The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫دا کی جگہ کا‬
‫پڑھنے کا وقت صبح و شام‬
‫پیر سوہنے دا ہے قربان‬

‫دا کی جگہ کا‬
‫پیر سوہنے کا ہے قربان‬

‫رحمان بابا کی زبان کا اردو کے تناظر میں لسانی‬
‫مطالعہ‬

‫باغ میں سو طرح کے پودے ہوتے ہیں۔ ہر پودے‬
‫کا اپنا رنگ ڈھنگ' طور اور معنویت ہوتی ہے۔ ہر‬
‫پودے کے پھول ناصرف ہیت الگ سے رکھتے‬
‫ہیں' ان کی خوش بو بھی دوسروں سے' الگ تر‬
‫ہوتی ہے۔ مالی کے لیے' کوئی پودا معنویت سے‬

‫تہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح' باغ بھی ان سو طرح‬
‫کے پودوں کی وجہ سے' باغ کہلتا ہے۔ یہ رنگا‬
‫رنگی ہی' اس کے باغ ہونے کی دلیل ہے۔ انہیں‬
‫بہرصورت' باغ کا حصہ ہی بنے رہنا ہوتا ہے۔‬

‫انسان بھی' ایک پودے کے مماثل ہے' جو‬
‫انسانوں کے ہجوم میں زندگی کرتا ہے' بالکل باغ‬

‫کے پودوں کی طرح۔ اس باغ میں بھی مختلف‬
‫رنگ' نسلوں اور مزاجوں کے لوگ آباد ہیں۔ ہر‬
‫رنگ' ہر نسل اور قوم کا شخص زندگی کے باغ‬
‫کے حسن اور معنویت کا سبب ہے۔ کسی ایک کی‬
‫غیرفطری موت' اس کے حسن اور معنویت کو گہنا‬
‫کر رکھ دیتی ہے۔ جب یہ ایک صف میں کھڑے'‬
‫ا کے حضور حاضری کا شرف حاصل کرتےہیں‬
‫تو مخلوق فلکی بھی' عش عش کر اٹھتی ہے۔ جب‬
‫کسی ہوس یا برتری کے زعم میں' اپنے سے'‬
‫کسی کی گردن اڑاتے ہیں' تو ابلیس جشن مناتا‬

‫ہے۔‬

‫یہ امر ہر کسی کے لیے' حیرت کا سبب ہو گا' کہ‬
‫زبانیں جو انسان کی ہیں اورانسان کے لیے ہیں'‬
‫ایک دوسرے سے قریب ہونے سے' پرہیز نہیں‬
‫رکھتیں۔ دشمن قوموں کی زبانوں کے لفظوں کو'‬

‫اپنے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہونے سے' منع‬
‫نہیں کرتیں۔ وہ انہیں اپنے دامن میں اس طرح‬
‫سے جگہ دیتی ہیں' جیسے وہ لفظ اس کے قریبی‬

‫رشتہ دار ہوں اور ان سے کسی سطح پر چھوٹ‬
‫ممکن ہی نہ ہو۔ زبانیں کسی مخصوص کی تابح‬
‫فرمان نہیں ہوتیں۔ جو' جس نظریہ اور مسلک کا‬
‫ہوتا ہے' اس کا ساتھ دیتی ہیں۔ ا جانے' انسان‬
‫تفریق و امتیاز سے' اٹھ کر' انسان کے دکھ سکھ‬
‫کا ساتھی کیوں نہیں بنتا۔ سیری اور سکھ اپنے‬
‫لیے' جب کہ بھوک پیاس اور دکھ دوسروں کے‬
‫کھیسے میں ڈال کر' خوشی محسوس کرتا ہے۔ ان‬
‫سے تو ایک درخت اچھا ہے'جوخود دھوپ میں‬
‫کھڑا ہوتا ہے اور جڑیں کاٹنے والوں کو بھی'‬
‫سایہ فراہم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔‬

‫مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور‬
‫المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے'‬
‫پشتو زبان کے عظیم صوفی شاعر حضرت رحمان‬
‫بابا صاحب کا دیوان مل ہے‪ .‬یہ کاقی پرانا ہے۔‬
‫اس کے ابتدائی ‪ 28‬صفحے پھٹے ہوئے ہیں۔ اسی‬
‫طرح آخری صفحے بھی موجود نہیں ہیں۔ دیوان‬
‫اول ص ‪ 78‬تک ہےاور یہاں کاتب کام نام فضل‬
‫ودود درج ہے۔ فضل ودود کا تعلق تہکال بال'‬
‫پشاور سے ہے۔ قیاسا کہا جا سکتا ہے کہ دیوان‬

‫کی جنم بھومی یعنی مقام اشاعت پشاور رہی ہو‬
‫گی' تاہم اسے پکی بات نہیں کہا جا سکتا۔ حیران‬
‫کن بات یہ ہے' کہ دو چار نہیں' سیکڑوں عربی‬
‫فارسی کے الفاظ' جو اردو زبان میں رواج عام‬
‫رکھتے ہیں' بڑی حسن و خوبی اور متن کی پوری‬
‫معنویت کے ساتھ' پشتو میں سما گیے ہیں' کہیں‬

‫اجنبت کا احساس تک نہیں ہوتا۔‬

‫دیوان میں بہت سی غزلوں کے قوافی' عربی‬

‫فارسی کے ہیں اور یہ عصری اردو میں رواج‬

‫رکھتے ہیں۔ ص ‪ 29‬پر موجود غزل کا مطلع یہ‬

‫‪:‬ہے‬

‫لکہ شام ھسے سحر‬ ‫یہ نظر د بےبصر‬

‫‪:‬اس غزل کے قوافی یہ ہیں‬

‫گوھر' زر' شر' برابر' بتر' بھتر' زبر' نظر' ضرر'‬

‫ھنر' خبر زناور یعنی جانور' روکر'اوتر' پیغمبر'‬

‫محشر' سفر' بشر' عنبر' پسر' اثر' رھبر' شر'‬

‫حجر' شجر' جادوگر'مصور پرور' ثمر' سر' مادر'‬

‫زیور' کمر' منبر' قمر قلندر' باور' کافر' مرور' در'‬

‫گذر' خر' افسر' میسر' مسخر' پدر' بتر' کشور'‬

‫سکندر' بحروبر' ‪...‬نماز‪ ...‬دیگر' بستر' چاکر'‬

‫کوثر' منور' خطر' شر' دفتر' اختر' بازیگر' شکر‬
‫مقدر' سرور' اکثر‬

‫ایک دوسری غزل جس کے تمام قوافی عربی‬
‫‪:‬فارسی کے ہیں۔ اس غزل کا مقطع یہ ہے‬

‫چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی‬
‫داد شعر دے رحمانہ کہ اعجاز‬

‫‪:‬اس غزل کے قوافی ملحظہ ہوں‬
‫آواز‪ -‬شہباز مطلع‬

‫غماز' داز' آغاز' باز' ساز' نماز' اعجاز‬

‫‪:‬صفحہ ‪ 176‬پر موجود کا مطلع ثانی ملحظہ ہو‬

‫د مطلوب بےوفائی‬ ‫و طالب و تہ وفا شی‬

‫‪:‬اب اس کے قوافی ملحظہ ہوں‬

‫آشنائی‪ -‬جدائی‪ .........‬مطلع اول‬

‫وفاشی‪ -‬بےوفائی۔۔۔۔۔۔۔۔مطلع ثانی‬

‫'گدائی' دوستائی‬

‫اگلے پانچ شعر پھٹے ہوئے ہیں۔‬

‫شیدائی' ملئی' رسوائی' بےنوائی' ریائی' فرمائی'‬

‫ستائی' دانائی' بھائی' کجائی' ھمتائی' عطائی'‬

‫دلکشائی' رھائی' پیمائی' صحرائی' تنھائی'‬

‫گرمائی' تمنائی' پارسائی' آزمائی' کمائی' زیبائی'‬
‫سودائی' خدائی' صفائی' سروپائی' رعنائی' بالئی'‬

‫دریائی' حلوائی‬

‫‪:‬ص‪ 88 :‬پر موجود غزل کے قوافی یہ ہیں‬
‫راغب' غائب' تائب' مناسب' غالب' طالب' واجب'‬

