اردو میں مستعمل الفاظ
اندر روئے آہزاراندم کہ مے شرف بر جملہ آدم اگر
نقطہ عزازیل ہزاران سجدہ دمادم آدم منکشف جملہ
اسمائے ملئک اندران جا کسے کورا زبان بستہ حریم
قدس محرم نامے چند فصلے نوشتہ بر جبین عرش
اعظم نام را جانم بہ قربان نام دور پیہم خوشا نامے و
خوش صاحب نام بہ جز اسم اعظم بہ عشق دنیا و دین
مست اگر مستانہ آوازے بر آرم شرف در صورت عیان
دید جمال ل یزالی مسلم
آوازیں گرانے یا معمولی تبدیلی سے اردو میں داخل
ہونے والے الفاظ۔
جمالت بودش دانستے آوردے ماندہ ثنائش رود نامش
جمالت :تے گرانے سے جمال۔ جمال' اردو میں عام
استعمال کا لفظ ہے۔
روئے :ئے گرا دینے سے رو .روئے بھی مستعمل
ہے۔
بودش :بود' بود و باش
دانستے :دانست' دانستہ' مرکب دیدہ دانستہ
آوردے :آورد' آمد آورد دونوں اصطلحیں اردو
شاعری کے لیے مستعمل ہیں۔
ماندہ :پس ماندہ' درماندہ
ثنائش :ثناء
پاکش :شین گرانے سے پاک
رود :رود کوثر شیخ اکرام کی کتاب کا نام ہے۔
نامش :شین گرا دیں نام
تلمیحات' جو اردو میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔
آدم عزازیل سجدہ اسما ملئک حریم قدس عرش اسم
اعظم ل یزالی مسلم
سابقہ ل
ل یزالی :ل کا سابقہ اردو کے استعمال میں ہے۔ مثل
لیعنی لحاصل
امرجہ
دنیا حریم قدس عرش اعظم
اب کلم پڑھیں' اردو اور فارسی کو' قریب قریب کی
زبانیں' محسوس کریں گے۔
جمالت بود اندر روئے آدم
کہ مے بودش شرف بر جملہ آدم
اگر این نقطہ دانستے عزازیل
ہزاران سجدہ آوردے دمادم
بر آدم منکشف جملہ اسمائے
ملئک اندران جا ماندہ ابکم
کسے کورا زبان بر بستہ نبود
حریم قدس او را نیست محرم
چہ نامے ثنائش چند فصلے
نوشتہ بر جبین عرش اعظم
رود آن نام را جانم بہ قربان
کنم آں نام را من دور پیہم
خوشا نامے و خوش آن صاحب نام
بہ جز نامش نباشد اسم اعظم
بہ عشق او شود دنیا و دین مست
اگر مستانہ آوازے بر آرم
شرف در صورت پاکش عیان دید
جمال ل یزالی را مسلم
'''''''''''''''''''''
جدید
غالب کی ایک معروف غزل کے چار مصرعہءثانی
پیش ہیں' ردیف کے سوا باقی الفاظ' فارسی والوں کے
لیے غیر نہیں ہیں۔
ساما )ن صد ہزار نمک داں کئے ہوۓ
سا )ز چمن طراز )ی د®اماں کئے ہوئے
جاں نذر دل فریبی عنواں کئے ہوے
سر زیر با )ر من) -ت درباں کئے ہوئے
:غالب شاعر
.........
جدیدتر
علمہ طالب جوہری کے ان چاروں مصرعوں میں' تین
لفظوں :کی' میں اور ہو کے سوا کوئی لفظ فارسی
والوں کے لیے اجنبی نہیں ہو گا۔
اے فکر جواں! صفحہءدانش پہ رقم ہو
اے فرق گماں! علم کی دہلیز پہ خم ہو
اے خامہء جاں! دشت معنی میں علم ہو
اے طبع رواں! زیب دہ نون و قلم ہو
اب اس مصرعے کو دیکھیں اردو اور فارسی والوں
کے لیے غیر نہیں ہے۔
باسطوت افکار و بہ جوش معنی
:طالب جوہری شاعر
.........
جدید ترین
اب مہر افروز کے یہ مصرعے ملحظہ فرمائیں:
عشق ہے' خواب ہیں ،میرے دم ساز
ہے ہیں میرے
عشق خواب دم ساز
میری دیوانگی کی عمر دراز
میری کی
دیوانگی عمر دراز
ہوں عطا عشق کے نئے انداز
ہوں کے
عطا عشق نئے انداز
دش )ت بیچارگی میں گم آواز
میں
دش )ت بیچارگی گم آواز
شاعر :مہر افروز
دونوں زبانوں کا لسانیاتی اشتراک' نادانستہ طور پر
اور مستقل رویے پر انحصار کرتا ہے۔ غالب کا دور'
انگریز اور انگریز سے پہلے سے متعلق ہے۔ مغلیہ
عہد نام نہاد سہی' پرانی روش اور روایات سے متعلق
تھا۔ پرانی روایات برقرار تھیں۔ طالب جوہری' انگریز
کے آخری اور تقسیم ہند کے بعد سے تعلق کرتے ہیں'
جب کہ مہر افروز موجود یعنی تقسیم ہند کے بعد سے'
تعلق کرتی ہیں۔ ان کی زبان میں فارسی کا نام و نشان
تک نہیں ہونا چاہیے' لیکن ان کے ہاں استعمال میں
آنے والے لفظ' اہل فارسی کے لیے غیرمانوس اور
اجنبی نہیں ہوں گے۔ یہ لفظ ان کے ہاں آج بھی
مستعمل ہیں۔
اردو اور سعدی بلوچستان کے بلوچی کلم کا
لسانیاتی اشتراک
انسانی اصلح وفلح اور انسانوں کے باہمی خلوص و
اخلص کے رشتوں کی استواری کے لیے' انبیا کرام
اور صلحین تشریف لئے اور اس ذیل میں' مقدور
بھر کوششیں بھی کرتے رہے۔ ان کی ان تھک اور
بےحد کوششوں کے نتائج' ہمیشہ محدود رہے۔ انسان
ہے' کہ ہمیشہ ایک دوسرے کو کاٹ دینے میں'
مصروف رہا ہے۔ پیٹ بھر ملنے اور سیر حاصل
کھانے کے باوجود' اس کی آنکھ کی بھوک' کبھی ختم
نہیں ہو پائی۔ سب کچھ میسر ہوتے' ہےنہ کی مہلک
بیماری اسے لحق رہی ہے۔ ا کے احسانات کا
شکریہ ادا کرنے کی سوچ سے' یہ ہمیشہ کوسوں دور
رہا ہے۔ غیر تو غیر' یہ کبھی اپنوں کا نہیں بنا۔ اس
کے برعکس زبان جو صرف اس کے اپنے لیے نہیں'
بل کہ دوسروں سے رابطے کے لیے ہے' اس کی
طرح' محدود دائروں کی متحمل نہیں رہی ہے۔ وہ ہر
کسی کی اور اس کی مرضی و منشا کے مطابق' بنی
ہے۔ ہر طور کے اظہار کے معاملہ میں' ساتھ دیتی
آئی ہے۔
پیش نظر سطور میں' مولنا عبدا روانبد' جو سعدی
بلوچستان کے عرفی نام سے شہرہ رکھتے ہیں' کے
بلوچی کلم کا اردو کے ساتھ لسانیاتی اشتراک کے
حوالہ سے' مطالعہ کیا گیا ہے۔ مجھے اپنی کم علمی کا
شدت سے احساس ہے' احباب اس پہ نہ جائیں' میری
اس پرخلوص سعی پر نظر رکھیں کہ زبانیں ایک
دوسرے کے کتنا قریب ہیں اور ایک دوسرے کی قربت
کے حوالہ سے' بخل سے کام نہیں لیتیں۔ کیا انسان
