اپنا الگ سے‘ لسانیاتی اسلوب تشکیل دیا ہے۔
شعری زبان میں‘ اس کا اپنا الگ سے لہجہ ہے۔
اس کا یہ اسلوب اور لہجہ‘ قاری کی توجہ حاصل
کرنے میں کمال رکھتا ہے۔ بات کرنے کے لیے‘
اس نے کئی طور اور انداز اختیار کیے ہیں۔
اب میں اس شاخ کی‘ شعری زبان کا مختصر
مختصر‘ اور ناچیز سا مطالعہ پیش کرتا ہوں۔ اس
مطالعہ سے‘ اس کی زبان دانی کے قد و کاٹھ کا‘
کسی حد تک سہی‘ اندازہ ضرور ہو جائے گا۔
طنز‘ حیرت اور سماجی حقیقت میں ملفوف ذرا یہ
سوالیہ انداز ملحظہ ہو۔
مانگے گا کوئی بھیک ترے شہر میں کیسے
پہلو میں ہر اک شخص کے جب کاسے بندھے ہیں
جہاں اس شعر میں سوال ہے‘ وہاں شاعر کسی
سے مخاطب بھی ہے۔ دکھنے میں یہ شعر جتنا
سادہ ہے‘ تفہیم میں اتنا طرحدار بھی ہے۔ اس
شعر میں لفظ ترے نے‘ اسے بڑا بلیغ بنا دیا ہے۔
اسی قماش کا‘ ایک اور سلگتا ہوا شعر ملحظہ ہو
کچھ تو بتاؤ کیا کیا راکھ ہوا ہے اور
اور وہ لوگ جو آگ لگانے آئے تھے
کچھ تو بتاؤ
کیا کیا راکھ ہوا ہے
اور
پہلے مصرعے کا اور اتنا سادہ نہیں‘ جتنا نظر آ
رہا ہے۔ یہ سوالیہ ہے‘ کچھ تو بتاؤ کیا کیا راکھ
ہوا ہے۔۔۔۔ الگ سے سوال ہے۔ دوسرے مصرعے
میں‘ اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے ۔ بات بھی
پہلے مصرعے سے الگ تر ہے۔ اسے اس طور
سے دیکھیں
اور وہ لوگ
جو آگ لگانے آئے تھے
شاعر خود کلمی سے بھی کام لیتا ہے۔
کیمرا رکھ کے سامنے خود ہی
اپنی تصویر اس کے ساتھ اتار
اب تخاطب میں لیپٹا‘ استداعیہ انداز ملحظہ ہو
کر عطا مجھ کو صبر کا مفہوم
پیاس میری لب فرات اتار
تلمیح نے فکر کو اور جاندار بنا دیا ہے۔
فکر کی پرواز اور رفتار کے مطابق‘ رنگ ہاتھ
لگتے ہیں۔ ان رنگوں کا استعمال‘ بالکل الگ سے
ہنر ہے۔ تصاویر وہ ہی من بھاتی ہیں‘ جو ناصرف
خوب صورت ہوں‘ باتیں بھی کرتی ہوں۔ بےجان
اور سکوت کا شکار تصاویر‘ لمحہ بھر کو سامنے
آتی ہیں‘ اور پھر دل و دماغ سے یکسر محو ہو
جاتی ہیں۔ جاگتی بولتی اور باتیں کرتی اور بناتی
تصاویر‘ تادیر دل و دماغ میں رقص کرتی ہیں۔
نہیں یقین آتا تو دو منٹ نکالیے‘ اور ان تصاویر
کو دیکھیے۔ سرسری نظر‘ ممکن ہے‘ تادیر آپ
کو مسرور رکھے۔
تعویز محبت
ممکن ہے اسے کھینچ کے لےآئیں ہوائیں
تعویز محبت سبھی اشار سے باندھو
ٹمٹماتی لو
ٹمٹماتی لو ترا چہرا نظر کے رو بہ رو
مرتے مرتے دیکھتا ہوں زندگانی کی طرف
ہر لفظ ایک دوسرے سے پیوست ہے‘ اور ایک
مخصوص ایمیج تشکیل دے رہا ہے‘ یہ چشم
تصور سے دیکھنے سے تعلق رکھتا معاملہ ہے۔
آنکھوں کی چمک‘ نگاہوں میں ارادہ
اس بار ان آنکھوں کی چمک میں ہے کوئی دل
اس بار نگاہوں میں ارادہ سا کوئی ہے
یاد کی دھوپ
یاد کی دھوپ میں لرزتا ہے
ایک سایہ کہیں ردا سا
مستعمل محاوروں کا استعمال‘ کمال کا حسن رکھتا
ہے۔ یہ ہی نہیں جدت طرازی کا خوب صورت
نمونہ ہوتا ہے۔ باطور ذائقہ دو تین محاوروں کا
استعمال ملحظہ ہو
دل میں اس کو تلش کر لیکن
پہلے شیشے میں کائنات اتار
کبھی اٹھے گا بھی پردہ دل سے
کبھی نکلے گی یہ دنیا دل سے
!بینائی کا خمیازہ نہ پڑ جائے بھگتنا
ہر خواب نہ یوں حسن طرحدار سے باندھو
یہ کس طرح کے بھل ہم اسیر ظلمت ہیں
کہ روشنی کی ملقات بھی نہیں آتی
صنعت تکرار لفظی‘ شاعر بکثرت استعمال کرتا
ہے اور اس کے لیے‘ اس نے کئی انداز اختیار
کیے ہیں۔ اس ذیل میں چند ایک مثالیں ملحظہ
ہوں
سوچتے سوچتے جب سوچ ادھر جاتی ہے
روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے
رفتہ رفتہ ہی دل تجھ کو بھولے گا
جاتے جاتے ہی یہ رغبت جاتی ہے
دل کی آنکھوں سے اگر دیکھو تو‘ دیکھو ہر سو
ان نظاروں سے الگ ایک نظارہ آباد
میں رہوں یا نہ رہوں یار رہے باقی‘ اور
یار کے ساتھ رہے یار کا قصبہ آباد
دیکھنا اب ہے مسافر کی طرح ہر منظر
میلے میں رہ کے بھی میلے سے الگ رہنا ہے
ہم صوت لفظوں کا استعمال‘ شاعر کی زبان پر
قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صنعت غنا کے
حوالہ سے‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مثل یہ اشعار
ملحظہ فرمائیں
ہم نے کبھی نہ چیز اٹھائی پڑی ہوئی
قدموں میں تھی اگرچہ خدائی پڑی ہوئی
اٹھیں تو قدم کیسے میں جاؤں تو کہاں جاؤں
ہے آگ مرے آگے تودریا مرے پیچھے
دشت کی پیاس بجھے گی اک روز
کبھی گزرے گا وہ دریا دل سے
روح بھی جھوم اٹھی تھی اس پل
رات گزرا جو وہ تارا دل سے
صنعت تضاد‘ جہاں تقابلی صورت پیدا کرتی ہے‘
وہاں شناخت کا‘ بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اس سے
عناصر کی اہمیت‘ اور حقیقی قدر کا بھی‘ اندازہ
ہوتا ہے۔ اس صنعت کا استعمال‘ بڑی ہنرمندی
سے ہوا ہے۔ مثل
روشنی اور تیرگی میں اک دیا دیوار ہے
اور اس کی راہ میں دیکھو ہوا دیوار ہے
میری صدا پر وہ قریب تو آئے گا
لیکن زیر دام نہیں آنے وال
جاگتے جاگتے ہے نیند بھی پوری کرنی
بھیڑ میں رہ کے بھی چپکے سے الگ رہنا
بچھڑا ہے کون کس سے کوئی جانتا نہیں
