دا کی جگہ کا
پڑھنے کا وقت صبح و شام
پیر سوہنے دا ہے قربان
دا کی جگہ کا
پیر سوہنے کا ہے قربان
رحمان بابا کی زبان کا اردو کے تناظر میں لسانی
مطالعہ
باغ میں سو طرح کے پودے ہوتے ہیں۔ ہر پودے
کا اپنا رنگ ڈھنگ' طور اور معنویت ہوتی ہے۔ ہر
پودے کے پھول ناصرف ہیت الگ سے رکھتے
ہیں' ان کی خوش بو بھی دوسروں سے' الگ تر
ہوتی ہے۔ مالی کے لیے' کوئی پودا معنویت سے
تہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح' باغ بھی ان سو طرح
کے پودوں کی وجہ سے' باغ کہلتا ہے۔ یہ رنگا
رنگی ہی' اس کے باغ ہونے کی دلیل ہے۔ انہیں
بہرصورت' باغ کا حصہ ہی بنے رہنا ہوتا ہے۔
انسان بھی' ایک پودے کے مماثل ہے' جو
انسانوں کے ہجوم میں زندگی کرتا ہے' بالکل باغ
کے پودوں کی طرح۔ اس باغ میں بھی مختلف
رنگ' نسلوں اور مزاجوں کے لوگ آباد ہیں۔ ہر
رنگ' ہر نسل اور قوم کا شخص زندگی کے باغ
کے حسن اور معنویت کا سبب ہے۔ کسی ایک کی
غیرفطری موت' اس کے حسن اور معنویت کو گہنا
کر رکھ دیتی ہے۔ جب یہ ایک صف میں کھڑے'
ا کے حضور حاضری کا شرف حاصل کرتےہیں
تو مخلوق فلکی بھی' عش عش کر اٹھتی ہے۔ جب
کسی ہوس یا برتری کے زعم میں' اپنے سے'
کسی کی گردن اڑاتے ہیں' تو ابلیس جشن مناتا
ہے۔
یہ امر ہر کسی کے لیے' حیرت کا سبب ہو گا' کہ
زبانیں جو انسان کی ہیں اورانسان کے لیے ہیں'
ایک دوسرے سے قریب ہونے سے' پرہیز نہیں
رکھتیں۔ دشمن قوموں کی زبانوں کے لفظوں کو'
اپنے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہونے سے' منع
نہیں کرتیں۔ وہ انہیں اپنے دامن میں اس طرح
سے جگہ دیتی ہیں' جیسے وہ لفظ اس کے قریبی
رشتہ دار ہوں اور ان سے کسی سطح پر چھوٹ
ممکن ہی نہ ہو۔ زبانیں کسی مخصوص کی تابح
فرمان نہیں ہوتیں۔ جو' جس نظریہ اور مسلک کا
ہوتا ہے' اس کا ساتھ دیتی ہیں۔ ا جانے' انسان
تفریق و امتیاز سے' اٹھ کر' انسان کے دکھ سکھ
کا ساتھی کیوں نہیں بنتا۔ سیری اور سکھ اپنے
لیے' جب کہ بھوک پیاس اور دکھ دوسروں کے
کھیسے میں ڈال کر' خوشی محسوس کرتا ہے۔ ان
سے تو ایک درخت اچھا ہے'جوخود دھوپ میں
کھڑا ہوتا ہے اور جڑیں کاٹنے والوں کو بھی'
سایہ فراہم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔
مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور
المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے'
پشتو زبان کے عظیم صوفی شاعر حضرت رحمان
بابا صاحب کا دیوان مل ہے .یہ کاقی پرانا ہے۔
اس کے ابتدائی 28صفحے پھٹے ہوئے ہیں۔ اسی
طرح آخری صفحے بھی موجود نہیں ہیں۔ دیوان
اول ص 78تک ہےاور یہاں کاتب کام نام فضل
ودود درج ہے۔ فضل ودود کا تعلق تہکال بال'
پشاور سے ہے۔ قیاسا کہا جا سکتا ہے کہ دیوان
کی جنم بھومی یعنی مقام اشاعت پشاور رہی ہو
گی' تاہم اسے پکی بات نہیں کہا جا سکتا۔ حیران
کن بات یہ ہے' کہ دو چار نہیں' سیکڑوں عربی
فارسی کے الفاظ' جو اردو زبان میں رواج عام
رکھتے ہیں' بڑی حسن و خوبی اور متن کی پوری
معنویت کے ساتھ' پشتو میں سما گیے ہیں' کہیں
اجنبت کا احساس تک نہیں ہوتا۔
دیوان میں بہت سی غزلوں کے قوافی' عربی
فارسی کے ہیں اور یہ عصری اردو میں رواج
رکھتے ہیں۔ ص 29پر موجود غزل کا مطلع یہ
:ہے
لکہ شام ھسے سحر یہ نظر د بےبصر
:اس غزل کے قوافی یہ ہیں
گوھر' زر' شر' برابر' بتر' بھتر' زبر' نظر' ضرر'
ھنر' خبر زناور یعنی جانور' روکر'اوتر' پیغمبر'
محشر' سفر' بشر' عنبر' پسر' اثر' رھبر' شر'
حجر' شجر' جادوگر'مصور پرور' ثمر' سر' مادر'
زیور' کمر' منبر' قمر قلندر' باور' کافر' مرور' در'
گذر' خر' افسر' میسر' مسخر' پدر' بتر' کشور'
سکندر' بحروبر' ...نماز ...دیگر' بستر' چاکر'
کوثر' منور' خطر' شر' دفتر' اختر' بازیگر' شکر
مقدر' سرور' اکثر
ایک دوسری غزل جس کے تمام قوافی عربی
:فارسی کے ہیں۔ اس غزل کا مقطع یہ ہے
چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی
داد شعر دے رحمانہ کہ اعجاز
:اس غزل کے قوافی ملحظہ ہوں
آواز -شہباز مطلع
غماز' داز' آغاز' باز' ساز' نماز' اعجاز
:صفحہ 176پر موجود کا مطلع ثانی ملحظہ ہو
د مطلوب بےوفائی و طالب و تہ وفا شی
:اب اس کے قوافی ملحظہ ہوں
آشنائی -جدائی .........مطلع اول
وفاشی -بےوفائی۔۔۔۔۔۔۔۔مطلع ثانی
'گدائی' دوستائی
اگلے پانچ شعر پھٹے ہوئے ہیں۔
شیدائی' ملئی' رسوائی' بےنوائی' ریائی' فرمائی'
ستائی' دانائی' بھائی' کجائی' ھمتائی' عطائی'
دلکشائی' رھائی' پیمائی' صحرائی' تنھائی'
گرمائی' تمنائی' پارسائی' آزمائی' کمائی' زیبائی'
سودائی' خدائی' صفائی' سروپائی' رعنائی' بالئی'
دریائی' حلوائی
:ص 88 :پر موجود غزل کے قوافی یہ ہیں
راغب' غائب' تائب' مناسب' غالب' طالب' واجب'
کاتب' قالب' نائب' عجائب' مراتب
یہ محض باطور نمونہ چند غزلوں کے قوافی درج
کیے ہیں ورنہ ان کی کئی غزلوں کے قوافی عربی
اورفارسی الفاظ پر مشتمل ہیں۔
حضرت رحمان بابا صاحب کے کئی ردیف عربی
فارسی الفاظ ہیں اور یہ الفاظ اردو میں مستعل ہیں۔
مثل
صفحہ 41پر موجود ایک غزل کا ردیف اخلص
ہے جب کہ دوسری کا ردیف غرض ہے۔
صفحہ 42پر ایک غزل کا ردیف واعظ ہے جب
کہ دوسری کا ردیف شمع ہے۔
صفحہ 60پر ایک غزل کا ردیف تورو
زلفو....سیاہ زلف .....ہے۔ زلف کو زلفو کی شکل
دی گئی ہے۔
