The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2015-11-14 00:36:25

5

5

‫سعودی ترجمہ بھی دن ہی ہوا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا' شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی‬
‫تھانوی' مولوی احمد رضا خاں بریلوی' مولوی‬

‫فرمان علی نے یوم کا ترجمہ روز کیا ہے۔‬

‫لفظ دین' مذہب کے معنوں میں عام استعمال کا‬
‫ہے۔‬

‫مرکب بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثل دین محمدی'‬
‫دین اسلم' دین دار' دین دنیا وغیرہ‬

‫ناموں میں بھی مستعمل ہے۔ مثل احمد دین' دین‬
‫محمد' چراغ دین امام دین وغیرہ‬

‫دین دار ایک ذات اور قوم کے لیے بھی مخصوص‬
‫ہے۔‬

‫دین کے معنی رستہ بھی لیے جاتے ہیں۔‬
‫ڈاکٹر عدالحکیم خاں نے' اس لفظ کو' جزا کے‬

‫معنوں میں لیا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی سید‬
‫مودودی' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی احمد‬
‫رضا خاں بریلوی' مولوی فرمان علی نے لفظ دین‬

‫کو جزا کے معنوں میں لیا ہے۔‬
‫مولوی محمد جونا گڑھی نے' لفظ دین کا ترجمہ‬

‫قیامت کیا ہے۔‬
‫مولوی محمد قیروز الدین اور مولوی بشیر احمد‬
‫لہوری نے' لفظ دین کو انصاف کے معنوں میں‬

‫لیا ہے۔‬
‫سعودی ترجمے میں' اس کا ترجمہ بدلے کا' جب‬
‫کہ قوسین میں قیامت درج ہے' معنی لیے گیے‬

‫ہیں۔‬

‫لفظ عبد' اردو میں عمومی استعمال کا نہیں' تاہم‬
‫اشخاص کے ناموں میں باکثرت استعمال ہوتا ہے۔‬

‫مثل عبدا' عبدالقادر' عبداعزیز' عبدالکریم'‬
‫عبدالرحمان' عبدالقوی وغیرہ‬

‫نعبد کا ڈاکٹر عبدالحکیم' مولوی فیروز الدین'‬
‫مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی سید مودودی'‬
‫مولوی فرمان علی' مولوی اشرف علی تھانوی نے‬

‫ترجمہ عبادت کیا ہے۔‬
‫سعودی ترجمے میں بھی معنی عبادت لیے گیے‬

‫ہیں۔‬
‫مولوی احمد رضا خان نے پوجھیں ترجمہ کیا ہے۔‬
‫شاہ عبدالقادر اور مولوی بشیر احمد لہوری نے‬

‫بندگی معنی دیے ہیں۔‬

‫شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں‬
‫می پرستیم معنی دیے ہیں۔ لفظ پرست' پرستی'‬
‫پرستش اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں' بلکہ‬

‫بول چال میں موجود ہیں۔‬

‫لفظ صراط' اردو میں عام استعمال کا نہیں' لیکن‬
‫غیر مانوس بھی نہیں۔ مرکب پل صراط عام‬

‫بولنےاور سننے میں آتا ہے۔ لوگ اس امر سے‬
‫آگاہ نہیں' یہ دو الگ چیزیں ہیں۔‬

‫ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'‬
‫مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور مولوی سید‬
‫مودودی نے' اسے رستہ کےمعنی دیے ہیں۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی محمد‬

‫فیروزالدین' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر‬
‫احمد لہوری اور مولوی فرمان علی نے صراط کا‬

‫ترجمہ راہ کیا ہے۔‬
‫سعودی ترجمہ بھی راہ ہی ہوا ہے۔‬

‫لفظ مستقیم' عمومی استعمال میں نہیں۔ نام کے‬
‫لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ جیسے محمد مستقیم‬

‫اسی طرح' خط مستقیم جیویٹری کی اصطلح‬

‫سننے میں آتی ہے۔‬
‫ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'‬
‫مولوی احمد رضا خاں بریلوی' اور مولوی سید‬

‫مودودی نے' سیدھا ترجمہ کیا ہے۔‬
‫صراط مستقیم بمعنی سیدھا رستہ‬
‫مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر احمد‬
‫لہوری اور مولوی فرمان علی نے سیدھی ترجمہ‬
‫کیا ہے۔ سعودی ترجمہ بھی سیدھی ہوا ہے لیکن‬
‫قوسین میں سچی درج کیا گیا ہے۔‬
‫صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ‬
‫شاہ ولی ا دہلوی نے' اس کے لیے لفظ راست‬

‫استعمال کیا ہے۔‬
‫صراط مستقیم یعنی راہ راست‬

‫انعمت' نعمت سے ہے۔ لفظ نعمت' بولنے اور‬
‫لکھنے پڑھنے میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ پنجابی‬

‫میں اسے نیامت روپ مل گیا ہے۔‬
‫نام بھی رکھے جاتے ہیں جیسے نعمت علی' نعمت‬

‫ا‬
‫ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'‬
‫مولوی محمد جونا گڑھی اور مولوی سید مودودی‬

‫نے' اس کا انعام ترجمہ کیا ہے۔‬
‫سعودی ترجمہ میں بھی انعام استعمال میں آیا ہے۔‬

‫شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور‬
‫مولوی بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ فضل‬

‫کیا ہے۔‬
‫مولوی فرمان علی نے نعمت' احمد رضا خاں‬
‫بریلوی نے احسان' جب کہ شاہ ولی ا دہلوی نے‬

‫اسے اکرام معنی دیے ہیں۔‬
‫انعام و اکرام عمومی استعال کا مرکب ہے۔‬

‫مغضوب' اردو میں استعمال نہیں ہوتا' تاہم اس کا‬
‫روپ غضب' اردو میں عام استعمال ہوتا ہے۔‬
‫مولوی محمد فیروزالدین' مولوی بشیر احمد‬
‫لہوری' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی احمد‬
‫رضا خاں بریلوی اور مولوی فرمان علی نے‬
‫غضب کے معنی لیے ہیں۔‬
‫سعودی ترجمہ میں بھی غضب مراد لیا گیا ہے۔‬
‫شاہ عبدالقادر نے غصہ' جب کہ مولوی سید‬
‫مودودی نے عتاب معنی لیے ہیں۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں‬
‫خشم معنی لیے ہیں۔‬

‫ضالین' ضللت سے ہے۔ اردو میں یہ لفظ' عام‬
‫بول چال میں نہیں۔ ہاں البتہ ذللت عمومی استعمال‬

‫میں ہے۔ ضللت لکھنے میں آتا رہا ہے۔‬
‫شاہ عبدالقادر اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے‬
‫گمراہ' مولوی محمد جونا گڑھی ' مولوی محمد‬
‫فیروزالدین' مولوی بشیر احمد لہوری اور مولوی‬

‫فرمان علی نے گمراہوں ترجمہ کیا ہے۔‬
‫مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے بہکنا معنی‬

‫مراد لیے ہیں۔‬
‫مولوی سید مودودی نے' بھٹکے ہوئے ترجمہ کیا‬

‫ہے۔‬
‫سعودی ترجمہ گمراہی ہوا ہے۔‬
‫شاہ ولی ا دہلوی نے گمراہان ترجمہ کیا ہے۔‬

‫ان کے علوہ' چار لفظ اردو میں باکثرت استعمال‬
‫ہوتے ہیں‬

‫علیہ‪ :‬کلمہء احترام کے دوران' جیسے حضرت‬
‫داؤد علیہ اسلم‪........‬مدعا علیہ' مکتوب علیہ‬

‫وغیرہ‬
‫غیر‪ :‬نہی کا سابقہ ہے' جیسے غیر محرم' غیر‬

‫ارادی' غیر ضروری' غیر منطقی وغیرہ‬
‫ل‪ :‬نہی کا سابقہ ہے' جیسے لحاصل' لعلم' ل‬

‫یعنی' لتعلق وغیرہ‬
‫و‪ :‬و اور کے معنی میں مستعمل چل آتا ہے۔ مثل‬
‫شب و روز' رنگ ونمو' شعر وسخن' قلب ونظر‬

‫وغیرہ‬
‫کمشنر و سپرنٹنڈنٹ' منیجر و پرنٹر وغیرہ‬

‫درج بال ناچیز سے جائزے کے بعد' یہ اندازہ کرنا‬
‫دشوار نہیں رہتا' کہ عربی نے اردو پر کس قدر‬
‫گہرے اثرات مر تب کیے ہیں۔ مسلمانوں کا حج‬
‫اور کئی دوسرے حوالوں سے' اہل عرب سے‬

‫واسظہ رہتا ہے۔ اس لیے مختلف نوعیت کی‬
‫اصطلحات کا' اردو میں چلے آنا' ہر گز حیرت کی‬

‫بات نہیں۔ روزمرہ کی گفت گو کا' تجزیہ کر‬
‫دیکھیں' کسی ناکسی شکل میں' کئی ایک لقظ‬
‫نادانسہ اور اظہاری روانی کے تحت' بولے چلے‬
‫جاتے ہیں۔ مکتوبی صورتیں بھی' اس سے مختلف‬

‫نہیں ہیں۔‬

‫گنج سوالت' ایک لسانیاتی جائزہ‬

‫مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور‬
‫المعروف باباجی شکرا کی باقیات میں سے' ایک‬

‫انچاس صفحات کی کتاب۔۔۔۔۔ گنج سوالت ۔۔۔۔۔‬
‫دستیاب ہوئی ہے۔ یہ کتاب ‪1858‬ء میں شائع‬

