مقصود حسنی کے چودہ ادبی
تجزیے
پیش کار
پروفیسر نیامت علی
ابوزر برقی کتب خانہ
مارچ 2016
مقصود حسنی کے چودہ ادبی تجزیے
فہرست
مقصود حسنی بطو )ر تجزیہ نگار از پروفیسر نیامت
علی مرتضائی
اردو اور دیگر زبانوں کا لسانیاتی اشتراک
اردو کے تناظر میں حضرت بوعلی قلندر کے فارسی
کلم
کا لسانیاتی مطالعہ
اردو اور سعدی بلوچستان کے بلوچی کلم کا لسانیاتی
اشتراک
عربی کے اردو پر لسانیاتی اثرات ایک جائزہ
رحمان بابا کی شعری زبان کا اردو کے تناظر میں
لسانی مطالعہ
بابا فرید کی شعری زبان کا اردو کے تناظر میں
لسانیاتی مطالعہ
قصہ سفرالعشق کے فارسی حواشی
ابر رحمت از منشی کرم بخش
حضرت سائیں سچل سر مست کے پنجابی کلم کا اردو
کے تناظر میں مطالعہ
خوش بو میں نہاتے رنگ ......ایک جائزہ
رفیق احمد نقش :افسانوی کردار' مثالی ادیب ایک
جائزہ
امانت کی ایک غزل ......فکری و لسانی رویہ
منظوم شجرہ عالیہ حضور کریم....عہد جہانگیر
اکبر اردو ادب کا پہل بڑا مزاحمتی شاعر
مقصود حسنی بطو )ر تجزیہ نگار
کچھ لوگوں کا وجود ہر کسی کے لئے مسعود ہوتا
ہے۔ وہ ما ہ و مہر کی طرح ہر کسی کو نہ صرف نور
بانٹے ہیں بلکہ ان کی ہر طرح سے رہنمائی بھی
کرتے ہیں۔ ان کے اندر آ )ب حیات کے ایسے چشمے
ابلتے ہیں کہ جو بھی ان کی قربت کا جام نوش کرتا
ہے عم )ر جاوداں کا سرور پاتا ہے۔ آسما )ن علم و ادب
کا ایک ایسا ہی تابندہ ستارہ مقصود حسنی کے نام
سے عالمی سطح پر اپنی کرنیں بکھیر رہا ہے۔وہ را )ہ
ادب کے ہزاروں تشنہ لبوں کی منز )ل مقصود ہیں۔ ان
کی ادبی زندگی کا سفر نصف صدی سے زیادہ عرصے
پر محیط ہے جس میں انہوں نے اپنی ذہانت کے
تیشے کو فرہاد کے جذبے سے آشنا رکھ کر ادب کے
کو )ہ گراں سے جوئے شیر نکالنے کی بامراد سعی
فرمائی ہے۔انہوں نے اردو ادب کا دامن نت نئے
موضوعات اور اصناف سے بھرنے کے ساتھ ساتھ
بہت سے دوسرے شہسوارا )ن ادب کے لئے خض )ر راہ
کا کام بھی کیا ۔ علوہ ازیں انہوں نے تنقید جیسے
حساس اور سائنس مزاج میدان میں بھی اپنا لوہا
منوایا ہے۔
بل شبہ تنقید ایک مشکل فیلڈ ہے۔ اس میں جانبداری
سے اپنا دامن بچانا مشکل ہی نہیں بعض اوقات نا
ممکن بھی ہو جاتا ہے۔ ـ’سچ آکھیاں بھانبڑ مچدا اے‘
کی مصداق یہ صن )ف ادب بہت سوں کو سچ کے قریب
پھٹکنے کی اجازت بھی نہیں دیتی۔ اور وہ کسی تعلق
کے محور کے گرد ایسے گھومتے ہیں کہ تنقید بچاری
ہاتھ ملتے رہ جاتی ہے۔قاضی کا عہدہ اگر انصاف کیا
جائے تو سولوں کی سیج سے کسی طرح بھی کم نہیں
ہوتا اور اگر نا انصافی کرنی ہو اس جیسی موج بھی
کہیں نہیں ملتی۔مقصود حسنی نے پہل رستہ اپنایا ہے۔
جس میں تنقید کا اصل کردار زندہ رہتا ہے یعنی کسی
چیز کو اس کی اچھائی ،برائی کے ساتھ بیان کرنا۔
اگرچہ تکری )م انسانیت ان کا مذہب ہے لیکن وہ کسی
ادب پارے کی تعریف و تحسین نا مناسب انداز میں
کرنے سے مکمل طور پر اجتناب برتتے ہیں۔ وہ اصول
رکھتے ہیں کہ تنقید کی حیثیت امانت جیسی ہے اس
میں نا جائز تعریف یا تنقیص انسان کو توازن اور اعتد
ال سے کوسوں دور کر دیتی ہے۔
وہ جہاں تخلیق کے میدان میں سیمابی مزاج کے مالک
ہیں وہاں تنقید میں بھی وہ کسی منزل کو آخری منزل
نہیں سمجھتے۔ اگرچہ وہ بہت سی منازل طے کر
چکے ہیں لیکن وہ اکتفا کہیں بھی نہیں کر رہے۔ اور
کسی تخلیق یا تنقید کو اپنی آخری پیش کش نہیں
گردانتے۔ کیوں کہ وہ یہ کام اس لئے نہیں کرتے کہ ان
کا مزاج ادبی ہے بلکہ وہ یہ کام اس لئے کرتے ہیں
کہ ان کی روح ادبی ہے جو کہیں تھک کر بیٹھ جانے
کی قائل نہیں۔ان کی انتھک کاوش ہی کا ثمر ہے کہ آج
ان پر کتنے ہی ایم فل اور پی ایچ۔ڈی کے مقالے ہو
رہے ہیں۔ ان کا کام صرف یہ نہیں کہ مقدار میں قارون
کا خزانہ لگتا ہے بلکہ تخیل اور معیار میں بھی حاتم
طائی کی سخاوت سے فزوں تر ہے۔ یہ سب کرشمے
ان کی بے تاب روح کے ہیں جو ان کے ذہن کو نت
نئے خیالت سے لبریز رکھتی ہے اور ان کا ذہن ،ان
کے قلم کو مح )و پرواز رہنے پر راضی رکھتا ہے۔
لکھنا ان کی زندگی ہے۔ وہ لکھے بغیر وقت گزارنا
معیوب سمجھتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس گلوبل ولیج یا عالمی گاؤں
کے معیارا )ت تحقیق و تنقید سے بھی واقفیت حاصل ہو
۔ جن سے شناسائی کے بغیر بات مشرق و مغرب میں
یکساں طور پر پذیرائی مشکل ہے۔آج کی سوچ اورا
ادراک علقائی نہیں بلکہ بین القوامی ہیں۔ اس لئے
آج کے شعور کو مشرق و مغرب کی تفہیم رکھنا نا
گزیر ہے۔ مقصود حسنی اس حقیقت سے کئی سال
پہلے ہی آگاہی حاصل کر چکے تھے۔ انہوں نے مشرق
کے ساتھ ساتھ مغرب کا بھی بھرپور مطالعہ کیا ہے۔
اور اس طرح وہ صرا )ط مشرقین و مغربین ہیں۔ ان کی
تجزیاتی اپروچ انہی افقوں سے ابھرتی ہوئی نصف
النہار تک جا پہنچتی ہے جہاں ان سے اختلف کی
گنجائش تو رہ سکتی ہے لیکن انکار کی گنجائش نہیں
رہتی۔
ان کی تجزیاتی تحریریں قریبا] قریبا] ہر اس صنف پر
