The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫اپنا الگ سے‘ لسانیاتی اسلوب تشکیل دیا ہے۔‬
‫شعری زبان میں‘ اس کا اپنا الگ سے لہجہ ہے۔‬
‫اس کا یہ اسلوب اور لہجہ‘ قاری کی توجہ حاصل‬
‫کرنے میں کمال رکھتا ہے۔ بات کرنے کے لیے‘‬

‫اس نے کئی طور اور انداز اختیار کیے ہیں۔‬
‫اب میں اس شاخ کی‘ شعری زبان کا مختصر‬
‫مختصر‘ اور ناچیز سا مطالعہ پیش کرتا ہوں۔ اس‬
‫مطالعہ سے‘ اس کی زبان دانی کے قد و کاٹھ کا‘‬
‫کسی حد تک سہی‘ اندازہ ضرور ہو جائے گا۔‬
‫طنز‘ حیرت اور سماجی حقیقت میں ملفوف ذرا یہ‬

‫سوالیہ انداز ملحظہ ہو۔‬
‫مانگے گا کوئی بھیک ترے شہر میں کیسے‬
‫پہلو میں ہر اک شخص کے جب کاسے بندھے ہیں‬
‫جہاں اس شعر میں سوال ہے‘ وہاں شاعر کسی‬
‫سے مخاطب بھی ہے۔ دکھنے میں یہ شعر جتنا‬
‫سادہ ہے‘ تفہیم میں اتنا طرحدار بھی ہے۔ اس‬
‫شعر میں لفظ ترے نے‘ اسے بڑا بلیغ بنا دیا ہے۔‬
‫اسی قماش کا‘ ایک اور سلگتا ہوا شعر ملحظہ ہو‬

‫کچھ تو بتاؤ کیا کیا راکھ ہوا ہے اور‬
‫اور وہ لوگ جو آگ لگانے آئے تھے‬

‫کچھ تو بتاؤ‬
‫کیا کیا راکھ ہوا ہے‬

‫اور‬
‫پہلے مصرعے کا اور اتنا سادہ نہیں‘ جتنا نظر آ‬
‫رہا ہے۔ یہ سوالیہ ہے‘ کچھ تو بتاؤ کیا کیا راکھ‬
‫ہوا ہے۔۔۔۔ الگ سے سوال ہے۔ دوسرے مصرعے‬
‫میں‘ اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے ۔ بات بھی‬
‫پہلے مصرعے سے الگ تر ہے۔ اسے اس طور‬

‫سے دیکھیں‬
‫اور وہ لوگ‬
‫جو آگ لگانے آئے تھے‬

‫شاعر خود کلمی سے بھی کام لیتا ہے۔‬
‫کیمرا رکھ کے سامنے خود ہی‬
‫اپنی تصویر اس کے ساتھ اتار‬

‫اب تخاطب میں لیپٹا‘ استداعیہ انداز ملحظہ ہو‬
‫کر عطا مجھ کو صبر کا مفہوم‬
‫پیاس میری لب فرات اتار‬

‫تلمیح نے فکر کو اور جاندار بنا دیا ہے۔‬

‫فکر کی پرواز اور رفتار کے مطابق‘ رنگ ہاتھ‬

‫لگتے ہیں۔ ان رنگوں کا استعمال‘ بالکل الگ سے‬
‫ہنر ہے۔ تصاویر وہ ہی من بھاتی ہیں‘ جو ناصرف‬
‫خوب صورت ہوں‘ باتیں بھی کرتی ہوں۔ بےجان‬
‫اور سکوت کا شکار تصاویر‘ لمحہ بھر کو سامنے‬
‫آتی ہیں‘ اور پھر دل و دماغ سے یکسر محو ہو‬
‫جاتی ہیں۔ جاگتی بولتی اور باتیں کرتی اور بناتی‬

‫تصاویر‘ تادیر دل و دماغ میں رقص کرتی ہیں۔‬
‫نہیں یقین آتا تو دو منٹ نکالیے‘ اور ان تصاویر‬
‫کو دیکھیے۔ سرسری نظر‘ ممکن ہے‘ تادیر آپ‬

‫کو مسرور رکھے۔‬

‫تعویز محبت‬
‫ممکن ہے اسے کھینچ کے لےآئیں ہوائیں‬

‫تعویز محبت سبھی اشار سے باندھو‬

‫ٹمٹماتی لو‬
‫ٹمٹماتی لو ترا چہرا نظر کے رو بہ رو‬
‫مرتے مرتے دیکھتا ہوں زندگانی کی طرف‬
‫ہر لفظ ایک دوسرے سے پیوست ہے‘ اور ایک‬
‫مخصوص ایمیج تشکیل دے رہا ہے‘ یہ چشم‬
‫تصور سے دیکھنے سے تعلق رکھتا معاملہ ہے۔‬

‫آنکھوں کی چمک‘ نگاہوں میں ارادہ‬
‫اس بار ان آنکھوں کی چمک میں ہے کوئی دل‬

‫اس بار نگاہوں میں ارادہ سا کوئی ہے‬

‫یاد کی دھوپ‬
‫یاد کی دھوپ میں لرزتا ہے‬

‫ایک سایہ کہیں ردا سا‬

‫مستعمل محاوروں کا استعمال‘ کمال کا حسن رکھتا‬
‫ہے۔ یہ ہی نہیں جدت طرازی کا خوب صورت‬
‫نمونہ ہوتا ہے۔ باطور ذائقہ دو تین محاوروں کا‬
‫استعمال ملحظہ ہو‬
‫دل میں اس کو تلش کر لیکن‬
‫پہلے شیشے میں کائنات اتار‬

‫کبھی اٹھے گا بھی پردہ دل سے‬
‫کبھی نکلے گی یہ دنیا دل سے‬

‫!بینائی کا خمیازہ نہ پڑ جائے بھگتنا‬
‫ہر خواب نہ یوں حسن طرحدار سے باندھو‬

‫یہ کس طرح کے بھل ہم اسیر ظلمت ہیں‬
‫کہ روشنی کی ملقات بھی نہیں آتی‬

‫صنعت تکرار لفظی‘ شاعر بکثرت استعمال کرتا‬
‫ہے اور اس کے لیے‘ اس نے کئی انداز اختیار‬
‫کیے ہیں۔ اس ذیل میں چند ایک مثالیں ملحظہ‬

‫ہوں‬
‫سوچتے سوچتے جب سوچ ادھر جاتی ہے‬
‫روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے‬

‫رفتہ رفتہ ہی دل تجھ کو بھولے گا‬
‫جاتے جاتے ہی یہ رغبت جاتی ہے‬

‫دل کی آنکھوں سے اگر دیکھو تو‘ دیکھو ہر سو‬
‫ان نظاروں سے الگ ایک نظارہ آباد‬

‫میں رہوں یا نہ رہوں یار رہے باقی‘ اور‬
‫یار کے ساتھ رہے یار کا قصبہ آباد‬

‫دیکھنا اب ہے مسافر کی طرح ہر منظر‬

‫میلے میں رہ کے بھی میلے سے الگ رہنا ہے‬
‫ہم صوت لفظوں کا استعمال‘ شاعر کی زبان پر‬
‫قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صنعت غنا کے‬
‫حوالہ سے‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مثل یہ اشعار‬

‫ملحظہ فرمائیں‬
‫ہم نے کبھی نہ چیز اٹھائی پڑی ہوئی‬
‫قدموں میں تھی اگرچہ خدائی پڑی ہوئی‬

‫اٹھیں تو قدم کیسے میں جاؤں تو کہاں جاؤں‬
‫ہے آگ مرے آگے تودریا مرے پیچھے‬

‫دشت کی پیاس بجھے گی اک روز‬
‫کبھی گزرے گا وہ دریا دل سے‬

‫روح بھی جھوم اٹھی تھی اس پل‬
‫رات گزرا جو وہ تارا دل سے‬

‫صنعت تضاد‘ جہاں تقابلی صورت پیدا کرتی ہے‘‬
‫وہاں شناخت کا‘ بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اس سے‬
‫عناصر کی اہمیت‘ اور حقیقی قدر کا بھی‘ اندازہ‬

‫ہوتا ہے۔ اس صنعت کا استعمال‘ بڑی ہنرمندی‬

‫سے ہوا ہے۔ مثل‬
‫روشنی اور تیرگی میں اک دیا دیوار ہے‬
‫اور اس کی راہ میں دیکھو ہوا دیوار ہے‬

‫میری صدا پر وہ قریب تو آئے گا‬
‫لیکن زیر دام نہیں آنے وال‬

‫جاگتے جاگتے ہے نیند بھی پوری کرنی‬
‫بھیڑ میں رہ کے بھی چپکے سے الگ رہنا‬

‫بچھڑا ہے کون کس سے کوئی جانتا نہیں‬
‫ہم تم سے کیا ملے‘ ہے دہائی پڑی ہوئی‬
‫متعلقات کا استعمال‘ جہاں وضاحت پیدا کرتا‘ وہاں‬
‫مفاہیم کے دائرے‘ پھیلنے کا بھی سبب بنتا ہے۔‬
‫اس ضمن میں چند نمونہ کے اشعار ملحظہ ہوں۔‬
‫ساون کی جھڑیاں بھی نوچتی رہتی تھیں‬