اپنی زبان کے اس طور کو اختیار نہیں کر سکتا۔ ذاتی
مطلب بری کے لیے' کسی بھی سطع پر جا سکتا ہے۔
اس سے بڑھ کر' کوئی دوسرا بڑا مطلب کون سا ہو
سکتا ہے' کہ وہ ایک دوسرے کے قریب نہیں' قریب
ترین آ کر' ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں سانجھ
اختیار کرے۔
شعرے چہ مولنا عبدا روانبد' میں کل اکاسی اشعار
یعنی ایک سو باسٹھ' مصرعے ہیں۔ آغاز مصرعہ کے
پچاسی لفظ ایسے ہیں' جو اردو میں بھی مستعمل ہیں۔
یک' ھـﻤﺪل' دل' گلﻪ' مے' مھـﺮی' قافـلﻪ' سـﺮ' تﻮ' ھچ'
حق' آ کﻪ'علـﻢ' تـﺨﺘﻪ' ھﺮ' راہ' پiﺮ' گﻮں' آخﺮ' ﻇلـﻢ'
زور' حق' ﻇلـﻢ' فﻄﺮت' دایﻢ' کج' اشﺘﺮ' فﺮبھاں' لغﺮ'
فﺮبﻪ' اے' فﺮبﻪ' پر' لغﺮ' گﻮں' ھچ' گلہ' سنگ' اس'
سرباز' بﻨﺖ' کل' چاکﺮ' نامی' رھﺰنی' بےحیا' دسﺘـی'
چﻮڑا' گوں' دایﻢ' قومی' اژدھا' جنت' نےدل' زار'
ہرکس' رہ' ب -گی' دیﺮ' بار' کار' باز' بلکﻨا' گوش' بﺮ'
پﺸﺖ' تنگ' شال' ظلم' ھر' قدر' بیت' پر' توکل' حق
نوٹ :ایک سے استعمال میں آنے والے لفظ کاٹ دیے
گیے ہیں۔
اسی نظم کے پہلے مصرعے کے آخر میں استعمال
ہونے والے بیس لفظ اردو میں بھی مستعمل ہیں۔
ھـﻤﺪردی' کــﻮچ' مـﺤﺮوم' دنﯿا' گندم سے گﻨﺪیﻢ' خلق'
نامﯿﮟ' سﺮارے' سﯿاس' دلگﻮش' کﺲ' پﺮچے'
بلﻮچانی' گﺮدون' صﺒﺮ' زور' فﺮیاد' اسﺘﯿﻦ' سﺒﺰیﮟ' امﯿﺪ
باطور قافیہ استعمال ہونے والے سنتالیس الفاظ' اردو
میں عام استعمال کے ہیں۔
یار' دیـﺪار' اﻇـھار' بﯿـﺪار' بﯿـﺰار' سـالر' انـکار' حقﺪار'
بازار' آزار' بﯿﻤار' سﺮدار' زردار' تﺠار' بﯿگار' ایﺜار'
اقﺮار' دشﻮار' رفﺘار' بﺴﯿار' تﯿﻤار' انگار' عﯿار' مکار'
گفﺘار' آبﺪار' انﺒار' شلﻮار' خﻀﺪار' سﺮبار' کﺮدار'
مﻨکﺮ' بار' کار' بﯿﻤار' کھﺴار' پﺮخار' ناھــﻤﻮار' رھﻮار'
ناچار' مار' کار' آتﺸﺒار' سﺮگﻮار' ھار' گلﺰار' قھار
قافیہ کے چھے الفاظ میں آوازوں کا تبادل ہوا ہے یا
معمولی سے غور وفکر کے متقاضی ہیں۔
سﯿﻨگار' گـﺪار -غدار' بﯿﺖ گار' آوار.آوارہ'
شاکار.شاہکار' گﻤﺴار.غمسار
ان اکیاسی اشعار میں' اردو میں مستعمل یا مانوس
الفااظ کی فہرست ملحظہ ہو۔
یک' ھﻢ' حیالین یار' ھـﻤﺪل' ھـﻤﺼﺪق' سﺨﻦ' دل' پﺮ'
از' مھﺮ' قﻮمی' ھـﻤﺪردی ' پﻪ' قﺼـﺪ' دیـﺪار' وقﺘے' کﻪ'
دور' ھـﻤـﺪگﺮ' نﺸـﺖ' گلﻪ' اے' رنگ' اﻇـھار' تﻮ' بام'
نہ' بﯿـﺪار' دیﺮیﮟ' مــﺪتے' بﯿـﺰار' جـــﺮس آواز' کــﻮ )چ'
مھـﺮی' ماں' راہ' بﻨﺖ' قافـلﻪ' سـﺮ' سـالر' ھـﻢ' حـقے'
ملک' ھچ' کﺲ' حـق' ®انـکار' چﯿﺰے' بایﺪ' حق' جﻨﺖ'
حقﺪار' مـے' بلﻮچﺴﺘان' جﺰو' ایﺮان' آ کﻪ' دسﺖ'
کﻮتاہ' سﺮدسﺖ' خائﻦ' گـﺪ-ار' جﻮان' جﭧ' جاھﻞ' تﻨﺒﻞ'
رسﻮا' بﺮ سﺮ بازار' علـﻢ' فﺮھﻨگ' دانﺶ' مـﺤﺮوم'
تـﺨﺘﻪ' مﺸـق' حﯿلﻪ' آزار' دار' ھﺮ' گﻮر' بﯿﻤار' نام' راہ'
نﯿﻢ' بﯿﺖ'مﺮدم' ®جنگ' سﺮدار' ھﻤﺸام' زردار
لگﺮیﮟ'حـﻤال' ریﺶ' تـﺠﻮری' تﺠار' دھکان'
مـﺤﺼﻮل' آخﺮ' دوا' مﯿﺮ' وقﺖ' فﺮیاد' جﻮاب' قفﺲ'
شاھﯿـﻦ' کﺠا' کاراں' مﺜﻞ' اشﺘـﺮ' بﯿگار' آسـﻤان' ﻇلـﻢ'
ﻇلـﻤات' دنﯿا' عﺪل' ھــﻤﺖ' ایﺜار' زور' ) چﻢ کﻮر' گﻮش'
حق' پﻪ' آسانی' اقﺮار' پﯿﺶ' زبان' دراجی' ﻇلـﻢ' نادانی'
فﻄﺮت' خلق' فﻄﺮت' باز' بﯿﺖ دشﻮار' دایﻢ®' دنﯿای'
رواج' کج' چﺮﺥ' گﺮدش' رفﺘار' اشﺘﺮ' بﺴﯿار' فﺮبھاں'
کاہ' لغﺮ' تﯿﻤار' جﺴﺖ' تﻮ' حکﻤﺖ' جﻮاب' مﺮد'
بےمﺖ' بےسار' لغﺮ' دلگﻮش' فﺮبﻪ' انگار' سﯿاسﺖ'
پﺮ' عﯿار' جﻮ®' سﯿﺮ'ھابﯿﻞ' کﺲ' شﺘﻨﺖ' ماں' قابﯿلی'
مکار' کﯿا' فﺮیاد' کﺴی' گﻮشاں' قﻮماں' کﻨاں' بﺮات'
گفﺘار' دسﺖ' سﻨگ'بﻨﺪر' سﻨگ' شﯿﺸﻪ' آبﺪار' آس انﺒار'
سﺮباز' داں' سﺮحﺪ' حﺪ' بﻨﺖ' )گﻮریں' کﻞ' بلﻮچ' لﻮگ'
فﺮزنﺪ' شلﻮار' نے' ایﺮانی' حﺐ '-سﯿﺒی' خﻀﺪار' چاکﺮ'
گﻮھﺮ' بلﻮچاں' پﺮ' نامی' رھﺰن' اشﺮار' رھﺰنی'
سانﮉانی' گﻮر' ® عﯿﺐ' عار' بےحﯿا' بﺮات' دسﺘـی'
چﻮڑا' تامﺪار' دایﻢ' سﺮبار' رسﻢ' قﻮمی' مﺮدانی' کﺮدار'
اژدھا' گﻮر' نامﺮد' ® دل' جﻨﺖ' لﻮگ' حﯿا' رحﻢ' زار'
ھﺮکﺲ' کﻪ' اسلم' مﻨکﺮ' بلی' ماں' دریای' رہ' قﻮم'
گار' بﯿگﻮاہ' بگی' دیﺮ' بار' زیﺮ' کار' دوا' صﺒﺮ' باز'
بﯿﺖ' بﯿﻤار' بلکﻨا' گﺮدون' گﻮش' از' گﻮشﻪ' کھﺴار'
ھــﻤا'حﺪ' صﺒﺮ' بﺮ' کﻮہ' آب )ﺪ' -رپﺮ خار' پﺸﺖ' اے'
کﻮھاں' بﯿﺖ' آخﺮ' راہ' ناھــﻤﻮار' تﻨگ' راہ' رھﻮار'
شال' مﺪام' ھــﻢ نﺮﺥ' ﻇلـﻢ' ناچار' ھﺮ' وقﺖ' نﻮبﺖ'
جﻨﺖ' زور' مار' قﺪر' کار' گﺪا' بازار' ®جﻨﺖ' فﺮیاد '
بﯿﺖ' جﻮاب' تﻮپ' آتﺸﺒار' اسﺘﯿﻦ' کﻮہ' کﻮچگاں'
سﺮگﻮار' ھــﻤﺪسﺖ'ھار' بﻨﺖ' شاﺥ' بھارے' بﯿﺖ' جھان'
سﺒﺰ' خﺮم گلﺰار' امﯿﺪ®' تﻮکﻞ' پﻪ' ر -ب' واحﺪ'القھار'
حق' آواز' تﻮ' اگﺮ' نـﺌـے
بہت سے مصرعے اردو الفاظ پر مشتمل ہیں۔ مثل
مـے بلﻮچﺴﺘان جﺰو ایﺮان انﺖ
مے جﻮان ج -ﭧ و جاھﻞ و تﻨﺒﻞ
بے وت و رسﻮا بﺮ سﺮ بازار
علـﻢ و فﺮھﻨگ و دانﺶﺀمـﺤﺮوم
آ کﻪ سﺮدسﺖ أنﺖ خائﻦ و گـﺪار
تـﺨﺘﻪ مﺸـق انﺖ حﯿلﻪ و آزار
ﻇلـﻢ و ﻇلـﻤات ®ﺀ پﻮشﺘگ دنﯿا
ﻇلـﻢ و نادانی فﻄﺮت انﺖ خلق )ﺀ
کج رواجﯿﮟ چﺮﺥﺀ)گﺮدش و رفﺘار
اوشﺘﻨﺖ ماں قابﯿلی کﺶ ®ﺀ مکار
ھﺮکﺲ کﻪ اسلم ®ﺀ بﺒﯿﺖ مﻨکﺮ
فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار
زلیخا زینت ء ،یوسف جمالیں
صنوبر قدء ،سنبل خطء ،خالیں
قمر پیشانی ء ،بروان ھللیں
با' بے' نا' ہم اردو میں عام استعمال کے سابقے ہیں۔
