The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫انہیں گھٹی میں مل ہوتا ہے۔ ان سے خیر کی توقع‬
‫نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی مرتا ہے یا مار دیا‬
‫جاتا ہے' انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔‬

‫اکبر کے نزدیک' خلوص اور تعلق داری یک طرفہ‬
‫چیز نہیں ہے۔ اس کی موجودگی اطراف میں‬

‫ضروری ہوتی ہے۔ تپاک سے ملنے والے لوگوں‬
‫کا باطن بھی گرم جوشی سے معمور ہو' یہ‬

‫ضروری نہیں۔ ایسی صورت میں گمشتگان سے'‬
‫خیر کی توقع اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے‬

‫کے مترادف ہوتا ہے۔‬

‫اگر اکبر کی شاعری کا' دیانت داری سے مطالعہ‬
‫کیا جائے' تو یہ کہنا کسی طرح غلط نہ ہو گا' کہ‬
‫انہوں نے مزاحمتی ادب لکھنے کا آغاز کیا۔ اس‬
‫ذیل میں انہیں پہل بڑا مزحمتی شاعر قرار دینا'‬
‫مبنی بر انصاف ہو گا۔ اس حوالہ سے ان پر کام‬

‫کرنا ابھی باقی ہے۔‬

‫تحریر مارچ ‪1978 '6‬‬

‫مثنوی ماسٹر نرائن داس' ایک ادبی جائزہ‬

‫دوسری زبانوں کی طرح اردو' وہ جس رسم الغط‬
‫میں بھی رہی' مختلف حوالوں سے' اس کے ساتھ‬

‫دھرو ہوتا آیا ہے۔ مثل‬
‫جنگجوں نے' اسے دشمن کا ذخیرہءعلم سمجھتے‬

‫ہوئے' برباد کر دیا' حالں کہ لفظ کسی قوم یا‬
‫علقہ کی ملکیت نہیں ہوتے۔‬

‫اردو کو مسمانوں کی زبان سمجھتے ہوئے' غیر‬
‫مسلموں کی تحریوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ جب‬
‫کہ اصل حقیقت تو یہ ہے' کہ زبان تو اسی کی ہے'‬

‫جو اسے استعمال میں لتا ہے۔‬
‫گھر والوں نے' چھنیوں' کولیوں اور لکڑیوں کو‬
‫ترجیح میں رکھتے ہوئے' علمی وادبی سرمایہ‬

‫ردی میں بیچ کر' دام کھرے کر لیے۔‬
‫بہت کچھ' حالت' حادثات اور عدم توجہگی کی نذر‬

‫ہو گیا۔‬
‫قددرتی آفات بھی' اپنے حصہ کا کردار ادا کرتی‬

‫آئی ہیں۔‬
‫تہذیبں مٹ گئیں' وہاں محض کھنڈر اور ٹیلے رہ‬
‫گیے۔ بہت کچھ ان میں بھی دب گیا۔ بعد کے آنے‬
‫والوں نے' انہیں بلڈوز کرکے صاف زمین کے‬
‫ٹکڑے کو' سب کچھ سمجہ لیا۔ اگر محتاط روی‬
‫اختیار کی جاتی تو وہاں سے' بہت کچھ دستیاب ہو‬

‫سکتا تھا۔‬

‫ماسٹر نرائن داس' اردو کے خوش فکر اور‬
‫خوش زبان' شاعر اور نثار تھے۔ سردست ان کی‬

‫ایک کاوش فکر فوٹو کاپی کی صورت میں'‬
‫دستیاب ہوئی ہے' جو پیش خمت ہے۔ اس سے‬
‫پہلے سوامی رام تیرتھ کا کلم پیش کر چکا ہوں۔‬

‫ماسٹر نرائن داس' جو قصور کے رہنے والے‬
‫تھے اور فرید کوٹ کے مڈل سکول میں' باطور‬
‫ہیڈ ماسٹر فرائض انجام دے رہے تھے' اٹھائیس‬

‫بندوں پر مشتمل مسدس باعنوان۔۔۔۔۔جوہر‬
‫صداقت۔۔۔۔۔ تحریر کیا۔ یہ ‪ 1899‬میں بللی پریس‬
‫ساڈھورہ ضلع انبالہ میں کریم بخش و محمد بلل‬
‫کے اہتمام طبع ہوا۔ گویا یہ آج سے' ‪ 116‬سال‬

‫پہلے شائع ہوا۔ اس مسدس کی زبان آج سے' رائی‬
‫بھر مختلف نہیں۔ خدا لگتی یہ ہے' اسے پڑھنے‬
‫کے بعد اندازہ ہوا' کہ ماسٹر نرائن داس کو زبان‬

‫پر کامل دسترس تھی۔ زبان وبیان میں فطری‬
‫روانی موجود ہے۔ اپنا نقطہء نظر' انہوں نے‬
‫پوری دیانت' خلوص اور ذمہ داری سے پیش کیا‬

‫ہے۔‬

‫انہوں نے اپنی پیش کش کے لیے' دس طور‬
‫اختیار کیے ہیں۔‬

‫مزے کی بات یہ کہیں مذہبی یا نظریاتی پرچھائیں‬
‫تک نہیں ملتی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے' فقط‬
‫آٹھائیس بندوں میں زبان بیان کے دس اطوار‬

‫اختیار کیے۔ بلشبہ ماسٹر نرائن داس بڑے سچے‬
‫کھرے اور بااصول انسان رہے ہوں گے۔‬

‫انہوں نے سچائی کو مذہب پر فضیلت دی ہے۔ ان‬
‫کے مطابق خدا سچائی سے الفت رکھتا ہے۔ کہتے‬

‫ہیں۔‬
‫سچائی کے عقیدے کو مذہب پر فضیلت ہے‬
‫خدا کو بندگان راستی سے خاص الفت ہے‬

‫صداقت اپنی حیثیت میں ہے کیا۔‬
‫سچائی رحمت ازلی و ابدی کا خزینہ ہے‬
‫صدق اوج سعادت کا عظیم الشان زینہ ہے‬

‫اس کا فنکشن کیا ہے۔‬
‫ذرا چھونے سے ادنے چیز کو اعلے بناتی ہے‬
‫وہ قیمت بیشتر اکسیر اعظم سے بھی پاتی ہے‬

‫صداقت اور کذب کا موازنہ‬
‫ملمع محض سمجھو جھوٹ کو آگے سچائی کے‬
‫نکما محض سمجھو جھوٹ کو آگے سچائی کے‬

‫صداقت کے فوائد‬
‫سچائی ہر دوعالم میں ہے دیتی رتبہ اعلے‬
‫سچائی کرتی ہے ہر دو جہاں میں مرتبہ اعلے‬

‫سچائی کے ضمن میں دلئل‬

‫حکومت بھرتری نے چھوڑ دی خاطر سچائی کی‬
‫‪..........‬‬

‫تیاگی ہو گیا ساکی منی خاطر سچائی کی‬
‫‪.............‬‬

‫سچائی کو بنایا راہنما پہلد نے اپنا‬
‫‪...........‬‬

‫پکڑ کر ہاتھ سے اپنے پئے خاطر سچائی کی‬
‫پیالے زہر کے سقراط نے خاطر سچائی کی‬

‫‪...........‬‬
‫مسیحا بھی ہوئے صلوب تھے خاطر سچائی کی‬

‫‪.............‬‬
‫ہزاروں سر ہوئے تن سے جدا خاطر سچائی کی‬

‫‪.............‬‬
‫کئی بچھڑے پیارے وطن سے خاطر سچائی کی‬

‫‪.............‬‬
‫پڑے شعلوں میں جلتی آگ کے خاطر سچائی کی‬

‫سچائی فقرا کا مسلک ہوتی ہے۔‬

‫سچائی ہی قدر قیمت فقیروں کی بڑھاتی ہے‬
‫سچائی معرفت کے راستے انکو بتاتی ہے‬

‫سچائی کردگار پاک کی قربت دلتی ہے‬
‫یہی آخر انہیں درگاہ ایزد میں پہنچاتی ہے‬

‫کذب کا انجام کیا ہوتا ہے۔‬

‫کذب دم میں گنواتا ہے شہنشاہونکی عزت کو‬
‫تباہ کرتا ہے انکی شان کو شوکت کو ہیبت کو‬
‫اسی سے ڈر ہے وقعت کو خطر اس سے دولت کو‬
‫گراتا سرنگوں ہے غرض ان کے عالم رفعت کو‬

