ناصرف وظیفہ میں ملنے والے چند ٹکوں سے
جاتا‘ بلکہ لل قلعہ سرخی میں نہا جاتا۔ جو چند
نفوس بچ رہے‘ وہ بھی جان سے جاتے۔ شہر میں
بھی قتل وغارت کا بازار گرم ہوتا۔ یہ بھی ممکن
ہے‘ اس ہونے سے‘ شاید ١٨٥٧کی سی قتل و
غارت نہ ہوتی۔ تلوار شاہ اور شاہ والوں تک
محدود رہتی۔ لفظوں کے پوشیدہ استعمال نے اسے
چند سال اور دے دیے۔
لفظ وہ ہی ہوتے ہیں لیکن کا استعمال بہت بڑا ہنر
:ہے۔ کہا جائے
چلو یار چلتے ہیں‘ کوا آ رہا ہے‘ خواہ مخواہ
میں‘ مغز چاٹے گا۔
چلو یار چلتے ہیں‘ زید بکر آ رہا ہے‘ خواہ مخواہ
میں‘ مغز چاٹے گا۔
نشان دہی ہوئی ہے‘ فساد کا دروازہ کھل سکتا
ہے۔ استعارے نے‘ پوشیدگی کا کام کیا ہے۔ بات
بھی کہہ دی گئی‘ اور فساد سے بھی بچ گیے۔
غالب کا یہ کمال ہے کہ وہ بات عمومی انداز سے
نہیں کرتا۔ اس کے کہے کو سمجھنے کے لیے‘
غور و فکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ نمونہ کے دو
:شعر پیش کرتا ہوں
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنہ محشر نہ ہوا تھا
سارے لفظ‘ عام استعمال کے ہیں اور ان کے رائج
مفاہیم پچیدہ نہیں ہیں۔ لفظ قد اور فتنہءمحشر بڑے
ہی طرح دار ہیں۔ یہ تشبہی استعمال ہے۔ غور
کریں گے‘ تو بات کہاں کی کہاں پہنچ جائے گی۔
یہ شعر عقیدے اور آفافی سچائی سے متعلق ہے
اور قطعی عمومی بات ہے‘ کوئی مشکل لفظ
استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
لفظ عام ہیں‘ لیکن ان میں عام اور عمومی بات
نہیں کہی ہے۔
:اسی غزل کے دو شعر اور ملحظہ ہوں
ہم وہاں ہیں‘ جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
دونوں مصرعے سوالیہ ہیں۔
حسن میں‘ متاثر کرنے کی صلحیت موجود ہوتی
ہے۔ ۔ حسن ظاہری ہو یا باطنی‘ معنوی ہو یا
استعمالی‘ متاثر کرتا ہے اور متاثر ہونے وال‘ وہ
ہی طرز اور طور اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔
سوامی رام تیرتھ گوجرانوالہ میں‘ غالب کی موت
کے چار سال بعد‘ پیدا ہوئے۔ غالب کی سی عمر نہ
پائی۔ مختصر مختصر زندگی کی‘ صرف تنتیس
سال اس جہاں میں گزارے اور ١٩٠٦میں اس
جہاں کو ہمیشہ کے لیے تیاگ کر سورگ باسی
ہوئے۔ اس مختصر زندگی میں‘ بہت کچھ سیکھا
اور سکھایا بھی۔ ایف سی کالج میں پڑھایا۔ ایف
کالج لہور کے لیے‘ بلشبہ یہ بہت بڑے اعزاز
اور گرب کی بات ہے‘ کہ وہاں بگ برینز‘ فکر کے
گلب بکھیرتے رہے۔
کوئی تیس سال پہلے‘ میں نے ان کا‘ کچھ اردو
کلم جمع کیا تھا اور اس کا بسات بھر لسانی
مطالعہ بھی کیا تھا۔ یہ مجھے خوب خوب یاد تھا۔
کام کہاں رکھ بیٹھا ہوں‘ یاد سے نکل گیا۔ کچھ ہی
دن پہلے یہ ناچیز سی کوشش مل ہی گئی۔ دل کو‘
سکون اور خوشی محسوس ہوئی۔ دوبارہ سے
دیکھا‘ تو اس میں تین غزلیں‘ غالب کے طور پر
مل گئیں۔ جس شخص نے غالب کو پڑھا ہو اور
شعر میں‘ اس کی پیروی کرنے کی سعی کی ہو‘
وہ کوئی عام اور معمولی شخص نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے اور بھی اس انداز کی غزلیں لکھی ہوں
گی لیکن میرے جمع کیے گیے کلم میں‘ صرف
تین موجود ہیں۔
غالب کی غزل
حیراں ہوں‘ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
دس اشعار پر مشتمل ہے اور معروف ہے۔
اسی ردیف اور قافیہ میں کہی گئی‘ سوامی رام
تیرتھ کی غزل‘ پانچ اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ غزل‘
راگ جوگ میں کہی گئی ہے‘ جب کہ تال‘ دھمار
ہے۔
:غزل ملحظہ فرمائیں
گل کو شمیم آب گہر اور زر کو میں
دیتا ہوں جب کہ دیکھوں اٹھا کر نظر کو میں
شاہوں کو رعب اور حسینوں کو حسن و ناز
دیتا بہادری ہوں بل شیر نر کو میں
ابروئے کہکشاں بھی انوکھی کمند ہے
بے قید ہو اسیر‘ جو دیکھوں ادھر کو میں
تارے جھمک جھمک کے بلتے ہیں رام کو
آنکھوں میں ان کی رہتا ہوں جاؤں کدھر کو میں
بل تبصرہ لفظوں کی نشت و برخواست ملحظہ
فرمائیں۔
آب دینا‘ نظر اٹھا کر دیکھنا‘ گل کو شمیم دینا‘
بہادری دینا‘ آنکھوں میں رہنا
کدھر جاؤں
حسن و ناز‘ ابروئے کہکشاں‘ انوکھی کمند‘
جھمک جھمک 'گوہر اور زر
ابروئے کہکشاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوکھی کمندد
نظر :دیکھنا
شاہ :رعب
حسین :ناز
شیر :بہادری
تارے :جھمک جھمک
گل دینا
ابروئے بے قید
تارے آنکھوں :تارے آنکھیں
آنکھیں تارے
بے قید ابرو
ابروئے کہکشاں بھی انوکھی کمند ہے
بے قید ہو اسیر‘ جو دیکھوں ادھر کو میں
ابروئے کہکشاں بھی
انوکھی کمند ہے
بے قید ہو اسیر
جو دیکھوں ادھر کو میں
مضمون کا حسن اپنی جگہ‘ لفظ بھی‘ تشریح سے
متعلق نہیں ہے‘ دیکھنے اور غور کرنے سے
متعلق ہے۔ لفظ بھی نے الگ سے‘ کے معنی دے
کر‘ دیکھنے کی حس کو مخصوص نقطے کا پابند
کر دیا ہے۔
استاد غالب کی ایک غزل ہے‘ جس کا یہ شعر
:عرف عام کے درجے پر فائز ہے
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
غزل کے نو شعر ہیں۔ سوامی رام تیرتھ نے‘ اسی
طور کی چھے اشعار کی غزل یاد میں چھوڑی
ہے۔ ان میں ایک شعر استاد غالب کا ہے۔ گویا
پانچ شعر سوامی جی نے کہے ہیں۔ انہوں نے‘
غزل میں استاد غالب کا شعر‘ بڑے عمدہ موقع پر
رکھا ہے۔ سوامی جی کی غزل راگ بروا میں ہے۔
غزل کو تال مغلئی دی گئی ہے۔ غزل ملحظہ ہو۔