مولنا عبدا کے ہاں' ان کا باطور نمونہ استعمال
ملحظہ ہو۔
با
ن® ¯ی ترا زیب)یت گشگ با فخر و شان
بے
درخش ایت ھمچو ماہ ء بےغبارء
بےحﯿا کﻪ پﭩﯿﺖ مات ﺀ) پﻨﺪولﺀ®
رہ iچﺸﯿﮟ قﻮم ﺀ) گار و بﯿگﻮاہ انﺖ
شنگ و شان ®گنت بار و ب ¯ی فک ®ر ¯ی چﻪ کوچ
نا
ایﺮ کﭙے ھﺴﺖ انﺖ سﺮکﭗﺀ® ناچار
ھﻢ
یک شـﭙے چﻨـﺪے ھﻢ حﯿالﯿﮟ یار
شال مﺪام ھــﻢ نﺮﺥ نﺒﯿﺖ گﻮں شار
ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪق و سﺨﻦ سﯿﻨگار
اب کچھ اردو لحقے ملحظہ ہوں' جو مولنا موصوف
کے کلم میں استعمال ہوئے ہیں۔
ﺒار
گﻨگ بﯿﺖ جﻮابﺀ® تﻮپ آتﺸﺒار
ﺪار
بایﺪ انﺖ حق ®ﺀ پﺪ بـﻪ جﻨﺖ حقﺪار
پﺮ گلے کﻨﺪیﺖ مﯿﺘگ )ﺀ سﺮدار
زار
توے شیرین مناں تی عاشقء زار
بﯿﺖ جھان سﺒﺰ و خﺮ-م و گلﺰار
ﺰن
نامی بﯿﺖ iدز -و رھﺰن و اشﺮار
ستان
مناں پروانہ توۓ شمع ء_ شبستان
دھن تی حقہ ء ،لب شکرستان
منء -اومان کنت تی کاکلستان
بھاریں باغ ء ،سرسبزیں گلستان
کار
طراز
نگارانی طراز بندیں رقم کار
گار
ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪق و سﺨﻦ سﯿﻨگار
ﻮار
مادنﯿﮟ راہ )ﺀ چﻨﻨﺖ رھﻮار
ژنﺪ بکﻨﺖ کﻮہ و کﻮچگاں سﺮگﻮار
اب حضرت مولنا صاحب کے کچھ مرکبات ملحظہ
فرمائیں' جو اردو والوں کے لیے نئے اور غیرمانوس
نہیں ہیں۔
لکیران رند ء ،قرطاسان بہ سینگار
بکش سنجیدھیں سطراں بہ قطار
علـﻢ و فﺮھﻨگ و دانﺶﺀمـﺤﺮوم
ن® ¯ی ترا زیب)یت گشگ با فخر و شان
نامی بﯿﺖ iد -ز و رھﺰن و اشﺮار
شنگ و شان ®گنت بار و ب ¯ی فک ®ر ¯ی چﻪ کوچ
کامیابی کار و کوشست® ¯ی ب® )رنت
ن® ¯ی ترا زی )بیت گشگ با فخر و شان
قیمتی جنسا مکن چو ستک و سوچ
فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار
زلیخا زینت ء ،یوسف جمالیں
فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار
بار ھــﻤا جﻮگﯿﻦ لﯿﮍو زیﺮ انﺖ
وقﺘے کﻪ دور ھـﻤـﺪگﺮ نﺸـﺖ انﺖ
تـﺨﺘﻪ مﺸـق انﺖ حﯿلﻪ و آزار
سعدی بلوچستان کے کلم میں' متعلق الفاظ کا
استعمال' کمال کی خوبی کا حامل ہے۔ مزے کی بات یہ
ہے' کہ وہ اردو والوں کے لیے اجنبی' نہیں ہیں۔ چند
مثالیں ملحظہ ہوں
قلم بیا لولو انگیزین گھر گوار
نگارانی طراز بندیں رقم کار
غزالے از غزالستانء تاتار
مثالء یوسفء مصری بہ بازار
قلم الماس ء ،قرطاسوں حریر انت
جنک ،رنگ ء ،رﺥء -بدرء منیر انت
شبء مھتابء ،شمسء خاور انت مئے
زلیخا زیب ء ،بدرء انور انت مئے
پدء سستیں منء ،گل پیکیرین ماہ
بہ صد افسوسء ،دردء ،نالہ ء ،آہ
دایﻢ ®ﺀ دنﯿای )ﺀ رواج ایﺶ انﺖ
کج رواجﯿﮟ چﺮﺥ )ﺀ گﺮدش و رفﺘار
بہت سی اشیا کے نام' اردو میں اسی نام سے' معروف
ہیں۔ مولنا صاحب کے ہاں ان کا استعمال ملحظہ ہو۔
سﻨگ و شﯿﺸگ چﻪ بﻨﺪر ®ﺀ سﯿاد انﺖ
پﺮوشﺘگ اے سﻨگ ®ﺀ شﯿﺸﻪ آبﺪار
داں جـــﺮس آواز نکﻨﺖ کــﻮچﺀ)
مھـﺮی ماں راہ ®ﺀ نﻪ بﻨﺖ کـﺘار
لگﺮیﮟ حـ -ﻤال )ﺀ کﻮڑہاں ریﺶ انﺖ
گﻮں تـﺠﻮری ®ﺀ وشﺪل انﺖ تﺠار
مﻦ جﻮاب داتگ کﻪ چﻮن کﻨاں بﯿلں
در قفﺲ شاھﯿـﻦ نکﻨﺖ ھﻨﺰار
داں جـــﺮس آواز نکﻨﺖ کــﻮچ )ﺀ
مھـﺮی ماں راہ ®ﺀ نﻪ بﻨﺖ کـﺘار
کئی عہدوں اور پیشہ ورانہ نام اردو اور بلوچی کے
ایک سے ہیں۔ مثل
قافـلﻪ چـﻮن چـﻮن کﭙﯿﺖ کﺸـک ®ﺀ
سـﺮ مکـﺸﯿـﺖ داں قـافلﻪ سـالر
دھکان کﻪ جانﺸﻮد انﺖ وتی ھﯿﺪاں
چہ آیی مـﺤﺼﻮل ®ﺀ کﭧ کﻨﺖ ھـﭙﺘار
چاکﺮ و گﻮھﺮام )ﺀ یلﯿﮟ پﺴگ
ن®ﯿلﻨﺖ ماں لنکﺒﻨﺪ )ﺀ بﺶ ﺀ® لﯿگار
قﺪر یک بﻤﺐ ھﺴﺘﻪ ای کﻨﺖ کار
دہ گﺪا بازار ﺀ® جﻨﻨﺖ فﺮیاد
بلوچی اور اردو میں' امرجہ کے نام ایک طور سے
استعمال میں آئے ہیں۔ مثل
ھراتء کوچگء ،بلخء ،بخارا
نہ در چین ء ،نہ کشمیر ء ،نہ کابل
نہ ایرانء ،نہ تورانء ،نہ زابل
مـے بلﻮچﺴﺘان جﺰو ایﺮان انﺖ
اردو کی طرح 'بلوچی میں بھی جمع بنانے کے لیے'
اں' وں' یں کے لحقوں سے' کام لیا جاتا ہے۔ مثل
اں
بکش سنجیدھیں سطراں بہ قطار
دلون دلدار گیسواں اسیر انت
لکیران رند ء ،قرطاسان بہ سینگار
وں
قلم الماس ء ،قرطاسوں حریر انت
یں
طلئیں مورت ء ،شش کالکیں گور انداز
طلئیں مورت ء ،شش کالکیں گور انداز
بھاریں باغ ء ،سرسبزیں گلستان
عطارد پیکر ء ،زھرہ مثالیں
شکر بچکندگء ،طوطی مقالیں
صنوبر قدء ،سنبل خطء ،خالیں
ین
فرشتہ صورتین فرخندہ دیدار
بلوچی میں بھی' جمع الجمع بنانے کا طور موجود ہے۔
مثل
حرف سے حروف اور حروف سے حروفان
حروفان رد بکن چو درء شاھوار
تلمیحات
بلوچی اور اردو کی تلمیحات الگ سے نہیں ہیں .ان
کے اسستعمال کا چلن اور رویہ' ایک سا ہے۔ مثل
گناھان وت بگوش استغفر ا
تعالی ا عجب خوبین جمالے
نھ ملکء قیصر ء ،فغور ء ،دارا
مثالء یوسفء مصری بہ بازار
زلیخا زینت ء ،یوسف جمالیں
عطارد پیکر ء ،زھرہ مثالیں
توے شیرین مناں تی عاشقء زار
چو فرھادء -مدام رنجور ء ،بیمار
کپودر آخرء بیت گوں منء رام
صنوبر صورتیں سروء گل اندام
تشبیہات کے استعمال کا انداز' بلوچی اور اردو کا
حیرت ناک مماثلت کا حامل ہے۔ باطور نمونہ چند ایک
مثالیں ملحظہ ہوں۔
صنوبر صورتیں سروء گل اندام
طلئیں مورت ء ،شش کالکیں گور انداز
قمر پیشانی ء ،بروان ھللیں
لذیذیں کندگء ،بلقیسی گفتار
مناں پروانہ توۓ شمع ء شبستان
دھن تی حقہ ء ،لب شکرستان
اردو شاعری میں عموما پانچ اطوار :بیانیہ' حکایتی'
خطابیہ استفساری اور تمثالی ملتے ہیں۔ سعدی
بلوچستان کے ہاں' یہ پانچوں اطوار ملتے ہیں۔ مثل
