سعودی ترجمہ بھی دن ہی ہوا ہے۔
شاہ ولی ا' شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی
تھانوی' مولوی احمد رضا خاں بریلوی' مولوی
فرمان علی نے یوم کا ترجمہ روز کیا ہے۔
لفظ دین' مذہب کے معنوں میں عام استعمال کا
ہے۔
مرکب بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثل دین محمدی'
دین اسلم' دین دار' دین دنیا وغیرہ
ناموں میں بھی مستعمل ہے۔ مثل احمد دین' دین
محمد' چراغ دین امام دین وغیرہ
دین دار ایک ذات اور قوم کے لیے بھی مخصوص
ہے۔
دین کے معنی رستہ بھی لیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عدالحکیم خاں نے' اس لفظ کو' جزا کے
معنوں میں لیا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی سید
مودودی' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی احمد
رضا خاں بریلوی' مولوی فرمان علی نے لفظ دین
کو جزا کے معنوں میں لیا ہے۔
مولوی محمد جونا گڑھی نے' لفظ دین کا ترجمہ
قیامت کیا ہے۔
مولوی محمد قیروز الدین اور مولوی بشیر احمد
لہوری نے' لفظ دین کو انصاف کے معنوں میں
لیا ہے۔
سعودی ترجمے میں' اس کا ترجمہ بدلے کا' جب
کہ قوسین میں قیامت درج ہے' معنی لیے گیے
ہیں۔
لفظ عبد' اردو میں عمومی استعمال کا نہیں' تاہم
اشخاص کے ناموں میں باکثرت استعمال ہوتا ہے۔
مثل عبدا' عبدالقادر' عبداعزیز' عبدالکریم'
عبدالرحمان' عبدالقوی وغیرہ
نعبد کا ڈاکٹر عبدالحکیم' مولوی فیروز الدین'
مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی سید مودودی'
مولوی فرمان علی' مولوی اشرف علی تھانوی نے
ترجمہ عبادت کیا ہے۔
سعودی ترجمے میں بھی معنی عبادت لیے گیے
ہیں۔
مولوی احمد رضا خان نے پوجھیں ترجمہ کیا ہے۔
شاہ عبدالقادر اور مولوی بشیر احمد لہوری نے
بندگی معنی دیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں
می پرستیم معنی دیے ہیں۔ لفظ پرست' پرستی'
پرستش اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں' بلکہ
بول چال میں موجود ہیں۔
لفظ صراط' اردو میں عام استعمال کا نہیں' لیکن
غیر مانوس بھی نہیں۔ مرکب پل صراط عام
بولنےاور سننے میں آتا ہے۔ لوگ اس امر سے
آگاہ نہیں' یہ دو الگ چیزیں ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور مولوی سید
مودودی نے' اسے رستہ کےمعنی دیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی محمد
فیروزالدین' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر
احمد لہوری اور مولوی فرمان علی نے صراط کا
ترجمہ راہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ بھی راہ ہی ہوا ہے۔
لفظ مستقیم' عمومی استعمال میں نہیں۔ نام کے
لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ جیسے محمد مستقیم
اسی طرح' خط مستقیم جیویٹری کی اصطلح
سننے میں آتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی احمد رضا خاں بریلوی' اور مولوی سید
مودودی نے' سیدھا ترجمہ کیا ہے۔
صراط مستقیم بمعنی سیدھا رستہ
مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر احمد
لہوری اور مولوی فرمان علی نے سیدھی ترجمہ
کیا ہے۔ سعودی ترجمہ بھی سیدھی ہوا ہے لیکن
قوسین میں سچی درج کیا گیا ہے۔
صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ
شاہ ولی ا دہلوی نے' اس کے لیے لفظ راست
استعمال کیا ہے۔
صراط مستقیم یعنی راہ راست
انعمت' نعمت سے ہے۔ لفظ نعمت' بولنے اور
لکھنے پڑھنے میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ پنجابی
میں اسے نیامت روپ مل گیا ہے۔
نام بھی رکھے جاتے ہیں جیسے نعمت علی' نعمت
ا
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی محمد جونا گڑھی اور مولوی سید مودودی
نے' اس کا انعام ترجمہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ میں بھی انعام استعمال میں آیا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور
مولوی بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ فضل
کیا ہے۔
مولوی فرمان علی نے نعمت' احمد رضا خاں
بریلوی نے احسان' جب کہ شاہ ولی ا دہلوی نے
اسے اکرام معنی دیے ہیں۔
انعام و اکرام عمومی استعال کا مرکب ہے۔
مغضوب' اردو میں استعمال نہیں ہوتا' تاہم اس کا
روپ غضب' اردو میں عام استعمال ہوتا ہے۔
مولوی محمد فیروزالدین' مولوی بشیر احمد
لہوری' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی احمد
رضا خاں بریلوی اور مولوی فرمان علی نے
غضب کے معنی لیے ہیں۔
سعودی ترجمہ میں بھی غضب مراد لیا گیا ہے۔
شاہ عبدالقادر نے غصہ' جب کہ مولوی سید
مودودی نے عتاب معنی لیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں
خشم معنی لیے ہیں۔
ضالین' ضللت سے ہے۔ اردو میں یہ لفظ' عام
بول چال میں نہیں۔ ہاں البتہ ذللت عمومی استعمال
میں ہے۔ ضللت لکھنے میں آتا رہا ہے۔
شاہ عبدالقادر اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے
گمراہ' مولوی محمد جونا گڑھی ' مولوی محمد
فیروزالدین' مولوی بشیر احمد لہوری اور مولوی
فرمان علی نے گمراہوں ترجمہ کیا ہے۔
مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے بہکنا معنی
مراد لیے ہیں۔
مولوی سید مودودی نے' بھٹکے ہوئے ترجمہ کیا
ہے۔
سعودی ترجمہ گمراہی ہوا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی نے گمراہان ترجمہ کیا ہے۔
ان کے علوہ' چار لفظ اردو میں باکثرت استعمال
ہوتے ہیں
علیہ :کلمہء احترام کے دوران' جیسے حضرت
داؤد علیہ اسلم........مدعا علیہ' مکتوب علیہ
وغیرہ
غیر :نہی کا سابقہ ہے' جیسے غیر محرم' غیر
ارادی' غیر ضروری' غیر منطقی وغیرہ
ل :نہی کا سابقہ ہے' جیسے لحاصل' لعلم' ل
یعنی' لتعلق وغیرہ
و :و اور کے معنی میں مستعمل چل آتا ہے۔ مثل
شب و روز' رنگ ونمو' شعر وسخن' قلب ونظر
وغیرہ
کمشنر و سپرنٹنڈنٹ' منیجر و پرنٹر وغیرہ
درج بال ناچیز سے جائزے کے بعد' یہ اندازہ کرنا
دشوار نہیں رہتا' کہ عربی نے اردو پر کس قدر
گہرے اثرات مر تب کیے ہیں۔ مسلمانوں کا حج
اور کئی دوسرے حوالوں سے' اہل عرب سے
واسظہ رہتا ہے۔ اس لیے مختلف نوعیت کی
اصطلحات کا' اردو میں چلے آنا' ہر گز حیرت کی
بات نہیں۔ روزمرہ کی گفت گو کا' تجزیہ کر
دیکھیں' کسی ناکسی شکل میں' کئی ایک لقظ
نادانسہ اور اظہاری روانی کے تحت' بولے چلے
جاتے ہیں۔ مکتوبی صورتیں بھی' اس سے مختلف
نہیں ہیں۔
گنج سوالت' ایک لسانیاتی جائزہ
مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور
المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے' ایک
انچاس صفحات کی کتاب۔۔۔۔۔ گنج سوالت ۔۔۔۔۔
دستیاب ہوئی ہے۔ یہ کتاب 1858ء میں شائع
:ہوئی۔ اس کا ٹائیٹل پیج کچھ یوں ہے
گنج سوالت
قانون دیوانی پنجاب وسرکلرات
صاحب جوڈیشل کمشنر بہادر پنجاب مجریہ
بعد مشتہر ہونے قانون مذکور کے
مولفہ
مستر رابرٹ ینڈہم کسٹ صاحب بہادر کمشنر و
سپرنٹنڈنٹ قسمت لہور جسکو
مستر ایف اسکارلٹ صاحب بہادر پرنسپل اسسٹنٹ
کمشنر نے
باعانت
منشی درگا پرشاد پنڈت کے ترجمہ کیا
ء1858
مطبع کوہ نور لہور میں باہتمام پنڈت سورج بہان
منیجر وغلم محمد پرنٹر کے چہپہ
اس کتاب کے تائیٹل پیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ
1858ء میں' لہور ذویژن تھا اور یہاں سے
جاری ہونے والے احکامات' پنجاب پر لگو ہوتے
تھے' یا یوں کہہ لیں' لہور قسمت میں پورا پنجاب
داخل تھا۔ لہور قسمت کا کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ
رابرٹ ینڈہم کسٹ' جب کہ پرنسپل اسسٹنٹ کمشنر
ایف اسکارلٹ تھا۔ منشی درگا پرشاد پنڈت' پرنسپل
اسسنٹ کمشنر ایف اسکارلٹ سے وابستہ تھے۔
ترجمہ صاف اور رواں دوا ں ہے۔ تحریر سے یہ
ظاہر ہوتا ہے کہ ترجمہ' ایف اسکارلٹ نے کیا
ہے جب کہ منشی درگا پرشاد پنڈت نے' محض
معاونت کی ہے۔ ترجمے کیی روانی اور ترجمے
کی زبان' اس امر کی یکسر تردید کر رہی ہے.
