بے' نہی کا سابقہ ہے اور اردو میں باکثرت استمال
ہوتا ہے۔ رحمان بابا کے ہاں بھی' یہ سابقہ استعمال
ہوا ہے۔ چند مثالیں ملحظہ ہوں۔ یہ الفاظ اردو کے
لیے اجنبی نہیں ہیں۔
لکھ تش صورتہ بےروحہ
بےبالین او بےبستر
کہ جہان و بےھنر و تھ فراﺥ دے
د بےدرد ھمدمی بہ د بےدردک
رحمان ھسے بیوقوف سوداگر نہ دے
لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ
د بےمثلہ بےمثالہ بےمکان دے
لکہ تش کدو بے مغزہ
مراد ئے بےدیار لہ درہ بل ہاب نہ دے
رحمان ھسے و خپل یار تہ بےحجت رے
مزید کچھ نہی کے سابقے ملحظہ فرمائیں۔ الفاظ اور
:سابقے اردو زبان سے متعلق بھی ہیں
نا
پہ نابود باند ناحق د بود کمان ک
د نامرد د ھمدمی بہ د نامردک
تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک
کم
لہ کم ذات بے دیانتھ بےنمازہ
کم اندیشہ کہ بیدار دے بیدار نہ دے
ھر کم فھم کجائی
ھر کم بخت ئے کلہ مومی
بد
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
مزید دو سابقوں کا استعمال ملحظہ ہو جو اردو میں
بھی مستعمل ہیں۔
ھم
یؤ صورت دے ھم نشیب دے ھم فراز
ہم گفتار بہ ئے د خدائی پہ در قبول شی
نغمے کاندی ھم رقص کہ ھم خاندی
با
د رحمان پہ شعر ترکے د باکرام
اب چند لحقے ملحظہ ہوں' یہ اور ان سے متعلق
الفاظ ' اردو کے ذخیرہءالفاظ میں داخل ہیں۔
ناک
تہ ناحق پہ کینہ کڑے کینہ ناک
کینہ ناک' اردو میں مستعمل نہیں تاہم کینہ اور ناک'
باطور لحقہ مستعمل ہیں۔
گار
صد رحمت شھ پھ روزگار د درویشانو
دار
دنیادار د دنیا کار کازہ د دین
خواہ
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
گو
دعاگو یہ د نیک خواہ او د بدخواہ یم
مند
بؤ لحد دے ھنرمند و لرہ تنگ
پذیر
ھر کلم چہ دلپذیر او دلپسند وی
یہ ہی نہیں' بابا صاحب کے ہاں پجابی ذائقہ بھی
موجود۔ اردو میں پلید اور پلیدی استعمال میں آتے ہیں۔
پنجابی میں پلید سے پلیت اور پلیدی سے پلیتی' بولے
لکھے جاتے ہیں۔ بابا صاحب نے ایک مصرعے میں'
یہ دونوں الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کے باوجود
اسلوب پنجابی نہیں ہو پایا۔
د دنیا پھ پلیتی م حان پلیت کڑو
اردو میں ہمیشہ' جب کہ پنجابی میں ہمیش مستعمل
ہے۔ بابا صاحب نے کمال حسن و خوبی سے اس لفظ
کا استعمال کیا ہے۔
دھوا غشے ھمیش حکمتہ پھ زور شی
لہور میں بیبیاں پاک دامنہ کے محترم و معزز مزار
ہیں۔ عوام میں پاک دامنہ مرکب معروف ہے۔ رحمان
بابا نے اس مرکب کا استعمال کیا ہے۔ اس سے
پاکیزگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ملحظہ ہو
پاکدامنہ پرھیزگارہ از تینھ
بابا صاحب کا ایک مقطع باطور تبرک ملحظہ ہو۔
داد شعر دے چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی
رحمانہ کہ اعجاز
بابا صاحب کے اس مقطعے کو پڑھ کر' اگر کوئی ان
کی فکری پرواز اور پرذائقہ زبان کی داد نہیں دیتا' تو
اس سے بڑھ کر کوئی بدذوق نہ رہا ہو گا۔
اس ناچیز سے لسانی مطالعے کے بعد' میں اس نتیجہ
پر پہنچا ہوں' کہ زبانیں بڑی ملن سار ہوتی ہیں۔ اردو'
پختو' پنجابی' عربی اور فارسی ایک دوسرے سے
یوں گلے ملتی ہیں' کہ کہیں اجنبیت کا احساس تک
نہیں ہوتا۔ تلفظ' لہجہ' استعمال' معنویت اور ہیت تک
بدل لیتی ہیں اور لفظ' اختیاری زبان کے قدم لیتے ہیں۔
آخر انسان کو کیا ہو گیا ہے' کہ یہ مادی' نظریاتی'
مذہبی' معاشی' سیاسی دائروں کا مکین ہو کر' ایک
دوسرے سے' کوسوں کی دوری اختیار کر لیتا ہے۔
رنگ' نسل اور علقہ' اسے دور کیے جا رہا ہے۔
لسانی تعصب بھی اسے دور کیے رکھتا ہے۔ زبان کے
نام پر' دوریاں بڑھی ہیں' جب کہ ہر زبان دوریوں کو
.ناپسند کرتی ہے
انسان آخر کب' اپنی ہی زبان سے' ملن ساری کا سبق
لے گا۔
!!!آخر کب
بابا فرید کی شعری زبان کا' اردو کے تناظر میں
لسانیاتی مطالعہ
بابا فرید صوفی ہی نہیں' خوش فکر' خوش بیان اور
خوش زبان شاعر بھی تھے۔ ان کی سات صدیوں سے
زیادہ پہلے کی زبان' آج بھی اتنی ہی' جابیت اور
لسانیاتی چاشنی رکھتی ہے' جتنی اس دور میں رکھتی
ہو گی۔ اس ناچیز تحریر میں' ان کی زبان کا' اردو کے
لسانیاتی نظام کے تناظر میں' مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے' کہ بابا فرید کی شعری
زبان' مقامی اور مہاجر الفاظ کے حوالہ سے' اس اور
اس عہد کی بین القوامی زبان اردو سے' کس قدر
قریب ہے۔
بابا صاحب کے کلم میں' بہت سے اشعار خفیف سی
تبدیلی سے اردو کے حلقہ میں داخل ہو جاتے ہیں مٹل
میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو
اوپر چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ
میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو
اچے چڑھ کے دیکھیا تو گھر گھر یہ ہی آگ
......
آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو
جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو
آپ سنواریں میں ملیں' میں ملنے سے سکھ ہو
اگر تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو
......
بعض مصرعے اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔
مثل
تپ تپ لوں لوں ہاتھ مروڑو
......
اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار
......
بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت
......
اپنے پریتم کے ہوں برہے جالی
......
اس اوپر ہے مارگ میرا
......
نہ کو ساتھی نہ کو بیلی
......
بعض مصرعوں کا غالب حصہ اردو سے متعلق ہے۔
مثل
فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ
......
صبر اندر صابری' تن ایویں جالیں
......
شیخ حیاتی جگ نہ کوئی تھر رہیا
......
بعض مصرعے' معمولی سی تبدیلی سے' اردو میں
داخل ہو جاتے ہیں۔ مثل
فریدا برے دا بھل کر غصہ من نہ ہنڈھا
فریدا برے کا بھل کر غصہ من نہ پال
......
جاگنا ای تاں جاگ فریدا' ہوئی آ ای پربھات
جاگنا ہے تو جاگ فریدا' ہو گئی ہے پربھات
......
پہلے پہر پھلڑا' پھل وی پچھا رات
پہلے پہر پھلڑا' پھل ہوا پچھلی رات
......
فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ
فریدا خالق خلق میں' خلق بسے رب میں
......
