The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-03-17 10:40:46

maqalay

maqalay

‫بے' نہی کا سابقہ ہے اور اردو میں باکثرت استمال‬
‫ہوتا ہے۔ رحمان بابا کے ہاں بھی' یہ سابقہ استعمال‬
‫ہوا ہے۔ چند مثالیں ملحظہ ہوں۔ یہ الفاظ اردو کے‬

‫لیے اجنبی نہیں ہیں۔‬
‫لکھ تش صورتہ بےروحہ‬

‫بےبالین او بےبستر‬
‫کہ جہان و بےھنر و تھ فراﺥ دے‬
‫د بےدرد ھمدمی بہ د بےدردک‬
‫رحمان ھسے بیوقوف سوداگر نہ دے‬

‫لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ‬
‫د بےمثلہ بےمثالہ بےمکان دے‬

‫لکہ تش کدو بے مغزہ‬
‫مراد ئے بےدیار لہ درہ بل ہاب نہ دے‬
‫رحمان ھسے و خپل یار تہ بےحجت رے‬

‫مزید کچھ نہی کے سابقے ملحظہ فرمائیں۔ الفاظ اور‬
‫‪:‬سابقے اردو زبان سے متعلق بھی ہیں‬

‫نا‬
‫پہ نابود باند ناحق د بود کمان ک‬
‫د نامرد د ھمدمی بہ د نامردک‬
‫تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک‬

‫کم‬
‫لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ‬
‫کم اندیشہ کہ بیدار دے بیدار نہ دے‬

‫ھر کم فھم کجائی‬
‫ھر کم بخت ئے کلہ مومی‬

‫بد‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫مزید دو سابقوں کا استعمال ملحظہ ہو جو اردو میں‬
‫بھی مستعمل ہیں۔‬

‫ھم‬
‫یؤ صورت دے ھم نشیب دے ھم فراز‬
‫ہم گفتار بہ ئے د خدائی پہ در قبول شی‬

‫نغمے کاندی ھم رقص کہ ھم خاندی‬

‫با‬
‫د رحمان پہ شعر ترکے د باکرام‬

‫اب چند لحقے ملحظہ ہوں' یہ اور ان سے متعلق‬
‫الفاظ ' اردو کے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہیں۔‬

‫ناک‬
‫تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک‬
‫کینہ ناک' اردو میں مستعمل نہیں تاہم کینہ اور ناک'‬

‫باطور لحقہ مستعمل ہیں۔‬

‫گار‬
‫صد رحمت شھ پھ روزگار د درویشانو‬

‫دار‬
‫دنیادار د دنیا کار کازہ د دین‬

‫خواہ‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫گو‬
‫دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم‬

‫مند‬
‫بؤ لحد دے ھنرمند و لرہ تنگ‬

‫پذیر‬
‫ھر کلم چہ دلپذیر او دلپسند وی‬

‫یہ ہی نہیں' بابا صاحب کے ہاں پجابی ذائقہ بھی‬
‫موجود۔ اردو میں پلید اور پلیدی استعمال میں آتے ہیں۔‬
‫پنجابی میں پلید سے پلیت اور پلیدی سے پلیتی' بولے‬
‫لکھے جاتے ہیں۔ بابا صاحب نے ایک مصرعے میں'‬

‫یہ دونوں الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کے باوجود‬
‫اسلوب پنجابی نہیں ہو پایا۔‬

‫د دنیا پھ پلیتی م حان پلیت کڑو‬

‫اردو میں ہمیشہ' جب کہ پنجابی میں ہمیش مستعمل‬
‫ہے۔ بابا صاحب نے کمال حسن و خوبی سے اس لفظ‬

‫کا استعمال کیا ہے۔‬
‫دھوا غشے ھمیش حکمتہ پھ زور شی‬

‫لہور میں بیبیاں پاک دامنہ کے محترم و معزز مزار‬
‫ہیں۔ عوام میں پاک دامنہ مرکب معروف ہے۔ رحمان‬

‫بابا نے اس مرکب کا استعمال کیا ہے۔ اس سے‬
‫پاکیزگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ملحظہ ہو‬
‫پاکدامنہ پرھیزگارہ از تینھ‬

‫بابا صاحب کا ایک مقطع باطور تبرک ملحظہ ہو۔‬

‫داد شعر دے‬ ‫چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی‬

‫رحمانہ کہ اعجاز‬

‫بابا صاحب کے اس مقطعے کو پڑھ کر' اگر کوئی ان‬
‫کی فکری پرواز اور پرذائقہ زبان کی داد نہیں دیتا' تو‬

‫اس سے بڑھ کر کوئی بدذوق نہ رہا ہو گا۔‬

‫اس ناچیز سے لسانی مطالعے کے بعد' میں اس نتیجہ‬
‫پر پہنچا ہوں' کہ زبانیں بڑی ملن سار ہوتی ہیں۔ اردو'‬

‫پختو' پنجابی' عربی اور فارسی ایک دوسرے سے‬
‫یوں گلے ملتی ہیں' کہ کہیں اجنبیت کا احساس تک‬
‫نہیں ہوتا۔ تلفظ' لہجہ' استعمال' معنویت اور ہیت تک‬
‫بدل لیتی ہیں اور لفظ' اختیاری زبان کے قدم لیتے ہیں۔‬
‫آخر انسان کو کیا ہو گیا ہے' کہ یہ مادی' نظریاتی'‬
‫مذہبی' معاشی' سیاسی دائروں کا مکین ہو کر' ایک‬
‫دوسرے سے' کوسوں کی دوری اختیار کر لیتا ہے۔‬
‫رنگ' نسل اور علقہ' اسے دور کیے جا رہا ہے۔‬
‫لسانی تعصب بھی اسے دور کیے رکھتا ہے۔ زبان کے‬
‫نام پر' دوریاں بڑھی ہیں' جب کہ ہر زبان دوریوں کو‬

‫‪.‬ناپسند کرتی ہے‬
‫انسان آخر کب' اپنی ہی زبان سے' ملن ساری کا سبق‬

‫لے گا۔‬
‫!!!آخر کب‬

‫بابا فرید کی شعری زبان کا' اردو کے تناظر میں‬

‫لسانیاتی مطالعہ‬

‫بابا فرید صوفی ہی نہیں' خوش فکر' خوش بیان اور‬
‫خوش زبان شاعر بھی تھے۔ ان کی سات صدیوں سے‬

‫زیادہ پہلے کی زبان' آج بھی اتنی ہی' جابیت اور‬
‫لسانیاتی چاشنی رکھتی ہے' جتنی اس دور میں رکھتی‬
‫ہو گی۔ اس ناچیز تحریر میں' ان کی زبان کا' اردو کے‬
‫لسانیاتی نظام کے تناظر میں' مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔‬

‫اس سے یہ واضح ہوتا ہے' کہ بابا فرید کی شعری‬
‫زبان' مقامی اور مہاجر الفاظ کے حوالہ سے' اس اور‬

‫اس عہد کی بین القوامی زبان اردو سے' کس قدر‬
‫قریب ہے۔‬

‫بابا صاحب کے کلم میں' بہت سے اشعار خفیف سی‬
‫تبدیلی سے اردو کے حلقہ میں داخل ہو جاتے ہیں مٹل‬

‫میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو‬
‫اوپر چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ‬

‫میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو‬
‫اچے چڑھ کے دیکھیا تو گھر گھر یہ ہی آگ‬

‫‪......‬‬
‫آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو‬

‫جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬

‫آپ سنواریں میں ملیں' میں ملنے سے سکھ ہو‬
‫اگر تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‬
‫‪......‬‬

‫بعض مصرعے اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔‬
‫مثل‬

‫تپ تپ لوں لوں ہاتھ مروڑو‬
‫‪......‬‬

‫اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار‬
‫‪......‬‬

‫بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت‬
‫‪......‬‬

‫اپنے پریتم کے ہوں برہے جالی‬
‫‪......‬‬

‫اس اوپر ہے مارگ میرا‬
‫‪......‬‬

‫نہ کو ساتھی نہ کو بیلی‬
‫‪......‬‬

‫بعض مصرعوں کا غالب حصہ اردو سے متعلق ہے۔‬
‫مثل‬

‫فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ‬
‫‪......‬‬

‫صبر اندر صابری' تن ایویں جالیں‬
‫‪......‬‬

‫شیخ حیاتی جگ نہ کوئی تھر رہیا‬
‫‪......‬‬

‫بعض مصرعے' معمولی سی تبدیلی سے' اردو میں‬
‫داخل ہو جاتے ہیں۔ مثل‬

‫فریدا برے دا بھل کر غصہ من نہ ہنڈھا‬

‫فریدا برے کا بھل کر غصہ من نہ پال‬
‫‪......‬‬

‫جاگنا ای تاں جاگ فریدا' ہوئی آ ای پربھات‬

‫جاگنا ہے تو جاگ فریدا' ہو گئی ہے پربھات‬
‫‪......‬‬

‫پہلے پہر پھلڑا' پھل وی پچھا رات‬

‫پہلے پہر پھلڑا' پھل ہوا پچھلی رات‬

‫‪......‬‬
‫فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ‬

‫فریدا خالق خلق میں' خلق بسے رب میں‬
‫‪......‬‬

‫بابا صاحب کے ہاں' مہاجر مستعمل الفاظ ہی نہیں'‬
‫اردو کے مقامی الفاظ بھی بڑی روانی سے استعمال‬

‫میں آئے ہیں۔ مثل‬
‫آپ' اتار' اٹھائی' بیڑی' بھلی' پاس' پانی' پرائی' تن'‬
‫تھوڑا' ٹھنڈا' جا' جگ' جو' جی' چھیڑی' دودھ ' دھن'‬
‫رہی' سو' کوئی' کے' کھا' کبھی' گئی' گھر' لکھ' مت'‬

‫میرا میری' میں' نہ‬

‫دیوناگری خط والوں کے بہت سے الفاظ بابا صاحب‬
‫کے ہاں استعمال ہوئے ہیں اور یہ ہندو عقیدہ رکھنے‬
‫والوں کے ہاں عام استعمال میں آتے ہیں تاہم اردو‬

‫والوں کے لیے بھی اجنبی نہیں ہیں۔ مثل‬
‫آسن' بھاگ' پربھات' پربھو' پریتم' پریت' چت' دھرم'‬
‫سادھ ' سمھار' سوہاگنی' سہاگن' کالی' کرپا' مارگ'‬

