھی مختلف طرح کے‬

‫مرکبات نظر آتے ہیں۔ گویا موجود اور خیالی‬
‫ٹصاویر کا جہاں آباد ہے۔‬

‫مرکبات‘ جہاں شعری حسن اور اختصار کلم کے‬
‫حوالہ سے اپنی افادیت رکھتے ہیں‘ وہاں کسی‬
‫ناکسی ایمیج کو بھی‘ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔‬
‫ان کی تقسیم بھی‘ نکرہ اور معرفہ کی سی ہوتی‬
‫ہے۔ اسمی تخصیص کے لیے بھی‘ مرکبات کی‬
‫وجودی حیثیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ نثر میں‘ ان کا‬
‫استعمال اسلوبی اور تفہیمی حوالہ سے‘ شاعری‬
‫سے قطعی ہٹ کر ہوتا ہے۔ فکشن اور انشاء‬
‫پردازی میں‘ یہ کبھی کبھی شاعری کے قریب تر‬
‫چلے جاتے ہیں اور مختلف نوعیت کے ایمجز کو‬
‫تشکیل دیتے ہیں تاہم نثری اور شعری مرکبات‬

‫میں‘ اس کے باوجود فرق رہتا ہے۔‬
‫اردو شاعری میں‘ استاد غالب وہ شاعر ہیں‘ جن‬
‫کا دیوان انتہائی مختصر ہو کر بھی‘ محاکات سے‬

‫بھرا پڑا ہے۔ ان کے مرکبات‘ دنیا کا خوب صورت‬
‫ترین عجائب گھر ہے۔ رنگا رنگ‘ عجیب و غریب‬

‫اور غور وفکر کے حامل‘ تصویری مرکبات‬
‫پڑھنے کو ملتے ہیں۔ کمال کی مصوری کرتا ہے۔‬
‫اس ذیل میں‘ ان کے ہاں بڑا تنوع ہے۔ ان کے‬
‫‪:‬دیوان کی پہلی غزل کے تین مرکب ملحظہ ہوں‬

‫جذبہءبےاختیار‘ سینہء شمشیر‘ موئے آتش‬
‫دیدہ۔۔۔۔۔۔ اب ان مرکبات کو شعر کے تناظر میں‬

‫‪:‬ملحظہ فرمائیں‬
‫جذبہء بےاختیار شوق دیکھا چاہیے‬
‫سینہء شمشیر سے باہر ہے‘ دم شمشیر کا‬
‫لفظ دم کو سادہ نہ لیجیے گا‘ ذومعنویت اور طرح‬
‫داری میں‘ بڑے اوج پر ہے اور اسی کی تفہیم پر‬
‫ہی‘ پورے شعر کا دارو مدار ہے۔‬
‫بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپا‬
‫موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا‬

‫بسکہ ہوں غالب‬
‫اسیری میں بھی‬

‫آتش زیرپا‬
‫موئے آتش دیدہ ہے‬
‫حلقہ مری زنجیر کا‬

‫اب قرآت کا مزا لیں۔‬
‫مرکب موئے آتش دیدہ کا تصویری حسن‘ کھل کر‬

‫سامنے آ جائے گا۔‬
‫استاد غالب کے بعد‘ اردو شاعری میں اقبال بڑی‬
‫شہرت رکھتا ہے۔ بانگ درا میں اس کا ‪ ١٩٠٨‬تک‬
‫کا کلم ہے۔ اس مجموعے کی چوتھی نظم‘ استاد‬
‫غالب سے متعلق ہے۔ اس میں انہیں گوئٹے کا ہم‬
‫نوا قرار دیا ہے۔ نظم کا آخری سے پہل شعری‬

‫‪:‬ملحظہ فرمائیں‬
‫لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں‬
‫ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں‬
‫اس نظم کے مطالعہ سے‘ واضح ہوتا ہے‘ کہ اقبال‬
‫نے استاد غالب کی زبان اور فکر سے‘ استفادہ‬
‫کیا۔ اقبال کا مطالعہ مشرق و مغرب پر محیط تھا۔‬
‫اقبال نے اردو شاعری کو نئی زبان دی ہے‘ لیکن‬
‫اس کے موجود کلیات کو‘ تصویر خانہ قرار نہیں‬
‫دیا جا سکتا۔ اس کے ہاں تصویری مرکبات پڑھنے‬
‫کو ملتے ہیں‘ لیکن انہیں غالب کے پایہ کا‘ قرار‬
‫نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ‘ شاید کس حد تک‘‬
‫مقصدی شاعر رہی ہو۔ بطور نمونہ دو مرکب‬

‫ملحظہ ہوں۔‬

‫عقابی روح‬
‫عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں‬
‫نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں‬
‫نظم‪ :‬ایک نوجوان کے نام‘ مجموعہ بال جبریل‬

‫رہزن ہمت‬
‫رہزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا‬
‫بحرتھا صحرا میں تو‘ گلشن میں مثل جوئے ہوا‬
‫نظم‪ :‬شمع و شاعر‘ مجموعہ بانگ درا‬
‫فیض نے‘ اپنے مخصوص نظریاتی اور خفیہ قسم‬
‫کی زبان کے حوالہ سے‘ بڑا نام پایا۔ اس کی بان‬
‫میں حسن اور مٹھاس ہوتی ہے۔ اپنے عہد کے‬
‫جبر کو‘ مختلف قسم کے طریقوں سے‘ واضح‬
‫کرتا ہے۔ اس کی علمیتں اور استعارے‘ درامدہ‬
‫نہیں ہیں‘ بلکہ اسی معاشرت سے اٹھتے ہیں۔ ان‬
‫حقائق کے باوجود‘ اس کے ہاں محاکاتی مرکبات‬
‫کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ ہاں جو محاکاتی مرکبات میسر‬
‫آتے ہیں‘ وہ اپنا ہونا بڑی صراحت سے واضح‬
‫کرتے ہیں۔ فقط دو مرکب ملحظہ فرمائیں۔‬

‫دوزخی دوپہر‬
‫اب اس مرکب کو مصرعوں کے تنانظر میں‬
‫دیکھیں‘ ایک ماحول اور کیفیت کو اجاگر کرنے‬

‫میں‘ اپنا حق ادا کر رہے ہیں۔‬
‫بے زباں درد و غیظ و غم کی‬
‫اس دوزخی دوپہر کے تازیانے‬
‫آج تن پر دھنک کی صورت‬

‫قوس در قوس بٹ گیے ہیں‬
‫!نظم‪ :‬اے شام مہرباں ہو‬
‫حالت کی ہولناکی کو اس سے بڑھ کر پیش نہیں‬