ص 90پر موجود دو غزلوں کا ردیف نشت ہے
ص 91پرموجود دو غزلوں کا ردیف الغیاث ہے
ص 100پر موجود ایک غزل کا ردیف عمر ہے
ص 116پر موجود دو غزلوں کا ردیف بےمخلص
ہے
اب ذرا باطور نمونہ' ان مصرعوں کو دیکھیں'
ناصرف صاف اور واضح ہیں' بلکہ ہر مصرعے
میں کم از تین لفظ ایسے ہیں جو اردو والوں کے
لیے اجنبی نہیں ہیں۔
نہ صیاد بہ ترے خبر وہ نہ شہباز
کھ مکان ئے پہ آسمان دے غذا او شو
ھمیشہ د معصیت پہ اور کباب یم
لکہ خس وی یا زر
تن د درست زیروزبر شو
رحمن بابا کے ہاں صنعت تضاد کے لیے استعمال
ہونے والے الفاظ ' اردو میں مستعمل ہیں۔ مثل
سیاھی م واڑہ سفیدی شوہ
تن د درست زیروزبر شو
نہ مسلم وی نہ کافر
ھمیشہ رفت و آمد کہ
لکھ عذر چہ صاحب تہ غلم نہ ک
ملمت د خاص و عام
نور پیدا شو شوروشر
منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم
چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک
رحمان بابا' اپنے کلم صنعت تکرار لفظی کا خوب
خوب استعمال کرتے ہیں۔ اس ذیل میں اردو میں
رواج رکھتے الفاظ کو بھی بڑی حسن و خوبی
سے استعمال میں لتے ہیں یا یہ الفاظ' زبان پر
دسترس ہونے کے باعث استعمال میں آ گیے ہیں.
مثل
د ھجران عمر د عمر پھ شمار نہ دے
دنیادار د دنیا کار کازہ د دین
ہم صوت الفاظ ' شعر میں شعریت کو جل بخشتے
ہیں۔ ان سے شعر میں نغمیت اور چستی پیدا ہوتی
ہے۔ رحمان بابا اس صنعت کا باکثرت استعمال
کرتے ہیں۔ اس سے ناصرف شعر کا مضمون روح
کی گہرایوں میں اترتا چل جاتا ہے' بلکہ جسم میں
تھرل سی پیدا کر دیتا ہے۔ بابا صاحب موصوف
نے' اردو کے مستعمل الفاظ کو تصرف میں ل کر
اپنی جدت طرازی' زبان دانی اور انسانوں کی
فکری سانجھوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس ضمن میں
دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔
نہ ئے متل نہ مثال نہ ئے زوال شتہ
کہ مطلب د نور چا نورے مرتبہ دی
پہ کینہ بہ آیئنہ نہ کڑی تہ خاک
لفظ کے متعقات کا' ایک مخصوص سلیقے سے
استعمال کرنا' ایک الگ سے فن کا درجہ رکھتا
ہے۔ بابا صاحب کو اس فن میں کمال حاصل ہے۔
متعلقہ لفظ نکھر جتا ہے۔ مفہوم الجھاؤ سے تہی
ہو کر' فکر کے دھارے موڑ دیتا ہے۔ ان کے پاس
ایک وسییع ذخییرہءالفاظ ہے۔ اس حوالہ سے' وہ
اردو کے مستعمل الفاظ کو بھی' تصرف میں
رکھتے ہوئے' انسان کے باہمی بھائی چارے کو
:واضح کرتے ہیں۔ چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں
بادشاھی د ھفت کشور
معشوقے ھمیشہ ناز پھ عاشق کاندی
پکار نہ دے مقتدی وی کہ امام
چہ تصویر کہ مصور
ستارہ بہ شمس قمر نہ شی ھرگز
پہ عیال د خپل پدر
ھم بادشاہ دے ھم سرور
نہ سنت د پیغمبر
رحمن بابا تلمیحات کے استعمال کی ذیل میں' اردو
شعرا سےالگ تر رویہ اور انداز اختیار نہیں
کرتے۔ اسی طرح پشتو میں ان کے نام علیحدہ
سے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے کلم میں' بہت سی
تلمیحات استعمال کی ہیں اور یہ اردو والوں کے
لیے' غیر مانوس نہیں ہیں۔ چند ایک مثالیں
:ملحظہ ہوں
کہ جنت دے کہ دوزخ دے کہ اعراف
د ابلیس و ریاضت تھ نظر او کڑہ
دغہ کار بھ پھ عصا کوے تر کوم
مرتبہ د سلیمان چہ چا لہ ورشی
چہ خاورے د فرھاد او د مجنون دی
ھغھ شیرین حوض کوثر
رحمن بابا کے بہت سے اشعار ضرب المثال کے
درجے پر فائز نظر آتے ہیں۔ ان اشعار میں اردو
کے بہت سے عمومی رواج رکھتے الفاظ موجود
ہیں۔ مثل
لکھ گنج د علمیت د بےعقلہ عالمانو
کتابونو پہ خرہ بارش
نہ مسلم وی پہ مثال د منافقو
نہ کافر
نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل خالی نقش
لکھ عکس د معکوس
نہ دلیل پہ تواب او پہ خدائے
وی نہ نظر
نہ سنت د نہ دے فرض د خدائے ادا کڑہ
پیغمبر
غلہ وی نہ مئے حسن نہ جمال وی
خلق پہ زیور
پشتو اور اردو میں' فارسی کے بہت سے مشترک
الفاظ موجود ہیں۔ رحمن بابا فارسی مصددر کا
بھی بلتکلف استعمال کر جاتے ہیں اور یہ رویہ
اردو والوں کے ہاں بھی موجود رہا ہے۔ رحمن
:بابا کے ہاں مصدر رفتن کا استعمال ملحظہ ہو
چہ ئے خواتہ رفتن دے
مرکبات شاعری کی جاان ہوتے ہیں اور یہ زبان
کو ثروت عطا کرتے ہیں۔ رحمان بابا کے ہاں'
پشتو مرکبات اپنی جگہ' اردو زبان میں مستعمل
الفاظ کے بہت سے مرکبات نظرآتے ہیں۔ ان
مرکبات کے حوالہ سے' دونوں زبانوں کی لسانی
قربت کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
واؤ سے ترکیب پانے والے مرکبات
ھمیشہ رفت و آمد کہ
نور پیدا شو شور و شر
چہ ئے قیل و قال د یارہ سرہ نہ دی
د دنیا چارے پہ مثل خواب وخیال دے
مساوی د عاشقی پھ خاص وعام
دیگر مرکبات کی کچھ مثالیں ملحظہ ہوں۔
ارمانو بھ کوی زار زار بھ ژااڑی
عاقبت بھ ئے جدا جدا منزل شی
نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل
و رئح بہ نھ شی شب تار د تورو زلفو
دیارغم لکھ مزرے دا باندی راشی
کہ د خلقو و نظر تھ آدمے دے
غرض دا چہ عاقبت خانہ خراب یم
بندیوان د ھغہ سیب ذقن پہ چاہ یئم
منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم
منت بار' دراصل منت کش ......منت کشیدن
سے ......ہی کا روپ ہے۔
چہ پرے غم غلطہ د شپے پاسم
غم غلط کرنا' باقاعدہ اردو محاورہ ہے۔ اس
مصرعے میں بھی 'اس کا باطور محاورہ استعمال
ہوا ہے۔
چہ پرے غم غلطہ د شپے پاسم