‫ماس' نانک‬

‫بابا صاحب کے ہاں اردو مصادر کا استعمال ملحظہ‬

‫فرمائیں۔ مثل‬
‫جاگنا‪ :‬جاگنا ای تاں جاگ فریدا' ہوئی آ ای پربھات‬

‫جانا ‪ :‬جے جانا مر جایئے گھم نہ آئیے‬

‫بابا صاحب کے ہاں'اردو مصادر کی مختلف حالتیں'‬
‫پڑھنے کو ملتی ہیں۔‬

‫اٹھانا‪ :‬بنھ اٹھائی پوٹلی' کتھے ونجاں گھت‬
‫آنا' جانا‪ :‬جے جانا مر جایئے گھم نہ آئیے‬
‫جانا‪ :‬رہی سو بیڑی ہنگ دی' گئی کھتوری گندھ‬

‫کتی جوبن پریت بن سک گئے کملء‬
‫رہنا‪ :‬جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬

‫کھانا‪ :‬کاگا کرنگ ڈھنڈلیا سگل کھایا ماس‬
‫سہنا‪ :‬جالن گوراں نال اولہمے جیا سہے‬

‫ہونا‪ :‬بادل ہوئی سو شوہ لوڑو‬

‫اردو میں پکارنے یا مخاطب کرنے کے لیے' آخر میں‬
‫الف ا بڑھا دیا جاتا ہے۔ بابا صاحب کے ہاں یہ ہی چلن‬

‫پڑھنے کو ملتا ہے۔ مثل‬
‫بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت‬

‫مترادف الفاظ کا استعمال ملحظہ ہو‪ .‬یہ مرکب اردو‬
‫والوں کے لیے قابل تفہیم ہیں۔‬

‫اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار‬

‫وضو ساز‬
‫وضو سازنا' وضو بنانا کے مفہوم میں‬

‫نماز گزارنا‪ :‬نماز ادا کرنا' پڑھنا کے مفہوم میں۔ نماز‬
‫گزارنا اردو میں عام استعمال کا مہاورا ہے۔‬

‫وضوساجنا' وضو بنانا' وضو سجانا' وضو کرنا وغیرہ‬
‫بھی اردو میں مستعمل ہیں۔‬

‫اسم اور صفتی سابقوں' جو باقاعدہ لفظ ہیں' سے‬
‫ترکیب پانے والے یہ مرکبات' اردو والوں کے لیے‬

‫ناقابل فہم نہیں ہیں۔‬
‫بھلی ریت‪ :‬بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت‬
‫ٹھنڈا پانی‪ :‬رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی‬
‫پچھلی رات‪ :‬پچھلی رات نہ جاگیوں جیوندڑو مویوں‬
‫دور گھر‪ :‬گلیں چکڑ' دور گھر' نال پیارے نیہہ‬

‫کالی کوئل‪ :‬کالی کوئل تو کت گن کالی‬
‫جھوٹی دنیا‪ :‬جھوٹی دنیا لگ نہ آپ ونجائیے‬

‫اسم اور صفتی لحقوں' جو باقاعدہ لفظ ہیں' سے‬
‫ترکیب پانے والے یہ مرکبات' اردو والوں کے لیے‬

‫ناقابل فہم نہیں ہیں۔‬

‫عقل لطیف‪ :‬جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ‬
‫در درویشی‪ :‬در درویشی گا کھڑی' چلں دنیا بھت‬

‫اب کچھ تشبہی مرکبات ملحظہ فرمائیں۔ یہ اردو والوں‬
‫کے لیے نئے نہیں ہیں۔‬

‫تن سمندر‪ :‬تن سمندر' ار لہر' ار تارو تریں اینک‬
‫تن سکا پنجر‪ :‬تن سکا پنجر تھیا تلیاں کونڈن کاگ‬

‫تن تپے تنور‪ :‬تن تپے تنور جیوں بالن ہڈ بلن‬

‫اردو میں جمع بنانے کے لیے' زیادہ تر یں' یوں اور‬
‫یوں کے لحقے استعمال میں لئے جاتے ہیں۔ بابا‬
‫صاحب کے ہاں بھی جمع بنانے کے لیے ان لحقوں کا‬

‫استعمال ہوا ہے۔ مثل‬
‫یاں‬

‫بجلی سے بجلیاں‪ :‬کنک کونجاں' چیت ڈوہنہہ' ساون‬
‫بجلیاں‬

‫پنکھ سے پنکھیاں‪ :‬ہوں بلہاری تنھاں پنکھیاں جنگل‬
‫جنھاں واس‬

‫مٹھی سے مٹھیاں‪ :‬سبھو وستو مٹھیاں' رب نہ پچن‬
‫تدھ‬

‫ماڑی سے ماڑیاں‪ :‬کوٹھ منڈپ ماڑیاں ایت نہ لئیں چت‬
‫محل ماڑیاں عام استعمال کا مرکب رہا ہے۔‬
‫یں‬

‫کجھور سے کجھوریں‪ :‬رب کجھوریں پکیاں ماکھیا‬
‫نئیں دہن‬

‫مسجد سے مسجدیں‪ :‬امید مسجدیں ابو تھیاں' اکھاں‬
‫رب سوار‬

‫بے' نفی کا سابقہ ہے اور اردو میں عام استعمال ہوتا‬
‫ہے۔ بابا صاحب کے ہاں' اس سابقے کا استعمال اردو‬

‫کا چلن رکھتا ہے۔‬
‫بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت‬
‫نانک سو سوہاگنی جو بھاوے بےپرواہ‬

‫اردو کا معروف لحقہ گزار بابا صاحب کے ہاں کچھ‬
‫اس طرح سے استعمال ہوا ہے۔‬

‫اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار‬
‫یہاں گزار' پڑھ کے معنوں میں استعمال ہوا‬

‫کیا خوب صورت مصرعے ہیں۔ فاعل اور فعل کا‬
‫فطری استعمال' دیکھیے۔ اردو' عربی اور فارسی کا'‬

‫یہ ہی چلن ہے۔‬
‫فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ‬

‫فریدا خالق خلق میں' خلق بسے رب میں‬
‫‪......‬‬

‫صبر اندر صابری' تن ایویں جالیں‬

‫صبر اندر صابری' تن یوں ہی جالیں‬

‫بابا صاحب کا استعارتی طرز تکلم خوب ہے' اردو‬
‫والوں کے غیرمانوس نہیں۔‬

‫فریدا من میدان کر ٹوئے ٹبے لہ‬
‫اگے مول نہ آؤ سی دوزﺥ سندی بھا‬

‫بابا صاحب کے ہاں استعمال ہونے والی تلمیحات' زیادہ‬
‫تر مہاجر اور اردو میں مستعمل الفاظ پر مشتمل ہوتی‬

‫ہیں۔ مثل‬
‫اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار‬
‫اگے مول نہ آؤ سی دوزﺥ سندی بھا‬
‫زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے‬
‫جالن گوراں نال اولہمے جیا سہے‬
‫تیں صاحب کی میں سار نہ جانی‬
‫بولیئے بیچ دھرم' جھوٹھ نہ بولیئے‬
‫شیخ حیاتی جگ نہ کوئی تھر رہیا‬
‫فریدا درویشی گا کھڑی' چوپڑی پریت‬
‫امید مسجدیں ابو تھیاں' اکھاں رب سوار‬

‫اردو میں مونث بنانے کے لیے' آخر میں چھوٹی یے‬

‫ی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہی طور' بابا صاحب کے‬
‫کلم میں ملتا ہے۔‬

‫کمبلی‪ :‬بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ‬
‫کالی‪ :‬کالی کوئل تو کت گن کالی‬
‫اکیلی‪ :‬ودہن کھوہی مند اکیلی‬

‫اردو میں مذکر بنانے کے لیے' آخر میں الف ا کا‬
‫استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہی طور' بابا صاحب کے کلم‬

‫میں ملتا ہے۔‬
‫پھلڑا‪ :‬پہلے پہر پھلڑا' پھل وی پچھا رات‬
‫جاگدا‪ :‬تو ستا رب جاگدا تیری ڈاہڈے نال پریت‬

‫بابا صاحب کے ہاں تکرار لفظی و حرفی اردو سے‬
‫الگ تر انداز و رویہ نہیں رکھتا۔ مثل‬

‫فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ‬

‫تپ تپ لوں لوں ہاتھ مروڑو‬

‫کالی کوئل تو کت گن کالی‬

‫جو جو ونجے ویڑا سو عمر ہتھ پون‬

‫آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو‬
‫‪......‬‬

‫جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ‬

‫رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی‬

‫نہاتی دھوتی سنبی' ستی آء نچند‬

‫کچے بھانڈے رکھیئے کچرک تائیں نیر‬

‫بابا صاحب کے کلم میں' ہم صوت الفاظ کا استعمال'‬
‫کمال ہنرمندی سے ہوا ہے۔ یہ رویہ' اردو شعر وسخن‬

‫میں بھی ملتا ہے۔‬
‫ودہن کھوہی مند اکیلی‬
‫نہ کو ساتھی نہ کو بیلی‬

‫بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ‬

‫رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی‬

‫نہاتی دھوتی سنبی' ستی آء نچند‬

‫ایک ہی مصرعے میں متضاد لفظوں کا استعمال‬

‫ملحظہ فرمائیں۔‬
‫فریدا برے دا بھل کر غصہ من نہ ہنڈھا‬

‫زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے‬

‫‪:‬بابا صاحب کی زبان کا مہاورہ ملحظہ ہو‬
‫پوٹلی اٹھانا‪ :‬بنھ اٹھائی پوٹلی' کتھے ونجاں گھت‬
‫مان کرنا‪ :‬جے جاناں شوہ نڈھڑا تھوڑا مان کریں‬

‫دوسری زبان کا لفظ' اپنا کرنے کے حوالہ سے'‬
‫زبانوں میں آوازوں کا تبادل بڑی عام سی بات ہے۔ یہ‬
‫معاملہ بول چال اور عمومی لہجہ اور چلن سے تعلق‬
‫کرتا ہے۔ بابا صاحب کے ہاں' اس کی مثالیں ملتی‬