آپ ہی ڈال سایہ کو‘ اس کو پکڑنے جائے کیوں
سایہ جو دوڑتا چلے کیجے وائے وائے کیوں
دیدءدل ہوا جو دا کھب گیا حسن دل ربا
یار کھڑا ہو سامنے آنکھ نہ پھرٹرائے کیوں
گنج نہاں کے قفل پر سر ہی تو مہر شاہ ہے
توڑ کر قفل و مہر کو گنج کو خود نہ پائے کیوں
اہل و عیال و مال و زر سپ کا ہے بار رام پر
اسپ پر ساتھ بوجھ دھر‘ سر پر اسے اٹھائے
کیوں
جب وہ جمال دل افروز صورت مہر نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز‘ پردے میں منہ چھپائے
کیوں
داشنہ غمزہ جانستان ناوک ناز بے پناہ
تیرا ہی عکس رخ سہی‘ سامنے تیرے آئے کیوں
سایہ ڈالنا‘ سایہ پکڑنا‘ سایہ دوڑنا‘ بوجھ سر پر
اٹھانا‘ آنکھ پھرٹرانا‘ منہ چھپانا‘ سامنے آنا' قفل
توڑنا' دا کھب جانا‘ دا کھبنا‘ بوجھ دھرنا یہ
محاورے عمومی بول چال میں داخل ہیں۔ دا کھبنا
پنجاب سے متعلق ہے۔
ہائے وائے کی بجائے وائے وائے
عکس رخ' ناوک ناز
ناوک ناز کی صورت بےپناہ
اسپ کا استعمال سادہ نہیں ہوا
کی‘ کی تفہیم آسان نہیں توجہ چاہتی ہے۔
تیرا ہی عکس رخ سہی
تیرا ہی عکس رخ تک رسائی کے لیے منصور
کے مرتبے آنا پڑے گا۔ پہلے مصرعے میں بےپنا
کا استعمال یوں ہی چلتے نہیں ہوا۔
گنج نہاں‘ عمومی مفاہیم میں استعمال نہیں ہوا۔
تیسرے مصرعے میں لفظ ہی کا استعمال
مخصوص معنوں کا حامل ہے۔
استاد غالب کے انداز میں‘ راگ بروا اور تل مغلئی
میں‘ لکھی گئی ایک غزل ملحظہ ہو۔ باور رہے‘
غالب کی غزل کے دس اشعار ہیں‘ جب کہ سوامی
جی کی غزل میں پانچ اشعار ہیں۔
آپ میں یار دیکھ کر آئینہ پرصفا کہ یوں
مارے خوشی کے کیا کہے ششدر سا رہ گیا ہوں
کہ یوں
رو کے جو التماس کی‘ دل سے نہ بھولیو کبھی
پردہ ہٹا‘ دوئی مٹا مہ نے بھل دیا کہ یوں
میں نے کہا کہ رنج و غم مٹتے ہیں کس طرح کہو
سینہ لگا کے سینے سے اس نے بتا دیا کہ یوں
گرمی ہو اس بل کی ہائے بھنتے ہوں جس سے
مرد و زن
اپنی ہی آب وتاب ہے خود ہی ہوں دیکھتا کہ یوں
دنیا و عاقبت بنا واہ دا جو جہل نے کیا
تاروں ساں مہر رام نے پل میں اڑا دیا کہ یوں
کیا کہے‘ کہو‘ بھنتے‘ بل کی‘ ہائے‘ میں نے کہا‘
کس طرح‘ روزمرہ کے تکیہءکلم میں داخل ہیں۔
عمومی اور عوامی بول چال کا حصہ ہیں۔ اس
سے‘ زبان سے قربت کا احساس جاگتا ہے۔ نشان
دہی یا توجہ دلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
خوشی کے مارے‘ کو محاورے کا درجہ حاصل
ہے۔ مارے‘ مارنا سے ہے‘ لیکن اس میں مارنا کا
دور تک تعلق واسطہ نہیں‘ بلکہ اس سے قطعی
برعکس عمل ہے۔
ششدر رہ گیا‘ اڑا دیا‘ اردو میں عام استعمال ہوتے
ہیں ۔ شعر میں‘ ششدر رہ گیا کے ساتھ سا کے
استعمال نے بیچ کی کیفیت کو اجاگر کیا ہے۔
دا کیا‘ دا میں ؤ گرا دی گئی ہے۔ یہ داؤ کا
اختصار ہے اور پنجابی میں مستعمل ہے۔
سینہ لگا کے سینے سے‘ سین کا تکرار جہاں
مخصوص ایمج تشکیل دے رہا ہے‘ وہاں سانس
کی تیز رفتاری کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔ صنعت
تکرار لفظی ہو‘ کہ تکرار حرفی‘ اس سے غنائیت
پیدا ہوتی ہے۔ یہ مضمون کو زور دار بنانے میں‘
بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
غالب کی طرز پر‘ دستیاب یہ تین غزلیں‘ عوامی
اور مستعمل زبان کی حامل ہیں۔ اس لیے تفہیم
میں کسی مقام پر‘ دشواری محسوس نہیں ہوتی۔
جہاں انہوں نے‘ زبان کو فارسی آمیز بنانے کی
کوشش ہے‘ وہاں پنجابی لہجہ بھی محسوس ہوتا
ہے اور وہ‘ بنیادی طور پر پنجاب کے‘ پنجابی
تھے‘ اس لیے پنجاب اثر غیر فطری نہیں۔ سوامی
جی پر‘ میں نے جو ان کے کلم پر‘ ان کی زبان
کے حوالہ سے کام کیا تھا‘ اگر ا نے زندگی کو
مہلت دی‘ تو کسی دوسرے وقت میں پیش کروں
گا۔
جدید اردو شاعری کے چند محاکاتکر
ہر مستعل لفظ کے معنی ہمارے ذہن میں محفوظ
ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پر کہی ہوئی بات
کو سمجھ جاتے ہیں۔ کچھ لفظ مانوس نہیں ہوتے
لیکن دوسرے لفظوں کے سیاق وسباق میں
سمجھنا مشکل نہیں ہوتا۔ لفظ کرسی سنتے ہی
ہمارے ذہن میں بیٹھنے والی چیز کا تصور گھوم
جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے بیٹھیے تو ہم بیٹھ جاتے ہیں۔
برا‘ اچھا‘ سیاہ‘ خوب صورت وغیرہ کی تفہیم‘
ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہے‘ لیکن کسی شے
کا تصور ہمارے ذہن میں نہیں ابھرتا۔ یہ
تخصیصی یا توصیفی لفظ‘ جب کسی اسم کے ساتھ
جڑتے ہیں‘ تو اس کی ذاتی شناخت کا ذریعہ بنتے
ہیں۔ یہ ہی نہیں‘ ایک مخصوص ایمیج بھی‘ ان
کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔ زبانوں میں‘ اس
نوعیت کے مرکبات کا استعمال بکثرت ہوتا آیا ہے۔
یہ تخصیص کے ساتھ‘ دل چسپی اور توجہ کا
ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان سے‘ ایک تصویری
خاکہ بھی تشکیل پاتا ہے۔
ہر زبان کی شاعری میں مرکبات کا استعمال ہوتا
آیا ہے۔ ان مرکبات کے حوالہ سے مختلف نوعیت
کے ایمیج تشکیل پائے ہیں۔اردو شاعری اس سے
تہی نہیں۔ اردو شاعری میں بھی مختلف طرح کے
مرکبات نظر آتے ہیں۔ گویا موجود اور خیالی
ٹصاویر کا جہاں آباد ہے۔
مرکبات‘ جہاں شعری حسن اور اختصار کلم کے
حوالہ سے اپنی افادیت رکھتے ہیں‘ وہاں کسی
