ہرگز نہیں رکھتے تھے۔ زمانہ سازی انہیں ہرگز نہیں
آتی تھی۔
رفتید ولے نہ از دل ما از ڈاکٹر یونس حسنی ص17 :
سوال :رفیق نقش کی موت کے بعد آپ کیا محسوس
کرتے ہیں۔
جواب :اردو کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ لوگوں کو اس
کا احساس نہیں ہے۔ یہ میں جانتا ہوں۔ وہ لسانیات کے
آدمی تھے۔ مجھے جب کسی لفظ کے بارے میں معلوم
کرنا ہوتا تو میں فون کرکے پوچھتا تھا کہ استاد یہ
لفظ کس طرح ہے۔ وہ بتا دیا کرتے تھے۔
شکیل عادل زادہ سے گفتگو' ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش
ص23 :
رات گئے اچانک کوئی خیال آتا یا کسی کتاب کا سراغ
ملتا تو ان حضرات سے بلتکلف تبادلہءخیال کرتا اور
کبھی ان کے لہجے میں ناگواری کا تاثر محسوس نہیں
ہوا۔
دو درویش از سید جامعی ص29 :
وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر بال پرانی کتابیں
خریدنے کے لیے جاتے تھے۔ کتابوں سے انھیں
جنون کی حد تک شوق تھا۔ ان کی ذاتی لئبریری میں
دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہیں۔
رفیق احمد نقش ازایک منفرد شخص ص35 :
اپنے رفیق نے تمام عمر' اپنی انوکھی' منفرد اور
یکتا وسیع شخصیت کو جس لفظ میں قید کرنے پر
صرف کر دی' وہ لفظ تھا اصول۔
رفتید ولے نہ از دل ما از یعقوب خاور ص38 :
رفیق احمد نقش کتابوں کا تحفہ دینے کے معاملہ میں
بڑے فراﺥ دل تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو ادب میں ہر
وقت فعال دیکھنا پسند کرتے تھے۔
کاغذی ہے پیرہن از بشیر عنوان ص55 :
رفیق فل کمٹ منٹ کے آدمی تھے۔ ایک اچھے طالب
علم اور ایک اچھے استاد' وہ ناصرف اپنی تدریسی
ذمہ داریاں بڑی تن دہی سے نبھاتے بلکہ استادوں کی
فلح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے بھرپور
تعاون کرتے۔
رفیقوں کے رفیق' رفیق احمد نقش از کرن سنکھ ص:
61
میں نے اپنی ساری زندگی میں صاف گوئی میں رفیق
کا کوئی ہم سر نہیں دیکھا۔ برجستگی اس کے وسیع
مطالعے کی مرہون منت تھی' جب کہ حق گوئی اس
کے سچ اور صرف سچ پر مکمل ایمان کا ثبوت تھی۔
رفیق احمد نقش کی صاف گوئی اور برجستگی از
ڈاکٹر نصیر احمد ناصر ص63 :
رفیق کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ یا تو
خوش فہم تھیں یا غلط فہمی کا شکار ہوئیں۔ رفیق نے
اگر کسی سے اچھا برتاؤ کیا تو غلط معنی اخذ کر لینا
یقینا بےوقوفی تھی اور ہے۔ جس طرح میری کوئی
بھی بات رفیق سے پوشیدہ نہ تھی' اسی طرح انہوں
نے ہر چھوٹی بڑی بات سےباخبر رکھا۔ یہ رفیق کی
عظمت تھی کہ انھوں نے کبھی میری بڑی سے بڑی
بھول پر بھی مجھے طعنہ نہ دیا' نہ خود سے دور
رکھا۔ آفرین ہے اس شخص پر' بہت بڑے حوصلے
وال تھا۔
ہر چند کہیں کہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ سلطانہ ص73 :
مسلسل مطالعہ' علم کی پیاس' دوسروں کو علم بانٹنا.