ہم تم سے کیا ملے‘ ہے دہائی پڑی ہوئی
متعلقات کا استعمال‘ جہاں وضاحت پیدا کرتا‘ وہاں
مفاہیم کے دائرے‘ پھیلنے کا بھی سبب بنتا ہے۔
اس ضمن میں چند نمونہ کے اشعار ملحظہ ہوں۔
ساون کی جھڑیاں بھی نوچتی رہتی تھیں
تیرے بن برسات پہ غصہ آتا تھا
میں ایک اشک ندامت تھا اپنی پلکوں پر
کسی نگاہ میں آیا تو آئنہ ٹھہرا
اک لہر مجھے اور طرف کھینچ رہی ہے
جو غرق کیے جائے‘ کنارا سا کوئی ہے
کنارے کا غرق کرنا‘ قطعی متضاد معنی رکھتا ہے۔
اہل سخن کا کمال یہ ہی ہوتا ہے‘ کہ وہ لفظ کو
اپنی مرضی کے مفاہیم‘ عطا کرتے ہیں۔
تشبیہ شعر کی جان ہوتی ہے۔ اس کا برمحل اور
پرسلیقہ استعمال‘ شعر میں مقناطیسیت بھر دیتا
ہے۔ زیر مطالعہ شاعر کی چند تشبیہات دیکھیں۔
کیا طور اور انداز پایا ہے۔
وہ ایک سانس کہ دھڑکن کے ساتھ رک سی گئی
وہ ایک پل کہ بھڑکتا ہوا دیا ٹھہرا
رات گزرا یہ کس گلی سے میں
کیا اندھیرا تھا وہ ضیا کا سا
تیرتے آئیں نظر جس میں ستاروں کے دیے
میری آنکھوں کے کنارے ہے وہ دریا آباد
یہ تشبیہ‘ استعارے کا اترن لیے ہوئے ہے۔
لگے ہاتھوں‘ ان کے دو تین مرکبات بھی ملحظہ
:فرما لیں
عکس یقین
پڑا ہے شیشہءدل پر تمہارا عکس یقین
ملے ہیں پہلے کہیں ہم‘ گمان پڑتا ہے
حرف تسکیں
حرف تسکیں‘ ترا شفا کا سا
دل پہ جادو ہوا دوا کا سا
سچ کا دیپک
سچ کا دیپک مانگ رہا ہے آخری سانس
جان بچا لوں میں تو محبت جاتی ہے
اہل سخن کے کہے کا‘ ایک کمال یہ بھی ہوتا ہے‘
کہ جس زاویہ سے بھی دیکھو‘ یا اشکالی اور
استعمالی تبدیلیاں کر لو‘ مفاہیم کا جہاں آباد ہوتا
ہے۔ باطور ثبوت یہ مثالیں پیش ہیں۔
کیا لوگ ہیں‘ ہم لذت دنیا سے بندھے ہیں
پانی کے لیے پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں
کیا لوگ ہیں
ہم لذت دنیا سے بندھے ہیں
پانی کے لیے
پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں
اب اس شعر کو یوں پڑھیے
کیا لوگ ہیں ہم
پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں
پانی کے لیے
لذت دنیا سے بندھے ہیں
اب یوں پڑھیے
کیا لوگ ہیں ہم‘ پانی کے لیے
پیاس کے صحرا سے بندھے ہیں
یہ استعارے کہاں لے جاتے ہیں‘ ذرا غور فرمائیں۔
انہیں تلمیحی حوالہ سے بھی‘ لے سکتے ہیں۔
پانی‘ پیاس‘ صحرا
ہم صوت الفاظ
سے‘ کے
انہیں باطور محاورہ لے سکتے ہیں۔
لذت دنیا سے بندھنا
پیاس کے صحرا سے بندھنا
پیار ہی پیار میں وہ آگ بگول ہو جائے
بات ہی بات میں تلوار پہ آ جاتا ہے
پیار ہی پیار میں
وہ آگ بگول ہو جائے
بات ہی بات میں
تلوار پہ آ جاتا ہے
اب یوں پڑھیے
بات ہی بات میں
وہ آگ بگول ہو جائے
پیار ہی پیار میں
تلوار پہ آ جاتا ہے
تلوار پہ آنا‘ نیا محاورہ ترکیب پایا ہے۔
وہ ایک پل کہ ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا
نظر نظر میں شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا
وہ ایک پل کہ
ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا
نظر نظر میں
شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا
اب یوں پڑھیے
نظر نظر میں‘ ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا
وہ ایک پل کہ شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا
نظر نظر میں
ترے رو بہ رو میں آ ٹھہرا
وہ ایک پل کہ
شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا
ترے رو بہ رو شعاعوں کا قافلہ ٹھہرا
وہ ایک پل کہ ترے رو بہ رو آ ٹھہرا
شاعر کا واسطہ‘ جہاں سخن سناشوں سے ہوتا
ہے‘ وہاں وسیب کے ہر طبقہ کے لوگوں سے
بھی‘ تعلق اور رشتہ ہوتا ہے۔ وہ ان ہی کے دکھ
درد کاغذ پر منتقل کر رہا ہوتا ہے۔ ان سے اٹوٹ
رشتہ ہونے کے باعث عوامی روزہ مرہ اور
عوامی تکیہءکلم‘ اس کی شعری زبان کا حصہ بن
جاتا ہے۔ زیر گفت گو شاعر نے‘ اس میں بہت کم
تصرف سے کام لیا ہے۔
پہلے پہل
پہلے پہل ہر بات پہ غصہ آتا تھا
اور مجھے حالت پہ غصہ آتا تھا
بات ہی بات میں
پیار ہی پیار میں وہ آگ بگول ہو جائے
بات ہی بات میں تلوار پہ آ جاتا ہے
ویسے بھی
ویسے بھی کچھ خون میں گرمی تھی اس وقت
ویسے بھی ہر بات پہ غصہ آتا تھا
اس کا دیا
اس کا دیا بہت ہے
اس کا دیا بہت ہے مگر کیا کروں شمار
ہر شے ہے میرے پاس پرائی پڑی ہوئی
غزل میں شاعر تخلص آخر میں استعمال کرتا ہے۔
اختر شمار کی غزل پر میں نے گفت گو کی ہے۔
اس گفت گو کا اختتام مقطعے پر کیا ہے۔ سماج کی
یہ ریتا رہی ہے‘ اگر کوئی برا کرئے‘ تو اس کے
پیر اور استاد کو پنتے ہیں۔ اچھا کرنے کی صورت
میں‘ استاد پس پشت چل جاتا ہے۔ میں یہ نہیں
کروں گا۔ علمہ بیدل حیدری نے‘ اختر شمار کو
شعری ہنر سکھانے میں‘ بلشبہ کسر نہیں
چھوڑی۔ یہ اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے‘ کہ اختر
شمار سے ہنر سیکھنے والے‘ لگن کے پکے
بھی کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
تمثال میں لسانیاتی تبسم کی تلش
برصغیر کی موجودہ صورت حال‘ کوئی نئی نہیں‘