ناکسی ایمیج کو بھی‘ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔
ان کی تقسیم بھی‘ نکرہ اور معرفہ کی سی ہوتی
ہے۔ اسمی تخصیص کے لیے بھی‘ مرکبات کی
وجودی حیثیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ نثر میں‘ ان کا
استعمال اسلوبی اور تفہیمی حوالہ سے‘ شاعری
سے قطعی ہٹ کر ہوتا ہے۔ فکشن اور انشاء
پردازی میں‘ یہ کبھی کبھی شاعری کے قریب تر
چلے جاتے ہیں اور مختلف نوعیت کے ایمجز کو
تشکیل دیتے ہیں تاہم نثری اور شعری مرکبات
میں‘ اس کے باوجود فرق رہتا ہے۔
اردو شاعری میں‘ استاد غالب وہ شاعر ہیں‘ جن
کا دیوان انتہائی مختصر ہو کر بھی‘ محاکات سے
بھرا پڑا ہے۔ ان کے مرکبات‘ دنیا کا خوب صورت
ترین عجائب گھر ہے۔ رنگا رنگ‘ عجیب و غریب
اور غور وفکر کے حامل‘ تصویری مرکبات
پڑھنے کو ملتے ہیں۔ کمال کی مصوری کرتا ہے۔
اس ذیل میں‘ ان کے ہاں بڑا تنوع ہے۔ ان کے
:دیوان کی پہلی غزل کے تین مرکب ملحظہ ہوں
جذبہءبےاختیار‘ سینہء شمشیر‘ موئے آتش
دیدہ۔۔۔۔۔۔ اب ان مرکبات کو شعر کے تناظر میں
:ملحظہ فرمائیں
جذبہء بےاختیار شوق دیکھا چاہیے
سینہء شمشیر سے باہر ہے‘ دم شمشیر کا
لفظ دم کو سادہ نہ لیجیے گا‘ ذومعنویت اور طرح
داری میں‘ بڑے اوج پر ہے اور اسی کی تفہیم پر
ہی‘ پورے شعر کا دارو مدار ہے۔
بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
بسکہ ہوں غالب
اسیری میں بھی
آتش زیرپا
موئے آتش دیدہ ہے
حلقہ مری زنجیر کا
اب قرآت کا مزا لیں۔
مرکب موئے آتش دیدہ کا تصویری حسن‘ کھل کر
سامنے آ جائے گا۔
استاد غالب کے بعد‘ اردو شاعری میں اقبال بڑی
شہرت رکھتا ہے۔ بانگ درا میں اس کا ١٩٠٨تک
کا کلم ہے۔ اس مجموعے کی چوتھی نظم‘ استاد
غالب سے متعلق ہے۔ اس میں انہیں گوئٹے کا ہم
نوا قرار دیا ہے۔ نظم کا آخری سے پہل شعری
:ملحظہ فرمائیں
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
اس نظم کے مطالعہ سے‘ واضح ہوتا ہے‘ کہ اقبال
نے استاد غالب کی زبان اور فکر سے‘ استفادہ
کیا۔ اقبال کا مطالعہ مشرق و مغرب پر محیط تھا۔
اقبال نے اردو شاعری کو نئی زبان دی ہے‘ لیکن
اس کے موجود کلیات کو‘ تصویر خانہ قرار نہیں
دیا جا سکتا۔ اس کے ہاں تصویری مرکبات پڑھنے
کو ملتے ہیں‘ لیکن انہیں غالب کے پایہ کا‘ قرار
نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ‘ شاید کس حد تک‘
مقصدی شاعر رہی ہو۔ بطور نمونہ دو مرکب
ملحظہ ہوں۔
عقابی روح
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
نظم :ایک نوجوان کے نام‘ مجموعہ بال جبریل
رہزن ہمت
رہزن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا
بحرتھا صحرا میں تو‘ گلشن میں مثل جوئے ہوا
نظم :شمع و شاعر‘ مجموعہ بانگ درا
فیض نے‘ اپنے مخصوص نظریاتی اور خفیہ قسم
کی زبان کے حوالہ سے‘ بڑا نام پایا۔ اس کی بان
میں حسن اور مٹھاس ہوتی ہے۔ اپنے عہد کے
جبر کو‘ مختلف قسم کے طریقوں سے‘ واضح
کرتا ہے۔ اس کی علمیتں اور استعارے‘ درامدہ
نہیں ہیں‘ بلکہ اسی معاشرت سے اٹھتے ہیں۔ ان
حقائق کے باوجود‘ اس کے ہاں محاکاتی مرکبات
کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ ہاں جو محاکاتی مرکبات میسر
آتے ہیں‘ وہ اپنا ہونا بڑی صراحت سے واضح
کرتے ہیں۔ فقط دو مرکب ملحظہ فرمائیں۔
دوزخی دوپہر
اب اس مرکب کو مصرعوں کے تنانظر میں
دیکھیں‘ ایک ماحول اور کیفیت کو اجاگر کرنے
میں‘ اپنا حق ادا کر رہے ہیں۔
بے زباں درد و غیظ و غم کی
اس دوزخی دوپہر کے تازیانے
آج تن پر دھنک کی صورت
قوس در قوس بٹ گیے ہیں
!نظم :اے شام مہرباں ہو
حالت کی ہولناکی کو اس سے بڑھ کر پیش نہیں
کیا جا سکتا۔
اسی قماش کا ایک اور مرکب ملحظہ ہو
دکھ کی ندیا
جب دکھ کی ندیا میں ہم نے
جیون کی ناؤ ڈالی تھی
تھا کتنا کس بل باہنوں میں
لہو میں کتنی للی تھی
نظم :تم ہی کہو کیا کرنا ہے
مرکب ۔۔۔۔۔۔ جیون کی ناؤ۔۔۔۔۔۔۔ خصوصی اہمیت کا
حامل ہے۔ پہل وصفی‘ جب کہ دوسرا تشبیہی ہے۔
دونوں مرکب‘ ایک مخصوص ایمیج پیش کر رہے
ہیں۔ یہ بھی کہ دونوں ایک دوسرے سے انتہائی
متعلق ہیں۔
ن م راشد‘ جدید اردو شاعری اپنی الگ سے
شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں‘ ذات اور کائنات
کے معاملت ملتے ہیں۔ ذات سے کائنات‘ یا کائنات
سے ذات کی طرف‘ پھرنے کے رویے‘ بڑی حد
تک متوازی نظر آتے ہیں۔ راشد بھی‘ محاکاتی
مرکب تشکیل دیتے ہیں‘ لیکن ان کی بہتات نہیں‘
ہاں البتہ‘ ان کی اکثرنظمیں‘ دیگر لوازات شعر کے
استعمال سے تصویر تشکیل دیتی ہیں۔ کہیں واضح
ہوتی ہیں‘ کہیں دھندلہٹ کا شکار ہوتی ہیں اور
بعض‘ معاملے کے پس منظر میں ہوتی ہیں۔ ان
کے دو محاکاتی مرکب بطور ذائقہ ملحظہ
:فرمائیں
روح کے تار
:اب اسے‘ مصرعوں کے تناظر میں دیکھیں
ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا
خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار
پارہ پارہ تھے مری روح کے تار
نظم :گناہ
:کیا خوب صورت مرکب ہے آپ بھی لطف لیں
تشنہ سراب
اب اس مرکب کی معنویت مصرعوں کی ترتیب میں
:تلشیں
وقت کے پابند ہاتھ
راہوں کا غمگیں جواب
‘سنتے رہے
سبزے کے تشنہ سراب
رات کا دیوانہ خواب