‫ہزل پیشوں کو ا خاک میں آخر ملتا ہے‬
‫مگر سچوں کا حافظ اور مودی اور داتا ہے‬

‫حکائتی انداز بھی اختیار کیا گیا ہے۔‬

‫گڈریے کی حکایت بھی نصیحت خوب دیتی ہے‬
‫کہ جسکی شیر کے پنجے سے پیاری جان نکلتی‬

‫ہے‬
‫کذب کے ہاتھ سے اسپر مصیبت آن پڑتی ہے‬
‫سزا جھوٹوں کو اپنے جھوٹ کی ایسے ہی ملتی‬

‫ہے‬

‫اہل ہند کے بارے چینیوں اور رومیوں کی آراء‬

‫صداقت اہل ہندوستاں کے یونانی ثنا خواں تھے‬
‫چلن کے اہل ہندوستاں کے چینی ثنا خواں تھے‬

‫موجودہ صورت حال‬

‫صداقت ہو گئی ہے دور ہندوستاں کے لوگوں سے‬
‫ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے‬

‫سچائی کے رستے پر چلنے والوں کی تحسین اور‬
‫مبارکباد‬

‫مبارک ہو خوشی اے راستی کے چاہنے والو‬
‫مبارک مخروقی اے راستی کے چاہنے والو‬
‫مبارک برتری اے راستی کے چاہنے والو‬
‫مبارک خوش روی اے راستی کے چاہنے والو‬
‫مبارک آپ کو مژدہ یہ خوشخبری مبارک ہو‬

‫مبارک آپ کو یہ مہر ربانی مبارک ہو‬

‫ان کی مذہبی عصبت سے دوری کا سب سے بڑا‬
‫ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے ذات باری کے لیے‬

‫کردگار' ایزد' ا'رب' خدا نام استعمال کیے ہیں۔‬

‫ماسٹر صاحب کے پاس متبادلت کا خزانہ موجود‬
‫ہونے کا گمان گزرتا ہے۔‬

‫سچائی سے خدا تعالے کی رحمت کی ترقی ہے‬
‫‪........‬‬

‫خدا کو بندگان راستی سے خاص الفت ہے‬
‫‪........‬‬

‫صدق کو یا زرہ سمجھو کہ یہ اک زیب تن کی ہے‬
‫‪........‬‬

‫نہ ہرگز سانچ کو ہے آنچ اس نے آزما دیکھا‬
‫‪........‬‬

‫صداقت کی مدد ان کو سچائی کے سہارے ہیں‬

‫اب کچھ مرکبات ملحظہ ہوں۔‬

‫وہ فلک راستی کے چمکتے گویا ستارے ہیں‬
‫‪........‬‬

‫مبارک گلستان راستی کے ٹہلنے والو‬
‫مبارک زیور صدق و صداقت پہننے والو‬

‫‪.........‬‬

‫ستون سرخ آہن سے خوشی سے دوڑ کر لپٹا‬
‫‪.........‬‬

‫شہیدان صداقت نے دیا خاطر سچائی کی‬
‫‪.........‬‬

‫فتح کےلوک میں پرلوک میں ڈنکے بجاتے ہیں‬
‫‪........‬‬

‫کیا خوب مصرع ہیں۔ فصاحت و بلغت کا منہ بولتا‬
‫ثبوت ہیں۔ اس ناصحانہ انداز میں تلخی ضرور‬
‫ہے' لیکن فکری و لسانی حوالہ سے' ان‬
‫مصرعوں کو نظرانداز کرنا' زیادتی ہو گی۔‬

‫بےشک ان مصرعوں میں' انہوں نے آفاقی سچائی‬
‫بیان کی ہے۔‬

‫ہوا کرتا ہے جھوٹوں پر سدا قہر خدا نازل‬
‫کبھی درگاہ سچی میں نہیں کازب ہوئے داخل‬

‫‪..........‬‬
‫ہزل پیشوں کو ا خاک میں آخر ملتا ہے‬

‫‪.........‬‬
‫مبارک آپ کو یہ مہر ربانی مبارک ہو‬

‫ماسٹر صاحب کی زبان کا مہاورہ بھی نفاست سے‬
‫گرا ہوانہیں۔ دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں‬

‫کذب کے ہاتھ سے اسپر مصیبت آن پڑتی ہے‬
‫‪...........‬‬

‫کلہاڑی ہاتھ سے اپنے وہ خود پاؤں پہ دھرتے‬
‫ہیں‬

‫‪...........‬‬
‫سچائی کا نصیبے والے ہی دامن پکڑتے ہیں‬

‫‪............‬‬
‫اسی سے نام رہتا ہے جہاں میں یاد سچوں کا‬

‫‪..........‬‬
‫ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے‬

‫مثنوی کا پہل شعر ہی تشبیہ پر استوار ہے۔‬
‫ملحظہ ہو‬

‫سچائی مثل کندن چمکتی ہے دندناتی ہے‬
‫وہ جلوہ نور کوہ نور سے بڑھ کر دکھاتی ہے‬

‫صنعت تکرار لفظی کا استعمال بھی ہوا ہے۔ ہاں‬
‫البتہ' دندناتی کی جگہ' کوئی اور لفظ رکھ دیتے'‬

‫تو زیادہ اچھا ہوتا۔‬
‫ایک اور خوب صورت سی تشبیہ ملحظہ ہو۔‬

‫مگر ہے جھوٹ مثل کانچ اس نے آزما دیکھا‬

‫اب صنعت تضاد کی کچھ مثالیں ملحظہ فرما لیں۔‬

‫شروع میں ہے خوشی اسکے خوشی ہی انتہا‬
‫اسکا‬

‫انتہا کو مونث باندھا گیا ہے اور یہ غلط نہیں۔‬
‫‪.......‬‬

‫سچائی راحت ازلی و ابدی کا خزینہ ہے‬
‫‪.......‬‬

‫زبان پاک کو اے دل نہ آلودہ کذب سے کر‬

‫ماسٹر نرائن داس نے' اپنے عہد کی سچائی کے‬
‫حوالہ سے' ہندوستان کی حالت کو' ریکارڈ میں‬

‫دے دیا ہے۔ کہتے ہیں‬

‫بنایا جھوٹ کو ابتو ہے ہمنے راہنما اپنا‬
‫سچائی الودع! ہے آجکل کذب وریا اپنا‬
‫دھرم باقی رہا اپنا نہ دل قائم رہا اپنا‬
‫نہ یارو جھوٹ کے ہاتھوں سے ایماں ہی بچا اپنا‬
‫صداقت ہو گئی ہے دور ہندوستاں کے لوگوں سے‬
‫ہوئی ہے راستی کافور ہندوستاں کے لوگوں سے‬

‫مثنوی کا آخری شعر جس میں تخلص استعمال ہوا‬
‫ہے' پیش خدمت ہے‬

‫یہ عاصی اے سچائی تیرے ہی گھر کا سوالی ہے‬
‫ترا ہی داس اور تیرے ہی گھر کا سوالی ہے‬

