انہیں گھٹی میں مل ہوتا ہے۔ ان سے خیر کی توقع
نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی مرتا ہے یا مار دیا
جاتا ہے' انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
اکبر کے نزدیک' خلوص اور تعلق داری یک طرفہ
چیز نہیں ہے۔ اس کی موجودگی اطراف میں
ضروری ہوتی ہے۔ تپاک سے ملنے والے لوگوں
کا باطن بھی گرم جوشی سے معمور ہو' یہ
ضروری نہیں۔ ایسی صورت میں گمشتگان سے'
خیر کی توقع اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے
کے مترادف ہوتا ہے۔
اگر اکبر کی شاعری کا' دیانت داری سے مطالعہ
کیا جائے' تو یہ کہنا کسی طرح غلط نہ ہو گا' کہ
انہوں نے مزاحمتی ادب لکھنے کا آغاز کیا۔ اس
ذیل میں انہیں پہل بڑا مزحمتی شاعر قرار دینا'
مبنی بر انصاف ہو گا۔ اس حوالہ سے ان پر کام
کرنا ابھی باقی ہے۔
تحریر مارچ 1978 '6
مثنوی ماسٹر نرائن داس' ایک ادبی جائزہ
دوسری زبانوں کی طرح اردو' وہ جس رسم الغط
میں بھی رہی' مختلف حوالوں سے' اس کے ساتھ
دھرو ہوتا آیا ہے۔ مثل
جنگجوں نے' اسے دشمن کا ذخیرہءعلم سمجھتے
ہوئے' برباد کر دیا' حالں کہ لفظ کسی قوم یا
علقہ کی ملکیت نہیں ہوتے۔
اردو کو مسمانوں کی زبان سمجھتے ہوئے' غیر
مسلموں کی تحریوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ جب
کہ اصل حقیقت تو یہ ہے' کہ زبان تو اسی کی ہے'
جو اسے استعمال میں لتا ہے۔
گھر والوں نے' چھنیوں' کولیوں اور لکڑیوں کو
ترجیح میں رکھتے ہوئے' علمی وادبی سرمایہ
ردی میں بیچ کر' دام کھرے کر لیے۔
بہت کچھ' حالت' حادثات اور عدم توجہگی کی نذر
ہو گیا۔
قددرتی آفات بھی' اپنے حصہ کا کردار ادا کرتی
آئی ہیں۔
تہذیبں مٹ گئیں' وہاں محض کھنڈر اور ٹیلے رہ
گیے۔ بہت کچھ ان میں بھی دب گیا۔ بعد کے آنے
والوں نے' انہیں بلڈوز کرکے صاف زمین کے
ٹکڑے کو' سب کچھ سمجہ لیا۔ اگر محتاط روی
اختیار کی جاتی تو وہاں سے' بہت کچھ دستیاب ہو
سکتا تھا۔
ماسٹر نرائن داس' اردو کے خوش فکر اور
خوش زبان' شاعر اور نثار تھے۔ سردست ان کی
ایک کاوش فکر فوٹو کاپی کی صورت میں'
دستیاب ہوئی ہے' جو پیش خمت ہے۔ اس سے
پہلے سوامی رام تیرتھ کا کلم پیش کر چکا ہوں۔
ماسٹر نرائن داس' جو قصور کے رہنے والے
تھے اور فرید کوٹ کے مڈل سکول میں' باطور
ہیڈ ماسٹر فرائض انجام دے رہے تھے' اٹھائیس
بندوں پر مشتمل مسدس باعنوان۔۔۔۔۔جوہر
صداقت۔۔۔۔۔ تحریر کیا۔ یہ 1899میں بللی پریس
ساڈھورہ ضلع انبالہ میں کریم بخش و محمد بلل
کے اہتمام طبع ہوا۔ گویا یہ آج سے' 116سال
پہلے شائع ہوا۔ اس مسدس کی زبان آج سے' رائی
بھر مختلف نہیں۔ خدا لگتی یہ ہے' اسے پڑھنے
کے بعد اندازہ ہوا' کہ ماسٹر نرائن داس کو زبان
پر کامل دسترس تھی۔ زبان وبیان میں فطری
روانی موجود ہے۔ اپنا نقطہء نظر' انہوں نے
پوری دیانت' خلوص اور ذمہ داری سے پیش کیا
ہے۔
انہوں نے اپنی پیش کش کے لیے' دس طور
اختیار کیے ہیں۔
مزے کی بات یہ کہیں مذہبی یا نظریاتی پرچھائیں
تک نہیں ملتی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے' فقط
آٹھائیس بندوں میں زبان بیان کے دس اطوار
اختیار کیے۔ بلشبہ ماسٹر نرائن داس بڑے سچے
کھرے اور بااصول انسان رہے ہوں گے۔
انہوں نے سچائی کو مذہب پر فضیلت دی ہے۔ ان
کے مطابق خدا سچائی سے الفت رکھتا ہے۔ کہتے
ہیں۔
سچائی کے عقیدے کو مذہب پر فضیلت ہے
خدا کو بندگان راستی سے خاص الفت ہے
صداقت اپنی حیثیت میں ہے کیا۔
سچائی رحمت ازلی و ابدی کا خزینہ ہے
صدق اوج سعادت کا عظیم الشان زینہ ہے
اس کا فنکشن کیا ہے۔
ذرا چھونے سے ادنے چیز کو اعلے بناتی ہے
وہ قیمت بیشتر اکسیر اعظم سے بھی پاتی ہے
صداقت اور کذب کا موازنہ
ملمع محض سمجھو جھوٹ کو آگے سچائی کے
نکما محض سمجھو جھوٹ کو آگے سچائی کے
صداقت کے فوائد
سچائی ہر دوعالم میں ہے دیتی رتبہ اعلے
سچائی کرتی ہے ہر دو جہاں میں مرتبہ اعلے
سچائی کے ضمن میں دلئل
حکومت بھرتری نے چھوڑ دی خاطر سچائی کی
..........
تیاگی ہو گیا ساکی منی خاطر سچائی کی
.............
سچائی کو بنایا راہنما پہلد نے اپنا
...........
پکڑ کر ہاتھ سے اپنے پئے خاطر سچائی کی
پیالے زہر کے سقراط نے خاطر سچائی کی
...........
مسیحا بھی ہوئے صلوب تھے خاطر سچائی کی
.............
ہزاروں سر ہوئے تن سے جدا خاطر سچائی کی
.............
کئی بچھڑے پیارے وطن سے خاطر سچائی کی
.............