دین دنیا' اردو اور پنجابی میں عام استعمال کا
مرکب ہے۔ بابا صاحب کے ہاں اس کا استعمال'
باسواد اور الگ سے رنگ لیے ہوئے ہے۔ ملحظہ
ہو
چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک
پنجاب میں بےمروتا' بےپرتیتا' بےنیتا' بےبنیادا
باطور گالی استعمال ہوتے ہیں۔ رحمان بابا صاحب
کے ہاں بےبنیادہ اور بےبقا کچھ اسی طرح سے'
استعمال میں آئے ہیں۔ لہجہ میں سختی واضح
طور پر موجود ہے۔
سر تا پایہ بےبنیادہ بےبقا شوم
ایک دعائیہ شعر ملحظہ ہو۔ کیا والہانہ اور
بےساختہ پن ہے۔
حق تعالی کہ ئے نصیب کھ ھغھ
شیرین حوض کوثر
بے' نہی کا سابقہ ہے اور اردو میں باکثرت
استمال ہوتا ہے۔ رحمان بابا کے ہاں بھی' یہ سابقہ
استعمال ہوا ہے۔ چند مثالیں ملحظہ ہوں۔ یہ الفاظ
اردو کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔
لکھ تش صورتہ بےروحہ
بےبالین او بےبستر
کہ جہان و بےھنر و تھ فراخ دے
د بےدرد ھمدمی بہ د بےدردک
رحمان ھسے بیوقوف سوداگر نہ دے
لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ
د بےمثلہ بےمثالہ بےمکان دے
لکہ تش کدو بے مغزہ
مراد ئے بےدیار لہ درہ بل ہاب نہ دے
رحمان ھسے و خپل یار تہ بےحجت رے
مزید کچھ نہی کے سابقے ملحظہ فرمائیں۔ الفاظ
:اور سابقے اردو زبان سے متعلق بھی ہیں
نا
پہ نابود باند ناحق د بود کمان ک
د نامرد د ھمدمی بہ د نامردک
تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک
کم
لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ
کم اندیشہ کہ بیدار دے بیدار نہ دے
ھر کم فھم کجائی
ھر کم بخت ئے کلہ مومی
بد
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
مزید دو سابقوں کا استعمال ملحظہ ہو جو اردو
میں بھی مستعمل ہیں۔
ھم
یؤ صورت دے ھم نشیب دے ھم فراز
ہم گفتار بہ ئے د خدائی پہ در قبول شی
نغمے کاندی ھم رقص کہ ھم خاندی
با
د رحمان پہ شعر ترکے د باکرام
اب چند لحقے ملحظہ ہوں' یہ اور ان سے متعلق
الفاظ ' اردو کے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہیں۔
ناک
تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک
کینہ ناک' اردو میں مستعمل نہیں تاہم کینہ اور
ناک' باطور لحقہ مستعمل ہیں۔
گار
صد رحمت شھ پھ روزگار د درویشانو
دار
دنیادار د دنیا کار کازہ د دین
خواہ
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
گو
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
مند
بؤ لحد دے ھنرمند و لرہ تنگ
پذیر
ھر کلم چہ دلپذیر او دلپسند وی
یہ ہی نہیں' بابا صاحب کے ہاں پجابی ذائقہ بھی
موجود۔ اردو میں پلید اور پلیدی استعمال میں آتے
ہیں۔ پنجابی میں پلید سے پلیت اور پلیدی سے
پلیتی' بولے لکھے جاتے ہیں۔ بابا صاحب نے
ایک مصرعے میں' یہ دونوں الفاظ استعمال کیے
ہیں۔ اس کے باوجود اسلوب پنجابی نہیں ہو پایا۔
د دنیا پھ پلیتی م حان پلیت کڑو
اردو میں ہمیشہ' جب کہ پنجابی میں ہمیش
مستعمل ہے۔ بابا صاحب نے کمال حسن و خوبی
سے اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔
دھوا غشے ھمیش حکمتہ پھ زور شی
لہور میں بیبیاں پاک دامنہ کے محترم و معزز
مزار ہیں۔ عوام میں پاک دامنہ مرکب معروف ہے۔
رحمان بابا نے اس مرکب کا استعمال کیا ہے۔ اس
سے پاکیزگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ملحظہ ہو
پاکدامنہ پرھیزگارہ از تینھ
بابا صاحب کا ایک مقطع باطور تبرک ملحظہ ہو۔
داد شعر چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی
دے رحمانہ کہ اعجاز
اگربابا صاحب کے اس مقطعے کو پڑھ کر' اگر
کوئی ان کی فکری پرواز اور پرذائقہ زبان کی داد
نہیں دیتا' تو اس سے بڑھ کر کوئی بدذوق نہ رہا
ہو گا۔
اس ناچیز سے لسانی مطالعے کے بعد' میں اس
نتیجہ پر پہنچا ہوں' کہ زبانیں بڑی ملن سار ہوتی
ہیں۔ اردو' پختو' پنجابی' عربی اور فارسی ایک
دوسرے سے یوں گلے ملتی ہیں' کہ کہیں اجنبیت
کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تلفظ' لہجہ' استعمال'
معنویت اور ہیت تک بدل لیتی ہیں اور لفظ'
اختیاری زبان کے قدم لیتے ہیں۔ آخر انسان کو کیا
ہو گیا ہے' کہ یہ مادی' نظریاتی' مذہبی' معاشی'
سیاسی دائروں کا مکین ہو کر' ایک دوسرے
سے' کوسوں کی دوری اختیار کر لیتا ہے۔ رنگ'
نسل اور علقہ' اسے دور کیے جا رہا ہے۔ لسانی
تعصب بھی اسے دور کیے رکھتا ہے۔ زبان کے
نام پر' دوریاں بڑھی ہیں' جب کہ ہر زبان دوریوں
.کو ناپسند کرتی ہے
انسان آخر کب' اپنی ہی زبان سے' ملن ساری کا
سبق لے گا۔
!!!۔۔۔۔آخر کب
امانت کی ایک غزل ......فکری و لسانی رویہ
مخدومی و مرشدی حضرت قبلہ سید غلم حضور
حسنی المعروف بابا شکرا سرکار کے ذخیرہ ء
کتب سے' ایک مخطوطہ صفحات سولہ ' دستیاب
ہوا ہے۔ اس میں ایک بتیس اشعار پر مشتمل غزل
اور ایک نظم' جس میں باسٹھ اشعار ہیں' دستیاب
ہوئی ہے۔ غزل دیگر پرعنوان درج ہے' جس سے
یہ کھلتا ہے' کہ مواد اور بھی تھا اور وہ مواد'
حوادث زمانہ کا شکار ہو گیا۔ بابا جی مرحوم کے
جو ہاتھ لگا' انہوں نے محفوظ کر لیا۔ غزل والے
آٹھ صفحات پر' صفحوں کے نمبر درج نہیں ہیں'
جب کہ نظم کے آٹھ صفحوں پر صفحہ 13تا 20
درج ہے۔ مخطوطے کی حالت بڑی خستہ اور قابل
رحم ہے .غزل کے مقطع میں' امانت تخلص ہوا
ہے' شاعر کا نام بھی امانت تھا یا یہ محض ان کا