بیانیہ
جﻨﺠﺮے آسـﻤان ﺀ® نـﻪ جﻨﺖ اسﺘار
ﻇلـﻢ و ﻇلـﻤات ®ﺀ پﻮشﺘگ دنﯿا
چﯿﺮی چﺖ عﺪل و ھــﻤﺖ و ایﺜار
زورﺀ)چﻢ کﻮر و گﻮش سﯿﻪ چiﭙﺖ انﺖ
حق ®ﺀ پﻪ آسانی نکﻨﺖ اقﺮار
ج®ﻮ تﺮا دنﺖ و پﯿﺶ کﻨﺖ گﻨﺪیﻢ
گﻮں زبان دراجی کﻨﺖ تﺮا بﯿﻮار
ﻇلـﻢ و نادانی فﻄﺮت انﺖ خلق )ﺀ
فﻄﺮتﺀ) سﻨﺪگ باز بﯿﺖ دشﻮار
دایﻢ ®ﺀ دنﯿای ﺀ) رواج ایﺶ انﺖ
کج رواجﯿﮟ چﺮﺥ )ﺀ گﺮدش و رفﺘار
حکایتی
یک شـﭙے چﻨـﺪے ھﻢ حﯿالﯿﮟ یار
ھـﻤﺪل و ھـﻤﺼﺪق و سﺨﻦ سﯿﻨگار
دل پﺮ از مھﺮ iﺀ قﻮمی ھـﻤﺪردی
آتک انﺖ پﻪ قﺼـﺪ گﻨﺪک و دیـﺪار
وقﺘے کﻪ دور ھـﻤـﺪگﺮ نﺸـﺖ انﺖ
گلﻪ اش اے رنگ ®ﺀ کﺘـگ اﻇـھار
خطابیہ
در قفﺲ شاھﯿـﻦ نکﻨﺖ ھﻨﺰار
مﻦ کﺠا اے کاراں کﭙاں باریﻦ
اے سﯿاسﺖ چﻪ بiﻨﺪرﺀ® گﻮن انﺖ
پﺮ ھــﻤے رھﺒﻨﺪﺀ® رونﺖ عﯿار
سﻨگ و شﯿﺸگ چﻪ بﻨﺪر ®ﺀ سﯿاد انﺖ
پﺮوشﺘگ اے سﻨگ ﺀ® شﯿﺸﻪ آبﺪار
استفساری
یکی ®ﺀجﺴﺖ کﺖ ای چﻪ ا®سﺮارے؟
تﻮ بگﻮش چے انﺖ حکﻤﺖ اے کار؟
تمثالی و تشبیہی
جنک دوست انت منء آھو غزالیں
منیریں مشتری بدرالکمالیں
زلیخا زینت ء ،یوسف جمالیں
قمر پیشانی ء ،بروان ھللیں
عطارد پیکر ء ،زھرہ مثالیں
شکر بچکندگء ،طوطی مقالیں
عربی کے اردو پر لسانیاتی اثرات ایک جائزہ
حاکم زبانیں' محکوم علقوں کی زبانوں اور بولیوں
پر' اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہاں البتہ' انہیں محکوم زبانوں
اور بولیوں کے نحوی سیٹ اپ کو' ابنانا پڑتا ہے۔ ان
کے بولنے والوں کا لہجہ' اندازتکلم' اظہاری اطوار
اور کلم کی نوعیت اور فطری ضرورتوں کو بھی'
اختیار کرنا پڑٹا ہے۔ یہ ہی نہیں' معنویت کے پیمانے
بھی بدلنا پڑتے ہیں۔ اس کے سماجی' معاشی اور
سیاسی حالت کے زیر اثر ہونا پڑتا ہے۔ شخصی اور
علقائی موسموں کے تحت' تشکیل پائے' آلت نطق
اور معاون آلت نطق کو بہرصورت' مدنظر رکھنا پڑتا
ہے۔ قدرتی ' شخصی یا خود سے' ترکیب شدہ ماحول
کی حدود میں رہنا پڑتا ہے۔ نظریاتی' فکری اور مذہبی
حالت و ضرورت کے زیراثر رہنا پڑتا ہے۔ اسی طرح'
بدلتے حالت' نظرانداز نہیں ہو پاتے۔ یہ بات پتھر پر
لکیر سمجھی جانی چاہیے' کہ لفظ چاہے حاکم زبان
ہی کا کیوں نہ ہو' اسے استعمال کرنے والے کی ہر
سطع پر' انگلی پکڑنا پڑتی ہے' باصورت دیگر' وہ لفظ
اپنی موت آپ مر جائے گا۔
عربی بڑا بعد میں' برصغیر کی حاکم زبان بنی۔
مسمانوں کی برصغیر میں آمد سے بہت پہلے'
برصغیر والوں کے' عربوں سے مختلف نوعیت کے
تعلقات استوار تھے۔ یہ تعلقات عوامی اور سرکاری
سطح پر تھے۔ عربوں کو برصغیر میں' عزت اور قدر
کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ عربوں نے' یہاں گھر
بسائے۔ ان کی اولدیں ہوئیں۔ دور امیہ میں سادات
اوران کے حامی یہاں آ کر آباد ہوئے۔ 44ھ میں
زبردست لشکرکشی ہوئی۔ ناکامی کے بعد' بچ رہنے
والے بھی' یہاں کے ہو کر رہ گیے۔ محمد بن قاسم
اوراس کے بعد' برصغیر عربوں کا ہو گیا۔ اس سارے
عمل میں' جہاں سماجی اطوار درآمد ہوئے' وہاں عربی
زبان نے بھی' یہاں کی زبانوں اور بولیوں پر' اپنے
اثرات مرتب کیے۔ یہ سب' لشعوری سطح پر ہوا اور
کہیں شعوری سطح پر بھی ہوا۔ دوسری سطح' لسانی
عصبیت سے تعلق رکھتی ہے۔
مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور المعروف
باباجی شکرا کی باقیات میں سے' تفسیرالقران
بالقران کی تین جلدیں دستیاب ہوئیں۔ اس کے مولف
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ایم بی ہیں۔ اسے مطبح عزیزی
مقام تراوڑی ضلع کرنال نے' بااہتمام فتح محمد خاں
منیجر 1901ء میں شائع کیا۔ اسے دیکھ کر' ازحد
مسرت ہوئی۔ یک دم خیال کوندا' کیوں نہ اس کی زبان
کے' کسی حصہ کو' عصری زبان کے حوالہ سے
دیکھا جائے۔ اس کے لیے میں نے' سورت فاتحہ کا
انتخاب کیا۔ تفسیر کی زبان کے دیگر امور پر' بعد ازاں
گفتگو کرنے کی جسارت کروں گا' سردست عربی کے
اردو پر لسایاتی اثرات کا جائزہ لینا مقصود ہے۔
تسمیہ کے الفاظ میں سے' اسم' ا' رحمن اور رحیم
رواج عام میں داخل ہیں اور ان کا' باکثرت استعمال
ہوتا رہتا ہے۔
سورت فاتحہ میں :حمد' ل' رب' عالمین' رحمن' رحیم'
ملک' یوم' دین' عبد' صراط' مستقیم' نعمت' مغضوب'
' ضالین ....غیر' و' ل' علیہ ایسے الفاظ ہیں' جو اردو
والوں کے لیے غیر مانوس نہیں ہیں۔ علما نے ان کا
ترجمہ بھی کیا ہے۔ ترجمہ کے الفاظ' اردو مترفات کی
حیثت رکھتے ہیں۔
اسم' کسی جگہ' چیز' شخص یا جنس کے نام کو کہا
جاتا ہے۔ یہاں بھی نام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی
.ا کے نام سے
تکیہءکلم بھی ہے' کوئی گر جائے یا گرنے لگے' تو
بےساختہ منہ سے بسم ا نکل جاتا ہے۔
حمد' اردو میں باقاعدہ شعری صنف ادب ہے اور ا
کی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی' مولوی محمد جونا گڑھی' شاہ
عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی سید مودودی' مولوی
اشرف علی تھانوی اور سعودی ترجمہ تعریف کیا گیا
ہے۔
کے لیے بھی مخصوص ہے اور رواج عام میں ہے۔
تعریف definition
کہا جاتا ہے' درج ذیل اصناف کی تعریف کریں اور دو
دو مثالیں بھی دیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں' حمد
کے لیے' لفظ ستائش استعمال کیا ہے۔ لفظ ستائش
ردو میں مستعمل ہے۔