یہ بدنصیب خطہ‘ شروع سے‘ معاش خور اور آدم
کش‘ بدنصیبی کی دلدل میں پھنسا رہا ہے۔
بیرونی لٹیروں کا رونا‘ کیا رونا ہے‘ وہ تو غیر
تھے‘ انہیں اس سے‘ یا اس کے لوگوں سے‘ کیا
دلچسپی ہو سکتی تھی‘ یا دلچسپی ہو سکتی ہے۔
اس کے اپنے‘ اس خطے کی بربادی پر تلے رہے
ہیں۔ کبھی خود‘ کبھی غیروں کو مددعو کرکے‘
اور کبھی ان کا ساتھ دے کر‘ استحصال کرتے
آئے ہیں۔ انہوں نے‘ غیروں کی جھوٹھ میٹھ کو‘
خلد کا طعام سمجھ کر‘ نوش جان کیا ہے۔ اپنے
لوگوں کی‘ حالت زار دیکھنے کے لیے‘ ان کے
پاس کبھی وقت نہیں رہا‘ یا دیکھنے کی کبھی
ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
عوامی سطح کے ردعمل کے سدباب کے لیے‘ ان
کے گماشتہ ادروں نے‘ عوامی استحصال کے
ضمن میں‘ اپنے حصہ کا‘ بھرپور کردار ادا کیا
ہے۔ وہ ناصرف‘ شاہوں سے چوری وصولتے
رہے ہیں‘ بلکہ عوام کو‘ ان کے حق کے دینے
کے لیے‘ عوضانہ لیتے آئے ہیں۔ عوام اپنی بپتا‘
کس سے کہتے‘ سننے والے‘ خود اسی شغل بد کا
شکار رہے ہیں۔ انہیں مقتدرہ طبقوں کا‘ اشیرباد
بھی میسر رہا ہے۔ مورکھ بدبخت اور بدطعینت
بھی‘ ان کی دریا دلی اور انصاف پروری کے گیت
الپتا رہا ہے۔ استحصال کرنے والے حاجی‘
استحصال کے خلف آواز اٹھانے والے‘ باغی اور
وطن دشمن کے القاب سے‘ ملقوب ہوتے رہے
ہیں۔ گویا مرتشی کو‘ راشی کا نام دیا جاتا رہا ہے۔
بہت سے شعرا‘ جن کا کبھی‘ تلوار سے تعلق
واسطہ ہی نہیں رہا‘ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے
رہے ہیں۔ صوفیا‘ حق گوئی کی پاداش میں‘ زندگی
سے محروم ہوتے آئے ہیں۔ ظالم ہل پر نہائے جب
کہ مظلوم‘ مجرم اور گناہ گار ٹھہرے ہیں۔ اس
سے بڑھ کر ستم یہ‘ کہ تاریخ کے بےوفا اور ظالم
کے طرف دار پنوں سے‘ مظلوموں کی جذباتی
وابستگی منسلک کی جاتی رہی ہے۔
درباریوں کو الگ رکھیے‘ ان کے علوہ بھی‘
شاعر جنم لیتے رہے ہیں۔ شاعر اپنی سوسائٹی کا
نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کی ذات کا کرب‘ اپنی جگہ‘
سوساسٹی کا کرب‘ ان کی ذات کا کرب بن جاتا
ہے۔ لوگوں کی بھوک پیاس‘ دکھ درد اور
خوشیاں‘ اپنے ساتھ نتھی کر لیتا ہے‘ اور اسی
حوالے سے ہی‘ ان کا اظہار کرتا ہے۔ معاملے یا
مسلے کو‘ اس نے کس طرح محسوس کیا‘ وہ اس
محسوس کے مطابق اظہار کرتا ہے۔ اس ذیل میں‘
اس کے مزاجی اطوار کو بھی‘ بڑا عمل دخل رہتا
ہے۔ اس حوالہ سے‘ اردو شاعری میں مختلف
انداز پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی عموما‘ تین
سطحیں ملتی ہیں۔
ا۔ اپنی ذات کے حوالہ سے‘ معاملہ کہہ دیتا ہے۔
ب۔ مجموعی بات کرتا ہے۔
ج۔ دوسرے کے منہ سے‘ کہلواتا ہے۔
ہاں البتہ‘ بات کرنے کے انداز اور رویے‘ کئی
طرح کے ہو سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ‘ ان کی
حیثیت مجموعی ہو جاتی ہے‘ اور یہ ہی‘ اس
شاعر کی اسلوبی
شناخت ٹھہرتی ہے۔ اس کی صورتیں کچھ اس
طرح سے ہو سکتی ہیں۔
-١حکائیتی اور داستانی انداز
-٢جارحانہ انداز‘ اس میں وہ ہر اگلے قدم پر‘ آگ
اور پتھر برساتا ہے۔
-٣دبے لفظوں میں بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔
-٤علمتی اور استعارتی طور اختیار کرتا ہے۔
-٥حالت کا نوحہ کہے جاتا ہے۔
-٦مایوسی‘ بےچارگی‘ بےبسی اور بےکسی
بکھیرتا چل جاتا ہے۔
-٧بدگمانی اور بداعتمادی کا مسلسل اور متواتر
اظہار کرتا ہے۔
-٨دھرتی سے محبت کا‘ اس انداز سے درس دیتا
ہے‘ کہ وہ دھرتی کا بھگت محسوس ہونے لگتا
ہے۔
-٩نئے حالت اور بدلتی صورت حال کے تناظر
میں‘ معاملت کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق‘
نتائج
کی نشان دہی کرتا ہے۔
-١٠تلخیوں کو‘ رومان میں ملفوف کرکے‘ پیش
کرتا ہے۔
-١١دعائیہ طور لیتا ہے۔ خیر اور بھلئی‘ ا
سے طلب کیے جاتا ہے۔
-١٢استدعایہ انداز اخیتار کرکے‘ کم زور اور
بےبس طبقے کے‘ حقوق طلب کرتا ہے۔
-١٣انشرح کے بغیر کسی کی بن نہیں پڑتی۔ خود
کلمی‘ ذات سے مکالمے کے مترادف ہے۔ یہ
طور‘ تنہائی اور ہم خیال نہ منلے کی طرف‘ اشارہ
کرتا ہے۔
-١٤سوالیہ طور اختیار کرکے‘ شاعر صرف
دوسرے کا کندھا استعمال نہیں کر رہا ہوتا‘ بلکہ
بالواسطہ نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔
ان اندازواطوار کے مطابق‘ ان کی زبان تشکیل
پاتی چلی جاتی ہے۔
ڈاکٹر تبسم کاشمیری کو میں‘ اس عہد کی‘ ادبی
بگ گن کہتا ہی نہیں‘ سمجھتا بھی ہوں۔ وہ صرف
اردو تنقید‘ تحقیق اور تاریخ کے ہی مرد مجاہد
نہیں ہیں‘ شاعر بھی کمال کے ہیں۔ ان کی ١٩٦٤
سے ١٩٨١کے دوران کی شاعری‘ کے مطلعہ
کے دوران‘ مجھے ان کے ہاں‘ مختلف رنگوں کی
امیزش نظر آئی ہے۔ اس دور کی شاعری میں‘
سیمابی کیفیت ملتی ہے۔ سماجی ناہمواریوں کے
خلف‘ بےچینی سی محسوس ہوتی ہے۔ اس دور
کی شاعری میں زبان کے بھی‘ کئی ذائقے پڑھنے
کو ملتے ہیں۔ ان کی شخص سے محبت‘ بڑی
واضح ہے۔ میں اسے‘ آتے وقتوں کے لیے‘
عصری گواہی کے درجے پر فائز دیکھتا ہوں۔
شخص‘ کہانی سننے اور سنانے کا‘ روزازل سے