‫کیا جا سکتا۔‬
‫اسی قماش کا ایک اور مرکب ملحظہ ہو‬

‫دکھ کی ندیا‬
‫جب دکھ کی ندیا میں ہم نے‬

‫جیون کی ناؤ ڈالی تھی‬
‫تھا کتنا کس بل باہنوں میں‬

‫لہو میں کتنی للی تھی‬
‫نظم‪ :‬تم ہی کہو کیا کرنا ہے‬
‫مرکب ۔۔۔۔۔۔ جیون کی ناؤ۔۔۔۔۔۔۔ خصوصی اہمیت کا‬
‫حامل ہے۔ پہل وصفی‘ جب کہ دوسرا تشبیہی ہے۔‬
‫دونوں مرکب‘ ایک مخصوص ایمیج پیش کر رہے‬
‫ہیں۔ یہ بھی کہ دونوں ایک دوسرے سے انتہائی‬

‫متعلق ہیں۔‬

‫ن م راشد‘ جدید اردو شاعری اپنی الگ سے‬
‫شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں‘ ذات اور کائنات‬
‫کے معاملت ملتے ہیں۔ ذات سے کائنات‘ یا کائنات‬
‫سے ذات کی طرف‘ پھرنے کے رویے‘ بڑی حد‬
‫تک متوازی نظر آتے ہیں۔ راشد بھی‘ محاکاتی‬
‫مرکب تشکیل دیتے ہیں‘ لیکن ان کی بہتات نہیں‘‬
‫ہاں البتہ‘ ان کی اکثرنظمیں‘ دیگر لوازات شعر کے‬
‫استعمال سے تصویر تشکیل دیتی ہیں۔ کہیں واضح‬
‫ہوتی ہیں‘ کہیں دھندلہٹ کا شکار ہوتی ہیں اور‬
‫بعض‘ معاملے کے پس منظر میں ہوتی ہیں۔ ان‬

‫کے دو محاکاتی مرکب بطور ذائقہ ملحظہ‬
‫‪:‬فرمائیں‬

‫روح کے تار‬
‫‪:‬اب اسے‘ مصرعوں کے تناظر میں دیکھیں‬

‫ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا‬
‫خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار‬

‫پارہ پارہ تھے مری روح کے تار‬
‫نظم‪ :‬گناہ‬

‫‪:‬کیا خوب صورت مرکب ہے آپ بھی لطف لیں‬
‫تشنہ سراب‬

‫اب اس مرکب کی معنویت مصرعوں کی ترتیب میں‬

‫‪:‬تلشیں‬
‫وقت کے پابند ہاتھ‬
‫راہوں کا غمگیں جواب‬

‫‘سنتے رہے‬
‫سبزے کے تشنہ سراب‬

‫رات کا دیوانہ خواب‬
‫تکتے رہے‬
‫نظم‪ :‬گزر گاہ‬

‫خدا لگتی تو یہ ہی ہے‘ کہ زندگی اپنے پورے‬
‫وجود سے‘ دکھائی دیتی ہے۔ دیوانہ خواب‘ کمال‬

‫کا محاکاتی مرکب ہے۔ اسے چشم تخیل میں‘‬
‫تجسیم دیں‘ زندگی واضح ہو جائے گی۔ اس کے‬
‫استعمال میں‘ کمال کی ورفتگی ہے۔ یہ سب غور‬

‫کرنے پر انحصار کرتا ہے۔‬

‫جدید اردو شاعری میں‘ مجید امجد کو نظر انداز‬
‫نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے کلم میں‘ اوروں کی‬
‫نسبت‘ رنگا رنگی اور گہما گہمی زیادہ ہے۔ غالبا‬
‫‪:‬اس کی چار وجوہ ان کی شخصیت کا حصہ رہیں‬
‫ا۔ وہ اردو‘ انگریزی اور فارسی ادب کا مطالعہ‬

‫رکھتے تھے۔‬

‫ب۔ محروم بچپن اور نامراد جوانی ورثہ میں ملی۔‬
‫ج۔ سنتے بہت تھے‘ لیکن کہتے کچھ بھی نہ‬
‫تھے۔ شاعری کو‘ گویا ذات کےانشراع کا ذریعہ‬

‫بنایا۔ شہرت اور ناموری کا عنصر موجود نہ تھا۔‬
‫د۔ ہم درد اور دیانت دار تھے۔‬

‫یہ چاروں عناصر‘ کسی ناکسی صورت میں‘ ان‬
‫کے ہاں نظر آتے رہتے ہیں۔ ان عناصر نے‘ انہیں‬
‫بڑا شاعر بنانے میں‘ نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے‬
‫ہاں شخصی اور سماجی تصاویر کی کمی نہیں۔ یہ‬
‫محاکاتی مرکبات‘ گوناں انفرادیت کے حامل ہیں۔‬

‫‪:‬نمونہ کے دو مرکب ملحظہ ہوں‬
‫کرنوں کے ریزے‬

‫اب اس مرکب کو مصرعوں کے حوالہ سے‬
‫دیکھیں۔ کیا کمال کی مصوری ہے۔‬

‫سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں‬
‫جیسے پورب کی دیوار پہ‘ انگوروں کی بیلوں‬

‫میں‬
‫بڑھتے‘ رکتے‘ ننھے ننھے‘ چمکیلے نقطے‬

‫کرنوں کے ریزے‬
‫چمکیلے نقطے اور پورب کی دیوار کی اہمیت اپنی‬

‫جکہ پر موجود ہے۔‬

‫مجید امجد کے ہاں‘ ایک سے ایک بڑھ کر‘‬
‫محاکاتی مرکب ملتا ہے۔ ہر مرکب گہری معنویت کا‬

‫حامل ہوتا ہے۔ چشم تصور کہاں سے کہاں‘ لے‬
‫‪:‬جاتی ہے۔ ذرا اس مرکب کو بھی دیکھئے‬
‫لمبی دھوپ‬

‫اس مرکب کو ان دو مصرعوں کے تحت ملحظہ‬
‫‪:‬فرمائیں‬

‫لمبی دھوپ کے ڈھلنے پر اب‘ مدتوں بعد ایک دن‬
‫یہ آیا ہے‬

‫دن جو ایسے دنوں کی یاد دلتا ہے جو سدا‬
‫ہمارے ساتھ ہیں‬

‫ہمارے ساتھ ہیں‘ میں بل کی معنویت پوشیدہ ہے۔‬
‫اردو شعر کی دنیا میں‘ ان گنت فکری‘ لسانی اور‬
‫اسلوبی رنگ ملتے ہیں۔ اہل سخن نے‘ بلشبہ شعر‬
‫کو نئے نئے لباس سے آراستہ کیا ہے۔ نئے نئے‬

‫محاورت دئے ہیں۔ دنیا کی دیگر زبانوں کی‬
‫شاعری‘ میر اور غالب نہیں دیکھا سکتی۔ میر‬
‫زبان اور غالب نے اردو کو اپنی فلک بوس فکر‬
‫سے‘ مال مال کیا۔ بدقسمتی یہ رہی ہے‘ یہاں ‘اپنا‬
‫آدمی‘ کے حوالہ سے‘ اہل سخن کو پرموٹ کیا گیا‬
‫ہے۔ اسی طرح کرسی قریب کے لوگوں کو بھی‘‬