بااختیار لوگ اوروں کا کیا' اپنی گرہ میں کرتے
آئے ہیں یہ کوئی ایسی نئی اور حیران کن بات
نہیں۔
انگریز اگرچہ ایک عرصہ پہلے سے' ہندوستان
کے اقتدار پر قابض تھا' تاہم باطور حاکم واضح نہ
ہوا تھا۔ گلیوں میں' کسی منادی کے ابتدائی کلموں
میں کہا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ ملک شاہ کا حکومت کمپنی
بہادر کی۔۔۔۔۔۔ 1857ء میں' ملک بھی انگریز کا ہو
گیا تھا۔ انگریز فقط دو ڈھائی ہزار کی تعداد میں
تھے۔ فتح 1857ء میں' معاون کرداروں کو' جہاں
جاگیریں وغیرہ دی گئیں' وہاں خطابات اور اعزای
عہدوں سے بھی نوازا گیا۔ یہ حضرات مخبری'
چغل خوری اور دو نمبری میں طاق ضرور تھے'
لیکن اطوار و ضوابط جہاں بانی سے' آگاہ نہ
تھے۔ انہیں معاملت باطریق احسن اور باضابطہ
نپٹانے کے لیے' لئحہ عمل فراہم کرنا ضروری
تھا تا کہ ان کی من مانی کے زیراثر' کوئی شورش
جنم نہ لے سکے۔ اس کتاب کے متن سے'
بہرصورت یہ ہی اندازہ ہوتا ہے۔ اس ذیل میں
:باطور نمونہ دو چار مثالیں ملحظہ فرمائیں
.۔ نہایت قانون نہایت ظلم ہے1
۔ وکیل کا ساختہ برداختہ تمہارا ساختہ برداختہ2
ہے۔
۔ شرع و قانون رواج سے گہرا ہوا ہے۔3
۔ خرچہ دیوانی مین تمیز کرو اور غیر واجبی4
خرچہ ہرگز نہ درج کرو۔
۔ ہنگام رجوع نالش کے حاکم کو یہہ لزم نہین5.
کہ بطور نابینا حکم قلمبندی اظہار صادر کرے اور
پہر حسب ضابطہ حکم طلبی گواہان و مدعا علیہ
صادر کرے بلکہ ہوشیار حاکم اول ذرا تکلیف
اوٹہاتا ہے اور پیچہے بہت تکیف سے محفوظ رہتا
ہے یعنی اوسکو اول ۔ہنگام رجوع مقدمہ ان
باتونکا خیال کرنا چاہئے۔
جو افسر اور اہل کار' یہاں آئے غیر مثعلقہ فیلڈ
کے تھے دوسرا انہیں ان کی اوقات سے بڑھ کر
عہدے دے دیے گیے یا کم از کم ون سٹیپ اپ کیا
گیا۔ اوپر سے' غلم قوم کی جی حضوری اور
گماشتوں کی حد سے بڑھ کر چاپلوسی نے' ان
کے دماغ خراب کر دیے تھے .ایسے میں
ناانصافی کا جنم لینا' فطری سی بات تھی۔ اس کے
نتیجہ میں' اس قسم کی ہدایات کا جاری کیا جانا
ضروری تھا۔ آزادی ہند میں' جہاں یہاں کے حریت
پسندوں' امریکہ کی مداخلت اور ہٹلر کی اندھی
یورش کا ہاتھ ہے' وہاں بےانصافی اور حد سے
بڑھ کر دلنوازی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا
.سکتا
اس کتاب کے پہلے حصہ میں' تمہید کے بعد'
ہدایات باعنوان۔۔۔۔ ہدایات و اصول مفصلہ ذیل پر
افسران دیوانی ناآزمودء کار کو توجہ کرنا
'چاہیے۔۔۔۔۔
دوسرے حصہ میں ۔۔۔۔۔۔۔ فہرست ابواب گنج
سوالت قانون دیوانی پنجاب
جب کہ تیسرے حصہ میں۔۔۔۔۔سوالت دستورالعمل
قانون دیوانی پنجاب' دیے گیے ہیں۔
کتاب انچاس صفحات پر مشتمل ہے۔
رموز کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کتاب میں
بھی رموز کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ یہ امر چوں کہ
رواج میں نہ تھا' س لیے اسے' مکتوبی نقص
نہیں سمجھا جا سکتا۔ فقرے لمبے بنانے کا رواج
تھا۔ یہ کتاب چوں کہ سوالت اور ہدایات سے
متعلق ہے' اس لیے اس ذیل سے باہر ہے .ہاں
بعض جگہوں پر مثالیں ملتی ہیں .مثل تمہید تقریبا
چھے سطور پر مشتمل ہے۔ یہ بل رموز اور ایک
ہی فقرہ میں ہے۔ کتاب کی تحریر شائستہ اور
رواں دواں ہے۔ چند امور' لسانیاتی اور مکتوبی
طور کے حوالہ سے' آج اور گزرے کل کی شناخت
کا ذریعہ ہیں۔ مثل
دو لفظ مل کر' لکھنا عام تھا اور اس کی مثالیں'
اس کتاب میں جگہ جگہ پر ملتی ہیں۔ مثل
جنکے' کونسی' کسبات' کسکو' قرضخوانونکی
وغیرہ
فارسی آمیز دو مرکب لفظ بھی پڑھنے کو ملتے
ہیں۔ مثل
درصورتکہ
اس کتاب میں' تین لفظوں کو مل کر لکھنے کی'
بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ مثل
کسطرحکی' کسطرحپر' کسطرحکا' کسیطرحکی'
کسطرحسے' کیصورتمین' اسلیئیکہ' دونوباتونکا
وغیرہ
لفظوں میں واؤ کی بڑھوتی ملتی ہے' جو آج
متروک ہو چکی ہے۔ مثل
اوس' اون' جاوے' اوٹہانی وغیرہ
نون غنہ کا استعمال بالکل نہیں ملتا' حالں کہ نون
غنہ اردو کے حروف ابجد میں موجود تھا۔ نون
غنہ کی جگہ' نون استعمال میں لیا گیا ہے۔ مثل
مین' باتین' ہین' عورتین' نہین وغیرہ
یہ کو ڈبل حے مقصورہ کے ساتھ رقم کیا گیا ہے.