شائق رہا ہے۔ کسی بھی معاملے کو‘ پیش کرنے
کے ضمن میں‘ داستانی اور حکائیتی انداز کو
کسی طور پر‘ صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ میر
حسن کی مثنوی سحرالبیان کا‘ کسی زمانے میں‘
طوطی نہیں طوطا‘ وہ بڑا بھونپو‘ بولتا تھا۔ فکشن
میں بھی‘ صورت حال اس سے مختلف نہیں رہی۔
ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے بھی اپنے کلم میں‘
کہنے کے اس طور سے‘ خوب فائدہ اٹھایا ہے۔
:اس ذیل میں ان کی نظمیں
شہروں کے لیے ایک نظم‘ غضب وہ شب تھی۔۔۔۔۔‘
سانپ بارش۔۔۔۔
کو باطور مثال‘ لیا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے‘
کہ یہ نظمیں اپنے مضامین کے حوالہ سے‘ سادہ
اور عام فہم نہیں ہیں۔ ان حکائیتی نظموں میں‘
علمتی استعارتی اور اشارتی سلیقہ اختیار کیا گیا
ہے۔ طرز اظہار قطعی سادہ ہے‘ لیکن ان کی یہ
سادگی‘ مطالب کے حوالہ سے‘ بڑا ٹیڑاپن لیے
ہوئے ہے۔ مفاہیم تک رسائی کے لیے‘ سوچنا اور
غور کرنا پڑتا ہے۔
:باطور نمونہ دو تین مثالیں پیش کرتا ہوں
مجھے اس شہر کے چہرے پہ اگتی زرد کائی
سے محبت ہے
کہ میں خود زرد کائی ہوں‘ کہ میں خود تار آنگن
ہوں
کہ میں خود زرد چہرہ ہوں
:شہروں کے لیے ایک نظم نظم
معاملے کو ناصرف تجسیم دی گئی ہے‘ بلکہ اسے
خود پر محمول بھی کیا گیا ہے۔
اداس نسلوں کی یہ کہانی‘ ہمارے لب سے جو تم
سن رہے ہو
ہماری آنکھوں میں آنسوؤں کے ہزار جگنو چمک
رہے ہیں
ہر ایک شخص آ کے پوچھتا ہے
شب غضب ہے دراز کتنی‘ شب غضب ہے دراز
کتنی
نظم :غضب وہ شب تھی۔۔۔۔۔۔۔
سوکھے بچوں کی ہڈیوں پہ
دلہنوں کی عرسیوں پہ
بسنتی خوشیوں کے سرخ چہروں پہ
خواہشوں کے چمکثے شانوں پہ
سانپ بارش برس رہی ہے
نظم :سانپ بارش
ہر سہ مثالیں‘ ماضی سے متعلق نہیں ہیں‘ یہ
حال‘ یعنی ١٩٦٤سے ١٩٨١کی کہانی ہے۔ آتا
کل‘ ان پندرہ سالوں کا چہرہ‘ ان نظموں کے تناظر
میں‘ دیکھ لے گا۔ یہ نظمیں کسی ایک طبقے کی
حالت زار کی نمائندہ نہیں ہیں‘ یہ اپنے عہد کے
خستہ و ویران زندہ شخص کا نوحہ ہیں۔
تبسم کاشمیری کے ہاں‘ دھرتی اور دھرتی باسیوں
سے‘ محبت واضح طور پر ملتی ہے۔ خصوص؛
غلظت‘ گربت اور بھوک سے نڈھال لوگوں سے‘
دور بھاگتے ہیں۔ اندر کو دھنسے چہروں سے‘
انہیں گھن آتی ہے۔ تبسم کاشمیری کی نظم ۔۔۔۔۔
شہروں کے لیے ایک نظم۔۔۔۔۔۔ خصوصی مطالعے
کا تقاضا کرتی ہے۔ دھرتی کی بھگتی‘ اس سے
بڑھ کر‘ کہیں پڑھنے کو نہیں ملے گی۔ باطور
:نمونہ‘ صرف یہ دو لئنیں ملحظہ فرمائیں
میں ان شہروں کے جلتے جسم‘ روتی آنکھ
دکھتے بازوں
سے پیار کرتا ہوں
میں نے کہیں عرض کیا ہے‘ کہ شاعر سماج کا
دکھ‘ ذات کا دکھ بنا لیتا ہے۔ سماج کی ہر شے‘
اور ہر شخص‘ اس کی ذات کا اٹوٹ انگ بن جاتے
ہیں۔ یہ گویا اس کی دھرتی سے‘ قلبی محبت کا
ثبوت ہوتا ہے۔ دھرتی اور دھرتی سے متعلق
لوگوں‘ اور اشیا سے محبت‘ اسے اپنی ذات کی‘
محبت محسوس ہوتی ہے۔ اسی نظم کی یہ لئینیں
:باطور نمونہ ملحظہ ہوں
کہ دکھتا بازو‘ جلتا جسم‘ روتی آنکھ میں خود
ہوں
مجھے ہر شے سے الفت ہے
کہ میں خود سے ہمیشہ پیار کرتا ہوں
انہوں نے‘ دعائیہ انداز بھی اختیار کیا ہے۔ وہ دعا
کو‘ اپنی ذات یا اپنے گرد وپیش تک‘ محدود نہیں
رکھتے۔ ان کا زمین‘ اور زمین پر موجود انسان‘
اور اشیا سے‘ بل کسی تخصیص اور تمیز
وامتیاز‘ تعلق اپنوں کا سا ہے۔ یہ تعلق رسمی
:نہیں‘ قلبی ہے۔ تان کہاں توڑتے ہیں‘ ملحظہ ہو
اور میری دعا ہے
زمیں پہ ہر اک شے کی
خوش بختیوں کے لیے
:ذرا آگے بڑھیے‘ کہتے ہیں
زمینوں پہ اور آسمانوں پہ
انسان کی نصرتوں کے لیے
حالت اور وقت کی ستم ظریفی اور سماجی
ناقدری‘ مایوسی کا موجب بنتی ہے۔ غور کرنے
کی بات ہے‘ شاہ اور کچھ شاہ والے‘ تاریخ کا
حصہ بنے‘ اور انہیں ناصرف ان کے نام سے جانا
اور پہچانا جاتا ہے‘ بلکہ بھول میں ہو جانے
والے کسی کام کو بھی‘ نظرانداز نہیں کیا گیا۔ بد
بخت اور چوری خور مورکھ نے‘ بہت کچھ ناکردہ‘
ان کے نام کر دیا ہے۔ سندھ کو فتح کرنے‘ اکیل
قاسم تو نہیں آیا تھا‘ اس کے ساتھ فوج بھی تھی۔
اس کے ساتھ کون تھے‘ کوئی نہیں جانتا۔
شخص چاہتا ہے‘ آتا وقت اسے یاد رکھے۔ المیہ
یہ رہا ہے‘ آتا وقت تو دور کی بات‘ گزرتا وقت‘
اسے نہیں جانتا۔ گزرتے وقت میں‘ وہ وجود سے
محروم ہے۔ خود اسے معلوم نہیں‘ وہ کون اور کیا
ہے۔ تبسم کاشمیری حواس بیدار شاعر ہے‘ وہ
اس المیے کو‘ بھل کیوں کر نظر انداز کر سکتا
ہے۔ ذرا ان سطور کو‘ دل کی آنکھ سے‘ ملحظہ
فرمائیں۔ شاعر نے نظم ۔۔۔۔۔ فقط ہونے نہ ہونے
سے۔۔۔۔۔۔ میں صنعت خود کلمی سے کام لے کر‘
زندگی کے اس بہت بڑے المیے کو‘ فوکس کیا
ہے۔
کبھی محسوس کرتا ہوں کہ میں آخر کہاں پر ہوں
ہوا میں یا زمیں پہ یا فضا کی گزرگاہوں میں
کہیں بھی میں نہیں ہوتا
اس نہ ہونے کے المیے کو‘ زیر حوالہ شاعر نے
موجود تک محدود نہیں رکھا‘ وہ ماضی اور
مستقبل کو نظر انداز نہیں کرتا۔ حال سے ماضی