‫‪:‬ہوئی۔ اس کا ٹائیٹل پیج کچھ یوں ہے‬
‫گنج سوالت‬

‫قانون دیوانی پنجاب وسرکلرات‬
‫صاحب جوڈیشل کمشنر بہادر پنجاب مجریہ‬

‫بعد مشتہر ہونے قانون مذکور کے‬
‫مولفہ‬

‫مستر رابرٹ ینڈہم کسٹ صاحب بہادر کمشنر و‬
‫سپرنٹنڈنٹ قسمت لہور جسکو‬

‫مستر ایف اسکارلٹ صاحب بہادر پرنسپل اسسٹنٹ‬
‫کمشنر نے‬
‫باعانت‬

‫منشی درگا پرشاد پنڈت کے ترجمہ کیا‬
‫ء‪1858‬‬

‫مطبع کوہ نور لہور میں باہتمام پنڈت سورج بہان‬

‫منیجر وغلم محمد پرنٹر کے چہپہ‬

‫اس کتاب کے تائیٹل پیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ‬
‫‪1858‬ء میں' لہور ذویژن تھا اور یہاں سے‬
‫جاری ہونے والے احکامات' پنجاب پر لگو ہوتے‬
‫تھے' یا یوں کہہ لیں' لہور قسمت میں پورا پنجاب‬
‫داخل تھا۔ لہور قسمت کا کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ‬
‫رابرٹ ینڈہم کسٹ' جب کہ پرنسپل اسسٹنٹ کمشنر‬
‫ایف اسکارلٹ تھا۔ منشی درگا پرشاد پنڈت' پرنسپل‬
‫اسسنٹ کمشنر ایف اسکارلٹ سے وابستہ تھے۔‬
‫ترجمہ صاف اور رواں دوا ں ہے۔ تحریر سے یہ‬
‫ظاہر ہوتا ہے کہ ترجمہ' ایف اسکارلٹ نے کیا‬
‫ہے جب کہ منشی درگا پرشاد پنڈت نے' محض‬
‫معاونت کی ہے۔ ترجمے کیی روانی اور ترجمے‬
‫کی زبان' اس امر کی یکسر تردید کر رہی ہے‪.‬‬
‫بااختیار لوگ اوروں کا کیا' اپنی گرہ میں کرتے‬
‫آئے ہیں یہ کوئی ایسی نئی اور حیران کن بات‬

‫نہیں۔‬

‫انگریز اگرچہ ایک عرصہ پہلے سے' ہندوستان‬
‫کے اقتدار پر قابض تھا' تاہم باطور حاکم واضح نہ‬

‫ہوا تھا۔ گلیوں میں' کسی منادی کے ابتدائی کلموں‬
‫میں کہا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ ملک شاہ کا حکومت کمپنی‬
‫بہادر کی۔۔۔۔۔۔ ‪1857‬ء میں' ملک بھی انگریز کا ہو‬
‫گیا تھا۔ انگریز فقط دو ڈھائی ہزار کی تعداد میں‬
‫تھے۔ فتح ‪1857‬ء میں' معاون کرداروں کو' جہاں‬
‫جاگیریں وغیرہ دی گئیں' وہاں خطابات اور اعزای‬
‫عہدوں سے بھی نوازا گیا۔ یہ حضرات مخبری'‬
‫چغل خوری اور دو نمبری میں طاق ضرور تھے'‬
‫لیکن اطوار و ضوابط جہاں بانی سے' آگاہ نہ‬
‫تھے۔ انہیں معاملت باطریق احسن اور باضابطہ‬
‫نپٹانے کے لیے' لئحہ عمل فراہم کرنا ضروری‬
‫تھا تا کہ ان کی من مانی کے زیراثر' کوئی شورش‬

‫جنم نہ لے سکے۔ اس کتاب کے متن سے'‬
‫بہرصورت یہ ہی اندازہ ہوتا ہے۔ اس ذیل میں‬
‫‪:‬باطور نمونہ دو چار مثالیں ملحظہ فرمائیں‬

‫‪.‬۔ نہایت قانون نہایت ظلم ہے‪1‬‬
‫۔ وکیل کا ساختہ برداختہ تمہارا ساختہ برداختہ‪2‬‬

‫ہے۔‬
‫۔ شرع و قانون رواج سے گہرا ہوا ہے۔‪3‬‬
‫۔ خرچہ دیوانی مین تمیز کرو اور غیر واجبی‪4‬‬

‫خرچہ ہرگز نہ درج کرو۔‬
‫۔ ہنگام رجوع نالش کے حاکم کو یہہ لزم نہین‪5.‬‬
‫کہ بطور نابینا حکم قلمبندی اظہار صادر کرے اور‬
‫پہر حسب ضابطہ حکم طلبی گواہان و مدعا علیہ‬

‫صادر کرے بلکہ ہوشیار حاکم اول ذرا تکلیف‬
‫اوٹہاتا ہے اور پیچہے بہت تکیف سے محفوظ رہتا‬

‫ہے یعنی اوسکو اول ۔ہنگام رجوع مقدمہ ان‬
‫باتونکا خیال کرنا چاہئے۔‬

‫جو افسر اور اہل کار' یہاں آئے غیر مثعلقہ فیلڈ‬
‫کے تھے دوسرا انہیں ان کی اوقات سے بڑھ کر‬
‫عہدے دے دیے گیے یا کم از کم ون سٹیپ اپ کیا‬
‫گیا۔ اوپر سے' غلم قوم کی جی حضوری اور‬
‫گماشتوں کی حد سے بڑھ کر چاپلوسی نے' ان‬

‫کے دماغ خراب کر دیے تھے‪ .‬ایسے میں‬
‫ناانصافی کا جنم لینا' فطری سی بات تھی۔ اس کے‬
‫نتیجہ میں' اس قسم کی ہدایات کا جاری کیا جانا‬
‫ضروری تھا۔ آزادی ہند میں' جہاں یہاں کے حریت‬

‫پسندوں' امریکہ کی مداخلت اور ہٹلر کی اندھی‬
‫یورش کا ہاتھ ہے' وہاں بےانصافی اور حد سے‬
‫بڑھ کر دلنوازی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا‬

‫‪.‬سکتا‬

‫اس کتاب کے پہلے حصہ میں' تمہید کے بعد'‬
‫ہدایات باعنوان۔۔۔۔ ہدایات و اصول مفصلہ ذیل پر‬

‫افسران دیوانی ناآزمودء کار کو توجہ کرنا‬
‫'چاہیے۔۔۔۔۔‬

‫دوسرے حصہ میں ۔۔۔۔۔۔۔ فہرست ابواب گنج‬
‫سوالت قانون دیوانی پنجاب‬

‫جب کہ تیسرے حصہ میں۔۔۔۔۔سوالت دستورالعمل‬
‫قانون دیوانی پنجاب' دیے گیے ہیں۔‬
‫کتاب انچاس صفحات پر مشتمل ہے۔‬

‫رموز کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کتاب میں‬
‫بھی رموز کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ یہ امر چوں کہ‬
‫رواج میں نہ تھا' س لیے اسے' مکتوبی نقص‬
‫نہیں سمجھا جا سکتا۔ فقرے لمبے بنانے کا رواج‬
‫تھا۔ یہ کتاب چوں کہ سوالت اور ہدایات سے‬
‫متعلق ہے' اس لیے اس ذیل سے باہر ہے‪ .‬ہاں‬
‫بعض جگہوں پر مثالیں ملتی ہیں‪ .‬مثل تمہید تقریبا‬
‫چھے سطور پر مشتمل ہے۔ یہ بل رموز اور ایک‬
‫ہی فقرہ میں ہے۔ کتاب کی تحریر شائستہ اور‬

‫رواں دواں ہے۔ چند امور' لسانیاتی اور مکتوبی‬
‫طور کے حوالہ سے' آج اور گزرے کل کی شناخت‬

‫کا ذریعہ ہیں۔ مثل‬

‫دو لفظ مل کر' لکھنا عام تھا اور اس کی مثالیں'‬
‫اس کتاب میں جگہ جگہ پر ملتی ہیں۔ مثل‬

‫جنکے' کونسی' کسبات' کسکو' قرضخوانونکی‬
‫وغیرہ‬

‫فارسی آمیز دو مرکب لفظ بھی پڑھنے کو ملتے‬
‫ہیں۔ مثل‬
‫درصورتکہ‬

‫اس کتاب میں' تین لفظوں کو مل کر لکھنے کی'‬
‫بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ مثل‬

‫کسطرحکی' کسطرحپر' کسطرحکا' کسیطرحکی'‬
‫کسطرحسے' کیصورتمین' اسلیئیکہ' دونوباتونکا‬

‫وغیرہ‬
‫لفظوں میں واؤ کی بڑھوتی ملتی ہے' جو آج‬

‫متروک ہو چکی ہے۔ مثل‬
‫اوس' اون' جاوے' اوٹہانی وغیرہ‬
‫نون غنہ کا استعمال بالکل نہیں ملتا' حالں کہ نون‬
‫غنہ اردو کے حروف ابجد میں موجود تھا۔ نون‬

‫غنہ کی جگہ' نون استعمال میں لیا گیا ہے۔ مثل‬
‫مین' باتین' ہین' عورتین' نہین وغیرہ‬

‫یہ کو ڈبل حے مقصورہ کے ساتھ رقم کیا گیا ہے‪.‬‬
‫یعنی یہہ‬

‫بھاری آوازوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ ان کی جگہ‬
‫حے مقصورہ استعمال کی گئی ہے۔ مثل‬
‫دہوکا' پیچہے'ساتہ' بہائی' رکہتا وغیرہ‬

‫دو جگہ مہاپران کا استعمال بھی ہوا۔ مثل ہدایت‬
‫کے لیے' ھدایت اور پہل کے لے' پھل رقم کیا گیا‬

‫ہے۔‬
‫چ کے لیے ج استعمال کی گئی ہے۔ یعنی دیاچہ کو‬

‫دیباجہ کتابت کیا گیا ہے۔‬
‫ٹ کی جگہ ت' استعمال میں لئی گئی ہے۔ مسٹر‬

‫کو مستر لکھا گیا ہے۔‬
‫دونوں کو' دونو لکھا گیا ہے‪ .‬یعنی ں یا ن کا‬
‫استعمال نہیں گیا۔ ں حشوی سہی' لیکن آج رواج‬

‫عام میں ہے۔‬
‫ء کی جگہ' ی کا استعمال ہوا ہے۔ یہ فارسی کی‬
‫ییروی میں ہے' حالں کہ ہمزہ اردو حروف ابجد‬
‫میں' داخل تھی۔ جیسے دائرہ کی بجائے دایرہ‬