‫کاتب' قالب' نائب' عجائب' مراتب‬
‫یہ محض باطور نمونہ چند غزلوں کے قوافی درج‬
‫کیے ہیں ورنہ ان کی کئی غزلوں کے قوافی عربی‬

‫اورفارسی الفاظ پر مشتمل ہیں۔‬

‫حضرت رحمان بابا صاحب کے کئی ردیف عربی‬
‫فارسی الفاظ ہیں اور یہ الفاظ اردو میں مستعل ہیں۔‬

‫مثل‬
‫صفحہ‪ 41‬پر موجود ایک غزل کا ردیف اخلص‬

‫ہے جب کہ دوسری کا ردیف غرض ہے۔‬
‫صفحہ ‪ 42‬پر ایک غزل کا ردیف واعظ ہے جب‬

‫کہ دوسری کا ردیف شمع ہے۔‬
‫صفحہ ‪ 60‬پر ایک غزل کا ردیف تورو‬
‫زلفو‪....‬سیاہ زلف‪ .....‬ہے۔ زلف کو زلفو کی شکل‬

‫دی گئی ہے۔‬

‫ص ‪ 90‬پر موجود دو غزلوں کا ردیف نشت ہے‬
‫ص ‪ 91‬پرموجود دو غزلوں کا ردیف الغیاث ہے‬
‫ص‪ 100‬پر موجود ایک غزل کا ردیف عمر ہے‬
‫ص ‪ 116‬پر موجود دو غزلوں کا ردیف بےمخلص‬

‫ہے‬

‫اب ذرا باطور نمونہ' ان مصرعوں کو دیکھیں'‬
‫ناصرف صاف اور واضح ہیں' بلکہ ہر مصرعے‬
‫میں کم از تین لفظ ایسے ہیں جو اردو والوں کے‬

‫لیے اجنبی نہیں ہیں۔‬

‫نہ صیاد بہ ترے خبر وہ نہ شہباز‬
‫کھ مکان ئے پہ آسمان دے غذا او شو‬

‫ھمیشہ د معصیت پہ اور کباب یم‬
‫لکہ خس وی یا زر‬

‫تن د درست زیروزبر شو‬

‫رحمن بابا کے ہاں صنعت تضاد کے لیے استعمال‬
‫ہونے والے الفاظ ' اردو میں مستعمل ہیں۔ مثل‬

‫سیاھی م واڑہ سفیدی شوہ‬
‫تن د درست زیروزبر شو‬

‫نہ مسلم وی نہ کافر‬
‫ھمیشہ رفت و آمد کہ‬

‫لکھ عذر چہ صاحب تہ غلم نہ ک‬
‫ملمت د خاص و عام‬
‫نور پیدا شو شوروشر‬

‫منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم‬
‫چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک‬

‫رحمان بابا' اپنے کلم صنعت تکرار لفظی کا خوب‬
‫خوب استعمال کرتے ہیں۔ اس ذیل میں اردو میں‬
‫رواج رکھتے الفاظ کو بھی بڑی حسن و خوبی‬
‫سے استعمال میں لتے ہیں یا یہ الفاظ' زبان پر‬
‫دسترس ہونے کے باعث استعمال میں آ گیے ہیں‪.‬‬

‫مثل‬
‫د ھجران عمر د عمر پھ شمار نہ دے‬

‫دنیادار د دنیا کار کازہ د دین‬

‫ہم صوت الفاظ ' شعر میں شعریت کو جل بخشتے‬
‫ہیں۔ ان سے شعر میں نغمیت اور چستی پیدا ہوتی‬

‫ہے۔ رحمان بابا اس صنعت کا باکثرت استعمال‬
‫کرتے ہیں۔ اس سے ناصرف شعر کا مضمون روح‬

‫کی گہرایوں میں اترتا چل جاتا ہے' بلکہ جسم میں‬
‫تھرل سی پیدا کر دیتا ہے۔ بابا صاحب موصوف‬
‫نے' اردو کے مستعمل الفاظ کو تصرف میں ل کر‬
‫اپنی جدت طرازی' زبان دانی اور انسانوں کی‬
‫فکری سانجھوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس ضمن میں‬
‫دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔‬

‫نہ ئے متل نہ مثال نہ ئے زوال شتہ‬
‫کہ مطلب د نور چا نورے مرتبہ دی‬

‫پہ کینہ بہ آیئنہ نہ کڑی تہ خاک‬

‫لفظ کے متعقات کا' ایک مخصوص سلیقے سے‬
‫استعمال کرنا' ایک الگ سے فن کا درجہ رکھتا‬
‫ہے۔ بابا صاحب کو اس فن میں کمال حاصل ہے۔‬
‫متعلقہ لفظ نکھر جتا ہے۔ مفہوم الجھاؤ سے تہی‬
‫ہو کر' فکر کے دھارے موڑ دیتا ہے۔ ان کے پاس‬
‫ایک وسییع ذخییرہءالفاظ ہے۔ اس حوالہ سے' وہ‬
‫اردو کے مستعمل الفاظ کو بھی' تصرف میں‬
‫رکھتے ہوئے' انسان کے باہمی بھائی چارے کو‬
‫‪:‬واضح کرتے ہیں۔ چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں‬

‫بادشاھی د ھفت کشور‬

‫معشوقے ھمیشہ ناز پھ عاشق کاندی‬
‫پکار نہ دے مقتدی وی کہ امام‬
‫چہ تصویر کہ مصور‬
‫ستارہ بہ شمس قمر نہ شی ھرگز‬
‫پہ عیال د خپل پدر‬
‫ھم بادشاہ دے ھم سرور‬
‫نہ سنت د پیغمبر‬

‫رحمن بابا تلمیحات کے استعمال کی ذیل میں' اردو‬
‫شعرا سےالگ تر رویہ اور انداز اختیار نہیں‬
‫کرتے۔ اسی طرح پشتو میں ان کے نام علیحدہ‬

‫سے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے کلم میں' بہت سی‬
‫تلمیحات استعمال کی ہیں اور یہ اردو والوں کے‬

‫لیے' غیر مانوس نہیں ہیں۔ چند ایک مثالیں‬
‫‪:‬ملحظہ ہوں‬

‫کہ جنت دے کہ دوزخ دے کہ اعراف‬
‫د ابلیس و ریاضت تھ نظر او کڑہ‬
‫دغہ کار بھ پھ عصا کوے تر کوم‬
‫مرتبہ د سلیمان چہ چا لہ ورشی‬
‫چہ خاورے د فرھاد او د مجنون دی‬
‫ھغھ شیرین حوض کوثر‬

‫رحمن بابا کے بہت سے اشعار ضرب المثال کے‬

‫درجے پر فائز نظر آتے ہیں۔ ان اشعار میں اردو‬

‫کے بہت سے عمومی رواج رکھتے الفاظ موجود‬

‫ہیں۔ مثل‬

‫لکھ گنج د‬ ‫علمیت د بےعقلہ عالمانو‬

‫کتابونو پہ خرہ بارش‬

‫نہ مسلم وی‬ ‫پہ مثال د منافقو‬

‫نہ کافر‬

‫نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل خالی نقش‬

‫لکھ عکس د معکوس‬

‫نہ دلیل‬ ‫پہ تواب او پہ خدائے‬

‫وی نہ نظر‬

‫نہ سنت د‬ ‫نہ دے فرض د خدائے ادا کڑہ‬

‫پیغمبر‬

‫غلہ وی‬ ‫نہ مئے حسن نہ جمال وی‬

‫خلق پہ زیور‬

‫پشتو اور اردو میں' فارسی کے بہت سے مشترک‬
‫الفاظ موجود ہیں۔ رحمن بابا فارسی مصددر کا‬
‫بھی بلتکلف استعمال کر جاتے ہیں اور یہ رویہ‬

‫اردو والوں کے ہاں بھی موجود رہا ہے۔ رحمن‬
‫‪:‬بابا کے ہاں مصدر رفتن کا استعمال ملحظہ ہو‬

‫چہ ئے خواتہ رفتن دے‬

‫مرکبات شاعری کی جاان ہوتے ہیں اور یہ زبان‬
‫کو ثروت عطا کرتے ہیں۔ رحمان بابا کے ہاں'‬
‫پشتو مرکبات اپنی جگہ' اردو زبان میں مستعمل‬
‫الفاظ کے بہت سے مرکبات نظرآتے ہیں۔ ان‬
‫مرکبات کے حوالہ سے' دونوں زبانوں کی لسانی‬