‫ہیں۔ مثل آواز ب کی متبادل آواز و ہے جیسے‬
‫بےچارہ' ‪ ....‬پرانی تحریر میں بیچارہ‪ ....‬سے وچارہ'‬

‫بردان سے وردان' بدوا سے ودوا وغیرہ۔ بابا فرید‬
‫صاحب کے ہاں یہ تبادل پڑھنے کو ملتا ہے۔‬
‫گریباں سے گریواں‬
‫گریواں‪ :‬اپنے گریواں میں سر نیواں کر ویکھ‬

‫راجھستانی اور میواتی میں ا اور ہ کو و میں بدلنے‬
‫کا چلن ملتا ہے۔ حالں کہ ان میں الف موجود ہے ہاں‬
‫حائے مقصورہ ہ نہیں جس کا تبادل واؤ و استعمال‬

‫ہوتا آ رہا ہے جیسے‬
‫انڈا سے انڈو یا حوصلہ سے ہونسلو‬
‫بابا صاحب کے ہاں بھی یہ طور ملتا ہے۔‬

‫بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ‬
‫برس سے ورس‬

‫ورسو‪ :‬برسایا‬

‫بے ب کا واؤ و میں تبادل ملحظہ ہو‬

‫ہوں بلہاری تنھاں پنکھیاں جنگل جنھاں واس‬
‫باس سے واس‬

‫جنگل باس سے جنگل واس‬
‫جنگل باسی سے جنگل واسی‬

‫دال د کا تبادل و‬
‫اجے سو رب نہ بوہڑیو ویکھ بندے کے بھاگ‬

‫دیکھ سے ویکھ‬

‫دال د کا تبادل ت‬
‫تو ستا رب جاگدا تیری ڈاہڈے نال پرییت‬

‫جاگتا سے جاگدا‬

‫آ کا تبادل ا‪ :‬زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے‬
‫آسمان سے اسمان‬

‫زبانوں میں آوازیں گرانا اور بڑھانا' عام سی بات ہے۔‬
‫مثل واؤ کی آواز گرا کر' لفظ کا استعمال ملحظہ ہو۔‬

‫رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی‬
‫معمولی سی تبدیلی سے یہ مصرع اردو میں ڈھل سکتا‬

‫ہے۔‬
‫روکھی سوکھی کھا کر ٹھنڈا پانی پی‬

‫رکھی سکی کھا کے ٹھنڈا پانی پی‬
‫بھی اجنبی نہیں‬

‫واؤ کی آواز گرا کر' لفظ کا استعمال ملحظہ ہو‬
‫جاں کواری تاں چاؤ وداہی تا ماملے‬
‫ن کی آواز گرائی گئی ہے‬
‫کنواری سے کواری‬
‫ع کی آواز گرائی گئی ہے‬
‫معاملے سے ماملے‬

‫وہ سماج سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں' تبھی ان کے قلم‬
‫سے اس نہج کے شعر نکلتے ہیں۔ یہ شعر فصاحت و‬

‫بلغت کا عمدہ نمونہ ہی نہیں' اس کا مزاج بھی اردو‬
‫کے قریب تر ہے۔‬

‫میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو‬
‫اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ‬

‫عقیدہ وحدت الوجود سے متعلق' اس شعر کو دیکھیں‬
‫اور خواجہ درد صاحب کے شعری اسلوب کا' مطالعہ‬

‫فرمائیں۔‬
‫آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو‬
‫جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو‬

‫شخص اپنا مقدر خود بناتا ہے' اس نظریے کے تحت'‬
‫یہ شعر قابل توجہ ہے۔ اس شعر کا شعری اسلوب و‬

‫مزاج' اردو کے قریب تر ہے۔‬
‫جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ‬

‫قصہ سفرالعشق کے فارسی حواشی‬

‫عرصہ قدیم سے' ایران اور برصغیر کے درمیان'‬
‫سیاسی' معاشی' سماجی' تہذیبی' نظریاتی اورخونی‬

‫رشتے استوار چلے آتے ہیں۔ طالع آزما جنگ جو'‬
‫تاجر' صوفیا' علما اور فضل مختلف ادوار میں' مختلف‬

‫حوالوں سے' برصغیر میں آتے جاتے رہے ہیں۔‬
‫برصغیر کی معاشرت پر' اپنے اپنے حوالوں سے'‬
‫اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ بالواسطہ اور بلواسط '‬
‫مقامی بولیاں اور زبانیں; فارسی ادبیات سے اثر لیتی‬
‫رہی ہیں۔ برصغیر کی شاید ہی کوئی زبان ہو گی'‬
‫جسے فارسی نے' فکری اور اسلوبی اعتبار سے'‬
‫متاثر نہیں کیا ہو گا۔ فارسی کے بےشمار الفاظ' ان‬
‫زبانوں میں داخل ہو گیے ہیں۔ مختلف حالت میں' ان‬

‫کی مختلف صورتیں رہی ہیں۔‬

‫اصل صوت' ہئیت اور مفاہیم کے ساتھ فارسی زبان‬
‫کے الفاظ' برصغیر کی زبانوں میں داخل ہوئے ہیں یا‬

‫ان زبانوں نے ان الفاظ کی ہیتی صوتی اور تفہیمی‬
‫وسعت پذیری کی وجہ سے' دانستہ طور اپنا لیا ہے۔‬

‫مطابقت بھی لفظوں کو اپنانے کا سبب بنی ہے۔ غربت‬
‫خصم اور گربت کھسم قریب کے لفظ ہیں۔ آج قفلی‬

‫کوئی لفظ نہیں رہا' اسی طرح گربت اور کھسم استعمال‬
‫میں نہیں رہے۔‬

‫الفاظ کی ہئیت اور صوت برقرار نہیں رہی ہے لیکن‬

‫ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں نہیں آئیں۔‬

‫الفاظ کی اصل ہئیت اور صوت تو برقرار رہی ہے لیکن‬
‫ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں آئی ہیں یا مفاہیم یکسر بدل‬

‫گیے ہیں۔‬

‫مقامیت کے زیر اثر یا بدلتے حالت کے تحت' فارسی‬
‫الفاظ کی مختلف اشکال نے جنم لے لیا ہے۔ یہ بھی‬
‫کہ ان نئی اشکال کے نئے مرکبات پڑھنے سننے کو‬
‫ملتے ہیں۔ انگریزی کی قہرمانی اور فتنہ سامانی کے‬
‫بوجود' از خود اور نادانستہ طور پر' یہ تبدیلیوں کا‬

‫عمل ہر سطع پر جاری و ساری ہے۔‬

‫مقامی زبانوں کے الفاظ کے ساتھ' فارسی سابقوں‬
‫لحقوں کی پیوندکاری کا عمل مضبوط سے مضبوط تر‬

‫ہوا ہے۔‬

‫ایرانی اشیا اور مختلف حلقوں سے متعلق اشخاص‬
‫کے اسما اور شہروں وغیرہ کے ناموں کا استعمال'‬

‫ادبی اور سماجی حلقوں میں باکثرت ملتا ہے۔‬

‫ایرانی اہل ہنر اور ہیروز کے کارناموں کا تذکرہ یا‬
‫حوالہ مقامی زبانوں کی تصانیف میں ملتا ہے۔‬

‫فارسی محاورے' روزمرے اور اقوال و امثال بلتکلف'‬
‫مقامی زبانوں میں استعمال ہوئی ہیں۔‬

‫فارسی اصطلحات کا استعمال' ان زبانوں میں کسی‬
‫قسم کے اوپرے پن کا احساس تک ہونے نہیں دیتا۔‬

‫فارسی شعرونثر سے متعلق تخلیقات کے تراجم مقامی‬
‫زبانوں میں ہوتے آئے ہیں۔ مقامی زبانوں کے تبادلت‬
‫میں' اصل الفاظ کی روح کسی ناکسی سطع پر' متحرک‬

‫رہی ہے۔‬

‫دور کیا جانا ہے' مغلیہ عہد جو مئی ‪ 1857‬تک قائم‬
‫رہا۔ فارسی کا دربار' بازار مکتب اور بعض آزاد‬

‫ریاستوں میں سکہ چلتا رہا ہے۔ اس حوالہ سے' بڑی‬
‫جان دار اور مستند کتب' فارسی کے ورثہ میں داخل‬
‫ہوئی ہیں۔ ان تصانیف میں' مقامی زبانوں کے الفاظ‬
‫اشیا و اشخاص کے نام رسوم وغیرہ کے نام فارسی'‬
‫زبان کے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ داخل ہوئے‬
‫ہیں۔ ان حوالوں کی واپسی' فارسی اطوار کے ساتھ‬
‫ہوئی ہے۔ اب ان پر دیسی ہونے کا گمان تک نہیں‬
‫گزرتا۔ اہل لغت نے ان پر فارسی ہونے کی مہر تک‬

‫ثبت کر دی ہے۔‬

‫شاہی محلت میں' روز زوال تک' بعد ازاں مغل شاہی‬
‫گھروندوں میں بھی فارسی کا سکہ چلتا رہا۔ بہت سے‬

‫شعرا فارسی میں کہتے رہے۔ گلستان بوستان کی‬
‫اہمیت باقی رہی۔ محلتی مکینوں یا ان سے متعلق‬
‫حضرات کا کلچر عمومی اور عوامی کلچر سے ہٹ کر‬
‫رہا۔ شاہ سے متعلق اہل قلم نے عوامی دائروں میں رہ‬
‫کر سوچا لیکن اپنے سوچ کو زبان اور طور شاہی دیا۔‬

‫شاہی جبریت کے بعد' برٹش استحصالیت کے زمانے‬
‫میں' سوچی سمجھی سازش کے تحت فارسی کا پتا‬
‫کاٹنے کے لیے' مقامی زبانوں کی حوصلہ افزائی کی‬
‫گئی۔ فارسی کے متعلق۔۔۔۔۔۔ پڑھو فارسی بیچو تیل۔۔۔۔۔۔‬
‫ایسی خرافات' عرف عام میں آ گئیں۔ اس ناقدری اور‬

‫‪:‬حوصلہ شکنی کے باوجود‬
‫فارسی کی کسی ناکسی سطع پر مداخلت باقی رہی۔ ‪1-‬‬
‫رومی' سعدی' حافظ' خیام' جامی وغیرہ کے فکری ‪2-‬‬
‫و لسانی حسن کا سکہ' نادانستہ طور پر سہی' آج بھی‬