اصول پسندی اور اجتماعی سماجی خدمت جیسی
خوبیوں نے رفیق احمد نقش کو علم و ادب کا حقیقی
استاد بنا دیا تھا۔
میرا دوست رفیق احمد نقش از احمد سعید قائم خانی
ص77 :
وہ بےلوث' پرخلوص اور ہم درد انسان تھے۔ وہ
حقیقی طور پر مولوی عبدالحق کے جانشین نہیں تو
اس کارواں کے ایک فرد ضرور تھے۔
کچھ یادیں از ڈاکٹر ممتاز عمر ص81 :
بلیک بورڈ پر روزانہ بہت خوب صورت' اشعار لکھا
کرتا تھا۔ اس کی لکھائی بھی بہت خوب صورت تھی۔
وہ اکثر میرپور خاص سے حیدرآباد آتا تھا اور سارے
رستے کچھ ناکچھ پڑھتا ہوا ہی آتا تھا۔ کتاب سے اس
کی محبت کا اندازہ مجھے اس وقت ہو گیا تھا۔ وہ
ہمارا جونیر تھا۔
ماضی کے جھروکے از عفت بانو ص82 :
رفیق احمد نقش سے بہت سی باتوں پر اختلف ہونا
ممکن ہے۔ ان سے کچھ شکایتوں کا ہونا سمجھ میں
آتا ہے۔ ان سے ناراض ہونے کی کئی وجوہ میں یقینا
معقولیت ہے' لیکن ان سب کے باوجود ہم اس لیے ان
کی قدر کرتے ہیں' ان کا ذکر کرتے ہیں' ان کی مثال
دیتے ہیں کہ وہ کئی روائتوں کے امین تھے۔ انھوں
نے ان کی خدمت کی' ان کی حفاظت کی ہے۔ ان کے
وقار کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان میں سے ایک
روایت پابندی وقت ہے۔
پاس دار از حسن غزالی ص17 :
نقش ایک کھلی کتاب تھے۔ جسے ہر شخص پڑھ سکتا
تھا۔ ایک چشمہءرواں تھے' جس سے ہر ایک بقدر
ظرف سیراب ہو سکتا تھا۔ وہ محبتوں کا سفیر تھا اور
شفقت' دریا دلی' سچائی خلوص اور ہم دردی اس کا
معتبر حوالہ تھیں۔
دل پہ نقش تری محبت کا نقش ہے از مجید ارشد ص:
116
میں نے رفیق نقش کو بس اس قدر سمجھا' آدمی کم
مشین تھے۔
دید و بازدید از سلیم اقبال ص91 :
رفیق نقش ایک پرخلوص اور محبت بھرا دل رکھنے
والے انسان تھے' پھر ان کی علمی قابلیت نے ان کو
مزید معتبر بنا دیا۔
آہ! رفیق احمد نقش از افروزہ خضر ص92 :
رفیق بھائی ایک ایسے شخص کا نام ہے جو مسلسل
کسی نقطے' کسی علمی و ادبی اصطلح' کوئی
سماجی پہلو' کسی شعر کی تفہیم اور اس قسم کے
معاملت میں غور و فکر کرتے دکھائی دیں گے۔ وہ ہر
وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے سکھانے کی جستجو میں
رہتے تھے۔
دنیا ہے اک سرائے کہاں مستقل قیام از نوید سروش
ص95 :
رفیق صاحب طنزومزاح کا ایک خاص ذوق رکھتے
تھے۔ جب کبھی موڈ میں ہوتے تو خوب لطیفے
سناتے۔ انھینبےشمار لطائف از بر تھے۔ آپ جب
گفتگو کرتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی۔ رنجیدہ
ہونا' ان کے ہاں ممنوع تھا' وہ کسی کو دکھی
نہیندیکھ سکتے تھے۔ ہر کسی کے مسلے کو اپنا
مسگہ سمجھتے اور ہر ممکن مدد کرتے۔
سب کا رفیق از صابر عدنانی ص125 :
وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی
چاہیے کہ اردو بولیں تو تمام گفتگو اردو ہی میں ہو
۔ انگریزی کے غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے
احتزاز کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں بات کی جا
رہی ہو تو پھر تمام گفتگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھا
تیتر آدھا بٹیر والی بات نہ ہو۔
رفیق اردو۔۔۔۔ رفیق نقش از شکیل احمد بھوج ص:
132 '131
انھوں نے تادم مرگ طبقاتی فرق کو نہ صرف رد کیا
بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔
رفیق احمد نقش; چند تآثرات از عابد علی ص137 :
رفیق احمد نقش کی زندگی کے کئی پہلو تھے۔ مراسم