‫تیرے بن برسات پہ غصہ آتا تھا‬

‫میں ایک اشک ندامت تھا اپنی پلکوں پر‬
‫کسی نگاہ میں آیا تو آئنہ ٹھہرا‬

‫اک لہر مجھے اور طرف کھینچ رہی ہے‬
‫جو غرق کیے جائے‘ کنارا سا کوئی ہے‬

‫کنارے کا غرق کرنا‘ قطعی متضاد معنی رکھتا ہے۔‬
‫اہل سخن کا کمال یہ ہی ہوتا ہے‘ کہ وہ لفظ کو‬
‫اپنی مرضی کے مفاہیم‘ عطا کرتے ہیں۔‬

‫تشبیہ شعر کی جان ہوتی ہے۔ اس کا برمحل اور‬
‫پرسلیقہ استعمال‘ شعر میں مقناطیسیت بھر دیتا‬
‫ہے۔ زیر مطالعہ شاعر کی چند تشبیہات دیکھیں۔‬

‫کیا طور اور انداز پایا ہے۔‬
‫وہ ایک سانس کہ دھڑکن کے ساتھ رک سی گئی‬

‫وہ ایک پل کہ بھڑکتا ہوا دیا ٹھہرا‬

‫رات گزرا یہ کس گلی سے میں‬
‫کیا اندھیرا تھا وہ ضیا کا سا‬

‫تیرتے آئیں نظر جس میں ستاروں کے دیے‬
‫میری آنکھوں کے کنارے ہے وہ دریا آباد‬
‫یہ تشبیہ‘ استعارے کا اترن لیے ہوئے ہے۔‬
‫لگے ہاتھوں‘ ان کے دو تین مرکبات بھی ملحظہ‬

‫‪:‬فرما لیں‬

‫عکس یقین‬
‫پڑا ہے شیشہءدل پر تمہارا عکس یقین‬
‫ملے ہیں پہلے کہیں ہم‘ گمان پڑتا ہے‬

‫حرف تسکیں‬
‫حرف تسکیں‘ ترا شفا کا سا‬

‫دل پہ جادو ہوا دوا کا سا‬

‫سچ کا دیپک‬
‫سچ کا دیپک مانگ رہا ہے آخری سانس‬

‫جان بچا لوں میں تو محبت جاتی ہے‬

‫اہل سخن کے کہے کا‘ ایک کمال یہ بھی ہوتا ہے‘‬
‫کہ جس زاویہ سے بھی دیکھو‘ یا اشکالی اور‬
‫استعمالی تبدیلیاں کر لو‘ مفاہیم کا جہاں آباد ہوتا‬
‫ہے۔ باطور ثبوت یہ مثالیں پیش ہیں۔‬
‫کیا لوگ ہیں‘ ہم لذت دنیا سے بندھے ہیں‬
‫پانی کے لیے پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں‬
‫کیا لوگ ہیں‬

‫ہم لذت دنیا سے بندھے ہیں‬
‫پانی کے لیے‬

‫پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں‬
‫اب اس شعر کو یوں پڑھیے‬
‫کیا لوگ ہیں ہم‬

‫پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں‬
‫پانی کے لیے‬

‫لذت دنیا سے بندھے ہیں‬
‫اب یوں پڑھیے‬

‫کیا لوگ ہیں ہم‘ پانی کے لیے‬
‫پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں‬
‫یہ استعارے کہاں لے جاتے ہیں‘ ذرا غور فرمائیں۔‬
‫انہیں تلمیحی حوالہ سے بھی‘ لے سکتے ہیں۔‬

‫پانی‘ پیاس‘ صحرا‬
‫ہم صوت الفاظ‬
‫سے‘ کے‬

‫انہیں باطور محاورہ لے سکتے ہیں۔‬
‫لذت دنیا سے بندھنا‬

‫پیاس کے صحرا سے بندھنا‬

‫پیار ہی پیار میں وہ آگ بگول ہو جائے‬

‫بات ہی بات میں تلوار پہ آ جاتا ہے‬
‫پیار ہی پیار میں‬

‫وہ آگ بگول ہو جائے‬
‫بات ہی بات میں‬
‫تلوار پہ آ جاتا ہے‬
‫اب یوں پڑھیے‬
‫بات ہی بات میں‬

‫وہ آگ بگول ہو جائے‬
‫پیار ہی پیار میں‬
‫تلوار پہ آ جاتا ہے‬

‫تلوار پہ آنا‘ نیا محاورہ ترکیب پایا ہے۔‬

‫وہ ایک پل کہ ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا‬
‫نظر نظر میں شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا‬
‫وہ ایک پل کہ‬
‫ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا‬
‫نظر نظر میں‬
‫شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا‬
‫اب یوں پڑھیے‬

‫نظر نظر میں‘ ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا‬
‫وہ ایک پل کہ شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا‬

‫نظر نظر میں‬
‫ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا‬

‫وہ ایک پل کہ‬
‫شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا‬
‫ترے رو بہ رو شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا‬
‫وہ ایک پل کہ ترے رو بہ رو آ ٹھہرا‬
‫شاعر کا واسطہ‘ جہاں سخن سناشوں سے ہوتا‬
‫ہے‘ وہاں وسیب کے ہر طبقہ کے لوگوں سے‬
‫بھی‘ تعلق اور رشتہ ہوتا ہے۔ وہ ان ہی کے دکھ‬
‫درد کاغذ پر منتقل کر رہا ہوتا ہے۔ ان سے اٹوٹ‬
‫رشتہ ہونے کے باعث عوامی روزہ مرہ اور‬
‫عوامی تکیہءکلم‘ اس کی شعری زبان کا حصہ بن‬
‫جاتا ہے۔ زیر گفت گو شاعر نے‘ اس میں بہت کم‬
‫تصرف سے کام لیا ہے۔‬

‫پہلے پہل‬
‫پہلے پہل ہر بات پہ غصہ آتا تھا‬
‫اور مجھے حالت پہ غصہ آتا تھا‬

‫بات ہی بات میں‬
‫پیار ہی پیار میں وہ آگ بگول ہو جائے‬

‫بات ہی بات میں تلوار پہ آ جاتا ہے‬
‫ویسے بھی‬

‫ویسے بھی کچھ خون میں گرمی تھی اس وقت‬
‫ویسے بھی ہر بات پہ غصہ آتا تھا‬
‫اس کا دیا‬
‫اس کا دیا بہت ہے‬

‫اس کا دیا بہت ہے مگر کیا کروں شمار‬
‫ہر شے ہے میرے پاس پرائی پڑی ہوئی‬
‫غزل میں شاعر تخلص آخر میں استعمال کرتا ہے۔‬
‫اختر شمار کی غزل پر میں نے گفت گو کی ہے۔‬
‫اس گفت گو کا اختتام مقطعے پر کیا ہے۔ سماج کی‬
‫یہ ریتا رہی ہے‘ اگر کوئی برا کرئے‘ تو اس کے‬
‫پیر اور استاد کو پنتے ہیں۔ اچھا کرنے کی صورت‬
‫میں‘ استاد پس پشت چل جاتا ہے۔ میں یہ نہیں‬
‫کروں گا۔ علمہ بیدل حیدری نے‘ اختر شمار کو‬
‫شعری ہنر سکھانے میں‘ بلشبہ کسر نہیں‬
‫چھوڑی۔ یہ اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے‘ کہ اختر‬
‫شمار سے ہنر سیکھنے والے‘ لگن کے پکے‬

‫بھی کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔‬

‫تمثال میں لسانیاتی تبسم کی تلش‬

‫برصغیر کی موجودہ صورت حال‘ کوئی نئی نہیں‘‬
‫یہ بدنصیب خطہ‘ شروع سے‘ معاش خور اور آدم‬

‫کش‘ بدنصیبی کی دلدل میں پھنسا رہا ہے۔‬
‫بیرونی لٹیروں کا رونا‘ کیا رونا ہے‘ وہ تو غیر‬
‫تھے‘ انہیں اس سے‘ یا اس کے لوگوں سے‘ کیا‬
‫دلچسپی ہو سکتی تھی‘ یا دلچسپی ہو سکتی ہے۔‬
‫اس کے اپنے‘ اس خطے کی بربادی پر تلے رہے‬
‫ہیں۔ کبھی خود‘ کبھی غیروں کو مددعو کرکے‘‬
‫اور کبھی ان کا ساتھ دے کر‘ استحصال کرتے‬
‫آئے ہیں۔ انہوں نے‘ غیروں کی جھوٹھ میٹھ کو‘‬
‫خلد کا طعام سمجھ کر‘ نوش جان کیا ہے۔ اپنے‬
‫لوگوں کی‘ حالت زار دیکھنے کے لیے‘ ان کے‬
‫پاس کبھی وقت نہیں رہا‘ یا دیکھنے کی کبھی‬