یعنی یہہ
بھاری آوازوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ ان کی جگہ
حے مقصورہ استعمال کی گئی ہے۔ مثل
دہوکا' پیچہے'ساتہ' بہائی' رکہتا وغیرہ
دو جگہ مہاپران کا استعمال بھی ہوا۔ مثل ہدایت
کے لیے' ھدایت اور پہل کے لے' پھل رقم کیا گیا
ہے۔
چ کے لیے ج استعمال کی گئی ہے۔ یعنی دیاچہ کو
دیباجہ کتابت کیا گیا ہے۔
ٹ کی جگہ ت' استعمال میں لئی گئی ہے۔ مسٹر
کو مستر لکھا گیا ہے۔
دونوں کو' دونو لکھا گیا ہے .یعنی ں یا ن کا
استعمال نہیں گیا۔ ں حشوی سہی' لیکن آج رواج
عام میں ہے۔
ء کی جگہ' ی کا استعمال ہوا ہے۔ یہ فارسی کی
ییروی میں ہے' حالں کہ ہمزہ اردو حروف ابجد
میں' داخل تھی۔ جیسے دائرہ کی بجائے دایرہ
لکھا گیا ہے۔
گاف کے لیے' کاف کا استعمال ہوا ہے۔ یعنی ڈگری
کو ڈکری لکھا گیا ہے۔
ڑ کی جگہ ڈ کا استعمال کیا گیا یعنی بڑھانا کو
بڈہانہ تحریر میں لیا گیا ہے۔
ت کی جگہ ط کا استعمال ہوا ہے۔
تیاری کو طیاری رقم کیا گیا ہے۔
اب کچھ جمعیں ملحظہ ہوں۔
نالشات' ہنڈویات' ڈکریات' سرکلرات' بواعث'
ہنڈویوں وغیرہ
ے کو ی کی طرز پر رقم کیا گیا ہے' ۔فرق صرف
اتنا ہے کہ نیچے سے' گول نہیں کیا گیا۔ ڈبل آنے
کی صورت میں پہلی ی کو حسب روٹین جب کہ
دوسری کو ے کی شکل میں درج کیا گیا ہے۔
آج لفظ دیوالیہ لکھا جاتا ہے' جب کہ اس میں ی
شامل نہیں۔ یعنی دوالہ لکھا گیا ہے۔
.اردو اور انگریزی مرکب پڑھنے کو ملتے ہیں
پنجاب وسرکلرات' منیجر وغلم محمد پرنٹر
اسی طرح' دو انگریزی لفظوں کو واؤ سے ملیا
گیا ہے۔
کمشنر و سپرنٹنڈنٹ
ہر دو میں' واؤ الگ سے بولتا ہے۔
دیسی روایت بھی ملتی ہے .مثل فشا و ہدایت
اضافتی مرکب بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مثل
دعوی نابینا' کلید گنج
ایک مرکب بل اضافت ملحظہ ہو :نابینا حکم
زبان پر مقامیت کے بھی اثرات ملتے ہیں۔ مثل
ذمہ واری' دوالہ' نظیر دیو' چودہریوں وغیرہ
لفظ اردوائے بھی گیے ہیں۔ مثل تمسکی
یہ کتاب' اگرچہ قانون اور ضابطہ سے متعلق ہے'
لیکن اس کے مندرجات کے مطالعہ سے' ڈیڑھ سو
سے زائد عرصہ پہلے کی' سرکاری یعنی دفتری
اردو پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ چوں کہ یہ عوام
سے متعلق ہے' اس لیے اس میں' عوامیت
بھرپور انداز میں ملتی ہے۔ یہ بھی کہ سرکاری'
مزاج و رویہ اور عوام' خصوص اور گوروں کے
مابین تفریق وامتیاز سامنے آتی ہے۔ قانون' سماج
اور مذہی ضوابط کو' متوازی رکھتے ہوئے' یہ
کتاب ترکیب پائی ہے۔ اردو خط میں' انگریزی
الفاظ استعمال ہوئے ہیں' لیکن بہت کم۔ اس کی
روانی اور شستگی مجھے اچھی لگی ہے۔
قصہءآدم‘ اردو کے داستانی ادب میں ایک اہم
اضافہ
میرے والد محترم قبلہ سید غلم حضور المعروف
بابا شکرا‘ کتاب دوستی میں اپنی مثال آپ تھے۔
ان کے ذخیرہء کتب میں‘ جہاں مطبوعہ کتب
تھیں‘ وہاں ان کے بڑوں کے ہاتھ سے لکھے‘
قلمی نسخے بھی تھے۔ وہ یہ سب‘ جان سے زیادہ
عزیز رکھتے تھے۔ ان کے انتقال پرملل کے بعد‘
یہ سب حالت زمانہ کا شکار ہو گیا۔ میرے ہاتھ
بس دوایک ڈبے لگے۔ اب عمر کے آخری ایام
میں‘ مجھے اس سرمائے کو محفوظ کرنے کا
خیال آیا۔ کیوں آیا‘ یہ الگ سے کہانی ہے۔ اگر
زندگی نے مہلت دی‘ تو یہ سب انٹرنیٹ پر رکھنے
کی سعی کروں گا ورنہ ردی چڑھ جائے گا یا ڈاکٹر
مس کال جیسے شخص کے ہاتھ لگ جائے گا‘ جو
میرے ہی گھر والوں سے‘ رقم بٹور‘ کر اپنے نام
سے چھاپ لے گا۔ اردو‘ پنجابی قلمی نسخےاور
میرا لکھا اس کے تصرف میں آ سکے گا‘ لیکن
سیکزوں سال پرانے پرانے فارسی نسخوں کا کیا
بنے گا۔ خیر جو ہو گا‘ بہتر ہی ہو گا۔ زندہ رہا تو
ضرور کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کروں گا۔
مجھے میری جہالت نے ہیشہ خوار کیا ہے۔ اہل
قلم کو‘ جہالت کے سبب‘ میری بےپسی سے سبق
لینا چاہیے۔ انہیں حال میں موجود کو‘ اسی طرح
کسی منفی یا ذات سے جڑی غرض کو بالئے طاق
رکھ کر‘ مستقبل کو منتقل کر دینا چاہیے۔ دیر بعد
سہی میں نے آغاز کر تو دیا ہے۔
اردو کے داستانی ادب میں‘ فورٹ ولیم کالج کی
داستانیں‘ زیادہ تر ریکارڈ میں آئی ہیں۔ بیرون میں
رجب علی بیگ سرور کی داستان کو شمار میں
رکھا گیا ہے۔ بابائے اردو نے مل وجہی کی نثری
داستان‘ سب رس کو داستانی ادب کا حصہ بنایا
ہے۔ یہ اردو میں ہے یا نہیں‘ قطعی الگ سے بحث
ہے۔ سرکاری کارخانوں سے ہٹ کر بھی کام ہوتا
رہا ہے۔ محقق حضرات کی نظر‘ اس جانب بہت ہی
کم گئی ہے۔ علمہ اقبال کو باطور شاعر سب
جانتے ہیں‘ لیکن علمہ مشرقی بھی شاعر تھے‘
کوئی نہیں جانتا۔ یہ ہی صورت فارسی کے
فردوسی کی ہے۔ غیر سرکاری شخص‘ خواہ اس
کی علمی وادبی حیثیت کچھ بھی رہی ہو‘ ریکارڈ
میں نہیں آ سکا۔
کاغذ پر لکھا معمولی پرزہ بھی‘ اپنی حیثیت میں
بےکار محض نہیں ہوتا۔ زبان کی ورائٹی فراہم
کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بدن پر معلومات
سجائے اور بچھائے ہوتا ہے۔ ابا حضور کے
کتابی ورثے سے‘ ایک اٹھائیس صفحات کا رسالہ
دستیاب ہوا ہے۔ اس کے پہلے دس صفحے پھٹے
ہوئے ہیں۔ صفحہ گیارہ سے‘ تخلیق آدم کا قصہ
شروع ہوتا ہے اور یہ صفحہ ستائیس پر ختم ہوتا
ہے۔ صفحہ ٢٨پر کتابوں کی فہرست اور آخر میں
ناشر کا اتا پتا درج ہے۔ اسی لیے میں اسے‘ قصہ
آدم کا نام دینے کی جسارت کر رہا ہوں۔ یہ دراصل
فارسی سے اردو ترجمہ کیا ہوا ہے۔ اس کی اصل
خوبی یہ ہے کہ یہ دو کالمی ہے۔ پہلے کالم میں‘
اصل متن درج ہے‘ جب کہ دوسرے کالم میں اردو
ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ صفحہ ستائیس پر جہاں
قصہ تمام ہوتا ہے‘ وہاں ناشر نے اپنی طرف سے
فقط چار سطور میں کچھ لکھا ہے اور اس کے
بعد اپنا پنجابی میں‘ آٹھ اشعار پر مشتمل حمدیہ
کلم درج کیا ہے۔
:ناشر کی چار سطور ملحظہ فرمائیں
حمد وشکر کے بعد واضح ہو کہ یہ کتاب بعد