‫کہا جاتا ہے' انسان نے ترقی کر لی ہے۔ خاک‬
‫ترقی کی ہے' جہاں علم دو نمبر کی چیز ہو اور‬
‫اہل قلم کی موت کے بعد' ان کے پچھلے' ان کے‬
‫لہو پاروں کو' ردی میں بیچ دیں یا طاقت کے نشہ‬
‫میں چور حکمرانوں کے پیشہ ور بےرحم جنگجو'‬
‫اس انسانی ورثے کو' نیست ونابود کر دیں‪ .‬وہاں‬
‫ہوس للچ اور نفسا نفسی کے سوا کیا ہو سکتا‬
‫ہے۔ اگر ہوس' للچ اور نفسا نفسی ترقی ہے' تو‬

‫وہ بہت زیادہ ہوئی ہے۔‬

‫ماسٹر صاحب نے اور بھی بہت کچھ' شعر و نثر‬
‫میں لکھا ہو گا' کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تقسیم ہند‬
‫کا عمل تقریبا نصف صدی بعد کا ہے۔۔ اس لیے'‬
‫وہ تقسیم میں ضائع نہیں ہوا ہو گا۔ آج جامعات'‬
‫تحیقی ڈگری چھاپنے میں مصروف ہیں' اگر وہ‬
‫خاموش اردو کے خدمت گاروں کو' تلشنے کو‬
‫بھی' تحقیق سمجھیں' تو یہ اردو زبان کی بہت‬

‫بڑی خدمت ہوگی۔‬

‫آشا پربھات' مسکاتے' سلگتے اور بلکتے‬
‫احساسات کی شاعر‬

‫عزیزہ آشا پربھات نے اپنا مجموعہءکلم۔۔۔۔۔‬
‫مرموز۔۔۔۔۔۔ ان الفاظ کے ساتھ عطا کیا۔‬

‫صف اول کے فعال ادیب' نقاد اور دانشور محترم‬
‫بھائی صاحب کو احترام کے ساتھ‬
‫آشا پربھات‬
‫اگست ‪8 1996‬‬

‫میں نے کچھ لکھا بھی تھا اور وہ کہیں شائع بھی‬
‫ہوا تھا۔ باوجود کوشش کے' وہ لکھا دستیاب نہیں‬
‫ہو پا رہا۔ کلم آج انیس سال بعد' دوبارہ پڑھنے‬
‫میں آیا ہے' میں بڑی سنجیدگی اور دیانت داری‬

‫سے' محسوس کر رہا ہوں' اس پر لکھا جانا‬
‫چاہیے۔‬

‫مرموز ‪ 1996‬میں' پبلشرز اینڈ ایڈورٹائزرز جے‬
‫‪ 6‬کرشن نگر دلی سے' شائع ہوا۔ ٹائیٹل بیک پر'‬
‫آشا پربھات کی تصویر تعارف اور ان کے کلم پر‬
‫اظہار خیال بھی' کیا گیا ہے۔ انہوں نے' اپنے کسی‬
‫خط میں' لکھنے والے کے متلعلق بتایا ہو گا۔ اب‬
‫اس خط کا ملنا' آسان نہیں۔ اس تحریر کے مطابق'‬
‫آشا پربھات کی ولدت رکسول' بہار میں ہوئی۔ ان‬
‫کا ناول۔۔۔۔۔ دھند میں اگا پیڑ۔۔۔۔۔ ماہ نامہ منشور‬
‫کراچی میں شائع ہوا' جو بعد میں' کتابی شکل میں‬
‫بھی شائع ہوا تھا۔ انہوں نے' مہربانی فرماتے‬
‫ہوئے' ایک نسخہ مجھ ناچیز فانی کو بھی' عنایت‬

‫کیا تھا۔ ان کا ایک مجموعہء شعر ۔۔۔۔۔۔‬
‫دریچے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس زبان کے' دیوناگری خط میں بھی‬

‫شائع ہوا تھا۔ ان کا ایک ہائیکو پر مشتمل‬

‫مجموعہ۔۔۔۔۔گرداب۔۔۔۔۔۔ زیر اشاعت تھا۔‬

‫ان کی شاعری سے متعلق کہا گیا ہے۔‬
‫اسلوب اور ہیئت کے اعتبار سے ان کی نظمیں‬
‫شعری ادب کے سرمائے میں ایک نئے باب کا‬

‫اضافہ کرتی ہیں۔‬

‫اس مجموعے میں' کل اکسٹھ شعر پارے شامل‬
‫ہیں' جن میں سولہ غزلیں اور پانچ اوپر چالیس‬
‫نظمیں شامل ہیں۔ آشا بنیادی اور پیدائشی طور پر'‬
‫دیوناگری رسم الخط سے متعلق ہیں' لیکن اردو‬
‫رسم الخط سے' ان کی محبت عشق کی سطع پر‬

‫نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے۔‬
‫اردو میری محبوب ہے اور میری محبوب کی‬
‫آنکھوں میندھنک کے تمام رنگ لہراتے ہیں۔‬
‫ان کا کہنا' کہنے کی حد تک نہیں' مرموز اس کی‬
‫عملی صورت میں موجود ہے۔ واقعی اردو سے وہ‬

‫عشق کرتی ہیں۔‬

‫اس کاوش فکر کا ابتدائیہ' جو آشا پربھات کا لکھا‬
‫ہوا ہے' سچی بات ہے' دل کے نہاں گوشوں میں‬

‫بھی' ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ ملحظہ فرمائیں۔‬

‫اس کاوش فکر کا ابتدائیہ جو آشا پربھات کا لکھا‬
‫ہوا ہے سچی بات ہے دل کے نہاں میں بھی‬
‫ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ ملحظہ فرمائیں۔‬

‫مجھے نہیں معلوم شاعری کیا ہے۔ شعری آہنگ‬
‫کیا ہوتا ہے۔ شعری شعور کیا ہے اور داخلی‬

‫عوامل سے یہ کس طرح ترتیب پاتا ہے۔ میں بس‬
‫اتنا جانتی ہوں کہ دھند صرف پہاڑوں پر نہیں‬

‫ہوتی آدمی کے اندر بھی پھیلتی ہے۔ سمندر لہراتا‬
‫ہے۔ دریا موجزن ہوتا ہے۔ طوفان اٹھتے ہیں'‬

‫پھول کھلتے ہیں' خوشبو پھیلتی ہے اور جب بھی‬
‫میں ان کیفیتوں سے گزرتی ہوں تو لفظوں کا‬
‫سہارا لیتی ہوں اور محسوسات کے پراسرار‬
‫دھندلکوں میں الفاظ کی قندیل جلتی ہوں لیکن‬
‫الفاظ دور تک میرا ساتھ نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔‬
‫میرے نزدیک شاعری قندیل جلنے کا عمل ہے۔‬
‫مجھے نہیں معلوم میری قندیل کی روشنی‬

‫محسوسات کی کس سطع کو چھوتی ہے۔ لیکن کیا‬
‫یہ کم ہے کہ میں نے قندیل جلئی ہے اور جلئے‬

‫رکھنے کا عزم رکھتی ہوں۔‬

‫یہ زبانی کلمی کی باتیں نہیں' مرموز کے مطالعے‬
‫کے بعد' یہ تمام کیفیات پڑھنے کو ملتی ہیں۔‬

‫لفظ بہ مثل قندیل روشن رہتے ہیں‬

‫دل کے نہاں خانوں میں‬
‫تم موجود ہو‬

‫آکاش میں شبد کی طرح‬
‫نظم آکاش میں شبد ص‪9‬‬

‫دھند آدمی کے اندر بھی پھیلتی ہے۔‬

‫اب کسی بھی آنکھ میں‬
‫پہچان کی خوشبو نہیں‬
‫چوباروں کے دیئے‬
‫کب کے بجھ چکے ہیں‬

‫بہت جان لیوا سناٹا‬
‫وہاں لیٹا رہتا ہے‬
‫نظم گاؤں کا المیہ ص ‪12‬‬

‫اس ضمن میں ایک اور مثال ملحظہ ہو۔‬
‫ہر سو‬

‫دھند کا پہرہ ہے‬
‫رات خاموش ہے‬
‫مٹ ملی چاندنی‬
‫اتر آئی ہے میرے آنگن میں‬
‫نظم۔ میری اداس آنکھیں ص‪27‬‬