کا خیال رکھنے والے' روایت پرست اور مذہب کی اعل
روایات کا پاس رکھنے والے۔
کچھ یادیں نقش ہیں از عزیز احمد ص140 :
وہ جس انداز سے علم کو فروغ دے رہے تھے' کسی
کو کتب فراہم کر رہے ہیں' کسی کو کتابوں کی فوٹو
کاپی کرا کے علمی معاونت کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا
کہ علم و ادب کے ڈسٹری بیوٹر ہیں۔
عظیم محسن از رئیسہ شریف ص142 :
ان کی ایک ملقات واقعتا ڈھیروں کتابیں پڑھنے کے
مترادف تھی۔
ایک نقش خاص از عازم رحمان ص144 :
بھائی جان کم عمری میں مذہبی بھی رہے۔ وہ پانچ
وقت کی نہ صرف نماز پڑھتے تھے بلکہ مسجد میں
ازان بھی دینے جاتے اورتبلیغی جماعت کے مرکز بھی
جاتے۔
بچپن کی کچھ یادیں از رشیدہ ص146 :
کتاب کے دوسرے حصہ میں
منظوم خراج عقیدت کے نام سے' آٹھ شعری
منظومات ہیں۔ ہر کسی نے انہیں ان کی شخصیت اور
ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا
ہے۔ یہ منظومات' مقفی آزاد اور نثری ہیں۔ یہ
منظومات رسمی نہیں ہیں۔ ان میں شاعر کی محبت'
عقیدت' شخصی تعلق اور مرحوم کی شخصیت سے
متعلق' کوئی ناکوئی پہلو ضرور موجود ہے۔ ان
منظومات کو لکھوانے اور ان کی جمع بندی میں'
ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش نے بڑے تردد سے کام لیا
ہوگا۔ دو تین نمونے ملحظہ فرمائیں۔
وہ گیا ایسا کہ سارے گھر کو سونا کر گیا
پیاسی آنکھوں کو وہ دے کے ہائے چشم تر گیا
قطعہ تاریخ شاعر مختار اجمیری ص147 :
بےساختگی' ورفتگی اور مرحوم سے قلبی تعلق' اس
شعر پارے کا خصوصی وصف ہے۔ گنتی میں یہ شعر
فقط نو ہیں لیکن کہے میں' سیکڑوں صفحات پر محیط
ہیں۔ معنوی حسن' اپنی جگہ لسانیاتی حظ بھی کمال کا
ہے۔
ماہر اجمیری کا یہ شعر دیکھیں' کس کمال اور
ہنرمندی سے مرحوم کی شخصیت کے' اہم ترین پہلو
کو واضح کر رہا ہے۔
میں کیا بتاؤں تمہیں کس قدر خلیق تھا وہ
رفیق نام تھا ہر شخص کا رفیق تھا وہ
خوشبو کی نظم۔۔۔۔۔۔۔ ایک عام آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ
سطور درد' کرب اور ارضی اقامت کی گرہ کھول رہی
ہیں۔
کبھی اس آس میں
کہ ایک دن وہ لمحہ آئے گا
جب وہ دنیا بھر کے جھمیلوں سے نجات پا کر
اپنی ایک نئی دنیا بسائے گا
اس کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوتی ہے
جب تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں
اور عام آدمی
خاص و عام کی تخصیص سے ماورا ہو جاتا ہے......
ص160 :
اس سے اگل حصہ نگارشات نقش سے متعلق ہے۔
اس میں شعر و نثر سے متعلق مرحوم کی کاوش ہا
فکر درج کی گئی ہیں۔ شاعری میں
غزلیں 13
چو مصرعے یعنی قطعات 6
رباعی 1
شعر 1
آزاد نظمیں 2
شامل کتاب ہیں۔ ان کی شاعری' فکری و فنی اعتبار
سے' ان کی شخصیت اور عصری سماجی رویوں کی
عکاس ہے۔ ہاں البتہ ان کی شعری زبان کا رویہ اور
لوازمات شعر روایت سے قدرے ہٹ کر ہیں۔
ایک غزل چھے لفظی ردیف پر استوار ہے۔ غزل کا
مطلع دیکھیے۔
ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا
ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا
پرلطف بات یہ ہے کہ قافیہ اور ردیف کا آخری لفظ
فطری طور پر اور حسب ضرورت ہم صوت ہے۔ اس
سے غنا اور نغمیت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔
ایک غزل کا ردیف پانچ لفظی ہے۔ اس میں پہلی
صورت حال نہیں ہے۔ قافیہ اور ردیف کا آخری لفظ ہم