مولوی فیروزالدین ڈسکوی نے' خوبیاں ترجمہ کیا
ہے۔
گویا حمد کو برصغیر میں تعریف ستائش اور خوبیاں
کے معنوں میں لیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے ترجمے میں بھی حمد کے لیے
تعریف مترادف لیا گیا ہے۔
قمر نقوی کے ہاں اس کے استعمال کی صورت
:دیکھیں
میں تیری حمد لکھنا چاہتا ہوں
جو نامکن ہے کرنا چاہتا ہوں
تری توصیف۔۔۔۔اک گہرا سمندر
سمنر میں اترنا چاہتا ہوں
قمر نقوی نے اس کے لیے مترادف لفظ توصیف دیا
ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ص 23پر' ایک شعر میں
:لفظ حمد کا استعمال کچھ یوں کیا ہے
حمد الہی پر ہیں مبنی سب ترقیات روح
اس سے ہی پیدا ہوتی ہیں ساری تجلیات روح
ل کو' ا کے لیے' کے معنوں میں سب نے لیا ہے۔
فارسی میں شاہ ولی ا دہلوی نے برائے ا' ترجمہ
کیا۔ یہ بھی ا کے لیے' کے مترادف ہے۔
ل' باطورتکیہءکلم رائج ہے۔
ا کے لیے' باطورتکیہءکلم بھی رواج میں ہے۔
خدا کے لیے' خفگی یا غصے کی حالت میں اکثر بول
جاتا ہے۔ مثل
خدا کے لیے چپ ہو جاؤ۔
خدا کے لیے' استدعا کے لیے بھی بول جاتا ہے۔ مثل
خدا کے لیے اب مان بھی جاؤ۔
:رب
ڈاکٹرعبدالحکیم خان نے ترجمہ رب ہی ترجمہ کیا ہے۔
مولوی محمد فیروزالدین ڈسکوی نے بھی رب کے
ترجمہ میں رب ہی لکھا ہے۔
یہ لفظ عام استعمال میں آتا۔ مثل
وہ تو رب ہی بنا بیٹھا ہے۔
بندہ کیا دے گا' رب سے مانگو
توں رب ایں۔۔۔۔۔۔ باطور سوالیہ
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی' مولوی محمد جوناگڑھی'
مولوی فرمان علی نے پالنے وال ترجمہ کیا ہے
سعودی ترجمہ بھی پالنے وال ہے۔
مولوی اشرف علی تھانوی نے مربی مترادف درج کیا
ہے۔ مربی پالنے والے ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مہربان' خیال رکھنے والے' توجہ دینے والے' کسی
قریبی کے لیے بولنے اور لکھنے میں مربی آتا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی بشیر احمد لہوری نے
رب کا ترجمہ پروردگار کیا ہے۔
پروردگار' ذرا کم' لیکن بول چال میں شامل ہے۔
گویا اردو میں یہ لفظ غیر مانوس نہیں۔
علمین' عالم کی جمع ہے۔ ہر دو صورتیں' اردو میں
مستعمل ہیں۔ پنجاب کی سٹریٹ لنگوئج میں زبر کے
ساتھ بول کر' مولوی صاحب یا علم دین جاننے وال
مراد لیا جاتا ہے۔
جہان بھی مراد لیتے ہیں۔
قرآن مجید کو دو جہانوں کا بادشاہ بول جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' علمین کا جہانوں ترجمہ کیا
ہے۔
مولوی محمد جوناگڑھی کے ہاں اور سعودی ترجمہ
بھی جہانوں ہوا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور مولوی
فرمان علی نےسارے جہانوں ترجمہ کیا ہے۔
مولوی اشرف علی تھانوی نے ہر عالم ترجمہ کیا ہے۔
مولوی بشیر احمد لہوری نے کل دنیا' مولوی مودودی
نے کائنات' جب کہ شاہ ولی ا کے ہاں فارسی میں
عالم ہا ترجمہ ہوا
ترجمے سے متعلق تمام الفاظ' اردو میں مستعل ہیں۔ ہا
رواج میں نہیں رہا' ہاں البتہ ہائے رواج میں ہے۔
جیسے انجمن ہائے امداد باہمی
اردو بول چال میں عالموں' عالماں بھی پڑھنے سننے
میں آتے ہیں۔
نام بھی رکھے جاتے ہیں۔ جیسے عالم شاہ' نور عالم
باطور ٹائیٹل بھی رواج میں ہے۔ جیسے فخر عالم' فخر
دو عالم
لفظ رحمن' عمومی استعمال میں ہے۔ نام بھی رکھے
جاتے ہیں۔ مثل
عبد الرحمن' عتیق الرحمن فیض الرحمن' فضل الرحمن
.وغیرہ
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحمن کا ترجمہ' لفظ کے
عمومی بول چال میں مستعمل ہونے کے سبب' رحمن
ہی کیا ہے۔
مولوی سید مودودی نے بھی' رحمن کا ترجمہ رحمان
ہی کیا ہے۔
مولوی محمد فیروزالدین نے' رحمن کا ترجمہ مہربان
کیا ہے۔
مولوی محمد جونا گڑھی کے ہاں' رحمن کا ترجمہ'
بخشش کرنے وال ہوا ہے۔
شاہ ولی ا نے' فارسی ترجمہ بخشایندہ کیا ہے' جو
بخشش کرنے وال ہی کا مترادف ہے۔ بخشایندہ اردو
میں مستعمل نہیں تاہم بخشنے وال' بخش دینے وال'
بخشش کرنے وال' بخشن ہار وغیرہ غیر مانوس نہیں
ہیں۔
بخشیش خیرات کے لیے بھی' بول جاتا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی
احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی نے رحمن کا ترجمہ مہربان کیا ہے۔
سعودی ترجمہ بھی مہربان ہے۔
لفظ رحیم' اردو میں غیر مانوس نہیں۔ اشخاص کے نام
بھی رکھے جاتے ہیں .جیسے عبدالرحیم۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے رحیم کا
ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔ مولوی سید مودودی نے بھی'
اس کا ترجمہ رحیم ہی کیا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی
احمد رضا خاں بریلوی' مولوی بشیر احمد لہوری'
مولوی فرمان علی' مولوی محمد فیروزالدین نے رحم
وال ترجمہ کیا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی اور مولوی محمد جونا گڑھی نے
رحیم کا ترجمہ مہربان کیا ہے۔
لفظ مالک' ملکیت والے کے لیے' عام بول چال میں
ہے .جیسے مالک مکان یا وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک
ہے۔ بیشتر ترجمہ کنندگان نے' اس کا ترجمہ مالک ہی
کیا ہے۔ ہاں مولوی فرمان علی نے اس کا ترجمہ حاکم
کیا ہے۔اشخاص کے نام بھی' سننے کو ملتے ہیں.