بابا صاحب کے ہاں' مہاجر مستعمل الفاظ ہی نہیں'
اردو کے مقامی الفاظ بھی بڑی روانی سے استعمال
میں آئے ہیں۔ مثل
آپ' اتار' اٹھائی' بیڑی' بھلی' پاس' پانی' پرائی' تن'
تھوڑا' ٹھنڈا' جا' جگ' جو' جی' چھیڑی' دودھ ' دھن'
رہی' سو' کوئی' کے' کھا' کبھی' گئی' گھر' لکھ' مت'
میرا میری' میں' نہ
دیوناگری خط والوں کے بہت سے الفاظ بابا صاحب
کے ہاں استعمال ہوئے ہیں اور یہ ہندو عقیدہ رکھنے
والوں کے ہاں عام استعمال میں آتے ہیں تاہم اردو
والوں کے لیے بھی اجنبی نہیں ہیں۔ مثل
آسن' بھاگ' پربھات' پربھو' پریتم' پریت' چت' دھرم'
سادھ ' سمھار' سوہاگنی' سہاگن' کالی' کرپا' مارگ'
ماس' نانک
بابا صاحب کے ہاں اردو مصادر کا استعمال ملحظہ
فرمائیں۔ مثل
جاگنا :جاگنا ای تاں جاگ فریدا' ہوئی آ ای پربھات
جانا :جے جانا مر جایئے گھم نہ آئیے
بابا صاحب کے ہاں'اردو مصادر کی مختلف حالتیں'
پڑھنے کو ملتی ہیں۔
اٹھانا :بنھ اٹھائی پوٹلی' کتھے ونجاں گھت
آنا' جانا :جے جانا مر جایئے گھم نہ آئیے
جانا :رہی سو بیڑی ہنگ دی' گئی کھتوری گندھ
کتی جوبن پریت بن سک گئے کملء
رہنا :جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو
کھانا :کاگا کرنگ ڈھنڈلیا سگل کھایا ماس
سہنا :جالن گوراں نال اولہمے جیا سہے
ہونا :بادل ہوئی سو شوہ لوڑو
اردو میں پکارنے یا مخاطب کرنے کے لیے' آخر میں
الف ا بڑھا دیا جاتا ہے۔ بابا صاحب کے ہاں یہ ہی چلن
پڑھنے کو ملتا ہے۔ مثل
بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت
مترادف الفاظ کا استعمال ملحظہ ہو .یہ مرکب اردو
والوں کے لیے قابل تفہیم ہیں۔
اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار
وضو ساز
وضو سازنا' وضو بنانا کے مفہوم میں
نماز گزارنا :نماز ادا کرنا' پڑھنا کے مفہوم میں۔ نماز
گزارنا اردو میں عام استعمال کا مہاورا ہے۔
وضوساجنا' وضو بنانا' وضو سجانا' وضو کرنا وغیرہ
بھی اردو میں مستعمل ہیں۔
اسم اور صفتی سابقوں' جو باقاعدہ لفظ ہیں' سے
ترکیب پانے والے یہ مرکبات' اردو والوں کے لیے
ناقابل فہم نہیں ہیں۔
بھلی ریت :بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت
ٹھنڈا پانی :رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی
پچھلی رات :پچھلی رات نہ جاگیوں جیوندڑو مویوں
دور گھر :گلیں چکڑ' دور گھر' نال پیارے نیہہ
کالی کوئل :کالی کوئل تو کت گن کالی
جھوٹی دنیا :جھوٹی دنیا لگ نہ آپ ونجائیے
اسم اور صفتی لحقوں' جو باقاعدہ لفظ ہیں' سے
ترکیب پانے والے یہ مرکبات' اردو والوں کے لیے
ناقابل فہم نہیں ہیں۔
عقل لطیف :جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ
در درویشی :در درویشی گا کھڑی' چلں دنیا بھت
اب کچھ تشبہی مرکبات ملحظہ فرمائیں۔ یہ اردو والوں
کے لیے نئے نہیں ہیں۔
تن سمندر :تن سمندر' ار لہر' ار تارو تریں اینک
تن سکا پنجر :تن سکا پنجر تھیا تلیاں کونڈن کاگ
تن تپے تنور :تن تپے تنور جیوں بالن ہڈ بلن
اردو میں جمع بنانے کے لیے' زیادہ تر یں' یوں اور
یوں کے لحقے استعمال میں لئے جاتے ہیں۔ بابا
صاحب کے ہاں بھی جمع بنانے کے لیے ان لحقوں کا
استعمال ہوا ہے۔ مثل
یاں
بجلی سے بجلیاں :کنک کونجاں' چیت ڈوہنہہ' ساون
بجلیاں
پنکھ سے پنکھیاں :ہوں بلہاری تنھاں پنکھیاں جنگل
جنھاں واس
مٹھی سے مٹھیاں :سبھو وستو مٹھیاں' رب نہ پچن
تدھ
ماڑی سے ماڑیاں :کوٹھ منڈپ ماڑیاں ایت نہ لئیں چت
محل ماڑیاں عام استعمال کا مرکب رہا ہے۔
یں
کجھور سے کجھوریں :رب کجھوریں پکیاں ماکھیا
نئیں دہن
مسجد سے مسجدیں :امید مسجدیں ابو تھیاں' اکھاں
رب سوار
بے' نفی کا سابقہ ہے اور اردو میں عام استعمال ہوتا
ہے۔ بابا صاحب کے ہاں' اس سابقے کا استعمال اردو
کا چلن رکھتا ہے۔
بےنمازا کتیا! ایہ نہ بھلی ریت
نانک سو سوہاگنی جو بھاوے بےپرواہ
اردو کا معروف لحقہ گزار بابا صاحب کے ہاں کچھ
اس طرح سے استعمال ہوا ہے۔
اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار
یہاں گزار' پڑھ کے معنوں میں استعمال ہوا
کیا خوب صورت مصرعے ہیں۔ فاعل اور فعل کا
فطری استعمال' دیکھیے۔ اردو' عربی اور فارسی کا'
یہ ہی چلن ہے۔
فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ
فریدا خالق خلق میں' خلق بسے رب میں
......
صبر اندر صابری' تن ایویں جالیں
صبر اندر صابری' تن یوں ہی جالیں
بابا صاحب کا استعارتی طرز تکلم خوب ہے' اردو
والوں کے غیرمانوس نہیں۔
فریدا من میدان کر ٹوئے ٹبے لہ
اگے مول نہ آؤ سی دوزﺥ سندی بھا
بابا صاحب کے ہاں استعمال ہونے والی تلمیحات' زیادہ
تر مہاجر اور اردو میں مستعمل الفاظ پر مشتمل ہوتی
ہیں۔ مثل
اٹھ فرید وضو ساز صبح نماز گزار
اگے مول نہ آؤ سی دوزﺥ سندی بھا
زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے
جالن گوراں نال اولہمے جیا سہے
تیں صاحب کی میں سار نہ جانی
بولیئے بیچ دھرم' جھوٹھ نہ بولیئے
شیخ حیاتی جگ نہ کوئی تھر رہیا
فریدا درویشی گا کھڑی' چوپڑی پریت
امید مسجدیں ابو تھیاں' اکھاں رب سوار
اردو میں مونث بنانے کے لیے' آخر میں چھوٹی یے
ی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہی طور' بابا صاحب کے
کلم میں ملتا ہے۔
کمبلی :بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ
کالی :کالی کوئل تو کت گن کالی
اکیلی :ودہن کھوہی مند اکیلی
اردو میں مذکر بنانے کے لیے' آخر میں الف ا کا
استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہی طور' بابا صاحب کے کلم
میں ملتا ہے۔
پھلڑا :پہلے پہر پھلڑا' پھل وی پچھا رات
جاگدا :تو ستا رب جاگدا تیری ڈاہڈے نال پریت
بابا صاحب کے ہاں تکرار لفظی و حرفی اردو سے
الگ تر انداز و رویہ نہیں رکھتا۔ مثل
فریدا خالق خلق میں' خلق وسے رب مانہہ
تپ تپ لوں لوں ہاتھ مروڑو
کالی کوئل تو کت گن کالی
جو جو ونجے ویڑا سو عمر ہتھ پون
آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو
......
جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ
رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی
نہاتی دھوتی سنبی' ستی آء نچند
کچے بھانڈے رکھیئے کچرک تائیں نیر
بابا صاحب کے کلم میں' ہم صوت الفاظ کا استعمال'
کمال ہنرمندی سے ہوا ہے۔ یہ رویہ' اردو شعر وسخن
میں بھی ملتا ہے۔
ودہن کھوہی مند اکیلی
نہ کو ساتھی نہ کو بیلی
بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ
رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی
نہاتی دھوتی سنبی' ستی آء نچند
ایک ہی مصرعے میں متضاد لفظوں کا استعمال
ملحظہ فرمائیں۔
فریدا برے دا بھل کر غصہ من نہ ہنڈھا
زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے
:بابا صاحب کی زبان کا مہاورہ ملحظہ ہو
پوٹلی اٹھانا :بنھ اٹھائی پوٹلی' کتھے ونجاں گھت
مان کرنا :جے جاناں شوہ نڈھڑا تھوڑا مان کریں
دوسری زبان کا لفظ' اپنا کرنے کے حوالہ سے'
زبانوں میں آوازوں کا تبادل بڑی عام سی بات ہے۔ یہ
معاملہ بول چال اور عمومی لہجہ اور چلن سے تعلق
کرتا ہے۔ بابا صاحب کے ہاں' اس کی مثالیں ملتی
ہیں۔ مثل آواز ب کی متبادل آواز و ہے جیسے
بےچارہ' ....پرانی تحریر میں بیچارہ ....سے وچارہ'
بردان سے وردان' بدوا سے ودوا وغیرہ۔ بابا فرید
صاحب کے ہاں یہ تبادل پڑھنے کو ملتا ہے۔
گریباں سے گریواں
گریواں :اپنے گریواں میں سر نیواں کر ویکھ
راجھستانی اور میواتی میں ا اور ہ کو و میں بدلنے
کا چلن ملتا ہے۔ حالں کہ ان میں الف موجود ہے ہاں
حائے مقصورہ ہ نہیں جس کا تبادل واؤ و استعمال
ہوتا آ رہا ہے جیسے
انڈا سے انڈو یا حوصلہ سے ہونسلو
بابا صاحب کے ہاں بھی یہ طور ملتا ہے۔
بھجو سجو کمبلی ا ورسو مینہ
برس سے ورس
ورسو :برسایا
بے ب کا واؤ و میں تبادل ملحظہ ہو
ہوں بلہاری تنھاں پنکھیاں جنگل جنھاں واس
باس سے واس
جنگل باس سے جنگل واس
جنگل باسی سے جنگل واسی
دال د کا تبادل و
اجے سو رب نہ بوہڑیو ویکھ بندے کے بھاگ
دیکھ سے ویکھ
دال د کا تبادل ت
تو ستا رب جاگدا تیری ڈاہڈے نال پرییت
جاگتا سے جاگدا
آ کا تبادل ا :زمی پچھے اسمان فریدا' کھیوٹ کن گئے
آسمان سے اسمان
زبانوں میں آوازیں گرانا اور بڑھانا' عام سی بات ہے۔
مثل واؤ کی آواز گرا کر' لفظ کا استعمال ملحظہ ہو۔
رکھی سکی کھاء کے ٹھنڈا پانی پی
معمولی سی تبدیلی سے یہ مصرع اردو میں ڈھل سکتا
ہے۔
روکھی سوکھی کھا کر ٹھنڈا پانی پی
رکھی سکی کھا کے ٹھنڈا پانی پی
بھی اجنبی نہیں
واؤ کی آواز گرا کر' لفظ کا استعمال ملحظہ ہو
جاں کواری تاں چاؤ وداہی تا ماملے
ن کی آواز گرائی گئی ہے
کنواری سے کواری
ع کی آواز گرائی گئی ہے
معاملے سے ماملے
وہ سماج سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں' تبھی ان کے قلم
سے اس نہج کے شعر نکلتے ہیں۔ یہ شعر فصاحت و
بلغت کا عمدہ نمونہ ہی نہیں' اس کا مزاج بھی اردو
کے قریب تر ہے۔
میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ کو
اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ
عقیدہ وحدت الوجود سے متعلق' اس شعر کو دیکھیں
اور خواجہ درد صاحب کے شعری اسلوب کا' مطالعہ
فرمائیں۔
آپ سنواریں میں ملیں' میں ملیاں سکھ ہو
جے توں میرا ہو رہیں سبھ جگ تیرا ہو
شخص اپنا مقدر خود بناتا ہے' اس نظریے کے تحت'
یہ شعر قابل توجہ ہے۔ اس شعر کا شعری اسلوب و
مزاج' اردو کے قریب تر ہے۔
جے عقل لطیف کالے لکھ نہ لیکھ
قصہ سفرالعشق کے فارسی حواشی
عرصہ قدیم سے' ایران اور برصغیر کے درمیان'
سیاسی' معاشی' سماجی' تہذیبی' نظریاتی اورخونی
رشتے استوار چلے آتے ہیں۔ طالع آزما جنگ جو'
تاجر' صوفیا' علما اور فضل مختلف ادوار میں' مختلف
حوالوں سے' برصغیر میں آتے جاتے رہے ہیں۔
برصغیر کی معاشرت پر' اپنے اپنے حوالوں سے'
اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ بالواسطہ اور بلواسط '
مقامی بولیاں اور زبانیں; فارسی ادبیات سے اثر لیتی
رہی ہیں۔ برصغیر کی شاید ہی کوئی زبان ہو گی'
جسے فارسی نے' فکری اور اسلوبی اعتبار سے'
متاثر نہیں کیا ہو گا۔ فارسی کے بےشمار الفاظ' ان
زبانوں میں داخل ہو گیے ہیں۔ مختلف حالت میں' ان
کی مختلف صورتیں رہی ہیں۔
اصل صوت' ہئیت اور مفاہیم کے ساتھ فارسی زبان
کے الفاظ' برصغیر کی زبانوں میں داخل ہوئے ہیں یا
ان زبانوں نے ان الفاظ کی ہیتی صوتی اور تفہیمی
وسعت پذیری کی وجہ سے' دانستہ طور اپنا لیا ہے۔
مطابقت بھی لفظوں کو اپنانے کا سبب بنی ہے۔ غربت
خصم اور گربت کھسم قریب کے لفظ ہیں۔ آج قفلی
کوئی لفظ نہیں رہا' اسی طرح گربت اور کھسم استعمال
میں نہیں رہے۔
الفاظ کی ہئیت اور صوت برقرار نہیں رہی ہے لیکن
ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں نہیں آئیں۔
الفاظ کی اصل ہئیت اور صوت تو برقرار رہی ہے لیکن
ان کے مفاہیم میں تبدیلیاں آئی ہیں یا مفاہیم یکسر بدل
گیے ہیں۔
مقامیت کے زیر اثر یا بدلتے حالت کے تحت' فارسی
الفاظ کی مختلف اشکال نے جنم لے لیا ہے۔ یہ بھی
کہ ان نئی اشکال کے نئے مرکبات پڑھنے سننے کو
ملتے ہیں۔ انگریزی کی قہرمانی اور فتنہ سامانی کے
بوجود' از خود اور نادانستہ طور پر' یہ تبدیلیوں کا
عمل ہر سطع پر جاری و ساری ہے۔
مقامی زبانوں کے الفاظ کے ساتھ' فارسی سابقوں
لحقوں کی پیوندکاری کا عمل مضبوط سے مضبوط تر
ہوا ہے۔
ایرانی اشیا اور مختلف حلقوں سے متعلق اشخاص
کے اسما اور شہروں وغیرہ کے ناموں کا استعمال'
ادبی اور سماجی حلقوں میں باکثرت ملتا ہے۔
ایرانی اہل ہنر اور ہیروز کے کارناموں کا تذکرہ یا
حوالہ مقامی زبانوں کی تصانیف میں ملتا ہے۔
فارسی محاورے' روزمرے اور اقوال و امثال بلتکلف'
مقامی زبانوں میں استعمال ہوئی ہیں۔
فارسی اصطلحات کا استعمال' ان زبانوں میں کسی
قسم کے اوپرے پن کا احساس تک ہونے نہیں دیتا۔