صوت نہیں ہیں۔ مطلع ملحظہ ہو۔
آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی' تیری یاد
آ گئی
دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی'
تیری یاد آ گئی
پہلی غزل کا ردیف چہار لفظی اور ہی کچھ تھے' ہے۔
اس سے آہنگ اور غنا کا الگ سے ذائقہ میسر آتا
ہے۔ باطور نمونہ فقط ایک شعر ملحظہ فرمائیں۔
رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے
پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے
اس کے علوہ ایک غزل چولفظی جب کہ دو غزلیں
سہ لفظی ردیف رکھتی ہیں۔
تکرار لفظی کے ساتھ ساتھ صنعت تضاد کا استعمال
ملحظہ فرمائیں۔
سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم
باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے
لفظ ہی تدبر کا متقاضی ہے۔
اب ذرا یہ شعر ملحظہ فرمائیں۔
جس کے سخن میں زہر سے زائد ہیں تلخیاں
اس کے لبوں میں شہد سے بڑھ کر مٹھاس تھی
دونوں مصرعوں کا' ہم صوت الفاظ سے آغاز ہوا ہے۔
لفظوں کی حسین ترتیب اور پرذائقہ استعمال' بصیرتی
اور بصارتی حظ میسر کرتا ہے۔
متعلق الفاظ
پہل مصرع سخن
دوسرا مصرع لبوں
مترادف الفاظ
پہل مصرع زائد
دوسرا مصرع بڑھ کر
متضاد الفاظ
پہل مصرع زہر
دوسرا مصرع شہد
زہر ہلکت کے ساتھ ساتھ کڑواہٹ کے لیے بھی عرف
میں ہے۔
تلخیاں پہل مصرع
دوسرا مصرع مٹھاس
سوچتا ہوں میں' یہاں سے کہ یہاں سے پہلے
اس مصرع میں' صنعت تکرار لفظی کا استعمال نقش
کی زبان پر گرفت کو' واضح کر رہا ہے۔ فصاحت اور
بلغت پر' کہیں ٹیڑھ پن طاری نہیں ہوتا۔ اس سے غنا
اور نغمیت میں اضافہ یوا ہے۔ تذبذب سوچ کے دائروں
کو وسیع کر دیتا ہے۔
'سوچتا ہوں میں
یہاں سے
کہ یہاں سے پہلے
تفہیم کی ذیل میں' قاری جہاں لفظوں کی مہک سے
لطف اٹھاتا ہے' وہاں وحدت تاثر' اس کے سوچ کو
رائی بھر ادھر نہیں ہونے دیتا۔ دوسرا مصرع اشتیاق
پیدا کرنے کے ساتھ تذبذب کی گھتی بھی کھولتا ہے۔
داستاں اپنی سناؤں تو کہاں سے پہلے
پہلے مصرعے میں یہاں' جب کہ دوسرے میں کہاں
کے استعمال سے کیفیتی حظ میسر آتا ہے۔ بلشبہ داد
سے بالتر زبان کے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔
اب دو بصارتی اطوار ملحظہ فرمائیں
کبھی رو بہ رو کبھی خواب میں دیکھنا
دیکھنا
کبھی رو بہ رو
کبھی خواب میں
دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرار' جاری سلسلے
کو واضح کرتی ہے۔ گویا سکوت یا ٹھہراؤ کی صورت
پیدا نہیں ہوتی۔
سرﺥ ہونٹوں کے اثر کو ترسوں
اثر کے تناظر میں' لمس سے متعلق یہ مصرع ملحظہ
فرمائیں۔ مرکب سرﺥ ہونٹ بصارتی وارفتگی کو بڑھاوا
دیتا ہے۔
اب ان کے چند مختلف نوعیت کے مرکبات ملحظہ
فرمائیں۔
رفتہ رفتہ
پہلے پہل
خوش بو کا ذائقہ
سوچ کے محور
الفاظ کی گرفت
ہونٹوں پہ تبسم
کھنڈر سا مکاں
کرب ذات
خواب نگر
نقش کی نظم تشنگی پر ایک نظر ڈالیں
تیری یاد اک بادل ہے
پر بادل سے
کب پیاس بجھی
پیاس کی ماری دھرتی تو بس
بارش کی
بوچھاڑیں مانگے
میرا دل بھی
پیاسی دھرتی
!ساون بن کر آ جاؤ نا
تشبہی طور دیکھیے
تیری یاد :اک بادل ہے
میرا دل بھی :پیاسی دھرتی
ممثالتی طور دیکھیے
دھرتی
دل
دھرتی :پیاس کی ماری
دل :پیاسی دھرتی
مطلوب
دھرتی :بارش کی بوچھاڑیں مانگے
دل :ساون مانگے
متعلق لفظوں کا استعمال دیکھیے
بادل :بارش
دل :یاد
آخری سطر گیت کا طور لیے ہوئے ہے۔
!ساون بن کر آ جاؤ نا