پڑے شعلوں میں جلتی آگ کے خاطر سچائی کی
سچائی فقرا کا مسلک ہوتی ہے۔
سچائی ہی قدر قیمت فقیروں کی بڑھاتی ہے
سچائی معرفت کے راستے انکو بتاتی ہے
سچائی کردگار پاک کی قربت دلتی ہے
یہی آخر انہیں درگاہ ایزد میں پہنچاتی ہے
کذب کا انجام کیا ہوتا ہے۔
کذب دم میں گنواتا ہے شہنشاہونکی عزت کو
تباہ کرتا ہے انکی شان کو شوکت کو ہیبت کو
اسی سے ڈر ہے وقعت کو خطر اس سے دولت کو
گراتا سرنگوں ہے غرض ان کے عالم رفعت کو
ہزل پیشوں کو ا خاک میں آخر ملتا ہے
مگر سچوں کا حافظ اور مودی اور داتا ہے
حکائتی انداز بھی اختیار کیا گیا ہے۔
گڈریے کی حکایت بھی نصیحت خوب دیتی ہے
کہ جسکی شیر کے پنجے سے پیاری جان نکلتی
ہے
کذب کے ہاتھ سے اسپر مصیبت آن پڑتی ہے
سزا جھوٹوں کو اپنے جھوٹ کی ایسے ہی ملتی
ہے
اہل ہند کے بارے چینیوں اور رومیوں کی آراء
صداقت اہل ہندوستاں کے یونانی ثنا خواں تھے
چلن کے اہل ہندوستاں کے چینی ثنا خواں تھے
موجودہ صورت حال
صداقت ہو گئی ہے دور ہندوستاں کے لوگوں سے
ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے
سچائی کے رستے پر چلنے والوں کی تحسین اور
مبارکباد
مبارک ہو خوشی اے راستی کے چاہنے والو
مبارک مخروقی اے راستی کے چاہنے والو
مبارک برتری اے راستی کے چاہنے والو
مبارک خوش روی اے راستی کے چاہنے والو
مبارک آپ کو مژدہ یہ خوشخبری مبارک ہو
مبارک آپ کو یہ مہر ربانی مبارک ہو
ان کی مذہبی عصبت سے دوری کا سب سے بڑا
ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے ذات باری کے لیے
کردگار' ایزد' ا'رب' خدا نام استعمال کیے ہیں۔
ماسٹر صاحب کے پاس متبادلت کا خزانہ موجود
ہونے کا گمان گزرتا ہے۔
سچائی سے خدا تعالے کی رحمت کی ترقی ہے
........
خدا کو بندگان راستی سے خاص الفت ہے
........
صدق کو یا زرہ سمجھو کہ یہ اک زیب تن کی ہے
........
نہ ہرگز سانچ کو ہے آنچ اس نے آزما دیکھا
........
صداقت کی مدد ان کو سچائی کے سہارے ہیں
اب کچھ مرکبات ملحظہ ہوں۔
وہ فلک راستی کے چمکتے گویا ستارے ہیں
........
مبارک گلستان راستی کے ٹہلنے والو
مبارک زیور صدق و صداقت پہننے والو
.........
ستون سرخ آہن سے خوشی سے دوڑ کر لپٹا
.........
شہیدان صداقت نے دیا خاطر سچائی کی
.........
فتح کےلوک میں پرلوک میں ڈنکے بجاتے ہیں
........
کیا خوب مصرع ہیں۔ فصاحت و بلغت کا منہ بولتا
ثبوت ہیں۔ اس ناصحانہ انداز میں تلخی ضرور
ہے' لیکن فکری و لسانی حوالہ سے' ان
مصرعوں کو نظرانداز کرنا' زیادتی ہو گی۔
بےشک ان مصرعوں میں' انہوں نے آفاقی سچائی
بیان کی ہے۔
ہوا کرتا ہے جھوٹوں پر سدا قہر خدا نازل
کبھی درگاہ سچی میں نہیں کازب ہوئے داخل
..........
ہزل پیشوں کو ا خاک میں آخر ملتا ہے
.........
مبارک آپ کو یہ مہر ربانی مبارک ہو
ماسٹر صاحب کی زبان کا مہاورہ بھی نفاست سے
گرا ہوانہیں۔ دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں
کذب کے ہاتھ سے اسپر مصیبت آن پڑتی ہے
...........
کلہاڑی ہاتھ سے اپنے وہ خود پاؤں پہ دھرتے
ہیں
...........
سچائی کا نصیبے والے ہی دامن پکڑتے ہیں
............
اسی سے نام رہتا ہے جہاں میں یاد سچوں کا
..........
ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے
مثنوی کا پہل شعر ہی تشبیہ پر استوار ہے۔
ملحظہ ہو
سچائی مثل کندن چمکتی ہے دندناتی ہے
وہ جلوہ نور کوہ نور سے بڑھ کر دکھاتی ہے
صنعت تکرار لفظی کا استعمال بھی ہوا ہے۔ ہاں
البتہ' دندناتی کی جگہ' کوئی اور لفظ رکھ دیتے'
تو زیادہ اچھا ہوتا۔
ایک اور خوب صورت سی تشبیہ ملحظہ ہو۔
مگر ہے جھوٹ مثل کانچ اس نے آزما دیکھا
اب صنعت تضاد کی کچھ مثالیں ملحظہ فرما لیں۔
شروع میں ہے خوشی اسکے خوشی ہی انتہا
اسکا
انتہا کو مونث باندھا گیا ہے اور یہ غلط نہیں۔
.......
سچائی راحت ازلی و ابدی کا خزینہ ہے
.......
