The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-03-17 10:40:46

maqalay

maqalay

‫ہرگز نہیں رکھتے تھے۔ زمانہ سازی انہیں ہرگز نہیں‬
‫آتی تھی۔‬

‫رفتید ولے نہ از دل ما از ڈاکٹر یونس حسنی ص‪17 :‬‬

‫سوال‪ :‬رفیق نقش کی موت کے بعد آپ کیا محسوس‬
‫کرتے ہیں۔‬

‫جواب‪ :‬اردو کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ لوگوں کو اس‬
‫کا احساس نہیں ہے۔ یہ میں جانتا ہوں۔ وہ لسانیات کے‬
‫آدمی تھے۔ مجھے جب کسی لفظ کے بارے میں معلوم‬

‫کرنا ہوتا تو میں فون کرکے پوچھتا تھا کہ استاد یہ‬
‫لفظ کس طرح ہے۔ وہ بتا دیا کرتے تھے۔‬

‫شکیل عادل زادہ سے گفتگو' ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش‬
‫ص‪23 :‬‬

‫رات گئے اچانک کوئی خیال آتا یا کسی کتاب کا سراغ‬
‫ملتا تو ان حضرات سے بلتکلف تبادلہءخیال کرتا اور‬
‫کبھی ان کے لہجے میں ناگواری کا تاثر محسوس نہیں‬

‫ہوا۔‬
‫دو درویش از سید جامعی ص‪29 :‬‬

‫وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر بال پرانی کتابیں‬
‫خریدنے کے لیے جاتے تھے۔ کتابوں سے انھیں‬
‫جنون کی حد تک شوق تھا۔ ان کی ذاتی لئبریری میں‬

‫دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہیں۔‬
‫رفیق احمد نقش ازایک منفرد شخص ص‪35 :‬‬

‫اپنے رفیق نے تمام عمر' اپنی انوکھی' منفرد اور‬
‫یکتا وسیع شخصیت کو جس لفظ میں قید کرنے پر‬

‫صرف کر دی' وہ لفظ تھا اصول۔‬
‫رفتید ولے نہ از دل ما از یعقوب خاور ص‪38 :‬‬

‫رفیق احمد نقش کتابوں کا تحفہ دینے کے معاملہ میں‬
‫بڑے فراﺥ دل تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو ادب میں ہر‬

‫وقت فعال دیکھنا پسند کرتے تھے۔‬
‫کاغذی ہے پیرہن از بشیر عنوان ص‪55 :‬‬

‫رفیق فل کمٹ منٹ کے آدمی تھے۔ ایک اچھے طالب‬
‫علم اور ایک اچھے استاد' وہ ناصرف اپنی تدریسی‬
‫ذمہ داریاں بڑی تن دہی سے نبھاتے بلکہ استادوں کی‬
‫فلح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے بھرپور‬

‫تعاون کرتے۔‬
‫رفیقوں کے رفیق' رفیق احمد نقش از کرن سنکھ ص‪:‬‬

‫‪61‬‬

‫میں نے اپنی ساری زندگی میں صاف گوئی میں رفیق‬
‫کا کوئی ہم سر نہیں دیکھا۔ برجستگی اس کے وسیع‬

‫مطالعے کی مرہون منت تھی' جب کہ حق گوئی اس‬
‫کے سچ اور صرف سچ پر مکمل ایمان کا ثبوت تھی۔‬

‫رفیق احمد نقش کی صاف گوئی اور برجستگی از‬
‫ڈاکٹر نصیر احمد ناصر ص‪63 :‬‬

‫رفیق کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ یا تو‬
‫خوش فہم تھیں یا غلط فہمی کا شکار ہوئیں۔ رفیق نے‬
‫اگر کسی سے اچھا برتاؤ کیا تو غلط معنی اخذ کر لینا‬
‫یقینا بےوقوفی تھی اور ہے۔ جس طرح میری کوئی‬
‫بھی بات رفیق سے پوشیدہ نہ تھی' اسی طرح انہوں‬
‫نے ہر چھوٹی بڑی بات سےباخبر رکھا۔ یہ رفیق کی‬
‫عظمت تھی کہ انھوں نے کبھی میری بڑی سے بڑی‬

‫بھول پر بھی مجھے طعنہ نہ دیا' نہ خود سے دور‬
‫رکھا۔ آفرین ہے اس شخص پر' بہت بڑے حوصلے‬

‫وال تھا۔‬
‫ہر چند کہیں کہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ سلطانہ ص‪73 :‬‬

‫مسلسل مطالعہ' علم کی پیاس' دوسروں کو علم بانٹنا‪.‬‬
‫اصول پسندی اور اجتماعی سماجی خدمت جیسی‬

‫خوبیوں نے رفیق احمد نقش کو علم و ادب کا حقیقی‬
‫استاد بنا دیا تھا۔‬

‫میرا دوست رفیق احمد نقش از احمد سعید قائم خانی‬
‫ص‪77 :‬‬

‫وہ بےلوث' پرخلوص اور ہم درد انسان تھے۔ وہ‬
‫حقیقی طور پر مولوی عبدالحق کے جانشین نہیں تو‬