تکتے رہے
نظم :گزر گاہ
خدا لگتی تو یہ ہی ہے‘ کہ زندگی اپنے پورے
وجود سے‘ دکھائی دیتی ہے۔ دیوانہ خواب‘ کمال
کا محاکاتی مرکب ہے۔ اسے چشم تخیل میں‘
تجسیم دیں‘ زندگی واضح ہو جائے گی۔ اس کے
استعمال میں‘ کمال کی ورفتگی ہے۔ یہ سب غور
کرنے پر انحصار کرتا ہے۔
جدید اردو شاعری میں‘ مجید امجد کو نظر انداز
نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے کلم میں‘ اوروں کی
نسبت‘ رنگا رنگی اور گہما گہمی زیادہ ہے۔ غالبا
:اس کی چار وجوہ ان کی شخصیت کا حصہ رہیں
ا۔ وہ اردو‘ انگریزی اور فارسی ادب کا مطالعہ
رکھتے تھے۔
ب۔ محروم بچپن اور نامراد جوانی ورثہ میں ملی۔
ج۔ سنتے بہت تھے‘ لیکن کہتے کچھ بھی نہ
تھے۔ شاعری کو‘ گویا ذات کےانشراع کا ذریعہ
بنایا۔ شہرت اور ناموری کا عنصر موجود نہ تھا۔
د۔ ہم درد اور دیانت دار تھے۔
یہ چاروں عناصر‘ کسی ناکسی صورت میں‘ ان
کے ہاں نظر آتے رہتے ہیں۔ ان عناصر نے‘ انہیں
بڑا شاعر بنانے میں‘ نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے
ہاں شخصی اور سماجی تصاویر کی کمی نہیں۔ یہ
محاکاتی مرکبات‘ گوناں انفرادیت کے حامل ہیں۔
:نمونہ کے دو مرکب ملحظہ ہوں
کرنوں کے ریزے
اب اس مرکب کو مصرعوں کے حوالہ سے
دیکھیں۔ کیا کمال کی مصوری ہے۔
سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں
جیسے پورب کی دیوار پہ‘ انگوروں کی بیلوں
میں
بڑھتے‘ رکتے‘ ننھے ننھے‘ چمکیلے نقطے
کرنوں کے ریزے
چمکیلے نقطے اور پورب کی دیوار کی اہمیت اپنی
جکہ پر موجود ہے۔
مجید امجد کے ہاں‘ ایک سے ایک بڑھ کر‘
محاکاتی مرکب ملتا ہے۔ ہر مرکب گہری معنویت کا
حامل ہوتا ہے۔ چشم تصور کہاں سے کہاں‘ لے
:جاتی ہے۔ ذرا اس مرکب کو بھی دیکھئے
لمبی دھوپ
اس مرکب کو ان دو مصرعوں کے تحت ملحظہ
:فرمائیں
لمبی دھوپ کے ڈھلنے پر اب‘ مدتوں بعد ایک دن
یہ آیا ہے
دن جو ایسے دنوں کی یاد دلتا ہے جو سدا
ہمارے ساتھ ہیں
ہمارے ساتھ ہیں‘ میں بل کی معنویت پوشیدہ ہے۔
اردو شعر کی دنیا میں‘ ان گنت فکری‘ لسانی اور
اسلوبی رنگ ملتے ہیں۔ اہل سخن نے‘ بلشبہ شعر
کو نئے نئے لباس سے آراستہ کیا ہے۔ نئے نئے
محاورت دئے ہیں۔ دنیا کی دیگر زبانوں کی
شاعری‘ میر اور غالب نہیں دیکھا سکتی۔ میر
زبان اور غالب نے اردو کو اپنی فلک بوس فکر
سے‘ مال مال کیا۔ بدقسمتی یہ رہی ہے‘ یہاں ‘اپنا
آدمی‘ کے حوالہ سے‘ اہل سخن کو پرموٹ کیا گیا
ہے۔ اسی طرح کرسی قریب کے لوگوں کو بھی‘
زمین سے اٹھا کر آسمان پر بیٹھا دیا گیا ہے۔
معتوب تو جہنم رسید کیے گیے ہیں۔ ان کا کلم
ردی چڑھا ہے۔
اب میں تین ایسے اہل سخن کا ذکر کرنے جا رہا
ہوں‘ جن میں سے‘ دو نظر انداز ہوئے ہیں اور
ایک کرسی کی دائیں آنکھ پر رہا ہے۔
علمہ بیدل حیدری کی زبان صاف شفاف اور
الجھاؤ سے پاک ہے۔ ان کا انداز اور لہجہ‘ بڑا
جان دار ہے۔ وہ زندگی کے ان گنت نشیب و فراز
سے گزرے۔ یہ ہی وجہ ہے‘ کہ ان کا اسلوب
عصری حیات کے معاملت کو‘ بڑی خوبی سے‘
اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ مضامین کی رنگا
رنگی‘ انہیں منفرد بنانے میں‘ اپنا کردار ادا کرتی
ہے۔ وہ زندگی کے عمق میں‘ غوطہ زن ہوتے
ہیں۔ یہ بات مبالغے سے باہر ہے‘ کہ غالب کے
بعد‘ اردو شاعری کو اتنا بڑا شاعر‘ دستیاب ہوا
ہے۔ زندگی نے عسرت دی‘ لیکن اس نے اپنے
گلب سے لفظوں سے‘ زندگی کو سرفراز کیا۔ فقط
دو تین محاکاتی مرکبات ملحظہ فرمائیں۔ ان کے
حوالہ سے‘ یہ جاننے میں‘ ہرگز دشواری نہ ہو
گی کہ وہ فکری اور لسانی حوالہ سے‘ کس مقام
پر فائز تھے۔
چادر مہتاب
اب اس مرکب کو مصرعوں میں دیکھیں۔
کملی بھی اس کی چادر مہتاب کا غرور
اور زلف مشکبار کا حلقہ بھی روشنی
نظم :روشنی
مہتاب کا غرور۔۔۔۔۔۔۔ بھی اہل سخن کی خصوصی
توجہ کا طالب ہے۔
سحر کے پاؤں
اب اسے مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ
فرمائیں۔
فضائے امن و محبت کی آرزو ہے اگر
تو آفتاب افق سے اچھالنا ہو گا
سحر کے پاؤں سے کانٹا نکالنا ہو گا
نظم :قصہ پارینہ
سورج کی جوانی
اس مرکب کو مصروں کی دنیا میں ملحظہ
فرمائیں
مخلوق خدا کا وہ پسینے میں نہانا
یاد آ گیا سورج کی جوانی کا زمانہ
نظم :گرمیوں کی پہلی بارش
اختر حسین جعفری‘ معتوب اہل سخن میں سے
تھے‘ تب ہی تو‘ نظر انداز ہوئے‘ اور پاریکھوں
کے قلم پر نہ آ سکے۔ سچی اور خدا لگتی بات تو
یہ ہے‘ کہ وہ عصر جدید کے بہت بڑے شاعر
تھے۔ ان کی فکر عصری حوالوں کی عکاس ہے‘
لیکن زبان کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کی زبان
کلسیکل ہے‘ لیکن اس کا استعمال کلسیکل نہیں۔
انداز اور اسلوب‘ کلسیکیت سے میل نہیں کھاتا۔
زبان کی تفہیم کلسیکل پیمانوں کے حوالہ سے‘
ممکن ہی نہیں۔ یہ صورت حال کس جدید شاعر
میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ گویا وہ نئی شعری
زبان کے موجد ہیں۔ ان کے لفظوں کو‘ سمجھنے
کے لیے‘ عصری حیات کا شعور میسر ہونا
ضروری ہے۔ عصری حیات کے شعور کے بغیر‘
ان کا کلم سمجھا نہیں جا سکتا۔
لفظ کی تفیم کے بارے میں ان کا موقف ہے۔
کہاں ہے جوہر صورت کہاں زر معنی
جگائیں حرف کو خواب سفر سے اور پوچھیں