مثل عبدالمالک' محمد مالک
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں' مولوی محمد جونا گڑھی'
مولوی فیروز الدین' مولوی اشرف علی تھانوی' شاہ
عبدالقادر' مولوی احمد رضا خاں بریلوی' مولوی سید
مودودی نے اس کا ترجمہ مالک ہی کیا ہے۔ سعودی
ترجمہ بھی مالک ہی ہے۔ اس سے باخوبی اندازہ کیا
جا سکتا ہے کہ لفظ مالک کس قدر عرف عام میں
ہے۔
لفظ یوم' عام استعمال کا ہے۔ مرکب استعمال بھی
سننے کو ملتے ہیں۔ مثل یوم آزادی' یوم شہدا' یوم
عاشورہ' یوم حج وغیرہ
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے' یوم کا ترجمہ یوم ہی کیا
ہے۔ مولوی سید مودودی نے بھی یوم کا ترجمہ یوم
ہی کیا ہے۔
مولوی فیروز الدین' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی
.بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ دن کیا ہے
سعودی ترجمہ بھی دن ہی ہوا ہے۔
شاہ ولی ا' شاہ عبدالقادر' مولوی اشرف علی
تھانوی' مولوی احمد رضا خاں بریلوی' مولوی فرمان
علی نے یوم کا ترجمہ روز کیا ہے۔
لفظ دین' مذہب کے معنوں میں عام استعمال کا ہے۔
مرکب بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثل دین محمدی' دین
اسلم' دین دار' دین دنیا وغیرہ
ناموں میں بھی مستعمل ہے۔ مثل احمد دین' دین محمد'
چراغ دین امام دین وغیرہ
دین دار ایک ذات اور قوم کے لیے بھی مخصوص ہے۔
دین کے معنی رستہ بھی لیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عدالحکیم خاں نے' اس لفظ کو' جزا کے معنوں
میں لیا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی سید
مودودی' مولوی اشرف علی تھانوی' مولوی احمد
رضا خاں بریلوی' مولوی فرمان علی نے لفظ دین کو
جزا کے معنوں میں لیا ہے۔
مولوی محمد جونا گڑھی نے' لفظ دین کا ترجمہ
قیامت کیا ہے۔
مولوی محمد قیروز الدین اور مولوی بشیر احمد
لہوری نے' لفظ دین کو انصاف کے معنوں میں لیا
ہے۔
سعودی ترجمے میں' اس کا ترجمہ بدلے کا' جب کہ
قوسین میں قیامت درج ہے' معنی لیے گیے ہیں۔
لفظ عبد' اردو میں عمومی استعمال کا نہیں' تاہم
اشخاص کے ناموں میں باکثرت استعمال ہوتا ہے۔ مثل
عبدا' عبدالقادر' عبداعزیز' عبدالکریم' عبدالرحمان'
عبدالقوی وغیرہ
نعبد کا ڈاکٹر عبدالحکیم' مولوی فیروز الدین' مولوی
محمد جونا گڑھی' مولوی سید مودودی' مولوی فرمان
علی' مولوی اشرف علی تھانوی نے ترجمہ عبادت کیا
ہے۔
سعودی ترجمے میں بھی معنی عبادت لیے گیے ہیں۔
مولوی احمد رضا خان نے پوجھیں ترجمہ کیا ہے۔
شاہ عبدالقادر اور مولوی بشیر احمد لہوری نے بندگی
معنی دیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں می
پرستیم معنی دیے ہیں۔ لفظ پرست' پرستی' پرستش
اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں ہیں' بلکہ بول چال
میں موجود ہیں۔
لفظ صراط' اردو میں عام استعمال کا نہیں' لیکن غیر
مانوس بھی نہیں۔ مرکب پل صراط عام بولنےاور
سننے میں آتا ہے۔ لوگ اس امر سے آگاہ نہیں' یہ دو
الگ چیزیں ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور مولوی سید
مودودی نے' اسے رستہ کےمعنی دیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی' شاہ عبدالقادر' مولوی محمد
فیروزالدین' مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر
احمد لہوری اور مولوی فرمان علی نے صراط کا
ترجمہ راہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ بھی راہ ہی ہوا ہے۔
لفظ مستقیم' عمومی استعمال میں نہیں۔ نام کے لیے
استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ جیسے محمد مستقیم
اسی طرح' خط مستقیم جیویٹری کی اصطلح سننے
میں آتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی احمد رضا خاں بریلوی' اور مولوی سید
مودودی نے' سیدھا ترجمہ کیا ہے۔
صراط مستقیم بمعنی سیدھا رستہ
مولوی محمد جونا گڑھی' مولوی بشیر احمد لہوری
اور مولوی فرمان علی نے سیدھی ترجمہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ بھی سیدھی ہوا ہے لیکن قوسین میں
سچی درج کیا گیا ہے۔
صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ
شاہ ولی ا دہلوی نے' اس کے لیے لفظ راست
استعمال کیا ہے۔
صراط مستقیم یعنی راہ راست
انعمت' نعمت سے ہے۔ لفظ نعمت' بولنے اور لکھنے
پڑھنے میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ پنجابی میں اسے
نیامت روپ مل گیا ہے۔
نام بھی رکھے جاتے ہیں جیسے نعمت علی' نعمت ا
ڈاکٹر عبدالحکیم خان' مولوی اشرف علی تھانوی'
مولوی محمد جونا گڑھی اور مولوی سید مودودی نے'
اس کا انعام ترجمہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ میں بھی انعام استعمال میں آیا ہے۔
شاہ عبدالقادر' مولوی محمد فیروزالدین اور مولوی
بشیر احمد لہوری نے اس کا ترجمہ فضل کیا ہے۔
مولوی فرمان علی نے نعمت' احمد رضا خاں بریلوی
نے احسان' جب کہ شاہ ولی ا دہلوی نے اسے اکرام
معنی دیے ہیں۔
انعام و اکرام عمومی استعال کا مرکب ہے۔
مغضوب' اردو میں استعمال نہیں ہوتا' تاہم اس کا روپ
غضب' اردو میں عام استعمال ہوتا ہے۔ مولوی محمد
فیروزالدین' مولوی بشیر احمد لہوری' مولوی محمد
جونا گڑھی' مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور مولوی
فرمان علی نے غضب کے معنی لیے ہیں۔
سعودی ترجمہ میں بھی غضب مراد لیا گیا ہے۔
شاہ عبدالقادر نے غصہ' جب کہ مولوی سید مودودی
نے عتاب معنی لیے ہیں۔
شاہ ولی ا دہلوی نے' اپنے فارسی ترجمہ میں خشم
معنی لیے ہیں۔
ضالین' ضللت سے ہے۔ اردو میں یہ لفظ' عام بول
چال میں نہیں۔ ہاں البتہ ذللت عمومی استعمال میں
ہے۔ ضللت لکھنے میں آتا رہا ہے۔
شاہ عبدالقادر اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے گمراہ'
مولوی محمد جونا گڑھی ' مولوی محمد فیروزالدین'
مولوی بشیر احمد لہوری اور مولوی فرمان علی نے
گمراہوں ترجمہ کیا ہے۔
مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے بہکنا معنی مراد