زبان پاک کو اے دل نہ آلودہ کذب سے کر
ماسٹر نرائن داس نے' اپنے عہد کی سچائی کے
حوالہ سے' ہندوستان کی حالت کو' ریکارڈ میں
دے دیا ہے۔ کہتے ہیں
بنایا جھوٹ کو ابتو ہے ہمنے راہنما اپنا
سچائی الودع! ہے آجکل کذب وریا اپنا
دھرم باقی رہا اپنا نہ دل قائم رہا اپنا
نہ یارو جھوٹ کے ہاتھوں سے ایماں ہی بچا اپنا
صداقت ہو گئی ہے دور ہندوستاں کے لوگوں سے
ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے
مثنوی کا آخری شعر جس میں تخلص استعمال ہوا
ہے' پیش خدمت ہے
یہ عاصی اے سچائی تیرے ہی گھر کا سوالی ہے
ترا ہی داس اور تیرے ہی گھر کا سوالی ہے
کہا جاتا ہے' انسان نے ترقی کر لی ہے۔ خاک
ترقی کی ہے' جہاں علم دو نمبر کی چیز ہو اور
اہل قلم کی موت کے بعد' ان کے پچھلے' ان کے
لہو پاروں کو' ردی میں بیچ دیں یا طاقت کے نشہ
میں چور حکمرانوں کے پیشہ ور بےرحم جنگجو'
اس انسانی ورثے کو' نیست ونابود کر دیں .وہاں
ہوس للچ اور نفسا نفسی کے سوا کیا ہو سکتا
ہے۔ اگر ہوس' للچ اور نفسا نفسی ترقی ہے' تو
وہ بہت زیادہ ہوئی ہے۔
ماسٹر صاحب نے اور بھی بہت کچھ' شعر و نثر
میں لکھا ہو گا' کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تقسیم ہند
کا عمل تقریبا نصف صدی بعد کا ہے۔۔ اس لیے'
وہ تقسیم میں ضائع نہیں ہوا ہو گا۔ آج جامعات'
تحیقی ڈگری چھاپنے میں مصروف ہیں' اگر وہ
خاموش اردو کے خدمت گاروں کو' تلشنے کو
بھی' تحقیق سمجھیں' تو یہ اردو زبان کی بہت
بڑی خدمت ہوگی۔
آشا پربھات' مسکاتے' سلگتے اور بلکتے
احساسات کی شاعر
عزیزہ آشا پربھات نے اپنا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔
مرموز۔۔۔۔۔۔ ان الفاظ کے ساتھ عطا کیا۔
صف اول کے فعال ادیب' نقاد اور دانشور محترم
بھائی صاحب کو احترام کے ساتھ
آشا پربھات
اگست 8 1996
میں نے کچھ لکھا بھی تھا اور وہ کہیں شائع بھی
ہوا تھا۔ باوجود کوشش کے' وہ لکھا دستیاب نہیں
ہو پا رہا۔ کلم آج انیس سال بعد' دوبارہ پڑھنے
میں آیا ہے' میں بڑی سنجیدگی اور دیانت داری
سے' محسوس کر رہا ہوں' اس پر لکھا جانا
چاہیے۔
مرموز 1996میں' پبلشرز اینڈ ایڈورٹائزرز جے
6کرشن نگر دلی سے' شائع ہوا۔ ٹائیٹل بیک پر'
آشا پربھات کی تصویر تعارف اور ان کے کلم پر
اظہار خیال بھی' کیا گیا ہے۔ انہوں نے' اپنے کسی
خط میں' لکھنے والے کے متلعلق بتایا ہو گا۔ اب
اس خط کا ملنا' آسان نہیں۔ اس تحریر کے مطابق'
آشا پربھات کی ولدت رکسول' بہار میں ہوئی۔ ان
کا ناول۔۔۔۔۔ دھند میں اگا پیڑ۔۔۔۔۔ ماہ نامہ منشور
کراچی میں شائع ہوا' جو بعد میں' کتابی شکل میں
بھی شائع ہوا تھا۔ انہوں نے' مہربانی فرماتے
ہوئے' ایک نسخہ مجھ ناچیز فانی کو بھی' عنایت
کیا تھا۔ ان کا ایک مجموعہء شعر ۔۔۔۔۔۔
دریچے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس زبان کے' دیوناگری خط میں بھی
شائع ہوا تھا۔ ان کا ایک ہائیکو پر مشتمل
مجموعہ۔۔۔۔۔گرداب۔۔۔۔۔۔ زیر اشاعت تھا۔
ان کی شاعری سے متعلق کہا گیا ہے۔
اسلوب اور ہیئت کے اعتبار سے ان کی نظمیں
شعری ادب کے سرمائے میں ایک نئے باب کا
اضافہ کرتی ہیں۔
اس مجموعے میں' کل اکسٹھ شعر پارے شامل
ہیں' جن میں سولہ غزلیں اور پانچ اوپر چالیس
نظمیں شامل ہیں۔ آشا بنیادی اور پیدائشی طور پر'
دیوناگری رسم الخط سے متعلق ہیں' لیکن اردو
رسم الخط سے' ان کی محبت عشق کی سطع پر
نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے۔
اردو میری محبوب ہے اور میری محبوب کی
آنکھوں میندھنک کے تمام رنگ لہراتے ہیں۔
ان کا کہنا' کہنے کی حد تک نہیں' مرموز اس کی
عملی صورت میں موجود ہے۔ واقعی اردو سے وہ
عشق کرتی ہیں۔
اس کاوش فکر کا ابتدائیہ' جو آشا پربھات کا لکھا
ہوا ہے' سچی بات ہے' دل کے نہاں گوشوں میں
بھی' ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ ملحظہ فرمائیں۔
اس کاوش فکر کا ابتدائیہ جو آشا پربھات کا لکھا
ہوا ہے سچی بات ہے دل کے نہاں میں بھی
ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ ملحظہ فرمائیں۔
مجھے نہیں معلوم شاعری کیا ہے۔ شعری آہنگ
کیا ہوتا ہے۔ شعری شعور کیا ہے اور داخلی
عوامل سے یہ کس طرح ترتیب پاتا ہے۔ میں بس