‫لکھا گیا ہے۔‬

‫گاف کے لیے' کاف کا استعمال ہوا ہے۔ یعنی ڈگری‬
‫کو ڈکری لکھا گیا ہے۔‬

‫ڑ کی جگہ ڈ کا استعمال کیا گیا یعنی بڑھانا کو‬
‫بڈہانہ تحریر میں لیا گیا ہے۔‬

‫ت کی جگہ ط کا استعمال ہوا ہے۔‬
‫تیاری کو طیاری رقم کیا گیا ہے۔‬
‫اب کچھ جمعیں ملحظہ ہوں۔‬
‫نالشات' ہنڈویات' ڈکریات' سرکلرات' بواعث'‬

‫ہنڈویوں وغیرہ‬
‫ے کو ی کی طرز پر رقم کیا گیا ہے' ۔فرق صرف‬
‫اتنا ہے کہ نیچے سے' گول نہیں کیا گیا۔ ڈبل آنے‬
‫کی صورت میں پہلی ی کو حسب روٹین جب کہ‬

‫دوسری کو ے کی شکل میں درج کیا گیا ہے۔‬
‫آج لفظ دیوالیہ لکھا جاتا ہے' جب کہ اس میں ی‬

‫شامل نہیں۔ یعنی دوالہ لکھا گیا ہے۔‬
‫‪.‬اردو اور انگریزی مرکب پڑھنے کو ملتے ہیں‬

‫پنجاب وسرکلرات' منیجر وغلم محمد پرنٹر‬
‫اسی طرح' دو انگریزی لفظوں کو واؤ سے ملیا‬

‫گیا ہے۔‬
‫کمشنر و سپرنٹنڈنٹ‬

‫ہر دو میں' واؤ الگ سے بولتا ہے۔‬

‫دیسی روایت بھی ملتی ہے‪ .‬مثل فشا و ہدایت‬
‫اضافتی مرکب بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مثل‬

‫دعوی نابینا' کلید گنج‬
‫ایک مرکب بل اضافت ملحظہ ہو‪ :‬نابینا حکم‬
‫زبان پر مقامیت کے بھی اثرات ملتے ہیں۔ مثل‬
‫ذمہ واری' دوالہ' نظیر دیو' چودہریوں وغیرہ‬

‫لفظ اردوائے بھی گیے ہیں۔ مثل تمسکی‬

‫یہ کتاب' اگرچہ قانون اور ضابطہ سے متعلق ہے'‬
‫لیکن اس کے مندرجات کے مطالعہ سے' ڈیڑھ سو‬
‫سے زائد عرصہ پہلے کی' سرکاری یعنی دفتری‬

‫اردو پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ چوں کہ یہ عوام‬
‫سے متعلق ہے' اس لیے اس میں' عوامیت‬

‫بھرپور انداز میں ملتی ہے۔ یہ بھی کہ سرکاری'‬
‫مزاج و رویہ اور عوام' خصوص اور گوروں کے‬
‫مابین تفریق وامتیاز سامنے آتی ہے۔ قانون' سماج‬
‫اور مذہی ضوابط کو' متوازی رکھتے ہوئے' یہ‬

‫کتاب ترکیب پائی ہے۔ اردو خط میں' انگریزی‬
‫الفاظ استعمال ہوئے ہیں' لیکن بہت کم۔ اس کی‬

‫روانی اور شستگی مجھے اچھی لگی ہے۔‬

‫قصہءآدم‘ اردو کے داستانی ادب میں ایک اہم‬
‫اضافہ‬

‫میرے والد محترم قبلہ سید غلم حضور المعروف‬
‫بابا شکرا‘ کتاب دوستی میں اپنی مثال آپ تھے۔‬

‫ان کے ذخیرہء کتب میں‘ جہاں مطبوعہ کتب‬
‫تھیں‘ وہاں ان کے بڑوں کے ہاتھ سے لکھے‘‬
‫قلمی نسخے بھی تھے۔ وہ یہ سب‘ جان سے زیادہ‬
‫عزیز رکھتے تھے۔ ان کے انتقال پرملل کے بعد‘‬
‫یہ سب حالت زمانہ کا شکار ہو گیا۔ میرے ہاتھ‬
‫بس دوایک ڈبے لگے۔ اب عمر کے آخری ایام‬
‫میں‘ مجھے اس سرمائے کو محفوظ کرنے کا‬
‫خیال آیا۔ کیوں آیا‘ یہ الگ سے کہانی ہے۔ اگر‬
‫زندگی نے مہلت دی‘ تو یہ سب انٹرنیٹ پر رکھنے‬
‫کی سعی کروں گا ورنہ ردی چڑھ جائے گا یا ڈاکٹر‬
‫مس کال جیسے شخص کے ہاتھ لگ جائے گا‘ جو‬

‫میرے ہی گھر والوں سے‘ رقم بٹور‘ کر اپنے نام‬
‫سے چھاپ لے گا۔ اردو‘ پنجابی قلمی نسخےاور‬
‫میرا لکھا اس کے تصرف میں آ سکے گا‘ لیکن‬
‫سیکزوں سال پرانے پرانے فارسی نسخوں کا کیا‬
‫بنے گا۔ خیر جو ہو گا‘ بہتر ہی ہو گا۔ زندہ رہا تو‬
‫ضرور کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کروں گا۔‬
‫مجھے میری جہالت نے ہیشہ خوار کیا ہے۔ اہل‬
‫قلم کو‘ جہالت کے سبب‘ میری بےپسی سے سبق‬
‫لینا چاہیے۔ انہیں حال میں موجود کو‘ اسی طرح‬
‫کسی منفی یا ذات سے جڑی غرض کو بالئے طاق‬
‫رکھ کر‘ مستقبل کو منتقل کر دینا چاہیے۔ دیر بعد‬

‫سہی میں نے آغاز کر تو دیا ہے۔‬

‫اردو کے داستانی ادب میں‘ فورٹ ولیم کالج کی‬
‫داستانیں‘ زیادہ تر ریکارڈ میں آئی ہیں۔ بیرون میں‬

‫رجب علی بیگ سرور کی داستان کو شمار میں‬
‫رکھا گیا ہے۔ بابائے اردو نے مل وجہی کی نثری‬
‫داستان‘ سب رس کو داستانی ادب کا حصہ بنایا‬
‫ہے۔ یہ اردو میں ہے یا نہیں‘ قطعی الگ سے بحث‬
‫ہے۔ سرکاری کارخانوں سے ہٹ کر بھی کام ہوتا‬
‫رہا ہے۔ محقق حضرات کی نظر‘ اس جانب بہت ہی‬

‫کم گئی ہے۔ علمہ اقبال کو باطور شاعر سب‬
‫جانتے ہیں‘ لیکن علمہ مشرقی بھی شاعر تھے‘‬

‫کوئی نہیں جانتا۔ یہ ہی صورت فارسی کے‬
‫فردوسی کی ہے۔ غیر سرکاری شخص‘ خواہ اس‬
‫کی علمی وادبی حیثیت کچھ بھی رہی ہو‘ ریکارڈ‬

‫میں نہیں آ سکا۔‬

‫کاغذ پر لکھا معمولی پرزہ بھی‘ اپنی حیثیت میں‬
‫بےکار محض نہیں ہوتا۔ زبان کی ورائٹی فراہم‬
‫کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بدن پر معلومات‬
‫سجائے اور بچھائے ہوتا ہے۔ ابا حضور کے‬
‫کتابی ورثے سے‘ ایک اٹھائیس صفحات کا رسالہ‬
‫دستیاب ہوا ہے۔ اس کے پہلے دس صفحے پھٹے‬
‫ہوئے ہیں۔ صفحہ گیارہ سے‘ تخلیق آدم کا قصہ‬
‫شروع ہوتا ہے اور یہ صفحہ ستائیس پر ختم ہوتا‬
‫ہے۔ صفحہ‪ ٢٨‬پر کتابوں کی فہرست اور آخر میں‬
‫ناشر کا اتا پتا درج ہے۔ اسی لیے میں اسے‘ قصہ‬
‫آدم کا نام دینے کی جسارت کر رہا ہوں۔ یہ دراصل‬
‫فارسی سے اردو ترجمہ کیا ہوا ہے۔ اس کی اصل‬
‫خوبی یہ ہے کہ یہ دو کالمی ہے۔ پہلے کالم میں‘‬
‫اصل متن درج ہے‘ جب کہ دوسرے کالم میں اردو‬

‫ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ صفحہ ستائیس پر جہاں‬
‫قصہ تمام ہوتا ہے‘ وہاں ناشر نے اپنی طرف سے‬
‫فقط چار سطور میں کچھ لکھا ہے اور اس کے‬
‫بعد اپنا پنجابی میں‘ آٹھ اشعار پر مشتمل حمدیہ‬

‫کلم درج کیا ہے۔‬

‫‪:‬ناشر کی چار سطور ملحظہ فرمائیں‬
‫حمد وشکر کے بعد واضح ہو کہ یہ کتاب بعد‬
‫الجہان پورانی قلمی کوشش ہےاسکو تلش کی۔‬
‫اور اسکا ترجمہ کرا کے۔ آدھے کالم میں فارسی‬
‫اور آدھے کالم میں اردو بڑی کوشش کے ساتھ‬
‫چھپائی۔ ا صاحب اس عاجز کی کوشش کو قبول‬
‫فرمائے۔ اسکا کوشش کرنیوال فقیر فضل حق ابن‬

‫حاجی محمد علؤالدین‬
‫صفحہ ‪ ٢٨‬سے معلوم ہوتا ہے یہ تاجرکتب ہیں‬
‫اور ان کا کتب خانہ پتو منڈی نوآباد ضلع لہور‬

‫تحصیل چونیاں میں تھا۔ گویا‬
‫اس کتاب کا نام بعد الجہان تھا۔‬
‫قلمی نسخہ تھا جو پرانا تھا۔‬