پوری نظم پر ورفتگی کی کیفیت طاری ہے اور سماعی
حظ میسر کرتی ہے۔
خیر اور سکھ کی فراہمی' اتنا آسان کام نہیں۔ نقش کے
ہاں اس امر کا اظہار کمال کی شیفتگی رکھتا ہے۔
جو بھی سایہ مہیا کرتا ہے نقش
جھیلنی پڑتی ہے اس کو کڑی دھوپ
قربانی
بعض شعر تو' ورفتگی اور بےساختگی میں اپنا جواب
نہیں رکھتے۔ بےساختہ منہ سے واہ واہ نکل جاتا ہے۔
مثل
پیڑوں کو کاٹنے سے پہلے خیال رکھنا
شاخوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ جائے
لفظ حیران کو مستعمل معنوں سے ہٹ کر لیا گیا۔
مرے کچے مکان کو نقش' ڈھا کر
ہوائے شہر اب کس لہر میں ہے
لہر کی تفہیم سٹریٹ کے بول چال کے مطابق لی
جائے۔ معاملہ بھی سٹریٹ کا ہے۔
اب ذرا یہ دو شعر ملحظہ فرمائیں
سندر لڑکی
یوں تو خاموش ہی رہتی ہے وہ سندر لڑکی
سخنور لڑکی
بات کرنے میں نہیں اس سی سخنور لڑکی
اس کے دل میں بھی کبھی نقش محبت جاگے
پتھر لڑکی
موم ہو جائے کسی روز وہ پتھر لڑکی
لڑکی ایک' تین صفتی لحقے استعمال ہوئے ہیں۔
نثر میں' دیوان غالب کے نسخہء خواجہ سے متعلق'
چار تنقیدی مضمون شامل ہیں۔ جن کے عنوان کچھ
یوں ہیں۔
غالب اور جعل سازی
نسخہءخواجہ یا نسخہ لہور
ضمیر کی خلش
تفو بر تو اے چرﺥ گرداں۔۔۔۔۔۔
یہ مسلہ متنازعہ تھا اور آج بھی ہے۔ میں نے بھی
اس موضوع پر کچھ لکھا تھا' یاد نہیں کہاں شائع ہوا۔
اصل مسلہ نسخہءخواجہ یا نسخہ لہور نہیں' کوئی اور
تھا۔
اس کے بعد کچھ مختصر تحریریں اداریے اور ابتدایے
وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بعد نقش کے فارسی'
انگریزی' سندھی اور پنجابی نظموں کے کچھ ترجمے
شامل کیے گیے ہیں۔ ایک نظم شاعر کی موت کے
عنوان سے شامل ہے۔ اسے دیوناگری سے اردو لیپی
میں منتقل کیا گیا ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہے' کہ یہ
تراجم صاف' سادہ' واضح' سلیس اور شعری لوازم
سے مال مال ہیں۔ ان پر طبع زاد ہونے کا گمان گزرتا
ہے۔ باطور نمونہ فقط ایک نظم ملحظہ ہو۔
کھڑکی کھلی
کھڑکی بند ہوئی
'ہوا
ہوائے دل پذیر تھی
مگر میرا قدیم دل کہاں گیا
شاعر :محمد زہری
انگریزی' سندھی پنجابی اور سرائیکی سے چار
افسانوں کے اردو ترجمے کیے ہیں۔ رما کانت کے
ایک افسانے کو دیوناگری سے اردو رسم الخط میں
منتقل کیا ہے۔ تراجم کو پڑھ کر' اندازہ ہوتا ہے کہ
مرحوم کو' ناصرف اردو زبان پر قدرت حاصل تھی بل
کہ دیگر زبانوں یعنی فارسی' انگریزی' سندھی' پنجابی
اور سرائیکی پر بھی گرفت رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ
دیوناگری رسم الخط کو' اس کی باریکیوں کے ساتھ
جانتے تھے۔ ان کے یہ تراجم' زیب سماعت و بصارت
ہیں۔ اسی طرح' انتخاب میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔
اس امر سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے' کہ نقش
مرحوم کا ذوق کیسا اور کس نوعیت کا تھا۔ باطور
نمونہ اور ان کی اردو پنجابی پر گرفت کے حوالہ
سے' بیدی کے پچیس سطری پنجابی افسانے کی چند
:چنیدہ سطریں ملحظہ فرمائیں
لڑکی نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپنے ابرو' اپنی
ہی پلکوں کی پرچھائیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔
اندر ہی اندر گٹکتی رہی۔
ہوں' لڑکے نے سوچا اور چل گیا
یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ ساون کا بادل۔۔۔۔۔ اور
بہاروں کی فضا۔۔۔۔۔
..............