تخلص تھا' ٹھیک سے کہا نہیں جا سکتا۔ ہاں یہ
ضرور کہا جا سکتا ہے' کہ یہ صاحب شعیان علی
سے متعلق تھے۔ مقطع ملحظہ ہو۔
رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے
دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا
کاغذ اور کتابت بتاتی ہے' کہ یہ مسودہ ایک سو
پچاس سال سے زیادہ' عمر رکھتا ہے۔ مضامین
غزل کی عمومی روایت سے متعلق ہیں۔ شاعر کی
زبان رواں' شایستہ اور شگفتہ ہے۔ کہیں کوئی
ابہامی صورت موجود نہیں۔ یہ ایک مربوط غزل
ہے۔ اس میں' بیانیہ' مخاطبیہ اور خود کلمی کا
اسلوب تکلم ملتا ہے۔ آغاز روح کے سفر سے ہوتا
ہے' باقی اکتیس اشعار' کسی ناکسی سطح پر' اس
سفر سے مربوط سے محسوس ہوتے ہیں۔
غزل کے پہلے چار اشعار میں یاد آیا باطور ردیف
استعمال ہوا ہے جب کہ باقی اٹھائیس اشعار میں
آیا کو ردیف بنایا گیا ہے۔ یاد کی صوت پر' الفاظ
باطور قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ اسے چار اشعار
کی غزل کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔
ملحظ ہو۔
روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا
دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا
چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا
روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا
آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا
کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا
میں وہ ہوں بلبل مستانہ جو مرجہاون نہال
بہول کر کنج قفس ۔۔۔۔۔۔۔چمن یاد آیا
تشنگی محسوس نہیں ہوتی' تاہم اگلے اشعار'
ارتباط کے احساس سے خالی نہیں ہیں۔
حسب رواج و رویت' الفاظ مل کر لکھے گیے
ہیں۔ مثل
دیکہکے' مجہپر' سمجہکر' کیطرح' کہہکر وغیرہ
دوچشمی حے کی جگہ' حے مقصورہ کا استعمال
کیا گیا ہے۔
رکہا' دیکہا' بہولے' مجہے' مجہپر
مہاپران بھی نظر انداز نہیں ہوئے۔
'ھ' بھ' پھ' جھ' چھ' کھ
ھے' کبھی' پھیر' برچھیاں' مجھے' کھیل
ایک جگہ نون غنہ کی جگہ' نون کا استعمال بھی
ہوا ہے۔
ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل
حے مقصورہ کی جگہ' بڑی ے کا استعمال بھی
پڑھنے کو ملتا ہے۔
ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا
متتعلق' مگر متضاد الفاظ کا استعمال' کمال حسن
و خوبی سے کیا گیا ہے۔ مثل
چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا
روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا
قفس :قید' پابندی
چمن :آزادی' خوشی' خوش حالی
پہلے مصرعے میں چہچہے اور رنج و مہن۔ بھول
اور یاد
دوسرے مصرعے میں قفس اور چمن
اس شعر میں زندگی کی دونوں حالتوں' رنج اور
خوشی کو نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ہم صوت' مگر متعلق لفظوں کا استعمال ملحظہ
ہو۔
کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا
کفن دفن' مرکب عمومی استعمال کا ہے۔
ایک ہی لفظ کے' دو اسماء کے لیے استعمال کی
ایک مثال ملحظہ ہو۔
گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا
عمومی مہاورے میں مرکب 'خیال ہی خیال میں'
استعمال ہوتا لیکن امانت نے' وہم ہی وہم میں'
استعمال کیا ہے۔ گویا وہم کو' خیال کے مترادف
کے طور پر' استعمال کیا گیا ہے۔
وہم ہی وہم میں اپنے ہوئے اوقات بسر
امانت نے' بڑے خوب صورت مرکب بھی' اردو
کے دامن میں رکھے ہیں۔ مثل
دشت غربت' ستم ایجاد' تکلف سخن' راہ عدم' عالم
غربت' آوارہ وطن' چاند گہی' کشتہ مقدر 'حسرت
پرواز' آتش عشق ' سخت جانی ' مرغ بسمل
رنج و مہن
چشمہءکوثر
عمومی طور پر حوض کوثر استعمال میں آتا ہے۔
ہار کا کھیل
عاشق کے نصیب
سورج کی کرن
چھینک آئے تو کہا جاتا ہے' کہ کسی نے یاد کیا
ہے۔ امانت نے' اس کے لیے ہچکیاں آنا استعمال
کیا ہے۔ اس کی معنویت چھینک آنا سے' الگ تر
ہے۔
ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل
کیا عزیزوں کو میں آوارہ وطن یاد آیا
امانت نے اپنی اس طول غزل میں' کئی ایک رائج
اصطلحات کا استعمال کیا ہے۔ ان کا استعمال' سفر
کے تناظر میں ہوا ہے۔ مثل
جنازہ' دفن' کفن' غسل صحت' زاہد ' عدم ' کشتہ
امانت کو مہاورات کے استعمال میں' کمال حاصل
ہے۔ وہ مہاورے کا استعمال' رواں روی میں کر
جاتے ہیں۔ یہ استعمال لسانیاتی حسن سے' بہرہ
ور ہے۔ چند ایک مہاورے ملحظہ ہوں۔
ہوش اڑنا' پر کاٹنا' نصیب لڑنا' رعایت سوجھنا'
گل لگانا' لہو خشک ہونا' خون میں نہلنا' امید
قطع ہونا' دل کڑا کرنا' منہ پھیرنا' روح دینا' دام
لگانا' خیال باندھنا' چٹکیاں لینا' اوقات بسر ہونا'
در بدر پھرنا' قدم رکھنا ' نقشا کھیچنا
مہاورے کے استعمال کی' صرف ایک مثال
ملحظہ ہو۔
رعایت سوجھنا :بلبل زار سمجہکر یہ رعایت
سوجہی
امانت' تشببہات کا استعمال بھی بڑی خوبی سے
کرتے ہیں۔ مثل
ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا
شجر قامت دلدار مجھے یاد آیا
مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل
حسن شعر میں' تلمیح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
امانت کے ایک ہی شعر میں' ایک ساتھ' تین
تلمیحات کا استعال ملحظہ فرمائیں۔
تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا
آپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا
شمشاد کے ساتھ' پہلیوں کا انتساب بڑا ہی من
بھاتا ہے۔ ملحظہ ہو
پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا
مقامی اور عمومی بول چال کے لفظ بھی'
استعمال میں لتے ہیں۔ مثل
بلبلوں کے لئے پالی میں نہ صیاد آیا
ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل
مستعمل مرکب الفاظ کا استعمال' اپنی ہی بن ٹھن
رکھتا ہے۔
پر واز :ہو گئی قطع اسیری میں امید پرواز
گل بدن :گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا
شم شاد :پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا
صنعنت تکرار حرفی سے بھی' کام لیتے ہیں۔ مثل
در بدر پھر کے دل گھر کی ہمیں قدر ہوئی
اب امانت کے' دو ایک سابقوں لحقوں سے ترکیب
پانے والے' الفاظ ملحظہ فرمائیں
اہل وفا' بےاعتباروں' بےنشانی
پری زاد' خریدار' دل دار' بلبل زار 'در گاہ' سیاہ
فام
مترادف الفاظ کا استعمال' ان کے کلم میں ایک
الگ سے' تاثیر' جازبیت اور صوتی و بصری
حسن و توجہ کا سبب بنتا ہے۔ مثل یہ مصرع
ملحظہ فرمائیں
مجہکو رشک قمرچاند گہی یاد آیا
امانت کو ناصرف زبان پر دسترس حاصل ہے' بل
کہ ان کے بہت سے مضامین' بڑے پرلطف ہیں۔ ان
سے فکری حظ ہی نہیں' سماعتی اور بصری لطف
بھی میسر آتا ہے۔ اس ذیل میں' ذرا ان اشعار کو
دیکھیں' پڑھیں' غور کریں اور مزا لیں۔
روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا
دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا
............
آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا
کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا
...........
مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل
گل لگا کر کہا قمری نے میرا صیاد آیا
............
غسل صحت کی خبر سن کے ہوا خشک لہو
خون میں نہلنے کو فورا مجھے جلد آیا
..........
تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا
اپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا
..........
ہو گیا حسرت پرواز میں دل سو ٹکڑے
ہم نے دیکہا جو قفس تو فلک یاد آیا
..........
کیوں تیرا عاشق برکشتہ مقدر کیطرح
ستم تو نے کئے تو چرخ کہن یاد آیا
...........................................................
.............
دیگر
روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا
دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا
چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا
روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا
آ گیا میرے جنازے پر جو وہ ہوش ربا
کر چکے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا
میں وہ ہوں بلبل مستانہ جو مرجہاون نہال
بہول کر کنج قفس ۔۔۔۔۔۔۔چمن یاد آیا
آتش عشق کا پا کر میری رگ رگ میں اثر
آپ ہمراہ لئے نشتر فصاد آیا
سخت جانی سے میری پھیر دیا منہہ دم میں
دل کڑا کرکے اگر خنجر فولد آیا
ہوں وہ بلبل کے خریدار نے منہہ پھیر لیا
دام مجہپر لگانے کو کوئی صیاد آیا
برچھیاں ہیں مجہے سورج کی کرن
سنہکیاے کے یہ چرخ ستم ایجاد آیا
دل ہوا سرو گلستانی کے نظارے سے نہال
شجر قامت دلدار مجھے یاد آیا
ہو گئی قطع اسیری میں امید پرواز
اڑ گئی ہوش جو پر کاٹنے صیاد آیا
ہار کا کھیل ہوا لٹر گئے عاشق کے نصیب
غیر بول جو فراموش تو میں یاد آیا
بلبل زار سمجہکر یہ رعایت سوجہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پر باندھنے صیاد آیا
اس درد دل فرموش کیا عاشق کو
نہ کبھی آپ کو بہولے سے بھی میں یاد آیا
مرغ بسمل کیطرح باغ میں تڑپی بلبل
گل لگا کر کہا قمری نے میرا صیاد آیا
در جاناں کا باندھے ھے چمن دہر میں رنگ
پہلیوں کیلئے کوئی باغ میں شمشاد آیا
غسل صحت کی خبر سن کے ہوا خشک لہو
خون میں نہلنے کو فورا مجھے جلد آیا
ہچکیاں آتی ہیں کیون عالم غربت میں دل
کیا عزیزوں کو میں آوارہ وطن یاد آیا
رخ جاناں پہ نظر کرکے بندہا گل کا خیال
قد کو دیکہا تو مجہے سرو چمن یاد آیا
بےنشانی سے نشاں بہول گیا آنے کو
کھینچ چکا ہار نقشہ تو وہی یاد آیا
تذکرہ چشمہءکوثر کا جو زاہد نے کیا
اپنے یوسف کا مجہے چاہ زقند یاد آیا
خم کے ٹکڑے کئے شیشوں کو کیا میں نے چور
توڑے پیمانے جو وہ عہد شکنی یاد آیا
طفل اشک آنکہوں میں بھرنے لگے مردم کیطرح
خورد سالونکو بزرگوں کا چلن یاد آیا
تیرے منہہ پر جو رکہا غیر سیاہ فام نے منہہ
مجہکو رشک قمرچاند گہی یاد آیا
کیوں تیرا عاشق برکشتہ مقدر کیطرح
ستم تو نے کئے تو چرخ کہن یاد آیا
چٹکیاں دل میں میرے لینے لگا ناخن عشق
گلبدن دیکہکے اس گل کا بدن یاد آیا
وہم ہی وہم میں اپنے ہوئے اوقات بسر
کمر یار کو بہولے تو دہن یاد آیا
برگ گل دیکہکے آنکہوں میں تیرے پھر گئے آب
غنچہ چٹکا تو مجہے تکلف سخن یاد آیا
در بدر پھر کے دل گھر کی ہمیں قدر ہوئی
راہ غربت میں جو بہولے تو وطن یاد آیا
چلو درگاہ میں ہنگامہ ہے دیوانوں کا
بڑی منت کی بڑھانے کو پری زاد آیا
ہو گیا حسرت پرواز میں دل سو ٹکڑے
ہم نے دیکہا جو قفس تو فلک یاد آیا
بے اعتباروں سے نہیں اہل وفا کو کچہ کام
بلبلوں کے لئے پالی میں نہ صیاد آیا
رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے
دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا
.......