‫قربت کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‬
‫واؤ سے ترکیب پانے والے مرکبات‬
‫ھمیشہ رفت و آمد کہ‬
‫نور پیدا شو شور و شر‬
‫چہ ئے قیل و قال د یارہ سرہ نہ دی‬

‫د دنیا چارے پہ مثل خواب وخیال دے‬
‫مساوی د عاشقی پھ خاص وعام‬

‫دیگر مرکبات کی کچھ مثالیں ملحظہ ہوں۔‬
‫ارمانو بھ کوی زار زار بھ ژااڑی‬
‫عاقبت بھ ئے جدا جدا منزل شی‬

‫نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل‬

‫و رئح بہ نھ شی شب تار د تورو زلفو‬
‫دیارغم لکھ مزرے دا باندی راشی‬

‫کہ د خلقو و نظر تھ آدمے دے‬

‫غرض دا چہ عاقبت خانہ خراب یم‬
‫بندیوان د ھغہ سیب ذقن پہ چاہ یئم‬
‫منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم‬
‫منت بار' دراصل منت کش ‪ ......‬منت کشیدن‬

‫سے‪ ......‬ہی کا روپ ہے۔‬
‫چہ پرے غم غلطہ د شپے پاسم‬
‫غم غلط کرنا' باقاعدہ اردو محاورہ ہے۔ اس‬
‫مصرعے میں بھی 'اس کا باطور محاورہ استعمال‬

‫ہوا ہے۔‬
‫چہ پرے غم غلطہ د شپے پاسم‬

‫دین دنیا' اردو اور پنجابی میں عام استعمال کا‬
‫مرکب ہے۔ بابا صاحب کے ہاں اس کا استعمال'‬

‫باسواد اور الگ سے رنگ لیے ہوئے ہے۔ ملحظہ‬
‫ہو‬

‫چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک‬
‫پنجاب میں بےمروتا' بےپرتیتا' بےنیتا' بےبنیادا‬
‫باطور گالی استعمال ہوتے ہیں۔ رحمان بابا صاحب‬
‫کے ہاں بےبنیادہ اور بےبقا کچھ اسی طرح سے'‬
‫استعمال میں آئے ہیں۔ لہجہ میں سختی واضح‬

‫طور پر موجود ہے۔‬
‫سر تا پایہ بےبنیادہ بےبقا شوم‬

‫ایک دعائیہ شعر ملحظہ ہو۔ کیا والہانہ اور‬
‫بےساختہ پن ہے۔‬

‫حق تعالی کہ ئے نصیب کھ ھغھ‬
‫شیرین حوض کوثر‬

‫بے' نہی کا سابقہ ہے اور اردو میں باکثرت‬
‫استمال ہوتا ہے۔ رحمان بابا کے ہاں بھی' یہ سابقہ‬
‫استعمال ہوا ہے۔ چند مثالیں ملحظہ ہوں۔ یہ الفاظ‬

‫اردو کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔‬
‫لکھ تش صورتہ بےروحہ‬

‫بےبالین او بےبستر‬

‫کہ جہان و بےھنر و تھ فراخ دے‬
‫د بےدرد ھمدمی بہ د بےدردک‬
‫رحمان ھسے بیوقوف سوداگر نہ دے‬
‫لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ‬
‫د بےمثلہ بےمثالہ بےمکان دے‬

‫لکہ تش کدو بے مغزہ‬
‫مراد ئے بےدیار لہ درہ بل ہاب نہ دے‬
‫رحمان ھسے و خپل یار تہ بےحجت رے‬

‫مزید کچھ نہی کے سابقے ملحظہ فرمائیں۔ الفاظ‬
‫‪:‬اور سابقے اردو زبان سے متعلق بھی ہیں‬

‫نا‬
‫پہ نابود باند ناحق د بود کمان ک‬
‫د نامرد د ھمدمی بہ د نامردک‬
‫تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک‬

‫کم‬
‫لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ‬
‫کم اندیشہ کہ بیدار دے بیدار نہ دے‬

‫ھر کم فھم کجائی‬

‫ھر کم بخت ئے کلہ مومی‬

‫بد‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫مزید دو سابقوں کا استعمال ملحظہ ہو جو اردو‬
‫میں بھی مستعمل ہیں۔‬

‫ھم‬
‫یؤ صورت دے ھم نشیب دے ھم فراز‬
‫ہم گفتار بہ ئے د خدائی پہ در قبول شی‬

‫نغمے کاندی ھم رقص کہ ھم خاندی‬

‫با‬
‫د رحمان پہ شعر ترکے د باکرام‬

‫اب چند لحقے ملحظہ ہوں' یہ اور ان سے متعلق‬
‫الفاظ ' اردو کے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہیں۔‬

‫ناک‬
‫تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک‬

‫کینہ ناک' اردو میں مستعمل نہیں تاہم کینہ اور‬
‫ناک' باطور لحقہ مستعمل ہیں۔‬

‫گار‬
‫صد رحمت شھ پھ روزگار د درویشانو‬

‫دار‬
‫دنیادار د دنیا کار کازہ د دین‬

‫خواہ‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫گو‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫مند‬
‫بؤ لحد دے ھنرمند و لرہ تنگ‬

‫پذیر‬
‫ھر کلم چہ دلپذیر او دلپسند وی‬

‫یہ ہی نہیں' بابا صاحب کے ہاں پجابی ذائقہ بھی‬
‫موجود۔ اردو میں پلید اور پلیدی استعمال میں آتے‬

‫ہیں۔ پنجابی میں پلید سے پلیت اور پلیدی سے‬
‫پلیتی' بولے لکھے جاتے ہیں۔ بابا صاحب نے‬
‫ایک مصرعے میں' یہ دونوں الفاظ استعمال کیے‬
‫ہیں۔ اس کے باوجود اسلوب پنجابی نہیں ہو پایا۔‬

‫د دنیا پھ پلیتی م حان پلیت کڑو‬

‫اردو میں ہمیشہ' جب کہ پنجابی میں ہمیش‬
‫مستعمل ہے۔ بابا صاحب نے کمال حسن و خوبی‬

‫سے اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔‬
‫دھوا غشے ھمیش حکمتہ پھ زور شی‬

‫لہور میں بیبیاں پاک دامنہ کے محترم و معزز‬
‫مزار ہیں۔ عوام میں پاک دامنہ مرکب معروف ہے۔‬
‫رحمان بابا نے اس مرکب کا استعمال کیا ہے۔ اس‬
‫سے پاکیزگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ملحظہ ہو‬

‫پاکدامنہ پرھیزگارہ از تینھ‬

‫بابا صاحب کا ایک مقطع باطور تبرک ملحظہ ہو۔‬

‫داد شعر‬ ‫چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی‬

‫دے رحمانہ کہ اعجاز‬

‫اگربابا صاحب کے اس مقطعے کو پڑھ کر' اگر‬
‫کوئی ان کی فکری پرواز اور پرذائقہ زبان کی داد‬
‫نہیں دیتا' تو اس سے بڑھ کر کوئی بدذوق نہ رہا‬

‫ہو گا۔‬

‫اس ناچیز سے لسانی مطالعے کے بعد' میں اس‬
‫نتیجہ پر پہنچا ہوں' کہ زبانیں بڑی ملن سار ہوتی‬
‫ہیں۔ اردو' پختو' پنجابی' عربی اور فارسی ایک‬
‫دوسرے سے یوں گلے ملتی ہیں' کہ کہیں اجنبیت‬

‫کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تلفظ' لہجہ' استعمال'‬
‫معنویت اور ہیت تک بدل لیتی ہیں اور لفظ'‬

‫اختیاری زبان کے قدم لیتے ہیں۔ آخر انسان کو کیا‬
‫ہو گیا ہے' کہ یہ مادی' نظریاتی' مذہبی' معاشی'‬
‫سیاسی دائروں کا مکین ہو کر' ایک دوسرے‬
‫سے' کوسوں کی دوری اختیار کر لیتا ہے۔ رنگ'‬
‫نسل اور علقہ' اسے دور کیے جا رہا ہے۔ لسانی‬
‫تعصب بھی اسے دور کیے رکھتا ہے۔ زبان کے‬
‫نام پر' دوریاں بڑھی ہیں' جب کہ ہر زبان دوریوں‬