کہاں وہ قصر ہے جس کے کھلے دریچے سے
دکھائی دیتا ہے مفہوم کا نیا چہرا
ایک دوسری جگہ کہتے ہیں
بتائے کون کہ کاغذ کی سطح خالی پر
بغیر حرف بھی نقطہ وجود رکھتا ہے
اب ان کے چند اک محاکاتی مرکبات ملحظہ
فرمائیں
فرش سماعت
اب اس مرکب کو مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ
فرمائیں۔
اٹھائیں فرش سماعت سے لفظ لفظ کی خشت
صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں
برہنہ آنکھ
اب اس مرکب کو مصرعوں کے تناظر میں ملحظہ
فرمائیں۔
ملے فراغ کبھی جو خمار حاصل سے
برہنہ آنکھ سے وہ نشہء سفر دیکھوں
تین مرکباب اور دیکھ لیں لطف آئے گا۔
بینیوں کے طلسم
طلب کی ہوا
گریز کے پھول
مصرعے دیکھیے
سر نگاہ وہی پیش بینیوں کے طلسم
وہی طلب کی ہوا‘ وہی گریز کے پھول
کمال ہے‘ غالب کا لہجہ‘ غالب کا سا انداز اور
تفہیم کے ضمن میں وہ ہی دشواری۔
مقصود حسنی بھی نظرانداز اہل سخن میں سے
ہیں۔ ان کی یہ نظم دیکھیے ایک ہی نظم میں سات
محاکاتی مرکبات پڑھنے کو ملتے ہیں۔
ممتا
ممتا جب سے
صحرا میں کھوئی ہے
خون میں سوئی ہے
کشکول میں بوئی ہے
سفید پرندہ
خون میں ڈوبا
خنجر دیواروں پر
چاند کی شیشھ کرنوں سے
شبنم قطرے پی کر
سورج جسموں کی
شہل آنکھوں میں
اساس کے موسم سی کر
کھنڈر ہونٹوں پر
سچ کی موت کا قصہ
حسین کے جیون کی گیتا
وفا کے اشکوں سے
لکھ کر
برس ہوئے
مکت ہوا
خنجر دیواریں‘ شیشھ کرنیں‘ سورج جسم‘ شہل
آنکھیں‘ اساس کے موسم‘ کھنڈر ہونٹ‘ جیون کی
گیتا
درج بال معروضات کے تناظر میں‘ یہ کہنا کسی
طرح غلط نہ ہو گا‘ کہ جدید شاعری کا مطالعہ‘
فکری اسلوبی اور لسانی حوالہ سے‘ غیر مفید
نہیں رہے گا۔ اسی طرح معتوب اور نظر انداز
شعرا کو تحقیقی ورثے میں داخل کرنا‘ زبان کو
ثروت دینے کے مترادف ہو گا۔ نئے نئے محاورے
دستیاب ہوں گے۔ استعارے‘ علمتیں‘ تشبیہات
وغیرہ ہاتھ لگیں گی۔ یہ تردد اور توجہ‘ اردو زبان
پر بہت بڑی نیکی ہو گی۔
اختر حسین جعفری کی زبان کا لسانی جائزہ
) آئینہ خانہ کے تناظر میں (
ہر اچھے تخلیق کار کا کمال یہ ہی ہوتا ہے کہ
اسے جس رخ سے بھی دیکھو اس کے ہنر کا
کوئی ناکوئی کمال دکھائی دے۔ اس تخلیق میں نئی
فکر کے کئی گوشے پوشیدہ ہوں۔ استعمال کیا گیا
مواد‘ ناصرف نیا ہو بلکہ ہر اگلی نئی تخلیق کے
لیے‘ کار آمد ثابت ہو۔ مواد کی ہئیتی‘ معنوی اور
اشکالی تبدیلیوں سے‘ تخلیق کی دنیا میں‘
آسانیوں کے دروازے کھلتے ہوں۔ ایسا بالغ فکر
تخیلق کار‘ کسی ناکسی حوالہ سے‘ انسانوں کی
دنیا میں یاد رکھا جاتا ہے۔ نہ بھی رکھا جائے‘ تو
بھی وہ‘ ہر نئے کے باطن میں زندہ رہتا ہے۔
مارکونی بڑی حد تک‘ انسان کو بھول گیا ہے
لیکن وائرلس؛ ٹی وی‘ ریڈار موبائل وغیرہ کے
باطن میں‘ فکری حوالہ سے زندہ ہے۔
دوسری طرف‘ یہ بات بھی بڑی معنویت کی حامل
ہے‘ کہ استعمال کنندہ‘ استعمال کے حوالہ سے‘
استعمال کے نئے رستے تلشنے اور نکالنے وال
ہو۔ حظ اٹھانا‘ اپنی جگہ پر مسلم ہے‘ لیکن اس
حظ کو دوچند کرنے کے لیے‘ استعمال کی دیگر
راہیں کھوجنا‘ اپنی جگہ پر اہمیت کی حامل ہیں۔
کوئی استعمال کنندہ اس اہلیت سے خالی نہیں
ہوتا‘ ہاں اس انداز سے سوچنے اور کھوجنے
والے‘ بہت کم ہوتے ہیں۔ جو ہوتے ہیں‘ اپنی اصل
میں تخلیقی جوہر کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ
دوسروں سے‘ قطعی ہٹ کر سوچنے والے ہوتے
ہیں۔ وہ اس تخلیق میں رہ گئی کمی بیشی کی بھی
نشان دہی کرتے ہیں گویا وہ بہتری کی طرف
بڑھنے کا رستہ بتاتے ہیں۔
ادبی فن پاروں کی بھی‘ یہ ہی صورت ہوتی ہے۔
میر صاحب نے‘ اپنی شاعری میں ناصرف‘ اپنے
عہد کو عیاں کیا ہے‘ بلکہ نئی زبان بھی عطا کی
ہے۔ غالب نے‘ زبان یعنی تخلیقی مادے کو‘ طرح
داری سے سرفراز کیا ہے۔ لفظوں کے استعمال
کے حوالہ سے‘ نئی معنویت اور نیا نفسیاتی
شعور سامنے آیا ہے۔ اقبال نے‘ لفظ کو فلسفے
اور نظریاتی مقصدیت عطا کی ہے۔ ذوق نے‘
محاورہ سے اردو زبان کا دامن بھر دیا ہے۔ گویا
سچا تخلیق کار نئی فکر و زبان سے متعلقہ زبان
کو ابلغی اور معنوی ثروت عطا کرتا ہے۔
اختر حسین جعفری کا شمار‘ جدید اردو شعرا میں
ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو اپنی جدت طبع
کے سبب‘ حیرت انگیز استعمالی و معنوی
تبدیلیوں سے نوازا ہے۔ ان کی زبان پڑھتے ہوئے
عجب لطف اور سرشاری سی میسر آتی ہے۔ یہ
بات بہرطور پیش نظر رہنی چاہیے‘ کہ کسی بھی
شعر پارے کی اس وقت تک درست تفہیم ممکن ہی
نہیں‘ جب تک اس کی زبان کا پوری صحت مندی
سے مطالعہ نہ کر لیا جائے۔ اختر حسین جعفری
کی فکر تک رسائی کے لیے‘ ان کی زبان کی تفہیم
اور فنی باریکیوں کو سمجھنا بہرطور ضروری
ہے۔
زبان میں‘ محاورے کو کلیدی حثیت حاصل ہوتی
ہے۔ ہر شاعر کا‘ اس کی شاعری سے مخصوص
محاورہ اور تکیہءکلم ہوتا ہے‘ جو شعر کی
تخلیق کی دنیا میں‘ الگ سے پہچان ہوتا ہے۔ گلی
میں آ کر نئی اشکال و معنویت حاصل کرتا ہے۔
لزم نہیں ہر محاورہ گلی میں آئے یا وہ گلی سے
اٹھے۔ جو بھی صورت رہی ہو‘ وہ محاورہ زبان کا
اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے۔ آتے کل کو‘ اس محاورہ
کے حوالہ سے‘ گزرے کل کی تخلیقی‘ سماجی‘
سیاسی‘ نفسیاتی اور معاشی اطوار کی گواہی