ہیں جن کو ادب ایک صنف کا درجہ دیتا ہے۔ وہ
شاعری اور نثر دونوں میں کمال کی مہارت اور
بصیرت رکھتے ہیں۔اگرچہ کسی ایک صنف کا نقاد اس
میں کہنہ مشق ہو کر ایک بہتریب رائے قائم کرتا ہے،
لیکن مقصود حسنی کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر صنف میں
ہی کہنہ مشق اور با کمال لگتے ہیں۔ وہ نثرپاروں کی
تجزیاتی توجیح کر رہے ہوں یا شاعری کی رمز آفرینی
سے حظ اٹھا رہے ہوں ان کی باریک نگاہی سے کسی
عیب و ہنر کا بچ نکلنا محال ہے۔ وہ سرسری بات میں
بھی گہرائی تک رسائی کی دسترس رکھتے ہیں۔ اور
جب وہ کسی ادبی کاوش کو تجزیہ نگاری کی خوردبین
میں دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ان کا فوکس کوئی ایک
نقطہ یا مرکز نہیں ہوتا وہ اس ادب پارے کو ماضی ،
حال اور مستقبل ہر زاویئے سے پرکھنے اور جانچنے
کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔
کی سی حیثیت رکھتا ) (tannarایک نقاد ایک ٹینر
ہے وہ اس ادب پارے کی کھال سے جیسے چاہے
چمڑے تیار کر سکتا ہے ۔ وہ اس کو جیسے چاہے
رنگوں میں ڈھال کر دکھا سکتا ہے۔ لیکن یہ مہارت ہر
ٹینر میں نہیں ہوتی۔ مقصود حسنی کا بل شبہ ایسا
دباغ کہا جا سکتا ہے جو کسی ادب پارے کی جیسی
چاہے تجزی کر کے دکھا سکتا ہے۔ لیکن ایک بات
ضرور ہے کہ وہ امانت اور دیانت کا دامن ہاتھ سے
کسی قیمت پر نہیں چھوڑتے۔ وہ اپنے مخالف خیال
لوگوں کی تخلیقات کو بھی انہی عدسوں کے ذریعے
پرکھتے ہیں جن عدسوں سے وہ اپنے ہم خیال احباب
کی تحریروں پر اظہا )ر خیال کرتے ہیں۔ان کے میزا )ن
عدل ان کو غیر معقول کرنے ہی نہیں دیتا ۔ ان کی
طرف سے کہی یا لکھی جانے والی ہر بات اپنے ساتھ
معقولیت اور توازن رکھتی ہے۔وہ ضرورت سے زیادہ
ایک لفظ کا استعمال بھی ادبی فضول خرچی سمجھتے
ہیں اوراس سے مکمل اجتناب کرتے ہیں۔وہ جو اصول
و ضوابط اپنی تحریروں پر نافذ کرتے ہیں انہیں
دوسروں کی تخلیقات میں بھی تلش کرتے ہیں۔ وہ
دوہرے معیار سے کام لینے کے قائل نہیں۔
ان جائزوں سے یہ بات قاری پر یوں منکشف ہوتی
ہے جیسے صبح کا اجالاپنے آپ کو منوا تاہے۔ان کے
جائزے حوصلہ شکنی کی ڈگر پر نہیں چلتے بلکہ وہ
بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے محبت کی پالیسی
اختیار کرتے ہوئے تنقید کا کٹھن فریضہ انجام دیتے
ہیں۔ وہ ادب پرور اور ادب افزاتجزیہ نگار ہیں۔ وہ
اصلح برائے بقا نہ کہ اصلح برائے فنا کے علمبردار
ہیں۔ ان کے ادبی جائزوں نے بہت سوں میں نیا جوش
و خروش لیکن پہلے سے زیادہ ہوش کے ساتھ پیدا
کیا ہے۔ وہ کسی نووارد کا رستہ مسدود نہیں کرتے
بلکہ اسے ایک گھنے برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر
اپنی صلحیتوں کو چار چاند اور اپنے تیشہء تخلیق کو
نئے پیکر تراشنے کا بھرپور موقع فراہم کرتے ہیں۔
ان کے تجزیئے اپنی زبان کے لحاظ سے بھی قاب )ل
تعریف ٹھہرتے ہیں۔ وہ زبان کو کبھی بھی قاری کا
مسئلہ نہیں بننے دیتے اور نہ ہی اسے عامیانہ ہونے
کی کھلی چھٹی دیتے ہیں۔ وہ ایسی نپی تلی زبان کا
استعمال کرتے ہیں کہ ادب کی حلوت بھی رہتی ہے
اور ابلغ کا فریضہ بھی ادا ہوتا ہے۔وہ پiر کاری سے
بھری سادگی کا خوب استعمال کرتے ہیں کہ
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
ادب کے ساتھ ساتھ ادبی حلقوں میں ایک اور اجنبی
مانوس ہوتا جا رہا ہے۔ اور اس اجنبی کا عام تعارف
لسانیات کے نام سے کروایا جاتا ہے۔ مقصود حسنی
کی دور رس نگاہوں نے بہت پہلے ہی اس اجنبی کے
قدموں کی چاپ سن لی تھی اور اسے شیشے میں
اتارنے کی بھرپور کوشش بھی کر لی تھی اور کسی
حد تک اتار بھی لیا تھا۔ انہوں نے لسانیات کے میدان
کو بھی اپنے فیض سے محروم نہیں رکھا۔بلکہ اس
میں بہت سا کام کر دکھایا اور اپنے ہم عصروں کو
ورطہء حیرت میں ڈال دیا کہ وہ یہ بھی کر سکتے
ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے لسانیاتی تجزیئے بھی کر
ڈالے اور ادب پاروں کی لسانیات پر یوں کھل کر بات
کی کہ ادب کی بہت سی نام نہاد بڑی شخصیات انگشت
بہ دنداں ہو گئیں۔ ان کے لسانی تجزیئے لسانیات پر
کام کرنے والوں کے لئے مینا )ر نور ہیں ۔
الغرض مقصود حسنی کے ادبی اور لسانی تجزیوں
کے جائزے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ
اپنے اندر ایک اچھے نقاد سے زیادہ ایک اچھا انسان
رکھتے ہیں۔ وہ عیب چھپاتے ہیں لیکن کسی کا حق
نہیں مارتے۔ وہ تجزیئے میں مروت کا دامن بھی
تھامے رکھتے ہیں۔وہ اصول و ضوابط کی حرمت کو
پامال نہیں کرتے لیکن انسان کو ان سے بال تر بھی
سمجھتے ہیں۔ وہ لفظ کوشخص کا تابع قرار دیتے ہیں۔
وہ ادب اور انسانیت کو ایک قرار دیتے ہیں بلکہ
انسانیت کو ادب پر ترجیح دیتے ہیں اور یہی اصول وہ
اپنے تجزیوں میں بھی اپلئی کرتے نظر آتے ہیں۔
از :پروفیسر نیامت علی مرتضائی
...................