باراں ماہ غلم حضور شاہ
سید غلم حضور
پ 1907م 1988
ہر پڑھنے لکھنے وال' اپنے ہی گھر میں' اپنی
ہی عزت مآپ تینویں مبارکہ سے یہ جملے
سنتا آ رہا ہے۔
تم نے زندگی میں کیا ہی کیا ہے۔
گھر کو کوڑ کباڑ بنائے رکھا ہے۔
لوگ جائیدادیں بناتے ہیں تم نے جائیداد میں بس
ردی ہی بنائی ہے۔
لٹیرے اور تباہ کاریئے عموما چار طرح کے رہے
ہیں۔
ادھر اماں بابا مرے ادھر آل اولد چھنیوں کولیوں
پر ٹوٹ پڑی۔ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ کے حصول
میں الجھ جاتا ہے۔ بابے کے کاغذات کی ٹھوک
بجا کر بڑی بےدردی سے تلشی لی جاتی ہے کہ
بابے نے کاغذوں کتابوں میں مختصر یا کوئی لمی
چوڑی رقم نہ چھپا دی ہو۔
تلشی کے بعد بابے کے لفظ' جو اس کی عمر بھر
کی کمائی ہوتے ہیں ردی میں بک جاتے ہیں۔ کہیں
زوراور آل اولد بابے کے مرنے کا بھی انتظار
نہیں کرتی۔ یہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کا سامان
اس کی آنکھوں کے سامنے ہی ہو جاتا ہے۔ ڈھیٹ
بن کر جی رہا ہوتا ہے' لفظوں ناقدری برداشت
نہیں کر پاتا اور اگلے سفر پر بڑی حسرت اور
بےبسی سے روانہ ہو جاتا ہے۔
چور ڈاکو بھی جہاں گھر کے دوسرے سامان کی
پھرول پھرولی کرتے ہیں وہاں کتب خانے بھی
ویرانے میں بدل جاتے ہیں۔ کہیں اور کسی دور
میں کسی بابے نے رقم نام کی چیز رکھ دی ہو گی
اور یہ شک چوروں میں نسل در نسل چل آتا ہے۔
ورنہ علم اور سکے کب ہم سفر رہے ہیں۔
حیران چوری ایسا مشکل اور دقت گذار پیشہ
صدیوں سے چل آتا ہے۔ ریسک کے ساتھ جگاترا
کاٹنا ایسا آسان کام نہیں۔ اگلے وقتوں میں پکڑے
جانے کی صورت میں چھتر بھی کھانے پڑتے
تھے۔عصر حاضر میں یہ رواج نہیں رہا۔ پہلے ہی
مک مکا ہو چکا ہوتا ہے۔ ہاں چھتروں کا رخ
تبدیل ہو چکا ہے۔ چور شور مچاتے ہیں اور ان
کے شور کو اول تا آخر پذیرائی حاصل رہتی ہے۔
تیسرے نمبر پر اپنا ہی ملک فتح کرنے والے آتے
ہیں۔ یہ جہاں جان مال اور املک کو غارت کرتے
ہیں وہاں لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی جمع
پونجی ردی کو بھی برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔
بیرونی حملہ آواروں زبان غیر کی مرقومہ ذہانت
و فطانت سے کیا لینا دینا۔ وہ زمین املک اور
سونے چاندی کے سکوں کی چمک دمک میں
اپنے ہاں کی ردی کو بھی خاطر میں نہیں لتے۔
مخدومی ومرشدی سید غلم حضور نے دنیا کو
1988میں الودع کہا تو محترمہ والدہ صاحب نے
چلتی سانسوں تک مکان آباد رکھا۔ حسب سابق
بچے ان سے علمی استفادہ کرتے رہے۔ آخر
مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہے صرف دو چار بار
مکان کے تو تکرار ہوئی۔ میری خواہش تھی کہ
مخدومی ومرشدی سید غلم حضور کی اقامت گاہ
کو بہرطور آباد رہنا چاہیے۔ وہ مجبور تھیں وقت
سے پہلے کس طرح مر جاتیں۔ چھنوں کولیوں
کے شوکینوں کی سنی گئی اور وہ 1996میں
انتقال فرما گئیں۔ کفن دفن کے ساتھ ہی کیل کانٹوں
سے لیس قبضہ گروپ نے قدم جما لیے۔ میں نے
غور ہی نہ کیا۔ امی ابا ہی نہ رہے تھے اب میرے
لیے وہاں کیا رہ گیا تھا۔
مخدومی ومرشدی سید غلم حضور پنجابی شاعر
تھے۔ علوہ ازیں بھی اچھی خاصی ردی ورثہ میں
چھوڑی تھی۔ اس کا کیا ہوا یہ ایک الگ سے
کہانی ہے۔ اسے کسی دوسرے وقت کے لیے اٹھا
رکھتا ہوں۔ چھوٹی نصرت شگفتہ نے ایک رجسٹر
مہیا کیا ہے۔ اس میں 76 ,75 ,1974کا کلم
ہے۔ رجسٹر کی حلت کا کچھ نہ پوچھیے۔ اگر اس
پر تاریخیں درج نہ ہوتیں تو میں نے اس کے
حضرت آدم ع سے پہلے ہونے کا دعوی داغ دینا
تھا۔ گویا میرے والد صاحب مخدومی ومرشدی سید
غلم حضور' حضرت آدم ع سے پہلے ہو گزرے
ہیں۔
اس میں مختلف نوعیت اور مختلف اصناف پر
مبنی کلم ہے۔ بارہ ماہ مقبول و معروف صنف
شعر رہی ہے۔آج چوں کہ دیسی مہینے اندراج میں
نہیں رہے لہذا یہ صنف ادب ہی ختم ہو گئی ہے۔ یہ
بھی اس رجسٹر میں ملتے ہیں۔ سن اندراج درج
نہیں۔ کاتب کون ہے ٹھیک سے کچھ کہہ نہیں
سکتا۔ ساون کے چاروں شعر ہیں۔ آخری مصرع
پڑھا نہیں جا رہا۔ پھاگن کے دو مصرعے اندراج
میں آئے ہیں۔ دونوں ہی پڑھے نہیں جا رہے۔ آج
چوں کہ دیسی مہینے اندراج میں نہیں رہے لہذا یہ
صنف ادب ہی ختم ہو گئی ہے۔
ہر مہینے کے برصغیر میں الگ سے رنگ رہے
ہیں۔ قدرتی طور شخص کے جذبات اور احساسات
ان کے حوالہ سے تبدیلی آتی ہے۔ شاعر باریک
بین ہوتا ہے اور وہ بدلتے موسموں کے ساتھ
شخص کے باطنی رنگوں کا بھی مطالعہ کر لیتا
ہے اور ان رنگوں کا اظہار بھی اسی طور سے
کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
باباجی کے ان بارہ مہینوں میں ہجر کی مختلف
کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ زبان بالکل سادہ اور
عوامی ہے۔ مفاہیم تک رسائی کے لیے زیادہ تردد
نہیں کرنا پڑتا۔ البتہ دو اطوار اختیار کئے گئے
ہیں۔ کہیں معاملہ ذات سے اور کہیں سیکنڈ پرسن
کے حوالہ سے بات کی ہے۔ دونوں صورتوں کی
مثالیں ملحظہ ہوں۔
غلم حضور شاہ بلوے بیٹھا کوئی سندا نئیں 1-
واجاں نوں
غلم حضور شاہ نوں للچ ل کے گلں دے وچہ
ٹالیا سو
غلم حضور شاہ دے آکھے لگ کے دکھڑے 2-
میں سناواں گی
غلم حضور شاہ دے آکھے لگ کے کھوتا