‫جذب و احسات کا اٹھتا طوفان اور ردعملی پکار‬
‫ملحظہ ہو‬
‫روک لو‬

‫ان وحشی درندوں کو‬
‫ان کی کنٹھاؤں کے‬
‫تیز ناخونوں کو توڑ ڈالو‬

‫یہ نہیں جانتے‬
‫بارود کی ڈھیر پر بیٹھ کر‬
‫خود ماچس جلنے کا انجام‬

‫یہ نہیں جانتے‬
‫جھلستے ہوئے انسانوں کے المیہ کو‬

‫جنگ ص‪ 70‬نظم۔‬

‫موجزن دریا اور لہراتے سمندر کی کیفیت ملحظہ‬
‫ہو‬

‫تمہاری چھوی ابھرتی ہے‬
‫ایک روش ہالہ کی طرح‬
‫اور ایک شکتی بن کر‬
‫میری روح میں سما جاتی ہے‬

‫میں جی اٹھتی ہوں‬
‫امبربیل کی طرح‬
‫پلکیں جھپک اٹھتی ہیں‬
‫توانائی کا بےکراں سمندر‬
‫لہرا اٹھتا ہے میرے انگ انگ میں‬
‫نظم تنہائی ص ‪16‬‬

‫احساس کی کہانی ملحظہ ہو‬

‫میرے اندر‬
‫کہیں چپ سی پڑی ہے‬

‫ایک ننھی چڑیا‬
‫وہ اب نہیں پھدکتی‬

‫نہیں چہکتی‬
‫نہ ہی بارش میں‬
‫اپنے پر بھگوتی ہے‬
‫نظم ننھی چڑیا ص‪24‬‬

‫لفظوں کی مسکان اور خوش بو ملحظہ ہو۔‬

‫آبگینے سے زیادہ نازک لمحوں کے بیان کے لیے‬
‫لفظوں کا انتخاب آشا کو خوب خوب آتا ہے۔ ذرا یہ‬

‫لئینیں ملحظہ ہوں۔‬
‫تمہاری آواز کی نمی‬

‫ہمیشہ کی طرح‬
‫اس بار بھی گمراہ کر گئی‬

‫میں اس موڑ پر ہوں‬
‫جہاں سے واپس مڑ گئی تھی‬
‫نظم تمہاری آواز کی نمی ص‪37‬‬

‫آشا محاکات کی تشکیل میں کمال رکھتی ہیں۔ مثل‬

‫حسب معمول‬
‫اس بار بھی تم‬

‫میرے چہرے کا‬
‫اپنے ہاتھوں سے‬
‫کٹورا سا بناؤ گے‬
‫میرے لب چومو گے‬
‫اور بھر دو گے میرے آنچل کو‬
‫عہد و پیماں کے جگنوؤں سے‬
‫نظم میرے لب سلے ہیں ص ‪32‬‬

‫آشا کے ہاں' تشبیہات کا بالکل نئے طور اور نئی‬
‫زبان کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ چند ایک مثالیں‬

‫ملحظہ ہوں‬

‫دل کے نہاں خانوں میں‬
‫تم موجود ہو‬

‫آکاش میں شبد کی طرح‬
‫نظم آکاش میں شبد ‪9‬‬

‫تمہارے سارے خیالت‬
‫نیم خوابیدہ ہنسی کی طرح‬
‫میرے ہونٹوں پر پھیل جائیں گے‬

‫تنہائی ص ‪15‬‬

‫شوخ لہریں‬
‫سرکشی کرتی ہیں کناروں سے‬

‫سانپ کے کینچل کی طرح‬
‫نظم تمہارے جانے کے بعد ص‪17‬‬

‫تمہاری نرم انگلیوں کا مخملی لمس‬
‫جیسے‬

‫بند شیشوں سے باہر گرتی‬
‫مسلسل برف باری کا سلسلہ‬

‫نظم ایک احساس ص‪78‬‬

‫اور سکھ‬
‫معصوم بچے سا‬
‫کونے میں دبک کر‬

‫سو گیا ہے‬
‫نظم ریت کی ندی ‪85‬‬

‫تلمیح کا استعمال اور استعمال کی زبان' ملحظہ‬
‫ہو۔‬

‫ریت کی ندی بہتی ہے۔۔۔۔۔‬

‫گرم ریت میں پھنس گیا ہے کہیں‬
‫سوہنی کا گھڑا‬

‫نظم ریت کی ندی ص‪85‬‬

‫اٹھو‬
‫ہاتھ بڑھاؤ‬

‫اور‬
‫صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو‬
‫صلیب پر ٹنگے نصیب ص‪ 69‬نظم‬

‫مندر کی روشنی میں‬
‫مسجد کی روشنی میں‬
‫کیوں کہرا بڑھ رہا ہے‬
‫کیوں کہرا چھا رہا ہے‬
‫نظم سانپ کو پکڑ لو ص‪60‬‬

‫بہت دن ہوئے‬
‫جب یوکلپٹس کے پیڑوں کی طرح‬

‫دن اگتا تھا‬
‫نظم بہت دن ہوئے ص‪10‬‬

‫سماج کی عمومی چیزیں بھی' استعمال میں لتی‬
‫ہیں اور یہ ہی' اس کی نظم کے لسانی حسن کا‬

‫سبب بنتی ہیں۔‬

‫آٹا گوندھنے کے درمیان‬
‫نظم تمہاری یاد ص‪92‬‬

‫‪........‬‬
‫کھڑکیوں اور دروازوں کے مخملی پردے‬

‫‪........‬‬
‫ہانڈیوں میں دانے‬
‫اکیسویں صدی ص‪ 73-72‬نظم‬

‫‪.......‬‬
‫گلی ڈنڈے اور‬
‫بچوں کے ہجوم‬
‫وقت پیرہن بدلتا ہے ص‪ 91-90‬نظم‬

‫‪.......‬‬
‫چوپالوں میں بجھے ہوئے گھوروں کی راکھ‬

‫نظم گاؤں کا المیہ ص‪13‬‬

‫آشا نے زبان کو مختلف نوعیت و حیثیت کے‬
‫مرکب فراہم کیے ہیں۔ یہ اردو کی لسانی و فکری‬

‫ثروت کا سبب بنے ہیں۔ مثل‬
‫کرب گل ص‪54‬‬

‫نیم خوابیدہ ہنسی ص‪14‬‬
‫خرگوشی لمس ص‪20‬‬
‫مٹ ملی چاندنی ص‪27‬‬
‫من کا سناٹا ص‪58‬‬
‫لفظوں کا پل ص‪67‬‬
‫سکھ کا چل ص‪85‬‬
‫دہشت کے سائے ص‪46‬‬
‫تلوار کے قلم ص‪61‬‬
‫موت کی دستک ص‪47‬‬
‫کہرے کی دیوار ص‪47‬‬

‫جھینگر کی جھنکار ص‪78‬‬
‫ریت کی ندی ص‪85‬‬

‫خیالوں میں اڑان ص‪66‬‬

‫آشا کی زبان کا مہاورہ بھی فصیح وبلیغ ہے۔مثل‬
‫وقت پیرہن بدلتا ہے‬

‫زخم بھر جاتےہیں ص‪41‬‬

‫آکاش نے‬

‫اپنا پریچے کھو دیا ہے‬
‫وقت موک بنا‬

‫ٹھگا سا دیکھتا رہ گیا ہے ص ‪88‬‬

‫جو جتنا ماہر ہے‬
‫اتنا بھوگتا ہے اسٹیج کا سکھ ص‪86‬‬

‫اور سپنے‬
‫نیم وا آنکھوں سے‬
‫چھلک پڑے ص‪83-82‬‬

‫کوئی احساس‬
‫کوئی درد تمہارےپیروں کی‬
‫بیڑی نہیں بن سکا ص‪35‬‬

‫میرے اندر چپ سی پڑی ص‪24‬‬
‫خیالوں میں اڈان بھرو گے ص‪66‬‬
‫میرا پچھتاوا مکھر ہو اٹھا ہے ص‪56‬‬