‫باقی ہے۔‬

‫برٹش عہد میں' اردو کو برصغیر زبان ہونے کے‬
‫ناتے' عزت دی گئی جب کہ پنجابی نے بھی انگریز کی‬
‫ماتحتی کی' لیکن اس کا فارسی سے رشتہ ختم نہ ہوا۔‬

‫معروف مثنویوں کے عنوانات اور حواشی فارسی میں‬
‫ملتے ہیں۔‬
‫‪...........‬‬

‫پنجابی قصہ۔۔۔۔۔ سفرالعشق ۔۔۔۔۔۔۔ المعروف بہ سیف‬
‫الملوک کا پنجابی کلسیکی ادب میں بڑا بلند پایہ ہے۔‬
‫وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قدر و قیمت میں ہرچند‬
‫اضافہ ہی ہوا ہے۔ دیہاتوں اور شہروں میں' اس قصے‬
‫کو بڑے شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ برصغیر‬
‫کے معرف فن کاروں نے'اسے صوفیانہ کلم قرار دے‬
‫کر' عقیدت اور احترام سے گایا ہے۔ میاں محمد بخش‬

‫صاحب کی بہت سی تصانیف ہیں۔ جن میں‪ :‬قصہ‬
‫سوہنی' شیرین فرہاد' نیرنگ عشق' مرزا صاحباں' شاہ‬
‫منصور' سی حرفی سسی پنوں' سی حرفی ہیر رانجھا'‬
‫تذکرہ مقیمی' گلزار فقیر' ہدایت المسلمین' تحفہ میراں‬

‫کرامات غوث اعظم' تحفہ رسولیہ' معجزات سرور‬
‫کائنات' سخی خواص خاں خاص طور معروف ہوئیں‬
‫تاہم قصہ سفر العشق میاں محمد بخش صاحب کی‬
‫شہرت کا سبب بنا۔ یہ قصہ ‪ 1859‬میں رقم ہوا۔ اس‬
‫وقت میاں محمد بخش صاحب کی عمر تنتیس برس‬
‫تھی۔ ان کی جوانی' اس قصے کی زبان اور فکر میں‬

‫بھرپور انداز میں رقصاں ہے۔‬

‫یہ قصہ کل ترسٹھ عنوانات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے‬
‫سترہ عنوان حمد نعت مدح جات اوصاف قصہ منازل‬
‫ہائے تصوف وغیرہ پر مشتمل ہے جب کہ قصہ کے‬
‫اختامیہ سے متعلق ہیں۔ گویا اصل قصہ سے متعلق کل‬
‫‪:‬بیالیس عنوانات ہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے‬
‫آغاز قصہ‬
‫تولد‪1‬شدن شاہ زادہ سیف الملوک‬
‫دیدن شاہ زادہ تصاویر شاہ مہرہ و عاشق شدنش‬
‫جواب سیف الملوک عاشق با پدر‬
‫مہلت خواستن پدر و بیان کردن کیفیت مورت‬
‫پند دادن پدر پسر را‬
‫جواب شہزادہ‬
‫التماس بادشاہ پیش فرزند‬
‫رحم آوردن پسر بر پدر‬
‫بیان دیوانہ شدن شہزادہ‬
‫در بیان خواب دیدن سیف الملوک‬
‫رخصت طلبیدن شہزادہ از مادر‬
‫زاری نمودن شہزادہ از درد مادر‬
‫داستان رواں شدن سیف الملوک از مصر‬
‫نامہ نوشتن شاہ فغفور جانب شاہزادہءمصر‬
‫در جواب شہزادہ بہ فغفور چین‬
‫دربیان غرق شدن کشتی ہائے در طوفان و جدا شدن‬

‫صاعد‬
‫گرفتار شدن سیف الملوک بدست بوزنگاں‬

‫در بیان جنگ با سنگساراں‬
‫گرفتار شدن سیف الملوک بدست زنگیاں‬

‫رفتن شاہزادہ در شہر زناں‬
‫در بیان مشقت دیدن شاہزادہ از گرسنگی و تشنگی و‬

‫سوال و جواب عقل و نفس‬
‫رسیدن شاہزادہ در قلعہ دیوان و خلص کنائیدن ملکہ‬

‫خاتون را‬
‫در وصف جمال ملکہ خاتون‬
‫رواں شدن شہزادہ مع ملکہ خاتون‬

‫ملقات صاعد با شاہزادہ‬
‫در وصف جمال بدرہ خاتون و عاشق شدن صاعد‬

‫بروے‬
‫آمدن بدیع الجمال بہ ساندیپ‬

‫در وصف بدیع الجمال‬
‫حاصل کلم‬

‫در غزلیات و دوہڑا سرائیدن شاہزادہ‬
‫در وصف شہزادہ سیف الملوک‬
‫نامہ بدالجمال بطرف مہر افروز‬

‫داستان خبر شدن دیوان قلزم را و کشتن بہرام شہزادہ‬
‫نامہ نوشتن شاہپال بطرف ہاشم شاہ‬
‫جواب نامہ از طرف ہاشم شاہ‬

‫بر جنگ تیار شدن شاہپال و ہاشم شاہ‬
‫جنگ کردن شاہپال شاہ با ہاشم شاہ دیواں‬
‫نامہ نوشتن سیف الملوک بطرف پدر دردمند‬
‫آمدن ساعد در سفر و تیار شدن عاصم شاہ بر‬

‫شارستان‬
‫وفات یافتن عاصم شاہ‬
‫وفات یافتن سیف الملوک و نالیدن بدیع الجمال از درد‬

‫بات پنجابی قصے کے عنوانات تک محدود نہیں بل کہ‬
‫قصے کے حواشی بھی فارسی میں درج کیے گیے‬

‫ہیں۔ یہ حوشی پانچ سو کے قریب ہیں۔ فارسی حواشی‬
‫درج کرتے احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔ ڈھنگ سے‬
‫پروف ریڈنگ تک نہیں کی گئی۔ میرے پیش نظر‬
‫حمیدیہ بک ڈپو' اردو بازار' لہور ‪ 1993‬کا نسخہ ہے۔‬
‫متنی ابلغ کے حوالہ سے حواشی کی صحت کی‬
‫ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس سے‬

‫اچھی خاصی لغت سامنے آ سکتی ہے۔‬
‫ان حواشی میں مختلف نوعیت معومات فراہم کی گئی ‪:‬‬

‫ہیں‬
‫لفظوں کے مفاہیم‬
‫بعض لفظوں کی زبان کا تعین‬
‫اشخاص کا تعارف اور ان سے متعلق معلومات‬

‫مختلف قسم کی اصطلحات اور محاورات سے متعلق‬
‫معلومات‬

‫اس تحریر کے تیسرے حصہ میں پنجابی الفاظ کے‬
‫ساتھ فارسی حواشی درج کر دیے گیے ہیں تا کہ قاری‬
‫اس لغت کی مدد سے قصے کی بہتر تفہیم کر سکے۔‬

‫‪...................‬‬
‫متولد ‪1-‬‬

‫‪.............................‬‬
‫آدی‪ :‬لفظ سنسکریت قدیم شعر ‪ 3‬ص‪94‬‬
‫آسہ‪ :‬ناامید شدن و مرگ اختیاری شعر ‪ 203‬ص‬

‫‪293‬‬
‫آواز‪ :‬آواز شعر‪ 2‬ص ‪91‬‬
‫آہلناں‪ :‬آشیانہ۔۔۔۔گھونسلہ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 35‬ص ‪76‬‬
‫اپراہدی‪ :‬کار مشکل کنندہ ش‪ 230‬ص‪242‬‬
‫اجل‪ :‬دانہ ہائے آخر چنیدہ شعر ‪ 3‬ص‪212‬‬
‫اچھاڑ‪ :‬غلف شعر‪ 305‬ص‪183‬‬
‫اڈیوں‪ :‬شعلہ آتش کہ بلند می شود شعر ‪ 1‬ص‪384‬‬
‫ارنی ارنی‪ :‬رمزے است از رموز حقیقی کہ در مجاز‬
‫گفتہ شد شعر ‪ 185‬ص ‪252‬‬
‫ارداسی‪ :‬عاجزانہ شعر ‪ 286‬ص ‪257‬‬
‫اشتر‪ :‬ہفتاد۔ ہفتاد خچر و شتر بار گراں برداشتہ شعر‬

‫‪ 513‬ص‪193‬‬

‫افلطون و ارسطو در عہد سکندر حکمائے یونان شعر‬
‫‪ 77‬ص‪53‬‬

‫اکا‪ :‬بالکل آرام نہ داشت استخوان و مغز استخوان‬
‫میسوخت ہمچوں ہنیرم خورد خشک شد شعر ‪ 515‬ص‬

‫‪326‬‬
‫اکایاں‪ :‬تنگ و لچار کردہ شعر‪ 174‬ص‪149‬‬
‫اگوڑی‪ :‬بھن اگوڑی بمعنی تازہ زدہ تن یا پیچ و تاب‬

‫داد شعر ‪ 426‬ص‪412‬‬
‫ان جل‪ :‬آب و دانہ شعر ‪ 13‬ص ‪88‬‬
‫الدنیا غریب‪ :‬دنیا جائے سفر است دریں دنیا جائے‬
‫قرار نیست بلکہ بےقرار است شعر‪ 278‬ص‪181‬‬
‫الیماں‪ :‬تیاری فوج شعر‪ 499‬ص ‪193‬‬
‫ان۔ ماس‪ :‬ان یعنی ہر قسم اناج و ماس گوشت شعر‪2‬‬

‫ص‪331‬‬
‫انباروں‪ :‬بسیار خور شعر ‪ 74‬ص‪101‬‬

‫انٹے‪ :‬بیضہ شعر‪ 9‬ص‪93‬‬
‫ان بدھا‪ :‬بے سوراخی کہ بسیار قیمتدار۔۔۔۔۔ پرارزش۔۔۔۔۔۔‬
‫باشد مراد از ملکہ خاتون کہ بکر بود شعر ‪ 1‬ص‪140‬‬