کھوہ چا پایا ای
صنف ریختی کے علوہ بھی صیغہ تانیث استعمال
کرنے کا عام رواج تھا۔ بابا جی کے ہاں یہ رویہ
ملتا ہے۔ مثل
چیت مہینہ چڑھیا اڑیو میں ہن لبھن جاواں گی
وساکھ وساکھی ٹر گئے لوکیں گھر وچہ بیٹھی
رواں میں
گھر وچہ بیٹھی دل پرچاواں کر کر یاد تیریاں یاداں
نوں
باباجی کے ہاں عوامی محاورہ اور امثال کا بڑی
خوبی سے استعمال میں آئے ہیں۔ مثل
گھت کٹھالی گالیا
کھوتا کھوہ چا پایا ای
پکاراں کر کر تھکی
تیر کلیجے لیا
معروف ہے تکیف اور دکھ چپ وٹنا درست نہیں۔
کوٹھے پر چڑھ کر اعلن کرو۔ بابا جی کے ہاں
استعمال ملحظہ ہو۔
کوٹھے چڑھ کھلوواں
بہرطور شخصی احساس اور باطنی کیفیات کو
بڑے موثر انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اب باباجی
کا کلم ملحظہ ہو۔ یہ تحریر میں کب آیا کچھ کہ
نہیں سکتا۔ ہاں اس رجسٹر پر 1974یا 1975
میں نقل کیا گیا۔ اس حساب سے بھی چالیس سال
سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ ناقل نے کہیں ناکہیں
ٹھوکر کھائی ہو گی۔ پڑھا نہیں جا رہا لہذا محفوظ
میں بھی نہیں رہا ہوں گا۔
اکبر اردو ادب کا پہل بڑا مزاحمتی شاعر
ناخوشگوار اور ناسازگار حالت میں' حق کہنا
آسان کام نہیں۔ اکبر الہ آبادی نے' یہ فریضہ بڑے
سلیقے اور اہتمام سے انجام دیا۔ سرکاری ملزم ہو
کر' ناگوار حالت پیدا کرنے والوں کو' آڑے
ہاتھوں لیا۔ کہیں پوشیدہ کہیں نیم پوشیدہ اور کہیں
بلپوشیدگی' کہنے کی بات' کہہ دی۔ ایک طرف
سرسید' جو مغربی تہذیب کے نمائندہ تھے'
ساتھیوں سمیت' مغرب کے لیے سرگرم عمل
تھے' تو دوسری طرف اکبر' اس کہے یا کیے کی'
تکذیب کر رہے تھے۔ ہمہ وقت سپاٹ اور براہ
راست کہنا' آسان کام نہ تھا اسی لیے انہوں نے
طنز و مزاح کا رستہ اختیار کیا۔ ہاسے ہاسے میں'
کسی عمل' فکر یا طور کی ڈنڈ لہ کر رکھ دیتے
ہیں۔ ایک طرف ٹیم ورک ہو رہا تھا' تو دوسری
طرف فرد واحد' غیرسنجیدہ انداز میں' سرگرم
عمل تھا۔ بدقسمتی یہ کہ جس پذیرائی اور اعزاز و
اکرام کے مستحق تھے' وہ انہیں میسر نہ آئی.
اس کے برعکس' سرکاری گماشتے سر خان
بہادر اور شاہی تلوے چوس' کیا سے کیا قرار دے
دیے گیے۔ بدقسمتی کی بات یہ کہ وہ تاریکیوں
کے امین' آج بھی عظیم تاریخی اور قومی
شخصیات ہیں۔ شاہی کڑچوں کا ہیرو ٹھہرنا' کوئی
نئی نہیں' بہت پرانی ریت چلی آتی ہے۔
اکبر نے اردو کو نیا طور اور نیا اسلوب دیا۔ ان
کے اکثر مرکبات بڑے کاٹ دار ہیں۔ ان کی ترکیبات
اور تشبیہات' حساس دلوں کی دھڑکنوں کو بڑی
ملئمیت سے چھیڑتی ہیں۔ جب وہ پرانی اقدار کی
تذلیل کا نوحہ کہتے ہیں' تو مغرب پریدہ انہیں
دقیانوس قرار دے کر' ان کی سننے سے انکار کر
دیتا ہے۔ اس ذیل فقط یہ دو شعر ملحظہ ہوں
تمھاری پالیسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحب
ہماری پالیسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی
شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشد
مسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی
اکبر کا موقف رہا ہے' کہ بےشک ہمارے دشمنوں
نے ہمیں روند ڈال ہے' ہمارے مذہبی اور تہذیبی
ورثے کو ناقابل تلفی نقصان پہنچا ہے' ریورس کا
عمل اگرچہ ابھی جاری ہے' تاہم اس امر کو خارج
از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا' کہ جو لوگ آج
کامیاب ہیں' کل جہاں بانی کے معاملت میں ناکام
ہو جائیں اور آج کے ناکام کل کو کامیاب ٹھہریں۔
انگریز نے 1857میں جنگ جیت جانے کے بعد'
ظلم وستم کی انتہا کر دی۔ چوں کہ اس نے مسلم
حکومت کو ختم کیا تھا اور ردعمل کی' اسی سے
توقع تھی' اس لیے زیادہ تر مسمان ہی اس کی
تیغ ستم کا نشانہ بنے۔ دہلی اس وقت چھے لکھ
آبادی کا شہر تھا' جہاں آہوں اور سسکیوں کے
سوا' کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ اس صورت حال سے
گزرنے کے باوجود' مسلمانوں میں جذبہءآزادی
بیدار ہوا' جس کے باعث زندگی میں جدوجہد کی
ایک نئی لہر
دوڑنے لگی' اکبر کے ہاں اس امر کا اشارہ ملتا
ہے' کہ فاتح اپنی فتح پر خوش نہ ہوں' کیوں کہ
سورج ہمیشہ نئے انقلب کے ساتھ طلوع ہوا کرتا
ہے۔ ان کا موقف تھا' کہ لوگ مرتے رہتے ہیں'
آزادی کے متوالے جنم لیتے رہتے ہیں۔ غلمی
سے آزادی تک کا سفر' ہر صورت اور ہر رنگ
میں' جاری رہتا ہے۔ پرانی نسل ختم ہو رہی ہے تو
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس تناسب سے
اموات ہو رہی ہیں' اسی تناسب سے لوگ آ بھی
رہے ہیں' جو اپنے سینے میں گزرا ہوا کل رکھتے
ہیں۔ اکبر کے ہاں جگہ جگہ موازنہ کی صورتیں
نظر آتی ہیں اور واضح ا لفاظ میں' نئی آمدہ تہذیب
کے نقائص کو واضح کیا۔
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
کہ آخر مسلمانوں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی
ہم ریش دکھاتے ہیں کہ اسلم کو دیکھو
vمس زلف دکھاتی ہے کہ اس لم کو دیکھو
اس پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ بعض اوقات بڑی
بےباقی سے کام لیتے ہیں۔ مثل
یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیل اسلم
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیل ہے