لڑکی کے ماتھے پر سات بل پڑے ہوئے تھے۔ لڑکے
نے اسے دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور
سی لڑکی سمجھا اور چل گیا۔
حالں کہ بات صرف اتنی سی تھی۔
تو نے پہلے کیوں نہ مجھے بلیا
وہ ازل سے اکیلی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔
اور سامنے کچھ بچے کھیل رہے تھے۔
افسانہ ۔۔۔۔۔۔ بہانہ ص 232 '231
ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون کا ترجمہ'
کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں مضمون بڑے کام
کے ہیں۔ پہل مضمون قرتہ العین حیدر کے ناول ۔۔۔۔۔
چاندنی بیگم ۔۔۔۔۔ سے متعلق ہے۔ بڑا اچھا اور
غیرجانبدارنہ قسم کا مضمون ہے۔ دوسرا مضمون ۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر کی زبانیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوتے' اپنے
عنوان کے تعارف کے ضمن میں کامیاب اور کارکشا
ہے۔ ہر دو مضامین' کی زبان ترجمہ کی زبآن نہیں ہے۔
براہ راست تحقیق و تنقید کی زبان ہے۔ کہیں ناہمواری
اور ابہامی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ امر نقش مرحوم
کی' ہر سہ زبانوں پر گرفت کا غماز ہے۔ گویا وہ جہاں
اچھے شاعر اچھے نثار ہیں' وہاں شعر و نثر کے
اچھے مترجم بھی تھے۔
پانچ اہل قلم کے نام لکھے گیے خطوط بھی کتاب کا
حصہ بنائے گیے ہیں۔
بشیر عنوان کے نام سات خط
یعقوب خاور کے نام چار خط
قاسم رحمان کے نام دو خط
حسن منظر کے نام ایک خط
ذوالفقار دانش کے نام ایک خط
گویا تعداد کے اعتبار سے یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر
ذوالفقار دانش کے نام خط کی عکسی نقل پیش کی
گئی ہے۔ خطوط میں' بےتکلفی' برجستگی اور والہانہ
پن پایا جاتا ہے۔ یہ خطوط ادبی حوالہ سے بھی کمال
کے ہیں۔ باطور نمونہ دو ایک مثالیں پیش ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی کی قدر مرنے کے بعد ہوتی ہے اور
یا چلے جانے کے بعد۔ اب مجھے احساس ہوا کہ
دونوں صورتوں کے علوہ ایک تیسری صورت بھی
ہے' جس کے ظہور پذیر ہونے کے بعد کسی کی قدر و
قیمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ صورت ہے جدائی
کی! عارضی نہیں طویل جدائی کی۔
خط رفیق نقش بنام بشیر عنوان ص251 :
اچھا اب واقعی خدا حافظ
خط رفیق نقش بنام بشیر عنوان ص252 :
کشمیری صورتوں کو گلب کے بجائے آم سے تشبیہ
دینے پر میں تم پر لکھ واری لعنت بھیجتا ہوں۔
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں! ایک بار پھر
لعنت
خط رفیق نقش بنام یعقوب خاور ص272 :
روٹی جب تک میسر ہے' اس وقت تک نئی باتیں
سوجھتی ہیں اور جب روٹی کا حصول مشکل ہو جائے
تو حصول نان جویں ہی واحد مسلہ رہ جاتا ہے۔ اس
موقع پر عشق وشق سب دل و دماغ سے محو ہو
جاتے ہیں۔ غالبا شیخ سعدی نےاس تجربے کو بیان
کیا ہے۔
چناں قحط سالی شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کر دند
خط رفیق نقش بنام قاسم رحمان ص276 :
رائٹ برادران کا بنایا ہوا ہوائی جہاز آج کے جدید
طیاروں کے مقابلے میں بچوں کا کھلونا معلوم ہوتا
ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ہوائی جہاد کے
وجود میں آئے بغیر موجودہ طیاروں کا وجود میں آنا
ممکن نہیں تھا۔
خط رفیق نقش بنام ذوالفقار دانش ص280 :
کتاب کے آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن کےاعل
ہیں نقش۔۔۔۔ کے عنوان سے نو تحریریں شامل کتاب
کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ڈاکٹر انورسدید کا خط بنام
رفیق احمد نقش ہے۔ خط کے دو جملے درج ہیں۔