‫دستیاب نہ تھا۔‬
‫فقیر فضل حق کے علم میں یہ کتاب تھی اور وہ‬

‫اس سے دل چسپی رکھتے تھے اسی لیے اس کا‬
‫کھوج لگایا اور شائع کی۔‬

‫اس جگہ کا موجودہ نام پتوکی ہے۔ گزٹ ‪١٨٨٥‬‬
‫کے مطابق یہ بہت بڑی کاٹن کی منڈی تھی اور‬
‫معروف تھی‘ نوآباد نہ تھی۔ گویا کتاب کی طباعت‬
‫نوآباد کے حوالہ سے‘ ‪ ١٨٨٥‬سے پہلے کی‬
‫ٹھہرتی ہے۔ اس حساب سے‘ اصل فارسی تخلیق‬

‫سو پچاس سال اس سے پیچھے جاتی ہے۔‬
‫فارسی اسلوب تکلم حیرت انگیز طور پر سادہ اور‬

‫عام فہم ہے۔ مثل یہ جملے باطور نمونہ ملظہ‬
‫‪:‬ہوں‬

‫مار سیاہ دہن کشادہ ابلیس جست زدہ در دہن او جا‬
‫کرد۔ بمجرد رفتن لعاب در دہن ابلیس کرد۔ کہ ازاں‬
‫زہر پیدا شد چوں طاؤس گفت خوب کردی۔ ازیں‬

‫سخن پائے او سیاہ شدند۔‬

‫‪:‬مترجم کے متعلق آخر میں معلومات موجود ہیں‬
‫محمد حسن۔‬

‫ساکن نشیب لبیہ۔ ضلع مظفر گڑہ۔‬
‫حال مدرس‬

‫مترجم نے‘ کلی طور پر لفظی اور بامحاورہ ترجمہ‬

‫نہیں کیا ہے‘ تاہم ترجمہ بے لذت اور بے ذائقہ‬
‫بھی نہیں ہے۔ مترجم نے‘ اردو فارسی اشعار‘‬
‫حکایات اور موقع کے مطابق احکامات کا اضافہ‬
‫کیا ہے۔ ترجمے میں ایک دو جگہ پر‘ عجلت کا‬
‫گمان گزرتا ہے۔ وقفے کے علوہ‘ کسی علمت کا‬
‫استعمال نہیں ہوا ہے۔ علمتیں ان کے ہاں مستمل‬
‫نہیں ہوں گی یا اصل کی ییروی میں‘ صرف‬

‫سکتے سے کام لیا گیا ہے۔‬

‫اس قصے کے بعض مندرجات سے کوئی متفق ہو‬
‫یا ناہو‘ اس میں داستانی لوازمات بہرطور موجود‬

‫ہیں۔ تمام کردار‘ اپنے ہونے اور اپنے کیے کا‬
‫احساس دلتے ہیں۔ کہانی میں دل چسپی کا عنصر‬

‫موجود ہے۔ رائٹر موقع ملتے ہی‘ موقع کے‬
‫مطابق اخلقی پیغام بھی چھوڑتا ہے۔ سب سے‬

‫بڑی بات یہ ہے کہ یہ باقاعدہ ایک پلٹ پر‬
‫استوار ہےاور اس میں ایک باربط کہانی موجود‬
‫ہے۔ اسے اردو کے داستانی ادب میں‘ ایک اہم‬

‫اضافہ قرار دینا غلط نہ ہو گا۔‬

‫اس قصے کے مطالعہ سے‘ قابل غور اور الگ‬

‫سے معلومات بھی میسرآتی ہیں۔ معروف یہ ہی‬
‫چل آتا ہے‘ کہ دانہءگندم پہلے حضرت آدم علیہ‬
‫السلم نے کھایا‘ جب کہ اس قصہ سے معلوم ہوتا‬
‫ہے‘ کہ دانہءگندم پہلے اماں حوا نے کھایا۔ اسی‬
‫طرح یہ بھی پتا چلتا ہے‘ کہ حضرت آدم علیہ‬
‫السلم کی پانچ سو جفت یعنی ہزار اولدیں تھیں۔‬
‫یہ بھی معلوم ہوتا ہے‘ کہ بت پرستی کا آغاز قابیل‬

‫سے ہوا۔ مزید چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔‬
‫جب فرشتوں نے سر اٹھایا۔ تو شیطان کے گلے‬

‫میں ستر‪ ٧٠‬من لعنت کا طوق پڑ گیا۔‬
‫جہٹ فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔‬
‫پہل کلمہ ا واحد لشریک ہے آدم صفی ا کا‬
‫ہے۔ دوسرا کلمہ ا تعالے واحد اسکا کوئی‬
‫شریک نہیں محمد بندہ ا کا ہے پیغمبر ہے جن‬

‫کا۔‬
‫آدم اور حوا کو آسمان پر باغ عدن بہشت میں لؤ۔‬
‫اسوقت بہشت سے باہر جانا بغیر گندم کہانے کے‬
‫محال تھا۔ حوا نے کہا لیا۔ مگر ادھا دانہ نہ کہایا‬

‫تھا۔‬
‫آدم نے بھی دانہ باقیماندہ نصف کہا لیا بوجہ۔۔۔۔ تو‬

‫اسکو پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔‬

‫آخر بعد ستر برس کے حوا اور آدم کی ملقات‬
‫ہوئی۔‬

‫کابیل کو چونکہ محبت تہی لش کو پھینکنا ناگوار‬
‫سمجہکر اپنی پشت پر اٹھا لیا۔ چنانچہ چھ ماہ کا‬

‫عرصہ گذر گیا۔‬
‫جبرائل بحکم رب جلیل انکو بہشت میں لیگیا۔ تین‬

‫ہزار برس عدن میں آدم علیہ السلم رہے‬
‫کہتے ہیں کہ حضرت آدم فرزند پانچسو جفت تھے۔‬
‫عورتیں دین اورعقل میں دسترس نہیں کر سکتیں۔‬
‫اور کہا کہ ہر صبح نہا کر طعام کھانا اور اس بت‬

‫کو سجدہ کرتے رہنا۔‬

‫لفظوں کی امل مختلف تھی۔ مثل‬
‫خود میں ان کا سر طیار کروں گا۔‬

‫نوں غنہ کا حشوی استعمال موجود نہ تھا۔ مثل‬
‫دونو کوے قابیل کے روبرو لڑتے ہوئے‬
‫ما باپ بیٹا ایکدوسرے کو دور کر دے گا۔‬

‫نون غنہ کی جگہ‘ لون کا استعمال بھی کیا جاتا‬
‫تھا۔ مثل‬

‫میں اس زمانہ عیش و عشرت کر لون۔‬

‫لفظوں کو مل کر استعمال کرنا عمومی اور‬
‫مستعمل رویہ تھا۔ مثل‬

‫نیچے سے تمکو دکھائی دیگا‬
‫سوچکر کہنے لگا۔‬

‫اس گھر رحمت نہیں اتریگی۔‬
‫گندم کہانیکی وجہ سے‬

‫اپنا ہی ہر ایک بوجھ اوٹھائیگا۔‬
‫ایکدفعہ بہشت میں جانے دو‬
‫قابیل نے دیکہکر ویسا کیا۔‬

‫بعض لفظوں کا استعمال اور تفہیم‘ آج سے الگ تر‬
‫ہے۔ مٹل‬

‫آدم کا برحال رہا۔‬
‫قبر کے کھودنے کی تجویز کابیل کو معلوم نہ تہی۔‬
‫شیطان پروردگار جل عزاسمد کے مخالف اصلح‬

‫کرنے لگا۔‬
‫فرشتوں نے خدائے عزوجل کے حکم سے آدم کے‬

‫قد کو بنایا‬
‫زمین پر ڈالدے تا کہ میرے قد کا معائنہ کریں۔‬

‫انہوں نے مٹی بودار دم کی‬
‫تجہے موت کیچاشنی دونگا۔‬
‫اسواسطے کہ میں نہائت رضامند ہوں آدم سے۔‬
‫دونوں کلمہ کا حفظ کیا کرو‬
‫میوہ وغیرہ کا ناشتہ کرو‬
‫شیطان نےسانپ کے ہاں کہا تھا‬
‫بہشت کے باہر آدم کی جستجو کریں۔‬
‫دین اورعقل میں دسترس نہیں کر سکتیں‬

‫قدیم اور جدید اردو میں‘ مونث اور مذکر کا‬
‫استعمال مختلف ہے‘ یہ استعمال اپنی اصل میں‬

‫درست ہے‘ لیکن آج رائج نہیں۔ مثل‬
‫تجہکو خوف نہیں آئی تو ملعون ہوا ہے۔‬
‫بہشت کے دربان کے پاس امانت جا رکھا۔‬

‫جب حوروں نے آواز سنا‬

‫محاوروں کا استعمال اور معنوی بعد بھی موجود‬
‫ہے۔‬

‫سب کو ہاتھ افسوس ملنا پڑے گا۔‬
‫اسنے کوے کو وہیں گاڈ دیا۔‬

‫ایک سنگ راست کرکے انکو دیدیا‬

‫حیض کی بیماری عارض ہو گئی۔‬
‫ہر صبح نہا کر طعام کھانا‬

‫آدم کو بہی جستجو کیا تو نہ پایا۔‬
‫اپنی جگہ کرتے ہی سانپ کے منہ میں لعاب‬

‫ڈالدی۔‬
‫تم زمین پر جا ٹھہرنا‬
‫یہ عمل درآمد کرکے آسمان جانا کیا۔‬
‫بولنا بھی صلیب کو پہونچاتا ہے‬
‫گردن موڑنا موجب غضب ہے۔‬
‫خواب نہیں کرتا تھا‬
‫پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔‬
‫تسبیحیں کہتے تھے۔‬
‫حور سے پرہیز کر گیا ہے‬
‫پرہیز کر گیا کو تعلق کی استواری کے لیے لیا‬

‫گیا۔‬

‫سابقوں اور لحقوں کا استعمال آج سے قطعی‬
‫مختلف ہے۔ مثل‬

‫جبرائیل نے غصہ ناک ہو کر‬
‫بیفرمانی کے بہشت سے بہت اہانت کے ساتھ‬

‫نکالنے والے ہیں۔‬

‫کابیل۔ تو بیفرمان ہو گیا ہے‬

‫ضمائر میں واؤ کی بڑھوتی کر دی جاتی تھی۔ مثل‬
‫متکبر اونکو پست سمجھے۔‬
‫اونہوں نے کہا‬