سائیں جیوے شال سدا سکھی پئے وسو
پروفیسر ڈاکٹر سید مقصود حسنی علم تے ادب دا ہک
سورج اے جس دیا لٹان نال پوری دنیا منور ہو گئی
اے ۔تساں ایہہ مضمون لکھ کے دنیا دے ہک مہان
لکھاری نو چنگا خرج تحسین پیش کیتا اے ۔ا کریم
تسانوں ایس دا اجر عظیم عطا فرمائے۔پاکستاب تے
باہر دے ملکاں وچ ایس اiچے پدھر دے لکھاری بارے
کسے رعارد دی ضرورت نہیں۔ہزار توں ودھ مضمون
لکھن ول تے پنجاہ تو ودھ کتاباں دا مصنف ساڈ ا مان
تران اے۔
ایسا کہاں سے لئیں کہ تجھ سا کہین جسے
میں تے ایہہ گل کراں گا
کون ستارے iچھو سکتاہے
راہ مین سانس اکھڑ جاتی ہے
By: Sujawal Khan,
D.G.Khan
on Jan, 12 2016
tosaan de khlous mohabat tay ais
bharvein tovajo da shukarriya ada
karna mushkil ee naein na'momkin vi
ay. maray tay lissay banday wal
tohaday jay vaday zaraf walay bandy
ee tovajo kar sakday ne. dua ay: Allah
sohna tohanoon ki khush rakhe tay
kisay da vi mahtaj na karay. Ohdi
janab tohanoon rang bhag laee
rakhe.
By: maqsood hasni,
kasur
on Jan, 20 2016
Thank you Sir .It is your wisdom and
greatness that you gave your wise
opinion on my humble
comments.You are a legend of world
literature
سجاول خاں
ڈی جی خاں
By: sujawal Khan,
D.G Khan on Jan,
20 2016
میڈا سائیں جہوندے رہو تے پل پل سکھاں دے نال
پئے وسو
السلم علیکم
پیر تے مرشد پروفیسر ڈاکٹر سید مقصود حسنی ادب
دی کہکشاں دا لٹاں ماردا خورشید اے۔ غالبیات
اقبالیات ،افسانے ،تنقید ،تحقیق ،تدریس تے فلسفہ دے
شعبت وچ پیر ہوراں دے اشہب قلم دیاں جولنیاں تو
ساری دنیا واقف اے۔ میڈے گویڑ وچ ایہہ گل آندی اے
کہ سائیں ہوریں قصور دے اسلمیہ کالج وچ اردو دے
استاد سن۔ اوہناں کے شاگرد اپنے محسن استاد دا ذکر
بہوں عقیدت نال کر دے نیں ،ٹورنٹو وچ اوہناں دی
ہک مداح ملی ،جہڑی اوہناں دیاں لکھتاں انٹرنیٹ تے
مطالعہ کردی سی۔ میں وی ایہہ لکھتاں پڑھیاں نیں۔
چودہ طبق روشن ہو جاندے نیں۔ روشن خایل ،جدت،
تنوع ،حریت فکر ،حریت ضمیر دا ایہہ بلند معیار
میکوں بھا گیا۔ میڈے ولوں ڈھیر مبھارکھاں۔ مضمون
بہوں چنگا لگا اے۔ سچ لکھیا ای بھراوا
توں اج دا گامن سچیار
تیرے منھ وچ گھیو تے کھنڈ
عمر دراز ہووی شال سدا شاد ،آباد تے آزاد پیا وسیں
او سوہنا سانول۔ دل خوش کر دتا ای۔
شیر خاں
ٹورنٹو
By: sher Khan,
Toronto
on Jan, 20 2016
Alsalam o Alaikum
It is my good fortune that I had an
opportunity to talk about a great
legend of world literature. Dr. Prof
Syyed Maqsood Hasni is a great critic
of linguistics.He inaugorated a
wonderful polyphonic signifier to
understand Ghalib. He rejected older
terminology of criticism.The methods
of literary scholarship introduced by
this great scholar will be remembered
for ever. I think respected critic
believes in dialectical materialism.
His services for bringing awareness
about synthesis of philosophical
orientation of style ,discourse and
language is worth mentioning.The
mastery of material diversity in this
article has impressed me. I pray for
you. Pay my complements to the
great legend of linguistics Dr.
Prof,Syyed Maqsood Hasni. May God
Almighty bless you all. Thank you
very much sir, I appreciate your
genius.
By: Snober Khan,
Rangoon
on Jan, 21 2016
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?