اتنا جانتی ہوں کہ دھند صرف پہاڑوں پر نہیں
ہوتی آدمی کے اندر بھی پھیلتی ہے۔ سمندر لہراتا
ہے۔ دریا موجزن ہوتا ہے۔ طوفان اٹھتے ہیں'
پھول کھلتے ہیں' خوشبو پھیلتی ہے اور جب بھی
میں ان کیفیتوں سے گزرتی ہوں تو لفظوں کا
سہارا لیتی ہوں اور محسوسات کے پراسرار
دھندلکوں میں الفاظ کی قندیل جلتی ہوں لیکن
الفاظ دور تک میرا ساتھ نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے نزدیک شاعری قندیل جلنے کا عمل ہے۔
مجھے نہیں معلوم میری قندیل کی روشنی
محسوسات کی کس سطع کو چھوتی ہے۔ لیکن کیا
یہ کم ہے کہ میں نے قندیل جلئی ہے اور جلئے
رکھنے کا عزم رکھتی ہوں۔
یہ زبانی کلمی کی باتیں نہیں' مرموز کے مطالعے
کے بعد' یہ تمام کیفیات پڑھنے کو ملتی ہیں۔
لفظ بہ مثل قندیل روشن رہتے ہیں
دل کے نہاں خانوں میں
تم موجود ہو
آکاش میں شبد کی طرح
نظم آکاش میں شبد ص9
دھند آدمی کے اندر بھی پھیلتی ہے۔
اب کسی بھی آنکھ میں
پہچان کی خوشبو نہیں
چوباروں کے دیئے
کب کے بجھ چکے ہیں
بہت جان لیوا سناٹا
وہاں لیٹا رہتا ہے
نظم گاؤں کا المیہ ص 12
اس ضمن میں ایک اور مثال ملحظہ ہو۔
ہر سو
دھند کا پہرہ ہے
رات خاموش ہے
مٹ ملی چاندنی
اتر آئی ہے میرے آنگن میں
نظم۔ میری اداس آنکھیں ص27
جذب و احسات کا اٹھتا طوفان اور ردعملی پکار
ملحظہ ہو
روک لو
ان وحشی درندوں کو
ان کی کنٹھاؤں کے
تیز ناخونوں کو توڑ ڈالو
یہ نہیں جانتے
بارود کی ڈھیر پر بیٹھ کر
خود ماچس جلنے کا انجام
یہ نہیں جانتے
جھلستے ہوئے انسانوں کے المیہ کو
جنگ ص 70نظم۔
موجزن دریا اور لہراتے سمندر کی کیفیت ملحظہ
ہو
تمہاری چھوی ابھرتی ہے
ایک روش ہالہ کی طرح
اور ایک شکتی بن کر
میری روح میں سما جاتی ہے
میں جی اٹھتی ہوں
امبربیل کی طرح
پلکیں جھپک اٹھتی ہیں
توانائی کا بےکراں سمندر
لہرا اٹھتا ہے میرے انگ انگ میں
نظم تنہائی ص 16
احساس کی کہانی ملحظہ ہو
میرے اندر
کہیں چپ سی پڑی ہے
ایک ننھی چڑیا
وہ اب نہیں پھدکتی
نہیں چہکتی
نہ ہی بارش میں
اپنے پر بھگوتی ہے
نظم ننھی چڑیا ص24
لفظوں کی مسکان اور خوش بو ملحظہ ہو۔
آبگینے سے زیادہ نازک لمحوں کے بیان کے لیے
لفظوں کا انتخاب آشا کو خوب خوب آتا ہے۔ ذرا یہ
لئینیں ملحظہ ہوں۔
تمہاری آواز کی نمی
ہمیشہ کی طرح
اس بار بھی گمراہ کر گئی
میں اس موڑ پر ہوں
جہاں سے واپس مڑ گئی تھی
نظم تمہاری آواز کی نمی ص37
آشا محاکات کی تشکیل میں کمال رکھتی ہیں۔ مثل
حسب معمول
اس بار بھی تم
میرے چہرے کا
اپنے ہاتھوں سے
کٹورا سا بناؤ گے
میرے لب چومو گے
اور بھر دو گے میرے آنچل کو
عہد و پیماں کے جگنوؤں سے
نظم میرے لب سلے ہیں ص 32
آشا کے ہاں' تشبیہات کا بالکل نئے طور اور نئی
زبان کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ چند ایک مثالیں
ملحظہ ہوں
دل کے نہاں خانوں میں
تم موجود ہو
آکاش میں شبد کی طرح
نظم آکاش میں شبد 9
تمہارے سارے خیالت
نیم خوابیدہ ہنسی کی طرح
میرے ہونٹوں پر پھیل جائیں گے
تنہائی ص 15
شوخ لہریں
سرکشی کرتی ہیں کناروں سے
سانپ کے کینچل کی طرح
نظم تمہارے جانے کے بعد ص17
تمہاری نرم انگلیوں کا مخملی لمس
جیسے
بند شیشوں سے باہر گرتی
مسلسل برف باری کا سلسلہ
نظم ایک احساس ص78
اور سکھ
معصوم بچے سا
کونے میں دبک کر
سو گیا ہے
نظم ریت کی ندی 85
تلمیح کا استعمال اور استعمال کی زبان' ملحظہ
ہو۔
ریت کی ندی بہتی ہے۔۔۔۔۔
گرم ریت میں پھنس گیا ہے کہیں
سوہنی کا گھڑا
نظم ریت کی ندی ص85
اٹھو
ہاتھ بڑھاؤ
اور
صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو
صلیب پر ٹنگے نصیب ص 69نظم
مندر کی روشنی میں
مسجد کی روشنی میں
کیوں کہرا بڑھ رہا ہے
کیوں کہرا چھا رہا ہے
نظم سانپ کو پکڑ لو ص60
بہت دن ہوئے
جب یوکلپٹس کے پیڑوں کی طرح
دن اگتا تھا
نظم بہت دن ہوئے ص10
سماج کی عمومی چیزیں بھی' استعمال میں لتی
ہیں اور یہ ہی' اس کی نظم کے لسانی حسن کا
سبب بنتی ہیں۔
آٹا گوندھنے کے درمیان
نظم تمہاری یاد ص92
........
کھڑکیوں اور دروازوں کے مخملی پردے
........
ہانڈیوں میں دانے
اکیسویں صدی ص 73-72نظم
.......
گلی ڈنڈے اور
بچوں کے ہجوم
وقت پیرہن بدلتا ہے ص 91-90نظم
.......