فارسی شعرونثر سے متعلق تخلیقات کے تراجم مقامی
زبانوں میں ہوتے آئے ہیں۔ مقامی زبانوں کے تبادلت
میں' اصل الفاظ کی روح کسی ناکسی سطع پر' متحرک
رہی ہے۔
دور کیا جانا ہے' مغلیہ عہد جو مئی 1857تک قائم
رہا۔ فارسی کا دربار' بازار مکتب اور بعض آزاد
ریاستوں میں سکہ چلتا رہا ہے۔ اس حوالہ سے' بڑی
جان دار اور مستند کتب' فارسی کے ورثہ میں داخل
ہوئی ہیں۔ ان تصانیف میں' مقامی زبانوں کے الفاظ
اشیا و اشخاص کے نام رسوم وغیرہ کے نام فارسی'
زبان کے مخصوص لب و لہجہ کے ساتھ داخل ہوئے
ہیں۔ ان حوالوں کی واپسی' فارسی اطوار کے ساتھ
ہوئی ہے۔ اب ان پر دیسی ہونے کا گمان تک نہیں
گزرتا۔ اہل لغت نے ان پر فارسی ہونے کی مہر تک
ثبت کر دی ہے۔
شاہی محلت میں' روز زوال تک' بعد ازاں مغل شاہی
گھروندوں میں بھی فارسی کا سکہ چلتا رہا۔ بہت سے
شعرا فارسی میں کہتے رہے۔ گلستان بوستان کی
اہمیت باقی رہی۔ محلتی مکینوں یا ان سے متعلق
حضرات کا کلچر عمومی اور عوامی کلچر سے ہٹ کر
رہا۔ شاہ سے متعلق اہل قلم نے عوامی دائروں میں رہ
کر سوچا لیکن اپنے سوچ کو زبان اور طور شاہی دیا۔
شاہی جبریت کے بعد' برٹش استحصالیت کے زمانے
میں' سوچی سمجھی سازش کے تحت فارسی کا پتا
کاٹنے کے لیے' مقامی زبانوں کی حوصلہ افزائی کی
گئی۔ فارسی کے متعلق۔۔۔۔۔۔ پڑھو فارسی بیچو تیل۔۔۔۔۔۔
ایسی خرافات' عرف عام میں آ گئیں۔ اس ناقدری اور
:حوصلہ شکنی کے باوجود
فارسی کی کسی ناکسی سطع پر مداخلت باقی رہی۔ 1-
رومی' سعدی' حافظ' خیام' جامی وغیرہ کے فکری 2-
و لسانی حسن کا سکہ' نادانستہ طور پر سہی' آج بھی
باقی ہے۔
برٹش عہد میں' اردو کو برصغیر زبان ہونے کے
ناتے' عزت دی گئی جب کہ پنجابی نے بھی انگریز کی
ماتحتی کی' لیکن اس کا فارسی سے رشتہ ختم نہ ہوا۔
معروف مثنویوں کے عنوانات اور حواشی فارسی میں
ملتے ہیں۔
...........
پنجابی قصہ۔۔۔۔۔ سفرالعشق ۔۔۔۔۔۔۔ المعروف بہ سیف
الملوک کا پنجابی کلسیکی ادب میں بڑا بلند پایہ ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قدر و قیمت میں ہرچند
اضافہ ہی ہوا ہے۔ دیہاتوں اور شہروں میں' اس قصے
کو بڑے شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ برصغیر
کے معرف فن کاروں نے'اسے صوفیانہ کلم قرار دے
کر' عقیدت اور احترام سے گایا ہے۔ میاں محمد بخش
صاحب کی بہت سی تصانیف ہیں۔ جن میں :قصہ
سوہنی' شیرین فرہاد' نیرنگ عشق' مرزا صاحباں' شاہ
منصور' سی حرفی سسی پنوں' سی حرفی ہیر رانجھا'
تذکرہ مقیمی' گلزار فقیر' ہدایت المسلمین' تحفہ میراں
کرامات غوث اعظم' تحفہ رسولیہ' معجزات سرور
کائنات' سخی خواص خاں خاص طور معروف ہوئیں
تاہم قصہ سفر العشق میاں محمد بخش صاحب کی
شہرت کا سبب بنا۔ یہ قصہ 1859میں رقم ہوا۔ اس
وقت میاں محمد بخش صاحب کی عمر تنتیس برس
تھی۔ ان کی جوانی' اس قصے کی زبان اور فکر میں
بھرپور انداز میں رقصاں ہے۔
یہ قصہ کل ترسٹھ عنوانات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے
سترہ عنوان حمد نعت مدح جات اوصاف قصہ منازل
ہائے تصوف وغیرہ پر مشتمل ہے جب کہ قصہ کے
اختامیہ سے متعلق ہیں۔ گویا اصل قصہ سے متعلق کل
:بیالیس عنوانات ہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے
آغاز قصہ
تولد1شدن شاہ زادہ سیف الملوک
دیدن شاہ زادہ تصاویر شاہ مہرہ و عاشق شدنش
جواب سیف الملوک عاشق با پدر
مہلت خواستن پدر و بیان کردن کیفیت مورت
پند دادن پدر پسر را
جواب شہزادہ
التماس بادشاہ پیش فرزند
رحم آوردن پسر بر پدر
بیان دیوانہ شدن شہزادہ
در بیان خواب دیدن سیف الملوک
رخصت طلبیدن شہزادہ از مادر
زاری نمودن شہزادہ از درد مادر
داستان رواں شدن سیف الملوک از مصر
نامہ نوشتن شاہ فغفور جانب شاہزادہءمصر
در جواب شہزادہ بہ فغفور چین
دربیان غرق شدن کشتی ہائے در طوفان و جدا شدن
صاعد
گرفتار شدن سیف الملوک بدست بوزنگاں
در بیان جنگ با سنگساراں
گرفتار شدن سیف الملوک بدست زنگیاں
رفتن شاہزادہ در شہر زناں
در بیان مشقت دیدن شاہزادہ از گرسنگی و تشنگی و
سوال و جواب عقل و نفس
رسیدن شاہزادہ در قلعہ دیوان و خلص کنائیدن ملکہ
خاتون را
در وصف جمال ملکہ خاتون
رواں شدن شہزادہ مع ملکہ خاتون
ملقات صاعد با شاہزادہ
در وصف جمال بدرہ خاتون و عاشق شدن صاعد
بروے
آمدن بدیع الجمال بہ ساندیپ
در وصف بدیع الجمال
حاصل کلم
در غزلیات و دوہڑا سرائیدن شاہزادہ
در وصف شہزادہ سیف الملوک
نامہ بدالجمال بطرف مہر افروز
داستان خبر شدن دیوان قلزم را و کشتن بہرام شہزادہ
نامہ نوشتن شاہپال بطرف ہاشم شاہ
جواب نامہ از طرف ہاشم شاہ
بر جنگ تیار شدن شاہپال و ہاشم شاہ
جنگ کردن شاہپال شاہ با ہاشم شاہ دیواں
نامہ نوشتن سیف الملوک بطرف پدر دردمند
آمدن ساعد در سفر و تیار شدن عاصم شاہ بر
شارستان
وفات یافتن عاصم شاہ
وفات یافتن سیف الملوک و نالیدن بدیع الجمال از درد
بات پنجابی قصے کے عنوانات تک محدود نہیں بل کہ
قصے کے حواشی بھی فارسی میں درج کیے گیے
ہیں۔ یہ حوشی پانچ سو کے قریب ہیں۔ فارسی حواشی
درج کرتے احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔ ڈھنگ سے
پروف ریڈنگ تک نہیں کی گئی۔ میرے پیش نظر
حمیدیہ بک ڈپو' اردو بازار' لہور 1993کا نسخہ ہے۔
متنی ابلغ کے حوالہ سے حواشی کی صحت کی
ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس سے
اچھی خاصی لغت سامنے آ سکتی ہے۔
ان حواشی میں مختلف نوعیت معومات فراہم کی گئی :
ہیں
لفظوں کے مفاہیم
بعض لفظوں کی زبان کا تعین
اشخاص کا تعارف اور ان سے متعلق معلومات
مختلف قسم کی اصطلحات اور محاورات سے متعلق
معلومات
اس تحریر کے تیسرے حصہ میں پنجابی الفاظ کے
ساتھ فارسی حواشی درج کر دیے گیے ہیں تا کہ قاری
اس لغت کی مدد سے قصے کی بہتر تفہیم کر سکے۔
...................