id=70024
اردو اور دیگر زبانوں کا لسانیاتی اشتراک
اردو کے متعلق یہ نظریات معروف چلے آتے ہیں کہ
وہ لشکری زبان ہے۔
وہ پنجابی سے نکلی ہے۔
لفظوں کے اشتراک سے گمان گزرتے لگتا ہے کہ
اردو ان زبانوں سے ترکیب پائی ہے یا ان سے نکلی
ہے۔ اپنی اصل میں یہ کسی زبان سے نہیں نکلی یا
دوسری زبانیں اس سے برآمد نہیں ہوئیں۔ زبانیں
علقائی ضرورت کے تحت ترکیب و تشکیل پاتی ہیں۔
ان کے ہر لفظ کا اپنا کلچر ہوتا ہے اور وہ اس علقہ
کے ماحول' حالت' ضروریات' معاملت' حوادث اور
موسموں کا پرتو ہوتا ہے۔ بدلتے حالت کے تحت ان
میں معنوی' نحوی اور ہئتی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔
بعض الفاظ زندگی کے بدلتے سیناریو کے تحت'
متروف ہو جاتے ہیں' یا کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔
مقامی اور بدیسی زبانوں کے الفاظ' ان میں داخل
ہوتے رہتے ہیں۔ تلفظ معنی استعمللت میں' انہیں اس
زبان کی انگلی پکڑنا پڑتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی زبان
دیکھ لیں' وہ اس سے برعکس نہ ہوگی۔ اس کے
ذخیرہءالفاظ میں ان گنت بدیسی یعنی مہاجر الفاظ میں
ہیئتی اور تفہیمی تبدیلیاں نظر آئیں گے۔ عربی اور
فارسی والوں کا' برصغیر سے عرصہ دراز سے تعلق
چل آتا ہے۔ ان کی زبانوں نے' یہاں کی زبانوں پر'
اپنے اثرات مرتب کیے .ان کی زبانوں کے بےشمار
لفظ' یہاں کی زبانوں میں داخل ہو گیے' جو آج ان
زبانوں کا' حصہ لگتے ہیں۔ درج سطور میں' کچھ
زبانوں کے لسانی اشتراک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ممکن
ہے یہ حقیر سا کام' زبانوں پر کام کرنے والوں کے
کسی کام کا نکلے۔
....................
اردو
نقش فریادی ہے کس کی شوخ )ی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیک )ر تصویر کا
غالب
ہے کی کا
کس
کس' کسے سے ماخذ یا اس کی مترداف صورت
کس شخص' جانور راس' جب کہ چیز کے لیے عدد
مستعمل ہے۔ مثل فی کس ایک شخص مرد اور عورت
دونوں کے لیے' ایک راس بیل گائے یا کوئی بھی
جانور' ایک عدد ٹی وی نمبری۔۔۔۔۔
کس میں کاف کے نیچے زیر ہے۔ یہ شخص کے لیے
مستعمل ہے۔ مثل
یہ گائے کس کی ہے۔
یہ گاڑی کس کی ہے۔
یہ بات اب کس کس کو بتاؤں۔
یہاں تو پورا معاشرہ ہی متاثر ہے کس کس کی خبر لی
جائے۔
چاروں جملوں میں کس سے مراد شخص ہے۔ کسی'
کسے' کسو اسی کی اشکال ہیں۔
بلوچی
یک شـﭙے چﻨـﺪے ھﻢ خیالیں یار
ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪق و سﺨﻦ سﯿﻨگار
دل پﺮ از مھﺮﺀ iقﻮمی ھـﻤﺪردی
آتک انﺖ پﻪ قﺼـﺪ گﻨﺪک و دیـﺪار
مولنا عبدا روانبد
)سعدی بلوچستان(
اردو میں مستعمل لفظ
یک' یار' ھـﻤ ﺪل' و ھـﻤ ﺼﺪق' و سﺨﻦ' دل' پﺮ' از'
مھﺮﺀ 'iقﻮمی' ھـﻤ ﺪردی' پﻪ' قﺼـﺪ' دیـﺪار
آتک انﺖ
شـﭙے' چﻨـﺪے' ھﻢ خیالیں' سﯿﻨگار
شـﭙے
پے پ' بے ب کی متبادل آواز ہے شب سے شبے
یک شبے یک شب
ایک رات
خیالیں مترداف ہم خیالوں
ی واؤ کا تبادل ہے۔
خیالیں مترداف ہم خیالوں
سﯿﻨ' میں ہ گرا دی گئی ہے۔
سین گار' سینہ گار :من کی کہی کے جاننے والے۔
جن کے سینوں میں ایک سی چل رہی ہو۔
ھﻢ
اردو کا معروف سابقہ ہے۔ مثل ہم راز' ہم درد' ہم
نشین وغیرہ
بلوچی میں ہلکی آواز ہ اور بھاری آواز ھ مستعمل
ہیں۔
ہلکی آوازوں کی جگہ بھاری اور بھاری آوازوں کی
جگہ ہلکی' آوازوں کا استعمال' اردو میں بھی ہوتا آیا
ہے۔ یہ کوئی الگ سے بات نہیں۔
گار
سﯿﻨگار :گار' اردو میں استعمال کا لحقہ ہے۔ مثل
بیگار' روزگار' خدمت گار' کامگار
گار اپنی اصل میں کار کا مترادف اور ہم مرتبہ لحقہ
ہے۔
خیالیں' ہمخیال' ہم خیال
و
ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪق و سﺨﻦ سﯿﻨگار
لفظ ساتھ مل کر لکھنے کا انداز اردو میں بھی
مستعمل رہا ہے۔
واؤ الگ سے نہیں بولتے اردو کی طرح مل کر بولتے
ہیں جیسے شب و روز' عدل و انصاف' بندہ و آقا۔ یہ
.طور اردو کے مطابق ہے
پنجابی
جس دلے عشق نہ رچیا کتے اس تھیں چنگے
مالک دے گھر راکھی کر دے صابر بھکے ننگے
میاں محمد بخش
اردو میں مستعمل لفظ
جس' عشق' نہ' کتے' اس' مالک' گھر' کر' صابر'
ننگے
اشکالی تبدیلیاں
رچیا' دلے' راکھی' دے' بھکے
دلے
دل میں' کے لیے ے کا اضافہ۔ لفظ دل لے ہے' لم
مشدد ہے۔ لفظ دلے میں' دل واضح آواز میں ہے اور
یہ اردو والوں کے لیے غیرمانوس نہیں
دے
کاف کا تبادل د ہے۔
راکھی رکھوالی
رکھ رکھنا سے ہے اور رکھنا تحویل کے لیے بھی
ہے۔
بھکے بھوکے
بھکے میں واؤ کی آواز گرائی گئی ہے۔
تھیں
تھیں مترادف سے
چنگے
چنگ سے ترکیب پایا ہے اور یہ لفظ' پنجابی نہیں۔
چنگڑ ایک قوم بھی ہے۔
رچیا
رچ بس جانا
رچنا بسنا
نفس شیطان نیں بیلی تیرے' دنیا تیری حور
کھوتے گھوڑے اک برابر' پٹھے نیں دستور
صدیاں سولی تے ٹنگے بندے بےقصور