لیے ہیں۔
مولوی سید مودودی نے' بھٹکے ہوئے ترجمہ کیا ہے۔
سعودی ترجمہ گمراہی ہوا ہے۔
شاہ ولی ا دہلوی نے گمراہان ترجمہ کیا ہے۔
ان کے علوہ' چار لفظ اردو میں باکثرت استعمال
ہوتے ہیں
علیہ :کلمہء احترام کے دوران' جیسے حضرت داؤد
علیہ اسلم........مدعا علیہ' مکتوب علیہ وغیرہ
غیر :نہی کا سابقہ ہے' جیسے غیر محرم' غیر ارادی'
غیر ضروری' غیر منطقی وغیرہ
ل :نہی کا سابقہ ہے' جیسے لحاصل' لعلم' ل یعنی'
لتعلق وغیرہ
و :و اور کے معنی میں مستعمل چل آتا ہے۔ مثل
شب و روز' رنگ ونمو' شعر وسخن' قلب ونظر
وغیرہ
کمشنر و سپرنٹنڈنٹ' منیجر و پرنٹر وغیرہ
درج بال ناچیز سے جائزے کے بعد' یہ اندازہ کرنا
دشوار نہیں رہتا' کہ عربی نے اردو پر کس قدر گہرے
اثرات مر تب کیے ہیں۔ مسلمانوں کا حج اور کئی
دوسرے حوالوں سے' اہل عرب سے واسظہ رہتا
ہے۔ اس لیے مختلف نوعیت کی اصطلحات کا' اردو
میں چلے آنا' ہر گز حیرت کی بات نہیں۔ روزمرہ کی
گفت گو کا' تجزیہ کر دیکھیں' کسی ناکسی شکل میں'
کئی ایک لقظ نادانسہ اور اظہاری روانی کے تحت'
بولے چلے جاتے ہیں۔ مکتوبی صورتیں بھی' اس سے
مختلف نہیں ہیں۔
مکرمی حسنی صاحب :سلم مسنون
آپ ادھر کچھ عرصہ سے اردو انجمن میں نظرنہیں
آرہے ہیں۔ آپ کو ایک خط بھی لکھ چکا ہوں۔ ا سے
دعا ہے کہ آپ بعافیت ہوں اور انجمن کو بھولے نہ
ہوں۔ میں زندگی کی تگ ودو میں ایسا گرفتار رہا کہ
آپ کی تخلیقات کی جانب رﺥ نہ کرسکا ،نادم ہوں۔
سوچاکہ اب آیا ہوں تو آپ کے پچھلی تحریریں دیکھ
لوں۔ سو آج عربی زبان کے اردو پر اثرات سے متعلق
یہ مضمون دیکھ رہا ہوں اور عش عش کر رہا ہوں۔
ویسے دیکھنے میں یہ مضمون آسان معلوم ہوتا ہے
کہ چند کتابیں دیکھ کر ان سے کچھ باتیں اخذ کر لی
جائیں تو مضمون ہوجاتا ہے لیکن یہ تو لکھنے وال
ہی جانتا ہے کہ اسیے مقالے کی تشکیل میں کیا کیا
پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ،کیسی دماغ سوزی کرنا ہوتی
ہے اورکس طرح اپنے کام کی باتوں کو مرتب کرکے
قاری کو پہنچانا پڑتا ہے۔ سبحان ا! کیا خوب تحریر
ہے۔ آپ نے جس دلسوزی سے یہ کام کیا ہے اس کا
اجر تو ا ہی دے گا۔ہم نا اہل بندے تو صرف اس سے
مستفید ہی ہوسکتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ ایسا
کام کرنے کی توفیق اور اہلیت ہم کوبھی حاصل ہو۔
آمین۔ آپ کی محنت اور آپ کاعلم اپنے جواب آپ ہی
ہیں۔ لکھتے رہئے۔ انشا ا فائدہ اٹھانے والے ہمیشہ
آپ کو اپنی دعائے خیر میں یاد رکھیں گے۔
سرور عالم راز
رحمان بابا کی شعری زبان کا اردو کے تناظر میں
لسانی مطالعہ
باغ میں سو طرح کے پودے ہوتے ہیں۔ ہر پودے کا
اپنا رنگ ڈھنگ' طور اور معنویت ہوتی ہے۔ ہر پودے
کے پھول ناصرف ہیت الگ سے رکھتے ہیں' ان کی
خوش بو بھی دوسروں سے' الگ تر ہوتی ہے۔ مالی
کے لیے' کوئی پودا معنویت سے تہی نہیں ہوتا۔ اسی
طرح' باغ بھی ان سو طرح کے پودوں کی وجہ سے'
باغ کہلتا ہے۔ یہ رنگا رنگی ہی' اس کے باغ ہونے
کی دلیل ہے۔ انہیں بہرصورت' باغ کا حصہ ہی بنے
رہنا ہوتا ہے۔
انسان بھی' ایک پودے کے مماثل ہے' جو انسانوں
کے ہجوم میں زندگی کرتا ہے' بالکل باغ کے پودوں
کی طرح' اس باغ میں بھی مختلف رنگ' نسلوں اور
مزاجوں کے لوگ آباد ہیں۔ ہر رنگ' ہر نسل اور قوم کا
شخص زندگی کے باغ کے حسن اور معنویت کا سبب
ہے۔ کسی ایک کی غیرفطری موت' اس کے حسن اور
معنویت کو گہنا کر رکھ دیتی ہے۔ جب یہ ایک صف
میں کھڑے' ا کے حضور حاضری کا شرف حاصل
کرتےہیں' تو مخلوق فلکی بھی' عش عش کر اٹھتی
ہے۔ جب کسی ہوس یا برتری کے زعم میں' اپنے
سے' کسی کی گردن اڑاتے ہیں' تو ابلیس جشن مناتا
ہے۔
یہ امر ہر کسی کے لیے' حیرت کا سبب ہو گا' کہ
زبانیں جو انسان کی ہیں اورانسان کے لیے ہیں' ایک
دوسرے سے قریب ہونے سے' پرہیز نہیں رکھتیں۔
دشمن قوموں کی زبانوں کے لفظوں کو' اپنے
ذخیرہءالفاظ میں داخل ہونے سے' منع نہیں کرتیں۔
وہ انہیں اپنے دامن میں اس طرح سے جگہ دیتی ہیں'
جیسے وہ لفظ اس کے قریبی رشتہ دار ہوں اور ان
سے' کسی سطح پر چھوٹ ممکن ہی نہ ہو۔ زبانیں
کسی مخصوص کی تابح فرمان نہیں ہوتیں۔ جو' جس
نظریہ اور مسلک کا ہوتا ہے' اس کا ساتھ دیتی ہیں۔
ا جانے' انسان تفریق و امتیاز سے' اٹھ کر' انسان
کے دکھ سکھ کا ساتھی کیوں نہیں بنتا۔ سیری اور
سکھ اپنے لیے' جب کہ بھوک پیاس اور دکھ دوسروں
کے کھیسے میں ڈال کر' خوشی محسوس کرتا ہے۔ ان
سے تو ایک درخت اچھا ہے'جوخود دھوپ میں کھڑا
ہوتا ہے اور جڑیں کاٹنے والوں کو بھی' سایہ فراہم
کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔
مخدومی و مرشدی حضرت سید غلم حضور المعروف
باباجی شکرا کی باقیات میں سے' پشتو زبان کے
عظیم صوفی شاعر حضرت رحمان بابا صاحب کا دیوان
مل ہے .یہ کاقی پرانا ہے۔ اس کے ابتدائی 28صفحے
پھٹے ہوئے ہیں۔ اسی طرح آخری صفحے بھی موجود
نہیں ہیں۔ دیوان اول ص 78تک ہےاور یہاں کاتب کام
نام فضل ودود درج ہے۔ فضل ودود کا تعلق تہکال بال'
پشاور سے ہے۔ قیاسا کہا جا سکتا ہے کہ دیوان کی
جنم بھومی یعنی مقام اشاعت پشاور رہی ہو گی' تاہم
اسے پکی بات نہیں کہا جا سکتا۔ حیران کن بات یہ
ہے' کہ دو چار نہیں' سیکڑوں عربی فارسی کے الفاظ'
جو اردو زبان میں رواج عام رکھتے ہیں' بڑی حسن و
خوبی اور متن کی پوری معنویت کے ساتھ' پشتو میں
سما گیے ہیں' کہیں اجنبت کا احساس تک نہیں ہوتا۔
دیوان میں بہت سی غزلوں کے قوافی' عربی فارسی
کے ہیں اور یہ عصری اردو میں رواج رکھتے ہیں۔
:ص 29پر موجود غزل کا مطلع یہ ہے
لکہ شام ھسے سحر یہ نظر د بےبصر
:اس غزل کے قوافی یہ ہیں
گوھر' زر' شر' برابر' بتر' بھتر' زبر' نظر' ضرر' ھنر'
خبر زناور یعنی جانور' روکر'اوتر' پیغمبر' محشر'
سفر' بشر' عنبر' پسر' اثر' رھبر' شر' حجر' شجر'
جادوگر'مصور پرور' ثمر' سر' مادر' زیور' کمر' منبر'
قمر قلندر' باور' کافر' مرور' در' گذر' خر' افسر' میسر'
مسخر' پدر' بتر' کشور' سکندر' بحروبر' ...نماز...