‫اس کارواں کے ایک فرد ضرور تھے۔‬
‫کچھ یادیں از ڈاکٹر ممتاز عمر ص‪81 :‬‬

‫بلیک بورڈ پر روزانہ بہت خوب صورت' اشعار لکھا‬
‫کرتا تھا۔ اس کی لکھائی بھی بہت خوب صورت تھی۔‬
‫وہ اکثر میرپور خاص سے حیدرآباد آتا تھا اور سارے‬
‫رستے کچھ ناکچھ پڑھتا ہوا ہی آتا تھا۔ کتاب سے اس‬
‫کی محبت کا اندازہ مجھے اس وقت ہو گیا تھا۔ وہ‬

‫ہمارا جونیر تھا۔‬
‫ماضی کے جھروکے از عفت بانو ص‪82 :‬‬

‫رفیق احمد نقش سے بہت سی باتوں پر اختلف ہونا‬
‫ممکن ہے۔ ان سے کچھ شکایتوں کا ہونا سمجھ میں‬
‫آتا ہے۔ ان سے ناراض ہونے کی کئی وجوہ میں یقینا‬
‫معقولیت ہے' لیکن ان سب کے باوجود ہم اس لیے ان‬
‫کی قدر کرتے ہیں' ان کا ذکر کرتے ہیں' ان کی مثال‬
‫دیتے ہیں کہ وہ کئی روائتوں کے امین تھے۔ انھوں‬
‫نے ان کی خدمت کی' ان کی حفاظت کی ہے۔ ان کے‬

‫وقار کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان میں سے ایک‬
‫روایت پابندی وقت ہے۔‬

‫پاس دار از حسن غزالی ص‪17 :‬‬

‫نقش ایک کھلی کتاب تھے۔ جسے ہر شخص پڑھ سکتا‬
‫تھا۔ ایک چشمہءرواں تھے' جس سے ہر ایک بقدر‬
‫ظرف سیراب ہو سکتا تھا۔ وہ محبتوں کا سفیر تھا اور‬
‫شفقت' دریا دلی' سچائی خلوص اور ہم دردی اس کا‬
‫معتبر حوالہ تھیں۔‬
‫دل پہ نقش تری محبت کا نقش ہے از مجید ارشد ص‪:‬‬
‫‪116‬‬

‫میں نے رفیق نقش کو بس اس قدر سمجھا' آدمی کم‬
‫مشین تھے۔‬

‫دید و بازدید از سلیم اقبال ص‪91 :‬‬

‫رفیق نقش ایک پرخلوص اور محبت بھرا دل رکھنے‬
‫والے انسان تھے' پھر ان کی علمی قابلیت نے ان کو‬

‫مزید معتبر بنا دیا۔‬
‫آہ! رفیق احمد نقش از افروزہ خضر ص‪92 :‬‬

‫رفیق بھائی ایک ایسے شخص کا نام ہے جو مسلسل‬
‫کسی نقطے' کسی علمی و ادبی اصطلح' کوئی‬

‫سماجی پہلو' کسی شعر کی تفہیم اور اس قسم کے‬
‫معاملت میں غور و فکر کرتے دکھائی دیں گے۔ وہ ہر‬

‫وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے سکھانے کی جستجو میں‬
‫رہتے تھے۔‬

‫دنیا ہے اک سرائے کہاں مستقل قیام از نوید سروش‬
‫ص‪95 :‬‬

‫رفیق صاحب طنزومزاح کا ایک خاص ذوق رکھتے‬
‫تھے۔ جب کبھی موڈ میں ہوتے تو خوب لطیفے‬
‫سناتے۔ انھینبےشمار لطائف از بر تھے۔ آپ جب‬

‫گفتگو کرتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی۔ رنجیدہ‬
‫ہونا' ان کے ہاں ممنوع تھا' وہ کسی کو دکھی‬
‫نہیندیکھ سکتے تھے۔ ہر کسی کے مسلے کو اپنا‬
‫مسگہ سمجھتے اور ہر ممکن مدد کرتے۔‬
‫سب کا رفیق از صابر عدنانی ص‪125 :‬‬

‫وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی‬
‫چاہیے کہ اردو بولیں تو تمام گفتگو اردو ہی میں ہو‬
‫۔ انگریزی کے غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے‬
‫احتزاز کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں بات کی جا‬
‫رہی ہو تو پھر تمام گفتگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھا‬

‫تیتر آدھا بٹیر والی بات نہ ہو۔‬
‫رفیق اردو۔۔۔۔ رفیق نقش از شکیل احمد بھوج ص‪:‬‬

‫‪132 '131‬‬

‫انھوں نے تادم مرگ طبقاتی فرق کو نہ صرف رد کیا‬
‫بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔‬

‫رفیق احمد نقش; چند تآثرات از عابد علی ص‪137 :‬‬

‫رفیق احمد نقش کی زندگی کے کئی پہلو تھے۔ مراسم‬
‫کا خیال رکھنے والے' روایت پرست اور مذہب کی اعل‬

‫روایات کا پاس رکھنے والے۔‬
‫کچھ یادیں نقش ہیں از عزیز احمد ص‪140 :‬‬

‫وہ جس انداز سے علم کو فروغ دے رہے تھے' کسی‬
‫کو کتب فراہم کر رہے ہیں' کسی کو کتابوں کی فوٹو‬
‫کاپی کرا کے علمی معاونت کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا‬

‫کہ علم و ادب کے ڈسٹری بیوٹر ہیں۔‬
‫عظیم محسن از رئیسہ شریف ص‪142 :‬‬

‫ان کی ایک ملقات واقعتا ڈھیروں کتابیں پڑھنے کے‬
‫مترادف تھی۔‬

‫ایک نقش خاص از عازم رحمان ص‪144 :‬‬

‫بھائی جان کم عمری میں مذہبی بھی رہے۔ وہ پانچ‬
‫وقت کی نہ صرف نماز پڑھتے تھے بلکہ مسجد میں‬
‫ازان بھی دینے جاتے اورتبلیغی جماعت کے مرکز بھی‬