‫ان بدھے‪ :‬بے شگاف یا بے سوراﺥ شعر ‪ 86‬ص‬
‫‪234‬‬

‫انازوں‪ :‬اناج شعر ‪ 255‬ص ‪403‬‬
‫اوائی‪ :‬خبر آمدن شعر ‪ 242‬ص ‪152‬‬

‫اوبل‪ :‬جوشندہ شعر ‪ 35‬ص‪168‬‬

‫اوکڑ‪ :‬مشکل مہم شعر‪ 2‬ص‪92‬‬
‫ایرا‪ :‬بنیاد زریں شعر‪ 6‬ص ‪133‬‬

‫این‪ :‬حکم شعر‪ 6‬ص‪94‬‬
‫ایڈ سپورن‪ :‬بہ بسیار یعنی کہ پیغامہای کسان۔۔۔۔۔ دیگر‬
‫می برند کہ ایشاں پیغام دیگرے دارند مثال ہر کہ گوید‬

‫پیغام رسانند را گویا زاغ درد رسوائی خانہ نہ گرد‬
‫باورچی خانہ خود انداختہ کہ بسیار نار او است ازاں‬
‫کہ ہر چیز بخورد و کرامت بسیار ست شعر ‪ 776‬ص‬

‫‪329‬‬

‫بابت‪:‬چیز شعر‪ 306‬ص‪183‬‬
‫باتی‪ :‬چراغ شعر ‪ 17‬ص ‪75‬‬
‫بادر‪ :‬طاقت شعر ‪ 38‬ص‪83‬‬
‫باز‪ :‬باز اول بمعنی قوت آنا و باز دوم بمعنی باز شاری‬

‫شعر ‪ 53‬ص‪125‬‬
‫باقی‪ :‬لتیلہ از پنبہ کہ در چراغ می سوزو شعر ‪71‬‬

‫ص‪131‬‬
‫بانا‪ :‬لباس سبز ۔۔۔۔۔لباس' لباس فقرا۔۔۔۔۔ شعر ‪ 253‬ص‬

‫‪255‬‬
‫بائی‪ :‬گفتن بزبان پوٹھوہاری عنوان منزل فقر شعر ‪1‬‬

‫ص‪41‬‬
‫ببتا‪ :‬مصیبت‪ :‬شعر ‪ 66‬ص‪131‬‬
‫ببدی‪ :‬آنا آنکہ ہر چہار طریق طے کردہ بدرجہ علوی‬

‫رسیدہ اند از ہمہ لوائث دنیا وی پاک شدہ اند' گناہ و‬
‫ثواب در آں نمی رسد وا اعلم بالصواب شعر ‪ 11‬ص‬

‫‪40‬‬
‫بتا‪ :‬فریب شعر ‪ 14‬ص ‪135‬‬
‫بتا‪ :‬حیلہ و مکر و بہانہ سازی بسیار کردہ شعر ‪173‬‬

‫ص‪149‬‬
‫بجگ‪ :‬بفتحہ اول معجمہ کسر دوم معجمہ و سوم‬
‫فارسی مشدد یعنی آفت و بالئے آسمانی مثل برق ژالہ‬

‫وغیرہ شعر‪ 3‬ص‪343‬‬
‫بجگ‪ :‬بجگ یعنی بجیم تازی مکسور کاف فارسی مشد‬

‫یعنی آفت ناگہانی شعر ‪ 60‬ص‪218‬‬
‫بدر منیر‪ :‬آوردن لفظ بدر منیرو ملک در آسمانی ایں‬

‫ہمہ از تلزمہ شاعرے است شعر ‪ 1‬ص‪215‬‬
‫بدر منیر‪ :‬ماہ چار دہ روزہ و نیز معشوقہ بےنظیر‬
‫برج ستارہ‪ :‬محاورات نجومیہ را می گویند شعر ‪21‬‬

‫ص ‪50‬‬
‫بشیرل‪ :‬مار سیاہ شعر‪ 14‬ص‪123‬‬
‫بک اجاڑی‪ :‬غزالہ بیابانی شعر ‪ 66‬ص‪233‬‬
‫بل‪ :‬بل در زبان کشمیری محلہ را گویند شعر‪ 36‬ص‬

‫‪124‬‬
‫بلی‪ :‬قالو ابلی گفت و رنج و بل گرفت شعر ‪ 838‬ص‬

‫‪327‬‬
‫برم‪ :‬تازیانہ سخت کہ چابک سواراں دارند و اسپ را‬

‫بدو جنبا آواز آں سخت باشد شعر ‪ 428‬ص‪412‬‬
‫بن‪ :‬بغیر نوشیدہ شعر ‪ 69‬ص‪234‬‬
‫بندی‪ :‬خال شعر ‪ 10‬ص‪141‬‬
‫بندے‪ :‬نام زیور شعر‪ 86‬ص‪117‬‬

‫بندے بندے‪ :‬ساعت بساعت شعر‪ 388‬ص ‪187‬‬
‫بوٹی‪ :‬پارہء گوشت شعر‪ 102‬ص ‪288‬‬

‫بہچھن‪ :‬گفتار ہا کہ در بہوشی خواب گفتہ شدد آن‬
‫بمعنی باشد یعنی اولیا اگر گفتار کنند در فہم نیایند آنہم‬

‫راست و صحیح بداں ہ یشاں ہر چہ گویند بر لوح‬
‫محفوظ دیدہ بگویند و آں رائے نیست اگرچہ آں در فہم‬
‫ما نیاید۔ قصور افہام عام ست نہ در کلم آن ش‪117‬‬

‫ص ‪248‬‬
‫بہنی‪ :‬بندوبست تن تمام خوب شعر‪ 12‬ص‪104‬‬

‫بینک‪ :‬جدا نہ شود شعر‪ 141‬ص‪124‬‬
‫بےوفائی‪ :‬در زمانہ ہمیشہ رسم بےوفائی است شعر‬

‫‪ 12‬ص ‪261‬‬

‫پاربدی‪ :‬نام مطرب خسرو پرویز کہ دریں فن بکمال‬
‫رسیدہ بود شعر ‪ 249‬ص ‪403‬‬

‫پانی چھڑ دا‪ :‬در آب رفتے شعر ‪ 19‬ص‪129‬‬
‫پاہرو‪ :‬پہرہ دا۔۔۔۔۔ کشیچکی ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 61‬ص ‪136‬‬

‫پتا‪ :‬زہرہ شعر ‪ 7‬ص ‪110‬‬
‫پج‪ :‬رسیدن شعر ‪ 261‬ص ‪257‬‬

‫پچریاں‪ :‬پازیب شعر ‪ 428‬ص‪412‬‬
‫پچھاک‪ :‬پس ماندہ شعر‪ 506‬ص ‪193‬‬

‫پچھل‪ :‬زلزلہ شعر ‪ 16‬ص ‪116‬‬
‫پراک‪ :‬یعنی جناں را قوت زیادہ از حد آدم ست کہ‬
‫چندیں فریب کنند و لیکن از یک صورت آدمی زورآور‬
‫است کہ اگر جسم جامہ پاک دارد جن عفریت ظاہری‬
‫بر غلبہ کردن نتواند باایں چنیں اگر در باطن پاکی باشد‬
‫نفس و شیطان را قوت غلبہ نہ باشد شعر‪ 181‬ص‬

‫‪149‬‬
‫پرچتی‪ :‬بہ گناہ گار رحم کردی شعر‪ 462‬ص‪165‬‬

‫پرکالے‪ :‬پرزہ شد شعر‪ 332‬ص‪183‬‬
‫پروے‪ :‬پارچہ کہ از آں آرد آسیا کنند شعر ‪ 125‬ص‬

‫‪221‬‬
‫پکیرا‪ :‬اشارت ست بداں خلق آدم کہ حسن ذات او‬
‫وظاہر شد مخفی نماند یعنی اول عشق و محبت خود‬
‫شروع کردی کہ انسان را برائے دوستی جز آفریدے و‬
‫او را انسان مرے وانا سرہ شعر‪ 125‬ص‪289‬‬

‫پکھیرو‪ :‬ہر پرندہ را گویند ص ‪238‬‬
‫پگسی‪ :‬میرسد شعر‪ 65‬ص‪90‬‬

‫پلچھی‪ :‬خشک شدن زبان در دہان شعر ‪ 175‬ص‪292‬‬
‫پلنگر‪ :‬نام زنگی کہ با سکندر جنگ کرد شعر‪ 12‬ص‬

‫‪91‬‬
‫پون بازاں‪ :‬پون بازاں آنکہ بر یک ساریک دہر ثانی‬

‫شش و بر ثالث بر شش او تیران بر یک سار پنج بر‬
‫دو دوم شش بر سوم دو آنرا تیرہ گفتہ شعر ‪ 537‬ص‬

‫‪195‬‬
‫پوند‪ :‬پوند اول مفتوح و واو ساکن و نون غنہ یعنی‬
‫اول و نخست و ایں لفظ زبان پنجابی ست در علقہ‬
‫بھیرہ خوشاب ایں شال گویند شعر ‪ 917‬ص‪331‬‬
‫پوئے‪ :‬بازی قمار پوئے یک پون دوئے دو پون پنج‬

‫پنج پون چھکے شش پون شعر‪ 85‬ص ‪144‬‬
‫پہاڑہ‪ :‬خوشامد کنندہ شعر ‪ 158‬ص‪291‬‬

‫پنہیاں‪ :‬آنکہ حاکماں بہ طریق بیگار آسیا کنا نند یعنی‬
‫بادشاہ عشق تراہم آسیا گردانے عشق فرمودہ شعر‬

‫‪ 42‬ص ‪263‬‬
‫پیٹر پنیٹر‪ :‬پیچ و تاب شعر ‪ 166‬ص‪175‬‬

‫تراہے‪ :‬مثل جنبش ناگہاں شعر ‪ 277‬ص ‪154‬‬

‫تاڑی‪ :‬دستک زدن شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬
‫تاڑی‪ :‬دیدشعر ‪ 355‬ص‪185‬‬

‫تریہرے‪ :‬کچے باراں آنکہ بریک ساکانہ باشد و بر دوم‬
‫پنج و بر سوم شش آزا کچے شہر دہ دراصلح قماریان‬

‫شعر ‪ 536‬ص‪195‬‬
‫تسلے‪ :‬سختی شعر ‪ 96‬ص ‪133‬‬

‫تغلے‪ :‬خورند شعر‪ 24‬ص‪98‬‬

‫تکڑی‪ :‬طاقتور شعر ‪ 23‬ص ‪111‬‬
‫تکیاں لہلن وگن‪ :‬از دیدن آں میوہ از دہان آب شعر‪65‬‬