‫زمین سے اٹھا کر آسمان پر بیٹھا دیا گیا ہے۔‬
‫معتوب تو جہنم رسید کیے گیے ہیں۔ ان کا کلم‬

‫ردی چڑھا ہے۔‬

‫اب میں تین ایسے اہل سخن کا ذکر کرنے جا رہا‬
‫ہوں‘ جن میں سے‘ دو نظر انداز ہوئے ہیں اور‬

‫ایک کرسی کی دائیں آنکھ پر رہا ہے۔‬

‫علمہ بیدل حیدری کی زبان صاف شفاف اور‬
‫الجھاؤ سے پاک ہے۔ ان کا انداز اور لہجہ‘ بڑا‬
‫جان دار ہے۔ وہ زندگی کے ان گنت نشیب و فراز‬
‫سے گزرے۔ یہ ہی وجہ ہے‘ کہ ان کا اسلوب‬
‫عصری حیات کے معاملت کو‘ بڑی خوبی سے‘‬
‫اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ مضامین کی رنگا‬
‫رنگی‘ انہیں منفرد بنانے میں‘ اپنا کردار ادا کرتی‬
‫ہے۔ وہ زندگی کے عمق میں‘ غوطہ زن ہوتے‬
‫ہیں۔ یہ بات مبالغے سے باہر ہے‘ کہ غالب کے‬
‫بعد‘ اردو شاعری کو اتنا بڑا شاعر‘ دستیاب ہوا‬
‫ہے۔ زندگی نے عسرت دی‘ لیکن اس نے اپنے‬
‫گلب سے لفظوں سے‘ زندگی کو سرفراز کیا۔ فقط‬
‫دو تین محاکاتی مرکبات ملحظہ فرمائیں۔ ان کے‬

‫حوالہ سے‘ یہ جاننے میں‘ ہرگز دشواری نہ ہو‬
‫گی کہ وہ فکری اور لسانی حوالہ سے‘ کس مقام‬

‫پر فائز تھے۔‬
‫چادر مہتاب‬
‫اب اس مرکب کو مصرعوں میں دیکھیں۔‬
‫کملی بھی اس کی چادر مہتاب کا غرور‬
‫اور زلف مشکبار کا حلقہ بھی روشنی‬
‫نظم‪ :‬روشنی‬
‫مہتاب کا غرور۔۔۔۔۔۔۔ بھی اہل سخن کی خصوصی‬
‫توجہ کا طالب ہے۔‬
‫سحر کے پاؤں‬
‫اب اسے مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ‬

‫فرمائیں۔‬
‫فضائے امن و محبت کی آرزو ہے اگر‬

‫تو آفتاب افق سے اچھالنا ہو گا‬
‫سحر کے پاؤں سے کانٹا نکالنا ہو گا‬

‫نظم‪ :‬قصہ پارینہ‬
‫سورج کی جوانی‬
‫اس مرکب کو مصروں کی دنیا میں ملحظہ‬

‫فرمائیں‬
‫مخلوق خدا کا وہ پسینے میں نہانا‬

‫یاد آ گیا سورج کی جوانی کا زمانہ‬
‫نظم‪ :‬گرمیوں کی پہلی بارش‬

‫اختر حسین جعفری‘ معتوب اہل سخن میں سے‬
‫تھے‘ تب ہی تو‘ نظر انداز ہوئے‘ اور پاریکھوں‬
‫کے قلم پر نہ آ سکے۔ سچی اور خدا لگتی بات تو‬
‫یہ ہے‘ کہ وہ عصر جدید کے بہت بڑے شاعر‬
‫تھے۔ ان کی فکر عصری حوالوں کی عکاس ہے‘‬

‫لیکن زبان کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کی زبان‬
‫کلسیکل ہے‘ لیکن اس کا استعمال کلسیکل نہیں۔‬
‫انداز اور اسلوب‘ کلسیکیت سے میل نہیں کھاتا۔‬
‫زبان کی تفہیم کلسیکل پیمانوں کے حوالہ سے‘‬

‫ممکن ہی نہیں۔ یہ صورت حال کس جدید شاعر‬
‫میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ گویا وہ نئی شعری‬
‫زبان کے موجد ہیں۔ ان کے لفظوں کو‘ سمجھنے‬

‫کے لیے‘ عصری حیات کا شعور میسر ہونا‬
‫ضروری ہے۔ عصری حیات کے شعور کے بغیر‘‬

‫ان کا کلم سمجھا نہیں جا سکتا۔‬
‫لفظ کی تفیم کے بارے میں ان کا موقف ہے۔‬

‫کہاں ہے جوہر صورت کہاں زر معنی‬

‫جگائیں حرف کو خواب سفر سے اور پوچھیں‬
‫کہاں وہ قصر ہے جس کے کھلے دریچے سے‬

‫دکھائی دیتا ہے مفہوم کا نیا چہرا‬
‫ایک دوسری جگہ کہتے ہیں‬

‫بتائے کون کہ کاغذ کی سطح خالی پر‬
‫بغیر حرف بھی نقطہ وجود رکھتا ہے‬
‫اب ان کے چند اک محاکاتی مرکبات ملحظہ‬

‫فرمائیں‬
‫فرش سماعت‬
‫اب اس مرکب کو مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ‬

‫فرمائیں۔‬
‫اٹھائیں فرش سماعت سے لفظ لفظ کی خشت‬
‫صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں‬

‫برہنہ آنکھ‬
‫اب اس مرکب کو مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ‬

‫فرمائیں۔‬
‫ملے فراغ کبھی جو خمار حاصل سے‬
‫برہنہ آنکھ سے وہ نشہء سفر دیکھوں‬
‫تین مرکباب اور دیکھ لیں لطف آئے گا۔‬

‫بینیوں کے طلسم‬
‫طلب کی ہوا‬

‫گریز کے پھول‬
‫مصرعے دیکھیے‬
‫سر نگاہ وہی پیش بینیوں کے طلسم‬
‫وہی طلب کی ہوا‘ وہی گریز کے پھول‬
‫کمال ہے‘ غالب کا لہجہ‘ غالب کا سا انداز اور‬
‫تفہیم کے ضمن میں وہ ہی دشواری۔‬

‫مقصود حسنی بھی نظرانداز اہل سخن میں سے‬
‫ہیں۔ ان کی یہ نظم دیکھیے ایک ہی نظم میں سات‬

‫محاکاتی مرکبات پڑھنے کو ملتے ہیں۔‬
‫ممتا‬

‫ممتا جب سے‬
‫صحرا میں کھوئی ہے‬
‫خون میں سوئی ہے‬
‫کشکول میں بوئی ہے‬

‫سفید پرندہ‬
‫خون میں ڈوبا‬
‫خنجر دیواروں پر‬
‫چاند کی شیشھ کرنوں سے‬
‫شبنم قطرے پی کر‬
‫سورج جسموں کی‬