‫جاتے۔‬

‫بچپن کی کچھ یادیں از رشیدہ ص‪146 :‬‬

‫کتاب کے دوسرے حصہ میں‬
‫منظوم خراج عقیدت کے نام سے' آٹھ شعری‬
‫منظومات ہیں۔ ہر کسی نے انہیں ان کی شخصیت اور‬
‫ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا‬
‫ہے۔ یہ منظومات' مقفی آزاد اور نثری ہیں۔ یہ‬
‫منظومات رسمی نہیں ہیں۔ ان میں شاعر کی محبت'‬
‫عقیدت' شخصی تعلق اور مرحوم کی شخصیت سے‬
‫متعلق' کوئی ناکوئی پہلو ضرور موجود ہے۔ ان‬
‫منظومات کو لکھوانے اور ان کی جمع بندی میں'‬
‫ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش نے بڑے تردد سے کام لیا‬

‫ہوگا۔ دو تین نمونے ملحظہ فرمائیں۔‬

‫وہ گیا ایسا کہ سارے گھر کو سونا کر گیا‬
‫پیاسی آنکھوں کو وہ دے کے ہائے چشم تر گیا‬
‫قطعہ تاریخ شاعر مختار اجمیری ص‪147 :‬‬

‫بےساختگی' ورفتگی اور مرحوم سے قلبی تعلق' اس‬
‫شعر پارے کا خصوصی وصف ہے۔ گنتی میں یہ شعر‬
‫فقط نو ہیں لیکن کہے میں' سیکڑوں صفحات پر محیط‬
‫ہیں۔ معنوی حسن' اپنی جگہ لسانیاتی حظ بھی کمال کا‬

‫ہے۔‬

‫ماہر اجمیری کا یہ شعر دیکھیں' کس کمال اور‬
‫ہنرمندی سے مرحوم کی شخصیت کے' اہم ترین پہلو‬

‫کو واضح کر رہا ہے۔‬

‫میں کیا بتاؤں تمہیں کس قدر خلیق تھا وہ‬
‫رفیق نام تھا ہر شخص کا رفیق تھا وہ‬

‫خوشبو کی نظم۔۔۔۔۔۔۔ ایک عام آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ‬
‫سطور درد' کرب اور ارضی اقامت کی گرہ کھول رہی‬

‫ہیں۔‬

‫کبھی اس آس میں‬
‫کہ ایک دن وہ لمحہ آئے گا‬
‫جب وہ دنیا بھر کے جھمیلوں سے نجات پا کر‬
‫اپنی ایک نئی دنیا بسائے گا‬
‫اس کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوتی ہے‬
‫جب تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں‬

‫اور عام آدمی‬
‫خاص و عام کی تخصیص سے ماورا ہو جاتا ہے‪......‬‬

‫ص‪160 :‬‬

‫اس سے اگل حصہ نگارشات نقش سے متعلق ہے۔‬

‫اس میں شعر و نثر سے متعلق مرحوم کی کاوش ہا‬
‫فکر درج کی گئی ہیں۔ شاعری میں‬

‫غزلیں ‪13‬‬
‫چو مصرعے یعنی قطعات ‪6‬‬

‫رباعی ‪1‬‬
‫شعر ‪1‬‬
‫آزاد نظمیں ‪2‬‬

‫شامل کتاب ہیں۔ ان کی شاعری' فکری و فنی اعتبار‬
‫سے' ان کی شخصیت اور عصری سماجی رویوں کی‬
‫عکاس ہے۔ ہاں البتہ ان کی شعری زبان کا رویہ اور‬

‫لوازمات شعر روایت سے قدرے ہٹ کر ہیں۔‬

‫ایک غزل چھے لفظی ردیف پر استوار ہے۔ غزل کا‬
‫مطلع دیکھیے۔‬

‫ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا‬
‫ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا‬

‫پرلطف بات یہ ہے کہ قافیہ اور ردیف کا آخری لفظ‬
‫فطری طور پر اور حسب ضرورت ہم صوت ہے۔ اس‬

‫سے غنا اور نغمیت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔‬

‫ایک غزل کا ردیف پانچ لفظی ہے۔ اس میں پہلی‬
‫صورت حال نہیں ہے۔ قافیہ اور ردیف کا آخری لفظ ہم‬

‫صوت نہیں ہیں۔ مطلع ملحظہ ہو۔‬

‫آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی' تیری یاد‬
‫آ گئی‬

‫دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی'‬
‫تیری یاد آ گئی‬

‫پہلی غزل کا ردیف چہار لفظی اور ہی کچھ تھے' ہے۔‬
‫اس سے آہنگ اور غنا کا الگ سے ذائقہ میسر آتا‬
‫ہے۔ باطور نمونہ فقط ایک شعر ملحظہ فرمائیں۔‬

‫رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے‬
‫پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے‬

‫اس کے علوہ ایک غزل چولفظی جب کہ دو غزلیں‬
‫سہ لفظی ردیف رکھتی ہیں۔‬

‫تکرار لفظی کے ساتھ ساتھ صنعت تضاد کا استعمال‬
‫ملحظہ فرمائیں۔‬

‫سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم‬
‫باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے‬