‫ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔‬

‫عوامی سطح کے ردعمل کے سدباب کے لیے‘ ان‬
‫کے گماشتہ ادروں نے‘ عوامی استحصال کے‬
‫ضمن میں‘ اپنے حصہ کا‘ بھرپور کردار ادا کیا‬
‫ہے۔ وہ ناصرف‘ شاہوں سے چوری وصولتے‬
‫رہے ہیں‘ بلکہ عوام کو‘ ان کے حق کے دینے‬

‫کے لیے‘ عوضانہ لیتے آئے ہیں۔ عوام اپنی بپتا‘‬
‫کس سے کہتے‘ سننے والے‘ خود اسی شغل بد کا‬
‫شکار رہے ہیں۔ انہیں مقتدرہ طبقوں کا‘ اشیرباد‬

‫بھی میسر رہا ہے۔ مورکھ بدبخت اور بدطعینت‬
‫بھی‘ ان کی دریا دلی اور انصاف پروری کے گیت‬

‫الپتا رہا ہے۔ استحصال کرنے والے حاجی‘‬
‫استحصال کے خلف آواز اٹھانے والے‘ باغی اور‬
‫وطن دشمن کے القاب سے‘ ملقوب ہوتے رہے‬
‫ہیں۔ گویا مرتشی کو‘ راشی کا نام دیا جاتا رہا ہے۔‬

‫بہت سے شعرا‘ جن کا کبھی‘ تلوار سے تعلق‬
‫واسطہ ہی نہیں رہا‘ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے‬
‫رہے ہیں۔ صوفیا‘ حق گوئی کی پاداش میں‘ زندگی‬
‫سے محروم ہوتے آئے ہیں۔ ظالم ہل پر نہائے جب‬
‫کہ مظلوم‘ مجرم اور گناہ گار ٹھہرے ہیں۔ اس‬
‫سے بڑھ کر ستم یہ‘ کہ تاریخ کے بےوفا اور ظالم‬
‫کے طرف دار پنوں سے‘ مظلوموں کی جذباتی‬

‫وابستگی منسلک کی جاتی رہی ہے۔‬

‫درباریوں کو الگ رکھیے‘ ان کے علوہ بھی‘‬
‫شاعر جنم لیتے رہے ہیں۔ شاعر اپنی سوسائٹی کا‬
‫نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کی ذات کا کرب‘ اپنی جگہ‘‬

‫سوساسٹی کا کرب‘ ان کی ذات کا کرب بن جاتا‬
‫ہے۔ لوگوں کی بھوک پیاس‘ دکھ درد اور‬

‫خوشیاں‘ اپنے ساتھ نتھی کر لیتا ہے‘ اور اسی‬
‫حوالے سے ہی‘ ان کا اظہار کرتا ہے۔ معاملے یا‬
‫مسلے کو‘ اس نے کس طرح محسوس کیا‘ وہ اس‬
‫محسوس کے مطابق اظہار کرتا ہے۔ اس ذیل میں‘‬
‫اس کے مزاجی اطوار کو بھی‘ بڑا عمل دخل رہتا‬
‫ہے۔ اس حوالہ سے‘ اردو شاعری میں مختلف‬
‫انداز پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی عموما‘ تین‬

‫سطحیں ملتی ہیں۔‬

‫ا۔ اپنی ذات کے حوالہ سے‘ معاملہ کہہ دیتا ہے۔‬
‫ب۔ مجموعی بات کرتا ہے۔‬

‫ج۔ دوسرے کے منہ سے‘ کہلواتا ہے۔‬
‫ہاں البتہ‘ بات کرنے کے انداز اور رویے‘ کئی‬
‫طرح کے ہو سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ‘ ان کی‬
‫حیثیت مجموعی ہو جاتی ہے‘ اور یہ ہی‘ اس‬

‫شاعر کی اسلوبی‬
‫شناخت ٹھہرتی ہے۔ اس کی صورتیں کچھ اس‬

‫طرح سے ہو سکتی ہیں۔‬
‫‪ -١‬حکائیتی اور داستانی انداز‬

‫‪ -٢‬جارحانہ انداز‘ اس میں وہ ہر اگلے قدم پر‘ آگ‬
‫اور پتھر برساتا ہے۔‬

‫‪ -٣‬دبے لفظوں میں بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔‬
‫‪ -٤‬علمتی اور استعارتی طور اختیار کرتا ہے۔‬

‫‪ -٥‬حالت کا نوحہ کہے جاتا ہے۔‬
‫‪ -٦‬مایوسی‘ بےچارگی‘ بےبسی اور بےکسی‬

‫بکھیرتا چل جاتا ہے۔‬
‫‪ -٧‬بدگمانی اور بداعتمادی کا مسلسل اور متواتر‬

‫اظہار کرتا ہے۔‬
‫‪ -٨‬دھرتی سے محبت کا‘ اس انداز سے درس دیتا‬
‫ہے‘ کہ وہ دھرتی کا بھگت محسوس ہونے لگتا‬

‫ہے۔‬
‫‪ -٩‬نئے حالت اور بدلتی صورت حال کے تناظر‬
‫میں‘ معاملت کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق‘‬

‫نتائج‬
‫کی نشان دہی کرتا ہے۔‬
‫‪ -١٠‬تلخیوں کو‘ رومان میں ملفوف کرکے‘ پیش‬

‫کرتا ہے۔‬
‫‪ -١١‬دعائیہ طور لیتا ہے۔ خیر اور بھلئی‘ ا‬

‫سے طلب کیے جاتا ہے۔‬
‫‪ -١٢‬استدعایہ انداز اخیتار کرکے‘ کم زور اور‬

‫بےبس طبقے کے‘ حقوق طلب کرتا ہے۔‬
‫‪ -١٣‬انشرح کے بغیر کسی کی بن نہیں پڑتی۔ خود‬

‫کلمی‘ ذات سے مکالمے کے مترادف ہے۔ یہ‬
‫طور‘ تنہائی اور ہم خیال نہ منلے کی طرف‘ اشارہ‬

‫کرتا ہے۔‬
‫‪ -١٤‬سوالیہ طور اختیار کرکے‘ شاعر صرف‬
‫دوسرے کا کندھا استعمال نہیں کر رہا ہوتا‘ بلکہ‬

‫بالواسطہ نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔‬
‫ان اندازواطوار کے مطابق‘ ان کی زبان تشکیل‬

‫پاتی چلی جاتی ہے۔‬

‫ڈاکٹر تبسم کاشمیری کو میں‘ اس عہد کی‘ ادبی‬
‫بگ گن کہتا ہی نہیں‘ سمجھتا بھی ہوں۔ وہ صرف‬
‫اردو تنقید‘ تحقیق اور تاریخ کے ہی مرد مجاہد‬
‫نہیں ہیں‘ شاعر بھی کمال کے ہیں۔ ان کی ‪١٩٦٤‬‬
‫سے ‪ ١٩٨١‬کے دوران کی شاعری‘ کے مطلعہ‬
‫کے دوران‘ مجھے ان کے ہاں‘ مختلف رنگوں کی‬
‫امیزش نظر آئی ہے۔ اس دور کی شاعری میں‘‬
‫سیمابی کیفیت ملتی ہے۔ سماجی ناہمواریوں کے‬
‫خلف‘ بےچینی سی محسوس ہوتی ہے۔ اس دور‬
‫کی شاعری میں زبان کے بھی‘ کئی ذائقے پڑھنے‬

‫کو ملتے ہیں۔ ان کی شخص سے محبت‘ بڑی‬
‫واضح ہے۔ میں اسے‘ آتے وقتوں کے لیے‘‬
‫عصری گواہی کے درجے پر فائز دیکھتا ہوں۔‬

‫شخص‘ کہانی سننے اور سنانے کا‘ روزازل سے‬
‫شائق رہا ہے۔ کسی بھی معاملے کو‘ پیش کرنے‬
‫کے ضمن میں‘ داستانی اور حکائیتی انداز کو‬
‫کسی طور پر‘ صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ میر‬
‫حسن کی مثنوی سحرالبیان کا‘ کسی زمانے میں‘‬
‫طوطی نہیں طوطا‘ وہ بڑا بھونپو‘ بولتا تھا۔ فکشن‬
‫میں بھی‘ صورت حال اس سے مختلف نہیں رہی۔‬

‫ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے بھی اپنے کلم میں‘‬
‫کہنے کے اس طور سے‘ خوب فائدہ اٹھایا ہے۔‬