دستیاب ہوتی ہے۔
اختر حسین جعفری حسینی قافلے سے متعلق ہیں‘
یہ ہی وجہ کہ ان کے محاورہ‘ اور تکیہءکلم میں
حریت کے عناصر نظر آتے ہیں۔
ان کے محاورے کی نشت و برخواست میں‘
شدت اور اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ بادی النظر
میں‘ زبان کلسیکل ہے‘ لیکن زبان کا استعمال
اور معنویت‘ کلسیکیت سے لگا نہیں رکھتی۔ ان
کی ترکیب وترتیب اور استعمال کلسیکیت سے
قطعی ہٹ کر ہے۔ ان کے چند ایک محاورے‘ جو
نظم ۔۔۔۔آئینہ خانہ۔۔۔۔۔ سے لیے گیے ہیں‘ ملحظہ
ہوں۔
جگائیں حرف کو خواب سفر حرف جگانا
سے اور پوچھیں
اٹھائیں فرش سماعت سے خشت اٹھانا
لفظ لفظ کی خشت
خود اپنے آپ سرکتی فصیل ذات کی خشت
خشت سرکنا
خوشبو کشید کرنا وہ روشنائی‘ وہ خوش بوئے
غم کشید کریں
سجی ہے کون سی نوک مژہ راکھ سجنا
پہ ابر کی راکھ
رحم کے سکے گرنا گریں گے رحم کے سکے
کب ان حجابوں پر
صدا کے خشک سمندر کو سمندر چھاننا
چھان کر دیکھیں
خود اپنے آپ قدم چھوڑتی زمین فرار
قدم چھوڑنا
قدم نہ کھینچ کہ اس راہ پر ہمارے سوا
قدم کھیچنا
بدن کی لوح پر اتری تو سطر سطر ہوئی
لوح پر اترنا مکان جاگنا
مکین سونے لگیں تو
مکان جاگتے ہیں
اختر حسین جعفری کی نظم کے مصرعوں کے
پہلے لفظ ہوں یا آخری ان سے کچھ ناکچھ ضرور
تشکیل پاتا ہے۔
اٹھائیں سماعت سے لفظ صدا اٹھانا
لفظ کی خشت
صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں
مکین جگانا جگائے رکھتی ہے سب کو حجر
وہ ہو کہ شجر
مکین سونے لگیں تو مکان جاگتے ہیں
قدم نہ کھینچ کہ اس عہد قدم اکھاڑنا
منحرف کی ہوا
اکھاڑ آئی ہے پہچان کے خیاباں سے
اٹھائیں سماعت سے لفظ خشت دیکھنا
لفظ کی خشت
صدا کے خشک سمندر کو چھان کر دیکھیں
بدن سے اترے شکن در شکن لباس ہوا
ہوا رکنا
لہو کی لہر کسی ساحل یقیں پہ رکے
اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے
آئینہ کھلنا
اک اور ضرب کہ تمثال دار آئینہ
ہٹے نگاہ کے شیشے سے پردہ ہٹنا
عکس کا پردہ
دکھائی دیتا ہے مفہوم کا نیا چہرہ
چہرہ دیکھنا
نمو کی خاک نے پھر نمو دینا
ایک بار جوڑ دیا
اب کچھ مرکب ملحظہ ہوں
فراق ہجوم سحر
فراق حسن تمنا میں خود کشی کر لی
ہجوم رہگزر منتظر ہے کس کے لیے
سحر ہوئی تو در نیم وا پہ قفل پڑا
رخ نشیب شکستہ
رخ ہوا کی اطاعت میں رخ بدلتے ہیں
نشیب درد میں اتروں تو قتل گاہ کی خاک
شکستہ خول‘ کھلی بکتریں‘ جلے ہتھیار
طلسم خواب سی وہ چاندنی طلسم محال
شب وعدہ
محال تر سفر شوق جستجو ہے کہ اب
نمو کی خاک نے پھر ایک نمو دونیم
بار جوڑ دیا
دونیم جسم ارادے کی سبز ٹہنی سے
آواز جگنو
ہوا کے جھنڈ میں مہتاب گوش بر آواز
سواد زخم خود افروز سوچتا جگنو
فرار تفہیم
خود آپ اپنے قدم چھوڑتی زمین فرار
وہی نگاہ‘ وہی چاک حرف کی تفہیم
بعض اوقات بڑے کمال کی نظمیں تشکیل پا گئی
ہیں۔ مثل
چاند راہیں ہیں
پناہ دیوار کی
پر نہیں
سفر
نشان منزل دکھائے
قدم
جہاں افق بنیں
نظم آئینہ خانہ
بجھے
خود مرے ثبوت
نشان سواد سپیدہء بدن
خوابیدہ بھی گواہ کروں
لیکن نہیں
ظلمت ہوئی گواہ
نظم آئینہ خانہ
ہوا رکے پردہ آئے
درد ابد
پرواز پر ہے
نظم آئینہ خانہ
نہ نہ
در فصیل ذات ہے
گلیم فسردہ
چراغ حریم دار
بلد عمر دربدری
حلیف سوال
بےترتیب نہیں
نظم آئینہ خانہ
متعلقات کا استعمال خوب خوب کرتے ہیں
بغیر حرف بھی نقطہ وجود حرف۔۔۔۔۔۔نقطہ
رکھتا ہے
ہوا کے ہاتھ کی سب ناتمام ہاتھ۔۔۔۔۔۔تحریریں
تحریریں
مکان۔۔۔۔مکی مکین سونے لگیں تو مکان
جاگتے ہیں
گرہ بچی ہے یہی رابطوں کے تاگا۔۔۔۔۔گرہ
تاگے کی
چراغ جو شب آتش بجاں شب۔۔۔۔۔چراغ
سے جلتے نہیں
زبان تشنہ۔۔۔۔آب شور زبان تشنہ نہ رکھ آب شور
پر کہ مری
طیور لوٹ کے آئیں گے آشیاں۔۔۔۔طیور
آشیانوں میں
تکرار لفظی کلم میں حسن اور شائستگی پیدا
کرتی ہے۔ اختر حسین جعفری کے ہاں اس کی
مختلف صورتیں ملتی ہیں
اٹھا رہا ہوں زمیں سے دونیم حرف کا چاند
دکھا رہا ہوں وہ انگشت معجزہ جس پر
چھپا رہا ہوں تہ سنگ استخوان صدا
چھپا رہا ہوں وہ مقتل جہاں پہ لفظوں نے
وہ سن رہا تھا زمیں کا خروش‘ دزد کی چاپ
وہ گن رہا تھا ستارے‘ شجر‘ تبر کے نشاں
وہ چن رہا تھا رسن‘ سوختہ سفال چراغ
اسی کے نام کٹری دوپہر میں جلتے بدن
اسی کی نذر بجھے حوصلوں کی مزدوری
اسی کی نذر قلم‘ حاشیے‘ سیاق و سباق
اسی کے نام یہ تعویز نا فرستادہ
اسی کی نذر فرد رفتہ زمیں باغات
اسی کی نذر رکی آب جو‘ تہی دریا
اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے
اک اور ضرب کہ تمثال دار آئینہ
اک اور ضرب کہ بود ونبود کی تقسیم
قدم اک اور کہ اس کاخ وکوہ میں روشن ہے
قدم اک اور کہ آگے وہ معرکہ ہے جہاں
چراغ ایک سے ہیں‘ آنکھیں ہیں ایک سی جن کی
مژہ پہ خواب رہائی کی بوند بوند شفق
بوند بوند
دن کی لوح پر اتری تو سطر سطر ہوئی
سطر سطر
شاخ شاخ اس استخواں پہ پڑیں جس کی شاخ
شاخ پہ پھول
کلی کلی پہ پریشان خیال کی تتلی
کلی کلی
گلی گلی میں ہراساں پیمبروں کی صدا
گلی گلی
پروں سے جن کے افق تا افق دم پرواز
افق تا افق
بدن سے اترے شکن در شکن لباس ہوا
شکن در شکن
تکرار حروف سے فکری کیف پیدا کا دیتے ہیں
اور قاری کو قریب تر کر لیتے ہیں