‫شہل آنکھوں میں‬
‫اساس کے موسم سی کر‬

‫کھنڈر ہونٹوں پر‬
‫سچ کی موت کا قصہ‬
‫حسین کے جیون کی گیتا‬
‫وفا کے اشکوں سے‬

‫لکھ کر‬
‫برس ہوئے‬
‫مکت ہوا‬

‫خنجر دیواریں‘ شیشھ کرنیں‘ سورج جسم‘ شہل‬
‫آنکھیں‘ اساس کے موسم‘ کھنڈر ہونٹ‘ جیون کی‬

‫گیتا‬
‫درج بال معروضات کے تناظر میں‘ یہ کہنا کسی‬
‫طرح غلط نہ ہو گا‘ کہ جدید شاعری کا مطالعہ‘‬
‫فکری اسلوبی اور لسانی حوالہ سے‘ غیر مفید‬
‫نہیں رہے گا۔ اسی طرح معتوب اور نظر انداز‬
‫شعرا کو تحقیقی ورثے میں داخل کرنا‘ زبان کو‬
‫ثروت دینے کے مترادف ہو گا۔ نئے نئے محاورے‬
‫دستیاب ہوں گے۔ استعارے‘ علمتیں‘ تشبیہات‬
‫وغیرہ ہاتھ لگیں گی۔ یہ تردد اور توجہ‘ اردو زبان‬

‫پر بہت بڑی نیکی ہو گی۔‬

‫اختر حسین جعفری کی زبان کا لسانی جائزہ‬
‫) آئینہ خانہ کے تناظر میں (‬

‫ہر اچھے تخلیق کار کا کمال یہ ہی ہوتا ہے کہ‬
‫اسے جس رخ سے بھی دیکھو اس کے ہنر کا‬
‫کوئی ناکوئی کمال دکھائی دے۔ اس تخلیق میں نئی‬
‫فکر کے کئی گوشے پوشیدہ ہوں۔ استعمال کیا گیا‬
‫مواد‘ ناصرف نیا ہو بلکہ ہر اگلی نئی تخلیق کے‬
‫لیے‘ کار آمد ثابت ہو۔ مواد کی ہئیتی‘ معنوی اور‬

‫اشکالی تبدیلیوں سے‘ تخلیق کی دنیا میں‘‬
‫آسانیوں کے دروازے کھلتے ہوں۔ ایسا بالغ فکر‬
‫تخیلق کار‘ کسی ناکسی حوالہ سے‘ انسانوں کی‬
‫دنیا میں یاد رکھا جاتا ہے۔ نہ بھی رکھا جائے‘ تو‬

‫بھی وہ‘ ہر نئے کے باطن میں زندہ رہتا ہے۔‬
‫مارکونی بڑی حد تک‘ انسان کو بھول گیا ہے‬
‫لیکن وائرلس؛ ٹی وی‘ ریڈار موبائل وغیرہ کے‬

‫باطن میں‘ فکری حوالہ سے زندہ ہے۔‬

‫دوسری طرف‘ یہ بات بھی بڑی معنویت کی حامل‬
‫ہے‘ کہ استعمال کنندہ‘ استعمال کے حوالہ سے‘‬
‫استعمال کے نئے رستے تلشنے اور نکالنے وال‬
‫ہو۔ حظ اٹھانا‘ اپنی جگہ پر مسلم ہے‘ لیکن اس‬
‫حظ کو دوچند کرنے کے لیے‘ استعمال کی دیگر‬
‫راہیں کھوجنا‘ اپنی جگہ پر اہمیت کی حامل ہیں۔‬
‫کوئی استعمال کنندہ اس اہلیت سے خالی نہیں‬
‫ہوتا‘ ہاں اس انداز سے سوچنے اور کھوجنے‬
‫والے‘ بہت کم ہوتے ہیں۔ جو ہوتے ہیں‘ اپنی اصل‬

‫میں تخلیقی جوہر کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ‬
‫دوسروں سے‘ قطعی ہٹ کر سوچنے والے ہوتے‬
‫ہیں۔ وہ اس تخلیق میں رہ گئی کمی بیشی کی بھی‬

‫نشان دہی کرتے ہیں گویا وہ بہتری کی طرف‬
‫بڑھنے کا رستہ بتاتے ہیں۔‬

‫ادبی فن پاروں کی بھی‘ یہ ہی صورت ہوتی ہے۔‬
‫میر صاحب نے‘ اپنی شاعری میں ناصرف‘ اپنے‬
‫عہد کو عیاں کیا ہے‘ بلکہ نئی زبان بھی عطا کی‬
‫ہے۔ غالب نے‘ زبان یعنی تخلیقی مادے کو‘ طرح‬
‫داری سے سرفراز کیا ہے۔ لفظوں کے استعمال‬

‫کے حوالہ سے‘ نئی معنویت اور نیا نفسیاتی‬
‫شعور سامنے آیا ہے۔ اقبال نے‘ لفظ کو فلسفے‬
‫اور نظریاتی مقصدیت عطا کی ہے۔ ذوق نے‘‬
‫محاورہ سے اردو زبان کا دامن بھر دیا ہے۔ گویا‬
‫سچا تخلیق کار نئی فکر و زبان سے متعلقہ زبان‬

‫کو ابلغی اور معنوی ثروت عطا کرتا ہے۔‬

‫اختر حسین جعفری کا شمار‘ جدید اردو شعرا میں‬
‫ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو اپنی جدت طبع‬

‫کے سبب‘ حیرت انگیز استعمالی و معنوی‬
‫تبدیلیوں سے نوازا ہے۔ ان کی زبان پڑھتے ہوئے‬
‫عجب لطف اور سرشاری سی میسر آتی ہے۔ یہ‬
‫بات بہرطور پیش نظر رہنی چاہیے‘ کہ کسی بھی‬
‫شعر پارے کی اس وقت تک درست تفہیم ممکن ہی‬
‫نہیں‘ جب تک اس کی زبان کا پوری صحت مندی‬
‫سے مطالعہ نہ کر لیا جائے۔ اختر حسین جعفری‬
‫کی فکر تک رسائی کے لیے‘ ان کی زبان کی تفہیم‬
‫اور فنی باریکیوں کو سمجھنا بہرطور ضروری‬

‫ہے۔‬

‫زبان میں‘ محاورے کو کلیدی حثیت حاصل ہوتی‬

‫ہے۔ ہر شاعر کا‘ اس کی شاعری سے مخصوص‬
‫محاورہ اور تکیہءکلم ہوتا ہے‘ جو شعر کی‬

‫تخلیق کی دنیا میں‘ الگ سے پہچان ہوتا ہے۔ گلی‬
‫میں آ کر نئی اشکال و معنویت حاصل کرتا ہے۔‬
‫لزم نہیں ہر محاورہ گلی میں آئے یا وہ گلی سے‬
‫اٹھے۔ جو بھی صورت رہی ہو‘ وہ محاورہ زبان کا‬
‫اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے۔ آتے کل کو‘ اس محاورہ‬
‫کے حوالہ سے‘ گزرے کل کی تخلیقی‘ سماجی‘‬
‫سیاسی‘ نفسیاتی اور معاشی اطوار کی گواہی‬