‫‪:‬اس ذیل میں ان کی نظمیں‬
‫شہروں کے لیے ایک نظم‘ غضب وہ شب تھی۔۔۔۔۔‘‬

‫سانپ بارش۔۔۔۔‬
‫کو باطور مثال‘ لیا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے‘‬
‫کہ یہ نظمیں اپنے مضامین کے حوالہ سے‘ سادہ‬
‫اور عام فہم نہیں ہیں۔ ان حکائیتی نظموں میں‘‬
‫علمتی استعارتی اور اشارتی سلیقہ اختیار کیا گیا‬

‫ہے۔ طرز اظہار قطعی سادہ ہے‘ لیکن ان کی یہ‬
‫سادگی‘ مطالب کے حوالہ سے‘ بڑا ٹیڑاپن لیے‬
‫ہوئے ہے۔ مفاہیم تک رسائی کے لیے‘ سوچنا اور‬

‫غور کرنا پڑتا ہے۔‬
‫‪:‬باطور نمونہ دو تین مثالیں پیش کرتا ہوں‬

‫مجھے اس شہر کے چہرے پہ اگتی زرد کائی‬
‫سے محبت ہے‬

‫کہ میں خود زرد کائی ہوں‘ کہ میں خود تار آنگن‬
‫ہوں‬

‫کہ میں خود زرد چہرہ ہوں‬
‫‪:‬شہروں کے لیے ایک نظم نظم‬
‫معاملے کو ناصرف تجسیم دی گئی ہے‘ بلکہ اسے‬
‫خود پر محمول بھی کیا گیا ہے۔‬

‫اداس نسلوں کی یہ کہانی‘ ہمارے لب سے جو تم‬
‫سن رہے ہو‬

‫ہماری آنکھوں میں آنسوؤں کے ہزار جگنو چمک‬
‫رہے ہیں‬

‫ہر ایک شخص آ کے پوچھتا ہے‬
‫شب غضب ہے دراز کتنی‘ شب غضب ہے دراز‬

‫کتنی‬
‫نظم‪ :‬غضب وہ شب تھی۔۔۔۔۔۔۔‬

‫سوکھے بچوں کی ہڈیوں پہ‬
‫دلہنوں کی عرسیوں پہ‬

‫بسنتی خوشیوں کے سرخ چہروں پہ‬
‫خواہشوں کے چمکثے شانوں پہ‬
‫سانپ بارش برس رہی ہے‬
‫نظم‪ :‬سانپ بارش‬

‫ہر سہ مثالیں‘ ماضی سے متعلق نہیں ہیں‘ یہ‬
‫حال‘ یعنی ‪ ١٩٦٤‬سے ‪ ١٩٨١‬کی کہانی ہے۔ آتا‬
‫کل‘ ان پندرہ سالوں کا چہرہ‘ ان نظموں کے تناظر‬
‫میں‘ دیکھ لے گا۔ یہ نظمیں کسی ایک طبقے کی‬
‫حالت زار کی نمائندہ نہیں ہیں‘ یہ اپنے عہد کے‬

‫خستہ و ویران زندہ شخص کا نوحہ ہیں۔‬

‫تبسم کاشمیری کے ہاں‘ دھرتی اور دھرتی باسیوں‬
‫سے‘ محبت واضح طور پر ملتی ہے۔ خصوص؛‬
‫غلظت‘ گربت اور بھوک سے نڈھال لوگوں سے‘‬
‫دور بھاگتے ہیں۔ اندر کو دھنسے چہروں سے‘‬
‫انہیں گھن آتی ہے۔ تبسم کاشمیری کی نظم ۔۔۔۔۔‬

‫شہروں کے لیے ایک نظم۔۔۔۔۔۔ خصوصی مطالعے‬
‫کا تقاضا کرتی ہے۔ دھرتی کی بھگتی‘ اس سے‬
‫بڑھ کر‘ کہیں پڑھنے کو نہیں ملے گی۔ باطور‬

‫‪:‬نمونہ‘ صرف یہ دو لئنیں ملحظہ فرمائیں‬
‫میں ان شہروں کے جلتے جسم‘ روتی آنکھ‬

‫دکھتے بازوں‬
‫سے پیار کرتا ہوں‬
‫میں نے کہیں عرض کیا ہے‘ کہ شاعر سماج کا‬
‫دکھ‘ ذات کا دکھ بنا لیتا ہے۔ سماج کی ہر شے‘‬
‫اور ہر شخص‘ اس کی ذات کا اٹوٹ انگ بن جاتے‬
‫ہیں۔ یہ گویا اس کی دھرتی سے‘ قلبی محبت کا‬
‫ثبوت ہوتا ہے۔ دھرتی اور دھرتی سے متعلق‬
‫لوگوں‘ اور اشیا سے محبت‘ اسے اپنی ذات کی‘‬
‫محبت محسوس ہوتی ہے۔ اسی نظم کی یہ لئینیں‬
‫‪:‬باطور نمونہ ملحظہ ہوں‬
‫کہ دکھتا بازو‘ جلتا جسم‘ روتی آنکھ میں خود‬

‫ہوں‬
‫مجھے ہر شے سے الفت ہے‬
‫کہ میں خود سے ہمیشہ پیار کرتا ہوں‬

‫انہوں نے‘ دعائیہ انداز بھی اختیار کیا ہے۔ وہ دعا‬

‫کو‘ اپنی ذات یا اپنے گرد وپیش تک‘ محدود نہیں‬
‫رکھتے۔ ان کا زمین‘ اور زمین پر موجود انسان‘‬

‫اور اشیا سے‘ بل کسی تخصیص اور تمیز‬
‫وامتیاز‘ تعلق اپنوں کا سا ہے۔ یہ تعلق رسمی‬
‫‪:‬نہیں‘ قلبی ہے۔ تان کہاں توڑتے ہیں‘ ملحظہ ہو‬

‫اور میری دعا ہے‬
‫زمیں پہ ہر اک شے کی‬
‫خوش بختیوں کے لیے‬

‫‪:‬ذرا آگے بڑھیے‘ کہتے ہیں‬
‫زمینوں پہ اور آسمانوں پہ‬
‫انسان کی نصرتوں کے لیے‬

‫حالت اور وقت کی ستم ظریفی اور سماجی‬
‫ناقدری‘ مایوسی کا موجب بنتی ہے۔ غور کرنے‬
‫کی بات ہے‘ شاہ اور کچھ شاہ والے‘ تاریخ کا‬
‫حصہ بنے‘ اور انہیں ناصرف ان کے نام سے جانا‬
‫اور پہچانا جاتا ہے‘ بلکہ بھول میں ہو جانے‬
‫والے کسی کام کو بھی‘ نظرانداز نہیں کیا گیا۔ بد‬
‫بخت اور چوری خور مورکھ نے‘ بہت کچھ ناکردہ‘‬
‫ان کے نام کر دیا ہے۔ سندھ کو فتح کرنے‘ اکیل‬

‫قاسم تو نہیں آیا تھا‘ اس کے ساتھ فوج بھی تھی۔‬
‫اس کے ساتھ کون تھے‘ کوئی نہیں جانتا۔‬

‫شخص چاہتا ہے‘ آتا وقت اسے یاد رکھے۔ المیہ‬
‫یہ رہا ہے‘ آتا وقت تو دور کی بات‘ گزرتا وقت‘‬
‫اسے نہیں جانتا۔ گزرتے وقت میں‘ وہ وجود سے‬
‫محروم ہے۔ خود اسے معلوم نہیں‘ وہ کون اور کیا‬
‫ہے۔ تبسم کاشمیری حواس بیدار شاعر ہے‘ وہ‬
‫اس المیے کو‘ بھل کیوں کر نظر انداز کر سکتا‬
‫ہے۔ ذرا ان سطور کو‘ دل کی آنکھ سے‘ ملحظہ‬
‫فرمائیں۔ شاعر نے نظم ۔۔۔۔۔ فقط ہونے نہ ہونے‬
‫سے۔۔۔۔۔۔ میں صنعت خود کلمی سے کام لے کر‘‬
‫زندگی کے اس بہت بڑے المیے کو‘ فوکس کیا‬

‫ہے۔‬
‫کبھی محسوس کرتا ہوں کہ میں آخر کہاں پر ہوں‬

‫ہوا میں یا زمیں پہ یا فضا کی گزرگاہوں میں‬
‫کہیں بھی میں نہیں ہوتا‬

‫اس نہ ہونے کے المیے کو‘ زیر حوالہ شاعر نے‬
‫موجود تک محدود نہیں رکھا‘ وہ ماضی اور‬

‫مستقبل کو نظر انداز نہیں کرتا۔ حال سے ماضی‬
‫کی طرف پلٹتا ہے‘ پلٹنے کے انداز کو دیکھیں۔‬