دیگر' بستر' چاکر' کوثر' منور' خطر' شر' دفتر' اختر'
بازیگر' شکر مقدر' سرور' اکثر
ایک دوسری غزل' جس کے تمام قوافی عربی فارسی
:کے ہیں۔ اس غزل کا مقطع یہ ہے
چہ منکر پرے اعتزاز کوے نہ شی
داد شعر دے رحمانہ کہ اعجاز
:اس غزل کے قوافی ملحظہ ہوں
آواز -شہباز مطلع
غماز' داز' آغاز' باز' ساز' نماز' اعجاز
:صفحہ 176پر موجود کا مطلع ثانی ملحظہ ہو
د مطلوب بےوفائی و طالب و تہ وفا شی
:اب اس کے قوافی ملحظہ ہوں
آشنائی -جدائی .........مطلع اول
وفاشی -بےوفائی۔۔۔۔۔۔۔۔مطلع ثانی
'گدائی' دوستائی
اگلے پانچ شعر پھٹے ہوئے ہیں۔
شیدائی' ملئی' رسوائی' بےنوائی' ریائی' فرمائی'
ستائی' دانائی' بھائی' کجائی' ھمتائی' عطائی'
دلکشائی' رھائی' پیمائی' صحرائی' تنھائی' گرمائی'
تمنائی' پارسائی' آزمائی' کمائی' زیبائی' سودائی'
خدائی' صفائی' سروپائی' رعنائی' بالئی' دریائی'
حلوائی
:ص 88 :پر موجود غزل کے قوافی یہ ہیں
راغب' غائب' تائب' مناسب' غالب' طالب' واجب' کاتب'
قالب' نائب' عجائب' مراتب
یہ محض باطور نمونہ چند غزلوں کے قوافی درج
کیے ہیں ورنہ ان کی کئی غزلوں کے قوافی عربی
اورفارسی الفاظ پر مشتمل ہیں۔
حضرت رحمان بابا صاحب کے کئی ردیف عربی
فارسی الفاظ ہیں اور یہ الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔
مثل
صفحہ 41پر موجود ایک غزل کا ردیف اخلص ہے
جب کہ دوسری کا ردیف غرض ہے۔
صفحہ 42پر ایک غزل کا ردیف واعظ ہے جب کہ
دوسری کا ردیف شمع ہے۔
صفحہ 60پر ایک غزل کا ردیف تورو زلفو....سیاہ
زلف .....ہے۔ زلف کو زلفو کی شکل دی گئی ہے۔
ص 90پر موجود دو غزلوں کا ردیف نشت ہے
ص 91پرموجود دو غزلوں کا ردیف الغیاث ہے
ص 100پر موجود ایک غزل کا ردیف عمر ہے
ص 116پر موجود دو غزلوں کا ردیف بےمخلص ہے
اب ذرا باطور نمونہ' ان مصرعوں کو دیکھیں' ناصرف
صاف اور واضح ہیں' بلکہ ہر مصرعے میں کم از تین
لفظ ایسے ہیں' جو اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں
ہیں۔
نہ صیاد بہ ترے خبر وہ نہ شہباز
کھ مکان ئے پہ آسمان دے غذا او شو
ھمیشہ د معصیت پہ اور کباب یم
لکہ خس وی یا زر
تن د درست زیروزبر شو
رحمن بابا کے ہاں صنعت تضاد کے لیے استعمال
ہونے والے الفاظ ' اردو میں مستعمل ہیں۔ مثل
سیاھی م واڑہ سفیدی شوہ
تن د درست زیروزبر شو
نہ مسلم وی نہ کافر
ھمیشہ رفت و آمد کہ
لکھ عذر چہ صاحب تہ غلم نہ ک
ملمت د خاص و عام
نور پیدا شو شوروشر
منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم
چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک
رحمان بابا' اپنے کلم میں صنعت تکرار لفظی کا خوب
خوب استعمال کرتے ہیں۔ اس ذیل میں اردو میں رواج
رکھتے الفاظ کو بھی بڑی حسن و خوبی سے استعمال
میں لتے ہیں یا یہ الفاظ' زبان پر دسترس ہونے کے
باعث استعمال میں آ گیے ہیں .مثل
د ھجران عمر د عمر پھ شمار نہ دے
دنیادار د دنیا کار کازہ د دین
ہم صوت الفاظ ' شعر میں شعریت کو جل بخشتے ہیں۔
ان سے شعر میں نغمیت اور چستی پیدا ہوتی ہے۔
رحمان بابا اس صنعت کا باکثرت استعمال کرتے ہیں۔
اس سے ناصرف شعر کا مضمون روح کی گہرایوں
میں اترتا چل جاتا ہے' بلکہ جسم میں تھرل سی پیدا
کر دیتا ہے۔ بابا صاحب موصوف نے' اردو کے
مستعمل الفاظ کو تصرف میں ل کر اپنی جدت طرازی'
زبان دانی اور انسانوں کی فکری سانجھوں کو اجاگر
کیا ہے۔ اس ضمن میں دو ایک مثالیں ملحظہ ہوں۔
نہ ئے متل نہ مثال نہ ئے زوال شتہ
کہ مطلب د نور چا نورے مرتبہ دی
پہ کینہ بہ آیئنہ نہ کڑی تہ خاک
لفظ کے متعقات کا' ایک مخصوص سلیقے سے
استعمال کرنا' ایک الگ سے فن کا درجہ رکھتا ہے۔
بابا صاحب کو اس فن میں کمال حاصل ہے۔ متعلقہ لفظ
نکھر جاتا ہے۔ مفہوم الجھاؤ سے تہی ہو کر' فکر کے
دھارے موڑ دیتا ہے۔ ان کے پاس ایک وسیع
ذخیرہءالفاظ ہے۔ اس حوالہ سے' وہ اردو کے مستعمل
الفاظ کو بھی' تصرف میں رکھتے ہوئے' انسان کے
باہمی بھائی چارے کو واضح کرتے ہیں۔ چند ایک
:مثالیں ملحظہ ہوں
بادشاھی د ھفت کشور
معشوقے ھمیشہ ناز پھ عاشق کاندی
پکار نہ دے مقتدی وی کہ امام
چہ تصویر کہ مصور
ستارہ بہ شمس قمر نہ شی ھرگز
پہ عیال د خپل پدر
ھم بادشاہ دے ھم سرور
نہ سنت د پیغمبر
رحمن بابا تلمیحات کے استعمال کی ذیل میں' اردو
شعرا سےالگ تر رویہ اور انداز اختیار نہیں کرتے۔
اسی طرح پشتو میں ان کے نام علیحدہ سے نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے کلم میں' بہت سی تلمیحات استعمال
کی ہیں اور یہ اردو والوں کے لیے' غیر مانوس نہیں
:ہیں۔ چند ایک مثالیں ملحظہ ہوں
کہ جنت دے کہ دوزﺥ دے کہ اعراف
د ابلیس و ریاضت تھ نظر او کڑہ
دغہ کار بھ پھ عصا کوے تر کوم
مرتبہ د سلیمان چہ چا لہ ورشی
چہ خاورے د فرھاد او د مجنون دی
ھغھ شیرین حوض کوثر
رحمن بابا کے بہت سے اشعار ضرب المثال کے
درجے پر فائز نظر آتے ہیں۔ ان اشعار میں اردو کے
بہت سے عمومی رواج رکھتے الفاظ موجود ہیں۔ مثل
لکھ گنج د علمیت د بےعقلہ عالمانو
کتابونو پہ خرہ بارش
نہ مسلم وی نہ پہ مثال د منافقو
کافر
خالی نقش لکھ نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل
نہ دلیل وی عکس د معکوس
نہ سنت د
غلہ وی خلق پہ تواب او پہ خدائے
نہ نظر
نہ دے فرض د خدائے ادا کڑہ
پیغمبر
نہ مئے حسن نہ جمال وی
پہ زیور
پشتو اور اردو میں' فارسی کے بہت سے مشترک
الفاظ موجود ہیں۔ رحمن بابا فارسی مصددر کا بھی
بلتکلف استعمال کر جاتے ہیں اور یہ رویہ اردو
والوں کے ہاں بھی موجود رہا ہے۔ رحمن بابا کے ہاں
:مصدر رفتن کا استعمال ملحظہ ہو
چہ ئے خواتہ رفتن دے
مرکبات شاعری کی جان ہوتے ہیں اور یہ زبان کو
ثروت عطا کرتے ہیں۔ رحمان بابا کے ہاں' پشتو
مرکبات اپنی جگہ' اردو زبان میں مستعمل الفاظ کے
بہت سے مرکبات نظرآتے ہیں۔ ان مرکبات کے حوالہ
سے' دونوں زبانوں کی لسانی قربت کا باخوبی اندازہ
لگایا جا سکتا ہے۔
واؤ سے ترکیب پانے والے مرکبات
ھمیشہ رفت و آمد کہ
نور پیدا شو شور و شر
چہ ئے قیل و قال د یارہ سرہ نہ دی
د دنیا چارے پہ مثل خواب وخیال دے
مساوی د عاشقی پھ خاص وعام
دیگر مرکبات کی کچھ مثالیں ملحظہ ہوں۔
ارمانو بھ کوی زار زار بھ ژاڑی
عاقبت بھ ئے جدا جدا منزل شی
نہ ئے فھم فراست وی نہ ئے عقل
و رئح بہ نھ شی شب تار د تورو زلفو
دیارغم لکھ مزرے دا باندی راشی
کہ د خلقو و نظر تھ آدمے دے
غرض دا چہ عاقبت خانہ خراب یم
بندیوان د ھغہ سیب ذقن پہ چاہ یئم
منت بار دھر سفید دھر سیاہ یئم
منت بار' دراصل منت کش ......منت کشیدن
سے ......ہی کا روپ ہے۔
غیر مانوس نہیں' مستعمل بھی ہے۔
چہ پرے غم غلطہ د شپے پاسم
غم غلط کرنا' باقاعدہ اردو محاورہ ہے۔ اس مصرعے
میں بھی 'اس کا باطور محاورہ استعمال ہوا ہے۔
دین دنیا' اردو اور پنجابی میں عام استعمال کا مرکب
ہے۔ بابا صاحب کے ہاں اس کا استعمال' باسواد اور
الگ سے رنگ لیے ہوئے ہے۔ ملحظہ ہو
چہ د دین متاع بدل بہ پھ دنیاک
پنجاب میں بےمروتا' بےپرتیتا' بےنیتا' بےبنیادا
باطور گالی استعمال ہوتے ہیں۔ رحمان بابا صاحب کے
ہاں بےبنیادہ اور بےبقا کچھ اسی طرح سے' استعمال
میں آئے ہیں۔ لہجہ میں سختی واضح طور پر موجود
ہے۔
سر تا پایہ بےبنیادہ بےبقا شوم
ایک دعائیہ شعر ملحظہ ہو۔ کیا والہانہ اور بےساختہ
پن ہے۔
حق تعالی کہ ئے نصیب کھ ھغھ
شیرین حوض کوثر