کی طرف پلٹتا ہے‘ پلٹنے کے انداز کو دیکھیں۔
میں اکثر سوچتا ہوں مجھ سے پہلے میرے آباء
تھے
وہ اکثر سوچتے ہوں گے
اگر ہم ہیں تو کیا حاصل
شاعر‘ مستقبل کے سفر پر بھی روانہ ہوتا ہے۔
گویا یہ لحاصلی‘ صدیوں سے چلی آتی ہے‘ اور
ان حالت کے تحت‘ آتے کل کو بھی‘ اس کا اسی
طور سے سکہ چلتا رہے گا۔
زمانہ اور گزرے گا تو میری نسل آئے گی
کبھی شاید وہ سوچے گی کہ اس کے ہونے سے
کیا حاصل
نہیں کچھ بھی نہیں حاصل
تبسم کاشمیری‘ سوالیہ طور بھی اختیار کرتے
ہیں۔ ان میں‘ اور اوروں میں فرق یہ ہے‘ کہ ان
کے سوالیہ میں بھی‘ المیہ سانسیں لے رہا ہوتا
ہے۔ ذرا یہ لئنیں ملحظہ فرمائیں‘ درد اور کرب
کے بادل قاری کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔
مگر وہ خواب کیسے تھے لڑکپن میں جو دیکھے
تھے
یہ اکثر میں نے سوچا ہے وہ سارے خواب کیسے
تھے
وہی جو ہم سے پہلے آنے والے لوگ تکتے تھے
وہی خواب اب ہمارے ننھے منے بچے تکتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید آگے بڑھیے‘ شاعر بچوں کے بچوں‘ کے
بارے بھی سوچتا ہے۔ ایک سوالیے کے کندھوں
:پر خوابوں کا انجام رکھ دیتا ہے
پھر اس کے بعد ان کے ننھے بچے روشنی کے
رنگ کے
اور خوشبوؤں کے خواب دیکھیں گے
تو ان کے خواب کیا ہوں گے
تبسم کاشمیری کی اس عہد کی شاعری میں‘
پیغامیہ انداز بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ وہ شخص
کو‘ بغاوت اور سرکشی کا مشورہ نہیں دیتے۔ ان
کو برداشت کے ساتھ ساتھ‘ استقلل کا رستہ
دکھاتے ہیں۔ حوصلہ شکنی سے کام نہیں لیتے
بلکہ امید کی ڈور سے باندھنے کی سعی کرتے
ہیں۔ کیا کمال کی یہ لئنیں ہیں۔ یہ لئنیں‘ زندگی
کے تسلسل کو‘ برقرار رکھنے میں‘ بلشبہ اپنے
حصہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔
تم اپنے سر پہ لہو کے پیالے سجائے رکھنا
گلی گلی میں تمہارے جسموں کا شہد پھیلے
نظم :لہو کے پیالے سجائے رکھنا
ان کے ہاں‘ ظلم کے خلف یلغار کا پیغام بھی ملتا
ہے۔ اس کے لیے وہ‘ اشارتی انداز اخیتار کرتے
:ہیں۔ اس حوالہ سے یہ لئنیں ملحظہ فرمائیں
ظلم کے پہرے داروں پہ پھر
موت کی بجلی کڑکے
ساری خلقت ملک الموت ہو
سارے ظالم کنبیں
نظم :راوی پار گیا تھا مرزا
ضروری نہیں‘ اعلی درجے کی بات‘ اعلی درجے
کی زبان میں‘ کہی گئی ہو۔ بڑی بات‘ معمولی زبان
میں بھی‘ کہی گئی ہو سکتی ہے‘ وہ بھی اپنا اثر
دکھائی ہے۔ اگر دونوں بڑھیا ہوں‘ تو یہ سونے پہ
سہاگے والی بات ہوتی ہے۔ تبسم کاشمیری‘ اپنی
فکر کے اظہار کے لیے‘ لفظوں کے چناؤ میں
بھی‘ خصوصی اہتمام سے کام لیتے ہیں۔ خوب
صورت زبان‘ ان کے مزاج کا بھی حصہ ہے۔ فکر‘
اظہار اور اظہار کی زبان کا رستہ خود ہی تلش
لیتی ہے۔
زبان میں‘ صفتی سابقوں اور لحقوں کو‘ بڑی
اہمیت حاصل ہے۔ یہ جہاں حسن اور چاشنی کا
سبب بنتے ہیں‘ وہاں معاملے اور معاملے کے
کرداروں کی‘ حیثیت‘ اہمیت اور کارگزاری کو بھی
نمایاں کرتے ہیں۔ باطور نمونہ چند صفتی سابقے
:ملحظہ فرمائیں
بےنور اشیا
میں ان بےنور اشیا کے
ہزاروں اشک اپنے گرم سینے پر گراتا ہوں
سیاہ چیخ
بدن کے کرڑوں مساموں کے منہ پر
سیاہ چیخ کا سرخ جنگل اگا تھا
زہریلی طنابیں
عقیدوں کی کھال پہ سوجن ہے
زہریلی طنابیں کاٹو‘ روشنی کا سیلب امڈ پڑے گا
گھائل صدمے
بوڑھے لوگوں کی آنکھوں میں
گھائل صدمے تیر رہے ہیں
زخمی خواہشیں
رات گیے تک زخمی خواہشیں
بستر کی اک اک سلوٹ سے
نکل نکل کر روتی ہیں
اندھی بارش
ہم نے دیکھا شاہراہوں پہ
خواب کی اندھی بارش کو
سرخ سمندر‘ زرد مکان
زرد مکانوں کی رگ رگ میں
تپتا سرخ سمندر
تازہ بدن
گرما کی اس دوپہر میں ہوا
اپنا تازہ بدن ریت پر کھولتی ہے
دکھتا بدن
ان کے دکھتے بدن کے لیے
کھلتی دھنک
یاد ہیں اس کو بھی ہونٹوں پہ سجی کچھ تتلیاں
یاد ہے مجھ کو بھی اس کی آنکھ میں کھلتی
دھنک
ساونت سمے
اپنے اپنے دل کی لوح پہ
کیسے کیسے نام
کیسے وہ ساونت سمے تھے
ٹیڑے ترچھے وار
کھائے تو نے جسم پہ ہنس ہنس کر
ٹیڑے ترچھے وار
ذرا یہ دو لحقے ملحظہ فرمائیں۔
سمت بے سمت
اب کہ طغیانیوں نے گھیرا‘ کہ سمت بےسمت ہو
گئی ہے
بدن بےبدن
ہمارے بدن بےبدن ہو چکے ہیں
ان میں‘ صنعت تکرار لفظی کا ہی حسن نہیں‘
دونوں جانب ہم مرتب لفظ استمال ہوئےہیں۔ بے
جو نفی کا سابقہ ہے‘ پہلے کی مادی قدر کو صفر
:کر رہا ہے۔ اسے یوں بھی تو کہا جا سکتا تھا
اب کہ طغیانیوں نے گھیرا‘ کہ ہم بےسمت ہو گیے
ہیں
ہم بےبدن ہو چکے ہیں
بات ایک ہی ہے‘ لیکن فصاحت اور بلغت کا
عنصر‘ باقی نہیں رہتا۔ بات کا مفہوم تو واضح
ہے‘ چاشنی‘ بر جستگی‘ چستگی اور شعری
عنصر‘ ختم ہو جاتا ہے۔
مرکبات
حسن کلم کا‘ بہت بڑا وسیلہ اور ذریعہ ہوتے ‘
ہیں۔ ان کا برمحل استعمال‘ کلم میں چستی‘ تازگی
اور متاثر کرنے کی صلحیت بھرتا ہے۔ یہ کسی
شاعر کی قادرالکلمی کا ثبوت ہوتے ہیں۔ ان کی
ترکیب و تشکیل میں‘ بہت کم دانستگی کا عنصر
شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح سے‘ شاعر پر فطرت