‫اوس نے کہا مجہکو اتنی طاقت ہے۔‬
‫اون کی ناف پر اپنے منہ سے لعاب نکالکر لگا‬

‫لی‬

‫مصادر میں بھی‘ واؤ کی بڑھوتی موجود تھی اور‬
‫یہ عمومی اور مستعمل چلن تھا۔ مثل‬
‫جسوقت نیند میں ہووے‬
‫خطا پاوے جو وہ ناری ہے‬
‫آدم بہشت میں جاویگا۔‬

‫پرانی اردو میں‘ بھاری آوازوں سے زیادہ‘ ہلکی‬
‫آوازوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کتاب سے‘‬

‫‪:‬اس ذیل میں‘ چند ایک مثالینملحظہ ہوں‬
‫تم مسلمان کبہی نہیں ہو گے بھ‬
‫تہوڑے دنوں کے بعد تھ‬
‫ایک روز حوا رضی ا عنہا بیٹہے تھے ٹھ‬

‫مجہے اس بت سے بدبو آتی ہے۔ جھ‬
‫جہٹ فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ جھ‬
‫اونہوں نے پوچہا تمہارا کیا نام ہے۔ چھ‬
‫ورنہ پچہتانا پڑیگا۔ چھ‬
‫یہ نہائت اندہیر کوٹھا ہے۔ دھ‬
‫ل حول پڑہتا رہے ڑھ‬
‫پھر بہشت کو دیکہوں گا۔ کھ‬
‫جب اندر گہس گیا گھ‬

‫بھاری آوازیں بھی استعمال میں تھیں۔ مثل‬
‫افسوس میں کوے سے بھی کمتر ہوں۔ بھ‬
‫پھر جب ناک کو روح پہونچی پھ‬
‫پہلے نار ہی سے تھا تھ‬
‫فرشتوں نے سر اٹھایا ٹھ‬
‫اونکو پست سمجھے۔ جھ‬
‫پوچھنے لگے وہ کہاں ہے۔ چھ‬
‫مثل ہاتھ دھونا۔ منہ دھونا۔ دھ‬
‫دربان کے پاس امانت جا رکھا۔ کھ‬
‫سو جس گھر کتا ہو گا گھ‬

‫فصل در بیان مہتر آدم علیہ السلم اور ہابیل اور‬
‫کابیل کے بیانمیں‬

‫فرماتا ہے پروردگار۔ اے آدم خبر دی اونکو‬
‫شیطان کے نام سے جب آدم نے نام بتلئے تو‬
‫حکم سجدہ کا ہوا۔ جب چوتھی قرن کی آمد ہوئی‬
‫تو خداوند تعالی نے حکم دیا جبرائیل میکائیل‬
‫اسرافیل عزرائیل عزازیل کو کہ تم زمین پر جا‬
‫ٹھہرنا۔ فرشتوں نے حسب فرماں رب الجلیل زمین‬
‫پر آتے ہی حکم سنا ایک مرد دریا کے نیچے‬
‫سے تمکو دکھائی دیگا وہ نورمحمد علیہ السلم‬
‫ہو گا۔ اور گل آدم ہو گی اوسکو لیکر آدم کا اعصا‬
‫راست کرنا۔ اگر تمکو کچھ راست کرنیکی تجویرید‬
‫ہو۔ تو ستارہ جو آدم کے قد موافق ہیں انکے برابر‬

‫بنانا۔ اور خود میں ان کا سر طیار کروں گا۔‬
‫فرشتوں نےیہ عمل درآمد کرکے آسمان جانا کیا۔‬
‫بعد اسکے عزازیل کے دلمیں آیا۔ کہ کل کو یہ گل‬
‫آدم بہشت میں جاویگا۔ ہم کیا کرینگے۔ اس حالت‬
‫اسکے غم پیدا ہوا۔ چاہا کہ کسی اٹکل سے اسکو‬
‫لئق بہشت کے نہونے دیں۔ سوچنے کی بات ہے۔‬
‫تکبر یہ ہے کہ جسکا مرتبہ خدا عزجل نے علو‬

‫کو پہونچایا ہو۔ متکبر اونکو پست سمجھے۔ فی‬
‫الحقیقت وہ حق کے مخالف کرنیکی وجہ سے‬
‫متکبر خدایتعالی کا مقابل بن گیا ہے۔ ۔۔۔۔چاہیے کہ‬
‫حکم خدا کے سرکشی سے باز رہیں۔ ورنہ تکبر‬
‫یہی ہے بعینہ اس غدر سے خطا پاوے جو وہ‬
‫ناری ہے ۔۔۔۔۔ وہ طوق عزازیل اسکے گلے ہو۔‬

‫خبیث اور ملعون کہینگے۔ ص‪١١ -‬‬

‫یہی سوچ کر کہ بہشت کے لئق نہو۔ گھوڑوں کی‬
‫طرف گیا۔ انکے ہاں کہنے لگا کہ تم خوشی کر‬
‫رہے ہو۔ اور تمہارے واسطےآدم پیدا ہو چکا ہے۔‬
‫کل تمہاری پیٹھ پر سواری کریگا۔ تمکو تکیف‬
‫پہونچا دے گا۔ اونہوں نے جواب دیا کہ ہمارے‬
‫مالک کی خوشنودی اسی میں ہے تو ہم نہایت‬
‫رضامندی سے انکا محکوم ہونا پسند کرینگے۔‬
‫شیطان نے سوچا میرا داؤ یہ تو نہ لگا۔ کوئی اور‬
‫تجویز کرنی چاہیے۔ سوچکر کہنے لگا۔ عجب ہے‬
‫کہ تم اورآدم ایک خالق کی پیدائش ہیں۔ وہ آدم تم‬
‫پر سواری کر۔ لیعقل گھوڑوں نے داؤ کھا لیا۔‬
‫پوچھنے لگے وہ کہاں ہے۔ ابلیس ملعون نے کہا‬
‫کہ جو ناف زمین کا ہے وہاں ہے۔ جھٹ دوڑ کر‬

‫پاش پاش کر دیا۔ پھر بارہ سال کے عرصےکے‬
‫بعد سب فرشتوں کو حکم ہوا۔ کہ دوسری دفعہ آدم‬

‫کا بت بناؤ۔ شیطان پروردگار جل عز اسمد کے‬
‫مخالف اصلح کرنے لگا۔ اور کہا اے میرے رب‬
‫اگر حکم ہو تو نور یا نار یا ہوا یا پانی سےآدم کا‬
‫بت بنائیں۔ اسواسطے کہ زمین مین بےزبان جانور‬
‫ہیں۔ انکو توڑ ڈالتے ہیں۔ خطاب عزوجل ہوا۔ ال یہ‬
‫میں خوب جانتا ہوں تمکو خبر بہی نہیں۔ آدم کا قد‬
‫پہلی طرح بناؤ۔ دیکہو یہ اصلح مخالف رب تعالے‬
‫ابلیس کر رہا ہے۔ یہی مرحبا ہو ہے۔ ص۔ ‪١٢‬‬

‫مخالف حکم رب الجلیل اپنی رائے اور اصلح کو‬
‫دخل دینا موجب ہلکت ہے۔ اس سے پرہیز کرنا۔‬

‫شیخ سعدی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں۔ بیت‬
‫اگر شاہ روز را گوند شب است ایں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ببائید‬

‫گفت اینک مہ پرویں‬
‫مخالف صلح کو کہاں۔ بولنا بھی صلیب کو‬
‫پہونچاتا ہے۔ فرشتوں نے خدائے عزوجل کے‬
‫حکم سے آدم کے قد کو بنایا۔ لکن بنا کر واپس‬
‫آسمان پر اپنے اپنے مکان پر چلے گئے۔ ابلیس‬
‫اکیل آدم کے پاس رہا۔ جب آدم اکیل ہوا تو اون کی‬

‫ناف پر اپنے منہ سے لعاب نکالکر لگا لی پھر‬
‫آسمان پر چل گیا۔ پھر دس برس کے بعد ا تعالی‬

‫کا حکم ہواکہ اے جبرائیل میکائیل سب جا کر‬
‫علیتیں جو مقام چوتھے آسمان پر ہے وہاں سے‬
‫روح آدم علیہ السلم کا لیکر انکے بدن میں ڈالو۔‬
‫جب فرشتے پروردگار کے حکم سے روح پاک کو‬
‫پردہ میں لیکر بت کے قریب لئے۔ تو روح القدس‬
‫کو جسوقت ڈالنے لگے اس نے کہا کہ مجہے اس‬
‫بت سے بدبو آتی ہے۔ خدا کی جناب میں آدم نے‬
‫عرض کی اے بار خدایا مجہے بدبو آتی ہے۔ اس‬
‫سے مجہے پناہ میں رکھ۔ خدا مہربان نے حکم دیا‬
‫کہ اے جبرائیل جو جگہ بدبودر ہے اونکو دور کر‬
‫دے۔ جب انہوں نے مٹی بودار دم کی تو اس مٹی‬
‫لعاب شیطان سے کتا پیدا ہوا۔ وہ کتا آواز کرتا بت‬

‫کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ فرشتے روح مقدس کو‬
‫ساتھ لیکر آسمان پر چلے گئے۔ حتے کہ ستر‬
‫برس کے عرصہ تک قد آدم بمعہ سگ وہاں رہا۔‬
‫یعنی فرشتوں کو آنے نہیں دیتا تھا۔ ص‪١٣-‬‬

‫اور وہ کتا کسی فرشتہ اور حیوان کو ساتھ گزرنے‬
‫نہ دیتا تھا۔ خواب نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ‬

‫کتا ابلیس کی لعاب سے دارمٹی سے ہے۔ شیطان‬
‫مردودورحمت سے محروم ہے بلکہ جس جگہ‬
‫شیطان ہو رحمت نہیں ہو گی۔ سو جس گھر کتا ہو‬
‫گا بغیر ضرورت حفاظت یا شکار خواص کے اس‬
‫گھر رحمت نہیں اتریگی۔ اتفاقا اراوت ازلی اسکو‬
‫نیند آ گئی۔ فرشتوں کو حکم ہوا شتابی روح قدس‬
‫آدم کے بدن میں ڈالو۔ جب جرائیل حسب فرمان رب‬
‫تعالے بمعہ مقربان پردہ سے روح مقدس کو لیکر‬
‫آئے تو روح مقدس نزدیک بت کے پہونچکر کہا‬