‫دستیاب ہوتی ہے۔‬

‫اختر حسین جعفری حسینی قافلے سے متعلق ہیں‘‬
‫یہ ہی وجہ کہ ان کے محاورہ‘ اور تکیہءکلم میں‬

‫حریت کے عناصر نظر آتے ہیں۔‬
‫ان کے محاورے کی نشت و برخواست میں‘‬
‫شدت اور اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ بادی النظر‬
‫میں‘ زبان کلسیکل ہے‘ لیکن زبان کا استعمال‬
‫اور معنویت‘ کلسیکیت سے لگا نہیں رکھتی۔ ان‬
‫کی ترکیب وترتیب اور استعمال کلسیکیت سے‬
‫قطعی ہٹ کر ہے۔ ان کے چند ایک محاورے‘ جو‬
‫نظم ۔۔۔۔آئینہ خانہ۔۔۔۔۔ سے لیے گیے ہیں‘ ملحظہ‬

‫ہوں۔‬

‫جگائیں حرف کو خواب سفر‬ ‫حرف جگانا‬

‫سے اور پوچھیں‬

‫اٹھائیں فرش سماعت سے‬ ‫خشت اٹھانا‬

‫لفظ لفظ کی خشت‬

‫خود اپنے آپ سرکتی فصیل ذات کی خشت‬

‫خشت سرکنا‬

‫خوشبو کشید کرنا وہ روشنائی‘ وہ خوش بوئے‬

‫غم کشید کریں‬

‫سجی ہے کون سی نوک مژہ‬ ‫راکھ سجنا‬

‫پہ ابر کی راکھ‬

‫رحم کے سکے گرنا گریں گے رحم کے سکے‬

‫کب ان حجابوں پر‬

‫صدا کے خشک سمندر کو‬ ‫سمندر چھاننا‬

‫چھان کر دیکھیں‬

‫خود اپنے آپ قدم چھوڑتی زمین فرار‬

‫قدم چھوڑنا‬

‫قدم نہ کھینچ کہ اس راہ پر ہمارے سوا‬

‫قدم کھیچنا‬

‫بدن کی لوح پر اتری تو سطر سطر ہوئی‬

‫لوح پر اترنا‬ ‫مکان جاگنا‬
‫مکین سونے لگیں تو‬

‫مکان جاگتے ہیں‬

‫اختر حسین جعفری کی نظم کے مصرعوں کے‬
‫پہلے لفظ ہوں یا آخری ان سے کچھ ناکچھ ضرور‬

‫تشکیل پاتا ہے۔‬

‫اٹھائیں سماعت سے لفظ‬ ‫صدا اٹھانا‬

‫لفظ کی خشت‬

‫صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں‬

‫مکین جگانا جگائے رکھتی ہے سب کو حجر‬

‫وہ ہو کہ شجر‬

‫مکین سونے لگیں تو مکان جاگتے ہیں‬

‫قدم نہ کھینچ کہ اس عہد‬ ‫قدم اکھاڑنا‬

‫منحرف کی ہوا‬

‫اکھاڑ آئی ہے پہچان کے خیاباں سے‬

‫اٹھائیں سماعت سے لفظ‬ ‫خشت دیکھنا‬

‫لفظ کی خشت‬

‫صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں‬

‫بدن سے اترے شکن در شکن لباس ہوا‬

‫ہوا رکنا‬

‫لہو کی لہر کسی ساحل یقیں پہ رکے‬

‫اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے‬

‫آئینہ کھلنا‬

‫اک اور ضرب کہ تمثال دار آئینہ‬

‫ہٹے نگاہ کے شیشے سے‬ ‫پردہ ہٹنا‬

‫عکس کا پردہ‬

‫دکھائی دیتا ہے مفہوم کا نیا چہرہ‬

‫چہرہ دیکھنا‬

‫نمو کی خاک نے پھر‬ ‫نمو دینا‬

‫ایک بار جوڑ دیا‬

‫اب کچھ مرکب ملحظہ ہوں‬

‫فراق ہجوم سحر‬
‫فراق حسن تمنا میں خود کشی کر لی‬
‫ہجوم رہگزر منتظر ہے کس کے لیے‬
‫سحر ہوئی تو در نیم وا پہ قفل پڑا‬

‫رخ نشیب شکستہ‬

‫رخ ہوا کی اطاعت میں رخ بدلتے ہیں‬

‫نشیب درد میں اتروں تو قتل گاہ کی خاک‬
‫شکستہ خول‘ کھلی بکتریں‘ جلے ہتھیار‬

‫طلسم خواب سی وہ چاندنی‬ ‫طلسم محال‬

‫شب وعدہ‬

‫محال تر سفر شوق جستجو ہے کہ اب‬

‫نمو کی خاک نے پھر ایک‬ ‫نمو دونیم‬

‫بار جوڑ دیا‬

‫دونیم جسم ارادے کی سبز ٹہنی سے‬

‫آواز جگنو‬
‫ہوا کے جھنڈ میں مہتاب گوش بر آواز‬

‫سواد زخم خود افروز سوچتا جگنو‬

‫فرار تفہیم‬

‫خود آپ اپنے قدم چھوڑتی زمین فرار‬
‫وہی نگاہ‘ وہی چاک حرف کی تفہیم‬

‫بعض اوقات بڑے کمال کی نظمیں تشکیل پا گئی‬
‫ہیں۔ مثل‬

‫چاند راہیں ہیں‬
‫پناہ دیوار کی‬

‫پر نہیں‬
‫سفر‬

‫نشان منزل دکھائے‬
‫قدم‬

‫جہاں افق بنیں‬
‫نظم آئینہ خانہ‬

‫بجھے‬
‫خود مرے ثبوت‬
‫نشان سواد سپیدہء بدن‬
‫خوابیدہ بھی گواہ کروں‬

‫لیکن نہیں‬
‫ظلمت ہوئی گواہ‬
‫نظم آئینہ خانہ‬

‫ہوا رکے پردہ آئے‬
‫درد ابد‬

‫پرواز پر ہے‬
‫نظم آئینہ خانہ‬

‫نہ نہ‬
‫در فصیل ذات ہے‬

‫گلیم فسردہ‬
‫چراغ حریم دار‬
‫بلد عمر دربدری‬

‫حلیف سوال‬
‫بےترتیب نہیں‬
‫نظم آئینہ خانہ‬

‫متعلقات کا استعمال خوب خوب کرتے ہیں‬

‫بغیر حرف بھی نقطہ وجود‬ ‫حرف۔۔۔۔۔۔نقطہ‬

‫رکھتا ہے‬

‫ہوا کے ہاتھ کی سب ناتمام‬ ‫ہاتھ۔۔۔۔۔۔تحریریں‬

‫تحریریں‬

‫مکان۔۔۔۔مکی مکین سونے لگیں تو مکان‬

‫جاگتے ہیں‬

‫گرہ بچی ہے یہی رابطوں کے‬ ‫تاگا۔۔۔۔۔گرہ‬

‫تاگے کی‬

‫چراغ جو شب آتش بجاں‬ ‫شب۔۔۔۔۔چراغ‬

‫سے جلتے نہیں‬

‫زبان تشنہ۔۔۔۔آب شور زبان تشنہ نہ رکھ آب شور‬

‫پر کہ مری‬

‫طیور لوٹ کے آئیں گے‬ ‫آشیاں۔۔۔۔طیور‬

‫آشیانوں میں‬

‫تکرار لفظی کلم میں حسن اور شائستگی پیدا‬
‫کرتی ہے۔ اختر حسین جعفری کے ہاں اس کی‬