نازل کرتی ہے۔
تبسم کاشمیری کے چند مرکبات ملحظہ ہو۔
شب اولیں
شب اولیں کی دلہن کی طرح آج شرما رہی ہے
لوح دل
تو نے اتاری لوح دل پر
کیوں یہ درد کی شام
نفرتوں کا قلعہ
مرے خون میں ریت تھی اور سر کھولتی نفرتوں
کا قلعہ
موسم کا بھوت
مردہ موسم کا بھوت میرے جسم سے چمٹا
رخصت کا آنسو
کسی کی آنکھ میں رخصت کا آنسو
وفا کے ہونٹ
میں ان کے سوکھتے پامال جسوں پر وفا کے
ہونٹ رکھتا ہوں
گندگی کے گلب
سانپ بارش کے پانیوں میں گندگی کے گلب
کھلتے ہیں
ہونٹوں کے سائے
شگوفوں کے نغمے دہکتے ہوئے سرخ ہونٹوں
کے سائے
خواہشوں کے جلوس
شریانوں میں سیاحت کرتی خواہشوں کے جلوس
ہواؤں کی دوشیزگی
تازہ ہواؤں کی دوشیزگی سات رنگوں میں برہنہ
ہوئی ہے
چپ کی خوش بو
میرے سانس میں چپ کی خوش بو‘ چپ تیرتی
رہتی ہے
روشنی کی تلش
تم اپنے جسموں کے ٹوٹے خلیوں میں روشنی کی
تلش میں ہو
رگ میں یورش
چیخیں میرے جسم کی اک اک رگ میں یورش
کرتی ہیں
گلبوں میں دکھ
یہاں بین کرتی ہواؤں میں کھلتے
گلبوں میں دکھ ہے
سوئی خوش بو
کیسے جسم میں سوئی خوش بو جاگ اٹھی ہے
١٩٦٤
سے
١٩٨١
تک
کی شخصی اور سماجی داستان‘ جو مورکھ کے
چوری خور قلم پر نہ آ سکی۔ فقط چند مصرعوں
میں‘ اردو شعر کے تبسم کی زبانی سنیے‘ جو
پامال جسموں پر وفا کے ہونٹ رکھتا ہے۔
یہ وہ ہی تبسم ہے‘ جو خون میں ڈوبی شہ رگوں
سے‘ اپنے ہاتھوں کو بھگوتا ہے۔
اسے تو یہاں کے ہزیمت خوردہ اور اداس بچوں‘
جوانوں اور بوڑھوں سے بھی محبت ہے۔
وہ فاتح کے گیت نہیں الپتا۔
کیسا ہے یہ شخص‘ روتی آنکھوں میں بسیرا کرتا
ہے۔
ہوا ہے ہم سے گناہ کیسا
کہ رحم مادر سے باہر آ کے جو آنکھ کھولی
زمیں پہ دیکھا شب غضب تھی
....................
سبز کھیتوں پہ‘ رہگزاروں پہ
سانپ بارش کی کائی اگی ہوئی تھی
.....................
میں ان آہنی منظروں میں
صداؤں کے پھیلے حصار میں
مصلوب ہوں
....................
مرے بدن میں سیاہ ذرے سیاہ پھولوں میں جل
رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے کان میں سرخ تشدد کی چیخوں کی
چھاؤنیاں آباد ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہراہوں پہ میں ریزہ ریزہ پڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اونچی چمنیوں میں شور کرتے کارخانوں میں
دھوئیں سے پیٹ بھرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اپنے جسموں کے ٹوٹے خلیوں میں روشنی کی
تلش میں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں کا زوال آج زنجیرپا بن رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غضب بدہئیت بادل ہے جو ان شہروں پہ چھایا ہے
.................
سب گلیوں کی تار آنکھوں میں
جبر کے آنسو جھانک رہے ہیں
.................
لہو میں ڈوبے اداس شہروں کے زرد چہروں پہ
تیرگی ہے
.................
ہم اپنی آنکھ سے بہتے ہزاروں آنسوؤں کے پھول
چنتے ہیں
.................
میرے اندر چپ کے جنگل اگتے رہتے ہیں
نوٹ :تمثال‘ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے شعری
مجموعے کا نام ہے
سعادت سعید۔۔۔۔۔اردو شعر کی زبان کا جادوکر
لفظ بے پناہ قوت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ خیالت
میں‘ تبدیلی لتے ہیں۔ جذبات میں ہلچل مچا دیتے
ہیں۔ بنے بنائے کو‘ بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں اسی
طرح‘ بگڑے کے سدھار کا سبب بنتے ہیں۔ اسی
لیے‘ سیانے کہتے آئے ہیں‘ پہلے تولو‘ پھر بولو۔
یہ بھی کہا جاتا رہا ہے‘ کہ تلوار کا گھاؤ بھر جاتا‘
لیکن زبان کا گھاؤ نہیں بھرتا۔ یہ تالحد کانوں میں
گونجتے رہتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے‘ کہ ٹی وی
پر کہے گیے جملے پر‘ آدمی واہ واہ کر اٹھتا ہے‘
ہنس پڑتا ہے‘ رنجیدہ ہو جاتا ہے‘ یا ناگواری کا
اظہار کرتا ہے۔ حالں کہ کہنے وال سامنے نہیں
ہوتا۔ اسی طرح یہ بھی طے ہے‘ کہ کچھ لفظ وقتی
اثرات کا سبب بنتے ہیں‘ جب کہ کچھ‘ وقت کی
حدود سے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس کا معاملہ‘ لفظ
کی معنویت سے ہوتا ہے۔ خوب صورت لفظ اور
خوب صورت معنویت‘ کی بات ہی کچھ اور ہوتی
ہے۔ ان کی کرواہٹ یا مٹھاس وقتی نہیں‘ دیرپا
ہوتی ہے۔ لفظ کی ساخت‘ استعمال‘ لہجہ‘ طور
اور معنویت ہی‘ لسانیات کا علم کہلتا ہے۔
آدمی پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ‘ مختلف حوالوں سے
اظہار کرتا ہے‘ اظہار سنتا ہے۔ بلشبہ اس سے‘
اس کے ذہن کی لغت میں‘ ذخیرہءالفاظ کا اضافہ
ہوتا ہے۔ اسے خوش آئند بات کہا جا سکتا ہے۔
ضرورت کے مطابق وہ ان الفاظ کا‘ ذہن کی لغت
کے مطابق مفاہیم کے تحت‘ استعمال بھی کرتا
ہے۔ یہ سب روٹین کا مسلہ ہوتا ہے۔ نادانستہ طور
پر‘ الفاظ کی‘ اشکالی تبدیلیاں بھی وقوع میں آتی
ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی‘ اسے فطری