الجہان پورانی قلمی کوشش ہےاسکو تلش کی۔
اور اسکا ترجمہ کرا کے۔ آدھے کالم میں فارسی
اور آدھے کالم میں اردو بڑی کوشش کے ساتھ
چھپائی۔ ا صاحب اس عاجز کی کوشش کو قبول
فرمائے۔ اسکا کوشش کرنیوال فقیر فضل حق ابن
حاجی محمد علؤالدین
صفحہ ٢٨سے معلوم ہوتا ہے یہ تاجرکتب ہیں
اور ان کا کتب خانہ پتو منڈی نوآباد ضلع لہور
تحصیل چونیاں میں تھا۔ گویا
اس کتاب کا نام بعد الجہان تھا۔
قلمی نسخہ تھا جو پرانا تھا۔
دستیاب نہ تھا۔
فقیر فضل حق کے علم میں یہ کتاب تھی اور وہ
اس سے دل چسپی رکھتے تھے اسی لیے اس کا
کھوج لگایا اور شائع کی۔
اس جگہ کا موجودہ نام پتوکی ہے۔ گزٹ ١٨٨٥
کے مطابق یہ بہت بڑی کاٹن کی منڈی تھی اور
معروف تھی‘ نوآباد نہ تھی۔ گویا کتاب کی طباعت
نوآباد کے حوالہ سے‘ ١٨٨٥سے پہلے کی
ٹھہرتی ہے۔ اس حساب سے‘ اصل فارسی تخلیق
سو پچاس سال اس سے پیچھے جاتی ہے۔
فارسی اسلوب تکلم حیرت انگیز طور پر سادہ اور
عام فہم ہے۔ مثل یہ جملے باطور نمونہ ملظہ
:ہوں
مار سیاہ دہن کشادہ ابلیس جست زدہ در دہن او جا
کرد۔ بمجرد رفتن لعاب در دہن ابلیس کرد۔ کہ ازاں
زہر پیدا شد چوں طاؤس گفت خوب کردی۔ ازیں
سخن پائے او سیاہ شدند۔
:مترجم کے متعلق آخر میں معلومات موجود ہیں
محمد حسن۔
ساکن نشیب لبیہ۔ ضلع مظفر گڑہ۔
حال مدرس
مترجم نے‘ کلی طور پر لفظی اور بامحاورہ ترجمہ
نہیں کیا ہے‘ تاہم ترجمہ بے لذت اور بے ذائقہ
بھی نہیں ہے۔ مترجم نے‘ اردو فارسی اشعار‘
حکایات اور موقع کے مطابق احکامات کا اضافہ
کیا ہے۔ ترجمے میں ایک دو جگہ پر‘ عجلت کا
گمان گزرتا ہے۔ وقفے کے علوہ‘ کسی علمت کا
استعمال نہیں ہوا ہے۔ علمتیں ان کے ہاں مستمل
نہیں ہوں گی یا اصل کی ییروی میں‘ صرف
سکتے سے کام لیا گیا ہے۔
اس قصے کے بعض مندرجات سے کوئی متفق ہو
یا ناہو‘ اس میں داستانی لوازمات بہرطور موجود
ہیں۔ تمام کردار‘ اپنے ہونے اور اپنے کیے کا
احساس دلتے ہیں۔ کہانی میں دل چسپی کا عنصر
موجود ہے۔ رائٹر موقع ملتے ہی‘ موقع کے
مطابق اخلقی پیغام بھی چھوڑتا ہے۔ سب سے
بڑی بات یہ ہے کہ یہ باقاعدہ ایک پلٹ پر
استوار ہےاور اس میں ایک باربط کہانی موجود
ہے۔ اسے اردو کے داستانی ادب میں‘ ایک اہم
اضافہ قرار دینا غلط نہ ہو گا۔
اس قصے کے مطالعہ سے‘ قابل غور اور الگ
سے معلومات بھی میسرآتی ہیں۔ معروف یہ ہی
چل آتا ہے‘ کہ دانہءگندم پہلے حضرت آدم علیہ
السلم نے کھایا‘ جب کہ اس قصہ سے معلوم ہوتا
ہے‘ کہ دانہءگندم پہلے اماں حوا نے کھایا۔ اسی
طرح یہ بھی پتا چلتا ہے‘ کہ حضرت آدم علیہ
السلم کی پانچ سو جفت یعنی ہزار اولدیں تھیں۔
یہ بھی معلوم ہوتا ہے‘ کہ بت پرستی کا آغاز قابیل
سے ہوا۔ مزید چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔
جب فرشتوں نے سر اٹھایا۔ تو شیطان کے گلے
میں ستر ٧٠من لعنت کا طوق پڑ گیا۔
جہٹ فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔
پہل کلمہ ا واحد لشریک ہے آدم صفی ا کا
ہے۔ دوسرا کلمہ ا تعالے واحد اسکا کوئی
شریک نہیں محمد بندہ ا کا ہے پیغمبر ہے جن
کا۔
آدم اور حوا کو آسمان پر باغ عدن بہشت میں لؤ۔
اسوقت بہشت سے باہر جانا بغیر گندم کہانے کے
محال تھا۔ حوا نے کہا لیا۔ مگر ادھا دانہ نہ کہایا
تھا۔
آدم نے بھی دانہ باقیماندہ نصف کہا لیا بوجہ۔۔۔۔ تو
اسکو پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔
آخر بعد ستر برس کے حوا اور آدم کی ملقات
ہوئی۔
کابیل کو چونکہ محبت تہی لش کو پھینکنا ناگوار
سمجہکر اپنی پشت پر اٹھا لیا۔ چنانچہ چھ ماہ کا
عرصہ گذر گیا۔
جبرائل بحکم رب جلیل انکو بہشت میں لیگیا۔ تین
ہزار برس عدن میں آدم علیہ السلم رہے
کہتے ہیں کہ حضرت آدم فرزند پانچسو جفت تھے۔
عورتیں دین اورعقل میں دسترس نہیں کر سکتیں۔
اور کہا کہ ہر صبح نہا کر طعام کھانا اور اس بت
کو سجدہ کرتے رہنا۔
لفظوں کی امل مختلف تھی۔ مثل
خود میں ان کا سر طیار کروں گا۔
نوں غنہ کا حشوی استعمال موجود نہ تھا۔ مثل
دونو کوے قابیل کے روبرو لڑتے ہوئے
ما باپ بیٹا ایکدوسرے کو دور کر دے گا۔
نون غنہ کی جگہ‘ لون کا استعمال بھی کیا جاتا
تھا۔ مثل
میں اس زمانہ عیش و عشرت کر لون۔
لفظوں کو مل کر استعمال کرنا عمومی اور
مستعمل رویہ تھا۔ مثل
نیچے سے تمکو دکھائی دیگا
سوچکر کہنے لگا۔
اس گھر رحمت نہیں اتریگی۔
گندم کہانیکی وجہ سے
اپنا ہی ہر ایک بوجھ اوٹھائیگا۔
ایکدفعہ بہشت میں جانے دو
قابیل نے دیکہکر ویسا کیا۔
بعض لفظوں کا استعمال اور تفہیم‘ آج سے الگ تر
ہے۔ مٹل
آدم کا برحال رہا۔
قبر کے کھودنے کی تجویز کابیل کو معلوم نہ تہی۔
شیطان پروردگار جل عزاسمد کے مخالف اصلح
کرنے لگا۔
فرشتوں نے خدائے عزوجل کے حکم سے آدم کے
قد کو بنایا
زمین پر ڈالدے تا کہ میرے قد کا معائنہ کریں۔
انہوں نے مٹی بودار دم کی
تجہے موت کیچاشنی دونگا۔
اسواسطے کہ میں نہائت رضامند ہوں آدم سے۔
دونوں کلمہ کا حفظ کیا کرو
میوہ وغیرہ کا ناشتہ کرو
شیطان نےسانپ کے ہاں کہا تھا
بہشت کے باہر آدم کی جستجو کریں۔
دین اورعقل میں دسترس نہیں کر سکتیں
قدیم اور جدید اردو میں‘ مونث اور مذکر کا
استعمال مختلف ہے‘ یہ استعمال اپنی اصل میں
درست ہے‘ لیکن آج رائج نہیں۔ مثل
تجہکو خوف نہیں آئی تو ملعون ہوا ہے۔
بہشت کے دربان کے پاس امانت جا رکھا۔
جب حوروں نے آواز سنا
محاوروں کا استعمال اور معنوی بعد بھی موجود
ہے۔
سب کو ہاتھ افسوس ملنا پڑے گا۔
اسنے کوے کو وہیں گاڈ دیا۔
ایک سنگ راست کرکے انکو دیدیا
حیض کی بیماری عارض ہو گئی۔
ہر صبح نہا کر طعام کھانا
آدم کو بہی جستجو کیا تو نہ پایا۔
اپنی جگہ کرتے ہی سانپ کے منہ میں لعاب
ڈالدی۔
تم زمین پر جا ٹھہرنا
یہ عمل درآمد کرکے آسمان جانا کیا۔
بولنا بھی صلیب کو پہونچاتا ہے
گردن موڑنا موجب غضب ہے۔
خواب نہیں کرتا تھا
پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔
تسبیحیں کہتے تھے۔
حور سے پرہیز کر گیا ہے
پرہیز کر گیا کو تعلق کی استواری کے لیے لیا
گیا۔
سابقوں اور لحقوں کا استعمال آج سے قطعی
مختلف ہے۔ مثل
جبرائیل نے غصہ ناک ہو کر
بیفرمانی کے بہشت سے بہت اہانت کے ساتھ
نکالنے والے ہیں۔
کابیل۔ تو بیفرمان ہو گیا ہے
ضمائر میں واؤ کی بڑھوتی کر دی جاتی تھی۔ مثل
متکبر اونکو پست سمجھے۔
اونہوں نے کہا
اوس نے کہا مجہکو اتنی طاقت ہے۔
اون کی ناف پر اپنے منہ سے لعاب نکالکر لگا
لی
مصادر میں بھی‘ واؤ کی بڑھوتی موجود تھی اور
یہ عمومی اور مستعمل چلن تھا۔ مثل
جسوقت نیند میں ہووے
خطا پاوے جو وہ ناری ہے
آدم بہشت میں جاویگا۔
پرانی اردو میں‘ بھاری آوازوں سے زیادہ‘ ہلکی
آوازوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کتاب سے‘
:اس ذیل میں‘ چند ایک مثالینملحظہ ہوں
تم مسلمان کبہی نہیں ہو گے بھ
تہوڑے دنوں کے بعد تھ
ایک روز حوا رضی ا عنہا بیٹہے تھے ٹھ
مجہے اس بت سے بدبو آتی ہے۔ جھ
جہٹ فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ جھ
اونہوں نے پوچہا تمہارا کیا نام ہے۔ چھ
ورنہ پچہتانا پڑیگا۔ چھ
یہ نہائت اندہیر کوٹھا ہے۔ دھ
ل حول پڑہتا رہے ڑھ
پھر بہشت کو دیکہوں گا۔ کھ
جب اندر گہس گیا گھ
بھاری آوازیں بھی استعمال میں تھیں۔ مثل
افسوس میں کوے سے بھی کمتر ہوں۔ بھ
پھر جب ناک کو روح پہونچی پھ
پہلے نار ہی سے تھا تھ
فرشتوں نے سر اٹھایا ٹھ
اونکو پست سمجھے۔ جھ
پوچھنے لگے وہ کہاں ہے۔ چھ
مثل ہاتھ دھونا۔ منہ دھونا۔ دھ
دربان کے پاس امانت جا رکھا۔ کھ
سو جس گھر کتا ہو گا گھ
فصل در بیان مہتر آدم علیہ السلم اور ہابیل اور
کابیل کے بیانمیں
فرماتا ہے پروردگار۔ اے آدم خبر دی اونکو
شیطان کے نام سے جب آدم نے نام بتلئے تو
حکم سجدہ کا ہوا۔ جب چوتھی قرن کی آمد ہوئی
تو خداوند تعالی نے حکم دیا جبرائیل میکائیل
اسرافیل عزرائیل عزازیل کو کہ تم زمین پر جا
ٹھہرنا۔ فرشتوں نے حسب فرماں رب الجلیل زمین
پر آتے ہی حکم سنا ایک مرد دریا کے نیچے
سے تمکو دکھائی دیگا وہ نورمحمد علیہ السلم
ہو گا۔ اور گل آدم ہو گی اوسکو لیکر آدم کا اعصا
راست کرنا۔ اگر تمکو کچھ راست کرنیکی تجویرید
ہو۔ تو ستارہ جو آدم کے قد موافق ہیں انکے برابر
بنانا۔ اور خود میں ان کا سر طیار کروں گا۔
فرشتوں نےیہ عمل درآمد کرکے آسمان جانا کیا۔
بعد اسکے عزازیل کے دلمیں آیا۔ کہ کل کو یہ گل
آدم بہشت میں جاویگا۔ ہم کیا کرینگے۔ اس حالت
اسکے غم پیدا ہوا۔ چاہا کہ کسی اٹکل سے اسکو
لئق بہشت کے نہونے دیں۔ سوچنے کی بات ہے۔
تکبر یہ ہے کہ جسکا مرتبہ خدا عزجل نے علو
کو پہونچایا ہو۔ متکبر اونکو پست سمجھے۔ فی
الحقیقت وہ حق کے مخالف کرنیکی وجہ سے
متکبر خدایتعالی کا مقابل بن گیا ہے۔ ۔۔۔۔چاہیے کہ
حکم خدا کے سرکشی سے باز رہیں۔ ورنہ تکبر
یہی ہے بعینہ اس غدر سے خطا پاوے جو وہ
ناری ہے ۔۔۔۔۔ وہ طوق عزازیل اسکے گلے ہو۔
خبیث اور ملعون کہینگے۔ ص١١ -
یہی سوچ کر کہ بہشت کے لئق نہو۔ گھوڑوں کی
طرف گیا۔ انکے ہاں کہنے لگا کہ تم خوشی کر
رہے ہو۔ اور تمہارے واسطےآدم پیدا ہو چکا ہے۔
کل تمہاری پیٹھ پر سواری کریگا۔ تمکو تکیف
پہونچا دے گا۔ اونہوں نے جواب دیا کہ ہمارے
مالک کی خوشنودی اسی میں ہے تو ہم نہایت
رضامندی سے انکا محکوم ہونا پسند کرینگے۔
شیطان نے سوچا میرا داؤ یہ تو نہ لگا۔ کوئی اور
تجویز کرنی چاہیے۔ سوچکر کہنے لگا۔ عجب ہے
کہ تم اورآدم ایک خالق کی پیدائش ہیں۔ وہ آدم تم
پر سواری کر۔ لیعقل گھوڑوں نے داؤ کھا لیا۔
پوچھنے لگے وہ کہاں ہے۔ ابلیس ملعون نے کہا
کہ جو ناف زمین کا ہے وہاں ہے۔ جھٹ دوڑ کر
پاش پاش کر دیا۔ پھر بارہ سال کے عرصےکے
بعد سب فرشتوں کو حکم ہوا۔ کہ دوسری دفعہ آدم
کا بت بناؤ۔ شیطان پروردگار جل عز اسمد کے
مخالف اصلح کرنے لگا۔ اور کہا اے میرے رب
اگر حکم ہو تو نور یا نار یا ہوا یا پانی سےآدم کا
بت بنائیں۔ اسواسطے کہ زمین مین بےزبان جانور
ہیں۔ انکو توڑ ڈالتے ہیں۔ خطاب عزوجل ہوا۔ ال یہ
میں خوب جانتا ہوں تمکو خبر بہی نہیں۔ آدم کا قد
پہلی طرح بناؤ۔ دیکہو یہ اصلح مخالف رب تعالے
ابلیس کر رہا ہے۔ یہی مرحبا ہو ہے۔ ص۔ ١٢
مخالف حکم رب الجلیل اپنی رائے اور اصلح کو
دخل دینا موجب ہلکت ہے۔ اس سے پرہیز کرنا۔
شیخ سعدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں۔ بیت
اگر شاہ روز را گوند شب است ایں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ببائید
گفت اینک مہ پرویں
مخالف صلح کو کہاں۔ بولنا بھی صلیب کو
پہونچاتا ہے۔ فرشتوں نے خدائے عزوجل کے
حکم سے آدم کے قد کو بنایا۔ لکن بنا کر واپس
آسمان پر اپنے اپنے مکان پر چلے گئے۔ ابلیس
اکیل آدم کے پاس رہا۔ جب آدم اکیل ہوا تو اون کی
ناف پر اپنے منہ سے لعاب نکالکر لگا لی پھر
آسمان پر چل گیا۔ پھر دس برس کے بعد ا تعالی
کا حکم ہواکہ اے جبرائیل میکائیل سب جا کر
علیتیں جو مقام چوتھے آسمان پر ہے وہاں سے
روح آدم علیہ السلم کا لیکر انکے بدن میں ڈالو۔
جب فرشتے پروردگار کے حکم سے روح پاک کو
پردہ میں لیکر بت کے قریب لئے۔ تو روح القدس
کو جسوقت ڈالنے لگے اس نے کہا کہ مجہے اس
بت سے بدبو آتی ہے۔ خدا کی جناب میں آدم نے
عرض کی اے بار خدایا مجہے بدبو آتی ہے۔ اس
سے مجہے پناہ میں رکھ۔ خدا مہربان نے حکم دیا
کہ اے جبرائیل جو جگہ بدبودر ہے اونکو دور کر
دے۔ جب انہوں نے مٹی بودار دم کی تو اس مٹی
لعاب شیطان سے کتا پیدا ہوا۔ وہ کتا آواز کرتا بت
کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ فرشتے روح مقدس کو
ساتھ لیکر آسمان پر چلے گئے۔ حتے کہ ستر
برس کے عرصہ تک قد آدم بمعہ سگ وہاں رہا۔
یعنی فرشتوں کو آنے نہیں دیتا تھا۔ ص١٣-
اور وہ کتا کسی فرشتہ اور حیوان کو ساتھ گزرنے