‫آشا کے ہاں' زبان اور زبان کا لب و لہجہ اور‬
‫ذائقہ الگ پڑھنے کو ملتا ہے۔ غیر محسوس اور‬

‫رونی میں' علمتوں اور استعاروں کا' استعمال‬
‫متاثر کرتا ہے۔ مثل‬

‫توانائی کا بےکراں سمندر ص‪16‬‬
‫درد چلتا ہے دبے پاؤں ص‪79‬‬
‫ماں کی چھاتیوں کا سمندر ص‪73‬‬
‫لفظوں کا پل ٹوٹ گیا ص‪67‬‬
‫کہر کی دیواروں کے بچ ص‪47‬‬

‫اس خاموشی کے شکنجہ میں‬
‫فقط جان بہ لب تھا میرا ایمان ص‪55‬‬

‫آشا کے ہاں' اس عہد کی سچی تصویریں دیکھنے‬
‫کو ملتی ہیں' ساتھ میں' اس عہد کے شخص کے‬
‫‪.‬لیے پیغام بھی ہے۔ باطور مثال یہ نظم ملحظہ ہو‬

‫صلیب پر ٹنگے نصیب‬

‫اٹھو‬
‫ہاتھ بڑھاؤ‬

‫اور‬
‫صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو‬

‫وہ بھی مضبوط ارادوں کی‬
‫راہ دیکھتا ہے‬
‫زندگی کو دان کی‬
‫پیٹی مت دو‬

‫کسی آدھے ادھورے‬
‫مندر کی بنیاد پر رکھی‬

‫دان کی پیٹی‬
‫جس میں‬

‫مجبوری یا ڈر سے‬
‫ڈال جاتا ہے کوئی‬
‫پانچ پیسے دس پیسے‬

‫غرض آشا پربھات کی شاعری' اپنے وجود میں'‬
‫فکری اور لسانی اعتبار سے' قابل توجہ توانائی‬

‫رکھتی ہے اور اسے نظر انداز کرنا' مبنی‬
‫برانصاف نہ ہو گا۔ غژل چوں کہ نظم سے' قطعی‬

‫الگ صنف سخن ہے' اسی لیے اسے' کسی‬
‫دوسرے وقت کے لیے اٹھا رکھا ہے۔‬

‫ایک قدیم اردو شاعر کے کلم کا تعارفی و لسانی‬
‫جائزہ‬

‫مخدومی و مرشدی جنت مکانی قبلہ سید غلم‬
‫حضور کے علمی وادبی ذخیرے سے ملنے والی‬
‫کتاب' اظہار محمدی منظور احمدی' کب اور کس‬

‫سن میں شائع ہوئی' ٹھیک سے کہا نہیں جا‬
‫سکتا۔ اس پر تاریخ اور سن درج نہیں ہے۔ ہاں‬
‫پبلیشر کا نام ‪ .....‬فقیر فضل حسین تاجر کتب ابن‬
‫حاجی علؤالدین مرحوم ساکن پتوکی نوآباد ضلع‬
‫لہور‪ .....‬درج ہے۔ پتوکی نوآباد ضلع لہور سے‬
‫یہ بات وضح ہوتی ہے کہ اس چوبیس صفحے کی‬
‫اشاعت' اس وقت ہوئی' جب پتوکی نیا نیا آباد ہوا‬

‫تھا۔‬

‫اس میں مولوی احمد یار کی پنجابی مثنوی' مرزا‬
‫صاحبان کا کچھ حصہ درج ہے۔ گویا یہ ان دنوں‬
‫کی بات ہے' جب وہ زندہ تھے اور مثنوی مرزا‬
‫صاحبان تحریر کر رہے تھے۔ یہ کلم ص‪ 10‬تک‬
‫ہے۔ ص‪ 15-14‬پر سترہ پنجابی اشعار پر مشتمل‬

‫کافی بھی ہے۔ گویا مولوی احمد یار پنجابی کافی‬
‫بھی کہتے تھے۔ پنجابی میں ان کی صرف مثنوی‬

‫مرزا صاحبان پڑھنے کو ملتی ہے۔‬

‫کتاب کے بقیہ صفحات پر' مولوی غلم محمد کا‬
‫اردو پنجابی اور فارسی کلم شامل ہے۔ سرورق پر‬

‫موجود معلومات کے مطابق' مولوی غلم محمد‬
‫قسمانہ ساکن صابا تحصیل دیپالپور تھانہ حجرہ‬
‫ضلع منٹگمری حال ساہی وال کے تھے۔ ص‪-11‬‬
‫‪ 12‬پر ریختہ کے نام سے کلم درج ہے۔ یہ کل نو‬
‫شعر ہیں۔ انہوں نے لفظ ریختہ زبان کے لیے لکھا‬

‫ہے یا اردو غزل کے لیے' واضح نہیں۔ پہل‬
‫پانچواں اور آخری شعر غزل کے مزاج کے قریب‬
‫ہے۔ غزل کے باقی اشعار' مروجہ عمومی مزاج‬

‫سے لگا نہیں رکھتے۔ ہاں غزل میں صوفیانہ‬
‫طور' صوفی شعرا کے ہاں ضرور ملتا ہے۔‬

‫نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا‬
‫نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا‬
‫نہ پڑتا پرہ تو حق کا اگر رخسار خوباں پر‬
‫تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬

‫مقیم اس دام زلفمیں نہ بھنستا اگر دل تیرا‬
‫تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا‬

‫ص‪ 13‬پر ایک خمسہ ہے' جسے مولود شریف کا‬

‫نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مولود شریف شیخ‬

‫سعدی صاحب کے چار شعر دیئے گیے ہیں۔ اردو‬

‫مولود شریف کے بعد' مولود شریف مولوی جامی‬

‫صاحب کے' نو شعر درج کیے گیے ہیں۔ آخر میں‬

‫مولود شریف کے عنوان سے' نو شعر درج کیے‬

‫گیے۔ ص ‪ 19‬پر موجود کلم کو کافی کا نام دیا گیا‬

‫ہے۔ اس کلم کو نہ پنجابی کہا جا سکتا اور ناہی‬

‫اردو' تاہم بعض شعر اردو کے قریب تر ہیں۔ دو‬

‫ایک شعر باطور نمونہ ملحظہ ہوں۔‬

‫کائی کہو سجن کی بات جن کے پریم لگائی‬

‫چاٹ پہل شعر‬

‫سلیمان نبی بلقیس نہ ہو ہک آہی مطلق ذات‬

‫پانچواں شعر‬

‫بحر محیط نے جوش کیا تب نوروں ہویا خوش‬

‫کیا چھٹا شعر‬

‫موم کرے دل لوہا‬ ‫کامل پیر پناہ ہمارا‬

‫سارا چھبسواں شعر‬

‫دو غزلیں فارسی کی ہیں۔ اوپر عنوان بھی دیا گیا‬
‫ہے‬

‫غزل مولوی غلم محمد از صابا‬
‫اے بنات تو مزین مسند پیغمبری وے خجل‬

‫گشتہءرویت آفتاب خاوری‬
‫مطلع فارسی غزل ص ‪12‬‬

‫غزل از غلم محمد صاحب‬
‫جاں فدائے تو یا رسول ا دل گدائے تو یا‬

‫رسول ا‬
‫مطلع فارسی غزل ص ‪23‬‬

‫پنجابی کلم کے لیے' لفظ کافی استعمال ہوا ہے۔‬
‫داخلی شہادت سے یہ بات واضح ہوتی ہے' کہ لفظ‬
‫ریختہ اردو غزل کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ دلی‬
‫وغیرہ میں جو مشاعرے ہوا کرتے تھے' ان کے‬
‫لیے دو اصطلحات رواج رکھتی تھیں۔ فارسی کلم‬