مستعمل میں بدل گڑبڑی کا باعث بنتا ہے دوسرا گلی
اسے قبول نہیں کرتی ہے۔ قلفی عرف میں ہے اس
لیے قفلی قبولیت کی سند نہ پا سکے گا۔ خیر یہ دو
جملے دیکھیے۔
ایک ذاتی گزارش یہ ہے کہ میرا نام انور سدید معرف
ہے لیکن آپ اسے نئے اصول و ضوابط کے تحت
سدید انور درج فرماتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے
انور سدید ہی درج کیجیے۔
خط انور سدید بنام رفیق احمد نقش ص283 :
باقی آٹھ تحریریں ان کے فن سے متعلق ہیں۔
ان کی شاعری کے بارے پروفیسر انوار احمد زئی کا
کہنا ہے۔
رفیق نقش باطور شاعر
رفیق نقش کے شاعرانہ نقوش میں محاکات اور تماثیل
کے ساتھ منظرنامے بھی ایسے مصور ملتے ہیں کہ
ان کی شاعری' فکری گیلری اور شعری تصویر خانہ
معلوم ہوتی ہے۔ میرے نزدیک وقت کے نئے پن کے
مضمون کے بعد' تشبیہ و تمثیل کا اچھوتا اور نیا پن'
رفیق نقش کی شاعری کا دوسرا بڑا کمال ہے۔
نقش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص:
285
رفیق احمد نقش اور ترجمہ نگاری
رفیق احمد نقش طبعا کاملیت پسند تھے۔ وہ جو بھی
کام کرتے' پوری ذمہ داری سے کرتے تھے' یہی
خوبی ان کے تراجم میں بھی نمایاں ہے .وہ ترجمے
کے فن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان فن
کو حقیر سمجھنے والی سوچ کے سخت خلف تھے۔
رفیق احمد نقش ترجمے کے فن کے افادی اہمیت کے
قائل تھے۔
رفیق احمد نقش بہ حیثیت مترجم ازبشیر عنوان ص:
302
رفیق احمد نقش کا طور تنقید
رفیق نقش دھیمے' پراثر مگر انتہائی جرآت مندی کے
ساتھ تنقید کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی
بےباکی کسی ظاہری عہدے یا بڑےپن سے خائف نظر
نہیں آتی' مگر وہ عزت و احترام کو ہاتھ سے نہیں
جانے دیتے۔ پہلے کسی معاملے کے اصل پہلو کو
اجاگر کرتے ہیں' پھر جزئیات کے سہارے اسے
ابھارتے ہیں۔ جہاں کہیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے
دست نشان دہی کرتے ہیں۔
رفیق احمد نقش کا تنقیدی شعور از ڈاکٹر ممتاز عمر
ص314 :
رفیق احمد نقش اور اردو امل
امل کےحوالے سے رفیق نقش کا زیادہ تر زور اس
بات پر رہا ہے کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھاوٹ میں
تلفظ کی تقلید ان کے لیے لزمی تھی۔
رفیق احمد نقش اور اردو امل از انصار احمد شیخ
ص331 :
رفیق احمد نقش کا تحقیقی مزاج
رفیق نقش پوری یک سوئی سے تحقیق کی جانب
راغب نہیں ہو سکے' وہ اس شعبے کو اپنانا چاہتے
تھے اور اردو ادب کی کئی حقیقتوں سے پردہ کشائی
کرنے کے خواہاں تھے مگر موت کی حقیقت نے ایک
اعل پائے کے محقق ہونے سے محروم کر دیا۔
رفیق احمد نقش کا تحقیقی مزاج از ڈاکٹر ذوالفقار
علی دانش ص350 :
رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر
رفیق نقش صاحب آغاز ہی سے بہ تر سے بہ ترین
کے خواہاں تھے۔ وہ آخری دم تک معیار کی تلش میں
سرگرداں رہے۔ آغاز ادارت ہی سے معیار کے بارے
میں ان کا نقطہء نظر واضح تھا۔
رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر از ڈاکٹر ذوالفقار علی
دانش ص353 :
رفیق احمد نقش بہ حیثیت مدیر کے بعد' رفیق احمد
نقش کے ہاتھ سے بنی ہوئی کچھ چیزیں ہیں۔ آخر میں
رفیق احمد نقش کے ایک خط بنام بشیر عنوان کی
عکسی نقل ہے۔ خط کے انتخاب میں بےشک سمجھ
بوجھ اور تردد سے کام لیا گیا ہے۔ اس خط میں کئی
ایک خاص نوعیت کی باتیں کی گئی ہیں بل کہ انہیں
اصول کا نام دینا زیادہ مناسب ہو گا۔ مثل
میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں کہ انسان جس
قدر خود کؤ جانتا ہے' وہ دوسروں کے جاننے کی بہ
نسبت زیادہ مستند ہے۔ یہ بات عین ممکن ہے کہ