‫لفظ ہی تدبر کا متقاضی ہے۔‬

‫اب ذرا یہ شعر ملحظہ فرمائیں۔‬

‫جس کے سخن میں زہر سے زائد ہیں تلخیاں‬
‫اس کے لبوں میں شہد سے بڑھ کر مٹھاس تھی‬

‫دونوں مصرعوں کا' ہم صوت الفاظ سے آغاز ہوا ہے۔‬
‫لفظوں کی حسین ترتیب اور پرذائقہ استعمال' بصیرتی‬

‫اور بصارتی حظ میسر کرتا ہے۔‬

‫متعلق الفاظ‬
‫پہل مصرع سخن‬
‫دوسرا مصرع لبوں‬

‫مترادف الفاظ‬
‫پہل مصرع زائد‬
‫دوسرا مصرع بڑھ کر‬

‫متضاد الفاظ‬

‫پہل مصرع زہر‬

‫دوسرا مصرع شہد‬

‫زہر ہلکت کے ساتھ ساتھ کڑواہٹ کے لیے بھی عرف‬

‫میں ہے۔‬

‫تلخیاں‬ ‫پہل مصرع‬

‫دوسرا مصرع مٹھاس‬

‫سوچتا ہوں میں' یہاں سے کہ یہاں سے پہلے‬

‫اس مصرع میں' صنعت تکرار لفظی کا استعمال نقش‬
‫کی زبان پر گرفت کو' واضح کر رہا ہے۔ فصاحت اور‬
‫بلغت پر' کہیں ٹیڑھ پن طاری نہیں ہوتا۔ اس سے غنا‬
‫اور نغمیت میں اضافہ یوا ہے۔ تذبذب سوچ کے دائروں‬

‫کو وسیع کر دیتا ہے۔‬

‫'سوچتا ہوں میں‬
‫یہاں سے‬

‫کہ یہاں سے پہلے‬

‫تفہیم کی ذیل میں' قاری جہاں لفظوں کی مہک سے‬
‫لطف اٹھاتا ہے' وہاں وحدت تاثر' اس کے سوچ کو‬
‫رائی بھر ادھر نہیں ہونے دیتا۔ دوسرا مصرع اشتیاق‬
‫پیدا کرنے کے ساتھ تذبذب کی گھتی بھی کھولتا ہے۔‬

‫داستاں اپنی سناؤں تو کہاں سے پہلے‬
‫پہلے مصرعے میں یہاں' جب کہ دوسرے میں کہاں‬
‫کے استعمال سے کیفیتی حظ میسر آتا ہے۔ بلشبہ داد‬

‫سے بالتر زبان کے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔‬

‫اب دو بصارتی اطوار ملحظہ فرمائیں‬

‫کبھی رو بہ رو کبھی خواب میں دیکھنا‬

‫دیکھنا‬
‫کبھی رو بہ رو‬
‫کبھی خواب میں‬

‫دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرار' جاری سلسلے‬
‫کو واضح کرتی ہے۔ گویا سکوت یا ٹھہراؤ کی صورت‬

‫پیدا نہیں ہوتی۔‬

‫سرﺥ ہونٹوں کے اثر کو ترسوں‬

‫اثر کے تناظر میں' لمس سے متعلق یہ مصرع ملحظہ‬
‫فرمائیں۔ مرکب سرﺥ ہونٹ بصارتی وارفتگی کو بڑھاوا‬

‫دیتا ہے۔‬

‫اب ان کے چند مختلف نوعیت کے مرکبات ملحظہ‬
‫فرمائیں۔‬

‫رفتہ رفتہ‬

‫پہلے پہل‬

‫خوش بو کا ذائقہ‬
‫سوچ کے محور‬
‫الفاظ کی گرفت‬

‫ہونٹوں پہ تبسم‬

‫کھنڈر سا مکاں‬

‫کرب ذات‬

‫خواب نگر‬

‫نقش کی نظم تشنگی پر ایک نظر ڈالیں‬

‫تیری یاد اک بادل ہے‬
‫پر بادل سے‬

‫کب پیاس بجھی‬
‫پیاس کی ماری دھرتی تو بس‬

‫بارش کی‬
‫بوچھاڑیں مانگے‬

‫میرا دل بھی‬
‫پیاسی دھرتی‬
‫!ساون بن کر آ جاؤ نا‬

‫تشبہی طور دیکھیے‬

‫تیری یاد ‪ :‬اک بادل ہے‬
‫میرا دل بھی ‪ :‬پیاسی دھرتی‬

‫ممثالتی طور دیکھیے‬
‫دھرتی‬
‫دل‬

‫دھرتی ‪ :‬پیاس کی ماری‬
‫دل ‪ :‬پیاسی دھرتی‬

‫مطلوب‬
‫دھرتی ‪ :‬بارش کی بوچھاڑیں مانگے‬

‫دل ‪ :‬ساون مانگے‬

‫متعلق لفظوں کا استعمال دیکھیے‬
‫بادل ‪ :‬بارش‬
‫دل ‪ :‬یاد‬

‫آخری سطر گیت کا طور لیے ہوئے ہے۔‬
‫!ساون بن کر آ جاؤ نا‬

‫پوری نظم پر ورفتگی کی کیفیت طاری ہے اور سماعی‬
‫حظ میسر کرتی ہے۔‬

‫خیر اور سکھ کی فراہمی' اتنا آسان کام نہیں۔ نقش کے‬
‫ہاں اس امر کا اظہار کمال کی شیفتگی رکھتا ہے۔‬