نہ اسم ذات مرے کاغذات سے نکل
مکین سونے لگیں تو مکان جاگتے ہیں
زباں گرفتہ زن پیر اور سگ تشنہ
گریں گے رحم کے سکے کب ان حجابوں پر
تکرار حروف نے ناصرف گائیکی کو کمال دیا ہے
مطالعہ کو کیف آور بنا دیا ہے
دھنک کے رنگ میں گرد ممات گرتی ہے
صنعت فوق النقط کا استعمال
مرے خلف صف آرا‘ مرے خلف گواہ
صنعت تحت النقط کا استعمال
میں ایک پر کے سہارے عبور کر لوں گا
ایک صورت یہ بھی ہے
دھنک کے رنگ میں گرد ممات گرتی ہے
بانقط اور بےنقط آمیزہ ملحظہ ہو
وہی پناہ کا جنگل‘ وہی سگ مامور
تلمیع اختصار اور بلغت میں اضافے کا سبب بنتی
ہے۔ اس سے امکانی مماثلت بھی سامنے آتی ہے۔
اختر حسین جعفری کے ہاں اس صنعت کا بڑی
خوبی اور کمال کی ہنرمندی سےاستعمال ملتا ہے۔
اس ذیل میں یہ مثال ملحظہ ہو۔
زبان تشنہ نہ رکھ آب شور پر کہ مری
خمیدہ پشت پر رکھا ہے اب بھی مشکیزہ
ان کا سوالیہ انداز ان کے لفظوں کو زندگی کے
کرخت مناظر سے ادھر ادھر ہونے نہیں دیتا۔ مثل
کہاں ہے جوہر صورت کہاں زر معنی
بتا کہ کون سے بازو پہ ہے رسن کا نشان
سوال عدل تھا یا احتجاج تھا‘ کیا تھا
یہ کیسے خواب کا پانی ہے کور آنکھوں میں
خلف کس کے ہے صبح عناد کا دعوے
سوال معنویت تلشتے اور مقصدیت کو واضح
کرتے ہیں۔ یہ اپنے عہد کے جبر اور تشنہءتکمیل
آرزوں‘ خواہشوں اور ضروتوں کی گواہی دیتے
ہیں۔ یہ زندگی کے جمود کو بھی سامنے لتے ہیں۔
سوال درحقیقت زندگی کو رستہ دکھاتے ہیں اور
سوچوں کے عمل کو متحرک رکھتے ہیں۔
سردست‘ میرے پیش نظر اختر حسین جعفری کی
نظم آئینہ خانہ ہے اور اسی کے حوالہ سے‘ ان
کے کلم کی زبان کا مطالعہ پیش کر سکا ہوں۔
میرا اصرار ہے‘ کہ انہوں نے کلسیکل زبان میں‘
اپنے آج کو‘ بڑی کامیابی سے واضح کیا ہے۔ نئی
اور عصری فکر کے لیے‘ نئی اور عصری زبان
کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اختر حسین جعفری نے
ثابت کر دیا ہے‘ کہ زبان کا استعمال ہی‘اصل کمال
ہنر ہے۔ سب کچھ نیا اور عصری ہو‘ لیکن پیش
کش سلیقے سے عاری ہو‘ تو لطف غارت ہو جاتا
ہے۔
اختر حسین جعفری کا کلم‘ ہر عہد میں‘ اس امر
کی دلیل رہے گا‘ زبان کا درست اور برمحل
استعمال نئے اور پرانے کی تخصیص کو ختم کر
دیتا ہے۔ صاحب سلیقہ زبان کی انگلی نہیں پکڑتا
زبان کو اس کی انگلی پکڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ میں
نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مہدی حسن
اور پٹھانے خان کے طبلہ نواز پسینے میں ڈوب
گیے ہیں۔ ہر دو فن کاروں کے طبلہ نواز بڑے
پھنے خاں تھے لیکن دب کر رہے۔ یہ ہی مہدی
حسن اور پٹھانے خان کی آواز کا جادو تھا۔ اختر
حسین جعفری کے ہاں بھی لفظوں کی یہ ہی حالت
ہوتی ہے۔ نئے مفاہیم لیتے‘ انہیں پسینہ آ جاتا
ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہے‘ کہ لفظوں کو اختر
حسین جعفری کی انگلی پکڑنا پڑتی ہے اور اپنی
مرضی ومنشا سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ لغوی
اور مستعملی مجبوری یکسر دم توڑ دیتی ہے۔
فرش سماعت‘ مفہوم کا چہرہ‘ سحر کی شاخ‘
برہنہ آنکھ‘ ‘نشیب درد‘ لذت لحاصلی۔۔۔۔۔سسی
فس۔۔۔۔۔وغیرہ سے مرکبات کب پڑھنے سننے میں
آئے ہیں۔
لفظ اختر حسین جعفری کے ہاتھ میں کھلونے
کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ انہیں اپنی مرضی کے
معنی دیتے ہیں اور اپنی مرضی کی فکر ان کے
باطن میں اتارتے ہیں۔ قاری ان کی زبان سے
ناصرف لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ اسے ان کی
معنویت تک رسائی کے لیے رکنا بھی پڑتا ہے۔
اسی حوالہ سے چند مصرعے ملحظہ ہوں
فلک کی شاخ سے اتریں وہ طائران ابد
شنید و دید کے کاسہ بدست منظر کب
طلب کریں گے بہا‘ چشم سیر لوگوں سے
فقیہ شہر نے دیکھا ہے روئے قاتل میں
جلی زمین کا چہرہ‘ شکستہ شاخ کا زخم
اس استعاراتی زبان کے مطالعہ کے لیے‘ بلشبہ
گہرے سوچ کی ضرورت‘ ہر قدم پر محسوس ہوتی
ہے۔ اختر حسین جعفری سے لوگ ہی‘ اہل زبان
کی صف میں کھڑے اچھے لگتے ہیں اور قلب
ونظر کا سرور ٹھہرتے ہیں۔
اختر شمار کی شاعری۔۔۔۔۔۔۔ایک لسانیاتی جائزہ
یہ بات باور کر لینی چاہیے‘ کہ شخص زبان کے
لیے نہیں‘ زبان شخص کے لیے ہوتی ہے۔ جب
شخص زبان کا پابند ہو جاتا ہے‘ خیال اور جذبے
کے اظہار کے رستے میں‘ دیوار کھڑی ہو جاتی
ہے۔ کسی ناکسی سطح پر‘ زبان کے اصولوں اور
ضابطوں کی پاسداری ہو جاتی ہے‘ لیکن خیال اور
جذبہ‘ اپنی اصلیت برقرار نہیں رکھ پاتے۔ یعنی جو
کہنا ہوتا ہے وہ پس پشت پڑ جاتا ہے۔ جو کہنا تھا
یا جو کہنے کی ضرورت تھی‘ کہا نہ جا سکا‘ تو
سب لحاصل اور لیعنی ٹھہرے گا۔
دوسری بڑی بات یہ ہے‘ کہ لفظ اپنی ذات میں‘
تفہیمی استحکام نہیں رکھتا۔ جو لوگ لفظ کے
تفہیمی استحکام کے قائل ہیں‘ ہر قدم پر‘ ٹھوکر
کھاتے ہیں۔ لغت کچھ ہوتے ہوئے بھی‘ کچھ بھی
نہیں۔ اس پر اعتماد‘ گمراہ کرتا ہے۔ اس موضوع
پر‘ بڑی تفصیل سے بات کر چکا ہوں۔ نیٹ پر
موجود میری کتاب
The language problem
میں مضمون موجود ہے۔ لفظ اپنے متن میں ہی‘
معنویت سے ہم کنار ہوتا ہے۔ استعمال کنندہ کے
جذبے اور خیال کو‘ لفظ نے ہر حال اور ہر صورت
میں فالو کرنا ہوتا ہے۔