متولد 1-
.............................
آدی :لفظ سنسکریت قدیم شعر 3ص94
آسہ :ناامید شدن و مرگ اختیاری شعر 203ص
293
آواز :آواز شعر 2ص 91
آہلناں :آشیانہ۔۔۔۔گھونسلہ۔۔۔۔۔ شعر 35ص 76
اپراہدی :کار مشکل کنندہ ش 230ص242
اجل :دانہ ہائے آخر چنیدہ شعر 3ص212
اچھاڑ :غلف شعر 305ص183
اڈیوں :شعلہ آتش کہ بلند می شود شعر 1ص384
ارنی ارنی :رمزے است از رموز حقیقی کہ در مجاز
گفتہ شد شعر 185ص 252
ارداسی :عاجزانہ شعر 286ص 257
اشتر :ہفتاد۔ ہفتاد خچر و شتر بار گراں برداشتہ شعر
513ص193
افلطون و ارسطو در عہد سکندر حکمائے یونان شعر
77ص53
اکا :بالکل آرام نہ داشت استخوان و مغز استخوان
میسوخت ہمچوں ہنیرم خورد خشک شد شعر 515ص
326
اکایاں :تنگ و لچار کردہ شعر 174ص149
اگوڑی :بھن اگوڑی بمعنی تازہ زدہ تن یا پیچ و تاب
داد شعر 426ص412
ان جل :آب و دانہ شعر 13ص 88
الدنیا غریب :دنیا جائے سفر است دریں دنیا جائے
قرار نیست بلکہ بےقرار است شعر 278ص181
الیماں :تیاری فوج شعر 499ص 193
ان۔ ماس :ان یعنی ہر قسم اناج و ماس گوشت شعر2
ص331
انباروں :بسیار خور شعر 74ص101
انٹے :بیضہ شعر 9ص93
ان بدھا :بے سوراخی کہ بسیار قیمتدار۔۔۔۔۔ پرارزش۔۔۔۔۔۔
باشد مراد از ملکہ خاتون کہ بکر بود شعر 1ص140
ان بدھے :بے شگاف یا بے سوراﺥ شعر 86ص
234
انازوں :اناج شعر 255ص 403
اوائی :خبر آمدن شعر 242ص 152
اوبل :جوشندہ شعر 35ص168
اوکڑ :مشکل مہم شعر 2ص92
ایرا :بنیاد زریں شعر 6ص 133
این :حکم شعر 6ص94
ایڈ سپورن :بہ بسیار یعنی کہ پیغامہای کسان۔۔۔۔۔ دیگر
می برند کہ ایشاں پیغام دیگرے دارند مثال ہر کہ گوید
پیغام رسانند را گویا زاغ درد رسوائی خانہ نہ گرد
باورچی خانہ خود انداختہ کہ بسیار نار او است ازاں
کہ ہر چیز بخورد و کرامت بسیار ست شعر 776ص
329
بابت:چیز شعر 306ص183
باتی :چراغ شعر 17ص 75
بادر :طاقت شعر 38ص83
باز :باز اول بمعنی قوت آنا و باز دوم بمعنی باز شاری
شعر 53ص125
باقی :لتیلہ از پنبہ کہ در چراغ می سوزو شعر 71
ص131
بانا :لباس سبز ۔۔۔۔۔لباس' لباس فقرا۔۔۔۔۔ شعر 253ص
255
بائی :گفتن بزبان پوٹھوہاری عنوان منزل فقر شعر 1
ص41
ببتا :مصیبت :شعر 66ص131
ببدی :آنا آنکہ ہر چہار طریق طے کردہ بدرجہ علوی
رسیدہ اند از ہمہ لوائث دنیا وی پاک شدہ اند' گناہ و
ثواب در آں نمی رسد وا اعلم بالصواب شعر 11ص
40
بتا :فریب شعر 14ص 135
بتا :حیلہ و مکر و بہانہ سازی بسیار کردہ شعر 173
ص149
بجگ :بفتحہ اول معجمہ کسر دوم معجمہ و سوم
فارسی مشدد یعنی آفت و بالئے آسمانی مثل برق ژالہ
وغیرہ شعر 3ص343
بجگ :بجگ یعنی بجیم تازی مکسور کاف فارسی مشد
یعنی آفت ناگہانی شعر 60ص218
بدر منیر :آوردن لفظ بدر منیرو ملک در آسمانی ایں
ہمہ از تلزمہ شاعرے است شعر 1ص215
بدر منیر :ماہ چار دہ روزہ و نیز معشوقہ بےنظیر
برج ستارہ :محاورات نجومیہ را می گویند شعر 21
ص 50
بشیرل :مار سیاہ شعر 14ص123
بک اجاڑی :غزالہ بیابانی شعر 66ص233
بل :بل در زبان کشمیری محلہ را گویند شعر 36ص
124
بلی :قالو ابلی گفت و رنج و بل گرفت شعر 838ص
327
برم :تازیانہ سخت کہ چابک سواراں دارند و اسپ را
بدو جنبا آواز آں سخت باشد شعر 428ص412
بن :بغیر نوشیدہ شعر 69ص234
بندی :خال شعر 10ص141
بندے :نام زیور شعر 86ص117
بندے بندے :ساعت بساعت شعر 388ص 187
بوٹی :پارہء گوشت شعر 102ص 288
بہچھن :گفتار ہا کہ در بہوشی خواب گفتہ شدد آن
بمعنی باشد یعنی اولیا اگر گفتار کنند در فہم نیایند آنہم
راست و صحیح بداں ہ یشاں ہر چہ گویند بر لوح
محفوظ دیدہ بگویند و آں رائے نیست اگرچہ آں در فہم
ما نیاید۔ قصور افہام عام ست نہ در کلم آن ش117
ص 248
بہنی :بندوبست تن تمام خوب شعر 12ص104
بینک :جدا نہ شود شعر 141ص124
بےوفائی :در زمانہ ہمیشہ رسم بےوفائی است شعر
12ص 261
پاربدی :نام مطرب خسرو پرویز کہ دریں فن بکمال
رسیدہ بود شعر 249ص 403
پانی چھڑ دا :در آب رفتے شعر 19ص129
پاہرو :پہرہ دا۔۔۔۔۔ کشیچکی ۔۔۔۔۔ شعر 61ص 136
پتا :زہرہ شعر 7ص 110
پج :رسیدن شعر 261ص 257
پچریاں :پازیب شعر 428ص412
پچھاک :پس ماندہ شعر 506ص 193
پچھل :زلزلہ شعر 16ص 116
پراک :یعنی جناں را قوت زیادہ از حد آدم ست کہ
چندیں فریب کنند و لیکن از یک صورت آدمی زورآور
است کہ اگر جسم جامہ پاک دارد جن عفریت ظاہری
بر غلبہ کردن نتواند باایں چنیں اگر در باطن پاکی باشد
نفس و شیطان را قوت غلبہ نہ باشد شعر 181ص
149
پرچتی :بہ گناہ گار رحم کردی شعر 462ص165
پرکالے :پرزہ شد شعر 332ص183
پروے :پارچہ کہ از آں آرد آسیا کنند شعر 125ص
221
پکیرا :اشارت ست بداں خلق آدم کہ حسن ذات او
وظاہر شد مخفی نماند یعنی اول عشق و محبت خود
شروع کردی کہ انسان را برائے دوستی جز آفریدے و
او را انسان مرے وانا سرہ شعر 125ص289
پکھیرو :ہر پرندہ را گویند ص 238
پگسی :میرسد شعر 65ص90