‫کہ یہ نہائت اندہیر کوٹھا ہے۔ یا رب تعالے‬
‫مجہےاپنے فضل سے ایکدفعہ اسی جگہ سے‬
‫مجہے نکالنا۔ تا کہ میں اس زمانہ عیش و عشرت‬
‫کر لون۔ ا تعالے نے حکم دیا کہ تجہے ضرور‬
‫ایکدفعہ اس بدن سے نکالوں گا۔ اور وہ نکالنا‬
‫تمہاری موت ہو گا۔ پروردگار فرماتا ہے سب چیز‬
‫کو مرنا ہے مگر ا کو نہیں ہے۔ تجہے موت‬
‫کیچاشنی دونگا۔ اورآدم کا سر خدایتعالے نے سنگ‬
‫مرمر سے راست کیا تھا۔ اسی وجہ سے آدمی کا‬
‫سر سخت ہوتا ہے۔ اورجب روح مقدس میں ڈالی‬

‫گئی۔ تو سر کے راستہ ڈالی گئی۔ ص۔ ‪١٤‬‬

‫اور ارشاد فرماتا ہے ا تعالے میں نے روح‬
‫مقدس کو ڈالکر بدن میں آدم کے کہ اسکوسجدہ‬
‫کرو۔ جب آدم نے آنکھ کہولی تو روح نے آنکھ‬
‫کے ذریعہ سے جہان کو دیکھ کر خوشی حاصل‬
‫کی۔ پھر جب ناک کو روح پہونچی تو آدم علیہ‬

‫السلم کو چھینک آئی۔ تو کہا سب تعریف ا‬
‫تعالے کی ذات کو ہے جو رب العلمین ہے جب‬
‫روح منہ میں آئی تو ہر قسم کی چاشنی گیر ہوئی۔‬
‫آدم علیہ السلم نے ویسی ہی خدائے خالق کی حمد‬
‫کہی۔ پھر خداے یتعالے نے فرشتوں کو حکم دیا‬
‫کہ آدم علیہ السلم کو سجدہ کرو۔ اسواسطے کہ‬
‫میں نہائت رضامند ہوں آدم سے۔ بمجرد حکم حاکم‬
‫تعالے کےسب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس‬
‫مردود نے کہا۔ کل میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا‬
‫ہےیہ مجہے درجہ میں بھی ہے۔ اسی وجہ حقیر‬
‫جانا۔ اور احکم الحاکمین کے حکم سے عدول کیا۔‬
‫مامون مقہور ہوا۔ حاکم حقیقی کے حکم سے گردن‬
‫موڑنا موجب غضب ہے۔ جب غلم حبشی درجہ‬
‫میں بڑھ جائے تو اسکا حکم عین پروردگار کا‬

‫ہوتا ہے۔‬
‫اس سے سرکش نہونا ورنہ پچہتانا پڑیگا۔ کسی‬

‫نے سچ کہا ہے۔ بیت‬
‫حکمران ہو کوئی بچاپنا ہو یا بیگانہ ہو‬
‫دی خدا نے جسے عزت اسکی عزت چاہئے‬

‫ص‪١٥ -‬‬

‫عزتدار کی ذلت کرنا اپنی ذلت کا موجب ہے۔ جب‬
‫فرشتوں نے سر اٹھایا۔ تو شیطان کے گلے میں‬
‫ستر‪ ٧٠‬من لعنت کا طوق پڑ گیا۔ معلوم ہوا کہ ا‬

‫تعالے کے حکم سے سرکش ہوا ہے۔ جہٹ‬
‫فرشتوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ ابلیس نے عرض‬
‫کیا آپ کا حکم ایک سجدہ کا تھا۔ یہ دوسرا سجدہ‬
‫کیوں کر رہے ہیں۔ حکم ہوا میرے خوف سے‬
‫سجدہ میں پڑے ہیں۔ تجہکو خوف نہیں آئی تو‬
‫ملعون ہوا ہے۔ میرے حکم کو پس پشت کر دیا‬
‫ہے۔ میں نے تجہے مردود کیا ہے۔ تیری عبادت‬
‫دنیا میں تجہے دوں گا اور آخرت میں تو عذاب‬
‫الیم کا مستحق ہو گا۔ پھر عزازئیل کہ نام انکا‬
‫پہلے نار ہی سے تھا۔ آدم علیہ السلم سے بھاگ‬
‫گیا۔ تہوڑے دنوں کے بعد جبرائیل نے آدم علیہ‬
‫السلم کو یہ کلمے سکھائے وہ یہ ہیں۔ پہل کلمہ‬
‫ا واحد لشریک ہے آدم صفی ا کا ہے۔ دوسرا‬

‫کلمہ ا تعالے واحد اسکا کوئی شریک نہیں محمد‬
‫بندہ ا کا ہے پیغمبر ہے جن کا۔‬
‫۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‬

‫اور سمجہایا کہ ان دونوں کلمہ کا حفظ کیا کرو‬
‫جب آدم علیہ السلم زمین پر سو گئے تو انکے‬
‫بائیں کروٹ سے حوا رضی ا عنہا پیدا ہوئی۔ پھر‬
‫جلدی خدا کا حکم ہوا کہ اے جبرائیل آدم اور حوا‬
‫کو آسمان پر باغ عدن بہشت میں لؤ۔ جبرائل بحکم‬
‫رب جلیل انکو بہشت میں لیگیا۔ تین ہزار برس‬
‫عدن میں آدم علیہ السلم رہے جبکہ رب تعالے‬
‫ارشاد فرماتا ہے یاد کرو اے محمد کیا ہمنے اے‬

‫آدم بمہ اپنی جورو بہشت میں رہ ص ‪١٦‬‬

‫میوہ وغیرہ کا ناشتہ کرو اور اس درخت کے‬
‫قریب ہرگز نہ جانا۔ نہیں تو ظالم ہو جاؤ گے۔ جب‬
‫گذرنے کو مدت پہونچی تو ایکدن عزازئیل ایک‬
‫گوسفند لیکر بہشت کے دربان کے پاس امانت جا‬
‫رکھا۔ اور کہا حسب ضرورت تمسے لے لوں گا۔‬
‫دربان نے کہا بہت اچھا۔ لکھتے ہیں۔ کہ آدم اور‬
‫حوا نے دربان سے پوچھا یہ دنبہ کہاں سے آیا‬
‫ہے۔ انہوں نے کہا عزازئیل کی امانت ہے۔ آدم علیہ‬

‫السلم نے جھٹ ذبح کرکے کھا لیا۔ ابلیس چند ایام‬
‫کے بعد آیا۔ ابلیس نے فرشتوں سے امانت طلب‬
‫کی۔انہوں نے کہا۔ کہ آدم علیہ السلم نے نوشجاں‬
‫فرمایا ہے۔ ابلیس خوش ہو کر آواز کرنے لگا۔ اے‬
‫بیٹے واسوس کہاں گیے ہو۔ جواب دیا کہ میں آدم‬
‫اور حوا کے سینے میں گھر بنائے بیٹھا ہوں۔‬
‫شیطان نے کہا رحمت ہو تمکو۔ کہ پہل نفس آدم کا‬
‫تو بنا ہے۔ جیسا کہ رب تعالے ارشاد فرماتا ہے‬
‫یعنے وہ انسان کے سینے میں وسوسہ ڈالنے وال‬
‫آدمی اور جن سے ہے۔ جب تین ہزار برس تمام‬
‫ہوئے۔ تو شیطان بہشت کے دروازے پر ایکدن‬

‫پہونچا۔‬
‫ص۔ ‪١٧‬‬
‫اسوقت کال سانپ اور ایک مور دربانی کر رہے‬
‫تہے۔ انکے ہاں جا کر کہنے لگا مجہے ایکدفعہ‬
‫بہشت میں جانے دو میں تجہکو تین ہزار فریب‬
‫انعام کروں گا۔ اونہوں نے پوچہا تمہارا کیا نام ہے۔‬
‫جواب دیا۔ کہ میرا نام عزازیل ہے۔ اونہوں نے کہا‬
‫کہ تجہکو اندر جانے کا حکم نہیں۔ اسواسطے کہ‬
‫تو ملعون ہوا ہے۔ لئق بہشت تو نہیں ہے۔ اوس‬
‫نے کہا مجہکو اتنی طاقت ہے۔ اگر تم مجہکو اپنی‬

‫آنکھ جگہ دیویں تو غائب ہو جاؤں گا پھر بہشت‬
‫کو دیکہوں گا۔ اسوقت مار و کوا دربان تھے۔ اور‬
‫مور اندر تھا۔ سانپ نے کہا اگر تم جلدی باہر آؤ‬
‫گے۔ تو تمکو لے جاتا ہوں۔ سانپ نے وعدہ کیا‬

‫جلدی باہر آؤنگا۔ سانپ نے منہ کھول۔ جھٹ‬
‫شیطان اسکے منہ میں گھس گیا۔ اپنی جگہ کرتے‬
‫ہی سانپ کے منہ میں لعاب ڈالدی۔ کہ اس سے‬
‫یہی زہر پیدا ہوا ہے۔ اوسوقت مور نے کہا۔ تمنے‬

‫بہت اچہا کیا۔ اس بات کے کہنے سے اس کے‬
‫پاؤں سیاہ ہو گئے۔ لیکن شیطان نےسانپ کے‬
‫ہاں کہا تھا کہ اندر میں جو کچہ میں کروں تم چپ‬
‫چاپ رہنا چنانچہ سانپ نے ایسا ہی کیا۔ جب اندر‬
‫گہس گیا تو شیطان رونے پیٹنے لگا۔ ص۔ ‪١٨‬‬

‫جب حوروں نے آواز سنا تو حیران ہو کر خازن‬
‫بہشت کو کہنے لگیں کہ تمکو کیا ہوا کہ ابلیس کو‬
‫تم نے اندر آنے دیا۔ اور تمہارے منہ سے آواز کر‬