‫‪.‬کو ناپسند کرتی ہے‬

‫انسان آخر کب' اپنی ہی زبان سے' ملن ساری کا‬
‫سبق لے گا۔‬

‫!!!۔۔۔۔آخر کب‬

‫امانت کی ایک غزل‪ ......‬فکری و لسانی رویہ‬

‫مخدومی و مرشدی حضرت قبلہ سید غلم حضور‬
‫حسنی المعروف بابا شکرا سرکار کے ذخیرہ ء‬
‫کتب سے' ایک مخطوطہ صفحات سولہ ' دستیاب‬
‫ہوا ہے۔ اس میں ایک بتیس اشعار پر مشتمل غزل‬
‫اور ایک نظم' جس میں باسٹھ اشعار ہیں' دستیاب‬
‫ہوئی ہے۔ غزل دیگر پرعنوان درج ہے' جس سے‬
‫یہ کھلتا ہے' کہ مواد اور بھی تھا اور وہ مواد'‬
‫حوادث زمانہ کا شکار ہو گیا۔ بابا جی مرحوم کے‬
‫جو ہاتھ لگا' انہوں نے محفوظ کر لیا۔ غزل والے‬
‫آٹھ صفحات پر' صفحوں کے نمبر درج نہیں ہیں'‬
‫جب کہ نظم کے آٹھ صفحوں پر صفحہ ‪ 13‬تا ‪20‬‬
‫درج ہے۔ مخطوطے کی حالت بڑی خستہ اور قابل‬
‫رحم ہے‪ .‬غزل کے مقطع میں' امانت تخلص ہوا‬

‫ہے' شاعر کا نام بھی امانت تھا یا یہ محض ان کا‬
‫تخلص تھا' ٹھیک سے کہا نہیں جا سکتا۔ ہاں یہ‬
‫ضرور کہا جا سکتا ہے' کہ یہ صاحب شعیان علی‬

‫سے متعلق تھے۔ مقطع ملحظہ ہو۔‬
‫رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے‬
‫دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا‬

‫کاغذ اور کتابت بتاتی ہے' کہ یہ مسودہ ایک سو‬
‫پچاس سال سے زیادہ' عمر رکھتا ہے۔ مضامین‬
‫غزل کی عمومی روایت سے متعلق ہیں۔ شاعر کی‬
‫زبان رواں' شایستہ اور شگفتہ ہے۔ کہیں کوئی‬
‫ابہامی صورت موجود نہیں۔ یہ ایک مربوط غزل‬
‫ہے۔ اس میں' بیانیہ' مخاطبیہ اور خود کلمی کا‬
‫اسلوب تکلم ملتا ہے۔ آغاز روح کے سفر سے ہوتا‬
‫ہے' باقی اکتیس اشعار' کسی ناکسی سطح پر' اس‬

‫سفر سے مربوط سے محسوس ہوتے ہیں۔‬

‫غزل کے پہلے چار اشعار میں یاد آیا باطور ردیف‬
‫استعمال ہوا ہے جب کہ باقی اٹھائیس اشعار میں‬
‫آیا کو ردیف بنایا گیا ہے۔ یاد کی صوت پر' الفاظ‬
‫باطور قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ اسے چار اشعار‬

‫کی غزل کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔‬
‫ملحظ ہو۔‬

‫روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا‬
‫دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا‬
‫چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا‬
‫روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا‬
‫آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا‬
‫کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا‬
‫میں وہ ہوں بلبل مستانہ جو مرجہاون نہال‬

‫بہول کر کنج قفس ۔۔۔۔۔۔۔چمن یاد آیا‬

‫تشنگی محسوس نہیں ہوتی' تاہم اگلے اشعار'‬
‫ارتباط کے احساس سے خالی نہیں ہیں۔‬

‫حسب رواج و رویت' الفاظ مل کر لکھے گیے‬
‫ہیں۔ مثل‬

‫دیکہکے' مجہپر' سمجہکر' کیطرح' کہہکر وغیرہ‬

‫دوچشمی حے کی جگہ' حے مقصورہ کا استعمال‬
‫کیا گیا ہے۔‬

‫رکہا' دیکہا' بہولے' مجہے' مجہپر‬

‫مہاپران بھی نظر انداز نہیں ہوئے۔‬
‫'ھ' بھ' پھ' جھ' چھ' کھ‬

‫ھے' کبھی' پھیر' برچھیاں' مجھے' کھیل‬

‫ایک جگہ نون غنہ کی جگہ' نون کا استعمال بھی‬
‫ہوا ہے۔‬

‫ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل‬

‫حے مقصورہ کی جگہ' بڑی ے کا استعمال بھی‬
‫پڑھنے کو ملتا ہے۔‬

‫ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا‬

‫متتعلق' مگر متضاد الفاظ کا استعمال' کمال حسن‬
‫و خوبی سے کیا گیا ہے۔ مثل‬

‫چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا‬
‫روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا‬

‫قفس‪ :‬قید' پابندی‬
‫چمن‪ :‬آزادی' خوشی' خوش حالی‬
‫پہلے مصرعے میں چہچہے اور رنج و مہن۔ بھول‬

‫اور یاد‬
‫دوسرے مصرعے میں قفس اور چمن‬
‫اس شعر میں زندگی کی دونوں حالتوں' رنج اور‬
‫خوشی کو نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔‬

‫ہم صوت' مگر متعلق لفظوں کا استعمال ملحظہ‬
‫ہو۔‬

‫کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا‬
‫کفن دفن' مرکب عمومی استعمال کا ہے۔‬

‫ایک ہی لفظ کے' دو اسماء کے لیے استعمال کی‬
‫ایک مثال ملحظہ ہو۔‬

‫گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا‬

‫عمومی مہاورے میں مرکب 'خیال ہی خیال میں'‬
‫استعمال ہوتا لیکن امانت نے' وہم ہی وہم میں'‬
‫استعمال کیا ہے۔ گویا وہم کو' خیال کے مترادف‬

‫کے طور پر' استعمال کیا گیا ہے۔‬
‫وہم ہی وہم میں اپنے ہوئے اوقات بسر‬

‫امانت نے' بڑے خوب صورت مرکب بھی' اردو‬

‫کے دامن میں رکھے ہیں۔ مثل‬

‫دشت غربت' ستم ایجاد' تکلف سخن' راہ عدم' عالم‬
‫غربت' آوارہ وطن' چاند گہی' کشتہ مقدر 'حسرت‬

‫پرواز' آتش عشق ' سخت جانی ' مرغ بسمل‬
‫رنج و مہن‬
‫چشمہءکوثر‬

‫عمومی طور پر حوض کوثر استعمال میں آتا ہے۔‬
‫ہار کا کھیل‬

‫عاشق کے نصیب‬
‫سورج کی کرن‬

‫چھینک آئے تو کہا جاتا ہے' کہ کسی نے یاد کیا‬
‫ہے۔ امانت نے' اس کے لیے ہچکیاں آنا استعمال‬
‫کیا ہے۔ اس کی معنویت چھینک آنا سے' الگ تر‬

‫ہے۔‬
‫ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل‬

‫کیا عزیزوں کو میں آوارہ وطن یاد آیا‬

‫امانت نے اپنی اس طول غزل میں' کئی ایک رائج‬
‫اصطلحات کا استعمال کیا ہے۔ ان کا استعمال' سفر‬

‫کے تناظر میں ہوا ہے۔ مثل‬
‫جنازہ' دفن' کفن' غسل صحت' زاہد ' عدم ' کشتہ‬

‫امانت کو مہاورات کے استعمال میں' کمال حاصل‬
‫ہے۔ وہ مہاورے کا استعمال' رواں روی میں کر‬
‫جاتے ہیں۔ یہ استعمال لسانیاتی حسن سے' بہرہ‬

‫ور ہے۔ چند ایک مہاورے ملحظہ ہوں۔‬
‫ہوش اڑنا' پر کاٹنا' نصیب لڑنا' رعایت سوجھنا'‬
‫گل لگانا' لہو خشک ہونا' خون میں نہلنا' امید‬
‫قطع ہونا' دل کڑا کرنا' منہ پھیرنا' روح دینا' دام‬
‫لگانا' خیال باندھنا' چٹکیاں لینا' اوقات بسر ہونا'‬