‫کے لیے مشاعرے' جب کہ اردو کلم کے لیے'‬
‫لفظ مراختے رواج رکھتا تھا‪ .‬لفظ اردو محض‬
‫شناخت کے لیے لکھ رہا ہوں' یہ لفظ عمومی‬

‫رواج نہ رکھتا تھا۔‬

‫اس صورت حال کے پیش نظر' غالب کے ہاں‬
‫استعمال ہونے وال لفظ ریختہ' گڑبڑ کا شکار ہو‬
‫جاتا ہے۔ مولوی غلم محمد پہلے کے ہیں' عہد‬
‫غالب کے ہیں یا بعد کے' بات قطعی الگ تر ہے۔‬
‫مشاعروں میں زیادہ تر غزلیہ کلم سنایا جاتا تھا‬
‫اور آج صورت حال مختلف نہیں۔ گویا غزل کے‬
‫لیے لفظ ریختہ' جب کہ مشاعرے کے لیے لفظ‬
‫مراختہ استعمال ہوتا تھا۔ لمحالہ زبان کے لیے‬
‫کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہوگا۔ اس حساب‬
‫سے غالب کے ہاں بھی غزل کے معنوں میں‬
‫اسستعمال ہوا ہے۔ اگر یہ صاحب' غالب کے بعد‬
‫کے ہیں' تو اس کا مطلب یہ ٹھہرے گا کہ لفظ‬
‫اردو باطور زبان استعمال ہوتا ہو گا لیکن عمومی‬
‫مہاورہ نہ بن سکا تھا۔ اس کا عمومی مہاورہ بننا‬

‫بہت بعد کی بات ہے۔‬

‫لفظوں کو مل کر لکھنے کا عام چلن تھا۔ اس‬
‫کتاب میں بھی یہ چلن موجود ہے۔ مثل‬

‫جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجہ نہیں غم‬

‫ہم سے ص ‪13‬‬
‫تو ہر عاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬

‫آنکہون میں ص ‪12‬‬
‫دو چشمی حے کی جگہ حے مقصورہ کا رواج‬

‫تھا۔ مثل‬
‫نہوتا سر مولے کا اگر کجہ ذات انسانمیں‬

‫بہت سے لفظوں کا تلفظ اور مکتوبی صورت آج‬

‫سے الگ تھی۔ مثل‬

‫نہوتا بھیت اسمیں خورشید فدا کا‬

‫بھید ص ‪11‬‬ ‫بھیت‬

‫ولیوں کے کاندہے قدم غوث اعظم‬

‫کاندہے کندھے ص ‪24‬‬

‫تو سر گردان تاریکی شبے رتجور کیوں ہوتا‬
‫میں اضافت کی بجائے ے کا استعمال کیا گیا ہے۔‬

‫شاعر نے خوب صورت مرکبات سے بھی کلم کو‬
‫جازب فکر بنانے کی سعی کی ہے۔ مثل‬
‫حسن منظور‬

‫تو ہر عاشق کی آنکونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬

‫ص ‪12‬‬
‫ستارہ محمدی‬
‫غالب سب سے آیا ستارہ محمدی ص‪13‬‬
‫مستعمل سب پہ ہے لیکن سب سے استعمال کیا‬

‫گیا ہے۔‬
‫مرکب لفظ دیکھیے‬

‫خداگر‬
‫عمر گر عدالت خداگر نہ کرتے ص ‪24‬‬

‫کلم میں ریشمیت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مثل‬
‫نہ پڑتا پرتوہ حق اگر رخسار خوباں پر‬

‫تو ہرعاشق کی آنکہونمیں حسن منظور کیوں ہوتا‬
‫ص ‪12‬‬

‫کیا زبردست طور سے صنعت تضاد کا استعمال ہوا‬
‫ہے۔‬

‫تو دین اورکفر میں جدائی نہ ہوتی ص ‪24‬‬
‫صنعت تضاد کی مختلف نوعیت کی دو ایک مثالیں‬

‫اور ملحظہ ہوں۔‬
‫نہ ملتا گلرخن سے دل میرا مسرور کیوں ہوتا‬
‫نہ اس نرگس کوں دیکہتا رنجور کیوں ہوتا ص‬

‫‪12‬‬
‫جہاں صنعت تضاد کا استعمال ہوا ہے' وہاں اردو‬
‫زبان کو دو خوب صورت استعارے بھی میسر آئے‬

‫ہیں‪.‬اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر‬
‫تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا‬

‫ص ‪12‬‬

‫اشعار تلمیحات سے متعلق ہوتے ہی۔ تلمیحات کا‬
‫استعمال اسی حوالہ سے ہوا ہے۔ اس ذیل میں‬

‫دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔‬
‫اگر مختار ہو آدم آپن کے خیر وشر اوپر‬
‫تو دانہ کھا کے گندم کا جنت سے دور کیوں ہوتا‬

‫ص ‪12‬‬
‫لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں‬

‫نے‬
‫اگر یوں جانتا شیطاں تو وہ مغرور کیوں ہوتا ص‬

‫‪11‬‬

‫اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دو چشمی حے کا‬
‫استعمال ہی نہیں ہوتا تھا۔ دو ایک مثالیں ملحظہ‬

‫ہوں۔‬

‫لکھی تہی لوح پر لعنت پڑھی تھی سب فرشتوں‬
‫نے ص ‪11‬‬

‫بھیت سجن کی خبر لیاوے ص ‪19‬‬
‫تو ہم عاجزوں کی رھائی نہوتی ص ‪24‬‬

‫زبان کا مہاورہ بھی برا اور ناموس نہیں۔ مثل‬
‫کیا دعوئے اناالحق کا ہویا سردار کیوں ہوتا‬

‫ص‪11‬‬
‫کائی کہو سجن کی بات‬
‫جن کے پریم لگائی چاٹ ص‪19‬‬
‫گذر گیا سر توں پانی ص‪20‬‬

‫اس شعری مجموعے کے اردو کلم پر' پنجابی‬
‫کے اثراات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔‬
‫بعض جگہ لسانی اور کہیں لہجہ پنجابی ہو جاتا‬

‫ہے۔ مثل‬
‫نہ ہوتا بھیت اسمیں اگر خوشید ذرہ کا ص ‪11‬‬
‫تو ہر ذرہ انہاں خورشید سے پرنور کیوں ہوتا‬

‫ص‪12‬‬
‫ہک لکھ کئی ہزار پیغمبر گذر گئے ص ‪13‬‬
‫اب لہجے سے متعلق ایک دو مثثالیں ملحظ ہوں۔‬

‫جب نیکی بدی تلے گی ہمسے کجھ نہیں غم‬
‫ص ‪13‬‬

‫علی کو جے مشکل کشا حق نہ کرتے ص ‪24‬‬

‫اردو پر ہی موقوف نہیں' پنجابی بھی اردو سے‬
‫متاثر نظر آتی ہے۔ مصرعے کے مصرعے اردو‬

‫کے ہیں۔‬
‫کہیں میراں شاہ جیلنی ہے کہیں قطب فرید‬

‫حقانی ہے‬
‫کہیں بہاؤالدین ملتانی ہے کہیں پیر پناہ لوہار‬

‫ص ‪19‬‬

‫اس چوبیس صفحے کی مختصر سی کتاب سے' یہ‬
‫بات واضح ہوتی ہے' کہ مولوی غلم محمد آف‬
‫صابا تین زبانوں کے شاعر تھے‪ .‬مختلف اردو‬

‫اصناف میں شعر کہتے تھے اور اچھا کہتے تھے۔‬
‫ان کا کلم کیا ہوا اور کدھر گیا' کھوج کرنے کی‬