‫ص‪100‬‬
‫تہاراں‪ :‬تیغ کوہ شعر‪ 18‬ص‪88‬‬

‫توڑی‪ :‬انتہا شعر‪ 20‬ص‪98‬‬
‫توڑی‪ :‬شکستہ شعر‪ 20‬ص‪98‬‬
‫تلو پسلے‪ :‬بے آرام‪ :‬شعر‪ 14‬ص ‪114‬‬
‫تلیاں‪ :‬اول معنی کف دست دوم بمعنی سوزم ش‪193‬‬

‫ص‪240‬‬
‫تلیر‪ :‬نام پرندہ شعر ‪ 23‬ص ‪111‬‬
‫تن حویلی‪ :‬تن حویلی است دراں کہ فدا ہستی و جان ہم‬

‫مکان تست شعر‪ 264‬ص‪296‬‬
‫تہاڑی‪ :‬ٹوپہ کہ بدو غلہ وزن می کنند ش‪ 327‬ص‬

‫‪155‬‬
‫تہوے‪ :‬یعنی کاوے زمین شعر ‪ 79‬ص‪219‬‬
‫ٹل‪ :‬ٹل بتائے ہندی مفتوح و ثانی مشد چوب کلں‬
‫کردہ بستہ را گویند کہ در دریا برائے سوار شدن‬

‫اندختہ بر او سوار شدند شعر‪ 6‬ص‪167‬‬
‫ٹل‪ :‬نام کوہ شعر ‪ 16‬ص ‪111‬‬

‫ٹنگار‪ :‬ناز و نخرے شعر‪ 66‬ص‪115‬‬
‫ٹنگے‪ :‬آویختہ شعر‪ 10‬ص‪128‬‬

‫ٹہل دیون‪ :‬در دریا زنند شعر ‪ 67‬ص‪233‬‬
‫جال‪ :‬سہ معنی دارد‬

‫اول آلہ ماہی گرفتن کہ از رشتہ تنبدہ سازند‬
‫دوم بر تافتن و طاقت آں داشتن‬
‫سوم سوختن‬

‫یعنی آنچہ جال بنیدہ در دریا تحمل و حوصلہ کردا‬
‫خاموش نشیند اگر ماہی گیر بیند ماہی گیر را غم آں می‬

‫سوزد‬
‫شعر ‪ 25‬ص‪333‬‬
‫جان‪ :‬اگرچہ واقف راز دار۔۔۔۔۔دوست۔۔۔۔ ہمراہ باشد چوں‬
‫بوصل یار تنہائی پسند باشد و تن کہ ہمراہ و ہمسایہ‬
‫است آنکہ حجاب دارد دہیدہ باید ابا جاناں رسیدہ شعر‬

‫‪ 99‬ص‪220‬‬
‫جانی‪ :‬جان جان توے شعر ‪ 296‬ص‪298‬‬
‫جائی‪ :‬اول بمعنی زائیدہ جائی بمعنی رفتن شعر‪426‬‬

‫ص ‪189‬‬
‫جریاں‪ :‬طعمات کہ گوشت و ساگ آمیختہ پزند بسیار‬

‫لذیذ باشد شعر ‪ 8‬ص ‪230‬‬
‫جستہ‪ :‬نام سازیست کہ از نواختن آن با خفتہ و بیہوش‬

‫شدہ را خیزانیدہ ہمہ را باز بخانہ خود روانہ گرداند‬
‫شعر‪ 271‬ص ‪256‬‬

‫جگ‪ :‬زمانہ گذشتہ بزبان سنسکریت شعر‪ 3‬ص‪20‬‬
‫جل‪ :‬آب شعر ‪ 23‬ص‪129‬‬

‫جلدی‪ :‬اول بمعنی شتابی دوم بمعنی سوختہ شعر‪13‬‬
‫ص ‪265‬‬

‫جلے‪ :‬جنبیدن شعر‪ 21‬ص ‪168‬‬
‫جنڈ‪ :‬گر اندا ہر دو نام درخت ہائے خار دار شعر‪51‬‬

‫ص‪130‬‬
‫جنڈ‪ :‬خار‬
‫جنے دی‪ :‬جوان خوبصورت کی شعر‪ 273‬ص‪181‬‬
‫جوڑی‪ :‬جفت ' پیوستہ شد شعر‪ 193‬ص‪150‬‬
‫جون‪ :‬ہر قسم حیواناات شعر‪ 282‬ص‪297‬‬
‫جہتباں‪ :‬زخمان خار شعر ‪ 86‬ص ‪132‬‬
‫جی‪ :‬دل شعر ‪ 27‬ص‪199‬‬
‫جیبی‪ :‬زبان شعر‪ 48‬ص‪99‬‬
‫چاٹ‪ :‬شوق و لذت چہ افتاد تر شعر‪ 801‬ص‪325‬‬
‫چار مہینے‪ :‬قولہ چار مہینے الخ از صوفیائے کرام و‬
‫دیگر فیلسوف ۔۔۔۔۔فیلسوفان ۔۔۔۔۔ آوردہ اند کہ ابتدائے‬
‫وقت تعلیم چہار سال چہار ماہ چہار ایام است چرا کہ‬
‫عمل نمودن نشان زیادتی علوم است شعر‪ 49‬ص ‪51‬‬
‫چاندی‪ :‬چہرہ مانند آفتاب بود و بینی دراں چشمہ مثل‬
‫ماہی سیمیں سپید گال داشت یعنی از جلوہ رﺥ شب تار‬
‫روشن شدے ‪ 23‬ص‪141‬‬
‫چاہ‪ :‬چاہ دو معنی دارد ایں جا مراد ہر دو است چیزے‬
‫نوشیدنے و نیز نام محبت و خواہش شعر ‪ 418‬ص‬

‫‪304‬‬
‫چبہ‪ :‬چبہ قوت است در مضافات کوہ و ریاست کشمیر‬
‫کہ خود را در اقوام عالیہ مے شمارد شعر‪ 121‬ص‬

‫‪289‬‬
‫چتے‪ :‬بےشرمی' دلیری شعر‪ 27‬ص ‪105‬‬
‫چٹا پونی‪ :‬بررنگ سپید شعر‪ 336‬ص‪183‬‬

‫چٹکے‪ :‬عشق شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬
‫چر‪ :‬دیگدان کلں شعر ‪ 27‬ص ‪262‬‬
‫چشماں‪ :‬چشم کشادہ بہرجائے کہ دیدے چشم او مثل‬
‫کٹار بر دل کردہ دلہا را لینا کردن شعر ‪ 14‬ص‪215‬‬
‫چکی‪ :‬برداشتہ شعر‪ 287‬ص‪182‬‬
‫چنگ‪ :‬نام سازے است شعر ‪ 51‬ص ‪227‬‬
‫چنگوں‪ :‬سارنگی شعر ‪ 135‬ص ‪147‬‬
‫چنن‪ :‬نام درخت کہ ماربر آں باشند شعر ‪ 7‬ص‪140‬‬
‫چنے چباں‪ :‬یعنی لوہے کے چنے مراد از تکلیف۔۔۔۔۔۔‬
‫زحمت ۔۔۔۔۔۔ بسیار شعر‪ 429‬ص‪163‬‬
‫چوراسے‪ :‬در فکر اندیشہ شعر ‪ 62‬ص ‪136‬‬
‫چوکڑیاں‪ :‬جنبیدن شعر ‪ 33‬ص‪124‬‬
‫چوہدیں‪ :‬ماہ چہار دہم بدرہ خاتون زیادہ سر سیاہ راوید‬
‫حیران ایستادہ بودہ خورشید چہرہ ۔ چہرا صاعد دیدہ‬
‫خورشید از شرم زیر زمین پوشیدہ بود بہ حد بست بیان‬

‫بودہ شعر‪ 584‬ص‪314‬‬
‫چیرے‪ :‬چیرا منزلے از منازل عمارات بلند شعر ‪7‬‬

‫ص ‪133‬‬
‫چیتے‪ :‬اول چیتے بمعنی پلنگ دوم بمعنی ہوشیار شعر‬

‫‪ 512‬ص‪193‬‬

‫چیج بہوٹی‪ :‬نام کرمی است کہ رنگش بسیار سرﺥ باشد‬
‫شعر ‪ 91‬ص ‪229‬‬

‫حبسی‪ :‬بخشش یافتہ شعر‪ 465‬ص ‪191‬‬
‫حسن میمندی‪ :‬وزیرے بود شاہ محمود غزنوی ۔۔۔۔۔۔‬

‫یکی از وزرای پادشاہ ۔۔۔۔۔ شعر ‪ 54‬ص‪33‬‬
‫حے‪ :‬شہر ازاں جائے کہ سلیم نامی شتربان آمدہ بہ‬

‫نجد رسیدہ بمجنون ملقی شعر ‪ 11‬ص ‪225‬‬
‫خاکوں‪:‬از آدم شعر ‪ 479‬ص‪369‬‬

‫خضر‪ :‬بہت نیک اور عمر رسیدہ آدمی کو خضر سے‬
‫تشبیہ دی جاتی ہے شعر‪ 48‬ص‪22‬‬
‫دانے‪ :‬عقلمند شعر‪ 491‬ص ‪191‬‬
‫دایا‪ :‬حوصلہ شعر ‪ 72‬ص‪218‬‬
‫دروگ‪ :‬غار تاریک ش‪ 99‬ص‪172‬‬

‫دل بستہ‪ :‬معشوق و تن بستہ از خستگے دہم راہ‬
‫بیرون بستہ و بند شدہ شعر‪ 244‬ص‪358‬‬

‫دمڑی لے کروڑاں بخشیں مراد بخشش است از جناب‬
‫پیر پیران شاہ کہ سوا لکھ دمڑی۔۔۔۔۔سکہ۔۔۔۔۔۔ ہر روز‬
‫نیاز ایشاں در نذر شود دہندہ حاصل شود شعر‪ 214‬ص‬

‫‪178‬‬
‫دنگا‪ :‬اگر موئے تراکے غم کند یعنی اندک دہد من بدو‬
‫جنگ کنم دنگا نفح جنگ را گویند شعر‪ 28‬ص ‪268‬‬
‫دنیا اے‪ :‬اشارہ بایں وہا خلقت الجن و النس یعبدون‬