‫میں اکثر سوچتا ہوں مجھ سے پہلے میرے آباء‬
‫تھے‬

‫وہ اکثر سوچتے ہوں گے‬
‫اگر ہم ہیں تو کیا حاصل‬
‫شاعر‘ مستقبل کے سفر پر بھی روانہ ہوتا ہے۔‬
‫گویا یہ لحاصلی‘ صدیوں سے چلی آتی ہے‘ اور‬
‫ان حالت کے تحت‘ آتے کل کو بھی‘ اس کا اسی‬
‫طور سے سکہ چلتا رہے گا۔‬
‫زمانہ اور گزرے گا تو میری نسل آئے گی‬
‫کبھی شاید وہ سوچے گی کہ اس کے ہونے سے‬

‫کیا حاصل‬
‫نہیں کچھ بھی نہیں حاصل‬

‫تبسم کاشمیری‘ سوالیہ طور بھی اختیار کرتے‬
‫ہیں۔ ان میں‘ اور اوروں میں فرق یہ ہے‘ کہ ان‬
‫کے سوالیہ میں بھی‘ المیہ سانسیں لے رہا ہوتا‬
‫ہے۔ ذرا یہ لئنیں ملحظہ فرمائیں‘ درد اور کرب‬
‫کے بادل قاری کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔‬

‫مگر وہ خواب کیسے تھے لڑکپن میں جو دیکھے‬
‫تھے‬

‫یہ اکثر میں نے سوچا ہے وہ سارے خواب کیسے‬
‫تھے‬

‫وہی جو ہم سے پہلے آنے والے لوگ تکتے تھے‬
‫وہی خواب اب ہمارے ننھے منے بچے تکتے ہیں‬

‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫مزید آگے بڑھیے‘ شاعر بچوں کے بچوں‘ کے‬
‫بارے بھی سوچتا ہے۔ ایک سوالیے کے کندھوں‬

‫‪:‬پر خوابوں کا انجام رکھ دیتا ہے‬
‫پھر اس کے بعد ان کے ننھے بچے روشنی کے‬

‫رنگ کے‬
‫اور خوشبوؤں کے خواب دیکھیں گے‬

‫تو ان کے خواب کیا ہوں گے‬

‫تبسم کاشمیری کی اس عہد کی شاعری میں‘‬
‫پیغامیہ انداز بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ وہ شخص‬
‫کو‘ بغاوت اور سرکشی کا مشورہ نہیں دیتے۔ ان‬

‫کو برداشت کے ساتھ ساتھ‘ استقلل کا رستہ‬
‫دکھاتے ہیں۔ حوصلہ شکنی سے کام نہیں لیتے‬
‫بلکہ امید کی ڈور سے باندھنے کی سعی کرتے‬
‫ہیں۔ کیا کمال کی یہ لئنیں ہیں۔ یہ لئنیں‘ زندگی‬
‫کے تسلسل کو‘ برقرار رکھنے میں‘ بلشبہ اپنے‬

‫حصہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔‬
‫تم اپنے سر پہ لہو کے پیالے سجائے رکھنا‬
‫گلی گلی میں تمہارے جسموں کا شہد پھیلے‬

‫نظم‪ :‬لہو کے پیالے سجائے رکھنا‬

‫ان کے ہاں‘ ظلم کے خلف یلغار کا پیغام بھی ملتا‬
‫ہے۔ اس کے لیے وہ‘ اشارتی انداز اخیتار کرتے‬
‫‪:‬ہیں۔ اس حوالہ سے یہ لئنیں ملحظہ فرمائیں‬

‫ظلم کے پہرے داروں پہ پھر‬
‫موت کی بجلی کڑکے‬

‫ساری خلقت ملک الموت ہو‬
‫سارے ظالم کنبیں‬

‫نظم‪ :‬راوی پار گیا تھا مرزا‬

‫ضروری نہیں‘ اعلی درجے کی بات‘ اعلی درجے‬
‫کی زبان میں‘ کہی گئی ہو۔ بڑی بات‘ معمولی زبان‬
‫میں بھی‘ کہی گئی ہو سکتی ہے‘ وہ بھی اپنا اثر‬
‫دکھائی ہے۔ اگر دونوں بڑھیا ہوں‘ تو یہ سونے پہ‬
‫سہاگے والی بات ہوتی ہے۔ تبسم کاشمیری‘ اپنی‬

‫فکر کے اظہار کے لیے‘ لفظوں کے چناؤ میں‬
‫بھی‘ خصوصی اہتمام سے کام لیتے ہیں۔ خوب‬

‫صورت زبان‘ ان کے مزاج کا بھی حصہ ہے۔ فکر‘‬
‫اظہار اور اظہار کی زبان کا رستہ خود ہی تلش‬

‫لیتی ہے۔‬

‫زبان میں‘ صفتی سابقوں اور لحقوں کو‘ بڑی‬
‫اہمیت حاصل ہے۔ یہ جہاں حسن اور چاشنی کا‬
‫سبب بنتے ہیں‘ وہاں معاملے اور معاملے کے‬
‫کرداروں کی‘ حیثیت‘ اہمیت اور کارگزاری کو بھی‬
‫نمایاں کرتے ہیں۔ باطور نمونہ چند صفتی سابقے‬

‫‪:‬ملحظہ فرمائیں‬
‫بےنور اشیا‬

‫میں ان بےنور اشیا کے‬
‫ہزاروں اشک اپنے گرم سینے پر گراتا ہوں‬

‫سیاہ چیخ‬
‫بدن کے کرڑوں مساموں کے منہ پر‬

‫سیاہ چیخ کا سرخ جنگل اگا تھا‬

‫زہریلی طنابیں‬
‫عقیدوں کی کھال پہ سوجن ہے‬
‫زہریلی طنابیں کاٹو‘ روشنی کا سیلب امڈ پڑے گا‬

‫گھائل صدمے‬
‫بوڑھے لوگوں کی آنکھوں میں‬

‫گھائل صدمے تیر رہے ہیں‬

‫زخمی خواہشیں‬
‫رات گیے تک زخمی خواہشیں‬
‫بستر کی اک اک سلوٹ سے‬

‫نکل نکل کر روتی ہیں‬

‫اندھی بارش‬
‫ہم نے دیکھا شاہراہوں پہ‬
‫خواب کی اندھی بارش کو‬

‫سرخ سمندر‘ زرد مکان‬
‫زرد مکانوں کی رگ رگ میں‬

‫تپتا سرخ سمندر‬

‫تازہ بدن‬
‫گرما کی اس دوپہر میں ہوا‬
‫اپنا تازہ بدن ریت پر کھولتی ہے‬

‫دکھتا بدن‬
‫ان کے دکھتے بدن کے لیے‬

‫کھلتی دھنک‬
‫یاد ہیں اس کو بھی ہونٹوں پہ سجی کچھ تتلیاں‬
‫یاد ہے مجھ کو بھی اس کی آنکھ میں کھلتی‬

‫دھنک‬

‫ساونت سمے‬
‫اپنے اپنے دل کی لوح پہ‬

‫کیسے کیسے نام‬
‫کیسے وہ ساونت سمے تھے‬

‫ٹیڑے ترچھے وار‬
‫کھائے تو نے جسم پہ ہنس ہنس کر‬

‫ٹیڑے ترچھے وار‬

‫ذرا یہ دو لحقے ملحظہ فرمائیں۔‬
‫سمت بے سمت‬

‫اب کہ طغیانیوں نے گھیرا‘ کہ سمت بےسمت ہو‬

‫گئی ہے‬

‫بدن بےبدن‬
‫ہمارے بدن بےبدن ہو چکے ہیں‬

‫ان میں‘ صنعت تکرار لفظی کا ہی حسن نہیں‘‬
‫دونوں جانب ہم مرتب لفظ استمال ہوئےہیں۔ بے‬
‫جو نفی کا سابقہ ہے‘ پہلے کی مادی قدر کو صفر‬
‫‪:‬کر رہا ہے۔ اسے یوں بھی تو کہا جا سکتا تھا‬
‫اب کہ طغیانیوں نے گھیرا‘ کہ ہم بےسمت ہو گیے‬

‫ہیں‬
‫ہم بےبدن ہو چکے ہیں‬
‫بات ایک ہی ہے‘ لیکن فصاحت اور بلغت کا‬
‫عنصر‘ باقی نہیں رہتا۔ بات کا مفہوم تو واضح‬
‫ہے‘ چاشنی‘ بر جستگی‘ چستگی اور شعری‬
‫عنصر‘ ختم ہو جاتا ہے۔‬

‫مرکبات‬
‫حسن کلم کا‘ بہت بڑا وسیلہ اور ذریعہ ہوتے ‘‬
‫ہیں۔ ان کا برمحل استعمال‘ کلم میں چستی‘ تازگی‬
‫اور متاثر کرنے کی صلحیت بھرتا ہے۔ یہ کسی‬