‫در بدر پھرنا' قدم رکھنا ' نقشا کھیچنا‬
‫مہاورے کے استعمال کی' صرف ایک مثال‬

‫ملحظہ ہو۔‬
‫رعایت سوجھنا‪ :‬بلبل زار سمجہکر یہ رعایت‬

‫سوجہی‬

‫امانت' تشببہات کا استعمال بھی بڑی خوبی سے‬
‫کرتے ہیں۔ مثل‬

‫ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا‬
‫شجر قامت دلدار مجھے یاد آیا‬

‫مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل‬

‫حسن شعر میں' تلمیح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔‬
‫امانت کے ایک ہی شعر میں' ایک ساتھ' تین‬
‫تلمیحات کا استعال ملحظہ فرمائیں۔‬
‫تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا‬
‫آپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا‬

‫شمشاد کے ساتھ' پہلیوں کا انتساب بڑا ہی من‬
‫بھاتا ہے۔ ملحظہ ہو‬

‫پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا‬

‫مقامی اور عمومی بول چال کے لفظ بھی'‬
‫استعمال میں لتے ہیں۔ مثل‬

‫بلبلوں کے لئے پالی میں نہ صیاد آیا‬
‫ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل‬

‫مستعمل مرکب الفاظ کا استعمال' اپنی ہی بن ٹھن‬
‫رکھتا ہے۔‬

‫پر واز‪ :‬ہو گئی قطع اسیری میں امید پرواز‬
‫گل بدن‪ :‬گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا‬

‫شم شاد‪ :‬پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا‬

‫صنعنت تکرار حرفی سے بھی' کام لیتے ہیں۔ مثل‬
‫در بدر پھر کے دل گھر کی ہمیں قدر ہوئی‬

‫اب امانت کے' دو ایک سابقوں لحقوں سے ترکیب‬
‫پانے والے' الفاظ ملحظہ فرمائیں‬
‫اہل وفا' بےاعتباروں' بےنشانی‬

‫پری زاد' خریدار' دل دار' بلبل زار 'در گاہ' سیاہ‬
‫فام‬

‫مترادف الفاظ کا استعمال' ان کے کلم میں ایک‬
‫الگ سے' تاثیر' جازبیت اور صوتی و بصری‬
‫حسن و توجہ کا سبب بنتا ہے۔ مثل یہ مصرع‬

‫ملحظہ فرمائیں‬
‫مجہکو رشک قمرچاند گہی یاد آیا‬

‫امانت کو ناصرف زبان پر دسترس حاصل ہے' بل‬
‫کہ ان کے بہت سے مضامین' بڑے پرلطف ہیں۔ ان‬
‫سے فکری حظ ہی نہیں' سماعتی اور بصری لطف‬
‫بھی میسر آتا ہے۔ اس ذیل میں' ذرا ان اشعار کو‬

‫دیکھیں' پڑھیں' غور کریں اور مزا لیں۔‬

‫روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا‬
‫دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا‬

‫‪............‬‬
‫آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا‬
‫کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا‬

‫‪...........‬‬
‫مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل‬
‫گل لگا کر کہا قمری نے میرا صیاد آیا‬

‫‪............‬‬
‫غسل صحت کی خبر سن کے ہوا خشک لہو‬
‫خون میں نہلنے کو فورا مجھے جلد آیا‬

‫‪..........‬‬
‫تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا‬
‫اپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا‬

‫‪..........‬‬
‫ہو گیا حسرت پرواز میں دل سو ٹکڑے‬
‫ہم نے دیکہا جو قفس تو فلک یاد آیا‬

‫‪..........‬‬
‫کیوں تیرا عاشق برکشتہ مقدر کیطرح‬

‫ستم تو نے کئے تو چرخ کہن یاد آیا‬

‫‪...........................................................‬‬
‫‪.............‬‬

‫دیگر‬
‫روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا‬
‫دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا‬
‫چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا‬
‫روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا‬
‫آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا‬
‫کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا‬
‫میں وہ ہوں بلبل مستانہ جو مرجہاون نہال‬
‫بہول کر کنج قفس ۔۔۔۔۔۔۔چمن یاد آیا‬
‫آتش عشق کا پا کر میری رگ رگ میں اثر‬

‫آپ ہمراہ لئے نشتر فصاد آیا‬
‫سخت جانی سے میری پھیر دیا منہہ دم میں‬

‫دل کڑا کرکے اگر خنجر فولد آیا‬
‫ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا‬

‫دام مجہپر لگانے کو کوئی صیاد آیا‬
‫برچھیاں ہیں مجہے سورج کی کرن‬

‫سنہکیاے کے یہ چرخ ستم ایجاد آیا‬
‫دل ہوا سرو گلستانی کے نظارے سے نہال‬

‫شجر قامت دلدار مجھے یاد آیا‬
‫ہو گئی قطع اسیری میں امید پرواز‬
‫اڑ گئی ہوش جو پر کاٹنے صیاد آیا‬
‫ہار کا کھیل ہوا لٹر گئے عاشق کے نصیب‬
‫غیر بول جو فراموش تو میں یاد آیا‬
‫بلبل زار سمجہکر یہ رعایت سوجہی‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پر باندھنے صیاد آیا‬
‫اس درد دل فرموش کیا عاشق کو‬
‫نہ کبھی آپ کو بہولے سے بھی میں یاد آیا‬
‫مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل‬
‫گل لگا کر کہا قمری نے میرا صیاد آیا‬
‫در جاناں کا باندھے ھے چمن دہر میں رنگ‬
‫پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا‬
‫غسل صحت کی خبر سن کے ہوا خشک لہو‬
‫خون میں نہلنے کو فورا مجھے جلد آیا‬
‫ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل‬
‫کیا عزیزوں کو میں آوارہ وطن یاد آیا‬
‫رخ جاناں پہ نظر کرکے بندہا گل کا خیال‬
‫قد کو دیکہا تو مجہے سرو چمن یاد آیا‬

‫بےنشانی سے نشاں بہول گیا آنے کو‬
‫کھینچ چکا ہار نقشہ تو وہی یاد آیا‬
‫تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا‬

‫اپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا‬
‫خم کے ٹکڑے کئے شیشوں کو کیا میں نے چور‬

‫توڑے پیمانے جو وہ عہد شکنی یاد آیا‬
‫طفل اشک آنکہوں میں بھرنے لگے مردم کیطرح‬

‫خورد سالونکو بزرگوں کا چلن یاد آیا‬
‫تیرے منہہ پر جو رکہا غیر سیاہ فام نے منہہ‬

‫مجہکو رشک قمرچاند گہی یاد آیا‬
‫کیوں تیرا عاشق برکشتہ مقدر کیطرح‬
‫ستم تو نے کئے تو چرخ کہن یاد آیا‬
‫چٹکیاں دل میں میرے لینے لگا ناخن عشق‬
‫گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا‬
‫وہم ہی وہم میں اپنے ہوئے اوقات بسر‬

‫کمر یار کو بہولے تو دہن یاد آیا‬
‫برگ گل دیکہکے آنکہوں میں تیرے پھر گئے آب‬

‫غنچہ چٹکا تو مجہے تکلف سخن یاد آیا‬
‫در بدر پھر کے دل گھر کی ہمیں قدر ہوئی‬
‫راہ غربت میں جو بہولے تو وطن یاد آیا‬

‫چلو درگاہ میں ہنگامہ ہے دیوانوں کا‬

‫بڑی منت کی بڑھانے کو پری زاد آیا‬
‫ہو گیا حسرت پرواز میں دل سو ٹکڑے‬
‫ہم نے دیکہا جو قفس تو فلک یاد آیا‬
‫بے اعتباروں سے نہیں اہل وفا کو کچہ کام‬
‫بلبلوں کے لئے پالی میں نہ صیاد آیا‬
‫رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے‬
‫دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا‬