چوپالوں میں بجھے ہوئے گھوروں کی راکھ
نظم گاؤں کا المیہ ص13
آشا نے زبان کو مختلف نوعیت و حیثیت کے
مرکب فراہم کیے ہیں۔ یہ اردو کی لسانی و فکری
ثروت کا سبب بنے ہیں۔ مثل
کرب گل ص54
نیم خوابیدہ ہنسی ص14
خرگوشی لمس ص20
مٹ ملی چاندنی ص27
من کا سناٹا ص58
لفظوں کا پل ص67
سکھ کا چل ص85
دہشت کے سائے ص46
تلوار کے قلم ص61
موت کی دستک ص47
کہرے کی دیوار ص47
جھینگر کی جھنکار ص78
ریت کی ندی ص85
خیالوں میں اڑان ص66
آشا کی زبان کا مہاورہ بھی فصیح وبلیغ ہے۔مثل
وقت پیرہن بدلتا ہے
زخم بھر جاتےہیں ص41
آکاش نے
اپنا پریچے کھو دیا ہے
وقت موک بنا
ٹھگا سا دیکھتا رہ گیا ہے ص 88
جو جتنا ماہر ہے
اتنا بھوگتا ہے اسٹیج کا سکھ ص86
اور سپنے
نیم وا آنکھوں سے
چھلک پڑے ص83-82
کوئی احساس
کوئی درد تمہارےپیروں کی
بیڑی نہیں بن سکا ص35
میرے اندر چپ سی پڑی ص24
خیالوں میں اڈان بھرو گے ص66
میرا پچھتاوا مکھر ہو اٹھا ہے ص56
آشا کے ہاں' زبان اور زبان کا لب و لہجہ اور
ذائقہ الگ پڑھنے کو ملتا ہے۔ غیر محسوس اور
رونی میں' علمتوں اور استعاروں کا' استعمال
متاثر کرتا ہے۔ مثل
توانائی کا بےکراں سمندر ص16
درد چلتا ہے دبے پاؤں ص79
ماں کی چھاتیوں کا سمندر ص73
لفظوں کا پل ٹوٹ گیا ص67
کہر کی دیواروں کے بچ ص47
اس خاموشی کے شکنجہ میں
فقط جان بہ لب تھا میرا ایمان ص55
آشا کے ہاں' اس عہد کی سچی تصویریں دیکھنے
کو ملتی ہیں' ساتھ میں' اس عہد کے شخص کے
.لیے پیغام بھی ہے۔ باطور مثال یہ نظم ملحظہ ہو
صلیب پر ٹنگے نصیب
اٹھو
ہاتھ بڑھاؤ
اور
صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو
وہ بھی مضبوط ارادوں کی
راہ دیکھتا ہے
زندگی کو دان کی
پیٹی مت دو
کسی آدھے ادھورے
مندر کی بنیاد پر رکھی
دان کی پیٹی
جس میں
مجبوری یا ڈر سے
ڈال جاتا ہے کوئی
پانچ پیسے دس پیسے
غرض آشا پربھات کی شاعری' اپنے وجود میں'
فکری اور لسانی اعتبار سے' قابل توجہ توانائی
رکھتی ہے اور اسے نظر انداز کرنا' مبنی
برانصاف نہ ہو گا۔ غژل چوں کہ نظم سے' قطعی
الگ صنف سخن ہے' اسی لیے اسے' کسی
دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھا ہے۔
ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی
جائزہ
مخدومی و مرشدی جنت مکانی قبلہ سید غلم
حضور کے علمی وادبی ذخیرے سے ملنے والی
کتاب' اظہار محمدی منظور احمدی' کب اور کس
سن میں شائع ہوئی' ٹھیک سے کہا نہیں جا
سکتا۔ اس پر تاریخ اور سن درج نہیں ہے۔ ہاں
پبلیشر کا نام .....فقیر فضل حسین تاجر کتب ابن
حاجی علؤالدین مرحوم ساکن پتوکی نوآباد ضلع
لہور .....درج ہے۔ پتوکی نوآباد ضلع لہور سے
یہ بات وضح ہوتی ہے کہ اس چوبیس صفحے کی
اشاعت' اس وقت ہوئی' جب پتوکی نیا نیا آباد ہوا
تھا۔
اس میں مولوی احمد یار کی پنجابی مثنوی' مرزا
صاحبان کا کچھ حصہ درج ہے۔ گویا یہ ان دنوں
کی بات ہے' جب وہ زندہ تھے اور مثنوی مرزا
صاحبان تحریر کر رہے تھے۔ یہ کلم ص 10تک
ہے۔ ص 15-14پر سترہ پنجابی اشعار پر مشتمل
کافی بھی ہے۔ گویا مولوی احمد یار پنجابی کافی
بھی کہتے تھے۔ پنجابی میں ان کی صرف مثنوی
مرزا صاحبان پڑھنے کو ملتی ہے۔
کتاب کے بقیہ صفحات پر' مولوی غلم محمد کا
اردو پنجابی اور فارسی کلم شامل ہے۔ سرورق پر
موجود معلومات کے مطابق' مولوی غلم محمد
قسمانہ ساکن صابا تحصیل دیپالپور تھانہ حجرہ
ضلع منٹگمری حال ساہی وال کے تھے۔ ص-11
12پر ریختہ کے نام سے کلم درج ہے۔ یہ کل نو
شعر ہیں۔ انہوں نے لفظ ریختہ زبان کے لیے لکھا
ہے یا اردو غزل کے لیے' واضح نہیں۔ پہل
پانچواں اور آخری شعر غزل کے مزاج کے قریب
ہے۔ غزل کے باقی اشعار' مروجہ عمومی مزاج
سے لگا نہیں رکھتے۔ ہاں غزل میں صوفیانہ
طور' صوفی شعرا کے ہاں ضرور ملتا ہے۔
نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا
نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا
نہ پڑتا پرہ تو حق کا اگر رخسار خوباں پر
تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
مقیم اس دام زلفمیں نہ بھنستا اگر دل تیرا
تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا
ص 13پر ایک خمسہ ہے' جسے مولود شریف کا
نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مولود شریف شیخ
سعدی صاحب کے چار شعر دیئے گیے ہیں۔ اردو
مولود شریف کے بعد' مولود شریف مولوی جامی
صاحب کے' نو شعر درج کیے گیے ہیں۔ آخر میں
مولود شریف کے عنوان سے' نو شعر درج کیے
گیے۔ ص 19پر موجود کلم کو کافی کا نام دیا گیا
ہے۔ اس کلم کو نہ پنجابی کہا جا سکتا اور ناہی
اردو' تاہم بعض شعر اردو کے قریب تر ہیں۔ دو
ایک شعر باطور نمونہ ملحظہ ہوں۔
کائی کہو سجن کی بات جن کے پریم لگائی
چاٹ پہل شعر
سلیمان نبی بلقیس نہ ہو ہک آہی مطلق ذات
پانچواں شعر
بحر محیط نے جوش کیا تب نوروں ہویا خوش
کیا چھٹا شعر
موم کرے دل لوہا کامل پیر پناہ ہمارا
سارا چھبسواں شعر
دو غزلیں فارسی کی ہیں۔ اوپر عنوان بھی دیا گیا
ہے
غزل مولوی غلم محمد از صابا
اے بنات تو مزین مسند پیغمبری وے خجل
گشتہءرویت آفتاب خاوری
مطلع فارسی غزل ص 12