ظلم' ستم تے جبر قہر دی ہر پاسے للکار
مالک دے دربار جانا مالک دے دربار
صوفی نیامت علی
اردو میں مستعمل لفظ
نفس' شیطان' تیرے' دنیا' تیری' حور' گھوڑے' اک'
برابر' دستور' صدیاں' سولی' بےقصور' ظلم' ستم'
جبر' قہر' ہر' للکار' مالک' دربار' جانا
بیلی
بیلی میں بے سین کی اور ی حے مقصورہ ہ کی
متبادل آوازیں ہیں گویا یہ لفظ اپنی اصل میں سہیلی
ہے۔ یہاں ہمارے ہاں سہیلی عورتوں کی باہمی دوستی
اور بیلی مردوں کی باہمی دوستی کے لیے مستعمل
ہے۔
بندہ
بندہ کی پنجابی میں جمع بندے ترکیب دیتے ہیں اور
اردو میں لفظ بندے غیر مانوس نہیں۔
بندہ' خاوند کھسم کے لیے بھی بول جاتا ہے۔ اردو
میں' مکتوبی صورت خصم ہے اور اس کے عربی
معنی دشمن ہیں۔ دشمنی کے لیے خصومت ہی مستعمل
ہے۔
تے' دے
تے' دے :تے اور دال کاف کی متبادل آوازیں ہیں۔
پشتو
وړم مســــتقبل تﻪ د مـاضي روایات
زہ د خپل حـال د ولـــولـو ســرہ ځم
بابا غنی
اردو میں مستعمل لفظ
وړم' مســــتقبل' مـاضي' روایات' حـال' ولـــولـو
سرائیکی
کیا شئے ہئی اوقات' اڑائیں رکھ آیاں
میں تاں اپنی ذات اڑائیں رکھ آیاں
اقبال سوکڑی
کیا شئے ہے اوقات' وہاں رکھ آیا ہوں
میں تو اپنی ذات وہاں رکھ آیا ہوں
اردو میں مستعمل لفظ
کیا' شئے' اوقات' رکھ' اپنی' میں' ذات
اوقات' اردو میں بھی وقعت اور حیثیت کے لیے
مستعمل ہے۔ مثل اپنی اوقات میں رہو۔ یعنی اپنی
حیثیت میں رہو۔
آیاں
آیاں :میں ں حشوی نہیں' بل کہ ہوں کے لیے ہے۔
اس میں ہو گرا دیا گیا ہے اور ں ہوں کے لیے
استعمال ہوا ہے۔
اڑائیں :اڑائی' دور کر دی' ترک کر دی' گزار دی'
توجہ نہ دی۔ مثل اس نے میری بات ہوا میں اڑا دی۔ ں
کا حشوی استعمال ہوا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔
یہاں مراد وہاں ہے یعنی جہاں تھا' وہیں۔
رکھ آیاں :بامعنی رکھ آیا ہوں' عام استعمال کا
محاورہ ہے۔
تاں :تو
ہئی ہے کا مترادف ہے۔
سندھی
وحدتاں کثرت تی' کثرت وحدت کل
حق حقیقی ھیکثرو'یو لیئی می پل
ھو ھلل چوھل' باا سندوسحیٹین
شاہ عبد الطیف بھٹائی
اردو میں مستعمل لفظ
کثرت' کثرت' وحدت' کل' حق' حقیقی' باا
ھو ھل چوھل' معروف مہاورہ ہے۔ جب وحدت میں
کثرت یا کثرت میں وحدت کا چرچا ہو تو حال کا آنا اور
ہونا فطری سی بات ہے۔ کمال کے لیے عش عش یا
واہ واہ کا منہ سے نکلنا اختیاری نہیں۔ انصاف کا
تقاضا بھی یہ ہی ہے۔
چے' تے اور سین کی متبادل آواز ہے۔
ھو ھل تو ھل' ھو ھل سوھل
سندوسحیٹین :فقط ا ہی ہے جب عرف میں آئے تو
اس سے خرابی ختم ہوگی تو سندوسحیٹین یعنی امن
امان حسن بہتری وغیرہ تو گی۔ یہ ہی تو حق اور سب
سے بڑی سچائی ہو گی۔
وحدت اں ھی کثرو :اکائی اپنے اندر بہت کچھ رکھتی
ہے۔ تاثیر' کمال تصرف کی بےشمار صورتیں۔ یعنی
وہ ایک ہے اور وہ ایک اپنے باطن میں بہت کچھ لیے
ہوئے ہے۔ ان کا اظہار بھی کثرث میں آئے گا۔ اظہار
کی کثرت احد پر سند ہو گی۔ کثر ث سے ہے نہ کہ
سین سے۔ ث جمع کے لیے ہے اور سین نفی کے
لیے۔
عربی
م iری ®ودا®ف)یع® ¯ل ®ھ -مما®®وت®ط®شا )بف®اوالشسطiم ¯ح ®عاولی ®غن-ی
حضرت شیخ عبدالقادر جیلنی
اردو میں مستعمل لفظ
فع® ¯ل م iرید )ی' و' ط )ب' ®عالی' ®غن-ی
لس iم :اسم
فارسی
خدا خود میر مجلس بود اندر لمکاں خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
امیر خسرو
اردو میں مستعمل لفظ
خدا خود میر مجلس اندر لمکاں خسرو' محمد' شمع'
محفل' شب جائے' کہ
بود' من' بودم
جائے نماز' جائے پناہ جائے
جا ہرجا
اے محقق ذات حق با صفات
بے تجلی ہیچ کہ اظہار نیست
لعل شہباز قلندر
اردو میں مستعمل لفظ
اے' محقق' ذات' حق' باصفات' بےتجلی' ہیچ' کہ'
اظہار
نیست
نیستی کا مارا عمومی استعمال میں ہے تاہم مفاہیم بدل
گیے ہیں اور یہ کوئی انوکھی اور الگ سے بات نہیں۔
غریب مفلس' خصم خاوند' رقم پیسوں وغیرہ ایسی
سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ نہوست کے حوالہ سے
بھی' لفظ نیستی بول جاتا ہے' تاہم نہی اور بےکار کے
زیادہ قریب ہے۔
با اور بے' دونوں سابقے اردو میں باکثرت استعمال
میں آتے ہیں۔ مثل
با :باکردار' باہوش' بامعنی
بے :بےکار' بےوقوف' بےمطلب
گوجری
شعراں کا یہ منکا موتی دل تروڑ بنایا
تند پریمی وچ پرویا بنیا غزل نمونا
رفیق شاہد
اردو میں مستعمل لفظ
کا' یہ' منکا' موتی' دل' بنایا' تند' غزل' نمونا' پریمی
شعراں' تروڑ' پریمی' وچ' بنیا
تروڑ :توڑ یہاں مراد توزنا نہیں ہے بل کہ متاثر کرنے
کے لیے ہے۔
پرویا :مراد پرو دیا۔ پرویا اردو والوں کے لیے اجنبی
اور غیر مانوس نہیں۔
وچ :میں' اندر
شعراں :شعروں' جمع بنانے کے لیے واؤ کا تبادل ایف
ہے اور یہ فارسی طور ہے۔ مثل
چراغ سے چراغاں
ذوق قدح سے بزم' چراغاں کیے ہوئے
پریم سے پریمی' ی کا اضافہ کرکے مفہوم سے لیا گیا