‫‪.......‬‬

‫باراں ماہ غلم حضور شاہ‬

‫سید غلم حضور‬

‫پ ‪ 1907‬م ‪1988‬‬

‫ہر پڑھنے لکھنے وال' اپنے ہی گھر میں' اپنی‬
‫ہی عزت مآپ تینویں مبارکہ سے یہ جملے‬

‫سنتا آ رہا ہے۔‬
‫تم نے زندگی میں کیا ہی کیا ہے۔‬

‫گھر کو کوڑ کباڑ بنائے رکھا ہے۔‬

‫لوگ جائیدادیں بناتے ہیں تم نے جائیداد میں بس‬
‫ردی ہی بنائی ہے۔‬

‫لٹیرے اور تباہ کاریئے عموما چار طرح کے رہے‬
‫ہیں۔‬

‫ادھر اماں بابا مرے ادھر آل اولد چھنیوں کولیوں‬
‫پر ٹوٹ پڑی۔ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ کے حصول‬

‫میں الجھ جاتا ہے۔ بابے کے کاغذات کی ٹھوک‬
‫بجا کر بڑی بےدردی سے تلشی لی جاتی ہے کہ‬
‫بابے نے کاغذوں کتابوں میں مختصر یا کوئی لمی‬

‫چوڑی رقم نہ چھپا دی ہو۔‬
‫تلشی کے بعد بابے کے لفظ' جو اس کی عمر بھر‬
‫کی کمائی ہوتے ہیں ردی میں بک جاتے ہیں۔ کہیں‬

‫زوراور آل اولد بابے کے مرنے کا بھی انتظار‬
‫نہیں کرتی۔ یہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کا سامان‬
‫اس کی آنکھوں کے سامنے ہی ہو جاتا ہے۔ ڈھیٹ‬

‫بن کر جی رہا ہوتا ہے' لفظوں ناقدری برداشت‬
‫نہیں کر پاتا اور اگلے سفر پر بڑی حسرت اور‬

‫بےبسی سے روانہ ہو جاتا ہے۔‬

‫چور ڈاکو بھی جہاں گھر کے دوسرے سامان کی‬
‫پھرول پھرولی کرتے ہیں وہاں کتب خانے بھی‬
‫ویرانے میں بدل جاتے ہیں۔ کہیں اور کسی دور‬
‫میں کسی بابے نے رقم نام کی چیز رکھ دی ہو گی‬
‫اور یہ شک چوروں میں نسل در نسل چل آتا ہے۔‬

‫ورنہ علم اور سکے کب ہم سفر رہے ہیں۔‬

‫حیران چوری ایسا مشکل اور دقت گذار پیشہ‬
‫صدیوں سے چل آتا ہے۔ ریسک کے ساتھ جگاترا‬
‫کاٹنا ایسا آسان کام نہیں۔ اگلے وقتوں میں پکڑے‬

‫جانے کی صورت میں چھتر بھی کھانے پڑتے‬
‫تھے۔عصر حاضر میں یہ رواج نہیں رہا۔ پہلے ہی‬

‫مک مکا ہو چکا ہوتا ہے۔ ہاں چھتروں کا رخ‬
‫تبدیل ہو چکا ہے۔ چور شور مچاتے ہیں اور ان‬
‫کے شور کو اول تا آخر پذیرائی حاصل رہتی ہے۔‬

‫تیسرے نمبر پر اپنا ہی ملک فتح کرنے والے آتے‬

‫ہیں۔ یہ جہاں جان مال اور املک کو غارت کرتے‬
‫ہیں وہاں لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی جمع‬
‫پونجی ردی کو بھی برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔‬

‫بیرونی حملہ آواروں زبان غیر کی مرقومہ ذہانت‬
‫و فطانت سے کیا لینا دینا۔ وہ زمین املک اور‬
‫سونے چاندی کے سکوں کی چمک دمک میں‬
‫اپنے ہاں کی ردی کو بھی خاطر میں نہیں لتے۔‬

‫مخدومی ومرشدی سید غلم حضور نے دنیا کو‬
‫‪ 1988‬میں الودع کہا تو محترمہ والدہ صاحب نے‬
‫چلتی سانسوں تک مکان آباد رکھا۔ حسب سابق‬

‫بچے ان سے علمی استفادہ کرتے رہے۔ آخر‬
‫مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہے صرف دو چار بار‬
‫مکان کے تو تکرار ہوئی۔ میری خواہش تھی کہ‬
‫مخدومی ومرشدی سید غلم حضور کی اقامت گاہ‬
‫کو بہرطور آباد رہنا چاہیے۔ وہ مجبور تھیں وقت‬
‫سے پہلے کس طرح مر جاتیں۔ چھنوں کولیوں‬
‫کے شوکینوں کی سنی گئی اور وہ ‪ 1996‬میں‬
‫انتقال فرما گئیں۔ کفن دفن کے ساتھ ہی کیل کانٹوں‬
‫سے لیس قبضہ گروپ نے قدم جما لیے۔ میں نے‬

‫غور ہی نہ کیا۔ امی ابا ہی نہ رہے تھے اب میرے‬
‫لیے وہاں کیا رہ گیا تھا۔‬

‫مخدومی ومرشدی سید غلم حضور پنجابی شاعر‬
‫تھے۔ علوہ ازیں بھی اچھی خاصی ردی ورثہ میں‬

‫چھوڑی تھی۔ اس کا کیا ہوا یہ ایک الگ سے‬
‫کہانی ہے۔ اسے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھا‬
‫رکھتا ہوں۔ چھوٹی نصرت شگفتہ نے ایک رجسٹر‬

‫مہیا کیا ہے۔ اس میں ‪ 76 ,75 ,1974‬کا کلم‬
‫ہے۔ رجسٹر کی حلت کا کچھ نہ پوچھیے۔ اگر اس‬

‫پر تاریخیں درج نہ ہوتیں تو میں نے اس کے‬
‫حضرت آدم ع سے پہلے ہونے کا دعوی داغ دینا‬
‫تھا۔ گویا میرے والد صاحب مخدومی ومرشدی سید‬
‫غلم حضور' حضرت آدم ع سے پہلے ہو گزرے‬

‫ہیں۔‬

‫اس میں مختلف نوعیت اور مختلف اصناف پر‬
‫مبنی کلم ہے۔ بارہ ماہ مقبول و معروف صنف‬
‫شعر رہی ہے۔آج چوں کہ دیسی مہینے اندراج میں‬
‫نہیں رہے لہذا یہ صنف ادب ہی ختم ہو گئی ہے۔ یہ‬
‫بھی اس رجسٹر میں ملتے ہیں۔ سن اندراج درج‬

‫نہیں۔ کاتب کون ہے ٹھیک سے کچھ کہہ نہیں‬
‫سکتا۔ ساون کے چاروں شعر ہیں۔ آخری مصرع‬
‫پڑھا نہیں جا رہا۔ پھاگن کے دو مصرعے اندراج‬
‫میں آئے ہیں۔ دونوں ہی پڑھے نہیں جا رہے۔ آج‬
‫چوں کہ دیسی مہینے اندراج میں نہیں رہے لہذا یہ‬

‫صنف ادب ہی ختم ہو گئی ہے۔‬

‫ہر مہینے کے برصغیر میں الگ سے رنگ رہے‬
‫ہیں۔ قدرتی طور شخص کے جذبات اور احساسات‬
‫ان کے حوالہ سے تبدیلی آتی ہے۔ شاعر باریک‬

‫بین ہوتا ہے اور وہ بدلتے موسموں کے ساتھ‬
‫شخص کے باطنی رنگوں کا بھی مطالعہ کر لیتا‬
‫ہے اور ان رنگوں کا اظہار بھی اسی طور سے‬

‫کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‬

‫باباجی کے ان بارہ مہینوں میں ہجر کی مختلف‬
‫کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ زبان بالکل سادہ اور‬
‫عوامی ہے۔ مفاہیم تک رسائی کے لیے زیادہ تردد‬
‫نہیں کرنا پڑتا۔ البتہ دو اطوار اختیار کئے گئے‬
‫ہیں۔ کہیں معاملہ ذات سے اور کہیں سیکنڈ پرسن‬