عمل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ سب اہل زبان کے
درجے پر فائز ہوتے۔ اکیلی سمجھنے کی سکل
کے حامل لوگوں کو بھی‘ اہل زبان کی صف میں
کھڑا کرنا ہی‘ مبنی برانصاف ہے۔ زبان کے
چاروں ہنر‘ یعنی سمجھنا‘ بولنا‘ لکھنا اور پڑھنا
کے حامل لوگوں کو؛ اہل سخن کا نام نہیں دیا جا
سکتا۔ شعر کہنا اور شعر پسند کرنا‘ قطعی دو الگ
سے باتیں ہیں۔ ہر چھوٹا بڑا شاعر‘ لفظوں کے
مفاہیم‘ عموم اور لغت سے‘ الگ تر تلشتا ہے۔
الفاظ کی اشکالی تبدیلوں کا سزاوار ہوتا ہے۔ ان
میں بڑا وہ ہی اہل سخن قرار پاتا ہے‘ جس کے
ہاں یہ عمل اوروں سے زیادہ‘ اور ہٹ کر ہوتا
ہے۔ یہاں بات؛ بڑے چھوٹے یا اوسط درجے کے
اہل سخن کی رہ جاتی ہے۔
پرانے لوگ ہوں یا نئے‘ اس صورت سے الگ تر
نہیں رہے۔ ہمارے بزرگ کمال کے ذہین تھے۔ میر
بیان‘ غالب فکر‘ ذوق محاورے کا استعمال‘ ظفر
درد‘ علمہ مشرقی مخصوص مقصدیت‘ حسرت
بغاوت کے اظہار میں کمال رکھتے تھے۔ وہ
ہمارے بڑے تھے‘ ان کے قدم لینا اہل سخن پر
واجب آتا ہے۔ زبان کے امور میں‘ ان کی سند لینا‘
یقینا برا نہیں۔ اس کا مقصد یہ نہیں‘ کہ حال‘
ماضی قریب میں بڑے اہل سخن موجود نہیں رہے۔
ایسا کہنا یا سمجھنا‘ زیادتی کے مترادف ہے۔ اس
کا مطلب یہ بھی ٹھہرے گا‘ کہ ہم اپنے عہد کے‘
اہل سخن کو جانتے نہیں۔ اگر جانتے ہیں‘ تو ان
کے کلم کے مطالعے کی‘ زحمت اٹھانا گوارا نہیں
کی۔ یہ سراسر زیادتی کے ہے۔ ہمیں گھر کی
مرغی کو‘ دال برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی
توقیر‘ ہم پر واجب آتی ہے۔ ان کے کہے سے‘
فکری اور لسانیاتی تمسک کرنا چاہیے۔ اس سے‘
ان کا فائدہ ہو نہ ہو‘ ہمارا ذاتی فائدہ ضرور ہے۔
جو آیا‘ چل گیا۔ یہاں ہر کوئی‘ جانے کے لیے‘ آتا
ہے۔ بیدل حیدری کہاں ہے‘ چل گیا۔ میرے باپ کا
نوکر تھا‘ جو میری فکری و لسانی ضرورتوں کے
لیے ٹھہرا رہتا۔ شکیب جلنی زبان پر گرفت رکھتا
تھا‘ کہاں ہے۔ اقبال سحر انبالوی کہاں اور کدھر
ہے۔ صابر آفاقی کی آواز سننے کو‘ میرے کان
ترستے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں‘ شعری رموز
میں کمال رکھنے وال‘ اور لفظوں کو نئے مفہوم
دینے وال ٹھہرا رہے گا‘ نہیں‘ وہ کسی کا ملزم
نہیں‘ ایک روز چل جائے گا۔ رموز شعر وسخن
میں‘ سرور عالم راز اپنی مثل آپ ہے۔ لفظوں کا
ایسا پاریکھ اور کھوجی‘ شاید ہی کہیں دیکھنے
کو ملے۔ پھول چاندپوری کے لفظوں کی‘ نشت و
برخواست کا‘ اپنا ہی کمال ہے‘ وہ بھی نہیں رہے
گا۔
ان کی قدر کرو
یہاں کوئی رہنے وال نہیں۔
جو چل گیا گیا‘ دوبارہ سے ملنےنہیں
ڈاکٹر سعادت سعید کو‘ میں اردو کی شعری زبان
کا‘ جادوگر کہتا ہوں۔ ظالم غضب اور دہائی کا زبان
طراز ہے۔ یہ ہی نہیں‘ لفظوں کو ہر بار نئے معنی
دیتا ہے۔ اشکالی تبدیلیاں لتا ہے۔
اس کے ہاں‘ لفظوں کی تفہیم اور معنویت کے
:حوالہ سے‘ چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں
:لہور کی شاہ زادی
:تعارف
حسن
کنول آنکھیں
چال
قیامت
خوش خرام
طور
چاہت معیادی
ستم ایجادی
مشروط محبت
عمومی عادت
صیادی
اس عادت کی سطح
اوج پر۔۔۔۔۔
یعنی زبردست چالو
دوستی اور دشمنی کے عناصر‘ متوازی اس کی
:ذات میں متحرک رہتے تھے
وہ مری دوست تھی اور دشمن بھی
یعنی پرکار تھی اور سادی تھی
صنعت تضاد کا استعمال بلشبہ بڑا پرلطف ہے‘
الگ سے بھی۔ آدمی کے‘ خیر وشر کے مجموعے
ہونے کے حوالہ سے‘ لفظوں کا چناؤ‘ خوب ہے۔
رات گزرنے کے منظر کے لیے‘ لفظوں کا انتخاب
دیکھیے‘ مزا دینے کے ساتھ‘ ایک الگ سے
سوچ دیتا ہے۔ اگر اس زبان کو استعاراتی قرار
دیتے ہیں‘ تو تفہیم کی صورت قطعی مختلف
ٹھہرے گی۔
چاند ستارے ڈوب رہیں گے شمعیں بھی گل ہو
جائیں گی
آخر کو سورج کی پریاں ہمیں ستانے آئیں گی
سورج کی کرنوں کے لیے‘ سورج کی پریاں کے
الفاظ‘ جہاں خوب صورتی کا سبب بنتے‘ وہاں
مترادف الفاظ کا تشکیل پانا‘ کوئی کم بات نہیں۔
نتیجہ
۔۔۔۔۔۔ ستانا۔۔۔۔۔۔
بھی پوشیدہ نہیں رکھا۔
نیلم گھر‘ ایک مخصوص معنی اور ایمج کا حامل
ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید اسے‘ عموم سے ہٹ کر
اور الگ تر معنی دے رہے ہیں۔
دنیا کے نیلم گھروں میں ارزاں ہیں انسان بہت
چیزیں ان پر فائق کیوں ہیں اس کا کھوج لگائیں
گے
نیلم گھر کی تفہیم‘ وسیح تناظر کی متقاضی ہے۔
کیوں‘ ایسا سوالیہ ہے‘ جو ہر حساس دل پر
دستک دیتا ہے۔
یہاں لفظ ارزاں کے‘ عمومی معنی نہیں ہیں۔ یہ
انسانی سماج کے رویے کو واضح کر رہے ہیں۔
بستیاں بسا لی ہیں دور آشناؤں نے
ملک گھیر رکھے ہیں قسمت آزماؤں نے
کیوں نہ بھول جائیں وہ گرم سانس رشتوں کو
جن کو کھینچ رکھا ہو سرد آبناؤں نے
وقت شناش اور خود غرضوں کے لیے‘ کیا خوب
لفظ لتے ہیں۔ دور کے ساتھ‘ آشنا کے لحقے
نے‘ لسانی حسن میں ہی اضافہ نہیں کیا‘ بلکہ
معنویت میں بھی‘ جدت پیدا کر دی ہے۔ سعادت
سعید کے فن کا یہ ہی کمال ہے‘ کہ مستعمل کو
بھی‘ نیا روپ دے دیتے ہیں۔ دوسرے مصرعے