‫جو بھی سایہ مہیا کرتا ہے نقش‬
‫جھیلنی پڑتی ہے اس کو کڑی دھوپ‬

‫قربانی‬

‫بعض شعر تو' ورفتگی اور بےساختگی میں اپنا جواب‬
‫نہیں رکھتے۔ بےساختہ منہ سے واہ واہ نکل جاتا ہے۔‬

‫مثل‬
‫پیڑوں کو کاٹنے سے پہلے خیال رکھنا‬
‫شاخوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ جائے‬

‫لفظ حیران کو مستعمل معنوں سے ہٹ کر لیا گیا۔‬

‫مرے کچے مکان کو نقش' ڈھا کر‬
‫ہوائے شہر اب کس لہر میں ہے‬

‫لہر کی تفہیم سٹریٹ کے بول چال کے مطابق لی‬
‫جائے۔ معاملہ بھی سٹریٹ کا ہے۔‬

‫اب ذرا یہ دو شعر ملحظہ فرمائیں‬
‫سندر لڑکی‬

‫یوں تو خاموش ہی رہتی ہے وہ سندر لڑکی‬
‫سخنور لڑکی‬

‫بات کرنے میں نہیں اس سی سخنور لڑکی‬

‫اس کے دل میں بھی کبھی نقش محبت جاگے‬
‫پتھر لڑکی‬

‫موم ہو جائے کسی روز وہ پتھر لڑکی‬
‫لڑکی ایک' تین صفتی لحقے استعمال ہوئے ہیں۔‬

‫نثر میں' دیوان غالب کے نسخہء خواجہ سے متعلق'‬
‫چار تنقیدی مضمون شامل ہیں۔ جن کے عنوان کچھ‬

‫یوں ہیں۔‬

‫غالب اور جعل سازی‬
‫نسخہءخواجہ یا نسخہ لہور‬

‫ضمیر کی خلش‬
‫تفو بر تو اے چرﺥ گرداں۔۔۔۔۔۔‬

‫یہ مسلہ متنازعہ تھا اور آج بھی ہے۔ میں نے بھی‬
‫اس موضوع پر کچھ لکھا تھا' یاد نہیں کہاں شائع ہوا۔‬
‫اصل مسلہ نسخہءخواجہ یا نسخہ لہور نہیں' کوئی اور‬

‫تھا۔‬

‫اس کے بعد کچھ مختصر تحریریں اداریے اور ابتدایے‬
‫وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بعد نقش کے فارسی'‬

‫انگریزی' سندھی اور پنجابی نظموں کے کچھ ترجمے‬
‫شامل کیے گیے ہیں۔ ایک نظم شاعر کی موت کے‬

‫عنوان سے شامل ہے۔ اسے دیوناگری سے اردو لیپی‬
‫میں منتقل کیا گیا ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہے' کہ یہ‬
‫تراجم صاف' سادہ' واضح' سلیس اور شعری لوازم‬
‫سے مال مال ہیں۔ ان پر طبع زاد ہونے کا گمان گزرتا‬

‫ہے۔ باطور نمونہ فقط ایک نظم ملحظہ ہو۔‬

‫کھڑکی کھلی‬
‫کھڑکی بند ہوئی‬

‫'ہوا‬
‫ہوائے دل پذیر تھی‬
‫مگر میرا قدیم دل کہاں گیا‬
‫شاعر‪ :‬محمد زہری‬

‫انگریزی' سندھی پنجابی اور سرائیکی سے چار‬
‫افسانوں کے اردو ترجمے کیے ہیں۔ رما کانت کے‬
‫ایک افسانے کو دیوناگری سے اردو رسم الخط میں‬
‫منتقل کیا ہے۔ تراجم کو پڑھ کر' اندازہ ہوتا ہے کہ‬
‫مرحوم کو' ناصرف اردو زبان پر قدرت حاصل تھی بل‬
‫کہ دیگر زبانوں یعنی فارسی' انگریزی' سندھی' پنجابی‬
‫اور سرائیکی پر بھی گرفت رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ‬
‫دیوناگری رسم الخط کو' اس کی باریکیوں کے ساتھ‬
‫جانتے تھے۔ ان کے یہ تراجم' زیب سماعت و بصارت‬
‫ہیں۔ اسی طرح' انتخاب میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔‬
‫اس امر سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے' کہ نقش‬
‫مرحوم کا ذوق کیسا اور کس نوعیت کا تھا۔ باطور‬
‫نمونہ اور ان کی اردو پنجابی پر گرفت کے حوالہ‬
‫سے' بیدی کے پچیس سطری پنجابی افسانے کی چند‬

‫‪:‬چنیدہ سطریں ملحظہ فرمائیں‬

‫لڑکی نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپنے ابرو' اپنی‬
‫ہی پلکوں کی پرچھائیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔‬

‫اندر ہی اندر گٹکتی رہی۔‬
‫ہوں' لڑکے نے سوچا اور چل گیا‬
‫یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ ساون کا بادل۔۔۔۔۔ اور‬

‫بہاروں کی فضا۔۔۔۔۔‬
‫‪..............‬‬

‫لڑکی کے ماتھے پر سات بل پڑے ہوئے تھے۔ لڑکے‬
‫نے اسے دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور‬