‫کے حوالہ سے بات کی ہے۔ دونوں صورتوں کی‬
‫مثالیں ملحظہ ہوں۔‬

‫غلم حضور شاہ بلوے بیٹھا کوئی سندا نئیں ‪1-‬‬
‫واجاں نوں‬

‫غلم حضور شاہ نوں للچ ل کے گلں دے وچہ‬
‫ٹالیا سو‬

‫غلم حضور شاہ دے آکھے لگ کے دکھڑے ‪2-‬‬
‫میں سناواں گی‬

‫غلم حضور شاہ دے آکھے لگ کے کھوتا‬
‫کھوہ چا پایا ای‬

‫صنف ریختی کے علوہ بھی صیغہ تانیث استعمال‬
‫کرنے کا عام رواج تھا۔ بابا جی کے ہاں یہ رویہ‬

‫ملتا ہے۔ مثل‬
‫چیت مہینہ چڑھیا اڑیو میں ہن لبھن جاواں گی‬
‫وساکھ وساکھی ٹر گئے لوکیں گھر وچہ بیٹھی‬

‫رواں میں‬
‫گھر وچہ بیٹھی دل پرچاواں کر کر یاد تیریاں یاداں‬

‫نوں‬

‫باباجی کے ہاں عوامی محاورہ اور امثال کا بڑی‬
‫خوبی سے استعمال میں آئے ہیں۔ مثل‬
‫گھت کٹھالی گالیا‬
‫کھوتا کھوہ چا پایا ای‬
‫پکاراں کر کر تھکی‬
‫تیر کلیجے لیا‬

‫معروف ہے تکیف اور دکھ چپ وٹنا درست نہیں۔‬
‫کوٹھے پر چڑھ کر اعلن کرو۔ بابا جی کے ہاں‬

‫استعمال ملحظہ ہو۔‬
‫کوٹھے چڑھ کھلوواں‬
‫بہرطور شخصی احساس اور باطنی کیفیات کو‬
‫بڑے موثر انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اب باباجی‬
‫کا کلم ملحظہ ہو۔ یہ تحریر میں کب آیا کچھ کہ‬
‫نہیں سکتا۔ ہاں اس رجسٹر پر ‪ 1974‬یا ‪1975‬‬
‫میں نقل کیا گیا۔ اس حساب سے بھی چالیس سال‬
‫سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ ناقل نے کہیں ناکہیں‬
‫ٹھوکر کھائی ہو گی۔ پڑھا نہیں جا رہا لہذا محفوظ‬
‫میں بھی نہیں رہا ہوں گا۔‬

‫اکبر اردو ادب کا پہل بڑا مزاحمتی شاعر‬

‫ناخوشگوار اور ناسازگار حالت میں' حق کہنا‬
‫آسان کام نہیں۔ اکبر الہ آبادی نے' یہ فریضہ بڑے‬
‫سلیقے اور اہتمام سے انجام دیا۔ سرکاری ملزم ہو‬

‫کر' ناگوار حالت پیدا کرنے والوں کو' آڑے‬
‫ہاتھوں لیا۔ کہیں پوشیدہ کہیں نیم پوشیدہ اور کہیں‬

‫بلپوشیدگی' کہنے کی بات' کہہ دی۔ ایک طرف‬
‫سرسید' جو مغربی تہذیب کے نمائندہ تھے'‬
‫ساتھیوں سمیت' مغرب کے لیے سرگرم عمل‬

‫تھے' تو دوسری طرف اکبر' اس کہے یا کیے کی'‬
‫تکذیب کر رہے تھے۔ ہمہ وقت سپاٹ اور براہ‬
‫راست کہنا' آسان کام نہ تھا اسی لیے انہوں نے‬

‫طنز و مزاح کا رستہ اختیار کیا۔ ہاسے ہاسے میں'‬
‫کسی عمل' فکر یا طور کی ڈنڈ لہ کر رکھ دیتے‬
‫ہیں۔ ایک طرف ٹیم ورک ہو رہا تھا' تو دوسری‬
‫طرف فرد واحد' غیرسنجیدہ انداز میں' سرگرم‬
‫عمل تھا۔ بدقسمتی یہ کہ جس پذیرائی اور اعزاز و‬
‫اکرام کے مستحق تھے' وہ انہیں میسر نہ آئی‪.‬‬

‫اس کے برعکس' سرکاری گماشتے سر خان‬
‫بہادر اور شاہی تلوے چوس' کیا سے کیا قرار دے‬
‫دیے گیے۔ بدقسمتی کی بات یہ کہ وہ تاریکیوں‬

‫کے امین' آج بھی عظیم تاریخی اور قومی‬
‫شخصیات ہیں۔ شاہی کڑچوں کا ہیرو ٹھہرنا' کوئی‬

‫نئی نہیں' بہت پرانی ریت چلی آتی ہے۔‬

‫اکبر نے اردو کو نیا طور اور نیا اسلوب دیا۔ ان‬
‫کے اکثر مرکبات بڑے کاٹ دار ہیں۔ ان کی ترکیبات‬
‫اور تشبیہات' حساس دلوں کی دھڑکنوں کو بڑی‬
‫ملئمیت سے چھیڑتی ہیں۔ جب وہ پرانی اقدار کی‬

‫تذلیل کا نوحہ کہتے ہیں' تو مغرب پریدہ انہیں‬
‫دقیانوس قرار دے کر' ان کی سننے سے انکار کر‬

‫دیتا ہے۔ اس ذیل فقط یہ دو شعر ملحظہ ہوں‬

‫تمھاری پالیسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحب‬
‫ہماری پالیسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی‬

‫شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشد‬
‫مسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی‬

‫اکبر کا موقف رہا ہے' کہ بےشک ہمارے دشمنوں‬
‫نے ہمیں روند ڈال ہے' ہمارے مذہبی اور تہذیبی‬
‫ورثے کو ناقابل تلفی نقصان پہنچا ہے' ریورس کا‬
‫عمل اگرچہ ابھی جاری ہے' تاہم اس امر کو خارج‬
‫از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا' کہ جو لوگ آج‬
‫کامیاب ہیں' کل جہاں بانی کے معاملت میں ناکام‬
‫ہو جائیں اور آج کے ناکام کل کو کامیاب ٹھہریں۔‬

‫انگریز نے ‪ 1857‬میں جنگ جیت جانے کے بعد'‬
‫ظلم وستم کی انتہا کر دی۔ چوں کہ اس نے مسلم‬
‫حکومت کو ختم کیا تھا اور ردعمل کی' اسی سے‬
‫توقع تھی' اس لیے زیادہ تر مسمان ہی اس کی‬
‫تیغ ستم کا نشانہ بنے۔ دہلی اس وقت چھے لکھ‬
‫آبادی کا شہر تھا' جہاں آہوں اور سسکیوں کے‬
‫سوا' کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ اس صورت حال سے‬
‫گزرنے کے باوجود' مسلمانوں میں جذبہءآزادی‬
‫بیدار ہوا' جس کے باعث زندگی میں جدوجہد کی‬

‫ایک نئی لہر‬
‫دوڑنے لگی' اکبر کے ہاں اس امر کا اشارہ ملتا‬
‫ہے' کہ فاتح اپنی فتح پر خوش نہ ہوں' کیوں کہ‬
‫سورج ہمیشہ نئے انقلب کے ساتھ طلوع ہوا کرتا‬

‫ہے۔ ان کا موقف تھا' کہ لوگ مرتے رہتے ہیں'‬
‫آزادی کے متوالے جنم لیتے رہتے ہیں۔ غلمی‬
‫سے آزادی تک کا سفر' ہر صورت اور ہر رنگ‬
‫میں' جاری رہتا ہے۔ پرانی نسل ختم ہو رہی ہے تو‬
‫اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس تناسب سے‬
‫اموات ہو رہی ہیں' اسی تناسب سے لوگ آ بھی‬
‫رہے ہیں' جو اپنے سینے میں گزرا ہوا کل رکھتے‬
‫ہیں۔ اکبر کے ہاں جگہ جگہ موازنہ کی صورتیں‬
‫نظر آتی ہیں اور واضح ا لفاظ میں' نئی آمدہ تہذیب‬

‫کے نقائص کو واضح کیا۔‬

‫نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی‬
‫کہ آخر مسلمانوں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی‬

‫ہم ریش دکھاتے ہیں کہ اسلم کو دیکھو‬
‫‪v‬مس زلف دکھاتی ہے کہ اس لم کو دیکھو‬

‫اس پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ بعض اوقات بڑی‬
‫بےباقی سے کام لیتے ہیں۔ مثل‬