ہے تاہم اس سے مراد' پریم کرنے وال ہے۔ اس لفظ
کی بنیادوں میں مفہوم محبت ہے' یہاں بھی محبت کا
عنصر غائب نہیں۔
اردو میں یہ لفظ نامونوس نہیں۔
نمونا کو حائے مقصورہ کے ساتھ بھی لکھا جاتا ہے۔
نمونہ۔ حائے مقصورہ کا الف میں تبادل یا الف حائے
مقصورہ میں تبادل کوئی نئی بات نہیں۔ مثل پتا پتہ'
راجا راجہ' پہرا پہرہ وغیرہ۔ آواز کے مطابق تجلی
سے تجل' فاصل فاصلہ' حوصل حوصل
بنیا میں' ی کا حشوی استعمال ہوا ہے' ورنہ بنیا بھی
ناموس نہیں۔
ہندکو
اندر یاداں کہر مچایا
دوروں دوڑ کے نہیری آئی
اجمل نذیر
اردو میں مستعمل لفظ
اندر' مچایا' دوڑ' کے' آئی
یاداں' کہر' دوروں' نہیری
یاداں
یاداں یادیں' یادوں
دوروں :دور سے
نہیری :آندھی
کہر
ق کے لیے' ہم صوت ہونے کے سبب' ک بھی مستعمل
ہے .جیسے قصور رومن میں کے سے رواج میں ہے'
جب کہ ق کے لیے کیو اور یہ آواز موجود ہے .قبر'
صوت میں کبر بھی سننے کو ملتا ہے' جب کہ زیر کی
صورت میں' مفہوم کچھ اور ہو جاتا ہے۔ قابض کے
لیے کابض بھی سننے کو ملتا ہے۔
یاداں
یاداں میں واؤ کی متبادل آواز الف سے کام لیا گیا ہے۔
مخلوط
انا ف)ی ®ع ®طش -و ®س ®خاک ا®ت®م اے گیسوئے پاک اے اب )ر کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا
جاناں
امام احمد رضا خاں بریلوی
انا ف)ی ®ع ®طش -و ®س ®خاک ا®ت®م
اے گیسوئے پاک اے اب )ر کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم
دو بوند ادھر بھی گرا جانا
انا )فی ®ع ®طش -و ®س ®خاک ا®ت®م
فی
فی :اردو میں بھی مستعمل ہے۔ جیسے فی الوقت' فی
زمانہ' فی کس۔ تینوں کی استعمالی استعمالی صورتیں'
الگ تر ہیں۔
®ع ®طش
ع کی متبادل آواز ت ہے۔ جیسے تش پیاس کے لیے
ہے اور پیاسے کو تشنہ کہا جاتا ہے۔
و
و :شب و روز
®س ®خاک
®س ®خا :جود و سخا
ا®ت®م :اتمام حجت اردو میں مستعمل ہے۔
برسن ہارے رم جھم رم جھم
برسن برسنا
اردو میں ہارے عمومی استعمال میں نہیں' ہاں البتہ
اردو گیتوں میں' اس سے بہت سے لفظ' پڑھنے اور
سننے کو مل جائیں گے۔ لے اور اسلوبی اعتبار سے'
یہ نعتیہ کلم' صنف گیت سے قریب ترین ہے' اس لیے
یہ لفظ متن میں اپنے مفاہیم واضح کر رہا ہے۔ مرکب
رم جھم' ہارے اور برسن کے مفہیم تک رسائی میں
معاونت کر رہا ہے۔
اے گیسوئے پاک اے اب )ر کرم
یہ ٹکڑا' باطور فارسی داخل متن ہے' جب کہ اردو
والوں کے لیے نیا نہیں' بل کہ اردو کا ہی معلوم ہوتا
ہے۔
اردو کے تناظر میں حضرت بوعلی قلندر کے فارسی
کلم
کا لسانیاتی مطالعہ
برصغیر کا' ایران سے مختلف حوالوں سے رشتہ'
صدیوں پر محیط ہے۔ برصغیر کے یودھا' ایران کی
فوج میں شامل تھے۔ ایک دوسرے کے ہاں بیٹیاں
بیاہی گئیں۔ مختلف شعبوں سے متعلق لوگ' برصغیر
میں آئے۔ رشد و ہدایت کے لیے صالیحین کرام'
برصغیر میں تشریف لتے رہے۔ یہاں کی خواتین سے
ان کی شادیاں ہوئیں اور ان کی نسل یہاں کی ہو کر رہ
گئی۔ کچھ کنبہ سمیت یہاں آئے' ان آنے والوں کی
نسل نے بھی' برصغیر کو اپنی مستقل اقامت ٹھہرایا۔
ان تمام امور کے زیر' اثر رسم و رواج' علمی و ادبی
اور سماجی روائتوں کا تبادل ہوا۔ اشیا اور شخصی نام
یہاں کی معاشرت کا حصہ بنے۔ اس میں دانستگی کا
عمل دخل نہیں تھا' یہ سب ازخود نادانسہ اور نفسیاتی
سطع پر ہوتا رہا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ صدیوں پرانے'
تہذیبی اور لسانی اثرات' برصغیر میں واضح طور پر
محسوس کیے جا سکتے۔
یہاں حضرت بوعلی قلندر کے فارسی کلم کا' اردو
کے تناظر میں' ناچیز سا لسانیاتی مطالعہ پیش کیا گیا
ہے' جس سے یہ کھل جائے گا کہ یہ دونوں زبانیں'
آج بھی ایک دوسرے سے کتنا قریب ہیں۔ آخر میں'
تین اردو شعرا کے دو چار مصرعے' مع جائزہ' اپنے
موقف کی وضاحت کے لیے درج کر دیے ہیں۔
اس مطالعے میں کئی صورتیں اختیار کی گئی ہیں' وہ
لفظ الگ کیے گیے ہیں' جو آج بھی اردو والوں کے
استعمال میں ہیں۔ کچھ لفظ ایسے الگ کیے گیے ہیں'
جو آوازوں کی ہیر پھیر سے' اردو میں مستعمل ہیں۔
کچھ اشعار باطور نمونہ پیش کیے گیے ہیں' جن میں
محض ایک دو لفظوں کی تبدیلی کی گئی اور اب وہ
اردو کا ذخیرہ ادب خیال کیے جائیں گے۔ میں نے
باطور تجربہ کچھ اشعار اردو انجمن پر رکھے' جناب
سرور عالم راز ایسے بڑے
اردو دان نے' انہیں غیراردو نہیں کہا۔ ان کا کہنا ہے:
کاش یہ ترجمہ باوزن بھی ہوتا تو مزا دوبال ہو جاتا۔
خیر معنی قاری تک پہنچا دینا بھی بہت .بڑا کام ہے
http://www.bazm.urduanjuman.com/i
ndex.php?topic=10160.0
یہ امر' اس بات کا واضح اور زندہ ثبوت ہے' کہ اردو
اور فارسی قریب قریب کی زبانیں ہیں۔ دونوں کی
لسانیاتی عمر کا تعین اس سے الگ بات ہے .تاہم
حضرت بوعلی قلندر کے دور تک تو عمر کا تعین ہو
ہی جاتا ہے۔
..............