‫شعر ‪ 214‬ص‪294‬‬

‫دوہدل‪ :‬شیردار ش‪ 179‬ص‪239‬‬
‫دہاڑے‪ :‬شب رفتہ و روز آمد شعر ‪ 88‬ص‪394‬‬

‫دہمیں‪ :‬صبح روشن شعر ‪ 274‬ص ‪279‬‬
‫ڈٹھا‪ :‬بارش باریدن ش‪ 379‬ص‪160‬‬

‫ڈل ڈل کر دے نین‪ :‬پشیمان روداری گویا در دل آید‬
‫یعنی در بحر عظیم غرق شدہ اند ازیں باعث حال دل‬

‫بود شعر‪ 801‬ص‪325‬‬
‫ڈولی‪ :‬آں محاورہ کلس یعنی فرق سر آن شعر‪299‬‬

‫ص‪182‬‬
‫ڈولی‪ :‬اول بمعنی عمارہ دوم ڈولے بمعنی وجہءساخت‬

‫سوم ڈولے لرزیدن شعر‪ 306‬ص‪183‬‬
‫ڈولے‪ :‬اول تراشیدہ دوم بازو مثل شیر شعر ‪ 19‬ص‬

‫‪265‬‬
‫ڈولے‪ :‬بہ بازویئ ہر شیر بستہ تیار کردہ کاریگر تعویز‬

‫چوکی یعنی بازوبند شعر ‪ 125‬ص ‪140‬‬
‫ڈوری‪ :‬حیرانی شعر ‪ 65‬ص‪233‬‬

‫ڈورے بھورے‪ :‬نیم خواب مستانہ شعر ‪ 403‬ص‪304‬‬
‫ڈہاں‪ :‬ختم شعر ‪ 34‬ص ‪262‬‬
‫ذیلے‪ :‬در تابع شعر‪ 70‬ص‪100‬‬

‫رام‪ :‬آں کس است رام یعنی دوست او کہ عشق آں در‬
‫سینہ باشد چوں عاشق را معشوق بکمال باشد ہماں یار‬

‫او را بمنزلہ معبود گردو شعر‪ 139‬ص‪272‬‬
‫رب ملنی‪ :‬مردم را کار کردن باید حیران و مایوس نہ‬

‫شدن باید کامرانی بدست ایزد متعال ست شعر ‪ 297‬ص‬
‫‪155‬‬

‫رٹاں‪ :‬شہپر شعر ‪ 157‬ص‪148‬‬
‫رکھی‪ :‬بے لذت و بے مزہ و خشک شعر ‪ 167‬ص‬

‫‪149‬‬
‫رن‪ :‬میدان جنگ شعر ‪ 5‬ص‪77‬‬
‫رنگ پتنگ‪ :‬رنگ تو مثل شمع بود ۔ اکنوں پروانہ‬
‫پریدہ و سوختہ پرندہ شدند و پتنگ دو معنی دارد اول‬
‫پروانہ دوم پتنگ کاغذی کہ ہوا می پرانند شعر ‪800‬‬

‫ص‪325‬‬
‫روندی‪ :‬تہ مرگ گل خوش رنگ روایت دیدران نوا‬
‫خوش نالہائے را رو است در عین وصل ایں ۔۔۔۔۔‬
‫نالہءفرہاد داشت و ما را جلوہءمعشوق در ایں کار‬

‫داشت شعر‪ 81‬ص ‪287‬‬
‫زال‪ :‬نام پہلوان' نام پدر رستم‬
‫زبور‪ :‬کتابے است الہامیہ کہ بر نبی حضرت داؤد علیہ‬
‫السلم نازل شدہ بود قصائد و غزل وغیرہ در و منقول‬
‫است ازتیں شعرائے عجم ازاں اقتباس می کنند شعر‬

‫‪ 28‬ص‪68‬‬
‫زہرہ‪ :‬نام ستارہ ایست بر آسمان سوم کہ سعد است و‬

‫طالع از و نیک گردو شعر ‪ 260‬ص‪358‬‬
‫زی مسلم‪ :‬مراد قصیدہ بردہ ۔۔۔۔۔۔۔حضرت رسالت مآب‬
‫صلی ا علیہ وسلم کہ بیعت رضوان زیر درخت ببول‬

‫کہ آں را در زبان عربی مسلم میگویند بدیں وجہ زی‬
‫مسلم خطاب حضور پرنور را مخاطب فرمود شعر‪402‬‬

‫ص ‪188‬‬

‫سات سر۔ سرندے‪ :‬ہفت سر۔ سرندے نام سازیست شعر‬
‫‪ 250‬ص‪402‬‬

‫سار‪ :‬آہنی ہتھیار ‪.....‬سلح آہنی ۔۔۔۔۔۔۔ شعر ‪ 17‬ص‪93‬‬
‫ستار‪ :‬نام ساز شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬

‫سارنگ‪ :‬سے رنگ صد رنگ۔ نام راگ شعر ‪ 250‬ص‬
‫‪403‬‬

‫ساس اوڈن‪ :‬جان بلب شعر‪ 30‬ص‪129‬‬
‫سالک‪ :‬اشارت ست بآن سالک کہ بمنزل قریب ولیت‬
‫رسیدہ در کشف و کرامات خوش شدہ مشغول انداز‬
‫قرب محبوب اصلی دور د محبوب دارند منازل دیگر‬

‫شعر‪ 194‬ص‪341‬‬
‫سانگاں‪ :‬تیاری ایشاں شعر ‪ 7‬ص ‪109‬‬
‫ست تار‪ :‬ہفت تار سرایند شعر ‪ 355‬ص‪185‬‬
‫سجناں‪ :‬اگر تو با من اتفاق کردی تا حیات دنیا مرا‬
‫پری برتیوں خوش آمدے شعر ‪ 210‬ص‪294‬‬
‫سجی‪ :‬خاکستر شعر ‪ 130‬ص‪147‬‬
‫سدھر‪ :‬خواہش و طلب شعر‪ 30‬ص ‪105‬‬
‫سردار جیاں‪ :‬سردار جانداراں شعر‪ 46‬ص‪99‬‬
‫سرسامے‪ :‬نام پدر زال شعر ‪ 12‬ص ‪109‬‬

‫سرکردے‪ :‬اول سرکردہ سسررداراں دووم سر را‬
‫قربان کردن شعر‪ 449‬ص ‪190‬‬

‫سرگاہیں‪ :‬پامال کردن شعر ‪ 87‬ص ‪132‬‬
‫سعد‪ :‬نام ستارہ ایست کہ سعد اکبر ست و آں قاضی‬

‫فلک بر آسمان ششم باشد شعر‪ 270‬ص‪358‬‬
‫سلوتر‪ :‬سوال و جواب برابری شعر ‪ 183‬ص‪292‬‬

‫سمد‪ :‬خبر نیامدن شعر‪ 123‬ص ‪146‬‬
‫سنا‪ :‬چنداں راز ہا کشودن نتواند کہ کار ہائے ضروری‬

‫بسیار اند دیار دکر انتظار قصہ ش ‪ 67‬ص‪169‬‬
‫سنی‪ :‬سنے بمعنی نامور شعر ‪ 60‬ص ‪227‬‬

‫سنسار‪ :‬جانور آبی شعر‪ 36‬ص‪169‬‬
‫سنگٹھاں‪ :‬بندش گلوے شعر ‪ 79‬ص ‪142‬‬
‫سنے وزیراں‪ :‬با وزیراں شعر‪ 294‬ص‪182‬‬
‫سنیئر‪ :‬سننے وال۔۔۔۔۔۔ کسی کے طعن و تشنع می‬

‫شنود شعر‪ 115‬ص‪248‬‬
‫سوانی‪ :‬زنان اصیل شعر‪ 306‬ص‪183‬‬
‫سودا‪ :‬صد ہنر۔سودا یعنی دل۔ سودا نام مرض ست شعر‬

‫‪ 554‬ص‪312‬‬
‫سہور‪ :‬سسرال شعر ‪ 148‬ص‪222‬‬
‫سوراﺥ درگ‪ :‬غار تاریک شعر‪ 33‬ص‪115‬‬

‫سہاندے‪ :‬خرگوش شعر‪ 20‬ص‪91‬‬
‫سہانے‪ :‬نام حکیم یونان شعر ‪ 78‬ص‪53‬‬

‫سہیلی‪ :‬خوب صفادموزدن شعر‪ 14‬ص‪123‬‬
‫سہیلی اردو لفظ ہے۔ فارسی میں مونث مذکر نہیں ہے‬

‫لہذا یار۔۔۔یاراں' دوست۔۔۔۔دوستاں‬
‫سیاں‪ :‬سہلیاں شعر ‪ 184‬ص ‪274‬‬
‫سیاہی‪:‬تہمت شعر ‪ 479‬ص‪369‬‬
‫سیلے‪ :‬نام سلح جنگ شعر ‪ 6‬ص ‪109‬‬
‫سیاں‪ :‬سہیلیاں۔۔۔۔۔دوستاں۔۔۔۔۔۔ شعر‪ 338‬ص‪183‬‬
‫سیہے‪ :‬خار پشت شعر‪ 24‬ص‪115‬‬
‫شارت‪ :‬بے الف یعنی اشارت برائے وزن دور کردہ‬

‫شد شعر ‪ 527‬ص‪310‬‬
‫شارستانے‪ :‬زلل آب بہ صفت موصوف سرد و شریں و‬

‫کوزہ آں آبہائے شارستان مثل زلل بود‬
‫شعر‪ 846‬ص‪327‬‬

‫شریں و شکر‪ :‬ہر نام شاہزادیاں خسرو پرویز بود‬
‫بسیار خوبصورت شعر ‪ 24‬ص‪142‬‬

‫شکر وپچن وال‪ :‬شکر فروش عمرت دراز بارے چرا‬
‫بہ نقصدے نکنی عندلیب شیدا را شعر‪ 9‬ص ‪260‬‬
‫شمس پری‪ :‬سعدین ددو ستارہ ایست وقتیکہ ہر دو از‬
‫مقامے دروے طلوع شوند آن را مبارک دانند و بچہ ای‬
‫در آن ساعت پیدا شد او را مبارک و نیک نہاد می‬