‫سی لڑکی سمجھا اور چل گیا۔‬
‫حالں کہ بات صرف اتنی سی تھی۔‬
‫تو نے پہلے کیوں نہ مجھے بلیا‬
‫وہ ازل سے اکیلی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔‬
‫اور سامنے کچھ بچے کھیل رہے تھے۔‬

‫افسانہ ۔۔۔۔۔۔ بہانہ ص ‪232 '231‬‬

‫ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون کا ترجمہ'‬
‫کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں مضمون بڑے کام‬
‫کے ہیں۔ پہل مضمون قرتہ العین حیدر کے ناول ۔۔۔۔۔‬

‫چاندنی بیگم ۔۔۔۔۔ سے متعلق ہے۔ بڑا اچھا اور‬
‫غیرجانبدارنہ قسم کا مضمون ہے۔ دوسرا مضمون ۔۔۔۔۔‬
‫آزاد کشمیر کی زبانیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوتے' اپنے‬
‫عنوان کے تعارف کے ضمن میں کامیاب اور کارکشا‬
‫ہے۔ ہر دو مضامین' کی زبان ترجمہ کی زبآن نہیں ہے۔‬

‫براہ راست تحقیق و تنقید کی زبان ہے۔ کہیں ناہمواری‬
‫اور ابہامی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ امر نقش مرحوم‬
‫کی' ہر سہ زبانوں پر گرفت کا غماز ہے۔ گویا وہ جہاں‬

‫اچھے شاعر اچھے نثار ہیں' وہاں شعر و نثر کے‬
‫اچھے مترجم بھی تھے۔‬

‫پانچ اہل قلم کے نام لکھے گیے خطوط بھی کتاب کا‬
‫حصہ بنائے گیے ہیں۔‬

‫بشیر عنوان کے نام سات خط‬
‫یعقوب خاور کے نام چار خط‬
‫قاسم رحمان کے نام دو خط‬
‫حسن منظر کے نام ایک خط‬
‫ذوالفقار دانش کے نام ایک خط‬

‫گویا تعداد کے اعتبار سے یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر‬
‫ذوالفقار دانش کے نام خط کی عکسی نقل پیش کی‬
‫گئی ہے۔ خطوط میں' بےتکلفی' برجستگی اور والہانہ‬
‫پن پایا جاتا ہے۔ یہ خطوط ادبی حوالہ سے بھی کمال‬

‫کے ہیں۔ باطور نمونہ دو ایک مثالیں پیش ہیں۔‬

‫کہتے ہیں کہ کسی کی قدر مرنے کے بعد ہوتی ہے اور‬
‫یا چلے جانے کے بعد۔ اب مجھے احساس ہوا کہ‬

‫دونوں صورتوں کے علوہ ایک تیسری صورت بھی‬
‫ہے' جس کے ظہور پذیر ہونے کے بعد کسی کی قدر و‬

‫قیمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ صورت ہے جدائی‬
‫کی! عارضی نہیں طویل جدائی کی۔‬

‫خط رفیق نقش بنام بشیر عنوان ص‪251 :‬‬

‫اچھا اب واقعی خدا حافظ‬

‫خط رفیق نقش بنام بشیر عنوان ص‪252 :‬‬

‫کشمیری صورتوں کو گلب کے بجائے آم سے تشبیہ‬
‫دینے پر میں تم پر لکھ واری لعنت بھیجتا ہوں۔‬
‫بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں! ایک بار پھر‬
‫لعنت‬
‫خط رفیق نقش بنام یعقوب خاور ص‪272 :‬‬

‫روٹی جب تک میسر ہے' اس وقت تک نئی باتیں‬
‫سوجھتی ہیں اور جب روٹی کا حصول مشکل ہو جائے‬
‫تو حصول نان جویں ہی واحد مسلہ رہ جاتا ہے۔ اس‬

‫موقع پر عشق وشق سب دل و دماغ سے محو ہو‬
‫جاتے ہیں۔ غالبا شیخ سعدی نےاس تجربے کو بیان‬

‫کیا ہے۔‬
‫چناں قحط سالی شد اندر دمشق‬

‫کہ یاراں فراموش کر دند‬
‫خط رفیق نقش بنام قاسم رحمان ص‪276 :‬‬

‫رائٹ برادران کا بنایا ہوا ہوائی جہاز آج کے جدید‬
‫طیاروں کے مقابلے میں بچوں کا کھلونا معلوم ہوتا‬
‫ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ہوائی جہاد کے‬
‫وجود میں آئے بغیر موجودہ طیاروں کا وجود میں آنا‬

‫ممکن نہیں تھا۔‬
‫خط رفیق نقش بنام ذوالفقار دانش ص‪280 :‬‬

‫کتاب کے آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن کےاعل‬
‫ہیں نقش۔۔۔۔ کے عنوان سے نو تحریریں شامل کتاب‬
‫کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ڈاکٹر انورسدید کا خط بنام‬
‫رفیق احمد نقش ہے۔ خط کے دو جملے درج ہیں۔‬
‫مستعمل میں بدل گڑبڑی کا باعث بنتا ہے دوسرا گلی‬
‫اسے قبول نہیں کرتی ہے۔ قلفی عرف میں ہے اس‬
‫لیے قفلی قبولیت کی سند نہ پا سکے گا۔ خیر یہ دو‬

‫جملے دیکھیے۔‬

‫ایک ذاتی گزارش یہ ہے کہ میرا نام انور سدید معرف‬
‫ہے لیکن آپ اسے نئے اصول و ضوابط کے تحت‬
‫سدید انور درج فرماتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے‬
‫انور سدید ہی درج کیجیے۔‬