ہست در سینہ ما جلوہ جانانہ ما
بت پرستیم دل ماست صنم خانہ ما
سینہ جلوہ بت دل صنم خانہ
بت پرستیم :بت پرستی
جانانہ :جانان جاناں
اے خضر چشمہ حیوان کہ بران می نازی
بود یک قطرہ ز درت )ہ پیمانہ ما
اے خضر چشمہ حیوان یک قطرہ ت )ہ پیمانہ
بران براں مزید براں
نازی ناز
مثل کسی خاتون کا فرح ناز نام ہے' یائے مصدری کے
اضافے اور لڈ پیار سے عرفی نام' نازی بھی سننے
کو آتا رہتا ہے' گویا لفظ نازی' اردو والوں کے لیے
نیا نہیں' تہہ میں مفاہیم بھی تقریبا وہ ہی پوشیدہ ہیں۔
جنت و نار پس ماست بصد مرحلہ دور
می شتابد بہ کجا ہمت مردانہ ما
جنت و نار پس بصد مرحلہ دور بہ کجا ہمت مردانہ
شتابد :شتاب شتابی
جنبد از جائے فتد بر سر افلک برین
بشنود عرش اگر نعرہ مستانہ ما
از جائے بر سر افلک عرش اگر نعرہ مستانہ
برین :بریں عرش بریں
بشنود شنید گفت و شنید
ہمچو پروانہ بسوزیم و بسازیم بعشق
اگر ا²ں شمع کند جلوہ بکاشانہ ما
پروانہ و اگر شمع جلوہ
بسوزیم :بسوز سوز سوزی
بعشق :بعشق عشق
ا²ں :آنحضرت
بکاشانہ :کاشانہ
ما بنازیم بتو خانہ ترا بسپاریم
گر بیائی شب وصل تو درخانہ ما
خانہ ترا گر شب وصل تو در خانہ
نازیم :ناز نازی
بتو :تو
گفت اوخندہ زنان گریہ چو کردم بدرش
بو علی ہست مگر عاشق دیوانہ ما
خندہ گریہ بو علی مگر عاشق دیوانہ
گفت :گفت گفتگو گفتار
کردم :کر
'''''''''''''''''''''
اے ثنائت رحمتہ اللعالمین
یک گدائے فیض تو روح المین
اے رحمتہ اللعالمین یک فیض تو روح المین
ثنائت :ثنا
گدائے :گدا
اے کہ نامت را خدائے ذوالجلل
زد رقم بر جبہہ عرش برین
اے کہ خدائے ذوالجلل رقم عرش برین
نامت :نام
زد; زد نامزد قلمزد
جبہہ :جبہ جبین
بر :برباد برسراقتدار برسرپیکار برسرروزگار
آستان عالی تو بے مشل
آسمانے ہست بالئے زمین
آستان عالی تو بے مشل زمین
آسمانے :آسمان
بالئے :بال بالتر بالئے طاق
آفرین بر عالم حسن تو باد
مبتلئے تست عالم آفرین
آفرین بر عالم حسن تو عالم آفرین
باد :آباد برباد زندہ باد مردہ باد شاد باد
مبتلئے :مبتلئے عشق
یک کف پاک از در پر نور اiو
ہست مارا بہتر از تاج و نگین
یک کف پاک از در پر نور بہتر از تاج و نگین
از :ازاں ازیں از قصور تا پان پت
خرمن فیض ترا اے ابر فیض
ہم زمین و ہم زمان شد خوشہ چین
خرمن فیض ترا اے ابر فیض ہم زمین و ہم زمان
خوشہ چین
شد :ختم شد
از جمال تو ہمے بینم مسا
جلوہ در آینہ عین الیقین
از جمال تو جلوہ آینہ عین الیقین
بینم :بین خوردبین دوربین کتاب بینی
در :دربار درگاہ درپیش درگزر درکنار
خلق را آغاز و انجام از تو ہست
اے امام اولین و آخرین
خلق آغاز و انجام از تو اے امام اولین و آخرین
غیر صلوۃ و سلم و نعت تو
بو علی را نیست ذکر دلنشین
غیر صلوۃ و سلم و نعت تو بو علی ذکر دلنشین
'''''''''''''''''''''
اے شرف خواہی اگر وصل حبیب
نالہ مے زن روز و شب جون عندلیب
خواہی :خواہ خیر خواہ خیر خواہی
زن :موجزن غوطہ زن خیمہ زن
اے شرف چاہے ہے اگر وصل حبیب
نالہ کرتا رہ روز و شب جون عندلیب
من مریض عشقم و از جان نفور
دست بر نبض من ا²رد چون طبیب
عشقم :عشق
مریض عشق اور بےزار از جان ہوں
مرے نبض پر دست کیوں رکھے طبیب
بر :اردو میں بے ب کی آواز پے پ میں بدل گئی ہے
پر' تاہم بر بھی فقرے میں قابل فہم ہے۔
مرے نبض پر دست کیوں رکھے طبیب
رسم و راہ ما نداند ہر کہ او
در دیار عاشقی ماند غریب
رسم و راہ نہ جانے کہ ہر کوئی
دیار عاشقی میں مانند غریب
شربت دیدار دلداران خوش است
گر نصیب ما نباشد یا نصیب
دلداران :دل داران
شربت دیدار خوش آتا ہے دل داروں کو
نصیب میں ہے یا ہوں میں بےنصیب
ما ازو دوریم دور اے وائے ما
از رگ جان است او ما را قریب
دوریم :دوری
وائے :ہائے وائے' اردو میں مستعمل ہے
ما ازو دوریم دور اے وائے ما
اس سے دور ہائے ہائے میں دور ہوں
مگر رگ جان سے بھی وہ مرے قریب
بر سرم جنبیدہ تیغ محتسب
در دلم پوشیدہ اسرار عجیب
سرم :سر
دلم :دل
سر پر تنی ہے تیغ محتسب
دل میں پوشیدہ اسرار عجیب
بو علی شاعر شدی ساحر شدی
این چہ انگیزی خیالت غریب
شدی :شدہ
اردو میں ختم شد' تمام شد' شادی شدہ وغیرہ مرکبات
مستعمل ہیں
بو علی شاعر ہوا ساحر ہوا
کرے ہے انگیزی خیالت غریب