پلچھی :خشک شدن زبان در دہان شعر 175ص292
پلنگر :نام زنگی کہ با سکندر جنگ کرد شعر 12ص
91
پون بازاں :پون بازاں آنکہ بر یک ساریک دہر ثانی
شش و بر ثالث بر شش او تیران بر یک سار پنج بر
دو دوم شش بر سوم دو آنرا تیرہ گفتہ شعر 537ص
195
پوند :پوند اول مفتوح و واو ساکن و نون غنہ یعنی
اول و نخست و ایں لفظ زبان پنجابی ست در علقہ
بھیرہ خوشاب ایں شال گویند شعر 917ص331
پوئے :بازی قمار پوئے یک پون دوئے دو پون پنج
پنج پون چھکے شش پون شعر 85ص 144
پہاڑہ :خوشامد کنندہ شعر 158ص291
پنہیاں :آنکہ حاکماں بہ طریق بیگار آسیا کنا نند یعنی
بادشاہ عشق تراہم آسیا گردانے عشق فرمودہ شعر
42ص 263
پیٹر پنیٹر :پیچ و تاب شعر 166ص175
تراہے :مثل جنبش ناگہاں شعر 277ص 154
تاڑی :دستک زدن شعر 355ص185
تاڑی :دیدشعر 355ص185
تریہرے :کچے باراں آنکہ بریک ساکانہ باشد و بر دوم
پنج و بر سوم شش آزا کچے شہر دہ دراصلح قماریان
شعر 536ص195
تسلے :سختی شعر 96ص 133
تغلے :خورند شعر 24ص98
تکڑی :طاقتور شعر 23ص 111
تکیاں لہلن وگن :از دیدن آں میوہ از دہان آب شعر65
ص100
تہاراں :تیغ کوہ شعر 18ص88
توڑی :انتہا شعر 20ص98
توڑی :شکستہ شعر 20ص98
تلو پسلے :بے آرام :شعر 14ص 114
تلیاں :اول معنی کف دست دوم بمعنی سوزم ش193
ص240
تلیر :نام پرندہ شعر 23ص 111
تن حویلی :تن حویلی است دراں کہ فدا ہستی و جان ہم
مکان تست شعر 264ص296
تہاڑی :ٹوپہ کہ بدو غلہ وزن می کنند ش 327ص
155
تہوے :یعنی کاوے زمین شعر 79ص219
ٹل :ٹل بتائے ہندی مفتوح و ثانی مشد چوب کلں
کردہ بستہ را گویند کہ در دریا برائے سوار شدن
اندختہ بر او سوار شدند شعر 6ص167
ٹل :نام کوہ شعر 16ص 111
ٹنگار :ناز و نخرے شعر 66ص115
ٹنگے :آویختہ شعر 10ص128
ٹہل دیون :در دریا زنند شعر 67ص233
جال :سہ معنی دارد
اول آلہ ماہی گرفتن کہ از رشتہ تنبدہ سازند
دوم بر تافتن و طاقت آں داشتن
سوم سوختن
یعنی آنچہ جال بنیدہ در دریا تحمل و حوصلہ کردا
خاموش نشیند اگر ماہی گیر بیند ماہی گیر را غم آں می
سوزد
شعر 25ص333
جان :اگرچہ واقف راز دار۔۔۔۔۔دوست۔۔۔۔ ہمراہ باشد چوں
بوصل یار تنہائی پسند باشد و تن کہ ہمراہ و ہمسایہ
است آنکہ حجاب دارد دہیدہ باید ابا جاناں رسیدہ شعر
99ص220
جانی :جان جان توے شعر 296ص298
جائی :اول بمعنی زائیدہ جائی بمعنی رفتن شعر426
ص 189
جریاں :طعمات کہ گوشت و ساگ آمیختہ پزند بسیار
لذیذ باشد شعر 8ص 230
جستہ :نام سازیست کہ از نواختن آن با خفتہ و بیہوش
شدہ را خیزانیدہ ہمہ را باز بخانہ خود روانہ گرداند
شعر 271ص 256
جگ :زمانہ گذشتہ بزبان سنسکریت شعر 3ص20
جل :آب شعر 23ص129
جلدی :اول بمعنی شتابی دوم بمعنی سوختہ شعر13
ص 265
جلے :جنبیدن شعر 21ص 168
جنڈ :گر اندا ہر دو نام درخت ہائے خار دار شعر51
ص130
جنڈ :خار
جنے دی :جوان خوبصورت کی شعر 273ص181
جوڑی :جفت ' پیوستہ شد شعر 193ص150
جون :ہر قسم حیواناات شعر 282ص297
جہتباں :زخمان خار شعر 86ص 132
جی :دل شعر 27ص199
جیبی :زبان شعر 48ص99
چاٹ :شوق و لذت چہ افتاد تر شعر 801ص325
چار مہینے :قولہ چار مہینے الخ از صوفیائے کرام و
دیگر فیلسوف ۔۔۔۔۔فیلسوفان ۔۔۔۔۔ آوردہ اند کہ ابتدائے
وقت تعلیم چہار سال چہار ماہ چہار ایام است چرا کہ
عمل نمودن نشان زیادتی علوم است شعر 49ص 51
چاندی :چہرہ مانند آفتاب بود و بینی دراں چشمہ مثل
ماہی سیمیں سپید گال داشت یعنی از جلوہ رﺥ شب تار
روشن شدے 23ص141
چاہ :چاہ دو معنی دارد ایں جا مراد ہر دو است چیزے
نوشیدنے و نیز نام محبت و خواہش شعر 418ص
304
چبہ :چبہ قوت است در مضافات کوہ و ریاست کشمیر
کہ خود را در اقوام عالیہ مے شمارد شعر 121ص
289
چتے :بےشرمی' دلیری شعر 27ص 105
چٹا پونی :بررنگ سپید شعر 336ص183
چٹکے :عشق شعر 355ص185
چر :دیگدان کلں شعر 27ص 262
چشماں :چشم کشادہ بہرجائے کہ دیدے چشم او مثل
کٹار بر دل کردہ دلہا را لینا کردن شعر 14ص215
چکی :برداشتہ شعر 287ص182
چنگ :نام سازے است شعر 51ص 227
چنگوں :سارنگی شعر 135ص 147
چنن :نام درخت کہ ماربر آں باشند شعر 7ص140
چنے چباں :یعنی لوہے کے چنے مراد از تکلیف۔۔۔۔۔۔
زحمت ۔۔۔۔۔۔ بسیار شعر 429ص163
چوراسے :در فکر اندیشہ شعر 62ص 136
چوکڑیاں :جنبیدن شعر 33ص124
چوہدیں :ماہ چہار دہم بدرہ خاتون زیادہ سر سیاہ راوید
حیران ایستادہ بودہ خورشید چہرہ ۔ چہرا صاعد دیدہ
خورشید از شرم زیر زمین پوشیدہ بود بہ حد بست بیان
بودہ شعر 584ص314
چیرے :چیرا منزلے از منازل عمارات بلند شعر 7
ص 133
چیتے :اول چیتے بمعنی پلنگ دوم بمعنی ہوشیار شعر
512ص193
چیج بہوٹی :نام کرمی است کہ رنگش بسیار سرﺥ باشد
شعر 91ص 229
حبسی :بخشش یافتہ شعر 465ص 191
حسن میمندی :وزیرے بود شاہ محمود غزنوی ۔۔۔۔۔۔
یکی از وزرای پادشاہ ۔۔۔۔۔ شعر 54ص33
حے :شہر ازاں جائے کہ سلیم نامی شتربان آمدہ بہ