‫خط انور سدید بنام رفیق احمد نقش ص‪283 :‬‬

‫باقی آٹھ تحریریں ان کے فن سے متعلق ہیں۔‬
‫ان کی شاعری کے بارے پروفیسر انوار احمد زئی کا‬

‫کہنا ہے۔‬

‫رفیق نقش باطور شاعر‬

‫رفیق نقش کے شاعرانہ نقوش میں محاکات اور تماثیل‬
‫کے ساتھ منظرنامے بھی ایسے مصور ملتے ہیں کہ‬
‫ان کی شاعری' فکری گیلری اور شعری تصویر خانہ‬
‫معلوم ہوتی ہے۔ میرے نزدیک وقت کے نئے پن کے‬
‫مضمون کے بعد' تشبیہ و تمثیل کا اچھوتا اور نیا پن'‬

‫رفیق نقش کی شاعری کا دوسرا بڑا کمال ہے۔‬
‫نقش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص‪:‬‬

‫‪285‬‬

‫رفیق احمد نقش اور ترجمہ نگاری‬

‫رفیق احمد نقش طبعا کاملیت پسند تھے۔ وہ جو بھی‬
‫کام کرتے' پوری ذمہ داری سے کرتے تھے' یہی‬
‫خوبی ان کے تراجم میں بھی نمایاں ہے‪ .‬وہ ترجمے‬
‫کے فن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان فن‬

‫کو حقیر سمجھنے والی سوچ کے سخت خلف تھے۔‬
‫رفیق احمد نقش ترجمے کے فن کے افادی اہمیت کے‬

‫قائل تھے۔‬
‫رفیق احمد نقش بہ حیثیت مترجم ازبشیر عنوان ص‪:‬‬

‫‪302‬‬

‫رفیق احمد نقش کا طور تنقید‬

‫رفیق نقش دھیمے' پراثر مگر انتہائی جرآت مندی کے‬
‫ساتھ تنقید کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی‬

‫بےباکی کسی ظاہری عہدے یا بڑےپن سے خائف نظر‬
‫نہیں آتی' مگر وہ عزت و احترام کو ہاتھ سے نہیں‬
‫جانے دیتے۔ پہلے کسی معاملے کے اصل پہلو کو‬
‫اجاگر کرتے ہیں' پھر جزئیات کے سہارے اسے‬
‫ابھارتے ہیں۔ جہاں کہیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے‬
‫دست نشان دہی کرتے ہیں۔‬
‫رفیق احمد نقش کا تنقیدی شعور از ڈاکٹر ممتاز عمر‬
‫ص‪314 :‬‬

‫رفیق احمد نقش اور اردو امل‬

‫امل کےحوالے سے رفیق نقش کا زیادہ تر زور اس‬
‫بات پر رہا ہے کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھاوٹ میں‬

‫تلفظ کی تقلید ان کے لیے لزمی تھی۔‬
‫رفیق احمد نقش اور اردو امل از انصار احمد شیخ‬

‫ص‪331 :‬‬

‫رفیق احمد نقش کا تحقیقی مزاج‬

‫رفیق نقش پوری یک سوئی سے تحقیق کی جانب‬
‫راغب نہیں ہو سکے' وہ اس شعبے کو اپنانا چاہتے‬
‫تھے اور اردو ادب کی کئی حقیقتوں سے پردہ کشائی‬
‫کرنے کے خواہاں تھے مگر موت کی حقیقت نے ایک‬

‫اعل پائے کے محقق ہونے سے محروم کر دیا۔‬
‫رفیق احمد نقش کا تحقیقی مزاج از ڈاکٹر ذوالفقار‬

‫علی دانش ص‪350 :‬‬

‫رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر‬

‫رفیق نقش صاحب آغاز ہی سے بہ تر سے بہ ترین‬
‫کے خواہاں تھے۔ وہ آخری دم تک معیار کی تلش میں‬
‫سرگرداں رہے۔ آغاز ادارت ہی سے معیار کے بارے‬

‫میں ان کا نقطہء نظر واضح تھا۔‬
‫رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر از ڈاکٹر ذوالفقار علی‬

‫دانش ص‪353 :‬‬

‫رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر کے بعد' رفیق احمد‬
‫نقش کے ہاتھ سے بنی ہوئی کچھ چیزیں ہیں۔ آخر میں‬

‫رفیق احمد نقش کے ایک خط بنام بشیر عنوان کی‬
‫عکسی نقل ہے۔ خط کے انتخاب میں بےشک سمجھ‬
‫بوجھ اور تردد سے کام لیا گیا ہے۔ اس خط میں کئی‬
‫ایک خاص نوعیت کی باتیں کی گئی ہیں بل کہ انہیں‬

‫اصول کا نام دینا زیادہ مناسب ہو گا۔ مثل‬

‫میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں کہ انسان جس‬
‫قدر خود کؤ جانتا ہے' وہ دوسروں کے جاننے کی بہ‬

‫نسبت زیادہ مستند ہے۔ یہ بات عین ممکن ہے کہ‬
‫دوسرے ہم سے کہیں زیادہ ہمارے بارے میں جانتے‬

‫ہوں۔۔۔۔۔۔‬

‫میرا خیال ہے کہ اخباروں میں نام چھپنا' نشستوں‬
‫کی تعداد میں نام نہاد اضافہ وغیرہ معیار کی کمی کا‬