'''''''''''''''''''''
اگر رندم اگر من بت پرستم
قبولم کن خدایا ہر چہ ہستم
رندم :رند
پرستم :پرست
قبولم :قبول
اگر رند ہوں اگر میں بت پرست ہوں
قبول کر خدایا جو جیسا بھی ہوں
ندارم ننگ و عا ر از بت پرستی
کہ یارم بت بود من بت پرستم
ندارم :ندارد
بت پرستم :بت پرست
یارم :یار
از' ادو میں مستعمل ہے
ننگ و عار نہیں بت پرستی سے
کہ یار بت ہے میں بت پرست ہوں
بہ پیچ و تا ب عشق افتادم ا²نگہ
دل اندر زلف پیچان تو بستم
بہ :اردو میں مستعمل ہے
افتادم :افتاد دور افتادہ
بستہ بستی بند و بست بستم:
پیچ و تا ب عشق میں گرفتار ہوں
دل اندر زلف پیچان کا بسیرا ہے
'''''''''''''''''''''
ہم شرح کمال تو نگنجد بہ گمانہا
ہم وصف جمال تو نیاید بہ بیانہا
شرح کمال' شرح کمال
گمان' بیان' تو
ہا :جمع بنانے کے لیے اردو میں ہا اور ہائے مستعمل
ہیں
یک واقف اسرار تو نبود کہ بگوید
از ہیبت راز تو فرد بستہ زبانہا
واقف اسرار' ہیبت راز' فرد بستہ
زبانہا زبان ہا
ما مرحلہ در مرحلہ رفتن نتوانیم
در وادئے توصیف تو بگستہ عنانہا
مرحلہ در مرحلہ' ادئے توصیف
رفتہ' رفتار رفتن:
نتوانیم :ن توان یم ناتواں
عنانہا :عنان ہا عنان حکومت
حسن تو عجیب است جمال تو غریب است
حیران تو دلہا و پریشان تو جانہا
دلہا و پریشان :دلہا و پریشان
جانہا :جان ہا
حسن تو عجیب' جمال تو غریب' حیران' پریشان
چیزے نبود جز تو کہ یک جلوہ نماید
گم در نظر ماست مکینہا و مکانہا
جز' تو کہ' گم' نظر
چیزے :چیز
یک جلوہ
مکینہا :مکین ہا
مکانہا :مکان ہا
یک ذرہ ندیدیم کہ نبود ز تو روشن
جستیم ز اسرار تو در دہر نشانہا
یک ذرہ' اسرار تو
روشن' دہر
ندیدیم :دید' نادید' نادیدہ
جستیم :جست
نشانہا :نشان ہا
یک تیر نگاہت را ہمسر نتوان شد
صد تیر کہ برجستہ ز ا²غوش کمانہا
یک تیر' صد تیر' تیر نگاہ' ا²غوش کمان
نگاہت :نگاہ
کمانہا :کمان ہا
ہمسر' برجستہ
دارد شرف از عشق اے فتنہ دوران
در سینہ نہان ا²تش و در حلق فغانہا
فتنہ دوران .فتنہ دوراں' نہان ا²تش۔ آتش نہاں' حلق
فغاں
اے' عشق' سینہ' حلق
فغانہا :فغان ہا
'''''''''''''''''''''
من کہ باشم از بہار جلوہ دلدار مست
چون منے ناید نظر در خانہ خمار مست
بہار جلوہ دلدار مست نظر در خانہ خمار مست
باشم :میم ہٹانے سے باش' اردو میں شاباش' شب
باش' پرباش مستعمل ہیں۔
مے نیاید در دلش انگار دنیا ہیچ گاہ
زاہدا ہر کس کہ باشد از ساغر سرشار مست
دلش :شین ہٹا دیں دل
مے انگار دنیا ہیچ گاہ زاہدا ہر کس کہ از ساغر
سرشار مست
دلش :شین ہٹا دیں دل
جلوہ مستانہ کردی دور ایام بہار
شد نسیم و بلبل و نہر و گلزار مست
جلوہ مستانہ دور ایام بہار نسیم و بلبل و نہر و گلزار
مست
کردی
کاف ہٹانے سے ردی
دی ہٹانے سے کر
کر ہٹانے سے دی اور دی سے سردی گردی وردی
من کہ از جام الستم مست ہر شام کہ سحر
در نظر آید مرا ہر دم درو دیوار مست
کہ از جام مست ہر شام کہ سحر نظر مرا ہر دم درو
دیوار مست
الستم کا میم گرانے سے الست' اردو میں الست مست
مرکب مستعمل ہے
چون نہ اندر عشق او جاوید مستیہا کنیم
شاہد مارا بود گفتار و ہم رفتار مست
نہ اندر عشق جاوید شاہد گفتار و ہم رفتار مست
چون :اردو میں چونکہ مستعمل ہے
مستیہا کو الگ الگ لکھیں مستی ہا' صرف مکتوبی
صورت اس لفظ کو اردو میں داخل کر دیتی ہے۔
تا اگر راز شما گوید نہ کس پروا کند
زین سبب باشد شمارا محرم اسرار مست
تا اگر راز نہ کس پروا زین سبب محرم اسرار مست
غافل از دنیا و دین و جنت و نار است او
در جہان ہر کس کہ میباشد قلندر وار مست
غافل از دنیا و دین و جنت و نار در جہان ہر کس کہ
قلندر وار مست
'''''''''''''''''''''
بوعلی قلندر کے نو اشعار کا' اردو کے تناظر میں
تجزیہ پیش ہے۔
ان نو اشعار کے نو قوافی درج ہیں۔ یہ اردو والوں کے
لیے اجنبی نہیں ہیں۔۔
آدم' دمادم' ابکم' محرم' اعظم' پیہم' اعظم' آرم' مسلم
مصرعوں کے پہلے لفظ
جمالت' کہ' اگر' ہزاراں' اگر' تو' بر' ملئک' کسے'
حریم
کلم میں استعمال ہونے والے مرکبات' اردو والوں کے
لیے غیریت نہیں رکھتے۔
روئے آدم' جملہ آدم' ہزاران سجدہ' جملہ اسما' حریم
قدس' کورا زبان' نوشتہ بر جبین' عرش اعظم' صاحب
نام' اسم اعظم' صورت پاک' جمال ل یزالی