نہ دیتا تھا۔ خواب نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ
کتا ابلیس کی لعاب سے دارمٹی سے ہے۔ شیطان
مردودورحمت سے محروم ہے بلکہ جس جگہ
شیطان ہو رحمت نہیں ہو گی۔ سو جس گھر کتا ہو
گا بغیر ضرورت حفاظت یا شکار خواص کے اس
گھر رحمت نہیں اتریگی۔ اتفاقا اراوت ازلی اسکو
نیند آ گئی۔ فرشتوں کو حکم ہوا شتابی روح قدس
آدم کے بدن میں ڈالو۔ جب جرائیل حسب فرمان رب
تعالے بمعہ مقربان پردہ سے روح مقدس کو لیکر
آئے تو روح مقدس نزدیک بت کے پہونچکر کہا
کہ یہ نہائت اندہیر کوٹھا ہے۔ یا رب تعالے
مجہےاپنے فضل سے ایکدفعہ اسی جگہ سے
مجہے نکالنا۔ تا کہ میں اس زمانہ عیش و عشرت
کر لون۔ ا تعالے نے حکم دیا کہ تجہے ضرور
ایکدفعہ اس بدن سے نکالوں گا۔ اور وہ نکالنا
تمہاری موت ہو گا۔ پروردگار فرماتا ہے سب چیز
کو مرنا ہے مگر ا کو نہیں ہے۔ تجہے موت
کیچاشنی دونگا۔ اورآدم کا سر خدایتعالے نے سنگ
مرمر سے راست کیا تھا۔ اسی وجہ سے آدمی کا
سر سخت ہوتا ہے۔ اورجب روح مقدس میں ڈالی
گئی۔ تو سر کے راستہ ڈالی گئی۔ ص۔ ١٤
اور ارشاد فرماتا ہے ا تعالے میں نے روح
مقدس کو ڈالکر بدن میں آدم کے کہ اسکوسجدہ
کرو۔ جب آدم نے آنکھ کہولی تو روح نے آنکھ
کے ذریعہ سے جہان کو دیکھ کر خوشی حاصل
کی۔ پھر جب ناک کو روح پہونچی تو آدم علیہ
السلم کو چھینک آئی۔ تو کہا سب تعریف ا
تعالے کی ذات کو ہے جو رب العلمین ہے جب
روح منہ میں آئی تو ہر قسم کی چاشنی گیر ہوئی۔
آدم علیہ السلم نے ویسی ہی خدائے خالق کی حمد
کہی۔ پھر خداے یتعالے نے فرشتوں کو حکم دیا
کہ آدم علیہ السلم کو سجدہ کرو۔ اسواسطے کہ
میں نہائت رضامند ہوں آدم سے۔ بمجرد حکم حاکم
تعالے کےسب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس
مردود نے کہا۔ کل میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا
ہےیہ مجہے درجہ میں بھی ہے۔ اسی وجہ حقیر
جانا۔ اور احکم الحاکمین کے حکم سے عدول کیا۔
مامون مقہور ہوا۔ حاکم حقیقی کے حکم سے گردن
موڑنا موجب غضب ہے۔ جب غلم حبشی درجہ
میں بڑھ جائے تو اسکا حکم عین پروردگار کا
ہوتا ہے۔
اس سے سرکش نہونا ورنہ پچہتانا پڑیگا۔ کسی
نے سچ کہا ہے۔ بیت
حکمران ہو کوئی بچاپنا ہو یا بیگانہ ہو
دی خدا نے جسے عزت اسکی عزت چاہئے
ص١٥ -
عزتدار کی ذلت کرنا اپنی ذلت کا موجب ہے۔ جب
فرشتوں نے سر اٹھایا۔ تو شیطان کے گلے میں
ستر ٧٠من لعنت کا طوق پڑ گیا۔ معلوم ہوا کہ ا
تعالے کے حکم سے سرکش ہوا ہے۔ جہٹ
فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ ابلیس نے عرض
کیا آپ کا حکم ایک سجدہ کا تھا۔ یہ دوسرا سجدہ
کیوں کر رہے ہیں۔ حکم ہوا میرے خوف سے
سجدہ میں پڑے ہیں۔ تجہکو خوف نہیں آئی تو
ملعون ہوا ہے۔ میرے حکم کو پس پشت کر دیا
ہے۔ میں نے تجہے مردود کیا ہے۔ تیری عبادت
دنیا میں تجہے دوں گا اور آخرت میں تو عذاب
الیم کا مستحق ہو گا۔ پھر عزازئیل کہ نام انکا
پہلے نار ہی سے تھا۔ آدم علیہ السلم سے بھاگ
گیا۔ تہوڑے دنوں کے بعد جبرائیل نے آدم علیہ
السلم کو یہ کلمے سکھائے وہ یہ ہیں۔ پہل کلمہ
ا واحد لشریک ہے آدم صفی ا کا ہے۔ دوسرا
کلمہ ا تعالے واحد اسکا کوئی شریک نہیں محمد
بندہ ا کا ہے پیغمبر ہے جن کا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سمجہایا کہ ان دونوں کلمہ کا حفظ کیا کرو
جب آدم علیہ السلم زمین پر سو گئے تو انکے
بائیں کروٹ سے حوا رضی ا عنہا پیدا ہوئی۔ پھر
جلدی خدا کا حکم ہوا کہ اے جبرائیل آدم اور حوا
کو آسمان پر باغ عدن بہشت میں لؤ۔ جبرائل بحکم
رب جلیل انکو بہشت میں لیگیا۔ تین ہزار برس
عدن میں آدم علیہ السلم رہے جبکہ رب تعالے
ارشاد فرماتا ہے یاد کرو اے محمد کیا ہمنے اے
آدم بمہ اپنی جورو بہشت میں رہ ص ١٦
میوہ وغیرہ کا ناشتہ کرو اور اس درخت کے
قریب ہرگز نہ جانا۔ نہیں تو ظالم ہو جاؤ گے۔ جب
گذرنے کو مدت پہونچی تو ایکدن عزازئیل ایک
گوسفند لیکر بہشت کے دربان کے پاس امانت جا
رکھا۔ اور کہا حسب ضرورت تمسے لے لوں گا۔
دربان نے کہا بہت اچھا۔ لکھتے ہیں۔ کہ آدم اور
حوا نے دربان سے پوچھا یہ دنبہ کہاں سے آیا
ہے۔ انہوں نے کہا عزازئیل کی امانت ہے۔ آدم علیہ
السلم نے جھٹ ذبح کرکے کھا لیا۔ ابلیس چند ایام
کے بعد آیا۔ ابلیس نے فرشتوں سے امانت طلب
کی۔انہوں نے کہا۔ کہ آدم علیہ السلم نے نوشجاں
فرمایا ہے۔ ابلیس خوش ہو کر آواز کرنے لگا۔ اے
بیٹے واسوس کہاں گیے ہو۔ جواب دیا کہ میں آدم
اور حوا کے سینے میں گھر بنائے بیٹھا ہوں۔
شیطان نے کہا رحمت ہو تمکو۔ کہ پہل نفس آدم کا
تو بنا ہے۔ جیسا کہ رب تعالے ارشاد فرماتا ہے
یعنے وہ انسان کے سینے میں وسوسہ ڈالنے وال
آدمی اور جن سے ہے۔ جب تین ہزار برس تمام
ہوئے۔ تو شیطان بہشت کے دروازے پر ایکدن
پہونچا۔
ص۔ ١٧
اسوقت کال سانپ اور ایک مور دربانی کر رہے
تہے۔ انکے ہاں جا کر کہنے لگا مجہے ایکدفعہ
بہشت میں جانے دو میں تجہکو تین ہزار فریب
انعام کروں گا۔ اونہوں نے پوچہا تمہارا کیا نام ہے۔
جواب دیا۔ کہ میرا نام عزازیل ہے۔ اونہوں نے کہا
کہ تجہکو اندر جانے کا حکم نہیں۔ اسواسطے کہ
تو ملعون ہوا ہے۔ لئق بہشت تو نہیں ہے۔ اوس
نے کہا مجہکو اتنی طاقت ہے۔ اگر تم مجہکو اپنی
آنکھ جگہ دیویں تو غائب ہو جاؤں گا پھر بہشت
کو دیکہوں گا۔ اسوقت مار و کوا دربان تھے۔ اور
مور اندر تھا۔ سانپ نے کہا اگر تم جلدی باہر آؤ
گے۔ تو تمکو لے جاتا ہوں۔ سانپ نے وعدہ کیا
جلدی باہر آؤنگا۔ سانپ نے منہ کھول۔ جھٹ
شیطان اسکے منہ میں گھس گیا۔ اپنی جگہ کرتے
ہی سانپ کے منہ میں لعاب ڈالدی۔ کہ اس سے
یہی زہر پیدا ہوا ہے۔ اوسوقت مور نے کہا۔ تمنے
بہت اچہا کیا۔ اس بات کے کہنے سے اس کے
پاؤں سیاہ ہو گئے۔ لیکن شیطان نےسانپ کے
ہاں کہا تھا کہ اندر میں جو کچہ میں کروں تم چپ