‫باعث ہے۔‬

‫اس خط میں' ایک ذاتی حوالہ بھی ہے' جو تین طرح‬
‫سے بڑے کام کا ہے۔‬

‫ان کی شدہ زندگی کیسی اور کس نوعیت کی تھی۔‬
‫ان کی زوجہ محترمہ کا مرحوم اور مرحوم کے‬
‫معاملت سے کتنا اور کس نوعیت کا عمل دخل تھا۔‬

‫مثالی جوڑے کی زندگی کیسی اور اس کے اطوار کس‬
‫نہج اور سطع کے ہونا چاہیں۔‬
‫خط کا یہ ٹکڑا ملحظہ فرمائیں۔‬

‫شادی نے میری زندگی میں ایک اطمینان بھر دیا ہے۔‬
‫ذکیہ سے بہتر ساتھی ملنا بےحد مشکل تھا۔ میں اب‬
‫اپنی بہنوں کے مستقبل کی طرف سے بےفکر ہوں۔ ان‬
‫کی تعلیم اور تربیت میں ذکیہ کردار ادا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔‬
‫بڑی بات یہ کہ ہم لوگ روایتی میاں بیوی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔‬
‫اب بھی اکثر لوگ ہمیں ساتھ دیکھ کر مشکل ہی سے‬

‫یقین کرتے ہیں کہ ہم دونوں رشتہء ازدواج میں‬
‫منسلک ہیں۔‬

‫ان تحریروں کے علوہ رفاقت علی شاہ کا مضمون۔۔۔۔‬
‫رفیق احمد نقش‪ :‬بطور تدوین کار۔۔۔۔ اور اجمل کمال کا‬
‫ایک خط کتاب میں شامل ہیں۔ لسانیاتی حوالہ سے یہ‬

‫خط بڑے کام کا ہے۔‬

‫ڈاکٹر دانش کی یہ ادبی کاوش' قاری کو پہلی اور‬
‫آخری نظر میں' خوش آتی ہے۔ علمی و ادبی کام کرنے‬
‫والوں کے لیے' یہ کتاب عملی نمونے سے' کسی طرح‬
‫کم نہیں۔ میں ڈاکٹر دانش کے اس کام کو' قدر کی نگاہ‬
‫سے دیکھتا ہوں۔ ا ان کے ادبی ذوق کو برکت عطا‬

‫فرمائے۔‬

‫امانت کی ایک غزل‪ ......‬فکری و لسانی رویہ‬

‫مخدومی و مرشدی حضرت قبلہ سید غلم حضور‬
‫حسنی المعروف بابا شکرا سرکار کے ذخیرہ ء کتب‬
‫سے' ایک مخطوطہ صفحات سولہ ' دستیاب ہوا ہے۔‬
‫اس میں ایک بتیس اشعار پر مشتمل غزل اور ایک‬
‫نظم' جس میں باسٹھ اشعار ہیں' دستیاب ہوئی ہے۔‬
‫غزل دیگر پرعنوان درج ہے' جس سے یہ کھلتا ہے'‬
‫کہ مواد اور بھی تھا اور وہ مواد' حوادث زمانہ کا‬
‫شکار ہو گیا۔ بابا جی مرحوم کے جو ہاتھ لگا' انہوں‬
‫نے محفوظ کر لیا۔ غزل والے آٹھ صفحات پر' صفحوں‬
‫کے نمبر درج نہیں ہیں' جب کہ نظم کے آٹھ صفحوں‬

‫پر صفحہ ‪ 13‬تا ‪ 20‬درج ہے۔ مخطوطے کی حالت‬
‫بڑی خستہ اور قابل رحم ہے‪ .‬غزل کے مقطع میں'‬
‫امانت تخلص ہوا ہے' شاعر کا نام بھی امانت تھا یا یہ‬
‫محض ان کا تخلص تھا' ٹھیک سے کہا نہیں جا سکتا۔‬
‫ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے' کہ یہ صاحب شعیان‬

‫علی سے متعلق تھے۔ مقطع ملحظہ ہو۔‬
‫رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے‬

‫دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا‬

‫کاغذ اور کتابت بتاتی ہے' کہ یہ مسودہ ایک سو پچاس‬
‫سال سے زیادہ' عمر رکھتا ہے۔ مضامین غزل کی‬

‫عمومی روایت سے متعلق ہیں۔ شاعر کی زبان رواں'‬
‫شایستہ اور شگفتہ ہے۔ کہیں کوئی ابہامی صورت‬

‫موجود نہیں۔ یہ ایک مربوط غزل ہے۔ اس میں' بیانیہ'‬
‫مخاطبیہ اور خود کلمی کا اسلوب تکلم ملتا ہے۔ آغاز‬
‫روح کے سفر سے ہوتا ہے' باقی اکتیس اشعار' کسی‬
‫ناکسی سطح پر' اس سفر سے مربوط سے محسوس‬

‫ہوتے ہیں۔‬

‫غزل کے پہلے چار اشعار میں یاد آیا باطور ردیف‬
‫استعمال ہوا ہے جب کہ باقی اٹھائیس اشعار میں آیا‬
‫کو ردیف بنایا گیا ہے۔ یاد کی صوت پر' الفاظ باطور‬
‫قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ اسے چار اشعار کی غزل‬

‫کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔‬
‫ملحظ ہو۔‬

‫روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا‬
‫دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا‬
‫چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا‬
‫روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا‬






































Click to View FlipBook Version