میں بڑے ملیح انداز میں صدیوں سے چلی آتی‘
بدقسمتی کو بھی واضح کر دیا ہے۔ اسی غزل کا
دوسرا شعر بھی‘ کمال کی بن ٹھن رکھتا ہے۔
لفظوں کی یہ جادوگری‘ ہی اس کی اردو شاعری
میں پہچان ٹھہرتی رہے گی۔
گرم سانس رشتے اور سرد آبناء کا استعمال‘ بہت
ہی متاثر کرتا ہے۔ خوش ذوق قاری‘ لسانی اور
فکری رسائی کی داد دیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان
لفظوں کی تفہیم‘ اپنا مخصوص تاثر ترکیب دینے
میں کامیاب رہتی ہے۔
یگوں یگوں کی اس بدقسمتی اور بد نصیبی کے
اظہار کو‘ اس سے بڑھ کر لفظوں کا پیرہن کیا
میسر آ سکے گا۔
سعادت سعید کے ہاں‘ گلبی چمن دیکھنے کو
ملتے ہیں۔ گلبی رنگ کے حسن کا تصور کریں‘
روح میں تازگی محسوس ہوتی ہے۔ چمن کی بات‘
اپنی ہی ہوتی ہے۔ گلبی باغ میں اقامتی کی
مسروری کا اندازہ اتنا آسان نہیں۔ اپنے دیس کی
محبت‘ ہمیشہ سے مسلم رہی ہے۔ اپنا دیس دنیا کا
خوب صورت ترین دیس ہوتا ہے۔ دیس کے لیے
لفظ چمن مستعمل ہے۔ مرکب گلبی جمن بالکل
الگ سے ہے۔
وطن سے دور عزیزو وطن نہیں ملتے
محبتوں کے گلبی چمن نہیں ملتے
وطن نہیں ملتے‘ لفظوں کا سیٹ اپ اپنا ہی ہے۔
مائی باپ نہیں ملتے‘ بہن بھائی نہیں ملتے وغیرہ
عام سننے میں آتے ہیں۔ وطن نہیں ملتے‘ کم از
کم میرے سننے میں نہیں آیا۔ نہیں ملتے‘ کا عام
:مفہوم اور سننے سے متعلق ہے۔ اب اسے پڑھیں
وطن سے دور
!عزیزو
وطن نہیں ملتے
محبتوں کے
گلبی چمن نہیں ملتے
تکرار لفظی بامزہ ہے ہی‘ دوسرے مصرعےمیں‘
لفظوں کی تشبیہی ادا‘ اپنی ہی ہے۔
یہ شاعر عصر‘ لفظ گر تو ہے ہی‘ معنی طرازی
میں بھی کچھ کم نہیں۔
ہجر کے لمبے سلسلے اس پہ غضب کی غیرت
خواب بہار کے سبب اجڑے چمن میں آ گیے
ہجر کے لمبے سلسلے
اس پہ
غضب کی غیرت
خواب بہار کے سبب
اجڑے چمن میں آ گیے
تکرار حرفی تو ہے ہی‘ غضب کی غیرت نے‘
تفہیم کا جو جادو جایا ہے‘ اس کی اپنی ہی بات
ہے۔ اپنا جھونپڑا پرائے محل سے خوب صورت
اور پیارا ہوتا ہے۔ اپنے ہاں بےتکلفی ہوتی ہے‘
لیکن کسی دوسرے کے ہاں ہر موڑ پر غیرت آڑے
آتی ہے۔ خوب تر کی تلش میں یہ کچھ کچھ ہاتھ
لگتا ہے۔ گھر سوکھی پردیس کی چوپڑی سے
بہتر ہوتی ہے۔ ہر لفظ بول رہا ہے استعمال کنندہ
بڑا باسلیقہ ہے۔
اپنے لٹنے کے سبب تک پہنچے
سلسلے عالی نسب تک پہنچے
توڑ ڈالیں گے وہ طبقات کے بت
بت شکن عظمت رب تک پہنچے
اس سے بڑھ کر‘ نوک دار‘ کھرا کھرا اور پرچوٹ
لفظوں کا استعمال‘ کیا ہو سکتا ہے۔ ہر لفظ نئی
معنویت کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ ہر لفظ‘ مقتدرہ
طبقوں کی نفسیات کی‘ کھل کھل کر عکاسی کر
رہا ہے۔
اردو کے شعری لفظوں کے‘ اس جادوکر کا ہر
لفظ‘ ترکیبی‘ صوتی اور معنوی اعتبار سے‘
ماضی اور حال کے‘ نہاں کونوں کھدروں سے‘
حقائق کی پنڈیں‘ اٹھا اٹھا کر لتا چل جاتا ہے‘ اور
قاری پر حیرت اور نئے پن کا‘ جہاں آباد کیے جاتا
ہے۔ اسے لفظوں سے‘ منظر کشی کا گر خوب
خوب آتا ہے۔ سعادت سعید‘ آتے وقتوں میں‘ جدید
اردو شعر میں‘ لفظ گری اور معنی تراشی کی یقینا
علمت ٹھہرے گا۔
ردی چڑھی رفتہ کی ایک منہ بولتی شہادت
آج میں پرانے کاغذات کے ڈبوں میں‘ ایلیٹ سے
متعلق‘ اپنا ایک مضمون تلش رہا تھا۔ وہ تو نہ
مل‘ ایک پاکٹ سائز کی ڈائری مل گئی۔ شوپر میں‘
لپیٹ کر بڑی حفاظت سے رکھی گئی تھی۔ یہ
ڈائری‘ مجھے ایک امرود فروش ریڑھی والے
سے ملی تھی۔ یہ اس کے کام کی نہ تھی۔ اس میں
موجود کاغذوں پر سودا نہیں ڈال جا سکتا تھا۔
ریڑھی والے کا‘ ردی فروش پر گلہ حق بجانب
تھا۔ اس نے میری درخواست پر‘ یہ ڈائری مجیے
چند سکوں میں عنایت کر دی۔ یہ ڈائری کچھ
عرصہ میرے کاغذات میں پڑی رہی۔ اس کے بعد‘
سچی بات ہے‘ میرے دماغ سے بھی محو ہو گئی۔
آج جب یہ ملی ہے‘ تو مجھے بہت ہی اچھا لگا
ہے۔
یہ ڈائری ایک شاعر کی ہے‘ اور ١٣٦صفحات‘
لفظوں سے معمور ہیں۔ ص ١تا ص ٧تک‘ حرف
خاص کے عنوان سے‘ انہوں نے اپنی کہانی درج
کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے‘ اپنا تعارف درج
کیا ہے۔ ص ٩پر تین شعر ہیں۔ پہل شعر‘ حالت
سے متعلق ہے‘ جب کہ باقی دو شعر‘ حمدیہ ہیں۔
ص ١٠پر بھی تین شعر ہیں‘ جو عصری حات کا
نوحہ ہیں۔ کلم میں غزلیں‘ طرحی غزلیں‘ نعت‘
نظم‘ قطعات‘ دوہے‘ فلمی لوری‘ ڈیفینس لوری‘
وداع اور مناجات‘ اصناف شامل ہیں۔ اس میں کل
سات سو سات شعر ہیں‘ آخر میں بھی دو شعر
درج ہیں‘ اس طرح سات سو نو شعر بن جاتے
ہیں۔۔ ص ١٣٦کے بعد بھی کلم درج ہے‘ جو
پنجابی وغیرہ میں ہے۔ خط مختلف ہے۔ کچھ نعتیں
وغیرہ درج ہیں۔ لگتا ہے‘ یہ ڈائری کسی کے ہاتھ
لگ گئی تھی۔ اس نے ناصرف پسند کا کلم درج
کیا‘ بلکہ اس پر کاروبای حساب کتاب بھی لکھا۔
احباب کے پتے وغیرہ بھی نوٹ کیے۔ کئی جگہوں
پر‘ یسین انجم نام کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ
دوسرے خط کا کلم ان صاحب کا ہی لگتا ہے‘
کیوں کہ ایک جگہ درج ہے :شاعری کا شاہزادہ
یسین انجم۔ اس کلم سے متعلق کسی دوسری