چاپ رہنا چنانچہ سانپ نے ایسا ہی کیا۔ جب اندر
گہس گیا تو شیطان رونے پیٹنے لگا۔ ص۔ ١٨
جب حوروں نے آواز سنا تو حیران ہو کر خازن
بہشت کو کہنے لگیں کہ تمکو کیا ہوا کہ ابلیس کو
تم نے اندر آنے دیا۔ اور تمہارے منہ سے آواز کر
رہا ہے۔ کہ اے حوا سنو آدم اور حوا گندم سے
محروم ہیں۔ اوہ اچھا طعام ہے۔ اور دوسرا یہ کہ
آدم ایک حور پر عاشق ہو گیا ہے۔ اور حور سے
پرہیز کر گیا ہے۔ وہ اس حور کے ساتھ مزے اڑا
رہا ہے۔ جب حوا نے یہ بات سنی تو بہت پریشان
ہوئی۔ آدم کو بہی جستجو کیا تو نہ پایا۔ اسوقت
حوا کو اس لعین کے مکروفریب کا خیال بھول گیا
تھا۔ جھٹ حوا کو خیال آیا کہ بہشت کے باہر آدم
کی جستجو کریں۔ اسوقت بہشت سے باہر جانا
بغیر گندم کہانے کے محال تھا۔ حوا نے کہا لیا۔
مگر ادھا دانہ نہ کہایا تھا۔ اس حیض کی بیماری
عارض ہو گئی۔
کہتے ہیں عورتیں دین اورعقل میں دسترس نہیں
کر سکتیں۔ اسوقت سے حیا اور شرم شروع ہو گیا
ہے۔ بعد اسکے جبرائیل امین کو حکم سرکار
اعظم سے ہوا کہ حوا کو بمعہ سانپ اور کبودک
اور مور باہر نکالیں اور زمین پر ڈالدے تا کہ
میرے قد کا معائنہ کریں۔ جبرئیل علیہ السلم
حسب الحکم کاروائی شروع کرکے نکالدیا۔ جب آدم
کو خبر گذری کہ حوا کو گندم کہانیکی وجہ سے
ا تعالے نے بہشت سے نکالکر زمین پر ڈالدیا۔
جھٹ آدم نے بھی دانہ باقیماندہ نصف کہا لیا
بوجہ۔۔۔۔ تو اسکو پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔ اسوقت
حکم ہوا کہ اے جبرائیل جا کر بہشت سے آدم کو
برہنہ کرکے نکالدے۔ بوجہ اسکے کہ میرا نافرمان
ہوا ہے اور یہاں ناپاکی کرتا ہے اور بہشت پاک
جگہ ہے۔ ص۔ ١٩
جب جبرائیل ا کے حکم سے بہشت میں گئے تو
کیا دیکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلم گندم سے اپنا
پیٹ بھرے کھڑا ہے۔ جبرائیل نے غصہ ناک ہو
کر تمام کپڑے مثل جامہ دستار ٹوپی وغیرہ چھین
لئے۔ جب سر سے کلہ اتاری تو آدم علیہ السلم
نے اپنے ہاتھوں کو سر پر کر لیا۔ اس وجہ سے
سر کا مسح فرض ہے یعنے چہارفرض اسوقت
کے بہی ہیں۔ مثل ہاتھ دھونا۔ منہ دھونا۔ سر کا
مسح کرنا۔ پاؤں کا دھونا۔ پھر کپڑے اوتار کر آدم
جو ہمارے باپ ہیں پیغبر خدا۔ مقبول خدا کہ بوجہ
مذکور کے پکڑ زمین پر ڈالدیا۔ کل شی مرجع اے
اصلہ خاکی آدم خاک کیطرف گیا ہے۔ وہ کوہ قاف
میں رہے۔ ستر برس تک حوا علیہ السلم سے جدا
رہے۔ آدم کے رونے سے فلفل بیدا ہوئی۔ اور حوا
کے رونے سے مروارید بنگئے۔ وہ جبرائیل جو
پہلے تعظیم و تکریم کرنے وال تھا۔ وہی بوجہ
ایک بیفرمانی کے بہشت سے بہت اہانت کے
ساتھ نکالنے والے ہیں۔ مولوی روم صاحب
فرماتے ہیں۔
یک گناہ چوں کرد گفتندش تمام
مذہنی مذہنی بیروں خرام
تو طمع میداری چندیں گناہ
داخل جنت شوی اے روسیاہ
ص۔ ٢٠
آخر بعد ستر برس کے حوا اور آدم کی ملقات
ہوئی۔ کسی نے کہا ہے۔ بیت
ہر دم دعا ہا میکنم بر خاک مے عالم جبیں
جمع کن باد و ستم یا جامع المتفرقیں
پھر حکم جبرائیل کو ہوا کہ ایک جوڑا اور کچہ
گندم بہشت سے لیکر آدم کو دیدے۔ جبرائیل نے
آدم کو جوڑا اور کچہ گندم حوا کو دیدی اور کچہ
آدم کو دی۔ خدا کے حکم سے ہل جوت کر بیج ڈال۔
آدم کے بیج سے گندم اور حوا کے بیج سے جو
پیدا ہوئے۔ حکایت
ایک روز حوا رضی ا عنہا بیٹہے تھے متفکر ہو
کر۔ بہشت کی نعمتیں یاد کر رہے تھے۔ تسبیحیں
کہتے تھے۔ کہ رب جلیل رحمن۔ غفورالرحیم منان
تیرا ہر وقت احسان بہشت میں عجیب نعمتیں تو
دیتا تہا۔ شربت پلتا تھا۔ شیر شہد سے عجیب
تھے۔ اب آپنے کبھی نہیں عنایت فرمائی میرا بخت
سیاہ ہے تیری نافرمانی سے ناگاہ خندق میں گر
گئی ہوں۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ بیت
یاد میں نعمت کے رہے ہر دم
کھاتے تھے بہشت ذوق سے پیہم
حاشیہ :ہندوانہ اور خربوزہ وہاں کے ہیں
ص۔ ٢١
فریاد سن کر ا تعالے فرمایا۔ کہ اے جبریل دو
خربوزہ لیکر ایک حوا کو دوسرا کو دیدے جبریل
ویسا ہی کیا۔ حوا حاملہ تھیں۔ اسوجہ سے حوا کا
خربوزہ ہندوانہ بن گیا۔ اور آدم کا برحال رہا۔
ایکدن جبریل کو حکم ہوا کہ حوا کے ہاں دو بچے
صبح اور دو بچے شام ہونگے اور دو بچے پہلے
پیدا ہوں انکو شتابی جدا کرنا اور انکا نام ہابیل
اور کابیل رکہنا۔ اور جو لڑکیاں شام کو پیدا ہوں
پہلی ہابیل کو اور دوسری کابیل کو بیاہ دینا۔ اتفاقا
دوسری لڑکی ایک آنیکھ سے دیکھ نہ سکتی تہی۔
کابیل نے منظور نہ کیا۔ اور ہابیل کی عورت کو
لیا۔ جب آدم علیہ السلم تہوڑی دیر کے بعد آئے تو
کہا۔ اے کابیل۔ تو بیفرمان ہو گیا ہے اور غضبناک
ہو کر کابیل کو کہا۔ تو نے برا کیا۔ اور تو کافر بن
گیا ہے۔ مجھ سے تم دونو دور ہو جاؤ۔ اور کہیں
اور زراعتکاری کرو اور اپنا بسیرا کرو۔
ندا آید درانگہ دور شو دور
قیامت کے روز جسطرح حضرت آدم علیہ السلم
اپنے مقرب بیٹے کو نافرمانی کی وجہ سے دور
کر رہا ہے۔ اسی طرح ما باپ بیٹا ایکدوسرے کو
دور کر دے گا۔ اور اپنا ہی ہر ایک بوجھ اوٹھائیگا۔
ص۔ ٢٢
الئیہ۔ بغیر عمل توحید کے رسول بھی شفاعت نہ
کرینگے۔ سب کو ہاتھ افسوس ملنا پڑے گا۔ شیخ
عطار فرماتے ہیں۔ بیت۔ ہست سلطانی مسلم مرا
درا نیست کس را زہر چوں وچرا
عذر معذرت کچہ کام نہ آئیگی۔ چنانچہ آدم و حوا
بغیر پرسش نکالے گئے۔ بیفرمان کا بغیر پرسش
دوزخ جانا پڑیگا۔ اعان ا وابوانا و استاذنا و
سائرالمسلمین امیں۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں۔ ستم
بر ضعیفان مسکین مکن۔۔۔۔۔کہ ظالم دوزخ رود
بےسخن۔ اور کسی نے کہا ہے۔ وہ سنت نبی
جسکو پیاری نہیں۔۔نبی بھی اس سے بیزار ہو جاتا
ہے۔ جب آدم علیہ السلم سے کابیل کسی اور جگہ
رہنے لگے تو ایکدن عزازیل نے آ کر کہا کہ تو
اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈال کیونکہ یہ تجھ سے
بڑا ہے۔ پھر تو تمام زمین کی بادشاہی کریگا۔ کابیل
نے کہا مجہے قتل کرنا معلوم نہیں ہے۔ عزازیل