تیسری بات یہ کہ لفظ کی زبان کو سمجھے بغیر‘
تفہیم کے امور طے نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں کا
عمومی طور یہ ہی رہا ہے‘ کہ ہم لفظ کی بولی
سمجھے بغیر‘ تشریح کی طرف بڑھتے ہیں۔ کلم
غالب ہو‘ کہ کلم اقبال‘ بازار میں تشریحات کا
انبار لگا ہوا ہے۔ ہر کسی نے‘ لفظ کی بولی
سمجھے بغیر‘ تھوڑا نہیں‘ بہت کچھ لکھ دیا ہے۔
یہ معاملہ کسی المیے سے بہرطور کم نہیں۔
گلی کا کوئی عام شخص ہو‘ یا صاحب سخن‘ اپنا
الگ سے اسلوب رکھتا ہے۔ دونوں کے ہاں
طرحداری موجود ہوتی ہے۔ یہ نادانستہ طور ہوتا
ہے۔ مکالمے میں تفہیم کی ذیل میں‘ باڈی لنگوئج
اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ پس دیوار‘ کہی گئی بات‘
جب کانوں میں پڑتی ہے‘ تو سماعی آلہ متحرک
ہوتا ہے‘ ابہام کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔
پس دیوار ایک شخص کہتا ہے‘ آج میں اسے جان
سے مار دوں گا۔
سننے وال‘ اس بات کو اپنی ذات پر محمول کر
سکتا ہے۔ بات گرہ میں تو بندھے گی ہی‘ اس پر
طرہ یہ کہ اس ذیل میں‘ کوئی بھی منفی ردعمل
سامنے آ سکتا ہے۔ گویا کسی بھی سطح پر‘
سماعی آلے اپنی کارگزاری میں صفر ہو سکتے
ہیں۔ حالں کہ اس نے‘ روزانہ دودھ پی جانے
والی بلی کے بارے میں‘ کہا ہوتا ہے۔ بصارتی
آلے کی صورت بھی‘ اس سے مماثل ہو سکتی
ہے یا ہوتی ہے۔ جو دیکھا گیا ہو‘ ضروری نہیں
وہ اسی طرح سے ہو‘ جیسے دیکھا گیا ہوتا ہے۔
کاغذ پر موجود لفظوں کی تفہیم‘ اور بھی مشکل
ہوتی ہے۔ لکھی گئی بات کے لہجے کا تعین‘ خود
سے کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے‘ اہل سخن کے کہے
کی تفہیم‘ لفظوں کی بولی سمجھے بغیر‘ ممکن
ہی نہیں۔ اہل سخن عمؤم سے نہیں ہوتے‘ اس
لیے ان کے کہے کو‘ سرسری نہیں لیا جا سکتا
اور ناہی ان کا کہا‘ عموم کا کہا ہوتا ہے۔ انہیں
سمجھنے کے لیے‘ پہلے ان کی زبان سے آگہی
ضروری ہے۔ ان کے کہے کا اصل کمال یہ ہوتا
ہے‘ کہ ان کے لفظوں کو جس رخ اور جس پہلو
سے دیکھو گے‘ تہ در تہ مفاہیم‘ ملتے چلے
جائیں گے۔ اگرچہ لمحہءتخلیق تک رسائی ممکن
نہیں‘ پھر بھی‘ غور و فکر کے نتیجہ میں بہت
کچھ ہاتھ لگ سکتا ہے۔
کسی بڑی بات کو کہنے کے لیے‘ وہ لفظوں کو نیا
انداز اور نیا سلیقہ دیتے ہیں۔ لفظ اس طور سے‘
اور ان معنوں میں‘ کبھی استعمال ہی نہیں کیا گیا
ہوتا۔ گویا وہ لفظوں کو رواج اور لغت سے ہٹ
کر‘ اور اپنی مرضی کے معنی عطا کرتے ہیں۔
کپڑا ایک سا ہی ہوتا ہے‘ لیکن درزی کی ہنرمندی
اسے اور ہی پہب دے دیتی ہے۔ وہ پہب‘ بصارتی
آلت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ہر نئے
کے لیے‘ استعمال کا سلیقہ بھی نیا‘ اور الگ سے
ہوتا ہے۔ نئے کے لیے مرکبات بھی نئے وجود
پکڑیں گے۔
سبھی اہل سخن‘ اپنے اپنے حوالہ سے‘ اردو زبان
کے لیے‘ بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو
زبان کو بساط بھر‘ کچھ دیا ہی ہے۔ باہمی رنجش
ہو‘ کہ ادبی چپقلس‘ کسی معاملے کا رد عمل ہو‘
کہ ذات کا کرب زبان کو کچھ ناکچھ مل ضرور ہے۔
اقتداری ہواوں کے مسافروں سے بھی‘ زبان
مایوس نہیں ہوئی‘ ہاں‘ ان کی غلط اور اقتداری
شہادت نے‘ آتے کل کے لیے‘ مخمصے ضرور
چھوڑے ہیں۔ یہ ہی نہیں‘ ان کے کہے کے حوالہ
سے‘ تقسیم کا دروازہ ضرور کھل ہے۔ اقتدار سے
دور محروم لوگوں نے‘ اپنے وسیب کے معاملت
کو نگاہ میں رکھا ہے۔ سماجی اور اقتداری
بےانصافیوں کو‘ لفظوں میں ملفوف کرکے پیش
کیا ہے۔ جو بھی سہی‘ زبان کی خدمت ضرور
ہوئی ہے۔ سچی گواہیوں کی شاعری کی زبان کو‘
سٹریٹ نے قبولیت کی سند عطا کی ہے۔
عہد قریب کے تین چار لوگ محرومی‘ تلخی‘
بغاوت‘ جدت طرازی اور محبتوں کی مٹھاس کے
حوالہ سے
شاید فراموش نہ کیے جا سکیں گے۔ کونے
کھدرے میں سہی‘ ان کا نام ضرور باقی رہے گا۔
علمہ بیدل حیدری‘ عصر جدید کی بڑی توانا آواز
ہے۔ ان کے ہاں‘ زندگی اپنے ان گنت رنگوں کے
ساتھ رقصاں نظر آتی ہے۔ وہ نظم اور غزل کے‘
پختہ کار شاعر تھے۔ بڑے بڑوں کا قلم‘ ان کے
قلم کے‘ قدم لیتا نظر آتا ہے۔
اختر حسین جعفری‘ کلسیکل زبان کو جدید طور
سے‘ آشنا کرنے میں‘ اپنا جواب نہیں رکھتے۔
شکیب جللی کی فکر اپنی جگہ‘ ظالم دہائی کی
زبان استعمال کرتا ہے۔ مبارک احمد اور انیس
ناگی نے نثری نظم کی زبان کو الگ سے سلیقہ
عطا کیا۔ تبسم کاشمیری نے‘ زندگی کو شہد میں
ملفوف کرنے کی سعی کی جب کہ سعادت سعید‘
ہمیشہ جدت طرازی کے گھوڑے پر سوار رہے۔
ان سب کی زبان کا مطالعہ کریں‘ تو یہ کہے بغیر
بن نہ پائے گی‘ کہ ان اہل سخن نے اردو کو نیا
اور انسانی زندگی سے میل کھاتا‘ سلیقہ عطا کیا۔
یہ سب برگد ہیں‘ اور ان کی شاخوں کا شمار‘ مجھ
ناچیز طالب علم کے لیے ممکن ہی نہیں۔
عصر رواں میں‘ علمہ بیدل حیدری کے پائے کا‘
شاید ہی کوئی خوش فکر اور خوش زبان شاعر
نظر آئے۔ اس برگد کی ایک شاخ پر‘ میری نظر
پڑی ہے۔ اس کے کلم کی خوش بو‘ نفیس طبع
کے لوگوں کو مسرور کرتی ہے‘ اور کہیں گدگداتی
ہے۔ اس کی زبان اور فکر کا سلیقہ ہی الگ سے‘
اور ہٹ کر ہے۔ اس کا کلم پڑھ کر‘ واضح طور پر
محسوس ہوتا ہے‘ کہ وہ اردو زبان کی قدرت اور
لچک پذیری سے‘ خوب خوب آگاہ ہے۔ اس نے