غزل از غلم محمد صاحب
جاں فدائے تو یا رسول ا دل گدائے تو یا
رسول ا
مطلع فارسی غزل ص 23
پنجابی کلم کے لیے' لفظ کافی استعمال ہوا ہے۔
داخلی شہادت سے یہ بات واضح ہوتی ہے' کہ لفظ
ریختہ اردو غزل کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ دلی
وغیرہ میں جو مشاعرے ہوا کرتے تھے' ان کے
لیے دو اصطلحات رواج رکھتی تھیں۔ فارسی کلم
کے لیے مشاعرے' جب کہ اردو کلم کے لیے'
لفظ مراختے رواج رکھتا تھا .لفظ اردو محض
شناخت کے لیے لکھ رہا ہوں' یہ لفظ عمومی
رواج نہ رکھتا تھا۔
اس صورت حال کے پیش نظر' غالب کے ہاں
استعمال ہونے وال لفظ ریختہ' گڑبڑ کا شکار ہو
جاتا ہے۔ مولوی غلم محمد پہلے کے ہیں' عہد
غالب کے ہیں یا بعد کے' بات قطعی الگ تر ہے۔
مشاعروں میں زیادہ تر غزلیہ کلم سنایا جاتا تھا
اور آج صورت حال مختلف نہیں۔ گویا غزل کے
لیے لفظ ریختہ' جب کہ مشاعرے کے لیے لفظ
مراختہ استعمال ہوتا تھا۔ لمحالہ زبان کے لیے
کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہوگا۔ اس حساب
سے غالب کے ہاں بھی غزل کے معنوں میں
اسستعمال ہوا ہے۔ اگر یہ صاحب' غالب کے بعد
کے ہیں' تو اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا کہ لفظ
اردو باطور زبان استعمال ہوتا ہو گا لیکن عمومی
مہاورہ نہ بن سکا تھا۔ اس کا عمومی مہاورہ بننا
بہت بعد کی بات ہے۔
لفظوں کو مل کر لکھنے کا عام چلن تھا۔ اس
کتاب میں بھی یہ چلن موجود ہے۔ مثل
جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجہ نہیں غم
ہم سے ص 13
تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
آنکہون میں ص 12
دو چشمی حے کی جگہ حے مقصورہ کا رواج
تھا۔ مثل
نہوتا سر مولے کا اگر کجہ ذات انسانمیں
بہت سے لفظوں کا تلفظ اور مکتوبی صورت آج
سے الگ تھی۔ مثل
نہوتا بھیت اسمیں خورشید فدا کا
بھید ص 11 بھیت
ولیوں کے کاندہے قدم غوث اعظم
کاندہے کندھے ص 24
تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا
میں اضافت کی بجائے ے کا استعمال کیا گیا ہے۔
شاعر نے خوب صورت مرکبات سے بھی کلم کو
جازب فکر بنانے کی سعی کی ہے۔ مثل
حسن منظور
تو ہر عاشق کی آنکونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
ص 12
ستارہ محمدی
غالب سب سے آیا ستارہ محمدی ص13
مستعمل سب پہ ہے لیکن سب سے استعمال کیا
گیا ہے۔
مرکب لفظ دیکھیے
خداگر
عمر گر عدالت خداگر نہ کرتے ص 24
کلم میں ریشمیت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مثل
نہ پڑتا پرتوہ حق اگر رخسار خوباں پر
تو ہرعاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا
ص 12
کیا زبردست طور سے صنعت تضاد کا استعمال ہوا
ہے۔
تو دین اورکفر میں جدائی نہ ہوتی ص 24
صنعت تضاد کی مختلف نوعیت کی دو ایک مثالیں
اور ملحظہ ہوں۔
نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا
نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا ص
12
جہاں صنعت تضاد کا استعمال ہوا ہے' وہاں اردو
زبان کو دو خوب صورت استعارے بھی میسر آئے
ہیں.اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر
تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا
ص 12
اشعار تلمیحات سے متعلق ہوتے ہی۔ تلمیحات کا
استعمال اسی حوالہ سے ہوا ہے۔ اس ذیل میں
دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔
اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر
تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا
ص 12
لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں
نے
اگر یوں جانتا شیطاں تو وہ مغرور کیوں ہوتا ص
11
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دو چشمی حے کا
استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ دو ایک مثالیں ملحظہ
ہوں۔
لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں
نے ص 11
بھیت سجن کی خبر لیاوے ص 19
تو ہم عاجزوں کی رھائی نہوتی ص 24
زبان کا مہاورہ بھی برا اور ناموس نہیں۔ مثل
کیا دعوئے اناالحق کا ہویا سردار کیوں ہوتا
ص11
کائی کہو سجن کی بات
جن کے پریم لگائی چاٹ ص19
گذر گیا سر توں پانی ص20
اس شعری مجموعے کے اردو کلم پر' پنجابی
کے اثراات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔
بعض جگہ لسانی اور کہیں لہجہ پنجابی ہو جاتا
ہے۔ مثل
نہ ہوتا بھیت اسمیں اگر خوشید ذرہ کا ص 11
تو ہر ذرہ انہاں خورشید سے پرنور کیوں ہوتا
ص12
ہک لکھ کئی ہزار پیغمبر گذر گئے ص 13
اب لہجے سے متعلق ایک دو مثثالیں ملحظ ہوں۔
جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجھ نہیں غم
ص 13
علی کو جے مشکل کشا حق نہ کرتے ص 24
اردو پر ہی موقوف نہیں' پنجابی بھی اردو سے
متاثر نظر آتی ہے۔ مصرعے کے مصرعے اردو
کے ہیں۔
کہیں میراں شاہ جیلنی ہے کہیں قطب فرید
حقانی ہے
کہیں بہاؤالدین ملتانی ہے کہیں پیر پناہ لوہار
ص 19
اس چوبیس صفحے کی مختصر سی کتاب سے' یہ
بات واضح ہوتی ہے' کہ مولوی غلم محمد آف
صابا تین زبانوں کے شاعر تھے .مختلف اردو