‫دانند شعر ‪ 97‬ص‪247‬‬
‫شہابی‪ :‬نام ستارہ کہ او را بر شیطان زنند چوں ببر‬

‫آسمان رود شعر‪ 351‬ص‪357‬‬

‫شہزادی‪ :‬مراد ملکہ خاتون شعر‪ 321‬ص‪183‬‬
‫شیرے‪ :‬مراد حاجی بگا شیر درکالی شریف رحمتہ ا‬

‫علیہ شعر ‪ 36‬ص‪20‬‬
‫ضاعیں‪ :‬ضائع شعر‪ 90‬ص ‪145‬‬
‫عجائز‪ :‬نام پری مصورہ بمعنی طویل العمر شعر‪ 26‬ص‬

‫‪68‬‬
‫عذرا بدر منیر‪ :‬عذرا بدر منیر در بلد عرب دو مشہور‬

‫عاشق و معشوق گذشتہ اند ‪ 34‬ص‪142‬‬
‫عنبر اشہب‪ :‬نام قسمے از عنبر کہ بسیار قیمت دار‬
‫باشد و بر مغز مالند شخصے بیہوشی گرمی آید و از‬
‫گرمی عشق چوں بیہوش شدند آں زمان ہم بکار آید کہ‬

‫مفید است شعر ‪ 51‬ص‪339‬‬
‫عود وجود‪ :‬خود را آتش سوختہ بود خود را نابود کرد‬

‫شعر ‪ 354‬ص ‪185‬‬
‫غول‪ :‬دیوے۔۔۔۔دیواں کہ مردم را از راہ بردہ ترساند‬

‫شعر ‪ 94‬ص ‪132‬‬
‫فرہاد‪ :‬فرہاد شہزادہ چین بود زنجار در اخبار دیدہ شدہ‬
‫مولوی نظامی و امیر خسرو این فرمودہ در شرین و‬

‫خسرو آں عشق کہ ما ایشاں ظلم یا عدل کرد ہماں‬
‫عشق جانب بدیع الجمال شعر ‪ 215‬ص ‪276‬‬

‫فرہاد‪ :‬فرہاد شنیدہ بود کہ شیریں ازیں جہاں رفت فرہاد‬
‫نیز برائے جستجوئے او بداں جہاں رفتہ و از بر‬
‫داشتن غم عاجز شدہ شعر ‪ 37‬ص‪130‬‬

‫قابو‪ :‬گرفتار شعر‪ 44‬ص ‪106‬‬
‫قائم سما‪ :‬بجائے شیشہ و گل کار از کردہ شدہ و گروہ‬

‫اش مثل آسمان گردندہ و آں گنبد است شعر‪ 59‬ص‬
‫‪125‬‬

‫قرانی‪ :‬نزدیکی شعر‪ 24‬ص ‪114‬‬
‫قلچ‪ :‬سہ نیم ہفت کہ دو گز باشد قدر کم عر ‪344‬‬

‫ص‪300‬‬
‫قلم ربانی‪ :‬قلم ربانی در دست ولی است ہہر چہ خواھد‬

‫بنوید شعر‪ 60‬ص‪169‬‬
‫کاٹھی‪ :‬پرات چوبی شعر‪ 28‬ص ‪114‬‬
‫کافوں‪ :‬کاف و نون مراد از کن فیکون شعر ‪ 249‬ص‬

‫‪403‬‬
‫کان‪ :‬برائے فرزند دعا مے کردے شعر‪ 58‬ص‪169‬‬

‫کرپا‪ :‬مہربانی ش‪ 379‬ص‪160‬‬
‫کپر‪ :‬برسرخود شعر ‪ 133‬ص‪222‬‬

‫کتھا‪ :‬بیان شعر‪ 22‬ص‪123‬‬
‫کٹھا‪ :‬زوند بدن و سینہ جمع کنم شعر‪ 282‬ص‪297‬‬

‫کٹھاں‪ :‬گوشہ ہا شعر‪ 70‬ص‪101‬‬
‫کج‪ :‬دو راز دوستی من بگریز ست شعر ‪ 211‬ص‬

‫‪294‬‬
‫کراری‪ :‬نمکین و لذیذ شعر ‪ 28‬ص‪123‬‬

‫کریوں‪ :‬شتر شعر‪ 16‬ص ‪28‬‬
‫کستہ کردہ شعر ‪ 26‬ص ‪111‬‬

‫کل‪ :‬نسل من ‪ 344‬ص ‪184‬‬
‫کلں‪ :‬شیر از جادو تیار کردہ نہادہ کہ حملہ اندک کردند‬

‫شعر ‪ 111‬ص ‪139‬‬
‫کلں‪ :‬حکمت آنچناں برائے ترسائیدن دیگراں نہادہ اند‬

‫شیر جہاندار نبود شعر ‪ 118‬ص ‪139‬‬
‫کلچیٹ‪ :‬۔۔۔۔۔۔ کلچیت۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ ایست کہ خوش گلو باشد‬

‫شعر‪ 13‬ص‪17‬‬
‫کلس‪ :‬فق سسراں شعر‪ 305‬ص‪183‬‬

‫کلی‪ :‬قلعی شعر ‪ 36‬ص‪33‬‬
‫کمام‪ :‬کارہائے شعر ‪ 56‬ص‪201‬‬
‫کماناں‪ :‬مژگاں شعر‪ 12‬ص‪123‬‬

‫کن‪ :‬کدام شعر‪ 98‬ص ‪145‬‬
‫کنڈ‪ :‬پشت دادہ براے اینکہ سوئے ایشاں نہ بینی شعر‬

‫‪ 91‬ص‪127‬‬
‫کنڈھی‪ :‬کنارہ دریا شعر‪ 26‬ص‪168‬‬
‫کنڈے دی اری‪ :‬پشت مثل آرہ برکشتی زدہ او را پارہ‬

‫پارہ کردن شعر‪ 90‬ص‪101‬‬
‫کنگ‪ :‬لفظ اصلی کنگاش است بمعنی مشورہ' باہم‬

‫صلح کنندہ شعر ‪ 150‬ص‪223‬‬
‫کوکھ‪ :‬شکم شعر‪ 336‬ص‪183‬‬

‫کوہ کوہ‪ :‬پہاڑ ش‬
‫کیں‪ :‬کس در شعر‪ 27‬ص‪80‬‬
‫گاتر‪ :‬دونے کہ تیغ در گردن بداں آویزند و کمر دوال‬

‫کمر ہ بداں کمربہ بند دو مردان جنگ قسم بداں کنند‬
‫شعر‪ 251‬ص ‪296‬‬

‫گٹھے‪ :‬خاک' گم شد شعر‪ 101‬ص ‪145‬‬
‫گڈیاں‪ :‬گڈیاں کہ دختران در اول عمر بایشاں بازی‬
‫کننددہ و باہم نشستہ بیک دیگر ازدواج کنند شعر‪137‬‬

‫ص‪272‬‬
‫گزاری‪ :‬روز رفت و شب رسید شعر ‪ 72‬ص ‪228‬‬
‫گل داؤدی منہ دے وانگر‪ :‬سرنگوں نہادہ شکل پستان‬

‫نوخاستہ شعر‪ 2 8‬ص‪141‬‬
‫گلگل‪ :‬نام میوہءترش شعر ‪ 259‬ص ‪278‬‬

‫گمانی‪ :‬چال شان دار شعر‪ 17‬ص‪91‬‬
‫گرنڈے‪ :‬خار‬

‫گنگی‪ :‬آب گنگ بسیار صاف است شعر ‪ 424‬ص‪412‬‬
‫گنیاں‪ :‬ہنرمند چہ کن بکاف فارسی مضموم بسکون‬
‫نون ہندی مردارا گویند در زبان ہندی شعر ‪ 26‬ص‬
‫‪199‬‬
‫گوراں‪ :‬قبراں شعر ‪ 109‬ص ‪495‬‬
‫گوڈریاں‪ :‬گلیم ہا شعر ‪ 50‬ص‪280‬‬

‫لڈ‪ :‬بر ناز او غرہ نباید شد چرا کہ اول بناز فریب دادہ‬
‫شیفتہ خود کند چنانچہ برادران یوسف اول بدوش‬
‫برداشتند باز بچاہ انداختند شعر ‪ 5‬ص‪97‬‬
‫لتڑایا‪ :‬دراز شد گو در خواب شد شعر ‪ 51‬ص‪130‬‬

‫لکھے دھر درگا‪ :‬لکھی یعنی نوشتہءتقدیر ش‪ 141‬ص‬

‫‪237‬‬
‫للی‪ :‬سرخی شعر ‪ 84‬ص‪234‬‬
‫لولکی‪ :‬لولکی مراد ایں است کہ ا ثعالی نبی علیہ‬
‫السلم را ارشاد فرمودا گر ترا پیدا نہ کردم چیزے را‬

‫نیا وردم شعر ‪ 7‬ص ‪332‬‬
‫چیزے ہم تخلیق نمی کردم‬
‫للکریاں‪ :‬در جوش آمدہ حملہ نمودن شعر ‪ 67‬ص‪393‬‬
‫لندھور‪ :‬نام پہلوان شعر ‪ 14‬ص ‪109‬‬
‫لنگر‪ :‬لنگر کشتی شعر‪ 12‬ص‪91‬‬
‫لنگوٹیا‪ :‬تہ بند بستہ شعر‪ 17‬ص‪129‬‬
‫لوں‪ :‬باد گرم سخت کہ در ماہ جیٹھ و زد شعر ‪ 50‬ص‬

‫‪130‬‬
‫لوہکی‪ :‬صغر سنی شعر‪ 26‬ص‪83‬‬
‫لوہندی‪ :‬نام جانوریست کہ بر باز غالب باشد شعر‬

‫‪ 260‬ص‪211‬‬
‫لوں لوں‪ :‬مو بمو شعر‪ 271‬ص‪297‬‬
‫لوہڑے‪ :‬پنیرم تراشدہ صاف و نگہدار کردہ شعر ‪19‬‬

‫ص ‪265‬‬
‫لہورے‪ :‬شکایات; گلہ گزاری ش‪ 222‬ص‪241‬‬
‫لویں‪ :‬ساقیان جوان و شراب کہنہ کہ بسیار نشہ دارد‬

‫باشد شعر ‪ 20‬ص‪95‬‬
‫لوے‪ :‬برگ آمدہ نازک ونرم شعر ‪ 79‬ص ‪137‬‬

‫لئی‪ :‬ہمراہ کردہ خود شعر ‪ 509‬ص‪193‬‬


Click to View FlipBook Version