‫شاعر کی قادرالکلمی کا ثبوت ہوتے ہیں۔ ان کی‬
‫ترکیب و تشکیل میں‘ بہت کم دانستگی کا عنصر‬
‫شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح سے‘ شاعر پر فطرت‬

‫نازل کرتی ہے۔‬
‫تبسم کاشمیری کے چند مرکبات ملحظہ ہو۔‬

‫شب اولیں‬
‫شب اولیں کی دلہن کی طرح آج شرما رہی ہے‬

‫لوح دل‬
‫تو نے اتاری لوح دل پر‬

‫کیوں یہ درد کی شام‬

‫نفرتوں کا قلعہ‬
‫مرے خون میں ریت تھی اور سر کھولتی نفرتوں‬

‫کا قلعہ‬

‫موسم کا بھوت‬
‫مردہ موسم کا بھوت میرے جسم سے چمٹا‬

‫رخصت کا آنسو‬

‫کسی کی آنکھ میں رخصت کا آنسو‬

‫وفا کے ہونٹ‬
‫میں ان کے سوکھتے پامال جسوں پر وفا کے‬

‫ہونٹ رکھتا ہوں‬

‫گندگی کے گلب‬
‫سانپ بارش کے پانیوں میں گندگی کے گلب‬

‫کھلتے ہیں‬

‫ہونٹوں کے سائے‬
‫شگوفوں کے نغمے دہکتے ہوئے سرخ ہونٹوں‬

‫کے سائے‬

‫خواہشوں کے جلوس‬
‫شریانوں میں سیاحت کرتی خواہشوں کے جلوس‬

‫ہواؤں کی دوشیزگی‬
‫تازہ ہواؤں کی دوشیزگی سات رنگوں میں برہنہ‬

‫ہوئی ہے‬

‫چپ کی خوش بو‬
‫میرے سانس میں چپ کی خوش بو‘ چپ تیرتی‬

‫رہتی ہے‬

‫روشنی کی تلش‬
‫تم اپنے جسموں کے ٹوٹے خلیوں میں روشنی کی‬

‫تلش میں ہو‬

‫رگ میں یورش‬
‫چیخیں میرے جسم کی اک اک رگ میں یورش‬

‫کرتی ہیں‬

‫گلبوں میں دکھ‬
‫یہاں بین کرتی ہواؤں میں کھلتے‬

‫گلبوں میں دکھ ہے‬

‫سوئی خوش بو‬
‫کیسے جسم میں سوئی خوش بو جاگ اٹھی ہے‬

‫‪١٩٦٤‬‬
‫سے‬

‫‪١٩٨١‬‬
‫تک‬

‫کی شخصی اور سماجی داستان‘ جو مورکھ کے‬
‫چوری خور قلم پر نہ آ سکی۔ فقط چند مصرعوں‬
‫میں‘ اردو شعر کے تبسم کی زبانی سنیے‘ جو‬

‫پامال جسموں پر وفا کے ہونٹ رکھتا ہے۔‬
‫یہ وہ ہی تبسم ہے‘ جو خون میں ڈوبی شہ رگوں‬

‫سے‘ اپنے ہاتھوں کو بھگوتا ہے۔‬
‫اسے تو یہاں کے ہزیمت خوردہ اور اداس بچوں‘‬

‫جوانوں اور بوڑھوں سے بھی محبت ہے۔‬
‫وہ فاتح کے گیت نہیں الپتا۔‬

‫کیسا ہے یہ شخص‘ روتی آنکھوں میں بسیرا کرتا‬
‫ہے۔‬

‫ہوا ہے ہم سے گناہ کیسا‬
‫کہ رحم مادر سے باہر آ کے جو آنکھ کھولی‬

‫زمیں پہ دیکھا شب غضب تھی‬
‫‪....................‬‬

‫سبز کھیتوں پہ‘ رہگزاروں پہ‬
‫سانپ بارش کی کائی اگی ہوئی تھی‬

‫‪.....................‬‬

‫میں ان آہنی منظروں میں‬
‫صداؤں کے پھیلے حصار میں‬

‫مصلوب ہوں‬
‫‪....................‬‬
‫مرے بدن میں سیاہ ذرے سیاہ پھولوں میں جل‬

‫رہے ہیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫میرے کان میں سرخ تشدد کی چیخوں کی‬
‫چھاؤنیاں آباد ہیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫شاہراہوں پہ میں ریزہ ریزہ پڑا تھا‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫ہم اونچی چمنیوں میں شور کرتے کارخانوں میں‬
‫دھوئیں سے پیٹ بھرتے ہیں‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫تم اپنے جسموں کے ٹوٹے خلیوں میں روشنی کی‬
‫تلش میں ہو‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫زمیں کا زوال آج زنجیرپا بن رہا ہے‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫غضب بدہئیت بادل ہے جو ان شہروں پہ چھایا ہے‬

‫‪.................‬‬
‫سب گلیوں کی تار آنکھوں میں‬
‫جبر کے آنسو جھانک رہے ہیں‬

‫‪.................‬‬
‫لہو میں ڈوبے اداس شہروں کے زرد چہروں پہ‬

‫تیرگی ہے‬
‫‪.................‬‬
‫ہم اپنی آنکھ سے بہتے ہزاروں آنسوؤں کے پھول‬

‫چنتے ہیں‬
‫‪.................‬‬
‫میرے اندر چپ کے جنگل اگتے رہتے ہیں‬

‫نوٹ‪ :‬تمثال‘ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے شعری‬
‫مجموعے کا نام ہے‬

‫سعادت سعید۔۔۔۔۔اردو شعر کی زبان کا جادوکر‬

‫لفظ بے پناہ قوت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ خیالت‬

‫میں‘ تبدیلی لتے ہیں۔ جذبات میں ہلچل مچا دیتے‬
‫ہیں۔ بنے بنائے کو‘ بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں اسی‬
‫طرح‘ بگڑے کے سدھار کا سبب بنتے ہیں۔ اسی‬
‫لیے‘ سیانے کہتے آئے ہیں‘ پہلے تولو‘ پھر بولو۔‬
‫یہ بھی کہا جاتا رہا ہے‘ کہ تلوار کا گھاؤ بھر جاتا‘‬
‫لیکن زبان کا گھاؤ نہیں بھرتا۔ یہ تالحد کانوں میں‬
‫گونجتے رہتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے‘ کہ ٹی وی‬
‫پر کہے گیے جملے پر‘ آدمی واہ واہ کر اٹھتا ہے‘‬
‫ہنس پڑتا ہے‘ رنجیدہ ہو جاتا ہے‘ یا ناگواری کا‬
‫اظہار کرتا ہے۔ حالں کہ کہنے وال سامنے نہیں‬
‫ہوتا۔ اسی طرح یہ بھی طے ہے‘ کہ کچھ لفظ وقتی‬
‫اثرات کا سبب بنتے ہیں‘ جب کہ کچھ‘ وقت کی‬
‫حدود سے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس کا معاملہ‘ لفظ‬
‫کی معنویت سے ہوتا ہے۔ خوب صورت لفظ اور‬
‫خوب صورت معنویت‘ کی بات ہی کچھ اور ہوتی‬
‫ہے۔ ان کی کرواہٹ یا مٹھاس وقتی نہیں‘ دیرپا‬
‫ہوتی ہے۔ لفظ کی ساخت‘ استعمال‘ لہجہ‘ طور‬

‫اور معنویت ہی‘ لسانیات کا علم کہلتا ہے۔‬

‫آدمی پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ‘ مختلف حوالوں سے‬
‫اظہار کرتا ہے‘ اظہار سنتا ہے۔ بلشبہ اس سے‘‬

‫اس کے ذہن کی لغت میں‘ ذخیرہءالفاظ کا اضافہ‬
‫ہوتا ہے۔ اسے خوش آئند بات کہا جا سکتا ہے۔‬
‫ضرورت کے مطابق وہ ان الفاظ کا‘ ذہن کی لغت‬
‫کے مطابق مفاہیم کے تحت‘ استعمال بھی کرتا‬
‫ہے۔ یہ سب روٹین کا مسلہ ہوتا ہے۔ نادانستہ طور‬
‫پر‘ الفاظ کی‘ اشکالی تبدیلیاں بھی وقوع میں آتی‬
‫ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی‘ اسے فطری‬
‫عمل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ سب اہل زبان کے‬
‫درجے پر فائز ہوتے۔ اکیلی سمجھنے کی سکل‬
‫کے حامل لوگوں کو بھی‘ اہل زبان کی صف میں‬