اصناف میں شعر کہتے تھے اور اچھا کہتے تھے۔
ان کا کلم کیا ہوا اور کدھر گیا' کھوج کرنے کی
ضرورت ہے۔
عربی کے اردو پر لسانیاتی اثرات ایک جائزہ
حاکم زبانیں' محکوم علقوں کی زبانوں اور
بولیوں پر' اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ' انہیں
محکوم زبانوں اور بولیوں کے نحوی سیٹ اپ کو'
ابنانا پڑتا ہے۔ ان کے بولنے والوں کا لہجہ'
اندازتکلم' اظہاری اطوار اور کلم کی نوعیت اور
فطری ضرورتوں کو بھی' اختیار کرنا پڑٹا ہے۔ یہ
ہی نہیں' معنویت کے پیمانے بھی بدلنا پڑتے ہیں۔
اس کے سماجی' معاشی اور سیاسی حالت کے
زیر اثر ہونا پڑتا ہے۔ شخصی اور علقائی
موسموں کے تحت' تشکیل پائے' آلت نطق اور
معاون آلت نطق کو بہرصورت' مدنظر رکھنا پڑتا
ہے۔ قدرتی ' شخصی یا خود سے' ترکیب شدہ
ماحول کی حدود میں رہنا پڑتا ہے۔ نظریاتی' فکری
اور مذہبی حالت و ضرورت کے زیراثر رہنا پڑتا
ہے۔ اسی طرح' بدلتے حالت' نظرانداز نہیں ہو
پاتے۔ یہ بات پتھر پر لکیر سمجھی جانی چاہیے'
کہ لفظ چاہے حاکم زبان ہی کا کیوں نہ ہو' اسے
استعمال کرنے والے کی ہر سطع پر' انگلی پکڑنا
پڑتی ہے' باصورت دیگر' وہ لفظ اپنی موت آپ مر
جائے گا۔
عربی بڑا بعد میں' برصغیر کی حاکم زبان بنی۔
مسمانوں کی برصغیر میں آمد سے بہت پہلے'
برصغیر والوں کے' عربوں سے مختلف نوعیت
کے تعلقات استوار تھے۔ یہ تعلقات عوامی اور
سرکاری سطح پر تھے۔ عربوں کو برصغیر میں'
عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
عربوں نے' یہاں گھر بسائے۔ ان کی اولدیں
ہوئیں۔ دور امیہ میں سادات اوران کے حامی یہاں
آ کر آباد ہوئے۔ 44ھ میں زبردست لشکرکشی
ہوئی۔ ناکامی کے بعد' بچ رہنے والے بھی' یہاں
کے ہو کر رہ گیے۔ محمد بن قاسم اوراس کے بعد'
برصغیر عربوں کا ہو گیا۔ اس سارے عمل میں'
جہاں سماجی اطوار درآمد ہوئے' وہاں عربی زبان
نے بھی' یہاں کی زبانوں اور بولیوں پر' اپنے
اثرات مرتب کیے۔ یہ سب' لشعوری سطح پر ہوا
اور کہیں شعوری سطح پر بھی ہوا۔ دوسری سطح'
لسانی عصبیت سے تعلق رکھتی ہے۔
مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور
المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے'
تفسیرالقران بالقران کی تین جلدیں دستیاب ہوئیں۔
اس کے مولف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ایم بی ہیں۔
اسے مطبح عزیزی مقام تراوڑی ضلع کرنال نے'
بااہتمام فتح محمد خاں منیجر 1901ء میں شائع
کیا۔ اسے دیکھ کر' ازحد مسرت ہوئی۔ یک دم خیال
کوندا' کیوں نہ اس کی زبان کے' کسی حصہ کو'
عصری زبان کے حوالہ سے دیکھا جائے۔ اس
کے لیے میں نے' سورت فاتحہ کا انتخاب کیا۔
تفسیر کی زبان کے دیگر امور پر' بعد ازاں گفتگو
کرنے کی جسارت کروں گا' سردست عربی کے
اردو پر لسایاتی اثرات کا جائزہ لینا مقصود ہے۔
تسمیہ کے الفاظ میں سے' اسم' ا' رحمن اور
رحیم رواج عام میں داخل ہیں اور ان کا' باکثرت
استعمال ہوتا رہتا ہے۔
سورت فاتحہ میں :حمد' ل' رب' عالمین' رحمن'
رحیم' ملک' یوم' دین' عبد' صراط' مستقیم' نعمت'
مغضوب' ' ضالین ....غیر' و' ل' علیہ ایسے الفاظ
ہیں' جو اردو والوں کے لیے غیر مانوس نہیں
ہیں۔ علما نے ان کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ترجمہ کے
الفاظ' اردو مترفات کی حیثت رکھتے ہیں۔
اسم' کسی جگہ' چیز' شخص یا جنس کے نام کو
کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی نام کے لیے استعمال ہوا
.ہے۔ یعنی ا کے نام سے
تکیہءکلم بھی ہے' کوئی گر جائے یا گرنے لگے'
تو بےساختہ منہ سے بسم ا نکل جاتا ہے۔
حمد' اردو میں باقاعدہ شعری صنف ادب ہے اور
ا کی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی' مولوی محمد جونا گڑھی' شاہ
عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی سید مودودی'
مولوی اشرف علی تھانوی اور سعودی ترجمہ
تعریف کیا گیا ہے۔
کے لیے بھی مخصوص ہے اور رواج عام میں
تعریف definitionہے۔
کہا جاتا ہے' درج ذیل اصناف کی تعریف کریں اور
دو دو مثالیں بھی دیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں'
حمد کے لیے' لفظ ستائش استعمال کیا ہے۔ لفظ
ستائش ردو میں مستعمل ہے۔
مولوی فیروزالدین ڈسکوی نے' خوبیاں ترجمہ کیا
ہے۔
گویا حمد کو برصغیر میں تعریف ستائش اور
خوبیاں کے معنوں میں لیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے ترجمے میں بھی حمد کے لیے
تعریف مترادف لیا گیا ہے۔
قمر نقوی کے ہاں اس کے استعمال کی صورت
:دیکھیں
میں تیری حمد لکھنا چاہتا ہوں
جو نامکن ہے کرنا چاہتا ہوں
تری توصیف۔۔۔۔اک گہرا سمندر
سمنر میں اترنا چاہتا ہوں
قمر نقوی نے اس کے لیے مترادف لفظ توصیف
دیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ص 23پر' ایک شعر
:میں لفظ حمد کا استعمال کچھ یوں کیا ہے
حمد الہی پر ہیں مبنی سب ترقیات روح
اس سے ہی پیدا ہوتی ہیں ساری تجلیات روح
ل کو' ا کے لیے' کے معنوں میں سب نے لیا
ہے۔ فارسی میں شاہ ولی ا دہلوی نے برائے ا'
ترجمہ کیا۔ یہ بھی ا کے لیے' کے مترادف ہے۔