‫مختلف صورتیں ملتی ہیں‬
‫اٹھا رہا ہوں زمیں سے دونیم حرف کا چاند‬

‫دکھا رہا ہوں وہ انگشت معجزہ جس پر‬
‫چھپا رہا ہوں تہ سنگ استخوان صدا‬
‫چھپا رہا ہوں وہ مقتل جہاں پہ لفظوں نے‬

‫وہ سن رہا تھا زمیں کا خروش‘ دزد کی چاپ‬
‫وہ گن رہا تھا ستارے‘ شجر‘ تبر کے نشاں‬
‫وہ چن رہا تھا رسن‘ سوختہ سفال چراغ‬

‫اسی کے نام کٹری دوپہر میں جلتے بدن‬
‫اسی کی نذر بجھے حوصلوں کی مزدوری‬

‫اسی کی نذر قلم‘ حاشیے‘ سیاق و سباق‬
‫اسی کے نام یہ تعویز نا فرستادہ‬
‫اسی کی نذر فرد رفتہ زمیں باغات‬
‫اسی کی نذر رکی آب جو‘ تہی دریا‬

‫اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے‬
‫اک اور ضرب کہ تمثال دار آئینہ‬

‫اک اور ضرب کہ بود ونبود کی تقسیم‬
‫قدم اک اور کہ اس کاخ وکوہ میں روشن ہے‬

‫قدم اک اور کہ آگے وہ معرکہ ہے جہاں‬

‫چراغ ایک سے ہیں‘ آنکھیں ہیں ایک سی جن کی‬

‫مژہ پہ خواب رہائی کی بوند بوند شفق‬
‫بوند بوند‬

‫دن کی لوح پر اتری تو سطر سطر ہوئی‬
‫سطر سطر‬

‫شاخ شاخ اس استخواں پہ پڑیں جس کی شاخ‬
‫شاخ پہ پھول‬

‫کلی کلی پہ پریشان خیال کی تتلی‬
‫کلی کلی‬

‫گلی گلی میں ہراساں پیمبروں کی صدا‬
‫گلی گلی‬

‫پروں سے جن کے افق تا افق دم پرواز‬
‫افق تا افق‬

‫بدن سے اترے شکن در شکن لباس ہوا‬
‫شکن در شکن‬

‫تکرار حروف سے فکری کیف پیدا کا دیتے ہیں‬
‫اور قاری کو قریب تر کر لیتے ہیں‬
‫نہ اسم ذات مرے کاغذات سے نکل‬

‫مکین سونے لگیں تو مکان جاگتے ہیں‬
‫زباں گرفتہ زن پیر اور سگ تشنہ‬

‫گریں گے رحم کے سکے کب ان حجابوں پر‬

‫تکرار حروف نے ناصرف گائیکی کو کمال دیا ہے‬
‫مطالعہ کو کیف آور بنا دیا ہے‬

‫دھنک کے رنگ میں گرد ممات گرتی ہے‬

‫صنعت فوق النقط کا استعمال‬
‫مرے خلف صف آرا‘ مرے خلف گواہ‬

‫صنعت تحت النقط کا استعمال‬
‫میں ایک پر کے سہارے عبور کر لوں گا‬

‫ایک صورت یہ بھی ہے‬
‫دھنک کے رنگ میں گرد ممات گرتی ہے‬

‫بانقط اور بےنقط آمیزہ ملحظہ ہو‬

‫وہی پناہ کا جنگل‘ وہی سگ مامور‬

‫تلمیع اختصار اور بلغت میں اضافے کا سبب بنتی‬
‫ہے۔ اس سے امکانی مماثلت بھی سامنے آتی ہے۔‬

‫اختر حسین جعفری کے ہاں اس صنعت کا بڑی‬
‫خوبی اور کمال کی ہنرمندی سےاستعمال ملتا ہے۔‬

‫اس ذیل میں یہ مثال ملحظہ ہو۔‬

‫زبان تشنہ نہ رکھ آب شور پر کہ مری‬
‫خمیدہ پشت پر رکھا ہے اب بھی مشکیزہ‬

‫ان کا سوالیہ انداز ان کے لفظوں کو زندگی کے‬
‫کرخت مناظر سے ادھر ادھر ہونے نہیں دیتا۔ مثل‬

‫کہاں ہے جوہر صورت کہاں زر معنی‬
‫بتا کہ کون سے بازو پہ ہے رسن کا نشان‬

‫سوال عدل تھا یا احتجاج تھا‘ کیا تھا‬
‫یہ کیسے خواب کا پانی ہے کور آنکھوں میں‬

‫خلف کس کے ہے صبح عناد کا دعوے‬
‫سوال معنویت تلشتے اور مقصدیت کو واضح‬
‫کرتے ہیں۔ یہ اپنے عہد کے جبر اور تشنہءتکمیل‬
‫آرزوں‘ خواہشوں اور ضروتوں کی گواہی دیتے‬
‫ہیں۔ یہ زندگی کے جمود کو بھی سامنے لتے ہیں۔‬
‫سوال درحقیقت زندگی کو رستہ دکھاتے ہیں اور‬

‫سوچوں کے عمل کو متحرک رکھتے ہیں۔‬
‫سردست‘ میرے پیش نظر اختر حسین جعفری کی‬
‫نظم آئینہ خانہ ہے اور اسی کے حوالہ سے‘ ان‬
‫کے کلم کی زبان کا مطالعہ پیش کر سکا ہوں۔‬
‫میرا اصرار ہے‘ کہ انہوں نے کلسیکل زبان میں‘‬
‫اپنے آج کو‘ بڑی کامیابی سے واضح کیا ہے۔ نئی‬
‫اور عصری فکر کے لیے‘ نئی اور عصری زبان‬
‫کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اختر حسین جعفری نے‬
‫ثابت کر دیا ہے‘ کہ زبان کا استعمال ہی‘اصل کمال‬
‫ہنر ہے۔ سب کچھ نیا اور عصری ہو‘ لیکن پیش‬
‫کش سلیقے سے عاری ہو‘ تو لطف غارت ہو جاتا‬

‫ہے۔‬

‫اختر حسین جعفری کا کلم‘ ہر عہد میں‘ اس امر‬
‫کی دلیل رہے گا‘ زبان کا درست اور برمحل‬