‫یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیل اسلم‬

‫یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیل ہے‬

‫وہ حاکم لوگوں کے رویے رجحان اور اطوار سے‬
‫خوب خوب آگاہ تھے' تب ہی تو کہتے ہیں‬

‫رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیں‬
‫حماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی‬

‫وہ حکومتی چمچوں کڑچھوں کی نفیسات سے‬
‫آگہی رکھتے تھے۔ یہ پٹھو لوگ' اپنی پرانی تہذیب‬

‫کی خامیاں گنوا رہے تھے اور نئی تہذیب کی‬
‫خوبیوں کا ڈھندورہ پیٹ رہے تھے اور اسی کو‬
‫ترقی کا زینہ قرار دے رہے تھے۔ اس ذیل میں‬

‫اکبر ایک جگہ کہتے ہیں‬

‫چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب‬
‫اپنے‬

‫نصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی‬

‫چوں کہ آزادی اور حق سچ کی بات کرنے والے‬
‫جان جاتے تھے اس لیے انہوں نے اس کے لیے‬

‫‪:‬تین حربے استعمال کیے‬

‫اشارتی انداز اختیار کرتے ‪1-‬‬
‫دبے لفظوں بہت کچھ کہہ جاتے ‪2-‬‬
‫کبھی تھوڑا کھل کر بات کرتے ‪3-‬‬

‫انہیں اس امر کا تاسف رہا' کہ ان کے ہم نوا اور‬
‫حق کی بات کرنے والے' تقریبا ختم ہو گیے ہیں‬
‫اور انگریز تہذیب کے حامیوں میں' ہرچند اضافہ‬
‫ہو رہا ہے۔ ان کے تکذیب کرنے والے ان کے‬

‫خلف منفی اطوار پر اتر آئے ہیں۔ کہتے ہیں‬

‫رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے‬
‫میں‬

‫کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں‬

‫انہوں نے علمتی طور اختیار کرکے' ایک اصول‬
‫وضع کیا' کہ کچھ بھی سہی' حالت کیسے بھی‬
‫رہے ہوں' حریت کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ عیش‬

‫و طرب کی محفل میں رونے والے بھی رہنا‬
‫چاہیے۔ وہ روتے رہے۔‬

‫تعلیم کا شور اتنا تہذیب کا غل اتنا‬
‫برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے‬

‫سرسید تحریک کی طرف اشارہ ہے۔ ایک دوسرے‬
‫شعر میں ایک نام نہاد مصلح طبقہ' نسل نو کو‬
‫جس تعلیم سے آرائستہ کرنا چاہتا تھا' پر چوٹ‬
‫کرتے ہوئے کہتے ہیں۔‬

‫ہم ایسی کل کتابیں قاب ‪v‬ل ضبطی سمجھتے ہیں‬
‫کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے‬

‫ہیں‬

‫حاکم یہاں کے وسائل سے پچرے اڑا رہا تھا' بچے‬
‫کھچے میں سے پیٹ بھر انہیں بھی مل رہا تھا۔‬
‫گویا کمائے گی دنیا کھائیں گے ہم' کے مصدق‬
‫دونوں فریقوں کا موجو لگا ہوا تھا۔ اکبر اسے‬
‫وقتی اور عارضی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک'‬
‫عیش و نشاط کا خاتمہ ناتمام حسرتوں اور‬
‫خواہشوں پر ہوا کرتا ہے۔ جب یہ طے ہے' کہ‬
‫عیش و عشرت کا خاتمہ ناتمام حسرتوں پر ہوا‬

‫کرتا ہے' تو پھر کیوں نہ وقت مثبت کاموں پر‬
‫صرف کیا جائے۔ گویا وہ عیش کوشی کو تیاگنے‬
‫کے حق میں تھے۔ درحقیقت وہ مغلوں کی عیش‬
‫کوشی کو زوال کا سبب سمجھ رہے تھے۔ انہوں‬
‫نے وسائل کا غلط کیا۔ انجام کار زوال کا شکار‬

‫ہوئے۔ اگر وہ‬
‫باصول اور ڈھنگ کی زندگی کرتے' تو ذلت و‬
‫رسوائی اور دیس بدری ان کا مقدر نہ ٹھہرتی۔ اب‬
‫بھی یہ ہی کچھ چل رہا تھا' لیکن اپنی اصل میں‬
‫یہاں کی تہذیب کے مزاج سے ہٹ کر' کہا اور لکھا‬
‫جا رہا تھا۔ اس سے لمحاتی ارتعاش تو پیدا ہوا۔‬
‫مخصوص حلقوں کے سوا مجموعی مزاج ترکیب‬

‫نہ پا سکا۔‬

‫انسان دکھ میں خدا کو یاد کرتا ہے اور اس سے‬
‫مدد مانگتا ہے۔ کتنا بڑا طنز ہے' کہ مغربی تعلیم‬
‫نے' خدا کی یاد ہی بھل دی ہے۔ شخص کے لیے‬
‫صاحب ہی سب کچھ ہو گیا۔ جملہ توقعات اسی سے‬

‫وابسطہ ہو گئیں۔‬

‫مصیبت میں بھی اب یا ‪v‬دخدا آتی نہیں ان کو‬

‫زباں سے دعا نہ نکلی جیب سے عرضیاں نکلیں‬

‫شرم وحیا' برصغیر کی تہذیب کا لزمہ و لوازمہ‬
‫رہا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں تو پردہ حکم میں داخل‬
‫ہے۔ مغرب میں' صورت حال اس سے مختلف ہے۔‬
‫بےحجابی کا ایک تاریخی جواز ہے۔ یہاں اس کی‬
‫تفصیل درج کرنا' لیعنی طوالت کے مترادف ہوگا۔‬
‫یہ معاملہ مادری اور پدری سوسائٹی کا ہے۔ عہد‬
‫اکبر میں مردوں اور عورتوں کا توازن بگڑا نہیں‬
‫تھا' لیکن مغربی اطوار کے زیر اثر یا ترغیب دہی‬
‫کے تحت' بالاسٹیٹس کے حامل شورےفا کے ہاں‬
‫بھی' بیبیاں ممانمائی وغیرہ پر' اتر آئی تھیں۔ اکبر‬

‫نے جس طور سے چوٹ لگائی ہے' اس پر ان‬
‫شورےفا کا سیخ پا ہونا' فطری سی بات تھی۔ تاہم‬
‫ان کا طرز تکلم خالص برصغیر کی اسلمی تہذیب‬

‫کا غماز ہے۔‬

‫بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں‬
‫اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا‬
‫پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا‬
‫کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا‬

‫یہ بدیسی تہذیب کے دل دادہ اور پرانی تہذیب کو‬
‫ناپسند کرنے والوں کے' رخسار گرامی پر پرزناٹا‬
‫طماچہ تھا۔ اگر شرم وحیا ہوتی' تو ضرور جاگ‬
‫اٹھتی۔ ان کے نزدیک ایسا شخص دھوکے میں‬
‫ہے' اندھیروں میں بھٹک رہا ہے اور اسے معاملہ‬
‫دکھ ہی نہیں رہا۔ یہ بھی کہ ہمیں ان کی رہنمائی‬

‫کی ضرورت ہی نہیں۔‬

‫اکبر' مغرب کے چلن اور اس کے کہے کو' طنز کا‬
‫نشا نہ بناتے اور اس کی تقلید کو مضر اثر قرار‬
‫دیتے آئے ہیں۔ مغرب کے چوری خور توتے کہتے‬
‫تھے' تمہیں زندگی اور حکومت کرنا نہیں آتا۔‬
‫مغرب تمہاری تربیت کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں'‬
‫اکبر مغرب اور اس کی تہذیب پر چوٹ کرتے رہے۔‬
‫انہوں نے عیاری سے حکومت ہتھائی اور عیاری‬

‫سے ہی لوگوں کو اپنے ساتھ کیا ۔‬

‫گولوں اور گماشتوں کو ایک طرف رکھیے' یہ ہر‬
‫دور میں' مقتدرہ قوتوں کے دم ہلوے اور گریب‬
‫عوام کے خون چوس رہے ہیں۔ للچ اور طمع‬


Click to View FlipBook Version