‫ضرورت ہے۔‬

‫عربی کے اردو پر لسانیاتی اثرات ایک جائزہ‬

‫حاکم زبانیں' محکوم علقوں کی زبانوں اور‬
‫بولیوں پر' اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ' انہیں‬
‫محکوم زبانوں اور بولیوں کے نحوی سیٹ اپ کو'‬
‫ابنانا پڑتا ہے۔ ان کے بولنے والوں کا لہجہ'‬
‫اندازتکلم' اظہاری اطوار اور کلم کی نوعیت اور‬
‫فطری ضرورتوں کو بھی' اختیار کرنا پڑٹا ہے۔ یہ‬
‫ہی نہیں' معنویت کے پیمانے بھی بدلنا پڑتے ہیں۔‬
‫اس کے سماجی' معاشی اور سیاسی حالت کے‬

‫زیر اثر ہونا پڑتا ہے۔ شخصی اور علقائی‬
‫موسموں کے تحت' تشکیل پائے' آلت نطق اور‬
‫معاون آلت نطق کو بہرصورت' مدنظر رکھنا پڑتا‬
‫ہے۔ قدرتی ' شخصی یا خود سے' ترکیب شدہ‬
‫ماحول کی حدود میں رہنا پڑتا ہے۔ نظریاتی' فکری‬
‫اور مذہبی حالت و ضرورت کے زیراثر رہنا پڑتا‬
‫ہے۔ اسی طرح' بدلتے حالت' نظرانداز نہیں ہو‬
‫پاتے۔ یہ بات پتھر پر لکیر سمجھی جانی چاہیے'‬
‫کہ لفظ چاہے حاکم زبان ہی کا کیوں نہ ہو' اسے‬
‫استعمال کرنے والے کی ہر سطع پر' انگلی پکڑنا‬

‫پڑتی ہے' باصورت دیگر' وہ لفظ اپنی موت آپ مر‬
‫جائے گا۔‬

‫عربی بڑا بعد میں' برصغیر کی حاکم زبان بنی۔‬
‫مسمانوں کی برصغیر میں آمد سے بہت پہلے'‬
‫برصغیر والوں کے' عربوں سے مختلف نوعیت‬
‫کے تعلقات استوار تھے۔ یہ تعلقات عوامی اور‬
‫سرکاری سطح پر تھے۔ عربوں کو برصغیر میں'‬
‫عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔‬
‫عربوں نے' یہاں گھر بسائے۔ ان کی اولدیں‬
‫ہوئیں۔ دور امیہ میں سادات اوران کے حامی یہاں‬
‫آ کر آباد ہوئے۔ ‪44‬ھ میں زبردست لشکرکشی‬
‫ہوئی۔ ناکامی کے بعد' بچ رہنے والے بھی' یہاں‬
‫کے ہو کر رہ گیے۔ محمد بن قاسم اوراس کے بعد'‬
‫برصغیر عربوں کا ہو گیا۔ اس سارے عمل میں'‬
‫جہاں سماجی اطوار درآمد ہوئے' وہاں عربی زبان‬
‫نے بھی' یہاں کی زبانوں اور بولیوں پر' اپنے‬
‫اثرات مرتب کیے۔ یہ سب' لشعوری سطح پر ہوا‬
‫اور کہیں شعوری سطح پر بھی ہوا۔ دوسری سطح'‬

‫لسانی عصبیت سے تعلق رکھتی ہے۔‬

‫مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور‬
‫المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے'‬
‫تفسیرالقران بالقران کی تین جلدیں دستیاب ہوئیں۔‬
‫اس کے مولف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ایم بی ہیں۔‬
‫اسے مطبح عزیزی مقام تراوڑی ضلع کرنال نے'‬
‫بااہتمام فتح محمد خاں منیجر ‪1901‬ء میں شائع‬
‫کیا۔ اسے دیکھ کر' ازحد مسرت ہوئی۔ یک دم خیال‬
‫کوندا' کیوں نہ اس کی زبان کے' کسی حصہ کو'‬
‫عصری زبان کے حوالہ سے دیکھا جائے۔ اس‬
‫کے لیے میں نے' سورت فاتحہ کا انتخاب کیا۔‬
‫تفسیر کی زبان کے دیگر امور پر' بعد ازاں گفتگو‬
‫کرنے کی جسارت کروں گا' سردست عربی کے‬
‫اردو پر لسایاتی اثرات کا جائزہ لینا مقصود ہے۔‬

‫تسمیہ کے الفاظ میں سے' اسم' ا' رحمن اور‬
‫رحیم رواج عام میں داخل ہیں اور ان کا' باکثرت‬

‫استعمال ہوتا رہتا ہے۔‬

‫سورت فاتحہ میں‪ :‬حمد' ل' رب' عالمین' رحمن'‬
‫رحیم' ملک' یوم' دین' عبد' صراط' مستقیم' نعمت'‬
‫مغضوب' ' ضالین‪ ....‬غیر' و' ل' علیہ ایسے الفاظ‬

‫ہیں' جو اردو والوں کے لیے غیر مانوس نہیں‬
‫ہیں۔ علما نے ان کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ترجمہ کے‬

‫الفاظ' اردو مترفات کی حیثت رکھتے ہیں۔‬
‫اسم' کسی جگہ' چیز' شخص یا جنس کے نام کو‬
‫کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی نام کے لیے استعمال ہوا‬

‫‪.‬ہے۔ یعنی ا کے نام سے‬
‫تکیہءکلم بھی ہے' کوئی گر جائے یا گرنے لگے'‬

‫تو بےساختہ منہ سے بسم ا نکل جاتا ہے۔‬

‫حمد' اردو میں باقاعدہ شعری صنف ادب ہے اور‬
‫ا کی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے۔‬

‫ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی بشیر احمد لہوری'‬
‫مولوی فرمان علی' مولوی محمد جونا گڑھی' شاہ‬

‫عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی سید مودودی'‬
‫مولوی اشرف علی تھانوی اور سعودی ترجمہ‬

‫تعریف کیا گیا ہے۔‬
‫کے لیے بھی مخصوص ہے اور رواج عام میں‬

‫تعریف ‪ definition‬ہے۔‬
‫کہا جاتا ہے' درج ذیل اصناف کی تعریف کریں اور‬

‫دو دو مثالیں بھی دیں۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں'‬

‫حمد کے لیے' لفظ ستائش استعمال کیا ہے۔ لفظ‬
‫ستائش ردو میں مستعمل ہے۔‬

‫مولوی فیروزالدین ڈسکوی نے' خوبیاں ترجمہ کیا‬
‫ہے۔‬

‫گویا حمد کو برصغیر میں تعریف ستائش اور‬
‫خوبیاں کے معنوں میں لیا گیا ہے۔‬

‫سعودی عرب کے ترجمے میں بھی حمد کے لیے‬
‫تعریف مترادف لیا گیا ہے۔‬

‫قمر نقوی کے ہاں اس کے استعمال کی صورت‬
‫‪:‬دیکھیں‬

‫میں تیری حمد لکھنا چاہتا ہوں‬
‫جو نامکن ہے کرنا چاہتا ہوں‬
‫تری توصیف۔۔۔۔اک گہرا سمندر‬

‫سمنر میں اترنا چاہتا ہوں‬
‫قمر نقوی نے اس کے لیے مترادف لفظ توصیف‬

‫دیا ہے۔‬

‫ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ص ‪ 23‬پر' ایک شعر‬
‫‪:‬میں لفظ حمد کا استعمال کچھ یوں کیا ہے‬
‫حمد الہی پر ہیں مبنی سب ترقیات روح‬

‫اس سے ہی پیدا ہوتی ہیں ساری تجلیات روح‬

‫ل کو' ا کے لیے' کے معنوں میں سب نے لیا‬
‫ہے۔ فارسی میں شاہ ولی ا دہلوی نے برائے ا'‬
‫ترجمہ کیا۔ یہ بھی ا کے لیے' کے مترادف ہے۔‬