‫کھڑا کرنا ہی‘ مبنی برانصاف ہے۔ زبان کے‬
‫چاروں ہنر‘ یعنی سمجھنا‘ بولنا‘ لکھنا اور پڑھنا‬
‫کے حامل لوگوں کو؛ اہل سخن کا نام نہیں دیا جا‬
‫سکتا۔ شعر کہنا اور شعر پسند کرنا‘ قطعی دو الگ‬
‫سے باتیں ہیں۔ ہر چھوٹا بڑا شاعر‘ لفظوں کے‬
‫مفاہیم‘ عموم اور لغت سے‘ الگ تر تلشتا ہے۔‬
‫الفاظ کی اشکالی تبدیلوں کا سزاوار ہوتا ہے۔ ان‬
‫میں بڑا وہ ہی اہل سخن قرار پاتا ہے‘ جس کے‬
‫ہاں یہ عمل اوروں سے زیادہ‘ اور ہٹ کر ہوتا‬
‫ہے۔ یہاں بات؛ بڑے چھوٹے یا اوسط درجے کے‬

‫اہل سخن کی رہ جاتی ہے۔‬

‫پرانے لوگ ہوں یا نئے‘ اس صورت سے الگ تر‬
‫نہیں رہے۔ ہمارے بزرگ کمال کے ذہین تھے۔ میر‬
‫بیان‘ غالب فکر‘ ذوق محاورے کا استعمال‘ ظفر‬
‫درد‘ علمہ مشرقی مخصوص مقصدیت‘ حسرت‬

‫بغاوت کے اظہار میں کمال رکھتے تھے۔ وہ‬
‫ہمارے بڑے تھے‘ ان کے قدم لینا اہل سخن پر‬
‫واجب آتا ہے۔ زبان کے امور میں‘ ان کی سند لینا‘‬
‫یقینا برا نہیں۔ اس کا مقصد یہ نہیں‘ کہ حال‘‬
‫ماضی قریب میں بڑے اہل سخن موجود نہیں رہے۔‬
‫ایسا کہنا یا سمجھنا‘ زیادتی کے مترادف ہے۔ اس‬
‫کا مطلب یہ بھی ٹھہرے گا‘ کہ ہم اپنے عہد کے‘‬
‫اہل سخن کو جانتے نہیں۔ اگر جانتے ہیں‘ تو ان‬
‫کے کلم کے مطالعے کی‘ زحمت اٹھانا گوارا نہیں‬
‫کی۔ یہ سراسر زیادتی کے ہے۔ ہمیں گھر کی‬
‫مرغی کو‘ دال برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی‬
‫توقیر‘ ہم پر واجب آتی ہے۔ ان کے کہے سے‘‬
‫فکری اور لسانیاتی تمسک کرنا چاہیے۔ اس سے‘‬
‫ان کا فائدہ ہو نہ ہو‘ ہمارا ذاتی فائدہ ضرور ہے۔‬

‫جو آیا‘ چل گیا۔ یہاں ہر کوئی‘ جانے کے لیے‘ آتا‬

‫ہے۔ بیدل حیدری کہاں ہے‘ چل گیا۔ میرے باپ کا‬
‫نوکر تھا‘ جو میری فکری و لسانی ضرورتوں کے‬
‫لیے ٹھہرا رہتا۔ شکیب جلنی زبان پر گرفت رکھتا‬
‫تھا‘ کہاں ہے۔ اقبال سحر انبالوی کہاں اور کدھر‬

‫ہے۔ صابر آفاقی کی آواز سننے کو‘ میرے کان‬
‫ترستے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں‘ شعری رموز‬
‫میں کمال رکھنے وال‘ اور لفظوں کو نئے مفہوم‬
‫دینے وال ٹھہرا رہے گا‘ نہیں‘ وہ کسی کا ملزم‬
‫نہیں‘ ایک روز چل جائے گا۔ رموز شعر وسخن‬
‫میں‘ سرور عالم راز اپنی مثل آپ ہے۔ لفظوں کا‬
‫ایسا پاریکھ اور کھوجی‘ شاید ہی کہیں دیکھنے‬
‫کو ملے۔ پھول چاندپوری کے لفظوں کی‘ نشت و‬
‫برخواست کا‘ اپنا ہی کمال ہے‘ وہ بھی نہیں رہے‬

‫گا۔‬
‫ان کی قدر کرو‬
‫یہاں کوئی رہنے وال نہیں۔‬
‫جو چل گیا گیا‘ دوبارہ سے ملنےنہیں‬

‫ڈاکٹر سعادت سعید کو‘ میں اردو کی شعری زبان‬
‫کا‘ جادوگر کہتا ہوں۔ ظالم غضب اور دہائی کا زبان‬
‫طراز ہے۔ یہ ہی نہیں‘ لفظوں کو ہر بار نئے معنی‬

‫دیتا ہے۔ اشکالی تبدیلیاں لتا ہے۔‬

‫اس کے ہاں‘ لفظوں کی تفہیم اور معنویت کے‬
‫‪:‬حوالہ سے‘ چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں‬
‫‪:‬لہور کی شاہ زادی‬
‫‪:‬تعارف‬
‫حسن‬
‫کنول آنکھیں‬
‫چال‬
‫قیامت‬
‫خوش خرام‬

‫طور‬
‫چاہت معیادی‬
‫ستم ایجادی‬
‫مشروط محبت‬

‫عمومی عادت‬
‫صیادی‬

‫اس عادت کی سطح‬
‫اوج پر۔۔۔۔۔‬

‫یعنی زبردست چالو‬

‫دوستی اور دشمنی کے عناصر‘ متوازی اس کی‬
‫‪:‬ذات میں متحرک رہتے تھے‬

‫وہ مری دوست تھی اور دشمن بھی‬
‫یعنی پرکار تھی اور سادی تھی‬

‫صنعت تضاد کا استعمال بلشبہ بڑا پرلطف ہے‘‬
‫الگ سے بھی۔ آدمی کے‘ خیر وشر کے مجموعے‬
‫ہونے کے حوالہ سے‘ لفظوں کا چناؤ‘ خوب ہے۔‬

‫رات گزرنے کے منظر کے لیے‘ لفظوں کا انتخاب‬
‫دیکھیے‘ مزا دینے کے ساتھ‘ ایک الگ سے‬
‫سوچ دیتا ہے۔ اگر اس زبان کو استعاراتی قرار‬
‫دیتے ہیں‘ تو تفہیم کی صورت قطعی مختلف‬
‫ٹھہرے گی۔‬
‫چاند ستارے ڈوب رہیں گے شمعیں بھی گل ہو‬
‫جائیں گی‬
‫آخر کو سورج کی پریاں ہمیں ستانے آئیں گی‬

‫سورج کی کرنوں کے لیے‘ سورج کی پریاں کے‬
‫الفاظ‘ جہاں خوب صورتی کا سبب بنتے‘ وہاں‬
‫مترادف الفاظ کا تشکیل پانا‘ کوئی کم بات نہیں۔‬

‫نتیجہ‬
‫۔۔۔۔۔۔ ستانا۔۔۔۔۔۔‬
‫بھی پوشیدہ نہیں رکھا۔‬

‫نیلم گھر‘ ایک مخصوص معنی اور ایمج کا حامل‬
‫ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید اسے‘ عموم سے ہٹ کر‬

‫اور الگ تر معنی دے رہے ہیں۔‬
‫دنیا کے نیلم گھروں میں ارزاں ہیں انسان بہت‬
‫چیزیں ان پر فائق کیوں ہیں اس کا کھوج لگائیں‬

‫گے‬

‫نیلم گھر کی تفہیم‘ وسیح تناظر کی متقاضی ہے۔‬
‫کیوں‘ ایسا سوالیہ ہے‘ جو ہر حساس دل پر‬
‫دستک دیتا ہے۔‬
‫یہاں لفظ ارزاں کے‘ عمومی معنی نہیں ہیں۔ یہ‬

‫انسانی سماج کے رویے کو واضح کر رہے ہیں۔‬

‫بستیاں بسا لی ہیں دور آشناؤں نے‬
‫ملک گھیر رکھے ہیں قسمت آزماؤں نے‬
‫کیوں نہ بھول جائیں وہ گرم سانس رشتوں کو‬
‫جن کو کھینچ رکھا ہو سرد آبناؤں نے‬

‫وقت شناش اور خود غرضوں کے لیے‘ کیا خوب‬
‫لفظ لتے ہیں۔ دور کے ساتھ‘ آشنا کے لحقے‬
‫نے‘ لسانی حسن میں ہی اضافہ نہیں کیا‘ بلکہ‬
‫معنویت میں بھی‘ جدت پیدا کر دی ہے۔ سعادت‬
‫سعید کے فن کا یہ ہی کمال ہے‘ کہ مستعمل کو‬
‫بھی‘ نیا روپ دے دیتے ہیں۔ دوسرے مصرعے‬
‫میں بڑے ملیح انداز میں صدیوں سے چلی آتی‘‬
‫بدقسمتی کو بھی واضح کر دیا ہے۔ اسی غزل کا‬
‫دوسرا شعر بھی‘ کمال کی بن ٹھن رکھتا ہے۔‬
‫لفظوں کی یہ جادوگری‘ ہی اس کی اردو شاعری‬