‫استعمال نئے اور پرانے کی تخصیص کو ختم کر‬
‫دیتا ہے۔ صاحب سلیقہ زبان کی انگلی نہیں پکڑتا‬
‫زبان کو اس کی انگلی پکڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ میں‬
‫نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مہدی حسن‬
‫اور پٹھانے خان کے طبلہ نواز پسینے میں ڈوب‬
‫گیے ہیں۔ ہر دو فن کاروں کے طبلہ نواز بڑے‬
‫پھنے خاں تھے لیکن دب کر رہے۔ یہ ہی مہدی‬
‫حسن اور پٹھانے خان کی آواز کا جادو تھا۔ اختر‬
‫حسین جعفری کے ہاں بھی لفظوں کی یہ ہی حالت‬
‫ہوتی ہے۔ نئے مفاہیم لیتے‘ انہیں پسینہ آ جاتا‬
‫ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہے‘ کہ لفظوں کو اختر‬
‫حسین جعفری کی انگلی پکڑنا پڑتی ہے اور اپنی‬
‫مرضی ومنشا سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ لغوی‬
‫اور مستعملی مجبوری یکسر دم توڑ دیتی ہے۔‬

‫فرش سماعت‘ مفہوم کا چہرہ‘ سحر کی شاخ‘‬
‫برہنہ آنکھ‘ ‘نشیب درد‘ لذت لحاصلی۔۔۔۔۔سسی‬

‫فس۔۔۔۔۔وغیرہ سے مرکبات کب پڑھنے سننے میں‬
‫آئے ہیں۔‬

‫لفظ اختر حسین جعفری کے ہاتھ میں کھلونے‬
‫کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ انہیں اپنی مرضی کے‬
‫معنی دیتے ہیں اور اپنی مرضی کی فکر ان کے‬

‫باطن میں اتارتے ہیں۔ قاری ان کی زبان سے‬
‫ناصرف لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ اسے ان کی‬
‫معنویت تک رسائی کے لیے رکنا بھی پڑتا ہے۔‬
‫اسی حوالہ سے چند مصرعے ملحظہ ہوں‬

‫فلک کی شاخ سے اتریں وہ طائران ابد‬
‫شنید و دید کے کاسہ بدست منظر کب‬
‫طلب کریں گے بہا‘ چشم سیر لوگوں سے‬
‫فقیہ شہر نے دیکھا ہے روئے قاتل میں‬
‫جلی زمین کا چہرہ‘ شکستہ شاخ کا زخم‬
‫اس استعاراتی زبان کے مطالعہ کے لیے‘ بلشبہ‬
‫گہرے سوچ کی ضرورت‘ ہر قدم پر محسوس ہوتی‬
‫ہے۔ اختر حسین جعفری سے لوگ ہی‘ اہل زبان‬
‫کی صف میں کھڑے اچھے لگتے ہیں اور قلب‬

‫ونظر کا سرور ٹھہرتے ہیں۔‬

‫اختر شمار کی شاعری۔۔۔۔۔۔۔ایک لسانیاتی جائزہ‬

‫یہ بات باور کر لینی چاہیے‘ کہ شخص زبان کے‬
‫لیے نہیں‘ زبان شخص کے لیے ہوتی ہے۔ جب‬
‫شخص زبان کا پابند ہو جاتا ہے‘ خیال اور جذبے‬
‫کے اظہار کے رستے میں‘ دیوار کھڑی ہو جاتی‬
‫ہے۔ کسی ناکسی سطح پر‘ زبان کے اصولوں اور‬
‫ضابطوں کی پاسداری ہو جاتی ہے‘ لیکن خیال اور‬
‫جذبہ‘ اپنی اصلیت برقرار نہیں رکھ پاتے۔ یعنی جو‬
‫کہنا ہوتا ہے وہ پس پشت پڑ جاتا ہے۔ جو کہنا تھا‬
‫یا جو کہنے کی ضرورت تھی‘ کہا نہ جا سکا‘ تو‬

‫سب لحاصل اور لیعنی ٹھہرے گا۔‬
‫دوسری بڑی بات یہ ہے‘ کہ لفظ اپنی ذات میں‘‬
‫تفہیمی استحکام نہیں رکھتا۔ جو لوگ لفظ کے‬
‫تفہیمی استحکام کے قائل ہیں‘ ہر قدم پر‘ ٹھوکر‬
‫کھاتے ہیں۔ لغت کچھ ہوتے ہوئے بھی‘ کچھ بھی‬
‫نہیں۔ اس پر اعتماد‘ گمراہ کرتا ہے۔ اس موضوع‬
‫پر‘ بڑی تفصیل سے بات کر چکا ہوں۔ نیٹ پر‬

‫موجود میری کتاب‬

‫‪The language problem‬‬
‫میں مضمون موجود ہے۔ لفظ اپنے متن میں ہی‘‬
‫معنویت سے ہم کنار ہوتا ہے۔ استعمال کنندہ کے‬
‫جذبے اور خیال کو‘ لفظ نے ہر حال اور ہر صورت‬

‫میں فالو کرنا ہوتا ہے۔‬
‫تیسری بات یہ کہ لفظ کی زبان کو سمجھے بغیر‘‬
‫تفہیم کے امور طے نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں کا‬
‫عمومی طور یہ ہی رہا ہے‘ کہ ہم لفظ کی بولی‬
‫سمجھے بغیر‘ تشریح کی طرف بڑھتے ہیں۔ کلم‬
‫غالب ہو‘ کہ کلم اقبال‘ بازار میں تشریحات کا‬

‫انبار لگا ہوا ہے۔ ہر کسی نے‘ لفظ کی بولی‬
‫سمجھے بغیر‘ تھوڑا نہیں‘ بہت کچھ لکھ دیا ہے۔‬

‫یہ معاملہ کسی المیے سے بہرطور کم نہیں۔‬
‫گلی کا کوئی عام شخص ہو‘ یا صاحب سخن‘ اپنا‬

‫الگ سے اسلوب رکھتا ہے۔ دونوں کے ہاں‬
‫طرحداری موجود ہوتی ہے۔ یہ نادانستہ طور ہوتا‬
‫ہے۔ مکالمے میں تفہیم کی ذیل میں‘ باڈی لنگوئج‬
‫اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ پس دیوار‘ کہی گئی بات‘‬
‫جب کانوں میں پڑتی ہے‘ تو سماعی آلہ متحرک‬

‫ہوتا ہے‘ ابہام کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔‬
‫پس دیوار ایک شخص کہتا ہے‘ آج میں اسے جان‬