نجد رسیدہ بمجنون ملقی شعر 11ص 225
خاکوں:از آدم شعر 479ص369
خضر :بہت نیک اور عمر رسیدہ آدمی کو خضر سے
تشبیہ دی جاتی ہے شعر 48ص22
دانے :عقلمند شعر 491ص 191
دایا :حوصلہ شعر 72ص218
دروگ :غار تاریک ش 99ص172
دل بستہ :معشوق و تن بستہ از خستگے دہم راہ
بیرون بستہ و بند شدہ شعر 244ص358
دمڑی لے کروڑاں بخشیں مراد بخشش است از جناب
پیر پیران شاہ کہ سوا لکھ دمڑی۔۔۔۔۔سکہ۔۔۔۔۔۔ ہر روز
نیاز ایشاں در نذر شود دہندہ حاصل شود شعر 214ص
178
دنگا :اگر موئے تراکے غم کند یعنی اندک دہد من بدو
جنگ کنم دنگا نفح جنگ را گویند شعر 28ص 268
دنیا اے :اشارہ بایں وہا خلقت الجن و النس یعبدون
شعر 214ص294
دوہدل :شیردار ش 179ص239
دہاڑے :شب رفتہ و روز آمد شعر 88ص394
دہمیں :صبح روشن شعر 274ص 279
ڈٹھا :بارش باریدن ش 379ص160
ڈل ڈل کر دے نین :پشیمان روداری گویا در دل آید
یعنی در بحر عظیم غرق شدہ اند ازیں باعث حال دل
بود شعر 801ص325
ڈولی :آں محاورہ کلس یعنی فرق سر آن شعر299
ص182
ڈولی :اول بمعنی عمارہ دوم ڈولے بمعنی وجہءساخت
سوم ڈولے لرزیدن شعر 306ص183
ڈولے :اول تراشیدہ دوم بازو مثل شیر شعر 19ص
265
ڈولے :بہ بازویئ ہر شیر بستہ تیار کردہ کاریگر تعویز
چوکی یعنی بازوبند شعر 125ص 140
ڈوری :حیرانی شعر 65ص233
ڈورے بھورے :نیم خواب مستانہ شعر 403ص304
ڈہاں :ختم شعر 34ص 262
ذیلے :در تابع شعر 70ص100
رام :آں کس است رام یعنی دوست او کہ عشق آں در
سینہ باشد چوں عاشق را معشوق بکمال باشد ہماں یار
او را بمنزلہ معبود گردو شعر 139ص272
رب ملنی :مردم را کار کردن باید حیران و مایوس نہ
شدن باید کامرانی بدست ایزد متعال ست شعر 297ص
155
رٹاں :شہپر شعر 157ص148
رکھی :بے لذت و بے مزہ و خشک شعر 167ص
149
رن :میدان جنگ شعر 5ص77
رنگ پتنگ :رنگ تو مثل شمع بود ۔ اکنوں پروانہ
پریدہ و سوختہ پرندہ شدند و پتنگ دو معنی دارد اول
پروانہ دوم پتنگ کاغذی کہ ہوا می پرانند شعر 800
ص325
روندی :تہ مرگ گل خوش رنگ روایت دیدران نوا
خوش نالہائے را رو است در عین وصل ایں ۔۔۔۔۔
نالہءفرہاد داشت و ما را جلوہءمعشوق در ایں کار
داشت شعر 81ص 287
زال :نام پہلوان' نام پدر رستم
زبور :کتابے است الہامیہ کہ بر نبی حضرت داؤد علیہ
السلم نازل شدہ بود قصائد و غزل وغیرہ در و منقول
است ازتیں شعرائے عجم ازاں اقتباس می کنند شعر
28ص68
زہرہ :نام ستارہ ایست بر آسمان سوم کہ سعد است و
طالع از و نیک گردو شعر 260ص358
زی مسلم :مراد قصیدہ بردہ ۔۔۔۔۔۔۔حضرت رسالت مآب
صلی ا علیہ وسلم کہ بیعت رضوان زیر درخت ببول
کہ آں را در زبان عربی مسلم میگویند بدیں وجہ زی
مسلم خطاب حضور پرنور را مخاطب فرمود شعر402
ص 188
سات سر۔ سرندے :ہفت سر۔ سرندے نام سازیست شعر
250ص402
سار :آہنی ہتھیار .....سلح آہنی ۔۔۔۔۔۔۔ شعر 17ص93
ستار :نام ساز شعر 355ص185
سارنگ :سے رنگ صد رنگ۔ نام راگ شعر 250ص
403
ساس اوڈن :جان بلب شعر 30ص129
سالک :اشارت ست بآن سالک کہ بمنزل قریب ولیت
رسیدہ در کشف و کرامات خوش شدہ مشغول انداز
قرب محبوب اصلی دور د محبوب دارند منازل دیگر
شعر 194ص341
سانگاں :تیاری ایشاں شعر 7ص 109
ست تار :ہفت تار سرایند شعر 355ص185
سجناں :اگر تو با من اتفاق کردی تا حیات دنیا مرا
پری برتیوں خوش آمدے شعر 210ص294
سجی :خاکستر شعر 130ص147
سدھر :خواہش و طلب شعر 30ص 105
سردار جیاں :سردار جانداراں شعر 46ص99
سرسامے :نام پدر زال شعر 12ص 109
سرکردے :اول سرکردہ سسررداراں دووم سر را
قربان کردن شعر 449ص 190
سرگاہیں :پامال کردن شعر 87ص 132
سعد :نام ستارہ ایست کہ سعد اکبر ست و آں قاضی
فلک بر آسمان ششم باشد شعر 270ص358
سلوتر :سوال و جواب برابری شعر 183ص292
سمد :خبر نیامدن شعر 123ص 146
سنا :چنداں راز ہا کشودن نتواند کہ کار ہائے ضروری
بسیار اند دیار دکر انتظار قصہ ش 67ص169
سنی :سنے بمعنی نامور شعر 60ص 227
سنسار :جانور آبی شعر 36ص169
سنگٹھاں :بندش گلوے شعر 79ص 142
سنے وزیراں :با وزیراں شعر 294ص182
سنیئر :سننے وال۔۔۔۔۔۔ کسی کے طعن و تشنع می
شنود شعر 115ص248
سوانی :زنان اصیل شعر 306ص183
سودا :صد ہنر۔سودا یعنی دل۔ سودا نام مرض ست شعر
554ص312
سہور :سسرال شعر 148ص222
سوراﺥ درگ :غار تاریک شعر 33ص115
سہاندے :خرگوش شعر 20ص91
سہانے :نام حکیم یونان شعر 78ص53
سہیلی :خوب صفادموزدن شعر 14ص123
سہیلی اردو لفظ ہے۔ فارسی میں مونث مذکر نہیں ہے
لہذا یار۔۔۔یاراں' دوست۔۔۔۔دوستاں
سیاں :سہلیاں شعر 184ص 274
سیاہی:تہمت شعر 479ص369
سیلے :نام سلح جنگ شعر 6ص 109
سیاں :سہیلیاں۔۔۔۔۔دوستاں۔۔۔۔۔۔ شعر 338ص183
سیہے :خار پشت شعر 24ص115
شارت :بے الف یعنی اشارت برائے وزن دور کردہ
شد شعر 527ص310
شارستانے :زلل آب بہ صفت موصوف سرد و شریں و
کوزہ آں آبہائے شارستان مثل زلل بود
شعر 846ص327
شریں و شکر :ہر نام شاہزادیاں خسرو پرویز بود