‫رہا ہے۔ کہ اے حوا سنو آدم اور حوا گندم سے‬
‫محروم ہیں۔ اوہ اچھا طعام ہے۔ اور دوسرا یہ کہ‬
‫آدم ایک حور پر عاشق ہو گیا ہے۔ اور حور سے‬
‫پرہیز کر گیا ہے۔ وہ اس حور کے ساتھ مزے اڑا‬

‫رہا ہے۔ جب حوا نے یہ بات سنی تو بہت پریشان‬
‫ہوئی۔ آدم کو بہی جستجو کیا تو نہ پایا۔ اسوقت‬
‫حوا کو اس لعین کے مکروفریب کا خیال بھول گیا‬
‫تھا۔ جھٹ حوا کو خیال آیا کہ بہشت کے باہر آدم‬
‫کی جستجو کریں۔ اسوقت بہشت سے باہر جانا‬
‫بغیر گندم کہانے کے محال تھا۔ حوا نے کہا لیا۔‬
‫مگر ادھا دانہ نہ کہایا تھا۔ اس حیض کی بیماری‬

‫عارض ہو گئی۔‬
‫کہتے ہیں عورتیں دین اورعقل میں دسترس نہیں‬
‫کر سکتیں۔ اسوقت سے حیا اور شرم شروع ہو گیا‬

‫ہے۔ بعد اسکے جبرائیل امین کو حکم سرکار‬
‫اعظم سے ہوا کہ حوا کو بمعہ سانپ اور کبودک‬
‫اور مور باہر نکالیں اور زمین پر ڈالدے تا کہ‬
‫میرے قد کا معائنہ کریں۔ جبرئیل علیہ السلم‬
‫حسب الحکم کاروائی شروع کرکے نکالدیا۔ جب آدم‬
‫کو خبر گذری کہ حوا کو گندم کہانیکی وجہ سے‬
‫ا تعالے نے بہشت سے نکالکر زمین پر ڈالدیا۔‬

‫جھٹ آدم نے بھی دانہ باقیماندہ نصف کہا لیا‬
‫بوجہ۔۔۔۔ تو اسکو پاخانہ کی حاجت پڑ گئی۔ اسوقت‬
‫حکم ہوا کہ اے جبرائیل جا کر بہشت سے آدم کو‬
‫برہنہ کرکے نکالدے۔ بوجہ اسکے کہ میرا نافرمان‬

‫ہوا ہے اور یہاں ناپاکی کرتا ہے اور بہشت پاک‬
‫جگہ ہے۔ ص۔ ‪١٩‬‬

‫جب جبرائیل ا کے حکم سے بہشت میں گئے تو‬
‫کیا دیکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلم گندم سے اپنا‬
‫پیٹ بھرے کھڑا ہے۔ جبرائیل نے غصہ ناک ہو‬
‫کر تمام کپڑے مثل جامہ دستار ٹوپی وغیرہ چھین‬
‫لئے۔ جب سر سے کلہ اتاری تو آدم علیہ السلم‬
‫نے اپنے ہاتھوں کو سر پر کر لیا۔ اس وجہ سے‬
‫سر کا مسح فرض ہے یعنے چہارفرض اسوقت‬
‫کے بہی ہیں۔ مثل ہاتھ دھونا۔ منہ دھونا۔ سر کا‬
‫مسح کرنا۔ پاؤں کا دھونا۔ پھر کپڑے اوتار کر آدم‬
‫جو ہمارے باپ ہیں پیغبر خدا۔ مقبول خدا کہ بوجہ‬
‫مذکور کے پکڑ زمین پر ڈالدیا۔ کل شی مرجع اے‬
‫اصلہ خاکی آدم خاک کیطرف گیا ہے۔ وہ کوہ قاف‬
‫میں رہے۔ ستر برس تک حوا علیہ السلم سے جدا‬
‫رہے۔ آدم کے رونے سے فلفل بیدا ہوئی۔ اور حوا‬
‫کے رونے سے مروارید بنگئے۔ وہ جبرائیل جو‬
‫پہلے تعظیم و تکریم کرنے وال تھا۔ وہی بوجہ‬

‫ایک بیفرمانی کے بہشت سے بہت اہانت کے‬
‫ساتھ نکالنے والے ہیں۔ مولوی روم صاحب‬

‫فرماتے ہیں۔‬
‫یک گناہ چوں کرد گفتندش تمام‬

‫مذہنی مذہنی بیروں خرام‬
‫تو طمع میداری چندیں گناہ‬
‫داخل جنت شوی اے روسیاہ‬

‫ص۔ ‪٢٠‬‬

‫آخر بعد ستر برس کے حوا اور آدم کی ملقات‬
‫ہوئی۔ کسی نے کہا ہے۔ بیت‬

‫ہر دم دعا ہا میکنم بر خاک مے عالم جبیں‬
‫جمع کن باد و ستم یا جامع المتفرقیں‬

‫پھر حکم جبرائیل کو ہوا کہ ایک جوڑا اور کچہ‬
‫گندم بہشت سے لیکر آدم کو دیدے۔ جبرائیل نے‬
‫آدم کو جوڑا اور کچہ گندم حوا کو دیدی اور کچہ‬
‫آدم کو دی۔ خدا کے حکم سے ہل جوت کر بیج ڈال۔‬
‫آدم کے بیج سے گندم اور حوا کے بیج سے جو‬

‫پیدا ہوئے۔ حکایت‬
‫ایک روز حوا رضی ا عنہا بیٹہے تھے متفکر ہو‬
‫کر۔ بہشت کی نعمتیں یاد کر رہے تھے۔ تسبیحیں‬
‫کہتے تھے۔ کہ رب جلیل رحمن۔ غفورالرحیم منان‬
‫تیرا ہر وقت احسان بہشت میں عجیب نعمتیں تو‬

‫دیتا تہا۔ شربت پلتا تھا۔ شیر شہد سے عجیب‬
‫تھے۔ اب آپنے کبھی نہیں عنایت فرمائی میرا بخت‬
‫سیاہ ہے تیری نافرمانی سے ناگاہ خندق میں گر‬

‫گئی ہوں۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ بیت‬
‫یاد میں نعمت کے رہے ہر دم‬
‫کھاتے تھے بہشت ذوق سے پیہم‬
‫حاشیہ‪ :‬ہندوانہ اور خربوزہ وہاں کے ہیں‬

‫ص۔ ‪٢١‬‬

‫فریاد سن کر ا تعالے فرمایا۔ کہ اے جبریل دو‬
‫خربوزہ لیکر ایک حوا کو دوسرا کو دیدے جبریل‬
‫ویسا ہی کیا۔ حوا حاملہ تھیں۔ اسوجہ سے حوا کا‬

‫خربوزہ ہندوانہ بن گیا۔ اور آدم کا برحال رہا۔‬
‫ایکدن جبریل کو حکم ہوا کہ حوا کے ہاں دو بچے‬
‫صبح اور دو بچے شام ہونگے اور دو بچے پہلے‬
‫پیدا ہوں انکو شتابی جدا کرنا اور انکا نام ہابیل‬
‫اور کابیل رکہنا۔ اور جو لڑکیاں شام کو پیدا ہوں‬
‫پہلی ہابیل کو اور دوسری کابیل کو بیاہ دینا۔ اتفاقا‬
‫دوسری لڑکی ایک آنیکھ سے دیکھ نہ سکتی تہی۔‬
‫کابیل نے منظور نہ کیا۔ اور ہابیل کی عورت کو‬
‫لیا۔ جب آدم علیہ السلم تہوڑی دیر کے بعد آئے تو‬

‫کہا۔ اے کابیل۔ تو بیفرمان ہو گیا ہے اور غضبناک‬
‫ہو کر کابیل کو کہا۔ تو نے برا کیا۔ اور تو کافر بن‬
‫گیا ہے۔ مجھ سے تم دونو دور ہو جاؤ۔ اور کہیں‬

‫اور زراعتکاری کرو اور اپنا بسیرا کرو۔‬
‫ندا آید درانگہ دور شو دور‬

‫قیامت کے روز جسطرح حضرت آدم علیہ السلم‬
‫اپنے مقرب بیٹے کو نافرمانی کی وجہ سے دور‬
‫کر رہا ہے۔ اسی طرح ما باپ بیٹا ایکدوسرے کو‬
‫دور کر دے گا۔ اور اپنا ہی ہر ایک بوجھ اوٹھائیگا۔‬

‫ص۔ ‪٢٢‬‬

‫الئیہ۔ بغیر عمل توحید کے رسول بھی شفاعت نہ‬
‫کرینگے۔ سب کو ہاتھ افسوس ملنا پڑے گا۔ شیخ‬
‫عطار فرماتے ہیں۔ بیت۔ ہست سلطانی مسلم مرا‬

‫درا نیست کس را زہر چوں وچرا‬
‫عذر معذرت کچہ کام نہ آئیگی۔ چنانچہ آدم و حوا‬
‫بغیر پرسش نکالے گئے۔ بیفرمان کا بغیر پرسش‬
‫دوزخ جانا پڑیگا۔ اعان ا وابوانا و استاذنا و‬
‫سائرالمسلمین امیں۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں۔ ستم‬
‫بر ضعیفان مسکین مکن۔۔۔۔۔کہ ظالم دوزخ رود‬
‫بےسخن۔ اور کسی نے کہا ہے۔ وہ سنت نبی‬

‫جسکو پیاری نہیں۔۔نبی بھی اس سے بیزار ہو جاتا‬
‫ہے۔ جب آدم علیہ السلم سے کابیل کسی اور جگہ‬
‫رہنے لگے تو ایکدن عزازیل نے آ کر کہا کہ تو‬
‫اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈال کیونکہ یہ تجھ سے‬
‫بڑا ہے۔ پھر تو تمام زمین کی بادشاہی کریگا۔ کابیل‬
‫نے کہا مجہے قتل کرنا معلوم نہیں ہے۔ عزازیل‬
‫نے کہا جسوقت نیند میں ہووے تب ایک بٹہ لیکر‬
‫اسکے سر خوب لگا۔ اس نے حسب کہنے عزازیل‬