‫میں پہچان ٹھہرتی رہے گی۔‬

‫گرم سانس رشتے اور سرد آبناء کا استعمال‘ بہت‬
‫ہی متاثر کرتا ہے۔ خوش ذوق قاری‘ لسانی اور‬
‫فکری رسائی کی داد دیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان‬
‫لفظوں کی تفہیم‘ اپنا مخصوص تاثر ترکیب دینے‬

‫میں کامیاب رہتی ہے۔‬

‫یگوں یگوں کی اس بدقسمتی اور بد نصیبی کے‬
‫اظہار کو‘ اس سے بڑھ کر لفظوں کا پیرہن کیا‬

‫میسر آ سکے گا۔‬

‫سعادت سعید کے ہاں‘ گلبی چمن دیکھنے کو‬
‫ملتے ہیں۔ گلبی رنگ کے حسن کا تصور کریں‘‬
‫روح میں تازگی محسوس ہوتی ہے۔ چمن کی بات‘‬

‫اپنی ہی ہوتی ہے۔ گلبی باغ میں اقامتی کی‬
‫مسروری کا اندازہ اتنا آسان نہیں۔ اپنے دیس کی‬
‫محبت‘ ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ اپنا دیس دنیا کا‬
‫خوب صورت ترین دیس ہوتا ہے۔ دیس کے لیے‬
‫لفظ چمن مستعمل ہے۔ مرکب گلبی جمن بالکل‬

‫الگ سے ہے۔‬
‫وطن سے دور عزیزو وطن نہیں ملتے‬

‫محبتوں کے گلبی چمن نہیں ملتے‬
‫وطن نہیں ملتے‘ لفظوں کا سیٹ اپ اپنا ہی ہے۔‬
‫مائی باپ نہیں ملتے‘ بہن بھائی نہیں ملتے وغیرہ‬
‫عام سننے میں آتے ہیں۔ وطن نہیں ملتے‘ کم از‬
‫کم میرے سننے میں نہیں آیا۔ نہیں ملتے‘ کا عام‬
‫‪:‬مفہوم اور سننے سے متعلق ہے۔ اب اسے پڑھیں‬

‫وطن سے دور‬
‫!عزیزو‬

‫وطن نہیں ملتے‬
‫محبتوں کے‬

‫گلبی چمن نہیں ملتے‬
‫تکرار لفظی بامزہ ہے ہی‘ دوسرے مصرعےمیں‘‬

‫لفظوں کی تشبیہی ادا‘ اپنی ہی ہے۔‬

‫یہ شاعر عصر‘ لفظ گر تو ہے ہی‘ معنی طرازی‬
‫میں بھی کچھ کم نہیں۔‬

‫ہجر کے لمبے سلسلے اس پہ غضب کی غیرت‬
‫خواب بہار کے سبب اجڑے چمن میں آ گیے‬

‫ہجر کے لمبے سلسلے‬
‫اس پہ‬

‫غضب کی غیرت‬
‫خواب بہار کے سبب‬
‫اجڑے چمن میں آ گیے‬
‫تکرار حرفی تو ہے ہی‘ غضب کی غیرت نے‘‬
‫تفہیم کا جو جادو جایا ہے‘ اس کی اپنی ہی بات‬
‫ہے۔ اپنا جھونپڑا پرائے محل سے خوب صورت‬
‫اور پیارا ہوتا ہے۔ اپنے ہاں بےتکلفی ہوتی ہے‘‬
‫لیکن کسی دوسرے کے ہاں ہر موڑ پر غیرت آڑے‬
‫آتی ہے۔ خوب تر کی تلش میں یہ کچھ کچھ ہاتھ‬
‫لگتا ہے۔ گھر سوکھی پردیس کی چوپڑی سے‬
‫بہتر ہوتی ہے۔ ہر لفظ بول رہا ہے استعمال کنندہ‬

‫بڑا باسلیقہ ہے۔‬

‫اپنے لٹنے کے سبب تک پہنچے‬
‫سلسلے عالی نسب تک پہنچے‬
‫توڑ ڈالیں گے وہ طبقات کے بت‬
‫بت شکن عظمت رب تک پہنچے‬
‫اس سے بڑھ کر‘ نوک دار‘ کھرا کھرا اور پرچوٹ‬
‫لفظوں کا استعمال‘ کیا ہو سکتا ہے۔ ہر لفظ نئی‬
‫معنویت کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ ہر لفظ‘ مقتدرہ‬
‫طبقوں کی نفسیات کی‘ کھل کھل کر عکاسی کر‬

‫رہا ہے۔‬

‫اردو کے شعری لفظوں کے‘ اس جادوکر کا ہر‬
‫لفظ‘ ترکیبی‘ صوتی اور معنوی اعتبار سے‘‬
‫ماضی اور حال کے‘ نہاں کونوں کھدروں سے‘‬
‫حقائق کی پنڈیں‘ اٹھا اٹھا کر لتا چل جاتا ہے‘ اور‬
‫قاری پر حیرت اور نئے پن کا‘ جہاں آباد کیے جاتا‬
‫ہے۔ اسے لفظوں سے‘ منظر کشی کا گر خوب‬
‫خوب آتا ہے۔ سعادت سعید‘ آتے وقتوں میں‘ جدید‬
‫اردو شعر میں‘ لفظ گری اور معنی تراشی کی یقینا‬

‫علمت ٹھہرے گا۔‬

‫ردی چڑھی رفتہ کی ایک منہ بولتی شہادت‬

‫آج میں پرانے کاغذات کے ڈبوں میں‘ ایلیٹ سے‬
‫متعلق‘ اپنا ایک مضمون تلش رہا تھا۔ وہ تو نہ‬
‫مل‘ ایک پاکٹ سائز کی ڈائری مل گئی۔ شوپر میں‘‬

‫لپیٹ کر بڑی حفاظت سے رکھی گئی تھی۔ یہ‬
‫ڈائری‘ مجھے ایک امرود فروش ریڑھی والے‬
‫سے ملی تھی۔ یہ اس کے کام کی نہ تھی۔ اس میں‬
‫موجود کاغذوں پر سودا نہیں ڈال جا سکتا تھا۔‬
‫ریڑھی والے کا‘ ردی فروش پر گلہ حق بجانب‬
‫تھا۔ اس نے میری درخواست پر‘ یہ ڈائری مجیے‬
‫چند سکوں میں عنایت کر دی۔ یہ ڈائری کچھ‬
‫عرصہ میرے کاغذات میں پڑی رہی۔ اس کے بعد‘‬
‫سچی بات ہے‘ میرے دماغ سے بھی محو ہو گئی۔‬
‫آج جب یہ ملی ہے‘ تو مجھے بہت ہی اچھا لگا‬

‫ہے۔‬

‫یہ ڈائری ایک شاعر کی ہے‘ اور ‪ ١٣٦‬صفحات‘‬

‫لفظوں سے معمور ہیں۔ ص‪ ١‬تا ص‪ ٧‬تک‘ حرف‬
‫خاص کے عنوان سے‘ انہوں نے اپنی کہانی درج‬
‫کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے‘ اپنا تعارف درج‬
‫کیا ہے۔ ص ‪ ٩‬پر تین شعر ہیں۔ پہل شعر‘ حالت‬
‫سے متعلق ہے‘ جب کہ باقی دو شعر‘ حمدیہ ہیں۔‬
‫ص ‪ ١٠‬پر بھی تین شعر ہیں‘ جو عصری حات کا‬
‫نوحہ ہیں۔ کلم میں غزلیں‘ طرحی غزلیں‘ نعت‘‬
‫نظم‘ قطعات‘ دوہے‘ فلمی لوری‘ ڈیفینس لوری‘‬
‫وداع اور مناجات‘ اصناف شامل ہیں۔ اس میں کل‬

‫سات سو سات شعر ہیں‘ آخر میں بھی دو شعر‬
‫درج ہیں‘ اس طرح سات سو نو شعر بن جاتے‬
‫ہیں۔۔ ص ‪ ١٣٦‬کے بعد بھی کلم درج ہے‘ جو‬
‫پنجابی وغیرہ میں ہے۔ خط مختلف ہے۔ کچھ نعتیں‬
‫وغیرہ درج ہیں۔ لگتا ہے‘ یہ ڈائری کسی کے ہاتھ‬
‫لگ گئی تھی۔ اس نے ناصرف پسند کا کلم درج‬
‫کیا‘ بلکہ اس پر کاروبای حساب کتاب بھی لکھا۔‬
‫احباب کے پتے وغیرہ بھی نوٹ کیے۔ کئی جگہوں‬
‫پر‘ یسین انجم نام کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ‬
‫دوسرے خط کا کلم ان صاحب کا ہی لگتا ہے‘‬
‫کیوں کہ ایک جگہ درج ہے‪ :‬شاعری کا شاہزادہ‬
‫یسین انجم۔ اس کلم سے متعلق کسی دوسری‬


Click to View FlipBook Version