ل' باطورتکیہءکلم رائج ہے۔
ا کے لیے' باطورتکیہءکلم بھی رواج میں ہے۔
خدا کے لیے' خفگی یا غصے کی حالت میں اکثر
بول جاتا ہے۔ مثل
خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔
خدا کے لیے' استدعا کے لیے بھی بول جاتا ہے۔
مثل
خدا کے لیے اب مان بھی جاؤ۔
:رب
ڈاکٹرعبدالحکیم خان نے ترجمہ رب ہی ترجمہ کیا
ہے۔
مولوی محمد فیروزالدین ڈسکوی نے بھی رب کے
ترجمہ میں رب ہی لکھا ہے۔
یہ لفظ عام استعمال میں آتا۔ مثل
وہ تو رب ہی بنا بیٹھا ہے۔
بندہ کیا دے گا' رب سے مانگو
توں رب ایں۔۔۔۔۔۔ باطور سوالیہ
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی محمد
جوناگڑھی' مولوی فرمان علی نے پالنے وال
ترجمہ کیا ہے
سعودی ترجمہ بھی پالنے وال ہے۔
مولوی اشرف علی تھانوی نے مربی مترادف درج
کیا ہے۔ مربی پالنے والے ہی کے لیے استعمال
ہوتا ہے۔ مہربان' خیال رکھنے والے' توجہ دینے
والے' کسی قریبی کے لیے بولنے اور لکھنے
میں مربی آتا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی بشیر احمد لہوری
نے رب کا ترجمہ پروردگار کیا ہے۔
پروردگار' ذرا کم' لیکن بول چال میں شامل ہے۔
گویا اردو میں یہ لفظ غیر مانوس نہیں۔
علمین' عالم کی جمع ہے۔ ہر دو صورتیں' اردو
میں مستعمل ہیں۔ پنجاب کی سٹریٹ لنگوئج میں
زبر کے ساتھ بول کر' مولوی صاحب یا علم دین
جاننے وال مراد لیا جاتا ہے۔
جہان بھی مراد لیتے ہیں۔
قرآن مجید کو دو جہانوں کا بادشاہ بول جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' علمین کا جہانوں ترجمہ
کیا ہے۔
مولوی محمد جوناگڑھی کے ہاں اور سعودی
ترجمہ بھی جہانوں ہوا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور
مولوی فرمان علی نےسارے جہانوں ترجمہ کیا
ہے۔
مولوی اشرف علی تھانوی نے ہر عالم ترجمہ کیا
ہے۔
مولوی بشیر احمد لہوری نے کل دنیا' مولوی
مودودی نے کائنات' جب کہ شاہ ولی ا کے ہاں
فارسی میں عالم ہا ترجمہ ہوا
ترجمے سے متعلق تمام الفاظ' اردو میں مستعل
ہیں۔ ہا رواج میں نہیں رہا' ہاں البتہ ہائے رواج
میں ہے۔ جیسے انجمن ہائے امداد باہمی
اردو بول چال میں عالموں' عالماں بھی پڑھنے
سننے میں آتے ہیں۔
نام بھی رکھے جاتے ہیں۔ جیسے عالم شاہ' نور
عالم
باطور ٹائیٹل بھی رواج میں ہے۔ جیسے فخر عالم'
فخر دو عالم
لفظ رحمن' عمومی استعمال میں ہے۔ نام بھی
رکھے جاتے ہیں۔ مثل
عبد الرحمن' عتیق الرحمن فیض الرحمن' فضل
.الرحمن وغیرہ
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحمن کا ترجمہ' لفظ
کے عمومی بول چال میں مستعمل ہونے کے
سبب' رحمن ہی کیا ہے۔
مولوی سید مودودی نے بھی' رحمن کا ترجمہ
رحمان ہی کیا ہے۔
مولوی محمد فیروزالدین نے' رحمن کا ترجمہ
مہربان کیا ہے۔
مولوی محمد جونا گڑھی کے ہاں' رحمن کا
ترجمہ' بخشش کرنے وال ہوا ہے۔
شاہ ولی ا نے' فارسی ترجمہ بخشایندہ کیا ہے'
جو بخشش کرنے وال ہی کا مترادف ہے۔
بخشایندہ اردو میں مستعمل نہیں تاہم بخشنے وال'
بخش دینے وال' بخشش کرنے وال' بخشن ہار
وغیرہ غیر مانوس نہیں ہیں۔
بخشیش خیرات کے لیے بھی' بول جاتا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی
احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی نے رحمن کا ترجمہ مہربان کیا
ہے۔
سعودی ترجمہ بھی مہربان ہے۔
لفظ رحیم' اردو میں غیر مانوس نہیں۔ اشخاص
کے نام بھی رکھے جاتے ہیں .جیسے عبدالرحیم۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحیم کا
ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔ مولوی سید مودودی نے
بھی' اس کا ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی
احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی' مولوی محمد فیروزالدین نے
رحم وال ترجمہ کیا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی محمد جونا گڑھی
نے رحیم کا ترجمہ مہربان کیا ہے۔
لفظ مالک' ملکیت والے کے لیے' عام بول چال
میں ہے .جیسے مالک مکان یا وہ پانچ ایکڑ زمین
کا مالک ہے۔ بیشتر ترجمہ کنندگان نے' اس کا
ترجمہ مالک ہی کیا ہے۔ ہاں مولوی فرمان علی
نے اس کا ترجمہ حاکم کیا ہے۔اشخاص کے نام
بھی' سننے کو ملتے ہیں .مثل عبدالمالک' محمد
مالک
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں' مولوی محمد جونا گڑھی'
مولوی فیروز الدین' مولوی اشرف علی تھانوی'
شاہ عبدالقادر' مولوی احمد رضا خاں بریلوی'
مولوی سید مودودی نے اس کا ترجمہ مالک ہی
کیا ہے۔ سعودی ترجمہ بھی مالک ہی ہے۔ اس
سے باخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لفظ مالک
کس قدر عرف عام میں ہے۔
لفظ یوم' عام استعمال کا ہے۔ مرکب استعمال بھی
سننے کو ملتے ہیں۔ مثل یوم آزادی' یوم شہدا' یوم
عاشورہ' یوم حج وغیرہ
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' یوم کا ترجمہ یوم ہی کیا
ہے۔ مولوی سید مودودی نے بھی یوم کا ترجمہ
یوم ہی کیا ہے۔
مولوی فیروز الدین' مولوی محمد جونا گڑھی'
مولوی بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ دن
.کیا ہے