دوسرے ہم سے کہیں زیادہ ہمارے بارے میں جانتے
ہوں۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ اخباروں میں نام چھپنا' نشستوں
کی تعداد میں نام نہاد اضافہ وغیرہ معیار کی کمی کا
باعث ہے۔
اس خط میں' ایک ذاتی حوالہ بھی ہے' جو تین طرح
سے بڑے کام کا ہے۔
ان کی شدہ زندگی کیسی اور کس نوعیت کی تھی۔
ان کی زوجہ محترمہ کا مرحوم اور مرحوم کے
معاملت سے کتنا اور کس نوعیت کا عمل دخل تھا۔
مثالی جوڑے کی زندگی کیسی اور اس کے اطوار کس
نہج اور سطع کے ہونا چاہیں۔
خط کا یہ ٹکڑا ملحظہ فرمائیں۔
شادی نے میری زندگی میں ایک اطمینان بھر دیا ہے۔
ذکیہ سے بہتر ساتھی ملنا بےحد مشکل تھا۔ میں اب
اپنی بہنوں کے مستقبل کی طرف سے بےفکر ہوں۔ ان
کی تعلیم اور تربیت میں ذکیہ کردار ادا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔
بڑی بات یہ کہ ہم لوگ روایتی میاں بیوی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔
اب بھی اکثر لوگ ہمیں ساتھ دیکھ کر مشکل ہی سے
یقین کرتے ہیں کہ ہم دونوں رشتہء ازدواج میں
منسلک ہیں۔
ان تحریروں کے علوہ رفاقت علی شاہ کا مضمون۔۔۔۔
رفیق احمد نقش :بطور تدوین کار۔۔۔۔ اور اجمل کمال کا
ایک خط کتاب میں شامل ہیں۔ لسانیاتی حوالہ سے یہ
خط بڑے کام کا ہے۔
ڈاکٹر دانش کی یہ ادبی کاوش' قاری کو پہلی اور
آخری نظر میں' خوش آتی ہے۔ علمی و ادبی کام کرنے
والوں کے لیے' یہ کتاب عملی نمونے سے' کسی طرح
کم نہیں۔ میں ڈاکٹر دانش کے اس کام کو' قدر کی نگاہ
سے دیکھتا ہوں۔ ا ان کے ادبی ذوق کو برکت عطا
فرمائے۔
امانت کی ایک غزل ......فکری و لسانی رویہ
مخدومی و مرشدی حضرت قبلہ سید غلم حضور
حسنی المعروف بابا شکرا سرکار کے ذخیرہ ء کتب
سے' ایک مخطوطہ صفحات سولہ ' دستیاب ہوا ہے۔
اس میں ایک بتیس اشعار پر مشتمل غزل اور ایک
نظم' جس میں باسٹھ اشعار ہیں' دستیاب ہوئی ہے۔
غزل دیگر پرعنوان درج ہے' جس سے یہ کھلتا ہے'
کہ مواد اور بھی تھا اور وہ مواد' حوادث زمانہ کا
شکار ہو گیا۔ بابا جی مرحوم کے جو ہاتھ لگا' انہوں
نے محفوظ کر لیا۔ غزل والے آٹھ صفحات پر' صفحوں
کے نمبر درج نہیں ہیں' جب کہ نظم کے آٹھ صفحوں
پر صفحہ 13تا 20درج ہے۔ مخطوطے کی حالت
بڑی خستہ اور قابل رحم ہے .غزل کے مقطع میں'
امانت تخلص ہوا ہے' شاعر کا نام بھی امانت تھا یا یہ
محض ان کا تخلص تھا' ٹھیک سے کہا نہیں جا سکتا۔
ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے' کہ یہ صاحب شعیان
علی سے متعلق تھے۔ مقطع ملحظہ ہو۔
رکہا جنت میں امانت جو قدم حیدر نے
دوڑے جبرائیل یہ کہہکر میرا استاد آیا
کاغذ اور کتابت بتاتی ہے' کہ یہ مسودہ ایک سو پچاس
سال سے زیادہ' عمر رکھتا ہے۔ مضامین غزل کی
عمومی روایت سے متعلق ہیں۔ شاعر کی زبان رواں'
شایستہ اور شگفتہ ہے۔ کہیں کوئی ابہامی صورت
موجود نہیں۔ یہ ایک مربوط غزل ہے۔ اس میں' بیانیہ'
مخاطبیہ اور خود کلمی کا اسلوب تکلم ملتا ہے۔ آغاز
روح کے سفر سے ہوتا ہے' باقی اکتیس اشعار' کسی
ناکسی سطح پر' اس سفر سے مربوط سے محسوس
ہوتے ہیں۔
غزل کے پہلے چار اشعار میں یاد آیا باطور ردیف
استعمال ہوا ہے جب کہ باقی اٹھائیس اشعار میں آیا
کو ردیف بنایا گیا ہے۔ یاد کی صوت پر' الفاظ باطور
قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ اسے چار اشعار کی غزل
کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔
ملحظ ہو۔
روح کو راہ عدم میں میرا تن یاد آیا
دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا
چہچہے بہول گئے رنج و مہن یاد آیا
روح دیا میں نے قفس میں جو چمن یاد آیا