‫ل' باطورتکیہءکلم رائج ہے۔‬
‫ا کے لیے' باطورتکیہءکلم بھی رواج میں ہے۔‬
‫خدا کے لیے' خفگی یا غصے کی حالت میں اکثر‬

‫بول جاتا ہے۔ مثل‬
‫خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔‬
‫خدا کے لیے' استدعا کے لیے بھی بول جاتا ہے۔‬

‫مثل‬
‫خدا کے لیے اب مان بھی جاؤ۔‬

‫‪:‬رب‬
‫ڈاکٹرعبدالحکیم خان نے ترجمہ رب ہی ترجمہ کیا‬

‫ہے۔‬
‫مولوی محمد فیروزالدین ڈسکوی نے بھی رب کے‬

‫ترجمہ میں رب ہی لکھا ہے۔‬
‫یہ لفظ عام استعمال میں آتا۔ مثل‬

‫وہ تو رب ہی بنا بیٹھا ہے۔‬

‫بندہ کیا دے گا' رب سے مانگو‬
‫توں رب ایں۔۔۔۔۔۔ باطور سوالیہ‬
‫شاہ عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی محمد‬
‫جوناگڑھی' مولوی فرمان علی نے پالنے وال‬

‫ترجمہ کیا ہے‬
‫سعودی ترجمہ بھی پالنے وال ہے۔‬
‫مولوی اشرف علی تھانوی نے مربی مترادف درج‬
‫کیا ہے۔ مربی پالنے والے ہی کے لیے استعمال‬
‫ہوتا ہے۔ مہربان' خیال رکھنے والے' توجہ دینے‬
‫والے' کسی قریبی کے لیے بولنے اور لکھنے‬

‫میں مربی آتا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی بشیر احمد لہوری‬

‫نے رب کا ترجمہ پروردگار کیا ہے۔‬
‫پروردگار' ذرا کم' لیکن بول چال میں شامل ہے۔‬

‫گویا اردو میں یہ لفظ غیر مانوس نہیں۔‬

‫علمین' عالم کی جمع ہے۔ ہر دو صورتیں' اردو‬
‫میں مستعمل ہیں۔ پنجاب کی سٹریٹ لنگوئج میں‬
‫زبر کے ساتھ بول کر' مولوی صاحب یا علم دین‬

‫جاننے وال مراد لیا جاتا ہے۔‬
‫جہان بھی مراد لیتے ہیں۔‬

‫قرآن مجید کو دو جہانوں کا بادشاہ بول جاتا ہے۔‬
‫ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' علمین کا جہانوں ترجمہ‬

‫کیا ہے۔‬
‫مولوی محمد جوناگڑھی کے ہاں اور سعودی‬

‫ترجمہ بھی جہانوں ہوا ہے۔‬
‫شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور‬
‫مولوی فرمان علی نےسارے جہانوں ترجمہ کیا‬

‫ہے۔‬
‫مولوی اشرف علی تھانوی نے ہر عالم ترجمہ کیا‬

‫ہے۔‬
‫مولوی بشیر احمد لہوری نے کل دنیا' مولوی‬
‫مودودی نے کائنات' جب کہ شاہ ولی ا کے ہاں‬

‫فارسی میں عالم ہا ترجمہ ہوا‬
‫ترجمے سے متعلق تمام الفاظ' اردو میں مستعل‬
‫ہیں۔ ہا رواج میں نہیں رہا' ہاں البتہ ہائے رواج‬

‫میں ہے۔ جیسے انجمن ہائے امداد باہمی‬
‫اردو بول چال میں عالموں' عالماں بھی پڑھنے‬

‫سننے میں آتے ہیں۔‬
‫نام بھی رکھے جاتے ہیں۔ جیسے عالم شاہ' نور‬

‫عالم‬
‫باطور ٹائیٹل بھی رواج میں ہے۔ جیسے فخر عالم'‬

‫فخر دو عالم‬

‫لفظ رحمن' عمومی استعمال میں ہے۔ نام بھی‬
‫رکھے جاتے ہیں۔ مثل‬

‫عبد الرحمن' عتیق الرحمن فیض الرحمن' فضل‬
‫‪.‬الرحمن وغیرہ‬

‫ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحمن کا ترجمہ' لفظ‬
‫کے عمومی بول چال میں مستعمل ہونے کے‬

‫سبب' رحمن ہی کیا ہے۔‬
‫مولوی سید مودودی نے بھی' رحمن کا ترجمہ‬

‫رحمان ہی کیا ہے۔‬
‫مولوی محمد فیروزالدین نے' رحمن کا ترجمہ‬

‫مہربان کیا ہے۔‬
‫مولوی محمد جونا گڑھی کے ہاں' رحمن کا‬

‫ترجمہ' بخشش کرنے وال ہوا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا نے' فارسی ترجمہ بخشایندہ کیا ہے'‬

‫جو بخشش کرنے وال ہی کا مترادف ہے۔‬
‫بخشایندہ اردو میں مستعمل نہیں تاہم بخشنے وال'‬

‫بخش دینے وال' بخشش کرنے وال' بخشن ہار‬
‫وغیرہ غیر مانوس نہیں ہیں۔‬

‫بخشیش خیرات کے لیے بھی' بول جاتا ہے۔‬

‫شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی‬
‫احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'‬
‫مولوی فرمان علی نے رحمن کا ترجمہ مہربان کیا‬

‫ہے۔‬
‫سعودی ترجمہ بھی مہربان ہے۔‬

‫لفظ رحیم' اردو میں غیر مانوس نہیں۔ اشخاص‬
‫کے نام بھی رکھے جاتے ہیں‪ .‬جیسے عبدالرحیم۔‬
‫اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحیم کا‬
‫ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔ مولوی سید مودودی نے‬

‫بھی' اس کا ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔‬
‫شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی‬
‫احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'‬
‫مولوی فرمان علی' مولوی محمد فیروزالدین نے‬

‫رحم وال ترجمہ کیا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی محمد جونا گڑھی‬

‫نے رحیم کا ترجمہ مہربان کیا ہے۔‬

‫لفظ مالک' ملکیت والے کے لیے' عام بول چال‬
‫میں ہے‪ .‬جیسے مالک مکان یا وہ پانچ ایکڑ زمین‬

‫کا مالک ہے۔ بیشتر ترجمہ کنندگان نے' اس کا‬

‫ترجمہ مالک ہی کیا ہے۔ ہاں مولوی فرمان علی‬
‫نے اس کا ترجمہ حاکم کیا ہے۔اشخاص کے نام‬
‫بھی' سننے کو ملتے ہیں‪ .‬مثل عبدالمالک' محمد‬

‫مالک‬
‫ڈاکٹر عبدالحکیم خاں' مولوی محمد جونا گڑھی'‬
‫مولوی فیروز الدین' مولوی اشرف علی تھانوی'‬
‫شاہ عبدالقادر' مولوی احمد رضا خاں بریلوی'‬
‫مولوی سید مودودی نے اس کا ترجمہ مالک ہی‬
‫کیا ہے۔ سعودی ترجمہ بھی مالک ہی ہے۔ اس‬
‫سے باخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لفظ مالک‬

‫کس قدر عرف عام میں ہے۔‬

‫لفظ یوم' عام استعمال کا ہے۔ مرکب استعمال بھی‬
‫سننے کو ملتے ہیں۔ مثل یوم آزادی' یوم شہدا' یوم‬

‫عاشورہ' یوم حج وغیرہ‬
‫ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' یوم کا ترجمہ یوم ہی کیا‬
‫ہے۔ مولوی سید مودودی نے بھی یوم کا ترجمہ‬

‫یوم ہی کیا ہے۔‬
‫مولوی فیروز الدین' مولوی محمد جونا گڑھی'‬
‫مولوی بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ دن‬

‫‪.‬کیا ہے‬


Click to View FlipBook Version