نے کہا جسوقت نیند میں ہووے تب ایک بٹہ لیکر
اسکے سر خوب لگا۔ اس نے حسب کہنے عزازیل
کے کا کیا۔ اور ہابیل مر گیا انا ل و انا الیہ
راجعون۔ کابیل کو چونکہ محبت تہی لش کو
پھینکنا ناگوار سمجہکر اپنی پشت پر اٹھا لیا۔
چنانچہ چھ ماہ کا عرصہ گذر گیا۔ قبر کے کھودنے
کی تجویز کابیل کو معلوم نہ تہی۔ ایکدن دو
فرشتے کوے کی صورت پر گھڑا کھودا اور اسنے
کوے کو وہیں گاڈ دیا۔ پھر کابیل نے بھی ان کو
دیکہکر اپنے بھائی کو دبایا۔
جیسا کہ ا تعالے اپنی کلم پاک میں فرماتا ہے۔
بھیجا ا نے کوے کو زمین کھود کر اپنے بھائی
کوے کی لش کو دفن کرتا تھا دیکہکر کابیل نے
کہا افسوس میں کوے سے بھی کمتر ہوں۔ اگر
کوے جیسا ہوتا تو اپنے بھائی کی لش کو دفن
کرتا۔ یہ کہہکر شرمسار ہوا۔ دونو کوے قابیل
کےروبرو لڑتے ہوئے ص۔ ٢٣ایک کوے نے
دوسرے کوے کو مار ڈال پھر اپنے چونچ اور
پنجوں سے گڑہا کھود کر کوے ک دبا۔ قابیل نے
دکھکر غم کھایا۔ اور کہا کہ میں کوے جیسا ہوتا
تو اپنے ہاتھ گڑہا کھودتا۔ اوراپنے بھائی کو دباتا۔
پھر قابیل نے دیکہکر ویسا کیا۔ یہ طریقہ گور۔۔۔
قبر بنانے کا۔۔۔ یہاں سے شروع ہوا ہے۔ اور ہایل
کی سب قوم مسلمان ہیں۔ ایک دن آدم نےقابیل
سے پوچھا ہابیل کہاں ہے کہا مجہے معلوم نہیں۔
بہت دن سے مجہسے رخصت ہو گیا ہے۔ آدم علیہ
السلم حیران ہوا۔ خد ا کی جناب سے ندا آئی کہ
تیرے بیٹے قابیل نے قتل کر ڈال ہے۔ تا کہ تجہے
معلوم ہو۔ کہ میرے ایسے بیٹے ہیں۔ تو نہینجانتا
شیطان انسان کا دشمن ہے۔ جب آدم نے جواب سنا
تو قابیل پر غصہ ہوا۔ اور کہا کہ تو نہایت پرلے
درجہ کا کافر ہے۔ تم مسلمان کبہی نہیں ہو گے۔
جیسا کہ قابیل حران ہوا۔ اسوقت سے شیطان
انسان کا دشمن چل آتا ہے اور مرتے وقت انسان
کےساتھ بیجا حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ مومن کو
چاہئے کہ اس کے فریب سے بچے ل حول پڑہتا
رہے۔ ص۔٢٤
تھوڑے دنوں کے بعد ابلیس نے قابیل کے پاس آ
کر کہا کہ میں جبرائیل ہوں خدا یتعالے نے تمہاری
طرف بھیجا ہے۔ اور کہا ہے کہ اور طریقہ آدم کا
باقی ہے۔ وہ اب تجہکو سیکہاتا ہوں۔ قابیل نے
خوش ہو کر کہا۔ بہت اچھا۔ تو عزازیل نے خوش
ہو کر تسلی اپنی کر لی کہ ابھی اسکو کافر کر لوں
گا پھر عزازیل نے کہا تجھکو خدا کے نام سکھاتا
ہوں۔ انکو ہر وقت ضبط رکھنا پھر شیطان نے
مذکورہ نام مردوں اور عورتوں کے بتلئے اور
کہا کہ ایک اور بھی امانت ہے۔ وہ یہ ہے ایک
سنگ راست کرکے انکو دیدیا۔ اور کہا کہ ہر صبح
نہا کر طعام کھانا اور اس بت کو سجدہ کرتے رہنا۔
اوراپنا منھ مشرق کو کرنا۔ اور تمہارے ماں باپ
آدم حوا نہیں۔ بلکہ پاربتی اورمہادیو ہیں۔ اوراسی
راہ پر چلنا۔ اورتمکو جلئینگے۔ یہ قوم کافروں
کی اسی جگہ سے شروع ہوئی ہے۔ یہ نہیں
جانتے کہ شیطان نے اپنے پھندے میں اسکو
ڈالدیا ہے اور دوزخ کا ساکن بنا دیا ہے۔ خدا نے
فرمایا ہے سب چیزوں کو اپنی عبادت کے
واسطے پیدا کیا۔ اسکے خلف چل رہے۔ کہتے ہیں
کہ حضرت آدم فرزند پانچسو جفت تھے۔ ص۔ ٢٥
نقل ۔۔۔۔ ایک روز حضرت آدم کے فرزند جمع ہو کر
آپس میں صلح کرنے لگے کہ باپ کو مار ڈالئے
اور بادشاہ اور پیغمبر ہمارے واسطے نازل ہو
جائیگا۔ اسی مشورہ میں تھے کہ ا تعالے آدم کو
خبر دی کہ تمہیں فرزند مارنا چاہتے ہیں۔ اگر تم
چاہو۔ تو اونکو مار ڈالو اورپھر انکار آپکا کبھی
نہو۔ آدم نے کہا یا خدایا کوئی اور تدبر کرو۔ تو ا
تعالے نے جبریل کو حکم کیا کہ بہشت میں بانگ
دو۔ جبریل حسب الحکم رب الجلیل بانگ دیدی تو
اونکو آواز سنتے ہی انکی زبانیں بدل گئیں۔ جیسا
کہ عربی فارسی وغیرہ جو آپسمیں مشہور ہیں۔
ایکدوسریکا سخن نہیں سمجہتے تہے۔ اس وجہ
سےمشورہ باطل ہو گیا۔ یہ زبانیں اس زمانہ سے
شروع ہیں۔ اوسوقت سے زبانیں مختلف پھر
مارنے کی مشورہ بدل گئی۔ وازیں وجہ مسلمان
اور ہندو ہونا ہو گیا۔ جب آدمی بادشاہی کرنے
لگے تو انہوں نے شہر کا نام ملتاں رکھا۔ آدم علیہ
السلم کیوقت سے اسکا نام ملتان شہر ہے۔
اوراسوقت سے یہ شہرآباد ہے۔ اس شہر میں بڑے
بڑے بزرگوں کی خانقا ہیں ایک بہاؤلحق صاحب
ایک شمس تبریز صاحب کی ایک موسے پاک
شہید کی علوہ اور بہت ہیں۔ ص۔ ٢٦اور یہ کافر
کی اولد ہیں۔ اور مسلمان بمعہ جمیع پیغبران شیث
سے محمد علیہ السلم تک ہابیل کی اولد ہیں۔
ص۔٢٧
پروفیسر سوامی رام تیرتھ کی غالب طرازی
لفظ‘ دوسروں تک بات پہنچانے کا ذریعہ ہوتے
ہیں۔ لفظ معنویت سے تہی نہیں ہوتے۔ اصل ہنر‘
ان کا استعمال ہے۔ لفظ کا بہترین‘ مناسب حال اور
جذبے کی حقیقی ضرورت کے مطابق‘ استعمال ہی
کمال فن ہے۔ اسی حوالہ سے‘ قاری یا سامع اثر
لیتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک‘ صاف صاف اور
واضح معنی کی حامل گفتگو‘ ہی درست رہتی ہے۔
اسی بنیاد پر غالب پر‘ بہت سے اعتراضات ہوئے۔
آدمی گویا تن آسان ہی نہیں فکری حوالہ سے
بھی‘ کوشش اور تردد سے بچنا چاہتا ہے۔ حالں
کہ غور کرنا‘ اور متواتر غور کرنا فکری بلوغت
کی طرف سفر کرنا ہے۔ لفظ وہ ہی ہوتے ہیں‘
لیکن ان کا استعمال طرح دار‘ عمومی معنویت
سے ہٹ کر‘ یا عمومی استعمال سے الگ تر ہی
ہنرمندی کی دلیل ہوتا ہے۔
صاف صاف گفتگو‘ بےشک مطالب اور بات
سمجھنے کے حوالہ سے‘ آسانی پیدا کرتی ہے‘
تاہم یہ صاف صاف کھری گفتگو کے باعث‘ خرابی
کے رستے کھل سکتے ہیں۔ علمتوں‘ استعاروں‘
ذومعنویت‘ مجموعی تخاطب وغیرہ کا استعمال‘
درحقیقت‘ فساد کا رستہ بند کرنے کے مترادف
ہے۔ بہادر شاہ ظفر کا مشہور زمانہ شعر ہے۔
چشم قاتل تھی میری دشمن ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہوگئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
اگر واضح طور پر کہہ دیا جاتا‘ کہ انگریز کی
آنکھ کا کانٹا ہمیشہ سے رہا ہوں‘ لیکن اب تو اس
کی ستم گری کی حد ہوگئی ہے۔ ایسا کہنے سے‘