‫سے مار دوں گا۔‬
‫سننے وال‘ اس بات کو اپنی ذات پر محمول کر‬
‫سکتا ہے۔ بات گرہ میں تو بندھے گی ہی‘ اس پر‬
‫طرہ یہ کہ اس ذیل میں‘ کوئی بھی منفی ردعمل‬
‫سامنے آ سکتا ہے۔ گویا کسی بھی سطح پر‘‬
‫سماعی آلے اپنی کارگزاری میں صفر ہو سکتے‬
‫ہیں۔ حالں کہ اس نے‘ روزانہ دودھ پی جانے‬
‫والی بلی کے بارے میں‘ کہا ہوتا ہے۔ بصارتی‬
‫آلے کی صورت بھی‘ اس سے مماثل ہو سکتی‬
‫ہے یا ہوتی ہے۔ جو دیکھا گیا ہو‘ ضروری نہیں‬
‫وہ اسی طرح سے ہو‘ جیسے دیکھا گیا ہوتا ہے۔‬
‫کاغذ پر موجود لفظوں کی تفہیم‘ اور بھی مشکل‬
‫ہوتی ہے۔ لکھی گئی بات کے لہجے کا تعین‘ خود‬
‫سے کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے‘ اہل سخن کے کہے‬
‫کی تفہیم‘ لفظوں کی بولی سمجھے بغیر‘ ممکن‬
‫ہی نہیں۔ اہل سخن عمؤم سے نہیں ہوتے‘ اس‬
‫لیے ان کے کہے کو‘ سرسری نہیں لیا جا سکتا‬
‫اور ناہی ان کا کہا‘ عموم کا کہا ہوتا ہے۔ انہیں‬
‫سمجھنے کے لیے‘ پہلے ان کی زبان سے آگہی‬
‫ضروری ہے۔ ان کے کہے کا اصل کمال یہ ہوتا‬
‫ہے‘ کہ ان کے لفظوں کو جس رخ اور جس پہلو‬

‫سے دیکھو گے‘ تہ در تہ مفاہیم‘ ملتے چلے‬
‫جائیں گے۔ اگرچہ لمحہءتخلیق تک رسائی ممکن‬
‫نہیں‘ پھر بھی‘ غور و فکر کے نتیجہ میں بہت‬

‫کچھ ہاتھ لگ سکتا ہے۔‬
‫کسی بڑی بات کو کہنے کے لیے‘ وہ لفظوں کو نیا‬
‫انداز اور نیا سلیقہ دیتے ہیں۔ لفظ اس طور سے‘‬
‫اور ان معنوں میں‘ کبھی استعمال ہی نہیں کیا گیا‬

‫ہوتا۔ گویا وہ لفظوں کو رواج اور لغت سے ہٹ‬
‫کر‘ اور اپنی مرضی کے معنی عطا کرتے ہیں۔‬
‫کپڑا ایک سا ہی ہوتا ہے‘ لیکن درزی کی ہنرمندی‬
‫اسے اور ہی پہب دے دیتی ہے۔ وہ پہب‘ بصارتی‬
‫آلت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ہر نئے‬
‫کے لیے‘ استعمال کا سلیقہ بھی نیا‘ اور الگ سے‬
‫ہوتا ہے۔ نئے کے لیے مرکبات بھی نئے وجود‬

‫پکڑیں گے۔‬
‫سبھی اہل سخن‘ اپنے اپنے حوالہ سے‘ اردو زبان‬
‫کے لیے‘ بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو‬
‫زبان کو بساط بھر‘ کچھ دیا ہی ہے۔ باہمی رنجش‬
‫ہو‘ کہ ادبی چپقلس‘ کسی معاملے کا رد عمل ہو‘‬
‫کہ ذات کا کرب زبان کو کچھ ناکچھ مل ضرور ہے۔‬

‫اقتداری ہواوں کے مسافروں سے بھی‘ زبان‬

‫مایوس نہیں ہوئی‘ ہاں‘ ان کی غلط اور اقتداری‬
‫شہادت نے‘ آتے کل کے لیے‘ مخمصے ضرور‬
‫چھوڑے ہیں۔ یہ ہی نہیں‘ ان کے کہے کے حوالہ‬
‫سے‘ تقسیم کا دروازہ ضرور کھل ہے۔ اقتدار سے‬
‫دور محروم لوگوں نے‘ اپنے وسیب کے معاملت‬

‫کو نگاہ میں رکھا ہے۔ سماجی اور اقتداری‬
‫بےانصافیوں کو‘ لفظوں میں ملفوف کرکے پیش‬
‫کیا ہے۔ جو بھی سہی‘ زبان کی خدمت ضرور‬
‫ہوئی ہے۔ سچی گواہیوں کی شاعری کی زبان کو‘‬

‫سٹریٹ نے قبولیت کی سند عطا کی ہے۔‬
‫عہد قریب کے تین چار لوگ محرومی‘ تلخی‘‬
‫بغاوت‘ جدت طرازی اور محبتوں کی مٹھاس کے‬

‫حوالہ سے‬
‫شاید فراموش نہ کیے جا سکیں گے۔ کونے‬
‫کھدرے میں سہی‘ ان کا نام ضرور باقی رہے گا۔‬
‫علمہ بیدل حیدری‘ عصر جدید کی بڑی توانا آواز‬
‫ہے۔ ان کے ہاں‘ زندگی اپنے ان گنت رنگوں کے‬
‫ساتھ رقصاں نظر آتی ہے۔ وہ نظم اور غزل کے‘‬
‫پختہ کار شاعر تھے۔ بڑے بڑوں کا قلم‘ ان کے‬

‫قلم کے‘ قدم لیتا نظر آتا ہے۔‬
‫اختر حسین جعفری‘ کلسیکل زبان کو جدید طور‬

‫سے‘ آشنا کرنے میں‘ اپنا جواب نہیں رکھتے۔‬
‫شکیب جللی کی فکر اپنی جگہ‘ ظالم دہائی کی‬
‫زبان استعمال کرتا ہے۔ مبارک احمد اور انیس‬
‫ناگی نے نثری نظم کی زبان کو الگ سے سلیقہ‬
‫عطا کیا۔ تبسم کاشمیری نے‘ زندگی کو شہد میں‬
‫ملفوف کرنے کی سعی کی جب کہ سعادت سعید‘‬
‫ہمیشہ جدت طرازی کے گھوڑے پر سوار رہے۔‬
‫ان سب کی زبان کا مطالعہ کریں‘ تو یہ کہے بغیر‬
‫بن نہ پائے گی‘ کہ ان اہل سخن نے اردو کو نیا‬
‫اور انسانی زندگی سے میل کھاتا‘ سلیقہ عطا کیا۔‬
‫یہ سب برگد ہیں‘ اور ان کی شاخوں کا شمار‘ مجھ‬

‫ناچیز طالب علم کے لیے ممکن ہی نہیں۔‬
‫عصر رواں میں‘ علمہ بیدل حیدری کے پائے کا‘‬
‫شاید ہی کوئی خوش فکر اور خوش زبان شاعر‬
‫نظر آئے۔ اس برگد کی ایک شاخ پر‘ میری نظر‬
‫پڑی ہے۔ اس کے کلم کی خوش بو‘ نفیس طبع‬
‫کے لوگوں کو مسرور کرتی ہے‘ اور کہیں گدگداتی‬
‫ہے۔ اس کی زبان اور فکر کا سلیقہ ہی الگ سے‘‬
‫اور ہٹ کر ہے۔ اس کا کلم پڑھ کر‘ واضح طور پر‬
‫محسوس ہوتا ہے‘ کہ وہ اردو زبان کی قدرت اور‬
‫لچک پذیری سے‘ خوب خوب آگاہ ہے۔ اس نے‬


Click to View FlipBook Version