‫کے کا کیا۔ اور ہابیل مر گیا انا ل و انا الیہ‬
‫راجعون۔ کابیل کو چونکہ محبت تہی لش کو‬
‫پھینکنا ناگوار سمجہکر اپنی پشت پر اٹھا لیا۔‬
‫چنانچہ چھ ماہ کا عرصہ گذر گیا۔ قبر کے کھودنے‬
‫کی تجویز کابیل کو معلوم نہ تہی۔ ایکدن دو‬
‫فرشتے کوے کی صورت پر گھڑا کھودا اور اسنے‬
‫کوے کو وہیں گاڈ دیا۔ پھر کابیل نے بھی ان کو‬

‫دیکہکر اپنے بھائی کو دبایا۔‬

‫جیسا کہ ا تعالے اپنی کلم پاک میں فرماتا ہے۔‬
‫بھیجا ا نے کوے کو زمین کھود کر اپنے بھائی‬
‫کوے کی لش کو دفن کرتا تھا دیکہکر کابیل نے‬
‫کہا افسوس میں کوے سے بھی کمتر ہوں۔ اگر‬

‫کوے جیسا ہوتا تو اپنے بھائی کی لش کو دفن‬
‫کرتا۔ یہ کہہکر شرمسار ہوا۔ دونو کوے قابیل‬
‫کےروبرو لڑتے ہوئے ص۔ ‪ ٢٣‬ایک کوے نے‬
‫دوسرے کوے کو مار ڈال پھر اپنے چونچ اور‬
‫پنجوں سے گڑہا کھود کر کوے ک دبا۔ قابیل نے‬
‫دکھکر غم کھایا۔ اور کہا کہ میں کوے جیسا ہوتا‬
‫تو اپنے ہاتھ گڑہا کھودتا۔ اوراپنے بھائی کو دباتا۔‬
‫پھر قابیل نے دیکہکر ویسا کیا۔ یہ طریقہ گور۔۔۔‬
‫قبر بنانے کا۔۔۔ یہاں سے شروع ہوا ہے۔ اور ہایل‬
‫کی سب قوم مسلمان ہیں۔ ایک دن آدم نےقابیل‬
‫سے پوچھا ہابیل کہاں ہے کہا مجہے معلوم نہیں۔‬
‫بہت دن سے مجہسے رخصت ہو گیا ہے۔ آدم علیہ‬
‫السلم حیران ہوا۔ خد ا کی جناب سے ندا آئی کہ‬
‫تیرے بیٹے قابیل نے قتل کر ڈال ہے۔ تا کہ تجہے‬
‫معلوم ہو۔ کہ میرے ایسے بیٹے ہیں۔ تو نہینجانتا‬
‫شیطان انسان کا دشمن ہے۔ جب آدم نے جواب سنا‬
‫تو قابیل پر غصہ ہوا۔ اور کہا کہ تو نہایت پرلے‬
‫درجہ کا کافر ہے۔ تم مسلمان کبہی نہیں ہو گے۔‬
‫جیسا کہ قابیل حران ہوا۔ اسوقت سے شیطان‬
‫انسان کا دشمن چل آتا ہے اور مرتے وقت انسان‬
‫کےساتھ بیجا حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ مومن کو‬

‫چاہئے کہ اس کے فریب سے بچے ل حول پڑہتا‬
‫رہے۔ ص۔‪٢٤‬‬

‫تھوڑے دنوں کے بعد ابلیس نے قابیل کے پاس آ‬
‫کر کہا کہ میں جبرائیل ہوں خدا یتعالے نے تمہاری‬
‫طرف بھیجا ہے۔ اور کہا ہے کہ اور طریقہ آدم کا‬

‫باقی ہے۔ وہ اب تجہکو سیکہاتا ہوں۔ قابیل نے‬
‫خوش ہو کر کہا۔ بہت اچھا۔ تو عزازیل نے خوش‬
‫ہو کر تسلی اپنی کر لی کہ ابھی اسکو کافر کر لوں‬
‫گا پھر عزازیل نے کہا تجھکو خدا کے نام سکھاتا‬
‫ہوں۔ انکو ہر وقت ضبط رکھنا پھر شیطان نے‬
‫مذکورہ نام مردوں اور عورتوں کے بتلئے اور‬

‫کہا کہ ایک اور بھی امانت ہے۔ وہ یہ ہے ایک‬
‫سنگ راست کرکے انکو دیدیا۔ اور کہا کہ ہر صبح‬
‫نہا کر طعام کھانا اور اس بت کو سجدہ کرتے رہنا۔‬
‫اوراپنا منھ مشرق کو کرنا۔ اور تمہارے ماں باپ‬
‫آدم حوا نہیں۔ بلکہ پاربتی اورمہادیو ہیں۔ اوراسی‬
‫راہ پر چلنا۔ اورتمکو جلئینگے۔ یہ قوم کافروں‬

‫کی اسی جگہ سے شروع ہوئی ہے۔ یہ نہیں‬
‫جانتے کہ شیطان نے اپنے پھندے میں اسکو‬
‫ڈالدیا ہے اور دوزخ کا ساکن بنا دیا ہے۔ خدا نے‬

‫فرمایا ہے سب چیزوں کو اپنی عبادت کے‬
‫واسطے پیدا کیا۔ اسکے خلف چل رہے۔ کہتے ہیں‬
‫کہ حضرت آدم فرزند پانچسو جفت تھے۔ ص۔ ‪٢٥‬‬

‫نقل ۔۔۔۔ ایک روز حضرت آدم کے فرزند جمع ہو کر‬
‫آپس میں صلح کرنے لگے کہ باپ کو مار ڈالئے‬
‫اور بادشاہ اور پیغمبر ہمارے واسطے نازل ہو‬
‫جائیگا۔ اسی مشورہ میں تھے کہ ا تعالے آدم کو‬
‫خبر دی کہ تمہیں فرزند مارنا چاہتے ہیں۔ اگر تم‬
‫چاہو۔ تو اونکو مار ڈالو اورپھر انکار آپکا کبھی‬
‫نہو۔ آدم نے کہا یا خدایا کوئی اور تدبر کرو۔ تو ا‬
‫تعالے نے جبریل کو حکم کیا کہ بہشت میں بانگ‬
‫دو۔ جبریل حسب الحکم رب الجلیل بانگ دیدی تو‬
‫اونکو آواز سنتے ہی انکی زبانیں بدل گئیں۔ جیسا‬
‫کہ عربی فارسی وغیرہ جو آپسمیں مشہور ہیں۔‬
‫ایکدوسریکا سخن نہیں سمجہتے تہے۔ اس وجہ‬
‫سےمشورہ باطل ہو گیا۔ یہ زبانیں اس زمانہ سے‬

‫شروع ہیں۔ اوسوقت سے زبانیں مختلف پھر‬
‫مارنے کی مشورہ بدل گئی۔ وازیں وجہ مسلمان‬
‫اور ہندو ہونا ہو گیا۔ جب آدمی بادشاہی کرنے‬
‫لگے تو انہوں نے شہر کا نام ملتاں رکھا۔ آدم علیہ‬

‫السلم کیوقت سے اسکا نام ملتان شہر ہے۔‬
‫اوراسوقت سے یہ شہرآباد ہے۔ اس شہر میں بڑے‬
‫بڑے بزرگوں کی خانقا ہیں ایک بہاؤلحق صاحب‬

‫ایک شمس تبریز صاحب کی ایک موسے پاک‬
‫شہید کی علوہ اور بہت ہیں۔ ص۔‪ ٢٦‬اور یہ کافر‬
‫کی اولد ہیں۔ اور مسلمان بمعہ جمیع پیغبران شیث‬
‫سے محمد علیہ السلم تک ہابیل کی اولد ہیں۔‬

‫ص۔‪٢٧‬‬

‫پروفیسر سوامی رام تیرتھ کی غالب طرازی‬

‫لفظ‘ دوسروں تک بات پہنچانے کا ذریعہ ہوتے‬
‫ہیں۔ لفظ معنویت سے تہی نہیں ہوتے۔ اصل ہنر‘‬
‫ان کا استعمال ہے۔ لفظ کا بہترین‘ مناسب حال اور‬
‫جذبے کی حقیقی ضرورت کے مطابق‘ استعمال ہی‬
‫کمال فن ہے۔ اسی حوالہ سے‘ قاری یا سامع اثر‬
‫لیتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک‘ صاف صاف اور‬
‫واضح معنی کی حامل گفتگو‘ ہی درست رہتی ہے۔‬
‫اسی بنیاد پر غالب پر‘ بہت سے اعتراضات ہوئے۔‬

‫آدمی گویا تن آسان ہی نہیں فکری حوالہ سے‬
‫بھی‘ کوشش اور تردد سے بچنا چاہتا ہے۔ حالں‬
‫کہ غور کرنا‘ اور متواتر غور کرنا فکری بلوغت‬
‫کی طرف سفر کرنا ہے۔ لفظ وہ ہی ہوتے ہیں‘‬
‫لیکن ان کا استعمال طرح دار‘ عمومی معنویت‬
‫سے ہٹ کر‘ یا عمومی استعمال سے الگ تر ہی‬

‫ہنرمندی کی دلیل ہوتا ہے۔‬

‫صاف صاف گفتگو‘ بےشک مطالب اور بات‬
‫سمجھنے کے حوالہ سے‘ آسانی پیدا کرتی ہے‘‬
‫تاہم یہ صاف صاف کھری گفتگو کے باعث‘ خرابی‬
‫کے رستے کھل سکتے ہیں۔ علمتوں‘ استعاروں‘‬
‫ذومعنویت‘ مجموعی تخاطب وغیرہ کا استعمال‘‬
‫درحقیقت‘ فساد کا رستہ بند کرنے کے مترادف‬
‫ہے۔ بہادر شاہ ظفر کا مشہور زمانہ شعر ہے۔‬

‫چشم قاتل تھی میری دشمن ہمیشہ لیکن‬
‫جیسی اب ہوگئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی‬

‫اگر واضح طور پر کہہ دیا جاتا‘ کہ انگریز کی‬
‫آنکھ کا کانٹا ہمیشہ سے رہا ہوں‘ لیکن اب تو اس‬
‫کی ستم گری کی حد ہوگئی ہے۔ ایسا کہنے سے‘‬


Click to View FlipBook Version