بسیار خوبصورت شعر 24ص142
شکر وپچن وال :شکر فروش عمرت دراز بارے چرا
بہ نقصدے نکنی عندلیب شیدا را شعر 9ص 260
شمس پری :سعدین ددو ستارہ ایست وقتیکہ ہر دو از
مقامے دروے طلوع شوند آن را مبارک دانند و بچہ ای
در آن ساعت پیدا شد او را مبارک و نیک نہاد می
دانند شعر 97ص247
شہابی :نام ستارہ کہ او را بر شیطان زنند چوں ببر
آسمان رود شعر 351ص357
شہزادی :مراد ملکہ خاتون شعر 321ص183
شیرے :مراد حاجی بگا شیر درکالی شریف رحمتہ ا
علیہ شعر 36ص20
ضاعیں :ضائع شعر 90ص 145
عجائز :نام پری مصورہ بمعنی طویل العمر شعر 26ص
68
عذرا بدر منیر :عذرا بدر منیر در بلد عرب دو مشہور
عاشق و معشوق گذشتہ اند 34ص142
عنبر اشہب :نام قسمے از عنبر کہ بسیار قیمت دار
باشد و بر مغز مالند شخصے بیہوشی گرمی آید و از
گرمی عشق چوں بیہوش شدند آں زمان ہم بکار آید کہ
مفید است شعر 51ص339
عود وجود :خود را آتش سوختہ بود خود را نابود کرد
شعر 354ص 185
غول :دیوے۔۔۔۔دیواں کہ مردم را از راہ بردہ ترساند
شعر 94ص 132
فرہاد :فرہاد شہزادہ چین بود زنجار در اخبار دیدہ شدہ
مولوی نظامی و امیر خسرو این فرمودہ در شرین و
خسرو آں عشق کہ ما ایشاں ظلم یا عدل کرد ہماں
عشق جانب بدیع الجمال شعر 215ص 276
فرہاد :فرہاد شنیدہ بود کہ شیریں ازیں جہاں رفت فرہاد
نیز برائے جستجوئے او بداں جہاں رفتہ و از بر
داشتن غم عاجز شدہ شعر 37ص130
قابو :گرفتار شعر 44ص 106
قائم سما :بجائے شیشہ و گل کار از کردہ شدہ و گروہ
اش مثل آسمان گردندہ و آں گنبد است شعر 59ص
125
قرانی :نزدیکی شعر 24ص 114
قلچ :سہ نیم ہفت کہ دو گز باشد قدر کم عر 344
ص300
قلم ربانی :قلم ربانی در دست ولی است ہہر چہ خواھد
بنوید شعر 60ص169
کاٹھی :پرات چوبی شعر 28ص 114
کافوں :کاف و نون مراد از کن فیکون شعر 249ص
403
کان :برائے فرزند دعا مے کردے شعر 58ص169
کرپا :مہربانی ش 379ص160
کپر :برسرخود شعر 133ص222
کتھا :بیان شعر 22ص123
کٹھا :زوند بدن و سینہ جمع کنم شعر 282ص297
کٹھاں :گوشہ ہا شعر 70ص101
کج :دو راز دوستی من بگریز ست شعر 211ص
294
کراری :نمکین و لذیذ شعر 28ص123
کریوں :شتر شعر 16ص 28
کستہ کردہ شعر 26ص 111
کل :نسل من 344ص 184
کلں :شیر از جادو تیار کردہ نہادہ کہ حملہ اندک کردند
شعر 111ص 139
کلں :حکمت آنچناں برائے ترسائیدن دیگراں نہادہ اند
شیر جہاندار نبود شعر 118ص 139
کلچیٹ :۔۔۔۔۔۔ کلچیت۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ ایست کہ خوش گلو باشد
شعر 13ص17
کلس :فق سسراں شعر 305ص183
کلی :قلعی شعر 36ص33
کمام :کارہائے شعر 56ص201
کماناں :مژگاں شعر 12ص123
کن :کدام شعر 98ص 145
کنڈ :پشت دادہ براے اینکہ سوئے ایشاں نہ بینی شعر
91ص127
کنڈھی :کنارہ دریا شعر 26ص168
کنڈے دی اری :پشت مثل آرہ برکشتی زدہ او را پارہ
پارہ کردن شعر 90ص101
کنگ :لفظ اصلی کنگاش است بمعنی مشورہ' باہم
صلح کنندہ شعر 150ص223
کوکھ :شکم شعر 336ص183
کوہ کوہ :پہاڑ ش
کیں :کس در شعر 27ص80
گاتر :دونے کہ تیغ در گردن بداں آویزند و کمر دوال
کمر ہ بداں کمربہ بند دو مردان جنگ قسم بداں کنند
شعر 251ص 296
گٹھے :خاک' گم شد شعر 101ص 145
گڈیاں :گڈیاں کہ دختران در اول عمر بایشاں بازی
کننددہ و باہم نشستہ بیک دیگر ازدواج کنند شعر137
ص272
گزاری :روز رفت و شب رسید شعر 72ص 228
گل داؤدی منہ دے وانگر :سرنگوں نہادہ شکل پستان
نوخاستہ شعر 2 8ص141
گلگل :نام میوہءترش شعر 259ص 278
گمانی :چال شان دار شعر 17ص91
گرنڈے :خار
گنگی :آب گنگ بسیار صاف است شعر 424ص412
گنیاں :ہنرمند چہ کن بکاف فارسی مضموم بسکون
نون ہندی مردارا گویند در زبان ہندی شعر 26ص
199
گوراں :قبراں شعر 109ص 495
گوڈریاں :گلیم ہا شعر 50ص280
لڈ :بر ناز او غرہ نباید شد چرا کہ اول بناز فریب دادہ
شیفتہ خود کند چنانچہ برادران یوسف اول بدوش
برداشتند باز بچاہ انداختند شعر 5ص97
لتڑایا :دراز شد گو در خواب شد شعر 51ص130
لکھے دھر درگا :لکھی یعنی نوشتہءتقدیر ش 141ص
237
للی :سرخی شعر 84ص234
لولکی :لولکی مراد ایں است کہ ا ثعالی نبی علیہ
السلم را ارشاد فرمودا گر ترا پیدا نہ کردم چیزے را
نیا وردم شعر 7ص 332
چیزے ہم تخلیق نمی کردم
للکریاں :در جوش آمدہ حملہ نمودن شعر 67ص393
لندھور :نام پہلوان شعر 14ص 109
لنگر :لنگر کشتی شعر 12ص91
لنگوٹیا :تہ بند بستہ شعر 17ص129
لوں :باد گرم سخت کہ در ماہ جیٹھ و زد شعر 50ص
130
لوہکی :صغر سنی شعر 26ص83
لوہندی :نام جانوریست کہ بر باز غالب باشد شعر
260ص211
لوں لوں :مو بمو شعر 271ص297
لوہڑے :پنیرم تراشدہ صاف و نگہدار کردہ شعر 19
ص 265
لہورے :شکایات; گلہ گزاری ش 222ص241
لویں :ساقیان جوان و شراب کہنہ کہ بسیار نشہ دارد
باشد شعر 20ص95
لوے :برگ آمدہ نازک ونرم شعر 79ص 137
لئی :ہمراہ کردہ خود شعر 509ص193