وہ حاکم لوگوں کے رویے رجحان اور اطوار سے
خوب خوب آگاہ تھے' تب ہی تو کہتے ہیں
رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیں
حماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی
وہ حکومتی چمچوں کڑچھوں کی نفیسات سے
آگہی رکھتے تھے۔ یہ پٹھو لوگ' اپنی پرانی تہذیب
کی خامیاں گنوا رہے تھے اور نئی تہذیب کی
خوبیوں کا ڈھندورہ پیٹ رہے تھے اور اسی کو
ترقی کا زینہ قرار دے رہے تھے۔ اس ذیل میں
اکبر ایک جگہ کہتے ہیں
چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب
اپنے
نصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی
چوں کہ آزادی اور حق سچ کی بات کرنے والے
جان جاتے تھے اس لیے انہوں نے اس کے لیے
:تین حربے استعمال کیے
اشارتی انداز اختیار کرتے 1-
دبے لفظوں بہت کچھ کہہ جاتے 2-
کبھی تھوڑا کھل کر بات کرتے 3-
انہیں اس امر کا تاسف رہا' کہ ان کے ہم نوا اور
حق کی بات کرنے والے' تقریبا ختم ہو گیے ہیں
اور انگریز تہذیب کے حامیوں میں' ہرچند اضافہ
ہو رہا ہے۔ ان کے تکذیب کرنے والے ان کے
خلف منفی اطوار پر اتر آئے ہیں۔ کہتے ہیں
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے
میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
انہوں نے علمتی طور اختیار کرکے' ایک اصول
وضع کیا' کہ کچھ بھی سہی' حالت کیسے بھی
رہے ہوں' حریت کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ عیش
و طرب کی محفل میں رونے والے بھی رہنا
چاہیے۔ وہ روتے رہے۔
تعلیم کا شور اتنا تہذیب کا غل اتنا
برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
سرسید تحریک کی طرف اشارہ ہے۔ ایک دوسرے
شعر میں ایک نام نہاد مصلح طبقہ' نسل نو کو
جس تعلیم سے آرائستہ کرنا چاہتا تھا' پر چوٹ
کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
ہم ایسی کل کتابیں قاب vل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے
ہیں
حاکم یہاں کے وسائل سے پچرے اڑا رہا تھا' بچے
کھچے میں سے پیٹ بھر انہیں بھی مل رہا تھا۔
گویا کمائے گی دنیا کھائیں گے ہم' کے مصدق
دونوں فریقوں کا موجو لگا ہوا تھا۔ اکبر اسے
وقتی اور عارضی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک'
عیش و نشاط کا خاتمہ ناتمام حسرتوں اور
خواہشوں پر ہوا کرتا ہے۔ جب یہ طے ہے' کہ
عیش و عشرت کا خاتمہ ناتمام حسرتوں پر ہوا
کرتا ہے' تو پھر کیوں نہ وقت مثبت کاموں پر
صرف کیا جائے۔ گویا وہ عیش کوشی کو تیاگنے
کے حق میں تھے۔ درحقیقت وہ مغلوں کی عیش
کوشی کو زوال کا سبب سمجھ رہے تھے۔ انہوں
نے وسائل کا غلط کیا۔ انجام کار زوال کا شکار
ہوئے۔ اگر وہ
باصول اور ڈھنگ کی زندگی کرتے' تو ذلت و
رسوائی اور دیس بدری ان کا مقدر نہ ٹھہرتی۔ اب
بھی یہ ہی کچھ چل رہا تھا' لیکن اپنی اصل میں
یہاں کی تہذیب کے مزاج سے ہٹ کر' کہا اور لکھا
جا رہا تھا۔ اس سے لمحاتی ارتعاش تو پیدا ہوا۔
مخصوص حلقوں کے سوا مجموعی مزاج ترکیب
نہ پا سکا۔
انسان دکھ میں خدا کو یاد کرتا ہے اور اس سے
مدد مانگتا ہے۔ کتنا بڑا طنز ہے' کہ مغربی تعلیم
نے' خدا کی یاد ہی بھل دی ہے۔ شخص کے لیے
صاحب ہی سب کچھ ہو گیا۔ جملہ توقعات اسی سے
وابسطہ ہو گئیں۔
مصیبت میں بھی اب یا vدخدا آتی نہیں ان کو
زباں سے دعا نہ نکلی جیب سے عرضیاں نکلیں
شرم وحیا' برصغیر کی تہذیب کا لزمہ و لوازمہ
رہا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں تو پردہ حکم میں داخل
ہے۔ مغرب میں' صورت حال اس سے مختلف ہے۔
بےحجابی کا ایک تاریخی جواز ہے۔ یہاں اس کی
تفصیل درج کرنا' لیعنی طوالت کے مترادف ہوگا۔
یہ معاملہ مادری اور پدری سوسائٹی کا ہے۔ عہد
اکبر میں مردوں اور عورتوں کا توازن بگڑا نہیں
تھا' لیکن مغربی اطوار کے زیر اثر یا ترغیب دہی
کے تحت' بالاسٹیٹس کے حامل شورےفا کے ہاں
بھی' بیبیاں ممانمائی وغیرہ پر' اتر آئی تھیں۔ اکبر
نے جس طور سے چوٹ لگائی ہے' اس پر ان
شورےفا کا سیخ پا ہونا' فطری سی بات تھی۔ تاہم
ان کا طرز تکلم خالص برصغیر کی اسلمی تہذیب
کا غماز ہے۔
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
یہ بدیسی تہذیب کے دل دادہ اور پرانی تہذیب کو
ناپسند کرنے والوں کے' رخسار گرامی پر پرزناٹا
طماچہ تھا۔ اگر شرم وحیا ہوتی' تو ضرور جاگ
اٹھتی۔ ان کے نزدیک ایسا شخص دھوکے میں
ہے' اندھیروں میں بھٹک رہا ہے اور اسے معاملہ
دکھ ہی نہیں رہا۔ یہ بھی کہ ہمیں ان کی رہنمائی
کی ضرورت ہی نہیں۔
اکبر' مغرب کے چلن اور اس کے کہے کو' طنز کا
نشا نہ بناتے اور اس کی تقلید کو مضر اثر قرار
دیتے آئے ہیں۔ مغرب کے چوری خور توتے کہتے
تھے' تمہیں زندگی اور حکومت کرنا نہیں آتا۔
مغرب تمہاری تربیت کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں'
اکبر مغرب اور اس کی تہذیب پر چوٹ کرتے رہے۔
انہوں نے عیاری سے حکومت ہتھائی اور عیاری
سے ہی لوگوں کو اپنے ساتھ کیا ۔
گولوں اور گماشتوں کو ایک طرف رکھیے' یہ ہر
دور میں' مقتدرہ قوتوں کے دم ہلوے اور گریب
عوام کے خون چوس رہے ہیں۔ للچ اور طمع